Tafsir As-Saadi - Urdu — الحاقة 69:1 – المعارج 70:44
Contents
- الحاقة 69:1
- الحاقة 69:2
- الحاقة 69:3
- الحاقة 69:4
- الحاقة 69:5
- الحاقة 69:6
- الحاقة 69:7
- الحاقة 69:8
- الحاقة 69:9
- الحاقة 69:10
- الحاقة 69:11
- الحاقة 69:12
- الحاقة 69:13
- الحاقة 69:14
- الحاقة 69:15
- الحاقة 69:16
- الحاقة 69:17
- الحاقة 69:18
- الحاقة 69:19
- الحاقة 69:20
- الحاقة 69:21
- الحاقة 69:22
- الحاقة 69:23
- الحاقة 69:24
- الحاقة 69:25
- الحاقة 69:26
- الحاقة 69:27
- الحاقة 69:28
- الحاقة 69:29
- الحاقة 69:30
- الحاقة 69:31
- الحاقة 69:32
- الحاقة 69:33
- الحاقة 69:34
- الحاقة 69:35
- الحاقة 69:36
- الحاقة 69:37
- الحاقة 69:38
- الحاقة 69:39
- الحاقة 69:40
- الحاقة 69:41
- الحاقة 69:42
- الحاقة 69:43
- الحاقة 69:44
- الحاقة 69:45
- الحاقة 69:46
- الحاقة 69:47
- الحاقة 69:48
- الحاقة 69:49
- الحاقة 69:50
- الحاقة 69:51
- الحاقة 69:52
- المعارج 70:1
- المعارج 70:2
- المعارج 70:3
- المعارج 70:4
- المعارج 70:5
- المعارج 70:6
- المعارج 70:7
- المعارج 70:8
- المعارج 70:9
- المعارج 70:10
- المعارج 70:11
- المعارج 70:12
- المعارج 70:13
- المعارج 70:14
- المعارج 70:15
- المعارج 70:16
- المعارج 70:17
- المعارج 70:18
- المعارج 70:19
- المعارج 70:20
- المعارج 70:21
- المعارج 70:22
- المعارج 70:23
- المعارج 70:24
- المعارج 70:25
- المعارج 70:26
- المعارج 70:27
- المعارج 70:28
- المعارج 70:29
- المعارج 70:30
- المعارج 70:31
- المعارج 70:32
- المعارج 70:33
- المعارج 70:34
- المعارج 70:35
- المعارج 70:36
- المعارج 70:37
- المعارج 70:38
- المعارج 70:39
- المعارج 70:40
- المعارج 70:41
- المعارج 70:42
- المعارج 70:43
- المعارج 70:44
الحاقة 69:1
ثابت ہونے والی(1) کیا ہے ثابت ہونے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے ثابت ہونے والی؟(3) جھٹلایا تھا ثمود و عاد نے کھڑ کھڑانے والی کو(4) پس لیکن ثمود، تو ہلاک کیے گئے وہ حد سے گزر جانے والی (خوفناک آواز) سے(5) اور لیکن عاد! تو ہلاک کیے گئے وہ یخ ہوا، سرکش (آندھی) سے(6) مسلط کر دیا تھا (اللہ) نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن جڑ کاٹ دینے (فنا کرنے) کے لیے پس تو دیکھتا اس قوم کو اس میں پچھاڑے (ہلاک کیے) ہوئے، گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں گری ہوئی کھجوروں کے(7) تو کیا تو دیکھتا ہے ان میں سے کوئی بھی باقی؟(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿ اَلۡحَآقَّةُ﴾ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہو گی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿ اَلۡحَآقَّةُۙ۰۰ مَا الۡحَآقَّةُۚ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحَآقَّةُ﴾ کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمتِ شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے ۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح uکو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انھوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا، ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالحu نے خبر دی تھی اور وہی یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کر ڈالے گی۔اسی طرح عاد اولیٰ کو ہلاک کر ڈالا جو حضر موت کے باشندے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے رسول ہودu کو بھیجا جو انھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے پس انھوں نے جناب ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔
[5]﴿ فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ﴾ ’’پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے۔‘‘ اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی، جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔
[6]﴿ وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ ﴾ ’’اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِيَةٍ ﴾ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔
[7]﴿ سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَ يَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا ﴾ ’’اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا۔‘‘ یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کر کے ہلاک کر ڈالا ﴿ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى ﴾ یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کر مردہ پڑے ہیں ﴿ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔
[8]﴿ فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۢۡ بَاقِيَةٍ ﴾ ’’پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟‘‘یہ استفہام نفیٔ متقرر کے معنیٰ میں ہے۔
الحاقة 69:2
ثابت ہونے والی(1) کیا ہے ثابت ہونے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے ثابت ہونے والی؟(3) جھٹلایا تھا ثمود و عاد نے کھڑ کھڑانے والی کو(4) پس لیکن ثمود، تو ہلاک کیے گئے وہ حد سے گزر جانے والی (خوفناک آواز) سے(5) اور لیکن عاد! تو ہلاک کیے گئے وہ یخ ہوا، سرکش (آندھی) سے(6) مسلط کر دیا تھا (اللہ) نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن جڑ کاٹ دینے (فنا کرنے) کے لیے پس تو دیکھتا اس قوم کو اس میں پچھاڑے (ہلاک کیے) ہوئے، گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں گری ہوئی کھجوروں کے(7) تو کیا تو دیکھتا ہے ان میں سے کوئی بھی باقی؟(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿ اَلۡحَآقَّةُ﴾ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہو گی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿ اَلۡحَآقَّةُۙ۰۰ مَا الۡحَآقَّةُۚ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحَآقَّةُ﴾ کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمتِ شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے ۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح uکو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انھوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا، ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالحu نے خبر دی تھی اور وہی یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کر ڈالے گی۔اسی طرح عاد اولیٰ کو ہلاک کر ڈالا جو حضر موت کے باشندے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے رسول ہودu کو بھیجا جو انھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے پس انھوں نے جناب ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔
[5]﴿ فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ﴾ ’’پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے۔‘‘ اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی، جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔
[6]﴿ وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ ﴾ ’’اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِيَةٍ ﴾ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔
[7]﴿ سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَ يَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا ﴾ ’’اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا۔‘‘ یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کر کے ہلاک کر ڈالا ﴿ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى ﴾ یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کر مردہ پڑے ہیں ﴿ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔
[8]﴿ فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۢۡ بَاقِيَةٍ ﴾ ’’پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟‘‘یہ استفہام نفیٔ متقرر کے معنیٰ میں ہے۔
الحاقة 69:3
ثابت ہونے والی(1) کیا ہے ثابت ہونے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے ثابت ہونے والی؟(3) جھٹلایا تھا ثمود و عاد نے کھڑ کھڑانے والی کو(4) پس لیکن ثمود، تو ہلاک کیے گئے وہ حد سے گزر جانے والی (خوفناک آواز) سے(5) اور لیکن عاد! تو ہلاک کیے گئے وہ یخ ہوا، سرکش (آندھی) سے(6) مسلط کر دیا تھا (اللہ) نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن جڑ کاٹ دینے (فنا کرنے) کے لیے پس تو دیکھتا اس قوم کو اس میں پچھاڑے (ہلاک کیے) ہوئے، گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں گری ہوئی کھجوروں کے(7) تو کیا تو دیکھتا ہے ان میں سے کوئی بھی باقی؟(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿ اَلۡحَآقَّةُ﴾ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہو گی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿ اَلۡحَآقَّةُۙ۰۰ مَا الۡحَآقَّةُۚ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحَآقَّةُ﴾ کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمتِ شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے ۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح uکو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انھوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا، ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالحu نے خبر دی تھی اور وہی یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کر ڈالے گی۔اسی طرح عاد اولیٰ کو ہلاک کر ڈالا جو حضر موت کے باشندے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے رسول ہودu کو بھیجا جو انھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے پس انھوں نے جناب ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔
[5]﴿ فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ﴾ ’’پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے۔‘‘ اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی، جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔
[6]﴿ وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ ﴾ ’’اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِيَةٍ ﴾ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔
[7]﴿ سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَ يَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا ﴾ ’’اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا۔‘‘ یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کر کے ہلاک کر ڈالا ﴿ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى ﴾ یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کر مردہ پڑے ہیں ﴿ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔
[8]﴿ فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۢۡ بَاقِيَةٍ ﴾ ’’پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟‘‘یہ استفہام نفیٔ متقرر کے معنیٰ میں ہے۔
الحاقة 69:4
ثابت ہونے والی(1) کیا ہے ثابت ہونے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے ثابت ہونے والی؟(3) جھٹلایا تھا ثمود و عاد نے کھڑ کھڑانے والی کو(4) پس لیکن ثمود، تو ہلاک کیے گئے وہ حد سے گزر جانے والی (خوفناک آواز) سے(5) اور لیکن عاد! تو ہلاک کیے گئے وہ یخ ہوا، سرکش (آندھی) سے(6) مسلط کر دیا تھا (اللہ) نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن جڑ کاٹ دینے (فنا کرنے) کے لیے پس تو دیکھتا اس قوم کو اس میں پچھاڑے (ہلاک کیے) ہوئے، گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں گری ہوئی کھجوروں کے(7) تو کیا تو دیکھتا ہے ان میں سے کوئی بھی باقی؟(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿ اَلۡحَآقَّةُ﴾ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہو گی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿ اَلۡحَآقَّةُۙ۰۰ مَا الۡحَآقَّةُۚ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحَآقَّةُ﴾ کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمتِ شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے ۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح uکو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انھوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا، ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالحu نے خبر دی تھی اور وہی یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کر ڈالے گی۔اسی طرح عاد اولیٰ کو ہلاک کر ڈالا جو حضر موت کے باشندے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے رسول ہودu کو بھیجا جو انھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے پس انھوں نے جناب ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔
[5]﴿ فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ﴾ ’’پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے۔‘‘ اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی، جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔
[6]﴿ وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ ﴾ ’’اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِيَةٍ ﴾ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔
[7]﴿ سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَ يَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا ﴾ ’’اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا۔‘‘ یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کر کے ہلاک کر ڈالا ﴿ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى ﴾ یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کر مردہ پڑے ہیں ﴿ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔
[8]﴿ فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۢۡ بَاقِيَةٍ ﴾ ’’پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟‘‘یہ استفہام نفیٔ متقرر کے معنیٰ میں ہے۔
الحاقة 69:5
ثابت ہونے والی(1) کیا ہے ثابت ہونے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے ثابت ہونے والی؟(3) جھٹلایا تھا ثمود و عاد نے کھڑ کھڑانے والی کو(4) پس لیکن ثمود، تو ہلاک کیے گئے وہ حد سے گزر جانے والی (خوفناک آواز) سے(5) اور لیکن عاد! تو ہلاک کیے گئے وہ یخ ہوا، سرکش (آندھی) سے(6) مسلط کر دیا تھا (اللہ) نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن جڑ کاٹ دینے (فنا کرنے) کے لیے پس تو دیکھتا اس قوم کو اس میں پچھاڑے (ہلاک کیے) ہوئے، گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں گری ہوئی کھجوروں کے(7) تو کیا تو دیکھتا ہے ان میں سے کوئی بھی باقی؟(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿ اَلۡحَآقَّةُ﴾ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہو گی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿ اَلۡحَآقَّةُۙ۰۰ مَا الۡحَآقَّةُۚ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحَآقَّةُ﴾ کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمتِ شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے ۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح uکو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انھوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا، ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالحu نے خبر دی تھی اور وہی یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کر ڈالے گی۔اسی طرح عاد اولیٰ کو ہلاک کر ڈالا جو حضر موت کے باشندے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے رسول ہودu کو بھیجا جو انھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے پس انھوں نے جناب ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔
[5]﴿ فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ﴾ ’’پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے۔‘‘ اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی، جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔
[6]﴿ وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ ﴾ ’’اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِيَةٍ ﴾ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔
[7]﴿ سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَ يَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا ﴾ ’’اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا۔‘‘ یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کر کے ہلاک کر ڈالا ﴿ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى ﴾ یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کر مردہ پڑے ہیں ﴿ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔
[8]﴿ فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۢۡ بَاقِيَةٍ ﴾ ’’پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟‘‘یہ استفہام نفیٔ متقرر کے معنیٰ میں ہے۔
الحاقة 69:6
ثابت ہونے والی(1) کیا ہے ثابت ہونے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے ثابت ہونے والی؟(3) جھٹلایا تھا ثمود و عاد نے کھڑ کھڑانے والی کو(4) پس لیکن ثمود، تو ہلاک کیے گئے وہ حد سے گزر جانے والی (خوفناک آواز) سے(5) اور لیکن عاد! تو ہلاک کیے گئے وہ یخ ہوا، سرکش (آندھی) سے(6) مسلط کر دیا تھا (اللہ) نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن جڑ کاٹ دینے (فنا کرنے) کے لیے پس تو دیکھتا اس قوم کو اس میں پچھاڑے (ہلاک کیے) ہوئے، گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں گری ہوئی کھجوروں کے(7) تو کیا تو دیکھتا ہے ان میں سے کوئی بھی باقی؟(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿ اَلۡحَآقَّةُ﴾ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہو گی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿ اَلۡحَآقَّةُۙ۰۰ مَا الۡحَآقَّةُۚ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحَآقَّةُ﴾ کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمتِ شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے ۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح uکو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انھوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا، ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالحu نے خبر دی تھی اور وہی یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کر ڈالے گی۔اسی طرح عاد اولیٰ کو ہلاک کر ڈالا جو حضر موت کے باشندے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے رسول ہودu کو بھیجا جو انھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے پس انھوں نے جناب ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔
[5]﴿ فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ﴾ ’’پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے۔‘‘ اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی، جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔
[6]﴿ وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ ﴾ ’’اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِيَةٍ ﴾ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔
[7]﴿ سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَ يَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا ﴾ ’’اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا۔‘‘ یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کر کے ہلاک کر ڈالا ﴿ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى ﴾ یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کر مردہ پڑے ہیں ﴿ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔
[8]﴿ فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۢۡ بَاقِيَةٍ ﴾ ’’پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟‘‘یہ استفہام نفیٔ متقرر کے معنیٰ میں ہے۔
الحاقة 69:7
ثابت ہونے والی(1) کیا ہے ثابت ہونے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے ثابت ہونے والی؟(3) جھٹلایا تھا ثمود و عاد نے کھڑ کھڑانے والی کو(4) پس لیکن ثمود، تو ہلاک کیے گئے وہ حد سے گزر جانے والی (خوفناک آواز) سے(5) اور لیکن عاد! تو ہلاک کیے گئے وہ یخ ہوا، سرکش (آندھی) سے(6) مسلط کر دیا تھا (اللہ) نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن جڑ کاٹ دینے (فنا کرنے) کے لیے پس تو دیکھتا اس قوم کو اس میں پچھاڑے (ہلاک کیے) ہوئے، گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں گری ہوئی کھجوروں کے(7) تو کیا تو دیکھتا ہے ان میں سے کوئی بھی باقی؟(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿ اَلۡحَآقَّةُ﴾ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہو گی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿ اَلۡحَآقَّةُۙ۰۰ مَا الۡحَآقَّةُۚ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحَآقَّةُ﴾ کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمتِ شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے ۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح uکو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انھوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا، ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالحu نے خبر دی تھی اور وہی یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کر ڈالے گی۔اسی طرح عاد اولیٰ کو ہلاک کر ڈالا جو حضر موت کے باشندے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے رسول ہودu کو بھیجا جو انھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے پس انھوں نے جناب ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔
[5]﴿ فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ﴾ ’’پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے۔‘‘ اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی، جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔
[6]﴿ وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ ﴾ ’’اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِيَةٍ ﴾ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔
[7]﴿ سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَ يَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا ﴾ ’’اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا۔‘‘ یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کر کے ہلاک کر ڈالا ﴿ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى ﴾ یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کر مردہ پڑے ہیں ﴿ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔
[8]﴿ فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۢۡ بَاقِيَةٍ ﴾ ’’پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟‘‘یہ استفہام نفیٔ متقرر کے معنیٰ میں ہے۔
الحاقة 69:8
ثابت ہونے والی(1) کیا ہے ثابت ہونے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے ثابت ہونے والی؟(3) جھٹلایا تھا ثمود و عاد نے کھڑ کھڑانے والی کو(4) پس لیکن ثمود، تو ہلاک کیے گئے وہ حد سے گزر جانے والی (خوفناک آواز) سے(5) اور لیکن عاد! تو ہلاک کیے گئے وہ یخ ہوا، سرکش (آندھی) سے(6) مسلط کر دیا تھا (اللہ) نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن جڑ کاٹ دینے (فنا کرنے) کے لیے پس تو دیکھتا اس قوم کو اس میں پچھاڑے (ہلاک کیے) ہوئے، گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں گری ہوئی کھجوروں کے(7) تو کیا تو دیکھتا ہے ان میں سے کوئی بھی باقی؟(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿ اَلۡحَآقَّةُ﴾ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہو گی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿ اَلۡحَآقَّةُۙ۰۰ مَا الۡحَآقَّةُۚ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحَآقَّةُ﴾ کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمتِ شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے ۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح uکو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انھوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا، ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالحu نے خبر دی تھی اور وہی یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کر ڈالے گی۔اسی طرح عاد اولیٰ کو ہلاک کر ڈالا جو حضر موت کے باشندے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے رسول ہودu کو بھیجا جو انھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے پس انھوں نے جناب ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔
[5]﴿ فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ﴾ ’’پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے۔‘‘ اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی، جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔
[6]﴿ وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ ﴾ ’’اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِيَةٍ ﴾ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔
[7]﴿ سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَ يَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا ﴾ ’’اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا۔‘‘ یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کر کے ہلاک کر ڈالا ﴿ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى ﴾ یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کر مردہ پڑے ہیں ﴿ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔
[8]﴿ فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۢۡ بَاقِيَةٍ ﴾ ’’پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟‘‘یہ استفہام نفیٔ متقرر کے معنیٰ میں ہے۔
الحاقة 69:9
اور ارتکاب کیا تھا فرعون نے اور جو اس سے پہلے تھے اور الٹ جانے والی(بستیوں والوں)نے گناہوں کا(9) پس انھوں نے نافرمانی کی اپنے رب کے رسول کی تو اس (رب) نے پکڑا ان کو پکڑنا نہایت سخت (10) بلاشبہ، جب طغیانی کی پانی نے تو سوار کیا ہم نے تمھیں کشتی میں (11) تاکہ کریں ہم اس (فعل) کو تمھارے لیے نصیحت اور (تاکہ) یاد رکھیں اسے کان یاد رکھنے والے (12)
[10,9] اسی طرح ان دو سرکش قوموں، عاد و ثمود کے علاوہ بھی سرکش اور نافرمان لوگ آئے، جیسے فرعون مصر جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمرانu کو مبعوث کیا اور انھیں واضح نشانیاں دکھائیں جن کی بنا پر انھیں حق کا یقین آ گیا مگر انھوں نے ظلم اور تکبر سے ان کار کر دیا اور کفر کا رویہ اختیار کیا، اور اس سے پہلے بھی جھٹلانے والے آئے۔ ﴿ وَالۡمُؤۡتَفِكٰتُ﴾ ’’اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔‘‘ یعنی حضرت لوط u کی قوم کی بستیاں، سب گناہ کا کام کرتے تھے ﴿ بِالۡخَاطِئَةِ﴾ یعنی سرکشی کے افعال کرتے تھے، اس سے مراد کفر، تکذیب، ظلم اور عناد ہے، نیز فسق و معاصی کی دیگر اقسام بھی اس میں شامل ہے۔ ﴿ فَعَصَوۡا رَسُوۡلَ رَبِّهِمۡ﴾ یہ اسم جنس ہے ، یعنی ان تمام قوموں نے اپنے رسول کو جھٹلایا جو ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو پکڑ لیا ﴿ اَخۡذَةً رَّابِيَةً﴾ یعنی حد اور مقدار سے بڑھ کر ان کی گرفت کی جس سے وہ تباہ و برباد ہو گئے۔
[12,11] منجملہ ان قوموں کے، نوحuکی قوم بھی تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے سمندر (کے سیلاب) میں غرق کر ڈالا جب پانی سرکشی کر کے زمین پر پھیل گیا اور بلند مقامات سے بھی بلند ہو گیا۔ حضرت نوحu کی سرکش قوم کے غرق ہونے کے بعد جو مخلوق موجود تھی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ ان کو سوار کیا﴿ فِي الۡجَارِيَةِ﴾’’کشتی میں ‘‘جبکہ یہ اپنے آباء اور ماؤ ں کی صلب میں تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے طوفان سے نجات دی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو، اس کا شکرکرو جس نے تمھیں اس وقت نجات دی جب اس نے سرکش لوگوں کو ہلاک کر ڈالا ۔۔ اور اس کی آیات سے عبرت حاصل کرو جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔﴿ لِنَجۡعَلَهَا﴾ ’’تاکہ ہم اس کو بنادیں۔‘‘ یعنی کشتی کواور اس سے مراد اسم جنس ہے، تمھارے لیے ﴿ تَذۡكِرَةً﴾ ’’یادگار‘‘ جو تمھیں اولین کشتی کی صنعت اور اس کے قصے کی یاد دلاتی ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے اس کشتی پر سوار ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور اپنے رسول کی اتباع کی اور روئے زمین کے دیگر تمام لوگوں کو ہلاک کر ڈالا، کیونکہ اشیاء کی جنس اپنی اصل کی یاد دلاتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَّتَعِيَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ﴾ ’’اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔‘‘ یعنی خرد مند لوگ ہی اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس سے مقصود کی معرفت اور اس کے ذریعے سے نشانی و معجزے کی وجہ معلوم کرتے ہیں۔ اور اہل غفلت، کند ذہن اور ذہانت سے محروم لوگوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرتوں کو یاد نہ رکھنے اور اس کی آیات میں غور و فکر نہ کرنے کے سبب سے آیات الٰہی سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہیں۔
الحاقة 69:10
اور ارتکاب کیا تھا فرعون نے اور جو اس سے پہلے تھے اور الٹ جانے والی(بستیوں والوں)نے گناہوں کا(9) پس انھوں نے نافرمانی کی اپنے رب کے رسول کی تو اس (رب) نے پکڑا ان کو پکڑنا نہایت سخت (10) بلاشبہ، جب طغیانی کی پانی نے تو سوار کیا ہم نے تمھیں کشتی میں (11) تاکہ کریں ہم اس (فعل) کو تمھارے لیے نصیحت اور (تاکہ) یاد رکھیں اسے کان یاد رکھنے والے (12)
[10,9] اسی طرح ان دو سرکش قوموں، عاد و ثمود کے علاوہ بھی سرکش اور نافرمان لوگ آئے، جیسے فرعون مصر جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمرانu کو مبعوث کیا اور انھیں واضح نشانیاں دکھائیں جن کی بنا پر انھیں حق کا یقین آ گیا مگر انھوں نے ظلم اور تکبر سے ان کار کر دیا اور کفر کا رویہ اختیار کیا، اور اس سے پہلے بھی جھٹلانے والے آئے۔ ﴿ وَالۡمُؤۡتَفِكٰتُ﴾ ’’اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔‘‘ یعنی حضرت لوط u کی قوم کی بستیاں، سب گناہ کا کام کرتے تھے ﴿ بِالۡخَاطِئَةِ﴾ یعنی سرکشی کے افعال کرتے تھے، اس سے مراد کفر، تکذیب، ظلم اور عناد ہے، نیز فسق و معاصی کی دیگر اقسام بھی اس میں شامل ہے۔ ﴿ فَعَصَوۡا رَسُوۡلَ رَبِّهِمۡ﴾ یہ اسم جنس ہے ، یعنی ان تمام قوموں نے اپنے رسول کو جھٹلایا جو ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو پکڑ لیا ﴿ اَخۡذَةً رَّابِيَةً﴾ یعنی حد اور مقدار سے بڑھ کر ان کی گرفت کی جس سے وہ تباہ و برباد ہو گئے۔
[12,11] منجملہ ان قوموں کے، نوحuکی قوم بھی تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے سمندر (کے سیلاب) میں غرق کر ڈالا جب پانی سرکشی کر کے زمین پر پھیل گیا اور بلند مقامات سے بھی بلند ہو گیا۔ حضرت نوحu کی سرکش قوم کے غرق ہونے کے بعد جو مخلوق موجود تھی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ ان کو سوار کیا﴿ فِي الۡجَارِيَةِ﴾’’کشتی میں ‘‘جبکہ یہ اپنے آباء اور ماؤ ں کی صلب میں تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے طوفان سے نجات دی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو، اس کا شکرکرو جس نے تمھیں اس وقت نجات دی جب اس نے سرکش لوگوں کو ہلاک کر ڈالا ۔۔ اور اس کی آیات سے عبرت حاصل کرو جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔﴿ لِنَجۡعَلَهَا﴾ ’’تاکہ ہم اس کو بنادیں۔‘‘ یعنی کشتی کواور اس سے مراد اسم جنس ہے، تمھارے لیے ﴿ تَذۡكِرَةً﴾ ’’یادگار‘‘ جو تمھیں اولین کشتی کی صنعت اور اس کے قصے کی یاد دلاتی ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے اس کشتی پر سوار ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور اپنے رسول کی اتباع کی اور روئے زمین کے دیگر تمام لوگوں کو ہلاک کر ڈالا، کیونکہ اشیاء کی جنس اپنی اصل کی یاد دلاتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَّتَعِيَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ﴾ ’’اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔‘‘ یعنی خرد مند لوگ ہی اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس سے مقصود کی معرفت اور اس کے ذریعے سے نشانی و معجزے کی وجہ معلوم کرتے ہیں۔ اور اہل غفلت، کند ذہن اور ذہانت سے محروم لوگوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرتوں کو یاد نہ رکھنے اور اس کی آیات میں غور و فکر نہ کرنے کے سبب سے آیات الٰہی سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہیں۔
الحاقة 69:11
اور ارتکاب کیا تھا فرعون نے اور جو اس سے پہلے تھے اور الٹ جانے والی(بستیوں والوں)نے گناہوں کا(9) پس انھوں نے نافرمانی کی اپنے رب کے رسول کی تو اس (رب) نے پکڑا ان کو پکڑنا نہایت سخت (10) بلاشبہ، جب طغیانی کی پانی نے تو سوار کیا ہم نے تمھیں کشتی میں (11) تاکہ کریں ہم اس (فعل) کو تمھارے لیے نصیحت اور (تاکہ) یاد رکھیں اسے کان یاد رکھنے والے (12)
[10,9] اسی طرح ان دو سرکش قوموں، عاد و ثمود کے علاوہ بھی سرکش اور نافرمان لوگ آئے، جیسے فرعون مصر جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمرانu کو مبعوث کیا اور انھیں واضح نشانیاں دکھائیں جن کی بنا پر انھیں حق کا یقین آ گیا مگر انھوں نے ظلم اور تکبر سے ان کار کر دیا اور کفر کا رویہ اختیار کیا، اور اس سے پہلے بھی جھٹلانے والے آئے۔ ﴿ وَالۡمُؤۡتَفِكٰتُ﴾ ’’اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔‘‘ یعنی حضرت لوط u کی قوم کی بستیاں، سب گناہ کا کام کرتے تھے ﴿ بِالۡخَاطِئَةِ﴾ یعنی سرکشی کے افعال کرتے تھے، اس سے مراد کفر، تکذیب، ظلم اور عناد ہے، نیز فسق و معاصی کی دیگر اقسام بھی اس میں شامل ہے۔ ﴿ فَعَصَوۡا رَسُوۡلَ رَبِّهِمۡ﴾ یہ اسم جنس ہے ، یعنی ان تمام قوموں نے اپنے رسول کو جھٹلایا جو ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو پکڑ لیا ﴿ اَخۡذَةً رَّابِيَةً﴾ یعنی حد اور مقدار سے بڑھ کر ان کی گرفت کی جس سے وہ تباہ و برباد ہو گئے۔
[12,11] منجملہ ان قوموں کے، نوحuکی قوم بھی تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے سمندر (کے سیلاب) میں غرق کر ڈالا جب پانی سرکشی کر کے زمین پر پھیل گیا اور بلند مقامات سے بھی بلند ہو گیا۔ حضرت نوحu کی سرکش قوم کے غرق ہونے کے بعد جو مخلوق موجود تھی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ ان کو سوار کیا﴿ فِي الۡجَارِيَةِ﴾’’کشتی میں ‘‘جبکہ یہ اپنے آباء اور ماؤ ں کی صلب میں تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے طوفان سے نجات دی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو، اس کا شکرکرو جس نے تمھیں اس وقت نجات دی جب اس نے سرکش لوگوں کو ہلاک کر ڈالا ۔۔ اور اس کی آیات سے عبرت حاصل کرو جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔﴿ لِنَجۡعَلَهَا﴾ ’’تاکہ ہم اس کو بنادیں۔‘‘ یعنی کشتی کواور اس سے مراد اسم جنس ہے، تمھارے لیے ﴿ تَذۡكِرَةً﴾ ’’یادگار‘‘ جو تمھیں اولین کشتی کی صنعت اور اس کے قصے کی یاد دلاتی ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے اس کشتی پر سوار ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور اپنے رسول کی اتباع کی اور روئے زمین کے دیگر تمام لوگوں کو ہلاک کر ڈالا، کیونکہ اشیاء کی جنس اپنی اصل کی یاد دلاتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَّتَعِيَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ﴾ ’’اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔‘‘ یعنی خرد مند لوگ ہی اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس سے مقصود کی معرفت اور اس کے ذریعے سے نشانی و معجزے کی وجہ معلوم کرتے ہیں۔ اور اہل غفلت، کند ذہن اور ذہانت سے محروم لوگوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرتوں کو یاد نہ رکھنے اور اس کی آیات میں غور و فکر نہ کرنے کے سبب سے آیات الٰہی سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہیں۔
الحاقة 69:12
اور ارتکاب کیا تھا فرعون نے اور جو اس سے پہلے تھے اور الٹ جانے والی(بستیوں والوں)نے گناہوں کا(9) پس انھوں نے نافرمانی کی اپنے رب کے رسول کی تو اس (رب) نے پکڑا ان کو پکڑنا نہایت سخت (10) بلاشبہ، جب طغیانی کی پانی نے تو سوار کیا ہم نے تمھیں کشتی میں (11) تاکہ کریں ہم اس (فعل) کو تمھارے لیے نصیحت اور (تاکہ) یاد رکھیں اسے کان یاد رکھنے والے (12)
[10,9] اسی طرح ان دو سرکش قوموں، عاد و ثمود کے علاوہ بھی سرکش اور نافرمان لوگ آئے، جیسے فرعون مصر جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمرانu کو مبعوث کیا اور انھیں واضح نشانیاں دکھائیں جن کی بنا پر انھیں حق کا یقین آ گیا مگر انھوں نے ظلم اور تکبر سے ان کار کر دیا اور کفر کا رویہ اختیار کیا، اور اس سے پہلے بھی جھٹلانے والے آئے۔ ﴿ وَالۡمُؤۡتَفِكٰتُ﴾ ’’اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔‘‘ یعنی حضرت لوط u کی قوم کی بستیاں، سب گناہ کا کام کرتے تھے ﴿ بِالۡخَاطِئَةِ﴾ یعنی سرکشی کے افعال کرتے تھے، اس سے مراد کفر، تکذیب، ظلم اور عناد ہے، نیز فسق و معاصی کی دیگر اقسام بھی اس میں شامل ہے۔ ﴿ فَعَصَوۡا رَسُوۡلَ رَبِّهِمۡ﴾ یہ اسم جنس ہے ، یعنی ان تمام قوموں نے اپنے رسول کو جھٹلایا جو ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو پکڑ لیا ﴿ اَخۡذَةً رَّابِيَةً﴾ یعنی حد اور مقدار سے بڑھ کر ان کی گرفت کی جس سے وہ تباہ و برباد ہو گئے۔
[12,11] منجملہ ان قوموں کے، نوحuکی قوم بھی تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے سمندر (کے سیلاب) میں غرق کر ڈالا جب پانی سرکشی کر کے زمین پر پھیل گیا اور بلند مقامات سے بھی بلند ہو گیا۔ حضرت نوحu کی سرکش قوم کے غرق ہونے کے بعد جو مخلوق موجود تھی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ ان کو سوار کیا﴿ فِي الۡجَارِيَةِ﴾’’کشتی میں ‘‘جبکہ یہ اپنے آباء اور ماؤ ں کی صلب میں تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے طوفان سے نجات دی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو، اس کا شکرکرو جس نے تمھیں اس وقت نجات دی جب اس نے سرکش لوگوں کو ہلاک کر ڈالا ۔۔ اور اس کی آیات سے عبرت حاصل کرو جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔﴿ لِنَجۡعَلَهَا﴾ ’’تاکہ ہم اس کو بنادیں۔‘‘ یعنی کشتی کواور اس سے مراد اسم جنس ہے، تمھارے لیے ﴿ تَذۡكِرَةً﴾ ’’یادگار‘‘ جو تمھیں اولین کشتی کی صنعت اور اس کے قصے کی یاد دلاتی ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے اس کشتی پر سوار ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور اپنے رسول کی اتباع کی اور روئے زمین کے دیگر تمام لوگوں کو ہلاک کر ڈالا، کیونکہ اشیاء کی جنس اپنی اصل کی یاد دلاتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَّتَعِيَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ﴾ ’’اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔‘‘ یعنی خرد مند لوگ ہی اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس سے مقصود کی معرفت اور اس کے ذریعے سے نشانی و معجزے کی وجہ معلوم کرتے ہیں۔ اور اہل غفلت، کند ذہن اور ذہانت سے محروم لوگوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرتوں کو یاد نہ رکھنے اور اس کی آیات میں غور و فکر نہ کرنے کے سبب سے آیات الٰہی سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہیں۔
الحاقة 69:13
پس جب پھونکا جائے گا صور میں پھونکنا ایک بار (13) اور اٹھائی جائے گی زمین اور پہاڑ، پس کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے وہ دونوں (مکمل) ریزہ ریزہ کر دیا جانا ایک ہی بار (14) پس اس دن واقع ہو گی واقع ہونے والی (قیامت)(15) اور پھٹ جائے گا آسمان پس وہ ہو گا اس دن کمزور (16) اور فرشتے (ہو ں گے) اس کےکناروں پر اور اٹھائیں گے عرش آپ کے رب کا اپنے اوپر اس دن آٹھ (فرشتے)(17) اس دن تم پیش کیے جاؤ گے (حساب کے لیے) نہیں چھپے گا تمھارے (رازوں) میں سے کوئی راز (18)
[18-13] جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ کیا کیا، انھیں کیسا بدلہ دیا، دنیا کے اندر ہی ان پر عذاب بھیج دیا اور اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا ۔یہ قیامت کے روز اخروی جزا اور اعمال کے کامل بدلے کا مقدمہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ہولناک واقعات کا ذکر فرمایا ہے جو قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہوں گے۔ ان میں سے اولین واقعہ یہ ہو گا کہ اسرافیل ﴿ فِي الصُّوۡرِ﴾ صور پھونکیں گے جب اجساد مکمل ہوجائیں گے﴿نَفۡخَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾’’ایک دفعہ پھونک ماری جائے گی۔‘‘ پس روحیں نکل آئیں گی اور ہر روح اپنے جسد میں داخل ہو جائے گی، تب تمام لوگ رب کائنات کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔﴿وَّحُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَالۡؔجِبَالُ فَدُكَّـتَا دَؔكَّةً وَّاحِدَةً﴾یعنی پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے، وہ نیست و نابود ہو کر رزق خاک ہو جائیں گے ، یعنی ان کو ڈھا کر زمین میں برابر کر دیا جائے گا، چنانچہ تمام زمین ہموار میدان بن جائے گی، آپ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھیں گے۔ یہ تو زمین اور اس پر رہنے والوں کے ساتھ ہو گا۔ رہا وہ معاملہ جو آسمان کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ یہ ہو گا کہ وہ متحرک اور متموج ہو کر پھٹ جائے گا، اس کا رنگ متغیر ہو جائے گا اور آسمان اپنی صلابت اور عظیم قوت کے بعد کمزور ہو جائیں گے، یہ سب کچھ ایک عظیم امر کی بنا پر جو ان کو ہلا کر رکھ دے گا اور بہت بڑے تکلیف دہ اور ہولناک معاملے کے سبب سے ہو گا جو ان کو کمزور کر دے گا۔﴿وَّالۡمَلَكُ﴾ اور مکرم فرشتے ﴿عَلٰۤى اَرۡجَآىِٕهَا﴾ آسمان کی تمام جوانب اور کناروں پر اپنے رب کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہوں گے ﴿وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ﴾ اور تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے جو انتہائی طاقت ور ہوں گے (یہ اس وقت ہو گا) جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان، اپنے عدل و انصاف اور اپنے فضل و کرم کے ساتھ، فیصلے کرنے کے لیے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿يَوۡمَىِٕذٍ تُعۡرَضُوۡنَ﴾ اس روز تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔ ﴿لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ﴾ تمھارے اجساد اور ذوات چھپ سکیں گے نہ تمھارے اعمال اور اوصاف چھپ سکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور موجود سب کا علم رکھتا ہے۔ تمام بندے ننگے پاؤ ں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں، ایک ہموار میدان میں جمع کیے جائیں گے، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ ان سب تک پہنچ سکے گی، اس وقت اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا اس لیے جزا کی کیفیت کا ذکر کیا۔
الحاقة 69:14
پس جب پھونکا جائے گا صور میں پھونکنا ایک بار (13) اور اٹھائی جائے گی زمین اور پہاڑ، پس کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے وہ دونوں (مکمل) ریزہ ریزہ کر دیا جانا ایک ہی بار (14) پس اس دن واقع ہو گی واقع ہونے والی (قیامت)(15) اور پھٹ جائے گا آسمان پس وہ ہو گا اس دن کمزور (16) اور فرشتے (ہو ں گے) اس کےکناروں پر اور اٹھائیں گے عرش آپ کے رب کا اپنے اوپر اس دن آٹھ (فرشتے)(17) اس دن تم پیش کیے جاؤ گے (حساب کے لیے) نہیں چھپے گا تمھارے (رازوں) میں سے کوئی راز (18)
[18-13] جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ کیا کیا، انھیں کیسا بدلہ دیا، دنیا کے اندر ہی ان پر عذاب بھیج دیا اور اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا ۔یہ قیامت کے روز اخروی جزا اور اعمال کے کامل بدلے کا مقدمہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ہولناک واقعات کا ذکر فرمایا ہے جو قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہوں گے۔ ان میں سے اولین واقعہ یہ ہو گا کہ اسرافیل ﴿ فِي الصُّوۡرِ﴾ صور پھونکیں گے جب اجساد مکمل ہوجائیں گے﴿نَفۡخَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾’’ایک دفعہ پھونک ماری جائے گی۔‘‘ پس روحیں نکل آئیں گی اور ہر روح اپنے جسد میں داخل ہو جائے گی، تب تمام لوگ رب کائنات کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔﴿وَّحُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَالۡؔجِبَالُ فَدُكَّـتَا دَؔكَّةً وَّاحِدَةً﴾یعنی پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے، وہ نیست و نابود ہو کر رزق خاک ہو جائیں گے ، یعنی ان کو ڈھا کر زمین میں برابر کر دیا جائے گا، چنانچہ تمام زمین ہموار میدان بن جائے گی، آپ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھیں گے۔ یہ تو زمین اور اس پر رہنے والوں کے ساتھ ہو گا۔ رہا وہ معاملہ جو آسمان کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ یہ ہو گا کہ وہ متحرک اور متموج ہو کر پھٹ جائے گا، اس کا رنگ متغیر ہو جائے گا اور آسمان اپنی صلابت اور عظیم قوت کے بعد کمزور ہو جائیں گے، یہ سب کچھ ایک عظیم امر کی بنا پر جو ان کو ہلا کر رکھ دے گا اور بہت بڑے تکلیف دہ اور ہولناک معاملے کے سبب سے ہو گا جو ان کو کمزور کر دے گا۔﴿وَّالۡمَلَكُ﴾ اور مکرم فرشتے ﴿عَلٰۤى اَرۡجَآىِٕهَا﴾ آسمان کی تمام جوانب اور کناروں پر اپنے رب کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہوں گے ﴿وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ﴾ اور تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے جو انتہائی طاقت ور ہوں گے (یہ اس وقت ہو گا) جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان، اپنے عدل و انصاف اور اپنے فضل و کرم کے ساتھ، فیصلے کرنے کے لیے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿يَوۡمَىِٕذٍ تُعۡرَضُوۡنَ﴾ اس روز تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔ ﴿لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ﴾ تمھارے اجساد اور ذوات چھپ سکیں گے نہ تمھارے اعمال اور اوصاف چھپ سکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور موجود سب کا علم رکھتا ہے۔ تمام بندے ننگے پاؤ ں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں، ایک ہموار میدان میں جمع کیے جائیں گے، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ ان سب تک پہنچ سکے گی، اس وقت اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا اس لیے جزا کی کیفیت کا ذکر کیا۔
الحاقة 69:15
پس جب پھونکا جائے گا صور میں پھونکنا ایک بار (13) اور اٹھائی جائے گی زمین اور پہاڑ، پس کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے وہ دونوں (مکمل) ریزہ ریزہ کر دیا جانا ایک ہی بار (14) پس اس دن واقع ہو گی واقع ہونے والی (قیامت)(15) اور پھٹ جائے گا آسمان پس وہ ہو گا اس دن کمزور (16) اور فرشتے (ہو ں گے) اس کےکناروں پر اور اٹھائیں گے عرش آپ کے رب کا اپنے اوپر اس دن آٹھ (فرشتے)(17) اس دن تم پیش کیے جاؤ گے (حساب کے لیے) نہیں چھپے گا تمھارے (رازوں) میں سے کوئی راز (18)
[18-13] جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ کیا کیا، انھیں کیسا بدلہ دیا، دنیا کے اندر ہی ان پر عذاب بھیج دیا اور اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا ۔یہ قیامت کے روز اخروی جزا اور اعمال کے کامل بدلے کا مقدمہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ہولناک واقعات کا ذکر فرمایا ہے جو قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہوں گے۔ ان میں سے اولین واقعہ یہ ہو گا کہ اسرافیل ﴿ فِي الصُّوۡرِ﴾ صور پھونکیں گے جب اجساد مکمل ہوجائیں گے﴿نَفۡخَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾’’ایک دفعہ پھونک ماری جائے گی۔‘‘ پس روحیں نکل آئیں گی اور ہر روح اپنے جسد میں داخل ہو جائے گی، تب تمام لوگ رب کائنات کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔﴿وَّحُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَالۡؔجِبَالُ فَدُكَّـتَا دَؔكَّةً وَّاحِدَةً﴾یعنی پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے، وہ نیست و نابود ہو کر رزق خاک ہو جائیں گے ، یعنی ان کو ڈھا کر زمین میں برابر کر دیا جائے گا، چنانچہ تمام زمین ہموار میدان بن جائے گی، آپ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھیں گے۔ یہ تو زمین اور اس پر رہنے والوں کے ساتھ ہو گا۔ رہا وہ معاملہ جو آسمان کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ یہ ہو گا کہ وہ متحرک اور متموج ہو کر پھٹ جائے گا، اس کا رنگ متغیر ہو جائے گا اور آسمان اپنی صلابت اور عظیم قوت کے بعد کمزور ہو جائیں گے، یہ سب کچھ ایک عظیم امر کی بنا پر جو ان کو ہلا کر رکھ دے گا اور بہت بڑے تکلیف دہ اور ہولناک معاملے کے سبب سے ہو گا جو ان کو کمزور کر دے گا۔﴿وَّالۡمَلَكُ﴾ اور مکرم فرشتے ﴿عَلٰۤى اَرۡجَآىِٕهَا﴾ آسمان کی تمام جوانب اور کناروں پر اپنے رب کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہوں گے ﴿وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ﴾ اور تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے جو انتہائی طاقت ور ہوں گے (یہ اس وقت ہو گا) جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان، اپنے عدل و انصاف اور اپنے فضل و کرم کے ساتھ، فیصلے کرنے کے لیے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿يَوۡمَىِٕذٍ تُعۡرَضُوۡنَ﴾ اس روز تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔ ﴿لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ﴾ تمھارے اجساد اور ذوات چھپ سکیں گے نہ تمھارے اعمال اور اوصاف چھپ سکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور موجود سب کا علم رکھتا ہے۔ تمام بندے ننگے پاؤ ں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں، ایک ہموار میدان میں جمع کیے جائیں گے، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ ان سب تک پہنچ سکے گی، اس وقت اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا اس لیے جزا کی کیفیت کا ذکر کیا۔
الحاقة 69:16
پس جب پھونکا جائے گا صور میں پھونکنا ایک بار (13) اور اٹھائی جائے گی زمین اور پہاڑ، پس کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے وہ دونوں (مکمل) ریزہ ریزہ کر دیا جانا ایک ہی بار (14) پس اس دن واقع ہو گی واقع ہونے والی (قیامت)(15) اور پھٹ جائے گا آسمان پس وہ ہو گا اس دن کمزور (16) اور فرشتے (ہو ں گے) اس کےکناروں پر اور اٹھائیں گے عرش آپ کے رب کا اپنے اوپر اس دن آٹھ (فرشتے)(17) اس دن تم پیش کیے جاؤ گے (حساب کے لیے) نہیں چھپے گا تمھارے (رازوں) میں سے کوئی راز (18)
[18-13] جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ کیا کیا، انھیں کیسا بدلہ دیا، دنیا کے اندر ہی ان پر عذاب بھیج دیا اور اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا ۔یہ قیامت کے روز اخروی جزا اور اعمال کے کامل بدلے کا مقدمہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ہولناک واقعات کا ذکر فرمایا ہے جو قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہوں گے۔ ان میں سے اولین واقعہ یہ ہو گا کہ اسرافیل ﴿ فِي الصُّوۡرِ﴾ صور پھونکیں گے جب اجساد مکمل ہوجائیں گے﴿نَفۡخَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾’’ایک دفعہ پھونک ماری جائے گی۔‘‘ پس روحیں نکل آئیں گی اور ہر روح اپنے جسد میں داخل ہو جائے گی، تب تمام لوگ رب کائنات کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔﴿وَّحُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَالۡؔجِبَالُ فَدُكَّـتَا دَؔكَّةً وَّاحِدَةً﴾یعنی پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے، وہ نیست و نابود ہو کر رزق خاک ہو جائیں گے ، یعنی ان کو ڈھا کر زمین میں برابر کر دیا جائے گا، چنانچہ تمام زمین ہموار میدان بن جائے گی، آپ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھیں گے۔ یہ تو زمین اور اس پر رہنے والوں کے ساتھ ہو گا۔ رہا وہ معاملہ جو آسمان کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ یہ ہو گا کہ وہ متحرک اور متموج ہو کر پھٹ جائے گا، اس کا رنگ متغیر ہو جائے گا اور آسمان اپنی صلابت اور عظیم قوت کے بعد کمزور ہو جائیں گے، یہ سب کچھ ایک عظیم امر کی بنا پر جو ان کو ہلا کر رکھ دے گا اور بہت بڑے تکلیف دہ اور ہولناک معاملے کے سبب سے ہو گا جو ان کو کمزور کر دے گا۔﴿وَّالۡمَلَكُ﴾ اور مکرم فرشتے ﴿عَلٰۤى اَرۡجَآىِٕهَا﴾ آسمان کی تمام جوانب اور کناروں پر اپنے رب کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہوں گے ﴿وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ﴾ اور تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے جو انتہائی طاقت ور ہوں گے (یہ اس وقت ہو گا) جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان، اپنے عدل و انصاف اور اپنے فضل و کرم کے ساتھ، فیصلے کرنے کے لیے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿يَوۡمَىِٕذٍ تُعۡرَضُوۡنَ﴾ اس روز تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔ ﴿لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ﴾ تمھارے اجساد اور ذوات چھپ سکیں گے نہ تمھارے اعمال اور اوصاف چھپ سکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور موجود سب کا علم رکھتا ہے۔ تمام بندے ننگے پاؤ ں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں، ایک ہموار میدان میں جمع کیے جائیں گے، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ ان سب تک پہنچ سکے گی، اس وقت اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا اس لیے جزا کی کیفیت کا ذکر کیا۔
الحاقة 69:17
پس جب پھونکا جائے گا صور میں پھونکنا ایک بار (13) اور اٹھائی جائے گی زمین اور پہاڑ، پس کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے وہ دونوں (مکمل) ریزہ ریزہ کر دیا جانا ایک ہی بار (14) پس اس دن واقع ہو گی واقع ہونے والی (قیامت)(15) اور پھٹ جائے گا آسمان پس وہ ہو گا اس دن کمزور (16) اور فرشتے (ہو ں گے) اس کےکناروں پر اور اٹھائیں گے عرش آپ کے رب کا اپنے اوپر اس دن آٹھ (فرشتے)(17) اس دن تم پیش کیے جاؤ گے (حساب کے لیے) نہیں چھپے گا تمھارے (رازوں) میں سے کوئی راز (18)
[18-13] جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ کیا کیا، انھیں کیسا بدلہ دیا، دنیا کے اندر ہی ان پر عذاب بھیج دیا اور اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا ۔یہ قیامت کے روز اخروی جزا اور اعمال کے کامل بدلے کا مقدمہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ہولناک واقعات کا ذکر فرمایا ہے جو قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہوں گے۔ ان میں سے اولین واقعہ یہ ہو گا کہ اسرافیل ﴿ فِي الصُّوۡرِ﴾ صور پھونکیں گے جب اجساد مکمل ہوجائیں گے﴿نَفۡخَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾’’ایک دفعہ پھونک ماری جائے گی۔‘‘ پس روحیں نکل آئیں گی اور ہر روح اپنے جسد میں داخل ہو جائے گی، تب تمام لوگ رب کائنات کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔﴿وَّحُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَالۡؔجِبَالُ فَدُكَّـتَا دَؔكَّةً وَّاحِدَةً﴾یعنی پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے، وہ نیست و نابود ہو کر رزق خاک ہو جائیں گے ، یعنی ان کو ڈھا کر زمین میں برابر کر دیا جائے گا، چنانچہ تمام زمین ہموار میدان بن جائے گی، آپ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھیں گے۔ یہ تو زمین اور اس پر رہنے والوں کے ساتھ ہو گا۔ رہا وہ معاملہ جو آسمان کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ یہ ہو گا کہ وہ متحرک اور متموج ہو کر پھٹ جائے گا، اس کا رنگ متغیر ہو جائے گا اور آسمان اپنی صلابت اور عظیم قوت کے بعد کمزور ہو جائیں گے، یہ سب کچھ ایک عظیم امر کی بنا پر جو ان کو ہلا کر رکھ دے گا اور بہت بڑے تکلیف دہ اور ہولناک معاملے کے سبب سے ہو گا جو ان کو کمزور کر دے گا۔﴿وَّالۡمَلَكُ﴾ اور مکرم فرشتے ﴿عَلٰۤى اَرۡجَآىِٕهَا﴾ آسمان کی تمام جوانب اور کناروں پر اپنے رب کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہوں گے ﴿وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ﴾ اور تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے جو انتہائی طاقت ور ہوں گے (یہ اس وقت ہو گا) جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان، اپنے عدل و انصاف اور اپنے فضل و کرم کے ساتھ، فیصلے کرنے کے لیے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿يَوۡمَىِٕذٍ تُعۡرَضُوۡنَ﴾ اس روز تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔ ﴿لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ﴾ تمھارے اجساد اور ذوات چھپ سکیں گے نہ تمھارے اعمال اور اوصاف چھپ سکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور موجود سب کا علم رکھتا ہے۔ تمام بندے ننگے پاؤ ں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں، ایک ہموار میدان میں جمع کیے جائیں گے، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ ان سب تک پہنچ سکے گی، اس وقت اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا اس لیے جزا کی کیفیت کا ذکر کیا۔
الحاقة 69:18
پس جب پھونکا جائے گا صور میں پھونکنا ایک بار (13) اور اٹھائی جائے گی زمین اور پہاڑ، پس کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے وہ دونوں (مکمل) ریزہ ریزہ کر دیا جانا ایک ہی بار (14) پس اس دن واقع ہو گی واقع ہونے والی (قیامت)(15) اور پھٹ جائے گا آسمان پس وہ ہو گا اس دن کمزور (16) اور فرشتے (ہو ں گے) اس کےکناروں پر اور اٹھائیں گے عرش آپ کے رب کا اپنے اوپر اس دن آٹھ (فرشتے)(17) اس دن تم پیش کیے جاؤ گے (حساب کے لیے) نہیں چھپے گا تمھارے (رازوں) میں سے کوئی راز (18)
[18-13] جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ کیا کیا، انھیں کیسا بدلہ دیا، دنیا کے اندر ہی ان پر عذاب بھیج دیا اور اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا ۔یہ قیامت کے روز اخروی جزا اور اعمال کے کامل بدلے کا مقدمہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ہولناک واقعات کا ذکر فرمایا ہے جو قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہوں گے۔ ان میں سے اولین واقعہ یہ ہو گا کہ اسرافیل ﴿ فِي الصُّوۡرِ﴾ صور پھونکیں گے جب اجساد مکمل ہوجائیں گے﴿نَفۡخَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾’’ایک دفعہ پھونک ماری جائے گی۔‘‘ پس روحیں نکل آئیں گی اور ہر روح اپنے جسد میں داخل ہو جائے گی، تب تمام لوگ رب کائنات کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔﴿وَّحُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَالۡؔجِبَالُ فَدُكَّـتَا دَؔكَّةً وَّاحِدَةً﴾یعنی پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے، وہ نیست و نابود ہو کر رزق خاک ہو جائیں گے ، یعنی ان کو ڈھا کر زمین میں برابر کر دیا جائے گا، چنانچہ تمام زمین ہموار میدان بن جائے گی، آپ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھیں گے۔ یہ تو زمین اور اس پر رہنے والوں کے ساتھ ہو گا۔ رہا وہ معاملہ جو آسمان کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ یہ ہو گا کہ وہ متحرک اور متموج ہو کر پھٹ جائے گا، اس کا رنگ متغیر ہو جائے گا اور آسمان اپنی صلابت اور عظیم قوت کے بعد کمزور ہو جائیں گے، یہ سب کچھ ایک عظیم امر کی بنا پر جو ان کو ہلا کر رکھ دے گا اور بہت بڑے تکلیف دہ اور ہولناک معاملے کے سبب سے ہو گا جو ان کو کمزور کر دے گا۔﴿وَّالۡمَلَكُ﴾ اور مکرم فرشتے ﴿عَلٰۤى اَرۡجَآىِٕهَا﴾ آسمان کی تمام جوانب اور کناروں پر اپنے رب کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہوں گے ﴿وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ﴾ اور تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے جو انتہائی طاقت ور ہوں گے (یہ اس وقت ہو گا) جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان، اپنے عدل و انصاف اور اپنے فضل و کرم کے ساتھ، فیصلے کرنے کے لیے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿يَوۡمَىِٕذٍ تُعۡرَضُوۡنَ﴾ اس روز تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔ ﴿لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ﴾ تمھارے اجساد اور ذوات چھپ سکیں گے نہ تمھارے اعمال اور اوصاف چھپ سکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور موجود سب کا علم رکھتا ہے۔ تمام بندے ننگے پاؤ ں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں، ایک ہموار میدان میں جمع کیے جائیں گے، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ ان سب تک پہنچ سکے گی، اس وقت اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا اس لیے جزا کی کیفیت کا ذکر کیا۔
الحاقة 69:19
پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، لو پڑھو تم میرا نامۂ اعمال(19) بلاشبہ مجھے یقین تھا کہ بے شک میں ملنے والا ہوں اپنے حساب سے (20) پس وہ ہو گا پسندیدہ زندگی میں (21)(یعنی )بہشت بریں میں (22) اس کے پھل قریب ہوں گے (23)(کہا جائے گا:) کھاؤ اور پیو خوش گوار، بدلے ان (نیک اعمال) کے جو آگے بھیجے تم نے ایام گزشتہ میں (24)
[20,19] یہی لوگ اہل سعادت ہوں گے، ان کو ان کے اعمال نامے، جن میں ان کے نیک اعمال درج ہوں گے، ان کے امتیاز، ان کی شان اور قدر بلند کے لیے، ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے۔ اس وقت ان میں سے کوئی فرحت و سرور، اور اس خواہش کے ساتھ کہ مخلوق پر ظاہر ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس قدر اکرام و تکریم سے سرفراز کیا ہے تو پکار اٹھے گا:﴿ هَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا كِتٰبِيَهۡ﴾ یعنی یہ لو میری کتاب اور اسے پڑھو، یہ کتاب جنتوں، اکرام و تکریم، گناہوں کی مغفرت اور عیوب کو ڈھانپنے کی بشارت دیتی ہے اور جس چیز نے مجھے اس مقام پر پہنچایا وہ قیامت اور حساب کتاب پر ایمان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا اور ایسے اعمال کے ذریعے سے قیامت کے دن کے لیے تیاری کی توفیق دی جو امکان اور استطاعت میں ہیں، اسی لیے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ ظَنَنۡتُ اَنِّيۡ مُلٰقٍ حِسَابِيَهۡ﴾ ’’ مجھے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ضرور ملے گا۔‘‘ یہاں (ظَنّ) یقین کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔
[24-21]﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ ’’پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا۔‘‘ یعنی جو ان تمام چیزوں پر مشتمل ہو گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، ان کا حال یہ ہو گا کہ وہ اس زندگی سے راضی ہوں گے اور اس کے بدلے کسی اور چیز کو منتخب نہیں کریں گے۔ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ﴾ بلند رہائش گاہوں اور بلند محلوں والی جنت میں ہوں گے﴿ قُطُوۡفُهَا دَانِيَةٌ﴾ اس کے پھل اور محتلف انواع کے میوے بہت قریب ہوں گے۔ اہل جنت کے لیے ان کا حاصل کرنا بہت آسان ہو گا۔ اہل جنت، کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے، ہر حالت میں ان کو حاصل کر سکیں گے۔ اکرام و تکریم کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ ہر قسم کا لذیذ کھانا اور مزیدار مشروب کھاؤ اور پیو۔ ﴿ هَنِيۡٓــًٔۢا﴾ کسی تکدر اور ناخوشگواری کے بغیر کامل طریقے سے کھاؤ اور پیو۔ یہ جزا تمھیں اس سبب سے حاصل ہوئی ہے ﴿ بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِي الۡاَيَّامِ الۡخَالِيَةِ﴾ جو تم نے اعمال صالحہ، نماز، روزہ زکاۃ، حج مخلوق کے ساتھ حسن سلوک، اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی طرف انابت اور برے اعمال ترک کیے، پس اعمال کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل ہونے کا سبب، اس کی نعمتوں کا مادہ اور اس کی سعادت کی بنیاد بنایا ہے۔
الحاقة 69:20
پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، لو پڑھو تم میرا نامۂ اعمال(19) بلاشبہ مجھے یقین تھا کہ بے شک میں ملنے والا ہوں اپنے حساب سے (20) پس وہ ہو گا پسندیدہ زندگی میں (21)(یعنی )بہشت بریں میں (22) اس کے پھل قریب ہوں گے (23)(کہا جائے گا:) کھاؤ اور پیو خوش گوار، بدلے ان (نیک اعمال) کے جو آگے بھیجے تم نے ایام گزشتہ میں (24)
[20,19] یہی لوگ اہل سعادت ہوں گے، ان کو ان کے اعمال نامے، جن میں ان کے نیک اعمال درج ہوں گے، ان کے امتیاز، ان کی شان اور قدر بلند کے لیے، ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے۔ اس وقت ان میں سے کوئی فرحت و سرور، اور اس خواہش کے ساتھ کہ مخلوق پر ظاہر ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس قدر اکرام و تکریم سے سرفراز کیا ہے تو پکار اٹھے گا:﴿ هَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا كِتٰبِيَهۡ﴾ یعنی یہ لو میری کتاب اور اسے پڑھو، یہ کتاب جنتوں، اکرام و تکریم، گناہوں کی مغفرت اور عیوب کو ڈھانپنے کی بشارت دیتی ہے اور جس چیز نے مجھے اس مقام پر پہنچایا وہ قیامت اور حساب کتاب پر ایمان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا اور ایسے اعمال کے ذریعے سے قیامت کے دن کے لیے تیاری کی توفیق دی جو امکان اور استطاعت میں ہیں، اسی لیے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ ظَنَنۡتُ اَنِّيۡ مُلٰقٍ حِسَابِيَهۡ﴾ ’’ مجھے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ضرور ملے گا۔‘‘ یہاں (ظَنّ) یقین کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔
[24-21]﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ ’’پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا۔‘‘ یعنی جو ان تمام چیزوں پر مشتمل ہو گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، ان کا حال یہ ہو گا کہ وہ اس زندگی سے راضی ہوں گے اور اس کے بدلے کسی اور چیز کو منتخب نہیں کریں گے۔ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ﴾ بلند رہائش گاہوں اور بلند محلوں والی جنت میں ہوں گے﴿ قُطُوۡفُهَا دَانِيَةٌ﴾ اس کے پھل اور محتلف انواع کے میوے بہت قریب ہوں گے۔ اہل جنت کے لیے ان کا حاصل کرنا بہت آسان ہو گا۔ اہل جنت، کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے، ہر حالت میں ان کو حاصل کر سکیں گے۔ اکرام و تکریم کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ ہر قسم کا لذیذ کھانا اور مزیدار مشروب کھاؤ اور پیو۔ ﴿ هَنِيۡٓــًٔۢا﴾ کسی تکدر اور ناخوشگواری کے بغیر کامل طریقے سے کھاؤ اور پیو۔ یہ جزا تمھیں اس سبب سے حاصل ہوئی ہے ﴿ بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِي الۡاَيَّامِ الۡخَالِيَةِ﴾ جو تم نے اعمال صالحہ، نماز، روزہ زکاۃ، حج مخلوق کے ساتھ حسن سلوک، اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی طرف انابت اور برے اعمال ترک کیے، پس اعمال کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل ہونے کا سبب، اس کی نعمتوں کا مادہ اور اس کی سعادت کی بنیاد بنایا ہے۔
الحاقة 69:21
پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، لو پڑھو تم میرا نامۂ اعمال(19) بلاشبہ مجھے یقین تھا کہ بے شک میں ملنے والا ہوں اپنے حساب سے (20) پس وہ ہو گا پسندیدہ زندگی میں (21)(یعنی )بہشت بریں میں (22) اس کے پھل قریب ہوں گے (23)(کہا جائے گا:) کھاؤ اور پیو خوش گوار، بدلے ان (نیک اعمال) کے جو آگے بھیجے تم نے ایام گزشتہ میں (24)
[20,19] یہی لوگ اہل سعادت ہوں گے، ان کو ان کے اعمال نامے، جن میں ان کے نیک اعمال درج ہوں گے، ان کے امتیاز، ان کی شان اور قدر بلند کے لیے، ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے۔ اس وقت ان میں سے کوئی فرحت و سرور، اور اس خواہش کے ساتھ کہ مخلوق پر ظاہر ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس قدر اکرام و تکریم سے سرفراز کیا ہے تو پکار اٹھے گا:﴿ هَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا كِتٰبِيَهۡ﴾ یعنی یہ لو میری کتاب اور اسے پڑھو، یہ کتاب جنتوں، اکرام و تکریم، گناہوں کی مغفرت اور عیوب کو ڈھانپنے کی بشارت دیتی ہے اور جس چیز نے مجھے اس مقام پر پہنچایا وہ قیامت اور حساب کتاب پر ایمان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا اور ایسے اعمال کے ذریعے سے قیامت کے دن کے لیے تیاری کی توفیق دی جو امکان اور استطاعت میں ہیں، اسی لیے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ ظَنَنۡتُ اَنِّيۡ مُلٰقٍ حِسَابِيَهۡ﴾ ’’ مجھے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ضرور ملے گا۔‘‘ یہاں (ظَنّ) یقین کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔
[24-21]﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ ’’پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا۔‘‘ یعنی جو ان تمام چیزوں پر مشتمل ہو گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، ان کا حال یہ ہو گا کہ وہ اس زندگی سے راضی ہوں گے اور اس کے بدلے کسی اور چیز کو منتخب نہیں کریں گے۔ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ﴾ بلند رہائش گاہوں اور بلند محلوں والی جنت میں ہوں گے﴿ قُطُوۡفُهَا دَانِيَةٌ﴾ اس کے پھل اور محتلف انواع کے میوے بہت قریب ہوں گے۔ اہل جنت کے لیے ان کا حاصل کرنا بہت آسان ہو گا۔ اہل جنت، کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے، ہر حالت میں ان کو حاصل کر سکیں گے۔ اکرام و تکریم کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ ہر قسم کا لذیذ کھانا اور مزیدار مشروب کھاؤ اور پیو۔ ﴿ هَنِيۡٓــًٔۢا﴾ کسی تکدر اور ناخوشگواری کے بغیر کامل طریقے سے کھاؤ اور پیو۔ یہ جزا تمھیں اس سبب سے حاصل ہوئی ہے ﴿ بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِي الۡاَيَّامِ الۡخَالِيَةِ﴾ جو تم نے اعمال صالحہ، نماز، روزہ زکاۃ، حج مخلوق کے ساتھ حسن سلوک، اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی طرف انابت اور برے اعمال ترک کیے، پس اعمال کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل ہونے کا سبب، اس کی نعمتوں کا مادہ اور اس کی سعادت کی بنیاد بنایا ہے۔
الحاقة 69:22
پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، لو پڑھو تم میرا نامۂ اعمال(19) بلاشبہ مجھے یقین تھا کہ بے شک میں ملنے والا ہوں اپنے حساب سے (20) پس وہ ہو گا پسندیدہ زندگی میں (21)(یعنی )بہشت بریں میں (22) اس کے پھل قریب ہوں گے (23)(کہا جائے گا:) کھاؤ اور پیو خوش گوار، بدلے ان (نیک اعمال) کے جو آگے بھیجے تم نے ایام گزشتہ میں (24)
[20,19] یہی لوگ اہل سعادت ہوں گے، ان کو ان کے اعمال نامے، جن میں ان کے نیک اعمال درج ہوں گے، ان کے امتیاز، ان کی شان اور قدر بلند کے لیے، ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے۔ اس وقت ان میں سے کوئی فرحت و سرور، اور اس خواہش کے ساتھ کہ مخلوق پر ظاہر ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس قدر اکرام و تکریم سے سرفراز کیا ہے تو پکار اٹھے گا:﴿ هَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا كِتٰبِيَهۡ﴾ یعنی یہ لو میری کتاب اور اسے پڑھو، یہ کتاب جنتوں، اکرام و تکریم، گناہوں کی مغفرت اور عیوب کو ڈھانپنے کی بشارت دیتی ہے اور جس چیز نے مجھے اس مقام پر پہنچایا وہ قیامت اور حساب کتاب پر ایمان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا اور ایسے اعمال کے ذریعے سے قیامت کے دن کے لیے تیاری کی توفیق دی جو امکان اور استطاعت میں ہیں، اسی لیے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ ظَنَنۡتُ اَنِّيۡ مُلٰقٍ حِسَابِيَهۡ﴾ ’’ مجھے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ضرور ملے گا۔‘‘ یہاں (ظَنّ) یقین کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔
[24-21]﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ ’’پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا۔‘‘ یعنی جو ان تمام چیزوں پر مشتمل ہو گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، ان کا حال یہ ہو گا کہ وہ اس زندگی سے راضی ہوں گے اور اس کے بدلے کسی اور چیز کو منتخب نہیں کریں گے۔ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ﴾ بلند رہائش گاہوں اور بلند محلوں والی جنت میں ہوں گے﴿ قُطُوۡفُهَا دَانِيَةٌ﴾ اس کے پھل اور محتلف انواع کے میوے بہت قریب ہوں گے۔ اہل جنت کے لیے ان کا حاصل کرنا بہت آسان ہو گا۔ اہل جنت، کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے، ہر حالت میں ان کو حاصل کر سکیں گے۔ اکرام و تکریم کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ ہر قسم کا لذیذ کھانا اور مزیدار مشروب کھاؤ اور پیو۔ ﴿ هَنِيۡٓــًٔۢا﴾ کسی تکدر اور ناخوشگواری کے بغیر کامل طریقے سے کھاؤ اور پیو۔ یہ جزا تمھیں اس سبب سے حاصل ہوئی ہے ﴿ بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِي الۡاَيَّامِ الۡخَالِيَةِ﴾ جو تم نے اعمال صالحہ، نماز، روزہ زکاۃ، حج مخلوق کے ساتھ حسن سلوک، اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی طرف انابت اور برے اعمال ترک کیے، پس اعمال کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل ہونے کا سبب، اس کی نعمتوں کا مادہ اور اس کی سعادت کی بنیاد بنایا ہے۔
الحاقة 69:23
پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، لو پڑھو تم میرا نامۂ اعمال(19) بلاشبہ مجھے یقین تھا کہ بے شک میں ملنے والا ہوں اپنے حساب سے (20) پس وہ ہو گا پسندیدہ زندگی میں (21)(یعنی )بہشت بریں میں (22) اس کے پھل قریب ہوں گے (23)(کہا جائے گا:) کھاؤ اور پیو خوش گوار، بدلے ان (نیک اعمال) کے جو آگے بھیجے تم نے ایام گزشتہ میں (24)
[20,19] یہی لوگ اہل سعادت ہوں گے، ان کو ان کے اعمال نامے، جن میں ان کے نیک اعمال درج ہوں گے، ان کے امتیاز، ان کی شان اور قدر بلند کے لیے، ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے۔ اس وقت ان میں سے کوئی فرحت و سرور، اور اس خواہش کے ساتھ کہ مخلوق پر ظاہر ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس قدر اکرام و تکریم سے سرفراز کیا ہے تو پکار اٹھے گا:﴿ هَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا كِتٰبِيَهۡ﴾ یعنی یہ لو میری کتاب اور اسے پڑھو، یہ کتاب جنتوں، اکرام و تکریم، گناہوں کی مغفرت اور عیوب کو ڈھانپنے کی بشارت دیتی ہے اور جس چیز نے مجھے اس مقام پر پہنچایا وہ قیامت اور حساب کتاب پر ایمان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا اور ایسے اعمال کے ذریعے سے قیامت کے دن کے لیے تیاری کی توفیق دی جو امکان اور استطاعت میں ہیں، اسی لیے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ ظَنَنۡتُ اَنِّيۡ مُلٰقٍ حِسَابِيَهۡ﴾ ’’ مجھے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ضرور ملے گا۔‘‘ یہاں (ظَنّ) یقین کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔
[24-21]﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ ’’پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا۔‘‘ یعنی جو ان تمام چیزوں پر مشتمل ہو گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، ان کا حال یہ ہو گا کہ وہ اس زندگی سے راضی ہوں گے اور اس کے بدلے کسی اور چیز کو منتخب نہیں کریں گے۔ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ﴾ بلند رہائش گاہوں اور بلند محلوں والی جنت میں ہوں گے﴿ قُطُوۡفُهَا دَانِيَةٌ﴾ اس کے پھل اور محتلف انواع کے میوے بہت قریب ہوں گے۔ اہل جنت کے لیے ان کا حاصل کرنا بہت آسان ہو گا۔ اہل جنت، کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے، ہر حالت میں ان کو حاصل کر سکیں گے۔ اکرام و تکریم کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ ہر قسم کا لذیذ کھانا اور مزیدار مشروب کھاؤ اور پیو۔ ﴿ هَنِيۡٓــًٔۢا﴾ کسی تکدر اور ناخوشگواری کے بغیر کامل طریقے سے کھاؤ اور پیو۔ یہ جزا تمھیں اس سبب سے حاصل ہوئی ہے ﴿ بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِي الۡاَيَّامِ الۡخَالِيَةِ﴾ جو تم نے اعمال صالحہ، نماز، روزہ زکاۃ، حج مخلوق کے ساتھ حسن سلوک، اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی طرف انابت اور برے اعمال ترک کیے، پس اعمال کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل ہونے کا سبب، اس کی نعمتوں کا مادہ اور اس کی سعادت کی بنیاد بنایا ہے۔
الحاقة 69:24
پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، لو پڑھو تم میرا نامۂ اعمال(19) بلاشبہ مجھے یقین تھا کہ بے شک میں ملنے والا ہوں اپنے حساب سے (20) پس وہ ہو گا پسندیدہ زندگی میں (21)(یعنی )بہشت بریں میں (22) اس کے پھل قریب ہوں گے (23)(کہا جائے گا:) کھاؤ اور پیو خوش گوار، بدلے ان (نیک اعمال) کے جو آگے بھیجے تم نے ایام گزشتہ میں (24)
[20,19] یہی لوگ اہل سعادت ہوں گے، ان کو ان کے اعمال نامے، جن میں ان کے نیک اعمال درج ہوں گے، ان کے امتیاز، ان کی شان اور قدر بلند کے لیے، ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے۔ اس وقت ان میں سے کوئی فرحت و سرور، اور اس خواہش کے ساتھ کہ مخلوق پر ظاہر ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس قدر اکرام و تکریم سے سرفراز کیا ہے تو پکار اٹھے گا:﴿ هَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا كِتٰبِيَهۡ﴾ یعنی یہ لو میری کتاب اور اسے پڑھو، یہ کتاب جنتوں، اکرام و تکریم، گناہوں کی مغفرت اور عیوب کو ڈھانپنے کی بشارت دیتی ہے اور جس چیز نے مجھے اس مقام پر پہنچایا وہ قیامت اور حساب کتاب پر ایمان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا اور ایسے اعمال کے ذریعے سے قیامت کے دن کے لیے تیاری کی توفیق دی جو امکان اور استطاعت میں ہیں، اسی لیے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ ظَنَنۡتُ اَنِّيۡ مُلٰقٍ حِسَابِيَهۡ﴾ ’’ مجھے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ضرور ملے گا۔‘‘ یہاں (ظَنّ) یقین کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔
[24-21]﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ ’’پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا۔‘‘ یعنی جو ان تمام چیزوں پر مشتمل ہو گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، ان کا حال یہ ہو گا کہ وہ اس زندگی سے راضی ہوں گے اور اس کے بدلے کسی اور چیز کو منتخب نہیں کریں گے۔ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ﴾ بلند رہائش گاہوں اور بلند محلوں والی جنت میں ہوں گے﴿ قُطُوۡفُهَا دَانِيَةٌ﴾ اس کے پھل اور محتلف انواع کے میوے بہت قریب ہوں گے۔ اہل جنت کے لیے ان کا حاصل کرنا بہت آسان ہو گا۔ اہل جنت، کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے، ہر حالت میں ان کو حاصل کر سکیں گے۔ اکرام و تکریم کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ ہر قسم کا لذیذ کھانا اور مزیدار مشروب کھاؤ اور پیو۔ ﴿ هَنِيۡٓــًٔۢا﴾ کسی تکدر اور ناخوشگواری کے بغیر کامل طریقے سے کھاؤ اور پیو۔ یہ جزا تمھیں اس سبب سے حاصل ہوئی ہے ﴿ بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِي الۡاَيَّامِ الۡخَالِيَةِ﴾ جو تم نے اعمال صالحہ، نماز، روزہ زکاۃ، حج مخلوق کے ساتھ حسن سلوک، اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی طرف انابت اور برے اعمال ترک کیے، پس اعمال کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل ہونے کا سبب، اس کی نعمتوں کا مادہ اور اس کی سعادت کی بنیاد بنایا ہے۔
الحاقة 69:25
اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37)
[29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔
[37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
الحاقة 69:26
اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37)
[29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔
[37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
الحاقة 69:27
اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37)
[29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔
[37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
الحاقة 69:28
اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37)
[29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔
[37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
الحاقة 69:29
اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37)
[29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔
[37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
الحاقة 69:30
اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37)
[29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔
[37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
الحاقة 69:31
اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37)
[29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔
[37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
الحاقة 69:32
اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37)
[29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔
[37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
الحاقة 69:33
اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37)
[29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔
[37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
الحاقة 69:34
اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37)
[29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔
[37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
الحاقة 69:35
اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37)
[29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔
[37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
الحاقة 69:36
اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37)
[29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔
[37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
الحاقة 69:37
اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37)
[29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔
[37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
الحاقة 69:38
سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52)
[43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔
[47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔
[48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔
[49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔
[50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔
[51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔
[52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
الحاقة 69:39
سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52)
[43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔
[47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔
[48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔
[49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔
[50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔
[51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔
[52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
الحاقة 69:40
سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52)
[43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔
[47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔
[48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔
[49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔
[50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔
[51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔
[52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
الحاقة 69:41
سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52)
[43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔
[47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔
[48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔
[49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔
[50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔
[51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔
[52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
الحاقة 69:42
سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52)
[43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔
[47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔
[48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔
[49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔
[50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔
[51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔
[52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
الحاقة 69:43
سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52)
[43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔
[47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔
[48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔
[49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔
[50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔
[51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔
[52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
الحاقة 69:44
سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52)
[43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔
[47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔
[48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔
[49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔
[50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔
[51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔
[52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
الحاقة 69:45
سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52)
[43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔
[47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔
[48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔
[49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔
[50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔
[51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔
[52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
الحاقة 69:46
سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52)
[43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔
[47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔
[48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔
[49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔
[50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔
[51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔
[52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
الحاقة 69:47
سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52)
[43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔
[47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔
[48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔
[49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔
[50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔
[51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔
[52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
الحاقة 69:48
سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52)
[43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔
[47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔
[48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔
[49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔
[50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔
[51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔
[52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
الحاقة 69:49
سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52)
[43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔
[47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔
[48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔
[49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔
[50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔
[51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔
[52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
الحاقة 69:50
سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52)
[43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔
[47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔
[48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔
[49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔
[50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔
[51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔
[52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
الحاقة 69:51
سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52)
[43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔
[47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔
[48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔
[49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔
[50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔
[51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔
[52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
الحاقة 69:52
سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52)
[43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔
[47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔
[48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔
[49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔
[50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔
[51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔
[52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
المعارج 70:1
سوال کیا ایک سوال کرنےوالے نے اس عذاب کا جو ہونے والا ہے(1) کافروں پر، نہیں اس کو کوئی ٹالنے والا(2) اس اللہ کی طرف سے جو سیڑھیوں والا ہے(3) چڑھیں گے فرشتے اور روح (جبریل) اس کی طرف ایک ایسے دن میں کہ ہو گی مقدار اس کی پچاس ہزار سال(4) پس آپ صبر کیجیے! صبرِ جمیل(5) بلاشبہ وہ (لوگ) تو دیکھتے ہیں اس کو بعید(6) اور ہم دیکھتے ہیں اس کو قریب(7)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ معاندینِ حق کی جہالت کو، اور استہزا کے طور پر ان کے عذاب الٰہی کو مشکل اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے ہوئے عذاب کے لیے جلدی مچانے کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ﴾ یعنی دعا کرنے والے نے دعا کی اور نصرت طلب کرنے والے نے نصرت طلب کی ﴿بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ۰۰لِّلۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’عذاب کی جو واقع ہوکر رہے گا کافروں پر۔‘‘ ان کے کفر و عناد کی بنا پر، عذاب کے مستحق ہونے کی وجہ سے ﴿ لَيۡسَ لَهٗ دَافِعٌۙ۰۰مِّنَ اللّٰهِ ﴾ متکبر اور سرکش مشرکین میں سے جس کسی نے جلد عذاب کی خواہش کی ہے، کوئی اس عذاب کو اس کے نازل ہونے سے قبل روک سکتا ہے نہ اس کے نازل ہونے کے بعد اس کو اٹھا سکتا ہے۔یہ آیات کریمہ اس وقت نازل ہوئیں جب نضر بن حارث قرشی وغیرہ اہل تکذیب نے دعا کرتے ہوئے کہا﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الأنفال: 32/8)’’اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے، تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر درد ناک عذاب لے آ‘‘ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عذاب ضرور واقع ہو گا، یا تو اس دنیا ہی میں جلد ان پر عذاب بھیج دیا جائے گا یا آخرت میں (مبتلا کرنے کے لیے) اس عذاب کو ان سے مؤخر کیا جائے گا۔اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کی ہوتی، اس کی عظمت، اس کی وسعت سلطنت اور اس کے اسماء و صفات کو پہچانا ہوتا تو وہ کبھی جلدی نہ مچاتے بلکہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے اور ادب اختیار کرتے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کا ذکر فرمایا جو ان کے اقوال قبیحہ کی ضد ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ذِي الۡمَعَارِجِؕ۰۰ تَعۡرُجُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ وَالرُّوۡحُ اِلَيۡهِ﴾ یعنی وہ بلندی، جلال، اور عظمت کا مالک ہے، تمام مخلوقات کی تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہے جس کی طرف اس چیز کے ساتھ فرشتے عروج کرتے ہیں جس کی تدبیر پر انھیں مقرر کیا ہے اور اس کی طرف روح بلند ہوتی ہے۔یہ اسم جنس ہے جو تمام ارواح کو شامل ہے، خواہ نیک ہوں یا بد، اللہ تعالیٰ کی طرف ارواح کا بلند ہونا، وفات کے وقت ہے۔ نیک لوگوں کی ارواح اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتی ہیں، انھیں ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف بلند ہونے کی اجازت دے دی جاتی ہے، یہاں تک کہ ارواح اس آسمان پر پہنچ جاتی ہیں، جس میں اللہ تعالیٰ ان کا رب تشریف فرما ہے، یہ ارواح اللہ تعالیٰ کے حضور تحیہ و سلام پیش کرتی ہیں اس کے قرب سے سرفراز ہوتی ہیں اور اس کے قرب سے بہجت و سرور حاصل کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ثنا و اکرام، بھلائی اور بڑائی حاصل ہو گی۔رہیں فساق و فجار کی ارواح تو وہ عروج کرتی ہیں جب وہ آسمان پر پہنچتیں ہیں تو آنے کی اجازت طلب کرتی ہیں، مگر ان کو اجازت نہیں دی جاتی اور ان کو زمین کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس مسافت کا ذکر فرمایا جس کو طے کر کے فرشتے اور روح اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتے ہیں، نیز یہ کہ وہ ان اسباب کے ذریعے سے ایک دن میں عروج کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آسان کیے ہیں اور اوپر چڑھنے میں ان کی لطافت، خفت اور سرعت رفتار ان کی اعانت کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عام عادی رفتار کے مطابق، یہ مسافت ابتدائے عروج سے لے کر اس حد تک جو ان کے لیے مقرر کی گئی ہے اور ملأ اعلیٰ تک، پچاس ہزار برس کے برابر ہے۔یہ عظیم بادشاہی، یہ وسیع کائنات، علوی اور سفلی، اس کی تخلیق اور تدبیر کا انتظام، وہی بلند و برتر کرتا ہے۔ پس وہ ان کے ظاہری و باطنی احوال کا علم رکھتا ہے، وہ ان کے ٹھکانے کو جانتا ہے اور اسے اس جگہ کا علم ہے جہاں ان کو سونپا جانا ہے، اس نے اپنی رحمت، احسان اور رزق ان تک پہنچایا جو ان سب پر عام اور سب کو شامل ہے۔ اس نے ان پر حکم قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کو جاری کیا۔پس شدت ہے ان لوگوں کے لیے جو اس کی عظمت کے بارے میں جہالت کا شکار ہیں اور انھوں نے اس کی اس طرح قدر نہ کی جس طرح قدر کرنے کا حق ہے، پس انھوں نے عجز ثابت کرنے اور امتحان کے طور پر عذاب کے لیے جلدی مچائی … پاک ہے حلم اور درگزر کرنے والی ہستی جس نے ان کو ڈھیل دے رکھی مگر ان کو مہمل نہیں چھوڑا، انھوں نے اس کو اذیت پہنچائی مگر اس نے ان کے بارے میں صبر کیا، ان کو معاف کر دیا اور ان کو رزق عطا کیا۔یہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں ایک احتمال ہے، پس یہ عروج اور چڑھنا اس دنیا میں ہے کیونکہ آیت کریمہ کا پہلا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ ایک احتمال یہ ہے کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اپنے بندوں پر اپنی عظمت، جلال اور کبریائی ظاہر کرے گا جو اس کی معرفت کی سب سے بڑی دلیل ہے وہ فرشتوں اور ارواح کو تدابیر الٰہیہ اور امور ربانیہ کے ساتھ چڑھتے اترتے مشاہدہ کریں گے۔یہ اس روز ہوگا جس کا اندازہ اس کی لمبائی اور شدت کی بنا پر پچاس ہزار سال ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ مومنوں پر تخفیف فرمائے گا۔
[7-5] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاصۡبِرۡ صَبۡرًا جَمِيۡلًا﴾ اپنی قوم کو دعوت دینے پر صبر جمیل کیجیے اس میں کوئی تنگ دلی ہو نہ کوئی ملال بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہیے، اس کے بندوں کو اس کی توحید کی دعوت دیجیے، آپ ان میں عدم اطاعت اور عدم رغبت کا جو مشاہدہ کرتے ہیں، یہ چیز آپ کو ان کو دعوت دینے سے روک نہ دے کیونکہ اس پر صبر کرنے میں خیر کثیر پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّهُمۡ يَرَوۡنَهٗ بَعِيۡدًاۙ۰۰وَّنَرٰىهُ قَرِيۡبًا﴾ ’’وہ اس (قیامت) کو دور تصور کرتے ہیں اور ہم سے نزدیک دیکھ رہے ہیں۔‘‘ آیت میں مذکورہ ضمیر قیامت کے دن کی طرف لوٹتی ہے جس میں عذاب کے بارے میں سوال کرنے والوں کے لیے عذاب ہو گا ، یعنی ان کا حال اس شخص کا سا ہے جو قیامت کا منکر ہے جس پر بدبختی اور اندیشہ غالب ہو حتیٰ کہ اسے وہ چیز بھی دور نظر آئے جو اس کے سامنے ہے ، یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ (دن) قریب نظر آتا ہے کیونکہ وہ بہت نرم اور بردبار ہے، سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا وہ جانتا ہے کہ جسے آنا ہے وہ آ کر رہے گا، پس وہ بہت قریب ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی ہولناکیوں کا ذکر فرمایا اور ان امور کا ذکر فرمایا جو اس میں واقع ہوں گے، چنانچہ فرمایا :
المعارج 70:2
سوال کیا ایک سوال کرنےوالے نے اس عذاب کا جو ہونے والا ہے(1) کافروں پر، نہیں اس کو کوئی ٹالنے والا(2) اس اللہ کی طرف سے جو سیڑھیوں والا ہے(3) چڑھیں گے فرشتے اور روح (جبریل) اس کی طرف ایک ایسے دن میں کہ ہو گی مقدار اس کی پچاس ہزار سال(4) پس آپ صبر کیجیے! صبرِ جمیل(5) بلاشبہ وہ (لوگ) تو دیکھتے ہیں اس کو بعید(6) اور ہم دیکھتے ہیں اس کو قریب(7)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ معاندینِ حق کی جہالت کو، اور استہزا کے طور پر ان کے عذاب الٰہی کو مشکل اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے ہوئے عذاب کے لیے جلدی مچانے کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ﴾ یعنی دعا کرنے والے نے دعا کی اور نصرت طلب کرنے والے نے نصرت طلب کی ﴿بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ۰۰لِّلۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’عذاب کی جو واقع ہوکر رہے گا کافروں پر۔‘‘ ان کے کفر و عناد کی بنا پر، عذاب کے مستحق ہونے کی وجہ سے ﴿ لَيۡسَ لَهٗ دَافِعٌۙ۰۰مِّنَ اللّٰهِ ﴾ متکبر اور سرکش مشرکین میں سے جس کسی نے جلد عذاب کی خواہش کی ہے، کوئی اس عذاب کو اس کے نازل ہونے سے قبل روک سکتا ہے نہ اس کے نازل ہونے کے بعد اس کو اٹھا سکتا ہے۔یہ آیات کریمہ اس وقت نازل ہوئیں جب نضر بن حارث قرشی وغیرہ اہل تکذیب نے دعا کرتے ہوئے کہا﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الأنفال: 32/8)’’اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے، تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر درد ناک عذاب لے آ‘‘ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عذاب ضرور واقع ہو گا، یا تو اس دنیا ہی میں جلد ان پر عذاب بھیج دیا جائے گا یا آخرت میں (مبتلا کرنے کے لیے) اس عذاب کو ان سے مؤخر کیا جائے گا۔اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کی ہوتی، اس کی عظمت، اس کی وسعت سلطنت اور اس کے اسماء و صفات کو پہچانا ہوتا تو وہ کبھی جلدی نہ مچاتے بلکہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے اور ادب اختیار کرتے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کا ذکر فرمایا جو ان کے اقوال قبیحہ کی ضد ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ذِي الۡمَعَارِجِؕ۰۰ تَعۡرُجُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ وَالرُّوۡحُ اِلَيۡهِ﴾ یعنی وہ بلندی، جلال، اور عظمت کا مالک ہے، تمام مخلوقات کی تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہے جس کی طرف اس چیز کے ساتھ فرشتے عروج کرتے ہیں جس کی تدبیر پر انھیں مقرر کیا ہے اور اس کی طرف روح بلند ہوتی ہے۔یہ اسم جنس ہے جو تمام ارواح کو شامل ہے، خواہ نیک ہوں یا بد، اللہ تعالیٰ کی طرف ارواح کا بلند ہونا، وفات کے وقت ہے۔ نیک لوگوں کی ارواح اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتی ہیں، انھیں ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف بلند ہونے کی اجازت دے دی جاتی ہے، یہاں تک کہ ارواح اس آسمان پر پہنچ جاتی ہیں، جس میں اللہ تعالیٰ ان کا رب تشریف فرما ہے، یہ ارواح اللہ تعالیٰ کے حضور تحیہ و سلام پیش کرتی ہیں اس کے قرب سے سرفراز ہوتی ہیں اور اس کے قرب سے بہجت و سرور حاصل کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ثنا و اکرام، بھلائی اور بڑائی حاصل ہو گی۔رہیں فساق و فجار کی ارواح تو وہ عروج کرتی ہیں جب وہ آسمان پر پہنچتیں ہیں تو آنے کی اجازت طلب کرتی ہیں، مگر ان کو اجازت نہیں دی جاتی اور ان کو زمین کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس مسافت کا ذکر فرمایا جس کو طے کر کے فرشتے اور روح اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتے ہیں، نیز یہ کہ وہ ان اسباب کے ذریعے سے ایک دن میں عروج کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آسان کیے ہیں اور اوپر چڑھنے میں ان کی لطافت، خفت اور سرعت رفتار ان کی اعانت کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عام عادی رفتار کے مطابق، یہ مسافت ابتدائے عروج سے لے کر اس حد تک جو ان کے لیے مقرر کی گئی ہے اور ملأ اعلیٰ تک، پچاس ہزار برس کے برابر ہے۔یہ عظیم بادشاہی، یہ وسیع کائنات، علوی اور سفلی، اس کی تخلیق اور تدبیر کا انتظام، وہی بلند و برتر کرتا ہے۔ پس وہ ان کے ظاہری و باطنی احوال کا علم رکھتا ہے، وہ ان کے ٹھکانے کو جانتا ہے اور اسے اس جگہ کا علم ہے جہاں ان کو سونپا جانا ہے، اس نے اپنی رحمت، احسان اور رزق ان تک پہنچایا جو ان سب پر عام اور سب کو شامل ہے۔ اس نے ان پر حکم قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کو جاری کیا۔پس شدت ہے ان لوگوں کے لیے جو اس کی عظمت کے بارے میں جہالت کا شکار ہیں اور انھوں نے اس کی اس طرح قدر نہ کی جس طرح قدر کرنے کا حق ہے، پس انھوں نے عجز ثابت کرنے اور امتحان کے طور پر عذاب کے لیے جلدی مچائی … پاک ہے حلم اور درگزر کرنے والی ہستی جس نے ان کو ڈھیل دے رکھی مگر ان کو مہمل نہیں چھوڑا، انھوں نے اس کو اذیت پہنچائی مگر اس نے ان کے بارے میں صبر کیا، ان کو معاف کر دیا اور ان کو رزق عطا کیا۔یہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں ایک احتمال ہے، پس یہ عروج اور چڑھنا اس دنیا میں ہے کیونکہ آیت کریمہ کا پہلا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ ایک احتمال یہ ہے کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اپنے بندوں پر اپنی عظمت، جلال اور کبریائی ظاہر کرے گا جو اس کی معرفت کی سب سے بڑی دلیل ہے وہ فرشتوں اور ارواح کو تدابیر الٰہیہ اور امور ربانیہ کے ساتھ چڑھتے اترتے مشاہدہ کریں گے۔یہ اس روز ہوگا جس کا اندازہ اس کی لمبائی اور شدت کی بنا پر پچاس ہزار سال ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ مومنوں پر تخفیف فرمائے گا۔
[7-5] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاصۡبِرۡ صَبۡرًا جَمِيۡلًا﴾ اپنی قوم کو دعوت دینے پر صبر جمیل کیجیے اس میں کوئی تنگ دلی ہو نہ کوئی ملال بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہیے، اس کے بندوں کو اس کی توحید کی دعوت دیجیے، آپ ان میں عدم اطاعت اور عدم رغبت کا جو مشاہدہ کرتے ہیں، یہ چیز آپ کو ان کو دعوت دینے سے روک نہ دے کیونکہ اس پر صبر کرنے میں خیر کثیر پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّهُمۡ يَرَوۡنَهٗ بَعِيۡدًاۙ۰۰وَّنَرٰىهُ قَرِيۡبًا﴾ ’’وہ اس (قیامت) کو دور تصور کرتے ہیں اور ہم سے نزدیک دیکھ رہے ہیں۔‘‘ آیت میں مذکورہ ضمیر قیامت کے دن کی طرف لوٹتی ہے جس میں عذاب کے بارے میں سوال کرنے والوں کے لیے عذاب ہو گا ، یعنی ان کا حال اس شخص کا سا ہے جو قیامت کا منکر ہے جس پر بدبختی اور اندیشہ غالب ہو حتیٰ کہ اسے وہ چیز بھی دور نظر آئے جو اس کے سامنے ہے ، یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ (دن) قریب نظر آتا ہے کیونکہ وہ بہت نرم اور بردبار ہے، سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا وہ جانتا ہے کہ جسے آنا ہے وہ آ کر رہے گا، پس وہ بہت قریب ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی ہولناکیوں کا ذکر فرمایا اور ان امور کا ذکر فرمایا جو اس میں واقع ہوں گے، چنانچہ فرمایا :
المعارج 70:3
سوال کیا ایک سوال کرنےوالے نے اس عذاب کا جو ہونے والا ہے(1) کافروں پر، نہیں اس کو کوئی ٹالنے والا(2) اس اللہ کی طرف سے جو سیڑھیوں والا ہے(3) چڑھیں گے فرشتے اور روح (جبریل) اس کی طرف ایک ایسے دن میں کہ ہو گی مقدار اس کی پچاس ہزار سال(4) پس آپ صبر کیجیے! صبرِ جمیل(5) بلاشبہ وہ (لوگ) تو دیکھتے ہیں اس کو بعید(6) اور ہم دیکھتے ہیں اس کو قریب(7)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ معاندینِ حق کی جہالت کو، اور استہزا کے طور پر ان کے عذاب الٰہی کو مشکل اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے ہوئے عذاب کے لیے جلدی مچانے کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ﴾ یعنی دعا کرنے والے نے دعا کی اور نصرت طلب کرنے والے نے نصرت طلب کی ﴿بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ۰۰لِّلۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’عذاب کی جو واقع ہوکر رہے گا کافروں پر۔‘‘ ان کے کفر و عناد کی بنا پر، عذاب کے مستحق ہونے کی وجہ سے ﴿ لَيۡسَ لَهٗ دَافِعٌۙ۰۰مِّنَ اللّٰهِ ﴾ متکبر اور سرکش مشرکین میں سے جس کسی نے جلد عذاب کی خواہش کی ہے، کوئی اس عذاب کو اس کے نازل ہونے سے قبل روک سکتا ہے نہ اس کے نازل ہونے کے بعد اس کو اٹھا سکتا ہے۔یہ آیات کریمہ اس وقت نازل ہوئیں جب نضر بن حارث قرشی وغیرہ اہل تکذیب نے دعا کرتے ہوئے کہا﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الأنفال: 32/8)’’اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے، تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر درد ناک عذاب لے آ‘‘ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عذاب ضرور واقع ہو گا، یا تو اس دنیا ہی میں جلد ان پر عذاب بھیج دیا جائے گا یا آخرت میں (مبتلا کرنے کے لیے) اس عذاب کو ان سے مؤخر کیا جائے گا۔اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کی ہوتی، اس کی عظمت، اس کی وسعت سلطنت اور اس کے اسماء و صفات کو پہچانا ہوتا تو وہ کبھی جلدی نہ مچاتے بلکہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے اور ادب اختیار کرتے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کا ذکر فرمایا جو ان کے اقوال قبیحہ کی ضد ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ذِي الۡمَعَارِجِؕ۰۰ تَعۡرُجُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ وَالرُّوۡحُ اِلَيۡهِ﴾ یعنی وہ بلندی، جلال، اور عظمت کا مالک ہے، تمام مخلوقات کی تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہے جس کی طرف اس چیز کے ساتھ فرشتے عروج کرتے ہیں جس کی تدبیر پر انھیں مقرر کیا ہے اور اس کی طرف روح بلند ہوتی ہے۔یہ اسم جنس ہے جو تمام ارواح کو شامل ہے، خواہ نیک ہوں یا بد، اللہ تعالیٰ کی طرف ارواح کا بلند ہونا، وفات کے وقت ہے۔ نیک لوگوں کی ارواح اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتی ہیں، انھیں ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف بلند ہونے کی اجازت دے دی جاتی ہے، یہاں تک کہ ارواح اس آسمان پر پہنچ جاتی ہیں، جس میں اللہ تعالیٰ ان کا رب تشریف فرما ہے، یہ ارواح اللہ تعالیٰ کے حضور تحیہ و سلام پیش کرتی ہیں اس کے قرب سے سرفراز ہوتی ہیں اور اس کے قرب سے بہجت و سرور حاصل کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ثنا و اکرام، بھلائی اور بڑائی حاصل ہو گی۔رہیں فساق و فجار کی ارواح تو وہ عروج کرتی ہیں جب وہ آسمان پر پہنچتیں ہیں تو آنے کی اجازت طلب کرتی ہیں، مگر ان کو اجازت نہیں دی جاتی اور ان کو زمین کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس مسافت کا ذکر فرمایا جس کو طے کر کے فرشتے اور روح اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتے ہیں، نیز یہ کہ وہ ان اسباب کے ذریعے سے ایک دن میں عروج کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آسان کیے ہیں اور اوپر چڑھنے میں ان کی لطافت، خفت اور سرعت رفتار ان کی اعانت کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عام عادی رفتار کے مطابق، یہ مسافت ابتدائے عروج سے لے کر اس حد تک جو ان کے لیے مقرر کی گئی ہے اور ملأ اعلیٰ تک، پچاس ہزار برس کے برابر ہے۔یہ عظیم بادشاہی، یہ وسیع کائنات، علوی اور سفلی، اس کی تخلیق اور تدبیر کا انتظام، وہی بلند و برتر کرتا ہے۔ پس وہ ان کے ظاہری و باطنی احوال کا علم رکھتا ہے، وہ ان کے ٹھکانے کو جانتا ہے اور اسے اس جگہ کا علم ہے جہاں ان کو سونپا جانا ہے، اس نے اپنی رحمت، احسان اور رزق ان تک پہنچایا جو ان سب پر عام اور سب کو شامل ہے۔ اس نے ان پر حکم قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کو جاری کیا۔پس شدت ہے ان لوگوں کے لیے جو اس کی عظمت کے بارے میں جہالت کا شکار ہیں اور انھوں نے اس کی اس طرح قدر نہ کی جس طرح قدر کرنے کا حق ہے، پس انھوں نے عجز ثابت کرنے اور امتحان کے طور پر عذاب کے لیے جلدی مچائی … پاک ہے حلم اور درگزر کرنے والی ہستی جس نے ان کو ڈھیل دے رکھی مگر ان کو مہمل نہیں چھوڑا، انھوں نے اس کو اذیت پہنچائی مگر اس نے ان کے بارے میں صبر کیا، ان کو معاف کر دیا اور ان کو رزق عطا کیا۔یہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں ایک احتمال ہے، پس یہ عروج اور چڑھنا اس دنیا میں ہے کیونکہ آیت کریمہ کا پہلا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ ایک احتمال یہ ہے کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اپنے بندوں پر اپنی عظمت، جلال اور کبریائی ظاہر کرے گا جو اس کی معرفت کی سب سے بڑی دلیل ہے وہ فرشتوں اور ارواح کو تدابیر الٰہیہ اور امور ربانیہ کے ساتھ چڑھتے اترتے مشاہدہ کریں گے۔یہ اس روز ہوگا جس کا اندازہ اس کی لمبائی اور شدت کی بنا پر پچاس ہزار سال ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ مومنوں پر تخفیف فرمائے گا۔
[7-5] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاصۡبِرۡ صَبۡرًا جَمِيۡلًا﴾ اپنی قوم کو دعوت دینے پر صبر جمیل کیجیے اس میں کوئی تنگ دلی ہو نہ کوئی ملال بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہیے، اس کے بندوں کو اس کی توحید کی دعوت دیجیے، آپ ان میں عدم اطاعت اور عدم رغبت کا جو مشاہدہ کرتے ہیں، یہ چیز آپ کو ان کو دعوت دینے سے روک نہ دے کیونکہ اس پر صبر کرنے میں خیر کثیر پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّهُمۡ يَرَوۡنَهٗ بَعِيۡدًاۙ۰۰وَّنَرٰىهُ قَرِيۡبًا﴾ ’’وہ اس (قیامت) کو دور تصور کرتے ہیں اور ہم سے نزدیک دیکھ رہے ہیں۔‘‘ آیت میں مذکورہ ضمیر قیامت کے دن کی طرف لوٹتی ہے جس میں عذاب کے بارے میں سوال کرنے والوں کے لیے عذاب ہو گا ، یعنی ان کا حال اس شخص کا سا ہے جو قیامت کا منکر ہے جس پر بدبختی اور اندیشہ غالب ہو حتیٰ کہ اسے وہ چیز بھی دور نظر آئے جو اس کے سامنے ہے ، یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ (دن) قریب نظر آتا ہے کیونکہ وہ بہت نرم اور بردبار ہے، سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا وہ جانتا ہے کہ جسے آنا ہے وہ آ کر رہے گا، پس وہ بہت قریب ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی ہولناکیوں کا ذکر فرمایا اور ان امور کا ذکر فرمایا جو اس میں واقع ہوں گے، چنانچہ فرمایا :
المعارج 70:4
سوال کیا ایک سوال کرنےوالے نے اس عذاب کا جو ہونے والا ہے(1) کافروں پر، نہیں اس کو کوئی ٹالنے والا(2) اس اللہ کی طرف سے جو سیڑھیوں والا ہے(3) چڑھیں گے فرشتے اور روح (جبریل) اس کی طرف ایک ایسے دن میں کہ ہو گی مقدار اس کی پچاس ہزار سال(4) پس آپ صبر کیجیے! صبرِ جمیل(5) بلاشبہ وہ (لوگ) تو دیکھتے ہیں اس کو بعید(6) اور ہم دیکھتے ہیں اس کو قریب(7)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ معاندینِ حق کی جہالت کو، اور استہزا کے طور پر ان کے عذاب الٰہی کو مشکل اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے ہوئے عذاب کے لیے جلدی مچانے کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ﴾ یعنی دعا کرنے والے نے دعا کی اور نصرت طلب کرنے والے نے نصرت طلب کی ﴿بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ۰۰لِّلۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’عذاب کی جو واقع ہوکر رہے گا کافروں پر۔‘‘ ان کے کفر و عناد کی بنا پر، عذاب کے مستحق ہونے کی وجہ سے ﴿ لَيۡسَ لَهٗ دَافِعٌۙ۰۰مِّنَ اللّٰهِ ﴾ متکبر اور سرکش مشرکین میں سے جس کسی نے جلد عذاب کی خواہش کی ہے، کوئی اس عذاب کو اس کے نازل ہونے سے قبل روک سکتا ہے نہ اس کے نازل ہونے کے بعد اس کو اٹھا سکتا ہے۔یہ آیات کریمہ اس وقت نازل ہوئیں جب نضر بن حارث قرشی وغیرہ اہل تکذیب نے دعا کرتے ہوئے کہا﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الأنفال: 32/8)’’اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے، تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر درد ناک عذاب لے آ‘‘ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عذاب ضرور واقع ہو گا، یا تو اس دنیا ہی میں جلد ان پر عذاب بھیج دیا جائے گا یا آخرت میں (مبتلا کرنے کے لیے) اس عذاب کو ان سے مؤخر کیا جائے گا۔اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کی ہوتی، اس کی عظمت، اس کی وسعت سلطنت اور اس کے اسماء و صفات کو پہچانا ہوتا تو وہ کبھی جلدی نہ مچاتے بلکہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے اور ادب اختیار کرتے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کا ذکر فرمایا جو ان کے اقوال قبیحہ کی ضد ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ذِي الۡمَعَارِجِؕ۰۰ تَعۡرُجُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ وَالرُّوۡحُ اِلَيۡهِ﴾ یعنی وہ بلندی، جلال، اور عظمت کا مالک ہے، تمام مخلوقات کی تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہے جس کی طرف اس چیز کے ساتھ فرشتے عروج کرتے ہیں جس کی تدبیر پر انھیں مقرر کیا ہے اور اس کی طرف روح بلند ہوتی ہے۔یہ اسم جنس ہے جو تمام ارواح کو شامل ہے، خواہ نیک ہوں یا بد، اللہ تعالیٰ کی طرف ارواح کا بلند ہونا، وفات کے وقت ہے۔ نیک لوگوں کی ارواح اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتی ہیں، انھیں ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف بلند ہونے کی اجازت دے دی جاتی ہے، یہاں تک کہ ارواح اس آسمان پر پہنچ جاتی ہیں، جس میں اللہ تعالیٰ ان کا رب تشریف فرما ہے، یہ ارواح اللہ تعالیٰ کے حضور تحیہ و سلام پیش کرتی ہیں اس کے قرب سے سرفراز ہوتی ہیں اور اس کے قرب سے بہجت و سرور حاصل کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ثنا و اکرام، بھلائی اور بڑائی حاصل ہو گی۔رہیں فساق و فجار کی ارواح تو وہ عروج کرتی ہیں جب وہ آسمان پر پہنچتیں ہیں تو آنے کی اجازت طلب کرتی ہیں، مگر ان کو اجازت نہیں دی جاتی اور ان کو زمین کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس مسافت کا ذکر فرمایا جس کو طے کر کے فرشتے اور روح اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتے ہیں، نیز یہ کہ وہ ان اسباب کے ذریعے سے ایک دن میں عروج کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آسان کیے ہیں اور اوپر چڑھنے میں ان کی لطافت، خفت اور سرعت رفتار ان کی اعانت کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عام عادی رفتار کے مطابق، یہ مسافت ابتدائے عروج سے لے کر اس حد تک جو ان کے لیے مقرر کی گئی ہے اور ملأ اعلیٰ تک، پچاس ہزار برس کے برابر ہے۔یہ عظیم بادشاہی، یہ وسیع کائنات، علوی اور سفلی، اس کی تخلیق اور تدبیر کا انتظام، وہی بلند و برتر کرتا ہے۔ پس وہ ان کے ظاہری و باطنی احوال کا علم رکھتا ہے، وہ ان کے ٹھکانے کو جانتا ہے اور اسے اس جگہ کا علم ہے جہاں ان کو سونپا جانا ہے، اس نے اپنی رحمت، احسان اور رزق ان تک پہنچایا جو ان سب پر عام اور سب کو شامل ہے۔ اس نے ان پر حکم قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کو جاری کیا۔پس شدت ہے ان لوگوں کے لیے جو اس کی عظمت کے بارے میں جہالت کا شکار ہیں اور انھوں نے اس کی اس طرح قدر نہ کی جس طرح قدر کرنے کا حق ہے، پس انھوں نے عجز ثابت کرنے اور امتحان کے طور پر عذاب کے لیے جلدی مچائی … پاک ہے حلم اور درگزر کرنے والی ہستی جس نے ان کو ڈھیل دے رکھی مگر ان کو مہمل نہیں چھوڑا، انھوں نے اس کو اذیت پہنچائی مگر اس نے ان کے بارے میں صبر کیا، ان کو معاف کر دیا اور ان کو رزق عطا کیا۔یہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں ایک احتمال ہے، پس یہ عروج اور چڑھنا اس دنیا میں ہے کیونکہ آیت کریمہ کا پہلا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ ایک احتمال یہ ہے کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اپنے بندوں پر اپنی عظمت، جلال اور کبریائی ظاہر کرے گا جو اس کی معرفت کی سب سے بڑی دلیل ہے وہ فرشتوں اور ارواح کو تدابیر الٰہیہ اور امور ربانیہ کے ساتھ چڑھتے اترتے مشاہدہ کریں گے۔یہ اس روز ہوگا جس کا اندازہ اس کی لمبائی اور شدت کی بنا پر پچاس ہزار سال ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ مومنوں پر تخفیف فرمائے گا۔
[7-5] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاصۡبِرۡ صَبۡرًا جَمِيۡلًا﴾ اپنی قوم کو دعوت دینے پر صبر جمیل کیجیے اس میں کوئی تنگ دلی ہو نہ کوئی ملال بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہیے، اس کے بندوں کو اس کی توحید کی دعوت دیجیے، آپ ان میں عدم اطاعت اور عدم رغبت کا جو مشاہدہ کرتے ہیں، یہ چیز آپ کو ان کو دعوت دینے سے روک نہ دے کیونکہ اس پر صبر کرنے میں خیر کثیر پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّهُمۡ يَرَوۡنَهٗ بَعِيۡدًاۙ۰۰وَّنَرٰىهُ قَرِيۡبًا﴾ ’’وہ اس (قیامت) کو دور تصور کرتے ہیں اور ہم سے نزدیک دیکھ رہے ہیں۔‘‘ آیت میں مذکورہ ضمیر قیامت کے دن کی طرف لوٹتی ہے جس میں عذاب کے بارے میں سوال کرنے والوں کے لیے عذاب ہو گا ، یعنی ان کا حال اس شخص کا سا ہے جو قیامت کا منکر ہے جس پر بدبختی اور اندیشہ غالب ہو حتیٰ کہ اسے وہ چیز بھی دور نظر آئے جو اس کے سامنے ہے ، یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ (دن) قریب نظر آتا ہے کیونکہ وہ بہت نرم اور بردبار ہے، سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا وہ جانتا ہے کہ جسے آنا ہے وہ آ کر رہے گا، پس وہ بہت قریب ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی ہولناکیوں کا ذکر فرمایا اور ان امور کا ذکر فرمایا جو اس میں واقع ہوں گے، چنانچہ فرمایا :
المعارج 70:5
سوال کیا ایک سوال کرنےوالے نے اس عذاب کا جو ہونے والا ہے(1) کافروں پر، نہیں اس کو کوئی ٹالنے والا(2) اس اللہ کی طرف سے جو سیڑھیوں والا ہے(3) چڑھیں گے فرشتے اور روح (جبریل) اس کی طرف ایک ایسے دن میں کہ ہو گی مقدار اس کی پچاس ہزار سال(4) پس آپ صبر کیجیے! صبرِ جمیل(5) بلاشبہ وہ (لوگ) تو دیکھتے ہیں اس کو بعید(6) اور ہم دیکھتے ہیں اس کو قریب(7)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ معاندینِ حق کی جہالت کو، اور استہزا کے طور پر ان کے عذاب الٰہی کو مشکل اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے ہوئے عذاب کے لیے جلدی مچانے کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ﴾ یعنی دعا کرنے والے نے دعا کی اور نصرت طلب کرنے والے نے نصرت طلب کی ﴿بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ۰۰لِّلۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’عذاب کی جو واقع ہوکر رہے گا کافروں پر۔‘‘ ان کے کفر و عناد کی بنا پر، عذاب کے مستحق ہونے کی وجہ سے ﴿ لَيۡسَ لَهٗ دَافِعٌۙ۰۰مِّنَ اللّٰهِ ﴾ متکبر اور سرکش مشرکین میں سے جس کسی نے جلد عذاب کی خواہش کی ہے، کوئی اس عذاب کو اس کے نازل ہونے سے قبل روک سکتا ہے نہ اس کے نازل ہونے کے بعد اس کو اٹھا سکتا ہے۔یہ آیات کریمہ اس وقت نازل ہوئیں جب نضر بن حارث قرشی وغیرہ اہل تکذیب نے دعا کرتے ہوئے کہا﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الأنفال: 32/8)’’اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے، تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر درد ناک عذاب لے آ‘‘ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عذاب ضرور واقع ہو گا، یا تو اس دنیا ہی میں جلد ان پر عذاب بھیج دیا جائے گا یا آخرت میں (مبتلا کرنے کے لیے) اس عذاب کو ان سے مؤخر کیا جائے گا۔اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کی ہوتی، اس کی عظمت، اس کی وسعت سلطنت اور اس کے اسماء و صفات کو پہچانا ہوتا تو وہ کبھی جلدی نہ مچاتے بلکہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے اور ادب اختیار کرتے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کا ذکر فرمایا جو ان کے اقوال قبیحہ کی ضد ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ذِي الۡمَعَارِجِؕ۰۰ تَعۡرُجُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ وَالرُّوۡحُ اِلَيۡهِ﴾ یعنی وہ بلندی، جلال، اور عظمت کا مالک ہے، تمام مخلوقات کی تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہے جس کی طرف اس چیز کے ساتھ فرشتے عروج کرتے ہیں جس کی تدبیر پر انھیں مقرر کیا ہے اور اس کی طرف روح بلند ہوتی ہے۔یہ اسم جنس ہے جو تمام ارواح کو شامل ہے، خواہ نیک ہوں یا بد، اللہ تعالیٰ کی طرف ارواح کا بلند ہونا، وفات کے وقت ہے۔ نیک لوگوں کی ارواح اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتی ہیں، انھیں ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف بلند ہونے کی اجازت دے دی جاتی ہے، یہاں تک کہ ارواح اس آسمان پر پہنچ جاتی ہیں، جس میں اللہ تعالیٰ ان کا رب تشریف فرما ہے، یہ ارواح اللہ تعالیٰ کے حضور تحیہ و سلام پیش کرتی ہیں اس کے قرب سے سرفراز ہوتی ہیں اور اس کے قرب سے بہجت و سرور حاصل کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ثنا و اکرام، بھلائی اور بڑائی حاصل ہو گی۔رہیں فساق و فجار کی ارواح تو وہ عروج کرتی ہیں جب وہ آسمان پر پہنچتیں ہیں تو آنے کی اجازت طلب کرتی ہیں، مگر ان کو اجازت نہیں دی جاتی اور ان کو زمین کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس مسافت کا ذکر فرمایا جس کو طے کر کے فرشتے اور روح اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتے ہیں، نیز یہ کہ وہ ان اسباب کے ذریعے سے ایک دن میں عروج کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آسان کیے ہیں اور اوپر چڑھنے میں ان کی لطافت، خفت اور سرعت رفتار ان کی اعانت کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عام عادی رفتار کے مطابق، یہ مسافت ابتدائے عروج سے لے کر اس حد تک جو ان کے لیے مقرر کی گئی ہے اور ملأ اعلیٰ تک، پچاس ہزار برس کے برابر ہے۔یہ عظیم بادشاہی، یہ وسیع کائنات، علوی اور سفلی، اس کی تخلیق اور تدبیر کا انتظام، وہی بلند و برتر کرتا ہے۔ پس وہ ان کے ظاہری و باطنی احوال کا علم رکھتا ہے، وہ ان کے ٹھکانے کو جانتا ہے اور اسے اس جگہ کا علم ہے جہاں ان کو سونپا جانا ہے، اس نے اپنی رحمت، احسان اور رزق ان تک پہنچایا جو ان سب پر عام اور سب کو شامل ہے۔ اس نے ان پر حکم قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کو جاری کیا۔پس شدت ہے ان لوگوں کے لیے جو اس کی عظمت کے بارے میں جہالت کا شکار ہیں اور انھوں نے اس کی اس طرح قدر نہ کی جس طرح قدر کرنے کا حق ہے، پس انھوں نے عجز ثابت کرنے اور امتحان کے طور پر عذاب کے لیے جلدی مچائی … پاک ہے حلم اور درگزر کرنے والی ہستی جس نے ان کو ڈھیل دے رکھی مگر ان کو مہمل نہیں چھوڑا، انھوں نے اس کو اذیت پہنچائی مگر اس نے ان کے بارے میں صبر کیا، ان کو معاف کر دیا اور ان کو رزق عطا کیا۔یہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں ایک احتمال ہے، پس یہ عروج اور چڑھنا اس دنیا میں ہے کیونکہ آیت کریمہ کا پہلا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ ایک احتمال یہ ہے کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اپنے بندوں پر اپنی عظمت، جلال اور کبریائی ظاہر کرے گا جو اس کی معرفت کی سب سے بڑی دلیل ہے وہ فرشتوں اور ارواح کو تدابیر الٰہیہ اور امور ربانیہ کے ساتھ چڑھتے اترتے مشاہدہ کریں گے۔یہ اس روز ہوگا جس کا اندازہ اس کی لمبائی اور شدت کی بنا پر پچاس ہزار سال ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ مومنوں پر تخفیف فرمائے گا۔
[7-5] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاصۡبِرۡ صَبۡرًا جَمِيۡلًا﴾ اپنی قوم کو دعوت دینے پر صبر جمیل کیجیے اس میں کوئی تنگ دلی ہو نہ کوئی ملال بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہیے، اس کے بندوں کو اس کی توحید کی دعوت دیجیے، آپ ان میں عدم اطاعت اور عدم رغبت کا جو مشاہدہ کرتے ہیں، یہ چیز آپ کو ان کو دعوت دینے سے روک نہ دے کیونکہ اس پر صبر کرنے میں خیر کثیر پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّهُمۡ يَرَوۡنَهٗ بَعِيۡدًاۙ۰۰وَّنَرٰىهُ قَرِيۡبًا﴾ ’’وہ اس (قیامت) کو دور تصور کرتے ہیں اور ہم سے نزدیک دیکھ رہے ہیں۔‘‘ آیت میں مذکورہ ضمیر قیامت کے دن کی طرف لوٹتی ہے جس میں عذاب کے بارے میں سوال کرنے والوں کے لیے عذاب ہو گا ، یعنی ان کا حال اس شخص کا سا ہے جو قیامت کا منکر ہے جس پر بدبختی اور اندیشہ غالب ہو حتیٰ کہ اسے وہ چیز بھی دور نظر آئے جو اس کے سامنے ہے ، یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ (دن) قریب نظر آتا ہے کیونکہ وہ بہت نرم اور بردبار ہے، سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا وہ جانتا ہے کہ جسے آنا ہے وہ آ کر رہے گا، پس وہ بہت قریب ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی ہولناکیوں کا ذکر فرمایا اور ان امور کا ذکر فرمایا جو اس میں واقع ہوں گے، چنانچہ فرمایا :
المعارج 70:6
سوال کیا ایک سوال کرنےوالے نے اس عذاب کا جو ہونے والا ہے(1) کافروں پر، نہیں اس کو کوئی ٹالنے والا(2) اس اللہ کی طرف سے جو سیڑھیوں والا ہے(3) چڑھیں گے فرشتے اور روح (جبریل) اس کی طرف ایک ایسے دن میں کہ ہو گی مقدار اس کی پچاس ہزار سال(4) پس آپ صبر کیجیے! صبرِ جمیل(5) بلاشبہ وہ (لوگ) تو دیکھتے ہیں اس کو بعید(6) اور ہم دیکھتے ہیں اس کو قریب(7)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ معاندینِ حق کی جہالت کو، اور استہزا کے طور پر ان کے عذاب الٰہی کو مشکل اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے ہوئے عذاب کے لیے جلدی مچانے کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ﴾ یعنی دعا کرنے والے نے دعا کی اور نصرت طلب کرنے والے نے نصرت طلب کی ﴿بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ۰۰لِّلۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’عذاب کی جو واقع ہوکر رہے گا کافروں پر۔‘‘ ان کے کفر و عناد کی بنا پر، عذاب کے مستحق ہونے کی وجہ سے ﴿ لَيۡسَ لَهٗ دَافِعٌۙ۰۰مِّنَ اللّٰهِ ﴾ متکبر اور سرکش مشرکین میں سے جس کسی نے جلد عذاب کی خواہش کی ہے، کوئی اس عذاب کو اس کے نازل ہونے سے قبل روک سکتا ہے نہ اس کے نازل ہونے کے بعد اس کو اٹھا سکتا ہے۔یہ آیات کریمہ اس وقت نازل ہوئیں جب نضر بن حارث قرشی وغیرہ اہل تکذیب نے دعا کرتے ہوئے کہا﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الأنفال: 32/8)’’اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے، تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر درد ناک عذاب لے آ‘‘ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عذاب ضرور واقع ہو گا، یا تو اس دنیا ہی میں جلد ان پر عذاب بھیج دیا جائے گا یا آخرت میں (مبتلا کرنے کے لیے) اس عذاب کو ان سے مؤخر کیا جائے گا۔اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کی ہوتی، اس کی عظمت، اس کی وسعت سلطنت اور اس کے اسماء و صفات کو پہچانا ہوتا تو وہ کبھی جلدی نہ مچاتے بلکہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے اور ادب اختیار کرتے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کا ذکر فرمایا جو ان کے اقوال قبیحہ کی ضد ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ذِي الۡمَعَارِجِؕ۰۰ تَعۡرُجُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ وَالرُّوۡحُ اِلَيۡهِ﴾ یعنی وہ بلندی، جلال، اور عظمت کا مالک ہے، تمام مخلوقات کی تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہے جس کی طرف اس چیز کے ساتھ فرشتے عروج کرتے ہیں جس کی تدبیر پر انھیں مقرر کیا ہے اور اس کی طرف روح بلند ہوتی ہے۔یہ اسم جنس ہے جو تمام ارواح کو شامل ہے، خواہ نیک ہوں یا بد، اللہ تعالیٰ کی طرف ارواح کا بلند ہونا، وفات کے وقت ہے۔ نیک لوگوں کی ارواح اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتی ہیں، انھیں ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف بلند ہونے کی اجازت دے دی جاتی ہے، یہاں تک کہ ارواح اس آسمان پر پہنچ جاتی ہیں، جس میں اللہ تعالیٰ ان کا رب تشریف فرما ہے، یہ ارواح اللہ تعالیٰ کے حضور تحیہ و سلام پیش کرتی ہیں اس کے قرب سے سرفراز ہوتی ہیں اور اس کے قرب سے بہجت و سرور حاصل کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ثنا و اکرام، بھلائی اور بڑائی حاصل ہو گی۔رہیں فساق و فجار کی ارواح تو وہ عروج کرتی ہیں جب وہ آسمان پر پہنچتیں ہیں تو آنے کی اجازت طلب کرتی ہیں، مگر ان کو اجازت نہیں دی جاتی اور ان کو زمین کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس مسافت کا ذکر فرمایا جس کو طے کر کے فرشتے اور روح اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتے ہیں، نیز یہ کہ وہ ان اسباب کے ذریعے سے ایک دن میں عروج کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آسان کیے ہیں اور اوپر چڑھنے میں ان کی لطافت، خفت اور سرعت رفتار ان کی اعانت کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عام عادی رفتار کے مطابق، یہ مسافت ابتدائے عروج سے لے کر اس حد تک جو ان کے لیے مقرر کی گئی ہے اور ملأ اعلیٰ تک، پچاس ہزار برس کے برابر ہے۔یہ عظیم بادشاہی، یہ وسیع کائنات، علوی اور سفلی، اس کی تخلیق اور تدبیر کا انتظام، وہی بلند و برتر کرتا ہے۔ پس وہ ان کے ظاہری و باطنی احوال کا علم رکھتا ہے، وہ ان کے ٹھکانے کو جانتا ہے اور اسے اس جگہ کا علم ہے جہاں ان کو سونپا جانا ہے، اس نے اپنی رحمت، احسان اور رزق ان تک پہنچایا جو ان سب پر عام اور سب کو شامل ہے۔ اس نے ان پر حکم قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کو جاری کیا۔پس شدت ہے ان لوگوں کے لیے جو اس کی عظمت کے بارے میں جہالت کا شکار ہیں اور انھوں نے اس کی اس طرح قدر نہ کی جس طرح قدر کرنے کا حق ہے، پس انھوں نے عجز ثابت کرنے اور امتحان کے طور پر عذاب کے لیے جلدی مچائی … پاک ہے حلم اور درگزر کرنے والی ہستی جس نے ان کو ڈھیل دے رکھی مگر ان کو مہمل نہیں چھوڑا، انھوں نے اس کو اذیت پہنچائی مگر اس نے ان کے بارے میں صبر کیا، ان کو معاف کر دیا اور ان کو رزق عطا کیا۔یہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں ایک احتمال ہے، پس یہ عروج اور چڑھنا اس دنیا میں ہے کیونکہ آیت کریمہ کا پہلا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ ایک احتمال یہ ہے کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اپنے بندوں پر اپنی عظمت، جلال اور کبریائی ظاہر کرے گا جو اس کی معرفت کی سب سے بڑی دلیل ہے وہ فرشتوں اور ارواح کو تدابیر الٰہیہ اور امور ربانیہ کے ساتھ چڑھتے اترتے مشاہدہ کریں گے۔یہ اس روز ہوگا جس کا اندازہ اس کی لمبائی اور شدت کی بنا پر پچاس ہزار سال ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ مومنوں پر تخفیف فرمائے گا۔
[7-5] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاصۡبِرۡ صَبۡرًا جَمِيۡلًا﴾ اپنی قوم کو دعوت دینے پر صبر جمیل کیجیے اس میں کوئی تنگ دلی ہو نہ کوئی ملال بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہیے، اس کے بندوں کو اس کی توحید کی دعوت دیجیے، آپ ان میں عدم اطاعت اور عدم رغبت کا جو مشاہدہ کرتے ہیں، یہ چیز آپ کو ان کو دعوت دینے سے روک نہ دے کیونکہ اس پر صبر کرنے میں خیر کثیر پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّهُمۡ يَرَوۡنَهٗ بَعِيۡدًاۙ۰۰وَّنَرٰىهُ قَرِيۡبًا﴾ ’’وہ اس (قیامت) کو دور تصور کرتے ہیں اور ہم سے نزدیک دیکھ رہے ہیں۔‘‘ آیت میں مذکورہ ضمیر قیامت کے دن کی طرف لوٹتی ہے جس میں عذاب کے بارے میں سوال کرنے والوں کے لیے عذاب ہو گا ، یعنی ان کا حال اس شخص کا سا ہے جو قیامت کا منکر ہے جس پر بدبختی اور اندیشہ غالب ہو حتیٰ کہ اسے وہ چیز بھی دور نظر آئے جو اس کے سامنے ہے ، یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ (دن) قریب نظر آتا ہے کیونکہ وہ بہت نرم اور بردبار ہے، سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا وہ جانتا ہے کہ جسے آنا ہے وہ آ کر رہے گا، پس وہ بہت قریب ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی ہولناکیوں کا ذکر فرمایا اور ان امور کا ذکر فرمایا جو اس میں واقع ہوں گے، چنانچہ فرمایا :
المعارج 70:7
سوال کیا ایک سوال کرنےوالے نے اس عذاب کا جو ہونے والا ہے(1) کافروں پر، نہیں اس کو کوئی ٹالنے والا(2) اس اللہ کی طرف سے جو سیڑھیوں والا ہے(3) چڑھیں گے فرشتے اور روح (جبریل) اس کی طرف ایک ایسے دن میں کہ ہو گی مقدار اس کی پچاس ہزار سال(4) پس آپ صبر کیجیے! صبرِ جمیل(5) بلاشبہ وہ (لوگ) تو دیکھتے ہیں اس کو بعید(6) اور ہم دیکھتے ہیں اس کو قریب(7)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ معاندینِ حق کی جہالت کو، اور استہزا کے طور پر ان کے عذاب الٰہی کو مشکل اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے ہوئے عذاب کے لیے جلدی مچانے کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ﴾ یعنی دعا کرنے والے نے دعا کی اور نصرت طلب کرنے والے نے نصرت طلب کی ﴿بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ۰۰لِّلۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’عذاب کی جو واقع ہوکر رہے گا کافروں پر۔‘‘ ان کے کفر و عناد کی بنا پر، عذاب کے مستحق ہونے کی وجہ سے ﴿ لَيۡسَ لَهٗ دَافِعٌۙ۰۰مِّنَ اللّٰهِ ﴾ متکبر اور سرکش مشرکین میں سے جس کسی نے جلد عذاب کی خواہش کی ہے، کوئی اس عذاب کو اس کے نازل ہونے سے قبل روک سکتا ہے نہ اس کے نازل ہونے کے بعد اس کو اٹھا سکتا ہے۔یہ آیات کریمہ اس وقت نازل ہوئیں جب نضر بن حارث قرشی وغیرہ اہل تکذیب نے دعا کرتے ہوئے کہا﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الأنفال: 32/8)’’اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے، تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر درد ناک عذاب لے آ‘‘ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عذاب ضرور واقع ہو گا، یا تو اس دنیا ہی میں جلد ان پر عذاب بھیج دیا جائے گا یا آخرت میں (مبتلا کرنے کے لیے) اس عذاب کو ان سے مؤخر کیا جائے گا۔اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کی ہوتی، اس کی عظمت، اس کی وسعت سلطنت اور اس کے اسماء و صفات کو پہچانا ہوتا تو وہ کبھی جلدی نہ مچاتے بلکہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے اور ادب اختیار کرتے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کا ذکر فرمایا جو ان کے اقوال قبیحہ کی ضد ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ذِي الۡمَعَارِجِؕ۰۰ تَعۡرُجُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ وَالرُّوۡحُ اِلَيۡهِ﴾ یعنی وہ بلندی، جلال، اور عظمت کا مالک ہے، تمام مخلوقات کی تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہے جس کی طرف اس چیز کے ساتھ فرشتے عروج کرتے ہیں جس کی تدبیر پر انھیں مقرر کیا ہے اور اس کی طرف روح بلند ہوتی ہے۔یہ اسم جنس ہے جو تمام ارواح کو شامل ہے، خواہ نیک ہوں یا بد، اللہ تعالیٰ کی طرف ارواح کا بلند ہونا، وفات کے وقت ہے۔ نیک لوگوں کی ارواح اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتی ہیں، انھیں ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف بلند ہونے کی اجازت دے دی جاتی ہے، یہاں تک کہ ارواح اس آسمان پر پہنچ جاتی ہیں، جس میں اللہ تعالیٰ ان کا رب تشریف فرما ہے، یہ ارواح اللہ تعالیٰ کے حضور تحیہ و سلام پیش کرتی ہیں اس کے قرب سے سرفراز ہوتی ہیں اور اس کے قرب سے بہجت و سرور حاصل کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ثنا و اکرام، بھلائی اور بڑائی حاصل ہو گی۔رہیں فساق و فجار کی ارواح تو وہ عروج کرتی ہیں جب وہ آسمان پر پہنچتیں ہیں تو آنے کی اجازت طلب کرتی ہیں، مگر ان کو اجازت نہیں دی جاتی اور ان کو زمین کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس مسافت کا ذکر فرمایا جس کو طے کر کے فرشتے اور روح اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتے ہیں، نیز یہ کہ وہ ان اسباب کے ذریعے سے ایک دن میں عروج کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آسان کیے ہیں اور اوپر چڑھنے میں ان کی لطافت، خفت اور سرعت رفتار ان کی اعانت کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عام عادی رفتار کے مطابق، یہ مسافت ابتدائے عروج سے لے کر اس حد تک جو ان کے لیے مقرر کی گئی ہے اور ملأ اعلیٰ تک، پچاس ہزار برس کے برابر ہے۔یہ عظیم بادشاہی، یہ وسیع کائنات، علوی اور سفلی، اس کی تخلیق اور تدبیر کا انتظام، وہی بلند و برتر کرتا ہے۔ پس وہ ان کے ظاہری و باطنی احوال کا علم رکھتا ہے، وہ ان کے ٹھکانے کو جانتا ہے اور اسے اس جگہ کا علم ہے جہاں ان کو سونپا جانا ہے، اس نے اپنی رحمت، احسان اور رزق ان تک پہنچایا جو ان سب پر عام اور سب کو شامل ہے۔ اس نے ان پر حکم قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کو جاری کیا۔پس شدت ہے ان لوگوں کے لیے جو اس کی عظمت کے بارے میں جہالت کا شکار ہیں اور انھوں نے اس کی اس طرح قدر نہ کی جس طرح قدر کرنے کا حق ہے، پس انھوں نے عجز ثابت کرنے اور امتحان کے طور پر عذاب کے لیے جلدی مچائی … پاک ہے حلم اور درگزر کرنے والی ہستی جس نے ان کو ڈھیل دے رکھی مگر ان کو مہمل نہیں چھوڑا، انھوں نے اس کو اذیت پہنچائی مگر اس نے ان کے بارے میں صبر کیا، ان کو معاف کر دیا اور ان کو رزق عطا کیا۔یہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں ایک احتمال ہے، پس یہ عروج اور چڑھنا اس دنیا میں ہے کیونکہ آیت کریمہ کا پہلا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ ایک احتمال یہ ہے کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اپنے بندوں پر اپنی عظمت، جلال اور کبریائی ظاہر کرے گا جو اس کی معرفت کی سب سے بڑی دلیل ہے وہ فرشتوں اور ارواح کو تدابیر الٰہیہ اور امور ربانیہ کے ساتھ چڑھتے اترتے مشاہدہ کریں گے۔یہ اس روز ہوگا جس کا اندازہ اس کی لمبائی اور شدت کی بنا پر پچاس ہزار سال ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ مومنوں پر تخفیف فرمائے گا۔
[7-5] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاصۡبِرۡ صَبۡرًا جَمِيۡلًا﴾ اپنی قوم کو دعوت دینے پر صبر جمیل کیجیے اس میں کوئی تنگ دلی ہو نہ کوئی ملال بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہیے، اس کے بندوں کو اس کی توحید کی دعوت دیجیے، آپ ان میں عدم اطاعت اور عدم رغبت کا جو مشاہدہ کرتے ہیں، یہ چیز آپ کو ان کو دعوت دینے سے روک نہ دے کیونکہ اس پر صبر کرنے میں خیر کثیر پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّهُمۡ يَرَوۡنَهٗ بَعِيۡدًاۙ۰۰وَّنَرٰىهُ قَرِيۡبًا﴾ ’’وہ اس (قیامت) کو دور تصور کرتے ہیں اور ہم سے نزدیک دیکھ رہے ہیں۔‘‘ آیت میں مذکورہ ضمیر قیامت کے دن کی طرف لوٹتی ہے جس میں عذاب کے بارے میں سوال کرنے والوں کے لیے عذاب ہو گا ، یعنی ان کا حال اس شخص کا سا ہے جو قیامت کا منکر ہے جس پر بدبختی اور اندیشہ غالب ہو حتیٰ کہ اسے وہ چیز بھی دور نظر آئے جو اس کے سامنے ہے ، یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ (دن) قریب نظر آتا ہے کیونکہ وہ بہت نرم اور بردبار ہے، سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا وہ جانتا ہے کہ جسے آنا ہے وہ آ کر رہے گا، پس وہ بہت قریب ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی ہولناکیوں کا ذکر فرمایا اور ان امور کا ذکر فرمایا جو اس میں واقع ہوں گے، چنانچہ فرمایا :
المعارج 70:8
اس دن ہو گا آسمان جیسے پگھلا ہوا تانبا (8) اور ہوں گے پہاڑ جیسے دُھنکی ہوئی رنگین اون(9) اور نہیں پوچھے گا کوئی جگری دوست کسی جگری دوست کو (10) حالانکہ وہ دکھلا ئے جائیں گے وہ ان کو پسند کرے گا مجرم کاش کہ فدیے میں دے عذاب سے (بچنے کے لیے) اس دن کے، اپنا بیٹا (11) اور اپنی بیوی اور اپنا بھائی (12) اور اپنا خاندان وہ جو جگہ (پناہ) دیتا ہے اسے (13) اور وہ جو زمین میں ہیں سب، پھر وہ (فدیہ) نجات دلا دے اس کو (14) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ آگ ہے بھڑکتی ہوئی (15) ادھیڑ ڈالنے والی کھالوں کو (16) پکارے گی وہ(ہر) اس شخص کو جس نے پیٹھ پھیری(حق سے)اور منہ موڑا (17) اور جمع کیا (مال) اور سینت کر رکھا (18)
[9,8]﴿ يَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن جس میں یہ بڑے بڑے واقعات وقوع میں آئیں گے ﴿ تَكُوۡنُ السَّمَآءُ كَالۡمُهۡلِ﴾ ’’آسمان ہوجائے گا مہل کی طرح۔‘‘ اور وہ پگھلا ہوا سیسہ ہے ۔ آسمان کے پھٹ جانے اور بے انتہا ہولناکی کے باعث آسمان پگھلے ہوئے سیسے کی مانند ہو جائے گا۔ ﴿ وَتَكُوۡنُ الۡجِبَالُ كَالۡعِهۡنِ﴾ ’’اور پہاڑ ہوجائیں گے روئی کی طرح۔‘‘ اور وہ ہے دھنکی ہوئی اون، اس کے بعد اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ختم ہو جائیں گے۔
[14-10] جب ان بڑے بڑے اجرام پر یہ گھبراہٹ اور بے قراری طاری ہو گی تو اس کمزور بندے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس کی کمر کو گناہوں کے بوجھ نے بوجھل کر رکھا ہو گا؟ کیا وہ اس لائق نہ ہو گا کہ اس کا دل اکھڑ جائے، اس کی عقل و خرد زائل ہو جائے اور وہ ہر ایک سے غافل ہو جائے؟ اس لیےفرمایا:﴿ وَلَا يَسۡـَٔلُ حَمِيۡمٌ حَمِيۡمًاۚۖ۰۰يُّبَصَّرُوۡنَهُمۡ﴾(حَمِیْمٌ) سے مراد قریبی ہے، یعنی قریبی دوست، وہ اپنے دوست کو دیکھے گا مگر اس کے دل میں اتنی گنجائش نہ ہو گی کہ وہ اس کا حال پوچھ سکے، نہ وہ ان امور کے بارے میں پوچھ سکے گا جو ان کی آپس کی معاشرت اور محبت کے متعلق ہوں گے، بس اسے اپنے آپ کا غم ہو گا۔ ﴿ يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ﴾ جس پر عذاب کا استحقاق ثابت ہو چکا ہو گا، خواہش کرے گا ﴿ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِ ۰۰ وَ صَاحِبَتِهٖ﴾ ’’کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں اپنے بیٹے اور اپنی بیوی دے دے۔‘‘ ﴿ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ﴾ ’’اور اپنا بھائی اور اپنا خاندان‘‘ یعنی اپنی قرابت ﴿الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِ﴾ ’’جس میں وہ رہتا تھا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مدد اور ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہیں۔ پس قیامت کے اندر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش ہی کر سکے گا۔ بلکہ اگر عذاب کا مستحق جو کچھ زمین میں ہے، سب فدیے میں دے کر عذاب سے بچنا چاہے ، تب بھی اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
[18-15]﴿ كَلَّا﴾ یعنی اب ان کے لیے کوئی حیلہ ہے نہ مدد کا موقع، ان پر تیرے رب کا فیصلہ واجب ہو چکا، رشتہ داروں اور دوستوں کا فائدہ بھی جا چکا ﴿ اِنَّهَا لَظٰىۙ۰۰ نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى﴾ ’’وہ آگ ہوگی کھالوں کو ادھیڑ دینے والی‘‘ یعنی ظاہر و باطنی اعضاء کو اپنے سخت عذاب کی وجہ سے اکھاڑ دے گی۔ ﴿ تَدۡعُوۡا﴾ اپنی طرف بلائے گی ﴿ مَنۡ اَدۡبَرَ وَتَوَلّٰىۙ۰۰۱۷ وَجَمَعَ فَاَوۡعٰى﴾ اس کو جس نے اتباع حق سے پیٹھ پھیری اور اس سے منہ موڑا، اور حق سے کوئی غرض نہ رکھی، مال پہ مال جمع کرتا رہا اور اسے سینت سینت کر رکھتا رہا، اس میں سے اللہ کے راستے میں کچھ بھی خرچ نہ کیا جسے خرچ کر کے اپنے آپ سے جہنم کو دور کرتا۔ پس جہنم ان لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے اور ان پر شعلہ زن ہونے کے لیے تیار رہتا ہے۔
المعارج 70:9
اس دن ہو گا آسمان جیسے پگھلا ہوا تانبا (8) اور ہوں گے پہاڑ جیسے دُھنکی ہوئی رنگین اون(9) اور نہیں پوچھے گا کوئی جگری دوست کسی جگری دوست کو (10) حالانکہ وہ دکھلا ئے جائیں گے وہ ان کو پسند کرے گا مجرم کاش کہ فدیے میں دے عذاب سے (بچنے کے لیے) اس دن کے، اپنا بیٹا (11) اور اپنی بیوی اور اپنا بھائی (12) اور اپنا خاندان وہ جو جگہ (پناہ) دیتا ہے اسے (13) اور وہ جو زمین میں ہیں سب، پھر وہ (فدیہ) نجات دلا دے اس کو (14) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ آگ ہے بھڑکتی ہوئی (15) ادھیڑ ڈالنے والی کھالوں کو (16) پکارے گی وہ(ہر) اس شخص کو جس نے پیٹھ پھیری(حق سے)اور منہ موڑا (17) اور جمع کیا (مال) اور سینت کر رکھا (18)
[9,8]﴿ يَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن جس میں یہ بڑے بڑے واقعات وقوع میں آئیں گے ﴿ تَكُوۡنُ السَّمَآءُ كَالۡمُهۡلِ﴾ ’’آسمان ہوجائے گا مہل کی طرح۔‘‘ اور وہ پگھلا ہوا سیسہ ہے ۔ آسمان کے پھٹ جانے اور بے انتہا ہولناکی کے باعث آسمان پگھلے ہوئے سیسے کی مانند ہو جائے گا۔ ﴿ وَتَكُوۡنُ الۡجِبَالُ كَالۡعِهۡنِ﴾ ’’اور پہاڑ ہوجائیں گے روئی کی طرح۔‘‘ اور وہ ہے دھنکی ہوئی اون، اس کے بعد اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ختم ہو جائیں گے۔
[14-10] جب ان بڑے بڑے اجرام پر یہ گھبراہٹ اور بے قراری طاری ہو گی تو اس کمزور بندے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس کی کمر کو گناہوں کے بوجھ نے بوجھل کر رکھا ہو گا؟ کیا وہ اس لائق نہ ہو گا کہ اس کا دل اکھڑ جائے، اس کی عقل و خرد زائل ہو جائے اور وہ ہر ایک سے غافل ہو جائے؟ اس لیےفرمایا:﴿ وَلَا يَسۡـَٔلُ حَمِيۡمٌ حَمِيۡمًاۚۖ۰۰يُّبَصَّرُوۡنَهُمۡ﴾(حَمِیْمٌ) سے مراد قریبی ہے، یعنی قریبی دوست، وہ اپنے دوست کو دیکھے گا مگر اس کے دل میں اتنی گنجائش نہ ہو گی کہ وہ اس کا حال پوچھ سکے، نہ وہ ان امور کے بارے میں پوچھ سکے گا جو ان کی آپس کی معاشرت اور محبت کے متعلق ہوں گے، بس اسے اپنے آپ کا غم ہو گا۔ ﴿ يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ﴾ جس پر عذاب کا استحقاق ثابت ہو چکا ہو گا، خواہش کرے گا ﴿ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِ ۰۰ وَ صَاحِبَتِهٖ﴾ ’’کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں اپنے بیٹے اور اپنی بیوی دے دے۔‘‘ ﴿ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ﴾ ’’اور اپنا بھائی اور اپنا خاندان‘‘ یعنی اپنی قرابت ﴿الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِ﴾ ’’جس میں وہ رہتا تھا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مدد اور ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہیں۔ پس قیامت کے اندر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش ہی کر سکے گا۔ بلکہ اگر عذاب کا مستحق جو کچھ زمین میں ہے، سب فدیے میں دے کر عذاب سے بچنا چاہے ، تب بھی اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
[18-15]﴿ كَلَّا﴾ یعنی اب ان کے لیے کوئی حیلہ ہے نہ مدد کا موقع، ان پر تیرے رب کا فیصلہ واجب ہو چکا، رشتہ داروں اور دوستوں کا فائدہ بھی جا چکا ﴿ اِنَّهَا لَظٰىۙ۰۰ نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى﴾ ’’وہ آگ ہوگی کھالوں کو ادھیڑ دینے والی‘‘ یعنی ظاہر و باطنی اعضاء کو اپنے سخت عذاب کی وجہ سے اکھاڑ دے گی۔ ﴿ تَدۡعُوۡا﴾ اپنی طرف بلائے گی ﴿ مَنۡ اَدۡبَرَ وَتَوَلّٰىۙ۰۰۱۷ وَجَمَعَ فَاَوۡعٰى﴾ اس کو جس نے اتباع حق سے پیٹھ پھیری اور اس سے منہ موڑا، اور حق سے کوئی غرض نہ رکھی، مال پہ مال جمع کرتا رہا اور اسے سینت سینت کر رکھتا رہا، اس میں سے اللہ کے راستے میں کچھ بھی خرچ نہ کیا جسے خرچ کر کے اپنے آپ سے جہنم کو دور کرتا۔ پس جہنم ان لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے اور ان پر شعلہ زن ہونے کے لیے تیار رہتا ہے۔
المعارج 70:10
اس دن ہو گا آسمان جیسے پگھلا ہوا تانبا (8) اور ہوں گے پہاڑ جیسے دُھنکی ہوئی رنگین اون(9) اور نہیں پوچھے گا کوئی جگری دوست کسی جگری دوست کو (10) حالانکہ وہ دکھلا ئے جائیں گے وہ ان کو پسند کرے گا مجرم کاش کہ فدیے میں دے عذاب سے (بچنے کے لیے) اس دن کے، اپنا بیٹا (11) اور اپنی بیوی اور اپنا بھائی (12) اور اپنا خاندان وہ جو جگہ (پناہ) دیتا ہے اسے (13) اور وہ جو زمین میں ہیں سب، پھر وہ (فدیہ) نجات دلا دے اس کو (14) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ آگ ہے بھڑکتی ہوئی (15) ادھیڑ ڈالنے والی کھالوں کو (16) پکارے گی وہ(ہر) اس شخص کو جس نے پیٹھ پھیری(حق سے)اور منہ موڑا (17) اور جمع کیا (مال) اور سینت کر رکھا (18)
[9,8]﴿ يَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن جس میں یہ بڑے بڑے واقعات وقوع میں آئیں گے ﴿ تَكُوۡنُ السَّمَآءُ كَالۡمُهۡلِ﴾ ’’آسمان ہوجائے گا مہل کی طرح۔‘‘ اور وہ پگھلا ہوا سیسہ ہے ۔ آسمان کے پھٹ جانے اور بے انتہا ہولناکی کے باعث آسمان پگھلے ہوئے سیسے کی مانند ہو جائے گا۔ ﴿ وَتَكُوۡنُ الۡجِبَالُ كَالۡعِهۡنِ﴾ ’’اور پہاڑ ہوجائیں گے روئی کی طرح۔‘‘ اور وہ ہے دھنکی ہوئی اون، اس کے بعد اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ختم ہو جائیں گے۔
[14-10] جب ان بڑے بڑے اجرام پر یہ گھبراہٹ اور بے قراری طاری ہو گی تو اس کمزور بندے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس کی کمر کو گناہوں کے بوجھ نے بوجھل کر رکھا ہو گا؟ کیا وہ اس لائق نہ ہو گا کہ اس کا دل اکھڑ جائے، اس کی عقل و خرد زائل ہو جائے اور وہ ہر ایک سے غافل ہو جائے؟ اس لیےفرمایا:﴿ وَلَا يَسۡـَٔلُ حَمِيۡمٌ حَمِيۡمًاۚۖ۰۰يُّبَصَّرُوۡنَهُمۡ﴾(حَمِیْمٌ) سے مراد قریبی ہے، یعنی قریبی دوست، وہ اپنے دوست کو دیکھے گا مگر اس کے دل میں اتنی گنجائش نہ ہو گی کہ وہ اس کا حال پوچھ سکے، نہ وہ ان امور کے بارے میں پوچھ سکے گا جو ان کی آپس کی معاشرت اور محبت کے متعلق ہوں گے، بس اسے اپنے آپ کا غم ہو گا۔ ﴿ يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ﴾ جس پر عذاب کا استحقاق ثابت ہو چکا ہو گا، خواہش کرے گا ﴿ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِ ۰۰ وَ صَاحِبَتِهٖ﴾ ’’کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں اپنے بیٹے اور اپنی بیوی دے دے۔‘‘ ﴿ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ﴾ ’’اور اپنا بھائی اور اپنا خاندان‘‘ یعنی اپنی قرابت ﴿الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِ﴾ ’’جس میں وہ رہتا تھا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مدد اور ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہیں۔ پس قیامت کے اندر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش ہی کر سکے گا۔ بلکہ اگر عذاب کا مستحق جو کچھ زمین میں ہے، سب فدیے میں دے کر عذاب سے بچنا چاہے ، تب بھی اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
[18-15]﴿ كَلَّا﴾ یعنی اب ان کے لیے کوئی حیلہ ہے نہ مدد کا موقع، ان پر تیرے رب کا فیصلہ واجب ہو چکا، رشتہ داروں اور دوستوں کا فائدہ بھی جا چکا ﴿ اِنَّهَا لَظٰىۙ۰۰ نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى﴾ ’’وہ آگ ہوگی کھالوں کو ادھیڑ دینے والی‘‘ یعنی ظاہر و باطنی اعضاء کو اپنے سخت عذاب کی وجہ سے اکھاڑ دے گی۔ ﴿ تَدۡعُوۡا﴾ اپنی طرف بلائے گی ﴿ مَنۡ اَدۡبَرَ وَتَوَلّٰىۙ۰۰۱۷ وَجَمَعَ فَاَوۡعٰى﴾ اس کو جس نے اتباع حق سے پیٹھ پھیری اور اس سے منہ موڑا، اور حق سے کوئی غرض نہ رکھی، مال پہ مال جمع کرتا رہا اور اسے سینت سینت کر رکھتا رہا، اس میں سے اللہ کے راستے میں کچھ بھی خرچ نہ کیا جسے خرچ کر کے اپنے آپ سے جہنم کو دور کرتا۔ پس جہنم ان لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے اور ان پر شعلہ زن ہونے کے لیے تیار رہتا ہے۔
المعارج 70:11
اس دن ہو گا آسمان جیسے پگھلا ہوا تانبا (8) اور ہوں گے پہاڑ جیسے دُھنکی ہوئی رنگین اون(9) اور نہیں پوچھے گا کوئی جگری دوست کسی جگری دوست کو (10) حالانکہ وہ دکھلا ئے جائیں گے وہ ان کو پسند کرے گا مجرم کاش کہ فدیے میں دے عذاب سے (بچنے کے لیے) اس دن کے، اپنا بیٹا (11) اور اپنی بیوی اور اپنا بھائی (12) اور اپنا خاندان وہ جو جگہ (پناہ) دیتا ہے اسے (13) اور وہ جو زمین میں ہیں سب، پھر وہ (فدیہ) نجات دلا دے اس کو (14) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ آگ ہے بھڑکتی ہوئی (15) ادھیڑ ڈالنے والی کھالوں کو (16) پکارے گی وہ(ہر) اس شخص کو جس نے پیٹھ پھیری(حق سے)اور منہ موڑا (17) اور جمع کیا (مال) اور سینت کر رکھا (18)
[9,8]﴿ يَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن جس میں یہ بڑے بڑے واقعات وقوع میں آئیں گے ﴿ تَكُوۡنُ السَّمَآءُ كَالۡمُهۡلِ﴾ ’’آسمان ہوجائے گا مہل کی طرح۔‘‘ اور وہ پگھلا ہوا سیسہ ہے ۔ آسمان کے پھٹ جانے اور بے انتہا ہولناکی کے باعث آسمان پگھلے ہوئے سیسے کی مانند ہو جائے گا۔ ﴿ وَتَكُوۡنُ الۡجِبَالُ كَالۡعِهۡنِ﴾ ’’اور پہاڑ ہوجائیں گے روئی کی طرح۔‘‘ اور وہ ہے دھنکی ہوئی اون، اس کے بعد اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ختم ہو جائیں گے۔
[14-10] جب ان بڑے بڑے اجرام پر یہ گھبراہٹ اور بے قراری طاری ہو گی تو اس کمزور بندے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس کی کمر کو گناہوں کے بوجھ نے بوجھل کر رکھا ہو گا؟ کیا وہ اس لائق نہ ہو گا کہ اس کا دل اکھڑ جائے، اس کی عقل و خرد زائل ہو جائے اور وہ ہر ایک سے غافل ہو جائے؟ اس لیےفرمایا:﴿ وَلَا يَسۡـَٔلُ حَمِيۡمٌ حَمِيۡمًاۚۖ۰۰يُّبَصَّرُوۡنَهُمۡ﴾(حَمِیْمٌ) سے مراد قریبی ہے، یعنی قریبی دوست، وہ اپنے دوست کو دیکھے گا مگر اس کے دل میں اتنی گنجائش نہ ہو گی کہ وہ اس کا حال پوچھ سکے، نہ وہ ان امور کے بارے میں پوچھ سکے گا جو ان کی آپس کی معاشرت اور محبت کے متعلق ہوں گے، بس اسے اپنے آپ کا غم ہو گا۔ ﴿ يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ﴾ جس پر عذاب کا استحقاق ثابت ہو چکا ہو گا، خواہش کرے گا ﴿ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِ ۰۰ وَ صَاحِبَتِهٖ﴾ ’’کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں اپنے بیٹے اور اپنی بیوی دے دے۔‘‘ ﴿ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ﴾ ’’اور اپنا بھائی اور اپنا خاندان‘‘ یعنی اپنی قرابت ﴿الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِ﴾ ’’جس میں وہ رہتا تھا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مدد اور ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہیں۔ پس قیامت کے اندر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش ہی کر سکے گا۔ بلکہ اگر عذاب کا مستحق جو کچھ زمین میں ہے، سب فدیے میں دے کر عذاب سے بچنا چاہے ، تب بھی اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
[18-15]﴿ كَلَّا﴾ یعنی اب ان کے لیے کوئی حیلہ ہے نہ مدد کا موقع، ان پر تیرے رب کا فیصلہ واجب ہو چکا، رشتہ داروں اور دوستوں کا فائدہ بھی جا چکا ﴿ اِنَّهَا لَظٰىۙ۰۰ نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى﴾ ’’وہ آگ ہوگی کھالوں کو ادھیڑ دینے والی‘‘ یعنی ظاہر و باطنی اعضاء کو اپنے سخت عذاب کی وجہ سے اکھاڑ دے گی۔ ﴿ تَدۡعُوۡا﴾ اپنی طرف بلائے گی ﴿ مَنۡ اَدۡبَرَ وَتَوَلّٰىۙ۰۰۱۷ وَجَمَعَ فَاَوۡعٰى﴾ اس کو جس نے اتباع حق سے پیٹھ پھیری اور اس سے منہ موڑا، اور حق سے کوئی غرض نہ رکھی، مال پہ مال جمع کرتا رہا اور اسے سینت سینت کر رکھتا رہا، اس میں سے اللہ کے راستے میں کچھ بھی خرچ نہ کیا جسے خرچ کر کے اپنے آپ سے جہنم کو دور کرتا۔ پس جہنم ان لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے اور ان پر شعلہ زن ہونے کے لیے تیار رہتا ہے۔
المعارج 70:12
اس دن ہو گا آسمان جیسے پگھلا ہوا تانبا (8) اور ہوں گے پہاڑ جیسے دُھنکی ہوئی رنگین اون(9) اور نہیں پوچھے گا کوئی جگری دوست کسی جگری دوست کو (10) حالانکہ وہ دکھلا ئے جائیں گے وہ ان کو پسند کرے گا مجرم کاش کہ فدیے میں دے عذاب سے (بچنے کے لیے) اس دن کے، اپنا بیٹا (11) اور اپنی بیوی اور اپنا بھائی (12) اور اپنا خاندان وہ جو جگہ (پناہ) دیتا ہے اسے (13) اور وہ جو زمین میں ہیں سب، پھر وہ (فدیہ) نجات دلا دے اس کو (14) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ آگ ہے بھڑکتی ہوئی (15) ادھیڑ ڈالنے والی کھالوں کو (16) پکارے گی وہ(ہر) اس شخص کو جس نے پیٹھ پھیری(حق سے)اور منہ موڑا (17) اور جمع کیا (مال) اور سینت کر رکھا (18)
[9,8]﴿ يَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن جس میں یہ بڑے بڑے واقعات وقوع میں آئیں گے ﴿ تَكُوۡنُ السَّمَآءُ كَالۡمُهۡلِ﴾ ’’آسمان ہوجائے گا مہل کی طرح۔‘‘ اور وہ پگھلا ہوا سیسہ ہے ۔ آسمان کے پھٹ جانے اور بے انتہا ہولناکی کے باعث آسمان پگھلے ہوئے سیسے کی مانند ہو جائے گا۔ ﴿ وَتَكُوۡنُ الۡجِبَالُ كَالۡعِهۡنِ﴾ ’’اور پہاڑ ہوجائیں گے روئی کی طرح۔‘‘ اور وہ ہے دھنکی ہوئی اون، اس کے بعد اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ختم ہو جائیں گے۔
[14-10] جب ان بڑے بڑے اجرام پر یہ گھبراہٹ اور بے قراری طاری ہو گی تو اس کمزور بندے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس کی کمر کو گناہوں کے بوجھ نے بوجھل کر رکھا ہو گا؟ کیا وہ اس لائق نہ ہو گا کہ اس کا دل اکھڑ جائے، اس کی عقل و خرد زائل ہو جائے اور وہ ہر ایک سے غافل ہو جائے؟ اس لیےفرمایا:﴿ وَلَا يَسۡـَٔلُ حَمِيۡمٌ حَمِيۡمًاۚۖ۰۰يُّبَصَّرُوۡنَهُمۡ﴾(حَمِیْمٌ) سے مراد قریبی ہے، یعنی قریبی دوست، وہ اپنے دوست کو دیکھے گا مگر اس کے دل میں اتنی گنجائش نہ ہو گی کہ وہ اس کا حال پوچھ سکے، نہ وہ ان امور کے بارے میں پوچھ سکے گا جو ان کی آپس کی معاشرت اور محبت کے متعلق ہوں گے، بس اسے اپنے آپ کا غم ہو گا۔ ﴿ يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ﴾ جس پر عذاب کا استحقاق ثابت ہو چکا ہو گا، خواہش کرے گا ﴿ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِ ۰۰ وَ صَاحِبَتِهٖ﴾ ’’کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں اپنے بیٹے اور اپنی بیوی دے دے۔‘‘ ﴿ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ﴾ ’’اور اپنا بھائی اور اپنا خاندان‘‘ یعنی اپنی قرابت ﴿الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِ﴾ ’’جس میں وہ رہتا تھا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مدد اور ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہیں۔ پس قیامت کے اندر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش ہی کر سکے گا۔ بلکہ اگر عذاب کا مستحق جو کچھ زمین میں ہے، سب فدیے میں دے کر عذاب سے بچنا چاہے ، تب بھی اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
[18-15]﴿ كَلَّا﴾ یعنی اب ان کے لیے کوئی حیلہ ہے نہ مدد کا موقع، ان پر تیرے رب کا فیصلہ واجب ہو چکا، رشتہ داروں اور دوستوں کا فائدہ بھی جا چکا ﴿ اِنَّهَا لَظٰىۙ۰۰ نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى﴾ ’’وہ آگ ہوگی کھالوں کو ادھیڑ دینے والی‘‘ یعنی ظاہر و باطنی اعضاء کو اپنے سخت عذاب کی وجہ سے اکھاڑ دے گی۔ ﴿ تَدۡعُوۡا﴾ اپنی طرف بلائے گی ﴿ مَنۡ اَدۡبَرَ وَتَوَلّٰىۙ۰۰۱۷ وَجَمَعَ فَاَوۡعٰى﴾ اس کو جس نے اتباع حق سے پیٹھ پھیری اور اس سے منہ موڑا، اور حق سے کوئی غرض نہ رکھی، مال پہ مال جمع کرتا رہا اور اسے سینت سینت کر رکھتا رہا، اس میں سے اللہ کے راستے میں کچھ بھی خرچ نہ کیا جسے خرچ کر کے اپنے آپ سے جہنم کو دور کرتا۔ پس جہنم ان لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے اور ان پر شعلہ زن ہونے کے لیے تیار رہتا ہے۔
المعارج 70:13
اس دن ہو گا آسمان جیسے پگھلا ہوا تانبا (8) اور ہوں گے پہاڑ جیسے دُھنکی ہوئی رنگین اون(9) اور نہیں پوچھے گا کوئی جگری دوست کسی جگری دوست کو (10) حالانکہ وہ دکھلا ئے جائیں گے وہ ان کو پسند کرے گا مجرم کاش کہ فدیے میں دے عذاب سے (بچنے کے لیے) اس دن کے، اپنا بیٹا (11) اور اپنی بیوی اور اپنا بھائی (12) اور اپنا خاندان وہ جو جگہ (پناہ) دیتا ہے اسے (13) اور وہ جو زمین میں ہیں سب، پھر وہ (فدیہ) نجات دلا دے اس کو (14) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ آگ ہے بھڑکتی ہوئی (15) ادھیڑ ڈالنے والی کھالوں کو (16) پکارے گی وہ(ہر) اس شخص کو جس نے پیٹھ پھیری(حق سے)اور منہ موڑا (17) اور جمع کیا (مال) اور سینت کر رکھا (18)
[9,8]﴿ يَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن جس میں یہ بڑے بڑے واقعات وقوع میں آئیں گے ﴿ تَكُوۡنُ السَّمَآءُ كَالۡمُهۡلِ﴾ ’’آسمان ہوجائے گا مہل کی طرح۔‘‘ اور وہ پگھلا ہوا سیسہ ہے ۔ آسمان کے پھٹ جانے اور بے انتہا ہولناکی کے باعث آسمان پگھلے ہوئے سیسے کی مانند ہو جائے گا۔ ﴿ وَتَكُوۡنُ الۡجِبَالُ كَالۡعِهۡنِ﴾ ’’اور پہاڑ ہوجائیں گے روئی کی طرح۔‘‘ اور وہ ہے دھنکی ہوئی اون، اس کے بعد اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ختم ہو جائیں گے۔
[14-10] جب ان بڑے بڑے اجرام پر یہ گھبراہٹ اور بے قراری طاری ہو گی تو اس کمزور بندے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس کی کمر کو گناہوں کے بوجھ نے بوجھل کر رکھا ہو گا؟ کیا وہ اس لائق نہ ہو گا کہ اس کا دل اکھڑ جائے، اس کی عقل و خرد زائل ہو جائے اور وہ ہر ایک سے غافل ہو جائے؟ اس لیےفرمایا:﴿ وَلَا يَسۡـَٔلُ حَمِيۡمٌ حَمِيۡمًاۚۖ۰۰يُّبَصَّرُوۡنَهُمۡ﴾(حَمِیْمٌ) سے مراد قریبی ہے، یعنی قریبی دوست، وہ اپنے دوست کو دیکھے گا مگر اس کے دل میں اتنی گنجائش نہ ہو گی کہ وہ اس کا حال پوچھ سکے، نہ وہ ان امور کے بارے میں پوچھ سکے گا جو ان کی آپس کی معاشرت اور محبت کے متعلق ہوں گے، بس اسے اپنے آپ کا غم ہو گا۔ ﴿ يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ﴾ جس پر عذاب کا استحقاق ثابت ہو چکا ہو گا، خواہش کرے گا ﴿ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِ ۰۰ وَ صَاحِبَتِهٖ﴾ ’’کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں اپنے بیٹے اور اپنی بیوی دے دے۔‘‘ ﴿ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ﴾ ’’اور اپنا بھائی اور اپنا خاندان‘‘ یعنی اپنی قرابت ﴿الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِ﴾ ’’جس میں وہ رہتا تھا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مدد اور ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہیں۔ پس قیامت کے اندر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش ہی کر سکے گا۔ بلکہ اگر عذاب کا مستحق جو کچھ زمین میں ہے، سب فدیے میں دے کر عذاب سے بچنا چاہے ، تب بھی اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
[18-15]﴿ كَلَّا﴾ یعنی اب ان کے لیے کوئی حیلہ ہے نہ مدد کا موقع، ان پر تیرے رب کا فیصلہ واجب ہو چکا، رشتہ داروں اور دوستوں کا فائدہ بھی جا چکا ﴿ اِنَّهَا لَظٰىۙ۰۰ نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى﴾ ’’وہ آگ ہوگی کھالوں کو ادھیڑ دینے والی‘‘ یعنی ظاہر و باطنی اعضاء کو اپنے سخت عذاب کی وجہ سے اکھاڑ دے گی۔ ﴿ تَدۡعُوۡا﴾ اپنی طرف بلائے گی ﴿ مَنۡ اَدۡبَرَ وَتَوَلّٰىۙ۰۰۱۷ وَجَمَعَ فَاَوۡعٰى﴾ اس کو جس نے اتباع حق سے پیٹھ پھیری اور اس سے منہ موڑا، اور حق سے کوئی غرض نہ رکھی، مال پہ مال جمع کرتا رہا اور اسے سینت سینت کر رکھتا رہا، اس میں سے اللہ کے راستے میں کچھ بھی خرچ نہ کیا جسے خرچ کر کے اپنے آپ سے جہنم کو دور کرتا۔ پس جہنم ان لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے اور ان پر شعلہ زن ہونے کے لیے تیار رہتا ہے۔
المعارج 70:14
اس دن ہو گا آسمان جیسے پگھلا ہوا تانبا (8) اور ہوں گے پہاڑ جیسے دُھنکی ہوئی رنگین اون(9) اور نہیں پوچھے گا کوئی جگری دوست کسی جگری دوست کو (10) حالانکہ وہ دکھلا ئے جائیں گے وہ ان کو پسند کرے گا مجرم کاش کہ فدیے میں دے عذاب سے (بچنے کے لیے) اس دن کے، اپنا بیٹا (11) اور اپنی بیوی اور اپنا بھائی (12) اور اپنا خاندان وہ جو جگہ (پناہ) دیتا ہے اسے (13) اور وہ جو زمین میں ہیں سب، پھر وہ (فدیہ) نجات دلا دے اس کو (14) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ آگ ہے بھڑکتی ہوئی (15) ادھیڑ ڈالنے والی کھالوں کو (16) پکارے گی وہ(ہر) اس شخص کو جس نے پیٹھ پھیری(حق سے)اور منہ موڑا (17) اور جمع کیا (مال) اور سینت کر رکھا (18)
[9,8]﴿ يَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن جس میں یہ بڑے بڑے واقعات وقوع میں آئیں گے ﴿ تَكُوۡنُ السَّمَآءُ كَالۡمُهۡلِ﴾ ’’آسمان ہوجائے گا مہل کی طرح۔‘‘ اور وہ پگھلا ہوا سیسہ ہے ۔ آسمان کے پھٹ جانے اور بے انتہا ہولناکی کے باعث آسمان پگھلے ہوئے سیسے کی مانند ہو جائے گا۔ ﴿ وَتَكُوۡنُ الۡجِبَالُ كَالۡعِهۡنِ﴾ ’’اور پہاڑ ہوجائیں گے روئی کی طرح۔‘‘ اور وہ ہے دھنکی ہوئی اون، اس کے بعد اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ختم ہو جائیں گے۔
[14-10] جب ان بڑے بڑے اجرام پر یہ گھبراہٹ اور بے قراری طاری ہو گی تو اس کمزور بندے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس کی کمر کو گناہوں کے بوجھ نے بوجھل کر رکھا ہو گا؟ کیا وہ اس لائق نہ ہو گا کہ اس کا دل اکھڑ جائے، اس کی عقل و خرد زائل ہو جائے اور وہ ہر ایک سے غافل ہو جائے؟ اس لیےفرمایا:﴿ وَلَا يَسۡـَٔلُ حَمِيۡمٌ حَمِيۡمًاۚۖ۰۰يُّبَصَّرُوۡنَهُمۡ﴾(حَمِیْمٌ) سے مراد قریبی ہے، یعنی قریبی دوست، وہ اپنے دوست کو دیکھے گا مگر اس کے دل میں اتنی گنجائش نہ ہو گی کہ وہ اس کا حال پوچھ سکے، نہ وہ ان امور کے بارے میں پوچھ سکے گا جو ان کی آپس کی معاشرت اور محبت کے متعلق ہوں گے، بس اسے اپنے آپ کا غم ہو گا۔ ﴿ يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ﴾ جس پر عذاب کا استحقاق ثابت ہو چکا ہو گا، خواہش کرے گا ﴿ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِ ۰۰ وَ صَاحِبَتِهٖ﴾ ’’کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں اپنے بیٹے اور اپنی بیوی دے دے۔‘‘ ﴿ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ﴾ ’’اور اپنا بھائی اور اپنا خاندان‘‘ یعنی اپنی قرابت ﴿الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِ﴾ ’’جس میں وہ رہتا تھا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مدد اور ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہیں۔ پس قیامت کے اندر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش ہی کر سکے گا۔ بلکہ اگر عذاب کا مستحق جو کچھ زمین میں ہے، سب فدیے میں دے کر عذاب سے بچنا چاہے ، تب بھی اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
[18-15]﴿ كَلَّا﴾ یعنی اب ان کے لیے کوئی حیلہ ہے نہ مدد کا موقع، ان پر تیرے رب کا فیصلہ واجب ہو چکا، رشتہ داروں اور دوستوں کا فائدہ بھی جا چکا ﴿ اِنَّهَا لَظٰىۙ۰۰ نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى﴾ ’’وہ آگ ہوگی کھالوں کو ادھیڑ دینے والی‘‘ یعنی ظاہر و باطنی اعضاء کو اپنے سخت عذاب کی وجہ سے اکھاڑ دے گی۔ ﴿ تَدۡعُوۡا﴾ اپنی طرف بلائے گی ﴿ مَنۡ اَدۡبَرَ وَتَوَلّٰىۙ۰۰۱۷ وَجَمَعَ فَاَوۡعٰى﴾ اس کو جس نے اتباع حق سے پیٹھ پھیری اور اس سے منہ موڑا، اور حق سے کوئی غرض نہ رکھی، مال پہ مال جمع کرتا رہا اور اسے سینت سینت کر رکھتا رہا، اس میں سے اللہ کے راستے میں کچھ بھی خرچ نہ کیا جسے خرچ کر کے اپنے آپ سے جہنم کو دور کرتا۔ پس جہنم ان لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے اور ان پر شعلہ زن ہونے کے لیے تیار رہتا ہے۔
المعارج 70:15
اس دن ہو گا آسمان جیسے پگھلا ہوا تانبا (8) اور ہوں گے پہاڑ جیسے دُھنکی ہوئی رنگین اون(9) اور نہیں پوچھے گا کوئی جگری دوست کسی جگری دوست کو (10) حالانکہ وہ دکھلا ئے جائیں گے وہ ان کو پسند کرے گا مجرم کاش کہ فدیے میں دے عذاب سے (بچنے کے لیے) اس دن کے، اپنا بیٹا (11) اور اپنی بیوی اور اپنا بھائی (12) اور اپنا خاندان وہ جو جگہ (پناہ) دیتا ہے اسے (13) اور وہ جو زمین میں ہیں سب، پھر وہ (فدیہ) نجات دلا دے اس کو (14) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ آگ ہے بھڑکتی ہوئی (15) ادھیڑ ڈالنے والی کھالوں کو (16) پکارے گی وہ(ہر) اس شخص کو جس نے پیٹھ پھیری(حق سے)اور منہ موڑا (17) اور جمع کیا (مال) اور سینت کر رکھا (18)
[9,8]﴿ يَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن جس میں یہ بڑے بڑے واقعات وقوع میں آئیں گے ﴿ تَكُوۡنُ السَّمَآءُ كَالۡمُهۡلِ﴾ ’’آسمان ہوجائے گا مہل کی طرح۔‘‘ اور وہ پگھلا ہوا سیسہ ہے ۔ آسمان کے پھٹ جانے اور بے انتہا ہولناکی کے باعث آسمان پگھلے ہوئے سیسے کی مانند ہو جائے گا۔ ﴿ وَتَكُوۡنُ الۡجِبَالُ كَالۡعِهۡنِ﴾ ’’اور پہاڑ ہوجائیں گے روئی کی طرح۔‘‘ اور وہ ہے دھنکی ہوئی اون، اس کے بعد اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ختم ہو جائیں گے۔
[14-10] جب ان بڑے بڑے اجرام پر یہ گھبراہٹ اور بے قراری طاری ہو گی تو اس کمزور بندے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس کی کمر کو گناہوں کے بوجھ نے بوجھل کر رکھا ہو گا؟ کیا وہ اس لائق نہ ہو گا کہ اس کا دل اکھڑ جائے، اس کی عقل و خرد زائل ہو جائے اور وہ ہر ایک سے غافل ہو جائے؟ اس لیےفرمایا:﴿ وَلَا يَسۡـَٔلُ حَمِيۡمٌ حَمِيۡمًاۚۖ۰۰يُّبَصَّرُوۡنَهُمۡ﴾(حَمِیْمٌ) سے مراد قریبی ہے، یعنی قریبی دوست، وہ اپنے دوست کو دیکھے گا مگر اس کے دل میں اتنی گنجائش نہ ہو گی کہ وہ اس کا حال پوچھ سکے، نہ وہ ان امور کے بارے میں پوچھ سکے گا جو ان کی آپس کی معاشرت اور محبت کے متعلق ہوں گے، بس اسے اپنے آپ کا غم ہو گا۔ ﴿ يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ﴾ جس پر عذاب کا استحقاق ثابت ہو چکا ہو گا، خواہش کرے گا ﴿ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِ ۰۰ وَ صَاحِبَتِهٖ﴾ ’’کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں اپنے بیٹے اور اپنی بیوی دے دے۔‘‘ ﴿ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ﴾ ’’اور اپنا بھائی اور اپنا خاندان‘‘ یعنی اپنی قرابت ﴿الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِ﴾ ’’جس میں وہ رہتا تھا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مدد اور ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہیں۔ پس قیامت کے اندر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش ہی کر سکے گا۔ بلکہ اگر عذاب کا مستحق جو کچھ زمین میں ہے، سب فدیے میں دے کر عذاب سے بچنا چاہے ، تب بھی اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
[18-15]﴿ كَلَّا﴾ یعنی اب ان کے لیے کوئی حیلہ ہے نہ مدد کا موقع، ان پر تیرے رب کا فیصلہ واجب ہو چکا، رشتہ داروں اور دوستوں کا فائدہ بھی جا چکا ﴿ اِنَّهَا لَظٰىۙ۰۰ نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى﴾ ’’وہ آگ ہوگی کھالوں کو ادھیڑ دینے والی‘‘ یعنی ظاہر و باطنی اعضاء کو اپنے سخت عذاب کی وجہ سے اکھاڑ دے گی۔ ﴿ تَدۡعُوۡا﴾ اپنی طرف بلائے گی ﴿ مَنۡ اَدۡبَرَ وَتَوَلّٰىۙ۰۰۱۷ وَجَمَعَ فَاَوۡعٰى﴾ اس کو جس نے اتباع حق سے پیٹھ پھیری اور اس سے منہ موڑا، اور حق سے کوئی غرض نہ رکھی، مال پہ مال جمع کرتا رہا اور اسے سینت سینت کر رکھتا رہا، اس میں سے اللہ کے راستے میں کچھ بھی خرچ نہ کیا جسے خرچ کر کے اپنے آپ سے جہنم کو دور کرتا۔ پس جہنم ان لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے اور ان پر شعلہ زن ہونے کے لیے تیار رہتا ہے۔
المعارج 70:16
اس دن ہو گا آسمان جیسے پگھلا ہوا تانبا (8) اور ہوں گے پہاڑ جیسے دُھنکی ہوئی رنگین اون(9) اور نہیں پوچھے گا کوئی جگری دوست کسی جگری دوست کو (10) حالانکہ وہ دکھلا ئے جائیں گے وہ ان کو پسند کرے گا مجرم کاش کہ فدیے میں دے عذاب سے (بچنے کے لیے) اس دن کے، اپنا بیٹا (11) اور اپنی بیوی اور اپنا بھائی (12) اور اپنا خاندان وہ جو جگہ (پناہ) دیتا ہے اسے (13) اور وہ جو زمین میں ہیں سب، پھر وہ (فدیہ) نجات دلا دے اس کو (14) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ آگ ہے بھڑکتی ہوئی (15) ادھیڑ ڈالنے والی کھالوں کو (16) پکارے گی وہ(ہر) اس شخص کو جس نے پیٹھ پھیری(حق سے)اور منہ موڑا (17) اور جمع کیا (مال) اور سینت کر رکھا (18)
[9,8]﴿ يَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن جس میں یہ بڑے بڑے واقعات وقوع میں آئیں گے ﴿ تَكُوۡنُ السَّمَآءُ كَالۡمُهۡلِ﴾ ’’آسمان ہوجائے گا مہل کی طرح۔‘‘ اور وہ پگھلا ہوا سیسہ ہے ۔ آسمان کے پھٹ جانے اور بے انتہا ہولناکی کے باعث آسمان پگھلے ہوئے سیسے کی مانند ہو جائے گا۔ ﴿ وَتَكُوۡنُ الۡجِبَالُ كَالۡعِهۡنِ﴾ ’’اور پہاڑ ہوجائیں گے روئی کی طرح۔‘‘ اور وہ ہے دھنکی ہوئی اون، اس کے بعد اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ختم ہو جائیں گے۔
[14-10] جب ان بڑے بڑے اجرام پر یہ گھبراہٹ اور بے قراری طاری ہو گی تو اس کمزور بندے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس کی کمر کو گناہوں کے بوجھ نے بوجھل کر رکھا ہو گا؟ کیا وہ اس لائق نہ ہو گا کہ اس کا دل اکھڑ جائے، اس کی عقل و خرد زائل ہو جائے اور وہ ہر ایک سے غافل ہو جائے؟ اس لیےفرمایا:﴿ وَلَا يَسۡـَٔلُ حَمِيۡمٌ حَمِيۡمًاۚۖ۰۰يُّبَصَّرُوۡنَهُمۡ﴾(حَمِیْمٌ) سے مراد قریبی ہے، یعنی قریبی دوست، وہ اپنے دوست کو دیکھے گا مگر اس کے دل میں اتنی گنجائش نہ ہو گی کہ وہ اس کا حال پوچھ سکے، نہ وہ ان امور کے بارے میں پوچھ سکے گا جو ان کی آپس کی معاشرت اور محبت کے متعلق ہوں گے، بس اسے اپنے آپ کا غم ہو گا۔ ﴿ يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ﴾ جس پر عذاب کا استحقاق ثابت ہو چکا ہو گا، خواہش کرے گا ﴿ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِ ۰۰ وَ صَاحِبَتِهٖ﴾ ’’کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں اپنے بیٹے اور اپنی بیوی دے دے۔‘‘ ﴿ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ﴾ ’’اور اپنا بھائی اور اپنا خاندان‘‘ یعنی اپنی قرابت ﴿الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِ﴾ ’’جس میں وہ رہتا تھا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مدد اور ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہیں۔ پس قیامت کے اندر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش ہی کر سکے گا۔ بلکہ اگر عذاب کا مستحق جو کچھ زمین میں ہے، سب فدیے میں دے کر عذاب سے بچنا چاہے ، تب بھی اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
[18-15]﴿ كَلَّا﴾ یعنی اب ان کے لیے کوئی حیلہ ہے نہ مدد کا موقع، ان پر تیرے رب کا فیصلہ واجب ہو چکا، رشتہ داروں اور دوستوں کا فائدہ بھی جا چکا ﴿ اِنَّهَا لَظٰىۙ۰۰ نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى﴾ ’’وہ آگ ہوگی کھالوں کو ادھیڑ دینے والی‘‘ یعنی ظاہر و باطنی اعضاء کو اپنے سخت عذاب کی وجہ سے اکھاڑ دے گی۔ ﴿ تَدۡعُوۡا﴾ اپنی طرف بلائے گی ﴿ مَنۡ اَدۡبَرَ وَتَوَلّٰىۙ۰۰۱۷ وَجَمَعَ فَاَوۡعٰى﴾ اس کو جس نے اتباع حق سے پیٹھ پھیری اور اس سے منہ موڑا، اور حق سے کوئی غرض نہ رکھی، مال پہ مال جمع کرتا رہا اور اسے سینت سینت کر رکھتا رہا، اس میں سے اللہ کے راستے میں کچھ بھی خرچ نہ کیا جسے خرچ کر کے اپنے آپ سے جہنم کو دور کرتا۔ پس جہنم ان لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے اور ان پر شعلہ زن ہونے کے لیے تیار رہتا ہے۔
المعارج 70:17
اس دن ہو گا آسمان جیسے پگھلا ہوا تانبا (8) اور ہوں گے پہاڑ جیسے دُھنکی ہوئی رنگین اون(9) اور نہیں پوچھے گا کوئی جگری دوست کسی جگری دوست کو (10) حالانکہ وہ دکھلا ئے جائیں گے وہ ان کو پسند کرے گا مجرم کاش کہ فدیے میں دے عذاب سے (بچنے کے لیے) اس دن کے، اپنا بیٹا (11) اور اپنی بیوی اور اپنا بھائی (12) اور اپنا خاندان وہ جو جگہ (پناہ) دیتا ہے اسے (13) اور وہ جو زمین میں ہیں سب، پھر وہ (فدیہ) نجات دلا دے اس کو (14) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ آگ ہے بھڑکتی ہوئی (15) ادھیڑ ڈالنے والی کھالوں کو (16) پکارے گی وہ(ہر) اس شخص کو جس نے پیٹھ پھیری(حق سے)اور منہ موڑا (17) اور جمع کیا (مال) اور سینت کر رکھا (18)
[9,8]﴿ يَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن جس میں یہ بڑے بڑے واقعات وقوع میں آئیں گے ﴿ تَكُوۡنُ السَّمَآءُ كَالۡمُهۡلِ﴾ ’’آسمان ہوجائے گا مہل کی طرح۔‘‘ اور وہ پگھلا ہوا سیسہ ہے ۔ آسمان کے پھٹ جانے اور بے انتہا ہولناکی کے باعث آسمان پگھلے ہوئے سیسے کی مانند ہو جائے گا۔ ﴿ وَتَكُوۡنُ الۡجِبَالُ كَالۡعِهۡنِ﴾ ’’اور پہاڑ ہوجائیں گے روئی کی طرح۔‘‘ اور وہ ہے دھنکی ہوئی اون، اس کے بعد اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ختم ہو جائیں گے۔
[14-10] جب ان بڑے بڑے اجرام پر یہ گھبراہٹ اور بے قراری طاری ہو گی تو اس کمزور بندے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس کی کمر کو گناہوں کے بوجھ نے بوجھل کر رکھا ہو گا؟ کیا وہ اس لائق نہ ہو گا کہ اس کا دل اکھڑ جائے، اس کی عقل و خرد زائل ہو جائے اور وہ ہر ایک سے غافل ہو جائے؟ اس لیےفرمایا:﴿ وَلَا يَسۡـَٔلُ حَمِيۡمٌ حَمِيۡمًاۚۖ۰۰يُّبَصَّرُوۡنَهُمۡ﴾(حَمِیْمٌ) سے مراد قریبی ہے، یعنی قریبی دوست، وہ اپنے دوست کو دیکھے گا مگر اس کے دل میں اتنی گنجائش نہ ہو گی کہ وہ اس کا حال پوچھ سکے، نہ وہ ان امور کے بارے میں پوچھ سکے گا جو ان کی آپس کی معاشرت اور محبت کے متعلق ہوں گے، بس اسے اپنے آپ کا غم ہو گا۔ ﴿ يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ﴾ جس پر عذاب کا استحقاق ثابت ہو چکا ہو گا، خواہش کرے گا ﴿ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِ ۰۰ وَ صَاحِبَتِهٖ﴾ ’’کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں اپنے بیٹے اور اپنی بیوی دے دے۔‘‘ ﴿ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ﴾ ’’اور اپنا بھائی اور اپنا خاندان‘‘ یعنی اپنی قرابت ﴿الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِ﴾ ’’جس میں وہ رہتا تھا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مدد اور ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہیں۔ پس قیامت کے اندر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش ہی کر سکے گا۔ بلکہ اگر عذاب کا مستحق جو کچھ زمین میں ہے، سب فدیے میں دے کر عذاب سے بچنا چاہے ، تب بھی اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
[18-15]﴿ كَلَّا﴾ یعنی اب ان کے لیے کوئی حیلہ ہے نہ مدد کا موقع، ان پر تیرے رب کا فیصلہ واجب ہو چکا، رشتہ داروں اور دوستوں کا فائدہ بھی جا چکا ﴿ اِنَّهَا لَظٰىۙ۰۰ نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى﴾ ’’وہ آگ ہوگی کھالوں کو ادھیڑ دینے والی‘‘ یعنی ظاہر و باطنی اعضاء کو اپنے سخت عذاب کی وجہ سے اکھاڑ دے گی۔ ﴿ تَدۡعُوۡا﴾ اپنی طرف بلائے گی ﴿ مَنۡ اَدۡبَرَ وَتَوَلّٰىۙ۰۰۱۷ وَجَمَعَ فَاَوۡعٰى﴾ اس کو جس نے اتباع حق سے پیٹھ پھیری اور اس سے منہ موڑا، اور حق سے کوئی غرض نہ رکھی، مال پہ مال جمع کرتا رہا اور اسے سینت سینت کر رکھتا رہا، اس میں سے اللہ کے راستے میں کچھ بھی خرچ نہ کیا جسے خرچ کر کے اپنے آپ سے جہنم کو دور کرتا۔ پس جہنم ان لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے اور ان پر شعلہ زن ہونے کے لیے تیار رہتا ہے۔
المعارج 70:18
اس دن ہو گا آسمان جیسے پگھلا ہوا تانبا (8) اور ہوں گے پہاڑ جیسے دُھنکی ہوئی رنگین اون(9) اور نہیں پوچھے گا کوئی جگری دوست کسی جگری دوست کو (10) حالانکہ وہ دکھلا ئے جائیں گے وہ ان کو پسند کرے گا مجرم کاش کہ فدیے میں دے عذاب سے (بچنے کے لیے) اس دن کے، اپنا بیٹا (11) اور اپنی بیوی اور اپنا بھائی (12) اور اپنا خاندان وہ جو جگہ (پناہ) دیتا ہے اسے (13) اور وہ جو زمین میں ہیں سب، پھر وہ (فدیہ) نجات دلا دے اس کو (14) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ آگ ہے بھڑکتی ہوئی (15) ادھیڑ ڈالنے والی کھالوں کو (16) پکارے گی وہ(ہر) اس شخص کو جس نے پیٹھ پھیری(حق سے)اور منہ موڑا (17) اور جمع کیا (مال) اور سینت کر رکھا (18)
[9,8]﴿ يَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن جس میں یہ بڑے بڑے واقعات وقوع میں آئیں گے ﴿ تَكُوۡنُ السَّمَآءُ كَالۡمُهۡلِ﴾ ’’آسمان ہوجائے گا مہل کی طرح۔‘‘ اور وہ پگھلا ہوا سیسہ ہے ۔ آسمان کے پھٹ جانے اور بے انتہا ہولناکی کے باعث آسمان پگھلے ہوئے سیسے کی مانند ہو جائے گا۔ ﴿ وَتَكُوۡنُ الۡجِبَالُ كَالۡعِهۡنِ﴾ ’’اور پہاڑ ہوجائیں گے روئی کی طرح۔‘‘ اور وہ ہے دھنکی ہوئی اون، اس کے بعد اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ختم ہو جائیں گے۔
[14-10] جب ان بڑے بڑے اجرام پر یہ گھبراہٹ اور بے قراری طاری ہو گی تو اس کمزور بندے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس کی کمر کو گناہوں کے بوجھ نے بوجھل کر رکھا ہو گا؟ کیا وہ اس لائق نہ ہو گا کہ اس کا دل اکھڑ جائے، اس کی عقل و خرد زائل ہو جائے اور وہ ہر ایک سے غافل ہو جائے؟ اس لیےفرمایا:﴿ وَلَا يَسۡـَٔلُ حَمِيۡمٌ حَمِيۡمًاۚۖ۰۰يُّبَصَّرُوۡنَهُمۡ﴾(حَمِیْمٌ) سے مراد قریبی ہے، یعنی قریبی دوست، وہ اپنے دوست کو دیکھے گا مگر اس کے دل میں اتنی گنجائش نہ ہو گی کہ وہ اس کا حال پوچھ سکے، نہ وہ ان امور کے بارے میں پوچھ سکے گا جو ان کی آپس کی معاشرت اور محبت کے متعلق ہوں گے، بس اسے اپنے آپ کا غم ہو گا۔ ﴿ يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ﴾ جس پر عذاب کا استحقاق ثابت ہو چکا ہو گا، خواہش کرے گا ﴿ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِ ۰۰ وَ صَاحِبَتِهٖ﴾ ’’کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں اپنے بیٹے اور اپنی بیوی دے دے۔‘‘ ﴿ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ﴾ ’’اور اپنا بھائی اور اپنا خاندان‘‘ یعنی اپنی قرابت ﴿الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِ﴾ ’’جس میں وہ رہتا تھا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مدد اور ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہیں۔ پس قیامت کے اندر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش ہی کر سکے گا۔ بلکہ اگر عذاب کا مستحق جو کچھ زمین میں ہے، سب فدیے میں دے کر عذاب سے بچنا چاہے ، تب بھی اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
[18-15]﴿ كَلَّا﴾ یعنی اب ان کے لیے کوئی حیلہ ہے نہ مدد کا موقع، ان پر تیرے رب کا فیصلہ واجب ہو چکا، رشتہ داروں اور دوستوں کا فائدہ بھی جا چکا ﴿ اِنَّهَا لَظٰىۙ۰۰ نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى﴾ ’’وہ آگ ہوگی کھالوں کو ادھیڑ دینے والی‘‘ یعنی ظاہر و باطنی اعضاء کو اپنے سخت عذاب کی وجہ سے اکھاڑ دے گی۔ ﴿ تَدۡعُوۡا﴾ اپنی طرف بلائے گی ﴿ مَنۡ اَدۡبَرَ وَتَوَلّٰىۙ۰۰۱۷ وَجَمَعَ فَاَوۡعٰى﴾ اس کو جس نے اتباع حق سے پیٹھ پھیری اور اس سے منہ موڑا، اور حق سے کوئی غرض نہ رکھی، مال پہ مال جمع کرتا رہا اور اسے سینت سینت کر رکھتا رہا، اس میں سے اللہ کے راستے میں کچھ بھی خرچ نہ کیا جسے خرچ کر کے اپنے آپ سے جہنم کو دور کرتا۔ پس جہنم ان لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے اور ان پر شعلہ زن ہونے کے لیے تیار رہتا ہے۔
المعارج 70:19
بلاشبہ انسان پیدا کیا گیا تھڑدلا(19) جب پہنچتی ہے اسے برائی، تو بہت جزع فزع کرتا ہے (20) اور جب پہنچتی ہے اسے بھلائی تو نہایت بخیل ہے (21) مگر وہ نمازی (22) جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں (23) اور وہ لوگ کہ ان کے مالوں میں حق ہے مقرر (24) سوالی اور محروم کے لیے (25) اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں یوم جزا کی (26) اور وہ لوگ کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (27) بلاشبہ عذاب ان کے رب کا (ایسا) ہے کہ نہ بے خوف ہوا جائے(اس سے)(28) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں(29) مگر اپنی بیویوں سے اور جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، تو بلاشبہ وہ نہیں ملامت زدہ (30) پس جو کوئی تلاش کرے علاوہ اس کے تو وہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (31) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (32) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شہادتوں پر قائم رہنے والے ہیں (33) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (34) یہی لوگ باغوں میں معزز ہوں گے (35)
[21,19] یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بے صبرا ہے، پھر ’’بے صبرے‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا﴾ پس اگر کبھی اس پر فقر یا کسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال و متاع، گھر والوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر ہی راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَّاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا﴾ ’’اورجب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بے صبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
[23,22]﴿ اِلَّا الۡمُصَلِّيۡنَ﴾ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں، کیونکہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے، جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ ان کے وصف میں فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ دَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں۔ وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بے وقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
[25,24]﴿ وَالَّذِيۡنَ فِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ﴾ ’’اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔‘‘ یعنی زکاۃ اور صدقات میں سے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ﴾ ’’سائل کے لیے۔‘‘ جو سوال کرتا ہے ﴿ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ ’’اور محروم کے لیے۔‘‘ یہ وہ مسکین ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا کہ لوگ اسے عطا کریں اور نہ اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔
[26]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُصَدِّقُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ یعنی جزا و سزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انھیں اس پر یقین ہے، پس وہ آخرت کے لیے تیاری کرتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح کوشش کرتے ہیں، قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں، تصدیق لازم آتی ہے۔
[28,27]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ یعنی اپنے رب کے عذاب سے خائف اور ڈرتے ہیں اس لیے وہ ہر اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے قریب کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمۡ غَيۡرُ مَاۡمُوۡنٍ﴾ ’’بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونےوالی چیز نہیں ہے۔‘‘ یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا اور بچا جاتا ہے۔
[31-29]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ پس وہ اپنی شرم گاہوں کے ذریعے سے ایسی مجامعت نہیں کرتے جو حرام قرار دی گئی ہو ، یعنی زنا، سدومیت (قوم لوط والا عمل ) ، بیوی کی دبر میں مجامعت اور حالت حیض وغیرہ میں مجامعت سے بچتے ہیں،نیز وہ اپنی شرم گاہوں کو ان لوگوں کے دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرتے ہیں جن کے لیے دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ وہ ان تمام وسائل محرمہ کو بھی ترک کر دیتے ہیں جو فحش کام کے ارتکاب کی دعوت دیتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے۔‘‘ یعنی ان کے پاس جانے میں ﴿ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾’’ان پر کوئی علامت نہیں۔‘‘ یعنی اس مقام میں جماع کرنے پر، جو کھیتی کا مقام ہے، ان پر کوئی ملامت نہیں۔﴿ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ﴾ پس جو بیوی اور لونڈی کے علاوہ تلاش کریں۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔‘‘ یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے اس سے تجاوز کر کے اس میں پڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ آیت کریمہ نکاحِ متعہ (اورمروجہ حلالہ) کی حرمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ زوجۂ مقصود ہے نہ لونڈی۔
[32]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اورانھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اوروہ امانتیں جواموال اور اسرار کے بارے میں ہیں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر قائم رہا اور اسے پورا کیا یا اس نے اسے دور پھینک دیا، اس میں خیانت کی اور اس پر قائم نہ رہا؟
[33]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِشَهٰؔدٰؔتِهِمۡ قَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں، وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قائم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَقِيۡمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ﴾(الطلاق:65؍2) ’’اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔‘‘ اور فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ﴾(النساء:4؍135) ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ ، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ یہ گواہی خود تمھارے خلاف، تمھارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
[34]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ﴾ ’’اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی بہترین طریقے سے اس پر مداومت کے ذریعے سے اس کی حفاطت کرتے ہیں۔
[35]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی جو لوگ ان صفات سے موصوف ہیں وہ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ مُّكۡرَمُوۡنَ﴾ ’’جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام و تکریم اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے نوازے گا جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ وہ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت و خیر کو اوصاف کاملہ، اخلاق فاضلہ سے موصوف کیا ہے، یعنی عبادت بدنیہ ، مثلاً: نماز اور اس پر مداومت۔ اعمال قلبیہ ، مثلاً: خشیت الٰہی جو ہر بھلائی کو دعوت دیتی ہے، عبادات مالیہ، عقائد نافعہ، اخلاق فاضلہ، اللہ تعالیٰ سے معاملہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے بہترین معاملہ، یعنی ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کے حقوق اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرنا ایسے افعال سے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر کے عفت کامل اختیار کرنا۔
المعارج 70:20
بلاشبہ انسان پیدا کیا گیا تھڑدلا(19) جب پہنچتی ہے اسے برائی، تو بہت جزع فزع کرتا ہے (20) اور جب پہنچتی ہے اسے بھلائی تو نہایت بخیل ہے (21) مگر وہ نمازی (22) جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں (23) اور وہ لوگ کہ ان کے مالوں میں حق ہے مقرر (24) سوالی اور محروم کے لیے (25) اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں یوم جزا کی (26) اور وہ لوگ کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (27) بلاشبہ عذاب ان کے رب کا (ایسا) ہے کہ نہ بے خوف ہوا جائے(اس سے)(28) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں(29) مگر اپنی بیویوں سے اور جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، تو بلاشبہ وہ نہیں ملامت زدہ (30) پس جو کوئی تلاش کرے علاوہ اس کے تو وہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (31) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (32) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شہادتوں پر قائم رہنے والے ہیں (33) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (34) یہی لوگ باغوں میں معزز ہوں گے (35)
[21,19] یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بے صبرا ہے، پھر ’’بے صبرے‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا﴾ پس اگر کبھی اس پر فقر یا کسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال و متاع، گھر والوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر ہی راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَّاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا﴾ ’’اورجب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بے صبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
[23,22]﴿ اِلَّا الۡمُصَلِّيۡنَ﴾ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں، کیونکہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے، جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ ان کے وصف میں فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ دَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں۔ وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بے وقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
[25,24]﴿ وَالَّذِيۡنَ فِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ﴾ ’’اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔‘‘ یعنی زکاۃ اور صدقات میں سے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ﴾ ’’سائل کے لیے۔‘‘ جو سوال کرتا ہے ﴿ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ ’’اور محروم کے لیے۔‘‘ یہ وہ مسکین ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا کہ لوگ اسے عطا کریں اور نہ اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔
[26]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُصَدِّقُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ یعنی جزا و سزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انھیں اس پر یقین ہے، پس وہ آخرت کے لیے تیاری کرتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح کوشش کرتے ہیں، قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں، تصدیق لازم آتی ہے۔
[28,27]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ یعنی اپنے رب کے عذاب سے خائف اور ڈرتے ہیں اس لیے وہ ہر اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے قریب کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمۡ غَيۡرُ مَاۡمُوۡنٍ﴾ ’’بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونےوالی چیز نہیں ہے۔‘‘ یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا اور بچا جاتا ہے۔
[31-29]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ پس وہ اپنی شرم گاہوں کے ذریعے سے ایسی مجامعت نہیں کرتے جو حرام قرار دی گئی ہو ، یعنی زنا، سدومیت (قوم لوط والا عمل ) ، بیوی کی دبر میں مجامعت اور حالت حیض وغیرہ میں مجامعت سے بچتے ہیں،نیز وہ اپنی شرم گاہوں کو ان لوگوں کے دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرتے ہیں جن کے لیے دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ وہ ان تمام وسائل محرمہ کو بھی ترک کر دیتے ہیں جو فحش کام کے ارتکاب کی دعوت دیتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے۔‘‘ یعنی ان کے پاس جانے میں ﴿ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾’’ان پر کوئی علامت نہیں۔‘‘ یعنی اس مقام میں جماع کرنے پر، جو کھیتی کا مقام ہے، ان پر کوئی ملامت نہیں۔﴿ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ﴾ پس جو بیوی اور لونڈی کے علاوہ تلاش کریں۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔‘‘ یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے اس سے تجاوز کر کے اس میں پڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ آیت کریمہ نکاحِ متعہ (اورمروجہ حلالہ) کی حرمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ زوجۂ مقصود ہے نہ لونڈی۔
[32]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اورانھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اوروہ امانتیں جواموال اور اسرار کے بارے میں ہیں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر قائم رہا اور اسے پورا کیا یا اس نے اسے دور پھینک دیا، اس میں خیانت کی اور اس پر قائم نہ رہا؟
[33]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِشَهٰؔدٰؔتِهِمۡ قَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں، وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قائم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَقِيۡمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ﴾(الطلاق:65؍2) ’’اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔‘‘ اور فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ﴾(النساء:4؍135) ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ ، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ یہ گواہی خود تمھارے خلاف، تمھارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
[34]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ﴾ ’’اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی بہترین طریقے سے اس پر مداومت کے ذریعے سے اس کی حفاطت کرتے ہیں۔
[35]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی جو لوگ ان صفات سے موصوف ہیں وہ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ مُّكۡرَمُوۡنَ﴾ ’’جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام و تکریم اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے نوازے گا جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ وہ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت و خیر کو اوصاف کاملہ، اخلاق فاضلہ سے موصوف کیا ہے، یعنی عبادت بدنیہ ، مثلاً: نماز اور اس پر مداومت۔ اعمال قلبیہ ، مثلاً: خشیت الٰہی جو ہر بھلائی کو دعوت دیتی ہے، عبادات مالیہ، عقائد نافعہ، اخلاق فاضلہ، اللہ تعالیٰ سے معاملہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے بہترین معاملہ، یعنی ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کے حقوق اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرنا ایسے افعال سے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر کے عفت کامل اختیار کرنا۔
المعارج 70:21
بلاشبہ انسان پیدا کیا گیا تھڑدلا(19) جب پہنچتی ہے اسے برائی، تو بہت جزع فزع کرتا ہے (20) اور جب پہنچتی ہے اسے بھلائی تو نہایت بخیل ہے (21) مگر وہ نمازی (22) جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں (23) اور وہ لوگ کہ ان کے مالوں میں حق ہے مقرر (24) سوالی اور محروم کے لیے (25) اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں یوم جزا کی (26) اور وہ لوگ کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (27) بلاشبہ عذاب ان کے رب کا (ایسا) ہے کہ نہ بے خوف ہوا جائے(اس سے)(28) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں(29) مگر اپنی بیویوں سے اور جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، تو بلاشبہ وہ نہیں ملامت زدہ (30) پس جو کوئی تلاش کرے علاوہ اس کے تو وہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (31) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (32) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شہادتوں پر قائم رہنے والے ہیں (33) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (34) یہی لوگ باغوں میں معزز ہوں گے (35)
[21,19] یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بے صبرا ہے، پھر ’’بے صبرے‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا﴾ پس اگر کبھی اس پر فقر یا کسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال و متاع، گھر والوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر ہی راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَّاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا﴾ ’’اورجب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بے صبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
[23,22]﴿ اِلَّا الۡمُصَلِّيۡنَ﴾ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں، کیونکہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے، جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ ان کے وصف میں فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ دَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں۔ وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بے وقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
[25,24]﴿ وَالَّذِيۡنَ فِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ﴾ ’’اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔‘‘ یعنی زکاۃ اور صدقات میں سے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ﴾ ’’سائل کے لیے۔‘‘ جو سوال کرتا ہے ﴿ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ ’’اور محروم کے لیے۔‘‘ یہ وہ مسکین ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا کہ لوگ اسے عطا کریں اور نہ اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔
[26]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُصَدِّقُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ یعنی جزا و سزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انھیں اس پر یقین ہے، پس وہ آخرت کے لیے تیاری کرتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح کوشش کرتے ہیں، قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں، تصدیق لازم آتی ہے۔
[28,27]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ یعنی اپنے رب کے عذاب سے خائف اور ڈرتے ہیں اس لیے وہ ہر اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے قریب کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمۡ غَيۡرُ مَاۡمُوۡنٍ﴾ ’’بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونےوالی چیز نہیں ہے۔‘‘ یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا اور بچا جاتا ہے۔
[31-29]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ پس وہ اپنی شرم گاہوں کے ذریعے سے ایسی مجامعت نہیں کرتے جو حرام قرار دی گئی ہو ، یعنی زنا، سدومیت (قوم لوط والا عمل ) ، بیوی کی دبر میں مجامعت اور حالت حیض وغیرہ میں مجامعت سے بچتے ہیں،نیز وہ اپنی شرم گاہوں کو ان لوگوں کے دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرتے ہیں جن کے لیے دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ وہ ان تمام وسائل محرمہ کو بھی ترک کر دیتے ہیں جو فحش کام کے ارتکاب کی دعوت دیتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے۔‘‘ یعنی ان کے پاس جانے میں ﴿ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾’’ان پر کوئی علامت نہیں۔‘‘ یعنی اس مقام میں جماع کرنے پر، جو کھیتی کا مقام ہے، ان پر کوئی ملامت نہیں۔﴿ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ﴾ پس جو بیوی اور لونڈی کے علاوہ تلاش کریں۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔‘‘ یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے اس سے تجاوز کر کے اس میں پڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ آیت کریمہ نکاحِ متعہ (اورمروجہ حلالہ) کی حرمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ زوجۂ مقصود ہے نہ لونڈی۔
[32]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اورانھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اوروہ امانتیں جواموال اور اسرار کے بارے میں ہیں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر قائم رہا اور اسے پورا کیا یا اس نے اسے دور پھینک دیا، اس میں خیانت کی اور اس پر قائم نہ رہا؟
[33]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِشَهٰؔدٰؔتِهِمۡ قَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں، وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قائم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَقِيۡمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ﴾(الطلاق:65؍2) ’’اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔‘‘ اور فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ﴾(النساء:4؍135) ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ ، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ یہ گواہی خود تمھارے خلاف، تمھارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
[34]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ﴾ ’’اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی بہترین طریقے سے اس پر مداومت کے ذریعے سے اس کی حفاطت کرتے ہیں۔
[35]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی جو لوگ ان صفات سے موصوف ہیں وہ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ مُّكۡرَمُوۡنَ﴾ ’’جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام و تکریم اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے نوازے گا جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ وہ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت و خیر کو اوصاف کاملہ، اخلاق فاضلہ سے موصوف کیا ہے، یعنی عبادت بدنیہ ، مثلاً: نماز اور اس پر مداومت۔ اعمال قلبیہ ، مثلاً: خشیت الٰہی جو ہر بھلائی کو دعوت دیتی ہے، عبادات مالیہ، عقائد نافعہ، اخلاق فاضلہ، اللہ تعالیٰ سے معاملہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے بہترین معاملہ، یعنی ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کے حقوق اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرنا ایسے افعال سے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر کے عفت کامل اختیار کرنا۔
المعارج 70:22
بلاشبہ انسان پیدا کیا گیا تھڑدلا(19) جب پہنچتی ہے اسے برائی، تو بہت جزع فزع کرتا ہے (20) اور جب پہنچتی ہے اسے بھلائی تو نہایت بخیل ہے (21) مگر وہ نمازی (22) جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں (23) اور وہ لوگ کہ ان کے مالوں میں حق ہے مقرر (24) سوالی اور محروم کے لیے (25) اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں یوم جزا کی (26) اور وہ لوگ کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (27) بلاشبہ عذاب ان کے رب کا (ایسا) ہے کہ نہ بے خوف ہوا جائے(اس سے)(28) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں(29) مگر اپنی بیویوں سے اور جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، تو بلاشبہ وہ نہیں ملامت زدہ (30) پس جو کوئی تلاش کرے علاوہ اس کے تو وہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (31) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (32) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شہادتوں پر قائم رہنے والے ہیں (33) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (34) یہی لوگ باغوں میں معزز ہوں گے (35)
[21,19] یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بے صبرا ہے، پھر ’’بے صبرے‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا﴾ پس اگر کبھی اس پر فقر یا کسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال و متاع، گھر والوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر ہی راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَّاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا﴾ ’’اورجب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بے صبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
[23,22]﴿ اِلَّا الۡمُصَلِّيۡنَ﴾ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں، کیونکہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے، جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ ان کے وصف میں فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ دَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں۔ وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بے وقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
[25,24]﴿ وَالَّذِيۡنَ فِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ﴾ ’’اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔‘‘ یعنی زکاۃ اور صدقات میں سے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ﴾ ’’سائل کے لیے۔‘‘ جو سوال کرتا ہے ﴿ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ ’’اور محروم کے لیے۔‘‘ یہ وہ مسکین ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا کہ لوگ اسے عطا کریں اور نہ اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔
[26]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُصَدِّقُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ یعنی جزا و سزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انھیں اس پر یقین ہے، پس وہ آخرت کے لیے تیاری کرتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح کوشش کرتے ہیں، قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں، تصدیق لازم آتی ہے۔
[28,27]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ یعنی اپنے رب کے عذاب سے خائف اور ڈرتے ہیں اس لیے وہ ہر اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے قریب کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمۡ غَيۡرُ مَاۡمُوۡنٍ﴾ ’’بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونےوالی چیز نہیں ہے۔‘‘ یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا اور بچا جاتا ہے۔
[31-29]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ پس وہ اپنی شرم گاہوں کے ذریعے سے ایسی مجامعت نہیں کرتے جو حرام قرار دی گئی ہو ، یعنی زنا، سدومیت (قوم لوط والا عمل ) ، بیوی کی دبر میں مجامعت اور حالت حیض وغیرہ میں مجامعت سے بچتے ہیں،نیز وہ اپنی شرم گاہوں کو ان لوگوں کے دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرتے ہیں جن کے لیے دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ وہ ان تمام وسائل محرمہ کو بھی ترک کر دیتے ہیں جو فحش کام کے ارتکاب کی دعوت دیتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے۔‘‘ یعنی ان کے پاس جانے میں ﴿ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾’’ان پر کوئی علامت نہیں۔‘‘ یعنی اس مقام میں جماع کرنے پر، جو کھیتی کا مقام ہے، ان پر کوئی ملامت نہیں۔﴿ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ﴾ پس جو بیوی اور لونڈی کے علاوہ تلاش کریں۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔‘‘ یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے اس سے تجاوز کر کے اس میں پڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ آیت کریمہ نکاحِ متعہ (اورمروجہ حلالہ) کی حرمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ زوجۂ مقصود ہے نہ لونڈی۔
[32]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اورانھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اوروہ امانتیں جواموال اور اسرار کے بارے میں ہیں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر قائم رہا اور اسے پورا کیا یا اس نے اسے دور پھینک دیا، اس میں خیانت کی اور اس پر قائم نہ رہا؟
[33]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِشَهٰؔدٰؔتِهِمۡ قَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں، وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قائم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَقِيۡمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ﴾(الطلاق:65؍2) ’’اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔‘‘ اور فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ﴾(النساء:4؍135) ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ ، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ یہ گواہی خود تمھارے خلاف، تمھارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
[34]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ﴾ ’’اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی بہترین طریقے سے اس پر مداومت کے ذریعے سے اس کی حفاطت کرتے ہیں۔
[35]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی جو لوگ ان صفات سے موصوف ہیں وہ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ مُّكۡرَمُوۡنَ﴾ ’’جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام و تکریم اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے نوازے گا جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ وہ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت و خیر کو اوصاف کاملہ، اخلاق فاضلہ سے موصوف کیا ہے، یعنی عبادت بدنیہ ، مثلاً: نماز اور اس پر مداومت۔ اعمال قلبیہ ، مثلاً: خشیت الٰہی جو ہر بھلائی کو دعوت دیتی ہے، عبادات مالیہ، عقائد نافعہ، اخلاق فاضلہ، اللہ تعالیٰ سے معاملہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے بہترین معاملہ، یعنی ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کے حقوق اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرنا ایسے افعال سے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر کے عفت کامل اختیار کرنا۔
المعارج 70:23
بلاشبہ انسان پیدا کیا گیا تھڑدلا(19) جب پہنچتی ہے اسے برائی، تو بہت جزع فزع کرتا ہے (20) اور جب پہنچتی ہے اسے بھلائی تو نہایت بخیل ہے (21) مگر وہ نمازی (22) جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں (23) اور وہ لوگ کہ ان کے مالوں میں حق ہے مقرر (24) سوالی اور محروم کے لیے (25) اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں یوم جزا کی (26) اور وہ لوگ کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (27) بلاشبہ عذاب ان کے رب کا (ایسا) ہے کہ نہ بے خوف ہوا جائے(اس سے)(28) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں(29) مگر اپنی بیویوں سے اور جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، تو بلاشبہ وہ نہیں ملامت زدہ (30) پس جو کوئی تلاش کرے علاوہ اس کے تو وہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (31) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (32) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شہادتوں پر قائم رہنے والے ہیں (33) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (34) یہی لوگ باغوں میں معزز ہوں گے (35)
[21,19] یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بے صبرا ہے، پھر ’’بے صبرے‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا﴾ پس اگر کبھی اس پر فقر یا کسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال و متاع، گھر والوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر ہی راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَّاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا﴾ ’’اورجب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بے صبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
[23,22]﴿ اِلَّا الۡمُصَلِّيۡنَ﴾ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں، کیونکہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے، جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ ان کے وصف میں فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ دَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں۔ وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بے وقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
[25,24]﴿ وَالَّذِيۡنَ فِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ﴾ ’’اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔‘‘ یعنی زکاۃ اور صدقات میں سے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ﴾ ’’سائل کے لیے۔‘‘ جو سوال کرتا ہے ﴿ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ ’’اور محروم کے لیے۔‘‘ یہ وہ مسکین ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا کہ لوگ اسے عطا کریں اور نہ اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔
[26]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُصَدِّقُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ یعنی جزا و سزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انھیں اس پر یقین ہے، پس وہ آخرت کے لیے تیاری کرتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح کوشش کرتے ہیں، قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں، تصدیق لازم آتی ہے۔
[28,27]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ یعنی اپنے رب کے عذاب سے خائف اور ڈرتے ہیں اس لیے وہ ہر اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے قریب کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمۡ غَيۡرُ مَاۡمُوۡنٍ﴾ ’’بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونےوالی چیز نہیں ہے۔‘‘ یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا اور بچا جاتا ہے۔
[31-29]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ پس وہ اپنی شرم گاہوں کے ذریعے سے ایسی مجامعت نہیں کرتے جو حرام قرار دی گئی ہو ، یعنی زنا، سدومیت (قوم لوط والا عمل ) ، بیوی کی دبر میں مجامعت اور حالت حیض وغیرہ میں مجامعت سے بچتے ہیں،نیز وہ اپنی شرم گاہوں کو ان لوگوں کے دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرتے ہیں جن کے لیے دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ وہ ان تمام وسائل محرمہ کو بھی ترک کر دیتے ہیں جو فحش کام کے ارتکاب کی دعوت دیتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے۔‘‘ یعنی ان کے پاس جانے میں ﴿ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾’’ان پر کوئی علامت نہیں۔‘‘ یعنی اس مقام میں جماع کرنے پر، جو کھیتی کا مقام ہے، ان پر کوئی ملامت نہیں۔﴿ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ﴾ پس جو بیوی اور لونڈی کے علاوہ تلاش کریں۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔‘‘ یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے اس سے تجاوز کر کے اس میں پڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ آیت کریمہ نکاحِ متعہ (اورمروجہ حلالہ) کی حرمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ زوجۂ مقصود ہے نہ لونڈی۔
[32]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اورانھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اوروہ امانتیں جواموال اور اسرار کے بارے میں ہیں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر قائم رہا اور اسے پورا کیا یا اس نے اسے دور پھینک دیا، اس میں خیانت کی اور اس پر قائم نہ رہا؟
[33]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِشَهٰؔدٰؔتِهِمۡ قَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں، وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قائم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَقِيۡمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ﴾(الطلاق:65؍2) ’’اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔‘‘ اور فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ﴾(النساء:4؍135) ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ ، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ یہ گواہی خود تمھارے خلاف، تمھارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
[34]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ﴾ ’’اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی بہترین طریقے سے اس پر مداومت کے ذریعے سے اس کی حفاطت کرتے ہیں۔
[35]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی جو لوگ ان صفات سے موصوف ہیں وہ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ مُّكۡرَمُوۡنَ﴾ ’’جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام و تکریم اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے نوازے گا جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ وہ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت و خیر کو اوصاف کاملہ، اخلاق فاضلہ سے موصوف کیا ہے، یعنی عبادت بدنیہ ، مثلاً: نماز اور اس پر مداومت۔ اعمال قلبیہ ، مثلاً: خشیت الٰہی جو ہر بھلائی کو دعوت دیتی ہے، عبادات مالیہ، عقائد نافعہ، اخلاق فاضلہ، اللہ تعالیٰ سے معاملہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے بہترین معاملہ، یعنی ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کے حقوق اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرنا ایسے افعال سے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر کے عفت کامل اختیار کرنا۔
المعارج 70:24
بلاشبہ انسان پیدا کیا گیا تھڑدلا(19) جب پہنچتی ہے اسے برائی، تو بہت جزع فزع کرتا ہے (20) اور جب پہنچتی ہے اسے بھلائی تو نہایت بخیل ہے (21) مگر وہ نمازی (22) جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں (23) اور وہ لوگ کہ ان کے مالوں میں حق ہے مقرر (24) سوالی اور محروم کے لیے (25) اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں یوم جزا کی (26) اور وہ لوگ کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (27) بلاشبہ عذاب ان کے رب کا (ایسا) ہے کہ نہ بے خوف ہوا جائے(اس سے)(28) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں(29) مگر اپنی بیویوں سے اور جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، تو بلاشبہ وہ نہیں ملامت زدہ (30) پس جو کوئی تلاش کرے علاوہ اس کے تو وہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (31) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (32) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شہادتوں پر قائم رہنے والے ہیں (33) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (34) یہی لوگ باغوں میں معزز ہوں گے (35)
[21,19] یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بے صبرا ہے، پھر ’’بے صبرے‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا﴾ پس اگر کبھی اس پر فقر یا کسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال و متاع، گھر والوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر ہی راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَّاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا﴾ ’’اورجب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بے صبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
[23,22]﴿ اِلَّا الۡمُصَلِّيۡنَ﴾ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں، کیونکہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے، جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ ان کے وصف میں فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ دَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں۔ وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بے وقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
[25,24]﴿ وَالَّذِيۡنَ فِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ﴾ ’’اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔‘‘ یعنی زکاۃ اور صدقات میں سے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ﴾ ’’سائل کے لیے۔‘‘ جو سوال کرتا ہے ﴿ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ ’’اور محروم کے لیے۔‘‘ یہ وہ مسکین ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا کہ لوگ اسے عطا کریں اور نہ اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔
[26]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُصَدِّقُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ یعنی جزا و سزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انھیں اس پر یقین ہے، پس وہ آخرت کے لیے تیاری کرتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح کوشش کرتے ہیں، قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں، تصدیق لازم آتی ہے۔
[28,27]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ یعنی اپنے رب کے عذاب سے خائف اور ڈرتے ہیں اس لیے وہ ہر اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے قریب کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمۡ غَيۡرُ مَاۡمُوۡنٍ﴾ ’’بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونےوالی چیز نہیں ہے۔‘‘ یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا اور بچا جاتا ہے۔
[31-29]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ پس وہ اپنی شرم گاہوں کے ذریعے سے ایسی مجامعت نہیں کرتے جو حرام قرار دی گئی ہو ، یعنی زنا، سدومیت (قوم لوط والا عمل ) ، بیوی کی دبر میں مجامعت اور حالت حیض وغیرہ میں مجامعت سے بچتے ہیں،نیز وہ اپنی شرم گاہوں کو ان لوگوں کے دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرتے ہیں جن کے لیے دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ وہ ان تمام وسائل محرمہ کو بھی ترک کر دیتے ہیں جو فحش کام کے ارتکاب کی دعوت دیتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے۔‘‘ یعنی ان کے پاس جانے میں ﴿ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾’’ان پر کوئی علامت نہیں۔‘‘ یعنی اس مقام میں جماع کرنے پر، جو کھیتی کا مقام ہے، ان پر کوئی ملامت نہیں۔﴿ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ﴾ پس جو بیوی اور لونڈی کے علاوہ تلاش کریں۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔‘‘ یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے اس سے تجاوز کر کے اس میں پڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ آیت کریمہ نکاحِ متعہ (اورمروجہ حلالہ) کی حرمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ زوجۂ مقصود ہے نہ لونڈی۔
[32]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اورانھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اوروہ امانتیں جواموال اور اسرار کے بارے میں ہیں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر قائم رہا اور اسے پورا کیا یا اس نے اسے دور پھینک دیا، اس میں خیانت کی اور اس پر قائم نہ رہا؟
[33]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِشَهٰؔدٰؔتِهِمۡ قَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں، وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قائم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَقِيۡمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ﴾(الطلاق:65؍2) ’’اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔‘‘ اور فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ﴾(النساء:4؍135) ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ ، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ یہ گواہی خود تمھارے خلاف، تمھارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
[34]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ﴾ ’’اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی بہترین طریقے سے اس پر مداومت کے ذریعے سے اس کی حفاطت کرتے ہیں۔
[35]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی جو لوگ ان صفات سے موصوف ہیں وہ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ مُّكۡرَمُوۡنَ﴾ ’’جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام و تکریم اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے نوازے گا جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ وہ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت و خیر کو اوصاف کاملہ، اخلاق فاضلہ سے موصوف کیا ہے، یعنی عبادت بدنیہ ، مثلاً: نماز اور اس پر مداومت۔ اعمال قلبیہ ، مثلاً: خشیت الٰہی جو ہر بھلائی کو دعوت دیتی ہے، عبادات مالیہ، عقائد نافعہ، اخلاق فاضلہ، اللہ تعالیٰ سے معاملہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے بہترین معاملہ، یعنی ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کے حقوق اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرنا ایسے افعال سے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر کے عفت کامل اختیار کرنا۔
المعارج 70:25
بلاشبہ انسان پیدا کیا گیا تھڑدلا(19) جب پہنچتی ہے اسے برائی، تو بہت جزع فزع کرتا ہے (20) اور جب پہنچتی ہے اسے بھلائی تو نہایت بخیل ہے (21) مگر وہ نمازی (22) جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں (23) اور وہ لوگ کہ ان کے مالوں میں حق ہے مقرر (24) سوالی اور محروم کے لیے (25) اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں یوم جزا کی (26) اور وہ لوگ کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (27) بلاشبہ عذاب ان کے رب کا (ایسا) ہے کہ نہ بے خوف ہوا جائے(اس سے)(28) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں(29) مگر اپنی بیویوں سے اور جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، تو بلاشبہ وہ نہیں ملامت زدہ (30) پس جو کوئی تلاش کرے علاوہ اس کے تو وہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (31) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (32) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شہادتوں پر قائم رہنے والے ہیں (33) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (34) یہی لوگ باغوں میں معزز ہوں گے (35)
[21,19] یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بے صبرا ہے، پھر ’’بے صبرے‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا﴾ پس اگر کبھی اس پر فقر یا کسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال و متاع، گھر والوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر ہی راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَّاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا﴾ ’’اورجب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بے صبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
[23,22]﴿ اِلَّا الۡمُصَلِّيۡنَ﴾ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں، کیونکہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے، جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ ان کے وصف میں فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ دَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں۔ وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بے وقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
[25,24]﴿ وَالَّذِيۡنَ فِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ﴾ ’’اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔‘‘ یعنی زکاۃ اور صدقات میں سے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ﴾ ’’سائل کے لیے۔‘‘ جو سوال کرتا ہے ﴿ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ ’’اور محروم کے لیے۔‘‘ یہ وہ مسکین ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا کہ لوگ اسے عطا کریں اور نہ اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔
[26]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُصَدِّقُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ یعنی جزا و سزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انھیں اس پر یقین ہے، پس وہ آخرت کے لیے تیاری کرتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح کوشش کرتے ہیں، قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں، تصدیق لازم آتی ہے۔
[28,27]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ یعنی اپنے رب کے عذاب سے خائف اور ڈرتے ہیں اس لیے وہ ہر اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے قریب کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمۡ غَيۡرُ مَاۡمُوۡنٍ﴾ ’’بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونےوالی چیز نہیں ہے۔‘‘ یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا اور بچا جاتا ہے۔
[31-29]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ پس وہ اپنی شرم گاہوں کے ذریعے سے ایسی مجامعت نہیں کرتے جو حرام قرار دی گئی ہو ، یعنی زنا، سدومیت (قوم لوط والا عمل ) ، بیوی کی دبر میں مجامعت اور حالت حیض وغیرہ میں مجامعت سے بچتے ہیں،نیز وہ اپنی شرم گاہوں کو ان لوگوں کے دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرتے ہیں جن کے لیے دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ وہ ان تمام وسائل محرمہ کو بھی ترک کر دیتے ہیں جو فحش کام کے ارتکاب کی دعوت دیتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے۔‘‘ یعنی ان کے پاس جانے میں ﴿ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾’’ان پر کوئی علامت نہیں۔‘‘ یعنی اس مقام میں جماع کرنے پر، جو کھیتی کا مقام ہے، ان پر کوئی ملامت نہیں۔﴿ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ﴾ پس جو بیوی اور لونڈی کے علاوہ تلاش کریں۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔‘‘ یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے اس سے تجاوز کر کے اس میں پڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ آیت کریمہ نکاحِ متعہ (اورمروجہ حلالہ) کی حرمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ زوجۂ مقصود ہے نہ لونڈی۔
[32]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اورانھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اوروہ امانتیں جواموال اور اسرار کے بارے میں ہیں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر قائم رہا اور اسے پورا کیا یا اس نے اسے دور پھینک دیا، اس میں خیانت کی اور اس پر قائم نہ رہا؟
[33]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِشَهٰؔدٰؔتِهِمۡ قَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں، وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قائم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَقِيۡمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ﴾(الطلاق:65؍2) ’’اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔‘‘ اور فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ﴾(النساء:4؍135) ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ ، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ یہ گواہی خود تمھارے خلاف، تمھارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
[34]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ﴾ ’’اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی بہترین طریقے سے اس پر مداومت کے ذریعے سے اس کی حفاطت کرتے ہیں۔
[35]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی جو لوگ ان صفات سے موصوف ہیں وہ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ مُّكۡرَمُوۡنَ﴾ ’’جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام و تکریم اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے نوازے گا جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ وہ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت و خیر کو اوصاف کاملہ، اخلاق فاضلہ سے موصوف کیا ہے، یعنی عبادت بدنیہ ، مثلاً: نماز اور اس پر مداومت۔ اعمال قلبیہ ، مثلاً: خشیت الٰہی جو ہر بھلائی کو دعوت دیتی ہے، عبادات مالیہ، عقائد نافعہ، اخلاق فاضلہ، اللہ تعالیٰ سے معاملہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے بہترین معاملہ، یعنی ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کے حقوق اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرنا ایسے افعال سے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر کے عفت کامل اختیار کرنا۔
المعارج 70:26
بلاشبہ انسان پیدا کیا گیا تھڑدلا(19) جب پہنچتی ہے اسے برائی، تو بہت جزع فزع کرتا ہے (20) اور جب پہنچتی ہے اسے بھلائی تو نہایت بخیل ہے (21) مگر وہ نمازی (22) جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں (23) اور وہ لوگ کہ ان کے مالوں میں حق ہے مقرر (24) سوالی اور محروم کے لیے (25) اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں یوم جزا کی (26) اور وہ لوگ کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (27) بلاشبہ عذاب ان کے رب کا (ایسا) ہے کہ نہ بے خوف ہوا جائے(اس سے)(28) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں(29) مگر اپنی بیویوں سے اور جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، تو بلاشبہ وہ نہیں ملامت زدہ (30) پس جو کوئی تلاش کرے علاوہ اس کے تو وہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (31) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (32) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شہادتوں پر قائم رہنے والے ہیں (33) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (34) یہی لوگ باغوں میں معزز ہوں گے (35)
[21,19] یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بے صبرا ہے، پھر ’’بے صبرے‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا﴾ پس اگر کبھی اس پر فقر یا کسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال و متاع، گھر والوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر ہی راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَّاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا﴾ ’’اورجب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بے صبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
[23,22]﴿ اِلَّا الۡمُصَلِّيۡنَ﴾ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں، کیونکہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے، جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ ان کے وصف میں فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ دَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں۔ وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بے وقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
[25,24]﴿ وَالَّذِيۡنَ فِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ﴾ ’’اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔‘‘ یعنی زکاۃ اور صدقات میں سے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ﴾ ’’سائل کے لیے۔‘‘ جو سوال کرتا ہے ﴿ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ ’’اور محروم کے لیے۔‘‘ یہ وہ مسکین ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا کہ لوگ اسے عطا کریں اور نہ اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔
[26]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُصَدِّقُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ یعنی جزا و سزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انھیں اس پر یقین ہے، پس وہ آخرت کے لیے تیاری کرتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح کوشش کرتے ہیں، قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں، تصدیق لازم آتی ہے۔
[28,27]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ یعنی اپنے رب کے عذاب سے خائف اور ڈرتے ہیں اس لیے وہ ہر اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے قریب کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمۡ غَيۡرُ مَاۡمُوۡنٍ﴾ ’’بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونےوالی چیز نہیں ہے۔‘‘ یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا اور بچا جاتا ہے۔
[31-29]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ پس وہ اپنی شرم گاہوں کے ذریعے سے ایسی مجامعت نہیں کرتے جو حرام قرار دی گئی ہو ، یعنی زنا، سدومیت (قوم لوط والا عمل ) ، بیوی کی دبر میں مجامعت اور حالت حیض وغیرہ میں مجامعت سے بچتے ہیں،نیز وہ اپنی شرم گاہوں کو ان لوگوں کے دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرتے ہیں جن کے لیے دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ وہ ان تمام وسائل محرمہ کو بھی ترک کر دیتے ہیں جو فحش کام کے ارتکاب کی دعوت دیتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے۔‘‘ یعنی ان کے پاس جانے میں ﴿ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾’’ان پر کوئی علامت نہیں۔‘‘ یعنی اس مقام میں جماع کرنے پر، جو کھیتی کا مقام ہے، ان پر کوئی ملامت نہیں۔﴿ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ﴾ پس جو بیوی اور لونڈی کے علاوہ تلاش کریں۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔‘‘ یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے اس سے تجاوز کر کے اس میں پڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ آیت کریمہ نکاحِ متعہ (اورمروجہ حلالہ) کی حرمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ زوجۂ مقصود ہے نہ لونڈی۔
[32]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اورانھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اوروہ امانتیں جواموال اور اسرار کے بارے میں ہیں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر قائم رہا اور اسے پورا کیا یا اس نے اسے دور پھینک دیا، اس میں خیانت کی اور اس پر قائم نہ رہا؟
[33]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِشَهٰؔدٰؔتِهِمۡ قَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں، وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قائم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَقِيۡمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ﴾(الطلاق:65؍2) ’’اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔‘‘ اور فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ﴾(النساء:4؍135) ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ ، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ یہ گواہی خود تمھارے خلاف، تمھارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
[34]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ﴾ ’’اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی بہترین طریقے سے اس پر مداومت کے ذریعے سے اس کی حفاطت کرتے ہیں۔
[35]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی جو لوگ ان صفات سے موصوف ہیں وہ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ مُّكۡرَمُوۡنَ﴾ ’’جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام و تکریم اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے نوازے گا جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ وہ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت و خیر کو اوصاف کاملہ، اخلاق فاضلہ سے موصوف کیا ہے، یعنی عبادت بدنیہ ، مثلاً: نماز اور اس پر مداومت۔ اعمال قلبیہ ، مثلاً: خشیت الٰہی جو ہر بھلائی کو دعوت دیتی ہے، عبادات مالیہ، عقائد نافعہ، اخلاق فاضلہ، اللہ تعالیٰ سے معاملہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے بہترین معاملہ، یعنی ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کے حقوق اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرنا ایسے افعال سے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر کے عفت کامل اختیار کرنا۔
المعارج 70:27
بلاشبہ انسان پیدا کیا گیا تھڑدلا(19) جب پہنچتی ہے اسے برائی، تو بہت جزع فزع کرتا ہے (20) اور جب پہنچتی ہے اسے بھلائی تو نہایت بخیل ہے (21) مگر وہ نمازی (22) جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں (23) اور وہ لوگ کہ ان کے مالوں میں حق ہے مقرر (24) سوالی اور محروم کے لیے (25) اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں یوم جزا کی (26) اور وہ لوگ کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (27) بلاشبہ عذاب ان کے رب کا (ایسا) ہے کہ نہ بے خوف ہوا جائے(اس سے)(28) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں(29) مگر اپنی بیویوں سے اور جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، تو بلاشبہ وہ نہیں ملامت زدہ (30) پس جو کوئی تلاش کرے علاوہ اس کے تو وہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (31) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (32) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شہادتوں پر قائم رہنے والے ہیں (33) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (34) یہی لوگ باغوں میں معزز ہوں گے (35)
[21,19] یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بے صبرا ہے، پھر ’’بے صبرے‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا﴾ پس اگر کبھی اس پر فقر یا کسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال و متاع، گھر والوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر ہی راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَّاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا﴾ ’’اورجب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بے صبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
[23,22]﴿ اِلَّا الۡمُصَلِّيۡنَ﴾ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں، کیونکہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے، جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ ان کے وصف میں فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ دَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں۔ وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بے وقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
[25,24]﴿ وَالَّذِيۡنَ فِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ﴾ ’’اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔‘‘ یعنی زکاۃ اور صدقات میں سے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ﴾ ’’سائل کے لیے۔‘‘ جو سوال کرتا ہے ﴿ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ ’’اور محروم کے لیے۔‘‘ یہ وہ مسکین ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا کہ لوگ اسے عطا کریں اور نہ اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔
[26]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُصَدِّقُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ یعنی جزا و سزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انھیں اس پر یقین ہے، پس وہ آخرت کے لیے تیاری کرتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح کوشش کرتے ہیں، قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں، تصدیق لازم آتی ہے۔
[28,27]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ یعنی اپنے رب کے عذاب سے خائف اور ڈرتے ہیں اس لیے وہ ہر اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے قریب کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمۡ غَيۡرُ مَاۡمُوۡنٍ﴾ ’’بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونےوالی چیز نہیں ہے۔‘‘ یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا اور بچا جاتا ہے۔
[31-29]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ پس وہ اپنی شرم گاہوں کے ذریعے سے ایسی مجامعت نہیں کرتے جو حرام قرار دی گئی ہو ، یعنی زنا، سدومیت (قوم لوط والا عمل ) ، بیوی کی دبر میں مجامعت اور حالت حیض وغیرہ میں مجامعت سے بچتے ہیں،نیز وہ اپنی شرم گاہوں کو ان لوگوں کے دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرتے ہیں جن کے لیے دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ وہ ان تمام وسائل محرمہ کو بھی ترک کر دیتے ہیں جو فحش کام کے ارتکاب کی دعوت دیتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے۔‘‘ یعنی ان کے پاس جانے میں ﴿ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾’’ان پر کوئی علامت نہیں۔‘‘ یعنی اس مقام میں جماع کرنے پر، جو کھیتی کا مقام ہے، ان پر کوئی ملامت نہیں۔﴿ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ﴾ پس جو بیوی اور لونڈی کے علاوہ تلاش کریں۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔‘‘ یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے اس سے تجاوز کر کے اس میں پڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ آیت کریمہ نکاحِ متعہ (اورمروجہ حلالہ) کی حرمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ زوجۂ مقصود ہے نہ لونڈی۔
[32]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اورانھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اوروہ امانتیں جواموال اور اسرار کے بارے میں ہیں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر قائم رہا اور اسے پورا کیا یا اس نے اسے دور پھینک دیا، اس میں خیانت کی اور اس پر قائم نہ رہا؟
[33]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِشَهٰؔدٰؔتِهِمۡ قَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں، وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قائم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَقِيۡمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ﴾(الطلاق:65؍2) ’’اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔‘‘ اور فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ﴾(النساء:4؍135) ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ ، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ یہ گواہی خود تمھارے خلاف، تمھارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
[34]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ﴾ ’’اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی بہترین طریقے سے اس پر مداومت کے ذریعے سے اس کی حفاطت کرتے ہیں۔
[35]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی جو لوگ ان صفات سے موصوف ہیں وہ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ مُّكۡرَمُوۡنَ﴾ ’’جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام و تکریم اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے نوازے گا جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ وہ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت و خیر کو اوصاف کاملہ، اخلاق فاضلہ سے موصوف کیا ہے، یعنی عبادت بدنیہ ، مثلاً: نماز اور اس پر مداومت۔ اعمال قلبیہ ، مثلاً: خشیت الٰہی جو ہر بھلائی کو دعوت دیتی ہے، عبادات مالیہ، عقائد نافعہ، اخلاق فاضلہ، اللہ تعالیٰ سے معاملہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے بہترین معاملہ، یعنی ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کے حقوق اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرنا ایسے افعال سے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر کے عفت کامل اختیار کرنا۔
المعارج 70:28
بلاشبہ انسان پیدا کیا گیا تھڑدلا(19) جب پہنچتی ہے اسے برائی، تو بہت جزع فزع کرتا ہے (20) اور جب پہنچتی ہے اسے بھلائی تو نہایت بخیل ہے (21) مگر وہ نمازی (22) جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں (23) اور وہ لوگ کہ ان کے مالوں میں حق ہے مقرر (24) سوالی اور محروم کے لیے (25) اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں یوم جزا کی (26) اور وہ لوگ کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (27) بلاشبہ عذاب ان کے رب کا (ایسا) ہے کہ نہ بے خوف ہوا جائے(اس سے)(28) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں(29) مگر اپنی بیویوں سے اور جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، تو بلاشبہ وہ نہیں ملامت زدہ (30) پس جو کوئی تلاش کرے علاوہ اس کے تو وہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (31) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (32) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شہادتوں پر قائم رہنے والے ہیں (33) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (34) یہی لوگ باغوں میں معزز ہوں گے (35)
[21,19] یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بے صبرا ہے، پھر ’’بے صبرے‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا﴾ پس اگر کبھی اس پر فقر یا کسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال و متاع، گھر والوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر ہی راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَّاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا﴾ ’’اورجب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بے صبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
[23,22]﴿ اِلَّا الۡمُصَلِّيۡنَ﴾ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں، کیونکہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے، جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ ان کے وصف میں فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ دَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں۔ وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بے وقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
[25,24]﴿ وَالَّذِيۡنَ فِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ﴾ ’’اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔‘‘ یعنی زکاۃ اور صدقات میں سے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ﴾ ’’سائل کے لیے۔‘‘ جو سوال کرتا ہے ﴿ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ ’’اور محروم کے لیے۔‘‘ یہ وہ مسکین ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا کہ لوگ اسے عطا کریں اور نہ اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔
[26]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُصَدِّقُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ یعنی جزا و سزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انھیں اس پر یقین ہے، پس وہ آخرت کے لیے تیاری کرتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح کوشش کرتے ہیں، قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں، تصدیق لازم آتی ہے۔
[28,27]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ یعنی اپنے رب کے عذاب سے خائف اور ڈرتے ہیں اس لیے وہ ہر اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے قریب کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمۡ غَيۡرُ مَاۡمُوۡنٍ﴾ ’’بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونےوالی چیز نہیں ہے۔‘‘ یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا اور بچا جاتا ہے۔
[31-29]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ پس وہ اپنی شرم گاہوں کے ذریعے سے ایسی مجامعت نہیں کرتے جو حرام قرار دی گئی ہو ، یعنی زنا، سدومیت (قوم لوط والا عمل ) ، بیوی کی دبر میں مجامعت اور حالت حیض وغیرہ میں مجامعت سے بچتے ہیں،نیز وہ اپنی شرم گاہوں کو ان لوگوں کے دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرتے ہیں جن کے لیے دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ وہ ان تمام وسائل محرمہ کو بھی ترک کر دیتے ہیں جو فحش کام کے ارتکاب کی دعوت دیتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے۔‘‘ یعنی ان کے پاس جانے میں ﴿ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾’’ان پر کوئی علامت نہیں۔‘‘ یعنی اس مقام میں جماع کرنے پر، جو کھیتی کا مقام ہے، ان پر کوئی ملامت نہیں۔﴿ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ﴾ پس جو بیوی اور لونڈی کے علاوہ تلاش کریں۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔‘‘ یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے اس سے تجاوز کر کے اس میں پڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ آیت کریمہ نکاحِ متعہ (اورمروجہ حلالہ) کی حرمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ زوجۂ مقصود ہے نہ لونڈی۔
[32]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اورانھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اوروہ امانتیں جواموال اور اسرار کے بارے میں ہیں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر قائم رہا اور اسے پورا کیا یا اس نے اسے دور پھینک دیا، اس میں خیانت کی اور اس پر قائم نہ رہا؟
[33]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِشَهٰؔدٰؔتِهِمۡ قَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں، وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قائم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَقِيۡمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ﴾(الطلاق:65؍2) ’’اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔‘‘ اور فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ﴾(النساء:4؍135) ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ ، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ یہ گواہی خود تمھارے خلاف، تمھارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
[34]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ﴾ ’’اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی بہترین طریقے سے اس پر مداومت کے ذریعے سے اس کی حفاطت کرتے ہیں۔
[35]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی جو لوگ ان صفات سے موصوف ہیں وہ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ مُّكۡرَمُوۡنَ﴾ ’’جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام و تکریم اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے نوازے گا جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ وہ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت و خیر کو اوصاف کاملہ، اخلاق فاضلہ سے موصوف کیا ہے، یعنی عبادت بدنیہ ، مثلاً: نماز اور اس پر مداومت۔ اعمال قلبیہ ، مثلاً: خشیت الٰہی جو ہر بھلائی کو دعوت دیتی ہے، عبادات مالیہ، عقائد نافعہ، اخلاق فاضلہ، اللہ تعالیٰ سے معاملہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے بہترین معاملہ، یعنی ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کے حقوق اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرنا ایسے افعال سے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر کے عفت کامل اختیار کرنا۔
المعارج 70:29
بلاشبہ انسان پیدا کیا گیا تھڑدلا(19) جب پہنچتی ہے اسے برائی، تو بہت جزع فزع کرتا ہے (20) اور جب پہنچتی ہے اسے بھلائی تو نہایت بخیل ہے (21) مگر وہ نمازی (22) جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں (23) اور وہ لوگ کہ ان کے مالوں میں حق ہے مقرر (24) سوالی اور محروم کے لیے (25) اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں یوم جزا کی (26) اور وہ لوگ کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (27) بلاشبہ عذاب ان کے رب کا (ایسا) ہے کہ نہ بے خوف ہوا جائے(اس سے)(28) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں(29) مگر اپنی بیویوں سے اور جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، تو بلاشبہ وہ نہیں ملامت زدہ (30) پس جو کوئی تلاش کرے علاوہ اس کے تو وہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (31) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (32) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شہادتوں پر قائم رہنے والے ہیں (33) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (34) یہی لوگ باغوں میں معزز ہوں گے (35)
[21,19] یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بے صبرا ہے، پھر ’’بے صبرے‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا﴾ پس اگر کبھی اس پر فقر یا کسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال و متاع، گھر والوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر ہی راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَّاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا﴾ ’’اورجب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بے صبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
[23,22]﴿ اِلَّا الۡمُصَلِّيۡنَ﴾ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں، کیونکہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے، جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ ان کے وصف میں فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ دَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں۔ وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بے وقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
[25,24]﴿ وَالَّذِيۡنَ فِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ﴾ ’’اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔‘‘ یعنی زکاۃ اور صدقات میں سے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ﴾ ’’سائل کے لیے۔‘‘ جو سوال کرتا ہے ﴿ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ ’’اور محروم کے لیے۔‘‘ یہ وہ مسکین ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا کہ لوگ اسے عطا کریں اور نہ اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔
[26]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُصَدِّقُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ یعنی جزا و سزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انھیں اس پر یقین ہے، پس وہ آخرت کے لیے تیاری کرتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح کوشش کرتے ہیں، قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں، تصدیق لازم آتی ہے۔
[28,27]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ یعنی اپنے رب کے عذاب سے خائف اور ڈرتے ہیں اس لیے وہ ہر اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے قریب کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمۡ غَيۡرُ مَاۡمُوۡنٍ﴾ ’’بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونےوالی چیز نہیں ہے۔‘‘ یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا اور بچا جاتا ہے۔
[31-29]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ پس وہ اپنی شرم گاہوں کے ذریعے سے ایسی مجامعت نہیں کرتے جو حرام قرار دی گئی ہو ، یعنی زنا، سدومیت (قوم لوط والا عمل ) ، بیوی کی دبر میں مجامعت اور حالت حیض وغیرہ میں مجامعت سے بچتے ہیں،نیز وہ اپنی شرم گاہوں کو ان لوگوں کے دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرتے ہیں جن کے لیے دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ وہ ان تمام وسائل محرمہ کو بھی ترک کر دیتے ہیں جو فحش کام کے ارتکاب کی دعوت دیتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے۔‘‘ یعنی ان کے پاس جانے میں ﴿ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾’’ان پر کوئی علامت نہیں۔‘‘ یعنی اس مقام میں جماع کرنے پر، جو کھیتی کا مقام ہے، ان پر کوئی ملامت نہیں۔﴿ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ﴾ پس جو بیوی اور لونڈی کے علاوہ تلاش کریں۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔‘‘ یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے اس سے تجاوز کر کے اس میں پڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ آیت کریمہ نکاحِ متعہ (اورمروجہ حلالہ) کی حرمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ زوجۂ مقصود ہے نہ لونڈی۔
[32]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اورانھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اوروہ امانتیں جواموال اور اسرار کے بارے میں ہیں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر قائم رہا اور اسے پورا کیا یا اس نے اسے دور پھینک دیا، اس میں خیانت کی اور اس پر قائم نہ رہا؟
[33]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِشَهٰؔدٰؔتِهِمۡ قَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں، وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قائم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَقِيۡمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ﴾(الطلاق:65؍2) ’’اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔‘‘ اور فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ﴾(النساء:4؍135) ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ ، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ یہ گواہی خود تمھارے خلاف، تمھارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
[34]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ﴾ ’’اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی بہترین طریقے سے اس پر مداومت کے ذریعے سے اس کی حفاطت کرتے ہیں۔
[35]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی جو لوگ ان صفات سے موصوف ہیں وہ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ مُّكۡرَمُوۡنَ﴾ ’’جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام و تکریم اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے نوازے گا جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ وہ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت و خیر کو اوصاف کاملہ، اخلاق فاضلہ سے موصوف کیا ہے، یعنی عبادت بدنیہ ، مثلاً: نماز اور اس پر مداومت۔ اعمال قلبیہ ، مثلاً: خشیت الٰہی جو ہر بھلائی کو دعوت دیتی ہے، عبادات مالیہ، عقائد نافعہ، اخلاق فاضلہ، اللہ تعالیٰ سے معاملہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے بہترین معاملہ، یعنی ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کے حقوق اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرنا ایسے افعال سے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر کے عفت کامل اختیار کرنا۔
المعارج 70:30
بلاشبہ انسان پیدا کیا گیا تھڑدلا(19) جب پہنچتی ہے اسے برائی، تو بہت جزع فزع کرتا ہے (20) اور جب پہنچتی ہے اسے بھلائی تو نہایت بخیل ہے (21) مگر وہ نمازی (22) جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں (23) اور وہ لوگ کہ ان کے مالوں میں حق ہے مقرر (24) سوالی اور محروم کے لیے (25) اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں یوم جزا کی (26) اور وہ لوگ کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (27) بلاشبہ عذاب ان کے رب کا (ایسا) ہے کہ نہ بے خوف ہوا جائے(اس سے)(28) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں(29) مگر اپنی بیویوں سے اور جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، تو بلاشبہ وہ نہیں ملامت زدہ (30) پس جو کوئی تلاش کرے علاوہ اس کے تو وہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (31) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (32) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شہادتوں پر قائم رہنے والے ہیں (33) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (34) یہی لوگ باغوں میں معزز ہوں گے (35)
[21,19] یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بے صبرا ہے، پھر ’’بے صبرے‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا﴾ پس اگر کبھی اس پر فقر یا کسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال و متاع، گھر والوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر ہی راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَّاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا﴾ ’’اورجب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بے صبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
[23,22]﴿ اِلَّا الۡمُصَلِّيۡنَ﴾ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں، کیونکہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے، جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ ان کے وصف میں فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ دَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں۔ وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بے وقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
[25,24]﴿ وَالَّذِيۡنَ فِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ﴾ ’’اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔‘‘ یعنی زکاۃ اور صدقات میں سے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ﴾ ’’سائل کے لیے۔‘‘ جو سوال کرتا ہے ﴿ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ ’’اور محروم کے لیے۔‘‘ یہ وہ مسکین ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا کہ لوگ اسے عطا کریں اور نہ اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔
[26]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُصَدِّقُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ یعنی جزا و سزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انھیں اس پر یقین ہے، پس وہ آخرت کے لیے تیاری کرتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح کوشش کرتے ہیں، قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں، تصدیق لازم آتی ہے۔
[28,27]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ یعنی اپنے رب کے عذاب سے خائف اور ڈرتے ہیں اس لیے وہ ہر اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے قریب کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمۡ غَيۡرُ مَاۡمُوۡنٍ﴾ ’’بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونےوالی چیز نہیں ہے۔‘‘ یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا اور بچا جاتا ہے۔
[31-29]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ پس وہ اپنی شرم گاہوں کے ذریعے سے ایسی مجامعت نہیں کرتے جو حرام قرار دی گئی ہو ، یعنی زنا، سدومیت (قوم لوط والا عمل ) ، بیوی کی دبر میں مجامعت اور حالت حیض وغیرہ میں مجامعت سے بچتے ہیں،نیز وہ اپنی شرم گاہوں کو ان لوگوں کے دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرتے ہیں جن کے لیے دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ وہ ان تمام وسائل محرمہ کو بھی ترک کر دیتے ہیں جو فحش کام کے ارتکاب کی دعوت دیتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے۔‘‘ یعنی ان کے پاس جانے میں ﴿ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾’’ان پر کوئی علامت نہیں۔‘‘ یعنی اس مقام میں جماع کرنے پر، جو کھیتی کا مقام ہے، ان پر کوئی ملامت نہیں۔﴿ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ﴾ پس جو بیوی اور لونڈی کے علاوہ تلاش کریں۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔‘‘ یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے اس سے تجاوز کر کے اس میں پڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ آیت کریمہ نکاحِ متعہ (اورمروجہ حلالہ) کی حرمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ زوجۂ مقصود ہے نہ لونڈی۔
[32]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اورانھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اوروہ امانتیں جواموال اور اسرار کے بارے میں ہیں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر قائم رہا اور اسے پورا کیا یا اس نے اسے دور پھینک دیا، اس میں خیانت کی اور اس پر قائم نہ رہا؟
[33]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِشَهٰؔدٰؔتِهِمۡ قَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں، وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قائم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَقِيۡمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ﴾(الطلاق:65؍2) ’’اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔‘‘ اور فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ﴾(النساء:4؍135) ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ ، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ یہ گواہی خود تمھارے خلاف، تمھارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
[34]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ﴾ ’’اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی بہترین طریقے سے اس پر مداومت کے ذریعے سے اس کی حفاطت کرتے ہیں۔
[35]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی جو لوگ ان صفات سے موصوف ہیں وہ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ مُّكۡرَمُوۡنَ﴾ ’’جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام و تکریم اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے نوازے گا جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ وہ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت و خیر کو اوصاف کاملہ، اخلاق فاضلہ سے موصوف کیا ہے، یعنی عبادت بدنیہ ، مثلاً: نماز اور اس پر مداومت۔ اعمال قلبیہ ، مثلاً: خشیت الٰہی جو ہر بھلائی کو دعوت دیتی ہے، عبادات مالیہ، عقائد نافعہ، اخلاق فاضلہ، اللہ تعالیٰ سے معاملہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے بہترین معاملہ، یعنی ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کے حقوق اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرنا ایسے افعال سے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر کے عفت کامل اختیار کرنا۔
المعارج 70:31
بلاشبہ انسان پیدا کیا گیا تھڑدلا(19) جب پہنچتی ہے اسے برائی، تو بہت جزع فزع کرتا ہے (20) اور جب پہنچتی ہے اسے بھلائی تو نہایت بخیل ہے (21) مگر وہ نمازی (22) جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں (23) اور وہ لوگ کہ ان کے مالوں میں حق ہے مقرر (24) سوالی اور محروم کے لیے (25) اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں یوم جزا کی (26) اور وہ لوگ کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (27) بلاشبہ عذاب ان کے رب کا (ایسا) ہے کہ نہ بے خوف ہوا جائے(اس سے)(28) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں(29) مگر اپنی بیویوں سے اور جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، تو بلاشبہ وہ نہیں ملامت زدہ (30) پس جو کوئی تلاش کرے علاوہ اس کے تو وہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (31) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (32) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شہادتوں پر قائم رہنے والے ہیں (33) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (34) یہی لوگ باغوں میں معزز ہوں گے (35)
[21,19] یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بے صبرا ہے، پھر ’’بے صبرے‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا﴾ پس اگر کبھی اس پر فقر یا کسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال و متاع، گھر والوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر ہی راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَّاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا﴾ ’’اورجب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بے صبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
[23,22]﴿ اِلَّا الۡمُصَلِّيۡنَ﴾ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں، کیونکہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے، جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ ان کے وصف میں فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ دَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں۔ وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بے وقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
[25,24]﴿ وَالَّذِيۡنَ فِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ﴾ ’’اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔‘‘ یعنی زکاۃ اور صدقات میں سے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ﴾ ’’سائل کے لیے۔‘‘ جو سوال کرتا ہے ﴿ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ ’’اور محروم کے لیے۔‘‘ یہ وہ مسکین ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا کہ لوگ اسے عطا کریں اور نہ اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔
[26]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُصَدِّقُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ یعنی جزا و سزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انھیں اس پر یقین ہے، پس وہ آخرت کے لیے تیاری کرتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح کوشش کرتے ہیں، قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں، تصدیق لازم آتی ہے۔
[28,27]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ یعنی اپنے رب کے عذاب سے خائف اور ڈرتے ہیں اس لیے وہ ہر اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے قریب کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمۡ غَيۡرُ مَاۡمُوۡنٍ﴾ ’’بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونےوالی چیز نہیں ہے۔‘‘ یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا اور بچا جاتا ہے۔
[31-29]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ پس وہ اپنی شرم گاہوں کے ذریعے سے ایسی مجامعت نہیں کرتے جو حرام قرار دی گئی ہو ، یعنی زنا، سدومیت (قوم لوط والا عمل ) ، بیوی کی دبر میں مجامعت اور حالت حیض وغیرہ میں مجامعت سے بچتے ہیں،نیز وہ اپنی شرم گاہوں کو ان لوگوں کے دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرتے ہیں جن کے لیے دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ وہ ان تمام وسائل محرمہ کو بھی ترک کر دیتے ہیں جو فحش کام کے ارتکاب کی دعوت دیتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے۔‘‘ یعنی ان کے پاس جانے میں ﴿ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾’’ان پر کوئی علامت نہیں۔‘‘ یعنی اس مقام میں جماع کرنے پر، جو کھیتی کا مقام ہے، ان پر کوئی ملامت نہیں۔﴿ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ﴾ پس جو بیوی اور لونڈی کے علاوہ تلاش کریں۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔‘‘ یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے اس سے تجاوز کر کے اس میں پڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ آیت کریمہ نکاحِ متعہ (اورمروجہ حلالہ) کی حرمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ زوجۂ مقصود ہے نہ لونڈی۔
[32]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اورانھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اوروہ امانتیں جواموال اور اسرار کے بارے میں ہیں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر قائم رہا اور اسے پورا کیا یا اس نے اسے دور پھینک دیا، اس میں خیانت کی اور اس پر قائم نہ رہا؟
[33]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِشَهٰؔدٰؔتِهِمۡ قَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں، وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قائم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَقِيۡمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ﴾(الطلاق:65؍2) ’’اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔‘‘ اور فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ﴾(النساء:4؍135) ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ ، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ یہ گواہی خود تمھارے خلاف، تمھارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
[34]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ﴾ ’’اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی بہترین طریقے سے اس پر مداومت کے ذریعے سے اس کی حفاطت کرتے ہیں۔
[35]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی جو لوگ ان صفات سے موصوف ہیں وہ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ مُّكۡرَمُوۡنَ﴾ ’’جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام و تکریم اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے نوازے گا جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ وہ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت و خیر کو اوصاف کاملہ، اخلاق فاضلہ سے موصوف کیا ہے، یعنی عبادت بدنیہ ، مثلاً: نماز اور اس پر مداومت۔ اعمال قلبیہ ، مثلاً: خشیت الٰہی جو ہر بھلائی کو دعوت دیتی ہے، عبادات مالیہ، عقائد نافعہ، اخلاق فاضلہ، اللہ تعالیٰ سے معاملہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے بہترین معاملہ، یعنی ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کے حقوق اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرنا ایسے افعال سے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر کے عفت کامل اختیار کرنا۔
المعارج 70:32
بلاشبہ انسان پیدا کیا گیا تھڑدلا(19) جب پہنچتی ہے اسے برائی، تو بہت جزع فزع کرتا ہے (20) اور جب پہنچتی ہے اسے بھلائی تو نہایت بخیل ہے (21) مگر وہ نمازی (22) جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں (23) اور وہ لوگ کہ ان کے مالوں میں حق ہے مقرر (24) سوالی اور محروم کے لیے (25) اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں یوم جزا کی (26) اور وہ لوگ کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (27) بلاشبہ عذاب ان کے رب کا (ایسا) ہے کہ نہ بے خوف ہوا جائے(اس سے)(28) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں(29) مگر اپنی بیویوں سے اور جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، تو بلاشبہ وہ نہیں ملامت زدہ (30) پس جو کوئی تلاش کرے علاوہ اس کے تو وہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (31) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (32) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شہادتوں پر قائم رہنے والے ہیں (33) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (34) یہی لوگ باغوں میں معزز ہوں گے (35)
[21,19] یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بے صبرا ہے، پھر ’’بے صبرے‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا﴾ پس اگر کبھی اس پر فقر یا کسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال و متاع، گھر والوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر ہی راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَّاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا﴾ ’’اورجب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بے صبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
[23,22]﴿ اِلَّا الۡمُصَلِّيۡنَ﴾ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں، کیونکہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے، جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ ان کے وصف میں فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ دَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں۔ وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بے وقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
[25,24]﴿ وَالَّذِيۡنَ فِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ﴾ ’’اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔‘‘ یعنی زکاۃ اور صدقات میں سے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ﴾ ’’سائل کے لیے۔‘‘ جو سوال کرتا ہے ﴿ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ ’’اور محروم کے لیے۔‘‘ یہ وہ مسکین ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا کہ لوگ اسے عطا کریں اور نہ اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔
[26]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُصَدِّقُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ یعنی جزا و سزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انھیں اس پر یقین ہے، پس وہ آخرت کے لیے تیاری کرتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح کوشش کرتے ہیں، قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں، تصدیق لازم آتی ہے۔
[28,27]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ یعنی اپنے رب کے عذاب سے خائف اور ڈرتے ہیں اس لیے وہ ہر اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے قریب کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمۡ غَيۡرُ مَاۡمُوۡنٍ﴾ ’’بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونےوالی چیز نہیں ہے۔‘‘ یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا اور بچا جاتا ہے۔
[31-29]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ پس وہ اپنی شرم گاہوں کے ذریعے سے ایسی مجامعت نہیں کرتے جو حرام قرار دی گئی ہو ، یعنی زنا، سدومیت (قوم لوط والا عمل ) ، بیوی کی دبر میں مجامعت اور حالت حیض وغیرہ میں مجامعت سے بچتے ہیں،نیز وہ اپنی شرم گاہوں کو ان لوگوں کے دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرتے ہیں جن کے لیے دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ وہ ان تمام وسائل محرمہ کو بھی ترک کر دیتے ہیں جو فحش کام کے ارتکاب کی دعوت دیتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے۔‘‘ یعنی ان کے پاس جانے میں ﴿ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾’’ان پر کوئی علامت نہیں۔‘‘ یعنی اس مقام میں جماع کرنے پر، جو کھیتی کا مقام ہے، ان پر کوئی ملامت نہیں۔﴿ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ﴾ پس جو بیوی اور لونڈی کے علاوہ تلاش کریں۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔‘‘ یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے اس سے تجاوز کر کے اس میں پڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ آیت کریمہ نکاحِ متعہ (اورمروجہ حلالہ) کی حرمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ زوجۂ مقصود ہے نہ لونڈی۔
[32]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اورانھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اوروہ امانتیں جواموال اور اسرار کے بارے میں ہیں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر قائم رہا اور اسے پورا کیا یا اس نے اسے دور پھینک دیا، اس میں خیانت کی اور اس پر قائم نہ رہا؟
[33]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِشَهٰؔدٰؔتِهِمۡ قَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں، وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قائم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَقِيۡمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ﴾(الطلاق:65؍2) ’’اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔‘‘ اور فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ﴾(النساء:4؍135) ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ ، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ یہ گواہی خود تمھارے خلاف، تمھارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
[34]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ﴾ ’’اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی بہترین طریقے سے اس پر مداومت کے ذریعے سے اس کی حفاطت کرتے ہیں۔
[35]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی جو لوگ ان صفات سے موصوف ہیں وہ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ مُّكۡرَمُوۡنَ﴾ ’’جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام و تکریم اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے نوازے گا جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ وہ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت و خیر کو اوصاف کاملہ، اخلاق فاضلہ سے موصوف کیا ہے، یعنی عبادت بدنیہ ، مثلاً: نماز اور اس پر مداومت۔ اعمال قلبیہ ، مثلاً: خشیت الٰہی جو ہر بھلائی کو دعوت دیتی ہے، عبادات مالیہ، عقائد نافعہ، اخلاق فاضلہ، اللہ تعالیٰ سے معاملہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے بہترین معاملہ، یعنی ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کے حقوق اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرنا ایسے افعال سے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر کے عفت کامل اختیار کرنا۔
المعارج 70:33
بلاشبہ انسان پیدا کیا گیا تھڑدلا(19) جب پہنچتی ہے اسے برائی، تو بہت جزع فزع کرتا ہے (20) اور جب پہنچتی ہے اسے بھلائی تو نہایت بخیل ہے (21) مگر وہ نمازی (22) جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں (23) اور وہ لوگ کہ ان کے مالوں میں حق ہے مقرر (24) سوالی اور محروم کے لیے (25) اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں یوم جزا کی (26) اور وہ لوگ کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (27) بلاشبہ عذاب ان کے رب کا (ایسا) ہے کہ نہ بے خوف ہوا جائے(اس سے)(28) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں(29) مگر اپنی بیویوں سے اور جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، تو بلاشبہ وہ نہیں ملامت زدہ (30) پس جو کوئی تلاش کرے علاوہ اس کے تو وہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (31) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (32) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شہادتوں پر قائم رہنے والے ہیں (33) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (34) یہی لوگ باغوں میں معزز ہوں گے (35)
[21,19] یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بے صبرا ہے، پھر ’’بے صبرے‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا﴾ پس اگر کبھی اس پر فقر یا کسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال و متاع، گھر والوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر ہی راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَّاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا﴾ ’’اورجب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بے صبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
[23,22]﴿ اِلَّا الۡمُصَلِّيۡنَ﴾ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں، کیونکہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے، جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ ان کے وصف میں فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ دَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں۔ وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بے وقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
[25,24]﴿ وَالَّذِيۡنَ فِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ﴾ ’’اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔‘‘ یعنی زکاۃ اور صدقات میں سے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ﴾ ’’سائل کے لیے۔‘‘ جو سوال کرتا ہے ﴿ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ ’’اور محروم کے لیے۔‘‘ یہ وہ مسکین ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا کہ لوگ اسے عطا کریں اور نہ اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔
[26]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُصَدِّقُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ یعنی جزا و سزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انھیں اس پر یقین ہے، پس وہ آخرت کے لیے تیاری کرتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح کوشش کرتے ہیں، قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں، تصدیق لازم آتی ہے۔
[28,27]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ یعنی اپنے رب کے عذاب سے خائف اور ڈرتے ہیں اس لیے وہ ہر اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے قریب کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمۡ غَيۡرُ مَاۡمُوۡنٍ﴾ ’’بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونےوالی چیز نہیں ہے۔‘‘ یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا اور بچا جاتا ہے۔
[31-29]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ پس وہ اپنی شرم گاہوں کے ذریعے سے ایسی مجامعت نہیں کرتے جو حرام قرار دی گئی ہو ، یعنی زنا، سدومیت (قوم لوط والا عمل ) ، بیوی کی دبر میں مجامعت اور حالت حیض وغیرہ میں مجامعت سے بچتے ہیں،نیز وہ اپنی شرم گاہوں کو ان لوگوں کے دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرتے ہیں جن کے لیے دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ وہ ان تمام وسائل محرمہ کو بھی ترک کر دیتے ہیں جو فحش کام کے ارتکاب کی دعوت دیتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے۔‘‘ یعنی ان کے پاس جانے میں ﴿ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾’’ان پر کوئی علامت نہیں۔‘‘ یعنی اس مقام میں جماع کرنے پر، جو کھیتی کا مقام ہے، ان پر کوئی ملامت نہیں۔﴿ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ﴾ پس جو بیوی اور لونڈی کے علاوہ تلاش کریں۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔‘‘ یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے اس سے تجاوز کر کے اس میں پڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ آیت کریمہ نکاحِ متعہ (اورمروجہ حلالہ) کی حرمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ زوجۂ مقصود ہے نہ لونڈی۔
[32]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اورانھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اوروہ امانتیں جواموال اور اسرار کے بارے میں ہیں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر قائم رہا اور اسے پورا کیا یا اس نے اسے دور پھینک دیا، اس میں خیانت کی اور اس پر قائم نہ رہا؟
[33]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِشَهٰؔدٰؔتِهِمۡ قَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں، وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قائم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَقِيۡمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ﴾(الطلاق:65؍2) ’’اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔‘‘ اور فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ﴾(النساء:4؍135) ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ ، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ یہ گواہی خود تمھارے خلاف، تمھارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
[34]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ﴾ ’’اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی بہترین طریقے سے اس پر مداومت کے ذریعے سے اس کی حفاطت کرتے ہیں۔
[35]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی جو لوگ ان صفات سے موصوف ہیں وہ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ مُّكۡرَمُوۡنَ﴾ ’’جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام و تکریم اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے نوازے گا جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ وہ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت و خیر کو اوصاف کاملہ، اخلاق فاضلہ سے موصوف کیا ہے، یعنی عبادت بدنیہ ، مثلاً: نماز اور اس پر مداومت۔ اعمال قلبیہ ، مثلاً: خشیت الٰہی جو ہر بھلائی کو دعوت دیتی ہے، عبادات مالیہ، عقائد نافعہ، اخلاق فاضلہ، اللہ تعالیٰ سے معاملہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے بہترین معاملہ، یعنی ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کے حقوق اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرنا ایسے افعال سے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر کے عفت کامل اختیار کرنا۔
المعارج 70:34
بلاشبہ انسان پیدا کیا گیا تھڑدلا(19) جب پہنچتی ہے اسے برائی، تو بہت جزع فزع کرتا ہے (20) اور جب پہنچتی ہے اسے بھلائی تو نہایت بخیل ہے (21) مگر وہ نمازی (22) جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں (23) اور وہ لوگ کہ ان کے مالوں میں حق ہے مقرر (24) سوالی اور محروم کے لیے (25) اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں یوم جزا کی (26) اور وہ لوگ کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (27) بلاشبہ عذاب ان کے رب کا (ایسا) ہے کہ نہ بے خوف ہوا جائے(اس سے)(28) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں(29) مگر اپنی بیویوں سے اور جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، تو بلاشبہ وہ نہیں ملامت زدہ (30) پس جو کوئی تلاش کرے علاوہ اس کے تو وہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (31) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (32) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شہادتوں پر قائم رہنے والے ہیں (33) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (34) یہی لوگ باغوں میں معزز ہوں گے (35)
[21,19] یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بے صبرا ہے، پھر ’’بے صبرے‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا﴾ پس اگر کبھی اس پر فقر یا کسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال و متاع، گھر والوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر ہی راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَّاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا﴾ ’’اورجب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بے صبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
[23,22]﴿ اِلَّا الۡمُصَلِّيۡنَ﴾ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں، کیونکہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے، جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ ان کے وصف میں فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ دَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں۔ وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بے وقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
[25,24]﴿ وَالَّذِيۡنَ فِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ﴾ ’’اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔‘‘ یعنی زکاۃ اور صدقات میں سے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ﴾ ’’سائل کے لیے۔‘‘ جو سوال کرتا ہے ﴿ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ ’’اور محروم کے لیے۔‘‘ یہ وہ مسکین ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا کہ لوگ اسے عطا کریں اور نہ اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔
[26]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُصَدِّقُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ یعنی جزا و سزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انھیں اس پر یقین ہے، پس وہ آخرت کے لیے تیاری کرتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح کوشش کرتے ہیں، قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں، تصدیق لازم آتی ہے۔
[28,27]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ یعنی اپنے رب کے عذاب سے خائف اور ڈرتے ہیں اس لیے وہ ہر اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے قریب کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمۡ غَيۡرُ مَاۡمُوۡنٍ﴾ ’’بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونےوالی چیز نہیں ہے۔‘‘ یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا اور بچا جاتا ہے۔
[31-29]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ پس وہ اپنی شرم گاہوں کے ذریعے سے ایسی مجامعت نہیں کرتے جو حرام قرار دی گئی ہو ، یعنی زنا، سدومیت (قوم لوط والا عمل ) ، بیوی کی دبر میں مجامعت اور حالت حیض وغیرہ میں مجامعت سے بچتے ہیں،نیز وہ اپنی شرم گاہوں کو ان لوگوں کے دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرتے ہیں جن کے لیے دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ وہ ان تمام وسائل محرمہ کو بھی ترک کر دیتے ہیں جو فحش کام کے ارتکاب کی دعوت دیتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے۔‘‘ یعنی ان کے پاس جانے میں ﴿ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾’’ان پر کوئی علامت نہیں۔‘‘ یعنی اس مقام میں جماع کرنے پر، جو کھیتی کا مقام ہے، ان پر کوئی ملامت نہیں۔﴿ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ﴾ پس جو بیوی اور لونڈی کے علاوہ تلاش کریں۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔‘‘ یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے اس سے تجاوز کر کے اس میں پڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ آیت کریمہ نکاحِ متعہ (اورمروجہ حلالہ) کی حرمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ زوجۂ مقصود ہے نہ لونڈی۔
[32]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اورانھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اوروہ امانتیں جواموال اور اسرار کے بارے میں ہیں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر قائم رہا اور اسے پورا کیا یا اس نے اسے دور پھینک دیا، اس میں خیانت کی اور اس پر قائم نہ رہا؟
[33]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِشَهٰؔدٰؔتِهِمۡ قَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں، وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قائم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَقِيۡمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ﴾(الطلاق:65؍2) ’’اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔‘‘ اور فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ﴾(النساء:4؍135) ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ ، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ یہ گواہی خود تمھارے خلاف، تمھارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
[34]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ﴾ ’’اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی بہترین طریقے سے اس پر مداومت کے ذریعے سے اس کی حفاطت کرتے ہیں۔
[35]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی جو لوگ ان صفات سے موصوف ہیں وہ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ مُّكۡرَمُوۡنَ﴾ ’’جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام و تکریم اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے نوازے گا جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ وہ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت و خیر کو اوصاف کاملہ، اخلاق فاضلہ سے موصوف کیا ہے، یعنی عبادت بدنیہ ، مثلاً: نماز اور اس پر مداومت۔ اعمال قلبیہ ، مثلاً: خشیت الٰہی جو ہر بھلائی کو دعوت دیتی ہے، عبادات مالیہ، عقائد نافعہ، اخلاق فاضلہ، اللہ تعالیٰ سے معاملہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے بہترین معاملہ، یعنی ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کے حقوق اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرنا ایسے افعال سے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر کے عفت کامل اختیار کرنا۔
المعارج 70:35
بلاشبہ انسان پیدا کیا گیا تھڑدلا(19) جب پہنچتی ہے اسے برائی، تو بہت جزع فزع کرتا ہے (20) اور جب پہنچتی ہے اسے بھلائی تو نہایت بخیل ہے (21) مگر وہ نمازی (22) جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں (23) اور وہ لوگ کہ ان کے مالوں میں حق ہے مقرر (24) سوالی اور محروم کے لیے (25) اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں یوم جزا کی (26) اور وہ لوگ کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (27) بلاشبہ عذاب ان کے رب کا (ایسا) ہے کہ نہ بے خوف ہوا جائے(اس سے)(28) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں(29) مگر اپنی بیویوں سے اور جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، تو بلاشبہ وہ نہیں ملامت زدہ (30) پس جو کوئی تلاش کرے علاوہ اس کے تو وہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (31) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (32) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی شہادتوں پر قائم رہنے والے ہیں (33) اور وہ لوگ کہ وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (34) یہی لوگ باغوں میں معزز ہوں گے (35)
[21,19] یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بے صبرا ہے، پھر ’’بے صبرے‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا﴾ پس اگر کبھی اس پر فقر یا کسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال و متاع، گھر والوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر ہی راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَّاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا﴾ ’’اورجب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بے صبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
[23,22]﴿ اِلَّا الۡمُصَلِّيۡنَ﴾ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں، کیونکہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے، جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ ان کے وصف میں فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ دَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں۔ وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بے وقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
[25,24]﴿ وَالَّذِيۡنَ فِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ﴾ ’’اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔‘‘ یعنی زکاۃ اور صدقات میں سے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ﴾ ’’سائل کے لیے۔‘‘ جو سوال کرتا ہے ﴿ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ ’’اور محروم کے لیے۔‘‘ یہ وہ مسکین ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا کہ لوگ اسے عطا کریں اور نہ اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس پر صدقہ کریں۔
[26]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُصَدِّقُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ یعنی جزا و سزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انھیں اس پر یقین ہے، پس وہ آخرت کے لیے تیاری کرتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح کوشش کرتے ہیں، قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں، تصدیق لازم آتی ہے۔
[28,27]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ یعنی اپنے رب کے عذاب سے خائف اور ڈرتے ہیں اس لیے وہ ہر اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے قریب کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمۡ غَيۡرُ مَاۡمُوۡنٍ﴾ ’’بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونےوالی چیز نہیں ہے۔‘‘ یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا اور بچا جاتا ہے۔
[31-29]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ پس وہ اپنی شرم گاہوں کے ذریعے سے ایسی مجامعت نہیں کرتے جو حرام قرار دی گئی ہو ، یعنی زنا، سدومیت (قوم لوط والا عمل ) ، بیوی کی دبر میں مجامعت اور حالت حیض وغیرہ میں مجامعت سے بچتے ہیں،نیز وہ اپنی شرم گاہوں کو ان لوگوں کے دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرتے ہیں جن کے لیے دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ وہ ان تمام وسائل محرمہ کو بھی ترک کر دیتے ہیں جو فحش کام کے ارتکاب کی دعوت دیتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے۔‘‘ یعنی ان کے پاس جانے میں ﴿ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾’’ان پر کوئی علامت نہیں۔‘‘ یعنی اس مقام میں جماع کرنے پر، جو کھیتی کا مقام ہے، ان پر کوئی ملامت نہیں۔﴿ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ﴾ پس جو بیوی اور لونڈی کے علاوہ تلاش کریں۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔‘‘ یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے اس سے تجاوز کر کے اس میں پڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ آیت کریمہ نکاحِ متعہ (اورمروجہ حلالہ) کی حرمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ زوجۂ مقصود ہے نہ لونڈی۔
[32]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اورانھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اوروہ امانتیں جواموال اور اسرار کے بارے میں ہیں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر قائم رہا اور اسے پورا کیا یا اس نے اسے دور پھینک دیا، اس میں خیانت کی اور اس پر قائم نہ رہا؟
[33]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِشَهٰؔدٰؔتِهِمۡ قَآىِٕمُوۡنَ﴾ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں، وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قائم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَقِيۡمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ﴾(الطلاق:65؍2) ’’اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔‘‘ اور فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ﴾(النساء:4؍135) ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ ، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ یہ گواہی خود تمھارے خلاف، تمھارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
[34]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ﴾ ’’اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی بہترین طریقے سے اس پر مداومت کے ذریعے سے اس کی حفاطت کرتے ہیں۔
[35]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی جو لوگ ان صفات سے موصوف ہیں وہ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ مُّكۡرَمُوۡنَ﴾ ’’جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام و تکریم اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے نوازے گا جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ وہ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت و خیر کو اوصاف کاملہ، اخلاق فاضلہ سے موصوف کیا ہے، یعنی عبادت بدنیہ ، مثلاً: نماز اور اس پر مداومت۔ اعمال قلبیہ ، مثلاً: خشیت الٰہی جو ہر بھلائی کو دعوت دیتی ہے، عبادات مالیہ، عقائد نافعہ، اخلاق فاضلہ، اللہ تعالیٰ سے معاملہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے بہترین معاملہ، یعنی ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کے حقوق اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرنا ایسے افعال سے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر کے عفت کامل اختیار کرنا۔
المعارج 70:36
پس کیا ہے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا کہ آپ کی طرف تیزی سے دوڑے آ رہے ہیں (36) دائیں سے اور بائیں سے گروہ در گروہ؟ (37) کیا طمع رکھتا ہے ہر شخص ان میں سے یہ کہ داخل کیا جائے گا وہ نعمت والی جنت میں؟ (38) ہرگز نہیں! بلاشبہ ہم نے پیدا کیا ہے انھیں اس چیز سے کہ وہ (اس کو) جانتے ہیں(39)
[39-36] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کی فریب خوردگی بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ فَمَالِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا قِبَلَكَ مُهۡطِعِيۡنَ﴾ ’’پس ان کافروں کو کیا ہوا ہے کہ تمھاری طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔‘‘ یعنی بڑی سرعت سے ﴿ عَنِ الۡيَمِيۡنِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِيۡنَ﴾’’دائیں بائیں سے گروہ گروہ ہوکر۔‘‘ یعنی متفرق گروہوں اور مختلف جماعتوں میں۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس جو کچھ ہے اسی پر خوش ہے۔﴿ اَيَطۡمَعُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّدۡخَلَ جَنَّةَ نَعِيۡمٍ﴾ ’’کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ نعمت کے باغ میں داخل کیا جائے گا۔‘‘ یعنی کس سبب کی بنا پر وہ توقع رکھتے ہیں جبکہ ان سب کا حال یہ ہے کہ انھوں نے کفر اور رب کائنات کے انکار کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا؟ بنابریں فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ان کی آرزؤ ں کے مطابق ہو گا نہ وہ اپنی قوت کے ذریعے سے ہر وہ چیز حاصل کرسکیں گے جسے وہ چاہیں گے۔ ﴿ اِنَّا خَلَقۡنٰهُمۡ مِّؔمَّا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’ہم نے انھیں اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں اچھل کر گرنے والے پانی سے بنایا جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پس وہ بہت کمزور ہیں، وہ خود اپنے کسی نفع و نقصان کے مالک نہیں، وہ موت پر قادر ہیں نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر۔
المعارج 70:37
پس کیا ہے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا کہ آپ کی طرف تیزی سے دوڑے آ رہے ہیں (36) دائیں سے اور بائیں سے گروہ در گروہ؟ (37) کیا طمع رکھتا ہے ہر شخص ان میں سے یہ کہ داخل کیا جائے گا وہ نعمت والی جنت میں؟ (38) ہرگز نہیں! بلاشبہ ہم نے پیدا کیا ہے انھیں اس چیز سے کہ وہ (اس کو) جانتے ہیں(39)
[39-36] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کی فریب خوردگی بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ فَمَالِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا قِبَلَكَ مُهۡطِعِيۡنَ﴾ ’’پس ان کافروں کو کیا ہوا ہے کہ تمھاری طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔‘‘ یعنی بڑی سرعت سے ﴿ عَنِ الۡيَمِيۡنِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِيۡنَ﴾’’دائیں بائیں سے گروہ گروہ ہوکر۔‘‘ یعنی متفرق گروہوں اور مختلف جماعتوں میں۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس جو کچھ ہے اسی پر خوش ہے۔﴿ اَيَطۡمَعُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّدۡخَلَ جَنَّةَ نَعِيۡمٍ﴾ ’’کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ نعمت کے باغ میں داخل کیا جائے گا۔‘‘ یعنی کس سبب کی بنا پر وہ توقع رکھتے ہیں جبکہ ان سب کا حال یہ ہے کہ انھوں نے کفر اور رب کائنات کے انکار کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا؟ بنابریں فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ان کی آرزؤ ں کے مطابق ہو گا نہ وہ اپنی قوت کے ذریعے سے ہر وہ چیز حاصل کرسکیں گے جسے وہ چاہیں گے۔ ﴿ اِنَّا خَلَقۡنٰهُمۡ مِّؔمَّا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’ہم نے انھیں اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں اچھل کر گرنے والے پانی سے بنایا جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پس وہ بہت کمزور ہیں، وہ خود اپنے کسی نفع و نقصان کے مالک نہیں، وہ موت پر قادر ہیں نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر۔
المعارج 70:38
پس کیا ہے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا کہ آپ کی طرف تیزی سے دوڑے آ رہے ہیں (36) دائیں سے اور بائیں سے گروہ در گروہ؟ (37) کیا طمع رکھتا ہے ہر شخص ان میں سے یہ کہ داخل کیا جائے گا وہ نعمت والی جنت میں؟ (38) ہرگز نہیں! بلاشبہ ہم نے پیدا کیا ہے انھیں اس چیز سے کہ وہ (اس کو) جانتے ہیں(39)
[39-36] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کی فریب خوردگی بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ فَمَالِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا قِبَلَكَ مُهۡطِعِيۡنَ﴾ ’’پس ان کافروں کو کیا ہوا ہے کہ تمھاری طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔‘‘ یعنی بڑی سرعت سے ﴿ عَنِ الۡيَمِيۡنِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِيۡنَ﴾’’دائیں بائیں سے گروہ گروہ ہوکر۔‘‘ یعنی متفرق گروہوں اور مختلف جماعتوں میں۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس جو کچھ ہے اسی پر خوش ہے۔﴿ اَيَطۡمَعُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّدۡخَلَ جَنَّةَ نَعِيۡمٍ﴾ ’’کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ نعمت کے باغ میں داخل کیا جائے گا۔‘‘ یعنی کس سبب کی بنا پر وہ توقع رکھتے ہیں جبکہ ان سب کا حال یہ ہے کہ انھوں نے کفر اور رب کائنات کے انکار کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا؟ بنابریں فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ان کی آرزؤ ں کے مطابق ہو گا نہ وہ اپنی قوت کے ذریعے سے ہر وہ چیز حاصل کرسکیں گے جسے وہ چاہیں گے۔ ﴿ اِنَّا خَلَقۡنٰهُمۡ مِّؔمَّا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’ہم نے انھیں اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں اچھل کر گرنے والے پانی سے بنایا جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پس وہ بہت کمزور ہیں، وہ خود اپنے کسی نفع و نقصان کے مالک نہیں، وہ موت پر قادر ہیں نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر۔
المعارج 70:39
پس کیا ہے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا کہ آپ کی طرف تیزی سے دوڑے آ رہے ہیں (36) دائیں سے اور بائیں سے گروہ در گروہ؟ (37) کیا طمع رکھتا ہے ہر شخص ان میں سے یہ کہ داخل کیا جائے گا وہ نعمت والی جنت میں؟ (38) ہرگز نہیں! بلاشبہ ہم نے پیدا کیا ہے انھیں اس چیز سے کہ وہ (اس کو) جانتے ہیں(39)
[39-36] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کی فریب خوردگی بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ فَمَالِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا قِبَلَكَ مُهۡطِعِيۡنَ﴾ ’’پس ان کافروں کو کیا ہوا ہے کہ تمھاری طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔‘‘ یعنی بڑی سرعت سے ﴿ عَنِ الۡيَمِيۡنِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِيۡنَ﴾’’دائیں بائیں سے گروہ گروہ ہوکر۔‘‘ یعنی متفرق گروہوں اور مختلف جماعتوں میں۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس جو کچھ ہے اسی پر خوش ہے۔﴿ اَيَطۡمَعُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّدۡخَلَ جَنَّةَ نَعِيۡمٍ﴾ ’’کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ نعمت کے باغ میں داخل کیا جائے گا۔‘‘ یعنی کس سبب کی بنا پر وہ توقع رکھتے ہیں جبکہ ان سب کا حال یہ ہے کہ انھوں نے کفر اور رب کائنات کے انکار کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا؟ بنابریں فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ان کی آرزؤ ں کے مطابق ہو گا نہ وہ اپنی قوت کے ذریعے سے ہر وہ چیز حاصل کرسکیں گے جسے وہ چاہیں گے۔ ﴿ اِنَّا خَلَقۡنٰهُمۡ مِّؔمَّا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’ہم نے انھیں اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں اچھل کر گرنے والے پانی سے بنایا جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پس وہ بہت کمزور ہیں، وہ خود اپنے کسی نفع و نقصان کے مالک نہیں، وہ موت پر قادر ہیں نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر۔
المعارج 70:40
پس قسم کھاتا ہوں میں رب کی مشرقوں اور مغربوں کے یقیناً ہم البتہ قادر ہیں (40) اس بات پر کہ ہم بدلے میں لے آئیں بہتر ان سے اور نہیں ہیں ہم عاجز و مغلوب (41) پس آپ چھوڑ دیجیے انھیں کہ وہ مشغول رہیں (باطل میں) اور کھیلتے رہیں یہاں تک کہ ملاقات کریں وہ اپنے اس دن سے جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں وہ (42) جس دن وہ نکلیں گے قبروں سے دوڑتے ہوئے، گویا کہ وہ تھانوں (بتوں) کی طرف دوڑ رہے ہیں (43) جھکی ہوں گی ان کی نگاہیں ڈھانپتی ہو گی ان کو ذلت یہی ہے وہ دن جس کا تھے وہ وعدہ دیے جاتے (44)
[41,40] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشارق و مغارب، سورج، چاند اور ستاروں کی قسم ہے۔ کیونکہ ان میں قیامت پر اور ان کی مانند ایسے لوگ لے آنے میں اس کی قدرت پر بڑی بڑی نشانیاں ہیں جو عین انھی کی طرح ہوں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَنُنۡشِئَؔكُمۡ فِيۡ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾(الواقعہ:56؍61) ’’اور ہم تمھیں ایسے جہان میں پیدا کریں جس کو تم نہیں جانتے۔‘‘ ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِيۡنَ۠﴾ یعنی اگر ہم کسی کو دوبارہ زندہ کریں تو وہ ہم پر سبقت لے جا سکتا ہے اور نہ ہم سے آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ ہمیں عاجز کر سکتا ہے۔
[42] جب حیات بعدالممات اور جزا و سزا متحقق ہو گئی اور وہ اپنی تکذیب اور عدم اطاعت پر جم گئے ﴿ فَذَرۡهُمۡ يَخُوۡضُوۡا وَيَلۡعَبُوۡا﴾ ’’تو آپ ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیلنے میں چھوڑ دیں۔‘‘ یعنی باطل اقوال اور فاسد عقائد میں مشغول اپنے دین سے کھیلتے رہیں، کھاتے پیتے اور مزے اڑاتے رہیں ﴿ حَتّٰى يُلٰقُوۡا يَوۡمَهُمُ الَّذِيۡ يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’حتی کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ اس سے ملاقات کرلیں۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عبرت ناک سزا اور وبال تیار کر رکھا ہے جو ان کے باطل اقوال و عقائد میں مشغول رہنے کا انجام ہے۔
[44,43] پھر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے حال کا ذکر فرمایا جب وہ اس دن کا سامنا کریں گے جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، چنانچہ فرمایا:﴿ يَوۡمَ يَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ﴾ ’’اس دن یہ قبر وں سے نکلیں گے۔‘‘ ﴿ سِرَاعًا﴾ ’’دوڑتے ہوئے۔‘‘ پکارنے والے کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بڑی سرعت سے اس پکار کی طرف لپکیں گے ﴿ كَاَنَّهُمۡ اِلٰى نُصُبٍ يُّوۡفِضُوۡنَ﴾’’جیسے وہ معین نشان کی طرف دوڑ رہےہوں۔‘‘ یعنی گویا کہ وہ ایک نشان کا قصد رکھتے ہیں، وہ اس داعی کی آواز کی نافرمانی کر سکیں گے نہ پکارنے والے کی پکار سے ادھر ادھر التفات کریں گے بلکہ ذلیل و مقہور ہو کر رب کائنات کے سامنے پیش ہوں گے۔﴿ خَاشِعَةً اَبۡصَارُهُمۡ تَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٌ﴾ وہ اس طرح کہ ذلت اور اضطراب ان کے دلوں اور عقلوں پر غالب آ جائیں گے، ان کی نگاہیں جھک جائیں گی، تمام حرکات ساکن اور تمام آوازیں منقطع ہو جائیں گی ، پس یہ حال اور یہ انجام اس دن ہوگا ﴿ الۡيَوۡمُ الَّذِيۡ كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا ‘‘اور اللہ تعالیٰ کے وعدے کا پورا ہونا لا زمی امر ہے۔
المعارج 70:41
پس قسم کھاتا ہوں میں رب کی مشرقوں اور مغربوں کے یقیناً ہم البتہ قادر ہیں (40) اس بات پر کہ ہم بدلے میں لے آئیں بہتر ان سے اور نہیں ہیں ہم عاجز و مغلوب (41) پس آپ چھوڑ دیجیے انھیں کہ وہ مشغول رہیں (باطل میں) اور کھیلتے رہیں یہاں تک کہ ملاقات کریں وہ اپنے اس دن سے جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں وہ (42) جس دن وہ نکلیں گے قبروں سے دوڑتے ہوئے، گویا کہ وہ تھانوں (بتوں) کی طرف دوڑ رہے ہیں (43) جھکی ہوں گی ان کی نگاہیں ڈھانپتی ہو گی ان کو ذلت یہی ہے وہ دن جس کا تھے وہ وعدہ دیے جاتے (44)
[41,40] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشارق و مغارب، سورج، چاند اور ستاروں کی قسم ہے۔ کیونکہ ان میں قیامت پر اور ان کی مانند ایسے لوگ لے آنے میں اس کی قدرت پر بڑی بڑی نشانیاں ہیں جو عین انھی کی طرح ہوں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَنُنۡشِئَؔكُمۡ فِيۡ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾(الواقعہ:56؍61) ’’اور ہم تمھیں ایسے جہان میں پیدا کریں جس کو تم نہیں جانتے۔‘‘ ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِيۡنَ۠﴾ یعنی اگر ہم کسی کو دوبارہ زندہ کریں تو وہ ہم پر سبقت لے جا سکتا ہے اور نہ ہم سے آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ ہمیں عاجز کر سکتا ہے۔
[42] جب حیات بعدالممات اور جزا و سزا متحقق ہو گئی اور وہ اپنی تکذیب اور عدم اطاعت پر جم گئے ﴿ فَذَرۡهُمۡ يَخُوۡضُوۡا وَيَلۡعَبُوۡا﴾ ’’تو آپ ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیلنے میں چھوڑ دیں۔‘‘ یعنی باطل اقوال اور فاسد عقائد میں مشغول اپنے دین سے کھیلتے رہیں، کھاتے پیتے اور مزے اڑاتے رہیں ﴿ حَتّٰى يُلٰقُوۡا يَوۡمَهُمُ الَّذِيۡ يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’حتی کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ اس سے ملاقات کرلیں۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عبرت ناک سزا اور وبال تیار کر رکھا ہے جو ان کے باطل اقوال و عقائد میں مشغول رہنے کا انجام ہے۔
[44,43] پھر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے حال کا ذکر فرمایا جب وہ اس دن کا سامنا کریں گے جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، چنانچہ فرمایا:﴿ يَوۡمَ يَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ﴾ ’’اس دن یہ قبر وں سے نکلیں گے۔‘‘ ﴿ سِرَاعًا﴾ ’’دوڑتے ہوئے۔‘‘ پکارنے والے کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بڑی سرعت سے اس پکار کی طرف لپکیں گے ﴿ كَاَنَّهُمۡ اِلٰى نُصُبٍ يُّوۡفِضُوۡنَ﴾’’جیسے وہ معین نشان کی طرف دوڑ رہےہوں۔‘‘ یعنی گویا کہ وہ ایک نشان کا قصد رکھتے ہیں، وہ اس داعی کی آواز کی نافرمانی کر سکیں گے نہ پکارنے والے کی پکار سے ادھر ادھر التفات کریں گے بلکہ ذلیل و مقہور ہو کر رب کائنات کے سامنے پیش ہوں گے۔﴿ خَاشِعَةً اَبۡصَارُهُمۡ تَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٌ﴾ وہ اس طرح کہ ذلت اور اضطراب ان کے دلوں اور عقلوں پر غالب آ جائیں گے، ان کی نگاہیں جھک جائیں گی، تمام حرکات ساکن اور تمام آوازیں منقطع ہو جائیں گی ، پس یہ حال اور یہ انجام اس دن ہوگا ﴿ الۡيَوۡمُ الَّذِيۡ كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا ‘‘اور اللہ تعالیٰ کے وعدے کا پورا ہونا لا زمی امر ہے۔
المعارج 70:42
پس قسم کھاتا ہوں میں رب کی مشرقوں اور مغربوں کے یقیناً ہم البتہ قادر ہیں (40) اس بات پر کہ ہم بدلے میں لے آئیں بہتر ان سے اور نہیں ہیں ہم عاجز و مغلوب (41) پس آپ چھوڑ دیجیے انھیں کہ وہ مشغول رہیں (باطل میں) اور کھیلتے رہیں یہاں تک کہ ملاقات کریں وہ اپنے اس دن سے جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں وہ (42) جس دن وہ نکلیں گے قبروں سے دوڑتے ہوئے، گویا کہ وہ تھانوں (بتوں) کی طرف دوڑ رہے ہیں (43) جھکی ہوں گی ان کی نگاہیں ڈھانپتی ہو گی ان کو ذلت یہی ہے وہ دن جس کا تھے وہ وعدہ دیے جاتے (44)
[41,40] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشارق و مغارب، سورج، چاند اور ستاروں کی قسم ہے۔ کیونکہ ان میں قیامت پر اور ان کی مانند ایسے لوگ لے آنے میں اس کی قدرت پر بڑی بڑی نشانیاں ہیں جو عین انھی کی طرح ہوں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَنُنۡشِئَؔكُمۡ فِيۡ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾(الواقعہ:56؍61) ’’اور ہم تمھیں ایسے جہان میں پیدا کریں جس کو تم نہیں جانتے۔‘‘ ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِيۡنَ۠﴾ یعنی اگر ہم کسی کو دوبارہ زندہ کریں تو وہ ہم پر سبقت لے جا سکتا ہے اور نہ ہم سے آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ ہمیں عاجز کر سکتا ہے۔
[42] جب حیات بعدالممات اور جزا و سزا متحقق ہو گئی اور وہ اپنی تکذیب اور عدم اطاعت پر جم گئے ﴿ فَذَرۡهُمۡ يَخُوۡضُوۡا وَيَلۡعَبُوۡا﴾ ’’تو آپ ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیلنے میں چھوڑ دیں۔‘‘ یعنی باطل اقوال اور فاسد عقائد میں مشغول اپنے دین سے کھیلتے رہیں، کھاتے پیتے اور مزے اڑاتے رہیں ﴿ حَتّٰى يُلٰقُوۡا يَوۡمَهُمُ الَّذِيۡ يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’حتی کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ اس سے ملاقات کرلیں۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عبرت ناک سزا اور وبال تیار کر رکھا ہے جو ان کے باطل اقوال و عقائد میں مشغول رہنے کا انجام ہے۔
[44,43] پھر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے حال کا ذکر فرمایا جب وہ اس دن کا سامنا کریں گے جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، چنانچہ فرمایا:﴿ يَوۡمَ يَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ﴾ ’’اس دن یہ قبر وں سے نکلیں گے۔‘‘ ﴿ سِرَاعًا﴾ ’’دوڑتے ہوئے۔‘‘ پکارنے والے کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بڑی سرعت سے اس پکار کی طرف لپکیں گے ﴿ كَاَنَّهُمۡ اِلٰى نُصُبٍ يُّوۡفِضُوۡنَ﴾’’جیسے وہ معین نشان کی طرف دوڑ رہےہوں۔‘‘ یعنی گویا کہ وہ ایک نشان کا قصد رکھتے ہیں، وہ اس داعی کی آواز کی نافرمانی کر سکیں گے نہ پکارنے والے کی پکار سے ادھر ادھر التفات کریں گے بلکہ ذلیل و مقہور ہو کر رب کائنات کے سامنے پیش ہوں گے۔﴿ خَاشِعَةً اَبۡصَارُهُمۡ تَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٌ﴾ وہ اس طرح کہ ذلت اور اضطراب ان کے دلوں اور عقلوں پر غالب آ جائیں گے، ان کی نگاہیں جھک جائیں گی، تمام حرکات ساکن اور تمام آوازیں منقطع ہو جائیں گی ، پس یہ حال اور یہ انجام اس دن ہوگا ﴿ الۡيَوۡمُ الَّذِيۡ كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا ‘‘اور اللہ تعالیٰ کے وعدے کا پورا ہونا لا زمی امر ہے۔
المعارج 70:43
پس قسم کھاتا ہوں میں رب کی مشرقوں اور مغربوں کے یقیناً ہم البتہ قادر ہیں (40) اس بات پر کہ ہم بدلے میں لے آئیں بہتر ان سے اور نہیں ہیں ہم عاجز و مغلوب (41) پس آپ چھوڑ دیجیے انھیں کہ وہ مشغول رہیں (باطل میں) اور کھیلتے رہیں یہاں تک کہ ملاقات کریں وہ اپنے اس دن سے جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں وہ (42) جس دن وہ نکلیں گے قبروں سے دوڑتے ہوئے، گویا کہ وہ تھانوں (بتوں) کی طرف دوڑ رہے ہیں (43) جھکی ہوں گی ان کی نگاہیں ڈھانپتی ہو گی ان کو ذلت یہی ہے وہ دن جس کا تھے وہ وعدہ دیے جاتے (44)
[41,40] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشارق و مغارب، سورج، چاند اور ستاروں کی قسم ہے۔ کیونکہ ان میں قیامت پر اور ان کی مانند ایسے لوگ لے آنے میں اس کی قدرت پر بڑی بڑی نشانیاں ہیں جو عین انھی کی طرح ہوں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَنُنۡشِئَؔكُمۡ فِيۡ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾(الواقعہ:56؍61) ’’اور ہم تمھیں ایسے جہان میں پیدا کریں جس کو تم نہیں جانتے۔‘‘ ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِيۡنَ۠﴾ یعنی اگر ہم کسی کو دوبارہ زندہ کریں تو وہ ہم پر سبقت لے جا سکتا ہے اور نہ ہم سے آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ ہمیں عاجز کر سکتا ہے۔
[42] جب حیات بعدالممات اور جزا و سزا متحقق ہو گئی اور وہ اپنی تکذیب اور عدم اطاعت پر جم گئے ﴿ فَذَرۡهُمۡ يَخُوۡضُوۡا وَيَلۡعَبُوۡا﴾ ’’تو آپ ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیلنے میں چھوڑ دیں۔‘‘ یعنی باطل اقوال اور فاسد عقائد میں مشغول اپنے دین سے کھیلتے رہیں، کھاتے پیتے اور مزے اڑاتے رہیں ﴿ حَتّٰى يُلٰقُوۡا يَوۡمَهُمُ الَّذِيۡ يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’حتی کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ اس سے ملاقات کرلیں۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عبرت ناک سزا اور وبال تیار کر رکھا ہے جو ان کے باطل اقوال و عقائد میں مشغول رہنے کا انجام ہے۔
[44,43] پھر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے حال کا ذکر فرمایا جب وہ اس دن کا سامنا کریں گے جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، چنانچہ فرمایا:﴿ يَوۡمَ يَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ﴾ ’’اس دن یہ قبر وں سے نکلیں گے۔‘‘ ﴿ سِرَاعًا﴾ ’’دوڑتے ہوئے۔‘‘ پکارنے والے کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بڑی سرعت سے اس پکار کی طرف لپکیں گے ﴿ كَاَنَّهُمۡ اِلٰى نُصُبٍ يُّوۡفِضُوۡنَ﴾’’جیسے وہ معین نشان کی طرف دوڑ رہےہوں۔‘‘ یعنی گویا کہ وہ ایک نشان کا قصد رکھتے ہیں، وہ اس داعی کی آواز کی نافرمانی کر سکیں گے نہ پکارنے والے کی پکار سے ادھر ادھر التفات کریں گے بلکہ ذلیل و مقہور ہو کر رب کائنات کے سامنے پیش ہوں گے۔﴿ خَاشِعَةً اَبۡصَارُهُمۡ تَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٌ﴾ وہ اس طرح کہ ذلت اور اضطراب ان کے دلوں اور عقلوں پر غالب آ جائیں گے، ان کی نگاہیں جھک جائیں گی، تمام حرکات ساکن اور تمام آوازیں منقطع ہو جائیں گی ، پس یہ حال اور یہ انجام اس دن ہوگا ﴿ الۡيَوۡمُ الَّذِيۡ كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا ‘‘اور اللہ تعالیٰ کے وعدے کا پورا ہونا لا زمی امر ہے۔
المعارج 70:44
پس قسم کھاتا ہوں میں رب کی مشرقوں اور مغربوں کے یقیناً ہم البتہ قادر ہیں (40) اس بات پر کہ ہم بدلے میں لے آئیں بہتر ان سے اور نہیں ہیں ہم عاجز و مغلوب (41) پس آپ چھوڑ دیجیے انھیں کہ وہ مشغول رہیں (باطل میں) اور کھیلتے رہیں یہاں تک کہ ملاقات کریں وہ اپنے اس دن سے جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں وہ (42) جس دن وہ نکلیں گے قبروں سے دوڑتے ہوئے، گویا کہ وہ تھانوں (بتوں) کی طرف دوڑ رہے ہیں (43) جھکی ہوں گی ان کی نگاہیں ڈھانپتی ہو گی ان کو ذلت یہی ہے وہ دن جس کا تھے وہ وعدہ دیے جاتے (44)
[41,40] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشارق و مغارب، سورج، چاند اور ستاروں کی قسم ہے۔ کیونکہ ان میں قیامت پر اور ان کی مانند ایسے لوگ لے آنے میں اس کی قدرت پر بڑی بڑی نشانیاں ہیں جو عین انھی کی طرح ہوں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَنُنۡشِئَؔكُمۡ فِيۡ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾(الواقعہ:56؍61) ’’اور ہم تمھیں ایسے جہان میں پیدا کریں جس کو تم نہیں جانتے۔‘‘ ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِيۡنَ۠﴾ یعنی اگر ہم کسی کو دوبارہ زندہ کریں تو وہ ہم پر سبقت لے جا سکتا ہے اور نہ ہم سے آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ ہمیں عاجز کر سکتا ہے۔
[42] جب حیات بعدالممات اور جزا و سزا متحقق ہو گئی اور وہ اپنی تکذیب اور عدم اطاعت پر جم گئے ﴿ فَذَرۡهُمۡ يَخُوۡضُوۡا وَيَلۡعَبُوۡا﴾ ’’تو آپ ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیلنے میں چھوڑ دیں۔‘‘ یعنی باطل اقوال اور فاسد عقائد میں مشغول اپنے دین سے کھیلتے رہیں، کھاتے پیتے اور مزے اڑاتے رہیں ﴿ حَتّٰى يُلٰقُوۡا يَوۡمَهُمُ الَّذِيۡ يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’حتی کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ اس سے ملاقات کرلیں۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عبرت ناک سزا اور وبال تیار کر رکھا ہے جو ان کے باطل اقوال و عقائد میں مشغول رہنے کا انجام ہے۔
[44,43] پھر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے حال کا ذکر فرمایا جب وہ اس دن کا سامنا کریں گے جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، چنانچہ فرمایا:﴿ يَوۡمَ يَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ﴾ ’’اس دن یہ قبر وں سے نکلیں گے۔‘‘ ﴿ سِرَاعًا﴾ ’’دوڑتے ہوئے۔‘‘ پکارنے والے کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بڑی سرعت سے اس پکار کی طرف لپکیں گے ﴿ كَاَنَّهُمۡ اِلٰى نُصُبٍ يُّوۡفِضُوۡنَ﴾’’جیسے وہ معین نشان کی طرف دوڑ رہےہوں۔‘‘ یعنی گویا کہ وہ ایک نشان کا قصد رکھتے ہیں، وہ اس داعی کی آواز کی نافرمانی کر سکیں گے نہ پکارنے والے کی پکار سے ادھر ادھر التفات کریں گے بلکہ ذلیل و مقہور ہو کر رب کائنات کے سامنے پیش ہوں گے۔﴿ خَاشِعَةً اَبۡصَارُهُمۡ تَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٌ﴾ وہ اس طرح کہ ذلت اور اضطراب ان کے دلوں اور عقلوں پر غالب آ جائیں گے، ان کی نگاہیں جھک جائیں گی، تمام حرکات ساکن اور تمام آوازیں منقطع ہو جائیں گی ، پس یہ حال اور یہ انجام اس دن ہوگا ﴿ الۡيَوۡمُ الَّذِيۡ كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا ‘‘اور اللہ تعالیٰ کے وعدے کا پورا ہونا لا زمی امر ہے۔