Lafzullah

Tafsir Bayan ul Quran — الرعد 13:1 – النحل 16:128

Author / source: Dr. Israr Ahmad

Contents
  1. الرعد 13:1
  2. الرعد 13:2
  3. الرعد 13:3
  4. الرعد 13:4
  5. الرعد 13:5
  6. الرعد 13:6
  7. الرعد 13:7
  8. الرعد 13:8
  9. الرعد 13:9
  10. الرعد 13:10
  11. الرعد 13:11
  12. الرعد 13:12
  13. الرعد 13:13
  14. الرعد 13:14
  15. الرعد 13:15
  16. الرعد 13:16
  17. الرعد 13:17
  18. الرعد 13:18
  19. الرعد 13:19
  20. الرعد 13:20
  21. الرعد 13:21
  22. الرعد 13:22
  23. الرعد 13:23
  24. الرعد 13:24
  25. الرعد 13:25
  26. الرعد 13:26
  27. الرعد 13:27
  28. الرعد 13:28
  29. الرعد 13:29
  30. الرعد 13:30
  31. الرعد 13:31
  32. الرعد 13:32
  33. الرعد 13:33
  34. الرعد 13:34
  35. الرعد 13:35
  36. الرعد 13:36
  37. الرعد 13:37
  38. الرعد 13:38
  39. الرعد 13:39
  40. الرعد 13:40
  41. الرعد 13:41
  42. الرعد 13:42
  43. الرعد 13:43
  44. إبراهيم 14:1
  45. إبراهيم 14:2
  46. إبراهيم 14:3
  47. إبراهيم 14:4
  48. إبراهيم 14:5
  49. إبراهيم 14:6
  50. إبراهيم 14:7
  51. إبراهيم 14:8
  52. إبراهيم 14:9
  53. إبراهيم 14:10
  54. إبراهيم 14:11
  55. إبراهيم 14:12
  56. إبراهيم 14:13
  57. إبراهيم 14:14
  58. إبراهيم 14:15
  59. إبراهيم 14:16
  60. إبراهيم 14:17
  61. إبراهيم 14:18
  62. إبراهيم 14:19
  63. إبراهيم 14:20
  64. إبراهيم 14:21
  65. إبراهيم 14:22
  66. إبراهيم 14:23
  67. إبراهيم 14:24
  68. إبراهيم 14:25
  69. إبراهيم 14:26
  70. إبراهيم 14:27
  71. إبراهيم 14:28
  72. إبراهيم 14:29
  73. إبراهيم 14:30
  74. إبراهيم 14:31
  75. إبراهيم 14:32
  76. إبراهيم 14:33
  77. إبراهيم 14:34
  78. إبراهيم 14:35
  79. إبراهيم 14:36
  80. إبراهيم 14:37
  81. إبراهيم 14:38
  82. إبراهيم 14:39
  83. إبراهيم 14:40
  84. إبراهيم 14:41
  85. إبراهيم 14:42
  86. إبراهيم 14:43
  87. إبراهيم 14:44
  88. إبراهيم 14:45
  89. إبراهيم 14:46
  90. إبراهيم 14:47
  91. إبراهيم 14:48
  92. إبراهيم 14:49
  93. إبراهيم 14:50
  94. إبراهيم 14:51
  95. إبراهيم 14:52
  96. الحجر 15:1
  97. الحجر 15:2
  98. الحجر 15:3
  99. الحجر 15:4
  100. الحجر 15:5
  101. الحجر 15:6
  102. الحجر 15:7
  103. الحجر 15:8
  104. الحجر 15:9
  105. الحجر 15:10
  106. الحجر 15:11
  107. الحجر 15:12
  108. الحجر 15:13
  109. الحجر 15:14
  110. الحجر 15:15
  111. الحجر 15:16
  112. الحجر 15:17
  113. الحجر 15:18
  114. الحجر 15:19
  115. الحجر 15:20
  116. الحجر 15:21
  117. الحجر 15:22
  118. الحجر 15:23
  119. الحجر 15:24
  120. الحجر 15:25
  121. الحجر 15:26
  122. الحجر 15:27
  123. الحجر 15:28
  124. الحجر 15:29
  125. الحجر 15:30
  126. الحجر 15:31
  127. الحجر 15:32
  128. الحجر 15:33
  129. الحجر 15:34
  130. الحجر 15:35
  131. الحجر 15:36
  132. الحجر 15:37
  133. الحجر 15:38
  134. الحجر 15:39
  135. الحجر 15:40
  136. الحجر 15:41
  137. الحجر 15:42
  138. الحجر 15:43
  139. الحجر 15:44
  140. الحجر 15:45
  141. الحجر 15:46
  142. الحجر 15:47
  143. الحجر 15:48
  144. الحجر 15:49
  145. الحجر 15:50
  146. الحجر 15:51
  147. الحجر 15:52
  148. الحجر 15:53
  149. الحجر 15:54
  150. الحجر 15:55
  151. الحجر 15:56
  152. الحجر 15:57
  153. الحجر 15:58
  154. الحجر 15:59
  155. الحجر 15:60
  156. الحجر 15:61
  157. الحجر 15:62
  158. الحجر 15:63
  159. الحجر 15:64
  160. الحجر 15:65
  161. الحجر 15:66
  162. الحجر 15:67
  163. الحجر 15:68
  164. الحجر 15:69
  165. الحجر 15:70
  166. الحجر 15:71
  167. الحجر 15:72
  168. الحجر 15:73
  169. الحجر 15:74
  170. الحجر 15:75
  171. الحجر 15:76
  172. الحجر 15:77
  173. الحجر 15:78
  174. الحجر 15:79
  175. الحجر 15:80
  176. الحجر 15:81
  177. الحجر 15:82
  178. الحجر 15:83
  179. الحجر 15:84
  180. الحجر 15:85
  181. الحجر 15:86
  182. الحجر 15:87
  183. الحجر 15:88
  184. الحجر 15:89
  185. الحجر 15:90
  186. الحجر 15:91
  187. الحجر 15:92
  188. الحجر 15:93
  189. الحجر 15:94
  190. الحجر 15:95
  191. الحجر 15:96
  192. الحجر 15:97
  193. الحجر 15:98
  194. الحجر 15:99
  195. النحل 16:1
  196. النحل 16:2
  197. النحل 16:3
  198. النحل 16:4
  199. النحل 16:5
  200. النحل 16:6
  201. النحل 16:7
  202. النحل 16:8
  203. النحل 16:9
  204. النحل 16:10
  205. النحل 16:11
  206. النحل 16:12
  207. النحل 16:13
  208. النحل 16:14
  209. النحل 16:15
  210. النحل 16:16
  211. النحل 16:17
  212. النحل 16:18
  213. النحل 16:19
  214. النحل 16:20
  215. النحل 16:21
  216. النحل 16:22
  217. النحل 16:23
  218. النحل 16:24
  219. النحل 16:25
  220. النحل 16:26
  221. النحل 16:27
  222. النحل 16:28
  223. النحل 16:29
  224. النحل 16:30
  225. النحل 16:31
  226. النحل 16:32
  227. النحل 16:33
  228. النحل 16:34
  229. النحل 16:35
  230. النحل 16:36
  231. النحل 16:37
  232. النحل 16:38
  233. النحل 16:39
  234. النحل 16:40
  235. النحل 16:41
  236. النحل 16:42
  237. النحل 16:43
  238. النحل 16:44
  239. النحل 16:45
  240. النحل 16:46
  241. النحل 16:47
  242. النحل 16:48
  243. النحل 16:49
  244. النحل 16:50
  245. النحل 16:51
  246. النحل 16:52
  247. النحل 16:53
  248. النحل 16:54
  249. النحل 16:55
  250. النحل 16:56
  251. النحل 16:57
  252. النحل 16:58
  253. النحل 16:59
  254. النحل 16:60
  255. النحل 16:61
  256. النحل 16:62
  257. النحل 16:63
  258. النحل 16:64
  259. النحل 16:65
  260. النحل 16:66
  261. النحل 16:67
  262. النحل 16:68
  263. النحل 16:69
  264. النحل 16:70
  265. النحل 16:71
  266. النحل 16:72
  267. النحل 16:73
  268. النحل 16:74
  269. النحل 16:75
  270. النحل 16:76
  271. النحل 16:77
  272. النحل 16:78
  273. النحل 16:79
  274. النحل 16:80
  275. النحل 16:81
  276. النحل 16:82
  277. النحل 16:83
  278. النحل 16:84
  279. النحل 16:85
  280. النحل 16:86
  281. النحل 16:87
  282. النحل 16:88
  283. النحل 16:89
  284. النحل 16:90
  285. النحل 16:91
  286. النحل 16:92
  287. النحل 16:93
  288. النحل 16:94
  289. النحل 16:95
  290. النحل 16:96
  291. النحل 16:97
  292. النحل 16:98
  293. النحل 16:99
  294. النحل 16:100
  295. النحل 16:101
  296. النحل 16:102
  297. النحل 16:103
  298. النحل 16:104
  299. النحل 16:105
  300. النحل 16:106
  301. النحل 16:107
  302. النحل 16:108
  303. النحل 16:109
  304. النحل 16:110
  305. النحل 16:111
  306. النحل 16:112
  307. النحل 16:113
  308. النحل 16:114
  309. النحل 16:115
  310. النحل 16:116
  311. النحل 16:117
  312. النحل 16:118
  313. النحل 16:119
  314. النحل 16:120
  315. النحل 16:121
  316. النحل 16:122
  317. النحل 16:123
  318. النحل 16:124
  319. النحل 16:125
  320. النحل 16:126
  321. النحل 16:127
  322. النحل 16:128

الرعد 13:1

مَا كَانَ حَدِيْثًا يُّفْتَرٰى وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ یعنی یہ واقعات تورات میں بھی ہیں اور قرآن انہی واقعات کی تصدیق کررہا ہے۔ حضرت یوسف کے قصے کے سلسلے میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے بہت عمدگی کے ساتھ تورات اور قرآن کا تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے ‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے حسن بیان اور اس کے حکیمانہ انداز کا معیار اس قدر بلند ہے کہ تورات میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل تورات تو گم ہوگئی تھی۔ بعد میں حافظے کی مدد سے جو تحریریں مرتب کی گئیں ان میں ظاہر ہے وہ معیار تو پیدا نہیں ہوسکتا تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ تورات میں تھا۔وَتَفْصِيْلَ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ یعنی وہ علم جو اس دنیا میں انسان کے لیے ضروری ہے اور وہ راہنمائی جو دنیوی زندگی میں اسے درکار ہے سب کچھ اس قرآن میں موجود ہے۔

الرعد 13:2

آیت 2 اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَااس کائنات کے اندر جو بلندیاں ہیں انہیں ستونوں یا کسی طبعی سہارے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے باہمی کشش کا ایک عظیم الشان نظام وضع کیا گیا ہے جس کے تحت تمام کہکشائیں ستارے اور سیارے اپنے اپنے مقام پر رہ کر اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّىیعنی اس کائنات کی ہرچیز متحرک ہے چل رہی ہے یہاں پر سکون اور قیام کا کوئی تصور نہیں۔ دوسرا اہم نکتہ جو یہاں بیان ہوا وہ یہ ہے کہ اس کائنات کی ہر شے کی عمریا مہلت مقرر ہے۔ ہر ستارے ہر سیارے ہر نظام شمسی اور ہر کہکشاں کی مہلت زندگی مقرر و معینّ ہے۔

الرعد 13:3

آیت 3 وَهُوَ الَّذِيْ مَدَّ الْاَرْضَ وَجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ وَاَنْهٰرًااللہ تعالیٰ نے زمین کا توازن برقرار رکھنے کے لیے اس پر پہاڑوں کے کھونٹے گاڑ دیے ہیں اور پانی کی فراہمی کے لیے دریا اور ندیاں بہا دی ہیں۔وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيْهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ جوڑے بنانے کے اس قانون کو اللہ تعالیٰ نے سورة الذاریات آیت 49 میں اس طرح بیان فرمایا ہے : وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ ”اور ہرچیز کے ہم نے جوڑے بنائے“ گویا یہ زوجین نر اور مادہ کی تخلیق اور ان کا قاعدہ و قانون اللہ تعالیٰ نے اس عالم خلق کے اندر ایک باقاعدہ نظام کے طور پر رکھا ہے۔ یہاں پر پھلوں کے حوالے سے اشارہ ہے کہ نباتات میں بھی نر اور مادہ کا باقاعدہ نظام موجود ہے۔ کہیں نر اور مادہ پھول الگ الگ ہوتے ہیں اور کہیں ایک ہی پھول کے اندر ایک حصہ نر اور ایک حصہ مادہ ہوتا ہے۔

الرعد 13:4

وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ ایک ہی زمین میں ایک ہی جڑ سے کھجور کے دو درخت اگتے ہیں ‘ دونوں کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے لیکن دونوں کے پھلوں کا اپنا اپنا ذائقہ ہوتا ہے۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ یہ التذکیر بالآء اللّٰہ کا انداز ہے جس میں بار بار اللہ کی قدرتوں نشانیوں اور نعمتوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔

الرعد 13:5

آیت 5 وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ یعنی کفار کا مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر تعجب کرنا ‘ بذات خود باعث تعجب ہے۔ جس اللہ نے پہلی مرتبہ تم لوگوں کو تخلیق کیا پوری کائنات اور اس کی ایک ایک چیز پر حکمت طریقے سے بنائی اس کے لیے یہ تعجب کرنا کہ وہ ہمیں دوبارہ کیسے زندہ کرے گا یہ سوچ اور یہ نظریہ اپنی جگہ بہت ہی مضحکہ خیز اور باعث تعجب ہے۔اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ دوبارہ جی اٹھنے کے عقیدے سے ان کا یہ انکار دراصل اللہ کے وجود کا انکار ہے۔ اس کی قدرت اور اس کے عَلٰی کُلِّ شَیٌ قَدِیْر ہونے کا انکار ہے۔

الرعد 13:6

آیت 6 وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ کفار مکہ حضور سے بڑی جسارت اور ڈھٹائی کے ساتھ بار بار مطالبہ کرتے تھے کہ لے آئیں ہم پر وہ عذاب جس کے بارے میں آپ ہمیں روز روز دھمکیاں دیتے ہیں۔وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ اللہ کے عذاب کی بہت سی عبرت ناک مثالیں گزشتہ اقوام کی تاریخ کی صورت میں ان کے سامنے ہیں۔وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ یہ اس کی رحمت اور شان غفاری کا مظہر ہے کہ ان کے مطالبے کے باوجود اور ان کے شرک وظلم میں اس حد تک بڑھ جانے کے باوجود عذاب بھیجنے میں تاخیر فرما رہا ہے۔

الرعد 13:7

آیت 7 وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ مشرکین مکہ بار بار اسی دلیل کو دہراتے تھے کہ اگر آپ رسول ہیں تو آپ کے رب کی طرف سے آپ کو کوئی حسی معجزہ کیوں نہیں دیا گیا ؟اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ جس طرح ہم نے ہر قوم کے لیے پیغمبر بھیجے ہیں اسی طرح آپ کو بھی ہم نے ان لوگوں کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا ہے۔ آپ کے ذمہ ان کی تبشیر ‘ تنذیر اور تذکیر ہے۔ آپ اپنا یہ فرض ادا کرتے رہیں۔

الرعد 13:8

آیت 8 اَللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰىہر مادہ چاہے وہ انسان ہے یا حیوان ‘ اس کے رحم میں جو کچھ ہے اللہ کے علم میں ہے۔وَمَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ جب حمل ٹھہر جاتا ہے تو رحم سکڑتا ہے اور جب بچہ بڑھتا ہے تو اس کے بڑھنے سے رحم پھیلتا ہے۔ ایک ایک مادہ کے اندر ہونے والی اس طرح کی ایک ایک تبدیلی کو اللہ خوب جانتا ہے۔وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ اس کائنات کا پورا نظام ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت چل رہا ہے جہاں ہرچیز کی مقدار اور ہر کام کے لیے قاعدہ اور قانون مقرر ہے۔

الرعد 13:9

آیت 8 اَللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰىہر مادہ چاہے وہ انسان ہے یا حیوان ‘ اس کے رحم میں جو کچھ ہے اللہ کے علم میں ہے۔وَمَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ جب حمل ٹھہر جاتا ہے تو رحم سکڑتا ہے اور جب بچہ بڑھتا ہے تو اس کے بڑھنے سے رحم پھیلتا ہے۔ ایک ایک مادہ کے اندر ہونے والی اس طرح کی ایک ایک تبدیلی کو اللہ خوب جانتا ہے۔وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ اس کائنات کا پورا نظام ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت چل رہا ہے جہاں ہرچیز کی مقدار اور ہر کام کے لیے قاعدہ اور قانون مقرر ہے۔

الرعد 13:10

آیت 10 سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ غیاب کی صورت ہو یا ظہور کا عالم ‘ اللہ کے علم کے سامنے سب برابر ہے۔ ہرچیز اور اس کی ہر کیفیت ہر آن اس کے سامنے حاضر و موجود ہے۔

الرعد 13:11

آیت 11 لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ یہ مضمون اس سے پہلے ہم سورة الانعام آیت 61 میں بھی پڑھ چکے ہیں : وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے تمہارے اوپر محافظ بھیجتا ہے۔ اللہ کے مقرر کردہ یہ فرشتے اللہ کی مشیت کے مطابق ہر وقت انسان کی حفاظت کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ اس کی موت کا وقت آ پہنچتا ہے۔اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ آپ اپنی باطنی کیفیت کو بدلیں گے ‘ اس کے لیے محنت کریں گے تو اللہ کی طرف سے بھی آپ کے معاملے میں تبدیلی کردی جائے گی۔ مولانا ظفر علی خان نے اس آیت کی ترجمانی ان خوبصورت الفاظ میں کی ہے : خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

الرعد 13:12

آیت 12 هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّيُنْشِئُ السَّحَاب الثِّقَالَ گہرے بادلوں کی گرج چمک میں خوف کے سائے بھی ہوتے ہیں اور امید کی روشنی بھی کہ شاید اس بارش سے فصلیں لہلہا اٹھیں اور ہماری قحط سالی خوشحالی میں بدل جائے۔ یعنی ایسی صورت حال میں خوف ورجاء کی کیفیت ایک ساتھ دلوں پر طاری ہوتی ہے۔

الرعد 13:13

آیت 13 وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ مِنْ خِيْفَتِهٖ یہ گرج اور کڑک کی آواز دراصل اللہ کی تسبیح وتحمید ہی کا ایک انداز ہے۔

الرعد 13:14

آیت 14 لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ یعنی اللہ ہی ایک ہستی ہے جس کو پکارنا جس سے دعا کرنا برحق ہے کیونکہ ایک وہی ہے جو تمہاری پکار کو سنتا ہے تمہاری حاجت کو جانتا ہے تمہاری حاجت روائی کرنے پر قادر ہے اس لیے اس کو پکارنا حق بھی ہے اور سود مند بھی۔ اسے چھوڑ کر کسی اور کو پکارو گے چاہے وہ کوئی فرشتہ ہو ولی ہو یا نبی کوئی تمہاری پکار اور فریاد کو نہیں سنے گا اور جیسا کہ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے تمہاری ہر ایسی پکار اکارت جائے گی۔ اس فقرے کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ ”اسی کی دعوت حق ہے“۔ یعنی جس چیز کی دعوت وہ دے رہا ہے جس راستے کی طرف وہ بلا رہا ہے وہی حق ہے۔ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ لَهُمْ بِشَيْءٍ وہ ان کی کوئی بھی داد رسی نہیں کرسکتے۔اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ اِلَى الْمَاۗءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهٖ جیسے اپنے ہاتھ پھیلا کر پانی کو اپنے منہ کی طرف بلانا ایک کار عبث ہے ‘ اسی طرح کسی غیر اللہ کو پکارنا اس کے سامنے گڑ گڑانا اور اس سے داد رسی کی امید رکھنا بھی کار عبث ہے۔وَمَا دُعَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ یہ لوگ جو اللہ کے علاوہ کسی کو پکارتے ہیں ان کی یہ پکار لاحاصل ہے ایک تیر بےہدف اور صدا بہ صحرا ہے۔

الرعد 13:15

آیت 15 وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ صبح کے وقت جب سورج نکلتا ہے اور سائے زمین پر لمبے ہو کر پڑے ہوتے ہیں وہ اس حالت میں اللہ کو سجدہ کر رہے ہوتے ہیں اور اسی طرح شام کو غروب آفتاب کے وقت بھی یہ سائے حالت سجدہ میں ہوتے ہیں۔

الرعد 13:16

اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ یعنی ان مشرکین کا معاملہ تو یوں لگتا ہے جیسے ان کے معبودوں نے بھی کچھ مخلوق پیدا کر رکھی ہے اور کچھ مخلوق اللہ کی ہے۔ اب وہ بےچارے اس شش و پنج میں پڑے ہوئے ہیں کہ کون سی مخلوق کو اللہ سے منسوب کریں اور کس کس کو اپنے ان معبودوں کی مخلوق مانیں ! جب ایسا نہیں ہے اور وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اس کا خالق اور مالک اللہ ہے تو پھر اللہ کو اکیلا اور واحد معبود ماننے میں وہ کیوں شکوک و شبہات کا شکار ہو رہے ہیں ؟

الرعد 13:17

آیت 17 اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَاقرآن چونکہ حجاز میں نازل ہورہا تھا اس لیے اس میں زیادہ تر مثالیں بھی اسی سرزمین سے دی گئی ہیں۔ اس مثال میں بھی علاقہ حجاز کے پہاڑی سلسلوں اور وادیوں کا ذکر ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو ہر وادی میں اس کی وسعت کے مطابق سیلابی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ کسی وادی کا catchment area زیادہ ہے تو وہاں زیادہ زوردار سیلاب آجاتا ہے اور جس کا کم ہے وہاں تھوڑا سیلاب آجاتا ہے۔فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًاپانی جب زور سے بہتا ہے تو اس کے اوپر جھاگ سا بن جاتا ہے۔ لیکن اس جھاگ کی کوئی حقیقت اور وقعت نہیں ہوتی۔كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ اس کا دوسرا ترجمہ یوں ہوگا : ”اسی طرح اللہ حق و باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔“فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاۗءً جھاگ کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ہوتی اصل نتائج کے اعتبار سے اس کا ہونا یا نہ ہونا گویا برابر ہے۔وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ سیلاب کا پانی زمین میں جذب ہو کر فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جبکہ جھاگ ضائع ہوجاتا ہے اسی طرح پگھلی ہوئی دھات کے اوپر پھولا ہواجھاگ اور میل کچیل فضول چیز ہے اصل خالص دھات اس جھاگ کے نیچے کٹھالی کی تہہ میں موجود ہوتی ہے جس سے زیور یا کوئی دوسری قیمتی چیز بنائی جاتی ہے۔كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ یہ آیت کارل مارکس کے dialectical materialism کے فلسفے کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ اس فلسفے کا جتنا حصہ درست ہے وہ اس آیت میں موجود ہے۔ دور جدید کے یہ جتنے بھی نظریے theories ہیں ان میں سے ہر ایک میں کچھ نہ کچھ سچائی موجود ہے۔ ڈارون کا نظریۂ ارتقاء ہو یا فرائیڈ اور مارکس کے نظریات ان میں سے کوئی بھی سو فیصد غلط نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان نظریات میں غلط اور درست خیالات گڈ مڈ ہیں۔ جہاں تک مارکس کے نظریہ جدلیاتی مادیت dialectical materialism کا تعلق ہے اس کے مطابق کسی معاشرے میں ایک خیال یا نظریہ جنم لیتا ہے جس کو thesis کہا جاتا ہے۔ اس کے ردِّعمل کے طور پر اینٹی تھیسس antithesis وجود میں آتا ہے۔ پھر یہ تھیسس اور اینٹی تھیسس ٹکراتے ہیں اور ان کے ٹکرانے سے ایک نئی شکل پیدا ہوتی ہے جسے سِن تھیسس synthesis کہا جاتا ہے۔ یہ اگرچہ اس نظریہ کی بہتر شکل ہوتی ہے مگر یہ بھی اپنی جگہ کامل نہیں ہوتی اس کے اندر بھی نقائص موجود ہوتے ہیں۔ چناچہ اسی سن تھیسس کی کو کھ سے ایک اور اینٹی تھیسس جنم لیتا ہے۔ ان کا پھر آپس میں اسی طرح ٹکراؤ ہوتا ہے اور پھر ایک نیا سن تھیسس وجود میں آتا ہے۔ یہ عمل process اسی طرح بتدریج آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس تصادم میں جو چیز فضول غلط اور بیکار ہوتی ہے وہ ضائع ہوتی رہتی ہے مگر جو علم اور خیال معاشرے اور نسل انسانی کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے وہ کسی نہ کسی شکل میں موجود رہتا ہے۔دور جدید کے بیشتر نظریے theories ایسے لوگوں کی تخلیق ہیں جن کے علم اور سوچ کا انحصار کلی طور پر مادے پر تھا۔ یہ لوگ روح اور اس کی حقیقت سے بالکل نابلد تھے۔ بنیادی طور پر یہی وجہ تھی کہ ان لوگوں کے اخذ کردہ نتائج اکثر و بیشتر غلط اور گمراہ کن تھے۔ بہرحال اس سارے عمل process میں غلط اور باطل خیالات و مفروضات خود بخود چھٹتے رہتے ہیں اور نسل انسانی کے لیے مفید علوم کی تطہیر purification ہوتی رہتی ہے۔ سورة الانبیاء کی آیت 18 میں یہ حقیقت اس طرح واضح کی گئی ہے : بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَ زَاہِقٌ ”ہم دے مارتے ہیں حق کو باطل پر ‘ تو وہ باطل کا بھیجا نکال دیتا ہے ‘ پھر وہ باطل غائب ہوجاتا ہے“۔ حق و باطل اور خیر و شر کی اس کش مکش کے ذریعے سے گویا نسل انسانی تدریجاً تمدن اور ارتقاء کے مراحل طے کرتے ہوئے رفتہ رفتہ بہتری کی طرف آرہی ہے۔ علامہ اقبال کے مطابق نسل انسانی کے لیے کامل بہتری یا حتمی کامیابی اللہ تعالیٰ کے اس پیغام کی تعمیل میں پوشیدہ ہے جس کا کامل عملی نمونہ اس دنیا میں پندرہ سو سال پہلے نبی آخر الزماں نے پیش کیا تھا۔ ارتقاء فکر انسانی کے سفر کے نام پر انسانی تمدن کے چھوٹے بڑے تمام قافلے شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی مینارۂ نور light house کی طرف رواں دواں ہیں۔ اگر کسی ماحول میں روشنی کی کوئی کرن اجالا بکھیرتی نظر آتی ہے تو وہ اسی منبع نور کی مرہون منت ہے۔ اور اگر کسی ماحول کے حصے کی تاریکیاں ابھی تک گہری ہیں تو جان لیجئے کہ وہ اپنی اس فطری اور حتمی منزل سے ہنوز دور ہے۔ اس سلسلے میں اقبال کے اپنے الفاظ ملاحظہ ہوں :ہر کجا بینی جہان رنگ و بو زانکہ از خاکش بروید آرزو یاز نور مصطفٰے اور ابہاست یا ہنوز اندر تلاش مصطفے ٰ است

الرعد 13:18

اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ سُوْۗءُ الْحِسَابِ ڏ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ وَبِئْسَ الْمِهَادُ یعنی ان کے حساب کا جو نتیجہ نکلنے والا ہے وہ ان کے حق میں بہت برا ہوگا۔

الرعد 13:19

اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ سُوْۗءُ الْحِسَابِ ڏ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ وَبِئْسَ الْمِهَادُ یعنی ان کے حساب کا جو نتیجہ نکلنے والا ہے وہ ان کے حق میں بہت برا ہوگا۔

الرعد 13:20

آیت 20 الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ قبل ازیں سورة البقرۃ کی آیت 177 میں بھی ہم ان سے ملتے جلتے یہ الفاظ پڑ ھ آئے ہیں : وَالْمُوْفُوْنَ بِعَہْدِہِمْ اِذَا عٰہَدُوْا۔ اللہ کے ساتھ کیے گئے معاہدوں میں سے ایک تو وہ عہد الست ہے بحوالہ الاعراف : 172 جو ہم نے عالم ارواح میں اللہ کے ساتھ کیا ہے پھر ہر بندۂ مؤمن کا میثاق شریعت ہے کہ میں اللہ کے تمام احکامات کی تعمیل کروں گا۔ پھر اللہ کا مؤمن کے ساتھ کیا گیا وہ سودا بھی ایک عہد ہے جس کا ذکر سورة التوبہ۔ آیت 111 میں ہے اور جس کے مطابق اللہ نے مؤمنین کے جان و مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ آیت زیر نظر میں یہ ان خوش قسمت لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ کے ساتھ کیے گئے تمام عہد درجہ بدرجہ پورے کرتے ہیں۔

الرعد 13:21

آیت 21 وَالَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُوْنَ سُوْۗءَ الْحِسَابِ وہ لوگ قرابت کے رشتوں کو جوڑتے ہیں یعنی صلۂ رحمی کرتے ہیں اور حساب آخرت کے نتائج کی برائی سے ہمیشہ خوفزدہ رہتے ہیں کہ اس دن حساب کے نتائج منفی ہونے کی صورت میں کہیں ہماری شامت نہ آجائے۔

الرعد 13:22

وَّيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ وہ برائی کا جواب برائی سے نہیں دیتے بلکہ کوئی شخص اگر ان کے ساتھ برائی کرتا ہے تو وہ جواباً اس کے ساتھ بھلائی سے پیش آتے ہیں تاکہ اس کے اندر اگر نیکی کا جذبہ موجود ہے تو وہ جاگ جائے۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ !

الرعد 13:23

وَّيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ وہ برائی کا جواب برائی سے نہیں دیتے بلکہ کوئی شخص اگر ان کے ساتھ برائی کرتا ہے تو وہ جواباً اس کے ساتھ بھلائی سے پیش آتے ہیں تاکہ اس کے اندر اگر نیکی کا جذبہ موجود ہے تو وہ جاگ جائے۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ !

الرعد 13:24

آیت 24 سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ جنت میں اپنے آباء و اَجداد اور اہل و عیال میں سے صالح لوگوں کی معیت گویا اللہ کی طرف سے اپنے نیک بندوں کے لیے ایک اعزاز ہوگا اور اس کے لیے اگر ضرورت ہوئی تو ان کے ان رشتہ داروں کے درجات بھی بڑھا دیے جائیں گے۔ مگر یہاں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ اہل جنت کے جو قرابت دار کفار اور مشرکین تھے ان کے لیے رعایت کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی بلکہ اس رعایت سے صرف وہ اہل ایمان مستفیض ہوں گے جو ”صالحین“ کی baseline پر پہنچ چکے ہوں گے۔ یعنی سورة النساء ‘ آیت 69 میں جو مدارج بیان ہوئے ہیں ان کے اعتبار سے جو مسلمان کم سے کم درجے کی جنت میں داخلے کا مستحق ہوچکا ہوگا اس کے مدارج اس کے کسی قرابت دار کی وجہ سے بڑھا دیے جائیں گے جو جنت میں اعلیٰ مراتب پر فائز ہوگا۔ مثلاً ایک شخص کو جنت میں بہت اعلیٰ مرتبہ عطا ہوا ہے اب اس کا باپ ایک صالح مسلمان کی baseline پر پہنچ کر جنت میں داخل ہونے کا مستحق تو ہوچکا ہے مگر جنت میں اس کا درجہ بہت نیچے ہے تو ایسے شخص کے مراتب بڑھا کر اسے اپنے بیٹے کے ساتھ اعلیٰ درجے کی جنت میں پہنچا دیاجائے گا۔

الرعد 13:25

آیت 25 وَالَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَيَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ قبل ازیں سورة البقرۃ ‘ آیت 27 میں بھی ہم بعینہٖ یہ الفاظ پڑھ آئے ہیں : اَلَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَہْدَ اللّٰہِ مِنْم بَعْدِ مِیْثَاقِہٖ وَیَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ وَیُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وہاں اس حوالے سے کچھ وضاحت بھی ہوچکی ہے۔

الرعد 13:26

وَفَرِحُوْا بالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌجو لوگ اخروی زندگی کے انعامات کے امیدوار نہیں ہیں ان کی جہد و کوشش کی جولان گاہ یہی دنیوی زندگی ہے۔ ان کی تمام تر صلاحیتیں اسی زندگی کی آسائشوں کے حصول میں صرف ہوتی ہیں اور وہ اس کی زیب وزینت پر فریفتہ اور اس میں پوری طرح مگن ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے اس طرز عمل پر بہت خوش اور مطمئن ہوتے ہیں حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک متاع قلیل و حقیر کے سوا کچھ بھی نہیں۔

الرعد 13:27

آیت 27 وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ مشرکین مکہ کی ہٹ دھرمی ملاحظہ ہو بار بار ان کی اسی بات اور اسی دلیل کا ذکر ہو رہا ہے کہ محمد رسول اللہ پر کوئی حسی معجزہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟قُلْ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ اَنَابَ جو لوگ خود ہدایت کے طالب ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں وہ انہیں نعمت ہدایت سے سرفراز فرماتا ہے۔

الرعد 13:28

آیت 28 اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ دل اور روح کے لیے تسکین کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ کا ذکر ہے اس لیے کہ انسان کی روح اس کے دل کی مکین ہے اور روح کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہے۔ جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کی آیت 85 میں فرمایا گیا : وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِط قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ ”اور اے نبی ! یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ فرمائیں کہ روح میرے پروردگار کے امر میں سے ہے“۔ لہٰذا جس طرح انسانی جسم کی حیات کا منبع source یہ زمین ہے اور جسم کی نشوونما اور تقویت کا سارا سامان زمین ہی سے مہیا ہوتا ہے اسی طرح انسانی روح کا منبع ذات باری تعالیٰ ہے اور اس کی نشوونما اور تقویت کے لیے غذا کا سامان بھی وہیں سے آتا ہے۔ چناچہ روح امر اللہ ہے اور اس کی غذا ذکر اللہ اور کلام اللہ ہے۔اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ دنیوی مال ومتاع اور سامان عیش و آسائش کی بہتات سے نفس اور جسم کی تسکین کا سامان تو ہوسکتا ہے یہ چیزیں دل کے سکون و اطمینان کا باعث نہیں بن سکتیں۔ دل کو یہ دولت نصیب ہوگی تو اللہ کے ذکر سے ہوگی۔

الرعد 13:29

آیت 28 اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ دل اور روح کے لیے تسکین کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ کا ذکر ہے اس لیے کہ انسان کی روح اس کے دل کی مکین ہے اور روح کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہے۔ جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کی آیت 85 میں فرمایا گیا : وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِط قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ ”اور اے نبی ! یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ فرمائیں کہ روح میرے پروردگار کے امر میں سے ہے“۔ لہٰذا جس طرح انسانی جسم کی حیات کا منبع source یہ زمین ہے اور جسم کی نشوونما اور تقویت کا سارا سامان زمین ہی سے مہیا ہوتا ہے اسی طرح انسانی روح کا منبع ذات باری تعالیٰ ہے اور اس کی نشوونما اور تقویت کے لیے غذا کا سامان بھی وہیں سے آتا ہے۔ چناچہ روح امر اللہ ہے اور اس کی غذا ذکر اللہ اور کلام اللہ ہے۔اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ دنیوی مال ومتاع اور سامان عیش و آسائش کی بہتات سے نفس اور جسم کی تسکین کا سامان تو ہوسکتا ہے یہ چیزیں دل کے سکون و اطمینان کا باعث نہیں بن سکتیں۔ دل کو یہ دولت نصیب ہوگی تو اللہ کے ذکر سے ہوگی۔

الرعد 13:30

آیت 30 كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِيْٓ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَآ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُوْنَ بالرَّحْمٰنِ اگرچہ اللہ تعالیٰ کا نام ”الرحمن“ عرب میں پہلے سے متعارف تھا مگر مشرکین مکہ ”اللہ“ ہی کو جانتے اور مانتے تھے اس لیے وہ اس نام سے بدکتے تھے اور عجیب انداز میں پوچھتے تھے کہ یہ رحمن کون ہے ؟ الفرقان : 60

الرعد 13:31

آیت 31 وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰىیہاں پھر حسی معجزوں کے بارے میں مشرکین کے مطالبے کا جواب دیا جا رہا ہے۔ سورة الانعام میں یہ مضمون تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ اگر ہم نے کوئی ایسا قرآن اتارا ہوتا جس کی تاثیر سے طرح طرح کے حسی معجزات کا ظہور ہوتا تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں تھے۔ یہ قرآن ہر اس شخص کے لیے سراپا معجزہ ہے جو واقعی ہدایت کا خواہش مند ہے۔ یہ طالبانِ حق کے دلوں کو گداز کرتا ہے ان کی روح کو تازگی بخشتا ہے ان کے لاشعور کے اندر خوابیدہ ایمانی حقائق کو جگاتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی ہدایت کا تمام سامان اس قرآن کے اندر موجود پاتے ہیں۔بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِيْعًا ۭاَفَلَمْ يَايْــــــَٔـسِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ لَّوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيْعًااہل ایمان کو تو یہ یقین ہے تاکہ اگر اللہ چاہتا تو دنیا کے تمام انسانوں کو ہدایت دے سکتا تھا اور اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو یہ ضرور اسی کی مشیت ہے۔ لہٰذا اس یقین سے ان کو تو دل جمعی اور اطمینان حاصل ہوجانا چاہیے۔اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ ان لوگوں کے کرتوتوں کی پاداش میں ان پر کوئی نہ کوئی آفت اور مصیبت نازل ہوتی رہے گی۔ وہ مسلسل خوف کی کیفیت میں مبتلا رہیں گے یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ پورا ہوجائے۔

الرعد 13:32

فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ ذرا تصور کریں قوم نوح ‘ قوم ہود ، قوم صالح ‘ قوم لوط ‘ قوم شعیب اور آل فرعون کے انجام کا اور پھر سوچیں کہ ان نافرمان قوموں کی جب گرفت ہوئی تو وہ کس قدر عبرتناک تھی۔

الرعد 13:33

آیت 33 اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ اللہ تعالیٰ ہر آن ہر شخص کے ساتھ موجود ہے اور اس کی ایک ایک حرکت اور اس کے ایک ایک عمل پر نظر رکھتا ہے۔ کیا ایسی قدرت کسی اور کو حاصل ہے ؟وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ انہوں نے ایسی بصیر ‘ خبیر اور عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ہستی کے مقابلے میں کچھ معبود گھڑ لیے ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں۔قُلْ سَمُّوْهُمْ ۭ اَمْ تُنَبِّــــــُٔـوْنَهٗ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْاَرْضِ یعنی اللہ جو اس قدر علیم اور بصیر ہستی ہے کہ اپنے ہر بندے کے ہر خیال اور ہر فعل سے واقف ہے تو تم لوگوں نے جو بھی معبود بنائے ہیں کیا ان کے پاس اللہ سے زیادہ علم ہے ؟ کیا تم اللہ کو ایک نئی بات کی خبر دے رہے ہو جس سے وہ ناواقف ہے ؟اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ یعنی یونہی جو منہ میں آتا ہے تم لوگ کہہ ڈالتے ہو اور ان شریکوں کے بارے میں تمہارے اپنے دعوے کھوکھلے ہیں۔ تمہارے ان دعو وں کی بنیادوں میں یقین کی پختگی نہیں ہے۔ ان کے بارے میں تمہاری ساری باتیں سطحی نوعیت کی ہیں عقلی اور منطقی طور پر تم خود بھی ان کے قائل نہیں ہو۔ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ اب گویا ان کے دل الٹ دیے گئے ہیں ان کے دلوں پر مہر کردی گئی ہے اور ان کے اعمال کو دیکھتے ہوئے اللہ نے ان کی گمراہی کے بارے میں آخری فیصلہ دے دیا ہے۔ اب ان کو کوئی راہ راست پر نہیں لاسکتا۔

الرعد 13:34

آیت 33 اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ اللہ تعالیٰ ہر آن ہر شخص کے ساتھ موجود ہے اور اس کی ایک ایک حرکت اور اس کے ایک ایک عمل پر نظر رکھتا ہے۔ کیا ایسی قدرت کسی اور کو حاصل ہے ؟وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ انہوں نے ایسی بصیر ‘ خبیر اور عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ہستی کے مقابلے میں کچھ معبود گھڑ لیے ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں۔قُلْ سَمُّوْهُمْ ۭ اَمْ تُنَبِّــــــُٔـوْنَهٗ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْاَرْضِ یعنی اللہ جو اس قدر علیم اور بصیر ہستی ہے کہ اپنے ہر بندے کے ہر خیال اور ہر فعل سے واقف ہے تو تم لوگوں نے جو بھی معبود بنائے ہیں کیا ان کے پاس اللہ سے زیادہ علم ہے ؟ کیا تم اللہ کو ایک نئی بات کی خبر دے رہے ہو جس سے وہ ناواقف ہے ؟اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ یعنی یونہی جو منہ میں آتا ہے تم لوگ کہہ ڈالتے ہو اور ان شریکوں کے بارے میں تمہارے اپنے دعوے کھوکھلے ہیں۔ تمہارے ان دعو وں کی بنیادوں میں یقین کی پختگی نہیں ہے۔ ان کے بارے میں تمہاری ساری باتیں سطحی نوعیت کی ہیں عقلی اور منطقی طور پر تم خود بھی ان کے قائل نہیں ہو۔ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ اب گویا ان کے دل الٹ دیے گئے ہیں ان کے دلوں پر مہر کردی گئی ہے اور ان کے اعمال کو دیکھتے ہوئے اللہ نے ان کی گمراہی کے بارے میں آخری فیصلہ دے دیا ہے۔ اب ان کو کوئی راہ راست پر نہیں لاسکتا۔

الرعد 13:35

آیت 33 اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ اللہ تعالیٰ ہر آن ہر شخص کے ساتھ موجود ہے اور اس کی ایک ایک حرکت اور اس کے ایک ایک عمل پر نظر رکھتا ہے۔ کیا ایسی قدرت کسی اور کو حاصل ہے ؟وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ انہوں نے ایسی بصیر ‘ خبیر اور عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ہستی کے مقابلے میں کچھ معبود گھڑ لیے ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں۔قُلْ سَمُّوْهُمْ ۭ اَمْ تُنَبِّــــــُٔـوْنَهٗ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْاَرْضِ یعنی اللہ جو اس قدر علیم اور بصیر ہستی ہے کہ اپنے ہر بندے کے ہر خیال اور ہر فعل سے واقف ہے تو تم لوگوں نے جو بھی معبود بنائے ہیں کیا ان کے پاس اللہ سے زیادہ علم ہے ؟ کیا تم اللہ کو ایک نئی بات کی خبر دے رہے ہو جس سے وہ ناواقف ہے ؟اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ یعنی یونہی جو منہ میں آتا ہے تم لوگ کہہ ڈالتے ہو اور ان شریکوں کے بارے میں تمہارے اپنے دعوے کھوکھلے ہیں۔ تمہارے ان دعو وں کی بنیادوں میں یقین کی پختگی نہیں ہے۔ ان کے بارے میں تمہاری ساری باتیں سطحی نوعیت کی ہیں عقلی اور منطقی طور پر تم خود بھی ان کے قائل نہیں ہو۔ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ اب گویا ان کے دل الٹ دیے گئے ہیں ان کے دلوں پر مہر کردی گئی ہے اور ان کے اعمال کو دیکھتے ہوئے اللہ نے ان کی گمراہی کے بارے میں آخری فیصلہ دے دیا ہے۔ اب ان کو کوئی راہ راست پر نہیں لاسکتا۔

الرعد 13:36

آیت 36 وَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ یہ مدینہ کے اہل کتاب میں سے نیک سرشت لوگوں کا ذکر ہے۔ ان کو جب خبریں ملتی تھیں کہ مکہ میں آخری نبی کا ظہور ہوچکا ہے تو وہ ان خبروں سے خوش ہوتے تھے۔

الرعد 13:37

آیت 37 وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا”حکم“ بمعنی ”فیصلہ“ یعنی یہ قرآن عربی قول فیصل بن کر آیا ہے۔ جیسا کہ سورة الطارق میں فرمایا : اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ وَّمَا ہُوَ بالْہَزْلِ ”یہ کلام حق کو باطل سے جدا کرنے والا ہے اور کوئی بےہودہ بات نہیں ہے۔“

الرعد 13:38

آیت 38 وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّذُرِّيَّةً آپ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ہیں وہ سب عام انسانوں کی طرح پیدا ہوئے سوائے حضرت عیسیٰ کے پھر انہوں نے نکاح بھی کیے اور ان کی اولادیں بھی ہوئیں۔

الرعد 13:39

آیت 39 يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ وَيُثْبِتُ ښ وَعِنْدَهٗٓ اُمُّ الْكِتٰبِ اُمّ الکتاب یعنی اصل کتاب اللہ کے پاس ہے۔ سورة الزخرف میں اس کے متعلق یوں فرمایا گیا ہے : وَاِنَّہٗ فِیْٓ اُمِّ الْکِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَکِیْمٌ ”اور یہ اصل کتاب یعنی لوح محفوظ میں ہمارے پاس ہے جو بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے۔“ آپ اسے لوح محفوظ کہیں ام الکتاب کہیں یا کتاب مکنون کہیں اصل قرآن اس کے اندر ہے۔ یہ قرآن جو ہمارے پاس ہے یہ اس کی مصدقہ نقل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص عنایت اور مہربانی سے حضور کی وساطت سے ہمیں دنیا میں عطا کردیا ہے۔

الرعد 13:40

آیت 40 وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی زندگی ہی میں ان کو عذاب الٰہی میں سے کچھ حصہ مل جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی زندگی میں ان پر ایسا وقت نہ آئے بلکہ عذاب کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم آپ کو وفات دے دیں۔فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ آپ پر ہمارا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری تھی سو آپ نے یہ ذمہ داری احسن طریقہ سے ادا کردی۔ اب ان کو ہدایت دینا یا نہ دینا ان پر عذاب بھیجنا یا نہ بھیجنا اور ان کا حساب لینا یہ سب کچھ ہمارے ذمے ہے اور ہم یہ فیصلے اپنی مشیت کے مطابق کریں گے۔

الرعد 13:41

وَاللّٰهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ ۭ وَهُوَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ یہ مضمون سورة الانبیاء میں اس طرح بیان ہوا ہے : اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُہَا مِنْ اَطْرَافِہَاط اَفَہُمُ الْغٰلِبُوْنَ ”کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آ رہے ہیں تو کیا اب یہ غالب آنے والے ہیں ؟“ یہ اس دور کی طرف اشارہ ہے جب مشرکین مکہ نے مکہ کے اندر رسول اللہ اور مسلمانوں کے خلاف دشمنی کی بھٹی پورے زور شور سے دہکا رکھی تھی اور وہ لوگ اس میں اپنے سارے وسائل اس امید پر جھونکے جا رہے تھے کہ ایک دن محمد اور آپ کی اس تحریک کو نیچا دکھا کر رہیں گے۔ اس صورت حال میں انہیں مکہ کے مضافاتی علاقوں اُمّ القریٰ وَ مَنْ حَوْلَھَا کے معروضی حالات کے حوالے سے مستقبل کی ایک امکانی جھلک دکھائی جا رہی ہے کہ بیشک ابھی تک مکہ کے اندر تمہاری حکمت عملی کسی حد تک کامیاب ہے لیکن کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ مکہ کے آس پاس کے قبائل کے اندر اس دعوت کے اثر و نفوذ میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے مقابلے میں تمہارا حلقہ اثر روز بروز سکڑتا چلا جا رہا ہے۔ جیسے قبیلہ بنی غفار کے ایک نوجوان ابوذر یہ دعوت قبول کر کے اپنے قبیلے میں ایک مبلغ کی حیثیت سے واپس گئے ہیں اور آپ کی وساطت سے یہ دعوت اس قبیلے میں بھی پہنچ گئی ہے۔ یہی حال اردگرد کے دوسرے قبائل کا ہے۔ ان حالات میں کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا کہ یہ دعوت رفتہ رفتہ تمہارے چاروں طرف سے تمہارے گرد گھیرا تنگ کرتی چلی جا رہی ہے ؟ اب وہ وقت بہت قریب نظر آ رہا ہے جب تمہارے ارد گرد کا ماحول اسلام قبول کرلے گا اور تم لوگ اس کے دائرہ اثر کے اندر محصور ہو کر رہ جاؤ گے۔اس آیت میں جس صورت حال کا ذکر ہے اس کا عملی مظاہرہ ہجرت کے بعد بہت تیزی کے ساتھ سامنے آیا۔ حضور نے مدینہ تشریف لانے کے بعد ایک طرف قریش مکہ کے لیے ان کی تجارتی شاہراہوں کو مخدوش بنا دیا تو دوسری طرف مدینہ کے آس پاس کے قبائل کے ساتھ سیاسی معاہدات کر کے اس پورے علاقے سے قریش مکہ کے اثر و رسوخ کی بساط لپیٹ دی۔ مدینہ کے مضافات میں آباد بیشتر قبائل قریش مکہ کے حلیف تھے مگر اب ان میں سے اکثر یا تو مسلمانوں کے حلیف بن گئے یا انہوں نے غیر جانبدار رہنے کا اعلان کردیا۔ قریش مکہ کی معاشی ناکہ بندی economic blockade اور سیاسی انقطاع political isolation کے لیے رسول اللہ کے یہ اقدامات اس قدر مؤثر تھے کہ اس کے بعد انہیں اپنے اردگرد سے سکڑتی ہوئی زمین بہت واضح انداز میں دکھائی دینے لگی۔ دراصل فلسفہ سیرت کے اعتبار سے یہ بہت اہم موضوع ہے مگر بہت کم لوگوں نے اس پر توجہ دی ہے۔ میں نے اپنی کتاب ”منہج انقلاب نبوی“ میں اس پر تفصیل سے بحث کی ہے۔

الرعد 13:42

آیت 42 وَقَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ اپنے اپنے دور میں منکرین حق نے انبیاء و رسل کی دعوت حق کو روکنے کے لیے سازشوں کے خوب جال پھیلائے تھے اور بڑی بڑی منصوبہ بندیاں کی تھیں۔فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِيْعًااللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی تدبیروں اور سازشوں کا مکمل طور پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس کی مشیت کے خلاف ان کی کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ ۭ وَسَيَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ دارِآخرت کی بھلائی اور اس کا آرام کس کے لیے ہے انہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا۔

الرعد 13:43

قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ اللہ جانتا ہے کہ میں اس کا رسول ہوں اور اس کا جاننا میرے لیے کافی ہے۔وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے کہ میں اس کا رسول ہوں اور پھر ہر اس شخص کی گواہی جو کتاب آسمانی کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تو جانتا ہی ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور میرا معاملہ اسی کے ساتھ ہے۔ اس کے علاوہ یہ اہل کتاب بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اہل کتاب کے اس معاملے کو البقرۃ : 146 اور الانعام : 20 میں اس طرح واضح فرمایا گیا ہے : یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَ ہُمُ کہ یہ آپ کو بحیثیت رسول ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم

إبراهيم 14:1

الۗرٰ اس مقام پر حروف مقطعات کے بارے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ مکی سورتوں کے اس سلسلے کے پہلے ذیلی گروپ کی تینوں سورتوں یونس ، ہود اور یوسف کا آغاز الۗرٰ سے ہو رہا ہے ‘ جبکہ دوسرے ذیلی گروپ کی پہلی سورة الرعد ا آمآرٰ سے اور دوسری دونوں سورتیں ابراہیم اور الحجر پھر الۗرٰ سے ہی شروع ہورہی ہیں۔كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ ڏ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ قرآن کریم میں اندھیرے کے لیے لفظ ”ظُلُمات“ ہمیشہ جمع اور اس کے مقابلے میں ”نُور“ ہمیشہ واحد استعمال ہوا ہے۔ چونکہ کسی فرد کی ہدایت کے لیے فیصلہ اللہ کی طرف سے ہی ہوتا ہے اس لیے فرمایا کہ آپ کا انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لانے کا یہ عمل اللہ کے حکم اور اس کی منظوری سے ہوگا۔

إبراهيم 14:2

الۗرٰ اس مقام پر حروف مقطعات کے بارے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ مکی سورتوں کے اس سلسلے کے پہلے ذیلی گروپ کی تینوں سورتوں یونس ، ہود اور یوسف کا آغاز الۗرٰ سے ہو رہا ہے ‘ جبکہ دوسرے ذیلی گروپ کی پہلی سورة الرعد ا آمآرٰ سے اور دوسری دونوں سورتیں ابراہیم اور الحجر پھر الۗرٰ سے ہی شروع ہورہی ہیں۔كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ ڏ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ قرآن کریم میں اندھیرے کے لیے لفظ ”ظُلُمات“ ہمیشہ جمع اور اس کے مقابلے میں ”نُور“ ہمیشہ واحد استعمال ہوا ہے۔ چونکہ کسی فرد کی ہدایت کے لیے فیصلہ اللہ کی طرف سے ہی ہوتا ہے اس لیے فرمایا کہ آپ کا انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لانے کا یہ عمل اللہ کے حکم اور اس کی منظوری سے ہوگا۔

إبراهيم 14:3

آیت 3 الَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَي الْاٰخِرَةِ یہ آیت ہم سب کو دعوت دیتی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے گریبان میں جھانکے اور اپنی ترجیحات کا تجزیہ کرے کہ اس کی مہلت زندگی کے اوقات کار کی تقسیم کیا ہے ؟ اس کی بہترین صلاحیتیں کہاں کھپ رہی ہیں ؟ اور اس نے اپنی زندگی کا بنیادی نصب العین کس رخ پر متعین کر رکھا ہے ؟ پھر اپنی مشغولیات میں سے دنیا اور آخرت کے حصے الگ الگ کر کے دیکھے کہ دنیوی زندگی مَتاع الغُرُوْر کو سمیٹنے کی اس بھاگ دوڑ میں سے اصل اور حقیقی زندگی خَیْرٌ وَّاَبْقٰی کے لیے اس کے دامن میں کیا کچھ بچتا ہے ؟وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَيَبْغُوْنَھَا عِوَجًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ اللہ کے راستے سے روکنے کی مثالیں آج بھی آپ کو قدم قدم پر ملیں گی۔ مثلاً ایک نوجوان کو اگر اللہ کی طرف سے دین کا شعور اور متاع ہدایت نصیب ہوئی ہے اور وہ اپنی زندگی کو اسی رخ پر ڈالنا چاہتا ہے تو اس کے والدین اور دوست احباب اس کو سمجھانے لگتے ہیں ‘ کہ تم اپنے کیرئیر کو دیکھو ‘ اپنے مستقبل کی فکر کرو ‘ یہ تمہارے دماغ میں کیا فتور آگیا ہے ؟ غرض وہ کسی نہ کسی طرح سے اسے قائل کر کے اپنے اسی رستے پر لے جانے کی کوشش کرتے ہیں جس پر وہ خود اپنی زندگیاں برباد کر رہے ہیں۔

إبراهيم 14:4

آیت 4 وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ یعنی ہر قوم کی طرف مبعوث رسول پر وحی اس قوم کی اپنی ہی زبان میں آتی تھی تاکہ بات کے سمجھنے اور سمجھانے میں کسی قسم کا ابہام نہ رہ جائے ‘ اور ابلاغ کا حق ادا ہوجائے۔ جیسے حضرت موسیٰ کو تورات دی گئی تو عبرانی زبان میں دی گئی جو آپ کی قوم کی زبان تھی۔فَيُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اس کا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ گمراہ کرتا ہے اسے جو چاہتا ہے گمراہ ہونا اور ہدایت دیتا ہے اس کو جو چاہتا ہے ہدایت حاصل کرنا۔

إبراهيم 14:5

آیت 5 وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَآاَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَذَكِّرْهُمْ ڏ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ یہ ”التّذکیر بایّام اللّٰہ“ کی وہی اصطلاح ہے جس کا ذکر شاہ ولی اللہ دہلوی کے حوالے سے قبل ازیں بار بار آچکا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے اپنی مشہور کتاب ”الفوز الکبیر“ میں مضامین قرآن کی تقسیم کے سلسلے میں ”التذکیر بایام اللّٰہ“ کی یہ اصطلاح استعمال کی ہے یعنی اللہ کے ان دنوں کے حوالے سے لوگوں کو خبردار کرنا جن دنوں میں اللہ نے بڑے بڑے فیصلے کیے اور ان فیصلوں کے مطابق کئی قوموں کو نیست و نابود کردیا۔ اس کے ساتھ شاہ ولی اللہ نے دوسری اصطلاح ”التذکیر بآلاء اللّٰہ“ کی استعمال کی ہے ‘ یعنی اللہ کی نعمتوں اور اس کی نشانیوں کے حوالے سے تذکیر اور یاد دہانی۔اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ صَبَّار اور شَکُور دونوں مبالغے کے صیغے ہیں۔ صبر اور شکر یہ دونوں صفات آپس میں ایک دوسرے کے لیے تکمیلی complementary نوعیت کی ہیں۔ چناچہ ایک بندۂ مؤمن کو ہر وقت ان میں سے کسی ایک حالت میں ضرور ہونا چاہیے اور اگر وہ ان میں سے ایک حالت سے نکلے تو دوسری حالت میں داخل ہوجائے۔ اگر اللہ نے اس کو نعمتوں اور آسائشوں سے نوازا ہے تو وہ شکر کرنے والا ہو اور اگر کوئی مصیبت یا تنگی اسے پہنچی ہے تو صبر کرنے والا ہو۔حضرت صہیب بن سنان رومی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : عَجَبًا لِاَمْرِ الْمُؤْمِنِ اِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِاَحَدٍ الاَّ لِلْمُؤْمِنِ ‘ اِنْ اَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ وَاِنْ اَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ 1”مؤمن کا معاملہ تو بہت ہی خوب ہے ‘ اس کے لیے ہر حال میں بھلائی ہے ‘ اور یہ بات مؤمن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں ہے۔ اگر اسے کوئی آسائش پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے ‘ پس یہ اس کے لیے بہتر ہے ‘ اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے ‘ پس یہ اس کے لیے بہتر ہے۔“

إبراهيم 14:6

آیت 5 وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَآاَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَذَكِّرْهُمْ ڏ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ یہ ”التّذکیر بایّام اللّٰہ“ کی وہی اصطلاح ہے جس کا ذکر شاہ ولی اللہ دہلوی کے حوالے سے قبل ازیں بار بار آچکا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے اپنی مشہور کتاب ”الفوز الکبیر“ میں مضامین قرآن کی تقسیم کے سلسلے میں ”التذکیر بایام اللّٰہ“ کی یہ اصطلاح استعمال کی ہے یعنی اللہ کے ان دنوں کے حوالے سے لوگوں کو خبردار کرنا جن دنوں میں اللہ نے بڑے بڑے فیصلے کیے اور ان فیصلوں کے مطابق کئی قوموں کو نیست و نابود کردیا۔ اس کے ساتھ شاہ ولی اللہ نے دوسری اصطلاح ”التذکیر بآلاء اللّٰہ“ کی استعمال کی ہے ‘ یعنی اللہ کی نعمتوں اور اس کی نشانیوں کے حوالے سے تذکیر اور یاد دہانی۔اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ صَبَّار اور شَکُور دونوں مبالغے کے صیغے ہیں۔ صبر اور شکر یہ دونوں صفات آپس میں ایک دوسرے کے لیے تکمیلی complementary نوعیت کی ہیں۔ چناچہ ایک بندۂ مؤمن کو ہر وقت ان میں سے کسی ایک حالت میں ضرور ہونا چاہیے اور اگر وہ ان میں سے ایک حالت سے نکلے تو دوسری حالت میں داخل ہوجائے۔ اگر اللہ نے اس کو نعمتوں اور آسائشوں سے نوازا ہے تو وہ شکر کرنے والا ہو اور اگر کوئی مصیبت یا تنگی اسے پہنچی ہے تو صبر کرنے والا ہو۔حضرت صہیب بن سنان رومی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : عَجَبًا لِاَمْرِ الْمُؤْمِنِ اِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِاَحَدٍ الاَّ لِلْمُؤْمِنِ ‘ اِنْ اَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ وَاِنْ اَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ 1”مؤمن کا معاملہ تو بہت ہی خوب ہے ‘ اس کے لیے ہر حال میں بھلائی ہے ‘ اور یہ بات مؤمن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں ہے۔ اگر اسے کوئی آسائش پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے ‘ پس یہ اس کے لیے بہتر ہے ‘ اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے ‘ پس یہ اس کے لیے بہتر ہے۔“

إبراهيم 14:7

آیت 7 وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ اگر تم لوگ میرے احکام مانو گے اور میری نعمتوں کا حق ادا کرو گے تو میرے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے میں تم لوگوں کو اپنی مزید نعمتیں بھی عطا کروں گا۔ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌلیکن اگر تم کفران نعمت کرو گے میری نعمتوں کی ناقدری اور نا شکری کرو گے اور میرے احکام سے روگردانی کرو گے تو یاد رکھو میری سزا بھی بہت سخت ہوگی۔

إبراهيم 14:8

آیت 8 وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنْ تَكْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌوہ بےنیاز ہے اس کو کسی کی احتیاج یا پروا نہیں۔ وہ اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔

إبراهيم 14:9

وَقَالُوْٓا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَاِنَّا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ یہاں تمام رسولوں کو ایک جماعت فرض کر کے ان کا ذکر اکٹھے کیا جا رہا ہے کیونکہ سب نے اپنی اپنی قوم کو ایک جیسی دعوت دی اور اس دعوت کے جواب میں سب رسولوں کی قوموں کا رد عمل بھی تقریباً ایک جیسا تھا۔ ان سب اقوام نے اپنے رسولوں کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تو ان باتوں کے متعلق بہت سے شکوک و شبہات لاحق ہیں جن کی وجہ سے ہم سخت الجھن میں پڑگئے ہیں۔

إبراهيم 14:10

آیت 10 قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یہ searching question کا سا انداز ہے جس میں بات وہاں سے شروع کی جا رہی ہے جہاں تک خود فریق ثانی کو بھی اتفاق ہے۔ مذکورہ تمام اقوام کے کفار و مشرکین میں ایک عقیدہ ہمیشہ مشترک رہا ہے کہ وہ تمام لوگ نہ صرف اللہ کو مانتے تھے بلکہ اسے زمین و آسمان کا خالق بھی تسلیم کرتے تھے۔ چناچہ جس قوم کے لوگوں نے بھی اپنے رسول کی دعوت کو شکوک و شبہات کی بنا پر رد کرنا چاہا ان کو ہمیشہ یہی جواب دیا گیا۔ یعنی سب سے پہلے اللہ کی ذات کا معاملہ ہمارے تمہارے درمیان واضح ہونا چاہیے کہ تمہیں اللہ کی ذات کے بارے میں شک ہے یا اس کے خالق ارض و سماوات ہونے میں ؟تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ سب قوموں کے لوگوں کا یہ جواب بھی ایک جیسا تھا سب نے رسولوں کے انسان ہونے پر اعتراض کیا اور سب نے حسی معجزہ طلب کیا۔

إبراهيم 14:11

آیت 11 قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ یہ اللہ کی مرضی کا معاملہ ہے وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے نواز دیتا ہے۔ اس نے ہمیں اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے ‘ ہماری طرف وحی بھیجی ہے اور ہمیں مامور کیا ہے کہ ہم آپ لوگوں کو خبردار کریں اور اس کے احکام آپ تک پہنچائیں۔

إبراهيم 14:12

آیت 12 وَمَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَي اللّٰهِ وَقَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَااللہ نے ہمیں اپنے تقرب کے طریقے اور اپنی طرف آنے کے راستے بتائے ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اس پر توکل نہ کریں

إبراهيم 14:13

آیت 13 وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ رسولوں کی جماعت اور ان کی قوموں کے درمیان ہونے والے سوالات و جوابات کا تذکرہ جاری ہے۔ یعنی اپنے اپنے زمانے میں اپنے اپنے رسولوں سے متعلقہ اقوام کے لوگوں نے کہا :

إبراهيم 14:14

آیت 14 وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یعنی اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی طرف وحی بھیجی کہ اب تمام کافروں کو ہلاک کردیا جائے گا اور اس کے بعد رسول اور ان کے ساتھ بچ جانے والے تمام اہل ایمان کو پھر سے زمین میں آباد کرنے کا سامان کیا جائے گا۔ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِيْ وَخَافَ وَعِيْدِ جو لوگ عذاب کی وعیدوں سے ڈرتے ہیں اور روز محشر اللہ کی عدالت میں کھڑے ہونے کے تصور سے لرز جاتے ہیں۔

إبراهيم 14:15

آیت 15 وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ جو لوگ کفر و شرک پر ڈٹے رہتے وہ اس بات پر بھی اپنے رسول سے اصرار کرتے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان آخری فیصلہ ہوجانا چاہیے۔ پھر جب اللہ کی طرف سے وہ آخری فیصلہ عذاب استیصال کی صورت میں آتا تو اس کے نتیجے میں سرکش اور ہٹ دھرم قوم کو نیست و نابود کردیا جاتا۔ ایسے منکرین حق کی تباہی و بربادی کا نقشہ قرآن حکیم میں اس طرح کھینچا گیا ہے : کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْہَا الاعراف : 92 ”وہ ایسے ہوگئے جیسے کبھی تھے ہی نہیں“ اور فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ الاحقاف : 25 یعنی وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے دیار و امصار میں صرف ان کے محلات و مساکن ہی نظر آتے تھے جبکہ ان کے مکینوں کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ اور یہ سب کچھ تو ان لوگوں کے ساتھ اس دنیا میں ہوا جبکہ آخرت کی بڑی سزا اس کے علاوہ ہے جس کو جھیلتے ہوئے ان میں سے ہر ایک سرکش ضدی اس طرح نشان عبرت بنے گا :

إبراهيم 14:16

آیت 15 وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ جو لوگ کفر و شرک پر ڈٹے رہتے وہ اس بات پر بھی اپنے رسول سے اصرار کرتے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان آخری فیصلہ ہوجانا چاہیے۔ پھر جب اللہ کی طرف سے وہ آخری فیصلہ عذاب استیصال کی صورت میں آتا تو اس کے نتیجے میں سرکش اور ہٹ دھرم قوم کو نیست و نابود کردیا جاتا۔ ایسے منکرین حق کی تباہی و بربادی کا نقشہ قرآن حکیم میں اس طرح کھینچا گیا ہے : کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْہَا الاعراف : 92 ”وہ ایسے ہوگئے جیسے کبھی تھے ہی نہیں“ اور فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ الاحقاف : 25 یعنی وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے دیار و امصار میں صرف ان کے محلات و مساکن ہی نظر آتے تھے جبکہ ان کے مکینوں کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ اور یہ سب کچھ تو ان لوگوں کے ساتھ اس دنیا میں ہوا جبکہ آخرت کی بڑی سزا اس کے علاوہ ہے جس کو جھیلتے ہوئے ان میں سے ہر ایک سرکش ضدی اس طرح نشان عبرت بنے گا :

إبراهيم 14:17

وَيَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّمَا هُوَ بِمَيِّتٍ شدید تکلیف میں موت انسان کو راحت پہنچا دیتی ہے۔ بعض بیمار ایسے ہوتے ہیں کہ تکلیف کی شدت میں ایڑیاں رگڑ رہے ہوتے ہیں اور موت ان کے لیے راحت کا سامان بن جاتی ہے۔ لیکن جہنم ایسی جگہ ہے کہ جہاں انسان کو موت نہیں آئے گی۔ سورة طٰہٰ میں اس کیفیت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : لَا یَمُوْتُ فِیْہَا وَلَا یَحْیٰی ”نہ وہ اس میں مرے گا اور نہ جی پائے گا“۔ اہل جہنم شدید خواہش کریں گے کہ موت آجائے اور ان کا قصہ تمام ہوجائے مگر ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوگی۔وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌیعنی اس سختی میں مسلسل اضافہ ہوتا جائے گا عذاب کی شدت درجہ بدرجہ بڑھتی ہی چلی جائے گی۔

إبراهيم 14:18

آیت 18 مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِۨ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ اللہ کے ہاں کسی بھی نیک عمل کی قبولیت کے لیے ایمان لازمی اور بنیادی شرط ہے۔ چناچہ جو لوگ اپنے رب کا کفر کرتے ہیں ان کے نیک اعمال کو یہاں راکھ کے ایسے ڈھیر سے تشبیہہ دی گئی ہے جس پر تیز آندھی چلی اور اس کا ایک ایک ذرہ منتشر ہوگیا۔ یعنی بظاہر تو وہ ڈھیر نظر آتا تھا مگر اللہ کے ہاں اس کی کچھ بھی حیثیت باقی نہ رہی۔ یہ بہت اہم مضمون ہے اور قرآن کریم میں مختلف مثالوں کے ساتھ اسے تین بار دہرایا گیا ہے۔ سورة النور کی آیت 39 میں کفار کے اعمال کو سراب سے تشبیہہ دی گئی ہے اور سورة الفرقان کی آیت 23 میں منکرین آخرت کے اعمال کو ہَبَآءً مَّنْثُوْرًا یعنی ”ہوا میں اڑتے ہوئے ذرات“ کی مانند قراردیا گیا ہے۔ دراصل ہر انسان اپنی ذہنی سطح کے مطابق نیکی کا ایک تصور رکھتا ہے ‘ کیونکہ نیکی ہر انسان کی روح کی ضرورت ہے مگر نیکی کا تعلق چونکہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کی قبولیت کے ساتھ ہے ‘ چناچہ اس کے لیے معیار بھی وہی قابل قبول ہوگا جو اللہ نے خود قائم کیا ہے ‘ اور وہ معیار سورة البقرۃ کی آیت البر کی روشنی میں یہ ہے :لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ ۚ وَاَقَام الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ”نیکی یہی نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر دو بلکہ اصل نیکی تو اس کی ہے جو ایمان لایا اللہ پر یوم آخرت پر فرشتوں پر کتاب پر اور نبیوں پر۔ اور اس نے خرچ کیا مال اس کی محبت کے باوجود قرابت داروں یتیموں محتاجوں مسافروں اور مانگنے والوں پر اور گردنوں کے چھڑانے میں۔ اور قائم کی نماز اور ادا کی زکوٰۃ۔ اور جو پورا کرنے والے ہیں اپنے عہد کے جب کوئی عہد کرلیں۔ اور صبر کرنے والے فقر و فاقہ میں تکالیف میں اور حالت جنگ میں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو سچے ہیں اور یہی حقیقت میں متقی ہیں۔“اگر نیکی اس معیار کے مطابق ہے تو پھر یہ واقعی نیکی ہے ‘ لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو نیکی کی شکل میں دھوکہ سراب اور فریب ہے نیکی نہیں ہے۔ دراصل جب انسان کی فطرت مسنح ہوجاتی ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کا نیکی کا تصور بھی مسنح ہوجاتا ہے۔ نیکی چونکہ ایک برے سے برے انسان کے بھی ضمیر کی ضرورت ہے اس لیے بجائے اس کے کہ ایک برا انسان اپنی اصلاح کر کے اپنے اعمال و کردار کو نیکی کے مطلوبہ معیار پر لے آئے وہ الٹا نیکی کے معیار کو گھسیٹ کر اپنے خیالات و نظریات کی گندگی کے ڈھیر کے اندر اس کی جگہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں چور ڈاکو اور لٹیرے صدقہ و خیرات کرتے اور خدمت خلق کے بڑے بڑے کام کرتے نظر آتے ہیں اور جسم فروش عورتیں مزاروں پر دھمال ڈالتی اور نیاز بانٹتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس طرح یہ لوگ اپنے ضمیر کی تسکین کا سامان کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے پیشے میں قدرے قباحت کا عنصر پایا جاتا ہے تو کیا ہوا اس کے ساتھ ساتھ ہم نیکی کے فلاں فلاں کام بھی تو کرتے ہیں ! اسی طرح جب مذہبی مزاج رکھنے والے لوگوں کی فطرت مسنح ہوتی ہے تو وہ کبیرہ گناہوں کی طرف سے بےحس اور صغائر کے بارے میں بہت حساس ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ صغائر کے بارے میں تو بڑے زور دار مباحثے اور مناظرے کر رہے ہوتے ہیں ‘ مگر کبائر کو وہ لائق اعتناء ہی نہیں سمجھتے۔ اس پس منظر میں صحیح طرز عمل یہ ہے کہ پہلے کبائر سے کلی طور پر اجتناب کیا جائے اور پھر اس کے بعد صغائر کی طرف توجہ کی جائے۔ بہر حال قیامت کے دن بیشمار ایسے لوگ ہوں گے جو اپنے زعم میں بہت زیادہ نیکیاں لے کر آئے ہوں گے مگر اللہ کے نزدیک ان کی نیکیوں کی کوئی حیثیت اور وقعت نہیں ہوگی۔لَا يَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰي شَيْءٍ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ ان کو زعم ہوگا کہ انہوں نے دنیا میں بہت نیک کام کیے تھے ‘ خدمت خلق کے بڑے بڑے پراجیکٹ شروع کر رکھے تھے ‘ مگر اس دن وہاں ان میں سے کوئی نیکی بھی ان کے کام آنے والی نہیں ہوگی۔

إبراهيم 14:19

اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ اس کی قدرت قوت تخلیق اور تخلیقی مہارت ختم تو نہیں ہوگئی وہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے ختم کر دے اور جب چاہے کوئی نئی مخلوق پیدا کر دے۔

إبراهيم 14:20

اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ اس کی قدرت قوت تخلیق اور تخلیقی مہارت ختم تو نہیں ہوگئی وہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے ختم کر دے اور جب چاہے کوئی نئی مخلوق پیدا کر دے۔

إبراهيم 14:21

آیت 21 وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا فَقَال الضُّعَفٰۗؤُا لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْٓا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَاب اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ کمزور لوگ طاقتور لوگوں سے جنہیں وہ دنیا میں اپنے سردار اور لیڈر مانتے تھے کہیں گے کہ ہم آپ کے فرمانبردار تھے آپ کا ہر حکم مانتے تھے آپ کی خدمت کرتے تھے آپ کے جھنڈے اٹھاتے تھے آپ کے لیے زندہ باد کے نعرے لگاتے تھے تو کیا آپ ہماری ان خدمات کے عوض آج اس عذاب سے ہمیں کچھ رعایت دلا سکتے ہیں ؟قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَيْنٰكُمْ وہ کو را جواب دے دیں گے کہ ہم خود گمراہ تھے سو ہم نے تمہیں بھی گمراہ کیا۔سَوَاۗءٌ عَلَيْنَآ اَجَزِعْنَآ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِيْصٍ اب تو یکساں ہے خواہ ہم بےقراری کا مظاہرہ کریں چیخیں چلائیں یا صبر کریں ہمارے لیے کوئی مفر نہیں ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔

إبراهيم 14:22

آیت 22 وَقَال الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ جب تمام بنی نوع انسان کی قسمت کا فیصلہ ہوجائے گا اور اہل جنت کو جنت کی طرف اور اہل جہنم کو جہنم کی طرف لے جایا جا رہا ہوگا تو شیطان کہے گا :وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ میں تم پر کسی قسم کا جبر نہیں کرسکتا تھا اور تمہیں زبردستی برائی کی طرف نہیں لاسکتا تھا۔ یہ اختیار مجھے اللہ نے دیا ہی نہیں تھا۔اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ میں نے تم لوگوں کو ورغلایا معصیت کی دعوت دی اللہ کی نافرمانیوں اور بےحیائی کے کاموں کی ترغیب دی اور تم لوگوں نے میرا کہا مان لیا۔فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَكُمْ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سارے احکام تمہارے سامنے تھے اس کے راستے کے تمام نشانات تم پر واضح تھے۔ ان سے روگردانی کر کے تم لوگوں نے اپنی مرضی سے میرے راستے کو اختیار کیا۔ میں تمہیں زبردستی کھینچ کر اس طرف نہیں لے کر آیا۔ چناچہ آج مجھے کو سنے کے بجائے اپنے آپ کو لعن طعن کرو۔اِنِّىْ كَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ تم نے دنیا میں جو کچھ بھی کیا تھا انتہائی غلط کیا تھا۔ تم لوگوں کو اللہ کے احکام پر عمل کرنا چاہیے تھا اور اس کے وعدے پر اعتبار کرنا چاہیے تھا۔ تم لوگ نہ صرف اللہ کے احکام کو پس پشت ڈال کر میرا کہنا مانتے رہے بلکہ مجھے اس کے برابر کا درجہ بھی دیتے رہے۔ آج میں تمہارے ان سب اعتقادات سے اعلان براءت کرتا ہوں۔

إبراهيم 14:23

آیت 22 وَقَال الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ جب تمام بنی نوع انسان کی قسمت کا فیصلہ ہوجائے گا اور اہل جنت کو جنت کی طرف اور اہل جہنم کو جہنم کی طرف لے جایا جا رہا ہوگا تو شیطان کہے گا :وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ میں تم پر کسی قسم کا جبر نہیں کرسکتا تھا اور تمہیں زبردستی برائی کی طرف نہیں لاسکتا تھا۔ یہ اختیار مجھے اللہ نے دیا ہی نہیں تھا۔اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ میں نے تم لوگوں کو ورغلایا معصیت کی دعوت دی اللہ کی نافرمانیوں اور بےحیائی کے کاموں کی ترغیب دی اور تم لوگوں نے میرا کہا مان لیا۔فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَكُمْ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سارے احکام تمہارے سامنے تھے اس کے راستے کے تمام نشانات تم پر واضح تھے۔ ان سے روگردانی کر کے تم لوگوں نے اپنی مرضی سے میرے راستے کو اختیار کیا۔ میں تمہیں زبردستی کھینچ کر اس طرف نہیں لے کر آیا۔ چناچہ آج مجھے کو سنے کے بجائے اپنے آپ کو لعن طعن کرو۔اِنِّىْ كَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ تم نے دنیا میں جو کچھ بھی کیا تھا انتہائی غلط کیا تھا۔ تم لوگوں کو اللہ کے احکام پر عمل کرنا چاہیے تھا اور اس کے وعدے پر اعتبار کرنا چاہیے تھا۔ تم لوگ نہ صرف اللہ کے احکام کو پس پشت ڈال کر میرا کہنا مانتے رہے بلکہ مجھے اس کے برابر کا درجہ بھی دیتے رہے۔ آج میں تمہارے ان سب اعتقادات سے اعلان براءت کرتا ہوں۔

إبراهيم 14:24

آیت 24 اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً کلمہ طیبہ سے عام طور پر تو کلمہ توحید ”لَا اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ“ مراد لیا جاتا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ لَا اِلٰہَ الاَّ اللّٰہ افضل الذکر ہے لیکن یہاں کلمہ طیبہ سے توحید پر مبنی عقائد و نظریات بھلائی کی ہر بات کلام طیب اور حق کی دعوت مراد ہے۔

إبراهيم 14:25

آیت 25 تُؤْتِيْٓ اُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍۢ بِاِذْنِ رَبِّهَااس درخت کی جڑیں زمین میں مضبوطی سے جمی ہوئی ہیں اس کی شاخیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور اس کا پھل بھی متواتر آ رہا ہے۔وَيَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَال للنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ کوئی بھلائی کا کام ہو نیکی کی دعوت ہو راہ حق کی کوئی تحریک ہو جس نے بھی ایسی کسی نیکی کی ابتدا کی اس نے گویا اپنے لیے ایک بہت عمدہ پھلدار درخت لگا لیا۔ یہ درخت جب تک باقی رہے گا اپنے اثرات وثمرات سے نہ معلوم کس کس کو فیض یاب کرے گا۔ جیسے کسی نے بھلائی کی دعوت دی اور اس دعوت کو کچھ لوگوں نے قبول کیا انہوں نے اس دعوت کو مزید آگے پھیلایا یوں اس نیکی کا حلقہ اثر وسیع سے وسیع تر ہوتا جائے گا اور نہ معلوم مستقبل میں ایسے نیک اثرات مزید کہاں کہاں تک پہنچیں گے۔ حضرت جریر بن عبداللہ بن جابر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَلَہٗ اَجْرُھَا وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا بَعْدَہٗ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْقُصَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْءٌ‘ وَمَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّءَۃً کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہٖ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْقُصَ مِنْ اَوْزَارِھِمْ شَیْءٌ 1”جس کسی نے اسلام میں کسی نیک کام کا آغاز کیا تو اس کے لیے اس کام کا اجر بھی ہوگا اور بعد میں جو کوئی بھی اس پر عمل کرے گا اس کا اجر بھی اس کو ملے گا ‘ لیکن ان کے اجر وثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اور جس کسی نے اسلام میں کسی بری شے کا آغاز کیا تو اس پر اس کا گناہ بھی ہوگا اور بعد میں جو کوئی بھی اس پر عمل کرے گا اس کے گناہ کا بوجھ بھی اس پر ڈالا جائے گا مگر ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔“

إبراهيم 14:26

وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةِۨ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ بھلائی اور اس کے اثرات کے مقابلے میں برائی برائی کی دعوت اور برائی کے اثرات کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بہت عمدہ مضبوط اور پھلدار درخت کے مقابلے میں جھاڑ جھنکاڑ۔ نہ اس کی جڑوں میں مضبوطی نہ وجود کو ثبات نہ سایہ نہ پھل۔ برائی بعض اوقات لوگوں میں رواج بھی پا جاتی ہے انہیں بھلی بھی لگتی ہے اور اس کی ظاہری خوبصورتی میں لوگوں کے لیے وقتی طور پر کشش بھی ہوتی ہے۔ جیسے مال حرام کی کثرت اور چمک دمک لوگوں کو متاثر کرتی ہے مگر حقیقت میں نہ تو برائی کو ثبات اور دوام حاصل ہے اور نہ اس کے اثرات میں لوگوں کے لیے فائدہ !

إبراهيم 14:27

آیت 27 يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ یہاں قول ثابت سے مراد ایمان ہے۔ آخرت پر پختہ ایمان رکھنے والا شخص دنیا کے اندر اپنے کردار اور نظریات میں مضبوط اور ثابت قدم ہوتا ہے۔ اس کے حوصلے اس کے موقف اور اس کی صلاحیتوں کو اللہ تعالیٰ استقامت بخشتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اسی طرح کا ثبات آخرت میں بھی عطا ہوگا۔

إبراهيم 14:28

آیت 28 اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًااللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت کی نعمت سے نوازا تھا مگر انہوں نے ہدایت ہاتھ سے دے کر ضلالت اور گمراہی خرید لی۔ اللہ اس کے رسول اور اس کی کتاب سے کفر کر کے انہوں نے اللہ کی نعمت سے خود کو محروم کرلیا۔وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جیسے سورة ہود آیت 98 میں فرعون کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ روز محشر وہ اپنی قوم کی قیادت کرتا ہوا آئے گا اور اس پورے جلوس کو لا کر جہنم کے گھاٹ اتار دے گا۔ اسی طرح تمام قوموں اور تمام معاشروں کے گمراہ لیڈر اپنے اپنے پیروکاروں کو جہنم میں پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔

إبراهيم 14:29

آیت 28 اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًااللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت کی نعمت سے نوازا تھا مگر انہوں نے ہدایت ہاتھ سے دے کر ضلالت اور گمراہی خرید لی۔ اللہ اس کے رسول اور اس کی کتاب سے کفر کر کے انہوں نے اللہ کی نعمت سے خود کو محروم کرلیا۔وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جیسے سورة ہود آیت 98 میں فرعون کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ روز محشر وہ اپنی قوم کی قیادت کرتا ہوا آئے گا اور اس پورے جلوس کو لا کر جہنم کے گھاٹ اتار دے گا۔ اسی طرح تمام قوموں اور تمام معاشروں کے گمراہ لیڈر اپنے اپنے پیروکاروں کو جہنم میں پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔

إبراهيم 14:30

آیت 30 وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ یعنی انہوں نے جھوٹے معبودوں کا ڈھونگ اس لیے رچایا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کی بندگی سے ہٹا کر گمراہ کردیں۔ ”اَنداد“ جمع ہے ’ نِد ‘ کی اس کے معنی مدمقابل کے ہیں۔ سورة البقرۃ کی آیت 22 میں بھی ہم پڑھ آئے ہیں : فَلاَ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا ”تو اللہ کے مدمقابل نہ ٹھہرایا کرو“۔ اس معاملے کی نزاکت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک صحابی نے حضور سے محاورۃً عرض کیا : مَاشَاء اللّٰہُ وَمَا شِءْتَ ”جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں“ تو آپ نے انہیں فوراً ٹوک دیا اور فرمایا : أَجَعَلْتَنِیْ لِلّٰہِ نِدًّا ؟ مَا شَاء اللّٰہُ وَحْدَہٗ 1 ”کیا تو نے مجھے اللہ کا مد مقابل بنا دیا ؟ بلکہ وہی ہوگا جو تنہا اللہ چاہے !“ یعنی مشیت تو اللہ ہی کی ہے ‘ جو ہوگا اسی کی مشیت اور مرضی سے ہوگا۔ اختیار صرف اسی کا ہے اور کسی کا کوئی اختیار نہیں۔

إبراهيم 14:31

آیت 31 قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ یہاں یہ نکتہ لائقِ توجہ ہے کہ قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے رسول اللہ کو مخاطب کر کے اہل ایمان کو بالواسطہ حکم دیا جا رہا ہے اور یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے اہل ایمان کو براہ راست مخاطب نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ پورے مکی قرآن میں یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے براہ راست مسلمانوں سے خطاب نہیں کیا گیا۔ سورۃ الحج میں ایک مقام پر یہ الفاظ آئے ہیں مگر اس سورة کے مکی یا مدنی ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔ اس میں جو حکمت ہے وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ جہاں تک مجھے اس کی وجہ سمجھ میں آئی ہے وہ میں آپ کو بتاچکا ہوں کہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کا طرز خطاب امت کے لیے ہے اور مکی دور میں مسلمان ابھی ایک امت نہیں بنے تھے۔ مسلمانوں کو امت کا درجہ مدینہ میں آکر تحویل قبلہ کے بعد ملا۔ پچھلے دو ہزار برس سے امت مسلمہ کے منصب پر یہودی فائز تھے۔ انہیں اس منصب سے معزول کر کے محمد رسول اللہ کی امت کو امت مسلمہ کا درجہ دیا گیا اور تحویل قبلہ اس تبدیلی کی ظاہری علامت قرار پایا۔ یعنی یہودیوں کے قبلہ کی حیثیت بطور قبلہ ختم کرنے کا مطلب یہ قرار پایا کہ انہیں امت مسلمہ کے منصب سے معزول کردیا گیا ہے۔ چناچہ قرآن میں یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ کے ذریعے مسلمانوں سے خطاب اس کے بعد شروع ہوا۔وَيُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌیہ آیت سورة البقرۃ کی آیت 254 سے بہت ملتی جلتی ہے۔ وہاں بیع اور دوستی کے علاوہ شفاعت کی بھی نفی کی گئی ہے : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ۔ یعنی اس دن سے پہلے پہلے ہمارے عطا کردہ رزق میں سے خرچ کرلو جس میں نہ کوئی بیع ہوگی نہ کوئی دوستی کام آئے گی اور نہ ہی کسی کی شفاعت فائدہ مند ہوگی۔

إبراهيم 14:32

آیت 31 قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ یہاں یہ نکتہ لائقِ توجہ ہے کہ قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے رسول اللہ کو مخاطب کر کے اہل ایمان کو بالواسطہ حکم دیا جا رہا ہے اور یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے اہل ایمان کو براہ راست مخاطب نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ پورے مکی قرآن میں یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے براہ راست مسلمانوں سے خطاب نہیں کیا گیا۔ سورۃ الحج میں ایک مقام پر یہ الفاظ آئے ہیں مگر اس سورة کے مکی یا مدنی ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔ اس میں جو حکمت ہے وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ جہاں تک مجھے اس کی وجہ سمجھ میں آئی ہے وہ میں آپ کو بتاچکا ہوں کہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کا طرز خطاب امت کے لیے ہے اور مکی دور میں مسلمان ابھی ایک امت نہیں بنے تھے۔ مسلمانوں کو امت کا درجہ مدینہ میں آکر تحویل قبلہ کے بعد ملا۔ پچھلے دو ہزار برس سے امت مسلمہ کے منصب پر یہودی فائز تھے۔ انہیں اس منصب سے معزول کر کے محمد رسول اللہ کی امت کو امت مسلمہ کا درجہ دیا گیا اور تحویل قبلہ اس تبدیلی کی ظاہری علامت قرار پایا۔ یعنی یہودیوں کے قبلہ کی حیثیت بطور قبلہ ختم کرنے کا مطلب یہ قرار پایا کہ انہیں امت مسلمہ کے منصب سے معزول کردیا گیا ہے۔ چناچہ قرآن میں یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ کے ذریعے مسلمانوں سے خطاب اس کے بعد شروع ہوا۔وَيُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌیہ آیت سورة البقرۃ کی آیت 254 سے بہت ملتی جلتی ہے۔ وہاں بیع اور دوستی کے علاوہ شفاعت کی بھی نفی کی گئی ہے : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ۔ یعنی اس دن سے پہلے پہلے ہمارے عطا کردہ رزق میں سے خرچ کرلو جس میں نہ کوئی بیع ہوگی نہ کوئی دوستی کام آئے گی اور نہ ہی کسی کی شفاعت فائدہ مند ہوگی۔

إبراهيم 14:33

آیت 33 وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ ان تمام چیزوں کے گنوانے سے انسان کو یہ جتلانا مقصود ہے کہ زمین کے دامن اور آسمان کی وسعتوں میں اللہ کی تمام تخلیقات اور فطرت کی تمام قوتیں مسلسل انسان کی خدمت میں اس کی نفع رسانی کے لیے مصروف کار ہیں اور وہ اس لیے کہ اس کائنات میں انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جو سب مخلوقات سے اعلیٰ ہے۔ اللہ نے یہ بساط کون و مکان انسان ہی کے لیے بچھائی ہے اور باقی تمام اشیاء کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ اس کی ضروریات پوری کریں۔ یہی بات سورة البقرۃ کی آیت 29 میں اس طرح بیان فرمائی گئی ہے : ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا یعنی یہ زمین میں جو کچھ بھی نظر آ رہا ہے یہ اللہ نے تمہارے انسانوں کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور ان چیزوں کو تمہاری ضرورتیں پوری کرنے کے لیے مسخر کردیا ہے۔

إبراهيم 14:34

آیت 34 وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ یہ مانگنا شعوری بھی ہے اور غیر شعوری بھی۔ یعنی وہ تمام چیزیں بھی اللہ نے ہمارے لیے فراہم کی ہیں جن کا تقاضا ہمارا وجود کرتا ہے اور ہمیں اپنی زندگی کو قائم رکھنے کے لیے ان کی ضرورت ہے۔ کیونکہ انسان کو پوری طرح شعور نہیں ہے کہ اسے کس کس انداز میں کس کس چیز کی ضرورت ہے اور اس کی ضرورت کی یہ چیزیں اسے کہاں کہاں سے دستیاب ہوں گی۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی دنیوی زندگی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے اسباب و نتائج کے ایسے ایسے سلسلے پیدا کردیے ہیں جن کا احاطہ کرنا انسانی عقل کے بس میں نہیں ہے۔ اللہ نے بہت سی ایسی چیزیں بھی پیدا کر رکھی ہیں جن سے انسان کی ضرورتیں انجانے میں پوری ہور ہی ہیں۔ مثلاً ایک وقت تک انسان کو کب پتا تھا کہ کون سی چیز میں کون سا وٹامن پایا جاتا ہے۔ مگر وہ وٹامنز مختلف غذاؤں کے ذریعے سے انسان کی ضرورتیں اس طرح پوری کر رہے تھے کہ انسان کو اس کی خبر تک نہ تھی۔ بہر حال اللہ ہمیں وہ چیزیں بھی عطا کرتا ہے جو ہم اس سے شعوری طور پر مانگتے ہیں اور وہ بھی جو ہماری زندگی اور بقا کا فطری تقاضا ہیں۔وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌانسان کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو گن سکے۔ کفار ک کی زبر کے ساتھ یہاں فَعّال کے وزن پر مبالغے کا صیغہ ہے یعنی نا شکری میں بہت بڑھا ہوا۔

إبراهيم 14:35

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ یہ مضمون سورة البقرۃ کے پندرھویں رکوع کے مضمون سے ملتا جلتا ہے۔ حضرت ابراہیم سے ما قبل زمانہ کی جو تاریخ ہمیں معلوم ہوئی ہے اس کے مطابق اس دور کی سب سے بڑی گمراہی بت پرستی تھی۔ آپ سے پہلے کی تمام اقوام اسی گمراہی میں مبتلا تھیں۔ آپ کی اپنی قوم کا اس سلسلے میں یہ حال تھا کہ انہوں نے ایک بہت بڑے بت خانے میں بہت سے بت سجا رکھے تھے۔ انہی بتوں کا سورة الانبیاء میں ذکر ملتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے ان کو توڑا تھا۔ اس کے علاوہ آپ کی قوم ستاروں کی پوجا بھی کرتی تھی جبکہ نمرود نے انہیں سیاسی شرک میں بھی مبتلا کر رکھا تھا۔ وہ اختیار مطلق کا دعویدار تھا اور جس چیز کو وہ چاہتا جائز قرار دیتا اور جس کو چاہتا ممنوع۔

إبراهيم 14:36

آیت 36 رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ ۚ فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّهٗ مِنِّىْ میں نے خود کو ہر قسم کے شرک سے پاک کرلیا ہے اب جو لوگ میری پیروی کریں شرک سے دور رہیں توحید کے راستے پر چلیں ایسے لوگ تو میرے ہی ساتھی ہیں ان کے ساتھ تو تیرا وعدہ پورا ہوگا۔وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌحضرت ابراہیم کی طبیعت کے بارے میں ہم سورة ہود میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ چکے ہیں : اِنَّ اِبْرٰہِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاہٌ مُّنِیْبٌ کہ آپ بہت ہی نرم دل حلیم الطبع اور ہر وقت اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ چناچہ جب گنہگاروں کا ذکر ہوا ہے تو آپ نے اللہ کی صفات غفاری اور رحیمی کا ذکر کرنے پر ہی اکتفا کیا ہے۔ بالکل اسی انداز میں حضرت عیسیٰ کی التجا کا ذکر سورة المائدۃ میں آیا ہے : اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَج وَاِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ یعنی پروردگار ! اگر تو انہیں عذاب دے گا تو وہ تیرے ہی بندے ہیں تو جس طرح چاہے انہیں عذاب دے تیرا اختیار مطلق ہے۔ لیکن اگر تو انہیں معاف کر دے تو بھی تیرے اختیار اور تیری حکمت پر کوئی اعتراض کرنے والا نہیں ہے۔

إبراهيم 14:37

آیت 37 رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ اے ہمارے پروردگار ! تیرے حکم کے مطابق میں نے یہاں تیرے اس محترم گھر کے پاس اپنی اولاد کو لا کر آباد کردیا ہے۔ حضرت ابراہیم کی دعا میں پہلے رَبِّ ‘ رَبِّ اے میرے پروردگار ! کا صیغہ آ رہا تھا مگر اب ”رَبَّنَا“ جمع کا صیغہ آگیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر آپ کے ساتھ حضرت اسماعیل بھی شامل ہوگئے ہیں۔ یہاں پر عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ کے الفاظ سے ان روایات کو بھی تقویت ملتی ہے جن کے مطابق بیت اللہ کی تعمیر سب سے پہلے حضرت آدم نے کی تھی۔ ان روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت آدم کا تعمیر کردہ بیت اللہ ابتدائی زمانہ میں گرگیا اور سیلاب کے سبب اس کی دیواریں وغیرہ بھی بہہ گئیں ‘ صرف بنیادیں باقی رہ گئیں۔ ان ہی بنیادوں پر پھر حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے اس کی تعمیر کی جس کا ذکر سورة البقرۃ کی آیت 127 میں ملتا ہے : وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰہٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَاِسْمٰعِیْلُ ط۔ بہرحال حضرت ابراہیم عرض کر رہے ہیں :رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے محبت پیدا ہوجائے لوگ اطراف و جوانب سے ان کے پاس آئیں تاکہ اس طرح ان کے لیے یہاں رہنے اور بسنے کا بندوبست ہو سکے۔

إبراهيم 14:38

آیت 37 رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ اے ہمارے پروردگار ! تیرے حکم کے مطابق میں نے یہاں تیرے اس محترم گھر کے پاس اپنی اولاد کو لا کر آباد کردیا ہے۔ حضرت ابراہیم کی دعا میں پہلے رَبِّ ‘ رَبِّ اے میرے پروردگار ! کا صیغہ آ رہا تھا مگر اب ”رَبَّنَا“ جمع کا صیغہ آگیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر آپ کے ساتھ حضرت اسماعیل بھی شامل ہوگئے ہیں۔ یہاں پر عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ کے الفاظ سے ان روایات کو بھی تقویت ملتی ہے جن کے مطابق بیت اللہ کی تعمیر سب سے پہلے حضرت آدم نے کی تھی۔ ان روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت آدم کا تعمیر کردہ بیت اللہ ابتدائی زمانہ میں گرگیا اور سیلاب کے سبب اس کی دیواریں وغیرہ بھی بہہ گئیں ‘ صرف بنیادیں باقی رہ گئیں۔ ان ہی بنیادوں پر پھر حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے اس کی تعمیر کی جس کا ذکر سورة البقرۃ کی آیت 127 میں ملتا ہے : وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰہٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَاِسْمٰعِیْلُ ط۔ بہرحال حضرت ابراہیم عرض کر رہے ہیں :رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے محبت پیدا ہوجائے لوگ اطراف و جوانب سے ان کے پاس آئیں تاکہ اس طرح ان کے لیے یہاں رہنے اور بسنے کا بندوبست ہو سکے۔

إبراهيم 14:39

آیت 39 اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ عَلَي الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ جب حضرت اسماعیل کی ولادت ہوئی تو حضرت ابراہیم کی عمر 81 برس تھی اور اس کے کئی سال بعد حضرت اسحاق پیدا ہوئے۔

إبراهيم 14:40

آیت 40 رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ یعنی مجھے توفیق عطا فرما دے کہ میں نماز کو پوری طرح قائم رکھوں اور پھر میری اولاد کو بھی توفیق بخش دے کہ وہ لوگ بھی نماز قائم کرنے والے بن کر رہیں۔

إبراهيم 14:41

آیت 40 رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ یعنی مجھے توفیق عطا فرما دے کہ میں نماز کو پوری طرح قائم رکھوں اور پھر میری اولاد کو بھی توفیق بخش دے کہ وہ لوگ بھی نماز قائم کرنے والے بن کر رہیں۔

إبراهيم 14:42

آیت 40 رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ یعنی مجھے توفیق عطا فرما دے کہ میں نماز کو پوری طرح قائم رکھوں اور پھر میری اولاد کو بھی توفیق بخش دے کہ وہ لوگ بھی نماز قائم کرنے والے بن کر رہیں۔

إبراهيم 14:43

آیت 43 مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِيْ رُءُوْسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۚ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاۗءٌخوف اور دہشت کے سبب نظریں ایک جگہ جم کر رہ جائیں گی اور ادھر ادھر حرکت کرنا بھی بھول جائیں گی۔ یہ میدان حشر میں لوگوں کی کیفیت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔

إبراهيم 14:44

اَوَلَمْ تَكُوْنُوْٓا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍ کہ ہمارا اقتدار ہماری یہ شان و شوکت ہماری یہ جاگیریں یہ سب کچھ ہماری بڑی سوچی سمجھی منصوبہ بندیوں کا نتیجہ ہے انہیں کہاں سے زوال آئے گا !

إبراهيم 14:45

آیت 45 وَّسَكَنْتُمْ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ تمہارے آس پاس کے علاقوں میں وہ قومیں آباد تھیں جو ماضی میں اللہ کے عذاب کا نشانہ بنیں۔ قوم عاد بھی اسی جزیرہ نمائے عرب میں آباد تھی قوم ثمود کے مساکن بھی تمہیں دعوت عبرت دیتے رہے قوم مدین کا علاقہ بھی تم سے کچھ زیادہ دور نہیں تھا اور قوم لوط کے شہروں کے آثار سے بھی تم لوگ خوب واقف تھے۔وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ ان کے حالات پوری طرح کھول کر تم لوگوں کو سنا دیے گئے تھے۔ یہ تذکیر بایام اللہ کی تفصیلات کی طرف اشارہ ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں اور اس سلسلے میں حضور سے اسی سورت کی آیت 5 میں خصوصی طور پر فرمایا گیا : وَذَکِّرْہُمْ بِاَیّٰٹم اللّٰہِ ط ”کہ آپ اللہ کے دنوں اقوام گزشتہ کے واقعات عذاب کے حوالے سے ان لوگوں کو خبردار کریں۔

إبراهيم 14:46

آیت 46 وَقَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ اے قریش مکہ ! جس طرح آج تم ہمارے نبی کے خلاف اپنی چالیں چل رہے ہو اسی طرح تم سے پہلے والے لوگوں نے بھی کچھ کمی نہیں کی تھی۔ جہاں تک ان کا بس چلا تھا انہوں نے اپنی چالیں چلی تھیں۔ قوم نوح ‘ قوم ہود ‘ قوم صالح اور قوم لوط کے سرداروں نے اپنے رسولوں کے خلاف جو کچھ کیا اور جو کچھ کہا اس کی تفصیلات ہم تمہیں سنا چکے ہیں۔ اور قوم شعیب کے سرداروں کی مجبوری کا ذکر بھی ہم کرچکے ہیں جو تم لوگوں کی مجبوری سے ملتی جلتی تھی۔ یعنی ان کا بےچارگی سے یہ کہنا کہ اگر تمہارا قبیلہ تمہاری پشت پر نہ ہوتا تو ہم اب تک تمہیں سنگسار کرچکے ہوتے۔ چناچہ ہمارے لیے اور ہمارے نبی کے لیے تمہاری یہ چالیں ‘ یہ سازشیں اور یہ ریشہ دوانیاں کوئی انہونی نہیں ہیں۔ البتہ تم لوگ اپنی پیشرو اقوام کے واقعات کے آئینے میں اپنے مستقبل اور انجام کی جھلک دیکھنا چاہوتو صاف دیکھ سکتے ہو۔ تم لوگ اندازہ کرسکتے ہو کہ تم سے پہلے ان مشرکین حق کی چالیں کس حد تک کامیاب ہوئیں اور تم تجزیہ کرسکتے ہو کہ ہر بار حق و باطل کی کش مکش کا آخری نتیجہ کیا نکلا۔ وَعِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ ۭ وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ اللہ تعالیٰ ان کی تمام چالوں کا احاطہ کیے ہوئے تھا اور یہ ممکن نہیں تھا کہ اللہ کی مرضی اور مشیت کے خلاف ان کا کوئی منصوبہ کامیاب ہوجاتا۔ بہر حال ان کی چالیں اور منصوبہ بندیاں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کچھ ایسی نہیں تھیں کہ ان کے سبب پہاڑ اپنی جگہ بدلنے پر مجبور ہوجاتے۔

إبراهيم 14:47

آیت 47 فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ یہاں پر رسول کے بجائے رسل جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے یعنی تمام رسولوں کے ساتھ اللہ کا یہ مستقل وعدہ رہا کہ تمہاری مدد کی جائے گی اور آخری کامیابی تمہاری ہی ہوگی۔ جیسا کہ سورة المجادلہ کی آیت 21 میں فرمایا گیا : كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ یعنی اللہ نے طے کیا ہوا ہے ‘ لکھ کر رکھا ہوا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آکر رہیں گے۔ درمیان میں کچھ اونچ نیچ ہوگی ‘ تکلیفیں بھی آئیں گی ‘ آزمائشوں کا سامنا بھی کرنا ہوگا ‘ مگر فتح ہمیشہ حزب اللہ ہی کی ہوگی۔ آزمائشوں کے ان مراحل کے بارے میں سورة البقرۃ میں فرمایا :وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ ”اور ہم ضرور تمہاری آزمائش کریں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مال اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے ‘ تو آپ صبر کرنے والوں کو بشارت سنا دیں۔“اس کے بعد سورة البقرۃ میں ہی فرمایا :اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۭ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَاۗءُ وَالضَّرَّاۗءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ”کیا تم سمجھتے ہو کہ یوں ہی جنت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں جیسی مشکلات تو پیش آئیں ہی نہیں۔ ان کو تو بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں پہنچی تھیں اور وہ ہلا ڈالے گئے تھے ‘ یہاں تک کہ پیغمبر اور ان کے ساتھ جو مؤمنین تھے سب پکار اٹھے کہ کب آئے گی اللہ کی مدد ‘ آگاہ ہوجاؤ ! اللہ کی مدد قریب ہے۔“بہر حال اللہ تعالیٰ کا اپنے رسولوں سے یہ پختہ وعدہ رہا ہے کہ حق و باطل کی اس کش مکش میں بالآخر فتح انہی کی ہوگی اور انہیں جھٹلانے والوں کو ان کے سامنے سزا دی جائے گی۔ یہ ساری باتیں تفصیل سے قرآن میں بیان کی جا چکی ہیں تاکہ ان لوگوں کو کوئی شک نہ رہے۔

إبراهيم 14:48

آیت 48 يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ یہ روز محشر کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں قبل ازیں بھی کئی دفعہ ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یوں لگتا ہے جیسے محشر کا میدان اسی زمین کو بنایا جائے گا۔ اس کے لیے زمین کی شکل میں مناسب تبدیلی کی جائے گی ‘ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے۔ سورة الفجر میں اس تبدیلی کی ایک صورت اس طرح بتائی گئی ہے : اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَکًّا دَکًّا ”جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہموار کردیا جائے گا“۔ پھر سورة الانشقاق میں فرمایا گیا ہے : وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ”اور جب زمین کو کھینچا جائے گا“۔ اس طرح تمام تفصیلات کو جمع کر کے جو صورت حال ممکن ہوتی محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین کے تمام نشیب و فراز کو ختم کر کے اسے بالکل ہموار بھی کیا جائے گا اور وسیع بھی۔ اس طرح اسے ایک بہت بڑے میدان کی شکل دے دی جائے گی۔ جب زمین کو ہموار کیا جائے گا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے ‘ زمین کے پچکنے سے اس کے اندر کا سارا لاوا باہر نکل آئے گا اور سمندر بھاپ بن کر اڑ جائیں گے۔ اسی طرح نظام سماوی میں بھی ضروری ردّ وبدل کیا جائے گا ‘ جس کے بارے میں سورة القیامہ میں اس طرح بتایا گیا ہے : وَجُمِعَ الشَمْسُ وَالْقَمَرُ یعنی سورج اور چاند کو یکجا کردیا جائے گا۔ واللہ اعلم !حال ہی میں ایک صاحب نے ”The Machanics of the Dooms Day“ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ یہ صاحب ماہر طبیعیات ہیں۔ میں نے اس کتاب کا پیش لفظ بھی لکھا ہے۔ اس میں انہوں نے بہت سی ایسی باتیں لکھی ہیں جن کی طرف اس سے پہلے توجہ نہیں کی گئی۔ اس لحاظ سے ان کی یہ باتیں یقیناً قابل غور ہیں۔ انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ قیامت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس وقت پوری کائنات ختم ہوجائے گی ‘ بلکہ یہ واقعہ صرف ہمارے نظام شمسی میں رونما ہوگا۔ جس طرح اس کائنات کے اندر کسی گلی کسی یا کسی گلی کسی کے کسی حصے کی موت واقع ہوتی رہتی ہے اسی طرح ایک وقت آئے گا جب ہمارا نظام شمسی تباہ ہوجائے گا اور تباہ ہونے کے بعد کچھ اور شکل اختیار کرلے گا۔ ہماری زمین بھی چونکہ اس نظام کا حصہ ہے لہٰذا اس پر بھی ہرچیز تباہ ہوجائے گی ‘ اور یہی قیامت ہوگی۔ واللہ اعلم !وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ سورۃ الفجر میں اس وقت کا منظر بایں الفاظ بیان ہوا ہے : وَّجَآءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِایْٓءَ یَوْمَءِذٍم بِجَہَنَّمَ ”اور اللہ تعالیٰ اس وقت نزول فرمائے گا ‘ فرشتے بھی قطار در قطار آئیں گے اور جہنم بھی سامنے پیش کردی جائے گی“ اللہ تعالیٰ کے نزول فرمانے کی کیفیت کا ہم تصور نہیں کرسکتے۔ جس طرح ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کے آخری حصے میں آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے ‘ لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ اس نزول کی کیفیت کیا ہوتی ہے ‘ اسی طرح آج ہم نہیں جان سکتے کہ روز قیامت جب اللہ تعالیٰ زمین پر نزول فرمائے گا تو اس کی کیفیت کیا ہوگی۔ ممکن ہے تب اس کی حقیقت ہم پر منکشف کردی جائے۔

إبراهيم 14:49

آیت 48 يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ یہ روز محشر کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں قبل ازیں بھی کئی دفعہ ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یوں لگتا ہے جیسے محشر کا میدان اسی زمین کو بنایا جائے گا۔ اس کے لیے زمین کی شکل میں مناسب تبدیلی کی جائے گی ‘ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے۔ سورة الفجر میں اس تبدیلی کی ایک صورت اس طرح بتائی گئی ہے : اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَکًّا دَکًّا ”جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہموار کردیا جائے گا“۔ پھر سورة الانشقاق میں فرمایا گیا ہے : وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ”اور جب زمین کو کھینچا جائے گا“۔ اس طرح تمام تفصیلات کو جمع کر کے جو صورت حال ممکن ہوتی محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین کے تمام نشیب و فراز کو ختم کر کے اسے بالکل ہموار بھی کیا جائے گا اور وسیع بھی۔ اس طرح اسے ایک بہت بڑے میدان کی شکل دے دی جائے گی۔ جب زمین کو ہموار کیا جائے گا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے ‘ زمین کے پچکنے سے اس کے اندر کا سارا لاوا باہر نکل آئے گا اور سمندر بھاپ بن کر اڑ جائیں گے۔ اسی طرح نظام سماوی میں بھی ضروری ردّ وبدل کیا جائے گا ‘ جس کے بارے میں سورة القیامہ میں اس طرح بتایا گیا ہے : وَجُمِعَ الشَمْسُ وَالْقَمَرُ یعنی سورج اور چاند کو یکجا کردیا جائے گا۔ واللہ اعلم !حال ہی میں ایک صاحب نے ”The Machanics of the Dooms Day“ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ یہ صاحب ماہر طبیعیات ہیں۔ میں نے اس کتاب کا پیش لفظ بھی لکھا ہے۔ اس میں انہوں نے بہت سی ایسی باتیں لکھی ہیں جن کی طرف اس سے پہلے توجہ نہیں کی گئی۔ اس لحاظ سے ان کی یہ باتیں یقیناً قابل غور ہیں۔ انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ قیامت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس وقت پوری کائنات ختم ہوجائے گی ‘ بلکہ یہ واقعہ صرف ہمارے نظام شمسی میں رونما ہوگا۔ جس طرح اس کائنات کے اندر کسی گلی کسی یا کسی گلی کسی کے کسی حصے کی موت واقع ہوتی رہتی ہے اسی طرح ایک وقت آئے گا جب ہمارا نظام شمسی تباہ ہوجائے گا اور تباہ ہونے کے بعد کچھ اور شکل اختیار کرلے گا۔ ہماری زمین بھی چونکہ اس نظام کا حصہ ہے لہٰذا اس پر بھی ہرچیز تباہ ہوجائے گی ‘ اور یہی قیامت ہوگی۔ واللہ اعلم !وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ سورۃ الفجر میں اس وقت کا منظر بایں الفاظ بیان ہوا ہے : وَّجَآءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِایْٓءَ یَوْمَءِذٍم بِجَہَنَّمَ ”اور اللہ تعالیٰ اس وقت نزول فرمائے گا ‘ فرشتے بھی قطار در قطار آئیں گے اور جہنم بھی سامنے پیش کردی جائے گی“ اللہ تعالیٰ کے نزول فرمانے کی کیفیت کا ہم تصور نہیں کرسکتے۔ جس طرح ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کے آخری حصے میں آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے ‘ لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ اس نزول کی کیفیت کیا ہوتی ہے ‘ اسی طرح آج ہم نہیں جان سکتے کہ روز قیامت جب اللہ تعالیٰ زمین پر نزول فرمائے گا تو اس کی کیفیت کیا ہوگی۔ ممکن ہے تب اس کی حقیقت ہم پر منکشف کردی جائے۔

إبراهيم 14:50

آیت 48 يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ یہ روز محشر کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں قبل ازیں بھی کئی دفعہ ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یوں لگتا ہے جیسے محشر کا میدان اسی زمین کو بنایا جائے گا۔ اس کے لیے زمین کی شکل میں مناسب تبدیلی کی جائے گی ‘ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے۔ سورة الفجر میں اس تبدیلی کی ایک صورت اس طرح بتائی گئی ہے : اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَکًّا دَکًّا ”جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہموار کردیا جائے گا“۔ پھر سورة الانشقاق میں فرمایا گیا ہے : وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ”اور جب زمین کو کھینچا جائے گا“۔ اس طرح تمام تفصیلات کو جمع کر کے جو صورت حال ممکن ہوتی محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین کے تمام نشیب و فراز کو ختم کر کے اسے بالکل ہموار بھی کیا جائے گا اور وسیع بھی۔ اس طرح اسے ایک بہت بڑے میدان کی شکل دے دی جائے گی۔ جب زمین کو ہموار کیا جائے گا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے ‘ زمین کے پچکنے سے اس کے اندر کا سارا لاوا باہر نکل آئے گا اور سمندر بھاپ بن کر اڑ جائیں گے۔ اسی طرح نظام سماوی میں بھی ضروری ردّ وبدل کیا جائے گا ‘ جس کے بارے میں سورة القیامہ میں اس طرح بتایا گیا ہے : وَجُمِعَ الشَمْسُ وَالْقَمَرُ یعنی سورج اور چاند کو یکجا کردیا جائے گا۔ واللہ اعلم !حال ہی میں ایک صاحب نے ”The Machanics of the Dooms Day“ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ یہ صاحب ماہر طبیعیات ہیں۔ میں نے اس کتاب کا پیش لفظ بھی لکھا ہے۔ اس میں انہوں نے بہت سی ایسی باتیں لکھی ہیں جن کی طرف اس سے پہلے توجہ نہیں کی گئی۔ اس لحاظ سے ان کی یہ باتیں یقیناً قابل غور ہیں۔ انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ قیامت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس وقت پوری کائنات ختم ہوجائے گی ‘ بلکہ یہ واقعہ صرف ہمارے نظام شمسی میں رونما ہوگا۔ جس طرح اس کائنات کے اندر کسی گلی کسی یا کسی گلی کسی کے کسی حصے کی موت واقع ہوتی رہتی ہے اسی طرح ایک وقت آئے گا جب ہمارا نظام شمسی تباہ ہوجائے گا اور تباہ ہونے کے بعد کچھ اور شکل اختیار کرلے گا۔ ہماری زمین بھی چونکہ اس نظام کا حصہ ہے لہٰذا اس پر بھی ہرچیز تباہ ہوجائے گی ‘ اور یہی قیامت ہوگی۔ واللہ اعلم !وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ سورۃ الفجر میں اس وقت کا منظر بایں الفاظ بیان ہوا ہے : وَّجَآءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِایْٓءَ یَوْمَءِذٍم بِجَہَنَّمَ ”اور اللہ تعالیٰ اس وقت نزول فرمائے گا ‘ فرشتے بھی قطار در قطار آئیں گے اور جہنم بھی سامنے پیش کردی جائے گی“ اللہ تعالیٰ کے نزول فرمانے کی کیفیت کا ہم تصور نہیں کرسکتے۔ جس طرح ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کے آخری حصے میں آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے ‘ لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ اس نزول کی کیفیت کیا ہوتی ہے ‘ اسی طرح آج ہم نہیں جان سکتے کہ روز قیامت جب اللہ تعالیٰ زمین پر نزول فرمائے گا تو اس کی کیفیت کیا ہوگی۔ ممکن ہے تب اس کی حقیقت ہم پر منکشف کردی جائے۔

إبراهيم 14:51

آیت 51 لِيَجْزِيَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ اس دن اللہ تعالیٰ کو اتنے زیادہ لوگوں کا حساب لیتے ہوئے دیر نہیں لگے گی۔

إبراهيم 14:52

آیت 52 هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ اس قرآن اور اس کے احکام کو لوگوں تک پہنچانے کی ذمہ داری ہم نے محمد رسول اللہ پر ڈالی تھی۔ آپ نے یہ ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کردی ہے۔ اب یہ ذمہ داری آپ کی امت کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے کہ وہ یہ پیغام تمام انسانوں تک پہنچائے۔وَلِيُنْذَرُوْا بِهٖ یعنی اس قرآن کے ذریعے سے تمام انسانوں کی تذکیر و تنذیر کا حق ادا ہوجائے۔ اس حوالے سے سورة الانعام کی آیت 19 کے یہ الفاظ بھی یاد کر لیجیے : وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْم بَلَغَ ط ”یہ قرآن میری طرف سے وحی کیا گیا ہے تاکہ میں خبردار کردوں اس کے ذریعے سے تمہیں بھی اور ہر اس شخص کو جس تک بھی یہ پہنچ جائے۔“بارک اللّٰہ لی ولکم فی ال قرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالایات والذکر الحکیم

الحجر 15:1

آ الۗرٰ حروف مقطعات کا یہ سلسلہ سورة یونس سے شروع ہوا تھا۔ پانچ سورتوں کے آغاز میں الۗرٰ کے حروف ہیں اور ایک سورة الرعد میں ا آمآرٰ۔ یہ اس سلسلہ کی چھٹی اور آخری سورت ہے۔

الحجر 15:2

آیت 2 رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ ایک وقت آئے گا کہ ان لوگوں کے لیے ان کا کفر موجب حسرت بن جائے گا۔

الحجر 15:3

ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا وَيَتَمَتَّعُوْازمین میں جو مہلت انہیں ملی ہوئی ہے اس میں خوب مزے کرلیں۔وَيُلْهِهِمُ الْاَمَلُ اَلْھٰی ‘ یُلْھِی ‘ اِلْھَاءً کے معنی ہیں غافل کردینا۔ سورة التکاثر میں فرمایا گیا : اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ۔ حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ”غافل کیے رکھا تمہیں کثرت کی خواہش کے مقابلے نے ‘ یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں“۔ انسان کے لمبے لمبے منصوبے بنانے کو ”طولِ اَمل“ کہتے ہیں۔ جب انسان اس گورکھ دھندے میں پڑجائے ‘ تو خواہشوں اور آرزوؤں کا یہ سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا ‘ مگر زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ حدیث نبوی ہے : مَا قَلَّ وَکَفٰی خَیْرٌ مِمَّا کَثُرَ وَاَلْھٰی یعنی اگر کوئی شے کم ہے لیکن آپ کو کفایت کر جائے ‘ آپ کی ضرورت اس سے پوری ہوجائے تو یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو آپ کی ضرورت سے زیادہ ہو اور آپ کو اپنے خالق اور مالک کی یاد سے غافل کر دے۔ اگر مال و دولت کی ریل پیل ہے ‘ رزق اور سامان آسائش کی فراوانی ہے ‘ کبھی کوئی حاجت پریشان نہیں کرتی ‘ کوئی محرومی ‘ کوئی نارسائی اللہ کی یاد تازہ کرنے کا سبب نہیں بنتی ‘ تو ایسی حالت میں رفتہ رفتہ انسان کے بالکل غافل ہوجانے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اس سے بہتر ہے کہ اتنا ملے جس سے ضرورت پوری ہوجائے اور کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرنا پڑے۔ لیکن اس قدر فراوانی نہ ہو کہ غفلت غلبہ پالے۔

الحجر 15:4

وَمَآ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌہر قوم پر آنے والے عذاب کا ایک وقت معین تھا جو پہلے سے لکھا ہوا تھا۔

الحجر 15:5

وَمَآ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌہر قوم پر آنے والے عذاب کا ایک وقت معین تھا جو پہلے سے لکھا ہوا تھا۔

الحجر 15:6

وَقَالُوْا يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْ نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌمعاذ اللہ ! ثم معاذ اللہ ! ! مجنون ”جن“ سے مشتق ہے۔ عربی میں جن کے معنی مخفی چیز کے ہیں۔ اسی معنی میں رحم مادر میں بچے کو جنین کہا جاتا ہے کیونکہ وہ نظر سے پوشیدہ ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے لفظ ”جنت“ بھی اسی مادہ سے ہے اور اس سے مراد ایسی زمین ہے جو درختوں اور گھاس وغیرہ سے پوری طرح ڈھکی ہوئی ہو۔ سورة الانعام آیت 76 میں حضرت ابراہیم کے تذکرے میں یہ لفظ اس طرح آیا ہے : فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْہِ الَّیْلُ یعنی جب رات کی تاریکی نے اسے ڈھانپ لیا۔ چناچہ مجنون اس شخص کو بھی کہا جاتا ہے جس پر جن کے اثرات ہوں آسیب کا سایہ ہو اور اس کو بھی جس کا ذہنی توازن درست نہ ہو۔ رسول اللہ کے بارے میں یہ بات وحی کے بالکل ابتدائی دور میں کہی گئی تھی اور اس کے کہنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو اس طرح کے خیالات کا اظہار معاندانہ انداز میں نہیں بلکہ ہمدردی میں کر رہے تھے۔ یعنی جب ابتدا میں حضور نے نبوت کا دعویٰ کیا اور بتایا کہ غار حرا میں ان کے پاس فرشتہ آیا ہے تو بہت سے لوگوں کو گمان ہوا کہ شاید آپ کو کسی بد روح وغیرہ کا اثر ہوگیا ہے۔ چونکہ نبوت ملنے اور فرشتہ کے آنے کا دعویٰ ان کے لیے بالکل نئی بات تھی اس لیے ان کا واقعی یہ خیال تھا کہ اکیلے کئی کئی راتیں غار حرا میں رہنے کی وجہ سے ضرور آپ پر کسی بد روح یا جن کے اثرات ہوگئے ہیں۔ چناچہ سورة نٓ اس کا دوسرا نام سورة القلم بھی ہے جو کہ بالکل ابتدائی دور کی سورة ہے ‘ اس میں ان لوگوں کے خیالات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا : مَآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُونٍ ”آپ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں۔“

الحجر 15:7

لَوْ مَا تَاْتِيْنَا بالْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی ان باتوں کا جواب آ رہا ہے :

الحجر 15:8

آیت 8 مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ یعنی یہ لوگ فرشتوں کو بلانا چاہتے ہیں یا اپنی شامت کو ؟ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ عاد وثمود اور قوم لوط پر فرشتے نازل ہوئے تو کس غرض سے نازل ہوئے ! انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ فرشتے جب کسی قوم پر نازل ہوتے ہیں تو آخری فیصلے کے نفاذ کے لیے نازل ہوتے ہیں۔

الحجر 15:9

آیت 9 اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ یہ آیت مبارکہ بہت اہم ہے۔ جہاں تک اس کے پہلے حصے کا تعلق ہے تو یہ حکم تورات پر بھی صادق آتا ہے اور انجیل پر بھی۔ یعنی یہ دونوں کتابیں بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل ہوئی تھیں۔ قرآن میں اس کی بار بار تصدیق بھی کی گئی ہے۔ سورة المائدۃ کی آیت 44 میں تورات کے منزل من اللہ ہونے کی تصدیق اس طرح کی گئی ہے : اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰٹۃَ فِیْہَا ہُدًی وَّنُوْرٌ۔ سورة آل عمران کی آیت 3 میں ان دونوں کتابوں کا ذکر فرمایا گیا : وَاَنْزَلَ التَّوْرٰٹۃَ وَالْاِنْجِیْلَ ۔ لیکن اس آیت کے دوسرے حصے میں جو حکم آیا ہے وہ صرف اور صرف قرآن کی شان ہے۔ اس سے پہلے کسی الہامی کتاب یا صحیفۂ آسمانی کی حفاظت کی ضمانت نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سابقہ کتب کی ہدایات وتعلیمات حتمی اور ابدی نہیں تھیں۔ وہ تو گویا عبوری ادوار کے لیے وقتی اور عارضی ہدایات تھیں اور اس لحاظ سے انہیں ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ اب جبکہ ہدایت کامل ہوگئی تو اسے تا ابد محفوظ کردیا گیا۔یہ آیت ختم نبوت پر بھی بہت بڑی دلیل ہے۔ اگر سورة المائدۃ کی آیت 3 کے مطابق قرآن میں ہدایت درجہ کاملیت تک پہنچ گئی اور آیت زیر نظر کے مطابق وہ ابدی طور پر محفوظ بھی ہوگئی تو وحی کے جاری رہنے کی ضرورت بھی ختم ہوگئی۔ چناچہ قادیانیوں کے پاس ان دونوں قرآنی حقائق کو تسلیم کرلینے کے بعد اور ان کے لیے انہیں تسلیم کیے بغیر چارا بھی نہیں وحی کے جاری رہنے کے جواز کی کوئی عقلی و منطقی دلیل باقی نہیں رہ جاتی۔ وحی کی ضرورت ان دونوں میں سے کسی ایک صورت میں ہی ہوسکتی ہے کہ یا تو ابھی ہدایت کامل نہیں ہوئی تھی اور اس کی تکمیل کے لیے وحی کے تسلسل کی ضرورت تھی۔ یا پھر ہدایت کامل تو ہوگئی تھی مگر بعد میں غیر محفوظ ہوگئی یا گم ہوگئی اور اس وجہ سے پیدا ہوجانے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے وحی کی ضرورت تھی۔ بہر حال اگر ان دونوں میں سے کوئی صورت بھی درپیش نہیں ہے تو سلسلہ وحی کے جاری رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ معاذ اللہ عبث کام نہیں کرتا کہ ضرورت کے بغیر ہی سلسلۂ وحی کو جاری کیے رکھے۔یہاں دو دفعہ زیر نظر آیت سے قبل آیت 6 میں بھی قرآن حکیم کے لیے ”الذکر“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح سورة ”ن“ کی آخری دو آیات میں بھی قرآن حکیم کے لیے یہ لفظ آیا ہے۔ ذکر کا مفہوم یاددہانی ہے۔ قرآنی فلسفے کے مطابق قرآن مجید کا ”الذکر“ ہونا اس مفہوم میں ہے کہ ایمانی حقائق خصوصی طور پر اللہ کی ذات اور اس کی صفات کا علم انسانی روح کے اندر موجود ہے ‘ مگر اس علم پر ذہول بھول اور غفلت کا پردہ طاری ہوجاتا ہے۔ جیسے ایک وقت میں انسان کو ایک چیز یاد ہوتی ہے مگر بعد میں یاد نہیں رہتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس چیز کے بارے میں معلومات اس کی یادداشت کے تہہ خانے میں دب جاتی ہیں۔ پھر بعد میں کسی وقت جونہی کوئی چیز ان معلومات سے متعلق سامنے آتی ہے تو انسان کے ذہن میں وہ بھولی بسری معلومات پھر سے تازہ ہوجاتی ہیں۔ اس طرح ذہن میں موجود معلومات کو پھر سے تازہ کرنے والی چیز گویا یاد دہانی reminder کا کام کرتی ہے۔ مثلاً ایک دوست سے آپ کی سالہا سال سے ملاقات نہیں ہوئی اور اس کا خیال بھی کبھی نہیں آیا ‘ مگر ایک دن اچانک اس کا دیا ہوا ایک قلم یا رومال سامنے آنے سے اس دوست کی یاد یکدم ذہن میں تازہ ہوگئی۔ اس قلم یا رومال کی حیثیت گویا ایک نشانی یا آیت کی ہے جس سے آپ کے ذہن میں ایک بھولی بسری یاد پھر سے تازہ ہوگئی۔ اسی طرح اللہ کی ذات کا علم انسانی روح میں خفتہ dormant حالت میں موجود ہے۔ اس علم کو پھر سے جگا کر تازہ کرنے اور اس پر پڑے ہوئے ذہول اور نسیان کے پردوں کو ہٹانے کے لیے آیات آفاقیہ ‘ آیات انفسیہ اور آیات قرآنیہ گویا یاد دہانی کا کام دیتی ہیں اور اللہ کی یاد کو انسان کے ذہن میں تازہ کرتی ہیں۔ اس لحاظ سے قرآن کو الذکر یاد دہانی کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔

الحجر 15:10

آیت 10 وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِيْ شِيَعِ الْاَوَّلِيْنَ شِیَع ‘ شِیْعَۃ کی جمع ہے اور اس کے معنی الگ ہو کر پھیلنے والے گروہ کے ہیں۔ جیسے حضرت نوح کے بیٹوں کی نسلیں بڑھتی گئیں تو ان کے قبیلے اور گروہ علیحدہ ہوتے گئے اور یوں تقسیم ہو ہو کر روئے زمین پر پھیلتے گئے۔ اردو الفاظ ”اشاعت“ اور ”شائع“ بھی اسی مادہ سے مشتق ہیں ‘ چناچہ ان الفاظ میں بھی پھیلنے اور پھیلانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔

الحجر 15:11

آیت 10 وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِيْ شِيَعِ الْاَوَّلِيْنَ شِیَع ‘ شِیْعَۃ کی جمع ہے اور اس کے معنی الگ ہو کر پھیلنے والے گروہ کے ہیں۔ جیسے حضرت نوح کے بیٹوں کی نسلیں بڑھتی گئیں تو ان کے قبیلے اور گروہ علیحدہ ہوتے گئے اور یوں تقسیم ہو ہو کر روئے زمین پر پھیلتے گئے۔ اردو الفاظ ”اشاعت“ اور ”شائع“ بھی اسی مادہ سے مشتق ہیں ‘ چناچہ ان الفاظ میں بھی پھیلنے اور پھیلانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔

الحجر 15:12

آیت 12 كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ حق کی دعوت اپنی تاثیر کی وجہ سے ہمیشہ مخاطبین کے دلوں میں اتر جاتی ہے۔ چناچہ جو لوگ انبیاء کی دعوت کو ٹھکراتے رہے ‘ وہ اس کی حقانیت کو خوب پہچان لینے کے بعد ٹھکراتے رہے۔ اس لیے کہ حق کو حق تسلیم کرنے سے ان کے مفادات پر زد پڑتی تھی۔

الحجر 15:13

آیت 13 لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَقَدْ خَلَتْ سُـنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ انبیاء و رسل کے مخاطبین کا ہمیشہ سے یہی طریقہ رہا ہے۔ جس طرح ہم نے اپنے رسول محمد پر یہ ”الذکر“ نازل کیا ہے اسی طرح پہلے بھی ہم اپنے رسولوں پر کتابیں اور صحیفے نازل کرتے رہے ہیں ‘ مگر ان کی قوموں کے لوگ اکثر انکار ہی کرتے رہے۔

الحجر 15:14

آیت 13 لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَقَدْ خَلَتْ سُـنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ انبیاء و رسل کے مخاطبین کا ہمیشہ سے یہی طریقہ رہا ہے۔ جس طرح ہم نے اپنے رسول محمد پر یہ ”الذکر“ نازل کیا ہے اسی طرح پہلے بھی ہم اپنے رسولوں پر کتابیں اور صحیفے نازل کرتے رہے ہیں ‘ مگر ان کی قوموں کے لوگ اکثر انکار ہی کرتے رہے۔

الحجر 15:15

آیت 13 لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَقَدْ خَلَتْ سُـنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ انبیاء و رسل کے مخاطبین کا ہمیشہ سے یہی طریقہ رہا ہے۔ جس طرح ہم نے اپنے رسول محمد پر یہ ”الذکر“ نازل کیا ہے اسی طرح پہلے بھی ہم اپنے رسولوں پر کتابیں اور صحیفے نازل کرتے رہے ہیں ‘ مگر ان کی قوموں کے لوگ اکثر انکار ہی کرتے رہے۔

الحجر 15:16

آیت 16 وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّزَيَّنّٰهَا للنّٰظِرِيْنَ ان برجوں کی اصل حقیقت کا ہمیں علم نہیں ہے اس لحاظ سے یہ آیت بھی آیات متشابہات میں سے ہے۔ البتہ رات کے وقت آسمان پر ستاروں کی بہار وہ دلکش منظر پیش کرتی ہے جس سے ہر دیکھنے والے کی آنکھ محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔

الحجر 15:17

آیت 17 وَحَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ یہ گویا ہمارے ایمان بالغیب کا حصہ ہے کہ ان ستاروں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں میں حفاظتی انتظامات کر رکھے ہیں۔ اس کائنات کی تخلیق کے بارے میں انسان کی جدید تحقیق ماضی قریب میں ہوئی ہے ‘ لیکن ابھی بھی اس سلسلے میں انسانی علم بہت محدود ہے۔ وائرس اور بیکٹیریا کے بارے میں کچھ ہی عرصہ پہلے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ بھی کوئی مخلوق ہے۔ اس وسیع و عریض کائنات میں یقیناً بہت سے ایسے حقائق ہوں گے جن کے بارے میں اب بھی انسان کچھ نہیں جانتا۔ بہرحال اب تک جتنی مخلوقات کے بارے میں ہمیں علم ہے ان میں صرف تین قسم کی مخلوقات ایسی ہیں جن میں خود شعوری self consciousness پائی جاتی ہے ‘ یعنی ملائکہ جنات اور انسان۔ ان میں سے پہلے ملائکہ کو پیدا کیا گیا پھر جنات کو اور پھر انسان کو۔ گویا انسان اس کائنات کی تخلیق کے اعتبار سے Recent دور کی مخلوق ہے۔ البتہ انسانوں کی ارواح اسی دور میں پیدا کی گئیں جب ملائکہ کو پیدا کیا گیا۔ بہر حال خود شعوری صرف ان تین قسم کی مخلوقات میں ہی پائی جاتی ہے باقی جو بھی مخلوقات اس کائنات میں موجود ہیں چاہے وہ خشکی اور سمندر کے جانور ہوں یا ہوا میں اڑنے والے پرندے ان میں شعور تو ہے مگر خود شعوری نہیں ہے۔ جنات کی تخلیق چونکہ آگ سے ہوئی ہے لہٰذا ان کے اندر مخفی قوت potential energy انسانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ میرا گمان ہے کہ جنات کو سورج کی آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور اس لحاظ سے انہیں پورے نظام شمسی کے دائرے میں آمد و رفت کی طاقت اور استعداد حاصل ہے اور اس کے لیے انہیں کسی راکٹ یا مشینی ذرائع کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنی اسی استعداد سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ عالم بالا سے اللہ تعالیٰ کے احکام اور تدبیرات کی ترسیل کے دوران ملائکہ سے کچھ خبریں اچکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر وہ ایسی خبریں انسانوں میں اپنے دوست دار عامل اور کاہن لوگوں کو بتاتے ہیں تاکہ وہ اپنی دکانیں چمکا سکیں۔ اس کی مثال یوں ہے جیسے ایوان صدر سے احکام کی ترسیل و تقسیم کے دوران کوئی شخص متعلقہ اہلکاروں سے ان احکام کے بارے میں خبریں حاصل کر کے قبل ازوقت ان لوگوں تک پہنچا دے جو ان کے ذریعے سے اپنی دکانیں چمکانا چاہتے ہیں۔ جنات کو نظام شمسی کی حدود پھلانگنے سے روکنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ستاروں میں میزائل نصب کر رکھے ہیں۔ جب بھی کوئی جن اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر میزائل پھینکا جاتا ہے جسے ہم شہاب ثاقب کہتے ہیں۔ اس پورے نظام پر ہم ”کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا“ کے اصول کے تحت یقین رکھتے ہیں جو ہمارے ایمان بالغیب کا حصہ ہے۔ بہر حال سائنسی ترقی کے سبب کائنات کے بارے میں اب تک سامنے آنے والی معلومات اور ایجادات کے ساتھ بھی ان قرآنی معلومات کا کسی نہ کسی حد تک تطابق corroboration موجود ہے۔

الحجر 15:18

آیت 18 اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ جیسے ایک فرشتہ کچھ احکام لے کر آ رہا ہو اور کوئی جن اس سے کوئی سن گن لینے کی کوشش کرے۔ فرشتے نوری ہیں اور جن ناری مخلوق ہیں چناچہ نور اور نار کے درمیان زیادہ بعد نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہونا ممکن ہے۔ عزازیل ابلیس کا بھی ایک جن ہونے کے باوجود فرشتوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا۔فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيْنٌایسی خلاف ورزی کی صورت میں اس جن پر میزائل پھینکا جاتا ہے۔ یہ میزائل اللہ تعالیٰ نے اسی مقصد کے لیے ستاروں میں نصب کر رکھے ہیں۔

الحجر 15:19

آیت 19 وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَاَلْقَيْنَا فِيْهَا رَوَاسِيَ زمین کے یہ لنگر پہاڑ ہیں جن کے بارے میں قرآن بار بار کہتا ہے کہ یہ زمین کی حرکت کو متوازن رکھنے Isostsasy کا ایک ذریعہ ہیں۔ وَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُوْنٍ کائنات کے اس خدائی نظام میں ہرچیز کی مقدار اور تعداد اس حد تک ہی رکھی گئی ہے جس حد تک اس کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی چیز اس مقررہ حد سے بڑھے گی تو وہ اس نظام میں خلل کا باعث بنے گی۔ مثلاً بعض مچھلیوں کے انڈوں کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے۔ یہ تمام انڈے اگر مچھلیاں بن جائیں تو چند ہی سالوں میں ایک مچھلی کی اولاد اس زمین کے حجم سے بھی کئی گنا زیادہ بڑھ جائے۔ بہر حال اس کائنات کے نظام کو درست رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرچیز کو ایک طے شدہ اندازے اور ضرورت کے مطابق رکھا گیا ہے۔

الحجر 15:20

آیت 20 وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْهَا مَعَايِشَ وَمَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِيْنَ کچھ مخلوق تو ایسی ہے جس کی روزی اور کھانے پینے کا انتظام بظاہر انسانوں کی ذمہ داری ہے جیسے پالتو جانور مگر بہت سی مخلوقات ایسی ہیں جن کے رزق کی ذمہ داری انسانوں پر نہیں ہے مگر اللہ ان سب کو ان کے حصے کا رزق بہم پہنچا رہا ہے۔

الحجر 15:21

آیت 21 وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَاۗىِٕنُهٗ کوئی شے ایسی نہیں ہے جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں۔ ہمارے خزانے اور وسائل لامحدود ہیں ‘ لیکن :وَمَا نُنَزِّلُهٗٓ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ ان لامتناہی اور لا محدود خزانوں سے صرف ضرورت کے مطابق اشیاء دنیا میں بھیجی جاتی ہیں۔ جیسے ہمارے ہاں بڑے بڑے گوداموں سے ضرورت کے مطابق چیزوں کی ترسیل کی جاتی ہے۔

الحجر 15:22

آیت 22 وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ لَوَاقِحَ کا مفہوم پہلے تو یہی سمجھا جاتا تھا کہ یہ ہوائیں بادلوں کو اٹھا کر لاتی ہیں اور بارش کا سبب بنتی ہیں لیکن اب جدید سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ polen grains بھی ہواؤں کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں جن سے پھولوں کی فرٹیلائزیشن ہوتی ہے جس کے نتیجے میں فصلیں اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ یوں یہ سارا نباتاتی نظام بھی ہواؤں کی وجہ سے چل رہا ہے۔ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ پانی مبدا حیات ہے۔ زمین پر ہر طرح کی زندگی کے وجود کا منبع اور سرچشمہ بھی پانی ہے اور پھر پانی پر ہی زندگی کی بقا کا انحصار بھی ہے۔ پانی کی اس اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے اس کی تقسیم و ترسیل کا ایک لگا بندھا نظام وضع کیا ہے جسے آج کی سائنس نے واٹر سائیکل کا نام دیا ہے۔ واٹر سائیکل کا یہ عظیم الشان نظام اللہ تعالیٰ کے عجائبات میں سے ہے۔ سمندروں سے ہواؤں تک بخارات پہنچا کر بارش اور برفباری کا انتظام گلیشیئرز کی شکل میں بلند وبالا پہاڑوں پر واٹر سٹوریج کا اہتمام پھر چشموں ندی نالوں اور دریاؤں کے ذریعے سے اس پانی کی وسیع و عریض میدانی علاقوں تک رسائی اور زیر زمین پانی کا عظیم الشان ذخیرہ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وضع کردہ وہ واٹرسائیکل ہے جس پر پوری دنیا میں ہر قسم کی زندگی کا دارومدار ہے۔وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ یہ تمہارے بس میں نہ تھا کہ تم پانی کے اس ذخیرے کو جمع کرتے۔

الحجر 15:23

آیت 23 وَاِنَّا لَنَحْنُ نُـحْيٖ وَنُمِيْتُ وَنَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ یہ کائنات اور اس کی ہرچیز اللہ ہی کی ملکیت ہے۔ ایک وقت آئے گا جب ظاہری ملکیت کا بھی کوئی دعویدار باقی نہیں رہے گا۔

الحجر 15:24

آیت 24 وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِيْنَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِيْنَ چونکہ یہ نبوت کے بالکل ابتدائی زمانے کی سورت ہے اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ ہم جانتے ہیں ان لوگوں کو جو حق کی اس دعوت پر فوراً لبیک کہیں گے اور آگے بڑھ کر قرآن کو سینوں سے لگائیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ التوبہ : 100 کے مصداق کون لوگ ہوں گے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ابوبکر قبول حق کے لیے ایک لمحے کی دیر نہیں لگائے گا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ عثمان بھی اس دعوت کو فوراً قبول کرلے گا۔ یہ بھی ہمارے علم میں ہے کہ ابوبکر کی تبلیغ سے طلحہ زبیر عبدالرحمن بن عوف اور سعید بن زید جیسے لوگ فوراً ایمان لے آئیں گے اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ کون کون بدنصیب ہیں جو اس سعادت کو سمیٹنے میں پیچھے رہ جائیں گے۔

الحجر 15:25

آیت 24 وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِيْنَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِيْنَ چونکہ یہ نبوت کے بالکل ابتدائی زمانے کی سورت ہے اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ ہم جانتے ہیں ان لوگوں کو جو حق کی اس دعوت پر فوراً لبیک کہیں گے اور آگے بڑھ کر قرآن کو سینوں سے لگائیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ التوبہ : 100 کے مصداق کون لوگ ہوں گے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ابوبکر قبول حق کے لیے ایک لمحے کی دیر نہیں لگائے گا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ عثمان بھی اس دعوت کو فوراً قبول کرلے گا۔ یہ بھی ہمارے علم میں ہے کہ ابوبکر کی تبلیغ سے طلحہ زبیر عبدالرحمن بن عوف اور سعید بن زید جیسے لوگ فوراً ایمان لے آئیں گے اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ کون کون بدنصیب ہیں جو اس سعادت کو سمیٹنے میں پیچھے رہ جائیں گے۔

الحجر 15:26

آیت 26 وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ حَمَاٍ مَسْنُون سے سنا ہوا گارا مراد ہے ‘ جس سے بدبو بھی اٹھ رہی ہو۔ اس رکوع میں یہ ثقیل اصطلاح تین مرتبہ استعمال ہوئی ہے۔ انسان کے مادۂ تخلیق کے حوالے سے قرآن میں جو مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں ‘ ان پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے مرحلے پر تراب یعنی مٹی کا ذکر ہے ‘ چناچہ فرمایا : وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ الروم : 20۔ مٹی میں پانی مل کر گارا بن جائے تو اس گارے کو عربی میں ”طِین“ کہتے ہیں۔ لہٰذا انسان کی تخلیق کے سلسلے میں طین کا ذکر بھی قرآن میں متعدد بار ہوا ہے۔ سورة الاعراف میں ہم شیطان کا یہ قول پڑھ آئے ہیں : خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَهٗ مِنْ طِيْنٍ مجھے تو نے بنایا آگ سے اور اس آدم کو بنایا مٹی سے“۔ طین کے بعد ”طین لازب“ کا مرحلہ ہے۔ سورة الصّٰفٰت میں فرمایا گیا : اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِيْنٍ لَّازِبٍ ”طین لازب“ اصل میں وہ گارا ہے جو عمل تخمیر fermentation کی وجہ سے لیس دار ہوچکا ہو۔ عام طور پر گارے میں کوئی organic matter بھوسہ وغیرہ ملانے سے اس کی یہ شکل بنتی ہے۔ ”طین لازب“ کے بعد اگلا مرحلہ ”حماٍ مسنون“ کا ہے۔ اگر لیس دار گارا زیادہ دیر تک پڑا رہے اور اس میں سٹراند پیدا ہوجائے تو اس کو ”حماٍ مسنون“ کہا جاتا ہے۔ پھر اگر یہ سنا ہو اگارا حماٍ مسنون خشک ہو کر سخت ہوجائے تو یہ کھنکنے لگتا ہے۔ آپ نے کسی دریا کے ساحل کے قریب یا کسی دلدلی علاقے میں دیکھا ہوگا کہ زمین کے اوپر خشک پپڑی سی آجاتی ہے ‘ جس پر چلنے سے یہ آواز پیدا کر کے ٹوٹتی ہے۔ ایسی مٹی کے لیے قرآن نے ”صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ“ الرحمن : 14 کی اصطلاح استعمال کی ہے ‘ یعنی ٹھیکرے جیسی کھنکھناتی مٹی۔انسان کے مادہ تخلیق کے لیے مندرجہ بالا تمام الفاظ میں سے صرف ایک بنیادی لفظ ہی کفایت کرسکتا تھا کہ ہم نے انسان کو مٹی سے بنایا ‘ لیکن اس ضمن میں ان مختلف الفاظ تُرَاب ‘ طِین ‘ طِین لازب ‘ صَلصالٍ مِّن حماٍ مسنون اور صلصالٍ کالفَخَّار کے استعمال میں یقیناً کوئی حکمت کارفرما ہوگی۔ ممکن ہے یہ تخلیق کے مختلف مراحل stages کا ذکر ہو اور اگر ایسا ہے تو نظریہ ارتقاء Evolution Theory کے ساتھ بھی اس کی تطبیق corroboration ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ انسان کی تخلیق اگر خصوصی طور پر بھی عمل میں آئی ہو تو ہوسکتا ہے کہ باقی حیوانات ارتقائی انداز میں پیدا کیے گئے ہوں۔ بہرحال زمین کی حیوانی حیات کے بارے میں سائنس بھی قرآن سے متفق ہے کہ یہ تمام مخلوق مٹی اور پانی سے بنی ہے۔ ادھر قرآن فرماتا ہے کہ مبدأ حیات پانی ہے اور اس سلسلے میں سائنس کا نظریہ بھی یہی ہے کہ ساحلی علاقوں میں مٹی اور پانی کے اتصال سے دلدل بنی ‘ پھر اس دلدل کے اندر عمل تخمیر fermentation کے ذریعے سڑاند پیدا ہوئی تو وہاں ایلجی Algai یا امیبا Amoeba کی صورت میں نباتاتی یا حیوانی حیات کا آغاز ہوا۔ چناچہ سائنسی تحقیق یہاں قرآن سے اتفاق کرتی نظر آتی ہے ‘ گویا : ”متفق گر دید رائے بو علی بارائے من !“

الحجر 15:27

آیت 27 وَالْجَاۗنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّار السَّمُوْمِ یہ لفظ ”سموم“ اردو میں بھی معروف ہے۔ موسم گرما میں صحرا میں چلنے والی تیز گرم ہوا کو باد سموم کہتے ہیں۔ آگ کے شعلے کا وہ حصہ جو بظاہر نظر آتا ہے اس کے گرد ہالے کی شکل میں اس کا وہ حصہ ہوتا ہے جو عام طور پر نظر نہیں آتا۔ شعلے کے اس نظر نہ آنے والے حصے کا درجہ حرارت نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ یہاں ”نار سموم“ سے مراد آگ کی وہی لپٹ یا لو مراد ہے جو شدید گرم ہوتی ہے اور اسی سے جنات کو پیدا کیا گیا ہے۔ یہاں ایک نکتہ یہ بھی مد نظر رہنا چاہیے کہ جنات کو اگرچہ آگ سے پیدا کیا گیا ہے مگر وہ آگ نہیں ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ہمیں مٹی سے پیدا کیا گیا ہے مگر ہم مٹی نہیں ہیں۔ دوسری اہم بات یہاں یہ واضح ہوئی کہّ جناتِ کو انسانوں سے بہت پہلے پیدا کیا گیا تھا۔

الحجر 15:28

آیت 28 وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّىْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ یہاں پھر وہی ثقیل اصطلاح صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ استعمال ہوئی ہے۔ انسانی تخلیق کی ابتدا کے بارے میں ایک نکتہ یہ بھی لائقِ توجہ ہے کہ قرآن میں جہاں بھی تخلیق کے ان ابتدائی مراحل کا ذکر آیا ہے ‘ وہاں لفظ آدم استعمال نہیں ہوا ‘ بلکہ بشر اور انسان کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ پورے قرآن میں صرف سورة آل عمران کی آیت 59 ایسی ہے جہاں اس ابتدائی تخلیق کے ضمن میں آدم کا ذکر اس طرح آیا ہے : اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ ”یقیناً عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی سی ہے۔ اس کو مٹی سے بنایا پھر کہا ہوجا تو وہ ہوگیا۔“

الحجر 15:29

آیت 29 فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ کسی بھی تخلیق کے بعد اس کا تسویہ ضروری ہوتا ہے۔ پہلے بنیادی ڈھانچہ بنایا جاتا ہے اور پھر اس کی نوک پلک سنواری جاتی ہے۔ جیسے ایک عمارت کا ڈھانچہ کھڑا کرنے کے بعد اس کی آرائش و زیبائش کی جاتی ہے اور رنگ و روغن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

الحجر 15:30

آیت 30 فَسَجَدَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَ کُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَ میں بہت تاکید پائی جاتی ہے کہ سب کے سب نے اکٹھے ہو کر سجدہ کیا ‘ اور ان میں سے کوئی بھی مستثنیٰ نہ رہا۔ جبرائیل ‘ میکائیل ‘ اسرافیل ‘ عزرائیل سمیت سب جھک گئے ‘ کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ فرشتوں کے ساتھ ذکر آنے کی وجہ سے گمان ہوتا ہے کہ جیسے ابلیس بھی فرشتہ تھا ‘ مگر وہ فرشتہ نہیں تھا ‘ جیسا کہ سورة الکہف کی آیت 50 میں ”کَانَ مِنَ الْجِنِّ“ فرما کر واضح کردیا گیا کہ وہ جنات میں سے تھا۔

الحجر 15:31

آیت 30 فَسَجَدَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَ کُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَ میں بہت تاکید پائی جاتی ہے کہ سب کے سب نے اکٹھے ہو کر سجدہ کیا ‘ اور ان میں سے کوئی بھی مستثنیٰ نہ رہا۔ جبرائیل ‘ میکائیل ‘ اسرافیل ‘ عزرائیل سمیت سب جھک گئے ‘ کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ فرشتوں کے ساتھ ذکر آنے کی وجہ سے گمان ہوتا ہے کہ جیسے ابلیس بھی فرشتہ تھا ‘ مگر وہ فرشتہ نہیں تھا ‘ جیسا کہ سورة الکہف کی آیت 50 میں ”کَانَ مِنَ الْجِنِّ“ فرما کر واضح کردیا گیا کہ وہ جنات میں سے تھا۔

الحجر 15:32

آیت 30 فَسَجَدَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَ کُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَ میں بہت تاکید پائی جاتی ہے کہ سب کے سب نے اکٹھے ہو کر سجدہ کیا ‘ اور ان میں سے کوئی بھی مستثنیٰ نہ رہا۔ جبرائیل ‘ میکائیل ‘ اسرافیل ‘ عزرائیل سمیت سب جھک گئے ‘ کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ فرشتوں کے ساتھ ذکر آنے کی وجہ سے گمان ہوتا ہے کہ جیسے ابلیس بھی فرشتہ تھا ‘ مگر وہ فرشتہ نہیں تھا ‘ جیسا کہ سورة الکہف کی آیت 50 میں ”کَانَ مِنَ الْجِنِّ“ فرما کر واضح کردیا گیا کہ وہ جنات میں سے تھا۔

الحجر 15:33

آیت 30 فَسَجَدَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَ کُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَ میں بہت تاکید پائی جاتی ہے کہ سب کے سب نے اکٹھے ہو کر سجدہ کیا ‘ اور ان میں سے کوئی بھی مستثنیٰ نہ رہا۔ جبرائیل ‘ میکائیل ‘ اسرافیل ‘ عزرائیل سمیت سب جھک گئے ‘ کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ فرشتوں کے ساتھ ذکر آنے کی وجہ سے گمان ہوتا ہے کہ جیسے ابلیس بھی فرشتہ تھا ‘ مگر وہ فرشتہ نہیں تھا ‘ جیسا کہ سورة الکہف کی آیت 50 میں ”کَانَ مِنَ الْجِنِّ“ فرما کر واضح کردیا گیا کہ وہ جنات میں سے تھا۔

الحجر 15:34

آیت 34 قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِيْمٌآدم کو سجدہ کرنے کے حکم الٰہی کا انکار کر کے تم راندہ درگاہ ہوچکے ہو۔ اب یہاں سے فی الفور نکل جاؤ !

الحجر 15:35

آیت 34 قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِيْمٌآدم کو سجدہ کرنے کے حکم الٰہی کا انکار کر کے تم راندہ درگاہ ہوچکے ہو۔ اب یہاں سے فی الفور نکل جاؤ !

الحجر 15:36

آیت 34 قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِيْمٌآدم کو سجدہ کرنے کے حکم الٰہی کا انکار کر کے تم راندہ درگاہ ہوچکے ہو۔ اب یہاں سے فی الفور نکل جاؤ !

الحجر 15:37

آیت 34 قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِيْمٌآدم کو سجدہ کرنے کے حکم الٰہی کا انکار کر کے تم راندہ درگاہ ہوچکے ہو۔ اب یہاں سے فی الفور نکل جاؤ !

الحجر 15:38

آیت 38 اِلٰى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ یعنی روز قیامت تک تم زندہ رہو گے۔ ویسے تو جنوں کی عمریں انسانوں سے کافی زیادہ ہوتی ہوں گی مگر ایسا کوئی جن بھی نہیں ہے جو اس ابتدائی تخلیق کے وقت سے لے کر آج تک زندہ ہو ‘ ماسوائے اس ایک جن کے جس کا نام عزازیل ہے۔ باقی اس کی اولاد اور ذریت اپنی جگہ ہے۔

الحجر 15:39

آیت 39 قَالَ رَبِّ بِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ ابلیس اپنی اس گمراہی کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر رہا ہے۔لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْاَرْضِ وَلَاُغْوِيَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ کہ میں اولاد آدم کے لیے زمین میں دنیا کی رونقوں اور اس کی آرائش و زیبائش کو اس حد تک پرکشش بنا دوں گا کہ وہ اس میں گم ہو کر آپ کو اور آپ کے احکام کو بھول جائیں گے۔ اس طرح میں ان سب کو آپ کے سیدھے راستے سے گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔

الحجر 15:40

آیت 40 اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ مخلَصین لام کی زبر کے ساتھ سے مراد وہ بندے ہیں جنہیں اللہ خاص اپنے لیے چن لے یعنی اللہ کے محبوب اور برگزیدہ بندے۔ اللہ کے ایسے بندوں کے بارے میں شیطان کا اعتراف ہے کہ ان پر میرا زور نہیں چلے گا۔

الحجر 15:41

آیت 41 قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَــقِيْمٌیعنی میرے اور تمہارے درمیان یہ معاملہ طے ہوگیا تمہیں مہلت دے دی گئی۔ مجھ تک پہنچنے کا راستہ بالکل واضح ہے۔ تم اولاد آدم کو اس راستے سے بہکانے کے لیے اپنا زور آزما لو۔

الحجر 15:42

آیت 42 اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌیعنی صرف ”مُخلَصین“ ہی کی تخصیص نہیں ہے بلکہ کسی انسان پر بھی تجھے اختیار نہیں ہوگا۔اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ جو لوگ ”غاوین“ میں سے ہوں گے ‘ خود ان کے اندر سرکشی ہوگی ‘ وہ خود اپنی نفس پرستی کی طرف مائل ہو کر تیری پیروی کریں گے ‘ ان کو لے جا کر تو گمراہی کے جس گڑھے میں چاہے پھینک دے اور جہنم کی جس وادی میں چاہے ان کو گرا دے ‘ مجھے ان سے کوئی دلچسپی نہیں۔ لیکن میرے کسی فرمانبردار بندے پر تجھے کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا۔

الحجر 15:43

آیت 43 وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِيْنَ جو لوگ بھی تیری پیروی کریں گے ان سب کے لیے جہنم کا وعدہ ہے۔

الحجر 15:44

آیت 44 لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ ۭ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌجہنم کے ہر دروازے میں سے داخل ہونے والے جنوں اور انسانوں کو مخصوص کردیا گیا ہے۔ ممکن ہے دروازوں کی یہ تقسیم و تخصیص گناہوں کی نوعیت کے اعتبار سے ہو۔ واللہ اعلم !اہل جہنم کے ذکر کے بعد اب اہل جنت کا ذکر ہونے جا رہا ہے۔ موازنے اور فوری تقابل simultaneous contrast کا یہ انداز و اسلوب قرآن میں ہمیں جگہ جگہ ملتا ہے۔

الحجر 15:45

آیت 44 لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ ۭ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌجہنم کے ہر دروازے میں سے داخل ہونے والے جنوں اور انسانوں کو مخصوص کردیا گیا ہے۔ ممکن ہے دروازوں کی یہ تقسیم و تخصیص گناہوں کی نوعیت کے اعتبار سے ہو۔ واللہ اعلم !اہل جہنم کے ذکر کے بعد اب اہل جنت کا ذکر ہونے جا رہا ہے۔ موازنے اور فوری تقابل simultaneous contrast کا یہ انداز و اسلوب قرآن میں ہمیں جگہ جگہ ملتا ہے۔

الحجر 15:46

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيْنَ یہاں تم ہر طرح سے امن میں رہو گے تمہیں کسی قسم کا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا۔

الحجر 15:47

آیت 47 وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ یہ مضمون بالکل انہی الفاظ میں سورة الاعراف آیت 43 میں بھی آچکا ہے۔ اہل ایمان کی آپس کی رنجشیں کدورتیں اور شکایتیں ختم کر کے ان کے دلوں کو ہر قسم کے تکدر سے پاک کردیا جائے گا۔ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ جب کسی سے ناراضگی ہو تو آدمی آنکھیں چار نہیں کرتا لیکن اہل جنت کے دل چونکہ ایک دوسرے کی طرف سے بالکل صاف ہوں گے ‘ اس لیے وہ آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے سے باتیں کر رہے ہوں گے۔

الحجر 15:48

آیت 48 لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ اہل جنت کو جنت میں داخل ہونے کے بعد وہاں سے نکالے جانے کا کھٹکا نہیں ہوگا اور نہ ہی اس میں انہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف یا پریشانی ہوگی۔

الحجر 15:49

آیت 48 لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ اہل جنت کو جنت میں داخل ہونے کے بعد وہاں سے نکالے جانے کا کھٹکا نہیں ہوگا اور نہ ہی اس میں انہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف یا پریشانی ہوگی۔

الحجر 15:50

آیت 50 وَاَنَّ عَذَابِيْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِيْمُ یقینا میں غفور اور رحیم ہوں مگر دوسری طرف میرا عذاب بھی بہت سخت ہوتا ہے۔ لہٰذا کوئی شخص نڈر اور نچنت بھی نہ ہوجائے ‘ بلکہ میرے بندوں کو ہر وقت ”بین الخوف و الرجا“ کی کیفیت میں رہنا چاہیے۔ وہ میری رحمت اور مغفرت کی امید بھی رکھیں اور میرے عذاب سے ڈرتے بھی رہیں۔

الحجر 15:51

آیت 51 وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ یہ واقعہ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ہم سورة ہود کے ساتویں رکوع میں بھی پڑھ چکے ہیں۔

الحجر 15:52

آیت 52 اِذْ دَخَلُوْا عَلَيْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا ۭ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُوْنَ آپ کے اجنبی ہونے کی وجہ سے ہمیں آپ سے خدشہ ہے۔ لہٰذا بہتر ہوگا اگر آپ لوگ اپنی شناخت کروادیں۔

الحجر 15:53

آیت 53 قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ فرشتوں نے حضرت ابراہیم کو حضرت اسحاق کی ولادت کی خوشخبری دی۔ حضرت اسماعیل کی ولادت اس سے چند برس قبل ہوچکی تھی۔ واضح رہے کہ قرآن حکیم میں حضرت اسماعیل کے لیے ”غلام حلیم“ اور حضرت اسحاق کے لیے ”غلام علیم“ کے الفاظ آتے ہیں۔

الحجر 15:54

آیت 54 قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِيْ عَلٰٓي اَنْ مَّسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ عَلٰی یہاں پر ”علی الرغم“ کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے کہ میرے بڑھاپے کے باوجود تم مجھے جو بیٹے کی خوشخبری دے رہے ہو تو کہیں تم لوگوں کو کوئی مغالطہ تو نہیں ہو رہا ؟

الحجر 15:55

آیت 55 قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِيْنَ انہوں نے بتایا کہ ہم آپ کے رب کی طرف سے بھیجے گئے ہیں اور یہ جو بشارت ہم نے آپ کو دی ہے یہ حقیقی اور قطعی بات ہے ‘ بالکل ایسا ہی ہوگا۔

الحجر 15:56

آیت 56 قَالَ وَمَنْ يَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖٓ اِلَّا الضَّاۗلُّوْنَ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور رحمت سے حضرت ابراہیم کو ستاسی 87 برس کی عمر میں بیٹا عطا کیا۔ اسی طرح کا معاملہ حضرت زکریا کے ساتھ بھی پیش آیا۔ حضرت زکریا کی زوجہ محترمہ ساری عمر بانجھ رہیں مگر جب وہ دونوں میاں بیوی بہت بوڑھے ہوچکے تھے تو اللہ نے انہیں بیٹا حضرت یحییٰ عطا کیا۔

الحجر 15:57

آیت 57 قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ اب حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ آپ لوگوں کے یہاں آنے کا کیا مقصد ہے ؟ آپ کو کیا مہم درپیش ہے ؟

الحجر 15:58

آیت 57 قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ اب حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ آپ لوگوں کے یہاں آنے کا کیا مقصد ہے ؟ آپ کو کیا مہم درپیش ہے ؟

الحجر 15:59

آیت 57 قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ اب حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ آپ لوگوں کے یہاں آنے کا کیا مقصد ہے ؟ آپ کو کیا مہم درپیش ہے ؟

الحجر 15:60

آیت 57 قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ اب حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ آپ لوگوں کے یہاں آنے کا کیا مقصد ہے ؟ آپ کو کیا مہم درپیش ہے ؟

الحجر 15:61

آیت 57 قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ اب حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ آپ لوگوں کے یہاں آنے کا کیا مقصد ہے ؟ آپ کو کیا مہم درپیش ہے ؟

الحجر 15:62

آیت 62 قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ حضرت لوط نے دیکھا کہ یہ بالکل اجنبی لوگ ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگ کون ہیں اور کہاں سے تشریف لائے ہیں ؟ آپ کی تشریف آوری کا مقصد کیا ہے ؟

الحجر 15:63

آیت 63 قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ حضرت لوط جب اپنی قوم کو متنبہ کرتے تھے کہ اگر تم لوگ شرک سے اور اس فعل خبیث سے باز نہیں آؤ گے تو تم پر اللہ کا عذاب آئے گا ‘ تو وہ آپ کا مذاق اڑاتے تھے ‘ کیونکہ انہیں یقین نہیں تھا کہ ان پر واقعی عذاب آجائے گا۔ فرشتوں نے کہا کہ آج ہم وہی عذاب لے کر آگئے ہیں جس کے بارے میں یہ لوگ شک میں تھے۔

الحجر 15:64

آیت 63 قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ حضرت لوط جب اپنی قوم کو متنبہ کرتے تھے کہ اگر تم لوگ شرک سے اور اس فعل خبیث سے باز نہیں آؤ گے تو تم پر اللہ کا عذاب آئے گا ‘ تو وہ آپ کا مذاق اڑاتے تھے ‘ کیونکہ انہیں یقین نہیں تھا کہ ان پر واقعی عذاب آجائے گا۔ فرشتوں نے کہا کہ آج ہم وہی عذاب لے کر آگئے ہیں جس کے بارے میں یہ لوگ شک میں تھے۔

الحجر 15:65

آیت 65 فَاَسْرِ بِاَہْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَاتَّبِعْ اَدْبَارَہُمْ وَلاَ یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ ”یعنی آپ لوگ صبح ہونے سے پہلے پہلے یہاں سے نکل جائیں۔ پیچھے رہ جانے والوں کے لیے اب دوستی اور ہمدردی جیسے جذبات کا اظہار کسی بھی شکل میں نہیں ہونا چاہیے۔

الحجر 15:66

آیت 66 وَقَضَيْنَآ اِلَيْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰٓؤُلَاۗءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِيْنَ وہاں سے نکلنے سے پہلے حضرت لوط کو بتادیا گیا کہ اس پوری قوم کو تہس نہس کردیا جائے گا اور یہاں کوئی ایک متنفس بھی نہیں بچے گا۔

الحجر 15:67

آیت 67 وَجَاۗءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ يَسْـتَبْشِرُوْنَ حضرت لوط کے ہاں خوبصورت لڑکوں کو دیکھ کر بد قماش قسم کے لوگوں نے خوشی خوشی آپ کے گھر پر یلغار کردی۔

الحجر 15:68

آیت 67 وَجَاۗءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ يَسْـتَبْشِرُوْنَ حضرت لوط کے ہاں خوبصورت لڑکوں کو دیکھ کر بد قماش قسم کے لوگوں نے خوشی خوشی آپ کے گھر پر یلغار کردی۔

الحجر 15:69

آیت 67 وَجَاۗءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ يَسْـتَبْشِرُوْنَ حضرت لوط کے ہاں خوبصورت لڑکوں کو دیکھ کر بد قماش قسم کے لوگوں نے خوشی خوشی آپ کے گھر پر یلغار کردی۔

الحجر 15:70

آیت 70 قَالُوْٓا اَوَلَمْ نَــنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ کیا ہم آپ کو منع نہیں کرچکے کہ آپ ہر کسی کی طرف داری کرتے ہوئے ہمارے معاملے میں دخل اندازی نہ کیا کریں۔ ہم جس کے ساتھ جو چاہیں کریں آپ بیچ میں آنے والے کون ہوتے ہیں ؟

الحجر 15:71

آیت 71 قَالَ هٰٓؤُلَاۗءِ بَنٰتِيْٓ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِيْنَ قبل ازیں اس فقرے کی وضاحت ہوچکی ہے۔ یعنی میری قوم کی بیٹیاں جو تمہارے گھروں میں موجود ہیں ان کی طرف رجوع کرو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے لیے فطری ساتھی بنایا ہے۔ اس فقرے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اتمام حجت کے لیے ان میں سے دو سرداروں کو یہاں تک کہہ دیا ہو کہ اگر ایسی ہی بات ہے تو میں اپنی بیٹیوں کا نکاح تم سے کیے دیتا ہوں۔

الحجر 15:72

آیت 72 لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِيْ سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُوْنَ عمہ کے مادہ میں دل کے اندھے پن کا مفہوم پایا جاتا ہے یعنی ان لوگوں کے دل بھلائی اور برائی کی تمیز سے بالکل عاری ہوگئے تھے۔

الحجر 15:73

آیت 73 فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِيْنَ یعنی پو پھٹتے ہی ان پر اللہ کے عذاب کا کوڑا ایک زبردست چنگھاڑ کے ساتھ ٹوٹ پڑا۔

الحجر 15:74

آیت 74 فَجَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّيْلٍ یعنی ان آبادیوں کو پوری طرح تلپٹ کردیا گیا اور ان پر سنگ گل کی بارش برسائی گئی۔

الحجر 15:75

آیت 75 اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ ”متوسمین“ سے مراد وہ لوگ ہیں جو آیات آفاقیہ ‘ آیات تاریخیہ ‘ آیات انفسیہ یا آیات قرآنیہ کے ذریعے سے حقیقت کو جاننا اور پہچاننا چاہیں۔ اسم اصل مادہ ”س م و“ ہے۔ الف اس کے حروف اصلیہ میں سے نہیں ہے کے معنی علامت کے ہیں۔ اردو میں لفظ ”اسم“ کو نام کے مترادف کے طور پر جانا جاتا ہے ‘ اس لیے کہ کسی چیز یا شخص کا نام بھی ایک علامت کا کام دیتا ہے جس سے اس کی پہچان ہوتی ہے۔ لہٰذا جو اصحاب بصیرت علامتوں سے متوسم باب تفعل ہوتے ہیں ‘ ان کے لیے ایسے واقعات میں سامان عبرت موجود ہے۔

الحجر 15:76

آیت 76 وَاِنَّهَا لَبِسَبِيْلٍ مُّقِيْمٍ قوم لوط کی یہ بستیاں اس شاہراہ عام پر واقع تھیں جو یمن بحیرۂ عرب اور شام بحیرۂ روم کے ساحلوں کو آپس میں ملاتی تھی۔ مشرقی ممالک ہندوستان ‘ چین ‘ جاوا ‘ ملایا وغیرہ سے یورپ جانے کے لیے جو سامان آتا تھا وہ یمن کے ساحل پر اتارا جاتا تھا اور پھر اس راستے سے تجارتی قافلے اسے شام اور فلسطین کے ساحل پر پہنچا دیتے تھے۔ اسی طرح یورپ سے مشرقی ممالک کے لیے آنے والا سامان شام کے ساحل پر اترتا تھا اور یہی قافلے اسے یمن کے ساحل پر پہنچانے کا ذریعہ بنتے تھے۔ اس وقت نہر سویز بھی نہیں بنی تھی اور ”راس امید“ والا راستہ Around the Cape of Good Hope بھی دریافت نہیں ہوا تھا ‘ جو واسکو ڈے گا ما نے 1498 ء میں تلاش کیا۔ چناچہ یہ شاہراہ اس زمانے میں مشرق اور مغرب کے درمیان تجارتی رابطے کا واحد ذریعہ تھی۔

الحجر 15:77

آیت 76 وَاِنَّهَا لَبِسَبِيْلٍ مُّقِيْمٍ قوم لوط کی یہ بستیاں اس شاہراہ عام پر واقع تھیں جو یمن بحیرۂ عرب اور شام بحیرۂ روم کے ساحلوں کو آپس میں ملاتی تھی۔ مشرقی ممالک ہندوستان ‘ چین ‘ جاوا ‘ ملایا وغیرہ سے یورپ جانے کے لیے جو سامان آتا تھا وہ یمن کے ساحل پر اتارا جاتا تھا اور پھر اس راستے سے تجارتی قافلے اسے شام اور فلسطین کے ساحل پر پہنچا دیتے تھے۔ اسی طرح یورپ سے مشرقی ممالک کے لیے آنے والا سامان شام کے ساحل پر اترتا تھا اور یہی قافلے اسے یمن کے ساحل پر پہنچانے کا ذریعہ بنتے تھے۔ اس وقت نہر سویز بھی نہیں بنی تھی اور ”راس امید“ والا راستہ Around the Cape of Good Hope بھی دریافت نہیں ہوا تھا ‘ جو واسکو ڈے گا ما نے 1498 ء میں تلاش کیا۔ چناچہ یہ شاہراہ اس زمانے میں مشرق اور مغرب کے درمیان تجارتی رابطے کا واحد ذریعہ تھی۔

الحجر 15:78

آیت 78 وَاِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ لَظٰلِمِيْنَ ”اصحاب الایکہ“ سے اہل مدین مراد ہیں۔ یہ حضرت شعیب کی قوم تھی مگر یہاں اس قوم کا ذکر کرتے ہوئے آپ کا نام نہیں لایا گیا۔ ان سب اقوام کا تذکرہ یہاں پر انباء الرسل کے انداز میں ہورہا ہے۔

الحجر 15:79

آیت 79 فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ ۘ وَاِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍ اس سے مراد وہی تجارتی شاہراہ ہے جس کا ذکر ابھی ہوا ہے۔ یہ اصحاب حجر کے مساکن سے بھی ہو کر گزرتی تھی جبکہ اہل مدین کی آبادیاں اور قوم لوط کی بستیاں بھی اسی شاہراہ پر واقع تھیں۔

الحجر 15:80

آیت 80 وَلَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِـجْرِ الْمُرْسَلِيْنَ اصحاب الحجر سے مراد قوم ثمود ہے۔ قوم ثمود حجر کے علاقے میں آباد تھی اور ان کی طرف حضرت صالح مبعوث کیے گئے تھے۔ جیسے حضرت ہود کی قوم عاد کا ذکر ”احقاف“ کے حوالے سے بھی ہوا ہے ملاحظہ ہو سورة الاحقاف جو اس قوم کا علاقہ تھا ‘ اسی طرح قوم ثمود کا ذکر یہاں ”اصحاب الحجر“ کے نام سے ہوا ہے۔ یہاں پر ”مرسلین“ کے لفظ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم میں پہلے بہت سے انبیاء آئے اور پھر آخر میں رسول کی حیثیت سے حضرت صالح تشریف لائے۔

الحجر 15:81

آیت 81 وَاٰتَيْنٰهُمْ اٰيٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِيْنَ قوم ثمود کو بطور خاص اونٹنی کی صورت میں حسی معجزہ دکھایا گیا تھا کہ ایک چٹان شق ہوئی اور اس کے اندر سے ایک خوبصورت گابھن اونٹنی برآمد ہوگئی۔

الحجر 15:82

آیت 82 وَكَانُوْا يَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا اٰمِنِيْنَ قوم ثمود کے یہ گھر آج بھی موجود ہیں اور دیکھنے والوں کو دعوت عبرت دے رہے ہیں۔ میں نے خود بھی ان کا مشاہدہ کیا ہے۔

الحجر 15:83

آیت 82 وَكَانُوْا يَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا اٰمِنِيْنَ قوم ثمود کے یہ گھر آج بھی موجود ہیں اور دیکھنے والوں کو دعوت عبرت دے رہے ہیں۔ میں نے خود بھی ان کا مشاہدہ کیا ہے۔

الحجر 15:84

آیت 84 فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ وہ خوشحال قوم تھی مگر انہوں نے جو مال و اسباب جمع کر رکھا تھا وہ انہیں عذاب الٰہی سے بچانے کے لیے کچھ بھی مفید ثابت نہ ہوسکا۔اس سورة مبارکہ میں اب تک تین رسولوں کا ذکر ”انباء الرسل“ کے انداز میں ہوا ہے۔ ان میں سے حضرت شعیب اور حضرت صالح کا نام لیے بغیر ان کی قوموں کا ذکر کیا گیا ہے جب کہ حضرت لوط کا ذکر نام لے کر کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس حضرت ابراہیم کا ذکر یہاں بھی قصص النبیین کے انداز میں آیا ہے بالکل اسی طرح جس طرح سورة ہود میں آیا تھا۔

الحجر 15:85

اس سورة کی آخری پندرہ آیات دعوت دین کے اعتبار سے بہت اہم ہیںآیت 85 وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ اِلَّا بالْحَقِّ یہ کائنات ایک با مقصد تخلیق ہے کوئی کھیل تماشا نہیں۔ ہندو مائتھالوجی کی طرز پر یہ کوئی رام کی لیلا نہیں ہے کہ رام جی جس کو چاہیں راجہ بنا کر تخت پر بٹھا دیں اور جسے چاہیں تخت سے نیچے پٹخ دیں بلکہ یہ کائنات اور اس کی ایک ایک چیز کی تخلیق با معنی اور با مقصد ہے۔ اس حقیقت کو سورة آل عمران میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَاب النَّارِ ”اے ہمارے رب ! تو نے یہ کائنات بےمقصد نہیں بنائی تیری ذات اس سے بہت اعلیٰ اور پاک ہے لہٰذا ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔“وَاِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌچونکہ یہ کائنات اور اس کی ہرچیز حق کے ساتھ تخلیق کی گئی ہے لہٰذا اس حق کا منطقی تقاضا ہے کہ ایک یوم حساب آئے ‘ لہٰذا قیامت آکر رہے گی۔ اس کائنات کا بغور جائزہ لینے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اس کی تمام چیزیں انسان کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہے تو منطقی سوال اٹھتا ہے کہ پھر انسان کو کس لیے پیدا کیا گیا ہے ؟ اور انسان کے اندر جو اخلاقی حس پیدا کی گئی ہے ‘ اسے پیدائشی طور پر نیکی اور بدی کی جو تمیز دی گئی ہے یہاں دنیا میں اس سے کیا نتائج بر آمد ہو رہے ہیں ؟ اس دنیا میں تو اخلاقیات کے اصولوں کے برعکس نتائج سامنے آتے ہیں۔ یہاں چور ڈاکو اور لٹیرے عیش کرتے نظر آتے ہیں اور نیک سیرت لوگ فاقے کرنے پر مجبور ہیں۔ لہٰذا اس صورت حال کا منطقی تقاضا ہے کہ اس دنیا کے بعد ایک اور دنیا ہو جس میں ہر شخص کا پورا پورا حساب ہو اور ہر شخص کو ایسا صلہ اور بدلہ ملے جو اس کے اعمال کے عین مطابق ہو۔فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيْلَ یہ مجرم لوگ ہماری پکڑ سے بچ نہیں سکیں گے۔ قیامت آئے گی اور یہ لوگ ضرور کیفر کردار کو پہنچیں گے ‘ مگر ابھی ہم انہیں ڈھیل دینا چاہتے ہیں مزید کچھ دیر کے لیے مہلت دینا چاہتے ہیں۔ چناچہ آپ فی الحال ان کی دل آزار باتیں برداشت کریں ‘ ان کی معاندانہ سرگرمیوں کے جواب میں صبر کریں اور احسن انداز میں اس سب کچھ کو نظر انداز کردیں۔ اسّ رویے اور ایسے طرز عمل سے آپ کے درجات بلند ہوں گے۔

الحجر 15:86

آیت 86 اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِيْمُ وہ جو پیدا کرنے والا ہے اپنی مخلوق کو خوب جانتا بھی ہے۔ سورة الملک میں فرمایا گیا : اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ”کیا اسی کے علم میں نہیں ہوگا جس نے پیدا کیا ؟ بلکہ وہ تو نہایت باریک بین باخبر ہے“۔ کسی مشین کو بنانے والا اس کے تمام کل پرزوں سے خوب واقف ہوتا ہے۔

الحجر 15:87

آیت 87 وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ اس پر تقریباً تمام امت کا اجماع ہے کہ یہاں سات بار بار دہرائے جانے والی آیات سے مراد سورة الفاتحہ ہے۔ حدیث میں سورة الفاتحہ کو نماز کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے : لَا صَلاَۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ متفق علیہ یعنی جو شخص نماز میں سورة الفاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں۔ قبل ازیں سورة الفاتحہ کے مطالعے کے دوران ہم وہ حدیث قدسی بھی پڑھ چکے ہیں جس میں سورة الفاتحہ ہی کو نماز قرار دیا گیا ہے : قَسَمْتُ الصَّلَاۃَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ نِصْفَیْنِ رواہ مسلم اب جبکہ ہر نمازی اپنی نماز کی ہر رکعت میں سورة الفاتحہ کی تلاوت کر رہا ہے تو اندازہ کریں کہ دنیا بھر میں ان سات آیات کی تلاوت کتنی مرتبہ ہوتی ہوگی۔ اس کے علاوہ آیت زیر نظر میں اس سورة کو ”قرآن عظیم“ کا نام بھی دیا گیا ہے۔ یعنی اہمیت اور فضیلت کے اعتبار سے سورة الفاتحہ قرآن عظیم کا درجہ رکھتی ہے۔ اسی بنیاد پر اس سورت کو اساس القرآن اور ام القرآن قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسے الکافیہ کفایت کرنے والی اور الشافیہ شفا دینے والی جیسے نام بھی دیے گئے ہیں۔ایک حدیث کے مطابق سورة الفاتحہ جیسی کوئی سورت نہ تورات میں ہے ‘ نہ انجیل میں اور نہ ہی قرآن میں۔ چناچہ یہاں حضور کی دلجوئی کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی دیکھیں ہم نے آپ کو اتنا بڑا خزانہ عطا فرمایا ہے۔ ابو جہل اگر خود کو مالدار سمجھتا ہے ‘ ولید بن مغیرہ اپنے زعم میں اگر بہت بڑا سردار ہے تو آپ مطلق پروا نہ کریں۔ ان لوگوں کی سوچ کے اپنے پیمانے ہیں۔ ان بد بختوں کو کیا معلوم کہ ہم نے آپ کو کتنی بڑی دولت سے نوازا ہے !

الحجر 15:88

آیت 88 لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ ابوجہل کی دولت و شوکت ‘ ولید بن مغیرہ کے باغات اور ان جیسے دوسرے کافروں کی جاگیریں آپ کو ہرگز متاثر نہ کریں۔ آپ ان کی ان چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اگر دنیا و ما فیہا کی حیثیت اللہ کی نگاہ میں مچھر کے ایک پر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی تک نہ دیتا۔ چناچہ ان کفار کو جو مال و متاع اس دنیا میں دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی کچھ اہمیت نہیں ہے۔ اہل ایمان کو بھی چاہیے کہ وہ بھی مال و دولت دنیا کو اسی نظر سے دیکھیں۔ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ یہ لوگ آپ کی دعوت کو ٹھکرا کر عذاب کے مستحق ہو رہے ہیں۔ ان میں آپ کے قبیلے کے افراد بھی شامل ہیں اور ابو لہب جیسے عزیز و اقارب بھی ‘ مگر آپ اب ان لوگوں کے انجام کے بارے میں بالکل پریشان نہ ہوں۔ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ اہل ایمان کے ساتھ آپ شفقت اور مہربانی سے پیش آئیں۔ ان لوگوں میں فقراء و مساکین بھی ہیں اور غلام بھی۔ یہ لوگ جب آپ کے پاس حاضر ہوں تو کمال تواضع سے ان کا استقبال کیجیے اور ان کی دلجوئی فرمائیے۔ اس سے قبل یہی بات اس انداز میں بیان فرمائی گئی ہے : فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ الانعام : 54۔ سورة الشعراء میں بھی اس مضمون کو ان الفاظ میں دہرایا گیا ہے : وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ کہ اہل ایمان جو آپ کی پیروی کر رہے ہیں آپ اپنے کندھے ان کے لیے جھکا کر رکھیے۔ سورة بنی اسرائیل میں والدین کے ادب و احترام کے سلسلے میں بھی یہی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں کہ اولاد اپنے والدین کے ساتھ ادب محبت عاجزی اور انکساری کا معاملہ کرے۔

الحجر 15:89

آیت 89 وَقُلْ اِنِّىْٓ اَنَا النَّذِيْرُ الْمُبِيْنُ میری اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ آپ لوگوں کو واضح طور پر خبردار کر دوں۔

الحجر 15:90

آیت 89 وَقُلْ اِنِّىْٓ اَنَا النَّذِيْرُ الْمُبِيْنُ میری اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ آپ لوگوں کو واضح طور پر خبردار کر دوں۔

الحجر 15:91

آیت 91 الَّذِيْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِيْنَ اس آیت کے مفہوم کے سلسلے میں مفسرین نے مختلف آراء بیان کی ہیں۔ اس ضمن میں زیادہ قرین قیاس رائے یہ ہے کہ یہاں لفظ ”قرآن“ کا اطلاق تورات پر ہوا ہے۔ جیسا کہ سورة سبا کی آیت 31 میں فرمایا گیا : وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِہٰذَا الْقُرْاٰنِ وَلَا بالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ یعنی کفار کہتے ہیں کہ نہ اس قرآن پر ایمان لاؤ اور نہ اس پر جو اس سے پہلے تھا۔ تو گویا تورات بھی قرآن ہی تھا اور یہود نے اپنے مفادات کے لیے اپنے اس قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا۔ ان کے اس کارنامے کا تذکرہ سورة الانعام کی آیت 91 میں اس طرح ہوا ہے : تَجْعَلُوْنَہٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَہَا وَتُخْفُوْنَ کَثِیْرًا ”تم نے اس تورات کو ورق ورق کردیا ہے ‘ ان میں سے کسی حصے کو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپا کر رکھتے ہو۔“

الحجر 15:92

آیت 92 فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ اس آیت کا مضمون اور انداز وہی ہے جو اس سے پہلے ہم سورة الاعراف میں پڑھ چکے ہیں : فَلَنَسْءَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْءَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ ”ہم لازماً پوچھ کر رہیں گے ان سے بھی جن کی طرف رسولوں کو بھیجا گیا اور ان سے بھی جن کو رسول بنا کر بھیجا گیا“۔ چناچہ اے نبی یہ تھوڑے وقت کی بات ہے ہم ان سے ایک ایک چیز کا حساب لے کر رہیں گے۔

الحجر 15:93

آیت 92 فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ اس آیت کا مضمون اور انداز وہی ہے جو اس سے پہلے ہم سورة الاعراف میں پڑھ چکے ہیں : فَلَنَسْءَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْءَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ ”ہم لازماً پوچھ کر رہیں گے ان سے بھی جن کی طرف رسولوں کو بھیجا گیا اور ان سے بھی جن کو رسول بنا کر بھیجا گیا“۔ چناچہ اے نبی یہ تھوڑے وقت کی بات ہے ہم ان سے ایک ایک چیز کا حساب لے کر رہیں گے۔

الحجر 15:94

آیت 94 فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ اس حکم کو رسول اللہ کی دعوتی تحریک میں ایک نئے موڑ کی حیثیت حاصل ہے۔ اس سے قبل آپ اپنے قریبی ساتھیوں اور رشتہ داروں کو انفرادی طور پر دعوت دے رہے تھے ‘ جیسے آپ نے اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ سے بات کی ‘ اپنے پرانے دوست حضرت ابوبکر صدیق کو دعوت دی ‘ اپنے چچا زاد بھائی حضرت علی کو اعتماد میں لیا جو آپ کے زیر کفالت بھی تھے اور اپنے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے حضرت زید سے بھی بات کی۔ آپ کی اس انفرادی دعوت کا سلسلہ ابتدائی طور پر تقریباً تین سال پر محیط نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اس دور کی دعوت کو ایک خفیہ underground تحریک سے تعبیر کرتے ہیں مگر یہ درست نہیں۔ اعلان نبوت کے بعد آپ کی سیرت میں کوئی دن بھی ایسا نہیں آیا جس میں آپ نے اپنی اس دعوت کو خفیہ رکھا ہو مگر ایسا ضرور ہے کہ آپ کی دعوت فطری اور تدریجی انداز میں آگے بڑھی اور آہستہ آہستہ ارتقا پذیر ہوئی۔ اس دعوت کا آغاز گھر سے ہوا پھر آپ تعلق اور قرابت داری کی بنیاد پر مختلف افراد کو انفرادی انداز میں دعوت دیتے رہے اور پھر تقریباً تین سال کے بعد آپ کو حکم ہوا کہ اب آپ علی الاعلان یہ دعوت دینا شروع کردیں۔ اس حکم کے بعد آپ نے ایک دن عرب کے رواج کے مطابق کوہ صفا پر چڑھ کر لوگوں کو اونچی آواز سے اپنی طرف بلانا شروع کیا۔ عرب میں رواج تھا کہ کسی اہم خبر کا اعلان کرنا ہوتا تو ایک آدمی اپنا پورا لباس اتارتا ‘ بالکل ننگا ہو کر کسی اونچی جگہ پر چڑھ جاتا اور ”وَاصَبَاحَا“ کا نعرہ لگاتا کہ ہائے وہ صبح جو آیا چاہتی ہے ! یعنی میں تم لوگوں کو آنے والی صبح کی خبر دینے والا ہوں ! اس زمانے میں ایسی خبر عام طور پر کسی مخالف قبیلہ کے شب خون مارنے کے بارے میں ہوتی تھی کہ فلاں قبیلہ آج صبح سویرے تم پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے۔ ایسے شخص کو ”نذیر عریاں“ کہا جاتا تھا۔ اس رواج کے مطابق لباس اتارنے کی بیہودہ رسم کو چھوڑ کر آپ نے کوہ صفا پر کھڑے ہو کر ”وَاصَبَاحَا“ کا نعرہ لگایا۔ جس جس نے آپ کی آواز سنی وہ بھاگم بھاگ آپ کے پاس آپہنچا کہ آپ کوئی اہم خبر دینے والے ہیں۔ جب سب لوگ اکٹھے ہوگئے تو آپ نے ان کے سامنے اللہ کا پیغام پیش کیا ‘ جس کے جواب میں آپ کے بدبخت چچا ابو لہب نے کہا : تَبًّا لَکَ اَلِھٰذَا جَمَعْتَنَا ؟ ”تمہارے لیے ہلاکت ہو نعوذ باللہ اس کام کے لیے تم نے ہمیں جمع کیا تھا ؟“ دعوت کو ڈنکے کی چوٹ بیان کرنے کے اس حکم اور اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی تھی۔

الحجر 15:95

آیت 95 اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ آپ ان کی مخالفت کی پروا نہ کریں ہم ان سے اچھی طرح نمٹ لیں گے۔ یہ لوگ آپ کا بال بھی بیکا نہیں کرسکیں گے۔

الحجر 15:96

آیت 96 الَّذِيْنَ يَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ ایسے لوگوں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ اصل حقیقت کیا تھی اور وہ کن گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔

الحجر 15:97

آیت 97 وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ يَضِيْقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُوْلُوْنَ علی الاعلان دعوت کی وجہ سے مخالفت کا ایک طوفان آپ پر امڈ آیا تھا۔ پہلے مرحلے میں یہ مخالفت اگرچہ زبانی طعن وتشنیع اور بد گوئی تک محدودتھی مگر بہت تکلیف دہ تھی۔ کسی نے مجنون اور کاہن کہہ دیا ‘ کسی نے شاعر کا خطاب دے دیا۔ کوئی دور کی کوڑی لایا کہ آپ نے گھر میں ایک عجمی غلام چھپا رکھا ہے ‘ اس سے معلومات لے کر ہم پر دھونس جماتے ہیں۔ کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو واقعی سمجھتے تھے کہ آپ پر آسیب وغیرہ کے اثرات ہوگئے ہیں۔ ایسے لوگ ازراہ ہمدردی ایسی باتوں کا اظہار کرتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ عتبہ بن ربیعہ نے اسی طرح آپ سے اظہار ہمدردی کیا۔ وہ قبیلے کا معمر بزرگ تھا۔ اس نے کہا : اے میرے بھتیجے ‘ بڑے بڑے عاملوں اور کاہنوں سے میرے تعلقات ہیں ‘ آپ کہیں تو میں ان میں سے کسی کو بلا لاؤں اور آپ کا علاج کراؤں ؟ ان سب باتوں سے آپ کو بہت تکلیف ہوتی تھی اور آپ کی اسی تکلیف اور دل کی گھٹن کا یہاں تذکرہ کیا جا رہا ہے کہ اے نبی ان لوگوں کی بیہودہ باتوں سے آپ کو جو تکلیف ہوتی ہے وہ ہمارے علم میں ہے۔ یہ مضمون سورة الانعام کی آیت 33 میں بھی گزر چکا ہے۔

الحجر 15:98

آیت 98 فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِيْنَ آپ اپنے رب کی تسبیح وتحمید میں مشغول رہیں۔ اسی کے آگے جھکے رہیں اور اس طرح اپنے تعلق مع اللہ کو مزید مضبوط کریں۔ اللہ سے اپنے اس قلبی اور ذہنی رشتے کو جتنا مضبوط کریں گے اسی قدر آپ کے دل کو سکون و اطمینان ملے گا اور صبر و استقامت کے رستے پر چلنا اور ان سختیوں کو جھیلنا آپ کے لیے آسان ہوگا۔

الحجر 15:99

آیت 99 وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ عام طور پر یہاں ”یقین“ سے موت مراد لی گئی ہے۔ یعنی اپنی زندگی کی آخری گھڑی تک اس کی بندگی میں لگے رہیے اور اس سلسلے میں لمحہ بھر کے لیے بھی غفلت نہ کیجیے :تا دم آخر دمے فارغ مباش اندریں رہ مے تراش و مے خراش !بعض لوگ یہاں ”یقین“ سے اللہ تعالیٰ کی نصرت بھی مراد لیتے ہیں کہ کفار کے خلاف اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آجائے ‘ اس کی مدد اہل حق کے شامل حال ہوجائے اور انہیں کفار پر غلبہ حاصل ہوجائے۔بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم

النحل 16:1

آیت 1 اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ جب ہم نے اپنا رسول بھیج دیا اور اس پر اپنا کلام بھی نازل کرنا شروع کردیا ہے تو گویا فیصلہ کن وقت آن پہنچا ہے۔ اب معاملہ صرف مہلت کے دورانیے کا ہے کہ ہمارے رسول اور ہمارے پیغام کا انکار کرنے والوں کو مشیت الٰہی کے مطابق کس قدر مہلت ملتی ہے۔ بہر حال اب جلدی مچانے کی ضرورت نہیں۔ اللہ کا عذاب بس اب آیا ہی چاہتا ہے ‘ اس کے لیے اب بہت زیادہ وقت نہیں رہ گیا۔

النحل 16:2

يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ سے مراد اللہ کی وحی ہے۔ یعنی حضرت محمد کو اللہ نے اپنی وحی کے لیے چن لیا اور آپ کی طرف حضرت جبرائیل وحی لے کر آئے۔ یہاں پر لفظ ”امر“ کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ سورة الاعراف کی آیت 54 میں فرمایا گیا : اَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ط ”آگاہ ہوجاؤ ‘ اسی کے لیے خلق ہے اور اسی کے لیے امر“۔ یعنی عالم خلق اور عالم امر دو الگ الگ عالم ہیں۔ عالم امر کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں وقت کا عامل بالکل کارفرما نہیں۔ اس عالم میں کسی کام کے کرنے یا کوئی واقعہ وقوع پذیر ہونے میں وقت درکار نہیں ہوتا۔ بس اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوتا ہے اور اس کے ”کُنْ“ فرمانے سے وہ کام ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ سورة یٰسٓ میں فرمایا گیا : اِنَّمَآ اَمْرُہٓٗ اِذَآ اَرَادَ شَیْءًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ”اس کا امر تو یہی ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو بس یہی ہوتا کہ وہ اسے کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔“ اس کے برعکس عالم خلق میں کسی کام کے پایہ تکمیل تک پہنچنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ جیسے قرآن میں متعدد بار فرمایا گیا کہ اللہ نے زمین و آسمان چھ دنوں میں تخلیق کیے۔ اسی طرح دنیا کا سارا نظام عالم خلق کے اصولوں پر چل رہا ہے۔ مثلاً آم کی گٹھلی سے کو نپلیں پھوٹتی ہیں ‘ پھر بڑھتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ ایک تناور درخت بن جاتا ہے۔ اس سارے عمل میں وقت درکار ہوتا ہے۔ یہاں پر روح کے ذکر کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ روح کا تعلق عالم امر سے ہے۔ عالم امر کی صرف تین چیزیں ہی ہمارے علم میں ہیں۔ ملائکہ ‘ روح اور وحی۔ قرآن میں ملائکہ کو بھی روح کہا گیا ہے۔ جیسے حضرت جبرائیل کے لیے روح القدس اور روح الامین کے الفاظ آئے ہیں۔ سورة الشعراء میں فرمایا گیا : نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ جبکہ سورة البقرۃ کی آیت 87 میں ارشاد ہوا : وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۔ اسی طرح قرآن میں وحی کو بھی روح کہا گیا ہے ‘ اور یہ وحی نازل بھی روح پر ہوتی ہے۔ جب محمد رسول اللہ پر وحی نازل ہوتی تو آپ اس کا ادراک طبعی حواس خمسہ سے نہیں کرتے تھے ‘ بلکہ وحی براہ راست آپ کے قلب مبارک پر نازل ہوتی تھی۔ اس لیے کہ قلب محمدی روح محمدی کا مسکن تھا : نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ الشعراء۔ چناچہ وحی بھی روح ہے ‘ اس کو لانے والے جبرائیل امین بھی روح ہیں اور اس کا نزول بھی روح محمدی پر ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں جگر مراد آبادی کا یہ شعر ان کی کسی خاص کیفیت کا مظہر معلوم ہوتا ہے نغمہ وہی ہے نغمہ کہ جس کو روح سنے اور روح سنائے !

النحل 16:3

يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ سے مراد اللہ کی وحی ہے۔ یعنی حضرت محمد کو اللہ نے اپنی وحی کے لیے چن لیا اور آپ کی طرف حضرت جبرائیل وحی لے کر آئے۔ یہاں پر لفظ ”امر“ کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ سورة الاعراف کی آیت 54 میں فرمایا گیا : اَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ط ”آگاہ ہوجاؤ ‘ اسی کے لیے خلق ہے اور اسی کے لیے امر“۔ یعنی عالم خلق اور عالم امر دو الگ الگ عالم ہیں۔ عالم امر کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں وقت کا عامل بالکل کارفرما نہیں۔ اس عالم میں کسی کام کے کرنے یا کوئی واقعہ وقوع پذیر ہونے میں وقت درکار نہیں ہوتا۔ بس اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوتا ہے اور اس کے ”کُنْ“ فرمانے سے وہ کام ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ سورة یٰسٓ میں فرمایا گیا : اِنَّمَآ اَمْرُہٓٗ اِذَآ اَرَادَ شَیْءًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ”اس کا امر تو یہی ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو بس یہی ہوتا کہ وہ اسے کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔“ اس کے برعکس عالم خلق میں کسی کام کے پایہ تکمیل تک پہنچنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ جیسے قرآن میں متعدد بار فرمایا گیا کہ اللہ نے زمین و آسمان چھ دنوں میں تخلیق کیے۔ اسی طرح دنیا کا سارا نظام عالم خلق کے اصولوں پر چل رہا ہے۔ مثلاً آم کی گٹھلی سے کو نپلیں پھوٹتی ہیں ‘ پھر بڑھتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ ایک تناور درخت بن جاتا ہے۔ اس سارے عمل میں وقت درکار ہوتا ہے۔ یہاں پر روح کے ذکر کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ روح کا تعلق عالم امر سے ہے۔ عالم امر کی صرف تین چیزیں ہی ہمارے علم میں ہیں۔ ملائکہ ‘ روح اور وحی۔ قرآن میں ملائکہ کو بھی روح کہا گیا ہے۔ جیسے حضرت جبرائیل کے لیے روح القدس اور روح الامین کے الفاظ آئے ہیں۔ سورة الشعراء میں فرمایا گیا : نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ جبکہ سورة البقرۃ کی آیت 87 میں ارشاد ہوا : وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۔ اسی طرح قرآن میں وحی کو بھی روح کہا گیا ہے ‘ اور یہ وحی نازل بھی روح پر ہوتی ہے۔ جب محمد رسول اللہ پر وحی نازل ہوتی تو آپ اس کا ادراک طبعی حواس خمسہ سے نہیں کرتے تھے ‘ بلکہ وحی براہ راست آپ کے قلب مبارک پر نازل ہوتی تھی۔ اس لیے کہ قلب محمدی روح محمدی کا مسکن تھا : نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ الشعراء۔ چناچہ وحی بھی روح ہے ‘ اس کو لانے والے جبرائیل امین بھی روح ہیں اور اس کا نزول بھی روح محمدی پر ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں جگر مراد آبادی کا یہ شعر ان کی کسی خاص کیفیت کا مظہر معلوم ہوتا ہے نغمہ وہی ہے نغمہ کہ جس کو روح سنے اور روح سنائے !

النحل 16:4

آیت 4 خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌانسان اپنے خود ساختہ نظریات کے حق میں خوب بحثیں کرتا ہے ‘ عقلی و نقلی دلیلیں دیتا ہے اور زور خطابت سے زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے۔

النحل 16:5

آیت 5 وَالْاَنْعَامَ خَلَقَهَا ۚ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ وَّمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ بعض جانوروں کی اون سے تم لوگ لباس بنتے ہو جو سردی کے موسم میں تمہیں گرمی پہنچاتا ہے بعض جانوروں کے بالوں سے بہت سی دوسری چیزیں بناتے ہو۔ اسی طرح یہ جانور اور بھی بہت سی صورتوں میں تمہارے لیے مفید اور مددگار ہوتے ہیں حتیٰ کہ تمہاری خوراک کی بیشتر ضروریات بھی انہی سے پوری ہوتی ہیں۔

النحل 16:6

آیت 6 وَلَكُمْ فِيْهَا جَمَالٌ حِيْنَ تُرِيْحُوْنَ وَحِيْنَ تَسْرَحُوْنَ دیہاتی ماحول میں مویشیوں کی حیثیت بہت قیمتی سرمائے کی سی ہوتی ہے اسی لیے انہیں مال مویشی کہا جاتا ہے۔ یہ جانور جب صبح چرنے کے لیے جاتے ہیں یا شام کے وقت جنگل سے چر کر واپس آ رہے ہوتے ہیں تو ان کے مالکوں کے لیے یہ بڑا خوش کن منظر ہوتا ہے۔ جانوروں کا غلہ یا ریوڑ جتنا بڑا ہوگا اس کے مالک کی حیثیت اور شان و شوکت اسی قدر زیادہ سمجھی جائے گی۔

النحل 16:7

آیت 7 وَتَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِيْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ ان میں ایسے جانور بھی ہیں جو سازو سامان کے نقل و حمل میں تمہارے کام آتے ہیں اور ان کے بغیر تم یہ بھاری چیزیں اٹھا کر دور دراز علاقوں تک نہیں پہنچا سکتے۔

النحل 16:8

آیت 8 وَّالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَزِيْنَةً ان مویشیوں سے انسان کو بہت سے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں اور یہ اس کے لیے باعث زیب وزینت بھی ہیں۔ خصوصی طور پر گھوڑا بہت حسین اور قیمتی جانور ہے اور اس کا مالک اسے اپنے لیے باعث فخر و تمکنت سمجھتا ہے۔وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ یعنی یہ تو چند وہ چیزیں ہیں جن کے بارے میں تم لوگ جانتے ہو مگر اللہ تعالیٰ تو بیشمار ایسی چیزیں بھی تخلیق فرماتا ہے جن کے بارے میں تمہیں کچھ بھی علم نہیں۔

النحل 16:9

آیت 9 وَعَلَي اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَمِنْهَا جَاۗىِٕرٌ یہ سیدھا راستہ توحید کا راستہ ہے۔ یہاں اس راستے کو ”قصد السبیل“ کا نام دیا گیا ہے۔ قرآن میں اسے صراط مستقیم بھی کہا گیا ہے اور سوآء السبیل بھی۔ یہی ایک راستہ ہے جو انسان کو اللہ تک پہنچاتا ہے ‘ مگر بہت سے لوگ اس راستے سے بھٹک کر ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں پر مڑ جاتے ہیں جو انہیں گمراہی کے گڑھوں میں گرادیتی ہیں۔وَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ اللہ اگر چاہتا تو سب انسانوں کو اسی ایک سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق اور سمجھ بوجھ دے دیتا۔

النحل 16:10

آیت 10 هُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّمِنْهُ شَجَـرٌ فِيْهِ تُسِيْمُوْنَ اللہ تعالیٰ ہی بارش اور برف کی صورت میں بادلوں سے پانی برساتا ہے جس پر انسانی زندگی کا براہ راست انحصار ہے اور پھر یہی پانی بیشمار نباتاتی اور حیوانی مخلوقات کو زندگی بخشتا ہے جو انسان ہی کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔

النحل 16:11

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ اللہ تعالیٰ کی شان خلاقی کے بیشمار انداز ہیں اس کی تخلیق میں لامحدود تنوع ‘ بوقلمونی اور رنگا رنگی ہے۔ چناچہ اب ایک دوسرے پہلو سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر ہونے جا رہا ہے :

النحل 16:12

آیت 12 وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں رات اپنی جگہ اہم ہے اور دن کی اپنی اہمیت ہے۔ رات میں مجموعی طور پر ایک سکون ہے۔ یہ انسانوں اور دوسرے جانداروں کے لیے باعث راحت ہے ‘ اس میں وہ آرام کرتے ہیں ‘ سوتے ہیں اور صبح تازہ دم ہو کر اٹھتے ہیں۔ دوسری طرف دن میں بھاگ دوڑ ‘ محنت ‘ جدوجہد اور مختلف النوع انسانی سرگرمیاں ممکن ہوتی ہیں۔ اگر اس پہلو سے دنیا کے اجتماعی نظام کو دیکھا جائے تو یہ پورا نظام رات اور دن کے وجود کا مرہون منت نظر آتا ہے۔ نباتاتی نظام کو ہی لے لیجیے۔ اس کے لیے رات اور دن دونوں ہی ناگزیر ہیں۔ دن کو سورج کی روشنی اور تمازت سے نباتات کے لیے Photosynthesis کا عمل ممکن ہوتا ہے جو ان کی نشوونما کے لیے ناگزیر ہے۔ فصلوں اور پھلوں کو بھی پکنے کے لیے سورج کی روشنی اور حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری طرف رات کو نباتات respiration کے عمل کے ذریعے سے آکسیجن حاصل کرتے ہیں۔ گویا رات اور دن کے بغیر نباتات کا وجود ممکن ہی نہیں ہے اور انسانی زندگی میں نباتات کے عمل دخل کا تصور کریں تو اس ایک مثال سے ہی یہ حقیقت سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دن اور رات کو انسان کے لیے مسخر کردینا کتنی بڑی نعمت ہے۔وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۭ وَالنُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ پورا نظام شمسی اور تمام اجرام فلکی اللہ تعالیٰ کے حکم سے انسان کی نفع رسانی میں مصروف ہیں۔

النحل 16:13

آیت 13 وَمَا ذَرَاَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے زمین میں رنگا رنگ قسم کے حیوانات نباتات اور جمادات پیدا کیے ہیں۔

النحل 16:14

آیت 41 وَهُوَ الَّذِيْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّاسمندری خوراک ہمیشہ سے انسانی زندگی میں بہت اہم رہی ہے۔ دور جدید میں اس کی افادیت مزید نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے جس کی وجہ سے اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔وَّتَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَاسمندر سے موتی اور بہت سی دوسری ایسی اشیاء نکالی جاتی ہیں جن سے زیورات اور آرائش و زیبائش کا سامان تیار ہوتا ہے۔

النحل 16:15

آیت 15 وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ وَاَنْهٰرًا وَّسُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ یہاں اَنْہٰرًا وَّسُبُلاً کے اکٹھے ذکر کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو عملی طور پر بھی ان کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ پہاڑی سلسلوں میں عام طور پر ندیوں کی گزر گاہوں کے ساتھ ساتھ ہی راستے بنتے ہیں۔ اسی طرح پہاڑوں کے درمیان قدرتی وادیاں انسانوں کی گزر گاہیں بھی بنتی ہیں اور پانی کے ریلوں کو راستے بھی فراہم کرتی ہیں۔

النحل 16:16

آیت 16 وَعَلٰمٰتٍ ۭ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی مدد کے لیے زمین میں طرح طرح کی علامتیں بنائیں تاکہ مختلف علاقوں اور راستوں کی پہچان ہو سکے۔ اسی طرح آسمان کے ستاروں کو بھی سمتوں اور راستوں کے تعین کا ایک ذریعہ بنا دیا۔ پرانے زمانے میں سمندری اور صحرائی سفر رات کے وقت ستاروں کی مدد سے ہی ممکن ہوتے تھے۔

النحل 16:17

آیت 17 اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ مشرکین عرب نے مختلف ناموں سے جو بت بنا رکھے تھے ان کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ وہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں گے۔ سورة یونس کی آیت 18 میں ان کے اس عقیدے کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے : وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ ”اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں“۔ اللہ کے بارے میں ان کا ماننا تھا کہ وہ کائنات اور اس میں موجود ہرچیز کا خالق ہے اور وہ یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ ان کے معبودوں کا اس تخلیق میں کوئی حصہ نہیں اور نہ ہی وہ کوئی چیز تخلیق کرسکتے ہیں۔ قرآن میں ان کے اس عقیدے کا بھی بار بار ذکر آیا ہے : وَلَءِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ لقمان : 25 ”اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو تو لازماً یہی کہیں گے کہ اللہ نے !“ ان لوگوں کے اسی عقیدے کی بنیاد پر یہاں یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ تمہارے یہ خود ساختہ معبود ‘ جو کچھ بھی تخلیق کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ‘ کیا اس اللہ کی مانند ہوسکتے ہیں جو اس کائنات اور اس میں موجود ہرچیز کا خالق ہے ؟ اور اگر تم تسلیم کرتے ہو کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو کیا پھر بھی تم لوگ نصیحت نہیں پکڑتے ہو ؟

النحل 16:18

آیت 18 وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَااللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی گنتی تو کجا اس کی بیشمار نعمتیں ایسی ہیں جن سے انسان فیض یاب تو ہو رہا ہے لیکن ان تک انسان کے علم اور شعور کی ابھی پہنچ ہی نہیں۔

النحل 16:19

آیت 18 وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَااللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی گنتی تو کجا اس کی بیشمار نعمتیں ایسی ہیں جن سے انسان فیض یاب تو ہو رہا ہے لیکن ان تک انسان کے علم اور شعور کی ابھی پہنچ ہی نہیں۔

النحل 16:20

آیت 20 وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ انبیاء و رسل ہوں ملائکہ ہوں یا اولیاء اللہ سب مخلوق ہیں خالق صرف اللہ کی ذات ہے۔

النحل 16:21

آیت 21 اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ ۚ وَمَا يَشْعُرُوْنَ ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ جن اولیاء اللہ کے ناموں پر انہوں نے بت بنا رکھے ہیں وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں وہ فوت ہوچکے ہیں اور انہیں کچھ معلوم نہیں کہ قیامت کب برپا ہوگی اور کب انہیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔

النحل 16:22

فَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّهُمْ مُّسْـتَكْبِرُوْنَ اس نکتے کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں آخرت کا یقین نہیں ہے وہ حق بات کو قبول کرنے سے کیوں جھجکتے ہیں اور ان کے اندر استکبار کیوں پیدا ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کا فلسفہ یہ ہے کہ جو شخص فطرت سلیمہ کا مالک ہے اس کے اندر اچھائی اور برائی کی تمیز موجود ہوتی ہے۔ اس کا دل اس حقیقت کا قائل ہوتا ہے کہ اچھائی کا اچھا بدلہ ملنا چاہیے اور برائی کا برا ع ”گندم از گندم بروید ‘ جو زجو !“یہی فلسفہ یا تصور منطقی طور پر ایمان بالآخرت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ مگر دنیا میں جب پوری طرح نیکی کی جزا اور برائی کی سزا ملتی ہوئی نظر نہیں آتی تو ایک صاحب شعور انسان لازماً سوچتا ہے کہ اعمال اور اس کے نتائج کے اعتبار سے دنیوی زندگی ادھوری ہے اور اس دنیا میں انصاف کی فراہمی کماحقہ ممکن ہی نہیں۔ مثلاً اگر ایکّ ستر سالہ بوڑھا ایک نوجوان کو قتل کر دے تو اس دنیا کا قانون اسے کیا سزا دے گا ؟ ویسے تو یہاں انصاف تک پہنچنے کے لیے بہت سے کٹھن مراحل طے کرنے پڑتے ہیں ‘ لیکن اگر یہ تمام مراحل طے کر کے انصاف مل بھی جائے تو قانون زیادہ سے زیادہ اس بوڑھے کو پھانسی پر لٹکا دے گا۔ لیکن کیا اس بوڑھے کی جان واقعی اس نوجوان مقتول کی جان کے برابر ہے ؟ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ وہ نوجوان تو اپنے خاندان کا واحد سہارا تھا ‘ اس کے چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہوئے ‘ ایک نوجوان عورت بیوہ ہوئی ‘ خاندان کا معاشی سہارا چھن گیا۔ اس طرح اس کے لواحقین اور خاندان کے لیے اس قتل کے اثرات کتنے گھمبیر ہوں گے اور کہاں کہاں تک پہنچیں گے ‘ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ دوسری طرف وہ بوڑھا شخص جو اپنی طبعی عمر گزار چکا تھا ‘ جس کے بچے خود مختار زندگیاں گزار رہے ہیں ‘ جس کی کوئی معاشی ذمہ داری بھی نہیں ہے ‘ اس کے پھانسی پر چڑھ جانے سے اس کے پس ماندگان پر ویسے اثرات مرتب نہیں ہوں گے جیسے اس نوجوان کی جان جانے سے اس کے پس ماندگان پر ہوئے تھے۔ ایسی صورت میں دنیا کا کوئی قانون مظلوم کو پورا پورا بدلہ دے ہی نہیں سکتا۔ ایسی مثالیں عقلی اور منطقی طور پر ثابت کرتی ہیں کہ یہ دنیا نا مکمل ہے۔ اس دنیا کے معاملات اور افعال کا ادھورا پن ایک دوسری دنیا کا تقاضا کرتا ہے جس میں اس دنیا کے تشنہ تکمیل رہ جانے والے معاملات پورے انصاف کے ساتھ اپنے اپنے منطقی انجام کو پہنچیں۔ اب ایک ایسا شخص جو فطرت سلیمہ کا مالک ہے ‘ اس کے شعور میں نیکی اور بدی کا ایک واضح اور غیر مبہم تصور موجود ہے ‘ وہ لازمی طور پر آخرت کے بارے میں مذکورہ منطقی نتیجے پر پہنچے گا اور پھر وہ قرآن کے تصور آخرت کو قبول کرنے میں بھی پس و پیش نہیں کرے گا ‘ مگر اس کے مقابلے میں ایک ایسا شخص جس کے شعور میں نیکی اور بدی کا واضح تصور موجود نہیں ‘ وہ قرآن کے تصور آخرت پر بھی دل سے یقین نہیں رکھتا اور فکر آخرت سے بےنیاز ہو کر غرور اور تکبر میں بھی مبتلا ہوچکا ہے ‘ اس کا دل پیغامِ حق کو قبول کرنے سے بھی منکر ہوگا۔ ایسے شخص کے سامنے حکیمانہ درس اور عالمانہ وعظ سب بےاثر ثابت ہوں گے۔

النحل 16:23

فَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّهُمْ مُّسْـتَكْبِرُوْنَ اس نکتے کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں آخرت کا یقین نہیں ہے وہ حق بات کو قبول کرنے سے کیوں جھجکتے ہیں اور ان کے اندر استکبار کیوں پیدا ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کا فلسفہ یہ ہے کہ جو شخص فطرت سلیمہ کا مالک ہے اس کے اندر اچھائی اور برائی کی تمیز موجود ہوتی ہے۔ اس کا دل اس حقیقت کا قائل ہوتا ہے کہ اچھائی کا اچھا بدلہ ملنا چاہیے اور برائی کا برا ع ”گندم از گندم بروید ‘ جو زجو !“یہی فلسفہ یا تصور منطقی طور پر ایمان بالآخرت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ مگر دنیا میں جب پوری طرح نیکی کی جزا اور برائی کی سزا ملتی ہوئی نظر نہیں آتی تو ایک صاحب شعور انسان لازماً سوچتا ہے کہ اعمال اور اس کے نتائج کے اعتبار سے دنیوی زندگی ادھوری ہے اور اس دنیا میں انصاف کی فراہمی کماحقہ ممکن ہی نہیں۔ مثلاً اگر ایکّ ستر سالہ بوڑھا ایک نوجوان کو قتل کر دے تو اس دنیا کا قانون اسے کیا سزا دے گا ؟ ویسے تو یہاں انصاف تک پہنچنے کے لیے بہت سے کٹھن مراحل طے کرنے پڑتے ہیں ‘ لیکن اگر یہ تمام مراحل طے کر کے انصاف مل بھی جائے تو قانون زیادہ سے زیادہ اس بوڑھے کو پھانسی پر لٹکا دے گا۔ لیکن کیا اس بوڑھے کی جان واقعی اس نوجوان مقتول کی جان کے برابر ہے ؟ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ وہ نوجوان تو اپنے خاندان کا واحد سہارا تھا ‘ اس کے چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہوئے ‘ ایک نوجوان عورت بیوہ ہوئی ‘ خاندان کا معاشی سہارا چھن گیا۔ اس طرح اس کے لواحقین اور خاندان کے لیے اس قتل کے اثرات کتنے گھمبیر ہوں گے اور کہاں کہاں تک پہنچیں گے ‘ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ دوسری طرف وہ بوڑھا شخص جو اپنی طبعی عمر گزار چکا تھا ‘ جس کے بچے خود مختار زندگیاں گزار رہے ہیں ‘ جس کی کوئی معاشی ذمہ داری بھی نہیں ہے ‘ اس کے پھانسی پر چڑھ جانے سے اس کے پس ماندگان پر ویسے اثرات مرتب نہیں ہوں گے جیسے اس نوجوان کی جان جانے سے اس کے پس ماندگان پر ہوئے تھے۔ ایسی صورت میں دنیا کا کوئی قانون مظلوم کو پورا پورا بدلہ دے ہی نہیں سکتا۔ ایسی مثالیں عقلی اور منطقی طور پر ثابت کرتی ہیں کہ یہ دنیا نا مکمل ہے۔ اس دنیا کے معاملات اور افعال کا ادھورا پن ایک دوسری دنیا کا تقاضا کرتا ہے جس میں اس دنیا کے تشنہ تکمیل رہ جانے والے معاملات پورے انصاف کے ساتھ اپنے اپنے منطقی انجام کو پہنچیں۔ اب ایک ایسا شخص جو فطرت سلیمہ کا مالک ہے ‘ اس کے شعور میں نیکی اور بدی کا ایک واضح اور غیر مبہم تصور موجود ہے ‘ وہ لازمی طور پر آخرت کے بارے میں مذکورہ منطقی نتیجے پر پہنچے گا اور پھر وہ قرآن کے تصور آخرت کو قبول کرنے میں بھی پس و پیش نہیں کرے گا ‘ مگر اس کے مقابلے میں ایک ایسا شخص جس کے شعور میں نیکی اور بدی کا واضح تصور موجود نہیں ‘ وہ قرآن کے تصور آخرت پر بھی دل سے یقین نہیں رکھتا اور فکر آخرت سے بےنیاز ہو کر غرور اور تکبر میں بھی مبتلا ہوچکا ہے ‘ اس کا دل پیغامِ حق کو قبول کرنے سے بھی منکر ہوگا۔ ایسے شخص کے سامنے حکیمانہ درس اور عالمانہ وعظ سب بےاثر ثابت ہوں گے۔

النحل 16:24

آیت 24 وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ نبی اکرم کی دعوت کا چرچا جب مکہ کے اطراف و اکناف میں ہونے لگا تو لوگ اہل مکہ سے پوچھتے کہ محمد جو کہہ رہے ہیں کہ مجھ پر اللہ کا کلام نازل ہوتا ہے تم لوگوں نے تو یہ کلام سنا ہے چناچہ تمہاری اس کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ اس کے مضامین کیا ہیں ؟قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ کہ یہ کلام تو بس پرانے قصے کہانیوں پر مشتمل ہے۔ یہ سب گزشتہ قوموں کے واقعات ہیں جو ادھر ادھر سے سن کر ہمیں سنا دیتے ہیں اور پھر ہم پر دھونس جماتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔

النحل 16:25

آیت 25 لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ یوں ان کے دل حق کی طرف مائل نہیں ہو رہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ روز قیامت وہ اپنی اس گمراہی اور سر کشی کے وبال میں گرفتار ہوں گے۔وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ یعنی قیامت کے دن وہ نہ صرف اپنی گمراہی کا خمیازہ بھگتیں گے بلکہ بہت سے دوسرے لوگوں کی گمراہی کا وبال بھی ان پر ڈالا جائے گا جنہیں اپنے نام نہاد ‘ دانشورانہ مشوروں سے انہوں نے گمراہ کیا ہوگا۔ جیسے قرب و جوار کے لوگ جب اہل مکہ سے اس کلام کے بارے میں پوچھتے تھے یا مکہ کے عام لوگ قرآن سے متاثر ہو کر اپنے سرداروں سے پوچھتے تھے کہ ان کی اس کلام کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ ایسی صورت میں یہ لوگ اپنے عوام کو یہ کہہ کر گمراہ کرتے تھے کہ ہاں ہم نے بھی یہ کلام سنا ہے اس میں کوئی خاص بات نہیں ہے بس سنی سنائی باتیں ہیں اور پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

النحل 16:26

آیت 26 قَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ان سے پہلے بھی مختلف اقوام کے لوگوں نے ہمارے انبیاء و رسل کی مخالفت کی تھی اور ان کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے آزمائے تھے اور سازشیں کی تھیں۔فَاَتَى اللّٰهُ بُنْيَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَــرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ جب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آیا تو مخالفین کی تمام سازشوں کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا گیا اور ان کی بستیوں کو تلپٹ کردیا گیا۔ سدوم اور عامورہ کی بستیوں کے بارے میں ہم پڑھ آئے ہیں : فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ہود : 82 ”پھر جب آگیا ہمارا حکم تو ہم نے کردیا اس کے اوپر والے حصے کو اس کا نیچے والا“۔ یعنی اس کو تہ وبالا کردیا۔ اس سلسلے میں قرآن حکیم کے اندر تو صرف انہی چند اقوام کا ذکر آیا ہے جن سے اہل عرب واقف تھے ‘ ورنہ رسول تو ہر علاقے اور ہر قوم میں آتے رہے ہیں ‘ ازروئے الفاظ قرآنی : وَلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ الرعد ”اور ہر قوم کے لیے ایک راہنما ہے۔“ خود ہندوستان کے علاقے میں بھی بہت سے انبیاء ورسل کے مبعوث ہونے کے آثار ملتے ہیں۔ ہریانہ ‘ ضلع حصار ‘ جس علاقے میں میرا بچپن گزرا وہاں مختلف مقامات پر سیاہ رنگ کی راکھ کے بڑے بڑے ٹیلے موجود تھے جن کی کھدائی کے دوران بستیوں کے آثار ملتے تھے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے یہ اپنے زمانے کی پر رونق بستیاں تھیں ان کے باشندوں نے اپنے رسولوں کی نافرمانیاں کیں اور انہیں عذاب خداوندی نے جلا کر بھسم کر ڈالا۔ جس طرح پومپیائی پر لاوے کی بارش ہوئی اور پوری بستی جلتے ہوئے لاوے کے اندر دب گئی۔ اس علاقے میں دریائے سرسوتی بہتا تھا جو ہندوستان کا ایک بہت بڑا دریا تھا اور اسے مقدس مانا جاتا تھا دریائے گنگا بہت بعد کے زمانے میں وجود میں آیا آج دریائے سرسوتی کا کچھ پتا نہیں چلتا کہ یہ کہاں کہاں سے گزرتا تھا اور ماہرین آثار قدیمہ اس کی گزر گاہ تلاش کر رہے ہیں۔ یہ سب آثار بتاتے ہیں کہ ہندوستان کے اندر مختلف زمانوں میں انبیاء و رسل آئے اور ان کی نافرمانیوں کے سبب ان کی قومیں اللہ کے عذاب کا شکار ہوئیں۔ ان آثار کی شہادتوں کے علاوہ کچھ ایسے مکاشفات بھی ہیں کہ مشرقی پنجاب کے جس علاقے میں شیخ احمد سرہندی کا مدفن ہے اس علاقے میں تیس انبیاء مدفون ہیں۔ واللہ اعلم !

النحل 16:27

آیت 27 ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يُخْــزِيْهِمْ وَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تُشَاۗقُّوْنَ فِيْهِمْ قیامت کے دن انہیں مزید رسوا کرنے کے لیے ان سے پوچھا جائے گا کہ آج تمہارے وہ من گھرٹ معبود کہاں ہیں جن کی حمایت اور حمیت کی وجہ سے تم بڑی بڑی جنگیں لڑنے پر تیار ہوجاتے تھے ؟

النحل 16:28

آیت 28 الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ایسے لوگ جنہیں اپنی زندگی میں اللہ یاد ہے نہ آخرت نیکی کی رغبت ہے نہ برائی سے نفرت بس اپنی عیش کوشی اور نفس پرستی میں مگن ہیں۔ اسی حالت میں جب فرشتے ان کے پاس پروانۂ موت لے کر آ دھمکیں گے :بَلٰٓى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ موت کے فرشتوں کے سامنے وہ سرتسلیم خم کرتے ہوئے اپنے اسلام اور اطاعت کا اظہار کریں گے اور اس طرح ان کے سامنے بھی جھوٹ بولنے کی کوشش کریں گے۔

النحل 16:29

آیت 28 الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ایسے لوگ جنہیں اپنی زندگی میں اللہ یاد ہے نہ آخرت نیکی کی رغبت ہے نہ برائی سے نفرت بس اپنی عیش کوشی اور نفس پرستی میں مگن ہیں۔ اسی حالت میں جب فرشتے ان کے پاس پروانۂ موت لے کر آ دھمکیں گے :بَلٰٓى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ موت کے فرشتوں کے سامنے وہ سرتسلیم خم کرتے ہوئے اپنے اسلام اور اطاعت کا اظہار کریں گے اور اس طرح ان کے سامنے بھی جھوٹ بولنے کی کوشش کریں گے۔

النحل 16:30

آیت 30 وَقِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا مَاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں جن کے دلوں میں اخلاقی حس بیدار اور جن کی روحیں زندہ ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ محمد رسول اللہ جو کلام آپ لوگوں کو سناتے ہیں وہ کیا ہے ؟قَالُوْا خَیْرًا یعنی یہ کلام خیرہی خیر ہے اور ہماری ہی بھلائی کے لیے نازل ہوا ہے۔

النحل 16:31

آیت 30 وَقِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا مَاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں جن کے دلوں میں اخلاقی حس بیدار اور جن کی روحیں زندہ ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ محمد رسول اللہ جو کلام آپ لوگوں کو سناتے ہیں وہ کیا ہے ؟قَالُوْا خَیْرًا یعنی یہ کلام خیرہی خیر ہے اور ہماری ہی بھلائی کے لیے نازل ہوا ہے۔

النحل 16:32

آیت 32 الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ طَيِّبِيْنَ جن کی روحیں پاکیزہ اور جن کی زندگیاں تقویٰ کی آئینہ دار ہوتی ہیں جب ان کے پاس موت کے فرشتے آتے ہیں تو :

النحل 16:33

آیت 33 هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ اَمْرُ رَبِّكَ گزشتہ بارہ برس سے رسول اللہ قریش مکہ کو دعوت دے رہے ہیں ‘ دو تہائی کے قریب قرآن بھی اب تک نازل ہوچکا ہے۔ چناچہ ان لوگوں کو اب مزید کس چیز کا انتظار ہے ؟ اب تو بس یہی مرحلہ باقی رہ گیا ہے کہ فرشتے اللہ کا فیصلہ لے کر پہنچ جائیں اور وہ نقشہ سامنے آجائے جس کی جھلک سورة الفجر میں اس طرح دکھائی گئی ہے : وَجَآءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِایْٓءَ یَوْمَءِذٍم بِجَہَنَّمَلا یَوْمَءِذٍ یَّتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی ”اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف بہ صف۔ اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن ہوش آئے گا انسان کو مگر کیا فائدہ ہوگا تب اسے اس ہوش کا !“ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ جن گزشتہ اقوام کے عبرت ناک انجام کے بارے میں تفصیلات قرآن میں بتائی جا رہی ہیں انہیں ان کے اپنے کرتوتوں کی سزا ملی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر قطعاً ظلم نہیں ہوا تھا۔

النحل 16:34

آیت 33 هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ اَمْرُ رَبِّكَ گزشتہ بارہ برس سے رسول اللہ قریش مکہ کو دعوت دے رہے ہیں ‘ دو تہائی کے قریب قرآن بھی اب تک نازل ہوچکا ہے۔ چناچہ ان لوگوں کو اب مزید کس چیز کا انتظار ہے ؟ اب تو بس یہی مرحلہ باقی رہ گیا ہے کہ فرشتے اللہ کا فیصلہ لے کر پہنچ جائیں اور وہ نقشہ سامنے آجائے جس کی جھلک سورة الفجر میں اس طرح دکھائی گئی ہے : وَجَآءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِایْٓءَ یَوْمَءِذٍم بِجَہَنَّمَلا یَوْمَءِذٍ یَّتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی ”اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف بہ صف۔ اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن ہوش آئے گا انسان کو مگر کیا فائدہ ہوگا تب اسے اس ہوش کا !“ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ جن گزشتہ اقوام کے عبرت ناک انجام کے بارے میں تفصیلات قرآن میں بتائی جا رہی ہیں انہیں ان کے اپنے کرتوتوں کی سزا ملی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر قطعاً ظلم نہیں ہوا تھا۔

النحل 16:35

آیت 35 وَقَالَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ نَّحْنُ وَلَآ اٰبَاۗؤُنَاان کی دلیل یہ تھی کہ اس دنیا میں تو جو اللہ چاہتا ہے وہی کچھ ہوتا ہے ‘ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ہے۔ اگر وہ چاہتا کہ ہم کوئی دوسرے معبود نہ بنائیں اور ان کی پرستش نہ کریں ‘ تو کیسے ممکن تھا کہ ہم ایسا کر پاتے ؟ چناچہ اگر اللہ نے ہمیں اس سے روکا نہیں ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس میں اس کی مرضی شامل ہے اور اس کی طرف سے ہمیں ایسا کرنے کی اجازت ہے۔فَهَلْ عَلَي الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ ہمارے رسول اس قسم کی کٹ حجتی اور کج بحثی میں نہیں الجھتے۔ ان کی ذمہ داری ہمارا پیغام واضح طور پر پہنچا دینے کی حد تک ہے اور یہ ذمہ داری ہمارے رسول ہمیشہ سے پوری کرتے آئے ہیں۔ پیغام پہنچ جانے کے بعد اسے تسلیم کرنا یا نہ کرنا متعلقہ قوم کا کام ہے ‘ جس کے لیے ان کا ایک ایک فرد ہمارے سامنے جوابدہ ہے۔

النحل 16:36

آیت 36 وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ طاغوت کا لفظ ’ طغٰی ‘ سے مشتق ہے جس کے معنی سرکشی کے ہیں۔ لہٰذا جو کوئی اللہ کی بندگی اور اطاعت سے سرکشی اور سرتابی کر رہا ہو وہ طاغوت ہے چاہے وہ انسان ہو یا جن کسی ریاست کا کوئی ادارہ ہو آئین ہو یا خود ریاست ہو۔ بہر حال جو بھی اللہ کی اطاعت سے سرتابی کر کے اس کی بندگی سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا وہ گویا اللہ کے مقابلے میں حاکمیت کا دعویدار ہوگا اور اسی لیے طاغوت کے زمرے میں شمار ہوگا۔ طاغوت سے کنارہ کشی کا حکم سورة البقرۃ کی آیت 256 میں اس طرح آیا ہے : فَمَنْ یَّکْفُرْ بالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْم باللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰیق لاَ انْفِصَامَ لَہَا ”جس کسی نے کفر کیا طاغوت سے اور ایمان لایا اللہ پر تو یقیناً اس نے تھام لیا ایک مضبوط حلقہ جس کو ٹوٹنا نہیں ہے۔“ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ تم اپنے تجارتی قافلوں کے ساتھ اصحاب حجر کی بستیوں سے بھی گزرتے ہو تم نے قوم ثمود کے محلات کے کھنڈرات بھی دیکھے ہیں۔ تم قوم مدین کے انجام سے بھی واقف ہو اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ سدوم اور عامورہ کی بستیوں کے ساتھ کیا معاملہ ہوا تھا۔ یہ تمام تاریخی حقائق تمہارے علم میں ہیں اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ ان سب کو کس جرم کی سزا بھگتنا پڑی تھی۔

النحل 16:37

آیت 37 اِنْ تَحْرِصْ عَلٰي هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ يُّضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ اس سلسلے میں اللہ کا قانون اٹل ہے۔ اللہ کی طرف سے لوگوں تک حق کی دعوت پہنچانے کا پورا بندوبست کیا جاتا ہے ان پر ہدایت منکشف کی جاتی ہے اور بار بار انہیں موقع دیا جاتا ہے کہ وہ سیدھے راستے پر آجائیں۔ لیکن اگر کوئی شخص حق کو واضح طور پر پہچان لینے کے بعد ہر بار اسے رد کر دے تو اس سے ہدایت کی توفیق سلب کرلی جاتی ہے۔ پھر وہ حق کو پہچاننے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے اور اس کی گمراہی پر مہر تصدیق ثبت ہوجاتی ہے۔ ایسے لوگوں ہی کے متعلق سورة البقرۃ کی آیت 7 میں فرمایا گیا ہے : خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰي سَمْعِهِمْ ۭ وَعَلٰٓي اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ”اللہ نے مہر لگا دی ہے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر ‘ اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ چکا ہے“۔ چناچہ اسی قسم کے لوگوں کے بارے میں آیت زیر نظر میں فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! آپ کی شدید خواہش ہے کہ یہ لوگ ایمان لا کر راہ ہدایت پر آجائیں ‘ مگر چونکہ یہ حق کو اچھی طرح پہچان لینے کے بعد اس سے روگردانی کرچکے ہیں اس لیے ان کی گمراہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ صادر ہوچکا ہے ‘ اور اللہ کا اٹل قانون ہے کہ وہ ایسے گمراہوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ سورة القصص کی آیت 56 میں اسی اصول کو واضح تر انداز میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ”اے نبی ! بیشک آپ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو آپ چاہیں بلکہ اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے۔“

النحل 16:38

آیت 38 وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ يَّمُوْتُ مشرکین مکہ اگرچہ عمومی طور پر مرنے کے بعد دوسری زندگی کے قائل تھے مگر ان کا اس سلسلہ میں عقیدہ یہ تھا کہ جن بتوں کی وہ پوجا کرتے ہیں وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے ان کے سفارشی ہوں گے اور اس طرح روز حشر کی تمام سختیوں سے وہ انہیں بچا لیں گے۔ لیکن ان کے ہاں ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا۔ ان لوگوں کے اس عقیدہ کا تذکرہ قرآن میں متعدد بار ہوا ہے۔ سورة الانعام میں ان لوگوں کا قول اس طرح نقل کیا گیا ہے : وَقَالُوْٓا اِنْ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ ”اور وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے یہ ہماری زندگی مگر صرف دنیا کی اور ہم دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔“

النحل 16:39

آیت 39 لِيُـبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيْ يَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ وَلِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِيْنَ اللہ تعالیٰ پوری نوع انسانی کے ایک ایک فرد کو دوبارہ اٹھائے گا اور انہیں ایک جگہ جمع کرے گا۔ پھر ان کے تمام اختلافی نظریات و عقائد کے بارے میں حتمی طور پر انہیں بتادیا جائے گا۔ چناچہ اس وقت تمام منکرین حق کو اقرار کیے بغیر چارہ نہ رہے گا کہ ان کے خیالات و نظریات واقعی جھوٹ اور باطل پر مبنی تھے۔

النحل 16:40

آیت 40 اِنَّمَا قَوْلُــنَا لِشَيْءٍ اِذَآ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے کہ یہ حکم عالم امر کے بارے میں ہے جبکہ عالم خلق میں یوں نہیں ہوتا عالم امر اور عالم خلق کے بارے میں وضاحت اس سورة کی آیت 2 اور سورة الاعراف کی آیت 54 کے ضمن میں گزر چکی ہے۔ عالم امر میں کسی واقعے یا کسی چیز کے ظہور پذیر ہونے کے لیے اسباب وسائل اور وقت درکار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ارادہ فرماکر کن فرماتے ہیں تو وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔ عالم خلق میں بھی کلی اختیار تو اللہ ہی کا ہے مگر اس عالم کو عام طبعی قوانین کے مطابق چلایا جاتا ہے۔ چناچہ عالم خلق میں کسی چیز کو وجود میں آنے اور مطلوبہ معیار تک پہنچنے کے لیے اسباب وسائل اور وقت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہ کائنات اپنے تمام طبعی موجودات کے ساتھ عالم خلق کا اظہار ہے۔ آیت زیر نظر کے موضوع کی مناسبت سے یہاں میں کائنات کی تخلیق کے آغاز سے متعلق اپنی سوچ اور فکر کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔کائنات کی تخلیق کے بارے میں ایک طرف تو پرانے فلسفیانہ تصورات ہیں اور دوسری طرف جدید سائنسی نظریات theories۔ فلسفیانہ تصورات کے مطابق سب سے پہلے وجود باری تعالیٰ سے عقل اوّل وجود میں آئی۔ عقلِ اوّل سے پھر فلکِ اوّل اور پھر فلکِ اوّل سے فلک ثانی وغیرہ۔ یہ مشائین کے فلسفے ہیں جو ارسطو اور اس کے شاگردوں کے نظریات کے ساتھ دنیا میں پھیلے اور ہمارے ہاں بھی بہت سے متکلمین ان سے متاثر ہوئے۔ بہر حال جدید سائنسی انکشافات کے ذریعے ان میں سے کسی بھی نظریے کی کہیں کوئی تائید و تصدیق نہیں ہوئی۔ دوسری طرف جدید فزکس کے میدان میں اعلیٰ علمی سطح پر اس سلسلے میں جتنے بھی نظریات theories ہیں ان میں ”عظیم دھماکے“ Big Bang کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس تصور کے تحت Big Bang کے نتیجے میں ارب ہا ارب درجہ حرارت کے حامل بیشمار ذرات وجود میں آئے۔ یہ ذرات تیزی سے حرکت کرتے ہوئے مختلف forms میں اکٹھے ہوئے تو کہکشائیں galaxies وجود میں آئیں اور چھوٹے بڑے بیشمار ستاروں کا ایک جہان آباد ہوگیا۔ انہی ستاروں میں ایک ہمارا سورج بھی تھا جس کے اندر مزید ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں اس کے سیارے planets وجود میں آئے۔ سورج کے ان سیاروں میں سے ایک سیارہ ہماری زمین ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی ہوتی رہی اور بالآخر اس پر نباتاتی اور حیوانی زندگی کے لیے سازگار ماحول وجود میں آیا۔ آج کی سائنس فی الحال ”بگ بینگ“ سے آگے کوئی نظریہ قائم کرنے سے قاصر ہے۔ اس نظریے سے جو معلومات سائنس نے اخذ کی ہیں وہ ان تمام حقائق کے ساتھ مطابقت corroboration رکھتی ہیں جن کا علم اس موضوع پر ہمیں قرآن سے ملتا ہے۔ اس سے پہلے مادے کے بارے میں سائنس قانون بقائے مادہ Law of conservation of mass کی قائل تھی کہ مادہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا مگر نئے نظریے کو اپنا کر سائنس نے نہ صرف بگ بینگ کو کائنات کا نقطہ آغاز تسلیم کرلیا ہے بلکہ یہ بھی مان لیا ہے کہ مادہ ایک خاص وقت تک کے لیے ہے اور ایک خاص وقت کے بعد ختم ہوجائے گا۔جہاں تک کا ئنات کی تخلیق کے آغاز کے بارے میں میری اپنی سوچ کا تعلق ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کی تخلیق اللہ تعالیٰ کے ایک امر ”کُن“ سے ہوئی اللہ کے حکم سے نہ کہ اس کی ذات سے۔ پھر اس امر ”کن“ کا ظہور ایک خنک نور یا ٹھنڈی روشنی کی صورت میں ہوا یہ خنک نور حرف کن کا ظہور تھا نہ کہ ذات باری تعالیٰ کا۔ اس روشنی میں حرارت نہیں تھی گویا یہ مادی روشنی material light کے وجود میں آنے سے پہلے کا دور تھا۔ آج جس روشنی کو ہم دیکھتے یا پہچانتے ہیں اس میں حرارت ہوتی ہے اور اسی حرارت کی وجہ سے یہ material light ہے۔ امرِ ”کن“ سے ظہور پانے والے اس خنک نور سے پہلے مرحلے پر ملائکہ کی پیدائش ہوئی۔ جیسے کہ مسلم شریف میں حضرت عائشہ سے حدیث مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو نور سے پیدا کیا۔ اسی نور سے انسانی ارواح پیدا کی گئیں اور سب سے پہلے روح محمدی پیدا کی گئی جیسا کہ حدیث میں الفاظ آئے ہیں : اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ نُوْرِیْ 1 یعنی اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرا نور پیدا کیا۔ ”نُورِی“ اور ”رُوحِی“ گویا دو مترادف الفاظ ہیں کیونکہ روح کا تعلق بھی نور سے ہے۔ بہرحال یہ کائنات کی تخلیق کا مرحلہ اول ہے جس میں فرشتوں اور انسانی ارواح کی تخلیق ہوئی۔اس کے بعد کسی مرحلے پر اس خنک نور میں کسی نوعیت کا زور دار دھماکہ explosion ہوا جس کو آج کی سائنس ”بگ بینگ“ کے نام سے پہچانتی ہے۔ اس دھماکے کے نتیجے میں حرارت کا وہ گولا وجود میں آیا ‘ جو بہت چھوٹے چھوٹے ذرات پر مشتمل تھا۔ ان ذرات کا درجہ حرارت ناقابل تصور حد تک تھا۔ یہ گویا طبعی دنیا Physical World کا نقطہ آغاز تھا۔ اسی دور میں اس آگ کی لپٹ سے ِ جنات پیدا کیے گئے اور انہی انتہائی گرم ذرات سے کہکشائیں ‘ ستارے اور سیارے وجود میں آئے۔ ان سیاروں میں سے ایک سیارہ یا کرہ ہماری زمین ہے جو ابتدا میں انتہائی گرم تھی۔ اس کے ٹھنڈا ہونے پر اس کے اندر سے بخارات نکلے جو اس کے گرد ایک ہالے کی شکل میں جمع ہوگئے۔ ان بخارات سے پانی وجود میں آیا جو ہزار ہا برس تک زمین پر بارش کی صورت میں برستا رہا۔ اس کے نتیجے میں تمام روئے زمین پر ہر طرف پانی ہی پانی پھیل گیا۔ اس وقت تک زمین پر پانی کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ یہی وہ دور تھا جس کا ذکر قرآن میں بایں الفاظ کیا گیا ہے : وَکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآءِ ھود : 7 ”کہ اس کا عرش اس وقت پانی پر تھا“۔ پھر زمین جب مزید ٹھنڈا ہونے پر سکڑی تو اس کی سطح پر نشیب و فراز نمودار ہوئے۔ کہیں پہاڑ وجود میں آئے تو کہیں سمندر۔ اس کے بعد نباتاتی اور حیوانی حیات کا آغاز ہو۔ اس حیات کے ارتقاء کے بلند ترین مرحلے پر انسان کی تخلیق ہوئی اور حضرت آدم کی روح ان کے وجود کو سونپی گئی۔ حضرت آدم کی تاجپوشی کا یہی واقعہ ہے جہاں سے قرآن آدم کی تخلیق کا تذکرہ کرتا ہے۔ اس لحاظ سے انسان اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا اعلیٰ ترین شاہکار بھی ہے اور اس پوری کائنات کی تخلیق کا اصل مقصود و مطلوب بھی۔ یہاں ایک نکتہ یہ بھی سمجھ لیں کہ عالم خلق اور عالم امر بالکل الگ الگ نہیں ہیں۔ یعنی یوں نہیں کہا جاسکتا کہ یہاں تک تو عالم خلق ہے اور یہاں سے آگے عالم امر ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ دونوں عالم ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط اور باہم گندھے ہوئے ہیں۔ مثلاً اس عالم خلق میں تمام انسانوں کی ارواح موجود ہیں ‘ جن کا تعلق عالم امر سے ہے : وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ بنی اسرائیل : 85 یہ آیت واضح کرتی ہے کہ روح کا تعلق عالم امر سے ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ”حجۃ اللہ البالغہ“ میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض نیک بندوں کی ارواح کو فرشتوں کے طبقہ اسفل میں شامل کرلیتے ہیں۔ چناچہ یہ نیک ارواح ان فرشتوں کے ساتھ سرگرم عمل رہتی ہیں جو اللہ کے احکام کی تعمیل و تنفیذ میں مصروف ہیں۔ اسی طرح فرشتے جو کہ عالم امر کی مخلوق ہیں وہ بھی یہاں عالم خلق میں ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ دو دو فرشتے تو ہم میں سے ہر انسان کے ساتھ بطور نگران مقرر کیے گئے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِیْ بَیْتٍ مِنْ بُیُوْتِ اللّٰہِ یَتْلُوْنَ کِتَاب اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُوْنَہٗ بَیْنَھُمْ الاَّ نَزَلَتْ عَلَیْھِمُ السَّکِیْنَۃُ وَغَشِیَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ وَحَفَّتْھُمُ الْمَلَاءِکَۃُ وَذَکَرَھُمُ اللّٰہُ فِیْمَنْ عِنْدَہٗ 1”اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں کچھ لوگ کتاب اللہ کی تلاوت اور اس کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے جمع نہیں ہوتے مگر یہ کہ ان کے اوپر سکینت نازل ہوتی ہے ‘ اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے ‘ فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقربین ملأ اعلیٰ میں ان کا ذکر کرتا ہے۔“ اس حدیث کی رو سے درس قرآن کی اس محفل میں یقیناً فرشتے موجود ہیں ‘ وہ عالم امر کی شے ہیں ‘ ہم نہ انہیں دیکھ سکتے ہیں نہ ان سے خطاب کرسکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اہل ایمان جنات بھی موجود ہوں اور قرآن سن رہے ہوں۔ چناچہ ارواح فرشتے اور وحی تینوں کا تعلق اگرچہ عالم امر سے ہے مگر ان کا عمل دخل عالم خلق میں بھی ہے۔ اس طرح عالم خلق اور عالم امر کو بالکل الگ الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں میں مرزا عبدالقادر بیدل کے ایک مشہور شعر کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جو تخلیق کائنات اور تخلیق آدم کے اس فلسفہ کو بہت خوبصورتی سے واضح کرتا ہے :ہر دو عالم خاک شد تا بست نقش آدمی اے بہار نیستی از قدر خود ہشیار باش !مرزا عبدالقادر بیدل ہندوستان میں اور نگ زیب عالمگیر کے زمانے میں تھے۔ وہ عظیم فلسفی اور فارسی کے بہت بڑے شاعر تھے۔ ان کا شمار دنیا کے چوٹی کے فلسفیوں میں ہوتا تھا۔ ان کی شاعرانہ عظمت کے سامنے مرزا غالب بھی پانی بھرتے اور ان کی طرز کو اپنانے میں فخر محسوس کرتے نظر آتے ہیں : طرز بیدل میں ریختہ لکھنا اسد اللہ خاں قیامت ہے !موضوع کی اہمیت کے پیش نظر یہاں مرزا بیدل کے مندرجہ بالا شعر کی وضاحت ضروری ہے۔ اس شعر میں وہ فرماتے ہیں ”ہر دو عالم خاک شد“ یعنی دونوں عالم خاک ہوگئے۔ شاعر کے اپنے ذہن میں اس کی وضاحت کیا تھی اس کے بارے میں شاعر خود جانتا ہے یا اللہ تعالیٰ۔ لیکن میں اس سے یہ نکتہ سمجھا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے عالم امر کو تنزل کے مختلف مراحل سے گزار کر عالم خلق کی شکل دی۔ پھر اس کے مزید تنزلات کے نتیجے میں زمین مٹی پیدا کی گئی۔ گویا دونوں جہانوں نے خاک کی صورت اختیار کرلی تب جا کر کہیں حیات ارضی کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر اس سلسلے میں ارتقا کا وہ بلند ترین مرحلہ آیا : ”تابست نقش آدمی !“ جب آدمی کا نقش بننا شروع ہوا۔ دوسرے مصرعے میں اے بہار نیستی از قدر خود ہشیار باش ! ”نیست“ کے فلسفے کو بھی اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ”وحدت الوجود“ کے فلسفے کے مطابق حقیقی وجود صرف اللہ کا ہے ‘ باقی جو کچھ بھی ہمیں نظر آتا ہے اس میں سے کسی چیز کا وجود حقیقی نہیں ہے۔ گویا اللہ کے علاوہ اس کائنات کی ہرچیز ”نیست“ ہے ”ہست“ نہیں ہے : کُلُّ مَا فِی الْکَوْنِ وَ ھْمٌ اَوْ خَیَالٌ اَوْ عُکُوسٌ فِی المَرایَا اَوْ ظِلَال یعنی اللہ کے وجود کے علاوہ جو وجود بھی نظر آتے ہیں وہ وہم ہیں یا خیالی تصویریں۔ اس طرح یہ تمام عالم گویا ”نیست“ ہے اور اس عالم نیست کی ”بہار“ انسان ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : خَلَقْتُ بِیَدَیَّ صٓ: 75 کہ میں نے اسے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے۔ اللہ کا ایک ہاتھ گویا عالم امر اور دوسرا ہاتھ عالم خلق ہے۔ اس طرح انسان اللہ تعالیٰ کے عمل تخلیق کا کلائمکس ‘ مسجود ملائک اور خلیفۃ اللہ ہے۔ چناچہ مرزا بیدل فرماتے ہیں اے بہار نیستی از قدر خود ہوشیار باش ! کہ اے انسان ! اے اس عالم نیستی کی بہار ! ذرا اپنے مقام و مرتبہ کو پہچانو ! تمہیں وجود میں لانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دو عالم کو نہ جانے تنزلات کی کن کن منازل سے نیچے اتار کر خاک کیا ‘ تب کہیں جا کر تمہارا نقش بنا۔

النحل 16:41

آیت 40 اِنَّمَا قَوْلُــنَا لِشَيْءٍ اِذَآ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے کہ یہ حکم عالم امر کے بارے میں ہے جبکہ عالم خلق میں یوں نہیں ہوتا عالم امر اور عالم خلق کے بارے میں وضاحت اس سورة کی آیت 2 اور سورة الاعراف کی آیت 54 کے ضمن میں گزر چکی ہے۔ عالم امر میں کسی واقعے یا کسی چیز کے ظہور پذیر ہونے کے لیے اسباب وسائل اور وقت درکار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ارادہ فرماکر کن فرماتے ہیں تو وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔ عالم خلق میں بھی کلی اختیار تو اللہ ہی کا ہے مگر اس عالم کو عام طبعی قوانین کے مطابق چلایا جاتا ہے۔ چناچہ عالم خلق میں کسی چیز کو وجود میں آنے اور مطلوبہ معیار تک پہنچنے کے لیے اسباب وسائل اور وقت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہ کائنات اپنے تمام طبعی موجودات کے ساتھ عالم خلق کا اظہار ہے۔ آیت زیر نظر کے موضوع کی مناسبت سے یہاں میں کائنات کی تخلیق کے آغاز سے متعلق اپنی سوچ اور فکر کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔کائنات کی تخلیق کے بارے میں ایک طرف تو پرانے فلسفیانہ تصورات ہیں اور دوسری طرف جدید سائنسی نظریات theories۔ فلسفیانہ تصورات کے مطابق سب سے پہلے وجود باری تعالیٰ سے عقل اوّل وجود میں آئی۔ عقلِ اوّل سے پھر فلکِ اوّل اور پھر فلکِ اوّل سے فلک ثانی وغیرہ۔ یہ مشائین کے فلسفے ہیں جو ارسطو اور اس کے شاگردوں کے نظریات کے ساتھ دنیا میں پھیلے اور ہمارے ہاں بھی بہت سے متکلمین ان سے متاثر ہوئے۔ بہر حال جدید سائنسی انکشافات کے ذریعے ان میں سے کسی بھی نظریے کی کہیں کوئی تائید و تصدیق نہیں ہوئی۔ دوسری طرف جدید فزکس کے میدان میں اعلیٰ علمی سطح پر اس سلسلے میں جتنے بھی نظریات theories ہیں ان میں ”عظیم دھماکے“ Big Bang کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس تصور کے تحت Big Bang کے نتیجے میں ارب ہا ارب درجہ حرارت کے حامل بیشمار ذرات وجود میں آئے۔ یہ ذرات تیزی سے حرکت کرتے ہوئے مختلف forms میں اکٹھے ہوئے تو کہکشائیں galaxies وجود میں آئیں اور چھوٹے بڑے بیشمار ستاروں کا ایک جہان آباد ہوگیا۔ انہی ستاروں میں ایک ہمارا سورج بھی تھا جس کے اندر مزید ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں اس کے سیارے planets وجود میں آئے۔ سورج کے ان سیاروں میں سے ایک سیارہ ہماری زمین ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی ہوتی رہی اور بالآخر اس پر نباتاتی اور حیوانی زندگی کے لیے سازگار ماحول وجود میں آیا۔ آج کی سائنس فی الحال ”بگ بینگ“ سے آگے کوئی نظریہ قائم کرنے سے قاصر ہے۔ اس نظریے سے جو معلومات سائنس نے اخذ کی ہیں وہ ان تمام حقائق کے ساتھ مطابقت corroboration رکھتی ہیں جن کا علم اس موضوع پر ہمیں قرآن سے ملتا ہے۔ اس سے پہلے مادے کے بارے میں سائنس قانون بقائے مادہ Law of conservation of mass کی قائل تھی کہ مادہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا مگر نئے نظریے کو اپنا کر سائنس نے نہ صرف بگ بینگ کو کائنات کا نقطہ آغاز تسلیم کرلیا ہے بلکہ یہ بھی مان لیا ہے کہ مادہ ایک خاص وقت تک کے لیے ہے اور ایک خاص وقت کے بعد ختم ہوجائے گا۔جہاں تک کا ئنات کی تخلیق کے آغاز کے بارے میں میری اپنی سوچ کا تعلق ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کی تخلیق اللہ تعالیٰ کے ایک امر ”کُن“ سے ہوئی اللہ کے حکم سے نہ کہ اس کی ذات سے۔ پھر اس امر ”کن“ کا ظہور ایک خنک نور یا ٹھنڈی روشنی کی صورت میں ہوا یہ خنک نور حرف کن کا ظہور تھا نہ کہ ذات باری تعالیٰ کا۔ اس روشنی میں حرارت نہیں تھی گویا یہ مادی روشنی material light کے وجود میں آنے سے پہلے کا دور تھا۔ آج جس روشنی کو ہم دیکھتے یا پہچانتے ہیں اس میں حرارت ہوتی ہے اور اسی حرارت کی وجہ سے یہ material light ہے۔ امرِ ”کن“ سے ظہور پانے والے اس خنک نور سے پہلے مرحلے پر ملائکہ کی پیدائش ہوئی۔ جیسے کہ مسلم شریف میں حضرت عائشہ سے حدیث مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو نور سے پیدا کیا۔ اسی نور سے انسانی ارواح پیدا کی گئیں اور سب سے پہلے روح محمدی پیدا کی گئی جیسا کہ حدیث میں الفاظ آئے ہیں : اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ نُوْرِیْ 1 یعنی اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرا نور پیدا کیا۔ ”نُورِی“ اور ”رُوحِی“ گویا دو مترادف الفاظ ہیں کیونکہ روح کا تعلق بھی نور سے ہے۔ بہرحال یہ کائنات کی تخلیق کا مرحلہ اول ہے جس میں فرشتوں اور انسانی ارواح کی تخلیق ہوئی۔اس کے بعد کسی مرحلے پر اس خنک نور میں کسی نوعیت کا زور دار دھماکہ explosion ہوا جس کو آج کی سائنس ”بگ بینگ“ کے نام سے پہچانتی ہے۔ اس دھماکے کے نتیجے میں حرارت کا وہ گولا وجود میں آیا ‘ جو بہت چھوٹے چھوٹے ذرات پر مشتمل تھا۔ ان ذرات کا درجہ حرارت ناقابل تصور حد تک تھا۔ یہ گویا طبعی دنیا Physical World کا نقطہ آغاز تھا۔ اسی دور میں اس آگ کی لپٹ سے ِ جنات پیدا کیے گئے اور انہی انتہائی گرم ذرات سے کہکشائیں ‘ ستارے اور سیارے وجود میں آئے۔ ان سیاروں میں سے ایک سیارہ یا کرہ ہماری زمین ہے جو ابتدا میں انتہائی گرم تھی۔ اس کے ٹھنڈا ہونے پر اس کے اندر سے بخارات نکلے جو اس کے گرد ایک ہالے کی شکل میں جمع ہوگئے۔ ان بخارات سے پانی وجود میں آیا جو ہزار ہا برس تک زمین پر بارش کی صورت میں برستا رہا۔ اس کے نتیجے میں تمام روئے زمین پر ہر طرف پانی ہی پانی پھیل گیا۔ اس وقت تک زمین پر پانی کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ یہی وہ دور تھا جس کا ذکر قرآن میں بایں الفاظ کیا گیا ہے : وَکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآءِ ھود : 7 ”کہ اس کا عرش اس وقت پانی پر تھا“۔ پھر زمین جب مزید ٹھنڈا ہونے پر سکڑی تو اس کی سطح پر نشیب و فراز نمودار ہوئے۔ کہیں پہاڑ وجود میں آئے تو کہیں سمندر۔ اس کے بعد نباتاتی اور حیوانی حیات کا آغاز ہو۔ اس حیات کے ارتقاء کے بلند ترین مرحلے پر انسان کی تخلیق ہوئی اور حضرت آدم کی روح ان کے وجود کو سونپی گئی۔ حضرت آدم کی تاجپوشی کا یہی واقعہ ہے جہاں سے قرآن آدم کی تخلیق کا تذکرہ کرتا ہے۔ اس لحاظ سے انسان اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا اعلیٰ ترین شاہکار بھی ہے اور اس پوری کائنات کی تخلیق کا اصل مقصود و مطلوب بھی۔ یہاں ایک نکتہ یہ بھی سمجھ لیں کہ عالم خلق اور عالم امر بالکل الگ الگ نہیں ہیں۔ یعنی یوں نہیں کہا جاسکتا کہ یہاں تک تو عالم خلق ہے اور یہاں سے آگے عالم امر ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ دونوں عالم ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط اور باہم گندھے ہوئے ہیں۔ مثلاً اس عالم خلق میں تمام انسانوں کی ارواح موجود ہیں ‘ جن کا تعلق عالم امر سے ہے : وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ بنی اسرائیل : 85 یہ آیت واضح کرتی ہے کہ روح کا تعلق عالم امر سے ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ”حجۃ اللہ البالغہ“ میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض نیک بندوں کی ارواح کو فرشتوں کے طبقہ اسفل میں شامل کرلیتے ہیں۔ چناچہ یہ نیک ارواح ان فرشتوں کے ساتھ سرگرم عمل رہتی ہیں جو اللہ کے احکام کی تعمیل و تنفیذ میں مصروف ہیں۔ اسی طرح فرشتے جو کہ عالم امر کی مخلوق ہیں وہ بھی یہاں عالم خلق میں ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ دو دو فرشتے تو ہم میں سے ہر انسان کے ساتھ بطور نگران مقرر کیے گئے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِیْ بَیْتٍ مِنْ بُیُوْتِ اللّٰہِ یَتْلُوْنَ کِتَاب اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُوْنَہٗ بَیْنَھُمْ الاَّ نَزَلَتْ عَلَیْھِمُ السَّکِیْنَۃُ وَغَشِیَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ وَحَفَّتْھُمُ الْمَلَاءِکَۃُ وَذَکَرَھُمُ اللّٰہُ فِیْمَنْ عِنْدَہٗ 1”اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں کچھ لوگ کتاب اللہ کی تلاوت اور اس کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے جمع نہیں ہوتے مگر یہ کہ ان کے اوپر سکینت نازل ہوتی ہے ‘ اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے ‘ فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقربین ملأ اعلیٰ میں ان کا ذکر کرتا ہے۔“ اس حدیث کی رو سے درس قرآن کی اس محفل میں یقیناً فرشتے موجود ہیں ‘ وہ عالم امر کی شے ہیں ‘ ہم نہ انہیں دیکھ سکتے ہیں نہ ان سے خطاب کرسکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اہل ایمان جنات بھی موجود ہوں اور قرآن سن رہے ہوں۔ چناچہ ارواح فرشتے اور وحی تینوں کا تعلق اگرچہ عالم امر سے ہے مگر ان کا عمل دخل عالم خلق میں بھی ہے۔ اس طرح عالم خلق اور عالم امر کو بالکل الگ الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں میں مرزا عبدالقادر بیدل کے ایک مشہور شعر کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جو تخلیق کائنات اور تخلیق آدم کے اس فلسفہ کو بہت خوبصورتی سے واضح کرتا ہے :ہر دو عالم خاک شد تا بست نقش آدمی اے بہار نیستی از قدر خود ہشیار باش !مرزا عبدالقادر بیدل ہندوستان میں اور نگ زیب عالمگیر کے زمانے میں تھے۔ وہ عظیم فلسفی اور فارسی کے بہت بڑے شاعر تھے۔ ان کا شمار دنیا کے چوٹی کے فلسفیوں میں ہوتا تھا۔ ان کی شاعرانہ عظمت کے سامنے مرزا غالب بھی پانی بھرتے اور ان کی طرز کو اپنانے میں فخر محسوس کرتے نظر آتے ہیں : طرز بیدل میں ریختہ لکھنا اسد اللہ خاں قیامت ہے !موضوع کی اہمیت کے پیش نظر یہاں مرزا بیدل کے مندرجہ بالا شعر کی وضاحت ضروری ہے۔ اس شعر میں وہ فرماتے ہیں ”ہر دو عالم خاک شد“ یعنی دونوں عالم خاک ہوگئے۔ شاعر کے اپنے ذہن میں اس کی وضاحت کیا تھی اس کے بارے میں شاعر خود جانتا ہے یا اللہ تعالیٰ۔ لیکن میں اس سے یہ نکتہ سمجھا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے عالم امر کو تنزل کے مختلف مراحل سے گزار کر عالم خلق کی شکل دی۔ پھر اس کے مزید تنزلات کے نتیجے میں زمین مٹی پیدا کی گئی۔ گویا دونوں جہانوں نے خاک کی صورت اختیار کرلی تب جا کر کہیں حیات ارضی کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر اس سلسلے میں ارتقا کا وہ بلند ترین مرحلہ آیا : ”تابست نقش آدمی !“ جب آدمی کا نقش بننا شروع ہوا۔ دوسرے مصرعے میں اے بہار نیستی از قدر خود ہشیار باش ! ”نیست“ کے فلسفے کو بھی اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ”وحدت الوجود“ کے فلسفے کے مطابق حقیقی وجود صرف اللہ کا ہے ‘ باقی جو کچھ بھی ہمیں نظر آتا ہے اس میں سے کسی چیز کا وجود حقیقی نہیں ہے۔ گویا اللہ کے علاوہ اس کائنات کی ہرچیز ”نیست“ ہے ”ہست“ نہیں ہے : کُلُّ مَا فِی الْکَوْنِ وَ ھْمٌ اَوْ خَیَالٌ اَوْ عُکُوسٌ فِی المَرایَا اَوْ ظِلَال یعنی اللہ کے وجود کے علاوہ جو وجود بھی نظر آتے ہیں وہ وہم ہیں یا خیالی تصویریں۔ اس طرح یہ تمام عالم گویا ”نیست“ ہے اور اس عالم نیست کی ”بہار“ انسان ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : خَلَقْتُ بِیَدَیَّ صٓ: 75 کہ میں نے اسے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے۔ اللہ کا ایک ہاتھ گویا عالم امر اور دوسرا ہاتھ عالم خلق ہے۔ اس طرح انسان اللہ تعالیٰ کے عمل تخلیق کا کلائمکس ‘ مسجود ملائک اور خلیفۃ اللہ ہے۔ چناچہ مرزا بیدل فرماتے ہیں اے بہار نیستی از قدر خود ہوشیار باش ! کہ اے انسان ! اے اس عالم نیستی کی بہار ! ذرا اپنے مقام و مرتبہ کو پہچانو ! تمہیں وجود میں لانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دو عالم کو نہ جانے تنزلات کی کن کن منازل سے نیچے اتار کر خاک کیا ‘ تب کہیں جا کر تمہارا نقش بنا۔

النحل 16:42

آیت 40 اِنَّمَا قَوْلُــنَا لِشَيْءٍ اِذَآ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے کہ یہ حکم عالم امر کے بارے میں ہے جبکہ عالم خلق میں یوں نہیں ہوتا عالم امر اور عالم خلق کے بارے میں وضاحت اس سورة کی آیت 2 اور سورة الاعراف کی آیت 54 کے ضمن میں گزر چکی ہے۔ عالم امر میں کسی واقعے یا کسی چیز کے ظہور پذیر ہونے کے لیے اسباب وسائل اور وقت درکار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ارادہ فرماکر کن فرماتے ہیں تو وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔ عالم خلق میں بھی کلی اختیار تو اللہ ہی کا ہے مگر اس عالم کو عام طبعی قوانین کے مطابق چلایا جاتا ہے۔ چناچہ عالم خلق میں کسی چیز کو وجود میں آنے اور مطلوبہ معیار تک پہنچنے کے لیے اسباب وسائل اور وقت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہ کائنات اپنے تمام طبعی موجودات کے ساتھ عالم خلق کا اظہار ہے۔ آیت زیر نظر کے موضوع کی مناسبت سے یہاں میں کائنات کی تخلیق کے آغاز سے متعلق اپنی سوچ اور فکر کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔کائنات کی تخلیق کے بارے میں ایک طرف تو پرانے فلسفیانہ تصورات ہیں اور دوسری طرف جدید سائنسی نظریات theories۔ فلسفیانہ تصورات کے مطابق سب سے پہلے وجود باری تعالیٰ سے عقل اوّل وجود میں آئی۔ عقلِ اوّل سے پھر فلکِ اوّل اور پھر فلکِ اوّل سے فلک ثانی وغیرہ۔ یہ مشائین کے فلسفے ہیں جو ارسطو اور اس کے شاگردوں کے نظریات کے ساتھ دنیا میں پھیلے اور ہمارے ہاں بھی بہت سے متکلمین ان سے متاثر ہوئے۔ بہر حال جدید سائنسی انکشافات کے ذریعے ان میں سے کسی بھی نظریے کی کہیں کوئی تائید و تصدیق نہیں ہوئی۔ دوسری طرف جدید فزکس کے میدان میں اعلیٰ علمی سطح پر اس سلسلے میں جتنے بھی نظریات theories ہیں ان میں ”عظیم دھماکے“ Big Bang کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس تصور کے تحت Big Bang کے نتیجے میں ارب ہا ارب درجہ حرارت کے حامل بیشمار ذرات وجود میں آئے۔ یہ ذرات تیزی سے حرکت کرتے ہوئے مختلف forms میں اکٹھے ہوئے تو کہکشائیں galaxies وجود میں آئیں اور چھوٹے بڑے بیشمار ستاروں کا ایک جہان آباد ہوگیا۔ انہی ستاروں میں ایک ہمارا سورج بھی تھا جس کے اندر مزید ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں اس کے سیارے planets وجود میں آئے۔ سورج کے ان سیاروں میں سے ایک سیارہ ہماری زمین ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی ہوتی رہی اور بالآخر اس پر نباتاتی اور حیوانی زندگی کے لیے سازگار ماحول وجود میں آیا۔ آج کی سائنس فی الحال ”بگ بینگ“ سے آگے کوئی نظریہ قائم کرنے سے قاصر ہے۔ اس نظریے سے جو معلومات سائنس نے اخذ کی ہیں وہ ان تمام حقائق کے ساتھ مطابقت corroboration رکھتی ہیں جن کا علم اس موضوع پر ہمیں قرآن سے ملتا ہے۔ اس سے پہلے مادے کے بارے میں سائنس قانون بقائے مادہ Law of conservation of mass کی قائل تھی کہ مادہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا مگر نئے نظریے کو اپنا کر سائنس نے نہ صرف بگ بینگ کو کائنات کا نقطہ آغاز تسلیم کرلیا ہے بلکہ یہ بھی مان لیا ہے کہ مادہ ایک خاص وقت تک کے لیے ہے اور ایک خاص وقت کے بعد ختم ہوجائے گا۔جہاں تک کا ئنات کی تخلیق کے آغاز کے بارے میں میری اپنی سوچ کا تعلق ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کی تخلیق اللہ تعالیٰ کے ایک امر ”کُن“ سے ہوئی اللہ کے حکم سے نہ کہ اس کی ذات سے۔ پھر اس امر ”کن“ کا ظہور ایک خنک نور یا ٹھنڈی روشنی کی صورت میں ہوا یہ خنک نور حرف کن کا ظہور تھا نہ کہ ذات باری تعالیٰ کا۔ اس روشنی میں حرارت نہیں تھی گویا یہ مادی روشنی material light کے وجود میں آنے سے پہلے کا دور تھا۔ آج جس روشنی کو ہم دیکھتے یا پہچانتے ہیں اس میں حرارت ہوتی ہے اور اسی حرارت کی وجہ سے یہ material light ہے۔ امرِ ”کن“ سے ظہور پانے والے اس خنک نور سے پہلے مرحلے پر ملائکہ کی پیدائش ہوئی۔ جیسے کہ مسلم شریف میں حضرت عائشہ سے حدیث مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو نور سے پیدا کیا۔ اسی نور سے انسانی ارواح پیدا کی گئیں اور سب سے پہلے روح محمدی پیدا کی گئی جیسا کہ حدیث میں الفاظ آئے ہیں : اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ نُوْرِیْ 1 یعنی اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرا نور پیدا کیا۔ ”نُورِی“ اور ”رُوحِی“ گویا دو مترادف الفاظ ہیں کیونکہ روح کا تعلق بھی نور سے ہے۔ بہرحال یہ کائنات کی تخلیق کا مرحلہ اول ہے جس میں فرشتوں اور انسانی ارواح کی تخلیق ہوئی۔اس کے بعد کسی مرحلے پر اس خنک نور میں کسی نوعیت کا زور دار دھماکہ explosion ہوا جس کو آج کی سائنس ”بگ بینگ“ کے نام سے پہچانتی ہے۔ اس دھماکے کے نتیجے میں حرارت کا وہ گولا وجود میں آیا ‘ جو بہت چھوٹے چھوٹے ذرات پر مشتمل تھا۔ ان ذرات کا درجہ حرارت ناقابل تصور حد تک تھا۔ یہ گویا طبعی دنیا Physical World کا نقطہ آغاز تھا۔ اسی دور میں اس آگ کی لپٹ سے ِ جنات پیدا کیے گئے اور انہی انتہائی گرم ذرات سے کہکشائیں ‘ ستارے اور سیارے وجود میں آئے۔ ان سیاروں میں سے ایک سیارہ یا کرہ ہماری زمین ہے جو ابتدا میں انتہائی گرم تھی۔ اس کے ٹھنڈا ہونے پر اس کے اندر سے بخارات نکلے جو اس کے گرد ایک ہالے کی شکل میں جمع ہوگئے۔ ان بخارات سے پانی وجود میں آیا جو ہزار ہا برس تک زمین پر بارش کی صورت میں برستا رہا۔ اس کے نتیجے میں تمام روئے زمین پر ہر طرف پانی ہی پانی پھیل گیا۔ اس وقت تک زمین پر پانی کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ یہی وہ دور تھا جس کا ذکر قرآن میں بایں الفاظ کیا گیا ہے : وَکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآءِ ھود : 7 ”کہ اس کا عرش اس وقت پانی پر تھا“۔ پھر زمین جب مزید ٹھنڈا ہونے پر سکڑی تو اس کی سطح پر نشیب و فراز نمودار ہوئے۔ کہیں پہاڑ وجود میں آئے تو کہیں سمندر۔ اس کے بعد نباتاتی اور حیوانی حیات کا آغاز ہو۔ اس حیات کے ارتقاء کے بلند ترین مرحلے پر انسان کی تخلیق ہوئی اور حضرت آدم کی روح ان کے وجود کو سونپی گئی۔ حضرت آدم کی تاجپوشی کا یہی واقعہ ہے جہاں سے قرآن آدم کی تخلیق کا تذکرہ کرتا ہے۔ اس لحاظ سے انسان اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا اعلیٰ ترین شاہکار بھی ہے اور اس پوری کائنات کی تخلیق کا اصل مقصود و مطلوب بھی۔ یہاں ایک نکتہ یہ بھی سمجھ لیں کہ عالم خلق اور عالم امر بالکل الگ الگ نہیں ہیں۔ یعنی یوں نہیں کہا جاسکتا کہ یہاں تک تو عالم خلق ہے اور یہاں سے آگے عالم امر ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ دونوں عالم ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط اور باہم گندھے ہوئے ہیں۔ مثلاً اس عالم خلق میں تمام انسانوں کی ارواح موجود ہیں ‘ جن کا تعلق عالم امر سے ہے : وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ بنی اسرائیل : 85 یہ آیت واضح کرتی ہے کہ روح کا تعلق عالم امر سے ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ”حجۃ اللہ البالغہ“ میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض نیک بندوں کی ارواح کو فرشتوں کے طبقہ اسفل میں شامل کرلیتے ہیں۔ چناچہ یہ نیک ارواح ان فرشتوں کے ساتھ سرگرم عمل رہتی ہیں جو اللہ کے احکام کی تعمیل و تنفیذ میں مصروف ہیں۔ اسی طرح فرشتے جو کہ عالم امر کی مخلوق ہیں وہ بھی یہاں عالم خلق میں ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ دو دو فرشتے تو ہم میں سے ہر انسان کے ساتھ بطور نگران مقرر کیے گئے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِیْ بَیْتٍ مِنْ بُیُوْتِ اللّٰہِ یَتْلُوْنَ کِتَاب اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُوْنَہٗ بَیْنَھُمْ الاَّ نَزَلَتْ عَلَیْھِمُ السَّکِیْنَۃُ وَغَشِیَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ وَحَفَّتْھُمُ الْمَلَاءِکَۃُ وَذَکَرَھُمُ اللّٰہُ فِیْمَنْ عِنْدَہٗ 1”اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں کچھ لوگ کتاب اللہ کی تلاوت اور اس کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے جمع نہیں ہوتے مگر یہ کہ ان کے اوپر سکینت نازل ہوتی ہے ‘ اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے ‘ فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقربین ملأ اعلیٰ میں ان کا ذکر کرتا ہے۔“ اس حدیث کی رو سے درس قرآن کی اس محفل میں یقیناً فرشتے موجود ہیں ‘ وہ عالم امر کی شے ہیں ‘ ہم نہ انہیں دیکھ سکتے ہیں نہ ان سے خطاب کرسکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اہل ایمان جنات بھی موجود ہوں اور قرآن سن رہے ہوں۔ چناچہ ارواح فرشتے اور وحی تینوں کا تعلق اگرچہ عالم امر سے ہے مگر ان کا عمل دخل عالم خلق میں بھی ہے۔ اس طرح عالم خلق اور عالم امر کو بالکل الگ الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں میں مرزا عبدالقادر بیدل کے ایک مشہور شعر کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جو تخلیق کائنات اور تخلیق آدم کے اس فلسفہ کو بہت خوبصورتی سے واضح کرتا ہے :ہر دو عالم خاک شد تا بست نقش آدمی اے بہار نیستی از قدر خود ہشیار باش !مرزا عبدالقادر بیدل ہندوستان میں اور نگ زیب عالمگیر کے زمانے میں تھے۔ وہ عظیم فلسفی اور فارسی کے بہت بڑے شاعر تھے۔ ان کا شمار دنیا کے چوٹی کے فلسفیوں میں ہوتا تھا۔ ان کی شاعرانہ عظمت کے سامنے مرزا غالب بھی پانی بھرتے اور ان کی طرز کو اپنانے میں فخر محسوس کرتے نظر آتے ہیں : طرز بیدل میں ریختہ لکھنا اسد اللہ خاں قیامت ہے !موضوع کی اہمیت کے پیش نظر یہاں مرزا بیدل کے مندرجہ بالا شعر کی وضاحت ضروری ہے۔ اس شعر میں وہ فرماتے ہیں ”ہر دو عالم خاک شد“ یعنی دونوں عالم خاک ہوگئے۔ شاعر کے اپنے ذہن میں اس کی وضاحت کیا تھی اس کے بارے میں شاعر خود جانتا ہے یا اللہ تعالیٰ۔ لیکن میں اس سے یہ نکتہ سمجھا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے عالم امر کو تنزل کے مختلف مراحل سے گزار کر عالم خلق کی شکل دی۔ پھر اس کے مزید تنزلات کے نتیجے میں زمین مٹی پیدا کی گئی۔ گویا دونوں جہانوں نے خاک کی صورت اختیار کرلی تب جا کر کہیں حیات ارضی کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر اس سلسلے میں ارتقا کا وہ بلند ترین مرحلہ آیا : ”تابست نقش آدمی !“ جب آدمی کا نقش بننا شروع ہوا۔ دوسرے مصرعے میں اے بہار نیستی از قدر خود ہشیار باش ! ”نیست“ کے فلسفے کو بھی اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ”وحدت الوجود“ کے فلسفے کے مطابق حقیقی وجود صرف اللہ کا ہے ‘ باقی جو کچھ بھی ہمیں نظر آتا ہے اس میں سے کسی چیز کا وجود حقیقی نہیں ہے۔ گویا اللہ کے علاوہ اس کائنات کی ہرچیز ”نیست“ ہے ”ہست“ نہیں ہے : کُلُّ مَا فِی الْکَوْنِ وَ ھْمٌ اَوْ خَیَالٌ اَوْ عُکُوسٌ فِی المَرایَا اَوْ ظِلَال یعنی اللہ کے وجود کے علاوہ جو وجود بھی نظر آتے ہیں وہ وہم ہیں یا خیالی تصویریں۔ اس طرح یہ تمام عالم گویا ”نیست“ ہے اور اس عالم نیست کی ”بہار“ انسان ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : خَلَقْتُ بِیَدَیَّ صٓ: 75 کہ میں نے اسے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے۔ اللہ کا ایک ہاتھ گویا عالم امر اور دوسرا ہاتھ عالم خلق ہے۔ اس طرح انسان اللہ تعالیٰ کے عمل تخلیق کا کلائمکس ‘ مسجود ملائک اور خلیفۃ اللہ ہے۔ چناچہ مرزا بیدل فرماتے ہیں اے بہار نیستی از قدر خود ہوشیار باش ! کہ اے انسان ! اے اس عالم نیستی کی بہار ! ذرا اپنے مقام و مرتبہ کو پہچانو ! تمہیں وجود میں لانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دو عالم کو نہ جانے تنزلات کی کن کن منازل سے نیچے اتار کر خاک کیا ‘ تب کہیں جا کر تمہارا نقش بنا۔

النحل 16:43

آیت 43 وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ یعنی آپ پہلے نبی یا رسول نہیں ہیں بلکہ آپ سے پہلے ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں۔ وہ سب کے سب آدمی ہی تھے اور ان کی طرف ہم اسی طرح وحی بھیجتے تھے جس طرح آج آپ کی طرف وحی آتی ہے۔ فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ یعنی اے اہل مکہ ! اگر تم لوگوں کو اس بارے میں کچھ شک ہے تو تمہارے پڑوس مدینہ میں وہ لوگ آباد ہیں جو سلسلۂ وحی و رسالت سے خوب واقف ہیں ان سے پوچھ لو کہ اب تک جو انبیاء و رسل اس دنیا میں آئے ہیں وہ سب کے سب انسان تھے یا فرشتے ؟

النحل 16:44

وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ للنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ یہاں قرآن کے لیے پھر لفظ ”الذکر“ استعمال ہوا ہے ‘ یعنی یہ قرآن ایک طرح کی یاد دہانی ہے۔ یہ آیت منکرین سنت و حدیث کے خلاف ایک واضح دلیل فراہم کرتی ہے۔ اس کی رو سے قرآن کی ”تبیین“ رسول کا فرض منصبی ہے۔ قرآن کے اسرار و رموز کو سمجھانا اس میں اگر کوئی نکتہ مجمل ہے تو اس کی تفصیل بیان کرنا ‘ اگر کوئی حکم مبہم ہے تو اس کی وضاحت کرنا رسول اللہ کا فرض منصبی تھا۔ یہ فرض اس آیت کی رو سے خود اللہ تعالیٰ نے آپ کو تفویض کیا ہے ‘ مگر منکرین سنت آج آپ کو یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کی رائے کے مطابق یہ اللہ کی کتاب ہے جو اللہ کے رسول نے ہم تک پہنچا دی ہے ‘ اب ہم خود اس کو پڑھیں گے ‘ خود سمجھیں گے اور خود ہی عمل کی جہتیں متعین کریں گے۔ حضور کے سمجھانے کی اگر کچھ ضرورت تھی بھی تو وہ اپنے زمانے کی حد تک تھی۔ فیا للعجب !

النحل 16:45

آیت 45 اَفَاَمِنَ الَّذِيْنَ مَكَرُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ یہ لوگ ہمارے رسول کے خلاف سازشوں کے جال بننے میں مگن ہیں اور حق کی دعوت کا راستہ روکنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ کیا یہ ڈرتے نہیں کہ اگر اللہ چاہے تو انہیں اس جرم کی پاداش میں زمین میں دھنسا دے ؟

النحل 16:46

آیت 46 اَوْ يَاْخُذَهُمْ فِيْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِيْنَ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی روز مرہ زندگی میں معمول کی سرگرمیوں کے دوران ہی ان کی پکڑ کا حکم آجائے اور پھر اللہ کے اس حکم کے مقابلے میں ان کی کوئی تدبیر بھی کامیاب نہ ہو سکے۔

النحل 16:47

آیت 47 اَوْ يَاْخُذَهُمْ عَلٰي تَخَــوُّفٍ ۭ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌاگرچہ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کو اچانک بھی پکڑ سکتا ہے مگر چونکہ وہ بہت شفیق اور نہایت رحم فرمانے والا ہے اس لیے اس کا عذاب یونہی بیخبر ی میں نہیں آتا بلکہ متعلقہ قوم کو پہلے پوری طرح آگاہ کیا جاتا ہے ان پر اتمام حجت کے تمام تقاضے پورے کیے جاتے ہیں تب کہیں جا کر عذاب کا فیصلہ ہوتا ہے۔ جیسے سورة بنی اسرائیل میں فرمایا گیا : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ”اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ ہم رسول نہ بھیجیں“۔ یعنی ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لیے رسول بھیجا گیا جس نے ان پر حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا خوب اچھی طرح واضح کردیا ‘ یہاں تک کہ متعلقہ قوم پر حجت تمام ہونے میں کوئی کسر باقی نہ رہی۔ اس کے بعد بھی جو لوگ کفر اور ظلم پر اڑے رہے ان پر گرفت کی گئی اور عذاب کے ذریعے انہیں نیست و نابود کردیا گیا۔

النحل 16:48

آیت 48 اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ اس آیت میں ہمارے اردگرد کی اشیاء سے پیدا ہونے والے ماحول کی تصویر کشی کی گئی ہے جسے دیکھتے ہوئے ہم اللہ کی کبریائی کا ایک نقشہ اپنے تصور میں لاسکتے ہیں۔ جب سورج نکلتا ہے تو تمام چیزوں کے سائے زمین پر بچھے ہوئے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پھر سورج کے بلند ہونے کے ساتھ ہی ساتھ یہ سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں۔ سورج کے ڈھلنے کے ساتھ دوسری سمت میں پھیلتے ہوئے یہ سایے پھر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔

النحل 16:49

آیت 48 اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ اس آیت میں ہمارے اردگرد کی اشیاء سے پیدا ہونے والے ماحول کی تصویر کشی کی گئی ہے جسے دیکھتے ہوئے ہم اللہ کی کبریائی کا ایک نقشہ اپنے تصور میں لاسکتے ہیں۔ جب سورج نکلتا ہے تو تمام چیزوں کے سائے زمین پر بچھے ہوئے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پھر سورج کے بلند ہونے کے ساتھ ہی ساتھ یہ سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں۔ سورج کے ڈھلنے کے ساتھ دوسری سمت میں پھیلتے ہوئے یہ سایے پھر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔

النحل 16:50

آیت 50 يَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ یہ خصوصی طور پر فرشتوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ جیسے سورة التحریم میں فرمایا گیا : لَا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ”وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو حکم وہ انہیں دیتا ہے اور وہی کرتے ہیں جو حکم انہیں دیا جاتا ہے۔“

النحل 16:51

آیت 50 يَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ یہ خصوصی طور پر فرشتوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ جیسے سورة التحریم میں فرمایا گیا : لَا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ”وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو حکم وہ انہیں دیتا ہے اور وہی کرتے ہیں جو حکم انہیں دیا جاتا ہے۔“

النحل 16:52

آیت 50 يَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ یہ خصوصی طور پر فرشتوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ جیسے سورة التحریم میں فرمایا گیا : لَا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ”وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو حکم وہ انہیں دیتا ہے اور وہی کرتے ہیں جو حکم انہیں دیا جاتا ہے۔“

النحل 16:53

آیت 53 وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ تکلیف کی کیفیت میں تم اللہ کو ہی یاد کرتے ہو اسی کی جناب میں گڑ گڑاتے آہ وزاری کرتے اور دعائیں مانگتے ہو۔ اس حالت میں تمہیں کوئی دوسرا معبود یاد نہیں آتا۔

النحل 16:54

آیت 53 وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ تکلیف کی کیفیت میں تم اللہ کو ہی یاد کرتے ہو اسی کی جناب میں گڑ گڑاتے آہ وزاری کرتے اور دعائیں مانگتے ہو۔ اس حالت میں تمہیں کوئی دوسرا معبود یاد نہیں آتا۔

النحل 16:55

آیت 55 لِيَكْفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنٰهُمْ ۭ فَتَمَتَّعُوْا ۣ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ کچھ دنوں کی بات ہے دنیا میں تم لوگ مزے اڑا لو۔ بہت جلد اصل حقیقت کھل کر تمہارے سامنے آجائے گی۔

النحل 16:56

آیت 56 وَيَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا يَعْلَمُوْنَ نَصِيْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ اللہ تعالیٰ ہی کے عطا کردہ رزق میں سے وہ لوگ اللہ کے ان شریکوں کے لیے بھی حصے نکالتے تھے جن کے بارے میں کوئی علمی سند یا واضح دلیل بھی ان کے پاس موجود نہیں تھی۔ یہ مضمون سورة الانعام کی آیت 136 میں بھی آچکا ہے کہ وہ لوگ اپنی کھیتیوں کی پیداوار اور جانوروں میں سے جہاں اللہ کے لیے حصہ نکالتے تھے وہاں اپنے جھوٹے معبودوں کے حصے کے لیے بھی خاص اہتمام کرتے تھے۔

النحل 16:57

آیت 57 وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ ۙ وَلَهُمْ مَّا يَشْتَهُوْنَ اللہ تعالیٰ کی اولاد کے طور پر وہ لوگ اس سے بیٹیاں منسوب کرتے ہیں جبکہ خود اپنے لیے وہ بیٹے پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے اللہ کے لیے اولاد تجویز بھی کی تو بیٹیاں تجویز کیں جو خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے۔

النحل 16:58

آیت 57 وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ ۙ وَلَهُمْ مَّا يَشْتَهُوْنَ اللہ تعالیٰ کی اولاد کے طور پر وہ لوگ اس سے بیٹیاں منسوب کرتے ہیں جبکہ خود اپنے لیے وہ بیٹے پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے اللہ کے لیے اولاد تجویز بھی کی تو بیٹیاں تجویز کیں جو خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے۔

النحل 16:59

آیت 59 يَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْۗءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ جب اسے خوشخبری دی جاتی ہے کہ وہ ایک بیٹی کا باپ بن گیا ہے تو اسے ایک منحوس خبر خیال کرتا ہے اور یوں محسوس کرتا ہے کہ اب وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ شرم کے مارے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اور ہر وقت اسی شش و پنج میں رہتا ہے کہ :

النحل 16:60

وَلِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ عقیدۂ آخرت کے حوالے سے یہ حقیقت لائق توجہ ہے کہ یہ عقیدہ دنیوی زندگی میں انسانی اعمال پر تمام عوامل سے بڑھ کر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں آخرت اور ایمان بالآخرت کے بارے میں بہت تکرار پائی جاتی ہے۔

النحل 16:61

آیت 61 وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّىیہ اللہ کی خاص رحمت ہے کہ وہ لوگوں کے ظلم و معصیت کی پاداش میں فوری طور پر ان کی گرفت نہیں کرتا بلکہ ڈھیل دے کر انہیں اصلاح کا پورا پورا موقع دیتا ہے۔

النحل 16:62

آیت 62 وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا يَكْرَهُوْنَ یعنی ان میں سے کوئی بھی خود بیٹی کا باپ بننا پسند نہیں کرتا مگر اللہ کے ساتھ بیٹیاں منسوب کرتے ہوئے یہ لوگ ایسا کچھ نہیں سوچتے۔وَتَصِفُ اَلْسِـنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰىیہ لوگ اس زعم میں ہیں کہ دنیا میں انہیں عزت ‘ دولت اور سرداری ملی ہوئی ہے ‘ تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ ان سے خوش ہے اور انہیں یہ خوش فہمی بھی ہے کہ اگر اس نے یہاں انہیں یہ سب کچھ دیا ہے تو آخرت میں بھی وہ ضرور انہیں اپنی نعمتوں سے نوازے گا۔ چناچہ دنیا ہو یا آخرت ان کے لیے تو بھلائی ہی بھلائی ہے۔لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَاَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ دنیا میں ان کی رسی دراز کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی میں جس حد تک جری ہو کر آگے بڑھ سکتے ہیں بڑھتے چلے جائیں۔

النحل 16:63

آیت 63 تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ شیطان کے بہکاوے کے سبب وہ لوگ اس خوش فہمی میں رہے کہ ان کا کلچر ان کی تہذیب اور ان کی روایات سب سے اعلیٰ ہیں۔

النحل 16:64

وَهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ اس آیت کو پڑھتے ہوئے سورة یونس کی یہ دو آیات بھی ذہن میں رکھیے : يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ 57؀ قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا ۭ ھُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ ”اے لوگو ! آگئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں کے جو روگ ہیں ان کی شفا اور ہدایت اور اہل ایمان کے حق میں بہت بڑی رحمت۔ اے نبی ! ان سے کہہ دیجیے کہ یہ قرآن اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے نازل ہوا ہے تو چاہیے کہ لوگ اس پر خوشیاں منائیں وہ بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔“

النحل 16:65

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ یہ نشانی ان لوگوں کے لیے ہے جن کا سننا حیوانوں کا سا سننا نہ ہو بلکہ انسانوں کا سا سننا ہو۔ علامہ اقبال نے ”زبور عجم“ میں کیا خوب کہا ہے : دم چیست ؟ پیام است ‘ شنیدی ‘ نشنیدی !در خاک تو یک جلوۂ عام است ندیدی ؟دیدن دگر آموز ! شنیدن دگر آموز !یعنی سانس جو تم لیتے ہو یہ بھی اللہ کا ایک پیغام ہے ‘ یہ الگ بات ہے کہ تم اس پیغام کو سنتے ہو یا نہیں سنتے ہو۔ یہ درست ہے کہ تم خاک سے بنے ہو ‘ مگر تمہارے اسی خاکی وجود کے اندر ایک نور اور جلوۂ ربانی بھی موجود ہے۔ یہ روح ربانی جو تمہارے وجود میں پھونکی گئی ہے یہ جلوہ ربانی ہی تو ہے ‘ جسے تم دیکھتے ہی نہیں ہو۔ تمہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ تمہارے اندر کیا کیا کچھ موجود ہے : وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ الذاریات ”اور تمہارے اندر کیا کچھ ہے ‘ کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟“ ذرا دوسری طرح کا دیکھنا اور دوسری طرح کا سننا سیکھو ! ایسا دیکھنا سیکھو جو چیزوں کی اصلیت کو دیکھ سکے اور ایسا سننے کی صلاحیت حاصل کرو جس سے تمہیں حقیقت کی پہچان نصیب ہو۔ اگر ایسا نہیں تو پھر یہ دیکھنا اور یہ سننا محض حیوانوں کا سا دیکھنا اور سننا ہے۔ اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا !اس سورة میں تکرار کے ساتھ اہل فکر و دانش کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اللہ کی نشانیوں کو دیکھ کر ‘ سن کر اور سمجھ کر سبق حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ آیت زیر نظر کے علاوہ ملاحظہ ہوں آیات 11 ‘ 12 ‘ 67 ‘ 69 اور 79

النحل 16:66

آیت 66 وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً چوپایوں کی تخلیق میں بھی تمہارے لیے بڑا سبق ہے۔ ان کو دیکھو غور کرو اور اللہ کی حکمتوں کو پہچانو !

النحل 16:67

آیت 66 وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً چوپایوں کی تخلیق میں بھی تمہارے لیے بڑا سبق ہے۔ ان کو دیکھو غور کرو اور اللہ کی حکمتوں کو پہچانو !

النحل 16:68

آیت 68 وَاَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِيْ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُوْنَ یعنی شہد کی مکھی کی فطرت میں یہ چیز ودیعت کردی گئی ہے۔

النحل 16:69

يَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِيْهِ شِفَاۗءٌ لِّلنَّاسِ شہد کی مکھی جن جن جڑی بوٹیوں اور پودوں کے پھولوں کا رس چوستی ہے ان کے خواص اور ان کی تاثیرات کو گویا وہ کشید کرتی ہے۔ اس طرح شہد میں مختلف ادویات کے اثرات بھی شامل ہوجاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس میں بہت سی بیماریوں کے لیے شفا ہے۔

النحل 16:70

آیت 70 وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفّٰىكُمْ ڐوَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ ایسی عمر جس میں آدمی ناکارہ ہو کر دوسروں پر بوجھ بن جاتا ہے۔لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَـيْــــًٔـا ۭاِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌبڑھاپے میں اکثر لوگوں کی قوت فکر متاثر ہوجاتی ہے اور زیادہ عمر رسیدہ لوگوں کو تو dementia ہوجاتا ہے جس سے ذہنی صلاحیتیں ختم ہوجاتی ہیں اور یادداشت جواب دے جاتی ہے۔ اس کیفیت میں بڑے بڑے فلسفی اور دانشور بچوں جیسی باتیں کرنے لگتے ہیں۔

النحل 16:71

آیت 71 وَاللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰي بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ رزق سے مراد صرف مادی اسباب و وسائل ہی نہیں بلکہ اس میں انسان کی جسمانی و ذہنی صلاحیتیں بھی شامل ہیں۔ مادی وسائل کی کمی بیشی کے بارے میں تو کوئی سوشلسٹ یا کمیونسٹ اعتراض کرسکتا ہے کہ یہ غلط تقسیم اور غلط نظام کا نتیجہ ہے جس کا ذمہ دار خود انسان ہے مگر یہ امر اپنی جگہ اٹل حقیقت ہے کہ ہر انسان کی ذہنی استعداد اور جسمانی طاقت ایک سی نہیں ہوتی۔ جینز genes کے ذریعے وراثت میں ملنے والی تمام صلاحیتیں بھی سب انسانوں میں برابر نہیں ہوتیں پھر اس میں کسی کے اختیار و انتخاب کو بھی کوئی دخل نہیں ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے مادی اسباب و وسائل کے علاوہ ذاتی صلاحیتوں میں بھی مختلف انسانوں کو مختلف اعتبار سے ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔فَمَا الَّذِيْنَ فُضِّلُوْا بِرَاۗدِّيْ رِزْقِهِمْ عَلٰي مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيْهِ سَوَاۗءٌیعنی ایسا تو نہیں ہوتا کہ امراء اپنی دولت اور جائیدادیں اپنے غلاموں میں تقسیم کردیں اور انہیں بھی اپنے ساتھ ان جائیدادوں کا مالک بنا لیں۔ تو اگر تم لوگ اپنے غلاموں کو اپنے ساتھ اپنی ملکیت میں شریک نہیں کرتے تو کیا اللہ تمہارے جھوٹے معبودوں کو اپنے برابر کرلے گا ؟ اور یہ جو ان لوگوں کا خیال ہے کہ ایک بڑا خدا ہے اور کچھ چھوٹے چھوٹے خدا ہیں اور یہ چھوٹے خدا بڑے خدا سے ان کی سفارش کریں گے تو کیا اللہ پر ان میں سے کسی کی دھونس چل سکے گی یا اللہ ان میں سے کسی کو یہ اختیار دے گا کہ وہ اس سے اپنی کوئی بات منوالے ؟

النحل 16:72

آیت 72 وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًاعربی میں ”زوج“ شریک حیات spouse کو کہتے ہیں اور یہ لفظ بیوی اور خاوند دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عورت کے لیے مرد زوج ہے اور مرد کے لیے عورت۔اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ هُمْ يَكْفُرُوْنَ یعنی کفران نعمت کرتے ہیں۔ یہاں یہ اہم بات لائق توجہ ہے کہ اس سورة میں اللہ کی نعمتوں کا ذکر بہت تکرار کے ساتھ آ رہا ہے۔

النحل 16:73

آیت 73 وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ شَـيْـــًٔـا وَّلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ مشرکین عرب ایام جاہلیت میں جو تلبیہ پڑھتے تھے اس میں توحید کے اقرار کے ساتھ ساتھ شرک کا اثبات بھی موجود تھا۔ ان کا تلبیہ یہ تھا : لبّیک اللّٰھُم لبّیک ‘ لبّیک لَا شَرِیْکَ لَک لبّیک ‘ اِلَّا شَرِیْکًا تَملِکُہُ وَمَا مَلَک یعنی میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں ‘ تیرا کوئی شریک نہیں ہے ‘ میں حاضر ہوں۔ سوائے اس شریک کے کہ اس کا اور جو کچھ اس کا اختیار ہے سب کا مالک تو ہی ہے۔ یعنی بالآخر اختیار تیرا ہی ہے اور تیرا کوئی شریک تجھ سے آزاد ہو کر خود مختار autonomous نہیں ہے۔ چناچہ جس طرح عیسائیوں نے توحید کو تثلیث میں بدلا اور پھر تثلیث کو توحید میں لے آئے One in three and three in One اسی طرح مشرکین عرب بھی توحید میں شرک پیدا کرتے اور پھر شرک کو توحید میں لوٹا دیتے تھے۔

النحل 16:74

آیت 74 فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ قبل ازیں اسی سورت آیت 60 میں ہم پڑھ چکے ہیں : وَلِلّٰہِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی ”اور اللہ کی مثال سب سے بلند ہے“ لیکن اس کا ترجمہ بالعموم یوں کیا جاتا ہے : ”اللہ کی صفت بہت بلند ہے“۔ یا ”اللہ کی شان بہت بلند ہے“۔ اس لیے کہ اللہ کے لیے کوئی مثال بیان نہیں کی جاسکتی۔ انسانی سطح پر بات سمجھنے اور سمجھانے کے لیے کچھ نہ کچھ تمثیلی الفاظ تو استعمال کرنے پڑتے ہیں ‘ مثلاً اللہ کا چہرہ اللہ کا ہاتھ اللہ کا تخت اللہ کی کرسی اللہ کا عرش وغیرہ ‘ لیکن ایسے الفاظ سے ہم نہ تو حقیقت کا اظہار کرسکتے ہیں اور نہ ہی اللہ کی صفات اور اس کے افعال کی حقیقت کو جان سکتے ہیں۔ اسی لیے منع کردیا گیا ہے کہ اللہ کے لیے مثالیں بیان نہ کیا کرو۔ اس کی منطقی وجہ یہ ہے کہ ہم اگر اس ہستی کے لیے کوئی مثال لائیں گے تو عالم خلق سے لائیں گے جس کی ہرچیز محدود ہے۔ یا پھر ایسی کوئی مثال ہم اپنے ذہن سے لائیں گے ‘ جبکہ انسانی سوچ ‘ قوت متخیلہ اور تصورات بھی سب محدود ہیں۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی ذات مطلق Absolute ہے اور اس کی صفات بھی مطلق ہیں۔ چناچہ انسان کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ ایسی مطلق ہستی کے لیے کوئی مثال بیان کرسکے۔ اسی لیے سورة الشوریٰ کی آیت 11 میں دو ٹوک انداز میں فرما دیا گیا : لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ کہ اس کی مثال کی سی بھی کوئی شے موجود نہیں۔

النحل 16:75

آیت 75 ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ اللہ تعالیٰ ان کے شرک کی نفی کے لیے یہ مثال بیان کر رہا ہے کہ ایک بندہ وہ ہے جو کسی کا غلام اور مملوک ہے ‘ اس کا کچھ اختیار نہیں ‘ وہ اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کرسکتا۔وَّمَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَـنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّجَهْرًارزق میں مال علم اور صلاحیتیں سب شامل ہیں۔ یعنی وہ شخص مال بھی خرچ کر رہا ہے ‘ لوگوں کو تعلیم بھی دے رہا ہے ‘ اور کئی دوسرے طریقوں سے بھی لوگوں کو مستفید کر رہا ہے۔ هَلْ يَسْتَوٗنَ ۭ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ایک طرف اللہ کا وہ بندہ ہے جو اس کے دین کی خدمت میں مصروف ہے ‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فرائض سر انجام دے رہا ہے ‘ لوگوں میں دین کی تعلیم کو عام کر رہا ہے ‘ یا اگر صاحب ثروت ہے تو اپنا مال اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے خرچ کر رہا ہے اور محتاجوں کی مدد کر رہا ہے۔ جب کہ دوسری طرف ایک ایسا شخص ہے جس کے پاس کچھ اختیار وقدرت نہیں ہے ‘ وہ اپنی مرضی سے کچھ کر ہی نہیں سکتا۔ تو یہ دونوں برابر کیسے ہوسکتے ہیں ؟

النحل 16:76

اَيْنَـمَا يُوَجِّهْهُّ لَا يَاْتِ بِخَيْرٍ ایک شخص کے دو غلام ہیں۔ ایک غلام گونگا ہے کسی کام کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتا الٹا اپنے مالک پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ کام وغیرہ کچھ نہیں کرتا ‘ صرف روٹیاں توڑتا ہے۔ اگر اس کا آقا اسے کسی کام سے بھیج دے تو وہ کام خراب کر کے ہی آتا ہے۔ هَلْ يَسْتَوِيْ هُوَ ۙ وَمَنْ يَّاْمُرُ بالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک شخص کے دو غلاموں کے حوالے سے دو طرح کے انسانوں کی مثال بیان فرمائی ہے کہ سب انسان میرے غلام ہیں۔ لیکن میرے ان غلاموں کی ایک قسم وہ ہے جو میری نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں مگر میرا کوئی کام نہیں کرتے میرے دین کی کچھ خدمت نہیں کرتے میری مخلوق کے کسی کام نہیں آتے۔ یہ لوگ اس غلام کی مانند ہیں جو اپنے آقا پر بوجھ ہیں۔ دوسری طرف میرے وہ بندے اور غلام ہیں جو دن رات میری رضا جوئی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں نیکی کا حکم دے رہے ہیں اور برائی سے روک رہے ہیں میرے دین کو قائم کرنے کی جدوجہد میں وہ اپنے تن من اور دھن کی قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ تو کیا یہ دونوں طرح کے انسان برابر ہوسکتے ہیں ؟

النحل 16:77

اَيْنَـمَا يُوَجِّهْهُّ لَا يَاْتِ بِخَيْرٍ ایک شخص کے دو غلام ہیں۔ ایک غلام گونگا ہے کسی کام کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتا الٹا اپنے مالک پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ کام وغیرہ کچھ نہیں کرتا ‘ صرف روٹیاں توڑتا ہے۔ اگر اس کا آقا اسے کسی کام سے بھیج دے تو وہ کام خراب کر کے ہی آتا ہے۔ هَلْ يَسْتَوِيْ هُوَ ۙ وَمَنْ يَّاْمُرُ بالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک شخص کے دو غلاموں کے حوالے سے دو طرح کے انسانوں کی مثال بیان فرمائی ہے کہ سب انسان میرے غلام ہیں۔ لیکن میرے ان غلاموں کی ایک قسم وہ ہے جو میری نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں مگر میرا کوئی کام نہیں کرتے میرے دین کی کچھ خدمت نہیں کرتے میری مخلوق کے کسی کام نہیں آتے۔ یہ لوگ اس غلام کی مانند ہیں جو اپنے آقا پر بوجھ ہیں۔ دوسری طرف میرے وہ بندے اور غلام ہیں جو دن رات میری رضا جوئی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں نیکی کا حکم دے رہے ہیں اور برائی سے روک رہے ہیں میرے دین کو قائم کرنے کی جدوجہد میں وہ اپنے تن من اور دھن کی قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ تو کیا یہ دونوں طرح کے انسان برابر ہوسکتے ہیں ؟

النحل 16:78

آیت 78 وَاللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَـيْـــًٔـانوزائیدہ بچہ عقل و شعور اور سمجھ بوجھ سے بالکل عاری ہوتا ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کا بچہ تمام حیوانات کے بچوں سے زیادہ کمزور اور زیادہ محتاج dependent ہوتا ہے۔وَّجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ وَالْاَفْــِٕدَةَ کا ترجمہ عام طور پر ”دل“ کیا جاتا ہے ‘ مگر میرے نزدیک اس سے مراد عقل اور شعور ہے۔ اس پر تفصیلی گفتگو ان شاء اللہ سورة بنی اسرائیل کی آیت اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْءُوْلاً کے ضمن میں ہوگی۔ آیت زیر نظر میں کانوں اور آنکھوں کا ذکر انسانی حواس senses کے طور پر ہوا ہے اور ان حواس کا تعلق عقل وَالْاَفْــِٕدَةَ کے ساتھ وہی ہے جو کمپیوٹر کے input devices کا اس کے پراسیسنگ یونٹ کے ساتھ ہوتا ہے۔ جس طرح کمپیوٹر کا پراسیسنگ یونٹ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات data کو پر اسس کر کے اس سے کوئی نتیجہ اخذ کرتا ہے اسی طرح حواس خمسہ سے حاصل ہونے والی معلومات سے انسانی دماغ سوچ بچار کر کے کوئی نتیجہ نکالتا ہے۔ انسان کی اسی صلاحیت کو ہم عقل کہتے ہیں اور میرے نزدیک والْاَفْــِٕدَةَ سے مراد انسان کی یہی عقل ہے۔لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ یہ تمام صلاحیتیں انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں اور اللہ نے یہ نعمتیں انسان کو اس لیے عطا کی ہیں کہ وہ ان پر اللہ کا شکر ادا کرے ‘ اور اس سلسلے میں اللہ کے شکر کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ان نعمتوں کا استعمال درست طور پر کرے اور ان سے کوئی ایسا کام نہ لے جس سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا کوئی پہلو نکلتا ہو۔

النحل 16:79

آیت 79 اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاۗءِ ۭ مَا يُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے قانون کے مطابق یہ پرندے فضا میں تیر رہے ہیں۔

النحل 16:80

وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُيُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ اِقَامَتِكُمْ جانوروں کی کھالوں سے بنائے گئے خیمے بہت ہلکے پھلکے ہوتے ہیں۔ چناچہ دوران سفر بھی انہیں اٹھانا آسان ہوتا ہے اور اسی طرح جب اور جہاں چاہیں انہیں آسانی سے گاڑ کر آرام دہ قیام گاہ بنائی جاسکتی ہے۔وَمِنْ اَصْوَافِهَا وَاَوْبَارِهَا وَاَشْعَارِهَآ اَثَاثًا وَّمَتَاعًا اِلٰى حِيْنٍ قبل ازیں آیت 5 میں جانوروں کے بالوں کی افادیت کے حوالے سے ”دِفْ ءٌ“ کا لفظ استعمال ہوا تھا ‘ جس میں سردی کی شدت سے بچنے کے لیے کپڑا تیار کرنے کی طرف اشارہ تھا۔ یہاں اس سلسلے میں وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ مختلف جانوروں کی اون اور ان کے بالوں کی صورت میں اللہ نے تمہارے لیے قدرتی ریشہ fiber پیدا کردیا ہے جس سے تم لوگ کپڑے بنتے ہو اور دوسری بہت سی مفید اشیاء بناتے ہو۔ ایک مدت تک انسان کے پاس کپڑا بنانے کے لیے جانوروں سے حاصل ہونے والے اس ریشے کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی۔ کپاس کی دریافت بہت بعد میں ہوئی۔ موجودہ زمانے میں اس مقصد کے لیے اگرچہ مصنوعی ریشے کی رنگا رنگ اقسام موجود ہیں مگر اس قدرتی ریشے کی اہمیت و افادیت سے آج بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔

النحل 16:81

آیت 81 وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًااللہ نے درختوں اور بہت سی دوسری چیزوں سے سائے کا نظام وضع فرمایا ہے جو انسانی زندگی کے لیے بہت مفید ہے۔وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًاپہاڑوں کے اندر قدرتی غاریں پائی جاتی ہیں جن میں لوگ طوفانی ہواؤں وغیرہ کی شدت سے بچنے کے لیے پناہ لے سکتے ہیں۔ پرانے زمانے میں تو اس حوالے سے ان غاروں کی بہت اہمیت تھی۔كَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ جیسا کہ قبل ازیں بھی اشارہ کیا گیا ہے اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ذکر کی تکرار بہت زیادہ ہے۔ مزید ملاحظہ ہوں آیات 18 ‘ 35 ‘ 71 ‘ 72 ‘ 83 اور 114۔

النحل 16:82

آیت 81 وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًااللہ نے درختوں اور بہت سی دوسری چیزوں سے سائے کا نظام وضع فرمایا ہے جو انسانی زندگی کے لیے بہت مفید ہے۔وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًاپہاڑوں کے اندر قدرتی غاریں پائی جاتی ہیں جن میں لوگ طوفانی ہواؤں وغیرہ کی شدت سے بچنے کے لیے پناہ لے سکتے ہیں۔ پرانے زمانے میں تو اس حوالے سے ان غاروں کی بہت اہمیت تھی۔كَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ جیسا کہ قبل ازیں بھی اشارہ کیا گیا ہے اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ذکر کی تکرار بہت زیادہ ہے۔ مزید ملاحظہ ہوں آیات 18 ‘ 35 ‘ 71 ‘ 72 ‘ 83 اور 114۔

النحل 16:83

آیت 81 وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًااللہ نے درختوں اور بہت سی دوسری چیزوں سے سائے کا نظام وضع فرمایا ہے جو انسانی زندگی کے لیے بہت مفید ہے۔وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًاپہاڑوں کے اندر قدرتی غاریں پائی جاتی ہیں جن میں لوگ طوفانی ہواؤں وغیرہ کی شدت سے بچنے کے لیے پناہ لے سکتے ہیں۔ پرانے زمانے میں تو اس حوالے سے ان غاروں کی بہت اہمیت تھی۔كَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ جیسا کہ قبل ازیں بھی اشارہ کیا گیا ہے اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ذکر کی تکرار بہت زیادہ ہے۔ مزید ملاحظہ ہوں آیات 18 ‘ 35 ‘ 71 ‘ 72 ‘ 83 اور 114۔

النحل 16:84

آیت 84 وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًاشہادتِ حق کا یہ مضمون اس سورت میں دو مرتبہ مزید ملاحظہ ہو آیت 89 آیا ہے۔ جبکہ قبل ازیں سورة البقرۃ کی آیت 143 اور سورة النساء کی آیت 41 میں بھی اس کا ذکر ہے۔ آیت زیر نظر میں ہر امت میں سے جس گواہ کا ذکر ہے وہ اس امت کا نبی یا رسول ہوگا۔ جیسا کہ سورة الاعراف میں فرمایا گیا : فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ ”ہم ضرور پوچھیں گے ان سے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور ہم رسولوں سے بھی پوچھیں گے“۔ روز محشر ہر امت کی پیشی کے وقت اس امت کا رسول عدالت کے سرکاری گواہ prosecution witness کی حیثیت سے گواہی دے گا کہ اے اللہ ! تیری طرف سے جو پیغام مجھے اس قوم کے لیے ملا تھا وہ میں نے بےکم وکاست ان تک پہنچا دیا تھا۔ اب یہ لوگ جو ابدہ ہیں ‘ ان سے محاسبہ ہوسکتا ہے۔ اس طرح تمام انبیاء و رسل اپنی اپنی امت کے خلاف گواہی دیں گے۔ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ اس وقت انہیں ایسا موقع فراہم نہیں کیا جائے گا کہ وہ عذر تراش کر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرسکیں۔

النحل 16:85

آیت 84 وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًاشہادتِ حق کا یہ مضمون اس سورت میں دو مرتبہ مزید ملاحظہ ہو آیت 89 آیا ہے۔ جبکہ قبل ازیں سورة البقرۃ کی آیت 143 اور سورة النساء کی آیت 41 میں بھی اس کا ذکر ہے۔ آیت زیر نظر میں ہر امت میں سے جس گواہ کا ذکر ہے وہ اس امت کا نبی یا رسول ہوگا۔ جیسا کہ سورة الاعراف میں فرمایا گیا : فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ ”ہم ضرور پوچھیں گے ان سے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور ہم رسولوں سے بھی پوچھیں گے“۔ روز محشر ہر امت کی پیشی کے وقت اس امت کا رسول عدالت کے سرکاری گواہ prosecution witness کی حیثیت سے گواہی دے گا کہ اے اللہ ! تیری طرف سے جو پیغام مجھے اس قوم کے لیے ملا تھا وہ میں نے بےکم وکاست ان تک پہنچا دیا تھا۔ اب یہ لوگ جو ابدہ ہیں ‘ ان سے محاسبہ ہوسکتا ہے۔ اس طرح تمام انبیاء و رسل اپنی اپنی امت کے خلاف گواہی دیں گے۔ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ اس وقت انہیں ایسا موقع فراہم نہیں کیا جائے گا کہ وہ عذر تراش کر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرسکیں۔

النحل 16:86

فَاَلْقَوْا اِلَيْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَ شرک کا ارتکاب کرنے والے یہ لوگ محشر میں جب ان مقدس ہستیوں کو دیکھیں گے جن کے نام کی وہ دنیا میں دہائی دیا کرتے تھے تو پکار اٹھیں گے کہ اے اللہ ! یہ ہیں وہ ہستیاں جنہیں ہم پکارا کرتے تھے آپ کو چھوڑ کر۔ مثلاً حضرت عبدالقادر جیلانی کے نام کی دہائی دینے والے جب وہاں آپ کو بلند مراتب پر فائز دیکھیں گے تو آپ کو پہچان کر ایسے کہیں گے۔ اور حضرت عیسیٰ کو اللہ کا شریک ٹھہرانے والے جب آپ کو دیکھیں گے تو پکار اٹھیں گے کہ یہ ہیں عیسیٰ ابن مریم جنہیں ہم اللہ کا چہیتا بیٹا سمجھتے تھے اور ہمارا عقیدہ تھا کہ وہ سولی پر چڑھ کر ہمارے تمام گناہوں کا کفارہ ادا کرچکے ہیں۔یہ تمام مقدس ہستیاں وہاں مشرکین کے مشرکانہ عقائد سے اظہارِ برأت کریں گی کہ ہمارا تم لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے کہ تم لوگ دنیا میں ہماری عبادت کیا کرتے تھے اور اللہ کے سوا ہمیں پکارا کرتے تھے۔ قبل ازیں یہ مضمون سورة یونس کی آیت 28 اور 29 میں بھی گزر چکا ہے۔

النحل 16:87

آیت 87 وَاَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ يَوْمَىِٕذِۨ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ ایسی مقدس ہستیوں کے بارے میں جو عقائد اور نظریات انہوں نے گھڑ رکھے تھے کہ وہ انہیں عذاب سے بچا لیں گے اور اللہ کی پکڑ سے چھڑا لیں گے ‘ ایسے تمام خود ساختہ عقائد میں سے اس دن انہیں کچھ بھی یاد نہیں رہے گا اور عذاب کو دیکھ کر ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔

النحل 16:88

آیت 88 اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يُفْسِدُوْنَ ان لوگوں کا عذاب بتدریج بڑھتا ہی چلا جائے گا جنہوں نے نہ صرف حق کو جھٹلایا بلکہ اس کے خلاف سازشیں کیں اور لوگوں کو ورغلا کر اللہ کے رستے سے روکتے رہے۔

النحل 16:89

آیت 89 وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا عَلَيْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یہ وہی الفاظ ہیں جو ہم آیت 84 میں پڑھ آئے ہیں۔ قیامت کے دن تمام رسول اپنی اپنی امت پر گواہ ہوں گے۔ سورة الاحزاب میں محمد رسول اللہ کے بارے میں اس حوالے سے فرمایا گیا : یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا ”اے نبی ! یقیناً ہم نے آپ کو بھیجا ہے گواہی دینے والا خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر اور بلانے والا اللہ کی طرف اس کے حکم سے اور ایک روشن چراغ“۔ اسی طرح سورة المزمل میں حضور کے بارے میں فرمایا : اِنَّآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْکُمْ رَسُوْلًا لا شاہِدًا عَلَیْکُمْ کَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا ”یقیناً ہم نے بھیجا ہے تمہاری طرف ایک رسول گواہی دینے والا تم پر جیسے ہم نے بھیجا تھا فرعون کی طرف ایک رسول۔“ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيْدًا عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ قبل ازیں ہم سورة النساء میں بھی اس سے ملتی جلتی یہ آیت پڑھ چکے ہیں : فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا ”پھر کیا حال ہوگا جب ہم لائیں گے ہر امت میں سے ایک گواہ اور آپ کو لائیں گے ان پر گواہ“۔ یہاں ہٰٓؤُلَآءِ کے لفظ میں قریش مکہ کی طرف اشارہ ہے جن تک حضور نے براہ راست اللہ کی دعوت پہنچا دی تھی۔ لہٰذا قیامت کے دن آپ ان کے خلاف گواہی دیں گے کہ اے اللہ میں نے آپ کا پیغام بےکم وکاست ان تک پہنچا دیا تھا اور اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں چھوڑی تھی۔ میں نے اس ضمن میں برس ہا برس تک ان کے درمیان ہر طرح کی مشقت اٹھائی۔ انہیں تنہائی میں فرداً فرداً بھی ملا اور علی الاعلان اجتماعی طور پر بھی ان سے مخاطب ہوا۔ میں نے اس سلسلے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا تھا۔ رسول اللہ نے اللہ کا یہ پیغام اہل عرب تک براہ راست پہنچا دیا اور باقی دنیا تک قیامت تک کے لیے یہ پیغام پہنچانے کی ذمہ داری آپ نے امت کو منتقل فرما دی۔ اب اگر امت اس فرض میں کوتاہی کرے گی تو لوگوں کی گمراہی کا وبال افراد امت پر آئے گا۔ چناچہ یہ بہت بھاری اور نازک ذمہ داری ہے جو امت مسلمہ کے افراد ہونے کے سبب ہمارے کندھوں پر آپڑی ہے۔ سورة البقرۃ کی آیت 143 میں امت مسلمہ کی اس ذمہ داری کا ذکر تحویل قبلہ کے ذکر کے فوراً بعد اس طرح فرمایا گیا : وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا ”اسی طرح ہم نے تمہیں ایک امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے“۔ اس بھاری ذمہ داری کی ادائیگی کے دوران بہت مشکل اور جان گسل مراحل کا آنا نا گزیر ہے۔ اس طرح کے مشکل مراحل سے گزرنے کا طریقہ سورة البقرۃ ہی میں آگے چل کر اس طرح واضح کیا گیا : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِط اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ”اے ِ اہل ایمان تم مدد طلب کرو نماز اور صبر کے ساتھ ‘ یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“۔ اور پھر اس راہ میں جان کی بازی لگانے والے خوش نصیب اہل ایمان کی دلجوئی اس طرح فرمائی گئی : وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنْ لاَّ تَشْعُرُوْنَ ”اور مت کہو انہیں مردہ جو اللہ کے رستے میں قتل کردیے جائیں ‘ بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں۔“ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ یعنی حیات انسانی کے تمام مسائل کا حل قرآن میں موجود ہے۔ قرآن ان لوگوں کے لیے ہدایت ‘ رحمت اور بشارت ہے جو مسلم یعنی اللہ کی فرمانبرداری کرنے والے ہیں۔

النحل 16:90

يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ یہ آیت اس لحاظ سے بہت مشہور ہے کہ اکثر جمعۃ المبارک کے خطبات میں شامل کی جاتی ہے۔ یہ بہت ہی جامع آیت ہے اور اس میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے انداز میں تین چیزوں کا حکم دیا گیا ہے اور تین ہی چیزوں سے منع کیا گیا ہے۔ پہلا حکم عدل کا ہے اور دوسرا احسان کا۔ عدل تو یہ ہے کہ جس کا جس قدر حق ہے عین اسی قدر آپ اسے دے دیں ‘ لیکن احسان ایک ایسا عمل ہے جو عدل سے بہت اعلیٰ وارفع ہے۔ یعنی احسان یہ ہے کہ آپ کسی کو اس کے حق سے زیادہ دیں اور یہ عمل اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ چناچہ اللہ محسنین کو محبوب رکھتا ہے۔ تیسرا حکم قرا بت داروں کے حقوق کا خیال رکھنے کے بارے میں ہے یعنی ان سے حسن سلوک سے پیش آنا صلہ رحمی کے تقاضے پورے کرنا اور انفاق مال کے سلسلے میں ان کو ترجیح دینا۔ یہ تین احکام ان اعمال کے بارے میں ہیں جو ایک اچھے معاشرے کی بنیاد کا کام دیتے ہیں۔ جن چیزوں سے یہاں منع فرمایا گیا ہے ان میں سب سے پہلے بےحیائی ہے۔ حیا گویا انسان اور ہر برے کام کے درمیان پردہ ہے۔ جب تک یہ پردہ قائم رہتا ہے انسان عملی طور پر برائی سے بچا رہتا ہے ‘ اور جب یہ پردہ اٹھ جاتا ہے تو پھر انسان بےشرم ہو کر آزاد ہوجاتا ہے۔ پھر وہ ”بےحیا باش و ہرچہ خواہی کن !“ کا مصداق بن کر جو چاہے کرتا پھرتا ہے۔ بےحیائی کے بعد منکر سے منع کیا گیا ہے۔ منکر ہر وہ کام ہے جس کے برے ہونے پر انسان کی فطرت گواہی دے۔ تیسرا ناپسندیدہ عمل یا جذبہ البغی یعنی سرکشی ہے۔ یہ سرکشی اگر اللہ کے خلاف ہو تو بغاوت ہے اور یوں کفر ہے ‘ اور اگر یہ انسانوں کے خلاف ہو تو اسے ”عدوان“ کہا جاتا ہے یعنی ظلم اور زیادتی۔ بہرحال ان دونوں سطحوں پر یہ انتہائی ناپسندیدہ اور مذموم جذبہ ہے۔اگلی چند آیات مشکلات القرآن میں سے ہیں۔ ان کی تفسیر کے بارے میں بہت سی آراء ہیں جو سب کی سب یہاں بیان نہیں کی جا سکتیں۔ میں یہاں صرف وہ رائے بیان کروں گا جس سے مجھے اتفاق ہے۔ میری رائے کے مطابق ان آیات میں روئے سخن اہل کتاب کی طرف ہے۔ مکی سورتوں میں اگرچہ اہل کتاب سے ”یٰبَنِی اِسْرَاءِیل“ یا ”یٰاَھل الکتاب“ کے الفاظ سے براہ راست خطاب نہیں کیا گیا لیکن سورة الانعام اور اس کے بعد مکی دور کے آخری سالوں میں نازل ہونے والی سورتوں میں اہل کتاب کو بالواسطہ انداز میں مخاطب کرنے کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک محمد رسول اللہ کے دعوائے نبوت کے بارے میں خبریں مدینہ پہنچ چکی تھیں اور یہود مدینہ ان خبروں کو سن کر بہت متجسسانہ انداز میں مزید معلومات کی ٹوہ میں تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ تو نبی آخر الزماں کو پہچان بھی چکے تھے اور وہ اس انتظار میں تھے کہ مزید معلومات سے آپ کی نبوت کی تصدیق ہوجائے تو وہ آپ پر ایمان لے آئیں۔ دوسری طرف یہود مدینہ ہی میں سے کچھ لوگوں کے دلوں میں آپ کے خلاف حسد کی آگ بھی بھڑک چکی تھی۔ اس قسم کے لوگ آپ کی مخالفت کے لیے قریش مکہ سے مسلسل رابطے میں تھے اور آپ کی آزمائش کے لیے قریش مکہ کو مختلف قسم کے سوالات بھیجتے رہتے تھے۔ ان سوالات میں ایک اہم سوال یہ بھی تھا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق تو فلسطین میں آباد تھے لیکن ان کی اولاد یعنی بنی اسرائیل کے لوگ وہاں سے مصر کیسے پہنچے ؟ ان کا یہی سوال تھا جس کے جواب میں پوری سورة یوسف نازل ہوئی تھی۔ چناچہ یہ وہ معروضی صورت حال تھی جس کی وجہ سے مکی دور کی آخری سورتوں میں کہیں کہیں اہل کتاب کا ذکر بھی موجود ہے اور بالواسطہ طور پر ان سے خطاب بھی ہے۔ اس پس منظر میں میری رائے یہی ہے کہ آئندہ آیات میں روئے سخن اہل کتاب کی طرف ہے۔

النحل 16:91

آیت 91 وَاَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ یہاں بنی اسرائیل کا وہ وعدہ مراد ہے جس کی تفصیل بعد میں مدنی سورتوں میں آئی۔ مدنی سورتوں میں ان کے اس عہد کا بار بار ذکر کیا گیا ہے : وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ البقرۃ : 63۔ یہاں پر اس عہد کی تفصیل میں جائے بغیر صرف اس کا تذکرہ کردیا گیا کہ ”عاقلاں را اشارہ کافی است“۔ مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل کے صاحبان علم و بصیرت بات کو سمجھنا چاہیں تو سمجھ لیں۔اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ یعنی یہ عہد تم نے اللہ کو گواہ بنا کر اور اللہ کی قسمیں کھا کر باندھا ہوا ہے۔

النحل 16:92

آیت 92 وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِيْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًادیکھو تم تو ایک مدت سے نبی آخر الزماں کے منتظر چلے آ رہے تھے اور اہل عرب کو اس حوالے سے دھمکایا بھی کرتے تھے کہ نبی آخر الزمان آنے والے ہیں جب وہ تشریف لے آئے تو ہم ان کے ساتھ مل کر تم لوگوں پر غالب آجائیں گے۔ اب جب کہ وہ نبی آگئے ہیں تو تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ تم ان کو جھٹلانے کے لیے بہانے ڈھونڈ رہے ہو ! تو کیا اب تم لوگ اپنے منصوبوں اور افکار و نظریات کے تانے بانے خود اپنے ہی ہاتھوں تار تار کردینے پر تل گئے ہو ؟ کیا اس دیوانی عورت کی طرح تمہاری بھی مت ماری گئی ہے جو بڑی محنت اور مشقت کے ساتھ کا تے ہوئے اپنے سوت کی تار تار ادھیڑ کے رکھ دے ؟تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِىَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ یعنی تم نے تو اس معاملے کو گویا دو قوموں کا تنازعہ بنا لیا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ وہی نبی ہیں جن کی بشارت تمہاری کتاب میں موجود ہے تم آپس میں عہد و پیمان کر رہے ہو ‘ قسمیں کھا رہے ہو کہ ہم ہرگز آپ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ تمہاری اس ہٹ دھرمی کی وجہ اس کے سوا اور کوئی نہیں کہ تم قومی عصبیت میں مبتلا ہوچکے ہو۔ چونکہ اس آخری نبی کا تعلق بنی اسماعیل یعنی امیین سے ہے ‘ اس لیے تم لوگ نہیں چاہتے کہ بنی اسماعیل کو اب ویسی ہی فضیلت حاصل ہوجائے جو پچھلے دو ہزار سال سے تم لوگوں کو حاصل تھی۔اِنَّمَا يَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ اس میں تمہاری آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم لوگ حق پرست ہو یا نسل پرست ؟ اگر تم لوگ اس معاملے میں نسل پرستی کا ثبوت دیتے ہو تو جان لو کہ اللہ سے تمہارا کوئی تعلق نہیں اور اگر حق پرست بننا چاہتے ہو تو تمہیں سوچنا چاہیے کہ ایک مدت تک اللہ تعالیٰ نے نبوت تمہاری نسل میں رکھی اور اب اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل کے ایک فرد کو اس کے لیے چن لیا ہے۔ لہٰذا اسے اللہ کا فیصلہ سمجھتے ہوئے تمہیں قبول کرلینا چاہیے۔ تمہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ بنی اسماعیل بھی تو آخر تمہاری ہی نسل میں سے ہیں۔ وہ بھی تمہارے جد امجد حضرت ابراہیم ہی کی اولاد ہیں ‘ مگر تم لوگ ہو کہ تم نے اس معاملے کو باہمی مخاصمت اور ضد بَغْیًا بَیْنَہُمْ کی بھینٹ چڑھا دیا ہے اور اس طرح تم لوگ اللہ کی اس آزمائش میں ناکام ہو رہے ہو۔

النحل 16:93

آیت 93 وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً اللہ تعالیٰ یہ بھی کرسکتا تھا کہ پوری انسانیت کو ایک ہی امت بنا دیتا تاکہ نسلوں اور قوموں کی یہ تفریق ہی نہ ہوتی اور نہ ہی ایک امت کو معزول کر کے دوسری امت کو نوازنے کی ضرورت پیش آتی۔ پھر جس اللہ نے بخت نصر کے ہاتھوں تمہاری بربادی کے بعد حضرت عزیر کی دعوت توبہ کے ذریعے تمہاری نشأۃ ثانیہ کی تھی وہ یہ بھی کرسکتا تھا کہ ایک دفعہ پھر کسی اصلاحی تحریک کے ذریعے تمہیں اپنی ہدایت اور رحمت سے نواز دیتا۔ اس طرح آخری نبی بھی تم ہی میں آتے اور یہ قرآن بھی تم ہی کو ملتا۔ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو یہ سب کچھ ممکن تھا۔وَّلٰكِنْ يُّضِلُّ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ آیت کے اس حصے کا ایک ترجمہ یہ بھی ہے کہ ”وہ گمراہ کرتا ہے اسے جو گمراہی چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے اسے جو ہدایت چاہتا ہے۔“ وَلَتُسْـــَٔـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ یعنی اس وقت تم لوگ ایک بہت بڑے امتحان سے دو چار ہو۔ تمہارے پاس نبی آخر الزماں کے بارے میں واضح نشانیوں کے ساتھ علم آچکا ہے اور تم اللہ کی کتاب کے وارث بھی ہو۔ اس کے باوجود اگر تم نے ہمارے نبی کی تصدیق نہ کی اور آپ کو جھٹلانے پر تلے رہے تو اس بارے میں تم سے ضرور جواب طلبی ہوگی۔اب ذرا سورة البقرہ کی ان آیات کو ذہن میں تازہ کیجئے :يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَوْفُوْا بِعَهْدِىْٓ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ ۚ وَاِيَّاىَ فَارْھَبُوْنِ۔ وَاٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُوْنُوْٓا اَوَّلَ كَافِرٍۢ بِهٖ ۠ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا وَاِيَّاىَ فَاتَّقُوْنِ۔ وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَــقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ”اے بنی اسرائیل ! یاد کرو تم میری وہ نعمت جو میں نے تم پر انعام کی ‘ اور پورا کرو میرا عہد ‘ میں پورا کروں گا تمہارے ساتھ کیے گئے عہد کو اور مجھ ہی سے ڈرو۔ اور ایمان لاؤ اس کتاب پر جو میں نے نازل کی ہے ‘ جو تصدیق کرتے ہوئے آئی ہے اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے ‘ اور مت ہوجاؤ تم ہی سب سے پہلے اس کا کفر کرنے والے ‘ اور مت بیچو میری آیات کو تھوڑی سی قیمت کے عوض اور میرا ہی تقویٰ اختیار کرو۔ اور نہ ملاؤ حق کو باطل کے ساتھ اور نہ چھپاؤ حق کو جانتے بوجھتے۔“ ان آیات کو پڑھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہاں سورة النحل میں جو بات اَوْفُوْا بِعَہْدِ اللّٰہِ سے شروع ہوئی ہے یہ گویا تمہید ہے اس مضمون کی جو سورة البقرۃ کی مندرجہ بالا آیات کی شکل میں مدینہ جا کر نازل ہونے والا تھا۔

النحل 16:94

آیت 94 وَلَا تَتَّخِذُوْٓا اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَادیکھو حقیقت یہ ہے کہ تم ہمارے نبی کو اچھی طرح پہچان چکے ہو : يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْ البقرۃ : 146۔ اب اس حالت میں اگر تم پھسلو گے تو یاد رکھو سیدھے جہنم کی آگ میں جا کر گرو گے : فَانْهَارَ بِهٖ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ التوبۃ : 109وَتَذُوْقُوا السُّوْۗءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌتمہیں تو چاہیے تھا کہ سب سے پہلے کھڑے ہو کر گواہی دیتے کہ ہم نے محمد کو اپنی کتاب میں دی گئی نشانیوں سے ٹھیک ٹھیک پہچان لیا ہے ‘ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ اور تمہیں نصیحت بھی کی گئی تھی : وَلَا تَكُوْنُوْٓا اَوَّلَ كَافِرٍۢ بِهٖ البقرۃ : 41 ”اور تم اس کے پہلے منکر نہ بن جانا“۔ اس سب کچھ کے باوجود تم لوگ اس گواہی کو چھپار ہے ہو : وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ البقرۃ : 140 ”اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس نے چھپائی وہ گواہی جو اس کے پاس ہے اللہ کی طرف سے !“

النحل 16:95

اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ تمہیں دنیا کے چھوٹے چھوٹے مفادات بہت عزیز ہیں اور ان حقیر مفادات کے لیے تم لوگ اللہ کی ہدایت کو ٹھکرا رہے ہو ‘ مگر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر تم لوگ اس ہدایت کو قبول کرلو گے تو اللہ کے ہاں اخروی انعامات سے نوازے جاؤ گے۔ اللہ کے ہاں جنت کی دائمی نعمتیں تمہارے ان مفادات کے مقابلے میں کہیں بہتر ہیں جن کے ساتھ تم لوگ آج چمٹے ہوئے ہو۔

النحل 16:96

وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِيْنَ صَبَرُوْٓا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ہر نیکو کار شخص کے تمام اعمال ایک درجے کے نہیں ہوتے کوئی نیکی اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے اور کوئی نسبتاً چھوٹے درجے کی۔ مگر جن لوگوں سے اللہ تعالیٰ خوش ہوجائیں گے ان کی اعلیٰ درجے کی نیکیوں کو سامنے رکھ کر ان کے اجر وثواب کا تعین کیا جائے گا۔

النحل 16:97

آیت 97 مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ایسے لوگ بیشک دنیا میں روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کریں مگر انہیں سکون قلب کی دولت نصیب ہوگی ان لوگوں کے دل غنی ہوں گے کیونکہ حضور کا فرمان ہے : اَلْغِنٰی غِنَی النَّفْسِ کہ اصل امیری تو دل کی امیری ہے۔ اگر انسان کا دل غنی ہے تو انسان واقعتا غنی ہے اور اگر ڈھیروں دولت پا کر بھی دل لالچ کے پھندے میں گرفتار ہے تو ایسا شخص دراصل غنی یا امیر نہیں فقیر ہے۔ چناچہ نیکو کار انسانوں کو دنیوی زندگی میں ہی غنا اور سکون قلب کی نعمت سے نوازا جائے گا کیونکہ یہ نعمت تو ثمرہ ہے اللہ کی یاد کا : اَلاَ بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَءِنُّ الْقُلُوْبُ الرعد ”آگاہ رہو ! دل تو اللہ کے ذکر ہی سے مطمئن ہوتے ہیں“۔ ایسے لوگوں کا شمار اللہ کے دوستوں اور اولیاء میں ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ خصوصی شفقت کا معاملہ فرمایا جاتا ہے اور انہیں حزن و ملال کے سایوں سے محفوظ رکھا جاتا ہے : اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآء اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ یونس ”آگاہ رہو ! یقیناً اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“

النحل 16:98

آیت 98 فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ باللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ اس حکم کی رو سے قرآن کی تلاوت شروع کرنے سے پہلے اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھنا ضروری ہے۔

النحل 16:99

آیت 98 فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ باللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ اس حکم کی رو سے قرآن کی تلاوت شروع کرنے سے پہلے اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھنا ضروری ہے۔

النحل 16:100

آیت 100 اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَي الَّذِيْنَ يَتَوَلَّوْنَهٗ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ شیطان کا زور انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو اپنا رفیق اور سرپرست بنا لیتے ہیں اور اللہ کی اطاعت کے بجائے اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ گویا اس کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا لیتے ہیں یا اس کے بہکانے سے دوسری ہستیوں کو اللہ کا شریک بنا لیتے ہیں۔

النحل 16:101

آیت 101 وَاِذَا بَدَّلْنَآ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ قبل ازیں یہ مضمون سورة البقرۃ میں بیان ہوچکا ہے : مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا آیت 106۔ چناچہ سورة البقرۃ کے مطالعے کے دوران اس آیت کے تحت اس مضمون کی وضاحت بھی ہوچکی ہے۔وَّاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قرآن کا نزول اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت کے عین مطابق ہور ہا ہے۔ اگر کوئی مخصوص حکم کسی ایک دور کے لیے تھا اور پھر بدلے ہوئے حالات میں اس حکم میں تبدیلی کی ضرورت ہے تو یہ سب کچھ اللہ کے علم کے مطابق ہے اور کسی خاص ضرورت اور حکمت کے تحت ہی کسی حکم میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ مگر ایسی تبدیلی کو دیکھتے ہوئے :قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مُفْتَرٍ کہ پہلے یوں کہا گیا تھا اب اسے بدل کر یوں کہہ رہے ہیں۔ اگر یہ اللہ کا کلام ہوتا تو اس میں اس طرح کی تبدیلی کیسے ممکن تھی ؟بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ حقیقت یہ ہے کہ ان کی اکثریت علم سے عاری ہے۔

النحل 16:102

آیت 102 قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بالْحَقِّ یہاں پر روح القدس کا لفظ حضرت جبرائیل کے لیے آیا ہے کہ ایک پاک فرشتہ اس کلام کو لے کر آیا ہے۔لِيُثَبِّتَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاسورۃ الفرقان میں یہی مضمون اس طرح بیان کیا گیا ہے : کَذٰلِکَ لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنٰہُ تَرْتِیْلًا ”تاکہ ہم مضبوط کریں اس کے ساتھ آپ کے دل کو اور اسی لیے ہم نے پڑھ سنایا اسے ٹھہر ٹھہر کر۔“وَهُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ جیسے جیسے حالات میں تبدیلی آرہی ہے ویسے ویسے اس قرآن کے ذریعے مسلمانوں کے لیے ہدایت و راہنمائی کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ مثلاً قصہ آدم و ابلیس جب پہلی دفعہ بیان کیا گیا تو اس میں وہ تفصیلات بیان کی گئیں جو اس وقت کے مخصوص معروضی حالات میں حضور اور مسلمانوں کے لیے جاننا ضروری تھیں۔ پھر جب حالات میں تبدیلی آئی تو یہی قصہ کچھ مزید تفصیلات کے ساتھ پھر نازل کیا گیا اور اسی اصول اور ضرورت کے تحت اس کا نزول بار بار ہوا تاکہ ہر دور کے حالات کے مطابق اہل حق اس میں سے اپنی راہنمائی کے لیے سبق حاصل کرسکیں۔

النحل 16:103

آیت 103 وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا يُعَلِّمُهٗ بَشَرٌمشرکین رسول اللہ پر ایک الزام یہ لگا رہے تھے کہ آپ نے کسی عجمی غلام کو یا اہل کتاب میں سے کسی آدمی کو اپنے گھر میں چھپا رکھا ہے جو تورات کا عالم ہے۔ اس سے آپ یہ ساری باتیں سیکھتے ہیں اور پھر وحی کے نام پر ہمیں سناتے ہیں اور ہم پر دھونس جماتے ہیں۔لِسَانُ الَّذِيْ يُلْحِدُوْنَ اِلَيْهِ اَعْجَمِيٌّ وَّھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِيْنٌچنانچہ یہ الزام لگاتے ہوئے ان کو خود سوچنا چاہیے کہ کوئی عجمی ایسی فصیح وبلیغ عربی زبان کیسے بول سکتا ہے !

النحل 16:104

آیت 104 اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ۙ لَا يَهْدِيْهِمُ اللّٰهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌاللہ کا یہ طریقہ نہیں کہ کسی کو زبردستی کھینچ کر ہدایت کی طرف لے آئے۔

النحل 16:105

آیت 104 اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ۙ لَا يَهْدِيْهِمُ اللّٰهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌاللہ کا یہ طریقہ نہیں کہ کسی کو زبردستی کھینچ کر ہدایت کی طرف لے آئے۔

النحل 16:106

آیت 106 مَنْ كَفَرَ باللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖٓاس کا اطلاق ایمان کی دونوں کیفیتوں پر ہوگا۔ ایک یہ کہ دل میں ایمان آگیا بات پوری طرح دل میں بیٹھ گئی ‘ دل میں یقین کی کیفیت پیدا ہوگئی کہ ہاں یہی حق ہے مگر زبان سے ابھی اقرار نہیں کیا۔ ایمان کی دوسری کیفیت یہ ہے کہ دل بھی ایمان لے آیا اور زبان سے ایمان کا اقرار بھی کرلیا۔ چناچہ ان دونوں درجوں میں سے کسی بھی درجے میں اگر انسان نے حق کو حق جان لیا دل میں یقین پیدا ہوگیا مگر پھر کسی مصلحت کا شکار ہوگیا اور حق کا ساتھ دینے سے کنی کترا گیا تو اس پر اس حکم کا اطلاق ہوگا۔اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَـﭟ بِالْاِيْمَانِ کسی کی جان پر بنی ہوئی تھی اور اس حالت میں کوئی کلمہ کفر اس کی زبان سے ادا ہوگیا مگر اس کا دل بدستور حالت ایمان میں مطمئن رہا تو ایسا شخص اللہ کے ہاں معذور سمجھا جائے گا۔وَلٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌاوپر بیان کیے گئے استثناء کے مطابق مجبوری کی حالت میں تو کلمہ کفر کہنے والے کو معاف کردیا جائے گا بشرطیکہ اس کا دل ایمان پر پوری طرح مطمئن ہو مگر جو شخص کسی وجہ سے پورے شرح صدر کے ساتھ کفر کی طرف لوٹ گیا ‘ وہ اللہ کے غضب اور بہت بڑے عذاب کا مستحق ہوگیا۔

النحل 16:107

آیت 106 مَنْ كَفَرَ باللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖٓاس کا اطلاق ایمان کی دونوں کیفیتوں پر ہوگا۔ ایک یہ کہ دل میں ایمان آگیا بات پوری طرح دل میں بیٹھ گئی ‘ دل میں یقین کی کیفیت پیدا ہوگئی کہ ہاں یہی حق ہے مگر زبان سے ابھی اقرار نہیں کیا۔ ایمان کی دوسری کیفیت یہ ہے کہ دل بھی ایمان لے آیا اور زبان سے ایمان کا اقرار بھی کرلیا۔ چناچہ ان دونوں درجوں میں سے کسی بھی درجے میں اگر انسان نے حق کو حق جان لیا دل میں یقین پیدا ہوگیا مگر پھر کسی مصلحت کا شکار ہوگیا اور حق کا ساتھ دینے سے کنی کترا گیا تو اس پر اس حکم کا اطلاق ہوگا۔اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَـﭟ بِالْاِيْمَانِ کسی کی جان پر بنی ہوئی تھی اور اس حالت میں کوئی کلمہ کفر اس کی زبان سے ادا ہوگیا مگر اس کا دل بدستور حالت ایمان میں مطمئن رہا تو ایسا شخص اللہ کے ہاں معذور سمجھا جائے گا۔وَلٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌاوپر بیان کیے گئے استثناء کے مطابق مجبوری کی حالت میں تو کلمہ کفر کہنے والے کو معاف کردیا جائے گا بشرطیکہ اس کا دل ایمان پر پوری طرح مطمئن ہو مگر جو شخص کسی وجہ سے پورے شرح صدر کے ساتھ کفر کی طرف لوٹ گیا ‘ وہ اللہ کے غضب اور بہت بڑے عذاب کا مستحق ہوگیا۔

النحل 16:108

آیت 106 مَنْ كَفَرَ باللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖٓاس کا اطلاق ایمان کی دونوں کیفیتوں پر ہوگا۔ ایک یہ کہ دل میں ایمان آگیا بات پوری طرح دل میں بیٹھ گئی ‘ دل میں یقین کی کیفیت پیدا ہوگئی کہ ہاں یہی حق ہے مگر زبان سے ابھی اقرار نہیں کیا۔ ایمان کی دوسری کیفیت یہ ہے کہ دل بھی ایمان لے آیا اور زبان سے ایمان کا اقرار بھی کرلیا۔ چناچہ ان دونوں درجوں میں سے کسی بھی درجے میں اگر انسان نے حق کو حق جان لیا دل میں یقین پیدا ہوگیا مگر پھر کسی مصلحت کا شکار ہوگیا اور حق کا ساتھ دینے سے کنی کترا گیا تو اس پر اس حکم کا اطلاق ہوگا۔اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَـﭟ بِالْاِيْمَانِ کسی کی جان پر بنی ہوئی تھی اور اس حالت میں کوئی کلمہ کفر اس کی زبان سے ادا ہوگیا مگر اس کا دل بدستور حالت ایمان میں مطمئن رہا تو ایسا شخص اللہ کے ہاں معذور سمجھا جائے گا۔وَلٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌاوپر بیان کیے گئے استثناء کے مطابق مجبوری کی حالت میں تو کلمہ کفر کہنے والے کو معاف کردیا جائے گا بشرطیکہ اس کا دل ایمان پر پوری طرح مطمئن ہو مگر جو شخص کسی وجہ سے پورے شرح صدر کے ساتھ کفر کی طرف لوٹ گیا ‘ وہ اللہ کے غضب اور بہت بڑے عذاب کا مستحق ہوگیا۔

النحل 16:109

آیت 109 لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیوی زندگی کی محبت میں حق سے منہ موڑ کر غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اب ان کے اس طرز عمل کا منطقی نتیجہ یہ ہوگا کہ آخرت کی بھلائیوں میں ان کے لیے کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اگلی آیت میں پھر ہجرت کا ذکر آ رہا ہے جو اس سے پہلے آیت 41 میں بھی آچکا ہے۔

النحل 16:110

آیت 110 ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَصَبَرُوْٓا ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌجن مؤمنین پر مکہ میں مصائب کے پہاڑ توڑے گئے ان حالات میں انہوں نے ہجرت کی پھر وہ جہاد بھی کرتے رہے اس طرح راہ حق میں آنے والی آزمائشوں کے تمام مراحل انہوں نے کمال صبر سے طے کیے اللہ تعالیٰ انہیں ان کی ان قربانیوں اور سرفروشیوں کا ضرور اجر دے گا۔ انہیں بخشش عطا فرمائے گا اور ان کی طرف نظر رحمت فرمائے گا۔

النحل 16:111

آیت 111 يَوْمَ تَاْتِيْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَاروز قیامت ہر شخص چاہے گا کہ کسی نہ کسی طرح جہنم کی سزا سے اس کی جان چھوٹ جائے۔ لہٰذا اس کے لیے وہ مختلف عذر پیش کرے گا۔

النحل 16:112

فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ اس تمثیل کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ ایک رائے تو یہ ہے کہ یہ ایک عام تمثیل ہے اور کسی خاص بستی سے متعلق نہیں۔ کچھ مفسرین کا خیال ہے کہ یہ قوم سبا کی مثال ہے جس کے بارے میں تفصیل آگے چل کر سورة سبا میں آئے گی۔ ایک تیسری رائے یہ ہے کہ اس مثال کے آئینے میں مکہ اور اہل مکہ کا ذکر ہے کہ یہ شہر ہمیشہ سے امن و سکون کا گہوارہ چلا آ رہا تھا اور یہاں اہل مکہ کی تجارتی سرگرمیوں اور حج وعمرہ کے اجتماعات کے باعث خوشحالی اور فارغ البالی بھی تھی۔ دنیا بھر سے انواع وا قسام کا رزق فراوانی سے ان کے پاس چلا آتا تھا مگر حضور کی بعثت کے بعد آپ کی دعوت کا انکار کرنے کی پاداش میں اس شہر کے باشندوں پر قحط کا عذاب مسلط کردیا گیا تھا۔ مکہ میں یہ قحط اسی قانون خداوندی کے تحت آیا تھا جس کا ذکر سورة الانعام کی آیت 42 اور سورة الاعراف کی آیت 94 میں ہوا ہے۔ اس اصول یا قانون کے تحت ہر رسول کی بعثت کے بعد متعلقہ قوم پر چھوٹے چھوٹے عذاب آتے ہیں تاکہ انہیں خواب غفلت سے جاگنے اور سنبھلنے کا موقع مل جائے اور وہ رسول پر ایمان لا کر بڑے عذاب سے بچ جائیں۔تاویل خاص کے اعتبار سے اس مثال میں یقیناً مکہ ہی کی طرف اشارہ ہے مگر اس کی عمومی حیثیت بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ کوئی بستی بھی اس قانون خداوندی کی زد میں آسکتی ہے۔ جیسے پاکستان کے عروس البلاد کراچی کے حالات کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ایک وقت وہ تھا جب کراچی میں امن وامان وسائلِ رزق کی فراوانی اور خوشحالی کی کیفیت ملک بھر کے لوگوں کے لیے باعث کشش تھی ‘ مگر پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ شہر وہی نقشہ پیش کرنے لگا جس کی جھلک اس آیت میں دکھائی گئی ہے۔ یعنی کفر ان نعمت کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے اس کے باشندوں کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا۔

النحل 16:113

فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ اس تمثیل کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ ایک رائے تو یہ ہے کہ یہ ایک عام تمثیل ہے اور کسی خاص بستی سے متعلق نہیں۔ کچھ مفسرین کا خیال ہے کہ یہ قوم سبا کی مثال ہے جس کے بارے میں تفصیل آگے چل کر سورة سبا میں آئے گی۔ ایک تیسری رائے یہ ہے کہ اس مثال کے آئینے میں مکہ اور اہل مکہ کا ذکر ہے کہ یہ شہر ہمیشہ سے امن و سکون کا گہوارہ چلا آ رہا تھا اور یہاں اہل مکہ کی تجارتی سرگرمیوں اور حج وعمرہ کے اجتماعات کے باعث خوشحالی اور فارغ البالی بھی تھی۔ دنیا بھر سے انواع وا قسام کا رزق فراوانی سے ان کے پاس چلا آتا تھا مگر حضور کی بعثت کے بعد آپ کی دعوت کا انکار کرنے کی پاداش میں اس شہر کے باشندوں پر قحط کا عذاب مسلط کردیا گیا تھا۔ مکہ میں یہ قحط اسی قانون خداوندی کے تحت آیا تھا جس کا ذکر سورة الانعام کی آیت 42 اور سورة الاعراف کی آیت 94 میں ہوا ہے۔ اس اصول یا قانون کے تحت ہر رسول کی بعثت کے بعد متعلقہ قوم پر چھوٹے چھوٹے عذاب آتے ہیں تاکہ انہیں خواب غفلت سے جاگنے اور سنبھلنے کا موقع مل جائے اور وہ رسول پر ایمان لا کر بڑے عذاب سے بچ جائیں۔تاویل خاص کے اعتبار سے اس مثال میں یقیناً مکہ ہی کی طرف اشارہ ہے مگر اس کی عمومی حیثیت بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ کوئی بستی بھی اس قانون خداوندی کی زد میں آسکتی ہے۔ جیسے پاکستان کے عروس البلاد کراچی کے حالات کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ایک وقت وہ تھا جب کراچی میں امن وامان وسائلِ رزق کی فراوانی اور خوشحالی کی کیفیت ملک بھر کے لوگوں کے لیے باعث کشش تھی ‘ مگر پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ شہر وہی نقشہ پیش کرنے لگا جس کی جھلک اس آیت میں دکھائی گئی ہے۔ یعنی کفر ان نعمت کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے اس کے باشندوں کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا۔

النحل 16:114

وَّاشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ نوٹ کیجیے کہ اللہ کی نعمتوں کا ذکر مختلف انداز میں اس سورت میں بار بار آ رہا ہے۔

النحل 16:115

فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌیعنی انتہائی مجبوری کی حالت میں جان بچانے کے لیے وقتی طور پر بقدر ضرورت ان حرام اشیاء کو استعمال میں لا کر جان بچائی جاسکتی ہے مگر نہ تو دل میں ان کی طلب ہو نہ اللہ سے سرکشی کا ارادہ اور نہ ہی ایسی حالت میں وہ چیز ضرورت سے زیادہ کھائی جائے۔

النحل 16:116

آیت 116 وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌحلال اور حرام کا فیصلہ کرنے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اس لیے اس بارے میں غیر محتاط رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے کہ بغیر علم دلیل اور سند کے جو منہ میں آیا کہہ دیا۔

النحل 16:117

آیت 116 وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌحلال اور حرام کا فیصلہ کرنے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اس لیے اس بارے میں غیر محتاط رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے کہ بغیر علم دلیل اور سند کے جو منہ میں آیا کہہ دیا۔

النحل 16:118

آیت 118 وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ اس بارے میں تفصیل سورة آل عمران : 93 ‘ النساء : 140 اور الانعام : 146 میں گزر چکی ہے۔ حضرت یعقوب نے اپنی مرضی سے اپنے اوپر اونٹ کا گوشت حرام کرلیا تھا ‘ جس کی تعمیل بعد میں وہ پوری قوم کرتی رہی۔ اس کے علاوہ مختلف حیوانات کی چربی بھی بنی اسرائیل پر حرام کردی گئی تھی۔

النحل 16:119

آیت 119 ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ عَمِلُوا السُّوْۗءَ بِجَــهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْٓا ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌجو لوگ جذبات کی رو میں بہہ کر یا نادانی میں کوئی گناہ کر بیٹھیں ‘ پھر توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلیں اور غلط روش سے باز آجائیں تو ایسے لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ ضرور غفورو رحیم ہے۔

النحل 16:120

آیت 120 اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا ۭ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ اَمَّ یَوُمُّ کے لغوی معنی قصد کرنے کے ہیں۔ سورة یوسف آیت 45 میں اُمَّۃ کا لفظ وقت اور مدت کے لیے بھی استعمال ہوا ہے وَادَّکَرَ بَعْدَ اُمَّۃٍ ۔ وقت اور زمانے کے بھی ہم پیچھے چلتے ہیں تو گویا اس کا قصد کرتے ہیں۔ اسی طرح راستے پر چلتے ہوئے بھی انسان اس کا قصد کرتا ہے۔ اس حوالے سے لفظ اُمَّۃ وقت اور راستے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح جب بہت سے لوگ ایک نظریے کا قصد کر کے اکٹھے ہوجائیں تو انہیں بھی اُمَّۃ کہا جاتا ہے ‘ یعنی ہم مقصد لوگوں کی جماعت۔ چناچہ اسی معنی میں سورة البقرۃ کی آیت 143 میں فرمایا گیا : وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ۔ اس لحاظ سے آیت زیرنظر میں لفظ امت کا مفہوم یہ ہوگا کہ حضرت ابراہیم ایک راستہ بنانے والے ‘ اور ایک ریت ڈالنے والے تھے ‘ اور اس طرح آپ اپنی ذات میں گویا ایک امت تھے۔ جب دنیا میں کوئی مسلمان نہ تھا اور پوری دنیا کفر کے راستے پر گامزن تھی تو آپ تن تنہا اسلام کے علمبردار تھے۔

النحل 16:121

آیت 120 اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا ۭ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ اَمَّ یَوُمُّ کے لغوی معنی قصد کرنے کے ہیں۔ سورة یوسف آیت 45 میں اُمَّۃ کا لفظ وقت اور مدت کے لیے بھی استعمال ہوا ہے وَادَّکَرَ بَعْدَ اُمَّۃٍ ۔ وقت اور زمانے کے بھی ہم پیچھے چلتے ہیں تو گویا اس کا قصد کرتے ہیں۔ اسی طرح راستے پر چلتے ہوئے بھی انسان اس کا قصد کرتا ہے۔ اس حوالے سے لفظ اُمَّۃ وقت اور راستے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح جب بہت سے لوگ ایک نظریے کا قصد کر کے اکٹھے ہوجائیں تو انہیں بھی اُمَّۃ کہا جاتا ہے ‘ یعنی ہم مقصد لوگوں کی جماعت۔ چناچہ اسی معنی میں سورة البقرۃ کی آیت 143 میں فرمایا گیا : وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ۔ اس لحاظ سے آیت زیرنظر میں لفظ امت کا مفہوم یہ ہوگا کہ حضرت ابراہیم ایک راستہ بنانے والے ‘ اور ایک ریت ڈالنے والے تھے ‘ اور اس طرح آپ اپنی ذات میں گویا ایک امت تھے۔ جب دنیا میں کوئی مسلمان نہ تھا اور پوری دنیا کفر کے راستے پر گامزن تھی تو آپ تن تنہا اسلام کے علمبردار تھے۔

النحل 16:122

آیت 120 اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا ۭ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ اَمَّ یَوُمُّ کے لغوی معنی قصد کرنے کے ہیں۔ سورة یوسف آیت 45 میں اُمَّۃ کا لفظ وقت اور مدت کے لیے بھی استعمال ہوا ہے وَادَّکَرَ بَعْدَ اُمَّۃٍ ۔ وقت اور زمانے کے بھی ہم پیچھے چلتے ہیں تو گویا اس کا قصد کرتے ہیں۔ اسی طرح راستے پر چلتے ہوئے بھی انسان اس کا قصد کرتا ہے۔ اس حوالے سے لفظ اُمَّۃ وقت اور راستے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح جب بہت سے لوگ ایک نظریے کا قصد کر کے اکٹھے ہوجائیں تو انہیں بھی اُمَّۃ کہا جاتا ہے ‘ یعنی ہم مقصد لوگوں کی جماعت۔ چناچہ اسی معنی میں سورة البقرۃ کی آیت 143 میں فرمایا گیا : وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ۔ اس لحاظ سے آیت زیرنظر میں لفظ امت کا مفہوم یہ ہوگا کہ حضرت ابراہیم ایک راستہ بنانے والے ‘ اور ایک ریت ڈالنے والے تھے ‘ اور اس طرح آپ اپنی ذات میں گویا ایک امت تھے۔ جب دنیا میں کوئی مسلمان نہ تھا اور پوری دنیا کفر کے راستے پر گامزن تھی تو آپ تن تنہا اسلام کے علمبردار تھے۔

النحل 16:123

آیت 120 اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا ۭ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ اَمَّ یَوُمُّ کے لغوی معنی قصد کرنے کے ہیں۔ سورة یوسف آیت 45 میں اُمَّۃ کا لفظ وقت اور مدت کے لیے بھی استعمال ہوا ہے وَادَّکَرَ بَعْدَ اُمَّۃٍ ۔ وقت اور زمانے کے بھی ہم پیچھے چلتے ہیں تو گویا اس کا قصد کرتے ہیں۔ اسی طرح راستے پر چلتے ہوئے بھی انسان اس کا قصد کرتا ہے۔ اس حوالے سے لفظ اُمَّۃ وقت اور راستے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح جب بہت سے لوگ ایک نظریے کا قصد کر کے اکٹھے ہوجائیں تو انہیں بھی اُمَّۃ کہا جاتا ہے ‘ یعنی ہم مقصد لوگوں کی جماعت۔ چناچہ اسی معنی میں سورة البقرۃ کی آیت 143 میں فرمایا گیا : وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ۔ اس لحاظ سے آیت زیرنظر میں لفظ امت کا مفہوم یہ ہوگا کہ حضرت ابراہیم ایک راستہ بنانے والے ‘ اور ایک ریت ڈالنے والے تھے ‘ اور اس طرح آپ اپنی ذات میں گویا ایک امت تھے۔ جب دنیا میں کوئی مسلمان نہ تھا اور پوری دنیا کفر کے راستے پر گامزن تھی تو آپ تن تنہا اسلام کے علمبردار تھے۔

النحل 16:124

آیت 124 اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَي الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ دراصل بنی اسرائیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے عبادت کے لیے جمعہ کا دن ہی مقرر فرمایا تھا مگر انہوں نے اپنی شرارت کی وجہ سے اس کی ناقدری کی اور اسے چھوڑ کر ہفتہ کا دن اختیار کرلیا۔ چناچہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس حیثیت میں ہفتہ کا دن ہی مقرر کردیا۔

النحل 16:125

آیت 125 اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ یہ دعوت الی الحق کا طریقہ اور اس کے آداب کا ذکر ہے جیسا کہ سورة یوسف ‘ آیت 108 میں فرمایا گیا : قُلْ ہٰذِہٖ سَبِیْلِیْٓ اَدْعُوْٓا اِلَی اللّٰہِقف عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ ” اے نبی ! آپ کہہ دیجیے کہ یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں پوری بصیرت کے ساتھ میں خود بھی اور میرے پیروکار بھی اس راستے پر گامزن ہیں۔“ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ اپنے موضوع کے حوالے سے یہ بہت عظیم آیت ہے۔ اس میں انسانی معاشرے کے اندر انسانوں کی تین بنیادی اقسام کے حوالے سے دعوت دین کے تین مدارج بیان کیے گئے ہیں ‘ مگر عام طور پر اس آیت کا ترجمہ اور تشریح کرتے ہوئے اس پہلو کو اجاگر نہیں کیا جاتا۔کسی بھی معاشرے میں علم و دانش کی بلند ترین سطح پر وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں اس معاشرے کا دانشور طبقہ intelligentsia یا ذہین اقلیت intellectual minority کہا جاتا ہے۔ اس طبقے کی حیثیت اس معاشرے یا قوم کے دماغ کی سی ہوتی ہے۔ یہ لوگ اگرچہ تعداد کے لحاظ سے بہت چھوٹی اقلیت پر مشتمل ہوتے ہیں مگر کسی معاشرے کی مجموعی سوچ اور اس کے مزاج کا رخ متعین کرنے میں ان کا کردار یا حصہ فیصلہ کن حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو جذباتی تقاریر اور خوش کن وعظ متاثر نہیں کرسکتے ‘ بلکہ ایسے لوگ کسی سوچ یا نظر یے کو قبول کرتے ہیں تو مصدقہ علمی و منطقی دلیل سے قبول کرتے ہیں اور اگر رد کرتے ہیں تو ایسی ہی ٹھوس دلیل سے رد کرتے ہیں۔ آیت زیر نظر میں بیان کردہ پہلا درجہ ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے اور وہ ہے ”حکمت“۔ یہ علم و عقل کی پختگی کی بہت اعلیٰ سطح ہے۔ سورة البقرۃ کی آیت 269 میں اللہ تعالیٰ نے حکمت کو ’ خیر کثیر ‘ قرار دیا ہے : وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا۔ قرآن میں تین مقامات البقرۃ 129 ‘ آل عمران : 164 اور الجمعہ : 2 پر ان مراحل اور درجات کا ذکر کیا گیا ہے جن کے تحت حضور نے اپنے صحابہ کی تربیت فرمائی۔ ان میں بلند ترین مرحلہ یا درجہ حکمت کا ہے۔ حکمت کے سبب کسی انسان کی سوچ اور علم میں پختگی آتی ہے ‘ اس کی گفتگو میں جامعیت پیدا ہوتی ہے اور اس کی تجزیاتی اہلیت بہتر ہوجاتی ہے۔ اس طرح وہ کسی سے بات کرتے ہوئے یا کسی کو دین کی دعوت دیتے ہوئے معروضی صورت حال ‘ مخاطب کے ذہنی رجحان اور ترجیحات کا درست تجزیہ کرنے کے بعد اپنی گفتگو کے نکات اور دلائل کو ترتیب دیتا ہے۔ اسے خوب اندازہ ہوتا ہے کہ کس وقت اسے کیا پیش کرنا ہے اور کس انداز میں پیش کرنا ہے۔ کون سا نکتہ بنیادی حیثیت کا درجہ رکھتا ہے اور کون سی دلیل ثانوی اہمیت کی حامل ہے۔ بہر حال کسی بھی معاشرے کے وہ لوگ جو علم ‘ عقل اور شعور میں غیر معمولی اہلیت کے حامل ہوں ‘ ان کو دعوت دینے کے لیے بھی کسی ایسے داعی کی ضرورت ہے جو خود بھی علم و حکمت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو اور ان سے برابری کی سطح پر کھڑے ہو کر بات کرسکے۔ کیونکہ جب قرآن اپنے مخالفین کو چیلنج کرتا ہے : ہَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ البقرۃ ”اپنی دلیل لاؤ اگر تم واقعی سچے ہو“۔ تو ایسی صورت میں ہمارے مخالفین کو بھی حق ہے کہ وہ بھی ہم سے دلیل مانگیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم عقل اور منطق کی اعلیٰ سے اعلیٰ سطح پر ان کی تسلی و تشفی کا سامان فراہم کریں۔ لہٰذا آیت زیر نظر میں دعوت و تبلیغ کا پہلا درجہ حکمت بیان کیا گیا ہے جس کا حق ادا کرنے کے لیے داعی کا صاحب حکمت اور حکیم ہونا لازمی ہے۔حکمت کے بعد دوسرا درجہ ”موعظہ حسنہ“ کا ہے ‘ یعنی اچھا خوبصورت وعظ۔ یہ درجہ عوام الناس کے لیے ہے۔ کسی بھی معاشرے میں اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جن کے ذہنوں میں عقل اور منطق کی چھلنیاں نہیں لگی ہوتیں۔ چناچہ ایسے لوگوں کے لیے منطقی مباحث اور فلسفیانہ تقاریر ”تکلیف مالا یطاق“ کے مترادف ہیں۔ ان کے دل کھلی کتاب اور ذہن صاف سلیٹ کی مانند ہوتے ہیں ‘ آپ ان پر جو لکھنا چاہیں لکھ لیں۔ ایسے لوگوں کو دعوت دینے کے لیے ان کے جذبات کو اپیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ پر تاثیر وعظ اور خلوص و ہمدردی سے کی گئی بات سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ ان کو احساس ہوجاتا ہے کہ داعی ہم پر اپنے علم کا رعب نہیں ڈالنا چاہتا ‘ ہم پر دھونس نہیں جمانا چاہتا ‘ وہ ہم سے اظہار نفرت نہیں کر رہا ‘ ہماری تحقیر نہیں کر رہا ‘ بلکہ اس کے پیش نظر ہماری خیر خواہی ہے۔ چناچہ داعی کے دل سے نکلی ہوئی بات ”از دل خیزد ‘ بردل ریزد“ کے مصداق سیدھی ان کے دلوں میں اتر جاتی ہے۔ دعوت حق کا تیسرا درجہ جَادِلْہُمْ بالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ ان عناصر کے لیے ہے جو کسی معاشرے میں خلق خدا کو گمراہ کرنے کے مشن کے علمبردار ہوتے ہیں۔ آج کل بہت سی تنظیموں کی طرف سے باقاعدہ پیشہ وارانہ تربیت سے ایسے لوگ تیار کر کے میدان میں اتارے جاتے ہیں۔ یہ لوگ خلوص و اخلاص سے کی گئی بات کو کسی قیمت پر ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہر حال میں اپنے نظریے اور موقف کی طرف داری کرنا ان لوگوں کی مجبوری ہوتی ہے ‘ چاہے وہ کسی علمی و عقلی دلیل سے ہو یا ہٹ دھرمی سے۔ ایسے لوگوں کو مسکت جواب دے کر لاجواب کرنا ضروری ہوتا ہے ‘ ورنہ بعض اوقات عوامی سطح کے اجتماعات میں ان کی بحث برائے بحث کی پالیسی بہت خطرناک ہوسکتی ہے ‘ جس سے عوام الناس کے ذہن منفی طور پر متاثر ہوسکتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے بحث و مباحثہ کے عمل کو ہمارے ہاں ”مناظرہ“ کہا جاتا ہے ‘ جبکہ قرآن نے اسے ”مجادلہ“ کہا ہے۔ بہرحال قرآن نے اپنے پیروکاروں کے لیے اس میں بھی اعلیٰ معیار مقرر کردیا ہے کہ مخالفین سے مجادلہ بھی ہو تو احسن انداز میں ہو۔ اگر آپ کا مخالف کسی طور سے گھٹیا پن کا مظاہرہ بھی کرے تب بھی آپ کو جواب میں اچھے اخلاق کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے کی اجازت نہیں ‘ جیسا کہ سورة الانعام کی آیت 108 میں حکم دیا گیا : وَلاَ تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ ”اور جن کو یہ مشرک اللہ کے سوا پکارتے ہیں انہیں برا بھلا نہ کہو کہ کہیں یہ بھی بغیر سوچے سمجھے مخالفت میں اللہ کو برا بھلا کہنے لگ جائیں“۔ آج کل مختلف مذاہب کی تنظی میں مثلاً عیسائی مشنریز باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اسلام کو ہدف بنانے کے لیے کچھ خاص موضوعات اور مسائل کو ایک مخصوص انداز میں پیش کرتی ہیں۔ یہ لوگ ایسے موضوعات و مسائل پر مناظرے کرنے کے لیے باقاعدہ ٹریننگ کے ذریعے سپیشلسٹ specialist تیار کرتے ہیں۔ ایسے پیشہ وارانہ لوگوں کے مقابلے اور مجادلے کے لیے داعیانِ حق کو خصوصی تعلیم و تربیت دینے کی ضرورت ہے۔

النحل 16:126

آیت 125 اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ یہ دعوت الی الحق کا طریقہ اور اس کے آداب کا ذکر ہے جیسا کہ سورة یوسف ‘ آیت 108 میں فرمایا گیا : قُلْ ہٰذِہٖ سَبِیْلِیْٓ اَدْعُوْٓا اِلَی اللّٰہِقف عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ ” اے نبی ! آپ کہہ دیجیے کہ یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں پوری بصیرت کے ساتھ میں خود بھی اور میرے پیروکار بھی اس راستے پر گامزن ہیں۔“ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ اپنے موضوع کے حوالے سے یہ بہت عظیم آیت ہے۔ اس میں انسانی معاشرے کے اندر انسانوں کی تین بنیادی اقسام کے حوالے سے دعوت دین کے تین مدارج بیان کیے گئے ہیں ‘ مگر عام طور پر اس آیت کا ترجمہ اور تشریح کرتے ہوئے اس پہلو کو اجاگر نہیں کیا جاتا۔کسی بھی معاشرے میں علم و دانش کی بلند ترین سطح پر وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں اس معاشرے کا دانشور طبقہ intelligentsia یا ذہین اقلیت intellectual minority کہا جاتا ہے۔ اس طبقے کی حیثیت اس معاشرے یا قوم کے دماغ کی سی ہوتی ہے۔ یہ لوگ اگرچہ تعداد کے لحاظ سے بہت چھوٹی اقلیت پر مشتمل ہوتے ہیں مگر کسی معاشرے کی مجموعی سوچ اور اس کے مزاج کا رخ متعین کرنے میں ان کا کردار یا حصہ فیصلہ کن حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو جذباتی تقاریر اور خوش کن وعظ متاثر نہیں کرسکتے ‘ بلکہ ایسے لوگ کسی سوچ یا نظر یے کو قبول کرتے ہیں تو مصدقہ علمی و منطقی دلیل سے قبول کرتے ہیں اور اگر رد کرتے ہیں تو ایسی ہی ٹھوس دلیل سے رد کرتے ہیں۔ آیت زیر نظر میں بیان کردہ پہلا درجہ ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے اور وہ ہے ”حکمت“۔ یہ علم و عقل کی پختگی کی بہت اعلیٰ سطح ہے۔ سورة البقرۃ کی آیت 269 میں اللہ تعالیٰ نے حکمت کو ’ خیر کثیر ‘ قرار دیا ہے : وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا۔ قرآن میں تین مقامات البقرۃ 129 ‘ آل عمران : 164 اور الجمعہ : 2 پر ان مراحل اور درجات کا ذکر کیا گیا ہے جن کے تحت حضور نے اپنے صحابہ کی تربیت فرمائی۔ ان میں بلند ترین مرحلہ یا درجہ حکمت کا ہے۔ حکمت کے سبب کسی انسان کی سوچ اور علم میں پختگی آتی ہے ‘ اس کی گفتگو میں جامعیت پیدا ہوتی ہے اور اس کی تجزیاتی اہلیت بہتر ہوجاتی ہے۔ اس طرح وہ کسی سے بات کرتے ہوئے یا کسی کو دین کی دعوت دیتے ہوئے معروضی صورت حال ‘ مخاطب کے ذہنی رجحان اور ترجیحات کا درست تجزیہ کرنے کے بعد اپنی گفتگو کے نکات اور دلائل کو ترتیب دیتا ہے۔ اسے خوب اندازہ ہوتا ہے کہ کس وقت اسے کیا پیش کرنا ہے اور کس انداز میں پیش کرنا ہے۔ کون سا نکتہ بنیادی حیثیت کا درجہ رکھتا ہے اور کون سی دلیل ثانوی اہمیت کی حامل ہے۔ بہر حال کسی بھی معاشرے کے وہ لوگ جو علم ‘ عقل اور شعور میں غیر معمولی اہلیت کے حامل ہوں ‘ ان کو دعوت دینے کے لیے بھی کسی ایسے داعی کی ضرورت ہے جو خود بھی علم و حکمت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو اور ان سے برابری کی سطح پر کھڑے ہو کر بات کرسکے۔ کیونکہ جب قرآن اپنے مخالفین کو چیلنج کرتا ہے : ہَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ البقرۃ ”اپنی دلیل لاؤ اگر تم واقعی سچے ہو“۔ تو ایسی صورت میں ہمارے مخالفین کو بھی حق ہے کہ وہ بھی ہم سے دلیل مانگیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم عقل اور منطق کی اعلیٰ سے اعلیٰ سطح پر ان کی تسلی و تشفی کا سامان فراہم کریں۔ لہٰذا آیت زیر نظر میں دعوت و تبلیغ کا پہلا درجہ حکمت بیان کیا گیا ہے جس کا حق ادا کرنے کے لیے داعی کا صاحب حکمت اور حکیم ہونا لازمی ہے۔حکمت کے بعد دوسرا درجہ ”موعظہ حسنہ“ کا ہے ‘ یعنی اچھا خوبصورت وعظ۔ یہ درجہ عوام الناس کے لیے ہے۔ کسی بھی معاشرے میں اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جن کے ذہنوں میں عقل اور منطق کی چھلنیاں نہیں لگی ہوتیں۔ چناچہ ایسے لوگوں کے لیے منطقی مباحث اور فلسفیانہ تقاریر ”تکلیف مالا یطاق“ کے مترادف ہیں۔ ان کے دل کھلی کتاب اور ذہن صاف سلیٹ کی مانند ہوتے ہیں ‘ آپ ان پر جو لکھنا چاہیں لکھ لیں۔ ایسے لوگوں کو دعوت دینے کے لیے ان کے جذبات کو اپیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ پر تاثیر وعظ اور خلوص و ہمدردی سے کی گئی بات سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ ان کو احساس ہوجاتا ہے کہ داعی ہم پر اپنے علم کا رعب نہیں ڈالنا چاہتا ‘ ہم پر دھونس نہیں جمانا چاہتا ‘ وہ ہم سے اظہار نفرت نہیں کر رہا ‘ ہماری تحقیر نہیں کر رہا ‘ بلکہ اس کے پیش نظر ہماری خیر خواہی ہے۔ چناچہ داعی کے دل سے نکلی ہوئی بات ”از دل خیزد ‘ بردل ریزد“ کے مصداق سیدھی ان کے دلوں میں اتر جاتی ہے۔ دعوت حق کا تیسرا درجہ جَادِلْہُمْ بالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ ان عناصر کے لیے ہے جو کسی معاشرے میں خلق خدا کو گمراہ کرنے کے مشن کے علمبردار ہوتے ہیں۔ آج کل بہت سی تنظیموں کی طرف سے باقاعدہ پیشہ وارانہ تربیت سے ایسے لوگ تیار کر کے میدان میں اتارے جاتے ہیں۔ یہ لوگ خلوص و اخلاص سے کی گئی بات کو کسی قیمت پر ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہر حال میں اپنے نظریے اور موقف کی طرف داری کرنا ان لوگوں کی مجبوری ہوتی ہے ‘ چاہے وہ کسی علمی و عقلی دلیل سے ہو یا ہٹ دھرمی سے۔ ایسے لوگوں کو مسکت جواب دے کر لاجواب کرنا ضروری ہوتا ہے ‘ ورنہ بعض اوقات عوامی سطح کے اجتماعات میں ان کی بحث برائے بحث کی پالیسی بہت خطرناک ہوسکتی ہے ‘ جس سے عوام الناس کے ذہن منفی طور پر متاثر ہوسکتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے بحث و مباحثہ کے عمل کو ہمارے ہاں ”مناظرہ“ کہا جاتا ہے ‘ جبکہ قرآن نے اسے ”مجادلہ“ کہا ہے۔ بہرحال قرآن نے اپنے پیروکاروں کے لیے اس میں بھی اعلیٰ معیار مقرر کردیا ہے کہ مخالفین سے مجادلہ بھی ہو تو احسن انداز میں ہو۔ اگر آپ کا مخالف کسی طور سے گھٹیا پن کا مظاہرہ بھی کرے تب بھی آپ کو جواب میں اچھے اخلاق کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے کی اجازت نہیں ‘ جیسا کہ سورة الانعام کی آیت 108 میں حکم دیا گیا : وَلاَ تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ ”اور جن کو یہ مشرک اللہ کے سوا پکارتے ہیں انہیں برا بھلا نہ کہو کہ کہیں یہ بھی بغیر سوچے سمجھے مخالفت میں اللہ کو برا بھلا کہنے لگ جائیں“۔ آج کل مختلف مذاہب کی تنظی میں مثلاً عیسائی مشنریز باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اسلام کو ہدف بنانے کے لیے کچھ خاص موضوعات اور مسائل کو ایک مخصوص انداز میں پیش کرتی ہیں۔ یہ لوگ ایسے موضوعات و مسائل پر مناظرے کرنے کے لیے باقاعدہ ٹریننگ کے ذریعے سپیشلسٹ specialist تیار کرتے ہیں۔ ایسے پیشہ وارانہ لوگوں کے مقابلے اور مجادلے کے لیے داعیانِ حق کو خصوصی تعلیم و تربیت دینے کی ضرورت ہے۔

النحل 16:127

آیت 127 وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ اِلَّا باللّٰهِ یہ حکم براہ راست رسول اللہ کے لیے ہے اور آپ کی وساطت سے تمام مسلمانوں کے لیے بھی۔ اس سلسلے میں حقیقت یہ ہے کہ اللہ پر جس قدر اعتماد ہوگا جیسا اس پر توکل ہوگا جتنا پختہ اس کے وعدوں پر یقین ہوگا اسی انداز میں انسان صبر بھی کرسکے گا۔وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِيْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُوْنَ یہ لوگ اپنے کرتوتوں کے سبب عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ چناچہ آپ ان کے انجام کے بارے میں بالکل رنجیدہ اور فکر مند نہ ہوں اور نہ ہی ان کی سازشوں اور گھٹیا معاندانہ سرگرمیوں کے بارے میں سوچ کر آپ اپنا دل میلا کریں۔

النحل 16:128

آیت 128 اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کرتے ہوئے درجۂ احسان پر فائز ہوگئے ہیں اللہ کی معیت نصرت اور تائید ان کے شامل حال رہے گی۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہوگا تو یہ مشرکین آپ کو کچھ گزند نہیں پہنچا سکتے۔ کیا ڈر ہے اگر ساری خدائی ہے مخالف کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے ! بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالایات والذِّکر الحکیم