Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — الحديد 57:1 – الحشر 59:6

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. الحديد 57:1
  2. الحديد 57:2
  3. الحديد 57:3
  4. الحديد 57:4
  5. الحديد 57:5
  6. الحديد 57:6
  7. الحديد 57:7
  8. الحديد 57:8
  9. الحديد 57:9
  10. الحديد 57:10
  11. الحديد 57:11
  12. الحديد 57:12
  13. الحديد 57:13
  14. الحديد 57:14
  15. الحديد 57:15
  16. الحديد 57:16
  17. الحديد 57:17
  18. الحديد 57:18
  19. الحديد 57:19
  20. الحديد 57:20
  21. الحديد 57:21
  22. الحديد 57:22
  23. الحديد 57:23
  24. الحديد 57:24
  25. الحديد 57:25
  26. الحديد 57:26
  27. الحديد 57:27
  28. الحديد 57:28
  29. الحديد 57:29
  30. المجادلة 58:1
  31. المجادلة 58:2
  32. المجادلة 58:3
  33. المجادلة 58:4
  34. المجادلة 58:5
  35. المجادلة 58:6
  36. المجادلة 58:7
  37. المجادلة 58:8
  38. المجادلة 58:9
  39. المجادلة 58:10
  40. المجادلة 58:11
  41. المجادلة 58:12
  42. المجادلة 58:13
  43. المجادلة 58:14
  44. المجادلة 58:15
  45. المجادلة 58:16
  46. المجادلة 58:17
  47. المجادلة 58:18
  48. المجادلة 58:19
  49. المجادلة 58:20
  50. المجادلة 58:21
  51. المجادلة 58:22
  52. الحشر 59:1
  53. الحشر 59:2
  54. الحشر 59:3
  55. الحشر 59:4
  56. الحشر 59:5
  57. الحشر 59:6

الحديد 57:1

تسبیح کرتی ہے اللہ کی جو چیز بھی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ زبردست ہے، حکمت والا(1) اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(2) وہی اول اور آخر اور ظاہر اور باطن ہے اور وہی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(3) وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، پھر مستوی ہو گیا عرش پر وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں اور جو نکلتی ہے اس سے اور جو چیز اترتی ہے آسمان سے اور جو اوپر چڑھتی ہے اس میں اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں کہیں ہو تم اور اللہ اس کو، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھنے والا ہے(4) اس کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام امور(5) وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظمت و جلال اور اپنی لا محدود قوت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات، حیوانات ناطقہ اور جمادات وغیرہ، اپنے رب کی حمد و ستائش کے ساتھ، اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور ان اوصاف سے اسے منزہ قرار دے رہے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، نیز یہ کہ تمام موجودات اپنے رب کی مطیع اور اس کے غلبہ کے سامنے سرنگوں ہے۔ ان موجودات میں اس کی حکمت کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اور وہ زبردست باحکمت ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوقات اپنے تمام احوال میں ہر لحاظ سے اپنے رب کی محتاج ہے، اس کے لا محدود غلبہ و قہر نے تمام اشیاء کو مغلوب و مقہور کر رکھا ہے اور اس کی حکمت عامہ اس کے خلق و امر میں جاری و ساری ہے۔ [2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے لا محدود اقتدار کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا :﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ۚ يُحۡيٖ وَيُـمِيۡتُ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام مخلوقات کا خالق، رازق اور اپنی قدرت کے ساتھ ان کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘ [3]﴿ هُوَ الۡاَوَّلُ﴾ جس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی ﴿ وَالۡاٰخِرُ﴾ جس کے بعد کوئی چیز نہ ہو گی۔ ﴿ وَالظَّاهِرُ﴾ جس کے اوپر کوئی چیز نہیں ﴿ وَالۡبَاطِنُ﴾ جس سے پرے کوئی چیز نہیں ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ اس کے علم نے تمام ظواہرو بواطن، تمام بھیدوں ، مخفی چیزوں اور تمام متقدم اور متأخر امور کا احاطہ کر رکھا ہے۔ [4]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا۔ ﴿ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ﴾ ’’پھر عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ تمام مخلوقات کے اوپر، وہ استوا جو اس کے جلال کے لائق ہے ﴿ يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اناج کا دانہ، کوئی حیوان اور بارش وغیرہ جو کچھ بھی زمین میں داخل ہوتاہے ، وہ اسے جانتا ہے۔ ﴿ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا﴾ نباتات، درخت اور حیوانات وغیرہ جو اس سے نکلتے ہیں، وہ انھیں جانتا ہے ﴿ وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ﴾ آسمان سے جو فرشتے، تقدیریں اور رزق نازل ہوتے ہیں ﴿ وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا﴾ فرشتے، ارواح، دعائیں اور اعمال وغیرہ آسمان کی طرف چڑھتے ہیں، سب اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہے ﴿ وَهُوَ مَعَكُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ﴾ ’’اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡا﴾(المجادلہ:58؍7)’’تین آدمی کوئی سرگوشی کرتے ہیں تو چوتھا وہ ہوتا ہے، پانچ آدمی سرگوشی کرتے ہیں تو چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ، مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘ اور یہ معیت، علم اور اطلاع کی معیت ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ کیا ہے، فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال کو دیکھتا ہے جو تم سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اچھے برے اعمال جو اس کی طرف لوٹتے ہیں، وہ تمھیں ان کی جزا دے گا اور ان کو تمھارے لیے محفوظ رکھے گا۔ [5]﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ملکیت، تخلیق اور عبدیت کے اعتبار سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ہے، وہ اپنے اوامر کونی و قدری اور اوامر شرعی جو حکمت ربانی کے مطابق جاری و ساری ہیں، کے ذریعے سے ان میں جو چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ ﴿ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ تمام اعمال اور عمل کرنے والے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ بندے اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے، پس وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا، وہ نیکو کار کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی بدی کا بدلہ دے گا۔ [6]﴿ يُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِي النَّهَارِ وَيُوۡلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيۡلِ﴾ رات دن پر چھا جاتی ہے اور اپنی تاریکی کے ساتھ اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور انسان آرام کرتے ہیں، پھر دن رات پر چھا جاتا ہے، تب زمین پر چھائی ہوئی تمام تاریکی زائل ہو جاتی ہے، تمام کون و مکان روشن ہو جاتے ہیں۔ تب بندے بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور اپنے مصالح اور معاش کے انتظامات میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا رہتا ہے، ان دونوں کے درمیان، اضافے اور کمی، طول اور قصر کو ادل بدل کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اس سے موسم جنم لیتے ہیں اور زمانوں کا حساب درست رہتا ہے اور بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں۔ بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام کائنات کا رب ہے جو بہت بلند، فضل و کرم کا مالک اور جواد ہے جس نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تمام کائنات (والوں) کے سینوں میں ہے، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل ہے، اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل نہیں، اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔

الحديد 57:2

تسبیح کرتی ہے اللہ کی جو چیز بھی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ زبردست ہے، حکمت والا(1) اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(2) وہی اول اور آخر اور ظاہر اور باطن ہے اور وہی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(3) وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، پھر مستوی ہو گیا عرش پر وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں اور جو نکلتی ہے اس سے اور جو چیز اترتی ہے آسمان سے اور جو اوپر چڑھتی ہے اس میں اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں کہیں ہو تم اور اللہ اس کو، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھنے والا ہے(4) اس کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام امور(5) وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظمت و جلال اور اپنی لا محدود قوت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات، حیوانات ناطقہ اور جمادات وغیرہ، اپنے رب کی حمد و ستائش کے ساتھ، اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور ان اوصاف سے اسے منزہ قرار دے رہے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، نیز یہ کہ تمام موجودات اپنے رب کی مطیع اور اس کے غلبہ کے سامنے سرنگوں ہے۔ ان موجودات میں اس کی حکمت کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اور وہ زبردست باحکمت ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوقات اپنے تمام احوال میں ہر لحاظ سے اپنے رب کی محتاج ہے، اس کے لا محدود غلبہ و قہر نے تمام اشیاء کو مغلوب و مقہور کر رکھا ہے اور اس کی حکمت عامہ اس کے خلق و امر میں جاری و ساری ہے۔ [2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے لا محدود اقتدار کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا :﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ۚ يُحۡيٖ وَيُـمِيۡتُ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام مخلوقات کا خالق، رازق اور اپنی قدرت کے ساتھ ان کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘ [3]﴿ هُوَ الۡاَوَّلُ﴾ جس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی ﴿ وَالۡاٰخِرُ﴾ جس کے بعد کوئی چیز نہ ہو گی۔ ﴿ وَالظَّاهِرُ﴾ جس کے اوپر کوئی چیز نہیں ﴿ وَالۡبَاطِنُ﴾ جس سے پرے کوئی چیز نہیں ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ اس کے علم نے تمام ظواہرو بواطن، تمام بھیدوں ، مخفی چیزوں اور تمام متقدم اور متأخر امور کا احاطہ کر رکھا ہے۔ [4]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا۔ ﴿ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ﴾ ’’پھر عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ تمام مخلوقات کے اوپر، وہ استوا جو اس کے جلال کے لائق ہے ﴿ يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اناج کا دانہ، کوئی حیوان اور بارش وغیرہ جو کچھ بھی زمین میں داخل ہوتاہے ، وہ اسے جانتا ہے۔ ﴿ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا﴾ نباتات، درخت اور حیوانات وغیرہ جو اس سے نکلتے ہیں، وہ انھیں جانتا ہے ﴿ وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ﴾ آسمان سے جو فرشتے، تقدیریں اور رزق نازل ہوتے ہیں ﴿ وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا﴾ فرشتے، ارواح، دعائیں اور اعمال وغیرہ آسمان کی طرف چڑھتے ہیں، سب اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہے ﴿ وَهُوَ مَعَكُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ﴾ ’’اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡا﴾(المجادلہ:58؍7)’’تین آدمی کوئی سرگوشی کرتے ہیں تو چوتھا وہ ہوتا ہے، پانچ آدمی سرگوشی کرتے ہیں تو چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ، مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘ اور یہ معیت، علم اور اطلاع کی معیت ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ کیا ہے، فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال کو دیکھتا ہے جو تم سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اچھے برے اعمال جو اس کی طرف لوٹتے ہیں، وہ تمھیں ان کی جزا دے گا اور ان کو تمھارے لیے محفوظ رکھے گا۔ [5]﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ملکیت، تخلیق اور عبدیت کے اعتبار سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ہے، وہ اپنے اوامر کونی و قدری اور اوامر شرعی جو حکمت ربانی کے مطابق جاری و ساری ہیں، کے ذریعے سے ان میں جو چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ ﴿ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ تمام اعمال اور عمل کرنے والے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ بندے اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے، پس وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا، وہ نیکو کار کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی بدی کا بدلہ دے گا۔ [6]﴿ يُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِي النَّهَارِ وَيُوۡلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيۡلِ﴾ رات دن پر چھا جاتی ہے اور اپنی تاریکی کے ساتھ اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور انسان آرام کرتے ہیں، پھر دن رات پر چھا جاتا ہے، تب زمین پر چھائی ہوئی تمام تاریکی زائل ہو جاتی ہے، تمام کون و مکان روشن ہو جاتے ہیں۔ تب بندے بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور اپنے مصالح اور معاش کے انتظامات میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا رہتا ہے، ان دونوں کے درمیان، اضافے اور کمی، طول اور قصر کو ادل بدل کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اس سے موسم جنم لیتے ہیں اور زمانوں کا حساب درست رہتا ہے اور بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں۔ بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام کائنات کا رب ہے جو بہت بلند، فضل و کرم کا مالک اور جواد ہے جس نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تمام کائنات (والوں) کے سینوں میں ہے، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل ہے، اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل نہیں، اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔

الحديد 57:3

تسبیح کرتی ہے اللہ کی جو چیز بھی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ زبردست ہے، حکمت والا(1) اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(2) وہی اول اور آخر اور ظاہر اور باطن ہے اور وہی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(3) وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، پھر مستوی ہو گیا عرش پر وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں اور جو نکلتی ہے اس سے اور جو چیز اترتی ہے آسمان سے اور جو اوپر چڑھتی ہے اس میں اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں کہیں ہو تم اور اللہ اس کو، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھنے والا ہے(4) اس کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام امور(5) وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظمت و جلال اور اپنی لا محدود قوت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات، حیوانات ناطقہ اور جمادات وغیرہ، اپنے رب کی حمد و ستائش کے ساتھ، اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور ان اوصاف سے اسے منزہ قرار دے رہے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، نیز یہ کہ تمام موجودات اپنے رب کی مطیع اور اس کے غلبہ کے سامنے سرنگوں ہے۔ ان موجودات میں اس کی حکمت کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اور وہ زبردست باحکمت ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوقات اپنے تمام احوال میں ہر لحاظ سے اپنے رب کی محتاج ہے، اس کے لا محدود غلبہ و قہر نے تمام اشیاء کو مغلوب و مقہور کر رکھا ہے اور اس کی حکمت عامہ اس کے خلق و امر میں جاری و ساری ہے۔ [2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے لا محدود اقتدار کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا :﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ۚ يُحۡيٖ وَيُـمِيۡتُ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام مخلوقات کا خالق، رازق اور اپنی قدرت کے ساتھ ان کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘ [3]﴿ هُوَ الۡاَوَّلُ﴾ جس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی ﴿ وَالۡاٰخِرُ﴾ جس کے بعد کوئی چیز نہ ہو گی۔ ﴿ وَالظَّاهِرُ﴾ جس کے اوپر کوئی چیز نہیں ﴿ وَالۡبَاطِنُ﴾ جس سے پرے کوئی چیز نہیں ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ اس کے علم نے تمام ظواہرو بواطن، تمام بھیدوں ، مخفی چیزوں اور تمام متقدم اور متأخر امور کا احاطہ کر رکھا ہے۔ [4]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا۔ ﴿ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ﴾ ’’پھر عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ تمام مخلوقات کے اوپر، وہ استوا جو اس کے جلال کے لائق ہے ﴿ يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اناج کا دانہ، کوئی حیوان اور بارش وغیرہ جو کچھ بھی زمین میں داخل ہوتاہے ، وہ اسے جانتا ہے۔ ﴿ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا﴾ نباتات، درخت اور حیوانات وغیرہ جو اس سے نکلتے ہیں، وہ انھیں جانتا ہے ﴿ وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ﴾ آسمان سے جو فرشتے، تقدیریں اور رزق نازل ہوتے ہیں ﴿ وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا﴾ فرشتے، ارواح، دعائیں اور اعمال وغیرہ آسمان کی طرف چڑھتے ہیں، سب اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہے ﴿ وَهُوَ مَعَكُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ﴾ ’’اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡا﴾(المجادلہ:58؍7)’’تین آدمی کوئی سرگوشی کرتے ہیں تو چوتھا وہ ہوتا ہے، پانچ آدمی سرگوشی کرتے ہیں تو چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ، مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘ اور یہ معیت، علم اور اطلاع کی معیت ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ کیا ہے، فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال کو دیکھتا ہے جو تم سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اچھے برے اعمال جو اس کی طرف لوٹتے ہیں، وہ تمھیں ان کی جزا دے گا اور ان کو تمھارے لیے محفوظ رکھے گا۔ [5]﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ملکیت، تخلیق اور عبدیت کے اعتبار سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ہے، وہ اپنے اوامر کونی و قدری اور اوامر شرعی جو حکمت ربانی کے مطابق جاری و ساری ہیں، کے ذریعے سے ان میں جو چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ ﴿ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ تمام اعمال اور عمل کرنے والے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ بندے اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے، پس وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا، وہ نیکو کار کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی بدی کا بدلہ دے گا۔ [6]﴿ يُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِي النَّهَارِ وَيُوۡلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيۡلِ﴾ رات دن پر چھا جاتی ہے اور اپنی تاریکی کے ساتھ اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور انسان آرام کرتے ہیں، پھر دن رات پر چھا جاتا ہے، تب زمین پر چھائی ہوئی تمام تاریکی زائل ہو جاتی ہے، تمام کون و مکان روشن ہو جاتے ہیں۔ تب بندے بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور اپنے مصالح اور معاش کے انتظامات میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا رہتا ہے، ان دونوں کے درمیان، اضافے اور کمی، طول اور قصر کو ادل بدل کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اس سے موسم جنم لیتے ہیں اور زمانوں کا حساب درست رہتا ہے اور بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں۔ بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام کائنات کا رب ہے جو بہت بلند، فضل و کرم کا مالک اور جواد ہے جس نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تمام کائنات (والوں) کے سینوں میں ہے، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل ہے، اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل نہیں، اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔

الحديد 57:4

تسبیح کرتی ہے اللہ کی جو چیز بھی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ زبردست ہے، حکمت والا(1) اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(2) وہی اول اور آخر اور ظاہر اور باطن ہے اور وہی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(3) وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، پھر مستوی ہو گیا عرش پر وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں اور جو نکلتی ہے اس سے اور جو چیز اترتی ہے آسمان سے اور جو اوپر چڑھتی ہے اس میں اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں کہیں ہو تم اور اللہ اس کو، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھنے والا ہے(4) اس کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام امور(5) وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظمت و جلال اور اپنی لا محدود قوت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات، حیوانات ناطقہ اور جمادات وغیرہ، اپنے رب کی حمد و ستائش کے ساتھ، اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور ان اوصاف سے اسے منزہ قرار دے رہے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، نیز یہ کہ تمام موجودات اپنے رب کی مطیع اور اس کے غلبہ کے سامنے سرنگوں ہے۔ ان موجودات میں اس کی حکمت کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اور وہ زبردست باحکمت ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوقات اپنے تمام احوال میں ہر لحاظ سے اپنے رب کی محتاج ہے، اس کے لا محدود غلبہ و قہر نے تمام اشیاء کو مغلوب و مقہور کر رکھا ہے اور اس کی حکمت عامہ اس کے خلق و امر میں جاری و ساری ہے۔ [2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے لا محدود اقتدار کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا :﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ۚ يُحۡيٖ وَيُـمِيۡتُ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام مخلوقات کا خالق، رازق اور اپنی قدرت کے ساتھ ان کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘ [3]﴿ هُوَ الۡاَوَّلُ﴾ جس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی ﴿ وَالۡاٰخِرُ﴾ جس کے بعد کوئی چیز نہ ہو گی۔ ﴿ وَالظَّاهِرُ﴾ جس کے اوپر کوئی چیز نہیں ﴿ وَالۡبَاطِنُ﴾ جس سے پرے کوئی چیز نہیں ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ اس کے علم نے تمام ظواہرو بواطن، تمام بھیدوں ، مخفی چیزوں اور تمام متقدم اور متأخر امور کا احاطہ کر رکھا ہے۔ [4]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا۔ ﴿ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ﴾ ’’پھر عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ تمام مخلوقات کے اوپر، وہ استوا جو اس کے جلال کے لائق ہے ﴿ يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اناج کا دانہ، کوئی حیوان اور بارش وغیرہ جو کچھ بھی زمین میں داخل ہوتاہے ، وہ اسے جانتا ہے۔ ﴿ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا﴾ نباتات، درخت اور حیوانات وغیرہ جو اس سے نکلتے ہیں، وہ انھیں جانتا ہے ﴿ وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ﴾ آسمان سے جو فرشتے، تقدیریں اور رزق نازل ہوتے ہیں ﴿ وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا﴾ فرشتے، ارواح، دعائیں اور اعمال وغیرہ آسمان کی طرف چڑھتے ہیں، سب اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہے ﴿ وَهُوَ مَعَكُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ﴾ ’’اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡا﴾(المجادلہ:58؍7)’’تین آدمی کوئی سرگوشی کرتے ہیں تو چوتھا وہ ہوتا ہے، پانچ آدمی سرگوشی کرتے ہیں تو چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ، مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘ اور یہ معیت، علم اور اطلاع کی معیت ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ کیا ہے، فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال کو دیکھتا ہے جو تم سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اچھے برے اعمال جو اس کی طرف لوٹتے ہیں، وہ تمھیں ان کی جزا دے گا اور ان کو تمھارے لیے محفوظ رکھے گا۔ [5]﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ملکیت، تخلیق اور عبدیت کے اعتبار سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ہے، وہ اپنے اوامر کونی و قدری اور اوامر شرعی جو حکمت ربانی کے مطابق جاری و ساری ہیں، کے ذریعے سے ان میں جو چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ ﴿ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ تمام اعمال اور عمل کرنے والے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ بندے اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے، پس وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا، وہ نیکو کار کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی بدی کا بدلہ دے گا۔ [6]﴿ يُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِي النَّهَارِ وَيُوۡلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيۡلِ﴾ رات دن پر چھا جاتی ہے اور اپنی تاریکی کے ساتھ اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور انسان آرام کرتے ہیں، پھر دن رات پر چھا جاتا ہے، تب زمین پر چھائی ہوئی تمام تاریکی زائل ہو جاتی ہے، تمام کون و مکان روشن ہو جاتے ہیں۔ تب بندے بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور اپنے مصالح اور معاش کے انتظامات میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا رہتا ہے، ان دونوں کے درمیان، اضافے اور کمی، طول اور قصر کو ادل بدل کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اس سے موسم جنم لیتے ہیں اور زمانوں کا حساب درست رہتا ہے اور بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں۔ بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام کائنات کا رب ہے جو بہت بلند، فضل و کرم کا مالک اور جواد ہے جس نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تمام کائنات (والوں) کے سینوں میں ہے، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل ہے، اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل نہیں، اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔

الحديد 57:5

تسبیح کرتی ہے اللہ کی جو چیز بھی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ زبردست ہے، حکمت والا(1) اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(2) وہی اول اور آخر اور ظاہر اور باطن ہے اور وہی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(3) وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، پھر مستوی ہو گیا عرش پر وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں اور جو نکلتی ہے اس سے اور جو چیز اترتی ہے آسمان سے اور جو اوپر چڑھتی ہے اس میں اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں کہیں ہو تم اور اللہ اس کو، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھنے والا ہے(4) اس کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام امور(5) وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظمت و جلال اور اپنی لا محدود قوت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات، حیوانات ناطقہ اور جمادات وغیرہ، اپنے رب کی حمد و ستائش کے ساتھ، اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور ان اوصاف سے اسے منزہ قرار دے رہے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، نیز یہ کہ تمام موجودات اپنے رب کی مطیع اور اس کے غلبہ کے سامنے سرنگوں ہے۔ ان موجودات میں اس کی حکمت کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اور وہ زبردست باحکمت ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوقات اپنے تمام احوال میں ہر لحاظ سے اپنے رب کی محتاج ہے، اس کے لا محدود غلبہ و قہر نے تمام اشیاء کو مغلوب و مقہور کر رکھا ہے اور اس کی حکمت عامہ اس کے خلق و امر میں جاری و ساری ہے۔ [2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے لا محدود اقتدار کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا :﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ۚ يُحۡيٖ وَيُـمِيۡتُ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام مخلوقات کا خالق، رازق اور اپنی قدرت کے ساتھ ان کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘ [3]﴿ هُوَ الۡاَوَّلُ﴾ جس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی ﴿ وَالۡاٰخِرُ﴾ جس کے بعد کوئی چیز نہ ہو گی۔ ﴿ وَالظَّاهِرُ﴾ جس کے اوپر کوئی چیز نہیں ﴿ وَالۡبَاطِنُ﴾ جس سے پرے کوئی چیز نہیں ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ اس کے علم نے تمام ظواہرو بواطن، تمام بھیدوں ، مخفی چیزوں اور تمام متقدم اور متأخر امور کا احاطہ کر رکھا ہے۔ [4]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا۔ ﴿ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ﴾ ’’پھر عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ تمام مخلوقات کے اوپر، وہ استوا جو اس کے جلال کے لائق ہے ﴿ يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اناج کا دانہ، کوئی حیوان اور بارش وغیرہ جو کچھ بھی زمین میں داخل ہوتاہے ، وہ اسے جانتا ہے۔ ﴿ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا﴾ نباتات، درخت اور حیوانات وغیرہ جو اس سے نکلتے ہیں، وہ انھیں جانتا ہے ﴿ وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ﴾ آسمان سے جو فرشتے، تقدیریں اور رزق نازل ہوتے ہیں ﴿ وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا﴾ فرشتے، ارواح، دعائیں اور اعمال وغیرہ آسمان کی طرف چڑھتے ہیں، سب اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہے ﴿ وَهُوَ مَعَكُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ﴾ ’’اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡا﴾(المجادلہ:58؍7)’’تین آدمی کوئی سرگوشی کرتے ہیں تو چوتھا وہ ہوتا ہے، پانچ آدمی سرگوشی کرتے ہیں تو چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ، مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘ اور یہ معیت، علم اور اطلاع کی معیت ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ کیا ہے، فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال کو دیکھتا ہے جو تم سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اچھے برے اعمال جو اس کی طرف لوٹتے ہیں، وہ تمھیں ان کی جزا دے گا اور ان کو تمھارے لیے محفوظ رکھے گا۔ [5]﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ملکیت، تخلیق اور عبدیت کے اعتبار سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ہے، وہ اپنے اوامر کونی و قدری اور اوامر شرعی جو حکمت ربانی کے مطابق جاری و ساری ہیں، کے ذریعے سے ان میں جو چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ ﴿ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ تمام اعمال اور عمل کرنے والے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ بندے اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے، پس وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا، وہ نیکو کار کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی بدی کا بدلہ دے گا۔ [6]﴿ يُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِي النَّهَارِ وَيُوۡلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيۡلِ﴾ رات دن پر چھا جاتی ہے اور اپنی تاریکی کے ساتھ اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور انسان آرام کرتے ہیں، پھر دن رات پر چھا جاتا ہے، تب زمین پر چھائی ہوئی تمام تاریکی زائل ہو جاتی ہے، تمام کون و مکان روشن ہو جاتے ہیں۔ تب بندے بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور اپنے مصالح اور معاش کے انتظامات میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا رہتا ہے، ان دونوں کے درمیان، اضافے اور کمی، طول اور قصر کو ادل بدل کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اس سے موسم جنم لیتے ہیں اور زمانوں کا حساب درست رہتا ہے اور بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں۔ بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام کائنات کا رب ہے جو بہت بلند، فضل و کرم کا مالک اور جواد ہے جس نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تمام کائنات (والوں) کے سینوں میں ہے، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل ہے، اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل نہیں، اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔

الحديد 57:6

تسبیح کرتی ہے اللہ کی جو چیز بھی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ زبردست ہے، حکمت والا(1) اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(2) وہی اول اور آخر اور ظاہر اور باطن ہے اور وہی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(3) وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، پھر مستوی ہو گیا عرش پر وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں اور جو نکلتی ہے اس سے اور جو چیز اترتی ہے آسمان سے اور جو اوپر چڑھتی ہے اس میں اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں کہیں ہو تم اور اللہ اس کو، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھنے والا ہے(4) اس کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام امور(5) وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظمت و جلال اور اپنی لا محدود قوت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات، حیوانات ناطقہ اور جمادات وغیرہ، اپنے رب کی حمد و ستائش کے ساتھ، اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور ان اوصاف سے اسے منزہ قرار دے رہے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، نیز یہ کہ تمام موجودات اپنے رب کی مطیع اور اس کے غلبہ کے سامنے سرنگوں ہے۔ ان موجودات میں اس کی حکمت کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اور وہ زبردست باحکمت ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوقات اپنے تمام احوال میں ہر لحاظ سے اپنے رب کی محتاج ہے، اس کے لا محدود غلبہ و قہر نے تمام اشیاء کو مغلوب و مقہور کر رکھا ہے اور اس کی حکمت عامہ اس کے خلق و امر میں جاری و ساری ہے۔ [2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے لا محدود اقتدار کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا :﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ۚ يُحۡيٖ وَيُـمِيۡتُ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام مخلوقات کا خالق، رازق اور اپنی قدرت کے ساتھ ان کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘ [3]﴿ هُوَ الۡاَوَّلُ﴾ جس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی ﴿ وَالۡاٰخِرُ﴾ جس کے بعد کوئی چیز نہ ہو گی۔ ﴿ وَالظَّاهِرُ﴾ جس کے اوپر کوئی چیز نہیں ﴿ وَالۡبَاطِنُ﴾ جس سے پرے کوئی چیز نہیں ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ اس کے علم نے تمام ظواہرو بواطن، تمام بھیدوں ، مخفی چیزوں اور تمام متقدم اور متأخر امور کا احاطہ کر رکھا ہے۔ [4]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا۔ ﴿ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ﴾ ’’پھر عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ تمام مخلوقات کے اوپر، وہ استوا جو اس کے جلال کے لائق ہے ﴿ يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اناج کا دانہ، کوئی حیوان اور بارش وغیرہ جو کچھ بھی زمین میں داخل ہوتاہے ، وہ اسے جانتا ہے۔ ﴿ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا﴾ نباتات، درخت اور حیوانات وغیرہ جو اس سے نکلتے ہیں، وہ انھیں جانتا ہے ﴿ وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ﴾ آسمان سے جو فرشتے، تقدیریں اور رزق نازل ہوتے ہیں ﴿ وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا﴾ فرشتے، ارواح، دعائیں اور اعمال وغیرہ آسمان کی طرف چڑھتے ہیں، سب اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہے ﴿ وَهُوَ مَعَكُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ﴾ ’’اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡا﴾(المجادلہ:58؍7)’’تین آدمی کوئی سرگوشی کرتے ہیں تو چوتھا وہ ہوتا ہے، پانچ آدمی سرگوشی کرتے ہیں تو چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ، مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘ اور یہ معیت، علم اور اطلاع کی معیت ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ کیا ہے، فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال کو دیکھتا ہے جو تم سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اچھے برے اعمال جو اس کی طرف لوٹتے ہیں، وہ تمھیں ان کی جزا دے گا اور ان کو تمھارے لیے محفوظ رکھے گا۔ [5]﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ملکیت، تخلیق اور عبدیت کے اعتبار سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ہے، وہ اپنے اوامر کونی و قدری اور اوامر شرعی جو حکمت ربانی کے مطابق جاری و ساری ہیں، کے ذریعے سے ان میں جو چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ ﴿ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ تمام اعمال اور عمل کرنے والے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ بندے اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے، پس وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا، وہ نیکو کار کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی بدی کا بدلہ دے گا۔ [6]﴿ يُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِي النَّهَارِ وَيُوۡلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيۡلِ﴾ رات دن پر چھا جاتی ہے اور اپنی تاریکی کے ساتھ اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور انسان آرام کرتے ہیں، پھر دن رات پر چھا جاتا ہے، تب زمین پر چھائی ہوئی تمام تاریکی زائل ہو جاتی ہے، تمام کون و مکان روشن ہو جاتے ہیں۔ تب بندے بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور اپنے مصالح اور معاش کے انتظامات میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا رہتا ہے، ان دونوں کے درمیان، اضافے اور کمی، طول اور قصر کو ادل بدل کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اس سے موسم جنم لیتے ہیں اور زمانوں کا حساب درست رہتا ہے اور بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں۔ بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام کائنات کا رب ہے جو بہت بلند، فضل و کرم کا مالک اور جواد ہے جس نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تمام کائنات (والوں) کے سینوں میں ہے، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل ہے، اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل نہیں، اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔

الحديد 57:7

ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے اور خرچ کرو اس میں سے کہ بنایا ہے اس (اللہ) نے تمھیں جانشین اس میں پس وہ لوگ جو ایمان لائے تم میں سے اور انھوں نے خرچ کیا، ان کے لیے اجر ہے بہت بڑا(7) اور کیا ہے تمھیں کہ نہیں ایمان لاتے تم ساتھ اللہ کے، جبکہ رسول بلاتا ہے تمھیں تاکہ تم ایمان لاؤ ساتھ اپنے رب کے، اور تحقیق وہ لے چکا ہے پختہ وعدہ تم سے؟ اگر ہو تم ایمان لانے والے(8) وہی ہے جو نازل کرتا ہے اپنے بندے پر آیتیں واضح تاکہ وہ نکالے تمھیں اندھیروں سے اجالے کی طرف، اور بلاشبہ اللہ تم پر نہایت شفیق بڑا رحم کرنے والا ہے(9) اور کیا ہے تمھیں یہ کہ نہ خرچ کرو تم اللہ کی راہ میں؟ اور اللہ ہی کے لیے ہے میراث آسمانوں اور زمین کی، نہیں برابر تم میں سے وہ جس نے خرچ کیا پہلے فتح (مکہ) سے اور لڑائی کی یہ لوگ زیادہ عظیم ہیں درجے میں ان لوگوں سے جنھوں نے خرچ کیا اس کے بعد اور لڑائی کی اور ہر ایک سے وعدہ کیا ہے اللہ نے نیک جزا کا اور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے (10) کون ہے وہ جو قرض دے اللہ کو قرض حسنہ؟ پھر وہ (اللہ) بڑھا دے اس کو اس کے لیے؟ اور اس کے لیے ہے اجر عمدہ (11) [7] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو، اللہ اور اس کے رسول اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے اور اللہ کے راستے میں وہ مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے جو اس نے ان کے اختیار میں دیا ہے اور اس پر ان کو خلیفہ بنایا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، پھر جب اس نے یہ حکم دیا تو اس نے ان کے سامنے اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کے ثواب کا ذکر کر کے ان کو مال خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اس پر آمادہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَاَنۡفَقُوۡا﴾ یعنی جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کو جمع کیا ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ اس میں سے عظیم ترین اور جلیل ترین اجر، اپنے رب کی رضا، اللہ تعالیٰ کا اکرام و تکریم والا گھر اور اس کے اندر ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے مومنین اور مجاہدین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ [8] پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو انھیں ایمان کی دعوت دیتا ہے اور عدم مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَا لَكُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَالرَّسُوۡلُ يَدۡعُوۡؔكُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ وَقَدۡ اَخَذَ مِيۡثَاقَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جو تمھیں ایمان لانے سے روکتی ہے حالانکہ رسول مصطفیٰ محمدﷺ جو سب سے افضل رسول اور سب سے اچھے داعی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ اس دعوت کو قبول کرنے اور حق کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے جلدی سے آگے بڑھنا چاہیے جسے محمد ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں، اللہ تعالیٰ تم سے ایمان لانے کا عہد اور میثاق لے چکا ہے، اگر تم مومن ہو تو تمھیں یہ کام کرنا چاہیے۔ [9] اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا تم پر لطف و کرم اور اس کی عنایت ہے کہ اس نے صرف رسول کی دعوت پر اکتفا نہیں کیا جو تمام کائنات میں سب سے زیادہ شرف کے حامل ہیں بلکہ معجزات کے ذریعے سے اس رسول کی تائید کی اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے، اس کی صداقت پر تمھارے سامنے واضح دلائل پیش کیے۔ اس لیے فرمایا :﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُنَزِّلُ عَلٰى عَبۡدِهٖۤ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰؔتٍ﴾’’وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں اتارتا ہے۔‘‘ یعنی ایسی ظاہری نشانیاں نازل فرمائیں جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں، اس کی صداقت پر عقل مندوں کی راہ نمائی کرتی ہیں، نیز یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہی حق الیقین ہے۔﴿ لِّيُخۡرِجَكُمۡ﴾ ’’تاکہ وہ تمھیں نکالے۔‘‘ تمھاری طرف رسول مبعوث کر کے، اور اس کتاب وحکمت کے ذریعے سے جو اس نے اس رسول کے ہاتھ پر اتاری۔ ﴿ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ﴾ ’’اندھیروں سے اجالے کی طرف۔‘‘ یعنی تمھیں جہالت اور کفر کی تاریکیوں سے نکال کر علم و ایمان کی روشنی میں لائے۔ یہ تم پر اس کی رحمت و رأفت ہے، وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحیم ہے جتنی ماں اپنے بچے پر رحیم ہے ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ تم پر بہت شفقت کرنے والا (اور) نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ [10]﴿ وَمَا لَكُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جس نے تمھیں انفاق فی سبیل اللہ سے روکا ہے اور ﴿سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ سے مراد تمام تر بھلائی کے راستے ہیں اورتم پر واجب کیا ہے کہ تم بخل نہ کرو۔‘‘ ﴿ وَ﴾ حالانکہ کوئی چیز تمھاری ملکیت میں نہیں ہے بلکہ ﴿ لِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان اور زمین اللہ تعالیٰ ہی کی میراث ہیں۔‘‘ پس تمام اموال تمھارے ہاتھوں سے نکل جائیں گے یا تم انھیں چھوڑ کر چلے جاؤ گے، پھر یہ ملکیت اس کے حقیقی مالک، اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف لوٹ جائے گی۔پس جب تک یہ اموال تمھارے ہاتھ میں ہیں، اللہ کے راستے میں خرچ کر کے فائدہ اٹھاؤ اور فرصت کو غنیمت سمجھو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے احوال اور حکمت الٰہیہ کے مطابق، اعمال کی ایک دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿ لَا يَسۡتَوِيۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقٰتَلَ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۢۡ بَعۡدُ وَقٰتَلُوۡا﴾ ’’تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کیا اور قتال کیا وہ برابر نہیں بلکہ ان کے درجے ان لوگوں سے بہت بڑے ہیں جنھوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیا۔‘‘ یہاں فتح سے مراد فتح حدیبیہ ہے، جب رسول اللہ ﷺ اور قریش کے درمیان صلح کا معاہدہ ہوا، جو درحقیقت سب سے بڑی فتح تھی، اس صلح کے دوران میں اسلام کی نشر و اشاعت ہوئی، مسلمانوں اور کفار کے درمیان میل جول ہوا اور کسی مخالفت کے بغیر دین کی دعوت دی گئی۔ اس عرصے میں لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور اسلام کو عزت و غلبہ حاصل ہوا۔اس فتح سے قبل مسلمان دین کی دعوت نہیں دے سکتے تھے سوائے ان علاقوں کے ، جہاں کے رہنے والوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، جیسے مدینہ منورہ اور اس کے تابع علاقے۔ اہل مکہ میں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا انھیں ایذائیں برداشت کرنا پڑیں اور انھیں سخت خوف کا سامنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس کسی نے فتح سے قبل اسلام قبول کر کے جہاد کیا، اس کا اجر و ثواب اور درجہ اس شخص کے درجہ سے زیادہ بڑا ہے جس نے فتح کے بعد اسلام قبول کر کے جہاد کیا اور اللہ کے راستے میں خرچ کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقین اولین اور فضلائے صحابہ کی غالب اکثریت نے فتح سے قبل اسلام قبول کیا۔چونکہ بعض معاملات کے درمیان فضیلت دینے سے کبھی کبھی مفضول میں نقص اور قدح متوہم ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس سے احتراز کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى﴾ یعنی وہ لوگ جو فتح سے پہلے اور اس کے بعد اسلام لائے، جہاد کیا اور اللہ کی راہ میں خرچ کیا، اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔‘‘ چنانچہ وہ تم سے ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ [11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے راستے میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے کیونکہ جہاد کا تمام تر دارومدار انفاق فی سبیل اللہ اور جہاد کی تیاری میں مال خرچ کرنے پر ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾ ’’کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے۔‘‘ اس سے مراد پاک اور طیب مال ہے جسے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے، اس کی رضا کے مطابق، حلال اور طیب مال میں سے نہایت خوش دلی کے ساتھ خرچ کیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس انفاق کو ’’قرض‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مال اسی کا مال اور یہ بندے اسی کے بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مال کو کئی گنا کر دینے کا وعدہ کیا ہے وہ فضل و کرم کا مالک اور بہت زیادہ داد و دہش والا ہے۔(اس انفاق کے)کئی گنا ہونے کا محل و مقام روز قیامت ہے، اس روز ہر انسان پر اپنا افتقار و احتیاج واضح ہو جائے گا، اس روز وہ قلیل ترین جزائے حسن کا بھی محتاج ہو گا، اس لیے فرمایا:

الحديد 57:8

ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے اور خرچ کرو اس میں سے کہ بنایا ہے اس (اللہ) نے تمھیں جانشین اس میں پس وہ لوگ جو ایمان لائے تم میں سے اور انھوں نے خرچ کیا، ان کے لیے اجر ہے بہت بڑا(7) اور کیا ہے تمھیں کہ نہیں ایمان لاتے تم ساتھ اللہ کے، جبکہ رسول بلاتا ہے تمھیں تاکہ تم ایمان لاؤ ساتھ اپنے رب کے، اور تحقیق وہ لے چکا ہے پختہ وعدہ تم سے؟ اگر ہو تم ایمان لانے والے(8) وہی ہے جو نازل کرتا ہے اپنے بندے پر آیتیں واضح تاکہ وہ نکالے تمھیں اندھیروں سے اجالے کی طرف، اور بلاشبہ اللہ تم پر نہایت شفیق بڑا رحم کرنے والا ہے(9) اور کیا ہے تمھیں یہ کہ نہ خرچ کرو تم اللہ کی راہ میں؟ اور اللہ ہی کے لیے ہے میراث آسمانوں اور زمین کی، نہیں برابر تم میں سے وہ جس نے خرچ کیا پہلے فتح (مکہ) سے اور لڑائی کی یہ لوگ زیادہ عظیم ہیں درجے میں ان لوگوں سے جنھوں نے خرچ کیا اس کے بعد اور لڑائی کی اور ہر ایک سے وعدہ کیا ہے اللہ نے نیک جزا کا اور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے (10) کون ہے وہ جو قرض دے اللہ کو قرض حسنہ؟ پھر وہ (اللہ) بڑھا دے اس کو اس کے لیے؟ اور اس کے لیے ہے اجر عمدہ (11) [7] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو، اللہ اور اس کے رسول اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے اور اللہ کے راستے میں وہ مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے جو اس نے ان کے اختیار میں دیا ہے اور اس پر ان کو خلیفہ بنایا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، پھر جب اس نے یہ حکم دیا تو اس نے ان کے سامنے اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کے ثواب کا ذکر کر کے ان کو مال خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اس پر آمادہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَاَنۡفَقُوۡا﴾ یعنی جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کو جمع کیا ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ اس میں سے عظیم ترین اور جلیل ترین اجر، اپنے رب کی رضا، اللہ تعالیٰ کا اکرام و تکریم والا گھر اور اس کے اندر ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے مومنین اور مجاہدین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ [8] پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو انھیں ایمان کی دعوت دیتا ہے اور عدم مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَا لَكُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَالرَّسُوۡلُ يَدۡعُوۡؔكُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ وَقَدۡ اَخَذَ مِيۡثَاقَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جو تمھیں ایمان لانے سے روکتی ہے حالانکہ رسول مصطفیٰ محمدﷺ جو سب سے افضل رسول اور سب سے اچھے داعی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ اس دعوت کو قبول کرنے اور حق کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے جلدی سے آگے بڑھنا چاہیے جسے محمد ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں، اللہ تعالیٰ تم سے ایمان لانے کا عہد اور میثاق لے چکا ہے، اگر تم مومن ہو تو تمھیں یہ کام کرنا چاہیے۔ [9] اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا تم پر لطف و کرم اور اس کی عنایت ہے کہ اس نے صرف رسول کی دعوت پر اکتفا نہیں کیا جو تمام کائنات میں سب سے زیادہ شرف کے حامل ہیں بلکہ معجزات کے ذریعے سے اس رسول کی تائید کی اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے، اس کی صداقت پر تمھارے سامنے واضح دلائل پیش کیے۔ اس لیے فرمایا :﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُنَزِّلُ عَلٰى عَبۡدِهٖۤ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰؔتٍ﴾’’وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں اتارتا ہے۔‘‘ یعنی ایسی ظاہری نشانیاں نازل فرمائیں جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں، اس کی صداقت پر عقل مندوں کی راہ نمائی کرتی ہیں، نیز یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہی حق الیقین ہے۔﴿ لِّيُخۡرِجَكُمۡ﴾ ’’تاکہ وہ تمھیں نکالے۔‘‘ تمھاری طرف رسول مبعوث کر کے، اور اس کتاب وحکمت کے ذریعے سے جو اس نے اس رسول کے ہاتھ پر اتاری۔ ﴿ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ﴾ ’’اندھیروں سے اجالے کی طرف۔‘‘ یعنی تمھیں جہالت اور کفر کی تاریکیوں سے نکال کر علم و ایمان کی روشنی میں لائے۔ یہ تم پر اس کی رحمت و رأفت ہے، وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحیم ہے جتنی ماں اپنے بچے پر رحیم ہے ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ تم پر بہت شفقت کرنے والا (اور) نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ [10]﴿ وَمَا لَكُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جس نے تمھیں انفاق فی سبیل اللہ سے روکا ہے اور ﴿سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ سے مراد تمام تر بھلائی کے راستے ہیں اورتم پر واجب کیا ہے کہ تم بخل نہ کرو۔‘‘ ﴿ وَ﴾ حالانکہ کوئی چیز تمھاری ملکیت میں نہیں ہے بلکہ ﴿ لِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان اور زمین اللہ تعالیٰ ہی کی میراث ہیں۔‘‘ پس تمام اموال تمھارے ہاتھوں سے نکل جائیں گے یا تم انھیں چھوڑ کر چلے جاؤ گے، پھر یہ ملکیت اس کے حقیقی مالک، اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف لوٹ جائے گی۔پس جب تک یہ اموال تمھارے ہاتھ میں ہیں، اللہ کے راستے میں خرچ کر کے فائدہ اٹھاؤ اور فرصت کو غنیمت سمجھو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے احوال اور حکمت الٰہیہ کے مطابق، اعمال کی ایک دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿ لَا يَسۡتَوِيۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقٰتَلَ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۢۡ بَعۡدُ وَقٰتَلُوۡا﴾ ’’تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کیا اور قتال کیا وہ برابر نہیں بلکہ ان کے درجے ان لوگوں سے بہت بڑے ہیں جنھوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیا۔‘‘ یہاں فتح سے مراد فتح حدیبیہ ہے، جب رسول اللہ ﷺ اور قریش کے درمیان صلح کا معاہدہ ہوا، جو درحقیقت سب سے بڑی فتح تھی، اس صلح کے دوران میں اسلام کی نشر و اشاعت ہوئی، مسلمانوں اور کفار کے درمیان میل جول ہوا اور کسی مخالفت کے بغیر دین کی دعوت دی گئی۔ اس عرصے میں لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور اسلام کو عزت و غلبہ حاصل ہوا۔اس فتح سے قبل مسلمان دین کی دعوت نہیں دے سکتے تھے سوائے ان علاقوں کے ، جہاں کے رہنے والوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، جیسے مدینہ منورہ اور اس کے تابع علاقے۔ اہل مکہ میں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا انھیں ایذائیں برداشت کرنا پڑیں اور انھیں سخت خوف کا سامنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس کسی نے فتح سے قبل اسلام قبول کر کے جہاد کیا، اس کا اجر و ثواب اور درجہ اس شخص کے درجہ سے زیادہ بڑا ہے جس نے فتح کے بعد اسلام قبول کر کے جہاد کیا اور اللہ کے راستے میں خرچ کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقین اولین اور فضلائے صحابہ کی غالب اکثریت نے فتح سے قبل اسلام قبول کیا۔چونکہ بعض معاملات کے درمیان فضیلت دینے سے کبھی کبھی مفضول میں نقص اور قدح متوہم ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس سے احتراز کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى﴾ یعنی وہ لوگ جو فتح سے پہلے اور اس کے بعد اسلام لائے، جہاد کیا اور اللہ کی راہ میں خرچ کیا، اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔‘‘ چنانچہ وہ تم سے ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ [11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے راستے میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے کیونکہ جہاد کا تمام تر دارومدار انفاق فی سبیل اللہ اور جہاد کی تیاری میں مال خرچ کرنے پر ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾ ’’کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے۔‘‘ اس سے مراد پاک اور طیب مال ہے جسے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے، اس کی رضا کے مطابق، حلال اور طیب مال میں سے نہایت خوش دلی کے ساتھ خرچ کیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس انفاق کو ’’قرض‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مال اسی کا مال اور یہ بندے اسی کے بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مال کو کئی گنا کر دینے کا وعدہ کیا ہے وہ فضل و کرم کا مالک اور بہت زیادہ داد و دہش والا ہے۔(اس انفاق کے)کئی گنا ہونے کا محل و مقام روز قیامت ہے، اس روز ہر انسان پر اپنا افتقار و احتیاج واضح ہو جائے گا، اس روز وہ قلیل ترین جزائے حسن کا بھی محتاج ہو گا، اس لیے فرمایا:

الحديد 57:9

ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے اور خرچ کرو اس میں سے کہ بنایا ہے اس (اللہ) نے تمھیں جانشین اس میں پس وہ لوگ جو ایمان لائے تم میں سے اور انھوں نے خرچ کیا، ان کے لیے اجر ہے بہت بڑا(7) اور کیا ہے تمھیں کہ نہیں ایمان لاتے تم ساتھ اللہ کے، جبکہ رسول بلاتا ہے تمھیں تاکہ تم ایمان لاؤ ساتھ اپنے رب کے، اور تحقیق وہ لے چکا ہے پختہ وعدہ تم سے؟ اگر ہو تم ایمان لانے والے(8) وہی ہے جو نازل کرتا ہے اپنے بندے پر آیتیں واضح تاکہ وہ نکالے تمھیں اندھیروں سے اجالے کی طرف، اور بلاشبہ اللہ تم پر نہایت شفیق بڑا رحم کرنے والا ہے(9) اور کیا ہے تمھیں یہ کہ نہ خرچ کرو تم اللہ کی راہ میں؟ اور اللہ ہی کے لیے ہے میراث آسمانوں اور زمین کی، نہیں برابر تم میں سے وہ جس نے خرچ کیا پہلے فتح (مکہ) سے اور لڑائی کی یہ لوگ زیادہ عظیم ہیں درجے میں ان لوگوں سے جنھوں نے خرچ کیا اس کے بعد اور لڑائی کی اور ہر ایک سے وعدہ کیا ہے اللہ نے نیک جزا کا اور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے (10) کون ہے وہ جو قرض دے اللہ کو قرض حسنہ؟ پھر وہ (اللہ) بڑھا دے اس کو اس کے لیے؟ اور اس کے لیے ہے اجر عمدہ (11) [7] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو، اللہ اور اس کے رسول اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے اور اللہ کے راستے میں وہ مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے جو اس نے ان کے اختیار میں دیا ہے اور اس پر ان کو خلیفہ بنایا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، پھر جب اس نے یہ حکم دیا تو اس نے ان کے سامنے اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کے ثواب کا ذکر کر کے ان کو مال خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اس پر آمادہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَاَنۡفَقُوۡا﴾ یعنی جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کو جمع کیا ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ اس میں سے عظیم ترین اور جلیل ترین اجر، اپنے رب کی رضا، اللہ تعالیٰ کا اکرام و تکریم والا گھر اور اس کے اندر ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے مومنین اور مجاہدین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ [8] پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو انھیں ایمان کی دعوت دیتا ہے اور عدم مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَا لَكُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَالرَّسُوۡلُ يَدۡعُوۡؔكُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ وَقَدۡ اَخَذَ مِيۡثَاقَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جو تمھیں ایمان لانے سے روکتی ہے حالانکہ رسول مصطفیٰ محمدﷺ جو سب سے افضل رسول اور سب سے اچھے داعی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ اس دعوت کو قبول کرنے اور حق کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے جلدی سے آگے بڑھنا چاہیے جسے محمد ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں، اللہ تعالیٰ تم سے ایمان لانے کا عہد اور میثاق لے چکا ہے، اگر تم مومن ہو تو تمھیں یہ کام کرنا چاہیے۔ [9] اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا تم پر لطف و کرم اور اس کی عنایت ہے کہ اس نے صرف رسول کی دعوت پر اکتفا نہیں کیا جو تمام کائنات میں سب سے زیادہ شرف کے حامل ہیں بلکہ معجزات کے ذریعے سے اس رسول کی تائید کی اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے، اس کی صداقت پر تمھارے سامنے واضح دلائل پیش کیے۔ اس لیے فرمایا :﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُنَزِّلُ عَلٰى عَبۡدِهٖۤ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰؔتٍ﴾’’وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں اتارتا ہے۔‘‘ یعنی ایسی ظاہری نشانیاں نازل فرمائیں جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں، اس کی صداقت پر عقل مندوں کی راہ نمائی کرتی ہیں، نیز یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہی حق الیقین ہے۔﴿ لِّيُخۡرِجَكُمۡ﴾ ’’تاکہ وہ تمھیں نکالے۔‘‘ تمھاری طرف رسول مبعوث کر کے، اور اس کتاب وحکمت کے ذریعے سے جو اس نے اس رسول کے ہاتھ پر اتاری۔ ﴿ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ﴾ ’’اندھیروں سے اجالے کی طرف۔‘‘ یعنی تمھیں جہالت اور کفر کی تاریکیوں سے نکال کر علم و ایمان کی روشنی میں لائے۔ یہ تم پر اس کی رحمت و رأفت ہے، وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحیم ہے جتنی ماں اپنے بچے پر رحیم ہے ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ تم پر بہت شفقت کرنے والا (اور) نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ [10]﴿ وَمَا لَكُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جس نے تمھیں انفاق فی سبیل اللہ سے روکا ہے اور ﴿سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ سے مراد تمام تر بھلائی کے راستے ہیں اورتم پر واجب کیا ہے کہ تم بخل نہ کرو۔‘‘ ﴿ وَ﴾ حالانکہ کوئی چیز تمھاری ملکیت میں نہیں ہے بلکہ ﴿ لِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان اور زمین اللہ تعالیٰ ہی کی میراث ہیں۔‘‘ پس تمام اموال تمھارے ہاتھوں سے نکل جائیں گے یا تم انھیں چھوڑ کر چلے جاؤ گے، پھر یہ ملکیت اس کے حقیقی مالک، اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف لوٹ جائے گی۔پس جب تک یہ اموال تمھارے ہاتھ میں ہیں، اللہ کے راستے میں خرچ کر کے فائدہ اٹھاؤ اور فرصت کو غنیمت سمجھو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے احوال اور حکمت الٰہیہ کے مطابق، اعمال کی ایک دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿ لَا يَسۡتَوِيۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقٰتَلَ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۢۡ بَعۡدُ وَقٰتَلُوۡا﴾ ’’تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کیا اور قتال کیا وہ برابر نہیں بلکہ ان کے درجے ان لوگوں سے بہت بڑے ہیں جنھوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیا۔‘‘ یہاں فتح سے مراد فتح حدیبیہ ہے، جب رسول اللہ ﷺ اور قریش کے درمیان صلح کا معاہدہ ہوا، جو درحقیقت سب سے بڑی فتح تھی، اس صلح کے دوران میں اسلام کی نشر و اشاعت ہوئی، مسلمانوں اور کفار کے درمیان میل جول ہوا اور کسی مخالفت کے بغیر دین کی دعوت دی گئی۔ اس عرصے میں لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور اسلام کو عزت و غلبہ حاصل ہوا۔اس فتح سے قبل مسلمان دین کی دعوت نہیں دے سکتے تھے سوائے ان علاقوں کے ، جہاں کے رہنے والوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، جیسے مدینہ منورہ اور اس کے تابع علاقے۔ اہل مکہ میں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا انھیں ایذائیں برداشت کرنا پڑیں اور انھیں سخت خوف کا سامنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس کسی نے فتح سے قبل اسلام قبول کر کے جہاد کیا، اس کا اجر و ثواب اور درجہ اس شخص کے درجہ سے زیادہ بڑا ہے جس نے فتح کے بعد اسلام قبول کر کے جہاد کیا اور اللہ کے راستے میں خرچ کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقین اولین اور فضلائے صحابہ کی غالب اکثریت نے فتح سے قبل اسلام قبول کیا۔چونکہ بعض معاملات کے درمیان فضیلت دینے سے کبھی کبھی مفضول میں نقص اور قدح متوہم ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس سے احتراز کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى﴾ یعنی وہ لوگ جو فتح سے پہلے اور اس کے بعد اسلام لائے، جہاد کیا اور اللہ کی راہ میں خرچ کیا، اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔‘‘ چنانچہ وہ تم سے ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ [11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے راستے میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے کیونکہ جہاد کا تمام تر دارومدار انفاق فی سبیل اللہ اور جہاد کی تیاری میں مال خرچ کرنے پر ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾ ’’کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے۔‘‘ اس سے مراد پاک اور طیب مال ہے جسے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے، اس کی رضا کے مطابق، حلال اور طیب مال میں سے نہایت خوش دلی کے ساتھ خرچ کیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس انفاق کو ’’قرض‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مال اسی کا مال اور یہ بندے اسی کے بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مال کو کئی گنا کر دینے کا وعدہ کیا ہے وہ فضل و کرم کا مالک اور بہت زیادہ داد و دہش والا ہے۔(اس انفاق کے)کئی گنا ہونے کا محل و مقام روز قیامت ہے، اس روز ہر انسان پر اپنا افتقار و احتیاج واضح ہو جائے گا، اس روز وہ قلیل ترین جزائے حسن کا بھی محتاج ہو گا، اس لیے فرمایا:

الحديد 57:10

ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے اور خرچ کرو اس میں سے کہ بنایا ہے اس (اللہ) نے تمھیں جانشین اس میں پس وہ لوگ جو ایمان لائے تم میں سے اور انھوں نے خرچ کیا، ان کے لیے اجر ہے بہت بڑا(7) اور کیا ہے تمھیں کہ نہیں ایمان لاتے تم ساتھ اللہ کے، جبکہ رسول بلاتا ہے تمھیں تاکہ تم ایمان لاؤ ساتھ اپنے رب کے، اور تحقیق وہ لے چکا ہے پختہ وعدہ تم سے؟ اگر ہو تم ایمان لانے والے(8) وہی ہے جو نازل کرتا ہے اپنے بندے پر آیتیں واضح تاکہ وہ نکالے تمھیں اندھیروں سے اجالے کی طرف، اور بلاشبہ اللہ تم پر نہایت شفیق بڑا رحم کرنے والا ہے(9) اور کیا ہے تمھیں یہ کہ نہ خرچ کرو تم اللہ کی راہ میں؟ اور اللہ ہی کے لیے ہے میراث آسمانوں اور زمین کی، نہیں برابر تم میں سے وہ جس نے خرچ کیا پہلے فتح (مکہ) سے اور لڑائی کی یہ لوگ زیادہ عظیم ہیں درجے میں ان لوگوں سے جنھوں نے خرچ کیا اس کے بعد اور لڑائی کی اور ہر ایک سے وعدہ کیا ہے اللہ نے نیک جزا کا اور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے (10) کون ہے وہ جو قرض دے اللہ کو قرض حسنہ؟ پھر وہ (اللہ) بڑھا دے اس کو اس کے لیے؟ اور اس کے لیے ہے اجر عمدہ (11) [7] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو، اللہ اور اس کے رسول اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے اور اللہ کے راستے میں وہ مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے جو اس نے ان کے اختیار میں دیا ہے اور اس پر ان کو خلیفہ بنایا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، پھر جب اس نے یہ حکم دیا تو اس نے ان کے سامنے اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کے ثواب کا ذکر کر کے ان کو مال خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اس پر آمادہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَاَنۡفَقُوۡا﴾ یعنی جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کو جمع کیا ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ اس میں سے عظیم ترین اور جلیل ترین اجر، اپنے رب کی رضا، اللہ تعالیٰ کا اکرام و تکریم والا گھر اور اس کے اندر ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے مومنین اور مجاہدین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ [8] پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو انھیں ایمان کی دعوت دیتا ہے اور عدم مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَا لَكُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَالرَّسُوۡلُ يَدۡعُوۡؔكُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ وَقَدۡ اَخَذَ مِيۡثَاقَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جو تمھیں ایمان لانے سے روکتی ہے حالانکہ رسول مصطفیٰ محمدﷺ جو سب سے افضل رسول اور سب سے اچھے داعی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ اس دعوت کو قبول کرنے اور حق کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے جلدی سے آگے بڑھنا چاہیے جسے محمد ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں، اللہ تعالیٰ تم سے ایمان لانے کا عہد اور میثاق لے چکا ہے، اگر تم مومن ہو تو تمھیں یہ کام کرنا چاہیے۔ [9] اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا تم پر لطف و کرم اور اس کی عنایت ہے کہ اس نے صرف رسول کی دعوت پر اکتفا نہیں کیا جو تمام کائنات میں سب سے زیادہ شرف کے حامل ہیں بلکہ معجزات کے ذریعے سے اس رسول کی تائید کی اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے، اس کی صداقت پر تمھارے سامنے واضح دلائل پیش کیے۔ اس لیے فرمایا :﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُنَزِّلُ عَلٰى عَبۡدِهٖۤ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰؔتٍ﴾’’وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں اتارتا ہے۔‘‘ یعنی ایسی ظاہری نشانیاں نازل فرمائیں جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں، اس کی صداقت پر عقل مندوں کی راہ نمائی کرتی ہیں، نیز یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہی حق الیقین ہے۔﴿ لِّيُخۡرِجَكُمۡ﴾ ’’تاکہ وہ تمھیں نکالے۔‘‘ تمھاری طرف رسول مبعوث کر کے، اور اس کتاب وحکمت کے ذریعے سے جو اس نے اس رسول کے ہاتھ پر اتاری۔ ﴿ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ﴾ ’’اندھیروں سے اجالے کی طرف۔‘‘ یعنی تمھیں جہالت اور کفر کی تاریکیوں سے نکال کر علم و ایمان کی روشنی میں لائے۔ یہ تم پر اس کی رحمت و رأفت ہے، وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحیم ہے جتنی ماں اپنے بچے پر رحیم ہے ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ تم پر بہت شفقت کرنے والا (اور) نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ [10]﴿ وَمَا لَكُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جس نے تمھیں انفاق فی سبیل اللہ سے روکا ہے اور ﴿سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ سے مراد تمام تر بھلائی کے راستے ہیں اورتم پر واجب کیا ہے کہ تم بخل نہ کرو۔‘‘ ﴿ وَ﴾ حالانکہ کوئی چیز تمھاری ملکیت میں نہیں ہے بلکہ ﴿ لِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان اور زمین اللہ تعالیٰ ہی کی میراث ہیں۔‘‘ پس تمام اموال تمھارے ہاتھوں سے نکل جائیں گے یا تم انھیں چھوڑ کر چلے جاؤ گے، پھر یہ ملکیت اس کے حقیقی مالک، اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف لوٹ جائے گی۔پس جب تک یہ اموال تمھارے ہاتھ میں ہیں، اللہ کے راستے میں خرچ کر کے فائدہ اٹھاؤ اور فرصت کو غنیمت سمجھو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے احوال اور حکمت الٰہیہ کے مطابق، اعمال کی ایک دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿ لَا يَسۡتَوِيۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقٰتَلَ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۢۡ بَعۡدُ وَقٰتَلُوۡا﴾ ’’تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کیا اور قتال کیا وہ برابر نہیں بلکہ ان کے درجے ان لوگوں سے بہت بڑے ہیں جنھوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیا۔‘‘ یہاں فتح سے مراد فتح حدیبیہ ہے، جب رسول اللہ ﷺ اور قریش کے درمیان صلح کا معاہدہ ہوا، جو درحقیقت سب سے بڑی فتح تھی، اس صلح کے دوران میں اسلام کی نشر و اشاعت ہوئی، مسلمانوں اور کفار کے درمیان میل جول ہوا اور کسی مخالفت کے بغیر دین کی دعوت دی گئی۔ اس عرصے میں لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور اسلام کو عزت و غلبہ حاصل ہوا۔اس فتح سے قبل مسلمان دین کی دعوت نہیں دے سکتے تھے سوائے ان علاقوں کے ، جہاں کے رہنے والوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، جیسے مدینہ منورہ اور اس کے تابع علاقے۔ اہل مکہ میں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا انھیں ایذائیں برداشت کرنا پڑیں اور انھیں سخت خوف کا سامنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس کسی نے فتح سے قبل اسلام قبول کر کے جہاد کیا، اس کا اجر و ثواب اور درجہ اس شخص کے درجہ سے زیادہ بڑا ہے جس نے فتح کے بعد اسلام قبول کر کے جہاد کیا اور اللہ کے راستے میں خرچ کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقین اولین اور فضلائے صحابہ کی غالب اکثریت نے فتح سے قبل اسلام قبول کیا۔چونکہ بعض معاملات کے درمیان فضیلت دینے سے کبھی کبھی مفضول میں نقص اور قدح متوہم ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس سے احتراز کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى﴾ یعنی وہ لوگ جو فتح سے پہلے اور اس کے بعد اسلام لائے، جہاد کیا اور اللہ کی راہ میں خرچ کیا، اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔‘‘ چنانچہ وہ تم سے ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ [11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے راستے میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے کیونکہ جہاد کا تمام تر دارومدار انفاق فی سبیل اللہ اور جہاد کی تیاری میں مال خرچ کرنے پر ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾ ’’کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے۔‘‘ اس سے مراد پاک اور طیب مال ہے جسے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے، اس کی رضا کے مطابق، حلال اور طیب مال میں سے نہایت خوش دلی کے ساتھ خرچ کیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس انفاق کو ’’قرض‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مال اسی کا مال اور یہ بندے اسی کے بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مال کو کئی گنا کر دینے کا وعدہ کیا ہے وہ فضل و کرم کا مالک اور بہت زیادہ داد و دہش والا ہے۔(اس انفاق کے)کئی گنا ہونے کا محل و مقام روز قیامت ہے، اس روز ہر انسان پر اپنا افتقار و احتیاج واضح ہو جائے گا، اس روز وہ قلیل ترین جزائے حسن کا بھی محتاج ہو گا، اس لیے فرمایا:

الحديد 57:11

ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے اور خرچ کرو اس میں سے کہ بنایا ہے اس (اللہ) نے تمھیں جانشین اس میں پس وہ لوگ جو ایمان لائے تم میں سے اور انھوں نے خرچ کیا، ان کے لیے اجر ہے بہت بڑا(7) اور کیا ہے تمھیں کہ نہیں ایمان لاتے تم ساتھ اللہ کے، جبکہ رسول بلاتا ہے تمھیں تاکہ تم ایمان لاؤ ساتھ اپنے رب کے، اور تحقیق وہ لے چکا ہے پختہ وعدہ تم سے؟ اگر ہو تم ایمان لانے والے(8) وہی ہے جو نازل کرتا ہے اپنے بندے پر آیتیں واضح تاکہ وہ نکالے تمھیں اندھیروں سے اجالے کی طرف، اور بلاشبہ اللہ تم پر نہایت شفیق بڑا رحم کرنے والا ہے(9) اور کیا ہے تمھیں یہ کہ نہ خرچ کرو تم اللہ کی راہ میں؟ اور اللہ ہی کے لیے ہے میراث آسمانوں اور زمین کی، نہیں برابر تم میں سے وہ جس نے خرچ کیا پہلے فتح (مکہ) سے اور لڑائی کی یہ لوگ زیادہ عظیم ہیں درجے میں ان لوگوں سے جنھوں نے خرچ کیا اس کے بعد اور لڑائی کی اور ہر ایک سے وعدہ کیا ہے اللہ نے نیک جزا کا اور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے (10) کون ہے وہ جو قرض دے اللہ کو قرض حسنہ؟ پھر وہ (اللہ) بڑھا دے اس کو اس کے لیے؟ اور اس کے لیے ہے اجر عمدہ (11) [7] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو، اللہ اور اس کے رسول اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے اور اللہ کے راستے میں وہ مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے جو اس نے ان کے اختیار میں دیا ہے اور اس پر ان کو خلیفہ بنایا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، پھر جب اس نے یہ حکم دیا تو اس نے ان کے سامنے اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کے ثواب کا ذکر کر کے ان کو مال خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اس پر آمادہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَاَنۡفَقُوۡا﴾ یعنی جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کو جمع کیا ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ اس میں سے عظیم ترین اور جلیل ترین اجر، اپنے رب کی رضا، اللہ تعالیٰ کا اکرام و تکریم والا گھر اور اس کے اندر ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے مومنین اور مجاہدین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ [8] پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو انھیں ایمان کی دعوت دیتا ہے اور عدم مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَا لَكُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَالرَّسُوۡلُ يَدۡعُوۡؔكُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ وَقَدۡ اَخَذَ مِيۡثَاقَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جو تمھیں ایمان لانے سے روکتی ہے حالانکہ رسول مصطفیٰ محمدﷺ جو سب سے افضل رسول اور سب سے اچھے داعی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ اس دعوت کو قبول کرنے اور حق کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے جلدی سے آگے بڑھنا چاہیے جسے محمد ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں، اللہ تعالیٰ تم سے ایمان لانے کا عہد اور میثاق لے چکا ہے، اگر تم مومن ہو تو تمھیں یہ کام کرنا چاہیے۔ [9] اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا تم پر لطف و کرم اور اس کی عنایت ہے کہ اس نے صرف رسول کی دعوت پر اکتفا نہیں کیا جو تمام کائنات میں سب سے زیادہ شرف کے حامل ہیں بلکہ معجزات کے ذریعے سے اس رسول کی تائید کی اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے، اس کی صداقت پر تمھارے سامنے واضح دلائل پیش کیے۔ اس لیے فرمایا :﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُنَزِّلُ عَلٰى عَبۡدِهٖۤ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰؔتٍ﴾’’وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں اتارتا ہے۔‘‘ یعنی ایسی ظاہری نشانیاں نازل فرمائیں جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں، اس کی صداقت پر عقل مندوں کی راہ نمائی کرتی ہیں، نیز یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہی حق الیقین ہے۔﴿ لِّيُخۡرِجَكُمۡ﴾ ’’تاکہ وہ تمھیں نکالے۔‘‘ تمھاری طرف رسول مبعوث کر کے، اور اس کتاب وحکمت کے ذریعے سے جو اس نے اس رسول کے ہاتھ پر اتاری۔ ﴿ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ﴾ ’’اندھیروں سے اجالے کی طرف۔‘‘ یعنی تمھیں جہالت اور کفر کی تاریکیوں سے نکال کر علم و ایمان کی روشنی میں لائے۔ یہ تم پر اس کی رحمت و رأفت ہے، وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحیم ہے جتنی ماں اپنے بچے پر رحیم ہے ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ تم پر بہت شفقت کرنے والا (اور) نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ [10]﴿ وَمَا لَكُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جس نے تمھیں انفاق فی سبیل اللہ سے روکا ہے اور ﴿سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ سے مراد تمام تر بھلائی کے راستے ہیں اورتم پر واجب کیا ہے کہ تم بخل نہ کرو۔‘‘ ﴿ وَ﴾ حالانکہ کوئی چیز تمھاری ملکیت میں نہیں ہے بلکہ ﴿ لِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان اور زمین اللہ تعالیٰ ہی کی میراث ہیں۔‘‘ پس تمام اموال تمھارے ہاتھوں سے نکل جائیں گے یا تم انھیں چھوڑ کر چلے جاؤ گے، پھر یہ ملکیت اس کے حقیقی مالک، اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف لوٹ جائے گی۔پس جب تک یہ اموال تمھارے ہاتھ میں ہیں، اللہ کے راستے میں خرچ کر کے فائدہ اٹھاؤ اور فرصت کو غنیمت سمجھو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے احوال اور حکمت الٰہیہ کے مطابق، اعمال کی ایک دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿ لَا يَسۡتَوِيۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقٰتَلَ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۢۡ بَعۡدُ وَقٰتَلُوۡا﴾ ’’تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کیا اور قتال کیا وہ برابر نہیں بلکہ ان کے درجے ان لوگوں سے بہت بڑے ہیں جنھوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیا۔‘‘ یہاں فتح سے مراد فتح حدیبیہ ہے، جب رسول اللہ ﷺ اور قریش کے درمیان صلح کا معاہدہ ہوا، جو درحقیقت سب سے بڑی فتح تھی، اس صلح کے دوران میں اسلام کی نشر و اشاعت ہوئی، مسلمانوں اور کفار کے درمیان میل جول ہوا اور کسی مخالفت کے بغیر دین کی دعوت دی گئی۔ اس عرصے میں لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور اسلام کو عزت و غلبہ حاصل ہوا۔اس فتح سے قبل مسلمان دین کی دعوت نہیں دے سکتے تھے سوائے ان علاقوں کے ، جہاں کے رہنے والوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، جیسے مدینہ منورہ اور اس کے تابع علاقے۔ اہل مکہ میں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا انھیں ایذائیں برداشت کرنا پڑیں اور انھیں سخت خوف کا سامنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس کسی نے فتح سے قبل اسلام قبول کر کے جہاد کیا، اس کا اجر و ثواب اور درجہ اس شخص کے درجہ سے زیادہ بڑا ہے جس نے فتح کے بعد اسلام قبول کر کے جہاد کیا اور اللہ کے راستے میں خرچ کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقین اولین اور فضلائے صحابہ کی غالب اکثریت نے فتح سے قبل اسلام قبول کیا۔چونکہ بعض معاملات کے درمیان فضیلت دینے سے کبھی کبھی مفضول میں نقص اور قدح متوہم ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس سے احتراز کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى﴾ یعنی وہ لوگ جو فتح سے پہلے اور اس کے بعد اسلام لائے، جہاد کیا اور اللہ کی راہ میں خرچ کیا، اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔‘‘ چنانچہ وہ تم سے ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ [11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے راستے میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے کیونکہ جہاد کا تمام تر دارومدار انفاق فی سبیل اللہ اور جہاد کی تیاری میں مال خرچ کرنے پر ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾ ’’کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے۔‘‘ اس سے مراد پاک اور طیب مال ہے جسے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے، اس کی رضا کے مطابق، حلال اور طیب مال میں سے نہایت خوش دلی کے ساتھ خرچ کیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس انفاق کو ’’قرض‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مال اسی کا مال اور یہ بندے اسی کے بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مال کو کئی گنا کر دینے کا وعدہ کیا ہے وہ فضل و کرم کا مالک اور بہت زیادہ داد و دہش والا ہے۔(اس انفاق کے)کئی گنا ہونے کا محل و مقام روز قیامت ہے، اس روز ہر انسان پر اپنا افتقار و احتیاج واضح ہو جائے گا، اس روز وہ قلیل ترین جزائے حسن کا بھی محتاج ہو گا، اس لیے فرمایا:

الحديد 57:12

اس دن آپ دیکھیں گے ایمان والوں اور ایمان والیوں کو کہ دوڑتا ہو گا نور ان کا آگے ان کے اور دائیں ان کے خوش خبری ہے تمھیں آج ایسے باغات کی کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، یہی ہے وہ کامیابی بڑی (12) اس دن کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے، تم انتظار کرو ہمارا کہ ہم بھی کچھ روشنی حاصل کر لیں تمھارے نور سے (ان سے) کہا جائے گا، تم لوٹ جاؤ اپنے پیچھے ، پھر تلاش کرو نور! پس حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان ایک دیوار اس کا ایک دروازہ ہو گا، اندر اس کے اس میں رحمت ہو گی اور باہر اس کے اس کی طرف عذاب ہو گا (13) وہ پکاریں گے ان (مومنوں) کو، کیانہ تھے ہم تمھارے ساتھ(دنیا میں)؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں اور لیکن تم نے فتنے میں ڈالا تھا خود کو اور انتظار کیا تم نے اور شک کیا تم نے اور فریب دیا تمھیں خواہشوں نے یہاں تک کہ آ پہنچا حکم اللہ کا اور دھوکا دیا تمھیں اللہ کی بابت دھوکے باز نے (14) پس آج نہ لیا جائے گا تم سے کوئی فدیہ اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، تمھارا ٹھکانا آگ ہے، وہی تمھارے زیادہ لائق ہے اور بری جگہ ہے لوٹ جانے کی (وہ آگ)(15) [12] اللہ تعالیٰ ایمان کی فضیلت اور قیامت کے روز اہل ایمان کی فرحت و مسرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ يَوۡمَ تَرَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ يَسۡعٰى نُوۡرُهُمۡ بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ﴾ ’’اس دن آپ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں دوڑتا ہوگا۔‘‘ یعنی جب قیامت کا دن ہو گا سورج کو لپیٹ دیا جائے گا، چاند کو بے نور کر دیا جائے گا، تمام لوگ اندھیرے میں ہوں گے اور جہنم کے اوپر پل صراط نصب کر دیا جائے گا، تب تو مومنین اور مومنات کو دیکھے گا کہ ان کی روشنی ان کے آگے، اور ان کے دائیں بائیں چل رہی ہو گی اور وہ اس نہایت مشکل اور ہولناک مقام پر، اپنے ایمان اور روشنی کے ساتھ جا رہے ہوں گے، ہر شخص کو اپنے اپنے ایمان کی مقدار کے مطابق روشنی حاصل ہو گی۔اس مقام پر ان کو سب سے بڑی خوشخبری دی جائے گی، پس ان سے کہا جائے گا:﴿ بُشۡرٰؔىكُمُ الۡيَوۡمَ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾ ’’تم کو بشارت ہو کہ آج تمھارے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں تم ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ اللہ! یہ خوشخبری ان کے دلوں کے لیے کتنی شیریں اور ان کے نفوس کے لیے کتنی لذیذ ہو گی جہاں انھیں ہر مطلوب و محبوب چیز حاصل ہو گی اور وہ ہر شر اور ڈرانے والے امر سے نجات پائیں گے۔ [13] جب منافقین دیکھیں گے کہ اہل ایمان روشنی میں چلے جا رہے ہیں اور خود ان کی روشنی بجھ گئی ہے اور وہ اندھیروں میں حیران و پریشان باقی رہ گئے ہیں تو وہ اہل ایمان سے کہیں گے: ﴿ انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ﴾ یعنی ٹھہرو! تاکہ ہم تمھاری روشنی سے کچھ روشنی لے کر اس کے اندر چل سکیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں تو ﴿ قِيۡلَ﴾ ان سے کہا جائے گا : ﴿ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا﴾ ’’پیچھے لوٹ کر جاؤ اور روشنی تلاش کرو۔‘‘ یعنی اگر ایسا کرنا ممکن ہے، حالانکہ یہ ممکن نہ ہو گا بلکہ یہ بالکل محال ہو گا ﴿ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تب حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان۔‘‘ یعنی مومنین اور منافقین کے درمیان ﴿ بِسُوۡرٍ﴾ ناقابل عبور دیوار کھڑی کر دی جائے گی اور ایک محفوظ رکاوٹ بنا دی جائے گی ﴿ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ ﴾ ’’جس کا ایک دروازہ ہوگا جو اس کی اندرونی جانب ہے اس میں تو رحمت ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو مومنین کی طرف ہو گا ﴿ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُ﴾ ’’اور جو اس کی بیرونی جانب ہے اس طرف عذاب ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو منافقین کی طرف ہو گا۔ [14] منافقین اہل ایمان کو پکاریں گے اور رحم کی درخواست کرتے ہوئے نہایت عاجزی سے کہیں گے: ﴿ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ﴾ کیا دنیا میں لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کہنے میں ہم تمھارے ساتھ نہ تھے، ہم بھی نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے، جہاد کرتے تھے اور تمھارے جیسے عمل کرتے تھے؟ ﴿ قَالُوۡا بَلٰى﴾ مومنین جواب دیں گے: کیوں نہیں! تم دنیا میں ہمارے ساتھ تھے اور ظاہر میں ہمارے جیسے اعمال بھی بجا لاتے تھے، مگر تمھارے اعمال ایمان ، سچی اور صالح نیت سے خالی تھے بلکہ ﴿ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ﴾ ’’ تم نے خود اپنے آپ کو فتنے میں ڈال لیا تھا اور تم نے (اہل ایمان کی بابت گردشِ زمانہ کا) انتظار کیا اور شک کرتے رہے۔‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں شک کیا جو شک کو قبول نہیں کرتی۔ ﴿ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ﴾ یعنی جھوٹی تمناؤ ں نے تمھیں دھوکے میں رکھا، تم تمنا کرتے تھے کہ تم بھی مومنین کے مقام پر پہنچ جاؤ گے اور حال تمھارا یہ تھا کہ تم دولتِ یقین سے تہی دامن تھے۔ ﴿ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ﴾ حتیٰ کہ موت نے تمھیں آ لیا اور تمھاری وہی مذموم حالت تھی۔ ﴿ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ﴾ ’’تمھیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے والے نے دھوکے ہی میں رکھا۔‘‘ اس سے مراد شیطان ہے جس نے کفر اور شک کو تمھارے سامنے آراستہ کر دیا، تم اس پر بڑے مطمئن تھے، تم نے اس کے وعدے پر بھروسہ کیا اور اس کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی۔ [15]﴿ فَالۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنۡكُمۡ فِدۡيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’لہٰذا آج تم سے فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کافروں سے۔‘‘ اگرچہ تم زمین بھر سونا، نیز اتنا ہی مزید اپنے فدیے میں ادا کرو تو تم سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ مَاۡوٰىكُمُ النَّارُ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا ہے ﴿ هِيَ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یہ جہنم تمھارا والی ہو گا اور تمھیں اپنے پاس رکھے گا ﴿ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗۙ۰۰فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌؕ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡؕ۰۰ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾(القارعۃ:101؍8-11) ’’اور جن کے اعمال کے وزن ہلکے نکلیں گے تو ان کا ٹھکانا ہاویہ ہے، اور آپ کیا جانیں کہ یہ ہاویہ کیا ہے، یہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔‘‘

الحديد 57:13

اس دن آپ دیکھیں گے ایمان والوں اور ایمان والیوں کو کہ دوڑتا ہو گا نور ان کا آگے ان کے اور دائیں ان کے خوش خبری ہے تمھیں آج ایسے باغات کی کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، یہی ہے وہ کامیابی بڑی (12) اس دن کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے، تم انتظار کرو ہمارا کہ ہم بھی کچھ روشنی حاصل کر لیں تمھارے نور سے (ان سے) کہا جائے گا، تم لوٹ جاؤ اپنے پیچھے ، پھر تلاش کرو نور! پس حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان ایک دیوار اس کا ایک دروازہ ہو گا، اندر اس کے اس میں رحمت ہو گی اور باہر اس کے اس کی طرف عذاب ہو گا (13) وہ پکاریں گے ان (مومنوں) کو، کیانہ تھے ہم تمھارے ساتھ(دنیا میں)؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں اور لیکن تم نے فتنے میں ڈالا تھا خود کو اور انتظار کیا تم نے اور شک کیا تم نے اور فریب دیا تمھیں خواہشوں نے یہاں تک کہ آ پہنچا حکم اللہ کا اور دھوکا دیا تمھیں اللہ کی بابت دھوکے باز نے (14) پس آج نہ لیا جائے گا تم سے کوئی فدیہ اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، تمھارا ٹھکانا آگ ہے، وہی تمھارے زیادہ لائق ہے اور بری جگہ ہے لوٹ جانے کی (وہ آگ)(15) [12] اللہ تعالیٰ ایمان کی فضیلت اور قیامت کے روز اہل ایمان کی فرحت و مسرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ يَوۡمَ تَرَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ يَسۡعٰى نُوۡرُهُمۡ بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ﴾ ’’اس دن آپ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں دوڑتا ہوگا۔‘‘ یعنی جب قیامت کا دن ہو گا سورج کو لپیٹ دیا جائے گا، چاند کو بے نور کر دیا جائے گا، تمام لوگ اندھیرے میں ہوں گے اور جہنم کے اوپر پل صراط نصب کر دیا جائے گا، تب تو مومنین اور مومنات کو دیکھے گا کہ ان کی روشنی ان کے آگے، اور ان کے دائیں بائیں چل رہی ہو گی اور وہ اس نہایت مشکل اور ہولناک مقام پر، اپنے ایمان اور روشنی کے ساتھ جا رہے ہوں گے، ہر شخص کو اپنے اپنے ایمان کی مقدار کے مطابق روشنی حاصل ہو گی۔اس مقام پر ان کو سب سے بڑی خوشخبری دی جائے گی، پس ان سے کہا جائے گا:﴿ بُشۡرٰؔىكُمُ الۡيَوۡمَ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾ ’’تم کو بشارت ہو کہ آج تمھارے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں تم ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ اللہ! یہ خوشخبری ان کے دلوں کے لیے کتنی شیریں اور ان کے نفوس کے لیے کتنی لذیذ ہو گی جہاں انھیں ہر مطلوب و محبوب چیز حاصل ہو گی اور وہ ہر شر اور ڈرانے والے امر سے نجات پائیں گے۔ [13] جب منافقین دیکھیں گے کہ اہل ایمان روشنی میں چلے جا رہے ہیں اور خود ان کی روشنی بجھ گئی ہے اور وہ اندھیروں میں حیران و پریشان باقی رہ گئے ہیں تو وہ اہل ایمان سے کہیں گے: ﴿ انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ﴾ یعنی ٹھہرو! تاکہ ہم تمھاری روشنی سے کچھ روشنی لے کر اس کے اندر چل سکیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں تو ﴿ قِيۡلَ﴾ ان سے کہا جائے گا : ﴿ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا﴾ ’’پیچھے لوٹ کر جاؤ اور روشنی تلاش کرو۔‘‘ یعنی اگر ایسا کرنا ممکن ہے، حالانکہ یہ ممکن نہ ہو گا بلکہ یہ بالکل محال ہو گا ﴿ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تب حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان۔‘‘ یعنی مومنین اور منافقین کے درمیان ﴿ بِسُوۡرٍ﴾ ناقابل عبور دیوار کھڑی کر دی جائے گی اور ایک محفوظ رکاوٹ بنا دی جائے گی ﴿ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ ﴾ ’’جس کا ایک دروازہ ہوگا جو اس کی اندرونی جانب ہے اس میں تو رحمت ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو مومنین کی طرف ہو گا ﴿ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُ﴾ ’’اور جو اس کی بیرونی جانب ہے اس طرف عذاب ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو منافقین کی طرف ہو گا۔ [14] منافقین اہل ایمان کو پکاریں گے اور رحم کی درخواست کرتے ہوئے نہایت عاجزی سے کہیں گے: ﴿ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ﴾ کیا دنیا میں لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کہنے میں ہم تمھارے ساتھ نہ تھے، ہم بھی نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے، جہاد کرتے تھے اور تمھارے جیسے عمل کرتے تھے؟ ﴿ قَالُوۡا بَلٰى﴾ مومنین جواب دیں گے: کیوں نہیں! تم دنیا میں ہمارے ساتھ تھے اور ظاہر میں ہمارے جیسے اعمال بھی بجا لاتے تھے، مگر تمھارے اعمال ایمان ، سچی اور صالح نیت سے خالی تھے بلکہ ﴿ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ﴾ ’’ تم نے خود اپنے آپ کو فتنے میں ڈال لیا تھا اور تم نے (اہل ایمان کی بابت گردشِ زمانہ کا) انتظار کیا اور شک کرتے رہے۔‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں شک کیا جو شک کو قبول نہیں کرتی۔ ﴿ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ﴾ یعنی جھوٹی تمناؤ ں نے تمھیں دھوکے میں رکھا، تم تمنا کرتے تھے کہ تم بھی مومنین کے مقام پر پہنچ جاؤ گے اور حال تمھارا یہ تھا کہ تم دولتِ یقین سے تہی دامن تھے۔ ﴿ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ﴾ حتیٰ کہ موت نے تمھیں آ لیا اور تمھاری وہی مذموم حالت تھی۔ ﴿ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ﴾ ’’تمھیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے والے نے دھوکے ہی میں رکھا۔‘‘ اس سے مراد شیطان ہے جس نے کفر اور شک کو تمھارے سامنے آراستہ کر دیا، تم اس پر بڑے مطمئن تھے، تم نے اس کے وعدے پر بھروسہ کیا اور اس کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی۔ [15]﴿ فَالۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنۡكُمۡ فِدۡيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’لہٰذا آج تم سے فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کافروں سے۔‘‘ اگرچہ تم زمین بھر سونا، نیز اتنا ہی مزید اپنے فدیے میں ادا کرو تو تم سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ مَاۡوٰىكُمُ النَّارُ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا ہے ﴿ هِيَ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یہ جہنم تمھارا والی ہو گا اور تمھیں اپنے پاس رکھے گا ﴿ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗۙ۰۰فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌؕ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡؕ۰۰ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾(القارعۃ:101؍8-11) ’’اور جن کے اعمال کے وزن ہلکے نکلیں گے تو ان کا ٹھکانا ہاویہ ہے، اور آپ کیا جانیں کہ یہ ہاویہ کیا ہے، یہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔‘‘

الحديد 57:14

اس دن آپ دیکھیں گے ایمان والوں اور ایمان والیوں کو کہ دوڑتا ہو گا نور ان کا آگے ان کے اور دائیں ان کے خوش خبری ہے تمھیں آج ایسے باغات کی کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، یہی ہے وہ کامیابی بڑی (12) اس دن کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے، تم انتظار کرو ہمارا کہ ہم بھی کچھ روشنی حاصل کر لیں تمھارے نور سے (ان سے) کہا جائے گا، تم لوٹ جاؤ اپنے پیچھے ، پھر تلاش کرو نور! پس حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان ایک دیوار اس کا ایک دروازہ ہو گا، اندر اس کے اس میں رحمت ہو گی اور باہر اس کے اس کی طرف عذاب ہو گا (13) وہ پکاریں گے ان (مومنوں) کو، کیانہ تھے ہم تمھارے ساتھ(دنیا میں)؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں اور لیکن تم نے فتنے میں ڈالا تھا خود کو اور انتظار کیا تم نے اور شک کیا تم نے اور فریب دیا تمھیں خواہشوں نے یہاں تک کہ آ پہنچا حکم اللہ کا اور دھوکا دیا تمھیں اللہ کی بابت دھوکے باز نے (14) پس آج نہ لیا جائے گا تم سے کوئی فدیہ اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، تمھارا ٹھکانا آگ ہے، وہی تمھارے زیادہ لائق ہے اور بری جگہ ہے لوٹ جانے کی (وہ آگ)(15) [12] اللہ تعالیٰ ایمان کی فضیلت اور قیامت کے روز اہل ایمان کی فرحت و مسرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ يَوۡمَ تَرَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ يَسۡعٰى نُوۡرُهُمۡ بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ﴾ ’’اس دن آپ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں دوڑتا ہوگا۔‘‘ یعنی جب قیامت کا دن ہو گا سورج کو لپیٹ دیا جائے گا، چاند کو بے نور کر دیا جائے گا، تمام لوگ اندھیرے میں ہوں گے اور جہنم کے اوپر پل صراط نصب کر دیا جائے گا، تب تو مومنین اور مومنات کو دیکھے گا کہ ان کی روشنی ان کے آگے، اور ان کے دائیں بائیں چل رہی ہو گی اور وہ اس نہایت مشکل اور ہولناک مقام پر، اپنے ایمان اور روشنی کے ساتھ جا رہے ہوں گے، ہر شخص کو اپنے اپنے ایمان کی مقدار کے مطابق روشنی حاصل ہو گی۔اس مقام پر ان کو سب سے بڑی خوشخبری دی جائے گی، پس ان سے کہا جائے گا:﴿ بُشۡرٰؔىكُمُ الۡيَوۡمَ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾ ’’تم کو بشارت ہو کہ آج تمھارے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں تم ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ اللہ! یہ خوشخبری ان کے دلوں کے لیے کتنی شیریں اور ان کے نفوس کے لیے کتنی لذیذ ہو گی جہاں انھیں ہر مطلوب و محبوب چیز حاصل ہو گی اور وہ ہر شر اور ڈرانے والے امر سے نجات پائیں گے۔ [13] جب منافقین دیکھیں گے کہ اہل ایمان روشنی میں چلے جا رہے ہیں اور خود ان کی روشنی بجھ گئی ہے اور وہ اندھیروں میں حیران و پریشان باقی رہ گئے ہیں تو وہ اہل ایمان سے کہیں گے: ﴿ انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ﴾ یعنی ٹھہرو! تاکہ ہم تمھاری روشنی سے کچھ روشنی لے کر اس کے اندر چل سکیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں تو ﴿ قِيۡلَ﴾ ان سے کہا جائے گا : ﴿ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا﴾ ’’پیچھے لوٹ کر جاؤ اور روشنی تلاش کرو۔‘‘ یعنی اگر ایسا کرنا ممکن ہے، حالانکہ یہ ممکن نہ ہو گا بلکہ یہ بالکل محال ہو گا ﴿ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تب حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان۔‘‘ یعنی مومنین اور منافقین کے درمیان ﴿ بِسُوۡرٍ﴾ ناقابل عبور دیوار کھڑی کر دی جائے گی اور ایک محفوظ رکاوٹ بنا دی جائے گی ﴿ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ ﴾ ’’جس کا ایک دروازہ ہوگا جو اس کی اندرونی جانب ہے اس میں تو رحمت ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو مومنین کی طرف ہو گا ﴿ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُ﴾ ’’اور جو اس کی بیرونی جانب ہے اس طرف عذاب ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو منافقین کی طرف ہو گا۔ [14] منافقین اہل ایمان کو پکاریں گے اور رحم کی درخواست کرتے ہوئے نہایت عاجزی سے کہیں گے: ﴿ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ﴾ کیا دنیا میں لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کہنے میں ہم تمھارے ساتھ نہ تھے، ہم بھی نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے، جہاد کرتے تھے اور تمھارے جیسے عمل کرتے تھے؟ ﴿ قَالُوۡا بَلٰى﴾ مومنین جواب دیں گے: کیوں نہیں! تم دنیا میں ہمارے ساتھ تھے اور ظاہر میں ہمارے جیسے اعمال بھی بجا لاتے تھے، مگر تمھارے اعمال ایمان ، سچی اور صالح نیت سے خالی تھے بلکہ ﴿ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ﴾ ’’ تم نے خود اپنے آپ کو فتنے میں ڈال لیا تھا اور تم نے (اہل ایمان کی بابت گردشِ زمانہ کا) انتظار کیا اور شک کرتے رہے۔‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں شک کیا جو شک کو قبول نہیں کرتی۔ ﴿ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ﴾ یعنی جھوٹی تمناؤ ں نے تمھیں دھوکے میں رکھا، تم تمنا کرتے تھے کہ تم بھی مومنین کے مقام پر پہنچ جاؤ گے اور حال تمھارا یہ تھا کہ تم دولتِ یقین سے تہی دامن تھے۔ ﴿ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ﴾ حتیٰ کہ موت نے تمھیں آ لیا اور تمھاری وہی مذموم حالت تھی۔ ﴿ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ﴾ ’’تمھیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے والے نے دھوکے ہی میں رکھا۔‘‘ اس سے مراد شیطان ہے جس نے کفر اور شک کو تمھارے سامنے آراستہ کر دیا، تم اس پر بڑے مطمئن تھے، تم نے اس کے وعدے پر بھروسہ کیا اور اس کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی۔ [15]﴿ فَالۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنۡكُمۡ فِدۡيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’لہٰذا آج تم سے فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کافروں سے۔‘‘ اگرچہ تم زمین بھر سونا، نیز اتنا ہی مزید اپنے فدیے میں ادا کرو تو تم سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ مَاۡوٰىكُمُ النَّارُ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا ہے ﴿ هِيَ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یہ جہنم تمھارا والی ہو گا اور تمھیں اپنے پاس رکھے گا ﴿ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗۙ۰۰فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌؕ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡؕ۰۰ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾(القارعۃ:101؍8-11) ’’اور جن کے اعمال کے وزن ہلکے نکلیں گے تو ان کا ٹھکانا ہاویہ ہے، اور آپ کیا جانیں کہ یہ ہاویہ کیا ہے، یہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔‘‘

الحديد 57:15

اس دن آپ دیکھیں گے ایمان والوں اور ایمان والیوں کو کہ دوڑتا ہو گا نور ان کا آگے ان کے اور دائیں ان کے خوش خبری ہے تمھیں آج ایسے باغات کی کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، یہی ہے وہ کامیابی بڑی (12) اس دن کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے، تم انتظار کرو ہمارا کہ ہم بھی کچھ روشنی حاصل کر لیں تمھارے نور سے (ان سے) کہا جائے گا، تم لوٹ جاؤ اپنے پیچھے ، پھر تلاش کرو نور! پس حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان ایک دیوار اس کا ایک دروازہ ہو گا، اندر اس کے اس میں رحمت ہو گی اور باہر اس کے اس کی طرف عذاب ہو گا (13) وہ پکاریں گے ان (مومنوں) کو، کیانہ تھے ہم تمھارے ساتھ(دنیا میں)؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں اور لیکن تم نے فتنے میں ڈالا تھا خود کو اور انتظار کیا تم نے اور شک کیا تم نے اور فریب دیا تمھیں خواہشوں نے یہاں تک کہ آ پہنچا حکم اللہ کا اور دھوکا دیا تمھیں اللہ کی بابت دھوکے باز نے (14) پس آج نہ لیا جائے گا تم سے کوئی فدیہ اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، تمھارا ٹھکانا آگ ہے، وہی تمھارے زیادہ لائق ہے اور بری جگہ ہے لوٹ جانے کی (وہ آگ)(15) [12] اللہ تعالیٰ ایمان کی فضیلت اور قیامت کے روز اہل ایمان کی فرحت و مسرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ يَوۡمَ تَرَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ يَسۡعٰى نُوۡرُهُمۡ بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ﴾ ’’اس دن آپ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں دوڑتا ہوگا۔‘‘ یعنی جب قیامت کا دن ہو گا سورج کو لپیٹ دیا جائے گا، چاند کو بے نور کر دیا جائے گا، تمام لوگ اندھیرے میں ہوں گے اور جہنم کے اوپر پل صراط نصب کر دیا جائے گا، تب تو مومنین اور مومنات کو دیکھے گا کہ ان کی روشنی ان کے آگے، اور ان کے دائیں بائیں چل رہی ہو گی اور وہ اس نہایت مشکل اور ہولناک مقام پر، اپنے ایمان اور روشنی کے ساتھ جا رہے ہوں گے، ہر شخص کو اپنے اپنے ایمان کی مقدار کے مطابق روشنی حاصل ہو گی۔اس مقام پر ان کو سب سے بڑی خوشخبری دی جائے گی، پس ان سے کہا جائے گا:﴿ بُشۡرٰؔىكُمُ الۡيَوۡمَ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾ ’’تم کو بشارت ہو کہ آج تمھارے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں تم ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ اللہ! یہ خوشخبری ان کے دلوں کے لیے کتنی شیریں اور ان کے نفوس کے لیے کتنی لذیذ ہو گی جہاں انھیں ہر مطلوب و محبوب چیز حاصل ہو گی اور وہ ہر شر اور ڈرانے والے امر سے نجات پائیں گے۔ [13] جب منافقین دیکھیں گے کہ اہل ایمان روشنی میں چلے جا رہے ہیں اور خود ان کی روشنی بجھ گئی ہے اور وہ اندھیروں میں حیران و پریشان باقی رہ گئے ہیں تو وہ اہل ایمان سے کہیں گے: ﴿ انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ﴾ یعنی ٹھہرو! تاکہ ہم تمھاری روشنی سے کچھ روشنی لے کر اس کے اندر چل سکیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں تو ﴿ قِيۡلَ﴾ ان سے کہا جائے گا : ﴿ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا﴾ ’’پیچھے لوٹ کر جاؤ اور روشنی تلاش کرو۔‘‘ یعنی اگر ایسا کرنا ممکن ہے، حالانکہ یہ ممکن نہ ہو گا بلکہ یہ بالکل محال ہو گا ﴿ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تب حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان۔‘‘ یعنی مومنین اور منافقین کے درمیان ﴿ بِسُوۡرٍ﴾ ناقابل عبور دیوار کھڑی کر دی جائے گی اور ایک محفوظ رکاوٹ بنا دی جائے گی ﴿ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ ﴾ ’’جس کا ایک دروازہ ہوگا جو اس کی اندرونی جانب ہے اس میں تو رحمت ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو مومنین کی طرف ہو گا ﴿ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُ﴾ ’’اور جو اس کی بیرونی جانب ہے اس طرف عذاب ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو منافقین کی طرف ہو گا۔ [14] منافقین اہل ایمان کو پکاریں گے اور رحم کی درخواست کرتے ہوئے نہایت عاجزی سے کہیں گے: ﴿ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ﴾ کیا دنیا میں لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کہنے میں ہم تمھارے ساتھ نہ تھے، ہم بھی نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے، جہاد کرتے تھے اور تمھارے جیسے عمل کرتے تھے؟ ﴿ قَالُوۡا بَلٰى﴾ مومنین جواب دیں گے: کیوں نہیں! تم دنیا میں ہمارے ساتھ تھے اور ظاہر میں ہمارے جیسے اعمال بھی بجا لاتے تھے، مگر تمھارے اعمال ایمان ، سچی اور صالح نیت سے خالی تھے بلکہ ﴿ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ﴾ ’’ تم نے خود اپنے آپ کو فتنے میں ڈال لیا تھا اور تم نے (اہل ایمان کی بابت گردشِ زمانہ کا) انتظار کیا اور شک کرتے رہے۔‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں شک کیا جو شک کو قبول نہیں کرتی۔ ﴿ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ﴾ یعنی جھوٹی تمناؤ ں نے تمھیں دھوکے میں رکھا، تم تمنا کرتے تھے کہ تم بھی مومنین کے مقام پر پہنچ جاؤ گے اور حال تمھارا یہ تھا کہ تم دولتِ یقین سے تہی دامن تھے۔ ﴿ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ﴾ حتیٰ کہ موت نے تمھیں آ لیا اور تمھاری وہی مذموم حالت تھی۔ ﴿ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ﴾ ’’تمھیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے والے نے دھوکے ہی میں رکھا۔‘‘ اس سے مراد شیطان ہے جس نے کفر اور شک کو تمھارے سامنے آراستہ کر دیا، تم اس پر بڑے مطمئن تھے، تم نے اس کے وعدے پر بھروسہ کیا اور اس کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی۔ [15]﴿ فَالۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنۡكُمۡ فِدۡيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’لہٰذا آج تم سے فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کافروں سے۔‘‘ اگرچہ تم زمین بھر سونا، نیز اتنا ہی مزید اپنے فدیے میں ادا کرو تو تم سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ مَاۡوٰىكُمُ النَّارُ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا ہے ﴿ هِيَ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یہ جہنم تمھارا والی ہو گا اور تمھیں اپنے پاس رکھے گا ﴿ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗۙ۰۰فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌؕ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡؕ۰۰ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾(القارعۃ:101؍8-11) ’’اور جن کے اعمال کے وزن ہلکے نکلیں گے تو ان کا ٹھکانا ہاویہ ہے، اور آپ کیا جانیں کہ یہ ہاویہ کیا ہے، یہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔‘‘

الحديد 57:16

کیا نہیں وقت آیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے یہ کہ جھک جائیں ان کے دل واسطے ذکر الٰہی کے اور (واسطے اس کے) جو نازل ہوا حق سے اور نہ ہوں وہ مانند ان لوگوں کے جو دیے گئے کتاب اس سے پہلے؟ پس لمبی ہو گئی اوپر ان کے مدت تو سخت ہو گئے ان کے دل اور بہت سے ان میں سے فاسق ہیں (16) تم جان لو کہ بلاشبہ اللہ زندہ کرتا ہے زمین کو بعد اس کی موت کے، تحقیق بیان کیں ہم نے تمھارے لیے آیتیں تاکہ تم عقل پکڑو (17) [16] جب اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں مومنین اور مومنات، منافقین اور منافقات کا کیا حال ہو گا، یہ چیز دلوں کو اپنے رب کے خوف و خشوع اور اس کی عظمت کے سامنے عجز و انکساری کی دعوت دیتی ہے، تب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر، ان کے دلوں میں خشوع و انکسار نہ ہونے کی بنا پر عتاب فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَاۡنِ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخۡشَعَ قُلُوۡبُهُمۡ لِذِكۡرِ اللّٰهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الۡحَقِّ﴾ یعنی کیا ابھی مومنوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل نرم ہوں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ڈر جائیں ۔اس سے مراد قرآن ہے۔ اور اس کے اوامر و نواہی اور جو حق نازل ہوا ہے جسے محمد کریم ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں، اس سے ڈر جائیں اور اس کے سامنے سر خم کر دیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کتاب و حکمت کے لیے جو اس نے نازل فرمائی ہے، خشوع و خضوع کی ترغیب ہے، نیز اس امر کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ اہل ایمان مواعظ الٰہیہ اور احکام شرعیہ سے نصیحت حاصل کریں اور ہر وقت اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہیں۔ ﴿ وَلَا يَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ فَطَالَ عَلَيۡهِمُ الۡاَمَدُ﴾ یعنی ان لوگوں کی مانند نہ ہو جائیں جن پر اللہ تعالیٰ نے کتاب نازل کی جو خشوع قلب اور کامل اطاعت و تسلیم کی موجب تھی، پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے نہ دائمی طور پر اس پر قائم رہے، بلکہ زمانے گزر گئے اور ان کی غفلت جڑ پکڑ گئی، ان کا ایمان کمزور اور ایقان زائل ہو گیا۔ ﴿فَقَسَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ١ؕ وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’پس ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔‘‘ پس دل ہر وقت اس امر کے محتاج ہیں کہ وہ اس کتاب سے نصیحت حاصل کرتے رہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے اور حکمت کی گفتگو کرتے رہیں، اس کتاب سے غفلت نہ برتی جائے، کیونکہ یہ چیز دل کی سختی اور آنکھ کے جمود کا سبب بنتی ہے۔ [17]﴿ اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يُحۡيِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا١ؕ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’یقین مانو کہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ یقیناً ہم نے تو تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کر دیں تاکہ تم سمجھو۔‘‘ کیونکہ آیات الٰہی مطالب الٰہیہ کی طرف عقل کی راہ نمائی کرتی ہیں۔ وہ ہستی جس نے زمین کے مرنے کے بعد اسے حیات نو بخشی، اس پر قادر ہے کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے اور ، پھر ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔ پس وہ ہستی جس نے زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد، بارش کے پانی کے ذریعے سے دوبارہ زندہ کیا، وہ مردہ دلوں کو اس حق کے ذریعے سے زندگی بخشنے کی قدرت رکھتی ہے جو اس نے اپنے رسول (ﷺ) پر نازل کیا۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی آیات الٰہی سے راہ نمائی حاصل کرتا ہے، نہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے، وہ عقل سے بے بہرہ ہے۔

الحديد 57:17

کیا نہیں وقت آیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے یہ کہ جھک جائیں ان کے دل واسطے ذکر الٰہی کے اور (واسطے اس کے) جو نازل ہوا حق سے اور نہ ہوں وہ مانند ان لوگوں کے جو دیے گئے کتاب اس سے پہلے؟ پس لمبی ہو گئی اوپر ان کے مدت تو سخت ہو گئے ان کے دل اور بہت سے ان میں سے فاسق ہیں (16) تم جان لو کہ بلاشبہ اللہ زندہ کرتا ہے زمین کو بعد اس کی موت کے، تحقیق بیان کیں ہم نے تمھارے لیے آیتیں تاکہ تم عقل پکڑو (17) [16] جب اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں مومنین اور مومنات، منافقین اور منافقات کا کیا حال ہو گا، یہ چیز دلوں کو اپنے رب کے خوف و خشوع اور اس کی عظمت کے سامنے عجز و انکساری کی دعوت دیتی ہے، تب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر، ان کے دلوں میں خشوع و انکسار نہ ہونے کی بنا پر عتاب فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَاۡنِ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخۡشَعَ قُلُوۡبُهُمۡ لِذِكۡرِ اللّٰهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الۡحَقِّ﴾ یعنی کیا ابھی مومنوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل نرم ہوں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ڈر جائیں ۔اس سے مراد قرآن ہے۔ اور اس کے اوامر و نواہی اور جو حق نازل ہوا ہے جسے محمد کریم ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں، اس سے ڈر جائیں اور اس کے سامنے سر خم کر دیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کتاب و حکمت کے لیے جو اس نے نازل فرمائی ہے، خشوع و خضوع کی ترغیب ہے، نیز اس امر کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ اہل ایمان مواعظ الٰہیہ اور احکام شرعیہ سے نصیحت حاصل کریں اور ہر وقت اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہیں۔ ﴿ وَلَا يَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ فَطَالَ عَلَيۡهِمُ الۡاَمَدُ﴾ یعنی ان لوگوں کی مانند نہ ہو جائیں جن پر اللہ تعالیٰ نے کتاب نازل کی جو خشوع قلب اور کامل اطاعت و تسلیم کی موجب تھی، پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے نہ دائمی طور پر اس پر قائم رہے، بلکہ زمانے گزر گئے اور ان کی غفلت جڑ پکڑ گئی، ان کا ایمان کمزور اور ایقان زائل ہو گیا۔ ﴿فَقَسَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ١ؕ وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’پس ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔‘‘ پس دل ہر وقت اس امر کے محتاج ہیں کہ وہ اس کتاب سے نصیحت حاصل کرتے رہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے اور حکمت کی گفتگو کرتے رہیں، اس کتاب سے غفلت نہ برتی جائے، کیونکہ یہ چیز دل کی سختی اور آنکھ کے جمود کا سبب بنتی ہے۔ [17]﴿ اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يُحۡيِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا١ؕ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’یقین مانو کہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ یقیناً ہم نے تو تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کر دیں تاکہ تم سمجھو۔‘‘ کیونکہ آیات الٰہی مطالب الٰہیہ کی طرف عقل کی راہ نمائی کرتی ہیں۔ وہ ہستی جس نے زمین کے مرنے کے بعد اسے حیات نو بخشی، اس پر قادر ہے کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے اور ، پھر ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔ پس وہ ہستی جس نے زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد، بارش کے پانی کے ذریعے سے دوبارہ زندہ کیا، وہ مردہ دلوں کو اس حق کے ذریعے سے زندگی بخشنے کی قدرت رکھتی ہے جو اس نے اپنے رسول (ﷺ) پر نازل کیا۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی آیات الٰہی سے راہ نمائی حاصل کرتا ہے، نہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے، وہ عقل سے بے بہرہ ہے۔

الحديد 57:18

بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جنھوں نے قرض دیا اللہ کو قرض حسنہ تو وہ بڑھایا جائے گا واسطے ان کے اور ان کے لیے ہے اجر عمدہ (18) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے، یہی لوگ ہیں راست باز، اور گواہی دینے والے نزدیک اپنے رب کے، ان کے لیے اجر ہے ان کا اور نور ہے ان کا اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو یہی ہیں جہنمی(19) [18]﴿ اِنَّ الۡمُصَّؔدِّقِيۡنَ وَالۡمُصَّدِّقٰتِ﴾ یعنی وہ مرداور عورتیں جو نہایت کثرت سے صدقہ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ ﴿وَاَقۡرَضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾’’او راللہ کو اچھا قرض دیتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے راستوں میں اپنا مال پیش کرتے ہیں جو ان کے رب کے ہاں ان کے لیے ذخیرہ بن جاتا ہے۔ ﴿ يُّضٰعَفُ لَهُمۡ﴾ ’’ان کو دو چند اجر دیا جائے گا۔‘‘ ایک نیکی کا اجر و ثواب دس سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے ﴿ وَلَهُمۡ اَجۡرٌؔ كَرِيۡمٌ﴾’ ’اور ان کے لیے اجر کریم ہے۔‘‘ یہ وہ اجر ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنت میں تیار کر رکھا ہے جسے نفس نہیں جانتے۔ [19]﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖۤ﴾ ’’اور وہ لوگ جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔‘‘ اہل سنت کے نزدیک ایمان جس پر قرآن و سنت دلالت کرتے ہیں وہ ہے قلب و لسان کا قول اور قلب و لسان اور جوارح کا عمل، تب یہ چیز دین کے تمام ظاہری و باطنی شرائع کو شامل ہے۔ پس جنھوں نے ان تمام امور کو جمع کر لیا وہ صدیق ہیں جن کا مرتبہ عام مومنوں سے اوپر اور انبیاء سے نیچے ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ وَالشُّهَدَآءُ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ١ؕ لَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ وَنُوۡرُهُمۡ﴾ ’’اور شہید ہیں ان کے رب کے ہاں ان کے لیے ان کا اجر ہوگا اور ان کی روشنی۔‘‘ کا معنی وہی ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے ’’جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فرق ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کر رکھا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ، حدیث: 2790)اور یہ چیز ان کے انتہائی بلند مرتبہ، ان کی رفعت اور اللہ تعالیٰ سے ان کے قرب کا تقاضا کرتی ہے۔﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں وہ جہنمی ہیں۔‘‘ ان آیات کریمہ نے مخلوق کی تمام اصناف، یعنی صدقہ کرنے والوں، صدیقین، شہداء اور اہل جہنم کے تذکرے کو یکجا کر دیا ہے۔پس صدقہ کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کے اعمال کا بڑا حصہ مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور ممکن حد تک ان کو فائدہ پہنچانے خاص طور پر ان کو اللہ کے راستے میں مال کے ذریعے سے فائدہ پہنچانے پر مشتمل ہے۔ صدیق وہ لوگ ہیں جنھوں نے ایمان، عمل صالح، علم نافع اور یقین صادق کے مراتب کو مکمل کر لیا۔ شہید وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو غالب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا، اپنے جان و مال کو خرچ کیا اور قتل ہو گئے۔ اہل جہنم وہ کفار ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا۔ مذکور بالا اقسام کے علاوہ ایک قسم باقی رہ گئی ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ فاطر میں کیا ہے اور وہ ہیں مقتصدین جنھوں نے واجبات کو ادا کیا، محرمات کو ترک کیا ، البتہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں ان سے تقصیر واقع ہوئی۔ اگرچہ ان میں سے بعض کو ان کے بعض افعال کے سبب سے سزا ملے گی، تاہم مآل کار وہ جنت میں جائیں گے۔

الحديد 57:19

بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جنھوں نے قرض دیا اللہ کو قرض حسنہ تو وہ بڑھایا جائے گا واسطے ان کے اور ان کے لیے ہے اجر عمدہ (18) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے، یہی لوگ ہیں راست باز، اور گواہی دینے والے نزدیک اپنے رب کے، ان کے لیے اجر ہے ان کا اور نور ہے ان کا اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو یہی ہیں جہنمی(19) [18]﴿ اِنَّ الۡمُصَّؔدِّقِيۡنَ وَالۡمُصَّدِّقٰتِ﴾ یعنی وہ مرداور عورتیں جو نہایت کثرت سے صدقہ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ ﴿وَاَقۡرَضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾’’او راللہ کو اچھا قرض دیتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے راستوں میں اپنا مال پیش کرتے ہیں جو ان کے رب کے ہاں ان کے لیے ذخیرہ بن جاتا ہے۔ ﴿ يُّضٰعَفُ لَهُمۡ﴾ ’’ان کو دو چند اجر دیا جائے گا۔‘‘ ایک نیکی کا اجر و ثواب دس سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے ﴿ وَلَهُمۡ اَجۡرٌؔ كَرِيۡمٌ﴾’ ’اور ان کے لیے اجر کریم ہے۔‘‘ یہ وہ اجر ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنت میں تیار کر رکھا ہے جسے نفس نہیں جانتے۔ [19]﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖۤ﴾ ’’اور وہ لوگ جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔‘‘ اہل سنت کے نزدیک ایمان جس پر قرآن و سنت دلالت کرتے ہیں وہ ہے قلب و لسان کا قول اور قلب و لسان اور جوارح کا عمل، تب یہ چیز دین کے تمام ظاہری و باطنی شرائع کو شامل ہے۔ پس جنھوں نے ان تمام امور کو جمع کر لیا وہ صدیق ہیں جن کا مرتبہ عام مومنوں سے اوپر اور انبیاء سے نیچے ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ وَالشُّهَدَآءُ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ١ؕ لَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ وَنُوۡرُهُمۡ﴾ ’’اور شہید ہیں ان کے رب کے ہاں ان کے لیے ان کا اجر ہوگا اور ان کی روشنی۔‘‘ کا معنی وہی ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے ’’جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فرق ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کر رکھا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ، حدیث: 2790)اور یہ چیز ان کے انتہائی بلند مرتبہ، ان کی رفعت اور اللہ تعالیٰ سے ان کے قرب کا تقاضا کرتی ہے۔﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں وہ جہنمی ہیں۔‘‘ ان آیات کریمہ نے مخلوق کی تمام اصناف، یعنی صدقہ کرنے والوں، صدیقین، شہداء اور اہل جہنم کے تذکرے کو یکجا کر دیا ہے۔پس صدقہ کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کے اعمال کا بڑا حصہ مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور ممکن حد تک ان کو فائدہ پہنچانے خاص طور پر ان کو اللہ کے راستے میں مال کے ذریعے سے فائدہ پہنچانے پر مشتمل ہے۔ صدیق وہ لوگ ہیں جنھوں نے ایمان، عمل صالح، علم نافع اور یقین صادق کے مراتب کو مکمل کر لیا۔ شہید وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو غالب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا، اپنے جان و مال کو خرچ کیا اور قتل ہو گئے۔ اہل جہنم وہ کفار ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا۔ مذکور بالا اقسام کے علاوہ ایک قسم باقی رہ گئی ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ فاطر میں کیا ہے اور وہ ہیں مقتصدین جنھوں نے واجبات کو ادا کیا، محرمات کو ترک کیا ، البتہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں ان سے تقصیر واقع ہوئی۔ اگرچہ ان میں سے بعض کو ان کے بعض افعال کے سبب سے سزا ملے گی، تاہم مآل کار وہ جنت میں جائیں گے۔

الحديد 57:20

تم جان لو ! یقیناً حیات دنیا کھیل ہے اور تماشہ ہے اور زینت ہے اور فخر کرنا ہے آپس میں اور ایک دوسرے پر کثرت جتلانا ہے مالوں اور اولاد میں، مانند بارش کے کہ خوش لگتا ہے کسانوں کو سبزہ اس کا ، پھر وہ خشک ہو جاتا ہے پس آپ دیکھتے ہیں اس کو زرد شدہ، پھر ہو جاتا ہے وہ چورا چورا اور آخرت میں عذاب ہے بہت سخت اور مغفرت ہے اللہ کی طرف سے اور رضا مندی اور نہیں زندگانی ٔ دنیا مگر سامان دھوکے کا (20) دوڑو تم مغفرت کی طرف اپنے رب کی اور اس جنت کی (طرف) کہ اس کی چوڑائی ہے مانند چوڑائی آسمان اور زمین کے وہ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے، یہ ہے فضل اللہ کا، وہ دیتا ہے یہ جسے چاہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے (21) [20] اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا اور ان کے امور کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جن پر دنیا کا دارومدار ہے، نیز دنیا اور دنیا والوں کی غایت و انتہا بیان فرماتا ہے۔ دنیا بس لہو و لعب ہے، جس کے ساتھ بدن کھیلتے ہیں اور اس کی وجہ سے قلب غافل ہوتے ہیں۔ جو کچھ دنیا میں موجود ہے اور ابنائے دنیا سے جو کچھ واقع ہوتا ہے وہ اس کا مصداق ہے۔ آپ ابنائے دنیا کو پائیں گے کہ انھوں نے اپنی عمر کے اوقات کو غفلت قلب میں صرف کیا اور وہ ذکر الٰہی اور آئندہ پیش آنے والے وعد و وعید سے غافل رہے۔ آپ اہل بیدار اور آخرت کے لیے عمل کرنے والوں کو ان کے برعکس دیکھیں گے ، کیونکہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی معرفت اور اس کی محبت سے معمور ہیں۔ وہ اپنے اوقات کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والے ایسے اعمال میں صرف کرتے ہیں جن کا فائدہ صرف ان کو پہنچتا ہے یا دوسروں کو بھی پہنچتا ہے ۔اورفرمایا:﴿ وَّزِيۡنَةٌ﴾ یعنی لباس، مشروبات، سواریوں، گھروں، محلات اور دنیاوی جاہ وغیرہ کے ذریعے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے۔ ﴿ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيۡنَكُمۡ﴾ ’’اور آپس میں فخر کرنا ہے۔‘‘ یعنی ان چیزوں کو رکھنے کے لیے ہر شخص دوسرے پر فخر کا اظہار کرنا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ان امور میں وہی غالب رہے اور ان احوال میں بس اسی کو شہرت حاصل رہے۔ ﴿ وَتَكَاثُرٌ فِي الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَوۡلَادِ﴾ یعنی ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ وہ مال اور اولاد میں دوسروں سے بڑھ کر ہو۔ دنیا سے محبت کرنے والے اور اس پر مطمئن رہنے والے اس کا مصداق ہیں۔ اس کے برعکس وہ شخص جو دنیا اور اس کی حقیقت کو جانتا ہے، وہ اسے مستقل ٹھکانا نہیں بناتا بلکہ اسے گزرگاہ خیال کرتا ہے، وہ ایسے اعمال میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں اور ایسے وسائل اختیار کرتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہیں۔ جب وہ کسی ایسے شخص کو دیکھتا ہے جو اس کے ساتھ دنیا، مال و متاع اور اولاد کی کثرت میں مقابلہ کرتا ہے تو یہ اعمال صالحہ میں اس کا مقابلہ کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس دنیائے فانی کے لیے بارش کی مثال دی ہے، جو زمین پر برستی ہے اور اس کی نباتات کو سیراب کرتی ہے جس سے لوگ اور مویشی اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں، یہاں تک کہ جب زمین پوری طرح لہلہانے لگتی ہے اور اس کی نباتات کفار کو بھلی لگتی ہے جن کی نظر و ہمت صرف دنیا ہی پر مرکوز ہوتی ہے تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم آ جاتا ہے جو اسے ہلاک کر دیتا ہے ۔یہ نباتات خشک ہو کر اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ جاتی ہے، گویا کہ وہاں کبھی ہریالی اگی ہی نہیں تھی اور نہ وہاں کبھی کوئی خوبصورت منظر ہی دیکھا گیا تھا۔یہی حال اس دنیا کا ہے۔ یہ اپنے چاہنے والے کے لیے نہایت خوش نما اور خوبصورت ہوتی ہے۔ وہ جب بھی اس دنیا میں سے اپنا مطلوب حاصل کرنا چاہتا ہے، حاصل کر لیتا ہے اور جب بھی وہ کسی دنیاوی معاملے کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کے دروازوں کو کھلا ہوا پاتا ہے۔ جب تقدیر نے اس کو آ لیا اور اس سے وہ سب کچھ چھین لیا جو اس کے ہاتھ میں تھا، اور اس پر سے اس کے تسلط کو زائل کر دیا یا اسے خوشنما دنیا سے دور کر دیا اور وہ اس دنیا سے خالی ہاتھ روانہ ہوا اور کفن کے سوا اس کے پاس کوئی زاد راہ نہ تھا۔ پس ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جس کی آرزو کی انتہا یہ دنیا ہے اور اسی کے لیے اس کے اعمال اور اس کی بھاگ دوڑ تھی۔رہا وہ عمل جو آخرت کے لیے کیا جاتا ہے تو یہی وہ عمل ہے جو فائدہ دیتا ہے اور عمل کرنے والے کے لیے ذخیرہ کر دیا جاتا ہے اور ہمیشہ بندے کے ساتھ رہتا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَفِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ١ۙ وَّمَغۡفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانٌ﴾ ’’اور آخرت میں سخت عذاب اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے۔‘‘ یعنی آخرت کا حال ان دو امور سے خالی نہیں۔اولاً: تو اس شخص کے لیے جہنم کی آگ میں سخت عذاب، جہنم کی بیڑیاں اور زنجیریں اور اس کی ہولناکیاں ہوں گی جس کی غایت مقصود اور منتہائے مطلوب محض دنیا ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کرتا ہے، آیات الٰہی کو جھٹلاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی کرتا ہے۔ثانیاً: یا اس شخص کے لیے گناہوں کی بخشش، عقوبتوں کا ازالہ اور دار رضوان میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہو گی، یہ سب اس شخص کے لیے ہے جس نے دنیا کی حقیقت کو پہچان لیا اور اس نے آخرت کے لے بھرپور کوشش کی۔یہ سب کچھ دنیا میں زہد اور آخرت میں رغبت کی دعوت دیتا ہے، اس لیے فرمایا :﴿ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ﴾ ’’اور دنیا کی زندگی تو محض متاع فریب ہے۔‘‘ یعنی یہ صرف ایسی متاع ہے جس سے فائدہ اٹھایا جاتا اور اس سے ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں، اس کی وجہ سے فریب میں صرف وہی لوگ مبتلا ہوتے اور اس پر مطمئن رہتے ہیں جو ضعیف العقل ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں شیطان نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ [21] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو مغفرت، رضا اور جنت کی طرف مسابقت کا حکم دیا ہے اور یہ چیز مغفرت کے اسباب کے لیے کوشش کرنے، یعنی خالص توبہ اور نفع مند استغفار کرنے، گناہ اور گناہ کے اسباب سے دور رہنے ہی سے ممکن ہے، نیز عمل صالح کے ذریعے سے اللہ کی رضا کی طرف سبقت، ان امور پر دوام کی حرص کرنے سے ممکن ہے جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے ، یعنی خالق کی عبادت میں احسان اور مخلوق کو ہر لحاظ سے فائدہ پہنچا کر ان کے ساتھ حسن سلوک کے ذریعے سے ہی یہ چیز حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کا ذکر فرمایا جو اس کے موجب ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا كَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ١ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ﴾ ’’اور جنت جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے۔ جو ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان میں دین کے تمام اصول و فروع داخل ہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ یعنی ہم نے تمھارے سامنے جو کچھ بیان کیا ہے اور جنت تک پہنچانے والے طریقوں اور جہنم میں گرانے والے جن راستوں کی نشاندہی کی ہے، وہ سب اللہ کا فضل ہے، نیز اللہ تعالیٰ کا اجر عظیم اور ثواب جمیل، اس کا اپنے بندوں پر سب سے بڑا احسان اور فضل و کرم ہے ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘جس کی ثنا کو کوئی شمار نہیں کر سکتا بلکہ وہ اسی طرح ہے جس طرح اس نے خود اپنی ثنا بیان کی، اس کے بندوں میں سے جو کوئی اس کی ثنا بیان کرتا ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔

الحديد 57:21

تم جان لو ! یقیناً حیات دنیا کھیل ہے اور تماشہ ہے اور زینت ہے اور فخر کرنا ہے آپس میں اور ایک دوسرے پر کثرت جتلانا ہے مالوں اور اولاد میں، مانند بارش کے کہ خوش لگتا ہے کسانوں کو سبزہ اس کا ، پھر وہ خشک ہو جاتا ہے پس آپ دیکھتے ہیں اس کو زرد شدہ، پھر ہو جاتا ہے وہ چورا چورا اور آخرت میں عذاب ہے بہت سخت اور مغفرت ہے اللہ کی طرف سے اور رضا مندی اور نہیں زندگانی ٔ دنیا مگر سامان دھوکے کا (20) دوڑو تم مغفرت کی طرف اپنے رب کی اور اس جنت کی (طرف) کہ اس کی چوڑائی ہے مانند چوڑائی آسمان اور زمین کے وہ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے، یہ ہے فضل اللہ کا، وہ دیتا ہے یہ جسے چاہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے (21) [20] اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا اور ان کے امور کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جن پر دنیا کا دارومدار ہے، نیز دنیا اور دنیا والوں کی غایت و انتہا بیان فرماتا ہے۔ دنیا بس لہو و لعب ہے، جس کے ساتھ بدن کھیلتے ہیں اور اس کی وجہ سے قلب غافل ہوتے ہیں۔ جو کچھ دنیا میں موجود ہے اور ابنائے دنیا سے جو کچھ واقع ہوتا ہے وہ اس کا مصداق ہے۔ آپ ابنائے دنیا کو پائیں گے کہ انھوں نے اپنی عمر کے اوقات کو غفلت قلب میں صرف کیا اور وہ ذکر الٰہی اور آئندہ پیش آنے والے وعد و وعید سے غافل رہے۔ آپ اہل بیدار اور آخرت کے لیے عمل کرنے والوں کو ان کے برعکس دیکھیں گے ، کیونکہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی معرفت اور اس کی محبت سے معمور ہیں۔ وہ اپنے اوقات کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والے ایسے اعمال میں صرف کرتے ہیں جن کا فائدہ صرف ان کو پہنچتا ہے یا دوسروں کو بھی پہنچتا ہے ۔اورفرمایا:﴿ وَّزِيۡنَةٌ﴾ یعنی لباس، مشروبات، سواریوں، گھروں، محلات اور دنیاوی جاہ وغیرہ کے ذریعے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے۔ ﴿ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيۡنَكُمۡ﴾ ’’اور آپس میں فخر کرنا ہے۔‘‘ یعنی ان چیزوں کو رکھنے کے لیے ہر شخص دوسرے پر فخر کا اظہار کرنا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ان امور میں وہی غالب رہے اور ان احوال میں بس اسی کو شہرت حاصل رہے۔ ﴿ وَتَكَاثُرٌ فِي الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَوۡلَادِ﴾ یعنی ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ وہ مال اور اولاد میں دوسروں سے بڑھ کر ہو۔ دنیا سے محبت کرنے والے اور اس پر مطمئن رہنے والے اس کا مصداق ہیں۔ اس کے برعکس وہ شخص جو دنیا اور اس کی حقیقت کو جانتا ہے، وہ اسے مستقل ٹھکانا نہیں بناتا بلکہ اسے گزرگاہ خیال کرتا ہے، وہ ایسے اعمال میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں اور ایسے وسائل اختیار کرتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہیں۔ جب وہ کسی ایسے شخص کو دیکھتا ہے جو اس کے ساتھ دنیا، مال و متاع اور اولاد کی کثرت میں مقابلہ کرتا ہے تو یہ اعمال صالحہ میں اس کا مقابلہ کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس دنیائے فانی کے لیے بارش کی مثال دی ہے، جو زمین پر برستی ہے اور اس کی نباتات کو سیراب کرتی ہے جس سے لوگ اور مویشی اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں، یہاں تک کہ جب زمین پوری طرح لہلہانے لگتی ہے اور اس کی نباتات کفار کو بھلی لگتی ہے جن کی نظر و ہمت صرف دنیا ہی پر مرکوز ہوتی ہے تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم آ جاتا ہے جو اسے ہلاک کر دیتا ہے ۔یہ نباتات خشک ہو کر اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ جاتی ہے، گویا کہ وہاں کبھی ہریالی اگی ہی نہیں تھی اور نہ وہاں کبھی کوئی خوبصورت منظر ہی دیکھا گیا تھا۔یہی حال اس دنیا کا ہے۔ یہ اپنے چاہنے والے کے لیے نہایت خوش نما اور خوبصورت ہوتی ہے۔ وہ جب بھی اس دنیا میں سے اپنا مطلوب حاصل کرنا چاہتا ہے، حاصل کر لیتا ہے اور جب بھی وہ کسی دنیاوی معاملے کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کے دروازوں کو کھلا ہوا پاتا ہے۔ جب تقدیر نے اس کو آ لیا اور اس سے وہ سب کچھ چھین لیا جو اس کے ہاتھ میں تھا، اور اس پر سے اس کے تسلط کو زائل کر دیا یا اسے خوشنما دنیا سے دور کر دیا اور وہ اس دنیا سے خالی ہاتھ روانہ ہوا اور کفن کے سوا اس کے پاس کوئی زاد راہ نہ تھا۔ پس ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جس کی آرزو کی انتہا یہ دنیا ہے اور اسی کے لیے اس کے اعمال اور اس کی بھاگ دوڑ تھی۔رہا وہ عمل جو آخرت کے لیے کیا جاتا ہے تو یہی وہ عمل ہے جو فائدہ دیتا ہے اور عمل کرنے والے کے لیے ذخیرہ کر دیا جاتا ہے اور ہمیشہ بندے کے ساتھ رہتا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَفِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ١ۙ وَّمَغۡفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانٌ﴾ ’’اور آخرت میں سخت عذاب اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے۔‘‘ یعنی آخرت کا حال ان دو امور سے خالی نہیں۔اولاً: تو اس شخص کے لیے جہنم کی آگ میں سخت عذاب، جہنم کی بیڑیاں اور زنجیریں اور اس کی ہولناکیاں ہوں گی جس کی غایت مقصود اور منتہائے مطلوب محض دنیا ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کرتا ہے، آیات الٰہی کو جھٹلاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی کرتا ہے۔ثانیاً: یا اس شخص کے لیے گناہوں کی بخشش، عقوبتوں کا ازالہ اور دار رضوان میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہو گی، یہ سب اس شخص کے لیے ہے جس نے دنیا کی حقیقت کو پہچان لیا اور اس نے آخرت کے لے بھرپور کوشش کی۔یہ سب کچھ دنیا میں زہد اور آخرت میں رغبت کی دعوت دیتا ہے، اس لیے فرمایا :﴿ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ﴾ ’’اور دنیا کی زندگی تو محض متاع فریب ہے۔‘‘ یعنی یہ صرف ایسی متاع ہے جس سے فائدہ اٹھایا جاتا اور اس سے ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں، اس کی وجہ سے فریب میں صرف وہی لوگ مبتلا ہوتے اور اس پر مطمئن رہتے ہیں جو ضعیف العقل ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں شیطان نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ [21] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو مغفرت، رضا اور جنت کی طرف مسابقت کا حکم دیا ہے اور یہ چیز مغفرت کے اسباب کے لیے کوشش کرنے، یعنی خالص توبہ اور نفع مند استغفار کرنے، گناہ اور گناہ کے اسباب سے دور رہنے ہی سے ممکن ہے، نیز عمل صالح کے ذریعے سے اللہ کی رضا کی طرف سبقت، ان امور پر دوام کی حرص کرنے سے ممکن ہے جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے ، یعنی خالق کی عبادت میں احسان اور مخلوق کو ہر لحاظ سے فائدہ پہنچا کر ان کے ساتھ حسن سلوک کے ذریعے سے ہی یہ چیز حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کا ذکر فرمایا جو اس کے موجب ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا كَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ١ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ﴾ ’’اور جنت جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے۔ جو ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان میں دین کے تمام اصول و فروع داخل ہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ یعنی ہم نے تمھارے سامنے جو کچھ بیان کیا ہے اور جنت تک پہنچانے والے طریقوں اور جہنم میں گرانے والے جن راستوں کی نشاندہی کی ہے، وہ سب اللہ کا فضل ہے، نیز اللہ تعالیٰ کا اجر عظیم اور ثواب جمیل، اس کا اپنے بندوں پر سب سے بڑا احسان اور فضل و کرم ہے ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘جس کی ثنا کو کوئی شمار نہیں کر سکتا بلکہ وہ اسی طرح ہے جس طرح اس نے خود اپنی ثنا بیان کی، اس کے بندوں میں سے جو کوئی اس کی ثنا بیان کرتا ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔

الحديد 57:22

نہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں اور نہ تمھارے نفسوں میں مگر (وہ لکھی) ہے کتاب میں اس سے پہلے کہ ہم پیدا کریں اس کو یقیناً یہ اللہ پر نہایت آسان ہے (22) تاکہ نہ غم کھاؤ تم اس پر جو فوت ہو جائے تم سے اور نہ اتراؤ تم اس پر جو وہ دے تمھیں اور اللہ نہیں پسند کرتا ہر اترانے والے فخر کرنے والے کو (23) وہ لوگ جو (خود بھی) بخل کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں لوگوں کو بخل (کرنے)کا ، اور جو شخص منہ پھیرے تو بلاشبہ اللہ، ہی بے پروا قابل تعریف ہے (24) [22] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قضا و قدر کی عمومیت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِيۡبَةٍ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا فِيۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ﴾ یہ آیت کریمہ خیر و شر پر مبنی ان تمام مصائب کو شامل ہے جو مخلوق پر نازل ہوتی ہیں، ہر چھوٹی بڑی تقدیر لوح محفوظ میں درج ہے۔ یہ ایک بہت بڑا معاملہ ہے، عقل جس کا احاطہ نہیں کر سکتی اور اس مقام پر بڑے بڑے خرد مند ہکا بکا رہ جاتے ہیں۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔ [23]﴿ لِّكَيۡلَا تَاۡسَوۡا عَلٰى مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تاکہ ان کے سامنے یہ قاعدہ متحقق ہو جائے اور ان پر جو خیر و شر نازل ہوتا ہے اس کی بنا اس قاعدہ پر رکھیں۔ پس جس چیز کو ان کے دل چاہتے تھے اور اس کا اشتیاق رکھتے تھے، اس کے فوت ہونے پر مایوس اور غمگین نہ ہوں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ یہ سب کچھ لوح محفوظ میں درج تھا جس کا نافذ اور واقع ہونا ایک لازمی امر تھا اور اس نوشتہ کے وقوع کو روکنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو عطا کیا ہے وہ اس پر تکبر اور اتراہٹ کے ساتھ فرحت کا اظہار نہ کریں گے کیونکہ انھیں علم ہے کہ انھیں جو کچھ حاصل ہوا ہے انھیں اپنی قوت اور طاقت سے حاصل نہیں ہوا بلکہ یہ سب کچھ تو انھیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کے ذریعے سے حاصل ہوا ہے ، لہٰذا ان کو چاہیے کہ وہ اس ہستی کے شکر میں مشغول رہیں جس نے نعمتیں عطا کیں اور زحمتوں کو دور کیا۔ بنابریں فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡ رٍ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ درشت خو، خود پسند اور متکبر کو پسند نہیں کرتا جو فخر کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو خود اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے یہ نعمتیں سرکشی اور غفلت میں مبتلا کرتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰهُ نِعۡمَةً مِّؔنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ١ؕ بَلۡ هِيَ فِتۡنَةٌ﴾(الزمر:39؍49)’’ پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمتوں سے نواز دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے میرے علم و دانش کی وجہ سے عطا کیا گیا ہے، (ایسی بات نہیں)بلکہ یہ تو ایک آزمائش ہے۔‘‘ [24]﴿ الَّذِيۡنَ يَبۡخَلُوۡنَ وَيَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ﴾ ’’جو لوگ خود بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی دونوں مذموم کاموں کو اکٹھا کر لیتے ہیں جن میں سے ہر ایک شر کے لیے کافی ہے۔ ایک تو بخل ہے جس سے مراد حقوق واجبہ کی ادائیگی سے باز رہنا ہے اور دوسرا وہ لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں۔ انھوں نے بخل پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے دیگر لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیا اور اپنے قول و فعل سے انھیں مذموم صفت کو اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ اور یہ ان کا اپنے رب کی اطاعت سے اعراض کرنا اور منہ موڑنا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِيُّ الۡحَمِيۡدُ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ بے نیاز اور سزاوارِ حمد وثنا ہے۔‘‘ جس کا غنا اس کی ذات کے لوازمات میں سے ہے جو آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے اور جس نے اپنے بندوں کو غنی اور مال دار بنایا۔ ﴿الۡحَمِيۡدُ﴾ وہ ہستی ہے جس کا ہر نام اچھا، ہر وصف کامل اور ہر فعل خوبصورت ہے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور اس کی تعظیم کی جائے۔

الحديد 57:23

نہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں اور نہ تمھارے نفسوں میں مگر (وہ لکھی) ہے کتاب میں اس سے پہلے کہ ہم پیدا کریں اس کو یقیناً یہ اللہ پر نہایت آسان ہے (22) تاکہ نہ غم کھاؤ تم اس پر جو فوت ہو جائے تم سے اور نہ اتراؤ تم اس پر جو وہ دے تمھیں اور اللہ نہیں پسند کرتا ہر اترانے والے فخر کرنے والے کو (23) وہ لوگ جو (خود بھی) بخل کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں لوگوں کو بخل (کرنے)کا ، اور جو شخص منہ پھیرے تو بلاشبہ اللہ، ہی بے پروا قابل تعریف ہے (24) [22] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قضا و قدر کی عمومیت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِيۡبَةٍ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا فِيۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ﴾ یہ آیت کریمہ خیر و شر پر مبنی ان تمام مصائب کو شامل ہے جو مخلوق پر نازل ہوتی ہیں، ہر چھوٹی بڑی تقدیر لوح محفوظ میں درج ہے۔ یہ ایک بہت بڑا معاملہ ہے، عقل جس کا احاطہ نہیں کر سکتی اور اس مقام پر بڑے بڑے خرد مند ہکا بکا رہ جاتے ہیں۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔ [23]﴿ لِّكَيۡلَا تَاۡسَوۡا عَلٰى مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تاکہ ان کے سامنے یہ قاعدہ متحقق ہو جائے اور ان پر جو خیر و شر نازل ہوتا ہے اس کی بنا اس قاعدہ پر رکھیں۔ پس جس چیز کو ان کے دل چاہتے تھے اور اس کا اشتیاق رکھتے تھے، اس کے فوت ہونے پر مایوس اور غمگین نہ ہوں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ یہ سب کچھ لوح محفوظ میں درج تھا جس کا نافذ اور واقع ہونا ایک لازمی امر تھا اور اس نوشتہ کے وقوع کو روکنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو عطا کیا ہے وہ اس پر تکبر اور اتراہٹ کے ساتھ فرحت کا اظہار نہ کریں گے کیونکہ انھیں علم ہے کہ انھیں جو کچھ حاصل ہوا ہے انھیں اپنی قوت اور طاقت سے حاصل نہیں ہوا بلکہ یہ سب کچھ تو انھیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کے ذریعے سے حاصل ہوا ہے ، لہٰذا ان کو چاہیے کہ وہ اس ہستی کے شکر میں مشغول رہیں جس نے نعمتیں عطا کیں اور زحمتوں کو دور کیا۔ بنابریں فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡ رٍ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ درشت خو، خود پسند اور متکبر کو پسند نہیں کرتا جو فخر کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو خود اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے یہ نعمتیں سرکشی اور غفلت میں مبتلا کرتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰهُ نِعۡمَةً مِّؔنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ١ؕ بَلۡ هِيَ فِتۡنَةٌ﴾(الزمر:39؍49)’’ پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمتوں سے نواز دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے میرے علم و دانش کی وجہ سے عطا کیا گیا ہے، (ایسی بات نہیں)بلکہ یہ تو ایک آزمائش ہے۔‘‘ [24]﴿ الَّذِيۡنَ يَبۡخَلُوۡنَ وَيَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ﴾ ’’جو لوگ خود بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی دونوں مذموم کاموں کو اکٹھا کر لیتے ہیں جن میں سے ہر ایک شر کے لیے کافی ہے۔ ایک تو بخل ہے جس سے مراد حقوق واجبہ کی ادائیگی سے باز رہنا ہے اور دوسرا وہ لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں۔ انھوں نے بخل پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے دیگر لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیا اور اپنے قول و فعل سے انھیں مذموم صفت کو اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ اور یہ ان کا اپنے رب کی اطاعت سے اعراض کرنا اور منہ موڑنا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِيُّ الۡحَمِيۡدُ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ بے نیاز اور سزاوارِ حمد وثنا ہے۔‘‘ جس کا غنا اس کی ذات کے لوازمات میں سے ہے جو آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے اور جس نے اپنے بندوں کو غنی اور مال دار بنایا۔ ﴿الۡحَمِيۡدُ﴾ وہ ہستی ہے جس کا ہر نام اچھا، ہر وصف کامل اور ہر فعل خوبصورت ہے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور اس کی تعظیم کی جائے۔

الحديد 57:24

نہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں اور نہ تمھارے نفسوں میں مگر (وہ لکھی) ہے کتاب میں اس سے پہلے کہ ہم پیدا کریں اس کو یقیناً یہ اللہ پر نہایت آسان ہے (22) تاکہ نہ غم کھاؤ تم اس پر جو فوت ہو جائے تم سے اور نہ اتراؤ تم اس پر جو وہ دے تمھیں اور اللہ نہیں پسند کرتا ہر اترانے والے فخر کرنے والے کو (23) وہ لوگ جو (خود بھی) بخل کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں لوگوں کو بخل (کرنے)کا ، اور جو شخص منہ پھیرے تو بلاشبہ اللہ، ہی بے پروا قابل تعریف ہے (24) [22] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قضا و قدر کی عمومیت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِيۡبَةٍ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا فِيۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ﴾ یہ آیت کریمہ خیر و شر پر مبنی ان تمام مصائب کو شامل ہے جو مخلوق پر نازل ہوتی ہیں، ہر چھوٹی بڑی تقدیر لوح محفوظ میں درج ہے۔ یہ ایک بہت بڑا معاملہ ہے، عقل جس کا احاطہ نہیں کر سکتی اور اس مقام پر بڑے بڑے خرد مند ہکا بکا رہ جاتے ہیں۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔ [23]﴿ لِّكَيۡلَا تَاۡسَوۡا عَلٰى مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تاکہ ان کے سامنے یہ قاعدہ متحقق ہو جائے اور ان پر جو خیر و شر نازل ہوتا ہے اس کی بنا اس قاعدہ پر رکھیں۔ پس جس چیز کو ان کے دل چاہتے تھے اور اس کا اشتیاق رکھتے تھے، اس کے فوت ہونے پر مایوس اور غمگین نہ ہوں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ یہ سب کچھ لوح محفوظ میں درج تھا جس کا نافذ اور واقع ہونا ایک لازمی امر تھا اور اس نوشتہ کے وقوع کو روکنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو عطا کیا ہے وہ اس پر تکبر اور اتراہٹ کے ساتھ فرحت کا اظہار نہ کریں گے کیونکہ انھیں علم ہے کہ انھیں جو کچھ حاصل ہوا ہے انھیں اپنی قوت اور طاقت سے حاصل نہیں ہوا بلکہ یہ سب کچھ تو انھیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کے ذریعے سے حاصل ہوا ہے ، لہٰذا ان کو چاہیے کہ وہ اس ہستی کے شکر میں مشغول رہیں جس نے نعمتیں عطا کیں اور زحمتوں کو دور کیا۔ بنابریں فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡ رٍ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ درشت خو، خود پسند اور متکبر کو پسند نہیں کرتا جو فخر کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو خود اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے یہ نعمتیں سرکشی اور غفلت میں مبتلا کرتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰهُ نِعۡمَةً مِّؔنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ١ؕ بَلۡ هِيَ فِتۡنَةٌ﴾(الزمر:39؍49)’’ پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمتوں سے نواز دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے میرے علم و دانش کی وجہ سے عطا کیا گیا ہے، (ایسی بات نہیں)بلکہ یہ تو ایک آزمائش ہے۔‘‘ [24]﴿ الَّذِيۡنَ يَبۡخَلُوۡنَ وَيَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ﴾ ’’جو لوگ خود بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی دونوں مذموم کاموں کو اکٹھا کر لیتے ہیں جن میں سے ہر ایک شر کے لیے کافی ہے۔ ایک تو بخل ہے جس سے مراد حقوق واجبہ کی ادائیگی سے باز رہنا ہے اور دوسرا وہ لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں۔ انھوں نے بخل پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے دیگر لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیا اور اپنے قول و فعل سے انھیں مذموم صفت کو اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ اور یہ ان کا اپنے رب کی اطاعت سے اعراض کرنا اور منہ موڑنا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِيُّ الۡحَمِيۡدُ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ بے نیاز اور سزاوارِ حمد وثنا ہے۔‘‘ جس کا غنا اس کی ذات کے لوازمات میں سے ہے جو آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے اور جس نے اپنے بندوں کو غنی اور مال دار بنایا۔ ﴿الۡحَمِيۡدُ﴾ وہ ہستی ہے جس کا ہر نام اچھا، ہر وصف کامل اور ہر فعل خوبصورت ہے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور اس کی تعظیم کی جائے۔

الحديد 57:25

البتہ تحقیق بھیجے ہم نے اپنے رسول ساتھ واضح دلیلوں کے، اور نازل کی ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان تاکہ قائم رہیں لوگ انصاف پر، اور نازل کیا ہم نے لوہا اس میں لڑائی ہے بہت سخت اور فائدے ہیں لوگوں کے لیے اور تاکہ جان لے اللہ اس کو جو مدد کرتا ہے اس کی اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے بلاشبہ اللہ قوی ہے، بڑا زبردست (25) اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اور ابراہیم کو، اور رکھی ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب، پس کچھ ان میں سے ہدایت پانے والے ہیں اور بہت سے ان میں سے فاسق ہیں (26) پھر لگاتار پیچھے بھیجا ہم نے اوپر ان کے نقش قدم کے اپنے رسولوں کو، اور پیچھے بھیجا ہم نے عیسٰی ابن مریم کو اور دی ہم نے اس کو انجیل، اور رکھ دی ہم نے دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے پیروی کی اس کی، شفقت اور مہربانی اور رہبانیت کو انھوں نے خود ایجاد کیا تھا اسے نہیں لکھا تھا ہم نے اسے ان پر سوائے تلاش کرنے رضائے الٰہی کے پس نہ رعایت کی انھوں نے اس کی جیسا حق تھا اس کی رعایت کا، پھر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ان میں سے اجر ان کا اور بہت سے ان میں سے فاسق ہیں (27) [25] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَيِّنٰتِ﴾ ’’یقیناً ہم نے اپنے رسولوں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا۔‘‘اس سے مراد وہ دلائل، شواہد اور علامات ہیں جو اس چیز کی صداقت اور حقیقت پر دلالت کرتی ہیں جسے انبیاء کرام لے کر آئے ہیں ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا مَعَهُمُ الۡكِتٰبَ﴾ ’’اور ہم نے ان پر کتاب اتاری۔‘‘ (الکتاب) اسم جنس ہے جو ان تمام کتابوں کو شامل ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت اور ان امور کی طرف راہنمائی کے لیے نازل فرمایا ہے جو ان کے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ ﴿ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اورمیزان‘‘ اور وہ اقوال و افعال میں عدل کا نام ہے۔ وہ دین جو رسول اللہﷺ لے کر آئے وہ اوامرونواہی او رمخلوق کے تمام معاملات، تمام جرائم، حدود، قصاص اور وراثت کے معاملات وغیرہ میں، سراسر عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ اور یہ اس لیے ﴿لِيَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ﴾ تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کر کے اور اپنے مصالح کے حصول کی خاطر جن کو شمار کرنا ممکن نہیں، عدل و انصاف پر قائم رہیں۔یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمام انبیاء و رسل، شریعت کے قاعدہ پر متفق ہیں اور وہ ہے عدل کو قائم کرنا اگرچہ زمان و احوال کے مطابق عدل کی صورتیں مختلف ہیں۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا الۡحَدِيۡدَ فِيۡهِ بَاۡسٌ شَدِيۡدٌ﴾ ’’او رہم نے لوہا پیدا کیا، اس میں سخت ہیبت و قوت ہے۔‘‘ یعنی آلات حرب، مثلاً: ہر قسم کا اسلحہ اور ذرہ بکتر وغیرہ۔ ﴿وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ﴾ ’’اور لوگوں کے لیے منافع ہے۔‘‘ یہ وہ منافع ہیں جن کا مشاہدہ مختلف انواع کی صنعت و حرفت، مختلف اقسام کے برتنوں اور زرعی آلات میں کیا جا سکتا ہے، یہاں تک کہ کم ہی کوئی ایسی چیز پائی جاتی ہو گی جو لوہے کی محتاج نہ ہو ﴿ وَلِيَعۡلَمَ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ وَرُسُلَهٗ بِالۡغَيۡبِ﴾ ’’تاکہ اللہ اسے جان لے جو بن دیکھے اس کی اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے کتاب اور لوہا اس لیے نازل فرمایا ہےکہ وہ اس کے ذریعے سے آزمائش کا بازار گرم کرے تاکہ واضح ہو جائے کہ کون اس حالت غیب میں اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتے ہیں جس میں وہ ایمان فائدہ دیتا ہے جو مشاہدہ سے قبل ہو، مشاہدہ کے اندر ایمان کے وجود کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ تب تو ایمان ضروری اور اضطراری ہو گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيۡزٌ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ قوی اور زبردست ہے۔‘‘ یعنی اسے کوئی عاجز کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگنے والا اس سے بچ کر کہیں جا سکتا ہے۔ یہ اس کی قوت اور غلبے کا نشان ہے کہ اس نے لوہا نازل کیا جس سے بڑے بڑے طاقتور آلات بنتے ہیں۔ یہ اس کی طاقت اور غلبہ ہی ہے کہ وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کی قدرت رکھتا ہے مگر وہ اپنے دشمنوں کے ذریعے سے اپنے اولیاء کو آزماتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ کون بن دیکھے اس کی مدد کرتا ہے۔اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے کتاب اور لوہے کو اکٹھا بیان کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان دونوں چیزوں کے ذریعے سے اپنے دین کو نصرت عطا کرتا ہے اور اپنے کلمے کوکتاب کے ذریعے سے اور سیفِ ناصر کے ذریعے سے، اللہ کے حکم کے ساتھ بلند کرتا ہے۔ دونوں عدل و انصاف قائم کرتی ہیں جس کے ذریعے سے باری تعالیٰ کی حکمت، اس کے کمال اور اس کی شریعت کے کمال پر استدلال کیا جاتا ہے جس کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر مشروع فرمایا۔ [26] جب اللہ تعالیٰ نے جملہ انبیائے کرام کی نبوت کا عمومی ذکر فرمایا تو ان میں سے دو خاص نبیوں، یعنی حضرت نوح اور ابراہیمi کا ذکر بھی فرمایا جن کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت اور کتاب کو جاری کیا، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا وَّاِبۡرٰهِيۡمَ وَجَعَلۡنَا فِيۡ ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالۡكِتٰبَ﴾ ’’بے شک ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب جاری رکھی۔‘‘ یعنی تمام انبیائے متقدمین و متاخرین حضرت نوح اور ابراہیم iکی اولاد میں سے ہیں۔ اسی طرح تمام کتابیں انھی دو انبیائے کرام کی اولاد پر نازل ہوئیں ﴿ فَمِنۡهُمۡ﴾ یعنی ان لوگوں میں سے جن کی طرف ہم نے رسول مبعوث کیے ، بعض لوگ﴿ مُّهۡتَدٍ﴾ ان انبیاء کی دعوت کے ذریعے سے ہدایت یافتہ، ان کے احکام کی اطاعت کرنے والے اور ان کی ہدایت سے راہ نمائی حاصل کرنے والے ہوئے۔ ﴿ وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی اطاعت سے خارج ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(یوسف: 12؍103)’’اور اکثر لوگ، خواہ آپ کتنی ہی خواہش کریں ایمان لانے والے نہیں۔‘‘ [27]﴿ ثُمَّ قَفَّيۡنَا﴾ پھر ہم نے بھیجے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمۡ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيۡنَا بِعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ﴾ ’’ ان کے پیچھے لگاتار اپنے رسول اور ہم نے ان سب کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ uکا خاص طور پر اس لیے ذکرکیا ہے کیونکہ سیاق آیات نصاریٰ کے بارے میں ہے جو حضرت عیسیٰ کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ﴾ ’’اور ہم نے ان کو انجیل دی۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی فضیلت والی کتابوں میں سے ہے ﴿وَجَعَلۡنَا فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ رَاۡفَةً وَّرَحۡمَةً﴾ ’’اور ڈال دی ہم نے ان کے پیروکاروں کے دلوں میں شفقت اور مہربانی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا١ۚ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(المائدہ: 5/82) ’’آپ پائیں گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور مودت و محبت کے اعتبار سے آپ مومنوں کے سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پائیں گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور راہب بھی اور (اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ) وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ اسی لیے جب نصرانی عیسیٰu کی شریعت پر قائم تھے تو دوسروں کی نسبت زیادہ نرم دل تھے۔ ﴿وَرَهۡبَانِيَّةَنِ ابۡتَدَعُوۡهَا﴾ رہبانیت سے مراد عبادت ہے۔ پس انھوں نے اپنی طرف سے ایک عبادت ایجاد کر لی اور اپنے لیے اسے وظیفہ بنا لیا اور انھوں نے مختلف لوازم کا التزام کیا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے خود اپنی طرف سے اپنے آپ پر لازم ٹھہرایا تھا اس سے ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا تھا۔ مگر بایں ہمہ ﴿فَمَا رَعَوۡهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا﴾ یعنی وہ اس پر قائم نہ رہ سکے اور نہ اس کے حقوق ہی کو ادا کر سکے۔پس وہ دو اعتبار سے قصور کے مرتکب ہوئے۔اول: اس عبادت کو ایجاد کرنے کے اعتبار سے۔ثانی : اس اعتبار سے کہ انھوں نے اپنے آپ پر جس چیز کو فرض کیا تھا اس پر قائم نہ رہ سکے۔ اور یہ حال ان کے غالب احوال میں سے تھا۔ اور ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کے حکم پر استقامت کے ساتھ قائم تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاٰتَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡهُمۡ اَجۡرَهُمۡ﴾ یعنی وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ uپر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ محمد مصطفیﷺ پر بھی ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اس کے ایمان کے مطابق اجر عطا کیا ہے ﴿وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’اور ان میں سے زیادہ تر نافرمان ہیں۔‘‘

الحديد 57:26

البتہ تحقیق بھیجے ہم نے اپنے رسول ساتھ واضح دلیلوں کے، اور نازل کی ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان تاکہ قائم رہیں لوگ انصاف پر، اور نازل کیا ہم نے لوہا اس میں لڑائی ہے بہت سخت اور فائدے ہیں لوگوں کے لیے اور تاکہ جان لے اللہ اس کو جو مدد کرتا ہے اس کی اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے بلاشبہ اللہ قوی ہے، بڑا زبردست (25) اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اور ابراہیم کو، اور رکھی ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب، پس کچھ ان میں سے ہدایت پانے والے ہیں اور بہت سے ان میں سے فاسق ہیں (26) پھر لگاتار پیچھے بھیجا ہم نے اوپر ان کے نقش قدم کے اپنے رسولوں کو، اور پیچھے بھیجا ہم نے عیسٰی ابن مریم کو اور دی ہم نے اس کو انجیل، اور رکھ دی ہم نے دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے پیروی کی اس کی، شفقت اور مہربانی اور رہبانیت کو انھوں نے خود ایجاد کیا تھا اسے نہیں لکھا تھا ہم نے اسے ان پر سوائے تلاش کرنے رضائے الٰہی کے پس نہ رعایت کی انھوں نے اس کی جیسا حق تھا اس کی رعایت کا، پھر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ان میں سے اجر ان کا اور بہت سے ان میں سے فاسق ہیں (27) [25] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَيِّنٰتِ﴾ ’’یقیناً ہم نے اپنے رسولوں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا۔‘‘اس سے مراد وہ دلائل، شواہد اور علامات ہیں جو اس چیز کی صداقت اور حقیقت پر دلالت کرتی ہیں جسے انبیاء کرام لے کر آئے ہیں ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا مَعَهُمُ الۡكِتٰبَ﴾ ’’اور ہم نے ان پر کتاب اتاری۔‘‘ (الکتاب) اسم جنس ہے جو ان تمام کتابوں کو شامل ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت اور ان امور کی طرف راہنمائی کے لیے نازل فرمایا ہے جو ان کے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ ﴿ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اورمیزان‘‘ اور وہ اقوال و افعال میں عدل کا نام ہے۔ وہ دین جو رسول اللہﷺ لے کر آئے وہ اوامرونواہی او رمخلوق کے تمام معاملات، تمام جرائم، حدود، قصاص اور وراثت کے معاملات وغیرہ میں، سراسر عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ اور یہ اس لیے ﴿لِيَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ﴾ تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کر کے اور اپنے مصالح کے حصول کی خاطر جن کو شمار کرنا ممکن نہیں، عدل و انصاف پر قائم رہیں۔یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمام انبیاء و رسل، شریعت کے قاعدہ پر متفق ہیں اور وہ ہے عدل کو قائم کرنا اگرچہ زمان و احوال کے مطابق عدل کی صورتیں مختلف ہیں۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا الۡحَدِيۡدَ فِيۡهِ بَاۡسٌ شَدِيۡدٌ﴾ ’’او رہم نے لوہا پیدا کیا، اس میں سخت ہیبت و قوت ہے۔‘‘ یعنی آلات حرب، مثلاً: ہر قسم کا اسلحہ اور ذرہ بکتر وغیرہ۔ ﴿وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ﴾ ’’اور لوگوں کے لیے منافع ہے۔‘‘ یہ وہ منافع ہیں جن کا مشاہدہ مختلف انواع کی صنعت و حرفت، مختلف اقسام کے برتنوں اور زرعی آلات میں کیا جا سکتا ہے، یہاں تک کہ کم ہی کوئی ایسی چیز پائی جاتی ہو گی جو لوہے کی محتاج نہ ہو ﴿ وَلِيَعۡلَمَ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ وَرُسُلَهٗ بِالۡغَيۡبِ﴾ ’’تاکہ اللہ اسے جان لے جو بن دیکھے اس کی اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے کتاب اور لوہا اس لیے نازل فرمایا ہےکہ وہ اس کے ذریعے سے آزمائش کا بازار گرم کرے تاکہ واضح ہو جائے کہ کون اس حالت غیب میں اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتے ہیں جس میں وہ ایمان فائدہ دیتا ہے جو مشاہدہ سے قبل ہو، مشاہدہ کے اندر ایمان کے وجود کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ تب تو ایمان ضروری اور اضطراری ہو گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيۡزٌ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ قوی اور زبردست ہے۔‘‘ یعنی اسے کوئی عاجز کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگنے والا اس سے بچ کر کہیں جا سکتا ہے۔ یہ اس کی قوت اور غلبے کا نشان ہے کہ اس نے لوہا نازل کیا جس سے بڑے بڑے طاقتور آلات بنتے ہیں۔ یہ اس کی طاقت اور غلبہ ہی ہے کہ وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کی قدرت رکھتا ہے مگر وہ اپنے دشمنوں کے ذریعے سے اپنے اولیاء کو آزماتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ کون بن دیکھے اس کی مدد کرتا ہے۔اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے کتاب اور لوہے کو اکٹھا بیان کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان دونوں چیزوں کے ذریعے سے اپنے دین کو نصرت عطا کرتا ہے اور اپنے کلمے کوکتاب کے ذریعے سے اور سیفِ ناصر کے ذریعے سے، اللہ کے حکم کے ساتھ بلند کرتا ہے۔ دونوں عدل و انصاف قائم کرتی ہیں جس کے ذریعے سے باری تعالیٰ کی حکمت، اس کے کمال اور اس کی شریعت کے کمال پر استدلال کیا جاتا ہے جس کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر مشروع فرمایا۔ [26] جب اللہ تعالیٰ نے جملہ انبیائے کرام کی نبوت کا عمومی ذکر فرمایا تو ان میں سے دو خاص نبیوں، یعنی حضرت نوح اور ابراہیمi کا ذکر بھی فرمایا جن کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت اور کتاب کو جاری کیا، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا وَّاِبۡرٰهِيۡمَ وَجَعَلۡنَا فِيۡ ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالۡكِتٰبَ﴾ ’’بے شک ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب جاری رکھی۔‘‘ یعنی تمام انبیائے متقدمین و متاخرین حضرت نوح اور ابراہیم iکی اولاد میں سے ہیں۔ اسی طرح تمام کتابیں انھی دو انبیائے کرام کی اولاد پر نازل ہوئیں ﴿ فَمِنۡهُمۡ﴾ یعنی ان لوگوں میں سے جن کی طرف ہم نے رسول مبعوث کیے ، بعض لوگ﴿ مُّهۡتَدٍ﴾ ان انبیاء کی دعوت کے ذریعے سے ہدایت یافتہ، ان کے احکام کی اطاعت کرنے والے اور ان کی ہدایت سے راہ نمائی حاصل کرنے والے ہوئے۔ ﴿ وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی اطاعت سے خارج ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(یوسف: 12؍103)’’اور اکثر لوگ، خواہ آپ کتنی ہی خواہش کریں ایمان لانے والے نہیں۔‘‘ [27]﴿ ثُمَّ قَفَّيۡنَا﴾ پھر ہم نے بھیجے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمۡ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيۡنَا بِعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ﴾ ’’ ان کے پیچھے لگاتار اپنے رسول اور ہم نے ان سب کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ uکا خاص طور پر اس لیے ذکرکیا ہے کیونکہ سیاق آیات نصاریٰ کے بارے میں ہے جو حضرت عیسیٰ کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ﴾ ’’اور ہم نے ان کو انجیل دی۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی فضیلت والی کتابوں میں سے ہے ﴿وَجَعَلۡنَا فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ رَاۡفَةً وَّرَحۡمَةً﴾ ’’اور ڈال دی ہم نے ان کے پیروکاروں کے دلوں میں شفقت اور مہربانی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا١ۚ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(المائدہ: 5/82) ’’آپ پائیں گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور مودت و محبت کے اعتبار سے آپ مومنوں کے سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پائیں گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور راہب بھی اور (اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ) وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ اسی لیے جب نصرانی عیسیٰu کی شریعت پر قائم تھے تو دوسروں کی نسبت زیادہ نرم دل تھے۔ ﴿وَرَهۡبَانِيَّةَنِ ابۡتَدَعُوۡهَا﴾ رہبانیت سے مراد عبادت ہے۔ پس انھوں نے اپنی طرف سے ایک عبادت ایجاد کر لی اور اپنے لیے اسے وظیفہ بنا لیا اور انھوں نے مختلف لوازم کا التزام کیا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے خود اپنی طرف سے اپنے آپ پر لازم ٹھہرایا تھا اس سے ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا تھا۔ مگر بایں ہمہ ﴿فَمَا رَعَوۡهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا﴾ یعنی وہ اس پر قائم نہ رہ سکے اور نہ اس کے حقوق ہی کو ادا کر سکے۔پس وہ دو اعتبار سے قصور کے مرتکب ہوئے۔اول: اس عبادت کو ایجاد کرنے کے اعتبار سے۔ثانی : اس اعتبار سے کہ انھوں نے اپنے آپ پر جس چیز کو فرض کیا تھا اس پر قائم نہ رہ سکے۔ اور یہ حال ان کے غالب احوال میں سے تھا۔ اور ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کے حکم پر استقامت کے ساتھ قائم تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاٰتَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡهُمۡ اَجۡرَهُمۡ﴾ یعنی وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ uپر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ محمد مصطفیﷺ پر بھی ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اس کے ایمان کے مطابق اجر عطا کیا ہے ﴿وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’اور ان میں سے زیادہ تر نافرمان ہیں۔‘‘

الحديد 57:27

البتہ تحقیق بھیجے ہم نے اپنے رسول ساتھ واضح دلیلوں کے، اور نازل کی ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان تاکہ قائم رہیں لوگ انصاف پر، اور نازل کیا ہم نے لوہا اس میں لڑائی ہے بہت سخت اور فائدے ہیں لوگوں کے لیے اور تاکہ جان لے اللہ اس کو جو مدد کرتا ہے اس کی اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے بلاشبہ اللہ قوی ہے، بڑا زبردست (25) اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اور ابراہیم کو، اور رکھی ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب، پس کچھ ان میں سے ہدایت پانے والے ہیں اور بہت سے ان میں سے فاسق ہیں (26) پھر لگاتار پیچھے بھیجا ہم نے اوپر ان کے نقش قدم کے اپنے رسولوں کو، اور پیچھے بھیجا ہم نے عیسٰی ابن مریم کو اور دی ہم نے اس کو انجیل، اور رکھ دی ہم نے دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے پیروی کی اس کی، شفقت اور مہربانی اور رہبانیت کو انھوں نے خود ایجاد کیا تھا اسے نہیں لکھا تھا ہم نے اسے ان پر سوائے تلاش کرنے رضائے الٰہی کے پس نہ رعایت کی انھوں نے اس کی جیسا حق تھا اس کی رعایت کا، پھر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ان میں سے اجر ان کا اور بہت سے ان میں سے فاسق ہیں (27) [25] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَيِّنٰتِ﴾ ’’یقیناً ہم نے اپنے رسولوں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا۔‘‘اس سے مراد وہ دلائل، شواہد اور علامات ہیں جو اس چیز کی صداقت اور حقیقت پر دلالت کرتی ہیں جسے انبیاء کرام لے کر آئے ہیں ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا مَعَهُمُ الۡكِتٰبَ﴾ ’’اور ہم نے ان پر کتاب اتاری۔‘‘ (الکتاب) اسم جنس ہے جو ان تمام کتابوں کو شامل ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت اور ان امور کی طرف راہنمائی کے لیے نازل فرمایا ہے جو ان کے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ ﴿ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اورمیزان‘‘ اور وہ اقوال و افعال میں عدل کا نام ہے۔ وہ دین جو رسول اللہﷺ لے کر آئے وہ اوامرونواہی او رمخلوق کے تمام معاملات، تمام جرائم، حدود، قصاص اور وراثت کے معاملات وغیرہ میں، سراسر عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ اور یہ اس لیے ﴿لِيَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ﴾ تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کر کے اور اپنے مصالح کے حصول کی خاطر جن کو شمار کرنا ممکن نہیں، عدل و انصاف پر قائم رہیں۔یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمام انبیاء و رسل، شریعت کے قاعدہ پر متفق ہیں اور وہ ہے عدل کو قائم کرنا اگرچہ زمان و احوال کے مطابق عدل کی صورتیں مختلف ہیں۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا الۡحَدِيۡدَ فِيۡهِ بَاۡسٌ شَدِيۡدٌ﴾ ’’او رہم نے لوہا پیدا کیا، اس میں سخت ہیبت و قوت ہے۔‘‘ یعنی آلات حرب، مثلاً: ہر قسم کا اسلحہ اور ذرہ بکتر وغیرہ۔ ﴿وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ﴾ ’’اور لوگوں کے لیے منافع ہے۔‘‘ یہ وہ منافع ہیں جن کا مشاہدہ مختلف انواع کی صنعت و حرفت، مختلف اقسام کے برتنوں اور زرعی آلات میں کیا جا سکتا ہے، یہاں تک کہ کم ہی کوئی ایسی چیز پائی جاتی ہو گی جو لوہے کی محتاج نہ ہو ﴿ وَلِيَعۡلَمَ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ وَرُسُلَهٗ بِالۡغَيۡبِ﴾ ’’تاکہ اللہ اسے جان لے جو بن دیکھے اس کی اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے کتاب اور لوہا اس لیے نازل فرمایا ہےکہ وہ اس کے ذریعے سے آزمائش کا بازار گرم کرے تاکہ واضح ہو جائے کہ کون اس حالت غیب میں اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتے ہیں جس میں وہ ایمان فائدہ دیتا ہے جو مشاہدہ سے قبل ہو، مشاہدہ کے اندر ایمان کے وجود کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ تب تو ایمان ضروری اور اضطراری ہو گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيۡزٌ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ قوی اور زبردست ہے۔‘‘ یعنی اسے کوئی عاجز کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگنے والا اس سے بچ کر کہیں جا سکتا ہے۔ یہ اس کی قوت اور غلبے کا نشان ہے کہ اس نے لوہا نازل کیا جس سے بڑے بڑے طاقتور آلات بنتے ہیں۔ یہ اس کی طاقت اور غلبہ ہی ہے کہ وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کی قدرت رکھتا ہے مگر وہ اپنے دشمنوں کے ذریعے سے اپنے اولیاء کو آزماتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ کون بن دیکھے اس کی مدد کرتا ہے۔اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے کتاب اور لوہے کو اکٹھا بیان کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان دونوں چیزوں کے ذریعے سے اپنے دین کو نصرت عطا کرتا ہے اور اپنے کلمے کوکتاب کے ذریعے سے اور سیفِ ناصر کے ذریعے سے، اللہ کے حکم کے ساتھ بلند کرتا ہے۔ دونوں عدل و انصاف قائم کرتی ہیں جس کے ذریعے سے باری تعالیٰ کی حکمت، اس کے کمال اور اس کی شریعت کے کمال پر استدلال کیا جاتا ہے جس کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر مشروع فرمایا۔ [26] جب اللہ تعالیٰ نے جملہ انبیائے کرام کی نبوت کا عمومی ذکر فرمایا تو ان میں سے دو خاص نبیوں، یعنی حضرت نوح اور ابراہیمi کا ذکر بھی فرمایا جن کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت اور کتاب کو جاری کیا، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا وَّاِبۡرٰهِيۡمَ وَجَعَلۡنَا فِيۡ ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالۡكِتٰبَ﴾ ’’بے شک ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب جاری رکھی۔‘‘ یعنی تمام انبیائے متقدمین و متاخرین حضرت نوح اور ابراہیم iکی اولاد میں سے ہیں۔ اسی طرح تمام کتابیں انھی دو انبیائے کرام کی اولاد پر نازل ہوئیں ﴿ فَمِنۡهُمۡ﴾ یعنی ان لوگوں میں سے جن کی طرف ہم نے رسول مبعوث کیے ، بعض لوگ﴿ مُّهۡتَدٍ﴾ ان انبیاء کی دعوت کے ذریعے سے ہدایت یافتہ، ان کے احکام کی اطاعت کرنے والے اور ان کی ہدایت سے راہ نمائی حاصل کرنے والے ہوئے۔ ﴿ وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی اطاعت سے خارج ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(یوسف: 12؍103)’’اور اکثر لوگ، خواہ آپ کتنی ہی خواہش کریں ایمان لانے والے نہیں۔‘‘ [27]﴿ ثُمَّ قَفَّيۡنَا﴾ پھر ہم نے بھیجے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمۡ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيۡنَا بِعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ﴾ ’’ ان کے پیچھے لگاتار اپنے رسول اور ہم نے ان سب کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ uکا خاص طور پر اس لیے ذکرکیا ہے کیونکہ سیاق آیات نصاریٰ کے بارے میں ہے جو حضرت عیسیٰ کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ﴾ ’’اور ہم نے ان کو انجیل دی۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی فضیلت والی کتابوں میں سے ہے ﴿وَجَعَلۡنَا فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ رَاۡفَةً وَّرَحۡمَةً﴾ ’’اور ڈال دی ہم نے ان کے پیروکاروں کے دلوں میں شفقت اور مہربانی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا١ۚ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(المائدہ: 5/82) ’’آپ پائیں گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور مودت و محبت کے اعتبار سے آپ مومنوں کے سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پائیں گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور راہب بھی اور (اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ) وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ اسی لیے جب نصرانی عیسیٰu کی شریعت پر قائم تھے تو دوسروں کی نسبت زیادہ نرم دل تھے۔ ﴿وَرَهۡبَانِيَّةَنِ ابۡتَدَعُوۡهَا﴾ رہبانیت سے مراد عبادت ہے۔ پس انھوں نے اپنی طرف سے ایک عبادت ایجاد کر لی اور اپنے لیے اسے وظیفہ بنا لیا اور انھوں نے مختلف لوازم کا التزام کیا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے خود اپنی طرف سے اپنے آپ پر لازم ٹھہرایا تھا اس سے ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا تھا۔ مگر بایں ہمہ ﴿فَمَا رَعَوۡهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا﴾ یعنی وہ اس پر قائم نہ رہ سکے اور نہ اس کے حقوق ہی کو ادا کر سکے۔پس وہ دو اعتبار سے قصور کے مرتکب ہوئے۔اول: اس عبادت کو ایجاد کرنے کے اعتبار سے۔ثانی : اس اعتبار سے کہ انھوں نے اپنے آپ پر جس چیز کو فرض کیا تھا اس پر قائم نہ رہ سکے۔ اور یہ حال ان کے غالب احوال میں سے تھا۔ اور ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کے حکم پر استقامت کے ساتھ قائم تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاٰتَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡهُمۡ اَجۡرَهُمۡ﴾ یعنی وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ uپر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ محمد مصطفیﷺ پر بھی ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اس کے ایمان کے مطابق اجر عطا کیا ہے ﴿وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’اور ان میں سے زیادہ تر نافرمان ہیں۔‘‘

الحديد 57:28

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو تم اللہ سے اور ایمان لاؤ اس کے رسول پر، وہ دے گا تمھیں دو حصے اپنی رحمت سے اور بنائے گا تمھارے لیے ایسا نور کہ تم چلو گے ساتھ اس کے، اور وہ بخش دے گا تمھیں، اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (28) تاکہ جان لیں اہل کتاب یہ کہ بلاشبہ وہ نہیں قدرت رکھتے اوپر کسی چیز کے اللہ کے فضل سے، اور یہ کہ بلاشبہ (تمام) فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جس کو چاہتا ہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے(29) [28] اس آیت کریمہ میں یہ احتمال ہے کہ یہ خطاب ان اہل کتاب سے جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ iپر ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کے تقاضے پر عمل کریں ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں، اس کی نافرمانی کو چھوڑ دیں اور اس کے رسول محمدﷺ پر ایمان لائیں، اگر وہ یہ کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ عطا کرے گا:﴿ كِفۡلَيۡنِ مِنۡ رَّحۡمَتِهٖ﴾ ’’اپنی رحمت سے دو گنا اجر ۔‘‘ یعنی ان کے اجر کے دو حصے ہیں: ایک حصہ ان کے سابق رسولوں پر ایمان لانے کے بدلے میں اور دوسرا حصہ محمدﷺپر ایمان لانے کے بدلے میں۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ حکم عام ہے اور اس میں اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سب داخل ہیں اور یہی ظاہر ہے، نیز اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایمان اور تقویٰ کا حکم دیا ہے جس میں دین کا تمام ظاہر و باطن اور اصول و فروع داخل ہے اور اگر وہ اس عظیم حکم کی تعمیل کریں گے ﴿ كِفۡلَيۡنِ مِنۡ رَّحۡمَتِهٖ﴾تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انھیں دو گنا اجر عطا کرے گا جس کی مقدار اور وصف اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس سے مراد یا تو ایمان لانے پر اجر اور تقویٰ اختیار کرنے پر اجر ہے یا اوامر کی تعمیل پر اجر اور نواہی سے اجتناب کرنے پر اجر ہے یا تثنیہ سے مراد یکے بعد دیگر عطائے ثواب میں تکرار ہے۔﴿ وَيَجۡعَلۡ لَّـكُمۡ نُوۡرًا تَمۡشُوۡنَ بِهٖ ﴾ یعنی وہ تمھیں علم، ہدایت اور روشنی عطا کرے گا، جس کی مدد سے تم جہالت کی تاریکیوں میں چل پھر سکو گے اور وہ تمھارے گناہوں کو بخش دے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ اس ثواب کی یہ کثرت، فضل عظیم مالک کے فضل کے سامنے مستبعد نہیں جس کا فضل و کرم تمام آسمانوں اور زمین والوں پر سایہ کناں ہے، لمحہ بھر یا اس سے بھی کم وقت کے لیے مخلوق سے اس کا فضل و کرم جدا نہیں ہوتا۔ [29]﴿ لِّئَلَّا يَعۡلَمَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ اَلَّا يَقۡدِرُوۡنَ عَلٰى شَيۡءٍ مِّنۡ فَضۡلِ اللّٰهِ﴾ یعنی ہم نے تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے کہ اس شخص کو ہم اپنے فضل و احسان سے نوازتے ہیں جو عمومی ایمان سے بہرہ ور ہوتا ہے ، تقویٰ اختیار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لاتا ہے۔ یہ وضاحت ہم نے اس لیے کی تاکہ اہل کتاب کو یہ علم ہو جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ یعنی وہ اپنی خواہشات نفس اور عقول فاسدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کو اس کے فضل سے روک نہیں سکتے، وہ کہتے ہیں:﴿ لَنۡ يَّدۡخُلَ الۡجَنَّةَ اِلَّا مَنۡ كَانَ هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰؔى﴾(البقرہ:2؍111) ’’جنت میں داخل نہیں ہو گا سوائے یہودی اور نصرانی کے۔‘‘ اور وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں فاسد آرزوئیں رکھتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ پر ایمان لانے والوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے تقویٰ اختیار کرنے والوں کو آگاہ فرمایا ہے کہ اہل کتاب کے علی الرغم ان کے لیے دو گنی رحمت، نور اور مغفرت ہے تاکہ انھیں معلوم ہو جائے ﴿ اَنَّ الۡفَضۡلَ بِيَدِ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’کہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔‘‘ جس کے بارے میں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ اسے اپنا فضل عطا کرے۔ ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ فضل عظیم کا مالک ہے جس کی مقدار کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔

الحديد 57:29

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو تم اللہ سے اور ایمان لاؤ اس کے رسول پر، وہ دے گا تمھیں دو حصے اپنی رحمت سے اور بنائے گا تمھارے لیے ایسا نور کہ تم چلو گے ساتھ اس کے، اور وہ بخش دے گا تمھیں، اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (28) تاکہ جان لیں اہل کتاب یہ کہ بلاشبہ وہ نہیں قدرت رکھتے اوپر کسی چیز کے اللہ کے فضل سے، اور یہ کہ بلاشبہ (تمام) فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جس کو چاہتا ہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے(29) [28] اس آیت کریمہ میں یہ احتمال ہے کہ یہ خطاب ان اہل کتاب سے جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ iپر ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کے تقاضے پر عمل کریں ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں، اس کی نافرمانی کو چھوڑ دیں اور اس کے رسول محمدﷺ پر ایمان لائیں، اگر وہ یہ کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ عطا کرے گا:﴿ كِفۡلَيۡنِ مِنۡ رَّحۡمَتِهٖ﴾ ’’اپنی رحمت سے دو گنا اجر ۔‘‘ یعنی ان کے اجر کے دو حصے ہیں: ایک حصہ ان کے سابق رسولوں پر ایمان لانے کے بدلے میں اور دوسرا حصہ محمدﷺپر ایمان لانے کے بدلے میں۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ حکم عام ہے اور اس میں اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سب داخل ہیں اور یہی ظاہر ہے، نیز اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایمان اور تقویٰ کا حکم دیا ہے جس میں دین کا تمام ظاہر و باطن اور اصول و فروع داخل ہے اور اگر وہ اس عظیم حکم کی تعمیل کریں گے ﴿ كِفۡلَيۡنِ مِنۡ رَّحۡمَتِهٖ﴾تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انھیں دو گنا اجر عطا کرے گا جس کی مقدار اور وصف اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس سے مراد یا تو ایمان لانے پر اجر اور تقویٰ اختیار کرنے پر اجر ہے یا اوامر کی تعمیل پر اجر اور نواہی سے اجتناب کرنے پر اجر ہے یا تثنیہ سے مراد یکے بعد دیگر عطائے ثواب میں تکرار ہے۔﴿ وَيَجۡعَلۡ لَّـكُمۡ نُوۡرًا تَمۡشُوۡنَ بِهٖ ﴾ یعنی وہ تمھیں علم، ہدایت اور روشنی عطا کرے گا، جس کی مدد سے تم جہالت کی تاریکیوں میں چل پھر سکو گے اور وہ تمھارے گناہوں کو بخش دے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ اس ثواب کی یہ کثرت، فضل عظیم مالک کے فضل کے سامنے مستبعد نہیں جس کا فضل و کرم تمام آسمانوں اور زمین والوں پر سایہ کناں ہے، لمحہ بھر یا اس سے بھی کم وقت کے لیے مخلوق سے اس کا فضل و کرم جدا نہیں ہوتا۔ [29]﴿ لِّئَلَّا يَعۡلَمَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ اَلَّا يَقۡدِرُوۡنَ عَلٰى شَيۡءٍ مِّنۡ فَضۡلِ اللّٰهِ﴾ یعنی ہم نے تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے کہ اس شخص کو ہم اپنے فضل و احسان سے نوازتے ہیں جو عمومی ایمان سے بہرہ ور ہوتا ہے ، تقویٰ اختیار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لاتا ہے۔ یہ وضاحت ہم نے اس لیے کی تاکہ اہل کتاب کو یہ علم ہو جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ یعنی وہ اپنی خواہشات نفس اور عقول فاسدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کو اس کے فضل سے روک نہیں سکتے، وہ کہتے ہیں:﴿ لَنۡ يَّدۡخُلَ الۡجَنَّةَ اِلَّا مَنۡ كَانَ هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰؔى﴾(البقرہ:2؍111) ’’جنت میں داخل نہیں ہو گا سوائے یہودی اور نصرانی کے۔‘‘ اور وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں فاسد آرزوئیں رکھتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ پر ایمان لانے والوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے تقویٰ اختیار کرنے والوں کو آگاہ فرمایا ہے کہ اہل کتاب کے علی الرغم ان کے لیے دو گنی رحمت، نور اور مغفرت ہے تاکہ انھیں معلوم ہو جائے ﴿ اَنَّ الۡفَضۡلَ بِيَدِ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’کہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔‘‘ جس کے بارے میں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ اسے اپنا فضل عطا کرے۔ ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ فضل عظیم کا مالک ہے جس کی مقدار کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔

المجادلة 58:1

تحقیق سن لی اللہ نے بات اس عورت کی وہ جو تکرار کر رہی تھی آپ سے اپنے خاوند کے بارے میں اور وہ شکایت کر رہی تھی طرف اللہ کی جبکہ اللہ سن رہا تھا گفتگو تم دونوں کی بلاشبہ اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (1) وہ لوگ جو ظہار کرتے ہیں تم میں سے اپنی بیویوں سے نہیں ہو جاتیں وہ ان کی مائیں، نہیں ہیں ان کی مائیں مگر وہی جنھوں نے جنا ان کو اور بلاشبہ وہ البتہ کہتے ہیں نامعقول بات اور جھوٹ اور بے شک اللہ البتہ بہت معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے(2) اور وہ لوگ جو ظہار کرتے ہیں اپنی عورتوں سے ، پھر وہ رجوع کر لیں اس سے جو انھوں نے کہا تو آزاد کرنا ہے ایک گردن کا پہلے اس سے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، یہ (حکم)، نصیحت کیے جاتے ہو تم ساتھ اس کے، اور اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(3) پس جو شخص نہ پائے تو روزے رکھنے ہیں دو مہینے متواتر پہلے اس سے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پس جو شخص نہ استطاعت رکھے تو کھانا کھلانا ہے ساٹھ مسکینوں کو، یہ (حکم) اس لیے ہے کہ تم ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور یہ حدیں ہیں اللہ کی اور کافروں کے لیے عذاب ہے بہت درد ناک(4) [1] یہ آیات کریمہ انصار میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں، جب اس نے اپنی بیوی کو طویل مصاحبت اور اولاد ہونے کے بعد اپنے آپ پر حرام قرار دے لیا، تو اس کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے پاس شکایت کی اور اس کے خلاف مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ ایک بوڑھا شخص تھا۔ اس خاتون نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کے پاس اپنے حال اور اس شخص کے حال کے بارے میں شکوہ کیا اور بار بار کیا اور جرأت کے ساتھ اس کا اعادہ کیاتو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّتِيۡ تُجَادِلُكَ فِيۡ زَوۡجِهَا وَ تَشۡتَكِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖ ۗ وَاللّٰهُ يَسۡمَعُ تَحَاوُرَؔكُمَا﴾ ’’(اے پیغمبر!) جو عورت آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی اور اللہ سے شکایت کرتی تھی۔ اللہ نے اس کی التجا سن لی۔ اور اللہ تم دونوں کی بات چیت کو سن رہا تھا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام اوقات میں، مخلوق کی مختلف حاجتوں کے باوجود تمام آوازوں کو سننے والا ہے ﴿ بَصِيۡرٌ﴾ جو اندھیری رات میں، سیاہ پتھر پر رینگتی ہوئی سیاہ چیونٹی کو بھی دیکھتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل سمع و بصر کی خبر ہے، نیز تمام چھوٹے بڑے امور پر اس کے سمع و بصر کے احاطہ کی خبر ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عورت کی شکایت اور مصیبت کا ازالہ کرے گا اس لیے اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر اس عورت اور دیگر عورتوں کے بارے میں حکم بیان فرمایا، چنانچہ فرمایا: [2]﴿ اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ١ؕ اِنۡ اُمَّهٰتُهُمۡ اِلَّا الّٰٓـِٔيۡ وَلَدۡنَهُمۡ﴾ ’’جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں سے ظہار کرلیتے ہیں، وہ ان کی مائیں نہیں (ہوجاتیں) ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جَنا۔‘‘ بیوی کے ساتھ ظہار یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے کہے ’’تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ‘‘ یا ماں کے علاوہ دیگر محارم کا ذکر کرے یا یہ کہے ’’تو مجھ پر حرام ہے‘‘ عربوں کے ہاں اس موقع پر پیٹھ (اَلظِّھر) کا لفظ بولا جاتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو ’’ظِہَار‘‘ سے موسوم کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ ﴾ یعنی وہ ایسی بات کیوں کر کہتے ہیں جس کے بارے میں انھیں معلوم ہے کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں، اور وہ اپنی بیویوں کو ان ماؤ ں سے تشبیہ دیتے ہیں جنھوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ظہار کے معاملے کو بہت بڑا اور نہایت قبیح قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهُمۡ لَيَقُوۡلُوۡنَ مُنۡؔكَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَزُوۡرًا﴾ یعنی وہ جھوٹی اور نہایت بری بات کہہ رہے ہیں۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌؔ﴾ یعنی اس سے جو کچھ مخالفت صادر ہوئی ، پھر اس نے خالص توبہ کے ذریعے سے اس کا تدارک کیا، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرنے اور بخش دینے والا ہے۔ [3]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا﴾ ’’جو اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں، پھر انھوں نے جو کہا، اس سے رجوع کرلیں۔‘‘ رجوع کرنے کے معنی میں اہل علم اختلاف کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جس عورت کے ساتھ ظہار کیا ہے اس کے ساتھ جماع کا عزم کیا جائے، مجرد عزم ہی سے ظہار کرنے والے پر مذکورہ کفارہ واجب ہے، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفارے کے بارے میں ذکر فرمایا کہ یہ کفارہ (اس بیوی کو) چھونے سے قبل ہے اور یہ مجرد عزم ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ حقیقی جماع ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا﴾ ’’ پھر وہ اپنی بات سے رجوع کرلیں۔‘‘ اور جو بات انھوں نے کہی وہ جماع (کو حرام کرنا) ہے۔ اور دونوں قولوں میں سے ہر ایک کے مطابق، جب بھی رجوع کیا جائے گا، تو بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا کفارہ ہوگا۔ ﴿ فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ﴾ ’’تو ایک غلام آزاد کرنا ہے۔‘‘ لیکن وہ مومن ہو، جیسا کہ دوسری آیت میں کہا گیا ہے۔ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ غلام یا لونڈی ان عیوب سے سلامت ہو جو کام کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا﴾ ’’پہلے اس کے کہ وہ دونوں ہم بستری کریں۔‘‘ یعنی شوہر پر لازم ہے کہ جب تک کہ وہ غلام آزاد کر کے کفارہ ادا نہ کرے اپنی اس بیوی سے جماع نہ کرے جس سے اس نے ظہار کیا ہے ﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یعنی یہ حکم جو ہم نے تمھارے لیے بیان کیا ہے ﴿تُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ﴾ ’’اس کے ذر یعے سے تم نصیحت کیے جاتے ہو۔‘‘ یعنی وہ تمھارے سامنے ترہیب سے مقرون اپنا حکم بیان کرتا ہے کیونکہ وعظ کا معنیٰ ترغیب و ترہیب کے ساتھ حکم کا ذکر کرنا ہے۔ پس جو شخص ظہار کا ارادہ کرتا ہے، جب اسے یاد آتا ہے کہ غلام آزاد کرنا پڑے گا، تو اس سے رک جاتا ہے ﴿وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ تمھارے عملوں سے پوری طرح باخبر ہے۔‘‘ لہٰذا وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا و سزا دے گا۔ [4]﴿فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ﴾ پس جو آزاد کرنے کے لیے غلام نہ پائے یا اس کے پاس غلام کی قیمت موجود نہ ہو تو اس کے ذمے﴿ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا فَمَنۡ لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ ﴾ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے ہیں۔ اور جو روزے رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو ﴿فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا﴾ ’’تو اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یا تو وہ اپنے شہر میں مروج خوراک میں سے انھیں کھانا کھلائے جو ان کے لیے کافی ہو، جیسا کہ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے۔ یا وہ ایک مسکین کو ایک مد گیہوں یا گیہوں کے علاوہ کسی دیگر جنس سے نصف صاع عطا کرے ، جیسا کہ مفسرین کے ایک دوسرے گروہ کی رائے ہے۔یہ حکم جو ہم نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے اور اسے واضح کیا ہے ﴿لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تاکہ تم اللہ اوراس کے رسول پر ایمان لے آؤ۔‘‘ اور یہ ایمان اس کے حکم اور دیگر احکام کے التزام اور اس پر عمل کرنے ہی سے ممکن ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا التزام اور ان پر عمل کرنا ایمان ہے بلکہ یہ احکام اور ان پر عمل ہی درحقیقت مقصود و مطلوب ہیں ان سے ایمان میں اضافہ اور اس کی تکمیل ہوتی ہے اور یہ نشوونما پاتا ہے۔ ﴿وَتِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’اور یہ اللہ کی حدود ہیں۔‘‘ جو ان میں واقع ہونے سے روکتی ہیں، اس لیے واجب ہے کہ ان حدود سے تجاوز کیا جائے نہ ان سے قاصر پیچھے رہا جائے ﴿وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ ’’اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔‘‘ ان آیات کریمہ میں متعدد احکام بیان کیے گئے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور عنایت ہے کہ اس نے مصیبت زدہ عورت کی شکایت کا ذکر کر کے، اس کی مصیبت کا ازالہ کیا، بلکہ اس نے اپنے حکم عام کے ذریعے سے ہر اس شخص کی مصیبت کا ازالہ کیا جو اس قسم کی مصیبت اور آزمائش میں مبتلا ہے۔(۲) ظہار، بیوی کو حرام ٹھہرا لینے کے ساتھ مختص ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ﴾ ’’اپنی عورتوں سے۔‘‘ اگر وہ اپنی لونڈی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہراتا ہے تو یہ ظہار شمار نہ ہو گا ، بلکہ یہ طیبات کی تحریم کی جنس سے ہے ، مثلاً: کھانے پینے کو حرام ٹھہرا لینا، اس میں صرف قسم کا کفارہ واجب ہے۔ (۳)کسی عورت سے نکاح کرنے سے پہلے، اس سے ظہار درست نہیں، کیونکہ ظہار کے وقت وہ اس کی بیویوں میں داخل نہیں ہے۔ جیسا کہ نکاح سے قبل اس کو طلاق نہیں ہو سکتی۔ خواہ وہ طلاق دے دے یا اس کو معلق کر دے۔(۴)ظہار حرام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے منکر کہا ہے ۔(۵) ان آیات کریمہ میں، اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی حکمت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ﴾’’وہ تمھاری مائیں نہیں ہیں۔‘‘(۶) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد کے لیے مکروہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اپنے محارم کے نام سے پکارے ، مثلاً:’’اے میری ماں!‘‘ ’’اے میری بہن!‘‘ وغیرہ کیونکہ یہ محرمات سے مشابہت رکھتا ہے۔(۷) کفارہ مجرد ظہار سے واجب نہیں ہوتا بلکہ سابقہ دونوں اقوال کے اختلاف معنیٰ کے مطابق، ظہار کرنے والے کے ’’رجوع کرنے‘‘ پر کفارہ واجب ہوتا ہے۔ (۸) کفارہ میں چھوٹے یابڑے غلام کو اور مرد یا عورت کو آزاد کرنے سے کفارہ ادا ہو جاتا ہے، کیونکہ آیت میں مطلق غلام کو آزاد کرنے کا حکم ہے۔ (۹)آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کفارے میں غلام آزاد کرنا یا روزے رکھنا ہے تو جماع سے قبل، کفارہ ادا کرنا واجب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مقید ذکر کیا ہے، بخلاف مسکینوں کو کھانا کھلانے کے، کیونکہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کے دوران میں جماع جائز ہے۔(۱۰)جماع سے قبل کفارے کے واجب ہونے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس سے کفارے کی ادائیگی میں زیادہ ترغیب ملتی ہے کیونکہ جب ظہار کرنے والے میں جماع کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ کفارہ ادا کیے بغیر جماع ممکن نہیں، تو کفارہ ادا کرنے میں جلدی کرتا ہے۔(۱۱) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہے۔ ظہار کا ارتکاب کرنے والا اگر ساٹھ مسکینوں کا اکٹھا کھانا کسی ایک مسکین، یا ایک سے زائد مسکینوں کو، جو تعداد میں ساٹھ سے کم ہوں، دے دے، تو یہ جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :﴿فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا﴾

المجادلة 58:2

تحقیق سن لی اللہ نے بات اس عورت کی وہ جو تکرار کر رہی تھی آپ سے اپنے خاوند کے بارے میں اور وہ شکایت کر رہی تھی طرف اللہ کی جبکہ اللہ سن رہا تھا گفتگو تم دونوں کی بلاشبہ اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (1) وہ لوگ جو ظہار کرتے ہیں تم میں سے اپنی بیویوں سے نہیں ہو جاتیں وہ ان کی مائیں، نہیں ہیں ان کی مائیں مگر وہی جنھوں نے جنا ان کو اور بلاشبہ وہ البتہ کہتے ہیں نامعقول بات اور جھوٹ اور بے شک اللہ البتہ بہت معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے(2) اور وہ لوگ جو ظہار کرتے ہیں اپنی عورتوں سے ، پھر وہ رجوع کر لیں اس سے جو انھوں نے کہا تو آزاد کرنا ہے ایک گردن کا پہلے اس سے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، یہ (حکم)، نصیحت کیے جاتے ہو تم ساتھ اس کے، اور اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(3) پس جو شخص نہ پائے تو روزے رکھنے ہیں دو مہینے متواتر پہلے اس سے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پس جو شخص نہ استطاعت رکھے تو کھانا کھلانا ہے ساٹھ مسکینوں کو، یہ (حکم) اس لیے ہے کہ تم ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور یہ حدیں ہیں اللہ کی اور کافروں کے لیے عذاب ہے بہت درد ناک(4) [1] یہ آیات کریمہ انصار میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں، جب اس نے اپنی بیوی کو طویل مصاحبت اور اولاد ہونے کے بعد اپنے آپ پر حرام قرار دے لیا، تو اس کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے پاس شکایت کی اور اس کے خلاف مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ ایک بوڑھا شخص تھا۔ اس خاتون نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کے پاس اپنے حال اور اس شخص کے حال کے بارے میں شکوہ کیا اور بار بار کیا اور جرأت کے ساتھ اس کا اعادہ کیاتو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّتِيۡ تُجَادِلُكَ فِيۡ زَوۡجِهَا وَ تَشۡتَكِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖ ۗ وَاللّٰهُ يَسۡمَعُ تَحَاوُرَؔكُمَا﴾ ’’(اے پیغمبر!) جو عورت آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی اور اللہ سے شکایت کرتی تھی۔ اللہ نے اس کی التجا سن لی۔ اور اللہ تم دونوں کی بات چیت کو سن رہا تھا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام اوقات میں، مخلوق کی مختلف حاجتوں کے باوجود تمام آوازوں کو سننے والا ہے ﴿ بَصِيۡرٌ﴾ جو اندھیری رات میں، سیاہ پتھر پر رینگتی ہوئی سیاہ چیونٹی کو بھی دیکھتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل سمع و بصر کی خبر ہے، نیز تمام چھوٹے بڑے امور پر اس کے سمع و بصر کے احاطہ کی خبر ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عورت کی شکایت اور مصیبت کا ازالہ کرے گا اس لیے اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر اس عورت اور دیگر عورتوں کے بارے میں حکم بیان فرمایا، چنانچہ فرمایا: [2]﴿ اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ١ؕ اِنۡ اُمَّهٰتُهُمۡ اِلَّا الّٰٓـِٔيۡ وَلَدۡنَهُمۡ﴾ ’’جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں سے ظہار کرلیتے ہیں، وہ ان کی مائیں نہیں (ہوجاتیں) ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جَنا۔‘‘ بیوی کے ساتھ ظہار یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے کہے ’’تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ‘‘ یا ماں کے علاوہ دیگر محارم کا ذکر کرے یا یہ کہے ’’تو مجھ پر حرام ہے‘‘ عربوں کے ہاں اس موقع پر پیٹھ (اَلظِّھر) کا لفظ بولا جاتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو ’’ظِہَار‘‘ سے موسوم کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ ﴾ یعنی وہ ایسی بات کیوں کر کہتے ہیں جس کے بارے میں انھیں معلوم ہے کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں، اور وہ اپنی بیویوں کو ان ماؤ ں سے تشبیہ دیتے ہیں جنھوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ظہار کے معاملے کو بہت بڑا اور نہایت قبیح قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهُمۡ لَيَقُوۡلُوۡنَ مُنۡؔكَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَزُوۡرًا﴾ یعنی وہ جھوٹی اور نہایت بری بات کہہ رہے ہیں۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌؔ﴾ یعنی اس سے جو کچھ مخالفت صادر ہوئی ، پھر اس نے خالص توبہ کے ذریعے سے اس کا تدارک کیا، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرنے اور بخش دینے والا ہے۔ [3]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا﴾ ’’جو اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں، پھر انھوں نے جو کہا، اس سے رجوع کرلیں۔‘‘ رجوع کرنے کے معنی میں اہل علم اختلاف کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جس عورت کے ساتھ ظہار کیا ہے اس کے ساتھ جماع کا عزم کیا جائے، مجرد عزم ہی سے ظہار کرنے والے پر مذکورہ کفارہ واجب ہے، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفارے کے بارے میں ذکر فرمایا کہ یہ کفارہ (اس بیوی کو) چھونے سے قبل ہے اور یہ مجرد عزم ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ حقیقی جماع ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا﴾ ’’ پھر وہ اپنی بات سے رجوع کرلیں۔‘‘ اور جو بات انھوں نے کہی وہ جماع (کو حرام کرنا) ہے۔ اور دونوں قولوں میں سے ہر ایک کے مطابق، جب بھی رجوع کیا جائے گا، تو بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا کفارہ ہوگا۔ ﴿ فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ﴾ ’’تو ایک غلام آزاد کرنا ہے۔‘‘ لیکن وہ مومن ہو، جیسا کہ دوسری آیت میں کہا گیا ہے۔ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ غلام یا لونڈی ان عیوب سے سلامت ہو جو کام کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا﴾ ’’پہلے اس کے کہ وہ دونوں ہم بستری کریں۔‘‘ یعنی شوہر پر لازم ہے کہ جب تک کہ وہ غلام آزاد کر کے کفارہ ادا نہ کرے اپنی اس بیوی سے جماع نہ کرے جس سے اس نے ظہار کیا ہے ﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یعنی یہ حکم جو ہم نے تمھارے لیے بیان کیا ہے ﴿تُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ﴾ ’’اس کے ذر یعے سے تم نصیحت کیے جاتے ہو۔‘‘ یعنی وہ تمھارے سامنے ترہیب سے مقرون اپنا حکم بیان کرتا ہے کیونکہ وعظ کا معنیٰ ترغیب و ترہیب کے ساتھ حکم کا ذکر کرنا ہے۔ پس جو شخص ظہار کا ارادہ کرتا ہے، جب اسے یاد آتا ہے کہ غلام آزاد کرنا پڑے گا، تو اس سے رک جاتا ہے ﴿وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ تمھارے عملوں سے پوری طرح باخبر ہے۔‘‘ لہٰذا وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا و سزا دے گا۔ [4]﴿فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ﴾ پس جو آزاد کرنے کے لیے غلام نہ پائے یا اس کے پاس غلام کی قیمت موجود نہ ہو تو اس کے ذمے﴿ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا فَمَنۡ لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ ﴾ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے ہیں۔ اور جو روزے رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو ﴿فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا﴾ ’’تو اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یا تو وہ اپنے شہر میں مروج خوراک میں سے انھیں کھانا کھلائے جو ان کے لیے کافی ہو، جیسا کہ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے۔ یا وہ ایک مسکین کو ایک مد گیہوں یا گیہوں کے علاوہ کسی دیگر جنس سے نصف صاع عطا کرے ، جیسا کہ مفسرین کے ایک دوسرے گروہ کی رائے ہے۔یہ حکم جو ہم نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے اور اسے واضح کیا ہے ﴿لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تاکہ تم اللہ اوراس کے رسول پر ایمان لے آؤ۔‘‘ اور یہ ایمان اس کے حکم اور دیگر احکام کے التزام اور اس پر عمل کرنے ہی سے ممکن ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا التزام اور ان پر عمل کرنا ایمان ہے بلکہ یہ احکام اور ان پر عمل ہی درحقیقت مقصود و مطلوب ہیں ان سے ایمان میں اضافہ اور اس کی تکمیل ہوتی ہے اور یہ نشوونما پاتا ہے۔ ﴿وَتِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’اور یہ اللہ کی حدود ہیں۔‘‘ جو ان میں واقع ہونے سے روکتی ہیں، اس لیے واجب ہے کہ ان حدود سے تجاوز کیا جائے نہ ان سے قاصر پیچھے رہا جائے ﴿وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ ’’اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔‘‘ ان آیات کریمہ میں متعدد احکام بیان کیے گئے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور عنایت ہے کہ اس نے مصیبت زدہ عورت کی شکایت کا ذکر کر کے، اس کی مصیبت کا ازالہ کیا، بلکہ اس نے اپنے حکم عام کے ذریعے سے ہر اس شخص کی مصیبت کا ازالہ کیا جو اس قسم کی مصیبت اور آزمائش میں مبتلا ہے۔(۲) ظہار، بیوی کو حرام ٹھہرا لینے کے ساتھ مختص ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ﴾ ’’اپنی عورتوں سے۔‘‘ اگر وہ اپنی لونڈی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہراتا ہے تو یہ ظہار شمار نہ ہو گا ، بلکہ یہ طیبات کی تحریم کی جنس سے ہے ، مثلاً: کھانے پینے کو حرام ٹھہرا لینا، اس میں صرف قسم کا کفارہ واجب ہے۔ (۳)کسی عورت سے نکاح کرنے سے پہلے، اس سے ظہار درست نہیں، کیونکہ ظہار کے وقت وہ اس کی بیویوں میں داخل نہیں ہے۔ جیسا کہ نکاح سے قبل اس کو طلاق نہیں ہو سکتی۔ خواہ وہ طلاق دے دے یا اس کو معلق کر دے۔(۴)ظہار حرام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے منکر کہا ہے ۔(۵) ان آیات کریمہ میں، اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی حکمت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ﴾’’وہ تمھاری مائیں نہیں ہیں۔‘‘(۶) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد کے لیے مکروہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اپنے محارم کے نام سے پکارے ، مثلاً:’’اے میری ماں!‘‘ ’’اے میری بہن!‘‘ وغیرہ کیونکہ یہ محرمات سے مشابہت رکھتا ہے۔(۷) کفارہ مجرد ظہار سے واجب نہیں ہوتا بلکہ سابقہ دونوں اقوال کے اختلاف معنیٰ کے مطابق، ظہار کرنے والے کے ’’رجوع کرنے‘‘ پر کفارہ واجب ہوتا ہے۔ (۸) کفارہ میں چھوٹے یابڑے غلام کو اور مرد یا عورت کو آزاد کرنے سے کفارہ ادا ہو جاتا ہے، کیونکہ آیت میں مطلق غلام کو آزاد کرنے کا حکم ہے۔ (۹)آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کفارے میں غلام آزاد کرنا یا روزے رکھنا ہے تو جماع سے قبل، کفارہ ادا کرنا واجب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مقید ذکر کیا ہے، بخلاف مسکینوں کو کھانا کھلانے کے، کیونکہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کے دوران میں جماع جائز ہے۔(۱۰)جماع سے قبل کفارے کے واجب ہونے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس سے کفارے کی ادائیگی میں زیادہ ترغیب ملتی ہے کیونکہ جب ظہار کرنے والے میں جماع کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ کفارہ ادا کیے بغیر جماع ممکن نہیں، تو کفارہ ادا کرنے میں جلدی کرتا ہے۔(۱۱) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہے۔ ظہار کا ارتکاب کرنے والا اگر ساٹھ مسکینوں کا اکٹھا کھانا کسی ایک مسکین، یا ایک سے زائد مسکینوں کو، جو تعداد میں ساٹھ سے کم ہوں، دے دے، تو یہ جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :﴿فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا﴾

المجادلة 58:3

تحقیق سن لی اللہ نے بات اس عورت کی وہ جو تکرار کر رہی تھی آپ سے اپنے خاوند کے بارے میں اور وہ شکایت کر رہی تھی طرف اللہ کی جبکہ اللہ سن رہا تھا گفتگو تم دونوں کی بلاشبہ اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (1) وہ لوگ جو ظہار کرتے ہیں تم میں سے اپنی بیویوں سے نہیں ہو جاتیں وہ ان کی مائیں، نہیں ہیں ان کی مائیں مگر وہی جنھوں نے جنا ان کو اور بلاشبہ وہ البتہ کہتے ہیں نامعقول بات اور جھوٹ اور بے شک اللہ البتہ بہت معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے(2) اور وہ لوگ جو ظہار کرتے ہیں اپنی عورتوں سے ، پھر وہ رجوع کر لیں اس سے جو انھوں نے کہا تو آزاد کرنا ہے ایک گردن کا پہلے اس سے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، یہ (حکم)، نصیحت کیے جاتے ہو تم ساتھ اس کے، اور اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(3) پس جو شخص نہ پائے تو روزے رکھنے ہیں دو مہینے متواتر پہلے اس سے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پس جو شخص نہ استطاعت رکھے تو کھانا کھلانا ہے ساٹھ مسکینوں کو، یہ (حکم) اس لیے ہے کہ تم ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور یہ حدیں ہیں اللہ کی اور کافروں کے لیے عذاب ہے بہت درد ناک(4) [1] یہ آیات کریمہ انصار میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں، جب اس نے اپنی بیوی کو طویل مصاحبت اور اولاد ہونے کے بعد اپنے آپ پر حرام قرار دے لیا، تو اس کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے پاس شکایت کی اور اس کے خلاف مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ ایک بوڑھا شخص تھا۔ اس خاتون نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کے پاس اپنے حال اور اس شخص کے حال کے بارے میں شکوہ کیا اور بار بار کیا اور جرأت کے ساتھ اس کا اعادہ کیاتو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّتِيۡ تُجَادِلُكَ فِيۡ زَوۡجِهَا وَ تَشۡتَكِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖ ۗ وَاللّٰهُ يَسۡمَعُ تَحَاوُرَؔكُمَا﴾ ’’(اے پیغمبر!) جو عورت آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی اور اللہ سے شکایت کرتی تھی۔ اللہ نے اس کی التجا سن لی۔ اور اللہ تم دونوں کی بات چیت کو سن رہا تھا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام اوقات میں، مخلوق کی مختلف حاجتوں کے باوجود تمام آوازوں کو سننے والا ہے ﴿ بَصِيۡرٌ﴾ جو اندھیری رات میں، سیاہ پتھر پر رینگتی ہوئی سیاہ چیونٹی کو بھی دیکھتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل سمع و بصر کی خبر ہے، نیز تمام چھوٹے بڑے امور پر اس کے سمع و بصر کے احاطہ کی خبر ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عورت کی شکایت اور مصیبت کا ازالہ کرے گا اس لیے اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر اس عورت اور دیگر عورتوں کے بارے میں حکم بیان فرمایا، چنانچہ فرمایا: [2]﴿ اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ١ؕ اِنۡ اُمَّهٰتُهُمۡ اِلَّا الّٰٓـِٔيۡ وَلَدۡنَهُمۡ﴾ ’’جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں سے ظہار کرلیتے ہیں، وہ ان کی مائیں نہیں (ہوجاتیں) ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جَنا۔‘‘ بیوی کے ساتھ ظہار یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے کہے ’’تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ‘‘ یا ماں کے علاوہ دیگر محارم کا ذکر کرے یا یہ کہے ’’تو مجھ پر حرام ہے‘‘ عربوں کے ہاں اس موقع پر پیٹھ (اَلظِّھر) کا لفظ بولا جاتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو ’’ظِہَار‘‘ سے موسوم کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ ﴾ یعنی وہ ایسی بات کیوں کر کہتے ہیں جس کے بارے میں انھیں معلوم ہے کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں، اور وہ اپنی بیویوں کو ان ماؤ ں سے تشبیہ دیتے ہیں جنھوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ظہار کے معاملے کو بہت بڑا اور نہایت قبیح قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهُمۡ لَيَقُوۡلُوۡنَ مُنۡؔكَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَزُوۡرًا﴾ یعنی وہ جھوٹی اور نہایت بری بات کہہ رہے ہیں۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌؔ﴾ یعنی اس سے جو کچھ مخالفت صادر ہوئی ، پھر اس نے خالص توبہ کے ذریعے سے اس کا تدارک کیا، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرنے اور بخش دینے والا ہے۔ [3]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا﴾ ’’جو اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں، پھر انھوں نے جو کہا، اس سے رجوع کرلیں۔‘‘ رجوع کرنے کے معنی میں اہل علم اختلاف کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جس عورت کے ساتھ ظہار کیا ہے اس کے ساتھ جماع کا عزم کیا جائے، مجرد عزم ہی سے ظہار کرنے والے پر مذکورہ کفارہ واجب ہے، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفارے کے بارے میں ذکر فرمایا کہ یہ کفارہ (اس بیوی کو) چھونے سے قبل ہے اور یہ مجرد عزم ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ حقیقی جماع ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا﴾ ’’ پھر وہ اپنی بات سے رجوع کرلیں۔‘‘ اور جو بات انھوں نے کہی وہ جماع (کو حرام کرنا) ہے۔ اور دونوں قولوں میں سے ہر ایک کے مطابق، جب بھی رجوع کیا جائے گا، تو بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا کفارہ ہوگا۔ ﴿ فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ﴾ ’’تو ایک غلام آزاد کرنا ہے۔‘‘ لیکن وہ مومن ہو، جیسا کہ دوسری آیت میں کہا گیا ہے۔ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ غلام یا لونڈی ان عیوب سے سلامت ہو جو کام کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا﴾ ’’پہلے اس کے کہ وہ دونوں ہم بستری کریں۔‘‘ یعنی شوہر پر لازم ہے کہ جب تک کہ وہ غلام آزاد کر کے کفارہ ادا نہ کرے اپنی اس بیوی سے جماع نہ کرے جس سے اس نے ظہار کیا ہے ﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یعنی یہ حکم جو ہم نے تمھارے لیے بیان کیا ہے ﴿تُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ﴾ ’’اس کے ذر یعے سے تم نصیحت کیے جاتے ہو۔‘‘ یعنی وہ تمھارے سامنے ترہیب سے مقرون اپنا حکم بیان کرتا ہے کیونکہ وعظ کا معنیٰ ترغیب و ترہیب کے ساتھ حکم کا ذکر کرنا ہے۔ پس جو شخص ظہار کا ارادہ کرتا ہے، جب اسے یاد آتا ہے کہ غلام آزاد کرنا پڑے گا، تو اس سے رک جاتا ہے ﴿وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ تمھارے عملوں سے پوری طرح باخبر ہے۔‘‘ لہٰذا وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا و سزا دے گا۔ [4]﴿فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ﴾ پس جو آزاد کرنے کے لیے غلام نہ پائے یا اس کے پاس غلام کی قیمت موجود نہ ہو تو اس کے ذمے﴿ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا فَمَنۡ لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ ﴾ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے ہیں۔ اور جو روزے رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو ﴿فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا﴾ ’’تو اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یا تو وہ اپنے شہر میں مروج خوراک میں سے انھیں کھانا کھلائے جو ان کے لیے کافی ہو، جیسا کہ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے۔ یا وہ ایک مسکین کو ایک مد گیہوں یا گیہوں کے علاوہ کسی دیگر جنس سے نصف صاع عطا کرے ، جیسا کہ مفسرین کے ایک دوسرے گروہ کی رائے ہے۔یہ حکم جو ہم نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے اور اسے واضح کیا ہے ﴿لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تاکہ تم اللہ اوراس کے رسول پر ایمان لے آؤ۔‘‘ اور یہ ایمان اس کے حکم اور دیگر احکام کے التزام اور اس پر عمل کرنے ہی سے ممکن ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا التزام اور ان پر عمل کرنا ایمان ہے بلکہ یہ احکام اور ان پر عمل ہی درحقیقت مقصود و مطلوب ہیں ان سے ایمان میں اضافہ اور اس کی تکمیل ہوتی ہے اور یہ نشوونما پاتا ہے۔ ﴿وَتِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’اور یہ اللہ کی حدود ہیں۔‘‘ جو ان میں واقع ہونے سے روکتی ہیں، اس لیے واجب ہے کہ ان حدود سے تجاوز کیا جائے نہ ان سے قاصر پیچھے رہا جائے ﴿وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ ’’اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔‘‘ ان آیات کریمہ میں متعدد احکام بیان کیے گئے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور عنایت ہے کہ اس نے مصیبت زدہ عورت کی شکایت کا ذکر کر کے، اس کی مصیبت کا ازالہ کیا، بلکہ اس نے اپنے حکم عام کے ذریعے سے ہر اس شخص کی مصیبت کا ازالہ کیا جو اس قسم کی مصیبت اور آزمائش میں مبتلا ہے۔(۲) ظہار، بیوی کو حرام ٹھہرا لینے کے ساتھ مختص ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ﴾ ’’اپنی عورتوں سے۔‘‘ اگر وہ اپنی لونڈی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہراتا ہے تو یہ ظہار شمار نہ ہو گا ، بلکہ یہ طیبات کی تحریم کی جنس سے ہے ، مثلاً: کھانے پینے کو حرام ٹھہرا لینا، اس میں صرف قسم کا کفارہ واجب ہے۔ (۳)کسی عورت سے نکاح کرنے سے پہلے، اس سے ظہار درست نہیں، کیونکہ ظہار کے وقت وہ اس کی بیویوں میں داخل نہیں ہے۔ جیسا کہ نکاح سے قبل اس کو طلاق نہیں ہو سکتی۔ خواہ وہ طلاق دے دے یا اس کو معلق کر دے۔(۴)ظہار حرام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے منکر کہا ہے ۔(۵) ان آیات کریمہ میں، اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی حکمت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ﴾’’وہ تمھاری مائیں نہیں ہیں۔‘‘(۶) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد کے لیے مکروہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اپنے محارم کے نام سے پکارے ، مثلاً:’’اے میری ماں!‘‘ ’’اے میری بہن!‘‘ وغیرہ کیونکہ یہ محرمات سے مشابہت رکھتا ہے۔(۷) کفارہ مجرد ظہار سے واجب نہیں ہوتا بلکہ سابقہ دونوں اقوال کے اختلاف معنیٰ کے مطابق، ظہار کرنے والے کے ’’رجوع کرنے‘‘ پر کفارہ واجب ہوتا ہے۔ (۸) کفارہ میں چھوٹے یابڑے غلام کو اور مرد یا عورت کو آزاد کرنے سے کفارہ ادا ہو جاتا ہے، کیونکہ آیت میں مطلق غلام کو آزاد کرنے کا حکم ہے۔ (۹)آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کفارے میں غلام آزاد کرنا یا روزے رکھنا ہے تو جماع سے قبل، کفارہ ادا کرنا واجب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مقید ذکر کیا ہے، بخلاف مسکینوں کو کھانا کھلانے کے، کیونکہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کے دوران میں جماع جائز ہے۔(۱۰)جماع سے قبل کفارے کے واجب ہونے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس سے کفارے کی ادائیگی میں زیادہ ترغیب ملتی ہے کیونکہ جب ظہار کرنے والے میں جماع کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ کفارہ ادا کیے بغیر جماع ممکن نہیں، تو کفارہ ادا کرنے میں جلدی کرتا ہے۔(۱۱) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہے۔ ظہار کا ارتکاب کرنے والا اگر ساٹھ مسکینوں کا اکٹھا کھانا کسی ایک مسکین، یا ایک سے زائد مسکینوں کو، جو تعداد میں ساٹھ سے کم ہوں، دے دے، تو یہ جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :﴿فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا﴾

المجادلة 58:4

تحقیق سن لی اللہ نے بات اس عورت کی وہ جو تکرار کر رہی تھی آپ سے اپنے خاوند کے بارے میں اور وہ شکایت کر رہی تھی طرف اللہ کی جبکہ اللہ سن رہا تھا گفتگو تم دونوں کی بلاشبہ اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (1) وہ لوگ جو ظہار کرتے ہیں تم میں سے اپنی بیویوں سے نہیں ہو جاتیں وہ ان کی مائیں، نہیں ہیں ان کی مائیں مگر وہی جنھوں نے جنا ان کو اور بلاشبہ وہ البتہ کہتے ہیں نامعقول بات اور جھوٹ اور بے شک اللہ البتہ بہت معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے(2) اور وہ لوگ جو ظہار کرتے ہیں اپنی عورتوں سے ، پھر وہ رجوع کر لیں اس سے جو انھوں نے کہا تو آزاد کرنا ہے ایک گردن کا پہلے اس سے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، یہ (حکم)، نصیحت کیے جاتے ہو تم ساتھ اس کے، اور اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(3) پس جو شخص نہ پائے تو روزے رکھنے ہیں دو مہینے متواتر پہلے اس سے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پس جو شخص نہ استطاعت رکھے تو کھانا کھلانا ہے ساٹھ مسکینوں کو، یہ (حکم) اس لیے ہے کہ تم ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور یہ حدیں ہیں اللہ کی اور کافروں کے لیے عذاب ہے بہت درد ناک(4) [1] یہ آیات کریمہ انصار میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں، جب اس نے اپنی بیوی کو طویل مصاحبت اور اولاد ہونے کے بعد اپنے آپ پر حرام قرار دے لیا، تو اس کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے پاس شکایت کی اور اس کے خلاف مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ ایک بوڑھا شخص تھا۔ اس خاتون نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کے پاس اپنے حال اور اس شخص کے حال کے بارے میں شکوہ کیا اور بار بار کیا اور جرأت کے ساتھ اس کا اعادہ کیاتو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّتِيۡ تُجَادِلُكَ فِيۡ زَوۡجِهَا وَ تَشۡتَكِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖ ۗ وَاللّٰهُ يَسۡمَعُ تَحَاوُرَؔكُمَا﴾ ’’(اے پیغمبر!) جو عورت آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی اور اللہ سے شکایت کرتی تھی۔ اللہ نے اس کی التجا سن لی۔ اور اللہ تم دونوں کی بات چیت کو سن رہا تھا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام اوقات میں، مخلوق کی مختلف حاجتوں کے باوجود تمام آوازوں کو سننے والا ہے ﴿ بَصِيۡرٌ﴾ جو اندھیری رات میں، سیاہ پتھر پر رینگتی ہوئی سیاہ چیونٹی کو بھی دیکھتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل سمع و بصر کی خبر ہے، نیز تمام چھوٹے بڑے امور پر اس کے سمع و بصر کے احاطہ کی خبر ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عورت کی شکایت اور مصیبت کا ازالہ کرے گا اس لیے اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر اس عورت اور دیگر عورتوں کے بارے میں حکم بیان فرمایا، چنانچہ فرمایا: [2]﴿ اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ١ؕ اِنۡ اُمَّهٰتُهُمۡ اِلَّا الّٰٓـِٔيۡ وَلَدۡنَهُمۡ﴾ ’’جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں سے ظہار کرلیتے ہیں، وہ ان کی مائیں نہیں (ہوجاتیں) ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جَنا۔‘‘ بیوی کے ساتھ ظہار یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے کہے ’’تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ‘‘ یا ماں کے علاوہ دیگر محارم کا ذکر کرے یا یہ کہے ’’تو مجھ پر حرام ہے‘‘ عربوں کے ہاں اس موقع پر پیٹھ (اَلظِّھر) کا لفظ بولا جاتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو ’’ظِہَار‘‘ سے موسوم کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ ﴾ یعنی وہ ایسی بات کیوں کر کہتے ہیں جس کے بارے میں انھیں معلوم ہے کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں، اور وہ اپنی بیویوں کو ان ماؤ ں سے تشبیہ دیتے ہیں جنھوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ظہار کے معاملے کو بہت بڑا اور نہایت قبیح قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهُمۡ لَيَقُوۡلُوۡنَ مُنۡؔكَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَزُوۡرًا﴾ یعنی وہ جھوٹی اور نہایت بری بات کہہ رہے ہیں۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌؔ﴾ یعنی اس سے جو کچھ مخالفت صادر ہوئی ، پھر اس نے خالص توبہ کے ذریعے سے اس کا تدارک کیا، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرنے اور بخش دینے والا ہے۔ [3]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا﴾ ’’جو اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں، پھر انھوں نے جو کہا، اس سے رجوع کرلیں۔‘‘ رجوع کرنے کے معنی میں اہل علم اختلاف کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جس عورت کے ساتھ ظہار کیا ہے اس کے ساتھ جماع کا عزم کیا جائے، مجرد عزم ہی سے ظہار کرنے والے پر مذکورہ کفارہ واجب ہے، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفارے کے بارے میں ذکر فرمایا کہ یہ کفارہ (اس بیوی کو) چھونے سے قبل ہے اور یہ مجرد عزم ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ حقیقی جماع ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا﴾ ’’ پھر وہ اپنی بات سے رجوع کرلیں۔‘‘ اور جو بات انھوں نے کہی وہ جماع (کو حرام کرنا) ہے۔ اور دونوں قولوں میں سے ہر ایک کے مطابق، جب بھی رجوع کیا جائے گا، تو بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا کفارہ ہوگا۔ ﴿ فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ﴾ ’’تو ایک غلام آزاد کرنا ہے۔‘‘ لیکن وہ مومن ہو، جیسا کہ دوسری آیت میں کہا گیا ہے۔ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ غلام یا لونڈی ان عیوب سے سلامت ہو جو کام کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا﴾ ’’پہلے اس کے کہ وہ دونوں ہم بستری کریں۔‘‘ یعنی شوہر پر لازم ہے کہ جب تک کہ وہ غلام آزاد کر کے کفارہ ادا نہ کرے اپنی اس بیوی سے جماع نہ کرے جس سے اس نے ظہار کیا ہے ﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یعنی یہ حکم جو ہم نے تمھارے لیے بیان کیا ہے ﴿تُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ﴾ ’’اس کے ذر یعے سے تم نصیحت کیے جاتے ہو۔‘‘ یعنی وہ تمھارے سامنے ترہیب سے مقرون اپنا حکم بیان کرتا ہے کیونکہ وعظ کا معنیٰ ترغیب و ترہیب کے ساتھ حکم کا ذکر کرنا ہے۔ پس جو شخص ظہار کا ارادہ کرتا ہے، جب اسے یاد آتا ہے کہ غلام آزاد کرنا پڑے گا، تو اس سے رک جاتا ہے ﴿وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ تمھارے عملوں سے پوری طرح باخبر ہے۔‘‘ لہٰذا وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا و سزا دے گا۔ [4]﴿فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ﴾ پس جو آزاد کرنے کے لیے غلام نہ پائے یا اس کے پاس غلام کی قیمت موجود نہ ہو تو اس کے ذمے﴿ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا فَمَنۡ لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ ﴾ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے ہیں۔ اور جو روزے رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو ﴿فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا﴾ ’’تو اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یا تو وہ اپنے شہر میں مروج خوراک میں سے انھیں کھانا کھلائے جو ان کے لیے کافی ہو، جیسا کہ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے۔ یا وہ ایک مسکین کو ایک مد گیہوں یا گیہوں کے علاوہ کسی دیگر جنس سے نصف صاع عطا کرے ، جیسا کہ مفسرین کے ایک دوسرے گروہ کی رائے ہے۔یہ حکم جو ہم نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے اور اسے واضح کیا ہے ﴿لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تاکہ تم اللہ اوراس کے رسول پر ایمان لے آؤ۔‘‘ اور یہ ایمان اس کے حکم اور دیگر احکام کے التزام اور اس پر عمل کرنے ہی سے ممکن ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا التزام اور ان پر عمل کرنا ایمان ہے بلکہ یہ احکام اور ان پر عمل ہی درحقیقت مقصود و مطلوب ہیں ان سے ایمان میں اضافہ اور اس کی تکمیل ہوتی ہے اور یہ نشوونما پاتا ہے۔ ﴿وَتِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’اور یہ اللہ کی حدود ہیں۔‘‘ جو ان میں واقع ہونے سے روکتی ہیں، اس لیے واجب ہے کہ ان حدود سے تجاوز کیا جائے نہ ان سے قاصر پیچھے رہا جائے ﴿وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ ’’اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔‘‘ ان آیات کریمہ میں متعدد احکام بیان کیے گئے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور عنایت ہے کہ اس نے مصیبت زدہ عورت کی شکایت کا ذکر کر کے، اس کی مصیبت کا ازالہ کیا، بلکہ اس نے اپنے حکم عام کے ذریعے سے ہر اس شخص کی مصیبت کا ازالہ کیا جو اس قسم کی مصیبت اور آزمائش میں مبتلا ہے۔(۲) ظہار، بیوی کو حرام ٹھہرا لینے کے ساتھ مختص ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ﴾ ’’اپنی عورتوں سے۔‘‘ اگر وہ اپنی لونڈی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہراتا ہے تو یہ ظہار شمار نہ ہو گا ، بلکہ یہ طیبات کی تحریم کی جنس سے ہے ، مثلاً: کھانے پینے کو حرام ٹھہرا لینا، اس میں صرف قسم کا کفارہ واجب ہے۔ (۳)کسی عورت سے نکاح کرنے سے پہلے، اس سے ظہار درست نہیں، کیونکہ ظہار کے وقت وہ اس کی بیویوں میں داخل نہیں ہے۔ جیسا کہ نکاح سے قبل اس کو طلاق نہیں ہو سکتی۔ خواہ وہ طلاق دے دے یا اس کو معلق کر دے۔(۴)ظہار حرام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے منکر کہا ہے ۔(۵) ان آیات کریمہ میں، اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی حکمت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ﴾’’وہ تمھاری مائیں نہیں ہیں۔‘‘(۶) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد کے لیے مکروہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اپنے محارم کے نام سے پکارے ، مثلاً:’’اے میری ماں!‘‘ ’’اے میری بہن!‘‘ وغیرہ کیونکہ یہ محرمات سے مشابہت رکھتا ہے۔(۷) کفارہ مجرد ظہار سے واجب نہیں ہوتا بلکہ سابقہ دونوں اقوال کے اختلاف معنیٰ کے مطابق، ظہار کرنے والے کے ’’رجوع کرنے‘‘ پر کفارہ واجب ہوتا ہے۔ (۸) کفارہ میں چھوٹے یابڑے غلام کو اور مرد یا عورت کو آزاد کرنے سے کفارہ ادا ہو جاتا ہے، کیونکہ آیت میں مطلق غلام کو آزاد کرنے کا حکم ہے۔ (۹)آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کفارے میں غلام آزاد کرنا یا روزے رکھنا ہے تو جماع سے قبل، کفارہ ادا کرنا واجب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مقید ذکر کیا ہے، بخلاف مسکینوں کو کھانا کھلانے کے، کیونکہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کے دوران میں جماع جائز ہے۔(۱۰)جماع سے قبل کفارے کے واجب ہونے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس سے کفارے کی ادائیگی میں زیادہ ترغیب ملتی ہے کیونکہ جب ظہار کرنے والے میں جماع کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ کفارہ ادا کیے بغیر جماع ممکن نہیں، تو کفارہ ادا کرنے میں جلدی کرتا ہے۔(۱۱) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہے۔ ظہار کا ارتکاب کرنے والا اگر ساٹھ مسکینوں کا اکٹھا کھانا کسی ایک مسکین، یا ایک سے زائد مسکینوں کو، جو تعداد میں ساٹھ سے کم ہوں، دے دے، تو یہ جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :﴿فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا﴾

المجادلة 58:5

بلاشبہ وہ لوگ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کےرسول کی، وہ ذلیل کیے جائیں گے جیسے ذلیل کیے گئے تھے وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے اور تحقیق نازل کیں ہم نے آیتیں واضح، اور کافروں کے لیے ہے عذاب رسوا کن(5) [5] اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت اور نافرمانی ان کے ساتھ دشمنی کے زمرے میں آتی ہے، خاص طور امور قبیحہ میں، مثلاً: اللہ اور اس کے رسول کا انکار کر کے دشمنی کرنا اور اولیاء اللہ سے عداوت رکھنا۔ فرمایا: ﴿ كُبِتُوۡا كَمَا كُبِتَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ یعنی پوری پوری جزا کے طور پر ان کو ذلیل و رسوا کیا گیا، جیسا کہ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو ذلیل و رسوا کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے خلاف ان کے پاس حجت نہیں، کیونکہ مخلوق پر اللہ تعالیٰ کی حجت بالغہ قائم ہو چکی ہے، اللہ تعالیٰ نے واضح دلائل اور براہین نازل فرمائے، جو حقائق کو بیان اور مقاصد کو واضح کرتے ہیں۔ پس جس کسی نے ان کی اتباع کی اور ان پر عمل پیرا ہوا وہی ہدایت یافتہ اور کامیاب ہے۔ ﴿ وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ یعنی ان آیات و براہین کا انکار کرنے والوں کے لیے ﴿عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ﴾ ایسا عذاب ہے جو انھیں ذلیل و رسوا کرے گا، چنانچہ جس طرح انھوں نے آیات الٰہی کے مقابلے میں تکبر کیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی ان کو ذلیل و رسوا کرے گا۔

المجادلة 58:6

جس دن اٹھائے گا ان کو اللہ، سب کو، پھر وہ خبر دے گا انھیں اس کی جو عمل کیے تھے انھوں نے، شمار کر رکھا ہے اس کو اللہ نے جبکہ وہ بھول گئے تھے اسے، اور اللہ اوپر ہر چیز کے شاہد ہے(6) کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، نہیں ہوتی کوئی سرگوشی تین(آدمیوں)کی مگر وہ چوتھا ہوتا ہے ان میں، اور نہ پانچ (آدمیوں) کی مگر وہ چھٹا ہوتا ہے ان میں، اور نہ کم اس سے اور نہ زیادہ مگر وہ ہوتا ہے ساتھ ان کے جہاں کہیں بھی وہ ہوں، پھر وہ خبر دے گا انھیں اس کی جو انھوں نے عمل کیے تھے روز قیامت، بلاشبہ اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(7) [6] یعنی جس روز اللہ تعالیٰ مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ ﴿ جَمِيۡعًا﴾ ’’سب کو۔‘‘ تو وہ اپنی قبروں سے تیزی سے نکل کھڑے ہوں گے ، پھر وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿فَيُنَبِّئُهُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا﴾ چنانچہ انھوں نے جو اچھے برے اعمال کیے ہوں گے، اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا کیونکہ اسے ان تمام اعمال کا علم ہے اور ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے اور حفاظت پر مامور ملائکہ کرام کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ ان اعمال کو درج کرتے رہیں۔ اور عمل کرنے والوں کی حالت یہ ہے کہ ﴿ وَنَسُوۡهُ﴾ انھوں نے اپنے اعمال کو فراموش کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو شمار کر رکھا ہے ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اللہ تعالیٰ، تمام ظاہری باتوں، تمام اسرار نہاں، اور تمام چھپی ہوئی چیزوں کو دیکھتا ہے۔ [7] بنابریں اس نے اپنے لا محدود علم کے بارے میں خبر دی ہے نیز آگاہ فرمایا کہ اس کا علم آسمانوں اور زمین کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ ایسی ہستی ہے کہ ﴿ مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡا﴾’’ کسی بھی جگہ تین اشخاص کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر چوتھا وہ ہوتا ہے، نہ کہیں پانچ اشخاص کی سرگوشی ہوتی ہے مگر چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ اشخاص سرگوشی کرتے ہیں مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘ اس معیت سے مراد معیت علم، ان کی سرگوشیوں اور ان کے سرا ئر کا احاطہ ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بلاشبہ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

المجادلة 58:7

جس دن اٹھائے گا ان کو اللہ، سب کو، پھر وہ خبر دے گا انھیں اس کی جو عمل کیے تھے انھوں نے، شمار کر رکھا ہے اس کو اللہ نے جبکہ وہ بھول گئے تھے اسے، اور اللہ اوپر ہر چیز کے شاہد ہے(6) کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، نہیں ہوتی کوئی سرگوشی تین(آدمیوں)کی مگر وہ چوتھا ہوتا ہے ان میں، اور نہ پانچ (آدمیوں) کی مگر وہ چھٹا ہوتا ہے ان میں، اور نہ کم اس سے اور نہ زیادہ مگر وہ ہوتا ہے ساتھ ان کے جہاں کہیں بھی وہ ہوں، پھر وہ خبر دے گا انھیں اس کی جو انھوں نے عمل کیے تھے روز قیامت، بلاشبہ اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(7) [6] یعنی جس روز اللہ تعالیٰ مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ ﴿ جَمِيۡعًا﴾ ’’سب کو۔‘‘ تو وہ اپنی قبروں سے تیزی سے نکل کھڑے ہوں گے ، پھر وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿فَيُنَبِّئُهُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا﴾ چنانچہ انھوں نے جو اچھے برے اعمال کیے ہوں گے، اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا کیونکہ اسے ان تمام اعمال کا علم ہے اور ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے اور حفاظت پر مامور ملائکہ کرام کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ ان اعمال کو درج کرتے رہیں۔ اور عمل کرنے والوں کی حالت یہ ہے کہ ﴿ وَنَسُوۡهُ﴾ انھوں نے اپنے اعمال کو فراموش کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو شمار کر رکھا ہے ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اللہ تعالیٰ، تمام ظاہری باتوں، تمام اسرار نہاں، اور تمام چھپی ہوئی چیزوں کو دیکھتا ہے۔ [7] بنابریں اس نے اپنے لا محدود علم کے بارے میں خبر دی ہے نیز آگاہ فرمایا کہ اس کا علم آسمانوں اور زمین کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ ایسی ہستی ہے کہ ﴿ مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡا﴾’’ کسی بھی جگہ تین اشخاص کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر چوتھا وہ ہوتا ہے، نہ کہیں پانچ اشخاص کی سرگوشی ہوتی ہے مگر چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ اشخاص سرگوشی کرتے ہیں مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘ اس معیت سے مراد معیت علم، ان کی سرگوشیوں اور ان کے سرا ئر کا احاطہ ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بلاشبہ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

المجادلة 58:8

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو روکے گئے تھے سر گوشی کرنے سے، پھر وہ لوٹتے ہیں طرف اس چیز کی کہ روکے گئے تھے وہ اس سے، اور وہ سرگوشیاں کرتے ہیں گناہ کی اور زیادتی کی اور نافرمانی ٔ رسول کی اور جب وہ آتے ہیں آپ کے پاس تو وہ دعا دیتے(سلام کہتے) ہیں آپ کو ساتھ اس (کلمے) کے کہ نہیں دعا دی آپ کو ساتھ اس کےاللہ نے، اور وہ کہتے ہیں اپنے نفسوں میں، کیوں نہیں عذاب دیتا ہمیں اللہ بوجہ اس کےجو ہم کہتے ہیں؟ کافی ہے ان کو جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں، پس برا ہے وہ ٹھکانا(8) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب سرگوشی کرو تم، تو نہ سرگوشی کرو گناہ کی اور زیادتی کی اور نافر مانی ٔرسول کی اور سرگوشی کرو تم نیکی اور تقوے کی اور ڈرو تم اللہ سے، وہ کہ اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم(9) [8، 9]﴿ النَّجۡوٰى﴾ دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کا آپس میں سرگوشی کرنا ۔کبھی سرگوشی بھلائی کے معاملے میں ہوتی ہے اور کبھی برائی کے معاملے میں ہوتی ہے پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ نیکی کے معاملے میں سرگوشی کیا کریں۔(اَلْبِرُّ) نیکی اور اطاعت کے ہر کام اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کے قیام کے لیے ایک جامع نام ہے۔ ﴿ التَّقۡوٰى﴾ تمام محارم اور گناہ کے کاموں کو ترک کر دینے کے لیے جامع نام ہے پس بندۂ مومن اس حکم الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتا ہے، اس لیے آپ اسے صرف اسی چیز کے بارے میں سرگوشی کرتے ہوئے پائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے قریب اور اس کی ناراضی سے دور کرتی ہے۔ (اَلْفَاجِر) اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کو ہیچ اور حقیر سمجھتا ہے، جو گناہ، ظلم اور رسول کی نافرمانی کے لیے سرگوشی کرتا ہے، جیسے منافقین، جن کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہی حال اور وتیرہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِذَا جَآءُوۡكَ حَيَّوۡكَ بِمَا لَمۡ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُ﴾ ’’اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس کلمے سے سلام کرتے ہیں جس کے ساتھ اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔‘‘ یعنی آپ کو سلام کرنے میں سوء ادبی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ یعنی وہ اپنے دل میں ایک قول کو چھپاتے ہیں جس کا ذکر غیب و شہادت کا علم رکھنے والی ہستی نے کیا ہے اور وہ ان کا یہ قول ہے: ﴿ لَوۡلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوۡلُ﴾ ’’اللہ ہمیں اس پر جو ہم کہتے ہیں سزا کیوں نہیں دیتا۔‘‘ اور مطلب اس کا یہ ہے کہ وہ اس کو حقیر اور ہیچ سمجھتے ہیں، اور ان پر جلدی عذاب نہ آنے سے وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں باطل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ (مجرموں کو) مہلت دیتا ہے، مہمل نہیں چھوڑتا۔ ﴿ حَسۡبُهُمۡ جَهَنَّمُ١ۚ يَصۡلَوۡنَهَا١ۚ فَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ یعنی ان کے لیے جہنم کافی ہے، جس میں ان کے لیے ہر قسم کا عذاب اور بدبختی جمع ہے۔ جہنم ان کو گھیر لے گا اور جہنم میں ان کو عذاب دیا جائے گا۔ ﴿ فَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’پس وہ بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے۔‘‘ یہ لوگ جن کا (ان آیا ت کریمہ میں)ذکر کیا گیا ہے، یا تو منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جو ایمان ظاہر کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ سے اس خطاب کے ذریعے سے مخاطب ہوتے تھے، جس سے وہ یہ ظاہر کرتے تھے کہ اس خطاب سے ان کا ارادہ بھلائی ہے حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ یا اہل کتاب میں سے وہ لوگ تھے جو رسول اللہ ﷺ کو سلام کرتے ہوئے کہا کرتے تھے۔ (السَّامُ عَلَیْکَ یَامُحَمَّدُ)اور وہ اس سے موت مراد لیتے تھے۔

المجادلة 58:9

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو روکے گئے تھے سر گوشی کرنے سے، پھر وہ لوٹتے ہیں طرف اس چیز کی کہ روکے گئے تھے وہ اس سے، اور وہ سرگوشیاں کرتے ہیں گناہ کی اور زیادتی کی اور نافرمانی ٔ رسول کی اور جب وہ آتے ہیں آپ کے پاس تو وہ دعا دیتے(سلام کہتے) ہیں آپ کو ساتھ اس (کلمے) کے کہ نہیں دعا دی آپ کو ساتھ اس کےاللہ نے، اور وہ کہتے ہیں اپنے نفسوں میں، کیوں نہیں عذاب دیتا ہمیں اللہ بوجہ اس کےجو ہم کہتے ہیں؟ کافی ہے ان کو جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں، پس برا ہے وہ ٹھکانا(8) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب سرگوشی کرو تم، تو نہ سرگوشی کرو گناہ کی اور زیادتی کی اور نافر مانی ٔرسول کی اور سرگوشی کرو تم نیکی اور تقوے کی اور ڈرو تم اللہ سے، وہ کہ اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم(9) [8، 9]﴿ النَّجۡوٰى﴾ دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کا آپس میں سرگوشی کرنا ۔کبھی سرگوشی بھلائی کے معاملے میں ہوتی ہے اور کبھی برائی کے معاملے میں ہوتی ہے پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ نیکی کے معاملے میں سرگوشی کیا کریں۔(اَلْبِرُّ) نیکی اور اطاعت کے ہر کام اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کے قیام کے لیے ایک جامع نام ہے۔ ﴿ التَّقۡوٰى﴾ تمام محارم اور گناہ کے کاموں کو ترک کر دینے کے لیے جامع نام ہے پس بندۂ مومن اس حکم الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتا ہے، اس لیے آپ اسے صرف اسی چیز کے بارے میں سرگوشی کرتے ہوئے پائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے قریب اور اس کی ناراضی سے دور کرتی ہے۔ (اَلْفَاجِر) اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کو ہیچ اور حقیر سمجھتا ہے، جو گناہ، ظلم اور رسول کی نافرمانی کے لیے سرگوشی کرتا ہے، جیسے منافقین، جن کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہی حال اور وتیرہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِذَا جَآءُوۡكَ حَيَّوۡكَ بِمَا لَمۡ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُ﴾ ’’اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس کلمے سے سلام کرتے ہیں جس کے ساتھ اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔‘‘ یعنی آپ کو سلام کرنے میں سوء ادبی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ یعنی وہ اپنے دل میں ایک قول کو چھپاتے ہیں جس کا ذکر غیب و شہادت کا علم رکھنے والی ہستی نے کیا ہے اور وہ ان کا یہ قول ہے: ﴿ لَوۡلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوۡلُ﴾ ’’اللہ ہمیں اس پر جو ہم کہتے ہیں سزا کیوں نہیں دیتا۔‘‘ اور مطلب اس کا یہ ہے کہ وہ اس کو حقیر اور ہیچ سمجھتے ہیں، اور ان پر جلدی عذاب نہ آنے سے وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں باطل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ (مجرموں کو) مہلت دیتا ہے، مہمل نہیں چھوڑتا۔ ﴿ حَسۡبُهُمۡ جَهَنَّمُ١ۚ يَصۡلَوۡنَهَا١ۚ فَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ یعنی ان کے لیے جہنم کافی ہے، جس میں ان کے لیے ہر قسم کا عذاب اور بدبختی جمع ہے۔ جہنم ان کو گھیر لے گا اور جہنم میں ان کو عذاب دیا جائے گا۔ ﴿ فَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’پس وہ بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے۔‘‘ یہ لوگ جن کا (ان آیا ت کریمہ میں)ذکر کیا گیا ہے، یا تو منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جو ایمان ظاہر کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ سے اس خطاب کے ذریعے سے مخاطب ہوتے تھے، جس سے وہ یہ ظاہر کرتے تھے کہ اس خطاب سے ان کا ارادہ بھلائی ہے حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ یا اہل کتاب میں سے وہ لوگ تھے جو رسول اللہ ﷺ کو سلام کرتے ہوئے کہا کرتے تھے۔ (السَّامُ عَلَیْکَ یَامُحَمَّدُ)اور وہ اس سے موت مراد لیتے تھے۔

المجادلة 58:10

یقیناً (بری) سرگوشی شیطان ہی کی طرف سے ہے تاکہ وہ غم زدہ کرے ان لوگوں کوجو ایمان لائے اور نہیں وہ ضرر دینے والا انھیں کچھ بھی مگر ساتھ حکم اللہ کے، اور اللہ ہی پر پس چاہیے توکل کریں مومن (10) [10] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اِنَّمَا النَّجۡوٰى﴾ یعنی مومنوں کے دشمن ان کے بارے میں سازش، دھوکے اور بری خواہشات کی جو سرگوشیاں کرتے ہیں ﴿مِنَ الشَّيۡطٰنِ﴾یہ شیطان کی طرف سے ہیں، جس کی چال بہت کمزور اور مکر غیر مفید ہے۔ ﴿ وَلَيۡسَ بِضَآرِّهِمۡ شَيۡـًٔؔا اِلَّا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور اللہ کے حکم کے بغیر ان سے انھیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ کفایت اور دشمن کے خلاف فتح و نصرت کا وعدہ کر رکھا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے:﴿ وَلَا يَحِيۡقُ الۡمَؔكۡرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهۡلِهٖ﴾(فاطر:35-43) ’’اور بری چال کا وبال چال چلنے والے ہی پر پڑتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے دشمن جب کبھی (اہل ایمان کے خلاف) سازش کرتے ہیں تو اس کا ضرر انھی کی طرف لوٹتا ہے، اہل ایمان کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا سوائے کسی ایسے ضرر کے جسے اللہ تعالیٰ نے ان کی تقدیر میں لکھ رکھا ہے۔ ﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ یعنی مومن اسی پر اعتماد کریں اور اس کے وعدے پر بھروسہ کریں، کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں ،نیز اس کے دین و دنیا کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔

المجادلة 58:11

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب کہا جائے تم سے، کشادگی کرو تم مجلسوں میں تو کشادگی کرو تم، کشادگی کرے گا اللہ تمھارے لیے، اور جب کہا جائے، اٹھ کھڑے ہو تم تو کھڑے ہو جایا کرو تم، بلند کرے گا اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے تم میں سے اور ان لوگوں کو جو دیے گئے علم، درجوں میں اور اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے (11) [11] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ادب کی تعلیم ہے کہ جب وہ کسی مجلس میں اکٹھے ہوتے ہیں تو ان میں سے کچھ لوگ یا آنے والے دیگر لوگ مجلس میں کشادگی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، پس یہ آداب مجلس کا حصہ ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کی خاطر مجلس میں کشادگی پیدا کریں، یہ چیز کشادگی کرنے والے کو کوئی نقصان نہیں دیتی، لہٰذا اس کو ضرر لاحق ہوئے بغیر اس کے بھائی کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے، اس لیے جو کوئی اپنے بھائی کے لیے کشادگی پیدا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے کشادگی پیدا کر دیتا ہے، جو کوئی اپنے بھائی کے لیے وسعت پیدا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے وسعت پیدا کرتا ہے۔ ﴿ وَاِذَا قِيۡلَ انۡشُزُوۡا﴾ جب کسی ضرورت کے تحت یہ کہا جائے کہ اٹھ جاؤ اور اپنی مجالس کو چھوڑ دو ﴿ فَانۡشُزُوۡا﴾ تو اس مصلحت کے حصول کی خاطر فوراً اٹھ جایا کرو۔ کیونکہ اس قسم کے معاملات کا لحاظ رکھنا، علم اور ایمان کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل علم و ایمان کے، ان کے علم و ایمان کے مطابق درجات بلند کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ہر اس عمل سے جو تم کرتے ہو، خوب خبردار ہے۔‘‘ پس وہ ہر عمل کرنے والے کو ان کے عمل کی جزا دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برا عمل ہو گا تو بری جزا ہو گی۔اس آیت کریمہ میں علم کی فضیلت کا اثبات ہے، نیز یہ کہ علم کی زینت اور اس کا ثمرہ اس کے آداب کو اختیار کرنا اور اس کے تقاضے کے مطابق عمل کرنا ہے۔

المجادلة 58:12

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب سرگوشی کرو تم رسول سے تو پیش کرو تم پہلے اپنی سرگوشی سے صدقہ، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اور زیادہ پاکیزہ پس اگر نہ پاؤ تم (صدقہ) تو بلاشبہ اللہ غفور رحیم ہے (12) کیا ڈر گئے تم اس بات سے کہ پیش کرو تم پہلے اپنی سرگوشی سے صدقے؟ سو جب نہ کیا تم نے (یہ) اور متوجہ ہوا اللہ تم پر، تو قائم کرو تم نماز اور دو زکاۃ اور اطاعت کرو تم اللہ اور اس کے رسول کی، اور اللہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو (13) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کی تادیب و تعلیم اور رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کے لیے ان کو حکم دیتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ دیا کریں کیونکہ یہ تعظیم، اہل ایمان کے لیے بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے یعنی ایسا کرنے سے تمھاری بھلائی اور اجر میں اضافہ ہو گا نیز ہر قسم کی گندگی سے طہارت حاصل ہو گی۔ بے فائدہ سرگوشی کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ کے ادب و احترام کو ترک کرنا بھی، اسی گندگی میں شمار ہوتا ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سرگوشی کرنے سے قبل صدقہ کرنے کا حکم دیا تو یہ چیز اس شخص کی پرکھ کے لیے میزان بن گئی جو علم اور بھلائی کا خواہشمند ہے تو وہ صدقے کی پروا نہیں کرے گا۔جسے بھلائی کی حرص ہے نہ رغبت، اس کا مقصد محض کثرت کلام ہے، پس اس طرح وہ ایسے امر سے باز رہے گاجو رسول اللہ ﷺ پر شاق گزرتا ہے، یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو صدقہ دے سکتا ہے۔جس کے پاس صدقہ دینے کے لیے کچھ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں اس کو تنگی میں مبتلا نہیں کیا بلکہ اس کو معاف کر دیا اور اس سے نرمی سے کام لیا ہے اور اس شخص کے لیے صدقہ پیش کیے بغیر، جو اس کی قدرت میں نہیں، سرگوشی کرنا مباح ٹھہرا دیا۔ [13] پھر جب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے خوف اور ہر سرگوشی کے وقت ان پر صدقات کی مشقت کو ملاحظہ فرمایا، تو ان پر معاملے کو آسان کر دیا اور سرگوشی کرنے سے قبل صدقہ ترک کرنے پر مواخذہ نہیں فرمایا، البتہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اور آپ کا احترام باقی رہا اور اس کو منسوخ نہیں فرمایا، کیونکہ سرگوشی سے قبل صدقہ مشروع لغیرہ کے باب سے ہے، فی نفسہ مقصود نہیں۔ اصل مقصد تو رسول اللہ ﷺ کا ادب اور اکرام ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ان بڑے بڑے احکام کی تعمیل کریں جو فی نفسہ مقصود ہیں ، چنانچہ فرمایا :﴿ فَاِذۡ لَمۡ تَفۡعَلُوۡا﴾ ’’چنانچہ جب تم نے یہ نہ کیا۔‘‘ یعنی صدقہ پیش کرنا تمھارے لیے آسان نہیں تھا اور نہ یہ کافی ہی تھا کیونکہ یہ حکم کی شرط نہیں ہے کہ وہ بندے پر آسان ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے مقید فرمایا:﴿ وَتَابَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی اس نے صدقہ کرنا تم پر معاف کر دیا ﴿ فَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ ﴾ پس نماز کو اس کے تمام ارکان و شرائط اور اس کی تمام حدود و لوازم کے ساتھ قائم کرو۔ ﴿ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ﴾ اور مستحق لوگوں کو زکاۃ ادا کرو جو تمھارے مال میں سے تم پر فرض ہے۔ یہی دو عبادات، بدنی اور مالی عبادات کی بنیاد ہیں۔ جو کوئی ان عبادات کو شرعی طریقے سے قائم کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو قائم کرتا ہے، بنابریں فرمایا :﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ یہ تمام امور کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر کے، ان کے نواہی سے اجتناب کر کے، ان کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کر کے اور شریعت کی حدود پر رک کر، ان کی اطاعت کرنا سب اس میں داخل ہے۔اس سے عبرت حاصل کرنا اخلاص اور احسان پر مبنی ہے، اسی لیے فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ان کے اعمال کسی طرح بھی صادر ہوں اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے، پس انھوں نے جو کچھ اپنے سینوں میں چھپا رکھا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہوئے اپنے علم کے مطابق ان کو جزا دے گا۔

المجادلة 58:13

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب سرگوشی کرو تم رسول سے تو پیش کرو تم پہلے اپنی سرگوشی سے صدقہ، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اور زیادہ پاکیزہ پس اگر نہ پاؤ تم (صدقہ) تو بلاشبہ اللہ غفور رحیم ہے (12) کیا ڈر گئے تم اس بات سے کہ پیش کرو تم پہلے اپنی سرگوشی سے صدقے؟ سو جب نہ کیا تم نے (یہ) اور متوجہ ہوا اللہ تم پر، تو قائم کرو تم نماز اور دو زکاۃ اور اطاعت کرو تم اللہ اور اس کے رسول کی، اور اللہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو (13) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کی تادیب و تعلیم اور رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کے لیے ان کو حکم دیتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ دیا کریں کیونکہ یہ تعظیم، اہل ایمان کے لیے بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے یعنی ایسا کرنے سے تمھاری بھلائی اور اجر میں اضافہ ہو گا نیز ہر قسم کی گندگی سے طہارت حاصل ہو گی۔ بے فائدہ سرگوشی کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ کے ادب و احترام کو ترک کرنا بھی، اسی گندگی میں شمار ہوتا ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سرگوشی کرنے سے قبل صدقہ کرنے کا حکم دیا تو یہ چیز اس شخص کی پرکھ کے لیے میزان بن گئی جو علم اور بھلائی کا خواہشمند ہے تو وہ صدقے کی پروا نہیں کرے گا۔جسے بھلائی کی حرص ہے نہ رغبت، اس کا مقصد محض کثرت کلام ہے، پس اس طرح وہ ایسے امر سے باز رہے گاجو رسول اللہ ﷺ پر شاق گزرتا ہے، یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو صدقہ دے سکتا ہے۔جس کے پاس صدقہ دینے کے لیے کچھ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں اس کو تنگی میں مبتلا نہیں کیا بلکہ اس کو معاف کر دیا اور اس سے نرمی سے کام لیا ہے اور اس شخص کے لیے صدقہ پیش کیے بغیر، جو اس کی قدرت میں نہیں، سرگوشی کرنا مباح ٹھہرا دیا۔ [13] پھر جب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے خوف اور ہر سرگوشی کے وقت ان پر صدقات کی مشقت کو ملاحظہ فرمایا، تو ان پر معاملے کو آسان کر دیا اور سرگوشی کرنے سے قبل صدقہ ترک کرنے پر مواخذہ نہیں فرمایا، البتہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اور آپ کا احترام باقی رہا اور اس کو منسوخ نہیں فرمایا، کیونکہ سرگوشی سے قبل صدقہ مشروع لغیرہ کے باب سے ہے، فی نفسہ مقصود نہیں۔ اصل مقصد تو رسول اللہ ﷺ کا ادب اور اکرام ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ان بڑے بڑے احکام کی تعمیل کریں جو فی نفسہ مقصود ہیں ، چنانچہ فرمایا :﴿ فَاِذۡ لَمۡ تَفۡعَلُوۡا﴾ ’’چنانچہ جب تم نے یہ نہ کیا۔‘‘ یعنی صدقہ پیش کرنا تمھارے لیے آسان نہیں تھا اور نہ یہ کافی ہی تھا کیونکہ یہ حکم کی شرط نہیں ہے کہ وہ بندے پر آسان ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے مقید فرمایا:﴿ وَتَابَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی اس نے صدقہ کرنا تم پر معاف کر دیا ﴿ فَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ ﴾ پس نماز کو اس کے تمام ارکان و شرائط اور اس کی تمام حدود و لوازم کے ساتھ قائم کرو۔ ﴿ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ﴾ اور مستحق لوگوں کو زکاۃ ادا کرو جو تمھارے مال میں سے تم پر فرض ہے۔ یہی دو عبادات، بدنی اور مالی عبادات کی بنیاد ہیں۔ جو کوئی ان عبادات کو شرعی طریقے سے قائم کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو قائم کرتا ہے، بنابریں فرمایا :﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ یہ تمام امور کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر کے، ان کے نواہی سے اجتناب کر کے، ان کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کر کے اور شریعت کی حدود پر رک کر، ان کی اطاعت کرنا سب اس میں داخل ہے۔اس سے عبرت حاصل کرنا اخلاص اور احسان پر مبنی ہے، اسی لیے فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ان کے اعمال کسی طرح بھی صادر ہوں اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے، پس انھوں نے جو کچھ اپنے سینوں میں چھپا رکھا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہوئے اپنے علم کے مطابق ان کو جزا دے گا۔

المجادلة 58:14

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے دوستی کی اس قوم سے کہ غصے ہوا اللہ ان پر، نہیں ہیں وہ تم میں سے اور نہ ان میں سے اور وہ قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ پر حالانکہ وہ جانتے ہیں (14) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید بلاشبہ برا ہے وہ جو تھے وہ عمل کرتے (15) بنا لیا ہے انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال پس روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے، پس ان کے لیے عذاب ہے رسوا کن (16) ہرگز نہیں فائدہ دیں گے ان کو مال ان کے اور نہ اولاد ان کی اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، یہی لوگ ہیں جہنمی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (17) جس دن دوبارہ اٹھائے گا ان کو اللہ، سب کو، تو وہ قسمیں کھائیں گے اس کے سامنے بھی جیسے وہ قسمیں کھاتے ہیں تمھاری خاطر اور وہ گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز (فائدے) پر ہیں، آگاہ رہو! بلاشبہ وہی ہیں جھوٹے (18) غالب آ گیا ہے ان پر شیطان پس اس نے بھلا دیا ان کو ذکر اللہ کا، یہ لوگ لشکر ہیں شیطان کا، آگاہ رہو! یقیناً لشکر شیطان کا، وہی ہیں خسارہ پانے والے(19) [14، 15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال کی شناعت و قباحت کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے دوستی اور موالات رکھتے ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے، نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اہل ایمان میں سے ہیں نہ کفار میں سے بلکہ﴿ مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰلِكَ١ۖ ۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ﴾(النساء:4؍143) ’’ایمان اور کفر کے درمیان تذبذب کی حالت میں ہیں، نہ پورے مومنین کی طرف ہیں نہ پورے کفار کی طرف۔‘‘ پس وہ ظاہر و باطن میں مومن نہیں ہیں، کیونکہ ان کا باطن کفار کے ساتھ ہے، اور نہ وہ ظاہر و باطن میں کفار ہی کے ساتھ ہیں، کیونکہ ان کا ظاہر اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ ہے ان کا وصف جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، وہ قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ مومن ہیں، حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔ ان جھوٹے، فاجر و خائن لوگوں کی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس قدر سخت عذاب تیار کر رکھا ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف معلوم کیا جا سکتا ہے، بہت ہی برے ہیں وہ اعمال جو ان سے صادر ہوتے ہیں، وہ ایسے اعمال بجا لاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور ان پر عذاب اور لعنت واجب ٹھہراتا ہے۔ [16]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً﴾ یعنی وہ اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان کی ملامت سے بچتے ہیں اسی سبب سے وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں اور یہ وہ راستہ ہے کہ جو کوئی اس پر گامزن ہوتا ہے، یہ راستہ اسے جنت میں لے جاتا ہے۔ اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے، تو اس کے لیے صرف وہ راستہ رہ جاتا ہے جو اسے جہنم میں گراتا ہے ﴿ فَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’چنانچہ ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘ کیونکہ جب وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور انھوں نے اس کی آیات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دائمی عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا، جو گھڑی بھر کے لیے بھی ان سے علیحدہ نہیں ہو گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔ [17]﴿ لَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ اَمۡوَالُهُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی ان کا مال اور اولاد، ان سے عذاب کو ہٹا سکیں گے نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کر سکیں گے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ﴾ وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں، جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گےاور ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ [18] جو کوئی جس چیز پر ساری زندگی بسر کرتا ہے اسی پر مرتا ہے۔ جیسے منافقین دنیا کے اندر اہل ایمان کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر ان سے کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں۔ وہ اپنے اس حلف کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر قائم ہیں، کیونکہ ان کا کفر و نفاق اور ان کے باطل عقائد ان کے اذہان میں آہستہ آہستہ راسخ ہوتے رہے، یہاں تک کہ ان عقائد نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا اور وہ سمجھنے لگے کہ وہ معتد بہ موقف پر ہیں جس پر ثواب کا دار و مدار ہے، حالانکہ وہ ایسا سمجھنے میں جھوٹے ہیں۔ اور یہ معلوم ہے کہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے جھوٹ نہیں چل سکتا۔ [19] یہ ان پر شیطان کا غلبہ ہے جس نے ان پر قابو پا رکھا ہے، اس نے ان کے سامنے ان کے اعمال آراستہ کر دیے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر فراموش کرا دیا۔ وہ ان کا کھلا دشمن ہے اور ان کے ساتھ صرف برائی چاہتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر: 35؍6)’’وہ تو اپنے گروہ کے لوگوں کو اپنی راہ پر اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ حِزۡبُ الشَّيۡطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّيۡطٰنِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’یہ شیطان کی پارٹی ہے۔ سن لو! شیطان ہی کی پارٹی نقصان اٹھانے والی ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دین و دنیا، اپنے اہل و عیال اور گھر بار کے بارے میں خسارے میں پڑ گئے۔

المجادلة 58:15

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے دوستی کی اس قوم سے کہ غصے ہوا اللہ ان پر، نہیں ہیں وہ تم میں سے اور نہ ان میں سے اور وہ قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ پر حالانکہ وہ جانتے ہیں (14) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید بلاشبہ برا ہے وہ جو تھے وہ عمل کرتے (15) بنا لیا ہے انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال پس روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے، پس ان کے لیے عذاب ہے رسوا کن (16) ہرگز نہیں فائدہ دیں گے ان کو مال ان کے اور نہ اولاد ان کی اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، یہی لوگ ہیں جہنمی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (17) جس دن دوبارہ اٹھائے گا ان کو اللہ، سب کو، تو وہ قسمیں کھائیں گے اس کے سامنے بھی جیسے وہ قسمیں کھاتے ہیں تمھاری خاطر اور وہ گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز (فائدے) پر ہیں، آگاہ رہو! بلاشبہ وہی ہیں جھوٹے (18) غالب آ گیا ہے ان پر شیطان پس اس نے بھلا دیا ان کو ذکر اللہ کا، یہ لوگ لشکر ہیں شیطان کا، آگاہ رہو! یقیناً لشکر شیطان کا، وہی ہیں خسارہ پانے والے(19) [14، 15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال کی شناعت و قباحت کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے دوستی اور موالات رکھتے ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے، نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اہل ایمان میں سے ہیں نہ کفار میں سے بلکہ﴿ مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰلِكَ١ۖ ۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ﴾(النساء:4؍143) ’’ایمان اور کفر کے درمیان تذبذب کی حالت میں ہیں، نہ پورے مومنین کی طرف ہیں نہ پورے کفار کی طرف۔‘‘ پس وہ ظاہر و باطن میں مومن نہیں ہیں، کیونکہ ان کا باطن کفار کے ساتھ ہے، اور نہ وہ ظاہر و باطن میں کفار ہی کے ساتھ ہیں، کیونکہ ان کا ظاہر اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ ہے ان کا وصف جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، وہ قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ مومن ہیں، حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔ ان جھوٹے، فاجر و خائن لوگوں کی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس قدر سخت عذاب تیار کر رکھا ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف معلوم کیا جا سکتا ہے، بہت ہی برے ہیں وہ اعمال جو ان سے صادر ہوتے ہیں، وہ ایسے اعمال بجا لاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور ان پر عذاب اور لعنت واجب ٹھہراتا ہے۔ [16]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً﴾ یعنی وہ اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان کی ملامت سے بچتے ہیں اسی سبب سے وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں اور یہ وہ راستہ ہے کہ جو کوئی اس پر گامزن ہوتا ہے، یہ راستہ اسے جنت میں لے جاتا ہے۔ اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے، تو اس کے لیے صرف وہ راستہ رہ جاتا ہے جو اسے جہنم میں گراتا ہے ﴿ فَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’چنانچہ ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘ کیونکہ جب وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور انھوں نے اس کی آیات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دائمی عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا، جو گھڑی بھر کے لیے بھی ان سے علیحدہ نہیں ہو گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔ [17]﴿ لَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ اَمۡوَالُهُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی ان کا مال اور اولاد، ان سے عذاب کو ہٹا سکیں گے نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کر سکیں گے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ﴾ وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں، جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گےاور ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ [18] جو کوئی جس چیز پر ساری زندگی بسر کرتا ہے اسی پر مرتا ہے۔ جیسے منافقین دنیا کے اندر اہل ایمان کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر ان سے کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں۔ وہ اپنے اس حلف کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر قائم ہیں، کیونکہ ان کا کفر و نفاق اور ان کے باطل عقائد ان کے اذہان میں آہستہ آہستہ راسخ ہوتے رہے، یہاں تک کہ ان عقائد نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا اور وہ سمجھنے لگے کہ وہ معتد بہ موقف پر ہیں جس پر ثواب کا دار و مدار ہے، حالانکہ وہ ایسا سمجھنے میں جھوٹے ہیں۔ اور یہ معلوم ہے کہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے جھوٹ نہیں چل سکتا۔ [19] یہ ان پر شیطان کا غلبہ ہے جس نے ان پر قابو پا رکھا ہے، اس نے ان کے سامنے ان کے اعمال آراستہ کر دیے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر فراموش کرا دیا۔ وہ ان کا کھلا دشمن ہے اور ان کے ساتھ صرف برائی چاہتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر: 35؍6)’’وہ تو اپنے گروہ کے لوگوں کو اپنی راہ پر اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ حِزۡبُ الشَّيۡطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّيۡطٰنِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’یہ شیطان کی پارٹی ہے۔ سن لو! شیطان ہی کی پارٹی نقصان اٹھانے والی ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دین و دنیا، اپنے اہل و عیال اور گھر بار کے بارے میں خسارے میں پڑ گئے۔

المجادلة 58:16

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے دوستی کی اس قوم سے کہ غصے ہوا اللہ ان پر، نہیں ہیں وہ تم میں سے اور نہ ان میں سے اور وہ قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ پر حالانکہ وہ جانتے ہیں (14) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید بلاشبہ برا ہے وہ جو تھے وہ عمل کرتے (15) بنا لیا ہے انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال پس روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے، پس ان کے لیے عذاب ہے رسوا کن (16) ہرگز نہیں فائدہ دیں گے ان کو مال ان کے اور نہ اولاد ان کی اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، یہی لوگ ہیں جہنمی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (17) جس دن دوبارہ اٹھائے گا ان کو اللہ، سب کو، تو وہ قسمیں کھائیں گے اس کے سامنے بھی جیسے وہ قسمیں کھاتے ہیں تمھاری خاطر اور وہ گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز (فائدے) پر ہیں، آگاہ رہو! بلاشبہ وہی ہیں جھوٹے (18) غالب آ گیا ہے ان پر شیطان پس اس نے بھلا دیا ان کو ذکر اللہ کا، یہ لوگ لشکر ہیں شیطان کا، آگاہ رہو! یقیناً لشکر شیطان کا، وہی ہیں خسارہ پانے والے(19) [14، 15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال کی شناعت و قباحت کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے دوستی اور موالات رکھتے ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے، نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اہل ایمان میں سے ہیں نہ کفار میں سے بلکہ﴿ مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰلِكَ١ۖ ۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ﴾(النساء:4؍143) ’’ایمان اور کفر کے درمیان تذبذب کی حالت میں ہیں، نہ پورے مومنین کی طرف ہیں نہ پورے کفار کی طرف۔‘‘ پس وہ ظاہر و باطن میں مومن نہیں ہیں، کیونکہ ان کا باطن کفار کے ساتھ ہے، اور نہ وہ ظاہر و باطن میں کفار ہی کے ساتھ ہیں، کیونکہ ان کا ظاہر اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ ہے ان کا وصف جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، وہ قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ مومن ہیں، حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔ ان جھوٹے، فاجر و خائن لوگوں کی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس قدر سخت عذاب تیار کر رکھا ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف معلوم کیا جا سکتا ہے، بہت ہی برے ہیں وہ اعمال جو ان سے صادر ہوتے ہیں، وہ ایسے اعمال بجا لاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور ان پر عذاب اور لعنت واجب ٹھہراتا ہے۔ [16]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً﴾ یعنی وہ اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان کی ملامت سے بچتے ہیں اسی سبب سے وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں اور یہ وہ راستہ ہے کہ جو کوئی اس پر گامزن ہوتا ہے، یہ راستہ اسے جنت میں لے جاتا ہے۔ اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے، تو اس کے لیے صرف وہ راستہ رہ جاتا ہے جو اسے جہنم میں گراتا ہے ﴿ فَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’چنانچہ ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘ کیونکہ جب وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور انھوں نے اس کی آیات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دائمی عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا، جو گھڑی بھر کے لیے بھی ان سے علیحدہ نہیں ہو گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔ [17]﴿ لَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ اَمۡوَالُهُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی ان کا مال اور اولاد، ان سے عذاب کو ہٹا سکیں گے نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کر سکیں گے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ﴾ وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں، جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گےاور ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ [18] جو کوئی جس چیز پر ساری زندگی بسر کرتا ہے اسی پر مرتا ہے۔ جیسے منافقین دنیا کے اندر اہل ایمان کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر ان سے کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں۔ وہ اپنے اس حلف کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر قائم ہیں، کیونکہ ان کا کفر و نفاق اور ان کے باطل عقائد ان کے اذہان میں آہستہ آہستہ راسخ ہوتے رہے، یہاں تک کہ ان عقائد نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا اور وہ سمجھنے لگے کہ وہ معتد بہ موقف پر ہیں جس پر ثواب کا دار و مدار ہے، حالانکہ وہ ایسا سمجھنے میں جھوٹے ہیں۔ اور یہ معلوم ہے کہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے جھوٹ نہیں چل سکتا۔ [19] یہ ان پر شیطان کا غلبہ ہے جس نے ان پر قابو پا رکھا ہے، اس نے ان کے سامنے ان کے اعمال آراستہ کر دیے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر فراموش کرا دیا۔ وہ ان کا کھلا دشمن ہے اور ان کے ساتھ صرف برائی چاہتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر: 35؍6)’’وہ تو اپنے گروہ کے لوگوں کو اپنی راہ پر اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ حِزۡبُ الشَّيۡطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّيۡطٰنِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’یہ شیطان کی پارٹی ہے۔ سن لو! شیطان ہی کی پارٹی نقصان اٹھانے والی ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دین و دنیا، اپنے اہل و عیال اور گھر بار کے بارے میں خسارے میں پڑ گئے۔

المجادلة 58:17

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے دوستی کی اس قوم سے کہ غصے ہوا اللہ ان پر، نہیں ہیں وہ تم میں سے اور نہ ان میں سے اور وہ قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ پر حالانکہ وہ جانتے ہیں (14) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید بلاشبہ برا ہے وہ جو تھے وہ عمل کرتے (15) بنا لیا ہے انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال پس روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے، پس ان کے لیے عذاب ہے رسوا کن (16) ہرگز نہیں فائدہ دیں گے ان کو مال ان کے اور نہ اولاد ان کی اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، یہی لوگ ہیں جہنمی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (17) جس دن دوبارہ اٹھائے گا ان کو اللہ، سب کو، تو وہ قسمیں کھائیں گے اس کے سامنے بھی جیسے وہ قسمیں کھاتے ہیں تمھاری خاطر اور وہ گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز (فائدے) پر ہیں، آگاہ رہو! بلاشبہ وہی ہیں جھوٹے (18) غالب آ گیا ہے ان پر شیطان پس اس نے بھلا دیا ان کو ذکر اللہ کا، یہ لوگ لشکر ہیں شیطان کا، آگاہ رہو! یقیناً لشکر شیطان کا، وہی ہیں خسارہ پانے والے(19) [14، 15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال کی شناعت و قباحت کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے دوستی اور موالات رکھتے ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے، نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اہل ایمان میں سے ہیں نہ کفار میں سے بلکہ﴿ مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰلِكَ١ۖ ۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ﴾(النساء:4؍143) ’’ایمان اور کفر کے درمیان تذبذب کی حالت میں ہیں، نہ پورے مومنین کی طرف ہیں نہ پورے کفار کی طرف۔‘‘ پس وہ ظاہر و باطن میں مومن نہیں ہیں، کیونکہ ان کا باطن کفار کے ساتھ ہے، اور نہ وہ ظاہر و باطن میں کفار ہی کے ساتھ ہیں، کیونکہ ان کا ظاہر اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ ہے ان کا وصف جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، وہ قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ مومن ہیں، حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔ ان جھوٹے، فاجر و خائن لوگوں کی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس قدر سخت عذاب تیار کر رکھا ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف معلوم کیا جا سکتا ہے، بہت ہی برے ہیں وہ اعمال جو ان سے صادر ہوتے ہیں، وہ ایسے اعمال بجا لاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور ان پر عذاب اور لعنت واجب ٹھہراتا ہے۔ [16]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً﴾ یعنی وہ اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان کی ملامت سے بچتے ہیں اسی سبب سے وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں اور یہ وہ راستہ ہے کہ جو کوئی اس پر گامزن ہوتا ہے، یہ راستہ اسے جنت میں لے جاتا ہے۔ اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے، تو اس کے لیے صرف وہ راستہ رہ جاتا ہے جو اسے جہنم میں گراتا ہے ﴿ فَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’چنانچہ ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘ کیونکہ جب وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور انھوں نے اس کی آیات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دائمی عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا، جو گھڑی بھر کے لیے بھی ان سے علیحدہ نہیں ہو گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔ [17]﴿ لَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ اَمۡوَالُهُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی ان کا مال اور اولاد، ان سے عذاب کو ہٹا سکیں گے نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کر سکیں گے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ﴾ وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں، جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گےاور ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ [18] جو کوئی جس چیز پر ساری زندگی بسر کرتا ہے اسی پر مرتا ہے۔ جیسے منافقین دنیا کے اندر اہل ایمان کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر ان سے کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں۔ وہ اپنے اس حلف کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر قائم ہیں، کیونکہ ان کا کفر و نفاق اور ان کے باطل عقائد ان کے اذہان میں آہستہ آہستہ راسخ ہوتے رہے، یہاں تک کہ ان عقائد نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا اور وہ سمجھنے لگے کہ وہ معتد بہ موقف پر ہیں جس پر ثواب کا دار و مدار ہے، حالانکہ وہ ایسا سمجھنے میں جھوٹے ہیں۔ اور یہ معلوم ہے کہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے جھوٹ نہیں چل سکتا۔ [19] یہ ان پر شیطان کا غلبہ ہے جس نے ان پر قابو پا رکھا ہے، اس نے ان کے سامنے ان کے اعمال آراستہ کر دیے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر فراموش کرا دیا۔ وہ ان کا کھلا دشمن ہے اور ان کے ساتھ صرف برائی چاہتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر: 35؍6)’’وہ تو اپنے گروہ کے لوگوں کو اپنی راہ پر اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ حِزۡبُ الشَّيۡطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّيۡطٰنِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’یہ شیطان کی پارٹی ہے۔ سن لو! شیطان ہی کی پارٹی نقصان اٹھانے والی ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دین و دنیا، اپنے اہل و عیال اور گھر بار کے بارے میں خسارے میں پڑ گئے۔

المجادلة 58:18

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے دوستی کی اس قوم سے کہ غصے ہوا اللہ ان پر، نہیں ہیں وہ تم میں سے اور نہ ان میں سے اور وہ قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ پر حالانکہ وہ جانتے ہیں (14) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید بلاشبہ برا ہے وہ جو تھے وہ عمل کرتے (15) بنا لیا ہے انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال پس روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے، پس ان کے لیے عذاب ہے رسوا کن (16) ہرگز نہیں فائدہ دیں گے ان کو مال ان کے اور نہ اولاد ان کی اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، یہی لوگ ہیں جہنمی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (17) جس دن دوبارہ اٹھائے گا ان کو اللہ، سب کو، تو وہ قسمیں کھائیں گے اس کے سامنے بھی جیسے وہ قسمیں کھاتے ہیں تمھاری خاطر اور وہ گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز (فائدے) پر ہیں، آگاہ رہو! بلاشبہ وہی ہیں جھوٹے (18) غالب آ گیا ہے ان پر شیطان پس اس نے بھلا دیا ان کو ذکر اللہ کا، یہ لوگ لشکر ہیں شیطان کا، آگاہ رہو! یقیناً لشکر شیطان کا، وہی ہیں خسارہ پانے والے(19) [14، 15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال کی شناعت و قباحت کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے دوستی اور موالات رکھتے ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے، نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اہل ایمان میں سے ہیں نہ کفار میں سے بلکہ﴿ مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰلِكَ١ۖ ۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ﴾(النساء:4؍143) ’’ایمان اور کفر کے درمیان تذبذب کی حالت میں ہیں، نہ پورے مومنین کی طرف ہیں نہ پورے کفار کی طرف۔‘‘ پس وہ ظاہر و باطن میں مومن نہیں ہیں، کیونکہ ان کا باطن کفار کے ساتھ ہے، اور نہ وہ ظاہر و باطن میں کفار ہی کے ساتھ ہیں، کیونکہ ان کا ظاہر اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ ہے ان کا وصف جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، وہ قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ مومن ہیں، حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔ ان جھوٹے، فاجر و خائن لوگوں کی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس قدر سخت عذاب تیار کر رکھا ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف معلوم کیا جا سکتا ہے، بہت ہی برے ہیں وہ اعمال جو ان سے صادر ہوتے ہیں، وہ ایسے اعمال بجا لاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور ان پر عذاب اور لعنت واجب ٹھہراتا ہے۔ [16]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً﴾ یعنی وہ اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان کی ملامت سے بچتے ہیں اسی سبب سے وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں اور یہ وہ راستہ ہے کہ جو کوئی اس پر گامزن ہوتا ہے، یہ راستہ اسے جنت میں لے جاتا ہے۔ اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے، تو اس کے لیے صرف وہ راستہ رہ جاتا ہے جو اسے جہنم میں گراتا ہے ﴿ فَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’چنانچہ ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘ کیونکہ جب وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور انھوں نے اس کی آیات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دائمی عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا، جو گھڑی بھر کے لیے بھی ان سے علیحدہ نہیں ہو گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔ [17]﴿ لَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ اَمۡوَالُهُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی ان کا مال اور اولاد، ان سے عذاب کو ہٹا سکیں گے نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کر سکیں گے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ﴾ وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں، جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گےاور ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ [18] جو کوئی جس چیز پر ساری زندگی بسر کرتا ہے اسی پر مرتا ہے۔ جیسے منافقین دنیا کے اندر اہل ایمان کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر ان سے کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں۔ وہ اپنے اس حلف کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر قائم ہیں، کیونکہ ان کا کفر و نفاق اور ان کے باطل عقائد ان کے اذہان میں آہستہ آہستہ راسخ ہوتے رہے، یہاں تک کہ ان عقائد نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا اور وہ سمجھنے لگے کہ وہ معتد بہ موقف پر ہیں جس پر ثواب کا دار و مدار ہے، حالانکہ وہ ایسا سمجھنے میں جھوٹے ہیں۔ اور یہ معلوم ہے کہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے جھوٹ نہیں چل سکتا۔ [19] یہ ان پر شیطان کا غلبہ ہے جس نے ان پر قابو پا رکھا ہے، اس نے ان کے سامنے ان کے اعمال آراستہ کر دیے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر فراموش کرا دیا۔ وہ ان کا کھلا دشمن ہے اور ان کے ساتھ صرف برائی چاہتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر: 35؍6)’’وہ تو اپنے گروہ کے لوگوں کو اپنی راہ پر اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ حِزۡبُ الشَّيۡطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّيۡطٰنِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’یہ شیطان کی پارٹی ہے۔ سن لو! شیطان ہی کی پارٹی نقصان اٹھانے والی ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دین و دنیا، اپنے اہل و عیال اور گھر بار کے بارے میں خسارے میں پڑ گئے۔

المجادلة 58:19

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے دوستی کی اس قوم سے کہ غصے ہوا اللہ ان پر، نہیں ہیں وہ تم میں سے اور نہ ان میں سے اور وہ قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ پر حالانکہ وہ جانتے ہیں (14) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید بلاشبہ برا ہے وہ جو تھے وہ عمل کرتے (15) بنا لیا ہے انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال پس روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے، پس ان کے لیے عذاب ہے رسوا کن (16) ہرگز نہیں فائدہ دیں گے ان کو مال ان کے اور نہ اولاد ان کی اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، یہی لوگ ہیں جہنمی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (17) جس دن دوبارہ اٹھائے گا ان کو اللہ، سب کو، تو وہ قسمیں کھائیں گے اس کے سامنے بھی جیسے وہ قسمیں کھاتے ہیں تمھاری خاطر اور وہ گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز (فائدے) پر ہیں، آگاہ رہو! بلاشبہ وہی ہیں جھوٹے (18) غالب آ گیا ہے ان پر شیطان پس اس نے بھلا دیا ان کو ذکر اللہ کا، یہ لوگ لشکر ہیں شیطان کا، آگاہ رہو! یقیناً لشکر شیطان کا، وہی ہیں خسارہ پانے والے(19) [14، 15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال کی شناعت و قباحت کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے دوستی اور موالات رکھتے ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے، نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اہل ایمان میں سے ہیں نہ کفار میں سے بلکہ﴿ مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰلِكَ١ۖ ۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ﴾(النساء:4؍143) ’’ایمان اور کفر کے درمیان تذبذب کی حالت میں ہیں، نہ پورے مومنین کی طرف ہیں نہ پورے کفار کی طرف۔‘‘ پس وہ ظاہر و باطن میں مومن نہیں ہیں، کیونکہ ان کا باطن کفار کے ساتھ ہے، اور نہ وہ ظاہر و باطن میں کفار ہی کے ساتھ ہیں، کیونکہ ان کا ظاہر اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ ہے ان کا وصف جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، وہ قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ مومن ہیں، حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔ ان جھوٹے، فاجر و خائن لوگوں کی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس قدر سخت عذاب تیار کر رکھا ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف معلوم کیا جا سکتا ہے، بہت ہی برے ہیں وہ اعمال جو ان سے صادر ہوتے ہیں، وہ ایسے اعمال بجا لاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور ان پر عذاب اور لعنت واجب ٹھہراتا ہے۔ [16]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً﴾ یعنی وہ اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان کی ملامت سے بچتے ہیں اسی سبب سے وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں اور یہ وہ راستہ ہے کہ جو کوئی اس پر گامزن ہوتا ہے، یہ راستہ اسے جنت میں لے جاتا ہے۔ اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے، تو اس کے لیے صرف وہ راستہ رہ جاتا ہے جو اسے جہنم میں گراتا ہے ﴿ فَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’چنانچہ ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘ کیونکہ جب وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور انھوں نے اس کی آیات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دائمی عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا، جو گھڑی بھر کے لیے بھی ان سے علیحدہ نہیں ہو گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔ [17]﴿ لَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ اَمۡوَالُهُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی ان کا مال اور اولاد، ان سے عذاب کو ہٹا سکیں گے نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کر سکیں گے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ﴾ وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں، جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گےاور ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ [18] جو کوئی جس چیز پر ساری زندگی بسر کرتا ہے اسی پر مرتا ہے۔ جیسے منافقین دنیا کے اندر اہل ایمان کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر ان سے کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں۔ وہ اپنے اس حلف کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر قائم ہیں، کیونکہ ان کا کفر و نفاق اور ان کے باطل عقائد ان کے اذہان میں آہستہ آہستہ راسخ ہوتے رہے، یہاں تک کہ ان عقائد نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا اور وہ سمجھنے لگے کہ وہ معتد بہ موقف پر ہیں جس پر ثواب کا دار و مدار ہے، حالانکہ وہ ایسا سمجھنے میں جھوٹے ہیں۔ اور یہ معلوم ہے کہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے جھوٹ نہیں چل سکتا۔ [19] یہ ان پر شیطان کا غلبہ ہے جس نے ان پر قابو پا رکھا ہے، اس نے ان کے سامنے ان کے اعمال آراستہ کر دیے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر فراموش کرا دیا۔ وہ ان کا کھلا دشمن ہے اور ان کے ساتھ صرف برائی چاہتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر: 35؍6)’’وہ تو اپنے گروہ کے لوگوں کو اپنی راہ پر اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ حِزۡبُ الشَّيۡطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّيۡطٰنِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’یہ شیطان کی پارٹی ہے۔ سن لو! شیطان ہی کی پارٹی نقصان اٹھانے والی ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دین و دنیا، اپنے اہل و عیال اور گھر بار کے بارے میں خسارے میں پڑ گئے۔

المجادلة 58:20

بلاشبہ وہ لوگ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ کی اور اس کےرسول کی یہ لوگ ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں (20) لکھ رکھا ہے اللہ نے کہ ضرور غالب آؤں گا میں اور میرے رسول، بلاشبہ اللہ قوی ہے، بڑا زبردست (21) [21,20] یہ وعد ہ اور وعید ہے۔ وعید اس شخص کے لیے جو کفر و معاصی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کے ساتھ دشمنی کرتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ بے یار و مددگار اور ذلیل و رسوا ہے، اس کا انجام قابل تعریف ہے نہ اس کی مدد کی جائے گی۔ وعدہ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہے، جو کچھ انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں، ان کی اتباع کرتا ہے، پس وہ اللہ کے گروہ میں شامل ہو گیا جو فلاح یاب لوگوں پر مشتمل ہے، ان کے لیے فتح و نصرت اور دنیا و آخرت میں غلبہ ہے۔ یہ ایسا وعدہ ہے جس کی خلاف ورزی کی جائے گی نہ اس میں تغیر و تبدل کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ ایسی ہستی کا وعدہ ہے جو سچی، نہایت طاقت ور اور غالب ہستی ہے، وہ ہستی جو چاہتی ہے وہ چیز اسے عاجز اور بے بس نہیں کر سکتی۔

المجادلة 58:21

بلاشبہ وہ لوگ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ کی اور اس کےرسول کی یہ لوگ ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں (20) لکھ رکھا ہے اللہ نے کہ ضرور غالب آؤں گا میں اور میرے رسول، بلاشبہ اللہ قوی ہے، بڑا زبردست (21) [21,20] یہ وعد ہ اور وعید ہے۔ وعید اس شخص کے لیے جو کفر و معاصی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کے ساتھ دشمنی کرتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ بے یار و مددگار اور ذلیل و رسوا ہے، اس کا انجام قابل تعریف ہے نہ اس کی مدد کی جائے گی۔ وعدہ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہے، جو کچھ انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں، ان کی اتباع کرتا ہے، پس وہ اللہ کے گروہ میں شامل ہو گیا جو فلاح یاب لوگوں پر مشتمل ہے، ان کے لیے فتح و نصرت اور دنیا و آخرت میں غلبہ ہے۔ یہ ایسا وعدہ ہے جس کی خلاف ورزی کی جائے گی نہ اس میں تغیر و تبدل کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ ایسی ہستی کا وعدہ ہے جو سچی، نہایت طاقت ور اور غالب ہستی ہے، وہ ہستی جو چاہتی ہے وہ چیز اسے عاجز اور بے بس نہیں کر سکتی۔

المجادلة 58:22

نہیں پائیں گے آپ کسی قوم کو جو ایمان رکھتے ہوں اللہ اور دن آخرت پر، کہ وہ دوستی کریں ان سے جو مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کےرسول کی، اگرچہ ہوں وہ ان کے باپ، یا ان کے بیٹے ،یا ان کے بھائی، یا ان کا قبیلہ ہی ،یہ لوگ، لکھ دیا ہے (اللہ نے) ان کے دلوں میں ایمان اور تائید کی ان کی ساتھ ایک روح کے اپنی طرف سے اور داخل کرےگا انھیں ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، راضی ہو گیا اللہ ان سے اور وہ راضی ہو گئے اس سے، یہ لوگ گروہ ہیں اللہ کا، آگاہ رہو! یقیناً گروہ اللہ کا، وہی ہیں فلاح پانے والے (22) [22] اے نبی! آپ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہیں پائیں گے۔ یعنی یہ دونوں رویے ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے، بندہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والا نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ ایمان کے تقاضوں اور اس کے لوازم پر عمل نہیں کرتا اور ایمان کو قائم کرنے والے کے ساتھ محبت اور موالات رکھنا یہ ہے کہ اس شخص کے ساتھ بغض اور عداوت رکھی جائے جو ایمان کو قائم نہیں کرتا، خواہ وہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ اس کے قریب ہی کیوں نہ ہو۔یہ ہے وہ حقیقی ایمان جس کا پھل ملتا ہے اور جس سے مقصود حاصل ہوتا ہے۔ اس وصف کے حامل وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان لکھ دیا ہے یعنی اس کور اسخ اور ثابت کر دیا ہے اور ان کے دلوں میں شجر ایمان کو اگا دیا ہے جو کبھی متزلزل ہو سکتا ہے نہ شکوک و شبہات اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے روح کے ذریعے سے طاقت ور بنایا ہے یعنی اپنی وحی، اپنی معرفت، مدد الٰہی اور اپنے احسان ربانی کے ذریعے سے تائید کی۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے اس دنیا میں حیات طیبہ ہے اور آخرت میں ان کے لیے نعمتوں بھری جنتیں ہیں، جہاں ہر وہ چیز ہو گی جو دل چاہیں گے۔ جس سے آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور اسے پسند کریں گی، ان کے لیے ایک سب سے بڑی اور افضل ترین نعمت ہو گی اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رضا نازل فرمائے گا اور ان سے کبھی ناراض نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ ان کو جو اکرام و تکریم کی مختلف انواع سے نوازے گا، ان کو جو وافر ثواب عطا کرے گا، جو بے پایاں عنایات سے بہرہ مند اور ان کے درجات بلند کرے گا، وہ اس پر اپنے رب سے راضی ہوں گے، وہ اس طرح کہ ان کے مولا نے جو کچھ ان کو عطا کیا ہو گا، اس کی کوئی انتہا ان کو نظر نہیں آئے گی۔رہا وہ شخص جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانے کا زعم رکھتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے ساتھ مودت و موالات بھی رکھتا ہے، اور ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے جنھوں نے ایمان کو پس پشت ڈال رکھا ہےتو یہ ایمان کا محض خالی خولی دعویٰ ہے، جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ کیونکہ ہر دعوے کے لیے کسی دلیل کا ہونا لازمی ہے جو اس کی تصدیق کرے۔ پس مجرد دعویٰ کسی کام نہیں آتا اور ایسا دعویٰ کرنے والے کی تصدیق نہیں کی جاتی۔

الحشر 59:1

تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو چیز ہے زمین میں، اور وہ بڑا زبردست ، خوب حکمت والا ہے(1) وہ، وہ ذات ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے، ان کے گھروں سے، وقت پہلی جلا وطنی کے نہیں گمان کیا تھا تم نے (کبھی بھی) یہ کہ وہ نکلیں گے اور انھوں نے سمجھا تھا کہ بے شک وہ، بچا لیں گے ان کو ان کے قلعے اللہ (کے عذاب) سے پس آیا ان پر اللہ (کا عذاب) جہاں سے نہیں گمان کیا تھا انھوں نے، اور اس نے ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، اجاڑتے تھے وہ اپنے گھر اپنے ہاتھوں سے اور مومنوں کے ہاتھوں سے بھی،پس تم عبرت پکڑو اے آنکھوں والو!(2) اور اگرنہ ہوتی یہ بات کہ لکھ دیا تھا اللہ نے ان پر جلا وطن ہونا تو وہ ضرور عذاب دیتا ان کو دنیا ہی میں اور ان کے لیے آخرت میں عذاب ہے آگ کا(3) یہ اس لیے کہ بے شک انھوں نے مخالفت کی اللہ اور اس کےرسول کی، اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ کی تو بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(4) جو کاٹا تم نے کوئی کھجور کا درخت یا چھوڑ دیا تم نے اسے قائم اس کی جڑوں پر، تو (یہ سب) اللہ کے حکم سے ہے، اور تاکہ وہ رسوا کرے فاسقوں کو(5) اور جو لوٹایا اللہ نے اوپر اپنے رسول کے ان (کے مال) سے، پس نہیں دوڑائے تم نے اس پر کوئی گھوڑے اور نہ اونٹ، اور لیکن اللہ غالب کرتا ہے اپنے رسولوں کو اوپر جس کے وہ چاہتا ہے اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(6) جو لوٹایا اللہ نے اوپر اپنے رسول کے بستیوں والوں (کے مال) سے تو (وہ) اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور (رسول کے) قرابت داروں کے لیے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ نہ ہو وہ (مال) گردش کرنے والا درمیان دولت مندوں ہی کے تم میں سے، اور جو کچھ دے تمھیں رسول تو تم لے لو اس کو اور جو کچھ کہ وہ روک دے تمھیں اس سے تو تم رک جاؤ اور ڈرو اللہ سے، بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(7)(مال فَے) فقراء مہاجرین کے لیے ہے وہ جو نکالے گئے اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے اس حال میں کہ وہ تلاش کرتے ہیں فضل اللہ کا اور رضا مندی، اور وہ مدد کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی، یہی لوگ تو سچے ہیں(8) اور (ان کے لیے ہے) جنھوں نے بنا لیا تھا (مدینہ کو) گھر اور (قبول کر لیا تھا) ایمان ان (کی ہجرت) سے پہلے، وہ (انصار) محبت کرتے ہیں اس سے جو ہجرت کرے ان کی طرف اور نہیں پاتے وہ اپنے سینوں میں کوئی حاجت (حسد) اس سے جو دیے جائیں وہ (مہاجرین) اور وہ ترجیح دیتے ہیں (ان کو) اوپر اپنے نفسوں کے، اگرچہ ہو خود ان کو سخت حاجت اور جو کوئی بچا لیا گیا بخیلی سے اپنے نفس کی پس یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(9) اور (ان کے لیے ہے) جو آئے ان کے بعد، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! بخش دے ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو جنھوں نے پہل کی ہم سے ایمان (لانے) میں اور نہ رکھ تو ہمارے دلوں میں کینہ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اے ہمارے رب! بلاشبہ تو بہت شفقت کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (10) کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے منافقت کی، وہ کہتے ہیں اپنے ان بھائیوں سے جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے، البتہ اگر نکالے گئے تم تو ہم ضرور نکلیں گے تمھارے ساتھ اور نہیں اطاعت کریں گے ہم تمھارے معاملے میں کسی کی کبھی بھی، اور اگر لڑائی کیے گئے تم تو ہم ضرور مدد کریں گے تمھاری اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں (11) البتہ اگر نکالے گئے وہ تو نہیں نکلیں گے یہ ان کے ساتھ اور اگر لڑائی کیے گئے وہ تو نہیں مدد کریں گے وہ ان کی، اور البتہ اگر وہ مدد کریں گے بھی ان کی تو ضرور پھیر جائیں گے وہ پیٹھیں ، پھر نہیں مدد کیے جائیں گے وہ (12) البتہ تم (اے مسلمانو!) زیادہ ہو باعتبار ہیبت کے ان کے دلوں میں بنسبت اللہ کے، یہ اس لیے کہ بے شک وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہیں سمجھتے (13) نہیں لڑیں گے وہ تم سے سب مل کر بھی مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کے پیچھے سے، ان کی لڑائی(عداوت) آپس میں بہت سخت ہے آپ گمان کرتے ہیں ان کو اکٹھے جبکہ ان کے دل جدا جدا ہیں، یہ بوجہ اس کےکہ بلاشبہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہیں عقل رکھتے (14) مانند صفت ان لوگوں کے جو ان سے پہلے ہوئے قریب ہی، چکھ لیا انھوں نے وبال اپنے کام (کفر) کا اور ان کے لیے ہے عذاب درد ناک (15)(ان کی مثال) مانند حالت شیطان کے ہے جب وہ کہتا ہے انسان کو کہ تو کفر کر، پس جب وہ کفر کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے بلاشبہ میں تو بری ہوں تجھ سے بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے (16) پھر ہوتا ہے ان دونوں کا انجام کہ بلاشبہ وہ دونوں ہی آگ میں ہوں گے، ہمیشہ رہیں گے اس میں اور یہی ہے جزا (سزا) ظالموں کی (17) تفسیر سورۂ حشر اس سورۂ مبارکہ کو ’’سورۂ بنی نضیر‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ بنو نضیر یہودیوں کا ایک بڑا قبیلہ تھا جو نبی ٔاکرمﷺ کی بعثت کے وقت مدینہ کے مضافات میں آباد تھا۔ جب نبی ٔاکرمﷺ مبعوث ہوئے اور آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو انھوں نے جملہ یہود کے ساتھ آپ کی نبوت کا انکار کر دیا، نبی ٔاکرم ﷺ نے یہود کے ان قبائل کے ساتھ معاہدہ کیا جو مدینہ منورہ میں آپ کے پڑوس میں آباد تھے۔ غروۂ بدر کے تقریباً چھ ماہ بعد نبی اکرم ﷺ ان کے پاس گئے اور ان سے گفتگو کی کہ (معاہدے کے مطابق) وہ ان کلابیوں کی دیت کے بارے میں آپ کی مدد کریں، جن کو عمرو بن امیہ ضمری نے قتل کیا تھا۔ انھوں نے کہا ’’اے ابوالقاسم! ہم آپ کی مدد کریں گے آپ یہاں بیٹھیے، یہاں تک کہ ہم آپ کے لیے دیت اکٹھی کردیں، چنانچہ وہ تنہائی میں ایک دوسرے سے ملے اور شیطان نے ان کے لیے اس بدبختی کو آسان بنا دیا جو ان کے لیے لکھ دی گئی تھی، چنانچہ انھوں نے آپ کے قتل کی سازش کی اور آپ کے بارے میں کہنے لگے ’’تم میں سے کون ہے جو اس چکی کو اٹھائے چھت پر چڑھ کر آپ کے سر پر دے مارے اور اس سے آپ کا سر کچل ڈالے؟‘‘ان میں سے بدبخت ترین شخص عمرو بن جحاش نے کہا: ’’یہ کام میں کروں گا‘‘ سَلَام بِن مِشْکَمْ نے ان سے کہا ’’یہ کام نہ کرواللہ کی قسم! تمھارے ارادے سے اسے ضرور آگاہ کر دیا جائے گا، اور یہ اس معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے جو ہمارے اور اس کے درمیان ہوا ہے۔‘‘ انھوں نے جو سازش کی تھی اس کے بارے میں آپ پر فوراً وحی نازل ہو گئی، آپ جلدی سے وہاں سے اٹھ گئے اور مدینہ کا رخ کیا اور آپ کے صحابہ بھی (جو ساتھ گئے تھے) آپ سے مل گئے اور عرض کیا ’’آپ وہاں سے اٹھ آئے اور ہمیں خبر بھی نہ ہوئی۔‘‘ آپ نے انھیں اس سازش کے بارے میں آگاہ فرمایا جو یہودیوں نے آپ کے خلاف کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو پیغام بھجوایا کہ ’’مدینہ سے نکل جاؤ اور اس میں مت رہو، میں تمھیں دس دن کی مہلت دیتا ہوں، اس کے بعد میں نے جس کسی کو مدینہ میں پایا، اس کی گردن مار دوں گا۔‘‘ بنونضیر مدینہ منورہ میں کچھ دن ٹھہرے اور (وہاں سے نکلنے کی) تیاری کرتے رہے، عبداللہ بن ابی ابن سلول منافق نے ان کو پیغام بھجوایا ’’اپنے گھروں سے مت نکلو، میرے ساتھ دو ہزار آدمی ہیں جو تمھارے ساتھ تمھارے قلعے میں داخل ہوں گے اور تمھاری خاطر اپنی جان دیں گے، بنوقریظہ اور بنوغطفان میں سے تمھارے حلیف بھی تمھاری مدد کریں گے۔‘‘ بنونضیر کا سردار حُیَي بن اخطب، عبداللّٰہ بن اُبَّی کے کہنے میں آ گیا اور رسول اللہ ﷺ کو کہلا بھیجا ’’ہم اپنے گھروں سے نہیں نکلیں گے، جو چاہو کر لو‘‘ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور یہود کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت علیt نے جھنڈا اٹھا رکھا تھا۔ یہودی اپنے قلعوں میں مقیم ہو کر پتھر اور تیر پھینکنے لگے، بنوقریظہ ان سے الگ ہو گئے، عبداللہ بن ابی اور بنو غطفان میں سے ان کے حلیفوں نے بھی ان سے خیانت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کر لیا، ان کے کھجوروں کے باغات کاٹ کر نذر آتش کر دیے، بنونضیر نے پیغام بھیجا کہ ہم مدینہ سے نکل جائیں گے، رسول اللہ ﷺ نے ان پر یہ شرط عائد کی کہ وہ اپنی اولاد کو لے کر نکل جائیں اور اسلحہ کے سوا وہ سب کچھ لے جائیں جو ان کے اونٹ اٹھا سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے مال اور اسلحہ کو اپنے قبضے میں لے لیا۔بنونضیر کے اموال خالص رسول اللہ ﷺ کی مہمات اور مسلمانوں کے مصالح کے لیے تھے، آپ نے اس مال میں سے خمس نکالا، کیونکہ یہ مال اللہ تعالیٰ نے آپ کو دلوایا تھا، مسلمانوں نے گھوڑوں اور اونٹوں کے ساتھ ان پر چڑھائی نہیں کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے بنونضیر کو خیبر کی طرف جلا وطن کر دیا، ان میں ان کا سردار حُیَيبن اخطب بھی شامل تھا اور ان کی اراضی اور گھروں پر قبضہ کر لیا۔ نیز ان کے اسلحہ کو بھی قبضہ میں لے لیا، اسلحہ میں پچاس زر ہیں، پچاس خود اور تین سو چالیس تلواریں ہاتھ لگیں۔ یہ ہے بنونضیر کے قصے کا ماحصل جیسا کہ اسے اہل سیرت نے بیان کیا ہے۔ [1] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کے ساتھ اس سورۂ مبارکہ کا افتتاح کیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے اور اس وصف سے اس کو منزہ قرار دے رہی ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں ،وہ اس کی عبادت کر رہی ہے اور اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہے کیونکہ وہ غلبے والا ہے اور ہر چیز پر غالب ہے، کوئی چیز اس سے بچ سکتی ہے نہ کوئی ہستی اس کی نافرمانی کر سکتی ہے۔ وہ اپنی تخلیق و امر میں حکمت رکھنے والا ہے، وہ کوئی چیز عبث پیدا کرتا ہے نہ کوئی ایسا امر مشروع کرتا ہے جس میں کوئی مصلحت نہ ہو اور نہ کوئی ایسا فعل سرانجام دیتا ہے جو اس کی حکمت کے تقاضے کے مطابق نہ ہو۔ [2] یہ اس کی حکمت ہے کہ جب اہل کتاب میں سے بنونضیر نے اس کے رسول کے ساتھ بدعہدی کی تو اس نے ان کے مقابلے میں اپنے رسول ﷺ کی مدد کی پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گھروں اور وطن سے نکال دیا، جن سے وہ محبت کرتے تھے، ان کا اپنے گھروں اور وطن سے نکالا جانا اولین جلا وطنی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں خیبر کی طرف مقدر ٹھہرائی۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اس جلا وطنی کے علاوہ بھی ان کو جلا وطنی کا سامنا کرنا پڑا اور یہ وہ جلا وطنی ہے جو خیبر سے رسول اللہﷺ کے ہاتھوں واقع ہوئی، پھر حضرت عمرt نے (اپنے عہد خلافت میں)بقیہ تمام یہودیوں کو خیبر سے نکال دیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَا ظَنَنۡتُمۡ﴾ اے مسلمانو! تمھارے خیال میں بھی نہ تھا ﴿ اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا﴾ کہ وہ اپنے گھروں سے نکل جائیں گے، کیونکہ ان کے گھر محفوظ اور مصئو ن تھے اور ان میں عزت اور غلبے کے ساتھ رہتے تھے ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مَّؔانِعَتُهُمۡ حُصُوۡنُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ گمان کر رہے تھے کہ ان کے قلعے انھیں اللہ سے بچالیں گے۔‘‘ انھیں ان قلعوں پر بہت غرور تھا، ان قلعوں نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر رکھا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ان قلعوں کی وجہ سے ان تک پہنچا جا سکتا ہے نہ ان پر کوئی قابو پا سکتا ہے۔ اس کے ماوراء اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا امر مقدر کر دیا، جس سے انھیں ان کی محفوظ پناہ گاہیں بچاسکیں نہ قلعے، اور نہ قوت اور مدافعت ہی کام آسکی۔اس لیے فرمایا:﴿ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ حَيۡثُ لَمۡ يَحۡتَسِبُوۡا﴾ ’’پس اللہ نے انھیں وہاں سے آلیا جہاں سے انھیں گمان بھی نہیں تھا۔‘‘ یعنی اس طریقے اور اس راستے سے جس کے بارے میں انھیں وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہاں سے ان کو آ لیا جائے گا۔ اور وہ یہ بات تھی ﴿ وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ﴾ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، اس سے مراد شدید خوف ہے جو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی سپاہ ہے، جس کے سامنے تعداد اور ساز و سامان کوئی فائدہ دیتا ہے نہ طاقت اور بہادری کوئی کام آتی ہے۔وہ معاملہ جس کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ اگر کوئی خلل داخل ہوا تو اس راستے سے داخل ہو گااور وہ ان کے قلعے تھے جہاں داخل ہو کر وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگے اور ان قلعوں پر ان کے دل مطمئن تھے۔ جو کوئی غیر اللہ پر بھروسہ کرتا ہے وہ بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور جو کوئی غیر اللہ کا سہارا لیتا ہے تو یہ اس کے لیے وبال بن جاتا ہے۔ پس ان کے پاس ایک آسمانی معاملہ آیا اور ان کے دلوں میں نازل ہوا، جو صبر و ثبات اور بز دلی و کمزوری کا محل و مقام ہوتے ہیں، چنانچہ اس نے ان کی قوت اور بہادری کو زائل کر دیا اور اس کی جگہ کمزوری اور بز دلی دے دی جس کو دور کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی حیلہ نہ تھا اور یہ چیز ان کے خلاف (مسلمانوں کی)مددگار بن گئی۔ بنابریں فرمایا :﴿ يُخۡرِبُوۡنَ بُيُوۡتَهُمۡ بِاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَيۡدِي الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ اور وہ یہ کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے اس شرط پر مصالحت کی کہ ان کے اونٹ جو کچھ اٹھائیں سب ان کا ہے۔ اس بنا پر انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے گھروں کی چھتوں کو اکھاڑ ڈالا جو انھیں بہت اچھی لگتی تھیں اور اپنی سر کشی کی بنا پر اپنے گھروں کے برباد کرنے اور اپنے قلعوں کے منہدم کرنے پر مسلمانوں کو مسلط کر دیاتو یہ وہی ہیں جنھوں نے خود اپنے خلاف جرم کیا اور ان قلعوں اور گھروں کو برباد کرنے میں مددگار بنے۔ ﴿ فَاعۡتَبِرُوۡا يٰۤاُولِي الۡاَبۡصَارِ﴾ پس اے اہل بصیرت عبرت یعنی معاملات کی گہرائی میں اتر جانے والی بصیرت اور کامل عقل والو! عبرت حاصل کرو کیونکہ اس واقعہ میں عبرت ہے، اس سے ان معاندین حق کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سلوک کی معرفت حاصل ہوتی ہے، جو اپنی خواہشات نفس کے پیچھے چلتے ہیں، جن کی عزت نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ طاقت انھیں بچا سکی، جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کا حکم آ گیا اور ان کے گناہوں کی پاداش میں عذاب آ پہنچا، تو ان کے قلعے ان کی حفاظت نہ کر سکے، لہٰذا اعتبار الفاظ کے عموم کا ہوتا ہے نہ کہ اسباب کے خصوص کا، چنانچہ یہ آیت کریمہ عبرت حاصل کرنے کے حکم پر دلالت کرتی ہے اور وہ ہے نظیر کے ذریعے سے اس کے نظیر سے عبرت حاصل کرنا اور کسی چیز کو اس چیز پر قیاس کرنا جو اس سے مشابہت رکھتی ہے، اسی عبرت سے عقل کی تکمیل اور بصیرت روشن ہوتی ہے، ایمان میں اضافہ اور حقیقی فہم حاصل ہوتا ہے۔ [3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان یہودیوں کو وہ پوری سزا نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا میں تخفیف کر دی ہے۔ فرمایا:﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمُ الۡجَلَآءَؔ﴾ اور اگر اللہ نے ان پر جلاوطنی نہ لکھی ہوتی جس کا انھیں سامنا کرنا پڑا جس کا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایسی قضا و قدر کے ذریعے سے فیصلہ کیا جس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا تو دنیا کے اندر ان کی سزا اور عذاب کا معاملہ اور ہوتا۔ اگرچہ وہ دنیا کے اندر سخت عذاب سے بچ گئے، تاہم آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہےجس کی سختی کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے ممکن نہیں، لہٰذا کبھی ان کے خواب و خیال میں یہ بات نہ آئے کہ ان کی سزا پوری ہو گئی، انھوں نے بھگت لی اور اس سزا میں سے کچھ باقی نہیں بچا۔ پس وہ عذاب جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آخرت میں تیار کر رکھا ہے، زیادہ بڑا اور زیادہ مصیبت کا حامل ہے۔ [4]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺکی مخالفت کی، ان کے ساتھ دشمنی کی، ان کے خلاف جنگ کی اور ان کی نافرمانی میں بھاگ دوڑ کی۔(ان سے جو کچھ ہوا ہے)یہ ان لوگوں کے بارے میں سنت الٰہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ﴾ ’’اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ [5] جب بنونضیر نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو کھجوروں کے درخت اور دیگر درخت کاٹنے پر ملامت کی اور اس زعم کا اظہار کیا کہ یہ فساد ہے اور اس بنا پر انھوں نے مسلمانوں کو نشانہ طعن بنایا،تب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اگر مسلمانوں نے کھجور کے درخت کاٹے ہیں، تو ان کو کاٹنا اور اگر ان کو باقی رکھا ہے، تو ان کو باقی رکھنا ﴿ فَبِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ تو یہ اللہ تعالیٰ کے اذن اور حکم سے ہے ﴿ وَلِيُخۡزِيَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اور تاکہ وہ فاسقوں کو رسوا کرے۔‘‘ کیونکہ اس نے ان کے کھجوروں کے باغات کاٹنے اور جلانے کا تمھیں اختیار دیا تاکہ یہ سب کچھ ان کے لیے سزا اور دنیا کے اندر ان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہو جس سے ان کی پوری بے بسی ظاہر ہو، جس کی وجہ سے وہ کھجوروں کے باغات بھی نہ بچا سکے، جو ان کی قوت اور طاقت کا سبب تھے۔(اَللِّینَةُ) صحیح اور راجح ترین احتمال کے مطابق ہر قسم کے کھجور کے درختوں کو شامل ہے۔یہ ہے بنونضیر کا حال، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کے اندر کیسے سزا دی؟ [6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جن کی طرف بنونضیر کا مال و متاع منتقل ہوا ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡهُمۡ﴾ ’’او رجو مال اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلایا۔‘‘ یعنی اس بستی کے لوگوں میں سے، اس سے مراد بنونضیر کے لوگ ہیں ﴿ فَمَاۤ اَوۡجَفۡتُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ خَيۡلٍ وَّلَا رِكَابٍ﴾ یعنی تم نے گھوڑے دوڑائے ہیں نہ لشکر اکٹھے کیے ہیں، یعنی تمھیں لشکر جمع کرنے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑی اور نہ تمھارے مویشیوں ہی کو مشقت کا سامنا کرناپڑا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان (یہودیوں) کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ تمھارے سامنے درگزر اور عفو کی درخواست کرتے ہوئے حاضر ہوئے۔اس لیے فرمایا: ﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ١ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ اور اس کی قدرت کاملہ یہ ہے کہ کوئی بچنے والا اس سے بچ سکتا ہے نہ قوت والا اس کے مقابلے میں غالب آ سکتا ہے۔ [7] فقہاء کی اصطلاح میں فَے سے مراد وہ مال ہے جو حق کے ساتھ کفار سے کسی جنگ کے بغیر حاصل کیا جائے، مثلاً: ’’وہی مال جسے کفار مسلمانوں کے خوف کی بنا پر چھوڑکر فرار ہو گئے۔ اس کو فَے اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ کفار کی طرف سے جو اس مال کے مستحق نہ تھے، مسلمانوں کی طرف لوٹا ہے جو اس پر بہت زیادہ حق رکھتے تھے۔مالِ فَے کا حکم : فَے کا حکم یہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا : ﴿ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى﴾ ’’جو مال اللہ نے بستی والوں سے اپنے رسول کو دلوایا ہے۔‘‘ عمومی طور پر، خواہ رسول اللہ ﷺ کا زمانہ ہو یا آپ کے بعد آپ کی امت میں سے اس شخص کا زمانہ ہو جو امارت کے منصب پر فائز ہو ﴿ فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِـذِي الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ اللہ کے لیے، اللہ کے رسول کے لیے، اور (رسول کے) رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اس آیت کریمہ کی نظیر ہے جو سورۂ انفال میں مذکور ہے، اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِي الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ﴾(الانفال:8؍41) ’’اور جان رکھو! جو چیز تم غنیمت کے طور پر کفار سے حاصل کرو، اس میں سے پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ اور رسول کے لیے اور قرابت داروں، یتیموں، مساکین اور مسافروں کے لیے ہے۔‘‘ فَے کا مال پانچ اصناف میں تقسیم ہوتا ہے:(۱)پانچ حصوں میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے جو مسلمانوں کے مصالح عامہ میں صرف ہوتا ہے۔(۲) دوسرا حصہ، ذوی القربٰی (رسول اللہﷺ کے رشتہ داروں) کے لیے ہے اور ذوی القربٰی سے مراد بنوہاشم اور بنو مطلب ہیں، جہاں کہیں بھی ہوں، ان کے مردوں اور عورتوں میں برابر تقسیم کیا جائے گا۔ بنومطلب خمس وغیرہ کے پانچویں حصے میں بنوہاشم کے ساتھ شریک ہوں گے، بقیہ بنوعبد مناف شریک نہیں ہوں گے کیونکہ جب قریش نے بنوہاشم سے مقاطعت اور عداوت کا معاہدہ کیا تو بنو مطلب بنو ہاشم کے ساتھ شریک تھے اور دوسروں کے برعکس انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی مدد کی۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ نے بنو مطلب کے بارے میں فرمایا: ’’وہ جاہلیت اور اسلام میں کبھی مجھ سے الگ نہیں ہوئے۔‘‘ (مسند أحمد: 81/4 و اصله في صحيح البخاري، فرض الخمس، باب و من الدليل على ان الخمس للإمام، حديث: 3140)(۳)تيسرا حصہ محتاج یتیموں کے لیے ہے۔ یتیم وہ ہے جس کے باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا ہو اور وہ ابھی بالغ نہ ہوا ہو۔(۴)چوتھا حصہ مساکین کے لیے ہے۔(۵) اور پانچواں (آخری) حصہ مسافروں کے لیے ہے۔ اس سے مراد وہ غریب الوطن لوگ ہیں جو اپنے وطن سے کٹ کر رہ گئے ہوں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ حصے اس لیے مقرر فرمائے اور فَے کو صرف انھی معین لوگوں میں محصور کر دیا ﴿ كَيۡ لَا يَكُوۡنَ دُوۡلَةًۢ بَيۡنَ الۡاَغۡنِيَآءِ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تاکہ (مال) تم میں سے دولت مند لوگوں کے ہاتھوں ہی میں گردش نہ کرتا رہے ۔‘‘ اور ان کے سوا عاجز اور بے بس لوگوں کو کچھ حاصل نہ ہو۔ اس میں اس قدر فساد ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی شریعت کی اتباع میں اتنی زیادہ مصلحتیں ہیں جو شمار سے باہر ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک قاعدہ کلیہ اور ایک عام اصول مقرر فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡهُ١ۗ وَمَا نَهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ فَانۡتَهُوۡا ﴾ ’’رسول تمھیں جو دے، وہ لے لو اور جس سے وہ تمھیں روک دے، اس سے رک جاؤ۔‘‘ یہ آیت کریمہ دین کے اصول و فروع اور اس کے ظاہر و باطن سب کو شامل ہے، نیز یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو کچھ لے کر آئے ہیں، اس سے تمسک کرنا اور اس کی اتباع کرنا بندوں پر فرض ہے اور اس کی مخالفت کرنا جائز نہیں۔ نیز اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی چیز کے حکم پر رسول اللہ ﷺ کی نص، اللہ تعالیٰ کی نص کی مانند ہے اور اس کو ترک کرنے میں کسی کے لیے کوئی رخصت اور عذر نہیں اور کسی کے قول کو آپ کے قول پر مقدم رکھنا جائز نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے تقویٰ کا حکم دیا جس سے دنیا و آخرت میں قلب و روح معمور ہوتی ہے، تقویٰ ہی میں دائمی سعادت اور فوز عظیم ہے۔ تقویٰ کو ضائع کرنے میں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ جو کوئی تقویٰ کو ترک کر کے، خواہشات نفس کی پیروی کو ترجیح دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دینے والا ہے۔ [9,8] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نےفَے کے مال کو جن لوگوں کے لیے مقرر فرمایا، اس کے موجب اور اس میں حکمت کا ذکر فرمایا، نیز بیان فرمایا کہ یہی لوگ اعانت کے مستحق ہیں اور اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے فَے میں حصہ مقرر کیا جائےاور یہ ان مہاجرین کے مابین ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ میں رغبت اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کی خاطر، اپنے محبوب و مالوف گھر بار، وطن، دوستوں اور احباب کو چھوڑ دیا۔ یہی لوگ سچے ہیں، جنھوں نے اپنے ایمان کے تقاضے کے مطابق عمل کیا، اعمال صالحہ اور مشقت آمیز عبادت کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی بخلاف ان لوگوں کے جنھوں نے ایمان کا دعویٰ کیا مگر ہجرت اور جہاد وغیرہ عبادات کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق نہ کی، نیز انصار یعنی اوس اور خزرج کے مابین ہیں جو اپنی خوشی، محبت اور اختیار سے ایمان لائے۔ جب عرب کے تمام شہر دارالحرب، شرک اور شر کا گڑھ تھے تب انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو پناہ دی، سرخ و سیاہ سے آپ کی حفاظت کی، دار ہجرت و ایمان میں اقامت کی یہاں تک کہ دار ہجرت ایک ایسا مرجع بن گیا جس کی طرف مومنین رخ کرتے تھے، جہاں مہاجرین پناہ لیتے اور اس کی چراگاہوں میں مسلمان سکونت اختیار کرتے۔ پس دین کی مدد کرنے والے انصار کے پاس پناہ لیتے رہے، یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا، اس نے طاقت پکڑ لی اور اس میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا گیا، حتیٰ کہ مسلمانوں نے علم و ایمان اور قرآن کے ذریعے سے دلوں کو اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے شہروں کو فتح کر لیا جن کے جملہ اوصاف جمیلہ یہ ہیں:﴿يُحِبُّوۡنَ مَنۡ هَاجَرَ اِلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں، اس کے احباب سے محبت کرتے ہیں اور ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو اس کے دین کی مدد کرتے ہیں۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ حَاجَةً مِّؔمَّاۤ اُوۡتُوۡا﴾’’اور و ہ اپنے دلوں میں اس (مال) کی کوئی حاجت نہیں پاتے جو ا ن (مہاجرین) کو دیا جائے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مہاجرین کو جو کچھ عطا کیا ہے اور ان کو جن فضائل و مناقب سے مختص کیا جن کے وہ اہل ہیں، وہ ان پر حسد نہیں کرتے۔ یہ آیت کریمہ ان کے سینے کی سلامتی، ان میں بغض، کینہ اور حسد کے عدم وجود پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ مہاجرین، انصار سے افضل ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذکر کو مقدم رکھا ہے۔نیز آگاہ فرمایا کہ مہاجرین کو جو کچھ عطا کیا گیا انصار اس کے بارے میں اپنے دلوں میں کوئی حسد محسوس نہیں کرتے۔ یہ آیت کریمہ یہ بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کو وہ فضائل عطا کیے جو انصار اور دیگر لوگوں کو عطا نہیں کیے کیونکہ انھوں نے نصرت دین اور ہجرت کو جمع کیا۔ ﴿وَيُؤۡثِرُوۡنَ عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ﴾ ’’اور اپنی ذات پر (ان کو)ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود انھیں سخت ضرورت ہو۔‘‘ یعنی انصار کے اوصاف میں سے ایک وصف ایثار ہے، جس کی بنا پر وہ دوسروں پر فوقیت رکھتے ہیں اور ان سے ممتاز ہیں، اور یہ کامل ترین جود و سخا ہے اور نفس کے محبوب اموال وغیرہ میں ایثار کرنا اور ان اموال کے خود حاجت مند بلکہ ضرورت مند اور بھوکے ہونے کے باوجود دوسرے پر خرچ کرنا، یہ وصف اخلاق زکیہ، اللہ تعالیٰ سے محبت، پھر شہوات نفس اور اس کی لذات پر اس کی محبت کو مقدم رکھنے ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔جملہ واقعات میں اس انصاری کا قصہ بھی بیان کیا جاتا ہے جس کے سبب سے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ہے جب اس نے اپنے اور اپنے گھر والوں کے کھانے میں اپنے مہمان کو ترجیح دی اور تمام گھر والوں اور بچوں نے رات بھوکے بسر کی۔(اِیثَارٌ) ’’ترجیح دینا‘‘ (اَثْرَۃٌ ) ’’خود غرضی‘‘ کی ضد ہے۔ ایثار قابل تعریف وصف ہے اور خود غرضی مذموم ہے کیونکہ یہ بخل اور حرص کے خصائل کے زمرے میں آتی ہے ، اور جسے ایثار عطا کیا گیا اسے نفس کے بخل و حرص سے بچا لیا گیا۔ ﴿وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح یاب ہیں۔‘‘ اور نفس کے حرص سے بچنے میں ان تمام امور میں حرص سے بچنا شامل ہے جن کا حکم دیا گیا ہے، جب بندہ نفس کی حرص سے بچ گیا، تو اس کے نفس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام آسان لگتے ہیں وہ خوشی سے سر تسلیم خم کرتے ہوئے انشراح صدر کے ساتھ ان کی تعمیل کرتا ہے، اور نفس کے لیے ان تمام امور کو ترک کرنا سہل ہو جاتا ہے، جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، خواہ یہ نفس کے محبوب امور ہی کیوں نہ ہوں اور نفس ان کی طرف بلاتا اور ان کی طرف رغبت کیوں نہ دلاتا ہو۔ اس شخص کے نفس کے لیے، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر، اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنا آسان ہو جاتا ہے، اور اسی سے فوز و فلاح حاصل ہوتی ہے، برعکس اس شخص کے جو نفس کے بخل و حرص سے بچا ہوا نہیں بلکہ بھلائی کے بارے میں حرص کی بیماری میں مبتلا ہے، اور یہ حرص شر کی جڑ اور اس کی بنیاد ہے۔پس اہل ایمان کی یہ دو فضیلت والی، پاک اصناف ہیں اور وہ صحابہ کرام اور ائمہ اعلام ہیں جنھوں نے سابقیت کے اوصاف، فضائل اور مناقب کو جمع کر لیا ان کے بعد کسی نے ان سے سبقت نہیں کی۔ صحابہ کرام y نے بھلائی میں پہلے لوگوں کو جا لیا اور اس طرح وہ مومنوں کے سربراہ، مسلمانوں کے سردار اور اہل تقویٰ کے قائد بن گئے۔ ان کے بعد آنے والوں کے لیے یہی فضیلت کافی ہے کہ وہ ان کے نقش قدم پر چلیں اور ان کے طریق کو راہ نما بنائیں۔ اس لیے بعد میں آنے والوں میں سے جو کوئی ان کو راہ نما بناتا ہے، اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [10]﴿ وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ﴾ یعنی جو(اہل ایمان)مہاجرین و انصار کے بعد آئے ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ اپنی اور تمام مومنین کی خیر خواہی کے لیے کہتے ہیں ﴿ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ﴾ ’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں۔‘‘ یہ دعا تمام گزرے ہوئے اہل ایمان، صحابہ، ان سے پہلے اور ان کے بعد آنے والے تمام اہل ایمان کو شامل ہے۔یہ ایمان کی فضیلت ہے کہ اہل ایمان ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایمان میں مشارکت کے سبب سے ایک دوسرے کے لیے دعا کرتے ہیں، ایمان مومنین کے درمیان اخوت کا تقاضا کرتا ہے، جس کی فروع میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے دعا کریں اور ایک دوسرے سے محبت کریں۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دعا میں قلب سے کینہ کی نفی کا ذکر فرمایا جو قلیل و کثیر ہر قسم کے کینہ کو شامل ہے، جب کینہ کی نفی ہو گئی تو اس کی ضد ثابت ہو گئی اور وہ ہے اہل ایمان کے مابین محبت و موالات اور خیر خواہی وغیرہ، جو اہل ایمان کے حقوق شمار ہوتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام y کے بعد آنے والوں کو ایمان کے وصف سے موصوف کیا ہے، کیونکہ ان کا قول ﴿ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ﴾ ایمان میں ان کی مشارکت پر دلالت کرتا ہے۔ نیز اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ عقائد، ایمان اور اس کے اصول میں صحابہ کرام کی پیروی کرنے والے ہیں اور وہ ہیں اہل سنت و الجماعت، کیونکہ یہ وصف تام صرف انھی پر صادق آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گناہوں کے اقرار اور پھر ان گناہوں سے استغفار کے ساتھ موصوف کیا ہے۔ نیز یہ کہ وہ ایک دوسرے کے لیے استغفار کرتے ہیں اور مومن بھائیوں کے خلاف کینہ اور حسد کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ ان کا اس چیز کی دعا کرنا ان امور کو مستلزم ہے اور جن کا ہم نے ذکر کیا ہے اور ان کے ایک دوسرے سے محبت کرنے کو مستلزم ہے اور اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ ان میں سے کوئی اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، اس کی موجودگی اور عدم موجودگی میں، اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد اس کی خیر خواہی کرے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ یہ سب کچھ اہل ایمان کے ایک دوسرے پر جملہ حقوق ہیں، پھر انھوں نے اپنی دعا کو اللہ تعالیٰ کے دو اسمائے کریمہ پر ختم کیا جو اللہ تعالیٰ کے کمال رحمت اور شدت رأفت و احسان پر دلالت کرتے ہیں، اس کے جملہ احسانات میں سے بلکہ ان میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کواپنے حقوق اور اپنے بندوں کے حقوق قائم کرنے کی توفیق سے بہرہ ور کیا۔ یہ تین اصناف کے لو گ اسی امت کے لوگ ہیں جو فَے کے مستحق ہیں جس کا مصرف اسلام کے مصالح کی طرف راجع ہےاور وہی لوگ اس کی اہلیت رکھتے ہیں جو اس کے اہل ہیں ۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی ان میں شامل کرے۔ [11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال پر تعجب کا اظہار فرمایا ہےجنھوں نے اپنے اہل کتاب بھائیوں کو اپنی مدد اور اہل ایمان کے خلاف موالات کا لالچ دیاتھا، وہ ان سے کہہ رہے تھے:﴿ لَىِٕنۡ اُخۡرِجۡتُمۡ لَنَخۡرُجَنَّ مَعَكُمۡ وَلَا نُطِيۡعُ فِيۡكُمۡ اَحَدًا اَبَدًا﴾ ’’اگر تم نکال دیے گئے تو ہم بھی تمھارے ساتھ ہی نکلیں گے۔ اور تمھارے بارے میں کبھی کسی کا کہنا نہیں مانیں گے۔‘‘ یعنی تمھاری نصرت و مدد کے بارے میں جو کوئی ہمیں برا بھلا کہے گا یا ڈرائے گا، ہم تمھاری عدم نصرت میں اس کی اطاعت نہیں کریں گے ﴿ وَّاِنۡ قُوۡتِلۡتُمۡ لَنَنۡصُرَنَّـكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو یقیناً ہم تمھاری مدد کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس وعدے میں جھوٹے ہیں، جس کے ذریعے سے انھوں نے اپنے بھائیوں کو دھوکے میں مبتلا کیا ان کے اس جھوٹے وعدے کو زیادہ اہمیت نہ دیں، کیونکہ جھوٹ ان کا وصف، فریب اور دھوکہ ان کے ساتھی، نفاق اور بزدلی ان کے دوست ہیں۔ [12] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کی تکذیب کی ہے جس ارشاد کو اس شخص نے ویسے ہی پایا جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی تھی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَىِٕنۡ اُخۡرِجُوۡا﴾ یعنی اگر ان کو جلا وطن کرنے کے لیے ان کے گھروں سے نکالا جائے ﴿ لَا يَخۡرُجُوۡنَ مَعَهُمۡ﴾ تو اپنے وطن کی محبت، قتال پر ان کے عدم صبر اور اپنے وعدے کے عدم ایفا کی بنا پر وہ ان کے ساتھ ہرگز نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَلَىِٕنۡ قُوۡتِلُوۡا لَا يَنۡصُرُوۡنَهُمۡ۠﴾ ’’اور اگر ان سے لڑائی ہوئی تو وہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔‘‘ بلکہ ان پر بزدلی غالب آ جائے گی اور کمزوری قبضہ کرے گی اور وہ اپنے بھائیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیں گے جو ان کے سب سے زیادہ محتاج ہوں گے۔ ﴿ وَلَىِٕنۡ نَّصَرُوۡهُمۡ﴾ اور فرض کیا اگر انھوں نے ان کی مدد کی۔ ﴿ لَيُوَلُّنَّ الۡاَدۡبَارَؔ١۫ ثُمَّ لَا يُنۡصَرُوۡنَ﴾ تو وہ قتال اور ان کی مدد سے پیٹھ پھیرلیں گے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی مدد حاصل نہیں ہو گی۔ [13] اے مومنو! وہ سبب جس نے ان کو اس امر پر آمادہ کیا ہے، یہ ہے کہ ﴿ اَشَدُّ رَهۡبَةً فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’تمھاری ہیبت ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی ہیبت سے بڑھ کر ہے۔‘‘ اس لیے جتنا وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اس سے بڑھ کر وہ تم سے ڈرتے ہیں۔ پس انھوں نے مخلوق کے خوف کو، جو خود اپنے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتی، خالق کے خوف پر مقدم رکھا ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ ’’یہ اس لیے کہ یہ بے سمجھ لوگ ہیں۔‘‘ یعنی وہ امور کے مراتب کو نہیں سمجھتے۔ وہ اشیاء کے حقائق کی معرفت رکھتے ہیں نہ وہ انجام کا تصور کر سکتے ہیں۔ کامل ترین سمجھ اور تفقہ یہ ہے کہ خالق کے خوف، اس پر امید اور اس کی محبت کو، غیر کے خوف، امید اور محبت پر مقدم رکھا جائے، غیر کا خوف، امید اور محبت، خالق کے خوف، امید اور محبت کے تابع ہو۔ [14]﴿ لَا يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’وہ سب مل کر بھی تم سے نہیں لڑسکیں گے۔‘‘ یعنی اجتماعی حالت میں تم سے قتال نہیں کریں گے۔﴿ اِلَّا فِيۡ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوۡ مِنۡ وَّرَآءِ جُدُرٍ﴾ ’’مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کی اوٹ سے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے خلاف لڑائی میں ثابت قدم رہ سکتے ہیں نہ اس پر عزم کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، مگر صرف اس صورت میں جب وہ بستیوں میں قلعہ بند ہو کر لڑ رہے ہوں یا دیواروں اور فصیلوں کے پیچھے سے لڑ رہے ہوں۔ تب اس صورت میں، ان کو اپنی شجاعت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے قلعوں اور فصیلوں کے سہارے، بسا اوقات حفاظت حاصل ہو جاتی ہے، اور یہ سب سے بڑی مذمت ہے۔ ﴿ بَاۡسُهُمۡ بَيۡنَهُمۡ شَدِيۡدٌ﴾ ’’ان کی آپس میں لڑائی بہت سخت ہوتی ہے۔‘‘ ان کے بدن میں کوئی آفت ہے نہ ان کی قوت میں، آفت تو ان کے ضعف ایمان اور ان کے کلمہ کے عدم اجتماع میں ہے۔ بنابریں فرمایا :﴿ تَحۡسَبُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ جب آپ انھیں مجتمع اور ایک دوسرے کی مدد کرتے دیکھتے ہیں تو انھیں متحد سمجھتے ہیں۔ ﴿ وَّقُلُوۡبُهُمۡ شَتّٰى﴾ مگر ان کے دل ایک دوسرے کے خلاف بغض رکھنے والے، متفرق اور متَشَتّت ہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ﴾ ’’یہ‘‘ جس نے انھیں مذکورہ صفات سے متصف کیا ہے ﴿ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’اس سبب سے ہے کہ وہ عقل و خرد نہیں رکھتے۔‘‘اگر وہ عقل سے بہرہ ور ہوتے، تو فاضل کو مفضول پر ترجیح دیتے اور اپنے لیے ناقص ترین حصے پر راضی نہ ہوتے، ان میں اتحاد ہوتا اور ان کے دل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے، اور یوں وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے، ایک دوسرے کو مضبوط کرتے اور اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ایک دوسرے کے معاون بنتے۔ اس قسم کے لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے اہل کتاب میں سے ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی خاطر انتقام لیا اور انھیں دنیا کی زندگی کی رسوائی کا مزا چکھایا۔ [15] ان لوگوں کی مدد کا معدوم ہونا جنھوں نے ان کے ساتھ معاونت کا وعدہ کیا تھا ﴿ كَمَثَلِ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ قَرِيۡبًا﴾ ’’ان کا حال ان لوگ کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر ہوئے۔‘‘ اس سے مراد قریش ہیں، جن کے اعمال کو شیطان نے مزین کیا اور کہا :﴿ لَا غَالِبَ لَكُمُ الۡيَوۡمَ مِنَ النَّاسِ وَاِنِّيۡ جَارٌ لَّـكُمۡ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَؔتِ الۡفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيۡهِ وَقَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكُمۡ اِنِّيۡۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوۡنَ﴾(الانفال: 8؍48) ’’آج لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا، اور میں تمھارا ساتھی ہوں، جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں تو الٹے پاؤ ں بھاگ نکلا اور کہنے لگا: میں تم سے بری الذمہ ہوں، میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔‘‘ پس انھوں نے خود اپنے آپ کو فریب دیا اور ان کو فریب دینے والوں نے بھی فریب دیا جو ان کے کام آ سکے نہ ان سے عذاب کو دور کر سکے، حتیٰ کہ وہ بڑے فخر اور بڑے کروفر سے ’’بدر‘‘ کے مقام پر پہنچ گئے، وہ سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ اور مومنوں کو جا لیں گے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں رسولﷺ اور مومنوں کی مدد کی۔ پس ان کے بڑے بڑے سردار قتل کر دیے گے، ان میں کچھ کو قیدی بنا لیا گیا اور کچھ فرار ہو گئے۔اس طرح ﴿ ذَاقُوۡا وَبَالَ اَمۡرِهِمۡ﴾ انھوں نے اپنے شرک اور بغاوت کے وبال کا مزا چکھ لیا۔ یہ سزا دنیا کے اندر ہے ﴿ وَلَهُمۡ ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے ﴿عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ درد ناک عذاب ہے۔ [16] ان منافقین کی مثال جنھوں نے ا پنے اہل کتاب بھائیوں کو دھوکے میں مبتلا کر رکھا ہے ﴿ كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ﴾ ’’ شیطان کی سی ہے کہ وہ انسان سے کہتا رہا کہ کا فر ہوجا۔‘‘ یعنی شیطان نے انسان کے سامنے کفر کو مزین کر کے خوبصورت بنا دیا اور اسے کفر کی طرف دعوت دی۔ جب انسان نے دھوکے میں مبتلا ہو کر کفر کا ارتکاب کیا اور اسے بدبختی حاصل ہوئی، تو شیطان اس کے کسی کام نہ آیا جس نے اس کی سرپرستی کی تھی اور کفر کی طرف دعوت دی تھی بلکہ شیطان نے اس سے براء ت کا اظہار کیا اور ﴿قَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكَ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کہا کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔‘‘یعنی مجھے تجھ سے عذاب کو دور ہٹانے کی کوئی قدرت اور اختیار حاصل نہیں، میں ذرہ بھر بھلائی کے لیے تیرے کوئی کام نہیں آ سکتا۔ [17]﴿ فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ ﴾ ’’پس ان دونوں کا انجام یہ ہوا۔‘‘ یعنی داعی جو کہ شیطان ہے اور مدعو جو کہ انسان ہے، جبکہ وہ شیطان کی اطاعت کرے ﴿اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيۡنِ فِيۡهَا﴾ ’’دونوں جہنم میں ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر:35؍6) ’’وہ تو اپنے گروہ کو اس لیے دعوت دیتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور یہی ہے بدلہ ظالموں کا۔‘‘ جنھوں نے ظلم اور کفر میں اشتراک کیا، اگرچہ ان کے لیے عذاب کی شدت مختلف ہو گی۔شیطان کا اپنے تمام دوستوں کے ساتھ یہی رویہ ہے، وہ ان کو دعوت دیتا ہے اور فریب سے انھیں ایسے امور کے قریب لے آتا ہے جو ان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جب وہ جال میں پھنس جاتے ہیں اور ہلاکت کے اسباب انھیں آ گھیرتے ہیں تو ان سے بری ٔالذمہ ہو کر ان سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ ہر قسم کی ملامت ہے اس شخص پر جو اس کی اطاعت کرتا ہے، کیونکہ اللہ نے اس سے بچنے کے لیے کہا ہے، اس سے ڈرایا ہے اور اس کے اغراض و مقاصد سے خبردار کیا ہے، پس اس کی اطاعت کرنے والا واضح طور پر اللہ تعالیٰ کا نا فرمان ہے، اس کے پاس کوئی عذر نہیں۔

الحشر 59:2

تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو چیز ہے زمین میں، اور وہ بڑا زبردست ، خوب حکمت والا ہے(1) وہ، وہ ذات ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے، ان کے گھروں سے، وقت پہلی جلا وطنی کے نہیں گمان کیا تھا تم نے (کبھی بھی) یہ کہ وہ نکلیں گے اور انھوں نے سمجھا تھا کہ بے شک وہ، بچا لیں گے ان کو ان کے قلعے اللہ (کے عذاب) سے پس آیا ان پر اللہ (کا عذاب) جہاں سے نہیں گمان کیا تھا انھوں نے، اور اس نے ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، اجاڑتے تھے وہ اپنے گھر اپنے ہاتھوں سے اور مومنوں کے ہاتھوں سے بھی،پس تم عبرت پکڑو اے آنکھوں والو!(2) اور اگرنہ ہوتی یہ بات کہ لکھ دیا تھا اللہ نے ان پر جلا وطن ہونا تو وہ ضرور عذاب دیتا ان کو دنیا ہی میں اور ان کے لیے آخرت میں عذاب ہے آگ کا(3) یہ اس لیے کہ بے شک انھوں نے مخالفت کی اللہ اور اس کےرسول کی، اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ کی تو بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(4) جو کاٹا تم نے کوئی کھجور کا درخت یا چھوڑ دیا تم نے اسے قائم اس کی جڑوں پر، تو (یہ سب) اللہ کے حکم سے ہے، اور تاکہ وہ رسوا کرے فاسقوں کو(5) اور جو لوٹایا اللہ نے اوپر اپنے رسول کے ان (کے مال) سے، پس نہیں دوڑائے تم نے اس پر کوئی گھوڑے اور نہ اونٹ، اور لیکن اللہ غالب کرتا ہے اپنے رسولوں کو اوپر جس کے وہ چاہتا ہے اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(6) جو لوٹایا اللہ نے اوپر اپنے رسول کے بستیوں والوں (کے مال) سے تو (وہ) اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور (رسول کے) قرابت داروں کے لیے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ نہ ہو وہ (مال) گردش کرنے والا درمیان دولت مندوں ہی کے تم میں سے، اور جو کچھ دے تمھیں رسول تو تم لے لو اس کو اور جو کچھ کہ وہ روک دے تمھیں اس سے تو تم رک جاؤ اور ڈرو اللہ سے، بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(7)(مال فَے) فقراء مہاجرین کے لیے ہے وہ جو نکالے گئے اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے اس حال میں کہ وہ تلاش کرتے ہیں فضل اللہ کا اور رضا مندی، اور وہ مدد کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی، یہی لوگ تو سچے ہیں(8) اور (ان کے لیے ہے) جنھوں نے بنا لیا تھا (مدینہ کو) گھر اور (قبول کر لیا تھا) ایمان ان (کی ہجرت) سے پہلے، وہ (انصار) محبت کرتے ہیں اس سے جو ہجرت کرے ان کی طرف اور نہیں پاتے وہ اپنے سینوں میں کوئی حاجت (حسد) اس سے جو دیے جائیں وہ (مہاجرین) اور وہ ترجیح دیتے ہیں (ان کو) اوپر اپنے نفسوں کے، اگرچہ ہو خود ان کو سخت حاجت اور جو کوئی بچا لیا گیا بخیلی سے اپنے نفس کی پس یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(9) اور (ان کے لیے ہے) جو آئے ان کے بعد، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! بخش دے ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو جنھوں نے پہل کی ہم سے ایمان (لانے) میں اور نہ رکھ تو ہمارے دلوں میں کینہ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اے ہمارے رب! بلاشبہ تو بہت شفقت کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (10) کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے منافقت کی، وہ کہتے ہیں اپنے ان بھائیوں سے جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے، البتہ اگر نکالے گئے تم تو ہم ضرور نکلیں گے تمھارے ساتھ اور نہیں اطاعت کریں گے ہم تمھارے معاملے میں کسی کی کبھی بھی، اور اگر لڑائی کیے گئے تم تو ہم ضرور مدد کریں گے تمھاری اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں (11) البتہ اگر نکالے گئے وہ تو نہیں نکلیں گے یہ ان کے ساتھ اور اگر لڑائی کیے گئے وہ تو نہیں مدد کریں گے وہ ان کی، اور البتہ اگر وہ مدد کریں گے بھی ان کی تو ضرور پھیر جائیں گے وہ پیٹھیں ، پھر نہیں مدد کیے جائیں گے وہ (12) البتہ تم (اے مسلمانو!) زیادہ ہو باعتبار ہیبت کے ان کے دلوں میں بنسبت اللہ کے، یہ اس لیے کہ بے شک وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہیں سمجھتے (13) نہیں لڑیں گے وہ تم سے سب مل کر بھی مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کے پیچھے سے، ان کی لڑائی(عداوت) آپس میں بہت سخت ہے آپ گمان کرتے ہیں ان کو اکٹھے جبکہ ان کے دل جدا جدا ہیں، یہ بوجہ اس کےکہ بلاشبہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہیں عقل رکھتے (14) مانند صفت ان لوگوں کے جو ان سے پہلے ہوئے قریب ہی، چکھ لیا انھوں نے وبال اپنے کام (کفر) کا اور ان کے لیے ہے عذاب درد ناک (15)(ان کی مثال) مانند حالت شیطان کے ہے جب وہ کہتا ہے انسان کو کہ تو کفر کر، پس جب وہ کفر کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے بلاشبہ میں تو بری ہوں تجھ سے بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے (16) پھر ہوتا ہے ان دونوں کا انجام کہ بلاشبہ وہ دونوں ہی آگ میں ہوں گے، ہمیشہ رہیں گے اس میں اور یہی ہے جزا (سزا) ظالموں کی (17) تفسیر سورۂ حشر اس سورۂ مبارکہ کو ’’سورۂ بنی نضیر‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ بنو نضیر یہودیوں کا ایک بڑا قبیلہ تھا جو نبی ٔاکرمﷺ کی بعثت کے وقت مدینہ کے مضافات میں آباد تھا۔ جب نبی ٔاکرمﷺ مبعوث ہوئے اور آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو انھوں نے جملہ یہود کے ساتھ آپ کی نبوت کا انکار کر دیا، نبی ٔاکرم ﷺ نے یہود کے ان قبائل کے ساتھ معاہدہ کیا جو مدینہ منورہ میں آپ کے پڑوس میں آباد تھے۔ غروۂ بدر کے تقریباً چھ ماہ بعد نبی اکرم ﷺ ان کے پاس گئے اور ان سے گفتگو کی کہ (معاہدے کے مطابق) وہ ان کلابیوں کی دیت کے بارے میں آپ کی مدد کریں، جن کو عمرو بن امیہ ضمری نے قتل کیا تھا۔ انھوں نے کہا ’’اے ابوالقاسم! ہم آپ کی مدد کریں گے آپ یہاں بیٹھیے، یہاں تک کہ ہم آپ کے لیے دیت اکٹھی کردیں، چنانچہ وہ تنہائی میں ایک دوسرے سے ملے اور شیطان نے ان کے لیے اس بدبختی کو آسان بنا دیا جو ان کے لیے لکھ دی گئی تھی، چنانچہ انھوں نے آپ کے قتل کی سازش کی اور آپ کے بارے میں کہنے لگے ’’تم میں سے کون ہے جو اس چکی کو اٹھائے چھت پر چڑھ کر آپ کے سر پر دے مارے اور اس سے آپ کا سر کچل ڈالے؟‘‘ان میں سے بدبخت ترین شخص عمرو بن جحاش نے کہا: ’’یہ کام میں کروں گا‘‘ سَلَام بِن مِشْکَمْ نے ان سے کہا ’’یہ کام نہ کرواللہ کی قسم! تمھارے ارادے سے اسے ضرور آگاہ کر دیا جائے گا، اور یہ اس معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے جو ہمارے اور اس کے درمیان ہوا ہے۔‘‘ انھوں نے جو سازش کی تھی اس کے بارے میں آپ پر فوراً وحی نازل ہو گئی، آپ جلدی سے وہاں سے اٹھ گئے اور مدینہ کا رخ کیا اور آپ کے صحابہ بھی (جو ساتھ گئے تھے) آپ سے مل گئے اور عرض کیا ’’آپ وہاں سے اٹھ آئے اور ہمیں خبر بھی نہ ہوئی۔‘‘ آپ نے انھیں اس سازش کے بارے میں آگاہ فرمایا جو یہودیوں نے آپ کے خلاف کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو پیغام بھجوایا کہ ’’مدینہ سے نکل جاؤ اور اس میں مت رہو، میں تمھیں دس دن کی مہلت دیتا ہوں، اس کے بعد میں نے جس کسی کو مدینہ میں پایا، اس کی گردن مار دوں گا۔‘‘ بنونضیر مدینہ منورہ میں کچھ دن ٹھہرے اور (وہاں سے نکلنے کی) تیاری کرتے رہے، عبداللہ بن ابی ابن سلول منافق نے ان کو پیغام بھجوایا ’’اپنے گھروں سے مت نکلو، میرے ساتھ دو ہزار آدمی ہیں جو تمھارے ساتھ تمھارے قلعے میں داخل ہوں گے اور تمھاری خاطر اپنی جان دیں گے، بنوقریظہ اور بنوغطفان میں سے تمھارے حلیف بھی تمھاری مدد کریں گے۔‘‘ بنونضیر کا سردار حُیَي بن اخطب، عبداللّٰہ بن اُبَّی کے کہنے میں آ گیا اور رسول اللہ ﷺ کو کہلا بھیجا ’’ہم اپنے گھروں سے نہیں نکلیں گے، جو چاہو کر لو‘‘ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور یہود کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت علیt نے جھنڈا اٹھا رکھا تھا۔ یہودی اپنے قلعوں میں مقیم ہو کر پتھر اور تیر پھینکنے لگے، بنوقریظہ ان سے الگ ہو گئے، عبداللہ بن ابی اور بنو غطفان میں سے ان کے حلیفوں نے بھی ان سے خیانت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کر لیا، ان کے کھجوروں کے باغات کاٹ کر نذر آتش کر دیے، بنونضیر نے پیغام بھیجا کہ ہم مدینہ سے نکل جائیں گے، رسول اللہ ﷺ نے ان پر یہ شرط عائد کی کہ وہ اپنی اولاد کو لے کر نکل جائیں اور اسلحہ کے سوا وہ سب کچھ لے جائیں جو ان کے اونٹ اٹھا سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے مال اور اسلحہ کو اپنے قبضے میں لے لیا۔بنونضیر کے اموال خالص رسول اللہ ﷺ کی مہمات اور مسلمانوں کے مصالح کے لیے تھے، آپ نے اس مال میں سے خمس نکالا، کیونکہ یہ مال اللہ تعالیٰ نے آپ کو دلوایا تھا، مسلمانوں نے گھوڑوں اور اونٹوں کے ساتھ ان پر چڑھائی نہیں کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے بنونضیر کو خیبر کی طرف جلا وطن کر دیا، ان میں ان کا سردار حُیَيبن اخطب بھی شامل تھا اور ان کی اراضی اور گھروں پر قبضہ کر لیا۔ نیز ان کے اسلحہ کو بھی قبضہ میں لے لیا، اسلحہ میں پچاس زر ہیں، پچاس خود اور تین سو چالیس تلواریں ہاتھ لگیں۔ یہ ہے بنونضیر کے قصے کا ماحصل جیسا کہ اسے اہل سیرت نے بیان کیا ہے۔ [1] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کے ساتھ اس سورۂ مبارکہ کا افتتاح کیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے اور اس وصف سے اس کو منزہ قرار دے رہی ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں ،وہ اس کی عبادت کر رہی ہے اور اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہے کیونکہ وہ غلبے والا ہے اور ہر چیز پر غالب ہے، کوئی چیز اس سے بچ سکتی ہے نہ کوئی ہستی اس کی نافرمانی کر سکتی ہے۔ وہ اپنی تخلیق و امر میں حکمت رکھنے والا ہے، وہ کوئی چیز عبث پیدا کرتا ہے نہ کوئی ایسا امر مشروع کرتا ہے جس میں کوئی مصلحت نہ ہو اور نہ کوئی ایسا فعل سرانجام دیتا ہے جو اس کی حکمت کے تقاضے کے مطابق نہ ہو۔ [2] یہ اس کی حکمت ہے کہ جب اہل کتاب میں سے بنونضیر نے اس کے رسول کے ساتھ بدعہدی کی تو اس نے ان کے مقابلے میں اپنے رسول ﷺ کی مدد کی پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گھروں اور وطن سے نکال دیا، جن سے وہ محبت کرتے تھے، ان کا اپنے گھروں اور وطن سے نکالا جانا اولین جلا وطنی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں خیبر کی طرف مقدر ٹھہرائی۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اس جلا وطنی کے علاوہ بھی ان کو جلا وطنی کا سامنا کرنا پڑا اور یہ وہ جلا وطنی ہے جو خیبر سے رسول اللہﷺ کے ہاتھوں واقع ہوئی، پھر حضرت عمرt نے (اپنے عہد خلافت میں)بقیہ تمام یہودیوں کو خیبر سے نکال دیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَا ظَنَنۡتُمۡ﴾ اے مسلمانو! تمھارے خیال میں بھی نہ تھا ﴿ اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا﴾ کہ وہ اپنے گھروں سے نکل جائیں گے، کیونکہ ان کے گھر محفوظ اور مصئو ن تھے اور ان میں عزت اور غلبے کے ساتھ رہتے تھے ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مَّؔانِعَتُهُمۡ حُصُوۡنُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ گمان کر رہے تھے کہ ان کے قلعے انھیں اللہ سے بچالیں گے۔‘‘ انھیں ان قلعوں پر بہت غرور تھا، ان قلعوں نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر رکھا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ان قلعوں کی وجہ سے ان تک پہنچا جا سکتا ہے نہ ان پر کوئی قابو پا سکتا ہے۔ اس کے ماوراء اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا امر مقدر کر دیا، جس سے انھیں ان کی محفوظ پناہ گاہیں بچاسکیں نہ قلعے، اور نہ قوت اور مدافعت ہی کام آسکی۔اس لیے فرمایا:﴿ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ حَيۡثُ لَمۡ يَحۡتَسِبُوۡا﴾ ’’پس اللہ نے انھیں وہاں سے آلیا جہاں سے انھیں گمان بھی نہیں تھا۔‘‘ یعنی اس طریقے اور اس راستے سے جس کے بارے میں انھیں وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہاں سے ان کو آ لیا جائے گا۔ اور وہ یہ بات تھی ﴿ وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ﴾ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، اس سے مراد شدید خوف ہے جو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی سپاہ ہے، جس کے سامنے تعداد اور ساز و سامان کوئی فائدہ دیتا ہے نہ طاقت اور بہادری کوئی کام آتی ہے۔وہ معاملہ جس کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ اگر کوئی خلل داخل ہوا تو اس راستے سے داخل ہو گااور وہ ان کے قلعے تھے جہاں داخل ہو کر وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگے اور ان قلعوں پر ان کے دل مطمئن تھے۔ جو کوئی غیر اللہ پر بھروسہ کرتا ہے وہ بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور جو کوئی غیر اللہ کا سہارا لیتا ہے تو یہ اس کے لیے وبال بن جاتا ہے۔ پس ان کے پاس ایک آسمانی معاملہ آیا اور ان کے دلوں میں نازل ہوا، جو صبر و ثبات اور بز دلی و کمزوری کا محل و مقام ہوتے ہیں، چنانچہ اس نے ان کی قوت اور بہادری کو زائل کر دیا اور اس کی جگہ کمزوری اور بز دلی دے دی جس کو دور کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی حیلہ نہ تھا اور یہ چیز ان کے خلاف (مسلمانوں کی)مددگار بن گئی۔ بنابریں فرمایا :﴿ يُخۡرِبُوۡنَ بُيُوۡتَهُمۡ بِاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَيۡدِي الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ اور وہ یہ کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے اس شرط پر مصالحت کی کہ ان کے اونٹ جو کچھ اٹھائیں سب ان کا ہے۔ اس بنا پر انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے گھروں کی چھتوں کو اکھاڑ ڈالا جو انھیں بہت اچھی لگتی تھیں اور اپنی سر کشی کی بنا پر اپنے گھروں کے برباد کرنے اور اپنے قلعوں کے منہدم کرنے پر مسلمانوں کو مسلط کر دیاتو یہ وہی ہیں جنھوں نے خود اپنے خلاف جرم کیا اور ان قلعوں اور گھروں کو برباد کرنے میں مددگار بنے۔ ﴿ فَاعۡتَبِرُوۡا يٰۤاُولِي الۡاَبۡصَارِ﴾ پس اے اہل بصیرت عبرت یعنی معاملات کی گہرائی میں اتر جانے والی بصیرت اور کامل عقل والو! عبرت حاصل کرو کیونکہ اس واقعہ میں عبرت ہے، اس سے ان معاندین حق کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سلوک کی معرفت حاصل ہوتی ہے، جو اپنی خواہشات نفس کے پیچھے چلتے ہیں، جن کی عزت نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ طاقت انھیں بچا سکی، جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کا حکم آ گیا اور ان کے گناہوں کی پاداش میں عذاب آ پہنچا، تو ان کے قلعے ان کی حفاظت نہ کر سکے، لہٰذا اعتبار الفاظ کے عموم کا ہوتا ہے نہ کہ اسباب کے خصوص کا، چنانچہ یہ آیت کریمہ عبرت حاصل کرنے کے حکم پر دلالت کرتی ہے اور وہ ہے نظیر کے ذریعے سے اس کے نظیر سے عبرت حاصل کرنا اور کسی چیز کو اس چیز پر قیاس کرنا جو اس سے مشابہت رکھتی ہے، اسی عبرت سے عقل کی تکمیل اور بصیرت روشن ہوتی ہے، ایمان میں اضافہ اور حقیقی فہم حاصل ہوتا ہے۔ [3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان یہودیوں کو وہ پوری سزا نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا میں تخفیف کر دی ہے۔ فرمایا:﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمُ الۡجَلَآءَؔ﴾ اور اگر اللہ نے ان پر جلاوطنی نہ لکھی ہوتی جس کا انھیں سامنا کرنا پڑا جس کا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایسی قضا و قدر کے ذریعے سے فیصلہ کیا جس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا تو دنیا کے اندر ان کی سزا اور عذاب کا معاملہ اور ہوتا۔ اگرچہ وہ دنیا کے اندر سخت عذاب سے بچ گئے، تاہم آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہےجس کی سختی کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے ممکن نہیں، لہٰذا کبھی ان کے خواب و خیال میں یہ بات نہ آئے کہ ان کی سزا پوری ہو گئی، انھوں نے بھگت لی اور اس سزا میں سے کچھ باقی نہیں بچا۔ پس وہ عذاب جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آخرت میں تیار کر رکھا ہے، زیادہ بڑا اور زیادہ مصیبت کا حامل ہے۔ [4]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺکی مخالفت کی، ان کے ساتھ دشمنی کی، ان کے خلاف جنگ کی اور ان کی نافرمانی میں بھاگ دوڑ کی۔(ان سے جو کچھ ہوا ہے)یہ ان لوگوں کے بارے میں سنت الٰہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ﴾ ’’اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ [5] جب بنونضیر نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو کھجوروں کے درخت اور دیگر درخت کاٹنے پر ملامت کی اور اس زعم کا اظہار کیا کہ یہ فساد ہے اور اس بنا پر انھوں نے مسلمانوں کو نشانہ طعن بنایا،تب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اگر مسلمانوں نے کھجور کے درخت کاٹے ہیں، تو ان کو کاٹنا اور اگر ان کو باقی رکھا ہے، تو ان کو باقی رکھنا ﴿ فَبِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ تو یہ اللہ تعالیٰ کے اذن اور حکم سے ہے ﴿ وَلِيُخۡزِيَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اور تاکہ وہ فاسقوں کو رسوا کرے۔‘‘ کیونکہ اس نے ان کے کھجوروں کے باغات کاٹنے اور جلانے کا تمھیں اختیار دیا تاکہ یہ سب کچھ ان کے لیے سزا اور دنیا کے اندر ان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہو جس سے ان کی پوری بے بسی ظاہر ہو، جس کی وجہ سے وہ کھجوروں کے باغات بھی نہ بچا سکے، جو ان کی قوت اور طاقت کا سبب تھے۔(اَللِّینَةُ) صحیح اور راجح ترین احتمال کے مطابق ہر قسم کے کھجور کے درختوں کو شامل ہے۔یہ ہے بنونضیر کا حال، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کے اندر کیسے سزا دی؟ [6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جن کی طرف بنونضیر کا مال و متاع منتقل ہوا ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡهُمۡ﴾ ’’او رجو مال اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلایا۔‘‘ یعنی اس بستی کے لوگوں میں سے، اس سے مراد بنونضیر کے لوگ ہیں ﴿ فَمَاۤ اَوۡجَفۡتُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ خَيۡلٍ وَّلَا رِكَابٍ﴾ یعنی تم نے گھوڑے دوڑائے ہیں نہ لشکر اکٹھے کیے ہیں، یعنی تمھیں لشکر جمع کرنے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑی اور نہ تمھارے مویشیوں ہی کو مشقت کا سامنا کرناپڑا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان (یہودیوں) کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ تمھارے سامنے درگزر اور عفو کی درخواست کرتے ہوئے حاضر ہوئے۔اس لیے فرمایا: ﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ١ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ اور اس کی قدرت کاملہ یہ ہے کہ کوئی بچنے والا اس سے بچ سکتا ہے نہ قوت والا اس کے مقابلے میں غالب آ سکتا ہے۔ [7] فقہاء کی اصطلاح میں فَے سے مراد وہ مال ہے جو حق کے ساتھ کفار سے کسی جنگ کے بغیر حاصل کیا جائے، مثلاً: ’’وہی مال جسے کفار مسلمانوں کے خوف کی بنا پر چھوڑکر فرار ہو گئے۔ اس کو فَے اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ کفار کی طرف سے جو اس مال کے مستحق نہ تھے، مسلمانوں کی طرف لوٹا ہے جو اس پر بہت زیادہ حق رکھتے تھے۔مالِ فَے کا حکم : فَے کا حکم یہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا : ﴿ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى﴾ ’’جو مال اللہ نے بستی والوں سے اپنے رسول کو دلوایا ہے۔‘‘ عمومی طور پر، خواہ رسول اللہ ﷺ کا زمانہ ہو یا آپ کے بعد آپ کی امت میں سے اس شخص کا زمانہ ہو جو امارت کے منصب پر فائز ہو ﴿ فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِـذِي الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ اللہ کے لیے، اللہ کے رسول کے لیے، اور (رسول کے) رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اس آیت کریمہ کی نظیر ہے جو سورۂ انفال میں مذکور ہے، اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِي الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ﴾(الانفال:8؍41) ’’اور جان رکھو! جو چیز تم غنیمت کے طور پر کفار سے حاصل کرو، اس میں سے پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ اور رسول کے لیے اور قرابت داروں، یتیموں، مساکین اور مسافروں کے لیے ہے۔‘‘ فَے کا مال پانچ اصناف میں تقسیم ہوتا ہے:(۱)پانچ حصوں میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے جو مسلمانوں کے مصالح عامہ میں صرف ہوتا ہے۔(۲) دوسرا حصہ، ذوی القربٰی (رسول اللہﷺ کے رشتہ داروں) کے لیے ہے اور ذوی القربٰی سے مراد بنوہاشم اور بنو مطلب ہیں، جہاں کہیں بھی ہوں، ان کے مردوں اور عورتوں میں برابر تقسیم کیا جائے گا۔ بنومطلب خمس وغیرہ کے پانچویں حصے میں بنوہاشم کے ساتھ شریک ہوں گے، بقیہ بنوعبد مناف شریک نہیں ہوں گے کیونکہ جب قریش نے بنوہاشم سے مقاطعت اور عداوت کا معاہدہ کیا تو بنو مطلب بنو ہاشم کے ساتھ شریک تھے اور دوسروں کے برعکس انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی مدد کی۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ نے بنو مطلب کے بارے میں فرمایا: ’’وہ جاہلیت اور اسلام میں کبھی مجھ سے الگ نہیں ہوئے۔‘‘ (مسند أحمد: 81/4 و اصله في صحيح البخاري، فرض الخمس، باب و من الدليل على ان الخمس للإمام، حديث: 3140)(۳)تيسرا حصہ محتاج یتیموں کے لیے ہے۔ یتیم وہ ہے جس کے باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا ہو اور وہ ابھی بالغ نہ ہوا ہو۔(۴)چوتھا حصہ مساکین کے لیے ہے۔(۵) اور پانچواں (آخری) حصہ مسافروں کے لیے ہے۔ اس سے مراد وہ غریب الوطن لوگ ہیں جو اپنے وطن سے کٹ کر رہ گئے ہوں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ حصے اس لیے مقرر فرمائے اور فَے کو صرف انھی معین لوگوں میں محصور کر دیا ﴿ كَيۡ لَا يَكُوۡنَ دُوۡلَةًۢ بَيۡنَ الۡاَغۡنِيَآءِ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تاکہ (مال) تم میں سے دولت مند لوگوں کے ہاتھوں ہی میں گردش نہ کرتا رہے ۔‘‘ اور ان کے سوا عاجز اور بے بس لوگوں کو کچھ حاصل نہ ہو۔ اس میں اس قدر فساد ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی شریعت کی اتباع میں اتنی زیادہ مصلحتیں ہیں جو شمار سے باہر ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک قاعدہ کلیہ اور ایک عام اصول مقرر فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡهُ١ۗ وَمَا نَهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ فَانۡتَهُوۡا ﴾ ’’رسول تمھیں جو دے، وہ لے لو اور جس سے وہ تمھیں روک دے، اس سے رک جاؤ۔‘‘ یہ آیت کریمہ دین کے اصول و فروع اور اس کے ظاہر و باطن سب کو شامل ہے، نیز یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو کچھ لے کر آئے ہیں، اس سے تمسک کرنا اور اس کی اتباع کرنا بندوں پر فرض ہے اور اس کی مخالفت کرنا جائز نہیں۔ نیز اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی چیز کے حکم پر رسول اللہ ﷺ کی نص، اللہ تعالیٰ کی نص کی مانند ہے اور اس کو ترک کرنے میں کسی کے لیے کوئی رخصت اور عذر نہیں اور کسی کے قول کو آپ کے قول پر مقدم رکھنا جائز نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے تقویٰ کا حکم دیا جس سے دنیا و آخرت میں قلب و روح معمور ہوتی ہے، تقویٰ ہی میں دائمی سعادت اور فوز عظیم ہے۔ تقویٰ کو ضائع کرنے میں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ جو کوئی تقویٰ کو ترک کر کے، خواہشات نفس کی پیروی کو ترجیح دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دینے والا ہے۔ [9,8] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نےفَے کے مال کو جن لوگوں کے لیے مقرر فرمایا، اس کے موجب اور اس میں حکمت کا ذکر فرمایا، نیز بیان فرمایا کہ یہی لوگ اعانت کے مستحق ہیں اور اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے فَے میں حصہ مقرر کیا جائےاور یہ ان مہاجرین کے مابین ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ میں رغبت اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کی خاطر، اپنے محبوب و مالوف گھر بار، وطن، دوستوں اور احباب کو چھوڑ دیا۔ یہی لوگ سچے ہیں، جنھوں نے اپنے ایمان کے تقاضے کے مطابق عمل کیا، اعمال صالحہ اور مشقت آمیز عبادت کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی بخلاف ان لوگوں کے جنھوں نے ایمان کا دعویٰ کیا مگر ہجرت اور جہاد وغیرہ عبادات کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق نہ کی، نیز انصار یعنی اوس اور خزرج کے مابین ہیں جو اپنی خوشی، محبت اور اختیار سے ایمان لائے۔ جب عرب کے تمام شہر دارالحرب، شرک اور شر کا گڑھ تھے تب انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو پناہ دی، سرخ و سیاہ سے آپ کی حفاظت کی، دار ہجرت و ایمان میں اقامت کی یہاں تک کہ دار ہجرت ایک ایسا مرجع بن گیا جس کی طرف مومنین رخ کرتے تھے، جہاں مہاجرین پناہ لیتے اور اس کی چراگاہوں میں مسلمان سکونت اختیار کرتے۔ پس دین کی مدد کرنے والے انصار کے پاس پناہ لیتے رہے، یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا، اس نے طاقت پکڑ لی اور اس میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا گیا، حتیٰ کہ مسلمانوں نے علم و ایمان اور قرآن کے ذریعے سے دلوں کو اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے شہروں کو فتح کر لیا جن کے جملہ اوصاف جمیلہ یہ ہیں:﴿يُحِبُّوۡنَ مَنۡ هَاجَرَ اِلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں، اس کے احباب سے محبت کرتے ہیں اور ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو اس کے دین کی مدد کرتے ہیں۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ حَاجَةً مِّؔمَّاۤ اُوۡتُوۡا﴾’’اور و ہ اپنے دلوں میں اس (مال) کی کوئی حاجت نہیں پاتے جو ا ن (مہاجرین) کو دیا جائے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مہاجرین کو جو کچھ عطا کیا ہے اور ان کو جن فضائل و مناقب سے مختص کیا جن کے وہ اہل ہیں، وہ ان پر حسد نہیں کرتے۔ یہ آیت کریمہ ان کے سینے کی سلامتی، ان میں بغض، کینہ اور حسد کے عدم وجود پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ مہاجرین، انصار سے افضل ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذکر کو مقدم رکھا ہے۔نیز آگاہ فرمایا کہ مہاجرین کو جو کچھ عطا کیا گیا انصار اس کے بارے میں اپنے دلوں میں کوئی حسد محسوس نہیں کرتے۔ یہ آیت کریمہ یہ بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کو وہ فضائل عطا کیے جو انصار اور دیگر لوگوں کو عطا نہیں کیے کیونکہ انھوں نے نصرت دین اور ہجرت کو جمع کیا۔ ﴿وَيُؤۡثِرُوۡنَ عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ﴾ ’’اور اپنی ذات پر (ان کو)ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود انھیں سخت ضرورت ہو۔‘‘ یعنی انصار کے اوصاف میں سے ایک وصف ایثار ہے، جس کی بنا پر وہ دوسروں پر فوقیت رکھتے ہیں اور ان سے ممتاز ہیں، اور یہ کامل ترین جود و سخا ہے اور نفس کے محبوب اموال وغیرہ میں ایثار کرنا اور ان اموال کے خود حاجت مند بلکہ ضرورت مند اور بھوکے ہونے کے باوجود دوسرے پر خرچ کرنا، یہ وصف اخلاق زکیہ، اللہ تعالیٰ سے محبت، پھر شہوات نفس اور اس کی لذات پر اس کی محبت کو مقدم رکھنے ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔جملہ واقعات میں اس انصاری کا قصہ بھی بیان کیا جاتا ہے جس کے سبب سے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ہے جب اس نے اپنے اور اپنے گھر والوں کے کھانے میں اپنے مہمان کو ترجیح دی اور تمام گھر والوں اور بچوں نے رات بھوکے بسر کی۔(اِیثَارٌ) ’’ترجیح دینا‘‘ (اَثْرَۃٌ ) ’’خود غرضی‘‘ کی ضد ہے۔ ایثار قابل تعریف وصف ہے اور خود غرضی مذموم ہے کیونکہ یہ بخل اور حرص کے خصائل کے زمرے میں آتی ہے ، اور جسے ایثار عطا کیا گیا اسے نفس کے بخل و حرص سے بچا لیا گیا۔ ﴿وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح یاب ہیں۔‘‘ اور نفس کے حرص سے بچنے میں ان تمام امور میں حرص سے بچنا شامل ہے جن کا حکم دیا گیا ہے، جب بندہ نفس کی حرص سے بچ گیا، تو اس کے نفس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام آسان لگتے ہیں وہ خوشی سے سر تسلیم خم کرتے ہوئے انشراح صدر کے ساتھ ان کی تعمیل کرتا ہے، اور نفس کے لیے ان تمام امور کو ترک کرنا سہل ہو جاتا ہے، جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، خواہ یہ نفس کے محبوب امور ہی کیوں نہ ہوں اور نفس ان کی طرف بلاتا اور ان کی طرف رغبت کیوں نہ دلاتا ہو۔ اس شخص کے نفس کے لیے، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر، اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنا آسان ہو جاتا ہے، اور اسی سے فوز و فلاح حاصل ہوتی ہے، برعکس اس شخص کے جو نفس کے بخل و حرص سے بچا ہوا نہیں بلکہ بھلائی کے بارے میں حرص کی بیماری میں مبتلا ہے، اور یہ حرص شر کی جڑ اور اس کی بنیاد ہے۔پس اہل ایمان کی یہ دو فضیلت والی، پاک اصناف ہیں اور وہ صحابہ کرام اور ائمہ اعلام ہیں جنھوں نے سابقیت کے اوصاف، فضائل اور مناقب کو جمع کر لیا ان کے بعد کسی نے ان سے سبقت نہیں کی۔ صحابہ کرام y نے بھلائی میں پہلے لوگوں کو جا لیا اور اس طرح وہ مومنوں کے سربراہ، مسلمانوں کے سردار اور اہل تقویٰ کے قائد بن گئے۔ ان کے بعد آنے والوں کے لیے یہی فضیلت کافی ہے کہ وہ ان کے نقش قدم پر چلیں اور ان کے طریق کو راہ نما بنائیں۔ اس لیے بعد میں آنے والوں میں سے جو کوئی ان کو راہ نما بناتا ہے، اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [10]﴿ وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ﴾ یعنی جو(اہل ایمان)مہاجرین و انصار کے بعد آئے ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ اپنی اور تمام مومنین کی خیر خواہی کے لیے کہتے ہیں ﴿ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ﴾ ’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں۔‘‘ یہ دعا تمام گزرے ہوئے اہل ایمان، صحابہ، ان سے پہلے اور ان کے بعد آنے والے تمام اہل ایمان کو شامل ہے۔یہ ایمان کی فضیلت ہے کہ اہل ایمان ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایمان میں مشارکت کے سبب سے ایک دوسرے کے لیے دعا کرتے ہیں، ایمان مومنین کے درمیان اخوت کا تقاضا کرتا ہے، جس کی فروع میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے دعا کریں اور ایک دوسرے سے محبت کریں۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دعا میں قلب سے کینہ کی نفی کا ذکر فرمایا جو قلیل و کثیر ہر قسم کے کینہ کو شامل ہے، جب کینہ کی نفی ہو گئی تو اس کی ضد ثابت ہو گئی اور وہ ہے اہل ایمان کے مابین محبت و موالات اور خیر خواہی وغیرہ، جو اہل ایمان کے حقوق شمار ہوتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام y کے بعد آنے والوں کو ایمان کے وصف سے موصوف کیا ہے، کیونکہ ان کا قول ﴿ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ﴾ ایمان میں ان کی مشارکت پر دلالت کرتا ہے۔ نیز اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ عقائد، ایمان اور اس کے اصول میں صحابہ کرام کی پیروی کرنے والے ہیں اور وہ ہیں اہل سنت و الجماعت، کیونکہ یہ وصف تام صرف انھی پر صادق آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گناہوں کے اقرار اور پھر ان گناہوں سے استغفار کے ساتھ موصوف کیا ہے۔ نیز یہ کہ وہ ایک دوسرے کے لیے استغفار کرتے ہیں اور مومن بھائیوں کے خلاف کینہ اور حسد کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ ان کا اس چیز کی دعا کرنا ان امور کو مستلزم ہے اور جن کا ہم نے ذکر کیا ہے اور ان کے ایک دوسرے سے محبت کرنے کو مستلزم ہے اور اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ ان میں سے کوئی اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، اس کی موجودگی اور عدم موجودگی میں، اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد اس کی خیر خواہی کرے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ یہ سب کچھ اہل ایمان کے ایک دوسرے پر جملہ حقوق ہیں، پھر انھوں نے اپنی دعا کو اللہ تعالیٰ کے دو اسمائے کریمہ پر ختم کیا جو اللہ تعالیٰ کے کمال رحمت اور شدت رأفت و احسان پر دلالت کرتے ہیں، اس کے جملہ احسانات میں سے بلکہ ان میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کواپنے حقوق اور اپنے بندوں کے حقوق قائم کرنے کی توفیق سے بہرہ ور کیا۔ یہ تین اصناف کے لو گ اسی امت کے لوگ ہیں جو فَے کے مستحق ہیں جس کا مصرف اسلام کے مصالح کی طرف راجع ہےاور وہی لوگ اس کی اہلیت رکھتے ہیں جو اس کے اہل ہیں ۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی ان میں شامل کرے۔ [11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال پر تعجب کا اظہار فرمایا ہےجنھوں نے اپنے اہل کتاب بھائیوں کو اپنی مدد اور اہل ایمان کے خلاف موالات کا لالچ دیاتھا، وہ ان سے کہہ رہے تھے:﴿ لَىِٕنۡ اُخۡرِجۡتُمۡ لَنَخۡرُجَنَّ مَعَكُمۡ وَلَا نُطِيۡعُ فِيۡكُمۡ اَحَدًا اَبَدًا﴾ ’’اگر تم نکال دیے گئے تو ہم بھی تمھارے ساتھ ہی نکلیں گے۔ اور تمھارے بارے میں کبھی کسی کا کہنا نہیں مانیں گے۔‘‘ یعنی تمھاری نصرت و مدد کے بارے میں جو کوئی ہمیں برا بھلا کہے گا یا ڈرائے گا، ہم تمھاری عدم نصرت میں اس کی اطاعت نہیں کریں گے ﴿ وَّاِنۡ قُوۡتِلۡتُمۡ لَنَنۡصُرَنَّـكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو یقیناً ہم تمھاری مدد کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس وعدے میں جھوٹے ہیں، جس کے ذریعے سے انھوں نے اپنے بھائیوں کو دھوکے میں مبتلا کیا ان کے اس جھوٹے وعدے کو زیادہ اہمیت نہ دیں، کیونکہ جھوٹ ان کا وصف، فریب اور دھوکہ ان کے ساتھی، نفاق اور بزدلی ان کے دوست ہیں۔ [12] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کی تکذیب کی ہے جس ارشاد کو اس شخص نے ویسے ہی پایا جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی تھی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَىِٕنۡ اُخۡرِجُوۡا﴾ یعنی اگر ان کو جلا وطن کرنے کے لیے ان کے گھروں سے نکالا جائے ﴿ لَا يَخۡرُجُوۡنَ مَعَهُمۡ﴾ تو اپنے وطن کی محبت، قتال پر ان کے عدم صبر اور اپنے وعدے کے عدم ایفا کی بنا پر وہ ان کے ساتھ ہرگز نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَلَىِٕنۡ قُوۡتِلُوۡا لَا يَنۡصُرُوۡنَهُمۡ۠﴾ ’’اور اگر ان سے لڑائی ہوئی تو وہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔‘‘ بلکہ ان پر بزدلی غالب آ جائے گی اور کمزوری قبضہ کرے گی اور وہ اپنے بھائیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیں گے جو ان کے سب سے زیادہ محتاج ہوں گے۔ ﴿ وَلَىِٕنۡ نَّصَرُوۡهُمۡ﴾ اور فرض کیا اگر انھوں نے ان کی مدد کی۔ ﴿ لَيُوَلُّنَّ الۡاَدۡبَارَؔ١۫ ثُمَّ لَا يُنۡصَرُوۡنَ﴾ تو وہ قتال اور ان کی مدد سے پیٹھ پھیرلیں گے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی مدد حاصل نہیں ہو گی۔ [13] اے مومنو! وہ سبب جس نے ان کو اس امر پر آمادہ کیا ہے، یہ ہے کہ ﴿ اَشَدُّ رَهۡبَةً فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’تمھاری ہیبت ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی ہیبت سے بڑھ کر ہے۔‘‘ اس لیے جتنا وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اس سے بڑھ کر وہ تم سے ڈرتے ہیں۔ پس انھوں نے مخلوق کے خوف کو، جو خود اپنے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتی، خالق کے خوف پر مقدم رکھا ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ ’’یہ اس لیے کہ یہ بے سمجھ لوگ ہیں۔‘‘ یعنی وہ امور کے مراتب کو نہیں سمجھتے۔ وہ اشیاء کے حقائق کی معرفت رکھتے ہیں نہ وہ انجام کا تصور کر سکتے ہیں۔ کامل ترین سمجھ اور تفقہ یہ ہے کہ خالق کے خوف، اس پر امید اور اس کی محبت کو، غیر کے خوف، امید اور محبت پر مقدم رکھا جائے، غیر کا خوف، امید اور محبت، خالق کے خوف، امید اور محبت کے تابع ہو۔ [14]﴿ لَا يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’وہ سب مل کر بھی تم سے نہیں لڑسکیں گے۔‘‘ یعنی اجتماعی حالت میں تم سے قتال نہیں کریں گے۔﴿ اِلَّا فِيۡ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوۡ مِنۡ وَّرَآءِ جُدُرٍ﴾ ’’مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کی اوٹ سے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے خلاف لڑائی میں ثابت قدم رہ سکتے ہیں نہ اس پر عزم کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، مگر صرف اس صورت میں جب وہ بستیوں میں قلعہ بند ہو کر لڑ رہے ہوں یا دیواروں اور فصیلوں کے پیچھے سے لڑ رہے ہوں۔ تب اس صورت میں، ان کو اپنی شجاعت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے قلعوں اور فصیلوں کے سہارے، بسا اوقات حفاظت حاصل ہو جاتی ہے، اور یہ سب سے بڑی مذمت ہے۔ ﴿ بَاۡسُهُمۡ بَيۡنَهُمۡ شَدِيۡدٌ﴾ ’’ان کی آپس میں لڑائی بہت سخت ہوتی ہے۔‘‘ ان کے بدن میں کوئی آفت ہے نہ ان کی قوت میں، آفت تو ان کے ضعف ایمان اور ان کے کلمہ کے عدم اجتماع میں ہے۔ بنابریں فرمایا :﴿ تَحۡسَبُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ جب آپ انھیں مجتمع اور ایک دوسرے کی مدد کرتے دیکھتے ہیں تو انھیں متحد سمجھتے ہیں۔ ﴿ وَّقُلُوۡبُهُمۡ شَتّٰى﴾ مگر ان کے دل ایک دوسرے کے خلاف بغض رکھنے والے، متفرق اور متَشَتّت ہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ﴾ ’’یہ‘‘ جس نے انھیں مذکورہ صفات سے متصف کیا ہے ﴿ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’اس سبب سے ہے کہ وہ عقل و خرد نہیں رکھتے۔‘‘اگر وہ عقل سے بہرہ ور ہوتے، تو فاضل کو مفضول پر ترجیح دیتے اور اپنے لیے ناقص ترین حصے پر راضی نہ ہوتے، ان میں اتحاد ہوتا اور ان کے دل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے، اور یوں وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے، ایک دوسرے کو مضبوط کرتے اور اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ایک دوسرے کے معاون بنتے۔ اس قسم کے لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے اہل کتاب میں سے ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی خاطر انتقام لیا اور انھیں دنیا کی زندگی کی رسوائی کا مزا چکھایا۔ [15] ان لوگوں کی مدد کا معدوم ہونا جنھوں نے ان کے ساتھ معاونت کا وعدہ کیا تھا ﴿ كَمَثَلِ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ قَرِيۡبًا﴾ ’’ان کا حال ان لوگ کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر ہوئے۔‘‘ اس سے مراد قریش ہیں، جن کے اعمال کو شیطان نے مزین کیا اور کہا :﴿ لَا غَالِبَ لَكُمُ الۡيَوۡمَ مِنَ النَّاسِ وَاِنِّيۡ جَارٌ لَّـكُمۡ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَؔتِ الۡفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيۡهِ وَقَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكُمۡ اِنِّيۡۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوۡنَ﴾(الانفال: 8؍48) ’’آج لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا، اور میں تمھارا ساتھی ہوں، جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں تو الٹے پاؤ ں بھاگ نکلا اور کہنے لگا: میں تم سے بری الذمہ ہوں، میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔‘‘ پس انھوں نے خود اپنے آپ کو فریب دیا اور ان کو فریب دینے والوں نے بھی فریب دیا جو ان کے کام آ سکے نہ ان سے عذاب کو دور کر سکے، حتیٰ کہ وہ بڑے فخر اور بڑے کروفر سے ’’بدر‘‘ کے مقام پر پہنچ گئے، وہ سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ اور مومنوں کو جا لیں گے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں رسولﷺ اور مومنوں کی مدد کی۔ پس ان کے بڑے بڑے سردار قتل کر دیے گے، ان میں کچھ کو قیدی بنا لیا گیا اور کچھ فرار ہو گئے۔اس طرح ﴿ ذَاقُوۡا وَبَالَ اَمۡرِهِمۡ﴾ انھوں نے اپنے شرک اور بغاوت کے وبال کا مزا چکھ لیا۔ یہ سزا دنیا کے اندر ہے ﴿ وَلَهُمۡ ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے ﴿عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ درد ناک عذاب ہے۔ [16] ان منافقین کی مثال جنھوں نے ا پنے اہل کتاب بھائیوں کو دھوکے میں مبتلا کر رکھا ہے ﴿ كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ﴾ ’’ شیطان کی سی ہے کہ وہ انسان سے کہتا رہا کہ کا فر ہوجا۔‘‘ یعنی شیطان نے انسان کے سامنے کفر کو مزین کر کے خوبصورت بنا دیا اور اسے کفر کی طرف دعوت دی۔ جب انسان نے دھوکے میں مبتلا ہو کر کفر کا ارتکاب کیا اور اسے بدبختی حاصل ہوئی، تو شیطان اس کے کسی کام نہ آیا جس نے اس کی سرپرستی کی تھی اور کفر کی طرف دعوت دی تھی بلکہ شیطان نے اس سے براء ت کا اظہار کیا اور ﴿قَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكَ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کہا کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔‘‘یعنی مجھے تجھ سے عذاب کو دور ہٹانے کی کوئی قدرت اور اختیار حاصل نہیں، میں ذرہ بھر بھلائی کے لیے تیرے کوئی کام نہیں آ سکتا۔ [17]﴿ فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ ﴾ ’’پس ان دونوں کا انجام یہ ہوا۔‘‘ یعنی داعی جو کہ شیطان ہے اور مدعو جو کہ انسان ہے، جبکہ وہ شیطان کی اطاعت کرے ﴿اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيۡنِ فِيۡهَا﴾ ’’دونوں جہنم میں ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر:35؍6) ’’وہ تو اپنے گروہ کو اس لیے دعوت دیتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور یہی ہے بدلہ ظالموں کا۔‘‘ جنھوں نے ظلم اور کفر میں اشتراک کیا، اگرچہ ان کے لیے عذاب کی شدت مختلف ہو گی۔شیطان کا اپنے تمام دوستوں کے ساتھ یہی رویہ ہے، وہ ان کو دعوت دیتا ہے اور فریب سے انھیں ایسے امور کے قریب لے آتا ہے جو ان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جب وہ جال میں پھنس جاتے ہیں اور ہلاکت کے اسباب انھیں آ گھیرتے ہیں تو ان سے بری ٔالذمہ ہو کر ان سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ ہر قسم کی ملامت ہے اس شخص پر جو اس کی اطاعت کرتا ہے، کیونکہ اللہ نے اس سے بچنے کے لیے کہا ہے، اس سے ڈرایا ہے اور اس کے اغراض و مقاصد سے خبردار کیا ہے، پس اس کی اطاعت کرنے والا واضح طور پر اللہ تعالیٰ کا نا فرمان ہے، اس کے پاس کوئی عذر نہیں۔

الحشر 59:3

تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو چیز ہے زمین میں، اور وہ بڑا زبردست ، خوب حکمت والا ہے(1) وہ، وہ ذات ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے، ان کے گھروں سے، وقت پہلی جلا وطنی کے نہیں گمان کیا تھا تم نے (کبھی بھی) یہ کہ وہ نکلیں گے اور انھوں نے سمجھا تھا کہ بے شک وہ، بچا لیں گے ان کو ان کے قلعے اللہ (کے عذاب) سے پس آیا ان پر اللہ (کا عذاب) جہاں سے نہیں گمان کیا تھا انھوں نے، اور اس نے ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، اجاڑتے تھے وہ اپنے گھر اپنے ہاتھوں سے اور مومنوں کے ہاتھوں سے بھی،پس تم عبرت پکڑو اے آنکھوں والو!(2) اور اگرنہ ہوتی یہ بات کہ لکھ دیا تھا اللہ نے ان پر جلا وطن ہونا تو وہ ضرور عذاب دیتا ان کو دنیا ہی میں اور ان کے لیے آخرت میں عذاب ہے آگ کا(3) یہ اس لیے کہ بے شک انھوں نے مخالفت کی اللہ اور اس کےرسول کی، اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ کی تو بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(4) جو کاٹا تم نے کوئی کھجور کا درخت یا چھوڑ دیا تم نے اسے قائم اس کی جڑوں پر، تو (یہ سب) اللہ کے حکم سے ہے، اور تاکہ وہ رسوا کرے فاسقوں کو(5) اور جو لوٹایا اللہ نے اوپر اپنے رسول کے ان (کے مال) سے، پس نہیں دوڑائے تم نے اس پر کوئی گھوڑے اور نہ اونٹ، اور لیکن اللہ غالب کرتا ہے اپنے رسولوں کو اوپر جس کے وہ چاہتا ہے اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(6) جو لوٹایا اللہ نے اوپر اپنے رسول کے بستیوں والوں (کے مال) سے تو (وہ) اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور (رسول کے) قرابت داروں کے لیے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ نہ ہو وہ (مال) گردش کرنے والا درمیان دولت مندوں ہی کے تم میں سے، اور جو کچھ دے تمھیں رسول تو تم لے لو اس کو اور جو کچھ کہ وہ روک دے تمھیں اس سے تو تم رک جاؤ اور ڈرو اللہ سے، بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(7)(مال فَے) فقراء مہاجرین کے لیے ہے وہ جو نکالے گئے اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے اس حال میں کہ وہ تلاش کرتے ہیں فضل اللہ کا اور رضا مندی، اور وہ مدد کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی، یہی لوگ تو سچے ہیں(8) اور (ان کے لیے ہے) جنھوں نے بنا لیا تھا (مدینہ کو) گھر اور (قبول کر لیا تھا) ایمان ان (کی ہجرت) سے پہلے، وہ (انصار) محبت کرتے ہیں اس سے جو ہجرت کرے ان کی طرف اور نہیں پاتے وہ اپنے سینوں میں کوئی حاجت (حسد) اس سے جو دیے جائیں وہ (مہاجرین) اور وہ ترجیح دیتے ہیں (ان کو) اوپر اپنے نفسوں کے، اگرچہ ہو خود ان کو سخت حاجت اور جو کوئی بچا لیا گیا بخیلی سے اپنے نفس کی پس یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(9) اور (ان کے لیے ہے) جو آئے ان کے بعد، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! بخش دے ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو جنھوں نے پہل کی ہم سے ایمان (لانے) میں اور نہ رکھ تو ہمارے دلوں میں کینہ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اے ہمارے رب! بلاشبہ تو بہت شفقت کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (10) کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے منافقت کی، وہ کہتے ہیں اپنے ان بھائیوں سے جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے، البتہ اگر نکالے گئے تم تو ہم ضرور نکلیں گے تمھارے ساتھ اور نہیں اطاعت کریں گے ہم تمھارے معاملے میں کسی کی کبھی بھی، اور اگر لڑائی کیے گئے تم تو ہم ضرور مدد کریں گے تمھاری اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں (11) البتہ اگر نکالے گئے وہ تو نہیں نکلیں گے یہ ان کے ساتھ اور اگر لڑائی کیے گئے وہ تو نہیں مدد کریں گے وہ ان کی، اور البتہ اگر وہ مدد کریں گے بھی ان کی تو ضرور پھیر جائیں گے وہ پیٹھیں ، پھر نہیں مدد کیے جائیں گے وہ (12) البتہ تم (اے مسلمانو!) زیادہ ہو باعتبار ہیبت کے ان کے دلوں میں بنسبت اللہ کے، یہ اس لیے کہ بے شک وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہیں سمجھتے (13) نہیں لڑیں گے وہ تم سے سب مل کر بھی مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کے پیچھے سے، ان کی لڑائی(عداوت) آپس میں بہت سخت ہے آپ گمان کرتے ہیں ان کو اکٹھے جبکہ ان کے دل جدا جدا ہیں، یہ بوجہ اس کےکہ بلاشبہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہیں عقل رکھتے (14) مانند صفت ان لوگوں کے جو ان سے پہلے ہوئے قریب ہی، چکھ لیا انھوں نے وبال اپنے کام (کفر) کا اور ان کے لیے ہے عذاب درد ناک (15)(ان کی مثال) مانند حالت شیطان کے ہے جب وہ کہتا ہے انسان کو کہ تو کفر کر، پس جب وہ کفر کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے بلاشبہ میں تو بری ہوں تجھ سے بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے (16) پھر ہوتا ہے ان دونوں کا انجام کہ بلاشبہ وہ دونوں ہی آگ میں ہوں گے، ہمیشہ رہیں گے اس میں اور یہی ہے جزا (سزا) ظالموں کی (17) تفسیر سورۂ حشر اس سورۂ مبارکہ کو ’’سورۂ بنی نضیر‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ بنو نضیر یہودیوں کا ایک بڑا قبیلہ تھا جو نبی ٔاکرمﷺ کی بعثت کے وقت مدینہ کے مضافات میں آباد تھا۔ جب نبی ٔاکرمﷺ مبعوث ہوئے اور آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو انھوں نے جملہ یہود کے ساتھ آپ کی نبوت کا انکار کر دیا، نبی ٔاکرم ﷺ نے یہود کے ان قبائل کے ساتھ معاہدہ کیا جو مدینہ منورہ میں آپ کے پڑوس میں آباد تھے۔ غروۂ بدر کے تقریباً چھ ماہ بعد نبی اکرم ﷺ ان کے پاس گئے اور ان سے گفتگو کی کہ (معاہدے کے مطابق) وہ ان کلابیوں کی دیت کے بارے میں آپ کی مدد کریں، جن کو عمرو بن امیہ ضمری نے قتل کیا تھا۔ انھوں نے کہا ’’اے ابوالقاسم! ہم آپ کی مدد کریں گے آپ یہاں بیٹھیے، یہاں تک کہ ہم آپ کے لیے دیت اکٹھی کردیں، چنانچہ وہ تنہائی میں ایک دوسرے سے ملے اور شیطان نے ان کے لیے اس بدبختی کو آسان بنا دیا جو ان کے لیے لکھ دی گئی تھی، چنانچہ انھوں نے آپ کے قتل کی سازش کی اور آپ کے بارے میں کہنے لگے ’’تم میں سے کون ہے جو اس چکی کو اٹھائے چھت پر چڑھ کر آپ کے سر پر دے مارے اور اس سے آپ کا سر کچل ڈالے؟‘‘ان میں سے بدبخت ترین شخص عمرو بن جحاش نے کہا: ’’یہ کام میں کروں گا‘‘ سَلَام بِن مِشْکَمْ نے ان سے کہا ’’یہ کام نہ کرواللہ کی قسم! تمھارے ارادے سے اسے ضرور آگاہ کر دیا جائے گا، اور یہ اس معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے جو ہمارے اور اس کے درمیان ہوا ہے۔‘‘ انھوں نے جو سازش کی تھی اس کے بارے میں آپ پر فوراً وحی نازل ہو گئی، آپ جلدی سے وہاں سے اٹھ گئے اور مدینہ کا رخ کیا اور آپ کے صحابہ بھی (جو ساتھ گئے تھے) آپ سے مل گئے اور عرض کیا ’’آپ وہاں سے اٹھ آئے اور ہمیں خبر بھی نہ ہوئی۔‘‘ آپ نے انھیں اس سازش کے بارے میں آگاہ فرمایا جو یہودیوں نے آپ کے خلاف کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو پیغام بھجوایا کہ ’’مدینہ سے نکل جاؤ اور اس میں مت رہو، میں تمھیں دس دن کی مہلت دیتا ہوں، اس کے بعد میں نے جس کسی کو مدینہ میں پایا، اس کی گردن مار دوں گا۔‘‘ بنونضیر مدینہ منورہ میں کچھ دن ٹھہرے اور (وہاں سے نکلنے کی) تیاری کرتے رہے، عبداللہ بن ابی ابن سلول منافق نے ان کو پیغام بھجوایا ’’اپنے گھروں سے مت نکلو، میرے ساتھ دو ہزار آدمی ہیں جو تمھارے ساتھ تمھارے قلعے میں داخل ہوں گے اور تمھاری خاطر اپنی جان دیں گے، بنوقریظہ اور بنوغطفان میں سے تمھارے حلیف بھی تمھاری مدد کریں گے۔‘‘ بنونضیر کا سردار حُیَي بن اخطب، عبداللّٰہ بن اُبَّی کے کہنے میں آ گیا اور رسول اللہ ﷺ کو کہلا بھیجا ’’ہم اپنے گھروں سے نہیں نکلیں گے، جو چاہو کر لو‘‘ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور یہود کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت علیt نے جھنڈا اٹھا رکھا تھا۔ یہودی اپنے قلعوں میں مقیم ہو کر پتھر اور تیر پھینکنے لگے، بنوقریظہ ان سے الگ ہو گئے، عبداللہ بن ابی اور بنو غطفان میں سے ان کے حلیفوں نے بھی ان سے خیانت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کر لیا، ان کے کھجوروں کے باغات کاٹ کر نذر آتش کر دیے، بنونضیر نے پیغام بھیجا کہ ہم مدینہ سے نکل جائیں گے، رسول اللہ ﷺ نے ان پر یہ شرط عائد کی کہ وہ اپنی اولاد کو لے کر نکل جائیں اور اسلحہ کے سوا وہ سب کچھ لے جائیں جو ان کے اونٹ اٹھا سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے مال اور اسلحہ کو اپنے قبضے میں لے لیا۔بنونضیر کے اموال خالص رسول اللہ ﷺ کی مہمات اور مسلمانوں کے مصالح کے لیے تھے، آپ نے اس مال میں سے خمس نکالا، کیونکہ یہ مال اللہ تعالیٰ نے آپ کو دلوایا تھا، مسلمانوں نے گھوڑوں اور اونٹوں کے ساتھ ان پر چڑھائی نہیں کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے بنونضیر کو خیبر کی طرف جلا وطن کر دیا، ان میں ان کا سردار حُیَيبن اخطب بھی شامل تھا اور ان کی اراضی اور گھروں پر قبضہ کر لیا۔ نیز ان کے اسلحہ کو بھی قبضہ میں لے لیا، اسلحہ میں پچاس زر ہیں، پچاس خود اور تین سو چالیس تلواریں ہاتھ لگیں۔ یہ ہے بنونضیر کے قصے کا ماحصل جیسا کہ اسے اہل سیرت نے بیان کیا ہے۔ [1] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کے ساتھ اس سورۂ مبارکہ کا افتتاح کیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے اور اس وصف سے اس کو منزہ قرار دے رہی ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں ،وہ اس کی عبادت کر رہی ہے اور اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہے کیونکہ وہ غلبے والا ہے اور ہر چیز پر غالب ہے، کوئی چیز اس سے بچ سکتی ہے نہ کوئی ہستی اس کی نافرمانی کر سکتی ہے۔ وہ اپنی تخلیق و امر میں حکمت رکھنے والا ہے، وہ کوئی چیز عبث پیدا کرتا ہے نہ کوئی ایسا امر مشروع کرتا ہے جس میں کوئی مصلحت نہ ہو اور نہ کوئی ایسا فعل سرانجام دیتا ہے جو اس کی حکمت کے تقاضے کے مطابق نہ ہو۔ [2] یہ اس کی حکمت ہے کہ جب اہل کتاب میں سے بنونضیر نے اس کے رسول کے ساتھ بدعہدی کی تو اس نے ان کے مقابلے میں اپنے رسول ﷺ کی مدد کی پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گھروں اور وطن سے نکال دیا، جن سے وہ محبت کرتے تھے، ان کا اپنے گھروں اور وطن سے نکالا جانا اولین جلا وطنی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں خیبر کی طرف مقدر ٹھہرائی۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اس جلا وطنی کے علاوہ بھی ان کو جلا وطنی کا سامنا کرنا پڑا اور یہ وہ جلا وطنی ہے جو خیبر سے رسول اللہﷺ کے ہاتھوں واقع ہوئی، پھر حضرت عمرt نے (اپنے عہد خلافت میں)بقیہ تمام یہودیوں کو خیبر سے نکال دیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَا ظَنَنۡتُمۡ﴾ اے مسلمانو! تمھارے خیال میں بھی نہ تھا ﴿ اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا﴾ کہ وہ اپنے گھروں سے نکل جائیں گے، کیونکہ ان کے گھر محفوظ اور مصئو ن تھے اور ان میں عزت اور غلبے کے ساتھ رہتے تھے ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مَّؔانِعَتُهُمۡ حُصُوۡنُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ گمان کر رہے تھے کہ ان کے قلعے انھیں اللہ سے بچالیں گے۔‘‘ انھیں ان قلعوں پر بہت غرور تھا، ان قلعوں نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر رکھا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ان قلعوں کی وجہ سے ان تک پہنچا جا سکتا ہے نہ ان پر کوئی قابو پا سکتا ہے۔ اس کے ماوراء اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا امر مقدر کر دیا، جس سے انھیں ان کی محفوظ پناہ گاہیں بچاسکیں نہ قلعے، اور نہ قوت اور مدافعت ہی کام آسکی۔اس لیے فرمایا:﴿ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ حَيۡثُ لَمۡ يَحۡتَسِبُوۡا﴾ ’’پس اللہ نے انھیں وہاں سے آلیا جہاں سے انھیں گمان بھی نہیں تھا۔‘‘ یعنی اس طریقے اور اس راستے سے جس کے بارے میں انھیں وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہاں سے ان کو آ لیا جائے گا۔ اور وہ یہ بات تھی ﴿ وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ﴾ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، اس سے مراد شدید خوف ہے جو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی سپاہ ہے، جس کے سامنے تعداد اور ساز و سامان کوئی فائدہ دیتا ہے نہ طاقت اور بہادری کوئی کام آتی ہے۔وہ معاملہ جس کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ اگر کوئی خلل داخل ہوا تو اس راستے سے داخل ہو گااور وہ ان کے قلعے تھے جہاں داخل ہو کر وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگے اور ان قلعوں پر ان کے دل مطمئن تھے۔ جو کوئی غیر اللہ پر بھروسہ کرتا ہے وہ بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور جو کوئی غیر اللہ کا سہارا لیتا ہے تو یہ اس کے لیے وبال بن جاتا ہے۔ پس ان کے پاس ایک آسمانی معاملہ آیا اور ان کے دلوں میں نازل ہوا، جو صبر و ثبات اور بز دلی و کمزوری کا محل و مقام ہوتے ہیں، چنانچہ اس نے ان کی قوت اور بہادری کو زائل کر دیا اور اس کی جگہ کمزوری اور بز دلی دے دی جس کو دور کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی حیلہ نہ تھا اور یہ چیز ان کے خلاف (مسلمانوں کی)مددگار بن گئی۔ بنابریں فرمایا :﴿ يُخۡرِبُوۡنَ بُيُوۡتَهُمۡ بِاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَيۡدِي الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ اور وہ یہ کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے اس شرط پر مصالحت کی کہ ان کے اونٹ جو کچھ اٹھائیں سب ان کا ہے۔ اس بنا پر انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے گھروں کی چھتوں کو اکھاڑ ڈالا جو انھیں بہت اچھی لگتی تھیں اور اپنی سر کشی کی بنا پر اپنے گھروں کے برباد کرنے اور اپنے قلعوں کے منہدم کرنے پر مسلمانوں کو مسلط کر دیاتو یہ وہی ہیں جنھوں نے خود اپنے خلاف جرم کیا اور ان قلعوں اور گھروں کو برباد کرنے میں مددگار بنے۔ ﴿ فَاعۡتَبِرُوۡا يٰۤاُولِي الۡاَبۡصَارِ﴾ پس اے اہل بصیرت عبرت یعنی معاملات کی گہرائی میں اتر جانے والی بصیرت اور کامل عقل والو! عبرت حاصل کرو کیونکہ اس واقعہ میں عبرت ہے، اس سے ان معاندین حق کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سلوک کی معرفت حاصل ہوتی ہے، جو اپنی خواہشات نفس کے پیچھے چلتے ہیں، جن کی عزت نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ طاقت انھیں بچا سکی، جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کا حکم آ گیا اور ان کے گناہوں کی پاداش میں عذاب آ پہنچا، تو ان کے قلعے ان کی حفاظت نہ کر سکے، لہٰذا اعتبار الفاظ کے عموم کا ہوتا ہے نہ کہ اسباب کے خصوص کا، چنانچہ یہ آیت کریمہ عبرت حاصل کرنے کے حکم پر دلالت کرتی ہے اور وہ ہے نظیر کے ذریعے سے اس کے نظیر سے عبرت حاصل کرنا اور کسی چیز کو اس چیز پر قیاس کرنا جو اس سے مشابہت رکھتی ہے، اسی عبرت سے عقل کی تکمیل اور بصیرت روشن ہوتی ہے، ایمان میں اضافہ اور حقیقی فہم حاصل ہوتا ہے۔ [3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان یہودیوں کو وہ پوری سزا نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا میں تخفیف کر دی ہے۔ فرمایا:﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمُ الۡجَلَآءَؔ﴾ اور اگر اللہ نے ان پر جلاوطنی نہ لکھی ہوتی جس کا انھیں سامنا کرنا پڑا جس کا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایسی قضا و قدر کے ذریعے سے فیصلہ کیا جس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا تو دنیا کے اندر ان کی سزا اور عذاب کا معاملہ اور ہوتا۔ اگرچہ وہ دنیا کے اندر سخت عذاب سے بچ گئے، تاہم آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہےجس کی سختی کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے ممکن نہیں، لہٰذا کبھی ان کے خواب و خیال میں یہ بات نہ آئے کہ ان کی سزا پوری ہو گئی، انھوں نے بھگت لی اور اس سزا میں سے کچھ باقی نہیں بچا۔ پس وہ عذاب جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آخرت میں تیار کر رکھا ہے، زیادہ بڑا اور زیادہ مصیبت کا حامل ہے۔ [4]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺکی مخالفت کی، ان کے ساتھ دشمنی کی، ان کے خلاف جنگ کی اور ان کی نافرمانی میں بھاگ دوڑ کی۔(ان سے جو کچھ ہوا ہے)یہ ان لوگوں کے بارے میں سنت الٰہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ﴾ ’’اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ [5] جب بنونضیر نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو کھجوروں کے درخت اور دیگر درخت کاٹنے پر ملامت کی اور اس زعم کا اظہار کیا کہ یہ فساد ہے اور اس بنا پر انھوں نے مسلمانوں کو نشانہ طعن بنایا،تب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اگر مسلمانوں نے کھجور کے درخت کاٹے ہیں، تو ان کو کاٹنا اور اگر ان کو باقی رکھا ہے، تو ان کو باقی رکھنا ﴿ فَبِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ تو یہ اللہ تعالیٰ کے اذن اور حکم سے ہے ﴿ وَلِيُخۡزِيَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اور تاکہ وہ فاسقوں کو رسوا کرے۔‘‘ کیونکہ اس نے ان کے کھجوروں کے باغات کاٹنے اور جلانے کا تمھیں اختیار دیا تاکہ یہ سب کچھ ان کے لیے سزا اور دنیا کے اندر ان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہو جس سے ان کی پوری بے بسی ظاہر ہو، جس کی وجہ سے وہ کھجوروں کے باغات بھی نہ بچا سکے، جو ان کی قوت اور طاقت کا سبب تھے۔(اَللِّینَةُ) صحیح اور راجح ترین احتمال کے مطابق ہر قسم کے کھجور کے درختوں کو شامل ہے۔یہ ہے بنونضیر کا حال، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کے اندر کیسے سزا دی؟ [6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جن کی طرف بنونضیر کا مال و متاع منتقل ہوا ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡهُمۡ﴾ ’’او رجو مال اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلایا۔‘‘ یعنی اس بستی کے لوگوں میں سے، اس سے مراد بنونضیر کے لوگ ہیں ﴿ فَمَاۤ اَوۡجَفۡتُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ خَيۡلٍ وَّلَا رِكَابٍ﴾ یعنی تم نے گھوڑے دوڑائے ہیں نہ لشکر اکٹھے کیے ہیں، یعنی تمھیں لشکر جمع کرنے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑی اور نہ تمھارے مویشیوں ہی کو مشقت کا سامنا کرناپڑا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان (یہودیوں) کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ تمھارے سامنے درگزر اور عفو کی درخواست کرتے ہوئے حاضر ہوئے۔اس لیے فرمایا: ﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ١ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ اور اس کی قدرت کاملہ یہ ہے کہ کوئی بچنے والا اس سے بچ سکتا ہے نہ قوت والا اس کے مقابلے میں غالب آ سکتا ہے۔ [7] فقہاء کی اصطلاح میں فَے سے مراد وہ مال ہے جو حق کے ساتھ کفار سے کسی جنگ کے بغیر حاصل کیا جائے، مثلاً: ’’وہی مال جسے کفار مسلمانوں کے خوف کی بنا پر چھوڑکر فرار ہو گئے۔ اس کو فَے اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ کفار کی طرف سے جو اس مال کے مستحق نہ تھے، مسلمانوں کی طرف لوٹا ہے جو اس پر بہت زیادہ حق رکھتے تھے۔مالِ فَے کا حکم : فَے کا حکم یہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا : ﴿ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى﴾ ’’جو مال اللہ نے بستی والوں سے اپنے رسول کو دلوایا ہے۔‘‘ عمومی طور پر، خواہ رسول اللہ ﷺ کا زمانہ ہو یا آپ کے بعد آپ کی امت میں سے اس شخص کا زمانہ ہو جو امارت کے منصب پر فائز ہو ﴿ فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِـذِي الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ اللہ کے لیے، اللہ کے رسول کے لیے، اور (رسول کے) رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اس آیت کریمہ کی نظیر ہے جو سورۂ انفال میں مذکور ہے، اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِي الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ﴾(الانفال:8؍41) ’’اور جان رکھو! جو چیز تم غنیمت کے طور پر کفار سے حاصل کرو، اس میں سے پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ اور رسول کے لیے اور قرابت داروں، یتیموں، مساکین اور مسافروں کے لیے ہے۔‘‘ فَے کا مال پانچ اصناف میں تقسیم ہوتا ہے:(۱)پانچ حصوں میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے جو مسلمانوں کے مصالح عامہ میں صرف ہوتا ہے۔(۲) دوسرا حصہ، ذوی القربٰی (رسول اللہﷺ کے رشتہ داروں) کے لیے ہے اور ذوی القربٰی سے مراد بنوہاشم اور بنو مطلب ہیں، جہاں کہیں بھی ہوں، ان کے مردوں اور عورتوں میں برابر تقسیم کیا جائے گا۔ بنومطلب خمس وغیرہ کے پانچویں حصے میں بنوہاشم کے ساتھ شریک ہوں گے، بقیہ بنوعبد مناف شریک نہیں ہوں گے کیونکہ جب قریش نے بنوہاشم سے مقاطعت اور عداوت کا معاہدہ کیا تو بنو مطلب بنو ہاشم کے ساتھ شریک تھے اور دوسروں کے برعکس انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی مدد کی۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ نے بنو مطلب کے بارے میں فرمایا: ’’وہ جاہلیت اور اسلام میں کبھی مجھ سے الگ نہیں ہوئے۔‘‘ (مسند أحمد: 81/4 و اصله في صحيح البخاري، فرض الخمس، باب و من الدليل على ان الخمس للإمام، حديث: 3140)(۳)تيسرا حصہ محتاج یتیموں کے لیے ہے۔ یتیم وہ ہے جس کے باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا ہو اور وہ ابھی بالغ نہ ہوا ہو۔(۴)چوتھا حصہ مساکین کے لیے ہے۔(۵) اور پانچواں (آخری) حصہ مسافروں کے لیے ہے۔ اس سے مراد وہ غریب الوطن لوگ ہیں جو اپنے وطن سے کٹ کر رہ گئے ہوں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ حصے اس لیے مقرر فرمائے اور فَے کو صرف انھی معین لوگوں میں محصور کر دیا ﴿ كَيۡ لَا يَكُوۡنَ دُوۡلَةًۢ بَيۡنَ الۡاَغۡنِيَآءِ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تاکہ (مال) تم میں سے دولت مند لوگوں کے ہاتھوں ہی میں گردش نہ کرتا رہے ۔‘‘ اور ان کے سوا عاجز اور بے بس لوگوں کو کچھ حاصل نہ ہو۔ اس میں اس قدر فساد ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی شریعت کی اتباع میں اتنی زیادہ مصلحتیں ہیں جو شمار سے باہر ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک قاعدہ کلیہ اور ایک عام اصول مقرر فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡهُ١ۗ وَمَا نَهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ فَانۡتَهُوۡا ﴾ ’’رسول تمھیں جو دے، وہ لے لو اور جس سے وہ تمھیں روک دے، اس سے رک جاؤ۔‘‘ یہ آیت کریمہ دین کے اصول و فروع اور اس کے ظاہر و باطن سب کو شامل ہے، نیز یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو کچھ لے کر آئے ہیں، اس سے تمسک کرنا اور اس کی اتباع کرنا بندوں پر فرض ہے اور اس کی مخالفت کرنا جائز نہیں۔ نیز اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی چیز کے حکم پر رسول اللہ ﷺ کی نص، اللہ تعالیٰ کی نص کی مانند ہے اور اس کو ترک کرنے میں کسی کے لیے کوئی رخصت اور عذر نہیں اور کسی کے قول کو آپ کے قول پر مقدم رکھنا جائز نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے تقویٰ کا حکم دیا جس سے دنیا و آخرت میں قلب و روح معمور ہوتی ہے، تقویٰ ہی میں دائمی سعادت اور فوز عظیم ہے۔ تقویٰ کو ضائع کرنے میں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ جو کوئی تقویٰ کو ترک کر کے، خواہشات نفس کی پیروی کو ترجیح دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دینے والا ہے۔ [9,8] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نےفَے کے مال کو جن لوگوں کے لیے مقرر فرمایا، اس کے موجب اور اس میں حکمت کا ذکر فرمایا، نیز بیان فرمایا کہ یہی لوگ اعانت کے مستحق ہیں اور اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے فَے میں حصہ مقرر کیا جائےاور یہ ان مہاجرین کے مابین ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ میں رغبت اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کی خاطر، اپنے محبوب و مالوف گھر بار، وطن، دوستوں اور احباب کو چھوڑ دیا۔ یہی لوگ سچے ہیں، جنھوں نے اپنے ایمان کے تقاضے کے مطابق عمل کیا، اعمال صالحہ اور مشقت آمیز عبادت کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی بخلاف ان لوگوں کے جنھوں نے ایمان کا دعویٰ کیا مگر ہجرت اور جہاد وغیرہ عبادات کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق نہ کی، نیز انصار یعنی اوس اور خزرج کے مابین ہیں جو اپنی خوشی، محبت اور اختیار سے ایمان لائے۔ جب عرب کے تمام شہر دارالحرب، شرک اور شر کا گڑھ تھے تب انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو پناہ دی، سرخ و سیاہ سے آپ کی حفاظت کی، دار ہجرت و ایمان میں اقامت کی یہاں تک کہ دار ہجرت ایک ایسا مرجع بن گیا جس کی طرف مومنین رخ کرتے تھے، جہاں مہاجرین پناہ لیتے اور اس کی چراگاہوں میں مسلمان سکونت اختیار کرتے۔ پس دین کی مدد کرنے والے انصار کے پاس پناہ لیتے رہے، یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا، اس نے طاقت پکڑ لی اور اس میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا گیا، حتیٰ کہ مسلمانوں نے علم و ایمان اور قرآن کے ذریعے سے دلوں کو اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے شہروں کو فتح کر لیا جن کے جملہ اوصاف جمیلہ یہ ہیں:﴿يُحِبُّوۡنَ مَنۡ هَاجَرَ اِلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں، اس کے احباب سے محبت کرتے ہیں اور ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو اس کے دین کی مدد کرتے ہیں۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ حَاجَةً مِّؔمَّاۤ اُوۡتُوۡا﴾’’اور و ہ اپنے دلوں میں اس (مال) کی کوئی حاجت نہیں پاتے جو ا ن (مہاجرین) کو دیا جائے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مہاجرین کو جو کچھ عطا کیا ہے اور ان کو جن فضائل و مناقب سے مختص کیا جن کے وہ اہل ہیں، وہ ان پر حسد نہیں کرتے۔ یہ آیت کریمہ ان کے سینے کی سلامتی، ان میں بغض، کینہ اور حسد کے عدم وجود پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ مہاجرین، انصار سے افضل ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذکر کو مقدم رکھا ہے۔نیز آگاہ فرمایا کہ مہاجرین کو جو کچھ عطا کیا گیا انصار اس کے بارے میں اپنے دلوں میں کوئی حسد محسوس نہیں کرتے۔ یہ آیت کریمہ یہ بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کو وہ فضائل عطا کیے جو انصار اور دیگر لوگوں کو عطا نہیں کیے کیونکہ انھوں نے نصرت دین اور ہجرت کو جمع کیا۔ ﴿وَيُؤۡثِرُوۡنَ عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ﴾ ’’اور اپنی ذات پر (ان کو)ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود انھیں سخت ضرورت ہو۔‘‘ یعنی انصار کے اوصاف میں سے ایک وصف ایثار ہے، جس کی بنا پر وہ دوسروں پر فوقیت رکھتے ہیں اور ان سے ممتاز ہیں، اور یہ کامل ترین جود و سخا ہے اور نفس کے محبوب اموال وغیرہ میں ایثار کرنا اور ان اموال کے خود حاجت مند بلکہ ضرورت مند اور بھوکے ہونے کے باوجود دوسرے پر خرچ کرنا، یہ وصف اخلاق زکیہ، اللہ تعالیٰ سے محبت، پھر شہوات نفس اور اس کی لذات پر اس کی محبت کو مقدم رکھنے ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔جملہ واقعات میں اس انصاری کا قصہ بھی بیان کیا جاتا ہے جس کے سبب سے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ہے جب اس نے اپنے اور اپنے گھر والوں کے کھانے میں اپنے مہمان کو ترجیح دی اور تمام گھر والوں اور بچوں نے رات بھوکے بسر کی۔(اِیثَارٌ) ’’ترجیح دینا‘‘ (اَثْرَۃٌ ) ’’خود غرضی‘‘ کی ضد ہے۔ ایثار قابل تعریف وصف ہے اور خود غرضی مذموم ہے کیونکہ یہ بخل اور حرص کے خصائل کے زمرے میں آتی ہے ، اور جسے ایثار عطا کیا گیا اسے نفس کے بخل و حرص سے بچا لیا گیا۔ ﴿وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح یاب ہیں۔‘‘ اور نفس کے حرص سے بچنے میں ان تمام امور میں حرص سے بچنا شامل ہے جن کا حکم دیا گیا ہے، جب بندہ نفس کی حرص سے بچ گیا، تو اس کے نفس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام آسان لگتے ہیں وہ خوشی سے سر تسلیم خم کرتے ہوئے انشراح صدر کے ساتھ ان کی تعمیل کرتا ہے، اور نفس کے لیے ان تمام امور کو ترک کرنا سہل ہو جاتا ہے، جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، خواہ یہ نفس کے محبوب امور ہی کیوں نہ ہوں اور نفس ان کی طرف بلاتا اور ان کی طرف رغبت کیوں نہ دلاتا ہو۔ اس شخص کے نفس کے لیے، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر، اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنا آسان ہو جاتا ہے، اور اسی سے فوز و فلاح حاصل ہوتی ہے، برعکس اس شخص کے جو نفس کے بخل و حرص سے بچا ہوا نہیں بلکہ بھلائی کے بارے میں حرص کی بیماری میں مبتلا ہے، اور یہ حرص شر کی جڑ اور اس کی بنیاد ہے۔پس اہل ایمان کی یہ دو فضیلت والی، پاک اصناف ہیں اور وہ صحابہ کرام اور ائمہ اعلام ہیں جنھوں نے سابقیت کے اوصاف، فضائل اور مناقب کو جمع کر لیا ان کے بعد کسی نے ان سے سبقت نہیں کی۔ صحابہ کرام y نے بھلائی میں پہلے لوگوں کو جا لیا اور اس طرح وہ مومنوں کے سربراہ، مسلمانوں کے سردار اور اہل تقویٰ کے قائد بن گئے۔ ان کے بعد آنے والوں کے لیے یہی فضیلت کافی ہے کہ وہ ان کے نقش قدم پر چلیں اور ان کے طریق کو راہ نما بنائیں۔ اس لیے بعد میں آنے والوں میں سے جو کوئی ان کو راہ نما بناتا ہے، اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [10]﴿ وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ﴾ یعنی جو(اہل ایمان)مہاجرین و انصار کے بعد آئے ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ اپنی اور تمام مومنین کی خیر خواہی کے لیے کہتے ہیں ﴿ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ﴾ ’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں۔‘‘ یہ دعا تمام گزرے ہوئے اہل ایمان، صحابہ، ان سے پہلے اور ان کے بعد آنے والے تمام اہل ایمان کو شامل ہے۔یہ ایمان کی فضیلت ہے کہ اہل ایمان ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایمان میں مشارکت کے سبب سے ایک دوسرے کے لیے دعا کرتے ہیں، ایمان مومنین کے درمیان اخوت کا تقاضا کرتا ہے، جس کی فروع میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے دعا کریں اور ایک دوسرے سے محبت کریں۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دعا میں قلب سے کینہ کی نفی کا ذکر فرمایا جو قلیل و کثیر ہر قسم کے کینہ کو شامل ہے، جب کینہ کی نفی ہو گئی تو اس کی ضد ثابت ہو گئی اور وہ ہے اہل ایمان کے مابین محبت و موالات اور خیر خواہی وغیرہ، جو اہل ایمان کے حقوق شمار ہوتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام y کے بعد آنے والوں کو ایمان کے وصف سے موصوف کیا ہے، کیونکہ ان کا قول ﴿ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ﴾ ایمان میں ان کی مشارکت پر دلالت کرتا ہے۔ نیز اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ عقائد، ایمان اور اس کے اصول میں صحابہ کرام کی پیروی کرنے والے ہیں اور وہ ہیں اہل سنت و الجماعت، کیونکہ یہ وصف تام صرف انھی پر صادق آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گناہوں کے اقرار اور پھر ان گناہوں سے استغفار کے ساتھ موصوف کیا ہے۔ نیز یہ کہ وہ ایک دوسرے کے لیے استغفار کرتے ہیں اور مومن بھائیوں کے خلاف کینہ اور حسد کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ ان کا اس چیز کی دعا کرنا ان امور کو مستلزم ہے اور جن کا ہم نے ذکر کیا ہے اور ان کے ایک دوسرے سے محبت کرنے کو مستلزم ہے اور اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ ان میں سے کوئی اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، اس کی موجودگی اور عدم موجودگی میں، اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد اس کی خیر خواہی کرے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ یہ سب کچھ اہل ایمان کے ایک دوسرے پر جملہ حقوق ہیں، پھر انھوں نے اپنی دعا کو اللہ تعالیٰ کے دو اسمائے کریمہ پر ختم کیا جو اللہ تعالیٰ کے کمال رحمت اور شدت رأفت و احسان پر دلالت کرتے ہیں، اس کے جملہ احسانات میں سے بلکہ ان میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کواپنے حقوق اور اپنے بندوں کے حقوق قائم کرنے کی توفیق سے بہرہ ور کیا۔ یہ تین اصناف کے لو گ اسی امت کے لوگ ہیں جو فَے کے مستحق ہیں جس کا مصرف اسلام کے مصالح کی طرف راجع ہےاور وہی لوگ اس کی اہلیت رکھتے ہیں جو اس کے اہل ہیں ۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی ان میں شامل کرے۔ [11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال پر تعجب کا اظہار فرمایا ہےجنھوں نے اپنے اہل کتاب بھائیوں کو اپنی مدد اور اہل ایمان کے خلاف موالات کا لالچ دیاتھا، وہ ان سے کہہ رہے تھے:﴿ لَىِٕنۡ اُخۡرِجۡتُمۡ لَنَخۡرُجَنَّ مَعَكُمۡ وَلَا نُطِيۡعُ فِيۡكُمۡ اَحَدًا اَبَدًا﴾ ’’اگر تم نکال دیے گئے تو ہم بھی تمھارے ساتھ ہی نکلیں گے۔ اور تمھارے بارے میں کبھی کسی کا کہنا نہیں مانیں گے۔‘‘ یعنی تمھاری نصرت و مدد کے بارے میں جو کوئی ہمیں برا بھلا کہے گا یا ڈرائے گا، ہم تمھاری عدم نصرت میں اس کی اطاعت نہیں کریں گے ﴿ وَّاِنۡ قُوۡتِلۡتُمۡ لَنَنۡصُرَنَّـكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو یقیناً ہم تمھاری مدد کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس وعدے میں جھوٹے ہیں، جس کے ذریعے سے انھوں نے اپنے بھائیوں کو دھوکے میں مبتلا کیا ان کے اس جھوٹے وعدے کو زیادہ اہمیت نہ دیں، کیونکہ جھوٹ ان کا وصف، فریب اور دھوکہ ان کے ساتھی، نفاق اور بزدلی ان کے دوست ہیں۔ [12] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کی تکذیب کی ہے جس ارشاد کو اس شخص نے ویسے ہی پایا جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی تھی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَىِٕنۡ اُخۡرِجُوۡا﴾ یعنی اگر ان کو جلا وطن کرنے کے لیے ان کے گھروں سے نکالا جائے ﴿ لَا يَخۡرُجُوۡنَ مَعَهُمۡ﴾ تو اپنے وطن کی محبت، قتال پر ان کے عدم صبر اور اپنے وعدے کے عدم ایفا کی بنا پر وہ ان کے ساتھ ہرگز نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَلَىِٕنۡ قُوۡتِلُوۡا لَا يَنۡصُرُوۡنَهُمۡ۠﴾ ’’اور اگر ان سے لڑائی ہوئی تو وہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔‘‘ بلکہ ان پر بزدلی غالب آ جائے گی اور کمزوری قبضہ کرے گی اور وہ اپنے بھائیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیں گے جو ان کے سب سے زیادہ محتاج ہوں گے۔ ﴿ وَلَىِٕنۡ نَّصَرُوۡهُمۡ﴾ اور فرض کیا اگر انھوں نے ان کی مدد کی۔ ﴿ لَيُوَلُّنَّ الۡاَدۡبَارَؔ١۫ ثُمَّ لَا يُنۡصَرُوۡنَ﴾ تو وہ قتال اور ان کی مدد سے پیٹھ پھیرلیں گے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی مدد حاصل نہیں ہو گی۔ [13] اے مومنو! وہ سبب جس نے ان کو اس امر پر آمادہ کیا ہے، یہ ہے کہ ﴿ اَشَدُّ رَهۡبَةً فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’تمھاری ہیبت ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی ہیبت سے بڑھ کر ہے۔‘‘ اس لیے جتنا وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اس سے بڑھ کر وہ تم سے ڈرتے ہیں۔ پس انھوں نے مخلوق کے خوف کو، جو خود اپنے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتی، خالق کے خوف پر مقدم رکھا ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ ’’یہ اس لیے کہ یہ بے سمجھ لوگ ہیں۔‘‘ یعنی وہ امور کے مراتب کو نہیں سمجھتے۔ وہ اشیاء کے حقائق کی معرفت رکھتے ہیں نہ وہ انجام کا تصور کر سکتے ہیں۔ کامل ترین سمجھ اور تفقہ یہ ہے کہ خالق کے خوف، اس پر امید اور اس کی محبت کو، غیر کے خوف، امید اور محبت پر مقدم رکھا جائے، غیر کا خوف، امید اور محبت، خالق کے خوف، امید اور محبت کے تابع ہو۔ [14]﴿ لَا يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’وہ سب مل کر بھی تم سے نہیں لڑسکیں گے۔‘‘ یعنی اجتماعی حالت میں تم سے قتال نہیں کریں گے۔﴿ اِلَّا فِيۡ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوۡ مِنۡ وَّرَآءِ جُدُرٍ﴾ ’’مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کی اوٹ سے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے خلاف لڑائی میں ثابت قدم رہ سکتے ہیں نہ اس پر عزم کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، مگر صرف اس صورت میں جب وہ بستیوں میں قلعہ بند ہو کر لڑ رہے ہوں یا دیواروں اور فصیلوں کے پیچھے سے لڑ رہے ہوں۔ تب اس صورت میں، ان کو اپنی شجاعت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے قلعوں اور فصیلوں کے سہارے، بسا اوقات حفاظت حاصل ہو جاتی ہے، اور یہ سب سے بڑی مذمت ہے۔ ﴿ بَاۡسُهُمۡ بَيۡنَهُمۡ شَدِيۡدٌ﴾ ’’ان کی آپس میں لڑائی بہت سخت ہوتی ہے۔‘‘ ان کے بدن میں کوئی آفت ہے نہ ان کی قوت میں، آفت تو ان کے ضعف ایمان اور ان کے کلمہ کے عدم اجتماع میں ہے۔ بنابریں فرمایا :﴿ تَحۡسَبُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ جب آپ انھیں مجتمع اور ایک دوسرے کی مدد کرتے دیکھتے ہیں تو انھیں متحد سمجھتے ہیں۔ ﴿ وَّقُلُوۡبُهُمۡ شَتّٰى﴾ مگر ان کے دل ایک دوسرے کے خلاف بغض رکھنے والے، متفرق اور متَشَتّت ہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ﴾ ’’یہ‘‘ جس نے انھیں مذکورہ صفات سے متصف کیا ہے ﴿ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’اس سبب سے ہے کہ وہ عقل و خرد نہیں رکھتے۔‘‘اگر وہ عقل سے بہرہ ور ہوتے، تو فاضل کو مفضول پر ترجیح دیتے اور اپنے لیے ناقص ترین حصے پر راضی نہ ہوتے، ان میں اتحاد ہوتا اور ان کے دل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے، اور یوں وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے، ایک دوسرے کو مضبوط کرتے اور اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ایک دوسرے کے معاون بنتے۔ اس قسم کے لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے اہل کتاب میں سے ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی خاطر انتقام لیا اور انھیں دنیا کی زندگی کی رسوائی کا مزا چکھایا۔ [15] ان لوگوں کی مدد کا معدوم ہونا جنھوں نے ان کے ساتھ معاونت کا وعدہ کیا تھا ﴿ كَمَثَلِ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ قَرِيۡبًا﴾ ’’ان کا حال ان لوگ کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر ہوئے۔‘‘ اس سے مراد قریش ہیں، جن کے اعمال کو شیطان نے مزین کیا اور کہا :﴿ لَا غَالِبَ لَكُمُ الۡيَوۡمَ مِنَ النَّاسِ وَاِنِّيۡ جَارٌ لَّـكُمۡ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَؔتِ الۡفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيۡهِ وَقَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكُمۡ اِنِّيۡۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوۡنَ﴾(الانفال: 8؍48) ’’آج لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا، اور میں تمھارا ساتھی ہوں، جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں تو الٹے پاؤ ں بھاگ نکلا اور کہنے لگا: میں تم سے بری الذمہ ہوں، میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔‘‘ پس انھوں نے خود اپنے آپ کو فریب دیا اور ان کو فریب دینے والوں نے بھی فریب دیا جو ان کے کام آ سکے نہ ان سے عذاب کو دور کر سکے، حتیٰ کہ وہ بڑے فخر اور بڑے کروفر سے ’’بدر‘‘ کے مقام پر پہنچ گئے، وہ سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ اور مومنوں کو جا لیں گے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں رسولﷺ اور مومنوں کی مدد کی۔ پس ان کے بڑے بڑے سردار قتل کر دیے گے، ان میں کچھ کو قیدی بنا لیا گیا اور کچھ فرار ہو گئے۔اس طرح ﴿ ذَاقُوۡا وَبَالَ اَمۡرِهِمۡ﴾ انھوں نے اپنے شرک اور بغاوت کے وبال کا مزا چکھ لیا۔ یہ سزا دنیا کے اندر ہے ﴿ وَلَهُمۡ ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے ﴿عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ درد ناک عذاب ہے۔ [16] ان منافقین کی مثال جنھوں نے ا پنے اہل کتاب بھائیوں کو دھوکے میں مبتلا کر رکھا ہے ﴿ كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ﴾ ’’ شیطان کی سی ہے کہ وہ انسان سے کہتا رہا کہ کا فر ہوجا۔‘‘ یعنی شیطان نے انسان کے سامنے کفر کو مزین کر کے خوبصورت بنا دیا اور اسے کفر کی طرف دعوت دی۔ جب انسان نے دھوکے میں مبتلا ہو کر کفر کا ارتکاب کیا اور اسے بدبختی حاصل ہوئی، تو شیطان اس کے کسی کام نہ آیا جس نے اس کی سرپرستی کی تھی اور کفر کی طرف دعوت دی تھی بلکہ شیطان نے اس سے براء ت کا اظہار کیا اور ﴿قَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكَ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کہا کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔‘‘یعنی مجھے تجھ سے عذاب کو دور ہٹانے کی کوئی قدرت اور اختیار حاصل نہیں، میں ذرہ بھر بھلائی کے لیے تیرے کوئی کام نہیں آ سکتا۔ [17]﴿ فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ ﴾ ’’پس ان دونوں کا انجام یہ ہوا۔‘‘ یعنی داعی جو کہ شیطان ہے اور مدعو جو کہ انسان ہے، جبکہ وہ شیطان کی اطاعت کرے ﴿اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيۡنِ فِيۡهَا﴾ ’’دونوں جہنم میں ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر:35؍6) ’’وہ تو اپنے گروہ کو اس لیے دعوت دیتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور یہی ہے بدلہ ظالموں کا۔‘‘ جنھوں نے ظلم اور کفر میں اشتراک کیا، اگرچہ ان کے لیے عذاب کی شدت مختلف ہو گی۔شیطان کا اپنے تمام دوستوں کے ساتھ یہی رویہ ہے، وہ ان کو دعوت دیتا ہے اور فریب سے انھیں ایسے امور کے قریب لے آتا ہے جو ان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جب وہ جال میں پھنس جاتے ہیں اور ہلاکت کے اسباب انھیں آ گھیرتے ہیں تو ان سے بری ٔالذمہ ہو کر ان سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ ہر قسم کی ملامت ہے اس شخص پر جو اس کی اطاعت کرتا ہے، کیونکہ اللہ نے اس سے بچنے کے لیے کہا ہے، اس سے ڈرایا ہے اور اس کے اغراض و مقاصد سے خبردار کیا ہے، پس اس کی اطاعت کرنے والا واضح طور پر اللہ تعالیٰ کا نا فرمان ہے، اس کے پاس کوئی عذر نہیں۔

الحشر 59:4

تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو چیز ہے زمین میں، اور وہ بڑا زبردست ، خوب حکمت والا ہے(1) وہ، وہ ذات ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے، ان کے گھروں سے، وقت پہلی جلا وطنی کے نہیں گمان کیا تھا تم نے (کبھی بھی) یہ کہ وہ نکلیں گے اور انھوں نے سمجھا تھا کہ بے شک وہ، بچا لیں گے ان کو ان کے قلعے اللہ (کے عذاب) سے پس آیا ان پر اللہ (کا عذاب) جہاں سے نہیں گمان کیا تھا انھوں نے، اور اس نے ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، اجاڑتے تھے وہ اپنے گھر اپنے ہاتھوں سے اور مومنوں کے ہاتھوں سے بھی،پس تم عبرت پکڑو اے آنکھوں والو!(2) اور اگرنہ ہوتی یہ بات کہ لکھ دیا تھا اللہ نے ان پر جلا وطن ہونا تو وہ ضرور عذاب دیتا ان کو دنیا ہی میں اور ان کے لیے آخرت میں عذاب ہے آگ کا(3) یہ اس لیے کہ بے شک انھوں نے مخالفت کی اللہ اور اس کےرسول کی، اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ کی تو بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(4) جو کاٹا تم نے کوئی کھجور کا درخت یا چھوڑ دیا تم نے اسے قائم اس کی جڑوں پر، تو (یہ سب) اللہ کے حکم سے ہے، اور تاکہ وہ رسوا کرے فاسقوں کو(5) اور جو لوٹایا اللہ نے اوپر اپنے رسول کے ان (کے مال) سے، پس نہیں دوڑائے تم نے اس پر کوئی گھوڑے اور نہ اونٹ، اور لیکن اللہ غالب کرتا ہے اپنے رسولوں کو اوپر جس کے وہ چاہتا ہے اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(6) جو لوٹایا اللہ نے اوپر اپنے رسول کے بستیوں والوں (کے مال) سے تو (وہ) اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور (رسول کے) قرابت داروں کے لیے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ نہ ہو وہ (مال) گردش کرنے والا درمیان دولت مندوں ہی کے تم میں سے، اور جو کچھ دے تمھیں رسول تو تم لے لو اس کو اور جو کچھ کہ وہ روک دے تمھیں اس سے تو تم رک جاؤ اور ڈرو اللہ سے، بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(7)(مال فَے) فقراء مہاجرین کے لیے ہے وہ جو نکالے گئے اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے اس حال میں کہ وہ تلاش کرتے ہیں فضل اللہ کا اور رضا مندی، اور وہ مدد کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی، یہی لوگ تو سچے ہیں(8) اور (ان کے لیے ہے) جنھوں نے بنا لیا تھا (مدینہ کو) گھر اور (قبول کر لیا تھا) ایمان ان (کی ہجرت) سے پہلے، وہ (انصار) محبت کرتے ہیں اس سے جو ہجرت کرے ان کی طرف اور نہیں پاتے وہ اپنے سینوں میں کوئی حاجت (حسد) اس سے جو دیے جائیں وہ (مہاجرین) اور وہ ترجیح دیتے ہیں (ان کو) اوپر اپنے نفسوں کے، اگرچہ ہو خود ان کو سخت حاجت اور جو کوئی بچا لیا گیا بخیلی سے اپنے نفس کی پس یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(9) اور (ان کے لیے ہے) جو آئے ان کے بعد، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! بخش دے ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو جنھوں نے پہل کی ہم سے ایمان (لانے) میں اور نہ رکھ تو ہمارے دلوں میں کینہ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اے ہمارے رب! بلاشبہ تو بہت شفقت کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (10) کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے منافقت کی، وہ کہتے ہیں اپنے ان بھائیوں سے جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے، البتہ اگر نکالے گئے تم تو ہم ضرور نکلیں گے تمھارے ساتھ اور نہیں اطاعت کریں گے ہم تمھارے معاملے میں کسی کی کبھی بھی، اور اگر لڑائی کیے گئے تم تو ہم ضرور مدد کریں گے تمھاری اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں (11) البتہ اگر نکالے گئے وہ تو نہیں نکلیں گے یہ ان کے ساتھ اور اگر لڑائی کیے گئے وہ تو نہیں مدد کریں گے وہ ان کی، اور البتہ اگر وہ مدد کریں گے بھی ان کی تو ضرور پھیر جائیں گے وہ پیٹھیں ، پھر نہیں مدد کیے جائیں گے وہ (12) البتہ تم (اے مسلمانو!) زیادہ ہو باعتبار ہیبت کے ان کے دلوں میں بنسبت اللہ کے، یہ اس لیے کہ بے شک وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہیں سمجھتے (13) نہیں لڑیں گے وہ تم سے سب مل کر بھی مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کے پیچھے سے، ان کی لڑائی(عداوت) آپس میں بہت سخت ہے آپ گمان کرتے ہیں ان کو اکٹھے جبکہ ان کے دل جدا جدا ہیں، یہ بوجہ اس کےکہ بلاشبہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہیں عقل رکھتے (14) مانند صفت ان لوگوں کے جو ان سے پہلے ہوئے قریب ہی، چکھ لیا انھوں نے وبال اپنے کام (کفر) کا اور ان کے لیے ہے عذاب درد ناک (15)(ان کی مثال) مانند حالت شیطان کے ہے جب وہ کہتا ہے انسان کو کہ تو کفر کر، پس جب وہ کفر کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے بلاشبہ میں تو بری ہوں تجھ سے بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے (16) پھر ہوتا ہے ان دونوں کا انجام کہ بلاشبہ وہ دونوں ہی آگ میں ہوں گے، ہمیشہ رہیں گے اس میں اور یہی ہے جزا (سزا) ظالموں کی (17) تفسیر سورۂ حشر اس سورۂ مبارکہ کو ’’سورۂ بنی نضیر‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ بنو نضیر یہودیوں کا ایک بڑا قبیلہ تھا جو نبی ٔاکرمﷺ کی بعثت کے وقت مدینہ کے مضافات میں آباد تھا۔ جب نبی ٔاکرمﷺ مبعوث ہوئے اور آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو انھوں نے جملہ یہود کے ساتھ آپ کی نبوت کا انکار کر دیا، نبی ٔاکرم ﷺ نے یہود کے ان قبائل کے ساتھ معاہدہ کیا جو مدینہ منورہ میں آپ کے پڑوس میں آباد تھے۔ غروۂ بدر کے تقریباً چھ ماہ بعد نبی اکرم ﷺ ان کے پاس گئے اور ان سے گفتگو کی کہ (معاہدے کے مطابق) وہ ان کلابیوں کی دیت کے بارے میں آپ کی مدد کریں، جن کو عمرو بن امیہ ضمری نے قتل کیا تھا۔ انھوں نے کہا ’’اے ابوالقاسم! ہم آپ کی مدد کریں گے آپ یہاں بیٹھیے، یہاں تک کہ ہم آپ کے لیے دیت اکٹھی کردیں، چنانچہ وہ تنہائی میں ایک دوسرے سے ملے اور شیطان نے ان کے لیے اس بدبختی کو آسان بنا دیا جو ان کے لیے لکھ دی گئی تھی، چنانچہ انھوں نے آپ کے قتل کی سازش کی اور آپ کے بارے میں کہنے لگے ’’تم میں سے کون ہے جو اس چکی کو اٹھائے چھت پر چڑھ کر آپ کے سر پر دے مارے اور اس سے آپ کا سر کچل ڈالے؟‘‘ان میں سے بدبخت ترین شخص عمرو بن جحاش نے کہا: ’’یہ کام میں کروں گا‘‘ سَلَام بِن مِشْکَمْ نے ان سے کہا ’’یہ کام نہ کرواللہ کی قسم! تمھارے ارادے سے اسے ضرور آگاہ کر دیا جائے گا، اور یہ اس معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے جو ہمارے اور اس کے درمیان ہوا ہے۔‘‘ انھوں نے جو سازش کی تھی اس کے بارے میں آپ پر فوراً وحی نازل ہو گئی، آپ جلدی سے وہاں سے اٹھ گئے اور مدینہ کا رخ کیا اور آپ کے صحابہ بھی (جو ساتھ گئے تھے) آپ سے مل گئے اور عرض کیا ’’آپ وہاں سے اٹھ آئے اور ہمیں خبر بھی نہ ہوئی۔‘‘ آپ نے انھیں اس سازش کے بارے میں آگاہ فرمایا جو یہودیوں نے آپ کے خلاف کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو پیغام بھجوایا کہ ’’مدینہ سے نکل جاؤ اور اس میں مت رہو، میں تمھیں دس دن کی مہلت دیتا ہوں، اس کے بعد میں نے جس کسی کو مدینہ میں پایا، اس کی گردن مار دوں گا۔‘‘ بنونضیر مدینہ منورہ میں کچھ دن ٹھہرے اور (وہاں سے نکلنے کی) تیاری کرتے رہے، عبداللہ بن ابی ابن سلول منافق نے ان کو پیغام بھجوایا ’’اپنے گھروں سے مت نکلو، میرے ساتھ دو ہزار آدمی ہیں جو تمھارے ساتھ تمھارے قلعے میں داخل ہوں گے اور تمھاری خاطر اپنی جان دیں گے، بنوقریظہ اور بنوغطفان میں سے تمھارے حلیف بھی تمھاری مدد کریں گے۔‘‘ بنونضیر کا سردار حُیَي بن اخطب، عبداللّٰہ بن اُبَّی کے کہنے میں آ گیا اور رسول اللہ ﷺ کو کہلا بھیجا ’’ہم اپنے گھروں سے نہیں نکلیں گے، جو چاہو کر لو‘‘ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور یہود کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت علیt نے جھنڈا اٹھا رکھا تھا۔ یہودی اپنے قلعوں میں مقیم ہو کر پتھر اور تیر پھینکنے لگے، بنوقریظہ ان سے الگ ہو گئے، عبداللہ بن ابی اور بنو غطفان میں سے ان کے حلیفوں نے بھی ان سے خیانت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کر لیا، ان کے کھجوروں کے باغات کاٹ کر نذر آتش کر دیے، بنونضیر نے پیغام بھیجا کہ ہم مدینہ سے نکل جائیں گے، رسول اللہ ﷺ نے ان پر یہ شرط عائد کی کہ وہ اپنی اولاد کو لے کر نکل جائیں اور اسلحہ کے سوا وہ سب کچھ لے جائیں جو ان کے اونٹ اٹھا سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے مال اور اسلحہ کو اپنے قبضے میں لے لیا۔بنونضیر کے اموال خالص رسول اللہ ﷺ کی مہمات اور مسلمانوں کے مصالح کے لیے تھے، آپ نے اس مال میں سے خمس نکالا، کیونکہ یہ مال اللہ تعالیٰ نے آپ کو دلوایا تھا، مسلمانوں نے گھوڑوں اور اونٹوں کے ساتھ ان پر چڑھائی نہیں کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے بنونضیر کو خیبر کی طرف جلا وطن کر دیا، ان میں ان کا سردار حُیَيبن اخطب بھی شامل تھا اور ان کی اراضی اور گھروں پر قبضہ کر لیا۔ نیز ان کے اسلحہ کو بھی قبضہ میں لے لیا، اسلحہ میں پچاس زر ہیں، پچاس خود اور تین سو چالیس تلواریں ہاتھ لگیں۔ یہ ہے بنونضیر کے قصے کا ماحصل جیسا کہ اسے اہل سیرت نے بیان کیا ہے۔ [1] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کے ساتھ اس سورۂ مبارکہ کا افتتاح کیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے اور اس وصف سے اس کو منزہ قرار دے رہی ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں ،وہ اس کی عبادت کر رہی ہے اور اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہے کیونکہ وہ غلبے والا ہے اور ہر چیز پر غالب ہے، کوئی چیز اس سے بچ سکتی ہے نہ کوئی ہستی اس کی نافرمانی کر سکتی ہے۔ وہ اپنی تخلیق و امر میں حکمت رکھنے والا ہے، وہ کوئی چیز عبث پیدا کرتا ہے نہ کوئی ایسا امر مشروع کرتا ہے جس میں کوئی مصلحت نہ ہو اور نہ کوئی ایسا فعل سرانجام دیتا ہے جو اس کی حکمت کے تقاضے کے مطابق نہ ہو۔ [2] یہ اس کی حکمت ہے کہ جب اہل کتاب میں سے بنونضیر نے اس کے رسول کے ساتھ بدعہدی کی تو اس نے ان کے مقابلے میں اپنے رسول ﷺ کی مدد کی پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گھروں اور وطن سے نکال دیا، جن سے وہ محبت کرتے تھے، ان کا اپنے گھروں اور وطن سے نکالا جانا اولین جلا وطنی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں خیبر کی طرف مقدر ٹھہرائی۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اس جلا وطنی کے علاوہ بھی ان کو جلا وطنی کا سامنا کرنا پڑا اور یہ وہ جلا وطنی ہے جو خیبر سے رسول اللہﷺ کے ہاتھوں واقع ہوئی، پھر حضرت عمرt نے (اپنے عہد خلافت میں)بقیہ تمام یہودیوں کو خیبر سے نکال دیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَا ظَنَنۡتُمۡ﴾ اے مسلمانو! تمھارے خیال میں بھی نہ تھا ﴿ اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا﴾ کہ وہ اپنے گھروں سے نکل جائیں گے، کیونکہ ان کے گھر محفوظ اور مصئو ن تھے اور ان میں عزت اور غلبے کے ساتھ رہتے تھے ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مَّؔانِعَتُهُمۡ حُصُوۡنُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ گمان کر رہے تھے کہ ان کے قلعے انھیں اللہ سے بچالیں گے۔‘‘ انھیں ان قلعوں پر بہت غرور تھا، ان قلعوں نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر رکھا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ان قلعوں کی وجہ سے ان تک پہنچا جا سکتا ہے نہ ان پر کوئی قابو پا سکتا ہے۔ اس کے ماوراء اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا امر مقدر کر دیا، جس سے انھیں ان کی محفوظ پناہ گاہیں بچاسکیں نہ قلعے، اور نہ قوت اور مدافعت ہی کام آسکی۔اس لیے فرمایا:﴿ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ حَيۡثُ لَمۡ يَحۡتَسِبُوۡا﴾ ’’پس اللہ نے انھیں وہاں سے آلیا جہاں سے انھیں گمان بھی نہیں تھا۔‘‘ یعنی اس طریقے اور اس راستے سے جس کے بارے میں انھیں وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہاں سے ان کو آ لیا جائے گا۔ اور وہ یہ بات تھی ﴿ وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ﴾ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، اس سے مراد شدید خوف ہے جو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی سپاہ ہے، جس کے سامنے تعداد اور ساز و سامان کوئی فائدہ دیتا ہے نہ طاقت اور بہادری کوئی کام آتی ہے۔وہ معاملہ جس کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ اگر کوئی خلل داخل ہوا تو اس راستے سے داخل ہو گااور وہ ان کے قلعے تھے جہاں داخل ہو کر وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگے اور ان قلعوں پر ان کے دل مطمئن تھے۔ جو کوئی غیر اللہ پر بھروسہ کرتا ہے وہ بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور جو کوئی غیر اللہ کا سہارا لیتا ہے تو یہ اس کے لیے وبال بن جاتا ہے۔ پس ان کے پاس ایک آسمانی معاملہ آیا اور ان کے دلوں میں نازل ہوا، جو صبر و ثبات اور بز دلی و کمزوری کا محل و مقام ہوتے ہیں، چنانچہ اس نے ان کی قوت اور بہادری کو زائل کر دیا اور اس کی جگہ کمزوری اور بز دلی دے دی جس کو دور کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی حیلہ نہ تھا اور یہ چیز ان کے خلاف (مسلمانوں کی)مددگار بن گئی۔ بنابریں فرمایا :﴿ يُخۡرِبُوۡنَ بُيُوۡتَهُمۡ بِاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَيۡدِي الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ اور وہ یہ کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے اس شرط پر مصالحت کی کہ ان کے اونٹ جو کچھ اٹھائیں سب ان کا ہے۔ اس بنا پر انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے گھروں کی چھتوں کو اکھاڑ ڈالا جو انھیں بہت اچھی لگتی تھیں اور اپنی سر کشی کی بنا پر اپنے گھروں کے برباد کرنے اور اپنے قلعوں کے منہدم کرنے پر مسلمانوں کو مسلط کر دیاتو یہ وہی ہیں جنھوں نے خود اپنے خلاف جرم کیا اور ان قلعوں اور گھروں کو برباد کرنے میں مددگار بنے۔ ﴿ فَاعۡتَبِرُوۡا يٰۤاُولِي الۡاَبۡصَارِ﴾ پس اے اہل بصیرت عبرت یعنی معاملات کی گہرائی میں اتر جانے والی بصیرت اور کامل عقل والو! عبرت حاصل کرو کیونکہ اس واقعہ میں عبرت ہے، اس سے ان معاندین حق کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سلوک کی معرفت حاصل ہوتی ہے، جو اپنی خواہشات نفس کے پیچھے چلتے ہیں، جن کی عزت نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ طاقت انھیں بچا سکی، جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کا حکم آ گیا اور ان کے گناہوں کی پاداش میں عذاب آ پہنچا، تو ان کے قلعے ان کی حفاظت نہ کر سکے، لہٰذا اعتبار الفاظ کے عموم کا ہوتا ہے نہ کہ اسباب کے خصوص کا، چنانچہ یہ آیت کریمہ عبرت حاصل کرنے کے حکم پر دلالت کرتی ہے اور وہ ہے نظیر کے ذریعے سے اس کے نظیر سے عبرت حاصل کرنا اور کسی چیز کو اس چیز پر قیاس کرنا جو اس سے مشابہت رکھتی ہے، اسی عبرت سے عقل کی تکمیل اور بصیرت روشن ہوتی ہے، ایمان میں اضافہ اور حقیقی فہم حاصل ہوتا ہے۔ [3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان یہودیوں کو وہ پوری سزا نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا میں تخفیف کر دی ہے۔ فرمایا:﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمُ الۡجَلَآءَؔ﴾ اور اگر اللہ نے ان پر جلاوطنی نہ لکھی ہوتی جس کا انھیں سامنا کرنا پڑا جس کا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایسی قضا و قدر کے ذریعے سے فیصلہ کیا جس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا تو دنیا کے اندر ان کی سزا اور عذاب کا معاملہ اور ہوتا۔ اگرچہ وہ دنیا کے اندر سخت عذاب سے بچ گئے، تاہم آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہےجس کی سختی کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے ممکن نہیں، لہٰذا کبھی ان کے خواب و خیال میں یہ بات نہ آئے کہ ان کی سزا پوری ہو گئی، انھوں نے بھگت لی اور اس سزا میں سے کچھ باقی نہیں بچا۔ پس وہ عذاب جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آخرت میں تیار کر رکھا ہے، زیادہ بڑا اور زیادہ مصیبت کا حامل ہے۔ [4]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺکی مخالفت کی، ان کے ساتھ دشمنی کی، ان کے خلاف جنگ کی اور ان کی نافرمانی میں بھاگ دوڑ کی۔(ان سے جو کچھ ہوا ہے)یہ ان لوگوں کے بارے میں سنت الٰہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ﴾ ’’اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ [5] جب بنونضیر نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو کھجوروں کے درخت اور دیگر درخت کاٹنے پر ملامت کی اور اس زعم کا اظہار کیا کہ یہ فساد ہے اور اس بنا پر انھوں نے مسلمانوں کو نشانہ طعن بنایا،تب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اگر مسلمانوں نے کھجور کے درخت کاٹے ہیں، تو ان کو کاٹنا اور اگر ان کو باقی رکھا ہے، تو ان کو باقی رکھنا ﴿ فَبِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ تو یہ اللہ تعالیٰ کے اذن اور حکم سے ہے ﴿ وَلِيُخۡزِيَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اور تاکہ وہ فاسقوں کو رسوا کرے۔‘‘ کیونکہ اس نے ان کے کھجوروں کے باغات کاٹنے اور جلانے کا تمھیں اختیار دیا تاکہ یہ سب کچھ ان کے لیے سزا اور دنیا کے اندر ان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہو جس سے ان کی پوری بے بسی ظاہر ہو، جس کی وجہ سے وہ کھجوروں کے باغات بھی نہ بچا سکے، جو ان کی قوت اور طاقت کا سبب تھے۔(اَللِّینَةُ) صحیح اور راجح ترین احتمال کے مطابق ہر قسم کے کھجور کے درختوں کو شامل ہے۔یہ ہے بنونضیر کا حال، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کے اندر کیسے سزا دی؟ [6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جن کی طرف بنونضیر کا مال و متاع منتقل ہوا ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡهُمۡ﴾ ’’او رجو مال اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلایا۔‘‘ یعنی اس بستی کے لوگوں میں سے، اس سے مراد بنونضیر کے لوگ ہیں ﴿ فَمَاۤ اَوۡجَفۡتُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ خَيۡلٍ وَّلَا رِكَابٍ﴾ یعنی تم نے گھوڑے دوڑائے ہیں نہ لشکر اکٹھے کیے ہیں، یعنی تمھیں لشکر جمع کرنے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑی اور نہ تمھارے مویشیوں ہی کو مشقت کا سامنا کرناپڑا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان (یہودیوں) کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ تمھارے سامنے درگزر اور عفو کی درخواست کرتے ہوئے حاضر ہوئے۔اس لیے فرمایا: ﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ١ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ اور اس کی قدرت کاملہ یہ ہے کہ کوئی بچنے والا اس سے بچ سکتا ہے نہ قوت والا اس کے مقابلے میں غالب آ سکتا ہے۔ [7] فقہاء کی اصطلاح میں فَے سے مراد وہ مال ہے جو حق کے ساتھ کفار سے کسی جنگ کے بغیر حاصل کیا جائے، مثلاً: ’’وہی مال جسے کفار مسلمانوں کے خوف کی بنا پر چھوڑکر فرار ہو گئے۔ اس کو فَے اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ کفار کی طرف سے جو اس مال کے مستحق نہ تھے، مسلمانوں کی طرف لوٹا ہے جو اس پر بہت زیادہ حق رکھتے تھے۔مالِ فَے کا حکم : فَے کا حکم یہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا : ﴿ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى﴾ ’’جو مال اللہ نے بستی والوں سے اپنے رسول کو دلوایا ہے۔‘‘ عمومی طور پر، خواہ رسول اللہ ﷺ کا زمانہ ہو یا آپ کے بعد آپ کی امت میں سے اس شخص کا زمانہ ہو جو امارت کے منصب پر فائز ہو ﴿ فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِـذِي الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ اللہ کے لیے، اللہ کے رسول کے لیے، اور (رسول کے) رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اس آیت کریمہ کی نظیر ہے جو سورۂ انفال میں مذکور ہے، اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِي الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ﴾(الانفال:8؍41) ’’اور جان رکھو! جو چیز تم غنیمت کے طور پر کفار سے حاصل کرو، اس میں سے پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ اور رسول کے لیے اور قرابت داروں، یتیموں، مساکین اور مسافروں کے لیے ہے۔‘‘ فَے کا مال پانچ اصناف میں تقسیم ہوتا ہے:(۱)پانچ حصوں میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے جو مسلمانوں کے مصالح عامہ میں صرف ہوتا ہے۔(۲) دوسرا حصہ، ذوی القربٰی (رسول اللہﷺ کے رشتہ داروں) کے لیے ہے اور ذوی القربٰی سے مراد بنوہاشم اور بنو مطلب ہیں، جہاں کہیں بھی ہوں، ان کے مردوں اور عورتوں میں برابر تقسیم کیا جائے گا۔ بنومطلب خمس وغیرہ کے پانچویں حصے میں بنوہاشم کے ساتھ شریک ہوں گے، بقیہ بنوعبد مناف شریک نہیں ہوں گے کیونکہ جب قریش نے بنوہاشم سے مقاطعت اور عداوت کا معاہدہ کیا تو بنو مطلب بنو ہاشم کے ساتھ شریک تھے اور دوسروں کے برعکس انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی مدد کی۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ نے بنو مطلب کے بارے میں فرمایا: ’’وہ جاہلیت اور اسلام میں کبھی مجھ سے الگ نہیں ہوئے۔‘‘ (مسند أحمد: 81/4 و اصله في صحيح البخاري، فرض الخمس، باب و من الدليل على ان الخمس للإمام، حديث: 3140)(۳)تيسرا حصہ محتاج یتیموں کے لیے ہے۔ یتیم وہ ہے جس کے باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا ہو اور وہ ابھی بالغ نہ ہوا ہو۔(۴)چوتھا حصہ مساکین کے لیے ہے۔(۵) اور پانچواں (آخری) حصہ مسافروں کے لیے ہے۔ اس سے مراد وہ غریب الوطن لوگ ہیں جو اپنے وطن سے کٹ کر رہ گئے ہوں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ حصے اس لیے مقرر فرمائے اور فَے کو صرف انھی معین لوگوں میں محصور کر دیا ﴿ كَيۡ لَا يَكُوۡنَ دُوۡلَةًۢ بَيۡنَ الۡاَغۡنِيَآءِ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تاکہ (مال) تم میں سے دولت مند لوگوں کے ہاتھوں ہی میں گردش نہ کرتا رہے ۔‘‘ اور ان کے سوا عاجز اور بے بس لوگوں کو کچھ حاصل نہ ہو۔ اس میں اس قدر فساد ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی شریعت کی اتباع میں اتنی زیادہ مصلحتیں ہیں جو شمار سے باہر ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک قاعدہ کلیہ اور ایک عام اصول مقرر فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡهُ١ۗ وَمَا نَهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ فَانۡتَهُوۡا ﴾ ’’رسول تمھیں جو دے، وہ لے لو اور جس سے وہ تمھیں روک دے، اس سے رک جاؤ۔‘‘ یہ آیت کریمہ دین کے اصول و فروع اور اس کے ظاہر و باطن سب کو شامل ہے، نیز یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو کچھ لے کر آئے ہیں، اس سے تمسک کرنا اور اس کی اتباع کرنا بندوں پر فرض ہے اور اس کی مخالفت کرنا جائز نہیں۔ نیز اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی چیز کے حکم پر رسول اللہ ﷺ کی نص، اللہ تعالیٰ کی نص کی مانند ہے اور اس کو ترک کرنے میں کسی کے لیے کوئی رخصت اور عذر نہیں اور کسی کے قول کو آپ کے قول پر مقدم رکھنا جائز نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے تقویٰ کا حکم دیا جس سے دنیا و آخرت میں قلب و روح معمور ہوتی ہے، تقویٰ ہی میں دائمی سعادت اور فوز عظیم ہے۔ تقویٰ کو ضائع کرنے میں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ جو کوئی تقویٰ کو ترک کر کے، خواہشات نفس کی پیروی کو ترجیح دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دینے والا ہے۔ [9,8] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نےفَے کے مال کو جن لوگوں کے لیے مقرر فرمایا، اس کے موجب اور اس میں حکمت کا ذکر فرمایا، نیز بیان فرمایا کہ یہی لوگ اعانت کے مستحق ہیں اور اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے فَے میں حصہ مقرر کیا جائےاور یہ ان مہاجرین کے مابین ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ میں رغبت اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کی خاطر، اپنے محبوب و مالوف گھر بار، وطن، دوستوں اور احباب کو چھوڑ دیا۔ یہی لوگ سچے ہیں، جنھوں نے اپنے ایمان کے تقاضے کے مطابق عمل کیا، اعمال صالحہ اور مشقت آمیز عبادت کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی بخلاف ان لوگوں کے جنھوں نے ایمان کا دعویٰ کیا مگر ہجرت اور جہاد وغیرہ عبادات کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق نہ کی، نیز انصار یعنی اوس اور خزرج کے مابین ہیں جو اپنی خوشی، محبت اور اختیار سے ایمان لائے۔ جب عرب کے تمام شہر دارالحرب، شرک اور شر کا گڑھ تھے تب انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو پناہ دی، سرخ و سیاہ سے آپ کی حفاظت کی، دار ہجرت و ایمان میں اقامت کی یہاں تک کہ دار ہجرت ایک ایسا مرجع بن گیا جس کی طرف مومنین رخ کرتے تھے، جہاں مہاجرین پناہ لیتے اور اس کی چراگاہوں میں مسلمان سکونت اختیار کرتے۔ پس دین کی مدد کرنے والے انصار کے پاس پناہ لیتے رہے، یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا، اس نے طاقت پکڑ لی اور اس میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا گیا، حتیٰ کہ مسلمانوں نے علم و ایمان اور قرآن کے ذریعے سے دلوں کو اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے شہروں کو فتح کر لیا جن کے جملہ اوصاف جمیلہ یہ ہیں:﴿يُحِبُّوۡنَ مَنۡ هَاجَرَ اِلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں، اس کے احباب سے محبت کرتے ہیں اور ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو اس کے دین کی مدد کرتے ہیں۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ حَاجَةً مِّؔمَّاۤ اُوۡتُوۡا﴾’’اور و ہ اپنے دلوں میں اس (مال) کی کوئی حاجت نہیں پاتے جو ا ن (مہاجرین) کو دیا جائے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مہاجرین کو جو کچھ عطا کیا ہے اور ان کو جن فضائل و مناقب سے مختص کیا جن کے وہ اہل ہیں، وہ ان پر حسد نہیں کرتے۔ یہ آیت کریمہ ان کے سینے کی سلامتی، ان میں بغض، کینہ اور حسد کے عدم وجود پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ مہاجرین، انصار سے افضل ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذکر کو مقدم رکھا ہے۔نیز آگاہ فرمایا کہ مہاجرین کو جو کچھ عطا کیا گیا انصار اس کے بارے میں اپنے دلوں میں کوئی حسد محسوس نہیں کرتے۔ یہ آیت کریمہ یہ بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کو وہ فضائل عطا کیے جو انصار اور دیگر لوگوں کو عطا نہیں کیے کیونکہ انھوں نے نصرت دین اور ہجرت کو جمع کیا۔ ﴿وَيُؤۡثِرُوۡنَ عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ﴾ ’’اور اپنی ذات پر (ان کو)ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود انھیں سخت ضرورت ہو۔‘‘ یعنی انصار کے اوصاف میں سے ایک وصف ایثار ہے، جس کی بنا پر وہ دوسروں پر فوقیت رکھتے ہیں اور ان سے ممتاز ہیں، اور یہ کامل ترین جود و سخا ہے اور نفس کے محبوب اموال وغیرہ میں ایثار کرنا اور ان اموال کے خود حاجت مند بلکہ ضرورت مند اور بھوکے ہونے کے باوجود دوسرے پر خرچ کرنا، یہ وصف اخلاق زکیہ، اللہ تعالیٰ سے محبت، پھر شہوات نفس اور اس کی لذات پر اس کی محبت کو مقدم رکھنے ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔جملہ واقعات میں اس انصاری کا قصہ بھی بیان کیا جاتا ہے جس کے سبب سے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ہے جب اس نے اپنے اور اپنے گھر والوں کے کھانے میں اپنے مہمان کو ترجیح دی اور تمام گھر والوں اور بچوں نے رات بھوکے بسر کی۔(اِیثَارٌ) ’’ترجیح دینا‘‘ (اَثْرَۃٌ ) ’’خود غرضی‘‘ کی ضد ہے۔ ایثار قابل تعریف وصف ہے اور خود غرضی مذموم ہے کیونکہ یہ بخل اور حرص کے خصائل کے زمرے میں آتی ہے ، اور جسے ایثار عطا کیا گیا اسے نفس کے بخل و حرص سے بچا لیا گیا۔ ﴿وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح یاب ہیں۔‘‘ اور نفس کے حرص سے بچنے میں ان تمام امور میں حرص سے بچنا شامل ہے جن کا حکم دیا گیا ہے، جب بندہ نفس کی حرص سے بچ گیا، تو اس کے نفس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام آسان لگتے ہیں وہ خوشی سے سر تسلیم خم کرتے ہوئے انشراح صدر کے ساتھ ان کی تعمیل کرتا ہے، اور نفس کے لیے ان تمام امور کو ترک کرنا سہل ہو جاتا ہے، جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، خواہ یہ نفس کے محبوب امور ہی کیوں نہ ہوں اور نفس ان کی طرف بلاتا اور ان کی طرف رغبت کیوں نہ دلاتا ہو۔ اس شخص کے نفس کے لیے، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر، اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنا آسان ہو جاتا ہے، اور اسی سے فوز و فلاح حاصل ہوتی ہے، برعکس اس شخص کے جو نفس کے بخل و حرص سے بچا ہوا نہیں بلکہ بھلائی کے بارے میں حرص کی بیماری میں مبتلا ہے، اور یہ حرص شر کی جڑ اور اس کی بنیاد ہے۔پس اہل ایمان کی یہ دو فضیلت والی، پاک اصناف ہیں اور وہ صحابہ کرام اور ائمہ اعلام ہیں جنھوں نے سابقیت کے اوصاف، فضائل اور مناقب کو جمع کر لیا ان کے بعد کسی نے ان سے سبقت نہیں کی۔ صحابہ کرام y نے بھلائی میں پہلے لوگوں کو جا لیا اور اس طرح وہ مومنوں کے سربراہ، مسلمانوں کے سردار اور اہل تقویٰ کے قائد بن گئے۔ ان کے بعد آنے والوں کے لیے یہی فضیلت کافی ہے کہ وہ ان کے نقش قدم پر چلیں اور ان کے طریق کو راہ نما بنائیں۔ اس لیے بعد میں آنے والوں میں سے جو کوئی ان کو راہ نما بناتا ہے، اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [10]﴿ وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ﴾ یعنی جو(اہل ایمان)مہاجرین و انصار کے بعد آئے ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ اپنی اور تمام مومنین کی خیر خواہی کے لیے کہتے ہیں ﴿ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ﴾ ’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں۔‘‘ یہ دعا تمام گزرے ہوئے اہل ایمان، صحابہ، ان سے پہلے اور ان کے بعد آنے والے تمام اہل ایمان کو شامل ہے۔یہ ایمان کی فضیلت ہے کہ اہل ایمان ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایمان میں مشارکت کے سبب سے ایک دوسرے کے لیے دعا کرتے ہیں، ایمان مومنین کے درمیان اخوت کا تقاضا کرتا ہے، جس کی فروع میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے دعا کریں اور ایک دوسرے سے محبت کریں۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دعا میں قلب سے کینہ کی نفی کا ذکر فرمایا جو قلیل و کثیر ہر قسم کے کینہ کو شامل ہے، جب کینہ کی نفی ہو گئی تو اس کی ضد ثابت ہو گئی اور وہ ہے اہل ایمان کے مابین محبت و موالات اور خیر خواہی وغیرہ، جو اہل ایمان کے حقوق شمار ہوتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام y کے بعد آنے والوں کو ایمان کے وصف سے موصوف کیا ہے، کیونکہ ان کا قول ﴿ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ﴾ ایمان میں ان کی مشارکت پر دلالت کرتا ہے۔ نیز اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ عقائد، ایمان اور اس کے اصول میں صحابہ کرام کی پیروی کرنے والے ہیں اور وہ ہیں اہل سنت و الجماعت، کیونکہ یہ وصف تام صرف انھی پر صادق آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گناہوں کے اقرار اور پھر ان گناہوں سے استغفار کے ساتھ موصوف کیا ہے۔ نیز یہ کہ وہ ایک دوسرے کے لیے استغفار کرتے ہیں اور مومن بھائیوں کے خلاف کینہ اور حسد کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ ان کا اس چیز کی دعا کرنا ان امور کو مستلزم ہے اور جن کا ہم نے ذکر کیا ہے اور ان کے ایک دوسرے سے محبت کرنے کو مستلزم ہے اور اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ ان میں سے کوئی اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، اس کی موجودگی اور عدم موجودگی میں، اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد اس کی خیر خواہی کرے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ یہ سب کچھ اہل ایمان کے ایک دوسرے پر جملہ حقوق ہیں، پھر انھوں نے اپنی دعا کو اللہ تعالیٰ کے دو اسمائے کریمہ پر ختم کیا جو اللہ تعالیٰ کے کمال رحمت اور شدت رأفت و احسان پر دلالت کرتے ہیں، اس کے جملہ احسانات میں سے بلکہ ان میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کواپنے حقوق اور اپنے بندوں کے حقوق قائم کرنے کی توفیق سے بہرہ ور کیا۔ یہ تین اصناف کے لو گ اسی امت کے لوگ ہیں جو فَے کے مستحق ہیں جس کا مصرف اسلام کے مصالح کی طرف راجع ہےاور وہی لوگ اس کی اہلیت رکھتے ہیں جو اس کے اہل ہیں ۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی ان میں شامل کرے۔ [11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال پر تعجب کا اظہار فرمایا ہےجنھوں نے اپنے اہل کتاب بھائیوں کو اپنی مدد اور اہل ایمان کے خلاف موالات کا لالچ دیاتھا، وہ ان سے کہہ رہے تھے:﴿ لَىِٕنۡ اُخۡرِجۡتُمۡ لَنَخۡرُجَنَّ مَعَكُمۡ وَلَا نُطِيۡعُ فِيۡكُمۡ اَحَدًا اَبَدًا﴾ ’’اگر تم نکال دیے گئے تو ہم بھی تمھارے ساتھ ہی نکلیں گے۔ اور تمھارے بارے میں کبھی کسی کا کہنا نہیں مانیں گے۔‘‘ یعنی تمھاری نصرت و مدد کے بارے میں جو کوئی ہمیں برا بھلا کہے گا یا ڈرائے گا، ہم تمھاری عدم نصرت میں اس کی اطاعت نہیں کریں گے ﴿ وَّاِنۡ قُوۡتِلۡتُمۡ لَنَنۡصُرَنَّـكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو یقیناً ہم تمھاری مدد کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس وعدے میں جھوٹے ہیں، جس کے ذریعے سے انھوں نے اپنے بھائیوں کو دھوکے میں مبتلا کیا ان کے اس جھوٹے وعدے کو زیادہ اہمیت نہ دیں، کیونکہ جھوٹ ان کا وصف، فریب اور دھوکہ ان کے ساتھی، نفاق اور بزدلی ان کے دوست ہیں۔ [12] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کی تکذیب کی ہے جس ارشاد کو اس شخص نے ویسے ہی پایا جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی تھی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَىِٕنۡ اُخۡرِجُوۡا﴾ یعنی اگر ان کو جلا وطن کرنے کے لیے ان کے گھروں سے نکالا جائے ﴿ لَا يَخۡرُجُوۡنَ مَعَهُمۡ﴾ تو اپنے وطن کی محبت، قتال پر ان کے عدم صبر اور اپنے وعدے کے عدم ایفا کی بنا پر وہ ان کے ساتھ ہرگز نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَلَىِٕنۡ قُوۡتِلُوۡا لَا يَنۡصُرُوۡنَهُمۡ۠﴾ ’’اور اگر ان سے لڑائی ہوئی تو وہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔‘‘ بلکہ ان پر بزدلی غالب آ جائے گی اور کمزوری قبضہ کرے گی اور وہ اپنے بھائیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیں گے جو ان کے سب سے زیادہ محتاج ہوں گے۔ ﴿ وَلَىِٕنۡ نَّصَرُوۡهُمۡ﴾ اور فرض کیا اگر انھوں نے ان کی مدد کی۔ ﴿ لَيُوَلُّنَّ الۡاَدۡبَارَؔ١۫ ثُمَّ لَا يُنۡصَرُوۡنَ﴾ تو وہ قتال اور ان کی مدد سے پیٹھ پھیرلیں گے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی مدد حاصل نہیں ہو گی۔ [13] اے مومنو! وہ سبب جس نے ان کو اس امر پر آمادہ کیا ہے، یہ ہے کہ ﴿ اَشَدُّ رَهۡبَةً فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’تمھاری ہیبت ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی ہیبت سے بڑھ کر ہے۔‘‘ اس لیے جتنا وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اس سے بڑھ کر وہ تم سے ڈرتے ہیں۔ پس انھوں نے مخلوق کے خوف کو، جو خود اپنے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتی، خالق کے خوف پر مقدم رکھا ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ ’’یہ اس لیے کہ یہ بے سمجھ لوگ ہیں۔‘‘ یعنی وہ امور کے مراتب کو نہیں سمجھتے۔ وہ اشیاء کے حقائق کی معرفت رکھتے ہیں نہ وہ انجام کا تصور کر سکتے ہیں۔ کامل ترین سمجھ اور تفقہ یہ ہے کہ خالق کے خوف، اس پر امید اور اس کی محبت کو، غیر کے خوف، امید اور محبت پر مقدم رکھا جائے، غیر کا خوف، امید اور محبت، خالق کے خوف، امید اور محبت کے تابع ہو۔ [14]﴿ لَا يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’وہ سب مل کر بھی تم سے نہیں لڑسکیں گے۔‘‘ یعنی اجتماعی حالت میں تم سے قتال نہیں کریں گے۔﴿ اِلَّا فِيۡ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوۡ مِنۡ وَّرَآءِ جُدُرٍ﴾ ’’مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کی اوٹ سے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے خلاف لڑائی میں ثابت قدم رہ سکتے ہیں نہ اس پر عزم کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، مگر صرف اس صورت میں جب وہ بستیوں میں قلعہ بند ہو کر لڑ رہے ہوں یا دیواروں اور فصیلوں کے پیچھے سے لڑ رہے ہوں۔ تب اس صورت میں، ان کو اپنی شجاعت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے قلعوں اور فصیلوں کے سہارے، بسا اوقات حفاظت حاصل ہو جاتی ہے، اور یہ سب سے بڑی مذمت ہے۔ ﴿ بَاۡسُهُمۡ بَيۡنَهُمۡ شَدِيۡدٌ﴾ ’’ان کی آپس میں لڑائی بہت سخت ہوتی ہے۔‘‘ ان کے بدن میں کوئی آفت ہے نہ ان کی قوت میں، آفت تو ان کے ضعف ایمان اور ان کے کلمہ کے عدم اجتماع میں ہے۔ بنابریں فرمایا :﴿ تَحۡسَبُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ جب آپ انھیں مجتمع اور ایک دوسرے کی مدد کرتے دیکھتے ہیں تو انھیں متحد سمجھتے ہیں۔ ﴿ وَّقُلُوۡبُهُمۡ شَتّٰى﴾ مگر ان کے دل ایک دوسرے کے خلاف بغض رکھنے والے، متفرق اور متَشَتّت ہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ﴾ ’’یہ‘‘ جس نے انھیں مذکورہ صفات سے متصف کیا ہے ﴿ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’اس سبب سے ہے کہ وہ عقل و خرد نہیں رکھتے۔‘‘اگر وہ عقل سے بہرہ ور ہوتے، تو فاضل کو مفضول پر ترجیح دیتے اور اپنے لیے ناقص ترین حصے پر راضی نہ ہوتے، ان میں اتحاد ہوتا اور ان کے دل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے، اور یوں وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے، ایک دوسرے کو مضبوط کرتے اور اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ایک دوسرے کے معاون بنتے۔ اس قسم کے لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے اہل کتاب میں سے ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی خاطر انتقام لیا اور انھیں دنیا کی زندگی کی رسوائی کا مزا چکھایا۔ [15] ان لوگوں کی مدد کا معدوم ہونا جنھوں نے ان کے ساتھ معاونت کا وعدہ کیا تھا ﴿ كَمَثَلِ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ قَرِيۡبًا﴾ ’’ان کا حال ان لوگ کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر ہوئے۔‘‘ اس سے مراد قریش ہیں، جن کے اعمال کو شیطان نے مزین کیا اور کہا :﴿ لَا غَالِبَ لَكُمُ الۡيَوۡمَ مِنَ النَّاسِ وَاِنِّيۡ جَارٌ لَّـكُمۡ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَؔتِ الۡفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيۡهِ وَقَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكُمۡ اِنِّيۡۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوۡنَ﴾(الانفال: 8؍48) ’’آج لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا، اور میں تمھارا ساتھی ہوں، جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں تو الٹے پاؤ ں بھاگ نکلا اور کہنے لگا: میں تم سے بری الذمہ ہوں، میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔‘‘ پس انھوں نے خود اپنے آپ کو فریب دیا اور ان کو فریب دینے والوں نے بھی فریب دیا جو ان کے کام آ سکے نہ ان سے عذاب کو دور کر سکے، حتیٰ کہ وہ بڑے فخر اور بڑے کروفر سے ’’بدر‘‘ کے مقام پر پہنچ گئے، وہ سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ اور مومنوں کو جا لیں گے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں رسولﷺ اور مومنوں کی مدد کی۔ پس ان کے بڑے بڑے سردار قتل کر دیے گے، ان میں کچھ کو قیدی بنا لیا گیا اور کچھ فرار ہو گئے۔اس طرح ﴿ ذَاقُوۡا وَبَالَ اَمۡرِهِمۡ﴾ انھوں نے اپنے شرک اور بغاوت کے وبال کا مزا چکھ لیا۔ یہ سزا دنیا کے اندر ہے ﴿ وَلَهُمۡ ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے ﴿عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ درد ناک عذاب ہے۔ [16] ان منافقین کی مثال جنھوں نے ا پنے اہل کتاب بھائیوں کو دھوکے میں مبتلا کر رکھا ہے ﴿ كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ﴾ ’’ شیطان کی سی ہے کہ وہ انسان سے کہتا رہا کہ کا فر ہوجا۔‘‘ یعنی شیطان نے انسان کے سامنے کفر کو مزین کر کے خوبصورت بنا دیا اور اسے کفر کی طرف دعوت دی۔ جب انسان نے دھوکے میں مبتلا ہو کر کفر کا ارتکاب کیا اور اسے بدبختی حاصل ہوئی، تو شیطان اس کے کسی کام نہ آیا جس نے اس کی سرپرستی کی تھی اور کفر کی طرف دعوت دی تھی بلکہ شیطان نے اس سے براء ت کا اظہار کیا اور ﴿قَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكَ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کہا کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔‘‘یعنی مجھے تجھ سے عذاب کو دور ہٹانے کی کوئی قدرت اور اختیار حاصل نہیں، میں ذرہ بھر بھلائی کے لیے تیرے کوئی کام نہیں آ سکتا۔ [17]﴿ فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ ﴾ ’’پس ان دونوں کا انجام یہ ہوا۔‘‘ یعنی داعی جو کہ شیطان ہے اور مدعو جو کہ انسان ہے، جبکہ وہ شیطان کی اطاعت کرے ﴿اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيۡنِ فِيۡهَا﴾ ’’دونوں جہنم میں ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر:35؍6) ’’وہ تو اپنے گروہ کو اس لیے دعوت دیتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور یہی ہے بدلہ ظالموں کا۔‘‘ جنھوں نے ظلم اور کفر میں اشتراک کیا، اگرچہ ان کے لیے عذاب کی شدت مختلف ہو گی۔شیطان کا اپنے تمام دوستوں کے ساتھ یہی رویہ ہے، وہ ان کو دعوت دیتا ہے اور فریب سے انھیں ایسے امور کے قریب لے آتا ہے جو ان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جب وہ جال میں پھنس جاتے ہیں اور ہلاکت کے اسباب انھیں آ گھیرتے ہیں تو ان سے بری ٔالذمہ ہو کر ان سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ ہر قسم کی ملامت ہے اس شخص پر جو اس کی اطاعت کرتا ہے، کیونکہ اللہ نے اس سے بچنے کے لیے کہا ہے، اس سے ڈرایا ہے اور اس کے اغراض و مقاصد سے خبردار کیا ہے، پس اس کی اطاعت کرنے والا واضح طور پر اللہ تعالیٰ کا نا فرمان ہے، اس کے پاس کوئی عذر نہیں۔

الحشر 59:5

تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو چیز ہے زمین میں، اور وہ بڑا زبردست ، خوب حکمت والا ہے(1) وہ، وہ ذات ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے، ان کے گھروں سے، وقت پہلی جلا وطنی کے نہیں گمان کیا تھا تم نے (کبھی بھی) یہ کہ وہ نکلیں گے اور انھوں نے سمجھا تھا کہ بے شک وہ، بچا لیں گے ان کو ان کے قلعے اللہ (کے عذاب) سے پس آیا ان پر اللہ (کا عذاب) جہاں سے نہیں گمان کیا تھا انھوں نے، اور اس نے ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، اجاڑتے تھے وہ اپنے گھر اپنے ہاتھوں سے اور مومنوں کے ہاتھوں سے بھی،پس تم عبرت پکڑو اے آنکھوں والو!(2) اور اگرنہ ہوتی یہ بات کہ لکھ دیا تھا اللہ نے ان پر جلا وطن ہونا تو وہ ضرور عذاب دیتا ان کو دنیا ہی میں اور ان کے لیے آخرت میں عذاب ہے آگ کا(3) یہ اس لیے کہ بے شک انھوں نے مخالفت کی اللہ اور اس کےرسول کی، اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ کی تو بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(4) جو کاٹا تم نے کوئی کھجور کا درخت یا چھوڑ دیا تم نے اسے قائم اس کی جڑوں پر، تو (یہ سب) اللہ کے حکم سے ہے، اور تاکہ وہ رسوا کرے فاسقوں کو(5) اور جو لوٹایا اللہ نے اوپر اپنے رسول کے ان (کے مال) سے، پس نہیں دوڑائے تم نے اس پر کوئی گھوڑے اور نہ اونٹ، اور لیکن اللہ غالب کرتا ہے اپنے رسولوں کو اوپر جس کے وہ چاہتا ہے اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(6) جو لوٹایا اللہ نے اوپر اپنے رسول کے بستیوں والوں (کے مال) سے تو (وہ) اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور (رسول کے) قرابت داروں کے لیے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ نہ ہو وہ (مال) گردش کرنے والا درمیان دولت مندوں ہی کے تم میں سے، اور جو کچھ دے تمھیں رسول تو تم لے لو اس کو اور جو کچھ کہ وہ روک دے تمھیں اس سے تو تم رک جاؤ اور ڈرو اللہ سے، بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(7)(مال فَے) فقراء مہاجرین کے لیے ہے وہ جو نکالے گئے اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے اس حال میں کہ وہ تلاش کرتے ہیں فضل اللہ کا اور رضا مندی، اور وہ مدد کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی، یہی لوگ تو سچے ہیں(8) اور (ان کے لیے ہے) جنھوں نے بنا لیا تھا (مدینہ کو) گھر اور (قبول کر لیا تھا) ایمان ان (کی ہجرت) سے پہلے، وہ (انصار) محبت کرتے ہیں اس سے جو ہجرت کرے ان کی طرف اور نہیں پاتے وہ اپنے سینوں میں کوئی حاجت (حسد) اس سے جو دیے جائیں وہ (مہاجرین) اور وہ ترجیح دیتے ہیں (ان کو) اوپر اپنے نفسوں کے، اگرچہ ہو خود ان کو سخت حاجت اور جو کوئی بچا لیا گیا بخیلی سے اپنے نفس کی پس یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(9) اور (ان کے لیے ہے) جو آئے ان کے بعد، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! بخش دے ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو جنھوں نے پہل کی ہم سے ایمان (لانے) میں اور نہ رکھ تو ہمارے دلوں میں کینہ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اے ہمارے رب! بلاشبہ تو بہت شفقت کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (10) کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے منافقت کی، وہ کہتے ہیں اپنے ان بھائیوں سے جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے، البتہ اگر نکالے گئے تم تو ہم ضرور نکلیں گے تمھارے ساتھ اور نہیں اطاعت کریں گے ہم تمھارے معاملے میں کسی کی کبھی بھی، اور اگر لڑائی کیے گئے تم تو ہم ضرور مدد کریں گے تمھاری اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں (11) البتہ اگر نکالے گئے وہ تو نہیں نکلیں گے یہ ان کے ساتھ اور اگر لڑائی کیے گئے وہ تو نہیں مدد کریں گے وہ ان کی، اور البتہ اگر وہ مدد کریں گے بھی ان کی تو ضرور پھیر جائیں گے وہ پیٹھیں ، پھر نہیں مدد کیے جائیں گے وہ (12) البتہ تم (اے مسلمانو!) زیادہ ہو باعتبار ہیبت کے ان کے دلوں میں بنسبت اللہ کے، یہ اس لیے کہ بے شک وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہیں سمجھتے (13) نہیں لڑیں گے وہ تم سے سب مل کر بھی مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کے پیچھے سے، ان کی لڑائی(عداوت) آپس میں بہت سخت ہے آپ گمان کرتے ہیں ان کو اکٹھے جبکہ ان کے دل جدا جدا ہیں، یہ بوجہ اس کےکہ بلاشبہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہیں عقل رکھتے (14) مانند صفت ان لوگوں کے جو ان سے پہلے ہوئے قریب ہی، چکھ لیا انھوں نے وبال اپنے کام (کفر) کا اور ان کے لیے ہے عذاب درد ناک (15)(ان کی مثال) مانند حالت شیطان کے ہے جب وہ کہتا ہے انسان کو کہ تو کفر کر، پس جب وہ کفر کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے بلاشبہ میں تو بری ہوں تجھ سے بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے (16) پھر ہوتا ہے ان دونوں کا انجام کہ بلاشبہ وہ دونوں ہی آگ میں ہوں گے، ہمیشہ رہیں گے اس میں اور یہی ہے جزا (سزا) ظالموں کی (17) تفسیر سورۂ حشر اس سورۂ مبارکہ کو ’’سورۂ بنی نضیر‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ بنو نضیر یہودیوں کا ایک بڑا قبیلہ تھا جو نبی ٔاکرمﷺ کی بعثت کے وقت مدینہ کے مضافات میں آباد تھا۔ جب نبی ٔاکرمﷺ مبعوث ہوئے اور آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو انھوں نے جملہ یہود کے ساتھ آپ کی نبوت کا انکار کر دیا، نبی ٔاکرم ﷺ نے یہود کے ان قبائل کے ساتھ معاہدہ کیا جو مدینہ منورہ میں آپ کے پڑوس میں آباد تھے۔ غروۂ بدر کے تقریباً چھ ماہ بعد نبی اکرم ﷺ ان کے پاس گئے اور ان سے گفتگو کی کہ (معاہدے کے مطابق) وہ ان کلابیوں کی دیت کے بارے میں آپ کی مدد کریں، جن کو عمرو بن امیہ ضمری نے قتل کیا تھا۔ انھوں نے کہا ’’اے ابوالقاسم! ہم آپ کی مدد کریں گے آپ یہاں بیٹھیے، یہاں تک کہ ہم آپ کے لیے دیت اکٹھی کردیں، چنانچہ وہ تنہائی میں ایک دوسرے سے ملے اور شیطان نے ان کے لیے اس بدبختی کو آسان بنا دیا جو ان کے لیے لکھ دی گئی تھی، چنانچہ انھوں نے آپ کے قتل کی سازش کی اور آپ کے بارے میں کہنے لگے ’’تم میں سے کون ہے جو اس چکی کو اٹھائے چھت پر چڑھ کر آپ کے سر پر دے مارے اور اس سے آپ کا سر کچل ڈالے؟‘‘ان میں سے بدبخت ترین شخص عمرو بن جحاش نے کہا: ’’یہ کام میں کروں گا‘‘ سَلَام بِن مِشْکَمْ نے ان سے کہا ’’یہ کام نہ کرواللہ کی قسم! تمھارے ارادے سے اسے ضرور آگاہ کر دیا جائے گا، اور یہ اس معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے جو ہمارے اور اس کے درمیان ہوا ہے۔‘‘ انھوں نے جو سازش کی تھی اس کے بارے میں آپ پر فوراً وحی نازل ہو گئی، آپ جلدی سے وہاں سے اٹھ گئے اور مدینہ کا رخ کیا اور آپ کے صحابہ بھی (جو ساتھ گئے تھے) آپ سے مل گئے اور عرض کیا ’’آپ وہاں سے اٹھ آئے اور ہمیں خبر بھی نہ ہوئی۔‘‘ آپ نے انھیں اس سازش کے بارے میں آگاہ فرمایا جو یہودیوں نے آپ کے خلاف کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو پیغام بھجوایا کہ ’’مدینہ سے نکل جاؤ اور اس میں مت رہو، میں تمھیں دس دن کی مہلت دیتا ہوں، اس کے بعد میں نے جس کسی کو مدینہ میں پایا، اس کی گردن مار دوں گا۔‘‘ بنونضیر مدینہ منورہ میں کچھ دن ٹھہرے اور (وہاں سے نکلنے کی) تیاری کرتے رہے، عبداللہ بن ابی ابن سلول منافق نے ان کو پیغام بھجوایا ’’اپنے گھروں سے مت نکلو، میرے ساتھ دو ہزار آدمی ہیں جو تمھارے ساتھ تمھارے قلعے میں داخل ہوں گے اور تمھاری خاطر اپنی جان دیں گے، بنوقریظہ اور بنوغطفان میں سے تمھارے حلیف بھی تمھاری مدد کریں گے۔‘‘ بنونضیر کا سردار حُیَي بن اخطب، عبداللّٰہ بن اُبَّی کے کہنے میں آ گیا اور رسول اللہ ﷺ کو کہلا بھیجا ’’ہم اپنے گھروں سے نہیں نکلیں گے، جو چاہو کر لو‘‘ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور یہود کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت علیt نے جھنڈا اٹھا رکھا تھا۔ یہودی اپنے قلعوں میں مقیم ہو کر پتھر اور تیر پھینکنے لگے، بنوقریظہ ان سے الگ ہو گئے، عبداللہ بن ابی اور بنو غطفان میں سے ان کے حلیفوں نے بھی ان سے خیانت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کر لیا، ان کے کھجوروں کے باغات کاٹ کر نذر آتش کر دیے، بنونضیر نے پیغام بھیجا کہ ہم مدینہ سے نکل جائیں گے، رسول اللہ ﷺ نے ان پر یہ شرط عائد کی کہ وہ اپنی اولاد کو لے کر نکل جائیں اور اسلحہ کے سوا وہ سب کچھ لے جائیں جو ان کے اونٹ اٹھا سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے مال اور اسلحہ کو اپنے قبضے میں لے لیا۔بنونضیر کے اموال خالص رسول اللہ ﷺ کی مہمات اور مسلمانوں کے مصالح کے لیے تھے، آپ نے اس مال میں سے خمس نکالا، کیونکہ یہ مال اللہ تعالیٰ نے آپ کو دلوایا تھا، مسلمانوں نے گھوڑوں اور اونٹوں کے ساتھ ان پر چڑھائی نہیں کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے بنونضیر کو خیبر کی طرف جلا وطن کر دیا، ان میں ان کا سردار حُیَيبن اخطب بھی شامل تھا اور ان کی اراضی اور گھروں پر قبضہ کر لیا۔ نیز ان کے اسلحہ کو بھی قبضہ میں لے لیا، اسلحہ میں پچاس زر ہیں، پچاس خود اور تین سو چالیس تلواریں ہاتھ لگیں۔ یہ ہے بنونضیر کے قصے کا ماحصل جیسا کہ اسے اہل سیرت نے بیان کیا ہے۔ [1] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کے ساتھ اس سورۂ مبارکہ کا افتتاح کیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے اور اس وصف سے اس کو منزہ قرار دے رہی ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں ،وہ اس کی عبادت کر رہی ہے اور اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہے کیونکہ وہ غلبے والا ہے اور ہر چیز پر غالب ہے، کوئی چیز اس سے بچ سکتی ہے نہ کوئی ہستی اس کی نافرمانی کر سکتی ہے۔ وہ اپنی تخلیق و امر میں حکمت رکھنے والا ہے، وہ کوئی چیز عبث پیدا کرتا ہے نہ کوئی ایسا امر مشروع کرتا ہے جس میں کوئی مصلحت نہ ہو اور نہ کوئی ایسا فعل سرانجام دیتا ہے جو اس کی حکمت کے تقاضے کے مطابق نہ ہو۔ [2] یہ اس کی حکمت ہے کہ جب اہل کتاب میں سے بنونضیر نے اس کے رسول کے ساتھ بدعہدی کی تو اس نے ان کے مقابلے میں اپنے رسول ﷺ کی مدد کی پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گھروں اور وطن سے نکال دیا، جن سے وہ محبت کرتے تھے، ان کا اپنے گھروں اور وطن سے نکالا جانا اولین جلا وطنی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں خیبر کی طرف مقدر ٹھہرائی۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اس جلا وطنی کے علاوہ بھی ان کو جلا وطنی کا سامنا کرنا پڑا اور یہ وہ جلا وطنی ہے جو خیبر سے رسول اللہﷺ کے ہاتھوں واقع ہوئی، پھر حضرت عمرt نے (اپنے عہد خلافت میں)بقیہ تمام یہودیوں کو خیبر سے نکال دیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَا ظَنَنۡتُمۡ﴾ اے مسلمانو! تمھارے خیال میں بھی نہ تھا ﴿ اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا﴾ کہ وہ اپنے گھروں سے نکل جائیں گے، کیونکہ ان کے گھر محفوظ اور مصئو ن تھے اور ان میں عزت اور غلبے کے ساتھ رہتے تھے ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مَّؔانِعَتُهُمۡ حُصُوۡنُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ گمان کر رہے تھے کہ ان کے قلعے انھیں اللہ سے بچالیں گے۔‘‘ انھیں ان قلعوں پر بہت غرور تھا، ان قلعوں نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر رکھا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ان قلعوں کی وجہ سے ان تک پہنچا جا سکتا ہے نہ ان پر کوئی قابو پا سکتا ہے۔ اس کے ماوراء اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا امر مقدر کر دیا، جس سے انھیں ان کی محفوظ پناہ گاہیں بچاسکیں نہ قلعے، اور نہ قوت اور مدافعت ہی کام آسکی۔اس لیے فرمایا:﴿ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ حَيۡثُ لَمۡ يَحۡتَسِبُوۡا﴾ ’’پس اللہ نے انھیں وہاں سے آلیا جہاں سے انھیں گمان بھی نہیں تھا۔‘‘ یعنی اس طریقے اور اس راستے سے جس کے بارے میں انھیں وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہاں سے ان کو آ لیا جائے گا۔ اور وہ یہ بات تھی ﴿ وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ﴾ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، اس سے مراد شدید خوف ہے جو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی سپاہ ہے، جس کے سامنے تعداد اور ساز و سامان کوئی فائدہ دیتا ہے نہ طاقت اور بہادری کوئی کام آتی ہے۔وہ معاملہ جس کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ اگر کوئی خلل داخل ہوا تو اس راستے سے داخل ہو گااور وہ ان کے قلعے تھے جہاں داخل ہو کر وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگے اور ان قلعوں پر ان کے دل مطمئن تھے۔ جو کوئی غیر اللہ پر بھروسہ کرتا ہے وہ بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور جو کوئی غیر اللہ کا سہارا لیتا ہے تو یہ اس کے لیے وبال بن جاتا ہے۔ پس ان کے پاس ایک آسمانی معاملہ آیا اور ان کے دلوں میں نازل ہوا، جو صبر و ثبات اور بز دلی و کمزوری کا محل و مقام ہوتے ہیں، چنانچہ اس نے ان کی قوت اور بہادری کو زائل کر دیا اور اس کی جگہ کمزوری اور بز دلی دے دی جس کو دور کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی حیلہ نہ تھا اور یہ چیز ان کے خلاف (مسلمانوں کی)مددگار بن گئی۔ بنابریں فرمایا :﴿ يُخۡرِبُوۡنَ بُيُوۡتَهُمۡ بِاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَيۡدِي الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ اور وہ یہ کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے اس شرط پر مصالحت کی کہ ان کے اونٹ جو کچھ اٹھائیں سب ان کا ہے۔ اس بنا پر انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے گھروں کی چھتوں کو اکھاڑ ڈالا جو انھیں بہت اچھی لگتی تھیں اور اپنی سر کشی کی بنا پر اپنے گھروں کے برباد کرنے اور اپنے قلعوں کے منہدم کرنے پر مسلمانوں کو مسلط کر دیاتو یہ وہی ہیں جنھوں نے خود اپنے خلاف جرم کیا اور ان قلعوں اور گھروں کو برباد کرنے میں مددگار بنے۔ ﴿ فَاعۡتَبِرُوۡا يٰۤاُولِي الۡاَبۡصَارِ﴾ پس اے اہل بصیرت عبرت یعنی معاملات کی گہرائی میں اتر جانے والی بصیرت اور کامل عقل والو! عبرت حاصل کرو کیونکہ اس واقعہ میں عبرت ہے، اس سے ان معاندین حق کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سلوک کی معرفت حاصل ہوتی ہے، جو اپنی خواہشات نفس کے پیچھے چلتے ہیں، جن کی عزت نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ طاقت انھیں بچا سکی، جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کا حکم آ گیا اور ان کے گناہوں کی پاداش میں عذاب آ پہنچا، تو ان کے قلعے ان کی حفاظت نہ کر سکے، لہٰذا اعتبار الفاظ کے عموم کا ہوتا ہے نہ کہ اسباب کے خصوص کا، چنانچہ یہ آیت کریمہ عبرت حاصل کرنے کے حکم پر دلالت کرتی ہے اور وہ ہے نظیر کے ذریعے سے اس کے نظیر سے عبرت حاصل کرنا اور کسی چیز کو اس چیز پر قیاس کرنا جو اس سے مشابہت رکھتی ہے، اسی عبرت سے عقل کی تکمیل اور بصیرت روشن ہوتی ہے، ایمان میں اضافہ اور حقیقی فہم حاصل ہوتا ہے۔ [3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان یہودیوں کو وہ پوری سزا نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا میں تخفیف کر دی ہے۔ فرمایا:﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمُ الۡجَلَآءَؔ﴾ اور اگر اللہ نے ان پر جلاوطنی نہ لکھی ہوتی جس کا انھیں سامنا کرنا پڑا جس کا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایسی قضا و قدر کے ذریعے سے فیصلہ کیا جس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا تو دنیا کے اندر ان کی سزا اور عذاب کا معاملہ اور ہوتا۔ اگرچہ وہ دنیا کے اندر سخت عذاب سے بچ گئے، تاہم آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہےجس کی سختی کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے ممکن نہیں، لہٰذا کبھی ان کے خواب و خیال میں یہ بات نہ آئے کہ ان کی سزا پوری ہو گئی، انھوں نے بھگت لی اور اس سزا میں سے کچھ باقی نہیں بچا۔ پس وہ عذاب جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آخرت میں تیار کر رکھا ہے، زیادہ بڑا اور زیادہ مصیبت کا حامل ہے۔ [4]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺکی مخالفت کی، ان کے ساتھ دشمنی کی، ان کے خلاف جنگ کی اور ان کی نافرمانی میں بھاگ دوڑ کی۔(ان سے جو کچھ ہوا ہے)یہ ان لوگوں کے بارے میں سنت الٰہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ﴾ ’’اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ [5] جب بنونضیر نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو کھجوروں کے درخت اور دیگر درخت کاٹنے پر ملامت کی اور اس زعم کا اظہار کیا کہ یہ فساد ہے اور اس بنا پر انھوں نے مسلمانوں کو نشانہ طعن بنایا،تب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اگر مسلمانوں نے کھجور کے درخت کاٹے ہیں، تو ان کو کاٹنا اور اگر ان کو باقی رکھا ہے، تو ان کو باقی رکھنا ﴿ فَبِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ تو یہ اللہ تعالیٰ کے اذن اور حکم سے ہے ﴿ وَلِيُخۡزِيَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اور تاکہ وہ فاسقوں کو رسوا کرے۔‘‘ کیونکہ اس نے ان کے کھجوروں کے باغات کاٹنے اور جلانے کا تمھیں اختیار دیا تاکہ یہ سب کچھ ان کے لیے سزا اور دنیا کے اندر ان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہو جس سے ان کی پوری بے بسی ظاہر ہو، جس کی وجہ سے وہ کھجوروں کے باغات بھی نہ بچا سکے، جو ان کی قوت اور طاقت کا سبب تھے۔(اَللِّینَةُ) صحیح اور راجح ترین احتمال کے مطابق ہر قسم کے کھجور کے درختوں کو شامل ہے۔یہ ہے بنونضیر کا حال، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کے اندر کیسے سزا دی؟ [6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جن کی طرف بنونضیر کا مال و متاع منتقل ہوا ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡهُمۡ﴾ ’’او رجو مال اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلایا۔‘‘ یعنی اس بستی کے لوگوں میں سے، اس سے مراد بنونضیر کے لوگ ہیں ﴿ فَمَاۤ اَوۡجَفۡتُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ خَيۡلٍ وَّلَا رِكَابٍ﴾ یعنی تم نے گھوڑے دوڑائے ہیں نہ لشکر اکٹھے کیے ہیں، یعنی تمھیں لشکر جمع کرنے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑی اور نہ تمھارے مویشیوں ہی کو مشقت کا سامنا کرناپڑا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان (یہودیوں) کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ تمھارے سامنے درگزر اور عفو کی درخواست کرتے ہوئے حاضر ہوئے۔اس لیے فرمایا: ﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ١ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ اور اس کی قدرت کاملہ یہ ہے کہ کوئی بچنے والا اس سے بچ سکتا ہے نہ قوت والا اس کے مقابلے میں غالب آ سکتا ہے۔ [7] فقہاء کی اصطلاح میں فَے سے مراد وہ مال ہے جو حق کے ساتھ کفار سے کسی جنگ کے بغیر حاصل کیا جائے، مثلاً: ’’وہی مال جسے کفار مسلمانوں کے خوف کی بنا پر چھوڑکر فرار ہو گئے۔ اس کو فَے اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ کفار کی طرف سے جو اس مال کے مستحق نہ تھے، مسلمانوں کی طرف لوٹا ہے جو اس پر بہت زیادہ حق رکھتے تھے۔مالِ فَے کا حکم : فَے کا حکم یہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا : ﴿ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى﴾ ’’جو مال اللہ نے بستی والوں سے اپنے رسول کو دلوایا ہے۔‘‘ عمومی طور پر، خواہ رسول اللہ ﷺ کا زمانہ ہو یا آپ کے بعد آپ کی امت میں سے اس شخص کا زمانہ ہو جو امارت کے منصب پر فائز ہو ﴿ فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِـذِي الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ اللہ کے لیے، اللہ کے رسول کے لیے، اور (رسول کے) رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اس آیت کریمہ کی نظیر ہے جو سورۂ انفال میں مذکور ہے، اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِي الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ﴾(الانفال:8؍41) ’’اور جان رکھو! جو چیز تم غنیمت کے طور پر کفار سے حاصل کرو، اس میں سے پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ اور رسول کے لیے اور قرابت داروں، یتیموں، مساکین اور مسافروں کے لیے ہے۔‘‘ فَے کا مال پانچ اصناف میں تقسیم ہوتا ہے:(۱)پانچ حصوں میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے جو مسلمانوں کے مصالح عامہ میں صرف ہوتا ہے۔(۲) دوسرا حصہ، ذوی القربٰی (رسول اللہﷺ کے رشتہ داروں) کے لیے ہے اور ذوی القربٰی سے مراد بنوہاشم اور بنو مطلب ہیں، جہاں کہیں بھی ہوں، ان کے مردوں اور عورتوں میں برابر تقسیم کیا جائے گا۔ بنومطلب خمس وغیرہ کے پانچویں حصے میں بنوہاشم کے ساتھ شریک ہوں گے، بقیہ بنوعبد مناف شریک نہیں ہوں گے کیونکہ جب قریش نے بنوہاشم سے مقاطعت اور عداوت کا معاہدہ کیا تو بنو مطلب بنو ہاشم کے ساتھ شریک تھے اور دوسروں کے برعکس انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی مدد کی۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ نے بنو مطلب کے بارے میں فرمایا: ’’وہ جاہلیت اور اسلام میں کبھی مجھ سے الگ نہیں ہوئے۔‘‘ (مسند أحمد: 81/4 و اصله في صحيح البخاري، فرض الخمس، باب و من الدليل على ان الخمس للإمام، حديث: 3140)(۳)تيسرا حصہ محتاج یتیموں کے لیے ہے۔ یتیم وہ ہے جس کے باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا ہو اور وہ ابھی بالغ نہ ہوا ہو۔(۴)چوتھا حصہ مساکین کے لیے ہے۔(۵) اور پانچواں (آخری) حصہ مسافروں کے لیے ہے۔ اس سے مراد وہ غریب الوطن لوگ ہیں جو اپنے وطن سے کٹ کر رہ گئے ہوں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ حصے اس لیے مقرر فرمائے اور فَے کو صرف انھی معین لوگوں میں محصور کر دیا ﴿ كَيۡ لَا يَكُوۡنَ دُوۡلَةًۢ بَيۡنَ الۡاَغۡنِيَآءِ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تاکہ (مال) تم میں سے دولت مند لوگوں کے ہاتھوں ہی میں گردش نہ کرتا رہے ۔‘‘ اور ان کے سوا عاجز اور بے بس لوگوں کو کچھ حاصل نہ ہو۔ اس میں اس قدر فساد ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی شریعت کی اتباع میں اتنی زیادہ مصلحتیں ہیں جو شمار سے باہر ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک قاعدہ کلیہ اور ایک عام اصول مقرر فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡهُ١ۗ وَمَا نَهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ فَانۡتَهُوۡا ﴾ ’’رسول تمھیں جو دے، وہ لے لو اور جس سے وہ تمھیں روک دے، اس سے رک جاؤ۔‘‘ یہ آیت کریمہ دین کے اصول و فروع اور اس کے ظاہر و باطن سب کو شامل ہے، نیز یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو کچھ لے کر آئے ہیں، اس سے تمسک کرنا اور اس کی اتباع کرنا بندوں پر فرض ہے اور اس کی مخالفت کرنا جائز نہیں۔ نیز اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی چیز کے حکم پر رسول اللہ ﷺ کی نص، اللہ تعالیٰ کی نص کی مانند ہے اور اس کو ترک کرنے میں کسی کے لیے کوئی رخصت اور عذر نہیں اور کسی کے قول کو آپ کے قول پر مقدم رکھنا جائز نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے تقویٰ کا حکم دیا جس سے دنیا و آخرت میں قلب و روح معمور ہوتی ہے، تقویٰ ہی میں دائمی سعادت اور فوز عظیم ہے۔ تقویٰ کو ضائع کرنے میں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ جو کوئی تقویٰ کو ترک کر کے، خواہشات نفس کی پیروی کو ترجیح دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دینے والا ہے۔ [9,8] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نےفَے کے مال کو جن لوگوں کے لیے مقرر فرمایا، اس کے موجب اور اس میں حکمت کا ذکر فرمایا، نیز بیان فرمایا کہ یہی لوگ اعانت کے مستحق ہیں اور اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے فَے میں حصہ مقرر کیا جائےاور یہ ان مہاجرین کے مابین ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ میں رغبت اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کی خاطر، اپنے محبوب و مالوف گھر بار، وطن، دوستوں اور احباب کو چھوڑ دیا۔ یہی لوگ سچے ہیں، جنھوں نے اپنے ایمان کے تقاضے کے مطابق عمل کیا، اعمال صالحہ اور مشقت آمیز عبادت کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی بخلاف ان لوگوں کے جنھوں نے ایمان کا دعویٰ کیا مگر ہجرت اور جہاد وغیرہ عبادات کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق نہ کی، نیز انصار یعنی اوس اور خزرج کے مابین ہیں جو اپنی خوشی، محبت اور اختیار سے ایمان لائے۔ جب عرب کے تمام شہر دارالحرب، شرک اور شر کا گڑھ تھے تب انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو پناہ دی، سرخ و سیاہ سے آپ کی حفاظت کی، دار ہجرت و ایمان میں اقامت کی یہاں تک کہ دار ہجرت ایک ایسا مرجع بن گیا جس کی طرف مومنین رخ کرتے تھے، جہاں مہاجرین پناہ لیتے اور اس کی چراگاہوں میں مسلمان سکونت اختیار کرتے۔ پس دین کی مدد کرنے والے انصار کے پاس پناہ لیتے رہے، یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا، اس نے طاقت پکڑ لی اور اس میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا گیا، حتیٰ کہ مسلمانوں نے علم و ایمان اور قرآن کے ذریعے سے دلوں کو اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے شہروں کو فتح کر لیا جن کے جملہ اوصاف جمیلہ یہ ہیں:﴿يُحِبُّوۡنَ مَنۡ هَاجَرَ اِلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں، اس کے احباب سے محبت کرتے ہیں اور ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو اس کے دین کی مدد کرتے ہیں۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ حَاجَةً مِّؔمَّاۤ اُوۡتُوۡا﴾’’اور و ہ اپنے دلوں میں اس (مال) کی کوئی حاجت نہیں پاتے جو ا ن (مہاجرین) کو دیا جائے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مہاجرین کو جو کچھ عطا کیا ہے اور ان کو جن فضائل و مناقب سے مختص کیا جن کے وہ اہل ہیں، وہ ان پر حسد نہیں کرتے۔ یہ آیت کریمہ ان کے سینے کی سلامتی، ان میں بغض، کینہ اور حسد کے عدم وجود پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ مہاجرین، انصار سے افضل ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذکر کو مقدم رکھا ہے۔نیز آگاہ فرمایا کہ مہاجرین کو جو کچھ عطا کیا گیا انصار اس کے بارے میں اپنے دلوں میں کوئی حسد محسوس نہیں کرتے۔ یہ آیت کریمہ یہ بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کو وہ فضائل عطا کیے جو انصار اور دیگر لوگوں کو عطا نہیں کیے کیونکہ انھوں نے نصرت دین اور ہجرت کو جمع کیا۔ ﴿وَيُؤۡثِرُوۡنَ عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ﴾ ’’اور اپنی ذات پر (ان کو)ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود انھیں سخت ضرورت ہو۔‘‘ یعنی انصار کے اوصاف میں سے ایک وصف ایثار ہے، جس کی بنا پر وہ دوسروں پر فوقیت رکھتے ہیں اور ان سے ممتاز ہیں، اور یہ کامل ترین جود و سخا ہے اور نفس کے محبوب اموال وغیرہ میں ایثار کرنا اور ان اموال کے خود حاجت مند بلکہ ضرورت مند اور بھوکے ہونے کے باوجود دوسرے پر خرچ کرنا، یہ وصف اخلاق زکیہ، اللہ تعالیٰ سے محبت، پھر شہوات نفس اور اس کی لذات پر اس کی محبت کو مقدم رکھنے ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔جملہ واقعات میں اس انصاری کا قصہ بھی بیان کیا جاتا ہے جس کے سبب سے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ہے جب اس نے اپنے اور اپنے گھر والوں کے کھانے میں اپنے مہمان کو ترجیح دی اور تمام گھر والوں اور بچوں نے رات بھوکے بسر کی۔(اِیثَارٌ) ’’ترجیح دینا‘‘ (اَثْرَۃٌ ) ’’خود غرضی‘‘ کی ضد ہے۔ ایثار قابل تعریف وصف ہے اور خود غرضی مذموم ہے کیونکہ یہ بخل اور حرص کے خصائل کے زمرے میں آتی ہے ، اور جسے ایثار عطا کیا گیا اسے نفس کے بخل و حرص سے بچا لیا گیا۔ ﴿وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح یاب ہیں۔‘‘ اور نفس کے حرص سے بچنے میں ان تمام امور میں حرص سے بچنا شامل ہے جن کا حکم دیا گیا ہے، جب بندہ نفس کی حرص سے بچ گیا، تو اس کے نفس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام آسان لگتے ہیں وہ خوشی سے سر تسلیم خم کرتے ہوئے انشراح صدر کے ساتھ ان کی تعمیل کرتا ہے، اور نفس کے لیے ان تمام امور کو ترک کرنا سہل ہو جاتا ہے، جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، خواہ یہ نفس کے محبوب امور ہی کیوں نہ ہوں اور نفس ان کی طرف بلاتا اور ان کی طرف رغبت کیوں نہ دلاتا ہو۔ اس شخص کے نفس کے لیے، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر، اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنا آسان ہو جاتا ہے، اور اسی سے فوز و فلاح حاصل ہوتی ہے، برعکس اس شخص کے جو نفس کے بخل و حرص سے بچا ہوا نہیں بلکہ بھلائی کے بارے میں حرص کی بیماری میں مبتلا ہے، اور یہ حرص شر کی جڑ اور اس کی بنیاد ہے۔پس اہل ایمان کی یہ دو فضیلت والی، پاک اصناف ہیں اور وہ صحابہ کرام اور ائمہ اعلام ہیں جنھوں نے سابقیت کے اوصاف، فضائل اور مناقب کو جمع کر لیا ان کے بعد کسی نے ان سے سبقت نہیں کی۔ صحابہ کرام y نے بھلائی میں پہلے لوگوں کو جا لیا اور اس طرح وہ مومنوں کے سربراہ، مسلمانوں کے سردار اور اہل تقویٰ کے قائد بن گئے۔ ان کے بعد آنے والوں کے لیے یہی فضیلت کافی ہے کہ وہ ان کے نقش قدم پر چلیں اور ان کے طریق کو راہ نما بنائیں۔ اس لیے بعد میں آنے والوں میں سے جو کوئی ان کو راہ نما بناتا ہے، اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [10]﴿ وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ﴾ یعنی جو(اہل ایمان)مہاجرین و انصار کے بعد آئے ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ اپنی اور تمام مومنین کی خیر خواہی کے لیے کہتے ہیں ﴿ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ﴾ ’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں۔‘‘ یہ دعا تمام گزرے ہوئے اہل ایمان، صحابہ، ان سے پہلے اور ان کے بعد آنے والے تمام اہل ایمان کو شامل ہے۔یہ ایمان کی فضیلت ہے کہ اہل ایمان ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایمان میں مشارکت کے سبب سے ایک دوسرے کے لیے دعا کرتے ہیں، ایمان مومنین کے درمیان اخوت کا تقاضا کرتا ہے، جس کی فروع میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے دعا کریں اور ایک دوسرے سے محبت کریں۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دعا میں قلب سے کینہ کی نفی کا ذکر فرمایا جو قلیل و کثیر ہر قسم کے کینہ کو شامل ہے، جب کینہ کی نفی ہو گئی تو اس کی ضد ثابت ہو گئی اور وہ ہے اہل ایمان کے مابین محبت و موالات اور خیر خواہی وغیرہ، جو اہل ایمان کے حقوق شمار ہوتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام y کے بعد آنے والوں کو ایمان کے وصف سے موصوف کیا ہے، کیونکہ ان کا قول ﴿ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ﴾ ایمان میں ان کی مشارکت پر دلالت کرتا ہے۔ نیز اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ عقائد، ایمان اور اس کے اصول میں صحابہ کرام کی پیروی کرنے والے ہیں اور وہ ہیں اہل سنت و الجماعت، کیونکہ یہ وصف تام صرف انھی پر صادق آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گناہوں کے اقرار اور پھر ان گناہوں سے استغفار کے ساتھ موصوف کیا ہے۔ نیز یہ کہ وہ ایک دوسرے کے لیے استغفار کرتے ہیں اور مومن بھائیوں کے خلاف کینہ اور حسد کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ ان کا اس چیز کی دعا کرنا ان امور کو مستلزم ہے اور جن کا ہم نے ذکر کیا ہے اور ان کے ایک دوسرے سے محبت کرنے کو مستلزم ہے اور اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ ان میں سے کوئی اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، اس کی موجودگی اور عدم موجودگی میں، اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد اس کی خیر خواہی کرے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ یہ سب کچھ اہل ایمان کے ایک دوسرے پر جملہ حقوق ہیں، پھر انھوں نے اپنی دعا کو اللہ تعالیٰ کے دو اسمائے کریمہ پر ختم کیا جو اللہ تعالیٰ کے کمال رحمت اور شدت رأفت و احسان پر دلالت کرتے ہیں، اس کے جملہ احسانات میں سے بلکہ ان میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کواپنے حقوق اور اپنے بندوں کے حقوق قائم کرنے کی توفیق سے بہرہ ور کیا۔ یہ تین اصناف کے لو گ اسی امت کے لوگ ہیں جو فَے کے مستحق ہیں جس کا مصرف اسلام کے مصالح کی طرف راجع ہےاور وہی لوگ اس کی اہلیت رکھتے ہیں جو اس کے اہل ہیں ۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی ان میں شامل کرے۔ [11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال پر تعجب کا اظہار فرمایا ہےجنھوں نے اپنے اہل کتاب بھائیوں کو اپنی مدد اور اہل ایمان کے خلاف موالات کا لالچ دیاتھا، وہ ان سے کہہ رہے تھے:﴿ لَىِٕنۡ اُخۡرِجۡتُمۡ لَنَخۡرُجَنَّ مَعَكُمۡ وَلَا نُطِيۡعُ فِيۡكُمۡ اَحَدًا اَبَدًا﴾ ’’اگر تم نکال دیے گئے تو ہم بھی تمھارے ساتھ ہی نکلیں گے۔ اور تمھارے بارے میں کبھی کسی کا کہنا نہیں مانیں گے۔‘‘ یعنی تمھاری نصرت و مدد کے بارے میں جو کوئی ہمیں برا بھلا کہے گا یا ڈرائے گا، ہم تمھاری عدم نصرت میں اس کی اطاعت نہیں کریں گے ﴿ وَّاِنۡ قُوۡتِلۡتُمۡ لَنَنۡصُرَنَّـكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو یقیناً ہم تمھاری مدد کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس وعدے میں جھوٹے ہیں، جس کے ذریعے سے انھوں نے اپنے بھائیوں کو دھوکے میں مبتلا کیا ان کے اس جھوٹے وعدے کو زیادہ اہمیت نہ دیں، کیونکہ جھوٹ ان کا وصف، فریب اور دھوکہ ان کے ساتھی، نفاق اور بزدلی ان کے دوست ہیں۔ [12] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کی تکذیب کی ہے جس ارشاد کو اس شخص نے ویسے ہی پایا جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی تھی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَىِٕنۡ اُخۡرِجُوۡا﴾ یعنی اگر ان کو جلا وطن کرنے کے لیے ان کے گھروں سے نکالا جائے ﴿ لَا يَخۡرُجُوۡنَ مَعَهُمۡ﴾ تو اپنے وطن کی محبت، قتال پر ان کے عدم صبر اور اپنے وعدے کے عدم ایفا کی بنا پر وہ ان کے ساتھ ہرگز نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَلَىِٕنۡ قُوۡتِلُوۡا لَا يَنۡصُرُوۡنَهُمۡ۠﴾ ’’اور اگر ان سے لڑائی ہوئی تو وہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔‘‘ بلکہ ان پر بزدلی غالب آ جائے گی اور کمزوری قبضہ کرے گی اور وہ اپنے بھائیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیں گے جو ان کے سب سے زیادہ محتاج ہوں گے۔ ﴿ وَلَىِٕنۡ نَّصَرُوۡهُمۡ﴾ اور فرض کیا اگر انھوں نے ان کی مدد کی۔ ﴿ لَيُوَلُّنَّ الۡاَدۡبَارَؔ١۫ ثُمَّ لَا يُنۡصَرُوۡنَ﴾ تو وہ قتال اور ان کی مدد سے پیٹھ پھیرلیں گے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی مدد حاصل نہیں ہو گی۔ [13] اے مومنو! وہ سبب جس نے ان کو اس امر پر آمادہ کیا ہے، یہ ہے کہ ﴿ اَشَدُّ رَهۡبَةً فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’تمھاری ہیبت ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی ہیبت سے بڑھ کر ہے۔‘‘ اس لیے جتنا وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اس سے بڑھ کر وہ تم سے ڈرتے ہیں۔ پس انھوں نے مخلوق کے خوف کو، جو خود اپنے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتی، خالق کے خوف پر مقدم رکھا ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ ’’یہ اس لیے کہ یہ بے سمجھ لوگ ہیں۔‘‘ یعنی وہ امور کے مراتب کو نہیں سمجھتے۔ وہ اشیاء کے حقائق کی معرفت رکھتے ہیں نہ وہ انجام کا تصور کر سکتے ہیں۔ کامل ترین سمجھ اور تفقہ یہ ہے کہ خالق کے خوف، اس پر امید اور اس کی محبت کو، غیر کے خوف، امید اور محبت پر مقدم رکھا جائے، غیر کا خوف، امید اور محبت، خالق کے خوف، امید اور محبت کے تابع ہو۔ [14]﴿ لَا يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’وہ سب مل کر بھی تم سے نہیں لڑسکیں گے۔‘‘ یعنی اجتماعی حالت میں تم سے قتال نہیں کریں گے۔﴿ اِلَّا فِيۡ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوۡ مِنۡ وَّرَآءِ جُدُرٍ﴾ ’’مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کی اوٹ سے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے خلاف لڑائی میں ثابت قدم رہ سکتے ہیں نہ اس پر عزم کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، مگر صرف اس صورت میں جب وہ بستیوں میں قلعہ بند ہو کر لڑ رہے ہوں یا دیواروں اور فصیلوں کے پیچھے سے لڑ رہے ہوں۔ تب اس صورت میں، ان کو اپنی شجاعت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے قلعوں اور فصیلوں کے سہارے، بسا اوقات حفاظت حاصل ہو جاتی ہے، اور یہ سب سے بڑی مذمت ہے۔ ﴿ بَاۡسُهُمۡ بَيۡنَهُمۡ شَدِيۡدٌ﴾ ’’ان کی آپس میں لڑائی بہت سخت ہوتی ہے۔‘‘ ان کے بدن میں کوئی آفت ہے نہ ان کی قوت میں، آفت تو ان کے ضعف ایمان اور ان کے کلمہ کے عدم اجتماع میں ہے۔ بنابریں فرمایا :﴿ تَحۡسَبُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ جب آپ انھیں مجتمع اور ایک دوسرے کی مدد کرتے دیکھتے ہیں تو انھیں متحد سمجھتے ہیں۔ ﴿ وَّقُلُوۡبُهُمۡ شَتّٰى﴾ مگر ان کے دل ایک دوسرے کے خلاف بغض رکھنے والے، متفرق اور متَشَتّت ہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ﴾ ’’یہ‘‘ جس نے انھیں مذکورہ صفات سے متصف کیا ہے ﴿ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’اس سبب سے ہے کہ وہ عقل و خرد نہیں رکھتے۔‘‘اگر وہ عقل سے بہرہ ور ہوتے، تو فاضل کو مفضول پر ترجیح دیتے اور اپنے لیے ناقص ترین حصے پر راضی نہ ہوتے، ان میں اتحاد ہوتا اور ان کے دل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے، اور یوں وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے، ایک دوسرے کو مضبوط کرتے اور اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ایک دوسرے کے معاون بنتے۔ اس قسم کے لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے اہل کتاب میں سے ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی خاطر انتقام لیا اور انھیں دنیا کی زندگی کی رسوائی کا مزا چکھایا۔ [15] ان لوگوں کی مدد کا معدوم ہونا جنھوں نے ان کے ساتھ معاونت کا وعدہ کیا تھا ﴿ كَمَثَلِ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ قَرِيۡبًا﴾ ’’ان کا حال ان لوگ کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر ہوئے۔‘‘ اس سے مراد قریش ہیں، جن کے اعمال کو شیطان نے مزین کیا اور کہا :﴿ لَا غَالِبَ لَكُمُ الۡيَوۡمَ مِنَ النَّاسِ وَاِنِّيۡ جَارٌ لَّـكُمۡ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَؔتِ الۡفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيۡهِ وَقَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكُمۡ اِنِّيۡۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوۡنَ﴾(الانفال: 8؍48) ’’آج لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا، اور میں تمھارا ساتھی ہوں، جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں تو الٹے پاؤ ں بھاگ نکلا اور کہنے لگا: میں تم سے بری الذمہ ہوں، میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔‘‘ پس انھوں نے خود اپنے آپ کو فریب دیا اور ان کو فریب دینے والوں نے بھی فریب دیا جو ان کے کام آ سکے نہ ان سے عذاب کو دور کر سکے، حتیٰ کہ وہ بڑے فخر اور بڑے کروفر سے ’’بدر‘‘ کے مقام پر پہنچ گئے، وہ سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ اور مومنوں کو جا لیں گے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں رسولﷺ اور مومنوں کی مدد کی۔ پس ان کے بڑے بڑے سردار قتل کر دیے گے، ان میں کچھ کو قیدی بنا لیا گیا اور کچھ فرار ہو گئے۔اس طرح ﴿ ذَاقُوۡا وَبَالَ اَمۡرِهِمۡ﴾ انھوں نے اپنے شرک اور بغاوت کے وبال کا مزا چکھ لیا۔ یہ سزا دنیا کے اندر ہے ﴿ وَلَهُمۡ ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے ﴿عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ درد ناک عذاب ہے۔ [16] ان منافقین کی مثال جنھوں نے ا پنے اہل کتاب بھائیوں کو دھوکے میں مبتلا کر رکھا ہے ﴿ كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ﴾ ’’ شیطان کی سی ہے کہ وہ انسان سے کہتا رہا کہ کا فر ہوجا۔‘‘ یعنی شیطان نے انسان کے سامنے کفر کو مزین کر کے خوبصورت بنا دیا اور اسے کفر کی طرف دعوت دی۔ جب انسان نے دھوکے میں مبتلا ہو کر کفر کا ارتکاب کیا اور اسے بدبختی حاصل ہوئی، تو شیطان اس کے کسی کام نہ آیا جس نے اس کی سرپرستی کی تھی اور کفر کی طرف دعوت دی تھی بلکہ شیطان نے اس سے براء ت کا اظہار کیا اور ﴿قَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكَ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کہا کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔‘‘یعنی مجھے تجھ سے عذاب کو دور ہٹانے کی کوئی قدرت اور اختیار حاصل نہیں، میں ذرہ بھر بھلائی کے لیے تیرے کوئی کام نہیں آ سکتا۔ [17]﴿ فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ ﴾ ’’پس ان دونوں کا انجام یہ ہوا۔‘‘ یعنی داعی جو کہ شیطان ہے اور مدعو جو کہ انسان ہے، جبکہ وہ شیطان کی اطاعت کرے ﴿اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيۡنِ فِيۡهَا﴾ ’’دونوں جہنم میں ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر:35؍6) ’’وہ تو اپنے گروہ کو اس لیے دعوت دیتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور یہی ہے بدلہ ظالموں کا۔‘‘ جنھوں نے ظلم اور کفر میں اشتراک کیا، اگرچہ ان کے لیے عذاب کی شدت مختلف ہو گی۔شیطان کا اپنے تمام دوستوں کے ساتھ یہی رویہ ہے، وہ ان کو دعوت دیتا ہے اور فریب سے انھیں ایسے امور کے قریب لے آتا ہے جو ان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جب وہ جال میں پھنس جاتے ہیں اور ہلاکت کے اسباب انھیں آ گھیرتے ہیں تو ان سے بری ٔالذمہ ہو کر ان سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ ہر قسم کی ملامت ہے اس شخص پر جو اس کی اطاعت کرتا ہے، کیونکہ اللہ نے اس سے بچنے کے لیے کہا ہے، اس سے ڈرایا ہے اور اس کے اغراض و مقاصد سے خبردار کیا ہے، پس اس کی اطاعت کرنے والا واضح طور پر اللہ تعالیٰ کا نا فرمان ہے، اس کے پاس کوئی عذر نہیں۔

الحشر 59:6

تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو چیز ہے زمین میں، اور وہ بڑا زبردست ، خوب حکمت والا ہے(1) وہ، وہ ذات ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے، ان کے گھروں سے، وقت پہلی جلا وطنی کے نہیں گمان کیا تھا تم نے (کبھی بھی) یہ کہ وہ نکلیں گے اور انھوں نے سمجھا تھا کہ بے شک وہ، بچا لیں گے ان کو ان کے قلعے اللہ (کے عذاب) سے پس آیا ان پر اللہ (کا عذاب) جہاں سے نہیں گمان کیا تھا انھوں نے، اور اس نے ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، اجاڑتے تھے وہ اپنے گھر اپنے ہاتھوں سے اور مومنوں کے ہاتھوں سے بھی،پس تم عبرت پکڑو اے آنکھوں والو!(2) اور اگرنہ ہوتی یہ بات کہ لکھ دیا تھا اللہ نے ان پر جلا وطن ہونا تو وہ ضرور عذاب دیتا ان کو دنیا ہی میں اور ان کے لیے آخرت میں عذاب ہے آگ کا(3) یہ اس لیے کہ بے شک انھوں نے مخالفت کی اللہ اور اس کےرسول کی، اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ کی تو بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(4) جو کاٹا تم نے کوئی کھجور کا درخت یا چھوڑ دیا تم نے اسے قائم اس کی جڑوں پر، تو (یہ سب) اللہ کے حکم سے ہے، اور تاکہ وہ رسوا کرے فاسقوں کو(5) اور جو لوٹایا اللہ نے اوپر اپنے رسول کے ان (کے مال) سے، پس نہیں دوڑائے تم نے اس پر کوئی گھوڑے اور نہ اونٹ، اور لیکن اللہ غالب کرتا ہے اپنے رسولوں کو اوپر جس کے وہ چاہتا ہے اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(6) جو لوٹایا اللہ نے اوپر اپنے رسول کے بستیوں والوں (کے مال) سے تو (وہ) اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور (رسول کے) قرابت داروں کے لیے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ نہ ہو وہ (مال) گردش کرنے والا درمیان دولت مندوں ہی کے تم میں سے، اور جو کچھ دے تمھیں رسول تو تم لے لو اس کو اور جو کچھ کہ وہ روک دے تمھیں اس سے تو تم رک جاؤ اور ڈرو اللہ سے، بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(7)(مال فَے) فقراء مہاجرین کے لیے ہے وہ جو نکالے گئے اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے اس حال میں کہ وہ تلاش کرتے ہیں فضل اللہ کا اور رضا مندی، اور وہ مدد کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی، یہی لوگ تو سچے ہیں(8) اور (ان کے لیے ہے) جنھوں نے بنا لیا تھا (مدینہ کو) گھر اور (قبول کر لیا تھا) ایمان ان (کی ہجرت) سے پہلے، وہ (انصار) محبت کرتے ہیں اس سے جو ہجرت کرے ان کی طرف اور نہیں پاتے وہ اپنے سینوں میں کوئی حاجت (حسد) اس سے جو دیے جائیں وہ (مہاجرین) اور وہ ترجیح دیتے ہیں (ان کو) اوپر اپنے نفسوں کے، اگرچہ ہو خود ان کو سخت حاجت اور جو کوئی بچا لیا گیا بخیلی سے اپنے نفس کی پس یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(9) اور (ان کے لیے ہے) جو آئے ان کے بعد، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! بخش دے ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو جنھوں نے پہل کی ہم سے ایمان (لانے) میں اور نہ رکھ تو ہمارے دلوں میں کینہ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اے ہمارے رب! بلاشبہ تو بہت شفقت کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (10) کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے منافقت کی، وہ کہتے ہیں اپنے ان بھائیوں سے جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے، البتہ اگر نکالے گئے تم تو ہم ضرور نکلیں گے تمھارے ساتھ اور نہیں اطاعت کریں گے ہم تمھارے معاملے میں کسی کی کبھی بھی، اور اگر لڑائی کیے گئے تم تو ہم ضرور مدد کریں گے تمھاری اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں (11) البتہ اگر نکالے گئے وہ تو نہیں نکلیں گے یہ ان کے ساتھ اور اگر لڑائی کیے گئے وہ تو نہیں مدد کریں گے وہ ان کی، اور البتہ اگر وہ مدد کریں گے بھی ان کی تو ضرور پھیر جائیں گے وہ پیٹھیں ، پھر نہیں مدد کیے جائیں گے وہ (12) البتہ تم (اے مسلمانو!) زیادہ ہو باعتبار ہیبت کے ان کے دلوں میں بنسبت اللہ کے، یہ اس لیے کہ بے شک وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہیں سمجھتے (13) نہیں لڑیں گے وہ تم سے سب مل کر بھی مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کے پیچھے سے، ان کی لڑائی(عداوت) آپس میں بہت سخت ہے آپ گمان کرتے ہیں ان کو اکٹھے جبکہ ان کے دل جدا جدا ہیں، یہ بوجہ اس کےکہ بلاشبہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہیں عقل رکھتے (14) مانند صفت ان لوگوں کے جو ان سے پہلے ہوئے قریب ہی، چکھ لیا انھوں نے وبال اپنے کام (کفر) کا اور ان کے لیے ہے عذاب درد ناک (15)(ان کی مثال) مانند حالت شیطان کے ہے جب وہ کہتا ہے انسان کو کہ تو کفر کر، پس جب وہ کفر کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے بلاشبہ میں تو بری ہوں تجھ سے بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے (16) پھر ہوتا ہے ان دونوں کا انجام کہ بلاشبہ وہ دونوں ہی آگ میں ہوں گے، ہمیشہ رہیں گے اس میں اور یہی ہے جزا (سزا) ظالموں کی (17) تفسیر سورۂ حشر اس سورۂ مبارکہ کو ’’سورۂ بنی نضیر‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ بنو نضیر یہودیوں کا ایک بڑا قبیلہ تھا جو نبی ٔاکرمﷺ کی بعثت کے وقت مدینہ کے مضافات میں آباد تھا۔ جب نبی ٔاکرمﷺ مبعوث ہوئے اور آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو انھوں نے جملہ یہود کے ساتھ آپ کی نبوت کا انکار کر دیا، نبی ٔاکرم ﷺ نے یہود کے ان قبائل کے ساتھ معاہدہ کیا جو مدینہ منورہ میں آپ کے پڑوس میں آباد تھے۔ غروۂ بدر کے تقریباً چھ ماہ بعد نبی اکرم ﷺ ان کے پاس گئے اور ان سے گفتگو کی کہ (معاہدے کے مطابق) وہ ان کلابیوں کی دیت کے بارے میں آپ کی مدد کریں، جن کو عمرو بن امیہ ضمری نے قتل کیا تھا۔ انھوں نے کہا ’’اے ابوالقاسم! ہم آپ کی مدد کریں گے آپ یہاں بیٹھیے، یہاں تک کہ ہم آپ کے لیے دیت اکٹھی کردیں، چنانچہ وہ تنہائی میں ایک دوسرے سے ملے اور شیطان نے ان کے لیے اس بدبختی کو آسان بنا دیا جو ان کے لیے لکھ دی گئی تھی، چنانچہ انھوں نے آپ کے قتل کی سازش کی اور آپ کے بارے میں کہنے لگے ’’تم میں سے کون ہے جو اس چکی کو اٹھائے چھت پر چڑھ کر آپ کے سر پر دے مارے اور اس سے آپ کا سر کچل ڈالے؟‘‘ان میں سے بدبخت ترین شخص عمرو بن جحاش نے کہا: ’’یہ کام میں کروں گا‘‘ سَلَام بِن مِشْکَمْ نے ان سے کہا ’’یہ کام نہ کرواللہ کی قسم! تمھارے ارادے سے اسے ضرور آگاہ کر دیا جائے گا، اور یہ اس معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے جو ہمارے اور اس کے درمیان ہوا ہے۔‘‘ انھوں نے جو سازش کی تھی اس کے بارے میں آپ پر فوراً وحی نازل ہو گئی، آپ جلدی سے وہاں سے اٹھ گئے اور مدینہ کا رخ کیا اور آپ کے صحابہ بھی (جو ساتھ گئے تھے) آپ سے مل گئے اور عرض کیا ’’آپ وہاں سے اٹھ آئے اور ہمیں خبر بھی نہ ہوئی۔‘‘ آپ نے انھیں اس سازش کے بارے میں آگاہ فرمایا جو یہودیوں نے آپ کے خلاف کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو پیغام بھجوایا کہ ’’مدینہ سے نکل جاؤ اور اس میں مت رہو، میں تمھیں دس دن کی مہلت دیتا ہوں، اس کے بعد میں نے جس کسی کو مدینہ میں پایا، اس کی گردن مار دوں گا۔‘‘ بنونضیر مدینہ منورہ میں کچھ دن ٹھہرے اور (وہاں سے نکلنے کی) تیاری کرتے رہے، عبداللہ بن ابی ابن سلول منافق نے ان کو پیغام بھجوایا ’’اپنے گھروں سے مت نکلو، میرے ساتھ دو ہزار آدمی ہیں جو تمھارے ساتھ تمھارے قلعے میں داخل ہوں گے اور تمھاری خاطر اپنی جان دیں گے، بنوقریظہ اور بنوغطفان میں سے تمھارے حلیف بھی تمھاری مدد کریں گے۔‘‘ بنونضیر کا سردار حُیَي بن اخطب، عبداللّٰہ بن اُبَّی کے کہنے میں آ گیا اور رسول اللہ ﷺ کو کہلا بھیجا ’’ہم اپنے گھروں سے نہیں نکلیں گے، جو چاہو کر لو‘‘ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور یہود کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت علیt نے جھنڈا اٹھا رکھا تھا۔ یہودی اپنے قلعوں میں مقیم ہو کر پتھر اور تیر پھینکنے لگے، بنوقریظہ ان سے الگ ہو گئے، عبداللہ بن ابی اور بنو غطفان میں سے ان کے حلیفوں نے بھی ان سے خیانت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کر لیا، ان کے کھجوروں کے باغات کاٹ کر نذر آتش کر دیے، بنونضیر نے پیغام بھیجا کہ ہم مدینہ سے نکل جائیں گے، رسول اللہ ﷺ نے ان پر یہ شرط عائد کی کہ وہ اپنی اولاد کو لے کر نکل جائیں اور اسلحہ کے سوا وہ سب کچھ لے جائیں جو ان کے اونٹ اٹھا سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے مال اور اسلحہ کو اپنے قبضے میں لے لیا۔بنونضیر کے اموال خالص رسول اللہ ﷺ کی مہمات اور مسلمانوں کے مصالح کے لیے تھے، آپ نے اس مال میں سے خمس نکالا، کیونکہ یہ مال اللہ تعالیٰ نے آپ کو دلوایا تھا، مسلمانوں نے گھوڑوں اور اونٹوں کے ساتھ ان پر چڑھائی نہیں کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے بنونضیر کو خیبر کی طرف جلا وطن کر دیا، ان میں ان کا سردار حُیَيبن اخطب بھی شامل تھا اور ان کی اراضی اور گھروں پر قبضہ کر لیا۔ نیز ان کے اسلحہ کو بھی قبضہ میں لے لیا، اسلحہ میں پچاس زر ہیں، پچاس خود اور تین سو چالیس تلواریں ہاتھ لگیں۔ یہ ہے بنونضیر کے قصے کا ماحصل جیسا کہ اسے اہل سیرت نے بیان کیا ہے۔ [1] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کے ساتھ اس سورۂ مبارکہ کا افتتاح کیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے اور اس وصف سے اس کو منزہ قرار دے رہی ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں ،وہ اس کی عبادت کر رہی ہے اور اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہے کیونکہ وہ غلبے والا ہے اور ہر چیز پر غالب ہے، کوئی چیز اس سے بچ سکتی ہے نہ کوئی ہستی اس کی نافرمانی کر سکتی ہے۔ وہ اپنی تخلیق و امر میں حکمت رکھنے والا ہے، وہ کوئی چیز عبث پیدا کرتا ہے نہ کوئی ایسا امر مشروع کرتا ہے جس میں کوئی مصلحت نہ ہو اور نہ کوئی ایسا فعل سرانجام دیتا ہے جو اس کی حکمت کے تقاضے کے مطابق نہ ہو۔ [2] یہ اس کی حکمت ہے کہ جب اہل کتاب میں سے بنونضیر نے اس کے رسول کے ساتھ بدعہدی کی تو اس نے ان کے مقابلے میں اپنے رسول ﷺ کی مدد کی پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گھروں اور وطن سے نکال دیا، جن سے وہ محبت کرتے تھے، ان کا اپنے گھروں اور وطن سے نکالا جانا اولین جلا وطنی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں خیبر کی طرف مقدر ٹھہرائی۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اس جلا وطنی کے علاوہ بھی ان کو جلا وطنی کا سامنا کرنا پڑا اور یہ وہ جلا وطنی ہے جو خیبر سے رسول اللہﷺ کے ہاتھوں واقع ہوئی، پھر حضرت عمرt نے (اپنے عہد خلافت میں)بقیہ تمام یہودیوں کو خیبر سے نکال دیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَا ظَنَنۡتُمۡ﴾ اے مسلمانو! تمھارے خیال میں بھی نہ تھا ﴿ اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا﴾ کہ وہ اپنے گھروں سے نکل جائیں گے، کیونکہ ان کے گھر محفوظ اور مصئو ن تھے اور ان میں عزت اور غلبے کے ساتھ رہتے تھے ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مَّؔانِعَتُهُمۡ حُصُوۡنُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ گمان کر رہے تھے کہ ان کے قلعے انھیں اللہ سے بچالیں گے۔‘‘ انھیں ان قلعوں پر بہت غرور تھا، ان قلعوں نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر رکھا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ان قلعوں کی وجہ سے ان تک پہنچا جا سکتا ہے نہ ان پر کوئی قابو پا سکتا ہے۔ اس کے ماوراء اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا امر مقدر کر دیا، جس سے انھیں ان کی محفوظ پناہ گاہیں بچاسکیں نہ قلعے، اور نہ قوت اور مدافعت ہی کام آسکی۔اس لیے فرمایا:﴿ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ حَيۡثُ لَمۡ يَحۡتَسِبُوۡا﴾ ’’پس اللہ نے انھیں وہاں سے آلیا جہاں سے انھیں گمان بھی نہیں تھا۔‘‘ یعنی اس طریقے اور اس راستے سے جس کے بارے میں انھیں وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہاں سے ان کو آ لیا جائے گا۔ اور وہ یہ بات تھی ﴿ وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ﴾ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، اس سے مراد شدید خوف ہے جو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی سپاہ ہے، جس کے سامنے تعداد اور ساز و سامان کوئی فائدہ دیتا ہے نہ طاقت اور بہادری کوئی کام آتی ہے۔وہ معاملہ جس کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ اگر کوئی خلل داخل ہوا تو اس راستے سے داخل ہو گااور وہ ان کے قلعے تھے جہاں داخل ہو کر وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگے اور ان قلعوں پر ان کے دل مطمئن تھے۔ جو کوئی غیر اللہ پر بھروسہ کرتا ہے وہ بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور جو کوئی غیر اللہ کا سہارا لیتا ہے تو یہ اس کے لیے وبال بن جاتا ہے۔ پس ان کے پاس ایک آسمانی معاملہ آیا اور ان کے دلوں میں نازل ہوا، جو صبر و ثبات اور بز دلی و کمزوری کا محل و مقام ہوتے ہیں، چنانچہ اس نے ان کی قوت اور بہادری کو زائل کر دیا اور اس کی جگہ کمزوری اور بز دلی دے دی جس کو دور کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی حیلہ نہ تھا اور یہ چیز ان کے خلاف (مسلمانوں کی)مددگار بن گئی۔ بنابریں فرمایا :﴿ يُخۡرِبُوۡنَ بُيُوۡتَهُمۡ بِاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَيۡدِي الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ اور وہ یہ کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے اس شرط پر مصالحت کی کہ ان کے اونٹ جو کچھ اٹھائیں سب ان کا ہے۔ اس بنا پر انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے گھروں کی چھتوں کو اکھاڑ ڈالا جو انھیں بہت اچھی لگتی تھیں اور اپنی سر کشی کی بنا پر اپنے گھروں کے برباد کرنے اور اپنے قلعوں کے منہدم کرنے پر مسلمانوں کو مسلط کر دیاتو یہ وہی ہیں جنھوں نے خود اپنے خلاف جرم کیا اور ان قلعوں اور گھروں کو برباد کرنے میں مددگار بنے۔ ﴿ فَاعۡتَبِرُوۡا يٰۤاُولِي الۡاَبۡصَارِ﴾ پس اے اہل بصیرت عبرت یعنی معاملات کی گہرائی میں اتر جانے والی بصیرت اور کامل عقل والو! عبرت حاصل کرو کیونکہ اس واقعہ میں عبرت ہے، اس سے ان معاندین حق کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سلوک کی معرفت حاصل ہوتی ہے، جو اپنی خواہشات نفس کے پیچھے چلتے ہیں، جن کی عزت نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ طاقت انھیں بچا سکی، جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کا حکم آ گیا اور ان کے گناہوں کی پاداش میں عذاب آ پہنچا، تو ان کے قلعے ان کی حفاظت نہ کر سکے، لہٰذا اعتبار الفاظ کے عموم کا ہوتا ہے نہ کہ اسباب کے خصوص کا، چنانچہ یہ آیت کریمہ عبرت حاصل کرنے کے حکم پر دلالت کرتی ہے اور وہ ہے نظیر کے ذریعے سے اس کے نظیر سے عبرت حاصل کرنا اور کسی چیز کو اس چیز پر قیاس کرنا جو اس سے مشابہت رکھتی ہے، اسی عبرت سے عقل کی تکمیل اور بصیرت روشن ہوتی ہے، ایمان میں اضافہ اور حقیقی فہم حاصل ہوتا ہے۔ [3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان یہودیوں کو وہ پوری سزا نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا میں تخفیف کر دی ہے۔ فرمایا:﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمُ الۡجَلَآءَؔ﴾ اور اگر اللہ نے ان پر جلاوطنی نہ لکھی ہوتی جس کا انھیں سامنا کرنا پڑا جس کا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایسی قضا و قدر کے ذریعے سے فیصلہ کیا جس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا تو دنیا کے اندر ان کی سزا اور عذاب کا معاملہ اور ہوتا۔ اگرچہ وہ دنیا کے اندر سخت عذاب سے بچ گئے، تاہم آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہےجس کی سختی کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے ممکن نہیں، لہٰذا کبھی ان کے خواب و خیال میں یہ بات نہ آئے کہ ان کی سزا پوری ہو گئی، انھوں نے بھگت لی اور اس سزا میں سے کچھ باقی نہیں بچا۔ پس وہ عذاب جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آخرت میں تیار کر رکھا ہے، زیادہ بڑا اور زیادہ مصیبت کا حامل ہے۔ [4]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺکی مخالفت کی، ان کے ساتھ دشمنی کی، ان کے خلاف جنگ کی اور ان کی نافرمانی میں بھاگ دوڑ کی۔(ان سے جو کچھ ہوا ہے)یہ ان لوگوں کے بارے میں سنت الٰہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ﴾ ’’اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ [5] جب بنونضیر نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو کھجوروں کے درخت اور دیگر درخت کاٹنے پر ملامت کی اور اس زعم کا اظہار کیا کہ یہ فساد ہے اور اس بنا پر انھوں نے مسلمانوں کو نشانہ طعن بنایا،تب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اگر مسلمانوں نے کھجور کے درخت کاٹے ہیں، تو ان کو کاٹنا اور اگر ان کو باقی رکھا ہے، تو ان کو باقی رکھنا ﴿ فَبِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ تو یہ اللہ تعالیٰ کے اذن اور حکم سے ہے ﴿ وَلِيُخۡزِيَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اور تاکہ وہ فاسقوں کو رسوا کرے۔‘‘ کیونکہ اس نے ان کے کھجوروں کے باغات کاٹنے اور جلانے کا تمھیں اختیار دیا تاکہ یہ سب کچھ ان کے لیے سزا اور دنیا کے اندر ان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہو جس سے ان کی پوری بے بسی ظاہر ہو، جس کی وجہ سے وہ کھجوروں کے باغات بھی نہ بچا سکے، جو ان کی قوت اور طاقت کا سبب تھے۔(اَللِّینَةُ) صحیح اور راجح ترین احتمال کے مطابق ہر قسم کے کھجور کے درختوں کو شامل ہے۔یہ ہے بنونضیر کا حال، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کے اندر کیسے سزا دی؟ [6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جن کی طرف بنونضیر کا مال و متاع منتقل ہوا ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡهُمۡ﴾ ’’او رجو مال اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلایا۔‘‘ یعنی اس بستی کے لوگوں میں سے، اس سے مراد بنونضیر کے لوگ ہیں ﴿ فَمَاۤ اَوۡجَفۡتُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ خَيۡلٍ وَّلَا رِكَابٍ﴾ یعنی تم نے گھوڑے دوڑائے ہیں نہ لشکر اکٹھے کیے ہیں، یعنی تمھیں لشکر جمع کرنے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑی اور نہ تمھارے مویشیوں ہی کو مشقت کا سامنا کرناپڑا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان (یہودیوں) کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ تمھارے سامنے درگزر اور عفو کی درخواست کرتے ہوئے حاضر ہوئے۔اس لیے فرمایا: ﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ١ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ اور اس کی قدرت کاملہ یہ ہے کہ کوئی بچنے والا اس سے بچ سکتا ہے نہ قوت والا اس کے مقابلے میں غالب آ سکتا ہے۔ [7] فقہاء کی اصطلاح میں فَے سے مراد وہ مال ہے جو حق کے ساتھ کفار سے کسی جنگ کے بغیر حاصل کیا جائے، مثلاً: ’’وہی مال جسے کفار مسلمانوں کے خوف کی بنا پر چھوڑکر فرار ہو گئے۔ اس کو فَے اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ کفار کی طرف سے جو اس مال کے مستحق نہ تھے، مسلمانوں کی طرف لوٹا ہے جو اس پر بہت زیادہ حق رکھتے تھے۔مالِ فَے کا حکم : فَے کا حکم یہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا : ﴿ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى﴾ ’’جو مال اللہ نے بستی والوں سے اپنے رسول کو دلوایا ہے۔‘‘ عمومی طور پر، خواہ رسول اللہ ﷺ کا زمانہ ہو یا آپ کے بعد آپ کی امت میں سے اس شخص کا زمانہ ہو جو امارت کے منصب پر فائز ہو ﴿ فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِـذِي الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ اللہ کے لیے، اللہ کے رسول کے لیے، اور (رسول کے) رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اس آیت کریمہ کی نظیر ہے جو سورۂ انفال میں مذکور ہے، اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِي الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ﴾(الانفال:8؍41) ’’اور جان رکھو! جو چیز تم غنیمت کے طور پر کفار سے حاصل کرو، اس میں سے پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ اور رسول کے لیے اور قرابت داروں، یتیموں، مساکین اور مسافروں کے لیے ہے۔‘‘ فَے کا مال پانچ اصناف میں تقسیم ہوتا ہے:(۱)پانچ حصوں میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے جو مسلمانوں کے مصالح عامہ میں صرف ہوتا ہے۔(۲) دوسرا حصہ، ذوی القربٰی (رسول اللہﷺ کے رشتہ داروں) کے لیے ہے اور ذوی القربٰی سے مراد بنوہاشم اور بنو مطلب ہیں، جہاں کہیں بھی ہوں، ان کے مردوں اور عورتوں میں برابر تقسیم کیا جائے گا۔ بنومطلب خمس وغیرہ کے پانچویں حصے میں بنوہاشم کے ساتھ شریک ہوں گے، بقیہ بنوعبد مناف شریک نہیں ہوں گے کیونکہ جب قریش نے بنوہاشم سے مقاطعت اور عداوت کا معاہدہ کیا تو بنو مطلب بنو ہاشم کے ساتھ شریک تھے اور دوسروں کے برعکس انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی مدد کی۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ نے بنو مطلب کے بارے میں فرمایا: ’’وہ جاہلیت اور اسلام میں کبھی مجھ سے الگ نہیں ہوئے۔‘‘ (مسند أحمد: 81/4 و اصله في صحيح البخاري، فرض الخمس، باب و من الدليل على ان الخمس للإمام، حديث: 3140)(۳)تيسرا حصہ محتاج یتیموں کے لیے ہے۔ یتیم وہ ہے جس کے باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا ہو اور وہ ابھی بالغ نہ ہوا ہو۔(۴)چوتھا حصہ مساکین کے لیے ہے۔(۵) اور پانچواں (آخری) حصہ مسافروں کے لیے ہے۔ اس سے مراد وہ غریب الوطن لوگ ہیں جو اپنے وطن سے کٹ کر رہ گئے ہوں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ حصے اس لیے مقرر فرمائے اور فَے کو صرف انھی معین لوگوں میں محصور کر دیا ﴿ كَيۡ لَا يَكُوۡنَ دُوۡلَةًۢ بَيۡنَ الۡاَغۡنِيَآءِ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تاکہ (مال) تم میں سے دولت مند لوگوں کے ہاتھوں ہی میں گردش نہ کرتا رہے ۔‘‘ اور ان کے سوا عاجز اور بے بس لوگوں کو کچھ حاصل نہ ہو۔ اس میں اس قدر فساد ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی شریعت کی اتباع میں اتنی زیادہ مصلحتیں ہیں جو شمار سے باہر ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک قاعدہ کلیہ اور ایک عام اصول مقرر فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡهُ١ۗ وَمَا نَهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ فَانۡتَهُوۡا ﴾ ’’رسول تمھیں جو دے، وہ لے لو اور جس سے وہ تمھیں روک دے، اس سے رک جاؤ۔‘‘ یہ آیت کریمہ دین کے اصول و فروع اور اس کے ظاہر و باطن سب کو شامل ہے، نیز یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو کچھ لے کر آئے ہیں، اس سے تمسک کرنا اور اس کی اتباع کرنا بندوں پر فرض ہے اور اس کی مخالفت کرنا جائز نہیں۔ نیز اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی چیز کے حکم پر رسول اللہ ﷺ کی نص، اللہ تعالیٰ کی نص کی مانند ہے اور اس کو ترک کرنے میں کسی کے لیے کوئی رخصت اور عذر نہیں اور کسی کے قول کو آپ کے قول پر مقدم رکھنا جائز نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے تقویٰ کا حکم دیا جس سے دنیا و آخرت میں قلب و روح معمور ہوتی ہے، تقویٰ ہی میں دائمی سعادت اور فوز عظیم ہے۔ تقویٰ کو ضائع کرنے میں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ جو کوئی تقویٰ کو ترک کر کے، خواہشات نفس کی پیروی کو ترجیح دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دینے والا ہے۔ [9,8] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نےفَے کے مال کو جن لوگوں کے لیے مقرر فرمایا، اس کے موجب اور اس میں حکمت کا ذکر فرمایا، نیز بیان فرمایا کہ یہی لوگ اعانت کے مستحق ہیں اور اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے فَے میں حصہ مقرر کیا جائےاور یہ ان مہاجرین کے مابین ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ میں رغبت اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کی خاطر، اپنے محبوب و مالوف گھر بار، وطن، دوستوں اور احباب کو چھوڑ دیا۔ یہی لوگ سچے ہیں، جنھوں نے اپنے ایمان کے تقاضے کے مطابق عمل کیا، اعمال صالحہ اور مشقت آمیز عبادت کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی بخلاف ان لوگوں کے جنھوں نے ایمان کا دعویٰ کیا مگر ہجرت اور جہاد وغیرہ عبادات کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق نہ کی، نیز انصار یعنی اوس اور خزرج کے مابین ہیں جو اپنی خوشی، محبت اور اختیار سے ایمان لائے۔ جب عرب کے تمام شہر دارالحرب، شرک اور شر کا گڑھ تھے تب انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو پناہ دی، سرخ و سیاہ سے آپ کی حفاظت کی، دار ہجرت و ایمان میں اقامت کی یہاں تک کہ دار ہجرت ایک ایسا مرجع بن گیا جس کی طرف مومنین رخ کرتے تھے، جہاں مہاجرین پناہ لیتے اور اس کی چراگاہوں میں مسلمان سکونت اختیار کرتے۔ پس دین کی مدد کرنے والے انصار کے پاس پناہ لیتے رہے، یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا، اس نے طاقت پکڑ لی اور اس میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا گیا، حتیٰ کہ مسلمانوں نے علم و ایمان اور قرآن کے ذریعے سے دلوں کو اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے شہروں کو فتح کر لیا جن کے جملہ اوصاف جمیلہ یہ ہیں:﴿يُحِبُّوۡنَ مَنۡ هَاجَرَ اِلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں، اس کے احباب سے محبت کرتے ہیں اور ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو اس کے دین کی مدد کرتے ہیں۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ حَاجَةً مِّؔمَّاۤ اُوۡتُوۡا﴾’’اور و ہ اپنے دلوں میں اس (مال) کی کوئی حاجت نہیں پاتے جو ا ن (مہاجرین) کو دیا جائے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مہاجرین کو جو کچھ عطا کیا ہے اور ان کو جن فضائل و مناقب سے مختص کیا جن کے وہ اہل ہیں، وہ ان پر حسد نہیں کرتے۔ یہ آیت کریمہ ان کے سینے کی سلامتی، ان میں بغض، کینہ اور حسد کے عدم وجود پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ مہاجرین، انصار سے افضل ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذکر کو مقدم رکھا ہے۔نیز آگاہ فرمایا کہ مہاجرین کو جو کچھ عطا کیا گیا انصار اس کے بارے میں اپنے دلوں میں کوئی حسد محسوس نہیں کرتے۔ یہ آیت کریمہ یہ بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کو وہ فضائل عطا کیے جو انصار اور دیگر لوگوں کو عطا نہیں کیے کیونکہ انھوں نے نصرت دین اور ہجرت کو جمع کیا۔ ﴿وَيُؤۡثِرُوۡنَ عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ﴾ ’’اور اپنی ذات پر (ان کو)ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود انھیں سخت ضرورت ہو۔‘‘ یعنی انصار کے اوصاف میں سے ایک وصف ایثار ہے، جس کی بنا پر وہ دوسروں پر فوقیت رکھتے ہیں اور ان سے ممتاز ہیں، اور یہ کامل ترین جود و سخا ہے اور نفس کے محبوب اموال وغیرہ میں ایثار کرنا اور ان اموال کے خود حاجت مند بلکہ ضرورت مند اور بھوکے ہونے کے باوجود دوسرے پر خرچ کرنا، یہ وصف اخلاق زکیہ، اللہ تعالیٰ سے محبت، پھر شہوات نفس اور اس کی لذات پر اس کی محبت کو مقدم رکھنے ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔جملہ واقعات میں اس انصاری کا قصہ بھی بیان کیا جاتا ہے جس کے سبب سے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ہے جب اس نے اپنے اور اپنے گھر والوں کے کھانے میں اپنے مہمان کو ترجیح دی اور تمام گھر والوں اور بچوں نے رات بھوکے بسر کی۔(اِیثَارٌ) ’’ترجیح دینا‘‘ (اَثْرَۃٌ ) ’’خود غرضی‘‘ کی ضد ہے۔ ایثار قابل تعریف وصف ہے اور خود غرضی مذموم ہے کیونکہ یہ بخل اور حرص کے خصائل کے زمرے میں آتی ہے ، اور جسے ایثار عطا کیا گیا اسے نفس کے بخل و حرص سے بچا لیا گیا۔ ﴿وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح یاب ہیں۔‘‘ اور نفس کے حرص سے بچنے میں ان تمام امور میں حرص سے بچنا شامل ہے جن کا حکم دیا گیا ہے، جب بندہ نفس کی حرص سے بچ گیا، تو اس کے نفس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام آسان لگتے ہیں وہ خوشی سے سر تسلیم خم کرتے ہوئے انشراح صدر کے ساتھ ان کی تعمیل کرتا ہے، اور نفس کے لیے ان تمام امور کو ترک کرنا سہل ہو جاتا ہے، جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، خواہ یہ نفس کے محبوب امور ہی کیوں نہ ہوں اور نفس ان کی طرف بلاتا اور ان کی طرف رغبت کیوں نہ دلاتا ہو۔ اس شخص کے نفس کے لیے، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر، اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنا آسان ہو جاتا ہے، اور اسی سے فوز و فلاح حاصل ہوتی ہے، برعکس اس شخص کے جو نفس کے بخل و حرص سے بچا ہوا نہیں بلکہ بھلائی کے بارے میں حرص کی بیماری میں مبتلا ہے، اور یہ حرص شر کی جڑ اور اس کی بنیاد ہے۔پس اہل ایمان کی یہ دو فضیلت والی، پاک اصناف ہیں اور وہ صحابہ کرام اور ائمہ اعلام ہیں جنھوں نے سابقیت کے اوصاف، فضائل اور مناقب کو جمع کر لیا ان کے بعد کسی نے ان سے سبقت نہیں کی۔ صحابہ کرام y نے بھلائی میں پہلے لوگوں کو جا لیا اور اس طرح وہ مومنوں کے سربراہ، مسلمانوں کے سردار اور اہل تقویٰ کے قائد بن گئے۔ ان کے بعد آنے والوں کے لیے یہی فضیلت کافی ہے کہ وہ ان کے نقش قدم پر چلیں اور ان کے طریق کو راہ نما بنائیں۔ اس لیے بعد میں آنے والوں میں سے جو کوئی ان کو راہ نما بناتا ہے، اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [10]﴿ وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ﴾ یعنی جو(اہل ایمان)مہاجرین و انصار کے بعد آئے ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ اپنی اور تمام مومنین کی خیر خواہی کے لیے کہتے ہیں ﴿ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ﴾ ’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں۔‘‘ یہ دعا تمام گزرے ہوئے اہل ایمان، صحابہ، ان سے پہلے اور ان کے بعد آنے والے تمام اہل ایمان کو شامل ہے۔یہ ایمان کی فضیلت ہے کہ اہل ایمان ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایمان میں مشارکت کے سبب سے ایک دوسرے کے لیے دعا کرتے ہیں، ایمان مومنین کے درمیان اخوت کا تقاضا کرتا ہے، جس کی فروع میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے دعا کریں اور ایک دوسرے سے محبت کریں۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دعا میں قلب سے کینہ کی نفی کا ذکر فرمایا جو قلیل و کثیر ہر قسم کے کینہ کو شامل ہے، جب کینہ کی نفی ہو گئی تو اس کی ضد ثابت ہو گئی اور وہ ہے اہل ایمان کے مابین محبت و موالات اور خیر خواہی وغیرہ، جو اہل ایمان کے حقوق شمار ہوتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام y کے بعد آنے والوں کو ایمان کے وصف سے موصوف کیا ہے، کیونکہ ان کا قول ﴿ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ﴾ ایمان میں ان کی مشارکت پر دلالت کرتا ہے۔ نیز اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ عقائد، ایمان اور اس کے اصول میں صحابہ کرام کی پیروی کرنے والے ہیں اور وہ ہیں اہل سنت و الجماعت، کیونکہ یہ وصف تام صرف انھی پر صادق آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گناہوں کے اقرار اور پھر ان گناہوں سے استغفار کے ساتھ موصوف کیا ہے۔ نیز یہ کہ وہ ایک دوسرے کے لیے استغفار کرتے ہیں اور مومن بھائیوں کے خلاف کینہ اور حسد کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ ان کا اس چیز کی دعا کرنا ان امور کو مستلزم ہے اور جن کا ہم نے ذکر کیا ہے اور ان کے ایک دوسرے سے محبت کرنے کو مستلزم ہے اور اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ ان میں سے کوئی اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، اس کی موجودگی اور عدم موجودگی میں، اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد اس کی خیر خواہی کرے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ یہ سب کچھ اہل ایمان کے ایک دوسرے پر جملہ حقوق ہیں، پھر انھوں نے اپنی دعا کو اللہ تعالیٰ کے دو اسمائے کریمہ پر ختم کیا جو اللہ تعالیٰ کے کمال رحمت اور شدت رأفت و احسان پر دلالت کرتے ہیں، اس کے جملہ احسانات میں سے بلکہ ان میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کواپنے حقوق اور اپنے بندوں کے حقوق قائم کرنے کی توفیق سے بہرہ ور کیا۔ یہ تین اصناف کے لو گ اسی امت کے لوگ ہیں جو فَے کے مستحق ہیں جس کا مصرف اسلام کے مصالح کی طرف راجع ہےاور وہی لوگ اس کی اہلیت رکھتے ہیں جو اس کے اہل ہیں ۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی ان میں شامل کرے۔ [11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال پر تعجب کا اظہار فرمایا ہےجنھوں نے اپنے اہل کتاب بھائیوں کو اپنی مدد اور اہل ایمان کے خلاف موالات کا لالچ دیاتھا، وہ ان سے کہہ رہے تھے:﴿ لَىِٕنۡ اُخۡرِجۡتُمۡ لَنَخۡرُجَنَّ مَعَكُمۡ وَلَا نُطِيۡعُ فِيۡكُمۡ اَحَدًا اَبَدًا﴾ ’’اگر تم نکال دیے گئے تو ہم بھی تمھارے ساتھ ہی نکلیں گے۔ اور تمھارے بارے میں کبھی کسی کا کہنا نہیں مانیں گے۔‘‘ یعنی تمھاری نصرت و مدد کے بارے میں جو کوئی ہمیں برا بھلا کہے گا یا ڈرائے گا، ہم تمھاری عدم نصرت میں اس کی اطاعت نہیں کریں گے ﴿ وَّاِنۡ قُوۡتِلۡتُمۡ لَنَنۡصُرَنَّـكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو یقیناً ہم تمھاری مدد کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس وعدے میں جھوٹے ہیں، جس کے ذریعے سے انھوں نے اپنے بھائیوں کو دھوکے میں مبتلا کیا ان کے اس جھوٹے وعدے کو زیادہ اہمیت نہ دیں، کیونکہ جھوٹ ان کا وصف، فریب اور دھوکہ ان کے ساتھی، نفاق اور بزدلی ان کے دوست ہیں۔ [12] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کی تکذیب کی ہے جس ارشاد کو اس شخص نے ویسے ہی پایا جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی تھی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَىِٕنۡ اُخۡرِجُوۡا﴾ یعنی اگر ان کو جلا وطن کرنے کے لیے ان کے گھروں سے نکالا جائے ﴿ لَا يَخۡرُجُوۡنَ مَعَهُمۡ﴾ تو اپنے وطن کی محبت، قتال پر ان کے عدم صبر اور اپنے وعدے کے عدم ایفا کی بنا پر وہ ان کے ساتھ ہرگز نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَلَىِٕنۡ قُوۡتِلُوۡا لَا يَنۡصُرُوۡنَهُمۡ۠﴾ ’’اور اگر ان سے لڑائی ہوئی تو وہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔‘‘ بلکہ ان پر بزدلی غالب آ جائے گی اور کمزوری قبضہ کرے گی اور وہ اپنے بھائیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیں گے جو ان کے سب سے زیادہ محتاج ہوں گے۔ ﴿ وَلَىِٕنۡ نَّصَرُوۡهُمۡ﴾ اور فرض کیا اگر انھوں نے ان کی مدد کی۔ ﴿ لَيُوَلُّنَّ الۡاَدۡبَارَؔ١۫ ثُمَّ لَا يُنۡصَرُوۡنَ﴾ تو وہ قتال اور ان کی مدد سے پیٹھ پھیرلیں گے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی مدد حاصل نہیں ہو گی۔ [13] اے مومنو! وہ سبب جس نے ان کو اس امر پر آمادہ کیا ہے، یہ ہے کہ ﴿ اَشَدُّ رَهۡبَةً فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’تمھاری ہیبت ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی ہیبت سے بڑھ کر ہے۔‘‘ اس لیے جتنا وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اس سے بڑھ کر وہ تم سے ڈرتے ہیں۔ پس انھوں نے مخلوق کے خوف کو، جو خود اپنے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتی، خالق کے خوف پر مقدم رکھا ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ ’’یہ اس لیے کہ یہ بے سمجھ لوگ ہیں۔‘‘ یعنی وہ امور کے مراتب کو نہیں سمجھتے۔ وہ اشیاء کے حقائق کی معرفت رکھتے ہیں نہ وہ انجام کا تصور کر سکتے ہیں۔ کامل ترین سمجھ اور تفقہ یہ ہے کہ خالق کے خوف، اس پر امید اور اس کی محبت کو، غیر کے خوف، امید اور محبت پر مقدم رکھا جائے، غیر کا خوف، امید اور محبت، خالق کے خوف، امید اور محبت کے تابع ہو۔ [14]﴿ لَا يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’وہ سب مل کر بھی تم سے نہیں لڑسکیں گے۔‘‘ یعنی اجتماعی حالت میں تم سے قتال نہیں کریں گے۔﴿ اِلَّا فِيۡ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوۡ مِنۡ وَّرَآءِ جُدُرٍ﴾ ’’مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کی اوٹ سے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے خلاف لڑائی میں ثابت قدم رہ سکتے ہیں نہ اس پر عزم کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، مگر صرف اس صورت میں جب وہ بستیوں میں قلعہ بند ہو کر لڑ رہے ہوں یا دیواروں اور فصیلوں کے پیچھے سے لڑ رہے ہوں۔ تب اس صورت میں، ان کو اپنی شجاعت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے قلعوں اور فصیلوں کے سہارے، بسا اوقات حفاظت حاصل ہو جاتی ہے، اور یہ سب سے بڑی مذمت ہے۔ ﴿ بَاۡسُهُمۡ بَيۡنَهُمۡ شَدِيۡدٌ﴾ ’’ان کی آپس میں لڑائی بہت سخت ہوتی ہے۔‘‘ ان کے بدن میں کوئی آفت ہے نہ ان کی قوت میں، آفت تو ان کے ضعف ایمان اور ان کے کلمہ کے عدم اجتماع میں ہے۔ بنابریں فرمایا :﴿ تَحۡسَبُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ جب آپ انھیں مجتمع اور ایک دوسرے کی مدد کرتے دیکھتے ہیں تو انھیں متحد سمجھتے ہیں۔ ﴿ وَّقُلُوۡبُهُمۡ شَتّٰى﴾ مگر ان کے دل ایک دوسرے کے خلاف بغض رکھنے والے، متفرق اور متَشَتّت ہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ﴾ ’’یہ‘‘ جس نے انھیں مذکورہ صفات سے متصف کیا ہے ﴿ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’اس سبب سے ہے کہ وہ عقل و خرد نہیں رکھتے۔‘‘اگر وہ عقل سے بہرہ ور ہوتے، تو فاضل کو مفضول پر ترجیح دیتے اور اپنے لیے ناقص ترین حصے پر راضی نہ ہوتے، ان میں اتحاد ہوتا اور ان کے دل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے، اور یوں وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے، ایک دوسرے کو مضبوط کرتے اور اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ایک دوسرے کے معاون بنتے۔ اس قسم کے لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے اہل کتاب میں سے ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی خاطر انتقام لیا اور انھیں دنیا کی زندگی کی رسوائی کا مزا چکھایا۔ [15] ان لوگوں کی مدد کا معدوم ہونا جنھوں نے ان کے ساتھ معاونت کا وعدہ کیا تھا ﴿ كَمَثَلِ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ قَرِيۡبًا﴾ ’’ان کا حال ان لوگ کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر ہوئے۔‘‘ اس سے مراد قریش ہیں، جن کے اعمال کو شیطان نے مزین کیا اور کہا :﴿ لَا غَالِبَ لَكُمُ الۡيَوۡمَ مِنَ النَّاسِ وَاِنِّيۡ جَارٌ لَّـكُمۡ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَؔتِ الۡفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيۡهِ وَقَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكُمۡ اِنِّيۡۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوۡنَ﴾(الانفال: 8؍48) ’’آج لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا، اور میں تمھارا ساتھی ہوں، جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں تو الٹے پاؤ ں بھاگ نکلا اور کہنے لگا: میں تم سے بری الذمہ ہوں، میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔‘‘ پس انھوں نے خود اپنے آپ کو فریب دیا اور ان کو فریب دینے والوں نے بھی فریب دیا جو ان کے کام آ سکے نہ ان سے عذاب کو دور کر سکے، حتیٰ کہ وہ بڑے فخر اور بڑے کروفر سے ’’بدر‘‘ کے مقام پر پہنچ گئے، وہ سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ اور مومنوں کو جا لیں گے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں رسولﷺ اور مومنوں کی مدد کی۔ پس ان کے بڑے بڑے سردار قتل کر دیے گے، ان میں کچھ کو قیدی بنا لیا گیا اور کچھ فرار ہو گئے۔اس طرح ﴿ ذَاقُوۡا وَبَالَ اَمۡرِهِمۡ﴾ انھوں نے اپنے شرک اور بغاوت کے وبال کا مزا چکھ لیا۔ یہ سزا دنیا کے اندر ہے ﴿ وَلَهُمۡ ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے ﴿عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ درد ناک عذاب ہے۔ [16] ان منافقین کی مثال جنھوں نے ا پنے اہل کتاب بھائیوں کو دھوکے میں مبتلا کر رکھا ہے ﴿ كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ﴾ ’’ شیطان کی سی ہے کہ وہ انسان سے کہتا رہا کہ کا فر ہوجا۔‘‘ یعنی شیطان نے انسان کے سامنے کفر کو مزین کر کے خوبصورت بنا دیا اور اسے کفر کی طرف دعوت دی۔ جب انسان نے دھوکے میں مبتلا ہو کر کفر کا ارتکاب کیا اور اسے بدبختی حاصل ہوئی، تو شیطان اس کے کسی کام نہ آیا جس نے اس کی سرپرستی کی تھی اور کفر کی طرف دعوت دی تھی بلکہ شیطان نے اس سے براء ت کا اظہار کیا اور ﴿قَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكَ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کہا کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔‘‘یعنی مجھے تجھ سے عذاب کو دور ہٹانے کی کوئی قدرت اور اختیار حاصل نہیں، میں ذرہ بھر بھلائی کے لیے تیرے کوئی کام نہیں آ سکتا۔ [17]﴿ فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ ﴾ ’’پس ان دونوں کا انجام یہ ہوا۔‘‘ یعنی داعی جو کہ شیطان ہے اور مدعو جو کہ انسان ہے، جبکہ وہ شیطان کی اطاعت کرے ﴿اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيۡنِ فِيۡهَا﴾ ’’دونوں جہنم میں ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر:35؍6) ’’وہ تو اپنے گروہ کو اس لیے دعوت دیتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور یہی ہے بدلہ ظالموں کا۔‘‘ جنھوں نے ظلم اور کفر میں اشتراک کیا، اگرچہ ان کے لیے عذاب کی شدت مختلف ہو گی۔شیطان کا اپنے تمام دوستوں کے ساتھ یہی رویہ ہے، وہ ان کو دعوت دیتا ہے اور فریب سے انھیں ایسے امور کے قریب لے آتا ہے جو ان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جب وہ جال میں پھنس جاتے ہیں اور ہلاکت کے اسباب انھیں آ گھیرتے ہیں تو ان سے بری ٔالذمہ ہو کر ان سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ ہر قسم کی ملامت ہے اس شخص پر جو اس کی اطاعت کرتا ہے، کیونکہ اللہ نے اس سے بچنے کے لیے کہا ہے، اس سے ڈرایا ہے اور اس کے اغراض و مقاصد سے خبردار کیا ہے، پس اس کی اطاعت کرنے والا واضح طور پر اللہ تعالیٰ کا نا فرمان ہے، اس کے پاس کوئی عذر نہیں۔