Lafzullah

Tafsir Bayan ul Quran — الزمر 39:1 – الشورى 42:53

Author / source: Dr. Israr Ahmad

Contents
  1. الزمر 39:1
  2. الزمر 39:2
  3. الزمر 39:3
  4. الزمر 39:4
  5. الزمر 39:5
  6. الزمر 39:6
  7. الزمر 39:7
  8. الزمر 39:8
  9. الزمر 39:9
  10. الزمر 39:10
  11. الزمر 39:11
  12. الزمر 39:12
  13. الزمر 39:13
  14. الزمر 39:14
  15. الزمر 39:15
  16. الزمر 39:16
  17. الزمر 39:17
  18. الزمر 39:18
  19. الزمر 39:19
  20. الزمر 39:20
  21. الزمر 39:21
  22. الزمر 39:22
  23. الزمر 39:23
  24. الزمر 39:24
  25. الزمر 39:25
  26. الزمر 39:26
  27. الزمر 39:27
  28. الزمر 39:28
  29. الزمر 39:29
  30. الزمر 39:30
  31. الزمر 39:31
  32. الزمر 39:32
  33. الزمر 39:33
  34. الزمر 39:34
  35. الزمر 39:35
  36. الزمر 39:36
  37. الزمر 39:37
  38. الزمر 39:38
  39. الزمر 39:39
  40. الزمر 39:40
  41. الزمر 39:41
  42. الزمر 39:42
  43. الزمر 39:43
  44. الزمر 39:44
  45. الزمر 39:45
  46. الزمر 39:46
  47. الزمر 39:47
  48. الزمر 39:48
  49. الزمر 39:49
  50. الزمر 39:50
  51. الزمر 39:51
  52. الزمر 39:52
  53. الزمر 39:53
  54. الزمر 39:54
  55. الزمر 39:55
  56. الزمر 39:56
  57. الزمر 39:57
  58. الزمر 39:58
  59. الزمر 39:59
  60. الزمر 39:60
  61. الزمر 39:61
  62. الزمر 39:62
  63. الزمر 39:63
  64. الزمر 39:64
  65. الزمر 39:65
  66. الزمر 39:66
  67. الزمر 39:67
  68. الزمر 39:68
  69. الزمر 39:69
  70. الزمر 39:70
  71. الزمر 39:71
  72. الزمر 39:72
  73. الزمر 39:73
  74. الزمر 39:74
  75. الزمر 39:75
  76. غافر 40:1
  77. غافر 40:2
  78. غافر 40:3
  79. غافر 40:4
  80. غافر 40:5
  81. غافر 40:6
  82. غافر 40:7
  83. غافر 40:8
  84. غافر 40:9
  85. غافر 40:10
  86. غافر 40:11
  87. غافر 40:12
  88. غافر 40:13
  89. غافر 40:14
  90. غافر 40:15
  91. غافر 40:16
  92. غافر 40:17
  93. غافر 40:18
  94. غافر 40:19
  95. غافر 40:20
  96. غافر 40:21
  97. غافر 40:22
  98. غافر 40:23
  99. غافر 40:24
  100. غافر 40:25
  101. غافر 40:26
  102. غافر 40:27
  103. غافر 40:28
  104. غافر 40:29
  105. غافر 40:30
  106. غافر 40:31
  107. غافر 40:32
  108. غافر 40:33
  109. غافر 40:34
  110. غافر 40:35
  111. غافر 40:36
  112. غافر 40:37
  113. غافر 40:38
  114. غافر 40:39
  115. غافر 40:40
  116. غافر 40:41
  117. غافر 40:42
  118. غافر 40:43
  119. غافر 40:44
  120. غافر 40:45
  121. غافر 40:46
  122. غافر 40:47
  123. غافر 40:48
  124. غافر 40:49
  125. غافر 40:50
  126. غافر 40:51
  127. غافر 40:52
  128. غافر 40:53
  129. غافر 40:54
  130. غافر 40:55
  131. غافر 40:56
  132. غافر 40:57
  133. غافر 40:58
  134. غافر 40:59
  135. غافر 40:60
  136. غافر 40:61
  137. غافر 40:62
  138. غافر 40:63
  139. غافر 40:64
  140. غافر 40:65
  141. غافر 40:66
  142. غافر 40:67
  143. غافر 40:68
  144. غافر 40:69
  145. غافر 40:70
  146. غافر 40:71
  147. غافر 40:72
  148. غافر 40:73
  149. غافر 40:74
  150. غافر 40:75
  151. غافر 40:76
  152. غافر 40:77
  153. غافر 40:78
  154. غافر 40:79
  155. غافر 40:80
  156. غافر 40:81
  157. غافر 40:82
  158. غافر 40:83
  159. غافر 40:84
  160. غافر 40:85
  161. فصلت 41:1
  162. فصلت 41:2
  163. فصلت 41:3
  164. فصلت 41:4
  165. فصلت 41:5
  166. فصلت 41:6
  167. فصلت 41:7
  168. فصلت 41:8
  169. فصلت 41:9
  170. فصلت 41:10
  171. فصلت 41:11
  172. فصلت 41:12
  173. فصلت 41:13
  174. فصلت 41:14
  175. فصلت 41:15
  176. فصلت 41:16
  177. فصلت 41:17
  178. فصلت 41:18
  179. فصلت 41:19
  180. فصلت 41:20
  181. فصلت 41:21
  182. فصلت 41:22
  183. فصلت 41:23
  184. فصلت 41:24
  185. فصلت 41:25
  186. فصلت 41:26
  187. فصلت 41:27
  188. فصلت 41:28
  189. فصلت 41:29
  190. فصلت 41:30
  191. فصلت 41:31
  192. فصلت 41:32
  193. فصلت 41:33
  194. فصلت 41:34
  195. فصلت 41:35
  196. فصلت 41:36
  197. فصلت 41:37
  198. فصلت 41:38
  199. فصلت 41:39
  200. فصلت 41:40
  201. فصلت 41:41
  202. فصلت 41:42
  203. فصلت 41:43
  204. فصلت 41:44
  205. فصلت 41:45
  206. فصلت 41:46
  207. فصلت 41:47
  208. فصلت 41:48
  209. فصلت 41:49
  210. فصلت 41:50
  211. فصلت 41:51
  212. فصلت 41:52
  213. فصلت 41:53
  214. فصلت 41:54
  215. الشورى 42:1
  216. الشورى 42:2
  217. الشورى 42:3
  218. الشورى 42:4
  219. الشورى 42:5
  220. الشورى 42:6
  221. الشورى 42:7
  222. الشورى 42:8
  223. الشورى 42:9
  224. الشورى 42:10
  225. الشورى 42:11
  226. الشورى 42:12
  227. الشورى 42:13
  228. الشورى 42:14
  229. الشورى 42:15
  230. الشورى 42:16
  231. الشورى 42:17
  232. الشورى 42:18
  233. الشورى 42:19
  234. الشورى 42:20
  235. الشورى 42:21
  236. الشورى 42:22
  237. الشورى 42:23
  238. الشورى 42:24
  239. الشورى 42:25
  240. الشورى 42:26
  241. الشورى 42:27
  242. الشورى 42:28
  243. الشورى 42:29
  244. الشورى 42:30
  245. الشورى 42:31
  246. الشورى 42:32
  247. الشورى 42:33
  248. الشورى 42:34
  249. الشورى 42:35
  250. الشورى 42:36
  251. الشورى 42:37
  252. الشورى 42:38
  253. الشورى 42:39
  254. الشورى 42:40
  255. الشورى 42:41
  256. الشورى 42:42
  257. الشورى 42:43
  258. الشورى 42:44
  259. الشورى 42:45
  260. الشورى 42:46
  261. الشورى 42:47
  262. الشورى 42:48
  263. الشورى 42:49
  264. الشورى 42:50
  265. الشورى 42:51
  266. الشورى 42:52
  267. الشورى 42:53

الزمر 39:1

آیت 1 { تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ } ”اس کتاب کا نازل کیا جانا ہے اس اللہ کی طرف سے جو زبردست ‘ کمال حکمت والا ہے۔“ سورة الزمر اور سورة المومن کا آپس میں جوڑے کا تعلق ہے۔ چناچہ ان دونوں سورتوں کا آغاز بھی ایک جیسے الفاظ سے ہو رہا ہے ‘ صرف ”الحکیم“ اور ”العلیم“ کا فرق ہے۔ جیسے کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے کہ زیر مطالعہ ضمنی گروپ کی ان آٹھ سورتوں میں سے پہلی سورت یعنی سورة الزمر کے آغاز میں حروفِ مقطعات نہیں ہیں جبکہ باقی ساتوں سورتیں سورۃ المومن تا سورة الاحقاف حٰمٓ کے حروف سے شروع ہوتی ہیں۔

الزمر 39:2

آیت 2 { اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ } ”اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ پر یہ کتاب اتاری ہے حق کے ساتھ“ { فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ } ”پس بندگی کرو اللہ کی اپنی اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے۔“ اس حکم کے برعکس آج عملی طور پر ہماری زندگیوں کا نقشہ یہ ہے کہ اللہ کی بندگی بھی ہو رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ طاغوت کو بھی پوجا جا رہا ہے۔ ایک طرف نمازیں پڑھی جا رہی ہیں ‘ حج اور عمرے ادا کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف حرام خوری بھی جاری ہے اور سودی کاروبار بھی چل رہا ہے۔ اللہ کو ایسی آلودہ polluted بندگی کی ضرورت نہیں۔ وہ تو اپنے بندوں سے خالص بندگی کا تقاضا کرتا ہے۔

الزمر 39:3

آیت 3 { اَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ } ”آگاہ ہو جائو کہ اطاعت ِخالص اللہ ہی کا حق ہے۔“ اللہ کے ہاں صرف دین خالص ہی مقبول ہے۔ اللہ کو یہ ہرگز منظور نہیں کہ اس کا کوئی بندہ اس کی بندگی بھی کرے اور اپنی بندگی کا کچھ حصہ کسی دوسرے کے لیے بھی مختص کرلے۔ اللہ تعالیٰ بہت غیور ہے ‘ وہ شراکت کی بندگی کو واپس اس بندے کے منہ پردے مارتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ میرا بننا ہے تو خالصتاً میرے بنو : { یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص } البقرہ : 208 ”اے اہل ایمان ! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائو“۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ احکام ماننے اور کچھ نہ ماننے کے حوالے سے سورة البقرۃ کی اس آیت میں بہت سخت وعید آئی ہے : { اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍج فَمَا جَزَآئُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلاَّ خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلٰٓی اَشَدِّ الْعَذَابِطوَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ } ”تو کیا تم ہماری کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک حصے کا انکار کردیتے ہو ؟ تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو تم میں سے یہ حرکت کرے سوائے دنیا کی زندگی میں ذلت و رسوائی کے ‘ اور قیامت کے روز وہ لوٹا دیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔“سیاق وسباق کے لحاظ سے اگرچہ اس آیت کے مخاطب بنی اسرائیل ہیں لیکن آج ہمارے لیے بھی اللہ کا حکم اور قانون یہی ہے۔ بلکہ یہ آیت ہمارے لیے آئینے کی حیثیت رکھتی ہے جس میں آج ہم اپنی تصویر واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ دنیا کی جس رسوائی کا ذکر اس آیت میں ہوا ہے وہ آج ہمارے ماتھے پر جلی حروف میں لکھی ہوئی صاف نظر آرہی ہے۔ اس وقت مسلمان تعداد میں ڈیڑھ سو کروڑ سے بھی زائد ہیں مگر عزت نام کی کوئی چیز اس وقت ان کے پاس نہیں ہے۔ بین الاقوامی معاملات میں کسی کو ان سے ان کی رائے پوچھنا بھی گوارا نہیں۔ { وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ } ”اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا کچھ اور کو اولیاء بنا یا ہوا ہے“ { مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَآ اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی } ” وہ کہتے ہیں کہ ہم تو ان کو صرف اس لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔“ یعنی اصل میں تو ہم اللہ ہی کو پوجتے ہیں ‘ جبکہ دوسرے معبودوں کو تو ہم اللہ تک پہنچنے اور اس کا قرب حاصل کرنے کا صرف وسیلہ سمجھتے ہیں۔ { اِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ فِیْ مَا ہُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ } ”یقینا اللہ فیصلہ کر دے گا ان کے مابین ان تمام چیزوں میں جن میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔“ { اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِیْ مَنْ ہُوَ کٰذِبٌ کَفَّارٌ} ”اللہ ہرگز ہدایت نہیں دیتا جھوٹے اور نا شکرے لوگوں کو۔“

الزمر 39:4

آیت 4 { لَوْ اَرَادَ اللّٰہُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰی مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآئُ } ”اگر اللہ کا واقعی ارادہ ہوتا کہ کسی کو اولاد بنائے تو وہ چن لیتا اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا“ اللہ کی نہ تو کوئی اولاد ہے اور نہ ہی اس کے ہاں اولاد کا کوئی تصور ہے۔ وہ اکیلا خالق ہے اور باقی ہرچیز اس کی مخلوق ہے ‘ فرشتے بھی اس کی مخلوق ہیں۔ اسے کسی کو بیٹا یا بیٹی بنانے کی کوئی ضرورت یا حاجت نہیں ہے۔ { سُبْحٰنَہٗط ہُوَ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ } ”وہ پاک ہے۔ وہ اللہ ہے اکیلا اور کل کائنات پر چھایا ہوا۔“ ُ کل کائنات اور تمام مخلوقات پر اس کی حکومت قائم ہے۔ وہ سب پر قابو رکھنے والا اور غالب ہے۔

الزمر 39:5

آیت 5 { خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ”اس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ۔“ یعنی یہ کائنات ایک نہایت منظم ‘ بامقصد اور نتیجہ خیز تخلیق ہے ‘ یہ کوئی کار عبث نہیں ہے۔ { یُـکَوِّرُ الَّــیْلَ عَلَی النَّہَارِ وَیُــکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی الَّــیْلِ } ”وہ رات کو لپیٹ دیتا ہے دن پر اور دن کو لپیٹ دیتا ہے رات پر“ یہ مضمون قرآن حکیم میں تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ متعدد مقامات پر یہی الفاظ دہرائے گئے ہیں ‘ جبکہ بعض جگہوں پر { یُوْلِجُ الَّــیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّــیْلِ } کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ بہر حال مقصود اس سے یہ حقیقت واضح کرنا ہے کہ رات اور دن کے الٹ پھیر کا یہ منضبط اور منظم نظام بےمقصد اور عبث نہیں ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے عالم نباتات کے نظام تنفس ّ respiration system کی مثال لی جاسکتی ہے جو کلی طور پر دن رات کے ادلنے بدلنے کے ساتھ متعلق و مشروط ہے یا پھر روئے زمین پر پھیلے ہوئے پورے نظام زندگی کا حوالہ دیا جاسکتا ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اس گردش لیل و نہار کا مرہونِ منت ہے۔ غرض اس کائنات کی کوئی چیزیا کوئی تخلیق بھی بےمقصد و بےکار نہیں۔ اور اگر ایسا ہے اور یقینا ایسا ہی ہے تو پھر انسان اور انسان کی تخلیق کیونکر بےمقصد و بےکار ہوسکتی ہے ‘ جس کے لیے یہ سب کچھ پیدا کیا گیا ہے ؟ یہاں پر ہر ذی شعور انسان کے ذہن میں یہ سوال خود بخود پیدا ہونا چاہیے کہ جب کائنات اور اس کی تمام چیزیں انسان کے لیے پیدا کی گئی ہیں تو آخر انسان کا مقصد ِتخلیق کیا ہے ؟ ایک حدیث میں الفاظ آئے ہیں : فَاِنَّ الدُّنْیَا خُلِقَتْ لَـکُمْ وَاَنْتُمْ خُلِقْتُمْ لِلْآخِرَۃِ 1 یعنی دنیا تمہارے لیے پیدا کی گئی ہے اور تم آخرت کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔ بہر حال اگر عقل اور منطق کی عینک سے بھی دیکھا جائے تو بھی آخرت کے تصور کے بغیر انسان کی تخلیق کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔ خصوصاً انسان کو نیکی اور بدی کا جو شعور ودیعت ہوا ہے وہ ایک ایسی دنیا کا تقاضا کرتا ہے جہاں اچھائی کا نتیجہ واقعی اچھا نکلے اور برائی کا انجام واقعی برا ہو۔ جبکہ اس دنیا میں ہر جگہ اور ہر وقت ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ چناچہ انسان کی اخلاقی حس moral sense کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے بھی ایک دوسری زندگی کا ظہور نا گزیر ہے۔ { وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ } ”اور اس نے مسخر کردیا سورج اور چاند کو۔“ { کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی } ”یہ سب کے سب چل رہے ہیں ایک وقت معین تک کے لیے۔“ { اَلَا ہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ } ”آگاہ ہو جائو ! وہ زبردست ہے ‘ بہت بخشنے والا۔“

الزمر 39:6

آیت 6 { خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا } ”اس نے پیدا کیا تمہیں ایک جان سے ‘ پھر اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا“ جو لوگ نظریہ ارتقاء evolution theory کو مانتے ہیں یا یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید کے ساتھ اس کے بعض اجزاء کی مطابقت ہے ‘ وہ اس کی تعبیر یوں کرتے ہیں کہ ابتدا میں پیدا کیے جانے والے حیوانات lower animals میں نر اور مادہ کی تقسیم نہیں تھی۔ جیسے امیبا Amoeba ہے جو دو حصوں میں تقسیم ہو کر اپنے جیسے ایک نئے وجود کو جنم دے دیتا ہے۔ اس کے بعد اگلے مرحلے پر ان کا خیال ہے کہ ایسے جانور پیدا کیے گئے جن کے اندر بیک وقت مذکر اور مونث دونوں جنسیں sexes موجود تھیں۔ جیسے کہ برسات کے موسم میں زمین سے نکلنے والے کینچو وں earth worms میں سے ہر ایک کیڑا مذکر و مونث دونوں جنسوں کا حامل hermaphrodite ہوتا ہے۔ اس کے بعدرفتہ رفتہ دونوں جنسوں میں مزید تفریق ہوئی اور پھر تیسرے مرحلے میں دونوں جنسیں علیحدہ علیحدہ پیدا ہونا شروع ہوئیں۔ { وَاَنْزَلَ لَکُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ } ”اور تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ جوڑے اتار دیے“ مویشیوں کے آٹھ جوڑوں کے بارے میں قبل ازیں ہم سورة الانعام آیت 143 ‘ 144 میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ ان میں اونٹ نر اور مادہ ‘ گائے نر اور مادہ ‘ بھیڑ نر اور مادہ اور بکری نر اور مادہ آٹھ مویشی شامل ہیں جو اس وقت عرب میں عموماً پائے جاتے تھے۔ { یَخْلُقُکُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّہٰتِکُمْ خَلْقًا مِّنْم بَعْدِ خَلْقٍ } ”وہ پیدا کرتا ہے تمہیں تمہارے مائوں کے پیٹوں میں ایک خلق کے بعد دوسری خلق“ یہاں پر خَلْقًا مِّنْم بَعْدِ خَلْقٍسے تخلیق کے مختلف مراحل مراد ہیں۔ ان مراحل کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر نُطْفَۃ ‘ عَلَقَۃ ‘ مُضْغَۃ ‘ مُضْغَۃ مُخَلَّقَۃ وَّغَیْرِ مُخَلَّقَۃ اور خَلْقًا اٰخَرَ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ البتہ سورة المومنون کے پہلے رکوع کی آیات اس موضوع پر قرآن کے ذروہ سنام کا درجہ رکھتی ہیں۔ { فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ } ”یہ تخلیق ہوتی ہے تین اندھیروں کے اندر“ ماں کے پیٹ میں بچے کی تخلیق کا یہ عمل تین پردوں کے اندر ہوتا ہے۔ یعنی ایک پردہ تو پیٹ کی بیرونی دیوار abdominal wall کا ہے۔ دوسرا پردہ رحم uterus کی موٹی دیوار ہے ‘ جبکہ تیسرا پردہ رحم کے اندر کی وہ جھلی مَشِیمہ ہے جس کے اندر بچہ لپٹا ہوتا ہے۔ اس میں غور طلب نکتہ یہ ہے کہ تین پردوں کی یہ بات قرآن نے صدیوں پہلے اس وقت کی جس وقت علم جنینیات Embryology کے بارے میں انسان کی معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر کیتھ ایل مور جسے ایمبریالوجی پر دنیا بھر میں سند مانا جاتا ہے نے تسلیم کیا ہے کہ قرآن نے علم جنین کے بارے میں جو معلومات فراہم کی ہیں وہ واقعتا حیران کن ہیں اور یہ کہ ماں کے پیٹ کے اندر انسانی تخلیق کے مختلف مراحل کی جو تعبیر قرآن نے کی ہے اس سے بہتر تعبیر ممکن ہی نہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ تین پردوں کے اندر انسان کی تخلیق فرماتا ہے۔ اس کے اعضاء اور اس کی شکل کو جیسے چاہتا ہے بناتا ہے۔ { ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُط لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَج فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ } ”وہ ہے اللہ تمہارا رب ‘ اسی کی بادشاہی ہے ‘ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ تو تم لوگ کہاں سے پھرائے جا رہے ہو !“

الزمر 39:7

آیت 7 { اِنْ تَکْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنْکُمْ قف } ”اگر تم کفر کرتے ہو تو یقینا اللہ تم سے بےنیاز ہے۔“ وہ غنی ہے ‘ اسے تمہاری کوئی احتیاج نہیں ‘ تمہاری طرف سے انکار یا کفرانِ نعمت کی صورت میں اس کی سلطنت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔ { وَلَا یَرْضٰی لِعِبَادِہِ الْکُفْرَ } ”لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر پر راضی نہیں ہے“ اگرچہ اس نے انسان کو اختیار دے رکھا ہے : { اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا۔ الدھر کہ تم چاہو تو شکرگزار بندے بنو اور چاہو تو کفرانِ نعمت کی روش اختیار کرو۔ یہ تمہارا اپنا فیصلہ ہے ‘ مگر یہ جان رکھو کہ اسے اپنے بندوں کی طرف سے کفر کا رویہ ہرگز پسند نہیں ہے۔ { وَاِنْ تَشْکُرُوْا یَرْضَہُ لَکُمْ } ”اور اگر تم شکر کرو تو وہ تم سے راضی ہوگا۔“ اگر تم اس کا شکر ادا کرتے رہو ‘ اس کی حمد و ثنا کے ترانے گاتے رہو اور اس کی بندگی کی روش اختیار کیے رکھو تو وہ تم سے خوش رہے گا۔ وہ اسی طرزعمل کو پسند کرتا ہے۔ { وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی } ”اور نہیں اٹھائے گی بوجھ اٹھانے والی کوئی جان کسی دوسرے کے بوجھ کو۔“ { ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ مَّرْجِعُکُمْ } ”پھر تمہارا لوٹنا ہے تمہارے رب ہی کی طرف“ { فَیُـنَـبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } ”پھر وہ تمہیں بتادے گا جو کچھ کہ تم کرتے رہے تھے۔“ { اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ } ”یقینا وہ جاننے والا ہے سینوں کے اندر چھپی ہوئی باتوں کا۔“ جو راز تمہارے سینوں کے اندر مخفی ہیں وہ ان سے بھی باخبر ہے۔

الزمر 39:8

آیت 8 { وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّہٗ مُنِیْبًا اِلَیْہِ } ”اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے“ { ثُمَّ اِذَا خَوَّلَہٗ نِعْمَۃً مِّنْہُ نَسِیَ مَا کَانَ یَدْعُوْٓا اِلَـیْہِ مِنْ قَـبْلُ } ”پھر جب وہ عطا کردیتا ہے اسے کوئی نعمت اپنی طرف سے تو وہ جس چیز کے لیے پہلے اس کے حضور دعائیں کر رہا تھا سب بھول جاتا ہے“ خَوَّلَ کے لفظی معنی اوڑھانے اور لپیٹنے کے ہیں۔ اردو لفظ ”خول“ اسی سے مشتق ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے گرد اپنی نعمت کا خول بنا دیتا ہے ‘ اسے اپنی نعمت اوڑھا دیتا ہے یا اپنی نعمت کے اندر اسے لپیٹ لیتا ہے۔ { وَجَعَلَ لِلّٰہِ اَنْدَادًا } ”اور وہ اللہ کے ّمد ِمقابل ٹھہرا لیتا ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کے بعد وہ قبل ازاں مانگی ہوئی اپنی دعائوں کو بھول جانے اور اللہ تعالیٰ سے اعراض کرنے پر ہی بس نہیں کرتا ‘ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اللہ کے مد مقابل جھوٹے معبود بنانے کی جسارت بھی کر گزرتا ہے۔ { لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ } ”تاکہ بہکائے لوگوں کو اس کے راستے سے۔“ { قُلْ تَمَتَّعْ بِکُفْرِکَ قَلِیْلًاق اِنَّکَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ مزے اڑا لو اپنے کفر کے ساتھ تھوڑی دیر ‘ یقینا تم آگ والوں میں سے ہو !“ کفر کی جو روش تم نے اختیار کر رکھی ہے ‘ اس کے ساتھ دنیا کی چند روزہ زندگی میں جو عیش کرسکتے ہو کرلو ‘ اس کے بعد تمہارا مستقل ٹھکانہ جہنم ہے۔ بالآخر اسی کی آگ میں تمہیں جھونک دیا جائے گا۔

الزمر 39:9

آیت 9 { اَمَّنْ ہُوَ قَانِتٌ اٰنَآئَ الَّـیْلِ سَاجِدًا وَّقَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَۃَ وَیَرْجُوْا رَحْمَۃَ رَبِّہٖ } ”بھلا وہ شخص جو بندگی کرنے والا ہے رات کی گھڑیوں میں ‘ سجود و قیام کرتے ہوئے ‘ وہ آخرت سے ڈرتا رہتا ہے ‘ اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار بھی ہے !“ ان الفاظ کے بعد کی عبارت محذوف ہے اور یہ اسلوب اس سورت میں بار بار آتا ہے۔ آگے چل کر متعدد آیات ایسی ملیں گی جہاں جملوں کو نا مکمل چھوڑ دیا گیا ہے کہ سننے یا پڑھنے والا اپنے علم ‘ ذہن اور ذوق کے مطابق خود مکمل کرلے۔ چناچہ یہاں پر کَمَنْ ھُوَ غَافِلٌ ؟ کے الفاظ سے اس جملے کو مکمل کیا جاسکتا ہے کہ کیا ایک ایسا شخص جو اللہ کا فرمانبردار ہے ‘ وہ اپنی راتوں کی گھڑیاں اللہ کے حضور اس کیفیت میں گزارتا ہے کہ کبھی سجدے میں پڑا ہوا ہے اور کبھی حالت قیام میں ہے ‘ اس کے دل میں آخرت کا خوف بھی ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید بھی ‘ کیا وہ ایک ایسے شخص کے برابر ہوجائے گا جو بالکل غفلت میں پڑا ہوا ہے ؟ { قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ کیا برابر ہوسکتے ہیں وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو علم نہیں رکھتے ؟“ { اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ } ”حقیقی نصیحت اور سبق تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو عقل مند ہیں۔“

الزمر 39:10

آیت 10 { قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّکُمْ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو ! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔“ تم لوگ اللہ پر ایمان لائے ہو تو اب تمہیں ہر وقت اللہ کی رضا جوئی کی فکر ہونی چاہیے۔ لہٰذا اللہ جو کام کرنے کا حکم دے وہ کرو اور جس سے وہ منع کرے اس سے باز رہو۔ یہاں پر مسلمانوں کو نبی اکرم ﷺ کی وساطت سے مخاطب کیا گیا ہے۔ یہاں پر یہ نکتہ ایک دفعہ پھر ذہن نشین کرلیں کہ مکی سورتوں میں اہل ایمان کو مخاطب کرنے کا یہی انداز ملتا ہے ‘ جبکہ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے براہ راست خطاب کا اسلوب صرف مدنی سورتوں میں پایا جاتا ہے۔ چناچہ یہاں اہل ایمان سے براہ راست خطاب کرنے کے بجائے حضور ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ میری طرف سے میرے اہل ایمان بندوں کو یہ پیغام پہنچا دیں : { لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ہٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃٌ} ”جو لوگ احسان کی روش اختیار کریں گے ‘ ان کے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے۔“ { وَاَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ} ”اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔“ اگر مکہ میں رہتے ہوئے تمہارے لیے توحید پر کاربند رہنا ممکن نہیں رہا تو یہاں سے ہجرت کر جائو۔ { اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ } ”یقینا صبر کرنے والوں کو ان کا اجر پورا پورا دیا جائے گا بغیر حساب کے۔“ اجر کے حوالے سے یہاں پر یُوَفَّی کا اصول بھی بتایا گیا ہے اور بِغَیْرِ حِسَابٍ کی نوید بھی سنائی گئی ہے۔ یعنی پورا پورا بدلہ دینے کے بعد اللہ کا مزید فضل بھی ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے معاملے میں حساب کا کوئی سوال ہی نہیں !

الزمر 39:11

آیت 11 { قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں بندگی کروں اللہ کی اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔“ یہ وہی الفاظ ہیں جو اس سے پہلے آیت 2 میں بھی آ چکے ہیں۔ یہ مضمون اس سورت کا عمود ہے اور اس میں بار بار آئے گا۔ چناچہ اس مضمون کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ اسے اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ اس حوالے سے بنیادی طور پر یہ نکتہ ذہن نشین کر لیجیے کہ ہرچیز کی طرح عبادت کا بھی ایک ظاہر ہے اور ایک اس کی اصل حقیقت ہے۔ عبادت کا ظاہر اس کی رسومات ہیں۔ ”رسم“ کسی شے کی ظاہری شکل کو کہا جاتا ہے۔ مثلاً یہ لکھائی میں جو حروف اور الفاظ استعمال ہوتے ہیں ان کی ظاہری اشکال کو ”رسم“ رسم الخ ط کہتے ہیں۔ جیسے قرآن کا موجودہ رسم الخط ”رسم عثمانی“ کہلاتا ہے۔ اب اگر نماز کی مثال لیں تو نماز میں کھڑے ہونا ‘ اللہ کی حمد و تسبیح کرنا ‘ رکوع و سجدہ کرنا مراسم عبادت ہیں۔ بعض دوسرے مذاہب میں اپنے معبود کے سامنے مودب کھڑے ہونا ‘ سلیوٹ کرنا اور ہاتھ جو ڑناوغیرہ ان کی عبادت کے مراسم ہیں۔ چناچہ عرف عام میں مراسم ِعبودیت عبادت کی ظاہری شکل و صورت کو ہی ”عبادت“ سمجھا جاتا ہے جبکہ عبادت کی اصل حقیقت کچھ اور ہے۔ اب عبادت کی اصل حقیقت کو یوں سمجھیں کہ یہ بھی دو حصوں پر مشتمل ہے۔ اس کا ایک جسد ہے اور ایک اس کی روح۔ اصل عبادت کا جسد ”اطاعت“ ہے۔ لیکن عبادت کے حوالے سے اطاعت کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے لفظ ”عبادت“ کے لغوی معنی کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔ عبادت کا لفظ ”عبد“ سے مشتق ہے اور عبد کے معنی غلام کے ہیں۔ عبد یا غلام اپنے آقا کی ہمہ تن اور ہمہ وقت اطاعت غلامی کا پابند ہوتا ہے۔ چناچہ قرآن میں اس سے پہلے ہم یہ لفظ دو مرتبہ غلامی اور کلی اطاعت کے معنی میں پڑھ چکے ہیں۔ سورة المومنون میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ﷺ کے بارے میں فرعون کا یہ قول نقل ہوا ہے : { وَقَوْمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ۔ } کہ ان کی قوم تو ہماری غلام ہے۔ اسی طرح سورة الشعراء میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس مکالمے کا حوالہ آچکا ہے جس میں آپ علیہ السلام نے فرعون کو مخاطب کر کے فرمایا تھا : { وَتِلْکَ نِعْمَۃٌ تَمُنُّہَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ۔ ”اور یہ احسان جو تو مجھے جتلا رہا ہے کیا یہ اس کا بدلہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے ؟“ اب ظاہر ہے بنی اسرائیل فرعون یا قبطیوں کی پرستش یا پوجا تو نہیں کرتے تھے ‘ وہ ان کی نماز نہیں پڑھتے تھے اور انہیں سجدہ بھی نہیں کرتے تھے۔ البتہ وہ ان کے غلام تھے اور اس حیثیت میں ان کی ”اطاعت“ کے پابند تھے۔ لہٰذا متذکرہ بالا دونوں آیات میں عبد کا لفظ کلی اطاعت یا غلامی کے مفہوم میں ہی استعمال ہوا ہے۔ چناچہ اطاعت یا غلامی دراصل عبادت کا جسد ہے جبکہ اس کی روح ”محبت“ ہے۔ یعنی اگر کسی کی محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر اس کی اطاعت کی جائے تو وہ اس کی عبادت ہوگی ‘ جبکہ جبری اطاعت عبادت نہیں ہوسکتی۔ مثلاً 1947 ء سے پہلے برصغیر میں ہم لوگ انگریز کی اطاعت کرتے تھے ‘ لیکن ہماری اس اطاعت کو عبادت نہیں کہا جاسکتا ‘ اس لیے کہ یہ جبری اطاعت تھی۔ امام ابن تیمیہ رح اور ان کے شاگرد حافظ ابن قیم رح نے عبادت کی تعریف یوں کی ہے : العبادۃ تجمع اََصْلَین : غایۃَ الحُبِّ مع غایۃ الذُّلِّ والخُضوع یعنی اللہ کی عبادت دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے : اس کے ساتھ غایت درجے کی محبت اور اس کے سامنے غایت درجے کا تذلل اور عاجزی کا اظہار۔ دوسرے لفظوں میں اللہ کی عبادت کا مطلب یہ ہے کہ انسان حد درجے کی محبت کے ساتھ خود کو اللہ کے سامنے بچھا دے اور اس کا مطیع و منقاد ہوجائے۔ چناچہ اللہ کی محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر اس کی کلی اطاعت کرنا اصل عبادت ہے ‘ جبکہ مراسم عبادت کی حیثیت عبادت کے ”ظاہر“ کی ہے۔ آیت زیر مطالعہ کا مضمون گویا اس سورت کا عمود ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ اس ضمن میں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ اللہ کی اطاعت سے آزاد کسی دوسرے کی مستقل بالذات اطاعت تو شرک ہے ہی ‘ لیکن اگر کسی نے اللہ کی اطاعت کے ساتھ کسی اور کی اطاعت کو بھی شریک کرلیا تو ایسی جزوی یا مشترکہ اطاعت اللہ کو قبول نہیں۔ ایسی اطاعت اللہ کی طرف سے ایسے اطاعت گزار کے منہ پردے ماری جائے گی۔ اس حوالے سے سورة البقرۃ کی آیت 208 کا یہ حکم بہت واضح ہے : { یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص } ”اے اہل ایمان ! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائو !“ یعنی اللہ کو ُ کلی اطاعت مطلوب ہے۔ کسی کی پچیس فی صد ‘ پچاس فی صد یا پچھتر ّ 75 فی صد اطاعت اسے قبول نہیں۔ یہ تو ہے عبادت کی اصل روح اور اطاعت کی اصل کیفیت جو اللہ کو مطلوب ہے۔ لیکن ایک ہم ہیں جو یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم پانچ یا دس فیصد اطاعت پر ہی اللہ کو نعوذ باللہ ٹرخا دیں گے اور وہ اسی معیار کی اطاعت پر ہمیں جنت اور اس کی نعمتوں سے نواز دے گا۔ دراصل ہماری اسی ٹیڑھی سوچ کی وجہ سے آج ہمارے ذہنوں سے زندگی کے تمام گوشوں میں اللہ کی کلی اطاعت اور کلی بندگی کا تصور نکل چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی کے اسی تصور کو زیر مطالعہ سورتوں میں ایک خاص ترتیب سے اجاگر کیا گیا ہے۔ اس طرح کہ اس مضمون کی جڑیں اس پہلی سورت میں ملیں گی اور اس کی چوٹی چوتھی سورت یعنی سورة الشوریٰ میں جا کر نظر آئے گی۔

الزمر 39:12

آیت 12{ وَاُمِرْتُ لِاَنْ اَکُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ } ”اور مجھے حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلا فرماں بردار میں خود بنوں۔“ ایسا ممکن نہیں کہ میں تم لوگوں کو تو اللہ کی فرماں برداری کی دعوت دوں اور خود مجھے اس کی پروا نہ ہو۔

الزمر 39:13

آیت 13 { قُلْ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ } ”کہہ دیجیے کہ مجھے خود اندیشہ ہے ایک بڑے دن کے عذاب کا اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں۔“ میں خود بھی تو اللہ کا بندہ ہوں ‘ اور اس حیثیت سے اس کی ُ کلی اطاعت کا پابند ہوں۔ اس ضمن میں میرے لیے کوئی استثناء نہیں ‘ اور اگر بالفرض میں بھی اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بھی اللہ کے عذاب کا اندیشہ ہوگا۔ یہ شرطیہ فقرہ ہے اور یوں سمجھیں کہ اس کے درمیان کا ”اگر“ گویا ایک پہاڑ ہے جسے پھلانگنا ناممکنات میں سے ہے۔ دراصل یہ انداز مخالفین کو معاملے کی سنجیدگی کا احساس دلانے کے لیے اختیار فرمایا گیا ہے ‘ ورنہ حضور ﷺ کے لیے اس کا ہرگز کوئی امکان نہیں تھا۔

الزمر 39:14

آیت 14 { قُلِ اللّٰہَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّہٗ دِیْنِیْ } ”کہہ دیجیے کہ میں تو اللہ ہی کی بندگی کرتا ہوں اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔“ نوٹ کیجیے ! اس مضمون کو یہاں بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ اور ہر بار پڑھنے سے اس میں ایک نیا حسن نظر آتا ہے اور ایک نئی تاثیر کا احساس ہوتا ہے۔ جب کہ ہم انسانوں کی دنیا میں کسی عبارت کے اندر الفاظ یا مضمون کی تکرار ‘ اس تحریر یا تصنیف کا بہت بڑا عیب بن جاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی فصاحت و بلاغت کا معجزہ ہے کہ اس کے ہاں تکرار سے کلام کا حسن اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ یہاں اس مضمون کی غیر معمولی تکرار کی غرض وغایت کو سمجھنے اور اس اسلوبِ خاص میں تاکید emphasis کی شدت کو محسوس کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس کے لیے سورت کے آغاز سے لے کر آیت زیر مطالعہ تک مذکورہ مضمون سے متعلقہ آیات کو ایک مرتبہ پھر سے ذہن میں تازہ کر لیجیے۔ آغاز میں فرمایا گیا : { اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ۔ اَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُط } ”اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ پر یہ کتاب اتاری ہے حق کے ساتھ ‘ پس بندگی کرو اللہ کی اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ آگاہ ہو جائو کہ اطاعت ِخالص اللہ ہی کا حق ہے“۔ اس کے بعد آیت 11 ملاحظہ کیجیے : { قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّـہُ الدِّیْنَ۔ ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے مجھے حکم ہوا ہے کہ میں بندگی کروں اللہ کی اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے“۔ اور اب زیرمطالعہ آیت کا مضمون دیکھئے : { قُلِ اللّٰہَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّہٗ دِیْنِیْ۔ ”کہہ دیجیے کہ میں تو اللہ ہی کی بندگی کرتا ہوں اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے“۔ گویا تکرار پر تکرار ہے ‘ اصرار پر اصرار ہے اور تاکید پر تاکید ہے۔

الزمر 39:15

آیت 15 { فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ } ”تو تم جس کو چاہو پوجو اس کے سوا !“ { قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَاَہْلِیْہِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } ”آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اصل میں خسارے میں رہنے والے وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو خسارے میں ڈالا قیامت کے دن۔“ یہاں پر تو وہ حرام خوری کے ذریعے خود بھی مزے میں ہیں اور اپنے اہل و عیال کو بھی عیش و عشرت کا سامان مہیا کر رہے ہیں۔ لیکن اس روش کو اپنا کر وہ اپنے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ کوئی بھلائی یا خیر خواہی نہیں کر رہے بلکہ حقیقت میں وہ خود کو اور ان کو جہنم کا ایندھن بنانے کے اسباب پیدا کر رہے ہیں۔ سورة التحریم ‘ آیت 6 میں اہل ایمان کو اس حوالے سے خصوصی طور پر حکم دیا گیا ہے : { یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ نَارًا…} ”اے اہل ایمان ! بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے…“ لیکن اس کے برعکس جو شخص خود کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ کا مستحق بنا لے اس سے بڑھ کر اور کون گھاٹے میں ہوگا ! { اَلَا ذٰلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ } ”آگاہ ہو جائو یہی تو کھلا خسارا ہے۔“

الزمر 39:16

آیت 16 { لَہُمْ مِّنْ فَوْقِہِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِہِمْ ظُلَلٌ} ”ان کے لیے ان کے اوپر سے بھی آگ کے بادل ہوں گے تہہ بر تہہ اور نیچے سے بھی آگ کے بھب کے ہوں گے تہہ بر تہہ۔“ { ذٰلِکَ یُخَوِّفُ اللّٰہُ بِہٖ عِبَادَہٗط } ”یہ وہ شے ہے جس سے اللہ ڈراتا ہے اپنے بندوں کو۔“ { یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ } ”اے میرے بندو ! پس تم مجھ سے ڈرو۔“ میری ان وعیدوں سے ڈر کر تم اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کرو۔

الزمر 39:17

آیت 17 { وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْہَا } ”اور وہ لوگ جنہوں نے طاغوت سے کنارہ کشی کرلی اس طرح کہ اس کی بندگی نہ کی“ طاغوت کا لفظ قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ سب سے پہلے ہم نے یہ لفظ سورة البقرۃ کی اس آیت میں پڑھا تھا : { فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْم بِاللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰیق } آیت 257 ”تو جو کوئی بھی طاغوت کا انکار کرے اور پھر اللہ پر ایمان لائے تو اس نے بہت مضبوط حلقہ تھام لیا“۔ لفظ طاغوت کا مادہ ”طغی“ ہے اور اس کے معنی سرکشی کے ہیں۔ اسی مادہ سے اردو لفظ ”طغیانی“ مشتق ہے۔ دریا اپنے کناروں کے اندر بہہ رہا ہو تو بہت خوبصورت منظر پیش کرتا ہے لیکن جب وہ اپنی ”حدود“ سے باہر نکل آئے تو ہم کہتے ہیں کہ دریا میں طغیانی آگئی ہے۔ اسی طرح انسان اگر اللہ کی بندگی کی حد میں رہے تو وہ اللہ کا بندہ ہے ‘ اس کا خلیفہ ہے اور اشرف المخلوقات ہے۔ لیکن اگر بندگی کی حدود سے تجاوز کر جائے تو وہ ”طاغوت“ ہے۔ پھر چاہے ان حدود کو پھلانگنے کے بعد وہ اپنے نفس کا بندہ بن جائے یا کسی اور کو اپنا مطاع بنا لے ‘ خود حاکم بن بیٹھے یا اللہ کے علاوہ کسی اور کی حاکمیت کا طوق اپنے گلے میں ڈال لے ‘ اللہ کی نظر میں وہ طاغوت ہی ہے۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے کنارہ کشی کرلی اس سے کہ وہ طاغوت کی اطاعت یا بندگی کریں : { وَاَنَابُوْٓا اِلَی اللّٰہِ لَہُمُ الْبُشْرٰیج فَبَشِّرْ عِبَادِ } ”اور انہوں نے رجوع کرلیا اللہ کی طرف ‘ ان کے لیے بشارت ہے ‘ تو اے نبی ﷺ ! میرے ان بندوں کو بشارت دے دیجیے۔“ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اب اگلی آیت بہت اہم ہے ‘ اس میں ان بندوں کی صفت بیان کی گئی ہے جنہیں بشارت دی جا رہی ہے۔

الزمر 39:18

آیت 18 { الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ } ”جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں ‘ پھر اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔“ یعنی یہ دین جس کی طرف اللہ تمہیں بلا رہا ہے اس کے بھی مختلف مدارج ہیں۔ پہلاد رجہ اسلام ہے ‘ اس سے اونچا درجہ ایمان اور پھر سب سے اونچا درجہ احسان ہے۔ درجہ احسان پر فائز لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے { وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ } المائدۃ کی بشارت سنائی ہے۔ چناچہ ہمیں چاہیے کہ دین کے معاملے میں زیادہ سے زیادہ محنت کریں اور ہر لمحہ بہتر سے بہتر درجے پر پہنچنے کی فکر میں رہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارا طرز عمل اس کے برعکس ہے۔ دُنیوی معاملات میں تو ہمارا ماٹو بقول حالیؔ یہ ہے کہ ـ: ؎ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں اب دیکھئے ٹھہرتی ہے جا کر نظر کہاں !جبکہ دین کے معاملے میں نہ صرف یہ کہ ہم کم سے کم پر گزارا کرنا چاہتے ہیں بلکہ پسپائی اختیار کرنے کی فکر میں ہر وقت کسی گنجائش اور رعایت کی تلاش میں رہتے ہیں۔ حالانکہ ایک بندہ مومن کو چاہیے کہ دنیا کے معاملے میں تو کم سے کم پر گزارا کرے اور دین کے معاملے میں ہمیشہ عزیمت کا راستہ اختیار کرنے کی فکر میں رہے۔ { اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ہَدٰٹہُمُ اللّٰہُ وَاُولٰٓئِکَ ہُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ } ”یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو عقل مند ہیں۔“

الزمر 39:19

آیت 19{ اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْہِ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ } ”تو کیا وہ شخص جس پر ثابت ہوچکا ہے عذاب کا فیصلہ !“ اس کے بعد یہ جملہ گویا محذوف ہے : کَمَنْ ھُوَ فِی الْجَنَّۃِ ؟ یعنی جو شخص عذاب کا مستحق ہوچکا ہے کیا وہ اس شخص کے برابر ہوجائے گا جو کہ جنت میں جانے والا ہے ؟ { اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِ } ”تو اے نبی ﷺ ! کیا آپ اس کو بچا سکیں گے جو آگ میں ہے ؟“ یہ وہ لوگ ہیں جو عذاب سے متعلق اللہ کے قانون کی زد میں آ چکے ہیں۔ اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد ان کے دلوں پر مہریں لگا دی گئی ہیں۔ وہ گمراہی میں اس حد تک آگے جا چکے ہیں کہ اب ایمان کی طرف ان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ چناچہ اب وہ آگ کا ایندھن بننے والے ہیں اور اس مرحلے پر آپ ﷺ ان کو اس بھیانک انجام سے نہیں بچا سکتے۔

الزمر 39:20

آیت 20 { لٰـکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ لَہُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِہَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّۃٌ} ”لیکن وہ لوگ جو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے ہوں گے بالا خانوں پر بالا خانے ایک دوسرے کے اوپر ُ چنے ہوئے۔“ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں کئی کئی منزلہ رہائش گاہیں skyscrapers عطا فرمائے گا۔ { تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُط } ”ان کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی۔“ { وَعْدَ اللّٰہِط لَا یُخْلِفُ اللّٰہُ الْمِیْعَادَ } ”یہ اللہ کا وعدہ ہے ‘ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔“

الزمر 39:21

آیت 21 { اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَسَلَکَہٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ } ”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی ‘ پھر اس کو چلا دیا چشموں کی شکل میں زمین میں“ { ثُمَّ یُخْرِجُ بِہٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُہٗ } ”پھر اس کے ذریعے سے وہ نکالتا ہے کھیتی جس کے مختلف رنگ ہیں“ { ثُمَّ یَہِیْجُ فَتَرٰٹہُ مُصْفَرًّا } ”پھر وہ پک کر تیار ہوجاتی ہے ‘ پھر تم اسے دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی ہے“ { ثُمَّ یَجْعَلُہٗ حُطَامًاط } ”پھر وہ اسے چورا چورا کردیتا ہے۔“ کچھ عرصہ پہلے جس کھیت میں فصل لہلہا رہی تھی اب وہاں خاک اڑ رہی ہے اور خشک بھوسے کے کچھ تنکے ہیں جو ادھر ادھر بکھرے نظر آ رہے ہیں۔ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِاُولِی الْاَلْبَابِ } ”یقینا اس میں یاد دہانی اور سبق ہے ہوشمند لوگوں کے لیے۔“ یعنی اگر غور سے دیکھا جائے تو فصل کے اگنے ‘ نشوونما پا کر پوری طرح تیار ہونے ‘ پک کر سوکھ جانے اور پھر کٹ کر چورا چورا ہوجانے میں انسانی زندگی ہی کے مختلف مراحل کا نقشہ نظر آتا ہے۔ جس طرح فصل کے اپچنے پر کسان خوش ہوتا ہے اسی طرح ہمارے ہاں بچے کی پیدائش پر خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ پھر وہ بچہ پرورش پا کر جوان ہوتا ہے ‘ اس کے بعد آہستہ آہستہ بالوں میں سفیدی آنے لگتی ہے۔ جوانی کی طاقت گھٹنا شروع ہوجاتی ہے ‘ قویٰ کمزور پڑنے لگتے ہیں اور پھر ایک دن اسے قبر میں اتار دیا جاتا ہے ‘ جہاں وہ مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے۔ چناچہ موسمی فصلوں اور انسانوں کا life cycle ایک سا ہے۔ دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ فصل کے اگنے سے لے کر کٹنے تک چند ماہ کا عرصہ درکار ہے جبکہ انسانی زندگی میں یہ دورانیہ پچاس ساٹھ سال کا ہے۔ بہر حال ”زندگی“ دونوں جگہ مشترک ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے بھی دیکھیں تو نباتاتی زندگی Botany اور حیوانی زندگی Zoology دونوں حیاتیات Biology ہی کی شاخیں ہیں۔

الزمر 39:22

آیت 22 { اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ فَہُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّہٖ } ”بھلا وہ شخص کہ جس کے سینے کو اللہ نے کھول دیا ہے اسلام کے لیے اور وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے !“ یہاں پھر وہی ”حذف“ کا اسلوب ہے۔ چناچہ اس جملے کے بعد یہاں پر کَمَنْ ھُوَ فِی الظُّلُمٰت کا جملہ محذوف مانا جائے گا۔ یعنی ایک وہ شخص ہے جسے اندرونی بصیرت حاصل ہے اور اس کا دل ایمان کے نور سے جگمگا رہا ہے ‘ کیا وہ اس شخص کی طرح ہوجائے گا جو اندھیروں میں بھٹک رہا ہے ؟ { فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَۃِ قُلُوْبُہُمْ مِّنْ ذِکْرِ اللّٰہِ } ”تو ہلاکت اور بربادی ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دل سخت ہوگئے ہیں اللہ کے ذکر سے۔“ ان کے دل نرمی اور گداز سے محروم ہوچکے ہیں ‘ چناچہ اب نہ تو ان کے دلوں میں اللہ کے ذکر کا ذوق ہے اور نہ ہی اس کی طرف رجوع کرنے کا شوق۔ { اُولٰٓئِکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ”یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔“

الزمر 39:23

آیت 23 { اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتٰـبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ } ”اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے کتاب کی صورت میں ‘ جس کے مضامین باہم مشابہ ہیں اور بار بار دہرائے گئے ہیں“ ہمارے ہاں لوگ عام طور پر لفظ ”حدیث“ کے صرف ایک ہی مفہوم سے آشنا ہیں جو کہ اس لفظ کا اصطلاحی مفہوم ہے ‘ یعنی فرمانِ رسول ﷺ کو اصطلاحاً حدیث کہا جاتا ہے۔ جبکہ اس لفظ کے لغوی معنی بات یا کلام کے ہیں اور قرآن میں لفظ ”حدیث“ اسی مفہوم میں آیا ہے۔ جیسے سورة المرسلات میں فرمایا گیا : { فَبِاَیِّ حَدِیْثٍم بَعْدَہٗ یُؤْمِنُوْنَ۔ } کہ اس قرآن کے بعد اب یہ لوگ بھلا اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کا مطلب ہے : بہترین کلام۔ مُّتَشَابِہًا سے مراد قرآن کے الفاظ ‘ اس کی آیات اور اس کے مضامین کا باہم مشابہ ہونا ہے۔ یہ مشابہت قرآن کے اہم مضامین کی تکرار کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ قصہ آدم علیہ السلام و ابلیس قرآن میں سات مقامات پر مذکور ہے۔ بظاہر سب مقامات پر یہ قصہ ایک سا معلوم ہوتا ہے مگر ہر جگہ سیاق وسباق کے حوالے سے اس میں کوئی نہ کوئی نئی بات ضرور سامنے آتی ہے۔ اگر ایک شخص اپنے معمول کے مطابق سات روز میں قرآن مجید ختم کرتا ہو تو وہ ہر روز کہیں نہ کہیں اس قصے کی تلاوت کرے گا۔ اس لحاظ سے اس قصے کی تفصیلات ‘ متعلقہ آیات اور ان آیات کے الفاظ اسے باہم مشابہ محسوس ہوں گے۔ اسی طرح بعض سورتوں کی بھی آپس میں گہری مشابہت ہے اور اسی مشابہت کی بنا پر انہیں جوڑوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ -۔ - مَثَانِیَکا معنی ہے دہرائی ہوئی یا جوڑوں کی صورت میں۔ { تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ } ”اس کی تلاوت سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔“ متقی لوگ جب قرآن مجید کو پڑھتے ہیں تو ان پر اللہ کا خوف طاری ہوجاتا ہے اور اس خوف کی وجہ سے ان کی یہ کیفیت ہوجاتی ہے۔ { ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُہُمْ وَقُلُوْبُہُمْ اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ } ”پھر ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کی یاد کے لیے نرم پڑجاتے ہیں۔“ یعنی ان کے بدن اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف جھک پڑتے ہیں۔ { ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآئُ } ”یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ ہدایت بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے۔“ { وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ہَادٍ } ”اور جس کو اللہ گمراہ کر دے پھر اس کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔“ جس کی گمراہی پر اللہ ہی کی طرف سے مہر ثبت ہوچکی ہو پھر اسے کون ہدایت دے سکتا ہے ؟

الزمر 39:24

آیت 24 { اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْہِہٖ سُوْٓئَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } ”بھلا وہ شخص جو اپنے چہرے پر روکے گا بدترین عذاب قیامت کے دن !“ یہ پھر وہی حذف کا اسلوب ہے کہ بھلا ایک شخص جس کا چہرہ قیامت کے دن بدترین عذاب کی زد میں ہوگا اور آگ کے تھپیڑوں کو اپنے چہرے پر روکنے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہ ہوگا ‘ کیا وہ اس شخص کے برابر ہوجائے گا جو { فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌ 5 وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ } الواقعہ کے مزے لے رہا ہوگا ؟ { وَقِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ } ”اور کہہ دیا جائے گا ان ظالموں سے کہ اب چکھو مزہ اس کا جو کچھ کمائی تم کرتے رہے تھے۔“ انہیں جتلا دیا جائے گا کہ یہ تمہارے اپنے اعمال ہی ہیں جنہوں نے آج یہاں آگ کی شکل اختیار کرلی ہے۔

الزمر 39:25

آیت 25{ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَاَتٰٹہُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ } ”اے نبی ﷺ ! جھٹلایا تھا انہوں نے بھی جو ان سے پہلے تھے ‘ تو ان پر آن دھمکا عذاب وہاں سے جہاں سے انہیں گمان تک نہیں تھا۔“

الزمر 39:26

آیت 26 { فَاَذَاقَہُمُ اللّٰہُ الْخِزْیَ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا } ”تو اللہ نے انہیں دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھا دیا۔“ { وَلَـعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ 7 لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ } ”اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے۔ کاش کہ انہیں معلوم ہوتا !“

الزمر 39:27

آیت 27 { وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ } ”اور ہم نے انسانوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں بیان کردی ہیں“ مختلف احکام و مسائل کو قرآن میں کھول کھول کر اور اسلوب بدل بدل کر بیان کردیا گیا ہے۔ { لَّعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ } ”شاید کہ وہ سبق حاصل کریں۔“

الزمر 39:28

آیت 28 { قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ } ”ہم نے اسے بنا دیا ہے قرآن عربی ‘ اس میں کوئی کجی نہیں ہے ‘ شاید کہ وہ تقویٰ کی روش اختیار کریں۔“ ہم نے اس قرآن کو فصیح وبلیغ عربی میں اتارا ہے۔ اس کی زبان بہت سادہ اور سلیس ہے۔ اس حوالے سے سورة القمر میں یہ آیت چار مرتبہ دہرائی گئی ہے : { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ 4 } ”اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان بنا دیا ہے ‘ تو ہے کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنے والا ؟“

الزمر 39:29

آیت 29 { ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْہِ شُرَکَآئُ مُتَشَاکِسُوْنَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ } ”اللہ نے مثال بیان فرمائی ہے ایک شخص کی جس میں بہت سے آپس میں ضد رکھنے والے آقا شریک ہیں اور ایک وہ شخص ہے جو پورے طور پر ایک ہی آقا کا غلام ہے۔“ یہ تمثیل ”توحید عملی“ کا مفہوم واضح کرنے کے لیے بیان فرمائی جا رہی ہے۔ یہ دو غلاموں کی حالت کا تقابل ہے۔ ایک غلام کے کئی آقا ہیں اور وہ بھی ضدی ‘ مختلف الاغراض اور مختلف مزاج رکھنے والے۔ اور دوسرا غلام وہ ہے جس کا ایک ہی آقا ہے۔ مقامِ غور ہے کہ اگر چار آپس میں ضد رکھنے والے اور تند خو آدمیوں نے مل کر ایک غلام خرید رکھا ہے تو اس غلام کی جان تو ہر وقت مصیبت میں پھنسی رہے گی۔ ایک آقا اسے بیٹھنے کا کہے گا تو دوسرا اٹھنے کا حکم دے گا۔ تیسرا کوئی اور فرمائش کرے گا اور چوتھا کچھ اور کہے گا۔ وہ بےچارا ایک کو خوش کرنے کی کوشش کرے گا تو دوسرا ناراض ہوجائے گا۔ الغرض ایسے غلام کے لیے ایک وقت میں اپنے سب آقائوں کو خوش رکھنا کسی طور بھی ممکن نہیں۔ اس کے برعکس اگر کسی غلام کا ایک ہی آقا ہو تو اس کے لیے اپنے اس آقا کو خوش کرنا اور مطمئن رکھنا بہت آسان ہوگا۔ اس مثال کی اہمیت انتظامی امور کے حوالے سے بھی سمجھی جاسکتی ہے۔ اگر کسی ملک یا ادارے کا ایک مقتدر سربراہ ہوگا تو اس کا نظام درست رہے گا ‘ لیکن جہاں متوازی حکم چلانے والے کئی سربراہ ہوں گے تو وہاں لازمی طور پر فساد مچ جائے گا۔ اب اس مثال کی روشنی میں شرک اور توحید کے معاملے کو دیکھیں تو حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اگر تم ایک اللہ کے بندے بن کر رہو گے تو سکون اور چین سے رہو گے۔ اگر مختلف شخصیات اور دیوی دیوتائوں کے پجاری بنو گے تو مصیبت میں پھنس جائو گے۔ ایک کو خوش کرو گے تو دوسرا ناراض ہوجائے گا۔ آخر کس کس معبود کی پوجا کرو گے ؟ کتنے آقائوں کے حضور نذرانے پیش کرو گے ؟ اور کہاں کہاں جا کر پیشانی رگڑو گے ؟ اقبال نے کیا خوب کہا ہے ؎یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات ! { ہَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا } ”کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں مثال میں ؟“ { اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ } ”کل ُ تعریف اللہ کے لیے ہے ‘ لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔“ یعنی بات واضح ہوگئی کہ توحید ہی صحیح راستہ ہے ‘ لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا جانتے بوجھتے ناسمجھ بنے بیٹھے ہیں۔

الزمر 39:30

آیت 30 { اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّہُمْ مَّـیِّتُوْنَ } ”اے نبی ﷺ ! یقینا موت آپ پر بھی وارد ہوگی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔“

الزمر 39:31

آیت 31 { ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ } ”پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس آپس میں جھگڑو گے۔“ اس جھگڑے کی نوعیت کچھ یوں ہوگی کہ حضور ﷺ شہادت دیں گے کہ اے اللہ ! میں نے تیرا پیغام کما حقہ ان تک پہنچا دیا تھا۔ ممکن ہے وہاں ان میں سے کچھ لوگ انکار کریں کہ نہیں نہیں یہ بات ان تک نہیں پہنچی تھی اور بحث و تکرار کی نوبت آجائے۔ ابلاغِ رسالت کے بارے میں پیغمبروں کی گواہی اور متعلقہ امتوں کے افراد سے جواب طلبی کے حوالے سے سورة الاعراف کی یہ آیت بہت اہم ہے : { فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ } ”ہم ان سے بھی پوچھیں گے جن کی طرف رسولوں کو بھیجا گیا تھا اور ان سے بھی پوچھیں گے جنہیں رسول بنا کر بھیجا تھا“۔ چناچہ وہاں سب پیغمبروں سے پوچھا جائے گا کہ کیا آپ لوگوں نے ہمارا پیغام اپنی اپنی قوموں تک پہنچا دیا تھا ؟ جواب میں تمام پیغمبر گواہی دیں گے کہ اے اللہ ہم نے پہنچا دیا تھا۔ اسی لیے حضور اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر موجود لوگوں سے استفسار فرمایا تھا : اَلَا ھَلْ بَلَّغْتُکہ کیا میں نے اللہ کا پیغام تم لوگوں تک پہنچا دیا ؟ جواب میں پورے مجمعے نے یک زبان ہو کر کہا تھا : نَشْھَدُ اَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ وَ اَدَّیْتَ وَنَصَحْتَ ! 1 کہ حضور ﷺ ہم گواہ ہیں کہ آپ ﷺ نے تبلیغ ‘ امانت اور نصیحت کا حق ادا کردیا ! اس کے بعد حضور ﷺ نے اپنی انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھائی اور اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے کہا : اللَّھُمَّ اشْھَدْ ! اللَّھُمَّ اشْھَدْ ! اللَّھُمَّ اشْھَدْ ! کہ اے اللہ ! تو بھی گواہ رہ ‘ یہ لوگ تسلیم کر رہے ہیں کہ میں نے ان تک تیرا پیغام پہنچاد یا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا : أَلَا لِیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ 2 کہ اب جو لوگ موجود ہیں ان کا فرض ہے کہ یہ پیغام ان لوگوں تک پہنچائیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ اس طرح آپ ﷺ نے یہ فریضہ امت کی طرف منتقل فرما دیا۔ اللہ کے رسول ﷺ کے اس فرمان کے بعد یوں سمجھیں کہ اب یہ پوری امت اللہ کے رسول ﷺ کی رسول ہے سورة یٰسٓکی آیت 14 کے تحت اس اصطلاح کی وضاحت کی جا چکی ہے۔ یعنی اللہ کے رسول ﷺ نے جو پیغام ان تک پہنچایا ہے اب انہوں نے اسے پوری نوع انسانی تک پہنچانا ہے۔ حضور ﷺ کی امت کے اس اعزاز اور فریضہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دو مقامات پر فرمایا ہے ‘ ہجرت سے متصلاً قبل سورة الحج میں اور ہجرت سے متصلاً بعد سورة البقرۃ میں۔ سورة الحج کی آخری آیت میں یوں فرمایا : { ہُوَ اجْتَبٰـٹکُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍط مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰہِیْمَط ہُوَ سَمّٰٹکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ 5 مِنْ قَـبْلُ وَفِیْ ہٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِیْدًا عَلَیْکُمْ وَتَـکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِج } ”اس نے تمہیں چن لیا ہے اور دین کے معاملے میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہو جائو اپنے جد امجد ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر۔ اسی نے تمہارا نام مسلم رکھا ‘ اس سے پہلے بھی تمہارا یہی نام تھا اور اس کتاب میں بھی ‘ تاکہ پیغمبر تم پر گواہ ہوں اور تم لوگوں پر گواہ ہو“۔ سورة البقرۃ میں اسی مضمون کو ان الفاظ میں پھر سے دہرایا گیا : { وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًاط } آیت 143 ”اور اے مسلمانو ! اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک امت وسط بنایا ہے ‘ تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو“۔ دونوں مقامات پر الفاظ ایک سے آئے ہیں صرف الفاظ کی ترتیب تبدیل ہوئی ہے۔

الزمر 39:32

آیت 32 { فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَبَ عَلَی اللّٰہِ وَکَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآئَ ہ } ”اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور جھٹلائے سچی بات کو جبکہ اس کے پاس آگئی ہو !“ یہ دونوں خصوصیات ایک ہی شخص کے کردار میں بھی ہوسکتی ہیں کہ وہ اللہ پر جھوٹ بھی باندھ رہا ہو اور اللہ کی طرف سے جو حق اس کے پاس آیا ہے اس کی تکذیب یا نفی بھی کر رہا ہو۔ اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دو الگ الگ کرداروں کا ذکر ہو۔ یعنی ایک وہ شخص جو اپنی کسی بات کو اللہ کی طرف منسوب کر کے دعویٰ کرے کہ مجھ پر وحی آئی ہے۔ ظاہر ہے ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اسی درجے کا ظالم وہ شخص بھی ہوگا جس کے پاس اللہ کا کلام پہنچ جائے جو کہ سراسر حق ہے اور وہ اس حق کو جھٹلا دے۔ { اَلَیْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ } ”تو کیا جہنم ہی میں ٹھکانہ نہیں ہے ایسے کافروں کا !“ اب اگلی آیت میں اس کے برعکس کردار کا ذکر ہے :

الزمر 39:33

آیت 33 { وَالَّذِیْ جَآئَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہٖٓ } ”اور وہ شخص جو سچائی لے کر آیا اور وہ جس نے اس کی تصدیق کی“ گزشتہ آیت کی طرح یہاں بھی دونوں احتمالات موجود ہیں۔ یعنی یہ الگ الگ دو کردار بھی ہوسکتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دونوں خوبیاں کسی ایک ہی شخص میں پائی جائیں کہ وہ راست باز بھی ہے اور حق کی تصدیق کرنے والابھی۔ لیکن اس آیت کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ یہاں وَالَّذِیْ جَآئَ بِالصِّدْقِ سے مراد محمد ٌ رسول اللہ ﷺ ہیں جو اللہ کی طرف سے حق اور سچائی لے کر آئے ہیں اور وَصَدَّقَ بِہٖٓ سے مراد حضرت ابوبکر صدیق رض ہیں جنہوں نے اس سچائی کی بلا حیل و حجت تصدیق کی۔ { اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُوْنَ } ”یہی لوگ ہیں کہ جو متقی ہیں۔“

الزمر 39:34

آیت 34 { لَہُمْ مَّا یَشَآئُ وْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَ } ”ان کے لیے اپنے رب کے پاس وہ سب کچھ ہے جو یہ چاہیں گے۔ یہی بدلہ ہے نیکوکاروں کا !“

الزمر 39:35

آیت 35 { لِیُکَفِّرَ اللّٰہُ عَنْہُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا } ”تاکہ اللہ ان سے دور کر دے ان کے ُ برے اعمال کو“ ظاہر بات ہے کہ انبیاء کرام علیہ السلام تو معصوم ہیں۔ ان سے اگر بر بنائے طبع بشری کسی غلط بات کا امکان پیدا ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ انہیں اس کے صدور سے محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن انبیاء علیہ السلام کے علاوہ تو ہر شخص سے غلطی اور خطا کا امکان ہے۔ چناچہ اوپر کی آیات میں جن متقین اور محسنین کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ ان کی خطائوں اور لغزشوں کو معاف فرما کر ان کے نامہ ہائے اعمال کو برائیوں اور گناہوں سے بالکل پاک کر دے گا۔ { وَیَجْزِیَہُمْ اَجْرَہُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } ”اور ان کو اجر عطا فرمائے ان کے بہترین اعمال کے حساب سے۔“ ظاہر بات ہے کہ ہر نیک شخص کے تمام نیک اعمال ایک جیسے نہیں ہوتے ‘ یعنی نیکیوں کی بھی درجہ بندی ہے۔ کوئی نیکی بہت اعلیٰ درجے کی ہے تو کوئی نسبتاً نچلے درجے کی۔ لہٰذا مذکورہ لوگوں کے اعمال کی جزا دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان کے بلند ترین درجے کے اعمال کو مد نظر رکھے گا اور ان ہی اعمال کی مطابقت سے جنت میں انہیں مقام و مرتبہ عطا فرمائے گا ‘ جبکہ ان کے برے اعمال کے منفی اثرات سے انہیں پاک کر دے گا۔

الزمر 39:36

آیت 36 { اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ } ”کیا اللہ کافی نہیں ہے اپنے بندے کے لیے ؟“ یہاں بالخصوص نبی اکرم ﷺ اور تبعاً اہل ِایمان کی تسلی مقصود ہے کہ آپ لوگ مطمئن رہیں ‘ اللہ آپ کی مدد اور حفاظت کے لیے کافی ہے۔ لیکن بات میں زور پیدا کرنے کے لیے سوالیہ انداز اختیار فرمایا گیا ہے۔ { وَیُخَوِّفُوْنَکَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ } ”اور اے نبی ﷺ ! یہ لوگ آپ کو ڈراتے ہیں ان سے جو اس کے علاوہ ان کے معبود ہیں۔“ یہ لوگ اپنے جھوٹے معبودوں کی طرف سے آپ علیہ السلام کو دھمکیاں دیتے ہیں کہ آپ پر ان کی کوئی پھٹکار پڑجائے گی۔ اسی طرح سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی آپ علیہ السلام کی قوم نے دھمکی دی تھی کہ آپ نے ہمارے سارے معبودوں کی نفی کر کے انہیں ناراض کردیا ہے ‘ اب آپ پر ان کی پھٹکار پڑے گی اور ان کی طرف سے آپ کی پکڑ ہوگی۔ ان کے جواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا تھا الانعام : 81 کہ ”میں ان سے کیونکر ڈروں جن کو تم نے شریک ٹھہرایا ہے جبکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن پر اس نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی !“ یعنی بدبختو ! مجھے تم ان پتھر کے ُ بتوں سے کیا ڈراتے ہو ‘ جب کہ ڈرنا تو تم لوگوں کو چاہیے کہ تم اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہو ! { وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ہَادٍ } ”اور جس کو اللہ گمراہ کر دے تو اس کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔“ جس کی گمراہی پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دے اس کی راہنمائی کرنے والا کوئی نہیں۔

الزمر 39:37

آیت 37 { وَمَنْ یَّہْدِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ مُّضِلٍّ } ”اور جس کو اللہ ہدایت دے دے توا سے گمراہ کرنے والا کوئی نہیں۔“ { اَلَیْسَ اللّٰہُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ } ”تو کیا اللہ زبردست ‘ انتقام لینے والا نہیں ہے ؟“

الزمر 39:38

آیت 38 { وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ } ”اور اے نبی ﷺ ! اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو تو وہ یقینا یہی کہیں گے کہ اللہ نے !“ { قُلْ اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ہَلْ ہُنَّ کٰشِفٰتُ ضُرِّہٖٓ} ”تو ان سے کہیے کہ ذرا غور کرو ! جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا ‘ اگر اللہ نے میرے لیے کسی تکلیف کا فیصلہ کرلیا ہے تو کیا وہ تمہارے معبود اس تکلیف کو دور کرسکیں گے ؟“ دراصل مشرکین ِمکہ ّاللہ تعالیٰ کو سب سے بڑے معبود کے طور پر تو مانتے تھے لیکن ساتھ ہی انہوں نے بہت سے چھوٹے معبود بھی بنا رکھے تھے۔ چناچہ اس آیت میں ان کے اسی عقیدے کے مطابق ایک منطقی سوال کیا گیا ہے کہ اگر تمہارا بڑا معبود اللہ کسی معاملے میں کوئی فیصلہ کرلے تو اس کے بعد کیا اس بڑے کا حکم چلتا ہے یا اس کے مقابلے میں تمہارے یہ چھوٹے معبود بھی اپنی من مرضی کرتے ہیں ؟ اور اگر بالفرض اللہ نے میرے لیے کسی ضرر کا فیصلہ کرلیا ہے تو کیا تمہارے یہ معبود اس کے اس فیصلے کے آڑے آسکتے ہیں ؟ { اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَۃٍ ہَلْ ہُنَّ مُمْسِکٰتُ رَحْمَتِہٖ } ”یا اگر اس نے میرے لیے رحمت کا کوئی فیصلہ کرلیا ہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں ؟“ { قُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ عَلَیْہِ یَتَوَکَّلُ الْمُتَوَکِّلُوْنَ } ”آپ کہہ دیجیے کہ میرے لیے تو اللہ ہی کافی ہے ! اور اسی پر توکل ّکرتے ہیں توکل کرنے والے۔“

الزمر 39:39

آیت 39 { قُلْ یٰـقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ } ”آپ کہیے کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم اپنی جگہ پر جو کرسکتے ہو کرلو“ تم لوگ اپنی پوری قوت مجتمع کرلو اور پھر میرے خلاف جو تدبیریں بروئے کار لاسکتے ہو ‘ جو سازشیں کرسکتے ہو اور جو اقدام کرسکتے ہو کر گزرو ! { اِنِّیْ عَامِلٌج فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ } ”میں بھی اپنی سی محنت کر رہا ہوں ‘ پس عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا۔“

الزمر 39:40

آیت 40 { مَنْ یَّاْتِیْہِ عَذَابٌ یُّخْزِیْہِ وَیَحِلُّ عَلَیْہِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ} ”کہ کس پر آتا ہے وہ عذاب جو اسے رسوا کر دے اور اس پر وہ عذاب نازل ہوجائے جو ہمیشہ رہنے والا ہو !“

الزمر 39:41

آیت 41 { اِنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ } ”اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کردی ہے لوگوں کے لیے حق کے ساتھ۔“ { فَمَنِ اہْتَدٰی فَلِنَفْسِہٖ } ”تو جو کوئی ہدایت کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ اپنے ہی بھلے کے لیے کرتا ہے۔“ { وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْہَا } ”اور جو کوئی گمراہی اختیار کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر آئے گا۔“ { وَمَآ اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِوَکِیْلٍ } ”اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔“ آپ ﷺ ان لوگوں کے انجام کے بارے میں جوابدہ نہیں ہیں۔ آپ ﷺ کی ذمہ داری ان تک اللہ کا پیغام پہنچانے کی حد تک ہے اور قیامت کے دن اسی کے بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا جائے گا۔

الزمر 39:42

آیت 42 { اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا } ”اللہ قبض کرلیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت“ { وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا } ”اور جن کی موت نہیں آئی ہوتی ان کو بھی ان کی نیند کی حالت میں۔“ یَتَوَفَّی فعل مضارع وفی مادہ سے باب تفعّل ہے۔ اس کے معنی ہیں کسی چیز کو پورا پورا قبضے میں لے لینا۔ سورة آل عمران کی آیت 55 میں یہ لفظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے آیا ہے اور وہاں لغوی اعتبار سے اس کی تشریح کی جا چکی ہے۔ اس کے بعد قرآن حکیم کے اس مطالعہ کے دوران جہاں بھی اس مادہ سے کوئی لفظ آیا میں نے خصوصی طور پر اس کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ اس لفظ کی بنیاد پر قادیانیوں نے لوگوں کے ذہنوں میں جو اشکالات پیدا کر رکھے ہیں ان کا منطقی جواب مل سکے۔ چناچہ اس کا مفہوم یوں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کی موت کے وقت ان کی جانوں اور ان کے شعور کو قبض کرلیتا ہے۔ نیند کی کیفیت میں انسان کا فہم و شعور اور اختیار و ارادہ سلب کرلیا جاتا ہے مگر روح موجود رہتی ہے۔ جبکہ موت کی حالت میں روح اور شعور دونوں چلے جاتے ہیں ‘ صرف جسم پیچھے رہ جاتا ہے۔ چونکہ اس مادے میں کسی چیز کو مکمل اور پورے کا پورا لینے کا مفہوم پایا جاتا ہے اس لیے لفظ تَوفِیّ کا بتمام و کمال اطلاق تو حضرت مسیح علیہ السلام کے روح ‘ شعور اور جسم سمیت رفع آسمانی کے حوالے سے ہوتا ہے۔ جبکہ نیند کے حوالے سے یہ لفظ استعارۃً بولا جاتا ہے۔ { فَیُمْسِکُ الَّتِیْ قَضٰی عَلَیْہَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ الْاُخْرٰٓی اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی } ”تو جس کی موت کا وہ فیصلہ کرچکا ہو اس کو اپنے پاس روکے رکھتا ہے اور دوسروں کو واپس بھیج دیتا ہے ایک وقت ِمعین ّ تک کے لیے۔“ یعنی سونے والا جب نیند سے بیدار ہوتا ہے تو اس کا فہم و شعور اور اختیار و ارادہ واپس آجاتا ہے اور ایک وقت معین یعنی اس کی موت تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ انسان کو ہر روز موت اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا مشاہدہ کراتا رہتا ہے۔ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّـتَفَکَّرُوْنَ } ”یقینا اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔“

الزمر 39:43

آیت 43 { اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ شُفَعَآئَ } ”کیا انہوں نے اللہ کے سوا کوئی سفارشی بنا رکھے ہیں ؟“ { قُلْ اَوَلَوْ کَانُوْا لَا یَمْلِکُوْنَ شَیْئًا وَّلَا یَعْقِلُوْنَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہیے اگرچہ انہیں سرے سے کوئی اختیار ہی نہ ہو اور نہ ہی انہیں کچھ سمجھ ہو پھر بھی وہ تمہاری شفاعت کریں گے ؟“

الزمر 39:44

آیت 44 { قُلْ لِّلّٰہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیْعًا } ”آپ ﷺ کہیے کہ شفاعت ُ کل کی کل اللہ کے اختیار میں ہے۔“ قیامت کے دن جو کوئی بھی کسی کی شفاعت کرے گا تو وہ اللہ کی اجازت سے ہی کرے گا ‘ اور پھر کسی شفاعت کا قبول کرنا یا نہ کرنا بھی اسی کے اختیار میں ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کوئی بات اللہ سے منوا لے۔ { لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ } ”آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کے لیے ہے۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹا دیے جائو گے۔“

الزمر 39:45

آیت 45 { وَاِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحْدَہُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ } ”اور جب ذکر کیا جاتا ہے اکیلے اللہ کا تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ُ کڑھنے لگتے ہیں۔“ یہ اصلاً تو کفار کا ذکر ہے ‘ مگر مسلمانوں میں سے بھی جو مشرکانہ ذوق رکھتے ہیں ان کا یہی حال ہے کہ اگر کہیں صرف اللہ ہی کی بات ہو رہی ہو تو انہیں یہ اچھا نہیں لگتا۔ کسی تقریر یا وعظ میں اگر ساری گفتگو توحید پر ہی ہو تو عام طور پر لوگ گھبرا جاتے ہیں کہ یہ کیا بات ہوئی ؟ یہ کیسی تقریر ہے جس میں نہ تو اولیاء اللہ کی کرامات کا ذکر کیا جارہا ہے اور نہ ہی شان نبوت بیان ہو رہی ہے ! { وَاِذَا ذُکِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِذَا ہُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ } ”اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جاتا ہے تب وہ خوش ہوجاتے ہیں۔“

الزمر 39:46

آیت 46 { قُلِ اللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ } ”آپ ﷺ کہیے : اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ! غائب اور حاضر کے جاننے والے !“ { اَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْ مَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ } ”یقینا تو ُ فیصلہ کرے گا اپنے بندوں کے مابین ان تمام چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔“

الزمر 39:47

آیت 47 { وَلَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّمِثْلَہٗ مَعَہٗ لَافْتَدَوْا بِہٖ مِنْ سُوْٓئِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } ”اور اگر ان ظالموں کے پاس وہ سب کچھ ہوتا جو بھی زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی ہوتا تو وہ قیامت کے دن ُ برے عذاب سے بچنے کے لیے وہ سب فدیہ میں دے دیتے۔“ روزِ محشر اگر ان کے پاس تمام روئے زمین کی دولت ہو بلکہ اتنی اور بھی ہو تو وہ چاہیں گے کہ وہ سب کچھ دے دیں اور انہیں کسی طرح جہنم کے عذاب سے بچالیا جائے۔ انسان کی اس کیفیت کا مشاہدہ تو یہاں دنیا میں بھی کیا جاسکتا ہے۔ جب کبھی انسان کی جان پر بن جاتی ہے تو وہ ایک گھونٹ پانی کے لیے اپنا سب کچھ دینے کو تیار ہوجاتا ہے۔ بہر حال یہاں یہ اسلوب صرف انسانوں کے سمجھانے کے لیے آیا ہے ‘ ورنہ اس دن نہ تو کسی کے پاس کچھ دینے کو ہوگا اور نہ ہی کوئی کسی کو کچھ دے سکے گا۔ { وَبَدَا لَہُمْ مِّنَ اللّٰہِ مَا لَمْ یَکُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ } ”اور اُس روز ان کے سامنے اللہ کی طرف سے وہ کچھ آجائے گا جس کا انہیں گمان بھی نہیں تھا۔“ آج وہ سمجھتے ہیں کہ جہنم اور اس کے عذابوں کی حقیقت کچھ بھی نہیں ‘ بلکہ ان کا خیال ہے کہ جس طرح بچوں کو کوئی بات منوانے کے لیے فرضی چیزوں سے ڈرایا جاتا ہے اسی طرح ہمیں بھی خالی ڈراوے دیے جا رہے ہیں اور جہنم کا ’ ہوا ‘ دکھایا جا رہا ہے۔ لیکن اس دن جہنم کو اس کے تمام تر عذابوں اور سختیوں کے ساتھ ان کے سامنے لایا جائے گا اور پھر ان سے پوچھا جائے گا : { اَلَیْسَ ہٰذَا بِالْحَقِّط قَالُوْا بَلٰی وَرَبِّنَاط } الانعام : 30 کہ جو کچھ اب تم اپنے سامنے دیکھ رہے ہو کیا یہ حقیقت نہیں ؟ تو اس وقت وہ تسلیم کریں گے کہ ہاں کیوں نہیں ‘ ہمارے پروردگار کی قسم ! واقعی یہ تو ایک حقیقت ہے۔

الزمر 39:48

آیت 48 { وَبَدَا لَہُمْ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوْا وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ } ”اور ان کے سامنے آجائیں گے ان کی کمائی کے سارے ُ برے نتائج اور ان کو گھیرے میں لے لے گی وہ چیز جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔“

الزمر 39:49

آیت 49 { فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَاز } ”تو جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے“ { ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰـہُ نِعْمَۃً مِّنَّا } ”پھر جب ہم اسے لپیٹ دیتے ہیں اپنی نعمت میں“ { قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ } ”تو وہ کہتا ہے مجھے تو یہ ملا ہے اپنے علم کی بنیاد پر۔“ وہ کہتا ہے کہ یہ تو میری سمجھ ‘ ذہانت و فطانت اور منصوبہ بندی کا کمال ہے۔ میں نے بہت پہلے یہ اندازہ کرلیا تھا کہ عنقریب اس چیز کی ڈیمانڈ آنے والی ہے ‘ چناچہ میں نے بر وقت فیکٹری لگا لی اور یوں میرے وارے نیارے ہوگئے۔ یہ مضمون سورة القصص کے آٹھویں رکوع میں قارون کے حوالے سے بڑی وضاحت کے ساتھ آچکا ہے۔ اس نے بھی اپنی دولت کے بارے میں کہا تھا : { اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ } آیت 78 کہ یہ سب کچھ تو مجھے میری ذہانت و فطانت کی وجہ سے ملا ہے۔ { بَلْ ہِیَ فِتْنَۃٌ وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ } ”بلکہ یہ تو ایک آزمائش ہے ‘ لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔“

الزمر 39:50

آیت 50 { قَدْ قَالَہَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ”ان سے پہلوں نے بھی یہی بات کہی تھی“ مثلاً قارون بھی ایسے ہی دعوے کیا کرتا تھا۔ { فَمَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ } ”تو جو کچھ بھی انہوں نے کمائی کی تھی وہ ان کے کسی کام نہ آسکی۔“ جب اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا تو اپنی اس دولت کے بل پر وہ اللہ کے عذاب سے بچ نہ پایا۔

الزمر 39:51

آیت 51 { فَاَصَابَہُمْ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوْا } ”پس انہیں اس کے بدنتائج پہنچ گئے جو وہ کماتے تھے۔“ { وَالَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ ہٰٓؤُلَآئِ } ”اور ان میں سے بھی جو لوگ ظلم شرک کی روش اختیار کریں گے“ { سَیُصِیْبُہُمْ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوْالا وَمَا ہُمْ بِمُعْجِزِیْنَ } ”ان کو پہنچ کر رہیں گے ان کے کرتوتوں کے برے نتائج ‘ اور وہ اللہ کو عاجز کردینے والے نہیں ہیں۔“

الزمر 39:52

آیت 52 { اَوَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ } ”کیا یہ جانتے نہیں کہ اللہ ہی ہے جو کشادہ کردیتا ہے رزق کو جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے۔“ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ } ”یقینا اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ماننے والے ہیں۔“

الزمر 39:53

آیت 53 { قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے : اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے !“ قُلْ یٰعِبَادِیْکا اندازِ تخاطب اس سورت میں یہاں دوسری مرتبہ آیا ہے۔ اس سے پہلے آیت 10 میں ارشاد ہوا : { قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّکُمْ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے : اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو ! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو“۔ اب یہاں گویا پھر سے یاد دہانی کرائی جا رہی ہے کہ اب تک کی زندگی اگر تم لوگوں نے غفلت میں گزار دی ہے تو اب بھی وقت ہے ‘ اب بھی ہوش میں آ جائو ! اور اگر تم نے اب تک اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے تو : { لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِط اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا } ”اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا ‘ یقینا اللہ سارے گناہ معاف فرما دے گا۔“ ٭ لیکن اس معافی کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ اس کے حضور خلوص دل سے توبہ کرو ‘ حرام خوری چھوڑ دو ‘ معصیت کی روش ترک کر دو اور آئندہ کے لیے اپنے اعمال کو درست کرلو۔ ایسی توبہ کا انعام اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ملے گا کہ تمہارے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے۔ سورة الفرقان میں اس بارے میں بہت واضح حکم موجود ہے : { اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًارَّحِیْمًا۔ وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ یَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا۔ ”سوائے اس کے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے ‘ تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دیتا ہے ‘ اور اللہ غفور ہے ‘ رحیم ہے۔ اور جس نے توبہ کی اور نیک اعمال کیے تو یہی شخص توبہ کرتا ہے اللہ کی جناب میں جیسا کہ توبہ کرنے کا حق ہے“۔ چناچہ سابقہ گناہوں کی معافی توبہ سے ممکن ہے ‘ لیکن توبہ وہی قبول ہوگی جس کے بعد انسان کے اعمال درست ہوجائیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو رسمی اور زبانی توبہ بےمعنی ہے۔ { اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ } ”یقینا وہ بہت بخشنے والا ‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔“

الزمر 39:54

آیت 54 { وَاَنِیْبُوْٓا اِلٰی رَبِّکُمْ وَاَسْلِمُوْا لَہٗ } ”اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو ‘ اور اس کے فرمانبردار بن جائو“ { مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ } ”اس سے پہلے کہ تم پر عذاب ّمسلط ہوجائے ‘ پھر تمہاری کہیں سے مدد نہیں کی جائے گی۔“

الزمر 39:55

آیت 55 { وَاتَّبِعُوْٓا اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ } ”اور پیروی کرو اس کے بہترین پہلو کی جو نازل کیا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے“ یہ مضمون اس سے پہلے آیت 18 میں بھی آچکا ہے ‘ وہاں پر { فَـیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗط } کے الفاظ آئے ہیں۔ گویا قرآن جو راستہ تم لوگوں کو دکھا رہا ہے اس میں بھی مختلف درجات ہیں۔ ان درجات کا ذکر سورة التوبہ کی اس آیت میں بھی ہوا ہے : { وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ } آیت 100 ”اور پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین اور انصار میں سے ‘ اور وہ جنہوں نے ان کی پیروی کی نیکی کے ساتھ“۔ سورة النساء کی آیت 69 میں بھی چار مدارج کا ذکر ہے۔ ان میں پہلا درجہ انبیاء کرام علیہ السلام کا ہے ‘ دوسرے درجے پر صدیقین ہیں ‘ تیسرے درجے پر شہداء اور چوتھے پر صالحین۔ سورة الحدید میں یہ مضمون زیادہ واضح انداز میں بیان ہوا ہے۔ بہر حال آیت زیر مطالعہ میں قرآن کے اتباع میں اعلیٰ سے اعلیٰ درجے کو پانے کی ترغیب دی گئی ہے۔ { مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ بَغْتَۃً وَّاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ } ”اس سے پہلے کہ تم پر عذاب اچانک آدھمکے اور تمہیں اس کا گمان تک نہ ہو۔“

الزمر 39:56

آیت 56 { اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰی عَلٰی مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْبِ اللّٰہِ } ”مبادا کہ اس وقت کوئی جان یہ کہے کہ ہائے افسوس اس کوتاہی پر جو مجھ سے اللہ کی جناب میں ہوئی“ م ہائے میری بدقسمتی کہ میں زندگی بھر اپنے دھندوں میں اس طرح مگن رہا کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو پہچان ہی نہ سکا۔ میرے سامنے اللہ کا دین مغلوب تھا مگر میں اس کی سربلندی کے لیے جدو جہد کرنے کے بجائے اپنی عیش و عشرت کے مواقع ڈھونڈنے اور اپنا معیارِ زندگی بلند کرنے میں لگا رہا۔ میں نے دنیا کے مال و متاع کو ہی اپنا معبود سمجھ لیا اور عمر بھر اسی کے لیے اپنا تن من دھن کھپاتا رہا۔ { وَاِنْ کُنْتُ لَمِنَ السَّاخِرِیْنَ } ”اور میں تو مذاق اڑانے والوں ہی میں شامل رہا۔“ میں نے اللہ تعالیٰ ‘ اس کے دین اور آخرت کی باتوں کو نہ کبھی دھیان سے سنا اور نہ ہی کبھی سنجیدگی سے ان پر غور کیا ‘ بلکہ میں تو ہمیشہ ان باتوں کا مذاق ہی اڑاتا رہا۔

الزمر 39:57

آیت 57 { اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰہَ ہَدٰٹنِیْ لَـکُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ } ”یا وہ یہ کہے کہ اگر اللہ نے مجھے ہدایت دی ہوتی تو میں بھی متقین میں سے ہوجاتا !“ اگر کوئی شخص ایسے کہے گا تو گویا وہ اپنے اس اختیار کی نفی کرے گا جو اسے انسان کی حیثیت سے دنیا میں عطا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے تو اسے اشرف المخلوقات بنایا تھا اور اختیار دیا تھا : { اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا } الدھر کہ چاہو تو میرے شکر گزار بندے بن کر رہو اور چاہو تو نافرمان اور ناشکرے بن جائو۔

الزمر 39:58

آیت 58 { اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَی الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ کَرَّۃً فَاَکُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ } ”یا جب وہ عذاب کو دیکھے تو یوں کہے کہ اگر مجھے ایک بار لوٹنا نصیب ہوجائے تو میں محسنین میں سے ہو جائوں !“ یعنی اگر مجھے ایک دفعہ دنیا میں دوبارہ جانے کا موقع مل جائے تو میں صرف مسلم ‘ صرف مومن یا صرف متقی ہی نہیں بنوں گا بلکہ محسنین کی صف میں جگہ بنا لوں گا۔

الزمر 39:59

آیت 59 { بَلٰی قَدْ جَآئَ تْکَ اٰیٰتِیْ فَکَذَّبْتَ بِہَا وَاسْتَکْبَرْتَ وَکُنْتَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ } ”کیوں نہیں ! تیرے پاس میری آیات آئی تھیں تو تو ُ نے ان کو جھٹلا دیا تھا اور تکبر کیا تھا اور تو کافروں میں سے تھا۔“

الزمر 39:60

آیت 60 { وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ تَرَی الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلَی اللّٰہِ وُجُوْہُہُمْ مُّسْوَدَّۃٌ} ”اور قیامت کے دن تم دیکھو گے ان لوگوں کو جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا کہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے۔“ { اَلَیْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِّلْمُتَکَبِّرِیْنَ } ”تو کیا جہنم ہی میں ٹھکانہ نہیں ہے ایسے متکبرین کا ؟“

الزمر 39:61

آیت 61 { وَیُنَجِّی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِہِمْ } ”اور اللہ نجات دے گا ان لوگوں کو جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تھی اور انہیں پہنچا دے گا ان کی کامیابی کی جگہوں پر۔“ جنت میں ان کے درجات اور مراتب کے مطابق اللہ تعالیٰ انہیں ان کے مقامات تک پہنچا دے گا۔ انبیاء کرام علیہ السلام اپنے مراتب پر پہنچیں گے اور اسی طرح صدیقین ‘ شہداء اور صالحین اپنے اپنے مقامات کو پالیں گے۔ { لَا یَمَسُّہُمُ السُّوْٓئُ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ } ”نہ ان کو کوئی تکلیف چھو سکے گی اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔“

الزمر 39:62

آیت 62 { اَللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍز وَّہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَّکِیْلٌ } ”اللہ ہی ہر شے کا خالق ہے ‘ اور وہی ہرچیز پر نگہبان ہے۔“

الزمر 39:63

آیت 63 { لَہٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”اسی کے لیے ہیں تمام کنجیاں آسمانوں کی اور زمین کی۔“ { وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ } ”اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا وہی ہیں گھاٹے میں رہنے والے۔“ اب اس سورت کے آخری دو رکوع ہمارے زیر مطالعہ ہوں گے۔ یہ دونوں رکوع اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ ان میں توحید فی العبادت کا مضمون بہت ُ پر جلال انداز میں بیان ہوا ہے۔

الزمر 39:64

آیت 64 { قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰہِ تَاْمُرُوْٓنِّیْٓ اَعْبُدُ اَیُّہَا الْجٰہِلُوْنَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ اے جاہلو ! کیا تم مجھے بھی یہ مشورہ دے رہے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کروں ؟“ یہ انداز اس آیت کے علاوہ پورے قرآن میں اور کہیں نہیں پایا جاتا اور یہ خاص اسلوب دراصل مشرکین ِ مکہ کے اس دبائو کا جواب ہے جو انہوں نے حضور ﷺ پر ”کچھ لو اور کچھ دو“ کی پالیسی اختیار کرنے کے لیے ڈال رکھا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ آپ اپنے موقف میں کچھ نرمی پیدا کریں اور ہمارے معبودوں میں سے کچھ کو تسلیم کرلیں تو اس کے جواب میں ہم بھی آپ کی کچھ باتیں مان لیں گے ‘ بلکہ آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کرلیں گے۔ اس طرح ایک درمیانی راہ نکل آئے گی اور جھگڑا ختم ہوجائے گا۔ چناچہ ان کے اس مطالبے کا جواب بہت سخت انداز میں دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ عربی میں ’ جاہل ‘ اس کو کہتے ہیں جو علم اور عقل کے بجائے جذبات اور خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔

الزمر 39:65

آیت 65 { وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ } ”اور اے نبی ﷺ ! آپ کی طرف تو وحی کی جا چکی ہے اور جو رسول آپ سے پہلے تھے ان کی طرف بھی وحی کردی گئی تھی“ آگے اس وحی کا ُ لب ّلباب بیان کیا جا رہا ہے۔ ملاحظہ کیجیے : { لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ } ”اگر آپ بھی بالفرض شرک کریں گے تو آپ کے سارے اعمال بھی ضائع ہوجائیں گے اور آپ بھی نہایت خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔“ یہ سخت اسلوب دراصل حضور ﷺ کے لیے نہیں بلکہ مشرکین کے لیے ہے۔ آپ ﷺ کو مخاطب کر کے دراصل انہیں سنانا مقصود ہے کہ قانونِ خداوندی اس سلسلے میں بہت واضح اور اٹل ہے۔ شرک جو کوئی بھی کرے گا اسے اس کی سزا ضرور ملے گی ‘ کسے باشد ! اللہ کا قانون کسی کے لیے تبدیل نہیں کیا جاتا : { وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا۔ الاحزاب ”اور تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی !“

الزمر 39:66

آیت 66 { بَلِ اللّٰہَ فَاعْبُدْ وَکُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ } ”بلکہ آپ ﷺ صرف اللہ ہی کی بندگی کیجیے اور بن جائیے شکر گزار بندوں میں سے !“

الزمر 39:67

آیت 67 { وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ } ”اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسے کہ اس کی قدر کا حق تھا“ یہ لوگ اللہ کی قدرت ‘ اس کی قوت اور اس کی صفات کا اندازہ نہیں کر پائے۔ اس معاملے میں یہ بہت اہم نکتہ ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ اگرچہ ہم انسان اللہ تعالیٰ کے علم ‘ اس کی قدرت اور اس کی دوسری صفات کو ناپ تول نہیں سکتے ‘ اگر ہم اس کی کوشش بھی کریں گے تو یوں سمجھیں کہ اس کوشش کی مثال سنار کی ترازو میں ٹنوں کے وزن کو تولنے جیسی ہوگی ‘ لیکن ہم یہ تو جان سکتے ہیں کہ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ہستی ہے۔ اس آیت کے مصداق وہ لوگ ہیں جن کے اذہان اللہ کو عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْـرٌ ماننے سے بھی عاجز ہیں۔ اب اللہ کی قدرت اور عظمت کی ایک جھلک ملاحظہ ہو : { وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌم بِیَمِیْنِہٖ } ”اور زمین پوری کی پوری اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔“ کیا اس کیفیت کا اندازہ کرنا انسانی فکر اور سوچ کے بس کی بات ہے ؟ آسمانوں کی پہنائیاں ! کائنات میں موجود کہکشائوں ‘ ستاروں اور سیاروں کی تعداد ! ایک ایک کہکشاں کی وسعت ! ایک ایک ستارے کی جسامت ! ان کہکشائوں اور ستاروں کے باہمی فاصلے ! ان فاصلوں اور وسعتوں کو ناپنے کے لیے انسان کے فرض کیے ہوئے نوری سالوں کے پیمانے ! ایک نوری سال کے فاصلے کا تصور ! اور پھر اربوں کھربوں نوری سالوں کی وسعتوں کا تخیل ! اور پھر یہ تصور کہ یہ سب کچھ لپٹا ہواہو گا اللہ کے داہنے ہاتھ میں ! ! بہر حال یہ ایسا موضوع ہے جس پر سوچتے ہوئے انسانی فکر اور اس کی قوت متخیلہ بھی تھک ہار کر رہ جاتی ہے۔ اور انسان کی عقل جو اللہ کی تخلیق کی ہوئی کائنات کے کسی ایک کونے کا احاطہ کرنے سے بھی عاجز ہے ‘ وہ اللہ کی قدرت کا کیا اندازہ کرے گی ! { سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ } ”وہ پاک ہے اور بہت بلند وبالا اس تمام شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔“

الزمر 39:68

آیت 68 { وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآئَ اللّٰہُ } ”اور صور میں پھونکا جائے گا تو بےہوش ہوجائیں گے جو کوئی بھی ہیں آسمانوں میں اور زمین میں ‘ سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے گا۔“ یہ منظر بہت دہشت ناک ہوگا۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ فرشتوں کے علاوہ باقی تمام فرشتے بھی صور کی اس آواز سے بےہوش ہو کر گرپڑیں گے۔ دراصل یہ تین نفخے ہوں گے۔ پہلا نفخہ وہ ہوگا جسے قرآن میں ”السَّاعۃ“ بھی کہا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں شدید زلزلے ‘ ہلچل اور طوفان کی صورت حال پیدا ہوجائے گی۔ سورج اور چاند آپس میں ٹکرا جائیں گے۔ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑنے لگیں گے۔ پھر دوسرا نفخہ ہوگا جس کے نتیجے میں تمام جانداروں پر موت طاری ہوجائے گی۔ اس آیت میں اسی دوسرے نفخہ کا ذکر ہے۔ اس کے بعد نفخہ ثالثہ کی کیفیت یوں ہوگی : { ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ اُخْرٰی فَاِذَا ہُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ } ”پھر اس صور میں دوبارہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ سب کے سب کھڑے ہوجائیں گے دیکھتے ہوئے۔“ اس تیسرے نفخے کے نتیجے میں تمام انسان دوبارہ زندہ ہوجائیں گے۔ یہ گویا بعث بعد الموت کا نفخہ ہوگا اور اسی کا نام قیامت کھڑے ہونا ہے۔

الزمر 39:69

آیت 69 { وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّہَا } ”اور زمین جگمگا اٹھے گی اپنے رب کے نور سے“ اس وقت کی کیفیت کو سورة الفرقان میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : { وَیَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآئُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰٓئِکَۃُ تَنْزِیْلًا } ”اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا بادلوں کی مانند اور فرشتے نازل کیے جائیں گے لگاتار“۔ پھر اللہ تعالیٰ زمین پر نزول فرمائیں گے اور فرشتے صفیں باندھے نیچے اتریں گے : { وَّجَآئَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا } الفجر۔ { وَوُضِعَ الْکِتٰبُ } ”اور اعمال نامہ لا کر رکھ دیا جائے گا“ لوگوں کے اعمال نامے کا سر محشر لا کر رکھے جانے کی صورت حال کا نقشہ سورة الکہف کی آیت 49 میں یوں کھینچا گیا ہے : { وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰٹہَا } ”اور رکھ دیا جائے گا اعمال نامہ ‘ چناچہ تم دیکھو گے مجرموں کو کہ وہ لرزاں و ترساں ہوں گے اس سے جو کچھ اس میں ہوگا اور کہیں گے : ہائے ہماری شامت ! یہ کیسا اعمال نامہ ہے کہ اس نے نہ تو کسی چھوٹی چیز کو چھوڑا ہے اور نہ کسی بڑی کو ‘ مگر اس کو محفوظ کر کے رکھا ہے“۔ اس کے بعد کی کیفیت کا نقشہ آگے دکھایا جا رہا ہے : { وَجِایْٓئَ بِالنَّبِیّٖنَ وَالشُّہَدَآئِ } ”اور لائے جائیں گے انبیاء اور شہید“ یہاں ”شہید“ سے مراد اوّلاً تو رسول ہیں کہ وہ اپنی اپنی امتوں پر سب سے پہلے گواہی دیں گے۔ سورة الحج کی آخری آیت میں حضور ﷺ کی اپنی امت پر گواہی کے بارے میں فرمایا گیا : { لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِیْدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ } ”تاکہ پیغمبر تم پر گواہ ہوں اور تم لوگوں پر گواہ ہو“۔ لیکن یہاں انبیاء کے ذکر کے بعد شہید کا لفظ خصوصی طور پر اس لیے لایا گیا ہے کہ وہاں ان لوگوں کو بھی گواہ کے طور پر بلایا جائے گا جو انبیاء و رسل علیہ السلام کی طرف سے تبلیغ کرتے رہے ہوں گے۔ جیسے عشرہ مبشرہ میں سے چھ چوٹی کے صحابہ وہ ہیں جو حضرت ابوبکرصدیق رض کی تبلیغ کے نتیجے میں ایمان لائے۔ اسی طرح حضور ﷺ نے بہت سے علاقوں اور قبیلوں کی خواہش پر اپنے بعض صحابہ رض کو قرآن اور دین کی تعلیم کے لیے بھیجا۔ ایسے مبلغ اور معلم ّصحابہ رض زیادہ تر اصحابِ ُ صفہّ رض میں سے تھے۔ ان صحابہ رض نے حضور ﷺ کی طرف سے جن لوگوں کو دعوت دی تھی ‘ قیامت کے دن ان پر وہ گواہی دیں گے کہ اے اللہ ! تیرے نبی ﷺ نے تیرے دین کا جو پیغام ہم تک پہنچایا تھا ہم نے وہ ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔ پھر حضور ﷺ کے بعد دین کی دعوت و تبلیغ کی یہ ذمہ داری آپ ﷺ کی امت کی طرف منتقل ہوگئی اور اس لحاظ سے آج ہم سب اس ذمہ داری کے مکلف ہیں۔ چناچہ ہمیں وہاں بطور گواہ بلایا جائے گا کہ محمد ﷺ کی طرف سے اللہ کا جو دین تم تک وراثتاً پہنچا تھا کیا تم لوگوں نے اسے آگے نوع انسانی تک پہنچا دیا تھا ؟ اگر خدانخواستہ ہم یہ گواہی دینے میں ناکام رہے تو ان تمام لوگوں کی گمراہی اور ضلالت کا وبال بھی ہماری گردن پر آئے گا جو ہمارے حلقہ اثر اور دائرئہ اختیار میں تھے اور ہم انہیں دعوت نہیں دے سکے تھے۔ لیکن اگر ہم نے اپنی استطاعت کے مطابق یہ حق ادا کردیا ہوگا تو ہم اس گواہی سے سرخرو ہوں گے اور وہ لوگ اپنے اعمال کے لیے اللہ کے ہاں خود جوابدہ ہوں گے۔ بہر حال اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی عدالت کا منظر دکھایا گیا ہے جو سر محشر سجائی جائے گی۔ تمام بنی نوع انسان کا اعمال نامہ بھی لا کر اس عدالت کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ پھر انبیاء و رسل علیہ السلام اور دوسرے گواہوں کو بھی لا یا جائے گا۔ { وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ بِالْحَقِّ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ } ”اور ان کے مابین فیصلہ کردیا جائے گا حق کے ساتھ اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔“

الزمر 39:70

آیت 70 { وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَہُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ } ”اور پورا پورا دے دیا جائے گا ہر جان کو جو کچھ کہ اس نے عمل کیا ہوگا ‘ اور اللہ خوب جانتا ہے جو عمل یہ لوگ کر رہے ہیں۔“ اس موضوع سے متعلق قرآن کے مختلف مقامات پر جو اشارے ملتے ہیں ان سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میدانِ حشر اسی زمین پر ہوگا۔ اس کے لیے زمین کو کھینچ کر پھیلا دیا جائے گا ‘ جیسا کہ سورة الانشقاق کی اس آیت میں فرمایا گیا ہے : { وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ }۔ پھر اسے بالکل ہموار اور چٹیل میدان کی شکل دے دی جائے گی ‘ اس طرح کہ : { لَا تَرٰی فِیْہَا عِوَجًا وَّلَآ اَمْتًا } طٰہٰ ”تم نہیں دیکھو گے اس میں کوئی ٹیڑھ اور نہ کوئی ٹیلا“۔ پھر یہیں پر اللہ تعالیٰ کا نزول ہوگا اور یہیں پر فرشتے اتریں گے : { وَجَآئَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا } الفجر اور یہیں پر حساب کتاب ہوگا۔ گویا قصہ زمین برسرزمین چکایا جائے گا۔ فیصلوں کے بعد اہل جنت کو جنت کی طرف لے جایا جائے گا اور اہل ِجہنم کو جہنم کی طرف۔ یہ میدانِ حشر کا آخری منظر ہوگا جس کا نقشہ اگلے رکوع میں بڑے ُ پر جلال انداز میں کھینچا جا رہا ہے۔ اس لحاظ سے یہ قرآن کا خاص مقام ہے۔

الزمر 39:71

آیت 71 { وَسِیْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی جَہَنَّمَ زُمَرًا } ”اور ہانک کرلے جائے جائیں گے کافر جہنم کی طرف گروہ در گروہ۔“ اس طرح کہ ایک امت کے بعد دوسری امت اور پھر تیسری اُمت۔ غرض تمام امتوں کے مجرم لوگ اپنے اپنے لیڈروں کی قیادت میں جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے۔ سورة ہود میں فرعون اور اس کی قوم کے حوالے سے ایک نقشہ ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے : { یَقْدُمُ قَوْمَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَاَوْرَدَہُمُ النَّارَط وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ۔ } ”قیامت کے دن وہ آئے گا آگے چلتا ہوا اپنی قوم کے ‘ پھر وہ آگ کے گھاٹ پر انہیں اتار دے گا۔ اور وہ بہت ہی برا گھاٹ ہے جس پر وہ اتارے جائیں گے“۔ تو یوں اہل جہنم کو گروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانک کرلے جایا جائے گا۔ { حَتّٰٓی اِذَا جَآئُ وْہَا فُتِحَتْ اَبْوَابُہَا } ”یہاں تک کہ جب وہ پہنچ جائیں گے جہنم پر تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے“ جیسے جیل کے دروازے صرف نئے قیدیوں کے داخلے کے لیے ہی کھولے جاتے ہیں ‘ اسی طرح جہنم کے بند دروازے بھی مجرموں کی آمد پر ہی کھولے جائیں گے۔ { وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَآ } ”اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے“ ان مجرمین کی آمد پر جہنم پر مامور فرشتے ان سے پوچھیں گے : { اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ رَبِّکُمْ وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَآئَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا } ”کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول علیہ السلام نہیں آئے تھے جو تمہیں سناتے تھے تمہارے رب کی آیات اور تمہیں خبردار کرتے تھے تمہاری آج کے دن کی اس ملاقات سے !“ { قَالُوْا بَلٰی وَلٰکِنْ حَقَّتْ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ } ”وہ کہیں گے کیوں نہیں ! لیکن کافروں پر عذاب کا حکم ثابت ہو کررہا۔“ یعنی پیغمبروں نے تو دعوت و تبلیغ کا حق ادا کردیا ‘ لیکن یہ لوگ انکار اور کفر پر اڑے رہے اور یوں انہوں نے خود کو عذاب کا مستحق ثابت کر دکھایا۔

الزمر 39:72

آیت 72 { قِیْلَ ادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَاج فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ } ”کہہ دیا جائے گا ان سے کہ داخل ہو جائو جہنم کے دروازوں میں ‘ اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے۔ تو بہت برا ہے یہ ٹھکانہ متکبرین کا۔“ پیغمبروں کی دعوت کے جواب میں جو اکڑفوں تم لوگ دکھاتے رہے تھے اس کی وجہ سے آج تم اس انجام سے دو چار ہوئے ہو۔

الزمر 39:73

آیت 73 { وَسِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ اِلَی الْجَنَّۃِ زُمَرًا } ”اور لے جایا جائے گا ان لوگوں کو جنت کی طرف جو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کیے رہے تھے گروہ در گروہ۔“ { حَتّٰٓی اِذَا جَآئُ وْہَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُہَا } ”یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جا چکے ہوں گے“ یہاں پر ”و“ بہت معنی خیز ہے۔ اس ”و“ کی وجہ سے فقرے میں یہ مفہوم پیدا ہو رہا ہے کہ جنت کے دروازے پہلے سے ہی کھلے ہوں گے۔ یعنی اہل جنت کا انتظار کھلے دروازوں کے ساتھ ہو رہا ہوگا۔ اس حوالے سے سورة ص کی آیت 50 میں { مُفَتَّحَۃً لَّہُمُ الْاَبْوَابُ۔ } کے الفاظ بھی اسی مفہوم کو واضح کرتے ہیں۔ { وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ } ”اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے : آپ پر سلام ہو ‘ آپ لوگ کتنے پاکباز ہیں !“ { فَادْخُلُوْہَا خٰلِدِیْنَ } ”اب داخل ہوجائیے اس میں ہمیشہ ہمیش رہنے کے لیے۔“

الزمر 39:74

آیت 74 { وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ } ”اور وہ کہیں گے کہ ُ کل حمد اور کل شکر اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ پورا کردیا“ { وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْثُ نَشَآئُ } ”اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ اب ہم گھر بنا لیں جنت میں جہاں چاہیں۔“ { فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ } ”تو بہت ہی اچھا ہوگا اجر عمل کرنے والوں کا !“ گواہوں نے گواہیاں دے دیں ‘ آخری فیصلے صادر کردیے گئے ‘ سزا پانے والوں کو جہنم کی طرف بھیج دیا گیا ‘ کامیاب ہونے والوں کو جنت میں پہنچا دیا گیا۔ اب آخری آیت میں گویا عدالت ِمحشر کا اختتامی منظر ڈراپ سین دکھایا جا رہا ہے :

الزمر 39:75

آیت 75 { وَتَرَی الْمَلٰٓئِکَۃَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ } ”اور تم دیکھو گے ‘ فرشتوں کو کہ وہ عرش الٰہی کو گھیرے ہوئے ہوں گے ‘ اپنے ربّ کی تسبیح بیان کر رہے ہوں گے اس کی حمد کے ساتھ۔“ { وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ بِالْحَقِّ } ”اور ان کے مابین حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا“ یہاں پر بَیْنَہُمْ سے کچھ مفسرین نے تو انسان ہی مرادلیے ہیں اور ان کی رائے یہ ہے کہ یہاں گویا وہی بات دہرائی گئی ہے جو قبل ازیں چھٹے رکوع میں بایں الفاظ بیان ہوچکی ہے :ـ { وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ بِالْحَقِّ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ }۔ لیکن ایک دوسری رائے کے مطابق یہاں پر وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے فیصلوں کے بعد فرشتوں کے درمیان بھی فیصلہ کردیا جائے گا۔ قبل ازیں سورة صٓ کی آیت 69 کے ضمن میں یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ فرشتے عاقل ہستیاں ہیں۔ ان میں سے ہر کوئی اپنی سوچ اور اپنی رائے رکھتا ہے۔ اس بنا پر ان میں اختلافات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کے بارے میں بحث کرتے ہوئے ان میں سے ہر کوئی اپنی اپنی رائے دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فلاں فیصلے میں یہ حکمت ہے ‘ وغیرہ وغیرہ۔ چناچہ اس جملے کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آخر میں فرشتوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کا بھی حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا۔ { وَقِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ”اور پکارا جائے گا کہ ُ کل کی کل حمد اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے !“ یعنی آخر میں وہی اللہ تعالیٰ کی جے بلند کی جائے گی کہ کل شکر اور کل تعریف اللہ کے لیے ہے ‘ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے !

غافر 40:1

آیت 1 { حٰمٓ۔ ”ح ‘ م۔“

غافر 40:2

آیت 2 { تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ } ”نازل کیا جانا ہے اس کتاب کا اس اللہ کی جانب سے جو زبردست ہے ‘ صاحب علم ہے۔“

غافر 40:3

آیت 3 { غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ لا ذِی الطَّوْلِ } ”وہ اللہ کہ جو بخشنے والا ہے گناہ کا ‘ قبول کرنے والا ہے توبہ کا ‘ سزا دینے میں بہت سخت ہے ‘ وہ بہت طاقت اور قدرت والا ہے۔“ یہاں اللہ تعالیٰ کی چار شانوں کا ذکر مرکب اضافی کی صورت میں ہوا ہے۔ آگے چل کر بھی اس سورت میں اسمائے حسنیٰ کے حوالے سے یہ انداز اور اسلوب نظر آئے گا۔ { لَآ اِلٰــہَ اِلَّا ہُوَط اِلَـیْہِ الْمَصِیْرُ } ”اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ‘ اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“ یہاں یہ اہم نکتہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ اس سورت میں ”توبہ“ اور ”استغفار“ کا ذکر بار بار آئے گا ‘ بلکہ اس حوالے سے فرشتوں کا ذکر بھی آئے گا کہ وہ بھی بندوں کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ سورة المومن کا سورة الزمر کے ساتھ چونکہ جوڑے کا تعلق ہے اس لیے ان دونوں سورتوں کے بنیادی اور مرکزی مضمون میں بھی مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس مماثلت کے حوالے سے قبل ازیں تمہیدی کلمات میں بھی وضاحت کی جا چکی ہے کہ سورة الزمر کا مرکزی مضمون ”توحید فی العبادت“ ہے اور سورة المومن کا مرکزی مضمون ”توحید فی الدعاء“ ہے۔ ”دعا“ کے بارے میں حضور ﷺ کا فرمان ہے : اَلدُّعَائُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ 1 یعنی دعا عبادت کا جوہر ہے۔ ایک دوسری حدیث میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں : اَلدُّعُائُ ھُوَ الْعِبَادَۃُ 2 کہ دعا ہی اصل عبادت ہے۔ اس لحاظ سے توحید فی العبادت اور توحید فی الدعاء آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ چناچہ جس طرح عبادت کے حوالے سے سورة الزمر میں بار بار ”مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ“ کی تکرار ہے ‘ اسی طرح اس سورت میں { فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ } کی بار بار تاکید ہے۔ یعنی دعا کرو اللہ سے اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ ایسا نہ ہو کہ دعا تو اللہ سے مانگو اور اطاعت کسی اور کی کرو۔ اگر ایسا ہوگا تو یہ انتہائی بےتکی حرکت ہوگی۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کو جزوی اطاعت قبول نہیں اسی طرح اسے اس شخص کی دعا سننا بھی منظور نہیں جو اللہ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ کسی اور کی اطاعت کا طوق بھی اپنی گردن میں ڈالے ہوئے ہے۔ چناچہ ایسے شخص کو چاہیے کہ جس ”معبود“ کی وہ اطاعت کرتا ہے ‘ دعا بھی اسی سے کرے۔ آج ہم پاکستانیوں کو من حیث القوم اس تناظر میں اپنی حالت کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آج ہم ہر میدان میں ذلیل و رسوا کیوں ہو رہے ہیں اور روز بروز ہمارے قومی و ملکی حالات بد سے بد تر کیوں ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ 1971 ء میں نہ صرف ہمارا ملک دولخت ہوگیا بلکہ بد ترین شکست کا داغ بھی ہمارے ماتھے پر لگ گیا۔ آج ہماری حالت پہلے سے بھی بدتر ہے۔ اس وقت ہمارے باقی ماندہ ملک کی سلامتی بھی ڈانواں ڈول ہے۔ انتہائی خضوع و خشوع کے ساتھ مانگی گئی ہماری دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں اور رو رو کر کی گئی فریادیں بھی نہیں سنی جاتیں۔ یہ دراصل کوئی غیر متوقع اور غیر معمولی صورت ِحال نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی و قومی رویے کا منطقی نتیجہ ہے۔ اور یہ رویہ ّیا طرز عمل کیا ہے ؟ آج ہم نے اپنی ترجیحات بدل لی ہیں ‘ ہماری اطاعت اللہ کے لیے خالص نہیں رہی ‘ بلکہ ہم اللہ کی اطاعت کو چھوڑ کر بہت سی دوسری اطاعتوں کے غلام بن گئے ہیں۔ ہم نے اللہ کے نام پر یہ ملک اس وعدے کے ساتھ حاصل کیا تھا کہ اس ملک میں ہم اللہ کے دین کا بول بالا کریں گے۔ مگر آج ہم اللہ کے ساتھ کیے گئے اس وعدے سے ِپھر چکے ہیں۔ ایسی صورت حال میں وہ ہماری دعائیں کیونکر سنے گا ؟ کیوں وہ ہماری فریاد رسی کرے گا اور کیوں ہماری مدد کو پہنچے گا ؟ چناچہ آج اصولی طور پر ہمیں چاہیے کہ ہم دعائیں بھی اسی ”سپر پاور“ سے کریں جس کی اطاعت کا طوق اپنی گردنوں میں ڈالے پھرتے ہیں۔

غافر 40:4

آیت 4 { مَا یُجَادِلُ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ اِلَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْکَ تَقَلُّبُہُمْ فِی الْْبِلَادِ } ”نہیں جھگڑتے اللہ کی آیات میں مگر وہی لوگ جو کفر کرتے ہیں ‘ تو اے نبی ﷺ ! زمین میں ان کی چلت پھرت آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے۔“ یہاں حضور ﷺ کو مخاطب کر کے سب مسلمانوں کو سمجھانا مقصود ہے کہ اے مسلمانو ! ان غیر مسلموں کے مادی وسائل ‘ ان کی طاقت ‘ ترقی اور ٹیکنالوجی تمہیں مرعوب نہ کرے۔ دیکھو ! کسی دنیوی ”سپر پاور“ کے دھوکے میں آکر کہیں تم اللہ کی قدرت اور طاقت کو بھول نہ جانا !

غافر 40:5

آیت 5 { کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّالْاَحْزَابُ مِنْم بَعْدِہِمْ } ”ان سے پہلے نوح علیہ السلام کی قوم نے جھٹلایا تھا اور ان کے بعد بہت سی دوسری قوموں نے بھی۔“ { وَہَمَّتْ کُلُّ اُمَّۃٍم بِرَسُوْلِہِمْ لِیَاْخُذُوْہُ } ”اور ہر قوم نے اپنے رسول کے متعلق ارادہ کیا کہ اسے پکڑ لے اور قتل کر دے“ { وَجٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِہِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُہُمْ قف فَکَیْفَ کَانَ عِقَابِ } ”اور وہ باطل دلیلوں کے ساتھ جھگڑتے رہے تاکہ اس کے ذریعے حق کو پسپا کردیں ‘ بالآخر میں نے انہیں پکڑ لیا ‘ تو کیسی رہی میری سزا ؟“

غافر 40:6

آیت 6 { وَکَذٰلِکَ حَقَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّہُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ } ”اور اسی طرح ان کافروں پر بھی آپ کے رب کی بات پوری ہوچکی ہے کہ یہ سب کے سب جہنمی ہیں۔“ اللہ کے جس قانون کی زد میں زمانہ ماضی کے کفار آئے تھے اب وہی قانون مشرکین عرب پر بھی لاگو ہوچکا ہے۔

غافر 40:7

آیت 7 { اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہٗ } ”وہ فرشتے جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو ان کے ارد گرد ہیں“ اس آیت کو پڑھتے ہوئے سورة الزمر کی آخری آیت کو ذہن میں رکھیے جس میں میدانِ حشر میں عدالت ِالٰہی کا اختتامی منظر دکھایا گیا تھا : { وَتَرَی الْمَلٰٓئِکَۃَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْج } ”اور تم دیکھو گے فرشتوں کو کہ وہ گھیرے ہوئے ہوں گے عرش کو اور اپنے ربّ کی تسبیح بیان کر رہے ہوں گے حمد کے ساتھ“۔ چناچہ یہاں ان حاملین عرش اور ان کے ساتھی ملائکہ کا ذکر دوبارہ ہو رہا ہے کہ : { یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ } ”وہ سب تسبیح کر رہے ہوتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور اس پر پورا یقین رکھتے ہیں“ { وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا } ”اور اہل ایمان کے لیے استغفار کرتے ہیں۔“ { رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْئٍ رَّحْمَۃً وَّعِلْمًا } ”اے ہمارے پروردگار ! تیری رحمت اور تیرا علم ہرچیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے“ { فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِیْلَکَ } ”پس بخش دے ُ تو ان لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستے کی پیروی کی“ اے پروردگار ! ہم تجھ سے کیا عرض کریں ؟ تجھے ہر شے کا علم ہے ‘ تیری رحمت پہلے ہی ہرچیز کو اپنی گود میں لیے ہوئے ہے۔ پھر بھی ہم تجھ سے تیری رحمت کی درخواست کرتے ہیں اور اہل زمین میں سے جو مومنین اور نیک لوگ ہیں ان کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ اے پروردگار ! تو ان کی خطائیں بخش دے اور ان کے گناہوں سے درگزر فرما ! اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کے دن مومنین کے حق میں فرشتے بھی شفاعت کریں گے۔ یہ شفاعت ِحقہ ّہے۔ { وَقِہِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ } ”اور ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے۔“

غافر 40:8

آیت 8 { رَبَّنَا وَاَدْخِلْہُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ نِ الَّتِیْ وَعَدْتَّہُمْ } ”پروردگار ! اور انہیں داخل فرما ناان رہنے والے باغات میں جن کا ُ تو نے ان سے وعدہ کیا ہے“ { وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِ ہِمْ وَاَزْوَاجِہِمْ وَذُرِّیّٰتِہِمْط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } ”اور ان کو بھی جو نیک ہوں ان کے آباء و اَجداد ‘ ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے۔ تو ُ یقینا زبردست ہے ‘ کمالِ حکمت والا ہے۔“

غافر 40:9

آیت 9 { وَقِہِمُ السَّیِّاٰتِط وَمَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَہٗ } ”اور انہیں بچا لے برائیوں سے۔ اور جسے تو ُ نے اس دن برائیوں سے بچالیا اس پر تو نے بڑا رحم کیا۔“ { وَذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ } ”اور یقینا یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔“

غافر 40:10

گزشتہ آیات میں مومنین ِصادقین کے حالات کا نقشہ دکھایا گیا ہے کہ قیامت کے دن حاملین ِعرش ملائکہ ان کی مغفرت کے لیے دعائیں کر رہے ہوں گے۔ نہ صرف ان کے لیے بلکہ وہ ان کے آباء و اَجداد اور اہل و عیال کے لیے بھی سفارش کریں گے کہ ان میں سے اگر کوئی جنت کے نچلے درجے میں ہے تو اے پروردگار ! تو اس کے درجات کو بھی بلند فرما دے تاکہ وہ اپنے ان عزیز و اقارب کے ساتھ مل جائے جنہیں بلند تر درجات عطا ہوئے ہیں۔ اب ان آیات میں اس کے برعکس کفار و مشرکین کے حالات کا منظر دکھایا جا رہا ہے :آیت 10 { اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰہِ اَکْبَرُ مِنْ مَّقْتِکُمْ اَنْفُسَکُمْ } ”جن لوگوں نے کفر کیا تھا انہیں پکارا جائے گا کہ آج تم جس قدر اپنی جانوں سے بےزار ہوگئے ہو اللہ کی بیزاری تم سے اس سے کہیں بڑھ کر تھی“ { اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَی الْاِیْمَانِ فَتَکْفُرُوْنَ } ”جب تمہیں ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم کفر کرتے تھے۔“ آج عذاب کی حالت میں تمہاری جان پر بنی ہوئی ہے اور تم اپنی جانوں سے بیزار ہو کر موت کی دعائیں کر رہے ہو۔ مگر یاد کرو وہ وقت جب اللہ کا رسول تمہیں اللہ کی طرف اور قرآن کی طرف بلا رہا تھا اور تمہیں ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کا راستہ دکھا رہا تھا تو تم مسلسل انکار کیے جا رہے تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ تم سے جس قدر بیزاری محسوس کر رہا تھا وہ تمہاری اس بیزاری سے کہیں زیادہ تھی جو تم لوگ آج اپنی جانوں سے محسوس کر رہے ہو۔

غافر 40:11

آیت 11 { قَالُوْا رَبَّنَآ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَاَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ } ”وہ فریاد کریں گے : اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا“ { فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَہَلْ اِلٰی خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ } ”تو اب ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا ہے ‘ تو کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے ؟“ یعنی اگر ہم اس سے پہلے اتنے مراحل سے گزر آئے ہیں تو اب اس مرحلے سے بھی گزرنے کا کوئی طریقہ تو ہوگا۔ تو اے پروردگار ! ایک دفعہ ہمیں اس عذاب سے جان چھڑانے کا موقع بھی فراہم کر دے۔ تخلیق ِانسانی اور حیات انسانی کی حقیقت کے ضمن میں اس آیت کا مضمون پورے قرآن میں ذروہ سنام کا درجہ رکھتا ہے۔ اگرچہ یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آچکا ہے لیکن اس قدر واضح انداز میں اور کہیں نہیں آیا۔ مثلاً سورة البقرۃ میں فرمایا گیا : { کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتاً فَاَحْیَاکُمْْج ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ۔ } ”تم کیسے کفر کرتے ہو اللہ کا ‘ حالانکہ تم مردہ تھے تو اس نے تمہیں زندہ کیا ‘ پھر وہ تمہیں مارے گا ‘ پھر زندہ کرے گا ‘ پھر تم اسی کی طرف لوٹا دیے جائو گے“۔ اگرچہ سورة البقرۃ کی اس آیت میں بھی دو احیاء اور دو اموات کا ذکر ہے مگر مختلف مفسرین نے ان الفاظ کی تاویل مختلف انداز میں کی ہے۔ البتہ آیت زیر مطالعہ اپنے مفہوم میں اس قدر واضح ہے کہ اس کی وضاحت کے لیے کسی تعبیر اور تاویل کی ضرورت نہیں۔ چناچہ اس آیت کے حوالے سے یہاں حیات انسانی کے مختلف ادوار کو اچھی طرح سے سمجھ لیجیے۔ ہر انسان کی پہلی تخلیق اس وقت عمل میں آئی جب عالم ارواح میں اس کی روح پیدا کی گئی۔ عالم ارواح کی یہ زندگی پورے شعور کے ساتھ تھی۔ اسی لیے تو وہاں تمام ارواح سے وہ عہد لیا گیا تھا جس کا ذکر سورة الاعراف کی آیت 172 میں { اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْط قَالُوْا بَلٰیج } کے الفاظ کے ساتھ ہوا ہے۔ اس عہد کے وقت حضرت آدم علیہ السلام کی روح سے لے کر دنیا کے آخری انسان کی روح تک تمام ارواح حاضر و موجود تھیں۔ عالم ارواح میں ارواح کے اس عظیم الشان اجتماع کی کیفیت ایک حدیث میں ”جُنُوْدٌ مُّجَنَّدَۃ“ 1 لشکروں کے لشکر کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔ مذکورہ عہد لینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح کو موت کی نیند سلا دیا۔ یہ ہر انسان کی پہلی موت اماتہ اولیٰ تھی جو عالم ارواح میں اس پر وارد ہوئی۔ اس طرح تمام ارواح کو گویا ایک کو لڈ سٹوریج میں محفوظ کردیا گیا۔ چناچہ جو ارواح ابھی تک دنیا میں نہیں آئیں وہ ابھی تک اسی کیفیت میں ہیں۔ علامہ اقبال ؔ نے اس کیفیت کا عجیب نقشہ کھینچا ہے مگر یہ ایسی تفصیل کا موقع نہیں۔ پھر جب عالم خلق ماں کے پیٹ میں کسی انسان کے جسم کا لوتھڑا تیار ہوجاتا ہے تو اس کی روح کو عالم ارواح سے اس لوتھڑے میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ اس جسم میں منتقل ہونے کے بعد جب روح ”آنکھ“ کھولتی ہے تو یہ اس روح کا ”احیائے اوّل“ ہے۔ اس کے بعد وہ انسان ماں کے پیٹ سے دنیا میں وارد ہوتا ہے۔ ایک معین عرصے تک دنیا میں زندگی بسر کرتا ہے اور اس کے بعد مرجاتا ہے۔ چناچہ دنیوی زندگی کی یہ موت اس انسان یا روح کی دوسری موت اماتہ ثانیہ ہے۔ اس موت کے بعد وہ روح عالم برزخ میں چلی جاتی ہے ‘ جبکہ جسم اپنی اصل کی طرف لوٹ جاتا ہے یعنی مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے۔ اسی طرح پوری نوع انسانی کی ارواح اپنی اپنی باری پر زندہ ہو کر دنیا میں آتی جائیں گی اور یہاں اپنے اپنے جسم کے ساتھ زندگی گزار کر ”دوسری موت“ کے بعد عالم برزخ کو سدھارتی جائیں گی۔ اس کے بعد جب قیامت برپا ہوگی تو ہر انسان کی روح کو ایک دفعہ پھر اس کے دنیوی جسم سے ملا کر زندہ کردیا جائے گا۔ یہ تمام انسانوں کا ”احیائے ثانی“ ہوگا۔ چناچہ جب میدانِ حشر میں اللہ کی عدالت لگے گی تو مجرم لوگ آیت زیر مطالعہ کے الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہمیں دو مرتبہ موت دی اور دو دفعہ زندہ کیا۔ عالم ارواح سے دنیا کی زندگی تک اور دنیا کی موت کے بعد قیامت کے اس دن تک کئی ادوار ہم پر گزر چکے ‘ تو اے ہمارے پروردگار ! اب ایک دور اور سہی۔ ایک مرتبہ پھر ہم پر کرم فرمایا جائے اور ہمیں ایک موقع اور دے دیا جائے۔ یعنی وہ لوگ اپنی سابقہ زندگی کے مختلف ادوار کو دلیل بنا کر ایک اور دور کی رعایت حاصل کرنے کی درخواست کریں گے۔

غافر 40:12

آیت 12 { ذٰلِکُمْ بِاَنَّہٗٓ اِذَا دُعِیَ اللّٰہُ وَحْدَہٗ کَفَرْتُمْ } ”یہ اس لیے ہے کہ جب اکیلے اللہ کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے۔“ { وَاِنْ یُّشْرَکْ بِہٖ تُؤْمِنُوْا } ”اور اگر اس کے ساتھ شرک کیا جاتا تو تم مان لیتے۔“ { فَالْحُکْمُ لِلّٰہِ الْعَلِیِّ الْکَبِیْرِ } ”تو اب ُ کل اختیار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے جو بہت بلند ‘ بہت عظمت والا ہے۔“

غافر 40:13

آیت 13 { ہُوَ الَّذِیْ یُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ وَیُنَزِّلُ لَکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ رِزْقًا } ”وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور اتارتا ہے تمہارے لیے آسمان سے روزی۔“ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برساتا ہے اور بارش کا پانی زمین سے روزی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ { وَمَا یَتَذَکَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ } ”اور نہیں نصیحت حاصل کرتا مگر وہی جو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف۔“

غافر 40:14

آیت 14 { فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ } ”پس تم پکارو اللہ کو اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے ‘ خواہ یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔“ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَکے یہ کلمات سورة الزمر اور اس سورت کے درمیان مماثلت اور مشابہت کی علامت ہیں۔ دونوں سورتوں میں یہ کلمات بار بار آئے ہیں۔ ظاہر ہے توحید خالص کا عملی مظاہرہ اللہ کے نافرمانوں اور طاغوتی کارندوں کو تو کبھی بھی اچھا نہیں لگے گا۔ وہ تو چاہیں گے کہ ”اللہ کا حصہ اللہ کو دیا جائے اور قیصر کا حصہ قیصرکو !“ یعنی توحید کا ذکر بھی ہوتا رہے اور کاروبارِ شرک بھی چلتا رہے۔ کبھی کبھار کوئی حکم اللہ کا بھی مان لیا جائے ‘ مگر ساتھ ہی ساتھ دوسرے خدائوں اور حاجت روائوں کو بھی خوش رکھا جائے۔

غافر 40:15

آیت 15 { رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُوالْعَرْشِ } ”وہی اللہ ہے درجات کو بلند کرنے والا ‘ عرش کا مالک۔“ یہاں پھر اللہ کی شان کا بیان مرکب اضافی کی شکل میں ہوا ہے۔ { یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِ } ”وہ القا کرتا ہے روح کو اپنے امر میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے تاکہ وہ خبردار کر دے لوگوں کو ملاقات کے دن سے۔“ تاکہ اللہ تعالیٰ کے وہ بندے لوگوں کو یاد دہانی کرائیں کہ ایک دن انہوں نے اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے۔ یہاں پر الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہٖ سے وحی مراد ہے۔ فرشتہ ‘ وحی اور انسانی روح تینوں کا تعلق عالم امر سے ہے ‘ لہٰذا ”روح“ کا لفظ ان تینوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

غافر 40:16

آیت 16 { یَوْمَ ہُمْ بٰـرِزُوْنَج لَا یَخْفٰی عَلَی اللّٰہِ مِنْہُمْ شَیْئٌ} ”جس روز یہ سامنے نکل کھڑے ہوں گے ‘ ان کی کوئی چیز بھی اللہ سے مخفی نہیں ہوگی۔“ { لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَط } ”اُس روز پوچھاجائے گا : کس کے لیے ہے بادشاہی آج کے دن ؟ { لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ } ”جواب ملے گا : اکیلے اللہ کے لیے ہے جو تمام کائنات پر چھایا ہوا ہے۔“

غافر 40:17

آیت 17 { اَلْیَوْمَ تُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍم بِمَا کَسَبَتْ } ”آج ہر جان کو وہی بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا۔“ { لَا ظُلْمَ الْیَوْمَط اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ } ”آج کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ یقینا اللہ جلد حساب چکا دینے والا ہے۔“

غافر 40:18

آیت 18 { وَاَنْذِرْہُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَۃِ } ”اور اے نبی ﷺ ! انہیں خبردار کر دیجئے اس نزدیک آجانے والے دن سے“ { اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَی الْحَنَاجِرِکٰظِمِیْنَ } ”جبکہ دل حلق میں آ پھنسیں گے اور وہ غم کو دبا رہے ہوں گے۔“ { مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّلَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُ } ”ان ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی ایسا سفارشی ہوگا جس کی بات مانی جائے۔“

غافر 40:19

آیت 19 { یَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ } ”وہ جانتا ہے نگاہوں کی چوری کو بھی ‘ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے اس کو بھی۔“

غافر 40:20

آیت 20 { وَاللّٰہُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ } ”اور اللہ فیصلہ کرے گا حق کے ساتھ۔“ { وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْئٍ } ”اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ‘ وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ نہیں کریں گے۔“ { اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ } ”یقینا اللہ سب کچھ سننے والا ‘ سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“

غافر 40:21

آیت 21 { اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ کَانُوْا مِنْ قَبْلِہِمْ } ”کیا یہ زمین میں گھومے پھرے نہیں ہیں کہ دیکھتے کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے !“ { کَانُوْا ہُمْ اَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِی الْاَرْضِ } ”وہ کہیں زیادہ بڑھ کر تھے ان سے قوت میں اور زمین میں آثار کے حوالے سے بھی ‘ ‘ انہوں نے زمین میں بڑی بڑی عمارتیں اور بہت سی دوسری ایسی یادگاریں بنائیں جو ان کے بعد بھی ان کی نشانیوں کے طور پر موجود رہی ہیں۔ اقوامِ ماضی کے ایسے بہت سے آثار آج بھی دنیا میں جا بجا موجود ہیں جنہیں ہم آثار قدیمہ کہتے ہیں۔ { فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِہِمْ } ”تو اللہ نے ان کو پکڑا ان کے گناہوں کی پاداش میں۔“ { وَمَا کَانَ لَہُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ وَّاقٍ } ”اور پھر کوئی نہ ہوا انہیں اللہ سے بچانے والا۔“

غافر 40:22

آیت 22 { ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَانَتْ تَّاْتِیْہِمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ } ”یہ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس آتے رہے ان کے رسول بہت واضح نشانیوں کے ساتھ“ { فَکَفَرُوْا فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُط اِنَّہٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ } ”لیکن انہوں نے کفر کیا تو اللہ نے انہیں پکڑ لیا ‘ یقینا وہ بہت طاقتور ‘ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔“

غافر 40:23

اب آئندہ آیات میں ”مومن ِآلِ فرعون“ کا واقعہ بیان ہو رہا ہے جو اس سورت کا خاص مضمون ہے۔ وہ فرعون کے دربار میں بہت بڑے مرتبے پر فائز تھے۔ ظاہر ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت دوسرے لوگوں کے ساتھ ساتھ ان تک بھی پہنچی ہوگی۔ اس دعوت کے جواب میں اللہ نے ان کا سینہ کھول دیا اور وہ ایمان لے آئے۔ البتہ مصلحت کے تحت انہوں نے اپنے ایمان کا اظہار نہ کیا۔ پھر ایک موقع پر جب فرعون نے اپنی کابینہ کے سامنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کی تجویز رکھی تو اس مرد حق سے خاموش نہ رہا گیا۔ چناچہ فرعون کی اس تجویز کے جواب میں انہوں نے بھرے دربار میں ایک بہت مدلل ّاور موثر تقریر کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس ”حق گوئی و بےباکی“ کی پذیرائی یوں فرمائی کہ ان کی پوری تقریر کو قرآن کا حصہ بنا دیا۔ وہ نہ نبی تھے اور نہ رسول ‘ لیکن ان کی طویل تقریر جس شان سے اللہ تعالیٰ نے نقل فرمائی ہے اس کی کوئی مثال قرآن میں کسی نبی یا رسول کے حوالے سے بھی نہیں ملتی۔ ان کے اس خصوصی اعزاز سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس شان سے اپنے بندوں کی قدر افزائی فرماتا ہے۔آیت 23 ‘ 24 { وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ’ اور ہم نے بھیجا تھا موسیٰ علیہ السلام ٰ کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ ‘

غافر 40:24

اِلٰی فِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ وَقَارُوْنَ } ’ فرعون ‘ ہامان اور قارون کی طرف“ { فَقَالُوْا سٰحِرٌ کَذَّابٌ۔ ”تو انہوں نے کہا کہ یہ تو ایک جادوگر ہے انتہائی جھوٹا۔“ یہی الفاظ مشرکین ِمکہ ّنے حضور ﷺ کے لیے کہے تھے جو سورة صٓ کی آیت 4 میں نقل ہوئے ہیں۔

غافر 40:25

آیت 25 { فَلَمَّا جَآئَ ہُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْٓا اَبْنَآئَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ وَاسْتَحْیُوْا نِسَآئَ ہُمْ } ”تو جب وہ آیا ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر تو انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائیں ان کے بیٹوں کو قتل کر دو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رکھو۔“ { وَمَا کَیْدُ الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ } ”لیکن کافروں کا دائو بھٹک کر ہی رہ جاتا ہے۔“ اس سے پہلے ہم سورة الاعراف کے پندرھویں رکوع میں بھی سردارانِ قوم فرعون کے اس مطالبے کے بارے میں پڑھ چکے ہیں کہ آپ موسیٰ علیہ السلام ٰ کو کب تک ڈھیل دیتے رہیں گے ؟ لوگ دھڑا دھڑ اس پر ایمان لا رہے ہیں ‘ روز بروز اس کی طاقت بڑھتی جا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں ملک کے اندر فساد پھیل رہا ہے۔ آپ اسے قتل کیوں نہیں کروا دیتے ؟ لیکن جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ فرعون ایک وقت تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف کوئی سخت اقدام کرنے سے کتراتا رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو گویا اپنا بڑا بھائی سمجھتا تھا اور اس تعلق کی وجہ سے وہ دل میں آپ علیہ السلام کے لیے نرم گوشہ رکھتا تھا۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ کی پیدائش سے لے کر بحیثیت ِرسول علیہ السلام فرعون کے سامنے آنے تک کے واقعات کو ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کرلیجیے۔ ان تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت رعمسیس دوم فرعون برسر اقتدار تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ کو دریا سے نکال کر جب اس کے محل میں لایا گیا تو اس کی بیوی نے کسی طرح اسے قائل کرلیا کہ اس بچے کو قتل نہ کیا جائے۔ اس موقع پر فرعون کی بیوی کے اپنے شوہر کے ساتھ مکالمے کو سورة القصص میں یوں نقل کیا گیا ہے : { وَقَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَلَکَط لَا تَقْتُلُوْہُ ق عَسٰٓی اَنْ یَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا } آیت 9 ”اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میرے لیے بھی اور تمہارے لیے بھی۔ تم اسے قتل مت کرو ‘ ممکن ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا ہی بنا لیں“۔ غالب گمان یہی ہے کہ وہ خاتون حضرت آسیہ رض ہی تھیں جن کا ذکر سورة التحریم میں آیا ہے۔ اس وقت تک فرعون بےاولاد تھا۔ بعد میں اس کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ چناچہ فرعون کا حقیقی بیٹا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سگے بھائیوں کی طرح اکٹھے رہے اور ایک ساتھ جوانی کی عمر کو پہنچے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ایک قبطی کا قتل ہوگیا تو آپ علیہ السلام مدین چلے گئے۔ مدین سے آپ علیہ السلام کی واپسی کے زمانے میں بڑا فرعون اگرچہ زندہ تھا مگر بڑھاپے کی وجہ سے اس نے تمام امور سلطنت اپنے بیٹے منفتاح کو سونپ رکھے تھے۔ اس طرح عملی طور پر اس کا بیٹاہی حکمران تھا جو ایک طرح سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بھائی اور بچپن کا ساتھی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اپنے بڑے بڑے سرداروں کے پر زور مطالبے کے باوجود بھی وہ کئی سال تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف انتہائی اقدام کرنے سے گریز کرتا رہا۔ پھر جب اس نے کسی سخت اقدام کو ناگزیر سمجھا بھی تو آپ علیہ السلام کی ذات کے بجائے آپ علیہ السلام کی قوم کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کے تحت اس نے ایک دفعہ پھر حکم دے دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں پیدا ہونے والے لڑکوں کو قتل کردیا جائے اور صرف ان کی بیٹیوں کو ہی زندہ رہنے دیا جائے۔ اس کا خیال تھا کہ اس طرح وہ اس تحریک کو کچلنے اور بنی اسرائیل کی طاقت کو ختم کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں اس کے اسی منصوبے کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے مخالفین کی کوئی چال بھی اللہ کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔

غافر 40:26

آیت 26 { وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْٓ اَقْتُلْ مُوْسٰی وَلْیَدْعُ رَبَّہٗ } ”اور فرعون نے کہا : مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ علیہ السلام ٰ کو قتل کر دوں اور وہ بچائو کے لیے پکارلے اپنے رب کو۔“ فرعون کے اس فقرے کے اندر بہت سی اَن کہی تفصیلات کی جھلک بھی نظر آرہی ہے۔ اَوّلاً اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک فرعون بھانپ چکا تھا کہ پانی سر سے گزرنے کو ہے اور یہ کہ اس مرحلے پر اگر موسیٰ علیہ السلام ٰ کو قتل کر کے راستے سے نہ ہٹایا گیا تو یہ طوفان اس کے اقتدار سمیت مصر کی ”عظیم الشان تہذیب“ اور ”مثالی روایات“ کو بھی بہا لے جائے گا۔ ثانیاً اس فقرے سے اس کی بےچارگی بھی عیاں ہو رہی ہے۔ وہ مطلق العنان بادشاہ تھا مگر اس کے باوجود اس نے اپنے وزراء اور امراء سے اس قرارداد کی منظوری کی درخواست کی۔ اس کی ضرورت اسے کیوں محسوس ہوئی ؟ در اصل وہ دیکھ رہا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ کی دعوت سے ہر طبقے کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ اس لیے اسے اندیشہ تھا کہ اگر اس تجویز پر تمام درباریوں کو اعتماد میں نہ لیا گیا تو رد عمل کے طور پر کہیں سے کوئی بغاوت بھی جنم لے سکتی ہے۔ { اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَکُمْ اَوْ اَنْ یُّظْہِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ } ”مجھے اندیشہ ہے کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا زمین میں فساد برپا کر دے گا۔“ ”دین“ سے مراد یہاں نظام حکومت ہے ‘ اور فرعون کو اب سب سے بڑا اندیشہ یہی تھا کہ مصر کا اقتدارِ اعلیٰ ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ فرعون کی مذکورہ قرارداد کی اطلاع حضرت موسیٰ علیہ السلام تک پہنچی تو آپ علیہ السلام نے خود کو اللہ کی پناہ میں دینے کے عزم کا اظہار کیا :

غافر 40:27

آیت 27 { وَقَالَ مُوْسٰٓی اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ مِّنْ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ } ”اور موسیٰ علیہ السلام ٰ نے کہا کہ میں پناہ پکڑتا ہوں اپنے اور تمہارے رب کی ہر اس متکبر شخص کے مقابلے میں ‘ جو یوم حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔“

غافر 40:28

آیت 28 { وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌق مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ اِیْمَانَہٗ } ”اور آل فرعون میں سے ایک مومن مرد نے ‘ جو ابھی تک اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا ‘ کہا :“ اس مرحلے پر اس مرد مومن نے صورت حال کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے کلمہ حق زبان پر لانے کا فیصلہ کرلیا۔ چناچہ اس نے تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر بھرے دربار میں اس مطلق العنان فرعون کے سامنے کھڑے ہو کر ”حق گوئی و بےباکی“ کی ایسی مثال قائم کی کہ اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور جملے گویا ع ”موتی سمجھ کے شان کریمی نے ُ چن لیے !“ اور پھر ان موتیوں کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے جاں نثارانِ حق کی آنکھوں کی طراوت کے لیے صفحاتِ قرآن کی زینت بنا دیا۔ چناچہ فرعون نے جونہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کی قرارداد پیش کی ‘ یہ مرد مومن فوراً بول اٹھا اور اس نے فرعون اور تمام اہل دربار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا : { اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ } ”کیا تم قتل کرنا چاہتے ہو ایک شخص کو محض اس لیے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے !“ کیا کسی شخص کا اللہ کو رب ماننا تمہارے نزدیک اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی پاداش میں تم اس کی جان کے درپے ہوگئے ہو ؟ ایک مرتبہ جب مشرکین مکہ نے حضور ﷺ کی سر عام ہجو کی اور آپ ﷺ پر حملہ آور ہوئے تو اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رض بیچ میں آگئے اور انہوں رض نے مشرکین مکہ کو مخاطب کر کے یہی الفاظ دہرائے تھے : اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ 1 ”کیا تم لوگ ایک شخص محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان کے درپے صرف اس لیے ہو رہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے !“ { وَقَدْ جَآئَ کُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّکُم } ”حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آیا ہے۔“ { وَاِنْ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیْہِ کَذِبُہٗ } ”اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر آئے گا۔“ { وَاِنْ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُکُمْ } ”اور اگر وہ سچا ہوا تو تمہیں وہ بعض باتیں پہنچ کر رہیں گی جن کے بارے میں وہ تمہیں وعید سنا رہا ہے۔“ ایسی صورت میں تم پر عذاب الٰہی کی مار پڑے گی اور تم تباہ و برباد کردیے جائو گے۔ { اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِیْ مَنْ ہُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ } ”یقینا اللہ تعالیٰ راہ یاب نہیں کرتا اس کو جو حد سے بڑھنے والا ‘ بہت جھوٹا ہو۔“

غافر 40:29

آیت 29 { یٰــقَوْمِ لَکُمُ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ظٰہِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ } ”اے میری قوم کے لوگو ! آج تو تمہارے ہاتھ میں حکومت ہے اور تم ہر طرح سے زمین میں غالب ہو۔“ آج تو تم ایک عظیم الشان سلطنت کے مالک ہو اور پوری دنیا میں تمہاری طاقت کا ڈنکا بج رہا ہے۔ { فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْم بَاْسِ اللّٰہِ اِنْ جَآئَ نَا } ”لیکن اگر کہیں ہم پر اللہ کا عذاب آگیا تو اس سے بچانے کے لیے ہماری مدد کون کرے گا ؟“ { قَالَ فِرْعَوْنُ مَآ اُرِیْکُمْ اِلَّا مَآ اَرٰی } ”فرعون نے کہا : میں تو تمہیں وہی کچھ دکھا رہا ہوں جو مجھے نظر آ رہا ہے“ مجھے تو یہ نظر آ رہا ہے کہ اگر اب بھی موسیٰ علیہ السلام ٰ کا قصہ پاک نہ کیا گیا تو پانی ہمارے سروں سے گزر جائے گا اور یہ مصر کے طول و عرض میں فسادبرپا کر دے گا۔ اس طرح جو تباہی آئے گی وہ ہمارا سب کچھ برباد کر کے رکھ دے گی۔ اس فقرے کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے تو تمہارے سامنے اپنی وہی رائے پیش کی ہے جو مجھے مناسب نظر آتی ہے۔ -۔ - مردِ مومن کی کھری کھری باتوں کے جواب میں فرعون کا یہ معذرت خواہانہ رد عمل حیران کن ہے۔ فرعون کی مطلق العنانی کا تصور ذہن میں رکھیے اور پھر اس مختصر سے جملے کے ایک ایک لفظ سے ٹپکتی ہوئی بےبسی اور بےچارگی ملاحظہ کیجیے۔ { وَمَآ اَہْدِیْکُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ۔ } ”اور میں نہیں راہنمائی کر رہا تمہاری مگر کامیابی کے راستے کی طرف۔“

غافر 40:30

آیت 30 { وَقَالَ الَّذِیْٓ اٰمَنَ یٰــقَوْمِ } ”اور مرد مومن نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا : اے میری قوم کے لوگو !“ { اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِ } ”مجھے اندیشہ ہے تم پر ایسے دن کا جیسے دن پہلی قوموں پر آئے تھے۔“

غافر 40:31

آیت 31 { مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ وَالَّذِیْنَ مِنْم بَعْدِہِمْ } ”جیسا کہ معاملہ ہوا تھا قوم نوح علیہ السلام کا اور قوم عاد اور قوم ثمود اور ان کے بعد کی قوموں کا۔“ { وَمَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ } ”اور اللہ تو اپنے بندوں پر کسی ظلم کا ارادہ نہیں رکھتا۔“ یہ تو خود بندے ہی ہیں جو رسولوں کی تکذیب اور اپنی کوتاہیوں اور شرارتوں کی وجہ سے عذاب الٰہی کو دعوت دیتے ہیں ‘ ورنہ اللہ عزوجل تو کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

غافر 40:32

آیت 32 { وَیٰـقَوْمِ اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ یَوْمَ التَّنَادِ } ”اور اے میری قوم کے لوگو ! مجھے اندیشہ ہے تم پر چیخ پکار کے دن کا۔“ جس دن ہر طرف فریاد و فغاں اور چیخ و پکار مچی ہوگی اور لوگ ایک دوسرے کو پکار رہے ہوں گے۔

غافر 40:33

آیت 33 { یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَج مَا لَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ عَاصِمٍ } ”جس دن تم پیٹھ موڑ کر بھاگو گے ‘ لیکن اللہ کی پکڑ سے تمہیں بچا نے والا کوئی نہیں ہوگا۔“ { وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ہَادٍ } ”اور جسے اللہ ہی گمراہ کر دے پھر اسے ہدایت دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔“

غافر 40:34

آیت 34 { وَلَقَدْ جَآئَ کُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَـبْلُ بِالْبَـیِّنٰتِ } ”اور دیکھو ! اس سے پہلے تمہارے پاس یوسف علیہ السلام آئے تھے واضح نشانیاں لے کر“ تمہارے اسی ملک مصر میں اس سے پہلے حضرت یوسف علیہ السلام بھی اللہ کے نبی کی حیثیت سے تمہارے آباء و اَجداد کے پاس آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تاویل الاحادیث کا علم عطا کیا تھا۔ انہوں نے بادشاہ کو اس کے خواب کی تعبیر بتلا کر آنے والی قحط سالی کے تدارک کی تدبیر بھی بتائی تھی اور اس طرح اس ملک کو تباہی سے بچایا تھا۔ اس کے باوجود تمہاری قوم نے نہ تو ان کی نصیحتوں پر کان دھرا اور نہ ہی انہیں علیہ السلام اللہ کا نبی مانا۔ اس آیت سے ضمنی طور پر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف اور حضرت موسیٰ ﷺ کے درمیان بنی اسرائیل میں کوئی اور نبی نہیں آئے۔ اگر حضرت یوسف علیہ السلام کے بعد کوئی اور نبی بھی آئے ہوتے تو مومن ِآلِ فرعون ان کا بھی ذکر کرتے۔ البتہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک چودہ سو سال کے دوران بنی اسرائیل میں بغیر کسی وقفے کے مسلسل نبوت رہی۔ یہاں حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں یہ نکتہ بھی مد نظر رہے کہ آپ علیہ السلام رسول نہیں ‘ صرف نبی تھے۔ { فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَکٍّ مِّمَّا جَآئَ کُمْ بِہٖ } ”لیکن تم شکوک و شبہات میں ہی پڑے رہے ان تعلیمات کے بارے میں جو وہ علیہ السلام تمہارے پاس لے کر آئے تھے۔“ { حَتّٰیٓ اِذَا ہَلَکَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ مِنْم بَعْدِہٖ رَسُوْلًا } ”یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگئے تو تم نے کہا کہ اب ان کے بعد اللہ کسی اور کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔“ یعنی حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں تو انہیں اللہ کا پیغمبر تسلیم نہ کیا مگر فوت ہونے پر ان کا ذکر پیغمبر کے طور پر ہی کیا۔ { کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ ہُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُ } ”اسی طرح اللہ گمراہ کردیتا ہے ان لوگوں کو جو حد سے بڑھنے والے اور شکوک و شبہات میں مبتلا رہنے والے ہوں۔“

غافر 40:35

آیت 35 { نِ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰـٹہُمْ } ”جو اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو۔“ { کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ وَعِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا } ”بڑی بیزاری کی بات ہے یہ اللہ کے نزدیک بھی اور اہل ِایمان کے نزدیک بھی۔“ { کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ } ”اسی طرح اللہ مہر لگا دیا کرتا ہے ہر اس شخص کے دل پر جو متکبر ّاور سرکش ہو۔“ اللہ کے اس فیصلے کے بعد پھر ایسے لوگوں کو ایمان کی دولت نصیب نہیں ہوتی۔ مومن ِآلِ فرعون کی اس تقریر کو پڑھتے ہوئے فرعون کے دربار کا نقشہ ذہن میں لائیے اور درو دیوار کے درمیان سے ابھرنے والی اس تصویر کو غور سے دیکھئے ! فرعون نظریں زمین پر گاڑے بت بنا بیٹھا ہے۔ اس کے دائیں بائیں سب کے سب درباری مبہوت ہوچکے ہیں ‘ پورے دربار میں سناٹے ّکا عالم َہے۔ فضا میں صرف ایک آواز گونج رہی ہے اور وہ ہے حق کی آواز ! مردِ مومن ُ پر جلال انداز میں اپنی تقریر جاری رکھے ہوئے ہے۔ تقریر نہایت موثر اور مربوط ہے۔ اس میں عقلی دلائل بھی ہیں اور تاریخی شواہد بھی۔ دعوت کا انداز بھی ہے اور عبرت کا سامان بھی۔ ماحول پر گہری سنجیدگی طاری ہوچکی ہے۔ اس صورت ِحال میں فرعون کرے تو کیا کرے۔ نہ تو اسے چپ رہنے کا یارا ہے اور نہ بولنے کا حوصلہ۔ اندیشہ ہائے دور دراز کے جھرمٹ میں اسے یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ وہ ”فرعون“ ہے۔ پھر کچھ دیر کے بعد جب وہ اس کیفیت سے باہر آتا بھی ہے تو مرد مومن کو جواب دینے کے بجائے اپنے وزیر سے مخاطب ہونا مناسب سمجھتا ہے :

غافر 40:36

آیت 36 { وَقَالَ فِرْعَوْنُ یٰـہَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْٓ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ } ”اور فرعون نے کہا : اے ہامان ! میرے لیی ایک بلند عمارت بنوائو تاکہ میں پہنچ جائوں راستوں تک۔“

غافر 40:37

آیت 37 { اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰٓی اِلٰہِ مُوْسٰی } ”یعنی آسمان کے راستوں تک ‘ پھر میں جھانک کر دیکھوں موسیٰ کے الٰہ کو“ یہ موسیٰ جس الٰہ کا ذکر کرتا ہے میں اس تک پہنچ کر خود اسے دیکھنا چاہتا ہوں۔ { وَاِنِّیْ لَاَظُنُّہٗ کَاذِبًا } ”اور میرا گمان تو یہ ہے کہ وہ جھوٹا ہے۔“ { وَکَذٰلِکَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓئُ عَمَلِہٖ } ”اور اس طرح فرعون کے لیے اس کا ُ برا عمل بھی ّمزین کردیا گیا“ یعنی فرعون کی نگاہوں میں اس کی بدعملی خوشنما بنا دی گئی۔ { وَصُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ وَمَا کَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ } ”اور اسے روک دیا گیا سیدھی راہ سے۔ اور فرعون کی یہ چال نہیں تھی مگر تباہ ہونے کے لیے۔“ فرعون کی بےبسی کی ایک تصویر تو ہم قبل ازیں آیت 29 میں دیکھ آئے ہیں : { مَآ اُرِیْکُمْ اِلَّا مَآ اَرٰی وَمَآ اَہْدِیْکُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ } کہ دیکھو بھئی ! یہ تو میری رائے ہے ‘ مجھے جو بات صحیح محسوس ہوئی وہ میں نے آپ لوگوں کے سامنے رکھ دی۔ اب آیت زیر مطالعہ میں جو منظر دکھایا گیا ہے اس میں وہ پہلے سے بھی زیادہ بےبس نظر آ رہا ہے۔ یہ جملے بولتے ہوئے نہ تو اس نے مرد مومن کی کسی بات کا جواب دیا اور نہ ہی وہ اس سے نظریں ملا سکا۔ ایک طویل خاموشی کے بعد اس نے بات کی بھی تو اپنے وزیر سے کی اور بات بھی نہایت بےتکی اور لایعنی کی ! کہ مجھے کوئی اونچا سامینار بنا دو تاکہ میں اس پر چڑھ کر موسیٰ کے معبود کو دیکھ سکوں ! واہ رے بادشاہ سلامت واہ ! اسے کہتے ہیں کھسیانی بلی کھمبا نوچے ! اللہ تعالیٰ کے وجود کے خلاف ایسی ہی ایک ”پختہ دلیل“ موجودہ دور کے لال بجھکڑوں کو بھی سوجھی تھی جب انہوں نے کہا تھا کہ ہم تو چاندتک بھی ہو آئے ہیں ‘ ہمیں تو کہیں کوئی خدا نظر نہیں آیا۔ مردِ مومن نے بہر حال فرعون کی اس فضول اور بےمحل بات کو نظر انداز کر کے کمال سنجیدگی سے اپنی تقریر کو جاری رکھا :

غافر 40:38

آیت 38 { وَقَالَ الَّذِیْٓ اٰمَنَ یٰـقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَہْدِکُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِ } ”اور کہا اس مومن نے کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم میری پیروی کرو ‘ میں تمہاری راہنمائی کروں گا نیکی کے راستے پر۔“ یہ گویا فرعون کی اس بات کا جواب ہے جو اس نے کہا تھا : { وَمَآ اَہْدِیْکُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ } ”اور میں تمہاری راہنمائی نہیں کر رہا مگر کامیابی کے راستے کی طرف“۔ جواب میں مرد مومن نے فرعون ہی کے الفاظ دہراتے ہوئے اہل ِدربار کو مخاطب کیا ہے کہ اگر کوئی ”سبیل الرشاد“ کی بات کرتا ہے تو آئو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ”سبیل الرشاد“ کیا ہے۔ تم میری بات مانو ‘ میرے پیچھے آئو ‘ میں تمہاری راہنمائی کرتا ہوں کہ بھلائی اور کامیابی کیا ہوتی ہے اور کون سا راستہ رشد و ہدایت اور فلاح و کامیابی کی طرف جاتا ہے۔

غافر 40:39

آیت 39 { یٰـقَوْمِ اِنَّمَا ہٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا مَتَاعٌز وَّاِنَّ الْاٰخِرَۃَ ہِیَ دَارُ الْقَرَارِ } ”اے میری قوم کے لوگو ! یہ دنیا کی زندگی تو بس چند روزہ برتنے کا سامان ہے اور مستقل رہنے کی جگہ تو آخرت ہے۔“

غافر 40:40

آیت 40 { مَنْ عَمِلَ سَیِّئَۃً فَلَا یُجْزٰٓی اِلَّا مِثْلَہَا } ”جس نے کوئی بدی کمائی ہوگی تو اسے بدلہ ملے گا اسی کے مانند۔“ { وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَہُوَ مُؤْمِنٌ} ”اور جو کوئی نیک عمل کرے گا ‘ چاہے مرد ہو یا عورت ‘ لیکن ہو وہ مومن“ { فَاُولٰٓئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ یُرْزَقُوْنَ فِیْہَا بِغَیْرِ حِسَابٍ } ”تو وہی لوگ جنت ّمیں داخل ہوں گے ‘ وہاں انہیں رزق ملے گا بغیر حساب کے۔“

غافر 40:41

آیت 41 { وَیٰــقَوْمِ مَا لِیْٓ اَدْعُوْکُمْ اِلَی النَّجٰوۃِ وَتَدْعُوْنَنِیْٓ اِلَی النَّارِ } ”اور اے میری قوم کے لوگو ! مجھے کیا ہے کہ میں تمہیں پکار رہا ہوں نجات کی طرف اور تم مجھے دعوت دے رہے ہو آگ کی !“ تم اللہ کے رسول علیہ السلام کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہو اور مجھ سے چاہتے ہو کہ میں بھی اس گناہ میں تمہارے ساتھ شریک ہو کر جہنم کا مستحق بن جائوں ‘ جبکہ میں چاہتا ہوں کہ تم سب میرے ساتھ آئو ‘ میرا راستہ اپنائو ‘ اللہ کے حضور توبہ کرو اور جہنم سے نجات پا کر جنت میں چلے جائو۔

غافر 40:42

آیت 42 { تَدْعُوْنَنِیْ لِاَکْفُرَ بِاللّٰہِ وَاُشْرِکَ بِہٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ} ”تم مجھے دعوت دے رہے ہو اس بات کی کہ میں اللہ کا کفر کروں اور شریک ٹھہرائوں اس کے ساتھ جس کا مجھے کوئی علم نہیں“ { وَّاَنَا اَدْعُوْکُمْ اِلَی الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ } ”اور میں تمہیں بلا رہا ہوں اس ذات کی طرف جو زبردست ہے ‘ بخشش کرنے والا ہے۔“

غافر 40:43

آیت 43 { لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْْٓ اِلَیْہِ لَیْسَ لَہٗ دَعْوَۃٌ فِی الدُّنْیَا وَلَا فِی الْاٰخِرَۃِ } ”بلاشبہ جن معبودوں کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ‘ ان کے لیے کوئی دعوت نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں“ یہ سب تمہارے خود ساختہ معبود ہیں۔ نہ تو دنیا میں کہیں ان کی رسائی ہے اور نہ ہی آخرت میں انہیں کوئی اختیار ہے۔ { وَاَنَّ مَرَدَّنَآ اِلَی اللّٰہِ } ”اور یہ کہ ہم سب کو لوٹنا تو اللہ ہی کی طرف ہے“ یاد رکھو ! خواہی نخواہی ہمیں ایک دن حاضر تو اللہ ہی کے حضور ہونا ہے۔ { وَاَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ ہُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ } ”اور جو حد سے گزرنے والے ہیں وہی جہنمی ہیں۔“

غافر 40:44

آیت 44 { فَسَتَذْکُرُوْنَ مَآ اَقُوْلُ لَکُمْ } ”تو عنقریب تم یاد کرو گے یہ باتیں جو میں تم سے کہہ رہا ہوں۔“ میں جانتا ہوں کہ تم میری ان باتوں کو نہیں مانو گے۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ تم موسیٰ علیہ السلام ٰ اور اس کی قوم کے خلاف اپنی ساری چالیں چل کر رہو گے۔ مگر یاد رکھو ! اگر تم نے ایسا کیا تو یقینا تم اپنی تباہی اور بربادی کو دعوت دو گے۔ بہر حال میری یہ باتیں تمہیں اس وقت ضرور یاد آئیں گی جب تمہارا بھیانک انجام تمہارے سامنے آن کھڑا ہوگا۔ { وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْٓ اِلَی اللّٰہِ } ”اور میں تو اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔“ یہ مرد مومن کی تقریر کے اختتامی الفاظ ہیں۔ اس جملے کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ فرعون کے دربار میں کلمہ حق بلند کرنے کے بعد مرد مومن ذہنی طور پر کسی بھی سزا کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے۔ انہیں اندازہ تھا کہ اس ”گستاخی“ کے بعد انہیں قتل کردیا جائے گا۔ چناچہ انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام اس خوبصورت جملے پر کیا۔ سورة یٰسٓ میں بھی ایک مرد مومن کی ”حق گوئی و بےباکی“ کا ذکر ہوا ہے ‘ جس نے اپنی قوم کو رسولوں کی پیروی کرنے کا مشورہ دیا تھا اور اپنے ایمان کا ڈنکے کی چوٹ اعلان کیا تھا۔ اس ”اعلانِ بغاوت“ کے نتیجے میں اس کو اسی لمحے شہید کردیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسی وقت اسے جنت میں داخل فرما دیا تھا۔ قرآن حکیم میں اس کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں : { قَالَ یٰـلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ۔ بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ۔ } یٰسٓ ”اس نے کہا کاش ! میری قوم کو معلوم ہوجاتا میرے رب نے جس طرح میری مغفرت فرمائی ہے اور جس طرح مجھے باعزت لوگوں میں شامل کرلیا ہے !“ مومن ِآلِ فرعون نے بھی اپنی شہادت کے امکان کو دیکھتے ہوئے کمال اطمینان سے اپنا معاملہ اللہ کو سونپ دیا۔ { اِنَّ اللّٰہَ بَصِیْرٌم بِالْعِبَادِ } ”اللہ یقینا اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔“ اسے یقین تھا کہ اللہ اپنے بندوں کے حالات سے خوب واقف ہے ‘ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ہے۔ وہ جسے چاہے ظلم و زیادتی کا شکار ہونے سے بچا سکتا ہے۔

غافر 40:45

آیت 45 { فَوَقٰــٹـہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَا مَکَرُوْا } ”تو بچالیا اللہ نے اس کو ان کی چالوں کی برائیوں سے“ یہاں پر ہُ کی ضمیر کا مرجع مومن ِآلِ فرعون بھی ہوسکتا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد مومن آلِ فرعون ہے کہ اللہ نے اسے فرعون کے انتقام کا نشانہ بننے سے بچالیا ‘ لیکن اکثر حضرات کی رائے یہ ہے کہ اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ مراد ہیں۔ چونکہ اس بات کا آغاز فرعون کی اس قرارداد سے ہوا تھا جو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ کو قتل کرنے کی اجازت کے لیے اپنے درباریوں کے سامنے پیش کی تھی۔ اس لیے زیادہ قرین ِقیاس یہی ہے کہ اس پوری تفصیل کے اختتام پر آیت زیر مطالعہ میں فرعون کے مذکورہ منصوبے کی ناکامی پر تبصرہ کیا گیا ہے کہ مومن ِآلِ فرعون کی اس تقریر کے بعد دربار کا ماحول ایسا نہ رہا کہ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ کے قتل کی قرارداد پاس ہوسکتی۔ چناچہ فرعون اور اس کے درباری اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ کرسکے اور یوں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔ { وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓئُ الْعَذَابِ } ”اور گھیر لیا آلِ فرعون کو بدترین عذاب نے۔“

غافر 40:46

آیت 46{ اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا } ”آگ ہے جس پر وہ پیش کیے جاتے ہیں صبح وشام۔“ یہ قرآن مجید کی دوسری آیت ہے جس سے عذاب قبر سے متعلق دلیل ملتی ہے نیز ملاحظہ ہو : سورة الفرقان کی آیت 69 کی تشریح۔ { وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُقف اَدْخِلُوْٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ } ”اور جس دن قیامت قائم ہوگی اُس دن کہہ دیا جائے گا کہ داخل کر دو فرعون کی قوم کو شدید ترین عذاب میں۔“ اس آیت کے مفہوم کے مطابق آلِ فرعون کو شدید ترین عذاب میں تو قیام قیامت کے بعد داخل کیا جائے گا ‘ لیکن اس سے پہلے قبر کی زندگی کے دوران صبح وشام انہیں آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ -۔ عذابِ قبر کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کے فرمودات بہت واضح ہیں۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے : اِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ اَوْ حُفْرَۃٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ 1 ”قبریا تو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا“۔ منکرین حدیث البتہ عذاب قبر کی نفی کرتے ہیں۔ در اصل قبر کا معاملہ ایک دوسرے جہان کا معاملہ ہے جو عالم غیب ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ قبر سے مراد وہ مخصوص گڑھا نہیں جہاں میت کو دفن کیا جاتا ہے ‘ بلکہ اس سے مراد عالم برزخ ہے۔ سورة المُطفِّفِین میں عالم برزخ کی دو کیفیات عِلِّیِیْناور سِجِّیْنکا ذکر ملتا ہے۔ اس عالم میں انسان نیم شعوری کی کیفیت میں ہوتا ہے۔ اگر کوئی خوش قسمت ”عِلِّیِیْن“ میں ہے تو وہاں جنت کی کھڑکی کھلی ہوتی ہے اور وہ جنت کی ٹھنڈی ہوائوں کے مزے لے رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ”سِجِّیْن“ میں جہنم کی کھڑکی میں سے آگ کی لپٹ آرہی ہوتی ہے۔

غافر 40:47

آیت 47 { وَاِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓا } ”اور جب وہ آگ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور لوگ بڑے بننے والوں سے کہیں گے“ { اِنَّا کُنَّا لَـکُمْ تَبَعًا فَہَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ } ”ہم تو تمہاری پیروی کرتے تھے ‘ تو کیا تم لوگ ہم سے آگ کے عذاب کا کوئی حصہ کم کروا سکتے ہو ؟“ دنیا میں تو تمہارا ہر جگہ حکم چلتا تھا۔ تو اگر یہاں پر بھی تمہارا کچھ اختیار ہے تو ہمارے عذاب میں کچھ کمی کروا دو۔ آخر ہم تمہاری پیروی کر کے ہی اس حال کو پہنچے ہیں۔

غافر 40:48

آیت 48 { قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓا اِنَّا کُلٌّ فِیْہَآ } ”وہ بڑے بننے والے کہیں گے کہ ہم سبھی اس کے اندر پڑے ہوئے ہیں“ یعنی ابوجہل اور عتبہ بن ابی معیط جیسے بڑے بڑے سردار اپنی بےبسی اور بےچارگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پیروکاروں سے یوں معذرت کریں گے۔ { اِنَّ اللّٰہَ قَدْ حَکَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ } ”اللہ نے تو اپنے بندوں کے مابین فیصلہ کردیا ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری فیصلہ ہوچکا ہے اور ہم تم سب چونکہ مجرم تھے اس لیے اس عذاب کے مستحق ٹھہرے ہیں۔

غافر 40:49

آیت 49 { وَقَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَۃِ جَہَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّکُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ } ”اور کہیں گے وہ لوگ جو آگ میں ہوں گے جہنم کے داروغوں فرشتوں سے ‘ آپ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہم سے بس ایک دن ہی عذاب میں تخفیف کر دے۔“

غافر 40:50

آیت 50 { قَالُوْٓا اَوَلَمْ تَکُ تَاْتِیْکُمْ رُسُلُکُمْ بِالْبَیِّنٰتِ } ”وہ جواب میں کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس رسول علیہ السلام نہیں آتے رہے تھے واضح نشانیوں اور واضح تعلیمات کے ساتھ ؟“ { قَالُوْا بَلٰی } ”وہ کہیں گے : ہاں آئے تو تھے !“ { قَالُوْا فَادْعُوْاج وَمَا دُعٰٓؤُا الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ } ”وہ کہیں گے : تو اب تم خود ہی پکارو ! اور کافروں کی دعا نہیں ہے مگر بھٹک کر رہ جانے والی۔“ دنیا کی زندگی میں جن لوگوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کی تھی آج ان کی دعا بالکل صدا بصحرا ثابت ہوگی۔ ان لوگوں کی دعا کا نہ کوئی اثر ہوگا اور نہ ہی اس کی کہیں شنوائی ہوگی۔ بالکل یہی کیفیت ان لوگوں کی بھی ہے جو دنیا میں اللہ تعالیٰ سے دعائیں تو مانگتے ہیں مگر ساتھ ہی اپنی حرام خوری بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ باطل کی چاکری بھی کیے جا رہے ہیں ‘ طاغوت کے حمایتی بھی بنے ہوئے ہیں اور اپنی سوچ اور فکر کو باطل طور طریقوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے نت نئی راہیں بھی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ گویا ان کی وفاداری اور دوستی تو شیطان اور اس کے چیلوں سے ہوتی ہے مگر دعا اللہ سے کرتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ حدیث پہلے بھی بیان ہوچکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کا ذکر فرمایا جو بڑا طویل سفر کر کے حج یا عمرہ کے لیے آتا ہے۔ اس کے کپڑے بھی میلے ہوچکے ہیں اور بال بھی غبار آلودہ ہیں۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر ”یارب ! یارب !“ پکارتا ہے۔ لیکن اس کا کھانا بھی حرام کا ہے ‘ اس کا پینا بھی حرام کا ہے ‘ اس نے جو کپڑے پہن رکھے ہیں وہ بھی حرام کمائی کے ہیں ‘ اور اس کے جسم نے حرام غذا سے نشوونما پائی ہے۔ -۔ تو اس کی دعا کیونکر قبول ہو ؟ فَاَنّٰی یُسْتَجَابُ لِذٰلِکَ ! 1 1971 ء کی جنگ کے دوران ہم نے دیکھا کہ پاکستان کی نصرت کے لیے حرمین شریفین میں قنوت نازلہ پڑھی جاتی تھی اور گڑ گڑا کر دعائیں مانگی جاتی تھیں ‘ مگر اللہ تعالیٰ نے ہمارے کرتوتوں کی وجہ سے اپنے گھر کے اندر مانگی گئی ان دعائوں کو بھی ٹھکرا دیا اور جو ہونا تھا وہ ہو کر رہا۔ لفظ ”کافر“ کو اس کے وسیع مفہوم کے تناظر میں رکھ کر غور کیجیے کہ اس کی زد کہاں کہاں پڑتی ہے۔ اس کا مصداق قانونی کفار کے علاوہ وہ لوگ بھی ٹھہرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور نافرمانی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے سورة آل عمران کی آیت 97 کے آخر میں سنائی گئی وعید بہت واضح ہے۔ مذکورہ آیت میں حج کا حکم دینے کے بعد فرمایا گیا : { وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ } ”اور جس نے کفر کیا تو وہ جان لے کہ اللہ بےنیاز ہے تمام جہان والوں سے“۔ یعنی جس نے صاحب استطاعت ہو کر بھی حج ادا نہیں کیا اس نے گویا کفر کیا۔ اسی طرح تارک صلوٰۃ کے بارے میں حضور ﷺ کا بہت مشہور فرمان ہے : مَنْ تَرَکَ الصَّلاَۃَ مُتَعَمِدًا فَقَدْ کَفَرَجِھَارًا 1 ”جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی اس نے علانیہ کفر کیا۔“ پس ایک کفر تو وہ ہے جس سے ایک مسلمان باقاعدہ مرتد ہو کر سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے اور ایک کفر یہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے کسی خاص حکم کی نافرمانی سے سرزد ہوتا ہے اور جس کو کسی صاحب نظر نے ”جو دم غافل سو دم کافر“ کا عنوان دیا ہے۔ اس زاویئے سے دیکھا جائے تو آج پوری دنیا کے مسلمان اس کفر کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ آج دنیا بھر میں مسلمانوں کا کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں جہاں اللہ کے قانون کی حکمرانی ہو ‘ جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان تو اس بارے میں یہ ہے : { وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ۔ } المائدۃ ”جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں“۔ چناچہ ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ اس حوالے سے آج ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ ہم جس ملک کے شہری ہیں کیا وہاں شریعت اسلامی کی حکمرانی ہے ؟ کیا ہمارے دیوانی و فوجداری معاملات قرآن کے قانون کے مطابق طے پا رہے ہیں ؟ کیا ہمارا نظام معیشت اللہ کی مرضی کے مطابق چل رہا ہے ؟ اور اگر ایسا نہیں ہے اور یقینا نہیں ہے تو کیا ہم سورة المائدۃ کی مذکورہ آیت کے مصداق نہیں بن چکے ہیں۔

غافر 40:51

آیت 51 { اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَـقُوْمُ الْاَشْہَادُ } ”ہم لازماً مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں بھی ‘ اور اس دن بھی مدد کریں گے جس دن گواہ کھڑے ہوں گے۔“

غافر 40:52

آیت 52 { یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُہُمْ } ”جس دن کہ ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہ دے گی“ { وَلَہُمُ اللَّعْنَۃُ وَلَہُمْ سُوْٓئُ الدَّارِ } ”اور ان کے لیے لعنت ہوگی اور ان کے لیے بہت ُ برا گھرہو گا۔“

غافر 40:53

آیت 53 { وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْہُدٰی وَاَوْرَثْنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ الْکِتٰبَ } ”اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام ٰ کو ہدایت دی تھی اور ہم نے وارث بنایا تھا بنی اسرائیل کو کتاب کا۔“

غافر 40:54

آیت 54 { ہُدًی وَّذِکْرٰی لِاُولِی الْاَلْبَابِ } ”جو ہدایت اور یاد دہانی تھی ہوشمندوں کے لیے۔“

غافر 40:55

آیت 55 { فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ} ”تو اے نبی ﷺ ! آپ صبر کیجیے ! یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے“ { وَّاسْتَغْفِرْ لِذَنبِْکَ } ”اور اپنے قصور کی معافی چاہیں“ اگر آپ خیال کرتے ہیں کہ کسی درجے میں بھی آپ سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اللہ سے استغفار کیجیے۔ یہاں پر حضور ﷺ کے حوالے سے لفظ ”ذنب“ کے مفہوم اور اس کی نوعیت کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ انبیاء کرام علیہ السلام کی روحانی کیفیات اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ مستقل استحضار کا مخصوص انداز اور معیار ہے۔ اگر استحضار کے اس مخصوص معیار میں کسی لمحے کوئی کمی آجائے تو اپنے احساس کی شدت کی وجہ سے انہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا ہے۔ یہ گویا ”حَسَنَاتُ الابرَارِ سِیِّـــٔاتُ المُقرَّبین“ والا معاملہ ہے۔ یعنی مقربین ِبارگاہ کا مقام اتنا بلند ہے کہ عام آدمی کے معیار کی نیکی ان کے معاملے میں شاید کوتاہی شمار ہوجائے۔ { وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِبْکَارِ } ”اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے شام کو بھی اور صبح کو بھی۔“

غافر 40:56

آیت 56 { اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰٹہُمْ } ”یقینا وہ لوگ جو اللہ کی آیات میں جھگڑے ڈالتے ہیں بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو“ { اِنْ فِیْ صُدُوْرِہِمْ اِلَّا کِبْرٌ مَّا ہُمْ بِبَالِغِیْہِ } ”نہیں ہے ان کے دلوں میں کچھ ‘ مگر تکبر جس تک وہ پہنچنے والے نہیں ہیں۔“ ان کے دلوں میں صرف بڑائی کی خواہش ہے ‘ جو کبھی پوری نہیں ہوگی۔ { فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِط اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ } ”پس آپ اللہ کی پناہ طلب کیجیے ‘ یقینا وہ سب کچھ سننے والا ‘ ہرچیز کو دیکھنے والا ہے۔“

غافر 40:57

آیت 57 { لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ } ”آسمانوں اور زمین کی تخلیق یقینا زیادہ بڑا کام ہے انسانوں کی تخلیق سے“ اس مفہوم کو جتنا آج ہم سمجھ سکتے ہیں آج سے چودہ سو سال پہلے انسان نہیں سمجھ سکتا تھا۔ اس لیے کہ زمین و آسمان کی وسعتوں کے بارے میں آج کا انسان جو کچھ جانتا ہے اس دور کا انسان تو اس کے مقابلے میں بہت کم جانتا تھا۔ یہ کائنات اس قدر وسیع و عریض ہے کہ سائنس کی تمام تر ترقی اور بڑی بڑی ٹیلی سکوپس telescopes ایجاد کرلینے کے باوجود آج کے سائنس دان یہ تک نہیں جان سکے کہ اس کائنات کا نقطہ آغاز کہاں ہے اور یہ ختم کہاں پر ہوتی ہے۔ تو جس اللہ نے اتنی وسیع کائنات تخلیق کی ہے اس کے لیے تمہاری تخلیق کیا معنی رکھتی ہے ! { وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ } ”لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔“

غافر 40:58

آیت 58 { وَمَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ } ”اور برابر نہیں ہوسکتے اندھے اور آنکھوں والے“ { وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَلَا الْمُسِیْٓئُ } ”اور نہ برابر ہوسکتے ہیں وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور وہ جو بدکار ہیں۔“ { قَلِیْلًا مَّا تَتَذَکَّرُوْنَ } ”بہت ہی کم ہے جو کہ تم سبق حاصل کرتے ہو۔“

غافر 40:59

آیت 59 { اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ لَّا رَیْبَ فِیْہَاز وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ } ” اور دیکھو ! یقینا قیامت آکر رہے گی اس میں کوئی شک نہیں ہے ‘ لیکن اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں۔“

غافر 40:60

آیت 60 { وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ } ”اور تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو ‘ میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔“ ابتدا میں بتایا گیا تھا کہ اس سورت کا مرکزی مضمون دعا ہے۔ چناچہ نوٹ کیجیے یہاں پھر فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم میرے بندے ہو تو مجھ سے مانگو ! انسان کا معاملہ یہ ہے کہ اس سے مانگا جائے تو اس پر گراں گزرتا ہے ‘ جبکہ اللہ سے اگر نہ مانگا جائے تو وہ ناراض ہوتا ہے۔ گویا عطائے خداوندی خود سائلوں کی تلاش میں رہتی ہے ع ”ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں !“ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ رات کے پچھلے پہر اللہ تعالیٰ سمائے دنیا تک نزول فرماتے ہیں اور ایک ندا ہوتی ہے : ھَلْ مِنْ سَائِلٍ فَاُعْطِیَہُ ، ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَاَغْفِرَلَـہٗ ، ھَلْ مِنْ تَائِبٍ فَاَتُوْبَ عَلَیْہِ ، ھَلْ مِنْ دَاعٍ فَاُجِیْبَہٗ 1 ”ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے عطا کروں ؟ ہے کوئی گناہوں کی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کروں ؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اس کی توبہ قبول کروں ؟ ہے کوئی پکارنے والا کہ میں اس کی پکار قبول کروں ؟“ { اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِیْنَ } ”یقینا وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کی بنا پر اعراض کرتے ہیں وہ داخل ہوں گے جہنم میں ذلیل و خوار ہو کر۔“ قبل ازیں عبادت اور دعا کے لازم و ملزوم ہونے کے بارے میں گفتگو ہوچکی ہے اور اس حدیث کا ذکر بھی ہوچکا ہے جس میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ دعا ہی اصل عبادت ہے۔ چناچہ اس آیت میں یہ نکتہ مزید واضح ہوگیا ہے۔ یہاں پر پہلے دعا کا ذکر کیا گیا ہے ادْعُوْنِیْٓ اور پھر اسی کے لیے عبادت کا لفظ لایا گیا ہے۔ گویا اس آیت میں دعا اور عبادت مترادف الفاظ کے طور پر آئے ہیں۔

غافر 40:61

آیت 61 { اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًا } ”اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی ہے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن بنا دیا ہے دیکھنے کے لیے۔“ اس نے رات کو تاریک بنایا ہے تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا ہے تاکہ تم اس میں کام کرو۔ { اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْکُرُوْنَ } ”یقینا اللہ تو اپنے بندوں پر بہت فضل والا ہے ‘ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔“

غافر 40:62

آیت 62 { ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ ”وہ ہے اللہ تمہارا رب جو ہرچیز کا خالق ہے۔“ { لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَز فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَ } ”اس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ تو کہاں سے تم پھرائے جا رہے ہو !“

غافر 40:63

آیت 63 { کَذٰلِکَ یُؤْفَکُ الَّذِیْنَ کَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ } ”اسی طرح وہ لوگ بھی الٹے پھرائے گئے تھے جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔“

غافر 40:64

آیت 64 { اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّالسَّمَآئَ بِنَآئً } ”اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے بنا دیا زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت“ { وَّصَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ } ”اور تمہاری صورت گری کی ‘ تو کیا ہی عمدہ تمہاری صورتیں بنائیں“ { وَرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ } ”اور تمہیں رزق بہم پہنچایا پاکیزہ چیزوں سے۔“ { ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْج } ”وہ ہے اللہ تمہارا رب !“ { فَتَبٰـرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ } ”تو بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔“

غافر 40:65

آیت 65 { ہُوَ الْحَیُّ لَآ اِلٰــہَ اِلَّا ہُوَ } ”وہ زندہ وجاوید ہستی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں“ ایک وہی ذات ہے جو خود زندہ ہے ‘ صرف اسی کی حیات ذاتی ہے۔ باقی زندگی جہاں بھی ہے ‘ جس شکل میں بھی ہے اسی کی عطا کردہ ہے۔ ہمیں بھی زندگی کے یہ چار دن اسی نے مستعار دیے ہیں۔ ع ”عمر ِدراز مانگ کے لائے تھے چار دن !“ { فَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ } ”پس اسی کو پکارو ! اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔“ نوٹ کیجیے ‘ پھر وہی حکم دہرایا جا رہا ہے کہ دعا اسی سے مانگو ‘ وہ قبول بھی کرے گا ‘ مگر شرط یہ ہے کہ تمہاری اطاعت خالص اسی کے لیے ہونی چاہیے۔ { اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن } ”کل ُ حمد اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔“

غافر 40:66

آیت 66 { قُلْ اِنِّیْ نُہِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے : مجھے تو روک دیا گیا ہے کہ میں بندگی کروں ان کی جن کو تم پکار رہے ہو اللہ کے سوا“ آیت 60 کی طرح یہاں بھی عبادت اَعْبُدَ اور دعا تَدْعُوْنَ کے الفاظ ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ { لَمَّا جَآئَ نِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ } ”جبکہ میرے پاس آچکی ہیں واضح تعلیمات میرے رب کی طرف سے“ { وَاُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ”اور مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں سرتسلیم خم کر دوں تمام جہانوں کے پروردگار کے سامنے۔“ جہاں تک سورة المومن میں توحید ِعملی کے داخلی پہلو یعنی دعا کے مضمون کا تعلق ہے وہ اس سورت کی آیت 65 پر اختتام پذیر ہوچکا ہے۔ اس کے بعد اس سورت میں بھی انہیں مضامین کی جھلک نظر آئے گی جو عام طور پر مکی سورتوں میں آئے ہیں۔ البتہ یہاں پر یہ مضامین قدرے مختلف اسلوب اور ترتیب میں نظر آئیں گے۔ ان ہی مضامین میں سے ایک انسان کی تخلیق کا ذکر ہے :

غافر 40:67

آیت 67 { ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ } ”وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پہلے مٹی سے ‘ پھر نطفے سے ‘ پھر علقہ سے“ عَلَقَہکے لغوی معنی ایسی چیز کے ہیں جو کسی دوسری چیز کے ساتھ معلق ّہو۔ اس لفظ میں بچے کی تخلیق کے حوالے سے دوسرے مرحلے کی کیفیت بیان ہوئی ہے جب نطفہ رحم مادر کی دیوار کے ساتھ لٹکی ہوئی ایک جونک کی سی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ -۔ -۔ -۔ لفظ ”عَلَقَہ“ کی مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة المومنون کی آیت 14 کی تشریح۔ { ثُمَّ یُخْرِجُکُمْ طِفْلًا } ”پھر وہ تمہیں نکال لیتا ہے ایک بچے کی حیثیت سے“ { ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّکُمْ } ”پھر تمہیں پروان چڑھاتا ہے تاکہ تم پہنچ جائو اپنی جوانی کو“ { ثُمَّ لِتَکُوْنُوْا شُیُوْخًا } ”پھر تمہیں مزید عمر دیتا ہے تاکہ تم ہو جائو بوڑھے۔“ یعنی حیات انسانی کا دورانیہ life cycle عام طور پر اسی نہج پر چلتا ہے۔ { وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی مِنْ قَبْلُ } ”اور تم میں سے بعض وہ بھی ہیں جنہیں اس سے پہلے ہی وفات دے دی جاتی ہے“ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو بڑھاپے کی عمر تک نہیں پہنچ پاتے۔ کوئی بچپن میں فوت ہوجاتا ہے اور کوئی جوانی میں۔ { وَلِتَبْلُغُوْٓا اَجَلًا مُّسَمًّی وَّلَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ۔ ”اور بعض کو مہلت دیتا ہے تاکہ تم ایک وقت معین ّکو پہنچ جائو اور یہ اس لیے ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“ چاہے کوئی بچپن میں ہی انتقال کر جائے ‘ کوئی جوانی میں فوت ہو یا کوئی بہت طویل عمر پالے ‘ ہر شخص نے اپنی موت تک بہر صورت زندہ رہنا ہے اور ہر شخص کی موت کا وقت اللہ کے ہاں مقرر اور طے شدہ ہے۔

غافر 40:68

آیت 68 { ہُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَیُمِیْتُج } ”وہی ہے جو زندہ رکھتا ہے اور موت وارد کرتا ہے۔“ { فَاِذَا قَضٰٓی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ } ”چناچہ اُس کے امر کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو کہتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔“

غافر 40:69

آیت 69 { اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ َیُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ } ”کیا تم نے غور نہیں کیا ان لوگوں کے حال پر جو اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں !“ اَلَمْ تَرَکا لفظی ترجمہ تو یہ ہوگا کہ کیا تم نے دیکھا نہیں ؟ لیکن اس کا مفہوم یہی ہے کہ کیا تم نے غور نہیں کیا ؟ { اَنّٰی یُصْرَفُوْنَ } ”وہ کہاں سے پھرائے جا رہے ہیں ؟“ یعنی وہ حق کے قریب پہنچ کر واپس پلٹ گئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں محمد ﷺ کا دور نصیب ہوا ‘ آپ ﷺ کے ساتھ ایک شہر اور ایک جگہ اکٹھے رہنے کا موقع ملا۔ لیکن ان کی بد قسمتی ملاحظہ کیجیے کہ اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے انعام کے باوجود بھی یہ لوگ ہدایت سے محروم رہ گئے۔ مقامِ عبرت ہے ! دیکھو ‘ یہ لوگ کہاں تک پہنچ کر ناکام لوٹے ہیں : ؎قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند دو چار ہاتھ جبکہ لب ِبام رہ گیا !

غافر 40:70

آیت 70 { الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِالْکِتٰبِ وَبِمَآ اَرْسَلْنَا بِہٖ رُسُلَنَاقف فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ } ”وہ لوگ کہ جنہوں نے جھٹلایا کتاب کو اور ان چیزوں کو جن کے ساتھ ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو ‘ تو عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔“ بس کچھ ہی وقت کی بات ہے ‘ اصل حقیقت ان پر منکشف ہوجائے گی۔

غافر 40:71

آیت 71 { اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْٓ اَعْنَاقِہِمْ وَالسَّلٰسِلُط یُسْحَبُوْنَ } ”جب ان کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور وہ زنجیروں میں جکڑے ہوں گے ‘ اس حالت میں انہیں گھسیٹا جائے گا۔“

غافر 40:72

آیت 72 { فِی الْْحَمِیْمِلا ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَ } ”کھولتے پانی میں ‘ پھر انہیں آگ میں جھونک دیا جائے گا۔“

غافر 40:73

آیت 73 ‘ 74 { ثُمَّ قِیْلَ لَہُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تُشْرِکُوْنَ۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”پھر ان سے کہا جائے گا : کہاں ہیں وہ جنہیں تم شریک بنایا کرتے تھے اللہ کے سوا ؟“ { قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَکُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًاط } ”وہ کہیں گے : سب گم ہوگئے ہم سے ‘ بلکہ ہم نہیں پکار رہے تھے اس سے پہلے کسی بھی شے کو۔“ اے اللہ ! آج اس وقت ہم پر یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ جنہیں معبود سمجھ کر ہم پکارا کرتے تھے ان کا تو کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ { کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ الْکٰفِرِیْنَ۔ ’ ‘ ’ اسی طرح اللہ بھٹکا دیتا ہے کافروں کو۔“

غافر 40:74

آیت 73 ‘ 74 { ثُمَّ قِیْلَ لَہُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تُشْرِکُوْنَ۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”پھر ان سے کہا جائے گا : کہاں ہیں وہ جنہیں تم شریک بنایا کرتے تھے اللہ کے سوا ؟“ { قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَکُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًاط } ”وہ کہیں گے : سب گم ہوگئے ہم سے ‘ بلکہ ہم نہیں پکار رہے تھے اس سے پہلے کسی بھی شے کو۔“ اے اللہ ! آج اس وقت ہم پر یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ جنہیں معبود سمجھ کر ہم پکارا کرتے تھے ان کا تو کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ { کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ الْکٰفِرِیْنَ۔ ’ ‘ ’ اسی طرح اللہ بھٹکا دیتا ہے کافروں کو۔“

غافر 40:75

آیت 75 { ذٰلِکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَبِمَا کُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ } ”اور یہ سب اس لیے ہوا کہ تم زمین میں ناحق اتراتے تھے اور اس لیے بھی کہ تم اکڑا بھی کرتے تھے۔“ تم لوگ دنیا کے مال و متاع پر خواہ مخواہ اکٹرفوں دکھاتے تھے۔ گویا تم ہلدی کی گانٹھ مل جانے پر پنساری بن بیٹھے تھے۔ حالانکہ دنیا میں تمہارا وہ سارا مال و متاع ہمارا ہی عطا کیا ہوا تھا جس پر اترانے اور فخر جتلانے کا تمہیں کوئی حق نہیں تھا۔

غافر 40:76

آیت 76 { اُدْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَاج } ”اب داخل ہو جائو جہنم کے دروازوں میں ‘ اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے۔“ { فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ } ”تو یہ بہت ہی ُ برا ٹھکانہ ہے متکبرین ّکا۔“ اب اگلی آیت میں حضور ﷺ سے خطاب کر کے آپ ﷺ کی وساطت سے تمام مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے :

غافر 40:77

آیت 77 { فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ} ”تو اے نبی ﷺ ! آپ صبرکیجیے ‘ یقینا اللہ کا وعدہ حق ہے۔“ اللہ کا وعدہ ہے کہ اس کا دین ضرور غالب ہوگا : { مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓی } طٰہ ”ہم نے یہ قرآن آپ ﷺ پر اس لیے تو نازل نہیں کیا کہ آپ ﷺ ناکام ہوجائیں“ معاذ اللہ ! { فَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُہُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ } ”تو اگر ہم آپ ﷺ کو دکھا دیں اس میں سے کچھ جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں یا ہم آپ کو وفات دے دیں“ یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آچکا ہے کہ جس عذاب کے بارے میں انہیں خبردار کیا جا رہا ہے وہ ان پر آپ ﷺ کی زندگی میں بھی آسکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان پر وہ برا وقت آپ ﷺ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد آئے۔ { فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ } ”پھر ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔“ مجھے انہیں پکڑنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ وہ بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے۔ انہوں نے آنا تو بہر حال میرے ہی پاس ہے۔

غافر 40:78

آیت 78 { وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ مِنْہُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْکَ وَمِنْہُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْکَ } ”اور ہم نے بہت سے رسول بھیجے آپ ﷺ سے پہلے ‘ ان میں سے کچھ وہ بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے آپ سے کیا ہے اور کچھ وہ بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے آپ سے نہیں کیا۔“ یعنی ان رسولوں میں سے بعض کے حالات آپ کو سنا دیے ہیں اور بعض کے نہیں سنائے۔ { وَمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ } ”اور کسی بھی رسول کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ وہ کوئی نشانی لے آتا مگر اللہ کے اذن سے۔“ کبھی کوئی رسول اپنی مرضی اور ذاتی کوشش سے اپنی قوم کو کوئی معجزہ نہیں دکھا سکا۔ یہ مضمون اکثر مکی سورتوں میں آیا ہے۔ گویا اس مضمون کی ڈور کا تسلسل زیر مطالعہ مکی سورتوں میں بھی نظر آ رہا ہے۔ { فَاِذَا جَآئَ اَمْرُ اللّٰہِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ ہُنَالِکَ الْمُبْطِلُوْنَ } ”پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو فیصلہ چکا دیا گیا حق کے ساتھ اور اس وقت خسارے میں پڑگئے جھٹلانے والے۔“

غافر 40:79

آیت 79 { اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْکَبُوْا مِنْہَا وَمِنْہَا تَاْکُلُوْنَ } ”اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے بنا دیے تاکہ تم سواری کرو ان میں سے بعض پر اور ان میں سے بعض کا تم گوشت بھی کھاتے ہو۔“

غافر 40:80

آیت 80 { وَلَکُمْ فِیْہَا مَنَافِعُ } ”اور ان میں تمہارے لیے اور بھی بہت سی منفعتیں ہیں“ یہ مضمون اس سے پہلے سورة النحل میں بہت تفصیل سے آچکا ہے۔ { وَلِتَبْلُغُوْا عَلَیْہَا حَاجَۃً فِیْ صُدُوْرِکُمْ وَعَلَیْہَا وَعَلَی الْفُلْکِ تُحْمَلُوْنَ } ”اور تاکہ ان پر سوار ہو کر تم اپنی وہ ضرورتیں پوری کرو جو تمہارے دل میں ہوتی ہیں اور ان پر بھی اور کشتیوں پر بھی تمہیں سوار کرایا جاتا ہے۔“

غافر 40:81

آیت 81 { وَیُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖق فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُنْکِرُوْنَ } ”اور وہ تمہیں اپنی آیات دکھاتا رہتا ہے ‘ تو تم اللہ کی کون کون سی آیات کا انکار کرو گے ؟“ گزشتہ تین آیات میں آیات آفاقیہ کا ذکر ہوا۔ اب آگے ”ایام اللہ“ یعنی عبرت آموز تاریخی حقائق کا تذکرہ ہے۔

غافر 40:82

آیت 82 { اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ”تو کیا یہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں کہ غور کرتے کہ کیسا انجام ہوا ان کا جو ان سے پہلے تھے !“ { کَانُوْٓا اَکْثَرَ مِنْہُمْ وَاَشَدَّ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِی الْاَرْضِ } ”وہ ان سے کہیں زیادہ تھے تعداد میں اور زیادہ شدید تھے طاقت میں بھی اور زمین میں نشانات چھوڑنے کے اعتبار سے بھی“ { فَمَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ } ”تو ان کے کچھ کام نہ آیا وہ سب کچھ جو وہ کماتے رہے تھے۔“ ان کے یہ سارے کارنامے اور ساری کمائی انہیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکی۔

غافر 40:83

آیت 83 { فَلَمَّا جَآئَ تْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ } ”تو جب آگئے ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر“ الْبَیِّنٰتِسے مراد حسی معجزات بھی ہیں اور واضح تعلیمات اور دلائل بھی۔ { فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَہُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ } ”تو وہ اتراتے رہے اسی پر جو بھی علم ان کے پاس تھا اور گھیرے میں لے لیا انہیں اسی چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔“ وہ لوگ اپنے آبائی عقائد و توہمات پر جمے رہے اور انہی کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتے رہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اس حق کا بھی مذاق اڑایا جو ان کے رسولوں علیہ السلام نے ان کے سامنے پیش کیا اور عذاب کی وعیدوں کا بھی جس سے انہیں خبردار کیا گیا۔ بالآخر انہیں اپنے کرتوتوں کی سزامل کر رہی۔

غافر 40:84

آیت 84 { فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَحْدَہٗ } ”پھر جب انہوں نے دیکھ لیا ہمارا عذاب تب انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے اللہ واحد پر“ تب کہنے لگے کہ اب ہم توحید کے قائل ہوگئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی وحدا نیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ { وَکَفَرْنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشْرِکِیْنَ } ”اور ہم نے انکار کیا ان معبودوں کا جنہیں ہم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے رہے تھے۔“

غافر 40:85

آیت 85 { فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُہُمْ اِیْمَانُہُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا } ”تو پھر ان کا ایمان لانا ان کے لیے ہرگز مفید نہیں ہوا جبکہ انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔“ عذاب کے واضح آثار سامنے آجانے کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اور ایسے وقت کا ایمان اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے اور اس قانون سے استثناء نوع انسانی کی پوری تاریخ میں صرف ایک ہی قوم کو ملا اور وہ تھی حضرت یونس علیہ السلام کی قوم۔ اس استثناء کا ذکر ہم سورة یونس کی آیت 98 میں پڑھ چکے ہیں۔ دراصل حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کی واضح اجازت آنے سے پہلے ہی اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ چناچہ نبی علیہ السلام کے کھاتے میں جو debit آیا وہ قوم کے لیے credit بن گیا۔ جدید اکائونٹنگ کے ماہرین خوب جانتے ہیں کہ ایک طرف کا debit دوسری طرف کا credit کیسے بن جاتا ہے۔ چناچہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے عذاب کے واضح آثار دیکھ لینے کے بعد توبہ کرلی اور ان کی یہ توبہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی۔ { سُنَّتَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِہٖج وَخَسِرَ ہُنَالِکَ الْکٰفِرُوْنَ } ”یہ اللہ کا وہ دستور ہے جو اس کے بندوں میں جاری رہا ہے ‘ اور اس وقت کافرلوگ خسارے میں رہے۔“ واقعہ یہ ہے کہ اصل خسارہ تو کافروں ہی کے لیے ہے۔

فصلت 41:1

آیت 1 { حٰمٓ۔ ”حٰ ‘ مٓ۔“

فصلت 41:2

آیت 2 { تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ } ”اس کتاب کا اتارا جانا ہے اس ہستی کی طرف سے جو بیحد مہربان ‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایک ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی مانند بھی ہے اور اس رحمت میں دوام اور تسلسل بھی ہے۔

فصلت 41:3

آیت 3 { کِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُہٗ } ”یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات خوب کھول کھول کر بیان کردی گئی ہیں“ یعنی قرآن میں ہرچیز اور ہر موضوع کو تفصیل کے ساتھ علیحدہ علیحدہ discretely بیان کردیا گیا ہے۔ اس سورت کا دوسرا نام فُصِّلَتْ اسی جملے سے لیا گیا ہے۔ { قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ } ”قرآن عربی کی صورت میں ‘ ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہوں یا علم رکھنا چاہیں۔“

فصلت 41:4

آیت 4 { بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا } ”بشارت دینے والی اور آگاہ کردینے والی۔“ یہ کتاب بشارتیں بھی دیتی ہے اور خبردار بھی کرتی ہے۔ حضور ﷺ بھی تبشیر اور انذار کا حق قرآن مجید کے ذریعے سے ہی ادا فرماتے تھے۔ جیسا کہ سورة مریم میں فرمایا گیا : { فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰــہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِیْنَ وَتُنْذِرَ بِہٖ قَوْمًا لُّدًّا۔ } ”پس ہم نے توآسان کردیا ہے اس قرآن کو آپ ﷺ کی زبان میں ‘ تاکہ آپ بشارت دیں اس کے ساتھ متقین کو اور خبردار کریں اسی کے ذریعے جھگڑالو قوم کو۔“ { فَاَعْرَضَ اَکْثَرُہُمْ فَہُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ } ”تو ان کی اکثریت نے اعراض کیا اور وہ سنتے ہی نہیں ہیں۔“

فصلت 41:5

آیت 5 { وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْٓ اَکِنَّۃٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَیْہِ } ”اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل پر دوں میں ہیں اس چیز سے جس کی طرف آپ ہمیں بلا رہے ہیں“ { وَفِیْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌ} ”اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے“ مشرکین مکہ رسول اللہ ﷺ سے ایسی باتیں ادب و احترام کے دائرے میں نہیں بلکہ آپ ﷺ کو تنگ کرنے کے لیے گستاخانہ اور استہزائیہ انداز میں کرتے تھے۔ وہ لوگ مختلف طریقوں سے آپ ﷺ کے سامنے اپنے اس موقف کو بار بار دہراتے رہتے تھے کہ آپ ﷺ جس قدر چاہیں اپنے آپ کو ہلکان کرلیں ‘ آپ ﷺ کی یہ باتیں ہمارے دلوں میں اتر کر اپنا اثر نہیں دکھا سکتیں۔ آپ ﷺ کی ان باتوں کو نہ تو ہم سنتے ہیں اور نہ ہی ان کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ‘ بلکہ ایسی باتیں سننے کے حوالے سے ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ آپ ﷺ خواہ مخواہ ہمیں تنگ نہ کریں۔ { وَّمِنْم بَیْنِنَا وَبَیْنِکَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ } ”اور ہمارے اور آپ ﷺ کے درمیان تو ایک پردہ حائل ہے ‘ تو آپ اپنا کام کریں ‘ ہم اپنا کام کر رہے ہیں۔“ یہ گویا ان کی طرف سے چیلنج تھا کہ آپ ﷺ جو کچھ کرسکتے ہیں کرلیں ‘ جتنا چاہیں زور لگا لیں ہم آپ ﷺ کی اس دعوت کو چلنے نہیں دیں گے۔

فصلت 41:6

آیت 6 { قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میں تو بس ایک انسان ہوں تمہاری طرح کا“ مخالفین کی طرف سے چیلنج کا گستاخانہ انداز دیکھئے اور حضور ﷺ کا جواب ملاحظہ فرمائیے۔ یعنی میں نے تم لوگوں کے سامنے نہ تو خدائی کا دعویٰ کیا ہے اور نہ ہی میں نے کہا ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو بس ایک انسان ہوں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ میرے پاس اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے۔ { یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ} ”میری طرف وحی کی جا رہی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے“ ان سورتوں کا مرکزی مضمون چونکہ توحید ہے ‘ اس لیے سورت کے آغاز میں ہی اس مضمون کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔ { فَاسْتَقِیْمُوْٓا اِلَیْہِ وَاسْتَغْفِرُوْہُ } ”تو اسی کی طرف سیدھا رکھو اپنے رخ کو اور اس سے استغفار کرو۔“ جو خطائیں اور غلطیاں اس سے پہلے ہوچکی ہیں ان کی معافی مانگو اور کفر و شرک کے عقائد سے توبہ کرو۔ { وَوَیْلٌ لِّلْمُشْرِکِیْنَ } ”اور بڑی تباہی اور ہلاکت ہوگی مشرکین کے لیے۔“

فصلت 41:7

آیت 7 { الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ } ”وہ لوگ جو خود کو پاک کرنے کی کوشش نہیں کرتے“ یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ حضور ﷺ کے مکی دور میں زکوٰۃ کا کوئی نظام نہیں تھا۔ یہ نظام تو ہجرت کے بعد مدینہ میں جا کر قائم ہوا تھا۔ چناچہ اگر لفظ زکوٰۃ مکی سورتوں میں آئے تو اس کے لغوی معنی مراد لیے جاتے ہیں۔ لفظ زکوٰۃ کے لغوی معنی چونکہ پاکیزگی کے ہیں اس لیے اس جملے کا مفہوم یہی ہوگا کہ جو لوگ اپنے تزکیہ نفس کی کوشش نہیں کرتے۔ { وَہُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ کٰفِرُوْنَ } ”اور وہ آخرت کے منکر ہیں۔“

فصلت 41:8

آیت 8 { اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ } ”بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ‘ ان کے لیے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوگا۔“

فصلت 41:9

آیت 9 { قُلْ اَئِنَّکُمْ لَـتَـکْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ } ”اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہیے کہ کیا تم لوگ کفر کر رہے ہو اس ہستی کا جس نے زمین کو بنایا دو دنوں میں ؟“ { وَتَجْعَلُوْنَ لَہٗٓ اَنْدَادًاط ذٰلِکَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ } ”اور تم اس کے لیے مدمقابل ٹھہرا رہے ہو ! وہ ہے تمام جہانوں کا رب۔“ اَنْدَاد کا واحد ”نِدّ“ ہے جس کے معنی مد مقابل کے ہیں۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا ہے تو اس کا مالک اور اصل حاکم بھی وہی ہے۔ لہٰذا دنیا میں اگر کوئی حاکم بنے گا تو اسے اللہ کا تابع اور ماتحت بن کر رہنا ہوگا۔ اس حیثیت سے وہ اللہ کا خلیفہ ہوگا۔ لیکن اگر کوئی اللہ کی اطاعت سے آزاد ہو کر حاکم بن بیٹھے اور خود کو مطلق اقتدار sovereignty کا حق دار سمجھنے لگے تو وہ گویا اللہ کا مدمقابل ہے ‘ چاہے وہ ایک فرد ہو یا کسی ملک کے کروڑوں عوام ہوں۔

فصلت 41:10

آیت 10 { وَجَعَلَ فِیْہَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِہَا } ”اور اس میں اس نے بنائے پہاڑوں کے لنگر اس کے اوپر سے“ { وَبٰرَکَ فِیْہَا وَقَدَّرَ فِیْہَآ اَقْوَاتَہَا فِیْٓ اَرْبَعَۃِ اَیَّامٍ } ”اور اس میں برکات پیدا کیں اور اس میں اندازے مقررکیے اس کی غذائوں کے ‘ چار دنوں میں۔“ یعنی دو دنوں میں زمین کو پیدا کیا جو بذات خود ایک بہت بڑی تخلیق ہے ‘ پھر مزید دو دنوں میں اس کے اوپر سے اس پر پہاڑ جما دیے اور زمین کی مٹی کو روئیدگی کے قابل بنایا۔ زمین ابتدا میں تو آگ کے ایک ُ کرے ّکی شکل میں تھی۔ آہستہ آہستہ یہ ٹھنڈی ہوئی۔ پہلے پہل اس کی مٹی میں صرف inorganic compounds پائے جاتے تھے۔ ہوتے ہوتے organic compounds پیدا ہوئے۔ اس کے بعداس میں وہ صلاحیت اور اہلیت پیدا ہوئی کہ یہ زندگی کا گہوارہ بن سکے۔ یہ سارا عمل چار دنوں میں مکمل ہوا۔ یہ آیت تا حال آیات متشابہات میں سے ہے ‘ ابھی تک ہم ان چار دنوں کی حقیقت اور تفصیل کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ { سَوَآئً لِّلسَّآئِلِیْنَ } ”تمام سائلین کے لیے برابر۔“ زمین کی مختلف صلاحیتوں ‘ اس کی پیداوار اور اس کے غذائی ذخائر پر ان سب کا حق برابر ہے جنہیں ان کی ضرورت ہے۔ اس میں کسی کے لیے کوئی خاص حصہ نہیں رکھا گیا۔

فصلت 41:11

آیت 11 { ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآئِ وَہِیَ دُخَانٌ} ”پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا ‘ اور ابھی وہ ایک دھواں سا تھا“ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب آسمان ایک دھویں کی شکل میں تھا اور ابھی سات آسمانوں کی الگ الگ صورتیں وجود میں نہیں آئی تھیں۔ ان آیات میں کائنات کی تخلیق کے ابتدائی مرحلے سے متعلق کچھ اشارے پائے جاتے ہیں۔ سائنسی شواہد کے مطابق Big Bang کے بعد آگ کا ایک بہت ہی بڑا گولا وجود میں آیا۔ پھر اس گولے میں مزید دھماکے ہوئے اور اس طرح اس مادے کے جو حصے علیحدہ ہوئے ان سے کہکشائیں بننا شروع ہوئیں۔ { فَقَالَ لَہَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْہًا } ”تو اس نے آسمان اور زمین سے کہا کہ تم دونوں چلے آئو خوشی سے یا جبراً !“ { قَالَتَآ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ } ”ان دونوں نے کہا کہ ہم حاضر ہیں پوری آمادگی کے ساتھ۔“

فصلت 41:12

آیت 12 { فَقَضٰہُنَّ سَبْعَ سَمٰواتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ } ”پھر اس نے ان کو سات آسمانوں کی شکل دے دی ‘ دو دنوں میں۔“ قرآن حکیم میں سات مقامات پر یہ ذکر ملتا ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق چھ دنوں میں ہوئی ‘ لیکن یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں نہ صرف ان چھ دنوں کی مزید تفصیل break up دی گئی ہے بلکہ اس تخلیقی عمل کی ترتیب sequence کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔ یعنی پہلے زمین بنی اور سات آسمان اس کے بعد وجود میں آئے۔ لیکن ابھی تک ہم نہ تو مذکورہ چھ دنوں کے مفہوم کو سمجھ سکے ہیں اور نہ ہی زمین و آسمان کے تخلیقی عمل کی ترتیب سے متعلق سائنٹیفک انداز میں کچھ جان سکتے ہیں۔ بہر حال ہمارا یمان ہے کہ مستقبل میں کسی وقت سائنس ضرور ان معلومات تک رسائی حاصل کرے گی اور انسان اس حقیقت کی تہہ تک ضرور پہنچ جائے گا کہ زمین و آسمان کے وجود میں آنے کی صحیح ترتیب وہی ہے جو قرآن نے بیان فرمائی ہے۔ { وَاَوْحٰی فِیْ کُلِّ سَمَآئٍ اَمْرَہَا } ”اور اس نے وحی کردیا ہر آسمان پر اس کا حکم“ سات آسمان بنانے کے بعد ہر آسمان پر اس سے متعلق تفصیلی احکامات بھیج دیے گئے۔ { وَزَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَحِفْظًا } ”اور ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے ّمزین کردیا اور اس کی خوب حفاظت کی۔“ چراغوں سے مراد ستارے ہیں۔ ستارے زمین سے قریب ترین آسمان کے لیے باعث زینت بھی ہیں اور شیاطین جن کی سرگرمیوں کے خلاف حفاظتی چوکیوں کا کام بھی دیتے ہیں۔ چناچہ جو شیاطین جن غیب کی خبریں حاصل کرنے کے لیے ممنوعہ حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں ان پر ان ستاروں سے میزائل داغے جاتے ہیں۔ اس موضوع پر مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : سورة الحجر کی آیت 17 اور سورة الانبیاء کی آیت 32 کی تشریح۔ { ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ } ”یہ اس ہستی کا بنایا ہوا اندازہ ہے جو زبردست ہے اور ُ کل علم رکھنے والا ہے۔“

فصلت 41:13

آیت 13 { فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صٰعِقَۃً مِّثْلَ صٰعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ } ”تو اے نبی ﷺ ! اگر یہ لوگ اعراض کریں تو آپ کہہ دیجیے کہ میں نے تو تمہیں خبردار کردیا ہے ایک ایسی خوفناک کڑک سے جیسی کہ قوم عاد اور قوم ثمود کی کڑک تھی۔“ میں نے تو تم لوگوں کو آگاہ کردیا ہے کہ جیسے قوم عاد اور قوم ثمود پر عذاب آیا تھا ‘ تمہاری تکذیب کے باعث ویسا ہی کوئی عذاب تم پر بھی ٹوٹ سکتا ہے۔

فصلت 41:14

آیت 14 { اِذْ جَآئَ تْہُمُ الرُّسُلُ مِنْم بَیْنِ اَیْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ } ”جبکہ ان کے پاس رسول علیہ السلام آئے ان کے سامنے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی“ یہاں پر قوم عاد اور قوم ثمود کا ذکر کر کے عرب کا وہ پورا علاقہ مراد لیا گیا ہے جہاں مختلف قوموں کی طرف پے در پے پیغمبر آئے۔ ان پیغمبروں اور ان کی اقوام کا ذکر قرآن میں بہت تکرار سے آیا ہے۔ { اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰہَ } ”اس دعوت کے ساتھ کہ اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو۔“ { قَالُوْا لَوْ شَآئَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِکَۃً } ”جواب میں ہر قوم کے لوگوں نے یہی کہا کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتوں کو نازل کردیتا“ { فَاِنَّا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ } ”پس جو چیز دے کر آپ بھیجے گئے ہیں ہم تو اس کا انکار کرتے ہیں۔“ آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ کو اللہ نے کوئی خاص پیغام دے کر ہماری طرف بھیجا ہے تو آپ اس حوالے سے ہمارا جواب بھی سن لیں اور وہ یہ کہ آپ کے دعوے کے مطابق جس چیز کے ساتھ بھی آپ کو بھیجا گیا ہے ہم اسے ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

فصلت 41:15

آیت 15 { فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَکْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ } ”عاد کا معاملہ یہ تھا کہ انہوں نے زمین میں بہت تکبر کیا بالکل ناحق“ { وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً } ”اور انہوں نے کہا کہ کون ہے ہم سے بڑھ کر قوت میں ؟“ { اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَہُمْ ہُوَ اَشَدُّ مِنْہُمْ قُوَّۃً } ”کیا انہوں نے غور نہیں کیا تھا کہ وہ اللہ جس نے انہیں پیدا کیا وہ ان سے بہت بڑھ کر ہے قوت میں !“ اگر انہیں اپنے مدمقابل کوئی اور قوم اس وقت دنیا میں نظر نہیں آرہی تھی تو کیا انہیں اللہ کی طاقت بھی نظر نہیں آرہی تھی ؟ ایک وہ طاقتور ہستی تو بہر حال موجود تھی جس نے انہیں پیدا کیا تھا۔ { وَکَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ } ”اور وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے۔“

فصلت 41:16

آیت 16 { فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْٓ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ } ”تو ہم نے ان پر چھوڑ دی بہت زور کی ہوا نحوست کے دنوں میں“ سورة الحاقہ میں تند و تیز ہوا کے اس عذاب کا ذکر یوں آیا ہے : { سَخَّرَہَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍٍ } آیت 6 یعنی انتہائی تیز اور شدید ہوا کا یہ جھکڑ ّان لوگوں پر سات راتوں اور آٹھ دن تک مسلسل چلتا رہا۔ { لِّنُذِیْقَہُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا } ”تاکہ ہم انہیں مزہ چکھائیں رسوا کن عذاب کا اس دنیا کی زندگی میں۔“ { وَلَـعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَخْزٰی وَہُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ } ”اور آخرت کا عذاب تو کہیں زیادہ رسوا کن ہوگا اور وہاں کوئی ان کی مدد کرنے والا نہیں ہوگا۔“

فصلت 41:17

آیت 17 { وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَہَدَیْنٰہُمْ } ”اور جو قوم ثمود تھی ‘ ان کو ہم نے ہدایت کی راہ دکھائی“ ان کی طرف ہم نے اپنا رسول بھی بھیجا اور اونٹنی کی صورت میں انہیں واضح معجزہ بھی دکھا دیا۔ { فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰی عَلَی الْہُدٰی } ”لیکن انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھے پن کو ہی پسند کیا“ ہماری واضح تعلیمات ان تک پہنچ گئی تھیں ‘ لیکن اس کے باوجود انہوں نے حقائق کی طرف سے اپنی آنکھیں بند ہی رکھیں۔ { فَاَخَذَتْہُمْ صٰعِقَۃُ الْعَذَابِ الْہُوْنِ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ } ”توا نہیں بھی آپکڑا ذلت کے عذاب کی ہولناک کڑک نے ان کے کرتوتوں کی پاداش میں۔“

فصلت 41:18

آیت 18 { وَنَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ } ”اور ہم نے نجات دے دی ان کو جو ان میں سے ایمان لائے تھے اور جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تھی۔“

فصلت 41:19

آیت 19 { وَیَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآئُ اللّٰہِ اِلَی النَّارِ فَہُمْ یُوْزَعُوْنَ } ”اور جس دن اللہ کے یہ دشمن جمع کیے جائیں گے آگ کی طرف تو ان کی درجہ بندی کی جائے گی۔“ ظاہر ہے کردار و اعمال کے حوالے سے اہل جہنم سب برابر نہیں ہوں گے۔ ہر مجرم کا عذاب اس کے جرم کے مطابق ہوگا۔ چناچہ وہاں جرائم اور سزائوں کی اقسام کے مطابق اہل جہنم کو الگ الگ جماعتوں اور گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

فصلت 41:20

آیت 20{ حَتّٰٓی اِذَا مَا جَآئُ وْہَا شَہِدَ عَلَیْہِمْ سَمْعُہُمْ وَاَبْصَارُہُمْ وَجُلُوْدُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } ”یہاں تک کہ جب یہ وہاں پہنچیں گے تو ان کے خلاف گواہی دیں گے ان کے کان ‘ ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں اس بارے میں جو کچھ کہ وہ کرتے رہے تھے۔“ ”شہادت“ کے بارے میں یہ بات بتکرار و اعادہ بیان کی جا چکی ہے کہ شہادت کسی کے خلاف ہوتی ہے اور کسی کے حق میں۔ چناچہ شَھِدَ کے بعد اگر عَلٰی کا صلہ ہو تو اس کے معنی کسی کے خلاف گواہی دینے کے ہوں گے جیسا کہ آیت زیر مطالعہ میں آیا ہے جبکہ شَھِدَ کے ساتھ ”ل“ کا صلہ آنے کی صورت میں کسی کے حق میں گواہی کا مفہوم نکلے گا۔ مثلاً : { کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآئَ بِالْقِسْطِز } المائدہ : 8 اور { کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَآئَ لِلّٰہِ } النساء : 135۔ ان دونوں آیات میں لفظ اللہ کے ساتھ ”ل“ اللہ کے لیے گواہی کا مفہوم دے رہا ہے ‘ کہ تم لوگ اللہ کے لیے کھڑے ہو کر گواہی دینے والے بن جائو ! بقول اقبالؔ: ع ”دے تو بھی محمد ﷺ کی صداقت کی گواہی !“

فصلت 41:21

آیت 21 { وَقَالُوْا لِجُلُوْدِہِمْ لِمَ شَہِدْتُّمْ عَلَیْنَا } ”اور وہ کہیں گے اپنی کھالوں سے کہ تم نے کیوں ہمارے خلاف گواہی دی ؟“ { قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْئٍ } ”وہ کہیں گی کہ ہمیں بھی اس اللہ نے بولنے کی صلاحیت عطا کردی ہے جس نے ہر شے کو قوت گویائی عطا کی ہے“ اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو اس کے حسب حال ”زبان“ عطا کر رکھی ہے جس سے وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ سورة بنی اسرائیل کے یہ الفاظ اس حوالے سے بہت واضح ہیں : { وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰکِنْ لاَّ تَفْقَہُوْنَ تَسْبِیْحَہُمْ } آیت 44 ”اور کوئی چیز نہیں مگر یہ کہ وہ تسبیح کرتی ہے اس کی حمد کے ساتھ لیکن تم لوگ نہیں سمجھ سکتے ان کی تسبیح کو۔“ { وَّہُوَ خَلَقَکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ } ”اور اسی نے تمہیں پیدا کیا پہلی مرتبہ اور اسی کی طرف تم لوٹا دیے جائوگے۔“

فصلت 41:22

آیت 22 { وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْہَدَ عَلَیْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَآ اَبْصَارُکُمْ وَلَا جُلُوْدُکُمْ } ”اور تم اس خیال سے پردہ داری نہیں کرتے تھے کہ تمہارے خلاف گواہی دیں گے تمہارے اپنے کان ‘ تمہاری اپنی آنکھیں اور تمہاری اپنی کھالیں“ انسان دنیا میں جرائم کرتے ہوئے لوگوں سے چھپنے کی کوشش کرتا ہے ‘ مگر خود اپنے ہی اعضاء وجوارح سے کیونکرچھپ سکتا ہے ؟ { وَلٰکِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَعْلَمُ کَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ } ”بلکہ تمہیں تو یہ گمان ہوگیا تھا کہ بہت سی باتیں تو اللہ کے علم میں ہی نہیں ہیں جو تم کر رہے ہو۔“ گویا ایسے جہلاء بھی اس دنیا میں پائے جاتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے کرتوتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو کچھ معلوم نہیں۔ قبل ازیں اس حوالے سے مشائین ارسطو اور اس کے پیروکاروں کا ذکر بھی گزر چکا ہے جن کا خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ عالم کلیات ہے ‘ وہ جزئیات کا عالم نہیں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کائنات اور اس کی اشیاء کے متعلق قوانین بنا دیے ہیں اور وہ انہی قوانین کو جانتا ہے ‘ جبکہ ان قوانین کے تحت رونما ہونے والے واقعات و حادثات کی جزئیات سے اسے کوئی سروکار نہیں۔ -۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ !

فصلت 41:23

آیت 23 { وَذٰلِکُمْ ظَنُّکُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّکُمْ اَرْدٰٹکُمْ } ”اور تمہارا یہی وہ گمان ہے جو تم نے اپنے رب کے بارے میں کیا تھا ‘ جس نے تمہیں غارت کیا ہے“ اس حوالے سے ہمیں خود اپنے بارے میں بھی غور کرنا چاہیے۔ اگرچہ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ایک ایک حرکت کو دیکھتا اور جانتا ہے لیکن اپنے اس ایمان کے مطابق ہمارے دلوں میں اس بارے میں یقین پیدا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم غلط کام کرتے ہوئے اس حقیقت سے لاپرواہی برت جاتے ہیں کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے ‘ ورنہ اگر واقعی کسی کے دل میں یقین ہو کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے تو بھلاوہ کوئی غلط حرکت کیسے کرسکتا ہے۔ { فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ } ”تو آج تم ہوگئے خسارہ پانے والوں میں۔“

فصلت 41:24

آیت 24 { فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًی لَّہُمْ } ”تو اب اگر یہ لوگ صبر کریں یا نہ کریں پس ان کا ٹھکانہ آگ ہی ہے۔“ { وَاِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا ہُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ } ”اور اگر وہ معافی مانگیں تو اب انہیں معاف نہیں کیا جائے گا۔“ قیامت کے دن وہ چاہیں گے کہ انہیں معافی مانگنے پر چھوڑ دیا جائے مگر اس وقت یہ ممکن نہیں ہوگا۔ معافی مانگنے اور استغفار کرنے کا موقع تو دنیا میں ہے۔ انفرادی طور پر ہر آدمی کی موت کے وقت تک اور اجتماعی طور پر قیامت کے آثار نمایاں ہونے تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے ‘ لیکن اس کے بعد عالم برزخ یا عالم آخرت میں توبہ کا کوئی سوال نہیں۔

فصلت 41:25

آیت 25 { وَقَیَّضْنَا لَہُمْ قُرَنَآئَ فَزَیَّنُوْا لَہُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ } ”اور ہم نے ان کے لیے ایسے ساتھی مقرر کردیے جنہوں نے ان کو مزین ّکر کے دکھلائی ہر وہ چیز جو ان کے سامنے تھی اور جوان کے پیچھے تھی“ جیسے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ فرشتے مقرر کر رکھے ہیں ایسے ہی ہر انسان کے ساتھ شیاطین ِجن بھی لگا دیے گئے ہیں۔ انسانوں کے ساتھ فرشتوں کی موجودگی کا ذکر قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ سورة الانعام کی آیت 61 میں { وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً } کے الفاظ میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعے سے انسانوں کی حفاظت کا انتظام فرماتا ہے۔ اسی طرح ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے کراماً کاتبین اس کے اعمال کا ریکارڈ رکھنے کے لیے بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ ان فرشتوں کا ذکر سورة الانفطار میں اس طرح آیا ہے : { وَاِنَّ عَلَیْکُمْ لَحٰفِظِیْنَ۔ کِرَامًا کَاتِبِیْنَ یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ } اسی طرح انسانوں کے ساتھ شیاطین ِجن بھی ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رض روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ”تم میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کے ساتھ ایک ساتھی جنات شیاطین میں سے اور ایک ساتھی ملائکہ میں سے مقرر نہ کردیا گیا ہو“۔ اس پر صحابہ کرام رض نے دریافت فرمایا : اے اللہ کے رسول ! آپ کے ساتھ بھی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وَاِیَّایَ ، لٰـکِنْ اَعَانَنِیَ اللّٰہُ عَلَیْہِ فَاَسْلَمَ 1 ”ہاں ! میرے ساتھ بھی ایک شیطان ہے مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر نصرت عطا فرمائی ہے اور میں نے اسے مسلمان کرلیا ہے“۔ یعنی میں نے اسے اپنا تابع بنا لیا ہے اور اب وہ مجھے کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔ بہر حال اس آیت میں غلط کار انسانوں کے ان شیطان ساتھیوں کا ذکر ہے جو دنیا میں ان کے غلط عقائد اور برے اعمال کو خوش نما بنا کر انہیں دکھاتے رہتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ گناہوں کی لذت اور دنیا کی رنگینیوں میں ہی گم ہو کر رہ جاتے ہیں۔ { وَحَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِج } ”اور ان پر سچ ثابت ہوئی اللہ کے عذاب کی بات ‘ اور وہ شامل ہوگئے ان امتوں میں جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں جنوں اور انسانوں کی۔“ ان پر بھی بالآخر وہی بات پوری ہو کر رہی جو جنوں اور انسانوں کے ان گروہوں پر پوری ہوئی تھی جو ان سے پہلے تھے۔ یعنی وہ اللہ کے عذاب کے مستحق قرار پائے۔ { اِنَّہُمْ کَانُوْا خٰسِرِیْنَ } ”یقینا وہ خسارہ پانے والے لوگ تھے۔“

فصلت 41:26

اب اگلی آیت میں قرآن مجید کا ذکر بہت عظیم الشان انداز میں ہو رہا ہے :آیت 26 { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِہٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْغَوْا فِیْہِ } ”اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا کہ مت سنو اس قرآن کو اور اس کی تلاوت کے دوران میں شور مچایا کرو“ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا آلہ اور ذریعہ چونکہ قرآن تھا اس لیے منکرین حق نے آپس میں ایک دوسرے کو یہ مشورہ دینا شروع کردیا کہ جب محمد ﷺ قرآن پڑھا کریں تو تم لوگ اسے مت سنا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے دلوں پر اس کا اثر ہوجائے اور اس کی وجہ سے تم اپنے آبائی دین سے برگشتہ ہو جائو۔ اس لیے جب بھی وہ تمہیں قرآن سنانے کی کوشش کریں تم شور مچانا hooting شروع کردیا کروتا کہ اس کی آواز کسی کے کان میں نہ پڑے۔ حضور ﷺ کی زبان مبارک سے قرآن مجید کی تلاوت چو ن کہ غیر معمولی تاثیر کی حامل تھی اور اس کی وجہ سے آپ ﷺ کی دعوت کا پیغام تیزی سے لوگوں کے دلوں میں گھر کر رہا تھا ‘ اس لیے مشرکین ِمکہ ّاس عمل کو روکنے کے لیے اپنے زعم میں گویا ایک جامع منصوبہ بندی کے ساتھ خم ٹھونک کر آپ ﷺ کے مقابلے میں آگئے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی اچھی طرح سے سمجھ لیجیے کہ قرآن کا پڑھنا پڑھانا ‘ سننا سنانا اور سیکھنا سکھانا چونکہ شیطان پر بہت بھاری ہے اس لیے جہاں کہیں بھی یہ کام موثر انداز میں ہو رہا ہوگا شیطانی قوتیں اسے روکنے کے لیے اپنی پوری طاقت کے ساتھ میدان میں آجائیں گی۔ البتہ اگر کہیں قرآن کا کوئی پروگرام محض رسمی انداز میں ہورہا ہو ‘ یعنی اس میں علمی اور عقلی سطح پر کوئی موثر پیغام لوگوں تک نہ پہنچ رہا ہو تو ایسی تقریبات ‘ ٹیوی پروگرامز اور قرآنی سیمینارز پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ دورِ حاضر میں ٹیوی پروگرام ”الہدیٰ“ کی بندش اس کی زندہ مثال ہے۔ یہ پروگرام ”پی ٹیوی“ کا مقبول ترین ہفتہ وار دینی پروگرام تھا ‘ جو بہت اہتمام کے ساتھ پورے ملک میں ایک ہی وقت پر ٹیلی کا سٹ ہوتا تھا اُس وقت ابھی کیبل نیٹ ورک کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ اس میں مطالعہ قرآن حکیم کا منتخب نصاب پیش کیا جاتا تھا۔ جب یہ پروگرام بہت موثر انداز میں چلنا شروع ہوا اور قرآن کا اصل پیغام ایک تدریج اور منطقی ترتیب کے ساتھ گھر گھر پہنچنے لگا تو شیطانی قوتیں ”لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ“ کا نعرہ لگا کر سامنے آ کھڑی ہوئیں اور انہوں نے اس پروگرام کو بند کرا کے ہی دم لیا۔ یہ پروگرام اس حد تک مقبول ہوا تھا کہ بھارت میں بھی بڑے ذوق و شوق سے دیکھا جاتا تھا۔ -۔ بلکہ پی ٹیوی پر اس پروگرام کی بندش کے بعد یہ بھارت میں کیبل نیٹ ورک پر دکھایا جانے لگا تھا ‘ بلکہ کبھی کبھی ”دور درشن“ پر بھی پیش کردیا جاتا تھا۔ لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ”پی ٹیوی“ پر میرے پروگراموں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ { لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُوْنَ } ”تاکہ تم غالب رہو۔“ ان کا آپس میں ایک دوسرے کے لیے یہی مشورہ تھا کہ اگر تم اپنی ”سیادت“ کو برقرار رکھنا چاہتے ہو تو خود کو اور اپنے عوام کو اس قرآن سے دور رکھو۔ بالکل یہی انداز منافقین کے اس مشورے میں بھی نظر آتا ہے جو انہوں نے غزوئہ احزاب کے موقع پر مدینہ کے عام لوگوں کو دینا شروع کیا تھا۔ ان کا مشورہ تھا : { یٰٓــاَہْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمْ فَارْجِعُوْاج } الاحزاب : 13 کہ اے اہل یثرب ! تمہارے یہاں ٹھہرنے کی اب کوئی صورت نہیں ہے ‘ لہٰذا اب تم واپس پلٹ جائو۔ بہر حال حضور ﷺ کی زبان مبارک سے قرآن کے پیغام کو گھر گھر پہنچتے دیکھ کر مشرکین نے بجا طور پر محسوس کیا کہ اگر اس دعوت کو بر وقت نہ روکا گیا تو پھر عرب کی سر زمین میں ان کے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں بچے گا۔

فصلت 41:27

آیت 27 { فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا } ”تو ہم لازماً مزہ چکھائیں گے ان کافروں کو بہت سخت عذاب کا“ یہ بہت سخت جواب ہے اور اس جملے کا اسلوب بھی بہت زور دار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ میرا کلام ہے ‘ اسے میں نے { ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ } البقرۃ : 185 کی حیثیت سے نازل فرمایا ہے۔ اگر یہ لوگ میری اس عظیم نعمت کو ٹھکرا رہے ہیں اور میرے بندوں تک اس کے ابلاغ کو روکنے کی سازشیں کر رہے ہیں تو میں انہیں اس بغاوت اور سرکشی کا مزہ ضرور چکھائوں گا۔ { وَّلَنَجْزِیَنَّہُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } ”اور ہم انہیں سزادیں گے ان کے بدترین اعمال کے حساب سے۔“ یعنی ان کی سزا معین ّکرتے ہوئے ان کے سب سے برے اعمال کو بطور ”معیار“ مد نظر رکھا جائے گا۔

فصلت 41:28

آیت 28 { ذٰلِکَ جَزَآئُ اَعْدَآئِ اللّٰہِ النَّارُ } ”یہ ہے بدلہ اللہ کے دشمنوں کا یعنی آگ !“ یہ لوگ قرآن کے دشمن ہیں تو قرآن چونکہ اللہ کا کلام ہے اس لیے یہ اللہ کے دشمن ہیں۔ اور اللہ کے دشمنوں کی سزا آتش دوزخ کے علاوہ اور کیا ہوسکتی ہے ! { لَہُمْ فِیْہَا دَارُ الْخُلْدِ } ”ان کے لیے اسی میں ہمیشگی کا ٹھکانہ ہوگا۔“ { جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ } ”یہ بدلہ ہوگا اس کا کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے تھے۔“

فصلت 41:29

آیت 29 { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا رَبَّنَآ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ } ”اور جو کافر ہیں وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ذرا ہمیں دکھا دے ِجنوں اور انسانوں میں سے وہ لوگ جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا“ وہاں جہنم میں بڑے بڑے سرداروں اور لیڈروں کے خلاف ان کے عوام واویلا کر رہے ہوں گے۔ وہ کہیں گے کہ اے پروردگار ! اس وقت ہم ان لوگوں کو دیکھنا چاہتے ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ وہ لوگ جو ہمیں قرآن سننے سے روکتے رہے ‘ جنہوں نے ہماری عقلوں پر پردے ڈال دیے تھے ‘ جنہوں نے محمد ﷺ کے بارے میں ہمیں ورغلایا ‘ ان کے بارے میں ہمارے دلوں میں طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا کیے ‘ اور ہمارے اور ان کی دعوت کے درمیان آڑ بن گئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس وقت انہیں ہمارے سامنے لایا جائے تاکہ : { نَجْعَلْہُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَکُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ } ”ہم انہیں اپنے قدموں کے نیچے روندیں ‘ تاکہ وہ ہوجائیں سب سے نیچے والے۔“ اگلی سات آیات اپنے مضمون کے لحاظ سے بہت اہم ہیں۔ ”مطالعہ قرآن حکیم کے منتخب نصاب“ کے پہلے حصے کا چوتھا درس انہی آیات پر مشتمل ہے۔ منتخب نصاب کے اس حصے میں چار جامع اسباق ہیں اور ان چاروں اسباق یادروس میں مضمون کے اعتبار سے ایک خاص ترتیب اور تدریج پائی جاتی ہے۔ ان میں پہلا درس سورة العصر پر مشتمل ہے : { وَالْعَصْرِ۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ۔ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّلا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔۔ یہ سورت قرآن حکیم کی تین مختصر ترین سورتوں میں سے ایک ہے۔ اس میں اخروی نجات کے لیے چار شرائط بیان کی گئی ہیں۔ اس کے بعد دوسرا درس آیت البر سورۃ البقرۃ کی آیت 177 پر مشتمل ہے۔ اس آیت میں وہی چار نکات قدرے وضاحت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں جن کا ذکر سورة العصر میں ہوا ہے۔ تیسرے درس کے لیے سورة لقمان کے دوسرے رکوع کو منتخب کیا گیا ہے۔ اس رکوع میں یہی مضمون ذرا مختلف انداز میں حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحتوں کے حوالے سے بیان ہوا ہے۔ اس طرح سورة العصر کا مضمون ایک خاص ترتیب اور تدریج کے ساتھ چوتھے درس زیر مطالعہ سورت کی آیات 30 تا 36 میں اپنے نقطہ عروج تک پہنچ گیا ہے۔ چناچہ ان سات آیات کے اندر آپ کو سورة العصر کے چاروں موضوعات ایمان ‘ اعمالِ صالحہ ‘ تواصی بالحق اور تواصی بالصبر میں سے ہر ایک کی چوٹی نظر آئے گی ‘ اور پھر انہی سات آیات کے عین درمیان میں وہ آیت بھی آیت 33 آئے گی جو اس سورت کا عمود ہے۔ اس آیت کی مثال ایک بہت بڑے ہیرے کی سی ہے جوان سات آیات کے خوبصورت ہار کے عین وسط میں اپنی خصوصی آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہا ہے۔ اس تمہید کے بعد آئیے اب ان آیات کا مطالعہ کرتے ہیں :

فصلت 41:30

آیت 30 { اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا } ”بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے“ اللہ پر ایمان لانا آسان ہے مگر اس پر جمے رہنا آسان نہیں ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب انسان کو اللہ پر پوری طرح توکل ّہو ‘ وہ ہر حالت میں اس کی رضا پر راضی رہے۔ نہ اپنی کسی حالت کے بارے میں اس کی زبان پر حرف شکایت آئے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے کسی فیصلے پر اس کے دل میں ملال پیدا ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کے آگے اس کا سر تسلیم بلا حیل و حجت جھکتا چلا جائے اور وہ اپنے تن من دھن کو ہتھیلی پر رکھے ‘ اس کے درِ اطاعت پر ہمہ وقت کمر بستہ کھڑے رہ کر عملی طور پر ثابت کر دے کہ : { اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ الانعام ”یقینا میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے“۔ اس استقامت کی اہمیت ایک حدیث سے بہت اچھی طرح واضح ہوتی ہے۔ حضرت سفیان بن عبداللہ رض سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : ”یارسول اللہ ! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتادیں کہ آپ ﷺ کے سوا کسی اور سے کچھ دریافت کرنے کی ضرورت نہ رہے۔“ یعنی مجھے اسلام کی حقیقت ایک جملے میں بتا دیجیے تاکہ میں اسے گرہ میں باندھ لوں۔ جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا : قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ 1 ”کہو میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر اس پر جم جائو !“ اگر واقعی کوئی شخص غور کرے تو اس استقامت میں اسے قیامت مضمر دکھائی دے گی۔ واضح رہے کہ استقامت اور قیامت کا سہ حرفی مادہ ایک ہی ہے۔ یہ قیامت ہی تو ہے کہ ایک بندہ اللہ تعالیٰ کو نظریاتی طور پر اپنا رب مان لینے کے بعد عملی طور پر ساری دنیا سے بےنیاز ہوجائے اور اپنے ایک ایک عمل سے ثابت کردے کہ میرا پروردگار ‘ میرا حاجت روا ‘ میرا سہارا ‘ میرا مشکل کشا ‘ میرے نفع و نقصان کا مالک صرف اور صرف اللہ ہے۔ دل کا یہ یقین اور عمل کا یہ رنگ گویا چوٹی ہے اس ایمان اور عمل صالح کی جس کا ذکر سورة العصر میں نجاتِ اُخروی کی پہلی دو شرائط کے طور پر اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کے الفاظ میں ہوا ہے۔ اب اگلی آیت میں ان خوش قسمت لوگوں کا اللہ کے ہاں مقام ملاحظہ کیجیے جو اپنی دنیوی زندگی میں ایمان و عمل کی اس چوٹی یعنی استقامت تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں : { تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ } ”ان پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے کہ آپ لوگ ڈرو نہیں اور غمگین نہ ہو اور خوشیاں منائو اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔“ فرشتوں کا نزول ان لوگوں پر کب ہوتا ہے ؟ اس حوالے سے یہ امر تو متفق علیہ ہے کہ موت کے قریب ایسے لوگوں کو خوش آمدید کہنے اور بشارت دینے کے لیے فرشتے نازل ہوتے ہیں ‘ لیکن دنیوی زندگی کے دوران بھی اہل ایمان کی مدد کے لیے فرشتوں کا آنا ثابت ہے۔ جیسے میدانِ بدر میں اہل ِایمان مجاہدین کی مدد کے لیے فرشتے نازل ہوئے : { اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاط } الانفال : 12 ”یاد کریں جب آپ ﷺ کا ربّ وحی کر رہا تھا فرشتوں کو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ‘ تو تم جائو اور اہل ایمان کو ثابت قدم رکھو“۔ چناچہ مومنین صادقین پر ملائکہ کا نزول اثنائے حیات میں بھی ہوتا ہے۔

فصلت 41:31

آیت 31 { نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُکُمْ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِج } ”ہم ہیں تمہارے رفیق دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔“ ان الفاظ سے یہ مفہوم خود بخود واضح ہو رہا ہے کہ فرشتے حیات دنیوی کے دوران بھی ان خوش قسمت لوگوں کی ہمت بندھاتے ہیں اور انہیں یہ پیغامِ جانفرا پہنچاتے ہیں۔ { وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْٓ اَنْفُسُکُمْ } ”اور تمہارے لیے اس جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جو تمہارے جی چاہیں گے“ تمہارے جی وہاں جو کچھ چاہیں گے وہ سب کچھ ہمارے علم میں ہے ‘ کیونکہ تمہارے نفسوں کے تقاضوں اور تمہاری خواہشات کو بھی ہم نے خود ہی پیدا کیا ہے۔ لہٰذا ہم تمہاری خواہشات کی تسکین کا مکمل سامان وہاں فراہم کریں گے۔ { وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُوْنَ } ”اور تمہارے لیے اس میں وہ سب کچھ بھی ہوگا جو تم مانگو گے۔“ تمہارے نفسوں کے تقاضوں کے مطابق تو سب کچھ وہاں پہلے سے ہی مہیا ہوچکا ہوگا۔ البتہ مانگنے اور طلب کرنے کے حوالے سے ہر شخص کا اپنی ذہنی سطح کے مطابق ایک معیار اور مخصوص ذوق ہوتا ہے۔ بچہ اپنی پسند کی کوئی چیز مانگے گا ‘ ایک سادہ لوح دیہاتی اپنے معیار کی کوئی چیز طلب کرے گا ‘ جبکہ ایک حکیم و فلسفی اپنے ذوق کے مطابق سوال کرے گا۔ غرض جو کوئی جو کچھ مانگے گا وہ سب کچھ اس کے سامنے حاضر کردیا جائے گا۔

فصلت 41:32

آیت 32 { نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ } ”یہ ابتدائی مہمان نوازی ہوگی اس ہستی کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے۔“ جنت کی جن نعمتوں کا ذکر ہمیں قرآن و حدیث میں ملتا ہے ان کا تعلق اہل جنت کی ابتدائی مہمان نوازی نُزُل سے ہے۔ جہاں تک ان کی اصل ضیافت کا تعلق ہے اس کی کیفیت ہمارے احاطہ شعور میں نہیں آسکتی۔ حضرت ابوہریرہ رض روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ : اَعْدَدْتُ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالاَ عَیْنٌ رَأَتْ ‘ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ ‘ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ … 1 ”اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے جنت میں وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ‘ نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل پر اس کا گمان ہی گزرا…“ پھر آپ ﷺ نے سورة السجدۃ کی یہ آیت تلاوت فرمائی : { فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍج جَزَآئًمبِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } ”پس کوئی انسان نہیں جانتا کہ ان اہل جنت کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے ‘ وہ بدلہ ہوگا ان کے اعمال کا۔“ اب اس کے بعد وہ آیت آرہی ہے جو اپنے مضمون کے اعتبار سے اس سورت کا عمود ہے اور جس کو قبل ازیں ان سات آیات کے ہار کے درمیان ایک جگمگاتے ہیرے سے تشبیہہ دی گئی تھی۔

فصلت 41:33

آیت 33{ وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ } ”اور اس شخص سے بہتر بات اور کس کی ہوگی جو بلائے اللہ کی طرف“ جس خوش قسمت شخص کو ایمان کے بعد ”استقامت“ کا مقام حاصل ہوچکا ہو ‘ اسے بھلا اب کس بات کی دھن ہوگی ؟ کیا وہ اب بھی مال و دولت ِدنیا کے پیچھے دوڑے گا ؟ یا کیا حکومت اور اقتدار کے حصول کی خواہش اب بھی اس کے دامن دل کو اپنی طرف کھینچے گی ؟ نہیں ! ہرگز نہیں ! اس ”متاعِ غرور“ کو تو وہ ٹھکرا کر بہت آگے نکل آیا ہے۔ مسند ِاستقامت پر رونق افروز ہونے کے بعد دنیا ومافیہا کے بارے میں اس کی ترجیحات بہت واضح ہوچکی ہیں۔ اب تو وہ خوب سمجھتا ہے کہ یہ سب آنی جانی چیزیں ہیں ‘ آج ہیں تو کل نہیں ہیں۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ دنیا اور اس کے لوازمات کی بہتات سے مسئولیت بڑھتی ہے اور حساب آخرت مشکل ہوجاتا ہے۔ چناچہ اب اس کے دل میں ایک ہی تڑپ ہے اور وہ ہے دعوت الی اللہ کی تڑپ۔ اب اس کی دوڑ دھوپ اور جدوجہد کا اگر کوئی ہدف ہے تو بس یہی کہ میں زیادہ سے زیادہ انسانوں کو راہ ہدایت پر لے آئوں۔ { وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ } ”اور وہ نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔“ اعمالِ صالحہ کا مفہوم ”استقامت“ کے اندر بھی پوشیدہ ہے ‘ لیکن یہاں پر اس کا علیحدہ ذکر بھی آگیا ہے ‘ اس لیے کہ دعوت الی اللہ اور عمل صالح لازم و ملزوم ہیں۔ اگر ایک داعی کا اپنا عمل درست نہیں ہوگا تو نہ صرف یہ کہ اس کی دعوت موثر نہیں رہے گی بلکہ وہ دعوت کی بدنامی کا باعث بھی بنے گا۔

فصلت 41:34

آیت 34{ وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ } ”اور دیکھو ! اچھائی اور برائی برابر نہیں ہوتے۔“ اب کون کہے گا کہ یہ دونوں برابر ہیں۔ چناچہ بات اس نکتے سے شروع کی جا رہی ہے جو سب کے ہاں متفق علیہ اور مسلم ّہے۔ { اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ } ”تم مدافعت کرو بہترین طریقے سے“ لوگ بیشک آپ کو گالیاں دیں ‘ مگر آپ انہیں دعائیں دو ‘ اگر کوئی آپ کو پتھر مارے تو آپ جواب میں اسے پھول پیش کرو۔ یہ وہ حکمت عملی ہے جو کبھی ناکام نہیں ہوتی۔ اس طرز عمل کے سامنے بڑے سے بڑا کٹھور دل انسان بھی نرم پڑجاتا ہے۔ یہاں اس مضمون کے حوالے سے یہ نکتہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ اگلی سورت یعنی سورة الشوریٰ میں اس تصویر کا دوسرا رخ بھی نظر آئے گا۔ لیکن یاد رہے کہ سورة الشوریٰ میں سختی کا جواب سختی سے دینے کی بات اقامت دین کے حوالے سے ہوئی ہے جبکہ یہاں دعوت دین کے مرحلے کی حکمت عملی بتائی جا رہی ہے۔ دونوں مرحلوں پر پالیسی کے اس فرق کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بہر حال ”دعوت“ کے مرحلے کی پالیسی یہی ہے کہ جب تم دعوت کو لے کر چلو تو ایسے بےضرر انسان بن جائو کہ بدھ مت کے بھکشو نظر آئو۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے اسی حکمت عملی کے بارے میں فرمایا تھا کہ تم سانپ کی مانند چوکنے اور فاختہ کی طرح بےضرر بنو ! یعنی ایک داعی کو ایسا احمق اور بدھو نہیں ہونا چاہیے کہ دوسرے اسے ضرر پہنچا جائیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ خود اس کی ذات سے کسی دوسرے کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اس حوالے سے رسالت مآب ﷺ کی سیرت ہمارے سامنے ہے۔ آپ ﷺ نے گالیاں دینے والوں کو ہمیشہ دعائیں دیں ‘ بلکہ آپ ﷺ نے تو ابوجہل جیسے دشمنوں کی ہدایت کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں ؎سلام اس ﷺ پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں سلام اس ﷺ پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں ! زیر مطالعہ موضوع یعنی ”دعوت توحید“ کی اہمیت کو اقامت دین کی جدوجہد کے حوالے سے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ توحید عملی کے تدریجی مراحل کو اپنے ذہن میں ایک مرتبہ پھر سے تازہ کرلیں۔ اب تک ہم انفرادی سطح پر توحید عملی کے دو پہلوئوں کا مطالعہ کرچکے ہیں۔ سورة الزمر میں توحید کا خارجی یا ظاہری پہلو بیان ہوا ہے کہ عبادت صرف اللہ کی کرو اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ اس کے بعد سورة المومن میں توحید کے داخلی پہلو کا ذکر آیا تھا کہ دعا صرف اللہ سے کرو ‘ اور وہ بھی اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ اب سورة حٰمٓ السجدہ میں توحید کو انفرادی سطح سے اجتماعیت کی طرف بڑھانے کی بات ہو رہی ہے۔ گویا ”توحید“ ایک فرد سے نکل کر دوسرے افراد تک پہنچنا شروع ہوگی اور دعوت کے ذریعے ”متعدی“ صورت اختیارکر کے معاشرے میں پھیلتی چلی جائے گی۔ سورة آل عمران میں اس بنیاد پر باقاعدہ ایک جماعت قائم کرنے کی ضرورت اور اہمیت ان الفاظ میں بیان فرمائی گئی ہے : { وَلْتَکُنْ مِّنکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِط وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ } ”اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہیے جو خیر کی طرف دعوت دے ‘ نیکی کا حکم دیتی رہے اور بدی سے روکتی رہے۔ اور یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔“ بہر حال زیر مطالعہ آیات کا موضوع دعوت توحید ہے اور اس حوالے سے داعیانِ حق کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ تم برائی کا جواب ہمیشہ نیکی اور خوش اخلاقی سے دو۔ اگر تم یہ روش اختیار کرو گے : { فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ } ”تو تم دیکھو گے کہ وہی شخص جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے وہ گویا گرم جوش دوست بن جائے گا۔“ انسان آخر انسان ہے۔ اگر کوئی شخص ہر وقت آپ کی مخالفت پر ہی کمر بستہ ہے اور آپ ہیں کہ ہمیشہ اس کی بھلائی کے لیے کوشاں ہیں تو آخر وہ کب تک اپنے منفی طرزعمل پر کاربند رہے گا۔ بالآخر اسے آپ کے اخلاق کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہی پڑیں گے۔

فصلت 41:35

آیت 35{ وَمَا یُلَقّٰٹہَآ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا } ”اور یہ مقام نہیں حاصل ہوسکتا مگر ان ہی لوگوں کو جو بہت صبر کرتے ہوں۔“ اس خاص مقام تک صرف وہی لوگ پہنچ سکتے ہیں جن میں صبر کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہو اور وہ اپنی عملی زندگی میں بھی ہمیشہ صبر کی روش پر کاربند ہوں۔ { وَمَا یُلَقّٰٹہَا اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ ”اور یہ نہیں دیا جاتا مگر ان ہی کو جو بڑے نصیب والے ہوں۔“ یہ حَظٍّ عَظِیْمٍ کیا ہے اور اس کا حقیقی معیار کیا ہے ؟ ہر انسان کے لیے اس کا صحیح ادراک حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ اس سے پہلے یہ لفظ ہم سورة القصص کے آٹھویں رکوع میں قارون کے حوالے سے بھی پڑھ آئے ہیں۔ قارون کے ٹھاٹھ باٹھ اور خدم و حشم سے متاثر ہو کر دنیا دار لوگوں نے حسرت بھرے انداز میں کہا تھا : { اِنَّہٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ۔ } القصص کہ یقینا یہ شخص بڑا صاحب نصیب ہے۔ لیکن پھر جب وہ اپنے گھر بار سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا تو ان ہی لوگوں نے اس پر شکر و اطمینان کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑی مہربانی کی کہ انہیں قارون جیسا مال و منال نہ دیا ‘ ورنہ انہیں بھی اسی طرح زمین میں دھنسا دیا جاتا۔ چناچہ ایک بندئہ مومن کے لیے اصل کامیابی ‘ حقیقی فوزو فلاح اور ”حظ ِعظیم“ اسی عمل اور اسی کردار میں ہے جس کی نشاندہی اس آیت میں کی گئی ہے۔

فصلت 41:36

آیت 36{ وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ } ”اور اگر کبھی تمہیں شیطان کی طرف سے کوئی چوک لگنے لگے تو اللہ کی پناہ طلب کرلیا کرو۔“ اگر کبھی کسی کے ناروا سلوک اور مخالفانہ رویے پر غصہ آجائے تو فوراً سمجھ لو کہ یہ شیطان کی اکساہٹ ہے ‘ شیطان تم پر حملہ آور ہوا چاہتا ہے۔ چناچہ ایسی کیفیت میں فوراً اللہ کی پناہ طلب کرلیا کرو ‘ کیونکہ صرف اسی کی پناہ میں آکر تم شیطان کے وار سے بچ سکتے ہو۔ { اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ } ”یقینا وہی ہے سب کچھ سننے والا ‘ سب کچھ جاننے والا۔“ یہ آیت سورة الاعراف آیت 200 میں بھی آچکی ہے۔ وہاں { اِنَّہٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ} کے الفاظ ہیں۔ گویا یہاں اللہ تعالیٰ کی مذکورہ صفات السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ کے بارے میں زیادہ زور اور تاکید کا انداز پایا جاتا ہے۔

فصلت 41:37

آیت 37{ وَمِنْ اٰیٰتِہِ الَّـیْلُ وَالنَّہَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ } ”اور اسی کی نشانیوں میں سے ہیں رات ‘ دن ‘ سورج اور چاند۔“ { لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ } ”تم سورج کو سجدہ مت کرو اور نہ چاند کو“ { وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَہُنَّ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ } ”بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ‘ اگر تم واقعتا اسی کی بندگی کرتے ہو۔“

فصلت 41:38

آیت 38{ فَاِنِ اسْتَکْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّکَ یُسَبِّحُوْنَ لَہٗ بِالَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَہُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ } ”پس اے نبی ﷺ ! اگر وہ استکبار کریں تو پروا نہیں وہ جو آپ کے رب کے پاس ہیں وہ دن رات اس کی تسبیح میں لگے ہوئے ہیں اور وہ اس سے تھکتے نہیں۔“ اگر یہ لوگ تکبر کی بنا پر مجھے سجدہ کرنے کو تیار نہیں تو مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ میرے پاس تو فرشتوں کی فوجیں ہیں جو دن رات مسلسل میری تسبیح اور حمد میں لگے رہتے ہیں۔ اس بارے میں فرشتوں کا یہ بیان ہم سورة البقرہ کی آیت 30 میں پڑھ چکے ہیں : { وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَط } ”اور ہم آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کی تقدیس میں لگے ہوئے ہیں۔“

فصلت 41:39

آیت 39{ وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنَّکَ تَرَی الْاَرْضَ خَاشِعَۃً } ”اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہ دبی پڑی ہے“ یعنی زمین کی وہ کیفیت کہ جب وہ بنجر اور ویران ہوتی ہے اور اس پر روئیدگی وغیرہ کا نام و نشان تک نہیں ہوتا۔ { فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْہَا الْمَآئَ اہْتَزَّتْ وَرَبَتْ } ”پھر جب ہم اس پر پانی برسادیتے ہیں تو اس میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور وہ ابھر آتی ہے۔“ بارش کے برستے ہی زمین سے طرح طرح کے نباتات اگنے لگتے ہیں جیسے کہ مردہ زمین میں جان پڑگئی ہو۔ { اِنَّ الَّذِیْٓ اَحْیَاہَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰیط اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ} ”یقینا وہ اللہ جس نے اس کو زندہ کیا ہے وہی ُ مردوں کو بھی زندہ کرے گا۔ یقینا وہ ہرچیز پر قادر ہے۔“

فصلت 41:40

آیت 40{ اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا } ”جو لوگ ہماری آیات کے بارے میں کج روی اختیار کرتے ہیں وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔“ { اَفَمَنْ یُّلْقٰی فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْٓ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ } ”تو کیا وہ شخص جو آگ میں جھونک دیا جائے گا وہ بہتر ہوگا یا وہ کہ جو قیامت کے دن امن کی حالت میں آئے گا !“ { اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْلا اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ} ”تم کیے جائو جو بھی کرنا چاہتے ہو ‘ وہ خوب دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔“ قبل ازیں ہم آیت 5 میں مشرکین کی طرف سے حضور ﷺ کے لیے اس کھلے چیلنج کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا : فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَکہ آپ جو کرنا چاہتے ہیں کرلیں ‘ ہم بھی آپ کی ہر کوشش کا توڑ کریں گے اور آپ کی اس دعوت کو چلنے نہیں دیں گے۔ زیر مطالعہ جملے میں دراصل اسی چیلنج کا جواب ہے۔

فصلت 41:41

آیت 41{ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِالذِّکْرِ لَمَّا جَآئَ ہُمْ } ”یقینا وہ لوگ جنہوں نے اس یاد دہانی کا انکار کیا جبکہ یہ ان کے پاس آگئی۔“ اس سے آگے اس مفہوم کے الفاظ محذوف ہیں کہ ”اب ان لوگوں کی شامت آنے والی ہے“۔ نوٹ کیجیے کہ اس سورت میں یہاں تیسری مرتبہ قرآن کا ذکر آیا ہے۔ اس سے پہلے آیت 3 اور آیت 26 میں بھی قرآن کا ذکر آچکا ہے۔ یہاں قرآن کو ”الذکر“ یعنی یاد دہانی قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب تو اس گواہی کو اجاگر کرکے تمہارے سامنے لا رہی ہے جو پہلے سے تمہاری فطرت کے اندر مخفی ہے۔ اللہ کی معرفت اور اس کی محبت تو تمہاری ارواح کے اندر پہلے سے موجود تھی لیکن تمہاری عدم توجہی کی وجہ سے اس معرفت پر غفلت اور ذہول کے پردے پڑگئے تھے ‘ جس کے نتیجے میں تم اپنی فطرت کی اصل پہچان کو بھول کر اللہ ہی کو بھول گئے تھے۔ سورة الحشر کی آیت 19 میں اہل ایمان کو اسی حوالے سے تاکید کی گئی ہے : { وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰٹہُمْ اَنْفُسَہُمْط } کہ اے اہل ایمان ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو نتیجتاً اللہ نے انہیں ایسا کردیا کہ وہ خود اپنے آپ ہی کو بھول گئے۔ چناچہ یہاں قرآن کو ”الذکر“ کہہ کر گویا اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ یہ کتاب انسانی فطرت میں مضمرمعرفت خداوندی کے ابدی سبق کی یاد دہانی کے لیے آئی ہے۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے اس یاد دہانی کا انکار کردیا ہے اب ان کی شامت آنے والی ہے۔ { وَاِنَّہٗ لَکِتٰبٌ عَزِیْزٌ} ”انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ بلاشبہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔“

فصلت 41:42

آیت 42{ لَّا یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ } ”باطل اس پر حملہ آور ہو ہی نہیں سکتا ‘ نہ اس کے سامنے سے اور نہ ہی اس کے پیچھے سے۔“ اس دورئہ ترجمہ قرآن کے دوران بار بار میں مثالیں دیتا رہا ہوں کہ قرآن کس طرح اپنی حفاظت کرتا ہے اور کس طرح ان لوگوں کے عزائم کو ناکام بناتا ہے جو اس کی آیات کو اپنے مفادات کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں یا کسی آیت کی تعبیر اپنی مرضی سے کرنا چاہتے ہیں۔ { تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ } ”اس کا اتارا جانا ہے ایک حکیم اور حمید ہستی کی طرف سے۔“

فصلت 41:43

آیت 43{ مَا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِکَ } ”اے نبی ﷺ ! نہیں کہا جاتا آپ سے مگر وہی کچھ جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہا گیا تھا۔“ { اِنَّ رَبَّکَ لَذُوْ مَغْفِرَۃٍ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ } ”یقینا آپ کا رب مغفرت والا بھی ہے اور دردناک سزا دینے والا بھی۔“

فصلت 41:44

آیت 44{ وَلَوْ جَعَلْنٰـہُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا } ”اور اگر ہم نے اسے عجمی قرآن بنایا ہوتا“ نوٹ کیجیے یہ پانچویں مرتبہ قرآن کا ذکر آیا ہے اور یہاں فرمایا گیا ہے کہ اگر ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کے بجائے کسی عجمی زبان میں نازل کیا ہوتا : { لَّقَالُوْا لَوْلَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُہٗ } ”تو یہ کہتے کہ اس کی آیات واضح کیوں نہیں کی گئیں !“ { ئَ اَعْجَمِیٌّ وَّعَرَبِیٌّط } ”کیا کتاب عجمی اور مخاطب عربی ؟“ ایسی صورت میں اس پر یہ اعتراض وارد ہوسکتا تھا کہ جس کتاب کی اولین مخاطب ایک عربی قوم ہے وہ خود کسی اور زبان میں ہے ! { قُلْ ہُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ہُدًی وَّشِفَآئٌ} ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ یہ ہدایت اور شفا ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں۔“ { وَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْٓ اٰذَانِہِمْ وَقْرٌ} ”اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے“ { وَّہُوَ عَلَیْہِمْ عَمًی } ”اور یہ قرآن ان کے حق میں اندھا پن ہے۔“ یعنی یہ لوگ قرآن کی حقیقت کو نہیں دیکھ پا رہے۔ { اُولٰٓئِکَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّکَانٍم بَعِیْدٍ } ”یہ وہ لوگ ہیں جو پکارے جاتے ہیں بہت دور کی جگہ سے۔“ انہیں قرآن کی باتیں عجیب اور نا مانوس لگتی ہیں۔ قرآن کی تعلیمات کے بارے میں انہیں ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں کوئی بہت دور سے پکار رہا ہو۔

فصلت 41:45

آیت 45{ وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْہِ } ”اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام ٰ کو بھی کتاب دی تھی ‘ تو اس میں بھی اختلاف کیا گیا۔“ { وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ } ”اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے مابین فیصلہ کردیا جاتا۔“ اللہ تعالیٰ کی تقویم میں ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے ‘ اسی طرح ان کے فیصلے کا بھی اللہ تعالیٰ نے ایک وقت طے کررکھا ہے۔ اگر یہ وقت پہلے سے طے نہ ہوتا تو ان کا فیصلہ اب تک چکا دیا جاتا۔ { وَاِنَّہُمْ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مُرِیْبٍ } ”اور یقینا وہ اس کے بارے میں خلجان انگیز شک میں مبتلا ہیں۔“ یہاں مِنْہُ سے مراد قرآن مجید ہے۔ یعنی پہلے انہوں نے خواہ مخواہ اختلافات کھڑے کیے۔ لیکن جب ہم نے ان اختلافات کی وضاحت کے لیے یہ کتاب بھیج دی تو اب وہ اس کے بارے میں ایسے شک و شبہ میں مبتلا ہوگئے ہیں جس نے انہیں سخت خلجان اور الجھن میں ڈال دیا ہے اور وہ اس میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فصلت 41:46

آیت 46{ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ اَسَآئَ فَعَلَیْہَا } ”جو کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اپنے ہی لیے کرتا ہے ‘ اور جو کوئی برا کام کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر آئے گا۔“ { وَمَا رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۔ } ”اور آپ کا رب کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے اپنے بندوں کے حق میں۔“

فصلت 41:47

آیت 47{ اِلَیْہِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَۃِ } ”اسی کی طرف لوٹتا ہے قیامت کا علم۔“ یعنی قیامت کا علم صرف اسی کے پاس ہے۔ { وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَکْمَامِہَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِہٖ } ”اور نہیں نکلتے کوئی پھل اپنے غلافوں سے اور نہ کسی مادہ کو حمل ہوتا ہے اور نہ ہی وہ اس کو جنتی ہے ‘ مگر اسی کے علم سے۔“ یعنی صرف قیامت ہی نہیں بلکہ تمام امور غیب کا علم اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ جزئیات کا بھی اتنا تفصیلی علم رکھتا ہے کہ اس کی نگاہ سے کسی شخص کا کوئی چھوٹا سا عمل بھی مخفی نہیں رہ سکتا۔ واضح رہے کہ یہاں پر اُنْثٰی کا لفظ اپنے مفہوم کے اعتبار سے انسانوں کے علاوہ تمام حیوانات کی مادائوں کا احاطہ بھی کرتا ہے۔ { وَیَوْمَ یُنَادِیْہِمْ اَیْنَ شُرَکَآئِ } ”اور جس دن وہ ان کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک ؟“ { قَالُوْٓا اٰذَنّٰکَ مَا مِنَّا مِنْ شَہِیْدٍ } ”وہ کہیں گے : ہم نے تو آپ سے عرض کردیا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کی گواہی دینے والا نہیں۔“ اس وقت وہ بےبسی کے عالم میں یہ بھی نہیں کہہ سکیں گے کہ دنیا میں ہم نے واقعتا کچھ سہارے ڈھونڈ کر ان سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔

فصلت 41:48

آیت 48{ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ } ”اور وہ سب گم ہوجائیں گے ان سے جنہیں وہ پکارا کرتے تھے اس سے پہلے“ اس دن کی سختی کو دیکھ کر گویا ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔ { وَظَنُّوْا مَا لَہُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ } ”اور وہ یقین کرلیں گے کہ اب ان کے لیے کوئی جائے فرار نہیں۔“

فصلت 41:49

آیت 49{ لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآئِ الْخَیْرِ } ”انسان بھلائی مانگنے سے نہیں تھکتا“ یہاں بھلائی خیر سے مراد دنیوی نعمتوں اور مال و دولت کی فراوانی ہے۔ کسی انسان کے پاس جتنی چاہے دولت ہو اور جس قدر چاہے نعمتیں اسے میسر ہوں ‘ پھر بھی مزید حاصل کرنے کی اس کی خواہش کبھی ختم نہیں ہوتی۔ { وَاِنْ مَّسَّہُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ} ”اور اگر کہیں اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو بالکل مایوس و دل شکستہ ہوجاتا ہے۔“

فصلت 41:50

آیت 50{ وَلَئِنْ اَذَقْنٰہُ رَحْمَۃً مِّنَّا مِنْم بَعْدِ ضَرَّآئَ مَسَّتْہُ } ”اور اگر اسے ہم اپنی رحمت کا مزہ چکھا دیں اس کے بعد کہ اسے کوئی تکلیف پہنچی تھی“ { لَیَقُوْلَنَّ ہٰذَا لِیْلا } ”تو وہ ضرور کہے گا کہ ہاں یہ تو میرا حق ہے“ سختی کا وقت گزر جانے کے بعد حالات بہتر ہوجانے پر وہ بڑے فخر سے دعوے کرے گا کہ میں نے اپنے ناخن تدبیر سے تمام عقدے حل کرلیے ہیں اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بالآخر میں نے اپنے تمام مسائل پر قابوپا لیا ہے۔ { وَمَآ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمَۃً } ”اور میں نہیں سمجھتا کہ یہ قیامت وغیرہ کوئی قائم ہونے والی شے ہے۔“ { وَّلَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰی رَبِّیْٓ } ”اور اگر مجھے لوٹا ہی دیا گیا میرے رب کی طرف“ یہ ہو بہو وہی الفاظ ہیں جو سورة الکہف کی آیت 36 میں ایک مالدار اور آسودہ حال شخص کے حوالے سے نقل ہوئے ہیں۔ ان دونوں مکالموں میں صرف رُدِدْتُ اور رُجِعْتُ کا فرق ہے۔ یہ جملہ دراصل ایک ایسے مادیت پسند انسان کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو دنیا کی زندگی کو ہی اصل زندگی سمجھتا ہے اور ہمہ تن اسی کی زیب وزینت میں گم ہے۔ ایسے شخص کو اگر کسی وقت آخرت کی فکر پریشان کرتی ہے تو وہ اس خیال سے خود کو تسلی دے لیتا ہے کہ قیامت برپا ہونے کی یہ تمام باتیں اوّل تو محض ایک ڈھکوسلا ہیں ‘ لیکن اگر بالفرض قیامت آ ہی گئی اور مجھے دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے حضور پیش ہونا ہی پڑا تو : { اِنَّ لِیْ عِنْدَہٗ لَلْحُسْنٰی } ”یقینا میرے لیے اس کے پاس بہتری ہی ہوگی۔“ اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں مجھے دولت اور عزت دی ہے ‘ اولاد عطا کی ہے اور طرح طرح کی دوسری نعمتوں سے بھی مجھے نواز رکھا ہے تو اس کا یہی مطلب تو ہے کہ میں اس کا منظورِ نظر ہوں اور وہ مجھ پر مہربان ہے۔ چناچہ اس زندگی کے بعد بھی اگر کوئی زندگی ہے تو میں وہاں بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ کا منظورِ نظر ہی رہوں گا ‘ وہ وہاں بھی مجھ پر اسی طرح مہربان رہے گا اور جس طرح میں یہاں اس دنیا میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہا ہوں وہاں بھی اسی طرح مزے اڑائوں گا۔ { فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا } ”تب ہم پوری طرح سے جتلادیں گے ان کافروں کو جو کچھ بھی اعمال انہوں نے کیے ہوں گے۔“ { وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ } ”اور انہیں ہم لازماً مزا چکھائیں گے بہت ہی گاڑھے عذاب کا۔“

فصلت 41:51

آیت 51{ وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِہٖ } ”اور جب ہم انسان پر نعمتوں کی بارش کردیتے ہیں تو وہ رخ پھیر لیتا ہے اور اپنا پہلو بدل لیتا ہے۔“ { وَاِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآئٍ عَرِیْضٍ } ”اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بڑی لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے۔“

فصلت 41:52

آیت 52{ قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ثُمَّ کَفَرْتُمْ بِہٖ } ”اے نبی ﷺ ! ان سے کہیے : کیا تم نے غور کیا کہ اگر یہ قرآن واقعی اللہ ہی کی طرف سے ہو ‘ پھر تم نے اس کا کفر کیا“ بیشک تم لوگ قرآن کو اللہ کا کلام ماننے کے لیے تیار نہیں ہو ‘ لیکن تھوڑی دیر کے لیے فرض کر لو کہ اگر یہ واقعی اللہ کا کلام ہو اور تم لوگ اس کے منکر ہو رہے ہو تو : { مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ ہُوَ فِیْ شِقَاقٍم بَعِیْدٍ } ”تو کون ہوگا اس سے بڑھ کر بھٹکا ہوا جو دور کی مخالفت میں پڑا ہو !“ یہ بالکل وہی اسلوب ہے جو اس سے پہلے سورة سبا کی اس آیت میں اختیار فرمایا گیا ہے : { قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُکُمْ بِوَاحِدَۃٍج اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰہِ مَثْنٰی وَفُرَادٰی ثُمَّ تَتَفَکَّرُوْاقف مَا بِصَاحِبِکُمْ مِّنْ جِنَّۃٍط } آیت 46 ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ میں تمہیں ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں ‘ یہ کہ تم کھڑے ہو جائو اللہ کے لیے دو دو ہو کر یا اکیلے اکیلے ‘ پھر غور کرو ‘ نہیں ہے تمہارے ساتھی کو جنون کا کوئی عارضہ۔“ اب یہاں آخری مرتبہ پھر قرآن مجید کا ذکر آ رہا ہے اور یہ استدلال ہمارے اس موجودہ سائنسی دور کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔

فصلت 41:53

آیت 53{ سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ } ”عنقریب ہم انہیں دکھائیں گے اپنی نشانیاں آفاق میں بھی اور ان کی اپنی جانوں کے اندر بھی“ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی جانوں اور زمین و آسمان کے اندر اللہ تعالیٰ کی نشانیاں مبرہن انداز میں ان لوگوں کے سامنے آتی چلی جائیں گی۔ { حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ } ”یہاں تک کہ ان پر واضح ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔“ اس آیت میں دراصل معلومات کے اس explosion کی طرف اشارہ ہے جو سائنسی ترقی کے باعث آج کے دور میں ممکن ہوا ہے۔ موجودہ دور سائنس کا دور ہے۔ اس دور کی تاریخ زیادہ سے زیادہ دو سو برس پرانی ہے اور سائنسی ترقی میں یہ برق رفتاری جو آج ہم دیکھ رہے ہیں اسے شروع ہوئے تو ابھی نصف صدی ہی ہوئی ہے۔ چناچہ پچھلی نصف صدی سے سائنسی ترقی کے سبب مسلسل حیرت انگیز انکشافات ہو رہے ہیں اور آئے روز نت نئی ایجادات سامنے آرہی ہیں۔ ان سائنسی معلومات کے اکتشافات اور حقائق کے بےنقاب ہونے سے بتدریج قرآن کا حق ہونا ثابت ہوتا چلا جا رہا ہے۔ دورئہ ترجمہ قرآن کے آغاز میں ”تعارفِ قرآن“ کے تحت اعجازِ قرآن کے مختلف پہلوئوں پر تفصیل سے گفتگو ہوچکی ہے۔ ان تمام پہلوئوں کا احصاء اور احاطہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ نزولِ قرآن کے وقت اعجازِ قرآن کے جس پہلو نے اہل ِعرب کو سب سے زیادہ متاثر بلکہ مسحور کیا تھا وہ اس کی فصاحت ‘ بلاغت اور ادبیت تھی۔ اس وقت قرآن نے عرب بھر کے شعراء ‘ خطباء اور فصحاء کو ان کے اپنے میدان میں چیلنج کیا کہ اگر تم لوگ دعویٰ کرتے ہو کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے تو تم اس جیسی ایک سورت بنا کر دکھائو۔ یہ چیلنج انہیں اس میدان میں دیا گیا تھا جس کے شہسوار ہونے پر انہیں خود اپنے اوپر ناز تھا اور جس کے نشیب و فراز کو وہ خوب اچھی طرح سے سمجھتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اس چیلنج کا جواب نہ دے سکے۔ نزولِ قرآن کے وقت عربوں کے ہاں چونکہ شاعری اور سخن وری و سخن فہمی کا بہت چرچا تھا اس لیے اس دور میں قرآن نے اپنے اسی ”اعجاز“ کو نمایاں کیا تھا۔ آج جبکہ سائنس کا دور ہے تو آج اعجازِ قرآن کے سائنسی پہلو کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ قرآن نے انسان کو کائنات میں بکھری ہوئی آیاتِ الٰہیہ کا مشاہدہ کرنے اور ان پر غور کرنے کی بار بار دعوت دی ہے ‘ لیکن ظاہر بات ہے کہ اس میدان میں چودہ سو سال پہلے کے مشاہدے اور آج کے مشاہدے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پرانے زمانے کا انسان کائنات کے عجائبات کو ننگی آنکھ سے دیکھتا تھا جبکہ آج کے انسان کو بہت بڑی بڑی ٹیلی سکوپس ‘ الیکٹرانک مائیکرو سکوپس اور نہ جانے کون کون سی سہولیات میسر ہیں۔ بہرحال آج خصوصی محنت اور کوشش سے یہ حقیقت دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے کہ جن حقائق تک سائنس آج پہنچ پا رہی ہے قرآن نے بنی نوع انسان کو چودہ صدیاں پہلے ان سے متعارف کر ادیا تھا۔ لیکن مقام افسوس ہے کہ ابھی تک کسی مسلمان اسکالر کو قرآن اور سائنسی معلومات کا تقابلی مطالعہ comparative study کرکے یہ ثابت کرنے کی توفیق نہیں ہوئی کہ اب تک کے تمام سائنسی انکشافات قرآن کی فراہم کردہ معلومات کے عین مطابق ہیں۔ حال ہی میں فرانسیسی سرجن ڈاکٹر موریس بوکائی [ Maurice Bucaile 1920- 1998 ] نے ”بائبل ‘ قرآن اور سائنس“ The Bible , The Quran and Science کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے ‘ جس میں اس نے ثابت کیا ہے کہ اب تک جو بھی سائنسی حقائق دنیا کے سامنے آئے ہیں وہ نہ صرف قرآن میں دی گئی تفصیلات کے عین مطابق ہیں بلکہ ان سب کے مطالعہ سے قرآن کی حقانیت بھی ثابت ہوتی ہے۔ اپنی اسی تحقیق کی بدولت موصوف سرجن کو ایمان کی دولت بھی نصیب ہوئی۔ قرآن کی بعض آیات تو اگرچہ آج بھی سائنسی حوالے سے تحقیق طلب ہیں ‘ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اب تک سامنے آنے والے سائنسی انکشافات کی روشنی میں قرآن کی متعلقہ آیات و عبارات کے مفاہیم و مطالب مزید نکھرکر سامنے آئے ہیں۔ بلکہ ایسا بھی ہوا ہے کہ قرآن کے بعض الفاظ کے جو معانی پرانے زمانے میں سمجھے گئے تھے وہ غلط ثابت ہوئے ہیں اور ان کی جگہ ان الفاظ کے زیادہ واضح اور زیادہ منطقی معانی سامنے آئے ہیں۔ مثلاً لفظ عَلَقَہ کا وہ مفہوم جو قبل ازیں سورة المومنون کی آیت 14 کے ضمن میں بیان ہوا ہے زیادہ بہتر اور درست ہے۔ اور لفظ ”فائدہ“ اور ”فواد“ کی وہ وضاحت جو سورة بنی اسرائیل کی آیت 36 کے تحت دی گئی ہے زیادہ واضح اور منطقی ہے۔ اسی طرح اجرام سماویہ کے بارے میں قرآنی الفاظ { وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ۔ } یٰسٓ کا وہ مفہوم جو آج کے انسان کو معلوم ہوا ہے وہ پرانے زمانے کے انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ‘ بلکہ انسانی تاریخ شاہد ہے کہ اجرامِ فلکی اور ان کی گردش سے متعلق مختلف زمانوں میں مختلف موقف اختیار کیے گئے۔ کسی زمانے میں انسان سمجھتا تھا کہ زمین ساکن ہے اور سورج حرکت میں ہے۔ پھر اسے یوں لگا جیسے سورج ساکن ہے اور زمین اس کے گرد گھومتی ہے۔ حتیٰ کہ آج کے انسان نے اپنی تحقیق و جستجو سے یہ ثابت کردیا کہ سچ یہی ہے : { وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ 4 } کہ یہ سب ہی اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ بلکہ کائنات کا ذرّہ ذرّہ متحرک ہے ‘ حتیٰ کہ ہر ایٹم atom کے اندر اس کے اجزاء الیکٹرانز ‘ پروٹانز اور نیوٹرانز بھی بےتابانہ مسلسل گردش میں ہیں۔ اقبالؔ نے اپنے اس شعر میں اسی حقیقت کی ترجمانی کی ہیـ: ؎ سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں ! موجودہ دور میں اگرچہ مسلمانوں کو قرآن اور سائنس کے حوالے سے خصوصی اہتمام کے ساتھ تحقیق و تدقیق کرنے کی ضرورت ہے ‘ لیکن ایسی کسی تحقیق کے دوران خواہ مخواہ تکلف کرنے اور زبردستی کھینچ تان کر کے قرآن کے دور ازکار مفاہیم نکالنے کی کوشش میں نہیں رہنا چاہیے۔ بلکہ جہاں پر عقلی اور سائنسی طور پر بات سمجھ میں نہ آئے وہاں تسلیم کرلینا چاہیے کہ ابھی بات واضح نہیں ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی یقین رکھنا چاہیے کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے : { کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاج } آل عمران : 7۔ ایک وقت ضرور آئے گا کہ جو بات آج واضح نہیں ہے وہ واضح ہوجائے گی ‘ اور خارج کی دنیا میں اس حوالے سے جو حقائق بھی منکشف ہوں گے وہ قرآن کے الفاظ کے عین مطابق ہوں گے۔ ان شاء اللہ ! البتہ جن سائنسی حقائق کی اب تک قرآن کے ساتھ مطابقت ثابت ہوچکی ہے انہیں عام کر کے قرآن کی حقانیت کے سائنٹفک ثبوت کے طور پر لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ آیت زیر مطالعہ میں فعل مضارع سَنُرِیْہِمْ سے پہلے ”س“ کی وجہ سے اس لفظ کے مفہوم میں خصوصی طور پر مستقبل کا مفہوم پیدا ہوگیا ہے۔ یعنی مستقبل میں ہم انہیں اپنی ایسی نشانیاں دکھائیں گے جن سے قرآن کی حقانیت واضح ہوجائے گی۔ اس ”مستقبل“ کا احاطہ کرنے کی کوشش میں اگر چشم تصور کو جنبش دی جائے تو اس کی حدود نزول قرآن کے دور کی فضائوں سے لے کر زمانہ قیامت کی دہلیز تک وسعت پذیر نظر آئیں گی۔ آج وقت کی شاہراہ پر انسانی علم کی برق رفتاری کا منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہر آنے والے دن کے ساتھ انسانی تحقیق کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ خلاء کی پہنائیوں کے راز اس کے سامنے ایک ایک کر کے بےنقاب ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ سمندروں کی اتھاہ گہرائیاں اس کی عمیق نظری کے سامنے سرنگوں ہیں۔ قطب شمالی Arctic اور قطب جنوبی Antarctic سمیت زمین کا چپہ چپہ ہر پہلو سے نت نئی تحقیق کی زد میں آچکا ہے۔ غرض سائنسی ترقی کا یہ ”جن“ کہکشائوں کی بلندیوں سے لے کر تحت الثریٰ ّکی گہرائیوں تک معلومات کے خزانے اکٹھے کر کے بنی نوع انسان کے قدموں میں ڈالتا چلا جا رہا ہے۔ لیکن الحمد للہ ! اس تحقیق کے ذریعے سے اب تک جو حقائق بھی سامنے آئے ہیں وہ سب کے سب قرآن کی حقانیت پر گواہ بنتے چلے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے علم و تحقیق کا یہ قافلہ وقت کی شاہراہ پر اپنا سفر قیامت تک جاری رکھے گا۔ ہمارا ایمان ہے کہ اس سفر کے دوران ایجادو دریافت کے میدان میں انسان کو جو کامیابیاں بھی نصیب ہوں گی اور انفس و آفاق کی دنیائوں کے جو جو راز بھی منکشف ہوں گے وہ سب کے سب بالآخر قرآن حکیم کی حقانیت پر مہر ِتصدیق ثبت کرتے چلے جائیں گے۔ { اَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَہِیْدٌ } ”کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ آپ کا ربّ ہرچیز پر گواہ ہے !“ کائنات کی ہرچیز اس کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ لیکن اس نے قرآن میں صرف اسی حد تک حقائق کا ذکر کیا ہے جس حد تک انسان انہیں سمجھ سکتا ہے اور اسی انداز میں ان کا ذکر کیا ہے جس انداز میں انسانی فہم و شعور کی رسائی ان تک ہوسکتی ہے۔ ظاہر ہے وہ حقائق جن تک آج کے انسان کی تدریجاً رسائی ہوئی ہے اگر وہ آج سے پندرہ سو سال پہلے من و عن بیان کردیے جاتے تو اس وقت انہیں کون سمجھ سکتا تھا۔

فصلت 41:54

آیت 54{ اَلَآ اِنَّہُمْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْ لِّقَآئِ رَبِّہِمْ } ”آگاہ ہو جائو ! یہ لوگ اپنے رب کے ساتھ ملاقات سے متعلق شک میں پڑے ہوئے ہیں۔“ { اَلَآ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیْئٍ مُّحِیْطٌ } ”آگاہ ہو جائو ! بیشک وہ ہرچیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔“

الشورى 42:1

آیت 1 { حٰمٓ۔ ”ح ‘ م۔“

الشورى 42:2

آیت 2 { عٓسٓقٓ۔ ”ع ‘ س ‘ ق۔“ سورة الشوریٰ قرآن کی ان دو سورتوں میں سے ایک ہے جن کے آغاز میں پانچ پانچ حروفِ مقطعات آئے ہیں ‘ لیکن اس زمرے میں بھی یہ سورت اس لحاظ سے منفرد و یکتا ہے کہ اس کے آغاز میں حروفِ مقطعات کی دو آیات ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر اس سورت سے بھی خصوصی نسبت ہے اور اس کی وجہ بھی سورة الحدید کے ساتھ میری نسبت ہی ہے۔ دراصل مضامین کے حوالے سے مدنی قرآن میں جو مقام سورة الحدید کا ہے بعینہٖ وہی مقام سورة الشوریٰ کا مکی قرآن میں ہے۔ سورة الشوریٰ حجم 53 آیات کے لحاظ سے سورة الحدید 29 آیات سے تقریباً دو گنا ہے ‘ اور مکی قرآن چونکہ حجم کے اعتبار سے مدنی قرآن سے دو گنا ہے اس لیے ان دونوں سورتوں کے مابین حجم کے اس تناسب سے بھی یہی لگتا ہے کہ مکی قرآن کے اندر سورة الشوریٰ گویا سورة الحدید کا بدل ہے۔

الشورى 42:3

آیت 3 { کَذٰلِکَ یُوْحِیْٓ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } ”اے نبی ﷺ ! اسی طرح وحی کرتا ہے آپ کی طرف اور ان کی طرف بھی کرتا رہا ہے جو آپ سے پہلے تھے وہ اللہ جو بہت زبردست ‘ بہت حکمت والا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے دراصل آپ ﷺ کے مخاطبین کو بتایا جارہا ہے کہ یہ مضامین جس طرح آپ ﷺ کی طرف وحی کیے جا رہے ہیں اسی طرح آپ ﷺ سے پہلے آنے والے انبیاء کرام علیہ السلام کو بھی وحی کیے جا چکے ہیں۔ کَذٰلِکَ میں وحدت مدعا کی طرف بھی اشارہ ہے اور طریقہ وحی کی یکسانیت کی طرف بھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و رسل علیہ السلام کو انہی باتوں کی تعلیم دی ہے جن کی تعلیم آپ ﷺ کو دی جا رہی ہے۔ اس کی وضاحت آگے آیت 13 میں آرہی ہے : { شَرَعَ لَـکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ …} نیز اس تعلیم کے لیے پہلے بھی یہی طریقہ اختیار فرمایا جو آپ ﷺ کے لیے اختیار فرمایا ہے ‘ یعنی وحی کا نزول۔ اس کی وضاحت آیت 51 میں آرہی ہے۔ مذکورہ آیت میں وحی کی اقسام کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کن کن طریقوں سے انسانوں پر وحی بھیجتا رہا ہے۔ وحی کی ان اقسام کا ذکر میں نے اپنے لیکچر ”تعارفِ قرآن“ میں بھی کیا ہے ‘ جو ”بیان القرآن“ حصہ اول میں بھی شامل ہے۔

الشورى 42:4

آیت 4 { لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ } ”اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور وہ بہت بلند وبالا ‘ بہت عظمت والا ہے۔“

الشورى 42:5

آیت 5 { تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِہِنَّ } ”قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں“ آسمان فرشتوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں۔ اتنے بڑے اجتماع کی وجہ سے آسمان پھٹنے کے قریب ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ آسمانوں میں کوئی ایک بالشت برابر بھی جگہ خالی نہیں کہ جہاں کوئی فرشتہ سربسجود نہ ہو یا قیام میں مصروف نہ ہو۔ سورة المدثر آیت 31 میں فرشتوں کی کثرت تعداد سے متعلق ان الفاظ میں اشارہ فرمایا گیا ہے : { وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَط } کہ آپ کے رب کے لشکروں کے بارے میں سوائے خود اس کے اور کوئی نہیں جانتا۔ { وَالْمَلٰٓئِکَۃُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ } ”اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور زمین میں جو اہل ایمان ہیں ان کے لیے استغفار کرتے ہیں۔“ سورة المومن آیت 7 میں بھی ہم پڑھ آئے ہیں کہ حاملین عرش اور ان کے ساتھی فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اہل ایمان کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعائیں کرتے ہیں۔ { اَلَآ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ } ”آگاہ ہو جائو ! یقینا اللہ ہی بخشنے والا ‘ رحم کرنے والا ہے۔“

الشورى 42:6

آیت 6 { وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ } ”اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے مددگار بنا رکھے ہیں“ { اللّٰہُ حَفِیْظٌ عَلَیْہِمْ وَمَآ اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِوَکِیْلٍ } ”اللہ ان پر نگران ہے ‘ اور اے نبی ﷺ ! آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔“ وہ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے دن وہ معبود ان کی شفاعت کریں گے اور ان کے ذریعے سے انہیں اللہ کا قرب حاصل ہوجائے گا ‘ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ ان کے سارے افعال کی نگرانی کر رہا ہے اور ان کا نامہ اعمال تیار ہو رہا ہے۔ ان کا محاسبہ اور مواخذہ کرنا اسی کا کام ہے۔

الشورى 42:7

آیت 7 { وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا } ”اور اسی طرح ہم نے وحی کیا ہے آپ کی طرف یہ قرآن عربی“ آیت 3 کی طرح یہاں پر بھی وحی کے ذکر کے ساتھ لفظ کَذٰلِکَ آیا ہے۔ اس کی وضاحت قبل ازیں کی جاچکی ہے۔ { لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی وَمَنْ حَوْلَہَا } ”تاکہ آپ خبردار کردیں بستیوں کے مرکز اور اس کے ارد گرد رہنے والوں کو“ بالکل یہی الفاظ سورة الانعام کی آیت 92 میں بھی آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی قوم پر اتمامِ حجت کرنے کا یہ وہی طریقہ اور اصول ہے جس کا ذکر سورة القصص کی آیت 59 میں اس طرح ہوا ہے : { وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّہَا رَسُوْلًا } ”اور نہیں ہے آپ کا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا ‘ جب تک کہ وہ ان کی مرکزی بستی میں کوئی رسول نہیں بھیجتا“۔ جزیرہ نمائے عرب کی ”اُمّ القری“ یعنی مرکزی بستی چونکہ مکہ ہے اس لیے مذکورہ اصول کے تحت اس مرکزی بستی میں نبی آخر الزماں ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا۔ بلکہ ایک اعتبار سے تو مکہ پوری دنیا کا ”اُمّ القریٰ“ ہے۔ اس لیے کہ حَوْلَ کے معنی اردگرد کے ہیں اور ”اردگرد“ کی حدود کسی خاص نقطے تک محدود نہیں کی جا سکتیں۔ چناچہ ایک مرکزی مقام کے ارد گرد کے دائرے کو اگر بڑھاتے جائیں تو یہ دائرہ پوری دنیا تک پھیل جائے گا۔ اس نکتے کی وضاحت اس سے پہلے سورة الانعام کی آیت 92 کے تحت بھی گزر چکی ہے۔ { وَتُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْہِ } ”اور آپ ﷺ خبردار کردیں اس جمع ہونے والے دن سے جس میں کوئی شک نہیں۔“ { فَرِیْقٌ فِی الْْجَنَّۃِ وَفَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ } ”اُس دن ایک گروہ جنت میں جائے گا اور ایک گروہ جہنم میں۔“

الشورى 42:8

آیت 8 { وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ لَجَعَلَہُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً } ”اور اگر اللہ چاہتا تو انہیں ایک ہی امت بنا دیتا“ اللہ ایسے بھی کرسکتا تھا کہ دنیا کے تمام انسان مومن ہوتے۔ { وَّلٰکِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآئُ فِیْ رَحْمَتِہٖ } ”لیکن اللہ داخل کرتا ہے اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے۔“ ان الفاظ کا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے : ”لیکن اللہ داخل کرتا ہے اپنی رحمت میں اس کو جو چاہتا ہے“۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت یا مغفرت اور جنت کی نعمتیں صرف اسی کو عطا کرتا ہے جو ان کی خواہش رکھتا ہو اور اپنی محنت کی صورت میں ان کی قیمت بھی ادا کرنے کو تیار ہو۔ اس حوالے سے سورة التوبہ کی آیت 111 کے یہ الفاظ بھی ہر اہل ِایمان کے پیش نظررہنے چاہئیں : { اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَط } ”یقینا اللہ نے خرید لی ہیں اہل ایمان سے ان کی جانیں بھی اور ان کے مال بھی اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے۔“ { وَالظّٰلِمُوْنَ مَا لَہُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ } ”اور جو ظالم کافر و مشرک ہوں گے ان کے لیے نہ کوئی حمایتی ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔“

الشورى 42:9

آیت 9 { اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ } ”کیا انہوں نے اللہ کے سوا کوئی اور حمایتی بنا لیے ہیں ؟“ یہاں پر پھر وہی بات دہرائی گئی ہے جو پیچھے ہم آیت 6 میں پڑھ آئے ہیں۔ { فَاللّٰہُ ہُوَ الْوَلِیُّ } ”سو حمایتی تو صرف اللہ ہی ہے“ اے کم عقلو ! اللہ کو چھوڑ کر تم کدھر بھٹک رہے ہو ؟ اصل حمایتی ‘ مددگار اور کارساز تو بس وہی ہے۔ اسی کو اپنا سہارا بنائو اور اسی کو اپنا ولی مانو ! اس حوالے سے سورة البقرۃ کی آیت 257 کے یہ الفاظ اہل ایمان کے لیے بہت بڑی خوشخبری کی حیثیت رکھتے ہیں : { اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ } ”اللہ ولی ہے اہل ایمان کا وہ انہیں گمراہیوں کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لاتا ہے۔“ { وَہُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰی وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ} ”اور وہی ہے جو زندہ کرے گا ُ مردوں کو ‘ اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔“

الشورى 42:10

آیت 10 { وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْہِ مِنْ شَیْئٍ فَحُکْمُہٗٓ اِلَی اللّٰہِ } ”اور جس بات میں بھی تم اختلاف کرو تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف ہے۔“ یعنی تمہارے مابین جو بھی اختلاف ہو اس کے فیصلے کا حق اللہ ہی کے پاس ہے۔ یہاں سے اس سورت کے ”مضمون خاص“ یعنی اقامت دین کی تمہید شروع ہو رہی ہے۔ چناچہ اس سلسلے میں پہلا نکتہ یہ بتایا گیا کہ اس کائنات کا اصل حاکم اللہ ہے اور حاکمیت صرف اور صرف اسی کے لیے ہے :Sovereignty belongs to HIM and HIM alone اس نکتے کو اقبالؔ نے یوں بیان کیا ہے : ؎سروری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہے حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آزری آیت کے ان الفاظ کے مفہوم کے مطابق انسانوں کے باہمی اختلافات کے فیصلوں کے لیے اللہ کا حکم آخری حکم کا درجہ رکھتا ہے اور اسی حقیقت کی تعمیل کا نام اللہ کی حاکمیت ہے۔ اگر کسی معاشرے کا پورا نظام اللہ کی حاکمیت کے تحت آجائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہاں اللہ کا دین قائم ہوگیا اور توحید بالفعل اس معاشرے میں نافذ ہوگئی۔ یعنی اللہ کی مرضی اور اس کے قانون کے مطابق باقاعدہ ایک حکومت قائم ہوجانے کا نام ”اقامت دین“ ہے ‘ جو زیر مطالعہ آیات کا مرکزی مضمون ہے۔ { ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبِّیْ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُق وَاِلَیْہِ اُنِیْبُ } ”وہ ہے اللہ میرا رب ‘ اسی پر میں نے ّتوکل کیا ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔“

الشورى 42:11

آیت 11 { فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا فرمانے والا ہے۔“ { جَعَلَ لَـکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا وَّمِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا } ”اس نے تمہاری ہی نوع سے تمہارے جوڑے بنادیے اور چوپایوں سے بھی جوڑے بنائے۔“ جان داروں کی ہر نوع species میں نر بھی ہیں اور مادہ بھی۔ { یَذْرَؤُکُمْ فِیْہِ } ”اسی میں وہ تمہاری افزائش کرتا ہے۔“ { لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ} ”اس کی مثال کی سی بھی کوئی شے نہیں۔“ اس کی ہستی بالکل یکتا absolutely unique ہے۔ یہ اپنی طرز کا ایک منفرد اور حساس ّموضوع ہے جس کے اظہار کے لیے خصوصی اسلوب درکار ہے۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری زبان میں مطلق نفی absolute negation کے لیے کوئی لفظ اور اسلوب ہے ہی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس جیسی کوئی شے نہیں یا اس کی مثال کی سی کوئی شے نہیں۔ لَا مِثْلَ لَـہٗ وَلَا مِثَالَ لَـہٗ ‘ وَلَا ضِدَّ لَہٗ وَلَا نِدَّ لَــہٗ۔ بہرحال یوں سمجھ لیں کہ اس مفہوم میں جتنے مترادفات چاہے استعمال کرلیے جائیں ‘ توحید کے اظہار وبیان کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ { وَہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ } ”اور وہی ہے سب کچھ سننے والا ‘ سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“

الشورى 42:12

آیت 12 { لَہٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی تمام کنجیاں۔“ { یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ } ”وہ کشادہ کردیتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ناپ تول کردیتا ہے۔“ { اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ} ”یقینا وہ ہرچیز کا جاننے والا ہے۔“ وہ خوب جانتا ہے کہ کس کے لیے رزق میں کشادگی بہتر ہے اور کس کو بقدر ِضرورت دینا مناسب ہے۔ اگلی آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں ”اقامت دین“ کی اصطلاح آئی ہے۔ اس لحاظ سے یہ آیت اس سورت کا عمود ہے اور اس مضمون کے اعتبار سے یہ مقام پورے قرآن میں ذروہ سنام climax کا درجہ رکھتا ہے۔

الشورى 42:13

آیت 13 { شَرَعَ لَـکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا } ”اے مسلمانو ! اللہ نے تمہارے لیے دین میں وہی کچھ مقرر کیا ہے جس کی وصیت اس نے نوح علیہ السلام کو کی تھی“ یہ براہ راست امت سے خطاب ہے۔ مکی سورتوں میں چونکہ عام طور پر اہل ایمان کو ”یٰٓــاَیُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا“ کے الفاظ سے براہ راست مخاطب نہیں کیا جاتا اس لیے یہاں جمع کا یہ صیغہ شَرَعَ لَـکُمْ استعمال فرمایا گیا ہے۔ مکی سورتوں میں اس حوالے سے ہمیں دوسرا اسلوب یہ بھی ملتا ہے کہ صیغہ واحد میں حضور ﷺ کو مخاطب کر کے اہل ِ ایمان کو پیغام پہنچایا جاتا ہے۔ { وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی } ”اور جس کی وحی ہم نے اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کی طرف کی ہے ‘ اور جس کی وصیت ہم نے کی تھی ابراہیم کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو“ { اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ } ”کہ قائم کرو دین کو۔“ اس آیت سے ایک تو یہ معلوم ہوا ہے کہ حضرات نوح ‘ ابراہیم ‘ موسیٰ ‘ عیسیٰ علیہ السلام اور محمد رسول اللہ ﷺ کا ‘ یعنی تمام پیغمبروں کا دین ایک ہی ہے۔ یہی مضمون سورة الانبیاء میں اس طرح آیا ہے : { اِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃًز وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ۔ } ”یقینا یہ تمہاری امت ‘ ایک ہی امت ہے اور میں تم سب کا رب ہوں ‘ لہٰذا تم لوگ میری ہی بندگی کرو“۔ یعنی تمام انبیاء ورسل علیہ السلام اور ان کی امتوں کا دین ایک ہی تھا۔ ان کے درمیان اگر کوئی فرق یا اختلاف تھا تو وہ شریعتوں میں تھا۔ دوسری اہم بات اس آیت میں یہ بیان کی گئی ہے کہ اقامت دین کا فریضہ ان تمام پیغمبروں کو سونپا گیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی قوم کو اس سلسلے میں جو حکم ملا تھا اس کا ذکر قرآن میں موجود ہے کہ تم لوگ ارض فلسطین کو فتح کرنے کے لیے جہاد کرو۔ ظاہر ہے اس خطہ پر قبضہ کرنے کا مقصد اللہ کے دین کو وہاں بالفعل نافذ کرنا تھا۔ چناچہ اقامت دین کی جدوجہد ماقبل امتوں پر بھی فرض تھی۔ بہر حال اَقِیْمُوا الدِّیْنَ کے حکم کا خلاصہ یہی ہے کہ زبان سے صرف عقیدئہ توحید کا اقرار کرلینا کافی نہیں بلکہ اس عقیدے کا رنگ اپنے اعمال پر بھی چڑھائو ‘ اور نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی طور پر اپنے معاشرے کی اعلیٰ ترین ریاستی اور حکومتی سطح پر اس کی تنفیذ و تعمیل کو یقینی بنائو۔ واضح رہے کہ مترجمین نے بالعموم { اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ } کا ترجمہ کیا ہے : ”کہ دین کو قائم رکھو !“ یہ بھی درست ہے ‘ کیونکہ اقامت دین کے حوالے سے کسی معاشرے میں دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ یا تو وہاں دین قائم ہے یا قائم نہیں ہے۔ چناچہ اس حکم کا منشاء یہ ہے کہ اگر دین پہلے قائم ہے تو اسے قائم رکھو اور اگر قائم نہیں ہے تو اسے قائم کرو۔ مثلاً خیمہ اگر کھڑ ا ہے تو اسے گرنے سے بچانا ہے اور اگر پہلے سے کھڑا نہیں ہے تو اسے کھڑا erect کرنا ہے۔ { وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ } ”اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔“ یعنی تم لوگ اپنے دین کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے نہ کردو۔ ایسانہ ہو کہ کسی ایک معاملے میں تو تم اللہ کا حکم مانو اور کسی دوسرے معاملے میں کسی اور کی خوشنودی کے طالب بن جائو۔ اسی رویے اور طریقے کو تفرقہ کہا جاتا ہے جس سے یہاں منع کیا جا رہا ہے۔ سورة الانعام : 159 کے الفاظ { اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ…} میں بھی ایسے ہی تفرقے کی طرف اشارہ ہے۔ البتہ فروعی مسائل میں ایک دوسرے کی رائے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے ‘ یہ تفرقہ نہیں ہے۔ مثلاً میں اگر رفع یدین کرتا ہوں اور میرے کئی ساتھی امام ابوحنیفہ رح کے موقف کو زیادہ صحیح سمجھتے ہوئے رفع یدین کے بغیر نماز پڑھتے ہیں تو ایسے اختلاف میں کوئی حرج نہیں ‘ جبکہ بنیادی طور پر دین میں تفریق یا تفرقے کا طرز عمل نہ اپنایا جائے اور اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے کہ حنفی ‘ مالکی ‘ شافعی ‘ حنبلی اور سلفی سب کے سب ایک ہی دین یعنی اسلام کے ماننے والے ہیں۔ اسی طرح مختلف پیغمبروں کی شریعتوں میں بھی اختلاف ہوسکتا ہے ‘ مثلاً اب شریعت ِمحمدی ﷺ کا زمانہ ہے ‘ اس سے پہلے شریعت موسوی علیہ السلام کا دور تھا اور اس سے پہلے کوئی اور شریعت تھی۔ لیکن یہ نکتہ بہر حال واضح رہنا چاہیے کہ تمام انبیاء و رسل علیہ السلام کا دین ایک ہی تھا یعنی اسلام۔ { کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ مَا تَدْعُوْہُمْ اِلَیْہِ } ”اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت بھاری ہے مشرکین پر یہ بات جس کی طرف آپ ان کو بلا رہے ہیں۔“ مشرکین کی زندگی تو اسی تفریق و تقسیم پر چل رہی ہے۔ وہ تو اس نظریی پر عمل پیرا ہیں کہ ”جو خدا کا ہے وہ خدا کو دو اور جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو“۔ ہمارے ہاں بھی ایسی ہی تقسیم پر دنیا کے معاملات چل رہے ہیں کہ جو حکومت کا حق ہے وہ حکومت کو دو اور جو مولوی کا حق ہے وہ مولوی کو دو۔ اور فرض کریں اگر علماء بھی اس تقسیم پر راضی ہوجائیں کہ چلیں ہمارا کام تو چل ہی رہا ہے تو ایسی صورت حال میں دین کی تو گویا نفی ہوجائے گی ‘ کیونکہ دین تو اللہ کی ُ کلی ّاطاعت کا نام ہے۔ چناچہ جس کسی نے بھی دین میں کسی ایسی تفریق یا تقسیم پر اپنے دل کو مطمئن کرلیا اس کا گویا اللہ سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں رہا۔ چناچہ مشرکین جو اللہ اور بتوں کے درمیاں اپنے ”دین“ کی تقسیم پر مطمئن ہیں انہیں توحید خالص کی دعوت بری تو لگے گی۔ مشرکین کے اس بغض وعناد کا ذکر سورة التوبہ : 33 اور سورة الصف : 9 میں اس طرح ہوا ہے : { ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖلا وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ 4 } ”وہی تو ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو الہدیٰ اور دین حق دے کرتا کہ غالب کرے اسے ُ کل کے کل دین نظامِ زندگی پر ‘ خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار گزرے“۔ ظاہر ہے نظام توحید کے قیام اور دین حق کے غلبے کی صورت میں مشرکین کے دلوں میں کڑھن تو بہت ہوگی ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے تو اپنے رسول ﷺ کو بھیجا ہی اسی لیے ہے کہ وہ اللہ کے دین کو پورے نظام زندگی پر غالب کر دے۔ { اَللّٰہُ یَجْتَبِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ یَّشَآئُ } ”اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی طرف آنے کے لیے ُ چن لیتا ہے“ یہ اللہ کی شان عطا ہے کہ کبھی کبھی وہ کسی راہ چلتے مسافر کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ صوفیاء کے ہاں اس حوالے سے ”سالک مجذوب“ اور ”مجذوب سالک“ کی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ ”سالک مجذوب“ اللہ کے وہ مقرب بندے ہیں جو ”سلوک“ کی کئی کئی کٹھن منازل طے کر کے قرب و جذب کے مقام تک رسائی حاصل کر پاتے ہیں۔ ”صدیقین“ عام طور پر محنت و ریاضت کے اسی راستے سے مقام قرب تک پہنچتے ہیں۔ ان کے برعکس ”مجذوب سالک“ وہ خوش نصیب لوگ ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کسی خاص موقع پر بلا تمہید اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ ایسے لوگ ”مقامِ قرب“ پر فائز ہوجانے کے بعد منازلِ سلوک طے کرتے ہیں اور یہ مقام و مرتبہ اکثر و بیشتر ”شہداء“ کے حصے میں آتا ہے۔ حضرت عمر رض کو اللہ تعالیٰ نے اسی طرح اپنی طرف کھینچ لیا تھا ‘ ورنہ اس ”حسین اتفاق“ سے پہلے نہ تو آپ رض کا مزاج اس ”مقامِ شوق“ سے کچھ مطابقت رکھتا تھا اور نہ ہی آپ رض کے معمولات ومشاغل میں ایسے کسی ”رجحان“ کا رنگ پایا جاتا تھا۔ صدیقین اور شہداء کے اصطلاحی مفہوم کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورة مریم : 41 کی تشریح۔ { وَیَہْدِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ یُّنِیْبُ } ”اور وہ اپنی طرف ہدایت اسے دیتا ہے جو خود رجوع کرتا ہے۔“

الشورى 42:14

آیت 14 { وَمَا تَفَرَّقُوْٓا اِلَّا مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ ہُمُ الْعِلْمُ بَغْیًام بَیْنَہُمْ } ”اور انہوں نے تفرقہ نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آچکا تھا ‘ آپس میں ضدم ّضدا کے باعث۔“ عرب میں حضور ﷺ کی دعوت ِاقامت ِدین کے مخاطبین بنیادی طور پر دو گروہ تھے ‘ یعنی مشرکین اور اہل کتاب۔ ان میں مشرکین کا تو اس دعوت کو ماننا بہت مشکل تھا اور یہ تلخ حقیقت پچھلی آیت میں واضح بھی کردی گئی ہے کہ آپ ﷺ کی یہ دعوت مشرکین پر بہت شاق گزر رہی ہے۔ البتہ اہل کتاب کا اس دعوت پر ایمان لے آنا نسبتاً زیادہ قرین قیاس تھا ‘ کیونکہ وہ تورات و انجیل جیسی الہامی کتابوں سے واقف تھے اور وحی ‘ ملائکہ اور آخرت پر بھی ایمان رکھتے تھے۔ لیکن زیر مطالعہ آیت میں حضور ﷺ کو بتایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ اہل کتاب سے بھی مثبت رد عمل کی توقع نہ رکھیں۔ کیونکہ ان دونوں گروہوں کی طرف سے اب تک کی مخالفت کسی لاعلمی کی وجہ سے نہیں ہوئی ہے ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کا اصل پیغام تو ان تک پہنچ چکا ہے ‘ بات پوری طرح واضح ہو کر ان کے دلوں میں اترچکی ہے۔ اس صورت حال میں ان کا انکار اور ان کی مخالفت محض باہمی تعصب اور ضد بازی کی بنا پر ہے ‘ کہ ہم محمد ﷺ کے پیروکار بن کر انہیں خود سے بڑا کیونکر تسلیم کرلیں اور اپنے آپ کو ان ﷺ کے سامنے چھوٹا کیسے بنا لیں ؟ اہل کتاب خود آپس میں بھی ایک دوسرے کی مخالفت اسی تعصب کی بنیاد پر کرتے ہیں ‘ جس کا ذکر سورة البقرۃ میں اس طرح آیا ہے : { وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰی عَلٰی شَیْئٍص وَّقَالَتِ النَّصٰرٰی لَیْسَتِ الْیَہُوْدُ عَلٰی شَیْئٍ لا وَّہُمْ یَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ } آیت 133 ”یہودی کہتے ہیں کہ نصاریٰ کسی بنیاد پر نہیں ہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہودی کسی بنیاد پر نہیں ہیں ‘ حالانکہ دونوں ہی کتاب پڑھ رہے ہیں۔“ عہدنامہ قدیم Old Testament یہودیوں اور عیسائیوں میں مشترک ہے۔ اس کے باوجود ان کی باہمی مخاصمت کا یہ عالم َہے کہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کو بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یروشلم کی ”سمت“ پر اگرچہ دونوں گروہوں کا اتفاق ہے ‘ لیکن باہمی عناد کی بنا پر ایک گروہ شرقی حصے کو قبلہ مانتا ہے جبکہ دوسرا غربی حصے کو۔ اس صورت حال میں حضور ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ تعصب کے مرض میں مبتلا ہیں ‘ اس لیے آپ ﷺ ان میں سے کسی گروہ سے کسی مثبت رویے کی توقع نہ رکھیں ‘ ورنہ آپ ﷺ کو مایوسی ہوگی۔ بلکہ آپ ﷺ ان کی طرف سے انتہائی سخت اور منفی ردعمل کے لیے خود کو تیار کھیں۔ اس میں دراصل حضور ﷺ کے لیے بین السطور یہ پیغام بھی ہے کہ اقامت دین کی جدوجہد ایک طویل اور جاں گداز عمل ہے۔ اس لیے آپ ﷺ موافق حالات اور جلد کامیابی کی توقع نہ رکھیں۔ { وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی لَّقُضِیَ بَیْنَہُمْ } ”اور اگر ایک بات آپ کے رب کی طرف سے پہلے سے ایک وقت معین کے لیے طے نہ پا چکی ہوتی تو ان کے مابین اختلافات کا فیصلہ چکا دیا جاتا۔“ { وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْکِتٰبَ مِنْ بَعْدِہِمْ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مُرِیْبٍ } ”اور جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے ان کے بعد وہ اس کے متعلق ایک خلجان آمیز شک میں مبتلا ہیں۔“ یہ نکتہ خاص طور پر بہت اہم اور لائق توجہ ہے کہ ”وارثانِ کتاب“ کے اذہان وقلوب میں الجھن میں ڈالنے والے شکوک و شبہات کیوں ڈیرے جما لیتے ہیں ؟ دراصل ہوتا یوں ہے کہ شروع شروع میں سب معاملات بالکل ٹھیک چلتے رہتے ہیں ‘ مگر چوتھی پانچویں نسل تک آتے آتے معاملات اس وقت بگڑنے لگتے ہیں جب نوجوان اپنے علماء کو باہم دست و گریباں ہوتے دیکھتے ہیں اور ان کے دامن حیات کو متاع عمل سے خالی پاتے ہیں۔ ایسی صورت حال سے بیزار ہو کر علماء کے ساتھ ساتھ وہ اپنی ”کتاب“ سے بھی بدظن ہونے لگتے ہیں۔ یہ نوجوان خود تو کتاب کے علوم و معارف تک رسائی حاصل کرنے کی زحمت نہیں اٹھاتے لیکن اس مفروضے کو اپنے دلوں میں ضرور بٹھا لیتے ہیں کہ جب کتاب کے ”علماء“ کے کردار و عمل میں روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی کوئی روشنی اس کتاب کے اندر سرے سے موجود ہی نہیں۔

الشورى 42:15

آیت 15 { فَلِذٰلِکَ فَادْعُ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ اسی کی دعوت دیتے رہیے“ یہاں ذٰلِکَ کا اشارہ اوپر آیت 13 میں اَقِیْمُوا الدِّیْنَ کے حکم کی طرف ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو اقامت دین کی جدوجہد کے لیے مسلسل دعوت دیتے رہیے۔ { وَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ } ”اور جمے رہیے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے“ آپ ﷺ کی رسالت کا مقصد اور مشن ہی چونکہ اقامت دین ہے ‘ اس لیے آپ ﷺ غلبہ حق کی جدوجہد کی اس راہ میں پوری استقامت اور تندہی کے ساتھ کھڑے رہیں۔ آپ ﷺ کے مخالفین تو چاہیں گے کہ آپ ﷺ کچھ نرم پڑنے کو تیار ہوں تو وہ بھی نرم پڑجائیں : { وَدُّوْا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُوْنَ۔ القلم۔ مگر آپ ہماری ہدایت و مشیت کے مطابق اپنے موقف پر جم کر کھڑے رہیں اور اس سفر میں کسی بھی موڑ پر کسی حال میں ‘ کبھی کوئی سمجھوتہ compromise نہ کریں : { وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْقف فَمَنْ شَآئَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآئَ فَلْیَکْفُرْ } الکہف : 29 ”اور آپ ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے ‘ تو اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔“ { وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَآئَ ہُمْ } ”اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے۔“ یہی بات پانچ چھ سال بعد سورة البقرۃ کے اندر ان الفاظ میں پھر سے دہرائی گئی : { وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلاَ النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتّبِعَ مِلَّتَہُمْط } آیت 120 ”اے نبی ﷺ ! یہ یہودی اور نصرانی آپ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ﷺ ان کے طریقے کی پیروی نہ کریں“۔ پرانے نظام کے ساتھ تو ان لوگوں کے مفادات وابستہ ہیں ‘ آپ ﷺ کی دعوت کو آگے بڑھتا دیکھ کر انہیں اپنی سیادتیں اور چودھراہٹیں خطرے میں نظر آرہی ہیں۔ وہ تو چاہیں گے کہ آپ ﷺ ان کے پیچھے چلیں اور ان کی لیڈر شپ قائم رہے۔ آج بھی اپنے اپنے مفادات کو بچانے کی روش اقامت دین کی جدو جہد میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آج بھی اگر اللہ کا کوئی بندہ اس دعوت کا علم َبلند کر کے مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ کا نعرہ لگاتا ہے تو اربابِ ُ جبہ ّو دستار کو اپنی مسندوں ‘ خانقاہوں اور گدیوں کا مستقبل خطرے میں نظر آنے لگتا ہے۔ چناچہ ان کے ”خاموش رد عمل“ سے ایسی جدوجہد کے َعلم برداروں کو یہ پیغام آپ سے آپ ہی موصول ہوجاتا ہے کہ ”ہم تمہارے پیچھے کیوں چلیں ‘ تم ہمارے پیچھے کیوں نہ چلو ؟“ یاد رہے کہ اپنے مضمون اقامت دین کے اعتبار سے زیر مطالعہ تین آیات 13 ‘ 14 اور 15 بہت اہم ہیں۔ { وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنْ کِتٰبٍ } ”اور آپ کہہ دیجیے کہ میں تو اس کتاب پر ایمان لایا ہوں جو اللہ نے نازل کی ہے۔“ قبل ازیں سورة حٰم السجدۃ میں دعوت کے حوالے سے قرآن کا چھ مرتبہ ذکر آچکا ہے۔ اب یہاں اس آیت میں سورة حٰم السجدۃ کے مضمون کا گویا خلاصہ آگیا ہے کہ دعوت چلے گی تو اس کتاب کے بل پر اور کسی کو استقامت نصیب ہوگی تو بھی اسی کتاب کے ذریعے سے۔ چناچہ اس کی تلاوت کو اپنا معمول بنائیے ‘ اس کے معانی و مفہوم کو دل میں اتارئیے اور دوسروں تک پہنچائیے۔ قرآن میں حضور ﷺ کو بھی بار بار اسی کی یاد دہانی کرائی گئی ہے : { اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ } العنکبوت : 45 ”تلاوت کرتے رہا کریں اس کی جو وحی کی گئی ہے آپ کی طرف کتاب میں سے۔“ { وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ } ”اور آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ مجھے حکم ہوا کہ میں تمہارے درمیان عدل قائم کروں۔“ آپ ﷺ ان پر واضح کردیجیے کہ میں صرف وعظ کہنے اور میٹھی میٹھی باتیں سنا کر لوگوں کا دل بہلانے کے لیے نہیں آیا ‘ بلکہ میں معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرنے اور نظام توحید کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لیے آیا ہوں۔ اس جملے کے حوالے سے ہمیں بہت واضح طور پر سمجھ لینا چاہیے کہ حضور ﷺ کا اصل مشن کیا تھا اور آپ ﷺ کے اتباع کے تقاضے پورے کرنے کے لیے آج ہمارے اوپر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ حضور ﷺ کے اتباع کے تقاضے میلاد کی محفلیں سجا لینے یا بڑے بڑے جلوس نکال لینے سے پورے نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے سب غلط کاریاں چھوڑ کر خود کو دین کے احکام کا پابند بنانا ہوگا اور پھر اپنے تن من دھن کے ساتھ عدل اجتماعی نظامِ توحید کو معاشرے میں قائم کرنے کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی صف میں شامل ہونا ہوگا۔ حضرت ابوبکر رض نے خلیفہ بننے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں دراصل حضور ﷺ کے اتباع کے اسی تقاضے { وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ } کے حوالے سے یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا تھا : لوگو ! تم میں سے ہر کمزور شخص میرے نزدیک طاقتور ہوگا جب تک کہ میں اسے اس کا حق نہ دلوا دوں اور تم میں سے ہر قوی شخص میرے نزدیک کمزور ہوگا جب تک کہ میں اس سے حق دار کا حق وصول نہ کرلوں۔ { اَللّٰہُ رَبُّنَا وَرَبُّکُمْ لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ } ”اللہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ‘ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں۔“ { لَا حُجَّۃَ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اَللّٰہُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا } ”ہمارے درمیان کسی حجت بازی کی ضرورت نہیں ‘ اللہ ہمیں جمع کر دے گا۔“ اللہ تعالیٰ یا تو ہمیں اسی دنیا میں اکٹھا کر دے گا اور اگر یہاں یہ ممکن نہ ہوا تو آخرت میں تو ہم اکٹھے ہو ہی جائیں گے۔ اس فقرے کا مفہوم سمجھنے کے لیے ان تنظیموں اور گروہوں کا تصور ذہن میں لائیے جو سب اخلاص اور نیک نیتی سے اقامت دین کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ظاہر ہے ان میں سے ہر جماعت کا اپنا منصوبہ اور اپنا طریقہ کار ہے۔ ان سب کی مثال دراصل منیٰ سے میدانِ عرفات جانے والے حجاج ّکے قافلوں جیسی ہے۔ جہاں لاکھوں لوگ ہزاروں قافلوں میں مختلف راستوں اور مختلف شاہراہوں پر گامزن ہوتے ہیں۔ ان کے راستے بیشک مختلف ہیں مگر منزل سب کی ایک ہے۔ یہ قافلے جیسے جیسے اپنی منزل کی طرف بڑھتے جاتے ہیں ویسے ویسے ان کے مابین فاصلہ کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ میدانِ عرفات میں پہنچ کر وہ سب ایک ہوجاتے ہیں۔ چناچہ اقامت دین کی جدوجہد کرنے والی مختلف جماعتیں اور تنظی میں جوں جوں اپنی منزل کی طرف بڑھیں گی ان کے باہمی اختلافات کم ہوتے چلے جائیں گے اور منزل مقصود پر پہنچ کر یہ سب اکٹھے ہوجائیں گے۔ اور اگر بالفرض وہ دنیا میں اکٹھے نہ ہو سکے تو بھی روز محشر تو سب اکٹھے ہوجائیں گے۔ چناچہ ان سب کو آپس میں تنقید کرنے کے بجائے زیر مطالعہ آیت کے الفاظ میں ایک دوسرے سے یوں کہنا چاہیے کہ دیکھو بھئی ہم سب اللہ کی رضا کے متلاشی ہیں۔ ہمارا رب بھی اللہ ہے اور تمہارا بھی۔ باقی جہاں تک ہمارے باہمی اختلاف کا تعلق ہے اس حوالے سے ہمیں آپس میں کوئی حجت بازی نہیں کرنی چاہیے۔ تم لوگ اپنی سوچ اور نظریے کے مطابق جدوجہد کرتے جائو ‘ ہم اپنے طریق کار اور لائحہ عمل کے مطابق کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم سب اپنی اپنی کوششوں کے لیے ماجورہوں گے۔ تم لوگوں کو تمہاری جدوجہد کا صلہ مل جائے گا اور ہم اپنی محنت کا پھل پالیں گے۔ لیکن چونکہ ہم سب اپنے مشن اور اپنی جدوجہد میں مخلص ہیں اس لیے آج نہیں تو کل ہم سب ایک ہوجائیں گے۔ اگر ہمارا طریق کار غلط ہوا تو ایک دن حقیقت ہم پر واضح ہوجائے گی اور ہم رجوع کرلیں گے اور اگر آپ لوگوں کے لائحہ عمل میں کوئی کمی ہوئی تو کبھی نہ کبھی آپ کو بھی وہ نظر آہی جائے گی اور آپ بھی ضرور اس کی تلافی کرلیں گے ‘ اِن شاء اللہ ! { وَاِلَـیْہِ الْمَصِیْرُ } ”اور اسی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔“ وہاں اللہ کی عدالت میں سب انسان اکٹھے کھڑے ہوں گے اور وہاں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

الشورى 42:16

آیت 16{ وَالَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰہِ مِنْم بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَہٗ } ”اور وہ لوگ جو اللہ کے بارے میں حجت بازی میں لگے رہے ‘ اس کے بعد کہ اس کی دعوت پر لبیک کہہ دی گئی ہے“ یعنی اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ تو روز اوّل ہی سے استقامت کے پہاڑ بنے کھڑے ہیں اور اب تو انتظار ہے وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ کے قافلے کا کہ ہر طرف سے لوگ جوق درجوق اور فوج در فوج دین میں داخل ہوں۔ لیکن جو لوگ اب بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہے اور ہٹ دھرمی کی اپنی پرانی مسندیں سنبھالے حجت بازی کیے جا رہے ہیں : { حُجَّتُھُمْ دَاحِضَۃٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ } ”ان کی حجت بازی ان کے رب کے نزدیک بالکل پسپا ہے“ { وَعَلَیْہِمْ غَضَبٌ وَّلَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ } ”اور ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بہت سخت عذاب بھی ہے۔“

الشورى 42:17

آیت 17 { اََللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِیْزَانَ } ”اللہ ہی ہے جس نے اتاری ہے کتاب بھی اور میزان بھی حق کے ساتھ۔“ قرآن میں صرف دو ہی مقامات ایسے ہیں جہاں کتاب اور میزان کے الفاظ ایک ساتھ اکٹھے آئے ہیں۔ ایک تو آیت زیر مطالعہ اور دوسری سورة الحدید کی یہ آیت : { لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِج…} آیت 25 ”ہم نے بھیجے اپنے رسول واضح دلیلوں کے ساتھ اور ہم نے نازل کی ان کے ساتھ کتاب اور میزان تاکہ قائم رہیں لوگ عدل پر“۔ میزان دراصل دین حق کے عملی نظام کا نام ہے۔ اس کو یوں سمجھئے کہ ”کتاب“ ہر ایک کا حق مقرر کرتی ہے اور ”میزان“ ناپ تول کر کے یہ حق حقدار کو دیتی ہے۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ کے ان الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے تمہیں دین بھی دیا ہے اور نظام بھی۔ اگر نظام نہ ہوتا تو دین کے مطابق فیصلے کیسے ہوتے اور پھر ان فیصلوں پر عمل درآمد کیونکر ہوتا ؟ { وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیْبٌ } ”اور تمہیں کیا معلوم کہ قیامت قریب ہی ہو !“ ”السَّاعۃ“ سے مراد قیامت کی گھڑی ہے ‘ اگرچہ انفرادی سطح پر دیکھا جائے تو ہر شخص کی موت ہی گویا اس کی قیامت ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آتا ہے : مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُـہٗ 1 ”جس کو موت آگئی پس اس کی قیامت تو قائم ہوگئی“۔ مقامِ غور ہے کہ اس حوالے سے ہمیں کس قدر مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ ایک طرف ہم میں سے ہر ایک کی ”قیامت“ اس کے سر پر کھڑی ہے اور دوسری طرف اللہ کی ”میزان“ کو نصب کرنے کی بھاری ذمہ داری ہے جو ہم سب کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔ اب اگر ہم نے ابھی اور اسی وقت اس ذمہ داری کا احساس نہ کیا اور اس کے لیے فوری طور پر ہم اپنا تن من دھن لگا دینے کے لیے میدانِ عمل میں نہ اترے تو نہ معلوم ہم میں سے کس کس کی مہلت ِعمل کچھ کیے بغیر ہی ختم ہوجائے۔ آج ہم میں سے کون کہہ سکتا ہے کہ اسے کل کا سورج بھی دیکھنا نصیب ہوگا یا نہیں ! اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم مزید وقت ضائع کیے بغیر اس ِجدوجہد ّمیں جت جائیں۔ اس فیصلے کے لیے تاخیر اور تاجیل میں وقت ضائع کرنا سب سے بڑی حماقت ہے :

الشورى 42:18

آیت 18 { یَسْتَعْجِلُ بِہَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِہَا } ”اس قیامت کے لیے جلدی تو وہی مچا رہے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے۔“ { وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْہَا وَیَعْلَمُوْنَ اَنَّہَا الْحَقُّ } ”اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں وہ تو اس سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ وہ حق ہے۔“ قیامت کے تصور سے اللہ کے مقرب بندوں کے خوف کی کیفیت کا ذکر سورة النور میں یوں آیا ہے : { یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ۔ } ”وہ لرزاں و ترساں رہتے ہیں اس دن کے تصور سے جس دن الٹ جائیں گے دل اور نگاہیں۔“ { اَلَآ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَۃِ لَفِیْ ضَلٰلٍم بَعِیْدٍ } ”آگاہ ہو جائو جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں ‘ وہ بڑی دور کی گمراہی میں پڑچکے ہیں۔“

الشورى 42:19

آیت 19 { اَللّٰہُ لَطِیْفٌٌم بِعِبَادِہٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ } ”اللہ اپنے بندوں کے حق میں بہت مہربان ہے ‘ وہ رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔“ لفظ ”لَطِیْفٌ“ میں لطف و کرم اور شفقت و مہربانی کے علاوہ باریک بین ہونے کا مفہوم بھی ہے۔ یعنی وہ بڑی باریک بینی کے ساتھ ان کی دقیق ترین ضروریات پر بھی نگاہ رکھتا ہے۔ آیت زیر مطالعہ کے مندرجہ بالا الفاظ کو اقامت دین کی جدوجہد کے سیاق وسباق میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یعنی اقامت دین کی جدوجہد میں تمہیں یہ فکر نہیں ہونی چاہیے کہ ہم کھائیں گے کہاں سے ‘ پہنیں گے کیا اور ہماری دوسری ضروریات کیسے پوری ہوں گی ؟ اس حوالے سے قبل ازیں سورۃ العنکبوت ‘ آیت 60 کے ذیل میں متی کی انجیل سے حضرت مسیح علیہ السلام کے وعظ کا درج ذیل اقتباس ہم پڑھ چکے ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام اپنے شاگردوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :”تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کرسکتے۔ اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے ؟ اور نہ اپنے بدن کی کہ کیا پہنیں گے ؟ کیا جان خوراک سے اور بدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں ؟ ہوا کے پرندوں کو دیکھو نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے۔ نہ کو ٹھیوں میں جمع کرتے ہیں تو بھی تمہارا آسمانی باپ ان کو کھلاتا ہے۔ کیا تم ان سے زیادہ قدر نہیں رکھتے ؟ تم میں ایسا کون ہے جو فکر کرکے اپنی عمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے ؟ اور پوشاک کے لیے کیوں فکر کرتے ہو ؟ جنگلی سو سن کے درختوں کو غور سے دیکھو کہ وہ کس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے نہ کا تتے ہیں۔ تو بھی میں تم سے کہتا ہوں کہ سلیمان بھی باوجود اپنی ساری شان و شوکت کے ان میں سے کسی کے مانند ملبس ّنہ تھا۔ پس جب خدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے کل تنور میں جھونکی جائے گی ایسی پوشاک پہناتا ہے تو اے کم اعتقادو ‘ تم کو کیوں نہ پہنائے گا ؟ اس لیے فکر مند ہو کر یہ نہ کہو کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے یا کیا پہنیں گے ؟ کیونکہ ان سب چیزوں کی تلاش میں غیر قومیں رہتی ہیں اور تمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تم ان سب چیزوں کے محتاج ہو۔ بلکہ تم پہلے اس کی بادشاہی اور اس کی راست بازی کو تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تم کو مل جائیں گی۔ پس کل کے لیے فکر نہ کرو کیونکہ کل کا دن اپنے لیے آپ فکر کرلے گا۔ آج کے لیے آج ہی کا دکھ کافی ہے۔“ متی ‘ باب 6 : 25۔ 34 ‘ بحوالہ تدبر قرآن ‘ جلد پنجم ‘ ص 60 اس میں کیا شک ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کا رازق بھی ہے اور وہ اپنے بندوں کی ایک ایک حاجت سے باخبر اور ان کی ایک ایک خواہش سے آگاہ بھی ہے۔ آپ ایک دفعہ یکسو ہو کر فیصلہ تو کرو ‘ کہ اب اپنے آپ کو اس کام کے لیے وقف کردینا ہے۔ پھر دیکھنا اللہ تعالیٰ تمہاری ضروریات کا خیال کیسے رکھتا ہے۔ اس کا وعدہ ہے : { وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا۔ وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُط } الطلاق : 3 ”اور جو کوئی اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے تو وہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے ‘ اور وہ اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا“۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس راستے میں طرح طرح کی آزمائشوں اور سختیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ لیکن جب بندہ اس مرحلے میں بھی صبر و استقامت کے مظاہرے سے اپنی وفاداری اور یکسوئی ثابت کر دے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے لیے نئے نئے راستے کھول دیتا ہے اور ان راستوں پر چلنا اس کے لیے آسان کردیتا ہے۔ { وَہُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ } ”اور وہ تو بہت قوی ہے ‘ بہت زبردست ہے۔“

الشورى 42:20

آیت 20 { مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ نَزِدْ لَہٗ فِیْ حَرْثِہٖ } ”جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے تو ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اضافہ کردیتے ہیں۔“ اس مضمون کا کلائمکس سورة بنی اسرائیل میں بایں الفاظ بیان ہوا ہے : { مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَا لَہٗ فِیْہَا مَا نَشَآئُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَہٗ جَہَنَّمَج یَصْلٰـٹہَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا۔ ”جو کوئی طلب گار بنتا ہے جلدی والی دنیا کا ‘ ہم اس کو جلدی دے دیتے ہیں اس میں جو کچھ ہم چاہتے ہیں ‘ جس کے لیے چاہتے ہیں ‘ پھر ہم مقرر کردیتے ہیں اس کے لیے جہنم ‘ وہ داخل ہوگا اس میں ملامت زدہ ‘ دھتکارا ہوا۔“ { وَمَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْہَا وَمَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ نَّصِیْبٍ } ”اور جو کوئی دنیا کی کھیتی کا طالب بن جاتا ہے تو ہم اس کو اس میں سے کچھ دے دیتے ہیں ‘ اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔“

الشورى 42:21

آیت 21 { اَمْ لَہُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْم بِہِ اللّٰہُ } ”کیا ان کے کچھ ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کا کوئی ایسا راستہ طے کردیا ہو جس کا اذن اللہ نے نہیں دیا ؟“ شرک کے حوالے سے یہ نکتہ قرآن میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ مشرک لوگ جنہیں اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اللہ نے ان کے لیے نہ تو کوئی سند اتاری ہے اور نہ ہی کسی الہامی کتاب میں ان کے لیے کوئی دلیل موجود ہے۔ اس سورت کا عمود چونکہ نظام شریعت میزان سے متعلق ہے اس لیے یہاں شرک کا ابطال اس مضمون کی دلیل کے ساتھ بالکل منفرد انداز میں آیا ہے کہ اللہ نے تو اپنے بندوں کے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات نازل کیا ہے۔ تو ذرا یہ لوگ بھی بتائیں کہ ان کے معبودوں نے ان کے لیے زندگی میں کیا راہنمائی فراہم کی ہے ؟ کیا ان معبودوں نے بھی اپنے پجاریوں کو باقاعدہ کوئی کتاب دی ہے ؟ کیا لات ‘ منات اور ہبل نے بھی اپنے عقیدت مندوں کے لیے کوئی شریعت وضع کی ہے یا انہیں باقاعدہ کوئی نظام دیا ہے ؟ اور اگر ان نام نہاد معبودوں نے اپنا کوئی دین یا ضابطہ حیات اپنے ماننے والوں کو کبھی دیا ہی نہیں تو وہ کس حیثیت سے آخر معبود بنے بیٹھے ہیں ؟ اور ان کے پجاری آخر کس بنیاد پر ان کی پوجا کیے جا رہے ہیں ؟ { وَلَوْلَا کَلِمَۃُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ} ”اور اگر ایک قطعی حکم پہلے سے طے نہ ہوچکا ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا۔ اور ظالموں کے لیے تو بہت دردناک عذاب ہے۔

الشورى 42:22

آیت 22 { تَرَی الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا کَسَبُوْا } ”تم دیکھو گے ان ظالموں کو کہ وہ اپنے کرتوتوں کے سبب ڈر رہے ہوں گے“ قیامت کے دن کفار و مشرکین اپنے غلط عقائد اور برے اعمال کے سبب خوف زدہ ہوں گے۔ دراصل نیکی و بدی کے بارے میں انسان کا ضمیر بہت حساس ّہے : { بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ۔ القیامۃ ”بلکہ انسان اپنے نفس پر خود گواہ ہے“۔ یہ آیت بہت واضح انداز میں ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی ضمیر اپنے اندر کی گہرائیوں میں جھانک کر بغیر کسی مصلحت اور تعصب کے غلط اور درست کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چناچہ قیامت کے دن تمام غلط کار انسان اپنے اعمال کو دیکھتے ہوئے حساب و کتاب سے پہلے ہی خوف سے کانپ رہے ہوں گے۔ { وَہُوَ وَاقِعٌم بِہِمْْط } ”اور وہ ان کے اوپر پڑنے والا ہوگا۔“ ان کے عقائد و افعال کا وبال ان کے سروں پر گرنے والا ہوگا۔ لیکن دوسری طرف اہل ِایمان کی کیفیت اس کے برعکس ہوگی : { وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ } ”اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور اعمالِ صالحہ پر کاربند رہے وہ جنتوں کے باغات میں ہوں گے۔“ { لَہُمْ مَّا یَشَآئُ وْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْط ذٰلِکَ ہُوَ الْفَضْلُ الْکَبِیْرُ } ”ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے۔ یہی ان کے لیے بہت بڑی فضیلت ہوگی۔“

الشورى 42:23

آیت 23 { ذٰلِکَ الَّذِیْ یُـبَشِّرُ اللّٰہُ عِبَادَہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ } ”یہ ہے وہ انجامِ نیک جس کی بشارت دے رہا ہے اللہ اپنے ان بندوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے۔“ { قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا“ میں سالہا سال سے تم تک یہ پیغام پہنچانے کا فریضہ انجام دے رہا ہوں مگر میں نے کبھی تم لوگوں سے اس کا کوئی صلہ یا انعام طلب نہیں کیا۔ { اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْْقُرْبٰی } ”سوائے قرابت داری کے لحاظ کے۔“ اہل ِتشیع نے ان الفاظ کا یہ مطلب نکال لیا ہے کہ حضور ﷺ کی طرف سے اپنے قرابت داروں حضرت علی ‘ حضرت فاطمہ اور حسنین رض سے محبت کا تقاضا کیا گیا ہے۔ لیکن جس وقت مکہ معظمہ میں سورة الشوریٰ نازل ہوئی اس وقت حضرت علی و فاطمہ رض کی شادی تک نہیں ہوئی تھی۔ سیاق وسباق میں اس آیت کا درست اور منطقی مفہوم یہ ہے کہ میں تم لوگوں سے کسی اور صلے کا تقاضا نہیں کرتا ‘ لیکن یہ ضرور چاہتا ہوں کہ تم لوگ یعنی قریش اس قرابت داری کا تو لحاظ کرو جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔ آخر میں تمہارے قبیلے اور تمہاری برادری کا ایک فرد ہوں اور عرب روایات کے مطابق اس تعلق اور قرابت کے خصوصی حقوق متعین ہیں۔ چناچہ عرب تہذیب و روایات کے مطابق تمہاری شرافت و نجابت سے مجھے یہ توقع تھی کہ تم لوگ میرے معاملے میں قرابت داری کے فطری تقاضوں کا لحاظ رکھو گے ‘ لیکن مقام افسوس ہے کہ تم لوگوں نے ِضدم ّضدا میں ان تمام تقاضوں کو بھی بالائے طاق رکھ دیا ہے اور قرابت داری کے میرے فطری اور بنیادی حقوق کو بھی نظر انداز کردیا ہے۔ { وَمَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَۃً نَّزِدْ لَہٗ فِیْہَا حُسْنًا اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ شَکُوْرٌ} ”اور جو کوئی بھلائی کمائے گا تو ہم اس کے لیے اس میں بھلائی کا اضافہ کرتے رہیں گے۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا ‘ بہت قدردان ہے۔“

الشورى 42:24

آیت 24 { اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا } ”کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اللہ کے اوپر جھوٹ گھڑلیا ہے ؟“ یعنی یہ کہ محمد ﷺ نے قرآن خود بنا کر اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے۔ { فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰہُ یَخْتِمْ عَلٰی قَلْبِکَ } ”تو اگر اللہ چاہے تو آپ کے قلب پر مہر لگا دے۔“ یہ خطاب بظاہر محمد رسول اللہ ﷺ سے ہے لیکن اصل میں مخالفین کو سنانا مقصود ہے کہ یہ قرآن وحی کی صورت میں محمد ﷺ کے قلب پر نازل ہو رہا ہے۔ یہ خالص ایک وہبی صلاحیت ہے اور آپ ﷺ کو اس بارے میں ہرگز کوئی اختیار نہیں ہے۔ کجا یہ کہ آپ ﷺ خود اس کو گھڑیں یا تصنیف کریں۔ چناچہ اگر اللہ چاہے تو یہ صلاحیت آپ ﷺ سے واپس لے کر آپ ﷺ کے قلب پر مہر کر دے اور آپ ﷺ پر وحی آنا بند ہوجائے۔ سورة بنی اسرائیل میں یہی مضمون اس طرح آیا ہے : { وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْہَبَنَّ بِالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ثُمَّ لاَ تَجِدُ لَکَ بِہٖ عَلَیْنَا وَکِیْلاً۔ } ”اور اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر ہم چاہیں تو لے جائیں اس قرآن کو جو ہم نے وحی کیا ہے آپ کی طرف ‘ پھر آپ نہ پائیں گے اپنے لیے اس پر ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار۔“ { وَیَمْحُ اللّٰہُ الْبَاطِلَ وَیُحِقُّ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ } ”اور اللہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کا حق ہونا ثابت کردیتا ہے اپنے کلمات سے۔“ یہ اللہ کی سنت اور اس کا اٹل قانون ہے ‘ لیکن اس کے ظہور میں اللہ کی مشیت کے مطابق وقت لگتا ہے۔ جیسے حضور ﷺ کی دعوت کے حوالے سے اللہ کی اس سنت کا ظہور پہلی دفعہ غزوئہ بدر کے میدان میں اس وقت عمل میں آیا جبکہ دعوت کو شروع ہوئے چودہ برس گزر چکے تھے۔ چناچہ غزوئہ بدر کے ذریعے حق و باطل کے مابین فرق کو واضح اور مبرہن کر کے نہ صرف یوم بدرکو یوم الفرقان الانفال : 41 قرار دیا گیا بلکہ اس غزوہ کا بنیادی مقصد بھی احقاقِ حق اور ابطالِ باطل ہی بتایا گیا : { لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ کَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ } الانفال ”تاکہ سچا ثابت کر دے حق کو اور جھوٹاثابت کر دے باطل کو ‘ خواہ یہ مجرموں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔“ { اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ } ”یقینا وہ واقف ہے اس سے بھی جو کچھ سینوں کے اندر پوشیدہ ہے۔

الشورى 42:25

آیت 25 { وَہُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَیَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْن } ”اور وہی ہے کہ جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور ان کی بہت سی برائیوں سے درگزر کرتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔“

الشورى 42:26

آیت 26 { وَیَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَیَزِیْدُہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ } ”اور وہ دعائیں قبول کرتا ہے ان لوگوں کی جو ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں اور اپنے فضل سے انہیں ایمان واعمالِ صالحہ میں ترقی بھی دیتا ہے۔“ { وَالْکٰفِرُوْنَ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ} ”اور کافروں کے لیے بہت سخت عذاب ہے۔“

الشورى 42:27

آیت 27 { وَلَوْ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ } ”اور اگر اللہ کشادہ کردیتا رزق اپنے سب بندوں کے لیے تو وہ زمین میں سرکشی کرتے“ یقینا اللہ کے خزانے بہت وسیع ہیں ‘ لیکن اگر وہ ان خزانوں کو سب کے لیے کھول دیتا اور ہر کسی کو اس کی خواہش اور مرضی کے مطابق با فراغت اور با سہولت رزق ملنا شروع ہوجاتا تو انسانوں کی اکثریت اللہ سے سرکشی پر اتر آتی۔ کیونکہ اب جب کہ دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے دن رات مشقت میں جتے رہنے کے باوجود بھی ان میں سے اکثر اللہ کے نافرمان ہیں تو فکر معاش سے فراغت تو ان کو بالکل ہی باغی بنا دیتی۔ { وَلٰکِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآئُ اِنَّہٗ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرٌ بَصِیْرٌ} ”لیکن اللہ نازل کرتا ہے ایک اندازے کے مطابق جو چاہتا ہے۔ یقینا وہ اپنے بندوں کے حالات سے باخبر ‘ ان کو دیکھنے والا ہے۔“

الشورى 42:28

آیت 28 { وَہُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْم بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَیَنْشُرُ رَحْمَتَہٗ } ”اور وہی ہے جو بارش برساتا ہے اس کے بعد کہ لوگ مایوس ہوچکے ہوتے ہیں اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے۔“ خشک سالی میں فصلوں کی آبیاری کا وقت ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر جب کسانوں کے دلوں میں مایوسی کے سائے گہرے ہونے لگتے ہیں تو اچانک اللہ کی رحمت کا ظہور ہوتا ہے اور بادل بارش کی نوید لے کر پہنچ جاتے ہیں۔ { وَہُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ } ”اور وہی ہے جو اپنے بندوں کا مددگار ہے اور وہ اپنی ذات میں آپ ستودہ صفات ہے۔“

الشورى 42:29

آیت 29 { وَمِنْ اٰیٰتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَثَّ فِیْہِمَا مِنْ دَآبَّۃٍ } ”اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور ان دونوں میں اس نے جو جان دار پھیلادیے ہیں۔“ یعنی آسمانوں میں فرشتے جبکہ زمین اور اس کی فضا میں موجود بیشمار مخلوقات اس کی نشانیوں میں سے ہیں۔ { وَہُوَ عَلٰی جَمْعِہِمْ اِذَا یَشَآئُ قَدِیْرٌ} ”اور وہ جب چاہے ان سب کو جمع کرنے پر قادر ہے۔“ اس نے اپنی مرضی اور مشیت سے ان سب کو زمین و آسمان کی وسعتوں میں پھیلا رکھا ہے۔ البتہ جب وہ چاہے گا ان سب کو اپنے حضور حاضر کرلے گا۔

الشورى 42:30

آیت 30 { وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ } ”اور تم پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ درحقیقت تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی اعمال کے سبب آتی ہے اور تمہاری خطائوں میں سے اکثر کو تو وہ معاف بھی کرتا رہتا ہے۔“ اللہ تعالیٰ انسانوں کے ساتھ عمومی طور پر عفو و درگزر کا معاملہ فرماتا ہے اور ہر کسی کو ہر غلطی پر نہیں پکڑتا۔ البتہ بعض اوقات بعض نا فرمانیوں کی سزا وہ متعلقہ افراد کو دنیا ہی میں دے دیتا ہے۔

الشورى 42:31

آیت 31 { وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِج } ”اور تم زمین میں اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو۔“ یہاں اس فقرے کے بعد ”وَلَا فِی السَّمَائِ“ کے الفاظ گویا محذوف ہیں۔ جیسا کہ سورة العنکبوت میں فرمایا : { وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِز } آیت 22 ”اور تم اسے عاجز کرنے والے نہیں ہو زمین میں اور نہ آسمان میں“۔ بہر حال اللہ کی مشیت کو کوئی نہیں روک سکتا ‘ وہ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ہے۔ وہ جو ارادہ کرلیتا ہے کر گزرتا ہے ‘ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔ { وَمَا لَـکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ } ”اور تمہارے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی کارساز ہے اور نہ مددگار۔“

الشورى 42:32

آیت 32 { وَمِنْ اٰیٰتِہِ الْجَوَارِ فِی الْْبَحْرِکَالْاَعْلَامِ } ”اور اس کی نشانیوں میں سے سمندروں میں چلنے والے پہاڑوں کے مانند جہا زبھی ہیں۔“

الشورى 42:33

آیت 33 { اِنْ یَّشَاْ یُسْکِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاکِدَ عَلٰی ظَہْرِہٖ } ”اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کردے سو وہ کھڑے کے کھڑے رہ جائیں سمندر کی سطح پر۔“ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ } ”یقینا اس میں نشانیاں ہیں ہر ایک صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لیے۔“

الشورى 42:34

آیت 34 { اَوْ یُوْبِقْہُنَّ بِمَا کَسَبُوْا وَیَعْفُ عَنْ کَثِیْرٍ } ”یا وہ چاہے تو تباہ کر دے ان جہازوں کو لوگوں کے گناہوں کی پاداش میں ‘ لیکن وہ بہت سی خطائوں سے درگزر فرماتا رہتا ہے۔“

الشورى 42:35

آیت 35 { وَّیَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا مَا لَہُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ } ”اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جو ہماری آیات میں کٹ حجتی کر رہے ہیں کہ ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔“

الشورى 42:36

گزشتہ آیات میں مکی سورتوں کے عمومی مضامین مثلاً مشرکین کے ساتھ ردوکدح ‘ آخرت کی جزا و سزا اور اللہ کی نشانیوں اور نعمتوں کا تذکرہ تھا ‘ لیکن اس کے بعد موضوع پھر سے سورت کے عمود یا مرکزی مضمون کی طرف لوٹ رہا ہے۔ چناچہ آئندہ آٹھ آیات میں وہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں جو اقامت دین کی جدوجہد کرنے والے افراد کی سیرت کے لیے ناگزیز ہیں۔ انہی اوصاف کو اپنانے سے دراصل ایک ایسے مرد مومن کے کردار کا نقشہ تیار ہوتا ہے جو اس میدانِ کارزار میں قدم رکھتے ہوئے طے کرلیتا ہے کہ : { اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } الانعام ”میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے“۔ اقامت دین کی جدوجہد کے علمبردار افراد کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان اوصاف کو اپنائے بغیر ان کے کردار و عمل میں وہ مضبوط ”جان“ پیدا نہیں ہوگی جو اس ”معرکہ روح و بدن“ میں پیش کرنے کے لیے درکار ہے۔ اسی ضرورت اور شرط کو اقبال ؔنے یوں بیان کیا ہے : ؎ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ پہلے اپنے پیکر ِخاکی میں جاں پیدا کرے ! آئیے اب ہم ایک ایک کر کے ان اوصاف کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس سلسلے کی پہلی ہدایت ملاحظہ ہو :آیت 36 { فَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا } ”پس جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیا ہی کی زندگی کا سازو سامان ہے۔“ { وَمَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ } ”اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب پر ّتوکل کرتے ہیں۔“ گویا اس منزل کے مسافروں کو سب سے پہلے اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی اور ایسی سوچ اپنانا ہوگی جس کے مطابق دنیا ومافیہا انہیں ہیچ نظر آئے اور اس کے مقابلے میں آخرت کی زندگی ان کا اصل مقصود و مطلوب بن جائے۔ اگر دنیا کی محبت دل کے کسی گوشے میں چھپی رہ گئی تو وہ اس میدان کے بڑے سے بڑے شہسوار کو بھی کبھی نہ کبھی ضرور اڑنگا لگا کر منہ کے بل گرائے گی۔ چناچہ آدمی سب سے پہلے یہ طے کرے کہ وہ طالب ِآخرت ہے یا طالب دنیا ؟ اقامت دین کی جدوجہد کے علمبرداروں کا پہلا وصف یہاں یہ بیان ہوا ہے کہ وہ دنیا سے بےرغبتی اختیار کر کے آخرت کو اپنا مقصود و مطلوب بنا لیتے ہیں ‘ جبکہ آیت کے اختتامی الفاظ کے مطابق ان کا دوسرا وصف یہ ہے : { وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ } یعنی وہ ہر حال اور ہر کیفیت میں اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں۔

الشورى 42:37

آیت 37 { وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ } ”اور وہ لوگ کہ جو اجتناب کرتے ہیں بڑے بڑے گناہوں سے اور بےحیائی کے کاموں سے“ ظاہر ہے اس مقدس فریضہ کو نبھانے کا حلف اٹھانے والے رضاکار اگر اپنے دامن ِکردار کو ایسی نجاستوں سے بچا کر نہیں رکھیں گے تو وہ اس میدان میں آگے کیسے بڑھ سکیں گے۔ یہی مضمون سورة النساء کے اندر ہم ان الفاظ میں پڑھ چکے ہیں : { اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَائِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُـکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمْ مُّدْخَلاً کَرِیْمًا۔ } ”اگر تم اجتناب کرتے رہو گے ان بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تمہیں روکا جا رہا ہے تو ہم تمہاری چھوٹی برائیوں کو تم سے دور کردیں گے اور تمہیں داخل کریں گے بہت با عزت جگہ پر“۔ صغائر اور کبائر کے حوالے سے یہ نکتہ اچھی طرح سے ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک بندئہ مومن کو کبائر کے معاملے میں غیر معمولی طور پر حساس ہونا چاہیے۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں عمومی روش یہ ہے کہ ہم صغائر کے بارے میں تو بہت زیادہ باریک بین بننے کی کوشش کرتے ہیں ‘ چھوٹے چھوٹے مسائل کے بارے میں وضاحتیں اور فتوے بھی طلب کرتے رہتے ہیں ‘ مگر کبائر سے متعلق لاپرواہی برتتے ہیں۔ حالانکہ صغائر تو { اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِط } ھود : 114 کے اصول کے تحت ساتھ ہی ساتھ معاف ہوتے رہتے ہیں اور سورة النساء کی متذکرہ بالا آیت میں بھی یہی بشارت دی جا رہی ہے کہ اگر تم لوگ کبائر سے بچتے رہو گے تو تمہارے صغائر ہم خود معاف کردیں گے۔ لیکن اس کے باوجود کبائر سے متعلق لاپرواہی اور صغائر کے بارے میں ”حساسیت“ کا عمومی رویہ ہمارے معاشرے میں ایک متعدی بیماری کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ اس حوالے سے ہماری مشابہت بنی اسرائیل کی اس کیفیت کے ساتھ ہوچکی ہے جس کے بارے میں حضرت مسیح علیہ السلام نے انہیں فرمایا تھا کہ ”تم لوگ مچھر چھانتے ہو اور سموچے اونٹ نگل جاتے ہو“۔ بہر حال اللہ کے راستے میں نکلنے والے مجاہدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ تقویٰ کی روش پر کاربند رہیں اور کبائرو فواحش سے اپنا دامن بچا کر رکھیں۔ { وَاِذَامَا غَضِبُوْا ہُمْ یَغْفِرُوْنَ } ”اور جب انہیں غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں۔“ غَفَرَ کے معنی ڈھانپ دینے کے ہیں۔ اس معنی میں اس آہنی خود کو مِغْفَر کہا جاتا ہے جس سے دورانِ جنگ تلوار وغیرہ کے وار سے بچنے کے لیے سر کو ڈھانپا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے مغفرت سے مراد اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مہربانی ہے جو بندے کے گناہوں کو ڈھانپ لیتی ہے۔ لہٰذا مومنین ِصادقین کا یہاں جو وصف بتایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ غصے کا اظہار کرنے کے بجائے اسے پی جاتے ہیں۔ اشتعال کی حالت میں وہ کوئی اقدام نہیں کرتے بلکہ اپنے فیصلے ہمیشہ سوچ سمجھ کر کرتے ہیں اور انتقام لینے کے بجائے معاف کرنے کی حکمت عملی کو ترجیح دیتے ہیں۔ سورة آل عمران کی آیت 134 میں بھی متقین کی تعریف میں یہی صفت بیان کی گئی ہے : { وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِط } کہ وہ اپنے غصے کو پی جانے والے اور دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنے والے لوگ ہیں۔ چونکہ غصہ اور غصے کی کیفیت میں انسان کا اشتعال شیطانی اثرات کی بنا پر ہوتا ہے اس لیے سورة حٰم السجدۃ کی آیت 36 میں دی گئی یہ ہدایت غصے اور اس کے منفی اثرات سے بچنے کا بہترین نسخہ ہے : { وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِط } آیت 36 ”اور اگر کبھی تمہیں شیطان سے کوئی ُ چوک لگنے لگے تو اللہ کی پناہ طلب کرلیا کرو“۔ -۔ -۔ -۔ - اب آگے چلیے اگلے وصف کی طرف :

الشورى 42:38

آیت 38 { وَالَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّہِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ } ”اور وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی پکار پر لبیک کہا اور نماز قائم کی۔“ یہ کون سی پکار ہے ؟ اس حوالے سے یہ اہم نکتہ ذہن میں رکھئے کہ اس سورت میں اب تک جمع کے صیغے میں فعل امر ایک ہی مرتبہ آیا ہے ‘ یعنی { اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ } اور جمع کے صیغے میں اب تک ایک ہی مرتبہ فعل نہی آیا ہے ‘ یعنی { وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ }۔ چناچہ یہی وہ پکار یا حکم ہے جس کی استجابت کا ذکر یہاں ہوا ہے ‘ یعنی : { اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِط } آیت 13 ”دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو“۔ اور اسی کے بارے میں حضور ﷺ کو آیت 15 میں مخاطب کر کے فرمایا گیا تھا : { فَلِذٰلِکَ فَادْعُج وَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَج وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَآئَ ہُمْج } کہ آپ ﷺ کی دعوت کا عمود اور مرکزی پیغام اقامت دین ہے ‘ اسی کی طرف آپ ﷺ نے لوگوں کو بلانا ہے ‘ اسی کی ضرورت اور اہمیت کو ان کے اذہان میں نقش hammer کرنا ہے۔ یہی آپ ﷺ کا مشن ہے اور یہی آپ ﷺ کی دعوت کا اصل ہدف۔ آپ ﷺ اپنے اسی مشن اور اسی موقف پر ڈٹے رہیے اور مخالفین کی مخالفت کی بالکل پروا نہ کیجیے۔ بلاشبہ یہ مشن بہت عظیم ہے اور اسی نسبت سے اس کی جدوجہد کے لیے خصوصی سیرت و کردار کے حامل مردانِ کار درکار ہیں۔ چناچہ آیات زیر مطالعہ میں ان اوصاف کا تذکرہ ہے جو اس مشن کے علمبرداروں کی شخصیات کے لیے ناگزیر ہیں۔ نماز کی پابندی کے بعد اگلا وصف بیان ہوا : { وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ } ”اور ان کا کام آپس میں مشورے سے ہوتا ہے۔“ ظاہر ہے اقامت دین کی جدوجہد کے لیے اجتماعیت درکار ہے اور اجتماعی زندگی میں فیصلے کرنے اور مختلف امور نپٹانے کے لیے باہمی مشاورت بہت ضروری ہے۔ لیکن کسی اجتماعیت کے اندر اگر موثر مشاورتی نظام موجود نہیں ہوگا اور کوئی ایک فرد دوسروں پر اپنی مرضی ٹھونسنے کا طرز عمل اپنانے کی کوشش کرے گا تو اس سے نہ صرف اجتماعی جدوجہد کو نقصان پہنچے گا بلکہ خود اس اجتماعیت کا وجود ہی خطرے میں پڑجائے گا۔ جماعتی زندگی میں مشاورت کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ غزوہ احد میں جن صحابہ رض سے درّہ چھوڑنے کی غلطی سرزد ہوئی ان کے بارے میں حضور ﷺ کو حکم دیا گیا : { فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَہُمْ وَشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِج } آل عمران : 159 کہ نہ صرف آپ ﷺ انہیں معاف کردیں اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں بلکہ انہیں مشورے میں بھی شامل رکھیں۔ مشاورت کے عمل سے اجتماعیت کو تقویت ملتی ہے۔ اس سے ساتھیوں کے مابین مشترکہ سوچ اور باہمی اعتماد پیدا ہوتا ہے اور ان میں سے ہر ایک کو جماعت کے اندر اپنی موجودگی کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے کہ اس کی بات سنی جاتی ہے۔ حضور ﷺ خود بھی صحابہ رض سے مشورے کو بہت اہمیت دیتے تھے ‘ بلکہ بعض اوقات تو ایسا بھی ہوا کہ حضور ﷺ نے اپنی رائے پر صحابہ رض کی رائے کو ترجیح دیتے ہوئے فیصلہ صادر فرمایا۔ مثلاً غزوئہ بدر کے موقع پر حضور ﷺ نے لشکر کے کیمپ کے لیے ایک جگہ کا انتخاب فرمایا۔ مگر جب کیمپ لگ چکا تو کچھ صحابہ رض نے آپ ﷺ سے اجازت لے کر رائے دی کہ بعض وجوہات کی بنا پر دوسری جگہ کیمپ کے لیے زیادہ موزوں تھی۔ چناچہ آپ ﷺ نے صحابہ رض کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کیمپ اکھاڑ کر صحابہ رض کی مجوزہ جگہ پر لگا نے کا حکم دے دیا۔ بہر حال اقامت دین کی جدوجہد میں مصروف جماعت کے نظم و نسق کا تقاضا ہے کہ اس جماعت میں مشاورت کا خصوصی اہتمام رکھا جائے۔ { وَمِمَّا رَزَقْنٰـہُمْ یُنْفِقُوْنَ } ”اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔“ دعوت و اقامت دین کی جدوجہد میں مصروف لوگوں کو جہاں اپنے وقت اور اپنی جانوں کی قربانی دینا پڑے گی ‘ وہاں اس راستے میں انہیں اپنا مال بھی خرچ کرنا پڑے گا۔ چناچہ متعلقہ لوگوں کے اوصاف میں سے ایک وصف یہ بھی گنوا دیا گیا کہ وہ اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے ”انفاق“ بھی کرتے ہیں۔ قرآن کو غور سے پڑھنے والا شخص جانتا ہے کہ اس کے بہت سے مضامین ایک جیسے الفاظ کے ساتھ دہرا دہرا کر بیان ہوئے ہیں۔ خاص طور پر مکی سورتوں میں ملتی جلتی آیات مختلف اسالیب کے ساتھ بار بار آئی ہیں۔ اسی لیے قرآن کو کِتٰـباً مُتَشَابِھًا الزمر : 23 کا نام بھی دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر سورت کا ایک خاص مرکزی مضمون یا عمود بھی ہے جسے مضامین کے تنوع اور تکرار میں سے تلاش کرنے کے لیے غور و فکر اور تدبر کی ضرورت پیش آتی ہے۔ سورة الشوریٰ پر اگر اس پہلو سے غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس سورت میں اگرچہ دوسری مکی سورتوں کے تمام مضامین بھی وارد ہوئے ہیں ‘ لیکن اس کا مرکزی مضمون یا عمود ”اقامت دین“ ہے۔ اور اس مضمون کے اعتبار سے اس سورت کی زیر مطالعہ آیات پورے قرآن میں منفرد اور ممتاز حیثیت کی حامل ہیں۔ ان آیات کی اس اہمیت کے پیش نظر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مضمون سے متعلق جن نکات کا ہم اب تک مطالعہ کرچکے ہیں انہیں ایک مرتبہ پھر سے ذہن میں تازہ کرلیا جائے۔ چناچہ اعادہ کے لیے ایک دفعہ پھر آیت 10 کی طرف رجوع کریں جس میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا تصور ان الفاظ میں واضح کیا گیا ہے : { وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْہِ مِنْ شَیْئٍ فَحُکْمُہٗٓ اِلَی اللّٰہِط } یعنی تمہارے باہمی اختلافات میں حکم دینے کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے۔ یہ وہی بات ہے جو اس سے پہلے ہم سورة یوسف میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے جیل کے ساتھیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا : { اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِط اَمَرَ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا اِلآَّ اِیَّاہُط ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ } آیت 40 یعنی حاکمیت کا اختیار صرف اور صرف اللہ کے پاس ہے ‘ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ‘ یہی دین قیم ہے۔ اس کے بعد آیت 13 سے لے کر آیت 21 تک 9 آیات میں اقامت دین کا مضمون بہت جامع انداز میں بیان ہوا ہے۔ لیکن ان میں سے بھی پہلی تین آیات اپنی جامعیت کے لحاظ سے بہت اہم ہیں۔ آیت 13 میں فرمایا گیا : { اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِط } کہ دین کو قائم کرو اور اس معاملے میں اختلاف میں نہ پڑو۔ یعنی جزئیات اور فروعات میں اختلاف کا ہونا اور بات ہے ‘ لیکن دین کی اصل وحدت اور دین کے غلبہ کے لیے کی جانے والی جدوجہد میں تفرقہ بازی نہیں ہونی چاہیے۔ پھر اس کے بعد آیت 15 میں حضور ﷺ کے لیے یہ حکم اس حوالے سے بہت اہم ہے : { وَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَج وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَآئَ ہُمْج } کہ آپ ﷺ اللہ کے حکم کے مطابق اپنے موقف پر ڈٹے رہیے اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے۔ پھر اسی آیت کے یہ الفاظ تو گویا اس مضمون کی شہ سرخی کا درجہ رکھتے ہیں : { وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْط } کہ آپ ﷺ اعلان کردیجیے کہ میں تم لوگوں کے درمیان عدل قائم کرنے کے لیے آیا ہوں۔ میں تم لوگوں کو صرف نصیحتیں کرنے اور وعظ سنانے کے لیے نہیں آیا بلکہ معاشرے میں اجتماعی طور پر عدل و انصاف کا نظام قائم کرنا میرا فرضِ منصبی ہے۔ پھر اس سلسلے کی آخری بات آیت 21 میں یوں فرمائی گئی : { اَمْ لَہُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّیْنِ } کہ کیا ان کے شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جس نے ان کو دین عطا کیا ہے اور ان کے لیے کوئی جامع نظام اور کوئی ضابطہ حیات وضع کیا ہے ؟ یعنی وہ ذات تو صرف اللہ ہی کی ہے جس نے اپنے بندوں کو دین حق عطا کیا ہے جو ان کے لیے مکمل اور کامل ضابطہ حیات ہے۔ [ سورة المائدۃ کی آیت 3 میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی کاملیت کی سند ان الفاظ میں عطا فرمائی ہے : { اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلاَمَ دِیْنًاط } ] پھر آیت 36 سے آیت 43 تک آٹھ آیات میں وہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں جو اقامت دین کی جدوجہد کے علمبرداروں کو اپنی شخصیات میں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں بھی پہلی تین آیات بہت جامع اور اہم ہیں۔ ان تین آیت میں جن اہم نکات کا ابھی ہم نے مطالعہ کیا ہے ان میں پہلا نکتہ یہ ہے کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے اور اس کے مقابلے میں دنیا ومافیہا کی کوئی وقعت و اہمیت نہیں ہے۔ چناچہ غلبہ دین کی جدوجہد کے لیے نکلنے والے ہر شخص کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ دنیا کے لیے اس کی محنت صرف بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کی حد تک محدود رہے گی ‘ جبکہ اس کا اصل مقصود و مطلوب آخرت کی زندگی اور اس زندگی کی کامیابی ہے۔ ثانیاً اس جدوجہد میں توکل صرف اور صرف اللہ کی ذات پر ہوگا۔ مادی وسائل ‘ اپنی ذہانت ‘ طاقت اور صلاحیت پر تکیہ نہیں کیا جائے گا۔ ثالثاً تقویٰ ‘ تزکیہ نفس اور اصلاحِ کردار کی طرف خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے لیے کبائر اور فواحش سے کنارہ کشی اختیار کرنی ہوگی اور غصہ سمیت تمام باطنی خبائث سے بھی اپنے سینوں کو پاک کرنا ہوگا۔ پھر جو لوگ اللہ کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے اقامت دین کی جدوجہد پر کمربستہ ہوجائیں ‘ انہیں اللہ تعالیٰ سے قلبی رشتہ جوڑنے اور یہ رشتہ قائم رکھنے کے لیے نماز کا التزام کرنا ہوگا۔ ان کے تمام فیصلے باہمی مشاورت سے طے ہوں گے اور اس جدوجہد میں ان کو اپنا وقت ‘ اپنا مال ‘ اپنی صلاحیتیں غرض اپنا وہ سب کچھ کھپا دینے کے لیے ہر وقت تیار رہنا ہوگا جو اللہ نے انہیں دیا ہے۔ زیر مطالعہ سورتوں میں انسانی سیرت و کردار سے متعلق جو ہدایات آئی ہیں ان کے بارے میں یہ نکتہ بھی مدنظر رہنا چاہیے کہ صحابہ رض کے کردار کے وہ تمام پہلو جو مدنی دور میں نمایاں ہوئے ان کی تمہید مکی دور میں ہی اٹھائی گئی تھی اور مدینہ پہنچے سے پہلے ہی ان ہدایات و احکام کے ذریعے ان لوگوں کو عملی میدان کے لیے ذہنی طور پر تیار کرلیا گیا تھا۔ اب اگلی پانچ آیات میں مردانِ حق کے جس وصف کا ذکر خصوصی اہتمام سے کیا جا رہا ہے وہ ”بدلہ“ لینے کی حکمت عملی ہے۔ یہ حکمت عملی بظاہر سورة حٰمٓ السجدۃ کے اس حکم سے متضاد نظر آتی ہے جس میں لوگوں کی زیادتیوں کو برداشت کرنے اور عفو و درگزر سے کام لینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس ظاہری تضاد یا حکمت عملی کی تبدیلی کے فلسفے کو یوں سمجھیں کہ سورة حٰمٓ السجدۃ کا مرکزی مضمون ”دعوت“ ہے جبکہ سورة الشوریٰ کا مرکزی مضمون ”اقامت دین“ ہے۔ دعوت کے لیے تو ظاہر ہے خوشامد بھی کرنا پڑتی ہے ‘ لوگوں کے دروازوں پر بھی جانا پڑتا ہے اور ان کی جلی کٹی باتیں بھی سننا پڑتی ہیں۔ اس لیے سورة حٰمٓ السجدۃ میں لوگوں کی زیادتیوں کو برداشت کرنے اور گالیاں سن کر دعائیں دینے کا سبق دیا گیا ہے۔ لیکن زیر مطالعہ سورت میں اقامت دین اور عملی جدوجہد active resistance کے تناظر میں سختی کا جواب سختی سے دینے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ سورة حٰمٓ السجدۃ میں دی گئی ہدایات کی روشنی میں دعوت کا مرحلہ کامیابی سے طے کرنے کے بعد غلبہ ٔ دین کی تحریک مسلح تصادم armed conflict کے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ یہ مرحلہ تیغ بکف ‘ سر پر کفن باندھ کر میدان میں اترنے اور جان ہتھیلی پر رکھ کر باطل کو للکارنے کا مرحلہ ہے۔ چناچہ اب صورت حال کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ حکمت عملی بھی بدل رہی ہے اور شمع توحید کے پروانوں کو ممکنہ حالات کے پیش نظر نئی ہدایات دی جا رہی ہیں۔

الشورى 42:39

آیت 39 { وَالَّذِیْنَ اِذَٓا اَصَابَہُمُ الْبَغْیُ ہُمْ یَنْتَصِرُوْنَ } ”اور وہ لوگ کہ جب ان پر زیادتی ہو تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔“ یعنی اقامت دین کی جدوجہد جب ”قتال“ کے مرحلے میں داخل ہوجائے تو پھر اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا حکم ہے۔ سورة البقرۃ میں اس حکمت عملی کو یوں بیان فرمایا گیا ہے : { وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ وَاَخْرِجُوْہُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ } آیت 191 ”اور قتل کر دو انہیں جہاں کہیں بھی تم انہیں پائو اور نکال باہر کرو انہیں وہاں سے جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا“۔ گویا جب ایک دفعہ آگے بڑھ کر باطل کو چیلنج کردیا گیا تو پھر فیصلہ کن فتح تک اس جنگ کو سختی سے جاری رکھنے کا حکم ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جنگ بدر میں پکڑے گئے قیدیوں کو فدیہ لے کر رہا کیے جانے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سورۃ الانفال کی آیات 67 ‘ 68 میں ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا گیا۔ ان قیدیوں کے بارے میں حضرت عمر رض کی رائے یہ تھی کہ ان سب کو قتل کردیا جائے ‘ بلکہ آپ رض کو تو اصرار تھا کہ ہر مسلمان اپنے رشتے دار اور عزیز قیدی کو خود اپنے ہاتھ سے قتل کرے۔ اس حوالے سے آپ رض کی دلیل یہی تھی کہ اگر آج ان لوگوں کو چھوڑ دیا گیا تو کل وہ پھر ہمارے مقابلے میں آجائیں گے۔ حضرت عمر رض کے اس خدشے کی اس وقت تصدیق بھی ہوگئی جب فدیہ پر رہائی پانے والے قیدیوں میں سے اکثر و بیشتر اگلے سال غزوئہ اُحد میں مسلمانوں کے خلاف پھر سے آ کھڑے ہوئے تھے۔ عام مفسرین کے نزدیک سورة الانفال کی مذکورہ آیات حضرت عمر رض کی رائے کی تائید میں نازل ہوئیں۔

الشورى 42:40

آیت 40 { وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا } ”اور کسی برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے“ یہاں تقابل کے لیے سورة حٰمٓ السجدۃ کا یہ حکم ایک مرتبہ پھر ملاحظہ ہو : { وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُط اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ } آیت 34 ”اور دیکھو ! اچھائی اور برائی برابر نہیں ہوتے ‘ لہٰذا تم مدافعت کرو اس طریقے سے جو بہترین ہو“۔ اب بظاہر تو ان دونوں احکام میں تضاد contrast نظر آتا ہے ‘ لیکن قرآن کے ایسے مقامات کا مطالعہ اگر حضور ﷺ کی تحریک کے مختلف ادوار کے زمینی حقائق کی روشنی میں کیا جائے اور اس حوالے سے مکی اور مدنی ادوار کے حالات کے فرق کو مد نظر رکھا جائے تو تمام اشکالات خود بخود دور ہوجاتے ہیں۔ مکہ میں رہتے ہوئے اگر { کُفُّوْٓا اَیْدِیَکُمْ } النساء : 77 کی حکمت عملی اپنانے کی ہدایت تھی تو یہ اس وقت کا تقاضا تھا۔ اور اگر مدینہ میں آکر { وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ } کا حکم جاری ہوا ہے تو یہ اس مرحلے کی ضرورت ہے۔ چناچہ اپنے سیاق وسباق کے اعتبار سے آیت زیر مطالعہ کا مفہوم یہ ہے کہ جب دشمن کے ساتھ تمہارا دوبدو مقابلہ شروع ہوجائے تو جس قدر زیادتی تم پر مخالف فریق کرے اس قدر زیادتی ان پر تم بھی کرسکتے ہو۔ اگر وہ اشہر ِحرم ُ کی حرمت کو بٹہ ّلگاتے ہیں تو تم بھی اس ماہ کے تقدس کے احترام میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر مت بیٹھے رہو۔ { فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ } ”پس جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔“ یہ معاف کرنا اگر اس اعتبار سے ہو کہ اس میں متعلقہ شخص کی اصلاح کا امکان ہو تو اسی میں بہتری ہے۔ { اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ } ”یقینا اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔“ ظالموں کے لیے البتہ کوئی معافی نہیں ‘ ان سے تو بہر حال بدلہ ہی لیا جائے گا۔ اس حکمت عملی کے بارے میں ہم سورة البقرۃ میں بھی پڑھ چکے ہیں : { وَلَـکُمْ فِی الْْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰٓــاُولِی الْاَلْبَابِ } آیت 179 ”اور اے ہوشمندو ! قصاص میں ہی تمہارے لیے زندگی ہے۔“

الشورى 42:41

آیت 41 { وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہٖ فَاُولٰٓئِکَ مَا عَلَیْہِمْ مِّنْ سَبِیْلٍ } ”اور جو کوئی بدلہ لے اس کے بعد کہ اس پر ظلم کیا گیا ہو تو ان لوگوں پر کوئی الزام نہیں ہے۔“ سورة النساء کی آیت 148 میں یہی اصول ان الفاظ میں بیان ہوا ہے : { لاَ یُحِبُّ اللّٰہُ الْجَہْرَ بِالسُّوْٓئِ مِنَ الْقَوْلِ اِلاَّ مَنْ ظُلِمَط } یعنی اللہ تعالیٰ کو بالکل پسند نہیں کہ کوئی شخص کوئی بری بات بلند آواز سے کہے مگر مظلوم اس سے مستثنیٰ ہے ‘ بدلہ لینا بہرحال مظلوم کا حق ہے۔ اگر وہ اپنے اوپر ہونے والی زیادتی کا بدلہ ہی لینا چاہتا ہے تو اسے معاف کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ دیکھئے ان آیات کا اسلوب اور انداز سورة حٰمٓ السجدۃ کی مذکورہ آیات کے اسلوب سے کس قدر مختلف ہے۔ اسی ”تضاد“ کی بنیاد پر پروفیسر منٹگمری واٹ 1909 ء۔ 2006 ء نے Muhammad at Mecca اور Muhammad at Medina دو کتابیں لکھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مکہ کے اندر جب محمد عربی ﷺ کی ایک حکمت عملی ناکام ہوگئی تو انہوں نے مدینہ جا کر اپنا لائحہ عمل بالکل ہی تبدیل کرلیا۔ اس بےچارے ”دانشور“ کی نظریں تعصب کی عینک کے باعث حضور ﷺ کی تحریک کے دو مراحل کے فرق کو نہیں دیکھ سکیں۔ وہ اس سادہ سی بات کو بھی نہیں سمجھ سکا کہ پہلا مرحلہ تیاری کا مرحلہ تھا جبکہ دوسرا عملی جدوجہد کا۔ مکی دور میں ”ہاتھ بندھے رکھنے“ کا حکم دراصل ایک سوچی سمجھی حکمت عملی strategy کا حصہ تھا ‘ جس کے تحت جاں نثارانِ توحید کو صبر و مصابرت کی بھٹی میں سے گزارنا مقصود تھا تاکہ میدانِ کارزار میں اترنے سے پہلے ان کے جذبے ضبط و برداشت کی آنچ سہہ سہہ کر پختہ اور ان کے دست وبازو آزمائش و ابتلا کی سختیاں جھیلنے کے عادی ہوجائیں۔ اقبال ؔنے اس حکمت عملی کو اس طرح بیان کیا ہے : ؎نالہ ہے بلبل ِشوریدہ ترا خام ابھی اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی ! مدنی دور میں جب ”بندھے ہوئے ہاتھ“ کھول دیے گئے تو حالات یکسر بدل گئے۔ چناچہ میدانِ بدر میں جب حضرت بلال رض کا سامنا اپنے سابق آقا امیہ ّبن خلف سے ہوا تو چشم ِفلک کوئی اور ہی منظر دیکھ رہی تھی۔ اب امیہ کی گردن کا مقدر نشانہ بننا تھا جبکہ ”اقدام“ کا اختیار تیغ بلالی رض کے پاس تھا۔

الشورى 42:42

آیت 42 { اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ } ”اصل میں الزام تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں“ { وَیَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ } ”اور زمین کے اندر سرکشی کرتے ہیں بغیر کسی حق کے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ عدل و انصاف کی راہ میں اصل رکاوٹ تو وہ لوگ ہیں جو زمین میں سرکشی دکھاتے ہیں ‘ جو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کے بجائے خود حاکم بن بیٹھتے ہیں اور عوام الناس کے حقوق پر شب خون مارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں انسانی معاشرے میں عدل و انصاف کی اہمیت کا اندازہ ان تاکیدی احکام سے لگایا جاسکتا ہے جو پورے قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ سورة آل عمران کی آیت 18 میں اللہ تعالیٰ کی شان { قَآئِمًام بِالْقِسْطِط } کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے کہ وہ عدل و انصاف قائم کرنے والا ہے۔ سورة النساء کی آیت 135 میں فرمایا : { یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَآئَ لِلّٰہِ } ”اے اہل ِایمان کھڑے ہو جائو پوری قوت کے ساتھ عدل کو قائم کرنے کے لیے اللہ کے گواہ بن کر“۔ اور پھر سورة المائدۃ کی آیت 8 میں یہی الفاظ اس ترتیب میں دہرائے گئے : { یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآئَ بِالْقِسْطِز } ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بن جائو“۔ پھر زیرمطالعہ سورت کی آیت 15 میں حضور ﷺ سے فرمایا گیا کہ آپ ﷺ انہیں بتا دیجیے : { وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْط } کہ مجھے تمہارے درمیان عدل قائم کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔

الشورى 42:43

آیت 43 { وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ } ”اور ہاں جو کوئی صبر کرے اور معاف کر دے تو یہ واقعتابڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے۔“ بدلہ لینا اگرچہ مظلوم کا حق ہے ‘ لیکن کسی خاص صورت حال میں اگر وہ صبر سے کام لیتے ہوئے اپنا یہ حق معاف کرنا چاہے تو بیشک یہ عزیمت کے اوصاف میں سے ہے۔ یہاں پر سیرت و کردار سے متعلق خصوصی اوصاف کا ذکر ختم ہوا۔ اس کے بعد کی آیات میں مکی سورتوں کے عمومی مضامین آ رہے ہیں۔

الشورى 42:44

آیت 44 { وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَالَــہٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْم بَعْدِہٖ } ”اور جس کو اللہ نے ہی گمراہ کردیا ہو تو اس کے بعد اس کے لیے کوئی مدد گار نہیں۔“ جس کی گمراہی پر اللہ تعالیٰ نے ہی مہر ثبت کردی ہو تو ایسے شخص کا ایسا کوئی حمایتی اور دوست ممکن نہیں جو اسے راہ راست پر لے آئے۔ { وَتَرَی الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ ہَلْ اِلٰی مَرَدٍّّّ مِّنْ سَبِیْلٍ } ”اور تم دیکھو گے ظالموں کو کہ جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو کہیں گے : کیا واپس لوٹ جانے کا بھی کوئی راستہ ہے ؟“

الشورى 42:45

آیت 45 { وَتَرٰٹہُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ } ”اور تم دیکھو گے انہیں کہ وہ پیش کیے جائیں گے اس جہنم پر ‘ نگاہیں زمین میں گاڑے ہوں گے ذلت کی وجہ سے ‘ دیکھ رہے ہوں گے کن انکھیوں سے۔“ اسی کیفیت میں وہ لوگ ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے ہوں گے۔ { وَقَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَاَہْلِیْہِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } ”اور اُس وقت اہل ایمان کہیں گے کہ واقعتا تباہ و برباد ہونے والے تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن خسارے میں مبتلا کیا۔“ { اَلَآ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ } ”آگاہ ہو جائو ! یہ ظالم تو ہمیشہ قائم رہنے والے عذاب میں رہیں گے۔“

الشورى 42:46

آیت 46 { وَمَا کَانَ لَہُمْ مِّنْ اَوْلِیَآئَ یَنْصُرُوْنَہُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”اور ان کے لیے کوئی مدد گار نہیں ہوں گے جو ان کی مدد کرسکیں اللہ کے مقابلے میں۔“ { وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ سَبِیْلٍ } ”اور جسے اللہ نے ہی گمراہ کردیا ہو ‘ پھر اس کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے۔“ اب اس کے بعد پھر اقامت دین سے متعلق دو عظیم آیات آرہی ہیں۔

الشورى 42:47

آیت 47 { اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ } ”اے اہل ِایمان ! اپنے رب کی پکار پر لبیک کہو ‘ اس سے پہلے کہ اللہ کے حکم سے وہ دن آجائے جسے لوٹایا نہ جاسکے گا۔“ یہ اسی ”استجابت“ کا ذکر ہے جس کے بارے میں قبل ازیں ہم آیت 38 میں پڑھ چکے ہیں۔ وہاں یہ ذکر اصحابِ عزیمت کی مدح کے طور پر آیا تھا ‘ لیکن یہاں اب اس کے لیے ترغیب و تشویق کا انداز ہے کہ اے لوگو ! اب جبکہ تم نے یہ تمام احکام پڑھ لیے ہیں ‘ غلبہ دین کے حوالے سے تم نے اپنے فرائض کو سمجھ لیا ہے ‘ اس ضمن میں اپنے رب کی مرضی و منشا بھی تمہیں معلوم ہوچکی ہے ‘ تو اب آئو ! آگے بڑھو ! اور اپنے رب کی پکار پر فوراً لبیک کہو ! دراصل تم میں سے ہر کسی نے اپنی اپنی زندگی کے لیے بڑے بڑے منصوبے بنا رکھے ہیں۔ چناچہ اگر کسی کو اپنے اس ”فرض“ کی ادائیگی کا احساس ہو بھی جاتا ہے تو بھی اس کا دل انہی منصوبوں میں اٹکا رہتا ہے کہ بس میں یہ کام پایہ تکمیل تک پہنچا لوں ‘ اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو لوں وہ فرض نبھا لوں ‘ تو خو دکودین کے لیے وقف کر دوں گا۔ مگر تم خوب جانتے ہو کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ‘ یہ کسی وقت بھی آسکتی ہے۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ موت تمہارے سامنے آن کھڑی ہو ‘ تم { اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِط } کے حکم پر کان دھرو ! اور اپنے رب کی اس پکار پر لبیک کہتے ہوئے دوسروں کے قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھو ! اور اپنی مدت مہلت ختم ہونے سے پہلے پہلے کرنے کا یہ اصل کام کرلو ! { مَالَـکُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّمَا لَـکُمْ مِّنْ نَّکِیْرٍ } ”نہیں ہوگی تمہارے لیے اس دن کوئی جائے پناہ اور نہیں ہوگا تمہارے لیے کوئی موقع انکار۔“ یعنی تم اپنے کرتوتوں میں سے کسی کا انکار نہیں کرسکو گے۔ ان الفاظ کا یہ مفہوم بھی ہے کہ جو کچھ بھی تمہارے ساتھ کیا جائے گا تم اس پر نہ تو کوئی احتجاج کرسکو گے اور نہ ہی اپنی حالت کو تبدیل کرنا تمہارے بس میں ہوگا۔

الشورى 42:48

آیت 48 { فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًا } ”پھر اگر یہ لوگ اعراض کریں تو اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کو ان پر کوئی داروغہ بنا کر نہیں بھیجا۔“ یعنی اگر یہ لوگ اب بھی اپنے رب کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اقامت دین کی جدوجہد کے لیے کمربستہ نہ ہوں تو ان کی اس کوتاہی کی ذمہ داری آپ ﷺ پر نہیں ہوگی۔ { اِنْ عَلَیْکَ اِلَّا الْبَلٰغُ } ”نہیں ہے آپ پر کوئی ذمہ داری مگر صاف صاف پہنچا دینے کی۔“ { وَاِنَّآ اِذَا اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَۃً فَرِحَ بِہَا } ”اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا کوئی مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اتراتا ہے۔“ { وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌم بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ کَفُوْرٌ} ”اور اگر ان پر آپڑے کوئی برائی ان کے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی بدولت تو انسان بالکل نا شکرا بن جاتا ہے۔“

الشورى 42:49

آیت 49 { لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔“ یہ مضمون قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے ‘ لیکن اس کے لیے عام طور پر یہ جملہ آتا ہے : { لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ } لیکن اس سورت کے مرکزی مضمون اقامت ِدین کے حوالے سے یہاں خاص طور پر ملک حکومت و اقتدار کا لفظ آیا ہے۔ { یَخْلُقُ مَا یَشَآئُ یَہَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ اِنَاثًا وَّیَہَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ الذُّکُوْرَ } ”وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔“

الشورى 42:50

آیت 50 { اَوْ یُزَوِّجُہُمْ ذُکْرَانًا وَّاِنَاثًا } ”یا وہ انہیں ملا کردیتا ہے بیٹے اور بیٹیاں۔“ { وَیَجْعَلُ مَنْ یَّشَآئُ عَقِیْمًاط اِنَّہٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ} ”اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔ یقینا وہ سب کچھ جاننے والا ‘ ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔“ وہ اپنی مرضی و منشا میں قادر مطلق ہے ‘ جس کو جو چاہے عطا کر دے ‘ لیکن وہ جس کو جو عطا کرتا ہے اپنے علم و حکمت کی بنیاد پر عطا کرتا ہے۔ اگلی آیات میں وحی کی حقیقت اور اس کی اقسام بیان ہوئی ہیں۔ اس موضوع پر یہ قرآن کا اہم ترین مقام ہے۔

الشورى 42:51

آیت 51 { وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ } ”اور کسی بشر کا یہ مقام نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے“ اللہ تو ہرچیز پر قادر ہے ‘ وہ جو چاہے کرے ‘ مگر کسی انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ اس سے ہم کلام ہو۔ { اِلَّا وَحْیًا } ”سوائے وحی کے“ یہ وحی کی پہلی قسم ہے جسے ”القاء“ یا ”الہام“ کہا جاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے براہ راست بندے تک اپنا پیغام پہنچادیتا ہے اور متعلقہ بات اس کے دل میں ڈال دیتا ہے۔ شہد کی مکھی کی طرف وحی کرنا النحل : 69 ‘ ہر آسمان میں اس سے متعلقہ پیغام پہنچانا حٰمٓ السجدۃ : 12 اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے دل میں القاء کرنا القصص : 7 اس وحی کی مثالیں ہیں جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں۔ { اَوْ مِنْ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ } ”یا پھر وہ بات کرتا ہے پردے کی اوٹ سے“ یہ وحی کی دوسری قسم ہے ‘ جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا : { وَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا } النساء۔ { اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَآئُ } ”یا وہ بھیجتا ہے کسی پیغام بر َ فرشتے کو ‘ پھر وہ وحی کرتا ہے اللہ کے حکم سے جو وہ چاہتا ہے۔“ یہ وحی کی تیسری قسم ہے ‘ جیسے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے سے پورا قرآن حضور ﷺ کے قلب مبارک پر نازل ہوا۔ { اِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیْمٌ } ”وہ بہت بلند وبالا ہے ‘ کمال حکمت والا ہے۔“ اس کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ وہ کسی انسان سے براہ راست بغیر حجاب کے کلام کرے ‘ اور وہ کمال حکمت والا ہے ‘ اس نے اپنی حکمت کے مطابق انسانوں تک پیغام رسانی communication کا جو طریقہ چاہا اختیار فرمایا۔

الشورى 42:52

آیت 52 { وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَـآ اِلَـیْکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا } ”اور اے نبی ﷺ ! اسی طرح ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے ایک روح اپنے امر میں سے۔“ یہاں پر قرآن کو رُوحًا مِّن اَمْرِنَا کہا گیا ہے۔ اگلی آیت میں محمد رسول اللہ ﷺ کے ایمان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کو ایمان کہاں سے ملا ؟ اس مضمون کے اعتبار سے یہ قرآن حکیم کا اہم ترین مقام ہے۔ حضور ﷺ کی ذات کی مثال ایمان کی دہکتی ہوئی بھٹی کی سی ہے کہ جو بھی آپ ﷺ کے قریب آگیا ایمان کی دولت سے مالا مال ہوگیا۔ البتہ جس طرح ایک خراب موصل bad conductor بھٹی کے سامنے ہونے کے باوجود بھی ”اتصالِ حرارت“ کے عمل سے محروم رہتا ہے اسی طرح بعض بد نصیب انسان منافقین آپ ﷺ کی قربت میں رہنے کے باوجود بھی ایمان سے محروم رہے۔ { مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتٰبُ وَلَا الْاِیْمَانُ } ”اے نبی ﷺ ! آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے“ آپ ﷺ نے دنیا کے معروف اور روایتی طریقے سے نہ تو تعلیم حاصل کی تھی اور نہ ہی آپ ﷺ نے تورات یا کوئی اور کتاب پڑھی تھی۔ اس لحاظ سے آپ ﷺ ”اُمییّن“ میں سے تھے۔ { وَلٰکِنْ جَعَلْنٰہُ نُوْرًا نَّہْدِیْ بِہٖ مَنْ نَّشَآئُ مِنْ عِبَادِنَا } ”لیکن اس قرآن کو ہم نے ایسا نور بنایا ہے جس کے ذریعے سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں۔“ یعنی قرآن کے ذریعے سے حضور ﷺ کے ایمان نے ایک حقیقی اور واقعی شکل اختیار کرلی۔ فطرتِ انسانی کے اندر موجود ایمان کی خفتہ dormant کیفیت کے بارے میں اس مطالعہ قرآن کے دوران قبل ازیں متعدد بار گفتگو ہوچکی ہے۔ ظاہر ہے روح محمدی ﷺ میں تمام انسانی ارواح سے زیادہ قوی ایمان موجود تھا۔ آپ ﷺ کی روح کے ایمان کی کیفیت سورة النور کے پانچویں رکوع میں بیان کی گئی مثال کے مطابق ”نورٌ عَلٰی نُوْرٍ“ کی سی تھی۔ ہمارے علماء نے اس کی تعبیر یوں کی ہے کہ آپ ﷺ کی روح کے اندر اجمالی ایمان پہلے سے موجود تھا ‘ جبکہ آپ ﷺ کو تفصیلی ایمان قرآن سے ملا۔ میں اس کی تعبیر یوں کرتا ہوں کہ آپ ﷺ کی روح مبارک کے اندر بالقوۃ ّ potentioal ایمان پہلے سے موجود تھا جو خفتہ dormant حالت میں تھا۔ قرآن نے اس ایمان کو فعال active کردیا۔ یعنی قرآن کے نور سے آپ ﷺ کا ایمان جگمگا اٹھا اور آپ ﷺ کی ذات کے اندر ”نورٌ عَلٰی نُوْرٍ“ کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ اس کے بعد آپ ﷺ بنی نوع انسان کو راہ ہدایت دکھانے کے لیے مینارہ نور بن گئے۔ { وَاِنَّکَ لَتَہْدِیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ } ”اور آپ ﷺ یقینا سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتے ہیں۔“ جیسے کہ ساحل پر موجود روشنی کا مینار جہازوں کو بندرگارہ تک پہنچنے کا راستہ دکھاتا ہے۔

الشورى 42:53

آیت 53{ صِرَاطِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ } ”اس اللہ کے راستے کی طرف جس کی ملکیت ہے ہر وہ شے جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ شے جو زمین میں ہے۔“ { اَلَآ اِلَی اللّٰہِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ } ”آگاہ ہو جائو ! تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹ جائیں گے۔“