Lafzullah

Tafsir Bayan ul Quran — الشمس 91:1 – الناس 114:6

Author / source: Dr. Israr Ahmad

Contents
  1. الشمس 91:1
  2. الشمس 91:2
  3. الشمس 91:3
  4. الشمس 91:4
  5. الشمس 91:5
  6. الشمس 91:6
  7. الشمس 91:7
  8. الشمس 91:8
  9. الشمس 91:9
  10. الشمس 91:10
  11. الشمس 91:11
  12. الشمس 91:12
  13. الشمس 91:13
  14. الشمس 91:14
  15. الشمس 91:15
  16. الليل 92:1
  17. الليل 92:2
  18. الليل 92:3
  19. الليل 92:4
  20. الليل 92:5
  21. الليل 92:6
  22. الليل 92:7
  23. الليل 92:8
  24. الليل 92:9
  25. الليل 92:10
  26. الليل 92:11
  27. الليل 92:12
  28. الليل 92:13
  29. الليل 92:14
  30. الليل 92:15
  31. الليل 92:16
  32. الليل 92:17
  33. الليل 92:18
  34. الليل 92:19
  35. الليل 92:20
  36. الليل 92:21
  37. الضحى 93:1
  38. الضحى 93:2
  39. الضحى 93:3
  40. الضحى 93:4
  41. الضحى 93:5
  42. الضحى 93:6
  43. الضحى 93:7
  44. الضحى 93:8
  45. الضحى 93:9
  46. الضحى 93:10
  47. الضحى 93:11
  48. الشرح 94:1
  49. الشرح 94:2
  50. الشرح 94:3
  51. الشرح 94:4
  52. الشرح 94:5
  53. الشرح 94:6
  54. الشرح 94:7
  55. الشرح 94:8
  56. التين 95:1
  57. التين 95:2
  58. التين 95:3
  59. التين 95:4
  60. التين 95:5
  61. التين 95:6
  62. التين 95:7
  63. التين 95:8
  64. العلق 96:1
  65. العلق 96:2
  66. العلق 96:3
  67. العلق 96:4
  68. العلق 96:5
  69. العلق 96:6
  70. العلق 96:7
  71. العلق 96:8
  72. العلق 96:9
  73. العلق 96:10
  74. العلق 96:11
  75. العلق 96:12
  76. العلق 96:13
  77. العلق 96:14
  78. العلق 96:15
  79. العلق 96:16
  80. العلق 96:17
  81. العلق 96:18
  82. العلق 96:19
  83. القدر 97:1
  84. القدر 97:2
  85. القدر 97:3
  86. القدر 97:4
  87. القدر 97:5
  88. البينة 98:1
  89. البينة 98:2
  90. البينة 98:3
  91. البينة 98:4
  92. البينة 98:5
  93. البينة 98:6
  94. البينة 98:7
  95. البينة 98:8
  96. الزلزلة 99:1
  97. الزلزلة 99:2
  98. الزلزلة 99:3
  99. الزلزلة 99:4
  100. الزلزلة 99:5
  101. الزلزلة 99:6
  102. الزلزلة 99:7
  103. الزلزلة 99:8
  104. العاديات 100:1
  105. العاديات 100:2
  106. العاديات 100:3
  107. العاديات 100:4
  108. العاديات 100:5
  109. العاديات 100:6
  110. العاديات 100:7
  111. العاديات 100:8
  112. العاديات 100:9
  113. العاديات 100:10
  114. العاديات 100:11
  115. القارعة 101:1
  116. القارعة 101:2
  117. القارعة 101:3
  118. القارعة 101:4
  119. القارعة 101:5
  120. القارعة 101:6
  121. القارعة 101:7
  122. القارعة 101:8
  123. القارعة 101:9
  124. القارعة 101:10
  125. القارعة 101:11
  126. التكاثر 102:1
  127. التكاثر 102:2
  128. التكاثر 102:3
  129. التكاثر 102:4
  130. التكاثر 102:5
  131. التكاثر 102:6
  132. التكاثر 102:7
  133. التكاثر 102:8
  134. العصر 103:1
  135. العصر 103:2
  136. العصر 103:3
  137. الهمزة 104:1
  138. الهمزة 104:2
  139. الهمزة 104:3
  140. الهمزة 104:4
  141. الهمزة 104:5
  142. الهمزة 104:6
  143. الهمزة 104:7
  144. الهمزة 104:8
  145. الهمزة 104:9
  146. الفيل 105:1
  147. الفيل 105:2
  148. الفيل 105:3
  149. الفيل 105:4
  150. الفيل 105:5
  151. قريش 106:1
  152. قريش 106:2
  153. قريش 106:3
  154. قريش 106:4
  155. الماعون 107:1
  156. الماعون 107:2
  157. الماعون 107:3
  158. الماعون 107:4
  159. الماعون 107:5
  160. الماعون 107:6
  161. الماعون 107:7
  162. الكوثر 108:1
  163. الكوثر 108:2
  164. الكوثر 108:3
  165. الكافرون 109:1
  166. الكافرون 109:2
  167. الكافرون 109:3
  168. الكافرون 109:4
  169. الكافرون 109:5
  170. الكافرون 109:6
  171. النصر 110:1
  172. النصر 110:2
  173. النصر 110:3
  174. المسد 111:1
  175. المسد 111:2
  176. المسد 111:3
  177. المسد 111:4
  178. المسد 111:5
  179. الإخلاص 112:1
  180. الإخلاص 112:2
  181. الإخلاص 112:3
  182. الإخلاص 112:4
  183. الفلق 113:1
  184. الفلق 113:2
  185. الفلق 113:3
  186. الفلق 113:4
  187. الفلق 113:5
  188. الناس 114:1
  189. الناس 114:2
  190. الناس 114:3
  191. الناس 114:4
  192. الناس 114:5
  193. الناس 114:6

الشمس 91:1

آیت 20{ عَلَیْہِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَۃٌ۔ } ”ان پر آگ بند کردی جائے گی۔“ تاکہ پریشر ککر کی طرح آگ کی ساری تپش اندر ہی رہے اور انہیں شدید ترین عذاب ملے۔ اللہ کی پناہ ! اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایسے عذاب سے محفوظ رکھے اور اپنی رحمت اور شان غفاری کے طفیل اصحابِ جنت میں شامل فرمائے۔ آمین !

الشمس 91:2

آیت 2{ وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰٹہَا۔ } ”اور قسم ہے چاند کی جبکہ وہ اس کے پیچھے آتا ہے۔“ تلا ‘ یتلو کے معنی ہیں کسی کے پیچھے آنا۔ تلاوت کا لفظ بھی اسی مادہ سے مشتق ہے۔ لغوی معنی کے اعتبار سے لفظ ”تلاوت“ کے مفہوم میں قرآن مجید کے متن کا پڑھنا زبان اور نظر سے عبارت کی پیروی کرنا ‘ اس کے احکام پر عمل کرنا اور اس کا اتباع کرنا شامل ہے۔

الشمس 91:3

آیت 3{ وَالنَّہَارِ اِذَا جَلّٰٹہَا۔ } ”اور قسم ہے دن کی جب وہ اس سورج کو روشن کردیتا ہے۔“ اگرچہ بظاہر صورت حال تو یہ ہوتی ہے کہ سورج سے دن روشن ہوتا ہے ‘ لیکن یہاں اسی بات کے اندر یہ لطیف نکتہ پیدا کیا گیا ہے کہ دن ہوتا ہے تو سورج نظر آتا ہے۔ گویا دن سورج کو روشن کرتا ہے۔ آیت کے اس اسلوب کا تعلق دراصل اگلی آیت کے اسلوب سے ہے۔ اگلی آیت میں رات کا ذکر بالکل اسی انداز میں ہوا ہے :

الشمس 91:4

آیت 4{ وَالَّـیْلِ اِذَا یَغْشٰٹہَا۔ } ”اور قسم ہے رات کی جب وہ اس سورج کو ڈھانپ لیتی ہے۔“ ان دونوں آیات کا مفہوم یوں ہوگا کہ دن سورج کو نمایاں کردیتا ہے جبکہ رات اسے ڈھانپ لیتی ہے۔

الشمس 91:5

آیت 4{ وَالَّـیْلِ اِذَا یَغْشٰٹہَا۔ } ”اور قسم ہے رات کی جب وہ اس سورج کو ڈھانپ لیتی ہے۔“ ان دونوں آیات کا مفہوم یوں ہوگا کہ دن سورج کو نمایاں کردیتا ہے جبکہ رات اسے ڈھانپ لیتی ہے۔

الشمس 91:6

آیت 6{ وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰٹہَا۔ } ”اور قسم ہے زمین کی اور جیسا کہ اسے بچھا دیا۔“ نوٹ کیجیے ! یہ تمام قسمیں جوڑوں کی صورت میں آئی ہیں۔ پہلے سورج اور چاند کا ‘ پھر دن اور رات کا اور اب آسمان اور زمین کا ذکر ہوا۔ ان ظاہری تضادات کی مثالوں سے دراصل نفس انسانی کے روشن اور تاریک پہلوئوں کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ جس طرح کائنات میں ہر جگہ تم لوگوں کو تضادات نظر آتے ہیں ‘ سورج ہے تو اس کے ساتھ چاند ہے ‘ اندھیرا ہے تو اس کے ساتھ اجالا ہے ‘ بلندی ہے تو اس کے ساتھ پستی ہے ‘ اسی طرح انسان کی ذات یا شخصیت کے بھی دو رُخ ہیں۔ بظاہر دیکھنے میں تو تمام انسان ایک جیسے نظر آتے ہیں ‘ لیکن حقیقت میں یہ ایک جیسے نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی حیوانی اور نفسانی خواہشات کے راستے پر چل رہا ہے تو کسی نے اپنے نفس کا تزکیہ کر کے فلاح کی منزل حاصل کرلی ہے۔

الشمس 91:7

آیت 6{ وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰٹہَا۔ } ”اور قسم ہے زمین کی اور جیسا کہ اسے بچھا دیا۔“ نوٹ کیجیے ! یہ تمام قسمیں جوڑوں کی صورت میں آئی ہیں۔ پہلے سورج اور چاند کا ‘ پھر دن اور رات کا اور اب آسمان اور زمین کا ذکر ہوا۔ ان ظاہری تضادات کی مثالوں سے دراصل نفس انسانی کے روشن اور تاریک پہلوئوں کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ جس طرح کائنات میں ہر جگہ تم لوگوں کو تضادات نظر آتے ہیں ‘ سورج ہے تو اس کے ساتھ چاند ہے ‘ اندھیرا ہے تو اس کے ساتھ اجالا ہے ‘ بلندی ہے تو اس کے ساتھ پستی ہے ‘ اسی طرح انسان کی ذات یا شخصیت کے بھی دو رُخ ہیں۔ بظاہر دیکھنے میں تو تمام انسان ایک جیسے نظر آتے ہیں ‘ لیکن حقیقت میں یہ ایک جیسے نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی حیوانی اور نفسانی خواہشات کے راستے پر چل رہا ہے تو کسی نے اپنے نفس کا تزکیہ کر کے فلاح کی منزل حاصل کرلی ہے۔

الشمس 91:8

آیت 8{ فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰٹہَا۔ } ”پس اس کے اندر نیکی اور بدی کا علم الہام کردیا۔“ اب اگلی دو آیات میں ان قسموں کے جواب مذکور ہے۔

الشمس 91:9

آیت 8{ فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰٹہَا۔ } ”پس اس کے اندر نیکی اور بدی کا علم الہام کردیا۔“ اب اگلی دو آیات میں ان قسموں کے جواب مذکور ہے۔

الشمس 91:10

آیت 10{ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰٹہَا۔ } ”اور ناکام ہوگیا جس نے اسے مٹی میں دفن کردیا۔“ یہ اس سورت کا مرکزی مضمون ہے۔ ان دو آیات میں انتہائی اختصار کے ساتھ انسان کی حقیقی کامیابی اور ناکامی کا معیار بیان کردیا گیا ہے۔ دَسَّ یَدُسُّ کے معنی کسی چیز کو مٹی میں دفن کردینے کے ہیں۔ سورة النحل آیت 59 میں ہم پڑھ چکے ہیں : { اَیُمْسِکُہٗ عَلٰی ھُوْنٍ اَمْ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِط } اس آیت میں قبل از اسلام زمانے کے عربوں کی ایک خاص ذہنیت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے جس شخص کے گھر بیٹی پیدا ہوتی ہے وہ یا تو اسے ذلت آمیز طریقے سے زندہ رکھتا ہے یا زندہ دفن کردیتا ہے۔ یہاں ”دَسّٰی“ دراصل دَسَّسَ باب تفعیل ہے ‘ اس کے آخری سین کو یا سے بدل دیا گیا ہے۔ تو جس انسان نے اپنے نفس کو مٹی میں دفن کردیا اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ جس نے اپنی روح کو اپنے خاکی وجود کے اندر دبا دیا۔ یعنی جس کی حیوانی خواہشات و شہوات اس کی روح پر غالب آگئیں تو وہ ناکام رہا۔ البتہ جیسا کہ سورة الاعلیٰ کے مطالعہ کے دوران بھی نشان دہی کی گئی ہے ‘ زیر مطالعہ سورتوں کے مضامین میں سے اکثر کا تعلق سورة الاعلیٰ کے مضامین کے ساتھ ہے۔ چناچہ سورة الاعلیٰ میں { قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی۔ } کے الفاظ میں جو مضمون انتہائی مختصر انداز میں آیا تھا ‘ یوں سمجھیں کہ اب آیات زیر مطالعہ میں اس مضمون کی مزید تفصیل بیان ہوئی ہے۔ اس مضمون پر قسموں کی صورت میں یہاں مزید گواہیاں بھی لائی گئی ہیں اور زیر مطالعہ آیت کے الفاظ { وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰٹہَا۔ } میں تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھایا گیا ہے۔ دراصل انسان کا نفس اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اس امانت کو پاک صاف رکھنا اس کی ذمہ داری ہے۔ نفس کو پاک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو ‘ یعنی اپنی شخصیت کو تمام رذائل اور باطنی بیماریوں سے پاک کر کے بہترین انسانی خوبیوں کا مرقع بنائے۔ اس کے لیے ہمارے ہاں عام طور پر تزکیہ نفس ‘ تعمیر ِسیرت ‘ تعمیر خودی وغیرہ اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کی نظر میں کامیاب انسان وہی ہے جو اپنے نفس کو پاک کرنے اور پاک رکھنے میں کامیاب ہوگیا ‘ خواہ دنیا والوں کی نظروں میں وہ حقیر ‘ فقیر اور بےنام ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس جس انسان نے اپنے نفس کو رذائل و خبائث سے آلودہ کرلیا ‘ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ناکام ہے ‘ دنیا میں خواہ وہ غیر معمولی عزت ‘ شہرت اور دولت کا مالک ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے کہ اصل اور حقیقی کامیابی اور ناکامی کا تعلق انسان کے ظاہر سے نہیں بلکہ اس کی ”ذات“ سے ہے۔ انسان کی ”ذات“ سے کیا مراد ہے ؟ فرائڈ نے اسے انسان کی self اَنا کا نام دیا ہے۔ اس کے نزدیک انسان کی اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی self کو id اور libido کے تسلط سے آزاد کرا کے اسے مثبت انداز میں ترقی دے۔ علامہ اقبال نے اسے خودی کا نام دیا ہے اور انسان کی ”کامیابی“ کو اس کی خودی کی تعمیر و ترقی سے مشروط کیا ہے۔ بہرحال اس حوالے سے سمجھنے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ انسان محض ایک جسم یا ہاتھ پائوں ‘ سر ‘ دھڑ وغیرہ کے مجموعے کا نام نہیں ہے۔ انسان کہتا ہے میرا ہاتھ ‘ میرا پائوں ‘ میرا سر وغیرہ۔ یہ تمام اعضاء بیشک اس کے ہیں ‘ لیکن وہ انسان جو ان اعضاء کو اپنا بتارہا ہے وہ خود کیا ہے ؟ اور کہاں ہے ؟ ظاہر ہے اصل انسان اس جسم یا وجود کے اندر ہے۔ اس کو ایسے سمجھیں کہ جس طرح آم کی گٹھلی کے اندر آم کا پورا درخت موجود ہے ‘ اسی طرح انسانی جسم کے اندر اصل انسان ایک لطیف شخصیت کی صورت میں موجود ہے۔ یہ لطیف شخصیت عبارت ہے اس روح سے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے حیوانی یا خاکی وجود کے اندر پھونکی ہے : { وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ } الحجر : 29۔ روح یا انسان کی انا کا ذکر اپنشد کے اس فقرے میں بھی ہے ‘ جس کا حوالہ میں پہلے بھی دے چکا ہوں : Man in his ignorance identifies himself with the material sheeths that encompass his real self.گویا انسان کی self یا انا یا خودی یا روح اس کے حیوانی وجود کی مٹی کے اندر دفن ایک خزانہ ہے۔ اب جو انسان اس خزانے کو مٹی سے نکال کر کام میں لے آئے گا ‘ یعنی اپنی روح کو صیقل کرلے گا ‘ اس کا نفس پاک ہوجائے گا روح کی پاکیزگی نفس کی پاکیزگی کا باعث بنتی ہے۔ دونوں کا تعلق انسان کے باطن سے ہے اور وہ کامیابی یا فلاح کے راستے پر گامزن ہوجائے گا۔ فلاح کا لفظ قرآن مجید میں ایک جامع اصطلاح کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ اس اصطلاح کے مفہوم کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورة المومنون کی پہلی آیت کی تشریح۔ زیر مطالعہ آیات کے حوالے سے یہ نکتہ خصوصی طور پر پیش نظر رہنا چاہیے کہ انسان کی روح اور اس کا نفس دو الگ الگ چیزیں ہیں اور ان آیات میں انسانی روح کا نہیں بلکہ انسانی نفس کا ذکر ہوا ہے۔ روحِ انسانی دراصل عالم امر کی چیز ہے اور یہ معرفت خداوندی اور محبت خداوندی کی امین ہے ‘ جبکہ نفس انسانی کا تعلق عالم خلق سے ہے۔ اسی لیے اس کے ذکر سے پہلے جن چیزوں کی یہاں قسمیں کھائی گئی ہیں ان سب سورج ‘ چاند ‘ دن ‘ رات ‘ آسمان ‘ زمین کا تعلق بھی عالم خلق سے ہے۔ روح تمام مخلوقات میں سے صرف انسان کو عطا ہوئی ہے ‘ جبکہ نفس گدھے ‘ گھوڑے اور چمپنیزی وغیرہ سب جانوروں میں ہوتا ہے۔ البتہ انسان کی خصوصیت اس حوالے سے یہ ہے کہ دوسرے جانوروں کے مقابلے میں نفس انسانی کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی ارتقائی درجات سے نوازا ہے اور اس کے اندر اخلاقی حس اور نیکی و بدی کی وہ تمیز الہام کردی ہے جو دوسرے جانوروں کے نفس میں نہیں پائی جاتی۔ اسی حس اور تمیز کی وجہ سے انسانی فطرت آفاقی سطح پر نیکی کو اچھا اور بدی کو برا سمجھتی ہے۔ دنیا میں کسی معاشرے ‘ کسی مذہب اور کسی نسل کا انسان ہو وہ سچ بولنے کو اچھا اور جھوٹ بولنے کو برا سمجھتا ہے۔ اس حوالے سے قرآن میں معروف اور منکر کی اصطلاحات کثرت سے استعمال ہوتی ہیں۔ معروف وہ چیزیں یا افعال یا اعمال ہیں جو نفس انسانی کے لیے مانوس ہیں۔ انہیں دیکھ کر یا اپنا کر نفس انسانی کو راحت محسوس ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں منکرات وہ چیزیں یا اعمال یا افعال ہیں جنہیں نفس انسانی برا سمجھتا ہے اور جن کی صحبت و معیت میں وہ اجنبیت اور کوفت محسوس کرتا ہے ‘ بلکہ وہ انسان کو ایسے اعمال و افعال سے ٹوکتا ہے۔ اسی لیے انسان غلطی کرنے کے بعد اکثر یہ کہتا پایا جاتا ہے کہ ”میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا ہے“ my conscience is pinching me۔ نفس انسانی کی اسی خصوصیت کی وجہ سے سورة القیامہ کی آیت 2 میں اسے نفس لوامہ ملامت کرنے والا نفس کا نام دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے آیات زیر مطالعہ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ نفس انسانی کے اندر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیکی اور بدی کی تمیز کا بنیادی بیج ڈال دیا گیا ہے۔ اب انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اس بیج کی حفاظت کرے ‘ اسے سازگار ماحول فراہم کرے اور عمل صالح کے پانی سے اس کی آبیاری کرے۔ سورة فاطر آیت 10 میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗط } کہ کسی بھی اچھی بات یا اچھے کلام میں اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچنے کی صلاحیت تو ہوتی ہے لیکن عمل صالح اس کی اس صلاحیت کو اور بڑھا دیتا ہے۔ چناچہ انسان جب تزکیہ نفس اور اعمالِ صالحہ کے حوالے سے محنت کرے گا تو اسے ایمان کی حلاوت بھی نصیب ہوگی ‘ وہ ایمان کے ان ثمرات سے بھی بہرہ مند ہوگا جن کا ذکر ہم سورة التغابن میں پڑھ آئے ہیں اور اسے کامیابی کی ضمانت بھی ملے گی۔ اس کے برعکس جس انسان نے اپنے نفس کو حیوانی وجود کے تابع کیے رکھا اور وہ اس کی آواز کو دبا کر زندگی بھر جسمانی تقاضے پورے کرنے میں لگا رہا وہ گویا خائب و خاسر ہو کر رہ گیا۔ اب اگلی آیات میں ایک قوم یا ایک معاشرے کے اجتماعی ضمیر کے حوالے سے ایک مثال دی گئی ہے۔ ظاہر ہے جس طرح ایک انسان کے اندر نیکی اور بدی کی تمیز ہوتی ہے اسی طرح ہر معاشرے میں اجتماعی طور پر بھی اخلاقی حس پائی جاتی ہے ‘ اور جس طرح ایک انسان میں اچھے برے داعیات ہوتے ہیں اسی طرح ہر معاشرے کے اندر بھی نیکی کے علمبردار اور شر پھیلانے والے عناصر موجود ہوتے ہیں۔ غرض جس طرح ایک فرد کا ضمیر ہوتا ہے اسی طرح معاشروں اور قوموں کا اجتماعی ضمیر بھی ہوتا ہے۔ چناچہ اگر کسی قوم کا اجتماعی ضمیر زندہ ہو ‘ اس کی صفوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ احسن طریقہ سے ادا کیا جا رہا ہو تو اس قوم کے مجموعی حالات بہتر طور پر چلتے رہتے ہیں۔ لیکن اگر کسی قوم کا اجتماعی ضمیر مردہ ہوجائے اور اس کی اخلاقی حس بحیثیت مجموعی اس قدر کمزور ہوجائے کہ اس کے ماحول میں برائی کو برائی کہنے والا بھی کوئی نہ رہے تو ایسی قوم اپنے زندہ رہنے کا جواز کھو دیتی ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے اس شعر میں اسی اجتماعی بےحسی کی تصویر پیش کی ہے : ؎وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا ! اس حوالے سے اب ملاحظہ ہو قوم ثمود کی مثال :

الشمس 91:11

آیت 1 1{ کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰٹہَآ۔ } ”قومِ ثمود نے بھی جھٹلایا تھا اپنی سرکشی کے باعث۔“ یعنی حضرت صالح علیہ السلام کی نبوت کو جھٹلا دیا جو ان کی ہدایت کے لیے مبعوث کیے گئے تھے۔

الشمس 91:12

آیت 12{ اِذِ انْبَعَثَ اَشْقٰٹہَا۔ } ”جب اٹھ کھڑا ہوا ان کا سب سے شقی انسان۔“ م وہ شخص اپنی قوم کے لوگوں کے کہنے پر اس اونٹنی کو ہلاک کرنے پر کمربستہ ہوگیا جسے اللہ تعالیٰ نے اس قوم کے مطالبے پر بطور معجزہ پیدا کیا تھا۔

الشمس 91:13

آیت 13{ فَقَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَسُقْیٰـہَا۔ } ”تو اللہ کے رسول نے ان سے کہا کہ خبردار ! یہ اللہ کی اونٹنی ہے اور یہ اس کے پانی پینے کا دن ہے۔“

الشمس 91:14

آیت 14{ فَکَذَّبُوْہُ فَعَقَرُوْہَاص } ”تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔“ { فَدَمْدَمَ عَلَیْہِمْ رَبُّہُمْ بِذَنْبِہِمْ فَسَوّٰٹہَا۔ } ”تو الٹ دیا ان پر عذاب ان کے رب نے ان کے گناہ کی پاداش میں اور سب کو برابر کردیا۔“ ان کے جرمِ عظیم کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب استیصال نازل فرمایا اور پوری قوم کو ایک ساتھ پیوند خاک کردیا۔

الشمس 91:15

آیت 15{ وَلَا یَخَافُ عُقْبٰٹہَا۔ } ”اور وہ اس کے انجام سے نہیں ڈرتا۔“ اللہ تعالیٰ کو اپنے اس فعل کے کسی برے نتیجے کا کوئی خوف نہیں ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا ؟ وہ پوری کائنات کا مالک اور خالق ہے ‘ وہ جو چاہے کرے۔ اس نے اس پوری قوم کو ختم کردیا اور ان کی جگہ دوسری قوم کو لے آیا۔ اس سورت میں پہلے انسانی نفس اور ضمیر کے حوالے سے انسان کی انفرادی کامیابی اور ناکامی کا ذکر ہوا اور پھر قوم ثمود کی مثال دے کر قوموں کی اجتماعی کامیابی اور ناکامی کے معیار کے بارے میں بھی بتادیا گیا۔ اس سورت کے مضمون کا تسلسل اگلی سورت میں بھی نظر آئے گا۔

الليل 92:1

آیت 1{ وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی۔ } ”قسم ہے رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے۔“ یعنی تمام چیزوں پر تاریکی کا پردہ ڈال دیتی ہے۔

الليل 92:2

آیت 2{ وَالنَّہَارِ اِذَا تَجَلّٰی۔ } ”اور قسم ہے دن کی جب وہ روشن ہوجاتا ہے۔“ رات اور دن اللہ تعالیٰ کی آفاقی نشانیوں میں سے ہیں ‘ جبکہ اگلی قسم کا تعلق انسان کی ذات اللہ تعالیٰ کی انفسی نشانیوں سے ہے۔

الليل 92:3

آیت 3{ وَمَاخَلَقَ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰٓی۔ } ”اور قسم ہے اس کی جو اس نے پیدا کیے نر اور مادہ۔“ ان قسموں سے یہ نکتہ واضح ہوتا ہے کہ کائنات کے اندر نظر آنے والے تضادات دراصل نظام کائنات کا حصہ ہیں ‘ بلکہ کائنات کا نظام انہی تضادات کی وجہ سے چل رہا ہے اور ایک جنس سے تعلق رکھنے والی دو متضاد چیزیں باہم مل کر فطرت کے تقاضوں کی تکمیل کرتی ہیں۔ دنیا کا سارا نظام دن اور رات کے ادلنے بدلنے کی وجہ سے قائم ہے۔ زمین پر حیوانی اور نباتاتی زندگی کا وجود اسی گردش لیل و نہار کا مرہون منت ہے۔ خود نسل انسانی کا تسلسل بھی مرد اور عورت کے جنسی اختلاف و تضاد کی وجہ سے چل رہا ہے۔ چناچہ کائنات کی مختلف تخلیقات میں بظاہر نظر آنے والے ان تضادات کے اندر بھی ایک طرح کا توافق اور تطابق پایاجاتا ہے۔

الليل 92:4

آیت 4{ اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی۔ } ”بیشک تمہاری کوشش الگ الگ ہے۔“ یعنی جس طرح کائنات کی باقی چیزوں میں اختلاف و تضاد پایا جاتا ہے اسی طرح تمہارے مختلف افراد کی کوششوں اور محنتوں کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ ظاہر ہے زندگی کے شب و روز میں محنت ‘ مشقت اور بھاگ دوڑ کرنا تو انسان کا مقدر ہے : { لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ۔ } البلد ”بیشک ہم نے انسان کو پیدا ہی محنت اور مشقت میں کیا ہے“۔ ہر انسان اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالنے کے لیے بھی مشقت کرتا ہے۔ پھر اگر وہ کسی نظریے کا پیروکار ہے تو اس نظریے کی اشاعت اور سربلندی کے لیے بھی تگ و دو کرتا ہے اور اس نظریے کے تحت ایک نظام کے قیام کے لیے بھی جدوجہد کرتا ہے۔ غرض اپنے اپنے ماحول اور حالات کے مطابق محنت اور مشقت تو سب انسان ہی کرتے ہیں لیکن ان کی مشقتوں کے نتائج مختلف ہوتے ہیں۔ ایک شخص اپنی محنت کے نتیجے میں جنت خرید لیتا ہے اور دوسرا اپنی محنت و مشقت کی پاداش میں خود کو دوزخ کا مستحق بنالیتا ہے۔ انسانی محنت میں اس فرق کی وضاحت حضور ﷺ کی اس حدیث میں ملتی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کُلُّ النَّاسِ یَغْدُوْ فَبَائِِعٌ نَفْسَہٗ فَمُعْتِقُھَا اَوْ مُوْبِقُھَا 1 ”ہر شخص روزانہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اپنی جان کا سودا کرتا ہے ‘ پھر یا تو وہ اسے آزاد کرا لیتا ہے یا اسے تباہ کر بیٹھتا ہے“۔ کوئی اپنی جسمانی قوت کا سودا کرتا ہے ‘ کوئی ذہنی صلاحیت بیچتا ہے ‘ کوئی اپنی مہارت نیلام کرتا ہے ‘ کوئی اپنا وقت فروخت کرتا ہے۔ غرض اپنے اپنے طریقے اور اپنے اپنے انداز میں ہر شخص دن بھر خود کو بیچتا ہے۔ اب ان میں سے ایک شخص وہ ہے جس نے خود کو بیچتے ہوئے حلال کو مدنظر رکھا ‘ اس نے جھوٹ نہیں بولا ‘ کسی کو دھوکہ نہیں دیا ‘ کم معاوضہ قبول کرلیا لیکن حرام سے اجتناب کیا۔ ایسا شخص شام کو لوٹے گا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے شامل حال ہوگی۔ اس کے مقابلے میں ایک دوسرے شخص نے بھی دن بھر مشقت کی ‘ مگر حلال و حرام کی تمیز سے بےنیاز ہو کر ‘ معاوضہ اس نے بھی لیامگر غلط بیانی کرکے اور دوسروں کو فریب دے کر ‘ ناپ تول میں کمی کر کے اور گھٹیا چیز کو بڑھیا چیز کے دام پر بیچ کر۔ اب یہ شخص جب شام کو گھر آئے گا تو جہنم کے انگاروں کی گٹھڑی اٹھائے ہوئے آئے گا۔ اب آئندہ آیات میں انسانی زندگی کے دو راستوں میں سے ہر راستے کے تین اوصاف یا تین سنگ ہائے میل کی نشاندہی کردی گئی ہے ‘ تاکہ ہر شخص کو معلوم ہوجائے کہ اس نے کون سا راستہ اختیار کیا ہے ‘ اس راستے پر اب وہ کس مقام پر ہے اور اگر وہ مزید آگے بڑھے گا تو آگے کون سی منزل اس کی منتظر ہوگی۔ اس مضمون کے اعتبار سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ قرآن مجید کی اہم ترین سورت ہے۔ اب ملاحظہ ہوں ان میں سے پہلے راستے کے تین اوصاف :

الليل 92:5

آیت 5{ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی۔ } ”تو جس نے عطا کیا اور تقویٰ اختیار کیا۔“ ظاہر ہے یہ خیر کا راستہ ہے اور اس راستے کا پہلا وصف یا پہلا سنگ میل ”اِعطاء“ یا انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ سورة البلد میں اس عمل کو انسان کے لیے ایک بہت مشکل گھاٹی قرار دے کر اس کی وضاحت یوں فرمائی گئی : { فَکُّ رَقَـبَۃٍ - اَوْ اِطْعٰـمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَـبَۃٍ - یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَۃٍ - اَوْ مِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ - ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا…} ”کسی گردن کا چھڑا دینا۔ یا کھانا کھلا دینا بھوک کے دن ‘ اس یتیم کو کہ جو قرابت دار بھی ہے ‘ یا اس محتاج کو جو مٹی میں رُل رہا ہے۔ پھر وہ شامل ہوا ان لوگوں میں جو ایمان لائے…“ یعنی جو انسان اس ”مشکل گھاٹی“ کو عبور کرنے کے بعد اہل ایمان کی صف میں شامل ہوگا وہ ان شاء اللہ ابوبکر صدیق ‘ عمر فاروق ‘ عثمان غنی اور علی مرتضیٰ - کا پیروکار بنے گا۔ لیکن جس نے یہ امتحان پاس کیے بغیر ہی کلمہ پڑھ لیا تو اس کے بارے میں خدشہ ہے کہ توحید و رسالت کی گواہی دینے کے بعد بھی اس کے ایمان کی بوباس عبداللہ بن ابی کے ایمان کی سی ہوگی۔ ظاہر ہے جو کلمہ حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر ‘ حضرت عثمان اور حضرت علی - نے پڑھا تھا وہی کلمہ عبداللہ بن ابی نے بھی پڑھا تھا۔ یعنی ایمان کا بیج تو دونوں طرف ایک سا تھا ‘ مگر یہ زمین اور تھی ‘ وہ زمین اور تھی۔ اس زمین میں انفاق فی سبیل اللہ کا ہل چل چکا تھا اور اس زمین میں ُ حب ِدنیا اور شکوک و تردّد کے جھاڑ جھنکاڑ نے قبضہ جما رکھا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ عبداللہ بن ابی کے دل کی زمین میں ایمان کے بیج کا جمائو ممکن ہی نہ ہوا۔ اس حوالے سے اگر سورة آل عمران کی آیت 92 کے اس جملے کو مدنظر رکھا جائے تو انفاق و اِعطاء کے اس فلسفے کو سمجھنا بہت آسان ہوجاتا ہے : { لَــنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَط } یعنی جب تک تم لوگ اپنی عزیز ترین چیز کو اللہ کی راہ میں نہ دے ڈالو تم نیکی کی گردکو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا چاہیے تو مال کی قربانی دو اور قربانی بھی بہترین چیز کی۔ یہ نہیں کہ چھانٹ کر بےکار چیزیں کسی کو دے کر سمجھو کہ تم نے حاتم طائی کی قبر پر لات مار دی ہے۔ اس راستے کا دوسر اوصف یا سنگ میل تقویٰ وَاتَّقٰی ہے۔ یعنی انسان کا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرتے رہنا۔ ہر لمحہ برائی کی خاردار جھاڑیوں سے اپنا دامن بچانے کی فکر میں رہنا اور مسلسل کوشش کرتے رہنا کہ میں کسی کا دل نہ دکھائوں اور کسی کا حق نہ ماروں۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کی ودیعت کردہ وہ اخلاقی حس زندہ و بیدار ہو جس کا ذکر سورة الشمس کی آیت { فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰٹہَا۔ } میں آیا ہے۔ اگر اس کی اخلاقی حس کی شمع ہوا و ہوس کے طوفان کی نذر ہوچکی ہو تو پھر ظاہر ہے کہاں کا تقویٰ اور کس کا ڈر !

الليل 92:6

آیت 6{ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ } ”اور اس نے تصدیق کی اچھی بات کی۔“ یہ خیر کے راستے کی تیسری شرط یا اس کا تیسرا وصف ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ جب بھلائی اور حق کی کوئی بات انسان کے سامنے آئے اور اس کا دل گواہی دے دے کہ ہاں یہ بات حق ہے تو وہ بلاتردّد اس کی تصدیق کردے۔ یعنی وہ بھلائی ‘ سچائی اور حق کی تصدیق کرنے کے لیے عواقب و نتائج کی پروا نہ کرے۔ حق کو حق جان کر اس کی تصدیق و توثیق کے لیے سود و زیاں کا ترازو نصب کر کے نہ بیٹھ جائے اور نہ ہی اس حوالے سے اپنی انا کو آڑے آنے دے۔ جیسے کہ ہماری روز مرہ کی زندگی میں اکثر ہوتا ہے کہ دو آدمیوں کی بحث کے دوران ایک آدمی پر واضح ہوجاتا ہے کہ دوسرے کی بات درست ہے مگر وہ صرف اپنی انا کی وجہ سے اس کے موقف کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

الليل 92:7

آیت 7{ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی۔ } ”تو اس کو ہم رفتہ رفتہ آسان منزل جنت تک پہنچادیں گے۔“ اس حوالے سے سورة الاعلیٰ کی یہ آیت بھی ذہن میں تازہ کر لیجیے : { وَنُیَسِّرُکَ لِلْیُسْرٰی۔ } ”اور ہم رفتہ رفتہ پہنچائیں گے آپ کو آسان منزل تک“۔ لیکن سورة الاعلیٰ کی نسبت یہاں یہ مضمون زیادہ واضح انداز میں آیا ہے۔ اب اس کے مقابلے میں اگلی آیات میں دوسرے راستے اور اس کے تین سنگ ہائے میل کا ذکر آ رہا ہے :

الليل 92:8

آیت 8{ وَاَمَّا مَنْم بَخِلَ } ”اور جس نے بخل کیا“ پہلی تین خصوصیات کی ترتیب ذہن میں رکھیے اور نوٹ کیجیے کہ ”اِعطاء“ کے مقابلے میں یہاں بخل آگیا ہے۔ { وَاسْتَغْنٰی۔ } ”اور بےپروائی اختیار کی۔“ بھلائی اور خیر کے راستے کی تین خصوصیات میں اعطاء کے بعد تقویٰ یعنی پھونک پھونک کر قدم رکھنے اور ذمہ داری کے احساس کا بیان تھا۔ اس کے مقابلے یہاں لاابالی پن ‘ لاپرواہی اور بےنیازی استغناء کا تذکرہ ہے۔ گویا ایک شخص حلال و حرام کی تمیز سے ناآشنا اور نیکی و بدی کے تصور سے بیگانہ اپنی دھن میں مست چلا جا رہا ہے۔ کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے تو اس کی بلا سے ‘ کسی کی عزت پر حرف آتا ہے تو آتا رہے ‘ کسی کے جان و مال کی حرمت پامال ہوتی ہے تو بھی پروا نہیں ! غرض اپنی سوچ ہے ‘ اپنی مرضی ہے اور اپنے کام سے کام ہے : ؎دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے !

الليل 92:9

آیت 9{ وَکَذَّبَ بِالْحُسْنٰی۔ } ”اور جھٹلا دیا اچھی بات کو۔“ یعنی اس کے دل نے گواہی دے دی کہ یہ سچ اور حق بات ہے لیکن اس کے باوجود اس نے تعصب یا تکبر یا ہٹ دھرمی یا مفاد یا کسی خوف کی وجہ سے اسے جھٹلا دیا۔ واضح رہے اس آیت کا تقابل آیت 6 وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ کے ساتھ ہے۔

الليل 92:10

آیت 10{ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی۔ } ”تو اس کو ہم رفتہ رفتہ مشکل منزل جہنم تک پہنچا دیں گے۔“ یہ ہیں انسانی کوشش اور مشقت کے دو رخ۔ گویا پہلی تین شرائط کو اپنانے کا راستہ صدیقین اور شہداء کا راستہ ہے۔ اگر کسی نے کوشش کی لیکن وہ مذکورہ تینوں شرائط کو کماحقہ پورا نہ کرسکا تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کوشش اور اخلاص کے مطابق ہوگا۔ لیکن جس بدقسمت شخص کی کوشش اور محنت میں ان تینوں اوصاف کا فقدان ہوا اور وہ ان کے مقابلے میں عمر بھر دوسرے راستے بخل ‘ استغناء اور تکذیب پر گامزن رہا ‘ ظاہر ہے اس کا شمار ان بدترین لوگوں کے گروہ میں ہوگا جس کے سرغنہ ابولہب اور ابوجہل ہیں۔ یہاں ضمنی طور پر یہ بھی جان لیجیے کہ ابوجہل کے مقابلے میں ابولہب کا کردار کہیں زیادہ گھٹیا اور مذموم تھا ‘ بلکہ قرآن مجید نے جس انداز میں اس کی مذمت کی ہے اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے گروہ کا بدترین فرد تھا۔ بزدلی ‘ بخیلی اور حد سے بڑھی ہوئی خود غرضی اس کے کردار کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ اس کے بخل اور مال کو سینت سینت کر رکھنے کا ذکر سورة اللہب میں بھی آیا ہے۔ اس کی بزدلی اور خودغرضی کا پول اس وقت کھلا جب اس کے سامنے اپنے ”دین“ کے لیے جنگ کرنے کا مرحلہ آیا ‘ اس وقت اس نے اپنی جگہ کرائے کے دو سپاہیوں کو لڑنے کے لیے بھیج دیا۔ اس کے مقابلے میں ابوجہل صاف گو ‘ بہادر اور اپنے نظریے پر مرمٹنے والا شخص تھا۔ چناچہ اس نے اپنے باطل دین کی خاطر بڑے فخر سے گردن کٹوائی۔ انگریزی کی مثل ہے : " give the devil his due" یعنی شیطان کے کردار میں بھی اگر کوئی مثبت خصوصیت ہو تو اس کے اعتراف میں کوئی حرج نہیں۔ ظاہر ہے اس کی شخصیت میں آخر کوئی تو خوبی تھی جس کی بنا پر حضور ﷺ نے اپنی خصوصی دعا میں اسے اور حضرت عمر رض کو ایک ہی پلڑے میں رکھا تھا۔ حضور ﷺ نے تو ان دونوں شخصیات کے لیے برابر کی دعا کی تھی کہ اے اللہ ! عمر بن الخطاب اور عمرو بن ہشام میں سے کسی ایک کو میری جھولی میں ڈال دے ! حضور ﷺ کی اس دعا کی روشنی میں تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اگر ابوجہل ایمان لے آتا تو وہ حضرت عمر رض کے پائے کا مسلمان ہوتا ‘ نہ کہ عبداللہ بن ابی کے کردار والا مسلمان۔ بہرحال ان آیات میں انسان کی کامیابی اور ناکامی کے معیار اور اوصاف کی واضح طور پر نشاندہی کردی گئی ہے۔ جو انسان اپنی سیرت و شخصیت کی بنیاد پہلے تین اوصاف بحوالہ آیت 5 اور 6 پر رکھے گا وہ ان شاء اللہ کامیابی سے ہمکنار ہوگا اور جو آخری تین اوصاف بحوالہ آیت 8 اور 9 کا انتخاب کرے گا وہ بدترین خلائق قرارپائے گا۔

الليل 92:11

آیت 10{ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی۔ } ”تو اس کو ہم رفتہ رفتہ مشکل منزل جہنم تک پہنچا دیں گے۔“ یہ ہیں انسانی کوشش اور مشقت کے دو رخ۔ گویا پہلی تین شرائط کو اپنانے کا راستہ صدیقین اور شہداء کا راستہ ہے۔ اگر کسی نے کوشش کی لیکن وہ مذکورہ تینوں شرائط کو کماحقہ پورا نہ کرسکا تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کوشش اور اخلاص کے مطابق ہوگا۔ لیکن جس بدقسمت شخص کی کوشش اور محنت میں ان تینوں اوصاف کا فقدان ہوا اور وہ ان کے مقابلے میں عمر بھر دوسرے راستے بخل ‘ استغناء اور تکذیب پر گامزن رہا ‘ ظاہر ہے اس کا شمار ان بدترین لوگوں کے گروہ میں ہوگا جس کے سرغنہ ابولہب اور ابوجہل ہیں۔ یہاں ضمنی طور پر یہ بھی جان لیجیے کہ ابوجہل کے مقابلے میں ابولہب کا کردار کہیں زیادہ گھٹیا اور مذموم تھا ‘ بلکہ قرآن مجید نے جس انداز میں اس کی مذمت کی ہے اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے گروہ کا بدترین فرد تھا۔ بزدلی ‘ بخیلی اور حد سے بڑھی ہوئی خود غرضی اس کے کردار کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ اس کے بخل اور مال کو سینت سینت کر رکھنے کا ذکر سورة اللہب میں بھی آیا ہے۔ اس کی بزدلی اور خودغرضی کا پول اس وقت کھلا جب اس کے سامنے اپنے ”دین“ کے لیے جنگ کرنے کا مرحلہ آیا ‘ اس وقت اس نے اپنی جگہ کرائے کے دو سپاہیوں کو لڑنے کے لیے بھیج دیا۔ اس کے مقابلے میں ابوجہل صاف گو ‘ بہادر اور اپنے نظریے پر مرمٹنے والا شخص تھا۔ چناچہ اس نے اپنے باطل دین کی خاطر بڑے فخر سے گردن کٹوائی۔ انگریزی کی مثل ہے : " give the devil his due" یعنی شیطان کے کردار میں بھی اگر کوئی مثبت خصوصیت ہو تو اس کے اعتراف میں کوئی حرج نہیں۔ ظاہر ہے اس کی شخصیت میں آخر کوئی تو خوبی تھی جس کی بنا پر حضور ﷺ نے اپنی خصوصی دعا میں اسے اور حضرت عمر رض کو ایک ہی پلڑے میں رکھا تھا۔ حضور ﷺ نے تو ان دونوں شخصیات کے لیے برابر کی دعا کی تھی کہ اے اللہ ! عمر بن الخطاب اور عمرو بن ہشام میں سے کسی ایک کو میری جھولی میں ڈال دے ! حضور ﷺ کی اس دعا کی روشنی میں تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اگر ابوجہل ایمان لے آتا تو وہ حضرت عمر رض کے پائے کا مسلمان ہوتا ‘ نہ کہ عبداللہ بن ابی کے کردار والا مسلمان۔ بہرحال ان آیات میں انسان کی کامیابی اور ناکامی کے معیار اور اوصاف کی واضح طور پر نشاندہی کردی گئی ہے۔ جو انسان اپنی سیرت و شخصیت کی بنیاد پہلے تین اوصاف بحوالہ آیت 5 اور 6 پر رکھے گا وہ ان شاء اللہ کامیابی سے ہمکنار ہوگا اور جو آخری تین اوصاف بحوالہ آیت 8 اور 9 کا انتخاب کرے گا وہ بدترین خلائق قرارپائے گا۔

الليل 92:12

آیت 12{ اِنَّ عَلَیْنَا لَلْہُدٰی۔ } ”دیکھو انسانو ! یقینا ہمارے ذمے ہے ہدایت پہنچا دینا۔“ اپنے مضمون کے اعتبار سے یہ بہت اہم آیت ہے۔ اس میں واضح طور پر بتادیا گیا ہے کہ انسان کو سیدھا راستہ دکھانا اور ”ہدایت“ اس تک پہنچانا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو جبلی ہدایت بھی عطا کی ہے ‘ اس کے نفس کے اندراخلاقی حس بھی الہام کردی ہے۔ اس کے اندر اپنی روح بھی پھونکی ہے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت کی امین ہے اور پھر اس ہدایت و معرفت کی تکمیل کے لیے اس نے دنیا میں پیغمبر بھی بھیجے اور کتابیں بھی نازل کیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے کئی ذرائع سے انسان کو راہ ہدایت دکھانے کا اہتمام فرما دیا ہے۔

الليل 92:13

آیت 13{ وَاِنَّ لَـنَا لَلْاٰخِرَۃَ وَالْاُوْلٰی۔ } ”اور ہمارے ہی لیے ہے اختیار آخرت کا بھی اور دنیا کا بھی۔“ ظاہر ہے آخرت میں اللہ تعالیٰ ہی یہ فیصلہ کرے گا کہ کون انسان کامیاب ہوا ہے اور کون ناکام رہا ہے۔ اور دنیا میں بھی وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی قوم اب اس کی زمین پر بوجھ بننے جا رہی ہے اور اس طرح کے کس بوجھ سے کس وقت اس نے زمین کو آزاد کرنا ہے۔ گزشتہ سورت سورۃ الشمس میں قوم ثمود کے بارے میں اللہ کے ایسے ہی ایک فیصلے کا ذکر ہم بایں الفاظ پڑھ آئے ہیں : { فَدَمْدَمَ عَلَیْہِمْ رَبُّہُمْ بِذَنْبِہِمْ فَسَوّٰٹہَا۔ } ”تو الٹ دیا ان پر عذاب ان کے رب نے ان کے گناہ کی پاداش میں اور سب کو برابر کردیا“۔ یعنی جب اس قوم کے پاس اللہ تعالیٰ کا رسول علیہ السلام واضح نشانیوں کے ساتھ آگیا ‘ پھر اللہ کے رسول علیہ السلام نے اللہ کا پیغام پہنچا کر اور اپنے کردار و عمل کا نمونہ پیش کر کے اس قوم پر اتمامِ حجت کردیا۔ اس کے بعد بھی جب وہ قوم کفر اور سرکشی پر اڑی رہی تو انہیں ایسے ملیامیٹ کردیا گیا جیسے کسی باغ کی صفائی کے لیے اس کا ساراکوڑا کرکٹ جمع کر کے اسے آگ لگا دی جاتی ہے۔

الليل 92:14

آیت 14{ فَاَنْذَرْتُکُمْ نَارًا تَلَظّٰی۔ } ”دیکھو ! میں نے تمہیں خبردار کردیا ہے بھڑکتی ہوئی آگ سے۔“ جہنم تو بھوکے شیر کی طرح اپنے شکار کی تاک میں ہے : { نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی - تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَتَوَلّٰی۔ } المعارج ”وہ کلیجوں کو کھینچ لے گی۔ وہ پکارے گی ہر اس شخص کو جس نے پیٹھ موڑ لی تھی اور رخ پھیرلیا تھا۔“

الليل 92:15

آیت 15{ لَا یَصْلٰـٹہَآ اِلَّا الْاَشْقَی۔ } ”نہیں پڑے گا اس میں مگر وہ جو انتہائی بدبخت ہے۔“ ظاہر ہے جس انسان کو آخری رسول ﷺ کے آجانے کے بعد بھی حقیقت نظر نہ آئی اس سے بڑا بدبخت اور کون ہوسکتا ہے اور اس سے زیادہ جہنم کے گڑھے میں گرنے کا مستحق کون ہوسکتا ہے ؟ کیونکہ اگر کوئی شخص اندھیرے میں یا کم روشنی میں ٹھوکر کھاجائے تو اس کی ٹھوکر کا پھر بھی کچھ نہ کچھ جواز بنتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص دن کی روشنی میں اس وقت راستہ پہچاننے سے انکار کر دے جب سورج نصف النہار پر چمک رہا ہو تو ظاہر ہے اس کے لیے وہ خود ہی قصور وار ہوگا۔

الليل 92:16

آیت 15{ لَا یَصْلٰـٹہَآ اِلَّا الْاَشْقَی۔ } ”نہیں پڑے گا اس میں مگر وہ جو انتہائی بدبخت ہے۔“ ظاہر ہے جس انسان کو آخری رسول ﷺ کے آجانے کے بعد بھی حقیقت نظر نہ آئی اس سے بڑا بدبخت اور کون ہوسکتا ہے اور اس سے زیادہ جہنم کے گڑھے میں گرنے کا مستحق کون ہوسکتا ہے ؟ کیونکہ اگر کوئی شخص اندھیرے میں یا کم روشنی میں ٹھوکر کھاجائے تو اس کی ٹھوکر کا پھر بھی کچھ نہ کچھ جواز بنتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص دن کی روشنی میں اس وقت راستہ پہچاننے سے انکار کر دے جب سورج نصف النہار پر چمک رہا ہو تو ظاہر ہے اس کے لیے وہ خود ہی قصور وار ہوگا۔

الليل 92:17

آیت 17{ وَسَیُجَنَّـبُـہَا الْاَتْقَی۔ } ”اور بچالیا جائے گا اس سے جو انتہائی متقی ہے۔“ اس آیت کے بارے میں تقریباً تمام مفسرین متفق ہیں کہ اس کے مصداق حضرت ابوبکر صدیق رض ہیں۔ کیونکہ قبل ازیں آیت 5 اور 6 میں جن تین اوصاف کا ذکر ہوا ہے وہ اس امت کی جس شخصیت میں بتمام و کمال نظر آتے ہیں وہ حضرت ابوبکر صدیق رض کی شخصیت ہے۔ ”تصدیق بالحسنی“ کے حوالے سے آپ رض کے بارے میں خود حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ میں نے جس کسی کو بھی دعوت دی اس نے کچھ نہ کچھ توقف ضرور کیا ‘ سوائے ابوبکر رض کے۔ ان رض کے سامنے جونہی میں نے اپنی نبوت کا ذکر کیا وہ فوراً مجھ پر ایمان لے آئے۔ آپ رض کے تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ زمانہ جاہلیت میں بھی آپ رض توحیدپر کاربند اور بت پرستی سے دور رہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے میں بھی آپ رض کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ آپ رض نے کئی نادار خاندانوں کی کفالت مستقل طور پر اپنے ذمہ لے رکھی تھی۔ مکہ کے بہت سے غلاموں اور لونڈیوں کو آپ رض نے منہ مانگی قیمت میں خرید کر آزاد کرایا تھا اور غزوئہ تبوک کے موقع پر تو آپ رض نے اپنا پورا اثاثہ لا کر حضور ﷺ کے قدموں میں ڈھیر کردیا تھا۔ غرض مذکورہ تینوں اوصاف بدرجہ اتم امت کے َمردوں میں آپ رض کی شخصیت میں ‘ جبکہ خواتین میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ رض کی شخصیت میں پائے جاتے ہیں۔

الليل 92:18

آیت 18{ الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَـہٗ یَتَزَکّٰی۔ } ”جو اپنا مال دیتا ہے اپنے نفس کو پاک کرنے کے لیے۔“ یعنی مال خرچ کرتے ہوئے دنیاداری کا کوئی مفاد اس کے پیش نظر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت ابوبکر صدیق رض نے حضرت بلال رض کو آزاد کرانے کے لیے امیہ بن خلف کو جب منہ مانگی قیمت ادا کی تو اس پر امیہ خود بھی حیران رہ گیا۔ دوسری طرف حضرت ابوبکر رض کے والد حضرت ابوقحافہ رض آپ رض فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے نے بھی آپ رض سے گلہ کیا کہ اتنی بڑی رقم تم نے کسی طاقتور غلام پر کیوں نہ خرچ کی جو تمہارے کام بھی آتا ! اس زمانے میں اگر کوئی شخص کسی غلام کو آزاد کراتا تھا تو وہ غلام زندگی بھر اسی شخصیت کے حوالے سے پہچاناجاتا تھا اور اخلاقی لحاظ سے بھی وہ اس کے تابع رہتا تھا۔ عرب رواج کے مطابق ایسے آزاد کردہ غلام کو متعلقہ شخصیت کا مولیٰ کہا جاتا تھا ‘ جیسے حضرت زید بن حارثہ رض اور حضرت ثوبان رض حضور ﷺ کے مولیٰ تھے۔ بہرحال مال خرچ کرنے کا یہ فلسفہ ان لوگوں کی سمجھ سے بالا ہے جن کی نظر ہر وقت دنیا کے مفادات پر رہتی ہے۔

الليل 92:19

آیت 18{ الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَـہٗ یَتَزَکّٰی۔ } ”جو اپنا مال دیتا ہے اپنے نفس کو پاک کرنے کے لیے۔“ یعنی مال خرچ کرتے ہوئے دنیاداری کا کوئی مفاد اس کے پیش نظر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت ابوبکر صدیق رض نے حضرت بلال رض کو آزاد کرانے کے لیے امیہ بن خلف کو جب منہ مانگی قیمت ادا کی تو اس پر امیہ خود بھی حیران رہ گیا۔ دوسری طرف حضرت ابوبکر رض کے والد حضرت ابوقحافہ رض آپ رض فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے نے بھی آپ رض سے گلہ کیا کہ اتنی بڑی رقم تم نے کسی طاقتور غلام پر کیوں نہ خرچ کی جو تمہارے کام بھی آتا ! اس زمانے میں اگر کوئی شخص کسی غلام کو آزاد کراتا تھا تو وہ غلام زندگی بھر اسی شخصیت کے حوالے سے پہچاناجاتا تھا اور اخلاقی لحاظ سے بھی وہ اس کے تابع رہتا تھا۔ عرب رواج کے مطابق ایسے آزاد کردہ غلام کو متعلقہ شخصیت کا مولیٰ کہا جاتا تھا ‘ جیسے حضرت زید بن حارثہ رض اور حضرت ثوبان رض حضور ﷺ کے مولیٰ تھے۔ بہرحال مال خرچ کرنے کا یہ فلسفہ ان لوگوں کی سمجھ سے بالا ہے جن کی نظر ہر وقت دنیا کے مفادات پر رہتی ہے۔

الليل 92:20

آیت 18{ الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَـہٗ یَتَزَکّٰی۔ } ”جو اپنا مال دیتا ہے اپنے نفس کو پاک کرنے کے لیے۔“ یعنی مال خرچ کرتے ہوئے دنیاداری کا کوئی مفاد اس کے پیش نظر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت ابوبکر صدیق رض نے حضرت بلال رض کو آزاد کرانے کے لیے امیہ بن خلف کو جب منہ مانگی قیمت ادا کی تو اس پر امیہ خود بھی حیران رہ گیا۔ دوسری طرف حضرت ابوبکر رض کے والد حضرت ابوقحافہ رض آپ رض فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے نے بھی آپ رض سے گلہ کیا کہ اتنی بڑی رقم تم نے کسی طاقتور غلام پر کیوں نہ خرچ کی جو تمہارے کام بھی آتا ! اس زمانے میں اگر کوئی شخص کسی غلام کو آزاد کراتا تھا تو وہ غلام زندگی بھر اسی شخصیت کے حوالے سے پہچاناجاتا تھا اور اخلاقی لحاظ سے بھی وہ اس کے تابع رہتا تھا۔ عرب رواج کے مطابق ایسے آزاد کردہ غلام کو متعلقہ شخصیت کا مولیٰ کہا جاتا تھا ‘ جیسے حضرت زید بن حارثہ رض اور حضرت ثوبان رض حضور ﷺ کے مولیٰ تھے۔ بہرحال مال خرچ کرنے کا یہ فلسفہ ان لوگوں کی سمجھ سے بالا ہے جن کی نظر ہر وقت دنیا کے مفادات پر رہتی ہے۔

الليل 92:21

آیت 21{ وَلَسَوْفَ یَرْضٰی۔ } ”اور وہ عنقریب راضی ہوجائے گا۔“ یہاں پر یَرْضٰی کی ضمیر کا اشارہ بیک وقت اللہ تعالیٰ کی طرف بھی ہے اور اس شخصیت کی طرف بھی جس کی صفات کا ذکر ان آیات میں ہو رہا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ بھی راضی ہوجائے گا اور ابوبکر صدیق رض بھی راضی ہوجائیں گے۔ گویا یہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ جیسی بشارت ہے کہ اگر اللہ کا یہ بندہ اپنا مال صرف اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے لٹارہا ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس سے راضی ہوجائے گا اور پھر اللہ تعالیٰ اس کو آخرت میں اتنا کچھ عطا کرے گا کہ وہ بھی خوش ہوجائے گا۔ یہاں یہ اہم نکتہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ معنوی اعتبار سے اس آیت کا اگلی سورت سورۃ الضحیٰ کی آیت 5 کے ساتھ خصوصی ربط وتعلق ہے جس کی وضاحت سورة الضحیٰ کے مطالعہ کے دوران کی جائے گی۔ یہاں پر زیر مطالعہ سورتوں سورۃ الشمس ‘ سورة اللیل ‘ سورة الضحیٰ اور سورة الانشراح کے مرکزی مضمون کے اہم نکات ایک دفعہ پھر اپنے ذہن میں تازہ کر لیجیے۔ سورة الشمس کی ابتدائی آٹھ آیات قسموں پر مشتمل ہیں۔ اس کے بعد مقسم علیہ کے طور پر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ نفس انسانی کے اندر نیکی اور بدی کا شعور ودیعت کردیا گیا ہے ‘ اور پھر اس کے بعد دو آیات میں اس حوالے سے کامیابی اور ناکامی کا معیار بھی بتادیا گیا ہے : { قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰٹہَا - وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰٹہَا۔ } کہ جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کرلیا وہ کامیاب ٹھہرا اور جس نے اسے مٹی میں دفن کردیا وہ ناکام ہوگیا۔ اگلی سورت یعنی سورة اللیل میں نفس کو سنوارنے اور بگاڑنے کے طریقوں یا راستوں کے بارے میں مزید وضاحت کردی گئی ہے کہ جو انسان اعطائے مال ‘ تقویٰ اور تصدیق بالحسنیٰ کے اوصاف اپنائے گا وہ صدیقیت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے راستے پر گامزن ہوجائے گا۔ اس کے برعکس بخل ‘ استغناء حلال و حرام اور جائز و ناجائز سے متعلق لاپرواہی اور حق کی تکذیب کی راہ پر چلنے والا انسان بالآخر خود کو جہنم کے گڑھے میں گرائے گا۔ پھر کامیابی کے راستے کی مثال کے طور پر امت کی ایک ایسی شخصیت کی طرف اشارہ بھی کردیا گیا جسے پہلے تین اوصاف کو اپنانے کے باعث اعلیٰ مدارج و مراتب سے نوازا گیا۔ لیکن ظاہر ہے اس منزل کا بلند ترین مقام تو محمد رسول اللہ ﷺ کے لیے مختص ہے جو معراجِ انسانیت ہیں۔ چناچہ اس مضمون کے حوالے سے اب اگلی دو سورتوں کا تعلق خصوصی طور پر حضور ﷺ کی ذات اقدس سے ہے۔ اسی نسبت سے ان سورتوں کا مطالعہ سیرت النبی ﷺ کے بعض پہلوئوں کو سمجھنے کے لیے بھی مفید ہے۔ متقدمین میں سے تصوف کا ذوق رکھنے والے اکثر مفسرین نے ان سورتوں میں بعض باطنی حقائق کی نشاندہی بھی کی ہے۔ متعلقہ آیات کے مطالعہ کے دوران جہاں جس حد تک ممکن ہوا ایسے کچھ نکات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔ ظاہر ہے موجودہ دور کے ”عقلیت پسند“ مفسرین نہ تو تصوف کا ذوق رکھتے ہیں اور نہ ہی انہیں ایسے موضوعات سے دلچسپی ہے۔ الا ماشاء اللہ !

الضحى 93:1

آیت 21{ وَلَسَوْفَ یَرْضٰی۔ } ”اور وہ عنقریب راضی ہوجائے گا۔“ یہاں پر یَرْضٰی کی ضمیر کا اشارہ بیک وقت اللہ تعالیٰ کی طرف بھی ہے اور اس شخصیت کی طرف بھی جس کی صفات کا ذکر ان آیات میں ہو رہا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ بھی راضی ہوجائے گا اور ابوبکر صدیق رض بھی راضی ہوجائیں گے۔ گویا یہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ جیسی بشارت ہے کہ اگر اللہ کا یہ بندہ اپنا مال صرف اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے لٹارہا ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس سے راضی ہوجائے گا اور پھر اللہ تعالیٰ اس کو آخرت میں اتنا کچھ عطا کرے گا کہ وہ بھی خوش ہوجائے گا۔ یہاں یہ اہم نکتہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ معنوی اعتبار سے اس آیت کا اگلی سورت سورۃ الضحیٰ کی آیت 5 کے ساتھ خصوصی ربط وتعلق ہے جس کی وضاحت سورة الضحیٰ کے مطالعہ کے دوران کی جائے گی۔ یہاں پر زیر مطالعہ سورتوں سورۃ الشمس ‘ سورة اللیل ‘ سورة الضحیٰ اور سورة الانشراح کے مرکزی مضمون کے اہم نکات ایک دفعہ پھر اپنے ذہن میں تازہ کر لیجیے۔ سورة الشمس کی ابتدائی آٹھ آیات قسموں پر مشتمل ہیں۔ اس کے بعد مقسم علیہ کے طور پر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ نفس انسانی کے اندر نیکی اور بدی کا شعور ودیعت کردیا گیا ہے ‘ اور پھر اس کے بعد دو آیات میں اس حوالے سے کامیابی اور ناکامی کا معیار بھی بتادیا گیا ہے : { قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰٹہَا - وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰٹہَا۔ } کہ جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کرلیا وہ کامیاب ٹھہرا اور جس نے اسے مٹی میں دفن کردیا وہ ناکام ہوگیا۔ اگلی سورت یعنی سورة اللیل میں نفس کو سنوارنے اور بگاڑنے کے طریقوں یا راستوں کے بارے میں مزید وضاحت کردی گئی ہے کہ جو انسان اعطائے مال ‘ تقویٰ اور تصدیق بالحسنیٰ کے اوصاف اپنائے گا وہ صدیقیت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے راستے پر گامزن ہوجائے گا۔ اس کے برعکس بخل ‘ استغناء حلال و حرام اور جائز و ناجائز سے متعلق لاپرواہی اور حق کی تکذیب کی راہ پر چلنے والا انسان بالآخر خود کو جہنم کے گڑھے میں گرائے گا۔ پھر کامیابی کے راستے کی مثال کے طور پر امت کی ایک ایسی شخصیت کی طرف اشارہ بھی کردیا گیا جسے پہلے تین اوصاف کو اپنانے کے باعث اعلیٰ مدارج و مراتب سے نوازا گیا۔ لیکن ظاہر ہے اس منزل کا بلند ترین مقام تو محمد رسول اللہ ﷺ کے لیے مختص ہے جو معراجِ انسانیت ہیں۔ چناچہ اس مضمون کے حوالے سے اب اگلی دو سورتوں کا تعلق خصوصی طور پر حضور ﷺ کی ذات اقدس سے ہے۔ اسی نسبت سے ان سورتوں کا مطالعہ سیرت النبی ﷺ کے بعض پہلوئوں کو سمجھنے کے لیے بھی مفید ہے۔ متقدمین میں سے تصوف کا ذوق رکھنے والے اکثر مفسرین نے ان سورتوں میں بعض باطنی حقائق کی نشاندہی بھی کی ہے۔ متعلقہ آیات کے مطالعہ کے دوران جہاں جس حد تک ممکن ہوا ایسے کچھ نکات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔ ظاہر ہے موجودہ دور کے ”عقلیت پسند“ مفسرین نہ تو تصوف کا ذوق رکھتے ہیں اور نہ ہی انہیں ایسے موضوعات سے دلچسپی ہے۔ الا ماشاء اللہ !

الضحى 93:2

آیت 2{ وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی۔ } ”قسم ہے رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ چھا جائے۔“ رات میں اندھیرا اور سکون ہے ‘ جبکہ دن اجالے اور حرکت کا مظہر ہے۔ ان دو آیات میں رات اور دن کی متضاد خصوصیات کو اس فرمان پر بطور شہادت پیش کیا گیا کہ :

الضحى 93:3

آیت 3{ مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی۔ } ”آپ ﷺ کے رب نے آپ کو رخصت نہیں کیا اور نہ ہی وہ آپ ﷺ سے ناراض ہوا ہے۔“ یعنی وحی کے تسلسل میں یہ وقفہ اس وجہ سے نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ سے ناراض ہوگیا ہے ‘ بلکہ یہ وقفہ ہماری حکمت و مشیت کا حصہ اور آپ ﷺ کی تربیت کا جزو تھا۔ ظاہر ہے نظام کائنات میں دن کے اجالے کے ساتھ رات کی تاریکی کا وجود بھی ناگزیر ہے۔ چناچہ جس طرح دن کے بعد رات کا آنا ضروری ہے اسی طرح نفس انسانی کے لیے بسط و کشاد کی لذت کے ساتھ ساتھ ”انقباض“ کی کیفیت سے آشنا ہونا بھی ضروری ہے۔

الضحى 93:4

آیت 4{ وَلَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی۔ } ”اور یقینا بعد کا وقت آپ کے لیے بہتر ہوگا پہلے سے۔“ یعنی اس وقفے اور ’ انقباض ‘ کی کیفیت کے بعد آنے والی اب ہر گھڑی اور ہر ساعت آپ ﷺ کے لیے ’ انبساط ‘ اور انشراح کا نیا پیغام لے کر آئے گی۔ ان آیات میں انقباض و انبساط کے حوالے سے جو اصول بیان ہوا ہے اس کی حیران کن حد تک درست ترجمانی غالب ؔنے اپنے اس مصرع میں کی ہے : ع ”رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور !“ یعنی اشعار کی آمد کے حوالے سے کبھی کبھی مجھ پر انقباض کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے لیکن جب اس وقفے کے بعد دوبارہ آمد شروع ہوتی ہے تو پھر میری طبیعت کی روانی پہلے سے بھی کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ گویا انقباض کے بعد جب انبساط کا مرحلہ آتا ہے تو انسان اپنی پہلی کیفیت کے مقابلے میں ایک درجہ آگے جا چکا ہوتا ہے۔ ] اس آیت مبارکہ سے یہ مفہوم بھی متبادر ہوتا ہے کہ ”یقینا ہر آنے والی گھڑی آپ ﷺ کے لیے پہلی سے بدرجہا بہتر ہے“۔ آپ ﷺ پر آپ ﷺ کے رب کے لطف و کرم اور انعام و احسان کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ ہر آنے والا وقت گزشتہ حالات سے بہتر سے بہتر ہوگا۔ اس ایک جملہ میں کفار کے طعن وتشنیع اور الزام تراشیوں کا بھی سدباب کردیا گیا اور اسلام کے درخشاں مستقبل کے بارے میں بھی نوید جانفزا سنا دی گئی۔ [

الضحى 93:5

آیت 5{ وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی۔ } ”اور عنقریب آپ ﷺ کا رب آپ ﷺ کو اتنا کچھ عطا فرمائے گا کہ آپ ﷺ راضی ہوجائیں گے۔“ یعنی اب بہت جلد آپ ﷺ کی محنتوں کے ایسے ایسے نتائج آپ ﷺ کے سامنے آئیں گے کہ انہیں دیکھ کر آپ ﷺ خوش ہوجائیں گے۔ 1 یہاں پر پچھلی سورت کی آخری آیت کے یہ الفاظ بھی ذہن میں تازہ کرلیں : { وَلَسَوْفَ یَرْضٰی۔ } گویا جو خوشخبری یہاں حضور ﷺ کو سنائی جارہی ہے وہی بشارت سورة اللیل میں حضرت ابوبکر رض کو دی گئی ہے۔ دونوں آیات کا اسلوب اصلاً ایک سا ہے ‘ صرف ضمیر اور صیغے کا فرق ہے۔ حضور ﷺ پر چونکہ وحی آتی تھی اس لیے آپ ﷺ کو صیغہ حاضر تَرْضٰی میں براہ راست مخاطب کیا گیا ‘ جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رض کے لیے غائب کا صیغہ یَرْضٰی آیا ہے۔ ”انقباض“ کی مذکورہ کیفیت کے سیاق وسباق میں اب اللہ تعالیٰ حضور ﷺ پر اپنے احسانات جتا رہا ہے۔ یہ بھی دراصل حضور ﷺ کے لیے تسلی ہی کا ایک انداز ہے۔ جبکہ اس میں ہمارے لیے بھی راہنمائی ہے کہ جب کسی وقت آدمی پر ڈپریشن اور افسردگی کی کیفیت طاری ہو تو اسے چاہیے کہ اس کیفیت میں وہ خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کو گن گن کر یاد کرے کہ اللہ تعالیٰ کس کس انداز میں اس کی مدد کرتا رہا ہے اور کیسی کیسی مشکلات سے اسے نجات دلاتا رہا ہے۔ ظاہر ہے ماضی کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد کرنے سے ایک پریشان حال آدمی کا حوصلہ بڑھتا ہے اور اس کی مثبت سوچ کو تحریک ملتی ہے۔

الضحى 93:6

آیت 6{ اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی۔ } ”کیا اس نے نہیں پایا آپ کو یتیم ‘ پھر پناہ دی !“ یہ آیات سیرت النبی ﷺ کے مختلف پہلوئوں کو سمجھنے کے حوالے سے بھی بہت اہم ہیں۔ حضور ﷺ کے والد آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ چناچہ آپ ﷺ پیدا ہی یتیمی کی حالت میں ہوئے۔ چھ سال کی عمر میں والدہ کا سہارا بھی چھن گیا۔ دادا نے اپنی کفالت میں لیا تو دو سال بعد وہ بھی چھوڑ کر چلے گئے۔ تایا زبیر بن عبدالمطلب سرپرست بنے تو کچھ عرصہ بعد ان کا بھی انتقال ہوگیا حضور ﷺ کی کفالت کے حوالے سے آپ ﷺ کے تایا زبیر بن عبدالمطلب کا ذکر اکثر تاریخی حوالوں میں موجود ہی نہیں۔ ایسا دراصل جناب ابوطالب کے کردار کو زیادہ نمایاں کرنے کے لیے جان بوجھ کر باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا ہے۔ اس کے بعد جناب ابوطالب نے آپ ﷺ کے سرپردست شفقت رکھا اور انہی کی سرپرستی میں آپ ﷺ جوانی کی عمر کو پہنچے۔ آیت کے لفظ ”فَاٰوٰی“ میں ان تمام دنیوی سہاروں کی طرف اشارہ ہے جو ظاہر ہے آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے فراہم کیے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ہی ان تمام رشتہ داروں کے دلوں میں آپ ﷺ کے لیے محبت اور چاہت پیدا کی تھی۔ اسی نے آپ ﷺ کی شخصیت ایسی بنائی تھی کہ جو کوئی آپ ﷺ کو دیکھتا آپ ﷺ کا گرویدہ ہوجاتا تھا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی بچپن میں سہارا دیا تھا۔ سورة طٰہٰ میں اللہ تعالیٰ کی اس قدرت اور حکمت کا ذکر اس طرح آیا ہے : { وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْج } آیت 39 کہ اے موسیٰ علیہ السلام میں نے آپ پر اپنی محبت کا َپرتو ڈال دیا تھا جس کی وجہ سے لوگ آپ کو دیکھ کر متاثر ہوجاتے تھے اور یوں وہ آپ علیہ السلام کو قتل کرنے سے باز رہے۔

الضحى 93:7

آیت 7{ وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی۔ } ”اور آپ ﷺ کو تلاش حقیقت میں سرگرداں پایا تو ہدایت دی !“ جب آپ ﷺ شعور کی پختگی کی عمر کو پہنچے اور آپ ﷺ نے کائنات کے حقائق کے بارے میں غوروفکر کرنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپ ﷺ کو راہنمائی فراہم کردی۔ 1

الضحى 93:8

آیت 8{ وَوَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی۔ } ”اور اس نے آپ ﷺ کو تنگ دست پایا تو غنی کردیا !“ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت خدیجہ رض کی ساری دولت آپ ﷺ کے قدموں میں ڈھیر کردی۔ حضرت خدیجہ رض بہت مال دار اور صاحب حیثیت خاتون تھیں۔ مکہ کے بڑے بڑے سرداران رض سے نکاح کے خواہش مند تھے ‘ مگر اللہ تعالیٰ نے ان رض کا دل آپ ﷺ کی طرف پھیر دیا اور انہوں رض نے خود آپ ﷺ کو نکاح کا پیغام بھجوایا۔ گزشتہ آیات میں حضور ﷺ کی زندگی کے تین مراحل کے حوالے سے تین احسانات کا ذکر کرنے کے بعد اب اسی ترتیب سے آپ ﷺ کو تین ہدایات دی جا رہی ہیں :

الضحى 93:9

آیت 9{ فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْہَرْ۔ } ”تو آپ ﷺ کسی یتیم پر سختی نہ کریں۔“ جیسے آپ ﷺ کی یتیمی میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی کفالت وغیرہ کا بندوبست کیا ‘ اسی طرح اب آپ ﷺ بھی یتیموں کی سرپرستی کریں اور انہیں لوگوں کی زیادتیوں سے بچائیں

الضحى 93:10

آیت 10{ وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ۔ } ”اور آپ ﷺ کسی سائل کو نہ جھڑکیں۔“ ایک وقت تھا جب آپ ﷺ حقیقت کی تلاش میں سرگرداں تھے اور ہم نے آپ ﷺ کو ہدایت عطا فرمائی تھی۔ اب اگر آپ ﷺ کے پاس کوئی سائل اپنی حاجت لے کر آئے تو اس کی حاجت روائی کریں اور اسے جھڑکیں نہیں۔ ظاہر ہے سائل بھی کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ کوئی مالی معاونت کے لیے سوال کرتا ہے تو کوئی علم کی تلاش میں لوگوں کے دروازوں پر دستک دیتا ہے۔

الضحى 93:11

آیت 1 1{ وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ۔ } ”اور اپنے رب کی نعمت کا بیان کریں۔“ یہ ہدایت جو آپ ﷺ کو عطا ہوئی ہے ‘ یہ آپ ﷺ کے رب کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر شکر کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ اس کی اس نعمت کا چرچا کریں اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پھیلائیں۔ اس حکم میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ ہدایت کی نعمت کو اگر انسان اپنی ذات تک محدود کر کے بیٹھ رہے تو اس کا یہ طرزعمل بخل کے مترادف ہوگا۔ لہٰذا جس کسی کو اللہ تعالیٰ ہدایت کی دولت سے نوازے اسے چاہیے کہ اس خیر کو عام کرے اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرے۔

الشرح 94:1

آیت 1{ اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ۔ } ”کیا ہم نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کے سینے کو کھول نہیں دیا ؟“ یعنی ہم نے آپ ﷺ کا اضطراب کم کر کے آپ ﷺ کے دل کو ایک ٹھہرائو اور سکون عطا فرما دیا ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی رح اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں : ”اس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دیے اور لوازمِ نبوت اور فرائض ِ رسالت برداشت کرنے کو بڑاوسیع حوصلہ دیا۔“

الشرح 94:2

آیت 1{ اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ۔ } ”کیا ہم نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کے سینے کو کھول نہیں دیا ؟“ یعنی ہم نے آپ ﷺ کا اضطراب کم کر کے آپ ﷺ کے دل کو ایک ٹھہرائو اور سکون عطا فرما دیا ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی رح اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں : ”اس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دیے اور لوازمِ نبوت اور فرائض ِ رسالت برداشت کرنے کو بڑاوسیع حوصلہ دیا۔“

الشرح 94:3

آیت 1{ اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ۔ } ”کیا ہم نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کے سینے کو کھول نہیں دیا ؟“ یعنی ہم نے آپ ﷺ کا اضطراب کم کر کے آپ ﷺ کے دل کو ایک ٹھہرائو اور سکون عطا فرما دیا ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی رح اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں : ”اس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دیے اور لوازمِ نبوت اور فرائض ِ رسالت برداشت کرنے کو بڑاوسیع حوصلہ دیا۔“

الشرح 94:4

آیت 1{ اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ۔ } ”کیا ہم نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کے سینے کو کھول نہیں دیا ؟“ یعنی ہم نے آپ ﷺ کا اضطراب کم کر کے آپ ﷺ کے دل کو ایک ٹھہرائو اور سکون عطا فرما دیا ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی رح اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں : ”اس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دیے اور لوازمِ نبوت اور فرائض ِ رسالت برداشت کرنے کو بڑاوسیع حوصلہ دیا۔“

الشرح 94:5

آیت 1{ اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ۔ } ”کیا ہم نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کے سینے کو کھول نہیں دیا ؟“ یعنی ہم نے آپ ﷺ کا اضطراب کم کر کے آپ ﷺ کے دل کو ایک ٹھہرائو اور سکون عطا فرما دیا ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی رح اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں : ”اس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دیے اور لوازمِ نبوت اور فرائض ِ رسالت برداشت کرنے کو بڑاوسیع حوصلہ دیا۔“

الشرح 94:6

آیت 6{ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔ } ”یقینا مشکل ہی کے ساتھ آسانی ہے۔“ یہ سورت دراصل مشکلات القرآن میں سے ہے۔ آیت 2 میں جس بوجھ کا ذکر ہوا ہے اس کے بارے میں عام طور پر یہ سمجھا گیا ہے کہ اس میں حضور ﷺ کی دعوت و تبلیغ کی مشقتوں اور لوگوں کی طرف سے پہنچائی جانے والی اذیتوں کی طرف اشارہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ رائے صرف جزوی طور پر درست ہے اس لیے کہ یہ سورت بالکل ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی تھی۔ اس زمانے میں حضور ﷺ کی مشکلات کا ابھی آغاز ہو رہا تھا اور بعد کے زمانے میں آپ ﷺ کو نسبتاً بہت زیادہ مشکل مراحل سے گزرنا پڑا تھا۔ مثلاً شعب ابی طالب میں تین سال کی قید کا واقعہ اس سورت کے نزول کے بعد پیش آیا اور اس کے بعد ہی آپ ﷺ کو یوم طائف اور یوم احد جیسے گھمبیر حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ دعوت و تبلیغ اور آپ ﷺ کے فریضہ رسالت سے متعلقہ مشکلات بھی اس سورت کے نزول کے بعد کم ہونے کے بجائے مزید بڑھیں ‘ بلکہ بڑھتی ہی چلی گئیں۔ اس لیے یہ حقیقت تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ یہاں جس بوجھ کے اتار دینے کا ذکر ہوا ہے وہ اصل میں کوئی اور بوجھ تھا۔ اس بوجھ کی کیفیت کے بارے میں جاننے کے لیے پہلے اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ پیغمبروں کو اپنے قرب خاص کی نعمت سے نوازتا ہے۔ چناچہ قرب خاص کی لذت سے آشنا ہوجانے کے بعد انبیاء و رسل - کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت اسی کیفیت میں گزاریں۔ لیکن وہاں سے حکم ملتا ہے کہ جائو خلق خدا تک میرا پیغام پہنچائو اور انہیں ہدایت کا راستہ دکھائو ! مثلاً اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کو ہِ طور پر اپنے قرب خاص سے نوازا اور آپ علیہ السلام سے کلام فرمایا تو اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خواہش تو یہی ہوگی کہ وہ سدا اسی کیفیت میں رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مکالمے اور مخاطبے کی لذت سے لطف اندوز ہوتے رہیں۔ لیکن اس کے فوراً بعد آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملا : { اِذْہَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی۔ } طٰہٰ ”اب جائو فرعون کی طرف ‘ وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے !“ ظاہر ہے فریضہ رسالت کی ادائیگی کوئی آسان کام تو نہیں۔ اس بارے میں اصل حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پیغمبروں کی دعوت کے جواب میں لوگوں کی طرف سے بےاعتنائی برتی جاتی تھی اور طنز و تمسخر کے تیر برسائے جاتے تھے ‘ حتیٰ کہ جسمانی اذیت پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا تھا۔ الغرض اس راستے میں تو ہر قدم پر مخالفت اور ہر موڑ پر تکالیف و مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چناچہ ایسی صورت حال میں پیغمبروں کو دوہری مشکل کا سامنا رہا ہے یعنی ایک طرف قرب و حضوری کی خصوصی کیفیت سے باہر آنے کا ملال اور دوسری طرف لوگوں کے رویے کے باعث دل پر تکدر کا بوجھ۔ کہاں وہ قرب ِخاص کا کیف و سرور اور کہاں یہ مشقت بھری مصروفیات۔ روح اور طبیعت کا میلان تو ظاہر ہے اسی طرف ہوگا کہ وہی خلوت ہو ‘ وہی حضوری ہو اور وہی کیف و سرور ہو۔ غالبؔ نے اپنی زبان اور اپنے انداز میں محبوب کی قربت کے حوالے سے انسان کی اس کیفیت اور خواہش کی ترجمانی یوں کی ہے : ؎دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت ‘ کہ رات دن بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے ! اس صورت حال یا کیفیت کو علامہ اقبال کے بیان کردہ اس واقعہ کے حوالہ سے بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ علامہ اقبال اپنے خطبات چوتھے لیکچر میں فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالقدوس گنگوہی - دنیا ومافیہا سے بیخبر مراقبے کی کیفیت میں بیٹھے تھے۔ اسی اثنا میں انہیں اقامت کی آواز سنائی دی۔ آپ رح فوراً نماز کے لیے کھڑے تو ہوگئے مگر جھنجھلا کر کہا : ”حضوری سے نکال کر دربانی میں کھڑا کردیا !“ اب ظاہر ہے حضوری کی کیفیت میں تو اور ہی لذت تھی جبکہ نماز میں جماعت کا نظم ملحوظ رکھنے کی پابندی ہے اور ہر صورت میں امام کی اقتداضروری ہے۔ فرض کریں مقتدی کو تلاوت سننے میں لذت محسوس ہو رہی ہے اور وہ مزید سننا چاہتا ہے لیکن یہاں وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ ظاہر ہے جب امام قراءت ختم کر کے رکوع میں جائے گا تو اسے اس کی اقتدا کرنا ہوگی۔ اگر وہ دیر تک سجدہ میں ہی پڑے رہنا چاہتا ہے تو بھی اسے اپنا سجدہ مختصر کر کے امام کی اقتدا میں سر اٹھانا ہوگا۔ اس تمہیدی وضاحت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب آپ حضور ﷺ کی اس کیفیت کا تصور کیجیے جب حضور ﷺ رات کی تنہائی میں اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہو کر قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے۔ اس وقت آپ ﷺ کی روح کیسی کیسی قربتوں اور رفعتوں سے آشنا ہوتی ہوگی اور آپ ﷺ کے قلب مبارک پر کیسے کیسے انوار و تجلیات کی بارش ہوتی ہوگی۔ پھر صبح کو جب آپ ﷺ اہل مکہ کے درمیان جا کر ان سے شاعر ‘ مجنون ‘ کذاب نعوذ باللہ جیسے القابات سنتے ہوں گے اور ان کے تمسخر بھرے جملوں کا سامنا کرتے ہوں گے تو آپ ﷺ اپنی طبیعت میں کیسا تکدر اور کیسی کو فت محسوس کرتے ہوں گے۔ چناچہ حضور ﷺ کے لیے اصل معاملہ یہ تھا کہ ”عروج“ قربِ خاص کی لذت کے بعد ”نزول“ کا مرحلہ آپ ﷺ پر بہت شاق گزرتا تھا۔ اور یہی وہ ”بوجھ“ تھا جو آپ ﷺ کی کمر کو دہرا کیے دے رہا تھا۔ البتہ رفتہ رفتہ آپ ﷺ کا مزاج جب اس معمول کا خوگر ہوگیا تو اس بوجھ کے احساس میں کمی واقع ہوتی گئی۔ پھر جب روز بروز اہل ایمان کی تعداد بڑھنا شروع ہوئی تو دعوت و تحریک کی مصروفیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لیے تسکین کا سامان پیدا فرما دیا۔ بہرحال یہاں پر یہ نکتہ بھی لائق توجہ ہے کہ فریضہ رسالت کی انجام دہی کے لیے عروج اور نزول ان کیفیات کے لیے صوفیاء کے ہاں ”سیر الی اللہ“ اور ”سیر عن اللہ“ کی اصطلاحات بھی معروف ہیں کی دونوں کیفیات کا بیک وقت باہم متوازی چلنا ضروری ہے۔ اس نکتہ لطیف کو مولانا روم نے بارش کی مثال سے بہت موثر انداز میں سمجھایا ہے۔ مولانا کی بیان کردہ اس حکایت کا خلاصہ یہ ہے کہ سمندر سے بخارات کی شکل میں بالکل صاف اور پاکیزہ پانی فضا میں پہنچتا ہے۔ بارش برستی ہے تو یہ صاف پانی فضا کی کدورتوں کو بھی صاف کرتا ہے ‘ زمین کی گندگیوں کو بھی اپنے ساتھ بہا کر سمندر میں ڈال دیتا ہے اور اس کے بعد سمندر سے پھر بخارات بن کر صاف اور پاکیزہ حالت میں بارش کے لیے فضا میں پہنچ جاتا ہے۔ اس مثال کو حضور ﷺ کی ذات پر منطبق کرتے ہوئے یوں سمجھیں کہ حضور ﷺ کو ”سیر الی اللہ“ قیام اللیل اور خلوت کی مناجات وغیرہ کے ذریعے روحانی ترفع حاصل ہوتا۔ پھر جب آپ ﷺ ”سیر عن اللہ“ کی صورت میں معاشرے کی طرف رجوع فرماتے تو آپ ﷺ کی رحمت اور روحانیت لوگوں پر بارش کی طرح برستی اور راستے میں آنے والی تمام ظاہری و باطنی آلائشوں اور کدورتوں کو دھو ڈالتی۔ اسی دوران لوگوں کی مخالفت اور گھٹیا حرکات کے باعث آپ ﷺ کی ”روحانیت“ میں کچھ تکدر بھی پیدا ہوتا ‘ جسے ”سیر الی اللہ“ کے اگلے مرحلے میں صاف کردیا جاتا اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا۔ یہاں ضمنی طور پر یہ نکتہ بھی سمجھ لیجیے کہ نتائج کے اعتبار سے تو دعوت و تبلیغ کی مصروفیات بھی ”سیر الی اللہ“ ہی کے زمرے میں آتی ہیں لیکن عملی طور پر اس کی کیفیت بظاہر ”سیر عن اللہ“ جیسی ہے۔ جیسے نماز کی حالت میں انسان کا رخ اللہ کی طرف ہوتا ہے لیکن ایک داعی جب نماز سے فارغ ہو کر تبلیغ کے لیے نکلتا ہے تو بظاہر اس کی پشت اللہ کی طرف ہوتی ہے اور رُخ لوگوں کی طرف ہوتا ہے۔

الشرح 94:7

آیت 7 ‘ 8{ فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ - وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ۔ } ”پھر جب آپ ﷺ فرائض نبوت سے فارغ ہوجائیں تو اسی کام میں لگ جایئے۔ اور اپنے رب کی طرف راغب ہوجایئے۔“ تو اے نبی ﷺ ! جب آپ اپنے فرضِ منصبی سے فارغ ہوجائیں اور اللہ کا دین غالب ہوجائے تو پھر آپ یکسو ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ نوٹ کیجیے ! سورة النصر میں بھی حضور ﷺ کے لیے بالکل یہی پیغام ہے :{ اِذَا جَآئَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ - وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا - فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُطٓ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ } یعنی جب غلبہ دین کے حوالے سے آپ ﷺ کا مشن مکمل ہوجائے تو پھر ہمہ تن ‘ ہمہ وقت آپ اللہ کی طرف متوجہ ہوجایئے گا اور تقرب الی اللہ کے لیے محنت شروع کردیجیے گا۔ چناچہ جونہی آپ ﷺ کا مشن پایہ تکمیل کو پہنچا تو آپ ﷺ نے فوراً محبوب کی طرف مراجعت کا فیصلہ کرلیا اَللّٰھُمَّ فِی الرَّفِیْقِ الاَعْلٰی کہ اے اللہ اب میں اپنے فرائض منصبی سے فارغ ہوگیا ہوں ‘ اب مجھ میں مزید انتظار کا یارا نہیں ! واضح رہے کہ انبیاء و رسل - کو اللہ تعالیٰ دنیا میں مزید رہنے یا کوچ کرنے سے متعلق اختیار عطا فرماتا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ آخری ایام میں ایک دن جب حضور ﷺ کے مرض میں افاقہ ہواتو آپ ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے۔ منبرپر فروکش ہوئے اور خطبہ دیا۔ اس کے بعد منبر سے نیچے تشریف لائے۔ ظہر کی نماز پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور چند اہم نصیحتیں فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا : ”ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کی چمک دمک اور زیب وزینت میں سے جو کچھ چاہے اللہ اسے دے دے یا اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اختیار کرلے تو اس بندے نے اللہ کے پاس والی چیز کو اختیار کرلیا“۔ یہ بات سن کر ابوبکر رض رونے لگے اور فرمایا : ”ہم اپنے ماں باپ سمیت آپ ﷺ پر قربان !“ اس پر لوگوں کو تعجب ہوا کہ حضور ﷺ کیا ارشاد فرما رہے ہیں اور اس پر ابوبکر رض کیا کہہ رہے ہیں ! لیکن چند دن بعد واضح ہوا کہ جس بندے کو اختیار دیا گیا تھا وہ خود رسول اللہ ﷺ تھے اور ابوبکر صدیق رض صحابہ کرام رض میں سب سے زیادہ صاحب علم تھے۔ یہاں حضور ﷺ کے اس فرمان کا ذکر کرتے ہوئے میرے دل کی بات زبان پر آگئی ہے۔۔۔۔ وہ یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی فضل سے مجھے حضور ﷺ کے قدموں میں پہنچا دیا تو میں حضور ﷺ سے شکوہ کرنے کی جسارت ضرور کروں گا کہ حضور ! آپ ﷺ نے بہت جلدی کی … حضور ﷺ ! مانا کہ ہجر و فراق کا ایک ایک لمحہ آپ ﷺ کے لیے مشکل تھا… مگر حضور ﷺ ! جو لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوئے تھے وہ بھی تو آپ ﷺ کے فیضانِ نظر کے محتاج تھے… حضور ﷺ ! اگر تھوڑا سا وقت ان کو بھی مل جاتا تو… مہاجرین رض و انصار رض کی طرز پر ان کی تربیت بھی ہو جاتی…! ! !

الشرح 94:8

آیت 7 ‘ 8{ فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ - وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ۔ } ”پھر جب آپ ﷺ فرائض نبوت سے فارغ ہوجائیں تو اسی کام میں لگ جایئے۔ اور اپنے رب کی طرف راغب ہوجایئے۔“ تو اے نبی ﷺ ! جب آپ اپنے فرضِ منصبی سے فارغ ہوجائیں اور اللہ کا دین غالب ہوجائے تو پھر آپ یکسو ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ نوٹ کیجیے ! سورة النصر میں بھی حضور ﷺ کے لیے بالکل یہی پیغام ہے :{ اِذَا جَآئَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ - وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا - فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُطٓ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ } یعنی جب غلبہ دین کے حوالے سے آپ ﷺ کا مشن مکمل ہوجائے تو پھر ہمہ تن ‘ ہمہ وقت آپ اللہ کی طرف متوجہ ہوجایئے گا اور تقرب الی اللہ کے لیے محنت شروع کردیجیے گا۔ چناچہ جونہی آپ ﷺ کا مشن پایہ تکمیل کو پہنچا تو آپ ﷺ نے فوراً محبوب کی طرف مراجعت کا فیصلہ کرلیا اَللّٰھُمَّ فِی الرَّفِیْقِ الاَعْلٰی کہ اے اللہ اب میں اپنے فرائض منصبی سے فارغ ہوگیا ہوں ‘ اب مجھ میں مزید انتظار کا یارا نہیں ! واضح رہے کہ انبیاء و رسل - کو اللہ تعالیٰ دنیا میں مزید رہنے یا کوچ کرنے سے متعلق اختیار عطا فرماتا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ آخری ایام میں ایک دن جب حضور ﷺ کے مرض میں افاقہ ہواتو آپ ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے۔ منبرپر فروکش ہوئے اور خطبہ دیا۔ اس کے بعد منبر سے نیچے تشریف لائے۔ ظہر کی نماز پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور چند اہم نصیحتیں فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا : ”ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کی چمک دمک اور زیب وزینت میں سے جو کچھ چاہے اللہ اسے دے دے یا اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اختیار کرلے تو اس بندے نے اللہ کے پاس والی چیز کو اختیار کرلیا“۔ یہ بات سن کر ابوبکر رض رونے لگے اور فرمایا : ”ہم اپنے ماں باپ سمیت آپ ﷺ پر قربان !“ اس پر لوگوں کو تعجب ہوا کہ حضور ﷺ کیا ارشاد فرما رہے ہیں اور اس پر ابوبکر رض کیا کہہ رہے ہیں ! لیکن چند دن بعد واضح ہوا کہ جس بندے کو اختیار دیا گیا تھا وہ خود رسول اللہ ﷺ تھے اور ابوبکر صدیق رض صحابہ کرام رض میں سب سے زیادہ صاحب علم تھے۔ یہاں حضور ﷺ کے اس فرمان کا ذکر کرتے ہوئے میرے دل کی بات زبان پر آگئی ہے۔۔۔۔ وہ یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی فضل سے مجھے حضور ﷺ کے قدموں میں پہنچا دیا تو میں حضور ﷺ سے شکوہ کرنے کی جسارت ضرور کروں گا کہ حضور ! آپ ﷺ نے بہت جلدی کی … حضور ﷺ ! مانا کہ ہجر و فراق کا ایک ایک لمحہ آپ ﷺ کے لیے مشکل تھا… مگر حضور ﷺ ! جو لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوئے تھے وہ بھی تو آپ ﷺ کے فیضانِ نظر کے محتاج تھے… حضور ﷺ ! اگر تھوڑا سا وقت ان کو بھی مل جاتا تو… مہاجرین رض و انصار رض کی طرز پر ان کی تربیت بھی ہو جاتی…! ! !

التين 95:1

آیت 7 ‘ 8{ فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ - وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ۔ } ”پھر جب آپ ﷺ فرائض نبوت سے فارغ ہوجائیں تو اسی کام میں لگ جایئے۔ اور اپنے رب کی طرف راغب ہوجایئے۔“ تو اے نبی ﷺ ! جب آپ اپنے فرضِ منصبی سے فارغ ہوجائیں اور اللہ کا دین غالب ہوجائے تو پھر آپ یکسو ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ نوٹ کیجیے ! سورة النصر میں بھی حضور ﷺ کے لیے بالکل یہی پیغام ہے :{ اِذَا جَآئَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ - وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا - فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُطٓ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ } یعنی جب غلبہ دین کے حوالے سے آپ ﷺ کا مشن مکمل ہوجائے تو پھر ہمہ تن ‘ ہمہ وقت آپ اللہ کی طرف متوجہ ہوجایئے گا اور تقرب الی اللہ کے لیے محنت شروع کردیجیے گا۔ چناچہ جونہی آپ ﷺ کا مشن پایہ تکمیل کو پہنچا تو آپ ﷺ نے فوراً محبوب کی طرف مراجعت کا فیصلہ کرلیا اَللّٰھُمَّ فِی الرَّفِیْقِ الاَعْلٰی کہ اے اللہ اب میں اپنے فرائض منصبی سے فارغ ہوگیا ہوں ‘ اب مجھ میں مزید انتظار کا یارا نہیں ! واضح رہے کہ انبیاء و رسل - کو اللہ تعالیٰ دنیا میں مزید رہنے یا کوچ کرنے سے متعلق اختیار عطا فرماتا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ آخری ایام میں ایک دن جب حضور ﷺ کے مرض میں افاقہ ہواتو آپ ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے۔ منبرپر فروکش ہوئے اور خطبہ دیا۔ اس کے بعد منبر سے نیچے تشریف لائے۔ ظہر کی نماز پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور چند اہم نصیحتیں فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا : ”ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کی چمک دمک اور زیب وزینت میں سے جو کچھ چاہے اللہ اسے دے دے یا اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اختیار کرلے تو اس بندے نے اللہ کے پاس والی چیز کو اختیار کرلیا“۔ یہ بات سن کر ابوبکر رض رونے لگے اور فرمایا : ”ہم اپنے ماں باپ سمیت آپ ﷺ پر قربان !“ اس پر لوگوں کو تعجب ہوا کہ حضور ﷺ کیا ارشاد فرما رہے ہیں اور اس پر ابوبکر رض کیا کہہ رہے ہیں ! لیکن چند دن بعد واضح ہوا کہ جس بندے کو اختیار دیا گیا تھا وہ خود رسول اللہ ﷺ تھے اور ابوبکر صدیق رض صحابہ کرام رض میں سب سے زیادہ صاحب علم تھے۔ یہاں حضور ﷺ کے اس فرمان کا ذکر کرتے ہوئے میرے دل کی بات زبان پر آگئی ہے۔۔۔۔ وہ یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی فضل سے مجھے حضور ﷺ کے قدموں میں پہنچا دیا تو میں حضور ﷺ سے شکوہ کرنے کی جسارت ضرور کروں گا کہ حضور ! آپ ﷺ نے بہت جلدی کی … حضور ﷺ ! مانا کہ ہجر و فراق کا ایک ایک لمحہ آپ ﷺ کے لیے مشکل تھا… مگر حضور ﷺ ! جو لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوئے تھے وہ بھی تو آپ ﷺ کے فیضانِ نظر کے محتاج تھے… حضور ﷺ ! اگر تھوڑا سا وقت ان کو بھی مل جاتا تو… مہاجرین رض و انصار رض کی طرز پر ان کی تربیت بھی ہو جاتی…! ! !

التين 95:2

آیت 7 ‘ 8{ فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ - وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ۔ } ”پھر جب آپ ﷺ فرائض نبوت سے فارغ ہوجائیں تو اسی کام میں لگ جایئے۔ اور اپنے رب کی طرف راغب ہوجایئے۔“ تو اے نبی ﷺ ! جب آپ اپنے فرضِ منصبی سے فارغ ہوجائیں اور اللہ کا دین غالب ہوجائے تو پھر آپ یکسو ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ نوٹ کیجیے ! سورة النصر میں بھی حضور ﷺ کے لیے بالکل یہی پیغام ہے :{ اِذَا جَآئَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ - وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا - فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُطٓ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ } یعنی جب غلبہ دین کے حوالے سے آپ ﷺ کا مشن مکمل ہوجائے تو پھر ہمہ تن ‘ ہمہ وقت آپ اللہ کی طرف متوجہ ہوجایئے گا اور تقرب الی اللہ کے لیے محنت شروع کردیجیے گا۔ چناچہ جونہی آپ ﷺ کا مشن پایہ تکمیل کو پہنچا تو آپ ﷺ نے فوراً محبوب کی طرف مراجعت کا فیصلہ کرلیا اَللّٰھُمَّ فِی الرَّفِیْقِ الاَعْلٰی کہ اے اللہ اب میں اپنے فرائض منصبی سے فارغ ہوگیا ہوں ‘ اب مجھ میں مزید انتظار کا یارا نہیں ! واضح رہے کہ انبیاء و رسل - کو اللہ تعالیٰ دنیا میں مزید رہنے یا کوچ کرنے سے متعلق اختیار عطا فرماتا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ آخری ایام میں ایک دن جب حضور ﷺ کے مرض میں افاقہ ہواتو آپ ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے۔ منبرپر فروکش ہوئے اور خطبہ دیا۔ اس کے بعد منبر سے نیچے تشریف لائے۔ ظہر کی نماز پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور چند اہم نصیحتیں فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا : ”ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کی چمک دمک اور زیب وزینت میں سے جو کچھ چاہے اللہ اسے دے دے یا اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اختیار کرلے تو اس بندے نے اللہ کے پاس والی چیز کو اختیار کرلیا“۔ یہ بات سن کر ابوبکر رض رونے لگے اور فرمایا : ”ہم اپنے ماں باپ سمیت آپ ﷺ پر قربان !“ اس پر لوگوں کو تعجب ہوا کہ حضور ﷺ کیا ارشاد فرما رہے ہیں اور اس پر ابوبکر رض کیا کہہ رہے ہیں ! لیکن چند دن بعد واضح ہوا کہ جس بندے کو اختیار دیا گیا تھا وہ خود رسول اللہ ﷺ تھے اور ابوبکر صدیق رض صحابہ کرام رض میں سب سے زیادہ صاحب علم تھے۔ یہاں حضور ﷺ کے اس فرمان کا ذکر کرتے ہوئے میرے دل کی بات زبان پر آگئی ہے۔۔۔۔ وہ یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی فضل سے مجھے حضور ﷺ کے قدموں میں پہنچا دیا تو میں حضور ﷺ سے شکوہ کرنے کی جسارت ضرور کروں گا کہ حضور ! آپ ﷺ نے بہت جلدی کی … حضور ﷺ ! مانا کہ ہجر و فراق کا ایک ایک لمحہ آپ ﷺ کے لیے مشکل تھا… مگر حضور ﷺ ! جو لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوئے تھے وہ بھی تو آپ ﷺ کے فیضانِ نظر کے محتاج تھے… حضور ﷺ ! اگر تھوڑا سا وقت ان کو بھی مل جاتا تو… مہاجرین رض و انصار رض کی طرز پر ان کی تربیت بھی ہو جاتی…! ! !

التين 95:3

آیت 3{ وَہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ۔ } ”اور گواہ ہے یہ امن والا شہر۔“ التِّین کے معنی انجیر کے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قوم نوح علیہ السلام کے علاقے میں ایک بڑے پہاڑ کا نام بھی جبل التِّین تھا اور یہ کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اسی پہاڑ کے دامن میں ساڑھے نو سو سال تک دعوت و تبلیغ کے فرائض سرانجام دیے۔ اسی طرح الزَّیْتُون سے مراد زیتون کا پھل اور درخت بھی ہے اور وہ پہاڑی بھی جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اکثر تبلیغی خطبات دیا کرتے تھے۔ ان خطبات میں سے آپ علیہ السلام کا ایک خطبہ ”پہاڑی کے وعظ“ Sermon of the Mount کے نام سے خاص طور پر مشہور ہے۔ تیسری قسم وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ذات سے ہے۔ کو ہِ طور پر آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا۔ اور امن والے شہر سے مکہ مکرمہ مراد ہے جہاں محمد رسول اللہ ﷺ اس سورت کے نزول کے وقت دعوت و تبلیغ کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔ گویا ان آیات میں جن مقامات کی قسمیں کھائی گئی ہیں ان میں سے ہر مقام کا تعلق ایک جلیل القدر شخصیت سے ہے۔ گویا ان شخصیات کو گواہ بنا کر یہاں اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ بنیادی طور پر انسان بہت بلند مرتبت اور صاحب عزت و عظمت مخلوق ہے۔ اگر کسی کو اس حقیقت کے بارے میں کوئی شک ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کے بندے نوح علیہ السلام کی زندگی کے شب و روز کا تصور کرے۔ اس کے بندے عیسیٰ علیہ السلام کے کردار کا نقشہ ذہن میں لائے ‘ موسیٰ علیہ السلام کی عظیم المرتبت شخصیت کو یاد کرے اور پھر سب سے بڑھ کر اس کے بندے محمد ﷺ کی بےمثال سیرت کا نمونہ دیکھے۔ یہ شخصیات ‘ ان کے کردار اور ان کی سیر تیں اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ :

التين 95:4

آیت 4{ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ۔ } ”ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔“ ہم نے تو انسان کو اشرف المخلوقات کے اعلیٰ مرتبے پر فائز کیا تھا : { وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰہُمْ فِی الْْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰہُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰہُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلاً۔ } بنی اسراء یل ”اور ہم نے بڑی عزت بخشی ہے اولادِ آدم علیہ السلام کو اور ہم اٹھائے پھرتے ہیں انہیں خشکی اور سمندر میں اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا اور انہیں فضیلت دی اپنی بہت سی مخلوق پر ‘ بہت بڑی فضیلت“۔ نسل انسانی کی عزت و تکریم کی انتہا یہ ہے کہ ان کے جدامجد کو ہم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے تخلیق کیا صٓ: 75 اور مسجود ِملائک بنایا۔ اگر تمہیں یہ دنیا ظالموں ‘ بدکاروں اور گھٹیا انسانوں سے بھری نظر آتی ہے تو اللہ نے بھی تمہارے سامنے اپنے ایسے چار بندوں کی مثالیں پیش کردی ہیں جو عظمت انسانی کے زندہ وجاوید ثبوت ہیں۔ کیا ان مثالوں کو دیکھنے کے بعد بھی کوئی عقل کا اندھا یہ دعویٰ کرے گا کہ انسان کے اندر خیر اور عظمت کا کوئی پہلو سرے سے موجود ہی نہیں ؟ بہرحال اگر کوئی شخص عظمت کے ان میناروں کو دیکھ لینے کے بعد بھی انسانی عظمت کا قائل نہ ہو اور اس عظمت و اکرام کو پانے کے لیے اپنا رخ تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس نہ کرے تو یقینا اس کا شمار نسل انسانی کے ان افراد میں ہوگا جو شرفِ انسانیت سے نیچے گر کر حیوانوں سے بھی بدتر ہوچکے ہیں : { اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّط } الاعراف : 179

التين 95:5

آیت 5{ ثُمَّ رَدَدْنٰــہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ۔ } ”پھر ہم نے لوٹا دیا اس کو پست ترین حالت کی طرف۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی اس عظیم المرتبت مخلوق کی روح کو اس کے جسد خاکی میں بٹھا کر نیچے دنیا میں بھیج دیا۔ لیکن واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر جہالت کی تاریکی میں نہیں بلکہ ہدایت کے اجالے میں بھیجا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے کامیابی اور ناکامی کے راستوں کا شعور بھی عطا کیا ‘ اس کی فطرت میں نیکی و بدی کی تمیز بھی ودیعت کی اور وقتاً فوقتاً وہ براہ راست ہدایات بھی بھیجتا رہا : { وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰٹـھُمْ اَنْفُسَھُمْط } الحشر : 19 کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو فراموش کردیا اور اس کی پاداش میں اللہ نے انہیں اپنے آپ سے ہی غافل کردیا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اب اگر وہ اپنے شرفِ انسانی کو بھلا کر محض حیوانی سطح پر زندگی بسر کرتا رہے اور خود کو حیوان ہی سمجھتا رہے تو یہ اس کی مرضی ہے۔ اس فلسفے کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنی سرشت حیوانی وجود کے تقاضوں کے اعتبار سے انسان میں کچھ کمزوریاں اور خامیاں پائی جاتی ہیں ‘ لیکن اپنی فطرت روح کے لحاظ سے یہ بہت اعلیٰ اور عظیم المرتبت مخلوق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی روح کو اس کے حیوانی جسم میں متمکن فرما کر اسے دنیا میں بھیجاتو اس کا ارفع و اعلیٰ روحانی وجود اس کے حیوانی جسم میں قید ہو کر گویا اسفل نچلی مخلوق کی سطح پر آگیا۔ چناچہ دنیوی زندگی میں اس کے سامنے اصل ہدف یہ ہے کہ وہ اپنے شعور اور اللہ تعالیٰ کی فراہم کردہ ہدایت کے مطابق راستہ اختیار کرے ‘ اس راستے کے تقاضے پورے کرنے کے لیے محنت کرے اور اسفل سطح سے اوپر اٹھ کر اپنی اصل عظمت اور حقیقی منزل کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اب اگلی آیت میں اس راستے کی نشاندہی اور مطلوبہ محنت کے طریقے کی وضاحت کی گئی ہے :

التين 95:6

آیت 6{ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ } ”سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے“ اب مذکورہ پستی سے صرف وہی لوگ نکل پائیں گے جو اپنے شعور و حواس سے کام لیتے ہوئے اپنے خالق اور معبود کو پہچانیں گے یعنی اس پر ایمان لائیں گے اور پھر محنت کر کے اپنے کردار و عمل کو اس کی منشاء ومرضی کے مطابق ڈھالیں گے ‘ یعنی اعمال صالحہ کا اہتمام کریں گے۔ { فَلَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۔ } ”تو ان کے لیے ایسا اجر ہوگا جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوگا۔“

التين 95:7

آیت 7{ فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ۔ } ”تو اس کے بعد کیا چیز تجھے آمادہ کرتی ہے جزا و سزا کے انکار پر ؟“ تو اے جزا و سزا کے منکر انسان ! جب تو خود دیکھ رہا ہے کہ دنیا میں تمام انسان ایک جیسے نہیں ہیں ‘ ان میں کچھ بہت اعلیٰ سیرت و کردار کے مالک ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو انسانیت کے ماتھے پر بدنما داغ کی حیثیت رکھتے ہیں ‘ تو اس صورت حال میں کیا عقل اور انصاف کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ اچھوں کو ان کی اچھائی اور محنت کا پھل ملے اور بروں کو ان کی برائی اور نافرمانی کی سزا دی جائے ؟ یہ ایسی سیدھی سادی بات ہے جو عام ذہنی سطح کا ایک انسان بھی سمجھ سکتا ہے۔ تو یہ سب کچھ دیکھنے سننے اور سمجھنے کے بعد بھی آخر وہ کون سی منطق ہے جس کے تحت تم جزا و سزا کے انکار پر جمے ہوئے ہو ؟

التين 95:8

آیت 8{ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ۔ } ”کیا اللہ تمام حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟“ دنیا میں تم لوگ چھوٹے چھوٹے حاکموں کو دیکھتے ہو کہ وہ اپنے غداروں اور باغیوں کو عبرتناک سزا دیتے ہیں اور اپنے وفاداروں کو انعام و اکرام سے نوازتے ہیں۔ کیا دنیا میں تم نے کوئی ایسا حاکم بھی دیکھا ہے جو اپنے باغیوں اور وفاداروں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دے ؟ اگر دنیا میں محدود اختیار کا مالک کوئی حاکم ایسا نہیں کرتا تو وہ اللہ عزوجل اپنے فرمانبردار بندوں اور نافرمانوں کو کیسے برابر کر دے گا جو سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے ؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کو احکم الحاکمین نہیں مانتے ہو ؟ مسند احمد ‘ سنن الترمذی ‘ سنن ابی دائود اور دیگر کتب حدیث میں حضرت ابوہریرہ رض سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی سورة التین پڑھے اور اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَپر پہنچے تو کہے : بلٰی وانا علٰی ذٰلک من الشاھدین ”کیوں نہیں ! اور میں اس پر شہادت دینے والوں میں سے ہوں“۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ جب یہ آیت پڑھتے تو فرماتے : سُبْحَانَکَ فَبَلٰی !

العلق 96:1

آیت 8{ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ۔ } ”کیا اللہ تمام حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟“ دنیا میں تم لوگ چھوٹے چھوٹے حاکموں کو دیکھتے ہو کہ وہ اپنے غداروں اور باغیوں کو عبرتناک سزا دیتے ہیں اور اپنے وفاداروں کو انعام و اکرام سے نوازتے ہیں۔ کیا دنیا میں تم نے کوئی ایسا حاکم بھی دیکھا ہے جو اپنے باغیوں اور وفاداروں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دے ؟ اگر دنیا میں محدود اختیار کا مالک کوئی حاکم ایسا نہیں کرتا تو وہ اللہ عزوجل اپنے فرمانبردار بندوں اور نافرمانوں کو کیسے برابر کر دے گا جو سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے ؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کو احکم الحاکمین نہیں مانتے ہو ؟ مسند احمد ‘ سنن الترمذی ‘ سنن ابی دائود اور دیگر کتب حدیث میں حضرت ابوہریرہ رض سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی سورة التین پڑھے اور اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَپر پہنچے تو کہے : بلٰی وانا علٰی ذٰلک من الشاھدین ”کیوں نہیں ! اور میں اس پر شہادت دینے والوں میں سے ہوں“۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ جب یہ آیت پڑھتے تو فرماتے : سُبْحَانَکَ فَبَلٰی !

العلق 96:2

آیت 8{ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ۔ } ”کیا اللہ تمام حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟“ دنیا میں تم لوگ چھوٹے چھوٹے حاکموں کو دیکھتے ہو کہ وہ اپنے غداروں اور باغیوں کو عبرتناک سزا دیتے ہیں اور اپنے وفاداروں کو انعام و اکرام سے نوازتے ہیں۔ کیا دنیا میں تم نے کوئی ایسا حاکم بھی دیکھا ہے جو اپنے باغیوں اور وفاداروں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دے ؟ اگر دنیا میں محدود اختیار کا مالک کوئی حاکم ایسا نہیں کرتا تو وہ اللہ عزوجل اپنے فرمانبردار بندوں اور نافرمانوں کو کیسے برابر کر دے گا جو سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے ؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کو احکم الحاکمین نہیں مانتے ہو ؟ مسند احمد ‘ سنن الترمذی ‘ سنن ابی دائود اور دیگر کتب حدیث میں حضرت ابوہریرہ رض سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی سورة التین پڑھے اور اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَپر پہنچے تو کہے : بلٰی وانا علٰی ذٰلک من الشاھدین ”کیوں نہیں ! اور میں اس پر شہادت دینے والوں میں سے ہوں“۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ جب یہ آیت پڑھتے تو فرماتے : سُبْحَانَکَ فَبَلٰی !

العلق 96:3

آیت 8{ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ۔ } ”کیا اللہ تمام حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟“ دنیا میں تم لوگ چھوٹے چھوٹے حاکموں کو دیکھتے ہو کہ وہ اپنے غداروں اور باغیوں کو عبرتناک سزا دیتے ہیں اور اپنے وفاداروں کو انعام و اکرام سے نوازتے ہیں۔ کیا دنیا میں تم نے کوئی ایسا حاکم بھی دیکھا ہے جو اپنے باغیوں اور وفاداروں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دے ؟ اگر دنیا میں محدود اختیار کا مالک کوئی حاکم ایسا نہیں کرتا تو وہ اللہ عزوجل اپنے فرمانبردار بندوں اور نافرمانوں کو کیسے برابر کر دے گا جو سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے ؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کو احکم الحاکمین نہیں مانتے ہو ؟ مسند احمد ‘ سنن الترمذی ‘ سنن ابی دائود اور دیگر کتب حدیث میں حضرت ابوہریرہ رض سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی سورة التین پڑھے اور اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَپر پہنچے تو کہے : بلٰی وانا علٰی ذٰلک من الشاھدین ”کیوں نہیں ! اور میں اس پر شہادت دینے والوں میں سے ہوں“۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ جب یہ آیت پڑھتے تو فرماتے : سُبْحَانَکَ فَبَلٰی !

العلق 96:4

آیت 4{ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔ } ”جس نے تعلیم دی ہے قلم کے ساتھ۔“ گویا عام انسانی تعلیم کا ذریعہ قلم ہے ‘ جبکہ حضور ﷺ کی تعلیم کے لیے فرشتہ مقرر ہوا۔

العلق 96:5

آیت 5{ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ۔ } ”اور انسان کو وہ کچھ سکھایا ہے جو وہ نہیں جانتا تھا۔“ پہلی وحی ان پانچ آیات پر مشتمل تھی۔ اس وحی میں حضور ﷺ کو تبلیغ و انذار سے متعلق کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ البتہ اس وحی کی خاص اہمیت یہ ہے کہ اس سے آپ ﷺ کی نبوت کا ظہور ہوا ہر نبی اگرچہ پیدائشی طور پر ہی نبی ہوتا ہے لیکن اس کی نبوت کا باقاعدہ ظہور پہلی وحی کے وقت ہوتا ہے۔ تبلیغ کا باقاعدہ حکم آپ ﷺ کو سورة المدثر کی ان آیات میں دیا گیا : { یٰٓــاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ - قُمْ فَاَنْذِرْ - وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ۔ } کہ اے لحاف میں لپٹ کرلیٹنے والے ﷺ کھڑے ہو جائو اور اپنے رب کی کبریائی کا اعلان کرو۔ یعنی اے نبی ﷺ اب آپ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لیے جدوجہد شروع کردیجیے۔ سورة العلق اور سورة المدثر کے مابین اس لحاظ سے گہری مشابہت پائی جاتی ہے کہ سورة المدثر کی طرح یہ سورت بھی تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پھر جس طرح سورة المدثر کی پہلی سات آیات میں حضور ﷺ سے خطاب کے بعد تین آیات میں قیامت کا ذکر آیا ہے ‘ بالکل اسی طرح اس سورت میں بھی پہلی پانچ آیات میں حضور ﷺ سے خطاب ہے اور اس کے بعد درج ذیل تین آیات میں آخرت کا فلسفہ بیان ہوا ہے۔

العلق 96:6

آیت 6{ کَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓی۔ } ”کوئی نہیں ! انسان سرکشی پر آمادہ ہو ہی جاتا ہے۔“ انسان سرکشی اور ظلم و زیادتی پر کیوں اتر آتا ہے ؟ اس کی وجہ اگلی آیت میں بتائی گئی :

العلق 96:7

آیت 7{ اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی۔ } ”اس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو مستغنی دیکھتا ہے۔“ وہ دیکھتا ہے کہ اس پر کوئی پکڑ نہیں۔ دنیا میں نہ تو ظالم کو اس کے ظلم کی قرار واقعی سزا ملتی ہے اور نہ ہی مظلوم کی کماحقہ داد رسی ہوتی ہے۔ چناچہ وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس دنیاکا نظام محض طبعی قوانین و ضوابط physical laws کے مطابق چل رہا ہے اور یہ کہ یہاں اخلاقی قوانین moral laws کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ انسان کی روز مرہ زندگی کا تجربہ بھی اسے یہی بتاتا ہے کہ زہر کھانے سے تو آدمی ہلاک ہوجاتا ہے لیکن حرام کھانے سے اسے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ چناچہ جب معاشرے کے عام آدمی کو نیکی ‘ انصاف ‘ دیانت داری جیسے الفاظ عملی طور پر بےمعنی اور بےوقعت نظرآتے ہیں تو وہ سرکشی اور َمن مرضی کے راستے پر چل نکلتا ہے۔ اب اگلی آیت میں انسان کی اس سرکشی اور بغاوت کا علاج بتایا جا رہا ہے۔ اس کا علاج اس یاد دہانی میں ہے کہ :

العلق 96:8

آیت 8{ اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجْعٰی۔ } ”یقینا تجھے اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“ گویا انسان کو راہ راست پر رکھنے کا جو موثر ترین علاج ہے وہ ہے عقیدئہ آخرت پر پختہ یقین۔ یعنی یہ یقین کہ ایک دن اسے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہو کر اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے اور وہ عدالت بھی ایسی ہے جہاں ذرّہ برابر بھی کوئی چیز چھپائی نہیں جاسکے گی : { فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ - وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ۔ } الزلزال ”جس کسی نے ذرّے کے ہم وزن نیکی کمائی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔ اور جس کسی نے ذرّے کے ہم وزن برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا“۔ گویا یہ عقیدئہ آخرت پر پختہ یقین اور قیامت کے دن کی پیشی کا خوف ہی ہے جو انسان کے اندر خود احتسابی کا احساس اجاگر کرتا ہے۔ یہی یقین اور خوف اسے خلوت و جلوت میں ‘ اندھیرے اجالے میں اور ہر جگہ ‘ ہر حال میں غلط روی اور ظلم وتعدی کے ارتکاب سے باز رکھتا ہے۔ ورنہ انسان کی سرشت ایسی ہے کہ جس مفاد تک اس کا ہاتھ پہنچتا ہو اسے سمیٹنے کے لیے وہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی حدود کی پروا نہیں کرتا۔ اب اگلی آیت سے اس سورت کا تیسرا حصہ شروع ہو رہا ہے۔ سورة المدثر کے ساتھ اس سورت کے مضامین کی مشابہت کا انداز ملاحظہ ہو کہ سورة المدثر کے تیسرے حصے میں ولید بن مغیرہ کے کردار کی جھلک دکھائی گئی ہے ‘ جبکہ یہاں اس کے مقابل ابوجہل کے طرزعمل کا نقشہ پیش کیا گیا ہے۔

العلق 96:9

آیت 8{ اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجْعٰی۔ } ”یقینا تجھے اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“ گویا انسان کو راہ راست پر رکھنے کا جو موثر ترین علاج ہے وہ ہے عقیدئہ آخرت پر پختہ یقین۔ یعنی یہ یقین کہ ایک دن اسے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہو کر اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے اور وہ عدالت بھی ایسی ہے جہاں ذرّہ برابر بھی کوئی چیز چھپائی نہیں جاسکے گی : { فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ - وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ۔ } الزلزال ”جس کسی نے ذرّے کے ہم وزن نیکی کمائی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔ اور جس کسی نے ذرّے کے ہم وزن برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا“۔ گویا یہ عقیدئہ آخرت پر پختہ یقین اور قیامت کے دن کی پیشی کا خوف ہی ہے جو انسان کے اندر خود احتسابی کا احساس اجاگر کرتا ہے۔ یہی یقین اور خوف اسے خلوت و جلوت میں ‘ اندھیرے اجالے میں اور ہر جگہ ‘ ہر حال میں غلط روی اور ظلم وتعدی کے ارتکاب سے باز رکھتا ہے۔ ورنہ انسان کی سرشت ایسی ہے کہ جس مفاد تک اس کا ہاتھ پہنچتا ہو اسے سمیٹنے کے لیے وہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی حدود کی پروا نہیں کرتا۔ اب اگلی آیت سے اس سورت کا تیسرا حصہ شروع ہو رہا ہے۔ سورة المدثر کے ساتھ اس سورت کے مضامین کی مشابہت کا انداز ملاحظہ ہو کہ سورة المدثر کے تیسرے حصے میں ولید بن مغیرہ کے کردار کی جھلک دکھائی گئی ہے ‘ جبکہ یہاں اس کے مقابل ابوجہل کے طرزعمل کا نقشہ پیش کیا گیا ہے۔

العلق 96:10

آیت 10{ عَبْدًا اِذَا صَلّٰی۔ } ”ہمارے ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔“ یہ اشارہ ہے ابوجہل کی ان جسارت آمیز حرکات کی طرف جو وہ حضور ﷺ کو نماز سے روکنے کے لیے کیا کرتا تھا۔ مثلاً ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوجہل نے آپ ﷺ کو دیکھا تو اونٹ کی اوجھڑی منگوا کر عین سجدے کی حالت میں آپ ﷺ کی پشت مبارک پر رکھوا دی۔ حضرت فاطمہ رض ابھی بچی تھیں ‘ ان کو پتا چلا تو آپ رض گھر سے بھاگم بھاگ حرم میں پہنچیں اور اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اس غلاظت کو آپ ﷺ کے اوپر سے ہٹایا۔ اسی طرح ایک اور موقع پر ابوجہل نے آپ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ کر آپ ﷺ کی گردن مبارک میں چادر ڈال کر اس قدر زور سے مروڑا کہ آپ ﷺ کی آنکھیں ابل پڑیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ حضور ﷺ کے سفر طائف سے واپسی کے زمانے میں بھی پیش آیا۔ اس واقعہ کی تفصیل روایات میں یوں آتی ہے کہ ابوجہل نے لات اور عزیٰ کی قسم کھا کر کہا تھا کہ اگر اس نے پھر محمد ﷺ کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا تو ان کی گردن روند ڈالوں گا اور ان کا منہ خاک آلود کر دوں گا۔ ایک دن اس نے آپ ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے دیکھا تو غصے میں آپ ﷺ کو ڈانٹتے ہوئے آپ ﷺ کی طرف بڑھا تاکہ اپنی قسم پوری کرے مگر پھر یکدم دہشت زدہ ہو کر پیچھے ہٹ گیا۔ لوگوں نے پوچھا کیا ہوا ؟ کیوں پیچھے ہٹ آئے ؟ کہنے لگا کہ آگے بڑھنے پر مجھے اپنے اور محمد ﷺ کے درمیان حائل آگ سے بھری ہوئی ایک خندق اور ایک پروں والی کوئی مخلوق دکھائی دی جو میری تکہ بوٹی کرنے کو تیار تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ میرے قریب پھٹکتا تو فرشتے اس کے چیتھڑے اڑادیتے۔ یہاں یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ پہلے دونوں واقعات کے حوالے سے ابوجہل کو ایسے کسی غیر معمولی یا غیر مرئی ردعمل کا تجربہ نہیں ہوا تھا۔ میرے نزدیک اس کی توجیہہ یہ ہے کہ پہلے دونوں واقعات کے زمانے میں حضور ﷺ کی پشت پناہی کے لیے دنیوی اسباب کے طور پر جناب ابوطالب موجود تھے ‘ جبکہ تیسرا واقعہ اس زمانے میں پیش آیا جب یہ دنیوی سہارا بھی موجود نہ رہا اور اب حضور ﷺ کی حفاظت براہ راست اللہ تعالیٰ خود فرما رہا تھا۔ اس لیے اس وقت غیبی مدد کے ذریعے حضور ﷺ کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا۔ آیات زیر مطالعہ میں خاص طور پر اسی واقعہ کا تذکرہ ہے۔

العلق 96:11

آیت 10{ عَبْدًا اِذَا صَلّٰی۔ } ”ہمارے ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔“ یہ اشارہ ہے ابوجہل کی ان جسارت آمیز حرکات کی طرف جو وہ حضور ﷺ کو نماز سے روکنے کے لیے کیا کرتا تھا۔ مثلاً ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوجہل نے آپ ﷺ کو دیکھا تو اونٹ کی اوجھڑی منگوا کر عین سجدے کی حالت میں آپ ﷺ کی پشت مبارک پر رکھوا دی۔ حضرت فاطمہ رض ابھی بچی تھیں ‘ ان کو پتا چلا تو آپ رض گھر سے بھاگم بھاگ حرم میں پہنچیں اور اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اس غلاظت کو آپ ﷺ کے اوپر سے ہٹایا۔ اسی طرح ایک اور موقع پر ابوجہل نے آپ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ کر آپ ﷺ کی گردن مبارک میں چادر ڈال کر اس قدر زور سے مروڑا کہ آپ ﷺ کی آنکھیں ابل پڑیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ حضور ﷺ کے سفر طائف سے واپسی کے زمانے میں بھی پیش آیا۔ اس واقعہ کی تفصیل روایات میں یوں آتی ہے کہ ابوجہل نے لات اور عزیٰ کی قسم کھا کر کہا تھا کہ اگر اس نے پھر محمد ﷺ کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا تو ان کی گردن روند ڈالوں گا اور ان کا منہ خاک آلود کر دوں گا۔ ایک دن اس نے آپ ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے دیکھا تو غصے میں آپ ﷺ کو ڈانٹتے ہوئے آپ ﷺ کی طرف بڑھا تاکہ اپنی قسم پوری کرے مگر پھر یکدم دہشت زدہ ہو کر پیچھے ہٹ گیا۔ لوگوں نے پوچھا کیا ہوا ؟ کیوں پیچھے ہٹ آئے ؟ کہنے لگا کہ آگے بڑھنے پر مجھے اپنے اور محمد ﷺ کے درمیان حائل آگ سے بھری ہوئی ایک خندق اور ایک پروں والی کوئی مخلوق دکھائی دی جو میری تکہ بوٹی کرنے کو تیار تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ میرے قریب پھٹکتا تو فرشتے اس کے چیتھڑے اڑادیتے۔ یہاں یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ پہلے دونوں واقعات کے حوالے سے ابوجہل کو ایسے کسی غیر معمولی یا غیر مرئی ردعمل کا تجربہ نہیں ہوا تھا۔ میرے نزدیک اس کی توجیہہ یہ ہے کہ پہلے دونوں واقعات کے زمانے میں حضور ﷺ کی پشت پناہی کے لیے دنیوی اسباب کے طور پر جناب ابوطالب موجود تھے ‘ جبکہ تیسرا واقعہ اس زمانے میں پیش آیا جب یہ دنیوی سہارا بھی موجود نہ رہا اور اب حضور ﷺ کی حفاظت براہ راست اللہ تعالیٰ خود فرما رہا تھا۔ اس لیے اس وقت غیبی مدد کے ذریعے حضور ﷺ کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا۔ آیات زیر مطالعہ میں خاص طور پر اسی واقعہ کا تذکرہ ہے۔

العلق 96:12

آیت 12{ اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰی۔ } ”یا وہ تقویٰ کی تعلیم دیتا !“ جیسا کہ سورة اللیل کی آیت 10 کے ضمن میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ ابوجہل کے کردار میں بہت سی مثبت خصوصیات بھی پائی جاتی تھیں۔ مثلاً وہ مال خرچ کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ صاف گو بھی تھا۔ اپنے ایمان نہ لانے کی وجہ بتاتے ہوئے اس نے بالکل کھری اور سچی بات کہی تھی کہ میں محمد ﷺ کو جھوٹا نہیں سمجھتا لیکن ہمارے خاندان نے چونکہ غرباء کو کھانے کھلانے اور حاجیوں کی خدمت کرنے میں ہمیشہ بنوہاشم کا مقابلہ کیا ہے ‘ اس لیے اب میں محمد ﷺ کی نبوت کی شہادت دے کر اپنے حریف خاندان کی بڑائی تسلیم نہیں کرسکتا۔ وہ جری اور بہادر ایسا تھا کہ نزع کے وقت بھی اس نے ہار نہیں مانی اور میدانِ بدر میں اپنا سرقلم کرنے والے شخص کو مخاطب کر کے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ اس کی گردن کو ذرا نیچے سے کاٹا جائے تاکہ سر نیزے پر چڑھے تو اونچا نظر آئے۔ بہرحال شخصی اعتبار سے وہ حضرت عمر فاروق رض کی طرح بہادر ‘ نڈر ‘ بےباک اور صاف گو انسان تھا۔ اگر وہ ایمان لے آتا تو یقینا حضرت عمر رض ہی کی طرح اعلیٰ پائے کا مسلمان ہوتا۔ لیکن جب وہ { صَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ } الیل یعنی تصدیق حق ِکی گھاٹی عبور کرنے میں ناکام رہا تو اس کے کردار کی بہت سی مثبت خصوصیات بھی اس کے کسی کام نہ آسکیں۔

العلق 96:13

آیت 12{ اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰی۔ } ”یا وہ تقویٰ کی تعلیم دیتا !“ جیسا کہ سورة اللیل کی آیت 10 کے ضمن میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ ابوجہل کے کردار میں بہت سی مثبت خصوصیات بھی پائی جاتی تھیں۔ مثلاً وہ مال خرچ کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ صاف گو بھی تھا۔ اپنے ایمان نہ لانے کی وجہ بتاتے ہوئے اس نے بالکل کھری اور سچی بات کہی تھی کہ میں محمد ﷺ کو جھوٹا نہیں سمجھتا لیکن ہمارے خاندان نے چونکہ غرباء کو کھانے کھلانے اور حاجیوں کی خدمت کرنے میں ہمیشہ بنوہاشم کا مقابلہ کیا ہے ‘ اس لیے اب میں محمد ﷺ کی نبوت کی شہادت دے کر اپنے حریف خاندان کی بڑائی تسلیم نہیں کرسکتا۔ وہ جری اور بہادر ایسا تھا کہ نزع کے وقت بھی اس نے ہار نہیں مانی اور میدانِ بدر میں اپنا سرقلم کرنے والے شخص کو مخاطب کر کے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ اس کی گردن کو ذرا نیچے سے کاٹا جائے تاکہ سر نیزے پر چڑھے تو اونچا نظر آئے۔ بہرحال شخصی اعتبار سے وہ حضرت عمر فاروق رض کی طرح بہادر ‘ نڈر ‘ بےباک اور صاف گو انسان تھا۔ اگر وہ ایمان لے آتا تو یقینا حضرت عمر رض ہی کی طرح اعلیٰ پائے کا مسلمان ہوتا۔ لیکن جب وہ { صَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ } الیل یعنی تصدیق حق ِکی گھاٹی عبور کرنے میں ناکام رہا تو اس کے کردار کی بہت سی مثبت خصوصیات بھی اس کے کسی کام نہ آسکیں۔

العلق 96:14

آیت 12{ اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰی۔ } ”یا وہ تقویٰ کی تعلیم دیتا !“ جیسا کہ سورة اللیل کی آیت 10 کے ضمن میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ ابوجہل کے کردار میں بہت سی مثبت خصوصیات بھی پائی جاتی تھیں۔ مثلاً وہ مال خرچ کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ صاف گو بھی تھا۔ اپنے ایمان نہ لانے کی وجہ بتاتے ہوئے اس نے بالکل کھری اور سچی بات کہی تھی کہ میں محمد ﷺ کو جھوٹا نہیں سمجھتا لیکن ہمارے خاندان نے چونکہ غرباء کو کھانے کھلانے اور حاجیوں کی خدمت کرنے میں ہمیشہ بنوہاشم کا مقابلہ کیا ہے ‘ اس لیے اب میں محمد ﷺ کی نبوت کی شہادت دے کر اپنے حریف خاندان کی بڑائی تسلیم نہیں کرسکتا۔ وہ جری اور بہادر ایسا تھا کہ نزع کے وقت بھی اس نے ہار نہیں مانی اور میدانِ بدر میں اپنا سرقلم کرنے والے شخص کو مخاطب کر کے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ اس کی گردن کو ذرا نیچے سے کاٹا جائے تاکہ سر نیزے پر چڑھے تو اونچا نظر آئے۔ بہرحال شخصی اعتبار سے وہ حضرت عمر فاروق رض کی طرح بہادر ‘ نڈر ‘ بےباک اور صاف گو انسان تھا۔ اگر وہ ایمان لے آتا تو یقینا حضرت عمر رض ہی کی طرح اعلیٰ پائے کا مسلمان ہوتا۔ لیکن جب وہ { صَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ } الیل یعنی تصدیق حق ِکی گھاٹی عبور کرنے میں ناکام رہا تو اس کے کردار کی بہت سی مثبت خصوصیات بھی اس کے کسی کام نہ آسکیں۔

العلق 96:15

آیت 12{ اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰی۔ } ”یا وہ تقویٰ کی تعلیم دیتا !“ جیسا کہ سورة اللیل کی آیت 10 کے ضمن میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ ابوجہل کے کردار میں بہت سی مثبت خصوصیات بھی پائی جاتی تھیں۔ مثلاً وہ مال خرچ کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ صاف گو بھی تھا۔ اپنے ایمان نہ لانے کی وجہ بتاتے ہوئے اس نے بالکل کھری اور سچی بات کہی تھی کہ میں محمد ﷺ کو جھوٹا نہیں سمجھتا لیکن ہمارے خاندان نے چونکہ غرباء کو کھانے کھلانے اور حاجیوں کی خدمت کرنے میں ہمیشہ بنوہاشم کا مقابلہ کیا ہے ‘ اس لیے اب میں محمد ﷺ کی نبوت کی شہادت دے کر اپنے حریف خاندان کی بڑائی تسلیم نہیں کرسکتا۔ وہ جری اور بہادر ایسا تھا کہ نزع کے وقت بھی اس نے ہار نہیں مانی اور میدانِ بدر میں اپنا سرقلم کرنے والے شخص کو مخاطب کر کے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ اس کی گردن کو ذرا نیچے سے کاٹا جائے تاکہ سر نیزے پر چڑھے تو اونچا نظر آئے۔ بہرحال شخصی اعتبار سے وہ حضرت عمر فاروق رض کی طرح بہادر ‘ نڈر ‘ بےباک اور صاف گو انسان تھا۔ اگر وہ ایمان لے آتا تو یقینا حضرت عمر رض ہی کی طرح اعلیٰ پائے کا مسلمان ہوتا۔ لیکن جب وہ { صَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ } الیل یعنی تصدیق حق ِکی گھاٹی عبور کرنے میں ناکام رہا تو اس کے کردار کی بہت سی مثبت خصوصیات بھی اس کے کسی کام نہ آسکیں۔

العلق 96:16

آیت 12{ اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰی۔ } ”یا وہ تقویٰ کی تعلیم دیتا !“ جیسا کہ سورة اللیل کی آیت 10 کے ضمن میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ ابوجہل کے کردار میں بہت سی مثبت خصوصیات بھی پائی جاتی تھیں۔ مثلاً وہ مال خرچ کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ صاف گو بھی تھا۔ اپنے ایمان نہ لانے کی وجہ بتاتے ہوئے اس نے بالکل کھری اور سچی بات کہی تھی کہ میں محمد ﷺ کو جھوٹا نہیں سمجھتا لیکن ہمارے خاندان نے چونکہ غرباء کو کھانے کھلانے اور حاجیوں کی خدمت کرنے میں ہمیشہ بنوہاشم کا مقابلہ کیا ہے ‘ اس لیے اب میں محمد ﷺ کی نبوت کی شہادت دے کر اپنے حریف خاندان کی بڑائی تسلیم نہیں کرسکتا۔ وہ جری اور بہادر ایسا تھا کہ نزع کے وقت بھی اس نے ہار نہیں مانی اور میدانِ بدر میں اپنا سرقلم کرنے والے شخص کو مخاطب کر کے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ اس کی گردن کو ذرا نیچے سے کاٹا جائے تاکہ سر نیزے پر چڑھے تو اونچا نظر آئے۔ بہرحال شخصی اعتبار سے وہ حضرت عمر فاروق رض کی طرح بہادر ‘ نڈر ‘ بےباک اور صاف گو انسان تھا۔ اگر وہ ایمان لے آتا تو یقینا حضرت عمر رض ہی کی طرح اعلیٰ پائے کا مسلمان ہوتا۔ لیکن جب وہ { صَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ } الیل یعنی تصدیق حق ِکی گھاٹی عبور کرنے میں ناکام رہا تو اس کے کردار کی بہت سی مثبت خصوصیات بھی اس کے کسی کام نہ آسکیں۔

العلق 96:17

آیت 12{ اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰی۔ } ”یا وہ تقویٰ کی تعلیم دیتا !“ جیسا کہ سورة اللیل کی آیت 10 کے ضمن میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ ابوجہل کے کردار میں بہت سی مثبت خصوصیات بھی پائی جاتی تھیں۔ مثلاً وہ مال خرچ کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ صاف گو بھی تھا۔ اپنے ایمان نہ لانے کی وجہ بتاتے ہوئے اس نے بالکل کھری اور سچی بات کہی تھی کہ میں محمد ﷺ کو جھوٹا نہیں سمجھتا لیکن ہمارے خاندان نے چونکہ غرباء کو کھانے کھلانے اور حاجیوں کی خدمت کرنے میں ہمیشہ بنوہاشم کا مقابلہ کیا ہے ‘ اس لیے اب میں محمد ﷺ کی نبوت کی شہادت دے کر اپنے حریف خاندان کی بڑائی تسلیم نہیں کرسکتا۔ وہ جری اور بہادر ایسا تھا کہ نزع کے وقت بھی اس نے ہار نہیں مانی اور میدانِ بدر میں اپنا سرقلم کرنے والے شخص کو مخاطب کر کے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ اس کی گردن کو ذرا نیچے سے کاٹا جائے تاکہ سر نیزے پر چڑھے تو اونچا نظر آئے۔ بہرحال شخصی اعتبار سے وہ حضرت عمر فاروق رض کی طرح بہادر ‘ نڈر ‘ بےباک اور صاف گو انسان تھا۔ اگر وہ ایمان لے آتا تو یقینا حضرت عمر رض ہی کی طرح اعلیٰ پائے کا مسلمان ہوتا۔ لیکن جب وہ { صَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ } الیل یعنی تصدیق حق ِکی گھاٹی عبور کرنے میں ناکام رہا تو اس کے کردار کی بہت سی مثبت خصوصیات بھی اس کے کسی کام نہ آسکیں۔

العلق 96:18

آیت 12{ اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰی۔ } ”یا وہ تقویٰ کی تعلیم دیتا !“ جیسا کہ سورة اللیل کی آیت 10 کے ضمن میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ ابوجہل کے کردار میں بہت سی مثبت خصوصیات بھی پائی جاتی تھیں۔ مثلاً وہ مال خرچ کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ صاف گو بھی تھا۔ اپنے ایمان نہ لانے کی وجہ بتاتے ہوئے اس نے بالکل کھری اور سچی بات کہی تھی کہ میں محمد ﷺ کو جھوٹا نہیں سمجھتا لیکن ہمارے خاندان نے چونکہ غرباء کو کھانے کھلانے اور حاجیوں کی خدمت کرنے میں ہمیشہ بنوہاشم کا مقابلہ کیا ہے ‘ اس لیے اب میں محمد ﷺ کی نبوت کی شہادت دے کر اپنے حریف خاندان کی بڑائی تسلیم نہیں کرسکتا۔ وہ جری اور بہادر ایسا تھا کہ نزع کے وقت بھی اس نے ہار نہیں مانی اور میدانِ بدر میں اپنا سرقلم کرنے والے شخص کو مخاطب کر کے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ اس کی گردن کو ذرا نیچے سے کاٹا جائے تاکہ سر نیزے پر چڑھے تو اونچا نظر آئے۔ بہرحال شخصی اعتبار سے وہ حضرت عمر فاروق رض کی طرح بہادر ‘ نڈر ‘ بےباک اور صاف گو انسان تھا۔ اگر وہ ایمان لے آتا تو یقینا حضرت عمر رض ہی کی طرح اعلیٰ پائے کا مسلمان ہوتا۔ لیکن جب وہ { صَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ } الیل یعنی تصدیق حق ِکی گھاٹی عبور کرنے میں ناکام رہا تو اس کے کردار کی بہت سی مثبت خصوصیات بھی اس کے کسی کام نہ آسکیں۔

العلق 96:19

آیت 19{ کَلَّاط لَا تُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ۔ } ”کوئی بات نہیں ! اے نبی ﷺ آپ اس کی بات نہ مانیے ‘ آپ سجدہ کیجیے اور اللہ سے اور قریب ہوجایئے !“ آپ ﷺ اس جھوٹے ‘ غلط کار شخص کی ایک نہ سنیے۔ یہ اگر آپ کو نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے تو اس کی پروا نہ کیجیے۔ آپ اپنے پروردگار کی جناب میں سجدے کرتے رہیے اور کثرت سجود سے اس کا قرب حاصل کرتے رہیے۔

القدر 97:1

آیت 1{ اِنَّــآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَـیْلَۃِ الْقَدْرِ۔ } ”یقینا ہم نے اتارا ہے اس قرآن کو لیلۃ القدر میں۔“ ”اَنْزَلْنٰـہُ“ کی ضمیر مفعولی کا مرجع بالاتفاق قرآن مجید ہی ہے۔ نوٹ کیجیے ! ان سورتوں کے مضامین کے اندر ایک ربط پایا جاتا ہے ‘ یعنی پہلی وحی سورۃ العلق کے فوراً بعد بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے اس کلام کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ قدر کا معنی تقدیر اور قسمت بھی ہے اور عزت و منزلت بھی۔ یہاں دونوں معنی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ یعنی ہم نے اس قرآن کو اس رات میں اتارا ہے جو قدر و منزلت کے اعتبار سے بےمثل رات ہے ‘ یا اس رات میں اتارا ہے جو تقدیر ساز ہے۔ سورة الدخان میں اس رات کا ذکر لَیْلَۃ مُبَارَکَۃ کے نام سے آیا ہے : { اِنَّــآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَـیْلَۃٍ مُّبٰـرَکَۃٍ } آیت 3 ”یقینا ہم نے نازل کیا ہے اس قرآن کو ایک مبارک رات میں“۔ یہ کونسی رات ہے ؟ اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رض بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تَحَرَّوْا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ 1 ”لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو“۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ ستائیسویں رمضان کی شب ہی لیلۃ القدر ہے۔ لیکن جیسا کہ سورة الفجر کی آیت 3 کے ضمن میں بھی وضاحت کی جا چکی ہے ‘ قمری کیلنڈر کی طاق اور جفت راتوں کی گنتی دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً آج ہمارے ہاں جو طاق رات ہے سعودی عرب میں ممکن ہے وہ جفت رات ہو۔ اس لیے لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کا محتاط طریقہ یہی ہے کہ اسے رمضان کے آخری عشرے کی تمام راتوں جفت اور طاق دونوں میں تلاش کیا جائے۔ اور اگر واقعی ستائیسویں رمضان کی شب ہیلیلۃ القدر ہے تو اس بارے میں میرا اپنا خیال یہ ہے کہ پھر یہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی ستائیسویں شب ہے۔ واللہ اعلم ! اس رات میں قرآن نازل کرنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس رات کو پورا قرآن مجید لوح محفوظ سے حاملین ِوحی فرشتوں کے سپرد کردیا گیا اور پھر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق 23 سال کے دوران میں حضرت جبرائیل علیہ السلام اس کی آیات اور سورتیں رسول اللہ ﷺ پر نازل کرتے رہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے نزول کی ابتدا اس رات سے ہوئی۔

القدر 97:2

آیت 1{ اِنَّــآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَـیْلَۃِ الْقَدْرِ۔ } ”یقینا ہم نے اتارا ہے اس قرآن کو لیلۃ القدر میں۔“ ”اَنْزَلْنٰـہُ“ کی ضمیر مفعولی کا مرجع بالاتفاق قرآن مجید ہی ہے۔ نوٹ کیجیے ! ان سورتوں کے مضامین کے اندر ایک ربط پایا جاتا ہے ‘ یعنی پہلی وحی سورۃ العلق کے فوراً بعد بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے اس کلام کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ قدر کا معنی تقدیر اور قسمت بھی ہے اور عزت و منزلت بھی۔ یہاں دونوں معنی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ یعنی ہم نے اس قرآن کو اس رات میں اتارا ہے جو قدر و منزلت کے اعتبار سے بےمثل رات ہے ‘ یا اس رات میں اتارا ہے جو تقدیر ساز ہے۔ سورة الدخان میں اس رات کا ذکر لَیْلَۃ مُبَارَکَۃ کے نام سے آیا ہے : { اِنَّــآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَـیْلَۃٍ مُّبٰـرَکَۃٍ } آیت 3 ”یقینا ہم نے نازل کیا ہے اس قرآن کو ایک مبارک رات میں“۔ یہ کونسی رات ہے ؟ اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رض بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تَحَرَّوْا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ 1 ”لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو“۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ ستائیسویں رمضان کی شب ہی لیلۃ القدر ہے۔ لیکن جیسا کہ سورة الفجر کی آیت 3 کے ضمن میں بھی وضاحت کی جا چکی ہے ‘ قمری کیلنڈر کی طاق اور جفت راتوں کی گنتی دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً آج ہمارے ہاں جو طاق رات ہے سعودی عرب میں ممکن ہے وہ جفت رات ہو۔ اس لیے لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کا محتاط طریقہ یہی ہے کہ اسے رمضان کے آخری عشرے کی تمام راتوں جفت اور طاق دونوں میں تلاش کیا جائے۔ اور اگر واقعی ستائیسویں رمضان کی شب ہیلیلۃ القدر ہے تو اس بارے میں میرا اپنا خیال یہ ہے کہ پھر یہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی ستائیسویں شب ہے۔ واللہ اعلم ! اس رات میں قرآن نازل کرنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس رات کو پورا قرآن مجید لوح محفوظ سے حاملین ِوحی فرشتوں کے سپرد کردیا گیا اور پھر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق 23 سال کے دوران میں حضرت جبرائیل علیہ السلام اس کی آیات اور سورتیں رسول اللہ ﷺ پر نازل کرتے رہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے نزول کی ابتدا اس رات سے ہوئی۔

القدر 97:3

آیت 3{ لَـیْلَۃُ الْقَدْرِلا خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ۔ } ”لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔“ یہ بہتری اور افضلیت کس اعتبار سے ہے ؟ اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ اس رات کا عمل ِخیر ہزار مہینوں کے عمل ِخیر سے بہتر ہے جس میں لیلۃ القدر نہ ہو۔ حضرت ابوہریرہ رض سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ 1 ’ ’ جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ اور اللہ سے اجر کی امید میں کھڑارہا اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیے گئے“۔ اس رات کی افضلیت کے ضمن میں ایک رائے یہ ہے کہ اس ایک رات میں اتنی خیر تقسیم کی جاتی ہے جتنی ایک ہزار مہینہ میں بھی تقسیم نہیں کی جاتی۔ اس رات کی افضلیت کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ انسان کی اصلاح اور فلاح کے لیے جو کام نزولِ قرآن اس ایک رات میں ہوا ‘ خیر اور بھلائی کا اتنا بڑا کام کبھی انسانی تاریخ کے کسی طویل زمانے میں بھی نہ ہوا تھا۔ واضح رہے کہ اہل عرب بڑی کثیر تعداد کا تصور دلانے کے لیے اَلْف ہزار کا لفظ بولتے تھے۔

القدر 97:4

آیت 4{ تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْہَا بِاِذْنِ رَبِّہِمْ مِّنْ کُلِّ اَمْرٍ۔ } ”اس رات میں اُترتے ہیں فرشتے اور روح اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے۔“ روح سے مراد یہاں روح الامین یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کے سردار ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں انہیں خصوصی مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ جیسا کہ سورة التکویر میں فرمایا گیا : { ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ - مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ۔ } ”وہ جبرائیل علیہ السلام بہت قوت والا ہے ‘ صاحب عرش کے قرب میں اس کا ٹھکانہ ہے۔ اس کی اطاعت کی جاتی ہے اور وہاں وہ امانت دار بھی ہے“۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں کہیں حضرت جبرائیل علیہ السلام اور فرشتوں کا ذکر آتا ہے تو ان علیہ السلام حضرت جبرائیل علیہ السلام کا ذکر عام طور پر علیحدہ کیا جاتا ہے۔ لیلۃ القدر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام اور فرشتوں کا خصوصی نزول دراصل اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل و تنفیذ کے حوالے سے ہوتا ہے۔ سورة الدخان میں لیلۃ القدر یا لیلۃ مبارکہ کے بارے میں ایک خصوصی بات یہ بتائی گئی ہے : { فِیْہَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ۔ } کہ اس رات میں تمام ُ پر حکمت امور کے فیصلے صادر کیے جاتے ہیں۔ سورة الدخان کے مطالعے کے دوران اس آیت کے تحت اس موضوع پر تفصیلی گفتگو ہوچکی ہے۔ مختصراً یہ کہ لیلۃ القدر اللہ تعالیٰ کی تکوینی سلطنت سے متعلق فیصلوں کے لیے سالانہ بجٹ سیشن کا درجہ رکھتی ہے۔ اس رات میں اگلے سال کے لیے تمام اہم امور کے فیصلے کر کے تعمیل و تنفیذ کی غرض سے فرشتوں کے حوالے کردیے جاتے ہیں۔ چناچہ فرشتے حضرت جبرائیل علیہ السلام کی قیادت میں ان احکامات پر عمل درآمد کے لیے پوری زمین میں پھیل جاتے ہیں۔ نظامِ کائنات سے متعلق اللہ تعالیٰ کی اس ”تدبیر ِامر“ کا ذکر سورة السجدۃ کی اس آیت میں بھی آیا ہے : { یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ } آیت 5 ”وہ تدبیر کرتا ہے اپنے امر کی آسمان سے زمین کی طرف ‘ پھر وہ امر چڑھتا ہے اس کی طرف“۔ گویا اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل کے بعد متعلقہ فرشتے تکمیلی رپورٹیں بھی بھیجتے ہیں۔

القدر 97:5

آیت 5{ سَلٰــمٌ قف } ”سراسر سلامتی ہے۔“ اس سلامتی کے بہت سے پہلو ہیں۔ مثلاً اس رات میں لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور عبادت کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ { ہِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ۔ } ”یہ رات رہتی ہے طلوع فجر تک۔“

البينة 98:1

آیت 1{ لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ مُنْفَکِّیْنَ حَتّٰی تَاْتِیَہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ } ”نہیں تھے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا اہل کتاب میں سے اور مشرکین میں سے الگ ہونے والے یا باز آنے والے جب تک کہ ان کے پاس البیّنہنہ آجاتی۔“ ظاہر ہے وہ لوگ سیدھے راستے سے بھٹک کر گمراہی میں مبتلا ہوچکے تھے۔ اب جب تک ان کے سامنے کوئی بین واضح دلیل نہ آجاتی جس سے انہیں معلوم ہوجاتا کہ وہ گمراہ ہیں یا انہیں بہت واضح انداز میں بتا نہ دیا جاتا کہ وہ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ راہ ہدایت نہیں ‘ اس وقت تک انہیں رشد و ہدایت کی راہ پر چلنے والوں سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس کا مفہوم یوں بھی ہوسکتا ہے کہ جب تک ان لوگوں کے پاس البینہ نہ آجاتی وہ اپنے کفر سے باز آنے والے نہیں تھے۔۔۔۔۔۔۔ مُنْفَکِّیْنَ : اِنْفِکاک فَکَّسے باب اِنْفعال سے ہے ‘ جس کا مفہوم ہے کسی چیز کا کسی چیز سے الگ ہوجانا ‘ جدا ہوجانا۔ وہ البیِّنہ کیا ہے ؟ اس کی وضاحت اگلی آیات میں کی جا رہی ہے :

البينة 98:2

ان اوراق میں کیا ہے ؟

البينة 98:3

آیت 3{ فِیْہَا کُتُبٌ قَـیِّمَۃٌ۔ } ”ان میں بڑے مضبوط احکام تحریر ہیں۔“ لفظ ”کتاب“ کے بارے میں قبل ازیں بھی متعدد بار واضح کیا جا چکا ہے کہ قرآن مجید میں یہ لفظ عام طور پر احکامِ شریعت کے لیے آتا ہے۔ تو پتا چلا کہ اللہ کے رسول ﷺ اور اللہ کی کتاب کا اکٹھا نام البیِّنہ ہے۔ یہ وہی بات ہے جو قبل ازیں ہم لفظ ”ذِکْرًا“ کے حوالے سے سورة الطلاق میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ وہاں اہل ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے : { قَدْ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَـیْکُمْ ذِکْرًا - رَّسُوْلًا یَّـتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ مُـبَـیِّنٰتٍ …} ”اللہ نے تمہاری طرف ذکر نازل کردیا ہے۔ ایک رسول ﷺ جو اللہ کی آیات بینات تم لوگوں کو پڑھ کر سنا رہاہے…“ گویا تعبیر اور تعریف definition کے اعتبار سے اَلْبَـیِّنَہ اور ذِکْرًا ہم معنی اصطلاحات ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے واضح احکام کتاب کی صورت میں نازل کیے اور اس کتاب کی تفہیم وتعلیم کے لیے رسول ﷺ کو بھی مبعوث فرمایا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے وہ تمام احکام اس انداز میں کھول کر بیان فرما دیے کہ اب اس کے بعد ان مخاطبین کے پاس کفر و شرک کے ساتھ چمٹے رہنے اور ضلالت و گمراہی سے باز نہ آنے کا کوئی جو ازباقی نہیں رہا۔

البينة 98:4

آیت 4{ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اِلَّا مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ تْہُمُ الْبَـیِّنَۃُ۔ } ”اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی انہوں نے تفرقہ نہیں کیا تھا مگر اس کے بعد جبکہ ان کے پاس البیِّنہ آچکی تھی۔“ یعنی اسی طرح اس سے پہلے بنی اسرائیل کے پاس بھی البیِّنہ اللہ کا رسول ﷺ اور اس کی کتاب آئی تھی ‘ مگر وہ لوگ اس کے بعد بھی راہ راست پر آنے کے بجائے تفرقہ بازی میں پڑگئے۔ ان میں سے کچھ لوگ یہودی بن گئے اور کچھ نصاریٰ۔ بعد میں نصاریٰ مزید کئی فرقوں میں بٹتے چلے گئے۔ چناچہ البَیِّنہ کے آجانے کے بعد بھی راہ راست پر نہ آنے کے جرم کی پاداش میں وہ لوگ شدید ترین سزا کے مستحق ہوچکے ہیں۔

البينة 98:5

آیت 5{ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَلا حُنَفَآئَ } ”اور انہیں حکم نہیں ہوا تھا مگر یہ کہ وہ بندگی کریں اللہ کی ‘ اپنی اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے ‘ بالکل یکسو ہو کر“ یہ حکم گویا پورے دین کا خلاصہ ہے جو اس سے پہلے سورة الزمر آیات 2 ‘ 3 ‘ 11 اور 14 میں بہت تاکید اور شدومد کے ساتھ بیان ہوچکا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی پوری اطاعت کے ساتھ کریں۔ یہ نہیں کہ نماز بھی پڑھے جا رہے ہیں اور حرام خوریوں سے بھی باز نہیں آتے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کی اطاعت بھی جاری ہے۔ ایسی آیات دراصل ہمیں خبردار کرتی ہیں کہ جزوی بندگی اور ساجھے کی اطاعت اللہ تعالیٰ کو ہرگز قابل قبول نہیں۔ اور یہ کہ اگر ہم اس جرم کا ارتکاب کریں گے تو ہم بھی اسی وعید کے مستحق ہوں گے جو اس حوالے سے بنی اسرائیل کو سنائی گئی تھی۔ ملاحظہ ہوں اس وعید کے یہ الفاظ : { اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَـکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍج فَمَا جَزَآئُ مَنْ یَّـفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلاَّ خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلٰٓی اَشَدِّ الْعَذَابِط } البقرۃ : 85 ”تو کیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک کو نہیں مانتے ؟ تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو یہ حرکت کرے تم میں سے سوائے ذلت و رسوائی کے دنیا کی زندگی میں ‘ اور قیامت کے روز وہ لوٹا دیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف“۔ بلکہ اس حوالے سے اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اس آیت میں دنیا کے جس عذاب کا ذکر ہے { خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج } وہ اس وقت بحیثیت امت ہم پر مسلط ہو بھی چکا ہے۔ مقامِ عبرت ہے ! آج مسلمانوں کی آبادی دو ارب سے بھی زیادہ ہے ‘ دنیا کے بہترین خطے اور بہترین وسائل ان کے قبضے میں ہیں ‘ مگر اس کے باوجود عزت نام کی کوئی چیز ان کے پاس نہیں۔ بین الاقوامی معاملات کے حوالے سے مسلمان حکمرانوں کی حالت یہ ہے کہ ”کس نمی پرسد کہ بھیا کیستی ؟“ یعنی عالمی معاملات میں کوئی ان کی رائے لینا بھی گوارا نہیں کرتا۔ بلکہ مسلمان ملکوں کی اپنی پالیسیوں کا اختیار بھی ان کے پاس نہیں۔ ان کے سالانہ بجٹ بھی کہیں اور سے بن کر آتے ہیں۔ بہرحال اس آیت کے حکم کا مدعا یہی ہے کہ جسے اللہ کا ”بندہ“ بننا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی اس کے قانون کے تابع کر کے اس کے حضور پیش ہو۔ ”قیصر کا حصہ قیصر کو دو اور خدا کا حصہ خدا کو دو“ والا قانون اللہ تعالیٰ کو قابل قبول نہیں۔ چناچہ ایمان کے دعوے داروں کو چاہیے کہ وہ اللہ کی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے پوری یکسوئی کے ساتھ اس کی عبادت کریں۔ { وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ۔ } ”اور یہ کہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ‘ اور یہی ہے سیدھا اور سچا دین۔“ گویا ان الفاظ سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ”بندگی“ اور شے ہے ‘ جبکہ نماز اور زکوٰۃ اس کے علاوہ ہے۔ اس نکتے کو یوں سمجھیں کہ بندگی تو پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں دے دینے کا نام ہے۔ بقول شیخ سعدیؔ :زندگی آمد برائے بندگی زندگی بےبندگی شرمندگی !جبکہ نماز ‘ زکوٰۃ عبادات وغیرہ اس بندگی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لوازمات ہیں ‘ تاکہ ان کے ذریعے سے بندہ اپنے رب کو مسلسل یاد کرتا رہے اور اس کا تعلق اپنے رب کے ساتھ ہردم ‘ ہر گھڑی تازہ رہے۔ حفیظ جالندھری کے اس خوبصورت شعر میں یہی فلسفہ بیان ہوا ہے : سرکشی نے کردیے دھندلے نقوش بندگی آئو سجدے میں گریں لوح جبیں تازہ کریں !گویا ہمارے ”نقوشِ بندگی“ نفس پرستی کی کثافتوں اور کدورتوں کے گرد و غبار سے اکثر دھندلا جاتے ہیں۔ چناچہ انہیں تازہ رکھنے کے لیے نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ اور دیگر مراسم عبودیت کے ذریعے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور مسلسل حاضری دینے کی ضرورت رہتی ہے۔ جیسے ایک بندئہ مسلمان اپنی نماز پنجگانہ کی ہر رکعت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا یہ عہد تازہ کرتا ہے : { اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ 4 } کہ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں اور مانگتے رہیں گے۔ تصور کیجیے اگر ایک بندہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ عہد پورے ارادے اور شعور کے ساتھ روزانہ بار بار دہرائے گا تو اس سے اس کے تعلق مع اللہ کے چمن میں تروتازگی کی کیسی کیسی بہاروں کا سماں بندھا رہے گا۔

البينة 98:6

آیت 5{ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَلا حُنَفَآئَ } ”اور انہیں حکم نہیں ہوا تھا مگر یہ کہ وہ بندگی کریں اللہ کی ‘ اپنی اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے ‘ بالکل یکسو ہو کر“ یہ حکم گویا پورے دین کا خلاصہ ہے جو اس سے پہلے سورة الزمر آیات 2 ‘ 3 ‘ 11 اور 14 میں بہت تاکید اور شدومد کے ساتھ بیان ہوچکا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی پوری اطاعت کے ساتھ کریں۔ یہ نہیں کہ نماز بھی پڑھے جا رہے ہیں اور حرام خوریوں سے بھی باز نہیں آتے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کی اطاعت بھی جاری ہے۔ ایسی آیات دراصل ہمیں خبردار کرتی ہیں کہ جزوی بندگی اور ساجھے کی اطاعت اللہ تعالیٰ کو ہرگز قابل قبول نہیں۔ اور یہ کہ اگر ہم اس جرم کا ارتکاب کریں گے تو ہم بھی اسی وعید کے مستحق ہوں گے جو اس حوالے سے بنی اسرائیل کو سنائی گئی تھی۔ ملاحظہ ہوں اس وعید کے یہ الفاظ : { اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَـکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍج فَمَا جَزَآئُ مَنْ یَّـفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلاَّ خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلٰٓی اَشَدِّ الْعَذَابِط } البقرۃ : 85 ”تو کیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک کو نہیں مانتے ؟ تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو یہ حرکت کرے تم میں سے سوائے ذلت و رسوائی کے دنیا کی زندگی میں ‘ اور قیامت کے روز وہ لوٹا دیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف“۔ بلکہ اس حوالے سے اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اس آیت میں دنیا کے جس عذاب کا ذکر ہے { خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج } وہ اس وقت بحیثیت امت ہم پر مسلط ہو بھی چکا ہے۔ مقامِ عبرت ہے ! آج مسلمانوں کی آبادی دو ارب سے بھی زیادہ ہے ‘ دنیا کے بہترین خطے اور بہترین وسائل ان کے قبضے میں ہیں ‘ مگر اس کے باوجود عزت نام کی کوئی چیز ان کے پاس نہیں۔ بین الاقوامی معاملات کے حوالے سے مسلمان حکمرانوں کی حالت یہ ہے کہ ”کس نمی پرسد کہ بھیا کیستی ؟“ یعنی عالمی معاملات میں کوئی ان کی رائے لینا بھی گوارا نہیں کرتا۔ بلکہ مسلمان ملکوں کی اپنی پالیسیوں کا اختیار بھی ان کے پاس نہیں۔ ان کے سالانہ بجٹ بھی کہیں اور سے بن کر آتے ہیں۔ بہرحال اس آیت کے حکم کا مدعا یہی ہے کہ جسے اللہ کا ”بندہ“ بننا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی اس کے قانون کے تابع کر کے اس کے حضور پیش ہو۔ ”قیصر کا حصہ قیصر کو دو اور خدا کا حصہ خدا کو دو“ والا قانون اللہ تعالیٰ کو قابل قبول نہیں۔ چناچہ ایمان کے دعوے داروں کو چاہیے کہ وہ اللہ کی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے پوری یکسوئی کے ساتھ اس کی عبادت کریں۔ { وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ۔ } ”اور یہ کہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ‘ اور یہی ہے سیدھا اور سچا دین۔“ گویا ان الفاظ سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ”بندگی“ اور شے ہے ‘ جبکہ نماز اور زکوٰۃ اس کے علاوہ ہے۔ اس نکتے کو یوں سمجھیں کہ بندگی تو پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں دے دینے کا نام ہے۔ بقول شیخ سعدیؔ :زندگی آمد برائے بندگی زندگی بےبندگی شرمندگی !جبکہ نماز ‘ زکوٰۃ عبادات وغیرہ اس بندگی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لوازمات ہیں ‘ تاکہ ان کے ذریعے سے بندہ اپنے رب کو مسلسل یاد کرتا رہے اور اس کا تعلق اپنے رب کے ساتھ ہردم ‘ ہر گھڑی تازہ رہے۔ حفیظ جالندھری کے اس خوبصورت شعر میں یہی فلسفہ بیان ہوا ہے : سرکشی نے کردیے دھندلے نقوش بندگی آئو سجدے میں گریں لوح جبیں تازہ کریں !گویا ہمارے ”نقوشِ بندگی“ نفس پرستی کی کثافتوں اور کدورتوں کے گرد و غبار سے اکثر دھندلا جاتے ہیں۔ چناچہ انہیں تازہ رکھنے کے لیے نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ اور دیگر مراسم عبودیت کے ذریعے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور مسلسل حاضری دینے کی ضرورت رہتی ہے۔ جیسے ایک بندئہ مسلمان اپنی نماز پنجگانہ کی ہر رکعت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا یہ عہد تازہ کرتا ہے : { اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ 4 } کہ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں اور مانگتے رہیں گے۔ تصور کیجیے اگر ایک بندہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ عہد پورے ارادے اور شعور کے ساتھ روزانہ بار بار دہرائے گا تو اس سے اس کے تعلق مع اللہ کے چمن میں تروتازگی کی کیسی کیسی بہاروں کا سماں بندھا رہے گا۔

البينة 98:7

آیت 7{ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لا } ”اس کے برعکس وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے“ { اُولٰٓئِکَ ہُمْ خَیْرُالْبَرِیَّۃِ۔ } ”یہی بہترین خلائق ہیں۔“ اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان لوگوں میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !

البينة 98:8

آیت 8{ جَزَآؤُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًاط } ”ان کا بدلہ ہوگا ان کے رب کے پاس دائمی قیام کے باغات کی صورت میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی ‘ ان میں وہ رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔“ یہاں پر ضمنی طور پر یہ علمی نکتہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ قرآن مجید میں دو مقامات ایسے ہیں جہاں اہل جنت اور اہل جہنم کے فوری تقابل simultaneous contrast میں اہل جنت کے لیے { خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا } جبکہ اہل جہنم کے لیے صرف { خٰلِدِیْنَ فِیْہَا } کے الفاظ آئے ہیں۔ ان میں ایک مقام تو یہی ہے۔ یعنی اس سورت کی زیر مطالعہ آیت میں اہل جنت کے لیے { خٰلِدِیْنَ فِیْہَـآ اَبَدًا } کے الفاظ آئے ہیں ‘ جبکہ اس سے پہلے آیت 6 میں اہل جہنم کا ذکر کرتے ہوئے { خٰلِدِیْنَ فِیْہَا } کے الفاظ تک اکتفاء فرمایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سورة التغابن کی آیت 9 اور آیت 10 میں بھی اہل جنت اور اہل جہنم کے تقابل کے حوالے سے یہی فرق دیکھنے میں آتا ہے۔ ان دونوں مقامات میں مذکورہ فرق کی بنیاد پر امت مسلمہ کی دو بہت بڑی علمی شخصیات نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جنت اور اس کی نعمتیں تو ابدی ہیں ‘ لیکن جہنم ابدی نہیں ہے اور یہ کہ کبھی ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب اہل جہنم میں سے خیر کے حامل آخری عناصر کو نکال کر باقی لوگوں کو مدت مدید تک مبتلائے عذاب رکھنے کے بعد بالآخر اس میں جلا کر معدوم کردیا جائے گا اور اس کے بعد جہنم کو بھی ختم کردیا جائے گا۔ اس موقف کی حامل دو شخصیات میں ایک تو شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رح ہیں جن کا شمار چوٹی کے صوفیاء میں ہوتا ہے اور دوسری شخصیت امام ابن تیمیہ رح کی ہے جو سلفی حضرات کے نزدیک اسلامی دنیا کے سب سے بڑے امام اور عالم ہیں۔ امام ابن تیمیہ رح کا اس نکتے پر محی الدین ابن عربی رح سے متفق ہوجانا یقینا ایک اہم بات اور ”متفق گردید رائے بوعلی بارائے من“ والا معاملہ ہے ‘ کیونکہ مجموعی طور پر وہ محی الدین ابن عربی رح کے خیالات ونظریات سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ جہنم کے ابدی نہ ہونے سے متعلق میں نے یہاں مذکورہ دو شخصیات کی آراء کا ذکر محض ایک علمی نکتے کے طور پر کیا ہے ‘ عام اہل سنت کا عقیدہ بہرحال یہ نہیں ہے۔ اہل سنت علماء کے نزدیک جہنم بھی جنت کی طرح ابدی ہی ہے۔ { رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُط } ”اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے۔“ یعنی آخرت میں اللہ تعالیٰ انہیں اتنا کچھ عطا فرمائے گا کہ وہ اللہ سے خوش ہوجائیں گے۔ { ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہٗ۔ } ”یہ صلہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔“ اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! آمین ‘ ثم آمین !

الزلزلة 99:1

آیت 1{ اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَہَا۔ } ”جب زمین ہلائی جائے گی جیسے کہ ہلائی جائے گی۔“ یعنی تم انسان یہ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ اس زلزلے کی کیفیت کیسی ہوگی۔ سورة الحج کے آغاز میں اس کیفیت کی شدت کا نقشہ بایں الفاظ کھینچا گیا ہے :{ یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّـکُمْج اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیْمٌ - یَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ہُمْ بِسُکٰرٰی وَلٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ۔ } ”اے لوگو ! تقویٰ اختیار کروا پنے رب کا ‘ یقینا قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہوگا۔ جس دن تم اس کو دیکھو گے ‘ اس دن حال یہ ہوگا کہ بھول جائے گی ہر دودھ پلانے والی جسے وہ دودھ پلاتی تھی اور دہشت کا عالم یہ ہوگا کہ ہر حاملہ کا حمل گرجائے گا اور تم دیکھو گے لوگوں کو جیسے وہ نشے میں ہوں ‘ حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے ‘ بلکہ اللہ کا عذاب ہی بہت سخت ہے۔“

الزلزلة 99:2

آیت 2{ وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَہَا۔ } ”اور زمین اپنے سارے بوجھ نکال کر باہر پھینک دے گی۔“ یعنی اس دن زمین اپنے اندر مدفون تمام انسانوں کو ‘ وہ جس حالت میں بھی ہوں گے ‘ نکال کر باہر ڈال دے گی۔ اگر ان کے ذرّات منتشر ہو کر زمین کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہوں گے تو ان کو بھی یکجا کردیا جائے گا۔ واضح رہے کہ جو انسان اصطلاحی مفہوم میں زمین کے اندر باقاعدہ دفن نہیں بھی ہوتے ‘ مثلاً سمندر میں غرق ہوجاتے ہیں یا جلا دیے جاتے ہیں ‘ ان کے اجسام کے اجزائی ذرات بھی کسی نہ کسی شکل میں بالآخر زمین میں ہی جذب ہوتے ہیں اور وہ قیامت کے دن زمین سے ہی برآمد ہوں گے۔ سورة طٰہٰ کی یہ آیت اس لحاظ سے بہت واضح ہے : { مِنْہَا خَلَقْنٰـکُمْ وَفِیْہَا نُعِیْدُکُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی۔ } ”اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے ‘ اور اسی میں سے ہم تمہیں ایک مرتبہ پھر نکالیں گے۔“

الزلزلة 99:3

آیت 2{ وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَہَا۔ } ”اور زمین اپنے سارے بوجھ نکال کر باہر پھینک دے گی۔“ یعنی اس دن زمین اپنے اندر مدفون تمام انسانوں کو ‘ وہ جس حالت میں بھی ہوں گے ‘ نکال کر باہر ڈال دے گی۔ اگر ان کے ذرّات منتشر ہو کر زمین کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہوں گے تو ان کو بھی یکجا کردیا جائے گا۔ واضح رہے کہ جو انسان اصطلاحی مفہوم میں زمین کے اندر باقاعدہ دفن نہیں بھی ہوتے ‘ مثلاً سمندر میں غرق ہوجاتے ہیں یا جلا دیے جاتے ہیں ‘ ان کے اجسام کے اجزائی ذرات بھی کسی نہ کسی شکل میں بالآخر زمین میں ہی جذب ہوتے ہیں اور وہ قیامت کے دن زمین سے ہی برآمد ہوں گے۔ سورة طٰہٰ کی یہ آیت اس لحاظ سے بہت واضح ہے : { مِنْہَا خَلَقْنٰـکُمْ وَفِیْہَا نُعِیْدُکُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی۔ } ”اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے ‘ اور اسی میں سے ہم تمہیں ایک مرتبہ پھر نکالیں گے۔“

الزلزلة 99:4

آیت 4{ یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَہَا۔ } ”اس دن یہ اپنی خبریں کہہ سنائے گی۔“ اس دن اللہ تعالیٰ زمین کو بھی بولنے کی صلاحیت عطا فرمائے گا اور وہ ہر انسان کے بارے میں ایک ایک خبر دے گی کہ وہ اس کی پشت پر بیٹھ کر کیا کیا حرکتیں کرتا رہا ہے۔ یعنی جس طرح انسان کے ہاتھ پائوں اور دوسرے اعضاء اس دن اس کے خلاف گواہی دیں گے اسی طرح زمین کا متعلقہ حصہ اور ٹکڑا بھی اس کے خلاف بطور گواہ کھڑا ہوگا۔ سورة حٰمٓ السجدۃ آیت 21 میں ان گواہیوں کے حوالے سے بہت عبرتناک مکالمات کا ذکر ہے۔ جب انسانوں کی جلدوں سمیت ان کے تمام اعضاء ان کے خلاف گواہیاں دے رہے ہوں گے تو وہ جھنجھلا کر اپنی جلدوں سے کہیں گے : { لِمَ شَہِدْتُّمْ عَلَیْنَاط } کہ تم کیوں ہمارے خلاف بول رہے ہو ؟ اس پر وہ ترکی بہ ترکی جواب دیں گی : { اَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْئٍ } کہ آج ہمیں بھی اس اللہ نے بولنے کی صلاحیت عطا کردی ہے جس نے باقی ہرچیز کو بولنا سکھایا ہے۔ بہرحال اس دن اللہ تعالیٰ زمین کو بھی زبان عطا کرے گا اور وہ انسانوں سے متعلق تمام احوال کی ایک ایک تفصیل بیان کرے گی۔

الزلزلة 99:5

آیت 4{ یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَہَا۔ } ”اس دن یہ اپنی خبریں کہہ سنائے گی۔“ اس دن اللہ تعالیٰ زمین کو بھی بولنے کی صلاحیت عطا فرمائے گا اور وہ ہر انسان کے بارے میں ایک ایک خبر دے گی کہ وہ اس کی پشت پر بیٹھ کر کیا کیا حرکتیں کرتا رہا ہے۔ یعنی جس طرح انسان کے ہاتھ پائوں اور دوسرے اعضاء اس دن اس کے خلاف گواہی دیں گے اسی طرح زمین کا متعلقہ حصہ اور ٹکڑا بھی اس کے خلاف بطور گواہ کھڑا ہوگا۔ سورة حٰمٓ السجدۃ آیت 21 میں ان گواہیوں کے حوالے سے بہت عبرتناک مکالمات کا ذکر ہے۔ جب انسانوں کی جلدوں سمیت ان کے تمام اعضاء ان کے خلاف گواہیاں دے رہے ہوں گے تو وہ جھنجھلا کر اپنی جلدوں سے کہیں گے : { لِمَ شَہِدْتُّمْ عَلَیْنَاط } کہ تم کیوں ہمارے خلاف بول رہے ہو ؟ اس پر وہ ترکی بہ ترکی جواب دیں گی : { اَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْئٍ } کہ آج ہمیں بھی اس اللہ نے بولنے کی صلاحیت عطا کردی ہے جس نے باقی ہرچیز کو بولنا سکھایا ہے۔ بہرحال اس دن اللہ تعالیٰ زمین کو بھی زبان عطا کرے گا اور وہ انسانوں سے متعلق تمام احوال کی ایک ایک تفصیل بیان کرے گی۔

الزلزلة 99:6

آیت 6{ یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًاج } ”اس دن لوگ علیحدہ علیحدہ ہو کر نکل پڑیں گے“ اَشْتَاتًا جمع ہے شَتٌّکی ‘ یعنی منتشر و متفرق۔ نصب حالیت کی وجہ سے ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ سورة اللیل کی اس آیت میں بھی آیا ہے : { اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی۔ } کہ تم انسان بظاہر ایک جیسے نظر آتے ہو لیکن تمہاری سعی و جہد کے رخ بالکل مختلف ہیں۔ { لِّیُرَوْا اَعْمَالَہُمْ۔ } ”تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیے جائیں۔“ اس منظر کی ایک جھلک سورة الکہف کی اس آیت میں بھی دکھائی گئی ہے :{ وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰٹہَاج وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاط وَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا۔ } ”اور رکھ دیا جائے گا اعمال نامہ ‘ چناچہ تم دیکھو گے مجرموں کو کہ ڈر رہے ہوں گے اس سے جو کچھ اس میں ہوگا اور کہیں گے : ہائے ہماری شامت ! یہ کیسا اعمال نامہ ہے ؟ اس نے تو نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑا ہے اور نہ کسی بڑی کو ‘ مگر اس کو محفوظ کر رکھا ہے۔ اور وہ پائیں گے جو عمل بھی انہوں نے کیا ہوگا اسے موجود۔ اور آپ کا رب ظلم نہیں کرے گا کسی پر بھی۔“ آج کے ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے اس آیت کا مفہوم یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ اس دن ایک بہت بڑا کمپیوٹر سرمحشر نصب کردیا جائے گا جس میں پوری نوع انسانی کے ایک ایک فرد کے اعمال سے متعلق تفصیلی ڈیٹا موجود ہوگا۔ جونہی کسی فرد کو حساب کے لیے پیش کیا جائے گا اس کی پوری زندگی کی آڈیو ویڈیو فلم فوراً سکرین پر چلنا شروع ہوجائے گی۔

الزلزلة 99:7

آیت 6{ یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًاج } ”اس دن لوگ علیحدہ علیحدہ ہو کر نکل پڑیں گے“ اَشْتَاتًا جمع ہے شَتٌّکی ‘ یعنی منتشر و متفرق۔ نصب حالیت کی وجہ سے ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ سورة اللیل کی اس آیت میں بھی آیا ہے : { اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی۔ } کہ تم انسان بظاہر ایک جیسے نظر آتے ہو لیکن تمہاری سعی و جہد کے رخ بالکل مختلف ہیں۔ { لِّیُرَوْا اَعْمَالَہُمْ۔ } ”تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیے جائیں۔“ اس منظر کی ایک جھلک سورة الکہف کی اس آیت میں بھی دکھائی گئی ہے :{ وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰٹہَاج وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاط وَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا۔ } ”اور رکھ دیا جائے گا اعمال نامہ ‘ چناچہ تم دیکھو گے مجرموں کو کہ ڈر رہے ہوں گے اس سے جو کچھ اس میں ہوگا اور کہیں گے : ہائے ہماری شامت ! یہ کیسا اعمال نامہ ہے ؟ اس نے تو نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑا ہے اور نہ کسی بڑی کو ‘ مگر اس کو محفوظ کر رکھا ہے۔ اور وہ پائیں گے جو عمل بھی انہوں نے کیا ہوگا اسے موجود۔ اور آپ کا رب ظلم نہیں کرے گا کسی پر بھی۔“ آج کے ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے اس آیت کا مفہوم یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ اس دن ایک بہت بڑا کمپیوٹر سرمحشر نصب کردیا جائے گا جس میں پوری نوع انسانی کے ایک ایک فرد کے اعمال سے متعلق تفصیلی ڈیٹا موجود ہوگا۔ جونہی کسی فرد کو حساب کے لیے پیش کیا جائے گا اس کی پوری زندگی کی آڈیو ویڈیو فلم فوراً سکرین پر چلنا شروع ہوجائے گی۔

الزلزلة 99:8

آیت 8{ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ۔ } ”اور جس کسی نے ذرّہ کے ہم وزن کوئی بدی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔“ عربی لغت کے مطابق چیونٹی کے انڈے سے نکلنے والے بچے کو ”ذرّہ“ کہا جاتا ہے۔ یعنی بہت چھوٹی اور حقیر چیز۔ اسی مفہوم میں لفظ ”ذرّہ“ اردو میں بھی مستعمل ہے۔ یہ آیت انسان کو اس اہم حقیقت پر متنبہ کرتی ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی بہرحال اپنا ایک وزن اور اپنی ایک قدر رکھتی ہے ‘ اور چھوٹی سے چھوٹی بدی بھی حساب میں آنے والی چیز ہے۔ بسا اوقات انسان نیکی کے چھوٹے سے کام کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے ‘ اور بعض اوقات صغیرہ گناہوں کی پروا نہیں کرتا۔ یہ درست طرزعمل نہیں ہے۔ کسی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر اسے چھوڑنا نہیں چاہیے اور کسی گناہ کو چھوٹا سمجھ کر اس پر جری نہیں ہونا چاہیے۔

العاديات 100:1

آیت 8{ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ۔ } ”اور جس کسی نے ذرّہ کے ہم وزن کوئی بدی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔“ عربی لغت کے مطابق چیونٹی کے انڈے سے نکلنے والے بچے کو ”ذرّہ“ کہا جاتا ہے۔ یعنی بہت چھوٹی اور حقیر چیز۔ اسی مفہوم میں لفظ ”ذرّہ“ اردو میں بھی مستعمل ہے۔ یہ آیت انسان کو اس اہم حقیقت پر متنبہ کرتی ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی بہرحال اپنا ایک وزن اور اپنی ایک قدر رکھتی ہے ‘ اور چھوٹی سے چھوٹی بدی بھی حساب میں آنے والی چیز ہے۔ بسا اوقات انسان نیکی کے چھوٹے سے کام کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے ‘ اور بعض اوقات صغیرہ گناہوں کی پروا نہیں کرتا۔ یہ درست طرزعمل نہیں ہے۔ کسی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر اسے چھوڑنا نہیں چاہیے اور کسی گناہ کو چھوٹا سمجھ کر اس پر جری نہیں ہونا چاہیے۔

العاديات 100:2

آیت 2{ فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًا۔ } ”پھر وہ ُ سم مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں۔“ جب سرپٹ دوڑتے ہوئے گھوڑوں کے سم کسی پتھر وغیرہ سے ٹکراتے ہیں تو ان سے چنگاریاں نکلتی دکھائی دیتی ہیں۔

العاديات 100:3

آیت 3{ فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا۔ } ”پھر وہ علی الصبح غارت گری کرتے ہیں۔“ اس آیت میں گھوڑوں کی خصوصی صفات کے ساتھ ساتھ زمانہ جاہلیت کے عرب تمدن کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ اہل عرب جب لوٹ مار یا قتل و غارت کے لیے کسی قبیلے پر حملے کی منصوبہ بندی کرتے تو اس کے لیے علی الصبح منہ اندھیرے کے اوقات small hours of the morning کا انتخاب کرتے تھے۔ اس قسم کی غارت گری کے لیے رات کا پچھلا پہر اس لیے موزوں سمجھا جاتا تھا کہ اس وقت ہر کوئی بڑی سکون کی نیند سو رہا ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی مریض تکلیف کی وجہ سے ساری رات سو نہ سکے تو رات کے پچھلے پہر اسے بھی نیند آجاتی ہے۔

العاديات 100:4

آیت 3{ فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا۔ } ”پھر وہ علی الصبح غارت گری کرتے ہیں۔“ اس آیت میں گھوڑوں کی خصوصی صفات کے ساتھ ساتھ زمانہ جاہلیت کے عرب تمدن کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ اہل عرب جب لوٹ مار یا قتل و غارت کے لیے کسی قبیلے پر حملے کی منصوبہ بندی کرتے تو اس کے لیے علی الصبح منہ اندھیرے کے اوقات small hours of the morning کا انتخاب کرتے تھے۔ اس قسم کی غارت گری کے لیے رات کا پچھلا پہر اس لیے موزوں سمجھا جاتا تھا کہ اس وقت ہر کوئی بڑی سکون کی نیند سو رہا ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی مریض تکلیف کی وجہ سے ساری رات سو نہ سکے تو رات کے پچھلے پہر اسے بھی نیند آجاتی ہے۔

العاديات 100:5

آیت 5{ فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا۔ } ”پھر اس کے ساتھ وہ دشمن کی جمعیت کے اندر گھس جاتے ہیں۔“ پرانے زمانے کی جنگوں میں گھوڑے بہت موثر اور کارآمد ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ حملے کے وقت گھوڑے اپنے سواروں کے حکم پر مخالف فوج کی طرف سے تیروں کی بوچھاڑ اور نیزوں کی یلغار کی پروا نہ کرتے ہوئے ان کی صفوں میں گھس جاتے تھے۔ گھوڑے کا اپنے مالک کی فرمانبرداری میں اپنا خون پسینہ ایک کردینے کا جذبہ اور اس کی وفاداری میں اپنی جان کی بازی تک لگادینے کا وصف ! یہ ہے دراصل ان قسموں کے مضمون کا مرکزی نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ دلانا مقصود ہے۔ چناچہ گھوڑوں کے ان اوصاف کے ذکر کے بعد تقابل کے طور پر انسان کے کردارکا ذکر یوں کیا گیا ہے :

العاديات 100:6

آیت 6{ اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوْدٌ۔ } ”یقیناانسان اپنے رب کا بہت ہی ناشکرا ہے۔“ مطلب یہ کہ ایک طرف وہ جانور ہے جو اپنے مالک کے ایک اشارے پر اپنی جان تک قربان کردیتا ہے ‘ جو اس کا خالق نہیں ہے ‘ بلکہ صرف اس کے دانے پانی کا انتظام کرتا ہے ‘ اور دوسری طرف یہ باشعور ‘ صاحب عقل و دانش اشرف المخلوقات انسان ہے جو اپنے خالق اور مالک کا شکر ادا نہیں کرتا۔

العاديات 100:7

آیت 7{ وَاِنَّہٗ عَلٰی ذٰلِکَ لَشَہِیْدٌ۔ } ”اور وہ خود اس پر گواہ ہے۔“ وہ اپنے اس طرزعمل سے خوب واقف ہے۔ جیسا کہ سورة القیامہ میں فرمایا گیا : { بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ۔ } کہ انسان اپنے خیالات ‘ جذبات اور کردار کے بارے میں خود سب کچھ جانتا ہے۔ چناچہ انسان خوب جانتا ہے کہ وہ قدم قدم پر اپنے رب کی ناشکری کا مرتکب ہو رہا ہے۔

العاديات 100:8

آیت 8{ وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ۔ } ”اور وہ مال و دولت کی محبت میں بہت شدید ہے۔“ مال و دولت کی محبت میں انسان اکثر اوقات حلال و حرام کی تمیز تک بھلا دیتا ہے۔ حتیٰ کہ حرام کھاتے ہوئے وہ اپنے نفس ِلوامہ بحوالہ سورة القیامہ ‘ آیت 2 اور ضمیر کی ملامت کی بھی پروا نہیں کرتا۔

العاديات 100:9

آیت 8{ وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ۔ } ”اور وہ مال و دولت کی محبت میں بہت شدید ہے۔“ مال و دولت کی محبت میں انسان اکثر اوقات حلال و حرام کی تمیز تک بھلا دیتا ہے۔ حتیٰ کہ حرام کھاتے ہوئے وہ اپنے نفس ِلوامہ بحوالہ سورة القیامہ ‘ آیت 2 اور ضمیر کی ملامت کی بھی پروا نہیں کرتا۔

العاديات 100:10

آیت 8{ وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ۔ } ”اور وہ مال و دولت کی محبت میں بہت شدید ہے۔“ مال و دولت کی محبت میں انسان اکثر اوقات حلال و حرام کی تمیز تک بھلا دیتا ہے۔ حتیٰ کہ حرام کھاتے ہوئے وہ اپنے نفس ِلوامہ بحوالہ سورة القیامہ ‘ آیت 2 اور ضمیر کی ملامت کی بھی پروا نہیں کرتا۔

العاديات 100:11

آیت 1 1{ اِنَّ رَبَّہُمْ بِہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۔ } ”یقینا ان کا رب اس دن ان سے پوری طرح باخبر ہوگا۔“ اللہ تعالیٰ کو ان کے تمام اعمال و افعال کا علم ہے اور اس دن وہ ان سے ایک ایک چیز کا حساب لے لے گا۔ اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا یَّسِیْرًا۔ آمین ! انذارِ آخرت کے مضمون کی حامل ان سورتوں میں سے ہر سورت کی تلاوت کے بعد یہ دعا ضرور کرنی چاہیے کہ اے اللہ ! تو ہم سے آسان حساب لینا اور اپنی خصوصی رحمت سے ہمارے گناہوں کو معاف کردینا۔

القارعة 101:1

آیت 1 1{ اِنَّ رَبَّہُمْ بِہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۔ } ”یقینا ان کا رب اس دن ان سے پوری طرح باخبر ہوگا۔“ اللہ تعالیٰ کو ان کے تمام اعمال و افعال کا علم ہے اور اس دن وہ ان سے ایک ایک چیز کا حساب لے لے گا۔ اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا یَّسِیْرًا۔ آمین ! انذارِ آخرت کے مضمون کی حامل ان سورتوں میں سے ہر سورت کی تلاوت کے بعد یہ دعا ضرور کرنی چاہیے کہ اے اللہ ! تو ہم سے آسان حساب لینا اور اپنی خصوصی رحمت سے ہمارے گناہوں کو معاف کردینا۔

القارعة 101:2

آیت 2{ مَا الْقَارِعَۃُ۔ } ”کیا ہے وہ کھٹکھٹانے والی !“ قَرْع کے معنی ایک چیز کو کسی دوسری چیز پر زور سے دے مارنے کے ہیں۔ جیسے دروازے کو زور زور سے کھٹکھٹانا۔ اس لغوی معنی کی مناسبت سے قارعہ کا لفظ ہولناک حادثے اور عظیم مصیبت کے لیے بولا جاتا ہے۔ چناچہ جب کوئی قوم کسی حادثہ فاجعہ یا عظیم آفت کا شکار ہو تو عرب کہتے ہیں : قَرَعَتْھُمُ الْقَارِعَۃُ۔۔۔۔ یعنی وہ قیامت جب آئے گی تو پوری کائنات کو کھٹکھٹا ڈالے گی اور دنیا کی ہرچیز کو تہ وبالا کر دے گی۔ تمام اجرامِ فلکی آپس میں ٹکرائیں گے جس سے خوفناک دھماکے ہوں گے اور دل دہلادینے والی آوازیں پیدا ہوں گی۔

القارعة 101:3

آیت 2{ مَا الْقَارِعَۃُ۔ } ”کیا ہے وہ کھٹکھٹانے والی !“ قَرْع کے معنی ایک چیز کو کسی دوسری چیز پر زور سے دے مارنے کے ہیں۔ جیسے دروازے کو زور زور سے کھٹکھٹانا۔ اس لغوی معنی کی مناسبت سے قارعہ کا لفظ ہولناک حادثے اور عظیم مصیبت کے لیے بولا جاتا ہے۔ چناچہ جب کوئی قوم کسی حادثہ فاجعہ یا عظیم آفت کا شکار ہو تو عرب کہتے ہیں : قَرَعَتْھُمُ الْقَارِعَۃُ۔۔۔۔ یعنی وہ قیامت جب آئے گی تو پوری کائنات کو کھٹکھٹا ڈالے گی اور دنیا کی ہرچیز کو تہ وبالا کر دے گی۔ تمام اجرامِ فلکی آپس میں ٹکرائیں گے جس سے خوفناک دھماکے ہوں گے اور دل دہلادینے والی آوازیں پیدا ہوں گی۔

القارعة 101:4

آیت 2{ مَا الْقَارِعَۃُ۔ } ”کیا ہے وہ کھٹکھٹانے والی !“ قَرْع کے معنی ایک چیز کو کسی دوسری چیز پر زور سے دے مارنے کے ہیں۔ جیسے دروازے کو زور زور سے کھٹکھٹانا۔ اس لغوی معنی کی مناسبت سے قارعہ کا لفظ ہولناک حادثے اور عظیم مصیبت کے لیے بولا جاتا ہے۔ چناچہ جب کوئی قوم کسی حادثہ فاجعہ یا عظیم آفت کا شکار ہو تو عرب کہتے ہیں : قَرَعَتْھُمُ الْقَارِعَۃُ۔۔۔۔ یعنی وہ قیامت جب آئے گی تو پوری کائنات کو کھٹکھٹا ڈالے گی اور دنیا کی ہرچیز کو تہ وبالا کر دے گی۔ تمام اجرامِ فلکی آپس میں ٹکرائیں گے جس سے خوفناک دھماکے ہوں گے اور دل دہلادینے والی آوازیں پیدا ہوں گی۔

القارعة 101:5

آیت 5{ وَتَـکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِہْنِ الْمَنْفُوْشِ۔ } ”اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی مانند ہوجائیں گے۔“ العِھْن : رنگ دار اون کو کہتے ہیں اور مَنْفُوْش کے معنی ہیں دھنی ہوئی۔ یعنی پہاڑ اپنی جگہ پر قائم نہیں رہیں گے بلکہ ریزہ ریزہ ہو کر رنگ دار اون کی طرح ہوا میں اُڑ رہے ہوں گے۔

القارعة 101:6

آیت 6{ فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ۔ } ”تو جن لوگوں کے نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے۔“ یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ ان آیات میں ایک ہی قسم کے وزن یا میزان کے ایک ہی پلڑے کا ذکر آیا ہے۔ اس بارے میں عام رائے یہ ہے کہ ”مَوَازین“ سے مراد یہاں نیکیوں کا وزن ہے۔ یعنی حساب کے وقت ہر شخص کی نیکیوں کا وزن کر کے دیکھا جائے گا کہ یہ وزن ”مطلوبہ معیار“ کے مطابق ہے یا نہیں۔ اور یہ ”مطلوبہ معیار“ بھی ہر شخص کا الگ الگ اس کے ”شاکلہ“ کے مطابق ہوگا۔ ظاہر ہے ہر شخص کی استطاعت پیدائشی صلاحیتوں اور ماحول کے منفی و مثبت اثرات کے مطابق دوسرے شخص کی استطاعت سے مختلف ہوگی اور ہر شخص اپنی استطاعت کی حد تک ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں مکلف ہوگا : { لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَہَاط } البقرۃ : 286 ”اللہ تعالیٰ نہیں ذمہ دار ٹھہرائے گا کسی جان کو مگر اس کی وسعت کے مطابق“۔ چناچہ ہر شخص کے شاکلہ یعنی اس کے جینز genes کی طرف سے اسے حاصل ہونے والی صلاحیتوں اور ماحول کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے لیے نیکیوں کے وزن کا ایک خاص معیار مقرر کیا جائے گا۔ اگر تو اس کی نیکیوں کے وزن مَوَازِیْنُـہٗ کو اس معیار کے مطابق پایا گیا تو اسے کامیابی کا پروانہ مل جائے گا۔

القارعة 101:7

آیت 6{ فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ۔ } ”تو جن لوگوں کے نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے۔“ یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ ان آیات میں ایک ہی قسم کے وزن یا میزان کے ایک ہی پلڑے کا ذکر آیا ہے۔ اس بارے میں عام رائے یہ ہے کہ ”مَوَازین“ سے مراد یہاں نیکیوں کا وزن ہے۔ یعنی حساب کے وقت ہر شخص کی نیکیوں کا وزن کر کے دیکھا جائے گا کہ یہ وزن ”مطلوبہ معیار“ کے مطابق ہے یا نہیں۔ اور یہ ”مطلوبہ معیار“ بھی ہر شخص کا الگ الگ اس کے ”شاکلہ“ کے مطابق ہوگا۔ ظاہر ہے ہر شخص کی استطاعت پیدائشی صلاحیتوں اور ماحول کے منفی و مثبت اثرات کے مطابق دوسرے شخص کی استطاعت سے مختلف ہوگی اور ہر شخص اپنی استطاعت کی حد تک ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں مکلف ہوگا : { لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَہَاط } البقرۃ : 286 ”اللہ تعالیٰ نہیں ذمہ دار ٹھہرائے گا کسی جان کو مگر اس کی وسعت کے مطابق“۔ چناچہ ہر شخص کے شاکلہ یعنی اس کے جینز genes کی طرف سے اسے حاصل ہونے والی صلاحیتوں اور ماحول کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے لیے نیکیوں کے وزن کا ایک خاص معیار مقرر کیا جائے گا۔ اگر تو اس کی نیکیوں کے وزن مَوَازِیْنُـہٗ کو اس معیار کے مطابق پایا گیا تو اسے کامیابی کا پروانہ مل جائے گا۔

القارعة 101:8

آیت 6{ فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ۔ } ”تو جن لوگوں کے نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے۔“ یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ ان آیات میں ایک ہی قسم کے وزن یا میزان کے ایک ہی پلڑے کا ذکر آیا ہے۔ اس بارے میں عام رائے یہ ہے کہ ”مَوَازین“ سے مراد یہاں نیکیوں کا وزن ہے۔ یعنی حساب کے وقت ہر شخص کی نیکیوں کا وزن کر کے دیکھا جائے گا کہ یہ وزن ”مطلوبہ معیار“ کے مطابق ہے یا نہیں۔ اور یہ ”مطلوبہ معیار“ بھی ہر شخص کا الگ الگ اس کے ”شاکلہ“ کے مطابق ہوگا۔ ظاہر ہے ہر شخص کی استطاعت پیدائشی صلاحیتوں اور ماحول کے منفی و مثبت اثرات کے مطابق دوسرے شخص کی استطاعت سے مختلف ہوگی اور ہر شخص اپنی استطاعت کی حد تک ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں مکلف ہوگا : { لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَہَاط } البقرۃ : 286 ”اللہ تعالیٰ نہیں ذمہ دار ٹھہرائے گا کسی جان کو مگر اس کی وسعت کے مطابق“۔ چناچہ ہر شخص کے شاکلہ یعنی اس کے جینز genes کی طرف سے اسے حاصل ہونے والی صلاحیتوں اور ماحول کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے لیے نیکیوں کے وزن کا ایک خاص معیار مقرر کیا جائے گا۔ اگر تو اس کی نیکیوں کے وزن مَوَازِیْنُـہٗ کو اس معیار کے مطابق پایا گیا تو اسے کامیابی کا پروانہ مل جائے گا۔

القارعة 101:9

آیت 6{ فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ۔ } ”تو جن لوگوں کے نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے۔“ یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ ان آیات میں ایک ہی قسم کے وزن یا میزان کے ایک ہی پلڑے کا ذکر آیا ہے۔ اس بارے میں عام رائے یہ ہے کہ ”مَوَازین“ سے مراد یہاں نیکیوں کا وزن ہے۔ یعنی حساب کے وقت ہر شخص کی نیکیوں کا وزن کر کے دیکھا جائے گا کہ یہ وزن ”مطلوبہ معیار“ کے مطابق ہے یا نہیں۔ اور یہ ”مطلوبہ معیار“ بھی ہر شخص کا الگ الگ اس کے ”شاکلہ“ کے مطابق ہوگا۔ ظاہر ہے ہر شخص کی استطاعت پیدائشی صلاحیتوں اور ماحول کے منفی و مثبت اثرات کے مطابق دوسرے شخص کی استطاعت سے مختلف ہوگی اور ہر شخص اپنی استطاعت کی حد تک ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں مکلف ہوگا : { لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَہَاط } البقرۃ : 286 ”اللہ تعالیٰ نہیں ذمہ دار ٹھہرائے گا کسی جان کو مگر اس کی وسعت کے مطابق“۔ چناچہ ہر شخص کے شاکلہ یعنی اس کے جینز genes کی طرف سے اسے حاصل ہونے والی صلاحیتوں اور ماحول کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے لیے نیکیوں کے وزن کا ایک خاص معیار مقرر کیا جائے گا۔ اگر تو اس کی نیکیوں کے وزن مَوَازِیْنُـہٗ کو اس معیار کے مطابق پایا گیا تو اسے کامیابی کا پروانہ مل جائے گا۔

القارعة 101:10

آیت 6{ فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ۔ } ”تو جن لوگوں کے نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے۔“ یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ ان آیات میں ایک ہی قسم کے وزن یا میزان کے ایک ہی پلڑے کا ذکر آیا ہے۔ اس بارے میں عام رائے یہ ہے کہ ”مَوَازین“ سے مراد یہاں نیکیوں کا وزن ہے۔ یعنی حساب کے وقت ہر شخص کی نیکیوں کا وزن کر کے دیکھا جائے گا کہ یہ وزن ”مطلوبہ معیار“ کے مطابق ہے یا نہیں۔ اور یہ ”مطلوبہ معیار“ بھی ہر شخص کا الگ الگ اس کے ”شاکلہ“ کے مطابق ہوگا۔ ظاہر ہے ہر شخص کی استطاعت پیدائشی صلاحیتوں اور ماحول کے منفی و مثبت اثرات کے مطابق دوسرے شخص کی استطاعت سے مختلف ہوگی اور ہر شخص اپنی استطاعت کی حد تک ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں مکلف ہوگا : { لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَہَاط } البقرۃ : 286 ”اللہ تعالیٰ نہیں ذمہ دار ٹھہرائے گا کسی جان کو مگر اس کی وسعت کے مطابق“۔ چناچہ ہر شخص کے شاکلہ یعنی اس کے جینز genes کی طرف سے اسے حاصل ہونے والی صلاحیتوں اور ماحول کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے لیے نیکیوں کے وزن کا ایک خاص معیار مقرر کیا جائے گا۔ اگر تو اس کی نیکیوں کے وزن مَوَازِیْنُـہٗ کو اس معیار کے مطابق پایا گیا تو اسے کامیابی کا پروانہ مل جائے گا۔

القارعة 101:11

آیت 6{ فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ۔ } ”تو جن لوگوں کے نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے۔“ یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ ان آیات میں ایک ہی قسم کے وزن یا میزان کے ایک ہی پلڑے کا ذکر آیا ہے۔ اس بارے میں عام رائے یہ ہے کہ ”مَوَازین“ سے مراد یہاں نیکیوں کا وزن ہے۔ یعنی حساب کے وقت ہر شخص کی نیکیوں کا وزن کر کے دیکھا جائے گا کہ یہ وزن ”مطلوبہ معیار“ کے مطابق ہے یا نہیں۔ اور یہ ”مطلوبہ معیار“ بھی ہر شخص کا الگ الگ اس کے ”شاکلہ“ کے مطابق ہوگا۔ ظاہر ہے ہر شخص کی استطاعت پیدائشی صلاحیتوں اور ماحول کے منفی و مثبت اثرات کے مطابق دوسرے شخص کی استطاعت سے مختلف ہوگی اور ہر شخص اپنی استطاعت کی حد تک ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں مکلف ہوگا : { لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَہَاط } البقرۃ : 286 ”اللہ تعالیٰ نہیں ذمہ دار ٹھہرائے گا کسی جان کو مگر اس کی وسعت کے مطابق“۔ چناچہ ہر شخص کے شاکلہ یعنی اس کے جینز genes کی طرف سے اسے حاصل ہونے والی صلاحیتوں اور ماحول کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے لیے نیکیوں کے وزن کا ایک خاص معیار مقرر کیا جائے گا۔ اگر تو اس کی نیکیوں کے وزن مَوَازِیْنُـہٗ کو اس معیار کے مطابق پایا گیا تو اسے کامیابی کا پروانہ مل جائے گا۔

التكاثر 102:1

آیت 1{ اَلْہٰٹکُمُ التَّکَاثُرُ۔ } ”تمہیں غافل کیے رکھا ہے بہتات کی طلب نے !“ التکاثر کے معنی مال جمع کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے بھی ہیں اور مال و دولت کی کثرت پر فخر کرنے کے بھی۔ دولت انسان کے پاس چاہے جتنی بھی ہو اس کی طبیعت اس سے بھرتی نہیں اور وہ بدستور مزید حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے۔

التكاثر 102:2

آیت 2{ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ۔ } ”یہاں تک کہ تم قبروں کو پہنچ جاتے ہو۔“ یعنی انسان اپنی ساری عمر اسی تگ و دو میں کھپا دیتا ہے اور مرتے دم تک یہ فکر اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ انسان کی حرص و ہوس کے پیمانے کو صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے 1۔ سورة الحدید کی آیت 20 میں انسانی زندگی کے جن مراحل کا ذکر ہوا ہے ان میں آخری مرحلہ تکاثر فی الاموال والاولاد کا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آخری عمر میں انسان کی یہ حرص مزید بڑھ جاتی ہے۔

التكاثر 102:3

آیت 2{ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ۔ } ”یہاں تک کہ تم قبروں کو پہنچ جاتے ہو۔“ یعنی انسان اپنی ساری عمر اسی تگ و دو میں کھپا دیتا ہے اور مرتے دم تک یہ فکر اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ انسان کی حرص و ہوس کے پیمانے کو صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے 1۔ سورة الحدید کی آیت 20 میں انسانی زندگی کے جن مراحل کا ذکر ہوا ہے ان میں آخری مرحلہ تکاثر فی الاموال والاولاد کا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آخری عمر میں انسان کی یہ حرص مزید بڑھ جاتی ہے۔

التكاثر 102:4

آیت 4{ ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ } ”پھر کوئی بات نہیں ! بہت جلد تمہیں معلوم ہوجائے گا۔“ اپنے اسلوب کے اعتبار سے یہ آیات سورة النبا کی ان آیات سے مشابہ ہیں : { کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ - ثُمَّ کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ۔ }۔ یعنی ابھی تم لوگ ”تَـکَاثُر“ کے نشے میں مست ہونے کی وجہ سے موت کا تصور بھی ذہن میں لانے کے لیے تیار نہیں ہو ‘ مگر وہ وقت دور نہیں جب موت خود آکر تم سے ملاقات کرے گی : { قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْہُ فَاِنَّــہٗ مُلٰقِیْکُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ فَیُنَــبِّئُـکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ } الجمعۃ ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ تم سے ملاقات کر کے رہے گی ‘ پھر تمہیں لوٹا دیا جائے گا اس ہستی کی طرف جو غیب اور ظاہر سب کا جاننے والا ہے ‘ پھر وہ تمہیں جتلا دے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے“۔ بہرحال جونہی تمہاری آنکھیں بند ہوں گی ‘ وہ تمام حقائق تم پر روشن ہوجائیں گے جن سے تم اس وقت نظریں چرانے کی کوشش کر رہے ہو۔

التكاثر 102:5

آیت 5{ کَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ۔ } ”کوئی بات نہیں ! کاش کہ تم علم یقین کے ساتھ جان جاتے !“ یعنی موت یا قیامت کا علم دراصل یقینی علم ہے ‘ کاش کہ تمہیں اس کا شعور ہوتا۔ حکماء کے ہاں ہمیں یقین کے تین درجوں کا ذکر ملتا ہے : علم الیقین ‘ عین الیقین اور حق الیقین۔ علم الیقین وہ یقین ہے جو انسان کو علم ‘ معلومات یا استدلال کی بنیاد پر حاصل ہو۔ مثلاً آپ نے دور سے دھواں اٹھتا دیکھا تو آپ نے کہا کہ وہاں آگ لگی ہوئی ہے ‘ حالانکہ آگ آپ نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی۔ پھر جب آپ نے وہاں جا کر خود اپنی آنکھوں سے آگ کو دیکھ لیا تو آپ کو عین الیقین حاصل ہوگیا۔ لیکن حق الیقین کا درجہ اس سے بھی آگے ہے۔ یقین کا یہ درجہ باقاعدہ تجربے سے حاصل ہوتا ہے اس لیے کہ آنکھ سے دیکھنے میں بھی دھوکے کا امکان ہے۔ ضروری نہیں کہ کوئی چیز جیسی نظر آرہی ہے حقیقت میں بھی ویسی ہو۔ جیسے آج کل بعض الیکٹرک ہیٹرز میں انگارے دہکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ‘ لیکن جب آپ غور سے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو محض دکھاوے کا منظر ہے اور حرارت کا اصل منبع کہیں اور ہے۔ چناچہ آگ کے بارے میں آپ کو ”علم الیقین“ تو محض دھواں دیکھنے سے ہی حاصل ہوگیا۔ پھر جب آپ نے آگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو آپ کا یقین ”عین الیقین“ میں بدل گیا۔ اس کے بعد جب آپ نے آگ کو چھو کر یا اس کے قریب ہو کر اس کی حرارت کو عملی طور پر محسوس کیا تو آگ کی موجودگی کے بارے میں آپ کا یقین ”حق الیقین“ کے درجے میں آگیا۔

التكاثر 102:6

آیت 5{ کَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ۔ } ”کوئی بات نہیں ! کاش کہ تم علم یقین کے ساتھ جان جاتے !“ یعنی موت یا قیامت کا علم دراصل یقینی علم ہے ‘ کاش کہ تمہیں اس کا شعور ہوتا۔ حکماء کے ہاں ہمیں یقین کے تین درجوں کا ذکر ملتا ہے : علم الیقین ‘ عین الیقین اور حق الیقین۔ علم الیقین وہ یقین ہے جو انسان کو علم ‘ معلومات یا استدلال کی بنیاد پر حاصل ہو۔ مثلاً آپ نے دور سے دھواں اٹھتا دیکھا تو آپ نے کہا کہ وہاں آگ لگی ہوئی ہے ‘ حالانکہ آگ آپ نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی۔ پھر جب آپ نے وہاں جا کر خود اپنی آنکھوں سے آگ کو دیکھ لیا تو آپ کو عین الیقین حاصل ہوگیا۔ لیکن حق الیقین کا درجہ اس سے بھی آگے ہے۔ یقین کا یہ درجہ باقاعدہ تجربے سے حاصل ہوتا ہے اس لیے کہ آنکھ سے دیکھنے میں بھی دھوکے کا امکان ہے۔ ضروری نہیں کہ کوئی چیز جیسی نظر آرہی ہے حقیقت میں بھی ویسی ہو۔ جیسے آج کل بعض الیکٹرک ہیٹرز میں انگارے دہکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ‘ لیکن جب آپ غور سے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو محض دکھاوے کا منظر ہے اور حرارت کا اصل منبع کہیں اور ہے۔ چناچہ آگ کے بارے میں آپ کو ”علم الیقین“ تو محض دھواں دیکھنے سے ہی حاصل ہوگیا۔ پھر جب آپ نے آگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو آپ کا یقین ”عین الیقین“ میں بدل گیا۔ اس کے بعد جب آپ نے آگ کو چھو کر یا اس کے قریب ہو کر اس کی حرارت کو عملی طور پر محسوس کیا تو آگ کی موجودگی کے بارے میں آپ کا یقین ”حق الیقین“ کے درجے میں آگیا۔

التكاثر 102:7

آیت 5{ کَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ۔ } ”کوئی بات نہیں ! کاش کہ تم علم یقین کے ساتھ جان جاتے !“ یعنی موت یا قیامت کا علم دراصل یقینی علم ہے ‘ کاش کہ تمہیں اس کا شعور ہوتا۔ حکماء کے ہاں ہمیں یقین کے تین درجوں کا ذکر ملتا ہے : علم الیقین ‘ عین الیقین اور حق الیقین۔ علم الیقین وہ یقین ہے جو انسان کو علم ‘ معلومات یا استدلال کی بنیاد پر حاصل ہو۔ مثلاً آپ نے دور سے دھواں اٹھتا دیکھا تو آپ نے کہا کہ وہاں آگ لگی ہوئی ہے ‘ حالانکہ آگ آپ نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی۔ پھر جب آپ نے وہاں جا کر خود اپنی آنکھوں سے آگ کو دیکھ لیا تو آپ کو عین الیقین حاصل ہوگیا۔ لیکن حق الیقین کا درجہ اس سے بھی آگے ہے۔ یقین کا یہ درجہ باقاعدہ تجربے سے حاصل ہوتا ہے اس لیے کہ آنکھ سے دیکھنے میں بھی دھوکے کا امکان ہے۔ ضروری نہیں کہ کوئی چیز جیسی نظر آرہی ہے حقیقت میں بھی ویسی ہو۔ جیسے آج کل بعض الیکٹرک ہیٹرز میں انگارے دہکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ‘ لیکن جب آپ غور سے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو محض دکھاوے کا منظر ہے اور حرارت کا اصل منبع کہیں اور ہے۔ چناچہ آگ کے بارے میں آپ کو ”علم الیقین“ تو محض دھواں دیکھنے سے ہی حاصل ہوگیا۔ پھر جب آپ نے آگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو آپ کا یقین ”عین الیقین“ میں بدل گیا۔ اس کے بعد جب آپ نے آگ کو چھو کر یا اس کے قریب ہو کر اس کی حرارت کو عملی طور پر محسوس کیا تو آگ کی موجودگی کے بارے میں آپ کا یقین ”حق الیقین“ کے درجے میں آگیا۔

التكاثر 102:8

آیت 8{ ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۔ } ”پھر اس دن تم سے ضرور پوچھا جائے گا نعمتوں کے بارے میں۔“ اس دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک ایک نعمت کے بارے میں تم سے جواب طلبی ہوگی کہ دنیا میں تم نے اس کی کون کون سی نعمتوں سے استفادہ کیا اور ان کے حقوق کہاں تک ادا کیے۔

العصر 103:1

آیت 1{ وَالْعَصْرِ۔ } ”زمانے کی قسم ہے۔“ یعنی اس حقیقت پر زمانہ گواہ ہے یا پوری تاریخ انسانی شاہد ہے کہ :

العصر 103:2

آیت 2{ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ۔ } ”یقینا انسان خسارے میں ہے۔“ اگلی آیت میں اس نقصان اور خسارے سے بچائو کے لیے چارشرائط بتائی گئی ہیں ‘ لیکن ان میں سے کوئی ایک یا دو یا تین شرائط پوری کردینے سے مذکورہ خسارے سے بچنے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ کامیابی کے لیے بہرحال چاروں شرائط پر عمل درآمد ضروری ہے۔

العصر 103:3

آیت 3{ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ لا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔ } ”سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور انہوں نے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور انہوں نے باہم ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔“ ان شرائط میں پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان ایمان لائے۔ اس میں ایمان باللہ ‘ ایمان بالرسالت اور ایمان بالآخرت سمیت تمام ایمانیات شامل ہیں۔ یعنی انسان اس کائنات کے مخفی اور غیبی حقائق کو سمجھے ‘ ان کا شعور حاصل کرے اور ان کی تصدیق کرے۔ ایمان لانے کے بعد دوسری شرط اس ایمان کے عملی تقاضوں کو پورا کرنے سے متعلق ہے۔ یعنی اگر انسان اللہ پر ایمان رکھتا ہے تو اس کے عمل اور کردار سے ثابت ہونا چاہیے کہ وہ اللہ کا فرمانبردار بندہ ہے اور اس کی نافرمانی سے ڈرتا ہے۔ غرض وہ ہر اس عمل کو اپنے شب و روز کے معمول کا حصہ بنانے پر کمربستہ ہوجائے جس کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حکم دیا ہے اور ہر اس فعل سے اجتناب کرنے کی فکر میں رہے جس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے منع کیا ہے۔ تیسری شرط ”تواصی بالحق“ کی ہے۔ یعنی جس حق کو انسان نے خود قبول کیا ہے اور اپنی عملی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالا ہے اس حق کی تبلیغ و اشاعت کے لیے وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا علمبردار بن جائے۔ اس کے بعد چوتھی اور آخری شرط ”تواصی بالصبر“ کی ہے اور یہ ”تواصی بالحق“ کا لازمی اور منطقی نتیجہ بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جو بندہ ”تواصی بالحق“ کا َعلم اٹھائے گا اسے شیطانی قوتوں کی مخالفت مول لے کر آزمائش و ابتلا کی مشکل گھاٹیوں سے بھی گزرنا ہوگا اور اس راستے پر چلتے ہوئے نہ صرف اسے خود صبر و استقامت کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھنا ہوگا بلکہ اسے اپنے ہمراہیوں اور ساتھیوں کو بھی اس کی تلقین و نصیحت کرنا ہوگی۔ اسی لیے حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو جب امر بالمعروف کی نصیحت کی تو ساتھ ہی صبر کی تلقین بھی کی تھی : { یٰـبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاصْبِرْ عَلٰی مَـآ اَصَابَکَط } لقمٰن : 17 ”اے میرے بچے ! نماز قائم کرو اور نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو اور جو بھی تکلیف تمہیں پہنچے اس پر صبر کرو !“ بہرحال راہ حق کے مسافروں کو پہلے سے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ راستہ آزمائش و ابتلا کے خارزاروں سے ہو کر گزرتا ہے : { وَلَـنَـبْلُوَنَّــکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِط وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ۔ } البقرۃ ”اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے۔ اور اے نبی ﷺ ! بشارت دیجیے ان صبر کرنے والوں کو۔“ ؎ یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! آمین !

الهمزة 104:1

آیت 1{ وَیْلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِ۔ } ”بڑی خرابی ہے ہر اس شخص کے لیے جو لوگوں کے عیب ُ چنتا رہتا ہے اور طعنے دیتا رہتا ہے۔“ ہُمَزَۃ اور لُمَزَۃ دونوں الفاظ معنی کے اعتبار سے باہم بہت قریب ہیں۔ بعض اہل لغت کے نزدیک روبرو طعنہ زنی کرنے والے کو ہُمَزَۃ اور پس پشت عیب جوئی کرنے والے کو لُمَزَۃ کہتے ہیں ‘ جبکہ بعض اہل لغت نے ان کا معنی برعکس بیان کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس - کا قول ہے کہ ہر چغلی کھانے والے ‘ دوستوں میں جدائی اور تفرقہ ڈالنے والے ‘ بےقصور اور بےعیب انسانوں میں نقص نکالنے والے کو ہُمَزَۃ اور لُمَزَۃ کہتے ہیں۔

الهمزة 104:2

آیت 2{ نِ الَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَہٗ۔ } ”جو مال جمع کرتا رہا اور اس کو گنتا رہا۔“ جس نے اپنی زندگی اور زندگی کی ساری جدوجہد مال کمانے اور اس کا حساب رکھنے میں برباد کردی۔ وہ یہی سوچ سوچ کر خوش ہوتا رہا کہ اس ماہ میرے اکائونٹس میں اتنے فیصد اضافہ ہوگیا ہے اور پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال میرے اثاثہ جات اس قدر بڑھ گئے ہیں۔

الهمزة 104:3

آیت 3{ یَحْسَبُ اَنَّ مَالَہٗٓ اَخْلَدَہٗ۔ } ”وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ باقی رکھے گا۔“ گویا اس کے مال نے اسے زندئہ جاوید کردیا ہے۔ ایک دولت مند آدمی اپنی دولت کے ذریعے دنیا میں ایسے آثار و نقوش چھوڑ کر جانا چاہتا ہے جن کی وجہ سے اس کا نام دنیا میں ہمیشہ رہے۔ انسان کی اسی خواہش نے اسے اہرام مصر جیسے عجائبات کی تخلیق پر مجبور کیا۔ مشہور انگریزی نظم The Pyramids کے ان الفاظ میں انسان کی اسی نفسیات کی عکاسی کی گئی ہے :Calm and self possessed ,Still and resolute ,rؔPyramids echo into eternity ,They defined cry of mans willTo strive conquer the storms of time.

الهمزة 104:4

آیت 4{ کَلَّا لَـیُنْبَذَنَّ فِی الْْحُطَمَۃِ۔ } ”ہرگز نہیں ‘ وہ تو یقینا جھونک دیا جائے گا حطمہ میں۔“ حُطَمَۃ : حَطَمَسے ہے ‘ یعنی توڑ ڈالنے والی ‘ پیس ڈالنے والی ‘ چور چور اور ریزہ ریزہ کردینے والی۔ یہ دوزخ کے ایک خاص طبقے کا نام ہے جس کی آگ اتنی تیز ہوگی کہ اس میں جو شے بھی ڈالی جائے گی اس کو آنِ واحد میں پیس کر رکھ دے گی۔

الهمزة 104:5

آیت 4{ کَلَّا لَـیُنْبَذَنَّ فِی الْْحُطَمَۃِ۔ } ”ہرگز نہیں ‘ وہ تو یقینا جھونک دیا جائے گا حطمہ میں۔“ حُطَمَۃ : حَطَمَسے ہے ‘ یعنی توڑ ڈالنے والی ‘ پیس ڈالنے والی ‘ چور چور اور ریزہ ریزہ کردینے والی۔ یہ دوزخ کے ایک خاص طبقے کا نام ہے جس کی آگ اتنی تیز ہوگی کہ اس میں جو شے بھی ڈالی جائے گی اس کو آنِ واحد میں پیس کر رکھ دے گی۔

الهمزة 104:6

آیت 7{ الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَۃِ۔ } ”جو دلوں کے اوپر جا چڑھے گی۔“ یعنی اس آگ کی حدت اور تپش انسان کی جلد سے زیادہ اس کے دل پر اثر انداز ہوگی۔ بہرحال آج جب انسان خود Infra red Rays اور Ultra violet Rays سمیت آگ اور حرارت کی رنگا رنگ اقسام ایجاد کرچکا ہے اس کے لیے ”حُطَمَہ“ کی مذکورہ خصوصیت کو سمجھنا بہت آسان ہوگیا ہے۔ ایک صاحب نے خیال پیش کیا ہے کہ حُطَمَۃ ایٹمی حرارت کی کوئی شکل ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایٹم سے جو حرارت پھیلتی ہے وہ براہ راست آگ نہیں ہوتی لیکن انسان کے وجود کو چیرتی چلی جاتی ہے۔

الهمزة 104:7

آیت 7{ الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَۃِ۔ } ”جو دلوں کے اوپر جا چڑھے گی۔“ یعنی اس آگ کی حدت اور تپش انسان کی جلد سے زیادہ اس کے دل پر اثر انداز ہوگی۔ بہرحال آج جب انسان خود Infra red Rays اور Ultra violet Rays سمیت آگ اور حرارت کی رنگا رنگ اقسام ایجاد کرچکا ہے اس کے لیے ”حُطَمَہ“ کی مذکورہ خصوصیت کو سمجھنا بہت آسان ہوگیا ہے۔ ایک صاحب نے خیال پیش کیا ہے کہ حُطَمَۃ ایٹمی حرارت کی کوئی شکل ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایٹم سے جو حرارت پھیلتی ہے وہ براہ راست آگ نہیں ہوتی لیکن انسان کے وجود کو چیرتی چلی جاتی ہے۔

الهمزة 104:8

آیت 8{ اِنَّہَا عَلَیْہِمْ مُّؤْصَدَۃٌ۔ } ”بیشک وہ آگ ان پر بند کردی جائے گی۔“ تاکہ اس کی تمام تر حرارت ان پر اثر انداز ہو اور انہیں زیادہ سے زیادہ تکلیف پہنچے۔

الهمزة 104:9

آیت 8{ اِنَّہَا عَلَیْہِمْ مُّؤْصَدَۃٌ۔ } ”بیشک وہ آگ ان پر بند کردی جائے گی۔“ تاکہ اس کی تمام تر حرارت ان پر اثر انداز ہو اور انہیں زیادہ سے زیادہ تکلیف پہنچے۔

الفيل 105:1

آیت 8{ اِنَّہَا عَلَیْہِمْ مُّؤْصَدَۃٌ۔ } ”بیشک وہ آگ ان پر بند کردی جائے گی۔“ تاکہ اس کی تمام تر حرارت ان پر اثر انداز ہو اور انہیں زیادہ سے زیادہ تکلیف پہنچے۔

الفيل 105:2

آیت 2{ اَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَہُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ۔ } ”کیا اس نے ان کی تمام تدبیروں کو بےکار اور غیر موثر نہیں کردیا ؟“ اَبرہہ کی اس لشکر کشی کا مقصد انہدامِ کعبہ کے علاوہ عرب میں عیسائیت پھیلانا اور اس تجارت پر قبضہ کرنا بھی تھا جو بلاد مشرق اور رومی مقبوضات کے درمیان عربوں کے ذریعے ہوتی تھی۔

الفيل 105:3

آیت 2{ اَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَہُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ۔ } ”کیا اس نے ان کی تمام تدبیروں کو بےکار اور غیر موثر نہیں کردیا ؟“ اَبرہہ کی اس لشکر کشی کا مقصد انہدامِ کعبہ کے علاوہ عرب میں عیسائیت پھیلانا اور اس تجارت پر قبضہ کرنا بھی تھا جو بلاد مشرق اور رومی مقبوضات کے درمیان عربوں کے ذریعے ہوتی تھی۔

الفيل 105:4

آیت 4{ تَرْمِیْہِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۔ } ”جو ان پر مارتے تھے کنکر کی پتھریاں۔“ رَمٰی یَرْمِی رَمْیًاکا معنی ہے پھینکنا ‘ مارنا۔ حج کے دوران شیطان کو کنکریاں مارنے کے عمل کو بھی ”رمی جمرات“ کہا جاتا ہے۔ لفظ سِجِّیْلدراصل فارسی ترکیب ”سنگ ِگل“ سے معرب ہے فارسی کی ”گ“ عربی میں آکر ”ج“ سے بدل گئی ہے۔ فارسی میں سنگ بمعنی پتھر اور گل بمعنی مٹی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ سنگ ِگل کے لغوی معنی ہیں مٹی کا پتھر۔ اس سے مراد وہ کنکریاں ہیں جو ریتلی زمین پر ہلکی بارش برسنے اور بعد میں مسلسل تیز دھوپ چمکنے کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں۔ یعنی بارش کے ایک ایک قطرے کے ساتھ جو ریت ملی مٹی گیلی ہوجاتی ہے وہ بعد میں مسلسل تیز دھوپ کی حرارت سے پک کر سخت کنکری بن جاتی ہے۔ ابرہہ کے لشکرجرار کو تباہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کو کسی غیر معمولی طاقت کے استعمال کی ضرورت نہ پڑی ‘ بلکہ اس نے چھوٹے چھوٹے پرندوں کے ُ جھنڈ بھیج دیے جو ساحل سمندر کی طرف سے امڈ پڑے اور چند لمحوں کی سنگ باری سے اس لشکر کا بھرکس نکال دیا۔ ان میں سے ہر پرندہ تین چھوٹی چھوٹی کنکریاں اٹھائے ہوئے تھا ‘ ایک اپنی چونچ میں اور دو اپنے پنجوں میں۔

الفيل 105:5

آیت 5{ فَجَعَلَہُمْ کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ۔ } ”پھر اس نے کردیا ان کو کھائے ہوئے بھس کی طرح۔“ یعنی اس پورے لشکر کی حالت اس چارے یا ُ بھس کی طرح ہوگئی جسے جانوروں نے کھا کر چھوڑ دیا ہو۔

قريش 106:1

آیت 5{ فَجَعَلَہُمْ کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ۔ } ”پھر اس نے کردیا ان کو کھائے ہوئے بھس کی طرح۔“ یعنی اس پورے لشکر کی حالت اس چارے یا ُ بھس کی طرح ہوگئی جسے جانوروں نے کھا کر چھوڑ دیا ہو۔

قريش 106:2

آیت 2{ اٖلٰفِہِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَآئِ وَالصَّیْفِ۔ } ”یعنی سردیوں اور گرمیوں کے سفر سے ان کو مانوس رکھنے کی وجہ سے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے قریش کے دلوں میں سردی اور گرمی کے تجارتی سفروں کی الفت و محبت پیدا کردی۔ اِیْلاف : اَلِفَ یَأْلَفُ اَلْفًا سے باب افعال کا مصدر ہے ‘ یعنی مانوس کرنا اور خوگر بنانا۔ اردو میں الفت اور مالوف کے الفاظ بھی اسی سے ماخوذ ہیں۔ سورة قریش کی پہلی دو آیات میں قریش کی اس اجارہ داری کی طرف اشارہ ہے جو حضور ﷺ کی پیدائش سے قبل زمانے میں انہیں مشرق اور مغرب کی تجارت پر حاصل تھی۔ اس زمانے میں مشرق بعید کے ممالک ہندوستان ‘ جاوا ‘ ملایا ‘ سماٹرا ‘ چین وغیرہ سے بحر ہند کے راستے جو سامانِ تجارت آتا تھا وہ یمن کے ساحل پر اترتا تھا۔ دوسری طرف یورپ سے آنے والے جہاز شام اور فلسطین کے ساحل پر لنگر انداز ہوتے تھے۔ اس کے بعد یمن سے سامانِ تجارت کو شام پہنچانے اور ادھر کا سامان یمن پہنچانے کے لیے خشکی کا راستہ استعمال ہوتا تھا۔ چناچہ یمن اور شام کے درمیان اس راستے کی حیثیت اس زمانے میں گویا بین الاقوامی تجارتی شاہراہ کی سی تھی۔ ظاہر ہے یورپ کو انڈیا سے ملانے والا سمندری راستہ around the cape of good hope تو واسکوڈے گا ما نے صدیوں بعد 1498 ء میں دریافت کیا تھا ‘ جبکہ بحیرئہ احمر کو بحر روم سے ملانے والی نہر سویز 1869 ء میں بنی تھی۔ حضور ﷺ کی ولادت سے تقریباً ڈیڑھ دو سو سال پہلے تک اس تجارتی شاہراہ پر قوم سبا کی اجارہ داری تھی۔ لیکن جب ”سد مآرب“ ٹوٹنے کی وجہ سے اس علاقے میں سیلاب آیا اور اس سیلاب کی وجہ سے اس قوم کا شیرازہ بکھر گیا تو یہ شاہراہ کلی طور پر قریش مکہ کے قبضے میں چلی گئی۔ قریش مکہ چونکہ کعبہ کے متولی تھے اس لیے پورے عرب میں انہیں عزت و عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اس زمانے میں جہاں کوئی بھی تجارتی قافلہ لٹیروں اور ڈاکوئوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں تھا وہاں قریش کے قافلوں کو پورے عرب میں کوئی میلی نظر سے بھی نہیں دیکھتا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ عرب کے تمام قبائل نے اپنے اپنے بت خانہ کعبہ میں نصب کر رکھے تھے۔ گویا ہر قبیلے کا ”خدا“ قریش کی مہربانی سے ہی خانہ کعبہ میں قیام پذیر تھا ‘ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ قریش کے پاس یرغمال تھا۔ اس لیے عرب کا کوئی قبیلہ بھی ان کے قافلوں پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہیں کرسکتا تھا۔ چناچہ قریش کے قافلے سارا سال بلاخوف و خطر یمن سے شام اور شام سے یمن کے راستے پر رواں دواں رہتے تھے۔ گرمیوں کے موسم میں وہ لوگ شام و فلسطین کے سرد علاقوں جبکہ سردیوں میں یمن کے گرم علاقے کا سفر اختیار کرتے تھے۔ آیت زیر مطالعہ میں ان کے اسی تجارتی سفر کا ذکر ہے۔ ظاہر ہے بین الاقوامی تجارتی شاہراہ پر مکمل اجارہ داری ‘ تجارتی قافلوں کے ہمہ وقت تحفظ کی یقینی ضمانت اور موسموں کی موافقت اور مطابقت سے سرد و گرم علاقوں کے سفر کی سہولت ‘ یہ ان لوگوں کے لیے ایسی نعمتیں تھیں جس پر وہ اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کرتے کم تھا۔ اس لیے ان نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا :

قريش 106:3

آیت 3{ فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ہٰذَا الْبَیْتِ۔ } ”پس انہیں بندگی کرنی چاہیے اس گھر کے رب کی۔“ ظاہر ہے ان کے جدا مجد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کا یہ گھر ع ”دنیا کے بت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا“ توحید کے مرکز کی حیثیت سے تعمیر کیا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کو اس گھر کے پہلو میں بساتے وقت توحید کے اعتبار سے ان کی ذمہ داری کا ذکر ان الفاظ میں کیا تھا : لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ تاکہ وہ اللہ کی بندگی کے طور پر نماز قائم کریں۔ چناچہ چاہیے تو یہ تھا کہ جس کعبہ کی تولیت کی وجہ سے انہیں خوشحالی اور عزت ملی تھی وہ اس گھر کے مالک کو پہچانتے اور اس کا حق ادا کرتے۔ لیکن اس کے برعکس انہوں نے اللہ کے اس گھر میں 360 بت نصب کرکے اسے دنیا کے سب سے بڑے بت کدے میں تبدیل کردیا اور اس کے اصل مالک کو بالکل ہی فراموش کردیا۔

قريش 106:4

آیت 4{ الَّذِیْٓ اَطْعَمَہُمْ مِّنْ جُوْعٍ لا } ”جس نے انہیں بھوک میں کھانے کو دیا“ انہیں رزق عطا فرماکر فاقہ کشی سے محفوظ رکھا۔ جب عرب کے عام لوگ غربت اور تنگ دستی کا شکار تھے اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے قریش ِمکہ کو کامیاب تجارت اور کعبہ کی تولیت کی وجہ سے معاشی خوشحالی سے نواز رکھا تھا۔ { وَّاٰمَنَہُمْ مِّنْ خَوْفٍ۔ } ”اور انہیں خوف سے امن عطا کیا۔“ ان کے قافلے سارا سال یمن اور فلسطین کے درمیان بلاخوف و خطر محو ِسفر رہتے تھے۔ خداداد تحفظ کی یہ ضمانت انہیں اس سرزمین میں میسر تھی جہاں ہر طرف جنگل کے قانون کا راج تھا۔

الماعون 107:1

آیت 1{ اَرَئَ یْتَ الَّذِیْ یُـکَذِّبُ بِالدِّیْنِ۔ } ”کیا تم نے دیکھا اس شخص کو جو جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے ؟“ جو نہ تو بعث بعد الموت کا قائل ہے اور نہ ہی آخرت کی جزا و سزا کو مانتا ہے۔ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ اس زندگی کے سوا ان کی کوئی اور زندگی نہیں ہے : { وَقَالُوْا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُـنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُہْلِکُنَآ اِلَّا الدَّہْرُج } الجاثیۃ : 24 ”وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے کوئی اور زندگی سوائے ہماری دنیا کی زندگی کے ‘ ہم خود ہی مرتے ہیں اور خود ہی جیتے ہیں اور ہمیں نہیں ہلاک کرتا مگر زمانہ“۔ آخرت کے احتساب کا انکار کر کے انسان دراصل جائز و ناجائز اور حلال و حرام کی پابندیوں سے آزاد ہوجاتا ہے اور اس کا کردار ع ”بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست“ کے فلسفے کا چلتا پھرتا اشتہار بن کر رہ جاتا ہے۔

الماعون 107:2

آیت 2{ فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ۔ } ”یہ وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔“ ظاہر ہے جو انسان اچھے برے اعمال کی جزا و سزا کو نہیں مانتا وہ معاشرے کے ایسے افراد کے لیے اپنا مال بھلا کیوںـ ضائع کرے گا جن سے اسے کسی فائدے کی توقع نہیں ؟

الماعون 107:3

آیت 3{ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ۔ } ”اور نہ وہ مسکین کو کھانا کھلانے کی تلقین کرتا ہے۔“ اس میں انسان کی اس اخلاقی کمزوری کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جس نیک کام پر وہ خود کاربند نہیں ہے اس کے بارے میں دوسروں کو کس منہ سے نصیحت کرے۔

الماعون 107:4

آیت 4 ‘ 5{ فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ - الَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُوْنَ۔ } ”تو بربادی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لیے ‘ جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی بعثت کے زمانے تک مشرکین عرب کے ہاں نماز کا تصور موجود تھا لیکن اس کی عملی شکل بالکل مسخ ہوچکی تھی۔ جیسا کہ سورة الانفال کی اس آیت سے بھی ظاہر ہوتا ہے : { وَمَا کَانَ صَلاَتُہُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلاَّ مُکَآئً وَّتَصْدِیَۃًط } آیت 35 ”اور نہیں ہے ان کی نماز بیت اللہ کے پاس سوائے سیٹیاں بجانا اور تالیاں پیٹنا“۔ ظاہر ہے جو لوگ برہنہ ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اس طواف کو سب سے اعلیٰ طواف سمجھتے تھے ‘ ان کے لیے تو نماز میں سیٹیاں بجانا اور تالیاں پیٹنا بھی ایک مقدس عمل اور حصول ثواب کا بہت بڑا ذریعہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم مسلمانوں کے ہاں نماز کی ظاہری شکل آج تک اپنی اصلی حالت میں جوں کی توں قائم ہے۔ حضور ﷺ نے صحابہ کرام کو نماز پڑھنے کا طریقہ سکھایا اور پھر حکم دیا : صَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ 1 کہ تم لوگ نماز اسی طرح پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ حضور ﷺ کی نماز کا وہ طریقہ اور عملی نمونہ جو صحابہ رض کی وساطت سے ہم تک پہنچا ہے ‘ آج ہم اس پر تو کاربند ہیں لیکن بدقسمتی سے نماز کی اصل روح سے ہم بالکل غافل ہوچکے ہیں۔ نماز کی اصل روح تو نمازی کا خضوع و خشوع اور یہ احساس ہے کہ وہ کس کے سامنے کھڑا ہے اور کس کے حضور کھڑے ہو کر اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ جیسا عہد و پیمان باندھ رہا ہے۔ بہرحال آج ہماری نمازیں اس روح سے خالی ہو کر محض ایک ”رسم“ کی ادائیگی کی حیثیت اختیار کرچکی ہیں الاماشاء اللہ۔ اقبال نے اپنے خصوصی انداز میں مسلمانوں کی اس زبوں حالی کی تصویر انہیں بار بار دکھائی ہے : ؎رہ گئی رسم اذاں روح بلالی رض نہ رہی فلسفہ رہ گیا تلقین ِغزالی نہ رہی !اور ؎نماز و روزہ و قربانی و حج یہ سب باقی ہیں تو ُ باقی نہیں ہے !

الماعون 107:5

آیت 4 ‘ 5{ فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ - الَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُوْنَ۔ } ”تو بربادی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لیے ‘ جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی بعثت کے زمانے تک مشرکین عرب کے ہاں نماز کا تصور موجود تھا لیکن اس کی عملی شکل بالکل مسخ ہوچکی تھی۔ جیسا کہ سورة الانفال کی اس آیت سے بھی ظاہر ہوتا ہے : { وَمَا کَانَ صَلاَتُہُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلاَّ مُکَآئً وَّتَصْدِیَۃًط } آیت 35 ”اور نہیں ہے ان کی نماز بیت اللہ کے پاس سوائے سیٹیاں بجانا اور تالیاں پیٹنا“۔ ظاہر ہے جو لوگ برہنہ ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اس طواف کو سب سے اعلیٰ طواف سمجھتے تھے ‘ ان کے لیے تو نماز میں سیٹیاں بجانا اور تالیاں پیٹنا بھی ایک مقدس عمل اور حصول ثواب کا بہت بڑا ذریعہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم مسلمانوں کے ہاں نماز کی ظاہری شکل آج تک اپنی اصلی حالت میں جوں کی توں قائم ہے۔ حضور ﷺ نے صحابہ کرام کو نماز پڑھنے کا طریقہ سکھایا اور پھر حکم دیا : صَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ 1 کہ تم لوگ نماز اسی طرح پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ حضور ﷺ کی نماز کا وہ طریقہ اور عملی نمونہ جو صحابہ رض کی وساطت سے ہم تک پہنچا ہے ‘ آج ہم اس پر تو کاربند ہیں لیکن بدقسمتی سے نماز کی اصل روح سے ہم بالکل غافل ہوچکے ہیں۔ نماز کی اصل روح تو نمازی کا خضوع و خشوع اور یہ احساس ہے کہ وہ کس کے سامنے کھڑا ہے اور کس کے حضور کھڑے ہو کر اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ جیسا عہد و پیمان باندھ رہا ہے۔ بہرحال آج ہماری نمازیں اس روح سے خالی ہو کر محض ایک ”رسم“ کی ادائیگی کی حیثیت اختیار کرچکی ہیں الاماشاء اللہ۔ اقبال نے اپنے خصوصی انداز میں مسلمانوں کی اس زبوں حالی کی تصویر انہیں بار بار دکھائی ہے : ؎رہ گئی رسم اذاں روح بلالی رض نہ رہی فلسفہ رہ گیا تلقین ِغزالی نہ رہی !اور ؎نماز و روزہ و قربانی و حج یہ سب باقی ہیں تو ُ باقی نہیں ہے !

الماعون 107:6

آیت 6{ الَّذِیْنَ ہُمْ یُرَآئُ وْنَ۔ } ”یہ وہ لوگ ہیں جو دکھاوا کرتے ہیں۔“ وہ نماز کی ادائیگی سمیت ہر نیک کام لوگوں کو دکھانے کے لیے کرتے ہیں تاکہ ان کی نیکی کا چرچاہو۔

الماعون 107:7

آیت 7{ وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۔ } ”اور عام استعمال کی چیز بھی مانگنے پر نہیں دیتے۔“ مَاعُوْن کے معنی روز مرہ استعمال کی چیزیں ہیں ‘ جو ہر پڑوسی بوقت ضرورت اپنے پڑوسی سے عاریتاً لے لیتا ہے اور اپنی ضرورت پوری کر کے واپس لوٹا دیتا ہے۔ ایسے لوگوں کے کردار کی پستی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے پاس سے آگ کی چنگاری ماچس وغیرہ اور نمک جیسی معمولی اشیاء تک بھی کسی کو دینا پسند نہیں کرتے۔

الكوثر 108:1

آیت 1 { اِنَّآاَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ۔ } ”اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کو خیر کثیر عطا کیا۔“ الکوثر : کثرت سے ماخوذ ہے ‘ اس کا وزن فَوْعَلْ ہے جو مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اس کا معنی ہے کسی چیز کا اتنا کثیر ہونا کہ اس کا اندازہ نہ لگایا جاسکے۔ چناچہ اس کا ترجمہ ”خیر کثیر“ کیا گیا ہے۔ ”الکوثر“ کے بارے میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس سے حوض کوثر مراد ہے ‘ جو میدانِ حشر میں ہوگا اور اس سے حضور ﷺ اپنی امت کے پیاسوں کو سیراب فرمائیں گے۔ لیکن درحقیقت وہ بھی ”خیر کثیر“ ہی میں شامل ہے۔ ”خیر کثیر“ کی وضاحت سے متعلق بھی تفاسیر میں لگ بھگ پچیس تیس اقوال ملتے ہیں۔ حضور ﷺ کو عطا ہونے والے خیرکثیر کی سب سے بڑی مثال خود قرآن مجید ہے۔ اسی طرح اس کی ایک مثال حکمت بھی ہے۔ ظاہر ہے آپ ﷺ کو اعلیٰ ترین درجے میں حکمت بھی عطا ہوئی تھی ‘ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { یُّؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآئُج وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًاط } البقرۃ : 269 ”وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے ‘ اور جسے حکمت دے دی گئی اسے تو خیر ِکثیر عطا ہوگیا“۔ مزید برآں جنت کی نہر کوثر ‘ نبوت کے فیوض و برکات ‘ دین اسلام ‘ صحابہ کرام کی کثرت ‘ رفع ذکر اور مقام محمود کو ”کوثر“ کا مصداق سمجھا دیا گیا ہے۔ چناچہ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اے نبی ﷺ ہم نے آپ کو وہ سب کچھ عطا کردیا اور کثرت کے ساتھ عطا کردیا جس کی انسانیت کو ضرورت ہے اور جو نوع انسانی کے لیے ُ طرئہ امتیاز بن سکتا ہے۔

الكوثر 108:2

آیت 2 { فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔ } ”پس آپ ﷺ اپنے رب کے لیے نماز پڑھا کیجیے اور قربانی کیا کیجیے۔“ نحر کے لغوی معنی اونٹ ذبح کرنے کے ہیں۔ اس آیت میں جن دو احکام کا ذکر ہے ان دونوں پر عیدالاضحی کے دن عمل ہوتا ہے۔ یعنی عید الاضحی کے دن پہلے مسلمان نماز پڑھتے ہیں اور پھر جانور قربان کرتے ہیں۔

الكوثر 108:3

آیت 3{ اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَالْاَبْـتَرُ۔ } ”یقینا آپ ﷺ کا دشمن ہی جڑ کٹا ہوگا۔“ شَانِِیٔ بغض و عداوت رکھنے والے دشمن کو کہتے ہیں۔ اَبْـتَر : بتر سے ہے ‘ یعنی کسی چیز کو کاٹ دینا ‘ منقطع کردینا۔ اہل عرب دُم کٹے جانور کو ابتر کہتے ہیں۔ عرفِ عام میں اس سے ایسا آدمی مراد لیا جاتا ہے جس کی نرینہ اولاد نہ ہو اور جس کی نسل آگے چلنے کا کوئی امکان نہ ہو۔ یہ لفظ مشرکین مکہ نے معاذ اللہ حضور ﷺ کے لیے استعمال کیا تھا ‘ جس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رض کے بطن سے حضور ﷺ کی یہ اولادپیدا ہوئی : قاسم ‘ پھر زینب ‘ پھر عبداللہ ‘ پھر اُم کلثوم ‘ پھر فاطمہ ‘ پھر رقیہ۔ رض اجمعین۔ پہلے قاسم کا انتقال ہوا۔ پھر عبداللہ جن کا لقب طیب و طاہر ہے داغِ مفارقت دے گئے۔ اس پر مشرکین نے خوشیاں منائیں کہ آپ ﷺ کے دونوں فرزند فوت ہوگئے ہیں اور باقی اولاد میں آپ ﷺ کی بیٹیاں ہی بیٹیاں ہیں۔ لہٰذا آپ ﷺ جو کچھ بھی ہیں بس اپنی زندگی تک ہی ہیں ‘ آپ ﷺ کے بعد نہ تو آپ ﷺ کی نسل آگے چلے گی اور نہ ہی کوئی آپ ﷺ کا نام لیوا ہوگا۔ اس پس منظر میں یہاں ان لوگوں کو سنانے کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ کا نام اور ذکر تو ہم بلند کریں گے ‘ جس کی وجہ سے آپ کے نام لیوا تو اربوں کی تعداد میں ہوں گے۔ البتہ آپ کے یہ دشمن واقعی ابتر ہوں گے جن کا کوئی نام لیوا نہیں ہوگا۔

الكافرون 109:1

آیت 1{ قُلْ یٰٓــاَیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ۔ } ”اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ اے کافرو !“ نوٹ کیجیے ! یہ داعیانہ طرز تخاطب نہیں ہے ‘ بلکہ لاتعلق اور علیحدہ ہونے کا انداز ہے۔ ظاہر ہے ایک داعی تو اپنے مخاطبین کو یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُکہہ کر پکارتا ہے ‘ کہ اے اللہ کے بندو ! میری بات سنو ! گویا کلمہ تخاطب میں ہی مفہوم واضح کردیا گیا کہ اگر میری تمامتر ناصحانہ کوششوں کے باوجود بھی تم لوگوں نے کفر و انکار پر ڈٹے رہنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو تمہارا یہ فیصلہ اور طرزعمل تمہیں مبارک ہو۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے بعد اب میری اور تمہاری راہیں جدا ہوچکی ہیں۔

الكافرون 109:2

آیت 1{ قُلْ یٰٓــاَیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ۔ } ”اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ اے کافرو !“ نوٹ کیجیے ! یہ داعیانہ طرز تخاطب نہیں ہے ‘ بلکہ لاتعلق اور علیحدہ ہونے کا انداز ہے۔ ظاہر ہے ایک داعی تو اپنے مخاطبین کو یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُکہہ کر پکارتا ہے ‘ کہ اے اللہ کے بندو ! میری بات سنو ! گویا کلمہ تخاطب میں ہی مفہوم واضح کردیا گیا کہ اگر میری تمامتر ناصحانہ کوششوں کے باوجود بھی تم لوگوں نے کفر و انکار پر ڈٹے رہنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو تمہارا یہ فیصلہ اور طرزعمل تمہیں مبارک ہو۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے بعد اب میری اور تمہاری راہیں جدا ہوچکی ہیں۔

الكافرون 109:3

آیت 3{ وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ۔ } ”اور نہ تم پوجنے والے ہو اسے جسے میں پوجتا ہوں۔“ اس آیت میں ان کے تمام معبودوں کی نفی کردی گئی ہے۔ وہ لوگ اللہ کی پرستش تو کرتے تھے لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنے دیوی دیوتائوں کی پوجا کے بھی قائل تھے۔ اس پس منظر میں ان پر واضح کیا جا رہا ہے کہ جس طرح میں خالص اللہ کی بندگی کرتا ہوں ‘ اس طرح تم لوگ صرف اور صرف اس کی پرستش نہیں کرتے ہو۔ چناچہ تمہاری اس انداز کی پرستش تمہارے اپنے خود ساختہ معبودوں کی پرستش تو ہوسکتی ہے ‘ ایک اللہ کی پرستش نہیں ہوسکتی۔

الكافرون 109:4

آیت 4{ وَلَآ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ۔ } ”اور نہ ہی میں آئندہ کبھی پوجنے والا ہوں ان کو جن کی تم پرستش کر رہے ہو۔“ ان آیات میں بظاہر تکرار نظر آتی ہے ‘ لیکن درحقیقت اس اسلوب میں ماضی ‘ حال اور مستقبل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یعنی نہ میں نے زمانہ ماضی میں کبھی تمہارے معبودانِ باطل کی پرستش کی اور نہ آئندہ کبھی تم مجھ سے اس کی توقع کرسکتے ہو۔

الكافرون 109:5

آیت 4{ وَلَآ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ۔ } ”اور نہ ہی میں آئندہ کبھی پوجنے والا ہوں ان کو جن کی تم پرستش کر رہے ہو۔“ ان آیات میں بظاہر تکرار نظر آتی ہے ‘ لیکن درحقیقت اس اسلوب میں ماضی ‘ حال اور مستقبل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یعنی نہ میں نے زمانہ ماضی میں کبھی تمہارے معبودانِ باطل کی پرستش کی اور نہ آئندہ کبھی تم مجھ سے اس کی توقع کرسکتے ہو۔

الكافرون 109:6

آیت 6{ لَـکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ۔ } ”اب تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔“ اب میرا تمہارا تعلق ختم۔ تم لوگ جس راستے پر جا رہے ہو تمہیں وہ راستہ مبارک ہو۔ تم اپنے حال میں مست رہو ‘ میں اپنے دین حق پر ثابت قدم ہوں۔ حق و باطل کا یہ معرکہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ کر رہے گا اور تم دیکھو گے کہ جلد ہی جزیرئہ عرب پر دین اسلام غالب آکر رہے گا۔

النصر 110:1

آیت 6{ لَـکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ۔ } ”اب تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔“ اب میرا تمہارا تعلق ختم۔ تم لوگ جس راستے پر جا رہے ہو تمہیں وہ راستہ مبارک ہو۔ تم اپنے حال میں مست رہو ‘ میں اپنے دین حق پر ثابت قدم ہوں۔ حق و باطل کا یہ معرکہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ کر رہے گا اور تم دیکھو گے کہ جلد ہی جزیرئہ عرب پر دین اسلام غالب آکر رہے گا۔

النصر 110:2

آیت 6{ لَـکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ۔ } ”اب تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔“ اب میرا تمہارا تعلق ختم۔ تم لوگ جس راستے پر جا رہے ہو تمہیں وہ راستہ مبارک ہو۔ تم اپنے حال میں مست رہو ‘ میں اپنے دین حق پر ثابت قدم ہوں۔ حق و باطل کا یہ معرکہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ کر رہے گا اور تم دیکھو گے کہ جلد ہی جزیرئہ عرب پر دین اسلام غالب آکر رہے گا۔

النصر 110:3

آیت 3{ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ } ”تو پھر آپ ﷺ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے ‘ اور اس سے مغفرت طلب کیجیے۔“ { اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ } ”یقیناوہ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے۔“ یعنی ابھی تو آپ ﷺ کو دعوت و تبلیغ اور فریضہ رسالت کے سلسلے میں بہت سی مشقتیں اٹھانی ہیں اور جنگ و قتال کے مراحل سے گزرنا ہے ‘ لیکن جب آپ ﷺ اپنے مشن میں کامیاب ہوجائیں یعنی اللہ کا دین غالب ہوجائے تو آپ ﷺ ہمہ وقت ‘ ہمہ تن اپنے رب کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہوجایئے گا۔ نوٹ کیجیے ! سورة الانشراح کی آخری آیات میں بھی اسی اسلوب و انداز میں بالکل ایسا ہی حکم دیا گیا ہے۔

المسد 111:1

آیت 3{ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ } ”تو پھر آپ ﷺ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے ‘ اور اس سے مغفرت طلب کیجیے۔“ { اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ } ”یقیناوہ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے۔“ یعنی ابھی تو آپ ﷺ کو دعوت و تبلیغ اور فریضہ رسالت کے سلسلے میں بہت سی مشقتیں اٹھانی ہیں اور جنگ و قتال کے مراحل سے گزرنا ہے ‘ لیکن جب آپ ﷺ اپنے مشن میں کامیاب ہوجائیں یعنی اللہ کا دین غالب ہوجائے تو آپ ﷺ ہمہ وقت ‘ ہمہ تن اپنے رب کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہوجایئے گا۔ نوٹ کیجیے ! سورة الانشراح کی آخری آیات میں بھی اسی اسلوب و انداز میں بالکل ایسا ہی حکم دیا گیا ہے۔

المسد 111:2

آیت 3{ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ } ”تو پھر آپ ﷺ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے ‘ اور اس سے مغفرت طلب کیجیے۔“ { اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ } ”یقیناوہ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے۔“ یعنی ابھی تو آپ ﷺ کو دعوت و تبلیغ اور فریضہ رسالت کے سلسلے میں بہت سی مشقتیں اٹھانی ہیں اور جنگ و قتال کے مراحل سے گزرنا ہے ‘ لیکن جب آپ ﷺ اپنے مشن میں کامیاب ہوجائیں یعنی اللہ کا دین غالب ہوجائے تو آپ ﷺ ہمہ وقت ‘ ہمہ تن اپنے رب کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہوجایئے گا۔ نوٹ کیجیے ! سورة الانشراح کی آخری آیات میں بھی اسی اسلوب و انداز میں بالکل ایسا ہی حکم دیا گیا ہے۔

المسد 111:3

آیت 3{ سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَہَبٍ۔ } ”عنقریب وہ جھونکا جائے گا بھڑکتی ہوئی آگ میں۔“ لَہَبکے معنی آگ کے شعلے اور انگارے کے ہیں۔ اس شخص کی کنیت ابولہب کے حوالے سے یہاں اس لفظ کا استعمال ”صنعت ِ لفظی“ کی بہترین مثال ہے۔ اس کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا ‘ لیکن اپنی سرخ وسفید رنگت کی وجہ سے ”ابولہب“ شعلہ رو کی کنیت سے مشہور تھا۔ ظاہری اعتبار سے ابولہب بہت وجیہہ اور خوبصورت شخص تھا۔ اس پس منظر میں اس آیت کے الفاظ گویا یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اس شخص کو سرخ وسفید رنگت اور خوبصورت شکل و صورت بھی ہم نے عطا کی ہے اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں بھی اسے ہم ہی جھونکیں گے۔ ] قرآن مجید کا یہ واحد مقام ہے جہاں دشمنانِ اسلام میں سے کسی شخص کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی ہے ‘ حالانکہ مکہ ‘ مدینہ اور دیگر قبائل عرب میں حضور ﷺ کے دشمنوں اور بدخواہوں کی کمی نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابولہب حضور ﷺ کا حقیقی چچا اور قریب ترین ہمسایہ ہونے کے باوجود آپ ﷺ کی مخالفت میں پیش پیش تھا اور اس شخص نے اسلام کی دشمنی اور کفر کی محبت میں صلہ رحمی اور خاندانی حمیت جیسی عرب روایات کا بھی کچھ پاس نہ کیا۔ [

المسد 111:4

آیت 4{ وَّامْرَاَتُہٗ } ”اور اس کی بیوی کو بھی۔“ اس کی بیوی بھی حضور ﷺ کی دشمنی میں ہمیشہ پیش پیش رہتی تھی۔ اس کا نام اَروَہ اور کنیت اُمّ جمیل تھی اور اس کے دل میں حضور ﷺ کی عداوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ حضور ﷺ کی دشمنی کے اعتبار سے ان دونوں کے بارے میں جو تفصیلات ملتی ہیں ان سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ میاں بیوی میں سے کون حضور ﷺ کا بڑا دشمن تھا۔ قبل ازیں سورة التحریم کے آخری رکوع میں ہم خواتین کے کردار کی تین مثالوں کا مطالعہ کرچکے ہیں۔ پہلی مثال میں حضرت لوط اور حضرت نوح - کی کافر بیویوں کا ذکر ہے۔ یہ بہترین شوہروں کے گھروں میں بدترین بیویوں کی مثال ہے۔ پھر فرعون کی بیوی آسیہ رض کا ذکر گویا بدترین شوہر کے ہاں بہترین بیوی کی مثال ہے۔ اس کے بعد حضرت مریم سلامٌ علیہا کے حوالے سے ایک ایسی خاتون کی مثال بیان کی گئی ہے جو خود بھی نیک فطرت تھی اور حضرت زکریا علیہ السلام کی سرپرستی میں انہیں ماحول بھی ایسا ملا جو نیکی اور پاکیزگی کے اعتبار سے اپنی مثال آپ تھا۔ گویا وہاں سورة التحریم میں خواتین کے حوالے سے تین قسم کی ممکنہ صورتوں کی مثالوں کا ذکر تو ہوچکا ہے ‘ جبکہ اس سلسلے کی چوتھی ممکنہ صورت کا ذکر یہاں اس سورت میں ہوا ہے ‘ یعنی شوہر بھی بدترین اور بیوی بھی بدترین۔ { حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ۔ } ”جو ایندھن اٹھانے والی ہوگی۔“ روایات میں چونکہ ذکر ملتا ہے کہ یہ دونوں میاں بیوی بہت بخیل تھے ‘ اس لیے بعض لوگوں نے ان الفاظ سے یہ سمجھا ہے کہ یہ عورت جنگل سے لکڑیاں ُ چن کر لایا کرتی تھی ‘ حالانکہ یہ بات خلافِ عقل و قیاس ہے۔ ابولہب نہ صرف بہت مال دار تھا بلکہ معاشرتی لحاظ سے وہ اپنے زمانے کا بہت بڑا منصب دار بھی تھا۔ وہ حرم کے محکمہ مالیات کا انچارج تھا اس حیثیت سے اس پر اگرچہ یہ الزام بھی تھا کہ اس نے حرم کے خزانے سے سونے کے دو ہرن چرالیے تھے۔ چناچہ یہ دونوں میاں بیوی اپنے معاشرے کی اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو معاشرے کی ایکوی آئی پی خاتون ‘ بنوہاشم کے رئیس کی بیوی ‘ جسے گویا خاتونِ اوّل کا سا درجہ حاصل تھا ‘ کے بارے میں جنگل سے لکڑیاں چن کر سرپر گٹھڑ لاد کر لانے والی بات بالکل قرین قیاس نہیں۔ چناچہ اس آیت کا اصل مفہوم یہ ہے کہ اس عورت کی حرکتیں جہنم کی آگ کا ایندھن اکٹھا کرنے اور اپنے شوہر کی آگ کو مزید بھڑکانے کے مترادف ہیں۔ جب یہ اپنے شوہر کے ساتھ جہنم میں جھونکی جائے گی اس وقت اس کا حال اس مجرم کا سا ہوگا جو اپنے جلانے کا ایندھن خود اٹھائے ہوئے ہو۔

المسد 111:5

آیت 5{ فِیْ جِیْدِہَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۔ } ”اس کے گلے میں بٹی ہوئی رسّی ہوگی۔“ آج یہ عورت اپنے گلے میں جو خوبصورت ہار پہنے پھرتی ہے کل آخرت میں یہی ہار اس کے گلے میں ایک مضبوط بٹی ہوئی رسّی کی صورت اختیار کرلے گاجیسی رسی ایندھن ڈھونڈنے والی لونڈیوں کے گلے میں پڑی ہوتی ہے۔ اس رسّی میں یہ اپنے اعمالِ بد کا ایندھن باندھ کر جہنم میں لے جائے گی اور اپنی اور اپنے شوہر کی آگ کو مزید بھڑکائے گی۔ مولانا شبیر احمد عثمانی رح نے لکھا ہے کہ ”شاید وہاں زقوم اور ضریع کی جو جہنم کے خاردار درخت ہیں لکڑیاں اٹھائے پھرے اور ان کے ذریعے سے اپنے شوہر پر عذاب الٰہی کی آگ کو تیز کرتی رہے۔“

الإخلاص 112:1

آیت 1{ قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔ } ”کہہ دیجیے وہ اللہ یکتا ہے۔“ اَحَد : وہ اکیلا اور یکتا جس کی ذات اور صفات میں کوئی شریک نہیں۔ وہی اکیلا ربّ ہے ‘ کسی دوسرے کا ربوبیت اور الوہیت میں کوئی حصہ نہیں۔ وہی تنہا کائنات کا خالق ‘ مالک الملک اور نظام عالم کا مدبر و منتظم ہے۔

الإخلاص 112:2

آیت 2 { اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ } ”اللہ سب کا مرجع ہے۔“ صَمَد کے لغوی معنی ایسی مضبوط چٹان کے ہیں جس کو سہارا بنا کر کوئی جنگجو اپنے دشمن کے خلاف لڑتا ہے تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کرسکے۔ بعد میں یہ لفظ اسی مفہوم میں ایسے بڑے بڑے سرداروں کے لیے بھی استعمال ہونے لگا جو لوگوں کو پناہ دیتے تھے اور جن سے لوگ اپنے مسائل کے لیے رجوع کرتے تھے۔ اس طرح اس لفظ میں مضبوط سہارے اور مرجع جس کی طرف رجوع کیا جائے کے معنی مستقل طور پر آگئے۔ چناچہ اَللّٰہُ الصَّمَدُ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوقات کا مرجع اور مضبوط سہارا ہے۔ وہ خود بخود قائم ہے ‘ اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔ باقی تمام مخلوقات کو اس کے سہارے کی ضرورت ہے اور تمام مخلوق کی زندگی اور ہرچیز کا وجود اسی کی بدولت ہے۔ { وَلاَ یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلاَّ بِمَا شَآئَج } البقرۃ : 255 ”اور وہ احاطہ نہیں کرسکتے اللہ کے علم میں سے کسی شے کا بھی سوائے اس کے جو وہ خود چاہے“۔ ظاہر ہے وہ الحی اور القیوم ہے ‘ یعنی خود زندہ ہے اور تمام مخلوق کو تھامے ہوئے ہے۔ باقی تمام مخلوقات کے ہر فرد کا وجود مستعار ہے اور کائنات میں جو زندہ چیزیں ہیں ان کی زندگی بھی مستعار ہے۔ جیسے ہم انسانوں کی زندگی بھی ”عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن !“ کے مصداق اسی کی عطا کردہ ہے۔

الإخلاص 112:3

آیت 3{ لَمْ یَلِدْ لا وَلَمْ یُوْلَدْ۔ } ”نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔“ یعنی نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔ یہ نکتہ سورة الجن میں بایں الفاظ واضح فرمایا گیا : { مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّلَا وَلَدًا۔ } ”اس نے اپنے لیے نہ کوئی بیوی اختیار کی ہے اور نہ کوئی اولاد“۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے ہیں اور یہودیوں کے بعض فرقے حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا مانتے تھے۔ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتاتے تھے۔ اس آیت میں ایسے تمام عقائد باطلہ کی نفی کردی گئی ہے۔

الإخلاص 112:4

آیت 4 { وَلَمْ یَکُنْ لَّـہٗ کُفُوًا اَ حَدٌ۔ } ”اور کوئی بھی اس کا کفو نہیں ہے۔“ کُفْو کے معنی ہم سر کے ہیں ‘ جو قدرت ‘ علم ‘ حکمت اور دیگر صفات میں ہم پلہ اور ہم پایہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا نہ تو کوئی ہم پلہ اور برابری کرنے والا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی ضد ‘ ند ‘ مثل ‘ مثال ‘ مثیل وغیرہ ہے۔

الفلق 113:1

آیت 1{ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔ } ”کہو کہ میں پناہ میں آتا ہوں صبح کے رب کی۔“ فَلَقَ یَفْلِقُکے معنی کسی چیز کو پھاڑنے کے ہیں۔ سورة الانعام کی آیت 96 میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے حوالے سے { فَالِقُ الْاِصْبَاحِ } کے الفاظ آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رات کی تاریکی کا پردہ چاک کر کے سپیدئہ سحر نمودار کرتا ہے۔ البتہ اسی سورت کی آیت 95 میں یہ لفظ دانوں اور گٹھلیوں وغیرہ کے پھاڑنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوا ہے : { اِنَّ اللّٰہَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰی }۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے زمین کے اندر دانوں یا گٹھلیوں کو پھاڑتا ہے تو پودوں یا درختوں کی پتیاں اور جڑیں نکلتی ہیں۔ چناچہ فلق سے مراد یہاں صرف صبح ہی نہیں بلکہ ہر وہ چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عدم کا پردہ چاک کر کے وجود بخشا ہے۔ جیسے کہ اگلی آیت میں واضح کردیا گیا :

الفلق 113:2

آیت 2{ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔ } ”میں پناہ میں آتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کے شر سے۔“ یعنی ”شر“ مستقل طور پر علیحدہ وجود رکھنے والی کوئی چیز نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی مختلف مخلوقات کے اندر ہی کا ایک عنصر ہے۔ اس نکتے کو یوں سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر قسم کے نقص یا عیب سے پاک ہے۔ لیکن اس کی مخلوق اپنے خالق کی طرح کامل نہیں ہوسکتی۔ چناچہ ہر مخلوق کے اندر کمی یا تقصیر و تنقیص کا کوئی نہ کوئی پہلو یا عنصر بالقوہ potentially موجود ہے۔ جیسے خود انسان کی متعدد کمزوریوں کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ سورة النساء میں فرمایا گیا : { وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا۔ } کہ انسان بنیادی طور پر کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں { وَکَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا۔ } کے الفاظ میں انسان کی جلد بازی کا ذکر ہوا۔ سورة المعارج میں اس کی تین کمزوریوں کا ذکر بایں الفاظ ہوا : { اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ہَلُوْعًا - اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعًا - وَّاِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا۔ } ”یقینا انسان پیدا کیا گیا ہے تھڑدلا۔ جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے۔ اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے۔“ گویا انسان روحانی طور پر اگرچہ احسن تقویم کے درجے میں پیدا کیا گیا ہے ‘ لیکن اس کے حیوانی اور مادی وجود میں مذکورہ خامیوں سمیت بہت سی کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح ہر مخلوق میں مختلف کمزوریوں کے متعدد پہلو پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے ’ شر ‘ جنم لیتا ہے۔ چناچہ اس آیت کا مفہوم یوں ہوگا کہ اے پروردگار ! تیری جس جس مخلوق میں شر کے جو جو پہلو پائے جاتے ہیں میں ان میں سے ہر قسم کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔

الفلق 113:3

آیت 3{ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ۔ } ”اور خاص طور پر اندھیرے کے شر سے جب وہ چھا جائے۔“ ظاہر ہے رات کے اندھیرے میں انسانوں ‘ جنوں اور ضرر رساں جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں کی صورت میں شر پھیلانے والے عناصر زیادہ فعال اور مستعد ہوجاتے ہیں۔ گویا رات کا اندھیرا بذات خود ایک بہت بڑا شر ہے جس سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنا ضروری ہے۔

الفلق 113:4

آیت 4{ وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ۔ } ”اور ان عورتوں کے شر سے جو گرہیں باندھ کر پھونکیں مارتی ہیں۔“ یعنی وہ تمام ٹونے ٹوٹکے ‘ تعویذ گنڈے اور سفلی عملیات جن کے ذریعے سے کسی انسان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس موضوع کے حوالے سے یہاں یہ نکتہ اچھی طرح سے سمجھ لیجیے کہ کسی چیز کا بالفعل موجود ہونا اور بات ہے اور اس چیز کا حلال ‘ حرام یا جائز ‘ ناجائزہونا الگ بات ہے۔ مثلاً جادو ایک حقیقت ہے لیکن کفر ہے۔ شراب اپنی ایک مخصوص تاثیر رکھتی ہے لیکن حرام ہے۔ اسی طرح علم نجوم ‘ پامسٹری ہاتھ کی لکیروں کا علم اور سفلی عملیات کی حقیقت اور تاثیر سے انکار نہیں کیا جاسکتا ظاہر ہے جب ہم اچھے وظائف و کلمات کی اچھی تاثیر کو مانتے ہیں تو ہمیں سفلی و شیطانی کلمات وغیرہ کی منفی تاثیر کا بھی اقرار کرنا پڑے گا لیکن شریعت نے ہمیں ایسے علوم سے استفادہ کرنے اور ایسے علوم کی بنیاد پر کیے گئے دعو وں پر یقین کرنے سے منع کردیا ہے۔ ظاہر ہے اس نوعیت کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نہ تو موثر ہوسکتی ہیں اور نہ ہی کسی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس لیے ان کے شر سے بچنے کا آسان اور موثر طریقہ یہی ہے کہ انسان خود کو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دے دے۔

الفلق 113:5

آیت 5{ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۔ } ”اور حسد کرنے والے کے شر سے بھی میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جب وہ حسد کرے۔“ ظاہر ہے جب ایک انسان کسی دوسرے انسان سے حسد کرتا ہے تو عین ممکن ہے وہ اپنے حاسدانہ جذبات سے مغلوب ہو کر عملی طور پر بھی اسے نقصان پہنچانے کے درپے ہوجائے۔ حضرت ابوہریرہ رض سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اَلْعَیْنُ حَقٌّ 1 یعنی نظر لگ جانا برحق ہے۔ چناچہ حاسدانہ نگاہ بذات خود بھی منفی اثرات کی حامل ہوسکتی ہے۔ اس لیے حاسد کے شر سے بچنے کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ کی ضرورت ہے۔ بہرحال جادو ‘ ٹونے ‘ تعویذ گنڈے ‘ نظر بد وغیرہ کے اثرات اپنی جگہ مسلم ّہیں۔ سورة البقرۃ کی آیت 102 میں شیاطین ِجن کا ذکر آیا ہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے۔ بلکہ یہ گھنائونا کاروبار کسی نہ کسی انداز سے ہر زمانے میں چلتا رہا ہے۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ ایسی چیزیں سیکھنے سکھانے اور پھر مختلف دعو وں کے ساتھ اپنا کاروبار چمکانے میں مصروف ہیں۔ البتہ جیسا کہ قبل ازیں بھی وضاحت کی جا چکی ہے ہماری شریعت میں ایسی چیزیں سیکھنا اور پھر کسی بھی انداز میں ان سے استفادہ کرنا حرام ہے۔ اس حوالے سے ایک بندئہ مومن کو اپنے دل میں پختہ یقین رکھنا چاہیے کہ ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر اسے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی ‘ جیسا کہ سورة البقرۃ کی مذکورہ آیت میں بھی واضح کیا گیا ہے : { وَمَاھُمْ بِضَآرِّیْنَ بِہٖ مِنْ اَحَدٍ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِط } آیت 102۔ ایک بندئہ مومن کو یہ بھی یقین رکھنا چاہیے کہ جو تکلیف بھی آئے گی وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہی آئے گی یہ بھی ممکن ہے کہ کسی وجہ سے اللہ تعالیٰ خود کسی انسان کو کسی تکلیف یا مشکل سے دوچار کرنا چاہے اور اللہ کے اذن سے ہی دور ہوگی۔ جہاں تک ایسی چیزوں سے حفاظتی تدابیر اپنانے یا ایسے کسی شیطانی حملے کے توڑ کرنے کا تعلق ہے تو ان دو سورتوں مُعَوِّذَتَین کے ہوتے ہوئے ایک بندئہ مسلمان کو کسی اور عمل ‘ تعویذ یا تدبیر کی ضرورت نہیں ہے۔ ظاہر ہے یہ سورتیں اسی مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو سکھائی تھیں اور اس لحاظ سے یہ حضور ﷺ کی وساطت سے امت کے لیے ایک بیش بہا تحفے کا درجہ رکھتی ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رض روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ معمول تھا کہ ہر شب آرام کرنے سے پہلے آخری تینوں سورتیں سورۃ الاخلاص اور معوذتین پڑھ کر اپنے مبارک ہاتھوں پر دم فرماتے اور پھر اپنے سارے جسم پر پھیر لیتے۔ مزید برآں شیطانی اثرات اور نظربد وغیرہ سے حفاظت کے لیے احادیث میں متعدد ادعیہ ماثورہ بھی وارد ہوئی ہیں ‘ جن کو ہمیں اپنا معمول بنانا چاہیے۔

الناس 114:1

آیت 1{ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔ } ”کہیے کہ میں پناہ میں آتا ہوں تمام انسانوں کے رب کی۔“ یہاں سب سے پہلے ”رَبّ الناس“ لوگوں کا پروردگار کے کلمات سے اللہ تعالیٰ کا تعارف کرایا گیا ہے کہ تمہیں ایسی ذات سے پناہ مانگنے کا حکم دیا جا رہا ہے جو تمہاری جملہ ضروریات کا کفیل ہے۔

الناس 114:2

آیت 2{ مَلِکِ النَّاسِ۔ } ”تمام انسانوں کے بادشاہ کی۔“ وہ تمام انسانوں کا صرف پروردگار ہی نہیں ‘ ان کا بادشاہ اور فرماں روا بھی ہے۔ اس کا حکم ہر وقت ‘ ہر جگہ اور ہرچیز پر نافذ ہے۔

الناس 114:3

آیت 3{ اِلٰـہِ النَّاسِ۔ } ”تمام انسانوں کے معبود کی۔“ انسانوں کا رب اور بادشاہ ہونے کے علاوہ وہ ان کا معبود بھی ہے ‘ چناچہ وہ ان پر کامل اقتدار اور اختیار رکھتا ہے اور ان کی حفاظت پر پوری طرح قادر ہے۔

الناس 114:4

آیت 4{ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِلا الْخَنَّاسِ۔ } ”اس بار بار وسوسہ ڈالنے والے ‘ پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔“ شیطان کی وسوسہ اندازی کا طریق کار یہ ہے کہ وہ لگاتار اپنی کوشش جاری رکھتا ہے اور انسان کو گمراہ کرنے کی کوششوں سے تھکتا نہیں۔ کبھی حملہ کرتا ہے ‘ کبھی دفاعی پسپائی اختیار کرتا ہے اور پھر پلٹ کر حملہ آور ہوتا ہے۔

الناس 114:5

آیت 4{ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِلا الْخَنَّاسِ۔ } ”اس بار بار وسوسہ ڈالنے والے ‘ پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔“ شیطان کی وسوسہ اندازی کا طریق کار یہ ہے کہ وہ لگاتار اپنی کوشش جاری رکھتا ہے اور انسان کو گمراہ کرنے کی کوششوں سے تھکتا نہیں۔ کبھی حملہ کرتا ہے ‘ کبھی دفاعی پسپائی اختیار کرتا ہے اور پھر پلٹ کر حملہ آور ہوتا ہے۔

الناس 114:6

آیت 6{ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ۔ } ”خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔“ انسان کے دل و دماغ پر شیطانی وساوس کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں اس کی وضاحت حضور ﷺ کے اس فرمان سے ملتی ہے۔ اُمّ المومنین حضرت صفیہ رض بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِیْ مِنَ الْاِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ 1 ”شیطان انسان کے وجود میں خون کی مانند گردش کرتا ہے“۔ گویا شیطان نفس انسانی کے اندر موجود حیوانی شہوات اور سفلی داعیات فرائیڈ اسے id یا libido کا نام دیتا ہے کو بھڑکاتا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ شیطان اپنی تھوتھنی انسان کے دل پر رکھ کر پھونکیں مارتا ہے اور اس طرح اس کے جذبات و شہوات میں اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو انسان کے دل میں وسوسے پیدا کرنے اور اس کے جذبات کو انگیخت دینے کی حد تک اختیار دیا ہے۔ اس سے بڑھ کر انسان سے زبردستی کوئی عمل کرانے کا اختیار اسے نہیں دیا گیا۔ بہرحال نفس انسانی بعض اوقات شیطان کے بہکاوے میں آکر متعلقہ انسان کے لیے شیطان کا نمائندہ بن جاتا ہے اور پھر بالکل شیطان ہی کی طرح اس کے دل میں وسوسہ اندازی شروع کردیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة قٓ میں ارشاد فرمایا ہے : { وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ } آیت 16 ”اور ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم خوب جانتے ہیں جو اس کا نفس وسوسے ڈالتا ہے“۔ ایسے نفس انسانی کو سورة یوسف علیہ السلام کی آیت 53 میں ”نفس امارہ“ کا نام دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے اہم اور بنیادی بات سمجھنے کی یہ ہے کہ شیطان اسی دل پر اپنی تھوتھنی رکھ کر پھونکیں مارتا ہے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے جو دل اللہ کی یاد سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جو دل اللہ کی یاد میں مشغول اور اس کے ذکر سے معمور ہوتا ہے شیطان اس سے دور رہتا ہے۔ بہرحال شیطان کے تمام وسوسے اور حربے انسان کے اپنے نفس کے ذریعے سے ہی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں اور یہ سورت خصوصی طور پر شیطانی وساوس کے توڑ کے لیے نازل ہوئی ہے۔بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایّاکم بالآیات والذّکر الحکیم oo