Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — المدثر 74:38 – القيامة 75:40

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. المدثر 74:38
  2. المدثر 74:39
  3. المدثر 74:40
  4. المدثر 74:41
  5. المدثر 74:42
  6. المدثر 74:43
  7. المدثر 74:44
  8. المدثر 74:45
  9. المدثر 74:46
  10. المدثر 74:47
  11. المدثر 74:48
  12. المدثر 74:49
  13. المدثر 74:50
  14. المدثر 74:51
  15. المدثر 74:52
  16. المدثر 74:53
  17. المدثر 74:54
  18. المدثر 74:55
  19. المدثر 74:56
  20. القيامة 75:1
  21. القيامة 75:2
  22. القيامة 75:3
  23. القيامة 75:4
  24. القيامة 75:5
  25. القيامة 75:6
  26. القيامة 75:7
  27. القيامة 75:8
  28. القيامة 75:9
  29. القيامة 75:10
  30. القيامة 75:11
  31. القيامة 75:12
  32. القيامة 75:13
  33. القيامة 75:14
  34. القيامة 75:15
  35. القيامة 75:16
  36. القيامة 75:17
  37. القيامة 75:18
  38. القيامة 75:19
  39. القيامة 75:20
  40. القيامة 75:21
  41. القيامة 75:22
  42. القيامة 75:23
  43. القيامة 75:24
  44. القيامة 75:25
  45. القيامة 75:26
  46. القيامة 75:27
  47. القيامة 75:28
  48. القيامة 75:29
  49. القيامة 75:30
  50. القيامة 75:31
  51. القيامة 75:32
  52. القيامة 75:33
  53. القيامة 75:34
  54. القيامة 75:35
  55. القيامة 75:36
  56. القيامة 75:37
  57. القيامة 75:38
  58. القيامة 75:39
  59. القيامة 75:40

المدثر 74:38

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56) [34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔ [37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘ [48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔ [53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔ [56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

المدثر 74:39

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56) [34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔ [37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘ [48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔ [53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔ [56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

المدثر 74:40

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56) [34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔ [37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘ [48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔ [53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔ [56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

المدثر 74:41

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56) [34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔ [37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘ [48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔ [53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔ [56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

المدثر 74:42

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56) [34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔ [37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘ [48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔ [53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔ [56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

المدثر 74:43

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56) [34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔ [37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘ [48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔ [53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔ [56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

المدثر 74:44

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56) [34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔ [37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘ [48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔ [53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔ [56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

المدثر 74:45

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56) [34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔ [37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘ [48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔ [53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔ [56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

المدثر 74:46

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56) [34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔ [37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘ [48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔ [53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔ [56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

المدثر 74:47

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56) [34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔ [37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘ [48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔ [53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔ [56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

المدثر 74:48

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56) [34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔ [37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘ [48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔ [53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔ [56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

المدثر 74:49

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56) [34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔ [37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘ [48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔ [53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔ [56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

المدثر 74:50

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56) [34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔ [37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘ [48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔ [53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔ [56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

المدثر 74:51

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56) [34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔ [37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘ [48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔ [53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔ [56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

المدثر 74:52

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56) [34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔ [37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘ [48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔ [53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔ [56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

المدثر 74:53

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56) [34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔ [37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘ [48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔ [53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔ [56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

المدثر 74:54

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56) [34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔ [37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘ [48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔ [53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔ [56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

المدثر 74:55

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56) [34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔ [37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘ [48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔ [53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔ [56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

المدثر 74:56

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56) [34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔ [37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘ [48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔ [53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔ [56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

القيامة 75:1

میں قسم کھاتا ہوں یوم قیامت کی(1) اور میں قسم کھاتا ہوں نفس ملامت گر کی(2) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ ہرگز نہیں جمع کریں گے ہم اس کی ہڈیاں؟(3) کیوں نہیں!بلکہ (ہم تو) قادر ہیں اس پر کہ درست کر دیں ہم اس کی پور پور کو(4)بلکہ چاہتا ہے انسان کہ فسق و فجور کرتا رہے آئندہ بھی(5) وہ پوچھتا ہے کب ہو گا دن قیامت کا ؟(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1]﴿ لَاۤ اُقۡسِمُ بِيَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔‘‘ (لَاۤ) یہاں نافیہ ہے نہ زائدہ، اسے صرف استفتاح اور ما بعد کلام کے اہتمام کے لیے لایا گیا ہے، قسم کے ساتھ کثرت سے اس کو لانے کی بنا پر استفتاح کے لیے اس کا استعمال نادر نہیں ہے، اگرچہ اس کو استفتاح کلام کے لیے وضع نہیں کیا گیا۔اس مقام پر جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، وہی ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا، لوگوں کو ان کی قبروں سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ، پھر (اللہ تعالیٰ کے حضور) ان کو کھڑا کیا جائے گا، وہ اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔ [2]﴿وَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالنَّفۡسِ اللَّوَّامَةِ﴾ ’’اور نفس لوامہ کی قسم!‘‘ اس سے مراد تمام نیک اور بد نفوس ہیں۔ نفس کو اس کے کثرت تردود، اسے ملامت کرنے اور اپنے احوال میں سے کسی حال پر بھی اس کے عدم ثبات کی بنا پر (لَوَّامۃ) سے موسوم کیا گیا ہے، نیز اس بنا پر اس کو ’’لوامہ‘‘ کہا گیا ہے کہ یہ موت کے وقت انسان کو اس کے افعال پر ملامت کرے گا مگر مومن کا نفس اسے دنیا ہی میں اس کوتاہی، تقصیر اور غفلت پر ملامت کرتا ہے جو حقوق میں سے کسی حق کے بارے میں اس سے ہوتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے جزا کی قسم، جزا پر قسم اور مستحق جزا کو جمع کر دیا۔ [4,3] پھر اس کے ساتھ ساتھ آگاہ فرمایا کہ بعض معاندین قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَلَّنۡ نَّجۡمَعَ عِظَامَهٗ﴾ ’’کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں اکھٹی نہیں کریں گے۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿قَالَ مَنۡ يُّحۡيِ الۡعِظَامَ وَهِيَ رَمِيۡمٌ﴾(یٰسین:36؍78) ’’کہنے لگا: جب ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں گی تو ان کو کون زندگی عطا کرے گا؟‘‘ پس اپنی جہالت اور عدوان کی بنا پر اس نے اللہ تعالیٰ کے ہڈیوں کی تخلیق پر، جو کہ بدن کا سہارا ہیں، قادر ہونے کو بہت بعید سمجھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کا رد کیا:﴿بَلٰى قٰدِرِيۡنَ عَلٰۤى اَنۡ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ﴾ ’’کیوں نہیں! ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کریں۔‘‘ مراد ہے اس کی انگلیوں کی اطراف اور اس کی ہڈیاں اور یہ بدن کے اجزا کی تخلیق کو مستلزم ہے، کیونکہ جب انگلیوں کے اطراف اور پور وجود میں آ گئے تو جسد کی تخلیق ہو گئی۔ [6,5] اس کا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار کرنا کسی دلیل پر منحصر نہیں جو اس پر دلالت کرتی ہو، یہ بات تو اس سے صرف اس بنا پر صادر ہوئی ہے کہ اس کا ارادہ اور قصد قیامت کے دن کو جھٹلانا ہے جو اس کے سامنے ہے۔ یہاں (فُجُورٌ) کا معنی جان بوجھ کر جھوٹ بولنا ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے احوال کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:

القيامة 75:2

میں قسم کھاتا ہوں یوم قیامت کی(1) اور میں قسم کھاتا ہوں نفس ملامت گر کی(2) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ ہرگز نہیں جمع کریں گے ہم اس کی ہڈیاں؟(3) کیوں نہیں!بلکہ (ہم تو) قادر ہیں اس پر کہ درست کر دیں ہم اس کی پور پور کو(4)بلکہ چاہتا ہے انسان کہ فسق و فجور کرتا رہے آئندہ بھی(5) وہ پوچھتا ہے کب ہو گا دن قیامت کا ؟(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1]﴿ لَاۤ اُقۡسِمُ بِيَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔‘‘ (لَاۤ) یہاں نافیہ ہے نہ زائدہ، اسے صرف استفتاح اور ما بعد کلام کے اہتمام کے لیے لایا گیا ہے، قسم کے ساتھ کثرت سے اس کو لانے کی بنا پر استفتاح کے لیے اس کا استعمال نادر نہیں ہے، اگرچہ اس کو استفتاح کلام کے لیے وضع نہیں کیا گیا۔اس مقام پر جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، وہی ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا، لوگوں کو ان کی قبروں سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ، پھر (اللہ تعالیٰ کے حضور) ان کو کھڑا کیا جائے گا، وہ اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔ [2]﴿وَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالنَّفۡسِ اللَّوَّامَةِ﴾ ’’اور نفس لوامہ کی قسم!‘‘ اس سے مراد تمام نیک اور بد نفوس ہیں۔ نفس کو اس کے کثرت تردود، اسے ملامت کرنے اور اپنے احوال میں سے کسی حال پر بھی اس کے عدم ثبات کی بنا پر (لَوَّامۃ) سے موسوم کیا گیا ہے، نیز اس بنا پر اس کو ’’لوامہ‘‘ کہا گیا ہے کہ یہ موت کے وقت انسان کو اس کے افعال پر ملامت کرے گا مگر مومن کا نفس اسے دنیا ہی میں اس کوتاہی، تقصیر اور غفلت پر ملامت کرتا ہے جو حقوق میں سے کسی حق کے بارے میں اس سے ہوتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے جزا کی قسم، جزا پر قسم اور مستحق جزا کو جمع کر دیا۔ [4,3] پھر اس کے ساتھ ساتھ آگاہ فرمایا کہ بعض معاندین قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَلَّنۡ نَّجۡمَعَ عِظَامَهٗ﴾ ’’کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں اکھٹی نہیں کریں گے۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿قَالَ مَنۡ يُّحۡيِ الۡعِظَامَ وَهِيَ رَمِيۡمٌ﴾(یٰسین:36؍78) ’’کہنے لگا: جب ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں گی تو ان کو کون زندگی عطا کرے گا؟‘‘ پس اپنی جہالت اور عدوان کی بنا پر اس نے اللہ تعالیٰ کے ہڈیوں کی تخلیق پر، جو کہ بدن کا سہارا ہیں، قادر ہونے کو بہت بعید سمجھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کا رد کیا:﴿بَلٰى قٰدِرِيۡنَ عَلٰۤى اَنۡ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ﴾ ’’کیوں نہیں! ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کریں۔‘‘ مراد ہے اس کی انگلیوں کی اطراف اور اس کی ہڈیاں اور یہ بدن کے اجزا کی تخلیق کو مستلزم ہے، کیونکہ جب انگلیوں کے اطراف اور پور وجود میں آ گئے تو جسد کی تخلیق ہو گئی۔ [6,5] اس کا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار کرنا کسی دلیل پر منحصر نہیں جو اس پر دلالت کرتی ہو، یہ بات تو اس سے صرف اس بنا پر صادر ہوئی ہے کہ اس کا ارادہ اور قصد قیامت کے دن کو جھٹلانا ہے جو اس کے سامنے ہے۔ یہاں (فُجُورٌ) کا معنی جان بوجھ کر جھوٹ بولنا ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے احوال کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:

القيامة 75:3

میں قسم کھاتا ہوں یوم قیامت کی(1) اور میں قسم کھاتا ہوں نفس ملامت گر کی(2) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ ہرگز نہیں جمع کریں گے ہم اس کی ہڈیاں؟(3) کیوں نہیں!بلکہ (ہم تو) قادر ہیں اس پر کہ درست کر دیں ہم اس کی پور پور کو(4)بلکہ چاہتا ہے انسان کہ فسق و فجور کرتا رہے آئندہ بھی(5) وہ پوچھتا ہے کب ہو گا دن قیامت کا ؟(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1]﴿ لَاۤ اُقۡسِمُ بِيَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔‘‘ (لَاۤ) یہاں نافیہ ہے نہ زائدہ، اسے صرف استفتاح اور ما بعد کلام کے اہتمام کے لیے لایا گیا ہے، قسم کے ساتھ کثرت سے اس کو لانے کی بنا پر استفتاح کے لیے اس کا استعمال نادر نہیں ہے، اگرچہ اس کو استفتاح کلام کے لیے وضع نہیں کیا گیا۔اس مقام پر جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، وہی ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا، لوگوں کو ان کی قبروں سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ، پھر (اللہ تعالیٰ کے حضور) ان کو کھڑا کیا جائے گا، وہ اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔ [2]﴿وَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالنَّفۡسِ اللَّوَّامَةِ﴾ ’’اور نفس لوامہ کی قسم!‘‘ اس سے مراد تمام نیک اور بد نفوس ہیں۔ نفس کو اس کے کثرت تردود، اسے ملامت کرنے اور اپنے احوال میں سے کسی حال پر بھی اس کے عدم ثبات کی بنا پر (لَوَّامۃ) سے موسوم کیا گیا ہے، نیز اس بنا پر اس کو ’’لوامہ‘‘ کہا گیا ہے کہ یہ موت کے وقت انسان کو اس کے افعال پر ملامت کرے گا مگر مومن کا نفس اسے دنیا ہی میں اس کوتاہی، تقصیر اور غفلت پر ملامت کرتا ہے جو حقوق میں سے کسی حق کے بارے میں اس سے ہوتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے جزا کی قسم، جزا پر قسم اور مستحق جزا کو جمع کر دیا۔ [4,3] پھر اس کے ساتھ ساتھ آگاہ فرمایا کہ بعض معاندین قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَلَّنۡ نَّجۡمَعَ عِظَامَهٗ﴾ ’’کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں اکھٹی نہیں کریں گے۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿قَالَ مَنۡ يُّحۡيِ الۡعِظَامَ وَهِيَ رَمِيۡمٌ﴾(یٰسین:36؍78) ’’کہنے لگا: جب ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں گی تو ان کو کون زندگی عطا کرے گا؟‘‘ پس اپنی جہالت اور عدوان کی بنا پر اس نے اللہ تعالیٰ کے ہڈیوں کی تخلیق پر، جو کہ بدن کا سہارا ہیں، قادر ہونے کو بہت بعید سمجھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کا رد کیا:﴿بَلٰى قٰدِرِيۡنَ عَلٰۤى اَنۡ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ﴾ ’’کیوں نہیں! ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کریں۔‘‘ مراد ہے اس کی انگلیوں کی اطراف اور اس کی ہڈیاں اور یہ بدن کے اجزا کی تخلیق کو مستلزم ہے، کیونکہ جب انگلیوں کے اطراف اور پور وجود میں آ گئے تو جسد کی تخلیق ہو گئی۔ [6,5] اس کا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار کرنا کسی دلیل پر منحصر نہیں جو اس پر دلالت کرتی ہو، یہ بات تو اس سے صرف اس بنا پر صادر ہوئی ہے کہ اس کا ارادہ اور قصد قیامت کے دن کو جھٹلانا ہے جو اس کے سامنے ہے۔ یہاں (فُجُورٌ) کا معنی جان بوجھ کر جھوٹ بولنا ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے احوال کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:

القيامة 75:4

میں قسم کھاتا ہوں یوم قیامت کی(1) اور میں قسم کھاتا ہوں نفس ملامت گر کی(2) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ ہرگز نہیں جمع کریں گے ہم اس کی ہڈیاں؟(3) کیوں نہیں!بلکہ (ہم تو) قادر ہیں اس پر کہ درست کر دیں ہم اس کی پور پور کو(4)بلکہ چاہتا ہے انسان کہ فسق و فجور کرتا رہے آئندہ بھی(5) وہ پوچھتا ہے کب ہو گا دن قیامت کا ؟(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1]﴿ لَاۤ اُقۡسِمُ بِيَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔‘‘ (لَاۤ) یہاں نافیہ ہے نہ زائدہ، اسے صرف استفتاح اور ما بعد کلام کے اہتمام کے لیے لایا گیا ہے، قسم کے ساتھ کثرت سے اس کو لانے کی بنا پر استفتاح کے لیے اس کا استعمال نادر نہیں ہے، اگرچہ اس کو استفتاح کلام کے لیے وضع نہیں کیا گیا۔اس مقام پر جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، وہی ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا، لوگوں کو ان کی قبروں سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ، پھر (اللہ تعالیٰ کے حضور) ان کو کھڑا کیا جائے گا، وہ اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔ [2]﴿وَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالنَّفۡسِ اللَّوَّامَةِ﴾ ’’اور نفس لوامہ کی قسم!‘‘ اس سے مراد تمام نیک اور بد نفوس ہیں۔ نفس کو اس کے کثرت تردود، اسے ملامت کرنے اور اپنے احوال میں سے کسی حال پر بھی اس کے عدم ثبات کی بنا پر (لَوَّامۃ) سے موسوم کیا گیا ہے، نیز اس بنا پر اس کو ’’لوامہ‘‘ کہا گیا ہے کہ یہ موت کے وقت انسان کو اس کے افعال پر ملامت کرے گا مگر مومن کا نفس اسے دنیا ہی میں اس کوتاہی، تقصیر اور غفلت پر ملامت کرتا ہے جو حقوق میں سے کسی حق کے بارے میں اس سے ہوتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے جزا کی قسم، جزا پر قسم اور مستحق جزا کو جمع کر دیا۔ [4,3] پھر اس کے ساتھ ساتھ آگاہ فرمایا کہ بعض معاندین قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَلَّنۡ نَّجۡمَعَ عِظَامَهٗ﴾ ’’کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں اکھٹی نہیں کریں گے۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿قَالَ مَنۡ يُّحۡيِ الۡعِظَامَ وَهِيَ رَمِيۡمٌ﴾(یٰسین:36؍78) ’’کہنے لگا: جب ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں گی تو ان کو کون زندگی عطا کرے گا؟‘‘ پس اپنی جہالت اور عدوان کی بنا پر اس نے اللہ تعالیٰ کے ہڈیوں کی تخلیق پر، جو کہ بدن کا سہارا ہیں، قادر ہونے کو بہت بعید سمجھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کا رد کیا:﴿بَلٰى قٰدِرِيۡنَ عَلٰۤى اَنۡ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ﴾ ’’کیوں نہیں! ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کریں۔‘‘ مراد ہے اس کی انگلیوں کی اطراف اور اس کی ہڈیاں اور یہ بدن کے اجزا کی تخلیق کو مستلزم ہے، کیونکہ جب انگلیوں کے اطراف اور پور وجود میں آ گئے تو جسد کی تخلیق ہو گئی۔ [6,5] اس کا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار کرنا کسی دلیل پر منحصر نہیں جو اس پر دلالت کرتی ہو، یہ بات تو اس سے صرف اس بنا پر صادر ہوئی ہے کہ اس کا ارادہ اور قصد قیامت کے دن کو جھٹلانا ہے جو اس کے سامنے ہے۔ یہاں (فُجُورٌ) کا معنی جان بوجھ کر جھوٹ بولنا ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے احوال کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:

القيامة 75:5

میں قسم کھاتا ہوں یوم قیامت کی(1) اور میں قسم کھاتا ہوں نفس ملامت گر کی(2) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ ہرگز نہیں جمع کریں گے ہم اس کی ہڈیاں؟(3) کیوں نہیں!بلکہ (ہم تو) قادر ہیں اس پر کہ درست کر دیں ہم اس کی پور پور کو(4)بلکہ چاہتا ہے انسان کہ فسق و فجور کرتا رہے آئندہ بھی(5) وہ پوچھتا ہے کب ہو گا دن قیامت کا ؟(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1]﴿ لَاۤ اُقۡسِمُ بِيَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔‘‘ (لَاۤ) یہاں نافیہ ہے نہ زائدہ، اسے صرف استفتاح اور ما بعد کلام کے اہتمام کے لیے لایا گیا ہے، قسم کے ساتھ کثرت سے اس کو لانے کی بنا پر استفتاح کے لیے اس کا استعمال نادر نہیں ہے، اگرچہ اس کو استفتاح کلام کے لیے وضع نہیں کیا گیا۔اس مقام پر جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، وہی ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا، لوگوں کو ان کی قبروں سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ، پھر (اللہ تعالیٰ کے حضور) ان کو کھڑا کیا جائے گا، وہ اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔ [2]﴿وَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالنَّفۡسِ اللَّوَّامَةِ﴾ ’’اور نفس لوامہ کی قسم!‘‘ اس سے مراد تمام نیک اور بد نفوس ہیں۔ نفس کو اس کے کثرت تردود، اسے ملامت کرنے اور اپنے احوال میں سے کسی حال پر بھی اس کے عدم ثبات کی بنا پر (لَوَّامۃ) سے موسوم کیا گیا ہے، نیز اس بنا پر اس کو ’’لوامہ‘‘ کہا گیا ہے کہ یہ موت کے وقت انسان کو اس کے افعال پر ملامت کرے گا مگر مومن کا نفس اسے دنیا ہی میں اس کوتاہی، تقصیر اور غفلت پر ملامت کرتا ہے جو حقوق میں سے کسی حق کے بارے میں اس سے ہوتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے جزا کی قسم، جزا پر قسم اور مستحق جزا کو جمع کر دیا۔ [4,3] پھر اس کے ساتھ ساتھ آگاہ فرمایا کہ بعض معاندین قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَلَّنۡ نَّجۡمَعَ عِظَامَهٗ﴾ ’’کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں اکھٹی نہیں کریں گے۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿قَالَ مَنۡ يُّحۡيِ الۡعِظَامَ وَهِيَ رَمِيۡمٌ﴾(یٰسین:36؍78) ’’کہنے لگا: جب ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں گی تو ان کو کون زندگی عطا کرے گا؟‘‘ پس اپنی جہالت اور عدوان کی بنا پر اس نے اللہ تعالیٰ کے ہڈیوں کی تخلیق پر، جو کہ بدن کا سہارا ہیں، قادر ہونے کو بہت بعید سمجھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کا رد کیا:﴿بَلٰى قٰدِرِيۡنَ عَلٰۤى اَنۡ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ﴾ ’’کیوں نہیں! ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کریں۔‘‘ مراد ہے اس کی انگلیوں کی اطراف اور اس کی ہڈیاں اور یہ بدن کے اجزا کی تخلیق کو مستلزم ہے، کیونکہ جب انگلیوں کے اطراف اور پور وجود میں آ گئے تو جسد کی تخلیق ہو گئی۔ [6,5] اس کا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار کرنا کسی دلیل پر منحصر نہیں جو اس پر دلالت کرتی ہو، یہ بات تو اس سے صرف اس بنا پر صادر ہوئی ہے کہ اس کا ارادہ اور قصد قیامت کے دن کو جھٹلانا ہے جو اس کے سامنے ہے۔ یہاں (فُجُورٌ) کا معنی جان بوجھ کر جھوٹ بولنا ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے احوال کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:

القيامة 75:6

میں قسم کھاتا ہوں یوم قیامت کی(1) اور میں قسم کھاتا ہوں نفس ملامت گر کی(2) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ ہرگز نہیں جمع کریں گے ہم اس کی ہڈیاں؟(3) کیوں نہیں!بلکہ (ہم تو) قادر ہیں اس پر کہ درست کر دیں ہم اس کی پور پور کو(4)بلکہ چاہتا ہے انسان کہ فسق و فجور کرتا رہے آئندہ بھی(5) وہ پوچھتا ہے کب ہو گا دن قیامت کا ؟(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1]﴿ لَاۤ اُقۡسِمُ بِيَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔‘‘ (لَاۤ) یہاں نافیہ ہے نہ زائدہ، اسے صرف استفتاح اور ما بعد کلام کے اہتمام کے لیے لایا گیا ہے، قسم کے ساتھ کثرت سے اس کو لانے کی بنا پر استفتاح کے لیے اس کا استعمال نادر نہیں ہے، اگرچہ اس کو استفتاح کلام کے لیے وضع نہیں کیا گیا۔اس مقام پر جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، وہی ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا، لوگوں کو ان کی قبروں سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ، پھر (اللہ تعالیٰ کے حضور) ان کو کھڑا کیا جائے گا، وہ اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔ [2]﴿وَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالنَّفۡسِ اللَّوَّامَةِ﴾ ’’اور نفس لوامہ کی قسم!‘‘ اس سے مراد تمام نیک اور بد نفوس ہیں۔ نفس کو اس کے کثرت تردود، اسے ملامت کرنے اور اپنے احوال میں سے کسی حال پر بھی اس کے عدم ثبات کی بنا پر (لَوَّامۃ) سے موسوم کیا گیا ہے، نیز اس بنا پر اس کو ’’لوامہ‘‘ کہا گیا ہے کہ یہ موت کے وقت انسان کو اس کے افعال پر ملامت کرے گا مگر مومن کا نفس اسے دنیا ہی میں اس کوتاہی، تقصیر اور غفلت پر ملامت کرتا ہے جو حقوق میں سے کسی حق کے بارے میں اس سے ہوتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے جزا کی قسم، جزا پر قسم اور مستحق جزا کو جمع کر دیا۔ [4,3] پھر اس کے ساتھ ساتھ آگاہ فرمایا کہ بعض معاندین قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَلَّنۡ نَّجۡمَعَ عِظَامَهٗ﴾ ’’کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں اکھٹی نہیں کریں گے۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿قَالَ مَنۡ يُّحۡيِ الۡعِظَامَ وَهِيَ رَمِيۡمٌ﴾(یٰسین:36؍78) ’’کہنے لگا: جب ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں گی تو ان کو کون زندگی عطا کرے گا؟‘‘ پس اپنی جہالت اور عدوان کی بنا پر اس نے اللہ تعالیٰ کے ہڈیوں کی تخلیق پر، جو کہ بدن کا سہارا ہیں، قادر ہونے کو بہت بعید سمجھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کا رد کیا:﴿بَلٰى قٰدِرِيۡنَ عَلٰۤى اَنۡ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ﴾ ’’کیوں نہیں! ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کریں۔‘‘ مراد ہے اس کی انگلیوں کی اطراف اور اس کی ہڈیاں اور یہ بدن کے اجزا کی تخلیق کو مستلزم ہے، کیونکہ جب انگلیوں کے اطراف اور پور وجود میں آ گئے تو جسد کی تخلیق ہو گئی۔ [6,5] اس کا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار کرنا کسی دلیل پر منحصر نہیں جو اس پر دلالت کرتی ہو، یہ بات تو اس سے صرف اس بنا پر صادر ہوئی ہے کہ اس کا ارادہ اور قصد قیامت کے دن کو جھٹلانا ہے جو اس کے سامنے ہے۔ یہاں (فُجُورٌ) کا معنی جان بوجھ کر جھوٹ بولنا ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے احوال کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:

القيامة 75:7

پس جب پتھرا جائیں گی آنکھیں(7) اور بے نور ہو جائے گا چاند(8) اور جمع کر دیے جائیں گے سورج اور چاند(9) کہے گا انسان اس دن، کہاں ہے بھاگنا؟ (10) ہرگز نہیں! نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ (11) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن ٹھکانا (12) خبر دیا جائے گا انسان اس دن ساتھ اس کےجو اس نے آگے بھیجا اور (جو) پیچھے چھوڑا (13)بلکہ انسان اپنے نفس پر خوب شاہد ہے (14) اگرچہ وہ پیش کرے اپنی معذرتیں (15) [10-7] یعنی جب قیامت برپا ہو گی عظیم دہشت کی بنا پر نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی اور جھپکیں گی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُۙ۰۰ مُهۡطِعِيۡنَ مُقۡنِـعِيۡ رُءُوۡسِهِمۡ لَا يَرۡتَدُّ اِلَيۡهِمۡ طَرۡفُهُمۡ١ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ هَوَآءٌ﴾(ابراہیم: 14؍42-43) ’’ان کو تو صرف اس دن تک مہلت دیتا ہے جس دن (دہشت کے مارے) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور لوگ منہ اٹھائے دوڑ رہے ہوں گے، ان کی نگاہیں ان کی طرف نہ لوٹ سکیں گی اور (خوف کی وجہ سے)ان کے دل ہوا ہو رہے ہوں گے۔‘‘﴿ وَخَسَفَ الۡقَمَرُ﴾ چاند کی روشنی اور اس کی طاقت زائل ہو جائے گی ﴿ وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ﴾ ’’اور سورج اور چاند جمع کر دیے جائیں گے۔‘‘جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے، وہ کبھی اکٹھے نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو جمع کرے گا، چاند گہنا جائے گا اور سورج کو بے نور کر دیا جائے گا اور ان دونوں کو آگ میں پھینک دیا جائے گا تاکہ بندے دیکھ لیں کہ چاند اور سورج بھی اللہ تعالیٰ کے مسخر ہیں تاکہ جو لوگ ان کی عبادت کرتے تھے وہ دیکھ لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔﴿ يَقُوۡلُ الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اس دن انسان کہے گا۔‘‘ یعنی جب وہ بے قرار کر دینے والے زلزلے دیکھے گا تو پکار اٹھے گا: ﴿ اَيۡنَ الۡمَفَرُّ﴾ ’’آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟‘‘ جو مصیبت ہم پر نازل ہوئی ہے، اس سے گلو خلاصی اور نجات کہاں ہے؟ [13-11]﴿ كَلَّا لَا وَزَرَ﴾ ’’ہرگز نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ٹھکانے کے سوا کسی کے لیے کوئی ٹھکانا نہ ہو گا۔ ﴿ اِلٰى رَبِّكَ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡمُسۡتَقَرُّ﴾ اس روز تمام بندوں کا تیرے رب کے پاس ٹھکانا ہو گا، کسی کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ وہ چھپ سکے یا اس جگہ سے بھاگ سکے، اسے وہاں ضرور ٹھہرایا جائے گا تاکہ اسے اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے، اس لیے فرمایا:﴿ يُنَبَّؤُا الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ﴾ ’’اس دن انسان کو بتا دیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا۔‘‘ انسان کو اس کے اول وقت اور آخروقت کے تمام اچھے برے اعمال کے بارے میں اس کو آگاہ کیا جائے گا اور اس کو ایسی خبر سے آگاہ کیا جائے گا جس کا وہ انکار نہیں کر سکے گا۔ [15,14]﴿ بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰى نَفۡسِهٖ بَصِيۡرَةٌ﴾ ’’بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے۔‘‘ یعنی گواہ اور محاسب ہے ﴿ وَّلَوۡ اَلۡقٰى مَعَاذِيۡرَهٗ﴾ ’’خواہ وہ معذرت پیش کرے۔‘‘ کیونکہ یہ ایسی معذرتیں ہوں گی جو قبول نہ ہوں گی بلکہ وہ اپنے عمل کا اقرار کرے گا اور اس سے اقرار کرایا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِقۡرَاۡ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا﴾(بنی اسرائیل:17؍14) ’’اپنا اعمال نامہ پڑھ، آج تو خود ہی اپنا محاسب کا فی ہے۔‘‘ بندہ خواہ اپنے عمل کا انکار یا اپنے عمل پر معذرت پیش کرے، اس کا انکار اور اعتذار اسے کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ اس کے کان، اس کی آنکھیں اور اس کے تمام جوارح جن کے ذریعے سے وہ عمل کرتا ہے اس کے خلاف گواہی دیں گے، نیز رضا مندی طلب کرنے کا وقت چلا گیا اور اس کا فائدہ ختم ہو گیا ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’اس روز ظالموں کو، ان کی معذرت کوئی فائدہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘

القيامة 75:8

پس جب پتھرا جائیں گی آنکھیں(7) اور بے نور ہو جائے گا چاند(8) اور جمع کر دیے جائیں گے سورج اور چاند(9) کہے گا انسان اس دن، کہاں ہے بھاگنا؟ (10) ہرگز نہیں! نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ (11) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن ٹھکانا (12) خبر دیا جائے گا انسان اس دن ساتھ اس کےجو اس نے آگے بھیجا اور (جو) پیچھے چھوڑا (13)بلکہ انسان اپنے نفس پر خوب شاہد ہے (14) اگرچہ وہ پیش کرے اپنی معذرتیں (15) [10-7] یعنی جب قیامت برپا ہو گی عظیم دہشت کی بنا پر نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی اور جھپکیں گی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُۙ۰۰ مُهۡطِعِيۡنَ مُقۡنِـعِيۡ رُءُوۡسِهِمۡ لَا يَرۡتَدُّ اِلَيۡهِمۡ طَرۡفُهُمۡ١ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ هَوَآءٌ﴾(ابراہیم: 14؍42-43) ’’ان کو تو صرف اس دن تک مہلت دیتا ہے جس دن (دہشت کے مارے) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور لوگ منہ اٹھائے دوڑ رہے ہوں گے، ان کی نگاہیں ان کی طرف نہ لوٹ سکیں گی اور (خوف کی وجہ سے)ان کے دل ہوا ہو رہے ہوں گے۔‘‘﴿ وَخَسَفَ الۡقَمَرُ﴾ چاند کی روشنی اور اس کی طاقت زائل ہو جائے گی ﴿ وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ﴾ ’’اور سورج اور چاند جمع کر دیے جائیں گے۔‘‘جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے، وہ کبھی اکٹھے نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو جمع کرے گا، چاند گہنا جائے گا اور سورج کو بے نور کر دیا جائے گا اور ان دونوں کو آگ میں پھینک دیا جائے گا تاکہ بندے دیکھ لیں کہ چاند اور سورج بھی اللہ تعالیٰ کے مسخر ہیں تاکہ جو لوگ ان کی عبادت کرتے تھے وہ دیکھ لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔﴿ يَقُوۡلُ الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اس دن انسان کہے گا۔‘‘ یعنی جب وہ بے قرار کر دینے والے زلزلے دیکھے گا تو پکار اٹھے گا: ﴿ اَيۡنَ الۡمَفَرُّ﴾ ’’آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟‘‘ جو مصیبت ہم پر نازل ہوئی ہے، اس سے گلو خلاصی اور نجات کہاں ہے؟ [13-11]﴿ كَلَّا لَا وَزَرَ﴾ ’’ہرگز نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ٹھکانے کے سوا کسی کے لیے کوئی ٹھکانا نہ ہو گا۔ ﴿ اِلٰى رَبِّكَ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡمُسۡتَقَرُّ﴾ اس روز تمام بندوں کا تیرے رب کے پاس ٹھکانا ہو گا، کسی کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ وہ چھپ سکے یا اس جگہ سے بھاگ سکے، اسے وہاں ضرور ٹھہرایا جائے گا تاکہ اسے اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے، اس لیے فرمایا:﴿ يُنَبَّؤُا الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ﴾ ’’اس دن انسان کو بتا دیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا۔‘‘ انسان کو اس کے اول وقت اور آخروقت کے تمام اچھے برے اعمال کے بارے میں اس کو آگاہ کیا جائے گا اور اس کو ایسی خبر سے آگاہ کیا جائے گا جس کا وہ انکار نہیں کر سکے گا۔ [15,14]﴿ بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰى نَفۡسِهٖ بَصِيۡرَةٌ﴾ ’’بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے۔‘‘ یعنی گواہ اور محاسب ہے ﴿ وَّلَوۡ اَلۡقٰى مَعَاذِيۡرَهٗ﴾ ’’خواہ وہ معذرت پیش کرے۔‘‘ کیونکہ یہ ایسی معذرتیں ہوں گی جو قبول نہ ہوں گی بلکہ وہ اپنے عمل کا اقرار کرے گا اور اس سے اقرار کرایا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِقۡرَاۡ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا﴾(بنی اسرائیل:17؍14) ’’اپنا اعمال نامہ پڑھ، آج تو خود ہی اپنا محاسب کا فی ہے۔‘‘ بندہ خواہ اپنے عمل کا انکار یا اپنے عمل پر معذرت پیش کرے، اس کا انکار اور اعتذار اسے کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ اس کے کان، اس کی آنکھیں اور اس کے تمام جوارح جن کے ذریعے سے وہ عمل کرتا ہے اس کے خلاف گواہی دیں گے، نیز رضا مندی طلب کرنے کا وقت چلا گیا اور اس کا فائدہ ختم ہو گیا ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’اس روز ظالموں کو، ان کی معذرت کوئی فائدہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘

القيامة 75:9

پس جب پتھرا جائیں گی آنکھیں(7) اور بے نور ہو جائے گا چاند(8) اور جمع کر دیے جائیں گے سورج اور چاند(9) کہے گا انسان اس دن، کہاں ہے بھاگنا؟ (10) ہرگز نہیں! نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ (11) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن ٹھکانا (12) خبر دیا جائے گا انسان اس دن ساتھ اس کےجو اس نے آگے بھیجا اور (جو) پیچھے چھوڑا (13)بلکہ انسان اپنے نفس پر خوب شاہد ہے (14) اگرچہ وہ پیش کرے اپنی معذرتیں (15) [10-7] یعنی جب قیامت برپا ہو گی عظیم دہشت کی بنا پر نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی اور جھپکیں گی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُۙ۰۰ مُهۡطِعِيۡنَ مُقۡنِـعِيۡ رُءُوۡسِهِمۡ لَا يَرۡتَدُّ اِلَيۡهِمۡ طَرۡفُهُمۡ١ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ هَوَآءٌ﴾(ابراہیم: 14؍42-43) ’’ان کو تو صرف اس دن تک مہلت دیتا ہے جس دن (دہشت کے مارے) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور لوگ منہ اٹھائے دوڑ رہے ہوں گے، ان کی نگاہیں ان کی طرف نہ لوٹ سکیں گی اور (خوف کی وجہ سے)ان کے دل ہوا ہو رہے ہوں گے۔‘‘﴿ وَخَسَفَ الۡقَمَرُ﴾ چاند کی روشنی اور اس کی طاقت زائل ہو جائے گی ﴿ وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ﴾ ’’اور سورج اور چاند جمع کر دیے جائیں گے۔‘‘جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے، وہ کبھی اکٹھے نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو جمع کرے گا، چاند گہنا جائے گا اور سورج کو بے نور کر دیا جائے گا اور ان دونوں کو آگ میں پھینک دیا جائے گا تاکہ بندے دیکھ لیں کہ چاند اور سورج بھی اللہ تعالیٰ کے مسخر ہیں تاکہ جو لوگ ان کی عبادت کرتے تھے وہ دیکھ لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔﴿ يَقُوۡلُ الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اس دن انسان کہے گا۔‘‘ یعنی جب وہ بے قرار کر دینے والے زلزلے دیکھے گا تو پکار اٹھے گا: ﴿ اَيۡنَ الۡمَفَرُّ﴾ ’’آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟‘‘ جو مصیبت ہم پر نازل ہوئی ہے، اس سے گلو خلاصی اور نجات کہاں ہے؟ [13-11]﴿ كَلَّا لَا وَزَرَ﴾ ’’ہرگز نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ٹھکانے کے سوا کسی کے لیے کوئی ٹھکانا نہ ہو گا۔ ﴿ اِلٰى رَبِّكَ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡمُسۡتَقَرُّ﴾ اس روز تمام بندوں کا تیرے رب کے پاس ٹھکانا ہو گا، کسی کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ وہ چھپ سکے یا اس جگہ سے بھاگ سکے، اسے وہاں ضرور ٹھہرایا جائے گا تاکہ اسے اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے، اس لیے فرمایا:﴿ يُنَبَّؤُا الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ﴾ ’’اس دن انسان کو بتا دیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا۔‘‘ انسان کو اس کے اول وقت اور آخروقت کے تمام اچھے برے اعمال کے بارے میں اس کو آگاہ کیا جائے گا اور اس کو ایسی خبر سے آگاہ کیا جائے گا جس کا وہ انکار نہیں کر سکے گا۔ [15,14]﴿ بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰى نَفۡسِهٖ بَصِيۡرَةٌ﴾ ’’بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے۔‘‘ یعنی گواہ اور محاسب ہے ﴿ وَّلَوۡ اَلۡقٰى مَعَاذِيۡرَهٗ﴾ ’’خواہ وہ معذرت پیش کرے۔‘‘ کیونکہ یہ ایسی معذرتیں ہوں گی جو قبول نہ ہوں گی بلکہ وہ اپنے عمل کا اقرار کرے گا اور اس سے اقرار کرایا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِقۡرَاۡ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا﴾(بنی اسرائیل:17؍14) ’’اپنا اعمال نامہ پڑھ، آج تو خود ہی اپنا محاسب کا فی ہے۔‘‘ بندہ خواہ اپنے عمل کا انکار یا اپنے عمل پر معذرت پیش کرے، اس کا انکار اور اعتذار اسے کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ اس کے کان، اس کی آنکھیں اور اس کے تمام جوارح جن کے ذریعے سے وہ عمل کرتا ہے اس کے خلاف گواہی دیں گے، نیز رضا مندی طلب کرنے کا وقت چلا گیا اور اس کا فائدہ ختم ہو گیا ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’اس روز ظالموں کو، ان کی معذرت کوئی فائدہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘

القيامة 75:10

پس جب پتھرا جائیں گی آنکھیں(7) اور بے نور ہو جائے گا چاند(8) اور جمع کر دیے جائیں گے سورج اور چاند(9) کہے گا انسان اس دن، کہاں ہے بھاگنا؟ (10) ہرگز نہیں! نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ (11) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن ٹھکانا (12) خبر دیا جائے گا انسان اس دن ساتھ اس کےجو اس نے آگے بھیجا اور (جو) پیچھے چھوڑا (13)بلکہ انسان اپنے نفس پر خوب شاہد ہے (14) اگرچہ وہ پیش کرے اپنی معذرتیں (15) [10-7] یعنی جب قیامت برپا ہو گی عظیم دہشت کی بنا پر نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی اور جھپکیں گی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُۙ۰۰ مُهۡطِعِيۡنَ مُقۡنِـعِيۡ رُءُوۡسِهِمۡ لَا يَرۡتَدُّ اِلَيۡهِمۡ طَرۡفُهُمۡ١ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ هَوَآءٌ﴾(ابراہیم: 14؍42-43) ’’ان کو تو صرف اس دن تک مہلت دیتا ہے جس دن (دہشت کے مارے) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور لوگ منہ اٹھائے دوڑ رہے ہوں گے، ان کی نگاہیں ان کی طرف نہ لوٹ سکیں گی اور (خوف کی وجہ سے)ان کے دل ہوا ہو رہے ہوں گے۔‘‘﴿ وَخَسَفَ الۡقَمَرُ﴾ چاند کی روشنی اور اس کی طاقت زائل ہو جائے گی ﴿ وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ﴾ ’’اور سورج اور چاند جمع کر دیے جائیں گے۔‘‘جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے، وہ کبھی اکٹھے نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو جمع کرے گا، چاند گہنا جائے گا اور سورج کو بے نور کر دیا جائے گا اور ان دونوں کو آگ میں پھینک دیا جائے گا تاکہ بندے دیکھ لیں کہ چاند اور سورج بھی اللہ تعالیٰ کے مسخر ہیں تاکہ جو لوگ ان کی عبادت کرتے تھے وہ دیکھ لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔﴿ يَقُوۡلُ الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اس دن انسان کہے گا۔‘‘ یعنی جب وہ بے قرار کر دینے والے زلزلے دیکھے گا تو پکار اٹھے گا: ﴿ اَيۡنَ الۡمَفَرُّ﴾ ’’آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟‘‘ جو مصیبت ہم پر نازل ہوئی ہے، اس سے گلو خلاصی اور نجات کہاں ہے؟ [13-11]﴿ كَلَّا لَا وَزَرَ﴾ ’’ہرگز نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ٹھکانے کے سوا کسی کے لیے کوئی ٹھکانا نہ ہو گا۔ ﴿ اِلٰى رَبِّكَ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡمُسۡتَقَرُّ﴾ اس روز تمام بندوں کا تیرے رب کے پاس ٹھکانا ہو گا، کسی کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ وہ چھپ سکے یا اس جگہ سے بھاگ سکے، اسے وہاں ضرور ٹھہرایا جائے گا تاکہ اسے اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے، اس لیے فرمایا:﴿ يُنَبَّؤُا الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ﴾ ’’اس دن انسان کو بتا دیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا۔‘‘ انسان کو اس کے اول وقت اور آخروقت کے تمام اچھے برے اعمال کے بارے میں اس کو آگاہ کیا جائے گا اور اس کو ایسی خبر سے آگاہ کیا جائے گا جس کا وہ انکار نہیں کر سکے گا۔ [15,14]﴿ بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰى نَفۡسِهٖ بَصِيۡرَةٌ﴾ ’’بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے۔‘‘ یعنی گواہ اور محاسب ہے ﴿ وَّلَوۡ اَلۡقٰى مَعَاذِيۡرَهٗ﴾ ’’خواہ وہ معذرت پیش کرے۔‘‘ کیونکہ یہ ایسی معذرتیں ہوں گی جو قبول نہ ہوں گی بلکہ وہ اپنے عمل کا اقرار کرے گا اور اس سے اقرار کرایا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِقۡرَاۡ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا﴾(بنی اسرائیل:17؍14) ’’اپنا اعمال نامہ پڑھ، آج تو خود ہی اپنا محاسب کا فی ہے۔‘‘ بندہ خواہ اپنے عمل کا انکار یا اپنے عمل پر معذرت پیش کرے، اس کا انکار اور اعتذار اسے کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ اس کے کان، اس کی آنکھیں اور اس کے تمام جوارح جن کے ذریعے سے وہ عمل کرتا ہے اس کے خلاف گواہی دیں گے، نیز رضا مندی طلب کرنے کا وقت چلا گیا اور اس کا فائدہ ختم ہو گیا ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’اس روز ظالموں کو، ان کی معذرت کوئی فائدہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘

القيامة 75:11

پس جب پتھرا جائیں گی آنکھیں(7) اور بے نور ہو جائے گا چاند(8) اور جمع کر دیے جائیں گے سورج اور چاند(9) کہے گا انسان اس دن، کہاں ہے بھاگنا؟ (10) ہرگز نہیں! نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ (11) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن ٹھکانا (12) خبر دیا جائے گا انسان اس دن ساتھ اس کےجو اس نے آگے بھیجا اور (جو) پیچھے چھوڑا (13)بلکہ انسان اپنے نفس پر خوب شاہد ہے (14) اگرچہ وہ پیش کرے اپنی معذرتیں (15) [10-7] یعنی جب قیامت برپا ہو گی عظیم دہشت کی بنا پر نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی اور جھپکیں گی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُۙ۰۰ مُهۡطِعِيۡنَ مُقۡنِـعِيۡ رُءُوۡسِهِمۡ لَا يَرۡتَدُّ اِلَيۡهِمۡ طَرۡفُهُمۡ١ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ هَوَآءٌ﴾(ابراہیم: 14؍42-43) ’’ان کو تو صرف اس دن تک مہلت دیتا ہے جس دن (دہشت کے مارے) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور لوگ منہ اٹھائے دوڑ رہے ہوں گے، ان کی نگاہیں ان کی طرف نہ لوٹ سکیں گی اور (خوف کی وجہ سے)ان کے دل ہوا ہو رہے ہوں گے۔‘‘﴿ وَخَسَفَ الۡقَمَرُ﴾ چاند کی روشنی اور اس کی طاقت زائل ہو جائے گی ﴿ وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ﴾ ’’اور سورج اور چاند جمع کر دیے جائیں گے۔‘‘جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے، وہ کبھی اکٹھے نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو جمع کرے گا، چاند گہنا جائے گا اور سورج کو بے نور کر دیا جائے گا اور ان دونوں کو آگ میں پھینک دیا جائے گا تاکہ بندے دیکھ لیں کہ چاند اور سورج بھی اللہ تعالیٰ کے مسخر ہیں تاکہ جو لوگ ان کی عبادت کرتے تھے وہ دیکھ لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔﴿ يَقُوۡلُ الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اس دن انسان کہے گا۔‘‘ یعنی جب وہ بے قرار کر دینے والے زلزلے دیکھے گا تو پکار اٹھے گا: ﴿ اَيۡنَ الۡمَفَرُّ﴾ ’’آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟‘‘ جو مصیبت ہم پر نازل ہوئی ہے، اس سے گلو خلاصی اور نجات کہاں ہے؟ [13-11]﴿ كَلَّا لَا وَزَرَ﴾ ’’ہرگز نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ٹھکانے کے سوا کسی کے لیے کوئی ٹھکانا نہ ہو گا۔ ﴿ اِلٰى رَبِّكَ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡمُسۡتَقَرُّ﴾ اس روز تمام بندوں کا تیرے رب کے پاس ٹھکانا ہو گا، کسی کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ وہ چھپ سکے یا اس جگہ سے بھاگ سکے، اسے وہاں ضرور ٹھہرایا جائے گا تاکہ اسے اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے، اس لیے فرمایا:﴿ يُنَبَّؤُا الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ﴾ ’’اس دن انسان کو بتا دیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا۔‘‘ انسان کو اس کے اول وقت اور آخروقت کے تمام اچھے برے اعمال کے بارے میں اس کو آگاہ کیا جائے گا اور اس کو ایسی خبر سے آگاہ کیا جائے گا جس کا وہ انکار نہیں کر سکے گا۔ [15,14]﴿ بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰى نَفۡسِهٖ بَصِيۡرَةٌ﴾ ’’بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے۔‘‘ یعنی گواہ اور محاسب ہے ﴿ وَّلَوۡ اَلۡقٰى مَعَاذِيۡرَهٗ﴾ ’’خواہ وہ معذرت پیش کرے۔‘‘ کیونکہ یہ ایسی معذرتیں ہوں گی جو قبول نہ ہوں گی بلکہ وہ اپنے عمل کا اقرار کرے گا اور اس سے اقرار کرایا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِقۡرَاۡ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا﴾(بنی اسرائیل:17؍14) ’’اپنا اعمال نامہ پڑھ، آج تو خود ہی اپنا محاسب کا فی ہے۔‘‘ بندہ خواہ اپنے عمل کا انکار یا اپنے عمل پر معذرت پیش کرے، اس کا انکار اور اعتذار اسے کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ اس کے کان، اس کی آنکھیں اور اس کے تمام جوارح جن کے ذریعے سے وہ عمل کرتا ہے اس کے خلاف گواہی دیں گے، نیز رضا مندی طلب کرنے کا وقت چلا گیا اور اس کا فائدہ ختم ہو گیا ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’اس روز ظالموں کو، ان کی معذرت کوئی فائدہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘

القيامة 75:12

پس جب پتھرا جائیں گی آنکھیں(7) اور بے نور ہو جائے گا چاند(8) اور جمع کر دیے جائیں گے سورج اور چاند(9) کہے گا انسان اس دن، کہاں ہے بھاگنا؟ (10) ہرگز نہیں! نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ (11) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن ٹھکانا (12) خبر دیا جائے گا انسان اس دن ساتھ اس کےجو اس نے آگے بھیجا اور (جو) پیچھے چھوڑا (13)بلکہ انسان اپنے نفس پر خوب شاہد ہے (14) اگرچہ وہ پیش کرے اپنی معذرتیں (15) [10-7] یعنی جب قیامت برپا ہو گی عظیم دہشت کی بنا پر نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی اور جھپکیں گی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُۙ۰۰ مُهۡطِعِيۡنَ مُقۡنِـعِيۡ رُءُوۡسِهِمۡ لَا يَرۡتَدُّ اِلَيۡهِمۡ طَرۡفُهُمۡ١ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ هَوَآءٌ﴾(ابراہیم: 14؍42-43) ’’ان کو تو صرف اس دن تک مہلت دیتا ہے جس دن (دہشت کے مارے) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور لوگ منہ اٹھائے دوڑ رہے ہوں گے، ان کی نگاہیں ان کی طرف نہ لوٹ سکیں گی اور (خوف کی وجہ سے)ان کے دل ہوا ہو رہے ہوں گے۔‘‘﴿ وَخَسَفَ الۡقَمَرُ﴾ چاند کی روشنی اور اس کی طاقت زائل ہو جائے گی ﴿ وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ﴾ ’’اور سورج اور چاند جمع کر دیے جائیں گے۔‘‘جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے، وہ کبھی اکٹھے نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو جمع کرے گا، چاند گہنا جائے گا اور سورج کو بے نور کر دیا جائے گا اور ان دونوں کو آگ میں پھینک دیا جائے گا تاکہ بندے دیکھ لیں کہ چاند اور سورج بھی اللہ تعالیٰ کے مسخر ہیں تاکہ جو لوگ ان کی عبادت کرتے تھے وہ دیکھ لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔﴿ يَقُوۡلُ الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اس دن انسان کہے گا۔‘‘ یعنی جب وہ بے قرار کر دینے والے زلزلے دیکھے گا تو پکار اٹھے گا: ﴿ اَيۡنَ الۡمَفَرُّ﴾ ’’آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟‘‘ جو مصیبت ہم پر نازل ہوئی ہے، اس سے گلو خلاصی اور نجات کہاں ہے؟ [13-11]﴿ كَلَّا لَا وَزَرَ﴾ ’’ہرگز نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ٹھکانے کے سوا کسی کے لیے کوئی ٹھکانا نہ ہو گا۔ ﴿ اِلٰى رَبِّكَ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡمُسۡتَقَرُّ﴾ اس روز تمام بندوں کا تیرے رب کے پاس ٹھکانا ہو گا، کسی کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ وہ چھپ سکے یا اس جگہ سے بھاگ سکے، اسے وہاں ضرور ٹھہرایا جائے گا تاکہ اسے اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے، اس لیے فرمایا:﴿ يُنَبَّؤُا الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ﴾ ’’اس دن انسان کو بتا دیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا۔‘‘ انسان کو اس کے اول وقت اور آخروقت کے تمام اچھے برے اعمال کے بارے میں اس کو آگاہ کیا جائے گا اور اس کو ایسی خبر سے آگاہ کیا جائے گا جس کا وہ انکار نہیں کر سکے گا۔ [15,14]﴿ بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰى نَفۡسِهٖ بَصِيۡرَةٌ﴾ ’’بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے۔‘‘ یعنی گواہ اور محاسب ہے ﴿ وَّلَوۡ اَلۡقٰى مَعَاذِيۡرَهٗ﴾ ’’خواہ وہ معذرت پیش کرے۔‘‘ کیونکہ یہ ایسی معذرتیں ہوں گی جو قبول نہ ہوں گی بلکہ وہ اپنے عمل کا اقرار کرے گا اور اس سے اقرار کرایا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِقۡرَاۡ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا﴾(بنی اسرائیل:17؍14) ’’اپنا اعمال نامہ پڑھ، آج تو خود ہی اپنا محاسب کا فی ہے۔‘‘ بندہ خواہ اپنے عمل کا انکار یا اپنے عمل پر معذرت پیش کرے، اس کا انکار اور اعتذار اسے کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ اس کے کان، اس کی آنکھیں اور اس کے تمام جوارح جن کے ذریعے سے وہ عمل کرتا ہے اس کے خلاف گواہی دیں گے، نیز رضا مندی طلب کرنے کا وقت چلا گیا اور اس کا فائدہ ختم ہو گیا ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’اس روز ظالموں کو، ان کی معذرت کوئی فائدہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘

القيامة 75:13

پس جب پتھرا جائیں گی آنکھیں(7) اور بے نور ہو جائے گا چاند(8) اور جمع کر دیے جائیں گے سورج اور چاند(9) کہے گا انسان اس دن، کہاں ہے بھاگنا؟ (10) ہرگز نہیں! نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ (11) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن ٹھکانا (12) خبر دیا جائے گا انسان اس دن ساتھ اس کےجو اس نے آگے بھیجا اور (جو) پیچھے چھوڑا (13)بلکہ انسان اپنے نفس پر خوب شاہد ہے (14) اگرچہ وہ پیش کرے اپنی معذرتیں (15) [10-7] یعنی جب قیامت برپا ہو گی عظیم دہشت کی بنا پر نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی اور جھپکیں گی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُۙ۰۰ مُهۡطِعِيۡنَ مُقۡنِـعِيۡ رُءُوۡسِهِمۡ لَا يَرۡتَدُّ اِلَيۡهِمۡ طَرۡفُهُمۡ١ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ هَوَآءٌ﴾(ابراہیم: 14؍42-43) ’’ان کو تو صرف اس دن تک مہلت دیتا ہے جس دن (دہشت کے مارے) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور لوگ منہ اٹھائے دوڑ رہے ہوں گے، ان کی نگاہیں ان کی طرف نہ لوٹ سکیں گی اور (خوف کی وجہ سے)ان کے دل ہوا ہو رہے ہوں گے۔‘‘﴿ وَخَسَفَ الۡقَمَرُ﴾ چاند کی روشنی اور اس کی طاقت زائل ہو جائے گی ﴿ وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ﴾ ’’اور سورج اور چاند جمع کر دیے جائیں گے۔‘‘جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے، وہ کبھی اکٹھے نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو جمع کرے گا، چاند گہنا جائے گا اور سورج کو بے نور کر دیا جائے گا اور ان دونوں کو آگ میں پھینک دیا جائے گا تاکہ بندے دیکھ لیں کہ چاند اور سورج بھی اللہ تعالیٰ کے مسخر ہیں تاکہ جو لوگ ان کی عبادت کرتے تھے وہ دیکھ لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔﴿ يَقُوۡلُ الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اس دن انسان کہے گا۔‘‘ یعنی جب وہ بے قرار کر دینے والے زلزلے دیکھے گا تو پکار اٹھے گا: ﴿ اَيۡنَ الۡمَفَرُّ﴾ ’’آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟‘‘ جو مصیبت ہم پر نازل ہوئی ہے، اس سے گلو خلاصی اور نجات کہاں ہے؟ [13-11]﴿ كَلَّا لَا وَزَرَ﴾ ’’ہرگز نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ٹھکانے کے سوا کسی کے لیے کوئی ٹھکانا نہ ہو گا۔ ﴿ اِلٰى رَبِّكَ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡمُسۡتَقَرُّ﴾ اس روز تمام بندوں کا تیرے رب کے پاس ٹھکانا ہو گا، کسی کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ وہ چھپ سکے یا اس جگہ سے بھاگ سکے، اسے وہاں ضرور ٹھہرایا جائے گا تاکہ اسے اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے، اس لیے فرمایا:﴿ يُنَبَّؤُا الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ﴾ ’’اس دن انسان کو بتا دیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا۔‘‘ انسان کو اس کے اول وقت اور آخروقت کے تمام اچھے برے اعمال کے بارے میں اس کو آگاہ کیا جائے گا اور اس کو ایسی خبر سے آگاہ کیا جائے گا جس کا وہ انکار نہیں کر سکے گا۔ [15,14]﴿ بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰى نَفۡسِهٖ بَصِيۡرَةٌ﴾ ’’بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے۔‘‘ یعنی گواہ اور محاسب ہے ﴿ وَّلَوۡ اَلۡقٰى مَعَاذِيۡرَهٗ﴾ ’’خواہ وہ معذرت پیش کرے۔‘‘ کیونکہ یہ ایسی معذرتیں ہوں گی جو قبول نہ ہوں گی بلکہ وہ اپنے عمل کا اقرار کرے گا اور اس سے اقرار کرایا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِقۡرَاۡ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا﴾(بنی اسرائیل:17؍14) ’’اپنا اعمال نامہ پڑھ، آج تو خود ہی اپنا محاسب کا فی ہے۔‘‘ بندہ خواہ اپنے عمل کا انکار یا اپنے عمل پر معذرت پیش کرے، اس کا انکار اور اعتذار اسے کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ اس کے کان، اس کی آنکھیں اور اس کے تمام جوارح جن کے ذریعے سے وہ عمل کرتا ہے اس کے خلاف گواہی دیں گے، نیز رضا مندی طلب کرنے کا وقت چلا گیا اور اس کا فائدہ ختم ہو گیا ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’اس روز ظالموں کو، ان کی معذرت کوئی فائدہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘

القيامة 75:14

پس جب پتھرا جائیں گی آنکھیں(7) اور بے نور ہو جائے گا چاند(8) اور جمع کر دیے جائیں گے سورج اور چاند(9) کہے گا انسان اس دن، کہاں ہے بھاگنا؟ (10) ہرگز نہیں! نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ (11) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن ٹھکانا (12) خبر دیا جائے گا انسان اس دن ساتھ اس کےجو اس نے آگے بھیجا اور (جو) پیچھے چھوڑا (13)بلکہ انسان اپنے نفس پر خوب شاہد ہے (14) اگرچہ وہ پیش کرے اپنی معذرتیں (15) [10-7] یعنی جب قیامت برپا ہو گی عظیم دہشت کی بنا پر نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی اور جھپکیں گی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُۙ۰۰ مُهۡطِعِيۡنَ مُقۡنِـعِيۡ رُءُوۡسِهِمۡ لَا يَرۡتَدُّ اِلَيۡهِمۡ طَرۡفُهُمۡ١ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ هَوَآءٌ﴾(ابراہیم: 14؍42-43) ’’ان کو تو صرف اس دن تک مہلت دیتا ہے جس دن (دہشت کے مارے) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور لوگ منہ اٹھائے دوڑ رہے ہوں گے، ان کی نگاہیں ان کی طرف نہ لوٹ سکیں گی اور (خوف کی وجہ سے)ان کے دل ہوا ہو رہے ہوں گے۔‘‘﴿ وَخَسَفَ الۡقَمَرُ﴾ چاند کی روشنی اور اس کی طاقت زائل ہو جائے گی ﴿ وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ﴾ ’’اور سورج اور چاند جمع کر دیے جائیں گے۔‘‘جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے، وہ کبھی اکٹھے نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو جمع کرے گا، چاند گہنا جائے گا اور سورج کو بے نور کر دیا جائے گا اور ان دونوں کو آگ میں پھینک دیا جائے گا تاکہ بندے دیکھ لیں کہ چاند اور سورج بھی اللہ تعالیٰ کے مسخر ہیں تاکہ جو لوگ ان کی عبادت کرتے تھے وہ دیکھ لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔﴿ يَقُوۡلُ الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اس دن انسان کہے گا۔‘‘ یعنی جب وہ بے قرار کر دینے والے زلزلے دیکھے گا تو پکار اٹھے گا: ﴿ اَيۡنَ الۡمَفَرُّ﴾ ’’آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟‘‘ جو مصیبت ہم پر نازل ہوئی ہے، اس سے گلو خلاصی اور نجات کہاں ہے؟ [13-11]﴿ كَلَّا لَا وَزَرَ﴾ ’’ہرگز نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ٹھکانے کے سوا کسی کے لیے کوئی ٹھکانا نہ ہو گا۔ ﴿ اِلٰى رَبِّكَ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡمُسۡتَقَرُّ﴾ اس روز تمام بندوں کا تیرے رب کے پاس ٹھکانا ہو گا، کسی کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ وہ چھپ سکے یا اس جگہ سے بھاگ سکے، اسے وہاں ضرور ٹھہرایا جائے گا تاکہ اسے اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے، اس لیے فرمایا:﴿ يُنَبَّؤُا الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ﴾ ’’اس دن انسان کو بتا دیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا۔‘‘ انسان کو اس کے اول وقت اور آخروقت کے تمام اچھے برے اعمال کے بارے میں اس کو آگاہ کیا جائے گا اور اس کو ایسی خبر سے آگاہ کیا جائے گا جس کا وہ انکار نہیں کر سکے گا۔ [15,14]﴿ بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰى نَفۡسِهٖ بَصِيۡرَةٌ﴾ ’’بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے۔‘‘ یعنی گواہ اور محاسب ہے ﴿ وَّلَوۡ اَلۡقٰى مَعَاذِيۡرَهٗ﴾ ’’خواہ وہ معذرت پیش کرے۔‘‘ کیونکہ یہ ایسی معذرتیں ہوں گی جو قبول نہ ہوں گی بلکہ وہ اپنے عمل کا اقرار کرے گا اور اس سے اقرار کرایا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِقۡرَاۡ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا﴾(بنی اسرائیل:17؍14) ’’اپنا اعمال نامہ پڑھ، آج تو خود ہی اپنا محاسب کا فی ہے۔‘‘ بندہ خواہ اپنے عمل کا انکار یا اپنے عمل پر معذرت پیش کرے، اس کا انکار اور اعتذار اسے کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ اس کے کان، اس کی آنکھیں اور اس کے تمام جوارح جن کے ذریعے سے وہ عمل کرتا ہے اس کے خلاف گواہی دیں گے، نیز رضا مندی طلب کرنے کا وقت چلا گیا اور اس کا فائدہ ختم ہو گیا ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’اس روز ظالموں کو، ان کی معذرت کوئی فائدہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘

القيامة 75:15

پس جب پتھرا جائیں گی آنکھیں(7) اور بے نور ہو جائے گا چاند(8) اور جمع کر دیے جائیں گے سورج اور چاند(9) کہے گا انسان اس دن، کہاں ہے بھاگنا؟ (10) ہرگز نہیں! نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ (11) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن ٹھکانا (12) خبر دیا جائے گا انسان اس دن ساتھ اس کےجو اس نے آگے بھیجا اور (جو) پیچھے چھوڑا (13)بلکہ انسان اپنے نفس پر خوب شاہد ہے (14) اگرچہ وہ پیش کرے اپنی معذرتیں (15) [10-7] یعنی جب قیامت برپا ہو گی عظیم دہشت کی بنا پر نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی اور جھپکیں گی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُۙ۰۰ مُهۡطِعِيۡنَ مُقۡنِـعِيۡ رُءُوۡسِهِمۡ لَا يَرۡتَدُّ اِلَيۡهِمۡ طَرۡفُهُمۡ١ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ هَوَآءٌ﴾(ابراہیم: 14؍42-43) ’’ان کو تو صرف اس دن تک مہلت دیتا ہے جس دن (دہشت کے مارے) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور لوگ منہ اٹھائے دوڑ رہے ہوں گے، ان کی نگاہیں ان کی طرف نہ لوٹ سکیں گی اور (خوف کی وجہ سے)ان کے دل ہوا ہو رہے ہوں گے۔‘‘﴿ وَخَسَفَ الۡقَمَرُ﴾ چاند کی روشنی اور اس کی طاقت زائل ہو جائے گی ﴿ وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ﴾ ’’اور سورج اور چاند جمع کر دیے جائیں گے۔‘‘جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے، وہ کبھی اکٹھے نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو جمع کرے گا، چاند گہنا جائے گا اور سورج کو بے نور کر دیا جائے گا اور ان دونوں کو آگ میں پھینک دیا جائے گا تاکہ بندے دیکھ لیں کہ چاند اور سورج بھی اللہ تعالیٰ کے مسخر ہیں تاکہ جو لوگ ان کی عبادت کرتے تھے وہ دیکھ لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔﴿ يَقُوۡلُ الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اس دن انسان کہے گا۔‘‘ یعنی جب وہ بے قرار کر دینے والے زلزلے دیکھے گا تو پکار اٹھے گا: ﴿ اَيۡنَ الۡمَفَرُّ﴾ ’’آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟‘‘ جو مصیبت ہم پر نازل ہوئی ہے، اس سے گلو خلاصی اور نجات کہاں ہے؟ [13-11]﴿ كَلَّا لَا وَزَرَ﴾ ’’ہرگز نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ٹھکانے کے سوا کسی کے لیے کوئی ٹھکانا نہ ہو گا۔ ﴿ اِلٰى رَبِّكَ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡمُسۡتَقَرُّ﴾ اس روز تمام بندوں کا تیرے رب کے پاس ٹھکانا ہو گا، کسی کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ وہ چھپ سکے یا اس جگہ سے بھاگ سکے، اسے وہاں ضرور ٹھہرایا جائے گا تاکہ اسے اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے، اس لیے فرمایا:﴿ يُنَبَّؤُا الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ﴾ ’’اس دن انسان کو بتا دیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا۔‘‘ انسان کو اس کے اول وقت اور آخروقت کے تمام اچھے برے اعمال کے بارے میں اس کو آگاہ کیا جائے گا اور اس کو ایسی خبر سے آگاہ کیا جائے گا جس کا وہ انکار نہیں کر سکے گا۔ [15,14]﴿ بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰى نَفۡسِهٖ بَصِيۡرَةٌ﴾ ’’بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے۔‘‘ یعنی گواہ اور محاسب ہے ﴿ وَّلَوۡ اَلۡقٰى مَعَاذِيۡرَهٗ﴾ ’’خواہ وہ معذرت پیش کرے۔‘‘ کیونکہ یہ ایسی معذرتیں ہوں گی جو قبول نہ ہوں گی بلکہ وہ اپنے عمل کا اقرار کرے گا اور اس سے اقرار کرایا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِقۡرَاۡ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا﴾(بنی اسرائیل:17؍14) ’’اپنا اعمال نامہ پڑھ، آج تو خود ہی اپنا محاسب کا فی ہے۔‘‘ بندہ خواہ اپنے عمل کا انکار یا اپنے عمل پر معذرت پیش کرے، اس کا انکار اور اعتذار اسے کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ اس کے کان، اس کی آنکھیں اور اس کے تمام جوارح جن کے ذریعے سے وہ عمل کرتا ہے اس کے خلاف گواہی دیں گے، نیز رضا مندی طلب کرنے کا وقت چلا گیا اور اس کا فائدہ ختم ہو گیا ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’اس روز ظالموں کو، ان کی معذرت کوئی فائدہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘

القيامة 75:16

نہ حرکت دیں آپ اس (قرآن) کے ساتھ اپنی زبان کو تاکہ جلدی (یاد کر) لیں آپ اسے (16) یقیناً ہمارے ذمے ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھنا (17) سو جب ہم اسے پڑھ لیں تو آپ پیروی کیجیے اس کےپڑھنے کی (18) پھر ہمارے ذمے ہے اس کا واضح کرنا(19) [19-16] جب حضرت جبریل uوحی لے کر آتے اور تلاوت شروع کرتے تو رسول اللہ ﷺ(حصول قرآن کی شدید) حرص کی بنا پر، حضرت جبریلu کے فارغ ہونے سے پہلے ہی، جلدی سے جبریلu کی تلاوت کے ساتھ ساتھ تلاوت کرنا شروع کر دیتے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے روک دیا، اور فرمایا:﴿وَلَا تَعۡجَلۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يُّقۡضٰۤى اِلَيۡكَ وَحۡيُهٗ﴾(طٰہ:ٰ 20؍114)’’اور قرآن جو آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کریں۔‘‘ یہاں فرمایا:﴿ لَا تُحَرِّكۡ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعۡجَلَ بِهٖ﴾ ’’وحی کے پڑھنے کے لیے اپنے زبان جلدی نہ چلایا کریں کہ اسے جلد یاد کرلو۔‘‘ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ضمانت دی کہ آپ ضرور اس کو حفظ کر لیں گے اور اس کو پڑھ سکیں گے، اللہ تعالیٰ اس کو آپ کے سینے میں جمع کر دے گا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهٗ وَقُرۡاٰنَهٗ﴾ ’’اس كا جمع كرنا اور (آپ كی زبان سے) پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔‘‘ یعنی آپ کے دل میں حصول قرآن کی جو خواہش ہے، اس کا داعی، قرآن کے رہ جانے اور اس کے نسیان کا خوف ہےتو اللہ تعالیٰ نے اس کے حفظ کی ضمانت عطا کر دی، اس لیے اب ساتھ ساتھ پڑھنے کا کوئی موجب نہیں۔ ﴿ فَاِذَا قَرَاۡنٰهُ فَاتَّبِـعۡ قُرۡاٰنَهٗ﴾ یعنی جبریل uقرآن کی قراء ت مکمل کر لیں جو آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے، تب اس وقت جبریل نے جو کچھ پڑھا ہوتا ہے اس کی اتباع کیجیے اور قرآن کو پڑھیے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا بَيَانَهٗ﴾ یعنی اس کے معانی کا بیان ہمارے ذمے ہے ، پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کے الفاظ اور معانی، دونوں کی حفاظت کا وعدہ فرمایا اور یہ حفاظت کا بلند ترین درجہ ہے رسول اللہ ﷺنے اپنے رب کے ادب کے لیے اس پر عمل کیا، لہٰذا اس کے بعد جب جبریل uآپ کے سامنے قرآن کی تلاوت کرتے تو آپ خاموش رہتےا ور جب جبریلu قر اء ت سے فارغ ہو جاتے تو پھر آپ پڑھتے۔اس آیت کریمہ میں علم حاصل کرنے کے لیے ادب سکھایا گیا ہے کہ معلم نے جس مسئلہ کو شروع کیا ہو، اس سے معلم کے فارغ ہونے سے پہلےطالب علم کو جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ جب وہ اس مسئلہ سے فارغ ہو جائے تو پھر طالب علم کو جو اشکال ہو اس کے بارے میں معلم سے سوال کرے۔اور اسی طرح جب کلام کی ابتدا میں کوئی ایسی چیز ہو جس کو رد کرنا واجب ہو یا کوئی ایسی چیز جو مستحسن ہو، تو اس کلام سے فارغ ہونے سے قبل اس کو رد یا قبول کرنے میں جلدی نہ کرے تاکہ اس میں جو حق یا باطل ہے وہ اچھی طرح واضح ہو جائے اور اسے اچھی طرح سمجھ لے تاکہ اس میں صواب کے پہلو سے کلام کر سکے۔ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے امت کے سامنے جس طرح قرآن کے الفاظ کو بیان فرمایا، اسی طرح آپ نے اس کے معانی کو بھی ان کے سامنے بیان فرمایا۔

القيامة 75:17

نہ حرکت دیں آپ اس (قرآن) کے ساتھ اپنی زبان کو تاکہ جلدی (یاد کر) لیں آپ اسے (16) یقیناً ہمارے ذمے ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھنا (17) سو جب ہم اسے پڑھ لیں تو آپ پیروی کیجیے اس کےپڑھنے کی (18) پھر ہمارے ذمے ہے اس کا واضح کرنا(19) [19-16] جب حضرت جبریل uوحی لے کر آتے اور تلاوت شروع کرتے تو رسول اللہ ﷺ(حصول قرآن کی شدید) حرص کی بنا پر، حضرت جبریلu کے فارغ ہونے سے پہلے ہی، جلدی سے جبریلu کی تلاوت کے ساتھ ساتھ تلاوت کرنا شروع کر دیتے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے روک دیا، اور فرمایا:﴿وَلَا تَعۡجَلۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يُّقۡضٰۤى اِلَيۡكَ وَحۡيُهٗ﴾(طٰہ:ٰ 20؍114)’’اور قرآن جو آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کریں۔‘‘ یہاں فرمایا:﴿ لَا تُحَرِّكۡ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعۡجَلَ بِهٖ﴾ ’’وحی کے پڑھنے کے لیے اپنے زبان جلدی نہ چلایا کریں کہ اسے جلد یاد کرلو۔‘‘ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ضمانت دی کہ آپ ضرور اس کو حفظ کر لیں گے اور اس کو پڑھ سکیں گے، اللہ تعالیٰ اس کو آپ کے سینے میں جمع کر دے گا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهٗ وَقُرۡاٰنَهٗ﴾ ’’اس كا جمع كرنا اور (آپ كی زبان سے) پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔‘‘ یعنی آپ کے دل میں حصول قرآن کی جو خواہش ہے، اس کا داعی، قرآن کے رہ جانے اور اس کے نسیان کا خوف ہےتو اللہ تعالیٰ نے اس کے حفظ کی ضمانت عطا کر دی، اس لیے اب ساتھ ساتھ پڑھنے کا کوئی موجب نہیں۔ ﴿ فَاِذَا قَرَاۡنٰهُ فَاتَّبِـعۡ قُرۡاٰنَهٗ﴾ یعنی جبریل uقرآن کی قراء ت مکمل کر لیں جو آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے، تب اس وقت جبریل نے جو کچھ پڑھا ہوتا ہے اس کی اتباع کیجیے اور قرآن کو پڑھیے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا بَيَانَهٗ﴾ یعنی اس کے معانی کا بیان ہمارے ذمے ہے ، پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کے الفاظ اور معانی، دونوں کی حفاظت کا وعدہ فرمایا اور یہ حفاظت کا بلند ترین درجہ ہے رسول اللہ ﷺنے اپنے رب کے ادب کے لیے اس پر عمل کیا، لہٰذا اس کے بعد جب جبریل uآپ کے سامنے قرآن کی تلاوت کرتے تو آپ خاموش رہتےا ور جب جبریلu قر اء ت سے فارغ ہو جاتے تو پھر آپ پڑھتے۔اس آیت کریمہ میں علم حاصل کرنے کے لیے ادب سکھایا گیا ہے کہ معلم نے جس مسئلہ کو شروع کیا ہو، اس سے معلم کے فارغ ہونے سے پہلےطالب علم کو جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ جب وہ اس مسئلہ سے فارغ ہو جائے تو پھر طالب علم کو جو اشکال ہو اس کے بارے میں معلم سے سوال کرے۔اور اسی طرح جب کلام کی ابتدا میں کوئی ایسی چیز ہو جس کو رد کرنا واجب ہو یا کوئی ایسی چیز جو مستحسن ہو، تو اس کلام سے فارغ ہونے سے قبل اس کو رد یا قبول کرنے میں جلدی نہ کرے تاکہ اس میں جو حق یا باطل ہے وہ اچھی طرح واضح ہو جائے اور اسے اچھی طرح سمجھ لے تاکہ اس میں صواب کے پہلو سے کلام کر سکے۔ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے امت کے سامنے جس طرح قرآن کے الفاظ کو بیان فرمایا، اسی طرح آپ نے اس کے معانی کو بھی ان کے سامنے بیان فرمایا۔

القيامة 75:18

نہ حرکت دیں آپ اس (قرآن) کے ساتھ اپنی زبان کو تاکہ جلدی (یاد کر) لیں آپ اسے (16) یقیناً ہمارے ذمے ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھنا (17) سو جب ہم اسے پڑھ لیں تو آپ پیروی کیجیے اس کےپڑھنے کی (18) پھر ہمارے ذمے ہے اس کا واضح کرنا(19) [19-16] جب حضرت جبریل uوحی لے کر آتے اور تلاوت شروع کرتے تو رسول اللہ ﷺ(حصول قرآن کی شدید) حرص کی بنا پر، حضرت جبریلu کے فارغ ہونے سے پہلے ہی، جلدی سے جبریلu کی تلاوت کے ساتھ ساتھ تلاوت کرنا شروع کر دیتے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے روک دیا، اور فرمایا:﴿وَلَا تَعۡجَلۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يُّقۡضٰۤى اِلَيۡكَ وَحۡيُهٗ﴾(طٰہ:ٰ 20؍114)’’اور قرآن جو آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کریں۔‘‘ یہاں فرمایا:﴿ لَا تُحَرِّكۡ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعۡجَلَ بِهٖ﴾ ’’وحی کے پڑھنے کے لیے اپنے زبان جلدی نہ چلایا کریں کہ اسے جلد یاد کرلو۔‘‘ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ضمانت دی کہ آپ ضرور اس کو حفظ کر لیں گے اور اس کو پڑھ سکیں گے، اللہ تعالیٰ اس کو آپ کے سینے میں جمع کر دے گا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهٗ وَقُرۡاٰنَهٗ﴾ ’’اس كا جمع كرنا اور (آپ كی زبان سے) پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔‘‘ یعنی آپ کے دل میں حصول قرآن کی جو خواہش ہے، اس کا داعی، قرآن کے رہ جانے اور اس کے نسیان کا خوف ہےتو اللہ تعالیٰ نے اس کے حفظ کی ضمانت عطا کر دی، اس لیے اب ساتھ ساتھ پڑھنے کا کوئی موجب نہیں۔ ﴿ فَاِذَا قَرَاۡنٰهُ فَاتَّبِـعۡ قُرۡاٰنَهٗ﴾ یعنی جبریل uقرآن کی قراء ت مکمل کر لیں جو آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے، تب اس وقت جبریل نے جو کچھ پڑھا ہوتا ہے اس کی اتباع کیجیے اور قرآن کو پڑھیے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا بَيَانَهٗ﴾ یعنی اس کے معانی کا بیان ہمارے ذمے ہے ، پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کے الفاظ اور معانی، دونوں کی حفاظت کا وعدہ فرمایا اور یہ حفاظت کا بلند ترین درجہ ہے رسول اللہ ﷺنے اپنے رب کے ادب کے لیے اس پر عمل کیا، لہٰذا اس کے بعد جب جبریل uآپ کے سامنے قرآن کی تلاوت کرتے تو آپ خاموش رہتےا ور جب جبریلu قر اء ت سے فارغ ہو جاتے تو پھر آپ پڑھتے۔اس آیت کریمہ میں علم حاصل کرنے کے لیے ادب سکھایا گیا ہے کہ معلم نے جس مسئلہ کو شروع کیا ہو، اس سے معلم کے فارغ ہونے سے پہلےطالب علم کو جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ جب وہ اس مسئلہ سے فارغ ہو جائے تو پھر طالب علم کو جو اشکال ہو اس کے بارے میں معلم سے سوال کرے۔اور اسی طرح جب کلام کی ابتدا میں کوئی ایسی چیز ہو جس کو رد کرنا واجب ہو یا کوئی ایسی چیز جو مستحسن ہو، تو اس کلام سے فارغ ہونے سے قبل اس کو رد یا قبول کرنے میں جلدی نہ کرے تاکہ اس میں جو حق یا باطل ہے وہ اچھی طرح واضح ہو جائے اور اسے اچھی طرح سمجھ لے تاکہ اس میں صواب کے پہلو سے کلام کر سکے۔ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے امت کے سامنے جس طرح قرآن کے الفاظ کو بیان فرمایا، اسی طرح آپ نے اس کے معانی کو بھی ان کے سامنے بیان فرمایا۔

القيامة 75:19

نہ حرکت دیں آپ اس (قرآن) کے ساتھ اپنی زبان کو تاکہ جلدی (یاد کر) لیں آپ اسے (16) یقیناً ہمارے ذمے ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھنا (17) سو جب ہم اسے پڑھ لیں تو آپ پیروی کیجیے اس کےپڑھنے کی (18) پھر ہمارے ذمے ہے اس کا واضح کرنا(19) [19-16] جب حضرت جبریل uوحی لے کر آتے اور تلاوت شروع کرتے تو رسول اللہ ﷺ(حصول قرآن کی شدید) حرص کی بنا پر، حضرت جبریلu کے فارغ ہونے سے پہلے ہی، جلدی سے جبریلu کی تلاوت کے ساتھ ساتھ تلاوت کرنا شروع کر دیتے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے روک دیا، اور فرمایا:﴿وَلَا تَعۡجَلۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يُّقۡضٰۤى اِلَيۡكَ وَحۡيُهٗ﴾(طٰہ:ٰ 20؍114)’’اور قرآن جو آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کریں۔‘‘ یہاں فرمایا:﴿ لَا تُحَرِّكۡ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعۡجَلَ بِهٖ﴾ ’’وحی کے پڑھنے کے لیے اپنے زبان جلدی نہ چلایا کریں کہ اسے جلد یاد کرلو۔‘‘ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ضمانت دی کہ آپ ضرور اس کو حفظ کر لیں گے اور اس کو پڑھ سکیں گے، اللہ تعالیٰ اس کو آپ کے سینے میں جمع کر دے گا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهٗ وَقُرۡاٰنَهٗ﴾ ’’اس كا جمع كرنا اور (آپ كی زبان سے) پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔‘‘ یعنی آپ کے دل میں حصول قرآن کی جو خواہش ہے، اس کا داعی، قرآن کے رہ جانے اور اس کے نسیان کا خوف ہےتو اللہ تعالیٰ نے اس کے حفظ کی ضمانت عطا کر دی، اس لیے اب ساتھ ساتھ پڑھنے کا کوئی موجب نہیں۔ ﴿ فَاِذَا قَرَاۡنٰهُ فَاتَّبِـعۡ قُرۡاٰنَهٗ﴾ یعنی جبریل uقرآن کی قراء ت مکمل کر لیں جو آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے، تب اس وقت جبریل نے جو کچھ پڑھا ہوتا ہے اس کی اتباع کیجیے اور قرآن کو پڑھیے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا بَيَانَهٗ﴾ یعنی اس کے معانی کا بیان ہمارے ذمے ہے ، پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کے الفاظ اور معانی، دونوں کی حفاظت کا وعدہ فرمایا اور یہ حفاظت کا بلند ترین درجہ ہے رسول اللہ ﷺنے اپنے رب کے ادب کے لیے اس پر عمل کیا، لہٰذا اس کے بعد جب جبریل uآپ کے سامنے قرآن کی تلاوت کرتے تو آپ خاموش رہتےا ور جب جبریلu قر اء ت سے فارغ ہو جاتے تو پھر آپ پڑھتے۔اس آیت کریمہ میں علم حاصل کرنے کے لیے ادب سکھایا گیا ہے کہ معلم نے جس مسئلہ کو شروع کیا ہو، اس سے معلم کے فارغ ہونے سے پہلےطالب علم کو جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ جب وہ اس مسئلہ سے فارغ ہو جائے تو پھر طالب علم کو جو اشکال ہو اس کے بارے میں معلم سے سوال کرے۔اور اسی طرح جب کلام کی ابتدا میں کوئی ایسی چیز ہو جس کو رد کرنا واجب ہو یا کوئی ایسی چیز جو مستحسن ہو، تو اس کلام سے فارغ ہونے سے قبل اس کو رد یا قبول کرنے میں جلدی نہ کرے تاکہ اس میں جو حق یا باطل ہے وہ اچھی طرح واضح ہو جائے اور اسے اچھی طرح سمجھ لے تاکہ اس میں صواب کے پہلو سے کلام کر سکے۔ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے امت کے سامنے جس طرح قرآن کے الفاظ کو بیان فرمایا، اسی طرح آپ نے اس کے معانی کو بھی ان کے سامنے بیان فرمایا۔

القيامة 75:20

ہرگز نہیں !بلکہ تم پسند کرتے ہو دنیا کو (20) اور چھوڑے ہوئے ہو آخرت کو (21)کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے (22) اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (23) اور کئی چہرے اس دن بے رونق ہوں گے (24) وہ یقین کریں گے کہ کیا جائے گا ان سے (معاملہ) کمر توڑ دینے والا (25) [21,20] وہ چیز جو تمھاری غفلت اور اللہ تعالیٰ کے وعظ و تذکیر سے روگردانی کی موجب ہے، یہ ہے کہ تم ﴿ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ﴾ ’’دنیا کو پسند کرتے ہو‘‘ اور تم اس کو حاصل کرنے اور اس کی لذت و شہوات میں کوشاں رہتے ہو، تم آخرت پر اس کو ترجیح دیتے اور آخرت کے لیے عمل کرنا چھوڑ دیتے ہو کیونکہ دنیا کی نعمتیں اور لذتیں جلد مل جاتی ہیں اور انسان جلد مل جانے والی چیز کا گرویدہ ہے۔آخرت کے اندر ہمیشہ رہنے والی جو نعمتیں ہیں، ان میں تاخیر ہے، اس لیے تم ان سے غافل ہو اور ان کو چھوڑ بیٹھے ہو، گویا کہ تم ان نعمتوں کے لیے پیدا ہی نہیں کیے گئے، یہ دنیا کا گھر ہی تمھارا دائمی ٹھکانا ہے، جس میں قیمتی عمریں گزاری جا رہی ہیں، اس دنیاکے لیے رات دن بھاگ دوڑ ہو رہی ہے، اور اس سے تمھارے سامنے حقیقت بدل گئی اور بہت زیادہ خسارہ حاصل ہوا۔اگر تم نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی ہوتی اور تم نے ایک صاحب بصیرت اور عقل مند شخص کی طرح انجام پر غور کیا تو تم کامیاب ہوتے، ایسا نفع حاصل کرتے جس کے ساتھ خسارہ نہ ہوتا اور تمھیں ایسی فوز و فلاح حاصل ہوتی جس کی مصاحبت میں بدبختی نہیں ہوتی۔ [23,22] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل آخرت کے احوال اور ان میں تفاوت کو بیان کرتے ہوئے ان امور کا ذکر کیا ہے جو آخرت کی ترجیح کی طرف دعوت دیتے ہیں، چنانچہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا:﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ﴾ اس دن کئی چہرے حسین اور خوبصورت ہوں گے، ان کے دلوں کی نعمت، نفوس کی مسرت، اور ارواح کی لذت کے باعث ان کے چہروں پر رونق اور نور ہو گا۔ ﴿ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ﴾ ’’اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اپنے مراتب کے مطابق اپنے رب کا دیدار کریں گے۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ہر روز صبح و شام اپنے رب کا دیدار کریں گے اور کچھ لوگ ہر جمعہ ایک مرتبہ دیدار کر پائیں گے، وہ اللہ تعالیٰ کے کریم چہرے اور اس کے بے پناہ جمال سے، جس کی کوئی مثال نہیں، متمتع ہوں گے۔ جب وہ اپنے رب کا دیدار کریں گے تو وہ ان تمام نعمتوں کو بھول جائیں گے جو انھیں حاصل ہوں گی، انھیں اس دیدار سے ایسی لذت و مسرت حاصل ہو گی جس کی تعبیر ممکن نہیں، ان کے چہرے بارونق ہوں گے اور ان کی خوبصورتی اور جمال میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔ ہم اللہ کریم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ان لوگوں کی معیت سے سرفراز کرے۔ [25,24] پھر اللہ تعالیٰ نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَوُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍۭؔ بَاسِرَةٌ﴾ ’’اس دن کئی چہرے اداس ہوں گے۔‘‘ یعنی ترش رو، گرد سے اٹے ہوئے، سہمے ہوئے اور ذلیل ہوں گے۔ ﴿ تَظُنُّ اَنۡ يُّفۡعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ﴾ ’’خیال کریں گے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے۔‘‘ یعنی سخت عقوبت اور درد ناک عذاب، اسی وجہ سے ان کے چہرے متغیر اور چیں بہ جبیں ہوں گے۔

القيامة 75:21

ہرگز نہیں !بلکہ تم پسند کرتے ہو دنیا کو (20) اور چھوڑے ہوئے ہو آخرت کو (21)کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے (22) اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (23) اور کئی چہرے اس دن بے رونق ہوں گے (24) وہ یقین کریں گے کہ کیا جائے گا ان سے (معاملہ) کمر توڑ دینے والا (25) [21,20] وہ چیز جو تمھاری غفلت اور اللہ تعالیٰ کے وعظ و تذکیر سے روگردانی کی موجب ہے، یہ ہے کہ تم ﴿ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ﴾ ’’دنیا کو پسند کرتے ہو‘‘ اور تم اس کو حاصل کرنے اور اس کی لذت و شہوات میں کوشاں رہتے ہو، تم آخرت پر اس کو ترجیح دیتے اور آخرت کے لیے عمل کرنا چھوڑ دیتے ہو کیونکہ دنیا کی نعمتیں اور لذتیں جلد مل جاتی ہیں اور انسان جلد مل جانے والی چیز کا گرویدہ ہے۔آخرت کے اندر ہمیشہ رہنے والی جو نعمتیں ہیں، ان میں تاخیر ہے، اس لیے تم ان سے غافل ہو اور ان کو چھوڑ بیٹھے ہو، گویا کہ تم ان نعمتوں کے لیے پیدا ہی نہیں کیے گئے، یہ دنیا کا گھر ہی تمھارا دائمی ٹھکانا ہے، جس میں قیمتی عمریں گزاری جا رہی ہیں، اس دنیاکے لیے رات دن بھاگ دوڑ ہو رہی ہے، اور اس سے تمھارے سامنے حقیقت بدل گئی اور بہت زیادہ خسارہ حاصل ہوا۔اگر تم نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی ہوتی اور تم نے ایک صاحب بصیرت اور عقل مند شخص کی طرح انجام پر غور کیا تو تم کامیاب ہوتے، ایسا نفع حاصل کرتے جس کے ساتھ خسارہ نہ ہوتا اور تمھیں ایسی فوز و فلاح حاصل ہوتی جس کی مصاحبت میں بدبختی نہیں ہوتی۔ [23,22] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل آخرت کے احوال اور ان میں تفاوت کو بیان کرتے ہوئے ان امور کا ذکر کیا ہے جو آخرت کی ترجیح کی طرف دعوت دیتے ہیں، چنانچہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا:﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ﴾ اس دن کئی چہرے حسین اور خوبصورت ہوں گے، ان کے دلوں کی نعمت، نفوس کی مسرت، اور ارواح کی لذت کے باعث ان کے چہروں پر رونق اور نور ہو گا۔ ﴿ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ﴾ ’’اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اپنے مراتب کے مطابق اپنے رب کا دیدار کریں گے۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ہر روز صبح و شام اپنے رب کا دیدار کریں گے اور کچھ لوگ ہر جمعہ ایک مرتبہ دیدار کر پائیں گے، وہ اللہ تعالیٰ کے کریم چہرے اور اس کے بے پناہ جمال سے، جس کی کوئی مثال نہیں، متمتع ہوں گے۔ جب وہ اپنے رب کا دیدار کریں گے تو وہ ان تمام نعمتوں کو بھول جائیں گے جو انھیں حاصل ہوں گی، انھیں اس دیدار سے ایسی لذت و مسرت حاصل ہو گی جس کی تعبیر ممکن نہیں، ان کے چہرے بارونق ہوں گے اور ان کی خوبصورتی اور جمال میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔ ہم اللہ کریم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ان لوگوں کی معیت سے سرفراز کرے۔ [25,24] پھر اللہ تعالیٰ نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَوُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍۭؔ بَاسِرَةٌ﴾ ’’اس دن کئی چہرے اداس ہوں گے۔‘‘ یعنی ترش رو، گرد سے اٹے ہوئے، سہمے ہوئے اور ذلیل ہوں گے۔ ﴿ تَظُنُّ اَنۡ يُّفۡعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ﴾ ’’خیال کریں گے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے۔‘‘ یعنی سخت عقوبت اور درد ناک عذاب، اسی وجہ سے ان کے چہرے متغیر اور چیں بہ جبیں ہوں گے۔

القيامة 75:22

ہرگز نہیں !بلکہ تم پسند کرتے ہو دنیا کو (20) اور چھوڑے ہوئے ہو آخرت کو (21)کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے (22) اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (23) اور کئی چہرے اس دن بے رونق ہوں گے (24) وہ یقین کریں گے کہ کیا جائے گا ان سے (معاملہ) کمر توڑ دینے والا (25) [21,20] وہ چیز جو تمھاری غفلت اور اللہ تعالیٰ کے وعظ و تذکیر سے روگردانی کی موجب ہے، یہ ہے کہ تم ﴿ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ﴾ ’’دنیا کو پسند کرتے ہو‘‘ اور تم اس کو حاصل کرنے اور اس کی لذت و شہوات میں کوشاں رہتے ہو، تم آخرت پر اس کو ترجیح دیتے اور آخرت کے لیے عمل کرنا چھوڑ دیتے ہو کیونکہ دنیا کی نعمتیں اور لذتیں جلد مل جاتی ہیں اور انسان جلد مل جانے والی چیز کا گرویدہ ہے۔آخرت کے اندر ہمیشہ رہنے والی جو نعمتیں ہیں، ان میں تاخیر ہے، اس لیے تم ان سے غافل ہو اور ان کو چھوڑ بیٹھے ہو، گویا کہ تم ان نعمتوں کے لیے پیدا ہی نہیں کیے گئے، یہ دنیا کا گھر ہی تمھارا دائمی ٹھکانا ہے، جس میں قیمتی عمریں گزاری جا رہی ہیں، اس دنیاکے لیے رات دن بھاگ دوڑ ہو رہی ہے، اور اس سے تمھارے سامنے حقیقت بدل گئی اور بہت زیادہ خسارہ حاصل ہوا۔اگر تم نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی ہوتی اور تم نے ایک صاحب بصیرت اور عقل مند شخص کی طرح انجام پر غور کیا تو تم کامیاب ہوتے، ایسا نفع حاصل کرتے جس کے ساتھ خسارہ نہ ہوتا اور تمھیں ایسی فوز و فلاح حاصل ہوتی جس کی مصاحبت میں بدبختی نہیں ہوتی۔ [23,22] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل آخرت کے احوال اور ان میں تفاوت کو بیان کرتے ہوئے ان امور کا ذکر کیا ہے جو آخرت کی ترجیح کی طرف دعوت دیتے ہیں، چنانچہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا:﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ﴾ اس دن کئی چہرے حسین اور خوبصورت ہوں گے، ان کے دلوں کی نعمت، نفوس کی مسرت، اور ارواح کی لذت کے باعث ان کے چہروں پر رونق اور نور ہو گا۔ ﴿ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ﴾ ’’اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اپنے مراتب کے مطابق اپنے رب کا دیدار کریں گے۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ہر روز صبح و شام اپنے رب کا دیدار کریں گے اور کچھ لوگ ہر جمعہ ایک مرتبہ دیدار کر پائیں گے، وہ اللہ تعالیٰ کے کریم چہرے اور اس کے بے پناہ جمال سے، جس کی کوئی مثال نہیں، متمتع ہوں گے۔ جب وہ اپنے رب کا دیدار کریں گے تو وہ ان تمام نعمتوں کو بھول جائیں گے جو انھیں حاصل ہوں گی، انھیں اس دیدار سے ایسی لذت و مسرت حاصل ہو گی جس کی تعبیر ممکن نہیں، ان کے چہرے بارونق ہوں گے اور ان کی خوبصورتی اور جمال میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔ ہم اللہ کریم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ان لوگوں کی معیت سے سرفراز کرے۔ [25,24] پھر اللہ تعالیٰ نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَوُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍۭؔ بَاسِرَةٌ﴾ ’’اس دن کئی چہرے اداس ہوں گے۔‘‘ یعنی ترش رو، گرد سے اٹے ہوئے، سہمے ہوئے اور ذلیل ہوں گے۔ ﴿ تَظُنُّ اَنۡ يُّفۡعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ﴾ ’’خیال کریں گے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے۔‘‘ یعنی سخت عقوبت اور درد ناک عذاب، اسی وجہ سے ان کے چہرے متغیر اور چیں بہ جبیں ہوں گے۔

القيامة 75:23

ہرگز نہیں !بلکہ تم پسند کرتے ہو دنیا کو (20) اور چھوڑے ہوئے ہو آخرت کو (21)کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے (22) اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (23) اور کئی چہرے اس دن بے رونق ہوں گے (24) وہ یقین کریں گے کہ کیا جائے گا ان سے (معاملہ) کمر توڑ دینے والا (25) [21,20] وہ چیز جو تمھاری غفلت اور اللہ تعالیٰ کے وعظ و تذکیر سے روگردانی کی موجب ہے، یہ ہے کہ تم ﴿ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ﴾ ’’دنیا کو پسند کرتے ہو‘‘ اور تم اس کو حاصل کرنے اور اس کی لذت و شہوات میں کوشاں رہتے ہو، تم آخرت پر اس کو ترجیح دیتے اور آخرت کے لیے عمل کرنا چھوڑ دیتے ہو کیونکہ دنیا کی نعمتیں اور لذتیں جلد مل جاتی ہیں اور انسان جلد مل جانے والی چیز کا گرویدہ ہے۔آخرت کے اندر ہمیشہ رہنے والی جو نعمتیں ہیں، ان میں تاخیر ہے، اس لیے تم ان سے غافل ہو اور ان کو چھوڑ بیٹھے ہو، گویا کہ تم ان نعمتوں کے لیے پیدا ہی نہیں کیے گئے، یہ دنیا کا گھر ہی تمھارا دائمی ٹھکانا ہے، جس میں قیمتی عمریں گزاری جا رہی ہیں، اس دنیاکے لیے رات دن بھاگ دوڑ ہو رہی ہے، اور اس سے تمھارے سامنے حقیقت بدل گئی اور بہت زیادہ خسارہ حاصل ہوا۔اگر تم نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی ہوتی اور تم نے ایک صاحب بصیرت اور عقل مند شخص کی طرح انجام پر غور کیا تو تم کامیاب ہوتے، ایسا نفع حاصل کرتے جس کے ساتھ خسارہ نہ ہوتا اور تمھیں ایسی فوز و فلاح حاصل ہوتی جس کی مصاحبت میں بدبختی نہیں ہوتی۔ [23,22] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل آخرت کے احوال اور ان میں تفاوت کو بیان کرتے ہوئے ان امور کا ذکر کیا ہے جو آخرت کی ترجیح کی طرف دعوت دیتے ہیں، چنانچہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا:﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ﴾ اس دن کئی چہرے حسین اور خوبصورت ہوں گے، ان کے دلوں کی نعمت، نفوس کی مسرت، اور ارواح کی لذت کے باعث ان کے چہروں پر رونق اور نور ہو گا۔ ﴿ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ﴾ ’’اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اپنے مراتب کے مطابق اپنے رب کا دیدار کریں گے۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ہر روز صبح و شام اپنے رب کا دیدار کریں گے اور کچھ لوگ ہر جمعہ ایک مرتبہ دیدار کر پائیں گے، وہ اللہ تعالیٰ کے کریم چہرے اور اس کے بے پناہ جمال سے، جس کی کوئی مثال نہیں، متمتع ہوں گے۔ جب وہ اپنے رب کا دیدار کریں گے تو وہ ان تمام نعمتوں کو بھول جائیں گے جو انھیں حاصل ہوں گی، انھیں اس دیدار سے ایسی لذت و مسرت حاصل ہو گی جس کی تعبیر ممکن نہیں، ان کے چہرے بارونق ہوں گے اور ان کی خوبصورتی اور جمال میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔ ہم اللہ کریم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ان لوگوں کی معیت سے سرفراز کرے۔ [25,24] پھر اللہ تعالیٰ نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَوُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍۭؔ بَاسِرَةٌ﴾ ’’اس دن کئی چہرے اداس ہوں گے۔‘‘ یعنی ترش رو، گرد سے اٹے ہوئے، سہمے ہوئے اور ذلیل ہوں گے۔ ﴿ تَظُنُّ اَنۡ يُّفۡعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ﴾ ’’خیال کریں گے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے۔‘‘ یعنی سخت عقوبت اور درد ناک عذاب، اسی وجہ سے ان کے چہرے متغیر اور چیں بہ جبیں ہوں گے۔

القيامة 75:24

ہرگز نہیں !بلکہ تم پسند کرتے ہو دنیا کو (20) اور چھوڑے ہوئے ہو آخرت کو (21)کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے (22) اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (23) اور کئی چہرے اس دن بے رونق ہوں گے (24) وہ یقین کریں گے کہ کیا جائے گا ان سے (معاملہ) کمر توڑ دینے والا (25) [21,20] وہ چیز جو تمھاری غفلت اور اللہ تعالیٰ کے وعظ و تذکیر سے روگردانی کی موجب ہے، یہ ہے کہ تم ﴿ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ﴾ ’’دنیا کو پسند کرتے ہو‘‘ اور تم اس کو حاصل کرنے اور اس کی لذت و شہوات میں کوشاں رہتے ہو، تم آخرت پر اس کو ترجیح دیتے اور آخرت کے لیے عمل کرنا چھوڑ دیتے ہو کیونکہ دنیا کی نعمتیں اور لذتیں جلد مل جاتی ہیں اور انسان جلد مل جانے والی چیز کا گرویدہ ہے۔آخرت کے اندر ہمیشہ رہنے والی جو نعمتیں ہیں، ان میں تاخیر ہے، اس لیے تم ان سے غافل ہو اور ان کو چھوڑ بیٹھے ہو، گویا کہ تم ان نعمتوں کے لیے پیدا ہی نہیں کیے گئے، یہ دنیا کا گھر ہی تمھارا دائمی ٹھکانا ہے، جس میں قیمتی عمریں گزاری جا رہی ہیں، اس دنیاکے لیے رات دن بھاگ دوڑ ہو رہی ہے، اور اس سے تمھارے سامنے حقیقت بدل گئی اور بہت زیادہ خسارہ حاصل ہوا۔اگر تم نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی ہوتی اور تم نے ایک صاحب بصیرت اور عقل مند شخص کی طرح انجام پر غور کیا تو تم کامیاب ہوتے، ایسا نفع حاصل کرتے جس کے ساتھ خسارہ نہ ہوتا اور تمھیں ایسی فوز و فلاح حاصل ہوتی جس کی مصاحبت میں بدبختی نہیں ہوتی۔ [23,22] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل آخرت کے احوال اور ان میں تفاوت کو بیان کرتے ہوئے ان امور کا ذکر کیا ہے جو آخرت کی ترجیح کی طرف دعوت دیتے ہیں، چنانچہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا:﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ﴾ اس دن کئی چہرے حسین اور خوبصورت ہوں گے، ان کے دلوں کی نعمت، نفوس کی مسرت، اور ارواح کی لذت کے باعث ان کے چہروں پر رونق اور نور ہو گا۔ ﴿ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ﴾ ’’اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اپنے مراتب کے مطابق اپنے رب کا دیدار کریں گے۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ہر روز صبح و شام اپنے رب کا دیدار کریں گے اور کچھ لوگ ہر جمعہ ایک مرتبہ دیدار کر پائیں گے، وہ اللہ تعالیٰ کے کریم چہرے اور اس کے بے پناہ جمال سے، جس کی کوئی مثال نہیں، متمتع ہوں گے۔ جب وہ اپنے رب کا دیدار کریں گے تو وہ ان تمام نعمتوں کو بھول جائیں گے جو انھیں حاصل ہوں گی، انھیں اس دیدار سے ایسی لذت و مسرت حاصل ہو گی جس کی تعبیر ممکن نہیں، ان کے چہرے بارونق ہوں گے اور ان کی خوبصورتی اور جمال میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔ ہم اللہ کریم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ان لوگوں کی معیت سے سرفراز کرے۔ [25,24] پھر اللہ تعالیٰ نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَوُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍۭؔ بَاسِرَةٌ﴾ ’’اس دن کئی چہرے اداس ہوں گے۔‘‘ یعنی ترش رو، گرد سے اٹے ہوئے، سہمے ہوئے اور ذلیل ہوں گے۔ ﴿ تَظُنُّ اَنۡ يُّفۡعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ﴾ ’’خیال کریں گے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے۔‘‘ یعنی سخت عقوبت اور درد ناک عذاب، اسی وجہ سے ان کے چہرے متغیر اور چیں بہ جبیں ہوں گے۔

القيامة 75:25

ہرگز نہیں !بلکہ تم پسند کرتے ہو دنیا کو (20) اور چھوڑے ہوئے ہو آخرت کو (21)کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے (22) اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (23) اور کئی چہرے اس دن بے رونق ہوں گے (24) وہ یقین کریں گے کہ کیا جائے گا ان سے (معاملہ) کمر توڑ دینے والا (25) [21,20] وہ چیز جو تمھاری غفلت اور اللہ تعالیٰ کے وعظ و تذکیر سے روگردانی کی موجب ہے، یہ ہے کہ تم ﴿ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ﴾ ’’دنیا کو پسند کرتے ہو‘‘ اور تم اس کو حاصل کرنے اور اس کی لذت و شہوات میں کوشاں رہتے ہو، تم آخرت پر اس کو ترجیح دیتے اور آخرت کے لیے عمل کرنا چھوڑ دیتے ہو کیونکہ دنیا کی نعمتیں اور لذتیں جلد مل جاتی ہیں اور انسان جلد مل جانے والی چیز کا گرویدہ ہے۔آخرت کے اندر ہمیشہ رہنے والی جو نعمتیں ہیں، ان میں تاخیر ہے، اس لیے تم ان سے غافل ہو اور ان کو چھوڑ بیٹھے ہو، گویا کہ تم ان نعمتوں کے لیے پیدا ہی نہیں کیے گئے، یہ دنیا کا گھر ہی تمھارا دائمی ٹھکانا ہے، جس میں قیمتی عمریں گزاری جا رہی ہیں، اس دنیاکے لیے رات دن بھاگ دوڑ ہو رہی ہے، اور اس سے تمھارے سامنے حقیقت بدل گئی اور بہت زیادہ خسارہ حاصل ہوا۔اگر تم نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی ہوتی اور تم نے ایک صاحب بصیرت اور عقل مند شخص کی طرح انجام پر غور کیا تو تم کامیاب ہوتے، ایسا نفع حاصل کرتے جس کے ساتھ خسارہ نہ ہوتا اور تمھیں ایسی فوز و فلاح حاصل ہوتی جس کی مصاحبت میں بدبختی نہیں ہوتی۔ [23,22] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل آخرت کے احوال اور ان میں تفاوت کو بیان کرتے ہوئے ان امور کا ذکر کیا ہے جو آخرت کی ترجیح کی طرف دعوت دیتے ہیں، چنانچہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا:﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ﴾ اس دن کئی چہرے حسین اور خوبصورت ہوں گے، ان کے دلوں کی نعمت، نفوس کی مسرت، اور ارواح کی لذت کے باعث ان کے چہروں پر رونق اور نور ہو گا۔ ﴿ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ﴾ ’’اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اپنے مراتب کے مطابق اپنے رب کا دیدار کریں گے۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ہر روز صبح و شام اپنے رب کا دیدار کریں گے اور کچھ لوگ ہر جمعہ ایک مرتبہ دیدار کر پائیں گے، وہ اللہ تعالیٰ کے کریم چہرے اور اس کے بے پناہ جمال سے، جس کی کوئی مثال نہیں، متمتع ہوں گے۔ جب وہ اپنے رب کا دیدار کریں گے تو وہ ان تمام نعمتوں کو بھول جائیں گے جو انھیں حاصل ہوں گی، انھیں اس دیدار سے ایسی لذت و مسرت حاصل ہو گی جس کی تعبیر ممکن نہیں، ان کے چہرے بارونق ہوں گے اور ان کی خوبصورتی اور جمال میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔ ہم اللہ کریم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ان لوگوں کی معیت سے سرفراز کرے۔ [25,24] پھر اللہ تعالیٰ نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَوُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍۭؔ بَاسِرَةٌ﴾ ’’اس دن کئی چہرے اداس ہوں گے۔‘‘ یعنی ترش رو، گرد سے اٹے ہوئے، سہمے ہوئے اور ذلیل ہوں گے۔ ﴿ تَظُنُّ اَنۡ يُّفۡعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ﴾ ’’خیال کریں گے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے۔‘‘ یعنی سخت عقوبت اور درد ناک عذاب، اسی وجہ سے ان کے چہرے متغیر اور چیں بہ جبیں ہوں گے۔

القيامة 75:26

ہرگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا (اسے)(38) پھر بنایا اس سے جوڑا نراور مادہ(39) کیا نہیں ہے وہ (اللہ) قادر اس بات پر کہ وہ زندہ کر دے مردوں کو؟ (40) [30-26] اللہ تبارک و تعالیٰ قریب المرگ شخص کا حال بیان کر کے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، جبکہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی (حلق) تک پہنچ جائے گی۔ ﴿التَّرَاقِيَ﴾سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنھوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے، پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَقِيۡلَ مَنۡ١ٚ رَاقٍ﴾ یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرے؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا و قدر کا فیصلہ آ جاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔﴿وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُ﴾ اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا سے جدائی ہے ﴿ وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ﴾ ’’اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔‘‘ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہو جائے گا، خواہش ہو گی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے۔یہ زجر و توبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، دلوں کو اس منزل کی طرف لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات ہے اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے۔ [33-31] مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جما رہتا ہے۔﴿ فَلَا صَدَّقَ﴾ ’’پس نہ اس نے تصدیق کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا ﴿ وَلَا صَلّٰى۰۰ وَلٰكِنۡ كَذَّبَ﴾ اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کی ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور امر و نہی سے روگردانی کی، یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بے خوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰى﴾ ’’ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا‘‘ یعنی اس کو کوئی پروا نہیں ہوئی۔ [35,34] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی، فرمایا:﴿ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ۰۰ثُمَّ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰى﴾ ’’افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔‘‘ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔ [40-36] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًى﴾ یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ ﴿ اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ ثُمَّ كَانَ﴾ ’’کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے، پھر ہوگیا؟‘‘ یعنی منی کے بعد﴿ عَلَقَةً ﴾ خون کا لوتھڑا ﴿ فَخَلَقَ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار پیدا کیا اور اسے درست کیا ، یعنی اس کو مہارت سے محکم کر کے بنایا ﴿ فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰى۰۰ اَلَيۡسَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہیں ہے وہ۔‘‘ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا ﴿ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيَِۧ الۡمَوۡتٰى﴾ ’’اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے؟‘‘ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

القيامة 75:27

ہرگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا (اسے)(38) پھر بنایا اس سے جوڑا نراور مادہ(39) کیا نہیں ہے وہ (اللہ) قادر اس بات پر کہ وہ زندہ کر دے مردوں کو؟ (40) [30-26] اللہ تبارک و تعالیٰ قریب المرگ شخص کا حال بیان کر کے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، جبکہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی (حلق) تک پہنچ جائے گی۔ ﴿التَّرَاقِيَ﴾سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنھوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے، پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَقِيۡلَ مَنۡ١ٚ رَاقٍ﴾ یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرے؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا و قدر کا فیصلہ آ جاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔﴿وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُ﴾ اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا سے جدائی ہے ﴿ وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ﴾ ’’اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔‘‘ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہو جائے گا، خواہش ہو گی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے۔یہ زجر و توبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، دلوں کو اس منزل کی طرف لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات ہے اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے۔ [33-31] مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جما رہتا ہے۔﴿ فَلَا صَدَّقَ﴾ ’’پس نہ اس نے تصدیق کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا ﴿ وَلَا صَلّٰى۰۰ وَلٰكِنۡ كَذَّبَ﴾ اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کی ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور امر و نہی سے روگردانی کی، یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بے خوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰى﴾ ’’ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا‘‘ یعنی اس کو کوئی پروا نہیں ہوئی۔ [35,34] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی، فرمایا:﴿ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ۰۰ثُمَّ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰى﴾ ’’افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔‘‘ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔ [40-36] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًى﴾ یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ ﴿ اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ ثُمَّ كَانَ﴾ ’’کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے، پھر ہوگیا؟‘‘ یعنی منی کے بعد﴿ عَلَقَةً ﴾ خون کا لوتھڑا ﴿ فَخَلَقَ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار پیدا کیا اور اسے درست کیا ، یعنی اس کو مہارت سے محکم کر کے بنایا ﴿ فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰى۰۰ اَلَيۡسَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہیں ہے وہ۔‘‘ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا ﴿ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيَِۧ الۡمَوۡتٰى﴾ ’’اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے؟‘‘ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

القيامة 75:28

ہرگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا (اسے)(38) پھر بنایا اس سے جوڑا نراور مادہ(39) کیا نہیں ہے وہ (اللہ) قادر اس بات پر کہ وہ زندہ کر دے مردوں کو؟ (40) [30-26] اللہ تبارک و تعالیٰ قریب المرگ شخص کا حال بیان کر کے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، جبکہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی (حلق) تک پہنچ جائے گی۔ ﴿التَّرَاقِيَ﴾سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنھوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے، پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَقِيۡلَ مَنۡ١ٚ رَاقٍ﴾ یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرے؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا و قدر کا فیصلہ آ جاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔﴿وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُ﴾ اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا سے جدائی ہے ﴿ وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ﴾ ’’اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔‘‘ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہو جائے گا، خواہش ہو گی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے۔یہ زجر و توبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، دلوں کو اس منزل کی طرف لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات ہے اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے۔ [33-31] مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جما رہتا ہے۔﴿ فَلَا صَدَّقَ﴾ ’’پس نہ اس نے تصدیق کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا ﴿ وَلَا صَلّٰى۰۰ وَلٰكِنۡ كَذَّبَ﴾ اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کی ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور امر و نہی سے روگردانی کی، یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بے خوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰى﴾ ’’ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا‘‘ یعنی اس کو کوئی پروا نہیں ہوئی۔ [35,34] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی، فرمایا:﴿ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ۰۰ثُمَّ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰى﴾ ’’افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔‘‘ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔ [40-36] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًى﴾ یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ ﴿ اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ ثُمَّ كَانَ﴾ ’’کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے، پھر ہوگیا؟‘‘ یعنی منی کے بعد﴿ عَلَقَةً ﴾ خون کا لوتھڑا ﴿ فَخَلَقَ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار پیدا کیا اور اسے درست کیا ، یعنی اس کو مہارت سے محکم کر کے بنایا ﴿ فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰى۰۰ اَلَيۡسَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہیں ہے وہ۔‘‘ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا ﴿ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيَِۧ الۡمَوۡتٰى﴾ ’’اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے؟‘‘ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

القيامة 75:29

ہرگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا (اسے)(38) پھر بنایا اس سے جوڑا نراور مادہ(39) کیا نہیں ہے وہ (اللہ) قادر اس بات پر کہ وہ زندہ کر دے مردوں کو؟ (40) [30-26] اللہ تبارک و تعالیٰ قریب المرگ شخص کا حال بیان کر کے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، جبکہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی (حلق) تک پہنچ جائے گی۔ ﴿التَّرَاقِيَ﴾سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنھوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے، پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَقِيۡلَ مَنۡ١ٚ رَاقٍ﴾ یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرے؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا و قدر کا فیصلہ آ جاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔﴿وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُ﴾ اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا سے جدائی ہے ﴿ وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ﴾ ’’اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔‘‘ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہو جائے گا، خواہش ہو گی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے۔یہ زجر و توبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، دلوں کو اس منزل کی طرف لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات ہے اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے۔ [33-31] مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جما رہتا ہے۔﴿ فَلَا صَدَّقَ﴾ ’’پس نہ اس نے تصدیق کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا ﴿ وَلَا صَلّٰى۰۰ وَلٰكِنۡ كَذَّبَ﴾ اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کی ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور امر و نہی سے روگردانی کی، یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بے خوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰى﴾ ’’ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا‘‘ یعنی اس کو کوئی پروا نہیں ہوئی۔ [35,34] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی، فرمایا:﴿ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ۰۰ثُمَّ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰى﴾ ’’افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔‘‘ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔ [40-36] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًى﴾ یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ ﴿ اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ ثُمَّ كَانَ﴾ ’’کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے، پھر ہوگیا؟‘‘ یعنی منی کے بعد﴿ عَلَقَةً ﴾ خون کا لوتھڑا ﴿ فَخَلَقَ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار پیدا کیا اور اسے درست کیا ، یعنی اس کو مہارت سے محکم کر کے بنایا ﴿ فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰى۰۰ اَلَيۡسَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہیں ہے وہ۔‘‘ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا ﴿ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيَِۧ الۡمَوۡتٰى﴾ ’’اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے؟‘‘ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

القيامة 75:30

ہرگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا (اسے)(38) پھر بنایا اس سے جوڑا نراور مادہ(39) کیا نہیں ہے وہ (اللہ) قادر اس بات پر کہ وہ زندہ کر دے مردوں کو؟ (40) [30-26] اللہ تبارک و تعالیٰ قریب المرگ شخص کا حال بیان کر کے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، جبکہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی (حلق) تک پہنچ جائے گی۔ ﴿التَّرَاقِيَ﴾سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنھوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے، پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَقِيۡلَ مَنۡ١ٚ رَاقٍ﴾ یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرے؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا و قدر کا فیصلہ آ جاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔﴿وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُ﴾ اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا سے جدائی ہے ﴿ وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ﴾ ’’اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔‘‘ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہو جائے گا، خواہش ہو گی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے۔یہ زجر و توبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، دلوں کو اس منزل کی طرف لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات ہے اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے۔ [33-31] مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جما رہتا ہے۔﴿ فَلَا صَدَّقَ﴾ ’’پس نہ اس نے تصدیق کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا ﴿ وَلَا صَلّٰى۰۰ وَلٰكِنۡ كَذَّبَ﴾ اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کی ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور امر و نہی سے روگردانی کی، یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بے خوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰى﴾ ’’ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا‘‘ یعنی اس کو کوئی پروا نہیں ہوئی۔ [35,34] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی، فرمایا:﴿ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ۰۰ثُمَّ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰى﴾ ’’افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔‘‘ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔ [40-36] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًى﴾ یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ ﴿ اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ ثُمَّ كَانَ﴾ ’’کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے، پھر ہوگیا؟‘‘ یعنی منی کے بعد﴿ عَلَقَةً ﴾ خون کا لوتھڑا ﴿ فَخَلَقَ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار پیدا کیا اور اسے درست کیا ، یعنی اس کو مہارت سے محکم کر کے بنایا ﴿ فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰى۰۰ اَلَيۡسَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہیں ہے وہ۔‘‘ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا ﴿ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيَِۧ الۡمَوۡتٰى﴾ ’’اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے؟‘‘ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

القيامة 75:31

ہرگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا (اسے)(38) پھر بنایا اس سے جوڑا نراور مادہ(39) کیا نہیں ہے وہ (اللہ) قادر اس بات پر کہ وہ زندہ کر دے مردوں کو؟ (40) [30-26] اللہ تبارک و تعالیٰ قریب المرگ شخص کا حال بیان کر کے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، جبکہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی (حلق) تک پہنچ جائے گی۔ ﴿التَّرَاقِيَ﴾سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنھوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے، پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَقِيۡلَ مَنۡ١ٚ رَاقٍ﴾ یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرے؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا و قدر کا فیصلہ آ جاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔﴿وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُ﴾ اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا سے جدائی ہے ﴿ وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ﴾ ’’اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔‘‘ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہو جائے گا، خواہش ہو گی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے۔یہ زجر و توبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، دلوں کو اس منزل کی طرف لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات ہے اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے۔ [33-31] مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جما رہتا ہے۔﴿ فَلَا صَدَّقَ﴾ ’’پس نہ اس نے تصدیق کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا ﴿ وَلَا صَلّٰى۰۰ وَلٰكِنۡ كَذَّبَ﴾ اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کی ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور امر و نہی سے روگردانی کی، یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بے خوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰى﴾ ’’ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا‘‘ یعنی اس کو کوئی پروا نہیں ہوئی۔ [35,34] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی، فرمایا:﴿ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ۰۰ثُمَّ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰى﴾ ’’افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔‘‘ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔ [40-36] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًى﴾ یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ ﴿ اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ ثُمَّ كَانَ﴾ ’’کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے، پھر ہوگیا؟‘‘ یعنی منی کے بعد﴿ عَلَقَةً ﴾ خون کا لوتھڑا ﴿ فَخَلَقَ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار پیدا کیا اور اسے درست کیا ، یعنی اس کو مہارت سے محکم کر کے بنایا ﴿ فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰى۰۰ اَلَيۡسَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہیں ہے وہ۔‘‘ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا ﴿ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيَِۧ الۡمَوۡتٰى﴾ ’’اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے؟‘‘ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

القيامة 75:32

ہرگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا (اسے)(38) پھر بنایا اس سے جوڑا نراور مادہ(39) کیا نہیں ہے وہ (اللہ) قادر اس بات پر کہ وہ زندہ کر دے مردوں کو؟ (40) [30-26] اللہ تبارک و تعالیٰ قریب المرگ شخص کا حال بیان کر کے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، جبکہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی (حلق) تک پہنچ جائے گی۔ ﴿التَّرَاقِيَ﴾سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنھوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے، پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَقِيۡلَ مَنۡ١ٚ رَاقٍ﴾ یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرے؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا و قدر کا فیصلہ آ جاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔﴿وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُ﴾ اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا سے جدائی ہے ﴿ وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ﴾ ’’اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔‘‘ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہو جائے گا، خواہش ہو گی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے۔یہ زجر و توبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، دلوں کو اس منزل کی طرف لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات ہے اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے۔ [33-31] مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جما رہتا ہے۔﴿ فَلَا صَدَّقَ﴾ ’’پس نہ اس نے تصدیق کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا ﴿ وَلَا صَلّٰى۰۰ وَلٰكِنۡ كَذَّبَ﴾ اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کی ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور امر و نہی سے روگردانی کی، یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بے خوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰى﴾ ’’ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا‘‘ یعنی اس کو کوئی پروا نہیں ہوئی۔ [35,34] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی، فرمایا:﴿ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ۰۰ثُمَّ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰى﴾ ’’افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔‘‘ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔ [40-36] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًى﴾ یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ ﴿ اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ ثُمَّ كَانَ﴾ ’’کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے، پھر ہوگیا؟‘‘ یعنی منی کے بعد﴿ عَلَقَةً ﴾ خون کا لوتھڑا ﴿ فَخَلَقَ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار پیدا کیا اور اسے درست کیا ، یعنی اس کو مہارت سے محکم کر کے بنایا ﴿ فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰى۰۰ اَلَيۡسَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہیں ہے وہ۔‘‘ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا ﴿ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيَِۧ الۡمَوۡتٰى﴾ ’’اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے؟‘‘ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

القيامة 75:33

ہرگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا (اسے)(38) پھر بنایا اس سے جوڑا نراور مادہ(39) کیا نہیں ہے وہ (اللہ) قادر اس بات پر کہ وہ زندہ کر دے مردوں کو؟ (40) [30-26] اللہ تبارک و تعالیٰ قریب المرگ شخص کا حال بیان کر کے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، جبکہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی (حلق) تک پہنچ جائے گی۔ ﴿التَّرَاقِيَ﴾سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنھوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے، پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَقِيۡلَ مَنۡ١ٚ رَاقٍ﴾ یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرے؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا و قدر کا فیصلہ آ جاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔﴿وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُ﴾ اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا سے جدائی ہے ﴿ وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ﴾ ’’اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔‘‘ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہو جائے گا، خواہش ہو گی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے۔یہ زجر و توبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، دلوں کو اس منزل کی طرف لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات ہے اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے۔ [33-31] مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جما رہتا ہے۔﴿ فَلَا صَدَّقَ﴾ ’’پس نہ اس نے تصدیق کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا ﴿ وَلَا صَلّٰى۰۰ وَلٰكِنۡ كَذَّبَ﴾ اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کی ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور امر و نہی سے روگردانی کی، یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بے خوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰى﴾ ’’ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا‘‘ یعنی اس کو کوئی پروا نہیں ہوئی۔ [35,34] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی، فرمایا:﴿ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ۰۰ثُمَّ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰى﴾ ’’افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔‘‘ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔ [40-36] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًى﴾ یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ ﴿ اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ ثُمَّ كَانَ﴾ ’’کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے، پھر ہوگیا؟‘‘ یعنی منی کے بعد﴿ عَلَقَةً ﴾ خون کا لوتھڑا ﴿ فَخَلَقَ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار پیدا کیا اور اسے درست کیا ، یعنی اس کو مہارت سے محکم کر کے بنایا ﴿ فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰى۰۰ اَلَيۡسَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہیں ہے وہ۔‘‘ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا ﴿ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيَِۧ الۡمَوۡتٰى﴾ ’’اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے؟‘‘ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

القيامة 75:34

ہرگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا (اسے)(38) پھر بنایا اس سے جوڑا نراور مادہ(39) کیا نہیں ہے وہ (اللہ) قادر اس بات پر کہ وہ زندہ کر دے مردوں کو؟ (40) [30-26] اللہ تبارک و تعالیٰ قریب المرگ شخص کا حال بیان کر کے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، جبکہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی (حلق) تک پہنچ جائے گی۔ ﴿التَّرَاقِيَ﴾سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنھوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے، پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَقِيۡلَ مَنۡ١ٚ رَاقٍ﴾ یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرے؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا و قدر کا فیصلہ آ جاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔﴿وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُ﴾ اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا سے جدائی ہے ﴿ وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ﴾ ’’اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔‘‘ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہو جائے گا، خواہش ہو گی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے۔یہ زجر و توبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، دلوں کو اس منزل کی طرف لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات ہے اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے۔ [33-31] مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جما رہتا ہے۔﴿ فَلَا صَدَّقَ﴾ ’’پس نہ اس نے تصدیق کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا ﴿ وَلَا صَلّٰى۰۰ وَلٰكِنۡ كَذَّبَ﴾ اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کی ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور امر و نہی سے روگردانی کی، یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بے خوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰى﴾ ’’ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا‘‘ یعنی اس کو کوئی پروا نہیں ہوئی۔ [35,34] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی، فرمایا:﴿ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ۰۰ثُمَّ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰى﴾ ’’افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔‘‘ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔ [40-36] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًى﴾ یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ ﴿ اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ ثُمَّ كَانَ﴾ ’’کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے، پھر ہوگیا؟‘‘ یعنی منی کے بعد﴿ عَلَقَةً ﴾ خون کا لوتھڑا ﴿ فَخَلَقَ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار پیدا کیا اور اسے درست کیا ، یعنی اس کو مہارت سے محکم کر کے بنایا ﴿ فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰى۰۰ اَلَيۡسَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہیں ہے وہ۔‘‘ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا ﴿ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيَِۧ الۡمَوۡتٰى﴾ ’’اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے؟‘‘ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

القيامة 75:35

ہرگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا (اسے)(38) پھر بنایا اس سے جوڑا نراور مادہ(39) کیا نہیں ہے وہ (اللہ) قادر اس بات پر کہ وہ زندہ کر دے مردوں کو؟ (40) [30-26] اللہ تبارک و تعالیٰ قریب المرگ شخص کا حال بیان کر کے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، جبکہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی (حلق) تک پہنچ جائے گی۔ ﴿التَّرَاقِيَ﴾سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنھوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے، پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَقِيۡلَ مَنۡ١ٚ رَاقٍ﴾ یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرے؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا و قدر کا فیصلہ آ جاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔﴿وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُ﴾ اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا سے جدائی ہے ﴿ وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ﴾ ’’اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔‘‘ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہو جائے گا، خواہش ہو گی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے۔یہ زجر و توبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، دلوں کو اس منزل کی طرف لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات ہے اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے۔ [33-31] مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جما رہتا ہے۔﴿ فَلَا صَدَّقَ﴾ ’’پس نہ اس نے تصدیق کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا ﴿ وَلَا صَلّٰى۰۰ وَلٰكِنۡ كَذَّبَ﴾ اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کی ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور امر و نہی سے روگردانی کی، یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بے خوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰى﴾ ’’ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا‘‘ یعنی اس کو کوئی پروا نہیں ہوئی۔ [35,34] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی، فرمایا:﴿ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ۰۰ثُمَّ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰى﴾ ’’افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔‘‘ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔ [40-36] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًى﴾ یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ ﴿ اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ ثُمَّ كَانَ﴾ ’’کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے، پھر ہوگیا؟‘‘ یعنی منی کے بعد﴿ عَلَقَةً ﴾ خون کا لوتھڑا ﴿ فَخَلَقَ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار پیدا کیا اور اسے درست کیا ، یعنی اس کو مہارت سے محکم کر کے بنایا ﴿ فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰى۰۰ اَلَيۡسَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہیں ہے وہ۔‘‘ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا ﴿ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيَِۧ الۡمَوۡتٰى﴾ ’’اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے؟‘‘ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

القيامة 75:36

ہرگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا (اسے)(38) پھر بنایا اس سے جوڑا نراور مادہ(39) کیا نہیں ہے وہ (اللہ) قادر اس بات پر کہ وہ زندہ کر دے مردوں کو؟ (40) [30-26] اللہ تبارک و تعالیٰ قریب المرگ شخص کا حال بیان کر کے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، جبکہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی (حلق) تک پہنچ جائے گی۔ ﴿التَّرَاقِيَ﴾سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنھوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے، پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَقِيۡلَ مَنۡ١ٚ رَاقٍ﴾ یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرے؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا و قدر کا فیصلہ آ جاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔﴿وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُ﴾ اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا سے جدائی ہے ﴿ وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ﴾ ’’اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔‘‘ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہو جائے گا، خواہش ہو گی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے۔یہ زجر و توبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، دلوں کو اس منزل کی طرف لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات ہے اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے۔ [33-31] مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جما رہتا ہے۔﴿ فَلَا صَدَّقَ﴾ ’’پس نہ اس نے تصدیق کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا ﴿ وَلَا صَلّٰى۰۰ وَلٰكِنۡ كَذَّبَ﴾ اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کی ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور امر و نہی سے روگردانی کی، یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بے خوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰى﴾ ’’ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا‘‘ یعنی اس کو کوئی پروا نہیں ہوئی۔ [35,34] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی، فرمایا:﴿ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ۰۰ثُمَّ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰى﴾ ’’افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔‘‘ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔ [40-36] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًى﴾ یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ ﴿ اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ ثُمَّ كَانَ﴾ ’’کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے، پھر ہوگیا؟‘‘ یعنی منی کے بعد﴿ عَلَقَةً ﴾ خون کا لوتھڑا ﴿ فَخَلَقَ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار پیدا کیا اور اسے درست کیا ، یعنی اس کو مہارت سے محکم کر کے بنایا ﴿ فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰى۰۰ اَلَيۡسَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہیں ہے وہ۔‘‘ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا ﴿ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيَِۧ الۡمَوۡتٰى﴾ ’’اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے؟‘‘ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

القيامة 75:37

ہرگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا (اسے)(38) پھر بنایا اس سے جوڑا نراور مادہ(39) کیا نہیں ہے وہ (اللہ) قادر اس بات پر کہ وہ زندہ کر دے مردوں کو؟ (40) [30-26] اللہ تبارک و تعالیٰ قریب المرگ شخص کا حال بیان کر کے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، جبکہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی (حلق) تک پہنچ جائے گی۔ ﴿التَّرَاقِيَ﴾سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنھوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے، پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَقِيۡلَ مَنۡ١ٚ رَاقٍ﴾ یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرے؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا و قدر کا فیصلہ آ جاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔﴿وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُ﴾ اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا سے جدائی ہے ﴿ وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ﴾ ’’اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔‘‘ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہو جائے گا، خواہش ہو گی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے۔یہ زجر و توبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، دلوں کو اس منزل کی طرف لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات ہے اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے۔ [33-31] مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جما رہتا ہے۔﴿ فَلَا صَدَّقَ﴾ ’’پس نہ اس نے تصدیق کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا ﴿ وَلَا صَلّٰى۰۰ وَلٰكِنۡ كَذَّبَ﴾ اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کی ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور امر و نہی سے روگردانی کی، یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بے خوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰى﴾ ’’ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا‘‘ یعنی اس کو کوئی پروا نہیں ہوئی۔ [35,34] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی، فرمایا:﴿ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ۰۰ثُمَّ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰى﴾ ’’افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔‘‘ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔ [40-36] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًى﴾ یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ ﴿ اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ ثُمَّ كَانَ﴾ ’’کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے، پھر ہوگیا؟‘‘ یعنی منی کے بعد﴿ عَلَقَةً ﴾ خون کا لوتھڑا ﴿ فَخَلَقَ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار پیدا کیا اور اسے درست کیا ، یعنی اس کو مہارت سے محکم کر کے بنایا ﴿ فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰى۰۰ اَلَيۡسَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہیں ہے وہ۔‘‘ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا ﴿ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيَِۧ الۡمَوۡتٰى﴾ ’’اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے؟‘‘ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

القيامة 75:38

ہرگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا (اسے)(38) پھر بنایا اس سے جوڑا نراور مادہ(39) کیا نہیں ہے وہ (اللہ) قادر اس بات پر کہ وہ زندہ کر دے مردوں کو؟ (40) [30-26] اللہ تبارک و تعالیٰ قریب المرگ شخص کا حال بیان کر کے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، جبکہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی (حلق) تک پہنچ جائے گی۔ ﴿التَّرَاقِيَ﴾سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنھوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے، پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَقِيۡلَ مَنۡ١ٚ رَاقٍ﴾ یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرے؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا و قدر کا فیصلہ آ جاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔﴿وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُ﴾ اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا سے جدائی ہے ﴿ وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ﴾ ’’اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔‘‘ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہو جائے گا، خواہش ہو گی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے۔یہ زجر و توبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، دلوں کو اس منزل کی طرف لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات ہے اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے۔ [33-31] مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جما رہتا ہے۔﴿ فَلَا صَدَّقَ﴾ ’’پس نہ اس نے تصدیق کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا ﴿ وَلَا صَلّٰى۰۰ وَلٰكِنۡ كَذَّبَ﴾ اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کی ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور امر و نہی سے روگردانی کی، یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بے خوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰى﴾ ’’ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا‘‘ یعنی اس کو کوئی پروا نہیں ہوئی۔ [35,34] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی، فرمایا:﴿ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ۰۰ثُمَّ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰى﴾ ’’افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔‘‘ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔ [40-36] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًى﴾ یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ ﴿ اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ ثُمَّ كَانَ﴾ ’’کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے، پھر ہوگیا؟‘‘ یعنی منی کے بعد﴿ عَلَقَةً ﴾ خون کا لوتھڑا ﴿ فَخَلَقَ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار پیدا کیا اور اسے درست کیا ، یعنی اس کو مہارت سے محکم کر کے بنایا ﴿ فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰى۰۰ اَلَيۡسَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہیں ہے وہ۔‘‘ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا ﴿ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيَِۧ الۡمَوۡتٰى﴾ ’’اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے؟‘‘ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

القيامة 75:39

ہرگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا (اسے)(38) پھر بنایا اس سے جوڑا نراور مادہ(39) کیا نہیں ہے وہ (اللہ) قادر اس بات پر کہ وہ زندہ کر دے مردوں کو؟ (40) [30-26] اللہ تبارک و تعالیٰ قریب المرگ شخص کا حال بیان کر کے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، جبکہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی (حلق) تک پہنچ جائے گی۔ ﴿التَّرَاقِيَ﴾سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنھوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے، پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَقِيۡلَ مَنۡ١ٚ رَاقٍ﴾ یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرے؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا و قدر کا فیصلہ آ جاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔﴿وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُ﴾ اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا سے جدائی ہے ﴿ وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ﴾ ’’اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔‘‘ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہو جائے گا، خواہش ہو گی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے۔یہ زجر و توبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، دلوں کو اس منزل کی طرف لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات ہے اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے۔ [33-31] مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جما رہتا ہے۔﴿ فَلَا صَدَّقَ﴾ ’’پس نہ اس نے تصدیق کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا ﴿ وَلَا صَلّٰى۰۰ وَلٰكِنۡ كَذَّبَ﴾ اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کی ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور امر و نہی سے روگردانی کی، یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بے خوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰى﴾ ’’ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا‘‘ یعنی اس کو کوئی پروا نہیں ہوئی۔ [35,34] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی، فرمایا:﴿ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ۰۰ثُمَّ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰى﴾ ’’افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔‘‘ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔ [40-36] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًى﴾ یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ ﴿ اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ ثُمَّ كَانَ﴾ ’’کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے، پھر ہوگیا؟‘‘ یعنی منی کے بعد﴿ عَلَقَةً ﴾ خون کا لوتھڑا ﴿ فَخَلَقَ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار پیدا کیا اور اسے درست کیا ، یعنی اس کو مہارت سے محکم کر کے بنایا ﴿ فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰى۰۰ اَلَيۡسَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہیں ہے وہ۔‘‘ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا ﴿ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيَِۧ الۡمَوۡتٰى﴾ ’’اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے؟‘‘ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

القيامة 75:40

ہرگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا (اسے)(38) پھر بنایا اس سے جوڑا نراور مادہ(39) کیا نہیں ہے وہ (اللہ) قادر اس بات پر کہ وہ زندہ کر دے مردوں کو؟ (40) [30-26] اللہ تبارک و تعالیٰ قریب المرگ شخص کا حال بیان کر کے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، جبکہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی (حلق) تک پہنچ جائے گی۔ ﴿التَّرَاقِيَ﴾سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنھوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے، پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَقِيۡلَ مَنۡ١ٚ رَاقٍ﴾ یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرے؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا و قدر کا فیصلہ آ جاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔﴿وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُ﴾ اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا سے جدائی ہے ﴿ وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ﴾ ’’اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔‘‘ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہو جائے گا، خواہش ہو گی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے۔یہ زجر و توبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، دلوں کو اس منزل کی طرف لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات ہے اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے۔ [33-31] مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جما رہتا ہے۔﴿ فَلَا صَدَّقَ﴾ ’’پس نہ اس نے تصدیق کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا ﴿ وَلَا صَلّٰى۰۰ وَلٰكِنۡ كَذَّبَ﴾ اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کی ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور امر و نہی سے روگردانی کی، یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بے خوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰى﴾ ’’ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا‘‘ یعنی اس کو کوئی پروا نہیں ہوئی۔ [35,34] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی، فرمایا:﴿ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ۰۰ثُمَّ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰى﴾ ’’افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔‘‘ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔ [40-36] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًى﴾ یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ ﴿ اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ ثُمَّ كَانَ﴾ ’’کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے، پھر ہوگیا؟‘‘ یعنی منی کے بعد﴿ عَلَقَةً ﴾ خون کا لوتھڑا ﴿ فَخَلَقَ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار پیدا کیا اور اسے درست کیا ، یعنی اس کو مہارت سے محکم کر کے بنایا ﴿ فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰى۰۰ اَلَيۡسَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہیں ہے وہ۔‘‘ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا ﴿ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيَِۧ الۡمَوۡتٰى﴾ ’’اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے؟‘‘ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔