Tazkirul Quran(Maulana Wahiduddin Khan) — البقرة 2:224 – آل عمران 3:167
Contents
- البقرة 2:224
- البقرة 2:225
- البقرة 2:226
- البقرة 2:227
- البقرة 2:228
- البقرة 2:229
- البقرة 2:230
- البقرة 2:231
- البقرة 2:232
- البقرة 2:233
- البقرة 2:234
- البقرة 2:235
- البقرة 2:236
- البقرة 2:237
- البقرة 2:238
- البقرة 2:239
- البقرة 2:240
- البقرة 2:241
- البقرة 2:242
- البقرة 2:243
- البقرة 2:244
- البقرة 2:245
- البقرة 2:246
- البقرة 2:247
- البقرة 2:248
- البقرة 2:249
- البقرة 2:250
- البقرة 2:251
- البقرة 2:252
- البقرة 2:253
- البقرة 2:254
- البقرة 2:255
- البقرة 2:256
- البقرة 2:257
- البقرة 2:258
- البقرة 2:259
- البقرة 2:260
- البقرة 2:261
- البقرة 2:262
- البقرة 2:263
- البقرة 2:264
- البقرة 2:265
- البقرة 2:266
- البقرة 2:267
- البقرة 2:268
- البقرة 2:269
- البقرة 2:270
- البقرة 2:271
- البقرة 2:272
- البقرة 2:273
- البقرة 2:274
- البقرة 2:275
- البقرة 2:276
- البقرة 2:277
- البقرة 2:278
- البقرة 2:279
- البقرة 2:280
- البقرة 2:281
- البقرة 2:282
- البقرة 2:283
- البقرة 2:284
- البقرة 2:285
- البقرة 2:286
- آل عمران 3:1
- آل عمران 3:2
- آل عمران 3:3
- آل عمران 3:4
- آل عمران 3:5
- آل عمران 3:6
- آل عمران 3:7
- آل عمران 3:8
- آل عمران 3:9
- آل عمران 3:10
- آل عمران 3:11
- آل عمران 3:12
- آل عمران 3:13
- آل عمران 3:14
- آل عمران 3:15
- آل عمران 3:16
- آل عمران 3:17
- آل عمران 3:18
- آل عمران 3:19
- آل عمران 3:20
- آل عمران 3:21
- آل عمران 3:22
- آل عمران 3:23
- آل عمران 3:24
- آل عمران 3:25
- آل عمران 3:26
- آل عمران 3:27
- آل عمران 3:28
- آل عمران 3:29
- آل عمران 3:30
- آل عمران 3:31
- آل عمران 3:32
- آل عمران 3:33
- آل عمران 3:34
- آل عمران 3:35
- آل عمران 3:36
- آل عمران 3:37
- آل عمران 3:38
- آل عمران 3:39
- آل عمران 3:40
- آل عمران 3:41
- آل عمران 3:42
- آل عمران 3:43
- آل عمران 3:44
- آل عمران 3:45
- آل عمران 3:46
- آل عمران 3:47
- آل عمران 3:48
- آل عمران 3:49
- آل عمران 3:50
- آل عمران 3:51
- آل عمران 3:52
- آل عمران 3:53
- آل عمران 3:54
- آل عمران 3:55
- آل عمران 3:56
- آل عمران 3:57
- آل عمران 3:58
- آل عمران 3:59
- آل عمران 3:60
- آل عمران 3:61
- آل عمران 3:62
- آل عمران 3:63
- آل عمران 3:64
- آل عمران 3:65
- آل عمران 3:66
- آل عمران 3:67
- آل عمران 3:68
- آل عمران 3:69
- آل عمران 3:70
- آل عمران 3:71
- آل عمران 3:72
- آل عمران 3:73
- آل عمران 3:74
- آل عمران 3:75
- آل عمران 3:76
- آل عمران 3:77
- آل عمران 3:78
- آل عمران 3:79
- آل عمران 3:80
- آل عمران 3:81
- آل عمران 3:82
- آل عمران 3:83
- آل عمران 3:84
- آل عمران 3:85
- آل عمران 3:86
- آل عمران 3:87
- آل عمران 3:88
- آل عمران 3:89
- آل عمران 3:90
- آل عمران 3:91
- آل عمران 3:92
- آل عمران 3:93
- آل عمران 3:94
- آل عمران 3:95
- آل عمران 3:96
- آل عمران 3:97
- آل عمران 3:98
- آل عمران 3:99
- آل عمران 3:100
- آل عمران 3:101
- آل عمران 3:102
- آل عمران 3:103
- آل عمران 3:104
- آل عمران 3:105
- آل عمران 3:106
- آل عمران 3:107
- آل عمران 3:108
- آل عمران 3:109
- آل عمران 3:110
- آل عمران 3:111
- آل عمران 3:112
- آل عمران 3:113
- آل عمران 3:114
- آل عمران 3:115
- آل عمران 3:116
- آل عمران 3:117
- آل عمران 3:118
- آل عمران 3:119
- آل عمران 3:120
- آل عمران 3:121
- آل عمران 3:122
- آل عمران 3:123
- آل عمران 3:124
- آل عمران 3:125
- آل عمران 3:126
- آل عمران 3:127
- آل عمران 3:128
- آل عمران 3:129
- آل عمران 3:130
- آل عمران 3:131
- آل عمران 3:132
- آل عمران 3:133
- آل عمران 3:134
- آل عمران 3:135
- آل عمران 3:136
- آل عمران 3:137
- آل عمران 3:138
- آل عمران 3:139
- آل عمران 3:140
- آل عمران 3:141
- آل عمران 3:142
- آل عمران 3:143
- آل عمران 3:144
- آل عمران 3:145
- آل عمران 3:146
- آل عمران 3:147
- آل عمران 3:148
- آل عمران 3:149
- آل عمران 3:150
- آل عمران 3:151
- آل عمران 3:152
- آل عمران 3:153
- آل عمران 3:154
- آل عمران 3:155
- آل عمران 3:156
- آل عمران 3:157
- آل عمران 3:158
- آل عمران 3:159
- آل عمران 3:160
- آل عمران 3:161
- آل عمران 3:162
- آل عمران 3:163
- آل عمران 3:164
- آل عمران 3:165
- آل عمران 3:166
- آل عمران 3:167
البقرة 2:224
ضد اور غصہ میں کبھی ایک آدمی قسم کھالیتا ہے کہ میں فلاں آدمی کے ساتھ کوئی نیک سلوک نہیں کروں گا۔ قدیم زمانہ میں عربوں میں اس طرح کی قسموں کا بہت رواج تھا۔ وہ ایک بھلائی کا کام یا ایک اصلاح کا کام نہ کرنے کی قسم کھالیتے اور جب ان کو اس نوعیت کے کام کے لیے پکارا جاتا تو کہہ دیتے کہ ہم تو اس کو نہ کرنے کی قسم کھا چکے ہیں۔یہ کہنا کہ میں بھلائی کا کام نہ کروں گا ، یوں بھی ایک غلط بات ہے اور اس کو خدا کے نام کی قسم کھا کر کہنا اور بھی زیادہ برا ہے۔ کیوں کہ خدا تو وہ ہستی ہے جو سراپا رحمت اور خیر ہے۔ پھر ایسے خدا کا نام لے کر اپنے کو رحمت اور خیر کے کاموں سے الگ کرنا کیوں کر درست ہوسکتا ہے — بگاڑ ہر حال میں برا ہے۔ لیکن اگر بگاڑ کو خدایا اس کے دین کا نام لے کر کیا جائے تو اس کی برائی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
بعض لوگ قسم کو تکیہ کلام بنا لیتے ہیں اور غیر ارادی طورپر قسم کے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ یہ ایک لغو بات ہے اور ہر آدمی کو اس سے بچنا چاہيے۔ تاہم میاں بیوی کے تعلق کی نزاکت کی وجہ سے اس طرح کے معاملات میں ایسی قسم کو قانونی طورپر غیر موثر قرار دیا گیا۔ البتہ وہ کلام جو آدمی سوچ سمجھ کر منھ سے نکالے اور جس کے ساتھ قلبی ارادہ شامل ہوجائے، اس کی نوعیت بالکل دوسری ہوتی ہے۔ اس ليے اگر کوئی شخص ارادۃً یہ قسم کھالے کہ میں اپنی عورت کے پاس نہ جاؤں گا تو اس کو قابل لحاظ قرار دے کر اس کو ایک قانونی مسئلہ بنا دیا گیا اور اس کے احکام مقرر کيے گئے۔
خاندانی نظام میں، خواہ مرد ہو یا عورت، ہر ایک کے حقوق بھی ہیں اور ہر ایک کی ذمہ داریاں بھی۔ ہر فرد کو چاہيے کہ دوسرے سے اپنا حق لینے کے ساتھ دوسرے کو اس کاحق بھی پوری طرح ادا کرے۔ کوئی شخص اتفاقی حالات یا اپنی فطری بالا دستی سے فائدہ اٹھا کر اگر دوسرے کے ساتھ نا انصافی کرے گا تو وہ خدا کی پکڑ سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔
البقرة 2:225
ضد اور غصہ میں کبھی ایک آدمی قسم کھالیتا ہے کہ میں فلاں آدمی کے ساتھ کوئی نیک سلوک نہیں کروں گا۔ قدیم زمانہ میں عربوں میں اس طرح کی قسموں کا بہت رواج تھا۔ وہ ایک بھلائی کا کام یا ایک اصلاح کا کام نہ کرنے کی قسم کھالیتے اور جب ان کو اس نوعیت کے کام کے لیے پکارا جاتا تو کہہ دیتے کہ ہم تو اس کو نہ کرنے کی قسم کھا چکے ہیں۔یہ کہنا کہ میں بھلائی کا کام نہ کروں گا ، یوں بھی ایک غلط بات ہے اور اس کو خدا کے نام کی قسم کھا کر کہنا اور بھی زیادہ برا ہے۔ کیوں کہ خدا تو وہ ہستی ہے جو سراپا رحمت اور خیر ہے۔ پھر ایسے خدا کا نام لے کر اپنے کو رحمت اور خیر کے کاموں سے الگ کرنا کیوں کر درست ہوسکتا ہے — بگاڑ ہر حال میں برا ہے۔ لیکن اگر بگاڑ کو خدایا اس کے دین کا نام لے کر کیا جائے تو اس کی برائی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
بعض لوگ قسم کو تکیہ کلام بنا لیتے ہیں اور غیر ارادی طورپر قسم کے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ یہ ایک لغو بات ہے اور ہر آدمی کو اس سے بچنا چاہيے۔ تاہم میاں بیوی کے تعلق کی نزاکت کی وجہ سے اس طرح کے معاملات میں ایسی قسم کو قانونی طورپر غیر موثر قرار دیا گیا۔ البتہ وہ کلام جو آدمی سوچ سمجھ کر منھ سے نکالے اور جس کے ساتھ قلبی ارادہ شامل ہوجائے، اس کی نوعیت بالکل دوسری ہوتی ہے۔ اس ليے اگر کوئی شخص ارادۃً یہ قسم کھالے کہ میں اپنی عورت کے پاس نہ جاؤں گا تو اس کو قابل لحاظ قرار دے کر اس کو ایک قانونی مسئلہ بنا دیا گیا اور اس کے احکام مقرر کيے گئے۔
خاندانی نظام میں، خواہ مرد ہو یا عورت، ہر ایک کے حقوق بھی ہیں اور ہر ایک کی ذمہ داریاں بھی۔ ہر فرد کو چاہيے کہ دوسرے سے اپنا حق لینے کے ساتھ دوسرے کو اس کاحق بھی پوری طرح ادا کرے۔ کوئی شخص اتفاقی حالات یا اپنی فطری بالا دستی سے فائدہ اٹھا کر اگر دوسرے کے ساتھ نا انصافی کرے گا تو وہ خدا کی پکڑ سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔
البقرة 2:226
ضد اور غصہ میں کبھی ایک آدمی قسم کھالیتا ہے کہ میں فلاں آدمی کے ساتھ کوئی نیک سلوک نہیں کروں گا۔ قدیم زمانہ میں عربوں میں اس طرح کی قسموں کا بہت رواج تھا۔ وہ ایک بھلائی کا کام یا ایک اصلاح کا کام نہ کرنے کی قسم کھالیتے اور جب ان کو اس نوعیت کے کام کے لیے پکارا جاتا تو کہہ دیتے کہ ہم تو اس کو نہ کرنے کی قسم کھا چکے ہیں۔یہ کہنا کہ میں بھلائی کا کام نہ کروں گا ، یوں بھی ایک غلط بات ہے اور اس کو خدا کے نام کی قسم کھا کر کہنا اور بھی زیادہ برا ہے۔ کیوں کہ خدا تو وہ ہستی ہے جو سراپا رحمت اور خیر ہے۔ پھر ایسے خدا کا نام لے کر اپنے کو رحمت اور خیر کے کاموں سے الگ کرنا کیوں کر درست ہوسکتا ہے — بگاڑ ہر حال میں برا ہے۔ لیکن اگر بگاڑ کو خدایا اس کے دین کا نام لے کر کیا جائے تو اس کی برائی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
بعض لوگ قسم کو تکیہ کلام بنا لیتے ہیں اور غیر ارادی طورپر قسم کے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ یہ ایک لغو بات ہے اور ہر آدمی کو اس سے بچنا چاہيے۔ تاہم میاں بیوی کے تعلق کی نزاکت کی وجہ سے اس طرح کے معاملات میں ایسی قسم کو قانونی طورپر غیر موثر قرار دیا گیا۔ البتہ وہ کلام جو آدمی سوچ سمجھ کر منھ سے نکالے اور جس کے ساتھ قلبی ارادہ شامل ہوجائے، اس کی نوعیت بالکل دوسری ہوتی ہے۔ اس ليے اگر کوئی شخص ارادۃً یہ قسم کھالے کہ میں اپنی عورت کے پاس نہ جاؤں گا تو اس کو قابل لحاظ قرار دے کر اس کو ایک قانونی مسئلہ بنا دیا گیا اور اس کے احکام مقرر کيے گئے۔
خاندانی نظام میں، خواہ مرد ہو یا عورت، ہر ایک کے حقوق بھی ہیں اور ہر ایک کی ذمہ داریاں بھی۔ ہر فرد کو چاہيے کہ دوسرے سے اپنا حق لینے کے ساتھ دوسرے کو اس کاحق بھی پوری طرح ادا کرے۔ کوئی شخص اتفاقی حالات یا اپنی فطری بالا دستی سے فائدہ اٹھا کر اگر دوسرے کے ساتھ نا انصافی کرے گا تو وہ خدا کی پکڑ سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔
البقرة 2:227
ضد اور غصہ میں کبھی ایک آدمی قسم کھالیتا ہے کہ میں فلاں آدمی کے ساتھ کوئی نیک سلوک نہیں کروں گا۔ قدیم زمانہ میں عربوں میں اس طرح کی قسموں کا بہت رواج تھا۔ وہ ایک بھلائی کا کام یا ایک اصلاح کا کام نہ کرنے کی قسم کھالیتے اور جب ان کو اس نوعیت کے کام کے لیے پکارا جاتا تو کہہ دیتے کہ ہم تو اس کو نہ کرنے کی قسم کھا چکے ہیں۔یہ کہنا کہ میں بھلائی کا کام نہ کروں گا ، یوں بھی ایک غلط بات ہے اور اس کو خدا کے نام کی قسم کھا کر کہنا اور بھی زیادہ برا ہے۔ کیوں کہ خدا تو وہ ہستی ہے جو سراپا رحمت اور خیر ہے۔ پھر ایسے خدا کا نام لے کر اپنے کو رحمت اور خیر کے کاموں سے الگ کرنا کیوں کر درست ہوسکتا ہے — بگاڑ ہر حال میں برا ہے۔ لیکن اگر بگاڑ کو خدایا اس کے دین کا نام لے کر کیا جائے تو اس کی برائی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
بعض لوگ قسم کو تکیہ کلام بنا لیتے ہیں اور غیر ارادی طورپر قسم کے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ یہ ایک لغو بات ہے اور ہر آدمی کو اس سے بچنا چاہيے۔ تاہم میاں بیوی کے تعلق کی نزاکت کی وجہ سے اس طرح کے معاملات میں ایسی قسم کو قانونی طورپر غیر موثر قرار دیا گیا۔ البتہ وہ کلام جو آدمی سوچ سمجھ کر منھ سے نکالے اور جس کے ساتھ قلبی ارادہ شامل ہوجائے، اس کی نوعیت بالکل دوسری ہوتی ہے۔ اس ليے اگر کوئی شخص ارادۃً یہ قسم کھالے کہ میں اپنی عورت کے پاس نہ جاؤں گا تو اس کو قابل لحاظ قرار دے کر اس کو ایک قانونی مسئلہ بنا دیا گیا اور اس کے احکام مقرر کيے گئے۔
خاندانی نظام میں، خواہ مرد ہو یا عورت، ہر ایک کے حقوق بھی ہیں اور ہر ایک کی ذمہ داریاں بھی۔ ہر فرد کو چاہيے کہ دوسرے سے اپنا حق لینے کے ساتھ دوسرے کو اس کاحق بھی پوری طرح ادا کرے۔ کوئی شخص اتفاقی حالات یا اپنی فطری بالا دستی سے فائدہ اٹھا کر اگر دوسرے کے ساتھ نا انصافی کرے گا تو وہ خدا کی پکڑ سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔
البقرة 2:228
ضد اور غصہ میں کبھی ایک آدمی قسم کھالیتا ہے کہ میں فلاں آدمی کے ساتھ کوئی نیک سلوک نہیں کروں گا۔ قدیم زمانہ میں عربوں میں اس طرح کی قسموں کا بہت رواج تھا۔ وہ ایک بھلائی کا کام یا ایک اصلاح کا کام نہ کرنے کی قسم کھالیتے اور جب ان کو اس نوعیت کے کام کے لیے پکارا جاتا تو کہہ دیتے کہ ہم تو اس کو نہ کرنے کی قسم کھا چکے ہیں۔یہ کہنا کہ میں بھلائی کا کام نہ کروں گا ، یوں بھی ایک غلط بات ہے اور اس کو خدا کے نام کی قسم کھا کر کہنا اور بھی زیادہ برا ہے۔ کیوں کہ خدا تو وہ ہستی ہے جو سراپا رحمت اور خیر ہے۔ پھر ایسے خدا کا نام لے کر اپنے کو رحمت اور خیر کے کاموں سے الگ کرنا کیوں کر درست ہوسکتا ہے — بگاڑ ہر حال میں برا ہے۔ لیکن اگر بگاڑ کو خدایا اس کے دین کا نام لے کر کیا جائے تو اس کی برائی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
بعض لوگ قسم کو تکیہ کلام بنا لیتے ہیں اور غیر ارادی طورپر قسم کے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ یہ ایک لغو بات ہے اور ہر آدمی کو اس سے بچنا چاہيے۔ تاہم میاں بیوی کے تعلق کی نزاکت کی وجہ سے اس طرح کے معاملات میں ایسی قسم کو قانونی طورپر غیر موثر قرار دیا گیا۔ البتہ وہ کلام جو آدمی سوچ سمجھ کر منھ سے نکالے اور جس کے ساتھ قلبی ارادہ شامل ہوجائے، اس کی نوعیت بالکل دوسری ہوتی ہے۔ اس ليے اگر کوئی شخص ارادۃً یہ قسم کھالے کہ میں اپنی عورت کے پاس نہ جاؤں گا تو اس کو قابل لحاظ قرار دے کر اس کو ایک قانونی مسئلہ بنا دیا گیا اور اس کے احکام مقرر کيے گئے۔
خاندانی نظام میں، خواہ مرد ہو یا عورت، ہر ایک کے حقوق بھی ہیں اور ہر ایک کی ذمہ داریاں بھی۔ ہر فرد کو چاہيے کہ دوسرے سے اپنا حق لینے کے ساتھ دوسرے کو اس کاحق بھی پوری طرح ادا کرے۔ کوئی شخص اتفاقی حالات یا اپنی فطری بالا دستی سے فائدہ اٹھا کر اگر دوسرے کے ساتھ نا انصافی کرے گا تو وہ خدا کی پکڑ سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔
البقرة 2:229
طلاق ایک غیر معمولی واقعہ ہے جو غیر معمولی حالات میں پیش آتا ہے۔ مگر اس انتہائی جذباتی معاملہ میں بھی تقویٰ اور احسان پر قائم رہنے کا حکم دیاگیا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں مومن سے کس قسم کا سلوک اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔
نکاح کے رشتہ کو یکبارگی توڑنے کے بجائے اس کو تین مرحلوں میں انجام دینے کا حکم ہوا جو چند ماہ میں اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ ایک انتہائی ہیجانی معاملہ میں اس قسم کا سنجیدہ طریقہ مقرر کرکے بتایا گیا کہ اختلاف کے وقت مومن کا رویہ کیسا ہونا چاہیے۔ اپنے مخالف فریق کے ساتھ اس کا سلوک غیر جذباتی انداز میں سوچا ہوا صابرانہ فیصلہ ہو، نہ کہ اشتعال کے تحت ظاہر ہونے والا اچانک فیصلہ۔ اسی طرح طلاق کے جتنے آداب مقرر کيے گئے ہیں، سب میں زندگی کا بہت گہرا سبق موجود ہے— علیحدگی کا ارادہ کرنے کے بعد بھی آدمی ایک مدت تک دوبارہ اتحادکے امکان پر غور کرتا رہے۔ تعلقات کے خاتمہ کی نوبت آجائے تب بھی وہ اس کو حقوق انسانیت کے خاتمہ کے ہم معنی نہ بنائے۔ باہمی سلوک کے لیے اللہ کا جو قانون ہے اس کی مکمل پابندی کی جائے۔ شریعت کے کسی حکم کو قانونی حیلوں کے ذریعہ کالعدم نہ کیا جائے۔ قانون کی تعمیل میں صرف قانون كے الفاظ کو نہ دیکھا جائے بلکہ اس کی حکمت (روح قانون) کو بھی سامنے رکھا جائے۔ علیحدگی سے پہلے اپنے سابقہ ساتھی کو جو کچھ دیا تھا اس کو علیحدگی کے بعد واپس لینے کی کوشش نہ کی جائے۔ جس طرح تعلقات کے زمانہ کو خوش اسلوبی کے ساتھ گزارا تھا اسی طرح علیحدگی کے زمانہ کو بھی خوش اسلوبی کے ساتھ گزارا جائے۔
البقرة 2:230
طلاق ایک غیر معمولی واقعہ ہے جو غیر معمولی حالات میں پیش آتا ہے۔ مگر اس انتہائی جذباتی معاملہ میں بھی تقویٰ اور احسان پر قائم رہنے کا حکم دیاگیا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں مومن سے کس قسم کا سلوک اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔
نکاح کے رشتہ کو یکبارگی توڑنے کے بجائے اس کو تین مرحلوں میں انجام دینے کا حکم ہوا جو چند ماہ میں اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ ایک انتہائی ہیجانی معاملہ میں اس قسم کا سنجیدہ طریقہ مقرر کرکے بتایا گیا کہ اختلاف کے وقت مومن کا رویہ کیسا ہونا چاہیے۔ اپنے مخالف فریق کے ساتھ اس کا سلوک غیر جذباتی انداز میں سوچا ہوا صابرانہ فیصلہ ہو، نہ کہ اشتعال کے تحت ظاہر ہونے والا اچانک فیصلہ۔ اسی طرح طلاق کے جتنے آداب مقرر کيے گئے ہیں، سب میں زندگی کا بہت گہرا سبق موجود ہے— علیحدگی کا ارادہ کرنے کے بعد بھی آدمی ایک مدت تک دوبارہ اتحادکے امکان پر غور کرتا رہے۔ تعلقات کے خاتمہ کی نوبت آجائے تب بھی وہ اس کو حقوق انسانیت کے خاتمہ کے ہم معنی نہ بنائے۔ باہمی سلوک کے لیے اللہ کا جو قانون ہے اس کی مکمل پابندی کی جائے۔ شریعت کے کسی حکم کو قانونی حیلوں کے ذریعہ کالعدم نہ کیا جائے۔ قانون کی تعمیل میں صرف قانون كے الفاظ کو نہ دیکھا جائے بلکہ اس کی حکمت (روح قانون) کو بھی سامنے رکھا جائے۔ علیحدگی سے پہلے اپنے سابقہ ساتھی کو جو کچھ دیا تھا اس کو علیحدگی کے بعد واپس لینے کی کوشش نہ کی جائے۔ جس طرح تعلقات کے زمانہ کو خوش اسلوبی کے ساتھ گزارا تھا اسی طرح علیحدگی کے زمانہ کو بھی خوش اسلوبی کے ساتھ گزارا جائے۔
البقرة 2:231
طلاق ایک غیر معمولی واقعہ ہے جو غیر معمولی حالات میں پیش آتا ہے۔ مگر اس انتہائی جذباتی معاملہ میں بھی تقویٰ اور احسان پر قائم رہنے کا حکم دیاگیا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں مومن سے کس قسم کا سلوک اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔
نکاح کے رشتہ کو یکبارگی توڑنے کے بجائے اس کو تین مرحلوں میں انجام دینے کا حکم ہوا جو چند ماہ میں اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ ایک انتہائی ہیجانی معاملہ میں اس قسم کا سنجیدہ طریقہ مقرر کرکے بتایا گیا کہ اختلاف کے وقت مومن کا رویہ کیسا ہونا چاہیے۔ اپنے مخالف فریق کے ساتھ اس کا سلوک غیر جذباتی انداز میں سوچا ہوا صابرانہ فیصلہ ہو، نہ کہ اشتعال کے تحت ظاہر ہونے والا اچانک فیصلہ۔ اسی طرح طلاق کے جتنے آداب مقرر کيے گئے ہیں، سب میں زندگی کا بہت گہرا سبق موجود ہے— علیحدگی کا ارادہ کرنے کے بعد بھی آدمی ایک مدت تک دوبارہ اتحادکے امکان پر غور کرتا رہے۔ تعلقات کے خاتمہ کی نوبت آجائے تب بھی وہ اس کو حقوق انسانیت کے خاتمہ کے ہم معنی نہ بنائے۔ باہمی سلوک کے لیے اللہ کا جو قانون ہے اس کی مکمل پابندی کی جائے۔ شریعت کے کسی حکم کو قانونی حیلوں کے ذریعہ کالعدم نہ کیا جائے۔ قانون کی تعمیل میں صرف قانون كے الفاظ کو نہ دیکھا جائے بلکہ اس کی حکمت (روح قانون) کو بھی سامنے رکھا جائے۔ علیحدگی سے پہلے اپنے سابقہ ساتھی کو جو کچھ دیا تھا اس کو علیحدگی کے بعد واپس لینے کی کوشش نہ کی جائے۔ جس طرح تعلقات کے زمانہ کو خوش اسلوبی کے ساتھ گزارا تھا اسی طرح علیحدگی کے زمانہ کو بھی خوش اسلوبی کے ساتھ گزارا جائے۔
البقرة 2:232
ایک عورت کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی اور زمانہ عدت میں رجعت نہ کی۔ جب عدت ختم ہوچکی تو دوسرے لوگوں کے ساتھ پہلے شوہر نے بھی نکاح کا پیغام دیا۔ عورت نے اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا منظور کرلیا۔ مگر عورت کا بھائی غصہ میں آگیا اور نکاح کو روک دیا۔ اس پر یہ حکم اترا کہ جب دونوں دوبارہ ازدواجی تعلق قائم کرنے پر راضی ہیں تو تم رکاوٹ نہ ڈالو۔
طلاق کے بعد بھی اکثر بہت سے مسائل باقی رہتے ہیں۔ کبھی پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کا معاملہ ہوتا ہے۔ کبھی مطلقہ عورت کسی ووسرے مرد سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ ایسے مواقع پر مشکلات پیدا کرنا درست نہیں۔ کبھی مطلقہ عورت بچے والی ہوتی ہے اور سابقہ شوہر کے بچے کو دودھ پلانے کا مسئلہ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں ایک دوسرے کو تکلیف دینے سے منع کیا گیا اور حکم دیاگیا کہ معاملہ کو جذبات کا سوال نہ بناؤ، اس کو باہمی مشورہ اور رضا مندی سے طے کرلو — اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اختلاف اور علیحدگی کے وقت معاملہ کو نمٹانے کا مومنانہ طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ کہ طرفین کی جانب جو مسائل باقی رہ گئے ہوں ان کو ایک دوسرے کو پریشان کرنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے بلکہ ان کو ایسے ڈھنگ سے طے کیا جائے جو دونوں جانب کے لیے بہتر اور قابل قبول ہو۔ ایمان روح کی پاکیزگی ہے پھر جس کی روح پاک ہو چکی ہو وہ اپنے معاملات میں ناپاکی کا طریقہ کیسے اختیار کرسکتاہے۔
نصیحت کسی کے لیے صرف اس بنا پر قابل قبول نہیں ہوجاتی کہ وہ برحق ہے۔ ضروری ہے کہ سننے والا اللہ پر یقین رکھتاہو اور اس کی پکڑ سے ڈرنے والا ہو۔ وہ سمجھے کہ نصیحت کرنے والے کی نصیحت کو رد کرنے کے لیے آج اگر میں نے کچھ الفاظ پاليے تو اس سے اصل مسئلہ ختم نہیں ہوجاتا۔ کیوں کہ معاملہ بالآخر اللہ کی عدالت میں پیش ہونا ہے اور وہاں کسی قسم کا زور اور کوئی لفظی حجت کام آنے والی نہیں۔
البقرة 2:233
ایک عورت کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی اور زمانہ عدت میں رجعت نہ کی۔ جب عدت ختم ہوچکی تو دوسرے لوگوں کے ساتھ پہلے شوہر نے بھی نکاح کا پیغام دیا۔ عورت نے اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا منظور کرلیا۔ مگر عورت کا بھائی غصہ میں آگیا اور نکاح کو روک دیا۔ اس پر یہ حکم اترا کہ جب دونوں دوبارہ ازدواجی تعلق قائم کرنے پر راضی ہیں تو تم رکاوٹ نہ ڈالو۔
طلاق کے بعد بھی اکثر بہت سے مسائل باقی رہتے ہیں۔ کبھی پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کا معاملہ ہوتا ہے۔ کبھی مطلقہ عورت کسی ووسرے مرد سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ ایسے مواقع پر مشکلات پیدا کرنا درست نہیں۔ کبھی مطلقہ عورت بچے والی ہوتی ہے اور سابقہ شوہر کے بچے کو دودھ پلانے کا مسئلہ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں ایک دوسرے کو تکلیف دینے سے منع کیا گیا اور حکم دیاگیا کہ معاملہ کو جذبات کا سوال نہ بناؤ، اس کو باہمی مشورہ اور رضا مندی سے طے کرلو — اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اختلاف اور علیحدگی کے وقت معاملہ کو نمٹانے کا مومنانہ طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ کہ طرفین کی جانب جو مسائل باقی رہ گئے ہوں ان کو ایک دوسرے کو پریشان کرنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے بلکہ ان کو ایسے ڈھنگ سے طے کیا جائے جو دونوں جانب کے لیے بہتر اور قابل قبول ہو۔ ایمان روح کی پاکیزگی ہے پھر جس کی روح پاک ہو چکی ہو وہ اپنے معاملات میں ناپاکی کا طریقہ کیسے اختیار کرسکتاہے۔
نصیحت کسی کے لیے صرف اس بنا پر قابل قبول نہیں ہوجاتی کہ وہ برحق ہے۔ ضروری ہے کہ سننے والا اللہ پر یقین رکھتاہو اور اس کی پکڑ سے ڈرنے والا ہو۔ وہ سمجھے کہ نصیحت کرنے والے کی نصیحت کو رد کرنے کے لیے آج اگر میں نے کچھ الفاظ پاليے تو اس سے اصل مسئلہ ختم نہیں ہوجاتا۔ کیوں کہ معاملہ بالآخر اللہ کی عدالت میں پیش ہونا ہے اور وہاں کسی قسم کا زور اور کوئی لفظی حجت کام آنے والی نہیں۔
البقرة 2:234
نکاح اور طلاق کے قوانین بیان کرتے ہوئے بار بار تقویٰ اور احسان کی تلقین کی جارہی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی حکم کو اس کی اصلی روح کے ساتھ زیرِ عمل لانے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ کے افراد خالص قانونی معاملہ کرنے والے نہ ہوں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کا جذبہ رکھتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کو یہ کھٹکا لگا ہوا ہو کہ دوسرے کے ساتھ بہتر سلوک نہ کرنا خود اپنے بارے میں بہتر سلوک نہ کيے جانے کا خطرہ مول لینا ہے۔ کیوں کہ بالآخر سارا معاملہ خدا کے یہاں پیش ہونا ہے اور وہاں نہ لفظی تاویلیں کسی کے کام آئیں گی اور نہ کسی کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ وہ معاملہ سے متعلق کسی بات کو چھپا سکے۔
اگر نکاح کے وقت عورت کا مہر مقرر ہوا اور تعلق قائم ہونے سے پہلے طلاق ہوگئی تو باعتبار قانون آدھا مہر دینا لازم کیا گیا ہے۔ مگر خیرخواہی کا تقاضا ہے کہ دونوں فريق اس معاملہ میں قانونی برتاؤ کے بجائے فیاضانہ برتاؤ كا طريقه اختيار كرنا چاهيں۔ عورت کے اندر یہ مزاج ہو کہ جب تعلق قائم نہیں ہوا تو میں آدھا مہر بھی چھوڑ دوں۔ مرد کے اندر یہ جذبہ ابھرے کہ اگر چہ قانوناً میرے اوپر صرف آدھے کی ذمہ داری ہے مگر فیاضی کا تقاضا ہے کہ میں پورا کا پورا ادا کردوں— فیاضی اور وسعتِ ظرف کا یہی مزاج تمام معاملات میں مطلوب ہے۔ وہی معاشرہ مسلم معاشرہ ہے جس کے افراد کا یہ حال ہو کہ ہر ایک دوسرے کو دینا چاہے، نہ یہ کہ ہر ایک دوسرے سے لینے کا حریص بنا ہوا ہو۔ مزید یہ کہ وسعتِ ظرف کا یہ معاملہ دشمنی کے وقت بھی ہو، نہ کہ صرف دوستی کے وقت۔
البقرة 2:235
نکاح اور طلاق کے قوانین بیان کرتے ہوئے بار بار تقویٰ اور احسان کی تلقین کی جارہی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی حکم کو اس کی اصلی روح کے ساتھ زیرِ عمل لانے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ کے افراد خالص قانونی معاملہ کرنے والے نہ ہوں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کا جذبہ رکھتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کو یہ کھٹکا لگا ہوا ہو کہ دوسرے کے ساتھ بہتر سلوک نہ کرنا خود اپنے بارے میں بہتر سلوک نہ کيے جانے کا خطرہ مول لینا ہے۔ کیوں کہ بالآخر سارا معاملہ خدا کے یہاں پیش ہونا ہے اور وہاں نہ لفظی تاویلیں کسی کے کام آئیں گی اور نہ کسی کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ وہ معاملہ سے متعلق کسی بات کو چھپا سکے۔
اگر نکاح کے وقت عورت کا مہر مقرر ہوا اور تعلق قائم ہونے سے پہلے طلاق ہوگئی تو باعتبار قانون آدھا مہر دینا لازم کیا گیا ہے۔ مگر خیرخواہی کا تقاضا ہے کہ دونوں فريق اس معاملہ میں قانونی برتاؤ کے بجائے فیاضانہ برتاؤ كا طريقه اختيار كرنا چاهيں۔ عورت کے اندر یہ مزاج ہو کہ جب تعلق قائم نہیں ہوا تو میں آدھا مہر بھی چھوڑ دوں۔ مرد کے اندر یہ جذبہ ابھرے کہ اگر چہ قانوناً میرے اوپر صرف آدھے کی ذمہ داری ہے مگر فیاضی کا تقاضا ہے کہ میں پورا کا پورا ادا کردوں— فیاضی اور وسعتِ ظرف کا یہی مزاج تمام معاملات میں مطلوب ہے۔ وہی معاشرہ مسلم معاشرہ ہے جس کے افراد کا یہ حال ہو کہ ہر ایک دوسرے کو دینا چاہے، نہ یہ کہ ہر ایک دوسرے سے لینے کا حریص بنا ہوا ہو۔ مزید یہ کہ وسعتِ ظرف کا یہ معاملہ دشمنی کے وقت بھی ہو، نہ کہ صرف دوستی کے وقت۔
البقرة 2:236
نکاح اور طلاق کے قوانین بیان کرتے ہوئے بار بار تقویٰ اور احسان کی تلقین کی جارہی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی حکم کو اس کی اصلی روح کے ساتھ زیرِ عمل لانے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ کے افراد خالص قانونی معاملہ کرنے والے نہ ہوں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کا جذبہ رکھتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کو یہ کھٹکا لگا ہوا ہو کہ دوسرے کے ساتھ بہتر سلوک نہ کرنا خود اپنے بارے میں بہتر سلوک نہ کيے جانے کا خطرہ مول لینا ہے۔ کیوں کہ بالآخر سارا معاملہ خدا کے یہاں پیش ہونا ہے اور وہاں نہ لفظی تاویلیں کسی کے کام آئیں گی اور نہ کسی کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ وہ معاملہ سے متعلق کسی بات کو چھپا سکے۔
اگر نکاح کے وقت عورت کا مہر مقرر ہوا اور تعلق قائم ہونے سے پہلے طلاق ہوگئی تو باعتبار قانون آدھا مہر دینا لازم کیا گیا ہے۔ مگر خیرخواہی کا تقاضا ہے کہ دونوں فريق اس معاملہ میں قانونی برتاؤ کے بجائے فیاضانہ برتاؤ كا طريقه اختيار كرنا چاهيں۔ عورت کے اندر یہ مزاج ہو کہ جب تعلق قائم نہیں ہوا تو میں آدھا مہر بھی چھوڑ دوں۔ مرد کے اندر یہ جذبہ ابھرے کہ اگر چہ قانوناً میرے اوپر صرف آدھے کی ذمہ داری ہے مگر فیاضی کا تقاضا ہے کہ میں پورا کا پورا ادا کردوں— فیاضی اور وسعتِ ظرف کا یہی مزاج تمام معاملات میں مطلوب ہے۔ وہی معاشرہ مسلم معاشرہ ہے جس کے افراد کا یہ حال ہو کہ ہر ایک دوسرے کو دینا چاہے، نہ یہ کہ ہر ایک دوسرے سے لینے کا حریص بنا ہوا ہو۔ مزید یہ کہ وسعتِ ظرف کا یہ معاملہ دشمنی کے وقت بھی ہو، نہ کہ صرف دوستی کے وقت۔
البقرة 2:237
نکاح اور طلاق کے قوانین بیان کرتے ہوئے بار بار تقویٰ اور احسان کی تلقین کی جارہی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی حکم کو اس کی اصلی روح کے ساتھ زیرِ عمل لانے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ کے افراد خالص قانونی معاملہ کرنے والے نہ ہوں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کا جذبہ رکھتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کو یہ کھٹکا لگا ہوا ہو کہ دوسرے کے ساتھ بہتر سلوک نہ کرنا خود اپنے بارے میں بہتر سلوک نہ کيے جانے کا خطرہ مول لینا ہے۔ کیوں کہ بالآخر سارا معاملہ خدا کے یہاں پیش ہونا ہے اور وہاں نہ لفظی تاویلیں کسی کے کام آئیں گی اور نہ کسی کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ وہ معاملہ سے متعلق کسی بات کو چھپا سکے۔
اگر نکاح کے وقت عورت کا مہر مقرر ہوا اور تعلق قائم ہونے سے پہلے طلاق ہوگئی تو باعتبار قانون آدھا مہر دینا لازم کیا گیا ہے۔ مگر خیرخواہی کا تقاضا ہے کہ دونوں فريق اس معاملہ میں قانونی برتاؤ کے بجائے فیاضانہ برتاؤ كا طريقه اختيار كرنا چاهيں۔ عورت کے اندر یہ مزاج ہو کہ جب تعلق قائم نہیں ہوا تو میں آدھا مہر بھی چھوڑ دوں۔ مرد کے اندر یہ جذبہ ابھرے کہ اگر چہ قانوناً میرے اوپر صرف آدھے کی ذمہ داری ہے مگر فیاضی کا تقاضا ہے کہ میں پورا کا پورا ادا کردوں— فیاضی اور وسعتِ ظرف کا یہی مزاج تمام معاملات میں مطلوب ہے۔ وہی معاشرہ مسلم معاشرہ ہے جس کے افراد کا یہ حال ہو کہ ہر ایک دوسرے کو دینا چاہے، نہ یہ کہ ہر ایک دوسرے سے لینے کا حریص بنا ہوا ہو۔ مزید یہ کہ وسعتِ ظرف کا یہ معاملہ دشمنی کے وقت بھی ہو، نہ کہ صرف دوستی کے وقت۔
البقرة 2:238
نماز گویا دین کا خلاصہ ہے۔ نماز مومنانہ زندگی کی وہ مختصر تصویر ہے جو پھیلتی ہے تو مکمل اسلامی زندگی بن جاتی ہے۔ یہاں ایک مختصر فقرہ میں نماز کے تین اہم ترین اجزاء کو بیان کردیا گیا ہے(1)نماز کا پانچ وقت کے لیے فرض ہونا۔2) (نماز کا ایک قابل اہتمام چیز ہونا۔(3)یہ بات کہ نماز کی اصل حقیقت عجز ہے۔
’’پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو بیچ کی نماز کی‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ نمازوں میں ایک بیچ کی نماز ہے اور پھر اس کے دونوں طرف نمازیں ہیں۔ اس جملہ میں اطراف کی ’’نمازوں‘‘ سے کم از کم چار کا عدد مراد لینا ضروری ہے کیوں کہ عربی زبان میں صلوات (نمازوں) کا اطلاق تین یا اس سے زیادہ کے عدد کے لیے ہوتا ہے۔ پہلا ممکن عدد جس میں ’’نمازوں‘‘کے درمیان ایک ’’بیچ کی نماز‘‘ بن سکے چارہی ہے۔ اس طرح ایک نماز بیچ کی نماز ہو کر اس کے دونوں طرف دو دو نمازیں ہوجاتی ہے۔ ’’بیچ کی نماز‘‘ سے مراد عصر کی نماز ہے جیسا کہ روایات سے ثابت ہے۔ نماز کے دوسرے پہلو کو بتانے کے لیے ’’محافظت‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ گویا نماز اسی طرح حفاظت کی ایک چیز ہے جس طرح مال آدمی کے لیے حفاظت کی چیز ہوتا ہے۔ نماز کے اوقات کا پورا لحاظ، اس کو بتائے ہوئے طریقہ پر ادا کرنے کا اہتمام، ایسی چیزوں سے بالقصد پرہیز جو آدمی کی نماز میں کوئی خرابی پیدا کرنے والی ہوں وغیرہ، محافظت نماز میں شامل ہیں۔ نماز کا تیسرا پہلو عجز ہے۔ یہ نماز کی اصل روح ہے، نماز بندے کا اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس ليے ضروری ہے کہ نماز کے وقت آدمی کے اوپر وہ کیفیت طاری ہو جو سب سے بڑے کے آگے کھڑے ہونے کی صورت میں سب سے چھوٹے کے اوپر طاری ہوتی ہے۔
معاشرت کے احکام بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ ’’یہ حق ہے متقیوں کے اوپر‘‘ شریعت کے ایک اہم پہلو کو ظاہر کرتاہے۔ باہمی معاملات میں کچھ حقوق وہ ہیں جن کو قانون نے متعین کردیا ہے۔ مگر ایک آدمی پر دوسرے کے حقوق کی حدیں یہیں ختم نہیں ہوجاتیں۔ متعین حقوق کے علاوہ بھی کچھ حقوق ہیں۔ یہ حقوق وہ ہیں جن کو آدمی کا تقویٰ اس کو محسوس کراتاہے۔ اور آدمی کا متقیانہ احساس جتنا شدید ہو اتنا ہی زیادہ وہ اس کو اپنے اوپر لازم سمجھتا ہے۔ اندر کا یہ زوراگر موجود نہ ہو تو آدمی کبھی صحیح طورپر د وسروں کے حقوق ادا نہیں کرسکتا۔
البقرة 2:239
نماز گویا دین کا خلاصہ ہے۔ نماز مومنانہ زندگی کی وہ مختصر تصویر ہے جو پھیلتی ہے تو مکمل اسلامی زندگی بن جاتی ہے۔ یہاں ایک مختصر فقرہ میں نماز کے تین اہم ترین اجزاء کو بیان کردیا گیا ہے(1)نماز کا پانچ وقت کے لیے فرض ہونا۔2) (نماز کا ایک قابل اہتمام چیز ہونا۔(3)یہ بات کہ نماز کی اصل حقیقت عجز ہے۔
’’پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو بیچ کی نماز کی‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ نمازوں میں ایک بیچ کی نماز ہے اور پھر اس کے دونوں طرف نمازیں ہیں۔ اس جملہ میں اطراف کی ’’نمازوں‘‘ سے کم از کم چار کا عدد مراد لینا ضروری ہے کیوں کہ عربی زبان میں صلوات (نمازوں) کا اطلاق تین یا اس سے زیادہ کے عدد کے لیے ہوتا ہے۔ پہلا ممکن عدد جس میں ’’نمازوں‘‘کے درمیان ایک ’’بیچ کی نماز‘‘ بن سکے چارہی ہے۔ اس طرح ایک نماز بیچ کی نماز ہو کر اس کے دونوں طرف دو دو نمازیں ہوجاتی ہے۔ ’’بیچ کی نماز‘‘ سے مراد عصر کی نماز ہے جیسا کہ روایات سے ثابت ہے۔ نماز کے دوسرے پہلو کو بتانے کے لیے ’’محافظت‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ گویا نماز اسی طرح حفاظت کی ایک چیز ہے جس طرح مال آدمی کے لیے حفاظت کی چیز ہوتا ہے۔ نماز کے اوقات کا پورا لحاظ، اس کو بتائے ہوئے طریقہ پر ادا کرنے کا اہتمام، ایسی چیزوں سے بالقصد پرہیز جو آدمی کی نماز میں کوئی خرابی پیدا کرنے والی ہوں وغیرہ، محافظت نماز میں شامل ہیں۔ نماز کا تیسرا پہلو عجز ہے۔ یہ نماز کی اصل روح ہے، نماز بندے کا اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس ليے ضروری ہے کہ نماز کے وقت آدمی کے اوپر وہ کیفیت طاری ہو جو سب سے بڑے کے آگے کھڑے ہونے کی صورت میں سب سے چھوٹے کے اوپر طاری ہوتی ہے۔
معاشرت کے احکام بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ ’’یہ حق ہے متقیوں کے اوپر‘‘ شریعت کے ایک اہم پہلو کو ظاہر کرتاہے۔ باہمی معاملات میں کچھ حقوق وہ ہیں جن کو قانون نے متعین کردیا ہے۔ مگر ایک آدمی پر دوسرے کے حقوق کی حدیں یہیں ختم نہیں ہوجاتیں۔ متعین حقوق کے علاوہ بھی کچھ حقوق ہیں۔ یہ حقوق وہ ہیں جن کو آدمی کا تقویٰ اس کو محسوس کراتاہے۔ اور آدمی کا متقیانہ احساس جتنا شدید ہو اتنا ہی زیادہ وہ اس کو اپنے اوپر لازم سمجھتا ہے۔ اندر کا یہ زوراگر موجود نہ ہو تو آدمی کبھی صحیح طورپر د وسروں کے حقوق ادا نہیں کرسکتا۔
البقرة 2:240
نماز گویا دین کا خلاصہ ہے۔ نماز مومنانہ زندگی کی وہ مختصر تصویر ہے جو پھیلتی ہے تو مکمل اسلامی زندگی بن جاتی ہے۔ یہاں ایک مختصر فقرہ میں نماز کے تین اہم ترین اجزاء کو بیان کردیا گیا ہے(1)نماز کا پانچ وقت کے لیے فرض ہونا۔2) (نماز کا ایک قابل اہتمام چیز ہونا۔(3)یہ بات کہ نماز کی اصل حقیقت عجز ہے۔
’’پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو بیچ کی نماز کی‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ نمازوں میں ایک بیچ کی نماز ہے اور پھر اس کے دونوں طرف نمازیں ہیں۔ اس جملہ میں اطراف کی ’’نمازوں‘‘ سے کم از کم چار کا عدد مراد لینا ضروری ہے کیوں کہ عربی زبان میں صلوات (نمازوں) کا اطلاق تین یا اس سے زیادہ کے عدد کے لیے ہوتا ہے۔ پہلا ممکن عدد جس میں ’’نمازوں‘‘کے درمیان ایک ’’بیچ کی نماز‘‘ بن سکے چارہی ہے۔ اس طرح ایک نماز بیچ کی نماز ہو کر اس کے دونوں طرف دو دو نمازیں ہوجاتی ہے۔ ’’بیچ کی نماز‘‘ سے مراد عصر کی نماز ہے جیسا کہ روایات سے ثابت ہے۔ نماز کے دوسرے پہلو کو بتانے کے لیے ’’محافظت‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ گویا نماز اسی طرح حفاظت کی ایک چیز ہے جس طرح مال آدمی کے لیے حفاظت کی چیز ہوتا ہے۔ نماز کے اوقات کا پورا لحاظ، اس کو بتائے ہوئے طریقہ پر ادا کرنے کا اہتمام، ایسی چیزوں سے بالقصد پرہیز جو آدمی کی نماز میں کوئی خرابی پیدا کرنے والی ہوں وغیرہ، محافظت نماز میں شامل ہیں۔ نماز کا تیسرا پہلو عجز ہے۔ یہ نماز کی اصل روح ہے، نماز بندے کا اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس ليے ضروری ہے کہ نماز کے وقت آدمی کے اوپر وہ کیفیت طاری ہو جو سب سے بڑے کے آگے کھڑے ہونے کی صورت میں سب سے چھوٹے کے اوپر طاری ہوتی ہے۔
معاشرت کے احکام بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ ’’یہ حق ہے متقیوں کے اوپر‘‘ شریعت کے ایک اہم پہلو کو ظاہر کرتاہے۔ باہمی معاملات میں کچھ حقوق وہ ہیں جن کو قانون نے متعین کردیا ہے۔ مگر ایک آدمی پر دوسرے کے حقوق کی حدیں یہیں ختم نہیں ہوجاتیں۔ متعین حقوق کے علاوہ بھی کچھ حقوق ہیں۔ یہ حقوق وہ ہیں جن کو آدمی کا تقویٰ اس کو محسوس کراتاہے۔ اور آدمی کا متقیانہ احساس جتنا شدید ہو اتنا ہی زیادہ وہ اس کو اپنے اوپر لازم سمجھتا ہے۔ اندر کا یہ زوراگر موجود نہ ہو تو آدمی کبھی صحیح طورپر د وسروں کے حقوق ادا نہیں کرسکتا۔
البقرة 2:241
نماز گویا دین کا خلاصہ ہے۔ نماز مومنانہ زندگی کی وہ مختصر تصویر ہے جو پھیلتی ہے تو مکمل اسلامی زندگی بن جاتی ہے۔ یہاں ایک مختصر فقرہ میں نماز کے تین اہم ترین اجزاء کو بیان کردیا گیا ہے(1)نماز کا پانچ وقت کے لیے فرض ہونا۔2) (نماز کا ایک قابل اہتمام چیز ہونا۔(3)یہ بات کہ نماز کی اصل حقیقت عجز ہے۔
’’پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو بیچ کی نماز کی‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ نمازوں میں ایک بیچ کی نماز ہے اور پھر اس کے دونوں طرف نمازیں ہیں۔ اس جملہ میں اطراف کی ’’نمازوں‘‘ سے کم از کم چار کا عدد مراد لینا ضروری ہے کیوں کہ عربی زبان میں صلوات (نمازوں) کا اطلاق تین یا اس سے زیادہ کے عدد کے لیے ہوتا ہے۔ پہلا ممکن عدد جس میں ’’نمازوں‘‘کے درمیان ایک ’’بیچ کی نماز‘‘ بن سکے چارہی ہے۔ اس طرح ایک نماز بیچ کی نماز ہو کر اس کے دونوں طرف دو دو نمازیں ہوجاتی ہے۔ ’’بیچ کی نماز‘‘ سے مراد عصر کی نماز ہے جیسا کہ روایات سے ثابت ہے۔ نماز کے دوسرے پہلو کو بتانے کے لیے ’’محافظت‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ گویا نماز اسی طرح حفاظت کی ایک چیز ہے جس طرح مال آدمی کے لیے حفاظت کی چیز ہوتا ہے۔ نماز کے اوقات کا پورا لحاظ، اس کو بتائے ہوئے طریقہ پر ادا کرنے کا اہتمام، ایسی چیزوں سے بالقصد پرہیز جو آدمی کی نماز میں کوئی خرابی پیدا کرنے والی ہوں وغیرہ، محافظت نماز میں شامل ہیں۔ نماز کا تیسرا پہلو عجز ہے۔ یہ نماز کی اصل روح ہے، نماز بندے کا اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس ليے ضروری ہے کہ نماز کے وقت آدمی کے اوپر وہ کیفیت طاری ہو جو سب سے بڑے کے آگے کھڑے ہونے کی صورت میں سب سے چھوٹے کے اوپر طاری ہوتی ہے۔
معاشرت کے احکام بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ ’’یہ حق ہے متقیوں کے اوپر‘‘ شریعت کے ایک اہم پہلو کو ظاہر کرتاہے۔ باہمی معاملات میں کچھ حقوق وہ ہیں جن کو قانون نے متعین کردیا ہے۔ مگر ایک آدمی پر دوسرے کے حقوق کی حدیں یہیں ختم نہیں ہوجاتیں۔ متعین حقوق کے علاوہ بھی کچھ حقوق ہیں۔ یہ حقوق وہ ہیں جن کو آدمی کا تقویٰ اس کو محسوس کراتاہے۔ اور آدمی کا متقیانہ احساس جتنا شدید ہو اتنا ہی زیادہ وہ اس کو اپنے اوپر لازم سمجھتا ہے۔ اندر کا یہ زوراگر موجود نہ ہو تو آدمی کبھی صحیح طورپر د وسروں کے حقوق ادا نہیں کرسکتا۔
البقرة 2:242
نماز گویا دین کا خلاصہ ہے۔ نماز مومنانہ زندگی کی وہ مختصر تصویر ہے جو پھیلتی ہے تو مکمل اسلامی زندگی بن جاتی ہے۔ یہاں ایک مختصر فقرہ میں نماز کے تین اہم ترین اجزاء کو بیان کردیا گیا ہے(1)نماز کا پانچ وقت کے لیے فرض ہونا۔2) (نماز کا ایک قابل اہتمام چیز ہونا۔(3)یہ بات کہ نماز کی اصل حقیقت عجز ہے۔
’’پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو بیچ کی نماز کی‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ نمازوں میں ایک بیچ کی نماز ہے اور پھر اس کے دونوں طرف نمازیں ہیں۔ اس جملہ میں اطراف کی ’’نمازوں‘‘ سے کم از کم چار کا عدد مراد لینا ضروری ہے کیوں کہ عربی زبان میں صلوات (نمازوں) کا اطلاق تین یا اس سے زیادہ کے عدد کے لیے ہوتا ہے۔ پہلا ممکن عدد جس میں ’’نمازوں‘‘کے درمیان ایک ’’بیچ کی نماز‘‘ بن سکے چارہی ہے۔ اس طرح ایک نماز بیچ کی نماز ہو کر اس کے دونوں طرف دو دو نمازیں ہوجاتی ہے۔ ’’بیچ کی نماز‘‘ سے مراد عصر کی نماز ہے جیسا کہ روایات سے ثابت ہے۔ نماز کے دوسرے پہلو کو بتانے کے لیے ’’محافظت‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ گویا نماز اسی طرح حفاظت کی ایک چیز ہے جس طرح مال آدمی کے لیے حفاظت کی چیز ہوتا ہے۔ نماز کے اوقات کا پورا لحاظ، اس کو بتائے ہوئے طریقہ پر ادا کرنے کا اہتمام، ایسی چیزوں سے بالقصد پرہیز جو آدمی کی نماز میں کوئی خرابی پیدا کرنے والی ہوں وغیرہ، محافظت نماز میں شامل ہیں۔ نماز کا تیسرا پہلو عجز ہے۔ یہ نماز کی اصل روح ہے، نماز بندے کا اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس ليے ضروری ہے کہ نماز کے وقت آدمی کے اوپر وہ کیفیت طاری ہو جو سب سے بڑے کے آگے کھڑے ہونے کی صورت میں سب سے چھوٹے کے اوپر طاری ہوتی ہے۔
معاشرت کے احکام بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ ’’یہ حق ہے متقیوں کے اوپر‘‘ شریعت کے ایک اہم پہلو کو ظاہر کرتاہے۔ باہمی معاملات میں کچھ حقوق وہ ہیں جن کو قانون نے متعین کردیا ہے۔ مگر ایک آدمی پر دوسرے کے حقوق کی حدیں یہیں ختم نہیں ہوجاتیں۔ متعین حقوق کے علاوہ بھی کچھ حقوق ہیں۔ یہ حقوق وہ ہیں جن کو آدمی کا تقویٰ اس کو محسوس کراتاہے۔ اور آدمی کا متقیانہ احساس جتنا شدید ہو اتنا ہی زیادہ وہ اس کو اپنے اوپر لازم سمجھتا ہے۔ اندر کا یہ زوراگر موجود نہ ہو تو آدمی کبھی صحیح طورپر د وسروں کے حقوق ادا نہیں کرسکتا۔
البقرة 2:243
مکہ سے تنگ آکر مسلمان مدینہ چلے آئے۔مدینہ میں اپنے دین کے مطابق رہنے کے لیے نسبتاً آزادانہ ماحول تھا۔ مگر مخالفین اسلام نے اب بھی ان کو نہ چھوڑا۔ انھوںنے فوجی حملے شروع کرديے تا کہ مدینہ سے مسلمانوں کا خاتمہ کردیں۔ اس وقت حکم ہوا کہ ان سے مقابلہ کرو۔ مخالفین کی نسبت سے اس وقت مسلمانوں کی طاقت بہت کم تھی۔ اس ليے کچھ لوگوں کے اندر بے ہمتی پیدا ہوئی۔ یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک واقعہ یاد دلا کر بتایا گیا کہ زندگی کے معرکہ میں شکست سے ڈرنے ہی کا نام شکست ہے۔
بنی اسرائیل کی ایک پڑوسی قوم فلستی نے ان پر حملہ کردیا۔ بنی اسرائیل شکست کھاگئے۔ فلستیوں نے دو حملوں میں ان کے
34
ہزار آدمی مار ڈالے۔ بنی اسرائیل اتنا ڈرے کہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ بائبل کے الفاظ میں ’’حشمت بنی اسرائیل سے جاتی رہی‘‘ (سموئيل
4:22
)۔ بنی اسرائیل کا سارا گھرانا خوف میں مبتلا ہوکر نوحہ وفریاد کرنے لگا۔ اسی حال میں ان کو 20 سال گزر گئے۔ پھر انھوں نے سوچا کہ فلستیوں کے سامنے ان کو شکست کیوں ہوئی۔ ان کے نبی سموئیل نے کہا کہ شکست کی وجہ خدا میں تمھارے یقین کا کمزور ہوجانا ہے۔ انھوںنے اسرائیل کے سارے گھرانے سے کہا کہ اگر تم اپنے سارے دل سے خداوند کی طرف رجوع لاتے ہو تو اجنبی دیوتاؤں کو اپنے بیچ سے دور کردو اور خداوند کے لیے اپنے دلوں کو مستعد کرکے فقط اسی کی عبادت کرو۔ خدا فلستیوں کے ہاتھ سے تم کو رہائی دے گا۔ تب اسرائیليوں نے اجنبی دیوتاؤں کو اپنے سے دور کیا اور فقط خداوند کی عبادت کرنے لگے۔ اب جب دوبارہ فلستیوں اور اسرائیلیوں میں جنگ ہوئی تو بائبل کے الفاظ میں ’’خداوند فلستیوں کے اوپر اس دن بڑی کڑک کے ساتھ گرجا اور ان کو گھبرا دیا۔ اور انھوں نے اسرائیلیوں کے آگے شکست کھائی(سموئيل
7:70
)۔ اللہ پر اعتماد کے راستہ کو چھوڑ کر ان پر ملّی موت واقع ہوئی تھی، اللہ پر اعتماد کے راستہ کو اختیار کرنے کے بعد ان کو ملّی زندگی حاصل ہوگئی۔
قرض حسن کے معنی ہیں اچھا قرض۔ یہاں اس سے مراد وہ انفاق ہے جو خدا کے دین کی راہ میں کیا جائے۔ یہ انفاق خالص اللہ کے لیے ہوتا ہے جس میں کوئی دوسرا مفاد شامل نہیں ہوتا۔ اس ليے خدا نے اس کو اپنے ذمّے قرض قرار دیا۔ اور چوں کہ وہ بہت زیادہ اضافہ کے ساتھ اس کولو ٹائے گا اس ليے اس کو قرض حسن فرمایا۔
مومن کی راہ میں مشکلات کا پیش آنا کوئی محرومی کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے فضل کا نیا دروازہ کھلنا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے جان ومال کو اللہ کے لیے خرچ کرکے اللہ کی ان عنایتوں کا مستحق بنتا ہے جو عام حالات میں کسی کو نہیں ملتیں۔
البقرة 2:244
مکہ سے تنگ آکر مسلمان مدینہ چلے آئے۔مدینہ میں اپنے دین کے مطابق رہنے کے لیے نسبتاً آزادانہ ماحول تھا۔ مگر مخالفین اسلام نے اب بھی ان کو نہ چھوڑا۔ انھوںنے فوجی حملے شروع کرديے تا کہ مدینہ سے مسلمانوں کا خاتمہ کردیں۔ اس وقت حکم ہوا کہ ان سے مقابلہ کرو۔ مخالفین کی نسبت سے اس وقت مسلمانوں کی طاقت بہت کم تھی۔ اس ليے کچھ لوگوں کے اندر بے ہمتی پیدا ہوئی۔ یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک واقعہ یاد دلا کر بتایا گیا کہ زندگی کے معرکہ میں شکست سے ڈرنے ہی کا نام شکست ہے۔
بنی اسرائیل کی ایک پڑوسی قوم فلستی نے ان پر حملہ کردیا۔ بنی اسرائیل شکست کھاگئے۔ فلستیوں نے دو حملوں میں ان کے
34
ہزار آدمی مار ڈالے۔ بنی اسرائیل اتنا ڈرے کہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ بائبل کے الفاظ میں ’’حشمت بنی اسرائیل سے جاتی رہی‘‘ (سموئيل
4:22
)۔ بنی اسرائیل کا سارا گھرانا خوف میں مبتلا ہوکر نوحہ وفریاد کرنے لگا۔ اسی حال میں ان کو 20 سال گزر گئے۔ پھر انھوں نے سوچا کہ فلستیوں کے سامنے ان کو شکست کیوں ہوئی۔ ان کے نبی سموئیل نے کہا کہ شکست کی وجہ خدا میں تمھارے یقین کا کمزور ہوجانا ہے۔ انھوںنے اسرائیل کے سارے گھرانے سے کہا کہ اگر تم اپنے سارے دل سے خداوند کی طرف رجوع لاتے ہو تو اجنبی دیوتاؤں کو اپنے بیچ سے دور کردو اور خداوند کے لیے اپنے دلوں کو مستعد کرکے فقط اسی کی عبادت کرو۔ خدا فلستیوں کے ہاتھ سے تم کو رہائی دے گا۔ تب اسرائیليوں نے اجنبی دیوتاؤں کو اپنے سے دور کیا اور فقط خداوند کی عبادت کرنے لگے۔ اب جب دوبارہ فلستیوں اور اسرائیلیوں میں جنگ ہوئی تو بائبل کے الفاظ میں ’’خداوند فلستیوں کے اوپر اس دن بڑی کڑک کے ساتھ گرجا اور ان کو گھبرا دیا۔ اور انھوں نے اسرائیلیوں کے آگے شکست کھائی(سموئيل
7:70
)۔ اللہ پر اعتماد کے راستہ کو چھوڑ کر ان پر ملّی موت واقع ہوئی تھی، اللہ پر اعتماد کے راستہ کو اختیار کرنے کے بعد ان کو ملّی زندگی حاصل ہوگئی۔
قرض حسن کے معنی ہیں اچھا قرض۔ یہاں اس سے مراد وہ انفاق ہے جو خدا کے دین کی راہ میں کیا جائے۔ یہ انفاق خالص اللہ کے لیے ہوتا ہے جس میں کوئی دوسرا مفاد شامل نہیں ہوتا۔ اس ليے خدا نے اس کو اپنے ذمّے قرض قرار دیا۔ اور چوں کہ وہ بہت زیادہ اضافہ کے ساتھ اس کولو ٹائے گا اس ليے اس کو قرض حسن فرمایا۔
مومن کی راہ میں مشکلات کا پیش آنا کوئی محرومی کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے فضل کا نیا دروازہ کھلنا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے جان ومال کو اللہ کے لیے خرچ کرکے اللہ کی ان عنایتوں کا مستحق بنتا ہے جو عام حالات میں کسی کو نہیں ملتیں۔
البقرة 2:245
مکہ سے تنگ آکر مسلمان مدینہ چلے آئے۔مدینہ میں اپنے دین کے مطابق رہنے کے لیے نسبتاً آزادانہ ماحول تھا۔ مگر مخالفین اسلام نے اب بھی ان کو نہ چھوڑا۔ انھوںنے فوجی حملے شروع کرديے تا کہ مدینہ سے مسلمانوں کا خاتمہ کردیں۔ اس وقت حکم ہوا کہ ان سے مقابلہ کرو۔ مخالفین کی نسبت سے اس وقت مسلمانوں کی طاقت بہت کم تھی۔ اس ليے کچھ لوگوں کے اندر بے ہمتی پیدا ہوئی۔ یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک واقعہ یاد دلا کر بتایا گیا کہ زندگی کے معرکہ میں شکست سے ڈرنے ہی کا نام شکست ہے۔
بنی اسرائیل کی ایک پڑوسی قوم فلستی نے ان پر حملہ کردیا۔ بنی اسرائیل شکست کھاگئے۔ فلستیوں نے دو حملوں میں ان کے
34
ہزار آدمی مار ڈالے۔ بنی اسرائیل اتنا ڈرے کہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ بائبل کے الفاظ میں ’’حشمت بنی اسرائیل سے جاتی رہی‘‘ (سموئيل
4:22
)۔ بنی اسرائیل کا سارا گھرانا خوف میں مبتلا ہوکر نوحہ وفریاد کرنے لگا۔ اسی حال میں ان کو 20 سال گزر گئے۔ پھر انھوں نے سوچا کہ فلستیوں کے سامنے ان کو شکست کیوں ہوئی۔ ان کے نبی سموئیل نے کہا کہ شکست کی وجہ خدا میں تمھارے یقین کا کمزور ہوجانا ہے۔ انھوںنے اسرائیل کے سارے گھرانے سے کہا کہ اگر تم اپنے سارے دل سے خداوند کی طرف رجوع لاتے ہو تو اجنبی دیوتاؤں کو اپنے بیچ سے دور کردو اور خداوند کے لیے اپنے دلوں کو مستعد کرکے فقط اسی کی عبادت کرو۔ خدا فلستیوں کے ہاتھ سے تم کو رہائی دے گا۔ تب اسرائیليوں نے اجنبی دیوتاؤں کو اپنے سے دور کیا اور فقط خداوند کی عبادت کرنے لگے۔ اب جب دوبارہ فلستیوں اور اسرائیلیوں میں جنگ ہوئی تو بائبل کے الفاظ میں ’’خداوند فلستیوں کے اوپر اس دن بڑی کڑک کے ساتھ گرجا اور ان کو گھبرا دیا۔ اور انھوں نے اسرائیلیوں کے آگے شکست کھائی(سموئيل
7:70
)۔ اللہ پر اعتماد کے راستہ کو چھوڑ کر ان پر ملّی موت واقع ہوئی تھی، اللہ پر اعتماد کے راستہ کو اختیار کرنے کے بعد ان کو ملّی زندگی حاصل ہوگئی۔
قرض حسن کے معنی ہیں اچھا قرض۔ یہاں اس سے مراد وہ انفاق ہے جو خدا کے دین کی راہ میں کیا جائے۔ یہ انفاق خالص اللہ کے لیے ہوتا ہے جس میں کوئی دوسرا مفاد شامل نہیں ہوتا۔ اس ليے خدا نے اس کو اپنے ذمّے قرض قرار دیا۔ اور چوں کہ وہ بہت زیادہ اضافہ کے ساتھ اس کولو ٹائے گا اس ليے اس کو قرض حسن فرمایا۔
مومن کی راہ میں مشکلات کا پیش آنا کوئی محرومی کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے فضل کا نیا دروازہ کھلنا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے جان ومال کو اللہ کے لیے خرچ کرکے اللہ کی ان عنایتوں کا مستحق بنتا ہے جو عام حالات میں کسی کو نہیں ملتیں۔
البقرة 2:246
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تقریباً تین سو سال بعد بنی اسرائیل اپنے پڑوس کی مشرک قوموں سے مغلوب ہوگئے۔ اسی حال میں تقریباً چوتھائی صدی گزارنے کے بعد ان کو احساس ہوا کہ وہ اپنے پچھلے دور کو واپس لائیں۔ اب اپنے دشمنوں سے لڑنے کے لیے ان کو ایک امیر لشکر کی ضرورت تھی۔ ان کے نبی سموئیل (1020-1100ق م) نے ان کے لیے ایک شخص کا تقرر کیا جس کا نام قرآن میں طالوت اور بائبل میں ساؤل آیا ہے۔ ذاتی اوصاف کے اعتبار سے وہ ایک موزوں شخص تھا۔ مگر بنی اسرائیل اس کی سرداری قبول کرنے کے بجائے اس قسم کے اعتراضات نکالنے لگے کہ وہ تو چھوٹے خاندان کا آدمی ہے۔ اس کے پاس مال و دولت نہیں۔ مگر اس طرح کی اختلافی بحثیں کسی قوم کے زوال یافتہ ہونے کی علامت ہیں۔ اللہ کے فیصلے وسعت اور علم کی بنا پر ہوتے ہیں۔ اس ليے وہی بندہ اللہ کا محبوب بندہ ہے جو خود بھی وسیع النظری کا طریقہ اختیار کرے اور جو فیصلہ کرے حقائق کی بنیاد پر کرے، نہ کہ تعصبات اور مصلحتوں کی بنیاد پر۔ تاہم صندوق کو واپس لاکر اللہ نے طالوت کے تقرر کی ایک غیر معمولی تصدیق بھی فرمادی۔
بنی اسرائیل کے یہاں ایک مقدس صندوق تھا جو مصر سے خروج کے زمانہ سے ان کے یہاں چلا آرہا تھا۔ اس میں تورات کی تختیاں اور دوسری متبرک چیزیں تھیں۔ بنی اسرائیل اس کو اپنے ليے فتح وکامیابی کا نشان سمجھتے تھے۔ فلستی اس صندوق کو ان سے چھین کر اٹھا لے گئے تھے۔ مگر اس کو انھوں نے جس جس بستی میں رکھا وہاں وہاں وبائیں پھوٹ پڑیں۔ اس سے انھوں نے برا شگون لیا اور صند وق کو ایک بیل گاڑی پر رکھ کر ہانک دیا۔ وہ اس کو لے کر چلتے رہے۔ یہاں تک کہ یہودیوں کی آبادی میں پہنچ گئے — اللہ اپنے کسی بندے کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لیے کبھی اس کے گرد ایسی غیر معمولی چیزیں جمع کردیتا ہے جو عام انسانوں کے ساتھ جمع نہیں ہوتیں۔
البقرة 2:247
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تقریباً تین سو سال بعد بنی اسرائیل اپنے پڑوس کی مشرک قوموں سے مغلوب ہوگئے۔ اسی حال میں تقریباً چوتھائی صدی گزارنے کے بعد ان کو احساس ہوا کہ وہ اپنے پچھلے دور کو واپس لائیں۔ اب اپنے دشمنوں سے لڑنے کے لیے ان کو ایک امیر لشکر کی ضرورت تھی۔ ان کے نبی سموئیل (1020-1100ق م) نے ان کے لیے ایک شخص کا تقرر کیا جس کا نام قرآن میں طالوت اور بائبل میں ساؤل آیا ہے۔ ذاتی اوصاف کے اعتبار سے وہ ایک موزوں شخص تھا۔ مگر بنی اسرائیل اس کی سرداری قبول کرنے کے بجائے اس قسم کے اعتراضات نکالنے لگے کہ وہ تو چھوٹے خاندان کا آدمی ہے۔ اس کے پاس مال و دولت نہیں۔ مگر اس طرح کی اختلافی بحثیں کسی قوم کے زوال یافتہ ہونے کی علامت ہیں۔ اللہ کے فیصلے وسعت اور علم کی بنا پر ہوتے ہیں۔ اس ليے وہی بندہ اللہ کا محبوب بندہ ہے جو خود بھی وسیع النظری کا طریقہ اختیار کرے اور جو فیصلہ کرے حقائق کی بنیاد پر کرے، نہ کہ تعصبات اور مصلحتوں کی بنیاد پر۔ تاہم صندوق کو واپس لاکر اللہ نے طالوت کے تقرر کی ایک غیر معمولی تصدیق بھی فرمادی۔
بنی اسرائیل کے یہاں ایک مقدس صندوق تھا جو مصر سے خروج کے زمانہ سے ان کے یہاں چلا آرہا تھا۔ اس میں تورات کی تختیاں اور دوسری متبرک چیزیں تھیں۔ بنی اسرائیل اس کو اپنے ليے فتح وکامیابی کا نشان سمجھتے تھے۔ فلستی اس صندوق کو ان سے چھین کر اٹھا لے گئے تھے۔ مگر اس کو انھوں نے جس جس بستی میں رکھا وہاں وہاں وبائیں پھوٹ پڑیں۔ اس سے انھوں نے برا شگون لیا اور صند وق کو ایک بیل گاڑی پر رکھ کر ہانک دیا۔ وہ اس کو لے کر چلتے رہے۔ یہاں تک کہ یہودیوں کی آبادی میں پہنچ گئے — اللہ اپنے کسی بندے کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لیے کبھی اس کے گرد ایسی غیر معمولی چیزیں جمع کردیتا ہے جو عام انسانوں کے ساتھ جمع نہیں ہوتیں۔
البقرة 2:248
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تقریباً تین سو سال بعد بنی اسرائیل اپنے پڑوس کی مشرک قوموں سے مغلوب ہوگئے۔ اسی حال میں تقریباً چوتھائی صدی گزارنے کے بعد ان کو احساس ہوا کہ وہ اپنے پچھلے دور کو واپس لائیں۔ اب اپنے دشمنوں سے لڑنے کے لیے ان کو ایک امیر لشکر کی ضرورت تھی۔ ان کے نبی سموئیل (1020-1100ق م) نے ان کے لیے ایک شخص کا تقرر کیا جس کا نام قرآن میں طالوت اور بائبل میں ساؤل آیا ہے۔ ذاتی اوصاف کے اعتبار سے وہ ایک موزوں شخص تھا۔ مگر بنی اسرائیل اس کی سرداری قبول کرنے کے بجائے اس قسم کے اعتراضات نکالنے لگے کہ وہ تو چھوٹے خاندان کا آدمی ہے۔ اس کے پاس مال و دولت نہیں۔ مگر اس طرح کی اختلافی بحثیں کسی قوم کے زوال یافتہ ہونے کی علامت ہیں۔ اللہ کے فیصلے وسعت اور علم کی بنا پر ہوتے ہیں۔ اس ليے وہی بندہ اللہ کا محبوب بندہ ہے جو خود بھی وسیع النظری کا طریقہ اختیار کرے اور جو فیصلہ کرے حقائق کی بنیاد پر کرے، نہ کہ تعصبات اور مصلحتوں کی بنیاد پر۔ تاہم صندوق کو واپس لاکر اللہ نے طالوت کے تقرر کی ایک غیر معمولی تصدیق بھی فرمادی۔
بنی اسرائیل کے یہاں ایک مقدس صندوق تھا جو مصر سے خروج کے زمانہ سے ان کے یہاں چلا آرہا تھا۔ اس میں تورات کی تختیاں اور دوسری متبرک چیزیں تھیں۔ بنی اسرائیل اس کو اپنے ليے فتح وکامیابی کا نشان سمجھتے تھے۔ فلستی اس صندوق کو ان سے چھین کر اٹھا لے گئے تھے۔ مگر اس کو انھوں نے جس جس بستی میں رکھا وہاں وہاں وبائیں پھوٹ پڑیں۔ اس سے انھوں نے برا شگون لیا اور صند وق کو ایک بیل گاڑی پر رکھ کر ہانک دیا۔ وہ اس کو لے کر چلتے رہے۔ یہاں تک کہ یہودیوں کی آبادی میں پہنچ گئے — اللہ اپنے کسی بندے کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لیے کبھی اس کے گرد ایسی غیر معمولی چیزیں جمع کردیتا ہے جو عام انسانوں کے ساتھ جمع نہیں ہوتیں۔
البقرة 2:249
حضرت موسیٰ ؑکے تقریباً 3 سو سال بعداور حضرت مسیح سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے ایسا ہوا کہ فلستیوں نے بنی اسرائیل پر حملہ کیا اور فلسطین کے اکثر علاقے ان سے چھین ليے۔ ایک عرصہ کے بعد بنی اسرائیل نے چاہاکہ وہ فلستیوں کے خلاف اقدام کریں اور اپنے علاقے ان سے واپس لیں۔ اس وقت ان کے درمیان ایک نبی تھے جن کا نام سموئیل تھا۔ وہ شام کے ایک قدیم شہر رامہ میں رہتے تھے اور بنی اسرائیل کے اجتماعی امور کے ذمہ دار تھے۔بنی اسرائیل کا ایک وفد ان سے ملا۔ اور کہا کہ آپ اب بوڑھے ہوچکے ہیں، اس ليے آپ ہم میں سے کسی کو ہمارے اوپر بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم اس کی رہنمائی میں جنگ کرسکیں۔ تورات کے الفاظ میں ’’اور ہمارا بادشاہ ہماری عدالت کرے اور ہمارے آگے آگے چلے اور ہماری لڑائی کرے‘‘۔
حضرت سموئیل اگرچہ اپنی قوم کے کردار کے بارے میں اچھی رائے نہ رکھتے تھے تاہم ان کے مطالبہ کی بنا پر انھوں نے کہا کہ اچھا میں تمھارے ليے ایک بادشاہ مقرر کردوں گا۔ چنانچہ انھوں نے قبیلہ بن یمین کے ایک بہادر نوجوان ساؤل (طالوت) کو ان کا بادشاہ (سردار) مقرر کردیا۔
ساؤل (طالوت) بنی اسرائیل کا لشکر لے کر دشمن کی طرف بڑھے۔ راستہ میں دریائے یردن پڑتا تھا۔ اس کو پار کرکے دشمن کے علاقہ میں پہنچنا تھا۔ چوں کہ طالوت کو بنی اسرائیل کی کمزوریوں کا علم تھا، انھوں نے ان کی جانچ کے لیے ایک سادہ طریقہ استعمال کیا۔ دریا کو پار کرتے ہوئے انھوںنے اعلان کیا کہ کوئی شخص پانی نہ پئے۔ البتہ ایک آدھ چلو لےلے تو کوئی حرج نہیں۔ بنی اسرائیل کی بڑی تعداد اس امتحان میں پوری نہ اتری۔ تاہم اس مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے انھیں کامیابی دی۔ حضرت داؤد جو اس وقت صرف ایک نوجوان تھے، انھوں نے اس جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ فلستیوں کی فوج کا زبردست پہلوان جالوت ان کے ہاتھ سے قتل ہوا۔ اس کے بعد فلستیوں نے اسرائیل کے مقابلہ میں ہتھیار ڈال ديے۔
مقابلہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ افراد کے اندر مشکلات پر جمے رهنےاور سردار کی اطاعت کرنے کا مادہ ہو۔ طالوت کا اپنے ساتھیوں کو پانی پینے سے منع کرنا اسی استعداد کی جانچ کی ایک سادہ سی تدبیر تھی۔ بائبل کے بیان کے مطابق ان میں سے صرف 600 آدمی ایسے نکلے جنھوں نے راستہ میں آنے والے دریا کا پانی نہیںپیا۔ جن لوگوں نے پانی پیا انھوں نے گویا اپنی اخلاقی کمزوریوں کو اور پختہ کرلیا۔ اس ليے دشمن کا بظاہر طاقت ور ہونا اب ان کو اور زیادہ محسوس ہونے لگا۔ دوسری طرف جن لوگوں نے پانی نہیں پيا تھا ان کے اس فعل سے ان کا صبر اور اطاعت کا مزاج اور زیادہ مضبوط ہوگیا۔ ان کو وہ حقیقت اور زیادہ واضح صورت میں دکھائی دینے لگی جس کو بائبل کے بیان کے مطابق طالوت کے ایک ساتھی نے ان لفظوں میں بیان کیا تھا: اور یہ ساری جماعت جان لے کہ خداوند تلوار اور بھالے کے ذریعے سے نہیں بچاتا۔ اس ليے کہ جنگ تو خداوند کی ہے اور وہی تم کو ہمارے ہاتھ میں کردے گا (1 سموئیل
17 :48
)۔
اقتدار جس کے پاس ہو وہ کچھ دنوں بعد گھمنڈ میں پڑ کر ظلم کرنے لگتا ہے۔ اس ليے اقتدار اگر کسی کے پاس مستقل طورپر جمع ہوجائے تو اس کے ظلم وفساد سے زمین بھر جائے۔ اس کی تلافی کا انتظام اللہ نے اس طرح کیا ہے کہ وہ صاحبان اقتدار کو بدلتا رہتا ہے۔ وہ بے اقتدار لوگوں میں سے ایک گروہ کو اٹھاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے صاحب اقتدار کو ہٹا کر اس کے منصب پر دوسرے کو بٹھا دیتاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی برسرِ اقتدار جماعت کا ظلم بڑھ جائے تو یہ اس کے خلاف اٹھنے والے گروہ کے لیے خدائی مدد کا وقت ہوتاہے۔ اگر وہ صبر اور اطاعت کی شرط کو پورا کرتے ہوئے اپنے آپ کو خدائی منصوبہ میں شامل کردے تو بظاہر کم ہونے کے باوجود وہ خداكی مدد سے زیادہ کے اوپر غالب آجائے گا — خدا کا خوف محض ایک منفی چیز نہیں، وہ ایک علم ہے جو آدمی کے ذہن کو اس طرح روشن کردیتاہے کہ وہ ہر چیز کو اس کے اصلی اور حقیقی روپ میں دیکھ سکے۔
البقرة 2:250
حضرت موسیٰ ؑکے تقریباً 3 سو سال بعداور حضرت مسیح سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے ایسا ہوا کہ فلستیوں نے بنی اسرائیل پر حملہ کیا اور فلسطین کے اکثر علاقے ان سے چھین ليے۔ ایک عرصہ کے بعد بنی اسرائیل نے چاہاکہ وہ فلستیوں کے خلاف اقدام کریں اور اپنے علاقے ان سے واپس لیں۔ اس وقت ان کے درمیان ایک نبی تھے جن کا نام سموئیل تھا۔ وہ شام کے ایک قدیم شہر رامہ میں رہتے تھے اور بنی اسرائیل کے اجتماعی امور کے ذمہ دار تھے۔بنی اسرائیل کا ایک وفد ان سے ملا۔ اور کہا کہ آپ اب بوڑھے ہوچکے ہیں، اس ليے آپ ہم میں سے کسی کو ہمارے اوپر بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم اس کی رہنمائی میں جنگ کرسکیں۔ تورات کے الفاظ میں ’’اور ہمارا بادشاہ ہماری عدالت کرے اور ہمارے آگے آگے چلے اور ہماری لڑائی کرے‘‘۔
حضرت سموئیل اگرچہ اپنی قوم کے کردار کے بارے میں اچھی رائے نہ رکھتے تھے تاہم ان کے مطالبہ کی بنا پر انھوں نے کہا کہ اچھا میں تمھارے ليے ایک بادشاہ مقرر کردوں گا۔ چنانچہ انھوں نے قبیلہ بن یمین کے ایک بہادر نوجوان ساؤل (طالوت) کو ان کا بادشاہ (سردار) مقرر کردیا۔
ساؤل (طالوت) بنی اسرائیل کا لشکر لے کر دشمن کی طرف بڑھے۔ راستہ میں دریائے یردن پڑتا تھا۔ اس کو پار کرکے دشمن کے علاقہ میں پہنچنا تھا۔ چوں کہ طالوت کو بنی اسرائیل کی کمزوریوں کا علم تھا، انھوں نے ان کی جانچ کے لیے ایک سادہ طریقہ استعمال کیا۔ دریا کو پار کرتے ہوئے انھوںنے اعلان کیا کہ کوئی شخص پانی نہ پئے۔ البتہ ایک آدھ چلو لےلے تو کوئی حرج نہیں۔ بنی اسرائیل کی بڑی تعداد اس امتحان میں پوری نہ اتری۔ تاہم اس مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے انھیں کامیابی دی۔ حضرت داؤد جو اس وقت صرف ایک نوجوان تھے، انھوں نے اس جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ فلستیوں کی فوج کا زبردست پہلوان جالوت ان کے ہاتھ سے قتل ہوا۔ اس کے بعد فلستیوں نے اسرائیل کے مقابلہ میں ہتھیار ڈال ديے۔
مقابلہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ افراد کے اندر مشکلات پر جمے رهنےاور سردار کی اطاعت کرنے کا مادہ ہو۔ طالوت کا اپنے ساتھیوں کو پانی پینے سے منع کرنا اسی استعداد کی جانچ کی ایک سادہ سی تدبیر تھی۔ بائبل کے بیان کے مطابق ان میں سے صرف 600 آدمی ایسے نکلے جنھوں نے راستہ میں آنے والے دریا کا پانی نہیںپیا۔ جن لوگوں نے پانی پیا انھوں نے گویا اپنی اخلاقی کمزوریوں کو اور پختہ کرلیا۔ اس ليے دشمن کا بظاہر طاقت ور ہونا اب ان کو اور زیادہ محسوس ہونے لگا۔ دوسری طرف جن لوگوں نے پانی نہیں پيا تھا ان کے اس فعل سے ان کا صبر اور اطاعت کا مزاج اور زیادہ مضبوط ہوگیا۔ ان کو وہ حقیقت اور زیادہ واضح صورت میں دکھائی دینے لگی جس کو بائبل کے بیان کے مطابق طالوت کے ایک ساتھی نے ان لفظوں میں بیان کیا تھا: اور یہ ساری جماعت جان لے کہ خداوند تلوار اور بھالے کے ذریعے سے نہیں بچاتا۔ اس ليے کہ جنگ تو خداوند کی ہے اور وہی تم کو ہمارے ہاتھ میں کردے گا (1 سموئیل
17 :48
)۔
اقتدار جس کے پاس ہو وہ کچھ دنوں بعد گھمنڈ میں پڑ کر ظلم کرنے لگتا ہے۔ اس ليے اقتدار اگر کسی کے پاس مستقل طورپر جمع ہوجائے تو اس کے ظلم وفساد سے زمین بھر جائے۔ اس کی تلافی کا انتظام اللہ نے اس طرح کیا ہے کہ وہ صاحبان اقتدار کو بدلتا رہتا ہے۔ وہ بے اقتدار لوگوں میں سے ایک گروہ کو اٹھاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے صاحب اقتدار کو ہٹا کر اس کے منصب پر دوسرے کو بٹھا دیتاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی برسرِ اقتدار جماعت کا ظلم بڑھ جائے تو یہ اس کے خلاف اٹھنے والے گروہ کے لیے خدائی مدد کا وقت ہوتاہے۔ اگر وہ صبر اور اطاعت کی شرط کو پورا کرتے ہوئے اپنے آپ کو خدائی منصوبہ میں شامل کردے تو بظاہر کم ہونے کے باوجود وہ خداكی مدد سے زیادہ کے اوپر غالب آجائے گا — خدا کا خوف محض ایک منفی چیز نہیں، وہ ایک علم ہے جو آدمی کے ذہن کو اس طرح روشن کردیتاہے کہ وہ ہر چیز کو اس کے اصلی اور حقیقی روپ میں دیکھ سکے۔
البقرة 2:251
حضرت موسیٰ ؑکے تقریباً 3 سو سال بعداور حضرت مسیح سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے ایسا ہوا کہ فلستیوں نے بنی اسرائیل پر حملہ کیا اور فلسطین کے اکثر علاقے ان سے چھین ليے۔ ایک عرصہ کے بعد بنی اسرائیل نے چاہاکہ وہ فلستیوں کے خلاف اقدام کریں اور اپنے علاقے ان سے واپس لیں۔ اس وقت ان کے درمیان ایک نبی تھے جن کا نام سموئیل تھا۔ وہ شام کے ایک قدیم شہر رامہ میں رہتے تھے اور بنی اسرائیل کے اجتماعی امور کے ذمہ دار تھے۔بنی اسرائیل کا ایک وفد ان سے ملا۔ اور کہا کہ آپ اب بوڑھے ہوچکے ہیں، اس ليے آپ ہم میں سے کسی کو ہمارے اوپر بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم اس کی رہنمائی میں جنگ کرسکیں۔ تورات کے الفاظ میں ’’اور ہمارا بادشاہ ہماری عدالت کرے اور ہمارے آگے آگے چلے اور ہماری لڑائی کرے‘‘۔
حضرت سموئیل اگرچہ اپنی قوم کے کردار کے بارے میں اچھی رائے نہ رکھتے تھے تاہم ان کے مطالبہ کی بنا پر انھوں نے کہا کہ اچھا میں تمھارے ليے ایک بادشاہ مقرر کردوں گا۔ چنانچہ انھوں نے قبیلہ بن یمین کے ایک بہادر نوجوان ساؤل (طالوت) کو ان کا بادشاہ (سردار) مقرر کردیا۔
ساؤل (طالوت) بنی اسرائیل کا لشکر لے کر دشمن کی طرف بڑھے۔ راستہ میں دریائے یردن پڑتا تھا۔ اس کو پار کرکے دشمن کے علاقہ میں پہنچنا تھا۔ چوں کہ طالوت کو بنی اسرائیل کی کمزوریوں کا علم تھا، انھوں نے ان کی جانچ کے لیے ایک سادہ طریقہ استعمال کیا۔ دریا کو پار کرتے ہوئے انھوںنے اعلان کیا کہ کوئی شخص پانی نہ پئے۔ البتہ ایک آدھ چلو لےلے تو کوئی حرج نہیں۔ بنی اسرائیل کی بڑی تعداد اس امتحان میں پوری نہ اتری۔ تاہم اس مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے انھیں کامیابی دی۔ حضرت داؤد جو اس وقت صرف ایک نوجوان تھے، انھوں نے اس جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ فلستیوں کی فوج کا زبردست پہلوان جالوت ان کے ہاتھ سے قتل ہوا۔ اس کے بعد فلستیوں نے اسرائیل کے مقابلہ میں ہتھیار ڈال ديے۔
مقابلہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ افراد کے اندر مشکلات پر جمے رهنےاور سردار کی اطاعت کرنے کا مادہ ہو۔ طالوت کا اپنے ساتھیوں کو پانی پینے سے منع کرنا اسی استعداد کی جانچ کی ایک سادہ سی تدبیر تھی۔ بائبل کے بیان کے مطابق ان میں سے صرف 600 آدمی ایسے نکلے جنھوں نے راستہ میں آنے والے دریا کا پانی نہیںپیا۔ جن لوگوں نے پانی پیا انھوں نے گویا اپنی اخلاقی کمزوریوں کو اور پختہ کرلیا۔ اس ليے دشمن کا بظاہر طاقت ور ہونا اب ان کو اور زیادہ محسوس ہونے لگا۔ دوسری طرف جن لوگوں نے پانی نہیں پيا تھا ان کے اس فعل سے ان کا صبر اور اطاعت کا مزاج اور زیادہ مضبوط ہوگیا۔ ان کو وہ حقیقت اور زیادہ واضح صورت میں دکھائی دینے لگی جس کو بائبل کے بیان کے مطابق طالوت کے ایک ساتھی نے ان لفظوں میں بیان کیا تھا: اور یہ ساری جماعت جان لے کہ خداوند تلوار اور بھالے کے ذریعے سے نہیں بچاتا۔ اس ليے کہ جنگ تو خداوند کی ہے اور وہی تم کو ہمارے ہاتھ میں کردے گا (1 سموئیل
17 :48
)۔
اقتدار جس کے پاس ہو وہ کچھ دنوں بعد گھمنڈ میں پڑ کر ظلم کرنے لگتا ہے۔ اس ليے اقتدار اگر کسی کے پاس مستقل طورپر جمع ہوجائے تو اس کے ظلم وفساد سے زمین بھر جائے۔ اس کی تلافی کا انتظام اللہ نے اس طرح کیا ہے کہ وہ صاحبان اقتدار کو بدلتا رہتا ہے۔ وہ بے اقتدار لوگوں میں سے ایک گروہ کو اٹھاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے صاحب اقتدار کو ہٹا کر اس کے منصب پر دوسرے کو بٹھا دیتاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی برسرِ اقتدار جماعت کا ظلم بڑھ جائے تو یہ اس کے خلاف اٹھنے والے گروہ کے لیے خدائی مدد کا وقت ہوتاہے۔ اگر وہ صبر اور اطاعت کی شرط کو پورا کرتے ہوئے اپنے آپ کو خدائی منصوبہ میں شامل کردے تو بظاہر کم ہونے کے باوجود وہ خداكی مدد سے زیادہ کے اوپر غالب آجائے گا — خدا کا خوف محض ایک منفی چیز نہیں، وہ ایک علم ہے جو آدمی کے ذہن کو اس طرح روشن کردیتاہے کہ وہ ہر چیز کو اس کے اصلی اور حقیقی روپ میں دیکھ سکے۔
البقرة 2:252
اللہ کی طرف سے کوئی پکارنے والا جب لوگوں کو پکارتا ہے تو اس کی پکار میں ایسی نشانیاں شامل ہوتی ہیںکہ لوگوں کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے۔ اس کے باوجود لوگ اس کا انکار کردیتے ہیں اور یہ انکار کرنے والے سب سے پہلے وہ لوگ ہوتے ہیںجو رسالت کو مانتے چلے آرہے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ جس رسول کو مان رہے ہوتے ہیں اس کی بعض خصوصیات کی بنا پر وہ اس کی افضلیت کا تصور قائم کرلیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب ہمارا رسول اتنا افضل ہے اور اس کو ہم مان رہے ہیں تو اب کسی اور کو ماننے کی کیا ضرورت۔
ہر پیغمبر مختلف حالات میں آتا ہے اور اپنے مشن کی تکمیل کے لیے ہر ایک کو الگ الگ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے کسی پیغمبر کو ایک فضیلت (خصوصی چیز) دی جاتی ہے اور کسی کو دوسری فضیلت۔ بعد کے دور میں پیغمبر کی یہی فضیلت اس کے امتیوں کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ اپنے نبی کو دی جانے والی فضیلت کو تائیدی فضیلت کے بجائے مطلق فضیلت کے معنی میں لے لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم سب سے افضل پیغمبر کو مان رہے ہیں۔ اس ليے اب ہمیں کسی اور کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ حضرت موسیٰؑ کے ماننے والوں نے حضرت مسیح ؑکا انکار کیا۔ کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کا نبی اتنا افضل ہے کہ خدا براہِ راست اس سے ہم کلام ہوا۔ حضرت مسیح ؑکے ماننے والوں نے نبی آخر الزماں کا انکار کیا۔ کیوں کہ انھوں نے سمجھا کہ وہ ایسی ہستی کو مان رہے ہیں جس کی فضیلت اتنی زیادہ ہے کہ خدا نے اس کو باپ کے بغیر پیدا کیا۔ اسی طرح اللہ کے وہ بندے جو امت محمدی کی اصلاح وتجدید کے لیے اٹھے ان کابھی لوگوں نے انکار کیا۔ کیوں کہ ان کے مخاطبین کی نفسیات یہ تھی کہ ہم بزرگوں کے وارث ہیں، ہم اکابر کا دامن تھامے ہوئے ہیں پھر ہم کو کسی اور کی کیا ضرورت۔ امتوں کے زوال کے زمانہ میں ایسا ہوتاہے کہ لوگ دنیا کے راستہ پر چل پڑتے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی جنت بھی محفوظ رہے۔ اس وقت یہ عقیدہ ان کے لیے ایک نفسیاتی سہارا بن جاتا ہے۔ وہ اپنی مقدس شخصیتوں کی افضلیت کے تصور میں یہ تسکین پالیتے ہیں کہ دنیا میں خواہ وہ کچھ بھی کریں ان کی آخرت کبھی مشتبہ نہیں ہوگی۔
یہی غلط اعتماد ہے جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے کی مخالفت پر جری بناتا ہے۔ اللہ کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ لوگوں کی ہدایت ورہنمائی کے لیے کوئی دوسرا نظام قائم کرتا جس میں کسی کے لیے اختلاف کی گنجائش نہ ہو۔ مگر یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں تو اسی بات کی آزمائش ہورہی ہے کہ آدمی غیب کی حالت میں خدا کو پائے۔ انسان کی زبان سے بلند ہونے والی خدائی آواز کو پہچانے۔ ظاہری پردوں سے گزر کر سچائی کو اس کے باطنی روپ میں دیکھ لے۔
البقرة 2:253
اللہ کی طرف سے کوئی پکارنے والا جب لوگوں کو پکارتا ہے تو اس کی پکار میں ایسی نشانیاں شامل ہوتی ہیںکہ لوگوں کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے۔ اس کے باوجود لوگ اس کا انکار کردیتے ہیں اور یہ انکار کرنے والے سب سے پہلے وہ لوگ ہوتے ہیںجو رسالت کو مانتے چلے آرہے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ جس رسول کو مان رہے ہوتے ہیں اس کی بعض خصوصیات کی بنا پر وہ اس کی افضلیت کا تصور قائم کرلیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب ہمارا رسول اتنا افضل ہے اور اس کو ہم مان رہے ہیں تو اب کسی اور کو ماننے کی کیا ضرورت۔
ہر پیغمبر مختلف حالات میں آتا ہے اور اپنے مشن کی تکمیل کے لیے ہر ایک کو الگ الگ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے کسی پیغمبر کو ایک فضیلت (خصوصی چیز) دی جاتی ہے اور کسی کو دوسری فضیلت۔ بعد کے دور میں پیغمبر کی یہی فضیلت اس کے امتیوں کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ اپنے نبی کو دی جانے والی فضیلت کو تائیدی فضیلت کے بجائے مطلق فضیلت کے معنی میں لے لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم سب سے افضل پیغمبر کو مان رہے ہیں۔ اس ليے اب ہمیں کسی اور کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ حضرت موسیٰؑ کے ماننے والوں نے حضرت مسیح ؑکا انکار کیا۔ کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کا نبی اتنا افضل ہے کہ خدا براہِ راست اس سے ہم کلام ہوا۔ حضرت مسیح ؑکے ماننے والوں نے نبی آخر الزماں کا انکار کیا۔ کیوں کہ انھوں نے سمجھا کہ وہ ایسی ہستی کو مان رہے ہیں جس کی فضیلت اتنی زیادہ ہے کہ خدا نے اس کو باپ کے بغیر پیدا کیا۔ اسی طرح اللہ کے وہ بندے جو امت محمدی کی اصلاح وتجدید کے لیے اٹھے ان کابھی لوگوں نے انکار کیا۔ کیوں کہ ان کے مخاطبین کی نفسیات یہ تھی کہ ہم بزرگوں کے وارث ہیں، ہم اکابر کا دامن تھامے ہوئے ہیں پھر ہم کو کسی اور کی کیا ضرورت۔ امتوں کے زوال کے زمانہ میں ایسا ہوتاہے کہ لوگ دنیا کے راستہ پر چل پڑتے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی جنت بھی محفوظ رہے۔ اس وقت یہ عقیدہ ان کے لیے ایک نفسیاتی سہارا بن جاتا ہے۔ وہ اپنی مقدس شخصیتوں کی افضلیت کے تصور میں یہ تسکین پالیتے ہیں کہ دنیا میں خواہ وہ کچھ بھی کریں ان کی آخرت کبھی مشتبہ نہیں ہوگی۔
یہی غلط اعتماد ہے جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے کی مخالفت پر جری بناتا ہے۔ اللہ کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ لوگوں کی ہدایت ورہنمائی کے لیے کوئی دوسرا نظام قائم کرتا جس میں کسی کے لیے اختلاف کی گنجائش نہ ہو۔ مگر یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں تو اسی بات کی آزمائش ہورہی ہے کہ آدمی غیب کی حالت میں خدا کو پائے۔ انسان کی زبان سے بلند ہونے والی خدائی آواز کو پہچانے۔ ظاہری پردوں سے گزر کر سچائی کو اس کے باطنی روپ میں دیکھ لے۔
البقرة 2:254
خدا کو وہی پاتا ہے جو انفاق کی قیمت دے کر خدا کو اختیار کرے۔ اور کوئی آدمی جب خدا کو پالیتا ہے تو وہ ایک ایسی روشنی کو پالیتا ہے جس میں وہ بھٹکے بغیر چلتا رہے۔ یہاں تک کہ جنت میں پہنچ جائے۔ اس کے برعکس، جو شخص انفاق کی قیمت ديے بغیر خدا کو اختیار کرے وہ ہمیشہ اندھیرے میں رہتاہے۔ جہاں شیطان اس کو بہکا کر ایسے راستوں پر چلاتا ہے جس کی آخری منزل جہنم کے سوا اور کچھ نہیں۔
انفاق سے مراد اپنے آپ کواور اپنے اثاثہ کو دین کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ اپنی مصلحتوں کو قربان کرکے دین کی طرف آگے بڑھنا ہے۔ آدمی جب کسی عقیدہ کو انفاق کی قیمت پر اختیار کرے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو اختیار کرنے میں سنجیدہ (sincere) ہے۔ یہ سنجیدہ ہونا بے حد اہم ہے۔ کسی معاملہ میں سنجیدہ ہونا ہی وہ چیز ہے جو آدمی پر اس معاملہ کے بھیدوں کو کھولتاہے۔ سنجیدہ ہونے کے بعد ہی یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ آدمی اور اس کے مقصد کے درمیان حقیقی تعلق قائم ہو، اور مقصد کے تمام پہلو اس پر واضح ہوں۔ اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہے جو اپنی ہستی کی حوالگی کی قیمت پر دین کو اختیار نہ کرے۔ ایسا شخص کبھی دین کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہوگا، اور اس بنا پر وہ آخرت کے معاملہ کو ایک آسان معاملہ فرض کرلے گا۔ وہ سمجھے گا کہ بزرگوں کی سفارش یا دین کے نام پر کچھ رسمی اور ظاہری کارروائیاں آخرت کي نجات کے لیے کافی ہیں۔ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس راز کو نہ سمجھے گا کہ آخرت تو مالکِ کائنات کے عظمت و جلال کے ظہور کا دن ہے۔ ایسے ایک دن کے بارے میں محض سرسری چیزوں پر کامیابی کی امید کرلینا خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ کرناہے جو خدا کے یہاںآدمی کے جرم کو بڑھانے والا ہے، نہ کہ وہ اس کی مقبولیت کا سبب بنے— خدا کی بات آدمی کے سامنے دلیل کی زبان میں آتی ہے اور وہ کچھ الفاظ بول کر اس کو رد کردیتا ہے۔ یہی شیطانی وسوسہ ہے۔ ہدایت اس کو ملتی ہے جو شیطان کے وسوسہ سے اپنے کو بچائے اور خدائی دلیل کو پہچان کر اس کے آگے جھک جائے۔
البقرة 2:255
خدا کو وہی پاتا ہے جو انفاق کی قیمت دے کر خدا کو اختیار کرے۔ اور کوئی آدمی جب خدا کو پالیتا ہے تو وہ ایک ایسی روشنی کو پالیتا ہے جس میں وہ بھٹکے بغیر چلتا رہے۔ یہاں تک کہ جنت میں پہنچ جائے۔ اس کے برعکس، جو شخص انفاق کی قیمت ديے بغیر خدا کو اختیار کرے وہ ہمیشہ اندھیرے میں رہتاہے۔ جہاں شیطان اس کو بہکا کر ایسے راستوں پر چلاتا ہے جس کی آخری منزل جہنم کے سوا اور کچھ نہیں۔
انفاق سے مراد اپنے آپ کواور اپنے اثاثہ کو دین کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ اپنی مصلحتوں کو قربان کرکے دین کی طرف آگے بڑھنا ہے۔ آدمی جب کسی عقیدہ کو انفاق کی قیمت پر اختیار کرے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو اختیار کرنے میں سنجیدہ (sincere) ہے۔ یہ سنجیدہ ہونا بے حد اہم ہے۔ کسی معاملہ میں سنجیدہ ہونا ہی وہ چیز ہے جو آدمی پر اس معاملہ کے بھیدوں کو کھولتاہے۔ سنجیدہ ہونے کے بعد ہی یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ آدمی اور اس کے مقصد کے درمیان حقیقی تعلق قائم ہو، اور مقصد کے تمام پہلو اس پر واضح ہوں۔ اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہے جو اپنی ہستی کی حوالگی کی قیمت پر دین کو اختیار نہ کرے۔ ایسا شخص کبھی دین کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہوگا، اور اس بنا پر وہ آخرت کے معاملہ کو ایک آسان معاملہ فرض کرلے گا۔ وہ سمجھے گا کہ بزرگوں کی سفارش یا دین کے نام پر کچھ رسمی اور ظاہری کارروائیاں آخرت کي نجات کے لیے کافی ہیں۔ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس راز کو نہ سمجھے گا کہ آخرت تو مالکِ کائنات کے عظمت و جلال کے ظہور کا دن ہے۔ ایسے ایک دن کے بارے میں محض سرسری چیزوں پر کامیابی کی امید کرلینا خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ کرناہے جو خدا کے یہاںآدمی کے جرم کو بڑھانے والا ہے، نہ کہ وہ اس کی مقبولیت کا سبب بنے— خدا کی بات آدمی کے سامنے دلیل کی زبان میں آتی ہے اور وہ کچھ الفاظ بول کر اس کو رد کردیتا ہے۔ یہی شیطانی وسوسہ ہے۔ ہدایت اس کو ملتی ہے جو شیطان کے وسوسہ سے اپنے کو بچائے اور خدائی دلیل کو پہچان کر اس کے آگے جھک جائے۔
البقرة 2:256
خدا کو وہی پاتا ہے جو انفاق کی قیمت دے کر خدا کو اختیار کرے۔ اور کوئی آدمی جب خدا کو پالیتا ہے تو وہ ایک ایسی روشنی کو پالیتا ہے جس میں وہ بھٹکے بغیر چلتا رہے۔ یہاں تک کہ جنت میں پہنچ جائے۔ اس کے برعکس، جو شخص انفاق کی قیمت ديے بغیر خدا کو اختیار کرے وہ ہمیشہ اندھیرے میں رہتاہے۔ جہاں شیطان اس کو بہکا کر ایسے راستوں پر چلاتا ہے جس کی آخری منزل جہنم کے سوا اور کچھ نہیں۔
انفاق سے مراد اپنے آپ کواور اپنے اثاثہ کو دین کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ اپنی مصلحتوں کو قربان کرکے دین کی طرف آگے بڑھنا ہے۔ آدمی جب کسی عقیدہ کو انفاق کی قیمت پر اختیار کرے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو اختیار کرنے میں سنجیدہ (sincere) ہے۔ یہ سنجیدہ ہونا بے حد اہم ہے۔ کسی معاملہ میں سنجیدہ ہونا ہی وہ چیز ہے جو آدمی پر اس معاملہ کے بھیدوں کو کھولتاہے۔ سنجیدہ ہونے کے بعد ہی یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ آدمی اور اس کے مقصد کے درمیان حقیقی تعلق قائم ہو، اور مقصد کے تمام پہلو اس پر واضح ہوں۔ اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہے جو اپنی ہستی کی حوالگی کی قیمت پر دین کو اختیار نہ کرے۔ ایسا شخص کبھی دین کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہوگا، اور اس بنا پر وہ آخرت کے معاملہ کو ایک آسان معاملہ فرض کرلے گا۔ وہ سمجھے گا کہ بزرگوں کی سفارش یا دین کے نام پر کچھ رسمی اور ظاہری کارروائیاں آخرت کي نجات کے لیے کافی ہیں۔ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس راز کو نہ سمجھے گا کہ آخرت تو مالکِ کائنات کے عظمت و جلال کے ظہور کا دن ہے۔ ایسے ایک دن کے بارے میں محض سرسری چیزوں پر کامیابی کی امید کرلینا خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ کرناہے جو خدا کے یہاںآدمی کے جرم کو بڑھانے والا ہے، نہ کہ وہ اس کی مقبولیت کا سبب بنے— خدا کی بات آدمی کے سامنے دلیل کی زبان میں آتی ہے اور وہ کچھ الفاظ بول کر اس کو رد کردیتا ہے۔ یہی شیطانی وسوسہ ہے۔ ہدایت اس کو ملتی ہے جو شیطان کے وسوسہ سے اپنے کو بچائے اور خدائی دلیل کو پہچان کر اس کے آگے جھک جائے۔
البقرة 2:257
خدا کو وہی پاتا ہے جو انفاق کی قیمت دے کر خدا کو اختیار کرے۔ اور کوئی آدمی جب خدا کو پالیتا ہے تو وہ ایک ایسی روشنی کو پالیتا ہے جس میں وہ بھٹکے بغیر چلتا رہے۔ یہاں تک کہ جنت میں پہنچ جائے۔ اس کے برعکس، جو شخص انفاق کی قیمت ديے بغیر خدا کو اختیار کرے وہ ہمیشہ اندھیرے میں رہتاہے۔ جہاں شیطان اس کو بہکا کر ایسے راستوں پر چلاتا ہے جس کی آخری منزل جہنم کے سوا اور کچھ نہیں۔
انفاق سے مراد اپنے آپ کواور اپنے اثاثہ کو دین کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ اپنی مصلحتوں کو قربان کرکے دین کی طرف آگے بڑھنا ہے۔ آدمی جب کسی عقیدہ کو انفاق کی قیمت پر اختیار کرے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو اختیار کرنے میں سنجیدہ (sincere) ہے۔ یہ سنجیدہ ہونا بے حد اہم ہے۔ کسی معاملہ میں سنجیدہ ہونا ہی وہ چیز ہے جو آدمی پر اس معاملہ کے بھیدوں کو کھولتاہے۔ سنجیدہ ہونے کے بعد ہی یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ آدمی اور اس کے مقصد کے درمیان حقیقی تعلق قائم ہو، اور مقصد کے تمام پہلو اس پر واضح ہوں۔ اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہے جو اپنی ہستی کی حوالگی کی قیمت پر دین کو اختیار نہ کرے۔ ایسا شخص کبھی دین کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہوگا، اور اس بنا پر وہ آخرت کے معاملہ کو ایک آسان معاملہ فرض کرلے گا۔ وہ سمجھے گا کہ بزرگوں کی سفارش یا دین کے نام پر کچھ رسمی اور ظاہری کارروائیاں آخرت کي نجات کے لیے کافی ہیں۔ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس راز کو نہ سمجھے گا کہ آخرت تو مالکِ کائنات کے عظمت و جلال کے ظہور کا دن ہے۔ ایسے ایک دن کے بارے میں محض سرسری چیزوں پر کامیابی کی امید کرلینا خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ کرناہے جو خدا کے یہاںآدمی کے جرم کو بڑھانے والا ہے، نہ کہ وہ اس کی مقبولیت کا سبب بنے— خدا کی بات آدمی کے سامنے دلیل کی زبان میں آتی ہے اور وہ کچھ الفاظ بول کر اس کو رد کردیتا ہے۔ یہی شیطانی وسوسہ ہے۔ ہدایت اس کو ملتی ہے جو شیطان کے وسوسہ سے اپنے کو بچائے اور خدائی دلیل کو پہچان کر اس کے آگے جھک جائے۔
البقرة 2:258
موجودہ زمانہ میں عوامی تائید سے حکومت کا استحقاق حاصل ہوتاہے۔ مگر جمہوریت کے دورسے پہلے اکثر بادشاہ لوگوں کو یہ یقین دلا کر ان کے اوپر حکومت کرتے تھے کہ وہ خدا کا انسانی پیکر ہیں۔ قدیم عراق کے بادشاہ نمرود کا معاملہ یہی تھا جو حضرت ابراہیم کا ہم عصر تھا۔ اس کی قوم سورج کو دیوتاؤں کا سردار مانتی تھی۔ اور اس کی پوجا کرتی تھی۔ نمرود نے کہا کہ وہ سورج دیوتا کا مظہر ہے، اس ليے وہ لوگوں کے اوپر حکومت کرنے کا خدائی حق رکھتاہے۔ حضرت ابراہیم نے اس وقت کے عراق میں جب توحید کی آواز بلند کی تو اس کا سیاست وحکومت سے براہِ راست کوئی تعلق نہ تھا۔ آپ لوگوں سے صرف یہ کہہ رہے تھے کہ تمھارا خالق اور مالک صرف ایک اللہ ہے۔ کوئی نہیں جو خدائی میں اس کا شریک ہو۔ اس ليے تم اسی کی عبادت کرو۔ اسی سے ڈرو اور اسی سے امیدیں قائم کرو۔ تاہم اس غیر سیاسی دعوت میں نمرود کو اپنی سیاست پرزد پڑتی ہوئی نظر آئی۔ ایسا عقیدہ جس میں سورج کو ایک بے زورمخلوق بتایا گیا ہو وہ گویا اس اعتقادی بنیاد ہی کو ڈھا رہا تھا جس کے اوپر نمرود نے اپنا سیاسی تخت بچھا رکھا تھا۔اس وجہ سے وہ آپ کا دشمن ہوگیا۔
حضرت ابراہیم نے نمرود سے جو گفتگو کی اس سے انبیاء کا طریقِ دعوت معلوم ہوتا ہے۔ نمرود کے سوال کے جواب میں آنجناب نے فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے۔ نمرود نے مناظرانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ موت اور زندگی پر تو میں بھی اختیار رکھتا ہوں۔ جس کو چاہوں مروادوں اور جس کو چاہوں زندہ رہنے دوں۔ آنجناب نمرود کا جواب دے سکتے تھے۔ مگر آپ نے گفتگو کو مناظرہ بنانا پسند نہ کیا۔ اس ليے آپ نے فوراً دوسری مثال پیش کردی جس کے جواب میں نمرود اس قسم کی بات نہ کہہ سکتا تھا جو اس نے پہلی مثال کے جواب میں کہی۔ حضرت ابراہیم کے لیے نمرود حریف نہ تھا۔ بلکہ مدعو کی حیثیت رکھتا تھا اس ليے ان کو یہ سمجھنے میںدیر نہ لگی کہ استدلال کا کون سا حکیمانہ انداز ان کو اختیار کرنا چاہيے۔
موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس ليے اس کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ ایک هی چیز کو آدمی دو مختلف معنوں میں لے سکے۔ مثلاً ایک شخص کے پاس دولت اور اقتدار آجائے تو وہ اس کو ایسے رخ سے دیکھ سکتا ہے کہ اس کی کامیابی اس کو اپنی صلاحیتوں کا نتیجہ نظر آئے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس کو ایسے رخ سے دیکھے کہ اس کو محسوس ہو کہ جو کچھ اس کو ملا ہے وہ سراسر خدا کا انعام ہے۔ پہلی صورت ظلم کی صورت ہے، اور دوسری شکر کی صورت۔ جس شخص کے اندر ظالمانہ مزاج ہو اس کے لیے موجودہ دنیا صرف گمراہی کی خوراک ہوگی۔ اس کو ہر واقعہ میں گھمنڈ اور خود پسندی کی غذا ملے گی۔ اس کے برعکس، جس کے اندر شکر کا مزاج ہوگا، اس کے لیے ہر واقعہ میں ہدایت کا سامان ہوگا۔ خدا کی دنیا اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ اس کے لیے رزق ایمانی کا دستر خوان بن جائے گی۔
البقرة 2:259
یہاں موت کے بعد دوبارہ زندہ کيے جانے کے جن دو تجربات کا ذکر ہے ان کا تعلق انبیاء سے ہے۔ پہلا تجربہ غالباً حضرت عزیر کے ساتھ گزرا جن کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح کا ہے۔ اور دوسرا تجربہ حضرت ابراہیم سے تعلق رکھتا ہے۔ جن کا زمانہ 1985-2160 ق م کے درمیان ہے۔ انبیاء خدا کی طرف سے اس ليے مقرر ہوتے ہیںکہ لوگوں کو غیبی حقائق سے باخبر کریں۔ اس ليے ان کو وہ غیبی چیزیں بے پردہ کرکے دکھا دی جاتی ہیں جن پر دوسروں کے لیے اسباب کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ انبیاء کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ اس ليے ہوتاہے تاکہ وہ ان چیزوں کو ذاتی مشاہد بن کر ان کی بابت لوگوں کو با خبر کرسکیں۔ وہ لوگوں کو جن غیبی حقیقتوں کی خبر دیں ان کے متعلق کہہ سکیں کہ ہم ایک دیکھی ہوئی چیز سے تم کو خبردار کررہے ہیں، نہ کہ محض سنی ہوئی چیز سے۔
انبیا ء کو چالیس سال کی عمر میں نبوت دی جاتی ہے۔ نبوت سے پہلے ان کی پوری زندگی لوگوں کے سامنے اس طرح گزرتی ہے کہ ان سے کسی شخص کو جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوتا۔ تقریباً نصف صدی تک ماحول کے اندر اپنے سچے ہونے کا ثبوت دینے کے بعد وہ وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو لوگوں کے سامنے ان غیبی حقیقتوں کے اعلان کے لیے کھڑا کرے جن کو آزمائش کی مصلحت کی بنا پر لوگوں سے چھپا دیاگیا ہے۔ ماحول کے یہ سب سے زیادہ سچے لوگ ایک طرف اپنے مشاہدہ سے لوگوں کو باخبر کرتے ہیں اور دوسری طرف عقل اور فطرت کے شواہد سے اس کو مدلل کرتے ہیں۔مزید یہ کہ انبیاء کو ہمیشہ شدید ترین حالات سے سابقہ پیش آتا ہے، اس کے باوجود وہ اپنے قول سے پھرتے نہیںوہ انتہائی ثابت قدمی کے ساتھ اپنی بات پر جمے رہتے ہیں۔ اس طرح یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں اس میں وہ پوری طرح سنجیدہ ہیں۔ فرضی طورپر انھوںنے کوئی بات نہیں گھڑ لی ہے۔ کیوں کہ گھڑی ہوئی بات کو پیش کرنے والا کبھی اتنے سخت حالات میں اپنی بات پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اورنہ اس کی بات خارجی کائنات سے اتنا زیادہ مطابق ہوسکتی ہے کہ وہ سراپا اس کی تصدیق بن جائے۔
البقرة 2:260
یہاں موت کے بعد دوبارہ زندہ کيے جانے کے جن دو تجربات کا ذکر ہے ان کا تعلق انبیاء سے ہے۔ پہلا تجربہ غالباً حضرت عزیر کے ساتھ گزرا جن کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح کا ہے۔ اور دوسرا تجربہ حضرت ابراہیم سے تعلق رکھتا ہے۔ جن کا زمانہ 1985-2160 ق م کے درمیان ہے۔ انبیاء خدا کی طرف سے اس ليے مقرر ہوتے ہیںکہ لوگوں کو غیبی حقائق سے باخبر کریں۔ اس ليے ان کو وہ غیبی چیزیں بے پردہ کرکے دکھا دی جاتی ہیں جن پر دوسروں کے لیے اسباب کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ انبیاء کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ اس ليے ہوتاہے تاکہ وہ ان چیزوں کو ذاتی مشاہد بن کر ان کی بابت لوگوں کو با خبر کرسکیں۔ وہ لوگوں کو جن غیبی حقیقتوں کی خبر دیں ان کے متعلق کہہ سکیں کہ ہم ایک دیکھی ہوئی چیز سے تم کو خبردار کررہے ہیں، نہ کہ محض سنی ہوئی چیز سے۔
انبیا ء کو چالیس سال کی عمر میں نبوت دی جاتی ہے۔ نبوت سے پہلے ان کی پوری زندگی لوگوں کے سامنے اس طرح گزرتی ہے کہ ان سے کسی شخص کو جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوتا۔ تقریباً نصف صدی تک ماحول کے اندر اپنے سچے ہونے کا ثبوت دینے کے بعد وہ وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو لوگوں کے سامنے ان غیبی حقیقتوں کے اعلان کے لیے کھڑا کرے جن کو آزمائش کی مصلحت کی بنا پر لوگوں سے چھپا دیاگیا ہے۔ ماحول کے یہ سب سے زیادہ سچے لوگ ایک طرف اپنے مشاہدہ سے لوگوں کو باخبر کرتے ہیں اور دوسری طرف عقل اور فطرت کے شواہد سے اس کو مدلل کرتے ہیں۔مزید یہ کہ انبیاء کو ہمیشہ شدید ترین حالات سے سابقہ پیش آتا ہے، اس کے باوجود وہ اپنے قول سے پھرتے نہیںوہ انتہائی ثابت قدمی کے ساتھ اپنی بات پر جمے رہتے ہیں۔ اس طرح یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں اس میں وہ پوری طرح سنجیدہ ہیں۔ فرضی طورپر انھوںنے کوئی بات نہیں گھڑ لی ہے۔ کیوں کہ گھڑی ہوئی بات کو پیش کرنے والا کبھی اتنے سخت حالات میں اپنی بات پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اورنہ اس کی بات خارجی کائنات سے اتنا زیادہ مطابق ہوسکتی ہے کہ وہ سراپا اس کی تصدیق بن جائے۔
البقرة 2:261
ہر عمل جو آدمی کرتا ہے وہ گویا ایک بیج ہے جو آدمی ’’زمین‘‘ میں ڈالتا ہے۔ اگر اس کا عمل اس ليے تھا کہ لوگ اسے دیکھیں تو اس نے اپنا بیج دنیا کی زمین میں ڈالا تاکہ یہاں کی زندگی میں اپنے کيے کا پھل پاسکے۔ اور اگر اس کا عمل اس ليے تھا کہ اللہ اس کو ’’دیکھے‘‘ تو اس نے آخرت کی زمین میں اپنا بیج ڈالا جو اگلی دنیا میںاپنے پھول اور پھل کی بہاریں دکھائے۔ دنیا میں ایک دانہ سے ہزار دانے پیدا ہوتے ہیں۔ یہی حال آخرت کے کھیت میں دانہ ڈالنے کا بھی ہے۔
دنیا کے فائدہ یا دنیا کی شہرت وعزت کے لیے خرچ کرنے والا اسی دنیا میں اپنا معاوضہ لینا چاہتا ہے۔ ایسے آدمی کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ مگر جو شخص اللہ کے لیے خرچ کرے اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی پر احسان نہیں جتاتا، اس نے جب اللہ کے لیے خرچ کیا ہے تو انسان پر اس کا کیا احسان۔ اس کی رقم خرچ ہو کر جن لوگوں تک پہنچتی ہے ان کی طرف سے اس کو اچھا جواب نہ ملے تو وہ ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا۔ اس کو تو اچھا جواب اللہ سے لینا ہے، پھر انسانوں سے ملنےیا نہ ملنے کا اسے کیا غم۔ اگر کسی سائل کو وہ نہیں دے سکتاتو وہ اس سے برُا کلمہ نہیں کہتا۔ بلکہ نرمی کے ساتھ معذرت کردیتاہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ وہ جو کچھ بول رہا ہے خدا کے سامنے بول رہا ہے۔ خدا کا خوف اس کو انسان کے سامنے اپني زبان كو كنٹرول كرنے پر مجبور کردیتاہے۔
پـتھر کی چٹان کے اوپر کچھ مٹی جم جائے تو بظاہر وہ مٹی دکھائی دے گی۔ مگر بارش کا جھونکا آتے ہی مٹی کی اوپری تہ بہہ جائے گی اور اندر سے خالی پـتھر نکل آئے گا۔ ایسا ہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جو بس اوپری دین داری ليے ہوئے ہو۔ دین اس کے اندر تک داخل نہ ہوا ہو۔ ایسے آدمی سے اگر کوئی سائل بے ڈھنگے انداز سے سوال کردے یا کسی کی طرف سے کوئی ایسی بات سامنے آجائے جو اس کی اَنا پر ضرب لگانے والی ہو تو وہ بپھر کر انصاف کی حدوں کو توڑ دیتا ہے۔ ایسا ایک واقعہ ایک ایسا طوفان بن جاتا ہے جو اس کی اوپری ’’مٹی‘‘ کو بہا لے جاتا ہے اور پھر اس کے اندر کا انسان سامنے آجاتا ہے جس کو وہ دین کے ظاہری لبادہ کے پیچھے چھپائے ہوئے تھا— اللہ کے لیے عمل کرنا گویا دیکھے پر اَن دیکھے کو ترجیح دینا ہے جو اس بلند نظری کا ثبوت دے وہی وہ شخص ہے جس پر خدا کی چھپی ہوئی معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔
البقرة 2:262
ہر عمل جو آدمی کرتا ہے وہ گویا ایک بیج ہے جو آدمی ’’زمین‘‘ میں ڈالتا ہے۔ اگر اس کا عمل اس ليے تھا کہ لوگ اسے دیکھیں تو اس نے اپنا بیج دنیا کی زمین میں ڈالا تاکہ یہاں کی زندگی میں اپنے کيے کا پھل پاسکے۔ اور اگر اس کا عمل اس ليے تھا کہ اللہ اس کو ’’دیکھے‘‘ تو اس نے آخرت کی زمین میں اپنا بیج ڈالا جو اگلی دنیا میںاپنے پھول اور پھل کی بہاریں دکھائے۔ دنیا میں ایک دانہ سے ہزار دانے پیدا ہوتے ہیں۔ یہی حال آخرت کے کھیت میں دانہ ڈالنے کا بھی ہے۔
دنیا کے فائدہ یا دنیا کی شہرت وعزت کے لیے خرچ کرنے والا اسی دنیا میں اپنا معاوضہ لینا چاہتا ہے۔ ایسے آدمی کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ مگر جو شخص اللہ کے لیے خرچ کرے اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی پر احسان نہیں جتاتا، اس نے جب اللہ کے لیے خرچ کیا ہے تو انسان پر اس کا کیا احسان۔ اس کی رقم خرچ ہو کر جن لوگوں تک پہنچتی ہے ان کی طرف سے اس کو اچھا جواب نہ ملے تو وہ ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا۔ اس کو تو اچھا جواب اللہ سے لینا ہے، پھر انسانوں سے ملنےیا نہ ملنے کا اسے کیا غم۔ اگر کسی سائل کو وہ نہیں دے سکتاتو وہ اس سے برُا کلمہ نہیں کہتا۔ بلکہ نرمی کے ساتھ معذرت کردیتاہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ وہ جو کچھ بول رہا ہے خدا کے سامنے بول رہا ہے۔ خدا کا خوف اس کو انسان کے سامنے اپني زبان كو كنٹرول كرنے پر مجبور کردیتاہے۔
پـتھر کی چٹان کے اوپر کچھ مٹی جم جائے تو بظاہر وہ مٹی دکھائی دے گی۔ مگر بارش کا جھونکا آتے ہی مٹی کی اوپری تہ بہہ جائے گی اور اندر سے خالی پـتھر نکل آئے گا۔ ایسا ہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جو بس اوپری دین داری ليے ہوئے ہو۔ دین اس کے اندر تک داخل نہ ہوا ہو۔ ایسے آدمی سے اگر کوئی سائل بے ڈھنگے انداز سے سوال کردے یا کسی کی طرف سے کوئی ایسی بات سامنے آجائے جو اس کی اَنا پر ضرب لگانے والی ہو تو وہ بپھر کر انصاف کی حدوں کو توڑ دیتا ہے۔ ایسا ایک واقعہ ایک ایسا طوفان بن جاتا ہے جو اس کی اوپری ’’مٹی‘‘ کو بہا لے جاتا ہے اور پھر اس کے اندر کا انسان سامنے آجاتا ہے جس کو وہ دین کے ظاہری لبادہ کے پیچھے چھپائے ہوئے تھا— اللہ کے لیے عمل کرنا گویا دیکھے پر اَن دیکھے کو ترجیح دینا ہے جو اس بلند نظری کا ثبوت دے وہی وہ شخص ہے جس پر خدا کی چھپی ہوئی معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔
البقرة 2:263
ہر عمل جو آدمی کرتا ہے وہ گویا ایک بیج ہے جو آدمی ’’زمین‘‘ میں ڈالتا ہے۔ اگر اس کا عمل اس ليے تھا کہ لوگ اسے دیکھیں تو اس نے اپنا بیج دنیا کی زمین میں ڈالا تاکہ یہاں کی زندگی میں اپنے کيے کا پھل پاسکے۔ اور اگر اس کا عمل اس ليے تھا کہ اللہ اس کو ’’دیکھے‘‘ تو اس نے آخرت کی زمین میں اپنا بیج ڈالا جو اگلی دنیا میںاپنے پھول اور پھل کی بہاریں دکھائے۔ دنیا میں ایک دانہ سے ہزار دانے پیدا ہوتے ہیں۔ یہی حال آخرت کے کھیت میں دانہ ڈالنے کا بھی ہے۔
دنیا کے فائدہ یا دنیا کی شہرت وعزت کے لیے خرچ کرنے والا اسی دنیا میں اپنا معاوضہ لینا چاہتا ہے۔ ایسے آدمی کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ مگر جو شخص اللہ کے لیے خرچ کرے اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی پر احسان نہیں جتاتا، اس نے جب اللہ کے لیے خرچ کیا ہے تو انسان پر اس کا کیا احسان۔ اس کی رقم خرچ ہو کر جن لوگوں تک پہنچتی ہے ان کی طرف سے اس کو اچھا جواب نہ ملے تو وہ ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا۔ اس کو تو اچھا جواب اللہ سے لینا ہے، پھر انسانوں سے ملنےیا نہ ملنے کا اسے کیا غم۔ اگر کسی سائل کو وہ نہیں دے سکتاتو وہ اس سے برُا کلمہ نہیں کہتا۔ بلکہ نرمی کے ساتھ معذرت کردیتاہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ وہ جو کچھ بول رہا ہے خدا کے سامنے بول رہا ہے۔ خدا کا خوف اس کو انسان کے سامنے اپني زبان كو كنٹرول كرنے پر مجبور کردیتاہے۔
پـتھر کی چٹان کے اوپر کچھ مٹی جم جائے تو بظاہر وہ مٹی دکھائی دے گی۔ مگر بارش کا جھونکا آتے ہی مٹی کی اوپری تہ بہہ جائے گی اور اندر سے خالی پـتھر نکل آئے گا۔ ایسا ہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جو بس اوپری دین داری ليے ہوئے ہو۔ دین اس کے اندر تک داخل نہ ہوا ہو۔ ایسے آدمی سے اگر کوئی سائل بے ڈھنگے انداز سے سوال کردے یا کسی کی طرف سے کوئی ایسی بات سامنے آجائے جو اس کی اَنا پر ضرب لگانے والی ہو تو وہ بپھر کر انصاف کی حدوں کو توڑ دیتا ہے۔ ایسا ایک واقعہ ایک ایسا طوفان بن جاتا ہے جو اس کی اوپری ’’مٹی‘‘ کو بہا لے جاتا ہے اور پھر اس کے اندر کا انسان سامنے آجاتا ہے جس کو وہ دین کے ظاہری لبادہ کے پیچھے چھپائے ہوئے تھا— اللہ کے لیے عمل کرنا گویا دیکھے پر اَن دیکھے کو ترجیح دینا ہے جو اس بلند نظری کا ثبوت دے وہی وہ شخص ہے جس پر خدا کی چھپی ہوئی معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔
البقرة 2:264
ہر عمل جو آدمی کرتا ہے وہ گویا ایک بیج ہے جو آدمی ’’زمین‘‘ میں ڈالتا ہے۔ اگر اس کا عمل اس ليے تھا کہ لوگ اسے دیکھیں تو اس نے اپنا بیج دنیا کی زمین میں ڈالا تاکہ یہاں کی زندگی میں اپنے کيے کا پھل پاسکے۔ اور اگر اس کا عمل اس ليے تھا کہ اللہ اس کو ’’دیکھے‘‘ تو اس نے آخرت کی زمین میں اپنا بیج ڈالا جو اگلی دنیا میںاپنے پھول اور پھل کی بہاریں دکھائے۔ دنیا میں ایک دانہ سے ہزار دانے پیدا ہوتے ہیں۔ یہی حال آخرت کے کھیت میں دانہ ڈالنے کا بھی ہے۔
دنیا کے فائدہ یا دنیا کی شہرت وعزت کے لیے خرچ کرنے والا اسی دنیا میں اپنا معاوضہ لینا چاہتا ہے۔ ایسے آدمی کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ مگر جو شخص اللہ کے لیے خرچ کرے اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی پر احسان نہیں جتاتا، اس نے جب اللہ کے لیے خرچ کیا ہے تو انسان پر اس کا کیا احسان۔ اس کی رقم خرچ ہو کر جن لوگوں تک پہنچتی ہے ان کی طرف سے اس کو اچھا جواب نہ ملے تو وہ ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا۔ اس کو تو اچھا جواب اللہ سے لینا ہے، پھر انسانوں سے ملنےیا نہ ملنے کا اسے کیا غم۔ اگر کسی سائل کو وہ نہیں دے سکتاتو وہ اس سے برُا کلمہ نہیں کہتا۔ بلکہ نرمی کے ساتھ معذرت کردیتاہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ وہ جو کچھ بول رہا ہے خدا کے سامنے بول رہا ہے۔ خدا کا خوف اس کو انسان کے سامنے اپني زبان كو كنٹرول كرنے پر مجبور کردیتاہے۔
پـتھر کی چٹان کے اوپر کچھ مٹی جم جائے تو بظاہر وہ مٹی دکھائی دے گی۔ مگر بارش کا جھونکا آتے ہی مٹی کی اوپری تہ بہہ جائے گی اور اندر سے خالی پـتھر نکل آئے گا۔ ایسا ہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جو بس اوپری دین داری ليے ہوئے ہو۔ دین اس کے اندر تک داخل نہ ہوا ہو۔ ایسے آدمی سے اگر کوئی سائل بے ڈھنگے انداز سے سوال کردے یا کسی کی طرف سے کوئی ایسی بات سامنے آجائے جو اس کی اَنا پر ضرب لگانے والی ہو تو وہ بپھر کر انصاف کی حدوں کو توڑ دیتا ہے۔ ایسا ایک واقعہ ایک ایسا طوفان بن جاتا ہے جو اس کی اوپری ’’مٹی‘‘ کو بہا لے جاتا ہے اور پھر اس کے اندر کا انسان سامنے آجاتا ہے جس کو وہ دین کے ظاہری لبادہ کے پیچھے چھپائے ہوئے تھا— اللہ کے لیے عمل کرنا گویا دیکھے پر اَن دیکھے کو ترجیح دینا ہے جو اس بلند نظری کا ثبوت دے وہی وہ شخص ہے جس پر خدا کی چھپی ہوئی معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔
البقرة 2:265
آدمی جب کسی چیز کے لیے عمل کرتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ اس کے حق میں اپنی قوت ارادی کو مضبوط کرتاہے۔ اگر وہ اپنی خواہش کے تحت عمل کرے تو اس نے اپنے دل کو اپنی خواہش پر جمایا۔ اس کے برعکس آدمی اگر وہاں عمل کرے جہاں خدا چاہتا ہے کہ عمل کیا جائے تو اس نے اپنے دل کو خدا پر جمایا۔ دونوں راہوں میں ایسا ہوتا ہے کہ کبھی آسان حالات میں عمل کرنا ہوتا ہے اور کبھی مشکل حالات میں۔ تاہم مواقع جتنے شدید ہوں، آدمی کوجتنا زیادہ مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا عمل کرنا پڑے اتنا ہی زیادہ وہ اپنے پیش نظر مقصد کے حق میں اپنے ارادہ کو مستحکم کرے گا۔ عام حالات میں اللہ کی راہ میں اپنے اثاثہ کو خرچ کرنا بھی باعثِ ثواب ہے۔ مگر جب مخالف اسباب کی وجہ سے خصوصی قوت ارادی کو استعمال کرکے آدمی اللہ کی راہ میں اپنا اثاثہ دے تو اس کا ثواب اللہ کے یہاں بہت زیادہ ہے — جس مدمیں خرچ کرنا دنیوی اعتبار سے بے فائدہ ہو اس میں اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنا، جس کو دینے کا دل نہ چاہے اس کو اللہ کے لیے دینا، جس سے خوش معاملگی پر طبیعت آمادہ نہ ہو اس سے اللہ کی خاطر خوش معاملگی کرنا، وہ چیزیں ہیں جو آدمی کو سب سے زیادہ خدا پرستی پر جماتی ہیں اور اس کو خدا کی خصوصی رحمت و نصرت کا مستحق بناتی ہیں۔
آدمی جوانی کی عمر میں باغ لگاتا ہے تاکہ بڑھاپے کی عمر میں اس کا پھل کھائے۔ پھر وہ شخص کیسا بدنصیب ہے جس کا ہرا بھرا باغ اس کی آخر عمر میںعین اس وقت برباد ہوجائے جب کہ وہ سب سے زیادہ اس کا محتاج ہو اور اس کے لیے وہ وقت بھی ختم ہوچکا ہو جب کہ وہ دوبارہ نیا باغ لگائے اور اس کو از سر نو تیار کرے۔ ایسا ہی حال ان لوگوں کا ہے جنھوںنے دین کا کام دنیوی عزت ومنفعت کے لیے کیا۔ وہ بظاہر نیکی اور بھلائی کا کام کرتے رہے۔ مگر ان کا کام صرف شکلا ً ہی عام دنیاداروں سے مختلف تھا۔ باعتبار حقیقت دونوں میں کوئی فرق نہ تھا۔ عام دنیادار جس دنیوی ترقی اور ناموری کے لیے دنیوی نقشوں میں دوڑ دھوپ کررہے تھے، اسی دنیوی ترقی اور ناموری کے لیے انھوںنے دینی نقشوں میں دوڑ دھوپ جاری کردی۔ جو شہرت وعزت دوسرے لوگ دنیا کی عمارت میں اپنا اثاثہ خرچ کرکے حاصل کررہے تھے، اسی شہرت وعزت کو انھوں نے دین کی عمارت میں اپنا اثاثہ خرچ کرکے حاصل کرنا چاہا۔ ایسے لوگ جب مرنے کے بعد آخرت کے عالم میں پہنچیں گے تو وہاں ان کے لیے کچھ نہ ہوگا۔ انھوںنے جو کچھ کیا اِسی دنیا کے لیے کیا۔ پھر وہ اپنے کيے کا پھل اگلی دنیا میں کس طرح پاسکتے ہیں— خدا کی نشانیاں ہمیشہ ظاہر ہوتی ہیں۔ مگر وہ خاموش زبان میں ہوتی ہیں۔ ان سے وہی سبق لے سکتا ہے جو اپنے اندر سوچنے کی صلاحیت پیدا کرچکا ہو۔
البقرة 2:266
آدمی جب کسی چیز کے لیے عمل کرتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ اس کے حق میں اپنی قوت ارادی کو مضبوط کرتاہے۔ اگر وہ اپنی خواہش کے تحت عمل کرے تو اس نے اپنے دل کو اپنی خواہش پر جمایا۔ اس کے برعکس آدمی اگر وہاں عمل کرے جہاں خدا چاہتا ہے کہ عمل کیا جائے تو اس نے اپنے دل کو خدا پر جمایا۔ دونوں راہوں میں ایسا ہوتا ہے کہ کبھی آسان حالات میں عمل کرنا ہوتا ہے اور کبھی مشکل حالات میں۔ تاہم مواقع جتنے شدید ہوں، آدمی کوجتنا زیادہ مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا عمل کرنا پڑے اتنا ہی زیادہ وہ اپنے پیش نظر مقصد کے حق میں اپنے ارادہ کو مستحکم کرے گا۔ عام حالات میں اللہ کی راہ میں اپنے اثاثہ کو خرچ کرنا بھی باعثِ ثواب ہے۔ مگر جب مخالف اسباب کی وجہ سے خصوصی قوت ارادی کو استعمال کرکے آدمی اللہ کی راہ میں اپنا اثاثہ دے تو اس کا ثواب اللہ کے یہاں بہت زیادہ ہے — جس مدمیں خرچ کرنا دنیوی اعتبار سے بے فائدہ ہو اس میں اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنا، جس کو دینے کا دل نہ چاہے اس کو اللہ کے لیے دینا، جس سے خوش معاملگی پر طبیعت آمادہ نہ ہو اس سے اللہ کی خاطر خوش معاملگی کرنا، وہ چیزیں ہیں جو آدمی کو سب سے زیادہ خدا پرستی پر جماتی ہیں اور اس کو خدا کی خصوصی رحمت و نصرت کا مستحق بناتی ہیں۔
آدمی جوانی کی عمر میں باغ لگاتا ہے تاکہ بڑھاپے کی عمر میں اس کا پھل کھائے۔ پھر وہ شخص کیسا بدنصیب ہے جس کا ہرا بھرا باغ اس کی آخر عمر میںعین اس وقت برباد ہوجائے جب کہ وہ سب سے زیادہ اس کا محتاج ہو اور اس کے لیے وہ وقت بھی ختم ہوچکا ہو جب کہ وہ دوبارہ نیا باغ لگائے اور اس کو از سر نو تیار کرے۔ ایسا ہی حال ان لوگوں کا ہے جنھوںنے دین کا کام دنیوی عزت ومنفعت کے لیے کیا۔ وہ بظاہر نیکی اور بھلائی کا کام کرتے رہے۔ مگر ان کا کام صرف شکلا ً ہی عام دنیاداروں سے مختلف تھا۔ باعتبار حقیقت دونوں میں کوئی فرق نہ تھا۔ عام دنیادار جس دنیوی ترقی اور ناموری کے لیے دنیوی نقشوں میں دوڑ دھوپ کررہے تھے، اسی دنیوی ترقی اور ناموری کے لیے انھوںنے دینی نقشوں میں دوڑ دھوپ جاری کردی۔ جو شہرت وعزت دوسرے لوگ دنیا کی عمارت میں اپنا اثاثہ خرچ کرکے حاصل کررہے تھے، اسی شہرت وعزت کو انھوں نے دین کی عمارت میں اپنا اثاثہ خرچ کرکے حاصل کرنا چاہا۔ ایسے لوگ جب مرنے کے بعد آخرت کے عالم میں پہنچیں گے تو وہاں ان کے لیے کچھ نہ ہوگا۔ انھوںنے جو کچھ کیا اِسی دنیا کے لیے کیا۔ پھر وہ اپنے کيے کا پھل اگلی دنیا میں کس طرح پاسکتے ہیں— خدا کی نشانیاں ہمیشہ ظاہر ہوتی ہیں۔ مگر وہ خاموش زبان میں ہوتی ہیں۔ ان سے وہی سبق لے سکتا ہے جو اپنے اندر سوچنے کی صلاحیت پیدا کرچکا ہو۔
البقرة 2:267
آدمی دنیا میں جو کچھ کماتا ہے اس کو خرچ کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو شیطان کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس کو اللہ کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ شیطان یہ کرتا ہے کہ آدمی کے ذاتی تقاضوں کی اہمیت اس کے دل میں بٹھاتا ہے۔ وہ اس کو سکھاتا ہے کہ تم نے جو کچھ کمایا ہے اس کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اس کو اپنی ذاتی ضرورتوں کو پورا کرنے میں لگاؤ۔ پھر جب شیطان دیکھتا ہے کہ آدمی کے پاس اس کی حقیقی ضرورت سے زیادہ مال ہے تو وہ اس کے اندر ایک اور جذبہ بھڑکا دیتاہے۔ یہ نمود و نمائش کا جذبہ ہے۔ اب وہ اپنی دولت کو بے دریغ نمائشی کاموں میں بہانے لگتا ہے اور خوش ہوتا ہے کہ اس نے اپنی دولت کو بہترین مصرف میں لگایا۔
آدمی کو چاہيے کہ اپنے مال کو اپنی ذاتی چیز نہ سمجھے بلکہ اللہ کی چیز سمجھے۔ وہ اپنی کمائی میں سے اپنی حقیقی ضرورت کے بقدر لے لے اور اس کے بعد جو کچھ ہے اس کو بلند تر مقاصد میں لگائے۔ وہ خدا کے کمزور بندوں کو دے اور خدا کے دین کی ضرورتوں میں خرچ کرے۔ آدمی جب اللہ کے کمزور بندوں پر اپنا مال خرچ کرتا ہے تو گویا وہ اپنے رب سے اس بات کا امیدوار بن رہا ہوتا ہے کہ آخرت میں جب وہ خالی ہاتھ خداکے سامنے حاضر ہو تو اس کا خدا اس کو اپنی رحمتوں سے محروم نہ کرے۔ اسی طرح جب وہ دین کی ضرورتوں میں اپنا مال دیتاہے تو وہ اپنے آپ کو خدا کے مشن میں شریک کرتاہے۔ وہ اپنے مال کو خدا کے مال میں شامل کرتاہے تاکہ اس کی حقیر پونجی خدا کے بڑے خزانہ میں مل کر زیادہ ہوجائے۔
جو شخص اپنے مال کو اللہ کے بتائے هوئے طریقے کے مطابق خرچ کرتا ہے وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس کو حکمت ودانائی میں سے حصہ ملا ہے۔ سب سے بڑی نادانی یہ ہے کہ آدمی مال کی محبت میں مبتلا ہو اور اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے سے رک جائے اور سب سے بڑی دانائی یہ ہے کہ اقتصادی مفادات آدمی کے لیے اللہ کی راہ میں بڑھنے میں رکاوٹ نہ بنیں۔ وہ اپنے آپ کو خدا میں اتنا ملا دے کہ خدا کو اپنا اور اپنے کو خدا کا سمجھنے لگے۔ جو شخص ذاتی مصلحتوں کے خول میں جیتا ہے اس کے اندر وہ نگاہ پیدا نہیں ہوسکتی جو بلند تر حقیقتوں کو دیکھے اور اعلیٰ کیفیات کا تجربہ کرے۔ اس کے برعکس، جو شخص ذاتی مصلحتوں کو نظر انداز کرکے خدا کی طرف بڑھتا ہے وہ اپنے آپ کو محدودیتوں سے اوپر اٹھاتا ہے، وہ اپنے شعور کو اس خدا کے ہم سطح کرلیتاہے جو غنی وحمید اور وسیع وعلیم ہے۔ وہ چیزوں کو ان کے اصلی روپ میں دیکھنے لگتا ہے۔ کیوں کہ وہ ان حد بندیوں کے پار ہوجاتا ہے جو آدمی کے لیے کسی چیز کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنے میں رکاوٹ بنتی ہیں — کوئی بات خواہ کتنی ہی سچی ہو مگر اس کی سچائی کسی آدمی پر اسی وقت کھلتی ہے جب کہ وہ اس کو کھلے ذہن سے دیکھ سکے۔
البقرة 2:268
آدمی دنیا میں جو کچھ کماتا ہے اس کو خرچ کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو شیطان کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس کو اللہ کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ شیطان یہ کرتا ہے کہ آدمی کے ذاتی تقاضوں کی اہمیت اس کے دل میں بٹھاتا ہے۔ وہ اس کو سکھاتا ہے کہ تم نے جو کچھ کمایا ہے اس کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اس کو اپنی ذاتی ضرورتوں کو پورا کرنے میں لگاؤ۔ پھر جب شیطان دیکھتا ہے کہ آدمی کے پاس اس کی حقیقی ضرورت سے زیادہ مال ہے تو وہ اس کے اندر ایک اور جذبہ بھڑکا دیتاہے۔ یہ نمود و نمائش کا جذبہ ہے۔ اب وہ اپنی دولت کو بے دریغ نمائشی کاموں میں بہانے لگتا ہے اور خوش ہوتا ہے کہ اس نے اپنی دولت کو بہترین مصرف میں لگایا۔
آدمی کو چاہيے کہ اپنے مال کو اپنی ذاتی چیز نہ سمجھے بلکہ اللہ کی چیز سمجھے۔ وہ اپنی کمائی میں سے اپنی حقیقی ضرورت کے بقدر لے لے اور اس کے بعد جو کچھ ہے اس کو بلند تر مقاصد میں لگائے۔ وہ خدا کے کمزور بندوں کو دے اور خدا کے دین کی ضرورتوں میں خرچ کرے۔ آدمی جب اللہ کے کمزور بندوں پر اپنا مال خرچ کرتا ہے تو گویا وہ اپنے رب سے اس بات کا امیدوار بن رہا ہوتا ہے کہ آخرت میں جب وہ خالی ہاتھ خداکے سامنے حاضر ہو تو اس کا خدا اس کو اپنی رحمتوں سے محروم نہ کرے۔ اسی طرح جب وہ دین کی ضرورتوں میں اپنا مال دیتاہے تو وہ اپنے آپ کو خدا کے مشن میں شریک کرتاہے۔ وہ اپنے مال کو خدا کے مال میں شامل کرتاہے تاکہ اس کی حقیر پونجی خدا کے بڑے خزانہ میں مل کر زیادہ ہوجائے۔
جو شخص اپنے مال کو اللہ کے بتائے هوئے طریقے کے مطابق خرچ کرتا ہے وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس کو حکمت ودانائی میں سے حصہ ملا ہے۔ سب سے بڑی نادانی یہ ہے کہ آدمی مال کی محبت میں مبتلا ہو اور اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے سے رک جائے اور سب سے بڑی دانائی یہ ہے کہ اقتصادی مفادات آدمی کے لیے اللہ کی راہ میں بڑھنے میں رکاوٹ نہ بنیں۔ وہ اپنے آپ کو خدا میں اتنا ملا دے کہ خدا کو اپنا اور اپنے کو خدا کا سمجھنے لگے۔ جو شخص ذاتی مصلحتوں کے خول میں جیتا ہے اس کے اندر وہ نگاہ پیدا نہیں ہوسکتی جو بلند تر حقیقتوں کو دیکھے اور اعلیٰ کیفیات کا تجربہ کرے۔ اس کے برعکس، جو شخص ذاتی مصلحتوں کو نظر انداز کرکے خدا کی طرف بڑھتا ہے وہ اپنے آپ کو محدودیتوں سے اوپر اٹھاتا ہے، وہ اپنے شعور کو اس خدا کے ہم سطح کرلیتاہے جو غنی وحمید اور وسیع وعلیم ہے۔ وہ چیزوں کو ان کے اصلی روپ میں دیکھنے لگتا ہے۔ کیوں کہ وہ ان حد بندیوں کے پار ہوجاتا ہے جو آدمی کے لیے کسی چیز کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنے میں رکاوٹ بنتی ہیں — کوئی بات خواہ کتنی ہی سچی ہو مگر اس کی سچائی کسی آدمی پر اسی وقت کھلتی ہے جب کہ وہ اس کو کھلے ذہن سے دیکھ سکے۔
البقرة 2:269
آدمی دنیا میں جو کچھ کماتا ہے اس کو خرچ کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو شیطان کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس کو اللہ کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ شیطان یہ کرتا ہے کہ آدمی کے ذاتی تقاضوں کی اہمیت اس کے دل میں بٹھاتا ہے۔ وہ اس کو سکھاتا ہے کہ تم نے جو کچھ کمایا ہے اس کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اس کو اپنی ذاتی ضرورتوں کو پورا کرنے میں لگاؤ۔ پھر جب شیطان دیکھتا ہے کہ آدمی کے پاس اس کی حقیقی ضرورت سے زیادہ مال ہے تو وہ اس کے اندر ایک اور جذبہ بھڑکا دیتاہے۔ یہ نمود و نمائش کا جذبہ ہے۔ اب وہ اپنی دولت کو بے دریغ نمائشی کاموں میں بہانے لگتا ہے اور خوش ہوتا ہے کہ اس نے اپنی دولت کو بہترین مصرف میں لگایا۔
آدمی کو چاہيے کہ اپنے مال کو اپنی ذاتی چیز نہ سمجھے بلکہ اللہ کی چیز سمجھے۔ وہ اپنی کمائی میں سے اپنی حقیقی ضرورت کے بقدر لے لے اور اس کے بعد جو کچھ ہے اس کو بلند تر مقاصد میں لگائے۔ وہ خدا کے کمزور بندوں کو دے اور خدا کے دین کی ضرورتوں میں خرچ کرے۔ آدمی جب اللہ کے کمزور بندوں پر اپنا مال خرچ کرتا ہے تو گویا وہ اپنے رب سے اس بات کا امیدوار بن رہا ہوتا ہے کہ آخرت میں جب وہ خالی ہاتھ خداکے سامنے حاضر ہو تو اس کا خدا اس کو اپنی رحمتوں سے محروم نہ کرے۔ اسی طرح جب وہ دین کی ضرورتوں میں اپنا مال دیتاہے تو وہ اپنے آپ کو خدا کے مشن میں شریک کرتاہے۔ وہ اپنے مال کو خدا کے مال میں شامل کرتاہے تاکہ اس کی حقیر پونجی خدا کے بڑے خزانہ میں مل کر زیادہ ہوجائے۔
جو شخص اپنے مال کو اللہ کے بتائے هوئے طریقے کے مطابق خرچ کرتا ہے وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس کو حکمت ودانائی میں سے حصہ ملا ہے۔ سب سے بڑی نادانی یہ ہے کہ آدمی مال کی محبت میں مبتلا ہو اور اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے سے رک جائے اور سب سے بڑی دانائی یہ ہے کہ اقتصادی مفادات آدمی کے لیے اللہ کی راہ میں بڑھنے میں رکاوٹ نہ بنیں۔ وہ اپنے آپ کو خدا میں اتنا ملا دے کہ خدا کو اپنا اور اپنے کو خدا کا سمجھنے لگے۔ جو شخص ذاتی مصلحتوں کے خول میں جیتا ہے اس کے اندر وہ نگاہ پیدا نہیں ہوسکتی جو بلند تر حقیقتوں کو دیکھے اور اعلیٰ کیفیات کا تجربہ کرے۔ اس کے برعکس، جو شخص ذاتی مصلحتوں کو نظر انداز کرکے خدا کی طرف بڑھتا ہے وہ اپنے آپ کو محدودیتوں سے اوپر اٹھاتا ہے، وہ اپنے شعور کو اس خدا کے ہم سطح کرلیتاہے جو غنی وحمید اور وسیع وعلیم ہے۔ وہ چیزوں کو ان کے اصلی روپ میں دیکھنے لگتا ہے۔ کیوں کہ وہ ان حد بندیوں کے پار ہوجاتا ہے جو آدمی کے لیے کسی چیز کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنے میں رکاوٹ بنتی ہیں — کوئی بات خواہ کتنی ہی سچی ہو مگر اس کی سچائی کسی آدمی پر اسی وقت کھلتی ہے جب کہ وہ اس کو کھلے ذہن سے دیکھ سکے۔
البقرة 2:270
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی سب سے بڑی مد یہ ہے کہ ان دینی خادموں کی مالی مدد کی جائے جو دین کی جدوجہد میں اپنے کو ہمہ تن لگا دینے کی وجہ سے بے معاش ہوگئے ہوں۔ایک کامیاب تاجر کے پاس کسی دوسرے کام کے لیے وقت نہیں رہتا۔ ٹھیک یہی معاملہ خدمت دین کا ہے۔ جو شخص یک سوئی کے ساتھ اپنے آپ کو دین کی خدمت میں لگائے اس کے پاس معاشی جدوجہد کے لیے وقت نہیں رہے گا۔ مزید یہ کہ ہر کام کی اپنی ایک فطرت ہے اور اپنی فطرت کے لحاظ سے وہ آدمی کا ذہن ایک خاص ڈھنگ پر بناتاہے جو شخص تجارت میں لگتاہے اس کے اندر دھیرے دھیرے تجارتی مزاج پیدا ہوجاتاہے۔ تجارت کی راہ کی باریکیاں فوراً اس کی سمجھ میں آجاتی ہیں۔ جب کہ وہی آدمی دین کے راستہ کی باتوں کو گہرائی کے ساتھ پکڑ نہیں پاتا۔ یہی معاملہ برعکس صورت میں دين كي خدمت كرنے والے کا ہوتا ہے۔ اب اس کا حل کیا ہو۔ کیوں کہ کسی معاشرہ میں دونوں قسم کے کاموں کا ہونا ضروری ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس معاشی وسائل جمع ہوگئے ہیں اس میں وہ ان لوگوں کا حصہ بھي لگائیں جو دینی مصروفیت کی وجہ سے اپنی معاشیات فراہم نہ کرسکے۔ یہ گویا ایک طرح کی خاموش تقسیم کار ہے جو طرفین کے درمیان خالص رضائے الٰہی کے لیے وقوع میںآتی ہے۔ خادم دین نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے یکسو کیا تھا، اس ليے وہ انسان سے نہیں مانگتا اور نہ اس سے پانے کا امیدوار رہتاهے۔ دوسری طرف صاحب معاش یہ سوچتاہے کہ میرے پاس معاشی وسائل اس قیمت پر آئے ہیں کہ میں دین کی راہ میں وہ خدمت نہ کرسکا جو مجھ کو کرنا چاہيے تھا۔ اس ليے اس کی تلافی كي صورت يہ ہے کہ میں اپنے مال میںاپنے ان بھائیوں کا حصہ لگاؤں جو گویا میری کمی کی تلافی خداکے یہاں کررہے ہیں۔
جب دین کی جدوجہد اس مرحلہ میں ہو کہ دین کے نام پر معاشی عہدے نہ ملتے ہوں، جب دین کی راہ میں لگنے والا آدمی بے روزگار ہوجائے، اس وقت دین کے خادموں کو اپنا مال دینا بظاہر ماحول کے ایک غیراہم طبقہ سے اپنا رشتہ جوڑنا ہے۔ ایسے افراد پر خرچ کرنا مجلسوں میں قابل تذکرہ نہیںہوتا۔ وہ آدمی کی حیثیت اور ناموری میں اضافہ نہیں کرتا۔ مگر یہی وہ خرچ ہے جو آدمی کو سب سے زیادہ اللہ کی رحمتوں کا مستحق بناتاہے۔
البقرة 2:271
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی سب سے بڑی مد یہ ہے کہ ان دینی خادموں کی مالی مدد کی جائے جو دین کی جدوجہد میں اپنے کو ہمہ تن لگا دینے کی وجہ سے بے معاش ہوگئے ہوں۔ایک کامیاب تاجر کے پاس کسی دوسرے کام کے لیے وقت نہیں رہتا۔ ٹھیک یہی معاملہ خدمت دین کا ہے۔ جو شخص یک سوئی کے ساتھ اپنے آپ کو دین کی خدمت میں لگائے اس کے پاس معاشی جدوجہد کے لیے وقت نہیں رہے گا۔ مزید یہ کہ ہر کام کی اپنی ایک فطرت ہے اور اپنی فطرت کے لحاظ سے وہ آدمی کا ذہن ایک خاص ڈھنگ پر بناتاہے جو شخص تجارت میں لگتاہے اس کے اندر دھیرے دھیرے تجارتی مزاج پیدا ہوجاتاہے۔ تجارت کی راہ کی باریکیاں فوراً اس کی سمجھ میں آجاتی ہیں۔ جب کہ وہی آدمی دین کے راستہ کی باتوں کو گہرائی کے ساتھ پکڑ نہیں پاتا۔ یہی معاملہ برعکس صورت میں دين كي خدمت كرنے والے کا ہوتا ہے۔ اب اس کا حل کیا ہو۔ کیوں کہ کسی معاشرہ میں دونوں قسم کے کاموں کا ہونا ضروری ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس معاشی وسائل جمع ہوگئے ہیں اس میں وہ ان لوگوں کا حصہ بھي لگائیں جو دینی مصروفیت کی وجہ سے اپنی معاشیات فراہم نہ کرسکے۔ یہ گویا ایک طرح کی خاموش تقسیم کار ہے جو طرفین کے درمیان خالص رضائے الٰہی کے لیے وقوع میںآتی ہے۔ خادم دین نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے یکسو کیا تھا، اس ليے وہ انسان سے نہیں مانگتا اور نہ اس سے پانے کا امیدوار رہتاهے۔ دوسری طرف صاحب معاش یہ سوچتاہے کہ میرے پاس معاشی وسائل اس قیمت پر آئے ہیں کہ میں دین کی راہ میں وہ خدمت نہ کرسکا جو مجھ کو کرنا چاہيے تھا۔ اس ليے اس کی تلافی كي صورت يہ ہے کہ میں اپنے مال میںاپنے ان بھائیوں کا حصہ لگاؤں جو گویا میری کمی کی تلافی خداکے یہاں کررہے ہیں۔
جب دین کی جدوجہد اس مرحلہ میں ہو کہ دین کے نام پر معاشی عہدے نہ ملتے ہوں، جب دین کی راہ میں لگنے والا آدمی بے روزگار ہوجائے، اس وقت دین کے خادموں کو اپنا مال دینا بظاہر ماحول کے ایک غیراہم طبقہ سے اپنا رشتہ جوڑنا ہے۔ ایسے افراد پر خرچ کرنا مجلسوں میں قابل تذکرہ نہیںہوتا۔ وہ آدمی کی حیثیت اور ناموری میں اضافہ نہیں کرتا۔ مگر یہی وہ خرچ ہے جو آدمی کو سب سے زیادہ اللہ کی رحمتوں کا مستحق بناتاہے۔
البقرة 2:272
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی سب سے بڑی مد یہ ہے کہ ان دینی خادموں کی مالی مدد کی جائے جو دین کی جدوجہد میں اپنے کو ہمہ تن لگا دینے کی وجہ سے بے معاش ہوگئے ہوں۔ایک کامیاب تاجر کے پاس کسی دوسرے کام کے لیے وقت نہیں رہتا۔ ٹھیک یہی معاملہ خدمت دین کا ہے۔ جو شخص یک سوئی کے ساتھ اپنے آپ کو دین کی خدمت میں لگائے اس کے پاس معاشی جدوجہد کے لیے وقت نہیں رہے گا۔ مزید یہ کہ ہر کام کی اپنی ایک فطرت ہے اور اپنی فطرت کے لحاظ سے وہ آدمی کا ذہن ایک خاص ڈھنگ پر بناتاہے جو شخص تجارت میں لگتاہے اس کے اندر دھیرے دھیرے تجارتی مزاج پیدا ہوجاتاہے۔ تجارت کی راہ کی باریکیاں فوراً اس کی سمجھ میں آجاتی ہیں۔ جب کہ وہی آدمی دین کے راستہ کی باتوں کو گہرائی کے ساتھ پکڑ نہیں پاتا۔ یہی معاملہ برعکس صورت میں دين كي خدمت كرنے والے کا ہوتا ہے۔ اب اس کا حل کیا ہو۔ کیوں کہ کسی معاشرہ میں دونوں قسم کے کاموں کا ہونا ضروری ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس معاشی وسائل جمع ہوگئے ہیں اس میں وہ ان لوگوں کا حصہ بھي لگائیں جو دینی مصروفیت کی وجہ سے اپنی معاشیات فراہم نہ کرسکے۔ یہ گویا ایک طرح کی خاموش تقسیم کار ہے جو طرفین کے درمیان خالص رضائے الٰہی کے لیے وقوع میںآتی ہے۔ خادم دین نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے یکسو کیا تھا، اس ليے وہ انسان سے نہیں مانگتا اور نہ اس سے پانے کا امیدوار رہتاهے۔ دوسری طرف صاحب معاش یہ سوچتاہے کہ میرے پاس معاشی وسائل اس قیمت پر آئے ہیں کہ میں دین کی راہ میں وہ خدمت نہ کرسکا جو مجھ کو کرنا چاہيے تھا۔ اس ليے اس کی تلافی كي صورت يہ ہے کہ میں اپنے مال میںاپنے ان بھائیوں کا حصہ لگاؤں جو گویا میری کمی کی تلافی خداکے یہاں کررہے ہیں۔
جب دین کی جدوجہد اس مرحلہ میں ہو کہ دین کے نام پر معاشی عہدے نہ ملتے ہوں، جب دین کی راہ میں لگنے والا آدمی بے روزگار ہوجائے، اس وقت دین کے خادموں کو اپنا مال دینا بظاہر ماحول کے ایک غیراہم طبقہ سے اپنا رشتہ جوڑنا ہے۔ ایسے افراد پر خرچ کرنا مجلسوں میں قابل تذکرہ نہیںہوتا۔ وہ آدمی کی حیثیت اور ناموری میں اضافہ نہیں کرتا۔ مگر یہی وہ خرچ ہے جو آدمی کو سب سے زیادہ اللہ کی رحمتوں کا مستحق بناتاہے۔
البقرة 2:273
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی سب سے بڑی مد یہ ہے کہ ان دینی خادموں کی مالی مدد کی جائے جو دین کی جدوجہد میں اپنے کو ہمہ تن لگا دینے کی وجہ سے بے معاش ہوگئے ہوں۔ایک کامیاب تاجر کے پاس کسی دوسرے کام کے لیے وقت نہیں رہتا۔ ٹھیک یہی معاملہ خدمت دین کا ہے۔ جو شخص یک سوئی کے ساتھ اپنے آپ کو دین کی خدمت میں لگائے اس کے پاس معاشی جدوجہد کے لیے وقت نہیں رہے گا۔ مزید یہ کہ ہر کام کی اپنی ایک فطرت ہے اور اپنی فطرت کے لحاظ سے وہ آدمی کا ذہن ایک خاص ڈھنگ پر بناتاہے جو شخص تجارت میں لگتاہے اس کے اندر دھیرے دھیرے تجارتی مزاج پیدا ہوجاتاہے۔ تجارت کی راہ کی باریکیاں فوراً اس کی سمجھ میں آجاتی ہیں۔ جب کہ وہی آدمی دین کے راستہ کی باتوں کو گہرائی کے ساتھ پکڑ نہیں پاتا۔ یہی معاملہ برعکس صورت میں دين كي خدمت كرنے والے کا ہوتا ہے۔ اب اس کا حل کیا ہو۔ کیوں کہ کسی معاشرہ میں دونوں قسم کے کاموں کا ہونا ضروری ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس معاشی وسائل جمع ہوگئے ہیں اس میں وہ ان لوگوں کا حصہ بھي لگائیں جو دینی مصروفیت کی وجہ سے اپنی معاشیات فراہم نہ کرسکے۔ یہ گویا ایک طرح کی خاموش تقسیم کار ہے جو طرفین کے درمیان خالص رضائے الٰہی کے لیے وقوع میںآتی ہے۔ خادم دین نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے یکسو کیا تھا، اس ليے وہ انسان سے نہیں مانگتا اور نہ اس سے پانے کا امیدوار رہتاهے۔ دوسری طرف صاحب معاش یہ سوچتاہے کہ میرے پاس معاشی وسائل اس قیمت پر آئے ہیں کہ میں دین کی راہ میں وہ خدمت نہ کرسکا جو مجھ کو کرنا چاہيے تھا۔ اس ليے اس کی تلافی كي صورت يہ ہے کہ میں اپنے مال میںاپنے ان بھائیوں کا حصہ لگاؤں جو گویا میری کمی کی تلافی خداکے یہاں کررہے ہیں۔
جب دین کی جدوجہد اس مرحلہ میں ہو کہ دین کے نام پر معاشی عہدے نہ ملتے ہوں، جب دین کی راہ میں لگنے والا آدمی بے روزگار ہوجائے، اس وقت دین کے خادموں کو اپنا مال دینا بظاہر ماحول کے ایک غیراہم طبقہ سے اپنا رشتہ جوڑنا ہے۔ ایسے افراد پر خرچ کرنا مجلسوں میں قابل تذکرہ نہیںہوتا۔ وہ آدمی کی حیثیت اور ناموری میں اضافہ نہیں کرتا۔ مگر یہی وہ خرچ ہے جو آدمی کو سب سے زیادہ اللہ کی رحمتوں کا مستحق بناتاہے۔
البقرة 2:274
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی سب سے بڑی مد یہ ہے کہ ان دینی خادموں کی مالی مدد کی جائے جو دین کی جدوجہد میں اپنے کو ہمہ تن لگا دینے کی وجہ سے بے معاش ہوگئے ہوں۔ایک کامیاب تاجر کے پاس کسی دوسرے کام کے لیے وقت نہیں رہتا۔ ٹھیک یہی معاملہ خدمت دین کا ہے۔ جو شخص یک سوئی کے ساتھ اپنے آپ کو دین کی خدمت میں لگائے اس کے پاس معاشی جدوجہد کے لیے وقت نہیں رہے گا۔ مزید یہ کہ ہر کام کی اپنی ایک فطرت ہے اور اپنی فطرت کے لحاظ سے وہ آدمی کا ذہن ایک خاص ڈھنگ پر بناتاہے جو شخص تجارت میں لگتاہے اس کے اندر دھیرے دھیرے تجارتی مزاج پیدا ہوجاتاہے۔ تجارت کی راہ کی باریکیاں فوراً اس کی سمجھ میں آجاتی ہیں۔ جب کہ وہی آدمی دین کے راستہ کی باتوں کو گہرائی کے ساتھ پکڑ نہیں پاتا۔ یہی معاملہ برعکس صورت میں دين كي خدمت كرنے والے کا ہوتا ہے۔ اب اس کا حل کیا ہو۔ کیوں کہ کسی معاشرہ میں دونوں قسم کے کاموں کا ہونا ضروری ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس معاشی وسائل جمع ہوگئے ہیں اس میں وہ ان لوگوں کا حصہ بھي لگائیں جو دینی مصروفیت کی وجہ سے اپنی معاشیات فراہم نہ کرسکے۔ یہ گویا ایک طرح کی خاموش تقسیم کار ہے جو طرفین کے درمیان خالص رضائے الٰہی کے لیے وقوع میںآتی ہے۔ خادم دین نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے یکسو کیا تھا، اس ليے وہ انسان سے نہیں مانگتا اور نہ اس سے پانے کا امیدوار رہتاهے۔ دوسری طرف صاحب معاش یہ سوچتاہے کہ میرے پاس معاشی وسائل اس قیمت پر آئے ہیں کہ میں دین کی راہ میں وہ خدمت نہ کرسکا جو مجھ کو کرنا چاہيے تھا۔ اس ليے اس کی تلافی كي صورت يہ ہے کہ میں اپنے مال میںاپنے ان بھائیوں کا حصہ لگاؤں جو گویا میری کمی کی تلافی خداکے یہاں کررہے ہیں۔
جب دین کی جدوجہد اس مرحلہ میں ہو کہ دین کے نام پر معاشی عہدے نہ ملتے ہوں، جب دین کی راہ میں لگنے والا آدمی بے روزگار ہوجائے، اس وقت دین کے خادموں کو اپنا مال دینا بظاہر ماحول کے ایک غیراہم طبقہ سے اپنا رشتہ جوڑنا ہے۔ ایسے افراد پر خرچ کرنا مجلسوں میں قابل تذکرہ نہیںہوتا۔ وہ آدمی کی حیثیت اور ناموری میں اضافہ نہیں کرتا۔ مگر یہی وہ خرچ ہے جو آدمی کو سب سے زیادہ اللہ کی رحمتوں کا مستحق بناتاہے۔
البقرة 2:275
بندوں کے درمیان باہمی طورپر جو معاشی تعلقات مطلوب ہیں ان کی علامت زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے حقوق کا اعتراف یہاںتک کرتاہے کہ وہ خود اپنی کمائی کا ایک حصہ نکال کر اپنے بھائی کو دیتاہے۔ جو دین حقوق شناسی کا ایسا ماحول بنانا چاہتا ہو وہ سود کے دولت پرستانہ طریقہ کو کسی طرح قبول نہیں کرسکتا۔ ایسے معاشرہ میں باہمی لین دین تجارت کے اصول پر ہوتا ہے، نہ کہ سودکے اصول پر تجارت میں بھی آدمی نفع لیتاہے۔ مگر تجارت کا جو نفع ہے وہ آدمی کی محنت اور اس کے خطرات مول لینے کی قیمت ہوتا ہے۔ جب کہ سود کا نفع محض خود غرضی اور زر اندوزی کا نتیجہ ہے۔
سود کا کاروبار کرنے والا اپنی دولت دوسرے کو اس ليے دیتاہے کہ وہ اس کے ذریعہ اپنی دولت کو مزید بڑھائے۔ وہ یہ دیکھ کر خوش ہوتاہے کہ اس کا سرمایہ یقینی شرح سے بڑھ رہا ہے۔ مگر اس عمل کے دوران وہ خود اپنے اندر جو انسان تیار کرتاہے وہ ایک خود غرض اور دنیا پرست انسان ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی اپنی کمائی میں سے صدقہ کرتاہے، جو دوسروں کی ضرورت مندی کو اپنے ليے تجارت کا سودا نہیں بناتا بلکہ اس کے ساتھ اپنے کو شریک کرتا ہے، ایسا شخص اپنے عمل کے دوران اپنے اندر جو انسان تیار کررہا ہے وہ پہلے سے بالکل مختلف انسان ہے۔ یہ وہ انسان ہے جس کے دل میں دوسروں کی خیر خواہی ہے۔ جو ذاتی دائرہ سے اوپر اٹھ کر سوچتاہے۔
دنیا میں آدمی اس ليے نہیں بھیجا گیا ہے کہ وہ یہاں اپنی کمائی کے ڈھیر لگائے۔ آدمی کے لیے ڈھیر لگانے کی جگہ آخرت ہے۔ دنیا میں آدمی کو اس ليے بھیجا گیا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ان میں کون ہے جو اپنی خصوصیات کے اعتبار سے اس قابل ہے کہ اس کو آخرت کی جنتی دنیامیں بسایا جائے۔ جو لوگ اس صلاحیت کا ثبوت دیں گے ان کو خدا جنت کا باشندہ بننے کے لیے چن لے گا، اور باقی تمام لوگ کوڑا کرکٹ کی طرح جہنم میں پھینک ديے جائیں گے — صدقہ کی روح حاجت مند کو اپنا مال خدا کے لیے دینا ہے اور سود کی روح استحصال کے لیے دینا۔صدقہ اس بات کی علامت ہے کہ آدمی آخرت میں اپنے ليے نعمتوں کا ڈھیر دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں سود اس بات کی علامت ہے کہ وہ اسی دنیا میں اپنے ليے ڈھیر لگانے کا خواہش مند ہے۔ یہ دو الگ الگ انسان ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ خدا کے یہاں دونوں کا انجام یکساں قرار پائے۔ دنیا اسی کو ملتی ہے جس نے دنیا کے لیے محنت کی ہو، اسی طرح آخرت اسی کو ملے گی جس نے آخرت کے لیے اپنے اثاثہ کو قربان کیا۔
البقرة 2:276
بندوں کے درمیان باہمی طورپر جو معاشی تعلقات مطلوب ہیں ان کی علامت زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے حقوق کا اعتراف یہاںتک کرتاہے کہ وہ خود اپنی کمائی کا ایک حصہ نکال کر اپنے بھائی کو دیتاہے۔ جو دین حقوق شناسی کا ایسا ماحول بنانا چاہتا ہو وہ سود کے دولت پرستانہ طریقہ کو کسی طرح قبول نہیں کرسکتا۔ ایسے معاشرہ میں باہمی لین دین تجارت کے اصول پر ہوتا ہے، نہ کہ سودکے اصول پر تجارت میں بھی آدمی نفع لیتاہے۔ مگر تجارت کا جو نفع ہے وہ آدمی کی محنت اور اس کے خطرات مول لینے کی قیمت ہوتا ہے۔ جب کہ سود کا نفع محض خود غرضی اور زر اندوزی کا نتیجہ ہے۔
سود کا کاروبار کرنے والا اپنی دولت دوسرے کو اس ليے دیتاہے کہ وہ اس کے ذریعہ اپنی دولت کو مزید بڑھائے۔ وہ یہ دیکھ کر خوش ہوتاہے کہ اس کا سرمایہ یقینی شرح سے بڑھ رہا ہے۔ مگر اس عمل کے دوران وہ خود اپنے اندر جو انسان تیار کرتاہے وہ ایک خود غرض اور دنیا پرست انسان ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی اپنی کمائی میں سے صدقہ کرتاہے، جو دوسروں کی ضرورت مندی کو اپنے ليے تجارت کا سودا نہیں بناتا بلکہ اس کے ساتھ اپنے کو شریک کرتا ہے، ایسا شخص اپنے عمل کے دوران اپنے اندر جو انسان تیار کررہا ہے وہ پہلے سے بالکل مختلف انسان ہے۔ یہ وہ انسان ہے جس کے دل میں دوسروں کی خیر خواہی ہے۔ جو ذاتی دائرہ سے اوپر اٹھ کر سوچتاہے۔
دنیا میں آدمی اس ليے نہیں بھیجا گیا ہے کہ وہ یہاں اپنی کمائی کے ڈھیر لگائے۔ آدمی کے لیے ڈھیر لگانے کی جگہ آخرت ہے۔ دنیا میں آدمی کو اس ليے بھیجا گیا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ان میں کون ہے جو اپنی خصوصیات کے اعتبار سے اس قابل ہے کہ اس کو آخرت کی جنتی دنیامیں بسایا جائے۔ جو لوگ اس صلاحیت کا ثبوت دیں گے ان کو خدا جنت کا باشندہ بننے کے لیے چن لے گا، اور باقی تمام لوگ کوڑا کرکٹ کی طرح جہنم میں پھینک ديے جائیں گے — صدقہ کی روح حاجت مند کو اپنا مال خدا کے لیے دینا ہے اور سود کی روح استحصال کے لیے دینا۔صدقہ اس بات کی علامت ہے کہ آدمی آخرت میں اپنے ليے نعمتوں کا ڈھیر دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں سود اس بات کی علامت ہے کہ وہ اسی دنیا میں اپنے ليے ڈھیر لگانے کا خواہش مند ہے۔ یہ دو الگ الگ انسان ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ خدا کے یہاں دونوں کا انجام یکساں قرار پائے۔ دنیا اسی کو ملتی ہے جس نے دنیا کے لیے محنت کی ہو، اسی طرح آخرت اسی کو ملے گی جس نے آخرت کے لیے اپنے اثاثہ کو قربان کیا۔
البقرة 2:277
بندوں کے درمیان باہمی طورپر جو معاشی تعلقات مطلوب ہیں ان کی علامت زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے حقوق کا اعتراف یہاںتک کرتاہے کہ وہ خود اپنی کمائی کا ایک حصہ نکال کر اپنے بھائی کو دیتاہے۔ جو دین حقوق شناسی کا ایسا ماحول بنانا چاہتا ہو وہ سود کے دولت پرستانہ طریقہ کو کسی طرح قبول نہیں کرسکتا۔ ایسے معاشرہ میں باہمی لین دین تجارت کے اصول پر ہوتا ہے، نہ کہ سودکے اصول پر تجارت میں بھی آدمی نفع لیتاہے۔ مگر تجارت کا جو نفع ہے وہ آدمی کی محنت اور اس کے خطرات مول لینے کی قیمت ہوتا ہے۔ جب کہ سود کا نفع محض خود غرضی اور زر اندوزی کا نتیجہ ہے۔
سود کا کاروبار کرنے والا اپنی دولت دوسرے کو اس ليے دیتاہے کہ وہ اس کے ذریعہ اپنی دولت کو مزید بڑھائے۔ وہ یہ دیکھ کر خوش ہوتاہے کہ اس کا سرمایہ یقینی شرح سے بڑھ رہا ہے۔ مگر اس عمل کے دوران وہ خود اپنے اندر جو انسان تیار کرتاہے وہ ایک خود غرض اور دنیا پرست انسان ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی اپنی کمائی میں سے صدقہ کرتاہے، جو دوسروں کی ضرورت مندی کو اپنے ليے تجارت کا سودا نہیں بناتا بلکہ اس کے ساتھ اپنے کو شریک کرتا ہے، ایسا شخص اپنے عمل کے دوران اپنے اندر جو انسان تیار کررہا ہے وہ پہلے سے بالکل مختلف انسان ہے۔ یہ وہ انسان ہے جس کے دل میں دوسروں کی خیر خواہی ہے۔ جو ذاتی دائرہ سے اوپر اٹھ کر سوچتاہے۔
دنیا میں آدمی اس ليے نہیں بھیجا گیا ہے کہ وہ یہاں اپنی کمائی کے ڈھیر لگائے۔ آدمی کے لیے ڈھیر لگانے کی جگہ آخرت ہے۔ دنیا میں آدمی کو اس ليے بھیجا گیا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ان میں کون ہے جو اپنی خصوصیات کے اعتبار سے اس قابل ہے کہ اس کو آخرت کی جنتی دنیامیں بسایا جائے۔ جو لوگ اس صلاحیت کا ثبوت دیں گے ان کو خدا جنت کا باشندہ بننے کے لیے چن لے گا، اور باقی تمام لوگ کوڑا کرکٹ کی طرح جہنم میں پھینک ديے جائیں گے — صدقہ کی روح حاجت مند کو اپنا مال خدا کے لیے دینا ہے اور سود کی روح استحصال کے لیے دینا۔صدقہ اس بات کی علامت ہے کہ آدمی آخرت میں اپنے ليے نعمتوں کا ڈھیر دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں سود اس بات کی علامت ہے کہ وہ اسی دنیا میں اپنے ليے ڈھیر لگانے کا خواہش مند ہے۔ یہ دو الگ الگ انسان ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ خدا کے یہاں دونوں کا انجام یکساں قرار پائے۔ دنیا اسی کو ملتی ہے جس نے دنیا کے لیے محنت کی ہو، اسی طرح آخرت اسی کو ملے گی جس نے آخرت کے لیے اپنے اثاثہ کو قربان کیا۔
البقرة 2:278
معاشرہ کی اصلاح کا بنیادی اصول یہ ہے کہ معاشرہ کا کوئی فرد نہ کسی دوسرے کے اوپر زیادتی کرے اور نہ دوسرا کوئی اس کے اوپر زیادتی کرے۔نہ کوئی کسی کے اوپر ظالم بنے اور نہ کوئی کسی کو مظلوم بنائے۔ سود خواری ایک کھلا ہوا معاشی ظلم ہے۔ اس ليے اسلام نے اس کو حرام ٹھہرایا۔ حتی کہ اسلامی اقتدار کے تحت سودی کاروبار کو فوجداری جرم قرار دیا۔ تاہم ایک سود خوار کو جس طرح دوسرے کے ساتھ ظالمانہ کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہے اسی طرح کسی دوسرے کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ سود خوار کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائے۔ کسی کا مجرم ہونا اس کو اس کے دیگر حقوق سے محروم نہیںکرتا۔ سود خوار کے خلاف جب کارروائی کی جائے گی تو صرف اس کے سودی اضافہ کو ساقط کیا جائے گا۔ اپنی اصل رقم کو واپس لینے کا وہ پھر بھی حق دار ہوگا۔ تاہم عمومی قانون کے ساتھ اسلام انسانی کمزوریوں کی بھی آخری حد تک رعایت کرتا ہے۔ اس ليے حکم دیاگیا کہ کوئی قرض دار اگر وقت پر تنگدست ہے تو اس کو اس وقت تک مہلت دی جائے جب تک وہ اپنے ذمہ کی رقم ادا کرنے کے قابل ہوجائے۔ اسی کے ساتھ یہ تلقین بھی کی گئی کہ کوئی شخص قرض کی رقم ادا کرنے کے قابل نہ رہے تو اس کے ذمہ کی رقم کو سرے سے معاف کردینے کا حوصلہ پیدا کرو۔ معاف کرنے والا خدا کے یہاں اجر کا مستحق بنتا ہے اور دنیا میں اس کا یہ فائدہ ہے کہ معاشرہ کے اندر باہمی رعایت اور ہمدردی کی فضا پیدا ہوتی ہے جو بالآخر سب کے لیے مفید ہے۔
تاہم صرف قانون کا نفاذ معاشرہ کی صلاح وفلا ح کا ضامن نہیں۔حقیقی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ میں تقویٰ کی فضا موجود ہو۔ اس ليے قانونی حکم بتاتے ہوئے ایمان، تقویٰ اور آخرت کا اہتمام کے ساتھ ذکر کیاگیا۔ جس طرح ایک سیکولر نظام اسی وقت کامیابی کے ساتھ چلتاہے جب کہ شہریوں کے اندر اس کے مطابق قومی کردا ر موجود ہو۔ اسی طرح اسلامی نظام اسی وقت صحیح طورپر وقوع میںآتاہے جب کہ افراد کے قابل لحاظ حصہ میں تقویٰ کی روح پائی جاتی ہو۔ قومی کردار یا تقویٰ دراصل مطلوبہ نظام کے حق میں افراد کی آمادگی کانام ہے۔ اور افراد کے اندر جب تک ایک درجہ کی آمادگی نہ ہو، محض قانون کے زور پر اس کو نافذ نہیں کیا جاسکتا۔
مزید یہ کہ اسلام کی رو سے اصلاح معاشرہ بجائے خود مطلوب چیز نہیں ہے۔ اسلام میں اصل مطلوب فرد کی اصلاح ہے۔ معاشرہ کی اصلاح صرف اس کا ایک ثانوی نتیجہ ہے۔ قرآن جس ایمان، تقویٰ اور فکر آخرت کی طرف بلاتا ہے اس کا تحقق فرد کے اندر ہوتا ہے، نہ کہ کسی اجتماعی ہیئت کے اندر۔ اس ليے قرآنی دعوت کا اصل مخاطب فرد ہے، اور معاشرہ کی اصلاح افراد کی اصلاح کا اجتماعی ظہور۔
البقرة 2:279
معاشرہ کی اصلاح کا بنیادی اصول یہ ہے کہ معاشرہ کا کوئی فرد نہ کسی دوسرے کے اوپر زیادتی کرے اور نہ دوسرا کوئی اس کے اوپر زیادتی کرے۔نہ کوئی کسی کے اوپر ظالم بنے اور نہ کوئی کسی کو مظلوم بنائے۔ سود خواری ایک کھلا ہوا معاشی ظلم ہے۔ اس ليے اسلام نے اس کو حرام ٹھہرایا۔ حتی کہ اسلامی اقتدار کے تحت سودی کاروبار کو فوجداری جرم قرار دیا۔ تاہم ایک سود خوار کو جس طرح دوسرے کے ساتھ ظالمانہ کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہے اسی طرح کسی دوسرے کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ سود خوار کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائے۔ کسی کا مجرم ہونا اس کو اس کے دیگر حقوق سے محروم نہیںکرتا۔ سود خوار کے خلاف جب کارروائی کی جائے گی تو صرف اس کے سودی اضافہ کو ساقط کیا جائے گا۔ اپنی اصل رقم کو واپس لینے کا وہ پھر بھی حق دار ہوگا۔ تاہم عمومی قانون کے ساتھ اسلام انسانی کمزوریوں کی بھی آخری حد تک رعایت کرتا ہے۔ اس ليے حکم دیاگیا کہ کوئی قرض دار اگر وقت پر تنگدست ہے تو اس کو اس وقت تک مہلت دی جائے جب تک وہ اپنے ذمہ کی رقم ادا کرنے کے قابل ہوجائے۔ اسی کے ساتھ یہ تلقین بھی کی گئی کہ کوئی شخص قرض کی رقم ادا کرنے کے قابل نہ رہے تو اس کے ذمہ کی رقم کو سرے سے معاف کردینے کا حوصلہ پیدا کرو۔ معاف کرنے والا خدا کے یہاں اجر کا مستحق بنتا ہے اور دنیا میں اس کا یہ فائدہ ہے کہ معاشرہ کے اندر باہمی رعایت اور ہمدردی کی فضا پیدا ہوتی ہے جو بالآخر سب کے لیے مفید ہے۔
تاہم صرف قانون کا نفاذ معاشرہ کی صلاح وفلا ح کا ضامن نہیں۔حقیقی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ میں تقویٰ کی فضا موجود ہو۔ اس ليے قانونی حکم بتاتے ہوئے ایمان، تقویٰ اور آخرت کا اہتمام کے ساتھ ذکر کیاگیا۔ جس طرح ایک سیکولر نظام اسی وقت کامیابی کے ساتھ چلتاہے جب کہ شہریوں کے اندر اس کے مطابق قومی کردا ر موجود ہو۔ اسی طرح اسلامی نظام اسی وقت صحیح طورپر وقوع میںآتاہے جب کہ افراد کے قابل لحاظ حصہ میں تقویٰ کی روح پائی جاتی ہو۔ قومی کردار یا تقویٰ دراصل مطلوبہ نظام کے حق میں افراد کی آمادگی کانام ہے۔ اور افراد کے اندر جب تک ایک درجہ کی آمادگی نہ ہو، محض قانون کے زور پر اس کو نافذ نہیں کیا جاسکتا۔
مزید یہ کہ اسلام کی رو سے اصلاح معاشرہ بجائے خود مطلوب چیز نہیں ہے۔ اسلام میں اصل مطلوب فرد کی اصلاح ہے۔ معاشرہ کی اصلاح صرف اس کا ایک ثانوی نتیجہ ہے۔ قرآن جس ایمان، تقویٰ اور فکر آخرت کی طرف بلاتا ہے اس کا تحقق فرد کے اندر ہوتا ہے، نہ کہ کسی اجتماعی ہیئت کے اندر۔ اس ليے قرآنی دعوت کا اصل مخاطب فرد ہے، اور معاشرہ کی اصلاح افراد کی اصلاح کا اجتماعی ظہور۔
البقرة 2:280
معاشرہ کی اصلاح کا بنیادی اصول یہ ہے کہ معاشرہ کا کوئی فرد نہ کسی دوسرے کے اوپر زیادتی کرے اور نہ دوسرا کوئی اس کے اوپر زیادتی کرے۔نہ کوئی کسی کے اوپر ظالم بنے اور نہ کوئی کسی کو مظلوم بنائے۔ سود خواری ایک کھلا ہوا معاشی ظلم ہے۔ اس ليے اسلام نے اس کو حرام ٹھہرایا۔ حتی کہ اسلامی اقتدار کے تحت سودی کاروبار کو فوجداری جرم قرار دیا۔ تاہم ایک سود خوار کو جس طرح دوسرے کے ساتھ ظالمانہ کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہے اسی طرح کسی دوسرے کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ سود خوار کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائے۔ کسی کا مجرم ہونا اس کو اس کے دیگر حقوق سے محروم نہیںکرتا۔ سود خوار کے خلاف جب کارروائی کی جائے گی تو صرف اس کے سودی اضافہ کو ساقط کیا جائے گا۔ اپنی اصل رقم کو واپس لینے کا وہ پھر بھی حق دار ہوگا۔ تاہم عمومی قانون کے ساتھ اسلام انسانی کمزوریوں کی بھی آخری حد تک رعایت کرتا ہے۔ اس ليے حکم دیاگیا کہ کوئی قرض دار اگر وقت پر تنگدست ہے تو اس کو اس وقت تک مہلت دی جائے جب تک وہ اپنے ذمہ کی رقم ادا کرنے کے قابل ہوجائے۔ اسی کے ساتھ یہ تلقین بھی کی گئی کہ کوئی شخص قرض کی رقم ادا کرنے کے قابل نہ رہے تو اس کے ذمہ کی رقم کو سرے سے معاف کردینے کا حوصلہ پیدا کرو۔ معاف کرنے والا خدا کے یہاں اجر کا مستحق بنتا ہے اور دنیا میں اس کا یہ فائدہ ہے کہ معاشرہ کے اندر باہمی رعایت اور ہمدردی کی فضا پیدا ہوتی ہے جو بالآخر سب کے لیے مفید ہے۔
تاہم صرف قانون کا نفاذ معاشرہ کی صلاح وفلا ح کا ضامن نہیں۔حقیقی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ میں تقویٰ کی فضا موجود ہو۔ اس ليے قانونی حکم بتاتے ہوئے ایمان، تقویٰ اور آخرت کا اہتمام کے ساتھ ذکر کیاگیا۔ جس طرح ایک سیکولر نظام اسی وقت کامیابی کے ساتھ چلتاہے جب کہ شہریوں کے اندر اس کے مطابق قومی کردا ر موجود ہو۔ اسی طرح اسلامی نظام اسی وقت صحیح طورپر وقوع میںآتاہے جب کہ افراد کے قابل لحاظ حصہ میں تقویٰ کی روح پائی جاتی ہو۔ قومی کردار یا تقویٰ دراصل مطلوبہ نظام کے حق میں افراد کی آمادگی کانام ہے۔ اور افراد کے اندر جب تک ایک درجہ کی آمادگی نہ ہو، محض قانون کے زور پر اس کو نافذ نہیں کیا جاسکتا۔
مزید یہ کہ اسلام کی رو سے اصلاح معاشرہ بجائے خود مطلوب چیز نہیں ہے۔ اسلام میں اصل مطلوب فرد کی اصلاح ہے۔ معاشرہ کی اصلاح صرف اس کا ایک ثانوی نتیجہ ہے۔ قرآن جس ایمان، تقویٰ اور فکر آخرت کی طرف بلاتا ہے اس کا تحقق فرد کے اندر ہوتا ہے، نہ کہ کسی اجتماعی ہیئت کے اندر۔ اس ليے قرآنی دعوت کا اصل مخاطب فرد ہے، اور معاشرہ کی اصلاح افراد کی اصلاح کا اجتماعی ظہور۔
البقرة 2:281
معاشرہ کی اصلاح کا بنیادی اصول یہ ہے کہ معاشرہ کا کوئی فرد نہ کسی دوسرے کے اوپر زیادتی کرے اور نہ دوسرا کوئی اس کے اوپر زیادتی کرے۔نہ کوئی کسی کے اوپر ظالم بنے اور نہ کوئی کسی کو مظلوم بنائے۔ سود خواری ایک کھلا ہوا معاشی ظلم ہے۔ اس ليے اسلام نے اس کو حرام ٹھہرایا۔ حتی کہ اسلامی اقتدار کے تحت سودی کاروبار کو فوجداری جرم قرار دیا۔ تاہم ایک سود خوار کو جس طرح دوسرے کے ساتھ ظالمانہ کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہے اسی طرح کسی دوسرے کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ سود خوار کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائے۔ کسی کا مجرم ہونا اس کو اس کے دیگر حقوق سے محروم نہیںکرتا۔ سود خوار کے خلاف جب کارروائی کی جائے گی تو صرف اس کے سودی اضافہ کو ساقط کیا جائے گا۔ اپنی اصل رقم کو واپس لینے کا وہ پھر بھی حق دار ہوگا۔ تاہم عمومی قانون کے ساتھ اسلام انسانی کمزوریوں کی بھی آخری حد تک رعایت کرتا ہے۔ اس ليے حکم دیاگیا کہ کوئی قرض دار اگر وقت پر تنگدست ہے تو اس کو اس وقت تک مہلت دی جائے جب تک وہ اپنے ذمہ کی رقم ادا کرنے کے قابل ہوجائے۔ اسی کے ساتھ یہ تلقین بھی کی گئی کہ کوئی شخص قرض کی رقم ادا کرنے کے قابل نہ رہے تو اس کے ذمہ کی رقم کو سرے سے معاف کردینے کا حوصلہ پیدا کرو۔ معاف کرنے والا خدا کے یہاں اجر کا مستحق بنتا ہے اور دنیا میں اس کا یہ فائدہ ہے کہ معاشرہ کے اندر باہمی رعایت اور ہمدردی کی فضا پیدا ہوتی ہے جو بالآخر سب کے لیے مفید ہے۔
تاہم صرف قانون کا نفاذ معاشرہ کی صلاح وفلا ح کا ضامن نہیں۔حقیقی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ میں تقویٰ کی فضا موجود ہو۔ اس ليے قانونی حکم بتاتے ہوئے ایمان، تقویٰ اور آخرت کا اہتمام کے ساتھ ذکر کیاگیا۔ جس طرح ایک سیکولر نظام اسی وقت کامیابی کے ساتھ چلتاہے جب کہ شہریوں کے اندر اس کے مطابق قومی کردا ر موجود ہو۔ اسی طرح اسلامی نظام اسی وقت صحیح طورپر وقوع میںآتاہے جب کہ افراد کے قابل لحاظ حصہ میں تقویٰ کی روح پائی جاتی ہو۔ قومی کردار یا تقویٰ دراصل مطلوبہ نظام کے حق میں افراد کی آمادگی کانام ہے۔ اور افراد کے اندر جب تک ایک درجہ کی آمادگی نہ ہو، محض قانون کے زور پر اس کو نافذ نہیں کیا جاسکتا۔
مزید یہ کہ اسلام کی رو سے اصلاح معاشرہ بجائے خود مطلوب چیز نہیں ہے۔ اسلام میں اصل مطلوب فرد کی اصلاح ہے۔ معاشرہ کی اصلاح صرف اس کا ایک ثانوی نتیجہ ہے۔ قرآن جس ایمان، تقویٰ اور فکر آخرت کی طرف بلاتا ہے اس کا تحقق فرد کے اندر ہوتا ہے، نہ کہ کسی اجتماعی ہیئت کے اندر۔ اس ليے قرآنی دعوت کا اصل مخاطب فرد ہے، اور معاشرہ کی اصلاح افراد کی اصلاح کا اجتماعی ظہور۔
البقرة 2:282
دو آدمیوں کے درمیان نقد معاملہ ہو تو لین دین ہو کر اسی وقت معاملہ ختم ہوجاتا ہے۔ مگر ادھار معاملات کی نوعیت مختلف ہے۔ ادھار معاملہ میں اگر ساری بات زبانی ہو تو کاغذی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے بعد کو اختلاف پیدا ہونے کا امکان رہتا ہے۔ طرفین اپنے اپنے مطابق معاملہ کی تصویر پیش کرتے ہیں اور کوئی ایسی قطعی بنیاد نہیں ہوتی جس کی روشنی میں صحیح فیصلہ کیا جاسکے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ادائيگی کے وقت اکثر دونوں کو ایک دوسرے سے شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کا حل تحریر ہے۔ نقد معاملہ کو لکھ لیا جائے تو وہ بھی بہتر ہے۔ مگر ادھار معاملات کے لیے تو ضروری ہے کہ ان کو باقاعدہ تحریر میں لایا جائے اور اس پر گواہ بناليے جائیں۔ اختلاف کے وقت یہی تحریر فیصلہ کی بنیاد ہوگی۔ یہ مسلمان کے لیے تقویٰ اور عدل کی ایک حفاظتی تدبیر ہے۔ کتابت شدہ شرائط کے مطابق وہ اپنے حقوق کو ادا کرکے خدا اور مخلوقکے سامنے بری الذمہ ہوجاتاہے۔
مسلمان خدا کے دین کے گواہ ہیں۔جس طرح اللہ کی بات کو جانتے ہوئے چھپانا جائز نہیں، اسی طرح انسانی معاملات میں کسی کے پاس کوئی گواہی ہو تو اس کو چاہيے کہ اس کو ظاہر کردے۔ گواہی کو چھپانا اپنے اندر مجرمانہ ذہن کی پرورش کرنا ہے اور معاملہ کے منصفانہ فیصلہ میں وہ حصہ ادا نہ کرنا ہے، جو وہ کرسکتا ہے۔ انسان کا ضمیر چاہتا ہے کہ جب ایک چیز حق نظر آئے تو اس کے حق ہونے کا اعتراف کیا جائے۔ اور جب ایک چیز ناحق دکھائی دے تو اس کے ناحق ہونے کا اعلان کیاجائے۔ ایسی حالت میں جو شخص اپنے وقار اور مصلحت کی خاطر اپنی زبان کو بند رکھتا ہے وہ گویا ایسا مجرم ہے جو اپنے جرم پر خود ہی گواہ بن گیا ہو۔
البقرة 2:283
دو آدمیوں کے درمیان نقد معاملہ ہو تو لین دین ہو کر اسی وقت معاملہ ختم ہوجاتا ہے۔ مگر ادھار معاملات کی نوعیت مختلف ہے۔ ادھار معاملہ میں اگر ساری بات زبانی ہو تو کاغذی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے بعد کو اختلاف پیدا ہونے کا امکان رہتا ہے۔ طرفین اپنے اپنے مطابق معاملہ کی تصویر پیش کرتے ہیں اور کوئی ایسی قطعی بنیاد نہیں ہوتی جس کی روشنی میں صحیح فیصلہ کیا جاسکے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ادائيگی کے وقت اکثر دونوں کو ایک دوسرے سے شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کا حل تحریر ہے۔ نقد معاملہ کو لکھ لیا جائے تو وہ بھی بہتر ہے۔ مگر ادھار معاملات کے لیے تو ضروری ہے کہ ان کو باقاعدہ تحریر میں لایا جائے اور اس پر گواہ بناليے جائیں۔ اختلاف کے وقت یہی تحریر فیصلہ کی بنیاد ہوگی۔ یہ مسلمان کے لیے تقویٰ اور عدل کی ایک حفاظتی تدبیر ہے۔ کتابت شدہ شرائط کے مطابق وہ اپنے حقوق کو ادا کرکے خدا اور مخلوقکے سامنے بری الذمہ ہوجاتاہے۔
مسلمان خدا کے دین کے گواہ ہیں۔جس طرح اللہ کی بات کو جانتے ہوئے چھپانا جائز نہیں، اسی طرح انسانی معاملات میں کسی کے پاس کوئی گواہی ہو تو اس کو چاہيے کہ اس کو ظاہر کردے۔ گواہی کو چھپانا اپنے اندر مجرمانہ ذہن کی پرورش کرنا ہے اور معاملہ کے منصفانہ فیصلہ میں وہ حصہ ادا نہ کرنا ہے، جو وہ کرسکتا ہے۔ انسان کا ضمیر چاہتا ہے کہ جب ایک چیز حق نظر آئے تو اس کے حق ہونے کا اعتراف کیا جائے۔ اور جب ایک چیز ناحق دکھائی دے تو اس کے ناحق ہونے کا اعلان کیاجائے۔ ایسی حالت میں جو شخص اپنے وقار اور مصلحت کی خاطر اپنی زبان کو بند رکھتا ہے وہ گویا ایسا مجرم ہے جو اپنے جرم پر خود ہی گواہ بن گیا ہو۔
البقرة 2:284
کائنات کی ہر چیز اللہ کے زیر حکم ہے۔ ذرہ سے لے کر ستاروں تک سب خدا کے مقررہ نقشہ میں بندھے ہوئے ہیں۔ وہ اسی راستہ پر چل رہے ہیں جس پر چلنے کے لیے خدا نے ان کو پابند کردیا ہے۔ مگر انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو اپنے کو خود مختار حالت میں پاتا ہے۔ بظاہر وہ آزاد ہے کہ اپنی مرضی سے جو راستہ چاہے اختیار کرے۔ مگر انسان کی آزادی مطلق نہیں ہے بلکہ امتحان کے لیے ہے۔ انسان کو بھی کائنات کے بقیہ اجزاء کی طرح خدا کی پابندی کرنی ہے۔ جس پابند زندگی کو بقیہ کائنات نے بزور اختیار کیا ہے وہی پابند زندگی انسان کو اپنے ارادہ سے اختیار کرنا ہے۔ انسان کو ظاہری صورت حال سے دھوکا کھا کر یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی ہر وقت مالک کائنات کی نظر میں ہے، وہ اس کی ہر چھوٹی بڑی بات کی نگرانی کررہاہے خواہ وہ اس کے اندر ہو یا اس کے باہر۔
وہ کون سا انسان ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔ وہ ایمان اور اطاعت والا انسان ہے۔ ایمان سے مراد آدمی کی شعوری حوالگی ہے اور اطاعت سے مراد اس کی عملی حوالگی۔ شعور کے اعتبار سے یہ مطلوب ہے کہ آدمی اللہ کو اپنے خالق اور مالک کی حیثیت سے اپنے اندر اتار لے۔ وہ اس حقیقت کو پاگیا ہو کہ کائنات کا نظام کوئی بے روح مشینی نظام نہیں ہے بلکہ ایک زندہ نظام ہے جس کو خدا اپنے فرماں بردار کارندوں کے ذریعہ چلا رہا ہے۔ اس نے خدا کے بندوں میں سے ان بندوں کو پہچان لیا ہو جن کو خدا نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے چنا۔ خدا نے انسانوں کی ہدایت کے لیے جو کتاب اتاری ہے اس کو وہ حقیقی معنوں میں اپنے فکر وخیال کا جزء بنا چکا ہو۔ رسالت اور پیغمبری اس کو پوری انسانی تاریخ میں ایک مسلسل واقعہ کی صورت میں نظر آنے لگے۔ ایمانیات کو اس طرح اپنے دل ودماغ میں بٹھا لینے کے بعد وہ اپنی زندگی ہمہ تن اس کے نقشہ پر ڈھال دے۔
پھر یہ ایمان واطاعت اس کے لیے کوئی رسمی اور ظاہری معاملہ نہ ہو بلکہ وہ اس کی روح کو اس طرح گھلا دے کہ وہ اللہ کو پکارنے لگے۔ اس کا وجود خدا کی یاد میں ڈھل جائے۔ اس کی زندگی تمام تر خدا کے اوپر نربھر ہوجائے۔
البقرة 2:285
کائنات کی ہر چیز اللہ کے زیر حکم ہے۔ ذرہ سے لے کر ستاروں تک سب خدا کے مقررہ نقشہ میں بندھے ہوئے ہیں۔ وہ اسی راستہ پر چل رہے ہیں جس پر چلنے کے لیے خدا نے ان کو پابند کردیا ہے۔ مگر انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو اپنے کو خود مختار حالت میں پاتا ہے۔ بظاہر وہ آزاد ہے کہ اپنی مرضی سے جو راستہ چاہے اختیار کرے۔ مگر انسان کی آزادی مطلق نہیں ہے بلکہ امتحان کے لیے ہے۔ انسان کو بھی کائنات کے بقیہ اجزاء کی طرح خدا کی پابندی کرنی ہے۔ جس پابند زندگی کو بقیہ کائنات نے بزور اختیار کیا ہے وہی پابند زندگی انسان کو اپنے ارادہ سے اختیار کرنا ہے۔ انسان کو ظاہری صورت حال سے دھوکا کھا کر یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی ہر وقت مالک کائنات کی نظر میں ہے، وہ اس کی ہر چھوٹی بڑی بات کی نگرانی کررہاہے خواہ وہ اس کے اندر ہو یا اس کے باہر۔
وہ کون سا انسان ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔ وہ ایمان اور اطاعت والا انسان ہے۔ ایمان سے مراد آدمی کی شعوری حوالگی ہے اور اطاعت سے مراد اس کی عملی حوالگی۔ شعور کے اعتبار سے یہ مطلوب ہے کہ آدمی اللہ کو اپنے خالق اور مالک کی حیثیت سے اپنے اندر اتار لے۔ وہ اس حقیقت کو پاگیا ہو کہ کائنات کا نظام کوئی بے روح مشینی نظام نہیں ہے بلکہ ایک زندہ نظام ہے جس کو خدا اپنے فرماں بردار کارندوں کے ذریعہ چلا رہا ہے۔ اس نے خدا کے بندوں میں سے ان بندوں کو پہچان لیا ہو جن کو خدا نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے چنا۔ خدا نے انسانوں کی ہدایت کے لیے جو کتاب اتاری ہے اس کو وہ حقیقی معنوں میں اپنے فکر وخیال کا جزء بنا چکا ہو۔ رسالت اور پیغمبری اس کو پوری انسانی تاریخ میں ایک مسلسل واقعہ کی صورت میں نظر آنے لگے۔ ایمانیات کو اس طرح اپنے دل ودماغ میں بٹھا لینے کے بعد وہ اپنی زندگی ہمہ تن اس کے نقشہ پر ڈھال دے۔
پھر یہ ایمان واطاعت اس کے لیے کوئی رسمی اور ظاہری معاملہ نہ ہو بلکہ وہ اس کی روح کو اس طرح گھلا دے کہ وہ اللہ کو پکارنے لگے۔ اس کا وجود خدا کی یاد میں ڈھل جائے۔ اس کی زندگی تمام تر خدا کے اوپر نربھر ہوجائے۔
البقرة 2:286
کائنات کی ہر چیز اللہ کے زیر حکم ہے۔ ذرہ سے لے کر ستاروں تک سب خدا کے مقررہ نقشہ میں بندھے ہوئے ہیں۔ وہ اسی راستہ پر چل رہے ہیں جس پر چلنے کے لیے خدا نے ان کو پابند کردیا ہے۔ مگر انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو اپنے کو خود مختار حالت میں پاتا ہے۔ بظاہر وہ آزاد ہے کہ اپنی مرضی سے جو راستہ چاہے اختیار کرے۔ مگر انسان کی آزادی مطلق نہیں ہے بلکہ امتحان کے لیے ہے۔ انسان کو بھی کائنات کے بقیہ اجزاء کی طرح خدا کی پابندی کرنی ہے۔ جس پابند زندگی کو بقیہ کائنات نے بزور اختیار کیا ہے وہی پابند زندگی انسان کو اپنے ارادہ سے اختیار کرنا ہے۔ انسان کو ظاہری صورت حال سے دھوکا کھا کر یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی ہر وقت مالک کائنات کی نظر میں ہے، وہ اس کی ہر چھوٹی بڑی بات کی نگرانی کررہاہے خواہ وہ اس کے اندر ہو یا اس کے باہر۔
وہ کون سا انسان ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔ وہ ایمان اور اطاعت والا انسان ہے۔ ایمان سے مراد آدمی کی شعوری حوالگی ہے اور اطاعت سے مراد اس کی عملی حوالگی۔ شعور کے اعتبار سے یہ مطلوب ہے کہ آدمی اللہ کو اپنے خالق اور مالک کی حیثیت سے اپنے اندر اتار لے۔ وہ اس حقیقت کو پاگیا ہو کہ کائنات کا نظام کوئی بے روح مشینی نظام نہیں ہے بلکہ ایک زندہ نظام ہے جس کو خدا اپنے فرماں بردار کارندوں کے ذریعہ چلا رہا ہے۔ اس نے خدا کے بندوں میں سے ان بندوں کو پہچان لیا ہو جن کو خدا نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے چنا۔ خدا نے انسانوں کی ہدایت کے لیے جو کتاب اتاری ہے اس کو وہ حقیقی معنوں میں اپنے فکر وخیال کا جزء بنا چکا ہو۔ رسالت اور پیغمبری اس کو پوری انسانی تاریخ میں ایک مسلسل واقعہ کی صورت میں نظر آنے لگے۔ ایمانیات کو اس طرح اپنے دل ودماغ میں بٹھا لینے کے بعد وہ اپنی زندگی ہمہ تن اس کے نقشہ پر ڈھال دے۔
پھر یہ ایمان واطاعت اس کے لیے کوئی رسمی اور ظاہری معاملہ نہ ہو بلکہ وہ اس کی روح کو اس طرح گھلا دے کہ وہ اللہ کو پکارنے لگے۔ اس کا وجود خدا کی یاد میں ڈھل جائے۔ اس کی زندگی تمام تر خدا کے اوپر نربھر ہوجائے۔
آل عمران 3:1
کائنات کا خالق ومالک کوئی مشینی خدا نہیں بلکہ ایک زندہ اور باشعور خدا ہے۔ اس نے ہر زمانہ میں انسان کے لیے رہنمائی بھیجی۔ انھیں میں سے وہ کتابیں تھیں جو تورات وانجیل کی صورت میں پچھلے انبیاء پر اتاری گئیں۔ مگر انسان ہمیشہ یہ کرتا رہا کہ اس نے اپنی تاویل وتشریح سے خدا کی تعلیمات کو طرح طرح کے معنی پہنائے اور خدا کے ایک دین کو کئی دین بنا ڈالا۔ آخر اللہ نے اپنے طے شدہ منصوبہ کے مطابق آخری کتاب (قرآن) اتاری جو انسانوں کے لیے صحیح ہدایت نامہ بھی ہے اور اسی کے ساتھ وہ کسوٹی بھی جس سے حق وباطل کے درمیان فیصلہ کیا جاسکے۔ قرآن بتاتا ہے کہ اللہ کا سچا دین کیا ہے اور وہ دین کون سا ہے جو لوگوں نے اپنی خود ساختہ تشریحات کے ذریعے بنا رکھا ہے۔ اب جو لوگ خدا کی کتاب کو نہ مانیں یا اپنی رایوں اور تعبیروں کے تحت گھڑے ہوئے دین کو نہ چھوڑیں وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے آنکھ دی مگر روشنی آجانے کے باوجود انھوں نے نہ دیکھا۔ جن کو خدا نے عقل دی مگر دلیل آجانے کے بعد بھی انھوں نے نہ سمجھا اپنی چھوٹی بڑائی کی خاطر وہ حق کے آگے جھکنے كو تیار نہ ہوئے۔
اللہ اپنی ذات وصفات کے اعتبارسے کیسا ہے، اس کا حقیقی تعارف خود وہی کرسکتا ہے۔ اس کی ہستی کا دوسری موجودات سے کیا تعلق ہے، اس کو بھی وہ خود ہی صحیح طورپر بتاسکتا ہے۔ خدا نے اپنی کتاب میں اس کو اتنی واضح صورت میں بتا دیا ہے کہ جو شخص جاننا چاہے وہ ضرور جان لے گا۔ یہی معاملہ انسان کے لیے ہدایت نامہ مقرر کرنے کا ہے۔ انسان کی حقیقت کیا ہے اور وہ کون سا رویہ ہے جو انسان کی کامیابی کا ضامن ہے، اس کو بتانے کے لیے پوری کائنات کا علم درکار ہے۔ انسان کے لیے صحیح رویہ وہی ہوسکتا ہے جو بقیہ کائنات سے ہم آہنگ ہو اور دنیا کے وسیع تر نظام سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہو۔ انسان کے لیے صحیح راہ عمل کا تعین وہی کرسکتا ہے جو نہ صرف انسان کو پیدائش سے موت تک جانتا ہو بلکہ اس کو یہ بھی معلوم ہو کہ پیدائش سے پہلے کیا ہے اور موت کے بعد کیا۔ ایسی ہستی خداکے سوا کوئی دوسری نہیںہوسکتی۔ انسان کے لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ اس معاملہ میں وہ خدا پر بھروسہ کرے اور اس کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کو پورے یقین کے ساتھ پکڑ لے۔
آل عمران 3:2
کائنات کا خالق ومالک کوئی مشینی خدا نہیں بلکہ ایک زندہ اور باشعور خدا ہے۔ اس نے ہر زمانہ میں انسان کے لیے رہنمائی بھیجی۔ انھیں میں سے وہ کتابیں تھیں جو تورات وانجیل کی صورت میں پچھلے انبیاء پر اتاری گئیں۔ مگر انسان ہمیشہ یہ کرتا رہا کہ اس نے اپنی تاویل وتشریح سے خدا کی تعلیمات کو طرح طرح کے معنی پہنائے اور خدا کے ایک دین کو کئی دین بنا ڈالا۔ آخر اللہ نے اپنے طے شدہ منصوبہ کے مطابق آخری کتاب (قرآن) اتاری جو انسانوں کے لیے صحیح ہدایت نامہ بھی ہے اور اسی کے ساتھ وہ کسوٹی بھی جس سے حق وباطل کے درمیان فیصلہ کیا جاسکے۔ قرآن بتاتا ہے کہ اللہ کا سچا دین کیا ہے اور وہ دین کون سا ہے جو لوگوں نے اپنی خود ساختہ تشریحات کے ذریعے بنا رکھا ہے۔ اب جو لوگ خدا کی کتاب کو نہ مانیں یا اپنی رایوں اور تعبیروں کے تحت گھڑے ہوئے دین کو نہ چھوڑیں وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے آنکھ دی مگر روشنی آجانے کے باوجود انھوں نے نہ دیکھا۔ جن کو خدا نے عقل دی مگر دلیل آجانے کے بعد بھی انھوں نے نہ سمجھا اپنی چھوٹی بڑائی کی خاطر وہ حق کے آگے جھکنے كو تیار نہ ہوئے۔
اللہ اپنی ذات وصفات کے اعتبارسے کیسا ہے، اس کا حقیقی تعارف خود وہی کرسکتا ہے۔ اس کی ہستی کا دوسری موجودات سے کیا تعلق ہے، اس کو بھی وہ خود ہی صحیح طورپر بتاسکتا ہے۔ خدا نے اپنی کتاب میں اس کو اتنی واضح صورت میں بتا دیا ہے کہ جو شخص جاننا چاہے وہ ضرور جان لے گا۔ یہی معاملہ انسان کے لیے ہدایت نامہ مقرر کرنے کا ہے۔ انسان کی حقیقت کیا ہے اور وہ کون سا رویہ ہے جو انسان کی کامیابی کا ضامن ہے، اس کو بتانے کے لیے پوری کائنات کا علم درکار ہے۔ انسان کے لیے صحیح رویہ وہی ہوسکتا ہے جو بقیہ کائنات سے ہم آہنگ ہو اور دنیا کے وسیع تر نظام سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہو۔ انسان کے لیے صحیح راہ عمل کا تعین وہی کرسکتا ہے جو نہ صرف انسان کو پیدائش سے موت تک جانتا ہو بلکہ اس کو یہ بھی معلوم ہو کہ پیدائش سے پہلے کیا ہے اور موت کے بعد کیا۔ ایسی ہستی خداکے سوا کوئی دوسری نہیںہوسکتی۔ انسان کے لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ اس معاملہ میں وہ خدا پر بھروسہ کرے اور اس کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کو پورے یقین کے ساتھ پکڑ لے۔
آل عمران 3:3
کائنات کا خالق ومالک کوئی مشینی خدا نہیں بلکہ ایک زندہ اور باشعور خدا ہے۔ اس نے ہر زمانہ میں انسان کے لیے رہنمائی بھیجی۔ انھیں میں سے وہ کتابیں تھیں جو تورات وانجیل کی صورت میں پچھلے انبیاء پر اتاری گئیں۔ مگر انسان ہمیشہ یہ کرتا رہا کہ اس نے اپنی تاویل وتشریح سے خدا کی تعلیمات کو طرح طرح کے معنی پہنائے اور خدا کے ایک دین کو کئی دین بنا ڈالا۔ آخر اللہ نے اپنے طے شدہ منصوبہ کے مطابق آخری کتاب (قرآن) اتاری جو انسانوں کے لیے صحیح ہدایت نامہ بھی ہے اور اسی کے ساتھ وہ کسوٹی بھی جس سے حق وباطل کے درمیان فیصلہ کیا جاسکے۔ قرآن بتاتا ہے کہ اللہ کا سچا دین کیا ہے اور وہ دین کون سا ہے جو لوگوں نے اپنی خود ساختہ تشریحات کے ذریعے بنا رکھا ہے۔ اب جو لوگ خدا کی کتاب کو نہ مانیں یا اپنی رایوں اور تعبیروں کے تحت گھڑے ہوئے دین کو نہ چھوڑیں وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے آنکھ دی مگر روشنی آجانے کے باوجود انھوں نے نہ دیکھا۔ جن کو خدا نے عقل دی مگر دلیل آجانے کے بعد بھی انھوں نے نہ سمجھا اپنی چھوٹی بڑائی کی خاطر وہ حق کے آگے جھکنے كو تیار نہ ہوئے۔
اللہ اپنی ذات وصفات کے اعتبارسے کیسا ہے، اس کا حقیقی تعارف خود وہی کرسکتا ہے۔ اس کی ہستی کا دوسری موجودات سے کیا تعلق ہے، اس کو بھی وہ خود ہی صحیح طورپر بتاسکتا ہے۔ خدا نے اپنی کتاب میں اس کو اتنی واضح صورت میں بتا دیا ہے کہ جو شخص جاننا چاہے وہ ضرور جان لے گا۔ یہی معاملہ انسان کے لیے ہدایت نامہ مقرر کرنے کا ہے۔ انسان کی حقیقت کیا ہے اور وہ کون سا رویہ ہے جو انسان کی کامیابی کا ضامن ہے، اس کو بتانے کے لیے پوری کائنات کا علم درکار ہے۔ انسان کے لیے صحیح رویہ وہی ہوسکتا ہے جو بقیہ کائنات سے ہم آہنگ ہو اور دنیا کے وسیع تر نظام سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہو۔ انسان کے لیے صحیح راہ عمل کا تعین وہی کرسکتا ہے جو نہ صرف انسان کو پیدائش سے موت تک جانتا ہو بلکہ اس کو یہ بھی معلوم ہو کہ پیدائش سے پہلے کیا ہے اور موت کے بعد کیا۔ ایسی ہستی خداکے سوا کوئی دوسری نہیںہوسکتی۔ انسان کے لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ اس معاملہ میں وہ خدا پر بھروسہ کرے اور اس کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کو پورے یقین کے ساتھ پکڑ لے۔
آل عمران 3:4
کائنات کا خالق ومالک کوئی مشینی خدا نہیں بلکہ ایک زندہ اور باشعور خدا ہے۔ اس نے ہر زمانہ میں انسان کے لیے رہنمائی بھیجی۔ انھیں میں سے وہ کتابیں تھیں جو تورات وانجیل کی صورت میں پچھلے انبیاء پر اتاری گئیں۔ مگر انسان ہمیشہ یہ کرتا رہا کہ اس نے اپنی تاویل وتشریح سے خدا کی تعلیمات کو طرح طرح کے معنی پہنائے اور خدا کے ایک دین کو کئی دین بنا ڈالا۔ آخر اللہ نے اپنے طے شدہ منصوبہ کے مطابق آخری کتاب (قرآن) اتاری جو انسانوں کے لیے صحیح ہدایت نامہ بھی ہے اور اسی کے ساتھ وہ کسوٹی بھی جس سے حق وباطل کے درمیان فیصلہ کیا جاسکے۔ قرآن بتاتا ہے کہ اللہ کا سچا دین کیا ہے اور وہ دین کون سا ہے جو لوگوں نے اپنی خود ساختہ تشریحات کے ذریعے بنا رکھا ہے۔ اب جو لوگ خدا کی کتاب کو نہ مانیں یا اپنی رایوں اور تعبیروں کے تحت گھڑے ہوئے دین کو نہ چھوڑیں وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے آنکھ دی مگر روشنی آجانے کے باوجود انھوں نے نہ دیکھا۔ جن کو خدا نے عقل دی مگر دلیل آجانے کے بعد بھی انھوں نے نہ سمجھا اپنی چھوٹی بڑائی کی خاطر وہ حق کے آگے جھکنے كو تیار نہ ہوئے۔
اللہ اپنی ذات وصفات کے اعتبارسے کیسا ہے، اس کا حقیقی تعارف خود وہی کرسکتا ہے۔ اس کی ہستی کا دوسری موجودات سے کیا تعلق ہے، اس کو بھی وہ خود ہی صحیح طورپر بتاسکتا ہے۔ خدا نے اپنی کتاب میں اس کو اتنی واضح صورت میں بتا دیا ہے کہ جو شخص جاننا چاہے وہ ضرور جان لے گا۔ یہی معاملہ انسان کے لیے ہدایت نامہ مقرر کرنے کا ہے۔ انسان کی حقیقت کیا ہے اور وہ کون سا رویہ ہے جو انسان کی کامیابی کا ضامن ہے، اس کو بتانے کے لیے پوری کائنات کا علم درکار ہے۔ انسان کے لیے صحیح رویہ وہی ہوسکتا ہے جو بقیہ کائنات سے ہم آہنگ ہو اور دنیا کے وسیع تر نظام سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہو۔ انسان کے لیے صحیح راہ عمل کا تعین وہی کرسکتا ہے جو نہ صرف انسان کو پیدائش سے موت تک جانتا ہو بلکہ اس کو یہ بھی معلوم ہو کہ پیدائش سے پہلے کیا ہے اور موت کے بعد کیا۔ ایسی ہستی خداکے سوا کوئی دوسری نہیںہوسکتی۔ انسان کے لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ اس معاملہ میں وہ خدا پر بھروسہ کرے اور اس کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کو پورے یقین کے ساتھ پکڑ لے۔
آل عمران 3:5
کائنات کا خالق ومالک کوئی مشینی خدا نہیں بلکہ ایک زندہ اور باشعور خدا ہے۔ اس نے ہر زمانہ میں انسان کے لیے رہنمائی بھیجی۔ انھیں میں سے وہ کتابیں تھیں جو تورات وانجیل کی صورت میں پچھلے انبیاء پر اتاری گئیں۔ مگر انسان ہمیشہ یہ کرتا رہا کہ اس نے اپنی تاویل وتشریح سے خدا کی تعلیمات کو طرح طرح کے معنی پہنائے اور خدا کے ایک دین کو کئی دین بنا ڈالا۔ آخر اللہ نے اپنے طے شدہ منصوبہ کے مطابق آخری کتاب (قرآن) اتاری جو انسانوں کے لیے صحیح ہدایت نامہ بھی ہے اور اسی کے ساتھ وہ کسوٹی بھی جس سے حق وباطل کے درمیان فیصلہ کیا جاسکے۔ قرآن بتاتا ہے کہ اللہ کا سچا دین کیا ہے اور وہ دین کون سا ہے جو لوگوں نے اپنی خود ساختہ تشریحات کے ذریعے بنا رکھا ہے۔ اب جو لوگ خدا کی کتاب کو نہ مانیں یا اپنی رایوں اور تعبیروں کے تحت گھڑے ہوئے دین کو نہ چھوڑیں وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے آنکھ دی مگر روشنی آجانے کے باوجود انھوں نے نہ دیکھا۔ جن کو خدا نے عقل دی مگر دلیل آجانے کے بعد بھی انھوں نے نہ سمجھا اپنی چھوٹی بڑائی کی خاطر وہ حق کے آگے جھکنے كو تیار نہ ہوئے۔
اللہ اپنی ذات وصفات کے اعتبارسے کیسا ہے، اس کا حقیقی تعارف خود وہی کرسکتا ہے۔ اس کی ہستی کا دوسری موجودات سے کیا تعلق ہے، اس کو بھی وہ خود ہی صحیح طورپر بتاسکتا ہے۔ خدا نے اپنی کتاب میں اس کو اتنی واضح صورت میں بتا دیا ہے کہ جو شخص جاننا چاہے وہ ضرور جان لے گا۔ یہی معاملہ انسان کے لیے ہدایت نامہ مقرر کرنے کا ہے۔ انسان کی حقیقت کیا ہے اور وہ کون سا رویہ ہے جو انسان کی کامیابی کا ضامن ہے، اس کو بتانے کے لیے پوری کائنات کا علم درکار ہے۔ انسان کے لیے صحیح رویہ وہی ہوسکتا ہے جو بقیہ کائنات سے ہم آہنگ ہو اور دنیا کے وسیع تر نظام سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہو۔ انسان کے لیے صحیح راہ عمل کا تعین وہی کرسکتا ہے جو نہ صرف انسان کو پیدائش سے موت تک جانتا ہو بلکہ اس کو یہ بھی معلوم ہو کہ پیدائش سے پہلے کیا ہے اور موت کے بعد کیا۔ ایسی ہستی خداکے سوا کوئی دوسری نہیںہوسکتی۔ انسان کے لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ اس معاملہ میں وہ خدا پر بھروسہ کرے اور اس کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کو پورے یقین کے ساتھ پکڑ لے۔
آل عمران 3:6
کائنات کا خالق ومالک کوئی مشینی خدا نہیں بلکہ ایک زندہ اور باشعور خدا ہے۔ اس نے ہر زمانہ میں انسان کے لیے رہنمائی بھیجی۔ انھیں میں سے وہ کتابیں تھیں جو تورات وانجیل کی صورت میں پچھلے انبیاء پر اتاری گئیں۔ مگر انسان ہمیشہ یہ کرتا رہا کہ اس نے اپنی تاویل وتشریح سے خدا کی تعلیمات کو طرح طرح کے معنی پہنائے اور خدا کے ایک دین کو کئی دین بنا ڈالا۔ آخر اللہ نے اپنے طے شدہ منصوبہ کے مطابق آخری کتاب (قرآن) اتاری جو انسانوں کے لیے صحیح ہدایت نامہ بھی ہے اور اسی کے ساتھ وہ کسوٹی بھی جس سے حق وباطل کے درمیان فیصلہ کیا جاسکے۔ قرآن بتاتا ہے کہ اللہ کا سچا دین کیا ہے اور وہ دین کون سا ہے جو لوگوں نے اپنی خود ساختہ تشریحات کے ذریعے بنا رکھا ہے۔ اب جو لوگ خدا کی کتاب کو نہ مانیں یا اپنی رایوں اور تعبیروں کے تحت گھڑے ہوئے دین کو نہ چھوڑیں وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے آنکھ دی مگر روشنی آجانے کے باوجود انھوں نے نہ دیکھا۔ جن کو خدا نے عقل دی مگر دلیل آجانے کے بعد بھی انھوں نے نہ سمجھا اپنی چھوٹی بڑائی کی خاطر وہ حق کے آگے جھکنے كو تیار نہ ہوئے۔
اللہ اپنی ذات وصفات کے اعتبارسے کیسا ہے، اس کا حقیقی تعارف خود وہی کرسکتا ہے۔ اس کی ہستی کا دوسری موجودات سے کیا تعلق ہے، اس کو بھی وہ خود ہی صحیح طورپر بتاسکتا ہے۔ خدا نے اپنی کتاب میں اس کو اتنی واضح صورت میں بتا دیا ہے کہ جو شخص جاننا چاہے وہ ضرور جان لے گا۔ یہی معاملہ انسان کے لیے ہدایت نامہ مقرر کرنے کا ہے۔ انسان کی حقیقت کیا ہے اور وہ کون سا رویہ ہے جو انسان کی کامیابی کا ضامن ہے، اس کو بتانے کے لیے پوری کائنات کا علم درکار ہے۔ انسان کے لیے صحیح رویہ وہی ہوسکتا ہے جو بقیہ کائنات سے ہم آہنگ ہو اور دنیا کے وسیع تر نظام سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہو۔ انسان کے لیے صحیح راہ عمل کا تعین وہی کرسکتا ہے جو نہ صرف انسان کو پیدائش سے موت تک جانتا ہو بلکہ اس کو یہ بھی معلوم ہو کہ پیدائش سے پہلے کیا ہے اور موت کے بعد کیا۔ ایسی ہستی خداکے سوا کوئی دوسری نہیںہوسکتی۔ انسان کے لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ اس معاملہ میں وہ خدا پر بھروسہ کرے اور اس کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کو پورے یقین کے ساتھ پکڑ لے۔
آل عمران 3:7
قرآن میں دو طرح کے مضامین ہیں۔ ایک وہ جو انسان کی معلوم دنیا سے متعلق ہیں۔ مثلاً تاریخی واقعات، کائناتی نشانیاں، دنیوی زندگی کے احکام وغیرہ۔دوسرے وہ جن کا تعلق ان غیبی امور سے ہے جو آج کے انسان کے لیے ناقابل ادراک ہیں۔ مثلاً خدا کی صفات، جنت دوزخ کے احوال، وغیرہ۔ پہلی قسم کی باتوں کو قرآن میں محکم انداز، بالفاظ دیگر براہِ راست اسلو ب میں بیان کیا گیا ہے۔ دوسری قسم کی باتیں انسان کی نامعلوم دنیا سے متعلق ہیں، وہ انسانی زبان کی گرفت میں نہیںآتیں۔ اس لیے ان کو متشابہ انداز یعنی تمثیل وتشبیہہ کے اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً ’’انسان کا ہاتھ‘‘ کہا جائے تو یہ براہِ راست زبان کی مثال ہے اور ’’اللہ کا ہاتھ‘‘ تمثیلی زبان کی مثال ۔جو لوگ اس فرق کو نہیں سمجھتے وہ متشابہ آیتوں کا مفہوم بھی اسی طرح متعین کرنے لگتے ہیں جس طرح محکم آیتوں کا مفہوم متعین کیا جاتا ہے۔ یہ اپنے فطری دائرہ سے باہر نکلنے کی کوشش ہے۔ اس قسم کی کوشش کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ آدمی ہمیشہ بھٹکتا رہے اور کبھی منزل پر نہ پہنچے۔ کیوں کہ ’’انسان کے ہاتھ‘‘ کو متعین طورپر سمجھا جاسکتا ہے۔ مگر ’’خدا کے ہاتھ‘‘ کو موجودہ عقل کے ساتھ متعین طورپر سمجھنا ممکن نہیں۔
متشابہات کے سلسلے میں صحیح علمی وعقلی موقف یہ ہے کہ آدمی اپنی محدودیت کا اعتراف کرے۔ جن باتوں کو وہ متعین صورت میں اپنے حواس کی گرفت میں نہیں لاسکتا ان کے مجمل تصور پر قناعت کرے۔ جب حواس کی محدودیت کی وجہ سے انسان کے لیے ان حقائق کا کلّی احاطہ ممکن نہیں تو حقیقت پسندی یہ ہے کہ ان امور میں تعیّنات کی بحث نہ چھیڑی جائے۔ اس کے بجائے اللہ سے دعا کرنا چاہیے کہ وہ آدمی کو اس قسم کی بے نتیجہ بحثوں میں الجھنے سے بچائے۔ وہ آدمی کو ایسی عقل سلیم دے جو اپنے مقام کو پہچانے اور ان حقائق کے مجمل یقین پر راضی ہوجائے۔ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب کہ یہ حقیقتیں اپنی تفصیلی صورت میں کھل کر سامنے آجائیں گي مگر آدمی جب تک امتحان کی دنیا میں ہے ایسا ہونا ممکن نہیں۔
جس طرح راستہ کی پھسلن ہوتی ہے اسی طرح عقل کے سفر کی بھی پھسلن ہے۔ اور عقل کی پھسلن یہ ہے کہ کسی معاملہ کو آدمی اس کے صحیح رخ سے نہ دیکھے۔ کسی چیز کی حقیقت آدمی اسی وقت سمجھتا ہے جب کہ وہ اس کو اس رخ سے دیکھے جس رخ سے اس کو دیکھنا چاہيے۔ اگر وہ کسی اور رُخ سے دیکھنے لگے تو عین ممکن ہے کہ وہ صحیح رائے قائم نہ کرسکے اور غلط فہمیوں میں پڑ کر رہ جائے۔ سب سے بڑی دانائی یہ ہے کہ آدمی اس راز کو جان لے کہ کسی چیز کو دیکھنے کا صحیح ترین رخ کیا ہے۔
آل عمران 3:8
قرآن میں دو طرح کے مضامین ہیں۔ ایک وہ جو انسان کی معلوم دنیا سے متعلق ہیں۔ مثلاً تاریخی واقعات، کائناتی نشانیاں، دنیوی زندگی کے احکام وغیرہ۔دوسرے وہ جن کا تعلق ان غیبی امور سے ہے جو آج کے انسان کے لیے ناقابل ادراک ہیں۔ مثلاً خدا کی صفات، جنت دوزخ کے احوال، وغیرہ۔ پہلی قسم کی باتوں کو قرآن میں محکم انداز، بالفاظ دیگر براہِ راست اسلو ب میں بیان کیا گیا ہے۔ دوسری قسم کی باتیں انسان کی نامعلوم دنیا سے متعلق ہیں، وہ انسانی زبان کی گرفت میں نہیںآتیں۔ اس لیے ان کو متشابہ انداز یعنی تمثیل وتشبیہہ کے اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً ’’انسان کا ہاتھ‘‘ کہا جائے تو یہ براہِ راست زبان کی مثال ہے اور ’’اللہ کا ہاتھ‘‘ تمثیلی زبان کی مثال ۔جو لوگ اس فرق کو نہیں سمجھتے وہ متشابہ آیتوں کا مفہوم بھی اسی طرح متعین کرنے لگتے ہیں جس طرح محکم آیتوں کا مفہوم متعین کیا جاتا ہے۔ یہ اپنے فطری دائرہ سے باہر نکلنے کی کوشش ہے۔ اس قسم کی کوشش کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ آدمی ہمیشہ بھٹکتا رہے اور کبھی منزل پر نہ پہنچے۔ کیوں کہ ’’انسان کے ہاتھ‘‘ کو متعین طورپر سمجھا جاسکتا ہے۔ مگر ’’خدا کے ہاتھ‘‘ کو موجودہ عقل کے ساتھ متعین طورپر سمجھنا ممکن نہیں۔
متشابہات کے سلسلے میں صحیح علمی وعقلی موقف یہ ہے کہ آدمی اپنی محدودیت کا اعتراف کرے۔ جن باتوں کو وہ متعین صورت میں اپنے حواس کی گرفت میں نہیں لاسکتا ان کے مجمل تصور پر قناعت کرے۔ جب حواس کی محدودیت کی وجہ سے انسان کے لیے ان حقائق کا کلّی احاطہ ممکن نہیں تو حقیقت پسندی یہ ہے کہ ان امور میں تعیّنات کی بحث نہ چھیڑی جائے۔ اس کے بجائے اللہ سے دعا کرنا چاہیے کہ وہ آدمی کو اس قسم کی بے نتیجہ بحثوں میں الجھنے سے بچائے۔ وہ آدمی کو ایسی عقل سلیم دے جو اپنے مقام کو پہچانے اور ان حقائق کے مجمل یقین پر راضی ہوجائے۔ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب کہ یہ حقیقتیں اپنی تفصیلی صورت میں کھل کر سامنے آجائیں گي مگر آدمی جب تک امتحان کی دنیا میں ہے ایسا ہونا ممکن نہیں۔
جس طرح راستہ کی پھسلن ہوتی ہے اسی طرح عقل کے سفر کی بھی پھسلن ہے۔ اور عقل کی پھسلن یہ ہے کہ کسی معاملہ کو آدمی اس کے صحیح رخ سے نہ دیکھے۔ کسی چیز کی حقیقت آدمی اسی وقت سمجھتا ہے جب کہ وہ اس کو اس رخ سے دیکھے جس رخ سے اس کو دیکھنا چاہيے۔ اگر وہ کسی اور رُخ سے دیکھنے لگے تو عین ممکن ہے کہ وہ صحیح رائے قائم نہ کرسکے اور غلط فہمیوں میں پڑ کر رہ جائے۔ سب سے بڑی دانائی یہ ہے کہ آدمی اس راز کو جان لے کہ کسی چیز کو دیکھنے کا صحیح ترین رخ کیا ہے۔
آل عمران 3:9
قرآن میں دو طرح کے مضامین ہیں۔ ایک وہ جو انسان کی معلوم دنیا سے متعلق ہیں۔ مثلاً تاریخی واقعات، کائناتی نشانیاں، دنیوی زندگی کے احکام وغیرہ۔دوسرے وہ جن کا تعلق ان غیبی امور سے ہے جو آج کے انسان کے لیے ناقابل ادراک ہیں۔ مثلاً خدا کی صفات، جنت دوزخ کے احوال، وغیرہ۔ پہلی قسم کی باتوں کو قرآن میں محکم انداز، بالفاظ دیگر براہِ راست اسلو ب میں بیان کیا گیا ہے۔ دوسری قسم کی باتیں انسان کی نامعلوم دنیا سے متعلق ہیں، وہ انسانی زبان کی گرفت میں نہیںآتیں۔ اس لیے ان کو متشابہ انداز یعنی تمثیل وتشبیہہ کے اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً ’’انسان کا ہاتھ‘‘ کہا جائے تو یہ براہِ راست زبان کی مثال ہے اور ’’اللہ کا ہاتھ‘‘ تمثیلی زبان کی مثال ۔جو لوگ اس فرق کو نہیں سمجھتے وہ متشابہ آیتوں کا مفہوم بھی اسی طرح متعین کرنے لگتے ہیں جس طرح محکم آیتوں کا مفہوم متعین کیا جاتا ہے۔ یہ اپنے فطری دائرہ سے باہر نکلنے کی کوشش ہے۔ اس قسم کی کوشش کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ آدمی ہمیشہ بھٹکتا رہے اور کبھی منزل پر نہ پہنچے۔ کیوں کہ ’’انسان کے ہاتھ‘‘ کو متعین طورپر سمجھا جاسکتا ہے۔ مگر ’’خدا کے ہاتھ‘‘ کو موجودہ عقل کے ساتھ متعین طورپر سمجھنا ممکن نہیں۔
متشابہات کے سلسلے میں صحیح علمی وعقلی موقف یہ ہے کہ آدمی اپنی محدودیت کا اعتراف کرے۔ جن باتوں کو وہ متعین صورت میں اپنے حواس کی گرفت میں نہیں لاسکتا ان کے مجمل تصور پر قناعت کرے۔ جب حواس کی محدودیت کی وجہ سے انسان کے لیے ان حقائق کا کلّی احاطہ ممکن نہیں تو حقیقت پسندی یہ ہے کہ ان امور میں تعیّنات کی بحث نہ چھیڑی جائے۔ اس کے بجائے اللہ سے دعا کرنا چاہیے کہ وہ آدمی کو اس قسم کی بے نتیجہ بحثوں میں الجھنے سے بچائے۔ وہ آدمی کو ایسی عقل سلیم دے جو اپنے مقام کو پہچانے اور ان حقائق کے مجمل یقین پر راضی ہوجائے۔ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب کہ یہ حقیقتیں اپنی تفصیلی صورت میں کھل کر سامنے آجائیں گي مگر آدمی جب تک امتحان کی دنیا میں ہے ایسا ہونا ممکن نہیں۔
جس طرح راستہ کی پھسلن ہوتی ہے اسی طرح عقل کے سفر کی بھی پھسلن ہے۔ اور عقل کی پھسلن یہ ہے کہ کسی معاملہ کو آدمی اس کے صحیح رخ سے نہ دیکھے۔ کسی چیز کی حقیقت آدمی اسی وقت سمجھتا ہے جب کہ وہ اس کو اس رخ سے دیکھے جس رخ سے اس کو دیکھنا چاہيے۔ اگر وہ کسی اور رُخ سے دیکھنے لگے تو عین ممکن ہے کہ وہ صحیح رائے قائم نہ کرسکے اور غلط فہمیوں میں پڑ کر رہ جائے۔ سب سے بڑی دانائی یہ ہے کہ آدمی اس راز کو جان لے کہ کسی چیز کو دیکھنے کا صحیح ترین رخ کیا ہے۔
آل عمران 3:10
خدا کسی آدمی کو ذکر و فکر کی سطح پر ملتاہے۔ یعنی آدمی سوچ کے ذریعہ سے خدا کو پاتا ہے۔ خدا نے موجودہ دنیا میں اپنے دلائل بکھیر دئے ہیں، آدمی کی اپنی ذات میں، باہر کی کائنات میں اور پھر پیغمبر کی تعلیمات میں۔ جو لوگ ان خدائی نشانیوں میں غور کریں گے وہی خدا کو پائیں گے۔
دلیل اس دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے۔ ایک شخص کے سامنے سچی دلیل آئے اور وہ اس کو نظر انداز کردے تو گویا کہ اس نے خدا کو نظر انداز کیا۔ ایسے لوگوں کےلیے خدا کے یہاں ابدی محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔
آل عمران 3:11
غزوۂ احزاب (5 ھ) عرب قبائل اور یہود کی طرف سے مدینہ پر مشترک حملہ تھا۔ اس میں حملہ آوروں کی تعداد تقریباً
12
ہزارتھی۔ مسلمان اس عظیم فوج سے لڑنے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی خصوصی تدبیروں کے ذریعے دشمنوں کو اس قدر خوف زدہ کیا کہ تقریباً ایک مہینہ کے محاصرہ کے بعد وہ خود مدینہ کو چھوڑ کر چلے گئے۔
اس طرح کے سخت حالات اسلامی دعوت کے ساتھ اس ليے پیش آتے ہیں کہ مسلمانوں کے گروہ سے مخلصین اور غیر مخلصین کو الگ کردیں۔ اور دوسرے یہ کہ دشمن طاقتوں کو دکھا دیں کہ خدا اپنے دین کا خود حامی ہے۔ وہ کسی حال میں اس کو مغلوب ہونے نہیں دے گا۔
آل عمران 3:12
حق کی دعوت جب بھی اٹھتی ہے تو وہ لوگوں کو ایک غیر اہم آواز معلوم ہوتی ہے۔ ایک طرف وقت کا ماحول ہوتا ہے جس کے قبضہ میں ہر قسم کے مادی وسائل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف حق کا قافلہ ہوتا ہے جس کو ابھی ماحول میں کوئی جماؤ حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ مادی مفادات وابستہ نہیں ہوتے۔ ان حالات میں حق کی طرف بڑھنا ماحول سے کٹنے اور مفادات سے محروم ہونے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنے مفادات کو بچانے کی خاطر حق کو نہیں مانتا۔ اپنے ساتھیوں اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر ایک تنہا داعی کی صف میں آنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ مگر یہ چیزیں جو انسان کو آج اہم نظر آتی ہیں وہ فیصلہ کے دن کسی کے کچھ کام نہ آئیں گی۔ ان چیزوں کي جو کچھ اہمیت ہے صرف اس وقت تک ہے جب کہ معاملہ انسان اور انسان کے درمیان ہے۔ جب قیامت کا پردہ پھٹے گا اور معاملہ انسان اور خدا کے درمیان ہوجائے گا تو یہ چیزیں اتنی بے قیمت ہوجائیں گی جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ داعی اس دنیا میں بظاہر بے زور دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں وہی زور والا ہے۔ کیوں کہ اس کے پیچھے خدا ہے۔ منکر بظاہر اس دنیا میں طاقت ور دکھائی دیتا ہے۔ مگر وہ بالکل بے طاقت ہے۔ کیوں کہ اس کی طاقت ایک وقتی فریب کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
نبوت کے چودھویں سال بدر کا معرکہ آخرت میں ہونے والے واقعہ کا ایک دنیوی نمونہ تھا۔ حق کا انکار کرنے والے تعداد اور طاقت میں بہت زیادہ تھے اور حق کو ماننے والے تعداد اور طاقت میں بہت کم تھے۔ اس کے باوجود منکرین کو غیر معمولی شکست ہوئی اور حق کے پیروؤں کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی۔ یہ ایک واضح ثبوت ہے کہ اللہ ہمیشہ حق کے پیروؤں کی جانب ہوتا ہے۔ اتنے غیر معمولی فرق کے باوجود اتنی غیر معمولی فتح اللہ کی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ یہ خدا کی طرف سے اس بات کا ایک مظاہرہ ہے کہ حق اس عالم میں تنہا نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ منکرین کے لیے وہ ایک ظاہری دلیل بھی ہے جس میں وہ دیکھ سکتے ہیں کہ خدا کی اس دنیا میں وہ کتنے بے جگہ ہیں۔ داعیٔ حق کے کلام اور اس کی زندگی میں کھلی ہوئی علامتیں ہوتی ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔ مگرجو سرکش لوگ ہیں وہ اس کو رد کرنے کے لیے الفاظ کی ایک پناہ گاہ بنا لیتے ہیں۔ وہ جھوٹی توجیہات میں جیتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ آخرت کی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں، جهاں انھيں يه پتا چل جائے گا کہ وہ جن الفاظ کا سہارا ليے ہوئے تھے وہ حقیقت کے اعتبار سے کس قدر بے معنی تھے۔
آل عمران 3:13
حق کی دعوت جب بھی اٹھتی ہے تو وہ لوگوں کو ایک غیر اہم آواز معلوم ہوتی ہے۔ ایک طرف وقت کا ماحول ہوتا ہے جس کے قبضہ میں ہر قسم کے مادی وسائل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف حق کا قافلہ ہوتا ہے جس کو ابھی ماحول میں کوئی جماؤ حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ مادی مفادات وابستہ نہیں ہوتے۔ ان حالات میں حق کی طرف بڑھنا ماحول سے کٹنے اور مفادات سے محروم ہونے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنے مفادات کو بچانے کی خاطر حق کو نہیں مانتا۔ اپنے ساتھیوں اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر ایک تنہا داعی کی صف میں آنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ مگر یہ چیزیں جو انسان کو آج اہم نظر آتی ہیں وہ فیصلہ کے دن کسی کے کچھ کام نہ آئیں گی۔ ان چیزوں کي جو کچھ اہمیت ہے صرف اس وقت تک ہے جب کہ معاملہ انسان اور انسان کے درمیان ہے۔ جب قیامت کا پردہ پھٹے گا اور معاملہ انسان اور خدا کے درمیان ہوجائے گا تو یہ چیزیں اتنی بے قیمت ہوجائیں گی جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ داعی اس دنیا میں بظاہر بے زور دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں وہی زور والا ہے۔ کیوں کہ اس کے پیچھے خدا ہے۔ منکر بظاہر اس دنیا میں طاقت ور دکھائی دیتا ہے۔ مگر وہ بالکل بے طاقت ہے۔ کیوں کہ اس کی طاقت ایک وقتی فریب کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
نبوت کے چودھویں سال بدر کا معرکہ آخرت میں ہونے والے واقعہ کا ایک دنیوی نمونہ تھا۔ حق کا انکار کرنے والے تعداد اور طاقت میں بہت زیادہ تھے اور حق کو ماننے والے تعداد اور طاقت میں بہت کم تھے۔ اس کے باوجود منکرین کو غیر معمولی شکست ہوئی اور حق کے پیروؤں کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی۔ یہ ایک واضح ثبوت ہے کہ اللہ ہمیشہ حق کے پیروؤں کی جانب ہوتا ہے۔ اتنے غیر معمولی فرق کے باوجود اتنی غیر معمولی فتح اللہ کی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ یہ خدا کی طرف سے اس بات کا ایک مظاہرہ ہے کہ حق اس عالم میں تنہا نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ منکرین کے لیے وہ ایک ظاہری دلیل بھی ہے جس میں وہ دیکھ سکتے ہیں کہ خدا کی اس دنیا میں وہ کتنے بے جگہ ہیں۔ داعیٔ حق کے کلام اور اس کی زندگی میں کھلی ہوئی علامتیں ہوتی ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔ مگرجو سرکش لوگ ہیں وہ اس کو رد کرنے کے لیے الفاظ کی ایک پناہ گاہ بنا لیتے ہیں۔ وہ جھوٹی توجیہات میں جیتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ آخرت کی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں، جهاں انھيں يه پتا چل جائے گا کہ وہ جن الفاظ کا سہارا ليے ہوئے تھے وہ حقیقت کے اعتبار سے کس قدر بے معنی تھے۔
آل عمران 3:14
خدا کی رحمت ہدایت اس طرح تقسیم نہیں ہوتی کہ جس شخص کو دنیوی عظمت ملی ہوئی ہو اسی کو خدا کی ہدایت بھی دے دی جائے۔ اگر دنیوی عظمت لوگوں کو خدا کے یہاں عظیم بنانے والی ہوتی تو ایسے لوگوں کےلیے ممکن ہوتاکہ وہ جس شخص کو چاہیں خدا کی رحمت پہنچائیں اور جس سے چاہیں اسے روک دیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خدا اپنی رحمت کی تقسیم خود اپنے معیار پر کرتاہے، نہ کہ ظاہر پرست انسانوں کے بنائے ہوئے معیار پر۔
پیغمبر کا انکار کرنے والے کہتے کہ جس خدائی عذاب سے تم ہم کو ڈرارہے ہو اس خدائی عذاب کو لے آؤ۔ یہ جرأت ان کے اندر اس ليے پیدا ہوتی تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان پر خدا کا عذاب آنے والا ہی نہیں۔ ان کو بتایا گیا کہ جن بتوں کے بل پر تم اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہے ہو، اسی قسم کے بتوں کے بل پر پچھلی قوموں نے بھی اپنے کو محفوظ سمجھا اور اپنے رسولوں کے ساتھ سرکشی کی۔ مگر وہ سب کی سب ہلاک کردی گئیں۔ پھر تم آخر کس طرح بچ جاؤ گے۔
آل عمران 3:15
خدا کی رحمت ہدایت اس طرح تقسیم نہیں ہوتی کہ جس شخص کو دنیوی عظمت ملی ہوئی ہو اسی کو خدا کی ہدایت بھی دے دی جائے۔ اگر دنیوی عظمت لوگوں کو خدا کے یہاں عظیم بنانے والی ہوتی تو ایسے لوگوں کےلیے ممکن ہوتاکہ وہ جس شخص کو چاہیں خدا کی رحمت پہنچائیں اور جس سے چاہیں اسے روک دیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خدا اپنی رحمت کی تقسیم خود اپنے معیار پر کرتاہے، نہ کہ ظاہر پرست انسانوں کے بنائے ہوئے معیار پر۔
پیغمبر کا انکار کرنے والے کہتے کہ جس خدائی عذاب سے تم ہم کو ڈرارہے ہو اس خدائی عذاب کو لے آؤ۔ یہ جرأت ان کے اندر اس ليے پیدا ہوتی تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان پر خدا کا عذاب آنے والا ہی نہیں۔ ان کو بتایا گیا کہ جن بتوں کے بل پر تم اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہے ہو، اسی قسم کے بتوں کے بل پر پچھلی قوموں نے بھی اپنے کو محفوظ سمجھا اور اپنے رسولوں کے ساتھ سرکشی کی۔ مگر وہ سب کی سب ہلاک کردی گئیں۔ پھر تم آخر کس طرح بچ جاؤ گے۔
آل عمران 3:16
خدا کی رحمت ہدایت اس طرح تقسیم نہیں ہوتی کہ جس شخص کو دنیوی عظمت ملی ہوئی ہو اسی کو خدا کی ہدایت بھی دے دی جائے۔ اگر دنیوی عظمت لوگوں کو خدا کے یہاں عظیم بنانے والی ہوتی تو ایسے لوگوں کےلیے ممکن ہوتاکہ وہ جس شخص کو چاہیں خدا کی رحمت پہنچائیں اور جس سے چاہیں اسے روک دیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خدا اپنی رحمت کی تقسیم خود اپنے معیار پر کرتاہے، نہ کہ ظاہر پرست انسانوں کے بنائے ہوئے معیار پر۔
پیغمبر کا انکار کرنے والے کہتے کہ جس خدائی عذاب سے تم ہم کو ڈرارہے ہو اس خدائی عذاب کو لے آؤ۔ یہ جرأت ان کے اندر اس ليے پیدا ہوتی تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان پر خدا کا عذاب آنے والا ہی نہیں۔ ان کو بتایا گیا کہ جن بتوں کے بل پر تم اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہے ہو، اسی قسم کے بتوں کے بل پر پچھلی قوموں نے بھی اپنے کو محفوظ سمجھا اور اپنے رسولوں کے ساتھ سرکشی کی۔ مگر وہ سب کی سب ہلاک کردی گئیں۔ پھر تم آخر کس طرح بچ جاؤ گے۔
آل عمران 3:17
دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ اس لیے یہاں کی چیزوں میں آدمی کے لیے ظاہری کشش رکھی گئی ہے۔ اب خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون ہے جو ظاہری کشش سے متاثر ہو کر دنیا کی چیزوں میں کھو جاتا ہے۔او ر کون ہے جو اس سے اوپر اٹھ کر آخرت کی اَن دیکھی چیزوں کو اپنی توجہ کا مرکز بناتا ہے۔ آدمی کو دنیا کی چیزوں میں تسکین ملتی ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ ماحول کے اندر ان کے ذریعہ سے وقار قائم ہوتا ہے۔ یہ چیزیں ہوں تو اس کے سب کام بنتے چلے جاتے ہیں۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہی چیزیں اصل اہمیت کی چیزیں ہیں۔ اس کی دلچسپیاں اور سرگرمیاں سمٹ کر بیوی بچوں اور مال وجائداد کے گرد جمع ہوجاتی ہیں۔ یہی چیز آخرت کے تقاضوں کی طرف بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دنیا کی چیزوں کی اہمیت کا احساس آدمی کو آخرت کی چیزوں کی طرف سے غافل کردیتا ہے۔ دنیا میں اپنے بچوں کے مستقبل کی تعمیر میں وہ اتنا مشغول ہوتا ہے کہ اس کو یاد نہیں رہتا کہ دنیا سے ماورا بھی کوئی ’’مستقبل‘‘ ہے جس کی تعمیر کی اس کو فکر کرنا چاہیے۔ دنیا میں اپنے گھر کو آباد کرنا اس کے لیے اتنا محبوب بن جاتا ہے کہ اس کو کبھی خیال نہیں آتا کہ اس کے سوا بھی کوئی ’’گھر‘‘ ہے جس کو آبادكرنے میں اس کو لگنا چاہیے۔ دنیا میں دولت سمیٹنا اور جائداد بنانا اس کو اتنا زیادہ قیمتی معلوم ہوتے ہیں کہ وہ سوچ نہیں پاتا کہ اس کے سوا بھی کوئی ’’دولت‘‘ ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے وہ اپنے کو وقف کرے۔ مگر اس قسم کی تمام چیزیںصرف موجودہ عارضی زندگی کی رونق ہیں۔ اگلی طویل تر زندگی میں وہ کسی کے کچھ کام آنے والی نہیں۔
جو شخص آخرت کی مستقل زندگی کو اپنی توجہات کا مرکز بنائے اس کی زندگی کیسی زندگی ہوگی۔ دنیا کی رونقیں اس کی نظر میں حقیر بن جائیں گی۔ وہ اس یقین سے بھر جائے گا کہ آخرت کا معاملہ تمام تر اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ سب سے زیاہ اللہ سے ڈرے گا اور سب سے زیادہ آخرت کا حریص بن جائے گا۔ معاملات میں وہ اپنی خواہش کے پیچھے نہیں چلے گا بلکہ اللہ کی عدالت کو سامنے رکھ کر اپنا رویہ متعین کرے گا۔ اس کے قول وعمل میں فرق نہیں ہوگا۔ اس کا مال اپنا مال نہ رہے گا بلکہ خدا کے لیے وقف ہوجائے گا۔ اللہ کی راہ میں چلنے میں خواہ کتنی ہی مشکلیں پیش آئیں وہ پوری استقامت کے ساتھ اس پر قائم رہے گا۔ کیوں کہ اس کو یقین ہوگا کہ اللہ کو چھوڑنے کے بعد کوئی نہیں ہے جو اس کا سہارا بنے۔ اس کا دل اللہ کی یاد سے اس طرح پگھل اٹھے گا کہ وہ بے تابانہ اس کو پکارنے لگے گا۔ اس کی تنہائیاں اپنے رب کی صحبت میں بسر ہونے لگیں گی۔ اللہ کی عظمت وکمال کے آگے اس کو اپنا وجود سر تاپا غلط نظر آئے گا۔ اس کے پاس کہنے کے لیے اس کے سوا اور کچھ نہ ہوگا — اے میرے رب مجھے معاف کردے۔
آل عمران 3:18
کائنات کا خدا ایک ہی خداہے اور وہ عدل وقسط کو پسند کرتا ہے۔ تمام آسمانی کتابیں اپنی صحیح صورت میں اسی کا اعلان کررہی ہیں۔ پھیلی ہوئی کائنات جس كو اس کا مالک اپنے غیر مرئی کارندوں (فرشتوں) کے ذریعہ چلا رہا ہے وہ کامل طور پر ویسی ہی ہے جیسا کہ اس کو ہونا چاہیے۔ ثابت شدہ علم انسانی کے مطابق کائنات ایک حد درجہ وحدانی نظام ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ کائنات کا مدبر صرف ایک ہے۔ اسی طرح کائنات کی ہر چیز کا اپنے محل مناسب میں ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کاخدا عد ل کو پسند کرنے والا خدا ہے، نہ کہ بے انصافی کو پسند کرنے والا۔ پھر جو خدا وسیع تر کائنات میں مسلسل عدل کو قائم کيے ہوئے ہو وہ انسان کے معاملے میں خلافِ عدل باتوں پرکیسے راضی ہوجائے گا۔
کائنات کا ہر جزء کامل طورپر ’’مسلم‘‘ ہے۔ یعنی اپنی سرگرمیوں کو اللہ کے مقررہ نقشہ کے مطابق انجام دیتا ہے۔ ٹھیک یہی رویہ انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے اور اس کے مطلوبہ نقشہ کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے۔ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا مرکز توجہ بنانا یا یہ خیال کرنا کہ اللہ کا فیصلہ عدل کے سوا کسی اور بنیاد پر ہوسکتا ہے، ایسی بے اصل بات ہے جس کے لیے موجودہ کائنات میں کوئی گنجائش نہیں۔
قرآن کی دعوت اسی سچے اسلام کی دعوت ہے۔ جو لوگ اس سے اختلاف کررہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں هے کہ اس کا حق ہونا ان پر واضح نہیں ہے۔ اس کی وجہ ضد ہے۔ اس کو ماننا انھیں داعیٔ قرآن کی فکری برتری تسلیم کرنے کے ہم معنی نظر آتا ہے، اور ان کی حسد اور کبر کی نفسیات اس قسم کا اعتراف کرنے پر راضی نہیں۔ سیدھی طرح حق کو مان لینے کے بجائے وہ چاہتے ہیں کہ اس زبان ہی کو بند کردیں جو حق کا اعلان کررہی ہے۔ تاہم خدا کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ داعیٔ حق کی زبان کو بند کرنے کے لیے ان کا ہر منصوبہ ناکام ہوگا اور جب خدا کے عد ل کا ترازو کھڑا ہوگا تو وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے وہ اعمال کس قدر بے قیمت تھے جن کے بل پر وہ اپنی نجات اور کامیابی کا یقین کيے ہوئے تھے — سچی دلیل خدا کی نشانی ہے۔ جو شخص دلیل کے سامنے نہیں جھکتا وہ گویا خدا کے سامنے نہیں جھکتا۔ ایسے لوگ قیامت میں اس طرح اٹھیں گے کہ وہ سب سے زیادہ بے سہارا ہوں گے۔
آل عمران 3:19
کائنات کا خدا ایک ہی خداہے اور وہ عدل وقسط کو پسند کرتا ہے۔ تمام آسمانی کتابیں اپنی صحیح صورت میں اسی کا اعلان کررہی ہیں۔ پھیلی ہوئی کائنات جس كو اس کا مالک اپنے غیر مرئی کارندوں (فرشتوں) کے ذریعہ چلا رہا ہے وہ کامل طور پر ویسی ہی ہے جیسا کہ اس کو ہونا چاہیے۔ ثابت شدہ علم انسانی کے مطابق کائنات ایک حد درجہ وحدانی نظام ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ کائنات کا مدبر صرف ایک ہے۔ اسی طرح کائنات کی ہر چیز کا اپنے محل مناسب میں ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کاخدا عد ل کو پسند کرنے والا خدا ہے، نہ کہ بے انصافی کو پسند کرنے والا۔ پھر جو خدا وسیع تر کائنات میں مسلسل عدل کو قائم کيے ہوئے ہو وہ انسان کے معاملے میں خلافِ عدل باتوں پرکیسے راضی ہوجائے گا۔
کائنات کا ہر جزء کامل طورپر ’’مسلم‘‘ ہے۔ یعنی اپنی سرگرمیوں کو اللہ کے مقررہ نقشہ کے مطابق انجام دیتا ہے۔ ٹھیک یہی رویہ انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے اور اس کے مطلوبہ نقشہ کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے۔ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا مرکز توجہ بنانا یا یہ خیال کرنا کہ اللہ کا فیصلہ عدل کے سوا کسی اور بنیاد پر ہوسکتا ہے، ایسی بے اصل بات ہے جس کے لیے موجودہ کائنات میں کوئی گنجائش نہیں۔
قرآن کی دعوت اسی سچے اسلام کی دعوت ہے۔ جو لوگ اس سے اختلاف کررہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں هے کہ اس کا حق ہونا ان پر واضح نہیں ہے۔ اس کی وجہ ضد ہے۔ اس کو ماننا انھیں داعیٔ قرآن کی فکری برتری تسلیم کرنے کے ہم معنی نظر آتا ہے، اور ان کی حسد اور کبر کی نفسیات اس قسم کا اعتراف کرنے پر راضی نہیں۔ سیدھی طرح حق کو مان لینے کے بجائے وہ چاہتے ہیں کہ اس زبان ہی کو بند کردیں جو حق کا اعلان کررہی ہے۔ تاہم خدا کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ داعیٔ حق کی زبان کو بند کرنے کے لیے ان کا ہر منصوبہ ناکام ہوگا اور جب خدا کے عد ل کا ترازو کھڑا ہوگا تو وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے وہ اعمال کس قدر بے قیمت تھے جن کے بل پر وہ اپنی نجات اور کامیابی کا یقین کيے ہوئے تھے — سچی دلیل خدا کی نشانی ہے۔ جو شخص دلیل کے سامنے نہیں جھکتا وہ گویا خدا کے سامنے نہیں جھکتا۔ ایسے لوگ قیامت میں اس طرح اٹھیں گے کہ وہ سب سے زیادہ بے سہارا ہوں گے۔
آل عمران 3:20
کائنات کا خدا ایک ہی خداہے اور وہ عدل وقسط کو پسند کرتا ہے۔ تمام آسمانی کتابیں اپنی صحیح صورت میں اسی کا اعلان کررہی ہیں۔ پھیلی ہوئی کائنات جس كو اس کا مالک اپنے غیر مرئی کارندوں (فرشتوں) کے ذریعہ چلا رہا ہے وہ کامل طور پر ویسی ہی ہے جیسا کہ اس کو ہونا چاہیے۔ ثابت شدہ علم انسانی کے مطابق کائنات ایک حد درجہ وحدانی نظام ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ کائنات کا مدبر صرف ایک ہے۔ اسی طرح کائنات کی ہر چیز کا اپنے محل مناسب میں ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کاخدا عد ل کو پسند کرنے والا خدا ہے، نہ کہ بے انصافی کو پسند کرنے والا۔ پھر جو خدا وسیع تر کائنات میں مسلسل عدل کو قائم کيے ہوئے ہو وہ انسان کے معاملے میں خلافِ عدل باتوں پرکیسے راضی ہوجائے گا۔
کائنات کا ہر جزء کامل طورپر ’’مسلم‘‘ ہے۔ یعنی اپنی سرگرمیوں کو اللہ کے مقررہ نقشہ کے مطابق انجام دیتا ہے۔ ٹھیک یہی رویہ انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے اور اس کے مطلوبہ نقشہ کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے۔ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا مرکز توجہ بنانا یا یہ خیال کرنا کہ اللہ کا فیصلہ عدل کے سوا کسی اور بنیاد پر ہوسکتا ہے، ایسی بے اصل بات ہے جس کے لیے موجودہ کائنات میں کوئی گنجائش نہیں۔
قرآن کی دعوت اسی سچے اسلام کی دعوت ہے۔ جو لوگ اس سے اختلاف کررہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں هے کہ اس کا حق ہونا ان پر واضح نہیں ہے۔ اس کی وجہ ضد ہے۔ اس کو ماننا انھیں داعیٔ قرآن کی فکری برتری تسلیم کرنے کے ہم معنی نظر آتا ہے، اور ان کی حسد اور کبر کی نفسیات اس قسم کا اعتراف کرنے پر راضی نہیں۔ سیدھی طرح حق کو مان لینے کے بجائے وہ چاہتے ہیں کہ اس زبان ہی کو بند کردیں جو حق کا اعلان کررہی ہے۔ تاہم خدا کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ داعیٔ حق کی زبان کو بند کرنے کے لیے ان کا ہر منصوبہ ناکام ہوگا اور جب خدا کے عد ل کا ترازو کھڑا ہوگا تو وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے وہ اعمال کس قدر بے قیمت تھے جن کے بل پر وہ اپنی نجات اور کامیابی کا یقین کيے ہوئے تھے — سچی دلیل خدا کی نشانی ہے۔ جو شخص دلیل کے سامنے نہیں جھکتا وہ گویا خدا کے سامنے نہیں جھکتا۔ ایسے لوگ قیامت میں اس طرح اٹھیں گے کہ وہ سب سے زیادہ بے سہارا ہوں گے۔
آل عمران 3:21
کائنات کا خدا ایک ہی خداہے اور وہ عدل وقسط کو پسند کرتا ہے۔ تمام آسمانی کتابیں اپنی صحیح صورت میں اسی کا اعلان کررہی ہیں۔ پھیلی ہوئی کائنات جس كو اس کا مالک اپنے غیر مرئی کارندوں (فرشتوں) کے ذریعہ چلا رہا ہے وہ کامل طور پر ویسی ہی ہے جیسا کہ اس کو ہونا چاہیے۔ ثابت شدہ علم انسانی کے مطابق کائنات ایک حد درجہ وحدانی نظام ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ کائنات کا مدبر صرف ایک ہے۔ اسی طرح کائنات کی ہر چیز کا اپنے محل مناسب میں ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کاخدا عد ل کو پسند کرنے والا خدا ہے، نہ کہ بے انصافی کو پسند کرنے والا۔ پھر جو خدا وسیع تر کائنات میں مسلسل عدل کو قائم کيے ہوئے ہو وہ انسان کے معاملے میں خلافِ عدل باتوں پرکیسے راضی ہوجائے گا۔
کائنات کا ہر جزء کامل طورپر ’’مسلم‘‘ ہے۔ یعنی اپنی سرگرمیوں کو اللہ کے مقررہ نقشہ کے مطابق انجام دیتا ہے۔ ٹھیک یہی رویہ انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے اور اس کے مطلوبہ نقشہ کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے۔ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا مرکز توجہ بنانا یا یہ خیال کرنا کہ اللہ کا فیصلہ عدل کے سوا کسی اور بنیاد پر ہوسکتا ہے، ایسی بے اصل بات ہے جس کے لیے موجودہ کائنات میں کوئی گنجائش نہیں۔
قرآن کی دعوت اسی سچے اسلام کی دعوت ہے۔ جو لوگ اس سے اختلاف کررہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں هے کہ اس کا حق ہونا ان پر واضح نہیں ہے۔ اس کی وجہ ضد ہے۔ اس کو ماننا انھیں داعیٔ قرآن کی فکری برتری تسلیم کرنے کے ہم معنی نظر آتا ہے، اور ان کی حسد اور کبر کی نفسیات اس قسم کا اعتراف کرنے پر راضی نہیں۔ سیدھی طرح حق کو مان لینے کے بجائے وہ چاہتے ہیں کہ اس زبان ہی کو بند کردیں جو حق کا اعلان کررہی ہے۔ تاہم خدا کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ داعیٔ حق کی زبان کو بند کرنے کے لیے ان کا ہر منصوبہ ناکام ہوگا اور جب خدا کے عد ل کا ترازو کھڑا ہوگا تو وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے وہ اعمال کس قدر بے قیمت تھے جن کے بل پر وہ اپنی نجات اور کامیابی کا یقین کيے ہوئے تھے — سچی دلیل خدا کی نشانی ہے۔ جو شخص دلیل کے سامنے نہیں جھکتا وہ گویا خدا کے سامنے نہیں جھکتا۔ ایسے لوگ قیامت میں اس طرح اٹھیں گے کہ وہ سب سے زیادہ بے سہارا ہوں گے۔
آل عمران 3:22
کائنات کا خدا ایک ہی خداہے اور وہ عدل وقسط کو پسند کرتا ہے۔ تمام آسمانی کتابیں اپنی صحیح صورت میں اسی کا اعلان کررہی ہیں۔ پھیلی ہوئی کائنات جس كو اس کا مالک اپنے غیر مرئی کارندوں (فرشتوں) کے ذریعہ چلا رہا ہے وہ کامل طور پر ویسی ہی ہے جیسا کہ اس کو ہونا چاہیے۔ ثابت شدہ علم انسانی کے مطابق کائنات ایک حد درجہ وحدانی نظام ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ کائنات کا مدبر صرف ایک ہے۔ اسی طرح کائنات کی ہر چیز کا اپنے محل مناسب میں ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کاخدا عد ل کو پسند کرنے والا خدا ہے، نہ کہ بے انصافی کو پسند کرنے والا۔ پھر جو خدا وسیع تر کائنات میں مسلسل عدل کو قائم کيے ہوئے ہو وہ انسان کے معاملے میں خلافِ عدل باتوں پرکیسے راضی ہوجائے گا۔
کائنات کا ہر جزء کامل طورپر ’’مسلم‘‘ ہے۔ یعنی اپنی سرگرمیوں کو اللہ کے مقررہ نقشہ کے مطابق انجام دیتا ہے۔ ٹھیک یہی رویہ انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے اور اس کے مطلوبہ نقشہ کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے۔ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا مرکز توجہ بنانا یا یہ خیال کرنا کہ اللہ کا فیصلہ عدل کے سوا کسی اور بنیاد پر ہوسکتا ہے، ایسی بے اصل بات ہے جس کے لیے موجودہ کائنات میں کوئی گنجائش نہیں۔
قرآن کی دعوت اسی سچے اسلام کی دعوت ہے۔ جو لوگ اس سے اختلاف کررہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں هے کہ اس کا حق ہونا ان پر واضح نہیں ہے۔ اس کی وجہ ضد ہے۔ اس کو ماننا انھیں داعیٔ قرآن کی فکری برتری تسلیم کرنے کے ہم معنی نظر آتا ہے، اور ان کی حسد اور کبر کی نفسیات اس قسم کا اعتراف کرنے پر راضی نہیں۔ سیدھی طرح حق کو مان لینے کے بجائے وہ چاہتے ہیں کہ اس زبان ہی کو بند کردیں جو حق کا اعلان کررہی ہے۔ تاہم خدا کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ داعیٔ حق کی زبان کو بند کرنے کے لیے ان کا ہر منصوبہ ناکام ہوگا اور جب خدا کے عد ل کا ترازو کھڑا ہوگا تو وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے وہ اعمال کس قدر بے قیمت تھے جن کے بل پر وہ اپنی نجات اور کامیابی کا یقین کيے ہوئے تھے — سچی دلیل خدا کی نشانی ہے۔ جو شخص دلیل کے سامنے نہیں جھکتا وہ گویا خدا کے سامنے نہیں جھکتا۔ ایسے لوگ قیامت میں اس طرح اٹھیں گے کہ وہ سب سے زیادہ بے سہارا ہوں گے۔
آل عمران 3:23
اللہ کی ہدایت ایک ہی ہدایت ہے جو مختلف قوموں کی زبان میں ان کے پیغمبروں پر اتاری جاتی رہی ہے۔ وہی قرآن کی صورت میں پیغمبر آخر الزماں پر اتاری گئی ہے۔ اس یکسانیت کی وجہ سے آسمانی کتابوں کو جاننے اور ماننے والوں کے لیے قرآن کی دعوت کو پہچاننا مشکل نہیں۔ قرآن کی دعوت میں اور پچھلی آسمانی تعلیمات میں اگر کچھ فرق ہے تو صرف یہ کہ قرآن کی دعوت ان کی اپنی ملاوٹوںسے دین خداوندی کو پاک کررہی ہے۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ بہت سے لوگ قرآن کی دعوت کا انکار کررہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی دعوت کو وہ اپنے لیے کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھتے۔ اپنے خود ساختہ عقائد کی بنا پر انھوںنے اپنے کو جہنم کی آگ سے محفوظ فرض کرلیا ہے۔ اپنی اس نفسیات کے تحت وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اس حق کا اعتراف نہ کریں تو اس سے ان کی نجات خطرہ میں پڑنے والی نہیں۔ مگر جب خدا کے انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ وہ محض خوش خیالیوں کے اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے۔
ہر قسم کی عزت وطاقت اللہ کے اختیار میں ہے۔ وقت کے بڑے جس کو بے حقیقت سمجھ لیں، خدا چاہے تو اسی کے حق میں عزت وسر بلندی کا فیصلہ کردے۔ علم کی گدیوں پر بیٹھنے والے جس کے جہل کا فتویٰ دیں، خدا چاہے تو اسی کے ذریعہ علم کا چشمہ جاری کردے۔ خدا کی نظر میں اگر کوئی عزت وطاقت کا مستحق ہوسکتا ہے تو وہ جو اس کو خالص خدا کی چیز سمجھے ا ور خدا کی نظر میں اس کا سب سے زیادہ غیر مستحق اگر کوئی ہے تو وہ جو اس کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لے۔ خدا وسیع تر کائنات میں روزانہ بہت بڑے پیمانہ پر یہ کرشمہ دکھا رہا ہے کہ وہ تاریکی کو روشنی کے اوپر اوڑھا دیتا ہے اور روشنی کو تاریکی کے اوپر ڈال دیتا ہے۔ وہ مردہ عناصر سے زندگی وجود میں لاتا ہے اور زندہ چیزوں کو مردہ عناصر میں تبدیل کرتا ہے۔ خدا کی یہی قدرت اگر انسانی تاریخ میں ظاہر ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ جو لوگ حق کے نام پر ناحق کا کاروبار کررہے ہوں وہ ہمیشہ سچی دعوتِ حق کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ ایسے داعی کو بے گھر کیا جاتا ہے۔ اس کے معاشی ذرائع برباد کيے جاتے ہیں۔ مگر ایسا شخص براہِ راست اللہ کی سرپرستی میں ہوتا ہے۔ وہ اس کے لیے خصوصی رزق کا انتظام کرتا ہے۔ دوسروں کو ان کی معاشی محنت کے حساب سے رزق دیا جاتا ہے، اور ایسے شخص کو بلا حساب۔
آل عمران 3:24
اللہ کی ہدایت ایک ہی ہدایت ہے جو مختلف قوموں کی زبان میں ان کے پیغمبروں پر اتاری جاتی رہی ہے۔ وہی قرآن کی صورت میں پیغمبر آخر الزماں پر اتاری گئی ہے۔ اس یکسانیت کی وجہ سے آسمانی کتابوں کو جاننے اور ماننے والوں کے لیے قرآن کی دعوت کو پہچاننا مشکل نہیں۔ قرآن کی دعوت میں اور پچھلی آسمانی تعلیمات میں اگر کچھ فرق ہے تو صرف یہ کہ قرآن کی دعوت ان کی اپنی ملاوٹوںسے دین خداوندی کو پاک کررہی ہے۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ بہت سے لوگ قرآن کی دعوت کا انکار کررہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی دعوت کو وہ اپنے لیے کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھتے۔ اپنے خود ساختہ عقائد کی بنا پر انھوںنے اپنے کو جہنم کی آگ سے محفوظ فرض کرلیا ہے۔ اپنی اس نفسیات کے تحت وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اس حق کا اعتراف نہ کریں تو اس سے ان کی نجات خطرہ میں پڑنے والی نہیں۔ مگر جب خدا کے انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ وہ محض خوش خیالیوں کے اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے۔
ہر قسم کی عزت وطاقت اللہ کے اختیار میں ہے۔ وقت کے بڑے جس کو بے حقیقت سمجھ لیں، خدا چاہے تو اسی کے حق میں عزت وسر بلندی کا فیصلہ کردے۔ علم کی گدیوں پر بیٹھنے والے جس کے جہل کا فتویٰ دیں، خدا چاہے تو اسی کے ذریعہ علم کا چشمہ جاری کردے۔ خدا کی نظر میں اگر کوئی عزت وطاقت کا مستحق ہوسکتا ہے تو وہ جو اس کو خالص خدا کی چیز سمجھے ا ور خدا کی نظر میں اس کا سب سے زیادہ غیر مستحق اگر کوئی ہے تو وہ جو اس کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لے۔ خدا وسیع تر کائنات میں روزانہ بہت بڑے پیمانہ پر یہ کرشمہ دکھا رہا ہے کہ وہ تاریکی کو روشنی کے اوپر اوڑھا دیتا ہے اور روشنی کو تاریکی کے اوپر ڈال دیتا ہے۔ وہ مردہ عناصر سے زندگی وجود میں لاتا ہے اور زندہ چیزوں کو مردہ عناصر میں تبدیل کرتا ہے۔ خدا کی یہی قدرت اگر انسانی تاریخ میں ظاہر ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ جو لوگ حق کے نام پر ناحق کا کاروبار کررہے ہوں وہ ہمیشہ سچی دعوتِ حق کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ ایسے داعی کو بے گھر کیا جاتا ہے۔ اس کے معاشی ذرائع برباد کيے جاتے ہیں۔ مگر ایسا شخص براہِ راست اللہ کی سرپرستی میں ہوتا ہے۔ وہ اس کے لیے خصوصی رزق کا انتظام کرتا ہے۔ دوسروں کو ان کی معاشی محنت کے حساب سے رزق دیا جاتا ہے، اور ایسے شخص کو بلا حساب۔
آل عمران 3:25
اللہ کی ہدایت ایک ہی ہدایت ہے جو مختلف قوموں کی زبان میں ان کے پیغمبروں پر اتاری جاتی رہی ہے۔ وہی قرآن کی صورت میں پیغمبر آخر الزماں پر اتاری گئی ہے۔ اس یکسانیت کی وجہ سے آسمانی کتابوں کو جاننے اور ماننے والوں کے لیے قرآن کی دعوت کو پہچاننا مشکل نہیں۔ قرآن کی دعوت میں اور پچھلی آسمانی تعلیمات میں اگر کچھ فرق ہے تو صرف یہ کہ قرآن کی دعوت ان کی اپنی ملاوٹوںسے دین خداوندی کو پاک کررہی ہے۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ بہت سے لوگ قرآن کی دعوت کا انکار کررہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی دعوت کو وہ اپنے لیے کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھتے۔ اپنے خود ساختہ عقائد کی بنا پر انھوںنے اپنے کو جہنم کی آگ سے محفوظ فرض کرلیا ہے۔ اپنی اس نفسیات کے تحت وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اس حق کا اعتراف نہ کریں تو اس سے ان کی نجات خطرہ میں پڑنے والی نہیں۔ مگر جب خدا کے انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ وہ محض خوش خیالیوں کے اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے۔
ہر قسم کی عزت وطاقت اللہ کے اختیار میں ہے۔ وقت کے بڑے جس کو بے حقیقت سمجھ لیں، خدا چاہے تو اسی کے حق میں عزت وسر بلندی کا فیصلہ کردے۔ علم کی گدیوں پر بیٹھنے والے جس کے جہل کا فتویٰ دیں، خدا چاہے تو اسی کے ذریعہ علم کا چشمہ جاری کردے۔ خدا کی نظر میں اگر کوئی عزت وطاقت کا مستحق ہوسکتا ہے تو وہ جو اس کو خالص خدا کی چیز سمجھے ا ور خدا کی نظر میں اس کا سب سے زیادہ غیر مستحق اگر کوئی ہے تو وہ جو اس کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لے۔ خدا وسیع تر کائنات میں روزانہ بہت بڑے پیمانہ پر یہ کرشمہ دکھا رہا ہے کہ وہ تاریکی کو روشنی کے اوپر اوڑھا دیتا ہے اور روشنی کو تاریکی کے اوپر ڈال دیتا ہے۔ وہ مردہ عناصر سے زندگی وجود میں لاتا ہے اور زندہ چیزوں کو مردہ عناصر میں تبدیل کرتا ہے۔ خدا کی یہی قدرت اگر انسانی تاریخ میں ظاہر ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ جو لوگ حق کے نام پر ناحق کا کاروبار کررہے ہوں وہ ہمیشہ سچی دعوتِ حق کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ ایسے داعی کو بے گھر کیا جاتا ہے۔ اس کے معاشی ذرائع برباد کيے جاتے ہیں۔ مگر ایسا شخص براہِ راست اللہ کی سرپرستی میں ہوتا ہے۔ وہ اس کے لیے خصوصی رزق کا انتظام کرتا ہے۔ دوسروں کو ان کی معاشی محنت کے حساب سے رزق دیا جاتا ہے، اور ایسے شخص کو بلا حساب۔
آل عمران 3:26
اللہ کی ہدایت ایک ہی ہدایت ہے جو مختلف قوموں کی زبان میں ان کے پیغمبروں پر اتاری جاتی رہی ہے۔ وہی قرآن کی صورت میں پیغمبر آخر الزماں پر اتاری گئی ہے۔ اس یکسانیت کی وجہ سے آسمانی کتابوں کو جاننے اور ماننے والوں کے لیے قرآن کی دعوت کو پہچاننا مشکل نہیں۔ قرآن کی دعوت میں اور پچھلی آسمانی تعلیمات میں اگر کچھ فرق ہے تو صرف یہ کہ قرآن کی دعوت ان کی اپنی ملاوٹوںسے دین خداوندی کو پاک کررہی ہے۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ بہت سے لوگ قرآن کی دعوت کا انکار کررہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی دعوت کو وہ اپنے لیے کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھتے۔ اپنے خود ساختہ عقائد کی بنا پر انھوںنے اپنے کو جہنم کی آگ سے محفوظ فرض کرلیا ہے۔ اپنی اس نفسیات کے تحت وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اس حق کا اعتراف نہ کریں تو اس سے ان کی نجات خطرہ میں پڑنے والی نہیں۔ مگر جب خدا کے انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ وہ محض خوش خیالیوں کے اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے۔
ہر قسم کی عزت وطاقت اللہ کے اختیار میں ہے۔ وقت کے بڑے جس کو بے حقیقت سمجھ لیں، خدا چاہے تو اسی کے حق میں عزت وسر بلندی کا فیصلہ کردے۔ علم کی گدیوں پر بیٹھنے والے جس کے جہل کا فتویٰ دیں، خدا چاہے تو اسی کے ذریعہ علم کا چشمہ جاری کردے۔ خدا کی نظر میں اگر کوئی عزت وطاقت کا مستحق ہوسکتا ہے تو وہ جو اس کو خالص خدا کی چیز سمجھے ا ور خدا کی نظر میں اس کا سب سے زیادہ غیر مستحق اگر کوئی ہے تو وہ جو اس کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لے۔ خدا وسیع تر کائنات میں روزانہ بہت بڑے پیمانہ پر یہ کرشمہ دکھا رہا ہے کہ وہ تاریکی کو روشنی کے اوپر اوڑھا دیتا ہے اور روشنی کو تاریکی کے اوپر ڈال دیتا ہے۔ وہ مردہ عناصر سے زندگی وجود میں لاتا ہے اور زندہ چیزوں کو مردہ عناصر میں تبدیل کرتا ہے۔ خدا کی یہی قدرت اگر انسانی تاریخ میں ظاہر ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ جو لوگ حق کے نام پر ناحق کا کاروبار کررہے ہوں وہ ہمیشہ سچی دعوتِ حق کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ ایسے داعی کو بے گھر کیا جاتا ہے۔ اس کے معاشی ذرائع برباد کيے جاتے ہیں۔ مگر ایسا شخص براہِ راست اللہ کی سرپرستی میں ہوتا ہے۔ وہ اس کے لیے خصوصی رزق کا انتظام کرتا ہے۔ دوسروں کو ان کی معاشی محنت کے حساب سے رزق دیا جاتا ہے، اور ایسے شخص کو بلا حساب۔
آل عمران 3:27
اللہ کی ہدایت ایک ہی ہدایت ہے جو مختلف قوموں کی زبان میں ان کے پیغمبروں پر اتاری جاتی رہی ہے۔ وہی قرآن کی صورت میں پیغمبر آخر الزماں پر اتاری گئی ہے۔ اس یکسانیت کی وجہ سے آسمانی کتابوں کو جاننے اور ماننے والوں کے لیے قرآن کی دعوت کو پہچاننا مشکل نہیں۔ قرآن کی دعوت میں اور پچھلی آسمانی تعلیمات میں اگر کچھ فرق ہے تو صرف یہ کہ قرآن کی دعوت ان کی اپنی ملاوٹوںسے دین خداوندی کو پاک کررہی ہے۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ بہت سے لوگ قرآن کی دعوت کا انکار کررہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی دعوت کو وہ اپنے لیے کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھتے۔ اپنے خود ساختہ عقائد کی بنا پر انھوںنے اپنے کو جہنم کی آگ سے محفوظ فرض کرلیا ہے۔ اپنی اس نفسیات کے تحت وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اس حق کا اعتراف نہ کریں تو اس سے ان کی نجات خطرہ میں پڑنے والی نہیں۔ مگر جب خدا کے انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ وہ محض خوش خیالیوں کے اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے۔
ہر قسم کی عزت وطاقت اللہ کے اختیار میں ہے۔ وقت کے بڑے جس کو بے حقیقت سمجھ لیں، خدا چاہے تو اسی کے حق میں عزت وسر بلندی کا فیصلہ کردے۔ علم کی گدیوں پر بیٹھنے والے جس کے جہل کا فتویٰ دیں، خدا چاہے تو اسی کے ذریعہ علم کا چشمہ جاری کردے۔ خدا کی نظر میں اگر کوئی عزت وطاقت کا مستحق ہوسکتا ہے تو وہ جو اس کو خالص خدا کی چیز سمجھے ا ور خدا کی نظر میں اس کا سب سے زیادہ غیر مستحق اگر کوئی ہے تو وہ جو اس کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لے۔ خدا وسیع تر کائنات میں روزانہ بہت بڑے پیمانہ پر یہ کرشمہ دکھا رہا ہے کہ وہ تاریکی کو روشنی کے اوپر اوڑھا دیتا ہے اور روشنی کو تاریکی کے اوپر ڈال دیتا ہے۔ وہ مردہ عناصر سے زندگی وجود میں لاتا ہے اور زندہ چیزوں کو مردہ عناصر میں تبدیل کرتا ہے۔ خدا کی یہی قدرت اگر انسانی تاریخ میں ظاہر ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ جو لوگ حق کے نام پر ناحق کا کاروبار کررہے ہوں وہ ہمیشہ سچی دعوتِ حق کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ ایسے داعی کو بے گھر کیا جاتا ہے۔ اس کے معاشی ذرائع برباد کيے جاتے ہیں۔ مگر ایسا شخص براہِ راست اللہ کی سرپرستی میں ہوتا ہے۔ وہ اس کے لیے خصوصی رزق کا انتظام کرتا ہے۔ دوسروں کو ان کی معاشی محنت کے حساب سے رزق دیا جاتا ہے، اور ایسے شخص کو بلا حساب۔
آل عمران 3:28
مومن تمام انسانوں کے ساتھ نیکی اور عدل کا سلوک کرنے والا ہوتا ہے۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں۔ مگر جب غیر مسلموں کے ساتھ دوستی مسلمانوں کے مفاد کی قیمت پر ہو تو ایسی دوستی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔ تاہم بچاؤ کی تدبیر کے طورپراگر کسی وقت ایک مسلمان یا کسی مسلم گروہ کو غیر مسلموں سے وقتی تعلق قائم کرنا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اللہ نیت کو دیکھتا ہے اور جب نیت درست ہو تو وہ کسی کو اس کے عمل پر نہیں پکڑتا۔ تمام معاملات میں اصل قابل لحاظ چیز اللہ کا خوف ہے۔ آدمی کسی معاملہ میں جو رویہ اختیار کرے، اس کو اچھی طرح سوچ لینا چاہیے کہ اللہ اس کا حساب لے گا۔ اور اس کے انصاف کے ترازو میں جو غلط ٹھہرے گا وہ اس کی سزا پاکر رہے گا۔ اللہ سے کسی انسان کی کوئی بات اوجھل نہیں، خواہ وہ اس نے چھپ کر کی ہو یا علانیہ کی ہو۔ جب امتحان کا پردہ ہٹے گا او آخرت کا عالم سامنے آئے گا تو آدمی کے اعمال کی پوری کھیتی اس کے سامنے ہوگی۔ یہ منظر اتنا ہولناک ہوگا کہ وہ چیزیں جو دنیا میں اس کے نفس کی لذت بنی ہوئی تھیں، وہ چاہے گا کہ وہ اس سے بہت دور چلی جائیں۔
اللہ کسی کے اسلام کو جہاں دیکھتا ہے وہ اس کا قلب ہے۔ مومن وہی ہے جس کا اللہ سے تعلق قلبی محبت کی حد تک قائم ہوجائے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو اللہ کی محبت و توجہ کا مستحق بنتے ہیں۔ اور جو شخص اللہ سے اس طرح تعلق قائم کرے، اس سے اگر کوتاہیاں بھی ہوتی ہیں تو اللہ اس سے درگزر فرماتا ہے۔ اللہ سرکشوں کے لیے بہت سخت ہے۔ مگر جو لوگ عاجزی کا رویہ اختیار کریں، وہ ان کے لیے نرم پڑجاتا ہے۔
یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ جس سینہ میں کسی کی محبت موجودہو اسی سینہ میں محبوب کے دشمن کی محبت جمع نہیں ہوسکتی ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ محبوب اگر ایسی ہستی ہو جو آدمی کے لیے آقا ومالک کادرجہ رکھتی ہو تو اس کے ساتھ محبت صرف محبت کی حد تک نہ رہے گی بلکہ لازماً وہ اطاعت وفرماں برداری کا جذبہ پیدا کرے گی۔ خدا کی جس محبت کے بعد خدا کے دشمنوں سے قلبی تعلق ختم نہ ہو یا اس کی اطاعت و فرماں برداری کا جذبہ پیدا نہ ہو تو وہ جھوٹی محبت ہے۔ایسے شخص کا شمار اللہ کے یہاں انکار کرنے والوں میں ہوگا، نہ کہ ماننے والوں میں— رسو ل وہ شخص ہے جس کے کامل خدا پرست ہونے کی گواہی خود خدا نے دی ہے، اس لیے خدا پرستانہ زندگی کے لیے رسول کا نمونہ ہی موجودہ دنیا میں واحد مستند نمونہ ہے۔
آل عمران 3:29
مومن تمام انسانوں کے ساتھ نیکی اور عدل کا سلوک کرنے والا ہوتا ہے۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں۔ مگر جب غیر مسلموں کے ساتھ دوستی مسلمانوں کے مفاد کی قیمت پر ہو تو ایسی دوستی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔ تاہم بچاؤ کی تدبیر کے طورپراگر کسی وقت ایک مسلمان یا کسی مسلم گروہ کو غیر مسلموں سے وقتی تعلق قائم کرنا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اللہ نیت کو دیکھتا ہے اور جب نیت درست ہو تو وہ کسی کو اس کے عمل پر نہیں پکڑتا۔ تمام معاملات میں اصل قابل لحاظ چیز اللہ کا خوف ہے۔ آدمی کسی معاملہ میں جو رویہ اختیار کرے، اس کو اچھی طرح سوچ لینا چاہیے کہ اللہ اس کا حساب لے گا۔ اور اس کے انصاف کے ترازو میں جو غلط ٹھہرے گا وہ اس کی سزا پاکر رہے گا۔ اللہ سے کسی انسان کی کوئی بات اوجھل نہیں، خواہ وہ اس نے چھپ کر کی ہو یا علانیہ کی ہو۔ جب امتحان کا پردہ ہٹے گا او آخرت کا عالم سامنے آئے گا تو آدمی کے اعمال کی پوری کھیتی اس کے سامنے ہوگی۔ یہ منظر اتنا ہولناک ہوگا کہ وہ چیزیں جو دنیا میں اس کے نفس کی لذت بنی ہوئی تھیں، وہ چاہے گا کہ وہ اس سے بہت دور چلی جائیں۔
اللہ کسی کے اسلام کو جہاں دیکھتا ہے وہ اس کا قلب ہے۔ مومن وہی ہے جس کا اللہ سے تعلق قلبی محبت کی حد تک قائم ہوجائے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو اللہ کی محبت و توجہ کا مستحق بنتے ہیں۔ اور جو شخص اللہ سے اس طرح تعلق قائم کرے، اس سے اگر کوتاہیاں بھی ہوتی ہیں تو اللہ اس سے درگزر فرماتا ہے۔ اللہ سرکشوں کے لیے بہت سخت ہے۔ مگر جو لوگ عاجزی کا رویہ اختیار کریں، وہ ان کے لیے نرم پڑجاتا ہے۔
یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ جس سینہ میں کسی کی محبت موجودہو اسی سینہ میں محبوب کے دشمن کی محبت جمع نہیں ہوسکتی ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ محبوب اگر ایسی ہستی ہو جو آدمی کے لیے آقا ومالک کادرجہ رکھتی ہو تو اس کے ساتھ محبت صرف محبت کی حد تک نہ رہے گی بلکہ لازماً وہ اطاعت وفرماں برداری کا جذبہ پیدا کرے گی۔ خدا کی جس محبت کے بعد خدا کے دشمنوں سے قلبی تعلق ختم نہ ہو یا اس کی اطاعت و فرماں برداری کا جذبہ پیدا نہ ہو تو وہ جھوٹی محبت ہے۔ایسے شخص کا شمار اللہ کے یہاں انکار کرنے والوں میں ہوگا، نہ کہ ماننے والوں میں— رسو ل وہ شخص ہے جس کے کامل خدا پرست ہونے کی گواہی خود خدا نے دی ہے، اس لیے خدا پرستانہ زندگی کے لیے رسول کا نمونہ ہی موجودہ دنیا میں واحد مستند نمونہ ہے۔
آل عمران 3:30
مومن تمام انسانوں کے ساتھ نیکی اور عدل کا سلوک کرنے والا ہوتا ہے۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں۔ مگر جب غیر مسلموں کے ساتھ دوستی مسلمانوں کے مفاد کی قیمت پر ہو تو ایسی دوستی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔ تاہم بچاؤ کی تدبیر کے طورپراگر کسی وقت ایک مسلمان یا کسی مسلم گروہ کو غیر مسلموں سے وقتی تعلق قائم کرنا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اللہ نیت کو دیکھتا ہے اور جب نیت درست ہو تو وہ کسی کو اس کے عمل پر نہیں پکڑتا۔ تمام معاملات میں اصل قابل لحاظ چیز اللہ کا خوف ہے۔ آدمی کسی معاملہ میں جو رویہ اختیار کرے، اس کو اچھی طرح سوچ لینا چاہیے کہ اللہ اس کا حساب لے گا۔ اور اس کے انصاف کے ترازو میں جو غلط ٹھہرے گا وہ اس کی سزا پاکر رہے گا۔ اللہ سے کسی انسان کی کوئی بات اوجھل نہیں، خواہ وہ اس نے چھپ کر کی ہو یا علانیہ کی ہو۔ جب امتحان کا پردہ ہٹے گا او آخرت کا عالم سامنے آئے گا تو آدمی کے اعمال کی پوری کھیتی اس کے سامنے ہوگی۔ یہ منظر اتنا ہولناک ہوگا کہ وہ چیزیں جو دنیا میں اس کے نفس کی لذت بنی ہوئی تھیں، وہ چاہے گا کہ وہ اس سے بہت دور چلی جائیں۔
اللہ کسی کے اسلام کو جہاں دیکھتا ہے وہ اس کا قلب ہے۔ مومن وہی ہے جس کا اللہ سے تعلق قلبی محبت کی حد تک قائم ہوجائے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو اللہ کی محبت و توجہ کا مستحق بنتے ہیں۔ اور جو شخص اللہ سے اس طرح تعلق قائم کرے، اس سے اگر کوتاہیاں بھی ہوتی ہیں تو اللہ اس سے درگزر فرماتا ہے۔ اللہ سرکشوں کے لیے بہت سخت ہے۔ مگر جو لوگ عاجزی کا رویہ اختیار کریں، وہ ان کے لیے نرم پڑجاتا ہے۔
یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ جس سینہ میں کسی کی محبت موجودہو اسی سینہ میں محبوب کے دشمن کی محبت جمع نہیں ہوسکتی ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ محبوب اگر ایسی ہستی ہو جو آدمی کے لیے آقا ومالک کادرجہ رکھتی ہو تو اس کے ساتھ محبت صرف محبت کی حد تک نہ رہے گی بلکہ لازماً وہ اطاعت وفرماں برداری کا جذبہ پیدا کرے گی۔ خدا کی جس محبت کے بعد خدا کے دشمنوں سے قلبی تعلق ختم نہ ہو یا اس کی اطاعت و فرماں برداری کا جذبہ پیدا نہ ہو تو وہ جھوٹی محبت ہے۔ایسے شخص کا شمار اللہ کے یہاں انکار کرنے والوں میں ہوگا، نہ کہ ماننے والوں میں— رسو ل وہ شخص ہے جس کے کامل خدا پرست ہونے کی گواہی خود خدا نے دی ہے، اس لیے خدا پرستانہ زندگی کے لیے رسول کا نمونہ ہی موجودہ دنیا میں واحد مستند نمونہ ہے۔
آل عمران 3:31
مومن تمام انسانوں کے ساتھ نیکی اور عدل کا سلوک کرنے والا ہوتا ہے۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں۔ مگر جب غیر مسلموں کے ساتھ دوستی مسلمانوں کے مفاد کی قیمت پر ہو تو ایسی دوستی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔ تاہم بچاؤ کی تدبیر کے طورپراگر کسی وقت ایک مسلمان یا کسی مسلم گروہ کو غیر مسلموں سے وقتی تعلق قائم کرنا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اللہ نیت کو دیکھتا ہے اور جب نیت درست ہو تو وہ کسی کو اس کے عمل پر نہیں پکڑتا۔ تمام معاملات میں اصل قابل لحاظ چیز اللہ کا خوف ہے۔ آدمی کسی معاملہ میں جو رویہ اختیار کرے، اس کو اچھی طرح سوچ لینا چاہیے کہ اللہ اس کا حساب لے گا۔ اور اس کے انصاف کے ترازو میں جو غلط ٹھہرے گا وہ اس کی سزا پاکر رہے گا۔ اللہ سے کسی انسان کی کوئی بات اوجھل نہیں، خواہ وہ اس نے چھپ کر کی ہو یا علانیہ کی ہو۔ جب امتحان کا پردہ ہٹے گا او آخرت کا عالم سامنے آئے گا تو آدمی کے اعمال کی پوری کھیتی اس کے سامنے ہوگی۔ یہ منظر اتنا ہولناک ہوگا کہ وہ چیزیں جو دنیا میں اس کے نفس کی لذت بنی ہوئی تھیں، وہ چاہے گا کہ وہ اس سے بہت دور چلی جائیں۔
اللہ کسی کے اسلام کو جہاں دیکھتا ہے وہ اس کا قلب ہے۔ مومن وہی ہے جس کا اللہ سے تعلق قلبی محبت کی حد تک قائم ہوجائے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو اللہ کی محبت و توجہ کا مستحق بنتے ہیں۔ اور جو شخص اللہ سے اس طرح تعلق قائم کرے، اس سے اگر کوتاہیاں بھی ہوتی ہیں تو اللہ اس سے درگزر فرماتا ہے۔ اللہ سرکشوں کے لیے بہت سخت ہے۔ مگر جو لوگ عاجزی کا رویہ اختیار کریں، وہ ان کے لیے نرم پڑجاتا ہے۔
یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ جس سینہ میں کسی کی محبت موجودہو اسی سینہ میں محبوب کے دشمن کی محبت جمع نہیں ہوسکتی ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ محبوب اگر ایسی ہستی ہو جو آدمی کے لیے آقا ومالک کادرجہ رکھتی ہو تو اس کے ساتھ محبت صرف محبت کی حد تک نہ رہے گی بلکہ لازماً وہ اطاعت وفرماں برداری کا جذبہ پیدا کرے گی۔ خدا کی جس محبت کے بعد خدا کے دشمنوں سے قلبی تعلق ختم نہ ہو یا اس کی اطاعت و فرماں برداری کا جذبہ پیدا نہ ہو تو وہ جھوٹی محبت ہے۔ایسے شخص کا شمار اللہ کے یہاں انکار کرنے والوں میں ہوگا، نہ کہ ماننے والوں میں— رسو ل وہ شخص ہے جس کے کامل خدا پرست ہونے کی گواہی خود خدا نے دی ہے، اس لیے خدا پرستانہ زندگی کے لیے رسول کا نمونہ ہی موجودہ دنیا میں واحد مستند نمونہ ہے۔
آل عمران 3:32
مومن تمام انسانوں کے ساتھ نیکی اور عدل کا سلوک کرنے والا ہوتا ہے۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں۔ مگر جب غیر مسلموں کے ساتھ دوستی مسلمانوں کے مفاد کی قیمت پر ہو تو ایسی دوستی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔ تاہم بچاؤ کی تدبیر کے طورپراگر کسی وقت ایک مسلمان یا کسی مسلم گروہ کو غیر مسلموں سے وقتی تعلق قائم کرنا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اللہ نیت کو دیکھتا ہے اور جب نیت درست ہو تو وہ کسی کو اس کے عمل پر نہیں پکڑتا۔ تمام معاملات میں اصل قابل لحاظ چیز اللہ کا خوف ہے۔ آدمی کسی معاملہ میں جو رویہ اختیار کرے، اس کو اچھی طرح سوچ لینا چاہیے کہ اللہ اس کا حساب لے گا۔ اور اس کے انصاف کے ترازو میں جو غلط ٹھہرے گا وہ اس کی سزا پاکر رہے گا۔ اللہ سے کسی انسان کی کوئی بات اوجھل نہیں، خواہ وہ اس نے چھپ کر کی ہو یا علانیہ کی ہو۔ جب امتحان کا پردہ ہٹے گا او آخرت کا عالم سامنے آئے گا تو آدمی کے اعمال کی پوری کھیتی اس کے سامنے ہوگی۔ یہ منظر اتنا ہولناک ہوگا کہ وہ چیزیں جو دنیا میں اس کے نفس کی لذت بنی ہوئی تھیں، وہ چاہے گا کہ وہ اس سے بہت دور چلی جائیں۔
اللہ کسی کے اسلام کو جہاں دیکھتا ہے وہ اس کا قلب ہے۔ مومن وہی ہے جس کا اللہ سے تعلق قلبی محبت کی حد تک قائم ہوجائے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو اللہ کی محبت و توجہ کا مستحق بنتے ہیں۔ اور جو شخص اللہ سے اس طرح تعلق قائم کرے، اس سے اگر کوتاہیاں بھی ہوتی ہیں تو اللہ اس سے درگزر فرماتا ہے۔ اللہ سرکشوں کے لیے بہت سخت ہے۔ مگر جو لوگ عاجزی کا رویہ اختیار کریں، وہ ان کے لیے نرم پڑجاتا ہے۔
یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ جس سینہ میں کسی کی محبت موجودہو اسی سینہ میں محبوب کے دشمن کی محبت جمع نہیں ہوسکتی ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ محبوب اگر ایسی ہستی ہو جو آدمی کے لیے آقا ومالک کادرجہ رکھتی ہو تو اس کے ساتھ محبت صرف محبت کی حد تک نہ رہے گی بلکہ لازماً وہ اطاعت وفرماں برداری کا جذبہ پیدا کرے گی۔ خدا کی جس محبت کے بعد خدا کے دشمنوں سے قلبی تعلق ختم نہ ہو یا اس کی اطاعت و فرماں برداری کا جذبہ پیدا نہ ہو تو وہ جھوٹی محبت ہے۔ایسے شخص کا شمار اللہ کے یہاں انکار کرنے والوں میں ہوگا، نہ کہ ماننے والوں میں— رسو ل وہ شخص ہے جس کے کامل خدا پرست ہونے کی گواہی خود خدا نے دی ہے، اس لیے خدا پرستانہ زندگی کے لیے رسول کا نمونہ ہی موجودہ دنیا میں واحد مستند نمونہ ہے۔
آل عمران 3:33
اللہ نے حضرت زکریا کو بڑھاپے میں اولاد دی، حضرت مریم کو حجرہ میں رزق پہنچایا، حضرت مسیح کو بغیر باپ کے پیدا کیا، آلِ ابراہیم میں ایسے صلحا پیدا کيے جن کو خدا کی پیغام بری کے لیے چنا جائے۔ اللہ نے اپنے ان بندوں کو یہ انعامات یوں ہی نہیں ديے بلکہ ان کو اس کا مستحق پاکر ایسا کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنی اولاد سے معاشی توقعات قائم نہیں کیں،ان کی خوشی ا س میں تھی کہ ان کی اولاد اللہ کی راہ میں سرگرم ہو۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے اندر اس تمنا کی پرورش کی کہ ان کی اولاد شیطان سے بچی رہے، وہ نیک بندوں کی جماعت میں شامل ہوجائے۔ کسی کے اندر بھلائی دیکھ کر وہ حسد اور جلن میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ان کے نیک جذبات کے اثر سے ان کی اولاد بھی ایسی ہوئی جو دنیا کی زندگی میں اپنے نفس پر قابو رکھنے والی ہو، وہ اللہ کو یاد کرے۔ بدی اور نیکی کے درمیان وہ نیکی کے راستہ کو اختیار کرے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کواللہ اپنے رزقِ خاص سے کھلاتا پلاتا ہے اور ان کو اپنی خصوصی رحمت کے لیے قبول کرلیتا ہے۔
آل عمران 3:34
اللہ نے حضرت زکریا کو بڑھاپے میں اولاد دی، حضرت مریم کو حجرہ میں رزق پہنچایا، حضرت مسیح کو بغیر باپ کے پیدا کیا، آلِ ابراہیم میں ایسے صلحا پیدا کيے جن کو خدا کی پیغام بری کے لیے چنا جائے۔ اللہ نے اپنے ان بندوں کو یہ انعامات یوں ہی نہیں ديے بلکہ ان کو اس کا مستحق پاکر ایسا کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنی اولاد سے معاشی توقعات قائم نہیں کیں،ان کی خوشی ا س میں تھی کہ ان کی اولاد اللہ کی راہ میں سرگرم ہو۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے اندر اس تمنا کی پرورش کی کہ ان کی اولاد شیطان سے بچی رہے، وہ نیک بندوں کی جماعت میں شامل ہوجائے۔ کسی کے اندر بھلائی دیکھ کر وہ حسد اور جلن میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ان کے نیک جذبات کے اثر سے ان کی اولاد بھی ایسی ہوئی جو دنیا کی زندگی میں اپنے نفس پر قابو رکھنے والی ہو، وہ اللہ کو یاد کرے۔ بدی اور نیکی کے درمیان وہ نیکی کے راستہ کو اختیار کرے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کواللہ اپنے رزقِ خاص سے کھلاتا پلاتا ہے اور ان کو اپنی خصوصی رحمت کے لیے قبول کرلیتا ہے۔
آل عمران 3:35
اللہ نے حضرت زکریا کو بڑھاپے میں اولاد دی، حضرت مریم کو حجرہ میں رزق پہنچایا، حضرت مسیح کو بغیر باپ کے پیدا کیا، آلِ ابراہیم میں ایسے صلحا پیدا کيے جن کو خدا کی پیغام بری کے لیے چنا جائے۔ اللہ نے اپنے ان بندوں کو یہ انعامات یوں ہی نہیں ديے بلکہ ان کو اس کا مستحق پاکر ایسا کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنی اولاد سے معاشی توقعات قائم نہیں کیں،ان کی خوشی ا س میں تھی کہ ان کی اولاد اللہ کی راہ میں سرگرم ہو۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے اندر اس تمنا کی پرورش کی کہ ان کی اولاد شیطان سے بچی رہے، وہ نیک بندوں کی جماعت میں شامل ہوجائے۔ کسی کے اندر بھلائی دیکھ کر وہ حسد اور جلن میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ان کے نیک جذبات کے اثر سے ان کی اولاد بھی ایسی ہوئی جو دنیا کی زندگی میں اپنے نفس پر قابو رکھنے والی ہو، وہ اللہ کو یاد کرے۔ بدی اور نیکی کے درمیان وہ نیکی کے راستہ کو اختیار کرے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کواللہ اپنے رزقِ خاص سے کھلاتا پلاتا ہے اور ان کو اپنی خصوصی رحمت کے لیے قبول کرلیتا ہے۔
آل عمران 3:36
اللہ نے حضرت زکریا کو بڑھاپے میں اولاد دی، حضرت مریم کو حجرہ میں رزق پہنچایا، حضرت مسیح کو بغیر باپ کے پیدا کیا، آلِ ابراہیم میں ایسے صلحا پیدا کيے جن کو خدا کی پیغام بری کے لیے چنا جائے۔ اللہ نے اپنے ان بندوں کو یہ انعامات یوں ہی نہیں ديے بلکہ ان کو اس کا مستحق پاکر ایسا کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنی اولاد سے معاشی توقعات قائم نہیں کیں،ان کی خوشی ا س میں تھی کہ ان کی اولاد اللہ کی راہ میں سرگرم ہو۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے اندر اس تمنا کی پرورش کی کہ ان کی اولاد شیطان سے بچی رہے، وہ نیک بندوں کی جماعت میں شامل ہوجائے۔ کسی کے اندر بھلائی دیکھ کر وہ حسد اور جلن میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ان کے نیک جذبات کے اثر سے ان کی اولاد بھی ایسی ہوئی جو دنیا کی زندگی میں اپنے نفس پر قابو رکھنے والی ہو، وہ اللہ کو یاد کرے۔ بدی اور نیکی کے درمیان وہ نیکی کے راستہ کو اختیار کرے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کواللہ اپنے رزقِ خاص سے کھلاتا پلاتا ہے اور ان کو اپنی خصوصی رحمت کے لیے قبول کرلیتا ہے۔
آل عمران 3:37
اللہ نے حضرت زکریا کو بڑھاپے میں اولاد دی، حضرت مریم کو حجرہ میں رزق پہنچایا، حضرت مسیح کو بغیر باپ کے پیدا کیا، آلِ ابراہیم میں ایسے صلحا پیدا کيے جن کو خدا کی پیغام بری کے لیے چنا جائے۔ اللہ نے اپنے ان بندوں کو یہ انعامات یوں ہی نہیں ديے بلکہ ان کو اس کا مستحق پاکر ایسا کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنی اولاد سے معاشی توقعات قائم نہیں کیں،ان کی خوشی ا س میں تھی کہ ان کی اولاد اللہ کی راہ میں سرگرم ہو۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے اندر اس تمنا کی پرورش کی کہ ان کی اولاد شیطان سے بچی رہے، وہ نیک بندوں کی جماعت میں شامل ہوجائے۔ کسی کے اندر بھلائی دیکھ کر وہ حسد اور جلن میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ان کے نیک جذبات کے اثر سے ان کی اولاد بھی ایسی ہوئی جو دنیا کی زندگی میں اپنے نفس پر قابو رکھنے والی ہو، وہ اللہ کو یاد کرے۔ بدی اور نیکی کے درمیان وہ نیکی کے راستہ کو اختیار کرے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کواللہ اپنے رزقِ خاص سے کھلاتا پلاتا ہے اور ان کو اپنی خصوصی رحمت کے لیے قبول کرلیتا ہے۔
آل عمران 3:38
اللہ نے حضرت زکریا کو بڑھاپے میں اولاد دی، حضرت مریم کو حجرہ میں رزق پہنچایا، حضرت مسیح کو بغیر باپ کے پیدا کیا، آلِ ابراہیم میں ایسے صلحا پیدا کيے جن کو خدا کی پیغام بری کے لیے چنا جائے۔ اللہ نے اپنے ان بندوں کو یہ انعامات یوں ہی نہیں ديے بلکہ ان کو اس کا مستحق پاکر ایسا کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنی اولاد سے معاشی توقعات قائم نہیں کیں،ان کی خوشی ا س میں تھی کہ ان کی اولاد اللہ کی راہ میں سرگرم ہو۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے اندر اس تمنا کی پرورش کی کہ ان کی اولاد شیطان سے بچی رہے، وہ نیک بندوں کی جماعت میں شامل ہوجائے۔ کسی کے اندر بھلائی دیکھ کر وہ حسد اور جلن میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ان کے نیک جذبات کے اثر سے ان کی اولاد بھی ایسی ہوئی جو دنیا کی زندگی میں اپنے نفس پر قابو رکھنے والی ہو، وہ اللہ کو یاد کرے۔ بدی اور نیکی کے درمیان وہ نیکی کے راستہ کو اختیار کرے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کواللہ اپنے رزقِ خاص سے کھلاتا پلاتا ہے اور ان کو اپنی خصوصی رحمت کے لیے قبول کرلیتا ہے۔
آل عمران 3:39
اللہ نے حضرت زکریا کو بڑھاپے میں اولاد دی، حضرت مریم کو حجرہ میں رزق پہنچایا، حضرت مسیح کو بغیر باپ کے پیدا کیا، آلِ ابراہیم میں ایسے صلحا پیدا کيے جن کو خدا کی پیغام بری کے لیے چنا جائے۔ اللہ نے اپنے ان بندوں کو یہ انعامات یوں ہی نہیں ديے بلکہ ان کو اس کا مستحق پاکر ایسا کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنی اولاد سے معاشی توقعات قائم نہیں کیں،ان کی خوشی ا س میں تھی کہ ان کی اولاد اللہ کی راہ میں سرگرم ہو۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے اندر اس تمنا کی پرورش کی کہ ان کی اولاد شیطان سے بچی رہے، وہ نیک بندوں کی جماعت میں شامل ہوجائے۔ کسی کے اندر بھلائی دیکھ کر وہ حسد اور جلن میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ان کے نیک جذبات کے اثر سے ان کی اولاد بھی ایسی ہوئی جو دنیا کی زندگی میں اپنے نفس پر قابو رکھنے والی ہو، وہ اللہ کو یاد کرے۔ بدی اور نیکی کے درمیان وہ نیکی کے راستہ کو اختیار کرے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کواللہ اپنے رزقِ خاص سے کھلاتا پلاتا ہے اور ان کو اپنی خصوصی رحمت کے لیے قبول کرلیتا ہے۔
آل عمران 3:40
اللہ نے حضرت زکریا کو بڑھاپے میں اولاد دی، حضرت مریم کو حجرہ میں رزق پہنچایا، حضرت مسیح کو بغیر باپ کے پیدا کیا، آلِ ابراہیم میں ایسے صلحا پیدا کيے جن کو خدا کی پیغام بری کے لیے چنا جائے۔ اللہ نے اپنے ان بندوں کو یہ انعامات یوں ہی نہیں ديے بلکہ ان کو اس کا مستحق پاکر ایسا کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنی اولاد سے معاشی توقعات قائم نہیں کیں،ان کی خوشی ا س میں تھی کہ ان کی اولاد اللہ کی راہ میں سرگرم ہو۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے اندر اس تمنا کی پرورش کی کہ ان کی اولاد شیطان سے بچی رہے، وہ نیک بندوں کی جماعت میں شامل ہوجائے۔ کسی کے اندر بھلائی دیکھ کر وہ حسد اور جلن میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ان کے نیک جذبات کے اثر سے ان کی اولاد بھی ایسی ہوئی جو دنیا کی زندگی میں اپنے نفس پر قابو رکھنے والی ہو، وہ اللہ کو یاد کرے۔ بدی اور نیکی کے درمیان وہ نیکی کے راستہ کو اختیار کرے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کواللہ اپنے رزقِ خاص سے کھلاتا پلاتا ہے اور ان کو اپنی خصوصی رحمت کے لیے قبول کرلیتا ہے۔
آل عمران 3:41
اللہ نے حضرت زکریا کو بڑھاپے میں اولاد دی، حضرت مریم کو حجرہ میں رزق پہنچایا، حضرت مسیح کو بغیر باپ کے پیدا کیا، آلِ ابراہیم میں ایسے صلحا پیدا کيے جن کو خدا کی پیغام بری کے لیے چنا جائے۔ اللہ نے اپنے ان بندوں کو یہ انعامات یوں ہی نہیں ديے بلکہ ان کو اس کا مستحق پاکر ایسا کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنی اولاد سے معاشی توقعات قائم نہیں کیں،ان کی خوشی ا س میں تھی کہ ان کی اولاد اللہ کی راہ میں سرگرم ہو۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے اندر اس تمنا کی پرورش کی کہ ان کی اولاد شیطان سے بچی رہے، وہ نیک بندوں کی جماعت میں شامل ہوجائے۔ کسی کے اندر بھلائی دیکھ کر وہ حسد اور جلن میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ان کے نیک جذبات کے اثر سے ان کی اولاد بھی ایسی ہوئی جو دنیا کی زندگی میں اپنے نفس پر قابو رکھنے والی ہو، وہ اللہ کو یاد کرے۔ بدی اور نیکی کے درمیان وہ نیکی کے راستہ کو اختیار کرے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کواللہ اپنے رزقِ خاص سے کھلاتا پلاتا ہے اور ان کو اپنی خصوصی رحمت کے لیے قبول کرلیتا ہے۔
آل عمران 3:42
اللہ نے حضرت زکریا کو بڑھاپے میں اولاد دی، حضرت مریم کو حجرہ میں رزق پہنچایا، حضرت مسیح کو بغیر باپ کے پیدا کیا، آلِ ابراہیم میں ایسے صلحا پیدا کيے جن کو خدا کی پیغام بری کے لیے چنا جائے۔ اللہ نے اپنے ان بندوں کو یہ انعامات یوں ہی نہیں ديے بلکہ ان کو اس کا مستحق پاکر ایسا کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنی اولاد سے معاشی توقعات قائم نہیں کیں،ان کی خوشی ا س میں تھی کہ ان کی اولاد اللہ کی راہ میں سرگرم ہو۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے اندر اس تمنا کی پرورش کی کہ ان کی اولاد شیطان سے بچی رہے، وہ نیک بندوں کی جماعت میں شامل ہوجائے۔ کسی کے اندر بھلائی دیکھ کر وہ حسد اور جلن میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ان کے نیک جذبات کے اثر سے ان کی اولاد بھی ایسی ہوئی جو دنیا کی زندگی میں اپنے نفس پر قابو رکھنے والی ہو، وہ اللہ کو یاد کرے۔ بدی اور نیکی کے درمیان وہ نیکی کے راستہ کو اختیار کرے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کواللہ اپنے رزقِ خاص سے کھلاتا پلاتا ہے اور ان کو اپنی خصوصی رحمت کے لیے قبول کرلیتا ہے۔
آل عمران 3:43
اللہ نے حضرت زکریا کو بڑھاپے میں اولاد دی، حضرت مریم کو حجرہ میں رزق پہنچایا، حضرت مسیح کو بغیر باپ کے پیدا کیا، آلِ ابراہیم میں ایسے صلحا پیدا کيے جن کو خدا کی پیغام بری کے لیے چنا جائے۔ اللہ نے اپنے ان بندوں کو یہ انعامات یوں ہی نہیں ديے بلکہ ان کو اس کا مستحق پاکر ایسا کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنی اولاد سے معاشی توقعات قائم نہیں کیں،ان کی خوشی ا س میں تھی کہ ان کی اولاد اللہ کی راہ میں سرگرم ہو۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے اندر اس تمنا کی پرورش کی کہ ان کی اولاد شیطان سے بچی رہے، وہ نیک بندوں کی جماعت میں شامل ہوجائے۔ کسی کے اندر بھلائی دیکھ کر وہ حسد اور جلن میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ان کے نیک جذبات کے اثر سے ان کی اولاد بھی ایسی ہوئی جو دنیا کی زندگی میں اپنے نفس پر قابو رکھنے والی ہو، وہ اللہ کو یاد کرے۔ بدی اور نیکی کے درمیان وہ نیکی کے راستہ کو اختیار کرے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کواللہ اپنے رزقِ خاص سے کھلاتا پلاتا ہے اور ان کو اپنی خصوصی رحمت کے لیے قبول کرلیتا ہے۔
آل عمران 3:44
اللہ نے حضرت زکریا کو بڑھاپے میں اولاد دی، حضرت مریم کو حجرہ میں رزق پہنچایا، حضرت مسیح کو بغیر باپ کے پیدا کیا، آلِ ابراہیم میں ایسے صلحا پیدا کيے جن کو خدا کی پیغام بری کے لیے چنا جائے۔ اللہ نے اپنے ان بندوں کو یہ انعامات یوں ہی نہیں ديے بلکہ ان کو اس کا مستحق پاکر ایسا کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنی اولاد سے معاشی توقعات قائم نہیں کیں،ان کی خوشی ا س میں تھی کہ ان کی اولاد اللہ کی راہ میں سرگرم ہو۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے اندر اس تمنا کی پرورش کی کہ ان کی اولاد شیطان سے بچی رہے، وہ نیک بندوں کی جماعت میں شامل ہوجائے۔ کسی کے اندر بھلائی دیکھ کر وہ حسد اور جلن میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ان کے نیک جذبات کے اثر سے ان کی اولاد بھی ایسی ہوئی جو دنیا کی زندگی میں اپنے نفس پر قابو رکھنے والی ہو، وہ اللہ کو یاد کرے۔ بدی اور نیکی کے درمیان وہ نیکی کے راستہ کو اختیار کرے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کواللہ اپنے رزقِ خاص سے کھلاتا پلاتا ہے اور ان کو اپنی خصوصی رحمت کے لیے قبول کرلیتا ہے۔
آل عمران 3:45
یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لیے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتی کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ آسمانی ہدایت کے امین بن سکیں۔ اب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ یہ امانت ان سے چھین کر آل ابراہیم کی دوسری شاخ (بنی اسماعیل) کو دے دی جائے۔ اس فیصلہ کے نفاذ سے پہلے یہود پر اتمام حجت ضروری تھا۔ حضرت مسیح اسی اتمام حجت کے لیے بھیجے گئے۔ آنجناب کی فوق العادت پیدائش اور آپ کو غیر معمولی معجزات کا دیا جانا اسی لیے تھا کہ یہود کو اس بار ے میں کوئی شبہ نہ رہے کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اور خدا کی طرف سے بول رہے ہیں۔ حضرت مسیح اپنے ساتھ نہ صرف فوق الفطری نشانیاں رکھتے تھے بلکہ وہ اتنے مؤثر اور مدلل انداز میں بولتے تھے کہ ان کے زمانہ میں کوئی اس طرح بولنے پر قادر نہ تھا۔ پہلی بار جب آپ نے یروشلم کے ہیکل میں تقریر کی تو یہودی علما آپ کی باتوں کو سن کر دنگ رہ گئے (لوقا ۲:۴۸) یہ ان کی معجز نما شخصیت اور ان کے مبہوت کردینے والے کلام ہی کا اثر تھا کہ اگر چہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے مگر آپ کے سامنے کسی کو جرأت نہ ہوسکی کہ اس پہلو سے آپ کو مطعون کرے۔ تاہم یہود اتنے بے حس اور اتنے سرکش ہوچکے تھے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل سامنے آجانے کے باوجود انھوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا۔ ’’اس میں نشانی ہے ایمان والوں کے لیے‘‘ — یعنی جو دلیل پیش کی جارہی ہے وہ بذات خود اگر چہ مکمل ہے مگر وہ اسی شخص کے لیے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کہر سے باہر آکر دلیل پر غور کرے۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔
آل عمران 3:46
یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لیے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتی کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ آسمانی ہدایت کے امین بن سکیں۔ اب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ یہ امانت ان سے چھین کر آل ابراہیم کی دوسری شاخ (بنی اسماعیل) کو دے دی جائے۔ اس فیصلہ کے نفاذ سے پہلے یہود پر اتمام حجت ضروری تھا۔ حضرت مسیح اسی اتمام حجت کے لیے بھیجے گئے۔ آنجناب کی فوق العادت پیدائش اور آپ کو غیر معمولی معجزات کا دیا جانا اسی لیے تھا کہ یہود کو اس بار ے میں کوئی شبہ نہ رہے کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اور خدا کی طرف سے بول رہے ہیں۔ حضرت مسیح اپنے ساتھ نہ صرف فوق الفطری نشانیاں رکھتے تھے بلکہ وہ اتنے مؤثر اور مدلل انداز میں بولتے تھے کہ ان کے زمانہ میں کوئی اس طرح بولنے پر قادر نہ تھا۔ پہلی بار جب آپ نے یروشلم کے ہیکل میں تقریر کی تو یہودی علما آپ کی باتوں کو سن کر دنگ رہ گئے (لوقا ۲:۴۸) یہ ان کی معجز نما شخصیت اور ان کے مبہوت کردینے والے کلام ہی کا اثر تھا کہ اگر چہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے مگر آپ کے سامنے کسی کو جرأت نہ ہوسکی کہ اس پہلو سے آپ کو مطعون کرے۔ تاہم یہود اتنے بے حس اور اتنے سرکش ہوچکے تھے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل سامنے آجانے کے باوجود انھوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا۔ ’’اس میں نشانی ہے ایمان والوں کے لیے‘‘ — یعنی جو دلیل پیش کی جارہی ہے وہ بذات خود اگر چہ مکمل ہے مگر وہ اسی شخص کے لیے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کہر سے باہر آکر دلیل پر غور کرے۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔
آل عمران 3:47
یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لیے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتی کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ آسمانی ہدایت کے امین بن سکیں۔ اب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ یہ امانت ان سے چھین کر آل ابراہیم کی دوسری شاخ (بنی اسماعیل) کو دے دی جائے۔ اس فیصلہ کے نفاذ سے پہلے یہود پر اتمام حجت ضروری تھا۔ حضرت مسیح اسی اتمام حجت کے لیے بھیجے گئے۔ آنجناب کی فوق العادت پیدائش اور آپ کو غیر معمولی معجزات کا دیا جانا اسی لیے تھا کہ یہود کو اس بار ے میں کوئی شبہ نہ رہے کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اور خدا کی طرف سے بول رہے ہیں۔ حضرت مسیح اپنے ساتھ نہ صرف فوق الفطری نشانیاں رکھتے تھے بلکہ وہ اتنے مؤثر اور مدلل انداز میں بولتے تھے کہ ان کے زمانہ میں کوئی اس طرح بولنے پر قادر نہ تھا۔ پہلی بار جب آپ نے یروشلم کے ہیکل میں تقریر کی تو یہودی علما آپ کی باتوں کو سن کر دنگ رہ گئے (لوقا ۲:۴۸) یہ ان کی معجز نما شخصیت اور ان کے مبہوت کردینے والے کلام ہی کا اثر تھا کہ اگر چہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے مگر آپ کے سامنے کسی کو جرأت نہ ہوسکی کہ اس پہلو سے آپ کو مطعون کرے۔ تاہم یہود اتنے بے حس اور اتنے سرکش ہوچکے تھے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل سامنے آجانے کے باوجود انھوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا۔ ’’اس میں نشانی ہے ایمان والوں کے لیے‘‘ — یعنی جو دلیل پیش کی جارہی ہے وہ بذات خود اگر چہ مکمل ہے مگر وہ اسی شخص کے لیے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کہر سے باہر آکر دلیل پر غور کرے۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔
آل عمران 3:48
یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لیے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتی کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ آسمانی ہدایت کے امین بن سکیں۔ اب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ یہ امانت ان سے چھین کر آل ابراہیم کی دوسری شاخ (بنی اسماعیل) کو دے دی جائے۔ اس فیصلہ کے نفاذ سے پہلے یہود پر اتمام حجت ضروری تھا۔ حضرت مسیح اسی اتمام حجت کے لیے بھیجے گئے۔ آنجناب کی فوق العادت پیدائش اور آپ کو غیر معمولی معجزات کا دیا جانا اسی لیے تھا کہ یہود کو اس بار ے میں کوئی شبہ نہ رہے کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اور خدا کی طرف سے بول رہے ہیں۔ حضرت مسیح اپنے ساتھ نہ صرف فوق الفطری نشانیاں رکھتے تھے بلکہ وہ اتنے مؤثر اور مدلل انداز میں بولتے تھے کہ ان کے زمانہ میں کوئی اس طرح بولنے پر قادر نہ تھا۔ پہلی بار جب آپ نے یروشلم کے ہیکل میں تقریر کی تو یہودی علما آپ کی باتوں کو سن کر دنگ رہ گئے (لوقا ۲:۴۸) یہ ان کی معجز نما شخصیت اور ان کے مبہوت کردینے والے کلام ہی کا اثر تھا کہ اگر چہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے مگر آپ کے سامنے کسی کو جرأت نہ ہوسکی کہ اس پہلو سے آپ کو مطعون کرے۔ تاہم یہود اتنے بے حس اور اتنے سرکش ہوچکے تھے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل سامنے آجانے کے باوجود انھوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا۔ ’’اس میں نشانی ہے ایمان والوں کے لیے‘‘ — یعنی جو دلیل پیش کی جارہی ہے وہ بذات خود اگر چہ مکمل ہے مگر وہ اسی شخص کے لیے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کہر سے باہر آکر دلیل پر غور کرے۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔
آل عمران 3:49
یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لیے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتی کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ آسمانی ہدایت کے امین بن سکیں۔ اب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ یہ امانت ان سے چھین کر آل ابراہیم کی دوسری شاخ (بنی اسماعیل) کو دے دی جائے۔ اس فیصلہ کے نفاذ سے پہلے یہود پر اتمام حجت ضروری تھا۔ حضرت مسیح اسی اتمام حجت کے لیے بھیجے گئے۔ آنجناب کی فوق العادت پیدائش اور آپ کو غیر معمولی معجزات کا دیا جانا اسی لیے تھا کہ یہود کو اس بار ے میں کوئی شبہ نہ رہے کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اور خدا کی طرف سے بول رہے ہیں۔ حضرت مسیح اپنے ساتھ نہ صرف فوق الفطری نشانیاں رکھتے تھے بلکہ وہ اتنے مؤثر اور مدلل انداز میں بولتے تھے کہ ان کے زمانہ میں کوئی اس طرح بولنے پر قادر نہ تھا۔ پہلی بار جب آپ نے یروشلم کے ہیکل میں تقریر کی تو یہودی علما آپ کی باتوں کو سن کر دنگ رہ گئے (لوقا ۲:۴۸) یہ ان کی معجز نما شخصیت اور ان کے مبہوت کردینے والے کلام ہی کا اثر تھا کہ اگر چہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے مگر آپ کے سامنے کسی کو جرأت نہ ہوسکی کہ اس پہلو سے آپ کو مطعون کرے۔ تاہم یہود اتنے بے حس اور اتنے سرکش ہوچکے تھے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل سامنے آجانے کے باوجود انھوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا۔ ’’اس میں نشانی ہے ایمان والوں کے لیے‘‘ — یعنی جو دلیل پیش کی جارہی ہے وہ بذات خود اگر چہ مکمل ہے مگر وہ اسی شخص کے لیے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کہر سے باہر آکر دلیل پر غور کرے۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔
آل عمران 3:50
یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لیے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتی کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ آسمانی ہدایت کے امین بن سکیں۔ اب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ یہ امانت ان سے چھین کر آل ابراہیم کی دوسری شاخ (بنی اسماعیل) کو دے دی جائے۔ اس فیصلہ کے نفاذ سے پہلے یہود پر اتمام حجت ضروری تھا۔ حضرت مسیح اسی اتمام حجت کے لیے بھیجے گئے۔ آنجناب کی فوق العادت پیدائش اور آپ کو غیر معمولی معجزات کا دیا جانا اسی لیے تھا کہ یہود کو اس بار ے میں کوئی شبہ نہ رہے کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اور خدا کی طرف سے بول رہے ہیں۔ حضرت مسیح اپنے ساتھ نہ صرف فوق الفطری نشانیاں رکھتے تھے بلکہ وہ اتنے مؤثر اور مدلل انداز میں بولتے تھے کہ ان کے زمانہ میں کوئی اس طرح بولنے پر قادر نہ تھا۔ پہلی بار جب آپ نے یروشلم کے ہیکل میں تقریر کی تو یہودی علما آپ کی باتوں کو سن کر دنگ رہ گئے (لوقا ۲:۴۸) یہ ان کی معجز نما شخصیت اور ان کے مبہوت کردینے والے کلام ہی کا اثر تھا کہ اگر چہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے مگر آپ کے سامنے کسی کو جرأت نہ ہوسکی کہ اس پہلو سے آپ کو مطعون کرے۔ تاہم یہود اتنے بے حس اور اتنے سرکش ہوچکے تھے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل سامنے آجانے کے باوجود انھوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا۔ ’’اس میں نشانی ہے ایمان والوں کے لیے‘‘ — یعنی جو دلیل پیش کی جارہی ہے وہ بذات خود اگر چہ مکمل ہے مگر وہ اسی شخص کے لیے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کہر سے باہر آکر دلیل پر غور کرے۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔
آل عمران 3:51
یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لیے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتی کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ آسمانی ہدایت کے امین بن سکیں۔ اب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ یہ امانت ان سے چھین کر آل ابراہیم کی دوسری شاخ (بنی اسماعیل) کو دے دی جائے۔ اس فیصلہ کے نفاذ سے پہلے یہود پر اتمام حجت ضروری تھا۔ حضرت مسیح اسی اتمام حجت کے لیے بھیجے گئے۔ آنجناب کی فوق العادت پیدائش اور آپ کو غیر معمولی معجزات کا دیا جانا اسی لیے تھا کہ یہود کو اس بار ے میں کوئی شبہ نہ رہے کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اور خدا کی طرف سے بول رہے ہیں۔ حضرت مسیح اپنے ساتھ نہ صرف فوق الفطری نشانیاں رکھتے تھے بلکہ وہ اتنے مؤثر اور مدلل انداز میں بولتے تھے کہ ان کے زمانہ میں کوئی اس طرح بولنے پر قادر نہ تھا۔ پہلی بار جب آپ نے یروشلم کے ہیکل میں تقریر کی تو یہودی علما آپ کی باتوں کو سن کر دنگ رہ گئے (لوقا ۲:۴۸) یہ ان کی معجز نما شخصیت اور ان کے مبہوت کردینے والے کلام ہی کا اثر تھا کہ اگر چہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے مگر آپ کے سامنے کسی کو جرأت نہ ہوسکی کہ اس پہلو سے آپ کو مطعون کرے۔ تاہم یہود اتنے بے حس اور اتنے سرکش ہوچکے تھے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل سامنے آجانے کے باوجود انھوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا۔ ’’اس میں نشانی ہے ایمان والوں کے لیے‘‘ — یعنی جو دلیل پیش کی جارہی ہے وہ بذات خود اگر چہ مکمل ہے مگر وہ اسی شخص کے لیے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کہر سے باہر آکر دلیل پر غور کرے۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔
آل عمران 3:52
بنی اسرائیل کے بڑوں نے حضرت مسیحؑکو ماننے سے انکار کردیا۔ بڑوں کے ہاتھ میں ہر قسم کے وسائل ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ مذہب کی گدیوں پر قابض ہونے کی وجہ سے عوام کی نظر میں وہی مذہب کے نمائندے ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ جس کو رد کردیں، وہ نہ صرف وسائل حیات سے محروم ہوجاتا ہے بلکہ حق کی خاطر سب کچھ کھونے کے بعد بھی لوگوں کی نظر میں بددین ہی بنا رہتا ہے۔ ایسے وقت میں داعیٔ حق کا ساتھ دینا انتہائی مشکل کام ہے۔ یہ شبہات اور مخالفتوں کی عمومی فضا میں اس کی صداقت پر گواہ بننا ہے۔ یہ حق کی جانب اس وقت کھڑا ہونا ہے جب کہ حق تنہا رہ گیا ہو۔
حق جب اپنی بے آمیز صورت میں اٹھتا ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اوپر اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں جو اپنی خلافِ حق زندگی پر حق کا لیبل لگا کر لوگوں کے درمیان عزت کا مقام حاصل کيے ہوئے هوں۔ وہ داعی کو زیر کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکا ل کر عوام کو اس کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ اور بالآخر طاقت کے ذریعہ اس کو مٹادینے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ مگر اللہ کی نصرت ہمیشہ داعی کے ساتھ ہوتی ہے، اس لیے کوئی مخالفت اس کی آواز کو دبانے میںکامیاب نہیں ہوتی۔ مخالفتوں کے علی الرغم وہ اپنے مشن کو مکمل کرتا ہے — جو لوگ دعوت حق کے مخالف بنیں وہ اللہ کی نظر میںفساد كرنے والے ہیں۔ کیوں کہ وہ لوگوں کو جنت کی طرف جانے سے روکتے ہیں۔ اس سے بڑا کوئی فساد نہیں ہوسکتا کہ خدا کے بندوں کو خدائی جنت کی طرف جانےسے روکا جائے۔
حضرت مسیح یہودی قوم میں پیدا ہوئے مگر یہود نے آپ کی نبوت نہیں مانی۔ انھوںنے آنجناب کو ختم کرنے کے لیے آپ کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا اور آپ کو فلسطین کی رومی عدالت میں لے گئے۔ عدالت سے آپ کو سولی پرچڑھانے کا فیصلہ ہوگیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اٹھا لیا اور رومی سپاہیوں نے ایک اور آدمی کو آپ کا ہم شکل پاکر اسے سولی دے دی۔ یہود کے اس جرم پر خدا نے یہ فیصلہ کردیا کہ حضرت مسیح کو ماننے والی قوم قیامت تک یہودی قوم پر غالب رہے گی۔ یہود اور مسیحی دونوں کے ساتھ يه خدا کا دنیوی معاملہ ہے۔ آخرت کا معاملہ اس کے علاوہ ہے ،جو خدا کی عام سنت کے تحت ہوگا۔
آل عمران 3:53
بنی اسرائیل کے بڑوں نے حضرت مسیحؑکو ماننے سے انکار کردیا۔ بڑوں کے ہاتھ میں ہر قسم کے وسائل ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ مذہب کی گدیوں پر قابض ہونے کی وجہ سے عوام کی نظر میں وہی مذہب کے نمائندے ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ جس کو رد کردیں، وہ نہ صرف وسائل حیات سے محروم ہوجاتا ہے بلکہ حق کی خاطر سب کچھ کھونے کے بعد بھی لوگوں کی نظر میں بددین ہی بنا رہتا ہے۔ ایسے وقت میں داعیٔ حق کا ساتھ دینا انتہائی مشکل کام ہے۔ یہ شبہات اور مخالفتوں کی عمومی فضا میں اس کی صداقت پر گواہ بننا ہے۔ یہ حق کی جانب اس وقت کھڑا ہونا ہے جب کہ حق تنہا رہ گیا ہو۔
حق جب اپنی بے آمیز صورت میں اٹھتا ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اوپر اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں جو اپنی خلافِ حق زندگی پر حق کا لیبل لگا کر لوگوں کے درمیان عزت کا مقام حاصل کيے ہوئے هوں۔ وہ داعی کو زیر کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکا ل کر عوام کو اس کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ اور بالآخر طاقت کے ذریعہ اس کو مٹادینے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ مگر اللہ کی نصرت ہمیشہ داعی کے ساتھ ہوتی ہے، اس لیے کوئی مخالفت اس کی آواز کو دبانے میںکامیاب نہیں ہوتی۔ مخالفتوں کے علی الرغم وہ اپنے مشن کو مکمل کرتا ہے — جو لوگ دعوت حق کے مخالف بنیں وہ اللہ کی نظر میںفساد كرنے والے ہیں۔ کیوں کہ وہ لوگوں کو جنت کی طرف جانے سے روکتے ہیں۔ اس سے بڑا کوئی فساد نہیں ہوسکتا کہ خدا کے بندوں کو خدائی جنت کی طرف جانےسے روکا جائے۔
حضرت مسیح یہودی قوم میں پیدا ہوئے مگر یہود نے آپ کی نبوت نہیں مانی۔ انھوںنے آنجناب کو ختم کرنے کے لیے آپ کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا اور آپ کو فلسطین کی رومی عدالت میں لے گئے۔ عدالت سے آپ کو سولی پرچڑھانے کا فیصلہ ہوگیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اٹھا لیا اور رومی سپاہیوں نے ایک اور آدمی کو آپ کا ہم شکل پاکر اسے سولی دے دی۔ یہود کے اس جرم پر خدا نے یہ فیصلہ کردیا کہ حضرت مسیح کو ماننے والی قوم قیامت تک یہودی قوم پر غالب رہے گی۔ یہود اور مسیحی دونوں کے ساتھ يه خدا کا دنیوی معاملہ ہے۔ آخرت کا معاملہ اس کے علاوہ ہے ،جو خدا کی عام سنت کے تحت ہوگا۔
آل عمران 3:54
بنی اسرائیل کے بڑوں نے حضرت مسیحؑکو ماننے سے انکار کردیا۔ بڑوں کے ہاتھ میں ہر قسم کے وسائل ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ مذہب کی گدیوں پر قابض ہونے کی وجہ سے عوام کی نظر میں وہی مذہب کے نمائندے ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ جس کو رد کردیں، وہ نہ صرف وسائل حیات سے محروم ہوجاتا ہے بلکہ حق کی خاطر سب کچھ کھونے کے بعد بھی لوگوں کی نظر میں بددین ہی بنا رہتا ہے۔ ایسے وقت میں داعیٔ حق کا ساتھ دینا انتہائی مشکل کام ہے۔ یہ شبہات اور مخالفتوں کی عمومی فضا میں اس کی صداقت پر گواہ بننا ہے۔ یہ حق کی جانب اس وقت کھڑا ہونا ہے جب کہ حق تنہا رہ گیا ہو۔
حق جب اپنی بے آمیز صورت میں اٹھتا ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اوپر اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں جو اپنی خلافِ حق زندگی پر حق کا لیبل لگا کر لوگوں کے درمیان عزت کا مقام حاصل کيے ہوئے هوں۔ وہ داعی کو زیر کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکا ل کر عوام کو اس کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ اور بالآخر طاقت کے ذریعہ اس کو مٹادینے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ مگر اللہ کی نصرت ہمیشہ داعی کے ساتھ ہوتی ہے، اس لیے کوئی مخالفت اس کی آواز کو دبانے میںکامیاب نہیں ہوتی۔ مخالفتوں کے علی الرغم وہ اپنے مشن کو مکمل کرتا ہے — جو لوگ دعوت حق کے مخالف بنیں وہ اللہ کی نظر میںفساد كرنے والے ہیں۔ کیوں کہ وہ لوگوں کو جنت کی طرف جانے سے روکتے ہیں۔ اس سے بڑا کوئی فساد نہیں ہوسکتا کہ خدا کے بندوں کو خدائی جنت کی طرف جانےسے روکا جائے۔
حضرت مسیح یہودی قوم میں پیدا ہوئے مگر یہود نے آپ کی نبوت نہیں مانی۔ انھوںنے آنجناب کو ختم کرنے کے لیے آپ کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا اور آپ کو فلسطین کی رومی عدالت میں لے گئے۔ عدالت سے آپ کو سولی پرچڑھانے کا فیصلہ ہوگیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اٹھا لیا اور رومی سپاہیوں نے ایک اور آدمی کو آپ کا ہم شکل پاکر اسے سولی دے دی۔ یہود کے اس جرم پر خدا نے یہ فیصلہ کردیا کہ حضرت مسیح کو ماننے والی قوم قیامت تک یہودی قوم پر غالب رہے گی۔ یہود اور مسیحی دونوں کے ساتھ يه خدا کا دنیوی معاملہ ہے۔ آخرت کا معاملہ اس کے علاوہ ہے ،جو خدا کی عام سنت کے تحت ہوگا۔
آل عمران 3:55
بنی اسرائیل کے بڑوں نے حضرت مسیحؑکو ماننے سے انکار کردیا۔ بڑوں کے ہاتھ میں ہر قسم کے وسائل ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ مذہب کی گدیوں پر قابض ہونے کی وجہ سے عوام کی نظر میں وہی مذہب کے نمائندے ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ جس کو رد کردیں، وہ نہ صرف وسائل حیات سے محروم ہوجاتا ہے بلکہ حق کی خاطر سب کچھ کھونے کے بعد بھی لوگوں کی نظر میں بددین ہی بنا رہتا ہے۔ ایسے وقت میں داعیٔ حق کا ساتھ دینا انتہائی مشکل کام ہے۔ یہ شبہات اور مخالفتوں کی عمومی فضا میں اس کی صداقت پر گواہ بننا ہے۔ یہ حق کی جانب اس وقت کھڑا ہونا ہے جب کہ حق تنہا رہ گیا ہو۔
حق جب اپنی بے آمیز صورت میں اٹھتا ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اوپر اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں جو اپنی خلافِ حق زندگی پر حق کا لیبل لگا کر لوگوں کے درمیان عزت کا مقام حاصل کيے ہوئے هوں۔ وہ داعی کو زیر کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکا ل کر عوام کو اس کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ اور بالآخر طاقت کے ذریعہ اس کو مٹادینے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ مگر اللہ کی نصرت ہمیشہ داعی کے ساتھ ہوتی ہے، اس لیے کوئی مخالفت اس کی آواز کو دبانے میںکامیاب نہیں ہوتی۔ مخالفتوں کے علی الرغم وہ اپنے مشن کو مکمل کرتا ہے — جو لوگ دعوت حق کے مخالف بنیں وہ اللہ کی نظر میںفساد كرنے والے ہیں۔ کیوں کہ وہ لوگوں کو جنت کی طرف جانے سے روکتے ہیں۔ اس سے بڑا کوئی فساد نہیں ہوسکتا کہ خدا کے بندوں کو خدائی جنت کی طرف جانےسے روکا جائے۔
حضرت مسیح یہودی قوم میں پیدا ہوئے مگر یہود نے آپ کی نبوت نہیں مانی۔ انھوںنے آنجناب کو ختم کرنے کے لیے آپ کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا اور آپ کو فلسطین کی رومی عدالت میں لے گئے۔ عدالت سے آپ کو سولی پرچڑھانے کا فیصلہ ہوگیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اٹھا لیا اور رومی سپاہیوں نے ایک اور آدمی کو آپ کا ہم شکل پاکر اسے سولی دے دی۔ یہود کے اس جرم پر خدا نے یہ فیصلہ کردیا کہ حضرت مسیح کو ماننے والی قوم قیامت تک یہودی قوم پر غالب رہے گی۔ یہود اور مسیحی دونوں کے ساتھ يه خدا کا دنیوی معاملہ ہے۔ آخرت کا معاملہ اس کے علاوہ ہے ،جو خدا کی عام سنت کے تحت ہوگا۔
آل عمران 3:56
بنی اسرائیل کے بڑوں نے حضرت مسیحؑکو ماننے سے انکار کردیا۔ بڑوں کے ہاتھ میں ہر قسم کے وسائل ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ مذہب کی گدیوں پر قابض ہونے کی وجہ سے عوام کی نظر میں وہی مذہب کے نمائندے ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ جس کو رد کردیں، وہ نہ صرف وسائل حیات سے محروم ہوجاتا ہے بلکہ حق کی خاطر سب کچھ کھونے کے بعد بھی لوگوں کی نظر میں بددین ہی بنا رہتا ہے۔ ایسے وقت میں داعیٔ حق کا ساتھ دینا انتہائی مشکل کام ہے۔ یہ شبہات اور مخالفتوں کی عمومی فضا میں اس کی صداقت پر گواہ بننا ہے۔ یہ حق کی جانب اس وقت کھڑا ہونا ہے جب کہ حق تنہا رہ گیا ہو۔
حق جب اپنی بے آمیز صورت میں اٹھتا ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اوپر اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں جو اپنی خلافِ حق زندگی پر حق کا لیبل لگا کر لوگوں کے درمیان عزت کا مقام حاصل کيے ہوئے هوں۔ وہ داعی کو زیر کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکا ل کر عوام کو اس کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ اور بالآخر طاقت کے ذریعہ اس کو مٹادینے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ مگر اللہ کی نصرت ہمیشہ داعی کے ساتھ ہوتی ہے، اس لیے کوئی مخالفت اس کی آواز کو دبانے میںکامیاب نہیں ہوتی۔ مخالفتوں کے علی الرغم وہ اپنے مشن کو مکمل کرتا ہے — جو لوگ دعوت حق کے مخالف بنیں وہ اللہ کی نظر میںفساد كرنے والے ہیں۔ کیوں کہ وہ لوگوں کو جنت کی طرف جانے سے روکتے ہیں۔ اس سے بڑا کوئی فساد نہیں ہوسکتا کہ خدا کے بندوں کو خدائی جنت کی طرف جانےسے روکا جائے۔
حضرت مسیح یہودی قوم میں پیدا ہوئے مگر یہود نے آپ کی نبوت نہیں مانی۔ انھوںنے آنجناب کو ختم کرنے کے لیے آپ کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا اور آپ کو فلسطین کی رومی عدالت میں لے گئے۔ عدالت سے آپ کو سولی پرچڑھانے کا فیصلہ ہوگیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اٹھا لیا اور رومی سپاہیوں نے ایک اور آدمی کو آپ کا ہم شکل پاکر اسے سولی دے دی۔ یہود کے اس جرم پر خدا نے یہ فیصلہ کردیا کہ حضرت مسیح کو ماننے والی قوم قیامت تک یہودی قوم پر غالب رہے گی۔ یہود اور مسیحی دونوں کے ساتھ يه خدا کا دنیوی معاملہ ہے۔ آخرت کا معاملہ اس کے علاوہ ہے ،جو خدا کی عام سنت کے تحت ہوگا۔
آل عمران 3:57
بنی اسرائیل کے بڑوں نے حضرت مسیحؑکو ماننے سے انکار کردیا۔ بڑوں کے ہاتھ میں ہر قسم کے وسائل ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ مذہب کی گدیوں پر قابض ہونے کی وجہ سے عوام کی نظر میں وہی مذہب کے نمائندے ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ جس کو رد کردیں، وہ نہ صرف وسائل حیات سے محروم ہوجاتا ہے بلکہ حق کی خاطر سب کچھ کھونے کے بعد بھی لوگوں کی نظر میں بددین ہی بنا رہتا ہے۔ ایسے وقت میں داعیٔ حق کا ساتھ دینا انتہائی مشکل کام ہے۔ یہ شبہات اور مخالفتوں کی عمومی فضا میں اس کی صداقت پر گواہ بننا ہے۔ یہ حق کی جانب اس وقت کھڑا ہونا ہے جب کہ حق تنہا رہ گیا ہو۔
حق جب اپنی بے آمیز صورت میں اٹھتا ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اوپر اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں جو اپنی خلافِ حق زندگی پر حق کا لیبل لگا کر لوگوں کے درمیان عزت کا مقام حاصل کيے ہوئے هوں۔ وہ داعی کو زیر کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکا ل کر عوام کو اس کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ اور بالآخر طاقت کے ذریعہ اس کو مٹادینے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ مگر اللہ کی نصرت ہمیشہ داعی کے ساتھ ہوتی ہے، اس لیے کوئی مخالفت اس کی آواز کو دبانے میںکامیاب نہیں ہوتی۔ مخالفتوں کے علی الرغم وہ اپنے مشن کو مکمل کرتا ہے — جو لوگ دعوت حق کے مخالف بنیں وہ اللہ کی نظر میںفساد كرنے والے ہیں۔ کیوں کہ وہ لوگوں کو جنت کی طرف جانے سے روکتے ہیں۔ اس سے بڑا کوئی فساد نہیں ہوسکتا کہ خدا کے بندوں کو خدائی جنت کی طرف جانےسے روکا جائے۔
حضرت مسیح یہودی قوم میں پیدا ہوئے مگر یہود نے آپ کی نبوت نہیں مانی۔ انھوںنے آنجناب کو ختم کرنے کے لیے آپ کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا اور آپ کو فلسطین کی رومی عدالت میں لے گئے۔ عدالت سے آپ کو سولی پرچڑھانے کا فیصلہ ہوگیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اٹھا لیا اور رومی سپاہیوں نے ایک اور آدمی کو آپ کا ہم شکل پاکر اسے سولی دے دی۔ یہود کے اس جرم پر خدا نے یہ فیصلہ کردیا کہ حضرت مسیح کو ماننے والی قوم قیامت تک یہودی قوم پر غالب رہے گی۔ یہود اور مسیحی دونوں کے ساتھ يه خدا کا دنیوی معاملہ ہے۔ آخرت کا معاملہ اس کے علاوہ ہے ،جو خدا کی عام سنت کے تحت ہوگا۔
آل عمران 3:58
بنی اسرائیل کے بڑوں نے حضرت مسیحؑکو ماننے سے انکار کردیا۔ بڑوں کے ہاتھ میں ہر قسم کے وسائل ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ مذہب کی گدیوں پر قابض ہونے کی وجہ سے عوام کی نظر میں وہی مذہب کے نمائندے ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ جس کو رد کردیں، وہ نہ صرف وسائل حیات سے محروم ہوجاتا ہے بلکہ حق کی خاطر سب کچھ کھونے کے بعد بھی لوگوں کی نظر میں بددین ہی بنا رہتا ہے۔ ایسے وقت میں داعیٔ حق کا ساتھ دینا انتہائی مشکل کام ہے۔ یہ شبہات اور مخالفتوں کی عمومی فضا میں اس کی صداقت پر گواہ بننا ہے۔ یہ حق کی جانب اس وقت کھڑا ہونا ہے جب کہ حق تنہا رہ گیا ہو۔
حق جب اپنی بے آمیز صورت میں اٹھتا ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اوپر اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں جو اپنی خلافِ حق زندگی پر حق کا لیبل لگا کر لوگوں کے درمیان عزت کا مقام حاصل کيے ہوئے هوں۔ وہ داعی کو زیر کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکا ل کر عوام کو اس کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ اور بالآخر طاقت کے ذریعہ اس کو مٹادینے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ مگر اللہ کی نصرت ہمیشہ داعی کے ساتھ ہوتی ہے، اس لیے کوئی مخالفت اس کی آواز کو دبانے میںکامیاب نہیں ہوتی۔ مخالفتوں کے علی الرغم وہ اپنے مشن کو مکمل کرتا ہے — جو لوگ دعوت حق کے مخالف بنیں وہ اللہ کی نظر میںفساد كرنے والے ہیں۔ کیوں کہ وہ لوگوں کو جنت کی طرف جانے سے روکتے ہیں۔ اس سے بڑا کوئی فساد نہیں ہوسکتا کہ خدا کے بندوں کو خدائی جنت کی طرف جانےسے روکا جائے۔
حضرت مسیح یہودی قوم میں پیدا ہوئے مگر یہود نے آپ کی نبوت نہیں مانی۔ انھوںنے آنجناب کو ختم کرنے کے لیے آپ کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا اور آپ کو فلسطین کی رومی عدالت میں لے گئے۔ عدالت سے آپ کو سولی پرچڑھانے کا فیصلہ ہوگیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اٹھا لیا اور رومی سپاہیوں نے ایک اور آدمی کو آپ کا ہم شکل پاکر اسے سولی دے دی۔ یہود کے اس جرم پر خدا نے یہ فیصلہ کردیا کہ حضرت مسیح کو ماننے والی قوم قیامت تک یہودی قوم پر غالب رہے گی۔ یہود اور مسیحی دونوں کے ساتھ يه خدا کا دنیوی معاملہ ہے۔ آخرت کا معاملہ اس کے علاوہ ہے ،جو خدا کی عام سنت کے تحت ہوگا۔
آل عمران 3:59
مسیحی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت مسیح عام انسانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ ان کی پیدائش توالد وتناسل کے عام قاعدہ کے خلاف باپ کے واسطہ کے بغیر ہوئی۔ پھر آپ کو عام انسانوں کی طرح ایک انسان کیسے کہاجائے۔ آپ کا طریقِ پیدائش خود بتاتا ہے کہ وہ بشر سے ماورا تھے۔ وہ انسان کے بیٹے نہیں بلکہ خدا کے بیٹے تھے۔ کہا گیا کہ تمھارے سوال کا جواب انسان اول (آدم) کی تخلیق میں موجود ہے۔ تم خود یہ مانتے ہو کہ آدم سب سے پہلے بشر ہیں۔ وہ معروف طریقے کے مطابق مرد اور عورت کے تعلق سے وجود میں نہیں آئے۔بلکہ براہِ راست خدا کے حکم کے تحت وجود میں آئے۔ پھر باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر جب آدم خدا کے بیٹے نہیںہیں تو اسی طرح باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر مسیح کیسے خدا کے بیٹے ہوجائیں گے۔
نجران (یمن) نزول قرآن کے زمانہ میں مسیحی مذہب کا بہت بڑا مرکز تھا۔ ان کے علما اور پیشواؤں کا ایک وفد ۹ھ میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسیحی عقائد کے بارے میں بحث کی۔ آپ نے مختلف دلائل ان کے سامنے پیش کیے۔ مثلاً آپ نے فرمایا کہ مسیح خدا کے بیٹے کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ خدا ایک زندہ ہستی ہے، اس پر کبھی موت آنے والی نہیں۔ مگر عیسیٰ پر موت اور فنا آنے والی ہے (وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء) بهجۃ المحافل وبغيۃ الاماثل، يحيى بن ابو بكر العامری، جلد2، صفحہ
15
۔آپ کے دلائل کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا مگر وہ برابر کج بحثی کرتے رہے۔ جب آپ نے دیکھا کہ وہ دلیل سے ماننے والے نہیں ہیں تو آپ ؐنے ان کو ایک آخری چیلنج دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے کو برسرِ حق سمجھتے ہو تو مباہلہ (ایک دوسرے پر لعنت کی بد دعا) کے لیے تیار ہوجاؤ۔
اگلے دن صبح کو آپ باہر نکلے۔ آپ ؐکے ساتھ آپ کے دونوں نواسے حسن اور حسین تھے۔ ان کے پیچھے حضرت فاطمہ ؓاور ان کے پیچھے حضرت علیؓ۔ نجرانی عیسائی یہ دیکھ کر مرعوب ہوگئے اور باہم مشورہ کی مہلت مانگی۔ علیحدہ مشورہ میںان کے ایک عالم نے کہا تم جانتے ہو کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں پیغمبر بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ بعید نہیں کہ یہ وہی پیغمبر ہوں۔ پھر ایک پیغمبر سے مباہلہ اور ملاعنہ کرنے کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ تمھارے چھوٹے اور بڑے سب ہلاک ہوجائیں اور نسلوں تک اس کا اثر باقی رہے۔ خدا کی قسم میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ دعا کریں تو پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم ان سے صلح کرکے اپنی بستيوں کی طرف روانہ ہوجائیں۔
آل عمران 3:60
مسیحی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت مسیح عام انسانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ ان کی پیدائش توالد وتناسل کے عام قاعدہ کے خلاف باپ کے واسطہ کے بغیر ہوئی۔ پھر آپ کو عام انسانوں کی طرح ایک انسان کیسے کہاجائے۔ آپ کا طریقِ پیدائش خود بتاتا ہے کہ وہ بشر سے ماورا تھے۔ وہ انسان کے بیٹے نہیں بلکہ خدا کے بیٹے تھے۔ کہا گیا کہ تمھارے سوال کا جواب انسان اول (آدم) کی تخلیق میں موجود ہے۔ تم خود یہ مانتے ہو کہ آدم سب سے پہلے بشر ہیں۔ وہ معروف طریقے کے مطابق مرد اور عورت کے تعلق سے وجود میں نہیں آئے۔بلکہ براہِ راست خدا کے حکم کے تحت وجود میں آئے۔ پھر باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر جب آدم خدا کے بیٹے نہیںہیں تو اسی طرح باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر مسیح کیسے خدا کے بیٹے ہوجائیں گے۔
نجران (یمن) نزول قرآن کے زمانہ میں مسیحی مذہب کا بہت بڑا مرکز تھا۔ ان کے علما اور پیشواؤں کا ایک وفد ۹ھ میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسیحی عقائد کے بارے میں بحث کی۔ آپ نے مختلف دلائل ان کے سامنے پیش کیے۔ مثلاً آپ نے فرمایا کہ مسیح خدا کے بیٹے کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ خدا ایک زندہ ہستی ہے، اس پر کبھی موت آنے والی نہیں۔ مگر عیسیٰ پر موت اور فنا آنے والی ہے (وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء) بهجۃ المحافل وبغيۃ الاماثل، يحيى بن ابو بكر العامری، جلد2، صفحہ
15
۔آپ کے دلائل کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا مگر وہ برابر کج بحثی کرتے رہے۔ جب آپ نے دیکھا کہ وہ دلیل سے ماننے والے نہیں ہیں تو آپ ؐنے ان کو ایک آخری چیلنج دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے کو برسرِ حق سمجھتے ہو تو مباہلہ (ایک دوسرے پر لعنت کی بد دعا) کے لیے تیار ہوجاؤ۔
اگلے دن صبح کو آپ باہر نکلے۔ آپ ؐکے ساتھ آپ کے دونوں نواسے حسن اور حسین تھے۔ ان کے پیچھے حضرت فاطمہ ؓاور ان کے پیچھے حضرت علیؓ۔ نجرانی عیسائی یہ دیکھ کر مرعوب ہوگئے اور باہم مشورہ کی مہلت مانگی۔ علیحدہ مشورہ میںان کے ایک عالم نے کہا تم جانتے ہو کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں پیغمبر بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ بعید نہیں کہ یہ وہی پیغمبر ہوں۔ پھر ایک پیغمبر سے مباہلہ اور ملاعنہ کرنے کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ تمھارے چھوٹے اور بڑے سب ہلاک ہوجائیں اور نسلوں تک اس کا اثر باقی رہے۔ خدا کی قسم میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ دعا کریں تو پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم ان سے صلح کرکے اپنی بستيوں کی طرف روانہ ہوجائیں۔
آل عمران 3:61
مسیحی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت مسیح عام انسانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ ان کی پیدائش توالد وتناسل کے عام قاعدہ کے خلاف باپ کے واسطہ کے بغیر ہوئی۔ پھر آپ کو عام انسانوں کی طرح ایک انسان کیسے کہاجائے۔ آپ کا طریقِ پیدائش خود بتاتا ہے کہ وہ بشر سے ماورا تھے۔ وہ انسان کے بیٹے نہیں بلکہ خدا کے بیٹے تھے۔ کہا گیا کہ تمھارے سوال کا جواب انسان اول (آدم) کی تخلیق میں موجود ہے۔ تم خود یہ مانتے ہو کہ آدم سب سے پہلے بشر ہیں۔ وہ معروف طریقے کے مطابق مرد اور عورت کے تعلق سے وجود میں نہیں آئے۔بلکہ براہِ راست خدا کے حکم کے تحت وجود میں آئے۔ پھر باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر جب آدم خدا کے بیٹے نہیںہیں تو اسی طرح باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر مسیح کیسے خدا کے بیٹے ہوجائیں گے۔
نجران (یمن) نزول قرآن کے زمانہ میں مسیحی مذہب کا بہت بڑا مرکز تھا۔ ان کے علما اور پیشواؤں کا ایک وفد ۹ھ میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسیحی عقائد کے بارے میں بحث کی۔ آپ نے مختلف دلائل ان کے سامنے پیش کیے۔ مثلاً آپ نے فرمایا کہ مسیح خدا کے بیٹے کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ خدا ایک زندہ ہستی ہے، اس پر کبھی موت آنے والی نہیں۔ مگر عیسیٰ پر موت اور فنا آنے والی ہے (وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء) بهجۃ المحافل وبغيۃ الاماثل، يحيى بن ابو بكر العامری، جلد2، صفحہ
15
۔آپ کے دلائل کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا مگر وہ برابر کج بحثی کرتے رہے۔ جب آپ نے دیکھا کہ وہ دلیل سے ماننے والے نہیں ہیں تو آپ ؐنے ان کو ایک آخری چیلنج دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے کو برسرِ حق سمجھتے ہو تو مباہلہ (ایک دوسرے پر لعنت کی بد دعا) کے لیے تیار ہوجاؤ۔
اگلے دن صبح کو آپ باہر نکلے۔ آپ ؐکے ساتھ آپ کے دونوں نواسے حسن اور حسین تھے۔ ان کے پیچھے حضرت فاطمہ ؓاور ان کے پیچھے حضرت علیؓ۔ نجرانی عیسائی یہ دیکھ کر مرعوب ہوگئے اور باہم مشورہ کی مہلت مانگی۔ علیحدہ مشورہ میںان کے ایک عالم نے کہا تم جانتے ہو کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں پیغمبر بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ بعید نہیں کہ یہ وہی پیغمبر ہوں۔ پھر ایک پیغمبر سے مباہلہ اور ملاعنہ کرنے کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ تمھارے چھوٹے اور بڑے سب ہلاک ہوجائیں اور نسلوں تک اس کا اثر باقی رہے۔ خدا کی قسم میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ دعا کریں تو پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم ان سے صلح کرکے اپنی بستيوں کی طرف روانہ ہوجائیں۔
آل عمران 3:62
مسیحی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت مسیح عام انسانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ ان کی پیدائش توالد وتناسل کے عام قاعدہ کے خلاف باپ کے واسطہ کے بغیر ہوئی۔ پھر آپ کو عام انسانوں کی طرح ایک انسان کیسے کہاجائے۔ آپ کا طریقِ پیدائش خود بتاتا ہے کہ وہ بشر سے ماورا تھے۔ وہ انسان کے بیٹے نہیں بلکہ خدا کے بیٹے تھے۔ کہا گیا کہ تمھارے سوال کا جواب انسان اول (آدم) کی تخلیق میں موجود ہے۔ تم خود یہ مانتے ہو کہ آدم سب سے پہلے بشر ہیں۔ وہ معروف طریقے کے مطابق مرد اور عورت کے تعلق سے وجود میں نہیں آئے۔بلکہ براہِ راست خدا کے حکم کے تحت وجود میں آئے۔ پھر باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر جب آدم خدا کے بیٹے نہیںہیں تو اسی طرح باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر مسیح کیسے خدا کے بیٹے ہوجائیں گے۔
نجران (یمن) نزول قرآن کے زمانہ میں مسیحی مذہب کا بہت بڑا مرکز تھا۔ ان کے علما اور پیشواؤں کا ایک وفد ۹ھ میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسیحی عقائد کے بارے میں بحث کی۔ آپ نے مختلف دلائل ان کے سامنے پیش کیے۔ مثلاً آپ نے فرمایا کہ مسیح خدا کے بیٹے کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ خدا ایک زندہ ہستی ہے، اس پر کبھی موت آنے والی نہیں۔ مگر عیسیٰ پر موت اور فنا آنے والی ہے (وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء) بهجۃ المحافل وبغيۃ الاماثل، يحيى بن ابو بكر العامری، جلد2، صفحہ
15
۔آپ کے دلائل کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا مگر وہ برابر کج بحثی کرتے رہے۔ جب آپ نے دیکھا کہ وہ دلیل سے ماننے والے نہیں ہیں تو آپ ؐنے ان کو ایک آخری چیلنج دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے کو برسرِ حق سمجھتے ہو تو مباہلہ (ایک دوسرے پر لعنت کی بد دعا) کے لیے تیار ہوجاؤ۔
اگلے دن صبح کو آپ باہر نکلے۔ آپ ؐکے ساتھ آپ کے دونوں نواسے حسن اور حسین تھے۔ ان کے پیچھے حضرت فاطمہ ؓاور ان کے پیچھے حضرت علیؓ۔ نجرانی عیسائی یہ دیکھ کر مرعوب ہوگئے اور باہم مشورہ کی مہلت مانگی۔ علیحدہ مشورہ میںان کے ایک عالم نے کہا تم جانتے ہو کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں پیغمبر بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ بعید نہیں کہ یہ وہی پیغمبر ہوں۔ پھر ایک پیغمبر سے مباہلہ اور ملاعنہ کرنے کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ تمھارے چھوٹے اور بڑے سب ہلاک ہوجائیں اور نسلوں تک اس کا اثر باقی رہے۔ خدا کی قسم میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ دعا کریں تو پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم ان سے صلح کرکے اپنی بستيوں کی طرف روانہ ہوجائیں۔
آل عمران 3:63
مسیحی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت مسیح عام انسانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ ان کی پیدائش توالد وتناسل کے عام قاعدہ کے خلاف باپ کے واسطہ کے بغیر ہوئی۔ پھر آپ کو عام انسانوں کی طرح ایک انسان کیسے کہاجائے۔ آپ کا طریقِ پیدائش خود بتاتا ہے کہ وہ بشر سے ماورا تھے۔ وہ انسان کے بیٹے نہیں بلکہ خدا کے بیٹے تھے۔ کہا گیا کہ تمھارے سوال کا جواب انسان اول (آدم) کی تخلیق میں موجود ہے۔ تم خود یہ مانتے ہو کہ آدم سب سے پہلے بشر ہیں۔ وہ معروف طریقے کے مطابق مرد اور عورت کے تعلق سے وجود میں نہیں آئے۔بلکہ براہِ راست خدا کے حکم کے تحت وجود میں آئے۔ پھر باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر جب آدم خدا کے بیٹے نہیںہیں تو اسی طرح باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر مسیح کیسے خدا کے بیٹے ہوجائیں گے۔
نجران (یمن) نزول قرآن کے زمانہ میں مسیحی مذہب کا بہت بڑا مرکز تھا۔ ان کے علما اور پیشواؤں کا ایک وفد ۹ھ میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسیحی عقائد کے بارے میں بحث کی۔ آپ نے مختلف دلائل ان کے سامنے پیش کیے۔ مثلاً آپ نے فرمایا کہ مسیح خدا کے بیٹے کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ خدا ایک زندہ ہستی ہے، اس پر کبھی موت آنے والی نہیں۔ مگر عیسیٰ پر موت اور فنا آنے والی ہے (وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء) بهجۃ المحافل وبغيۃ الاماثل، يحيى بن ابو بكر العامری، جلد2، صفحہ
15
۔آپ کے دلائل کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا مگر وہ برابر کج بحثی کرتے رہے۔ جب آپ نے دیکھا کہ وہ دلیل سے ماننے والے نہیں ہیں تو آپ ؐنے ان کو ایک آخری چیلنج دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے کو برسرِ حق سمجھتے ہو تو مباہلہ (ایک دوسرے پر لعنت کی بد دعا) کے لیے تیار ہوجاؤ۔
اگلے دن صبح کو آپ باہر نکلے۔ آپ ؐکے ساتھ آپ کے دونوں نواسے حسن اور حسین تھے۔ ان کے پیچھے حضرت فاطمہ ؓاور ان کے پیچھے حضرت علیؓ۔ نجرانی عیسائی یہ دیکھ کر مرعوب ہوگئے اور باہم مشورہ کی مہلت مانگی۔ علیحدہ مشورہ میںان کے ایک عالم نے کہا تم جانتے ہو کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں پیغمبر بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ بعید نہیں کہ یہ وہی پیغمبر ہوں۔ پھر ایک پیغمبر سے مباہلہ اور ملاعنہ کرنے کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ تمھارے چھوٹے اور بڑے سب ہلاک ہوجائیں اور نسلوں تک اس کا اثر باقی رہے۔ خدا کی قسم میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ دعا کریں تو پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم ان سے صلح کرکے اپنی بستيوں کی طرف روانہ ہوجائیں۔
آل عمران 3:64
توحید نہ صرف پیغمبروں کی اصل تعلیم ہے بلکہ تورات اور انجیل کے موجودہ غیر مستند نسخوں میں بھی وہ ایک مسلّم حقیقت کے طورپر موجود ہے۔ اس مسلّمہ معیار پر جانچا جائے تو اسلام ہی کامل طورپر صحیح دین ثابت ہوتا ہے، نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک ماناجائے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ کسی انسان کو وہ مقام نہ دیا جائے جو مالک کائنات کے لیے خاص ہے۔ یہ توحید اپنی خالص صورت میں صرف قرآن اور اسلام میں محفوظ ہے۔ دوسرے مذاہب نے نظری طورپر توحید کا اقرار کرتے ہوئے عملی طورپر وہ سب کچھ اختیار کرلیا جو توحید کے سراسر خلاف تھا۔ زبان سے خدا کو رب کہتے ہوئے انھوںنے اپنے نبیوں او ر بزرگوں کو عملاً رب کا درجہ دے دیا۔
مکہ کے مشرکین اپنے مذہب کو ابراہیمی مذہب کہتے تھے۔ یہود ونصاریٰ بھی اپنی مذہبی تاریخ کو حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑتے تھے۔ ہر زمانہ کے لوگ اسی طرح اپنے نبیوں اور بزرگوں کے نام کو اپنی بدعات اور تحریفات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد ان کا بنایاہوا مذہب عوام کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اسی کو اصل مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے مخالفین اس کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ مشہور کردیں کہ وہ اسلاف کے دین کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو ’’اسلاف‘‘ کے دین کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے اس کو خود اسلاف ہی کے نام پر رد کردیا جاتا ہے۔ یہ گویا حق کے اوپر باطل کا پردہ ڈالنا ہے۔ یعنی ایسی باتیں کہنا جو فی نفسہٖ بے حقیقت ہوں مگر عوام تجزیہ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو درست سمجھ لیں اور حق سے دور ہوجائیں۔ ’’مسلم حنیف‘‘ وہ ہے جو توحید کے راستہ پر یکسو ہو کر چلے اور غیرحنیف وہ ہے جو دائیں بائیں کی پگڈنڈیوں پر مڑجائے۔ کوئی ایک ذیلی پہلو کو لے کر اتنا بڑھائے کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ کوئی دوسرے ذیلی پہلو کو لے کر اس پر اتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤں کو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں۔
آل عمران 3:65
توحید نہ صرف پیغمبروں کی اصل تعلیم ہے بلکہ تورات اور انجیل کے موجودہ غیر مستند نسخوں میں بھی وہ ایک مسلّم حقیقت کے طورپر موجود ہے۔ اس مسلّمہ معیار پر جانچا جائے تو اسلام ہی کامل طورپر صحیح دین ثابت ہوتا ہے، نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک ماناجائے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ کسی انسان کو وہ مقام نہ دیا جائے جو مالک کائنات کے لیے خاص ہے۔ یہ توحید اپنی خالص صورت میں صرف قرآن اور اسلام میں محفوظ ہے۔ دوسرے مذاہب نے نظری طورپر توحید کا اقرار کرتے ہوئے عملی طورپر وہ سب کچھ اختیار کرلیا جو توحید کے سراسر خلاف تھا۔ زبان سے خدا کو رب کہتے ہوئے انھوںنے اپنے نبیوں او ر بزرگوں کو عملاً رب کا درجہ دے دیا۔
مکہ کے مشرکین اپنے مذہب کو ابراہیمی مذہب کہتے تھے۔ یہود ونصاریٰ بھی اپنی مذہبی تاریخ کو حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑتے تھے۔ ہر زمانہ کے لوگ اسی طرح اپنے نبیوں اور بزرگوں کے نام کو اپنی بدعات اور تحریفات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد ان کا بنایاہوا مذہب عوام کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اسی کو اصل مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے مخالفین اس کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ مشہور کردیں کہ وہ اسلاف کے دین کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو ’’اسلاف‘‘ کے دین کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے اس کو خود اسلاف ہی کے نام پر رد کردیا جاتا ہے۔ یہ گویا حق کے اوپر باطل کا پردہ ڈالنا ہے۔ یعنی ایسی باتیں کہنا جو فی نفسہٖ بے حقیقت ہوں مگر عوام تجزیہ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو درست سمجھ لیں اور حق سے دور ہوجائیں۔ ’’مسلم حنیف‘‘ وہ ہے جو توحید کے راستہ پر یکسو ہو کر چلے اور غیرحنیف وہ ہے جو دائیں بائیں کی پگڈنڈیوں پر مڑجائے۔ کوئی ایک ذیلی پہلو کو لے کر اتنا بڑھائے کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ کوئی دوسرے ذیلی پہلو کو لے کر اس پر اتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤں کو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں۔
آل عمران 3:66
توحید نہ صرف پیغمبروں کی اصل تعلیم ہے بلکہ تورات اور انجیل کے موجودہ غیر مستند نسخوں میں بھی وہ ایک مسلّم حقیقت کے طورپر موجود ہے۔ اس مسلّمہ معیار پر جانچا جائے تو اسلام ہی کامل طورپر صحیح دین ثابت ہوتا ہے، نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک ماناجائے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ کسی انسان کو وہ مقام نہ دیا جائے جو مالک کائنات کے لیے خاص ہے۔ یہ توحید اپنی خالص صورت میں صرف قرآن اور اسلام میں محفوظ ہے۔ دوسرے مذاہب نے نظری طورپر توحید کا اقرار کرتے ہوئے عملی طورپر وہ سب کچھ اختیار کرلیا جو توحید کے سراسر خلاف تھا۔ زبان سے خدا کو رب کہتے ہوئے انھوںنے اپنے نبیوں او ر بزرگوں کو عملاً رب کا درجہ دے دیا۔
مکہ کے مشرکین اپنے مذہب کو ابراہیمی مذہب کہتے تھے۔ یہود ونصاریٰ بھی اپنی مذہبی تاریخ کو حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑتے تھے۔ ہر زمانہ کے لوگ اسی طرح اپنے نبیوں اور بزرگوں کے نام کو اپنی بدعات اور تحریفات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد ان کا بنایاہوا مذہب عوام کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اسی کو اصل مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے مخالفین اس کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ مشہور کردیں کہ وہ اسلاف کے دین کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو ’’اسلاف‘‘ کے دین کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے اس کو خود اسلاف ہی کے نام پر رد کردیا جاتا ہے۔ یہ گویا حق کے اوپر باطل کا پردہ ڈالنا ہے۔ یعنی ایسی باتیں کہنا جو فی نفسہٖ بے حقیقت ہوں مگر عوام تجزیہ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو درست سمجھ لیں اور حق سے دور ہوجائیں۔ ’’مسلم حنیف‘‘ وہ ہے جو توحید کے راستہ پر یکسو ہو کر چلے اور غیرحنیف وہ ہے جو دائیں بائیں کی پگڈنڈیوں پر مڑجائے۔ کوئی ایک ذیلی پہلو کو لے کر اتنا بڑھائے کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ کوئی دوسرے ذیلی پہلو کو لے کر اس پر اتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤں کو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں۔
آل عمران 3:67
توحید نہ صرف پیغمبروں کی اصل تعلیم ہے بلکہ تورات اور انجیل کے موجودہ غیر مستند نسخوں میں بھی وہ ایک مسلّم حقیقت کے طورپر موجود ہے۔ اس مسلّمہ معیار پر جانچا جائے تو اسلام ہی کامل طورپر صحیح دین ثابت ہوتا ہے، نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک ماناجائے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ کسی انسان کو وہ مقام نہ دیا جائے جو مالک کائنات کے لیے خاص ہے۔ یہ توحید اپنی خالص صورت میں صرف قرآن اور اسلام میں محفوظ ہے۔ دوسرے مذاہب نے نظری طورپر توحید کا اقرار کرتے ہوئے عملی طورپر وہ سب کچھ اختیار کرلیا جو توحید کے سراسر خلاف تھا۔ زبان سے خدا کو رب کہتے ہوئے انھوںنے اپنے نبیوں او ر بزرگوں کو عملاً رب کا درجہ دے دیا۔
مکہ کے مشرکین اپنے مذہب کو ابراہیمی مذہب کہتے تھے۔ یہود ونصاریٰ بھی اپنی مذہبی تاریخ کو حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑتے تھے۔ ہر زمانہ کے لوگ اسی طرح اپنے نبیوں اور بزرگوں کے نام کو اپنی بدعات اور تحریفات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد ان کا بنایاہوا مذہب عوام کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اسی کو اصل مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے مخالفین اس کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ مشہور کردیں کہ وہ اسلاف کے دین کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو ’’اسلاف‘‘ کے دین کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے اس کو خود اسلاف ہی کے نام پر رد کردیا جاتا ہے۔ یہ گویا حق کے اوپر باطل کا پردہ ڈالنا ہے۔ یعنی ایسی باتیں کہنا جو فی نفسہٖ بے حقیقت ہوں مگر عوام تجزیہ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو درست سمجھ لیں اور حق سے دور ہوجائیں۔ ’’مسلم حنیف‘‘ وہ ہے جو توحید کے راستہ پر یکسو ہو کر چلے اور غیرحنیف وہ ہے جو دائیں بائیں کی پگڈنڈیوں پر مڑجائے۔ کوئی ایک ذیلی پہلو کو لے کر اتنا بڑھائے کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ کوئی دوسرے ذیلی پہلو کو لے کر اس پر اتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤں کو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں۔
آل عمران 3:68
توحید نہ صرف پیغمبروں کی اصل تعلیم ہے بلکہ تورات اور انجیل کے موجودہ غیر مستند نسخوں میں بھی وہ ایک مسلّم حقیقت کے طورپر موجود ہے۔ اس مسلّمہ معیار پر جانچا جائے تو اسلام ہی کامل طورپر صحیح دین ثابت ہوتا ہے، نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک ماناجائے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ کسی انسان کو وہ مقام نہ دیا جائے جو مالک کائنات کے لیے خاص ہے۔ یہ توحید اپنی خالص صورت میں صرف قرآن اور اسلام میں محفوظ ہے۔ دوسرے مذاہب نے نظری طورپر توحید کا اقرار کرتے ہوئے عملی طورپر وہ سب کچھ اختیار کرلیا جو توحید کے سراسر خلاف تھا۔ زبان سے خدا کو رب کہتے ہوئے انھوںنے اپنے نبیوں او ر بزرگوں کو عملاً رب کا درجہ دے دیا۔
مکہ کے مشرکین اپنے مذہب کو ابراہیمی مذہب کہتے تھے۔ یہود ونصاریٰ بھی اپنی مذہبی تاریخ کو حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑتے تھے۔ ہر زمانہ کے لوگ اسی طرح اپنے نبیوں اور بزرگوں کے نام کو اپنی بدعات اور تحریفات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد ان کا بنایاہوا مذہب عوام کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اسی کو اصل مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے مخالفین اس کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ مشہور کردیں کہ وہ اسلاف کے دین کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو ’’اسلاف‘‘ کے دین کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے اس کو خود اسلاف ہی کے نام پر رد کردیا جاتا ہے۔ یہ گویا حق کے اوپر باطل کا پردہ ڈالنا ہے۔ یعنی ایسی باتیں کہنا جو فی نفسہٖ بے حقیقت ہوں مگر عوام تجزیہ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو درست سمجھ لیں اور حق سے دور ہوجائیں۔ ’’مسلم حنیف‘‘ وہ ہے جو توحید کے راستہ پر یکسو ہو کر چلے اور غیرحنیف وہ ہے جو دائیں بائیں کی پگڈنڈیوں پر مڑجائے۔ کوئی ایک ذیلی پہلو کو لے کر اتنا بڑھائے کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ کوئی دوسرے ذیلی پہلو کو لے کر اس پر اتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤں کو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں۔
آل عمران 3:69
توحید نہ صرف پیغمبروں کی اصل تعلیم ہے بلکہ تورات اور انجیل کے موجودہ غیر مستند نسخوں میں بھی وہ ایک مسلّم حقیقت کے طورپر موجود ہے۔ اس مسلّمہ معیار پر جانچا جائے تو اسلام ہی کامل طورپر صحیح دین ثابت ہوتا ہے، نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک ماناجائے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ کسی انسان کو وہ مقام نہ دیا جائے جو مالک کائنات کے لیے خاص ہے۔ یہ توحید اپنی خالص صورت میں صرف قرآن اور اسلام میں محفوظ ہے۔ دوسرے مذاہب نے نظری طورپر توحید کا اقرار کرتے ہوئے عملی طورپر وہ سب کچھ اختیار کرلیا جو توحید کے سراسر خلاف تھا۔ زبان سے خدا کو رب کہتے ہوئے انھوںنے اپنے نبیوں او ر بزرگوں کو عملاً رب کا درجہ دے دیا۔
مکہ کے مشرکین اپنے مذہب کو ابراہیمی مذہب کہتے تھے۔ یہود ونصاریٰ بھی اپنی مذہبی تاریخ کو حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑتے تھے۔ ہر زمانہ کے لوگ اسی طرح اپنے نبیوں اور بزرگوں کے نام کو اپنی بدعات اور تحریفات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد ان کا بنایاہوا مذہب عوام کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اسی کو اصل مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے مخالفین اس کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ مشہور کردیں کہ وہ اسلاف کے دین کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو ’’اسلاف‘‘ کے دین کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے اس کو خود اسلاف ہی کے نام پر رد کردیا جاتا ہے۔ یہ گویا حق کے اوپر باطل کا پردہ ڈالنا ہے۔ یعنی ایسی باتیں کہنا جو فی نفسہٖ بے حقیقت ہوں مگر عوام تجزیہ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو درست سمجھ لیں اور حق سے دور ہوجائیں۔ ’’مسلم حنیف‘‘ وہ ہے جو توحید کے راستہ پر یکسو ہو کر چلے اور غیرحنیف وہ ہے جو دائیں بائیں کی پگڈنڈیوں پر مڑجائے۔ کوئی ایک ذیلی پہلو کو لے کر اتنا بڑھائے کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ کوئی دوسرے ذیلی پہلو کو لے کر اس پر اتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤں کو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں۔
آل عمران 3:70
توحید نہ صرف پیغمبروں کی اصل تعلیم ہے بلکہ تورات اور انجیل کے موجودہ غیر مستند نسخوں میں بھی وہ ایک مسلّم حقیقت کے طورپر موجود ہے۔ اس مسلّمہ معیار پر جانچا جائے تو اسلام ہی کامل طورپر صحیح دین ثابت ہوتا ہے، نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک ماناجائے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ کسی انسان کو وہ مقام نہ دیا جائے جو مالک کائنات کے لیے خاص ہے۔ یہ توحید اپنی خالص صورت میں صرف قرآن اور اسلام میں محفوظ ہے۔ دوسرے مذاہب نے نظری طورپر توحید کا اقرار کرتے ہوئے عملی طورپر وہ سب کچھ اختیار کرلیا جو توحید کے سراسر خلاف تھا۔ زبان سے خدا کو رب کہتے ہوئے انھوںنے اپنے نبیوں او ر بزرگوں کو عملاً رب کا درجہ دے دیا۔
مکہ کے مشرکین اپنے مذہب کو ابراہیمی مذہب کہتے تھے۔ یہود ونصاریٰ بھی اپنی مذہبی تاریخ کو حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑتے تھے۔ ہر زمانہ کے لوگ اسی طرح اپنے نبیوں اور بزرگوں کے نام کو اپنی بدعات اور تحریفات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد ان کا بنایاہوا مذہب عوام کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اسی کو اصل مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے مخالفین اس کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ مشہور کردیں کہ وہ اسلاف کے دین کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو ’’اسلاف‘‘ کے دین کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے اس کو خود اسلاف ہی کے نام پر رد کردیا جاتا ہے۔ یہ گویا حق کے اوپر باطل کا پردہ ڈالنا ہے۔ یعنی ایسی باتیں کہنا جو فی نفسہٖ بے حقیقت ہوں مگر عوام تجزیہ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو درست سمجھ لیں اور حق سے دور ہوجائیں۔ ’’مسلم حنیف‘‘ وہ ہے جو توحید کے راستہ پر یکسو ہو کر چلے اور غیرحنیف وہ ہے جو دائیں بائیں کی پگڈنڈیوں پر مڑجائے۔ کوئی ایک ذیلی پہلو کو لے کر اتنا بڑھائے کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ کوئی دوسرے ذیلی پہلو کو لے کر اس پر اتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤں کو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں۔
آل عمران 3:71
توحید نہ صرف پیغمبروں کی اصل تعلیم ہے بلکہ تورات اور انجیل کے موجودہ غیر مستند نسخوں میں بھی وہ ایک مسلّم حقیقت کے طورپر موجود ہے۔ اس مسلّمہ معیار پر جانچا جائے تو اسلام ہی کامل طورپر صحیح دین ثابت ہوتا ہے، نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک ماناجائے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ کسی انسان کو وہ مقام نہ دیا جائے جو مالک کائنات کے لیے خاص ہے۔ یہ توحید اپنی خالص صورت میں صرف قرآن اور اسلام میں محفوظ ہے۔ دوسرے مذاہب نے نظری طورپر توحید کا اقرار کرتے ہوئے عملی طورپر وہ سب کچھ اختیار کرلیا جو توحید کے سراسر خلاف تھا۔ زبان سے خدا کو رب کہتے ہوئے انھوںنے اپنے نبیوں او ر بزرگوں کو عملاً رب کا درجہ دے دیا۔
مکہ کے مشرکین اپنے مذہب کو ابراہیمی مذہب کہتے تھے۔ یہود ونصاریٰ بھی اپنی مذہبی تاریخ کو حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑتے تھے۔ ہر زمانہ کے لوگ اسی طرح اپنے نبیوں اور بزرگوں کے نام کو اپنی بدعات اور تحریفات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد ان کا بنایاہوا مذہب عوام کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اسی کو اصل مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے مخالفین اس کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ مشہور کردیں کہ وہ اسلاف کے دین کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو ’’اسلاف‘‘ کے دین کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے اس کو خود اسلاف ہی کے نام پر رد کردیا جاتا ہے۔ یہ گویا حق کے اوپر باطل کا پردہ ڈالنا ہے۔ یعنی ایسی باتیں کہنا جو فی نفسہٖ بے حقیقت ہوں مگر عوام تجزیہ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو درست سمجھ لیں اور حق سے دور ہوجائیں۔ ’’مسلم حنیف‘‘ وہ ہے جو توحید کے راستہ پر یکسو ہو کر چلے اور غیرحنیف وہ ہے جو دائیں بائیں کی پگڈنڈیوں پر مڑجائے۔ کوئی ایک ذیلی پہلو کو لے کر اتنا بڑھائے کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ کوئی دوسرے ذیلی پہلو کو لے کر اس پر اتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤں کو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں۔
آل عمران 3:72
ایک گروہ جس میں انبیا اور صلحا پیدا ہوئے ہوں، جس کے درمیان عرصہ تک دین کا چرچا رہے، اکثر وہ اس غلط فہمی میںپڑ جاتا ہے کہ وہ اور حق دونوں ایک ہیں۔ وہ ہدایت کوایک گروہی چیز سمجھ لیتا ہے، نہ کہ اصولی چیز۔ یہود کا معاملہ یہی تھا۔ ان کا ذہن، تاریخی روایات کے اثر سے یہ بن گیا تھا کہ جو ہمارے گروہ میں ہے وہ ہدایت پر ہے اور جو ہمارے گروہ سے باہر ہے وہ ہدایت سے خالی ہے۔ جو لوگ حق کو اس طرح گروہی چیز سمجھ لیں وہ ایسی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے جو ان کے گروہ کے باہر ظاہر ہوئی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ حق وہ ہے جو اللہ کی طرف سے آئے، نہ کہ وہ جو کسی شخص یا گروہ کی طرف سے ملے۔وہ اگر چہ دین خداوندی کا نام لیتے ہیں مگر ان کا دین حقیقۃ ً گروہ پرستی ہوتا ہے، نہ کہ خدا پرستی۔ ان کا یہ مزاج ان کی آنکھ پر ایسا پردہ ڈال دیتا ہے کہ اپنے گروہ سے باہر کسی کا فضل وکمال انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ کھلے کھلے دلائل سامنے آنے کے بعد بھی وہ اس کو شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے حلقہ سے باہر اٹھنے والی دعوتِ حق کے شدید مخالف بن جاتے ہیں —دو عملی کا طریقہ اختیار کرکے وہ اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے بنیاد باتیں مشہور کرکے لوگوں کو اس کی صداقت کے بارے میں مشتبہ کرتے ہیں۔ شریعت خداوندی کے سراسر خلاف وہ اپنے لیے اس کو جائز کر لیتے ہیں کہ وہ اخلاق کے دو معیار بنائیں، ایک غیروںکے لیے، دوسرا اپنے گروہ کے لیے۔
کسی کو اپنے دین کی نمائندگی کے لیے قبول کرنا اللہ کی خصوصی رحمت ہے۔اس کا فیصلہ گروہی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ یہ سعادت اس کو ملتی ہے جس کو اللہ اپنے علم کے مطابق پسند کرے۔ اور اللہ اس شخص کو پسند کرتا ہے جو اللہ کے ساتھ اپنے کو اس طرح وابستہ کرلے کہ وہ اس کا نگراں بن جائے جس سے وہ ڈرے، وہ اس کا آقا بن جائے جس کے ساتھ کيے ہوئے عہد اطاعت کو وہ کبھی نظر انداز نہ کرسکے — اللہ کے مقبول بندے وہ ہیں جو امانت کو پورا کرنے والے ہوں اور عہد کے پابند ہوں۔ ایسے ہی لوگوں پر اللہ کی رحمتیں اترتی ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ امانت کی ادائیگی کے معاملہ میں بے پروا ہوں اور عہد کو پورا کرنے میں حسّاس نہ رہیں وہ اللہ کے یہاں بے قیمت ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے دور کرديے جاتے ہیں۔
آل عمران 3:73
ایک گروہ جس میں انبیا اور صلحا پیدا ہوئے ہوں، جس کے درمیان عرصہ تک دین کا چرچا رہے، اکثر وہ اس غلط فہمی میںپڑ جاتا ہے کہ وہ اور حق دونوں ایک ہیں۔ وہ ہدایت کوایک گروہی چیز سمجھ لیتا ہے، نہ کہ اصولی چیز۔ یہود کا معاملہ یہی تھا۔ ان کا ذہن، تاریخی روایات کے اثر سے یہ بن گیا تھا کہ جو ہمارے گروہ میں ہے وہ ہدایت پر ہے اور جو ہمارے گروہ سے باہر ہے وہ ہدایت سے خالی ہے۔ جو لوگ حق کو اس طرح گروہی چیز سمجھ لیں وہ ایسی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے جو ان کے گروہ کے باہر ظاہر ہوئی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ حق وہ ہے جو اللہ کی طرف سے آئے، نہ کہ وہ جو کسی شخص یا گروہ کی طرف سے ملے۔وہ اگر چہ دین خداوندی کا نام لیتے ہیں مگر ان کا دین حقیقۃ ً گروہ پرستی ہوتا ہے، نہ کہ خدا پرستی۔ ان کا یہ مزاج ان کی آنکھ پر ایسا پردہ ڈال دیتا ہے کہ اپنے گروہ سے باہر کسی کا فضل وکمال انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ کھلے کھلے دلائل سامنے آنے کے بعد بھی وہ اس کو شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے حلقہ سے باہر اٹھنے والی دعوتِ حق کے شدید مخالف بن جاتے ہیں —دو عملی کا طریقہ اختیار کرکے وہ اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے بنیاد باتیں مشہور کرکے لوگوں کو اس کی صداقت کے بارے میں مشتبہ کرتے ہیں۔ شریعت خداوندی کے سراسر خلاف وہ اپنے لیے اس کو جائز کر لیتے ہیں کہ وہ اخلاق کے دو معیار بنائیں، ایک غیروںکے لیے، دوسرا اپنے گروہ کے لیے۔
کسی کو اپنے دین کی نمائندگی کے لیے قبول کرنا اللہ کی خصوصی رحمت ہے۔اس کا فیصلہ گروہی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ یہ سعادت اس کو ملتی ہے جس کو اللہ اپنے علم کے مطابق پسند کرے۔ اور اللہ اس شخص کو پسند کرتا ہے جو اللہ کے ساتھ اپنے کو اس طرح وابستہ کرلے کہ وہ اس کا نگراں بن جائے جس سے وہ ڈرے، وہ اس کا آقا بن جائے جس کے ساتھ کيے ہوئے عہد اطاعت کو وہ کبھی نظر انداز نہ کرسکے — اللہ کے مقبول بندے وہ ہیں جو امانت کو پورا کرنے والے ہوں اور عہد کے پابند ہوں۔ ایسے ہی لوگوں پر اللہ کی رحمتیں اترتی ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ امانت کی ادائیگی کے معاملہ میں بے پروا ہوں اور عہد کو پورا کرنے میں حسّاس نہ رہیں وہ اللہ کے یہاں بے قیمت ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے دور کرديے جاتے ہیں۔
آل عمران 3:74
ایک گروہ جس میں انبیا اور صلحا پیدا ہوئے ہوں، جس کے درمیان عرصہ تک دین کا چرچا رہے، اکثر وہ اس غلط فہمی میںپڑ جاتا ہے کہ وہ اور حق دونوں ایک ہیں۔ وہ ہدایت کوایک گروہی چیز سمجھ لیتا ہے، نہ کہ اصولی چیز۔ یہود کا معاملہ یہی تھا۔ ان کا ذہن، تاریخی روایات کے اثر سے یہ بن گیا تھا کہ جو ہمارے گروہ میں ہے وہ ہدایت پر ہے اور جو ہمارے گروہ سے باہر ہے وہ ہدایت سے خالی ہے۔ جو لوگ حق کو اس طرح گروہی چیز سمجھ لیں وہ ایسی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے جو ان کے گروہ کے باہر ظاہر ہوئی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ حق وہ ہے جو اللہ کی طرف سے آئے، نہ کہ وہ جو کسی شخص یا گروہ کی طرف سے ملے۔وہ اگر چہ دین خداوندی کا نام لیتے ہیں مگر ان کا دین حقیقۃ ً گروہ پرستی ہوتا ہے، نہ کہ خدا پرستی۔ ان کا یہ مزاج ان کی آنکھ پر ایسا پردہ ڈال دیتا ہے کہ اپنے گروہ سے باہر کسی کا فضل وکمال انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ کھلے کھلے دلائل سامنے آنے کے بعد بھی وہ اس کو شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے حلقہ سے باہر اٹھنے والی دعوتِ حق کے شدید مخالف بن جاتے ہیں —دو عملی کا طریقہ اختیار کرکے وہ اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے بنیاد باتیں مشہور کرکے لوگوں کو اس کی صداقت کے بارے میں مشتبہ کرتے ہیں۔ شریعت خداوندی کے سراسر خلاف وہ اپنے لیے اس کو جائز کر لیتے ہیں کہ وہ اخلاق کے دو معیار بنائیں، ایک غیروںکے لیے، دوسرا اپنے گروہ کے لیے۔
کسی کو اپنے دین کی نمائندگی کے لیے قبول کرنا اللہ کی خصوصی رحمت ہے۔اس کا فیصلہ گروہی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ یہ سعادت اس کو ملتی ہے جس کو اللہ اپنے علم کے مطابق پسند کرے۔ اور اللہ اس شخص کو پسند کرتا ہے جو اللہ کے ساتھ اپنے کو اس طرح وابستہ کرلے کہ وہ اس کا نگراں بن جائے جس سے وہ ڈرے، وہ اس کا آقا بن جائے جس کے ساتھ کيے ہوئے عہد اطاعت کو وہ کبھی نظر انداز نہ کرسکے — اللہ کے مقبول بندے وہ ہیں جو امانت کو پورا کرنے والے ہوں اور عہد کے پابند ہوں۔ ایسے ہی لوگوں پر اللہ کی رحمتیں اترتی ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ امانت کی ادائیگی کے معاملہ میں بے پروا ہوں اور عہد کو پورا کرنے میں حسّاس نہ رہیں وہ اللہ کے یہاں بے قیمت ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے دور کرديے جاتے ہیں۔
آل عمران 3:75
ایک گروہ جس میں انبیا اور صلحا پیدا ہوئے ہوں، جس کے درمیان عرصہ تک دین کا چرچا رہے، اکثر وہ اس غلط فہمی میںپڑ جاتا ہے کہ وہ اور حق دونوں ایک ہیں۔ وہ ہدایت کوایک گروہی چیز سمجھ لیتا ہے، نہ کہ اصولی چیز۔ یہود کا معاملہ یہی تھا۔ ان کا ذہن، تاریخی روایات کے اثر سے یہ بن گیا تھا کہ جو ہمارے گروہ میں ہے وہ ہدایت پر ہے اور جو ہمارے گروہ سے باہر ہے وہ ہدایت سے خالی ہے۔ جو لوگ حق کو اس طرح گروہی چیز سمجھ لیں وہ ایسی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے جو ان کے گروہ کے باہر ظاہر ہوئی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ حق وہ ہے جو اللہ کی طرف سے آئے، نہ کہ وہ جو کسی شخص یا گروہ کی طرف سے ملے۔وہ اگر چہ دین خداوندی کا نام لیتے ہیں مگر ان کا دین حقیقۃ ً گروہ پرستی ہوتا ہے، نہ کہ خدا پرستی۔ ان کا یہ مزاج ان کی آنکھ پر ایسا پردہ ڈال دیتا ہے کہ اپنے گروہ سے باہر کسی کا فضل وکمال انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ کھلے کھلے دلائل سامنے آنے کے بعد بھی وہ اس کو شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے حلقہ سے باہر اٹھنے والی دعوتِ حق کے شدید مخالف بن جاتے ہیں —دو عملی کا طریقہ اختیار کرکے وہ اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے بنیاد باتیں مشہور کرکے لوگوں کو اس کی صداقت کے بارے میں مشتبہ کرتے ہیں۔ شریعت خداوندی کے سراسر خلاف وہ اپنے لیے اس کو جائز کر لیتے ہیں کہ وہ اخلاق کے دو معیار بنائیں، ایک غیروںکے لیے، دوسرا اپنے گروہ کے لیے۔
کسی کو اپنے دین کی نمائندگی کے لیے قبول کرنا اللہ کی خصوصی رحمت ہے۔اس کا فیصلہ گروہی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ یہ سعادت اس کو ملتی ہے جس کو اللہ اپنے علم کے مطابق پسند کرے۔ اور اللہ اس شخص کو پسند کرتا ہے جو اللہ کے ساتھ اپنے کو اس طرح وابستہ کرلے کہ وہ اس کا نگراں بن جائے جس سے وہ ڈرے، وہ اس کا آقا بن جائے جس کے ساتھ کيے ہوئے عہد اطاعت کو وہ کبھی نظر انداز نہ کرسکے — اللہ کے مقبول بندے وہ ہیں جو امانت کو پورا کرنے والے ہوں اور عہد کے پابند ہوں۔ ایسے ہی لوگوں پر اللہ کی رحمتیں اترتی ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ امانت کی ادائیگی کے معاملہ میں بے پروا ہوں اور عہد کو پورا کرنے میں حسّاس نہ رہیں وہ اللہ کے یہاں بے قیمت ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے دور کرديے جاتے ہیں۔
آل عمران 3:76
ایک گروہ جس میں انبیا اور صلحا پیدا ہوئے ہوں، جس کے درمیان عرصہ تک دین کا چرچا رہے، اکثر وہ اس غلط فہمی میںپڑ جاتا ہے کہ وہ اور حق دونوں ایک ہیں۔ وہ ہدایت کوایک گروہی چیز سمجھ لیتا ہے، نہ کہ اصولی چیز۔ یہود کا معاملہ یہی تھا۔ ان کا ذہن، تاریخی روایات کے اثر سے یہ بن گیا تھا کہ جو ہمارے گروہ میں ہے وہ ہدایت پر ہے اور جو ہمارے گروہ سے باہر ہے وہ ہدایت سے خالی ہے۔ جو لوگ حق کو اس طرح گروہی چیز سمجھ لیں وہ ایسی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے جو ان کے گروہ کے باہر ظاہر ہوئی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ حق وہ ہے جو اللہ کی طرف سے آئے، نہ کہ وہ جو کسی شخص یا گروہ کی طرف سے ملے۔وہ اگر چہ دین خداوندی کا نام لیتے ہیں مگر ان کا دین حقیقۃ ً گروہ پرستی ہوتا ہے، نہ کہ خدا پرستی۔ ان کا یہ مزاج ان کی آنکھ پر ایسا پردہ ڈال دیتا ہے کہ اپنے گروہ سے باہر کسی کا فضل وکمال انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ کھلے کھلے دلائل سامنے آنے کے بعد بھی وہ اس کو شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے حلقہ سے باہر اٹھنے والی دعوتِ حق کے شدید مخالف بن جاتے ہیں —دو عملی کا طریقہ اختیار کرکے وہ اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے بنیاد باتیں مشہور کرکے لوگوں کو اس کی صداقت کے بارے میں مشتبہ کرتے ہیں۔ شریعت خداوندی کے سراسر خلاف وہ اپنے لیے اس کو جائز کر لیتے ہیں کہ وہ اخلاق کے دو معیار بنائیں، ایک غیروںکے لیے، دوسرا اپنے گروہ کے لیے۔
کسی کو اپنے دین کی نمائندگی کے لیے قبول کرنا اللہ کی خصوصی رحمت ہے۔اس کا فیصلہ گروہی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ یہ سعادت اس کو ملتی ہے جس کو اللہ اپنے علم کے مطابق پسند کرے۔ اور اللہ اس شخص کو پسند کرتا ہے جو اللہ کے ساتھ اپنے کو اس طرح وابستہ کرلے کہ وہ اس کا نگراں بن جائے جس سے وہ ڈرے، وہ اس کا آقا بن جائے جس کے ساتھ کيے ہوئے عہد اطاعت کو وہ کبھی نظر انداز نہ کرسکے — اللہ کے مقبول بندے وہ ہیں جو امانت کو پورا کرنے والے ہوں اور عہد کے پابند ہوں۔ ایسے ہی لوگوں پر اللہ کی رحمتیں اترتی ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ امانت کی ادائیگی کے معاملہ میں بے پروا ہوں اور عہد کو پورا کرنے میں حسّاس نہ رہیں وہ اللہ کے یہاں بے قیمت ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے دور کرديے جاتے ہیں۔
آل عمران 3:77
ایک شخص جب ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ سے اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ اس کی فرماں برداری کرے گا اور بندوں کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے ان تمام ذمہ داریوں کو پورا کرے گا جو خدا کی شریعت کی طرف سے اس پر عائد ہوتی ہے۔ یہ ایک پابند زندگی ہے جس کو عہد کی زندگی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اس زندگی پر قائم ہونے کے لیے نفس کی آزادیوں کو ختم کرنا پڑتا ہے، بار بار اپنے فائدوں اور مصلحتوں کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس لیے اس عہد کی زندگی کو وہی شخص نباہ سکتا ہے جو نفع نقصان سے بے نیاز ہو کر اس کو اختیار کرے۔ جس شخص کا حال یہ ہو کہ نفس پر چوٹ پڑے یا دنیا کا مفاد خطرہ میں نظر آئے تو وہ عہد خداوندی کو نظر انداز کردے اور اپنے فائدوں اور مصلحتوں کی طرف جھک جائے، اس نے گویا آخرت کو دے کر دنیا خریدی۔ جب آخرت کے پہلو اور دنیا کے پہلو میں سے کسی ایک کو لینے کا سوا ل آیا تو اس نے دنیا کے پہلو کو ترجیح دی۔ جو شخص آخرت کو اتنی بے قیمت چیز سمجھ لے وہ آخرت میںاللہ کی عنایتوں کا حق دار کس طرح ہوسکتا ہے۔
جو لوگ آخر ت کو اپنی دنیا کا سودا بنائیں وہ دین یا آخرت کے منکر نہیں ہوجاتے۔ بلکہ دین اور آخرت کے پورے اقرار کے ساتھ ایسا کرتے ہیں۔ پھر ان دو متضاد رویوں کو وہ کس طرح ایک دوسرے کے مطابق بناتے ہیں۔ اس کا ذریعہ تحریف ہے، یعنی آسمانی تعلیمات کو خود ساختہ معنی پہنانا۔ ایسے لوگ اپنی دنیا پرستانہ روش کو آخرت پسندی اور خدا پرستی ثابت کرنے کے لیے دینی تعلیمات کو اپنے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ کبھی خدا کے الفاظ کو بدل کر اور کبھی خدا کے الفاظ کی اپنی مفید مطلب تشریح کرکے۔ وہ اپنے آپ کو بدلنے کے بجائے کتاب الٰہی کو بدل دیتے ہیں تاکہ جو چیز کتاب الٰہی میں نہیں ہے اس کو عین کتاب الٰہی کی چیز بنا دیں، اپنی بے خدا زندگی کو باخدا زندگی ثابت کردکھائیں۔ اللہ کے نزدیک یہ بد ترین جرم ہے کہ آدمی اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کرے جو اللہ نے نہ کہی ہو۔
کسی تعلیم کی صداقت کی سادہ اور یقینی پہچان یہ ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو اللہ سے ملائے، لوگوں کے خوف ومحبت کے جذبات کو بیدار کرکے اس کو اللہ کی طرف موڑ دے۔ اس کے برعکس، جو تعلیم شخصیت پرستی یا اور کوئی پرسـتی پیدا کرے، جو انسان کے نازک جذبات کا مرکز توجہ کسی غیر خدا کو بناتی ہو، اس کے متعلق سمجھنا چاہیے کہ وہ سراسر باطل ہے خواہ بظاہر اپنے اوپر اس نے حق کا لیبل کیوں نہ لگا رکھا ہو۔
آل عمران 3:78
ایک شخص جب ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ سے اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ اس کی فرماں برداری کرے گا اور بندوں کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے ان تمام ذمہ داریوں کو پورا کرے گا جو خدا کی شریعت کی طرف سے اس پر عائد ہوتی ہے۔ یہ ایک پابند زندگی ہے جس کو عہد کی زندگی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اس زندگی پر قائم ہونے کے لیے نفس کی آزادیوں کو ختم کرنا پڑتا ہے، بار بار اپنے فائدوں اور مصلحتوں کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس لیے اس عہد کی زندگی کو وہی شخص نباہ سکتا ہے جو نفع نقصان سے بے نیاز ہو کر اس کو اختیار کرے۔ جس شخص کا حال یہ ہو کہ نفس پر چوٹ پڑے یا دنیا کا مفاد خطرہ میں نظر آئے تو وہ عہد خداوندی کو نظر انداز کردے اور اپنے فائدوں اور مصلحتوں کی طرف جھک جائے، اس نے گویا آخرت کو دے کر دنیا خریدی۔ جب آخرت کے پہلو اور دنیا کے پہلو میں سے کسی ایک کو لینے کا سوا ل آیا تو اس نے دنیا کے پہلو کو ترجیح دی۔ جو شخص آخرت کو اتنی بے قیمت چیز سمجھ لے وہ آخرت میںاللہ کی عنایتوں کا حق دار کس طرح ہوسکتا ہے۔
جو لوگ آخر ت کو اپنی دنیا کا سودا بنائیں وہ دین یا آخرت کے منکر نہیں ہوجاتے۔ بلکہ دین اور آخرت کے پورے اقرار کے ساتھ ایسا کرتے ہیں۔ پھر ان دو متضاد رویوں کو وہ کس طرح ایک دوسرے کے مطابق بناتے ہیں۔ اس کا ذریعہ تحریف ہے، یعنی آسمانی تعلیمات کو خود ساختہ معنی پہنانا۔ ایسے لوگ اپنی دنیا پرستانہ روش کو آخرت پسندی اور خدا پرستی ثابت کرنے کے لیے دینی تعلیمات کو اپنے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ کبھی خدا کے الفاظ کو بدل کر اور کبھی خدا کے الفاظ کی اپنی مفید مطلب تشریح کرکے۔ وہ اپنے آپ کو بدلنے کے بجائے کتاب الٰہی کو بدل دیتے ہیں تاکہ جو چیز کتاب الٰہی میں نہیں ہے اس کو عین کتاب الٰہی کی چیز بنا دیں، اپنی بے خدا زندگی کو باخدا زندگی ثابت کردکھائیں۔ اللہ کے نزدیک یہ بد ترین جرم ہے کہ آدمی اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کرے جو اللہ نے نہ کہی ہو۔
کسی تعلیم کی صداقت کی سادہ اور یقینی پہچان یہ ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو اللہ سے ملائے، لوگوں کے خوف ومحبت کے جذبات کو بیدار کرکے اس کو اللہ کی طرف موڑ دے۔ اس کے برعکس، جو تعلیم شخصیت پرستی یا اور کوئی پرسـتی پیدا کرے، جو انسان کے نازک جذبات کا مرکز توجہ کسی غیر خدا کو بناتی ہو، اس کے متعلق سمجھنا چاہیے کہ وہ سراسر باطل ہے خواہ بظاہر اپنے اوپر اس نے حق کا لیبل کیوں نہ لگا رکھا ہو۔
آل عمران 3:79
ایک شخص جب ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ سے اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ اس کی فرماں برداری کرے گا اور بندوں کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے ان تمام ذمہ داریوں کو پورا کرے گا جو خدا کی شریعت کی طرف سے اس پر عائد ہوتی ہے۔ یہ ایک پابند زندگی ہے جس کو عہد کی زندگی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اس زندگی پر قائم ہونے کے لیے نفس کی آزادیوں کو ختم کرنا پڑتا ہے، بار بار اپنے فائدوں اور مصلحتوں کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس لیے اس عہد کی زندگی کو وہی شخص نباہ سکتا ہے جو نفع نقصان سے بے نیاز ہو کر اس کو اختیار کرے۔ جس شخص کا حال یہ ہو کہ نفس پر چوٹ پڑے یا دنیا کا مفاد خطرہ میں نظر آئے تو وہ عہد خداوندی کو نظر انداز کردے اور اپنے فائدوں اور مصلحتوں کی طرف جھک جائے، اس نے گویا آخرت کو دے کر دنیا خریدی۔ جب آخرت کے پہلو اور دنیا کے پہلو میں سے کسی ایک کو لینے کا سوا ل آیا تو اس نے دنیا کے پہلو کو ترجیح دی۔ جو شخص آخرت کو اتنی بے قیمت چیز سمجھ لے وہ آخرت میںاللہ کی عنایتوں کا حق دار کس طرح ہوسکتا ہے۔
جو لوگ آخر ت کو اپنی دنیا کا سودا بنائیں وہ دین یا آخرت کے منکر نہیں ہوجاتے۔ بلکہ دین اور آخرت کے پورے اقرار کے ساتھ ایسا کرتے ہیں۔ پھر ان دو متضاد رویوں کو وہ کس طرح ایک دوسرے کے مطابق بناتے ہیں۔ اس کا ذریعہ تحریف ہے، یعنی آسمانی تعلیمات کو خود ساختہ معنی پہنانا۔ ایسے لوگ اپنی دنیا پرستانہ روش کو آخرت پسندی اور خدا پرستی ثابت کرنے کے لیے دینی تعلیمات کو اپنے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ کبھی خدا کے الفاظ کو بدل کر اور کبھی خدا کے الفاظ کی اپنی مفید مطلب تشریح کرکے۔ وہ اپنے آپ کو بدلنے کے بجائے کتاب الٰہی کو بدل دیتے ہیں تاکہ جو چیز کتاب الٰہی میں نہیں ہے اس کو عین کتاب الٰہی کی چیز بنا دیں، اپنی بے خدا زندگی کو باخدا زندگی ثابت کردکھائیں۔ اللہ کے نزدیک یہ بد ترین جرم ہے کہ آدمی اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کرے جو اللہ نے نہ کہی ہو۔
کسی تعلیم کی صداقت کی سادہ اور یقینی پہچان یہ ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو اللہ سے ملائے، لوگوں کے خوف ومحبت کے جذبات کو بیدار کرکے اس کو اللہ کی طرف موڑ دے۔ اس کے برعکس، جو تعلیم شخصیت پرستی یا اور کوئی پرسـتی پیدا کرے، جو انسان کے نازک جذبات کا مرکز توجہ کسی غیر خدا کو بناتی ہو، اس کے متعلق سمجھنا چاہیے کہ وہ سراسر باطل ہے خواہ بظاہر اپنے اوپر اس نے حق کا لیبل کیوں نہ لگا رکھا ہو۔
آل عمران 3:80
ایک شخص جب ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ سے اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ اس کی فرماں برداری کرے گا اور بندوں کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے ان تمام ذمہ داریوں کو پورا کرے گا جو خدا کی شریعت کی طرف سے اس پر عائد ہوتی ہے۔ یہ ایک پابند زندگی ہے جس کو عہد کی زندگی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اس زندگی پر قائم ہونے کے لیے نفس کی آزادیوں کو ختم کرنا پڑتا ہے، بار بار اپنے فائدوں اور مصلحتوں کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس لیے اس عہد کی زندگی کو وہی شخص نباہ سکتا ہے جو نفع نقصان سے بے نیاز ہو کر اس کو اختیار کرے۔ جس شخص کا حال یہ ہو کہ نفس پر چوٹ پڑے یا دنیا کا مفاد خطرہ میں نظر آئے تو وہ عہد خداوندی کو نظر انداز کردے اور اپنے فائدوں اور مصلحتوں کی طرف جھک جائے، اس نے گویا آخرت کو دے کر دنیا خریدی۔ جب آخرت کے پہلو اور دنیا کے پہلو میں سے کسی ایک کو لینے کا سوا ل آیا تو اس نے دنیا کے پہلو کو ترجیح دی۔ جو شخص آخرت کو اتنی بے قیمت چیز سمجھ لے وہ آخرت میںاللہ کی عنایتوں کا حق دار کس طرح ہوسکتا ہے۔
جو لوگ آخر ت کو اپنی دنیا کا سودا بنائیں وہ دین یا آخرت کے منکر نہیں ہوجاتے۔ بلکہ دین اور آخرت کے پورے اقرار کے ساتھ ایسا کرتے ہیں۔ پھر ان دو متضاد رویوں کو وہ کس طرح ایک دوسرے کے مطابق بناتے ہیں۔ اس کا ذریعہ تحریف ہے، یعنی آسمانی تعلیمات کو خود ساختہ معنی پہنانا۔ ایسے لوگ اپنی دنیا پرستانہ روش کو آخرت پسندی اور خدا پرستی ثابت کرنے کے لیے دینی تعلیمات کو اپنے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ کبھی خدا کے الفاظ کو بدل کر اور کبھی خدا کے الفاظ کی اپنی مفید مطلب تشریح کرکے۔ وہ اپنے آپ کو بدلنے کے بجائے کتاب الٰہی کو بدل دیتے ہیں تاکہ جو چیز کتاب الٰہی میں نہیں ہے اس کو عین کتاب الٰہی کی چیز بنا دیں، اپنی بے خدا زندگی کو باخدا زندگی ثابت کردکھائیں۔ اللہ کے نزدیک یہ بد ترین جرم ہے کہ آدمی اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کرے جو اللہ نے نہ کہی ہو۔
کسی تعلیم کی صداقت کی سادہ اور یقینی پہچان یہ ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو اللہ سے ملائے، لوگوں کے خوف ومحبت کے جذبات کو بیدار کرکے اس کو اللہ کی طرف موڑ دے۔ اس کے برعکس، جو تعلیم شخصیت پرستی یا اور کوئی پرسـتی پیدا کرے، جو انسان کے نازک جذبات کا مرکز توجہ کسی غیر خدا کو بناتی ہو، اس کے متعلق سمجھنا چاہیے کہ وہ سراسر باطل ہے خواہ بظاہر اپنے اوپر اس نے حق کا لیبل کیوں نہ لگا رکھا ہو۔
آل عمران 3:81
اللہ کو پانا ایک ابدی حقیقت کو پانا ہے،یہ پوری کائنات کا ہم سفر بننا ہے۔ جو لوگ اس طرح اللہ کو پالیں وہ ہر قسم کے تعصبات سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ وہ حق کو ہر حال میں پہچان لیتے ہیں، چاہے اس کا پیغام ’’اسرائیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے بلند ہو یا ’’اسماعیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے۔ مگر جو لوگ گروہ پرستی کی سطح پر جی رہے ہوں، حق ان کو حق کی صورت میں صرف اس وقت نظر آتا ہے جب کہ وہ ان کے اپنے گروہ کے کسی فرد کی طرف سے آئے۔ اللہ اگر ان کے گروہ سے باہر کسی شخص کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے اٹھائے تو ایسا پیغام ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتا۔ حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ ان کا دل اس کے حق وصداقت ہونے کی گواہی دے رہا ہو۔ ایسے لوگ خواہ اپنے کو ماننے والوں میں شمار کریں مگر اللہ کے یہاں ان کا نام نہ ماننے والوں میں لکھا جاتا ہے۔ کیوں کہ انھوں نے حق کو اپنے گروہ کی نسبت سے جانا، نہ کہ اللہ کی نسبت سے۔ ایسے حق کا اقرار نہ کرنا جس کے حق ہونے پر آدمی کے دل نے گواہی دی ہو، اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ ایسے لوگ آخرت میں اتنے ذلیل ہوں گے کہ اللہ اور اس کی تمام مخلوقات ان پر لعنت کریں گی۔
اپنے سے باہر ظاہر ہونے والے حق کاا عتراف نہ کرنا بظاہر اپنے ایمان کو بچانا ہے۔ مگر حقیقۃً یہ اپنے ایمان کو برباد کرنا ہے۔ اللہ کا مومن بندہ اللہ کے مسلسل فیضان پر جیتا ہے۔ پھر جو شخص اپنے کو خود پرستی اور گروہ پرستی کے خول میں بند کرلے اس کے اندر اللہ کا فیضان کس راستہ سے داخل ہوگا۔ اور اللہ کے فیضان سے محرومی کے بعد وہ کیا چیز ہوگی جو اس کے ایمان کی پرورش کرے۔
آل عمران 3:82
اللہ کو پانا ایک ابدی حقیقت کو پانا ہے،یہ پوری کائنات کا ہم سفر بننا ہے۔ جو لوگ اس طرح اللہ کو پالیں وہ ہر قسم کے تعصبات سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ وہ حق کو ہر حال میں پہچان لیتے ہیں، چاہے اس کا پیغام ’’اسرائیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے بلند ہو یا ’’اسماعیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے۔ مگر جو لوگ گروہ پرستی کی سطح پر جی رہے ہوں، حق ان کو حق کی صورت میں صرف اس وقت نظر آتا ہے جب کہ وہ ان کے اپنے گروہ کے کسی فرد کی طرف سے آئے۔ اللہ اگر ان کے گروہ سے باہر کسی شخص کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے اٹھائے تو ایسا پیغام ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتا۔ حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ ان کا دل اس کے حق وصداقت ہونے کی گواہی دے رہا ہو۔ ایسے لوگ خواہ اپنے کو ماننے والوں میں شمار کریں مگر اللہ کے یہاں ان کا نام نہ ماننے والوں میں لکھا جاتا ہے۔ کیوں کہ انھوں نے حق کو اپنے گروہ کی نسبت سے جانا، نہ کہ اللہ کی نسبت سے۔ ایسے حق کا اقرار نہ کرنا جس کے حق ہونے پر آدمی کے دل نے گواہی دی ہو، اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ ایسے لوگ آخرت میں اتنے ذلیل ہوں گے کہ اللہ اور اس کی تمام مخلوقات ان پر لعنت کریں گی۔
اپنے سے باہر ظاہر ہونے والے حق کاا عتراف نہ کرنا بظاہر اپنے ایمان کو بچانا ہے۔ مگر حقیقۃً یہ اپنے ایمان کو برباد کرنا ہے۔ اللہ کا مومن بندہ اللہ کے مسلسل فیضان پر جیتا ہے۔ پھر جو شخص اپنے کو خود پرستی اور گروہ پرستی کے خول میں بند کرلے اس کے اندر اللہ کا فیضان کس راستہ سے داخل ہوگا۔ اور اللہ کے فیضان سے محرومی کے بعد وہ کیا چیز ہوگی جو اس کے ایمان کی پرورش کرے۔
آل عمران 3:83
اللہ کو پانا ایک ابدی حقیقت کو پانا ہے،یہ پوری کائنات کا ہم سفر بننا ہے۔ جو لوگ اس طرح اللہ کو پالیں وہ ہر قسم کے تعصبات سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ وہ حق کو ہر حال میں پہچان لیتے ہیں، چاہے اس کا پیغام ’’اسرائیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے بلند ہو یا ’’اسماعیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے۔ مگر جو لوگ گروہ پرستی کی سطح پر جی رہے ہوں، حق ان کو حق کی صورت میں صرف اس وقت نظر آتا ہے جب کہ وہ ان کے اپنے گروہ کے کسی فرد کی طرف سے آئے۔ اللہ اگر ان کے گروہ سے باہر کسی شخص کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے اٹھائے تو ایسا پیغام ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتا۔ حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ ان کا دل اس کے حق وصداقت ہونے کی گواہی دے رہا ہو۔ ایسے لوگ خواہ اپنے کو ماننے والوں میں شمار کریں مگر اللہ کے یہاں ان کا نام نہ ماننے والوں میں لکھا جاتا ہے۔ کیوں کہ انھوں نے حق کو اپنے گروہ کی نسبت سے جانا، نہ کہ اللہ کی نسبت سے۔ ایسے حق کا اقرار نہ کرنا جس کے حق ہونے پر آدمی کے دل نے گواہی دی ہو، اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ ایسے لوگ آخرت میں اتنے ذلیل ہوں گے کہ اللہ اور اس کی تمام مخلوقات ان پر لعنت کریں گی۔
اپنے سے باہر ظاہر ہونے والے حق کاا عتراف نہ کرنا بظاہر اپنے ایمان کو بچانا ہے۔ مگر حقیقۃً یہ اپنے ایمان کو برباد کرنا ہے۔ اللہ کا مومن بندہ اللہ کے مسلسل فیضان پر جیتا ہے۔ پھر جو شخص اپنے کو خود پرستی اور گروہ پرستی کے خول میں بند کرلے اس کے اندر اللہ کا فیضان کس راستہ سے داخل ہوگا۔ اور اللہ کے فیضان سے محرومی کے بعد وہ کیا چیز ہوگی جو اس کے ایمان کی پرورش کرے۔
آل عمران 3:84
اللہ کو پانا ایک ابدی حقیقت کو پانا ہے،یہ پوری کائنات کا ہم سفر بننا ہے۔ جو لوگ اس طرح اللہ کو پالیں وہ ہر قسم کے تعصبات سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ وہ حق کو ہر حال میں پہچان لیتے ہیں، چاہے اس کا پیغام ’’اسرائیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے بلند ہو یا ’’اسماعیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے۔ مگر جو لوگ گروہ پرستی کی سطح پر جی رہے ہوں، حق ان کو حق کی صورت میں صرف اس وقت نظر آتا ہے جب کہ وہ ان کے اپنے گروہ کے کسی فرد کی طرف سے آئے۔ اللہ اگر ان کے گروہ سے باہر کسی شخص کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے اٹھائے تو ایسا پیغام ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتا۔ حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ ان کا دل اس کے حق وصداقت ہونے کی گواہی دے رہا ہو۔ ایسے لوگ خواہ اپنے کو ماننے والوں میں شمار کریں مگر اللہ کے یہاں ان کا نام نہ ماننے والوں میں لکھا جاتا ہے۔ کیوں کہ انھوں نے حق کو اپنے گروہ کی نسبت سے جانا، نہ کہ اللہ کی نسبت سے۔ ایسے حق کا اقرار نہ کرنا جس کے حق ہونے پر آدمی کے دل نے گواہی دی ہو، اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ ایسے لوگ آخرت میں اتنے ذلیل ہوں گے کہ اللہ اور اس کی تمام مخلوقات ان پر لعنت کریں گی۔
اپنے سے باہر ظاہر ہونے والے حق کاا عتراف نہ کرنا بظاہر اپنے ایمان کو بچانا ہے۔ مگر حقیقۃً یہ اپنے ایمان کو برباد کرنا ہے۔ اللہ کا مومن بندہ اللہ کے مسلسل فیضان پر جیتا ہے۔ پھر جو شخص اپنے کو خود پرستی اور گروہ پرستی کے خول میں بند کرلے اس کے اندر اللہ کا فیضان کس راستہ سے داخل ہوگا۔ اور اللہ کے فیضان سے محرومی کے بعد وہ کیا چیز ہوگی جو اس کے ایمان کی پرورش کرے۔
آل عمران 3:85
اللہ کو پانا ایک ابدی حقیقت کو پانا ہے،یہ پوری کائنات کا ہم سفر بننا ہے۔ جو لوگ اس طرح اللہ کو پالیں وہ ہر قسم کے تعصبات سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ وہ حق کو ہر حال میں پہچان لیتے ہیں، چاہے اس کا پیغام ’’اسرائیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے بلند ہو یا ’’اسماعیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے۔ مگر جو لوگ گروہ پرستی کی سطح پر جی رہے ہوں، حق ان کو حق کی صورت میں صرف اس وقت نظر آتا ہے جب کہ وہ ان کے اپنے گروہ کے کسی فرد کی طرف سے آئے۔ اللہ اگر ان کے گروہ سے باہر کسی شخص کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے اٹھائے تو ایسا پیغام ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتا۔ حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ ان کا دل اس کے حق وصداقت ہونے کی گواہی دے رہا ہو۔ ایسے لوگ خواہ اپنے کو ماننے والوں میں شمار کریں مگر اللہ کے یہاں ان کا نام نہ ماننے والوں میں لکھا جاتا ہے۔ کیوں کہ انھوں نے حق کو اپنے گروہ کی نسبت سے جانا، نہ کہ اللہ کی نسبت سے۔ ایسے حق کا اقرار نہ کرنا جس کے حق ہونے پر آدمی کے دل نے گواہی دی ہو، اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ ایسے لوگ آخرت میں اتنے ذلیل ہوں گے کہ اللہ اور اس کی تمام مخلوقات ان پر لعنت کریں گی۔
اپنے سے باہر ظاہر ہونے والے حق کاا عتراف نہ کرنا بظاہر اپنے ایمان کو بچانا ہے۔ مگر حقیقۃً یہ اپنے ایمان کو برباد کرنا ہے۔ اللہ کا مومن بندہ اللہ کے مسلسل فیضان پر جیتا ہے۔ پھر جو شخص اپنے کو خود پرستی اور گروہ پرستی کے خول میں بند کرلے اس کے اندر اللہ کا فیضان کس راستہ سے داخل ہوگا۔ اور اللہ کے فیضان سے محرومی کے بعد وہ کیا چیز ہوگی جو اس کے ایمان کی پرورش کرے۔
آل عمران 3:86
اللہ کو پانا ایک ابدی حقیقت کو پانا ہے،یہ پوری کائنات کا ہم سفر بننا ہے۔ جو لوگ اس طرح اللہ کو پالیں وہ ہر قسم کے تعصبات سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ وہ حق کو ہر حال میں پہچان لیتے ہیں، چاہے اس کا پیغام ’’اسرائیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے بلند ہو یا ’’اسماعیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے۔ مگر جو لوگ گروہ پرستی کی سطح پر جی رہے ہوں، حق ان کو حق کی صورت میں صرف اس وقت نظر آتا ہے جب کہ وہ ان کے اپنے گروہ کے کسی فرد کی طرف سے آئے۔ اللہ اگر ان کے گروہ سے باہر کسی شخص کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے اٹھائے تو ایسا پیغام ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتا۔ حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ ان کا دل اس کے حق وصداقت ہونے کی گواہی دے رہا ہو۔ ایسے لوگ خواہ اپنے کو ماننے والوں میں شمار کریں مگر اللہ کے یہاں ان کا نام نہ ماننے والوں میں لکھا جاتا ہے۔ کیوں کہ انھوں نے حق کو اپنے گروہ کی نسبت سے جانا، نہ کہ اللہ کی نسبت سے۔ ایسے حق کا اقرار نہ کرنا جس کے حق ہونے پر آدمی کے دل نے گواہی دی ہو، اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ ایسے لوگ آخرت میں اتنے ذلیل ہوں گے کہ اللہ اور اس کی تمام مخلوقات ان پر لعنت کریں گی۔
اپنے سے باہر ظاہر ہونے والے حق کاا عتراف نہ کرنا بظاہر اپنے ایمان کو بچانا ہے۔ مگر حقیقۃً یہ اپنے ایمان کو برباد کرنا ہے۔ اللہ کا مومن بندہ اللہ کے مسلسل فیضان پر جیتا ہے۔ پھر جو شخص اپنے کو خود پرستی اور گروہ پرستی کے خول میں بند کرلے اس کے اندر اللہ کا فیضان کس راستہ سے داخل ہوگا۔ اور اللہ کے فیضان سے محرومی کے بعد وہ کیا چیز ہوگی جو اس کے ایمان کی پرورش کرے۔
آل عمران 3:87
اللہ کو پانا ایک ابدی حقیقت کو پانا ہے،یہ پوری کائنات کا ہم سفر بننا ہے۔ جو لوگ اس طرح اللہ کو پالیں وہ ہر قسم کے تعصبات سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ وہ حق کو ہر حال میں پہچان لیتے ہیں، چاہے اس کا پیغام ’’اسرائیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے بلند ہو یا ’’اسماعیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے۔ مگر جو لوگ گروہ پرستی کی سطح پر جی رہے ہوں، حق ان کو حق کی صورت میں صرف اس وقت نظر آتا ہے جب کہ وہ ان کے اپنے گروہ کے کسی فرد کی طرف سے آئے۔ اللہ اگر ان کے گروہ سے باہر کسی شخص کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے اٹھائے تو ایسا پیغام ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتا۔ حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ ان کا دل اس کے حق وصداقت ہونے کی گواہی دے رہا ہو۔ ایسے لوگ خواہ اپنے کو ماننے والوں میں شمار کریں مگر اللہ کے یہاں ان کا نام نہ ماننے والوں میں لکھا جاتا ہے۔ کیوں کہ انھوں نے حق کو اپنے گروہ کی نسبت سے جانا، نہ کہ اللہ کی نسبت سے۔ ایسے حق کا اقرار نہ کرنا جس کے حق ہونے پر آدمی کے دل نے گواہی دی ہو، اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ ایسے لوگ آخرت میں اتنے ذلیل ہوں گے کہ اللہ اور اس کی تمام مخلوقات ان پر لعنت کریں گی۔
اپنے سے باہر ظاہر ہونے والے حق کاا عتراف نہ کرنا بظاہر اپنے ایمان کو بچانا ہے۔ مگر حقیقۃً یہ اپنے ایمان کو برباد کرنا ہے۔ اللہ کا مومن بندہ اللہ کے مسلسل فیضان پر جیتا ہے۔ پھر جو شخص اپنے کو خود پرستی اور گروہ پرستی کے خول میں بند کرلے اس کے اندر اللہ کا فیضان کس راستہ سے داخل ہوگا۔ اور اللہ کے فیضان سے محرومی کے بعد وہ کیا چیز ہوگی جو اس کے ایمان کی پرورش کرے۔
آل عمران 3:88
اللہ کو پانا ایک ابدی حقیقت کو پانا ہے،یہ پوری کائنات کا ہم سفر بننا ہے۔ جو لوگ اس طرح اللہ کو پالیں وہ ہر قسم کے تعصبات سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ وہ حق کو ہر حال میں پہچان لیتے ہیں، چاہے اس کا پیغام ’’اسرائیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے بلند ہو یا ’’اسماعیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے۔ مگر جو لوگ گروہ پرستی کی سطح پر جی رہے ہوں، حق ان کو حق کی صورت میں صرف اس وقت نظر آتا ہے جب کہ وہ ان کے اپنے گروہ کے کسی فرد کی طرف سے آئے۔ اللہ اگر ان کے گروہ سے باہر کسی شخص کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے اٹھائے تو ایسا پیغام ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتا۔ حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ ان کا دل اس کے حق وصداقت ہونے کی گواہی دے رہا ہو۔ ایسے لوگ خواہ اپنے کو ماننے والوں میں شمار کریں مگر اللہ کے یہاں ان کا نام نہ ماننے والوں میں لکھا جاتا ہے۔ کیوں کہ انھوں نے حق کو اپنے گروہ کی نسبت سے جانا، نہ کہ اللہ کی نسبت سے۔ ایسے حق کا اقرار نہ کرنا جس کے حق ہونے پر آدمی کے دل نے گواہی دی ہو، اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ ایسے لوگ آخرت میں اتنے ذلیل ہوں گے کہ اللہ اور اس کی تمام مخلوقات ان پر لعنت کریں گی۔
اپنے سے باہر ظاہر ہونے والے حق کاا عتراف نہ کرنا بظاہر اپنے ایمان کو بچانا ہے۔ مگر حقیقۃً یہ اپنے ایمان کو برباد کرنا ہے۔ اللہ کا مومن بندہ اللہ کے مسلسل فیضان پر جیتا ہے۔ پھر جو شخص اپنے کو خود پرستی اور گروہ پرستی کے خول میں بند کرلے اس کے اندر اللہ کا فیضان کس راستہ سے داخل ہوگا۔ اور اللہ کے فیضان سے محرومی کے بعد وہ کیا چیز ہوگی جو اس کے ایمان کی پرورش کرے۔
آل عمران 3:89
اللہ کو پانا ایک ابدی حقیقت کو پانا ہے،یہ پوری کائنات کا ہم سفر بننا ہے۔ جو لوگ اس طرح اللہ کو پالیں وہ ہر قسم کے تعصبات سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ وہ حق کو ہر حال میں پہچان لیتے ہیں، چاہے اس کا پیغام ’’اسرائیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے بلند ہو یا ’’اسماعیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے۔ مگر جو لوگ گروہ پرستی کی سطح پر جی رہے ہوں، حق ان کو حق کی صورت میں صرف اس وقت نظر آتا ہے جب کہ وہ ان کے اپنے گروہ کے کسی فرد کی طرف سے آئے۔ اللہ اگر ان کے گروہ سے باہر کسی شخص کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے اٹھائے تو ایسا پیغام ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتا۔ حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ ان کا دل اس کے حق وصداقت ہونے کی گواہی دے رہا ہو۔ ایسے لوگ خواہ اپنے کو ماننے والوں میں شمار کریں مگر اللہ کے یہاں ان کا نام نہ ماننے والوں میں لکھا جاتا ہے۔ کیوں کہ انھوں نے حق کو اپنے گروہ کی نسبت سے جانا، نہ کہ اللہ کی نسبت سے۔ ایسے حق کا اقرار نہ کرنا جس کے حق ہونے پر آدمی کے دل نے گواہی دی ہو، اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ ایسے لوگ آخرت میں اتنے ذلیل ہوں گے کہ اللہ اور اس کی تمام مخلوقات ان پر لعنت کریں گی۔
اپنے سے باہر ظاہر ہونے والے حق کاا عتراف نہ کرنا بظاہر اپنے ایمان کو بچانا ہے۔ مگر حقیقۃً یہ اپنے ایمان کو برباد کرنا ہے۔ اللہ کا مومن بندہ اللہ کے مسلسل فیضان پر جیتا ہے۔ پھر جو شخص اپنے کو خود پرستی اور گروہ پرستی کے خول میں بند کرلے اس کے اندر اللہ کا فیضان کس راستہ سے داخل ہوگا۔ اور اللہ کے فیضان سے محرومی کے بعد وہ کیا چیز ہوگی جو اس کے ایمان کی پرورش کرے۔
آل عمران 3:90
اللہ کو پانا ایک ابدی حقیقت کو پانا ہے،یہ پوری کائنات کا ہم سفر بننا ہے۔ جو لوگ اس طرح اللہ کو پالیں وہ ہر قسم کے تعصبات سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ وہ حق کو ہر حال میں پہچان لیتے ہیں، چاہے اس کا پیغام ’’اسرائیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے بلند ہو یا ’’اسماعیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے۔ مگر جو لوگ گروہ پرستی کی سطح پر جی رہے ہوں، حق ان کو حق کی صورت میں صرف اس وقت نظر آتا ہے جب کہ وہ ان کے اپنے گروہ کے کسی فرد کی طرف سے آئے۔ اللہ اگر ان کے گروہ سے باہر کسی شخص کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے اٹھائے تو ایسا پیغام ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتا۔ حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ ان کا دل اس کے حق وصداقت ہونے کی گواہی دے رہا ہو۔ ایسے لوگ خواہ اپنے کو ماننے والوں میں شمار کریں مگر اللہ کے یہاں ان کا نام نہ ماننے والوں میں لکھا جاتا ہے۔ کیوں کہ انھوں نے حق کو اپنے گروہ کی نسبت سے جانا، نہ کہ اللہ کی نسبت سے۔ ایسے حق کا اقرار نہ کرنا جس کے حق ہونے پر آدمی کے دل نے گواہی دی ہو، اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ ایسے لوگ آخرت میں اتنے ذلیل ہوں گے کہ اللہ اور اس کی تمام مخلوقات ان پر لعنت کریں گی۔
اپنے سے باہر ظاہر ہونے والے حق کاا عتراف نہ کرنا بظاہر اپنے ایمان کو بچانا ہے۔ مگر حقیقۃً یہ اپنے ایمان کو برباد کرنا ہے۔ اللہ کا مومن بندہ اللہ کے مسلسل فیضان پر جیتا ہے۔ پھر جو شخص اپنے کو خود پرستی اور گروہ پرستی کے خول میں بند کرلے اس کے اندر اللہ کا فیضان کس راستہ سے داخل ہوگا۔ اور اللہ کے فیضان سے محرومی کے بعد وہ کیا چیز ہوگی جو اس کے ایمان کی پرورش کرے۔
آل عمران 3:91
اللہ کو پانا ایک ابدی حقیقت کو پانا ہے،یہ پوری کائنات کا ہم سفر بننا ہے۔ جو لوگ اس طرح اللہ کو پالیں وہ ہر قسم کے تعصبات سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ وہ حق کو ہر حال میں پہچان لیتے ہیں، چاہے اس کا پیغام ’’اسرائیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے بلند ہو یا ’’اسماعیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے۔ مگر جو لوگ گروہ پرستی کی سطح پر جی رہے ہوں، حق ان کو حق کی صورت میں صرف اس وقت نظر آتا ہے جب کہ وہ ان کے اپنے گروہ کے کسی فرد کی طرف سے آئے۔ اللہ اگر ان کے گروہ سے باہر کسی شخص کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے اٹھائے تو ایسا پیغام ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتا۔ حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ ان کا دل اس کے حق وصداقت ہونے کی گواہی دے رہا ہو۔ ایسے لوگ خواہ اپنے کو ماننے والوں میں شمار کریں مگر اللہ کے یہاں ان کا نام نہ ماننے والوں میں لکھا جاتا ہے۔ کیوں کہ انھوں نے حق کو اپنے گروہ کی نسبت سے جانا، نہ کہ اللہ کی نسبت سے۔ ایسے حق کا اقرار نہ کرنا جس کے حق ہونے پر آدمی کے دل نے گواہی دی ہو، اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ ایسے لوگ آخرت میں اتنے ذلیل ہوں گے کہ اللہ اور اس کی تمام مخلوقات ان پر لعنت کریں گی۔
اپنے سے باہر ظاہر ہونے والے حق کاا عتراف نہ کرنا بظاہر اپنے ایمان کو بچانا ہے۔ مگر حقیقۃً یہ اپنے ایمان کو برباد کرنا ہے۔ اللہ کا مومن بندہ اللہ کے مسلسل فیضان پر جیتا ہے۔ پھر جو شخص اپنے کو خود پرستی اور گروہ پرستی کے خول میں بند کرلے اس کے اندر اللہ کا فیضان کس راستہ سے داخل ہوگا۔ اور اللہ کے فیضان سے محرومی کے بعد وہ کیا چیز ہوگی جو اس کے ایمان کی پرورش کرے۔
آل عمران 3:92
یہود کے علما نے بطورِ خود جو فقہ بنا رکھی تھی اس میں اونٹ اور خرگوش کا گوشت کھانا حرام تھا، جب کہ اسلام میں وہ جائز تھا۔ اب یہود یہ کہتے کہ اسلام اگر خدا کا اترا ہوا دین ہے تو اس میںبھی حرام وحلال کے مسائل وہی کیوں نہیں هيں جو پچھلے زمانہ میں اتارے ہوئے خدا کے دین میں تھے۔ اسی طرح وہ کہتے کہ بیت المقدس اب تک تمام انبیاء کا قبلۂ عبادت رہا ہے۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا ایسا دین اتارے جس میں اس کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا ہو۔
حق کی دعوت جب اپنی خالص شکل میں اٹھتی ہے تو ان لوگوں پر اس کی زد پڑنے لگتی ہے جو خدا کے دین کے نام پر اپنا ایک دین عوام میں رائج کيے ہوئے ہوں۔ ایسے لوگ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں اور لوگوں کو دعوتِ حق سے پھیرنے کے لیے طرح طرح کے اعتراضات نکالتے ہیں۔ ان کے خود ساختہ دین میں اساسات دین پر زور باقی نہیں رہتا۔ اس کے بجائے جزئیاتِ دین میں موشگافیوں سے دین دار ی کا ایک ظاہری ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ آدمی کی حقیقی زندگی کیسی ہی ہو، نیکی اور تقویٰ کا کمال یہ سمجھا جانے لگتا ہے کہ وہ اس ظاہری ڈھانچہ کا خوب اہتمام کرے۔ وہ ’’خرگوش‘‘کو یہ کہہ کر نہ کھائے کہ ہمارے اکابر اس سے پرہیز کرتے تھے۔ دوسری طرف کتنی ہی حرام چیزوں کو اپنے لیے جائز کيے ہوئے ہو۔ وہ’’بیت المقدس‘‘ کی طرف رخ کرنے میں قطب نما کی سوئی کی طرح سیدھا ہوجانا ضروری سمجھتا ہو۔ مگر صبح وشام کی سرگرمیوں کو خدا رخی بنانے سے اس کو دل چسپی نہ ہو۔ مگر نیکی کادرجہ کسی کو قربانی سے ملتا ہے ،نہ کہ سَستی ظاہر داریوں سے۔ خدا کا نیک بندہ وہ ہے جو اپنی محبت کا ہدیہ اپنے رب کو پیش کرے، جس کے لیے اللہ کے مقابلے میں دنیا کی کوئی چیز عزیز تر نہ رہے۔ حق کو ماننے کے لیے جب وقار کی قیمت دینی ہو، اللہ کے راستہ میں بڑھنے کے لیے جب مال خرچ کرنا ہو اور بچوں کے مستقبل کو خطرہ میں ڈالنا پڑے، اس وقت وہ اللہ کی خاطر سب کچھ گوارا کرلے۔ ایسے نازک مواقع پر جو شخص اپنی محبوب چیزوں کو دے کر اللہ کو لے لے وہی نیک اور خدا پرست بنا۔
آل عمران 3:93
یہود کے علما نے بطورِ خود جو فقہ بنا رکھی تھی اس میں اونٹ اور خرگوش کا گوشت کھانا حرام تھا، جب کہ اسلام میں وہ جائز تھا۔ اب یہود یہ کہتے کہ اسلام اگر خدا کا اترا ہوا دین ہے تو اس میںبھی حرام وحلال کے مسائل وہی کیوں نہیں هيں جو پچھلے زمانہ میں اتارے ہوئے خدا کے دین میں تھے۔ اسی طرح وہ کہتے کہ بیت المقدس اب تک تمام انبیاء کا قبلۂ عبادت رہا ہے۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا ایسا دین اتارے جس میں اس کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا ہو۔
حق کی دعوت جب اپنی خالص شکل میں اٹھتی ہے تو ان لوگوں پر اس کی زد پڑنے لگتی ہے جو خدا کے دین کے نام پر اپنا ایک دین عوام میں رائج کيے ہوئے ہوں۔ ایسے لوگ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں اور لوگوں کو دعوتِ حق سے پھیرنے کے لیے طرح طرح کے اعتراضات نکالتے ہیں۔ ان کے خود ساختہ دین میں اساسات دین پر زور باقی نہیں رہتا۔ اس کے بجائے جزئیاتِ دین میں موشگافیوں سے دین دار ی کا ایک ظاہری ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ آدمی کی حقیقی زندگی کیسی ہی ہو، نیکی اور تقویٰ کا کمال یہ سمجھا جانے لگتا ہے کہ وہ اس ظاہری ڈھانچہ کا خوب اہتمام کرے۔ وہ ’’خرگوش‘‘کو یہ کہہ کر نہ کھائے کہ ہمارے اکابر اس سے پرہیز کرتے تھے۔ دوسری طرف کتنی ہی حرام چیزوں کو اپنے لیے جائز کيے ہوئے ہو۔ وہ’’بیت المقدس‘‘ کی طرف رخ کرنے میں قطب نما کی سوئی کی طرح سیدھا ہوجانا ضروری سمجھتا ہو۔ مگر صبح وشام کی سرگرمیوں کو خدا رخی بنانے سے اس کو دل چسپی نہ ہو۔ مگر نیکی کادرجہ کسی کو قربانی سے ملتا ہے ،نہ کہ سَستی ظاہر داریوں سے۔ خدا کا نیک بندہ وہ ہے جو اپنی محبت کا ہدیہ اپنے رب کو پیش کرے، جس کے لیے اللہ کے مقابلے میں دنیا کی کوئی چیز عزیز تر نہ رہے۔ حق کو ماننے کے لیے جب وقار کی قیمت دینی ہو، اللہ کے راستہ میں بڑھنے کے لیے جب مال خرچ کرنا ہو اور بچوں کے مستقبل کو خطرہ میں ڈالنا پڑے، اس وقت وہ اللہ کی خاطر سب کچھ گوارا کرلے۔ ایسے نازک مواقع پر جو شخص اپنی محبوب چیزوں کو دے کر اللہ کو لے لے وہی نیک اور خدا پرست بنا۔
آل عمران 3:94
یہود کے علما نے بطورِ خود جو فقہ بنا رکھی تھی اس میں اونٹ اور خرگوش کا گوشت کھانا حرام تھا، جب کہ اسلام میں وہ جائز تھا۔ اب یہود یہ کہتے کہ اسلام اگر خدا کا اترا ہوا دین ہے تو اس میںبھی حرام وحلال کے مسائل وہی کیوں نہیں هيں جو پچھلے زمانہ میں اتارے ہوئے خدا کے دین میں تھے۔ اسی طرح وہ کہتے کہ بیت المقدس اب تک تمام انبیاء کا قبلۂ عبادت رہا ہے۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا ایسا دین اتارے جس میں اس کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا ہو۔
حق کی دعوت جب اپنی خالص شکل میں اٹھتی ہے تو ان لوگوں پر اس کی زد پڑنے لگتی ہے جو خدا کے دین کے نام پر اپنا ایک دین عوام میں رائج کيے ہوئے ہوں۔ ایسے لوگ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں اور لوگوں کو دعوتِ حق سے پھیرنے کے لیے طرح طرح کے اعتراضات نکالتے ہیں۔ ان کے خود ساختہ دین میں اساسات دین پر زور باقی نہیں رہتا۔ اس کے بجائے جزئیاتِ دین میں موشگافیوں سے دین دار ی کا ایک ظاہری ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ آدمی کی حقیقی زندگی کیسی ہی ہو، نیکی اور تقویٰ کا کمال یہ سمجھا جانے لگتا ہے کہ وہ اس ظاہری ڈھانچہ کا خوب اہتمام کرے۔ وہ ’’خرگوش‘‘کو یہ کہہ کر نہ کھائے کہ ہمارے اکابر اس سے پرہیز کرتے تھے۔ دوسری طرف کتنی ہی حرام چیزوں کو اپنے لیے جائز کيے ہوئے ہو۔ وہ’’بیت المقدس‘‘ کی طرف رخ کرنے میں قطب نما کی سوئی کی طرح سیدھا ہوجانا ضروری سمجھتا ہو۔ مگر صبح وشام کی سرگرمیوں کو خدا رخی بنانے سے اس کو دل چسپی نہ ہو۔ مگر نیکی کادرجہ کسی کو قربانی سے ملتا ہے ،نہ کہ سَستی ظاہر داریوں سے۔ خدا کا نیک بندہ وہ ہے جو اپنی محبت کا ہدیہ اپنے رب کو پیش کرے، جس کے لیے اللہ کے مقابلے میں دنیا کی کوئی چیز عزیز تر نہ رہے۔ حق کو ماننے کے لیے جب وقار کی قیمت دینی ہو، اللہ کے راستہ میں بڑھنے کے لیے جب مال خرچ کرنا ہو اور بچوں کے مستقبل کو خطرہ میں ڈالنا پڑے، اس وقت وہ اللہ کی خاطر سب کچھ گوارا کرلے۔ ایسے نازک مواقع پر جو شخص اپنی محبوب چیزوں کو دے کر اللہ کو لے لے وہی نیک اور خدا پرست بنا۔
آل عمران 3:95
یہود کے علما نے بطورِ خود جو فقہ بنا رکھی تھی اس میں اونٹ اور خرگوش کا گوشت کھانا حرام تھا، جب کہ اسلام میں وہ جائز تھا۔ اب یہود یہ کہتے کہ اسلام اگر خدا کا اترا ہوا دین ہے تو اس میںبھی حرام وحلال کے مسائل وہی کیوں نہیں هيں جو پچھلے زمانہ میں اتارے ہوئے خدا کے دین میں تھے۔ اسی طرح وہ کہتے کہ بیت المقدس اب تک تمام انبیاء کا قبلۂ عبادت رہا ہے۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا ایسا دین اتارے جس میں اس کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا ہو۔
حق کی دعوت جب اپنی خالص شکل میں اٹھتی ہے تو ان لوگوں پر اس کی زد پڑنے لگتی ہے جو خدا کے دین کے نام پر اپنا ایک دین عوام میں رائج کيے ہوئے ہوں۔ ایسے لوگ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں اور لوگوں کو دعوتِ حق سے پھیرنے کے لیے طرح طرح کے اعتراضات نکالتے ہیں۔ ان کے خود ساختہ دین میں اساسات دین پر زور باقی نہیں رہتا۔ اس کے بجائے جزئیاتِ دین میں موشگافیوں سے دین دار ی کا ایک ظاہری ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ آدمی کی حقیقی زندگی کیسی ہی ہو، نیکی اور تقویٰ کا کمال یہ سمجھا جانے لگتا ہے کہ وہ اس ظاہری ڈھانچہ کا خوب اہتمام کرے۔ وہ ’’خرگوش‘‘کو یہ کہہ کر نہ کھائے کہ ہمارے اکابر اس سے پرہیز کرتے تھے۔ دوسری طرف کتنی ہی حرام چیزوں کو اپنے لیے جائز کيے ہوئے ہو۔ وہ’’بیت المقدس‘‘ کی طرف رخ کرنے میں قطب نما کی سوئی کی طرح سیدھا ہوجانا ضروری سمجھتا ہو۔ مگر صبح وشام کی سرگرمیوں کو خدا رخی بنانے سے اس کو دل چسپی نہ ہو۔ مگر نیکی کادرجہ کسی کو قربانی سے ملتا ہے ،نہ کہ سَستی ظاہر داریوں سے۔ خدا کا نیک بندہ وہ ہے جو اپنی محبت کا ہدیہ اپنے رب کو پیش کرے، جس کے لیے اللہ کے مقابلے میں دنیا کی کوئی چیز عزیز تر نہ رہے۔ حق کو ماننے کے لیے جب وقار کی قیمت دینی ہو، اللہ کے راستہ میں بڑھنے کے لیے جب مال خرچ کرنا ہو اور بچوں کے مستقبل کو خطرہ میں ڈالنا پڑے، اس وقت وہ اللہ کی خاطر سب کچھ گوارا کرلے۔ ایسے نازک مواقع پر جو شخص اپنی محبوب چیزوں کو دے کر اللہ کو لے لے وہی نیک اور خدا پرست بنا۔
آل عمران 3:96
یہود کے علما نے بطورِ خود جو فقہ بنا رکھی تھی اس میں اونٹ اور خرگوش کا گوشت کھانا حرام تھا، جب کہ اسلام میں وہ جائز تھا۔ اب یہود یہ کہتے کہ اسلام اگر خدا کا اترا ہوا دین ہے تو اس میںبھی حرام وحلال کے مسائل وہی کیوں نہیں هيں جو پچھلے زمانہ میں اتارے ہوئے خدا کے دین میں تھے۔ اسی طرح وہ کہتے کہ بیت المقدس اب تک تمام انبیاء کا قبلۂ عبادت رہا ہے۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا ایسا دین اتارے جس میں اس کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا ہو۔
حق کی دعوت جب اپنی خالص شکل میں اٹھتی ہے تو ان لوگوں پر اس کی زد پڑنے لگتی ہے جو خدا کے دین کے نام پر اپنا ایک دین عوام میں رائج کيے ہوئے ہوں۔ ایسے لوگ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں اور لوگوں کو دعوتِ حق سے پھیرنے کے لیے طرح طرح کے اعتراضات نکالتے ہیں۔ ان کے خود ساختہ دین میں اساسات دین پر زور باقی نہیں رہتا۔ اس کے بجائے جزئیاتِ دین میں موشگافیوں سے دین دار ی کا ایک ظاہری ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ آدمی کی حقیقی زندگی کیسی ہی ہو، نیکی اور تقویٰ کا کمال یہ سمجھا جانے لگتا ہے کہ وہ اس ظاہری ڈھانچہ کا خوب اہتمام کرے۔ وہ ’’خرگوش‘‘کو یہ کہہ کر نہ کھائے کہ ہمارے اکابر اس سے پرہیز کرتے تھے۔ دوسری طرف کتنی ہی حرام چیزوں کو اپنے لیے جائز کيے ہوئے ہو۔ وہ’’بیت المقدس‘‘ کی طرف رخ کرنے میں قطب نما کی سوئی کی طرح سیدھا ہوجانا ضروری سمجھتا ہو۔ مگر صبح وشام کی سرگرمیوں کو خدا رخی بنانے سے اس کو دل چسپی نہ ہو۔ مگر نیکی کادرجہ کسی کو قربانی سے ملتا ہے ،نہ کہ سَستی ظاہر داریوں سے۔ خدا کا نیک بندہ وہ ہے جو اپنی محبت کا ہدیہ اپنے رب کو پیش کرے، جس کے لیے اللہ کے مقابلے میں دنیا کی کوئی چیز عزیز تر نہ رہے۔ حق کو ماننے کے لیے جب وقار کی قیمت دینی ہو، اللہ کے راستہ میں بڑھنے کے لیے جب مال خرچ کرنا ہو اور بچوں کے مستقبل کو خطرہ میں ڈالنا پڑے، اس وقت وہ اللہ کی خاطر سب کچھ گوارا کرلے۔ ایسے نازک مواقع پر جو شخص اپنی محبوب چیزوں کو دے کر اللہ کو لے لے وہی نیک اور خدا پرست بنا۔
آل عمران 3:97
یہود کے علما نے بطورِ خود جو فقہ بنا رکھی تھی اس میں اونٹ اور خرگوش کا گوشت کھانا حرام تھا، جب کہ اسلام میں وہ جائز تھا۔ اب یہود یہ کہتے کہ اسلام اگر خدا کا اترا ہوا دین ہے تو اس میںبھی حرام وحلال کے مسائل وہی کیوں نہیں هيں جو پچھلے زمانہ میں اتارے ہوئے خدا کے دین میں تھے۔ اسی طرح وہ کہتے کہ بیت المقدس اب تک تمام انبیاء کا قبلۂ عبادت رہا ہے۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا ایسا دین اتارے جس میں اس کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا ہو۔
حق کی دعوت جب اپنی خالص شکل میں اٹھتی ہے تو ان لوگوں پر اس کی زد پڑنے لگتی ہے جو خدا کے دین کے نام پر اپنا ایک دین عوام میں رائج کيے ہوئے ہوں۔ ایسے لوگ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں اور لوگوں کو دعوتِ حق سے پھیرنے کے لیے طرح طرح کے اعتراضات نکالتے ہیں۔ ان کے خود ساختہ دین میں اساسات دین پر زور باقی نہیں رہتا۔ اس کے بجائے جزئیاتِ دین میں موشگافیوں سے دین دار ی کا ایک ظاہری ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ آدمی کی حقیقی زندگی کیسی ہی ہو، نیکی اور تقویٰ کا کمال یہ سمجھا جانے لگتا ہے کہ وہ اس ظاہری ڈھانچہ کا خوب اہتمام کرے۔ وہ ’’خرگوش‘‘کو یہ کہہ کر نہ کھائے کہ ہمارے اکابر اس سے پرہیز کرتے تھے۔ دوسری طرف کتنی ہی حرام چیزوں کو اپنے لیے جائز کيے ہوئے ہو۔ وہ’’بیت المقدس‘‘ کی طرف رخ کرنے میں قطب نما کی سوئی کی طرح سیدھا ہوجانا ضروری سمجھتا ہو۔ مگر صبح وشام کی سرگرمیوں کو خدا رخی بنانے سے اس کو دل چسپی نہ ہو۔ مگر نیکی کادرجہ کسی کو قربانی سے ملتا ہے ،نہ کہ سَستی ظاہر داریوں سے۔ خدا کا نیک بندہ وہ ہے جو اپنی محبت کا ہدیہ اپنے رب کو پیش کرے، جس کے لیے اللہ کے مقابلے میں دنیا کی کوئی چیز عزیز تر نہ رہے۔ حق کو ماننے کے لیے جب وقار کی قیمت دینی ہو، اللہ کے راستہ میں بڑھنے کے لیے جب مال خرچ کرنا ہو اور بچوں کے مستقبل کو خطرہ میں ڈالنا پڑے، اس وقت وہ اللہ کی خاطر سب کچھ گوارا کرلے۔ ایسے نازک مواقع پر جو شخص اپنی محبوب چیزوں کو دے کر اللہ کو لے لے وہی نیک اور خدا پرست بنا۔
آل عمران 3:98
یہود کے علما نے بطورِ خود جو فقہ بنا رکھی تھی اس میں اونٹ اور خرگوش کا گوشت کھانا حرام تھا، جب کہ اسلام میں وہ جائز تھا۔ اب یہود یہ کہتے کہ اسلام اگر خدا کا اترا ہوا دین ہے تو اس میںبھی حرام وحلال کے مسائل وہی کیوں نہیں هيں جو پچھلے زمانہ میں اتارے ہوئے خدا کے دین میں تھے۔ اسی طرح وہ کہتے کہ بیت المقدس اب تک تمام انبیاء کا قبلۂ عبادت رہا ہے۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا ایسا دین اتارے جس میں اس کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا ہو۔
حق کی دعوت جب اپنی خالص شکل میں اٹھتی ہے تو ان لوگوں پر اس کی زد پڑنے لگتی ہے جو خدا کے دین کے نام پر اپنا ایک دین عوام میں رائج کيے ہوئے ہوں۔ ایسے لوگ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں اور لوگوں کو دعوتِ حق سے پھیرنے کے لیے طرح طرح کے اعتراضات نکالتے ہیں۔ ان کے خود ساختہ دین میں اساسات دین پر زور باقی نہیں رہتا۔ اس کے بجائے جزئیاتِ دین میں موشگافیوں سے دین دار ی کا ایک ظاہری ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ آدمی کی حقیقی زندگی کیسی ہی ہو، نیکی اور تقویٰ کا کمال یہ سمجھا جانے لگتا ہے کہ وہ اس ظاہری ڈھانچہ کا خوب اہتمام کرے۔ وہ ’’خرگوش‘‘کو یہ کہہ کر نہ کھائے کہ ہمارے اکابر اس سے پرہیز کرتے تھے۔ دوسری طرف کتنی ہی حرام چیزوں کو اپنے لیے جائز کيے ہوئے ہو۔ وہ’’بیت المقدس‘‘ کی طرف رخ کرنے میں قطب نما کی سوئی کی طرح سیدھا ہوجانا ضروری سمجھتا ہو۔ مگر صبح وشام کی سرگرمیوں کو خدا رخی بنانے سے اس کو دل چسپی نہ ہو۔ مگر نیکی کادرجہ کسی کو قربانی سے ملتا ہے ،نہ کہ سَستی ظاہر داریوں سے۔ خدا کا نیک بندہ وہ ہے جو اپنی محبت کا ہدیہ اپنے رب کو پیش کرے، جس کے لیے اللہ کے مقابلے میں دنیا کی کوئی چیز عزیز تر نہ رہے۔ حق کو ماننے کے لیے جب وقار کی قیمت دینی ہو، اللہ کے راستہ میں بڑھنے کے لیے جب مال خرچ کرنا ہو اور بچوں کے مستقبل کو خطرہ میں ڈالنا پڑے، اس وقت وہ اللہ کی خاطر سب کچھ گوارا کرلے۔ ایسے نازک مواقع پر جو شخص اپنی محبوب چیزوں کو دے کر اللہ کو لے لے وہی نیک اور خدا پرست بنا۔
آل عمران 3:99
یہود کے علما نے بطورِ خود جو فقہ بنا رکھی تھی اس میں اونٹ اور خرگوش کا گوشت کھانا حرام تھا، جب کہ اسلام میں وہ جائز تھا۔ اب یہود یہ کہتے کہ اسلام اگر خدا کا اترا ہوا دین ہے تو اس میںبھی حرام وحلال کے مسائل وہی کیوں نہیں هيں جو پچھلے زمانہ میں اتارے ہوئے خدا کے دین میں تھے۔ اسی طرح وہ کہتے کہ بیت المقدس اب تک تمام انبیاء کا قبلۂ عبادت رہا ہے۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا ایسا دین اتارے جس میں اس کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا ہو۔
حق کی دعوت جب اپنی خالص شکل میں اٹھتی ہے تو ان لوگوں پر اس کی زد پڑنے لگتی ہے جو خدا کے دین کے نام پر اپنا ایک دین عوام میں رائج کيے ہوئے ہوں۔ ایسے لوگ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں اور لوگوں کو دعوتِ حق سے پھیرنے کے لیے طرح طرح کے اعتراضات نکالتے ہیں۔ ان کے خود ساختہ دین میں اساسات دین پر زور باقی نہیں رہتا۔ اس کے بجائے جزئیاتِ دین میں موشگافیوں سے دین دار ی کا ایک ظاہری ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ آدمی کی حقیقی زندگی کیسی ہی ہو، نیکی اور تقویٰ کا کمال یہ سمجھا جانے لگتا ہے کہ وہ اس ظاہری ڈھانچہ کا خوب اہتمام کرے۔ وہ ’’خرگوش‘‘کو یہ کہہ کر نہ کھائے کہ ہمارے اکابر اس سے پرہیز کرتے تھے۔ دوسری طرف کتنی ہی حرام چیزوں کو اپنے لیے جائز کيے ہوئے ہو۔ وہ’’بیت المقدس‘‘ کی طرف رخ کرنے میں قطب نما کی سوئی کی طرح سیدھا ہوجانا ضروری سمجھتا ہو۔ مگر صبح وشام کی سرگرمیوں کو خدا رخی بنانے سے اس کو دل چسپی نہ ہو۔ مگر نیکی کادرجہ کسی کو قربانی سے ملتا ہے ،نہ کہ سَستی ظاہر داریوں سے۔ خدا کا نیک بندہ وہ ہے جو اپنی محبت کا ہدیہ اپنے رب کو پیش کرے، جس کے لیے اللہ کے مقابلے میں دنیا کی کوئی چیز عزیز تر نہ رہے۔ حق کو ماننے کے لیے جب وقار کی قیمت دینی ہو، اللہ کے راستہ میں بڑھنے کے لیے جب مال خرچ کرنا ہو اور بچوں کے مستقبل کو خطرہ میں ڈالنا پڑے، اس وقت وہ اللہ کی خاطر سب کچھ گوارا کرلے۔ ایسے نازک مواقع پر جو شخص اپنی محبوب چیزوں کو دے کر اللہ کو لے لے وہی نیک اور خدا پرست بنا۔
آل عمران 3:100
حضرت ابراہیم کی قوم کے لوگ غالباً کسی تیوہار میں شرکت کےلیے شہر سے باہر جارہے تھے۔ آپ کے گھر والوں نے آپ سے بھی چلنے کےلیے کہا۔ آپ نے توریہ کے انداز میں ان سے معذرت کرلی۔ جب تمام لوگ چلے گئے تو رات کے وقت آپ بت خانہ میں داخل ہوئے اور اس کے بتوں کو توڑ ڈالا۔ یہ آپ نے اس وقت کیا جب کہ مسلسل دعوت کے ذریعہ آپ ان پر اتمام حجت کرچکے تھے۔ جب انھوں نے دلائل سے بتوں کا بے حقیقت ہونا تسلیم نہیں کیا تو بتوں کو توڑ کر آپ نے عمل کی زبان میں بتایا کہ ان بتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر حقیقت ہوتی تو وہ اپنے آپ کو توڑے جانے سے بچا لیتے۔
آپ کی اس آخری کارروائی کے بعد قوم نے بھی اپنی آخری کارروا ئی کی۔ انھوں نے آپ کو آگ میں ڈال دیا مگر اللہ نے آپ کو آگ سے بچا لیا۔ اس کے بعد آپ اپنے وطن (عراق) کو چھوڑ کر چلے گئے۔ اس وقت آپ نے دعا کی کہ خدایا تو میرے یہاں صالح اولاد پیدا کر تاکہ میں اس کو تعلیم وتربیت کے ذریعہ مومن ومسلم بناؤں اور وہ میرے بعد دعوت توحید کا تسلسل جاری رکھے۔
آل عمران 3:101
حضرت ابراہیم کی قوم کے لوگ غالباً کسی تیوہار میں شرکت کےلیے شہر سے باہر جارہے تھے۔ آپ کے گھر والوں نے آپ سے بھی چلنے کےلیے کہا۔ آپ نے توریہ کے انداز میں ان سے معذرت کرلی۔ جب تمام لوگ چلے گئے تو رات کے وقت آپ بت خانہ میں داخل ہوئے اور اس کے بتوں کو توڑ ڈالا۔ یہ آپ نے اس وقت کیا جب کہ مسلسل دعوت کے ذریعہ آپ ان پر اتمام حجت کرچکے تھے۔ جب انھوں نے دلائل سے بتوں کا بے حقیقت ہونا تسلیم نہیں کیا تو بتوں کو توڑ کر آپ نے عمل کی زبان میں بتایا کہ ان بتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر حقیقت ہوتی تو وہ اپنے آپ کو توڑے جانے سے بچا لیتے۔
آپ کی اس آخری کارروائی کے بعد قوم نے بھی اپنی آخری کارروا ئی کی۔ انھوں نے آپ کو آگ میں ڈال دیا مگر اللہ نے آپ کو آگ سے بچا لیا۔ اس کے بعد آپ اپنے وطن (عراق) کو چھوڑ کر چلے گئے۔ اس وقت آپ نے دعا کی کہ خدایا تو میرے یہاں صالح اولاد پیدا کر تاکہ میں اس کو تعلیم وتربیت کے ذریعہ مومن ومسلم بناؤں اور وہ میرے بعد دعوت توحید کا تسلسل جاری رکھے۔
آل عمران 3:102
دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ یہاں ہر وقت یہ خطرہ ہے کہ شیطان آدمی کے ایمان کو اچک لے جائے اور فرشتے اس کی روح اس حال میں قبض کریں کہ وہ ایمان سے خالی ہو۔اس ليے ضروری ہے کہ آدمی ہر وقت باہوش رہے، وہ اپنے آپ پر نگراں بن جائے۔ ایمان سے دور ہونے کی ایک صورت وہ ہے جب کہ دین کے اجزاء میں تبدیلی کرکے اہم کو غیر اہم اور غیر اہم کو اہم بنا دیا جائے۔ دین کی اصل رسّی تقویٰ ہے۔ یعنی اللہ سے ڈرنا اور مرتے دم تک اپنے ہر معاملہ میں وہی رویہ اختیار کرنا جو اللہ کے سامنے جواب دہی کے تصور سے بنتا ہو۔ یہی صراطِ مستقیم ہے۔ اس سے انحراف یہ ہے کہ ’’تقویٰ‘‘ کے بجائے، کسی اور چیز کو مدارِ دین سمجھ لیا جائے اور اس پراس طرح زور دیا جائے جس طرح خوف خدا اور فکر آخرت پر دیا جاتا ہے۔ جب بھی دین میں اس قسم کی تبدیلی کی جاتی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملّت کے درمیان اختلاف پيدا هو جاتا ہے۔ کوئی ایک ضمنی چیز پر زور دیتا ہے تو کوئی دوسری ضمنی چیز پر، اور اس طرح ملت فرقے فرقے میں بٹ کر رہ جاتی ہے۔ اول الذکر سے ایک اللہ توجہ کا مرکز بنتا ہے اور ثانی الذکر سے متفرق مسائل توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ جب دین میں سارا زور وتاکید تقویٰ (اللہ سے ڈرنے) پر دیا جائے تو اس سے باہمی اتفاق وجود میںآتا ہے اور جب اس کے سوا دوسری چیزوں پر زور دیا جانے لگے تو اس سے باہمی اختلاف کی وہ برائی پیدا ہوتی ہے جو لوگوں کو جہنم کے کنارے پہنچا دیتی ہے۔ کسی گروہ کے اندر اختلاف دنیا میں بھی عذاب ہے اور آخرت میںبھی عذاب۔
اسلام سے پہلے مدینہ میں دو قبیلے تھے— اوس اور خزرج۔ یہ دونوں عرب قبیلے تھے مگر وہ آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ ان باہمی لڑائیوں نے ان کو کمزور کردیا تھا۔ جب وہ اسلام کے دائرہ میں داخل ہوئے تو ان کی لڑائیاں ختم ہوگئیں، وہ بھائی بھائی کی طرح مل کر رہنے لگے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر اسلام میں ہر آدمی اپنا وفادار رہتا ہے اور اسلام میں صرف ایک اللہ کا۔ جس سماج میں لوگ اپنے یا اپنے گروہ کے وفادار ہوں وہاں قدرتی طورپر کئی وفاداریاں وجود میں آتی ہیں۔ اور کئی وفاداریوں کے عملی نتیجہ ہی کا نام اختلاف اور ٹکراؤ ہے۔ اس کے برعکس، جس معاشرہ میں تمام لوگ ایک خدا کے وفادار بن جائیں وہاں سب کا رخ ایک مرکز کی طرف ہوجاتا ہے، سب ایک رسّی سے بندھ جاتے ہیں۔ اِس طرح باہمی اختلاف اور ٹکراؤ کے اسباب اپنے آپ ختم ہوجاتے ہیں۔
آل عمران 3:103
دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ یہاں ہر وقت یہ خطرہ ہے کہ شیطان آدمی کے ایمان کو اچک لے جائے اور فرشتے اس کی روح اس حال میں قبض کریں کہ وہ ایمان سے خالی ہو۔اس ليے ضروری ہے کہ آدمی ہر وقت باہوش رہے، وہ اپنے آپ پر نگراں بن جائے۔ ایمان سے دور ہونے کی ایک صورت وہ ہے جب کہ دین کے اجزاء میں تبدیلی کرکے اہم کو غیر اہم اور غیر اہم کو اہم بنا دیا جائے۔ دین کی اصل رسّی تقویٰ ہے۔ یعنی اللہ سے ڈرنا اور مرتے دم تک اپنے ہر معاملہ میں وہی رویہ اختیار کرنا جو اللہ کے سامنے جواب دہی کے تصور سے بنتا ہو۔ یہی صراطِ مستقیم ہے۔ اس سے انحراف یہ ہے کہ ’’تقویٰ‘‘ کے بجائے، کسی اور چیز کو مدارِ دین سمجھ لیا جائے اور اس پراس طرح زور دیا جائے جس طرح خوف خدا اور فکر آخرت پر دیا جاتا ہے۔ جب بھی دین میں اس قسم کی تبدیلی کی جاتی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملّت کے درمیان اختلاف پيدا هو جاتا ہے۔ کوئی ایک ضمنی چیز پر زور دیتا ہے تو کوئی دوسری ضمنی چیز پر، اور اس طرح ملت فرقے فرقے میں بٹ کر رہ جاتی ہے۔ اول الذکر سے ایک اللہ توجہ کا مرکز بنتا ہے اور ثانی الذکر سے متفرق مسائل توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ جب دین میں سارا زور وتاکید تقویٰ (اللہ سے ڈرنے) پر دیا جائے تو اس سے باہمی اتفاق وجود میںآتا ہے اور جب اس کے سوا دوسری چیزوں پر زور دیا جانے لگے تو اس سے باہمی اختلاف کی وہ برائی پیدا ہوتی ہے جو لوگوں کو جہنم کے کنارے پہنچا دیتی ہے۔ کسی گروہ کے اندر اختلاف دنیا میں بھی عذاب ہے اور آخرت میںبھی عذاب۔
اسلام سے پہلے مدینہ میں دو قبیلے تھے— اوس اور خزرج۔ یہ دونوں عرب قبیلے تھے مگر وہ آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ ان باہمی لڑائیوں نے ان کو کمزور کردیا تھا۔ جب وہ اسلام کے دائرہ میں داخل ہوئے تو ان کی لڑائیاں ختم ہوگئیں، وہ بھائی بھائی کی طرح مل کر رہنے لگے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر اسلام میں ہر آدمی اپنا وفادار رہتا ہے اور اسلام میں صرف ایک اللہ کا۔ جس سماج میں لوگ اپنے یا اپنے گروہ کے وفادار ہوں وہاں قدرتی طورپر کئی وفاداریاں وجود میں آتی ہیں۔ اور کئی وفاداریوں کے عملی نتیجہ ہی کا نام اختلاف اور ٹکراؤ ہے۔ اس کے برعکس، جس معاشرہ میں تمام لوگ ایک خدا کے وفادار بن جائیں وہاں سب کا رخ ایک مرکز کی طرف ہوجاتا ہے، سب ایک رسّی سے بندھ جاتے ہیں۔ اِس طرح باہمی اختلاف اور ٹکراؤ کے اسباب اپنے آپ ختم ہوجاتے ہیں۔
آل عمران 3:104
’’تم میں ایک گروہ ہو جو دعوت الی الخیر کا کام کرے اور نیکیوں کا حکم دے اور برائیوں سے روکے‘‘ یہ ارشاد بیک وقت دو باتوں کو بتارہا ہے۔ ایک کا تعلق خواص سے ہے اوردوسرے کا تعلق عوام سے۔ امت کے خواص کے اندر یہ روح ہونی چاہيے کہ وہ امت کے اندر برائی کو برداشت نہ کریں، وہ نیکی اور بھلائی کے لیے تڑپنے والے ہوں۔ ان کا یہ جذبۂ اصلاح انھیں مجبور کرے گا کہ وہ لوگوں کہ احوال سے غیر متعلق نہ رہیں، وہ اپنے بھائیوں کو نیکی کی راہ پر چلنے کے لیے اکسائیں اور انھیں برائی سے دور رہنے کی تلقین کریں۔
تاہم اس عمل کی کامیابی کے لیے امت کے عوام کے اندر اطاعت کا جذبہ ہونا بھی لازماً ضروری ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے خواص کا احترام کریں۔ وہ ان کے کہنے سے چلیں اور جہاں وہ روکیں وہاں وہ رک جائیں۔ وہ اپنے آپ کو اپنے دینی ذمہ داروں کے حوالے کردیں۔ جس مسلم گروہ میں خواص اور عوام کا یہ حال ہو وہی فلاح پانے والا گروہ ہے۔ سمع وطاعت کی اس فضا ہی میں کسی معاشرہ کے اندر وہ اوصاف جنم لیتے ہیں جو اس کو دنیا میںطاقت ور اور آخرت میںنجات یافتہ بناتے ہیں۔
خواص کے اندر اس روح کے زندہ ہونے کا یہ فائدہ ہے کہ ان کی ساری توجہ خیر، بالفاظ دیگر اساسات دین پر مرتکز رہتی ہے۔ فرعی اور جزئی مسائل میں موشگافیاں کرنے کا ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔ جو لوگ خدا کی عظمتوں کے نقیب بنیں اور آخرت کے منذراور مبشربن کر اٹھیں ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ ظاہری مسائل کی جزئیات میں اپنی مہارت دکھائیں۔ اس کے ساتھ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام انھیں حقیقی مسائل کی اصلاح میں لگا دیتا ہے۔ فرضی اور قیاسی مسائل میں ذہنی ورزش کرنا انھیں اسی طرح بے معنی اور بے فائدہ معلوم ہونے لگتا ہے جس طرح ایک کسان کو شطرنج کا کھیل۔
عوام کو اس نظام اطاعت پر اپنے کو راضی کرنے کا یہ فائدہ ملتا ہے کہ وہ ٹکڑوں ٹکڑوں میں بٹنے سے بچ جاتے ہیں۔ ایک حکم کے تحت چلنے کے نتیجے میں سب مل کر ایک ہوجاتے ہیں۔ اتحاد واتفاق ان کی عام صفت بن جاتی ہے اور بلا شبہ اتحاد و اتفاق سے زیادہ بڑی طاقت اس دنیا میں کوئی نہیں۔
آل عمران 3:105
’’تم میں ایک گروہ ہو جو دعوت الی الخیر کا کام کرے اور نیکیوں کا حکم دے اور برائیوں سے روکے‘‘ یہ ارشاد بیک وقت دو باتوں کو بتارہا ہے۔ ایک کا تعلق خواص سے ہے اوردوسرے کا تعلق عوام سے۔ امت کے خواص کے اندر یہ روح ہونی چاہيے کہ وہ امت کے اندر برائی کو برداشت نہ کریں، وہ نیکی اور بھلائی کے لیے تڑپنے والے ہوں۔ ان کا یہ جذبۂ اصلاح انھیں مجبور کرے گا کہ وہ لوگوں کہ احوال سے غیر متعلق نہ رہیں، وہ اپنے بھائیوں کو نیکی کی راہ پر چلنے کے لیے اکسائیں اور انھیں برائی سے دور رہنے کی تلقین کریں۔
تاہم اس عمل کی کامیابی کے لیے امت کے عوام کے اندر اطاعت کا جذبہ ہونا بھی لازماً ضروری ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے خواص کا احترام کریں۔ وہ ان کے کہنے سے چلیں اور جہاں وہ روکیں وہاں وہ رک جائیں۔ وہ اپنے آپ کو اپنے دینی ذمہ داروں کے حوالے کردیں۔ جس مسلم گروہ میں خواص اور عوام کا یہ حال ہو وہی فلاح پانے والا گروہ ہے۔ سمع وطاعت کی اس فضا ہی میں کسی معاشرہ کے اندر وہ اوصاف جنم لیتے ہیں جو اس کو دنیا میںطاقت ور اور آخرت میںنجات یافتہ بناتے ہیں۔
خواص کے اندر اس روح کے زندہ ہونے کا یہ فائدہ ہے کہ ان کی ساری توجہ خیر، بالفاظ دیگر اساسات دین پر مرتکز رہتی ہے۔ فرعی اور جزئی مسائل میں موشگافیاں کرنے کا ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔ جو لوگ خدا کی عظمتوں کے نقیب بنیں اور آخرت کے منذراور مبشربن کر اٹھیں ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ ظاہری مسائل کی جزئیات میں اپنی مہارت دکھائیں۔ اس کے ساتھ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام انھیں حقیقی مسائل کی اصلاح میں لگا دیتا ہے۔ فرضی اور قیاسی مسائل میں ذہنی ورزش کرنا انھیں اسی طرح بے معنی اور بے فائدہ معلوم ہونے لگتا ہے جس طرح ایک کسان کو شطرنج کا کھیل۔
عوام کو اس نظام اطاعت پر اپنے کو راضی کرنے کا یہ فائدہ ملتا ہے کہ وہ ٹکڑوں ٹکڑوں میں بٹنے سے بچ جاتے ہیں۔ ایک حکم کے تحت چلنے کے نتیجے میں سب مل کر ایک ہوجاتے ہیں۔ اتحاد واتفاق ان کی عام صفت بن جاتی ہے اور بلا شبہ اتحاد و اتفاق سے زیادہ بڑی طاقت اس دنیا میں کوئی نہیں۔
آل عمران 3:106
’’تم میں ایک گروہ ہو جو دعوت الی الخیر کا کام کرے اور نیکیوں کا حکم دے اور برائیوں سے روکے‘‘ یہ ارشاد بیک وقت دو باتوں کو بتارہا ہے۔ ایک کا تعلق خواص سے ہے اوردوسرے کا تعلق عوام سے۔ امت کے خواص کے اندر یہ روح ہونی چاہيے کہ وہ امت کے اندر برائی کو برداشت نہ کریں، وہ نیکی اور بھلائی کے لیے تڑپنے والے ہوں۔ ان کا یہ جذبۂ اصلاح انھیں مجبور کرے گا کہ وہ لوگوں کہ احوال سے غیر متعلق نہ رہیں، وہ اپنے بھائیوں کو نیکی کی راہ پر چلنے کے لیے اکسائیں اور انھیں برائی سے دور رہنے کی تلقین کریں۔
تاہم اس عمل کی کامیابی کے لیے امت کے عوام کے اندر اطاعت کا جذبہ ہونا بھی لازماً ضروری ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے خواص کا احترام کریں۔ وہ ان کے کہنے سے چلیں اور جہاں وہ روکیں وہاں وہ رک جائیں۔ وہ اپنے آپ کو اپنے دینی ذمہ داروں کے حوالے کردیں۔ جس مسلم گروہ میں خواص اور عوام کا یہ حال ہو وہی فلاح پانے والا گروہ ہے۔ سمع وطاعت کی اس فضا ہی میں کسی معاشرہ کے اندر وہ اوصاف جنم لیتے ہیں جو اس کو دنیا میںطاقت ور اور آخرت میںنجات یافتہ بناتے ہیں۔
خواص کے اندر اس روح کے زندہ ہونے کا یہ فائدہ ہے کہ ان کی ساری توجہ خیر، بالفاظ دیگر اساسات دین پر مرتکز رہتی ہے۔ فرعی اور جزئی مسائل میں موشگافیاں کرنے کا ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔ جو لوگ خدا کی عظمتوں کے نقیب بنیں اور آخرت کے منذراور مبشربن کر اٹھیں ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ ظاہری مسائل کی جزئیات میں اپنی مہارت دکھائیں۔ اس کے ساتھ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام انھیں حقیقی مسائل کی اصلاح میں لگا دیتا ہے۔ فرضی اور قیاسی مسائل میں ذہنی ورزش کرنا انھیں اسی طرح بے معنی اور بے فائدہ معلوم ہونے لگتا ہے جس طرح ایک کسان کو شطرنج کا کھیل۔
عوام کو اس نظام اطاعت پر اپنے کو راضی کرنے کا یہ فائدہ ملتا ہے کہ وہ ٹکڑوں ٹکڑوں میں بٹنے سے بچ جاتے ہیں۔ ایک حکم کے تحت چلنے کے نتیجے میں سب مل کر ایک ہوجاتے ہیں۔ اتحاد واتفاق ان کی عام صفت بن جاتی ہے اور بلا شبہ اتحاد و اتفاق سے زیادہ بڑی طاقت اس دنیا میں کوئی نہیں۔
آل عمران 3:107
’’تم میں ایک گروہ ہو جو دعوت الی الخیر کا کام کرے اور نیکیوں کا حکم دے اور برائیوں سے روکے‘‘ یہ ارشاد بیک وقت دو باتوں کو بتارہا ہے۔ ایک کا تعلق خواص سے ہے اوردوسرے کا تعلق عوام سے۔ امت کے خواص کے اندر یہ روح ہونی چاہيے کہ وہ امت کے اندر برائی کو برداشت نہ کریں، وہ نیکی اور بھلائی کے لیے تڑپنے والے ہوں۔ ان کا یہ جذبۂ اصلاح انھیں مجبور کرے گا کہ وہ لوگوں کہ احوال سے غیر متعلق نہ رہیں، وہ اپنے بھائیوں کو نیکی کی راہ پر چلنے کے لیے اکسائیں اور انھیں برائی سے دور رہنے کی تلقین کریں۔
تاہم اس عمل کی کامیابی کے لیے امت کے عوام کے اندر اطاعت کا جذبہ ہونا بھی لازماً ضروری ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے خواص کا احترام کریں۔ وہ ان کے کہنے سے چلیں اور جہاں وہ روکیں وہاں وہ رک جائیں۔ وہ اپنے آپ کو اپنے دینی ذمہ داروں کے حوالے کردیں۔ جس مسلم گروہ میں خواص اور عوام کا یہ حال ہو وہی فلاح پانے والا گروہ ہے۔ سمع وطاعت کی اس فضا ہی میں کسی معاشرہ کے اندر وہ اوصاف جنم لیتے ہیں جو اس کو دنیا میںطاقت ور اور آخرت میںنجات یافتہ بناتے ہیں۔
خواص کے اندر اس روح کے زندہ ہونے کا یہ فائدہ ہے کہ ان کی ساری توجہ خیر، بالفاظ دیگر اساسات دین پر مرتکز رہتی ہے۔ فرعی اور جزئی مسائل میں موشگافیاں کرنے کا ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔ جو لوگ خدا کی عظمتوں کے نقیب بنیں اور آخرت کے منذراور مبشربن کر اٹھیں ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ ظاہری مسائل کی جزئیات میں اپنی مہارت دکھائیں۔ اس کے ساتھ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام انھیں حقیقی مسائل کی اصلاح میں لگا دیتا ہے۔ فرضی اور قیاسی مسائل میں ذہنی ورزش کرنا انھیں اسی طرح بے معنی اور بے فائدہ معلوم ہونے لگتا ہے جس طرح ایک کسان کو شطرنج کا کھیل۔
عوام کو اس نظام اطاعت پر اپنے کو راضی کرنے کا یہ فائدہ ملتا ہے کہ وہ ٹکڑوں ٹکڑوں میں بٹنے سے بچ جاتے ہیں۔ ایک حکم کے تحت چلنے کے نتیجے میں سب مل کر ایک ہوجاتے ہیں۔ اتحاد واتفاق ان کی عام صفت بن جاتی ہے اور بلا شبہ اتحاد و اتفاق سے زیادہ بڑی طاقت اس دنیا میں کوئی نہیں۔
آل عمران 3:108
’’تم میں ایک گروہ ہو جو دعوت الی الخیر کا کام کرے اور نیکیوں کا حکم دے اور برائیوں سے روکے‘‘ یہ ارشاد بیک وقت دو باتوں کو بتارہا ہے۔ ایک کا تعلق خواص سے ہے اوردوسرے کا تعلق عوام سے۔ امت کے خواص کے اندر یہ روح ہونی چاہيے کہ وہ امت کے اندر برائی کو برداشت نہ کریں، وہ نیکی اور بھلائی کے لیے تڑپنے والے ہوں۔ ان کا یہ جذبۂ اصلاح انھیں مجبور کرے گا کہ وہ لوگوں کہ احوال سے غیر متعلق نہ رہیں، وہ اپنے بھائیوں کو نیکی کی راہ پر چلنے کے لیے اکسائیں اور انھیں برائی سے دور رہنے کی تلقین کریں۔
تاہم اس عمل کی کامیابی کے لیے امت کے عوام کے اندر اطاعت کا جذبہ ہونا بھی لازماً ضروری ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے خواص کا احترام کریں۔ وہ ان کے کہنے سے چلیں اور جہاں وہ روکیں وہاں وہ رک جائیں۔ وہ اپنے آپ کو اپنے دینی ذمہ داروں کے حوالے کردیں۔ جس مسلم گروہ میں خواص اور عوام کا یہ حال ہو وہی فلاح پانے والا گروہ ہے۔ سمع وطاعت کی اس فضا ہی میں کسی معاشرہ کے اندر وہ اوصاف جنم لیتے ہیں جو اس کو دنیا میںطاقت ور اور آخرت میںنجات یافتہ بناتے ہیں۔
خواص کے اندر اس روح کے زندہ ہونے کا یہ فائدہ ہے کہ ان کی ساری توجہ خیر، بالفاظ دیگر اساسات دین پر مرتکز رہتی ہے۔ فرعی اور جزئی مسائل میں موشگافیاں کرنے کا ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔ جو لوگ خدا کی عظمتوں کے نقیب بنیں اور آخرت کے منذراور مبشربن کر اٹھیں ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ ظاہری مسائل کی جزئیات میں اپنی مہارت دکھائیں۔ اس کے ساتھ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام انھیں حقیقی مسائل کی اصلاح میں لگا دیتا ہے۔ فرضی اور قیاسی مسائل میں ذہنی ورزش کرنا انھیں اسی طرح بے معنی اور بے فائدہ معلوم ہونے لگتا ہے جس طرح ایک کسان کو شطرنج کا کھیل۔
عوام کو اس نظام اطاعت پر اپنے کو راضی کرنے کا یہ فائدہ ملتا ہے کہ وہ ٹکڑوں ٹکڑوں میں بٹنے سے بچ جاتے ہیں۔ ایک حکم کے تحت چلنے کے نتیجے میں سب مل کر ایک ہوجاتے ہیں۔ اتحاد واتفاق ان کی عام صفت بن جاتی ہے اور بلا شبہ اتحاد و اتفاق سے زیادہ بڑی طاقت اس دنیا میں کوئی نہیں۔
آل عمران 3:109
’’تم میں ایک گروہ ہو جو دعوت الی الخیر کا کام کرے اور نیکیوں کا حکم دے اور برائیوں سے روکے‘‘ یہ ارشاد بیک وقت دو باتوں کو بتارہا ہے۔ ایک کا تعلق خواص سے ہے اوردوسرے کا تعلق عوام سے۔ امت کے خواص کے اندر یہ روح ہونی چاہيے کہ وہ امت کے اندر برائی کو برداشت نہ کریں، وہ نیکی اور بھلائی کے لیے تڑپنے والے ہوں۔ ان کا یہ جذبۂ اصلاح انھیں مجبور کرے گا کہ وہ لوگوں کہ احوال سے غیر متعلق نہ رہیں، وہ اپنے بھائیوں کو نیکی کی راہ پر چلنے کے لیے اکسائیں اور انھیں برائی سے دور رہنے کی تلقین کریں۔
تاہم اس عمل کی کامیابی کے لیے امت کے عوام کے اندر اطاعت کا جذبہ ہونا بھی لازماً ضروری ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے خواص کا احترام کریں۔ وہ ان کے کہنے سے چلیں اور جہاں وہ روکیں وہاں وہ رک جائیں۔ وہ اپنے آپ کو اپنے دینی ذمہ داروں کے حوالے کردیں۔ جس مسلم گروہ میں خواص اور عوام کا یہ حال ہو وہی فلاح پانے والا گروہ ہے۔ سمع وطاعت کی اس فضا ہی میں کسی معاشرہ کے اندر وہ اوصاف جنم لیتے ہیں جو اس کو دنیا میںطاقت ور اور آخرت میںنجات یافتہ بناتے ہیں۔
خواص کے اندر اس روح کے زندہ ہونے کا یہ فائدہ ہے کہ ان کی ساری توجہ خیر، بالفاظ دیگر اساسات دین پر مرتکز رہتی ہے۔ فرعی اور جزئی مسائل میں موشگافیاں کرنے کا ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔ جو لوگ خدا کی عظمتوں کے نقیب بنیں اور آخرت کے منذراور مبشربن کر اٹھیں ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ ظاہری مسائل کی جزئیات میں اپنی مہارت دکھائیں۔ اس کے ساتھ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام انھیں حقیقی مسائل کی اصلاح میں لگا دیتا ہے۔ فرضی اور قیاسی مسائل میں ذہنی ورزش کرنا انھیں اسی طرح بے معنی اور بے فائدہ معلوم ہونے لگتا ہے جس طرح ایک کسان کو شطرنج کا کھیل۔
عوام کو اس نظام اطاعت پر اپنے کو راضی کرنے کا یہ فائدہ ملتا ہے کہ وہ ٹکڑوں ٹکڑوں میں بٹنے سے بچ جاتے ہیں۔ ایک حکم کے تحت چلنے کے نتیجے میں سب مل کر ایک ہوجاتے ہیں۔ اتحاد واتفاق ان کی عام صفت بن جاتی ہے اور بلا شبہ اتحاد و اتفاق سے زیادہ بڑی طاقت اس دنیا میں کوئی نہیں۔
آل عمران 3:110
یہود دین خداوندی کے حامل بنائے گئے تھے۔ مگر وہ اس کو لے کر کھڑے نہ ہوسکے اور اس کو محفوظ رکھنے میں بھی ناکام رہے۔ اس کے بعد اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اپنا دین اس کی صحیح صورت میں بھیجا۔ اب امت مسلمہ لوگوں کے درمیان خدا کی رہنمائی کے لیے کھڑی ہوئی ہے۔ اس منصب کا تقاضا ہے کہ یہ امت اللہ کی سچی مومن بنے۔ وہ دنیا کو بھلائی کی تلقین کرے اور ان چیزوں سے باخبر کرے جو اللہ کے نزدیک برائی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کام چونکہ خدائی کام ہے اس لیے خدا نے اس کے ساتھ اپنا تحفظاتی نظام بھی شامل کردیا ہے۔ جو لوگ اس کارِ خداوندی کے لیے اٹھیں گے ان کے لیے خدا کی ضمانت ہے کہ ان کے مخالفین ان کو معمولی اذیتوں کے سوا کوئی حقیقی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ تاہم یہود کے انجام کی صورت میں اس کی بھی دائمی مثال قائم کردی گئی کہ اس منصب حق پر سرفراز کيے جانے کے بعد جو لوگ بد عہدی کریں ان کی سزا اسی دنیا میں اس طرح شروع ہوجاتی ہے کہ ان کو ذاتی عزت وسرفرازی سے محروم کردیا جاتا ہے۔ خدا کی رحمتوں سے محرومی کی وجہ سے ان کی بے حسی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ ان لوگوں کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں جو ان کی کوتاہیوں کی طرف متوجہ کرنے کے لیے اٹھیں۔
’’یہود پر ذلّت مسلط کردی گئی إلاّ یہ کہ انھیں اللہ کی یا بندوں کی امان حاصل ہو‘‘۔ یہ اللہ کی ایک خصوصی سنت ہے جس کا تعلق اس قوم سے ہے جس کو خدا نے اپنے دین کا نمائندہ بنایا ہو۔ دین کی سچی نمائندگی ایسی قوم کے لیے غلبہ کی ضمانت ہوتی ہے۔ اور دین کی سچی نمائندگی سے ہٹنا اس کو موجودہ دنیا میں مغلوب کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ ایسی قوم اگر دین خدا کی نمائندگی سے ہٹ جائے تو موجودہ دنیا میں کبھی وہ ذاتی غلبہ حاصل نہیں کرسکتی۔ کسی درجہ میںاگر کبھی اس کو اختیار مل جائے تو وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کے بل پر ہوگا۔ یا تو اس ليے کہ اس کو کسی خدائی حکومت کی طرف سے امان دیاگیا ہے یا اس لیے کہ کسی غیر قوم کی حکومت نے اس کو اپنی حمایت وسرپرستی میںلے لیا ہے۔
کوئی قوم ذلّت کی اس سزا کی مستحق اس وقت بنتی ہے جب کہ اس کا یہ حال ہوجائے کہ وہ خدائی نشانيوں کا انکار کرنے لگے۔ نشانیوں کا انکار سچے دلائل کا انکار ہے۔ حق ہمیشہ دلائل کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے جو شخص سچی دلیل کا انکار کرتا ہے، وہ خود خدا کا انکار کررہا ہے۔
آل عمران 3:111
یہود دین خداوندی کے حامل بنائے گئے تھے۔ مگر وہ اس کو لے کر کھڑے نہ ہوسکے اور اس کو محفوظ رکھنے میں بھی ناکام رہے۔ اس کے بعد اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اپنا دین اس کی صحیح صورت میں بھیجا۔ اب امت مسلمہ لوگوں کے درمیان خدا کی رہنمائی کے لیے کھڑی ہوئی ہے۔ اس منصب کا تقاضا ہے کہ یہ امت اللہ کی سچی مومن بنے۔ وہ دنیا کو بھلائی کی تلقین کرے اور ان چیزوں سے باخبر کرے جو اللہ کے نزدیک برائی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کام چونکہ خدائی کام ہے اس لیے خدا نے اس کے ساتھ اپنا تحفظاتی نظام بھی شامل کردیا ہے۔ جو لوگ اس کارِ خداوندی کے لیے اٹھیں گے ان کے لیے خدا کی ضمانت ہے کہ ان کے مخالفین ان کو معمولی اذیتوں کے سوا کوئی حقیقی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ تاہم یہود کے انجام کی صورت میں اس کی بھی دائمی مثال قائم کردی گئی کہ اس منصب حق پر سرفراز کيے جانے کے بعد جو لوگ بد عہدی کریں ان کی سزا اسی دنیا میں اس طرح شروع ہوجاتی ہے کہ ان کو ذاتی عزت وسرفرازی سے محروم کردیا جاتا ہے۔ خدا کی رحمتوں سے محرومی کی وجہ سے ان کی بے حسی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ ان لوگوں کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں جو ان کی کوتاہیوں کی طرف متوجہ کرنے کے لیے اٹھیں۔
’’یہود پر ذلّت مسلط کردی گئی إلاّ یہ کہ انھیں اللہ کی یا بندوں کی امان حاصل ہو‘‘۔ یہ اللہ کی ایک خصوصی سنت ہے جس کا تعلق اس قوم سے ہے جس کو خدا نے اپنے دین کا نمائندہ بنایا ہو۔ دین کی سچی نمائندگی ایسی قوم کے لیے غلبہ کی ضمانت ہوتی ہے۔ اور دین کی سچی نمائندگی سے ہٹنا اس کو موجودہ دنیا میں مغلوب کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ ایسی قوم اگر دین خدا کی نمائندگی سے ہٹ جائے تو موجودہ دنیا میں کبھی وہ ذاتی غلبہ حاصل نہیں کرسکتی۔ کسی درجہ میںاگر کبھی اس کو اختیار مل جائے تو وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کے بل پر ہوگا۔ یا تو اس ليے کہ اس کو کسی خدائی حکومت کی طرف سے امان دیاگیا ہے یا اس لیے کہ کسی غیر قوم کی حکومت نے اس کو اپنی حمایت وسرپرستی میںلے لیا ہے۔
کوئی قوم ذلّت کی اس سزا کی مستحق اس وقت بنتی ہے جب کہ اس کا یہ حال ہوجائے کہ وہ خدائی نشانيوں کا انکار کرنے لگے۔ نشانیوں کا انکار سچے دلائل کا انکار ہے۔ حق ہمیشہ دلائل کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے جو شخص سچی دلیل کا انکار کرتا ہے، وہ خود خدا کا انکار کررہا ہے۔
آل عمران 3:112
یہود دین خداوندی کے حامل بنائے گئے تھے۔ مگر وہ اس کو لے کر کھڑے نہ ہوسکے اور اس کو محفوظ رکھنے میں بھی ناکام رہے۔ اس کے بعد اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اپنا دین اس کی صحیح صورت میں بھیجا۔ اب امت مسلمہ لوگوں کے درمیان خدا کی رہنمائی کے لیے کھڑی ہوئی ہے۔ اس منصب کا تقاضا ہے کہ یہ امت اللہ کی سچی مومن بنے۔ وہ دنیا کو بھلائی کی تلقین کرے اور ان چیزوں سے باخبر کرے جو اللہ کے نزدیک برائی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کام چونکہ خدائی کام ہے اس لیے خدا نے اس کے ساتھ اپنا تحفظاتی نظام بھی شامل کردیا ہے۔ جو لوگ اس کارِ خداوندی کے لیے اٹھیں گے ان کے لیے خدا کی ضمانت ہے کہ ان کے مخالفین ان کو معمولی اذیتوں کے سوا کوئی حقیقی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ تاہم یہود کے انجام کی صورت میں اس کی بھی دائمی مثال قائم کردی گئی کہ اس منصب حق پر سرفراز کيے جانے کے بعد جو لوگ بد عہدی کریں ان کی سزا اسی دنیا میں اس طرح شروع ہوجاتی ہے کہ ان کو ذاتی عزت وسرفرازی سے محروم کردیا جاتا ہے۔ خدا کی رحمتوں سے محرومی کی وجہ سے ان کی بے حسی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ ان لوگوں کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں جو ان کی کوتاہیوں کی طرف متوجہ کرنے کے لیے اٹھیں۔
’’یہود پر ذلّت مسلط کردی گئی إلاّ یہ کہ انھیں اللہ کی یا بندوں کی امان حاصل ہو‘‘۔ یہ اللہ کی ایک خصوصی سنت ہے جس کا تعلق اس قوم سے ہے جس کو خدا نے اپنے دین کا نمائندہ بنایا ہو۔ دین کی سچی نمائندگی ایسی قوم کے لیے غلبہ کی ضمانت ہوتی ہے۔ اور دین کی سچی نمائندگی سے ہٹنا اس کو موجودہ دنیا میں مغلوب کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ ایسی قوم اگر دین خدا کی نمائندگی سے ہٹ جائے تو موجودہ دنیا میں کبھی وہ ذاتی غلبہ حاصل نہیں کرسکتی۔ کسی درجہ میںاگر کبھی اس کو اختیار مل جائے تو وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کے بل پر ہوگا۔ یا تو اس ليے کہ اس کو کسی خدائی حکومت کی طرف سے امان دیاگیا ہے یا اس لیے کہ کسی غیر قوم کی حکومت نے اس کو اپنی حمایت وسرپرستی میںلے لیا ہے۔
کوئی قوم ذلّت کی اس سزا کی مستحق اس وقت بنتی ہے جب کہ اس کا یہ حال ہوجائے کہ وہ خدائی نشانيوں کا انکار کرنے لگے۔ نشانیوں کا انکار سچے دلائل کا انکار ہے۔ حق ہمیشہ دلائل کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے جو شخص سچی دلیل کا انکار کرتا ہے، وہ خود خدا کا انکار کررہا ہے۔
آل عمران 3:113
نیکیوں میں سبقت (مسارعة فی الخیرات) سے مراد اس آیت میں مومنین اہلِ کتاب کا یہ عمل ہے کہ نبی آخر الزماں کی زبان سے جب خدائی سچائی کا اعلان ہوا تو انھوں نے فوراً اس کو پہچان لیا اور اس کی طرف عاجزانہ دوڑ پڑے۔ اس وقت ایک طرف دین موسیٰ تھا جو تاریخی عظمت اور روایتی تقدس کے زور پر قائم تھا۔ دوسری طرف دین محمد تھا جس کی پشت پر ابھی تک صرف دلیل کی طاقت تھی، تاریخی عظمت اور روایاتی تقدس کا وزن ابھی تک اس کے ساتھ شامل نہیں ہوا تھا۔ اپنے دین اور وقت کے نبی کے دین میں یہ فرق وقت کے نبی کے دین کو ماننے میں زبردست رکاوٹ تھا۔ مگر وہ اس رکاوٹ کو عبور کرنے میں کامیاب ہوگئے اور بڑھ کر وقت کے نبی کے دین کو مان لیا۔
مال واولاد کی محبت آدمی کو قربانی والے دین پر آنے نہیں دیتی۔ البتہ نمائشی قسم کے اعمال کا مظاہرہ کرکے وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہے۔ مگر جس طرح سخت ٹھنڈی ہوا اچانک پوری کھیتی کو برباد کردیتی ہے، اسی طرح قیامت کا طوفان ان کے نمائشی اعمال کو بے قیمت کرکے رکھ دے گا — یہود میں صرف چند لوگ تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔ ’’امت قائمہ‘‘ کی حیثیت سے ان کا مستقل ذکر کرنا ظاہر کرتا ہے کہ چند آدمی اگر اللہ سے ڈرنے والے ہوں تو وہ بھیڑ کے مقابلہ میں اللہ کی نظر میں زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔
نجات کے لیے صرف یہ کافی نہیں ہے کہ کسی پیغمبر کے نام پر جو نسلی امت بن گئی ہے، آدمی اس امت میں شامل رہے۔ بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ وہ عہد کا پابند بنے۔ عہد سے مراد ایمان ہے۔ ایمان بندے اور خدا کے درمیان ایک عہد ہے۔ ایمان لاکر بندہ اپنے آپ کو اس کا پابند کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کا وفادار اور اطاعت گزار بنائے گا۔ بالفاظ دیگر، گروہی نسبت نہیں بلکہ ذاتی عمل وہ چیز ہے جو کسی آدمی کو خدا کی رحمت اور بخشش کا مستحق بناتی ہے۔
اس عہد میں تمام ایمانی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ تنہائیوں میں اللہ کی یاد، اللہ کی عبادت گزاری، آخرت کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنا، اپنے آس پاس جو افراد ہوں ان کو بھلائی پر لانے کی کوشش کرنا، جو افراد برائی کا ارتکاب کریں ان کو برائی سے ہٹانے میں پورا زور لگا دینا، خدا کی پسند کے کاموں میں دوڑ کر حصہ لینا۔ جو لوگ ایسا کریں وہی عہد ربانی پر پورے اترے۔ وہ خدا کے مقبول بندے ہیں۔ ان کا عمل خدا کے علم میں ہے، وہ ان کو ان کے عمل کا بدلہ دے گا اور فیصلہ کے دن ان کی پوری قدردانی فرمائے گا۔
آل عمران 3:114
نیکیوں میں سبقت (مسارعة فی الخیرات) سے مراد اس آیت میں مومنین اہلِ کتاب کا یہ عمل ہے کہ نبی آخر الزماں کی زبان سے جب خدائی سچائی کا اعلان ہوا تو انھوں نے فوراً اس کو پہچان لیا اور اس کی طرف عاجزانہ دوڑ پڑے۔ اس وقت ایک طرف دین موسیٰ تھا جو تاریخی عظمت اور روایتی تقدس کے زور پر قائم تھا۔ دوسری طرف دین محمد تھا جس کی پشت پر ابھی تک صرف دلیل کی طاقت تھی، تاریخی عظمت اور روایاتی تقدس کا وزن ابھی تک اس کے ساتھ شامل نہیں ہوا تھا۔ اپنے دین اور وقت کے نبی کے دین میں یہ فرق وقت کے نبی کے دین کو ماننے میں زبردست رکاوٹ تھا۔ مگر وہ اس رکاوٹ کو عبور کرنے میں کامیاب ہوگئے اور بڑھ کر وقت کے نبی کے دین کو مان لیا۔
مال واولاد کی محبت آدمی کو قربانی والے دین پر آنے نہیں دیتی۔ البتہ نمائشی قسم کے اعمال کا مظاہرہ کرکے وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہے۔ مگر جس طرح سخت ٹھنڈی ہوا اچانک پوری کھیتی کو برباد کردیتی ہے، اسی طرح قیامت کا طوفان ان کے نمائشی اعمال کو بے قیمت کرکے رکھ دے گا — یہود میں صرف چند لوگ تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔ ’’امت قائمہ‘‘ کی حیثیت سے ان کا مستقل ذکر کرنا ظاہر کرتا ہے کہ چند آدمی اگر اللہ سے ڈرنے والے ہوں تو وہ بھیڑ کے مقابلہ میں اللہ کی نظر میں زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔
نجات کے لیے صرف یہ کافی نہیں ہے کہ کسی پیغمبر کے نام پر جو نسلی امت بن گئی ہے، آدمی اس امت میں شامل رہے۔ بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ وہ عہد کا پابند بنے۔ عہد سے مراد ایمان ہے۔ ایمان بندے اور خدا کے درمیان ایک عہد ہے۔ ایمان لاکر بندہ اپنے آپ کو اس کا پابند کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کا وفادار اور اطاعت گزار بنائے گا۔ بالفاظ دیگر، گروہی نسبت نہیں بلکہ ذاتی عمل وہ چیز ہے جو کسی آدمی کو خدا کی رحمت اور بخشش کا مستحق بناتی ہے۔
اس عہد میں تمام ایمانی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ تنہائیوں میں اللہ کی یاد، اللہ کی عبادت گزاری، آخرت کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنا، اپنے آس پاس جو افراد ہوں ان کو بھلائی پر لانے کی کوشش کرنا، جو افراد برائی کا ارتکاب کریں ان کو برائی سے ہٹانے میں پورا زور لگا دینا، خدا کی پسند کے کاموں میں دوڑ کر حصہ لینا۔ جو لوگ ایسا کریں وہی عہد ربانی پر پورے اترے۔ وہ خدا کے مقبول بندے ہیں۔ ان کا عمل خدا کے علم میں ہے، وہ ان کو ان کے عمل کا بدلہ دے گا اور فیصلہ کے دن ان کی پوری قدردانی فرمائے گا۔
آل عمران 3:115
نیکیوں میں سبقت (مسارعة فی الخیرات) سے مراد اس آیت میں مومنین اہلِ کتاب کا یہ عمل ہے کہ نبی آخر الزماں کی زبان سے جب خدائی سچائی کا اعلان ہوا تو انھوں نے فوراً اس کو پہچان لیا اور اس کی طرف عاجزانہ دوڑ پڑے۔ اس وقت ایک طرف دین موسیٰ تھا جو تاریخی عظمت اور روایتی تقدس کے زور پر قائم تھا۔ دوسری طرف دین محمد تھا جس کی پشت پر ابھی تک صرف دلیل کی طاقت تھی، تاریخی عظمت اور روایاتی تقدس کا وزن ابھی تک اس کے ساتھ شامل نہیں ہوا تھا۔ اپنے دین اور وقت کے نبی کے دین میں یہ فرق وقت کے نبی کے دین کو ماننے میں زبردست رکاوٹ تھا۔ مگر وہ اس رکاوٹ کو عبور کرنے میں کامیاب ہوگئے اور بڑھ کر وقت کے نبی کے دین کو مان لیا۔
مال واولاد کی محبت آدمی کو قربانی والے دین پر آنے نہیں دیتی۔ البتہ نمائشی قسم کے اعمال کا مظاہرہ کرکے وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہے۔ مگر جس طرح سخت ٹھنڈی ہوا اچانک پوری کھیتی کو برباد کردیتی ہے، اسی طرح قیامت کا طوفان ان کے نمائشی اعمال کو بے قیمت کرکے رکھ دے گا — یہود میں صرف چند لوگ تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔ ’’امت قائمہ‘‘ کی حیثیت سے ان کا مستقل ذکر کرنا ظاہر کرتا ہے کہ چند آدمی اگر اللہ سے ڈرنے والے ہوں تو وہ بھیڑ کے مقابلہ میں اللہ کی نظر میں زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔
نجات کے لیے صرف یہ کافی نہیں ہے کہ کسی پیغمبر کے نام پر جو نسلی امت بن گئی ہے، آدمی اس امت میں شامل رہے۔ بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ وہ عہد کا پابند بنے۔ عہد سے مراد ایمان ہے۔ ایمان بندے اور خدا کے درمیان ایک عہد ہے۔ ایمان لاکر بندہ اپنے آپ کو اس کا پابند کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کا وفادار اور اطاعت گزار بنائے گا۔ بالفاظ دیگر، گروہی نسبت نہیں بلکہ ذاتی عمل وہ چیز ہے جو کسی آدمی کو خدا کی رحمت اور بخشش کا مستحق بناتی ہے۔
اس عہد میں تمام ایمانی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ تنہائیوں میں اللہ کی یاد، اللہ کی عبادت گزاری، آخرت کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنا، اپنے آس پاس جو افراد ہوں ان کو بھلائی پر لانے کی کوشش کرنا، جو افراد برائی کا ارتکاب کریں ان کو برائی سے ہٹانے میں پورا زور لگا دینا، خدا کی پسند کے کاموں میں دوڑ کر حصہ لینا۔ جو لوگ ایسا کریں وہی عہد ربانی پر پورے اترے۔ وہ خدا کے مقبول بندے ہیں۔ ان کا عمل خدا کے علم میں ہے، وہ ان کو ان کے عمل کا بدلہ دے گا اور فیصلہ کے دن ان کی پوری قدردانی فرمائے گا۔
آل عمران 3:116
نیکیوں میں سبقت (مسارعة فی الخیرات) سے مراد اس آیت میں مومنین اہلِ کتاب کا یہ عمل ہے کہ نبی آخر الزماں کی زبان سے جب خدائی سچائی کا اعلان ہوا تو انھوں نے فوراً اس کو پہچان لیا اور اس کی طرف عاجزانہ دوڑ پڑے۔ اس وقت ایک طرف دین موسیٰ تھا جو تاریخی عظمت اور روایتی تقدس کے زور پر قائم تھا۔ دوسری طرف دین محمد تھا جس کی پشت پر ابھی تک صرف دلیل کی طاقت تھی، تاریخی عظمت اور روایاتی تقدس کا وزن ابھی تک اس کے ساتھ شامل نہیں ہوا تھا۔ اپنے دین اور وقت کے نبی کے دین میں یہ فرق وقت کے نبی کے دین کو ماننے میں زبردست رکاوٹ تھا۔ مگر وہ اس رکاوٹ کو عبور کرنے میں کامیاب ہوگئے اور بڑھ کر وقت کے نبی کے دین کو مان لیا۔
مال واولاد کی محبت آدمی کو قربانی والے دین پر آنے نہیں دیتی۔ البتہ نمائشی قسم کے اعمال کا مظاہرہ کرکے وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہے۔ مگر جس طرح سخت ٹھنڈی ہوا اچانک پوری کھیتی کو برباد کردیتی ہے، اسی طرح قیامت کا طوفان ان کے نمائشی اعمال کو بے قیمت کرکے رکھ دے گا — یہود میں صرف چند لوگ تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔ ’’امت قائمہ‘‘ کی حیثیت سے ان کا مستقل ذکر کرنا ظاہر کرتا ہے کہ چند آدمی اگر اللہ سے ڈرنے والے ہوں تو وہ بھیڑ کے مقابلہ میں اللہ کی نظر میں زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔
نجات کے لیے صرف یہ کافی نہیں ہے کہ کسی پیغمبر کے نام پر جو نسلی امت بن گئی ہے، آدمی اس امت میں شامل رہے۔ بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ وہ عہد کا پابند بنے۔ عہد سے مراد ایمان ہے۔ ایمان بندے اور خدا کے درمیان ایک عہد ہے۔ ایمان لاکر بندہ اپنے آپ کو اس کا پابند کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کا وفادار اور اطاعت گزار بنائے گا۔ بالفاظ دیگر، گروہی نسبت نہیں بلکہ ذاتی عمل وہ چیز ہے جو کسی آدمی کو خدا کی رحمت اور بخشش کا مستحق بناتی ہے۔
اس عہد میں تمام ایمانی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ تنہائیوں میں اللہ کی یاد، اللہ کی عبادت گزاری، آخرت کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنا، اپنے آس پاس جو افراد ہوں ان کو بھلائی پر لانے کی کوشش کرنا، جو افراد برائی کا ارتکاب کریں ان کو برائی سے ہٹانے میں پورا زور لگا دینا، خدا کی پسند کے کاموں میں دوڑ کر حصہ لینا۔ جو لوگ ایسا کریں وہی عہد ربانی پر پورے اترے۔ وہ خدا کے مقبول بندے ہیں۔ ان کا عمل خدا کے علم میں ہے، وہ ان کو ان کے عمل کا بدلہ دے گا اور فیصلہ کے دن ان کی پوری قدردانی فرمائے گا۔
آل عمران 3:117
نیکیوں میں سبقت (مسارعة فی الخیرات) سے مراد اس آیت میں مومنین اہلِ کتاب کا یہ عمل ہے کہ نبی آخر الزماں کی زبان سے جب خدائی سچائی کا اعلان ہوا تو انھوں نے فوراً اس کو پہچان لیا اور اس کی طرف عاجزانہ دوڑ پڑے۔ اس وقت ایک طرف دین موسیٰ تھا جو تاریخی عظمت اور روایتی تقدس کے زور پر قائم تھا۔ دوسری طرف دین محمد تھا جس کی پشت پر ابھی تک صرف دلیل کی طاقت تھی، تاریخی عظمت اور روایاتی تقدس کا وزن ابھی تک اس کے ساتھ شامل نہیں ہوا تھا۔ اپنے دین اور وقت کے نبی کے دین میں یہ فرق وقت کے نبی کے دین کو ماننے میں زبردست رکاوٹ تھا۔ مگر وہ اس رکاوٹ کو عبور کرنے میں کامیاب ہوگئے اور بڑھ کر وقت کے نبی کے دین کو مان لیا۔
مال واولاد کی محبت آدمی کو قربانی والے دین پر آنے نہیں دیتی۔ البتہ نمائشی قسم کے اعمال کا مظاہرہ کرکے وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہے۔ مگر جس طرح سخت ٹھنڈی ہوا اچانک پوری کھیتی کو برباد کردیتی ہے، اسی طرح قیامت کا طوفان ان کے نمائشی اعمال کو بے قیمت کرکے رکھ دے گا — یہود میں صرف چند لوگ تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔ ’’امت قائمہ‘‘ کی حیثیت سے ان کا مستقل ذکر کرنا ظاہر کرتا ہے کہ چند آدمی اگر اللہ سے ڈرنے والے ہوں تو وہ بھیڑ کے مقابلہ میں اللہ کی نظر میں زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔
نجات کے لیے صرف یہ کافی نہیں ہے کہ کسی پیغمبر کے نام پر جو نسلی امت بن گئی ہے، آدمی اس امت میں شامل رہے۔ بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ وہ عہد کا پابند بنے۔ عہد سے مراد ایمان ہے۔ ایمان بندے اور خدا کے درمیان ایک عہد ہے۔ ایمان لاکر بندہ اپنے آپ کو اس کا پابند کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کا وفادار اور اطاعت گزار بنائے گا۔ بالفاظ دیگر، گروہی نسبت نہیں بلکہ ذاتی عمل وہ چیز ہے جو کسی آدمی کو خدا کی رحمت اور بخشش کا مستحق بناتی ہے۔
اس عہد میں تمام ایمانی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ تنہائیوں میں اللہ کی یاد، اللہ کی عبادت گزاری، آخرت کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنا، اپنے آس پاس جو افراد ہوں ان کو بھلائی پر لانے کی کوشش کرنا، جو افراد برائی کا ارتکاب کریں ان کو برائی سے ہٹانے میں پورا زور لگا دینا، خدا کی پسند کے کاموں میں دوڑ کر حصہ لینا۔ جو لوگ ایسا کریں وہی عہد ربانی پر پورے اترے۔ وہ خدا کے مقبول بندے ہیں۔ ان کا عمل خدا کے علم میں ہے، وہ ان کو ان کے عمل کا بدلہ دے گا اور فیصلہ کے دن ان کی پوری قدردانی فرمائے گا۔
آل عمران 3:118
مسلمان اسی خدائی دین پر ایمان لائے تھے جو سابق اہل کتاب (یہود) کو اپنے نبیوں کے ذریعہ ملا تھا۔ دونوں کا دین اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک تھا۔ مگر یہود مسلمانوں کے اس قدر دشمن ہوگئے کہ مسلمان اپنی ساری خصوصیات کے باوجود ان کے نزدیک ایک کلمۂ خیر کے بھی حق دار نہ تھے۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کو اگر کوئی تکلیف پہنچ جاتی تو وہ دل ہی دل میں خوش ہوتے۔ گویا وہ ان کو انسانی ہمدردی کا مستحق بھی نہیں سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہود نے انبیاء بنی اسرائیل کی طرف منسوب کرکے ایک خود ساختہ دین بنا رکھا تھا اور اس کے بل پر عوام میں قیادت کا مقام حاصل کيے ہوئے تھے۔ خدا کے دین میں ساری توجہ خدا کی طرف رہتی ہے۔ جب کہ خود ساختہ دین میں لوگوں کی توجہ ان افراد کی طرف لگ جاتی ہے جو اس خود ساختہ دین کے خالق اور شارح ہوں۔ایسے لوگ سچے دین کی دعوت کو کبھی گوارا نہیں کرتے۔ کیوں کہ ان کو نظر آتا ہے کہ وہ ان کو ان کے مقام عظمت سے ہٹا رہی ہے۔ جب ایسی صورت پیش آئے تو اللہ کے سچے بندوں کا کام یہ ہے کہ وہ منفی رد عمل سے بچیں اور مکمل طورپر صبر وتقویٰ پر قائم رہیں۔ صبر کا مطلب ہے ہر حال میں اپنے آپ کو حق کا پابند رکھنا، اور تقویٰ یہ ہے کہ فیصلہ کن طاقت صرف اللہ کو سمجھا جائے، نہ کہ کسی اور کو۔ مسلمان اگر اس قسم کے مثبت رویہ کا ثبوت دیں تو کسی کی دشمنی ان کو ذرا بھی نقصان نہ پہنچائے گی خواہ دشمن مقدار میں کتنے ہی زیادہ ہوں۔ تاہم اس کے ساتھ مسلمانوں کو حقیقت پسند بھی بننا چاہیے۔ ان کو اپنے دوست اور دشمن کے درمیان تمیز کرنا چاہیے تاکہ کوئی ان کی صاف دلی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھاسکے۔
مسلمانوں کے دل میں یہود کے لیے محبت ہونا اور یہود کے دل میں مسلمانوں کے لیے محبت نہ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ دونوں میں سے کون حق پر ہے، اور کون ناحق پر۔ اللہ سراپا رحم اور عدل ہے۔ وہ تمام انسانوں کا خالق ومالک ہے۔ اس لیے جو شخص حقیقی طورپر اللہ کو پالیتا ہے اس کا سینہ تمام خدا کے بندوں کے لیے کھل جاتا ہے۔ اس کے لیے تمام انسان یکساں طور پر اللہ کی عیال بن جاتے ہیں۔ وہ ہر ایک کے لیے وہی چاہنے لگتا ہے، جو وہ اپنے لیے چاہتا ہے۔ مگر جو لوگ اللہ کو حقیقی طورپر پائے ہوئے نہ ہوں جنھوں نے اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں نہ ملایا ہو وہ صرف اپنی ذات کی سطح پر جیتے ہیں۔ ان کا سرمایۂ حیات اپنے فائدے اور اپنے گروہی تعصبات ہوتے ہیں۔ ان کا یہ مزاج ان کو ایسے لوگوں کا دشمن بنا دیتا ہے جو ان کو اپنے مفاد کے خلاف نظر آئیں، جو ان کے اپنے گروہ میں شامل نہ ہوں۔ خدا کو مانتے ہوئے وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا خدا کی دنیا ہے۔ یہاں کسی کی کوئی تدبیر اللہ کی مشیّت کے بغیر مؤثر نہیں ہوسکتی۔
آل عمران 3:119
مسلمان اسی خدائی دین پر ایمان لائے تھے جو سابق اہل کتاب (یہود) کو اپنے نبیوں کے ذریعہ ملا تھا۔ دونوں کا دین اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک تھا۔ مگر یہود مسلمانوں کے اس قدر دشمن ہوگئے کہ مسلمان اپنی ساری خصوصیات کے باوجود ان کے نزدیک ایک کلمۂ خیر کے بھی حق دار نہ تھے۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کو اگر کوئی تکلیف پہنچ جاتی تو وہ دل ہی دل میں خوش ہوتے۔ گویا وہ ان کو انسانی ہمدردی کا مستحق بھی نہیں سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہود نے انبیاء بنی اسرائیل کی طرف منسوب کرکے ایک خود ساختہ دین بنا رکھا تھا اور اس کے بل پر عوام میں قیادت کا مقام حاصل کيے ہوئے تھے۔ خدا کے دین میں ساری توجہ خدا کی طرف رہتی ہے۔ جب کہ خود ساختہ دین میں لوگوں کی توجہ ان افراد کی طرف لگ جاتی ہے جو اس خود ساختہ دین کے خالق اور شارح ہوں۔ایسے لوگ سچے دین کی دعوت کو کبھی گوارا نہیں کرتے۔ کیوں کہ ان کو نظر آتا ہے کہ وہ ان کو ان کے مقام عظمت سے ہٹا رہی ہے۔ جب ایسی صورت پیش آئے تو اللہ کے سچے بندوں کا کام یہ ہے کہ وہ منفی رد عمل سے بچیں اور مکمل طورپر صبر وتقویٰ پر قائم رہیں۔ صبر کا مطلب ہے ہر حال میں اپنے آپ کو حق کا پابند رکھنا، اور تقویٰ یہ ہے کہ فیصلہ کن طاقت صرف اللہ کو سمجھا جائے، نہ کہ کسی اور کو۔ مسلمان اگر اس قسم کے مثبت رویہ کا ثبوت دیں تو کسی کی دشمنی ان کو ذرا بھی نقصان نہ پہنچائے گی خواہ دشمن مقدار میں کتنے ہی زیادہ ہوں۔ تاہم اس کے ساتھ مسلمانوں کو حقیقت پسند بھی بننا چاہیے۔ ان کو اپنے دوست اور دشمن کے درمیان تمیز کرنا چاہیے تاکہ کوئی ان کی صاف دلی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھاسکے۔
مسلمانوں کے دل میں یہود کے لیے محبت ہونا اور یہود کے دل میں مسلمانوں کے لیے محبت نہ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ دونوں میں سے کون حق پر ہے، اور کون ناحق پر۔ اللہ سراپا رحم اور عدل ہے۔ وہ تمام انسانوں کا خالق ومالک ہے۔ اس لیے جو شخص حقیقی طورپر اللہ کو پالیتا ہے اس کا سینہ تمام خدا کے بندوں کے لیے کھل جاتا ہے۔ اس کے لیے تمام انسان یکساں طور پر اللہ کی عیال بن جاتے ہیں۔ وہ ہر ایک کے لیے وہی چاہنے لگتا ہے، جو وہ اپنے لیے چاہتا ہے۔ مگر جو لوگ اللہ کو حقیقی طورپر پائے ہوئے نہ ہوں جنھوں نے اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں نہ ملایا ہو وہ صرف اپنی ذات کی سطح پر جیتے ہیں۔ ان کا سرمایۂ حیات اپنے فائدے اور اپنے گروہی تعصبات ہوتے ہیں۔ ان کا یہ مزاج ان کو ایسے لوگوں کا دشمن بنا دیتا ہے جو ان کو اپنے مفاد کے خلاف نظر آئیں، جو ان کے اپنے گروہ میں شامل نہ ہوں۔ خدا کو مانتے ہوئے وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا خدا کی دنیا ہے۔ یہاں کسی کی کوئی تدبیر اللہ کی مشیّت کے بغیر مؤثر نہیں ہوسکتی۔
آل عمران 3:120
مسلمان اسی خدائی دین پر ایمان لائے تھے جو سابق اہل کتاب (یہود) کو اپنے نبیوں کے ذریعہ ملا تھا۔ دونوں کا دین اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک تھا۔ مگر یہود مسلمانوں کے اس قدر دشمن ہوگئے کہ مسلمان اپنی ساری خصوصیات کے باوجود ان کے نزدیک ایک کلمۂ خیر کے بھی حق دار نہ تھے۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کو اگر کوئی تکلیف پہنچ جاتی تو وہ دل ہی دل میں خوش ہوتے۔ گویا وہ ان کو انسانی ہمدردی کا مستحق بھی نہیں سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہود نے انبیاء بنی اسرائیل کی طرف منسوب کرکے ایک خود ساختہ دین بنا رکھا تھا اور اس کے بل پر عوام میں قیادت کا مقام حاصل کيے ہوئے تھے۔ خدا کے دین میں ساری توجہ خدا کی طرف رہتی ہے۔ جب کہ خود ساختہ دین میں لوگوں کی توجہ ان افراد کی طرف لگ جاتی ہے جو اس خود ساختہ دین کے خالق اور شارح ہوں۔ایسے لوگ سچے دین کی دعوت کو کبھی گوارا نہیں کرتے۔ کیوں کہ ان کو نظر آتا ہے کہ وہ ان کو ان کے مقام عظمت سے ہٹا رہی ہے۔ جب ایسی صورت پیش آئے تو اللہ کے سچے بندوں کا کام یہ ہے کہ وہ منفی رد عمل سے بچیں اور مکمل طورپر صبر وتقویٰ پر قائم رہیں۔ صبر کا مطلب ہے ہر حال میں اپنے آپ کو حق کا پابند رکھنا، اور تقویٰ یہ ہے کہ فیصلہ کن طاقت صرف اللہ کو سمجھا جائے، نہ کہ کسی اور کو۔ مسلمان اگر اس قسم کے مثبت رویہ کا ثبوت دیں تو کسی کی دشمنی ان کو ذرا بھی نقصان نہ پہنچائے گی خواہ دشمن مقدار میں کتنے ہی زیادہ ہوں۔ تاہم اس کے ساتھ مسلمانوں کو حقیقت پسند بھی بننا چاہیے۔ ان کو اپنے دوست اور دشمن کے درمیان تمیز کرنا چاہیے تاکہ کوئی ان کی صاف دلی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھاسکے۔
مسلمانوں کے دل میں یہود کے لیے محبت ہونا اور یہود کے دل میں مسلمانوں کے لیے محبت نہ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ دونوں میں سے کون حق پر ہے، اور کون ناحق پر۔ اللہ سراپا رحم اور عدل ہے۔ وہ تمام انسانوں کا خالق ومالک ہے۔ اس لیے جو شخص حقیقی طورپر اللہ کو پالیتا ہے اس کا سینہ تمام خدا کے بندوں کے لیے کھل جاتا ہے۔ اس کے لیے تمام انسان یکساں طور پر اللہ کی عیال بن جاتے ہیں۔ وہ ہر ایک کے لیے وہی چاہنے لگتا ہے، جو وہ اپنے لیے چاہتا ہے۔ مگر جو لوگ اللہ کو حقیقی طورپر پائے ہوئے نہ ہوں جنھوں نے اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں نہ ملایا ہو وہ صرف اپنی ذات کی سطح پر جیتے ہیں۔ ان کا سرمایۂ حیات اپنے فائدے اور اپنے گروہی تعصبات ہوتے ہیں۔ ان کا یہ مزاج ان کو ایسے لوگوں کا دشمن بنا دیتا ہے جو ان کو اپنے مفاد کے خلاف نظر آئیں، جو ان کے اپنے گروہ میں شامل نہ ہوں۔ خدا کو مانتے ہوئے وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا خدا کی دنیا ہے۔ یہاں کسی کی کوئی تدبیر اللہ کی مشیّت کے بغیر مؤثر نہیں ہوسکتی۔
آل عمران 3:121
یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔
مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔
آل عمران 3:122
یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔
مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔
آل عمران 3:123
یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔
مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔
آل عمران 3:124
یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔
مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔
آل عمران 3:125
یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔
مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔
آل عمران 3:126
یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔
مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔
آل عمران 3:127
یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔
مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔
آل عمران 3:128
یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔
مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔
آل عمران 3:129
یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔
مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔
آل عمران 3:130
سودی کاروبار زرپرستی کی آخری بدترین شکل ہے۔ جو شخص زرپرستی میں مبتلا ہو وہ رات دن اس فکر میں رہتا ہے کہ کس طرح اس کا مال دونا اور چوگنا ہو۔ وہ دنیا کامال حاصل کرنے کی طرف دوڑ نے لگتا ہے۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی آخرت کی جنت کی طرف دوڑے اور اللہ کی رحمت ونصرت کا زیادہ سے زیادہ حریص ہو۔ آدمی اپنا مال اس لیے بڑھانا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کو عزت حاصل ہو، دنیامیں اس کے لیے شان دار زندگی کی ضمانت ہوجائے۔ مگر موجودہ دنیا کی عزت وکامیابی کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل اہمیت کی چیز جنت ہے جس کی خوشیاں اور لذّتیں بے حساب ہیں۔ عقلمند وہ ہے جو اس جنت کی طرف دوڑے۔ جنت کی طرف دوڑنا یہ ہے کہ آدمی اپنے مال کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں دے۔ دنیوی کامیابی کا ذریعہ مال کو ’’بڑھانا‘‘ ہے اور اخروی کامیابی کو حاصل کرنے کا ذریعہ مال کو ’’گھٹانا‘‘ — پہلی قسم کے لوگوں کا سرمایہ اگر مال کی محبت ہے تو دوسرے لوگوں کا سرمایہ اللہ اور رسول کی محبت۔ پہلی قسم کے لوگوں کو اگر دنیا کے نفع کا شوق ہوتا ہے تو دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نفع كا۔ پہلی قسم کے لوگوں کو دنیا کے نقصان کا ڈر لگا رہتا ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نقصان کا۔
جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے اندر ’’احسان‘‘ کا مزاج پیدا ہوجاتاہے۔ یعنی جو کام کریں اس طرح کریں کہ وہ اللہ کی نظر میں زیادہ سے زیادہ پسندیدہ قرار پائے۔ وہ آزاد زندگی کے بجائے پابند زندگی گزارتے ہیں۔ خدا کے دین کی ضرورت کو وہ اپنی ضرورت بنا لیتے ہیں اور اس کے لیے ہر حال میں خرچ کرتے ہیں، خواہ ان کے پاس کم ہو یا زیادہ۔ ان کو جب کسی پر غصہ آجائے تو وہ اس کو اندر ہی اندر برداشت کرلیتے ہیں۔ کسی سے شکایت ہو تو اس سے بدلہ لینے کے بجائے اس کو معاف کردیتے ہیں۔ غلطیاں ان سے بھی ہوتی ہیں مگر وہ وقتی ہوتی ہیں۔ غلطی کے بعد وہ فوراً چونک پڑتے ہیں اور دوبارہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ وہ بیتاب ہو کر اللہ کو پکارنے لگتے ہیں کہ وہ ان کو معاف کردے اور ان كي غلطيوں پر اپنی رحمتوں کا پردہ ڈال دے۔ قرآن میں جو بات لفظی طورپر بتائی گئی ہے وہ تاریخ میں عمل کی زبان میں موجود ہے۔ مگر نصیحت وہی پکڑتے ہیں جو نصیحت کی طلب رکھتے ہوں۔
آل عمران 3:131
سودی کاروبار زرپرستی کی آخری بدترین شکل ہے۔ جو شخص زرپرستی میں مبتلا ہو وہ رات دن اس فکر میں رہتا ہے کہ کس طرح اس کا مال دونا اور چوگنا ہو۔ وہ دنیا کامال حاصل کرنے کی طرف دوڑ نے لگتا ہے۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی آخرت کی جنت کی طرف دوڑے اور اللہ کی رحمت ونصرت کا زیادہ سے زیادہ حریص ہو۔ آدمی اپنا مال اس لیے بڑھانا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کو عزت حاصل ہو، دنیامیں اس کے لیے شان دار زندگی کی ضمانت ہوجائے۔ مگر موجودہ دنیا کی عزت وکامیابی کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل اہمیت کی چیز جنت ہے جس کی خوشیاں اور لذّتیں بے حساب ہیں۔ عقلمند وہ ہے جو اس جنت کی طرف دوڑے۔ جنت کی طرف دوڑنا یہ ہے کہ آدمی اپنے مال کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں دے۔ دنیوی کامیابی کا ذریعہ مال کو ’’بڑھانا‘‘ ہے اور اخروی کامیابی کو حاصل کرنے کا ذریعہ مال کو ’’گھٹانا‘‘ — پہلی قسم کے لوگوں کا سرمایہ اگر مال کی محبت ہے تو دوسرے لوگوں کا سرمایہ اللہ اور رسول کی محبت۔ پہلی قسم کے لوگوں کو اگر دنیا کے نفع کا شوق ہوتا ہے تو دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نفع كا۔ پہلی قسم کے لوگوں کو دنیا کے نقصان کا ڈر لگا رہتا ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نقصان کا۔
جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے اندر ’’احسان‘‘ کا مزاج پیدا ہوجاتاہے۔ یعنی جو کام کریں اس طرح کریں کہ وہ اللہ کی نظر میں زیادہ سے زیادہ پسندیدہ قرار پائے۔ وہ آزاد زندگی کے بجائے پابند زندگی گزارتے ہیں۔ خدا کے دین کی ضرورت کو وہ اپنی ضرورت بنا لیتے ہیں اور اس کے لیے ہر حال میں خرچ کرتے ہیں، خواہ ان کے پاس کم ہو یا زیادہ۔ ان کو جب کسی پر غصہ آجائے تو وہ اس کو اندر ہی اندر برداشت کرلیتے ہیں۔ کسی سے شکایت ہو تو اس سے بدلہ لینے کے بجائے اس کو معاف کردیتے ہیں۔ غلطیاں ان سے بھی ہوتی ہیں مگر وہ وقتی ہوتی ہیں۔ غلطی کے بعد وہ فوراً چونک پڑتے ہیں اور دوبارہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ وہ بیتاب ہو کر اللہ کو پکارنے لگتے ہیں کہ وہ ان کو معاف کردے اور ان كي غلطيوں پر اپنی رحمتوں کا پردہ ڈال دے۔ قرآن میں جو بات لفظی طورپر بتائی گئی ہے وہ تاریخ میں عمل کی زبان میں موجود ہے۔ مگر نصیحت وہی پکڑتے ہیں جو نصیحت کی طلب رکھتے ہوں۔
آل عمران 3:132
سودی کاروبار زرپرستی کی آخری بدترین شکل ہے۔ جو شخص زرپرستی میں مبتلا ہو وہ رات دن اس فکر میں رہتا ہے کہ کس طرح اس کا مال دونا اور چوگنا ہو۔ وہ دنیا کامال حاصل کرنے کی طرف دوڑ نے لگتا ہے۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی آخرت کی جنت کی طرف دوڑے اور اللہ کی رحمت ونصرت کا زیادہ سے زیادہ حریص ہو۔ آدمی اپنا مال اس لیے بڑھانا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کو عزت حاصل ہو، دنیامیں اس کے لیے شان دار زندگی کی ضمانت ہوجائے۔ مگر موجودہ دنیا کی عزت وکامیابی کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل اہمیت کی چیز جنت ہے جس کی خوشیاں اور لذّتیں بے حساب ہیں۔ عقلمند وہ ہے جو اس جنت کی طرف دوڑے۔ جنت کی طرف دوڑنا یہ ہے کہ آدمی اپنے مال کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں دے۔ دنیوی کامیابی کا ذریعہ مال کو ’’بڑھانا‘‘ ہے اور اخروی کامیابی کو حاصل کرنے کا ذریعہ مال کو ’’گھٹانا‘‘ — پہلی قسم کے لوگوں کا سرمایہ اگر مال کی محبت ہے تو دوسرے لوگوں کا سرمایہ اللہ اور رسول کی محبت۔ پہلی قسم کے لوگوں کو اگر دنیا کے نفع کا شوق ہوتا ہے تو دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نفع كا۔ پہلی قسم کے لوگوں کو دنیا کے نقصان کا ڈر لگا رہتا ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نقصان کا۔
جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے اندر ’’احسان‘‘ کا مزاج پیدا ہوجاتاہے۔ یعنی جو کام کریں اس طرح کریں کہ وہ اللہ کی نظر میں زیادہ سے زیادہ پسندیدہ قرار پائے۔ وہ آزاد زندگی کے بجائے پابند زندگی گزارتے ہیں۔ خدا کے دین کی ضرورت کو وہ اپنی ضرورت بنا لیتے ہیں اور اس کے لیے ہر حال میں خرچ کرتے ہیں، خواہ ان کے پاس کم ہو یا زیادہ۔ ان کو جب کسی پر غصہ آجائے تو وہ اس کو اندر ہی اندر برداشت کرلیتے ہیں۔ کسی سے شکایت ہو تو اس سے بدلہ لینے کے بجائے اس کو معاف کردیتے ہیں۔ غلطیاں ان سے بھی ہوتی ہیں مگر وہ وقتی ہوتی ہیں۔ غلطی کے بعد وہ فوراً چونک پڑتے ہیں اور دوبارہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ وہ بیتاب ہو کر اللہ کو پکارنے لگتے ہیں کہ وہ ان کو معاف کردے اور ان كي غلطيوں پر اپنی رحمتوں کا پردہ ڈال دے۔ قرآن میں جو بات لفظی طورپر بتائی گئی ہے وہ تاریخ میں عمل کی زبان میں موجود ہے۔ مگر نصیحت وہی پکڑتے ہیں جو نصیحت کی طلب رکھتے ہوں۔
آل عمران 3:133
سودی کاروبار زرپرستی کی آخری بدترین شکل ہے۔ جو شخص زرپرستی میں مبتلا ہو وہ رات دن اس فکر میں رہتا ہے کہ کس طرح اس کا مال دونا اور چوگنا ہو۔ وہ دنیا کامال حاصل کرنے کی طرف دوڑ نے لگتا ہے۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی آخرت کی جنت کی طرف دوڑے اور اللہ کی رحمت ونصرت کا زیادہ سے زیادہ حریص ہو۔ آدمی اپنا مال اس لیے بڑھانا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کو عزت حاصل ہو، دنیامیں اس کے لیے شان دار زندگی کی ضمانت ہوجائے۔ مگر موجودہ دنیا کی عزت وکامیابی کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل اہمیت کی چیز جنت ہے جس کی خوشیاں اور لذّتیں بے حساب ہیں۔ عقلمند وہ ہے جو اس جنت کی طرف دوڑے۔ جنت کی طرف دوڑنا یہ ہے کہ آدمی اپنے مال کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں دے۔ دنیوی کامیابی کا ذریعہ مال کو ’’بڑھانا‘‘ ہے اور اخروی کامیابی کو حاصل کرنے کا ذریعہ مال کو ’’گھٹانا‘‘ — پہلی قسم کے لوگوں کا سرمایہ اگر مال کی محبت ہے تو دوسرے لوگوں کا سرمایہ اللہ اور رسول کی محبت۔ پہلی قسم کے لوگوں کو اگر دنیا کے نفع کا شوق ہوتا ہے تو دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نفع كا۔ پہلی قسم کے لوگوں کو دنیا کے نقصان کا ڈر لگا رہتا ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نقصان کا۔
جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے اندر ’’احسان‘‘ کا مزاج پیدا ہوجاتاہے۔ یعنی جو کام کریں اس طرح کریں کہ وہ اللہ کی نظر میں زیادہ سے زیادہ پسندیدہ قرار پائے۔ وہ آزاد زندگی کے بجائے پابند زندگی گزارتے ہیں۔ خدا کے دین کی ضرورت کو وہ اپنی ضرورت بنا لیتے ہیں اور اس کے لیے ہر حال میں خرچ کرتے ہیں، خواہ ان کے پاس کم ہو یا زیادہ۔ ان کو جب کسی پر غصہ آجائے تو وہ اس کو اندر ہی اندر برداشت کرلیتے ہیں۔ کسی سے شکایت ہو تو اس سے بدلہ لینے کے بجائے اس کو معاف کردیتے ہیں۔ غلطیاں ان سے بھی ہوتی ہیں مگر وہ وقتی ہوتی ہیں۔ غلطی کے بعد وہ فوراً چونک پڑتے ہیں اور دوبارہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ وہ بیتاب ہو کر اللہ کو پکارنے لگتے ہیں کہ وہ ان کو معاف کردے اور ان كي غلطيوں پر اپنی رحمتوں کا پردہ ڈال دے۔ قرآن میں جو بات لفظی طورپر بتائی گئی ہے وہ تاریخ میں عمل کی زبان میں موجود ہے۔ مگر نصیحت وہی پکڑتے ہیں جو نصیحت کی طلب رکھتے ہوں۔
آل عمران 3:134
سودی کاروبار زرپرستی کی آخری بدترین شکل ہے۔ جو شخص زرپرستی میں مبتلا ہو وہ رات دن اس فکر میں رہتا ہے کہ کس طرح اس کا مال دونا اور چوگنا ہو۔ وہ دنیا کامال حاصل کرنے کی طرف دوڑ نے لگتا ہے۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی آخرت کی جنت کی طرف دوڑے اور اللہ کی رحمت ونصرت کا زیادہ سے زیادہ حریص ہو۔ آدمی اپنا مال اس لیے بڑھانا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کو عزت حاصل ہو، دنیامیں اس کے لیے شان دار زندگی کی ضمانت ہوجائے۔ مگر موجودہ دنیا کی عزت وکامیابی کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل اہمیت کی چیز جنت ہے جس کی خوشیاں اور لذّتیں بے حساب ہیں۔ عقلمند وہ ہے جو اس جنت کی طرف دوڑے۔ جنت کی طرف دوڑنا یہ ہے کہ آدمی اپنے مال کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں دے۔ دنیوی کامیابی کا ذریعہ مال کو ’’بڑھانا‘‘ ہے اور اخروی کامیابی کو حاصل کرنے کا ذریعہ مال کو ’’گھٹانا‘‘ — پہلی قسم کے لوگوں کا سرمایہ اگر مال کی محبت ہے تو دوسرے لوگوں کا سرمایہ اللہ اور رسول کی محبت۔ پہلی قسم کے لوگوں کو اگر دنیا کے نفع کا شوق ہوتا ہے تو دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نفع كا۔ پہلی قسم کے لوگوں کو دنیا کے نقصان کا ڈر لگا رہتا ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نقصان کا۔
جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے اندر ’’احسان‘‘ کا مزاج پیدا ہوجاتاہے۔ یعنی جو کام کریں اس طرح کریں کہ وہ اللہ کی نظر میں زیادہ سے زیادہ پسندیدہ قرار پائے۔ وہ آزاد زندگی کے بجائے پابند زندگی گزارتے ہیں۔ خدا کے دین کی ضرورت کو وہ اپنی ضرورت بنا لیتے ہیں اور اس کے لیے ہر حال میں خرچ کرتے ہیں، خواہ ان کے پاس کم ہو یا زیادہ۔ ان کو جب کسی پر غصہ آجائے تو وہ اس کو اندر ہی اندر برداشت کرلیتے ہیں۔ کسی سے شکایت ہو تو اس سے بدلہ لینے کے بجائے اس کو معاف کردیتے ہیں۔ غلطیاں ان سے بھی ہوتی ہیں مگر وہ وقتی ہوتی ہیں۔ غلطی کے بعد وہ فوراً چونک پڑتے ہیں اور دوبارہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ وہ بیتاب ہو کر اللہ کو پکارنے لگتے ہیں کہ وہ ان کو معاف کردے اور ان كي غلطيوں پر اپنی رحمتوں کا پردہ ڈال دے۔ قرآن میں جو بات لفظی طورپر بتائی گئی ہے وہ تاریخ میں عمل کی زبان میں موجود ہے۔ مگر نصیحت وہی پکڑتے ہیں جو نصیحت کی طلب رکھتے ہوں۔
آل عمران 3:135
سودی کاروبار زرپرستی کی آخری بدترین شکل ہے۔ جو شخص زرپرستی میں مبتلا ہو وہ رات دن اس فکر میں رہتا ہے کہ کس طرح اس کا مال دونا اور چوگنا ہو۔ وہ دنیا کامال حاصل کرنے کی طرف دوڑ نے لگتا ہے۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی آخرت کی جنت کی طرف دوڑے اور اللہ کی رحمت ونصرت کا زیادہ سے زیادہ حریص ہو۔ آدمی اپنا مال اس لیے بڑھانا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کو عزت حاصل ہو، دنیامیں اس کے لیے شان دار زندگی کی ضمانت ہوجائے۔ مگر موجودہ دنیا کی عزت وکامیابی کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل اہمیت کی چیز جنت ہے جس کی خوشیاں اور لذّتیں بے حساب ہیں۔ عقلمند وہ ہے جو اس جنت کی طرف دوڑے۔ جنت کی طرف دوڑنا یہ ہے کہ آدمی اپنے مال کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں دے۔ دنیوی کامیابی کا ذریعہ مال کو ’’بڑھانا‘‘ ہے اور اخروی کامیابی کو حاصل کرنے کا ذریعہ مال کو ’’گھٹانا‘‘ — پہلی قسم کے لوگوں کا سرمایہ اگر مال کی محبت ہے تو دوسرے لوگوں کا سرمایہ اللہ اور رسول کی محبت۔ پہلی قسم کے لوگوں کو اگر دنیا کے نفع کا شوق ہوتا ہے تو دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نفع كا۔ پہلی قسم کے لوگوں کو دنیا کے نقصان کا ڈر لگا رہتا ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نقصان کا۔
جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے اندر ’’احسان‘‘ کا مزاج پیدا ہوجاتاہے۔ یعنی جو کام کریں اس طرح کریں کہ وہ اللہ کی نظر میں زیادہ سے زیادہ پسندیدہ قرار پائے۔ وہ آزاد زندگی کے بجائے پابند زندگی گزارتے ہیں۔ خدا کے دین کی ضرورت کو وہ اپنی ضرورت بنا لیتے ہیں اور اس کے لیے ہر حال میں خرچ کرتے ہیں، خواہ ان کے پاس کم ہو یا زیادہ۔ ان کو جب کسی پر غصہ آجائے تو وہ اس کو اندر ہی اندر برداشت کرلیتے ہیں۔ کسی سے شکایت ہو تو اس سے بدلہ لینے کے بجائے اس کو معاف کردیتے ہیں۔ غلطیاں ان سے بھی ہوتی ہیں مگر وہ وقتی ہوتی ہیں۔ غلطی کے بعد وہ فوراً چونک پڑتے ہیں اور دوبارہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ وہ بیتاب ہو کر اللہ کو پکارنے لگتے ہیں کہ وہ ان کو معاف کردے اور ان كي غلطيوں پر اپنی رحمتوں کا پردہ ڈال دے۔ قرآن میں جو بات لفظی طورپر بتائی گئی ہے وہ تاریخ میں عمل کی زبان میں موجود ہے۔ مگر نصیحت وہی پکڑتے ہیں جو نصیحت کی طلب رکھتے ہوں۔
آل عمران 3:136
سودی کاروبار زرپرستی کی آخری بدترین شکل ہے۔ جو شخص زرپرستی میں مبتلا ہو وہ رات دن اس فکر میں رہتا ہے کہ کس طرح اس کا مال دونا اور چوگنا ہو۔ وہ دنیا کامال حاصل کرنے کی طرف دوڑ نے لگتا ہے۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی آخرت کی جنت کی طرف دوڑے اور اللہ کی رحمت ونصرت کا زیادہ سے زیادہ حریص ہو۔ آدمی اپنا مال اس لیے بڑھانا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کو عزت حاصل ہو، دنیامیں اس کے لیے شان دار زندگی کی ضمانت ہوجائے۔ مگر موجودہ دنیا کی عزت وکامیابی کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل اہمیت کی چیز جنت ہے جس کی خوشیاں اور لذّتیں بے حساب ہیں۔ عقلمند وہ ہے جو اس جنت کی طرف دوڑے۔ جنت کی طرف دوڑنا یہ ہے کہ آدمی اپنے مال کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں دے۔ دنیوی کامیابی کا ذریعہ مال کو ’’بڑھانا‘‘ ہے اور اخروی کامیابی کو حاصل کرنے کا ذریعہ مال کو ’’گھٹانا‘‘ — پہلی قسم کے لوگوں کا سرمایہ اگر مال کی محبت ہے تو دوسرے لوگوں کا سرمایہ اللہ اور رسول کی محبت۔ پہلی قسم کے لوگوں کو اگر دنیا کے نفع کا شوق ہوتا ہے تو دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نفع كا۔ پہلی قسم کے لوگوں کو دنیا کے نقصان کا ڈر لگا رہتا ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نقصان کا۔
جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے اندر ’’احسان‘‘ کا مزاج پیدا ہوجاتاہے۔ یعنی جو کام کریں اس طرح کریں کہ وہ اللہ کی نظر میں زیادہ سے زیادہ پسندیدہ قرار پائے۔ وہ آزاد زندگی کے بجائے پابند زندگی گزارتے ہیں۔ خدا کے دین کی ضرورت کو وہ اپنی ضرورت بنا لیتے ہیں اور اس کے لیے ہر حال میں خرچ کرتے ہیں، خواہ ان کے پاس کم ہو یا زیادہ۔ ان کو جب کسی پر غصہ آجائے تو وہ اس کو اندر ہی اندر برداشت کرلیتے ہیں۔ کسی سے شکایت ہو تو اس سے بدلہ لینے کے بجائے اس کو معاف کردیتے ہیں۔ غلطیاں ان سے بھی ہوتی ہیں مگر وہ وقتی ہوتی ہیں۔ غلطی کے بعد وہ فوراً چونک پڑتے ہیں اور دوبارہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ وہ بیتاب ہو کر اللہ کو پکارنے لگتے ہیں کہ وہ ان کو معاف کردے اور ان كي غلطيوں پر اپنی رحمتوں کا پردہ ڈال دے۔ قرآن میں جو بات لفظی طورپر بتائی گئی ہے وہ تاریخ میں عمل کی زبان میں موجود ہے۔ مگر نصیحت وہی پکڑتے ہیں جو نصیحت کی طلب رکھتے ہوں۔
آل عمران 3:137
سودی کاروبار زرپرستی کی آخری بدترین شکل ہے۔ جو شخص زرپرستی میں مبتلا ہو وہ رات دن اس فکر میں رہتا ہے کہ کس طرح اس کا مال دونا اور چوگنا ہو۔ وہ دنیا کامال حاصل کرنے کی طرف دوڑ نے لگتا ہے۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی آخرت کی جنت کی طرف دوڑے اور اللہ کی رحمت ونصرت کا زیادہ سے زیادہ حریص ہو۔ آدمی اپنا مال اس لیے بڑھانا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کو عزت حاصل ہو، دنیامیں اس کے لیے شان دار زندگی کی ضمانت ہوجائے۔ مگر موجودہ دنیا کی عزت وکامیابی کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل اہمیت کی چیز جنت ہے جس کی خوشیاں اور لذّتیں بے حساب ہیں۔ عقلمند وہ ہے جو اس جنت کی طرف دوڑے۔ جنت کی طرف دوڑنا یہ ہے کہ آدمی اپنے مال کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں دے۔ دنیوی کامیابی کا ذریعہ مال کو ’’بڑھانا‘‘ ہے اور اخروی کامیابی کو حاصل کرنے کا ذریعہ مال کو ’’گھٹانا‘‘ — پہلی قسم کے لوگوں کا سرمایہ اگر مال کی محبت ہے تو دوسرے لوگوں کا سرمایہ اللہ اور رسول کی محبت۔ پہلی قسم کے لوگوں کو اگر دنیا کے نفع کا شوق ہوتا ہے تو دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نفع كا۔ پہلی قسم کے لوگوں کو دنیا کے نقصان کا ڈر لگا رہتا ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نقصان کا۔
جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے اندر ’’احسان‘‘ کا مزاج پیدا ہوجاتاہے۔ یعنی جو کام کریں اس طرح کریں کہ وہ اللہ کی نظر میں زیادہ سے زیادہ پسندیدہ قرار پائے۔ وہ آزاد زندگی کے بجائے پابند زندگی گزارتے ہیں۔ خدا کے دین کی ضرورت کو وہ اپنی ضرورت بنا لیتے ہیں اور اس کے لیے ہر حال میں خرچ کرتے ہیں، خواہ ان کے پاس کم ہو یا زیادہ۔ ان کو جب کسی پر غصہ آجائے تو وہ اس کو اندر ہی اندر برداشت کرلیتے ہیں۔ کسی سے شکایت ہو تو اس سے بدلہ لینے کے بجائے اس کو معاف کردیتے ہیں۔ غلطیاں ان سے بھی ہوتی ہیں مگر وہ وقتی ہوتی ہیں۔ غلطی کے بعد وہ فوراً چونک پڑتے ہیں اور دوبارہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ وہ بیتاب ہو کر اللہ کو پکارنے لگتے ہیں کہ وہ ان کو معاف کردے اور ان كي غلطيوں پر اپنی رحمتوں کا پردہ ڈال دے۔ قرآن میں جو بات لفظی طورپر بتائی گئی ہے وہ تاریخ میں عمل کی زبان میں موجود ہے۔ مگر نصیحت وہی پکڑتے ہیں جو نصیحت کی طلب رکھتے ہوں۔
آل عمران 3:138
سودی کاروبار زرپرستی کی آخری بدترین شکل ہے۔ جو شخص زرپرستی میں مبتلا ہو وہ رات دن اس فکر میں رہتا ہے کہ کس طرح اس کا مال دونا اور چوگنا ہو۔ وہ دنیا کامال حاصل کرنے کی طرف دوڑ نے لگتا ہے۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی آخرت کی جنت کی طرف دوڑے اور اللہ کی رحمت ونصرت کا زیادہ سے زیادہ حریص ہو۔ آدمی اپنا مال اس لیے بڑھانا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کو عزت حاصل ہو، دنیامیں اس کے لیے شان دار زندگی کی ضمانت ہوجائے۔ مگر موجودہ دنیا کی عزت وکامیابی کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل اہمیت کی چیز جنت ہے جس کی خوشیاں اور لذّتیں بے حساب ہیں۔ عقلمند وہ ہے جو اس جنت کی طرف دوڑے۔ جنت کی طرف دوڑنا یہ ہے کہ آدمی اپنے مال کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں دے۔ دنیوی کامیابی کا ذریعہ مال کو ’’بڑھانا‘‘ ہے اور اخروی کامیابی کو حاصل کرنے کا ذریعہ مال کو ’’گھٹانا‘‘ — پہلی قسم کے لوگوں کا سرمایہ اگر مال کی محبت ہے تو دوسرے لوگوں کا سرمایہ اللہ اور رسول کی محبت۔ پہلی قسم کے لوگوں کو اگر دنیا کے نفع کا شوق ہوتا ہے تو دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نفع كا۔ پہلی قسم کے لوگوں کو دنیا کے نقصان کا ڈر لگا رہتا ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نقصان کا۔
جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے اندر ’’احسان‘‘ کا مزاج پیدا ہوجاتاہے۔ یعنی جو کام کریں اس طرح کریں کہ وہ اللہ کی نظر میں زیادہ سے زیادہ پسندیدہ قرار پائے۔ وہ آزاد زندگی کے بجائے پابند زندگی گزارتے ہیں۔ خدا کے دین کی ضرورت کو وہ اپنی ضرورت بنا لیتے ہیں اور اس کے لیے ہر حال میں خرچ کرتے ہیں، خواہ ان کے پاس کم ہو یا زیادہ۔ ان کو جب کسی پر غصہ آجائے تو وہ اس کو اندر ہی اندر برداشت کرلیتے ہیں۔ کسی سے شکایت ہو تو اس سے بدلہ لینے کے بجائے اس کو معاف کردیتے ہیں۔ غلطیاں ان سے بھی ہوتی ہیں مگر وہ وقتی ہوتی ہیں۔ غلطی کے بعد وہ فوراً چونک پڑتے ہیں اور دوبارہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ وہ بیتاب ہو کر اللہ کو پکارنے لگتے ہیں کہ وہ ان کو معاف کردے اور ان كي غلطيوں پر اپنی رحمتوں کا پردہ ڈال دے۔ قرآن میں جو بات لفظی طورپر بتائی گئی ہے وہ تاریخ میں عمل کی زبان میں موجود ہے۔ مگر نصیحت وہی پکڑتے ہیں جو نصیحت کی طلب رکھتے ہوں۔
آل عمران 3:139
ایمان لانا گویا اللہ کے لیے جینے اور اللہ کے لیے مرنے کا اقرار کرنا ہے۔ جو لوگ اس طرح مومن بنیں ان کے لیے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت دے گا اور ان کو یہ اہم ترین اعزاز عطا کرے گا کہ جن لوگوں نے دنیا میںان کو رد کردیا تھا ان کے اوپر ان کو اپنی عدالت میں گواہ بنائے اور ان کی گواہی کی بنیاد پر ان کے مستقل انجام کا فیصلہ کرے۔ مگر یہ مقام محض لفظی اقرار سے نہیں مل جاتا اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی صبر اور جہاد کی سطح پر اپنے سچے ہونے کا ثبوت دے۔ مومن خواہ اپنی ذاتی زندگی کو ایمان واسلام پر قائم کرے یا وہ دوسروں کے سامنے خدا کے دین کا گواہ بن کر کھڑا ہو، ہرحال میں اس کو دوسروں کی طرف سے مشکلات اور رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔ ان مشکلات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرنا جہاد ہے، اور ہر حال میں اپنے اقرار پر جمے رہنے کا نام صبر ہے۔ جو لوگ اس جہاد اورصبر کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کی آباد کاری کے قابل ٹھہرے۔ نیز اسی سے دنیا کی سر بلندی کا راستہ کھلتا ہے۔ ’’جہاد‘‘ ان کے مسلسل اور مکمل عمل کی ضمانت ہے اور ’’صبر‘‘ اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ کبھی کوئی جذباتی اقدام نہیں کریں گے۔ اور یہ دو باتیں جس گروہ میں پیدا ہوجائیں اس کے لیے خدا کی اس دنیا میں کامیابی اتنی ہی یقینی ہوجاتی ہے جتنی موافق زمین میںایک بیج کا بار آور ہونا۔
ایک شخص اللہ کے راستے پر چلنے کا ارادہ کرتا ہے تو دوسروں کی طرف سے طرح طرح کے مسائل پیش آتے ہیں۔ یہ مسائل کبھی اس کو بے یقینی کی کیفیت میںمبتلا کرتے ہیں۔ کبھی مصلحت پرستی کا سبق دیتے ہیں۔ کبھی اس کے اندر منفی نفسیات ابھارتے ہیں۔ کبھی خدا کے خالص دین کے مقابلہ میں ایسے عوامی دین کا نسخہ بتاتے ہیں جو لوگوں کے لیے قابل قبول ہو۔ یہی موجودہ دنیامیں آدمی کا امتحان ہے۔ ان مواقع پر آدمی جو ردعمل ظاہر کرے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اقرارِ ایمان میں سچا تھا یا جھوٹا۔ اگر اس کا عمل اس کے دعوائے ایمان کے مطابق ہو تو وہ سچا ہے اور اگر اس کے خلاف ہو تو جھوٹا۔ شہید (اللہ کا گواہ) بننا اس سفر کی آخری انتہا ہے۔ اللہ کا ایک بندہ لوگوں کے درمیان حق کا داعی بن کر کھڑا ہوا۔ اس کا حال یہ تھا کہ وہ جس چیز کی طرف بلا رہا تھا، خود اس پر پوری طرح قائم تھا۔ لوگوں نے اس کو حقیر سمجھا مگر اس نے کسی کی پروا نہ کی۔ اس پر مشکلات آئیں مگر وہ اس کو اپنے مقام سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ وہ نہ کمزور پڑا اور نہ منفی نفسیات کا شکار ہوا۔ حتی کہ اس کے جان ومال کی بازی لگ گئی پھر بھی وہ اپنے دعوتی موقف سے نہ ہٹا۔ یہ امتحان حد درجہ طوفانی امتحان ہے۔ مگر اس سے گزرنے کے بعدہی وہ انسان بنتا ہے جس کو اللہ اپنے بندوں کے اوپر اپنا گواہ قرار دے۔ آدمی جب ہر قسم کے حالات کے باوجود اپنے دعوتی عمل پر قائم رہتا ہے تو وہ اپنے پیغام کے حق میں اپنے یقین کا ثبوت دیتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ جس بات کی خبر دے رہا ہے وہ ایک حد درجہ سنجیدہ معاملہ ہے، نہ کہ کوئی سرسری معاملہ۔
آل عمران 3:140
ایمان لانا گویا اللہ کے لیے جینے اور اللہ کے لیے مرنے کا اقرار کرنا ہے۔ جو لوگ اس طرح مومن بنیں ان کے لیے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت دے گا اور ان کو یہ اہم ترین اعزاز عطا کرے گا کہ جن لوگوں نے دنیا میںان کو رد کردیا تھا ان کے اوپر ان کو اپنی عدالت میں گواہ بنائے اور ان کی گواہی کی بنیاد پر ان کے مستقل انجام کا فیصلہ کرے۔ مگر یہ مقام محض لفظی اقرار سے نہیں مل جاتا اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی صبر اور جہاد کی سطح پر اپنے سچے ہونے کا ثبوت دے۔ مومن خواہ اپنی ذاتی زندگی کو ایمان واسلام پر قائم کرے یا وہ دوسروں کے سامنے خدا کے دین کا گواہ بن کر کھڑا ہو، ہرحال میں اس کو دوسروں کی طرف سے مشکلات اور رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔ ان مشکلات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرنا جہاد ہے، اور ہر حال میں اپنے اقرار پر جمے رہنے کا نام صبر ہے۔ جو لوگ اس جہاد اورصبر کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کی آباد کاری کے قابل ٹھہرے۔ نیز اسی سے دنیا کی سر بلندی کا راستہ کھلتا ہے۔ ’’جہاد‘‘ ان کے مسلسل اور مکمل عمل کی ضمانت ہے اور ’’صبر‘‘ اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ کبھی کوئی جذباتی اقدام نہیں کریں گے۔ اور یہ دو باتیں جس گروہ میں پیدا ہوجائیں اس کے لیے خدا کی اس دنیا میں کامیابی اتنی ہی یقینی ہوجاتی ہے جتنی موافق زمین میںایک بیج کا بار آور ہونا۔
ایک شخص اللہ کے راستے پر چلنے کا ارادہ کرتا ہے تو دوسروں کی طرف سے طرح طرح کے مسائل پیش آتے ہیں۔ یہ مسائل کبھی اس کو بے یقینی کی کیفیت میںمبتلا کرتے ہیں۔ کبھی مصلحت پرستی کا سبق دیتے ہیں۔ کبھی اس کے اندر منفی نفسیات ابھارتے ہیں۔ کبھی خدا کے خالص دین کے مقابلہ میں ایسے عوامی دین کا نسخہ بتاتے ہیں جو لوگوں کے لیے قابل قبول ہو۔ یہی موجودہ دنیامیں آدمی کا امتحان ہے۔ ان مواقع پر آدمی جو ردعمل ظاہر کرے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اقرارِ ایمان میں سچا تھا یا جھوٹا۔ اگر اس کا عمل اس کے دعوائے ایمان کے مطابق ہو تو وہ سچا ہے اور اگر اس کے خلاف ہو تو جھوٹا۔ شہید (اللہ کا گواہ) بننا اس سفر کی آخری انتہا ہے۔ اللہ کا ایک بندہ لوگوں کے درمیان حق کا داعی بن کر کھڑا ہوا۔ اس کا حال یہ تھا کہ وہ جس چیز کی طرف بلا رہا تھا، خود اس پر پوری طرح قائم تھا۔ لوگوں نے اس کو حقیر سمجھا مگر اس نے کسی کی پروا نہ کی۔ اس پر مشکلات آئیں مگر وہ اس کو اپنے مقام سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ وہ نہ کمزور پڑا اور نہ منفی نفسیات کا شکار ہوا۔ حتی کہ اس کے جان ومال کی بازی لگ گئی پھر بھی وہ اپنے دعوتی موقف سے نہ ہٹا۔ یہ امتحان حد درجہ طوفانی امتحان ہے۔ مگر اس سے گزرنے کے بعدہی وہ انسان بنتا ہے جس کو اللہ اپنے بندوں کے اوپر اپنا گواہ قرار دے۔ آدمی جب ہر قسم کے حالات کے باوجود اپنے دعوتی عمل پر قائم رہتا ہے تو وہ اپنے پیغام کے حق میں اپنے یقین کا ثبوت دیتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ جس بات کی خبر دے رہا ہے وہ ایک حد درجہ سنجیدہ معاملہ ہے، نہ کہ کوئی سرسری معاملہ۔
آل عمران 3:141
ایمان لانا گویا اللہ کے لیے جینے اور اللہ کے لیے مرنے کا اقرار کرنا ہے۔ جو لوگ اس طرح مومن بنیں ان کے لیے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت دے گا اور ان کو یہ اہم ترین اعزاز عطا کرے گا کہ جن لوگوں نے دنیا میںان کو رد کردیا تھا ان کے اوپر ان کو اپنی عدالت میں گواہ بنائے اور ان کی گواہی کی بنیاد پر ان کے مستقل انجام کا فیصلہ کرے۔ مگر یہ مقام محض لفظی اقرار سے نہیں مل جاتا اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی صبر اور جہاد کی سطح پر اپنے سچے ہونے کا ثبوت دے۔ مومن خواہ اپنی ذاتی زندگی کو ایمان واسلام پر قائم کرے یا وہ دوسروں کے سامنے خدا کے دین کا گواہ بن کر کھڑا ہو، ہرحال میں اس کو دوسروں کی طرف سے مشکلات اور رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔ ان مشکلات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرنا جہاد ہے، اور ہر حال میں اپنے اقرار پر جمے رہنے کا نام صبر ہے۔ جو لوگ اس جہاد اورصبر کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کی آباد کاری کے قابل ٹھہرے۔ نیز اسی سے دنیا کی سر بلندی کا راستہ کھلتا ہے۔ ’’جہاد‘‘ ان کے مسلسل اور مکمل عمل کی ضمانت ہے اور ’’صبر‘‘ اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ کبھی کوئی جذباتی اقدام نہیں کریں گے۔ اور یہ دو باتیں جس گروہ میں پیدا ہوجائیں اس کے لیے خدا کی اس دنیا میں کامیابی اتنی ہی یقینی ہوجاتی ہے جتنی موافق زمین میںایک بیج کا بار آور ہونا۔
ایک شخص اللہ کے راستے پر چلنے کا ارادہ کرتا ہے تو دوسروں کی طرف سے طرح طرح کے مسائل پیش آتے ہیں۔ یہ مسائل کبھی اس کو بے یقینی کی کیفیت میںمبتلا کرتے ہیں۔ کبھی مصلحت پرستی کا سبق دیتے ہیں۔ کبھی اس کے اندر منفی نفسیات ابھارتے ہیں۔ کبھی خدا کے خالص دین کے مقابلہ میں ایسے عوامی دین کا نسخہ بتاتے ہیں جو لوگوں کے لیے قابل قبول ہو۔ یہی موجودہ دنیامیں آدمی کا امتحان ہے۔ ان مواقع پر آدمی جو ردعمل ظاہر کرے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اقرارِ ایمان میں سچا تھا یا جھوٹا۔ اگر اس کا عمل اس کے دعوائے ایمان کے مطابق ہو تو وہ سچا ہے اور اگر اس کے خلاف ہو تو جھوٹا۔ شہید (اللہ کا گواہ) بننا اس سفر کی آخری انتہا ہے۔ اللہ کا ایک بندہ لوگوں کے درمیان حق کا داعی بن کر کھڑا ہوا۔ اس کا حال یہ تھا کہ وہ جس چیز کی طرف بلا رہا تھا، خود اس پر پوری طرح قائم تھا۔ لوگوں نے اس کو حقیر سمجھا مگر اس نے کسی کی پروا نہ کی۔ اس پر مشکلات آئیں مگر وہ اس کو اپنے مقام سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ وہ نہ کمزور پڑا اور نہ منفی نفسیات کا شکار ہوا۔ حتی کہ اس کے جان ومال کی بازی لگ گئی پھر بھی وہ اپنے دعوتی موقف سے نہ ہٹا۔ یہ امتحان حد درجہ طوفانی امتحان ہے۔ مگر اس سے گزرنے کے بعدہی وہ انسان بنتا ہے جس کو اللہ اپنے بندوں کے اوپر اپنا گواہ قرار دے۔ آدمی جب ہر قسم کے حالات کے باوجود اپنے دعوتی عمل پر قائم رہتا ہے تو وہ اپنے پیغام کے حق میں اپنے یقین کا ثبوت دیتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ جس بات کی خبر دے رہا ہے وہ ایک حد درجہ سنجیدہ معاملہ ہے، نہ کہ کوئی سرسری معاملہ۔
آل عمران 3:142
ایمان لانا گویا اللہ کے لیے جینے اور اللہ کے لیے مرنے کا اقرار کرنا ہے۔ جو لوگ اس طرح مومن بنیں ان کے لیے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت دے گا اور ان کو یہ اہم ترین اعزاز عطا کرے گا کہ جن لوگوں نے دنیا میںان کو رد کردیا تھا ان کے اوپر ان کو اپنی عدالت میں گواہ بنائے اور ان کی گواہی کی بنیاد پر ان کے مستقل انجام کا فیصلہ کرے۔ مگر یہ مقام محض لفظی اقرار سے نہیں مل جاتا اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی صبر اور جہاد کی سطح پر اپنے سچے ہونے کا ثبوت دے۔ مومن خواہ اپنی ذاتی زندگی کو ایمان واسلام پر قائم کرے یا وہ دوسروں کے سامنے خدا کے دین کا گواہ بن کر کھڑا ہو، ہرحال میں اس کو دوسروں کی طرف سے مشکلات اور رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔ ان مشکلات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرنا جہاد ہے، اور ہر حال میں اپنے اقرار پر جمے رہنے کا نام صبر ہے۔ جو لوگ اس جہاد اورصبر کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کی آباد کاری کے قابل ٹھہرے۔ نیز اسی سے دنیا کی سر بلندی کا راستہ کھلتا ہے۔ ’’جہاد‘‘ ان کے مسلسل اور مکمل عمل کی ضمانت ہے اور ’’صبر‘‘ اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ کبھی کوئی جذباتی اقدام نہیں کریں گے۔ اور یہ دو باتیں جس گروہ میں پیدا ہوجائیں اس کے لیے خدا کی اس دنیا میں کامیابی اتنی ہی یقینی ہوجاتی ہے جتنی موافق زمین میںایک بیج کا بار آور ہونا۔
ایک شخص اللہ کے راستے پر چلنے کا ارادہ کرتا ہے تو دوسروں کی طرف سے طرح طرح کے مسائل پیش آتے ہیں۔ یہ مسائل کبھی اس کو بے یقینی کی کیفیت میںمبتلا کرتے ہیں۔ کبھی مصلحت پرستی کا سبق دیتے ہیں۔ کبھی اس کے اندر منفی نفسیات ابھارتے ہیں۔ کبھی خدا کے خالص دین کے مقابلہ میں ایسے عوامی دین کا نسخہ بتاتے ہیں جو لوگوں کے لیے قابل قبول ہو۔ یہی موجودہ دنیامیں آدمی کا امتحان ہے۔ ان مواقع پر آدمی جو ردعمل ظاہر کرے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اقرارِ ایمان میں سچا تھا یا جھوٹا۔ اگر اس کا عمل اس کے دعوائے ایمان کے مطابق ہو تو وہ سچا ہے اور اگر اس کے خلاف ہو تو جھوٹا۔ شہید (اللہ کا گواہ) بننا اس سفر کی آخری انتہا ہے۔ اللہ کا ایک بندہ لوگوں کے درمیان حق کا داعی بن کر کھڑا ہوا۔ اس کا حال یہ تھا کہ وہ جس چیز کی طرف بلا رہا تھا، خود اس پر پوری طرح قائم تھا۔ لوگوں نے اس کو حقیر سمجھا مگر اس نے کسی کی پروا نہ کی۔ اس پر مشکلات آئیں مگر وہ اس کو اپنے مقام سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ وہ نہ کمزور پڑا اور نہ منفی نفسیات کا شکار ہوا۔ حتی کہ اس کے جان ومال کی بازی لگ گئی پھر بھی وہ اپنے دعوتی موقف سے نہ ہٹا۔ یہ امتحان حد درجہ طوفانی امتحان ہے۔ مگر اس سے گزرنے کے بعدہی وہ انسان بنتا ہے جس کو اللہ اپنے بندوں کے اوپر اپنا گواہ قرار دے۔ آدمی جب ہر قسم کے حالات کے باوجود اپنے دعوتی عمل پر قائم رہتا ہے تو وہ اپنے پیغام کے حق میں اپنے یقین کا ثبوت دیتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ جس بات کی خبر دے رہا ہے وہ ایک حد درجہ سنجیدہ معاملہ ہے، نہ کہ کوئی سرسری معاملہ۔
آل عمران 3:143
ایمان لانا گویا اللہ کے لیے جینے اور اللہ کے لیے مرنے کا اقرار کرنا ہے۔ جو لوگ اس طرح مومن بنیں ان کے لیے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت دے گا اور ان کو یہ اہم ترین اعزاز عطا کرے گا کہ جن لوگوں نے دنیا میںان کو رد کردیا تھا ان کے اوپر ان کو اپنی عدالت میں گواہ بنائے اور ان کی گواہی کی بنیاد پر ان کے مستقل انجام کا فیصلہ کرے۔ مگر یہ مقام محض لفظی اقرار سے نہیں مل جاتا اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی صبر اور جہاد کی سطح پر اپنے سچے ہونے کا ثبوت دے۔ مومن خواہ اپنی ذاتی زندگی کو ایمان واسلام پر قائم کرے یا وہ دوسروں کے سامنے خدا کے دین کا گواہ بن کر کھڑا ہو، ہرحال میں اس کو دوسروں کی طرف سے مشکلات اور رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔ ان مشکلات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرنا جہاد ہے، اور ہر حال میں اپنے اقرار پر جمے رہنے کا نام صبر ہے۔ جو لوگ اس جہاد اورصبر کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کی آباد کاری کے قابل ٹھہرے۔ نیز اسی سے دنیا کی سر بلندی کا راستہ کھلتا ہے۔ ’’جہاد‘‘ ان کے مسلسل اور مکمل عمل کی ضمانت ہے اور ’’صبر‘‘ اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ کبھی کوئی جذباتی اقدام نہیں کریں گے۔ اور یہ دو باتیں جس گروہ میں پیدا ہوجائیں اس کے لیے خدا کی اس دنیا میں کامیابی اتنی ہی یقینی ہوجاتی ہے جتنی موافق زمین میںایک بیج کا بار آور ہونا۔
ایک شخص اللہ کے راستے پر چلنے کا ارادہ کرتا ہے تو دوسروں کی طرف سے طرح طرح کے مسائل پیش آتے ہیں۔ یہ مسائل کبھی اس کو بے یقینی کی کیفیت میںمبتلا کرتے ہیں۔ کبھی مصلحت پرستی کا سبق دیتے ہیں۔ کبھی اس کے اندر منفی نفسیات ابھارتے ہیں۔ کبھی خدا کے خالص دین کے مقابلہ میں ایسے عوامی دین کا نسخہ بتاتے ہیں جو لوگوں کے لیے قابل قبول ہو۔ یہی موجودہ دنیامیں آدمی کا امتحان ہے۔ ان مواقع پر آدمی جو ردعمل ظاہر کرے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اقرارِ ایمان میں سچا تھا یا جھوٹا۔ اگر اس کا عمل اس کے دعوائے ایمان کے مطابق ہو تو وہ سچا ہے اور اگر اس کے خلاف ہو تو جھوٹا۔ شہید (اللہ کا گواہ) بننا اس سفر کی آخری انتہا ہے۔ اللہ کا ایک بندہ لوگوں کے درمیان حق کا داعی بن کر کھڑا ہوا۔ اس کا حال یہ تھا کہ وہ جس چیز کی طرف بلا رہا تھا، خود اس پر پوری طرح قائم تھا۔ لوگوں نے اس کو حقیر سمجھا مگر اس نے کسی کی پروا نہ کی۔ اس پر مشکلات آئیں مگر وہ اس کو اپنے مقام سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ وہ نہ کمزور پڑا اور نہ منفی نفسیات کا شکار ہوا۔ حتی کہ اس کے جان ومال کی بازی لگ گئی پھر بھی وہ اپنے دعوتی موقف سے نہ ہٹا۔ یہ امتحان حد درجہ طوفانی امتحان ہے۔ مگر اس سے گزرنے کے بعدہی وہ انسان بنتا ہے جس کو اللہ اپنے بندوں کے اوپر اپنا گواہ قرار دے۔ آدمی جب ہر قسم کے حالات کے باوجود اپنے دعوتی عمل پر قائم رہتا ہے تو وہ اپنے پیغام کے حق میں اپنے یقین کا ثبوت دیتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ جس بات کی خبر دے رہا ہے وہ ایک حد درجہ سنجیدہ معاملہ ہے، نہ کہ کوئی سرسری معاملہ۔
آل عمران 3:144
احد کی جنگ میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے۔ اس وقت کچھ مسلمانوں میں پست ہمتی پیداہوگئی۔ مگر اللہ کے حقیقی بندے وہ ہیں جن کی دینداری کسی شخصیت کے اوپر قائم نہ ہو۔ اللہ کو وہ دین داری مطلوب ہے جب کہ بندہ اپنی ساری روح اور ساری جان کے ساتھ صرف ایک اللہ کے ساتھ جڑ جائے۔ مومن وہ ہے جو اسلام کو اس کی اصولی صداقت کی بنا پر پکڑے، نہ کہ کسی شخصیت کے سہارے کی بنا پر۔ جو شخص اس طرح اسلام کو پاتا ہے اس کے لیے اسلام ایک ایسی نعمت بن جاتا ہے جس کے لیے اس کی روح کے اندر شکر کا دریا موجزن ہوجائے۔ وہ دنیا کے بجائے آخرت کو سب کچھ سمجھنے لگتاہے۔ زندگی اس کے لیے ایک ایسی ناپائدار چیز بن جاتی ہے جو کسی بھی لمحہ موت سے دوچار ہونے والی ہو۔ وہ کائنات کو ایک ایسے خدائی کارخانہ کی حیثیت سے دیکھ لیتا ہے جہاں ہر واقعہ خدا کے اِذن کے تحت ہورہا ہے۔ جہاں دینے والا بھی وہی ہے اور چھيننے والا بھی وہی۔ ایسے ہی لوگ اللہ کی راہ کے سچے مسافر ہیں۔ اللہ اگر چاہتا ہے تو دنیا کا عزت واقتدار بھی ان کو دے دیتا ہے اور آخرت کی عظیم اور ابدی انعامات تو صرف انھیں کے لیے ہیں۔ تاہم یہ درجه کسی کو صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ وہ ہر قسم کے امتحان میں پورا اترے۔ اس کے ظاہری سہارے کھوئے جائیں تب بھی وہ اللہ پر اپنی نظر یںجمائے رہے۔ جان کا خطرہ بھی اس کو پست ہمت نہ کرسکے۔ دنیا برباد ہو رہی ہو تب بھی وہ پیچھے نہ ہٹے۔ اس کے سامنے کوئی نقصان آئے تو اس کو وہ اپنی کوتاہی کا نتیجہ سمجھ کر اللہ سے معافی مانگے۔ کوئی فائدہ ملے تو اس کو خدا کا انعام سمجھ کر شکر ادا کرے۔ مومن کا یہ امتحان جو ہر روز لیا جارہا ہے کبھی اُن ہلادینے والے مقامات تک بھی پہنچ جاتا ہے جہاں زندگی کی بازی لگی ہوئی ہو۔ ایسے مواقع پر بھی جب آدمی بزدلی نہ دکھائے، نہ وہ بے یقینی میں مبتلا ہو اور نہ وہ کسی حال میں دین کے دشمنوں کے سامنے ہار ماننے کے لیے تیار ہو تو گویا وہ امتحان کی آخری جانچ میں بھی پورا اترا۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ہر قسم کی سرفرازیاں ہیں۔ تاریخ میںوہی لوگ سب سے زیادہ قیمتی ہیں جنھوں نے اس طرح اللہ کو پایا ہو اور اپنے آپ کو اس طرح اللہ کے منصوبہ میں شامل کردیا ہو — نازک مواقع پر اہل ایمان کا باہم متحد رہنا اور صبر کے ساتھ حق پر جمے رہنا وہ چیزیں ہیں جو اہلِ ایمان کو اللہ کی نصرت کا مستحق بناتی ہیں۔
آل عمران 3:145
احد کی جنگ میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے۔ اس وقت کچھ مسلمانوں میں پست ہمتی پیداہوگئی۔ مگر اللہ کے حقیقی بندے وہ ہیں جن کی دینداری کسی شخصیت کے اوپر قائم نہ ہو۔ اللہ کو وہ دین داری مطلوب ہے جب کہ بندہ اپنی ساری روح اور ساری جان کے ساتھ صرف ایک اللہ کے ساتھ جڑ جائے۔ مومن وہ ہے جو اسلام کو اس کی اصولی صداقت کی بنا پر پکڑے، نہ کہ کسی شخصیت کے سہارے کی بنا پر۔ جو شخص اس طرح اسلام کو پاتا ہے اس کے لیے اسلام ایک ایسی نعمت بن جاتا ہے جس کے لیے اس کی روح کے اندر شکر کا دریا موجزن ہوجائے۔ وہ دنیا کے بجائے آخرت کو سب کچھ سمجھنے لگتاہے۔ زندگی اس کے لیے ایک ایسی ناپائدار چیز بن جاتی ہے جو کسی بھی لمحہ موت سے دوچار ہونے والی ہو۔ وہ کائنات کو ایک ایسے خدائی کارخانہ کی حیثیت سے دیکھ لیتا ہے جہاں ہر واقعہ خدا کے اِذن کے تحت ہورہا ہے۔ جہاں دینے والا بھی وہی ہے اور چھيننے والا بھی وہی۔ ایسے ہی لوگ اللہ کی راہ کے سچے مسافر ہیں۔ اللہ اگر چاہتا ہے تو دنیا کا عزت واقتدار بھی ان کو دے دیتا ہے اور آخرت کی عظیم اور ابدی انعامات تو صرف انھیں کے لیے ہیں۔ تاہم یہ درجه کسی کو صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ وہ ہر قسم کے امتحان میں پورا اترے۔ اس کے ظاہری سہارے کھوئے جائیں تب بھی وہ اللہ پر اپنی نظر یںجمائے رہے۔ جان کا خطرہ بھی اس کو پست ہمت نہ کرسکے۔ دنیا برباد ہو رہی ہو تب بھی وہ پیچھے نہ ہٹے۔ اس کے سامنے کوئی نقصان آئے تو اس کو وہ اپنی کوتاہی کا نتیجہ سمجھ کر اللہ سے معافی مانگے۔ کوئی فائدہ ملے تو اس کو خدا کا انعام سمجھ کر شکر ادا کرے۔ مومن کا یہ امتحان جو ہر روز لیا جارہا ہے کبھی اُن ہلادینے والے مقامات تک بھی پہنچ جاتا ہے جہاں زندگی کی بازی لگی ہوئی ہو۔ ایسے مواقع پر بھی جب آدمی بزدلی نہ دکھائے، نہ وہ بے یقینی میں مبتلا ہو اور نہ وہ کسی حال میں دین کے دشمنوں کے سامنے ہار ماننے کے لیے تیار ہو تو گویا وہ امتحان کی آخری جانچ میں بھی پورا اترا۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ہر قسم کی سرفرازیاں ہیں۔ تاریخ میںوہی لوگ سب سے زیادہ قیمتی ہیں جنھوں نے اس طرح اللہ کو پایا ہو اور اپنے آپ کو اس طرح اللہ کے منصوبہ میں شامل کردیا ہو — نازک مواقع پر اہل ایمان کا باہم متحد رہنا اور صبر کے ساتھ حق پر جمے رہنا وہ چیزیں ہیں جو اہلِ ایمان کو اللہ کی نصرت کا مستحق بناتی ہیں۔
آل عمران 3:146
احد کی جنگ میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے۔ اس وقت کچھ مسلمانوں میں پست ہمتی پیداہوگئی۔ مگر اللہ کے حقیقی بندے وہ ہیں جن کی دینداری کسی شخصیت کے اوپر قائم نہ ہو۔ اللہ کو وہ دین داری مطلوب ہے جب کہ بندہ اپنی ساری روح اور ساری جان کے ساتھ صرف ایک اللہ کے ساتھ جڑ جائے۔ مومن وہ ہے جو اسلام کو اس کی اصولی صداقت کی بنا پر پکڑے، نہ کہ کسی شخصیت کے سہارے کی بنا پر۔ جو شخص اس طرح اسلام کو پاتا ہے اس کے لیے اسلام ایک ایسی نعمت بن جاتا ہے جس کے لیے اس کی روح کے اندر شکر کا دریا موجزن ہوجائے۔ وہ دنیا کے بجائے آخرت کو سب کچھ سمجھنے لگتاہے۔ زندگی اس کے لیے ایک ایسی ناپائدار چیز بن جاتی ہے جو کسی بھی لمحہ موت سے دوچار ہونے والی ہو۔ وہ کائنات کو ایک ایسے خدائی کارخانہ کی حیثیت سے دیکھ لیتا ہے جہاں ہر واقعہ خدا کے اِذن کے تحت ہورہا ہے۔ جہاں دینے والا بھی وہی ہے اور چھيننے والا بھی وہی۔ ایسے ہی لوگ اللہ کی راہ کے سچے مسافر ہیں۔ اللہ اگر چاہتا ہے تو دنیا کا عزت واقتدار بھی ان کو دے دیتا ہے اور آخرت کی عظیم اور ابدی انعامات تو صرف انھیں کے لیے ہیں۔ تاہم یہ درجه کسی کو صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ وہ ہر قسم کے امتحان میں پورا اترے۔ اس کے ظاہری سہارے کھوئے جائیں تب بھی وہ اللہ پر اپنی نظر یںجمائے رہے۔ جان کا خطرہ بھی اس کو پست ہمت نہ کرسکے۔ دنیا برباد ہو رہی ہو تب بھی وہ پیچھے نہ ہٹے۔ اس کے سامنے کوئی نقصان آئے تو اس کو وہ اپنی کوتاہی کا نتیجہ سمجھ کر اللہ سے معافی مانگے۔ کوئی فائدہ ملے تو اس کو خدا کا انعام سمجھ کر شکر ادا کرے۔ مومن کا یہ امتحان جو ہر روز لیا جارہا ہے کبھی اُن ہلادینے والے مقامات تک بھی پہنچ جاتا ہے جہاں زندگی کی بازی لگی ہوئی ہو۔ ایسے مواقع پر بھی جب آدمی بزدلی نہ دکھائے، نہ وہ بے یقینی میں مبتلا ہو اور نہ وہ کسی حال میں دین کے دشمنوں کے سامنے ہار ماننے کے لیے تیار ہو تو گویا وہ امتحان کی آخری جانچ میں بھی پورا اترا۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ہر قسم کی سرفرازیاں ہیں۔ تاریخ میںوہی لوگ سب سے زیادہ قیمتی ہیں جنھوں نے اس طرح اللہ کو پایا ہو اور اپنے آپ کو اس طرح اللہ کے منصوبہ میں شامل کردیا ہو — نازک مواقع پر اہل ایمان کا باہم متحد رہنا اور صبر کے ساتھ حق پر جمے رہنا وہ چیزیں ہیں جو اہلِ ایمان کو اللہ کی نصرت کا مستحق بناتی ہیں۔
آل عمران 3:147
احد کی جنگ میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے۔ اس وقت کچھ مسلمانوں میں پست ہمتی پیداہوگئی۔ مگر اللہ کے حقیقی بندے وہ ہیں جن کی دینداری کسی شخصیت کے اوپر قائم نہ ہو۔ اللہ کو وہ دین داری مطلوب ہے جب کہ بندہ اپنی ساری روح اور ساری جان کے ساتھ صرف ایک اللہ کے ساتھ جڑ جائے۔ مومن وہ ہے جو اسلام کو اس کی اصولی صداقت کی بنا پر پکڑے، نہ کہ کسی شخصیت کے سہارے کی بنا پر۔ جو شخص اس طرح اسلام کو پاتا ہے اس کے لیے اسلام ایک ایسی نعمت بن جاتا ہے جس کے لیے اس کی روح کے اندر شکر کا دریا موجزن ہوجائے۔ وہ دنیا کے بجائے آخرت کو سب کچھ سمجھنے لگتاہے۔ زندگی اس کے لیے ایک ایسی ناپائدار چیز بن جاتی ہے جو کسی بھی لمحہ موت سے دوچار ہونے والی ہو۔ وہ کائنات کو ایک ایسے خدائی کارخانہ کی حیثیت سے دیکھ لیتا ہے جہاں ہر واقعہ خدا کے اِذن کے تحت ہورہا ہے۔ جہاں دینے والا بھی وہی ہے اور چھيننے والا بھی وہی۔ ایسے ہی لوگ اللہ کی راہ کے سچے مسافر ہیں۔ اللہ اگر چاہتا ہے تو دنیا کا عزت واقتدار بھی ان کو دے دیتا ہے اور آخرت کی عظیم اور ابدی انعامات تو صرف انھیں کے لیے ہیں۔ تاہم یہ درجه کسی کو صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ وہ ہر قسم کے امتحان میں پورا اترے۔ اس کے ظاہری سہارے کھوئے جائیں تب بھی وہ اللہ پر اپنی نظر یںجمائے رہے۔ جان کا خطرہ بھی اس کو پست ہمت نہ کرسکے۔ دنیا برباد ہو رہی ہو تب بھی وہ پیچھے نہ ہٹے۔ اس کے سامنے کوئی نقصان آئے تو اس کو وہ اپنی کوتاہی کا نتیجہ سمجھ کر اللہ سے معافی مانگے۔ کوئی فائدہ ملے تو اس کو خدا کا انعام سمجھ کر شکر ادا کرے۔ مومن کا یہ امتحان جو ہر روز لیا جارہا ہے کبھی اُن ہلادینے والے مقامات تک بھی پہنچ جاتا ہے جہاں زندگی کی بازی لگی ہوئی ہو۔ ایسے مواقع پر بھی جب آدمی بزدلی نہ دکھائے، نہ وہ بے یقینی میں مبتلا ہو اور نہ وہ کسی حال میں دین کے دشمنوں کے سامنے ہار ماننے کے لیے تیار ہو تو گویا وہ امتحان کی آخری جانچ میں بھی پورا اترا۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ہر قسم کی سرفرازیاں ہیں۔ تاریخ میںوہی لوگ سب سے زیادہ قیمتی ہیں جنھوں نے اس طرح اللہ کو پایا ہو اور اپنے آپ کو اس طرح اللہ کے منصوبہ میں شامل کردیا ہو — نازک مواقع پر اہل ایمان کا باہم متحد رہنا اور صبر کے ساتھ حق پر جمے رہنا وہ چیزیں ہیں جو اہلِ ایمان کو اللہ کی نصرت کا مستحق بناتی ہیں۔
آل عمران 3:148
احد کی جنگ میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے۔ اس وقت کچھ مسلمانوں میں پست ہمتی پیداہوگئی۔ مگر اللہ کے حقیقی بندے وہ ہیں جن کی دینداری کسی شخصیت کے اوپر قائم نہ ہو۔ اللہ کو وہ دین داری مطلوب ہے جب کہ بندہ اپنی ساری روح اور ساری جان کے ساتھ صرف ایک اللہ کے ساتھ جڑ جائے۔ مومن وہ ہے جو اسلام کو اس کی اصولی صداقت کی بنا پر پکڑے، نہ کہ کسی شخصیت کے سہارے کی بنا پر۔ جو شخص اس طرح اسلام کو پاتا ہے اس کے لیے اسلام ایک ایسی نعمت بن جاتا ہے جس کے لیے اس کی روح کے اندر شکر کا دریا موجزن ہوجائے۔ وہ دنیا کے بجائے آخرت کو سب کچھ سمجھنے لگتاہے۔ زندگی اس کے لیے ایک ایسی ناپائدار چیز بن جاتی ہے جو کسی بھی لمحہ موت سے دوچار ہونے والی ہو۔ وہ کائنات کو ایک ایسے خدائی کارخانہ کی حیثیت سے دیکھ لیتا ہے جہاں ہر واقعہ خدا کے اِذن کے تحت ہورہا ہے۔ جہاں دینے والا بھی وہی ہے اور چھيننے والا بھی وہی۔ ایسے ہی لوگ اللہ کی راہ کے سچے مسافر ہیں۔ اللہ اگر چاہتا ہے تو دنیا کا عزت واقتدار بھی ان کو دے دیتا ہے اور آخرت کی عظیم اور ابدی انعامات تو صرف انھیں کے لیے ہیں۔ تاہم یہ درجه کسی کو صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ وہ ہر قسم کے امتحان میں پورا اترے۔ اس کے ظاہری سہارے کھوئے جائیں تب بھی وہ اللہ پر اپنی نظر یںجمائے رہے۔ جان کا خطرہ بھی اس کو پست ہمت نہ کرسکے۔ دنیا برباد ہو رہی ہو تب بھی وہ پیچھے نہ ہٹے۔ اس کے سامنے کوئی نقصان آئے تو اس کو وہ اپنی کوتاہی کا نتیجہ سمجھ کر اللہ سے معافی مانگے۔ کوئی فائدہ ملے تو اس کو خدا کا انعام سمجھ کر شکر ادا کرے۔ مومن کا یہ امتحان جو ہر روز لیا جارہا ہے کبھی اُن ہلادینے والے مقامات تک بھی پہنچ جاتا ہے جہاں زندگی کی بازی لگی ہوئی ہو۔ ایسے مواقع پر بھی جب آدمی بزدلی نہ دکھائے، نہ وہ بے یقینی میں مبتلا ہو اور نہ وہ کسی حال میں دین کے دشمنوں کے سامنے ہار ماننے کے لیے تیار ہو تو گویا وہ امتحان کی آخری جانچ میں بھی پورا اترا۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ہر قسم کی سرفرازیاں ہیں۔ تاریخ میںوہی لوگ سب سے زیادہ قیمتی ہیں جنھوں نے اس طرح اللہ کو پایا ہو اور اپنے آپ کو اس طرح اللہ کے منصوبہ میں شامل کردیا ہو — نازک مواقع پر اہل ایمان کا باہم متحد رہنا اور صبر کے ساتھ حق پر جمے رہنا وہ چیزیں ہیں جو اہلِ ایمان کو اللہ کی نصرت کا مستحق بناتی ہیں۔
آل عمران 3:149
جنگ احد میں وقتی شکست سے مخالفوں کو موقع ملا۔ انھوںنے کہنا شروع کیا کہ پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ کوئی خدائی معاملہ نہیں ہے۔ کچھ لوگ محض طفلانہ جوش کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے جوش کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اگر یہ خدائی معاملہ ہوتا تو ان کو اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں شکست کیوں ہوتی۔ مگر اس طرح کے واقعات خواہ بظاہر مسلمانوں کی غلطی سے پیش آئیں، وہ ہر حال میں خدا کا امتحان ہوتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں ’’احد‘‘ کا حادثہ پیش آنا ضروری ہے تاکہ یہ کھل جائے کہ کون اللہ پر اعتماد کرنے والا تھا اور کون پھسل جانے والا۔ اس قسم کے واقعات مومن کے لیے دو طرفہ آزمائش ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ لوگوں کی مخالفانہ باتوں سے متاثر نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ وقتی تکلیف سے گھبرا نہ جائے، اور ہر حال میں ثابت قدم رہے۔
مشکل مواقع پر اہل ایمان اگر جمے رہ جائیں تو بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ خدا کی نصرتِ رعب نازل ہوتی ہے، جو شخص یا گروہ اللہ کے سچے دین کے سوا کسی اور چیز کے اوپر کھڑا ہوا ہے وہ حقیقۃً بے بنیاد زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ کیوں کہ اللہ کی اتاری ہوئی سچائی کے سوا اس دنیا میں کوئی اور حقیقی بنیاد نہیں۔ اس لیے جب کوئی دین خدا وندی کے اوپر کھڑا ہو اور جماؤ کا ثبوت دے تو جلد ہی ایسا ہوتا ہے کہ اہل باطل کی صفوںمیں انتشار شروع ہوجاتا ہے۔ دلائل کے اعتبار سے ان کا بے بنیاد ہونا ان کے افراد میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کردیتا ہے۔ وہ اپنے کو کم اور اہل ایمان کو زیادہ دیکھنے لگتے ہیں۔ ان کی ذہنی شکست بالآخر عملی شکست تک پہنچتی ہے۔ وہ اہلِ حق کے مقابلہ میں ناکام ونامراد ہو کر رہ جاتے ہیں۔
مسلمانوں کے لیے شکست اور کمزوری کا سبب ہمیشہ ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے تنازع فی الامر۔ یعنی رایوں کے اختلاف کی بنا پر الگ ہوجانا۔ انسانوں کے درمیان اتفاق کبھی اس معنی میں نہیں ہوسکتا کہ سب کی رائیں بالکل ایک ہوجائیں۔ اس لیے کسی گروہ میں اتحاد کی صورت صرف یہ ہے کہ رایوں میں اختلاف کے باوجود عمل میں اختلاف نہ کیا جائے۔ جب تک کسی گروہ میں یہ بلند نظری پائی جائے گی وہ متحد اور نتیجتاً طاقت ور رہے گا۔ اور جب رایوں کا اختلاف کرکے لوگ الگ الگ ہونے لگیں تو اس کے بعد لازماً کمزوری اور اس کے نتیجہ میں شکست واقع ہوگی۔
آل عمران 3:150
جنگ احد میں وقتی شکست سے مخالفوں کو موقع ملا۔ انھوںنے کہنا شروع کیا کہ پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ کوئی خدائی معاملہ نہیں ہے۔ کچھ لوگ محض طفلانہ جوش کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے جوش کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اگر یہ خدائی معاملہ ہوتا تو ان کو اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں شکست کیوں ہوتی۔ مگر اس طرح کے واقعات خواہ بظاہر مسلمانوں کی غلطی سے پیش آئیں، وہ ہر حال میں خدا کا امتحان ہوتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں ’’احد‘‘ کا حادثہ پیش آنا ضروری ہے تاکہ یہ کھل جائے کہ کون اللہ پر اعتماد کرنے والا تھا اور کون پھسل جانے والا۔ اس قسم کے واقعات مومن کے لیے دو طرفہ آزمائش ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ لوگوں کی مخالفانہ باتوں سے متاثر نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ وقتی تکلیف سے گھبرا نہ جائے، اور ہر حال میں ثابت قدم رہے۔
مشکل مواقع پر اہل ایمان اگر جمے رہ جائیں تو بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ خدا کی نصرتِ رعب نازل ہوتی ہے، جو شخص یا گروہ اللہ کے سچے دین کے سوا کسی اور چیز کے اوپر کھڑا ہوا ہے وہ حقیقۃً بے بنیاد زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ کیوں کہ اللہ کی اتاری ہوئی سچائی کے سوا اس دنیا میں کوئی اور حقیقی بنیاد نہیں۔ اس لیے جب کوئی دین خدا وندی کے اوپر کھڑا ہو اور جماؤ کا ثبوت دے تو جلد ہی ایسا ہوتا ہے کہ اہل باطل کی صفوںمیں انتشار شروع ہوجاتا ہے۔ دلائل کے اعتبار سے ان کا بے بنیاد ہونا ان کے افراد میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کردیتا ہے۔ وہ اپنے کو کم اور اہل ایمان کو زیادہ دیکھنے لگتے ہیں۔ ان کی ذہنی شکست بالآخر عملی شکست تک پہنچتی ہے۔ وہ اہلِ حق کے مقابلہ میں ناکام ونامراد ہو کر رہ جاتے ہیں۔
مسلمانوں کے لیے شکست اور کمزوری کا سبب ہمیشہ ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے تنازع فی الامر۔ یعنی رایوں کے اختلاف کی بنا پر الگ ہوجانا۔ انسانوں کے درمیان اتفاق کبھی اس معنی میں نہیں ہوسکتا کہ سب کی رائیں بالکل ایک ہوجائیں۔ اس لیے کسی گروہ میں اتحاد کی صورت صرف یہ ہے کہ رایوں میں اختلاف کے باوجود عمل میں اختلاف نہ کیا جائے۔ جب تک کسی گروہ میں یہ بلند نظری پائی جائے گی وہ متحد اور نتیجتاً طاقت ور رہے گا۔ اور جب رایوں کا اختلاف کرکے لوگ الگ الگ ہونے لگیں تو اس کے بعد لازماً کمزوری اور اس کے نتیجہ میں شکست واقع ہوگی۔
آل عمران 3:151
جنگ احد میں وقتی شکست سے مخالفوں کو موقع ملا۔ انھوںنے کہنا شروع کیا کہ پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ کوئی خدائی معاملہ نہیں ہے۔ کچھ لوگ محض طفلانہ جوش کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے جوش کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اگر یہ خدائی معاملہ ہوتا تو ان کو اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں شکست کیوں ہوتی۔ مگر اس طرح کے واقعات خواہ بظاہر مسلمانوں کی غلطی سے پیش آئیں، وہ ہر حال میں خدا کا امتحان ہوتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں ’’احد‘‘ کا حادثہ پیش آنا ضروری ہے تاکہ یہ کھل جائے کہ کون اللہ پر اعتماد کرنے والا تھا اور کون پھسل جانے والا۔ اس قسم کے واقعات مومن کے لیے دو طرفہ آزمائش ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ لوگوں کی مخالفانہ باتوں سے متاثر نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ وقتی تکلیف سے گھبرا نہ جائے، اور ہر حال میں ثابت قدم رہے۔
مشکل مواقع پر اہل ایمان اگر جمے رہ جائیں تو بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ خدا کی نصرتِ رعب نازل ہوتی ہے، جو شخص یا گروہ اللہ کے سچے دین کے سوا کسی اور چیز کے اوپر کھڑا ہوا ہے وہ حقیقۃً بے بنیاد زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ کیوں کہ اللہ کی اتاری ہوئی سچائی کے سوا اس دنیا میں کوئی اور حقیقی بنیاد نہیں۔ اس لیے جب کوئی دین خدا وندی کے اوپر کھڑا ہو اور جماؤ کا ثبوت دے تو جلد ہی ایسا ہوتا ہے کہ اہل باطل کی صفوںمیں انتشار شروع ہوجاتا ہے۔ دلائل کے اعتبار سے ان کا بے بنیاد ہونا ان کے افراد میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کردیتا ہے۔ وہ اپنے کو کم اور اہل ایمان کو زیادہ دیکھنے لگتے ہیں۔ ان کی ذہنی شکست بالآخر عملی شکست تک پہنچتی ہے۔ وہ اہلِ حق کے مقابلہ میں ناکام ونامراد ہو کر رہ جاتے ہیں۔
مسلمانوں کے لیے شکست اور کمزوری کا سبب ہمیشہ ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے تنازع فی الامر۔ یعنی رایوں کے اختلاف کی بنا پر الگ ہوجانا۔ انسانوں کے درمیان اتفاق کبھی اس معنی میں نہیں ہوسکتا کہ سب کی رائیں بالکل ایک ہوجائیں۔ اس لیے کسی گروہ میں اتحاد کی صورت صرف یہ ہے کہ رایوں میں اختلاف کے باوجود عمل میں اختلاف نہ کیا جائے۔ جب تک کسی گروہ میں یہ بلند نظری پائی جائے گی وہ متحد اور نتیجتاً طاقت ور رہے گا۔ اور جب رایوں کا اختلاف کرکے لوگ الگ الگ ہونے لگیں تو اس کے بعد لازماً کمزوری اور اس کے نتیجہ میں شکست واقع ہوگی۔
آل عمران 3:152
جنگ احد میں وقتی شکست سے مخالفوں کو موقع ملا۔ انھوںنے کہنا شروع کیا کہ پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ کوئی خدائی معاملہ نہیں ہے۔ کچھ لوگ محض طفلانہ جوش کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے جوش کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اگر یہ خدائی معاملہ ہوتا تو ان کو اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں شکست کیوں ہوتی۔ مگر اس طرح کے واقعات خواہ بظاہر مسلمانوں کی غلطی سے پیش آئیں، وہ ہر حال میں خدا کا امتحان ہوتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں ’’احد‘‘ کا حادثہ پیش آنا ضروری ہے تاکہ یہ کھل جائے کہ کون اللہ پر اعتماد کرنے والا تھا اور کون پھسل جانے والا۔ اس قسم کے واقعات مومن کے لیے دو طرفہ آزمائش ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ لوگوں کی مخالفانہ باتوں سے متاثر نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ وقتی تکلیف سے گھبرا نہ جائے، اور ہر حال میں ثابت قدم رہے۔
مشکل مواقع پر اہل ایمان اگر جمے رہ جائیں تو بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ خدا کی نصرتِ رعب نازل ہوتی ہے، جو شخص یا گروہ اللہ کے سچے دین کے سوا کسی اور چیز کے اوپر کھڑا ہوا ہے وہ حقیقۃً بے بنیاد زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ کیوں کہ اللہ کی اتاری ہوئی سچائی کے سوا اس دنیا میں کوئی اور حقیقی بنیاد نہیں۔ اس لیے جب کوئی دین خدا وندی کے اوپر کھڑا ہو اور جماؤ کا ثبوت دے تو جلد ہی ایسا ہوتا ہے کہ اہل باطل کی صفوںمیں انتشار شروع ہوجاتا ہے۔ دلائل کے اعتبار سے ان کا بے بنیاد ہونا ان کے افراد میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کردیتا ہے۔ وہ اپنے کو کم اور اہل ایمان کو زیادہ دیکھنے لگتے ہیں۔ ان کی ذہنی شکست بالآخر عملی شکست تک پہنچتی ہے۔ وہ اہلِ حق کے مقابلہ میں ناکام ونامراد ہو کر رہ جاتے ہیں۔
مسلمانوں کے لیے شکست اور کمزوری کا سبب ہمیشہ ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے تنازع فی الامر۔ یعنی رایوں کے اختلاف کی بنا پر الگ ہوجانا۔ انسانوں کے درمیان اتفاق کبھی اس معنی میں نہیں ہوسکتا کہ سب کی رائیں بالکل ایک ہوجائیں۔ اس لیے کسی گروہ میں اتحاد کی صورت صرف یہ ہے کہ رایوں میں اختلاف کے باوجود عمل میں اختلاف نہ کیا جائے۔ جب تک کسی گروہ میں یہ بلند نظری پائی جائے گی وہ متحد اور نتیجتاً طاقت ور رہے گا۔ اور جب رایوں کا اختلاف کرکے لوگ الگ الگ ہونے لگیں تو اس کے بعد لازماً کمزوری اور اس کے نتیجہ میں شکست واقع ہوگی۔
آل عمران 3:153
جنگ احد میں وقتی شکست سے مخالفوں کو موقع ملا۔ انھوںنے کہنا شروع کیا کہ پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ کوئی خدائی معاملہ نہیں ہے۔ کچھ لوگ محض طفلانہ جوش کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے جوش کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اگر یہ خدائی معاملہ ہوتا تو ان کو اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں شکست کیوں ہوتی۔ مگر اس طرح کے واقعات خواہ بظاہر مسلمانوں کی غلطی سے پیش آئیں، وہ ہر حال میں خدا کا امتحان ہوتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں ’’احد‘‘ کا حادثہ پیش آنا ضروری ہے تاکہ یہ کھل جائے کہ کون اللہ پر اعتماد کرنے والا تھا اور کون پھسل جانے والا۔ اس قسم کے واقعات مومن کے لیے دو طرفہ آزمائش ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ لوگوں کی مخالفانہ باتوں سے متاثر نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ وقتی تکلیف سے گھبرا نہ جائے، اور ہر حال میں ثابت قدم رہے۔
مشکل مواقع پر اہل ایمان اگر جمے رہ جائیں تو بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ خدا کی نصرتِ رعب نازل ہوتی ہے، جو شخص یا گروہ اللہ کے سچے دین کے سوا کسی اور چیز کے اوپر کھڑا ہوا ہے وہ حقیقۃً بے بنیاد زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ کیوں کہ اللہ کی اتاری ہوئی سچائی کے سوا اس دنیا میں کوئی اور حقیقی بنیاد نہیں۔ اس لیے جب کوئی دین خدا وندی کے اوپر کھڑا ہو اور جماؤ کا ثبوت دے تو جلد ہی ایسا ہوتا ہے کہ اہل باطل کی صفوںمیں انتشار شروع ہوجاتا ہے۔ دلائل کے اعتبار سے ان کا بے بنیاد ہونا ان کے افراد میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کردیتا ہے۔ وہ اپنے کو کم اور اہل ایمان کو زیادہ دیکھنے لگتے ہیں۔ ان کی ذہنی شکست بالآخر عملی شکست تک پہنچتی ہے۔ وہ اہلِ حق کے مقابلہ میں ناکام ونامراد ہو کر رہ جاتے ہیں۔
مسلمانوں کے لیے شکست اور کمزوری کا سبب ہمیشہ ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے تنازع فی الامر۔ یعنی رایوں کے اختلاف کی بنا پر الگ ہوجانا۔ انسانوں کے درمیان اتفاق کبھی اس معنی میں نہیں ہوسکتا کہ سب کی رائیں بالکل ایک ہوجائیں۔ اس لیے کسی گروہ میں اتحاد کی صورت صرف یہ ہے کہ رایوں میں اختلاف کے باوجود عمل میں اختلاف نہ کیا جائے۔ جب تک کسی گروہ میں یہ بلند نظری پائی جائے گی وہ متحد اور نتیجتاً طاقت ور رہے گا۔ اور جب رایوں کا اختلاف کرکے لوگ الگ الگ ہونے لگیں تو اس کے بعد لازماً کمزوری اور اس کے نتیجہ میں شکست واقع ہوگی۔
آل عمران 3:154
زندگی کے معرکہ میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ آدمی کا چین اس سے رخصت نہ ہو۔ وہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنا منصوبہ بنانے کے قابل رہے۔ اللہ پر بھروسہ کی وجہ سے اہلِ ایمان کو یہ چیز کمال درجہ میں حاصل ہوتی ہے۔ حتی کہ ہلادینے والے موقع پر جب کہ لوگوں کی نیندیں اُڑ جاتی ہیں، اس وقت بھی وہ اس قابل رہتے ہیں کہ ایک نیند لے کر دوبارہ تازہ دم ہوسکیں۔ احد کے موقع پر اس کا ایک مظاہرہ اس طرح ہوا کہ شکست کے بعد سخت ترین حالات کے باوجود وہ سو سکے اور اگلے دن حمراء الاسد تک دشمن کا پیچھا کیا، جو مدینہ سے ۸ میل کے فاصلے پر ہے۔ اس کے نتیجہ میں فاتح دشمن مرعوب ہو کر مکہ واپس چلا گیا۔ یہ سچے اہل ایمان کا حال ہے۔مگر جو لوگ پورے معنوں میں اللہ کو اپنا ولی وسرپرست بنائے ہوئے نہ ہوں، ان کو ہر طرف بس اپنی جان کا خطرہ نظر آتا ہے۔ دین کی فکر سے خالی لوگ اپنی ذات کی فکر میں پڑے رہتے ہیں وہ اللہ کی نصرتِ اطمینان میں سے اپنا حصہ نہیں پاتے۔
احد کے موقع پر عبد اللہ بن اُبي کی رائے تھی کہ مدینہ میں رہ کر جنگ کی جائے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مخلص مسلمانوں کے مشورہ پر باہر نکلے اور احد پہاڑ کے دامن میں مقابلہ کیا۔ درّہ پر متعین دستہ کی غلطی سے جب شکست ہوئی تو ان لوگوں کو موقع ملا۔ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ اگر ہماری بات مانی گئی ہوتی اور مدینہ میں رہ کر لڑتے تو اس بربادی کی نوبت نہ آتی۔ مگر موت خدا کی طرف سے ہے اور وہیں آکر رہتی ہے جہاں وہ کسی کے لیے لکھی ہوئی ہے۔ احتیاطی تدبیریں کسی کو موت سے بچا نہیں سکتیں۔ اس طرح کے واقعات، خواہ بظاہر ان کا جو سبب بھی نظر آئے، وہ اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں۔ تاکہ اللہ کے سچے بندے اللہ کی طرف رجوع کرکے مزید رحمتوں کے مستحق بنیں۔ اور جو سچے نہیں ہیں ان کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آجائے۔
احد کے درہ پر جو پچاس تیر انداز متعین تھے جب انھوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کو فتح ہوگئی ہے تو ان میں سے کچھ لوگوں نے اصرار کیاکہ چل کر مال غنیمت لوٹیں ۔ مگر عبد اللہ بن جبیرؓ او ران کے کچھ ساتھیوں نے کہا نہیں۔ ہم کو ہر حال میں یہیں رہنا ہے کیوں کہ یہی رسول اللہ کا حکم ہے۔ بالآخر گیارہ کو چھوڑ کر بقیہ لوگ چلے گئے۔ باہمی اختلاف کی اس کمزوری سے شیطان نے اندر داخل ہونے کا راستہ پالیا۔ تاہم انھوں نے جب اپنی غلطی کا اعتراف کیا تو اللہ نے ان کو معاف کردیا اور ابتدائی نقصان کے بعد ان کی مدد اس طرح کی کہ دشمنوں کے دل میں رعب ڈال کر ان کو واپس کردیا۔ حالاں کہ اس وقت وہ مدینہ سے صرف چند میل کے فاصلے پر رہ گئے تھے۔
آل عمران 3:155
زندگی کے معرکہ میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ آدمی کا چین اس سے رخصت نہ ہو۔ وہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنا منصوبہ بنانے کے قابل رہے۔ اللہ پر بھروسہ کی وجہ سے اہلِ ایمان کو یہ چیز کمال درجہ میں حاصل ہوتی ہے۔ حتی کہ ہلادینے والے موقع پر جب کہ لوگوں کی نیندیں اُڑ جاتی ہیں، اس وقت بھی وہ اس قابل رہتے ہیں کہ ایک نیند لے کر دوبارہ تازہ دم ہوسکیں۔ احد کے موقع پر اس کا ایک مظاہرہ اس طرح ہوا کہ شکست کے بعد سخت ترین حالات کے باوجود وہ سو سکے اور اگلے دن حمراء الاسد تک دشمن کا پیچھا کیا، جو مدینہ سے ۸ میل کے فاصلے پر ہے۔ اس کے نتیجہ میں فاتح دشمن مرعوب ہو کر مکہ واپس چلا گیا۔ یہ سچے اہل ایمان کا حال ہے۔مگر جو لوگ پورے معنوں میں اللہ کو اپنا ولی وسرپرست بنائے ہوئے نہ ہوں، ان کو ہر طرف بس اپنی جان کا خطرہ نظر آتا ہے۔ دین کی فکر سے خالی لوگ اپنی ذات کی فکر میں پڑے رہتے ہیں وہ اللہ کی نصرتِ اطمینان میں سے اپنا حصہ نہیں پاتے۔
احد کے موقع پر عبد اللہ بن اُبي کی رائے تھی کہ مدینہ میں رہ کر جنگ کی جائے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مخلص مسلمانوں کے مشورہ پر باہر نکلے اور احد پہاڑ کے دامن میں مقابلہ کیا۔ درّہ پر متعین دستہ کی غلطی سے جب شکست ہوئی تو ان لوگوں کو موقع ملا۔ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ اگر ہماری بات مانی گئی ہوتی اور مدینہ میں رہ کر لڑتے تو اس بربادی کی نوبت نہ آتی۔ مگر موت خدا کی طرف سے ہے اور وہیں آکر رہتی ہے جہاں وہ کسی کے لیے لکھی ہوئی ہے۔ احتیاطی تدبیریں کسی کو موت سے بچا نہیں سکتیں۔ اس طرح کے واقعات، خواہ بظاہر ان کا جو سبب بھی نظر آئے، وہ اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں۔ تاکہ اللہ کے سچے بندے اللہ کی طرف رجوع کرکے مزید رحمتوں کے مستحق بنیں۔ اور جو سچے نہیں ہیں ان کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آجائے۔
احد کے درہ پر جو پچاس تیر انداز متعین تھے جب انھوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کو فتح ہوگئی ہے تو ان میں سے کچھ لوگوں نے اصرار کیاکہ چل کر مال غنیمت لوٹیں ۔ مگر عبد اللہ بن جبیرؓ او ران کے کچھ ساتھیوں نے کہا نہیں۔ ہم کو ہر حال میں یہیں رہنا ہے کیوں کہ یہی رسول اللہ کا حکم ہے۔ بالآخر گیارہ کو چھوڑ کر بقیہ لوگ چلے گئے۔ باہمی اختلاف کی اس کمزوری سے شیطان نے اندر داخل ہونے کا راستہ پالیا۔ تاہم انھوں نے جب اپنی غلطی کا اعتراف کیا تو اللہ نے ان کو معاف کردیا اور ابتدائی نقصان کے بعد ان کی مدد اس طرح کی کہ دشمنوں کے دل میں رعب ڈال کر ان کو واپس کردیا۔ حالاں کہ اس وقت وہ مدینہ سے صرف چند میل کے فاصلے پر رہ گئے تھے۔
آل عمران 3:156
اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ تاہم یہاں ہر چیز پر اسباب کا پردہ ڈال دیاگیا ہے۔ واقعات بظاہر اسباب کے تحت ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر حقیقتاً وہ اللہ کے حکم کے تحت ہورہے هوتے ہیں۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری اسباب میں نہ اٹکے بلکہ ان کے پیچھے کام کرنے والی قدرتِ خداوندی کو دیکھ لے۔ غیر مومن وہ ہے جو اسباب میں کھو جائے اور مومن وہ ہے جو اسباب سے گزر کر اصل حقیقت کو پالے۔ ایک شخص مومن ہونے کا مدعی ہومگر اسی کے ساتھ اس کا حال یہ ہو کہ زندگی وموت اور کامیابی و ناکامی کو وہ تدبیروں کا نتیجہ سمجھتا ہو تو اس کا ایمانی دعویٰ معتبر نہیں۔ غیر مومن کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ اس غم میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ میںنے فلاں تدبیر کی ہوتی تو میں حادثہ سے بچ جاتا۔ مگر مومن کے ساتھ جب کوئی حادثہ گزرتا ہے تو وہ یہ سوچ کر مطمئن رہتا ہے کہ اللہ کی مرضی یہی تھی۔ جو لوگ دنیوی اسباب کو اہمیت دیں وہ اپنی پوری زندگی دنیا کی چیزوں کو حاصل کرنے میں لگادیتے ہیں۔ ’’مرنے‘‘ سے زیادہ ’’جینا‘‘ ان کو عزیز ہوجاتا ہے۔ مگر پانے کی اصل چیز وہ ہے جو آخرت میں ہے۔ یعنی اللہ کی جنت ومغفرت۔ اور جنت وہ چیز ہے جس کو صرف زندگی ہی کی قیمت پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ آدمی کا وجود ہی جنت کی واحد قیمت ہے۔ آدمی اگر اپنے وجود کو نہ دے تو وہ کسی اور چیز کے ذریعہ جنت حاصل نہیں کرسکتا۔
اہلِ ایمان کے ساتھ جس اجتماعی سلوک کا حکم پیغمبر کو دیا گیا ہے وہی عام مسلم سربراہ کے لیے بھی ہے۔ مسلم سربراہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ نرم دل اور نرم گفتار ہو۔ یہ نرمی صرف روز مرہ کی عام زندگی ہی میں مطلوب نہیں ہے بلکہ ایسے غیر معمولی مواقع پر بھی مطلوب ہے جب کہ اسلام اور غیر اسلام کے تصادم کے وقت لوگوں سے ایک حکم کی نافرمانی ہو اور نتیجہ میں جیتی ہوئی جنگ ہار میں بدل جائے۔ سربراه کے اندر جب تک یہ وسعت اور بلندنظري نہ ہو طاقت ور اجتماعیت قائم نہیں ہوسکتی۔ غلطی خواہ کتنی ہی بڑی ہو، اگر وہ صرف ایک غلطی ہے، شر پسندی نہیں ہے تو وہ قابل معافی ہے۔ سربراہ کو چاہيے کہ ایسی ہر غلطی کو بھلا کر وہ لوگوں سے معاملہ کرے۔ حتی کہ وہ لوگوں کا اتنا خیر خواہ ہو کہ ان کے حق میں اس کے دل سے دعائیں نکلنے لگیں۔ اس کی نظر میں لوگوں کی اتنی قدر ہو کہ معاملات میں وہ ان سے مشورہ لے۔ جب آدمی کو یہ یقین ہو کہ جو کچھ ہوتا ہے خدا کے کيے سے ہوتا ہے تو اس کے بعد انسانی اسباب اس کی نظر میں ناقابل لحاظ ہوجائیںگے۔
آل عمران 3:157
اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ تاہم یہاں ہر چیز پر اسباب کا پردہ ڈال دیاگیا ہے۔ واقعات بظاہر اسباب کے تحت ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر حقیقتاً وہ اللہ کے حکم کے تحت ہورہے هوتے ہیں۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری اسباب میں نہ اٹکے بلکہ ان کے پیچھے کام کرنے والی قدرتِ خداوندی کو دیکھ لے۔ غیر مومن وہ ہے جو اسباب میں کھو جائے اور مومن وہ ہے جو اسباب سے گزر کر اصل حقیقت کو پالے۔ ایک شخص مومن ہونے کا مدعی ہومگر اسی کے ساتھ اس کا حال یہ ہو کہ زندگی وموت اور کامیابی و ناکامی کو وہ تدبیروں کا نتیجہ سمجھتا ہو تو اس کا ایمانی دعویٰ معتبر نہیں۔ غیر مومن کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ اس غم میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ میںنے فلاں تدبیر کی ہوتی تو میں حادثہ سے بچ جاتا۔ مگر مومن کے ساتھ جب کوئی حادثہ گزرتا ہے تو وہ یہ سوچ کر مطمئن رہتا ہے کہ اللہ کی مرضی یہی تھی۔ جو لوگ دنیوی اسباب کو اہمیت دیں وہ اپنی پوری زندگی دنیا کی چیزوں کو حاصل کرنے میں لگادیتے ہیں۔ ’’مرنے‘‘ سے زیادہ ’’جینا‘‘ ان کو عزیز ہوجاتا ہے۔ مگر پانے کی اصل چیز وہ ہے جو آخرت میں ہے۔ یعنی اللہ کی جنت ومغفرت۔ اور جنت وہ چیز ہے جس کو صرف زندگی ہی کی قیمت پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ آدمی کا وجود ہی جنت کی واحد قیمت ہے۔ آدمی اگر اپنے وجود کو نہ دے تو وہ کسی اور چیز کے ذریعہ جنت حاصل نہیں کرسکتا۔
اہلِ ایمان کے ساتھ جس اجتماعی سلوک کا حکم پیغمبر کو دیا گیا ہے وہی عام مسلم سربراہ کے لیے بھی ہے۔ مسلم سربراہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ نرم دل اور نرم گفتار ہو۔ یہ نرمی صرف روز مرہ کی عام زندگی ہی میں مطلوب نہیں ہے بلکہ ایسے غیر معمولی مواقع پر بھی مطلوب ہے جب کہ اسلام اور غیر اسلام کے تصادم کے وقت لوگوں سے ایک حکم کی نافرمانی ہو اور نتیجہ میں جیتی ہوئی جنگ ہار میں بدل جائے۔ سربراه کے اندر جب تک یہ وسعت اور بلندنظري نہ ہو طاقت ور اجتماعیت قائم نہیں ہوسکتی۔ غلطی خواہ کتنی ہی بڑی ہو، اگر وہ صرف ایک غلطی ہے، شر پسندی نہیں ہے تو وہ قابل معافی ہے۔ سربراہ کو چاہيے کہ ایسی ہر غلطی کو بھلا کر وہ لوگوں سے معاملہ کرے۔ حتی کہ وہ لوگوں کا اتنا خیر خواہ ہو کہ ان کے حق میں اس کے دل سے دعائیں نکلنے لگیں۔ اس کی نظر میں لوگوں کی اتنی قدر ہو کہ معاملات میں وہ ان سے مشورہ لے۔ جب آدمی کو یہ یقین ہو کہ جو کچھ ہوتا ہے خدا کے کيے سے ہوتا ہے تو اس کے بعد انسانی اسباب اس کی نظر میں ناقابل لحاظ ہوجائیںگے۔
آل عمران 3:158
اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ تاہم یہاں ہر چیز پر اسباب کا پردہ ڈال دیاگیا ہے۔ واقعات بظاہر اسباب کے تحت ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر حقیقتاً وہ اللہ کے حکم کے تحت ہورہے هوتے ہیں۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری اسباب میں نہ اٹکے بلکہ ان کے پیچھے کام کرنے والی قدرتِ خداوندی کو دیکھ لے۔ غیر مومن وہ ہے جو اسباب میں کھو جائے اور مومن وہ ہے جو اسباب سے گزر کر اصل حقیقت کو پالے۔ ایک شخص مومن ہونے کا مدعی ہومگر اسی کے ساتھ اس کا حال یہ ہو کہ زندگی وموت اور کامیابی و ناکامی کو وہ تدبیروں کا نتیجہ سمجھتا ہو تو اس کا ایمانی دعویٰ معتبر نہیں۔ غیر مومن کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ اس غم میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ میںنے فلاں تدبیر کی ہوتی تو میں حادثہ سے بچ جاتا۔ مگر مومن کے ساتھ جب کوئی حادثہ گزرتا ہے تو وہ یہ سوچ کر مطمئن رہتا ہے کہ اللہ کی مرضی یہی تھی۔ جو لوگ دنیوی اسباب کو اہمیت دیں وہ اپنی پوری زندگی دنیا کی چیزوں کو حاصل کرنے میں لگادیتے ہیں۔ ’’مرنے‘‘ سے زیادہ ’’جینا‘‘ ان کو عزیز ہوجاتا ہے۔ مگر پانے کی اصل چیز وہ ہے جو آخرت میں ہے۔ یعنی اللہ کی جنت ومغفرت۔ اور جنت وہ چیز ہے جس کو صرف زندگی ہی کی قیمت پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ آدمی کا وجود ہی جنت کی واحد قیمت ہے۔ آدمی اگر اپنے وجود کو نہ دے تو وہ کسی اور چیز کے ذریعہ جنت حاصل نہیں کرسکتا۔
اہلِ ایمان کے ساتھ جس اجتماعی سلوک کا حکم پیغمبر کو دیا گیا ہے وہی عام مسلم سربراہ کے لیے بھی ہے۔ مسلم سربراہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ نرم دل اور نرم گفتار ہو۔ یہ نرمی صرف روز مرہ کی عام زندگی ہی میں مطلوب نہیں ہے بلکہ ایسے غیر معمولی مواقع پر بھی مطلوب ہے جب کہ اسلام اور غیر اسلام کے تصادم کے وقت لوگوں سے ایک حکم کی نافرمانی ہو اور نتیجہ میں جیتی ہوئی جنگ ہار میں بدل جائے۔ سربراه کے اندر جب تک یہ وسعت اور بلندنظري نہ ہو طاقت ور اجتماعیت قائم نہیں ہوسکتی۔ غلطی خواہ کتنی ہی بڑی ہو، اگر وہ صرف ایک غلطی ہے، شر پسندی نہیں ہے تو وہ قابل معافی ہے۔ سربراہ کو چاہيے کہ ایسی ہر غلطی کو بھلا کر وہ لوگوں سے معاملہ کرے۔ حتی کہ وہ لوگوں کا اتنا خیر خواہ ہو کہ ان کے حق میں اس کے دل سے دعائیں نکلنے لگیں۔ اس کی نظر میں لوگوں کی اتنی قدر ہو کہ معاملات میں وہ ان سے مشورہ لے۔ جب آدمی کو یہ یقین ہو کہ جو کچھ ہوتا ہے خدا کے کيے سے ہوتا ہے تو اس کے بعد انسانی اسباب اس کی نظر میں ناقابل لحاظ ہوجائیںگے۔
آل عمران 3:159
اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ تاہم یہاں ہر چیز پر اسباب کا پردہ ڈال دیاگیا ہے۔ واقعات بظاہر اسباب کے تحت ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر حقیقتاً وہ اللہ کے حکم کے تحت ہورہے هوتے ہیں۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری اسباب میں نہ اٹکے بلکہ ان کے پیچھے کام کرنے والی قدرتِ خداوندی کو دیکھ لے۔ غیر مومن وہ ہے جو اسباب میں کھو جائے اور مومن وہ ہے جو اسباب سے گزر کر اصل حقیقت کو پالے۔ ایک شخص مومن ہونے کا مدعی ہومگر اسی کے ساتھ اس کا حال یہ ہو کہ زندگی وموت اور کامیابی و ناکامی کو وہ تدبیروں کا نتیجہ سمجھتا ہو تو اس کا ایمانی دعویٰ معتبر نہیں۔ غیر مومن کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ اس غم میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ میںنے فلاں تدبیر کی ہوتی تو میں حادثہ سے بچ جاتا۔ مگر مومن کے ساتھ جب کوئی حادثہ گزرتا ہے تو وہ یہ سوچ کر مطمئن رہتا ہے کہ اللہ کی مرضی یہی تھی۔ جو لوگ دنیوی اسباب کو اہمیت دیں وہ اپنی پوری زندگی دنیا کی چیزوں کو حاصل کرنے میں لگادیتے ہیں۔ ’’مرنے‘‘ سے زیادہ ’’جینا‘‘ ان کو عزیز ہوجاتا ہے۔ مگر پانے کی اصل چیز وہ ہے جو آخرت میں ہے۔ یعنی اللہ کی جنت ومغفرت۔ اور جنت وہ چیز ہے جس کو صرف زندگی ہی کی قیمت پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ آدمی کا وجود ہی جنت کی واحد قیمت ہے۔ آدمی اگر اپنے وجود کو نہ دے تو وہ کسی اور چیز کے ذریعہ جنت حاصل نہیں کرسکتا۔
اہلِ ایمان کے ساتھ جس اجتماعی سلوک کا حکم پیغمبر کو دیا گیا ہے وہی عام مسلم سربراہ کے لیے بھی ہے۔ مسلم سربراہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ نرم دل اور نرم گفتار ہو۔ یہ نرمی صرف روز مرہ کی عام زندگی ہی میں مطلوب نہیں ہے بلکہ ایسے غیر معمولی مواقع پر بھی مطلوب ہے جب کہ اسلام اور غیر اسلام کے تصادم کے وقت لوگوں سے ایک حکم کی نافرمانی ہو اور نتیجہ میں جیتی ہوئی جنگ ہار میں بدل جائے۔ سربراه کے اندر جب تک یہ وسعت اور بلندنظري نہ ہو طاقت ور اجتماعیت قائم نہیں ہوسکتی۔ غلطی خواہ کتنی ہی بڑی ہو، اگر وہ صرف ایک غلطی ہے، شر پسندی نہیں ہے تو وہ قابل معافی ہے۔ سربراہ کو چاہيے کہ ایسی ہر غلطی کو بھلا کر وہ لوگوں سے معاملہ کرے۔ حتی کہ وہ لوگوں کا اتنا خیر خواہ ہو کہ ان کے حق میں اس کے دل سے دعائیں نکلنے لگیں۔ اس کی نظر میں لوگوں کی اتنی قدر ہو کہ معاملات میں وہ ان سے مشورہ لے۔ جب آدمی کو یہ یقین ہو کہ جو کچھ ہوتا ہے خدا کے کيے سے ہوتا ہے تو اس کے بعد انسانی اسباب اس کی نظر میں ناقابل لحاظ ہوجائیںگے۔
آل عمران 3:160
اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ تاہم یہاں ہر چیز پر اسباب کا پردہ ڈال دیاگیا ہے۔ واقعات بظاہر اسباب کے تحت ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر حقیقتاً وہ اللہ کے حکم کے تحت ہورہے هوتے ہیں۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری اسباب میں نہ اٹکے بلکہ ان کے پیچھے کام کرنے والی قدرتِ خداوندی کو دیکھ لے۔ غیر مومن وہ ہے جو اسباب میں کھو جائے اور مومن وہ ہے جو اسباب سے گزر کر اصل حقیقت کو پالے۔ ایک شخص مومن ہونے کا مدعی ہومگر اسی کے ساتھ اس کا حال یہ ہو کہ زندگی وموت اور کامیابی و ناکامی کو وہ تدبیروں کا نتیجہ سمجھتا ہو تو اس کا ایمانی دعویٰ معتبر نہیں۔ غیر مومن کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ اس غم میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ میںنے فلاں تدبیر کی ہوتی تو میں حادثہ سے بچ جاتا۔ مگر مومن کے ساتھ جب کوئی حادثہ گزرتا ہے تو وہ یہ سوچ کر مطمئن رہتا ہے کہ اللہ کی مرضی یہی تھی۔ جو لوگ دنیوی اسباب کو اہمیت دیں وہ اپنی پوری زندگی دنیا کی چیزوں کو حاصل کرنے میں لگادیتے ہیں۔ ’’مرنے‘‘ سے زیادہ ’’جینا‘‘ ان کو عزیز ہوجاتا ہے۔ مگر پانے کی اصل چیز وہ ہے جو آخرت میں ہے۔ یعنی اللہ کی جنت ومغفرت۔ اور جنت وہ چیز ہے جس کو صرف زندگی ہی کی قیمت پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ آدمی کا وجود ہی جنت کی واحد قیمت ہے۔ آدمی اگر اپنے وجود کو نہ دے تو وہ کسی اور چیز کے ذریعہ جنت حاصل نہیں کرسکتا۔
اہلِ ایمان کے ساتھ جس اجتماعی سلوک کا حکم پیغمبر کو دیا گیا ہے وہی عام مسلم سربراہ کے لیے بھی ہے۔ مسلم سربراہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ نرم دل اور نرم گفتار ہو۔ یہ نرمی صرف روز مرہ کی عام زندگی ہی میں مطلوب نہیں ہے بلکہ ایسے غیر معمولی مواقع پر بھی مطلوب ہے جب کہ اسلام اور غیر اسلام کے تصادم کے وقت لوگوں سے ایک حکم کی نافرمانی ہو اور نتیجہ میں جیتی ہوئی جنگ ہار میں بدل جائے۔ سربراه کے اندر جب تک یہ وسعت اور بلندنظري نہ ہو طاقت ور اجتماعیت قائم نہیں ہوسکتی۔ غلطی خواہ کتنی ہی بڑی ہو، اگر وہ صرف ایک غلطی ہے، شر پسندی نہیں ہے تو وہ قابل معافی ہے۔ سربراہ کو چاہيے کہ ایسی ہر غلطی کو بھلا کر وہ لوگوں سے معاملہ کرے۔ حتی کہ وہ لوگوں کا اتنا خیر خواہ ہو کہ ان کے حق میں اس کے دل سے دعائیں نکلنے لگیں۔ اس کی نظر میں لوگوں کی اتنی قدر ہو کہ معاملات میں وہ ان سے مشورہ لے۔ جب آدمی کو یہ یقین ہو کہ جو کچھ ہوتا ہے خدا کے کيے سے ہوتا ہے تو اس کے بعد انسانی اسباب اس کی نظر میں ناقابل لحاظ ہوجائیںگے۔
آل عمران 3:161
احدکے درہ پر متعین جن چالیس افراد نے نافرمانی کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو معاف کردیا تھا۔ تاہم ان لوگوں کو یہ شبہ تھا کہ آپ نے شاید صرف اوپری طورپر ہم کو معاف کیا ہے۔ دل میں آپ اب بھی خفا ہیں اور کسی وقت ہمارے اوپر خفگی نکالیں گے۔ فرمایا کہ یہ پیغمبر کا طریقہ نہیں۔ پیغمبر اندر اور باہر ایک ہوتا ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے سربراہ کو کیسا ہونا چاہیے۔ مسلم سربراہ کا دل ایسا ہونا چاہيے کہ اس کے اندر بغض، نفرت، کینہ اور حسد بالکل جگہ نہ پاسکے — حتیٰ کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ اس کے ساتھیوں سے ایک بھیانک غلطی ہوگئی ہو۔ مسلم سربراہ کو چاہیے کہ بڑی سے بڑی غلطی کرنے والوں کے خلاف بھی وہ دل میں کوئی جذبہ چھپا کر نہ رکھے۔ آج کے دن ان کے ساتھ اس طرح رہے جیسے پچھلے دن ان سے كوئي غلطي نهيں هوئي تھي۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کا کوئی گروہ جب ایک سربراہ پر اعتماد کرکے اپنے معاملات کو اس کے سپرد کردے تو سربراہ کو ایسا کبھی نہيں کرنا چاہیے کہ ان کے جان ومال کو وہ اپنے ذاتی حوصلوں اور تمناؤں کی تکمیل پر قربان کردے۔یہ اللہ کے غضب سے بے خوف ہونا ہے۔ جو شخص لوگوں کو یہ بتانے کے لیے اٹھا ہو کہ لوگ اللہ کی مرضی پر چلیں وہ خود کیوں کر اس حال میں اللہ سے ملنا پسند کرے گا کہ وہ اللہ کی مرضی کے خلاف چلا ہو۔
پیغمبر نے اپنی زندگی سے جو مثالی نمونہ قائم کیا ہے، قیامت تک تمام مصلحین کو اسی کے مطابق بننا ہے۔ اصلاح کے کام کے لیے ضروری ہے کہ آدمی جن لوگوں کے درمیان کام کرنے كو اٹھے ان کو ہر اعتبار سے وہ ’’اپنا‘‘ نظر آئے، اس کی زبان، اس کا طرز کلام، اس کا رہن سہن ہرچیز اجنبیت سے پاک ہو۔ وہ اپنے اور اپنے مخاطبین کے درمیان ایسی فضا نہ بنائے جو کسی پہلو سے ایک دوسرے کو دور کرنے والی ہو یا ایک کو دوسرے کے مقابلہ میں فریق بنا کر کھڑا کردے۔ لوگوں کے درمیان جو کام کرنا ہے وہ سب سے پہلے یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ ان نشانیوں کو پڑھنے لگیں جو ان کی ذات میں اور باہر کی دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ اللہ کی دلیلوں کو جان کر ان کو اپنے ذہن کاجزء بنائیں۔ دوسرا کام تزکیہ ہے۔ یہ مقصد زبانی گفتگو اور صحبت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ عمومی تحریر اور تقریر میں بات زیادہ تر اصولی انداز ميں ہوتی ہے جب کہ انفرادی گفتگوؤںمیں بات زیادہ متعین اور زیادہ مفصل صورت میں ہوتی ہے۔ نیز داعی کا اپنا وجود بھی پوری طرح اس کی تقویت كے ليےموجود رہتاہے۔ عمومی کلام اگر دعوت ہوتا ہے تو انفرادی ملاقاتیں مدعو کے لیے تزکیہ کے ہم معنی بن جاتی ہیں۔ تیسری چیز کتاب ہے۔ یعنی زندگی گزارنے کے بابت آسمانی ہدایات کو بتانا جس کا دوسرا نام شریعت ہے اور چوتھی چیز حکمت ہے۔ یعنی دین کے گہرے بھیدوں سے پردہ اٹھانا، بین السطور میں چھپے ہوئے حقائق کو نمایاں کرنا۔
آل عمران 3:162
احدکے درہ پر متعین جن چالیس افراد نے نافرمانی کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو معاف کردیا تھا۔ تاہم ان لوگوں کو یہ شبہ تھا کہ آپ نے شاید صرف اوپری طورپر ہم کو معاف کیا ہے۔ دل میں آپ اب بھی خفا ہیں اور کسی وقت ہمارے اوپر خفگی نکالیں گے۔ فرمایا کہ یہ پیغمبر کا طریقہ نہیں۔ پیغمبر اندر اور باہر ایک ہوتا ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے سربراہ کو کیسا ہونا چاہیے۔ مسلم سربراہ کا دل ایسا ہونا چاہيے کہ اس کے اندر بغض، نفرت، کینہ اور حسد بالکل جگہ نہ پاسکے — حتیٰ کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ اس کے ساتھیوں سے ایک بھیانک غلطی ہوگئی ہو۔ مسلم سربراہ کو چاہیے کہ بڑی سے بڑی غلطی کرنے والوں کے خلاف بھی وہ دل میں کوئی جذبہ چھپا کر نہ رکھے۔ آج کے دن ان کے ساتھ اس طرح رہے جیسے پچھلے دن ان سے كوئي غلطي نهيں هوئي تھي۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کا کوئی گروہ جب ایک سربراہ پر اعتماد کرکے اپنے معاملات کو اس کے سپرد کردے تو سربراہ کو ایسا کبھی نہيں کرنا چاہیے کہ ان کے جان ومال کو وہ اپنے ذاتی حوصلوں اور تمناؤں کی تکمیل پر قربان کردے۔یہ اللہ کے غضب سے بے خوف ہونا ہے۔ جو شخص لوگوں کو یہ بتانے کے لیے اٹھا ہو کہ لوگ اللہ کی مرضی پر چلیں وہ خود کیوں کر اس حال میں اللہ سے ملنا پسند کرے گا کہ وہ اللہ کی مرضی کے خلاف چلا ہو۔
پیغمبر نے اپنی زندگی سے جو مثالی نمونہ قائم کیا ہے، قیامت تک تمام مصلحین کو اسی کے مطابق بننا ہے۔ اصلاح کے کام کے لیے ضروری ہے کہ آدمی جن لوگوں کے درمیان کام کرنے كو اٹھے ان کو ہر اعتبار سے وہ ’’اپنا‘‘ نظر آئے، اس کی زبان، اس کا طرز کلام، اس کا رہن سہن ہرچیز اجنبیت سے پاک ہو۔ وہ اپنے اور اپنے مخاطبین کے درمیان ایسی فضا نہ بنائے جو کسی پہلو سے ایک دوسرے کو دور کرنے والی ہو یا ایک کو دوسرے کے مقابلہ میں فریق بنا کر کھڑا کردے۔ لوگوں کے درمیان جو کام کرنا ہے وہ سب سے پہلے یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ ان نشانیوں کو پڑھنے لگیں جو ان کی ذات میں اور باہر کی دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ اللہ کی دلیلوں کو جان کر ان کو اپنے ذہن کاجزء بنائیں۔ دوسرا کام تزکیہ ہے۔ یہ مقصد زبانی گفتگو اور صحبت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ عمومی تحریر اور تقریر میں بات زیادہ تر اصولی انداز ميں ہوتی ہے جب کہ انفرادی گفتگوؤںمیں بات زیادہ متعین اور زیادہ مفصل صورت میں ہوتی ہے۔ نیز داعی کا اپنا وجود بھی پوری طرح اس کی تقویت كے ليےموجود رہتاہے۔ عمومی کلام اگر دعوت ہوتا ہے تو انفرادی ملاقاتیں مدعو کے لیے تزکیہ کے ہم معنی بن جاتی ہیں۔ تیسری چیز کتاب ہے۔ یعنی زندگی گزارنے کے بابت آسمانی ہدایات کو بتانا جس کا دوسرا نام شریعت ہے اور چوتھی چیز حکمت ہے۔ یعنی دین کے گہرے بھیدوں سے پردہ اٹھانا، بین السطور میں چھپے ہوئے حقائق کو نمایاں کرنا۔
آل عمران 3:163
احدکے درہ پر متعین جن چالیس افراد نے نافرمانی کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو معاف کردیا تھا۔ تاہم ان لوگوں کو یہ شبہ تھا کہ آپ نے شاید صرف اوپری طورپر ہم کو معاف کیا ہے۔ دل میں آپ اب بھی خفا ہیں اور کسی وقت ہمارے اوپر خفگی نکالیں گے۔ فرمایا کہ یہ پیغمبر کا طریقہ نہیں۔ پیغمبر اندر اور باہر ایک ہوتا ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے سربراہ کو کیسا ہونا چاہیے۔ مسلم سربراہ کا دل ایسا ہونا چاہيے کہ اس کے اندر بغض، نفرت، کینہ اور حسد بالکل جگہ نہ پاسکے — حتیٰ کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ اس کے ساتھیوں سے ایک بھیانک غلطی ہوگئی ہو۔ مسلم سربراہ کو چاہیے کہ بڑی سے بڑی غلطی کرنے والوں کے خلاف بھی وہ دل میں کوئی جذبہ چھپا کر نہ رکھے۔ آج کے دن ان کے ساتھ اس طرح رہے جیسے پچھلے دن ان سے كوئي غلطي نهيں هوئي تھي۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کا کوئی گروہ جب ایک سربراہ پر اعتماد کرکے اپنے معاملات کو اس کے سپرد کردے تو سربراہ کو ایسا کبھی نہيں کرنا چاہیے کہ ان کے جان ومال کو وہ اپنے ذاتی حوصلوں اور تمناؤں کی تکمیل پر قربان کردے۔یہ اللہ کے غضب سے بے خوف ہونا ہے۔ جو شخص لوگوں کو یہ بتانے کے لیے اٹھا ہو کہ لوگ اللہ کی مرضی پر چلیں وہ خود کیوں کر اس حال میں اللہ سے ملنا پسند کرے گا کہ وہ اللہ کی مرضی کے خلاف چلا ہو۔
پیغمبر نے اپنی زندگی سے جو مثالی نمونہ قائم کیا ہے، قیامت تک تمام مصلحین کو اسی کے مطابق بننا ہے۔ اصلاح کے کام کے لیے ضروری ہے کہ آدمی جن لوگوں کے درمیان کام کرنے كو اٹھے ان کو ہر اعتبار سے وہ ’’اپنا‘‘ نظر آئے، اس کی زبان، اس کا طرز کلام، اس کا رہن سہن ہرچیز اجنبیت سے پاک ہو۔ وہ اپنے اور اپنے مخاطبین کے درمیان ایسی فضا نہ بنائے جو کسی پہلو سے ایک دوسرے کو دور کرنے والی ہو یا ایک کو دوسرے کے مقابلہ میں فریق بنا کر کھڑا کردے۔ لوگوں کے درمیان جو کام کرنا ہے وہ سب سے پہلے یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ ان نشانیوں کو پڑھنے لگیں جو ان کی ذات میں اور باہر کی دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ اللہ کی دلیلوں کو جان کر ان کو اپنے ذہن کاجزء بنائیں۔ دوسرا کام تزکیہ ہے۔ یہ مقصد زبانی گفتگو اور صحبت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ عمومی تحریر اور تقریر میں بات زیادہ تر اصولی انداز ميں ہوتی ہے جب کہ انفرادی گفتگوؤںمیں بات زیادہ متعین اور زیادہ مفصل صورت میں ہوتی ہے۔ نیز داعی کا اپنا وجود بھی پوری طرح اس کی تقویت كے ليےموجود رہتاہے۔ عمومی کلام اگر دعوت ہوتا ہے تو انفرادی ملاقاتیں مدعو کے لیے تزکیہ کے ہم معنی بن جاتی ہیں۔ تیسری چیز کتاب ہے۔ یعنی زندگی گزارنے کے بابت آسمانی ہدایات کو بتانا جس کا دوسرا نام شریعت ہے اور چوتھی چیز حکمت ہے۔ یعنی دین کے گہرے بھیدوں سے پردہ اٹھانا، بین السطور میں چھپے ہوئے حقائق کو نمایاں کرنا۔
آل عمران 3:164
احدکے درہ پر متعین جن چالیس افراد نے نافرمانی کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو معاف کردیا تھا۔ تاہم ان لوگوں کو یہ شبہ تھا کہ آپ نے شاید صرف اوپری طورپر ہم کو معاف کیا ہے۔ دل میں آپ اب بھی خفا ہیں اور کسی وقت ہمارے اوپر خفگی نکالیں گے۔ فرمایا کہ یہ پیغمبر کا طریقہ نہیں۔ پیغمبر اندر اور باہر ایک ہوتا ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے سربراہ کو کیسا ہونا چاہیے۔ مسلم سربراہ کا دل ایسا ہونا چاہيے کہ اس کے اندر بغض، نفرت، کینہ اور حسد بالکل جگہ نہ پاسکے — حتیٰ کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ اس کے ساتھیوں سے ایک بھیانک غلطی ہوگئی ہو۔ مسلم سربراہ کو چاہیے کہ بڑی سے بڑی غلطی کرنے والوں کے خلاف بھی وہ دل میں کوئی جذبہ چھپا کر نہ رکھے۔ آج کے دن ان کے ساتھ اس طرح رہے جیسے پچھلے دن ان سے كوئي غلطي نهيں هوئي تھي۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کا کوئی گروہ جب ایک سربراہ پر اعتماد کرکے اپنے معاملات کو اس کے سپرد کردے تو سربراہ کو ایسا کبھی نہيں کرنا چاہیے کہ ان کے جان ومال کو وہ اپنے ذاتی حوصلوں اور تمناؤں کی تکمیل پر قربان کردے۔یہ اللہ کے غضب سے بے خوف ہونا ہے۔ جو شخص لوگوں کو یہ بتانے کے لیے اٹھا ہو کہ لوگ اللہ کی مرضی پر چلیں وہ خود کیوں کر اس حال میں اللہ سے ملنا پسند کرے گا کہ وہ اللہ کی مرضی کے خلاف چلا ہو۔
پیغمبر نے اپنی زندگی سے جو مثالی نمونہ قائم کیا ہے، قیامت تک تمام مصلحین کو اسی کے مطابق بننا ہے۔ اصلاح کے کام کے لیے ضروری ہے کہ آدمی جن لوگوں کے درمیان کام کرنے كو اٹھے ان کو ہر اعتبار سے وہ ’’اپنا‘‘ نظر آئے، اس کی زبان، اس کا طرز کلام، اس کا رہن سہن ہرچیز اجنبیت سے پاک ہو۔ وہ اپنے اور اپنے مخاطبین کے درمیان ایسی فضا نہ بنائے جو کسی پہلو سے ایک دوسرے کو دور کرنے والی ہو یا ایک کو دوسرے کے مقابلہ میں فریق بنا کر کھڑا کردے۔ لوگوں کے درمیان جو کام کرنا ہے وہ سب سے پہلے یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ ان نشانیوں کو پڑھنے لگیں جو ان کی ذات میں اور باہر کی دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ اللہ کی دلیلوں کو جان کر ان کو اپنے ذہن کاجزء بنائیں۔ دوسرا کام تزکیہ ہے۔ یہ مقصد زبانی گفتگو اور صحبت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ عمومی تحریر اور تقریر میں بات زیادہ تر اصولی انداز ميں ہوتی ہے جب کہ انفرادی گفتگوؤںمیں بات زیادہ متعین اور زیادہ مفصل صورت میں ہوتی ہے۔ نیز داعی کا اپنا وجود بھی پوری طرح اس کی تقویت كے ليےموجود رہتاہے۔ عمومی کلام اگر دعوت ہوتا ہے تو انفرادی ملاقاتیں مدعو کے لیے تزکیہ کے ہم معنی بن جاتی ہیں۔ تیسری چیز کتاب ہے۔ یعنی زندگی گزارنے کے بابت آسمانی ہدایات کو بتانا جس کا دوسرا نام شریعت ہے اور چوتھی چیز حکمت ہے۔ یعنی دین کے گہرے بھیدوں سے پردہ اٹھانا، بین السطور میں چھپے ہوئے حقائق کو نمایاں کرنا۔
آل عمران 3:165
حق وباطل کے مقابلہ میں آخری فتح حق کو ہوتی ہے۔ کیوںکہ اللہ ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں شرپسندوں کو بھی عمل کی پوری آزادی ہے۔ اس لیے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اہل حق کی کسی کمزوری، مثلاً باہمی اختلاف سے فائدہ اٹھا کر شرپسند ان کو وقتی نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ تاہم اس طرح کے واقعات کا ایک مفید پہلو بھی ہے۔ اس کے ذریعہ خود مسلمانوں کی جماعت کی جانچ ہوجاتی ہے۔ ناموافق حالات کو دیکھ کر غیر مخلص لوگ چھٹ جاتے ہیں اور جو سچے مسلمان ہیں وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جمے رہتے ہیں۔ اس طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ کون قابل اعتماد ہے اورکون ناقابل اعتماد۔ مزید یہ کہ اتفاقی غلطی سے نقصان اٹھانے کے بعد جب اہل ایمان دوبارہ صبر اور انابت اور توکل علی اللہ کا ثبوت دیتے ہیں تو خدا کی رحمت ان کی طرف پہلے سے بھی زیادہ متوجہ ہوجاتی ہے۔
حق وباطل کے معرکہ میں جو لوگ اس طرح شرکت کریں کہ اسی کی راہ میں اپنے کومٹا دیں، ان کے متعلق اہل دنیا اکثر افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ انھوں نے خواہ مخواہ اپنے کو برباد کرلیا۔ مگر یہ صرف نادانی کی بات ہے۔ اللہ کی راہ میں کھونا ہی تو سب سے بڑا پانا ہے ۔ کیوں کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیں وہی وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ اللہ کے انعامات کے مستحق قرار ديے جائیںگے۔
اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کا ذکر نادان لوگ اس طرح کرتے ہیں جیسے دوسری راہوں میں اپنی زندگیاں لگانے والوں پر موت نہیں آتی، جیسے کہ صرف مجاہدین فی سبیل اللہ مرتے ہیں اور دوسرے لوگ مرتے ہی نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بات سراسر بے معنی ہے۔ موت خدا کا ایک عام قانون ہے۔ وہ بہر حال ہرایک کے لیے اپنے وقت پر آنے والی ہے۔ آدمی خواہ ایک راستہ میں چل رہا ہو یا دوسرے راستہ میں، وہ کسی حالت میں موت کے انجام سے بچ نہیں سکتا۔
جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ کبھی اپنی بات میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ ان کا دل تو اعتراف کررہا ہوتا ہے کہ حق کے لیے قربانی نہ دے کر انھوںنے سخت کوتاہی کی ہے۔ مگر زبان سے قربانی کرنے والوں کو مطعون کرکے اپنا ظاہری بھرم قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی زبان سے ایسے الفاظ بولتے ہیں جن کے بارے میں خود ان کا دل گواہی دے رہا ہوتا ہے وہ جھوٹے الفاظ ہیں، ان کی کوئی واقعی حقیقت نہیں۔
آل عمران 3:166
حق وباطل کے مقابلہ میں آخری فتح حق کو ہوتی ہے۔ کیوںکہ اللہ ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں شرپسندوں کو بھی عمل کی پوری آزادی ہے۔ اس لیے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اہل حق کی کسی کمزوری، مثلاً باہمی اختلاف سے فائدہ اٹھا کر شرپسند ان کو وقتی نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ تاہم اس طرح کے واقعات کا ایک مفید پہلو بھی ہے۔ اس کے ذریعہ خود مسلمانوں کی جماعت کی جانچ ہوجاتی ہے۔ ناموافق حالات کو دیکھ کر غیر مخلص لوگ چھٹ جاتے ہیں اور جو سچے مسلمان ہیں وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جمے رہتے ہیں۔ اس طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ کون قابل اعتماد ہے اورکون ناقابل اعتماد۔ مزید یہ کہ اتفاقی غلطی سے نقصان اٹھانے کے بعد جب اہل ایمان دوبارہ صبر اور انابت اور توکل علی اللہ کا ثبوت دیتے ہیں تو خدا کی رحمت ان کی طرف پہلے سے بھی زیادہ متوجہ ہوجاتی ہے۔
حق وباطل کے معرکہ میں جو لوگ اس طرح شرکت کریں کہ اسی کی راہ میں اپنے کومٹا دیں، ان کے متعلق اہل دنیا اکثر افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ انھوں نے خواہ مخواہ اپنے کو برباد کرلیا۔ مگر یہ صرف نادانی کی بات ہے۔ اللہ کی راہ میں کھونا ہی تو سب سے بڑا پانا ہے ۔ کیوں کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیں وہی وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ اللہ کے انعامات کے مستحق قرار ديے جائیںگے۔
اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کا ذکر نادان لوگ اس طرح کرتے ہیں جیسے دوسری راہوں میں اپنی زندگیاں لگانے والوں پر موت نہیں آتی، جیسے کہ صرف مجاہدین فی سبیل اللہ مرتے ہیں اور دوسرے لوگ مرتے ہی نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بات سراسر بے معنی ہے۔ موت خدا کا ایک عام قانون ہے۔ وہ بہر حال ہرایک کے لیے اپنے وقت پر آنے والی ہے۔ آدمی خواہ ایک راستہ میں چل رہا ہو یا دوسرے راستہ میں، وہ کسی حالت میں موت کے انجام سے بچ نہیں سکتا۔
جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ کبھی اپنی بات میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ ان کا دل تو اعتراف کررہا ہوتا ہے کہ حق کے لیے قربانی نہ دے کر انھوںنے سخت کوتاہی کی ہے۔ مگر زبان سے قربانی کرنے والوں کو مطعون کرکے اپنا ظاہری بھرم قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی زبان سے ایسے الفاظ بولتے ہیں جن کے بارے میں خود ان کا دل گواہی دے رہا ہوتا ہے وہ جھوٹے الفاظ ہیں، ان کی کوئی واقعی حقیقت نہیں۔
آل عمران 3:167
حق وباطل کے مقابلہ میں آخری فتح حق کو ہوتی ہے۔ کیوںکہ اللہ ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں شرپسندوں کو بھی عمل کی پوری آزادی ہے۔ اس لیے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اہل حق کی کسی کمزوری، مثلاً باہمی اختلاف سے فائدہ اٹھا کر شرپسند ان کو وقتی نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ تاہم اس طرح کے واقعات کا ایک مفید پہلو بھی ہے۔ اس کے ذریعہ خود مسلمانوں کی جماعت کی جانچ ہوجاتی ہے۔ ناموافق حالات کو دیکھ کر غیر مخلص لوگ چھٹ جاتے ہیں اور جو سچے مسلمان ہیں وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جمے رہتے ہیں۔ اس طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ کون قابل اعتماد ہے اورکون ناقابل اعتماد۔ مزید یہ کہ اتفاقی غلطی سے نقصان اٹھانے کے بعد جب اہل ایمان دوبارہ صبر اور انابت اور توکل علی اللہ کا ثبوت دیتے ہیں تو خدا کی رحمت ان کی طرف پہلے سے بھی زیادہ متوجہ ہوجاتی ہے۔
حق وباطل کے معرکہ میں جو لوگ اس طرح شرکت کریں کہ اسی کی راہ میں اپنے کومٹا دیں، ان کے متعلق اہل دنیا اکثر افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ انھوں نے خواہ مخواہ اپنے کو برباد کرلیا۔ مگر یہ صرف نادانی کی بات ہے۔ اللہ کی راہ میں کھونا ہی تو سب سے بڑا پانا ہے ۔ کیوں کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیں وہی وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ اللہ کے انعامات کے مستحق قرار ديے جائیںگے۔
اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کا ذکر نادان لوگ اس طرح کرتے ہیں جیسے دوسری راہوں میں اپنی زندگیاں لگانے والوں پر موت نہیں آتی، جیسے کہ صرف مجاہدین فی سبیل اللہ مرتے ہیں اور دوسرے لوگ مرتے ہی نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بات سراسر بے معنی ہے۔ موت خدا کا ایک عام قانون ہے۔ وہ بہر حال ہرایک کے لیے اپنے وقت پر آنے والی ہے۔ آدمی خواہ ایک راستہ میں چل رہا ہو یا دوسرے راستہ میں، وہ کسی حالت میں موت کے انجام سے بچ نہیں سکتا۔
جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ کبھی اپنی بات میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ ان کا دل تو اعتراف کررہا ہوتا ہے کہ حق کے لیے قربانی نہ دے کر انھوںنے سخت کوتاہی کی ہے۔ مگر زبان سے قربانی کرنے والوں کو مطعون کرکے اپنا ظاہری بھرم قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی زبان سے ایسے الفاظ بولتے ہیں جن کے بارے میں خود ان کا دل گواہی دے رہا ہوتا ہے وہ جھوٹے الفاظ ہیں، ان کی کوئی واقعی حقیقت نہیں۔