Lafzullah

Tazkirul Quran(Maulana Wahiduddin Khan) — التوبة 9:127 – هود 11:123

Author / source: Maulana Wahid Uddin Khan

Contents
  1. التوبة 9:127
  2. التوبة 9:128
  3. التوبة 9:129
  4. يونس 10:1
  5. يونس 10:2
  6. يونس 10:3
  7. يونس 10:4
  8. يونس 10:5
  9. يونس 10:6
  10. يونس 10:7
  11. يونس 10:8
  12. يونس 10:9
  13. يونس 10:10
  14. يونس 10:11
  15. يونس 10:12
  16. يونس 10:13
  17. يونس 10:14
  18. يونس 10:15
  19. يونس 10:16
  20. يونس 10:17
  21. يونس 10:18
  22. يونس 10:19
  23. يونس 10:20
  24. يونس 10:21
  25. يونس 10:22
  26. يونس 10:23
  27. يونس 10:24
  28. يونس 10:25
  29. يونس 10:26
  30. يونس 10:27
  31. يونس 10:28
  32. يونس 10:29
  33. يونس 10:30
  34. يونس 10:31
  35. يونس 10:32
  36. يونس 10:33
  37. يونس 10:34
  38. يونس 10:35
  39. يونس 10:36
  40. يونس 10:37
  41. يونس 10:38
  42. يونس 10:39
  43. يونس 10:40
  44. يونس 10:41
  45. يونس 10:42
  46. يونس 10:43
  47. يونس 10:44
  48. يونس 10:45
  49. يونس 10:46
  50. يونس 10:47
  51. يونس 10:48
  52. يونس 10:49
  53. يونس 10:50
  54. يونس 10:51
  55. يونس 10:52
  56. يونس 10:53
  57. يونس 10:54
  58. يونس 10:55
  59. يونس 10:56
  60. يونس 10:57
  61. يونس 10:58
  62. يونس 10:59
  63. يونس 10:60
  64. يونس 10:61
  65. يونس 10:62
  66. يونس 10:63
  67. يونس 10:64
  68. يونس 10:65
  69. يونس 10:66
  70. يونس 10:67
  71. يونس 10:68
  72. يونس 10:69
  73. يونس 10:70
  74. يونس 10:71
  75. يونس 10:72
  76. يونس 10:73
  77. يونس 10:74
  78. يونس 10:75
  79. يونس 10:76
  80. يونس 10:77
  81. يونس 10:78
  82. يونس 10:79
  83. يونس 10:80
  84. يونس 10:81
  85. يونس 10:82
  86. يونس 10:83
  87. يونس 10:84
  88. يونس 10:85
  89. يونس 10:86
  90. يونس 10:87
  91. يونس 10:88
  92. يونس 10:89
  93. يونس 10:90
  94. يونس 10:91
  95. يونس 10:92
  96. يونس 10:93
  97. يونس 10:94
  98. يونس 10:95
  99. يونس 10:96
  100. يونس 10:97
  101. يونس 10:98
  102. يونس 10:99
  103. يونس 10:100
  104. يونس 10:101
  105. يونس 10:102
  106. يونس 10:103
  107. يونس 10:104
  108. يونس 10:105
  109. يونس 10:106
  110. يونس 10:107
  111. يونس 10:108
  112. يونس 10:109
  113. هود 11:1
  114. هود 11:2
  115. هود 11:3
  116. هود 11:4
  117. هود 11:5
  118. هود 11:6
  119. هود 11:7
  120. هود 11:8
  121. هود 11:9
  122. هود 11:10
  123. هود 11:11
  124. هود 11:12
  125. هود 11:13
  126. هود 11:14
  127. هود 11:15
  128. هود 11:16
  129. هود 11:17
  130. هود 11:18
  131. هود 11:19
  132. هود 11:20
  133. هود 11:21
  134. هود 11:22
  135. هود 11:23
  136. هود 11:24
  137. هود 11:25
  138. هود 11:26
  139. هود 11:27
  140. هود 11:28
  141. هود 11:29
  142. هود 11:30
  143. هود 11:31
  144. هود 11:32
  145. هود 11:33
  146. هود 11:34
  147. هود 11:35
  148. هود 11:36
  149. هود 11:37
  150. هود 11:38
  151. هود 11:39
  152. هود 11:40
  153. هود 11:41
  154. هود 11:42
  155. هود 11:43
  156. هود 11:44
  157. هود 11:45
  158. هود 11:46
  159. هود 11:47
  160. هود 11:48
  161. هود 11:49
  162. هود 11:50
  163. هود 11:51
  164. هود 11:52
  165. هود 11:53
  166. هود 11:54
  167. هود 11:55
  168. هود 11:56
  169. هود 11:57
  170. هود 11:58
  171. هود 11:59
  172. هود 11:60
  173. هود 11:61
  174. هود 11:62
  175. هود 11:63
  176. هود 11:64
  177. هود 11:65
  178. هود 11:66
  179. هود 11:67
  180. هود 11:68
  181. هود 11:69
  182. هود 11:70
  183. هود 11:71
  184. هود 11:72
  185. هود 11:73
  186. هود 11:74
  187. هود 11:75
  188. هود 11:76
  189. هود 11:77
  190. هود 11:78
  191. هود 11:79
  192. هود 11:80
  193. هود 11:81
  194. هود 11:82
  195. هود 11:83
  196. هود 11:84
  197. هود 11:85
  198. هود 11:86
  199. هود 11:87
  200. هود 11:88
  201. هود 11:89
  202. هود 11:90
  203. هود 11:91
  204. هود 11:92
  205. هود 11:93
  206. هود 11:94
  207. هود 11:95
  208. هود 11:96
  209. هود 11:97
  210. هود 11:98
  211. هود 11:99
  212. هود 11:100
  213. هود 11:101
  214. هود 11:102
  215. هود 11:103
  216. هود 11:104
  217. هود 11:105
  218. هود 11:106
  219. هود 11:107
  220. هود 11:108
  221. هود 11:109
  222. هود 11:110
  223. هود 11:111
  224. هود 11:112
  225. هود 11:113
  226. هود 11:114
  227. هود 11:115
  228. هود 11:116
  229. هود 11:117
  230. هود 11:118
  231. هود 11:119
  232. هود 11:120
  233. هود 11:121
  234. هود 11:122
  235. هود 11:123

التوبة 9:127

’’قریب کے منکروں سے جنگ کرو‘‘ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اسلامی جدوجہد کوئی بے منصوبہ جدوجہد نہیں ہے بلکہ اس میں ترتیب کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ پہلے قریب کی رکاوٹوں پر قابو پانے کی کوشش کی جائے گی اور اس کے بعد دور کی رکاوٹوں سے نپٹا جائے گا۔اسی سے یہ بات بھی نکلی کہ سب سے پہلا مجاہدہ خود اپنے نفس سے کیا جانا چاہيے۔ کیوں کہ آدمی کے سب سے قریب اس کا اپنا نفس ہوتا ہے۔ باہر کے دشمنوں کی باری اس کے بعد آتی ہے۔ پھر اسلام دشمنوں سے بھی اولاً جو چیز مطلوب ہے وہ سختی (غلظہ) ہے یعنی وہ مضبوطی جو دشمنوں کے ليے رعب کا باعث بن جائے (إذْ كَانَ ذَلِكَ يُوقِعُ الْمَهَابَةَ لَنَا فِي صُدُورِهِمْ وَالرُّعْبَ فِي قُلُوبِهِمْ ) أحكام القرآن للجصاص، جلد 3، صفحہ 208 ۔ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ دشمنوں سے مقابلہ کی ساری کارروائی تقویٰ کی بنیاد پر کی جائے۔ تقویٰ (خوف خدا) کی روش ہی مسلمانوں کے ليے نصرت خداوندی کی ضامن ہے۔ تقویٰ سے ہٹتے ہی وہ خدا کی مدد سے محروم ہوجائیں گے۔ وہ خدا سے دور ہوجائیں گے، اور خدا ان سے۔ تقویٰ گویا بندے اور خدا کے درمیان نقطۂ ملاقات ہے۔ جب آدمی خدا سے ڈرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس مقام پر لاتا ہے جہاں خدا اسے دیکھنا چاہتا تھا، جہاں خدا نے اسے بلا رکھا تھا۔ ایسی حالت میں تقویٰ ہی آدمی کو خدا کے قریب کرنے والا بن سکتا ہے، نہ کہ کوئی دوسری چیز۔ جب خدا اپنے بندے کو متقی کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہے تو وہ اس بندے کی طرف کیسے متوجہ ہوگا جو غیر متقی کے روپ میں اس کے سامنے آئے۔ قرآن نے اپنی یہ خصوصیت بیان کی ہے کہ اس کی آیتوں کو سن کر مومنین کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ مگر اضافۂ ایمان کا تعلق آدمی کی اپنی قلبی صلاحیت پر ہے، نہ کہ صرف آیتوں کو سن لینے پر۔ ڈیڑھ ہزار سال پہلے جب قرآن اترا تو اس کے الفاظ ابھی صرف الفاظ تھے، وہ تاریخی واقعہ نہیں بنے تھے۔ اس وقت قرآن کی اہمیت کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے تھے جو حقیقت کو اس کی مجرد صورت میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ ظاہر پرست منافقین کے اندر یہ صلاحیت نہ تھی۔ ان کو قرآن کے الفاظ صرف الفاظ معلوم ہوتے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ چند الفاظ کا مجموعہ کسی کے یقین و اعتماد میں اضافہ کا سبب کیسے بن جائے گا۔ چنانچہ جب کوئی نئی آیت اترتی تو وہ یہ کہہ کر مذاق اڑاتے کہ عربی کے ان الفاظ نے تم میں سے کس کے ایمان میں اضافہ کیا۔ اس بات کو آدمی اس وقت تک سمجھ نہیں سکتا جب تک وہ تاریخ کو حذف کرکے قرآن کو اس کے مجرد روپ میں دیکھنے کی نظر نہ پیدا کرے۔ آج ’’قرآن‘‘ کے لفظ کے ساتھ وہ تمام تاریخی عظمتیں شامل ہوچکی ہیں جو نزولِ قرآن کے وقت موجود نہ تھیں ، اور بعد کو ہزار سال سے زیادہ عرصہ میں اس کے گرد جمع ہوئیں ۔ مگر زمانۂ نزول میں قرآن کی حیثیت مجرد ایک کتاب کی تھی۔ اس وقت ظاہر بیں انسان اس کو صرف ایک ’’کتاب‘‘ کے روپ میں دیکھتاتھا، نہ کہ تاریخ ساز صحیفہ کے روپ میں ۔ وہ لوگ جو قرآن کو اس کی چھپی ہوئی عظمت کے ساتھ دیکھ رہے تھے جب وہ قرآن سے غیر معمولی تاثر قبول کرتے تو ظاہر بینوں کی سمجھ میں نہ آتا۔ وہ کہتے ہیں کہ آخر یہ ایک کتاب ہی تو ہے۔ پھر ایک لفظی مجموعہ میں وہ کون سی خاص بات ہے کہ لوگ اس سے اس قدر متاثر ہورہے ہیں ۔ خدا ایسے لوگوں کو بار بار مختلف قسم کے جھٹکے دیتا ہے تاکہ ان کے دل کی حساسیت بڑھے اور وہ باتوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ پکڑنے کے قابل ہوجائیں ۔ مگر جب آدمی خود نصیحت نہ لینا چاہے تو کوئی خارجی چیز اس کی نصیحت کے لیے کافی نہیں ہوسکتی۔ نصیحت لینے والی کوئی بات سامنے آئے اور آدمی اس کو نظر انداز کردے تو اس کا یہ عمل اس کو نصیحت کے معاملہ میں بے حس بنادیتا ہے۔ ’’وہ ہر سال ایک بار یا دو بار آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں مگر وہ نہ توبہ کرتے اور نہ سبق حاصل کرتے‘‘۔ یہاں آزمائش سے مراد قحط، مرض، بھوک وغیرہ میں مبتلا کیا جانا ہے۔ اس قسم کی آفتیں آدمی کی زندگی میں بار بار پیش آتی ہیں مگر وہ ان سے توبہ اور عبرت کی غذا نہیں لیتا— توبہ حقیقۃً تذکرّکے نتیجہ کا دوسرا نام ہے۔ ہر آدمی کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ سال میں ایک دو بار ضرور کچھ غیر معمولی واقعات پیش آتے ہیں ۔ یہ واقعات خدائی حقیقتوں کی طرف اشارہ کرنے والے ہوتے ہیں ۔ کبھی وہ خدا کے مقابلے میں انسان کی بے چارگی کو یاد دلاتے ہیں ۔ کبھی وہ آخرت کے مقابلے میں موجودہ دنیا کی بے وقعتی کو ظاہر کرتے ہیں ۔ ایسے مواقع آدمی کے لیے اِس بات کا امتحان ہوتے ہیں کہ وہ ان کو اپنے لیے سبق بنائے، وہ مادی واقعات میں غیر مادی حقائق کو دیکھ لے۔ سبق والی چیز سے آدمی سبق کیوں نہیں لے پاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک چیز کو دوسری چیز سے مربوط نہیں کرپاتا۔ دنیا کے واقعات سے سبق لینے کے لیے یہ صلاحیت درکار ہے کہ آدمی ایک بات کو دوسری بات سے جوڑ کر دیکھنا جانتا ہو۔ وہ ظاہری واقعہ کو چھپی ہوئی حقیقت سے ملا کر دیکھ سکے۔ وہ پیش آنے والی چیز کے آئینہ میں اس چیز کو پڑھ سکے جو ابھی پیش نہیں آئی۔

التوبة 9:128

اِس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تصویر بتائی گئی ہے کہ اسلام کی جدوجہد میں ان کاسارا اعتماد صرف ایک اللہ پر ہے۔ وہ لوگوں کو جس خدا کی طرف بلانے کے لیے اٹھے ہیں وہ ایسا خدا ہے جو سارے اقتدار کا مالک ہے۔ تمام خزانوں کی کنجیاں اس کے پاس ہیں ۔ رسول اسی ایمان ویقین کی زمین پر کھڑا ہواہے۔اس لیے بالکل فطری ہے کہ اس کا سارا بھروسہ صرف ایک خدا پر ہو۔ وہ ہر قسم کی مصلحتوں اور اندیشوں سے بے پروا ہو کر حق کی خدمت میں لگا رہے۔ پھر یہ بتایا کہ خدا کا رسول لوگوں کے حق میں حد درجہ شفیق اور مہربان ہے۔ وہ دوسروں کی تکلیفوں پر اس طرح کڑھتا ہے جیسے کہ وہ تکلیف خود اس کے اوپر پڑی ہو۔ وہ حرص کی حد تک لوگوں کی ہدایت کا طالب ہے۔ دعوتِ حق کی جدوجہد کے لیے اس کو جس چیز نے متحرک کیا ہے، وہ سراسرخیر خواہی کا جذبہ ہے، نہ کہ کوئی شخصی حوصلہ یا قومی مسئلہ— وہ خود لوگوں کی بھلائی کے لیے اٹھا ہے، نہ کہ اپنی ذاتی بھلائی کے لیے۔ عبد اللہ بن مسعود ؓسے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: لوگ پروانوں کی طرح آگ میں گر رہے ہیں اور مَیں ان کی کمر پکڑ کر ان کو آگ میں گرنے سے روک رہا ہوں (أَلَا وَإِنِّي آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ أَنْ تَهَافَتُوا فِي النَّارِ كَتَهَافُتِ الْفَرَاشِ، أَوِ الذُّبَابِ) مسند احمد، حدیث نمبر 3704۔ رسول کی اس تصویر کی شکل میں حق کے داعی کی تصویر ہمیشہ کے لیے بتادی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام کے داعی کے اندر دو خاص صفات نمایاں طورپر ہونی چاہئیں ۔ ایک یہ کہ اس کا بھروسہ صرف ایک اللہ پر ہو۔ دوسري یہ کہ مدعو کے لیے اس کے دل میں صرف محبت اور خیر خواہی کا جذبہ ہو، اس کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ اگرچہ مدعو کی طرف سے طرح طرح کی شکایتیں پیش آتی ہیں ۔ اس کے اور داعی کے درمیان قومی اور مادی جھگڑے بھی ہوسکتے ہیں ۔ ان سب کے باوجود یہ مطلوب ہے کہ داعی ان تمام چیزوں کو نظر انداز کرے اور مدعو کے لیے رحمت و رافت کے سوا کوئی اور جذبہ اپنے اندر پیدا نہ ہونے دے۔ داعی کو رد عمل کی نفسیات سے بلند ہونا پڑتا ہے۔ اس کو یک طرفہ طورپر ایسا کرنا پڑتا ہے کہ وہ مدعو کا خیر خواہ بنے، خواہ مدعو نے اس کے خلاف کتنا ہی زیادہ قابلِ شکایت رویہ کیوں نہ اختیار کیا ہو۔ داعی خداکے لیے جیتاہے اور مدعو اپنی ذات کے لیے۔ ابتداء ًاسلام میں جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا ان کے لیے آپ کا ساتھ دینا اپنی بنی بنائی زندگی کو اجاڑ دینے کے ہم معنی بن گیا۔ اس سے کچھ لوگوں کے اندر یہ خیال پیدا ہوا کہ رسول ہمارے ليے مصیبت بن کر آیا ہے۔ مگر یہ وہی بات ہے جو عین مطلوب ہے۔ حق کی دعوت اسی لیے اٹھی ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ ان کی قوتوں اور صلاحیتوں کا مصرف آخرت کی دنیا ہے، نہ کہ موجودہ دنیا۔ اس لیے اگر رسول کا لایا ہوا دین اختیار کرنے میں دنیوی نقشہ بگڑتا ہوا نظر آئے تو اس پر آدمی کو مطمئن رہنا چاہیے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی متاع کو خدا نے آخرت کے ليے قبول کرلیا۔

التوبة 9:129

اِس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تصویر بتائی گئی ہے کہ اسلام کی جدوجہد میں ان کاسارا اعتماد صرف ایک اللہ پر ہے۔ وہ لوگوں کو جس خدا کی طرف بلانے کے لیے اٹھے ہیں وہ ایسا خدا ہے جو سارے اقتدار کا مالک ہے۔ تمام خزانوں کی کنجیاں اس کے پاس ہیں ۔ رسول اسی ایمان ویقین کی زمین پر کھڑا ہواہے۔اس لیے بالکل فطری ہے کہ اس کا سارا بھروسہ صرف ایک خدا پر ہو۔ وہ ہر قسم کی مصلحتوں اور اندیشوں سے بے پروا ہو کر حق کی خدمت میں لگا رہے۔ پھر یہ بتایا کہ خدا کا رسول لوگوں کے حق میں حد درجہ شفیق اور مہربان ہے۔ وہ دوسروں کی تکلیفوں پر اس طرح کڑھتا ہے جیسے کہ وہ تکلیف خود اس کے اوپر پڑی ہو۔ وہ حرص کی حد تک لوگوں کی ہدایت کا طالب ہے۔ دعوتِ حق کی جدوجہد کے لیے اس کو جس چیز نے متحرک کیا ہے، وہ سراسرخیر خواہی کا جذبہ ہے، نہ کہ کوئی شخصی حوصلہ یا قومی مسئلہ— وہ خود لوگوں کی بھلائی کے لیے اٹھا ہے، نہ کہ اپنی ذاتی بھلائی کے لیے۔ عبد اللہ بن مسعود ؓسے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: لوگ پروانوں کی طرح آگ میں گر رہے ہیں اور مَیں ان کی کمر پکڑ کر ان کو آگ میں گرنے سے روک رہا ہوں (أَلَا وَإِنِّي آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ أَنْ تَهَافَتُوا فِي النَّارِ كَتَهَافُتِ الْفَرَاشِ، أَوِ الذُّبَابِ) مسند احمد، حدیث نمبر 3704۔ رسول کی اس تصویر کی شکل میں حق کے داعی کی تصویر ہمیشہ کے لیے بتادی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام کے داعی کے اندر دو خاص صفات نمایاں طورپر ہونی چاہئیں ۔ ایک یہ کہ اس کا بھروسہ صرف ایک اللہ پر ہو۔ دوسري یہ کہ مدعو کے لیے اس کے دل میں صرف محبت اور خیر خواہی کا جذبہ ہو، اس کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ اگرچہ مدعو کی طرف سے طرح طرح کی شکایتیں پیش آتی ہیں ۔ اس کے اور داعی کے درمیان قومی اور مادی جھگڑے بھی ہوسکتے ہیں ۔ ان سب کے باوجود یہ مطلوب ہے کہ داعی ان تمام چیزوں کو نظر انداز کرے اور مدعو کے لیے رحمت و رافت کے سوا کوئی اور جذبہ اپنے اندر پیدا نہ ہونے دے۔ داعی کو رد عمل کی نفسیات سے بلند ہونا پڑتا ہے۔ اس کو یک طرفہ طورپر ایسا کرنا پڑتا ہے کہ وہ مدعو کا خیر خواہ بنے، خواہ مدعو نے اس کے خلاف کتنا ہی زیادہ قابلِ شکایت رویہ کیوں نہ اختیار کیا ہو۔ داعی خداکے لیے جیتاہے اور مدعو اپنی ذات کے لیے۔ ابتداء ًاسلام میں جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا ان کے لیے آپ کا ساتھ دینا اپنی بنی بنائی زندگی کو اجاڑ دینے کے ہم معنی بن گیا۔ اس سے کچھ لوگوں کے اندر یہ خیال پیدا ہوا کہ رسول ہمارے ليے مصیبت بن کر آیا ہے۔ مگر یہ وہی بات ہے جو عین مطلوب ہے۔ حق کی دعوت اسی لیے اٹھی ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ ان کی قوتوں اور صلاحیتوں کا مصرف آخرت کی دنیا ہے، نہ کہ موجودہ دنیا۔ اس لیے اگر رسول کا لایا ہوا دین اختیار کرنے میں دنیوی نقشہ بگڑتا ہوا نظر آئے تو اس پر آدمی کو مطمئن رہنا چاہیے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی متاع کو خدا نے آخرت کے ليے قبول کرلیا۔

يونس 10:1

پیغمبر کا کلام انتہائی محکم دلائل پر مبنی ہوتاہے۔ وہ اپنے غیر معمولی انداز کی بنا پر خود اس بات کا ثبوت ہوتاہے کہ وہ خدا کی طرف سے بول رہا ہے۔ اس کے باوجود ہر زمانہ میں لوگوں نے پیغمبر کا انکار کیا۔ اس کی وجہ انسان کی ظاہر پرستی ہے۔ پیغمبر اپنے معاصرین کی نظر میں عام انسانوں کی طرح بس ایک انسان ہوتاہے۔ اس کے گرد ابھی عظمت کی وہ تاریخ جمع نہیں ہوتی جو بعد کے زمانہ میں اس کے نام کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہے۔ اس لیے پیغمبر کے زمانہ کے لوگ پیغمبر کو محض ایک انسان سمجھ کر نظر اندازکردیتے ہیں۔ وہ پیغمبر کو نہ خدا کے بھیجے ہوئے کی حیثیت میں دیکھ پاتے اور نہ مستقبل میں بننے والی تاریخ کے اعتبار سے اس کا اندازہ کرپاتے جب کہ ہر آدمی اس کی پیغمبرانہ عظمت کو ماننے پر مجبور ہوگا۔ پیغمبر کا کلام سراپا اعجاز ہوتاہے جو سننے والوں کو بے دلیل کردیتاہے۔ مگر منکرین اس کی اہمیت کو گھٹانے کے لیے یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ ادبی ساحری ہے۔ وہ دلیل کے میدان میں اپنے آپ کو عاجز پاکر اس کے اوپر عیب لگانے لگتے ہیں۔ اس طرح وہ پیغمبر کے کلام کی صداقت کو مشتبہ کرتے ہیں۔ پیغمبر کا کلام جن لوگوں کو مفتوح کررہا تھا ان کے بارے میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ محض سادگی میں پڑے ہوئے ہیں، ورنہ یہ سارا معاملہ الفاظ کے فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ زبان کی جادوگری ہے، نہ کہ کوئی واقعی اہمیت کی چیز۔ پیغمبر کا اصل مشن انذار وتبشیر ہے۔ یعنی خدا کی پکڑ سے ڈرانا اور جو لوگ خدا سے ڈر کر دنیا میں رہنے کے لیے تیار ہوں، ان کو جنت کی خوش خبری دینا۔ پیغمبر اس ليے آتاہے کہ لوگوں کو اس حقیقتِ واقعہ سے آگاہ کردے کہ آدمی اس دنیا میں آزاد اور خود مختار نہیں ہے اور نہ زندگی کا قصہ آدمی کی موت کے ساتھ ختم ہوجانے والا ہے۔ بلکہ موت کے بعد ابدی زندگی ہے اور آدمی کو سب سے زیادہ اسی کی فکرکرني چاہیے۔ جو شخص غفلت برتے گا یا سرکشی کرے گا وہ موت کے بعد کی دنیا میں اس حال میں پہنچے گا کہ وہاں اس کے لیے دکھ کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ ظاہر پرست انسان ہمیشہ یہ سمجھتا رہا ہے کہ عزت اور ترقی اس شخص کے لیے ہے، جس کے پاس دنیا کا اقتدار ہے، جو دنیا کی دولت کا مالک ہے۔ پیغمبر بتاتا ہے کہ یہ سراسر دھوکا ہے۔ یہ عزت وترقی تو وہ ہے جو موجودہ عارضی زندگی میں انسانوں کے درمیان ملتی ہے۔ مگر عزت اور ترقی دراصل وہ ہے جو مستقل زندگی میں خدا کے یہاں حاصل ہو۔ وہی عزت وترقی حقیقی ہے اور اسی کے ساتھ دائمی بھی۔

يونس 10:2

پیغمبر کا کلام انتہائی محکم دلائل پر مبنی ہوتاہے۔ وہ اپنے غیر معمولی انداز کی بنا پر خود اس بات کا ثبوت ہوتاہے کہ وہ خدا کی طرف سے بول رہا ہے۔ اس کے باوجود ہر زمانہ میں لوگوں نے پیغمبر کا انکار کیا۔ اس کی وجہ انسان کی ظاہر پرستی ہے۔ پیغمبر اپنے معاصرین کی نظر میں عام انسانوں کی طرح بس ایک انسان ہوتاہے۔ اس کے گرد ابھی عظمت کی وہ تاریخ جمع نہیں ہوتی جو بعد کے زمانہ میں اس کے نام کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہے۔ اس لیے پیغمبر کے زمانہ کے لوگ پیغمبر کو محض ایک انسان سمجھ کر نظر اندازکردیتے ہیں۔ وہ پیغمبر کو نہ خدا کے بھیجے ہوئے کی حیثیت میں دیکھ پاتے اور نہ مستقبل میں بننے والی تاریخ کے اعتبار سے اس کا اندازہ کرپاتے جب کہ ہر آدمی اس کی پیغمبرانہ عظمت کو ماننے پر مجبور ہوگا۔ پیغمبر کا کلام سراپا اعجاز ہوتاہے جو سننے والوں کو بے دلیل کردیتاہے۔ مگر منکرین اس کی اہمیت کو گھٹانے کے لیے یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ ادبی ساحری ہے۔ وہ دلیل کے میدان میں اپنے آپ کو عاجز پاکر اس کے اوپر عیب لگانے لگتے ہیں۔ اس طرح وہ پیغمبر کے کلام کی صداقت کو مشتبہ کرتے ہیں۔ پیغمبر کا کلام جن لوگوں کو مفتوح کررہا تھا ان کے بارے میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ محض سادگی میں پڑے ہوئے ہیں، ورنہ یہ سارا معاملہ الفاظ کے فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ زبان کی جادوگری ہے، نہ کہ کوئی واقعی اہمیت کی چیز۔ پیغمبر کا اصل مشن انذار وتبشیر ہے۔ یعنی خدا کی پکڑ سے ڈرانا اور جو لوگ خدا سے ڈر کر دنیا میں رہنے کے لیے تیار ہوں، ان کو جنت کی خوش خبری دینا۔ پیغمبر اس ليے آتاہے کہ لوگوں کو اس حقیقتِ واقعہ سے آگاہ کردے کہ آدمی اس دنیا میں آزاد اور خود مختار نہیں ہے اور نہ زندگی کا قصہ آدمی کی موت کے ساتھ ختم ہوجانے والا ہے۔ بلکہ موت کے بعد ابدی زندگی ہے اور آدمی کو سب سے زیادہ اسی کی فکرکرني چاہیے۔ جو شخص غفلت برتے گا یا سرکشی کرے گا وہ موت کے بعد کی دنیا میں اس حال میں پہنچے گا کہ وہاں اس کے لیے دکھ کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ ظاہر پرست انسان ہمیشہ یہ سمجھتا رہا ہے کہ عزت اور ترقی اس شخص کے لیے ہے، جس کے پاس دنیا کا اقتدار ہے، جو دنیا کی دولت کا مالک ہے۔ پیغمبر بتاتا ہے کہ یہ سراسر دھوکا ہے۔ یہ عزت وترقی تو وہ ہے جو موجودہ عارضی زندگی میں انسانوں کے درمیان ملتی ہے۔ مگر عزت اور ترقی دراصل وہ ہے جو مستقل زندگی میں خدا کے یہاں حاصل ہو۔ وہی عزت وترقی حقیقی ہے اور اسی کے ساتھ دائمی بھی۔

يونس 10:3

کائنات میں مختلف قسم کی چیزیں ہیں۔ علمی مطالعہ بتاتا ہے کہ ان چیزوں کا ظہور بیک وقت نہیں ہوا بلکہ تدریج کے ساتھ ایک کے بعد ایک ہوا ہے۔ قرآن اس تدریجی تخلیق کو چھ ادوار (periods) میں تقسیم کرتا ہے۔ یہ دَوری تخلیق ثابت کرتی ہے کہ کائنات کی پیدائش شعوری منصوبہ کے تحت ہوئی ہے۔ پھر کائنات کا مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اس کا نظام حد درجہ محکم قوانین کے تحت چل رہا ہے۔ ہر چیز ٹھیک اسی طرح عمل کرتی ہے جس طرح مجموعی تقاضے کے تحت اسے عمل کرنا چاہيے۔ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس کارخانہ کائنات کا ایک زندہ مدبر ہے جو ہر لمحہ اس کا انتظام کررہا ہے۔ کائنات کا یہ حیران کن نظام خود ہی پکار رہاہے کہ اس کا مالک اتنا کامل اور اتنا عظیم ہے جس کے یہاں کسی سفارشی کی سفارش چلنے کا کوئی سوال نہیں۔ کائنات اپنی خصوصیات کے آئینہ میں اپنے خالق کی خصوصیات کو بتارہی ہے۔ ساری کائنات میں ’’قسط‘‘ کا نظام قائم ہے۔ یہاں ہر ایک کے ساتھ یہ ہورہا ہے کہ جو کچھ وہ کرتاہے اسی کے مطابق نتیجہ اس کے سامنے آتاہے۔ ہر ایک کو وہی ملتاہے جو اس نے کیا تھا اور ہر ایک سے وہ چھن جاتا ہے جس کے لیے اس نے نہیں کیا تھا۔ زمین کا جو حصہ رات کے اسباب جمع کرے وہاں تاریکی پھیل کر رہتی ہے اور زمین کا جو حصہ روشنی کے اسباب پیدا کرے اس کے اوپر روشن سورج چمک کر رہتاہے۔ یہ مادی نتائج کا حال ہے۔ مگر اخلاقی نتائج کے معاملہ میں دنیا کی تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ انسان نیکی کرتا ہے اور اس کو نیکی کا پھل نہیں ملتا۔ انسان سرکشی کرتا ہے مگر اس کی سرکشی اپنا نتیجہ دکھائے بغیر جاری رہتی ہے۔ خالق کی جو مرضی اس کی دوسری مخلوقات میں چل رہی ہے اس کی وہی مرضی انسان کے معاملات میں کیوں ظاہر نہیں ہوتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں خدائی انصاف کے ظہور کو خدا نے بعد کو آنے والی دنیا کے ليے موخر کردیا ہے۔ پہلی زندگی انسان کو عمل کے لیے دی گئی ہے، دوسری زندگی اس کو اپنے عمل کا نتیجہ پانے کے لیے دی جائے گی۔ اور دوسری زندگی کا ظہور یقیناً اتنا ہی ممکن ہے جتنا پہلی زندگی کا ظہور۔

يونس 10:4

کائنات میں مختلف قسم کی چیزیں ہیں۔ علمی مطالعہ بتاتا ہے کہ ان چیزوں کا ظہور بیک وقت نہیں ہوا بلکہ تدریج کے ساتھ ایک کے بعد ایک ہوا ہے۔ قرآن اس تدریجی تخلیق کو چھ ادوار (periods) میں تقسیم کرتا ہے۔ یہ دَوری تخلیق ثابت کرتی ہے کہ کائنات کی پیدائش شعوری منصوبہ کے تحت ہوئی ہے۔ پھر کائنات کا مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اس کا نظام حد درجہ محکم قوانین کے تحت چل رہا ہے۔ ہر چیز ٹھیک اسی طرح عمل کرتی ہے جس طرح مجموعی تقاضے کے تحت اسے عمل کرنا چاہيے۔ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس کارخانہ کائنات کا ایک زندہ مدبر ہے جو ہر لمحہ اس کا انتظام کررہا ہے۔ کائنات کا یہ حیران کن نظام خود ہی پکار رہاہے کہ اس کا مالک اتنا کامل اور اتنا عظیم ہے جس کے یہاں کسی سفارشی کی سفارش چلنے کا کوئی سوال نہیں۔ کائنات اپنی خصوصیات کے آئینہ میں اپنے خالق کی خصوصیات کو بتارہی ہے۔ ساری کائنات میں ’’قسط‘‘ کا نظام قائم ہے۔ یہاں ہر ایک کے ساتھ یہ ہورہا ہے کہ جو کچھ وہ کرتاہے اسی کے مطابق نتیجہ اس کے سامنے آتاہے۔ ہر ایک کو وہی ملتاہے جو اس نے کیا تھا اور ہر ایک سے وہ چھن جاتا ہے جس کے لیے اس نے نہیں کیا تھا۔ زمین کا جو حصہ رات کے اسباب جمع کرے وہاں تاریکی پھیل کر رہتی ہے اور زمین کا جو حصہ روشنی کے اسباب پیدا کرے اس کے اوپر روشن سورج چمک کر رہتاہے۔ یہ مادی نتائج کا حال ہے۔ مگر اخلاقی نتائج کے معاملہ میں دنیا کی تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ انسان نیکی کرتا ہے اور اس کو نیکی کا پھل نہیں ملتا۔ انسان سرکشی کرتا ہے مگر اس کی سرکشی اپنا نتیجہ دکھائے بغیر جاری رہتی ہے۔ خالق کی جو مرضی اس کی دوسری مخلوقات میں چل رہی ہے اس کی وہی مرضی انسان کے معاملات میں کیوں ظاہر نہیں ہوتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں خدائی انصاف کے ظہور کو خدا نے بعد کو آنے والی دنیا کے ليے موخر کردیا ہے۔ پہلی زندگی انسان کو عمل کے لیے دی گئی ہے، دوسری زندگی اس کو اپنے عمل کا نتیجہ پانے کے لیے دی جائے گی۔ اور دوسری زندگی کا ظہور یقیناً اتنا ہی ممکن ہے جتنا پہلی زندگی کا ظہور۔

يونس 10:5

سورج ہماری زمین سے نہایت درست فاصلہ پر قائم ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارے لیے روشنی اور حرارت جیسی نعمتوں کا خزانہ بناہوا ہے۔ اگر اس انداز ہ میں فرق ہوجائے تو سورج ہمارے لیے سورج نہ رہے بلکہ آگ کي جہنم بن جائے، وہ زندگی کے بجائے موت کا پیغام ثابت ہو۔ چاند ایک حد درجہ ریاضیاتی حساب کے مطابق اپنے مدار پر ٹھیک ٹھیک گردش کرتاہے۔ اسی بنا پر یہ ممکن ہوتاہے کہ چاند بذات خود بے نور ہونے کے باوجود ہمارے لیے نہ صرف ٹھنڈی روشنی دے بلکہ مہینہ اور سال کی قدرتی تقویم بھی فراہم کرے۔ یہ فلکیاتی نشانیاں ثابت کرتی ہیں کہ اس کائنات میں گہری مقصدیت ہے، اور مقصدیت والی کائنات کا آخری انجام بے مقصد نہیں ہوسکتا۔ پھر ہماری دنیا میں رات کے بعد دن کا آنا مادی تمثیل کی زبان میں اس اخلاقی حقیقت کو بتا رہا ہے کہ موجودہ دنیا میں یہ قانون نافذ ہے کہ تاریکی کے بعد روشنی پھیلے، اندھیرے کے بعد اجالے کا ظہور ہو۔ یہاں حقوق کی پامالی کے بعد حقوق کی ادائیگی کا نظام آنے والا ہے۔ انسان کی سرکشی کی جگہ خدائی انصاف کو غلبہ ملنے والا ہے۔ یہاں اس وقت کا آنا مقدر ہے جب کہ دھاندلی ختم ہواور حق کے اعتراف کا ماحول چاروں طرف قائم ہو جائے۔ آخرت کی حقیقتوں کو خدا نے نشانیوں کے انداز میں ظاہر کیا ہے۔بالفاظ دیگر، خدا موجودہ دنیا میں دلیل کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے، نہ کہ محسوس مشاہدہ کے روپ میں۔ پھر خدا جس روپ میں اپنا جلوہ دکھاتا ہے اسی روپ میں ہم اس کو پاسکتے ہیں ،نہ کہ کسی اور روپ میں۔ خدا نے اس دنیا میں ہدایت کے راستے کھول رکھے ہیں مگر یہ ہدایت انھیں کا مقدر ہے جو خدائی نقشہ کے مطابق اس کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہاں وہی لوگ صحیح راستہ پر چلنے کی توفیق پائیں گے جو دلیل کی زبان میں بات کو سمجھنے اور ماننے کے لیے تیار ہوں۔ جو لوگ سچی دلیل کے آگے نہ جھکیں وہ گویا خدا کے آگے نہیں جھکے۔ انھوں نے خدا کو نہیں مانا۔ ایسے لوگوں کو اپنے لیے جہنم کے سوا کسی اور چیز کا انتظار نہ کرنا چاہیے۔ زمین و آسمان میں اگر چہ بے شمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں مگر وہ انھیں لوگوں کے لیے سبق بنتی ہیں جو ڈر رکھنے والے ہیں۔ ڈریا اندیشہ وہ چیز ہے جو آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ جب تک آدمی کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو وہ اس معاملہ پر پورا دھیان نہیں دے گا اور نہ اس کے پہلوؤں کو سمجھے گا— پوری کائنات ایک زبردست تخلیقی توازن میں جکڑی ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا کھلا ہوا اشارہ ہے کہ کائنات کا مالک ایسا مالک ہے جو انسان کو پکڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اسی طرح پہلی زندگی جس کا ہم تجربہ کر رہے ہیں وہ اس کا یقینی ثبوت ہے کہ دوسری زندگی بھی ممکن ہے۔ موجودہ دنیا میں مادی نتائج کا نکلنا مگر اخلاقی نتائج کا نہ نکلنا تقاضا کرتاہے کہ ایک اور دنیا بنے جہاں اخلاقی نتائج اپنی پوری صورت میں ظاہر ہوں۔ یہ سب انتہائی محکم باتیں ہیں مگر ان کا محکم ہونا وہی شخص جانے گا جو اندیشہ کی نفسیات کے تحت زندگی کے معاملہ کو دیکھتا ہو۔

يونس 10:6

سورج ہماری زمین سے نہایت درست فاصلہ پر قائم ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارے لیے روشنی اور حرارت جیسی نعمتوں کا خزانہ بناہوا ہے۔ اگر اس انداز ہ میں فرق ہوجائے تو سورج ہمارے لیے سورج نہ رہے بلکہ آگ کي جہنم بن جائے، وہ زندگی کے بجائے موت کا پیغام ثابت ہو۔ چاند ایک حد درجہ ریاضیاتی حساب کے مطابق اپنے مدار پر ٹھیک ٹھیک گردش کرتاہے۔ اسی بنا پر یہ ممکن ہوتاہے کہ چاند بذات خود بے نور ہونے کے باوجود ہمارے لیے نہ صرف ٹھنڈی روشنی دے بلکہ مہینہ اور سال کی قدرتی تقویم بھی فراہم کرے۔ یہ فلکیاتی نشانیاں ثابت کرتی ہیں کہ اس کائنات میں گہری مقصدیت ہے، اور مقصدیت والی کائنات کا آخری انجام بے مقصد نہیں ہوسکتا۔ پھر ہماری دنیا میں رات کے بعد دن کا آنا مادی تمثیل کی زبان میں اس اخلاقی حقیقت کو بتا رہا ہے کہ موجودہ دنیا میں یہ قانون نافذ ہے کہ تاریکی کے بعد روشنی پھیلے، اندھیرے کے بعد اجالے کا ظہور ہو۔ یہاں حقوق کی پامالی کے بعد حقوق کی ادائیگی کا نظام آنے والا ہے۔ انسان کی سرکشی کی جگہ خدائی انصاف کو غلبہ ملنے والا ہے۔ یہاں اس وقت کا آنا مقدر ہے جب کہ دھاندلی ختم ہواور حق کے اعتراف کا ماحول چاروں طرف قائم ہو جائے۔ آخرت کی حقیقتوں کو خدا نے نشانیوں کے انداز میں ظاہر کیا ہے۔بالفاظ دیگر، خدا موجودہ دنیا میں دلیل کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے، نہ کہ محسوس مشاہدہ کے روپ میں۔ پھر خدا جس روپ میں اپنا جلوہ دکھاتا ہے اسی روپ میں ہم اس کو پاسکتے ہیں ،نہ کہ کسی اور روپ میں۔ خدا نے اس دنیا میں ہدایت کے راستے کھول رکھے ہیں مگر یہ ہدایت انھیں کا مقدر ہے جو خدائی نقشہ کے مطابق اس کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہاں وہی لوگ صحیح راستہ پر چلنے کی توفیق پائیں گے جو دلیل کی زبان میں بات کو سمجھنے اور ماننے کے لیے تیار ہوں۔ جو لوگ سچی دلیل کے آگے نہ جھکیں وہ گویا خدا کے آگے نہیں جھکے۔ انھوں نے خدا کو نہیں مانا۔ ایسے لوگوں کو اپنے لیے جہنم کے سوا کسی اور چیز کا انتظار نہ کرنا چاہیے۔ زمین و آسمان میں اگر چہ بے شمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں مگر وہ انھیں لوگوں کے لیے سبق بنتی ہیں جو ڈر رکھنے والے ہیں۔ ڈریا اندیشہ وہ چیز ہے جو آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ جب تک آدمی کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو وہ اس معاملہ پر پورا دھیان نہیں دے گا اور نہ اس کے پہلوؤں کو سمجھے گا— پوری کائنات ایک زبردست تخلیقی توازن میں جکڑی ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا کھلا ہوا اشارہ ہے کہ کائنات کا مالک ایسا مالک ہے جو انسان کو پکڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اسی طرح پہلی زندگی جس کا ہم تجربہ کر رہے ہیں وہ اس کا یقینی ثبوت ہے کہ دوسری زندگی بھی ممکن ہے۔ موجودہ دنیا میں مادی نتائج کا نکلنا مگر اخلاقی نتائج کا نہ نکلنا تقاضا کرتاہے کہ ایک اور دنیا بنے جہاں اخلاقی نتائج اپنی پوری صورت میں ظاہر ہوں۔ یہ سب انتہائی محکم باتیں ہیں مگر ان کا محکم ہونا وہی شخص جانے گا جو اندیشہ کی نفسیات کے تحت زندگی کے معاملہ کو دیکھتا ہو۔

يونس 10:7

جہنم کس کے لیے ہے — ان لوگوں کے لیے جو اس دن کو بھولے ہوئے ہوں جب کہ خدا سے ان کا سامنا ہوگا۔ جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کی عارضی چیزوں پر راضی ہوگئے ہوں۔ جن کا یہ حال ہو کہ دنیا میںانھیں جو کچھ امتحان کے طورپر ملا ہے اسی پر وہ مطمئن ہوجائیں۔ جو غیر خدائی چیزوں میںاتنا دل لگالیں کہ خدا کی طرف سے ظاہر کی جانے والی حقیقتوں سے غافل ہوجائیں۔ یہ سب خدا کے نزدیک جہنمی راستوں میں چلنا ہے، اور جو لوگ جہنمی راستوں میں چل رہے ہوں وہ آخر کار جہنم کے سوا اور کہاں پہنچیں گے۔ ’’اللہ انھیں ان کے ایمان کی وجہ سے جنت کی منزل تک پہنچائے گا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان آدمی کے لیے رہنمائی ہے۔ وہ آدمی کو غلط راہوں سے بچا کر صحیح راستہ پر چلاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو حقیقی منزل تک پہنچا دیتاہے۔ ایمان خدا کی دریافت ہے۔ جس آدمی کو ایمان حاصل ہوجائے اس کو علم کا سرا ہاتھ آجاتا ہے، وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ ہر معاملہ میں صحیح مقام سے اپنی سوچ کاآغاز کرسکے۔ وہ فکری بے راہ روی سے بچ کر فکری صحت کا مالک بن جائے۔ مزید یہ کہ خدا کو ماننا کسی کتابی فلسفہ کو ماننا نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ خدا کو ماننا ہے جو بالآخر تمام انسانوں کو اپنے یہاں جمع کرکے ان کا حساب لینے والا ہے۔ اس طرح ایمان آدمی کے اندر اپنے انجام کے بارے میں اندیشہ کی کیفیت پید کرکے اس کو انتہائی سنجیدہ انسان بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے کو مجبور پاتا ہے کہ اپنی تمام کارروائیوں کو صحیح اور غلط کی روشنی میں دیکھے اور صرف صحیح رخ پر چلے اور غلط رخ پر چلنے سے ہمیشہ پرہیز کرے۔ اس طرح ایمان آدمی کو صحیح فکر بھی دیتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ قوت تمیز بھی جو اس کے لیے مستقل عملی رہنما بن جائے۔ آخرت کی جنت ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے دنیا میں اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کیا ہو۔ آخرت خدا کے براہِ راست جلوؤں میں سرشار ہونے کا مقام ہے، وہاں بسنے کا موقع صرف ان لوگوں کو ملے گا جو دنیا میں خداکے بالواسطہ جلوؤں سے سرشار ہوئے تھے۔ آخرت میں لوگوں کے دل ایک دوسرے کے لیے سلامتی اور خیر خواہی کے جذبات سے بھرے ہوئے ہوں گے، اس لیے وہاں کی آبادی میںوہی لوگ جگہ پائیں گے جنھوں نے دنیا میں اس بات کا ثبوت دیا تھا کہ دوسروں کے لیے ان کے دل میں سلامتی اور خیر خواہی کے سوا کوئی دوسرا جذبہ نہیں۔

يونس 10:8

جہنم کس کے لیے ہے — ان لوگوں کے لیے جو اس دن کو بھولے ہوئے ہوں جب کہ خدا سے ان کا سامنا ہوگا۔ جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کی عارضی چیزوں پر راضی ہوگئے ہوں۔ جن کا یہ حال ہو کہ دنیا میںانھیں جو کچھ امتحان کے طورپر ملا ہے اسی پر وہ مطمئن ہوجائیں۔ جو غیر خدائی چیزوں میںاتنا دل لگالیں کہ خدا کی طرف سے ظاہر کی جانے والی حقیقتوں سے غافل ہوجائیں۔ یہ سب خدا کے نزدیک جہنمی راستوں میں چلنا ہے، اور جو لوگ جہنمی راستوں میں چل رہے ہوں وہ آخر کار جہنم کے سوا اور کہاں پہنچیں گے۔ ’’اللہ انھیں ان کے ایمان کی وجہ سے جنت کی منزل تک پہنچائے گا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان آدمی کے لیے رہنمائی ہے۔ وہ آدمی کو غلط راہوں سے بچا کر صحیح راستہ پر چلاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو حقیقی منزل تک پہنچا دیتاہے۔ ایمان خدا کی دریافت ہے۔ جس آدمی کو ایمان حاصل ہوجائے اس کو علم کا سرا ہاتھ آجاتا ہے، وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ ہر معاملہ میں صحیح مقام سے اپنی سوچ کاآغاز کرسکے۔ وہ فکری بے راہ روی سے بچ کر فکری صحت کا مالک بن جائے۔ مزید یہ کہ خدا کو ماننا کسی کتابی فلسفہ کو ماننا نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ خدا کو ماننا ہے جو بالآخر تمام انسانوں کو اپنے یہاں جمع کرکے ان کا حساب لینے والا ہے۔ اس طرح ایمان آدمی کے اندر اپنے انجام کے بارے میں اندیشہ کی کیفیت پید کرکے اس کو انتہائی سنجیدہ انسان بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے کو مجبور پاتا ہے کہ اپنی تمام کارروائیوں کو صحیح اور غلط کی روشنی میں دیکھے اور صرف صحیح رخ پر چلے اور غلط رخ پر چلنے سے ہمیشہ پرہیز کرے۔ اس طرح ایمان آدمی کو صحیح فکر بھی دیتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ قوت تمیز بھی جو اس کے لیے مستقل عملی رہنما بن جائے۔ آخرت کی جنت ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے دنیا میں اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کیا ہو۔ آخرت خدا کے براہِ راست جلوؤں میں سرشار ہونے کا مقام ہے، وہاں بسنے کا موقع صرف ان لوگوں کو ملے گا جو دنیا میں خداکے بالواسطہ جلوؤں سے سرشار ہوئے تھے۔ آخرت میں لوگوں کے دل ایک دوسرے کے لیے سلامتی اور خیر خواہی کے جذبات سے بھرے ہوئے ہوں گے، اس لیے وہاں کی آبادی میںوہی لوگ جگہ پائیں گے جنھوں نے دنیا میں اس بات کا ثبوت دیا تھا کہ دوسروں کے لیے ان کے دل میں سلامتی اور خیر خواہی کے سوا کوئی دوسرا جذبہ نہیں۔

يونس 10:9

جہنم کس کے لیے ہے — ان لوگوں کے لیے جو اس دن کو بھولے ہوئے ہوں جب کہ خدا سے ان کا سامنا ہوگا۔ جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کی عارضی چیزوں پر راضی ہوگئے ہوں۔ جن کا یہ حال ہو کہ دنیا میںانھیں جو کچھ امتحان کے طورپر ملا ہے اسی پر وہ مطمئن ہوجائیں۔ جو غیر خدائی چیزوں میںاتنا دل لگالیں کہ خدا کی طرف سے ظاہر کی جانے والی حقیقتوں سے غافل ہوجائیں۔ یہ سب خدا کے نزدیک جہنمی راستوں میں چلنا ہے، اور جو لوگ جہنمی راستوں میں چل رہے ہوں وہ آخر کار جہنم کے سوا اور کہاں پہنچیں گے۔ ’’اللہ انھیں ان کے ایمان کی وجہ سے جنت کی منزل تک پہنچائے گا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان آدمی کے لیے رہنمائی ہے۔ وہ آدمی کو غلط راہوں سے بچا کر صحیح راستہ پر چلاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو حقیقی منزل تک پہنچا دیتاہے۔ ایمان خدا کی دریافت ہے۔ جس آدمی کو ایمان حاصل ہوجائے اس کو علم کا سرا ہاتھ آجاتا ہے، وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ ہر معاملہ میں صحیح مقام سے اپنی سوچ کاآغاز کرسکے۔ وہ فکری بے راہ روی سے بچ کر فکری صحت کا مالک بن جائے۔ مزید یہ کہ خدا کو ماننا کسی کتابی فلسفہ کو ماننا نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ خدا کو ماننا ہے جو بالآخر تمام انسانوں کو اپنے یہاں جمع کرکے ان کا حساب لینے والا ہے۔ اس طرح ایمان آدمی کے اندر اپنے انجام کے بارے میں اندیشہ کی کیفیت پید کرکے اس کو انتہائی سنجیدہ انسان بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے کو مجبور پاتا ہے کہ اپنی تمام کارروائیوں کو صحیح اور غلط کی روشنی میں دیکھے اور صرف صحیح رخ پر چلے اور غلط رخ پر چلنے سے ہمیشہ پرہیز کرے۔ اس طرح ایمان آدمی کو صحیح فکر بھی دیتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ قوت تمیز بھی جو اس کے لیے مستقل عملی رہنما بن جائے۔ آخرت کی جنت ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے دنیا میں اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کیا ہو۔ آخرت خدا کے براہِ راست جلوؤں میں سرشار ہونے کا مقام ہے، وہاں بسنے کا موقع صرف ان لوگوں کو ملے گا جو دنیا میں خداکے بالواسطہ جلوؤں سے سرشار ہوئے تھے۔ آخرت میں لوگوں کے دل ایک دوسرے کے لیے سلامتی اور خیر خواہی کے جذبات سے بھرے ہوئے ہوں گے، اس لیے وہاں کی آبادی میںوہی لوگ جگہ پائیں گے جنھوں نے دنیا میں اس بات کا ثبوت دیا تھا کہ دوسروں کے لیے ان کے دل میں سلامتی اور خیر خواہی کے سوا کوئی دوسرا جذبہ نہیں۔

يونس 10:10

جہنم کس کے لیے ہے — ان لوگوں کے لیے جو اس دن کو بھولے ہوئے ہوں جب کہ خدا سے ان کا سامنا ہوگا۔ جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کی عارضی چیزوں پر راضی ہوگئے ہوں۔ جن کا یہ حال ہو کہ دنیا میںانھیں جو کچھ امتحان کے طورپر ملا ہے اسی پر وہ مطمئن ہوجائیں۔ جو غیر خدائی چیزوں میںاتنا دل لگالیں کہ خدا کی طرف سے ظاہر کی جانے والی حقیقتوں سے غافل ہوجائیں۔ یہ سب خدا کے نزدیک جہنمی راستوں میں چلنا ہے، اور جو لوگ جہنمی راستوں میں چل رہے ہوں وہ آخر کار جہنم کے سوا اور کہاں پہنچیں گے۔ ’’اللہ انھیں ان کے ایمان کی وجہ سے جنت کی منزل تک پہنچائے گا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان آدمی کے لیے رہنمائی ہے۔ وہ آدمی کو غلط راہوں سے بچا کر صحیح راستہ پر چلاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو حقیقی منزل تک پہنچا دیتاہے۔ ایمان خدا کی دریافت ہے۔ جس آدمی کو ایمان حاصل ہوجائے اس کو علم کا سرا ہاتھ آجاتا ہے، وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ ہر معاملہ میں صحیح مقام سے اپنی سوچ کاآغاز کرسکے۔ وہ فکری بے راہ روی سے بچ کر فکری صحت کا مالک بن جائے۔ مزید یہ کہ خدا کو ماننا کسی کتابی فلسفہ کو ماننا نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ خدا کو ماننا ہے جو بالآخر تمام انسانوں کو اپنے یہاں جمع کرکے ان کا حساب لینے والا ہے۔ اس طرح ایمان آدمی کے اندر اپنے انجام کے بارے میں اندیشہ کی کیفیت پید کرکے اس کو انتہائی سنجیدہ انسان بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے کو مجبور پاتا ہے کہ اپنی تمام کارروائیوں کو صحیح اور غلط کی روشنی میں دیکھے اور صرف صحیح رخ پر چلے اور غلط رخ پر چلنے سے ہمیشہ پرہیز کرے۔ اس طرح ایمان آدمی کو صحیح فکر بھی دیتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ قوت تمیز بھی جو اس کے لیے مستقل عملی رہنما بن جائے۔ آخرت کی جنت ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے دنیا میں اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کیا ہو۔ آخرت خدا کے براہِ راست جلوؤں میں سرشار ہونے کا مقام ہے، وہاں بسنے کا موقع صرف ان لوگوں کو ملے گا جو دنیا میں خداکے بالواسطہ جلوؤں سے سرشار ہوئے تھے۔ آخرت میں لوگوں کے دل ایک دوسرے کے لیے سلامتی اور خیر خواہی کے جذبات سے بھرے ہوئے ہوں گے، اس لیے وہاں کی آبادی میںوہی لوگ جگہ پائیں گے جنھوں نے دنیا میں اس بات کا ثبوت دیا تھا کہ دوسروں کے لیے ان کے دل میں سلامتی اور خیر خواہی کے سوا کوئی دوسرا جذبہ نہیں۔

يونس 10:11

گھوڑا ایک نہایت وفادار جانور ہے۔ وہ اپنے مالک کے لیے اپنے آپ کو آخری حد تک قربان کردیتا ہے، حتی کہ جنگ کے میدان میں بھی وہ اپنے مالک کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔ یہ گویا ایک علامتی مثال ہے جو انسان کو بتاتی ہے کہ اسے کیسا بننا چاہيے۔ انسان کو بھی اپنے رب کا اسی طرح وفادار بننا چاہيے جیسا کہ گھوڑا انسان کا وفادار ہوتا ہے۔ مگر عملاً ایسا نہیں۔ اس دنیا میں جانور اپنے مالک کا شکر گزار ہے مگر انسان اپنے رب کا شکر گزار نہیں یہاں جانور اپنے مالک کا حق پہچانتا ہے مگر انسان اپنے رب کا حق نہیں پہچانتا۔ یہاں جانور اپنے مالک کی اطاعت میں سرگرم ہے۔ مگر انسان اپنے رب کی اطاعت میں سرگرم نہیں۔ انسان اسی جانور کی قدر کرتا ہے جو اس کا وفادار ہو۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ وہ اس راز کو نہ جانے کہ خدا کے یہاں وہی انسان قابلِ قدر ٹھہرے گا جو خدا کی نظر میں اس کا وفادار ثابت ہو۔ مگر مال کی محبت اس کو اندھا بنا دیتی ہے۔ وہ ایک ایسی حقیقت کو جاننے سے محروم رہتا ہے جس کا وہ خود اپنے قریبی حالات میں تجربہ کرچکا تھا۔

يونس 10:12

خدا کا قانون یہ ہے کہ کوئی شخص قابل انعام عمل کرے تو اس کا عمل فوراً اس کے اعمال نامہ میں شامل کردیا جاتا ہے۔ لیکن اگرکوئی شخص قابل سزا فعل کا ارتکاب کرتاہے تو خدا اس کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ کسی نہ کسی موڑ پر متنبہ ہو کر اپنی اصلاح کرلے۔ خدا کا یہ قانون انسان کے لیے بہت بڑی رحمت ہے، ورنہ انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ ہر وقت برائی کرنے پر آمادہ رہتاہے، اور اگر لوگوں کو ان کی برائیوں پر فوراً پکڑا جانے لگے تو ان کی مہلتِ عمر بہت جلد ختم ہوجائے اور زمین کی پشت چلنے والے انسانوں سے خالی ہوجائے۔ دنیا کی زندگی میں سرکش وہ لوگ بنتے ہیں جو دنیا میں یہ سمجھ کر رہیں کہ مرنے کے بعد انھیں خدا کا سامنا نہیں کرنا ہوگا۔ جو پکڑ کے اندیشہ سے خالی ہو کر زندگی گزارتے ہیں،جو سمجھتے ہیں کہ وہ آزاد ہیں کہ جو دھاندلی چاہیں کریں اور جو فساد چاہیں پھیلائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان سچائی اور انصاف کے ساتھ معاملہ کرنے کا ایک ہی حقیقی محرک ہے، اور وہ یہ کہ آدمی یہ سمجھے کہ سب طاقت وروں کے اوپر ایک طاقت ور ہے۔ ہر آدمی اس کے آگے بے بس ہے۔ وہ ایک دن تمام انسانوں کو پکڑ ے گا اور ہر ایک مجبور ہوگا کہ اپنے بارے میں اس کے فیصلہ کو تسلیم کرے۔ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ آدمی بار بار کسی نہ کسی تکلیف یا حادثہ کی زد میں آجاتا ہے ، آدمی محسوس کرنے لگتاہے کہ خارجی طاقتوں کے مقابلہ میں وہ بالکل بے بس ہے۔اُس وقت آدمی بے اختیار ہو کر خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ وہ خدا کی قدرت کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اعتراف کرلیتا ہے۔ مگر یہ حالت صرف اس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ مصیبتوں کی گرفت میں ہو، مصیبت سے نجات پاتے ہی وہ دوبارہ ویسا ہی غافل اور سرکش بن جاتا ہے جیسا وہ پہلے تھا۔ ایسے لوگوں کے اظہار بندگی کو خدا تسلیم نہیں کرتا۔ کیوں کہ اظہار بندگی وہ مطلوب ہے جو آزادانہ حالات میں کی جائے، مجبورانہ حالات میں ظاہر کی ہوئی بندگی کی خدا کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ آدمی ایک توجیہہ پسند مخلوق ہے۔ وہ ہر عمل کا ایک جواز تلاش کرتا ہے۔ اگر آدمی سرکشی کو اپنے لیے پسند کرلے تو اس کا ذہن بھی اسی طرف مڑ جائے گا۔ وہ عملاً سرکشی کرے گا اور اس کا ذہن اس کی سرکشی کو درست ثابت کرنے کے لیے اس کو خوب صورت الفاظ فراہم کرتارہے گا۔ اسی کا نام تزئین اعمال ہے۔ آدمی اپنی غلطیوں کو خوش نما الفاظ میں بیان کرکے اپنے کو مطمئن کرلیتاہے کہ وہ حق پر ہے۔ مگر یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص آگ کا انگارہ اپنے ہاتھ میں لے لے اور سمجھے کہ وہ اس کو نہیں جلائے گا، کیوں کہ اس کا نام اس نے سرخ پھول رکھ دیا ہے۔

يونس 10:13

’’پیغمبر اپنی قوموں کے پاس بینات کے ساتھ آئے مگر انھوں نے نہ مانا‘‘۔ بینہ جمع بینات کے معنی دلیل کے ہیں، اس سے معلوم ہوتاہے کہ خدا کا داعی ہمیشہ بینات کی بنیاد پر اٹھتا ہے۔لوگوں کو اسے دلائل کی سطح پر پہچاننا پڑتاہے۔ جو لوگ ظاہری عظمتوں اور عوامی استقبالیوں میں خداکے داعی کو پانا چاہیں وہ کبھی اس کو نہیں پائیں گے، کیونکہ خدا کا داعی وہاں موجود نہیں ہوتا۔ نبی معجزہ دکھاتاہے۔ مگر معجزہ آخری مرحلہ میں اتمام حجت کے ليے آتاہے، دعوتی مرحلہ میں سارا کام دلائل کی بنیاد پر ہوتاہے۔ کسی شخص یا گروہ کا ظالم ہونا یہ ہے کہ وہ دلیل کے روپ میں ظاہر ہونے والی دعوت خداوندی کو نہ پہچانے اور اپنے خود ساختہ معیار پر نہ پانے کی وجہ سے اس کا انکار کردے۔ ایسے لوگ اپنی اس روش کی وجہ سے خدائی قانون کی زد میں آجاتے ہیں۔ ماضی کی جن قوموں پر انکار نبوت کے جرم میں خدا کا عذاب نازل ہوا وہ سرے سے نبوت کی منکر نہ تھیں۔یہ تمام قومیں کسی نہ کسی سابق پیغمبر کو مانتی تھیں۔ البتہ انھوں نے وقت کے پیغمبر کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔ پچھلے پیغمبر کا معاملہ یہ تھا کہ اس کی پشت پر تاریخ کی تصدیقات قائم ہوگئی تھیں اور قومی عصبیتیں اس کے ساتھ وابستہ ہوچکی تھیں۔ جب کہ معاصر پیغمبر ابھی اس قسم کی اضافی خصوصیات سے خالی تھا۔ انھوں نے اس گزرے ہوئے پیغمبر کا اقرار کیا جو نسلوں کی روایات کے نتیجہ میں ان کا قومی پیغمبر بن چکا تھا، جس کے ساتھ اپنے کو منسوب کرنا تاریخی عظمت کے مینار سے اپنے کو منسوب کرنے کے ہم معنی تھا۔ انھوںنے اپنے قومی پیغمبر کو پیغمبر مانا مگر اس پیغمبر کا انکار کردیا جس کو صرف دلیل اور برہان کے ذریعہ جانا جاسکتا تھا۔ یہ جرم خدا کی نظر میں اتنا شدید تھا کہ وہ لوگ نبی کے منکر قرار دے کر ہلاک کرديے گئے۔ ’’پھر ہم نے اس کے بعد تم کو ملک میں خلیفہ بنایا‘‘۔ خلیفہ کے اصل معنی ہیں بعد کو آنے والا۔ یہ لفظ جانشین، خاص طورپر، اقتدار میں جانشین کے لیے بولا جاتاہے۔ یہ جانشینی انسان کی ہوتی ہے، نہ کہ خدا کی۔ کوئی انسان اقتدار میں خدا کا جانشین نہیں ہوسکتا۔انسان ہمیشہ کسی مخلوق کا جانشین ہوتاہے۔ قرآن میں جہاں بھی خلافت کا لفظ آیا ہے وہ مخلوق کی جانشینی کے لیے ہے، نہ کہ خدا کی جانشینی کے لیے۔ کسی کو خلیفہ (جانشین) بنانا اعزاز کے لیے نہیں بلکہ صرف امتحان کے لیے ہوتاہے۔ جانشین بنانے کا مطلب ایک کے بعد دوسرے کو کام کا موقع دینا ہے، ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو امتحان کے میدان میں کھڑا کرنا ہے۔ جیسے ہندستان میں دیسی راجاؤں کی جگہ مغلوں کو اختیا ردیا گیا۔ پھر ان کو ہٹا کر انگریز ان کے جانشین بنائے گئے۔ اس کے بعد انھیں ملک سے نکال کر اکثریتی فرقہ کے لیے جگہ خالی کی گئی۔ ان میں سے ہر بعد کو آنے والا اپنے پہلے کا خلیفہ تھا۔

يونس 10:14

’’پیغمبر اپنی قوموں کے پاس بینات کے ساتھ آئے مگر انھوں نے نہ مانا‘‘۔ بینہ جمع بینات کے معنی دلیل کے ہیں، اس سے معلوم ہوتاہے کہ خدا کا داعی ہمیشہ بینات کی بنیاد پر اٹھتا ہے۔لوگوں کو اسے دلائل کی سطح پر پہچاننا پڑتاہے۔ جو لوگ ظاہری عظمتوں اور عوامی استقبالیوں میں خداکے داعی کو پانا چاہیں وہ کبھی اس کو نہیں پائیں گے، کیونکہ خدا کا داعی وہاں موجود نہیں ہوتا۔ نبی معجزہ دکھاتاہے۔ مگر معجزہ آخری مرحلہ میں اتمام حجت کے ليے آتاہے، دعوتی مرحلہ میں سارا کام دلائل کی بنیاد پر ہوتاہے۔ کسی شخص یا گروہ کا ظالم ہونا یہ ہے کہ وہ دلیل کے روپ میں ظاہر ہونے والی دعوت خداوندی کو نہ پہچانے اور اپنے خود ساختہ معیار پر نہ پانے کی وجہ سے اس کا انکار کردے۔ ایسے لوگ اپنی اس روش کی وجہ سے خدائی قانون کی زد میں آجاتے ہیں۔ ماضی کی جن قوموں پر انکار نبوت کے جرم میں خدا کا عذاب نازل ہوا وہ سرے سے نبوت کی منکر نہ تھیں۔یہ تمام قومیں کسی نہ کسی سابق پیغمبر کو مانتی تھیں۔ البتہ انھوں نے وقت کے پیغمبر کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔ پچھلے پیغمبر کا معاملہ یہ تھا کہ اس کی پشت پر تاریخ کی تصدیقات قائم ہوگئی تھیں اور قومی عصبیتیں اس کے ساتھ وابستہ ہوچکی تھیں۔ جب کہ معاصر پیغمبر ابھی اس قسم کی اضافی خصوصیات سے خالی تھا۔ انھوں نے اس گزرے ہوئے پیغمبر کا اقرار کیا جو نسلوں کی روایات کے نتیجہ میں ان کا قومی پیغمبر بن چکا تھا، جس کے ساتھ اپنے کو منسوب کرنا تاریخی عظمت کے مینار سے اپنے کو منسوب کرنے کے ہم معنی تھا۔ انھوںنے اپنے قومی پیغمبر کو پیغمبر مانا مگر اس پیغمبر کا انکار کردیا جس کو صرف دلیل اور برہان کے ذریعہ جانا جاسکتا تھا۔ یہ جرم خدا کی نظر میں اتنا شدید تھا کہ وہ لوگ نبی کے منکر قرار دے کر ہلاک کرديے گئے۔ ’’پھر ہم نے اس کے بعد تم کو ملک میں خلیفہ بنایا‘‘۔ خلیفہ کے اصل معنی ہیں بعد کو آنے والا۔ یہ لفظ جانشین، خاص طورپر، اقتدار میں جانشین کے لیے بولا جاتاہے۔ یہ جانشینی انسان کی ہوتی ہے، نہ کہ خدا کی۔ کوئی انسان اقتدار میں خدا کا جانشین نہیں ہوسکتا۔انسان ہمیشہ کسی مخلوق کا جانشین ہوتاہے۔ قرآن میں جہاں بھی خلافت کا لفظ آیا ہے وہ مخلوق کی جانشینی کے لیے ہے، نہ کہ خدا کی جانشینی کے لیے۔ کسی کو خلیفہ (جانشین) بنانا اعزاز کے لیے نہیں بلکہ صرف امتحان کے لیے ہوتاہے۔ جانشین بنانے کا مطلب ایک کے بعد دوسرے کو کام کا موقع دینا ہے، ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو امتحان کے میدان میں کھڑا کرنا ہے۔ جیسے ہندستان میں دیسی راجاؤں کی جگہ مغلوں کو اختیا ردیا گیا۔ پھر ان کو ہٹا کر انگریز ان کے جانشین بنائے گئے۔ اس کے بعد انھیں ملک سے نکال کر اکثریتی فرقہ کے لیے جگہ خالی کی گئی۔ ان میں سے ہر بعد کو آنے والا اپنے پہلے کا خلیفہ تھا۔

يونس 10:15

مکہ کے قریش خدااور رسول کو مانتے تھے۔ وہ اپنے کو ملّت ابراہیمی کا پیرو کہتے تھے۔ حتی کہ اسلام کی بہت سی دینی اصطلاحیں مثلاً صلاۃ، صوم، زکوٰۃ، حج وغیرہ وہی ہیں جو پہلے سے ان کے یہاں رائج تھیں۔ اس کے باوجود کیوں انھوں نے کہا کہ دوسرا قرآن لاؤ یا اس قرآن میں کچھ ترمیم کردو تب ہم اس کو مانیں گے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآن میں خدا کے خالص دین کا اعلان تھا۔ جب کہ قریش خدا کے دین کے نام پر ایک ملاوٹی دین کو اختیار كيے ہوئے تھے۔ قرآن کی توحید سے ان کے مشرکانہ عقیدۂ خدا پر زد پڑتی تھی۔ قرآن کے تصور عبادت کی روشنی میں ان کی عبادتیں محض کھیل تماشا معلوم ہوتی تھیں۔ وہ پیغمبر کو اپنے قومی فخر کا نشان بنائے ہوئے تھے اور قرآن اُن سے ایک ایسے پیغمبر کو ماننے کا مطالبہ کررہا تھا جو ان کی عملی زندگی میں رہنما کا درجہ حاصل کرلے۔ انھوں نے کعبہ کی خدمت کو اپنی دین داری کا سب سے بڑا ثبوت سمجھ رکھا تھا جب کہ قرآن نے بتایا کہ دین داری یہ ہے کہ آدمی خدا سے ڈرے اور جو کچھ کرے آخرت کو سامنے رکھ کر کرے۔ آدمی چند الفاظ بول کر حق کو نظر انداز کردیتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے دل میں ’’کھٹکا‘‘ نہیں ہوتا۔ اگر آدمی کے دل میں یہ کھٹکا لگاہوا ہو کہ وہ اپنے قول وفعل کے لیے خدا کے یہاں جواب دہ ہے تو وہ فوراً سنجیدہ ہوجائے گا۔ اور جو شخص سنجیدہ ہو وہ معاملہ کو حقیقت پسندی کی نظر سے دیکھے گا، وہ سرسری طورپر اس کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔

يونس 10:16

مکہ کے قریش خدااور رسول کو مانتے تھے۔ وہ اپنے کو ملّت ابراہیمی کا پیرو کہتے تھے۔ حتی کہ اسلام کی بہت سی دینی اصطلاحیں مثلاً صلاۃ، صوم، زکوٰۃ، حج وغیرہ وہی ہیں جو پہلے سے ان کے یہاں رائج تھیں۔ اس کے باوجود کیوں انھوں نے کہا کہ دوسرا قرآن لاؤ یا اس قرآن میں کچھ ترمیم کردو تب ہم اس کو مانیں گے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآن میں خدا کے خالص دین کا اعلان تھا۔ جب کہ قریش خدا کے دین کے نام پر ایک ملاوٹی دین کو اختیار كيے ہوئے تھے۔ قرآن کی توحید سے ان کے مشرکانہ عقیدۂ خدا پر زد پڑتی تھی۔ قرآن کے تصور عبادت کی روشنی میں ان کی عبادتیں محض کھیل تماشا معلوم ہوتی تھیں۔ وہ پیغمبر کو اپنے قومی فخر کا نشان بنائے ہوئے تھے اور قرآن اُن سے ایک ایسے پیغمبر کو ماننے کا مطالبہ کررہا تھا جو ان کی عملی زندگی میں رہنما کا درجہ حاصل کرلے۔ انھوں نے کعبہ کی خدمت کو اپنی دین داری کا سب سے بڑا ثبوت سمجھ رکھا تھا جب کہ قرآن نے بتایا کہ دین داری یہ ہے کہ آدمی خدا سے ڈرے اور جو کچھ کرے آخرت کو سامنے رکھ کر کرے۔ آدمی چند الفاظ بول کر حق کو نظر انداز کردیتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے دل میں ’’کھٹکا‘‘ نہیں ہوتا۔ اگر آدمی کے دل میں یہ کھٹکا لگاہوا ہو کہ وہ اپنے قول وفعل کے لیے خدا کے یہاں جواب دہ ہے تو وہ فوراً سنجیدہ ہوجائے گا۔ اور جو شخص سنجیدہ ہو وہ معاملہ کو حقیقت پسندی کی نظر سے دیکھے گا، وہ سرسری طورپر اس کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔

يونس 10:17

مکہ کے قریش خدااور رسول کو مانتے تھے۔ وہ اپنے کو ملّت ابراہیمی کا پیرو کہتے تھے۔ حتی کہ اسلام کی بہت سی دینی اصطلاحیں مثلاً صلاۃ، صوم، زکوٰۃ، حج وغیرہ وہی ہیں جو پہلے سے ان کے یہاں رائج تھیں۔ اس کے باوجود کیوں انھوں نے کہا کہ دوسرا قرآن لاؤ یا اس قرآن میں کچھ ترمیم کردو تب ہم اس کو مانیں گے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآن میں خدا کے خالص دین کا اعلان تھا۔ جب کہ قریش خدا کے دین کے نام پر ایک ملاوٹی دین کو اختیار كيے ہوئے تھے۔ قرآن کی توحید سے ان کے مشرکانہ عقیدۂ خدا پر زد پڑتی تھی۔ قرآن کے تصور عبادت کی روشنی میں ان کی عبادتیں محض کھیل تماشا معلوم ہوتی تھیں۔ وہ پیغمبر کو اپنے قومی فخر کا نشان بنائے ہوئے تھے اور قرآن اُن سے ایک ایسے پیغمبر کو ماننے کا مطالبہ کررہا تھا جو ان کی عملی زندگی میں رہنما کا درجہ حاصل کرلے۔ انھوں نے کعبہ کی خدمت کو اپنی دین داری کا سب سے بڑا ثبوت سمجھ رکھا تھا جب کہ قرآن نے بتایا کہ دین داری یہ ہے کہ آدمی خدا سے ڈرے اور جو کچھ کرے آخرت کو سامنے رکھ کر کرے۔ آدمی چند الفاظ بول کر حق کو نظر انداز کردیتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے دل میں ’’کھٹکا‘‘ نہیں ہوتا۔ اگر آدمی کے دل میں یہ کھٹکا لگاہوا ہو کہ وہ اپنے قول وفعل کے لیے خدا کے یہاں جواب دہ ہے تو وہ فوراً سنجیدہ ہوجائے گا۔ اور جو شخص سنجیدہ ہو وہ معاملہ کو حقیقت پسندی کی نظر سے دیکھے گا، وہ سرسری طورپر اس کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔

يونس 10:18

ہماری دنیا میں جو واقعات ہو رہے ہیں وہ بظاہر مادی اسباب کے تحت ہورہے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تمام واقعات کے پیچھے خدا کا تصرف کام کررہا ہے۔ اس دنیا میں کسی کوکو ئی ذاتی اختیار حاصل ہی نہیں۔ توحید یہ ہے کہ آدمی ظاہری چیزوں سے گزر کر غیب میں چھپے ہوئے خدا کو پالے۔ اس کے مقابلے میں شرک یہ ہے کہ آدمی ظاہری چیزوں میں اٹک کر رہ جائے۔ وہ چیزوں ہی کو چیزوں کے خالق کا مقام دے دے۔ اس دنیا میں خدا کے سوا کسی کے پاس نفع دینے یا نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں۔ جو آدمی اس حقیقت کو پالیتا ہے اس کی تمام توجہ خدا کی طرف لگ جاتی ہے۔ وہ خدا ہی کی پرستش کرتا ہے۔ وہ اسی سے ڈرتا ہے اور اسی سے امیدیں قائم کرتا ہے۔ وہ اپنا سب کچھ ایک خدا کو بنالیتا ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ چیزوں میں اٹکے ہوئے ہوں وہ اپنے اپنے ذوق کے لحاظ سے کسی غیر خدا کو اپنا خدا بنالیتے ہیں اور ان غیر خداؤں سے وہی امیدیں اور اندیشے وابستہ کرلیتے ہیں جو درحقیقت خدائے واحد کے ساتھ وابستہ کرنا چاہیے۔ اسی کی ایک صورت شفاعت کا عقیدہ ہے۔ لوگ یہ فرض کرلیتے ہیں کہ انسانوں یا غیر انسانوں میں کچھ ایسی برتر ہستیاں ہیں جو خدا کی نظر میں مقدس ہیں۔ خدا ان کی سنتاہے اور ان کی سفارش پر دنیوی رزق یا اخروی نجات کے فیصلے کرتاہے۔ مگر اس قسم کا عقیدہ باطل ہے۔ وہ خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ ہے۔ خدا اس قسم کے ہر شرک سے پاک ہے۔ خداپنی صفات کا جو تعارف اپنی عظیم کائنات میں کرارہا ہے اس کے لحاظ سے اس قسم کے تمام عقائد بالکل بے جوڑ ہیں۔ ایسے کسی عقیدہ کا مطلب یہ ہے کہ خدا وہ نہیں ہے، جو بظاہر اپنی تخلیقی صفات کے آئینہ میں نظر آرہاہے یا پھر خدا کی صفتوں میں تضاد ہے۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی چیزممکن نہیں۔ خدا نے انسانیت کا آغاز دین فطرت سے کیا تھا۔ اس وقت تمام انسانوں کا ایک ہی دین تھا۔ اس کے بعد لوگوں نے فرق کرکے دین کے مختلف روپ بناليے۔ اس کی وجہ اس آزادی کا غلط استعمال ہے جو لوگوں کو امتحان کی غرض سے دی گئی ہے۔ اگر خدا ظاہر ہوجائے تو اس کی طاقتوں کو دیکھ کر لوگوں کی سرکشی ختم ہوجائے اور اچانک اختلاف کی جگہ اتحاد پیدا ہوجائے۔ کیوں کہ شدت خوف رایوں کے تعدد کو ختم کردیتاہے۔مگر خدا قیامت سے پہلے اس صورت حال میں مداخلت نہیں کرے گا۔ موجودہ دنیا کو خدا نے امتحان کے لیے بنایا ہے اور امتحان کی فضا باقی رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ حقیقت چھپی رہے اور لوگوں کو موقع ہو کہ وہ اپنی عقل کو صحیح رخ پر بھی استعمال کرسکیں اور غلط رخ پر بھی۔

يونس 10:19

ہماری دنیا میں جو واقعات ہو رہے ہیں وہ بظاہر مادی اسباب کے تحت ہورہے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تمام واقعات کے پیچھے خدا کا تصرف کام کررہا ہے۔ اس دنیا میں کسی کوکو ئی ذاتی اختیار حاصل ہی نہیں۔ توحید یہ ہے کہ آدمی ظاہری چیزوں سے گزر کر غیب میں چھپے ہوئے خدا کو پالے۔ اس کے مقابلے میں شرک یہ ہے کہ آدمی ظاہری چیزوں میں اٹک کر رہ جائے۔ وہ چیزوں ہی کو چیزوں کے خالق کا مقام دے دے۔ اس دنیا میں خدا کے سوا کسی کے پاس نفع دینے یا نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں۔ جو آدمی اس حقیقت کو پالیتا ہے اس کی تمام توجہ خدا کی طرف لگ جاتی ہے۔ وہ خدا ہی کی پرستش کرتا ہے۔ وہ اسی سے ڈرتا ہے اور اسی سے امیدیں قائم کرتا ہے۔ وہ اپنا سب کچھ ایک خدا کو بنالیتا ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ چیزوں میں اٹکے ہوئے ہوں وہ اپنے اپنے ذوق کے لحاظ سے کسی غیر خدا کو اپنا خدا بنالیتے ہیں اور ان غیر خداؤں سے وہی امیدیں اور اندیشے وابستہ کرلیتے ہیں جو درحقیقت خدائے واحد کے ساتھ وابستہ کرنا چاہیے۔ اسی کی ایک صورت شفاعت کا عقیدہ ہے۔ لوگ یہ فرض کرلیتے ہیں کہ انسانوں یا غیر انسانوں میں کچھ ایسی برتر ہستیاں ہیں جو خدا کی نظر میں مقدس ہیں۔ خدا ان کی سنتاہے اور ان کی سفارش پر دنیوی رزق یا اخروی نجات کے فیصلے کرتاہے۔ مگر اس قسم کا عقیدہ باطل ہے۔ وہ خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ ہے۔ خدا اس قسم کے ہر شرک سے پاک ہے۔ خداپنی صفات کا جو تعارف اپنی عظیم کائنات میں کرارہا ہے اس کے لحاظ سے اس قسم کے تمام عقائد بالکل بے جوڑ ہیں۔ ایسے کسی عقیدہ کا مطلب یہ ہے کہ خدا وہ نہیں ہے، جو بظاہر اپنی تخلیقی صفات کے آئینہ میں نظر آرہاہے یا پھر خدا کی صفتوں میں تضاد ہے۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی چیزممکن نہیں۔ خدا نے انسانیت کا آغاز دین فطرت سے کیا تھا۔ اس وقت تمام انسانوں کا ایک ہی دین تھا۔ اس کے بعد لوگوں نے فرق کرکے دین کے مختلف روپ بناليے۔ اس کی وجہ اس آزادی کا غلط استعمال ہے جو لوگوں کو امتحان کی غرض سے دی گئی ہے۔ اگر خدا ظاہر ہوجائے تو اس کی طاقتوں کو دیکھ کر لوگوں کی سرکشی ختم ہوجائے اور اچانک اختلاف کی جگہ اتحاد پیدا ہوجائے۔ کیوں کہ شدت خوف رایوں کے تعدد کو ختم کردیتاہے۔مگر خدا قیامت سے پہلے اس صورت حال میں مداخلت نہیں کرے گا۔ موجودہ دنیا کو خدا نے امتحان کے لیے بنایا ہے اور امتحان کی فضا باقی رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ حقیقت چھپی رہے اور لوگوں کو موقع ہو کہ وہ اپنی عقل کو صحیح رخ پر بھی استعمال کرسکیں اور غلط رخ پر بھی۔

يونس 10:20

مکہ کے لوگ جب مسلسل انکار کی روش پر قائم رہے تو خدا نے ان پر قحط بھیجا جو سات سال مسلسل رہا اور بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بعد ختم ہوا۔ یہ ایک نشانی تھی جس سے انھیں یہ سبق لینا چاہیے تھا کہ رسول کا انکار کرنے کے بعد وہ خدائی پکڑ کی زد میں آجائیں گے۔ مگر ان کا حال یہ ہوا کہ جب تک قحط رہا الحاح وزاری کرتے رہے اور جب قحط رخصت ہوا تو کہنے لگے کہ یہ تو زمانہ کی گردشیں ہیں جو ہرایک کے ساتھ پیش آتی ہیں۔ اس کارسول کو ماننے یا نہ ماننے سے کوئی تعلق نہیں۔ پیغمبر سے لوگ نشانی مانگتے ہیں ۔ مگر اصل سوال نشانی کے ظہور کا نہیں بلکہ اس سے سبق لینے کا ہے۔ کیوں کہ نشانی صرف دیکھنے کے لیے ہوتی ہے وہ مجبور کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ نشانی ظاہر ہونے کے بعد بھی یہ آدمی کے اپنے اختیار میں ہوتاہے کہ وہ اس کو مانے یا کوئی جھوٹی توجیہہ نکال کر اسے رد کردے۔ تاہم جب خدا کی آخری نشانی ظاہر ہوتی ہے تو اس کے مقابلہ میں انسان کو کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ یہ آخری نشانی اتمام حجت کے بعد خدا کی عدالت بن کر آتی ہے اور وہ مختلف پیغمبر وںکے لیے مختلف صورتوں میں آتی ہے۔ پیغمبر آخرالزماں کے لیے مختلف مصلحتوں کی بنا پر یہ نشانی اس صورت میں ظاہر ہوئی کہ منکرین کو مغلوب کرکے مومنین کو ان کے اوپر غالب کردیاگیا۔ شاہ عبد القادر صاحب اس سلسلہ میں موضح القرآن میں لکھتے ہیں ’’یعنی اگر کہیں کہ ہم کیسے جانیں کہ تمھاری بات سچ ہے۔ فرمایا کہ آگے حق تعالی اس دین کو روشن کرے گا اور مخالف ذلیل اور برباد ہوجائیں گے۔ سو ویسا ہی ہوا۔ سچ کی نشانی ایک بار کافی ہے۔ اور ہر بار مخالف ذلیل ہوںتو فیصلہ ہوجائے۔ حالاں کہ فیصلہ کا دن دنیا میں نہیں‘‘۔ آدمی جب سرکشی کرتاہے اور اس کی وجہ سے اس کا کچھ بگڑتاہوا نظر نہیں آتا تو وہ اور بھی زیادہ ڈھیٹ ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کی پکڑ سے باہر ہے۔ حالانکہ یہ عین خدا کی تدبیر ہوتی ہے۔ خدا سرکش آدمی کو ڈھیل دیتاہے تاکہ وہ بے فکر ہو کر خوب سرکشی کرے۔ اور اس سرکشی کے دوران خدا کے کارندے پردہ میں رہ کر خاموشی کے ساتھ اس کے تمام اقوال وافعال کو لکھتے رهتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب اس کا وقت پورا ہوجاتا ہے تو اچانک موت کا فرشتہ ظاہر ہو کر اس کو پکڑ لیتاہے تاکہ اس کو اس کے اعمال کا حساب دینے کے ليے خدا کے سامنے حاضر کردے۔

يونس 10:21

مکہ کے لوگ جب مسلسل انکار کی روش پر قائم رہے تو خدا نے ان پر قحط بھیجا جو سات سال مسلسل رہا اور بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بعد ختم ہوا۔ یہ ایک نشانی تھی جس سے انھیں یہ سبق لینا چاہیے تھا کہ رسول کا انکار کرنے کے بعد وہ خدائی پکڑ کی زد میں آجائیں گے۔ مگر ان کا حال یہ ہوا کہ جب تک قحط رہا الحاح وزاری کرتے رہے اور جب قحط رخصت ہوا تو کہنے لگے کہ یہ تو زمانہ کی گردشیں ہیں جو ہرایک کے ساتھ پیش آتی ہیں۔ اس کارسول کو ماننے یا نہ ماننے سے کوئی تعلق نہیں۔ پیغمبر سے لوگ نشانی مانگتے ہیں ۔ مگر اصل سوال نشانی کے ظہور کا نہیں بلکہ اس سے سبق لینے کا ہے۔ کیوں کہ نشانی صرف دیکھنے کے لیے ہوتی ہے وہ مجبور کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ نشانی ظاہر ہونے کے بعد بھی یہ آدمی کے اپنے اختیار میں ہوتاہے کہ وہ اس کو مانے یا کوئی جھوٹی توجیہہ نکال کر اسے رد کردے۔ تاہم جب خدا کی آخری نشانی ظاہر ہوتی ہے تو اس کے مقابلہ میں انسان کو کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ یہ آخری نشانی اتمام حجت کے بعد خدا کی عدالت بن کر آتی ہے اور وہ مختلف پیغمبر وںکے لیے مختلف صورتوں میں آتی ہے۔ پیغمبر آخرالزماں کے لیے مختلف مصلحتوں کی بنا پر یہ نشانی اس صورت میں ظاہر ہوئی کہ منکرین کو مغلوب کرکے مومنین کو ان کے اوپر غالب کردیاگیا۔ شاہ عبد القادر صاحب اس سلسلہ میں موضح القرآن میں لکھتے ہیں ’’یعنی اگر کہیں کہ ہم کیسے جانیں کہ تمھاری بات سچ ہے۔ فرمایا کہ آگے حق تعالی اس دین کو روشن کرے گا اور مخالف ذلیل اور برباد ہوجائیں گے۔ سو ویسا ہی ہوا۔ سچ کی نشانی ایک بار کافی ہے۔ اور ہر بار مخالف ذلیل ہوںتو فیصلہ ہوجائے۔ حالاں کہ فیصلہ کا دن دنیا میں نہیں‘‘۔ آدمی جب سرکشی کرتاہے اور اس کی وجہ سے اس کا کچھ بگڑتاہوا نظر نہیں آتا تو وہ اور بھی زیادہ ڈھیٹ ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کی پکڑ سے باہر ہے۔ حالانکہ یہ عین خدا کی تدبیر ہوتی ہے۔ خدا سرکش آدمی کو ڈھیل دیتاہے تاکہ وہ بے فکر ہو کر خوب سرکشی کرے۔ اور اس سرکشی کے دوران خدا کے کارندے پردہ میں رہ کر خاموشی کے ساتھ اس کے تمام اقوال وافعال کو لکھتے رهتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب اس کا وقت پورا ہوجاتا ہے تو اچانک موت کا فرشتہ ظاہر ہو کر اس کو پکڑ لیتاہے تاکہ اس کو اس کے اعمال کا حساب دینے کے ليے خدا کے سامنے حاضر کردے۔

يونس 10:22

انسان ایک بے حد حساس وجود ہے۔ وہ تکلیف کو برداشت نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان پر جب تکلیف کا کوئی لمحہ آتا ہے تو وہ فوراً سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ اس وقت اس کے ذہن سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ فکر کے لمحات میں آدمی اس حقیقت کا اعتراف کرلیتاہے جس کا اعتراف کرنے کے لیے وہ بے فکری کے لمحات میں تیار نہ ہوتا تھا۔ اس کی ایک مثال سمندر کا سفر ہے۔ سمندر میں سکون ہو اور کشتی منزل کی طرف رواں ہو تو اس کے مسافروں کے لیے یہ بڑا خوش گوار لمحہ ہوتاہے۔ اس وقت ان کے اندر ایک جھوٹا اعتماد پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان کا معاملہ درست ہے، اب اس کو کوئی بگاڑنے والا نہیں۔ اس کے بعد سمندری ہوائیں ا ٹھتی ہیں۔ پہاڑ جیسی موجیں مسافروں کو چاروں طرف سے گھیر لیتی ہیں۔ ان کے درمیان بڑے سے بڑا جہاز بھی معمولی تنکے کی طرح ہچکولے کھانے لگتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ اب ہلاکت کے سوا دوسرا کوئی انجام نہیں۔ اس وقت خدا کے منکرخدا کا اقرار کرلیتے ہیں۔ دیوتاؤں کو پوجنے والے خدائے واحد کو پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ اپنی قوت اور اپنی تدبیر پر بھروسہ کرنے والے ہر دوسری چیز کو چھوڑ کر صرف خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ یہ ایک تجرباتی ثبوت ہے کہ توحید ایک فطری عقیدہ ہے۔ توحید کے سوا دوسرے تمام عقیدے بالکل بے بنیاد ہیں۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ خدا کو نہ ماننے کے لیے آدمی خواہ کتنا ہی فلسفہ پیش کرے، حقیقۃً اس قسم کی تمام باتیں بے فکری کی نظریہ سازی ہیں۔ انسان اگر جانے کہ دنیا کے مواقع محض وقتی طورپر اس کو امتحان کے لیے ديے گئےہیں تو وہ فوراً سنجیدہ ہوجائے۔ اس کے ذہن سے تمام مصنوعی دیواریں گر جائیں اور ایک خدا کو ماننے کے سوا اس کے لیے کوئی چارہ نہ رہے۔ وہ وقت آنے والا ہے جب انسان خدا کے جلال کو دیکھ کر کانپ اٹھے اور تمام خدائی باتوں کا اقرار کرنے پر مجبور ہوجائے۔ مگر عقل مند وہ ہے جو موجودہ زندگی کے تجربات میںآنے والی زندگی کی حقیقتوں کو دیکھ لے اور آج ہی اس بات کو مان لے جس کو وہ کل ماننے پر مجبور ہوگا۔ مگر کل کا ماننا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔

يونس 10:23

انسان ایک بے حد حساس وجود ہے۔ وہ تکلیف کو برداشت نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان پر جب تکلیف کا کوئی لمحہ آتا ہے تو وہ فوراً سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ اس وقت اس کے ذہن سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ فکر کے لمحات میں آدمی اس حقیقت کا اعتراف کرلیتاہے جس کا اعتراف کرنے کے لیے وہ بے فکری کے لمحات میں تیار نہ ہوتا تھا۔ اس کی ایک مثال سمندر کا سفر ہے۔ سمندر میں سکون ہو اور کشتی منزل کی طرف رواں ہو تو اس کے مسافروں کے لیے یہ بڑا خوش گوار لمحہ ہوتاہے۔ اس وقت ان کے اندر ایک جھوٹا اعتماد پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان کا معاملہ درست ہے، اب اس کو کوئی بگاڑنے والا نہیں۔ اس کے بعد سمندری ہوائیں ا ٹھتی ہیں۔ پہاڑ جیسی موجیں مسافروں کو چاروں طرف سے گھیر لیتی ہیں۔ ان کے درمیان بڑے سے بڑا جہاز بھی معمولی تنکے کی طرح ہچکولے کھانے لگتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ اب ہلاکت کے سوا دوسرا کوئی انجام نہیں۔ اس وقت خدا کے منکرخدا کا اقرار کرلیتے ہیں۔ دیوتاؤں کو پوجنے والے خدائے واحد کو پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ اپنی قوت اور اپنی تدبیر پر بھروسہ کرنے والے ہر دوسری چیز کو چھوڑ کر صرف خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ یہ ایک تجرباتی ثبوت ہے کہ توحید ایک فطری عقیدہ ہے۔ توحید کے سوا دوسرے تمام عقیدے بالکل بے بنیاد ہیں۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ خدا کو نہ ماننے کے لیے آدمی خواہ کتنا ہی فلسفہ پیش کرے، حقیقۃً اس قسم کی تمام باتیں بے فکری کی نظریہ سازی ہیں۔ انسان اگر جانے کہ دنیا کے مواقع محض وقتی طورپر اس کو امتحان کے لیے ديے گئےہیں تو وہ فوراً سنجیدہ ہوجائے۔ اس کے ذہن سے تمام مصنوعی دیواریں گر جائیں اور ایک خدا کو ماننے کے سوا اس کے لیے کوئی چارہ نہ رہے۔ وہ وقت آنے والا ہے جب انسان خدا کے جلال کو دیکھ کر کانپ اٹھے اور تمام خدائی باتوں کا اقرار کرنے پر مجبور ہوجائے۔ مگر عقل مند وہ ہے جو موجودہ زندگی کے تجربات میںآنے والی زندگی کی حقیقتوں کو دیکھ لے اور آج ہی اس بات کو مان لے جس کو وہ کل ماننے پر مجبور ہوگا۔ مگر کل کا ماننا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔

يونس 10:24

دنیا کی زندگی امتحان کے لیے ہے۔ اس لیے انسان کو یہاں مکمل آزادی اور ہر قسم کے کھلے مواقع ديے گئے ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان آزاد ہے کہ جو چاہے کرے اور جس قسم کا مستقبل چاہے اپنے ليے بنائے۔ مگر انھیں حالات کے درمیان ایسے واقعات بھی رکھ ديے گئے ہیں جو سوچنے والوں کے ليے نصیحت کا کام کرتے ہیں، جو اس حقیقت کی نشاندہی کررہے ہیں کہ یہ سب کچھ محض وقتی ہے اور بہت جلد اس سے چھن جانے والا ہے۔ انھیں میں سے ایک زمین کی سرسبزی کا واقعہ ہے۔ جب بارش ہوتی ہے تو زمین ہر قسم کی نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے۔ آدمی ان کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ معاملہ پوری طرح اس کے قابو میں ہے اور بہت جلد وہ تیار فصل کا مالک بننے والا ہے۔ عین اس وقت اچانک کوئی آفت آجاتی ہے۔ مثلاً بگولا آگیا، اولے پڑ گئے، ٹڈی دل پہنچ گیا اور ایک لمحہ میں ساری فصل کا خاتمہ کردیا۔ یہی حال انسانی زندگی کا ہے۔ آدمی ایک عمدہ جسم لے کر پیدا ہوتا ہے۔ دنیا کے اسباب اس کا ساتھ دیتے ہیں اور وہ اپنے لیے ایک کامیاب اور شان دار زندگی بنا لیتاہے۔ اب اس کے اندر ایک اعتماد پیدا ہوجاتاہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا معاملہ اس کے اپنے اختیا رمیں ہے۔ اس کے بعد کسی دن یا کسی رات میں اچانک اس کی موت آجاتی ہے۔ اپنے آپ کو بااختیار سمجھنے والا یکایک اپنے کو اس حال میں پاتا ہے کہ مجبوری اور بے اختیاری کے سوا اس کے پاس اور کوئی سرمایا نہیں — آدمی اگر اس حقیقت کو سامنے رکھے تو وہ دنیا میں کبھی سرکش نہ بنے، وہ کبھی کسی کے ساتھ ظلم اور بے انصافی کا طریقہ اختیار نہ کرے۔

يونس 10:25

دنیا کے ظاہری حالات سے آدمی دھوکا کھاجاتاہے۔ وہ وقتی چیز کو مستقل چیز سمجھ لیتا ہے۔ اس کا خیال یہ ہوجاتا ہے کہ خوشیوں اور راحتوں کی زندگی جو وہ چاہتا ہے وہ اس کو اسی موجودہ دنیا میں حاصل ہوسکتی ہے۔ مگر انسانی آرزوؤں کی دنیا دراصل آخرت میں بننے والی ہے اوراس کو وہی شخص پائے گا جو خداکے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ دنیا میں آدمی بالفرض سب کچھ حاصل کرلے تب بھی وہ اس پر قادر نہیں کہ اپنی زندگی کو دکھ اور غم سے پاک کرسکے۔ یہاں ہر خوشی کے ساتھ کوئی اندیشہ لگا ہوا ہے۔ یہاں کی ہر کامیابی بہت جلد کسی دکھ کی نذر ہوجاتی ہے۔ دکھ اور رنج سے خالی زندگی ایک ایسی انوکھی زندگی ہے جو صرف جنت کے ماحول میں آدمی کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ اس راز کو پالیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کا راستہ اختیار کریں گے اور بالآخر خدا کی ابدی جنتوں میں پہنچیں گے۔ راحت اور خوشی کی زندگی جو انسان کو بے حد مرغوب ہے وہ خدا کے وفادار بندوں کو کامل طورپر جنت میں ملے گی۔ مگر راحت اور خوشی کا ایک اور درجہ ہے جو معروف راحتوں اور خوشیوں سے بہت بلند ہے۔ یہ مالک کائنات کا دیدار ہے جو اہلِ جنت کو خصوصی طورپر حاصل ہوگا۔ جو خدا راحتوں اور لذتوں کا خالق ہے وہ یقینی طورپر تمام راحتوں اور لذتوں کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ حدیث میںآیا ہے کہ جب جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوچکے ہوں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا۔ اے جنت والو، تمھارے ليے خدا کا ایک وعدہ باقی ہے جس کو اب وہ پورا کرنا چاہتا ہے۔ جنت والے یہ سن کر کہیں گے کہ وہ کیا ہے۔ کیا ہمارے پلڑے بھاری نہیں کرديے گئے۔ کیا ہمارے چہروں کو روشن نہیں کردیاگیا۔ کیا خدا نے ہمیں جنت میں نہیں داخل کردیا اور ہم کو آگ سے نہیں بچالیا۔ اس کے بعد ان کے اوپر سے حجاب اٹھالیا جائے گا اور وہ اپنے رب کو دیکھنے لگیں گے۔ پس خدا کی قسم کوئی نعمت جو خدا نے انھیں دی ہے وہ ان کے ليے خدا کو دیکھنے سے زیادہ محبوب نہ ہوگی اور نہ اس سے زیادہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈی کرنے والی ہوگی (فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمْ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ، وَلَا أَقَرَّ لِأَعْيُنِهِمْ) مسند احمد، حدیث نمبر 18941 آدمی کے لیے اس سے زیادہ سخت حالت اورکوئی نہیں کہ وہ ایک ایسی بے بسی سے دوچار ہوجو ابدی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسی ناکامی میں پڑا ہوا پائے جو دوبارہ کامیابی میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔ جو لوگ آخرت میں جہنم کے باشندے قرار ديے جائیں گے وہ اسی حالت سے دوچار ہوں گے۔ ان کے چہرے شدید مایوسی کی وجہ سے ایسی کالے ہوجائیںگےگویا کہ وہ تہ بتہ اندھیروں میں ڈوب گئے ہیں۔ آدمی کو اگرچہ اس کی برائی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنا اس نے برائی کی ہے۔ مگر ابدی محرومی کا احساس اس کے لیے اتنا سخت ہوگا کہ اس کا چہرہ تک اس کی وجہ سے سیاہ پڑ جائے گا ۔

يونس 10:26

دنیا کے ظاہری حالات سے آدمی دھوکا کھاجاتاہے۔ وہ وقتی چیز کو مستقل چیز سمجھ لیتا ہے۔ اس کا خیال یہ ہوجاتا ہے کہ خوشیوں اور راحتوں کی زندگی جو وہ چاہتا ہے وہ اس کو اسی موجودہ دنیا میں حاصل ہوسکتی ہے۔ مگر انسانی آرزوؤں کی دنیا دراصل آخرت میں بننے والی ہے اوراس کو وہی شخص پائے گا جو خداکے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ دنیا میں آدمی بالفرض سب کچھ حاصل کرلے تب بھی وہ اس پر قادر نہیں کہ اپنی زندگی کو دکھ اور غم سے پاک کرسکے۔ یہاں ہر خوشی کے ساتھ کوئی اندیشہ لگا ہوا ہے۔ یہاں کی ہر کامیابی بہت جلد کسی دکھ کی نذر ہوجاتی ہے۔ دکھ اور رنج سے خالی زندگی ایک ایسی انوکھی زندگی ہے جو صرف جنت کے ماحول میں آدمی کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ اس راز کو پالیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کا راستہ اختیار کریں گے اور بالآخر خدا کی ابدی جنتوں میں پہنچیں گے۔ راحت اور خوشی کی زندگی جو انسان کو بے حد مرغوب ہے وہ خدا کے وفادار بندوں کو کامل طورپر جنت میں ملے گی۔ مگر راحت اور خوشی کا ایک اور درجہ ہے جو معروف راحتوں اور خوشیوں سے بہت بلند ہے۔ یہ مالک کائنات کا دیدار ہے جو اہلِ جنت کو خصوصی طورپر حاصل ہوگا۔ جو خدا راحتوں اور لذتوں کا خالق ہے وہ یقینی طورپر تمام راحتوں اور لذتوں کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ حدیث میںآیا ہے کہ جب جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوچکے ہوں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا۔ اے جنت والو، تمھارے ليے خدا کا ایک وعدہ باقی ہے جس کو اب وہ پورا کرنا چاہتا ہے۔ جنت والے یہ سن کر کہیں گے کہ وہ کیا ہے۔ کیا ہمارے پلڑے بھاری نہیں کرديے گئے۔ کیا ہمارے چہروں کو روشن نہیں کردیاگیا۔ کیا خدا نے ہمیں جنت میں نہیں داخل کردیا اور ہم کو آگ سے نہیں بچالیا۔ اس کے بعد ان کے اوپر سے حجاب اٹھالیا جائے گا اور وہ اپنے رب کو دیکھنے لگیں گے۔ پس خدا کی قسم کوئی نعمت جو خدا نے انھیں دی ہے وہ ان کے ليے خدا کو دیکھنے سے زیادہ محبوب نہ ہوگی اور نہ اس سے زیادہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈی کرنے والی ہوگی (فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمْ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ، وَلَا أَقَرَّ لِأَعْيُنِهِمْ) مسند احمد، حدیث نمبر 18941 آدمی کے لیے اس سے زیادہ سخت حالت اورکوئی نہیں کہ وہ ایک ایسی بے بسی سے دوچار ہوجو ابدی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسی ناکامی میں پڑا ہوا پائے جو دوبارہ کامیابی میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔ جو لوگ آخرت میں جہنم کے باشندے قرار ديے جائیں گے وہ اسی حالت سے دوچار ہوں گے۔ ان کے چہرے شدید مایوسی کی وجہ سے ایسی کالے ہوجائیںگےگویا کہ وہ تہ بتہ اندھیروں میں ڈوب گئے ہیں۔ آدمی کو اگرچہ اس کی برائی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنا اس نے برائی کی ہے۔ مگر ابدی محرومی کا احساس اس کے لیے اتنا سخت ہوگا کہ اس کا چہرہ تک اس کی وجہ سے سیاہ پڑ جائے گا ۔

يونس 10:27

دنیا کے ظاہری حالات سے آدمی دھوکا کھاجاتاہے۔ وہ وقتی چیز کو مستقل چیز سمجھ لیتا ہے۔ اس کا خیال یہ ہوجاتا ہے کہ خوشیوں اور راحتوں کی زندگی جو وہ چاہتا ہے وہ اس کو اسی موجودہ دنیا میں حاصل ہوسکتی ہے۔ مگر انسانی آرزوؤں کی دنیا دراصل آخرت میں بننے والی ہے اوراس کو وہی شخص پائے گا جو خداکے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ دنیا میں آدمی بالفرض سب کچھ حاصل کرلے تب بھی وہ اس پر قادر نہیں کہ اپنی زندگی کو دکھ اور غم سے پاک کرسکے۔ یہاں ہر خوشی کے ساتھ کوئی اندیشہ لگا ہوا ہے۔ یہاں کی ہر کامیابی بہت جلد کسی دکھ کی نذر ہوجاتی ہے۔ دکھ اور رنج سے خالی زندگی ایک ایسی انوکھی زندگی ہے جو صرف جنت کے ماحول میں آدمی کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ اس راز کو پالیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کا راستہ اختیار کریں گے اور بالآخر خدا کی ابدی جنتوں میں پہنچیں گے۔ راحت اور خوشی کی زندگی جو انسان کو بے حد مرغوب ہے وہ خدا کے وفادار بندوں کو کامل طورپر جنت میں ملے گی۔ مگر راحت اور خوشی کا ایک اور درجہ ہے جو معروف راحتوں اور خوشیوں سے بہت بلند ہے۔ یہ مالک کائنات کا دیدار ہے جو اہلِ جنت کو خصوصی طورپر حاصل ہوگا۔ جو خدا راحتوں اور لذتوں کا خالق ہے وہ یقینی طورپر تمام راحتوں اور لذتوں کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ حدیث میںآیا ہے کہ جب جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوچکے ہوں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا۔ اے جنت والو، تمھارے ليے خدا کا ایک وعدہ باقی ہے جس کو اب وہ پورا کرنا چاہتا ہے۔ جنت والے یہ سن کر کہیں گے کہ وہ کیا ہے۔ کیا ہمارے پلڑے بھاری نہیں کرديے گئے۔ کیا ہمارے چہروں کو روشن نہیں کردیاگیا۔ کیا خدا نے ہمیں جنت میں نہیں داخل کردیا اور ہم کو آگ سے نہیں بچالیا۔ اس کے بعد ان کے اوپر سے حجاب اٹھالیا جائے گا اور وہ اپنے رب کو دیکھنے لگیں گے۔ پس خدا کی قسم کوئی نعمت جو خدا نے انھیں دی ہے وہ ان کے ليے خدا کو دیکھنے سے زیادہ محبوب نہ ہوگی اور نہ اس سے زیادہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈی کرنے والی ہوگی (فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمْ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ، وَلَا أَقَرَّ لِأَعْيُنِهِمْ) مسند احمد، حدیث نمبر 18941 آدمی کے لیے اس سے زیادہ سخت حالت اورکوئی نہیں کہ وہ ایک ایسی بے بسی سے دوچار ہوجو ابدی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسی ناکامی میں پڑا ہوا پائے جو دوبارہ کامیابی میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔ جو لوگ آخرت میں جہنم کے باشندے قرار ديے جائیں گے وہ اسی حالت سے دوچار ہوں گے۔ ان کے چہرے شدید مایوسی کی وجہ سے ایسی کالے ہوجائیںگےگویا کہ وہ تہ بتہ اندھیروں میں ڈوب گئے ہیں۔ آدمی کو اگرچہ اس کی برائی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنا اس نے برائی کی ہے۔ مگر ابدی محرومی کا احساس اس کے لیے اتنا سخت ہوگا کہ اس کا چہرہ تک اس کی وجہ سے سیاہ پڑ جائے گا ۔

يونس 10:28

شرک کا پورا کاروبار جھوٹی امیدوں پر قائم ہوتاہے، وہ واقعات جو خداکے كيے سے ہورہے ہیں ان کو آدمی جھوٹے معبودوں کی طرف منسوب کردیتاہے اور اس طرح خود ساختہ تصور کے تحت ان کو اپنی عقیدت وپرستش کا مرکز بنا لیتاہے۔ اپنے ان معبودوں پر اس کا اعتماد اتنا بڑھتا ہے کہ وہ سمجھ لیتاہے کہ آخرت میں بھی وہ ضرور خدا کے مقابلہ میں اس کے مدد گار بن جائیں گے، اور اس کو خدا کی پکڑ سے بچالیں گے۔ یہ سراسر جھوٹی امیدیں ہیں۔ مگر دنیا کی زندگی میں ان کا جھوٹ ہونا ظاہر نہیں ہوتا کیوں کہ یہاں امتحان کی وجہ سے ہر چیز پر غیب کا پردہ پڑا ہواہے۔ یہاں آدمی کو موقع ہے کہ وہ واقعات کو اپنے فرضی معبودوں کی طرف منسوب کرے اور اس طرح ان کی معبودیت پر مطمئن ہوجائے۔ مگر آخرت میں ساری حقیقتیں کھل جائیں گی۔ وہاں معلوم ہوگا کہ اس کائنات میں ایک خدا کے سواکسی کو کوئی زور حاصل نہ تھا۔ موجودہ دنیا میں آدمی اس خوش فہمی میں جی رہا ہے کہ وہ اپنے بڑوں یا اپنے معبودوں کی مدد سے آخرت کے مرحلے میں کامیاب ہوجائے گا۔ مگر آخرت میں اچانک اس پر کھلے گا کہ اس کا اعتماد سراسر جھوٹا تھا۔ یہاں کسی کو صرف وہی ملے گا جو اس نے خود کیا تھا۔ فرضی سہارے وہاں اس طرح غائب ہوجائیں گے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

يونس 10:29

شرک کا پورا کاروبار جھوٹی امیدوں پر قائم ہوتاہے، وہ واقعات جو خداکے كيے سے ہورہے ہیں ان کو آدمی جھوٹے معبودوں کی طرف منسوب کردیتاہے اور اس طرح خود ساختہ تصور کے تحت ان کو اپنی عقیدت وپرستش کا مرکز بنا لیتاہے۔ اپنے ان معبودوں پر اس کا اعتماد اتنا بڑھتا ہے کہ وہ سمجھ لیتاہے کہ آخرت میں بھی وہ ضرور خدا کے مقابلہ میں اس کے مدد گار بن جائیں گے، اور اس کو خدا کی پکڑ سے بچالیں گے۔ یہ سراسر جھوٹی امیدیں ہیں۔ مگر دنیا کی زندگی میں ان کا جھوٹ ہونا ظاہر نہیں ہوتا کیوں کہ یہاں امتحان کی وجہ سے ہر چیز پر غیب کا پردہ پڑا ہواہے۔ یہاں آدمی کو موقع ہے کہ وہ واقعات کو اپنے فرضی معبودوں کی طرف منسوب کرے اور اس طرح ان کی معبودیت پر مطمئن ہوجائے۔ مگر آخرت میں ساری حقیقتیں کھل جائیں گی۔ وہاں معلوم ہوگا کہ اس کائنات میں ایک خدا کے سواکسی کو کوئی زور حاصل نہ تھا۔ موجودہ دنیا میں آدمی اس خوش فہمی میں جی رہا ہے کہ وہ اپنے بڑوں یا اپنے معبودوں کی مدد سے آخرت کے مرحلے میں کامیاب ہوجائے گا۔ مگر آخرت میں اچانک اس پر کھلے گا کہ اس کا اعتماد سراسر جھوٹا تھا۔ یہاں کسی کو صرف وہی ملے گا جو اس نے خود کیا تھا۔ فرضی سہارے وہاں اس طرح غائب ہوجائیں گے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

يونس 10:30

شرک کا پورا کاروبار جھوٹی امیدوں پر قائم ہوتاہے، وہ واقعات جو خداکے كيے سے ہورہے ہیں ان کو آدمی جھوٹے معبودوں کی طرف منسوب کردیتاہے اور اس طرح خود ساختہ تصور کے تحت ان کو اپنی عقیدت وپرستش کا مرکز بنا لیتاہے۔ اپنے ان معبودوں پر اس کا اعتماد اتنا بڑھتا ہے کہ وہ سمجھ لیتاہے کہ آخرت میں بھی وہ ضرور خدا کے مقابلہ میں اس کے مدد گار بن جائیں گے، اور اس کو خدا کی پکڑ سے بچالیں گے۔ یہ سراسر جھوٹی امیدیں ہیں۔ مگر دنیا کی زندگی میں ان کا جھوٹ ہونا ظاہر نہیں ہوتا کیوں کہ یہاں امتحان کی وجہ سے ہر چیز پر غیب کا پردہ پڑا ہواہے۔ یہاں آدمی کو موقع ہے کہ وہ واقعات کو اپنے فرضی معبودوں کی طرف منسوب کرے اور اس طرح ان کی معبودیت پر مطمئن ہوجائے۔ مگر آخرت میں ساری حقیقتیں کھل جائیں گی۔ وہاں معلوم ہوگا کہ اس کائنات میں ایک خدا کے سواکسی کو کوئی زور حاصل نہ تھا۔ موجودہ دنیا میں آدمی اس خوش فہمی میں جی رہا ہے کہ وہ اپنے بڑوں یا اپنے معبودوں کی مدد سے آخرت کے مرحلے میں کامیاب ہوجائے گا۔ مگر آخرت میں اچانک اس پر کھلے گا کہ اس کا اعتماد سراسر جھوٹا تھا۔ یہاں کسی کو صرف وہی ملے گا جو اس نے خود کیا تھا۔ فرضی سہارے وہاں اس طرح غائب ہوجائیں گے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

يونس 10:31

انسان کو رزق کی ضرورت ہے۔ یہ رزق انسان کو کیسے ملتاہے۔ کائنات کے مجموعی عمل سے۔ ساری کائنات حد درجہ ہم آہنگی کے ساتھ ایک خاص رخ پر عمل کرتی ہے۔ تب یہ ممکن ہوتا ہے کہ انسان کے لیے وہ رزق فراہم ہو جس کے بغیر اس کا وجود اس سرزمین پر ممکن نہیں۔ خدائی کے مفروضہ شرکاء یا دیوی دیوتا خود مشرکین کے عقیدہ کے مطابق، انسان کے لیے رزق فراہم نہیں کرسکتے۔ کیوں کہ ہر مفروضہ شریک کسی جزء کا معبود ہے، اور جزء کا معبود کبھی ایسے واقعہ کو ظہور میں نہیں لا سکتا جو کل اجزا کی موافقت سے ظہور میں آتاہو۔ اسی طرح مثلاً انسان کے اندر کان اور آنکھ جیسی حیرت انگیز صلاحیتیں ہیں۔ وہ بھی کسی دیوتا کی دی ہوئی نہیں ہوسکتی۔ دیوی دیوتا یا تو خود ان صلاحیتوں سے محروم ہیں یا اگر کسی مفروضہ معبود کے اندر یہ صلاحیتیں ہوں تو وہ ان کا خالق نہیں۔ حتی کہ خود اس سے یہ صلاحیتیں ویسے ہی چھن جاتی ہیں جیسے عام انسانوں سے چھن جاتی ہیں۔ اسی طرح بے جان چیزوں میں جان ڈالنا اور جان دار کو بے جان کردینا بھی مفروضہ معبودوں کے لیے ممکن نہیں۔ نہ اس کا کوئی ثبوت ہے اور نہ کوئی پوجنے والا ان کے بارے میں اس قسم کا عقیدہ رکھتاہے۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ یہ چیزیں ان معبودوں سے انسان کو ملیں۔ کیسی عجیب بات ہے کہ انسان ایک بڑے خدا کو مانتا ہے۔ اس کے باوجود وہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتاہے جو اس کی تمام اعلیٰ صفات کی نفی کردیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو خدا کا ڈر نہیں۔ جھوٹے خیالات کے ذریعہ اس نے اپنے آپ کو یہ تسلی دے لی ہے کہ خدا اس سے باز پرس کرنے والا نہیں۔ اور اگر باز پرس کی نوبت آئی تو اس کی مدد پر ایسی ہستیاں ہیں جو خدا کے یہاں سفارش کرکے اس کو بچالیں — ڈر آدمی کو سنجیدہ بناتاہے۔ جب کسی کے دل سے ڈر نکل جائے تو اس کو غیر منصفانہ رویہ اختیار کرنے سے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ ایسا آدمی سرکش ہوجاتا ہے، اور سرکش آدمی کبھی سچائی کا اعتراف نہیں کرتا۔

يونس 10:32

انسان کو رزق کی ضرورت ہے۔ یہ رزق انسان کو کیسے ملتاہے۔ کائنات کے مجموعی عمل سے۔ ساری کائنات حد درجہ ہم آہنگی کے ساتھ ایک خاص رخ پر عمل کرتی ہے۔ تب یہ ممکن ہوتا ہے کہ انسان کے لیے وہ رزق فراہم ہو جس کے بغیر اس کا وجود اس سرزمین پر ممکن نہیں۔ خدائی کے مفروضہ شرکاء یا دیوی دیوتا خود مشرکین کے عقیدہ کے مطابق، انسان کے لیے رزق فراہم نہیں کرسکتے۔ کیوں کہ ہر مفروضہ شریک کسی جزء کا معبود ہے، اور جزء کا معبود کبھی ایسے واقعہ کو ظہور میں نہیں لا سکتا جو کل اجزا کی موافقت سے ظہور میں آتاہو۔ اسی طرح مثلاً انسان کے اندر کان اور آنکھ جیسی حیرت انگیز صلاحیتیں ہیں۔ وہ بھی کسی دیوتا کی دی ہوئی نہیں ہوسکتی۔ دیوی دیوتا یا تو خود ان صلاحیتوں سے محروم ہیں یا اگر کسی مفروضہ معبود کے اندر یہ صلاحیتیں ہوں تو وہ ان کا خالق نہیں۔ حتی کہ خود اس سے یہ صلاحیتیں ویسے ہی چھن جاتی ہیں جیسے عام انسانوں سے چھن جاتی ہیں۔ اسی طرح بے جان چیزوں میں جان ڈالنا اور جان دار کو بے جان کردینا بھی مفروضہ معبودوں کے لیے ممکن نہیں۔ نہ اس کا کوئی ثبوت ہے اور نہ کوئی پوجنے والا ان کے بارے میں اس قسم کا عقیدہ رکھتاہے۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ یہ چیزیں ان معبودوں سے انسان کو ملیں۔ کیسی عجیب بات ہے کہ انسان ایک بڑے خدا کو مانتا ہے۔ اس کے باوجود وہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتاہے جو اس کی تمام اعلیٰ صفات کی نفی کردیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو خدا کا ڈر نہیں۔ جھوٹے خیالات کے ذریعہ اس نے اپنے آپ کو یہ تسلی دے لی ہے کہ خدا اس سے باز پرس کرنے والا نہیں۔ اور اگر باز پرس کی نوبت آئی تو اس کی مدد پر ایسی ہستیاں ہیں جو خدا کے یہاں سفارش کرکے اس کو بچالیں — ڈر آدمی کو سنجیدہ بناتاہے۔ جب کسی کے دل سے ڈر نکل جائے تو اس کو غیر منصفانہ رویہ اختیار کرنے سے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ ایسا آدمی سرکش ہوجاتا ہے، اور سرکش آدمی کبھی سچائی کا اعتراف نہیں کرتا۔

يونس 10:33

انسان کو رزق کی ضرورت ہے۔ یہ رزق انسان کو کیسے ملتاہے۔ کائنات کے مجموعی عمل سے۔ ساری کائنات حد درجہ ہم آہنگی کے ساتھ ایک خاص رخ پر عمل کرتی ہے۔ تب یہ ممکن ہوتا ہے کہ انسان کے لیے وہ رزق فراہم ہو جس کے بغیر اس کا وجود اس سرزمین پر ممکن نہیں۔ خدائی کے مفروضہ شرکاء یا دیوی دیوتا خود مشرکین کے عقیدہ کے مطابق، انسان کے لیے رزق فراہم نہیں کرسکتے۔ کیوں کہ ہر مفروضہ شریک کسی جزء کا معبود ہے، اور جزء کا معبود کبھی ایسے واقعہ کو ظہور میں نہیں لا سکتا جو کل اجزا کی موافقت سے ظہور میں آتاہو۔ اسی طرح مثلاً انسان کے اندر کان اور آنکھ جیسی حیرت انگیز صلاحیتیں ہیں۔ وہ بھی کسی دیوتا کی دی ہوئی نہیں ہوسکتی۔ دیوی دیوتا یا تو خود ان صلاحیتوں سے محروم ہیں یا اگر کسی مفروضہ معبود کے اندر یہ صلاحیتیں ہوں تو وہ ان کا خالق نہیں۔ حتی کہ خود اس سے یہ صلاحیتیں ویسے ہی چھن جاتی ہیں جیسے عام انسانوں سے چھن جاتی ہیں۔ اسی طرح بے جان چیزوں میں جان ڈالنا اور جان دار کو بے جان کردینا بھی مفروضہ معبودوں کے لیے ممکن نہیں۔ نہ اس کا کوئی ثبوت ہے اور نہ کوئی پوجنے والا ان کے بارے میں اس قسم کا عقیدہ رکھتاہے۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ یہ چیزیں ان معبودوں سے انسان کو ملیں۔ کیسی عجیب بات ہے کہ انسان ایک بڑے خدا کو مانتا ہے۔ اس کے باوجود وہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتاہے جو اس کی تمام اعلیٰ صفات کی نفی کردیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو خدا کا ڈر نہیں۔ جھوٹے خیالات کے ذریعہ اس نے اپنے آپ کو یہ تسلی دے لی ہے کہ خدا اس سے باز پرس کرنے والا نہیں۔ اور اگر باز پرس کی نوبت آئی تو اس کی مدد پر ایسی ہستیاں ہیں جو خدا کے یہاں سفارش کرکے اس کو بچالیں — ڈر آدمی کو سنجیدہ بناتاہے۔ جب کسی کے دل سے ڈر نکل جائے تو اس کو غیر منصفانہ رویہ اختیار کرنے سے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ ایسا آدمی سرکش ہوجاتا ہے، اور سرکش آدمی کبھی سچائی کا اعتراف نہیں کرتا۔

يونس 10:34

اللہ کے سوا جن کو خدائی کا مقام دیا جاتاہے، خواہ وہ انسان ہوں یا غیر انسان، کوئی بھی یہ طاقت نہیں رکھتا کہ وہ کسی غیر موجود کو موجود کردے۔ یہ صرف اللہ ہے جس کے لیے تخلیق کا عمل ثابت ہے۔ اور جب تخلیق کا عمل ایک بار اللہ کے لیے ثابت ہے تو اسی سے یہ بھی ثابت ہوجاتاہے کہ وہ اس کا اعادہ کرسکتاہے اور کرے گا۔ پھر جب وجود اول اور وجود ثانی دونوں کا اختیار صرف ایک اللہ کو ہے تو دوسرے شریکوں کی طرف توجہ لگانا بالکل عبث ہے۔ ان سے آدمی نہ اپنی پہلی زندگی میں کچھ پانے والا ہے اور نہ دوسری زندگی میں۔ یہی معاملہ رہنمائی کا ہے۔ ’’اللہ رہنمائی کرتا ہے‘‘ یہ چیز پیغمبروں کی ہدایت سے ثابت ہے۔ پیغمبروں نے جس ہدایت کو خدائی ہدایت کہہ کر انسان کے سامنے پیش کیا وہ مسلّم طورپر ایک ہدایت ہے۔ اس کے برعکس، شریکوں کا حال یہ ہے کہ وہ یا تو سرے سے اس قابل نہیں کہ وہ انسان کو حق اور ناحق کے بارے میں کوئی علم دیں (مثلاً بت) یا وہ اپنی کمیوں اور محدودیتوں کی وجہ سے خود رہنمائی کے محتاج ہیں، کجا کہ وہ دوسروں کو کوئی واقعی رہنمائی فراہم کریں (مثلاً انسانی معبود)، جب صورت حال یہ ہے تو انسان کو صرف ایک خداکی طرف رجوع کرنا چاہیے، نہ کہ فرضی شریکوں کی طرف۔ شرک کا کاروبار کسی واقعی علم پر قائم نہیں ہے بلکہ وہ مفروضات اور قیاسات پر قائم ہے۔ کچھ ہستیوں کے بارے میں بے بنیاد طورپر یہ رائے قائم کر لی گئی ہے کہ وہ خدائی صفات کے حامل ہیں۔ حالاں کہ اتنی بڑی رائے کسی حقیقی علم کی بنیاد پر قائم کی جاسکتی ہے ،نہ کہ محض اٹکل اور قیاس کی بنیاد پر۔

يونس 10:35

اللہ کے سوا جن کو خدائی کا مقام دیا جاتاہے، خواہ وہ انسان ہوں یا غیر انسان، کوئی بھی یہ طاقت نہیں رکھتا کہ وہ کسی غیر موجود کو موجود کردے۔ یہ صرف اللہ ہے جس کے لیے تخلیق کا عمل ثابت ہے۔ اور جب تخلیق کا عمل ایک بار اللہ کے لیے ثابت ہے تو اسی سے یہ بھی ثابت ہوجاتاہے کہ وہ اس کا اعادہ کرسکتاہے اور کرے گا۔ پھر جب وجود اول اور وجود ثانی دونوں کا اختیار صرف ایک اللہ کو ہے تو دوسرے شریکوں کی طرف توجہ لگانا بالکل عبث ہے۔ ان سے آدمی نہ اپنی پہلی زندگی میں کچھ پانے والا ہے اور نہ دوسری زندگی میں۔ یہی معاملہ رہنمائی کا ہے۔ ’’اللہ رہنمائی کرتا ہے‘‘ یہ چیز پیغمبروں کی ہدایت سے ثابت ہے۔ پیغمبروں نے جس ہدایت کو خدائی ہدایت کہہ کر انسان کے سامنے پیش کیا وہ مسلّم طورپر ایک ہدایت ہے۔ اس کے برعکس، شریکوں کا حال یہ ہے کہ وہ یا تو سرے سے اس قابل نہیں کہ وہ انسان کو حق اور ناحق کے بارے میں کوئی علم دیں (مثلاً بت) یا وہ اپنی کمیوں اور محدودیتوں کی وجہ سے خود رہنمائی کے محتاج ہیں، کجا کہ وہ دوسروں کو کوئی واقعی رہنمائی فراہم کریں (مثلاً انسانی معبود)، جب صورت حال یہ ہے تو انسان کو صرف ایک خداکی طرف رجوع کرنا چاہیے، نہ کہ فرضی شریکوں کی طرف۔ شرک کا کاروبار کسی واقعی علم پر قائم نہیں ہے بلکہ وہ مفروضات اور قیاسات پر قائم ہے۔ کچھ ہستیوں کے بارے میں بے بنیاد طورپر یہ رائے قائم کر لی گئی ہے کہ وہ خدائی صفات کے حامل ہیں۔ حالاں کہ اتنی بڑی رائے کسی حقیقی علم کی بنیاد پر قائم کی جاسکتی ہے ،نہ کہ محض اٹکل اور قیاس کی بنیاد پر۔

يونس 10:36

اللہ کے سوا جن کو خدائی کا مقام دیا جاتاہے، خواہ وہ انسان ہوں یا غیر انسان، کوئی بھی یہ طاقت نہیں رکھتا کہ وہ کسی غیر موجود کو موجود کردے۔ یہ صرف اللہ ہے جس کے لیے تخلیق کا عمل ثابت ہے۔ اور جب تخلیق کا عمل ایک بار اللہ کے لیے ثابت ہے تو اسی سے یہ بھی ثابت ہوجاتاہے کہ وہ اس کا اعادہ کرسکتاہے اور کرے گا۔ پھر جب وجود اول اور وجود ثانی دونوں کا اختیار صرف ایک اللہ کو ہے تو دوسرے شریکوں کی طرف توجہ لگانا بالکل عبث ہے۔ ان سے آدمی نہ اپنی پہلی زندگی میں کچھ پانے والا ہے اور نہ دوسری زندگی میں۔ یہی معاملہ رہنمائی کا ہے۔ ’’اللہ رہنمائی کرتا ہے‘‘ یہ چیز پیغمبروں کی ہدایت سے ثابت ہے۔ پیغمبروں نے جس ہدایت کو خدائی ہدایت کہہ کر انسان کے سامنے پیش کیا وہ مسلّم طورپر ایک ہدایت ہے۔ اس کے برعکس، شریکوں کا حال یہ ہے کہ وہ یا تو سرے سے اس قابل نہیں کہ وہ انسان کو حق اور ناحق کے بارے میں کوئی علم دیں (مثلاً بت) یا وہ اپنی کمیوں اور محدودیتوں کی وجہ سے خود رہنمائی کے محتاج ہیں، کجا کہ وہ دوسروں کو کوئی واقعی رہنمائی فراہم کریں (مثلاً انسانی معبود)، جب صورت حال یہ ہے تو انسان کو صرف ایک خداکی طرف رجوع کرنا چاہیے، نہ کہ فرضی شریکوں کی طرف۔ شرک کا کاروبار کسی واقعی علم پر قائم نہیں ہے بلکہ وہ مفروضات اور قیاسات پر قائم ہے۔ کچھ ہستیوں کے بارے میں بے بنیاد طورپر یہ رائے قائم کر لی گئی ہے کہ وہ خدائی صفات کے حامل ہیں۔ حالاں کہ اتنی بڑی رائے کسی حقیقی علم کی بنیاد پر قائم کی جاسکتی ہے ،نہ کہ محض اٹکل اور قیاس کی بنیاد پر۔

يونس 10:37

قرآن اپنی دلیل آپ ہے، قرآن کا مافوق انداز کلام انتہائی طورپر ناقابل تقلید ہے، اور یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ قرآن ایک غیر انسانی کلام ہے۔ اگر وہ کسی انسان کا کلام ہوتا تو یقیناً دوسرے انسانوں کے لیے بھی یہ ممکن ہونا چاہیے تھا کہ وہ اپنی کوشش سے ویسا ہی ایک کلام بنا لیں۔ قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ وہ ان پیشین گوئیوں کی تصدیق ہے جو اس کے بارے میں پہلے سے آسمانی صحیفوں میں موجود ہیں۔ آسمانی تعلیمات کی حامل قومیں پہلے سے ایک آخری ہدایت نامہ کی منتظر تھیں۔ قرآن اسی انتظار کا جواب بن کر آیا ہے، پھر اس میں شک کرنے کی کیا ضرورت ۔ مزید یہ کہ وہ ’’کتاب‘‘ کی تفصیل ہے۔ یعنی وہ الٰہی تعلیمات جو تمام آسمانی کتابوں کا خلاصہ ہیں انھیں کو وہ صحیح اور بے آمیز روپ میں پیش کرتاہے۔ یہ ایک واضح قرینہ ہے جس سے ظاہر ہوتاہے کہ قرآن اسی خدا کی طرف سے آیا ہے جس کی طرف سے پچھلی آسمانی کتابیں آئی تھیں۔ جب کوئی شخص کہتا ہے کہ قرآن ایک انسانی تصنیف ہے تو وہ اپنی دعوے کو ایک ایسے میدان میں لاتا ہے جہاں اس کو جانچنا آسان ہو۔ کیوں کہ وہ اپنی یاد دوسروں کی انسانی صلاحیتوں کو کام میں لاکر قرآن جیسی ایک کتاب یا اس کے جیسی ایک سورہ تیار کرسکتاہے۔ اور اس طرح عملی طورپر اس دعوے کو رد کرسکتا ہے کہ قرآن خدائی ذہن سے نکلی ہوئی کتاب ہے۔ مگر قرآنی چیلنج کے باوجود کسی کا ایسانہ کرسکنا آخری طورپر ثابت کررہا ہے کہ قرآن کو انسانی کتاب کہنے والوں کا دعویٰ درست نہیں۔قرآن کی صداقت کے یہ دلائل ایسے نہیں ہیں کہ آدمی ان کو سمجھ نہ سکے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن کو جھٹلانے کے نتائج سے وہ بے خوف ہیں۔ ان کو یہ ڈر نہیں کہ قرآن کا انکار کرکے وہ کسی عذاب کی پکڑ میں آجائیں گے ان کی مخالفانہ روش کی وجہ وہ غیر سنجیدگی ہے جو ان کی بے خوفی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے، نہ کہ کسی قسم کا عقلی اور استدلالی اطمینان۔

يونس 10:38

قرآن اپنی دلیل آپ ہے، قرآن کا مافوق انداز کلام انتہائی طورپر ناقابل تقلید ہے، اور یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ قرآن ایک غیر انسانی کلام ہے۔ اگر وہ کسی انسان کا کلام ہوتا تو یقیناً دوسرے انسانوں کے لیے بھی یہ ممکن ہونا چاہیے تھا کہ وہ اپنی کوشش سے ویسا ہی ایک کلام بنا لیں۔ قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ وہ ان پیشین گوئیوں کی تصدیق ہے جو اس کے بارے میں پہلے سے آسمانی صحیفوں میں موجود ہیں۔ آسمانی تعلیمات کی حامل قومیں پہلے سے ایک آخری ہدایت نامہ کی منتظر تھیں۔ قرآن اسی انتظار کا جواب بن کر آیا ہے، پھر اس میں شک کرنے کی کیا ضرورت ۔ مزید یہ کہ وہ ’’کتاب‘‘ کی تفصیل ہے۔ یعنی وہ الٰہی تعلیمات جو تمام آسمانی کتابوں کا خلاصہ ہیں انھیں کو وہ صحیح اور بے آمیز روپ میں پیش کرتاہے۔ یہ ایک واضح قرینہ ہے جس سے ظاہر ہوتاہے کہ قرآن اسی خدا کی طرف سے آیا ہے جس کی طرف سے پچھلی آسمانی کتابیں آئی تھیں۔ جب کوئی شخص کہتا ہے کہ قرآن ایک انسانی تصنیف ہے تو وہ اپنی دعوے کو ایک ایسے میدان میں لاتا ہے جہاں اس کو جانچنا آسان ہو۔ کیوں کہ وہ اپنی یاد دوسروں کی انسانی صلاحیتوں کو کام میں لاکر قرآن جیسی ایک کتاب یا اس کے جیسی ایک سورہ تیار کرسکتاہے۔ اور اس طرح عملی طورپر اس دعوے کو رد کرسکتا ہے کہ قرآن خدائی ذہن سے نکلی ہوئی کتاب ہے۔ مگر قرآنی چیلنج کے باوجود کسی کا ایسانہ کرسکنا آخری طورپر ثابت کررہا ہے کہ قرآن کو انسانی کتاب کہنے والوں کا دعویٰ درست نہیں۔قرآن کی صداقت کے یہ دلائل ایسے نہیں ہیں کہ آدمی ان کو سمجھ نہ سکے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن کو جھٹلانے کے نتائج سے وہ بے خوف ہیں۔ ان کو یہ ڈر نہیں کہ قرآن کا انکار کرکے وہ کسی عذاب کی پکڑ میں آجائیں گے ان کی مخالفانہ روش کی وجہ وہ غیر سنجیدگی ہے جو ان کی بے خوفی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے، نہ کہ کسی قسم کا عقلی اور استدلالی اطمینان۔

يونس 10:39

قرآن اپنی دلیل آپ ہے، قرآن کا مافوق انداز کلام انتہائی طورپر ناقابل تقلید ہے، اور یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ قرآن ایک غیر انسانی کلام ہے۔ اگر وہ کسی انسان کا کلام ہوتا تو یقیناً دوسرے انسانوں کے لیے بھی یہ ممکن ہونا چاہیے تھا کہ وہ اپنی کوشش سے ویسا ہی ایک کلام بنا لیں۔ قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ وہ ان پیشین گوئیوں کی تصدیق ہے جو اس کے بارے میں پہلے سے آسمانی صحیفوں میں موجود ہیں۔ آسمانی تعلیمات کی حامل قومیں پہلے سے ایک آخری ہدایت نامہ کی منتظر تھیں۔ قرآن اسی انتظار کا جواب بن کر آیا ہے، پھر اس میں شک کرنے کی کیا ضرورت ۔ مزید یہ کہ وہ ’’کتاب‘‘ کی تفصیل ہے۔ یعنی وہ الٰہی تعلیمات جو تمام آسمانی کتابوں کا خلاصہ ہیں انھیں کو وہ صحیح اور بے آمیز روپ میں پیش کرتاہے۔ یہ ایک واضح قرینہ ہے جس سے ظاہر ہوتاہے کہ قرآن اسی خدا کی طرف سے آیا ہے جس کی طرف سے پچھلی آسمانی کتابیں آئی تھیں۔ جب کوئی شخص کہتا ہے کہ قرآن ایک انسانی تصنیف ہے تو وہ اپنی دعوے کو ایک ایسے میدان میں لاتا ہے جہاں اس کو جانچنا آسان ہو۔ کیوں کہ وہ اپنی یاد دوسروں کی انسانی صلاحیتوں کو کام میں لاکر قرآن جیسی ایک کتاب یا اس کے جیسی ایک سورہ تیار کرسکتاہے۔ اور اس طرح عملی طورپر اس دعوے کو رد کرسکتا ہے کہ قرآن خدائی ذہن سے نکلی ہوئی کتاب ہے۔ مگر قرآنی چیلنج کے باوجود کسی کا ایسانہ کرسکنا آخری طورپر ثابت کررہا ہے کہ قرآن کو انسانی کتاب کہنے والوں کا دعویٰ درست نہیں۔قرآن کی صداقت کے یہ دلائل ایسے نہیں ہیں کہ آدمی ان کو سمجھ نہ سکے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن کو جھٹلانے کے نتائج سے وہ بے خوف ہیں۔ ان کو یہ ڈر نہیں کہ قرآن کا انکار کرکے وہ کسی عذاب کی پکڑ میں آجائیں گے ان کی مخالفانہ روش کی وجہ وہ غیر سنجیدگی ہے جو ان کی بے خوفی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے، نہ کہ کسی قسم کا عقلی اور استدلالی اطمینان۔

يونس 10:40

ایمان نہ لانے والے خدا کی نظر میں مفسد ہیں ۔ کیوں کہ اپنی فطرت کو بگاڑ کر ہی کسی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ حق کو قبول کرنے سے باز رہے۔ ایسا آدمی اپنے ضمیر کی آواز کو دباتا ہے، وہ اپنے سوچنے کی صلاحیت کو استعمال نہیں کرتا، وہ کھلے کھلے دلائل کو جھوٹے الفاظ بول کر نظر انداز کردیتاہے، وہ سن کر نہیں سنتا اور سمجھنے کے باوجود سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا، وہ حق کے مقابلے میں اپنے تعصبات اور اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ بحث ومناظرہ کرنے والے لوگ آخر وقت تک اپنی بحث جاری رکھتے ہیں۔ ’’میرا معاملہ میرے ساتھ ہے اور تمھارا معاملہ تمھارے ساتھ‘‘۔ اس قسم کا جملہ کہنا ان کو اپنی شکست نظر آتاہے، مگر داعی فتح وشکست کی نفسیات سے بلند ہو کر کام کرتاہے۔ اس ليے جب وہ دیکھتا ہے کہ مخاطب ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آیا ہے اور مزید بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تو وہ یہ کہہ کر الگ ہوجاتا ہے کہ اصل فیصلہ اللہ کے یہاںہونا ہے۔ خدا کی میزان میں جو شخص جیسا نکلے گا ویسا ہی اس کا انجام ہوگا۔ حق کو نہ ماننے والوں میں ایک طبقہ وہ ہے جو شروع سے اپنا منکر ہونا ظاہر کردیتا ہے۔ مگر زیادہ ہوشیار قسم کے لوگ یہ کرتے ہیں کہ بظاہر وہ باتوں کو اس طرح سنتے ہیں گویا کہ وہ سچ مچ سمجھنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کے دل میں یہ ہوتاہے کہ اس کو سمجھنا نہیں ہے۔ وہ داعی کی صداقت کی نشانیوں کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے وہ کھلے دل سے اس کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کا ذہن پہلے سے یہ طے كيے ہوئے ہوتاہے کہ اس کو دیکھنا اور ماننا نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کی ظاہری سادگی سے داعی اس خوش گمانی میں پڑ جاتا ہے کہ وہ قبولیت حق کے قریب ہیں۔ مگر خدا کی نظر میں وہ ایسے لوگ ہیں جوکان رکھتے ہوئے بہرے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے بن جائیں۔ ایسے لوگوں کو کبھی خدا کی طرف سے قبول حق کی توفیق نہیں ملتی۔ خدا نے انسان کو بہترین صلاحیتیں دی ہیں۔ اگر وہ ان صلاحیتوں کو استعمال کرے تو وہ کبھی گمراہ نہ ہو۔ مگر انسان اپنے کو آزاد پاکر غلط فہمی میں پڑجاتاہے۔ وہ بے جا سرکشی کرنے لگتاہے۔ ایسا اس ليے ہوتاہے کہ اس نے خدا کی اسکیم کو نہیں سمجھا، جو چیز اس کوآزمائش کے طورپر دی گئی تھی اس کو اس نے اپنا حق سمجھ لیا۔

يونس 10:41

ایمان نہ لانے والے خدا کی نظر میں مفسد ہیں ۔ کیوں کہ اپنی فطرت کو بگاڑ کر ہی کسی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ حق کو قبول کرنے سے باز رہے۔ ایسا آدمی اپنے ضمیر کی آواز کو دباتا ہے، وہ اپنے سوچنے کی صلاحیت کو استعمال نہیں کرتا، وہ کھلے کھلے دلائل کو جھوٹے الفاظ بول کر نظر انداز کردیتاہے، وہ سن کر نہیں سنتا اور سمجھنے کے باوجود سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا، وہ حق کے مقابلے میں اپنے تعصبات اور اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ بحث ومناظرہ کرنے والے لوگ آخر وقت تک اپنی بحث جاری رکھتے ہیں۔ ’’میرا معاملہ میرے ساتھ ہے اور تمھارا معاملہ تمھارے ساتھ‘‘۔ اس قسم کا جملہ کہنا ان کو اپنی شکست نظر آتاہے، مگر داعی فتح وشکست کی نفسیات سے بلند ہو کر کام کرتاہے۔ اس ليے جب وہ دیکھتا ہے کہ مخاطب ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آیا ہے اور مزید بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تو وہ یہ کہہ کر الگ ہوجاتا ہے کہ اصل فیصلہ اللہ کے یہاںہونا ہے۔ خدا کی میزان میں جو شخص جیسا نکلے گا ویسا ہی اس کا انجام ہوگا۔ حق کو نہ ماننے والوں میں ایک طبقہ وہ ہے جو شروع سے اپنا منکر ہونا ظاہر کردیتا ہے۔ مگر زیادہ ہوشیار قسم کے لوگ یہ کرتے ہیں کہ بظاہر وہ باتوں کو اس طرح سنتے ہیں گویا کہ وہ سچ مچ سمجھنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کے دل میں یہ ہوتاہے کہ اس کو سمجھنا نہیں ہے۔ وہ داعی کی صداقت کی نشانیوں کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے وہ کھلے دل سے اس کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کا ذہن پہلے سے یہ طے كيے ہوئے ہوتاہے کہ اس کو دیکھنا اور ماننا نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کی ظاہری سادگی سے داعی اس خوش گمانی میں پڑ جاتا ہے کہ وہ قبولیت حق کے قریب ہیں۔ مگر خدا کی نظر میں وہ ایسے لوگ ہیں جوکان رکھتے ہوئے بہرے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے بن جائیں۔ ایسے لوگوں کو کبھی خدا کی طرف سے قبول حق کی توفیق نہیں ملتی۔ خدا نے انسان کو بہترین صلاحیتیں دی ہیں۔ اگر وہ ان صلاحیتوں کو استعمال کرے تو وہ کبھی گمراہ نہ ہو۔ مگر انسان اپنے کو آزاد پاکر غلط فہمی میں پڑجاتاہے۔ وہ بے جا سرکشی کرنے لگتاہے۔ ایسا اس ليے ہوتاہے کہ اس نے خدا کی اسکیم کو نہیں سمجھا، جو چیز اس کوآزمائش کے طورپر دی گئی تھی اس کو اس نے اپنا حق سمجھ لیا۔

يونس 10:42

ایمان نہ لانے والے خدا کی نظر میں مفسد ہیں ۔ کیوں کہ اپنی فطرت کو بگاڑ کر ہی کسی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ حق کو قبول کرنے سے باز رہے۔ ایسا آدمی اپنے ضمیر کی آواز کو دباتا ہے، وہ اپنے سوچنے کی صلاحیت کو استعمال نہیں کرتا، وہ کھلے کھلے دلائل کو جھوٹے الفاظ بول کر نظر انداز کردیتاہے، وہ سن کر نہیں سنتا اور سمجھنے کے باوجود سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا، وہ حق کے مقابلے میں اپنے تعصبات اور اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ بحث ومناظرہ کرنے والے لوگ آخر وقت تک اپنی بحث جاری رکھتے ہیں۔ ’’میرا معاملہ میرے ساتھ ہے اور تمھارا معاملہ تمھارے ساتھ‘‘۔ اس قسم کا جملہ کہنا ان کو اپنی شکست نظر آتاہے، مگر داعی فتح وشکست کی نفسیات سے بلند ہو کر کام کرتاہے۔ اس ليے جب وہ دیکھتا ہے کہ مخاطب ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آیا ہے اور مزید بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تو وہ یہ کہہ کر الگ ہوجاتا ہے کہ اصل فیصلہ اللہ کے یہاںہونا ہے۔ خدا کی میزان میں جو شخص جیسا نکلے گا ویسا ہی اس کا انجام ہوگا۔ حق کو نہ ماننے والوں میں ایک طبقہ وہ ہے جو شروع سے اپنا منکر ہونا ظاہر کردیتا ہے۔ مگر زیادہ ہوشیار قسم کے لوگ یہ کرتے ہیں کہ بظاہر وہ باتوں کو اس طرح سنتے ہیں گویا کہ وہ سچ مچ سمجھنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کے دل میں یہ ہوتاہے کہ اس کو سمجھنا نہیں ہے۔ وہ داعی کی صداقت کی نشانیوں کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے وہ کھلے دل سے اس کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کا ذہن پہلے سے یہ طے كيے ہوئے ہوتاہے کہ اس کو دیکھنا اور ماننا نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کی ظاہری سادگی سے داعی اس خوش گمانی میں پڑ جاتا ہے کہ وہ قبولیت حق کے قریب ہیں۔ مگر خدا کی نظر میں وہ ایسے لوگ ہیں جوکان رکھتے ہوئے بہرے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے بن جائیں۔ ایسے لوگوں کو کبھی خدا کی طرف سے قبول حق کی توفیق نہیں ملتی۔ خدا نے انسان کو بہترین صلاحیتیں دی ہیں۔ اگر وہ ان صلاحیتوں کو استعمال کرے تو وہ کبھی گمراہ نہ ہو۔ مگر انسان اپنے کو آزاد پاکر غلط فہمی میں پڑجاتاہے۔ وہ بے جا سرکشی کرنے لگتاہے۔ ایسا اس ليے ہوتاہے کہ اس نے خدا کی اسکیم کو نہیں سمجھا، جو چیز اس کوآزمائش کے طورپر دی گئی تھی اس کو اس نے اپنا حق سمجھ لیا۔

يونس 10:43

ایمان نہ لانے والے خدا کی نظر میں مفسد ہیں ۔ کیوں کہ اپنی فطرت کو بگاڑ کر ہی کسی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ حق کو قبول کرنے سے باز رہے۔ ایسا آدمی اپنے ضمیر کی آواز کو دباتا ہے، وہ اپنے سوچنے کی صلاحیت کو استعمال نہیں کرتا، وہ کھلے کھلے دلائل کو جھوٹے الفاظ بول کر نظر انداز کردیتاہے، وہ سن کر نہیں سنتا اور سمجھنے کے باوجود سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا، وہ حق کے مقابلے میں اپنے تعصبات اور اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ بحث ومناظرہ کرنے والے لوگ آخر وقت تک اپنی بحث جاری رکھتے ہیں۔ ’’میرا معاملہ میرے ساتھ ہے اور تمھارا معاملہ تمھارے ساتھ‘‘۔ اس قسم کا جملہ کہنا ان کو اپنی شکست نظر آتاہے، مگر داعی فتح وشکست کی نفسیات سے بلند ہو کر کام کرتاہے۔ اس ليے جب وہ دیکھتا ہے کہ مخاطب ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آیا ہے اور مزید بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تو وہ یہ کہہ کر الگ ہوجاتا ہے کہ اصل فیصلہ اللہ کے یہاںہونا ہے۔ خدا کی میزان میں جو شخص جیسا نکلے گا ویسا ہی اس کا انجام ہوگا۔ حق کو نہ ماننے والوں میں ایک طبقہ وہ ہے جو شروع سے اپنا منکر ہونا ظاہر کردیتا ہے۔ مگر زیادہ ہوشیار قسم کے لوگ یہ کرتے ہیں کہ بظاہر وہ باتوں کو اس طرح سنتے ہیں گویا کہ وہ سچ مچ سمجھنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کے دل میں یہ ہوتاہے کہ اس کو سمجھنا نہیں ہے۔ وہ داعی کی صداقت کی نشانیوں کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے وہ کھلے دل سے اس کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کا ذہن پہلے سے یہ طے كيے ہوئے ہوتاہے کہ اس کو دیکھنا اور ماننا نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کی ظاہری سادگی سے داعی اس خوش گمانی میں پڑ جاتا ہے کہ وہ قبولیت حق کے قریب ہیں۔ مگر خدا کی نظر میں وہ ایسے لوگ ہیں جوکان رکھتے ہوئے بہرے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے بن جائیں۔ ایسے لوگوں کو کبھی خدا کی طرف سے قبول حق کی توفیق نہیں ملتی۔ خدا نے انسان کو بہترین صلاحیتیں دی ہیں۔ اگر وہ ان صلاحیتوں کو استعمال کرے تو وہ کبھی گمراہ نہ ہو۔ مگر انسان اپنے کو آزاد پاکر غلط فہمی میں پڑجاتاہے۔ وہ بے جا سرکشی کرنے لگتاہے۔ ایسا اس ليے ہوتاہے کہ اس نے خدا کی اسکیم کو نہیں سمجھا، جو چیز اس کوآزمائش کے طورپر دی گئی تھی اس کو اس نے اپنا حق سمجھ لیا۔

يونس 10:44

ایمان نہ لانے والے خدا کی نظر میں مفسد ہیں ۔ کیوں کہ اپنی فطرت کو بگاڑ کر ہی کسی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ حق کو قبول کرنے سے باز رہے۔ ایسا آدمی اپنے ضمیر کی آواز کو دباتا ہے، وہ اپنے سوچنے کی صلاحیت کو استعمال نہیں کرتا، وہ کھلے کھلے دلائل کو جھوٹے الفاظ بول کر نظر انداز کردیتاہے، وہ سن کر نہیں سنتا اور سمجھنے کے باوجود سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا، وہ حق کے مقابلے میں اپنے تعصبات اور اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ بحث ومناظرہ کرنے والے لوگ آخر وقت تک اپنی بحث جاری رکھتے ہیں۔ ’’میرا معاملہ میرے ساتھ ہے اور تمھارا معاملہ تمھارے ساتھ‘‘۔ اس قسم کا جملہ کہنا ان کو اپنی شکست نظر آتاہے، مگر داعی فتح وشکست کی نفسیات سے بلند ہو کر کام کرتاہے۔ اس ليے جب وہ دیکھتا ہے کہ مخاطب ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آیا ہے اور مزید بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تو وہ یہ کہہ کر الگ ہوجاتا ہے کہ اصل فیصلہ اللہ کے یہاںہونا ہے۔ خدا کی میزان میں جو شخص جیسا نکلے گا ویسا ہی اس کا انجام ہوگا۔ حق کو نہ ماننے والوں میں ایک طبقہ وہ ہے جو شروع سے اپنا منکر ہونا ظاہر کردیتا ہے۔ مگر زیادہ ہوشیار قسم کے لوگ یہ کرتے ہیں کہ بظاہر وہ باتوں کو اس طرح سنتے ہیں گویا کہ وہ سچ مچ سمجھنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کے دل میں یہ ہوتاہے کہ اس کو سمجھنا نہیں ہے۔ وہ داعی کی صداقت کی نشانیوں کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے وہ کھلے دل سے اس کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کا ذہن پہلے سے یہ طے كيے ہوئے ہوتاہے کہ اس کو دیکھنا اور ماننا نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کی ظاہری سادگی سے داعی اس خوش گمانی میں پڑ جاتا ہے کہ وہ قبولیت حق کے قریب ہیں۔ مگر خدا کی نظر میں وہ ایسے لوگ ہیں جوکان رکھتے ہوئے بہرے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے بن جائیں۔ ایسے لوگوں کو کبھی خدا کی طرف سے قبول حق کی توفیق نہیں ملتی۔ خدا نے انسان کو بہترین صلاحیتیں دی ہیں۔ اگر وہ ان صلاحیتوں کو استعمال کرے تو وہ کبھی گمراہ نہ ہو۔ مگر انسان اپنے کو آزاد پاکر غلط فہمی میں پڑجاتاہے۔ وہ بے جا سرکشی کرنے لگتاہے۔ ایسا اس ليے ہوتاہے کہ اس نے خدا کی اسکیم کو نہیں سمجھا، جو چیز اس کوآزمائش کے طورپر دی گئی تھی اس کو اس نے اپنا حق سمجھ لیا۔

يونس 10:45

آج آخرت انسان کے سامنے نہیں ہے۔ آج ایک دیکھنے والے کو اسے تصور کی نگاہ سے دیکھنا پڑتا ہے۔ اس ليے جو شخص آخرت کے معاملے میں سنجیدہ نہ ہو اس کو آخرت بہت دور کی چیز معلوم ہوگی۔ مگر جب آخرت سب سے بڑی حقیقت کی حیثیت سے انسان کے اوپر ٹوٹ پڑے گی اور وہ اس کو اس کی تمام سنگینیوں کے ساتھ اپنی آنکھ سے دیکھنے لگے گا، اس وقت وہ اپنی موجودہ سرکشی کو بھول جائے گا، اس وقت اس کو دنیا کے وہ لمحات بہت حقیر معلوم ہوں گے جن کی وجہ سے وہ غفلت میں پڑ گیا تھا اور آخرت کے بارے میں سوچنے پر تیار نہ ہوتاتھا۔ آخرت کسی اجنبی دنیا میں واقع نہیں ہوگی بلکہ ہماری جانی پہچانی دنیا میں واقع ہوگی۔ وہاں آدمی اپنے آپ کو اسی ماحول میں پائے گا جس ماحول میں اس نے اسے پہلے حق کا انکار کیا تھا، وہ اپنے آپ کو انھیں لوگوں کے درمیان دیکھے گا جن کے بل پر وہ سرکشی کرتا تھا مگر اس دن وہ لوگ اس کے کچھ کام نہ آئیں گے۔ اس وقت ہر بات اس کے ذہن میں اس طرح تازہ ہوگی گویا اس پر کوئی مدت گزری ہی نہیں۔ داعی اور مدعو کا معاملہ آسمان کے نیچے پیش آنے والے تمام معاملات میں سب سے زیادہ نازک معاملہ ہے۔ داعی اگر فی الواقع حق کو لے کر اٹھا ہے تو وہ اس دنیا میں خدا کا نمائندہ ہے۔ اس کا اقرار خدا کا اقرار ہے اور اس کا انکار خدا کا انکار۔ ایسا ایک واقعہ انجام سے خالی نہیں ہوسکتا۔ داعیٔ حق کے ظہور کے بعد لازماً ایسا ہوتا ہے کہ اس کی زبان سے جاری ہونے والے ربانی کلام کے سامنے تمام لوگ بے دلیل ہو کر رہ جاتے ہیں۔ یہ باطل کے اوپر حق کی پہلی فتح ہے۔ دوسری فتح آخرت میں ہوگی جب کہ اس کے مخالفین خدا کے اذن سے اس کے مقابلہ میں بے زور ہو کر رہ جائیں گے۔ پہلا واقعہ لازمی طورپر اسی دنیا میں پیش آتاہے اور دوسرا واقعہ بھی جزئی طور پر موجودہ دنیامیں ظاہر ہوتا ہے اگر خدا اس کو موجودہ دنیا میں ظاہر کرنا چاہے۔ یہ معاملہ ہر گروہ کے ساتھ پیش آنا لازمی ہے جب کہ وہ براہِ راست خدا کے سامنے کھڑا ہونے سے پہلے موجودہ دنیا میں بالواسطہ طور پر نمائندۂ خدا کے سامنے کھڑا کیا جائے۔ اس طرح خدا دیکھتا ہے کہ کون ہے جو اس وقت اپنے آپ کو خدا کے حوالے کردیتاہے جب کہ خدا ابھی غیب میں ہے اور کون ہے جو ایسا نہیں کرتا۔ پہلی قسم کے لوگوں کہ لیے جنت ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کے لیے دوزخ۔

يونس 10:46

آج آخرت انسان کے سامنے نہیں ہے۔ آج ایک دیکھنے والے کو اسے تصور کی نگاہ سے دیکھنا پڑتا ہے۔ اس ليے جو شخص آخرت کے معاملے میں سنجیدہ نہ ہو اس کو آخرت بہت دور کی چیز معلوم ہوگی۔ مگر جب آخرت سب سے بڑی حقیقت کی حیثیت سے انسان کے اوپر ٹوٹ پڑے گی اور وہ اس کو اس کی تمام سنگینیوں کے ساتھ اپنی آنکھ سے دیکھنے لگے گا، اس وقت وہ اپنی موجودہ سرکشی کو بھول جائے گا، اس وقت اس کو دنیا کے وہ لمحات بہت حقیر معلوم ہوں گے جن کی وجہ سے وہ غفلت میں پڑ گیا تھا اور آخرت کے بارے میں سوچنے پر تیار نہ ہوتاتھا۔ آخرت کسی اجنبی دنیا میں واقع نہیں ہوگی بلکہ ہماری جانی پہچانی دنیا میں واقع ہوگی۔ وہاں آدمی اپنے آپ کو اسی ماحول میں پائے گا جس ماحول میں اس نے اسے پہلے حق کا انکار کیا تھا، وہ اپنے آپ کو انھیں لوگوں کے درمیان دیکھے گا جن کے بل پر وہ سرکشی کرتا تھا مگر اس دن وہ لوگ اس کے کچھ کام نہ آئیں گے۔ اس وقت ہر بات اس کے ذہن میں اس طرح تازہ ہوگی گویا اس پر کوئی مدت گزری ہی نہیں۔ داعی اور مدعو کا معاملہ آسمان کے نیچے پیش آنے والے تمام معاملات میں سب سے زیادہ نازک معاملہ ہے۔ داعی اگر فی الواقع حق کو لے کر اٹھا ہے تو وہ اس دنیا میں خدا کا نمائندہ ہے۔ اس کا اقرار خدا کا اقرار ہے اور اس کا انکار خدا کا انکار۔ ایسا ایک واقعہ انجام سے خالی نہیں ہوسکتا۔ داعیٔ حق کے ظہور کے بعد لازماً ایسا ہوتا ہے کہ اس کی زبان سے جاری ہونے والے ربانی کلام کے سامنے تمام لوگ بے دلیل ہو کر رہ جاتے ہیں۔ یہ باطل کے اوپر حق کی پہلی فتح ہے۔ دوسری فتح آخرت میں ہوگی جب کہ اس کے مخالفین خدا کے اذن سے اس کے مقابلہ میں بے زور ہو کر رہ جائیں گے۔ پہلا واقعہ لازمی طورپر اسی دنیا میں پیش آتاہے اور دوسرا واقعہ بھی جزئی طور پر موجودہ دنیامیں ظاہر ہوتا ہے اگر خدا اس کو موجودہ دنیا میں ظاہر کرنا چاہے۔ یہ معاملہ ہر گروہ کے ساتھ پیش آنا لازمی ہے جب کہ وہ براہِ راست خدا کے سامنے کھڑا ہونے سے پہلے موجودہ دنیا میں بالواسطہ طور پر نمائندۂ خدا کے سامنے کھڑا کیا جائے۔ اس طرح خدا دیکھتا ہے کہ کون ہے جو اس وقت اپنے آپ کو خدا کے حوالے کردیتاہے جب کہ خدا ابھی غیب میں ہے اور کون ہے جو ایسا نہیں کرتا۔ پہلی قسم کے لوگوں کہ لیے جنت ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کے لیے دوزخ۔

يونس 10:47

آج آخرت انسان کے سامنے نہیں ہے۔ آج ایک دیکھنے والے کو اسے تصور کی نگاہ سے دیکھنا پڑتا ہے۔ اس ليے جو شخص آخرت کے معاملے میں سنجیدہ نہ ہو اس کو آخرت بہت دور کی چیز معلوم ہوگی۔ مگر جب آخرت سب سے بڑی حقیقت کی حیثیت سے انسان کے اوپر ٹوٹ پڑے گی اور وہ اس کو اس کی تمام سنگینیوں کے ساتھ اپنی آنکھ سے دیکھنے لگے گا، اس وقت وہ اپنی موجودہ سرکشی کو بھول جائے گا، اس وقت اس کو دنیا کے وہ لمحات بہت حقیر معلوم ہوں گے جن کی وجہ سے وہ غفلت میں پڑ گیا تھا اور آخرت کے بارے میں سوچنے پر تیار نہ ہوتاتھا۔ آخرت کسی اجنبی دنیا میں واقع نہیں ہوگی بلکہ ہماری جانی پہچانی دنیا میں واقع ہوگی۔ وہاں آدمی اپنے آپ کو اسی ماحول میں پائے گا جس ماحول میں اس نے اسے پہلے حق کا انکار کیا تھا، وہ اپنے آپ کو انھیں لوگوں کے درمیان دیکھے گا جن کے بل پر وہ سرکشی کرتا تھا مگر اس دن وہ لوگ اس کے کچھ کام نہ آئیں گے۔ اس وقت ہر بات اس کے ذہن میں اس طرح تازہ ہوگی گویا اس پر کوئی مدت گزری ہی نہیں۔ داعی اور مدعو کا معاملہ آسمان کے نیچے پیش آنے والے تمام معاملات میں سب سے زیادہ نازک معاملہ ہے۔ داعی اگر فی الواقع حق کو لے کر اٹھا ہے تو وہ اس دنیا میں خدا کا نمائندہ ہے۔ اس کا اقرار خدا کا اقرار ہے اور اس کا انکار خدا کا انکار۔ ایسا ایک واقعہ انجام سے خالی نہیں ہوسکتا۔ داعیٔ حق کے ظہور کے بعد لازماً ایسا ہوتا ہے کہ اس کی زبان سے جاری ہونے والے ربانی کلام کے سامنے تمام لوگ بے دلیل ہو کر رہ جاتے ہیں۔ یہ باطل کے اوپر حق کی پہلی فتح ہے۔ دوسری فتح آخرت میں ہوگی جب کہ اس کے مخالفین خدا کے اذن سے اس کے مقابلہ میں بے زور ہو کر رہ جائیں گے۔ پہلا واقعہ لازمی طورپر اسی دنیا میں پیش آتاہے اور دوسرا واقعہ بھی جزئی طور پر موجودہ دنیامیں ظاہر ہوتا ہے اگر خدا اس کو موجودہ دنیا میں ظاہر کرنا چاہے۔ یہ معاملہ ہر گروہ کے ساتھ پیش آنا لازمی ہے جب کہ وہ براہِ راست خدا کے سامنے کھڑا ہونے سے پہلے موجودہ دنیا میں بالواسطہ طور پر نمائندۂ خدا کے سامنے کھڑا کیا جائے۔ اس طرح خدا دیکھتا ہے کہ کون ہے جو اس وقت اپنے آپ کو خدا کے حوالے کردیتاہے جب کہ خدا ابھی غیب میں ہے اور کون ہے جو ایسا نہیں کرتا۔ پہلی قسم کے لوگوں کہ لیے جنت ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کے لیے دوزخ۔

يونس 10:48

انسان موجودہ دنیامیں اپنے کو آزاد پاتاہے۔ وہ بظاہر دیکھتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے، کوئی اس کو پکڑنے والا نہیں، کوئی اس کو سزا دینے والا نہیں۔ یہ صورت حال اس کو بھلاوے میں ڈال دیتی ہے۔ حتی کہ خدا کا داعی جب اس کو اس کے عمل کے انجام سے ڈراتاہے تو وہ خدا کے داعی کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ وہ کہتا ہے — ہماری سرکشی پر تم جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ کب پوری ہوگی۔ اس قسم کی باتوں کا سبب نادانی کے سوا اور کچھ نہیں۔کیوں کہ یہ پکڑ خود داعیٔ حق کی طرف سے نہیں آنے والی ہے بلکہ خدا کی طرف سے آنے والی ہے۔ اور خدا ہر آن اپنی دنیا میں بتارہا ہے کہ اس کا طریقہ جلدی کا طریقہ نہیں۔ کشتی میں سوراخ ہو اور کوئی ملاح اس کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنی کشتی کو دریا میں ڈال دے تو خدا کا لازمی قانون ہے کہ ایسی کشتی پانی میں ڈوب جائے۔ مگر ایسی کشتی فوراً پانی میں نہیں ڈوبتی بلکہ خدا کی سنت کے مطابق اپنے مقرر وقت پر ڈوبتی ہے۔ اس قسم کی مثالیں دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں جو انسان کو خدائی سنت کا تعارف کرارہی ہیں مگر ان کو دیکھنے کے باوجود وہ کہتا ہے کہ اگر ان اعمال پر خدا کا عذاب ہے تو وہ عذاب جلد کیوں نہیں آجاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان خدا کی پکڑ کے بارے میں سنجیدہ نہیں۔ زلزلہ اور طوفان خدائی واقعات ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ جب معاملہ خدا اور انسان کے درمیان ہو تو فیصلہ کا اختیار تمام تر صرف فریقِ اول کو ہوتا ہے۔ مگرانسان اس پہلو پر غور نہیں کرتا۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ خدا کا قانون فوراً حرکت میں نہیں آرہا ہے اور چونکہ وہ فوراً حرکت میں نہیں آتا اس لیے وہ غفلت میں پڑا رہتاہے۔ مگر جب خدا کا فیصلہ آئے گا تو اس وقت انسان اپنے کو بے بس پاکر سب کچھ مان لے گا۔ حالاں کہ اس وقت کا ماننا کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوں کہ وہ عمل کا انجام پانے کا وقت ہوگا، نہ کہ عمل کرنے کا۔

يونس 10:49

انسان موجودہ دنیامیں اپنے کو آزاد پاتاہے۔ وہ بظاہر دیکھتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے، کوئی اس کو پکڑنے والا نہیں، کوئی اس کو سزا دینے والا نہیں۔ یہ صورت حال اس کو بھلاوے میں ڈال دیتی ہے۔ حتی کہ خدا کا داعی جب اس کو اس کے عمل کے انجام سے ڈراتاہے تو وہ خدا کے داعی کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ وہ کہتا ہے — ہماری سرکشی پر تم جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ کب پوری ہوگی۔ اس قسم کی باتوں کا سبب نادانی کے سوا اور کچھ نہیں۔کیوں کہ یہ پکڑ خود داعیٔ حق کی طرف سے نہیں آنے والی ہے بلکہ خدا کی طرف سے آنے والی ہے۔ اور خدا ہر آن اپنی دنیا میں بتارہا ہے کہ اس کا طریقہ جلدی کا طریقہ نہیں۔ کشتی میں سوراخ ہو اور کوئی ملاح اس کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنی کشتی کو دریا میں ڈال دے تو خدا کا لازمی قانون ہے کہ ایسی کشتی پانی میں ڈوب جائے۔ مگر ایسی کشتی فوراً پانی میں نہیں ڈوبتی بلکہ خدا کی سنت کے مطابق اپنے مقرر وقت پر ڈوبتی ہے۔ اس قسم کی مثالیں دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں جو انسان کو خدائی سنت کا تعارف کرارہی ہیں مگر ان کو دیکھنے کے باوجود وہ کہتا ہے کہ اگر ان اعمال پر خدا کا عذاب ہے تو وہ عذاب جلد کیوں نہیں آجاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان خدا کی پکڑ کے بارے میں سنجیدہ نہیں۔ زلزلہ اور طوفان خدائی واقعات ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ جب معاملہ خدا اور انسان کے درمیان ہو تو فیصلہ کا اختیار تمام تر صرف فریقِ اول کو ہوتا ہے۔ مگرانسان اس پہلو پر غور نہیں کرتا۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ خدا کا قانون فوراً حرکت میں نہیں آرہا ہے اور چونکہ وہ فوراً حرکت میں نہیں آتا اس لیے وہ غفلت میں پڑا رہتاہے۔ مگر جب خدا کا فیصلہ آئے گا تو اس وقت انسان اپنے کو بے بس پاکر سب کچھ مان لے گا۔ حالاں کہ اس وقت کا ماننا کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوں کہ وہ عمل کا انجام پانے کا وقت ہوگا، نہ کہ عمل کرنے کا۔

يونس 10:50

انسان موجودہ دنیامیں اپنے کو آزاد پاتاہے۔ وہ بظاہر دیکھتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے، کوئی اس کو پکڑنے والا نہیں، کوئی اس کو سزا دینے والا نہیں۔ یہ صورت حال اس کو بھلاوے میں ڈال دیتی ہے۔ حتی کہ خدا کا داعی جب اس کو اس کے عمل کے انجام سے ڈراتاہے تو وہ خدا کے داعی کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ وہ کہتا ہے — ہماری سرکشی پر تم جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ کب پوری ہوگی۔ اس قسم کی باتوں کا سبب نادانی کے سوا اور کچھ نہیں۔کیوں کہ یہ پکڑ خود داعیٔ حق کی طرف سے نہیں آنے والی ہے بلکہ خدا کی طرف سے آنے والی ہے۔ اور خدا ہر آن اپنی دنیا میں بتارہا ہے کہ اس کا طریقہ جلدی کا طریقہ نہیں۔ کشتی میں سوراخ ہو اور کوئی ملاح اس کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنی کشتی کو دریا میں ڈال دے تو خدا کا لازمی قانون ہے کہ ایسی کشتی پانی میں ڈوب جائے۔ مگر ایسی کشتی فوراً پانی میں نہیں ڈوبتی بلکہ خدا کی سنت کے مطابق اپنے مقرر وقت پر ڈوبتی ہے۔ اس قسم کی مثالیں دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں جو انسان کو خدائی سنت کا تعارف کرارہی ہیں مگر ان کو دیکھنے کے باوجود وہ کہتا ہے کہ اگر ان اعمال پر خدا کا عذاب ہے تو وہ عذاب جلد کیوں نہیں آجاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان خدا کی پکڑ کے بارے میں سنجیدہ نہیں۔ زلزلہ اور طوفان خدائی واقعات ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ جب معاملہ خدا اور انسان کے درمیان ہو تو فیصلہ کا اختیار تمام تر صرف فریقِ اول کو ہوتا ہے۔ مگرانسان اس پہلو پر غور نہیں کرتا۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ خدا کا قانون فوراً حرکت میں نہیں آرہا ہے اور چونکہ وہ فوراً حرکت میں نہیں آتا اس لیے وہ غفلت میں پڑا رہتاہے۔ مگر جب خدا کا فیصلہ آئے گا تو اس وقت انسان اپنے کو بے بس پاکر سب کچھ مان لے گا۔ حالاں کہ اس وقت کا ماننا کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوں کہ وہ عمل کا انجام پانے کا وقت ہوگا، نہ کہ عمل کرنے کا۔

يونس 10:51

انسان موجودہ دنیامیں اپنے کو آزاد پاتاہے۔ وہ بظاہر دیکھتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے، کوئی اس کو پکڑنے والا نہیں، کوئی اس کو سزا دینے والا نہیں۔ یہ صورت حال اس کو بھلاوے میں ڈال دیتی ہے۔ حتی کہ خدا کا داعی جب اس کو اس کے عمل کے انجام سے ڈراتاہے تو وہ خدا کے داعی کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ وہ کہتا ہے — ہماری سرکشی پر تم جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ کب پوری ہوگی۔ اس قسم کی باتوں کا سبب نادانی کے سوا اور کچھ نہیں۔کیوں کہ یہ پکڑ خود داعیٔ حق کی طرف سے نہیں آنے والی ہے بلکہ خدا کی طرف سے آنے والی ہے۔ اور خدا ہر آن اپنی دنیا میں بتارہا ہے کہ اس کا طریقہ جلدی کا طریقہ نہیں۔ کشتی میں سوراخ ہو اور کوئی ملاح اس کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنی کشتی کو دریا میں ڈال دے تو خدا کا لازمی قانون ہے کہ ایسی کشتی پانی میں ڈوب جائے۔ مگر ایسی کشتی فوراً پانی میں نہیں ڈوبتی بلکہ خدا کی سنت کے مطابق اپنے مقرر وقت پر ڈوبتی ہے۔ اس قسم کی مثالیں دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں جو انسان کو خدائی سنت کا تعارف کرارہی ہیں مگر ان کو دیکھنے کے باوجود وہ کہتا ہے کہ اگر ان اعمال پر خدا کا عذاب ہے تو وہ عذاب جلد کیوں نہیں آجاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان خدا کی پکڑ کے بارے میں سنجیدہ نہیں۔ زلزلہ اور طوفان خدائی واقعات ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ جب معاملہ خدا اور انسان کے درمیان ہو تو فیصلہ کا اختیار تمام تر صرف فریقِ اول کو ہوتا ہے۔ مگرانسان اس پہلو پر غور نہیں کرتا۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ خدا کا قانون فوراً حرکت میں نہیں آرہا ہے اور چونکہ وہ فوراً حرکت میں نہیں آتا اس لیے وہ غفلت میں پڑا رہتاہے۔ مگر جب خدا کا فیصلہ آئے گا تو اس وقت انسان اپنے کو بے بس پاکر سب کچھ مان لے گا۔ حالاں کہ اس وقت کا ماننا کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوں کہ وہ عمل کا انجام پانے کا وقت ہوگا، نہ کہ عمل کرنے کا۔

يونس 10:52

انسان موجودہ دنیامیں اپنے کو آزاد پاتاہے۔ وہ بظاہر دیکھتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے، کوئی اس کو پکڑنے والا نہیں، کوئی اس کو سزا دینے والا نہیں۔ یہ صورت حال اس کو بھلاوے میں ڈال دیتی ہے۔ حتی کہ خدا کا داعی جب اس کو اس کے عمل کے انجام سے ڈراتاہے تو وہ خدا کے داعی کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ وہ کہتا ہے — ہماری سرکشی پر تم جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ کب پوری ہوگی۔ اس قسم کی باتوں کا سبب نادانی کے سوا اور کچھ نہیں۔کیوں کہ یہ پکڑ خود داعیٔ حق کی طرف سے نہیں آنے والی ہے بلکہ خدا کی طرف سے آنے والی ہے۔ اور خدا ہر آن اپنی دنیا میں بتارہا ہے کہ اس کا طریقہ جلدی کا طریقہ نہیں۔ کشتی میں سوراخ ہو اور کوئی ملاح اس کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنی کشتی کو دریا میں ڈال دے تو خدا کا لازمی قانون ہے کہ ایسی کشتی پانی میں ڈوب جائے۔ مگر ایسی کشتی فوراً پانی میں نہیں ڈوبتی بلکہ خدا کی سنت کے مطابق اپنے مقرر وقت پر ڈوبتی ہے۔ اس قسم کی مثالیں دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں جو انسان کو خدائی سنت کا تعارف کرارہی ہیں مگر ان کو دیکھنے کے باوجود وہ کہتا ہے کہ اگر ان اعمال پر خدا کا عذاب ہے تو وہ عذاب جلد کیوں نہیں آجاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان خدا کی پکڑ کے بارے میں سنجیدہ نہیں۔ زلزلہ اور طوفان خدائی واقعات ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ جب معاملہ خدا اور انسان کے درمیان ہو تو فیصلہ کا اختیار تمام تر صرف فریقِ اول کو ہوتا ہے۔ مگرانسان اس پہلو پر غور نہیں کرتا۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ خدا کا قانون فوراً حرکت میں نہیں آرہا ہے اور چونکہ وہ فوراً حرکت میں نہیں آتا اس لیے وہ غفلت میں پڑا رہتاہے۔ مگر جب خدا کا فیصلہ آئے گا تو اس وقت انسان اپنے کو بے بس پاکر سب کچھ مان لے گا۔ حالاں کہ اس وقت کا ماننا کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوں کہ وہ عمل کا انجام پانے کا وقت ہوگا، نہ کہ عمل کرنے کا۔

يونس 10:53

عرب کے لوگوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اگر تم نے اپنی اصلاح نہ کی تو تم کو آخرت کا عذاب پکڑ لے گا۔ اس کے جواب میںوہ آپ کی بات کا مذاق اڑانے لگے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ آخرت کے منکر تھے۔ وہ دراصل پیغمبر اسلام کی تنبیہ کو بے وزن سمجھ رہے تھے، نہ کہ نفس آخرت کو۔ پیغمبر اسلام کی عظمت اس وقت تک مسلّم نہ ہوئی تھی۔ اس وقت آپ کے مخاطبین آپ کو ایک معمولی انسان کے روپ میں دیکھتے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ ایسے معمولی انسان کی بات نہ ماننے سے ان کے اوپر خدا کا عذاب کیسے آجائے گا۔ انھیں آپ کے نمائندۂ خدا ہونے پر شک تھا، نہ کہ خود خدا اور آخرت پر۔ یہ تقابل حقیقۃً اقرار آخرت اور انکار آخرت کے درمیان نہ تھا۔ بلکہ بڑی شخصیت کے دین اور چھوٹی شخصیت کے دین کے درمیان تھا۔ وہ ماضی کے مشہور بزرگوں کے ساتھ اپنے کو منسوب کرتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو مسلّمہ شخصیتوں کے دین پر سمجھتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں جب وہ سامنے کے پیغمبر کو دیکھتے تو وہ ان کو ایک معمولی انسان کے روپ میں نظر آتا۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ تاریخ کی جن بڑی بڑی شخصیتوں کے ساتھ وہ اپنے کو وابستہ کیے ہوئے ہیں، ان سے وابستگی ان کے لیے باعث نجات نہ ہو۔ بلکہ نجات کے لیے یہ ضروری ہو کہ وہ اپنے آپ کو اس شخص کے ساتھ وابستہ کریں جس کو بظاہر کوئی تقدس اور عظمت حاصل نہیں۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کی وجہ سے ان کو یہ جرأت ہوئی کہ وہ آپ کا مذاق اڑائیں۔ آدمی ایک حساس مخلوق ہے۔ وہ تکلیف کو برداشت نہیںکرسکتا۔ دنیا میں جب تک اس کو عذاب کا سامنا نہیں ہے وہ حق کا مذاق اڑاتا ہے۔ وہ اس کو بے نیازی کے ساتھ ٹھکرا دیتاہے۔ مگر جب آخرت کا عذاب سامنے ہوگا تو اس پر اتنی گھبراہٹ طاری ہوگی کہ سب کچھ اس کو حقیر معلوم ہونے لگے گا۔ ساری دنیا کی دولت اور تمام دنیا کی نعمت بھی اگر اس کے پاس ہو تو عذاب کے مقابلہ میں وہ اتنی بے قیمت نظر آئے گی کہ وہ چاہے گا کہ سب کچھ دے کر صرف اتنا ہوجائے کہ وہ اس تکلیف سے نجات پاجائے۔ مگر آخرت کا مسئلہ کوئی سودے بازی کا مسئلہ نہیں۔ وہ تو اپنے كيے کا انجام بھگتنے کا مسئلہ ہے۔ زندگی اورموت کے بارے میں خدا کا جو منصوبہ ہے اس کا یہ لازمی جزء ہے۔ خدائی انصاف کا تقاضا ہے کہ وہ ہو۔ اور خدائی قدرت اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ بہر حال ہو کر رہے گا۔ اس کے پیش آنے میں جو کچھ دیر ہے، وہ صرف اس مقررہ وقت کے آنے کی ہے جب کہ موجودہ امتحان کی مدت ختم ہو اور سارے انسان خدا کے یہاں اپنے آخری انجام کا فیصلہ سننے کے لیے حاضر کرديے جائیں۔

يونس 10:54

عرب کے لوگوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اگر تم نے اپنی اصلاح نہ کی تو تم کو آخرت کا عذاب پکڑ لے گا۔ اس کے جواب میںوہ آپ کی بات کا مذاق اڑانے لگے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ آخرت کے منکر تھے۔ وہ دراصل پیغمبر اسلام کی تنبیہ کو بے وزن سمجھ رہے تھے، نہ کہ نفس آخرت کو۔ پیغمبر اسلام کی عظمت اس وقت تک مسلّم نہ ہوئی تھی۔ اس وقت آپ کے مخاطبین آپ کو ایک معمولی انسان کے روپ میں دیکھتے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ ایسے معمولی انسان کی بات نہ ماننے سے ان کے اوپر خدا کا عذاب کیسے آجائے گا۔ انھیں آپ کے نمائندۂ خدا ہونے پر شک تھا، نہ کہ خود خدا اور آخرت پر۔ یہ تقابل حقیقۃً اقرار آخرت اور انکار آخرت کے درمیان نہ تھا۔ بلکہ بڑی شخصیت کے دین اور چھوٹی شخصیت کے دین کے درمیان تھا۔ وہ ماضی کے مشہور بزرگوں کے ساتھ اپنے کو منسوب کرتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو مسلّمہ شخصیتوں کے دین پر سمجھتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں جب وہ سامنے کے پیغمبر کو دیکھتے تو وہ ان کو ایک معمولی انسان کے روپ میں نظر آتا۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ تاریخ کی جن بڑی بڑی شخصیتوں کے ساتھ وہ اپنے کو وابستہ کیے ہوئے ہیں، ان سے وابستگی ان کے لیے باعث نجات نہ ہو۔ بلکہ نجات کے لیے یہ ضروری ہو کہ وہ اپنے آپ کو اس شخص کے ساتھ وابستہ کریں جس کو بظاہر کوئی تقدس اور عظمت حاصل نہیں۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کی وجہ سے ان کو یہ جرأت ہوئی کہ وہ آپ کا مذاق اڑائیں۔ آدمی ایک حساس مخلوق ہے۔ وہ تکلیف کو برداشت نہیںکرسکتا۔ دنیا میں جب تک اس کو عذاب کا سامنا نہیں ہے وہ حق کا مذاق اڑاتا ہے۔ وہ اس کو بے نیازی کے ساتھ ٹھکرا دیتاہے۔ مگر جب آخرت کا عذاب سامنے ہوگا تو اس پر اتنی گھبراہٹ طاری ہوگی کہ سب کچھ اس کو حقیر معلوم ہونے لگے گا۔ ساری دنیا کی دولت اور تمام دنیا کی نعمت بھی اگر اس کے پاس ہو تو عذاب کے مقابلہ میں وہ اتنی بے قیمت نظر آئے گی کہ وہ چاہے گا کہ سب کچھ دے کر صرف اتنا ہوجائے کہ وہ اس تکلیف سے نجات پاجائے۔ مگر آخرت کا مسئلہ کوئی سودے بازی کا مسئلہ نہیں۔ وہ تو اپنے كيے کا انجام بھگتنے کا مسئلہ ہے۔ زندگی اورموت کے بارے میں خدا کا جو منصوبہ ہے اس کا یہ لازمی جزء ہے۔ خدائی انصاف کا تقاضا ہے کہ وہ ہو۔ اور خدائی قدرت اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ بہر حال ہو کر رہے گا۔ اس کے پیش آنے میں جو کچھ دیر ہے، وہ صرف اس مقررہ وقت کے آنے کی ہے جب کہ موجودہ امتحان کی مدت ختم ہو اور سارے انسان خدا کے یہاں اپنے آخری انجام کا فیصلہ سننے کے لیے حاضر کرديے جائیں۔

يونس 10:55

عرب کے لوگوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اگر تم نے اپنی اصلاح نہ کی تو تم کو آخرت کا عذاب پکڑ لے گا۔ اس کے جواب میںوہ آپ کی بات کا مذاق اڑانے لگے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ آخرت کے منکر تھے۔ وہ دراصل پیغمبر اسلام کی تنبیہ کو بے وزن سمجھ رہے تھے، نہ کہ نفس آخرت کو۔ پیغمبر اسلام کی عظمت اس وقت تک مسلّم نہ ہوئی تھی۔ اس وقت آپ کے مخاطبین آپ کو ایک معمولی انسان کے روپ میں دیکھتے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ ایسے معمولی انسان کی بات نہ ماننے سے ان کے اوپر خدا کا عذاب کیسے آجائے گا۔ انھیں آپ کے نمائندۂ خدا ہونے پر شک تھا، نہ کہ خود خدا اور آخرت پر۔ یہ تقابل حقیقۃً اقرار آخرت اور انکار آخرت کے درمیان نہ تھا۔ بلکہ بڑی شخصیت کے دین اور چھوٹی شخصیت کے دین کے درمیان تھا۔ وہ ماضی کے مشہور بزرگوں کے ساتھ اپنے کو منسوب کرتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو مسلّمہ شخصیتوں کے دین پر سمجھتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں جب وہ سامنے کے پیغمبر کو دیکھتے تو وہ ان کو ایک معمولی انسان کے روپ میں نظر آتا۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ تاریخ کی جن بڑی بڑی شخصیتوں کے ساتھ وہ اپنے کو وابستہ کیے ہوئے ہیں، ان سے وابستگی ان کے لیے باعث نجات نہ ہو۔ بلکہ نجات کے لیے یہ ضروری ہو کہ وہ اپنے آپ کو اس شخص کے ساتھ وابستہ کریں جس کو بظاہر کوئی تقدس اور عظمت حاصل نہیں۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کی وجہ سے ان کو یہ جرأت ہوئی کہ وہ آپ کا مذاق اڑائیں۔ آدمی ایک حساس مخلوق ہے۔ وہ تکلیف کو برداشت نہیںکرسکتا۔ دنیا میں جب تک اس کو عذاب کا سامنا نہیں ہے وہ حق کا مذاق اڑاتا ہے۔ وہ اس کو بے نیازی کے ساتھ ٹھکرا دیتاہے۔ مگر جب آخرت کا عذاب سامنے ہوگا تو اس پر اتنی گھبراہٹ طاری ہوگی کہ سب کچھ اس کو حقیر معلوم ہونے لگے گا۔ ساری دنیا کی دولت اور تمام دنیا کی نعمت بھی اگر اس کے پاس ہو تو عذاب کے مقابلہ میں وہ اتنی بے قیمت نظر آئے گی کہ وہ چاہے گا کہ سب کچھ دے کر صرف اتنا ہوجائے کہ وہ اس تکلیف سے نجات پاجائے۔ مگر آخرت کا مسئلہ کوئی سودے بازی کا مسئلہ نہیں۔ وہ تو اپنے كيے کا انجام بھگتنے کا مسئلہ ہے۔ زندگی اورموت کے بارے میں خدا کا جو منصوبہ ہے اس کا یہ لازمی جزء ہے۔ خدائی انصاف کا تقاضا ہے کہ وہ ہو۔ اور خدائی قدرت اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ بہر حال ہو کر رہے گا۔ اس کے پیش آنے میں جو کچھ دیر ہے، وہ صرف اس مقررہ وقت کے آنے کی ہے جب کہ موجودہ امتحان کی مدت ختم ہو اور سارے انسان خدا کے یہاں اپنے آخری انجام کا فیصلہ سننے کے لیے حاضر کرديے جائیں۔

يونس 10:56

عرب کے لوگوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اگر تم نے اپنی اصلاح نہ کی تو تم کو آخرت کا عذاب پکڑ لے گا۔ اس کے جواب میںوہ آپ کی بات کا مذاق اڑانے لگے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ آخرت کے منکر تھے۔ وہ دراصل پیغمبر اسلام کی تنبیہ کو بے وزن سمجھ رہے تھے، نہ کہ نفس آخرت کو۔ پیغمبر اسلام کی عظمت اس وقت تک مسلّم نہ ہوئی تھی۔ اس وقت آپ کے مخاطبین آپ کو ایک معمولی انسان کے روپ میں دیکھتے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ ایسے معمولی انسان کی بات نہ ماننے سے ان کے اوپر خدا کا عذاب کیسے آجائے گا۔ انھیں آپ کے نمائندۂ خدا ہونے پر شک تھا، نہ کہ خود خدا اور آخرت پر۔ یہ تقابل حقیقۃً اقرار آخرت اور انکار آخرت کے درمیان نہ تھا۔ بلکہ بڑی شخصیت کے دین اور چھوٹی شخصیت کے دین کے درمیان تھا۔ وہ ماضی کے مشہور بزرگوں کے ساتھ اپنے کو منسوب کرتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو مسلّمہ شخصیتوں کے دین پر سمجھتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں جب وہ سامنے کے پیغمبر کو دیکھتے تو وہ ان کو ایک معمولی انسان کے روپ میں نظر آتا۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ تاریخ کی جن بڑی بڑی شخصیتوں کے ساتھ وہ اپنے کو وابستہ کیے ہوئے ہیں، ان سے وابستگی ان کے لیے باعث نجات نہ ہو۔ بلکہ نجات کے لیے یہ ضروری ہو کہ وہ اپنے آپ کو اس شخص کے ساتھ وابستہ کریں جس کو بظاہر کوئی تقدس اور عظمت حاصل نہیں۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کی وجہ سے ان کو یہ جرأت ہوئی کہ وہ آپ کا مذاق اڑائیں۔ آدمی ایک حساس مخلوق ہے۔ وہ تکلیف کو برداشت نہیںکرسکتا۔ دنیا میں جب تک اس کو عذاب کا سامنا نہیں ہے وہ حق کا مذاق اڑاتا ہے۔ وہ اس کو بے نیازی کے ساتھ ٹھکرا دیتاہے۔ مگر جب آخرت کا عذاب سامنے ہوگا تو اس پر اتنی گھبراہٹ طاری ہوگی کہ سب کچھ اس کو حقیر معلوم ہونے لگے گا۔ ساری دنیا کی دولت اور تمام دنیا کی نعمت بھی اگر اس کے پاس ہو تو عذاب کے مقابلہ میں وہ اتنی بے قیمت نظر آئے گی کہ وہ چاہے گا کہ سب کچھ دے کر صرف اتنا ہوجائے کہ وہ اس تکلیف سے نجات پاجائے۔ مگر آخرت کا مسئلہ کوئی سودے بازی کا مسئلہ نہیں۔ وہ تو اپنے كيے کا انجام بھگتنے کا مسئلہ ہے۔ زندگی اورموت کے بارے میں خدا کا جو منصوبہ ہے اس کا یہ لازمی جزء ہے۔ خدائی انصاف کا تقاضا ہے کہ وہ ہو۔ اور خدائی قدرت اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ بہر حال ہو کر رہے گا۔ اس کے پیش آنے میں جو کچھ دیر ہے، وہ صرف اس مقررہ وقت کے آنے کی ہے جب کہ موجودہ امتحان کی مدت ختم ہو اور سارے انسان خدا کے یہاں اپنے آخری انجام کا فیصلہ سننے کے لیے حاضر کرديے جائیں۔

يونس 10:57

انسان ایک نفسیاتی مخلوق ہے۔ نفسیات کے بننے سے وہ بنتا ہے اور نفسیات کے بگڑنے سے وہ بگڑ جاتا ہے۔ خدا کی کتاب کی صورت میں جو ہدایت اتری ہے وہ انسان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ اس میں انسان کے لیے بہترین نصیحت موجود ہے۔ مگر اس نصیحت کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی نے اپنی راست فکری نہ کھو ئی ہو۔ جو شخص اپنی راست فکری کی صلاحیت کو بگاڑ لے، اس کے لیے خدا کا نصیحت نامہ بے اثر رہے گا۔ موجودہ دنیا کی چیزیں اور اس کی رونقیں آدمی کے سامنے ’’نقد‘‘ ہوتی ہیں۔ آدمی ہر آن ان کی لذت اور خوبی کا تجربہ کرتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں آخرت کی نعمتیں صرف ’’وعدہ‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آدمی صرف ان کے بارے میں سنتا ہے، وہ ان کا تجربہ نہیں کرتا۔ اس بنا پر اکثر لوگ دنیا کی نقد چیزوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ مگر جو شخص گہرائی کے ساتھ سوچے گا وہ اس بات پر خوش ہوگا کہ خدا نے اپنی ہدایت اتار کر ا س کے لیے ابدی نعمتوں کے حصول کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اللہ نے جو کچھ انسان کو دیا ہے، خواہ وہ زرعی پیداوار کی صورت میں ہو یا دوسری صورت میں، سب کا سب رزق ہے۔ آدمی اگر ان چیزوں کو خدا کا دیا ہوا سمجھے اور خداکے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق ان میں تصرف کرے تو اس کے اندر خدا کے شکر کا جذبہ ابھرے گا۔ مگر شیطان ہمیشہ اس کوشش میں رہتاہے کہ وہ اس نسبت کو بدل دے، تاکہ اس ’’رزق‘‘ کے استعمال کے وقت آدمی کو خدائی یاد نہ آئے بلکہ دوسری چیزوں کی یاد آئے — قدیم زمانہ میں شیطان نے پیداوار میں مفروضہ دیوی دیوتاؤں کے مراسم مقرر كيے تاکہ آدمی ان کو لیتے ہوئے خدا کو یاد نہ کرے بلکہ دیوی دیوتاؤں کو یاد کرلے۔ موجودہ زمانہ میں یہی مقصد شیطان مادی توجیہات کے ذریعے حاصل کررہا ہے۔ وہ خدا کی طرف سے ملنے والی چیز کو مادی عوامل کے تحت ملنے والی چیز بنا کر لوگوں کو دکھا رہا ہے تا کہ لوگ جب ان نعمتوں کو پائیں تو وہ اس کو خدا کا رزق نہ سمجھیں بلکہ صرف مادہ کا کرشمہ سمجھیں۔

يونس 10:58

انسان ایک نفسیاتی مخلوق ہے۔ نفسیات کے بننے سے وہ بنتا ہے اور نفسیات کے بگڑنے سے وہ بگڑ جاتا ہے۔ خدا کی کتاب کی صورت میں جو ہدایت اتری ہے وہ انسان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ اس میں انسان کے لیے بہترین نصیحت موجود ہے۔ مگر اس نصیحت کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی نے اپنی راست فکری نہ کھو ئی ہو۔ جو شخص اپنی راست فکری کی صلاحیت کو بگاڑ لے، اس کے لیے خدا کا نصیحت نامہ بے اثر رہے گا۔ موجودہ دنیا کی چیزیں اور اس کی رونقیں آدمی کے سامنے ’’نقد‘‘ ہوتی ہیں۔ آدمی ہر آن ان کی لذت اور خوبی کا تجربہ کرتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں آخرت کی نعمتیں صرف ’’وعدہ‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آدمی صرف ان کے بارے میں سنتا ہے، وہ ان کا تجربہ نہیں کرتا۔ اس بنا پر اکثر لوگ دنیا کی نقد چیزوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ مگر جو شخص گہرائی کے ساتھ سوچے گا وہ اس بات پر خوش ہوگا کہ خدا نے اپنی ہدایت اتار کر ا س کے لیے ابدی نعمتوں کے حصول کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اللہ نے جو کچھ انسان کو دیا ہے، خواہ وہ زرعی پیداوار کی صورت میں ہو یا دوسری صورت میں، سب کا سب رزق ہے۔ آدمی اگر ان چیزوں کو خدا کا دیا ہوا سمجھے اور خداکے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق ان میں تصرف کرے تو اس کے اندر خدا کے شکر کا جذبہ ابھرے گا۔ مگر شیطان ہمیشہ اس کوشش میں رہتاہے کہ وہ اس نسبت کو بدل دے، تاکہ اس ’’رزق‘‘ کے استعمال کے وقت آدمی کو خدائی یاد نہ آئے بلکہ دوسری چیزوں کی یاد آئے — قدیم زمانہ میں شیطان نے پیداوار میں مفروضہ دیوی دیوتاؤں کے مراسم مقرر كيے تاکہ آدمی ان کو لیتے ہوئے خدا کو یاد نہ کرے بلکہ دیوی دیوتاؤں کو یاد کرلے۔ موجودہ زمانہ میں یہی مقصد شیطان مادی توجیہات کے ذریعے حاصل کررہا ہے۔ وہ خدا کی طرف سے ملنے والی چیز کو مادی عوامل کے تحت ملنے والی چیز بنا کر لوگوں کو دکھا رہا ہے تا کہ لوگ جب ان نعمتوں کو پائیں تو وہ اس کو خدا کا رزق نہ سمجھیں بلکہ صرف مادہ کا کرشمہ سمجھیں۔

يونس 10:59

انسان ایک نفسیاتی مخلوق ہے۔ نفسیات کے بننے سے وہ بنتا ہے اور نفسیات کے بگڑنے سے وہ بگڑ جاتا ہے۔ خدا کی کتاب کی صورت میں جو ہدایت اتری ہے وہ انسان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ اس میں انسان کے لیے بہترین نصیحت موجود ہے۔ مگر اس نصیحت کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی نے اپنی راست فکری نہ کھو ئی ہو۔ جو شخص اپنی راست فکری کی صلاحیت کو بگاڑ لے، اس کے لیے خدا کا نصیحت نامہ بے اثر رہے گا۔ موجودہ دنیا کی چیزیں اور اس کی رونقیں آدمی کے سامنے ’’نقد‘‘ ہوتی ہیں۔ آدمی ہر آن ان کی لذت اور خوبی کا تجربہ کرتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں آخرت کی نعمتیں صرف ’’وعدہ‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آدمی صرف ان کے بارے میں سنتا ہے، وہ ان کا تجربہ نہیں کرتا۔ اس بنا پر اکثر لوگ دنیا کی نقد چیزوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ مگر جو شخص گہرائی کے ساتھ سوچے گا وہ اس بات پر خوش ہوگا کہ خدا نے اپنی ہدایت اتار کر ا س کے لیے ابدی نعمتوں کے حصول کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اللہ نے جو کچھ انسان کو دیا ہے، خواہ وہ زرعی پیداوار کی صورت میں ہو یا دوسری صورت میں، سب کا سب رزق ہے۔ آدمی اگر ان چیزوں کو خدا کا دیا ہوا سمجھے اور خداکے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق ان میں تصرف کرے تو اس کے اندر خدا کے شکر کا جذبہ ابھرے گا۔ مگر شیطان ہمیشہ اس کوشش میں رہتاہے کہ وہ اس نسبت کو بدل دے، تاکہ اس ’’رزق‘‘ کے استعمال کے وقت آدمی کو خدائی یاد نہ آئے بلکہ دوسری چیزوں کی یاد آئے — قدیم زمانہ میں شیطان نے پیداوار میں مفروضہ دیوی دیوتاؤں کے مراسم مقرر كيے تاکہ آدمی ان کو لیتے ہوئے خدا کو یاد نہ کرے بلکہ دیوی دیوتاؤں کو یاد کرلے۔ موجودہ زمانہ میں یہی مقصد شیطان مادی توجیہات کے ذریعے حاصل کررہا ہے۔ وہ خدا کی طرف سے ملنے والی چیز کو مادی عوامل کے تحت ملنے والی چیز بنا کر لوگوں کو دکھا رہا ہے تا کہ لوگ جب ان نعمتوں کو پائیں تو وہ اس کو خدا کا رزق نہ سمجھیں بلکہ صرف مادہ کا کرشمہ سمجھیں۔

يونس 10:60

انسان ایک نفسیاتی مخلوق ہے۔ نفسیات کے بننے سے وہ بنتا ہے اور نفسیات کے بگڑنے سے وہ بگڑ جاتا ہے۔ خدا کی کتاب کی صورت میں جو ہدایت اتری ہے وہ انسان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ اس میں انسان کے لیے بہترین نصیحت موجود ہے۔ مگر اس نصیحت کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی نے اپنی راست فکری نہ کھو ئی ہو۔ جو شخص اپنی راست فکری کی صلاحیت کو بگاڑ لے، اس کے لیے خدا کا نصیحت نامہ بے اثر رہے گا۔ موجودہ دنیا کی چیزیں اور اس کی رونقیں آدمی کے سامنے ’’نقد‘‘ ہوتی ہیں۔ آدمی ہر آن ان کی لذت اور خوبی کا تجربہ کرتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں آخرت کی نعمتیں صرف ’’وعدہ‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آدمی صرف ان کے بارے میں سنتا ہے، وہ ان کا تجربہ نہیں کرتا۔ اس بنا پر اکثر لوگ دنیا کی نقد چیزوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ مگر جو شخص گہرائی کے ساتھ سوچے گا وہ اس بات پر خوش ہوگا کہ خدا نے اپنی ہدایت اتار کر ا س کے لیے ابدی نعمتوں کے حصول کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اللہ نے جو کچھ انسان کو دیا ہے، خواہ وہ زرعی پیداوار کی صورت میں ہو یا دوسری صورت میں، سب کا سب رزق ہے۔ آدمی اگر ان چیزوں کو خدا کا دیا ہوا سمجھے اور خداکے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق ان میں تصرف کرے تو اس کے اندر خدا کے شکر کا جذبہ ابھرے گا۔ مگر شیطان ہمیشہ اس کوشش میں رہتاہے کہ وہ اس نسبت کو بدل دے، تاکہ اس ’’رزق‘‘ کے استعمال کے وقت آدمی کو خدائی یاد نہ آئے بلکہ دوسری چیزوں کی یاد آئے — قدیم زمانہ میں شیطان نے پیداوار میں مفروضہ دیوی دیوتاؤں کے مراسم مقرر كيے تاکہ آدمی ان کو لیتے ہوئے خدا کو یاد نہ کرے بلکہ دیوی دیوتاؤں کو یاد کرلے۔ موجودہ زمانہ میں یہی مقصد شیطان مادی توجیہات کے ذریعے حاصل کررہا ہے۔ وہ خدا کی طرف سے ملنے والی چیز کو مادی عوامل کے تحت ملنے والی چیز بنا کر لوگوں کو دکھا رہا ہے تا کہ لوگ جب ان نعمتوں کو پائیں تو وہ اس کو خدا کا رزق نہ سمجھیں بلکہ صرف مادہ کا کرشمہ سمجھیں۔

يونس 10:61

دعوت اس دنیا کے تمام کاموںمیں مشکل ترین کام ہے۔ داعی اپنے پورے وجود کو دعوتی عمل میں شامل کرتاہے، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ کسی پیغام کا داعی بن سکے۔ اس سے بھی زیادہ سخت مرحلہ وہ ہے جو مخاطبین کی طرف سے پیش آتاہے۔ داعی جب خدا کے دین کو بے آمیز صورت میں پیش کرتاہے اور اس کو کھلے دلائل کی زبان میں مبرہن کردیتاہے تو وہ تمام لوگ بپھر اٹھتے ہیں جو خود ساختہ دین کو خدا کا دین بتا کر دین دار بنے ہوئے ہوں یا دینی پیشوائی کا مقام حاصل كيے ہوئے ہوں۔ وہ داعی کو زیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے بنیاد پروپیگنڈا، سازشیں، حتی کہ جارحانہ کارروائیاں، ہر چیز کو وہ اپنے لیے جائز کرلیتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں ملی ہوئی آزادی انھیں موقع دیتی ہے اور وہ داعی کے خلاف جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ صورت حال یہاں تک پہنچتی ہے کہ دلیل کی طاقت تمام تر ایک طرف ہوجاتی ہے اور مادیات کی طاقت تمام تردوسری طرف۔ یہ صورت حال بلا شبہ بے حد سخت ہے۔ اس کے بعد ایک طرف یہ ہوتاہے کہ مخالفین حق کے حوصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے کو کامیاب سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف داعی پر بھی یہ خیال گزرتا ہے کہ کیا خدا اس معاملے میں غیر جانب دار ہے۔ کیا وہ مجھے حق وباطل کے اس معرکہ میں ڈال کر خود علیحدہ ہوگیا ہے۔ مگرایسا نہیں ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا حق کا ساتھ نہ دے۔ مخالفین کا بے دلیل ہوجانا اور دلیل کی قوت کا تمام تر داعی کی طر ف ہونا یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا داعی کے ساتھ ہے نہ کہ دوسرے گروہ کے ساتھ۔ کیوں کہ دلیل موجودہ دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے جس کے ساتھ دلیل ہے اس کے ساتھ گویا خدا ہے۔ مخالفینِ حق کو جارحیت کا موقع صرف اس آزادی کی وجہ سے مل رہا ہے جو امتحان کی خاطر انھیں دی گئی ہے۔ امتحانی دنیا کے ختم ہوتے ہی یہ صورت حال بدل جائے گی۔ اس وقت عزت وبرتری اس کے لیے ہوگی جو دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوا تھا۔ جو لوگ دلیل سے خالی تھے وہ وہاں کی دنیا میں رسوا اور ناکام ہو کر رہ جائيں گے۔ اللہ کے سچے داعیوں کا گروہ خداکے دوستوں کا گروہ ہے۔ اللہ ان کو آخرت میں ایک ایسی اعلیٰ زندگی کی خوش خبری دیتا ہے جہاں نہ انھیں پچھلی زندگی کے لیے کوئی پچھتاوا ہوگا اور نہ اگلی زندگی کے لیے کوئی اندیشہ۔

يونس 10:62

دعوت اس دنیا کے تمام کاموںمیں مشکل ترین کام ہے۔ داعی اپنے پورے وجود کو دعوتی عمل میں شامل کرتاہے، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ کسی پیغام کا داعی بن سکے۔ اس سے بھی زیادہ سخت مرحلہ وہ ہے جو مخاطبین کی طرف سے پیش آتاہے۔ داعی جب خدا کے دین کو بے آمیز صورت میں پیش کرتاہے اور اس کو کھلے دلائل کی زبان میں مبرہن کردیتاہے تو وہ تمام لوگ بپھر اٹھتے ہیں جو خود ساختہ دین کو خدا کا دین بتا کر دین دار بنے ہوئے ہوں یا دینی پیشوائی کا مقام حاصل كيے ہوئے ہوں۔ وہ داعی کو زیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے بنیاد پروپیگنڈا، سازشیں، حتی کہ جارحانہ کارروائیاں، ہر چیز کو وہ اپنے لیے جائز کرلیتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں ملی ہوئی آزادی انھیں موقع دیتی ہے اور وہ داعی کے خلاف جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ صورت حال یہاں تک پہنچتی ہے کہ دلیل کی طاقت تمام تر ایک طرف ہوجاتی ہے اور مادیات کی طاقت تمام تردوسری طرف۔ یہ صورت حال بلا شبہ بے حد سخت ہے۔ اس کے بعد ایک طرف یہ ہوتاہے کہ مخالفین حق کے حوصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے کو کامیاب سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف داعی پر بھی یہ خیال گزرتا ہے کہ کیا خدا اس معاملے میں غیر جانب دار ہے۔ کیا وہ مجھے حق وباطل کے اس معرکہ میں ڈال کر خود علیحدہ ہوگیا ہے۔ مگرایسا نہیں ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا حق کا ساتھ نہ دے۔ مخالفین کا بے دلیل ہوجانا اور دلیل کی قوت کا تمام تر داعی کی طر ف ہونا یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا داعی کے ساتھ ہے نہ کہ دوسرے گروہ کے ساتھ۔ کیوں کہ دلیل موجودہ دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے جس کے ساتھ دلیل ہے اس کے ساتھ گویا خدا ہے۔ مخالفینِ حق کو جارحیت کا موقع صرف اس آزادی کی وجہ سے مل رہا ہے جو امتحان کی خاطر انھیں دی گئی ہے۔ امتحانی دنیا کے ختم ہوتے ہی یہ صورت حال بدل جائے گی۔ اس وقت عزت وبرتری اس کے لیے ہوگی جو دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوا تھا۔ جو لوگ دلیل سے خالی تھے وہ وہاں کی دنیا میں رسوا اور ناکام ہو کر رہ جائيں گے۔ اللہ کے سچے داعیوں کا گروہ خداکے دوستوں کا گروہ ہے۔ اللہ ان کو آخرت میں ایک ایسی اعلیٰ زندگی کی خوش خبری دیتا ہے جہاں نہ انھیں پچھلی زندگی کے لیے کوئی پچھتاوا ہوگا اور نہ اگلی زندگی کے لیے کوئی اندیشہ۔

يونس 10:63

دعوت اس دنیا کے تمام کاموںمیں مشکل ترین کام ہے۔ داعی اپنے پورے وجود کو دعوتی عمل میں شامل کرتاہے، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ کسی پیغام کا داعی بن سکے۔ اس سے بھی زیادہ سخت مرحلہ وہ ہے جو مخاطبین کی طرف سے پیش آتاہے۔ داعی جب خدا کے دین کو بے آمیز صورت میں پیش کرتاہے اور اس کو کھلے دلائل کی زبان میں مبرہن کردیتاہے تو وہ تمام لوگ بپھر اٹھتے ہیں جو خود ساختہ دین کو خدا کا دین بتا کر دین دار بنے ہوئے ہوں یا دینی پیشوائی کا مقام حاصل كيے ہوئے ہوں۔ وہ داعی کو زیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے بنیاد پروپیگنڈا، سازشیں، حتی کہ جارحانہ کارروائیاں، ہر چیز کو وہ اپنے لیے جائز کرلیتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں ملی ہوئی آزادی انھیں موقع دیتی ہے اور وہ داعی کے خلاف جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ صورت حال یہاں تک پہنچتی ہے کہ دلیل کی طاقت تمام تر ایک طرف ہوجاتی ہے اور مادیات کی طاقت تمام تردوسری طرف۔ یہ صورت حال بلا شبہ بے حد سخت ہے۔ اس کے بعد ایک طرف یہ ہوتاہے کہ مخالفین حق کے حوصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے کو کامیاب سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف داعی پر بھی یہ خیال گزرتا ہے کہ کیا خدا اس معاملے میں غیر جانب دار ہے۔ کیا وہ مجھے حق وباطل کے اس معرکہ میں ڈال کر خود علیحدہ ہوگیا ہے۔ مگرایسا نہیں ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا حق کا ساتھ نہ دے۔ مخالفین کا بے دلیل ہوجانا اور دلیل کی قوت کا تمام تر داعی کی طر ف ہونا یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا داعی کے ساتھ ہے نہ کہ دوسرے گروہ کے ساتھ۔ کیوں کہ دلیل موجودہ دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے جس کے ساتھ دلیل ہے اس کے ساتھ گویا خدا ہے۔ مخالفینِ حق کو جارحیت کا موقع صرف اس آزادی کی وجہ سے مل رہا ہے جو امتحان کی خاطر انھیں دی گئی ہے۔ امتحانی دنیا کے ختم ہوتے ہی یہ صورت حال بدل جائے گی۔ اس وقت عزت وبرتری اس کے لیے ہوگی جو دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوا تھا۔ جو لوگ دلیل سے خالی تھے وہ وہاں کی دنیا میں رسوا اور ناکام ہو کر رہ جائيں گے۔ اللہ کے سچے داعیوں کا گروہ خداکے دوستوں کا گروہ ہے۔ اللہ ان کو آخرت میں ایک ایسی اعلیٰ زندگی کی خوش خبری دیتا ہے جہاں نہ انھیں پچھلی زندگی کے لیے کوئی پچھتاوا ہوگا اور نہ اگلی زندگی کے لیے کوئی اندیشہ۔

يونس 10:64

دعوت اس دنیا کے تمام کاموںمیں مشکل ترین کام ہے۔ داعی اپنے پورے وجود کو دعوتی عمل میں شامل کرتاہے، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ کسی پیغام کا داعی بن سکے۔ اس سے بھی زیادہ سخت مرحلہ وہ ہے جو مخاطبین کی طرف سے پیش آتاہے۔ داعی جب خدا کے دین کو بے آمیز صورت میں پیش کرتاہے اور اس کو کھلے دلائل کی زبان میں مبرہن کردیتاہے تو وہ تمام لوگ بپھر اٹھتے ہیں جو خود ساختہ دین کو خدا کا دین بتا کر دین دار بنے ہوئے ہوں یا دینی پیشوائی کا مقام حاصل كيے ہوئے ہوں۔ وہ داعی کو زیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے بنیاد پروپیگنڈا، سازشیں، حتی کہ جارحانہ کارروائیاں، ہر چیز کو وہ اپنے لیے جائز کرلیتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں ملی ہوئی آزادی انھیں موقع دیتی ہے اور وہ داعی کے خلاف جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ صورت حال یہاں تک پہنچتی ہے کہ دلیل کی طاقت تمام تر ایک طرف ہوجاتی ہے اور مادیات کی طاقت تمام تردوسری طرف۔ یہ صورت حال بلا شبہ بے حد سخت ہے۔ اس کے بعد ایک طرف یہ ہوتاہے کہ مخالفین حق کے حوصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے کو کامیاب سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف داعی پر بھی یہ خیال گزرتا ہے کہ کیا خدا اس معاملے میں غیر جانب دار ہے۔ کیا وہ مجھے حق وباطل کے اس معرکہ میں ڈال کر خود علیحدہ ہوگیا ہے۔ مگرایسا نہیں ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا حق کا ساتھ نہ دے۔ مخالفین کا بے دلیل ہوجانا اور دلیل کی قوت کا تمام تر داعی کی طر ف ہونا یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا داعی کے ساتھ ہے نہ کہ دوسرے گروہ کے ساتھ۔ کیوں کہ دلیل موجودہ دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے جس کے ساتھ دلیل ہے اس کے ساتھ گویا خدا ہے۔ مخالفینِ حق کو جارحیت کا موقع صرف اس آزادی کی وجہ سے مل رہا ہے جو امتحان کی خاطر انھیں دی گئی ہے۔ امتحانی دنیا کے ختم ہوتے ہی یہ صورت حال بدل جائے گی۔ اس وقت عزت وبرتری اس کے لیے ہوگی جو دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوا تھا۔ جو لوگ دلیل سے خالی تھے وہ وہاں کی دنیا میں رسوا اور ناکام ہو کر رہ جائيں گے۔ اللہ کے سچے داعیوں کا گروہ خداکے دوستوں کا گروہ ہے۔ اللہ ان کو آخرت میں ایک ایسی اعلیٰ زندگی کی خوش خبری دیتا ہے جہاں نہ انھیں پچھلی زندگی کے لیے کوئی پچھتاوا ہوگا اور نہ اگلی زندگی کے لیے کوئی اندیشہ۔

يونس 10:65

دعوت اس دنیا کے تمام کاموںمیں مشکل ترین کام ہے۔ داعی اپنے پورے وجود کو دعوتی عمل میں شامل کرتاہے، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ کسی پیغام کا داعی بن سکے۔ اس سے بھی زیادہ سخت مرحلہ وہ ہے جو مخاطبین کی طرف سے پیش آتاہے۔ داعی جب خدا کے دین کو بے آمیز صورت میں پیش کرتاہے اور اس کو کھلے دلائل کی زبان میں مبرہن کردیتاہے تو وہ تمام لوگ بپھر اٹھتے ہیں جو خود ساختہ دین کو خدا کا دین بتا کر دین دار بنے ہوئے ہوں یا دینی پیشوائی کا مقام حاصل كيے ہوئے ہوں۔ وہ داعی کو زیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے بنیاد پروپیگنڈا، سازشیں، حتی کہ جارحانہ کارروائیاں، ہر چیز کو وہ اپنے لیے جائز کرلیتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں ملی ہوئی آزادی انھیں موقع دیتی ہے اور وہ داعی کے خلاف جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ صورت حال یہاں تک پہنچتی ہے کہ دلیل کی طاقت تمام تر ایک طرف ہوجاتی ہے اور مادیات کی طاقت تمام تردوسری طرف۔ یہ صورت حال بلا شبہ بے حد سخت ہے۔ اس کے بعد ایک طرف یہ ہوتاہے کہ مخالفین حق کے حوصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے کو کامیاب سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف داعی پر بھی یہ خیال گزرتا ہے کہ کیا خدا اس معاملے میں غیر جانب دار ہے۔ کیا وہ مجھے حق وباطل کے اس معرکہ میں ڈال کر خود علیحدہ ہوگیا ہے۔ مگرایسا نہیں ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا حق کا ساتھ نہ دے۔ مخالفین کا بے دلیل ہوجانا اور دلیل کی قوت کا تمام تر داعی کی طر ف ہونا یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا داعی کے ساتھ ہے نہ کہ دوسرے گروہ کے ساتھ۔ کیوں کہ دلیل موجودہ دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے جس کے ساتھ دلیل ہے اس کے ساتھ گویا خدا ہے۔ مخالفینِ حق کو جارحیت کا موقع صرف اس آزادی کی وجہ سے مل رہا ہے جو امتحان کی خاطر انھیں دی گئی ہے۔ امتحانی دنیا کے ختم ہوتے ہی یہ صورت حال بدل جائے گی۔ اس وقت عزت وبرتری اس کے لیے ہوگی جو دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوا تھا۔ جو لوگ دلیل سے خالی تھے وہ وہاں کی دنیا میں رسوا اور ناکام ہو کر رہ جائيں گے۔ اللہ کے سچے داعیوں کا گروہ خداکے دوستوں کا گروہ ہے۔ اللہ ان کو آخرت میں ایک ایسی اعلیٰ زندگی کی خوش خبری دیتا ہے جہاں نہ انھیں پچھلی زندگی کے لیے کوئی پچھتاوا ہوگا اور نہ اگلی زندگی کے لیے کوئی اندیشہ۔

يونس 10:66

زمین وآسمان کے پیچھے کون ہے جو اس کو سنبھالے ہوئے ہے ا ور اس کو چلا رہا ہے۔ یہ سوال ہر زمانہ میں انسان کی تلاش کا مرکزی نکتہ رہاہے۔ مگر اس سوال کا صحیح جواب پانا اسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی ماوراء طبیعیات دنیا تک دیکھ سکے اور ماوراء طبیعیات تک دیکھنے والی آنکھ کسی کو حاصل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر وہ جواب جو وہ بطور خود قائم کرتاہے وہ محض قیاس وگمان کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ حقیقی علم کی بنیاد پر۔ اس دنیا میں حقیقی علم کی بنیاد پر بولنے والے صرف وہ لوگ ہیں جن کو پیغمبر کہا جاتاہے۔یہ وہ مخصوص لوگ ہیں جن کا ربط عالم بالا سے براہِ راست قائم ہوتاہے۔ خدا خود انھیں اپنی طرف سے حقیقت کی خبر دیتاہے۔ اس لیے اس دنیا میں پیغمبر کا علم ہی واحد علم ہے جس پر یقینی طور پر بھروسہ کیا جاسکے۔ پیغمبروں کے دعوے کی صداقت کو چانچنے کے لیے اگرچہ ہمارے پاس کوئی براہِ راست ذریعہ نہیں ہے۔ تاہم ایک بالواسطہ ذریعہ یقینی طورپر موجود ہے۔ اور وہ کائنات کی آیات (نشانیاں) ہیں۔ یہ نشانیاں پیغمبروں کے بیان کردہ معنوی حقائق کی عملی تصدیق کررہی ہیں۔ مثال کے طورپر ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری زمین پر رات کے بعد دن آتا ہے اور دن کے بعدرات آتی ہے۔ یہ گردش ایک انتہائی محکم نظام کی وجہ سے وجود میں آتی ہے۔ جو ریاضیاتی صحت کی حد تک منظم ہے۔ مزید یہ کہ یہ گردش حیرت ناک حد تک ہماری زندگی کے موافق ہے۔ اس کے پیچھے واضح طور پر ایک بامقصد منصوبہ کام کرتا ہوا نظر آتاہے۔ یہ صورت حال یقینی طور پر ایک ایسے قادر مطلق اور رحمان ورحیم کے وجود کا ثبوت ہے جس کی خبر پیغمبر دیتے ہیں۔ جو لوگ اپنے خیال کے مطابق ’’شریکوں‘‘ کی پیروی کررہے ہیں، وہ شرکاء خواہ قدیم الٰہیاتی شرکاء ہوں یا جدید مادی شرکاء، وہ کسی واقعی حقیقت کی پیروی نہیں کررہے ہیں۔ بلکہ صرف اپنے قیاس و گمان کی پیروی کررہے ہیں۔ پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والی حقیقت کی تصدیق ساری کائنات کررہی ہے مگر ’’مشرکین‘‘ جس چیز کے مدعی ہیں اس کی تصدیق کرنے والا کوئی نہیں۔

يونس 10:67

زمین وآسمان کے پیچھے کون ہے جو اس کو سنبھالے ہوئے ہے ا ور اس کو چلا رہا ہے۔ یہ سوال ہر زمانہ میں انسان کی تلاش کا مرکزی نکتہ رہاہے۔ مگر اس سوال کا صحیح جواب پانا اسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی ماوراء طبیعیات دنیا تک دیکھ سکے اور ماوراء طبیعیات تک دیکھنے والی آنکھ کسی کو حاصل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر وہ جواب جو وہ بطور خود قائم کرتاہے وہ محض قیاس وگمان کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ حقیقی علم کی بنیاد پر۔ اس دنیا میں حقیقی علم کی بنیاد پر بولنے والے صرف وہ لوگ ہیں جن کو پیغمبر کہا جاتاہے۔یہ وہ مخصوص لوگ ہیں جن کا ربط عالم بالا سے براہِ راست قائم ہوتاہے۔ خدا خود انھیں اپنی طرف سے حقیقت کی خبر دیتاہے۔ اس لیے اس دنیا میں پیغمبر کا علم ہی واحد علم ہے جس پر یقینی طور پر بھروسہ کیا جاسکے۔ پیغمبروں کے دعوے کی صداقت کو چانچنے کے لیے اگرچہ ہمارے پاس کوئی براہِ راست ذریعہ نہیں ہے۔ تاہم ایک بالواسطہ ذریعہ یقینی طورپر موجود ہے۔ اور وہ کائنات کی آیات (نشانیاں) ہیں۔ یہ نشانیاں پیغمبروں کے بیان کردہ معنوی حقائق کی عملی تصدیق کررہی ہیں۔ مثال کے طورپر ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری زمین پر رات کے بعد دن آتا ہے اور دن کے بعدرات آتی ہے۔ یہ گردش ایک انتہائی محکم نظام کی وجہ سے وجود میں آتی ہے۔ جو ریاضیاتی صحت کی حد تک منظم ہے۔ مزید یہ کہ یہ گردش حیرت ناک حد تک ہماری زندگی کے موافق ہے۔ اس کے پیچھے واضح طور پر ایک بامقصد منصوبہ کام کرتا ہوا نظر آتاہے۔ یہ صورت حال یقینی طور پر ایک ایسے قادر مطلق اور رحمان ورحیم کے وجود کا ثبوت ہے جس کی خبر پیغمبر دیتے ہیں۔ جو لوگ اپنے خیال کے مطابق ’’شریکوں‘‘ کی پیروی کررہے ہیں، وہ شرکاء خواہ قدیم الٰہیاتی شرکاء ہوں یا جدید مادی شرکاء، وہ کسی واقعی حقیقت کی پیروی نہیں کررہے ہیں۔ بلکہ صرف اپنے قیاس و گمان کی پیروی کررہے ہیں۔ پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والی حقیقت کی تصدیق ساری کائنات کررہی ہے مگر ’’مشرکین‘‘ جس چیز کے مدعی ہیں اس کی تصدیق کرنے والا کوئی نہیں۔

يونس 10:68

خدا کے لیے بیٹے بیٹیاں ماننا خدا کو انسان کے اوپر قیاس کرنا ہے۔ انسان کمیوںاور محدودیتوں کا شکار ہے، اس لیے اس کو اولاد کی ضرورت ہے تاکہ ان کے ذریعے وہ اپنی کمیوں اور محدودیتوں کی تلافی کرے مگر خدا کے معاملہ میں یہ قیاس بالکل بے بنیاد ہے۔ مخلوقات کانظام خود ہی اس قسم کے خالق کی تردید ہے۔ مخلوقات کا عالمی نظام جس خدا کی شہادت دے رہا ہے وہ یقینی طورپر ایک ایسا خدا ہے جو اپنی ذات میں آخری حد تک کامل ہے۔ وہ ہر قسم کے عیبوں اور کمیوں سے پاک ہے۔ خدا اگر اپنی ذات میں کامل نہ ہوتا، اگر وہ عیبوں اور کمیوں والا خدا ہوتا تو کبھی وہ موجودہ کائنات جیسی کائنات کو نہیں بنا سکتا تھا اور نہ اس کو اس طرح چلا سکتا تھا جس طرح وہ انتہائی معیاری صورت میں چل رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر جس خدائے واحد کا تصور پیش کررہا ہے اس کا وجود تو زمین وآسمان کی تمام نشانیوں سے ثابت ہے۔ مگر مشرکین نے خدا کا جو تصور بنا رکھا ہے، اس کا کوئی ثبوت موجودہ کائنات میں موجود نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ بے ثبوت خدا کو ماننا خود ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ کیوں کہ جو خدا سرے سے موجود نہ ہو وہ کیسے کسی کی مدد پر آئے گا اور کیسے کسی کو بامراد کرے گا۔جو خدا حقیقی طورپر موجود ہے، مشرکین اس کو مانتے نہیں، اور جس خدا کو مانتے ہیں اس کا کہیں وجود نہیں۔ ایسی حالت میں مشرکین موجودہ کائنات میں کیوں کر کامیاب ہوسکتے ہیں۔ ان کے لیے جو واحد انجام مقدر ہے وہ صرف یہ کہ بالآخر وہ بے بس اور بے سہارا ہو کر رہ جائیں اور ہمیشہ کے ليے ذلت وناکامی میں پڑے رہیں۔ موجودہ دنیا میں انکار یا شرک کا رویہ اختیار کرنے سے کسی کا کچھ بگڑتا نہیں۔ اس سے آدمی غلط فہمی میں پڑ جاتاہے۔ مگر یہ صورت حال صرف امتحان کی مہلت کی بنا پر ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو امتحان کی وجہ سے عمل کی آزادی دی گئی ہے۔ جیسے ہی امتحان کی مدت ختم ہوگی موجودہ صورت حال بھی ختم ہوجائے گی۔ اس وقت آدمی دیکھے گا کہ اس کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں ہے جس کا وہ اپنے آپ کو مالک سمجھ کر سرکش بنا ہوا تھا۔ حدیث میںآیا ہے کہ اللہ نے عقل سے کہا ’’اے عقل، اس کائنات میں میں نے تجھ سے افضل ، تجھ سے حسین اور تجھ سے بہتر مخلوق پیدا نہیں کی‘‘۔(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 1845) انسان کو ایسی عظیم نعمت دینے کا یہ تقاضا ہے کہ اس کی ذمہ داری بھی عظیم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کے نزدیک سچائی کا انکار سب سے بڑا جرم ہے۔ سچائی کو جب دلیل سے ثابت کردیا جائے تو آدمی کے اوپر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اس کو مانے۔ عقلی طور پر ثابت شدہ ہوجانے کے بعد اگر وہ سچائی کا انکار کرتاہے تو وہ ناقابلِ معافی جرم کا ارتکاب کررہا ہے۔ خدانے جب انسان کو ایسی عقل دی جس سے وہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا جان سکے تو اس کے بعد کیا چیز ہوگی جو خداکے یہاں اس کے ليے عذر بن سکے۔

يونس 10:69

خدا کے لیے بیٹے بیٹیاں ماننا خدا کو انسان کے اوپر قیاس کرنا ہے۔ انسان کمیوںاور محدودیتوں کا شکار ہے، اس لیے اس کو اولاد کی ضرورت ہے تاکہ ان کے ذریعے وہ اپنی کمیوں اور محدودیتوں کی تلافی کرے مگر خدا کے معاملہ میں یہ قیاس بالکل بے بنیاد ہے۔ مخلوقات کانظام خود ہی اس قسم کے خالق کی تردید ہے۔ مخلوقات کا عالمی نظام جس خدا کی شہادت دے رہا ہے وہ یقینی طورپر ایک ایسا خدا ہے جو اپنی ذات میں آخری حد تک کامل ہے۔ وہ ہر قسم کے عیبوں اور کمیوں سے پاک ہے۔ خدا اگر اپنی ذات میں کامل نہ ہوتا، اگر وہ عیبوں اور کمیوں والا خدا ہوتا تو کبھی وہ موجودہ کائنات جیسی کائنات کو نہیں بنا سکتا تھا اور نہ اس کو اس طرح چلا سکتا تھا جس طرح وہ انتہائی معیاری صورت میں چل رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر جس خدائے واحد کا تصور پیش کررہا ہے اس کا وجود تو زمین وآسمان کی تمام نشانیوں سے ثابت ہے۔ مگر مشرکین نے خدا کا جو تصور بنا رکھا ہے، اس کا کوئی ثبوت موجودہ کائنات میں موجود نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ بے ثبوت خدا کو ماننا خود ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ کیوں کہ جو خدا سرے سے موجود نہ ہو وہ کیسے کسی کی مدد پر آئے گا اور کیسے کسی کو بامراد کرے گا۔جو خدا حقیقی طورپر موجود ہے، مشرکین اس کو مانتے نہیں، اور جس خدا کو مانتے ہیں اس کا کہیں وجود نہیں۔ ایسی حالت میں مشرکین موجودہ کائنات میں کیوں کر کامیاب ہوسکتے ہیں۔ ان کے لیے جو واحد انجام مقدر ہے وہ صرف یہ کہ بالآخر وہ بے بس اور بے سہارا ہو کر رہ جائیں اور ہمیشہ کے ليے ذلت وناکامی میں پڑے رہیں۔ موجودہ دنیا میں انکار یا شرک کا رویہ اختیار کرنے سے کسی کا کچھ بگڑتا نہیں۔ اس سے آدمی غلط فہمی میں پڑ جاتاہے۔ مگر یہ صورت حال صرف امتحان کی مہلت کی بنا پر ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو امتحان کی وجہ سے عمل کی آزادی دی گئی ہے۔ جیسے ہی امتحان کی مدت ختم ہوگی موجودہ صورت حال بھی ختم ہوجائے گی۔ اس وقت آدمی دیکھے گا کہ اس کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں ہے جس کا وہ اپنے آپ کو مالک سمجھ کر سرکش بنا ہوا تھا۔ حدیث میںآیا ہے کہ اللہ نے عقل سے کہا ’’اے عقل، اس کائنات میں میں نے تجھ سے افضل ، تجھ سے حسین اور تجھ سے بہتر مخلوق پیدا نہیں کی‘‘۔(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 1845) انسان کو ایسی عظیم نعمت دینے کا یہ تقاضا ہے کہ اس کی ذمہ داری بھی عظیم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کے نزدیک سچائی کا انکار سب سے بڑا جرم ہے۔ سچائی کو جب دلیل سے ثابت کردیا جائے تو آدمی کے اوپر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اس کو مانے۔ عقلی طور پر ثابت شدہ ہوجانے کے بعد اگر وہ سچائی کا انکار کرتاہے تو وہ ناقابلِ معافی جرم کا ارتکاب کررہا ہے۔ خدانے جب انسان کو ایسی عقل دی جس سے وہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا جان سکے تو اس کے بعد کیا چیز ہوگی جو خداکے یہاں اس کے ليے عذر بن سکے۔

يونس 10:70

خدا کے لیے بیٹے بیٹیاں ماننا خدا کو انسان کے اوپر قیاس کرنا ہے۔ انسان کمیوںاور محدودیتوں کا شکار ہے، اس لیے اس کو اولاد کی ضرورت ہے تاکہ ان کے ذریعے وہ اپنی کمیوں اور محدودیتوں کی تلافی کرے مگر خدا کے معاملہ میں یہ قیاس بالکل بے بنیاد ہے۔ مخلوقات کانظام خود ہی اس قسم کے خالق کی تردید ہے۔ مخلوقات کا عالمی نظام جس خدا کی شہادت دے رہا ہے وہ یقینی طورپر ایک ایسا خدا ہے جو اپنی ذات میں آخری حد تک کامل ہے۔ وہ ہر قسم کے عیبوں اور کمیوں سے پاک ہے۔ خدا اگر اپنی ذات میں کامل نہ ہوتا، اگر وہ عیبوں اور کمیوں والا خدا ہوتا تو کبھی وہ موجودہ کائنات جیسی کائنات کو نہیں بنا سکتا تھا اور نہ اس کو اس طرح چلا سکتا تھا جس طرح وہ انتہائی معیاری صورت میں چل رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر جس خدائے واحد کا تصور پیش کررہا ہے اس کا وجود تو زمین وآسمان کی تمام نشانیوں سے ثابت ہے۔ مگر مشرکین نے خدا کا جو تصور بنا رکھا ہے، اس کا کوئی ثبوت موجودہ کائنات میں موجود نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ بے ثبوت خدا کو ماننا خود ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ کیوں کہ جو خدا سرے سے موجود نہ ہو وہ کیسے کسی کی مدد پر آئے گا اور کیسے کسی کو بامراد کرے گا۔جو خدا حقیقی طورپر موجود ہے، مشرکین اس کو مانتے نہیں، اور جس خدا کو مانتے ہیں اس کا کہیں وجود نہیں۔ ایسی حالت میں مشرکین موجودہ کائنات میں کیوں کر کامیاب ہوسکتے ہیں۔ ان کے لیے جو واحد انجام مقدر ہے وہ صرف یہ کہ بالآخر وہ بے بس اور بے سہارا ہو کر رہ جائیں اور ہمیشہ کے ليے ذلت وناکامی میں پڑے رہیں۔ موجودہ دنیا میں انکار یا شرک کا رویہ اختیار کرنے سے کسی کا کچھ بگڑتا نہیں۔ اس سے آدمی غلط فہمی میں پڑ جاتاہے۔ مگر یہ صورت حال صرف امتحان کی مہلت کی بنا پر ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو امتحان کی وجہ سے عمل کی آزادی دی گئی ہے۔ جیسے ہی امتحان کی مدت ختم ہوگی موجودہ صورت حال بھی ختم ہوجائے گی۔ اس وقت آدمی دیکھے گا کہ اس کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں ہے جس کا وہ اپنے آپ کو مالک سمجھ کر سرکش بنا ہوا تھا۔ حدیث میںآیا ہے کہ اللہ نے عقل سے کہا ’’اے عقل، اس کائنات میں میں نے تجھ سے افضل ، تجھ سے حسین اور تجھ سے بہتر مخلوق پیدا نہیں کی‘‘۔(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 1845) انسان کو ایسی عظیم نعمت دینے کا یہ تقاضا ہے کہ اس کی ذمہ داری بھی عظیم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کے نزدیک سچائی کا انکار سب سے بڑا جرم ہے۔ سچائی کو جب دلیل سے ثابت کردیا جائے تو آدمی کے اوپر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اس کو مانے۔ عقلی طور پر ثابت شدہ ہوجانے کے بعد اگر وہ سچائی کا انکار کرتاہے تو وہ ناقابلِ معافی جرم کا ارتکاب کررہا ہے۔ خدانے جب انسان کو ایسی عقل دی جس سے وہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا جان سکے تو اس کے بعد کیا چیز ہوگی جو خداکے یہاں اس کے ليے عذر بن سکے۔

يونس 10:71

حضرت نوح قدیم ترین زمانہ کے رسول ہیں۔ وہ جب تک خاموش تھے، قوم ان کی عزت کرتی رہی۔ مگر جب آپ حق کے داعی بن کر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو بتانے لگے کہ ایسا کرو اور ویسا نہ کروتو وہ قوم کی نظر میں ایک ناپسندیدہ شخص بن گئے۔ یہاں تک کہ قوم نے اعلان کردیا کہ تم اپنی تبلیغ ونصیحت سے باز آؤ ورنہ ہم تم کو اپنی زمین میں نہیں رہنے دیں گے۔ حضرت نوح نے کہا کہ تم لوگ میرے معاملہ کو ایک انسان کا معاملہ سمجھتے ہو، اس لیے ایسا کہہ رہے ہو۔ مگر یہ معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ مجھ سے لڑنے کے لیے تم کو خدا سے لڑنا پڑے گا۔ تم کو اگر یقین نہ ہو تو تم اس طرح تجربہ کرسکتے ہو کہ اپنے ساتھیوں اور شریکوں کو ملا کر میرے خلاف کوئی متفقہ منصوبہ بناؤ اور اپنی تمام طاقت کے ساتھ اس کی تعمیل کر گزرو۔ تم دیکھو گے کہ میرے مقابلہ میں تمھارا ہر منصوبہ ناکام ہے۔ موجودہ دنیا میں داعی حق کی صداقت کو جانچنے کا معیار یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنا کام پورا کرکے رہتاہے۔ کوئی بھی اس کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ جو شخص خدا کی طرف سے حق کی دعوت لے کر اٹھے وہ ہمیشہ نشانی (دلیل) کے زور پر اٹھتا ہے۔ دلیل چونکہ ایک ذہنی چیز ہے اس لیے ظاہر پسند انسان اس کی عظمت کو سمجھ نہیں پاتا۔ وہ ذہنی طورپر لاجواب ہونے کے باوجود اس کے آگے جھکنے سے انکار کردیتا ہے۔ حق کے داعی کو جن آدابِ دعوت کا لازمی طورپر لحاظ کرنا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ داعی اپنے مدعو سے کسی بھی قسم کا معاشی اور مادی مطالبہ نہ کرے۔ خواہ اس یک طرفہ دست برداری کی وجہ سے اس کو کتنا ہی نقصان اٹھانا پڑے۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ دونوں کے درمیان آخر وقت تک داعی اور مدعو کا تعلق باقی رہے، وہ کسی بھی حال میں قومی حریف اور مادی رقیب کا تعلق نہ بننے پائے۔ حضرت نوح نے جب اتمام حجت کی حد تک حق کا پیغام پہنچا دیا، پھر بھی ان کی قوم سرکشی پر قائم رہی تو سرکشوں کو سیلاب میں غرق کرکے زمین ان سے خالی کرا لی گئی اور مومنینِ نوح کو موقع دیاگیا کہ وہ زمین کے وارث بن کر اس پر آباد ہوں۔ اسی کو قرآن کی اصطلاح میں ’’خلافت‘‘ کہا جاتا ہے۔ سیلاب سے پہلے قومِ نوح زمین کی خلیفہ بنی ہوئی تھی، سیلاب کے بعد مومنین نوح زمین کے خلیفہ قرار پائے۔

يونس 10:72

حضرت نوح قدیم ترین زمانہ کے رسول ہیں۔ وہ جب تک خاموش تھے، قوم ان کی عزت کرتی رہی۔ مگر جب آپ حق کے داعی بن کر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو بتانے لگے کہ ایسا کرو اور ویسا نہ کروتو وہ قوم کی نظر میں ایک ناپسندیدہ شخص بن گئے۔ یہاں تک کہ قوم نے اعلان کردیا کہ تم اپنی تبلیغ ونصیحت سے باز آؤ ورنہ ہم تم کو اپنی زمین میں نہیں رہنے دیں گے۔ حضرت نوح نے کہا کہ تم لوگ میرے معاملہ کو ایک انسان کا معاملہ سمجھتے ہو، اس لیے ایسا کہہ رہے ہو۔ مگر یہ معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ مجھ سے لڑنے کے لیے تم کو خدا سے لڑنا پڑے گا۔ تم کو اگر یقین نہ ہو تو تم اس طرح تجربہ کرسکتے ہو کہ اپنے ساتھیوں اور شریکوں کو ملا کر میرے خلاف کوئی متفقہ منصوبہ بناؤ اور اپنی تمام طاقت کے ساتھ اس کی تعمیل کر گزرو۔ تم دیکھو گے کہ میرے مقابلہ میں تمھارا ہر منصوبہ ناکام ہے۔ موجودہ دنیا میں داعی حق کی صداقت کو جانچنے کا معیار یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنا کام پورا کرکے رہتاہے۔ کوئی بھی اس کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ جو شخص خدا کی طرف سے حق کی دعوت لے کر اٹھے وہ ہمیشہ نشانی (دلیل) کے زور پر اٹھتا ہے۔ دلیل چونکہ ایک ذہنی چیز ہے اس لیے ظاہر پسند انسان اس کی عظمت کو سمجھ نہیں پاتا۔ وہ ذہنی طورپر لاجواب ہونے کے باوجود اس کے آگے جھکنے سے انکار کردیتا ہے۔ حق کے داعی کو جن آدابِ دعوت کا لازمی طورپر لحاظ کرنا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ داعی اپنے مدعو سے کسی بھی قسم کا معاشی اور مادی مطالبہ نہ کرے۔ خواہ اس یک طرفہ دست برداری کی وجہ سے اس کو کتنا ہی نقصان اٹھانا پڑے۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ دونوں کے درمیان آخر وقت تک داعی اور مدعو کا تعلق باقی رہے، وہ کسی بھی حال میں قومی حریف اور مادی رقیب کا تعلق نہ بننے پائے۔ حضرت نوح نے جب اتمام حجت کی حد تک حق کا پیغام پہنچا دیا، پھر بھی ان کی قوم سرکشی پر قائم رہی تو سرکشوں کو سیلاب میں غرق کرکے زمین ان سے خالی کرا لی گئی اور مومنینِ نوح کو موقع دیاگیا کہ وہ زمین کے وارث بن کر اس پر آباد ہوں۔ اسی کو قرآن کی اصطلاح میں ’’خلافت‘‘ کہا جاتا ہے۔ سیلاب سے پہلے قومِ نوح زمین کی خلیفہ بنی ہوئی تھی، سیلاب کے بعد مومنین نوح زمین کے خلیفہ قرار پائے۔

يونس 10:73

حضرت نوح قدیم ترین زمانہ کے رسول ہیں۔ وہ جب تک خاموش تھے، قوم ان کی عزت کرتی رہی۔ مگر جب آپ حق کے داعی بن کر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو بتانے لگے کہ ایسا کرو اور ویسا نہ کروتو وہ قوم کی نظر میں ایک ناپسندیدہ شخص بن گئے۔ یہاں تک کہ قوم نے اعلان کردیا کہ تم اپنی تبلیغ ونصیحت سے باز آؤ ورنہ ہم تم کو اپنی زمین میں نہیں رہنے دیں گے۔ حضرت نوح نے کہا کہ تم لوگ میرے معاملہ کو ایک انسان کا معاملہ سمجھتے ہو، اس لیے ایسا کہہ رہے ہو۔ مگر یہ معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ مجھ سے لڑنے کے لیے تم کو خدا سے لڑنا پڑے گا۔ تم کو اگر یقین نہ ہو تو تم اس طرح تجربہ کرسکتے ہو کہ اپنے ساتھیوں اور شریکوں کو ملا کر میرے خلاف کوئی متفقہ منصوبہ بناؤ اور اپنی تمام طاقت کے ساتھ اس کی تعمیل کر گزرو۔ تم دیکھو گے کہ میرے مقابلہ میں تمھارا ہر منصوبہ ناکام ہے۔ موجودہ دنیا میں داعی حق کی صداقت کو جانچنے کا معیار یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنا کام پورا کرکے رہتاہے۔ کوئی بھی اس کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ جو شخص خدا کی طرف سے حق کی دعوت لے کر اٹھے وہ ہمیشہ نشانی (دلیل) کے زور پر اٹھتا ہے۔ دلیل چونکہ ایک ذہنی چیز ہے اس لیے ظاہر پسند انسان اس کی عظمت کو سمجھ نہیں پاتا۔ وہ ذہنی طورپر لاجواب ہونے کے باوجود اس کے آگے جھکنے سے انکار کردیتا ہے۔ حق کے داعی کو جن آدابِ دعوت کا لازمی طورپر لحاظ کرنا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ داعی اپنے مدعو سے کسی بھی قسم کا معاشی اور مادی مطالبہ نہ کرے۔ خواہ اس یک طرفہ دست برداری کی وجہ سے اس کو کتنا ہی نقصان اٹھانا پڑے۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ دونوں کے درمیان آخر وقت تک داعی اور مدعو کا تعلق باقی رہے، وہ کسی بھی حال میں قومی حریف اور مادی رقیب کا تعلق نہ بننے پائے۔ حضرت نوح نے جب اتمام حجت کی حد تک حق کا پیغام پہنچا دیا، پھر بھی ان کی قوم سرکشی پر قائم رہی تو سرکشوں کو سیلاب میں غرق کرکے زمین ان سے خالی کرا لی گئی اور مومنینِ نوح کو موقع دیاگیا کہ وہ زمین کے وارث بن کر اس پر آباد ہوں۔ اسی کو قرآن کی اصطلاح میں ’’خلافت‘‘ کہا جاتا ہے۔ سیلاب سے پہلے قومِ نوح زمین کی خلیفہ بنی ہوئی تھی، سیلاب کے بعد مومنین نوح زمین کے خلیفہ قرار پائے۔

يونس 10:74

اِس آیت میں ’’حد سے گزر جانے والا‘‘ان لوگوں کو کہاگیا ہے جن کا حال یہ ہوتا ہے کہ ایک بار اگر وہ حق کا انکار کردیں تو اس کے بعد وہ اس کو اپنی ساکھ کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور پھر اس کو مسلسل نظر انداز کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگوں کی نظر میں ان کا علم دین اور ان کا برسر حق ہونا مشتبہ نہ ہونے پائے۔ جو لوگ اس قسم کا رویہ اختیار کریں ان کو دنیا میں یہ سزا ملتی ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ یعنی خدا کے قانون کے تحت ان کی نفسیات دھیرے دھیرے ایسی بن جاتی ہے کہ بالآخر حق کے معاملہ میں ان کا شدتِ احساس باقی نہیں رہتا۔ ابتداء ً ان کے اندر جو تھوڑی سی حساسیت زندہ تھی وہ بھی بالآخر مردہ ہوکر رہ جاتی ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتے کہ حق اور ناحق کے معاملے میں تڑپیں اور ناحق کو چھوڑ کر حق کو قبول کرلیں۔ حضرت نوح اور ان کے بعد آنے والے بیشتر رسولوں کی تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے۔ اللہ کی طرف سے جب بھی کوئی داعیٔ حق آتاہے تو وہ اس حال میں آتاہے کہ اس کے گرد کسی قسم کی ظاہری عظمت نہیں ہوتی۔ اس کے پاس جو واحد چیز ہوتی ہے وہ صرف دلیل ہے۔ جو لوگ دلیل کی زبان میں حق کو مانیں وہی داعیٔ حق کو مانتے ہیں۔ جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ دلیل کی زبان انھیں متاثر نہ کرسکے وہ داعیٔ حق کو پہچاننے سے بھی محروم رہتے ہیں اور اس کا ساتھ دینے سے بھی۔

يونس 10:75

فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں نے اپنی مجرمانہ ذہنیت کی بناپر موسیٰ اور ہارون کی بات نہیں مانی۔ وہ چیزوں کو دلیل کے معیار سے دیکھنے کے بجائے جاہ واقتدار کے معیار سے دیکھتے تھے۔اس خود ساختہ معیار کے نام پر انھوں نے اپنے کو اونچا اور موسیٰ و ہارون کو نیچا سمجھ لیا۔ ان کی یہ نفسیات ان کے لیے اس حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن گئی، جو ان کے نزدیک ایک چھوٹا آدمی ان کے سامنے پیش کررہا تھا۔ حضرت موسیٰ کے استدلال کی زبان جب فرعون کی سمجھ میں نہیں آئی تو آپ نے عصا اور ید ِ بیضا کے معجزات دکھائے ان معجزات کا توڑ فرعون کے پاس نہ تھا۔ چنانچہ اس نے کہا کہ یہ جادو ہے۔ اس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں اپنی شکست کو ایک جھوٹی توجیہہ میں چھپانے کی کوشش کی۔ اس نے لوگوں کو یہ تاثر دیا کہ موسیٰ کامعاملہ حق کا معاملہ نہیں ہے بلکہ جادو کا معاملہ ہے، یہ صحیح ہے کہ جادو اور معجزہ میں کچھ ظاہری مشابہت ہوتی ہے۔ مگر بہت جلد معلوم ہوجاتاہے کہ جادو محض شعبدہ اور کرشمہ تھا۔ اس کے مقابلہ میں معجزہ کو مستقل کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ جادو بالآخر جادو ثابت ہوتاہے اور معجزہ بالآخر معجزہ۔ اس موقع پر فرعون نے لوگوں کو حضرت موسیٰ کی دعوت سے پھیرنے کے لیے دو اور باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ موسیٰ ہم کو ہمارے آبا ئی دین سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ فرعون کو چاہیے تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کے پیغام کو حق اور ناحق کی اصطلاح میں سمجھنے کی کوشش کرے۔ مگر اس نے اس کو آبائی اور غیر آبائی معیار سے جانچا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حق اور ناحق کے معیار سے دیکھنے میں اپنے آپ کو غلط ماننا پڑتا۔ جب کہ آبائی اور غیر آبائی کی تقسیم میں اپنی روش پر بدستور موجود رہنے کا جواز مل رہا تھا۔ فرعون نے دوسری بات یہ کہی کہ ’’موسیٰ اورہارون اس ملک میں اپنی کبریائی قائم کرنا چاہتے ہیں‘‘ یہ بھی عوام کو بھڑکانے کے ليے محض ایک سیاسی شوشہ تھا، کیوں کہ حضرت موسیٰ نے تو اول مرحلہ میں فرعون کے سامنے یہ بات رکھ دی تھی کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ فرعون کو خدا کا پیغام پہنچائیں اور اس کے بعد بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں چلے جائیں۔ ایسی حالت میں یہ الزام سراسر خلاف واقعہ تھا کہ وہ مصر کي حکومت پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

يونس 10:76

فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں نے اپنی مجرمانہ ذہنیت کی بناپر موسیٰ اور ہارون کی بات نہیں مانی۔ وہ چیزوں کو دلیل کے معیار سے دیکھنے کے بجائے جاہ واقتدار کے معیار سے دیکھتے تھے۔اس خود ساختہ معیار کے نام پر انھوں نے اپنے کو اونچا اور موسیٰ و ہارون کو نیچا سمجھ لیا۔ ان کی یہ نفسیات ان کے لیے اس حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن گئی، جو ان کے نزدیک ایک چھوٹا آدمی ان کے سامنے پیش کررہا تھا۔ حضرت موسیٰ کے استدلال کی زبان جب فرعون کی سمجھ میں نہیں آئی تو آپ نے عصا اور ید ِ بیضا کے معجزات دکھائے ان معجزات کا توڑ فرعون کے پاس نہ تھا۔ چنانچہ اس نے کہا کہ یہ جادو ہے۔ اس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں اپنی شکست کو ایک جھوٹی توجیہہ میں چھپانے کی کوشش کی۔ اس نے لوگوں کو یہ تاثر دیا کہ موسیٰ کامعاملہ حق کا معاملہ نہیں ہے بلکہ جادو کا معاملہ ہے، یہ صحیح ہے کہ جادو اور معجزہ میں کچھ ظاہری مشابہت ہوتی ہے۔ مگر بہت جلد معلوم ہوجاتاہے کہ جادو محض شعبدہ اور کرشمہ تھا۔ اس کے مقابلہ میں معجزہ کو مستقل کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ جادو بالآخر جادو ثابت ہوتاہے اور معجزہ بالآخر معجزہ۔ اس موقع پر فرعون نے لوگوں کو حضرت موسیٰ کی دعوت سے پھیرنے کے لیے دو اور باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ موسیٰ ہم کو ہمارے آبا ئی دین سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ فرعون کو چاہیے تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کے پیغام کو حق اور ناحق کی اصطلاح میں سمجھنے کی کوشش کرے۔ مگر اس نے اس کو آبائی اور غیر آبائی معیار سے جانچا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حق اور ناحق کے معیار سے دیکھنے میں اپنے آپ کو غلط ماننا پڑتا۔ جب کہ آبائی اور غیر آبائی کی تقسیم میں اپنی روش پر بدستور موجود رہنے کا جواز مل رہا تھا۔ فرعون نے دوسری بات یہ کہی کہ ’’موسیٰ اورہارون اس ملک میں اپنی کبریائی قائم کرنا چاہتے ہیں‘‘ یہ بھی عوام کو بھڑکانے کے ليے محض ایک سیاسی شوشہ تھا، کیوں کہ حضرت موسیٰ نے تو اول مرحلہ میں فرعون کے سامنے یہ بات رکھ دی تھی کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ فرعون کو خدا کا پیغام پہنچائیں اور اس کے بعد بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں چلے جائیں۔ ایسی حالت میں یہ الزام سراسر خلاف واقعہ تھا کہ وہ مصر کي حکومت پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

يونس 10:77

فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں نے اپنی مجرمانہ ذہنیت کی بناپر موسیٰ اور ہارون کی بات نہیں مانی۔ وہ چیزوں کو دلیل کے معیار سے دیکھنے کے بجائے جاہ واقتدار کے معیار سے دیکھتے تھے۔اس خود ساختہ معیار کے نام پر انھوں نے اپنے کو اونچا اور موسیٰ و ہارون کو نیچا سمجھ لیا۔ ان کی یہ نفسیات ان کے لیے اس حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن گئی، جو ان کے نزدیک ایک چھوٹا آدمی ان کے سامنے پیش کررہا تھا۔ حضرت موسیٰ کے استدلال کی زبان جب فرعون کی سمجھ میں نہیں آئی تو آپ نے عصا اور ید ِ بیضا کے معجزات دکھائے ان معجزات کا توڑ فرعون کے پاس نہ تھا۔ چنانچہ اس نے کہا کہ یہ جادو ہے۔ اس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں اپنی شکست کو ایک جھوٹی توجیہہ میں چھپانے کی کوشش کی۔ اس نے لوگوں کو یہ تاثر دیا کہ موسیٰ کامعاملہ حق کا معاملہ نہیں ہے بلکہ جادو کا معاملہ ہے، یہ صحیح ہے کہ جادو اور معجزہ میں کچھ ظاہری مشابہت ہوتی ہے۔ مگر بہت جلد معلوم ہوجاتاہے کہ جادو محض شعبدہ اور کرشمہ تھا۔ اس کے مقابلہ میں معجزہ کو مستقل کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ جادو بالآخر جادو ثابت ہوتاہے اور معجزہ بالآخر معجزہ۔ اس موقع پر فرعون نے لوگوں کو حضرت موسیٰ کی دعوت سے پھیرنے کے لیے دو اور باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ موسیٰ ہم کو ہمارے آبا ئی دین سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ فرعون کو چاہیے تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کے پیغام کو حق اور ناحق کی اصطلاح میں سمجھنے کی کوشش کرے۔ مگر اس نے اس کو آبائی اور غیر آبائی معیار سے جانچا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حق اور ناحق کے معیار سے دیکھنے میں اپنے آپ کو غلط ماننا پڑتا۔ جب کہ آبائی اور غیر آبائی کی تقسیم میں اپنی روش پر بدستور موجود رہنے کا جواز مل رہا تھا۔ فرعون نے دوسری بات یہ کہی کہ ’’موسیٰ اورہارون اس ملک میں اپنی کبریائی قائم کرنا چاہتے ہیں‘‘ یہ بھی عوام کو بھڑکانے کے ليے محض ایک سیاسی شوشہ تھا، کیوں کہ حضرت موسیٰ نے تو اول مرحلہ میں فرعون کے سامنے یہ بات رکھ دی تھی کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ فرعون کو خدا کا پیغام پہنچائیں اور اس کے بعد بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں چلے جائیں۔ ایسی حالت میں یہ الزام سراسر خلاف واقعہ تھا کہ وہ مصر کي حکومت پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

يونس 10:78

فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں نے اپنی مجرمانہ ذہنیت کی بناپر موسیٰ اور ہارون کی بات نہیں مانی۔ وہ چیزوں کو دلیل کے معیار سے دیکھنے کے بجائے جاہ واقتدار کے معیار سے دیکھتے تھے۔اس خود ساختہ معیار کے نام پر انھوں نے اپنے کو اونچا اور موسیٰ و ہارون کو نیچا سمجھ لیا۔ ان کی یہ نفسیات ان کے لیے اس حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن گئی، جو ان کے نزدیک ایک چھوٹا آدمی ان کے سامنے پیش کررہا تھا۔ حضرت موسیٰ کے استدلال کی زبان جب فرعون کی سمجھ میں نہیں آئی تو آپ نے عصا اور ید ِ بیضا کے معجزات دکھائے ان معجزات کا توڑ فرعون کے پاس نہ تھا۔ چنانچہ اس نے کہا کہ یہ جادو ہے۔ اس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں اپنی شکست کو ایک جھوٹی توجیہہ میں چھپانے کی کوشش کی۔ اس نے لوگوں کو یہ تاثر دیا کہ موسیٰ کامعاملہ حق کا معاملہ نہیں ہے بلکہ جادو کا معاملہ ہے، یہ صحیح ہے کہ جادو اور معجزہ میں کچھ ظاہری مشابہت ہوتی ہے۔ مگر بہت جلد معلوم ہوجاتاہے کہ جادو محض شعبدہ اور کرشمہ تھا۔ اس کے مقابلہ میں معجزہ کو مستقل کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ جادو بالآخر جادو ثابت ہوتاہے اور معجزہ بالآخر معجزہ۔ اس موقع پر فرعون نے لوگوں کو حضرت موسیٰ کی دعوت سے پھیرنے کے لیے دو اور باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ موسیٰ ہم کو ہمارے آبا ئی دین سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ فرعون کو چاہیے تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کے پیغام کو حق اور ناحق کی اصطلاح میں سمجھنے کی کوشش کرے۔ مگر اس نے اس کو آبائی اور غیر آبائی معیار سے جانچا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حق اور ناحق کے معیار سے دیکھنے میں اپنے آپ کو غلط ماننا پڑتا۔ جب کہ آبائی اور غیر آبائی کی تقسیم میں اپنی روش پر بدستور موجود رہنے کا جواز مل رہا تھا۔ فرعون نے دوسری بات یہ کہی کہ ’’موسیٰ اورہارون اس ملک میں اپنی کبریائی قائم کرنا چاہتے ہیں‘‘ یہ بھی عوام کو بھڑکانے کے ليے محض ایک سیاسی شوشہ تھا، کیوں کہ حضرت موسیٰ نے تو اول مرحلہ میں فرعون کے سامنے یہ بات رکھ دی تھی کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ فرعون کو خدا کا پیغام پہنچائیں اور اس کے بعد بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں چلے جائیں۔ ایسی حالت میں یہ الزام سراسر خلاف واقعہ تھا کہ وہ مصر کي حکومت پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

يونس 10:79

فرعون کا ماہر جادو گروں کو بلانا اس لیے نہ تھا کہ وہ سمجھتا تھا کہ جادو گروںکے ذریعہ وہ حضرت موسیٰ کو زیرکرلے گا۔ یہ کسی عقلی فیصلہ سے زیادہ فرعون کی اس بڑھی ہوئی خواہش کا نتیجہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کو نہ مانے۔ خدا کے پیغمبر کو جادوگروں کے ذریعہ غلط ثابت کرنے کا منصوبہ ایک ایسامنصوبہ تھا جس کا ناکام ہونا پہلے سے معلوم تھا۔ مگر آدمی جب کسی حقیقت کو نہ ماننا چاہے تو اس کی یہ خواہش اس کو یہاں تک لے جاتی ہے کہ وہ احمقانہ تدبیروں سے اس کا مقابلہ کرنے کی ناکام کوشش کرتاہے ۔ وہ سیلاب کے مقابلہ میں تنکوں کا بند باندھتا ہے حالاں کہ وہ خود جان رہا ہوتا ہے کہ سیلاب کے مقابلہ میں تنکوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ چنانچہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔ جادو گروں نے میدان میں رسّیاں اور لکڑیاں پھینکیں جو دیکھنے والوں کو رینگتے ہوئے سانپ کی صورت میں دکھائی دیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ بہت بڑا سانپ بن کر میدان میں دوڑنے لگا۔ حضرت موسیٰ کا یہ ’’سانپ‘‘ محض سانپ نہ تھا، وہ دراصل خدا کی ایک طاقت تھی جو اس ليے ظاہر ہوئی تھی کہ حق کو حق اور باطل کو باطل ثابت کردے۔ چنانچہ اس کے سامنے آتے ہی جادو گروں کی رسّی، رسّی رہ گئی اور ان کی لکڑی لکڑی۔ یہ خود اپنے منتخب كيے ہوئے میدان میں فرعون کی شکست تھی۔ مگر اب بھی فرعون نے شکست نہ مانی۔ اب اس نے حضرت موسیٰ کی تردید کے ليے کچھ اور الفاظ تلاش کرليے جس طرح اس کو پہلے مرحلہ میں آپ کی تردید کے لیے کچھ الفاظ مل گئے تھے۔

يونس 10:80

فرعون کا ماہر جادو گروں کو بلانا اس لیے نہ تھا کہ وہ سمجھتا تھا کہ جادو گروںکے ذریعہ وہ حضرت موسیٰ کو زیرکرلے گا۔ یہ کسی عقلی فیصلہ سے زیادہ فرعون کی اس بڑھی ہوئی خواہش کا نتیجہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کو نہ مانے۔ خدا کے پیغمبر کو جادوگروں کے ذریعہ غلط ثابت کرنے کا منصوبہ ایک ایسامنصوبہ تھا جس کا ناکام ہونا پہلے سے معلوم تھا۔ مگر آدمی جب کسی حقیقت کو نہ ماننا چاہے تو اس کی یہ خواہش اس کو یہاں تک لے جاتی ہے کہ وہ احمقانہ تدبیروں سے اس کا مقابلہ کرنے کی ناکام کوشش کرتاہے ۔ وہ سیلاب کے مقابلہ میں تنکوں کا بند باندھتا ہے حالاں کہ وہ خود جان رہا ہوتا ہے کہ سیلاب کے مقابلہ میں تنکوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ چنانچہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔ جادو گروں نے میدان میں رسّیاں اور لکڑیاں پھینکیں جو دیکھنے والوں کو رینگتے ہوئے سانپ کی صورت میں دکھائی دیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ بہت بڑا سانپ بن کر میدان میں دوڑنے لگا۔ حضرت موسیٰ کا یہ ’’سانپ‘‘ محض سانپ نہ تھا، وہ دراصل خدا کی ایک طاقت تھی جو اس ليے ظاہر ہوئی تھی کہ حق کو حق اور باطل کو باطل ثابت کردے۔ چنانچہ اس کے سامنے آتے ہی جادو گروں کی رسّی، رسّی رہ گئی اور ان کی لکڑی لکڑی۔ یہ خود اپنے منتخب كيے ہوئے میدان میں فرعون کی شکست تھی۔ مگر اب بھی فرعون نے شکست نہ مانی۔ اب اس نے حضرت موسیٰ کی تردید کے ليے کچھ اور الفاظ تلاش کرليے جس طرح اس کو پہلے مرحلہ میں آپ کی تردید کے لیے کچھ الفاظ مل گئے تھے۔

يونس 10:81

فرعون کا ماہر جادو گروں کو بلانا اس لیے نہ تھا کہ وہ سمجھتا تھا کہ جادو گروںکے ذریعہ وہ حضرت موسیٰ کو زیرکرلے گا۔ یہ کسی عقلی فیصلہ سے زیادہ فرعون کی اس بڑھی ہوئی خواہش کا نتیجہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کو نہ مانے۔ خدا کے پیغمبر کو جادوگروں کے ذریعہ غلط ثابت کرنے کا منصوبہ ایک ایسامنصوبہ تھا جس کا ناکام ہونا پہلے سے معلوم تھا۔ مگر آدمی جب کسی حقیقت کو نہ ماننا چاہے تو اس کی یہ خواہش اس کو یہاں تک لے جاتی ہے کہ وہ احمقانہ تدبیروں سے اس کا مقابلہ کرنے کی ناکام کوشش کرتاہے ۔ وہ سیلاب کے مقابلہ میں تنکوں کا بند باندھتا ہے حالاں کہ وہ خود جان رہا ہوتا ہے کہ سیلاب کے مقابلہ میں تنکوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ چنانچہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔ جادو گروں نے میدان میں رسّیاں اور لکڑیاں پھینکیں جو دیکھنے والوں کو رینگتے ہوئے سانپ کی صورت میں دکھائی دیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ بہت بڑا سانپ بن کر میدان میں دوڑنے لگا۔ حضرت موسیٰ کا یہ ’’سانپ‘‘ محض سانپ نہ تھا، وہ دراصل خدا کی ایک طاقت تھی جو اس ليے ظاہر ہوئی تھی کہ حق کو حق اور باطل کو باطل ثابت کردے۔ چنانچہ اس کے سامنے آتے ہی جادو گروں کی رسّی، رسّی رہ گئی اور ان کی لکڑی لکڑی۔ یہ خود اپنے منتخب كيے ہوئے میدان میں فرعون کی شکست تھی۔ مگر اب بھی فرعون نے شکست نہ مانی۔ اب اس نے حضرت موسیٰ کی تردید کے ليے کچھ اور الفاظ تلاش کرليے جس طرح اس کو پہلے مرحلہ میں آپ کی تردید کے لیے کچھ الفاظ مل گئے تھے۔

يونس 10:82

فرعون کا ماہر جادو گروں کو بلانا اس لیے نہ تھا کہ وہ سمجھتا تھا کہ جادو گروںکے ذریعہ وہ حضرت موسیٰ کو زیرکرلے گا۔ یہ کسی عقلی فیصلہ سے زیادہ فرعون کی اس بڑھی ہوئی خواہش کا نتیجہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کو نہ مانے۔ خدا کے پیغمبر کو جادوگروں کے ذریعہ غلط ثابت کرنے کا منصوبہ ایک ایسامنصوبہ تھا جس کا ناکام ہونا پہلے سے معلوم تھا۔ مگر آدمی جب کسی حقیقت کو نہ ماننا چاہے تو اس کی یہ خواہش اس کو یہاں تک لے جاتی ہے کہ وہ احمقانہ تدبیروں سے اس کا مقابلہ کرنے کی ناکام کوشش کرتاہے ۔ وہ سیلاب کے مقابلہ میں تنکوں کا بند باندھتا ہے حالاں کہ وہ خود جان رہا ہوتا ہے کہ سیلاب کے مقابلہ میں تنکوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ چنانچہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔ جادو گروں نے میدان میں رسّیاں اور لکڑیاں پھینکیں جو دیکھنے والوں کو رینگتے ہوئے سانپ کی صورت میں دکھائی دیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ بہت بڑا سانپ بن کر میدان میں دوڑنے لگا۔ حضرت موسیٰ کا یہ ’’سانپ‘‘ محض سانپ نہ تھا، وہ دراصل خدا کی ایک طاقت تھی جو اس ليے ظاہر ہوئی تھی کہ حق کو حق اور باطل کو باطل ثابت کردے۔ چنانچہ اس کے سامنے آتے ہی جادو گروں کی رسّی، رسّی رہ گئی اور ان کی لکڑی لکڑی۔ یہ خود اپنے منتخب كيے ہوئے میدان میں فرعون کی شکست تھی۔ مگر اب بھی فرعون نے شکست نہ مانی۔ اب اس نے حضرت موسیٰ کی تردید کے ليے کچھ اور الفاظ تلاش کرليے جس طرح اس کو پہلے مرحلہ میں آپ کی تردید کے لیے کچھ الفاظ مل گئے تھے۔

يونس 10:83

نئے فکر کو قبول کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے معاشرہ میں نئے نئے مسائل سے دوچار ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ عمر کے لوگ اکثر کسی نئے فکر کو قبول کرنے میں محتاط ہوتے ہیں۔ مختلف وجوہ سے زیادہ عمر کے لوگوں پر مصلحت کا غلبہ ہوجاتاہے۔ وہ نئے فکر کی صحت کو ماننے کے باوجود آگے بڑھ کر اس کا ساتھ نہیںدے پاتے۔ مگر نوجوان طبقہ عام طورپر اس قسم کی مصلحتوں سے خالی ہوتاہے۔ چنانچہ ہمیشہ تاریخ میں ایسا ہوا کہ کسی نئی اور انقلابی دعوت کو قبول کرنے میں وہی لوگ زیادہ آگے بڑھے جو ابھی زیادہ عمر کو نہیں پہنچے تھے۔ یہی صورتِ حال حضرت موسیٰ کے ساتھ پیش آئی۔ حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے والے نوجوان کو ایک طرف فرعون کا خطرہ تھا۔ دوسری طرف خود اپنی قوم کے بڑوں کی طرف سے ان کو حوصلہ افزائی نہیں ملی۔ یہ بڑے اگر چہ حضرت موسیٰ کی نبوت کو مانتے تھے مگر اپنی مصلحت اندیشی کی بناپروہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بیٹے بیٹیاں پُرجوش طورپر حضرت موسی کا ساتھ دیں اور اس کے نتیجہ میں وہ فرعون کے ظلم کا شکار بنیں۔ مگر اس قسم کی صورتِ حال کا تقاضا یہ نہیں ہوتا کہ آدمی مخالفین حق کے ڈر سے خاموش ہو کر بیٹھ جائے۔ اس کو چاہیے کہ وہ انسانی مخالفتوں کے مقابلہ میں خدائی نصرتوں پر نظر رکھے، وہ خدا کے بھروسہ پر اس حق کا ساتھ دینے کے لیے اٹھ کھڑا ہو جس کا ساتھ دینے کے لیے ذاتی طور پر وہ اپنے آپ کو عاجز پارہا تھا۔

يونس 10:84

نئے فکر کو قبول کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے معاشرہ میں نئے نئے مسائل سے دوچار ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ عمر کے لوگ اکثر کسی نئے فکر کو قبول کرنے میں محتاط ہوتے ہیں۔ مختلف وجوہ سے زیادہ عمر کے لوگوں پر مصلحت کا غلبہ ہوجاتاہے۔ وہ نئے فکر کی صحت کو ماننے کے باوجود آگے بڑھ کر اس کا ساتھ نہیںدے پاتے۔ مگر نوجوان طبقہ عام طورپر اس قسم کی مصلحتوں سے خالی ہوتاہے۔ چنانچہ ہمیشہ تاریخ میں ایسا ہوا کہ کسی نئی اور انقلابی دعوت کو قبول کرنے میں وہی لوگ زیادہ آگے بڑھے جو ابھی زیادہ عمر کو نہیں پہنچے تھے۔ یہی صورتِ حال حضرت موسیٰ کے ساتھ پیش آئی۔ حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے والے نوجوان کو ایک طرف فرعون کا خطرہ تھا۔ دوسری طرف خود اپنی قوم کے بڑوں کی طرف سے ان کو حوصلہ افزائی نہیں ملی۔ یہ بڑے اگر چہ حضرت موسیٰ کی نبوت کو مانتے تھے مگر اپنی مصلحت اندیشی کی بناپروہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بیٹے بیٹیاں پُرجوش طورپر حضرت موسی کا ساتھ دیں اور اس کے نتیجہ میں وہ فرعون کے ظلم کا شکار بنیں۔ مگر اس قسم کی صورتِ حال کا تقاضا یہ نہیں ہوتا کہ آدمی مخالفین حق کے ڈر سے خاموش ہو کر بیٹھ جائے۔ اس کو چاہیے کہ وہ انسانی مخالفتوں کے مقابلہ میں خدائی نصرتوں پر نظر رکھے، وہ خدا کے بھروسہ پر اس حق کا ساتھ دینے کے لیے اٹھ کھڑا ہو جس کا ساتھ دینے کے لیے ذاتی طور پر وہ اپنے آپ کو عاجز پارہا تھا۔

يونس 10:85

نئے فکر کو قبول کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے معاشرہ میں نئے نئے مسائل سے دوچار ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ عمر کے لوگ اکثر کسی نئے فکر کو قبول کرنے میں محتاط ہوتے ہیں۔ مختلف وجوہ سے زیادہ عمر کے لوگوں پر مصلحت کا غلبہ ہوجاتاہے۔ وہ نئے فکر کی صحت کو ماننے کے باوجود آگے بڑھ کر اس کا ساتھ نہیںدے پاتے۔ مگر نوجوان طبقہ عام طورپر اس قسم کی مصلحتوں سے خالی ہوتاہے۔ چنانچہ ہمیشہ تاریخ میں ایسا ہوا کہ کسی نئی اور انقلابی دعوت کو قبول کرنے میں وہی لوگ زیادہ آگے بڑھے جو ابھی زیادہ عمر کو نہیں پہنچے تھے۔ یہی صورتِ حال حضرت موسیٰ کے ساتھ پیش آئی۔ حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے والے نوجوان کو ایک طرف فرعون کا خطرہ تھا۔ دوسری طرف خود اپنی قوم کے بڑوں کی طرف سے ان کو حوصلہ افزائی نہیں ملی۔ یہ بڑے اگر چہ حضرت موسیٰ کی نبوت کو مانتے تھے مگر اپنی مصلحت اندیشی کی بناپروہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بیٹے بیٹیاں پُرجوش طورپر حضرت موسی کا ساتھ دیں اور اس کے نتیجہ میں وہ فرعون کے ظلم کا شکار بنیں۔ مگر اس قسم کی صورتِ حال کا تقاضا یہ نہیں ہوتا کہ آدمی مخالفین حق کے ڈر سے خاموش ہو کر بیٹھ جائے۔ اس کو چاہیے کہ وہ انسانی مخالفتوں کے مقابلہ میں خدائی نصرتوں پر نظر رکھے، وہ خدا کے بھروسہ پر اس حق کا ساتھ دینے کے لیے اٹھ کھڑا ہو جس کا ساتھ دینے کے لیے ذاتی طور پر وہ اپنے آپ کو عاجز پارہا تھا۔

يونس 10:86

نئے فکر کو قبول کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے معاشرہ میں نئے نئے مسائل سے دوچار ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ عمر کے لوگ اکثر کسی نئے فکر کو قبول کرنے میں محتاط ہوتے ہیں۔ مختلف وجوہ سے زیادہ عمر کے لوگوں پر مصلحت کا غلبہ ہوجاتاہے۔ وہ نئے فکر کی صحت کو ماننے کے باوجود آگے بڑھ کر اس کا ساتھ نہیںدے پاتے۔ مگر نوجوان طبقہ عام طورپر اس قسم کی مصلحتوں سے خالی ہوتاہے۔ چنانچہ ہمیشہ تاریخ میں ایسا ہوا کہ کسی نئی اور انقلابی دعوت کو قبول کرنے میں وہی لوگ زیادہ آگے بڑھے جو ابھی زیادہ عمر کو نہیں پہنچے تھے۔ یہی صورتِ حال حضرت موسیٰ کے ساتھ پیش آئی۔ حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے والے نوجوان کو ایک طرف فرعون کا خطرہ تھا۔ دوسری طرف خود اپنی قوم کے بڑوں کی طرف سے ان کو حوصلہ افزائی نہیں ملی۔ یہ بڑے اگر چہ حضرت موسیٰ کی نبوت کو مانتے تھے مگر اپنی مصلحت اندیشی کی بناپروہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بیٹے بیٹیاں پُرجوش طورپر حضرت موسی کا ساتھ دیں اور اس کے نتیجہ میں وہ فرعون کے ظلم کا شکار بنیں۔ مگر اس قسم کی صورتِ حال کا تقاضا یہ نہیں ہوتا کہ آدمی مخالفین حق کے ڈر سے خاموش ہو کر بیٹھ جائے۔ اس کو چاہیے کہ وہ انسانی مخالفتوں کے مقابلہ میں خدائی نصرتوں پر نظر رکھے، وہ خدا کے بھروسہ پر اس حق کا ساتھ دینے کے لیے اٹھ کھڑا ہو جس کا ساتھ دینے کے لیے ذاتی طور پر وہ اپنے آپ کو عاجز پارہا تھا۔

يونس 10:87

قبلہ کے معنی عربی میں مرجع یا مرکز توجہ کے ہیں۔ یہاں گھروں کو قبلہ بنانے سے مراد یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی بستیوں میں کچھ گھروں یا ان گھروں کے بعض مناسب حصوں کو اس مقصد کے لیے مخصوص کردیا جائے کہ وہ حضرت موسیٰ کی دینی جدوجہد کے لیے بطور مرکز کے کام دیں۔ یہاں تنظیمی اجتماعات ہوں، باہمی مشورے ہوں اور دعوتی عمل کی خاموش منصوبہ بندی کی جائے۔ حضرت موسیٰ کی توحید و آخرت کی باتیں مصر کے بادشاہ فرعون کو سخت ناگوار تھیں۔ اس نے ان کے اوپر نہایت سخت قسم کی پابندیاں عائد کردیں۔ یہاں تک کہ کھلے طور پر دینی سرگرمیاں جاری رکھنا ان کے لیے سخت دشوار ہوگیا۔ اس وقت حکم ہواکہ فرعون سے ٹکرانے کے بجائے یہ کرو کہ اپنے کام کو قریبی دائرہ میں سمیٹ لو۔ اپنی بستیوں میں چھوٹے دعوتی اور تنظیمی مراکز بنا کر محدود دائرہ میں خاموشی کے ساتھ اپنا کام جاری رکھو۔ ان حالات میں ان کو جو دوسرا حکم دیاگیا وہ نماز کی اقامت تھا۔ یعنی اللہ سے تعلق جوڑنے اور اس سے مدد مانگنے کے لیے نمازوں کا اہتمام، انفرادی طورپر بھی اور اجتماعی طور پر بھی۔ نماز دراصل خدا سے قریب ہو کر خدا سے مدد مانگنے کی ایک صورت ہے۔ نماز میں مشغول ہو کر بندہ اپنے آپ کو عجز اور تواضع کے مقام پر لاتا ہے اور عجز اور تواضع ہی وہ مقام ہے جہاں بندہ اور خدا کی ملاقات ہوتی ہے۔ بندہ کے لیے اپنے رب سے ملنے کا دوسرا کوئی مقام نہیں۔ یہ جو پروگرام بتایاگیا اسی کی تکمیل میںان کے لیے فلاح اور نجات کا راز چھپا ہوا تھا۔ یہ حکم گویا اس بات کی خوش خبری تھی کہ خدا ان کو اس حالت سے نکالنے والا ہے جس میں ان کے دشمنوںنے ان کو مبتلا کردیا ہے۔

يونس 10:88

جو لوگ آخرت کی فکر کرتے ہیں وہ عام طور پر دنیوی ساز وسامان جمع کرنے میں ان لوگوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں جو آخرت سے بے فکر ہو کر دنیا حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہوں۔دنیوی کمی آخرت کی طرف دھیان لگانے کی قیمت ہے، اور دنیوی زیادتی آخرت سے غافل ہونے کی قیمت۔ مزید یہ کہ جس کے پاس دنیا کی رونق اور سامان زیادہ جمع ہوجائیں وہ بڑائی کے احساس میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ایسے لوگ اپنے اندر یہ صلاحیت کھودیتے ہیں کہ کسی دوسرے کی زبان سے جاری ہونے والے حق کو پہچانیں اور اس کے آگے جھک جائیں۔ اپنے وسائل کو اگر وہ خدا کا عطیہ سمجھتے تو اس کو حق کی تائید میں استعمال کرتے، مگر وہ اس کو اپنا ذاتی کمال سمجھتے ہیں اس ليے وہ اس کو صرف اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ حق کو دبائیں اور اس طرح ماحول کے اندر اپنی برتری قائم رکھیں۔ ’’تاکہ وہ تیری راہ سے بھٹکائیں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ کے ديے ہوئے مال واسباب کو صرف اس لیے استعمال کیا کہ اس کے ذریعے سے خدا کے بندوں کو خدا سے دور کریں، انھوں نے اس کو حق کی خدمت میں لگانے کے بجائے باطل کی خدمت میں لگایا، یہاں شدت بیان کی خاطر کلام کا اسلوب بدل گیا ہے۔ حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے سامنے سچے دین کی دعوت پیش کی اور اپنی اعلیٰ صلاحیتوں اور خدا کی نصرتوں کے ذریعہ اس کو اتمام حجت کی حد تک واضح کردیا، اس کے باوجود فرعون اور اس کے ساتھیوں نے آنجناب کے پیغام کو نہیں مانا۔ اس وقت حضرت موسیٰ نے دعا کی کہ خدایا ان کے اوپر وہ سزا نازل فرما جو تیرے قانون کے تحت ایسے سرکشوں کے لیے مقدر ہے۔ ایسے موقع پر پیغمبر کی بد دعا خود خدا کے فیصلہ کا اعلان ہوتاہے جو نمائندہ خدا کی زبان سے جاری کیا جاتاہے۔ حضرت موسیٰ کی دعا قبول ہوگئی۔ تاہم جیسا کہ بعض روایات میں آتاہے، حضرت موسیٰ کی دعا اور فرعون کی تباہی کے درمیان 40 سال کا فاصلہ ہے(تفسير النسفی، جلد2، صفحہ 38 ) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد بھی لمبی مدت تک یہ صورت حال باقی رہی کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھی اپنے آپ کو بے بس پاتے تھے۔ اور دوسری طرف فرعون اور اس کے ساتھیوں کی شان وشوکت بدستور ملک میں قائم تھی۔ ایسی حالت میں آدمی اگر خدا کی اس سنت سے بے خبر ہو کہ وہ سرکشوں کو مہلت دیتاہے تو وہ جلد بازی میں اصل کام چھوڑ دے گااور مایوسی اور بددلی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔

يونس 10:89

جو لوگ آخرت کی فکر کرتے ہیں وہ عام طور پر دنیوی ساز وسامان جمع کرنے میں ان لوگوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں جو آخرت سے بے فکر ہو کر دنیا حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہوں۔دنیوی کمی آخرت کی طرف دھیان لگانے کی قیمت ہے، اور دنیوی زیادتی آخرت سے غافل ہونے کی قیمت۔ مزید یہ کہ جس کے پاس دنیا کی رونق اور سامان زیادہ جمع ہوجائیں وہ بڑائی کے احساس میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ایسے لوگ اپنے اندر یہ صلاحیت کھودیتے ہیں کہ کسی دوسرے کی زبان سے جاری ہونے والے حق کو پہچانیں اور اس کے آگے جھک جائیں۔ اپنے وسائل کو اگر وہ خدا کا عطیہ سمجھتے تو اس کو حق کی تائید میں استعمال کرتے، مگر وہ اس کو اپنا ذاتی کمال سمجھتے ہیں اس ليے وہ اس کو صرف اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ حق کو دبائیں اور اس طرح ماحول کے اندر اپنی برتری قائم رکھیں۔ ’’تاکہ وہ تیری راہ سے بھٹکائیں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ کے ديے ہوئے مال واسباب کو صرف اس لیے استعمال کیا کہ اس کے ذریعے سے خدا کے بندوں کو خدا سے دور کریں، انھوں نے اس کو حق کی خدمت میں لگانے کے بجائے باطل کی خدمت میں لگایا، یہاں شدت بیان کی خاطر کلام کا اسلوب بدل گیا ہے۔ حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے سامنے سچے دین کی دعوت پیش کی اور اپنی اعلیٰ صلاحیتوں اور خدا کی نصرتوں کے ذریعہ اس کو اتمام حجت کی حد تک واضح کردیا، اس کے باوجود فرعون اور اس کے ساتھیوں نے آنجناب کے پیغام کو نہیں مانا۔ اس وقت حضرت موسیٰ نے دعا کی کہ خدایا ان کے اوپر وہ سزا نازل فرما جو تیرے قانون کے تحت ایسے سرکشوں کے لیے مقدر ہے۔ ایسے موقع پر پیغمبر کی بد دعا خود خدا کے فیصلہ کا اعلان ہوتاہے جو نمائندہ خدا کی زبان سے جاری کیا جاتاہے۔ حضرت موسیٰ کی دعا قبول ہوگئی۔ تاہم جیسا کہ بعض روایات میں آتاہے، حضرت موسیٰ کی دعا اور فرعون کی تباہی کے درمیان 40 سال کا فاصلہ ہے(تفسير النسفی، جلد2، صفحہ 38 ) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد بھی لمبی مدت تک یہ صورت حال باقی رہی کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھی اپنے آپ کو بے بس پاتے تھے۔ اور دوسری طرف فرعون اور اس کے ساتھیوں کی شان وشوکت بدستور ملک میں قائم تھی۔ ایسی حالت میں آدمی اگر خدا کی اس سنت سے بے خبر ہو کہ وہ سرکشوں کو مہلت دیتاہے تو وہ جلد بازی میں اصل کام چھوڑ دے گااور مایوسی اور بددلی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔

يونس 10:90

مصر میں حضرت موسیٰ کا مشن دو طرفہ تھا۔ ایک، فرعون کو توحید اور آخرت کی طرف بلانا۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو مصر سے باہر صحرائی ماحول میں لے جانا اور وہاں ان کی تربیت کرنا۔ جب فرعون پر دعوتِ حق کی تکمیل ہوچکی تو اللہ کے حکم سے وہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے روانہ ہوئے ۔ صحرائے سینا پہنچنے کے لیے انھیں دریا کو پار کرنا تھا۔ جب بنی اسرائیل حضرت موسی کی رہنمائی میں دریا کے کنارے پہنچے تو اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ نے پانی پر اپنا عصامارا۔ پانی بیچ سے پھٹ کر دائیں بائیں کھڑا ہوگیا، اور درمیان میں خشک راستہ نکل آیا۔ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل اس راستہ سے بآسانی پار ہوگئے۔ فرعون اپنے لشکر کے ساتھ بنی اسرائیل کا پیچھا کرتے ہوئے آگے بڑھا۔ وہ دریا کے کنارے پہنچا تو دیکھا کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل پانی کے درمیان ایک خشک راستہ سے گزررہے ہیں۔ دریا کے وسیع پاٹ نے پھٹ کر حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو راستہ دے دیاتھا۔ یہ واقعہ دراصل خدا کی ایک نشانی تھا۔ فرعون کو اس سے یہ سبق لینا چاہیے تھاکہ موسیٰ حق پر ہیں اور خدا ان کے ساتھ ہے۔ مگر اس نے دریا کے پھٹنے کو خدائی واقعہ سمجھنے کے بجائے عام واقعہ سمجھا۔ اپنے اور موسیٰ کے درمیان فرعون کو صرف دریا نظر آیا، حالاں کہ وہاں خود خدا کھڑا ہوا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس واقعہ میں فرعون کے لیے اطاعت اور انابت کا پیغام تھا وہ اس کے لیے صرف سرکشی میں اضافہ کا سبب بن گیا۔ اس نے ’’دریا‘‘ کو دیکھا مگر ’’خدا ‘‘ کو نہیں دیکھا۔ اس نے سمجھا کہ جس طرح موسیٰ اور ان کے ساتھیوں نے دریا کو پار کیا ہے اسی طرح وہ بھی دریا کو پار کرسکتاہے۔ اپنے اس ذہن کے ساتھ فرعون اور اس کا لشکر دریا میں داخل ہوگئے۔ دریا کا پانی جو دو ٹکڑے ہوا تھا وہ موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کے لیے ہوا تھا، وہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کے لیے نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ فرعون اور اس کا لشکر جب بیچ دریا میں پہنچے تو خداکے حکم سے دونوں طرف کا پانی مل گیا اور فرعون اپنے لشکر سمیت اس میں غرق ہوگیا۔ غرق ہوتے ہوئے فرعون نے ایمان کا اقرار کیا مگر وہ بے سود تھا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اختیاری ایمان معتبر ہے، نہ کہ وہ ایمان جب کہ آدمی ایمان لانے پر مجبور ہوگیا ہو۔ خدا سے نافرمانی اور سرکشی کا انجام ہلاکت ہے، اس کا نمونہ دور رِسالت میں بار بار انسان کے سامنے آتا تھا۔ تاہم اس قسم کے کچھ نمونے خدانے مستقل طورپر محفوظ کرديے ہیں تاکہ وہ بعد کے زمانے میں بھی انسان کو سبق دیتے رہیں جب کہ نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا ہو۔ انھیں میں سے ایک تاریخی نمونہ فرعونِ موسیٰ (رعمیس ثانی) کا ہے جس کی ممی کی ہوئی لاش ماہرین اثریات کو قدیم مصری شہر تھیبس (Thebes) میں ملی تھی اور اب وہ قاہرہ کے میوزیم میں نمائش کے لیے رکھی ہوئی ہے۔

يونس 10:91

مصر میں حضرت موسیٰ کا مشن دو طرفہ تھا۔ ایک، فرعون کو توحید اور آخرت کی طرف بلانا۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو مصر سے باہر صحرائی ماحول میں لے جانا اور وہاں ان کی تربیت کرنا۔ جب فرعون پر دعوتِ حق کی تکمیل ہوچکی تو اللہ کے حکم سے وہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے روانہ ہوئے ۔ صحرائے سینا پہنچنے کے لیے انھیں دریا کو پار کرنا تھا۔ جب بنی اسرائیل حضرت موسی کی رہنمائی میں دریا کے کنارے پہنچے تو اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ نے پانی پر اپنا عصامارا۔ پانی بیچ سے پھٹ کر دائیں بائیں کھڑا ہوگیا، اور درمیان میں خشک راستہ نکل آیا۔ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل اس راستہ سے بآسانی پار ہوگئے۔ فرعون اپنے لشکر کے ساتھ بنی اسرائیل کا پیچھا کرتے ہوئے آگے بڑھا۔ وہ دریا کے کنارے پہنچا تو دیکھا کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل پانی کے درمیان ایک خشک راستہ سے گزررہے ہیں۔ دریا کے وسیع پاٹ نے پھٹ کر حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو راستہ دے دیاتھا۔ یہ واقعہ دراصل خدا کی ایک نشانی تھا۔ فرعون کو اس سے یہ سبق لینا چاہیے تھاکہ موسیٰ حق پر ہیں اور خدا ان کے ساتھ ہے۔ مگر اس نے دریا کے پھٹنے کو خدائی واقعہ سمجھنے کے بجائے عام واقعہ سمجھا۔ اپنے اور موسیٰ کے درمیان فرعون کو صرف دریا نظر آیا، حالاں کہ وہاں خود خدا کھڑا ہوا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس واقعہ میں فرعون کے لیے اطاعت اور انابت کا پیغام تھا وہ اس کے لیے صرف سرکشی میں اضافہ کا سبب بن گیا۔ اس نے ’’دریا‘‘ کو دیکھا مگر ’’خدا ‘‘ کو نہیں دیکھا۔ اس نے سمجھا کہ جس طرح موسیٰ اور ان کے ساتھیوں نے دریا کو پار کیا ہے اسی طرح وہ بھی دریا کو پار کرسکتاہے۔ اپنے اس ذہن کے ساتھ فرعون اور اس کا لشکر دریا میں داخل ہوگئے۔ دریا کا پانی جو دو ٹکڑے ہوا تھا وہ موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کے لیے ہوا تھا، وہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کے لیے نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ فرعون اور اس کا لشکر جب بیچ دریا میں پہنچے تو خداکے حکم سے دونوں طرف کا پانی مل گیا اور فرعون اپنے لشکر سمیت اس میں غرق ہوگیا۔ غرق ہوتے ہوئے فرعون نے ایمان کا اقرار کیا مگر وہ بے سود تھا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اختیاری ایمان معتبر ہے، نہ کہ وہ ایمان جب کہ آدمی ایمان لانے پر مجبور ہوگیا ہو۔ خدا سے نافرمانی اور سرکشی کا انجام ہلاکت ہے، اس کا نمونہ دور رِسالت میں بار بار انسان کے سامنے آتا تھا۔ تاہم اس قسم کے کچھ نمونے خدانے مستقل طورپر محفوظ کرديے ہیں تاکہ وہ بعد کے زمانے میں بھی انسان کو سبق دیتے رہیں جب کہ نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا ہو۔ انھیں میں سے ایک تاریخی نمونہ فرعونِ موسیٰ (رعمیس ثانی) کا ہے جس کی ممی کی ہوئی لاش ماہرین اثریات کو قدیم مصری شہر تھیبس (Thebes) میں ملی تھی اور اب وہ قاہرہ کے میوزیم میں نمائش کے لیے رکھی ہوئی ہے۔

يونس 10:92

مصر میں حضرت موسیٰ کا مشن دو طرفہ تھا۔ ایک، فرعون کو توحید اور آخرت کی طرف بلانا۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو مصر سے باہر صحرائی ماحول میں لے جانا اور وہاں ان کی تربیت کرنا۔ جب فرعون پر دعوتِ حق کی تکمیل ہوچکی تو اللہ کے حکم سے وہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے روانہ ہوئے ۔ صحرائے سینا پہنچنے کے لیے انھیں دریا کو پار کرنا تھا۔ جب بنی اسرائیل حضرت موسی کی رہنمائی میں دریا کے کنارے پہنچے تو اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ نے پانی پر اپنا عصامارا۔ پانی بیچ سے پھٹ کر دائیں بائیں کھڑا ہوگیا، اور درمیان میں خشک راستہ نکل آیا۔ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل اس راستہ سے بآسانی پار ہوگئے۔ فرعون اپنے لشکر کے ساتھ بنی اسرائیل کا پیچھا کرتے ہوئے آگے بڑھا۔ وہ دریا کے کنارے پہنچا تو دیکھا کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل پانی کے درمیان ایک خشک راستہ سے گزررہے ہیں۔ دریا کے وسیع پاٹ نے پھٹ کر حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو راستہ دے دیاتھا۔ یہ واقعہ دراصل خدا کی ایک نشانی تھا۔ فرعون کو اس سے یہ سبق لینا چاہیے تھاکہ موسیٰ حق پر ہیں اور خدا ان کے ساتھ ہے۔ مگر اس نے دریا کے پھٹنے کو خدائی واقعہ سمجھنے کے بجائے عام واقعہ سمجھا۔ اپنے اور موسیٰ کے درمیان فرعون کو صرف دریا نظر آیا، حالاں کہ وہاں خود خدا کھڑا ہوا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس واقعہ میں فرعون کے لیے اطاعت اور انابت کا پیغام تھا وہ اس کے لیے صرف سرکشی میں اضافہ کا سبب بن گیا۔ اس نے ’’دریا‘‘ کو دیکھا مگر ’’خدا ‘‘ کو نہیں دیکھا۔ اس نے سمجھا کہ جس طرح موسیٰ اور ان کے ساتھیوں نے دریا کو پار کیا ہے اسی طرح وہ بھی دریا کو پار کرسکتاہے۔ اپنے اس ذہن کے ساتھ فرعون اور اس کا لشکر دریا میں داخل ہوگئے۔ دریا کا پانی جو دو ٹکڑے ہوا تھا وہ موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کے لیے ہوا تھا، وہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کے لیے نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ فرعون اور اس کا لشکر جب بیچ دریا میں پہنچے تو خداکے حکم سے دونوں طرف کا پانی مل گیا اور فرعون اپنے لشکر سمیت اس میں غرق ہوگیا۔ غرق ہوتے ہوئے فرعون نے ایمان کا اقرار کیا مگر وہ بے سود تھا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اختیاری ایمان معتبر ہے، نہ کہ وہ ایمان جب کہ آدمی ایمان لانے پر مجبور ہوگیا ہو۔ خدا سے نافرمانی اور سرکشی کا انجام ہلاکت ہے، اس کا نمونہ دور رِسالت میں بار بار انسان کے سامنے آتا تھا۔ تاہم اس قسم کے کچھ نمونے خدانے مستقل طورپر محفوظ کرديے ہیں تاکہ وہ بعد کے زمانے میں بھی انسان کو سبق دیتے رہیں جب کہ نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا ہو۔ انھیں میں سے ایک تاریخی نمونہ فرعونِ موسیٰ (رعمیس ثانی) کا ہے جس کی ممی کی ہوئی لاش ماہرین اثریات کو قدیم مصری شہر تھیبس (Thebes) میں ملی تھی اور اب وہ قاہرہ کے میوزیم میں نمائش کے لیے رکھی ہوئی ہے۔

يونس 10:93

بنی اسرائیل قدیم زمانہ میں خداکے دین کے حامل تھے۔ ان کے ساتھ خدا نے یہ احسان کیا کہ ان کے دشمن (فرعون) سے ان کو نجات دی۔ اس کے بعد وہ ان کو سینا کی کھلی فضا میں لے گیا۔ وہاں ان کے لیے خصوصی انتظام کے تحت پانی اور رزق مہیا کیا۔ صحرائی تربیت کے ذریعہ ان کے اندر ایک نئی طاقت ور نسل تیار کی۔ اس نسل نے حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد ایک عظیم ملک فتح کیا اور شام اور اردن اور فلسطین جیسے سرسبز علاقہ میں بنی اسرائیل کی سلطنت قائم کی جو کئی سوسال تک باقی رہی۔ اس احسان کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ بنی اسرائیل خدا کے فرماں بردار اور شکر گزا ر رہتے اور خدا کے دین کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بناتے۔ مگر واضح رہنمائی کے ہوتے ہوئے وہ راہ سے بے راہ ہوگئے۔ ان کا راہ سے بے راہ ہونا کیا تھا۔ یہ آپس کا اختلاف تھا۔ ان کے پاس خدا کا اتارا ہوا علم موجود تھا جو واحد سچائی تھا۔ مگر انھوں نے اس علم کی تشریح وتاویل میں اختلاف کیا اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے(تفسير النسفی، جلد2، صفحہ40)۔ کوئی امت جب تک خدا کے اتارے ہوئے دین (العلم) پر رہتی ہے، اس میں اتفاق واتحاد رہتاہے۔ مگر بعد کو ان کے درمیان اس العلم کی تشریح میں اختلافات شروع ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ایک اختلافی رائے لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور کچھ لوگ دوسری اختلافی رائے لے کر۔ ہر ایک اپنے اپنے مسلک کو برحق ثابت کرنے کے لیے بحث مباحثہ اور تقریر اور مناظرہ کا طوفان کھڑا کرتاہے۔ نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ اصل العلم کتابوں میں بند پڑا رہتاہے اور سارا زور ان کی تاویلات وتشریحات میں صرف ہونے لگتاہے۔ اس طرح بنیادی دینی تعلیمات (العلم) میں متحد الرائے ہونے کے باوجود لوگ ذیلی تعلیمات میں مشغول ہوکر مختلف الرائے ہوجاتے ہیں۔ ’’اللہ قیامت کے دن فیصلہ کردے گا‘‘ بظاہر متعدی ہے مگر حقیقۃً وہ لازم کا صیغہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت میں جب خدا ظاہر ہوگا تو ہر آدمی اپنے اختلاف کو بھول کر اسی بات کو مان لے گا جو واحد سچائی ہے۔ اگر وہ خدا سے ڈرتے تو آج ہی سب کے سب ایک رائے پر پہنچ جاتے۔ مگر خدا سے بے خوف ہو کر وہ الگ الگ راہوں میں بٹ گئے ہیں۔ بے خوفی سے رایوں کا تعدد پیدا ہوتا ہے اور خوف سے رایوں کا اتحاد۔

يونس 10:94

پیغمبر بے آمیز حق کو لے کر اٹھتا ہے، اور بے آمیز حق کی دعوت کو قبول کرنا انسان کے لیے ہمیشہ سخت دشوار کام رہاہے۔ لوگ عام طورپر ملاوٹی حق کی بنیاد پر کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی دنیا پرستانہ زندگی پر حق کا لیبل لگا لیتے ہیں۔ ایسی حالت میں بے آمیز حق کی دعوت کو ماننا اپنی ذات کی نفی کی قیمت پر ہوتاہے۔ داعیٔ حق کو ماننے کے لیے اس کے مقابلہ میں اپنے آپ کو چھوٹا کرنا پڑتاہے۔ اور اپنے آپ کو چھوٹا کرنا بلا شبہ انسان کے لیے مشکل ترین کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ حق کی دعوت اٹھے اور لوگ جوق درجوق اس کی طرف دوڑنا شروع کردیں۔ حق کا استقبال اس دنیا میں ہمیشہ اعراض اور مخالفت کی صورت میں کیا گیا ہے۔ داعی جب اپنے ماحول میں حق کی یہ بے وقعتی دیکھتا ہے تو کبھی کبھی اس پر یہ شبہ گزرتا ہے کہ میں غلطی پر تو نہیں ہوں۔ اس آیت میں داعی کو اسی نفسیات سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس شبہ کے غلط ہونے کا ایک نہایت واضح ثبوت یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں اور داعیوں کو بھی ہمیشہ اسی طرح کی صورت حال سے سابقہ پیش آیا۔ جو لوگ سابق انبیاء کی تاریخ سے واقف ہیں ان کو بخوبی معلوم ہے کہ اس دنیا میں کبھی ایسا نہیںہوا کہ ایک پیغمبر اٹھے اور فوراً اس کو عوامی مقبولیت حاصل ہوجائے۔ پھر یہی بات اگر بعد کے زمانہ کے داعیوں کے ساتھ پیش آئے تو اس پر حیران وپریشان ہونے کی کیا ضرورت۔ آدمی کی عقل اگر کسی چیز کی سچائی پر گواہی دے اور وہ صرف لوگوں کی بے توجہی یا مخالفت کی وجہ سے اس چیز کو چھوڑ دے تو یہ گویا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلانا ہے۔ اللہ نشانیوں (دلائل) کے روپ میں انسان کے سامنے ظاہر ہوتاہے۔ اس لیے جس چیز کی صداقت پر دلیل قائم ہوجائے اس کو ماننا آدمی کے اوپر خدا کا حق ہوجاتا ہے۔ پھر جو شخص خدا کا حق ادا نہ کرے اس کے حصہ میں نقصان اور ہلاکت کے سوا کیا آئے گا۔

يونس 10:95

پیغمبر بے آمیز حق کو لے کر اٹھتا ہے، اور بے آمیز حق کی دعوت کو قبول کرنا انسان کے لیے ہمیشہ سخت دشوار کام رہاہے۔ لوگ عام طورپر ملاوٹی حق کی بنیاد پر کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی دنیا پرستانہ زندگی پر حق کا لیبل لگا لیتے ہیں۔ ایسی حالت میں بے آمیز حق کی دعوت کو ماننا اپنی ذات کی نفی کی قیمت پر ہوتاہے۔ داعیٔ حق کو ماننے کے لیے اس کے مقابلہ میں اپنے آپ کو چھوٹا کرنا پڑتاہے۔ اور اپنے آپ کو چھوٹا کرنا بلا شبہ انسان کے لیے مشکل ترین کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ حق کی دعوت اٹھے اور لوگ جوق درجوق اس کی طرف دوڑنا شروع کردیں۔ حق کا استقبال اس دنیا میں ہمیشہ اعراض اور مخالفت کی صورت میں کیا گیا ہے۔ داعی جب اپنے ماحول میں حق کی یہ بے وقعتی دیکھتا ہے تو کبھی کبھی اس پر یہ شبہ گزرتا ہے کہ میں غلطی پر تو نہیں ہوں۔ اس آیت میں داعی کو اسی نفسیات سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس شبہ کے غلط ہونے کا ایک نہایت واضح ثبوت یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں اور داعیوں کو بھی ہمیشہ اسی طرح کی صورت حال سے سابقہ پیش آیا۔ جو لوگ سابق انبیاء کی تاریخ سے واقف ہیں ان کو بخوبی معلوم ہے کہ اس دنیا میں کبھی ایسا نہیںہوا کہ ایک پیغمبر اٹھے اور فوراً اس کو عوامی مقبولیت حاصل ہوجائے۔ پھر یہی بات اگر بعد کے زمانہ کے داعیوں کے ساتھ پیش آئے تو اس پر حیران وپریشان ہونے کی کیا ضرورت۔ آدمی کی عقل اگر کسی چیز کی سچائی پر گواہی دے اور وہ صرف لوگوں کی بے توجہی یا مخالفت کی وجہ سے اس چیز کو چھوڑ دے تو یہ گویا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلانا ہے۔ اللہ نشانیوں (دلائل) کے روپ میں انسان کے سامنے ظاہر ہوتاہے۔ اس لیے جس چیز کی صداقت پر دلیل قائم ہوجائے اس کو ماننا آدمی کے اوپر خدا کا حق ہوجاتا ہے۔ پھر جو شخص خدا کا حق ادا نہ کرے اس کے حصہ میں نقصان اور ہلاکت کے سوا کیا آئے گا۔

يونس 10:96

انسان کے سامنے جب ایک حق بات آتی ہے تو اس کی عقل گواہی دیتی ہے کہ یہ صحیح ہے۔ مگر کسی حق کو لینے کے لیے آدمی کو کچھ دینا پڑتاہے اور اسی دینے کے لیے آدمی تیار نہیں ہوتا۔ اس کی خاطر آدمی کو دوسرے کے مقابلہ میں اپنے کو چھوٹا کرنا پڑتاہے۔ اپنے مفاد کو خطرہ میں ڈالنا ہوتا ہے۔ اپنی رائے اور اپنے وقار کو کھونا پڑتا ہے۔ یہ اندیشے آدمی کے لیے قبولِ حق میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ جس چیز کا جواب اس کو قبولیت اوراعتراف سے دینا چاہیے تھا اس کا جواب وہ انکار اور مخالفت سے دینے لگتا ہے۔ آدمی کی نفسیات کچھ اس طرح بنی ہیں کہ وہ ایک بار جس رخ پر چل پڑے اسی رخ پر اس کا پورا ذہن چلنے لگتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بار حق سے انحراف کرنے کے بعد بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی دوبارہ حق کی طرف لوٹے۔ کیوں کہ ہر آنے والے دن وہ اپنے فکر میں پختہ تر ہوتا چلا جاتاہے۔ یہاںتک وہ اس قابل ہی نہیں رہتا کہ حق کی طرف واپس آجائے۔ اس طرح کے لوگ اپنے موقف کو بتانے کے لیے ایسے الفاظ بولتے ہیں جس سے ظاہر ہو کہ ان کا کیس نظریاتی کیس ہے۔ مگر حقیقۃً وہ صرف ضد اور تعصب اور ہٹ دھرمی کا کیس ہوتا ہے جو اپنی دنیوی مصلحتوں کی خاطر اختیا رکیا جاتا ہے۔ تاہم عذاب خداوندی کے ظہور کے وقت آدمی کا یہ بھرم کھل جائے گا۔ خوف کی حالت اس کو اس چیز کے آگے جھکنے پر مجبور کردے گی جس کے آگے وہ بے خوفی کی حالت میں جھکنے پر تیار نہ ہوتا تھا۔ پچھلے زمانہ میں جتنے رسول آئے سب کے ساتھ یہ قصہ پیش آیا کہ ان کی مخاطب قوم آخر وقت تک ایمان نہیں لائی۔ البتہ جب وہ عذاب کی پکڑ میں آگئے تو انھوں نے کہا کہ ہم ایمان قبول کرتے ہیں۔ جب تک خدا انھیں دلیل کی زبان میں پکار رہا تھا، انھوں نے نہیں مانا اور جب خدا نے انھیں اپنی طاقتوں کی زد میں لے لیا تو کہنے لگے کہ اب ہم مانتے ہیں۔ مگر ایسا ماننا خدا کے یہاں معتبر نہیں۔ خدا کو وہ ماننا مطلوب ہے جب کہ آدمی دلیل کے زور پر جھک جائے، نہ کہ وہ طاقت کے زور پر جھکے۔ حضرت یونس علیہ السلام عراق کے ایک قدیم شہر نینویٰ میں بھیجے گئے۔ انھوں نے وہاں تبلیغ کی مگر وہ لوگ ایمان نہ لائے۔ آخر حضرت یونس نے پیغمبروں کی سنت کے مطابق ہجرت کی۔ وہ یہ کہہ کر نینویٰ سے چلے گئے کہ اب تمھارے اوپر خدا کا عذاب آئے گا۔ حضرت یونس کے جانے کے بعد عذاب کی ابتدائی علامتیں ظاہر ہوئیں۔ مگر اس وقت انھوں نے وہ نہ کیا جو قوم ہود نے کیا تھا کہ انھوں نے عذاب کا بادل آتے دیکھ کر کہا کہ یہ ہمارے لیے بارش برسانے آرہا ہے۔ قوم یونس کے اندر فوراً چونک پیدا ہوگئی۔ سارے لوگ اپنے مویشیوں اور عورتوں اور بچوں کو لے کر میدان میں جمع ہوگئے اور خداکے آگے عاجزی کرنے لگے۔ اس کے بعدعذاب ان سے اٹھا لیا گیا۔ جس طرح ظہور عذاب سے پہلے کا ایمان قابلِ اعتبار ہے اسی طرح وقوع عذاب کے قریب کا ایمان بھی قابل اعتبار ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ اتنا کامل ہو جتنا کامل قوم یونس کا ایمان تھا۔

يونس 10:97

انسان کے سامنے جب ایک حق بات آتی ہے تو اس کی عقل گواہی دیتی ہے کہ یہ صحیح ہے۔ مگر کسی حق کو لینے کے لیے آدمی کو کچھ دینا پڑتاہے اور اسی دینے کے لیے آدمی تیار نہیں ہوتا۔ اس کی خاطر آدمی کو دوسرے کے مقابلہ میں اپنے کو چھوٹا کرنا پڑتاہے۔ اپنے مفاد کو خطرہ میں ڈالنا ہوتا ہے۔ اپنی رائے اور اپنے وقار کو کھونا پڑتا ہے۔ یہ اندیشے آدمی کے لیے قبولِ حق میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ جس چیز کا جواب اس کو قبولیت اوراعتراف سے دینا چاہیے تھا اس کا جواب وہ انکار اور مخالفت سے دینے لگتا ہے۔ آدمی کی نفسیات کچھ اس طرح بنی ہیں کہ وہ ایک بار جس رخ پر چل پڑے اسی رخ پر اس کا پورا ذہن چلنے لگتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بار حق سے انحراف کرنے کے بعد بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی دوبارہ حق کی طرف لوٹے۔ کیوں کہ ہر آنے والے دن وہ اپنے فکر میں پختہ تر ہوتا چلا جاتاہے۔ یہاںتک وہ اس قابل ہی نہیں رہتا کہ حق کی طرف واپس آجائے۔ اس طرح کے لوگ اپنے موقف کو بتانے کے لیے ایسے الفاظ بولتے ہیں جس سے ظاہر ہو کہ ان کا کیس نظریاتی کیس ہے۔ مگر حقیقۃً وہ صرف ضد اور تعصب اور ہٹ دھرمی کا کیس ہوتا ہے جو اپنی دنیوی مصلحتوں کی خاطر اختیا رکیا جاتا ہے۔ تاہم عذاب خداوندی کے ظہور کے وقت آدمی کا یہ بھرم کھل جائے گا۔ خوف کی حالت اس کو اس چیز کے آگے جھکنے پر مجبور کردے گی جس کے آگے وہ بے خوفی کی حالت میں جھکنے پر تیار نہ ہوتا تھا۔ پچھلے زمانہ میں جتنے رسول آئے سب کے ساتھ یہ قصہ پیش آیا کہ ان کی مخاطب قوم آخر وقت تک ایمان نہیں لائی۔ البتہ جب وہ عذاب کی پکڑ میں آگئے تو انھوں نے کہا کہ ہم ایمان قبول کرتے ہیں۔ جب تک خدا انھیں دلیل کی زبان میں پکار رہا تھا، انھوں نے نہیں مانا اور جب خدا نے انھیں اپنی طاقتوں کی زد میں لے لیا تو کہنے لگے کہ اب ہم مانتے ہیں۔ مگر ایسا ماننا خدا کے یہاں معتبر نہیں۔ خدا کو وہ ماننا مطلوب ہے جب کہ آدمی دلیل کے زور پر جھک جائے، نہ کہ وہ طاقت کے زور پر جھکے۔ حضرت یونس علیہ السلام عراق کے ایک قدیم شہر نینویٰ میں بھیجے گئے۔ انھوں نے وہاں تبلیغ کی مگر وہ لوگ ایمان نہ لائے۔ آخر حضرت یونس نے پیغمبروں کی سنت کے مطابق ہجرت کی۔ وہ یہ کہہ کر نینویٰ سے چلے گئے کہ اب تمھارے اوپر خدا کا عذاب آئے گا۔ حضرت یونس کے جانے کے بعد عذاب کی ابتدائی علامتیں ظاہر ہوئیں۔ مگر اس وقت انھوں نے وہ نہ کیا جو قوم ہود نے کیا تھا کہ انھوں نے عذاب کا بادل آتے دیکھ کر کہا کہ یہ ہمارے لیے بارش برسانے آرہا ہے۔ قوم یونس کے اندر فوراً چونک پیدا ہوگئی۔ سارے لوگ اپنے مویشیوں اور عورتوں اور بچوں کو لے کر میدان میں جمع ہوگئے اور خداکے آگے عاجزی کرنے لگے۔ اس کے بعدعذاب ان سے اٹھا لیا گیا۔ جس طرح ظہور عذاب سے پہلے کا ایمان قابلِ اعتبار ہے اسی طرح وقوع عذاب کے قریب کا ایمان بھی قابل اعتبار ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ اتنا کامل ہو جتنا کامل قوم یونس کا ایمان تھا۔

يونس 10:98

انسان کے سامنے جب ایک حق بات آتی ہے تو اس کی عقل گواہی دیتی ہے کہ یہ صحیح ہے۔ مگر کسی حق کو لینے کے لیے آدمی کو کچھ دینا پڑتاہے اور اسی دینے کے لیے آدمی تیار نہیں ہوتا۔ اس کی خاطر آدمی کو دوسرے کے مقابلہ میں اپنے کو چھوٹا کرنا پڑتاہے۔ اپنے مفاد کو خطرہ میں ڈالنا ہوتا ہے۔ اپنی رائے اور اپنے وقار کو کھونا پڑتا ہے۔ یہ اندیشے آدمی کے لیے قبولِ حق میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ جس چیز کا جواب اس کو قبولیت اوراعتراف سے دینا چاہیے تھا اس کا جواب وہ انکار اور مخالفت سے دینے لگتا ہے۔ آدمی کی نفسیات کچھ اس طرح بنی ہیں کہ وہ ایک بار جس رخ پر چل پڑے اسی رخ پر اس کا پورا ذہن چلنے لگتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بار حق سے انحراف کرنے کے بعد بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی دوبارہ حق کی طرف لوٹے۔ کیوں کہ ہر آنے والے دن وہ اپنے فکر میں پختہ تر ہوتا چلا جاتاہے۔ یہاںتک وہ اس قابل ہی نہیں رہتا کہ حق کی طرف واپس آجائے۔ اس طرح کے لوگ اپنے موقف کو بتانے کے لیے ایسے الفاظ بولتے ہیں جس سے ظاہر ہو کہ ان کا کیس نظریاتی کیس ہے۔ مگر حقیقۃً وہ صرف ضد اور تعصب اور ہٹ دھرمی کا کیس ہوتا ہے جو اپنی دنیوی مصلحتوں کی خاطر اختیا رکیا جاتا ہے۔ تاہم عذاب خداوندی کے ظہور کے وقت آدمی کا یہ بھرم کھل جائے گا۔ خوف کی حالت اس کو اس چیز کے آگے جھکنے پر مجبور کردے گی جس کے آگے وہ بے خوفی کی حالت میں جھکنے پر تیار نہ ہوتا تھا۔ پچھلے زمانہ میں جتنے رسول آئے سب کے ساتھ یہ قصہ پیش آیا کہ ان کی مخاطب قوم آخر وقت تک ایمان نہیں لائی۔ البتہ جب وہ عذاب کی پکڑ میں آگئے تو انھوں نے کہا کہ ہم ایمان قبول کرتے ہیں۔ جب تک خدا انھیں دلیل کی زبان میں پکار رہا تھا، انھوں نے نہیں مانا اور جب خدا نے انھیں اپنی طاقتوں کی زد میں لے لیا تو کہنے لگے کہ اب ہم مانتے ہیں۔ مگر ایسا ماننا خدا کے یہاں معتبر نہیں۔ خدا کو وہ ماننا مطلوب ہے جب کہ آدمی دلیل کے زور پر جھک جائے، نہ کہ وہ طاقت کے زور پر جھکے۔ حضرت یونس علیہ السلام عراق کے ایک قدیم شہر نینویٰ میں بھیجے گئے۔ انھوں نے وہاں تبلیغ کی مگر وہ لوگ ایمان نہ لائے۔ آخر حضرت یونس نے پیغمبروں کی سنت کے مطابق ہجرت کی۔ وہ یہ کہہ کر نینویٰ سے چلے گئے کہ اب تمھارے اوپر خدا کا عذاب آئے گا۔ حضرت یونس کے جانے کے بعد عذاب کی ابتدائی علامتیں ظاہر ہوئیں۔ مگر اس وقت انھوں نے وہ نہ کیا جو قوم ہود نے کیا تھا کہ انھوں نے عذاب کا بادل آتے دیکھ کر کہا کہ یہ ہمارے لیے بارش برسانے آرہا ہے۔ قوم یونس کے اندر فوراً چونک پیدا ہوگئی۔ سارے لوگ اپنے مویشیوں اور عورتوں اور بچوں کو لے کر میدان میں جمع ہوگئے اور خداکے آگے عاجزی کرنے لگے۔ اس کے بعدعذاب ان سے اٹھا لیا گیا۔ جس طرح ظہور عذاب سے پہلے کا ایمان قابلِ اعتبار ہے اسی طرح وقوع عذاب کے قریب کا ایمان بھی قابل اعتبار ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ اتنا کامل ہو جتنا کامل قوم یونس کا ایمان تھا۔

يونس 10:99

’’تیرا رب چاہتا تو سارے لوگ مومن بن جاتے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے لیے یہ ممکن تھا کہ انسانی دنیا کا نظام بھی اسی طرح بنائے جس طرح بقیہ دنیا کا نظام ہے۔ جہاں ہر چیز مکمل طورپر خدا کے حکم کی پابندبنی ہوئی ہے۔ مگر انسان کے سلسلہ میں خدا کی یہ اسکیم ہی نہیں۔ انسان کے سلسلہ میں خدا کی اسکیم یہ ہے کہ آزادانہ ماحول میں رکھ کر انسان کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ خود اپنے ذاتی فیصلہ سے خدا کا فرماں بردار بنے۔ وہ اپنے اختیار سے وہ کام کرے جو بقیہ دنیا بے اختیاری کے ساتھ کررہی ہے۔ جنت کی ابدی نعمتیں اسی اختیارانہ اطاعت کی قیمت ہیں۔ ’’کوئی شخص خدا کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لاسکتا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی کو ایمان کی نعمت ملے گی تو اس طریقہ کی پیروی کرکے ملے گی جو خدا نے اس کے لیے مقرر کردیا ہے۔ موجودہ دنیا میں ایمان کو پانے کا راستہ یہ ہے کہ آدمی ایمان کی دعوت کو اپنی عقل کے استعمال سے سمجھے ۔ جس شخص کی عقل کے اوپر اس کی دنیوی مصلحتیں غالب آجائیں اس کی عقل گویا گندگی کی کیچڑ میں لت پت ہوگئی ہے۔ ایسے شخص کے لیے اس دنیا میں ایمان کی نعمت پانے کا کوئی سوال نہیں۔

يونس 10:100

’’تیرا رب چاہتا تو سارے لوگ مومن بن جاتے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے لیے یہ ممکن تھا کہ انسانی دنیا کا نظام بھی اسی طرح بنائے جس طرح بقیہ دنیا کا نظام ہے۔ جہاں ہر چیز مکمل طورپر خدا کے حکم کی پابندبنی ہوئی ہے۔ مگر انسان کے سلسلہ میں خدا کی یہ اسکیم ہی نہیں۔ انسان کے سلسلہ میں خدا کی اسکیم یہ ہے کہ آزادانہ ماحول میں رکھ کر انسان کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ خود اپنے ذاتی فیصلہ سے خدا کا فرماں بردار بنے۔ وہ اپنے اختیار سے وہ کام کرے جو بقیہ دنیا بے اختیاری کے ساتھ کررہی ہے۔ جنت کی ابدی نعمتیں اسی اختیارانہ اطاعت کی قیمت ہیں۔ ’’کوئی شخص خدا کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لاسکتا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی کو ایمان کی نعمت ملے گی تو اس طریقہ کی پیروی کرکے ملے گی جو خدا نے اس کے لیے مقرر کردیا ہے۔ موجودہ دنیا میں ایمان کو پانے کا راستہ یہ ہے کہ آدمی ایمان کی دعوت کو اپنی عقل کے استعمال سے سمجھے ۔ جس شخص کی عقل کے اوپر اس کی دنیوی مصلحتیں غالب آجائیں اس کی عقل گویا گندگی کی کیچڑ میں لت پت ہوگئی ہے۔ ایسے شخص کے لیے اس دنیا میں ایمان کی نعمت پانے کا کوئی سوال نہیں۔

يونس 10:101

ہمارے چاروں طرف جو کائنات ہے اس میں بے شمار نشانیاں موجود ہیں جو خدا کے وجود کو ثابت کرتی ہیں۔ اور اسی کے ساتھ یہ بھی بتاتی ہیں کہ اس کائنات کے بارے میں خدا کا منصوبہ کیا ہے۔ مزید یہ کہ دنیا میں ڈراوے (آندھی اور بھونچال) جیسے واقعات بھی پیش آتے رہتے ہیں جو انسان کو خدااور آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ بنائیں۔ مگر یہ سب کچھ عالم امتحان میں ہوتاہے، یعنی ایسی دنیا میں جہاں آدمی کو اختیار ہے کہ مانے یہ نہ مانے۔ چنانچہ آدمی یہ کرتا ہے کہ جب نشانیاں اور ڈراوے سامنے آتے ہیں تو وہ ان کی کوئی نہ کوئی خود ساختہ توجیہہ کرکے بات کو دوسرے رخ کی طرف پھیر دیتاہے اور نصیحت سے محروم رہ جاتا ہے۔ جب آدمی دلیل کی زبان میں بات کو نہ مانے تو گویا وہ صرف اس دن کا انتظار کررہا ہے جب کہ امتحان کا پردہ ہٹا دیا جائے اور خدا اپنا آخری فیصلہ سنانے کے لیے سامنے آجائے۔ مگر وہ دن جب آئے گا تو وہ آج کے دن سے بالکل مختلف ہوگا۔ آج تو ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں بظاہر یکساں حالت میں نظر آتے ہیں۔ مگر جب فیصلہ کا دن آئے گا تو اس کے بعد وہی لوگ امن میں رہیں گے جو حق پرست ثابت ہوئے تھے۔ بقیہ تمام لوگ اس طرح عذاب کی لپیٹ میں آجائیں گے کہ اس کے بعد ان کے لیے کوئی راہ نہ ہوگی جس سے بھاگ کر وہ نجات حاصل کریں۔

يونس 10:102

ہمارے چاروں طرف جو کائنات ہے اس میں بے شمار نشانیاں موجود ہیں جو خدا کے وجود کو ثابت کرتی ہیں۔ اور اسی کے ساتھ یہ بھی بتاتی ہیں کہ اس کائنات کے بارے میں خدا کا منصوبہ کیا ہے۔ مزید یہ کہ دنیا میں ڈراوے (آندھی اور بھونچال) جیسے واقعات بھی پیش آتے رہتے ہیں جو انسان کو خدااور آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ بنائیں۔ مگر یہ سب کچھ عالم امتحان میں ہوتاہے، یعنی ایسی دنیا میں جہاں آدمی کو اختیار ہے کہ مانے یہ نہ مانے۔ چنانچہ آدمی یہ کرتا ہے کہ جب نشانیاں اور ڈراوے سامنے آتے ہیں تو وہ ان کی کوئی نہ کوئی خود ساختہ توجیہہ کرکے بات کو دوسرے رخ کی طرف پھیر دیتاہے اور نصیحت سے محروم رہ جاتا ہے۔ جب آدمی دلیل کی زبان میں بات کو نہ مانے تو گویا وہ صرف اس دن کا انتظار کررہا ہے جب کہ امتحان کا پردہ ہٹا دیا جائے اور خدا اپنا آخری فیصلہ سنانے کے لیے سامنے آجائے۔ مگر وہ دن جب آئے گا تو وہ آج کے دن سے بالکل مختلف ہوگا۔ آج تو ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں بظاہر یکساں حالت میں نظر آتے ہیں۔ مگر جب فیصلہ کا دن آئے گا تو اس کے بعد وہی لوگ امن میں رہیں گے جو حق پرست ثابت ہوئے تھے۔ بقیہ تمام لوگ اس طرح عذاب کی لپیٹ میں آجائیں گے کہ اس کے بعد ان کے لیے کوئی راہ نہ ہوگی جس سے بھاگ کر وہ نجات حاصل کریں۔

يونس 10:103

ہمارے چاروں طرف جو کائنات ہے اس میں بے شمار نشانیاں موجود ہیں جو خدا کے وجود کو ثابت کرتی ہیں۔ اور اسی کے ساتھ یہ بھی بتاتی ہیں کہ اس کائنات کے بارے میں خدا کا منصوبہ کیا ہے۔ مزید یہ کہ دنیا میں ڈراوے (آندھی اور بھونچال) جیسے واقعات بھی پیش آتے رہتے ہیں جو انسان کو خدااور آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ بنائیں۔ مگر یہ سب کچھ عالم امتحان میں ہوتاہے، یعنی ایسی دنیا میں جہاں آدمی کو اختیار ہے کہ مانے یہ نہ مانے۔ چنانچہ آدمی یہ کرتا ہے کہ جب نشانیاں اور ڈراوے سامنے آتے ہیں تو وہ ان کی کوئی نہ کوئی خود ساختہ توجیہہ کرکے بات کو دوسرے رخ کی طرف پھیر دیتاہے اور نصیحت سے محروم رہ جاتا ہے۔ جب آدمی دلیل کی زبان میں بات کو نہ مانے تو گویا وہ صرف اس دن کا انتظار کررہا ہے جب کہ امتحان کا پردہ ہٹا دیا جائے اور خدا اپنا آخری فیصلہ سنانے کے لیے سامنے آجائے۔ مگر وہ دن جب آئے گا تو وہ آج کے دن سے بالکل مختلف ہوگا۔ آج تو ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں بظاہر یکساں حالت میں نظر آتے ہیں۔ مگر جب فیصلہ کا دن آئے گا تو اس کے بعد وہی لوگ امن میں رہیں گے جو حق پرست ثابت ہوئے تھے۔ بقیہ تمام لوگ اس طرح عذاب کی لپیٹ میں آجائیں گے کہ اس کے بعد ان کے لیے کوئی راہ نہ ہوگی جس سے بھاگ کر وہ نجات حاصل کریں۔

يونس 10:104

داعی اولاً دلیل کی زبان میں اپنی بات کہتاہے۔ مگر جب لوگ دلیل سننے کے باوجود شک وشبہ میں پڑے رہتے ہیں تو اس کے پاس آخری چیز یہ رہ جاتی ہے کہ عزم کی زبان میں اپنے پیغام کی صداقت کا اظہار کردے۔ توحید کے داعی کا شرک کے پرستاروں سے یہ کہنا کہ ’’میں اس کی عبادت نہیںکرتا جس کی عبادت تم لوگ کرتے ہو‘‘ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ وہ اپنی ذات میں ایک دلیل بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ— میں بھی تمھارے جیسا ایک انسان ہوں۔ میرے پاس بھی وہی عقل ہے جو تمھارے پاس ہے۔ پھر جس بات کی صداقت میری سمجھ میں آرہی ہے اس کی صداقت تمھاری سمجھ میں آخر کیوں نہیں آتی۔ سچائی اگر ایک انسان کی سطح پر قابل فہم ہوجائے تو اس سے ثابت ہوتاہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے لیے بھی قابلِ فہم تھی۔ اس کے باوجود اگر دوسرے لوگ انکار کریں تو یقیناً اس کی وجہ خود ان کا اپنا کوئی نقص ہوگا، نہ کہ دعوت حق کا نقص۔ جس چیز کو ایک آنکھ والا دیکھ رہا ہو اور دوسرا آنکھ والا شخص اسے نہ دیکھے تو وہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آنکھ والا حقیقۃً آنکھ والا نہیں۔ کیوں کہ اس دنیا میں یہ ممکن نہیں کہ جس چیز کو ایک آنکھ والا دیکھ لے اس کو دوسرا شخص آنکھ رکھتے ہوئے نہ دیکھ سکے۔ موت اس بات کا اعلان ہے کہ آدمی اس دنیا میں کامل طورپر بے اختیار ہے۔ موت ان تمام چیزوں کو باطل ثابت کردیتی ہے جن کے سہارے آدمی انکار اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتاہے۔ موت ایک طرف آدمی کو اپنے عجز اور دوسری طرف خدا کی قدرت کا تعارف کراتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ ا س دنیا میں کوئی نہیں جس کو نفع دینے یا نقصان پہنچانے کا اختیار حاصل ہو۔ اس طرح موت آدمی کو ہر دوسری چیز سے کاٹ کر خدا کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ مکمل طور پر انسان کو خدا کا پرستار بناتی ہے۔ اگر آدمی کے اندر سبق لینے کا ذہن ہو تو صرف موت کا واقعہ اس کی اصلاح کے لیے کافی ہوجائے۔ ہر انسان پر ایک وقت آتاہے جب کہ وہ بے بسی کے ساتھ اپنے آپ کو موت کے حوالے کردیتاہے۔ اسی طرح کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ فائدہ اور نقصان کے معاملہ میں وہی ہونے دے جو وہ چاہتاہے۔ وہ مطلوب فائدہ کو ہر حال میں پالے اور غیر مطلوب نقصان سے ہر حال میں محفوظ رہے۔ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ انسان ایک بے اختیار مخلوق ہے۔ وہ ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں کوئی اور بھی ہے جو اس کے اوپر حکمرانی کررہا ہے۔

يونس 10:105

داعی اولاً دلیل کی زبان میں اپنی بات کہتاہے۔ مگر جب لوگ دلیل سننے کے باوجود شک وشبہ میں پڑے رہتے ہیں تو اس کے پاس آخری چیز یہ رہ جاتی ہے کہ عزم کی زبان میں اپنے پیغام کی صداقت کا اظہار کردے۔ توحید کے داعی کا شرک کے پرستاروں سے یہ کہنا کہ ’’میں اس کی عبادت نہیںکرتا جس کی عبادت تم لوگ کرتے ہو‘‘ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ وہ اپنی ذات میں ایک دلیل بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ— میں بھی تمھارے جیسا ایک انسان ہوں۔ میرے پاس بھی وہی عقل ہے جو تمھارے پاس ہے۔ پھر جس بات کی صداقت میری سمجھ میں آرہی ہے اس کی صداقت تمھاری سمجھ میں آخر کیوں نہیں آتی۔ سچائی اگر ایک انسان کی سطح پر قابل فہم ہوجائے تو اس سے ثابت ہوتاہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے لیے بھی قابلِ فہم تھی۔ اس کے باوجود اگر دوسرے لوگ انکار کریں تو یقیناً اس کی وجہ خود ان کا اپنا کوئی نقص ہوگا، نہ کہ دعوت حق کا نقص۔ جس چیز کو ایک آنکھ والا دیکھ رہا ہو اور دوسرا آنکھ والا شخص اسے نہ دیکھے تو وہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آنکھ والا حقیقۃً آنکھ والا نہیں۔ کیوں کہ اس دنیا میں یہ ممکن نہیں کہ جس چیز کو ایک آنکھ والا دیکھ لے اس کو دوسرا شخص آنکھ رکھتے ہوئے نہ دیکھ سکے۔ موت اس بات کا اعلان ہے کہ آدمی اس دنیا میں کامل طورپر بے اختیار ہے۔ موت ان تمام چیزوں کو باطل ثابت کردیتی ہے جن کے سہارے آدمی انکار اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتاہے۔ موت ایک طرف آدمی کو اپنے عجز اور دوسری طرف خدا کی قدرت کا تعارف کراتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ ا س دنیا میں کوئی نہیں جس کو نفع دینے یا نقصان پہنچانے کا اختیار حاصل ہو۔ اس طرح موت آدمی کو ہر دوسری چیز سے کاٹ کر خدا کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ مکمل طور پر انسان کو خدا کا پرستار بناتی ہے۔ اگر آدمی کے اندر سبق لینے کا ذہن ہو تو صرف موت کا واقعہ اس کی اصلاح کے لیے کافی ہوجائے۔ ہر انسان پر ایک وقت آتاہے جب کہ وہ بے بسی کے ساتھ اپنے آپ کو موت کے حوالے کردیتاہے۔ اسی طرح کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ فائدہ اور نقصان کے معاملہ میں وہی ہونے دے جو وہ چاہتاہے۔ وہ مطلوب فائدہ کو ہر حال میں پالے اور غیر مطلوب نقصان سے ہر حال میں محفوظ رہے۔ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ انسان ایک بے اختیار مخلوق ہے۔ وہ ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں کوئی اور بھی ہے جو اس کے اوپر حکمرانی کررہا ہے۔

يونس 10:106

داعی اولاً دلیل کی زبان میں اپنی بات کہتاہے۔ مگر جب لوگ دلیل سننے کے باوجود شک وشبہ میں پڑے رہتے ہیں تو اس کے پاس آخری چیز یہ رہ جاتی ہے کہ عزم کی زبان میں اپنے پیغام کی صداقت کا اظہار کردے۔ توحید کے داعی کا شرک کے پرستاروں سے یہ کہنا کہ ’’میں اس کی عبادت نہیںکرتا جس کی عبادت تم لوگ کرتے ہو‘‘ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ وہ اپنی ذات میں ایک دلیل بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ— میں بھی تمھارے جیسا ایک انسان ہوں۔ میرے پاس بھی وہی عقل ہے جو تمھارے پاس ہے۔ پھر جس بات کی صداقت میری سمجھ میں آرہی ہے اس کی صداقت تمھاری سمجھ میں آخر کیوں نہیں آتی۔ سچائی اگر ایک انسان کی سطح پر قابل فہم ہوجائے تو اس سے ثابت ہوتاہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے لیے بھی قابلِ فہم تھی۔ اس کے باوجود اگر دوسرے لوگ انکار کریں تو یقیناً اس کی وجہ خود ان کا اپنا کوئی نقص ہوگا، نہ کہ دعوت حق کا نقص۔ جس چیز کو ایک آنکھ والا دیکھ رہا ہو اور دوسرا آنکھ والا شخص اسے نہ دیکھے تو وہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آنکھ والا حقیقۃً آنکھ والا نہیں۔ کیوں کہ اس دنیا میں یہ ممکن نہیں کہ جس چیز کو ایک آنکھ والا دیکھ لے اس کو دوسرا شخص آنکھ رکھتے ہوئے نہ دیکھ سکے۔ موت اس بات کا اعلان ہے کہ آدمی اس دنیا میں کامل طورپر بے اختیار ہے۔ موت ان تمام چیزوں کو باطل ثابت کردیتی ہے جن کے سہارے آدمی انکار اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتاہے۔ موت ایک طرف آدمی کو اپنے عجز اور دوسری طرف خدا کی قدرت کا تعارف کراتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ ا س دنیا میں کوئی نہیں جس کو نفع دینے یا نقصان پہنچانے کا اختیار حاصل ہو۔ اس طرح موت آدمی کو ہر دوسری چیز سے کاٹ کر خدا کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ مکمل طور پر انسان کو خدا کا پرستار بناتی ہے۔ اگر آدمی کے اندر سبق لینے کا ذہن ہو تو صرف موت کا واقعہ اس کی اصلاح کے لیے کافی ہوجائے۔ ہر انسان پر ایک وقت آتاہے جب کہ وہ بے بسی کے ساتھ اپنے آپ کو موت کے حوالے کردیتاہے۔ اسی طرح کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ فائدہ اور نقصان کے معاملہ میں وہی ہونے دے جو وہ چاہتاہے۔ وہ مطلوب فائدہ کو ہر حال میں پالے اور غیر مطلوب نقصان سے ہر حال میں محفوظ رہے۔ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ انسان ایک بے اختیار مخلوق ہے۔ وہ ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں کوئی اور بھی ہے جو اس کے اوپر حکمرانی کررہا ہے۔

يونس 10:107

داعی اولاً دلیل کی زبان میں اپنی بات کہتاہے۔ مگر جب لوگ دلیل سننے کے باوجود شک وشبہ میں پڑے رہتے ہیں تو اس کے پاس آخری چیز یہ رہ جاتی ہے کہ عزم کی زبان میں اپنے پیغام کی صداقت کا اظہار کردے۔ توحید کے داعی کا شرک کے پرستاروں سے یہ کہنا کہ ’’میں اس کی عبادت نہیںکرتا جس کی عبادت تم لوگ کرتے ہو‘‘ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ وہ اپنی ذات میں ایک دلیل بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ— میں بھی تمھارے جیسا ایک انسان ہوں۔ میرے پاس بھی وہی عقل ہے جو تمھارے پاس ہے۔ پھر جس بات کی صداقت میری سمجھ میں آرہی ہے اس کی صداقت تمھاری سمجھ میں آخر کیوں نہیں آتی۔ سچائی اگر ایک انسان کی سطح پر قابل فہم ہوجائے تو اس سے ثابت ہوتاہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے لیے بھی قابلِ فہم تھی۔ اس کے باوجود اگر دوسرے لوگ انکار کریں تو یقیناً اس کی وجہ خود ان کا اپنا کوئی نقص ہوگا، نہ کہ دعوت حق کا نقص۔ جس چیز کو ایک آنکھ والا دیکھ رہا ہو اور دوسرا آنکھ والا شخص اسے نہ دیکھے تو وہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آنکھ والا حقیقۃً آنکھ والا نہیں۔ کیوں کہ اس دنیا میں یہ ممکن نہیں کہ جس چیز کو ایک آنکھ والا دیکھ لے اس کو دوسرا شخص آنکھ رکھتے ہوئے نہ دیکھ سکے۔ موت اس بات کا اعلان ہے کہ آدمی اس دنیا میں کامل طورپر بے اختیار ہے۔ موت ان تمام چیزوں کو باطل ثابت کردیتی ہے جن کے سہارے آدمی انکار اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتاہے۔ موت ایک طرف آدمی کو اپنے عجز اور دوسری طرف خدا کی قدرت کا تعارف کراتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ ا س دنیا میں کوئی نہیں جس کو نفع دینے یا نقصان پہنچانے کا اختیار حاصل ہو۔ اس طرح موت آدمی کو ہر دوسری چیز سے کاٹ کر خدا کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ مکمل طور پر انسان کو خدا کا پرستار بناتی ہے۔ اگر آدمی کے اندر سبق لینے کا ذہن ہو تو صرف موت کا واقعہ اس کی اصلاح کے لیے کافی ہوجائے۔ ہر انسان پر ایک وقت آتاہے جب کہ وہ بے بسی کے ساتھ اپنے آپ کو موت کے حوالے کردیتاہے۔ اسی طرح کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ فائدہ اور نقصان کے معاملہ میں وہی ہونے دے جو وہ چاہتاہے۔ وہ مطلوب فائدہ کو ہر حال میں پالے اور غیر مطلوب نقصان سے ہر حال میں محفوظ رہے۔ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ انسان ایک بے اختیار مخلوق ہے۔ وہ ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں کوئی اور بھی ہے جو اس کے اوپر حکمرانی کررہا ہے۔

يونس 10:108

دعوت کا کام اصلاً اعلانِ حق کا کام ہے۔ کسی گروہ کے اوپر اس وقت پیغام رسانی کا حق ادا ہوجاتاہے جب کہ داعی امر حق کو دلیل کے ذریعہ پوری طرح واضح کردے اور اسی کے ساتھ اس بات کا ثبوت دے دے کہ وہ اس معاملہ میں پوری طرح سنجیدہ ہے۔داعی اگر وقت کے معیار کے مطابق امر حق کو مدلّل کردے۔ وہ نفع نقصان سے بے نیاز ہو کر حق کی مکمل گواہی دے دے۔ وہ ہر تکلیف اور ناخوش گواری کو برداشت کرتا ہوا اپنے دعوتی کام کو جاری رکھے تو اس کے بعد مخاطب کے اوپر وہ اتمام حجت ہوجاتا ہے جس کے بعد خدا کے یہاں کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ داعی کا کام اصلاً اتباعِ وحی ہے۔ یعنی اپنی ذات کی حد تک عملاً مرضیٔ رب پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کو مرضیٔ رب کی طرف پکارتے رہنا۔ اس کام کو ہر حال میں حکمت اور صبر اور خیر خواہی کے ساتھ مسلسل جاری رکھنا ہے۔ اس کے بعد جتنے بقیہ مراحل ہیں وہ سب براہِ راست طورپر خدا سے متعلق ہیں۔ داعی کی طرف سے کوئی دوسرا عملی اقدام صرف اس وقت درست ہے جب کہ خود خدا کی طرف سے اس کا فیصلہ کیا جاچکا ہو اور اس کے آثار ظاہر ہوجائیں۔ خدا کا فیصلہ ہمیشہ حالات کے روپ میں ظاہر ہوتاہے، جب خدا کے علم میں داعی کا دعوتی کام مطلوب حدکو پہنچ چکا ہوتا ہے تو خدا حالات میں ایسی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے جس کو استعمال کرکے داعی اپنے عمل کے اگلے مرحلہ میں داخل ہوجائے۔

يونس 10:109

دعوت کا کام اصلاً اعلانِ حق کا کام ہے۔ کسی گروہ کے اوپر اس وقت پیغام رسانی کا حق ادا ہوجاتاہے جب کہ داعی امر حق کو دلیل کے ذریعہ پوری طرح واضح کردے اور اسی کے ساتھ اس بات کا ثبوت دے دے کہ وہ اس معاملہ میں پوری طرح سنجیدہ ہے۔داعی اگر وقت کے معیار کے مطابق امر حق کو مدلّل کردے۔ وہ نفع نقصان سے بے نیاز ہو کر حق کی مکمل گواہی دے دے۔ وہ ہر تکلیف اور ناخوش گواری کو برداشت کرتا ہوا اپنے دعوتی کام کو جاری رکھے تو اس کے بعد مخاطب کے اوپر وہ اتمام حجت ہوجاتا ہے جس کے بعد خدا کے یہاں کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ داعی کا کام اصلاً اتباعِ وحی ہے۔ یعنی اپنی ذات کی حد تک عملاً مرضیٔ رب پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کو مرضیٔ رب کی طرف پکارتے رہنا۔ اس کام کو ہر حال میں حکمت اور صبر اور خیر خواہی کے ساتھ مسلسل جاری رکھنا ہے۔ اس کے بعد جتنے بقیہ مراحل ہیں وہ سب براہِ راست طورپر خدا سے متعلق ہیں۔ داعی کی طرف سے کوئی دوسرا عملی اقدام صرف اس وقت درست ہے جب کہ خود خدا کی طرف سے اس کا فیصلہ کیا جاچکا ہو اور اس کے آثار ظاہر ہوجائیں۔ خدا کا فیصلہ ہمیشہ حالات کے روپ میں ظاہر ہوتاہے، جب خدا کے علم میں داعی کا دعوتی کام مطلوب حدکو پہنچ چکا ہوتا ہے تو خدا حالات میں ایسی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے جس کو استعمال کرکے داعی اپنے عمل کے اگلے مرحلہ میں داخل ہوجائے۔

هود 11:1

قرآن کی دعوت یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے۔ وہ ایک خداکو اپنا سب کچھ بنائے۔ وہ اسی سے ڈرے اور اسی سے امید رکھے۔ اس کے ذہن ودماغ پر اسی کا غلبہ ہو۔ اپنی زندگی کے معاملات میں وہ سب سے زیادہ اس کی مرضی کا لحاظ کرے۔ وہ اپنے آپ کو عابد کے مقام پر رکھ کر خدا کو معبود کا مقام دینے پر راضی ہوجائے۔ پیغمبرانہ دعوت دراصل اسی چیز سے انسان کو باخبر کرنے کی دعوت ہے۔ قرآن میںاس کو انتہائی محکم زبان اور واضح اسلوب میں بیان کردیا گیا ہے۔ اب انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ اس کے مقابلہ میں صحیح ردعمل پیش کرے۔ حسد، گھمنڈ، مصلحت بینی اور گروہ پرستی جیسی چیزوں کے زیر اثر آکر وہ اس کو نظر انداز نہ کردے۔ بلکہ سیدھی طرح اس کو مان کر خدا کی طرف پلٹ آئے۔ وہ اپنی ماضی کی غلطیوں کے لیے خدا سے معافی مانگے اور مستقبل کے لیے خدا سے مدد کی درخواست کرے۔ آدمی کے سامنے کھانا پیش کیا جائے اور وہ کھانے کو قبول کرلے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی جسمانی پرورش کا انتظام کیا۔ اس کے برعکس، اگر وہ کھانا قبول نہ کرے تو گویا اس نے اپنے آپ کو جسمانی پرورش سے محروم رکھا۔ ایسا ہی معاملہ دعوت حق کا ہے۔ جب آدمی حق کو قبول کرتاہے تو درحقیقت وہ اس رزق ربانی کو قبول کرتاہے جو اس کے اندر داخل ہو کر اس کی روح اور اس کے جسم کی صالح پرورش کا سبب بنے اور بالآخر اس کو روحانی ترقی کی اس منزل کی طرف لے جائے جو اس کو جنت کے باغوں کا مستحق بناتی ہے۔ جو شخص دعوت حق کو قبول نہ کرے اس نے گویا اپنی روح کو ربانی پرورش کے مواقع سے محروم کردیا۔ حق کو ماننے والا اگر تواضع میں جی رہا تھا تو یہ دوسرا شخص گھمنڈ کی نفسیات میں جئے گا۔ حق کو ماننے والے کے لمحات اگر خدا کی یاد میں بسر ہورہے تھے تو اس کے لمحات غیر خدا کی یاد میں بسر ہو ں گے۔ حق کو ماننے والا اگر مواقع حیات میں اطاعت خداوندی کا رویہ اختیا ركيے ہوئے تھا تو یہ اس کی جگہ سرکشی کا رویہ اختیار کرے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پہلا شخص اس دنیا سے اس حال میں جائے گا کہ اس کی روح صحت مند اور ترقی یافتہ روح ہوگی اور جنت کی فضاؤں میں بسائے جانے کی مستحق ٹھہرے گی۔ اور وسرے شخص کی روح بیمار اور پچھڑی ہوئی روح ہوگی اور صرف اس قابل ہوگی کہ اس کو جہنم کے کوڑا خانہ میں پھینک دیا جائے۔

هود 11:2

قرآن کی دعوت یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے۔ وہ ایک خداکو اپنا سب کچھ بنائے۔ وہ اسی سے ڈرے اور اسی سے امید رکھے۔ اس کے ذہن ودماغ پر اسی کا غلبہ ہو۔ اپنی زندگی کے معاملات میں وہ سب سے زیادہ اس کی مرضی کا لحاظ کرے۔ وہ اپنے آپ کو عابد کے مقام پر رکھ کر خدا کو معبود کا مقام دینے پر راضی ہوجائے۔ پیغمبرانہ دعوت دراصل اسی چیز سے انسان کو باخبر کرنے کی دعوت ہے۔ قرآن میںاس کو انتہائی محکم زبان اور واضح اسلوب میں بیان کردیا گیا ہے۔ اب انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ اس کے مقابلہ میں صحیح ردعمل پیش کرے۔ حسد، گھمنڈ، مصلحت بینی اور گروہ پرستی جیسی چیزوں کے زیر اثر آکر وہ اس کو نظر انداز نہ کردے۔ بلکہ سیدھی طرح اس کو مان کر خدا کی طرف پلٹ آئے۔ وہ اپنی ماضی کی غلطیوں کے لیے خدا سے معافی مانگے اور مستقبل کے لیے خدا سے مدد کی درخواست کرے۔ آدمی کے سامنے کھانا پیش کیا جائے اور وہ کھانے کو قبول کرلے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی جسمانی پرورش کا انتظام کیا۔ اس کے برعکس، اگر وہ کھانا قبول نہ کرے تو گویا اس نے اپنے آپ کو جسمانی پرورش سے محروم رکھا۔ ایسا ہی معاملہ دعوت حق کا ہے۔ جب آدمی حق کو قبول کرتاہے تو درحقیقت وہ اس رزق ربانی کو قبول کرتاہے جو اس کے اندر داخل ہو کر اس کی روح اور اس کے جسم کی صالح پرورش کا سبب بنے اور بالآخر اس کو روحانی ترقی کی اس منزل کی طرف لے جائے جو اس کو جنت کے باغوں کا مستحق بناتی ہے۔ جو شخص دعوت حق کو قبول نہ کرے اس نے گویا اپنی روح کو ربانی پرورش کے مواقع سے محروم کردیا۔ حق کو ماننے والا اگر تواضع میں جی رہا تھا تو یہ دوسرا شخص گھمنڈ کی نفسیات میں جئے گا۔ حق کو ماننے والے کے لمحات اگر خدا کی یاد میں بسر ہورہے تھے تو اس کے لمحات غیر خدا کی یاد میں بسر ہو ں گے۔ حق کو ماننے والا اگر مواقع حیات میں اطاعت خداوندی کا رویہ اختیا ركيے ہوئے تھا تو یہ اس کی جگہ سرکشی کا رویہ اختیار کرے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پہلا شخص اس دنیا سے اس حال میں جائے گا کہ اس کی روح صحت مند اور ترقی یافتہ روح ہوگی اور جنت کی فضاؤں میں بسائے جانے کی مستحق ٹھہرے گی۔ اور وسرے شخص کی روح بیمار اور پچھڑی ہوئی روح ہوگی اور صرف اس قابل ہوگی کہ اس کو جہنم کے کوڑا خانہ میں پھینک دیا جائے۔

هود 11:3

قرآن کی دعوت یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے۔ وہ ایک خداکو اپنا سب کچھ بنائے۔ وہ اسی سے ڈرے اور اسی سے امید رکھے۔ اس کے ذہن ودماغ پر اسی کا غلبہ ہو۔ اپنی زندگی کے معاملات میں وہ سب سے زیادہ اس کی مرضی کا لحاظ کرے۔ وہ اپنے آپ کو عابد کے مقام پر رکھ کر خدا کو معبود کا مقام دینے پر راضی ہوجائے۔ پیغمبرانہ دعوت دراصل اسی چیز سے انسان کو باخبر کرنے کی دعوت ہے۔ قرآن میںاس کو انتہائی محکم زبان اور واضح اسلوب میں بیان کردیا گیا ہے۔ اب انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ اس کے مقابلہ میں صحیح ردعمل پیش کرے۔ حسد، گھمنڈ، مصلحت بینی اور گروہ پرستی جیسی چیزوں کے زیر اثر آکر وہ اس کو نظر انداز نہ کردے۔ بلکہ سیدھی طرح اس کو مان کر خدا کی طرف پلٹ آئے۔ وہ اپنی ماضی کی غلطیوں کے لیے خدا سے معافی مانگے اور مستقبل کے لیے خدا سے مدد کی درخواست کرے۔ آدمی کے سامنے کھانا پیش کیا جائے اور وہ کھانے کو قبول کرلے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی جسمانی پرورش کا انتظام کیا۔ اس کے برعکس، اگر وہ کھانا قبول نہ کرے تو گویا اس نے اپنے آپ کو جسمانی پرورش سے محروم رکھا۔ ایسا ہی معاملہ دعوت حق کا ہے۔ جب آدمی حق کو قبول کرتاہے تو درحقیقت وہ اس رزق ربانی کو قبول کرتاہے جو اس کے اندر داخل ہو کر اس کی روح اور اس کے جسم کی صالح پرورش کا سبب بنے اور بالآخر اس کو روحانی ترقی کی اس منزل کی طرف لے جائے جو اس کو جنت کے باغوں کا مستحق بناتی ہے۔ جو شخص دعوت حق کو قبول نہ کرے اس نے گویا اپنی روح کو ربانی پرورش کے مواقع سے محروم کردیا۔ حق کو ماننے والا اگر تواضع میں جی رہا تھا تو یہ دوسرا شخص گھمنڈ کی نفسیات میں جئے گا۔ حق کو ماننے والے کے لمحات اگر خدا کی یاد میں بسر ہورہے تھے تو اس کے لمحات غیر خدا کی یاد میں بسر ہو ں گے۔ حق کو ماننے والا اگر مواقع حیات میں اطاعت خداوندی کا رویہ اختیا ركيے ہوئے تھا تو یہ اس کی جگہ سرکشی کا رویہ اختیار کرے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پہلا شخص اس دنیا سے اس حال میں جائے گا کہ اس کی روح صحت مند اور ترقی یافتہ روح ہوگی اور جنت کی فضاؤں میں بسائے جانے کی مستحق ٹھہرے گی۔ اور وسرے شخص کی روح بیمار اور پچھڑی ہوئی روح ہوگی اور صرف اس قابل ہوگی کہ اس کو جہنم کے کوڑا خانہ میں پھینک دیا جائے۔

هود 11:4

قرآن کی دعوت یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے۔ وہ ایک خداکو اپنا سب کچھ بنائے۔ وہ اسی سے ڈرے اور اسی سے امید رکھے۔ اس کے ذہن ودماغ پر اسی کا غلبہ ہو۔ اپنی زندگی کے معاملات میں وہ سب سے زیادہ اس کی مرضی کا لحاظ کرے۔ وہ اپنے آپ کو عابد کے مقام پر رکھ کر خدا کو معبود کا مقام دینے پر راضی ہوجائے۔ پیغمبرانہ دعوت دراصل اسی چیز سے انسان کو باخبر کرنے کی دعوت ہے۔ قرآن میںاس کو انتہائی محکم زبان اور واضح اسلوب میں بیان کردیا گیا ہے۔ اب انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ اس کے مقابلہ میں صحیح ردعمل پیش کرے۔ حسد، گھمنڈ، مصلحت بینی اور گروہ پرستی جیسی چیزوں کے زیر اثر آکر وہ اس کو نظر انداز نہ کردے۔ بلکہ سیدھی طرح اس کو مان کر خدا کی طرف پلٹ آئے۔ وہ اپنی ماضی کی غلطیوں کے لیے خدا سے معافی مانگے اور مستقبل کے لیے خدا سے مدد کی درخواست کرے۔ آدمی کے سامنے کھانا پیش کیا جائے اور وہ کھانے کو قبول کرلے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی جسمانی پرورش کا انتظام کیا۔ اس کے برعکس، اگر وہ کھانا قبول نہ کرے تو گویا اس نے اپنے آپ کو جسمانی پرورش سے محروم رکھا۔ ایسا ہی معاملہ دعوت حق کا ہے۔ جب آدمی حق کو قبول کرتاہے تو درحقیقت وہ اس رزق ربانی کو قبول کرتاہے جو اس کے اندر داخل ہو کر اس کی روح اور اس کے جسم کی صالح پرورش کا سبب بنے اور بالآخر اس کو روحانی ترقی کی اس منزل کی طرف لے جائے جو اس کو جنت کے باغوں کا مستحق بناتی ہے۔ جو شخص دعوت حق کو قبول نہ کرے اس نے گویا اپنی روح کو ربانی پرورش کے مواقع سے محروم کردیا۔ حق کو ماننے والا اگر تواضع میں جی رہا تھا تو یہ دوسرا شخص گھمنڈ کی نفسیات میں جئے گا۔ حق کو ماننے والے کے لمحات اگر خدا کی یاد میں بسر ہورہے تھے تو اس کے لمحات غیر خدا کی یاد میں بسر ہو ں گے۔ حق کو ماننے والا اگر مواقع حیات میں اطاعت خداوندی کا رویہ اختیا ركيے ہوئے تھا تو یہ اس کی جگہ سرکشی کا رویہ اختیار کرے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پہلا شخص اس دنیا سے اس حال میں جائے گا کہ اس کی روح صحت مند اور ترقی یافتہ روح ہوگی اور جنت کی فضاؤں میں بسائے جانے کی مستحق ٹھہرے گی۔ اور وسرے شخص کی روح بیمار اور پچھڑی ہوئی روح ہوگی اور صرف اس قابل ہوگی کہ اس کو جہنم کے کوڑا خانہ میں پھینک دیا جائے۔

هود 11:5

قریش کے بعض سرداروں نے ایسا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی تو وہ بے پروائی کے ساتھ اٹھے۔ اپنی چادر اپنے اوپر ڈالی اور روانہ ہوگئے۔ یہ دراصل کسی بات کو نظر انداز کرنے کی ایک صورت ہے۔ کوئی آدمی جب داعی کو حقیر سمجھے اور اس کے مقابلہ میں اپنے کو برتر خیال کرے تو اس وقت وہ اسی قسم کا رویہ اختیار کرتاہے۔ مگر آدمی بھول جاتاہے کہ جس نفسیات کے تحت وہ ایسا کر رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے۔ یہ صرف ایک انسان (داعی) کو نظر انداز کرنا نہیں ہے بلکہ خود خدا کو نظر انداز کرنا ہے جو ہر کھلے اور چھپے کو جاننے والا ہے۔ پھر آدمی کا حال س وقت کیا ہوگا جب وہ خدا کا سامنا کرے گا۔ وہ دیکھے گا کہ جس خدا کو اس نے نظر انداز کیا تھا وہی وہ ہستی تھا جس سے اس کو وہ سب کچھ ملا تھا جو اس کے پاس تھا۔ حتی کہ وہ اسباب بھی جن کے بَل پر اس نے خدا کی بات کو نظر انداز کردیا تھا۔ آدمی خدا کی دنیا میں ہے اور بالآخر وہ خدا کی طرف جانے والا ہے۔ مگر وہ اس طرح رہتا ہے جیسے کہ نہ آج خدا سے اس کا کوئی تعلق ہے اور نہ آئندہ اس کا خدا سے کوئی واسطہ پڑنے والا ہے۔

هود 11:6

قریش کے بعض سرداروں نے ایسا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی تو وہ بے پروائی کے ساتھ اٹھے۔ اپنی چادر اپنے اوپر ڈالی اور روانہ ہوگئے۔ یہ دراصل کسی بات کو نظر انداز کرنے کی ایک صورت ہے۔ کوئی آدمی جب داعی کو حقیر سمجھے اور اس کے مقابلہ میں اپنے کو برتر خیال کرے تو اس وقت وہ اسی قسم کا رویہ اختیار کرتاہے۔ مگر آدمی بھول جاتاہے کہ جس نفسیات کے تحت وہ ایسا کر رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے۔ یہ صرف ایک انسان (داعی) کو نظر انداز کرنا نہیں ہے بلکہ خود خدا کو نظر انداز کرنا ہے جو ہر کھلے اور چھپے کو جاننے والا ہے۔ پھر آدمی کا حال س وقت کیا ہوگا جب وہ خدا کا سامنا کرے گا۔ وہ دیکھے گا کہ جس خدا کو اس نے نظر انداز کیا تھا وہی وہ ہستی تھا جس سے اس کو وہ سب کچھ ملا تھا جو اس کے پاس تھا۔ حتی کہ وہ اسباب بھی جن کے بَل پر اس نے خدا کی بات کو نظر انداز کردیا تھا۔ آدمی خدا کی دنیا میں ہے اور بالآخر وہ خدا کی طرف جانے والا ہے۔ مگر وہ اس طرح رہتا ہے جیسے کہ نہ آج خدا سے اس کا کوئی تعلق ہے اور نہ آئندہ اس کا خدا سے کوئی واسطہ پڑنے والا ہے۔

هود 11:7

موجودہ دنیا کو خدا نے چھ دنوں یعنی چھ ادوار (periods) میں پیدا کیا ہے۔ زمین پر ایک ایسا دور گزرا ہے جب کہ اس کی سطح پانی سے ڈھکی ہوئی تھی۔ خدا کی سلطنت کے اس حصہ میں اس وقت صرف پانی نظر آتا تھا۔ ا س کے بعد خدا کے حکم سے خشکی کے علاقے ابھر آئے اور پانی سمندروں کی گہرائی میں جمع ہوگیا۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ زمین پر موجودہ انواع حیات ظہور میں آئیں۔ خدا اگر چہ قادر ہے کہ واقعات کو اچانک ظاہر کردے۔ مگر یہ دنیا انسان کے لیے بطور امتحان گاہ بنائی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو منصوبہ کے تحت بنایا اور اپنی تخلیقات پر اسباب کا پردہ قائم رکھا۔ دنیا کی پیدائش اور اس پر انسان کی آبادکاری سے خدا کا مقصود اچھا عمل کرنے والے کا انتخاب ہے۔ ’’اچھا عمل ‘‘ دراصل حقیقت پسندانہ عمل کا دوسرا نام ہے۔ یعنی کسی دباؤکے بغیر وہ کرنا جو از روئے حقیقت آدمی کو کرنا چاہیے۔ حقیقت پسند شخص وہ ہے جو اسباب کے ظاہری پردہ سے گزر کر خدا کی چھپی ہوئی کارفرمائی کو دیکھ لے۔ بظاہر اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو بے اختیار کرلے۔ سرکشی کی زندگی گزارنے کا موقع رکھتے ہوئے خدا کا تابعدار بن جائے۔ موجودہ دنیا میں ایسے ہی حقیقت پسند انسانوں کا چناؤ ہورہا ہے۔ جب چناؤ کی یہ مدت ختم ہوگی تو موجودہ نظام کو ختم کرکے دوسرا معیاری نظام بنایا جائے گا جہاں تمام اچھی چیزیں صرف اچھا عمل کرنے والوں کے لیے ہوں گی اور تمام بری چیزیں صرف برا عمل کرنے والوں کے لیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے قانون مہلت کی وجہ سے منکروں اور سرکشوں کو فوراً نہیں پکڑتا۔ ان کو انتہائی حد تک موقع دیتاہے کہ وہ یا تو متنبہ ہوکر اپنی اصلاح کرلیں یا آخری طورپر اپنے آپ کو مجرم ثابت کردیں۔ یہ قانون مہلت بعض سرکشوں کے لیے غلط فہمی کا سبب بن جاتاہے۔ وہ اپنی حیثیت کو بھول کر بڑی بڑی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ مگر جب وہ خدا کی پکڑ میں آجائیںگے اس وقت انھیں معلوم ہوگا کہ وہ خدا کے مقابلہ میں کس قدر بے بس تھے۔

هود 11:8

موجودہ دنیا کو خدا نے چھ دنوں یعنی چھ ادوار (periods) میں پیدا کیا ہے۔ زمین پر ایک ایسا دور گزرا ہے جب کہ اس کی سطح پانی سے ڈھکی ہوئی تھی۔ خدا کی سلطنت کے اس حصہ میں اس وقت صرف پانی نظر آتا تھا۔ ا س کے بعد خدا کے حکم سے خشکی کے علاقے ابھر آئے اور پانی سمندروں کی گہرائی میں جمع ہوگیا۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ زمین پر موجودہ انواع حیات ظہور میں آئیں۔ خدا اگر چہ قادر ہے کہ واقعات کو اچانک ظاہر کردے۔ مگر یہ دنیا انسان کے لیے بطور امتحان گاہ بنائی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو منصوبہ کے تحت بنایا اور اپنی تخلیقات پر اسباب کا پردہ قائم رکھا۔ دنیا کی پیدائش اور اس پر انسان کی آبادکاری سے خدا کا مقصود اچھا عمل کرنے والے کا انتخاب ہے۔ ’’اچھا عمل ‘‘ دراصل حقیقت پسندانہ عمل کا دوسرا نام ہے۔ یعنی کسی دباؤکے بغیر وہ کرنا جو از روئے حقیقت آدمی کو کرنا چاہیے۔ حقیقت پسند شخص وہ ہے جو اسباب کے ظاہری پردہ سے گزر کر خدا کی چھپی ہوئی کارفرمائی کو دیکھ لے۔ بظاہر اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو بے اختیار کرلے۔ سرکشی کی زندگی گزارنے کا موقع رکھتے ہوئے خدا کا تابعدار بن جائے۔ موجودہ دنیا میں ایسے ہی حقیقت پسند انسانوں کا چناؤ ہورہا ہے۔ جب چناؤ کی یہ مدت ختم ہوگی تو موجودہ نظام کو ختم کرکے دوسرا معیاری نظام بنایا جائے گا جہاں تمام اچھی چیزیں صرف اچھا عمل کرنے والوں کے لیے ہوں گی اور تمام بری چیزیں صرف برا عمل کرنے والوں کے لیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے قانون مہلت کی وجہ سے منکروں اور سرکشوں کو فوراً نہیں پکڑتا۔ ان کو انتہائی حد تک موقع دیتاہے کہ وہ یا تو متنبہ ہوکر اپنی اصلاح کرلیں یا آخری طورپر اپنے آپ کو مجرم ثابت کردیں۔ یہ قانون مہلت بعض سرکشوں کے لیے غلط فہمی کا سبب بن جاتاہے۔ وہ اپنی حیثیت کو بھول کر بڑی بڑی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ مگر جب وہ خدا کی پکڑ میں آجائیںگے اس وقت انھیں معلوم ہوگا کہ وہ خدا کے مقابلہ میں کس قدر بے بس تھے۔

هود 11:9

موجودہ دنیا میں آدمی کو کبھی راحت دی جاتی ہے اور کبھی مصیبت۔ مگر یہاں نہ راحت انعام کے طورپر ہے اور نہ مصیبت سزا کے طورپر۔ دونوں ہی کا مقصد جانچ ہے۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں انسان کے ساتھ جو کچھ پیش آتاہے وہ صرف اس لیے ہوتاہے کہ یہ دیکھا جائے کہ مختلف حالات میں آدمی نے کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔ وہ آدمی ناکام ہے جس کا حال یہ ہو کہ جب اس کو خدا کی طرف سے کوئی راحت پہنچے تو وہ فخر کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے۔ اور جو افراد اس کو اپنے سے کم دکھائی دیں ان کے مقابلہ میں وہ اکڑنے لگے۔ اسی طرح وہ شخص بھی ناکام ہے کہ جب اس سے کوئی چیز چھنے اور وہ مصیبت کا شکار ہو تو وہ ناشکری کرنے لگے۔ کسی محرومی کے بعد بھی آدمی کے پاس خدا کی دی ہوئی بہت سی چیزیں موجود ہوتی ہیں۔ مگر آدمی ان کو بھول جاتا ہے اور کھوئی ہوئی چیز کے غم میں ایسا پست ہمت ہوتا ہے گویا اس کا سب کچھ لٹ گیا ہے۔ اس کے برعکس، ایمان میں پورا اترنے والے وہ ہیں جو صابر اور صالح العمل ہوں۔ یعنی ہر جھٹکے کے باوجود اپنے آپ کو اعتدال پر باقی رکھیں اور وہی کریں جو خدا کا بندہ ہونے کی حیثیت سے انھیں کرنا چاہیے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی کی نفسیات حالات کے زیر اثر نہ بنے بلکہ اصول اور نظریہ کے تحت بنے۔ حالات خواہ کچھ ہوں وہ ان سے بلند ہو کر خالص حق کی روشنی میں اپنی رائے بنائے۔ وہ حالات سے غیر متاثر رہ کر اپنے عقیدہ اور شعور کی سطح پر زندہ رہنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اسی قسم کی زندگی نیک عملی کی زندگی ہے۔ جو لوگ اس نیک عملی کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو اگلی زندگی میں خدا کی رحمتوں کے حصہ دار ہوں گے اورخدا کی ابدی جنتوں میں جگہ پائیں گے۔

هود 11:10

موجودہ دنیا میں آدمی کو کبھی راحت دی جاتی ہے اور کبھی مصیبت۔ مگر یہاں نہ راحت انعام کے طورپر ہے اور نہ مصیبت سزا کے طورپر۔ دونوں ہی کا مقصد جانچ ہے۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں انسان کے ساتھ جو کچھ پیش آتاہے وہ صرف اس لیے ہوتاہے کہ یہ دیکھا جائے کہ مختلف حالات میں آدمی نے کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔ وہ آدمی ناکام ہے جس کا حال یہ ہو کہ جب اس کو خدا کی طرف سے کوئی راحت پہنچے تو وہ فخر کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے۔ اور جو افراد اس کو اپنے سے کم دکھائی دیں ان کے مقابلہ میں وہ اکڑنے لگے۔ اسی طرح وہ شخص بھی ناکام ہے کہ جب اس سے کوئی چیز چھنے اور وہ مصیبت کا شکار ہو تو وہ ناشکری کرنے لگے۔ کسی محرومی کے بعد بھی آدمی کے پاس خدا کی دی ہوئی بہت سی چیزیں موجود ہوتی ہیں۔ مگر آدمی ان کو بھول جاتا ہے اور کھوئی ہوئی چیز کے غم میں ایسا پست ہمت ہوتا ہے گویا اس کا سب کچھ لٹ گیا ہے۔ اس کے برعکس، ایمان میں پورا اترنے والے وہ ہیں جو صابر اور صالح العمل ہوں۔ یعنی ہر جھٹکے کے باوجود اپنے آپ کو اعتدال پر باقی رکھیں اور وہی کریں جو خدا کا بندہ ہونے کی حیثیت سے انھیں کرنا چاہیے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی کی نفسیات حالات کے زیر اثر نہ بنے بلکہ اصول اور نظریہ کے تحت بنے۔ حالات خواہ کچھ ہوں وہ ان سے بلند ہو کر خالص حق کی روشنی میں اپنی رائے بنائے۔ وہ حالات سے غیر متاثر رہ کر اپنے عقیدہ اور شعور کی سطح پر زندہ رہنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اسی قسم کی زندگی نیک عملی کی زندگی ہے۔ جو لوگ اس نیک عملی کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو اگلی زندگی میں خدا کی رحمتوں کے حصہ دار ہوں گے اورخدا کی ابدی جنتوں میں جگہ پائیں گے۔

هود 11:11

موجودہ دنیا میں آدمی کو کبھی راحت دی جاتی ہے اور کبھی مصیبت۔ مگر یہاں نہ راحت انعام کے طورپر ہے اور نہ مصیبت سزا کے طورپر۔ دونوں ہی کا مقصد جانچ ہے۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں انسان کے ساتھ جو کچھ پیش آتاہے وہ صرف اس لیے ہوتاہے کہ یہ دیکھا جائے کہ مختلف حالات میں آدمی نے کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔ وہ آدمی ناکام ہے جس کا حال یہ ہو کہ جب اس کو خدا کی طرف سے کوئی راحت پہنچے تو وہ فخر کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے۔ اور جو افراد اس کو اپنے سے کم دکھائی دیں ان کے مقابلہ میں وہ اکڑنے لگے۔ اسی طرح وہ شخص بھی ناکام ہے کہ جب اس سے کوئی چیز چھنے اور وہ مصیبت کا شکار ہو تو وہ ناشکری کرنے لگے۔ کسی محرومی کے بعد بھی آدمی کے پاس خدا کی دی ہوئی بہت سی چیزیں موجود ہوتی ہیں۔ مگر آدمی ان کو بھول جاتا ہے اور کھوئی ہوئی چیز کے غم میں ایسا پست ہمت ہوتا ہے گویا اس کا سب کچھ لٹ گیا ہے۔ اس کے برعکس، ایمان میں پورا اترنے والے وہ ہیں جو صابر اور صالح العمل ہوں۔ یعنی ہر جھٹکے کے باوجود اپنے آپ کو اعتدال پر باقی رکھیں اور وہی کریں جو خدا کا بندہ ہونے کی حیثیت سے انھیں کرنا چاہیے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی کی نفسیات حالات کے زیر اثر نہ بنے بلکہ اصول اور نظریہ کے تحت بنے۔ حالات خواہ کچھ ہوں وہ ان سے بلند ہو کر خالص حق کی روشنی میں اپنی رائے بنائے۔ وہ حالات سے غیر متاثر رہ کر اپنے عقیدہ اور شعور کی سطح پر زندہ رہنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اسی قسم کی زندگی نیک عملی کی زندگی ہے۔ جو لوگ اس نیک عملی کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو اگلی زندگی میں خدا کی رحمتوں کے حصہ دار ہوں گے اورخدا کی ابدی جنتوں میں جگہ پائیں گے۔

هود 11:12

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شرک کی تردید کی اور لوگوں کو توحید کی طرف بلایا تو آپ کے مخاطبین بگڑ گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی باتوں سے ان کے ان بڑوں پر زد پڑتی تھی جن کے دین کو انھوں نے اختیار کررکھا تھا اور جن سے انتساب پر وہ فخر کرتے تھے۔ صورت حال یہ تھی کہ قدیم عربوں کے یہ اکابر تاریخی طورپر ان کی نظر میں باعظمت بنے ہوئے تھے، جب کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ ابھی تاریخ کی عظمتیں شامل نہیں ہوئی تھیں۔ اس وقت آپ لوگوں کو ایک بے حیثیت انسان کے روپ میں نظر آتے تھے۔ عرب کے لوگ یہ دیکھ کر سخت برہم ہوتے تھے کہ ایک معمولی آدمی ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس سے ان کے اکابر و اعاظم بے اعتبار ثابت ہورہے ہیں۔ ایسی حالت میں داعی کے ذہن میں یہ خیال آتاہے کہ وہ، کم از کم وقتی طور پر، تنقیدی انداز سے پرہیز کرے اور صرف مثبت طورپر اپنا پیغام پیش کرے۔ ’’شاید تم وحی کے بعض حصہ کی تبلیغ چھوڑ دو گے‘‘ سے مراد وحی خداوندی کا یہی تنقیدی حصہ ہے۔ مگر اللہ تعالی کو وضاحت مطلوب ہے اور تنقید کے بغیر وضاحت ممکن نہیں۔ پھر اگر حق کو پوری طرح کھولنے کے نتیجہ میں لوگ داعی کو استہزاء اور مخالفت کا موضوع بنائیں تو اس سے گھبرانے کی کیا ضرورت۔ مدعو کی طرف سے یہ مخالفانہ رد عمل تو دراصل وہ قیمت ہے جو کسی آدمی کو بے آمیز حق کا داعی بننے کے لیے اس دنیا میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ خدا کے داعی کے برحق ہونے کا سب سے زیادہ یقینی ثبوت اس کا ناقابل تقلید کلام ہے۔ جو لوگ پیغمبر کو حقیر سمجھ رہے تھے اوریہ یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھے کہ اس بظاہر معمولی آدمی کو وہ سچائی ملی ہے جو ان کے اکابر کو بھی نہیں ملی تھی۔ ان سے کہاگیا کہ پیغمبر کی صداقت کو اس معیار پر نہ جانچو کہ مادی اعتبار سے وہ کیسا ہے۔ بلکہ اس حیثیت سے دیکھو کہ وہ جس کلام کے ذریعہ اپنی دعوت پیش کررہا ہے وہ کلام اتنا عظیم ہے کہ تم اور تمھارے تمام اکابر مل کر بھی ویسا کلام نہیں بنا سکتے۔ یہ ناقابلِ تقلید امتیاز اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ پیغمبر خدا کی طرف سے بول رہا ہے۔ پیغمبر کے برسر حق ہونے کی اس واضح نشانی کے بعد آخر لوگوں کو خدا کا حکم بردار بننے میں کس چیز کا انتظار ہے۔

هود 11:13

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شرک کی تردید کی اور لوگوں کو توحید کی طرف بلایا تو آپ کے مخاطبین بگڑ گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی باتوں سے ان کے ان بڑوں پر زد پڑتی تھی جن کے دین کو انھوں نے اختیار کررکھا تھا اور جن سے انتساب پر وہ فخر کرتے تھے۔ صورت حال یہ تھی کہ قدیم عربوں کے یہ اکابر تاریخی طورپر ان کی نظر میں باعظمت بنے ہوئے تھے، جب کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ ابھی تاریخ کی عظمتیں شامل نہیں ہوئی تھیں۔ اس وقت آپ لوگوں کو ایک بے حیثیت انسان کے روپ میں نظر آتے تھے۔ عرب کے لوگ یہ دیکھ کر سخت برہم ہوتے تھے کہ ایک معمولی آدمی ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس سے ان کے اکابر و اعاظم بے اعتبار ثابت ہورہے ہیں۔ ایسی حالت میں داعی کے ذہن میں یہ خیال آتاہے کہ وہ، کم از کم وقتی طور پر، تنقیدی انداز سے پرہیز کرے اور صرف مثبت طورپر اپنا پیغام پیش کرے۔ ’’شاید تم وحی کے بعض حصہ کی تبلیغ چھوڑ دو گے‘‘ سے مراد وحی خداوندی کا یہی تنقیدی حصہ ہے۔ مگر اللہ تعالی کو وضاحت مطلوب ہے اور تنقید کے بغیر وضاحت ممکن نہیں۔ پھر اگر حق کو پوری طرح کھولنے کے نتیجہ میں لوگ داعی کو استہزاء اور مخالفت کا موضوع بنائیں تو اس سے گھبرانے کی کیا ضرورت۔ مدعو کی طرف سے یہ مخالفانہ رد عمل تو دراصل وہ قیمت ہے جو کسی آدمی کو بے آمیز حق کا داعی بننے کے لیے اس دنیا میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ خدا کے داعی کے برحق ہونے کا سب سے زیادہ یقینی ثبوت اس کا ناقابل تقلید کلام ہے۔ جو لوگ پیغمبر کو حقیر سمجھ رہے تھے اوریہ یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھے کہ اس بظاہر معمولی آدمی کو وہ سچائی ملی ہے جو ان کے اکابر کو بھی نہیں ملی تھی۔ ان سے کہاگیا کہ پیغمبر کی صداقت کو اس معیار پر نہ جانچو کہ مادی اعتبار سے وہ کیسا ہے۔ بلکہ اس حیثیت سے دیکھو کہ وہ جس کلام کے ذریعہ اپنی دعوت پیش کررہا ہے وہ کلام اتنا عظیم ہے کہ تم اور تمھارے تمام اکابر مل کر بھی ویسا کلام نہیں بنا سکتے۔ یہ ناقابلِ تقلید امتیاز اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ پیغمبر خدا کی طرف سے بول رہا ہے۔ پیغمبر کے برسر حق ہونے کی اس واضح نشانی کے بعد آخر لوگوں کو خدا کا حکم بردار بننے میں کس چیز کا انتظار ہے۔

هود 11:14

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شرک کی تردید کی اور لوگوں کو توحید کی طرف بلایا تو آپ کے مخاطبین بگڑ گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی باتوں سے ان کے ان بڑوں پر زد پڑتی تھی جن کے دین کو انھوں نے اختیار کررکھا تھا اور جن سے انتساب پر وہ فخر کرتے تھے۔ صورت حال یہ تھی کہ قدیم عربوں کے یہ اکابر تاریخی طورپر ان کی نظر میں باعظمت بنے ہوئے تھے، جب کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ ابھی تاریخ کی عظمتیں شامل نہیں ہوئی تھیں۔ اس وقت آپ لوگوں کو ایک بے حیثیت انسان کے روپ میں نظر آتے تھے۔ عرب کے لوگ یہ دیکھ کر سخت برہم ہوتے تھے کہ ایک معمولی آدمی ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس سے ان کے اکابر و اعاظم بے اعتبار ثابت ہورہے ہیں۔ ایسی حالت میں داعی کے ذہن میں یہ خیال آتاہے کہ وہ، کم از کم وقتی طور پر، تنقیدی انداز سے پرہیز کرے اور صرف مثبت طورپر اپنا پیغام پیش کرے۔ ’’شاید تم وحی کے بعض حصہ کی تبلیغ چھوڑ دو گے‘‘ سے مراد وحی خداوندی کا یہی تنقیدی حصہ ہے۔ مگر اللہ تعالی کو وضاحت مطلوب ہے اور تنقید کے بغیر وضاحت ممکن نہیں۔ پھر اگر حق کو پوری طرح کھولنے کے نتیجہ میں لوگ داعی کو استہزاء اور مخالفت کا موضوع بنائیں تو اس سے گھبرانے کی کیا ضرورت۔ مدعو کی طرف سے یہ مخالفانہ رد عمل تو دراصل وہ قیمت ہے جو کسی آدمی کو بے آمیز حق کا داعی بننے کے لیے اس دنیا میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ خدا کے داعی کے برحق ہونے کا سب سے زیادہ یقینی ثبوت اس کا ناقابل تقلید کلام ہے۔ جو لوگ پیغمبر کو حقیر سمجھ رہے تھے اوریہ یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھے کہ اس بظاہر معمولی آدمی کو وہ سچائی ملی ہے جو ان کے اکابر کو بھی نہیں ملی تھی۔ ان سے کہاگیا کہ پیغمبر کی صداقت کو اس معیار پر نہ جانچو کہ مادی اعتبار سے وہ کیسا ہے۔ بلکہ اس حیثیت سے دیکھو کہ وہ جس کلام کے ذریعہ اپنی دعوت پیش کررہا ہے وہ کلام اتنا عظیم ہے کہ تم اور تمھارے تمام اکابر مل کر بھی ویسا کلام نہیں بنا سکتے۔ یہ ناقابلِ تقلید امتیاز اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ پیغمبر خدا کی طرف سے بول رہا ہے۔ پیغمبر کے برسر حق ہونے کی اس واضح نشانی کے بعد آخر لوگوں کو خدا کا حکم بردار بننے میں کس چیز کا انتظار ہے۔

هود 11:15

دین کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ملاوٹی دین، دوسرا بے آمیز دین۔ ملاوٹی دین دراصل دنیا کے اوپر دین کا لیبل لگانے کا دوسرا نام ہے۔ وہ دنیا اور دین کے درمیان مصالحت کرنے سے وجود میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر زمانہ میں ایسا ہوتاہے کہ ملاوٹی دین کی بنیاد پر بڑے بڑے ادارے قائم ہوتے ہیں۔ مفاد پرست لوگ اس کے ذریعے دین کے نام پر دنیا حاصل کرلیتے ہیں۔ بے آمیز دین کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ بے آمیز دین کی دعوت جب کسی ماحول میں اٹھتی ہے تو وہ صرف ایک نظری سچائی ہوتی ہے۔ معاشی مفادات اور قیادتی مصالح اس کے ساتھ جمع نہیں ہوتے۔ ایسی حالت میں جو لوگ ملاوٹی دین کے نام پر عزت اور مقام حاصل كيے ہوئے ہوں ان کے سامنے جب بے آمیز دین کی دعوت آتی ہے تو وہ سخت متوحش ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس کو اختیار کرنے کی صورت میں انھیں نظر آتاہے کہ تمام دنیوی چیزیں ان سے چھن جائیں گی۔ اس اعتبار سے کسی ماحول میں بے آمیز دین کی دعوت کا اٹھنا وہاں ایک نازک امتحان کا برپا ہونا ہے۔ ایسے وقت میں جو لوگ دنیا کی عزت اور دنیا کے مفادات کو قابلِ ترجیح سمجھیں اور بے آمیز دین کا ساتھ نہ دیں ان کی ساری دوڑ دھوپ دنیا کے خانہ میں چلی جاتی ہے۔ کیوںکہ انھوں نے اس دین کا ساتھ دیا جس میں ان کے دنیوی مفادات محفوظ تھے۔ اور اس دین کا ساتھ نہ دیا جس میں انھیں اپنے دنیوی مفادات چھنتے ہوئے نظر آتے تھے۔وہ بظاہر خواہ دینی سرگرمیوں میں مشغول ہوں، اصل مقصود کے اعتبار سے وہ دنیا کے حصول میں مشغول ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی کوششوں کا آخرت میں کوئی نتیجہ ملنا ممکن نہیں۔ انھوںنے اگرچہ اپنی سرگرمیوں کو دین کے نام سے موسوم کررکھا تھا وہ اپنے قومی میلوں کے اوپر جشن دینی کا بورڈ لگاتے تھے۔وہ اپنی قومی لڑائیوں کو مقدس جنگ کا نام دیتے تھے۔ وہ اپنی قیادتی نمائش کو دینی کانفرنس کہتے تھے، وہ اپنے سیاسی ہنگاموں کو مذہب کی اصطلاحات میں بیان کرتے تھے، وہ اپنے دنیوی جذبات کے تحت دھوم مچاتے تھے اور اس کو خدا اور رسول کے ساتھ جوڑتے تھے۔ مگر یہ ساری تعمیرات دنیاکی زمین میں تھیں، وہ آخرت کی زمین میں نہ تھیں، اس لیے قیامت کا زلزلہ انھیں بالکل برباد کردے گا۔ اگلی دنیا میں ان کا کوئی انجام ان کے حصہ میں نہ آئے گا۔

هود 11:16

دین کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ملاوٹی دین، دوسرا بے آمیز دین۔ ملاوٹی دین دراصل دنیا کے اوپر دین کا لیبل لگانے کا دوسرا نام ہے۔ وہ دنیا اور دین کے درمیان مصالحت کرنے سے وجود میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر زمانہ میں ایسا ہوتاہے کہ ملاوٹی دین کی بنیاد پر بڑے بڑے ادارے قائم ہوتے ہیں۔ مفاد پرست لوگ اس کے ذریعے دین کے نام پر دنیا حاصل کرلیتے ہیں۔ بے آمیز دین کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ بے آمیز دین کی دعوت جب کسی ماحول میں اٹھتی ہے تو وہ صرف ایک نظری سچائی ہوتی ہے۔ معاشی مفادات اور قیادتی مصالح اس کے ساتھ جمع نہیں ہوتے۔ ایسی حالت میں جو لوگ ملاوٹی دین کے نام پر عزت اور مقام حاصل كيے ہوئے ہوں ان کے سامنے جب بے آمیز دین کی دعوت آتی ہے تو وہ سخت متوحش ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس کو اختیار کرنے کی صورت میں انھیں نظر آتاہے کہ تمام دنیوی چیزیں ان سے چھن جائیں گی۔ اس اعتبار سے کسی ماحول میں بے آمیز دین کی دعوت کا اٹھنا وہاں ایک نازک امتحان کا برپا ہونا ہے۔ ایسے وقت میں جو لوگ دنیا کی عزت اور دنیا کے مفادات کو قابلِ ترجیح سمجھیں اور بے آمیز دین کا ساتھ نہ دیں ان کی ساری دوڑ دھوپ دنیا کے خانہ میں چلی جاتی ہے۔ کیوںکہ انھوں نے اس دین کا ساتھ دیا جس میں ان کے دنیوی مفادات محفوظ تھے۔ اور اس دین کا ساتھ نہ دیا جس میں انھیں اپنے دنیوی مفادات چھنتے ہوئے نظر آتے تھے۔وہ بظاہر خواہ دینی سرگرمیوں میں مشغول ہوں، اصل مقصود کے اعتبار سے وہ دنیا کے حصول میں مشغول ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی کوششوں کا آخرت میں کوئی نتیجہ ملنا ممکن نہیں۔ انھوںنے اگرچہ اپنی سرگرمیوں کو دین کے نام سے موسوم کررکھا تھا وہ اپنے قومی میلوں کے اوپر جشن دینی کا بورڈ لگاتے تھے۔وہ اپنی قومی لڑائیوں کو مقدس جنگ کا نام دیتے تھے۔ وہ اپنی قیادتی نمائش کو دینی کانفرنس کہتے تھے، وہ اپنے سیاسی ہنگاموں کو مذہب کی اصطلاحات میں بیان کرتے تھے، وہ اپنے دنیوی جذبات کے تحت دھوم مچاتے تھے اور اس کو خدا اور رسول کے ساتھ جوڑتے تھے۔ مگر یہ ساری تعمیرات دنیاکی زمین میں تھیں، وہ آخرت کی زمین میں نہ تھیں، اس لیے قیامت کا زلزلہ انھیں بالکل برباد کردے گا۔ اگلی دنیا میں ان کا کوئی انجام ان کے حصہ میں نہ آئے گا۔

هود 11:17

پیغمبر اسلام نے عرب میں توحید کی دعوت پیش کی تو کچھ لوگوں نے اس کو مانا اور زیادہ لوگ اس کے منکر ہوگئے۔ یہی ہر زمانہ میں دعوت حق کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ خدا نے ہر آدمی کو فطرتِ صحیح پر پیدا کیا ہے۔ گردو پیش کی دنیا میں ہر طرف ایسی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں جو اپنے خالق کا اعلان کرتی ہیں اور اسی کے ساتھ اس کے تخلیقی منصوبہ کی طرف اشارہ کررہی ہیں۔ پھر انسانیت کے بالکل ابتدائی زمانہ سے خدا کے رسول آتے رہے اور خدا کی باتیں لوگوں کو بتاتے رہے۔ انھیں میں سے ایک پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ جن کی لائی ہوئی کتاب اب تک کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ اب جو شخص سنجیدہ ہو اور چیزوں سے سبق لینا جانتا ہو تو وہ حقیقت سے اتنا مانوس ہوگا کہ داعی جب اس کے سامنے حقیقت کا اعلان کرے گا تو فوراً وہ اس کو پہچان لے گا۔ اس کا دل اور اس کا دماغ حق کے حق ہونے پر گواہی دیں گے۔وہ آگے بڑھ کراس کو اس طرح اختیار کرلے گا جیسے وہ اس کے اپنے دل کی آواز ہو۔ مگر اکثر لوگوں کا حال یہ ہوتاہے کہ وہ چیزوں کو بہت زیادہ سنجیدگی کے ساتھ نہیں دیکھتے۔ وہ سطحی تماشوں اور وقتی دلچسپیوں میںپڑ کر اپنا مزاج بگاڑ لیتے ہیں۔ غیر متعلق چیزوں کی مصروفیت انھیں اس کا موقع نہیں دیتی کہ وہ داعی اور اس کی دعوت پر ٹھہر کر سوچیں۔ چنانچہ ان کے سامنے جب حق کی دعوت آتی ہے تو وہ اس کو پہچان نہیں پاتے۔ وہ اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اس کے منکر بلکہ مخالف بن جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے خدا کی اور خدا کے تخلیقی منصوبہ کی ناقدری کی۔ ان کے لیے آخرت میں جہنم کی آگ کے سوا اور کچھ نہیں۔ انسانی فطرت، زمین وآسمان کے واقعات اور پچھلی آسمانی کتابیں قرآن کے حق ہونے کی گواہی دے رہی ہیں۔ اس کے بعد اگر لوگوں کی اکثریت اس کا انکار کرتی ہے تو اس کی وجہ منکرین کے اندر تلاش کی جائے گی، نہ یہ کہ خود قرآن کے کتاب حق ہونے پر شک کیا جائے۔

هود 11:18

’’خدا پر جھوٹ گھڑنے‘‘ سے مراد خدا کی ذات پر جھوٹ گھڑنا نہیں ہے۔ اس سے مراد خدا کی بات پر جھوٹ گھڑنا ہے۔ خدا اپنا پیغام سنانے کے لیے خود سامنے نہیں آتا بلکہ ایک انسان کی زبان سے اس کا اعلان کراتا ہے۔ یہ انسان اس وقت بظاہر ایک معمولی انسان ہوتاہے، مگر اس کے کلام میں خدا کی واضح جھلکیاں ہوتی ہیں۔ اگر لوگ اس کو اس کے کلام کے اعتبار سے دیکھیں تو وہ اس کی عظمتوں میں خدا کو پالیں۔ مگر لوگوں کی سطحیت اور ظاہر پرستی کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نگاہیں سنانے والے کی معمولی حیثیت میں اٹک کر رہ جاتی ہیں۔ پیغمبر کا معمولی ہونا انھیں نظر آتا ہے مگر پیغام کاغیر معمولی ہونا انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ چنانچہ وہ اس کو ایک عام انسان کا معاملہ سمجھ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کی بات میں جھوٹے اعتراضات نکالتے ہیں۔ اور اس کو اس طرح نظر انداز کردیتے ہیں جیسے کہ اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس ظالمانہ رویہ کی اصل وجہ بے خوفی کی نفسیات ہے۔لوگوں کو آخرت پر یقین نہیں۔ ان کے دلوں میں خدائے قہار وجبار کا خوف نہیں۔ اس لیے وہ اس پیغام کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوپاتے اور جس معاملہ میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کے متعلق صحیح رد عمل پیش کرنے میں ہمیشہ ناکام رہے گا۔ مگر لوگوں کی یہ غیر سنجیدگی اس وقت رخصت ہوجائے گی جب وہ قیامت میں مالک کائنات کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اس وقت ان کی موجودہ آزادی ان سے چھن چکی ہوگی۔ جن اسباب و وسائل کے بھروسہ پر وہ سرکش بنے ہوئے تھے وہ خدا کا ٹیپ ریکارڈر بن کر ان کے خلاف گواہی دینے لگیں گے۔ اس وقت عیاناً یہ کھل جائے گا کہ خدا کے داعی کو جو انھوں نے جھٹلایا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ اس کو سمجھنے سے عاجز تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ نہ تھے۔ قیامت کی ہولناکی اچانک انھیں سنجیدہ بنادے گی۔ اس وقت اپنی بے بسی کے ماحول میں وہ اس بات کو پوری طرح سمجھ لیں گے جس کو دنیا میں اپنی آزادی کے ماحول میں سمجھ نہیں پاتے تھے۔ اللہ نے انسان کو ایسی اعلیٰ صلاحیتیں دی ہیں کہ اگر وہ ان کو استعمال کرے تو وہ ہر بات کو اس کی گہرائی تک سمجھ سکتاہے۔ اور اپنے دنیوی معاملات میں واقعۃً وہ ایسا ہی ثابت ہوتاہے۔ مگر آخرت کے معاملہ میں آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ کان رکھتے ہوئے بہرا بن جاتاہے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے پن کا ثبوت دیتاہے۔ آدمی کی کامیابی اس کی سنجیدگی (sincerity) کی قیمت ہے۔ جو لوگ دنیا کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ دنیا میں کامیاب رہتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ آخرت میں کامیاب رہیں گے۔

هود 11:19

’’خدا پر جھوٹ گھڑنے‘‘ سے مراد خدا کی ذات پر جھوٹ گھڑنا نہیں ہے۔ اس سے مراد خدا کی بات پر جھوٹ گھڑنا ہے۔ خدا اپنا پیغام سنانے کے لیے خود سامنے نہیں آتا بلکہ ایک انسان کی زبان سے اس کا اعلان کراتا ہے۔ یہ انسان اس وقت بظاہر ایک معمولی انسان ہوتاہے، مگر اس کے کلام میں خدا کی واضح جھلکیاں ہوتی ہیں۔ اگر لوگ اس کو اس کے کلام کے اعتبار سے دیکھیں تو وہ اس کی عظمتوں میں خدا کو پالیں۔ مگر لوگوں کی سطحیت اور ظاہر پرستی کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نگاہیں سنانے والے کی معمولی حیثیت میں اٹک کر رہ جاتی ہیں۔ پیغمبر کا معمولی ہونا انھیں نظر آتا ہے مگر پیغام کاغیر معمولی ہونا انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ چنانچہ وہ اس کو ایک عام انسان کا معاملہ سمجھ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کی بات میں جھوٹے اعتراضات نکالتے ہیں۔ اور اس کو اس طرح نظر انداز کردیتے ہیں جیسے کہ اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس ظالمانہ رویہ کی اصل وجہ بے خوفی کی نفسیات ہے۔لوگوں کو آخرت پر یقین نہیں۔ ان کے دلوں میں خدائے قہار وجبار کا خوف نہیں۔ اس لیے وہ اس پیغام کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوپاتے اور جس معاملہ میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کے متعلق صحیح رد عمل پیش کرنے میں ہمیشہ ناکام رہے گا۔ مگر لوگوں کی یہ غیر سنجیدگی اس وقت رخصت ہوجائے گی جب وہ قیامت میں مالک کائنات کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اس وقت ان کی موجودہ آزادی ان سے چھن چکی ہوگی۔ جن اسباب و وسائل کے بھروسہ پر وہ سرکش بنے ہوئے تھے وہ خدا کا ٹیپ ریکارڈر بن کر ان کے خلاف گواہی دینے لگیں گے۔ اس وقت عیاناً یہ کھل جائے گا کہ خدا کے داعی کو جو انھوں نے جھٹلایا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ اس کو سمجھنے سے عاجز تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ نہ تھے۔ قیامت کی ہولناکی اچانک انھیں سنجیدہ بنادے گی۔ اس وقت اپنی بے بسی کے ماحول میں وہ اس بات کو پوری طرح سمجھ لیں گے جس کو دنیا میں اپنی آزادی کے ماحول میں سمجھ نہیں پاتے تھے۔ اللہ نے انسان کو ایسی اعلیٰ صلاحیتیں دی ہیں کہ اگر وہ ان کو استعمال کرے تو وہ ہر بات کو اس کی گہرائی تک سمجھ سکتاہے۔ اور اپنے دنیوی معاملات میں واقعۃً وہ ایسا ہی ثابت ہوتاہے۔ مگر آخرت کے معاملہ میں آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ کان رکھتے ہوئے بہرا بن جاتاہے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے پن کا ثبوت دیتاہے۔ آدمی کی کامیابی اس کی سنجیدگی (sincerity) کی قیمت ہے۔ جو لوگ دنیا کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ دنیا میں کامیاب رہتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ آخرت میں کامیاب رہیں گے۔

هود 11:20

’’خدا پر جھوٹ گھڑنے‘‘ سے مراد خدا کی ذات پر جھوٹ گھڑنا نہیں ہے۔ اس سے مراد خدا کی بات پر جھوٹ گھڑنا ہے۔ خدا اپنا پیغام سنانے کے لیے خود سامنے نہیں آتا بلکہ ایک انسان کی زبان سے اس کا اعلان کراتا ہے۔ یہ انسان اس وقت بظاہر ایک معمولی انسان ہوتاہے، مگر اس کے کلام میں خدا کی واضح جھلکیاں ہوتی ہیں۔ اگر لوگ اس کو اس کے کلام کے اعتبار سے دیکھیں تو وہ اس کی عظمتوں میں خدا کو پالیں۔ مگر لوگوں کی سطحیت اور ظاہر پرستی کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نگاہیں سنانے والے کی معمولی حیثیت میں اٹک کر رہ جاتی ہیں۔ پیغمبر کا معمولی ہونا انھیں نظر آتا ہے مگر پیغام کاغیر معمولی ہونا انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ چنانچہ وہ اس کو ایک عام انسان کا معاملہ سمجھ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کی بات میں جھوٹے اعتراضات نکالتے ہیں۔ اور اس کو اس طرح نظر انداز کردیتے ہیں جیسے کہ اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس ظالمانہ رویہ کی اصل وجہ بے خوفی کی نفسیات ہے۔لوگوں کو آخرت پر یقین نہیں۔ ان کے دلوں میں خدائے قہار وجبار کا خوف نہیں۔ اس لیے وہ اس پیغام کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوپاتے اور جس معاملہ میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کے متعلق صحیح رد عمل پیش کرنے میں ہمیشہ ناکام رہے گا۔ مگر لوگوں کی یہ غیر سنجیدگی اس وقت رخصت ہوجائے گی جب وہ قیامت میں مالک کائنات کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اس وقت ان کی موجودہ آزادی ان سے چھن چکی ہوگی۔ جن اسباب و وسائل کے بھروسہ پر وہ سرکش بنے ہوئے تھے وہ خدا کا ٹیپ ریکارڈر بن کر ان کے خلاف گواہی دینے لگیں گے۔ اس وقت عیاناً یہ کھل جائے گا کہ خدا کے داعی کو جو انھوں نے جھٹلایا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ اس کو سمجھنے سے عاجز تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ نہ تھے۔ قیامت کی ہولناکی اچانک انھیں سنجیدہ بنادے گی۔ اس وقت اپنی بے بسی کے ماحول میں وہ اس بات کو پوری طرح سمجھ لیں گے جس کو دنیا میں اپنی آزادی کے ماحول میں سمجھ نہیں پاتے تھے۔ اللہ نے انسان کو ایسی اعلیٰ صلاحیتیں دی ہیں کہ اگر وہ ان کو استعمال کرے تو وہ ہر بات کو اس کی گہرائی تک سمجھ سکتاہے۔ اور اپنے دنیوی معاملات میں واقعۃً وہ ایسا ہی ثابت ہوتاہے۔ مگر آخرت کے معاملہ میں آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ کان رکھتے ہوئے بہرا بن جاتاہے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے پن کا ثبوت دیتاہے۔ آدمی کی کامیابی اس کی سنجیدگی (sincerity) کی قیمت ہے۔ جو لوگ دنیا کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ دنیا میں کامیاب رہتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ آخرت میں کامیاب رہیں گے۔

هود 11:21

’’خدا پر جھوٹ گھڑنے‘‘ سے مراد خدا کی ذات پر جھوٹ گھڑنا نہیں ہے۔ اس سے مراد خدا کی بات پر جھوٹ گھڑنا ہے۔ خدا اپنا پیغام سنانے کے لیے خود سامنے نہیں آتا بلکہ ایک انسان کی زبان سے اس کا اعلان کراتا ہے۔ یہ انسان اس وقت بظاہر ایک معمولی انسان ہوتاہے، مگر اس کے کلام میں خدا کی واضح جھلکیاں ہوتی ہیں۔ اگر لوگ اس کو اس کے کلام کے اعتبار سے دیکھیں تو وہ اس کی عظمتوں میں خدا کو پالیں۔ مگر لوگوں کی سطحیت اور ظاہر پرستی کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نگاہیں سنانے والے کی معمولی حیثیت میں اٹک کر رہ جاتی ہیں۔ پیغمبر کا معمولی ہونا انھیں نظر آتا ہے مگر پیغام کاغیر معمولی ہونا انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ چنانچہ وہ اس کو ایک عام انسان کا معاملہ سمجھ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کی بات میں جھوٹے اعتراضات نکالتے ہیں۔ اور اس کو اس طرح نظر انداز کردیتے ہیں جیسے کہ اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس ظالمانہ رویہ کی اصل وجہ بے خوفی کی نفسیات ہے۔لوگوں کو آخرت پر یقین نہیں۔ ان کے دلوں میں خدائے قہار وجبار کا خوف نہیں۔ اس لیے وہ اس پیغام کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوپاتے اور جس معاملہ میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کے متعلق صحیح رد عمل پیش کرنے میں ہمیشہ ناکام رہے گا۔ مگر لوگوں کی یہ غیر سنجیدگی اس وقت رخصت ہوجائے گی جب وہ قیامت میں مالک کائنات کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اس وقت ان کی موجودہ آزادی ان سے چھن چکی ہوگی۔ جن اسباب و وسائل کے بھروسہ پر وہ سرکش بنے ہوئے تھے وہ خدا کا ٹیپ ریکارڈر بن کر ان کے خلاف گواہی دینے لگیں گے۔ اس وقت عیاناً یہ کھل جائے گا کہ خدا کے داعی کو جو انھوں نے جھٹلایا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ اس کو سمجھنے سے عاجز تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ نہ تھے۔ قیامت کی ہولناکی اچانک انھیں سنجیدہ بنادے گی۔ اس وقت اپنی بے بسی کے ماحول میں وہ اس بات کو پوری طرح سمجھ لیں گے جس کو دنیا میں اپنی آزادی کے ماحول میں سمجھ نہیں پاتے تھے۔ اللہ نے انسان کو ایسی اعلیٰ صلاحیتیں دی ہیں کہ اگر وہ ان کو استعمال کرے تو وہ ہر بات کو اس کی گہرائی تک سمجھ سکتاہے۔ اور اپنے دنیوی معاملات میں واقعۃً وہ ایسا ہی ثابت ہوتاہے۔ مگر آخرت کے معاملہ میں آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ کان رکھتے ہوئے بہرا بن جاتاہے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے پن کا ثبوت دیتاہے۔ آدمی کی کامیابی اس کی سنجیدگی (sincerity) کی قیمت ہے۔ جو لوگ دنیا کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ دنیا میں کامیاب رہتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ آخرت میں کامیاب رہیں گے۔

هود 11:22

’’خدا پر جھوٹ گھڑنے‘‘ سے مراد خدا کی ذات پر جھوٹ گھڑنا نہیں ہے۔ اس سے مراد خدا کی بات پر جھوٹ گھڑنا ہے۔ خدا اپنا پیغام سنانے کے لیے خود سامنے نہیں آتا بلکہ ایک انسان کی زبان سے اس کا اعلان کراتا ہے۔ یہ انسان اس وقت بظاہر ایک معمولی انسان ہوتاہے، مگر اس کے کلام میں خدا کی واضح جھلکیاں ہوتی ہیں۔ اگر لوگ اس کو اس کے کلام کے اعتبار سے دیکھیں تو وہ اس کی عظمتوں میں خدا کو پالیں۔ مگر لوگوں کی سطحیت اور ظاہر پرستی کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نگاہیں سنانے والے کی معمولی حیثیت میں اٹک کر رہ جاتی ہیں۔ پیغمبر کا معمولی ہونا انھیں نظر آتا ہے مگر پیغام کاغیر معمولی ہونا انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ چنانچہ وہ اس کو ایک عام انسان کا معاملہ سمجھ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کی بات میں جھوٹے اعتراضات نکالتے ہیں۔ اور اس کو اس طرح نظر انداز کردیتے ہیں جیسے کہ اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس ظالمانہ رویہ کی اصل وجہ بے خوفی کی نفسیات ہے۔لوگوں کو آخرت پر یقین نہیں۔ ان کے دلوں میں خدائے قہار وجبار کا خوف نہیں۔ اس لیے وہ اس پیغام کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوپاتے اور جس معاملہ میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کے متعلق صحیح رد عمل پیش کرنے میں ہمیشہ ناکام رہے گا۔ مگر لوگوں کی یہ غیر سنجیدگی اس وقت رخصت ہوجائے گی جب وہ قیامت میں مالک کائنات کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اس وقت ان کی موجودہ آزادی ان سے چھن چکی ہوگی۔ جن اسباب و وسائل کے بھروسہ پر وہ سرکش بنے ہوئے تھے وہ خدا کا ٹیپ ریکارڈر بن کر ان کے خلاف گواہی دینے لگیں گے۔ اس وقت عیاناً یہ کھل جائے گا کہ خدا کے داعی کو جو انھوں نے جھٹلایا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ اس کو سمجھنے سے عاجز تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ نہ تھے۔ قیامت کی ہولناکی اچانک انھیں سنجیدہ بنادے گی۔ اس وقت اپنی بے بسی کے ماحول میں وہ اس بات کو پوری طرح سمجھ لیں گے جس کو دنیا میں اپنی آزادی کے ماحول میں سمجھ نہیں پاتے تھے۔ اللہ نے انسان کو ایسی اعلیٰ صلاحیتیں دی ہیں کہ اگر وہ ان کو استعمال کرے تو وہ ہر بات کو اس کی گہرائی تک سمجھ سکتاہے۔ اور اپنے دنیوی معاملات میں واقعۃً وہ ایسا ہی ثابت ہوتاہے۔ مگر آخرت کے معاملہ میں آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ کان رکھتے ہوئے بہرا بن جاتاہے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے پن کا ثبوت دیتاہے۔ آدمی کی کامیابی اس کی سنجیدگی (sincerity) کی قیمت ہے۔ جو لوگ دنیا کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ دنیا میں کامیاب رہتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ آخرت میں کامیاب رہیں گے۔

هود 11:23

اخبات کے معنی ہیں عاجزی کرنا۔ عربی میں کہتے ہیں ہو خبیت القلب (وہ شکستہ دل ہے)۔ یہی ایمان کا خلاصہ ہے۔ ایمان نہ کوئی وراثت ہے اور نہ کسی لفظی مجموعہ کی لسانی ادائيگی۔ ایمان ایک دریافت ہے۔ آدمی جب اپنے سمع وبصر (بالفاظ دیگر شعور) کو استعمال کرکے خدا کو پاتا ہے اور اس کے مقابلہ میں اپنی حیثیت کا ادراک کرتاہے تو اس وقت اس کے اوپر جو کیفیت طاری ہوتی ہے اسی کا نام عجز (اخبات) ہے۔ عجز خدا کے مقابلہ میں اپنی حیثیت واقعی کی پہچان کا لازمی نتیجہ ہے۔ ایمان، اخبات اور عمل صالح تینوں ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ ایمان خدا کے وجود اور اس کی صفات کمال کی شعوری دریافت ہے۔ اخبات اس قلبی حالت کا نام ہے جو خدا کی دریافت کے نتیجہ میں لازماً آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ عمل صالح اسی شعور اور اسی کیفیت سے پیدا ہونے والی خارجی صورت ہے۔ آدمی جب خدا کے ذہن سے سوچتاہے۔ جب اس کا دل خدائی کیفیات سے بھر جاتاہے تو اس وقت اس کے عین فطری نتیجے کے طور پر اس کی ظاہری زندگی خدائی عمل میں ڈھل جاتی ہے۔ اسی کا نام عمل صالح ہے۔ جو شخص ایمان، اخبات اور عمل صالح کا پیکر بن جائے وہی خدا کا مطلوب انسان ہے۔ اور وہی وہ انسان ہے جس کو جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائے گا۔ دنیا میں اعلیٰ ترین امتحانی حالات پیدا کرکے یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون اپنے آپ کو کیا ثابت کرتاہے۔ ایک گروہ وہ ہے جس نے اپنے سمع وبصر (شعور) کو صحیح طور پر استعمال کرکے حقیقت واقعہ کو جانا اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیا۔ یہ دیکھنے اور سننے والے لوگ ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جس نے اپنے سمع وبصر کو صحیح طورپر استعمال نہیں کیا۔ اس کو نہ حقیقت واقعہ کی معرفت حاصل ہوئی اور نہ وہ اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال سکا۔ یہ اندھے اور بہرے لوگ ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں بالکل مختلف قسم کے انسان ہیں۔ اور دو مختلف انسانوں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔

هود 11:24

اخبات کے معنی ہیں عاجزی کرنا۔ عربی میں کہتے ہیں ہو خبیت القلب (وہ شکستہ دل ہے)۔ یہی ایمان کا خلاصہ ہے۔ ایمان نہ کوئی وراثت ہے اور نہ کسی لفظی مجموعہ کی لسانی ادائيگی۔ ایمان ایک دریافت ہے۔ آدمی جب اپنے سمع وبصر (بالفاظ دیگر شعور) کو استعمال کرکے خدا کو پاتا ہے اور اس کے مقابلہ میں اپنی حیثیت کا ادراک کرتاہے تو اس وقت اس کے اوپر جو کیفیت طاری ہوتی ہے اسی کا نام عجز (اخبات) ہے۔ عجز خدا کے مقابلہ میں اپنی حیثیت واقعی کی پہچان کا لازمی نتیجہ ہے۔ ایمان، اخبات اور عمل صالح تینوں ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ ایمان خدا کے وجود اور اس کی صفات کمال کی شعوری دریافت ہے۔ اخبات اس قلبی حالت کا نام ہے جو خدا کی دریافت کے نتیجہ میں لازماً آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ عمل صالح اسی شعور اور اسی کیفیت سے پیدا ہونے والی خارجی صورت ہے۔ آدمی جب خدا کے ذہن سے سوچتاہے۔ جب اس کا دل خدائی کیفیات سے بھر جاتاہے تو اس وقت اس کے عین فطری نتیجے کے طور پر اس کی ظاہری زندگی خدائی عمل میں ڈھل جاتی ہے۔ اسی کا نام عمل صالح ہے۔ جو شخص ایمان، اخبات اور عمل صالح کا پیکر بن جائے وہی خدا کا مطلوب انسان ہے۔ اور وہی وہ انسان ہے جس کو جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائے گا۔ دنیا میں اعلیٰ ترین امتحانی حالات پیدا کرکے یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون اپنے آپ کو کیا ثابت کرتاہے۔ ایک گروہ وہ ہے جس نے اپنے سمع وبصر (شعور) کو صحیح طور پر استعمال کرکے حقیقت واقعہ کو جانا اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیا۔ یہ دیکھنے اور سننے والے لوگ ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جس نے اپنے سمع وبصر کو صحیح طورپر استعمال نہیں کیا۔ اس کو نہ حقیقت واقعہ کی معرفت حاصل ہوئی اور نہ وہ اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال سکا۔ یہ اندھے اور بہرے لوگ ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں بالکل مختلف قسم کے انسان ہیں۔ اور دو مختلف انسانوں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔

هود 11:25

خدا کے جتنے پیغمبر آئے، اسی لیے آئے کہ وہ انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبہ سے آگاہ کریں۔ یہ منصوبہ کہ انسان موجودہ دنیا میں بغرض امتحان رکھا گیاہے۔ یہاں اگر چہ بظاہر مختلف چیزوں کی عبادت کے مواقع ہیں۔ مگر اصل مطلوب صرف یہ ہے کہ انسان خدا کا عابد بنے۔ جو لوگ خدا کے عابد نہ بنیں وہ امتحان میں ناکام ہوگئے ۔ ایسے لوگوں کے لیے مرنے کے بعد کی زندگی میں سخت عذاب ہے۔ حضرت نوح نے اپنی قوم کے لوگوں سے یہی بات کہی۔ وہ اس کے لیے نذیر مبین بن گئے۔ مگر آپ کی قوم نے آپ کی بات نہیں مانی۔ اس کی وجہ لوگوں کی ظاہر پرستی تھی۔ انسان کی گمراہی کی نظریاتی طورپر بہت سی قسمیں ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ہر دور کے انسانوں کی گمراہی صرف ایک رہی ہے۔ اور وہ ہے ظاہر پرستی یا دنیا پسندی۔ دنیا پرست لوگ، عین اپنے مزاج کے مطابق، دنیوی چیزوں کو حق اور ناحق کا معیار سمجھتے ہیں۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ فرض کرلیتے ہیں کہ جس کے پاس ظاہری رونقیں ہوں وہ حق پر ہے اور جو دنیا کی رونقوں سے محروم ہو وہ ناحق پر۔ خدا کا داعی جب اٹھتاہے تو اپنے ہم عصروں کو وہ صرف انسانوں میں سے ایک انسان نظر آتاہے ۔ دنیوی اعتبار سے اس کے گرد وپیش بڑائی کا کوئی خصوصی نشان نہیں ہوتا۔ دوسری طرف یہ ہوتاہے کہ وہ جس دین کا علم بردار ہوتاہے اس کے ساتھ چوں کہ ابھی تک دنیوی فائدے وابستہ نہیں ہوتے، اس لیے اس کی طرف بڑھنے والے زیادہ وہ تہی دست لوگ ہوتے ہیں جنھیں ایک ’’نئے دین‘‘ کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں کچھ کھونا نہ پڑے۔ یہ صورت حال خاص طور پر، وقت کے بڑوں کے لیے، فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ جب دنیا ان کے ساتھ نہیں ہے تو حق بھی ان کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ حتی کہ قوم میں ایسے لوگ بھی نکلتے ہیں جو ان کو جھوٹا اور دھوکا باز کہنے سے بھی دریغ نہ کریں۔

هود 11:26

خدا کے جتنے پیغمبر آئے، اسی لیے آئے کہ وہ انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبہ سے آگاہ کریں۔ یہ منصوبہ کہ انسان موجودہ دنیا میں بغرض امتحان رکھا گیاہے۔ یہاں اگر چہ بظاہر مختلف چیزوں کی عبادت کے مواقع ہیں۔ مگر اصل مطلوب صرف یہ ہے کہ انسان خدا کا عابد بنے۔ جو لوگ خدا کے عابد نہ بنیں وہ امتحان میں ناکام ہوگئے ۔ ایسے لوگوں کے لیے مرنے کے بعد کی زندگی میں سخت عذاب ہے۔ حضرت نوح نے اپنی قوم کے لوگوں سے یہی بات کہی۔ وہ اس کے لیے نذیر مبین بن گئے۔ مگر آپ کی قوم نے آپ کی بات نہیں مانی۔ اس کی وجہ لوگوں کی ظاہر پرستی تھی۔ انسان کی گمراہی کی نظریاتی طورپر بہت سی قسمیں ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ہر دور کے انسانوں کی گمراہی صرف ایک رہی ہے۔ اور وہ ہے ظاہر پرستی یا دنیا پسندی۔ دنیا پرست لوگ، عین اپنے مزاج کے مطابق، دنیوی چیزوں کو حق اور ناحق کا معیار سمجھتے ہیں۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ فرض کرلیتے ہیں کہ جس کے پاس ظاہری رونقیں ہوں وہ حق پر ہے اور جو دنیا کی رونقوں سے محروم ہو وہ ناحق پر۔ خدا کا داعی جب اٹھتاہے تو اپنے ہم عصروں کو وہ صرف انسانوں میں سے ایک انسان نظر آتاہے ۔ دنیوی اعتبار سے اس کے گرد وپیش بڑائی کا کوئی خصوصی نشان نہیں ہوتا۔ دوسری طرف یہ ہوتاہے کہ وہ جس دین کا علم بردار ہوتاہے اس کے ساتھ چوں کہ ابھی تک دنیوی فائدے وابستہ نہیں ہوتے، اس لیے اس کی طرف بڑھنے والے زیادہ وہ تہی دست لوگ ہوتے ہیں جنھیں ایک ’’نئے دین‘‘ کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں کچھ کھونا نہ پڑے۔ یہ صورت حال خاص طور پر، وقت کے بڑوں کے لیے، فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ جب دنیا ان کے ساتھ نہیں ہے تو حق بھی ان کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ حتی کہ قوم میں ایسے لوگ بھی نکلتے ہیں جو ان کو جھوٹا اور دھوکا باز کہنے سے بھی دریغ نہ کریں۔

هود 11:27

خدا کے جتنے پیغمبر آئے، اسی لیے آئے کہ وہ انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبہ سے آگاہ کریں۔ یہ منصوبہ کہ انسان موجودہ دنیا میں بغرض امتحان رکھا گیاہے۔ یہاں اگر چہ بظاہر مختلف چیزوں کی عبادت کے مواقع ہیں۔ مگر اصل مطلوب صرف یہ ہے کہ انسان خدا کا عابد بنے۔ جو لوگ خدا کے عابد نہ بنیں وہ امتحان میں ناکام ہوگئے ۔ ایسے لوگوں کے لیے مرنے کے بعد کی زندگی میں سخت عذاب ہے۔ حضرت نوح نے اپنی قوم کے لوگوں سے یہی بات کہی۔ وہ اس کے لیے نذیر مبین بن گئے۔ مگر آپ کی قوم نے آپ کی بات نہیں مانی۔ اس کی وجہ لوگوں کی ظاہر پرستی تھی۔ انسان کی گمراہی کی نظریاتی طورپر بہت سی قسمیں ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ہر دور کے انسانوں کی گمراہی صرف ایک رہی ہے۔ اور وہ ہے ظاہر پرستی یا دنیا پسندی۔ دنیا پرست لوگ، عین اپنے مزاج کے مطابق، دنیوی چیزوں کو حق اور ناحق کا معیار سمجھتے ہیں۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ فرض کرلیتے ہیں کہ جس کے پاس ظاہری رونقیں ہوں وہ حق پر ہے اور جو دنیا کی رونقوں سے محروم ہو وہ ناحق پر۔ خدا کا داعی جب اٹھتاہے تو اپنے ہم عصروں کو وہ صرف انسانوں میں سے ایک انسان نظر آتاہے ۔ دنیوی اعتبار سے اس کے گرد وپیش بڑائی کا کوئی خصوصی نشان نہیں ہوتا۔ دوسری طرف یہ ہوتاہے کہ وہ جس دین کا علم بردار ہوتاہے اس کے ساتھ چوں کہ ابھی تک دنیوی فائدے وابستہ نہیں ہوتے، اس لیے اس کی طرف بڑھنے والے زیادہ وہ تہی دست لوگ ہوتے ہیں جنھیں ایک ’’نئے دین‘‘ کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں کچھ کھونا نہ پڑے۔ یہ صورت حال خاص طور پر، وقت کے بڑوں کے لیے، فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ جب دنیا ان کے ساتھ نہیں ہے تو حق بھی ان کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ حتی کہ قوم میں ایسے لوگ بھی نکلتے ہیں جو ان کو جھوٹا اور دھوکا باز کہنے سے بھی دریغ نہ کریں۔

هود 11:28

یہاں ’’بینہ‘‘ سے مراد دلیل ہے اور رحمت سے مراد نبوت ہے (تفسير النسفی، جلد2، صفحہ 55 ) اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر جب کسی قوم کو دعوت دیتاہے تو وہ دو چیزوں کے اوپر کھڑا ہوتاہے، دلیل اور نبوت۔ پیغمبر کے بعد کوئی داعی بھی اسی وقت داعی ہے جب کہ وہ انھیں دو چیزوں پر کھڑا ہو۔ اس فرق کے ساتھ کہ دلیل کے بعد دوسری چیز جو اس کے پاس ہوگی وہ بالواسطہ طورپر پیغمبر سے ملی ہوگی۔ جب کہ پیغمبر کے پاس وہ براہِ راست خدا کی طرف سے آئی ہے۔ قوم جس وقت خدا کے داعی کو یہ سمجھ کر نظر انداز کردیتی ہے کہ اس کے یہاں ظاہری اعتبار سے کوئی قابل لحاظ چیز نہیں، عین اسی وقت اس کے پاس ایک بہت بڑی قابل لحاظ چیز موجود ہوتی ہے۔ اور وہ دلیل اورہدایت ہے۔ دلیل اور ہدایت کی بڑائی کامل طورپر خدا کے داعی کے پاس موجود ہوتی ہے۔ مگر یہ بہر حال معنوی بڑائی ہے۔ اور جن لوگوں کی نگاہیں ظواہر میں اٹکی ہوئی ہوں ان کو معنوی بڑائی کیوں کر دکھائی دے گی۔ دعوت الی اللہ کا کام خالص اخروی کام ہے۔ اس کی صحیح کارکردگی کے لیے ضروری ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان زر اورزمین کے جھگڑے نہ ہوں۔ یہ ذمہ داری خود داعی کو لینی پڑتی ہے کہ اس کے اور مدعو کے درمیان معتدل فضاہو۔ اور اس کی خاطر وہ ہر قسم کے مادی اور معاشی جھگڑے یک طرفہ طورپر ختم کردے۔ جس داعی کا یہ حال ہو کہ وہ ایک طرف دعوت دے اور دوسری طرف مدعو سے دنیوی چیزوں کے لیے احتجاج اور مطالبہ بھی کررہا ہو، وہ داعی نہیں، مسخرہ ہے۔ اس کی کوئی قیمت نہ مدعو کی نظر میں ہوسکتی ہے اور نہ خدا کی نظر میں۔ مدعو کا امتحان یہ ہے کہ وہ بظاہر ایک بے عظمت انسان کے اندر حق کی عظمت کو دیکھ لے۔ اسی طرح داعی کا امتحان یہ ہے کہ وہ کسی بے دین کا اس ليے استقبال نہ کرنے لگے کہ وہ مال وجاہ کا مالک ہے،اور کسی د ین دار کو اس لیے ناقابلِ لحاظ نہ سمجھ لے کہ اس کے پاس دنیوی شان وشوکت کی چیزیں موجود نہیں۔ داعی اگر ایسا کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ زبان سے آخرت کی اہمیت کا وعظ کہہ رہا ہے اور عمل سے دنیا کی اہمیت کا ثبوت دے رہاہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنی تردید آپ ہے۔ اور جو شخص اپنی تردید آپ کرے اس کی بات کی دوسروں کی نظر میں کیا قیمت ہوسکتی ہے۔

هود 11:29

یہاں ’’بینہ‘‘ سے مراد دلیل ہے اور رحمت سے مراد نبوت ہے (تفسير النسفی، جلد2، صفحہ 55 ) اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر جب کسی قوم کو دعوت دیتاہے تو وہ دو چیزوں کے اوپر کھڑا ہوتاہے، دلیل اور نبوت۔ پیغمبر کے بعد کوئی داعی بھی اسی وقت داعی ہے جب کہ وہ انھیں دو چیزوں پر کھڑا ہو۔ اس فرق کے ساتھ کہ دلیل کے بعد دوسری چیز جو اس کے پاس ہوگی وہ بالواسطہ طورپر پیغمبر سے ملی ہوگی۔ جب کہ پیغمبر کے پاس وہ براہِ راست خدا کی طرف سے آئی ہے۔ قوم جس وقت خدا کے داعی کو یہ سمجھ کر نظر انداز کردیتی ہے کہ اس کے یہاں ظاہری اعتبار سے کوئی قابل لحاظ چیز نہیں، عین اسی وقت اس کے پاس ایک بہت بڑی قابل لحاظ چیز موجود ہوتی ہے۔ اور وہ دلیل اورہدایت ہے۔ دلیل اور ہدایت کی بڑائی کامل طورپر خدا کے داعی کے پاس موجود ہوتی ہے۔ مگر یہ بہر حال معنوی بڑائی ہے۔ اور جن لوگوں کی نگاہیں ظواہر میں اٹکی ہوئی ہوں ان کو معنوی بڑائی کیوں کر دکھائی دے گی۔ دعوت الی اللہ کا کام خالص اخروی کام ہے۔ اس کی صحیح کارکردگی کے لیے ضروری ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان زر اورزمین کے جھگڑے نہ ہوں۔ یہ ذمہ داری خود داعی کو لینی پڑتی ہے کہ اس کے اور مدعو کے درمیان معتدل فضاہو۔ اور اس کی خاطر وہ ہر قسم کے مادی اور معاشی جھگڑے یک طرفہ طورپر ختم کردے۔ جس داعی کا یہ حال ہو کہ وہ ایک طرف دعوت دے اور دوسری طرف مدعو سے دنیوی چیزوں کے لیے احتجاج اور مطالبہ بھی کررہا ہو، وہ داعی نہیں، مسخرہ ہے۔ اس کی کوئی قیمت نہ مدعو کی نظر میں ہوسکتی ہے اور نہ خدا کی نظر میں۔ مدعو کا امتحان یہ ہے کہ وہ بظاہر ایک بے عظمت انسان کے اندر حق کی عظمت کو دیکھ لے۔ اسی طرح داعی کا امتحان یہ ہے کہ وہ کسی بے دین کا اس ليے استقبال نہ کرنے لگے کہ وہ مال وجاہ کا مالک ہے،اور کسی د ین دار کو اس لیے ناقابلِ لحاظ نہ سمجھ لے کہ اس کے پاس دنیوی شان وشوکت کی چیزیں موجود نہیں۔ داعی اگر ایسا کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ زبان سے آخرت کی اہمیت کا وعظ کہہ رہا ہے اور عمل سے دنیا کی اہمیت کا ثبوت دے رہاہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنی تردید آپ ہے۔ اور جو شخص اپنی تردید آپ کرے اس کی بات کی دوسروں کی نظر میں کیا قیمت ہوسکتی ہے۔

هود 11:30

یہاں ’’بینہ‘‘ سے مراد دلیل ہے اور رحمت سے مراد نبوت ہے (تفسير النسفی، جلد2، صفحہ 55 ) اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر جب کسی قوم کو دعوت دیتاہے تو وہ دو چیزوں کے اوپر کھڑا ہوتاہے، دلیل اور نبوت۔ پیغمبر کے بعد کوئی داعی بھی اسی وقت داعی ہے جب کہ وہ انھیں دو چیزوں پر کھڑا ہو۔ اس فرق کے ساتھ کہ دلیل کے بعد دوسری چیز جو اس کے پاس ہوگی وہ بالواسطہ طورپر پیغمبر سے ملی ہوگی۔ جب کہ پیغمبر کے پاس وہ براہِ راست خدا کی طرف سے آئی ہے۔ قوم جس وقت خدا کے داعی کو یہ سمجھ کر نظر انداز کردیتی ہے کہ اس کے یہاں ظاہری اعتبار سے کوئی قابل لحاظ چیز نہیں، عین اسی وقت اس کے پاس ایک بہت بڑی قابل لحاظ چیز موجود ہوتی ہے۔ اور وہ دلیل اورہدایت ہے۔ دلیل اور ہدایت کی بڑائی کامل طورپر خدا کے داعی کے پاس موجود ہوتی ہے۔ مگر یہ بہر حال معنوی بڑائی ہے۔ اور جن لوگوں کی نگاہیں ظواہر میں اٹکی ہوئی ہوں ان کو معنوی بڑائی کیوں کر دکھائی دے گی۔ دعوت الی اللہ کا کام خالص اخروی کام ہے۔ اس کی صحیح کارکردگی کے لیے ضروری ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان زر اورزمین کے جھگڑے نہ ہوں۔ یہ ذمہ داری خود داعی کو لینی پڑتی ہے کہ اس کے اور مدعو کے درمیان معتدل فضاہو۔ اور اس کی خاطر وہ ہر قسم کے مادی اور معاشی جھگڑے یک طرفہ طورپر ختم کردے۔ جس داعی کا یہ حال ہو کہ وہ ایک طرف دعوت دے اور دوسری طرف مدعو سے دنیوی چیزوں کے لیے احتجاج اور مطالبہ بھی کررہا ہو، وہ داعی نہیں، مسخرہ ہے۔ اس کی کوئی قیمت نہ مدعو کی نظر میں ہوسکتی ہے اور نہ خدا کی نظر میں۔ مدعو کا امتحان یہ ہے کہ وہ بظاہر ایک بے عظمت انسان کے اندر حق کی عظمت کو دیکھ لے۔ اسی طرح داعی کا امتحان یہ ہے کہ وہ کسی بے دین کا اس ليے استقبال نہ کرنے لگے کہ وہ مال وجاہ کا مالک ہے،اور کسی د ین دار کو اس لیے ناقابلِ لحاظ نہ سمجھ لے کہ اس کے پاس دنیوی شان وشوکت کی چیزیں موجود نہیں۔ داعی اگر ایسا کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ زبان سے آخرت کی اہمیت کا وعظ کہہ رہا ہے اور عمل سے دنیا کی اہمیت کا ثبوت دے رہاہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنی تردید آپ ہے۔ اور جو شخص اپنی تردید آپ کرے اس کی بات کی دوسروں کی نظر میں کیا قیمت ہوسکتی ہے۔

هود 11:31

یہاں ’’بینہ‘‘ سے مراد دلیل ہے اور رحمت سے مراد نبوت ہے (تفسير النسفی، جلد2، صفحہ 55 ) اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر جب کسی قوم کو دعوت دیتاہے تو وہ دو چیزوں کے اوپر کھڑا ہوتاہے، دلیل اور نبوت۔ پیغمبر کے بعد کوئی داعی بھی اسی وقت داعی ہے جب کہ وہ انھیں دو چیزوں پر کھڑا ہو۔ اس فرق کے ساتھ کہ دلیل کے بعد دوسری چیز جو اس کے پاس ہوگی وہ بالواسطہ طورپر پیغمبر سے ملی ہوگی۔ جب کہ پیغمبر کے پاس وہ براہِ راست خدا کی طرف سے آئی ہے۔ قوم جس وقت خدا کے داعی کو یہ سمجھ کر نظر انداز کردیتی ہے کہ اس کے یہاں ظاہری اعتبار سے کوئی قابل لحاظ چیز نہیں، عین اسی وقت اس کے پاس ایک بہت بڑی قابل لحاظ چیز موجود ہوتی ہے۔ اور وہ دلیل اورہدایت ہے۔ دلیل اور ہدایت کی بڑائی کامل طورپر خدا کے داعی کے پاس موجود ہوتی ہے۔ مگر یہ بہر حال معنوی بڑائی ہے۔ اور جن لوگوں کی نگاہیں ظواہر میں اٹکی ہوئی ہوں ان کو معنوی بڑائی کیوں کر دکھائی دے گی۔ دعوت الی اللہ کا کام خالص اخروی کام ہے۔ اس کی صحیح کارکردگی کے لیے ضروری ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان زر اورزمین کے جھگڑے نہ ہوں۔ یہ ذمہ داری خود داعی کو لینی پڑتی ہے کہ اس کے اور مدعو کے درمیان معتدل فضاہو۔ اور اس کی خاطر وہ ہر قسم کے مادی اور معاشی جھگڑے یک طرفہ طورپر ختم کردے۔ جس داعی کا یہ حال ہو کہ وہ ایک طرف دعوت دے اور دوسری طرف مدعو سے دنیوی چیزوں کے لیے احتجاج اور مطالبہ بھی کررہا ہو، وہ داعی نہیں، مسخرہ ہے۔ اس کی کوئی قیمت نہ مدعو کی نظر میں ہوسکتی ہے اور نہ خدا کی نظر میں۔ مدعو کا امتحان یہ ہے کہ وہ بظاہر ایک بے عظمت انسان کے اندر حق کی عظمت کو دیکھ لے۔ اسی طرح داعی کا امتحان یہ ہے کہ وہ کسی بے دین کا اس ليے استقبال نہ کرنے لگے کہ وہ مال وجاہ کا مالک ہے،اور کسی د ین دار کو اس لیے ناقابلِ لحاظ نہ سمجھ لے کہ اس کے پاس دنیوی شان وشوکت کی چیزیں موجود نہیں۔ داعی اگر ایسا کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ زبان سے آخرت کی اہمیت کا وعظ کہہ رہا ہے اور عمل سے دنیا کی اہمیت کا ثبوت دے رہاہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنی تردید آپ ہے۔ اور جو شخص اپنی تردید آپ کرے اس کی بات کی دوسروں کی نظر میں کیا قیمت ہوسکتی ہے۔

هود 11:32

حضرت نوح نے اپنی قوم سے جدال (جھگڑا اور مناظرہ) نہیں کیا تھا۔ وہ سنجیدہ انداز میں اپنا صالح پیغام ان کے سامنے پیش کررہے تھے۔ مگر آپ کی سنجیدہ دعوت آپ کی قوم کو الٹی صورت میں نظر آرہی تھی۔ اس کی وجہ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جب ا س کی اپنی ذات زد میں آرہی ہو تو وہ سنجیدگی کھو دیتاہے۔ ایسی بات کو وہ دلیل اور ثبوت کے اعتبار سے نہیں دیکھتا۔ وہ بغیر سوچے سمجھے اس کو رد کردیتا ہے۔ داعی حق کی ٹھوس دلیل بھی اس کو بحث وجدال معلوم ہونے لگتی ہے۔ ’’بہت جدال کرچکے‘‘ کا جملہ دراصل یہ بتانے کے لیے نہیں ہے کہ نوح نے کیا کہا تھا۔ بلکہ وہ اس کو بتاتا ہے کہ سننے والوں نے آپ کی بات کو کیا درجہ دیا تھا۔ اسی طرح مخالفینِ نوح کا عذاب کو طلب کرنا حقیقۃً عذاب کو طلب کرنا نہیں تھا۔ بلکہ حضرت نوح کا مذاق اڑانا تھاکہ دیکھو یہ شخص ایسی بات کہہ رہا ہے جو کبھی ہونے والی نہیں۔ وہ اپنی پوزیشن کو اتنا مستحکم سمجھتے تھے جس میں ان کے خیال کے مطابق کہیں سے عذاب آنے کی گنجائش نہ تھی۔ اسی ذہن کے تحت انھوں نے کہا کہ ہمارے انکار کی سزا میں جس عذاب کی تم خبر دیتے رہے ہو وہ عذاب لاؤ۔ اور چونکہ ان کے نزدیک ایساعذاب کبھی آنے والا نہ تھا اس لیے اس سے ان كي مراد يه تھي کہ ہم حق پر ہیں اور تم نا حق پر۔ حضرت نوح نے جواب دیا کہ تم معاملہ کو میری نسبت سے دیکھ رہے ہو اور چوں کہ میں کمزور ہوں اس لیے تمھاری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ عذاب کبھی تمھارے اوپر آسکتاہے۔ اگر معاملہ کو خدا کی نسبت سے دیکھتے تو تم یہ نہ کہتے۔ کیونکہ پھر تمھیں نظر آجاتا کہ اس دنیا میں ظالموں کے لیے عذاب کا آنا اتنا ہی یقینی ہے جتنا سورج کا نکلنا اور زلزلہ کا پھٹنا۔ داعیٔ حق کی بات کو ماننے کا تمام تر انحصار اس پر ہے کہ سننے والا اس کو کہنے والے کے اعتبار سے نہ دیکھے بلکہ جو کہا گیا ہے اس کے اعتبار سے دیکھے۔ چوں کہ حضرت نوح کی قوم آپ کی بات کو بس ایک عام انسان کی بات سمجھ رہی تھی، اس لیے آپ نے فرمایا کہ اس ذہن کے تحت تم میری بات کی قدر وقیمت کبھی نہیں پاسکتے۔ اب تو تمھارے لیے اسی دن کا ا نتظار کرنا ہے جب کہ خدا براہِ راست تمھارے سامنے آجائے۔

هود 11:33

حضرت نوح نے اپنی قوم سے جدال (جھگڑا اور مناظرہ) نہیں کیا تھا۔ وہ سنجیدہ انداز میں اپنا صالح پیغام ان کے سامنے پیش کررہے تھے۔ مگر آپ کی سنجیدہ دعوت آپ کی قوم کو الٹی صورت میں نظر آرہی تھی۔ اس کی وجہ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جب ا س کی اپنی ذات زد میں آرہی ہو تو وہ سنجیدگی کھو دیتاہے۔ ایسی بات کو وہ دلیل اور ثبوت کے اعتبار سے نہیں دیکھتا۔ وہ بغیر سوچے سمجھے اس کو رد کردیتا ہے۔ داعی حق کی ٹھوس دلیل بھی اس کو بحث وجدال معلوم ہونے لگتی ہے۔ ’’بہت جدال کرچکے‘‘ کا جملہ دراصل یہ بتانے کے لیے نہیں ہے کہ نوح نے کیا کہا تھا۔ بلکہ وہ اس کو بتاتا ہے کہ سننے والوں نے آپ کی بات کو کیا درجہ دیا تھا۔ اسی طرح مخالفینِ نوح کا عذاب کو طلب کرنا حقیقۃً عذاب کو طلب کرنا نہیں تھا۔ بلکہ حضرت نوح کا مذاق اڑانا تھاکہ دیکھو یہ شخص ایسی بات کہہ رہا ہے جو کبھی ہونے والی نہیں۔ وہ اپنی پوزیشن کو اتنا مستحکم سمجھتے تھے جس میں ان کے خیال کے مطابق کہیں سے عذاب آنے کی گنجائش نہ تھی۔ اسی ذہن کے تحت انھوں نے کہا کہ ہمارے انکار کی سزا میں جس عذاب کی تم خبر دیتے رہے ہو وہ عذاب لاؤ۔ اور چونکہ ان کے نزدیک ایساعذاب کبھی آنے والا نہ تھا اس لیے اس سے ان كي مراد يه تھي کہ ہم حق پر ہیں اور تم نا حق پر۔ حضرت نوح نے جواب دیا کہ تم معاملہ کو میری نسبت سے دیکھ رہے ہو اور چوں کہ میں کمزور ہوں اس لیے تمھاری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ عذاب کبھی تمھارے اوپر آسکتاہے۔ اگر معاملہ کو خدا کی نسبت سے دیکھتے تو تم یہ نہ کہتے۔ کیونکہ پھر تمھیں نظر آجاتا کہ اس دنیا میں ظالموں کے لیے عذاب کا آنا اتنا ہی یقینی ہے جتنا سورج کا نکلنا اور زلزلہ کا پھٹنا۔ داعیٔ حق کی بات کو ماننے کا تمام تر انحصار اس پر ہے کہ سننے والا اس کو کہنے والے کے اعتبار سے نہ دیکھے بلکہ جو کہا گیا ہے اس کے اعتبار سے دیکھے۔ چوں کہ حضرت نوح کی قوم آپ کی بات کو بس ایک عام انسان کی بات سمجھ رہی تھی، اس لیے آپ نے فرمایا کہ اس ذہن کے تحت تم میری بات کی قدر وقیمت کبھی نہیں پاسکتے۔ اب تو تمھارے لیے اسی دن کا ا نتظار کرنا ہے جب کہ خدا براہِ راست تمھارے سامنے آجائے۔

هود 11:34

حضرت نوح نے اپنی قوم سے جدال (جھگڑا اور مناظرہ) نہیں کیا تھا۔ وہ سنجیدہ انداز میں اپنا صالح پیغام ان کے سامنے پیش کررہے تھے۔ مگر آپ کی سنجیدہ دعوت آپ کی قوم کو الٹی صورت میں نظر آرہی تھی۔ اس کی وجہ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جب ا س کی اپنی ذات زد میں آرہی ہو تو وہ سنجیدگی کھو دیتاہے۔ ایسی بات کو وہ دلیل اور ثبوت کے اعتبار سے نہیں دیکھتا۔ وہ بغیر سوچے سمجھے اس کو رد کردیتا ہے۔ داعی حق کی ٹھوس دلیل بھی اس کو بحث وجدال معلوم ہونے لگتی ہے۔ ’’بہت جدال کرچکے‘‘ کا جملہ دراصل یہ بتانے کے لیے نہیں ہے کہ نوح نے کیا کہا تھا۔ بلکہ وہ اس کو بتاتا ہے کہ سننے والوں نے آپ کی بات کو کیا درجہ دیا تھا۔ اسی طرح مخالفینِ نوح کا عذاب کو طلب کرنا حقیقۃً عذاب کو طلب کرنا نہیں تھا۔ بلکہ حضرت نوح کا مذاق اڑانا تھاکہ دیکھو یہ شخص ایسی بات کہہ رہا ہے جو کبھی ہونے والی نہیں۔ وہ اپنی پوزیشن کو اتنا مستحکم سمجھتے تھے جس میں ان کے خیال کے مطابق کہیں سے عذاب آنے کی گنجائش نہ تھی۔ اسی ذہن کے تحت انھوں نے کہا کہ ہمارے انکار کی سزا میں جس عذاب کی تم خبر دیتے رہے ہو وہ عذاب لاؤ۔ اور چونکہ ان کے نزدیک ایساعذاب کبھی آنے والا نہ تھا اس لیے اس سے ان كي مراد يه تھي کہ ہم حق پر ہیں اور تم نا حق پر۔ حضرت نوح نے جواب دیا کہ تم معاملہ کو میری نسبت سے دیکھ رہے ہو اور چوں کہ میں کمزور ہوں اس لیے تمھاری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ عذاب کبھی تمھارے اوپر آسکتاہے۔ اگر معاملہ کو خدا کی نسبت سے دیکھتے تو تم یہ نہ کہتے۔ کیونکہ پھر تمھیں نظر آجاتا کہ اس دنیا میں ظالموں کے لیے عذاب کا آنا اتنا ہی یقینی ہے جتنا سورج کا نکلنا اور زلزلہ کا پھٹنا۔ داعیٔ حق کی بات کو ماننے کا تمام تر انحصار اس پر ہے کہ سننے والا اس کو کہنے والے کے اعتبار سے نہ دیکھے بلکہ جو کہا گیا ہے اس کے اعتبار سے دیکھے۔ چوں کہ حضرت نوح کی قوم آپ کی بات کو بس ایک عام انسان کی بات سمجھ رہی تھی، اس لیے آپ نے فرمایا کہ اس ذہن کے تحت تم میری بات کی قدر وقیمت کبھی نہیں پاسکتے۔ اب تو تمھارے لیے اسی دن کا ا نتظار کرنا ہے جب کہ خدا براہِ راست تمھارے سامنے آجائے۔

هود 11:35

جو لوگ کہتے تھے کہ پیغمبر نے یہ کلام خود گھڑ لیا ہے، یہ خدا کی طرف سے نہیں ہے، وہ وحی والہام کے منکر نہ تھے۔ حتی کہ وہ ماضی کے رسولوں کو مانتے تھے۔ پھر انھوںنے ایسا کیوں کہا۔یہ دراصل وحی کا انکار نہیں تھابلکہ صاحب وحی کا انکار تھا۔ جو شخص خداکی طرف سے بول رہا تھا وہ دیکھنے میں ان کو ایک معمولی انسان دکھائی دیتا تھا۔ ان کا ظاہر پرست مزاج سمجھ نہیں پاتا تھا کہ ایسا ایک آدمی وہ شخص کیسے ہوسکتاہے جس کو خدا نے اپنے پيغام كي پیغام بری کے لیے چناہو۔ ’’میرا جرم میرے اوپر، تمھارا جرم تمھارے اوپر‘‘ یہ دارصل کلمہ رخصت ہے۔ جب مخاطب دلیل سے بات کو نہیں مانتا، ہر قسم کی وضاحت کے باوجود وہ انکار پر تلا ہوا ہے تو داعی محسوس کرتاہے کہ اس کے لیے اب آخری چارۂ کار صرف یہ ہے کہ وہ یہ کہہ کر خاموش ہوجائے کہ میں اور تم دونوں حاکم اصلی کے سامنے پیش ہونے والے ہیں۔ وہاں ہر ایک کاحال کھل جائے گا۔اور ہر آدمی اپنی حقیقت کے اعتبار سے جیسا تھا اس کے مطابق اسے بدلہ دیا جائے گا۔ جب دلیل کی حد ختم ہوجائے تو داعی کے لیے اس کے سوا کوئی صورت باقی نہیں رہتی کہ وہ یقین کی زبان میں کلام کرکے علیحدگی اختیار کرلے۔

هود 11:36

انسان سے جو ایمان مطلوب ہے وہ ایمان وہ ہے جب کہ آدمی شعوری طورپر اپنے آزادانہ فیصلہ سے ایمان قبول کرے۔ پیغمبر کے طویل دعوتی عمل کے باوجود جو لوگ ایمان نہ لائیں وہ ایسا کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ آزادانہ فیصلہ کے تحت خدا کے مومن بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دوسرا مرحلہ یہ ہوتاہے کہ ان کی آزادی چھین لی جائے اور ان کو لے جاکر براہِ راست خدائے ذوالجلال کے سامنے کھڑا کردیا جائے تاکہ جس چیز کا انھوں نے مومنانہ اقرار نہیں کیا تھا، اس کا وہ مجرمانہ اقرار کریں اور اپنی سرکشی کی سزا بھگتیں۔ حضرت نوح کی سیکڑوں سال کی تبلیغ کے بعد ان کی قوم کے لیے یہ وقت آگیا تھا۔ اس کے بعد حضرت نوح سے کہہ دیا گیا کہ اب تبلیغ کے کام سے فارغ ہو کر کشتی تیار کرو تاکہ جب سرکشوں کو غرق کرنے کے لیے خدا کا سیلاب آئے تو اس وقت تم اور تمھارے ساتھی اہل ایمان اس میں پناہ لے سکیں۔ حضرت نوح نے ایک بہت بڑی تین منزلہ کشتی تیار کی۔ اس کو بنانے میں کئی سال لگ گئے۔ جس زمانہ میں حضرت نوح اپنے چند ساتھیوں کو لے کر کشتی بنا رہے تھے تو قوم کے سرکش لوگ آتے جاتے ہوئے اسے دیکھتے۔ چوں کہ وہ لوگ عذاب کی بات کو محض فرضی سمجھ رہے تھے اس ليے جب انھوں نے دیکھا کہ آنے والے مفروضہ عذاب سے بچنے کے لیے کشتی بھی تیار کی جارہی ہے تووہ حضرت نوح کا اور بھی زیادہ مذاق اڑانے لگے۔ ایک آدمی سرکشی اور ناانصافی کے ذریعہ دولت سمیٹ رہا ہو تو ظاہر پرست آدمی اس کے گرد دنیا کا سازوسامان دیکھ کر اس کو کامیاب سمجھ لے گا۔ مگر جو شخص جانتا ہو کہ دنیا کا نظام اخلاقی قوانین پر چل رہا ہے، وہ مذکورہ شخص کی وقتی کامیابی میں مستقبل کی عظیم تباہی کا منظر دیکھ رہا ہوگا— قوم نوح کے ظاہر پرست لوگ اگر چہ حضرت نوح کا مذاق اڑا رہے تھے، مگر حقیقتِ واقعہ کی نظر میں خود ان کا مذاق اڑ رہا تھا۔

هود 11:37

انسان سے جو ایمان مطلوب ہے وہ ایمان وہ ہے جب کہ آدمی شعوری طورپر اپنے آزادانہ فیصلہ سے ایمان قبول کرے۔ پیغمبر کے طویل دعوتی عمل کے باوجود جو لوگ ایمان نہ لائیں وہ ایسا کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ آزادانہ فیصلہ کے تحت خدا کے مومن بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دوسرا مرحلہ یہ ہوتاہے کہ ان کی آزادی چھین لی جائے اور ان کو لے جاکر براہِ راست خدائے ذوالجلال کے سامنے کھڑا کردیا جائے تاکہ جس چیز کا انھوں نے مومنانہ اقرار نہیں کیا تھا، اس کا وہ مجرمانہ اقرار کریں اور اپنی سرکشی کی سزا بھگتیں۔ حضرت نوح کی سیکڑوں سال کی تبلیغ کے بعد ان کی قوم کے لیے یہ وقت آگیا تھا۔ اس کے بعد حضرت نوح سے کہہ دیا گیا کہ اب تبلیغ کے کام سے فارغ ہو کر کشتی تیار کرو تاکہ جب سرکشوں کو غرق کرنے کے لیے خدا کا سیلاب آئے تو اس وقت تم اور تمھارے ساتھی اہل ایمان اس میں پناہ لے سکیں۔ حضرت نوح نے ایک بہت بڑی تین منزلہ کشتی تیار کی۔ اس کو بنانے میں کئی سال لگ گئے۔ جس زمانہ میں حضرت نوح اپنے چند ساتھیوں کو لے کر کشتی بنا رہے تھے تو قوم کے سرکش لوگ آتے جاتے ہوئے اسے دیکھتے۔ چوں کہ وہ لوگ عذاب کی بات کو محض فرضی سمجھ رہے تھے اس ليے جب انھوں نے دیکھا کہ آنے والے مفروضہ عذاب سے بچنے کے لیے کشتی بھی تیار کی جارہی ہے تووہ حضرت نوح کا اور بھی زیادہ مذاق اڑانے لگے۔ ایک آدمی سرکشی اور ناانصافی کے ذریعہ دولت سمیٹ رہا ہو تو ظاہر پرست آدمی اس کے گرد دنیا کا سازوسامان دیکھ کر اس کو کامیاب سمجھ لے گا۔ مگر جو شخص جانتا ہو کہ دنیا کا نظام اخلاقی قوانین پر چل رہا ہے، وہ مذکورہ شخص کی وقتی کامیابی میں مستقبل کی عظیم تباہی کا منظر دیکھ رہا ہوگا— قوم نوح کے ظاہر پرست لوگ اگر چہ حضرت نوح کا مذاق اڑا رہے تھے، مگر حقیقتِ واقعہ کی نظر میں خود ان کا مذاق اڑ رہا تھا۔

هود 11:38

انسان سے جو ایمان مطلوب ہے وہ ایمان وہ ہے جب کہ آدمی شعوری طورپر اپنے آزادانہ فیصلہ سے ایمان قبول کرے۔ پیغمبر کے طویل دعوتی عمل کے باوجود جو لوگ ایمان نہ لائیں وہ ایسا کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ آزادانہ فیصلہ کے تحت خدا کے مومن بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دوسرا مرحلہ یہ ہوتاہے کہ ان کی آزادی چھین لی جائے اور ان کو لے جاکر براہِ راست خدائے ذوالجلال کے سامنے کھڑا کردیا جائے تاکہ جس چیز کا انھوں نے مومنانہ اقرار نہیں کیا تھا، اس کا وہ مجرمانہ اقرار کریں اور اپنی سرکشی کی سزا بھگتیں۔ حضرت نوح کی سیکڑوں سال کی تبلیغ کے بعد ان کی قوم کے لیے یہ وقت آگیا تھا۔ اس کے بعد حضرت نوح سے کہہ دیا گیا کہ اب تبلیغ کے کام سے فارغ ہو کر کشتی تیار کرو تاکہ جب سرکشوں کو غرق کرنے کے لیے خدا کا سیلاب آئے تو اس وقت تم اور تمھارے ساتھی اہل ایمان اس میں پناہ لے سکیں۔ حضرت نوح نے ایک بہت بڑی تین منزلہ کشتی تیار کی۔ اس کو بنانے میں کئی سال لگ گئے۔ جس زمانہ میں حضرت نوح اپنے چند ساتھیوں کو لے کر کشتی بنا رہے تھے تو قوم کے سرکش لوگ آتے جاتے ہوئے اسے دیکھتے۔ چوں کہ وہ لوگ عذاب کی بات کو محض فرضی سمجھ رہے تھے اس ليے جب انھوں نے دیکھا کہ آنے والے مفروضہ عذاب سے بچنے کے لیے کشتی بھی تیار کی جارہی ہے تووہ حضرت نوح کا اور بھی زیادہ مذاق اڑانے لگے۔ ایک آدمی سرکشی اور ناانصافی کے ذریعہ دولت سمیٹ رہا ہو تو ظاہر پرست آدمی اس کے گرد دنیا کا سازوسامان دیکھ کر اس کو کامیاب سمجھ لے گا۔ مگر جو شخص جانتا ہو کہ دنیا کا نظام اخلاقی قوانین پر چل رہا ہے، وہ مذکورہ شخص کی وقتی کامیابی میں مستقبل کی عظیم تباہی کا منظر دیکھ رہا ہوگا— قوم نوح کے ظاہر پرست لوگ اگر چہ حضرت نوح کا مذاق اڑا رہے تھے، مگر حقیقتِ واقعہ کی نظر میں خود ان کا مذاق اڑ رہا تھا۔

هود 11:39

انسان سے جو ایمان مطلوب ہے وہ ایمان وہ ہے جب کہ آدمی شعوری طورپر اپنے آزادانہ فیصلہ سے ایمان قبول کرے۔ پیغمبر کے طویل دعوتی عمل کے باوجود جو لوگ ایمان نہ لائیں وہ ایسا کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ آزادانہ فیصلہ کے تحت خدا کے مومن بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دوسرا مرحلہ یہ ہوتاہے کہ ان کی آزادی چھین لی جائے اور ان کو لے جاکر براہِ راست خدائے ذوالجلال کے سامنے کھڑا کردیا جائے تاکہ جس چیز کا انھوں نے مومنانہ اقرار نہیں کیا تھا، اس کا وہ مجرمانہ اقرار کریں اور اپنی سرکشی کی سزا بھگتیں۔ حضرت نوح کی سیکڑوں سال کی تبلیغ کے بعد ان کی قوم کے لیے یہ وقت آگیا تھا۔ اس کے بعد حضرت نوح سے کہہ دیا گیا کہ اب تبلیغ کے کام سے فارغ ہو کر کشتی تیار کرو تاکہ جب سرکشوں کو غرق کرنے کے لیے خدا کا سیلاب آئے تو اس وقت تم اور تمھارے ساتھی اہل ایمان اس میں پناہ لے سکیں۔ حضرت نوح نے ایک بہت بڑی تین منزلہ کشتی تیار کی۔ اس کو بنانے میں کئی سال لگ گئے۔ جس زمانہ میں حضرت نوح اپنے چند ساتھیوں کو لے کر کشتی بنا رہے تھے تو قوم کے سرکش لوگ آتے جاتے ہوئے اسے دیکھتے۔ چوں کہ وہ لوگ عذاب کی بات کو محض فرضی سمجھ رہے تھے اس ليے جب انھوں نے دیکھا کہ آنے والے مفروضہ عذاب سے بچنے کے لیے کشتی بھی تیار کی جارہی ہے تووہ حضرت نوح کا اور بھی زیادہ مذاق اڑانے لگے۔ ایک آدمی سرکشی اور ناانصافی کے ذریعہ دولت سمیٹ رہا ہو تو ظاہر پرست آدمی اس کے گرد دنیا کا سازوسامان دیکھ کر اس کو کامیاب سمجھ لے گا۔ مگر جو شخص جانتا ہو کہ دنیا کا نظام اخلاقی قوانین پر چل رہا ہے، وہ مذکورہ شخص کی وقتی کامیابی میں مستقبل کی عظیم تباہی کا منظر دیکھ رہا ہوگا— قوم نوح کے ظاہر پرست لوگ اگر چہ حضرت نوح کا مذاق اڑا رہے تھے، مگر حقیقتِ واقعہ کی نظر میں خود ان کا مذاق اڑ رہا تھا۔

هود 11:40

جب کشتی بن کر تیار ہوگئی تو خدا کے حکم سے طوفانی ہوائیں چلنے لگیں۔ زمین سے پانی کے دہانے پھوٹ پڑے۔ اوپر سے مسلسل بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہوگیا۔ تمام لوگ اس میں ڈوب گئے۔ صرف وہ چند انسان اور کچھ مویشی بچے جو حضرت نوح کی کشتی میں سوار تھے۔ حتی کہ حضرت نوح کا بیٹا بھی غرق ہوگیا — خدا کی نظر میں کسی کی قیمت اس کے عمل کے اعتبار سے ہے، نہ کہ رشتہ کے اعتبار سے، خواہ وہ رشتہ پیغمبر کا کیوں نہ ہو۔ جب تمام ڈوبنے والے ڈوب چکے تو خدا نے حکم دیا کہ طوفان تھم جائے، اور طوفان تھم گیا۔ پانی سمندروں اور دریاؤں میں چلا گیا اور زمین دوبارہ رہنے کے قابل ہوگئی۔ طوفانِ نوح کے موقع پر دیکھنے والوں نے یہ منظر دیکھا کہ اونچے پہاڑ پر چڑھنے والے ڈوب گئے اور ہولناک موجوں کے باوجود کشتی میں بیٹھے والے سلامت رہے۔ اس کی وجہ خود پہاڑ میں یا کشتی میں نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ حکم خداوندی کا معاملہ تھا۔ حکم خداوندی اگر پہاڑ کے ساتھ ہوتا تو پہاڑ اپنے چڑھنے والوں کو بچاتا اور کشتی کا سہارا لینے والے ہلاک ہوجاتے۔ مگر اس موقع پر حکم خداوندی کشتی کے ساتھ تھا۔ اس لیے کشتی والے محفوظ رہے اور دوسری چیزوں کی پناہ لینے والے غرق ہوگئے۔ دنیا میں اسباب کا نظام محض ایک پردہ ہے۔ ورنہ یہاں جو کچھ ہورہا ہے براہِ راست خداکے حکم سے ہو رہا ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری پردہ سے گزر کر اصل حقیقت کو دیکھ لے۔ وہ اسباب کے اندر خدائی طاقتوں کو کام کرتا ہوا پالے۔

هود 11:41

جب کشتی بن کر تیار ہوگئی تو خدا کے حکم سے طوفانی ہوائیں چلنے لگیں۔ زمین سے پانی کے دہانے پھوٹ پڑے۔ اوپر سے مسلسل بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہوگیا۔ تمام لوگ اس میں ڈوب گئے۔ صرف وہ چند انسان اور کچھ مویشی بچے جو حضرت نوح کی کشتی میں سوار تھے۔ حتی کہ حضرت نوح کا بیٹا بھی غرق ہوگیا — خدا کی نظر میں کسی کی قیمت اس کے عمل کے اعتبار سے ہے، نہ کہ رشتہ کے اعتبار سے، خواہ وہ رشتہ پیغمبر کا کیوں نہ ہو۔ جب تمام ڈوبنے والے ڈوب چکے تو خدا نے حکم دیا کہ طوفان تھم جائے، اور طوفان تھم گیا۔ پانی سمندروں اور دریاؤں میں چلا گیا اور زمین دوبارہ رہنے کے قابل ہوگئی۔ طوفانِ نوح کے موقع پر دیکھنے والوں نے یہ منظر دیکھا کہ اونچے پہاڑ پر چڑھنے والے ڈوب گئے اور ہولناک موجوں کے باوجود کشتی میں بیٹھے والے سلامت رہے۔ اس کی وجہ خود پہاڑ میں یا کشتی میں نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ حکم خداوندی کا معاملہ تھا۔ حکم خداوندی اگر پہاڑ کے ساتھ ہوتا تو پہاڑ اپنے چڑھنے والوں کو بچاتا اور کشتی کا سہارا لینے والے ہلاک ہوجاتے۔ مگر اس موقع پر حکم خداوندی کشتی کے ساتھ تھا۔ اس لیے کشتی والے محفوظ رہے اور دوسری چیزوں کی پناہ لینے والے غرق ہوگئے۔ دنیا میں اسباب کا نظام محض ایک پردہ ہے۔ ورنہ یہاں جو کچھ ہورہا ہے براہِ راست خداکے حکم سے ہو رہا ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری پردہ سے گزر کر اصل حقیقت کو دیکھ لے۔ وہ اسباب کے اندر خدائی طاقتوں کو کام کرتا ہوا پالے۔

هود 11:42

جب کشتی بن کر تیار ہوگئی تو خدا کے حکم سے طوفانی ہوائیں چلنے لگیں۔ زمین سے پانی کے دہانے پھوٹ پڑے۔ اوپر سے مسلسل بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہوگیا۔ تمام لوگ اس میں ڈوب گئے۔ صرف وہ چند انسان اور کچھ مویشی بچے جو حضرت نوح کی کشتی میں سوار تھے۔ حتی کہ حضرت نوح کا بیٹا بھی غرق ہوگیا — خدا کی نظر میں کسی کی قیمت اس کے عمل کے اعتبار سے ہے، نہ کہ رشتہ کے اعتبار سے، خواہ وہ رشتہ پیغمبر کا کیوں نہ ہو۔ جب تمام ڈوبنے والے ڈوب چکے تو خدا نے حکم دیا کہ طوفان تھم جائے، اور طوفان تھم گیا۔ پانی سمندروں اور دریاؤں میں چلا گیا اور زمین دوبارہ رہنے کے قابل ہوگئی۔ طوفانِ نوح کے موقع پر دیکھنے والوں نے یہ منظر دیکھا کہ اونچے پہاڑ پر چڑھنے والے ڈوب گئے اور ہولناک موجوں کے باوجود کشتی میں بیٹھے والے سلامت رہے۔ اس کی وجہ خود پہاڑ میں یا کشتی میں نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ حکم خداوندی کا معاملہ تھا۔ حکم خداوندی اگر پہاڑ کے ساتھ ہوتا تو پہاڑ اپنے چڑھنے والوں کو بچاتا اور کشتی کا سہارا لینے والے ہلاک ہوجاتے۔ مگر اس موقع پر حکم خداوندی کشتی کے ساتھ تھا۔ اس لیے کشتی والے محفوظ رہے اور دوسری چیزوں کی پناہ لینے والے غرق ہوگئے۔ دنیا میں اسباب کا نظام محض ایک پردہ ہے۔ ورنہ یہاں جو کچھ ہورہا ہے براہِ راست خداکے حکم سے ہو رہا ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری پردہ سے گزر کر اصل حقیقت کو دیکھ لے۔ وہ اسباب کے اندر خدائی طاقتوں کو کام کرتا ہوا پالے۔

هود 11:43

جب کشتی بن کر تیار ہوگئی تو خدا کے حکم سے طوفانی ہوائیں چلنے لگیں۔ زمین سے پانی کے دہانے پھوٹ پڑے۔ اوپر سے مسلسل بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہوگیا۔ تمام لوگ اس میں ڈوب گئے۔ صرف وہ چند انسان اور کچھ مویشی بچے جو حضرت نوح کی کشتی میں سوار تھے۔ حتی کہ حضرت نوح کا بیٹا بھی غرق ہوگیا — خدا کی نظر میں کسی کی قیمت اس کے عمل کے اعتبار سے ہے، نہ کہ رشتہ کے اعتبار سے، خواہ وہ رشتہ پیغمبر کا کیوں نہ ہو۔ جب تمام ڈوبنے والے ڈوب چکے تو خدا نے حکم دیا کہ طوفان تھم جائے، اور طوفان تھم گیا۔ پانی سمندروں اور دریاؤں میں چلا گیا اور زمین دوبارہ رہنے کے قابل ہوگئی۔ طوفانِ نوح کے موقع پر دیکھنے والوں نے یہ منظر دیکھا کہ اونچے پہاڑ پر چڑھنے والے ڈوب گئے اور ہولناک موجوں کے باوجود کشتی میں بیٹھے والے سلامت رہے۔ اس کی وجہ خود پہاڑ میں یا کشتی میں نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ حکم خداوندی کا معاملہ تھا۔ حکم خداوندی اگر پہاڑ کے ساتھ ہوتا تو پہاڑ اپنے چڑھنے والوں کو بچاتا اور کشتی کا سہارا لینے والے ہلاک ہوجاتے۔ مگر اس موقع پر حکم خداوندی کشتی کے ساتھ تھا۔ اس لیے کشتی والے محفوظ رہے اور دوسری چیزوں کی پناہ لینے والے غرق ہوگئے۔ دنیا میں اسباب کا نظام محض ایک پردہ ہے۔ ورنہ یہاں جو کچھ ہورہا ہے براہِ راست خداکے حکم سے ہو رہا ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری پردہ سے گزر کر اصل حقیقت کو دیکھ لے۔ وہ اسباب کے اندر خدائی طاقتوں کو کام کرتا ہوا پالے۔

هود 11:44

جب کشتی بن کر تیار ہوگئی تو خدا کے حکم سے طوفانی ہوائیں چلنے لگیں۔ زمین سے پانی کے دہانے پھوٹ پڑے۔ اوپر سے مسلسل بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہوگیا۔ تمام لوگ اس میں ڈوب گئے۔ صرف وہ چند انسان اور کچھ مویشی بچے جو حضرت نوح کی کشتی میں سوار تھے۔ حتی کہ حضرت نوح کا بیٹا بھی غرق ہوگیا — خدا کی نظر میں کسی کی قیمت اس کے عمل کے اعتبار سے ہے، نہ کہ رشتہ کے اعتبار سے، خواہ وہ رشتہ پیغمبر کا کیوں نہ ہو۔ جب تمام ڈوبنے والے ڈوب چکے تو خدا نے حکم دیا کہ طوفان تھم جائے، اور طوفان تھم گیا۔ پانی سمندروں اور دریاؤں میں چلا گیا اور زمین دوبارہ رہنے کے قابل ہوگئی۔ طوفانِ نوح کے موقع پر دیکھنے والوں نے یہ منظر دیکھا کہ اونچے پہاڑ پر چڑھنے والے ڈوب گئے اور ہولناک موجوں کے باوجود کشتی میں بیٹھے والے سلامت رہے۔ اس کی وجہ خود پہاڑ میں یا کشتی میں نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ حکم خداوندی کا معاملہ تھا۔ حکم خداوندی اگر پہاڑ کے ساتھ ہوتا تو پہاڑ اپنے چڑھنے والوں کو بچاتا اور کشتی کا سہارا لینے والے ہلاک ہوجاتے۔ مگر اس موقع پر حکم خداوندی کشتی کے ساتھ تھا۔ اس لیے کشتی والے محفوظ رہے اور دوسری چیزوں کی پناہ لینے والے غرق ہوگئے۔ دنیا میں اسباب کا نظام محض ایک پردہ ہے۔ ورنہ یہاں جو کچھ ہورہا ہے براہِ راست خداکے حکم سے ہو رہا ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری پردہ سے گزر کر اصل حقیقت کو دیکھ لے۔ وہ اسباب کے اندر خدائی طاقتوں کو کام کرتا ہوا پالے۔

هود 11:45

طوفانِ نوح میں جو لوگ غرق ہوئے ان میں خود حضرت نوح کا بیٹا کنعان بھی تھا۔حضرت نوح نے اس کو اپنی کشتی میں بٹھانا چاہا۔ مگر اس کے لیے ڈوبنا مقدر تھا اس لیے وہ نہیں بیٹھا۔ پھر انھوں نے اس کے بچاؤ کے لیے خدا سے دعا کی تو جواب ملا کہ یہ نادانی کا سوال ہے، ایسے سوالات نہ کرو۔ اصل یہ ہے کہ خدا کا فیصلہ اس بنیاد پر نہیں ہوتاکہ جو لوگ بزرگوں کی اولادہیں۔ یا جو کسی حضرت کا دامن تھامے ہوئے ہیں ان سب کو نجات یا فتہ قرار دے کر جنتوں میں داخل کردیا جائے۔ خدا کے یہاں نجات کا فیصلہ خالص عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ نسبی یا گروہی تعلق کی بنیادوںپر۔ دنیا میں اگر نسبی رشتہ کا اعتبار ہے تو آخرت میں اخلاقی رشتہ کا اعتبار۔ طوفانِ نوح اسی لیے آیا تھا کہ انسانوں کے درمیان دوسری تمام تقسیمات کو توڑ کر اخلاقی تقسیم قائم کردے۔ جو عملِ صالح والے لوگ ہیں ان کو خدائی کشتی میں بٹھا کر بچا لیا جائے اورغیر عمل صالح والے تمام لوگوں کو طوفان کی بے رحم موجوں کے حوالے کردیا جائے۔ یہی واقعہ دوبارہ قیامت میں زیادہ بڑے پیمانہ پر اور زیادہ کامل طورپر ہوگا۔

هود 11:46

طوفانِ نوح میں جو لوگ غرق ہوئے ان میں خود حضرت نوح کا بیٹا کنعان بھی تھا۔حضرت نوح نے اس کو اپنی کشتی میں بٹھانا چاہا۔ مگر اس کے لیے ڈوبنا مقدر تھا اس لیے وہ نہیں بیٹھا۔ پھر انھوں نے اس کے بچاؤ کے لیے خدا سے دعا کی تو جواب ملا کہ یہ نادانی کا سوال ہے، ایسے سوالات نہ کرو۔ اصل یہ ہے کہ خدا کا فیصلہ اس بنیاد پر نہیں ہوتاکہ جو لوگ بزرگوں کی اولادہیں۔ یا جو کسی حضرت کا دامن تھامے ہوئے ہیں ان سب کو نجات یا فتہ قرار دے کر جنتوں میں داخل کردیا جائے۔ خدا کے یہاں نجات کا فیصلہ خالص عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ نسبی یا گروہی تعلق کی بنیادوںپر۔ دنیا میں اگر نسبی رشتہ کا اعتبار ہے تو آخرت میں اخلاقی رشتہ کا اعتبار۔ طوفانِ نوح اسی لیے آیا تھا کہ انسانوں کے درمیان دوسری تمام تقسیمات کو توڑ کر اخلاقی تقسیم قائم کردے۔ جو عملِ صالح والے لوگ ہیں ان کو خدائی کشتی میں بٹھا کر بچا لیا جائے اورغیر عمل صالح والے تمام لوگوں کو طوفان کی بے رحم موجوں کے حوالے کردیا جائے۔ یہی واقعہ دوبارہ قیامت میں زیادہ بڑے پیمانہ پر اور زیادہ کامل طورپر ہوگا۔

هود 11:47

طوفانِ نوح میں جو لوگ غرق ہوئے ان میں خود حضرت نوح کا بیٹا کنعان بھی تھا۔حضرت نوح نے اس کو اپنی کشتی میں بٹھانا چاہا۔ مگر اس کے لیے ڈوبنا مقدر تھا اس لیے وہ نہیں بیٹھا۔ پھر انھوں نے اس کے بچاؤ کے لیے خدا سے دعا کی تو جواب ملا کہ یہ نادانی کا سوال ہے، ایسے سوالات نہ کرو۔ اصل یہ ہے کہ خدا کا فیصلہ اس بنیاد پر نہیں ہوتاکہ جو لوگ بزرگوں کی اولادہیں۔ یا جو کسی حضرت کا دامن تھامے ہوئے ہیں ان سب کو نجات یا فتہ قرار دے کر جنتوں میں داخل کردیا جائے۔ خدا کے یہاں نجات کا فیصلہ خالص عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ نسبی یا گروہی تعلق کی بنیادوںپر۔ دنیا میں اگر نسبی رشتہ کا اعتبار ہے تو آخرت میں اخلاقی رشتہ کا اعتبار۔ طوفانِ نوح اسی لیے آیا تھا کہ انسانوں کے درمیان دوسری تمام تقسیمات کو توڑ کر اخلاقی تقسیم قائم کردے۔ جو عملِ صالح والے لوگ ہیں ان کو خدائی کشتی میں بٹھا کر بچا لیا جائے اورغیر عمل صالح والے تمام لوگوں کو طوفان کی بے رحم موجوں کے حوالے کردیا جائے۔ یہی واقعہ دوبارہ قیامت میں زیادہ بڑے پیمانہ پر اور زیادہ کامل طورپر ہوگا۔

هود 11:48

جب تمام برے لوگ غرق ہوچکے تو طوفان تھم گیا۔ پانی دھیرے دھیرے زمین میں اور سمندروں میں چلا گیا۔ حضرت نوح کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی تھی، آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس سے نکل کر زمین پر اترے۔ زمین دوبارہ خداکے حکم سے سرسبز اور آباد ہو گئی۔ حضرت نوح جن لوگوں کے درمیان آئے وہ حضرت آدم کی نبوت کو ماننے والے لوگ تھے۔آپ کے بعد آپ کی امت ابتداء ً راہ راست پر رہی۔ اس کے بعد اس کی اگلی نسلوں میں بگاڑ آیا تو دوبارہ انبیاء بھیجے گئے۔ یہ بعد کو آنے والے انبیاء ان قوموں میں آئے جو حضرت نوح کی نبوت کو مانتی تھیں۔ اس کے باوجود جب انھوں نے وقت کے نبی کو مان کر اپنی اصلاح نہ کی تو وہ ہلاک کر دی گئیں ۔ گویا صرف کسی نبی کوماننا یا اس کی طرف اپنے کو منسوب کرنا نجات یافتہ ہونے کے لیے کافی نہیںہے۔ بلکہ وہ ایمان مطلوب ہے جو زندہ ایمان ہو اور جس کے اندر یہ طاقت ہو کہ وہ آدمی کی زندگی کو نیک عملی کی زندگی میں تبدیل کردے۔ حضرت نوح کی تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ باطل پرستوں کا زور خواہ کتنا ہی زیادہ ہو اور ان کی زندگی خواہ کتنی ہی طویل ہوجائے، بالآخر ان کے لیے جو چیز مقدر ہے وہ ہلاکت ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں اہلِ ایمان خواہ کتنے ہی کم ہوں اور خواہ وہ بظاہر کتنے ہی بے زور ہوں۔ مگر جب خدا کا فیصلہ ظاہر ہوتا ہے تو یہی لوگ ہیں جو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار بنائے جاتے ہیں، ابتداء ً موجودہ دنیا میں اور آخری طورپر آخرت میں۔

هود 11:49

جب تمام برے لوگ غرق ہوچکے تو طوفان تھم گیا۔ پانی دھیرے دھیرے زمین میں اور سمندروں میں چلا گیا۔ حضرت نوح کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی تھی، آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس سے نکل کر زمین پر اترے۔ زمین دوبارہ خداکے حکم سے سرسبز اور آباد ہو گئی۔ حضرت نوح جن لوگوں کے درمیان آئے وہ حضرت آدم کی نبوت کو ماننے والے لوگ تھے۔آپ کے بعد آپ کی امت ابتداء ً راہ راست پر رہی۔ اس کے بعد اس کی اگلی نسلوں میں بگاڑ آیا تو دوبارہ انبیاء بھیجے گئے۔ یہ بعد کو آنے والے انبیاء ان قوموں میں آئے جو حضرت نوح کی نبوت کو مانتی تھیں۔ اس کے باوجود جب انھوں نے وقت کے نبی کو مان کر اپنی اصلاح نہ کی تو وہ ہلاک کر دی گئیں ۔ گویا صرف کسی نبی کوماننا یا اس کی طرف اپنے کو منسوب کرنا نجات یافتہ ہونے کے لیے کافی نہیںہے۔ بلکہ وہ ایمان مطلوب ہے جو زندہ ایمان ہو اور جس کے اندر یہ طاقت ہو کہ وہ آدمی کی زندگی کو نیک عملی کی زندگی میں تبدیل کردے۔ حضرت نوح کی تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ باطل پرستوں کا زور خواہ کتنا ہی زیادہ ہو اور ان کی زندگی خواہ کتنی ہی طویل ہوجائے، بالآخر ان کے لیے جو چیز مقدر ہے وہ ہلاکت ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں اہلِ ایمان خواہ کتنے ہی کم ہوں اور خواہ وہ بظاہر کتنے ہی بے زور ہوں۔ مگر جب خدا کا فیصلہ ظاہر ہوتا ہے تو یہی لوگ ہیں جو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار بنائے جاتے ہیں، ابتداء ً موجودہ دنیا میں اور آخری طورپر آخرت میں۔

هود 11:50

قوم عاد کی ہدایت کے لیے حضرت ہود کو اٹھایا گیا جو انھیں کے بھائی تھے۔یہ پیغمبروں کے باب میں ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ قوم کا فرد ہونے کی وجہ سے وہ بخوبی طورپر قوم کی نفسیات، اس کے حالات اور اس کی زبان کو جانتے ہیں اور زیادہ موثر طورپر اس کے اندر دعوت حق کا کام کرسکتے ہیں۔ حضرت ہود نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کا پیغام دیا۔ اسی کے ساتھ انھوںنے یہ بھی کہا کہ تمھارا جو دین ہے وہ محض ایک جھوٹ ہے جو تم نے گھڑ لیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر کا طریقہ معروف معنوں میں صرف ’’مثبت طور پر‘‘ اپنی بات کہنے کا طریقہ نہیں ہے۔ بلکہ اسی کے ساتھ وہ کھلی کھلی تنقید بھی کرتاہے۔ کیوں کہ جب تک تنقید و تجزیہ کے ذریعہ ناحق کا ناحق ہونا واضح نہ کیا جائے اس وقت تک حق کا حق ہونا لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتا۔ ہر پیغمبر کے زمانہ میںایسا ہوا کہ اس کے مخالفین اس کی پیغمبری کو ماننے کے لیے یہ چاہتے تھے کہ وہ کوئی بڑا عہدیدار ہو، اس کو دولت کے خزانے حاصل ہوں، وہ عالی شان عمارتوں میں رہتا ہو۔ مگر حق کے داعی کو جانچنے کا یہ معیار صحیح نہیں۔ داعی کی صداقت جانچنے کا اصل معیا ر یہ ہے کہ وہ اپنے مشن میں پوری طرح سنجیدہ ہو، اس کی بات آخری حد تک مدلّل ہو۔ وہ ہر قسم کی دنیوی غرض سے بالا تر ہو۔ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ عین حقیقتِ واقعہ ہو۔ اس کا پیغام کائناتی نظام سے کامل مطابقت رکھتا ہو۔ اس کو اختیار کرنا کامیابی کی شاہراہ پر چلناہو۔ تمھاری قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا۔ اس فقرہ کا مطلب مادی قوت میں اضافہ نہیں ہے۔ کیونکہ قوم عاد اپنے زمانہ میں نہایت طاقت ور تھی۔ قرآن سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر نے جب ان کوعذاب سے ڈرایا تو انھوں نے کہا کہ ہم سے زیادہ طاقت ور کون ہے (مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً، حم السجدۃ، 41:15 )۔ اس لیے مادی قوت میں اضافہ کی بات، دعوتی اعتبار سے ان کے لیے زیادہ پرکشش نہیں ہوسکتی تھی۔ اِس آیت میں قوت پر اضافہ کا مطلب ہے مادی قوت پر ایمانی قوت کا اضافہ۔ پیغمبر کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم ایمانی زندگی اختیار کر لو تو اس سے تم کو اخلاقی اور روحانی قوت حاصل ہوگی۔ موجودہ مادی زور کے ساتھ اخلاقی اور روحانی زور ملنے سے تمھاری طاقت گھٹے گی نہیں بلکہ وہ مزید بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔

هود 11:51

قوم عاد کی ہدایت کے لیے حضرت ہود کو اٹھایا گیا جو انھیں کے بھائی تھے۔یہ پیغمبروں کے باب میں ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ قوم کا فرد ہونے کی وجہ سے وہ بخوبی طورپر قوم کی نفسیات، اس کے حالات اور اس کی زبان کو جانتے ہیں اور زیادہ موثر طورپر اس کے اندر دعوت حق کا کام کرسکتے ہیں۔ حضرت ہود نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کا پیغام دیا۔ اسی کے ساتھ انھوںنے یہ بھی کہا کہ تمھارا جو دین ہے وہ محض ایک جھوٹ ہے جو تم نے گھڑ لیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر کا طریقہ معروف معنوں میں صرف ’’مثبت طور پر‘‘ اپنی بات کہنے کا طریقہ نہیں ہے۔ بلکہ اسی کے ساتھ وہ کھلی کھلی تنقید بھی کرتاہے۔ کیوں کہ جب تک تنقید و تجزیہ کے ذریعہ ناحق کا ناحق ہونا واضح نہ کیا جائے اس وقت تک حق کا حق ہونا لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتا۔ ہر پیغمبر کے زمانہ میںایسا ہوا کہ اس کے مخالفین اس کی پیغمبری کو ماننے کے لیے یہ چاہتے تھے کہ وہ کوئی بڑا عہدیدار ہو، اس کو دولت کے خزانے حاصل ہوں، وہ عالی شان عمارتوں میں رہتا ہو۔ مگر حق کے داعی کو جانچنے کا یہ معیار صحیح نہیں۔ داعی کی صداقت جانچنے کا اصل معیا ر یہ ہے کہ وہ اپنے مشن میں پوری طرح سنجیدہ ہو، اس کی بات آخری حد تک مدلّل ہو۔ وہ ہر قسم کی دنیوی غرض سے بالا تر ہو۔ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ عین حقیقتِ واقعہ ہو۔ اس کا پیغام کائناتی نظام سے کامل مطابقت رکھتا ہو۔ اس کو اختیار کرنا کامیابی کی شاہراہ پر چلناہو۔ تمھاری قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا۔ اس فقرہ کا مطلب مادی قوت میں اضافہ نہیں ہے۔ کیونکہ قوم عاد اپنے زمانہ میں نہایت طاقت ور تھی۔ قرآن سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر نے جب ان کوعذاب سے ڈرایا تو انھوں نے کہا کہ ہم سے زیادہ طاقت ور کون ہے (مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً، حم السجدۃ، 41:15 )۔ اس لیے مادی قوت میں اضافہ کی بات، دعوتی اعتبار سے ان کے لیے زیادہ پرکشش نہیں ہوسکتی تھی۔ اِس آیت میں قوت پر اضافہ کا مطلب ہے مادی قوت پر ایمانی قوت کا اضافہ۔ پیغمبر کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم ایمانی زندگی اختیار کر لو تو اس سے تم کو اخلاقی اور روحانی قوت حاصل ہوگی۔ موجودہ مادی زور کے ساتھ اخلاقی اور روحانی زور ملنے سے تمھاری طاقت گھٹے گی نہیں بلکہ وہ مزید بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔

هود 11:52

قوم عاد کی ہدایت کے لیے حضرت ہود کو اٹھایا گیا جو انھیں کے بھائی تھے۔یہ پیغمبروں کے باب میں ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ قوم کا فرد ہونے کی وجہ سے وہ بخوبی طورپر قوم کی نفسیات، اس کے حالات اور اس کی زبان کو جانتے ہیں اور زیادہ موثر طورپر اس کے اندر دعوت حق کا کام کرسکتے ہیں۔ حضرت ہود نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کا پیغام دیا۔ اسی کے ساتھ انھوںنے یہ بھی کہا کہ تمھارا جو دین ہے وہ محض ایک جھوٹ ہے جو تم نے گھڑ لیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر کا طریقہ معروف معنوں میں صرف ’’مثبت طور پر‘‘ اپنی بات کہنے کا طریقہ نہیں ہے۔ بلکہ اسی کے ساتھ وہ کھلی کھلی تنقید بھی کرتاہے۔ کیوں کہ جب تک تنقید و تجزیہ کے ذریعہ ناحق کا ناحق ہونا واضح نہ کیا جائے اس وقت تک حق کا حق ہونا لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتا۔ ہر پیغمبر کے زمانہ میںایسا ہوا کہ اس کے مخالفین اس کی پیغمبری کو ماننے کے لیے یہ چاہتے تھے کہ وہ کوئی بڑا عہدیدار ہو، اس کو دولت کے خزانے حاصل ہوں، وہ عالی شان عمارتوں میں رہتا ہو۔ مگر حق کے داعی کو جانچنے کا یہ معیار صحیح نہیں۔ داعی کی صداقت جانچنے کا اصل معیا ر یہ ہے کہ وہ اپنے مشن میں پوری طرح سنجیدہ ہو، اس کی بات آخری حد تک مدلّل ہو۔ وہ ہر قسم کی دنیوی غرض سے بالا تر ہو۔ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ عین حقیقتِ واقعہ ہو۔ اس کا پیغام کائناتی نظام سے کامل مطابقت رکھتا ہو۔ اس کو اختیار کرنا کامیابی کی شاہراہ پر چلناہو۔ تمھاری قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا۔ اس فقرہ کا مطلب مادی قوت میں اضافہ نہیں ہے۔ کیونکہ قوم عاد اپنے زمانہ میں نہایت طاقت ور تھی۔ قرآن سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر نے جب ان کوعذاب سے ڈرایا تو انھوں نے کہا کہ ہم سے زیادہ طاقت ور کون ہے (مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً، حم السجدۃ، 41:15 )۔ اس لیے مادی قوت میں اضافہ کی بات، دعوتی اعتبار سے ان کے لیے زیادہ پرکشش نہیں ہوسکتی تھی۔ اِس آیت میں قوت پر اضافہ کا مطلب ہے مادی قوت پر ایمانی قوت کا اضافہ۔ پیغمبر کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم ایمانی زندگی اختیار کر لو تو اس سے تم کو اخلاقی اور روحانی قوت حاصل ہوگی۔ موجودہ مادی زور کے ساتھ اخلاقی اور روحانی زور ملنے سے تمھاری طاقت گھٹے گی نہیں بلکہ وہ مزید بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔

هود 11:53

قوم نے حضرت ہود سے کہا کہ تمھارے پاس اپنے برسر حق ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ فی الواقع بھی حضرت ہود کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔ آنجناب کے پاس یقینا ًدلیل تھی، مگر وہ مخاطبین کو دلیل دکھائی نہیں دیتی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ آدمی عام طورپر کسی بات کو خالص دلیل کی بنیادوں پر جانچ نہیں پاتا بلکہ اس اعتبار سے دیکھتاہے کہ جو شخص اس کو پیش کررہا ہے وہ کیساہے۔ چوں کہ پیش کرنے والا اپنے زمانہ میں لوگوں کو ایک ناقابلِ لحاظ انسان دکھائی دیتا تھا اس لیے اس کی بات بھی لوگوں کو ناقابلِ لحاظ نظر آتی تھی۔ جب ایک شخص وقت کے جمے ہوئے مذہب کو چھوڑ کر خالص بے آمیز دین کی دعوت لے کر اٹھتا ہے تو ہمیشہ ایسا ہوتاہے کہ ماحول میں وہ اجنبی بلکہ حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ لوگ اس کو اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے وہ کوئی ایسا شخص ہو جس کو خللِ دماغی کا عارضہ لاحق ہوگیا ہو۔ حضرت ہود کے معاملہ میں یہی صورت حال تھی جس کی وجہ سے ان کی قوم کے لوگوں کو یہ کہنے کی جرأت ہوئی کہ ’’ہمارا تو خیال ہے کہ تمھارے اوپر ہمارے بزرگوں کی مار پڑ گئی ہے‘‘۔ مگر داعیٔ حق کی صداقت کا ثبوت، نظری دلائل کے بعد، ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے مخالفین ہر قسم کی کوششوں کے باوجود اس کو زیر نہیں کرپاتے۔ خدا کے پیغمبر جن قوموں میں آئے وہ سب خدا کو ماننے والی تھیں۔ گویا داعی بھی خدا پرست ہونے کا مدعی تھا اور مدعو بھی خدا پرست ہونے کا مدعی۔ ایسی حالت میں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ خدا دونوں میں سے کس گروہ کے ساتھ ہے۔ اس سوال کا آسان جواب یہ ہے کہ خدا صراط مستقیم (سیدھی شاہراہ) پر ہے۔ اس لیے جو دین کے سیدھے خط پر چل رہا ہے وہ براہِ راست خدا تک پہنچے گا اور جو ٹیڑھے راستوں پر چل رہا ہے اس کا راستہ اِدھر اُدھر بھٹک کر رہ جائے گا۔ وہ خدا تک پہنچنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ حضرت ہود نے جب کہاکہ’’ میرا رب صراطِ مستقیم پر ہے ‘‘تو دوسرے لفظوں میں گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ میں جس چیز کی طرف بلا رہا ہوں وہ صراطِ مستقیم (دین کی شاہراہ) ہے۔ اور تم لوگ جن چیزوں کو دین سمجھ کر اختیار كيے ہوئے ہو وہ دین کی شاہراہ کے اطراف میں پگڈنڈیاں نکال کر ان کے اوپر دوڑنا ہے۔ اس قسم کی دوڑ آدمی کو خدا تک نہیں پہنچاتی، وہ اس کو ادھر ادھر بھٹکا کر چھوڑ دیتی ہے۔ اِن آیات کی روشنی میں غور کیا جائے تو حضرت ہود کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم یہ نکلتی ہے— توحید، عبادتِ الٰہی، استغفار، توبہ، نعمتوں پر خدا کا شکر، توکل علی اللہ، خدا کو اپنا پروردگار ماننا، صرف خدا کو تمام طاقتوں کا مالک سمجھنا، خدا کو اپنے اوپر نگراں بنا لینا۔ کبر کی روش کے بجائے اطاعت کی روش اختیار کرنا۔ یہ سب دین کی بنیادی تعلیمات ہیں۔ ان تعلیمات پر چلنا اور ان کو اپنی توجہ کا مرکز بنانا گویا دین کی شاہراہ پر چلنا ہے۔ اس پر چلنے والا سیدھے خدا تک پہنچتاہے۔ اس کے سوا جن چیزوں کو آدمی اہمیت دے اور ان کی دھوم مچائے وہ گویا اصل شاہراہ کے دائیں بائیں پگڈنڈیاں نکال کر ان کے اوپر دوڑ رہا ہے۔ ایسی دوڑ آدمی کو صرف خدا سے دور کرنے والی ہے، وہ اس کو خدا کے قریب نہیں پہنچا سکتی۔

هود 11:54

قوم نے حضرت ہود سے کہا کہ تمھارے پاس اپنے برسر حق ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ فی الواقع بھی حضرت ہود کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔ آنجناب کے پاس یقینا ًدلیل تھی، مگر وہ مخاطبین کو دلیل دکھائی نہیں دیتی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ آدمی عام طورپر کسی بات کو خالص دلیل کی بنیادوں پر جانچ نہیں پاتا بلکہ اس اعتبار سے دیکھتاہے کہ جو شخص اس کو پیش کررہا ہے وہ کیساہے۔ چوں کہ پیش کرنے والا اپنے زمانہ میں لوگوں کو ایک ناقابلِ لحاظ انسان دکھائی دیتا تھا اس لیے اس کی بات بھی لوگوں کو ناقابلِ لحاظ نظر آتی تھی۔ جب ایک شخص وقت کے جمے ہوئے مذہب کو چھوڑ کر خالص بے آمیز دین کی دعوت لے کر اٹھتا ہے تو ہمیشہ ایسا ہوتاہے کہ ماحول میں وہ اجنبی بلکہ حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ لوگ اس کو اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے وہ کوئی ایسا شخص ہو جس کو خللِ دماغی کا عارضہ لاحق ہوگیا ہو۔ حضرت ہود کے معاملہ میں یہی صورت حال تھی جس کی وجہ سے ان کی قوم کے لوگوں کو یہ کہنے کی جرأت ہوئی کہ ’’ہمارا تو خیال ہے کہ تمھارے اوپر ہمارے بزرگوں کی مار پڑ گئی ہے‘‘۔ مگر داعیٔ حق کی صداقت کا ثبوت، نظری دلائل کے بعد، ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے مخالفین ہر قسم کی کوششوں کے باوجود اس کو زیر نہیں کرپاتے۔ خدا کے پیغمبر جن قوموں میں آئے وہ سب خدا کو ماننے والی تھیں۔ گویا داعی بھی خدا پرست ہونے کا مدعی تھا اور مدعو بھی خدا پرست ہونے کا مدعی۔ ایسی حالت میں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ خدا دونوں میں سے کس گروہ کے ساتھ ہے۔ اس سوال کا آسان جواب یہ ہے کہ خدا صراط مستقیم (سیدھی شاہراہ) پر ہے۔ اس لیے جو دین کے سیدھے خط پر چل رہا ہے وہ براہِ راست خدا تک پہنچے گا اور جو ٹیڑھے راستوں پر چل رہا ہے اس کا راستہ اِدھر اُدھر بھٹک کر رہ جائے گا۔ وہ خدا تک پہنچنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ حضرت ہود نے جب کہاکہ’’ میرا رب صراطِ مستقیم پر ہے ‘‘تو دوسرے لفظوں میں گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ میں جس چیز کی طرف بلا رہا ہوں وہ صراطِ مستقیم (دین کی شاہراہ) ہے۔ اور تم لوگ جن چیزوں کو دین سمجھ کر اختیار كيے ہوئے ہو وہ دین کی شاہراہ کے اطراف میں پگڈنڈیاں نکال کر ان کے اوپر دوڑنا ہے۔ اس قسم کی دوڑ آدمی کو خدا تک نہیں پہنچاتی، وہ اس کو ادھر ادھر بھٹکا کر چھوڑ دیتی ہے۔ اِن آیات کی روشنی میں غور کیا جائے تو حضرت ہود کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم یہ نکلتی ہے— توحید، عبادتِ الٰہی، استغفار، توبہ، نعمتوں پر خدا کا شکر، توکل علی اللہ، خدا کو اپنا پروردگار ماننا، صرف خدا کو تمام طاقتوں کا مالک سمجھنا، خدا کو اپنے اوپر نگراں بنا لینا۔ کبر کی روش کے بجائے اطاعت کی روش اختیار کرنا۔ یہ سب دین کی بنیادی تعلیمات ہیں۔ ان تعلیمات پر چلنا اور ان کو اپنی توجہ کا مرکز بنانا گویا دین کی شاہراہ پر چلنا ہے۔ اس پر چلنے والا سیدھے خدا تک پہنچتاہے۔ اس کے سوا جن چیزوں کو آدمی اہمیت دے اور ان کی دھوم مچائے وہ گویا اصل شاہراہ کے دائیں بائیں پگڈنڈیاں نکال کر ان کے اوپر دوڑ رہا ہے۔ ایسی دوڑ آدمی کو صرف خدا سے دور کرنے والی ہے، وہ اس کو خدا کے قریب نہیں پہنچا سکتی۔

هود 11:55

قوم نے حضرت ہود سے کہا کہ تمھارے پاس اپنے برسر حق ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ فی الواقع بھی حضرت ہود کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔ آنجناب کے پاس یقینا ًدلیل تھی، مگر وہ مخاطبین کو دلیل دکھائی نہیں دیتی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ آدمی عام طورپر کسی بات کو خالص دلیل کی بنیادوں پر جانچ نہیں پاتا بلکہ اس اعتبار سے دیکھتاہے کہ جو شخص اس کو پیش کررہا ہے وہ کیساہے۔ چوں کہ پیش کرنے والا اپنے زمانہ میں لوگوں کو ایک ناقابلِ لحاظ انسان دکھائی دیتا تھا اس لیے اس کی بات بھی لوگوں کو ناقابلِ لحاظ نظر آتی تھی۔ جب ایک شخص وقت کے جمے ہوئے مذہب کو چھوڑ کر خالص بے آمیز دین کی دعوت لے کر اٹھتا ہے تو ہمیشہ ایسا ہوتاہے کہ ماحول میں وہ اجنبی بلکہ حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ لوگ اس کو اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے وہ کوئی ایسا شخص ہو جس کو خللِ دماغی کا عارضہ لاحق ہوگیا ہو۔ حضرت ہود کے معاملہ میں یہی صورت حال تھی جس کی وجہ سے ان کی قوم کے لوگوں کو یہ کہنے کی جرأت ہوئی کہ ’’ہمارا تو خیال ہے کہ تمھارے اوپر ہمارے بزرگوں کی مار پڑ گئی ہے‘‘۔ مگر داعیٔ حق کی صداقت کا ثبوت، نظری دلائل کے بعد، ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے مخالفین ہر قسم کی کوششوں کے باوجود اس کو زیر نہیں کرپاتے۔ خدا کے پیغمبر جن قوموں میں آئے وہ سب خدا کو ماننے والی تھیں۔ گویا داعی بھی خدا پرست ہونے کا مدعی تھا اور مدعو بھی خدا پرست ہونے کا مدعی۔ ایسی حالت میں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ خدا دونوں میں سے کس گروہ کے ساتھ ہے۔ اس سوال کا آسان جواب یہ ہے کہ خدا صراط مستقیم (سیدھی شاہراہ) پر ہے۔ اس لیے جو دین کے سیدھے خط پر چل رہا ہے وہ براہِ راست خدا تک پہنچے گا اور جو ٹیڑھے راستوں پر چل رہا ہے اس کا راستہ اِدھر اُدھر بھٹک کر رہ جائے گا۔ وہ خدا تک پہنچنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ حضرت ہود نے جب کہاکہ’’ میرا رب صراطِ مستقیم پر ہے ‘‘تو دوسرے لفظوں میں گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ میں جس چیز کی طرف بلا رہا ہوں وہ صراطِ مستقیم (دین کی شاہراہ) ہے۔ اور تم لوگ جن چیزوں کو دین سمجھ کر اختیار كيے ہوئے ہو وہ دین کی شاہراہ کے اطراف میں پگڈنڈیاں نکال کر ان کے اوپر دوڑنا ہے۔ اس قسم کی دوڑ آدمی کو خدا تک نہیں پہنچاتی، وہ اس کو ادھر ادھر بھٹکا کر چھوڑ دیتی ہے۔ اِن آیات کی روشنی میں غور کیا جائے تو حضرت ہود کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم یہ نکلتی ہے— توحید، عبادتِ الٰہی، استغفار، توبہ، نعمتوں پر خدا کا شکر، توکل علی اللہ، خدا کو اپنا پروردگار ماننا، صرف خدا کو تمام طاقتوں کا مالک سمجھنا، خدا کو اپنے اوپر نگراں بنا لینا۔ کبر کی روش کے بجائے اطاعت کی روش اختیار کرنا۔ یہ سب دین کی بنیادی تعلیمات ہیں۔ ان تعلیمات پر چلنا اور ان کو اپنی توجہ کا مرکز بنانا گویا دین کی شاہراہ پر چلنا ہے۔ اس پر چلنے والا سیدھے خدا تک پہنچتاہے۔ اس کے سوا جن چیزوں کو آدمی اہمیت دے اور ان کی دھوم مچائے وہ گویا اصل شاہراہ کے دائیں بائیں پگڈنڈیاں نکال کر ان کے اوپر دوڑ رہا ہے۔ ایسی دوڑ آدمی کو صرف خدا سے دور کرنے والی ہے، وہ اس کو خدا کے قریب نہیں پہنچا سکتی۔

هود 11:56

قوم نے حضرت ہود سے کہا کہ تمھارے پاس اپنے برسر حق ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ فی الواقع بھی حضرت ہود کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔ آنجناب کے پاس یقینا ًدلیل تھی، مگر وہ مخاطبین کو دلیل دکھائی نہیں دیتی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ آدمی عام طورپر کسی بات کو خالص دلیل کی بنیادوں پر جانچ نہیں پاتا بلکہ اس اعتبار سے دیکھتاہے کہ جو شخص اس کو پیش کررہا ہے وہ کیساہے۔ چوں کہ پیش کرنے والا اپنے زمانہ میں لوگوں کو ایک ناقابلِ لحاظ انسان دکھائی دیتا تھا اس لیے اس کی بات بھی لوگوں کو ناقابلِ لحاظ نظر آتی تھی۔ جب ایک شخص وقت کے جمے ہوئے مذہب کو چھوڑ کر خالص بے آمیز دین کی دعوت لے کر اٹھتا ہے تو ہمیشہ ایسا ہوتاہے کہ ماحول میں وہ اجنبی بلکہ حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ لوگ اس کو اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے وہ کوئی ایسا شخص ہو جس کو خللِ دماغی کا عارضہ لاحق ہوگیا ہو۔ حضرت ہود کے معاملہ میں یہی صورت حال تھی جس کی وجہ سے ان کی قوم کے لوگوں کو یہ کہنے کی جرأت ہوئی کہ ’’ہمارا تو خیال ہے کہ تمھارے اوپر ہمارے بزرگوں کی مار پڑ گئی ہے‘‘۔ مگر داعیٔ حق کی صداقت کا ثبوت، نظری دلائل کے بعد، ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے مخالفین ہر قسم کی کوششوں کے باوجود اس کو زیر نہیں کرپاتے۔ خدا کے پیغمبر جن قوموں میں آئے وہ سب خدا کو ماننے والی تھیں۔ گویا داعی بھی خدا پرست ہونے کا مدعی تھا اور مدعو بھی خدا پرست ہونے کا مدعی۔ ایسی حالت میں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ خدا دونوں میں سے کس گروہ کے ساتھ ہے۔ اس سوال کا آسان جواب یہ ہے کہ خدا صراط مستقیم (سیدھی شاہراہ) پر ہے۔ اس لیے جو دین کے سیدھے خط پر چل رہا ہے وہ براہِ راست خدا تک پہنچے گا اور جو ٹیڑھے راستوں پر چل رہا ہے اس کا راستہ اِدھر اُدھر بھٹک کر رہ جائے گا۔ وہ خدا تک پہنچنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ حضرت ہود نے جب کہاکہ’’ میرا رب صراطِ مستقیم پر ہے ‘‘تو دوسرے لفظوں میں گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ میں جس چیز کی طرف بلا رہا ہوں وہ صراطِ مستقیم (دین کی شاہراہ) ہے۔ اور تم لوگ جن چیزوں کو دین سمجھ کر اختیار كيے ہوئے ہو وہ دین کی شاہراہ کے اطراف میں پگڈنڈیاں نکال کر ان کے اوپر دوڑنا ہے۔ اس قسم کی دوڑ آدمی کو خدا تک نہیں پہنچاتی، وہ اس کو ادھر ادھر بھٹکا کر چھوڑ دیتی ہے۔ اِن آیات کی روشنی میں غور کیا جائے تو حضرت ہود کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم یہ نکلتی ہے— توحید، عبادتِ الٰہی، استغفار، توبہ، نعمتوں پر خدا کا شکر، توکل علی اللہ، خدا کو اپنا پروردگار ماننا، صرف خدا کو تمام طاقتوں کا مالک سمجھنا، خدا کو اپنے اوپر نگراں بنا لینا۔ کبر کی روش کے بجائے اطاعت کی روش اختیار کرنا۔ یہ سب دین کی بنیادی تعلیمات ہیں۔ ان تعلیمات پر چلنا اور ان کو اپنی توجہ کا مرکز بنانا گویا دین کی شاہراہ پر چلنا ہے۔ اس پر چلنے والا سیدھے خدا تک پہنچتاہے۔ اس کے سوا جن چیزوں کو آدمی اہمیت دے اور ان کی دھوم مچائے وہ گویا اصل شاہراہ کے دائیں بائیں پگڈنڈیاں نکال کر ان کے اوپر دوڑ رہا ہے۔ ایسی دوڑ آدمی کو صرف خدا سے دور کرنے والی ہے، وہ اس کو خدا کے قریب نہیں پہنچا سکتی۔

هود 11:57

جو لوگ خدا کی بات کو نظر انداز کردیں، خدا بھی انھیں نظر انداز کردیتا ہے۔ یہ واقعہ جو موجودہ دنیا میں جزئی طورپر پیش آتا ہے یہی قیامت میں کلی اور آخری طورپر پیش آئے گا۔ اس وقت تمام سرکش لوگ خدا کی رحمتوں سے دور کرديے جائیںگے۔ اور خدا کی رحمت صرف ان لوگوں کا حصہ ہوگی جو دنیا کی زندگی میں خدا کے تابع اور وفادار بن کررہے تھے۔ اس دنیا میں خدا نے ’’استخلاف‘‘ کا اصول رائج کیا ہے۔ یعنی ایک قوم کو ہٹانے کے بعد دوسری قوم کو اس کی جگہ زمین پر متمکن کرنا۔ دنیا میں یہ تمکن امتحان کی غرض سے وقتی طور پر ہوتا ہے۔آخرت میں خدا کی معیاری دنیا میں یہ تمکن انعام کے طورپر مستقل طور پر سچے اہل ایمان کو حاصل ہوگا۔ موجودہ امتحانی دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ یہاں آدمی ہمیشہ خیر اور شر کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کو آزادی ہوتی ہے کہ دونوں میں سے جس راہ کو چاہے اختیار کرے۔ مزید یہ کہ اکثر حالات میں اس دنیا میں شر کا غلبہ ہوتا ہے۔ خیر کی جانب صرف نشانیوں (نظری دلائل) کا زور ہوتاہے۔ دوسری طرف شر کی جانب مادی طاقت موجود ہوتی ہے، وہ بھی اتنی بڑی مقدار میں کہ اس کے علم بردار سرکشی اور گھمنڈ میں مبتلا ہوکر ماحول کے اندر ایسی دباؤ کی فضا پیدا کرتے ہیں کہ عام آدمی حق کی طرف بڑھنے کی جرأت ہی نہ کرے۔

هود 11:58

جو لوگ خدا کی بات کو نظر انداز کردیں، خدا بھی انھیں نظر انداز کردیتا ہے۔ یہ واقعہ جو موجودہ دنیا میں جزئی طورپر پیش آتا ہے یہی قیامت میں کلی اور آخری طورپر پیش آئے گا۔ اس وقت تمام سرکش لوگ خدا کی رحمتوں سے دور کرديے جائیںگے۔ اور خدا کی رحمت صرف ان لوگوں کا حصہ ہوگی جو دنیا کی زندگی میں خدا کے تابع اور وفادار بن کررہے تھے۔ اس دنیا میں خدا نے ’’استخلاف‘‘ کا اصول رائج کیا ہے۔ یعنی ایک قوم کو ہٹانے کے بعد دوسری قوم کو اس کی جگہ زمین پر متمکن کرنا۔ دنیا میں یہ تمکن امتحان کی غرض سے وقتی طور پر ہوتا ہے۔آخرت میں خدا کی معیاری دنیا میں یہ تمکن انعام کے طورپر مستقل طور پر سچے اہل ایمان کو حاصل ہوگا۔ موجودہ امتحانی دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ یہاں آدمی ہمیشہ خیر اور شر کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کو آزادی ہوتی ہے کہ دونوں میں سے جس راہ کو چاہے اختیار کرے۔ مزید یہ کہ اکثر حالات میں اس دنیا میں شر کا غلبہ ہوتا ہے۔ خیر کی جانب صرف نشانیوں (نظری دلائل) کا زور ہوتاہے۔ دوسری طرف شر کی جانب مادی طاقت موجود ہوتی ہے، وہ بھی اتنی بڑی مقدار میں کہ اس کے علم بردار سرکشی اور گھمنڈ میں مبتلا ہوکر ماحول کے اندر ایسی دباؤ کی فضا پیدا کرتے ہیں کہ عام آدمی حق کی طرف بڑھنے کی جرأت ہی نہ کرے۔

هود 11:59

جو لوگ خدا کی بات کو نظر انداز کردیں، خدا بھی انھیں نظر انداز کردیتا ہے۔ یہ واقعہ جو موجودہ دنیا میں جزئی طورپر پیش آتا ہے یہی قیامت میں کلی اور آخری طورپر پیش آئے گا۔ اس وقت تمام سرکش لوگ خدا کی رحمتوں سے دور کرديے جائیںگے۔ اور خدا کی رحمت صرف ان لوگوں کا حصہ ہوگی جو دنیا کی زندگی میں خدا کے تابع اور وفادار بن کررہے تھے۔ اس دنیا میں خدا نے ’’استخلاف‘‘ کا اصول رائج کیا ہے۔ یعنی ایک قوم کو ہٹانے کے بعد دوسری قوم کو اس کی جگہ زمین پر متمکن کرنا۔ دنیا میں یہ تمکن امتحان کی غرض سے وقتی طور پر ہوتا ہے۔آخرت میں خدا کی معیاری دنیا میں یہ تمکن انعام کے طورپر مستقل طور پر سچے اہل ایمان کو حاصل ہوگا۔ موجودہ امتحانی دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ یہاں آدمی ہمیشہ خیر اور شر کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کو آزادی ہوتی ہے کہ دونوں میں سے جس راہ کو چاہے اختیار کرے۔ مزید یہ کہ اکثر حالات میں اس دنیا میں شر کا غلبہ ہوتا ہے۔ خیر کی جانب صرف نشانیوں (نظری دلائل) کا زور ہوتاہے۔ دوسری طرف شر کی جانب مادی طاقت موجود ہوتی ہے، وہ بھی اتنی بڑی مقدار میں کہ اس کے علم بردار سرکشی اور گھمنڈ میں مبتلا ہوکر ماحول کے اندر ایسی دباؤ کی فضا پیدا کرتے ہیں کہ عام آدمی حق کی طرف بڑھنے کی جرأت ہی نہ کرے۔

هود 11:60

جو لوگ خدا کی بات کو نظر انداز کردیں، خدا بھی انھیں نظر انداز کردیتا ہے۔ یہ واقعہ جو موجودہ دنیا میں جزئی طورپر پیش آتا ہے یہی قیامت میں کلی اور آخری طورپر پیش آئے گا۔ اس وقت تمام سرکش لوگ خدا کی رحمتوں سے دور کرديے جائیںگے۔ اور خدا کی رحمت صرف ان لوگوں کا حصہ ہوگی جو دنیا کی زندگی میں خدا کے تابع اور وفادار بن کررہے تھے۔ اس دنیا میں خدا نے ’’استخلاف‘‘ کا اصول رائج کیا ہے۔ یعنی ایک قوم کو ہٹانے کے بعد دوسری قوم کو اس کی جگہ زمین پر متمکن کرنا۔ دنیا میں یہ تمکن امتحان کی غرض سے وقتی طور پر ہوتا ہے۔آخرت میں خدا کی معیاری دنیا میں یہ تمکن انعام کے طورپر مستقل طور پر سچے اہل ایمان کو حاصل ہوگا۔ موجودہ امتحانی دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ یہاں آدمی ہمیشہ خیر اور شر کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کو آزادی ہوتی ہے کہ دونوں میں سے جس راہ کو چاہے اختیار کرے۔ مزید یہ کہ اکثر حالات میں اس دنیا میں شر کا غلبہ ہوتا ہے۔ خیر کی جانب صرف نشانیوں (نظری دلائل) کا زور ہوتاہے۔ دوسری طرف شر کی جانب مادی طاقت موجود ہوتی ہے، وہ بھی اتنی بڑی مقدار میں کہ اس کے علم بردار سرکشی اور گھمنڈ میں مبتلا ہوکر ماحول کے اندر ایسی دباؤ کی فضا پیدا کرتے ہیں کہ عام آدمی حق کی طرف بڑھنے کی جرأت ہی نہ کرے۔

هود 11:61

حضرت صالح نے اپنی قوم کو ایک خدا کی عبادت کی طرف بلایا۔ یہی ہر زمانہ میں تمام پیغمبروں کا مقصد تھا۔ مگر حضرت صالح کی قوم آپ کے پیغام کو قبول نہ کر سکی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ اس کو براہِ راست خدا سے جوڑنے کی بات کرتے تھے، جب کہ قوم کا حال یہ تھا کہ وہ خدا کے نام پر صرف اپنے اعاظم واکابر سے جڑی ہوئی تھی۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخصوص مزاج کی وجہ سے کسی چیز کی اہمیت اور معنویت صرف اس وقت سمجھ پاتے ہیں جب کہ ان کے قومی بزرگوں کے قول وعمل میں اس کی تصدیق مل جائے۔ اب چونکہ حضرت صالح کے پاس صرف دلیل کا زور تھا، ان کی قوم ان کی بات کی اہمیت کو محسوس نہ کرسکی۔ حضرت صالح جس دین کی طرف بلارہے تھے اس کی اہمیت خدا کی وحی اور زمین و آسمان کی نشانیوں میں غور کرنے سے واضح ہوتی تھی۔ جب کہ ان کی قوم صرف اس دین کی اہمیت سے باخبر تھی جو اکابر قوم کے ملفوظات اور معمولات سے ثابت ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی قوم آپ کے دلائل کے مقابلہ میں لاجواب ہو کر بھی بس ایک قسم کے شبہ کی حالت میں پڑی رہی۔ حضرت صالح، دوسرے تمام پیغمبروں کی طرح، شخصیت اور ذہانت میں اپنی قوم کے ممتاز فرد تھے۔ لوگ امید رکھتے تھے کہ بڑے ہو کر وہ قوم کے ایک کار آمد فرد ثابت ہوں گے۔ مگر وہ بڑی عمر کو پہنچے تو انھوں نے قوم کے مروجہ مذہب پر تنقید شروع کردی۔ یہ دیکھ کر قوم کے لوگوں کو ان کے بارہ میں سخت مایوسی ہوئی۔ انھوںنے کہا، ہم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ تم ہمارے قائم شدہ مذہبی نظام کے ایک ستون بنو گے۔ اس کے برعکس ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمارے مذہبی نظام کو بے بنیادثابت کرنے پر اپنا سارا زور لگائے ہوئے ہو — یہی معاملہ ہر دور میں خدا کے سچے داعیوں کو اپنی قوم کی طرف سے پیش آیا ہے۔

هود 11:62

حضرت صالح نے اپنی قوم کو ایک خدا کی عبادت کی طرف بلایا۔ یہی ہر زمانہ میں تمام پیغمبروں کا مقصد تھا۔ مگر حضرت صالح کی قوم آپ کے پیغام کو قبول نہ کر سکی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ اس کو براہِ راست خدا سے جوڑنے کی بات کرتے تھے، جب کہ قوم کا حال یہ تھا کہ وہ خدا کے نام پر صرف اپنے اعاظم واکابر سے جڑی ہوئی تھی۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخصوص مزاج کی وجہ سے کسی چیز کی اہمیت اور معنویت صرف اس وقت سمجھ پاتے ہیں جب کہ ان کے قومی بزرگوں کے قول وعمل میں اس کی تصدیق مل جائے۔ اب چونکہ حضرت صالح کے پاس صرف دلیل کا زور تھا، ان کی قوم ان کی بات کی اہمیت کو محسوس نہ کرسکی۔ حضرت صالح جس دین کی طرف بلارہے تھے اس کی اہمیت خدا کی وحی اور زمین و آسمان کی نشانیوں میں غور کرنے سے واضح ہوتی تھی۔ جب کہ ان کی قوم صرف اس دین کی اہمیت سے باخبر تھی جو اکابر قوم کے ملفوظات اور معمولات سے ثابت ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی قوم آپ کے دلائل کے مقابلہ میں لاجواب ہو کر بھی بس ایک قسم کے شبہ کی حالت میں پڑی رہی۔ حضرت صالح، دوسرے تمام پیغمبروں کی طرح، شخصیت اور ذہانت میں اپنی قوم کے ممتاز فرد تھے۔ لوگ امید رکھتے تھے کہ بڑے ہو کر وہ قوم کے ایک کار آمد فرد ثابت ہوں گے۔ مگر وہ بڑی عمر کو پہنچے تو انھوں نے قوم کے مروجہ مذہب پر تنقید شروع کردی۔ یہ دیکھ کر قوم کے لوگوں کو ان کے بارہ میں سخت مایوسی ہوئی۔ انھوںنے کہا، ہم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ تم ہمارے قائم شدہ مذہبی نظام کے ایک ستون بنو گے۔ اس کے برعکس ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمارے مذہبی نظام کو بے بنیادثابت کرنے پر اپنا سارا زور لگائے ہوئے ہو — یہی معاملہ ہر دور میں خدا کے سچے داعیوں کو اپنی قوم کی طرف سے پیش آیا ہے۔

هود 11:63

حضرت صالح نے اپنی قوم کو ایک خدا کی عبادت کی طرف بلایا۔ یہی ہر زمانہ میں تمام پیغمبروں کا مقصد تھا۔ مگر حضرت صالح کی قوم آپ کے پیغام کو قبول نہ کر سکی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ اس کو براہِ راست خدا سے جوڑنے کی بات کرتے تھے، جب کہ قوم کا حال یہ تھا کہ وہ خدا کے نام پر صرف اپنے اعاظم واکابر سے جڑی ہوئی تھی۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخصوص مزاج کی وجہ سے کسی چیز کی اہمیت اور معنویت صرف اس وقت سمجھ پاتے ہیں جب کہ ان کے قومی بزرگوں کے قول وعمل میں اس کی تصدیق مل جائے۔ اب چونکہ حضرت صالح کے پاس صرف دلیل کا زور تھا، ان کی قوم ان کی بات کی اہمیت کو محسوس نہ کرسکی۔ حضرت صالح جس دین کی طرف بلارہے تھے اس کی اہمیت خدا کی وحی اور زمین و آسمان کی نشانیوں میں غور کرنے سے واضح ہوتی تھی۔ جب کہ ان کی قوم صرف اس دین کی اہمیت سے باخبر تھی جو اکابر قوم کے ملفوظات اور معمولات سے ثابت ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی قوم آپ کے دلائل کے مقابلہ میں لاجواب ہو کر بھی بس ایک قسم کے شبہ کی حالت میں پڑی رہی۔ حضرت صالح، دوسرے تمام پیغمبروں کی طرح، شخصیت اور ذہانت میں اپنی قوم کے ممتاز فرد تھے۔ لوگ امید رکھتے تھے کہ بڑے ہو کر وہ قوم کے ایک کار آمد فرد ثابت ہوں گے۔ مگر وہ بڑی عمر کو پہنچے تو انھوں نے قوم کے مروجہ مذہب پر تنقید شروع کردی۔ یہ دیکھ کر قوم کے لوگوں کو ان کے بارہ میں سخت مایوسی ہوئی۔ انھوںنے کہا، ہم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ تم ہمارے قائم شدہ مذہبی نظام کے ایک ستون بنو گے۔ اس کے برعکس ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمارے مذہبی نظام کو بے بنیادثابت کرنے پر اپنا سارا زور لگائے ہوئے ہو — یہی معاملہ ہر دور میں خدا کے سچے داعیوں کو اپنی قوم کی طرف سے پیش آیا ہے۔

هود 11:64

حضرت صالح اپنی قوم سے کہتے تھے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم خدا کی پکڑ میںآجاؤ گے۔ ان کی قوم اگرچہ خدا اور رسالت کی منکر نہ تھی مگر اس نے حضرت صالح کی بات کو ایک مذاق سمجھا۔ کیوں کہ حضرت صالح کے پاس اپنی پیغمبری کو ثابت کرنے کے لیے صرف نظری دلیل تھی اور یہ انسان کی کمزوری ہے کہ ہ وہ صرف نظری دلیل کی بنیاد پر بہت کم اس کے لیے تیار ہوتا ہے کہ ایک مانوس چیز کو چھوڑے اور دوسری غیر مانوس چیز کو اختیار کرلے۔ حضرت صالح کی قوم جب نظری نشانیوں کے آگے جھکنے پر تیار نہ ہوئی تو آخری مرحلہ میں اس کے مطالبہ کے مطابق اس کے لیے حسّی نشانی بھی ظاہر کردی گئی۔ یہ ایک اونٹنی تھی جو لوگوں کے سامنے ٹھوس چٹان کے اندر سے نکل آئی۔ ایسی نشانی کے بارے میں خدا کا قانون ہے کہ جب وہ ظاہر کی جاتی ہے تو اس کے بعد لوگوں کے لیے امتحان کی مزید مہلت باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ حضرت صالح نے اعلان کر دیا کہ اب تم لوگ یا تو توبہ کرکے میری بات مان لو، ورنہ تم سب لوگ ہلاک کرديے جاؤگے۔ مگر جو لوگ نظری دلائل کی قوت کو محسوس نہ کرسکیں وہ حسی دلائل کو دیکھ کر بھی اس سے عبرت پکڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد بھی حضرت صالح کی قوم اپنی سرکشی سے باز نہ آئی۔ حتی کہ اس نے خود اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس کے بعد ان لوگوں کے لیے مزید مہلت کا سوال نہ تھا۔ چنانچہ وہ مٹا دی گئی۔ قوم صالح (ثمود) کا علاقہ شمالی مغربی عرب (الحجر) تھا۔ حضرت صالح کو حکم ہوا کہ تم یہاں سے باہر چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ اپنے مخلص ساتھیوں کو لے کر شام کی طرف چلے گئے۔ اس کے بعد ایک سخت زلزلہ آیااور ساری قوم اس کی لپیٹ میں آکر بری طرح ہلاک ہوگئی۔

هود 11:65

حضرت صالح اپنی قوم سے کہتے تھے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم خدا کی پکڑ میںآجاؤ گے۔ ان کی قوم اگرچہ خدا اور رسالت کی منکر نہ تھی مگر اس نے حضرت صالح کی بات کو ایک مذاق سمجھا۔ کیوں کہ حضرت صالح کے پاس اپنی پیغمبری کو ثابت کرنے کے لیے صرف نظری دلیل تھی اور یہ انسان کی کمزوری ہے کہ ہ وہ صرف نظری دلیل کی بنیاد پر بہت کم اس کے لیے تیار ہوتا ہے کہ ایک مانوس چیز کو چھوڑے اور دوسری غیر مانوس چیز کو اختیار کرلے۔ حضرت صالح کی قوم جب نظری نشانیوں کے آگے جھکنے پر تیار نہ ہوئی تو آخری مرحلہ میں اس کے مطالبہ کے مطابق اس کے لیے حسّی نشانی بھی ظاہر کردی گئی۔ یہ ایک اونٹنی تھی جو لوگوں کے سامنے ٹھوس چٹان کے اندر سے نکل آئی۔ ایسی نشانی کے بارے میں خدا کا قانون ہے کہ جب وہ ظاہر کی جاتی ہے تو اس کے بعد لوگوں کے لیے امتحان کی مزید مہلت باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ حضرت صالح نے اعلان کر دیا کہ اب تم لوگ یا تو توبہ کرکے میری بات مان لو، ورنہ تم سب لوگ ہلاک کرديے جاؤگے۔ مگر جو لوگ نظری دلائل کی قوت کو محسوس نہ کرسکیں وہ حسی دلائل کو دیکھ کر بھی اس سے عبرت پکڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد بھی حضرت صالح کی قوم اپنی سرکشی سے باز نہ آئی۔ حتی کہ اس نے خود اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس کے بعد ان لوگوں کے لیے مزید مہلت کا سوال نہ تھا۔ چنانچہ وہ مٹا دی گئی۔ قوم صالح (ثمود) کا علاقہ شمالی مغربی عرب (الحجر) تھا۔ حضرت صالح کو حکم ہوا کہ تم یہاں سے باہر چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ اپنے مخلص ساتھیوں کو لے کر شام کی طرف چلے گئے۔ اس کے بعد ایک سخت زلزلہ آیااور ساری قوم اس کی لپیٹ میں آکر بری طرح ہلاک ہوگئی۔

هود 11:66

حضرت صالح اپنی قوم سے کہتے تھے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم خدا کی پکڑ میںآجاؤ گے۔ ان کی قوم اگرچہ خدا اور رسالت کی منکر نہ تھی مگر اس نے حضرت صالح کی بات کو ایک مذاق سمجھا۔ کیوں کہ حضرت صالح کے پاس اپنی پیغمبری کو ثابت کرنے کے لیے صرف نظری دلیل تھی اور یہ انسان کی کمزوری ہے کہ ہ وہ صرف نظری دلیل کی بنیاد پر بہت کم اس کے لیے تیار ہوتا ہے کہ ایک مانوس چیز کو چھوڑے اور دوسری غیر مانوس چیز کو اختیار کرلے۔ حضرت صالح کی قوم جب نظری نشانیوں کے آگے جھکنے پر تیار نہ ہوئی تو آخری مرحلہ میں اس کے مطالبہ کے مطابق اس کے لیے حسّی نشانی بھی ظاہر کردی گئی۔ یہ ایک اونٹنی تھی جو لوگوں کے سامنے ٹھوس چٹان کے اندر سے نکل آئی۔ ایسی نشانی کے بارے میں خدا کا قانون ہے کہ جب وہ ظاہر کی جاتی ہے تو اس کے بعد لوگوں کے لیے امتحان کی مزید مہلت باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ حضرت صالح نے اعلان کر دیا کہ اب تم لوگ یا تو توبہ کرکے میری بات مان لو، ورنہ تم سب لوگ ہلاک کرديے جاؤگے۔ مگر جو لوگ نظری دلائل کی قوت کو محسوس نہ کرسکیں وہ حسی دلائل کو دیکھ کر بھی اس سے عبرت پکڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد بھی حضرت صالح کی قوم اپنی سرکشی سے باز نہ آئی۔ حتی کہ اس نے خود اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس کے بعد ان لوگوں کے لیے مزید مہلت کا سوال نہ تھا۔ چنانچہ وہ مٹا دی گئی۔ قوم صالح (ثمود) کا علاقہ شمالی مغربی عرب (الحجر) تھا۔ حضرت صالح کو حکم ہوا کہ تم یہاں سے باہر چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ اپنے مخلص ساتھیوں کو لے کر شام کی طرف چلے گئے۔ اس کے بعد ایک سخت زلزلہ آیااور ساری قوم اس کی لپیٹ میں آکر بری طرح ہلاک ہوگئی۔

هود 11:67

حضرت صالح اپنی قوم سے کہتے تھے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم خدا کی پکڑ میںآجاؤ گے۔ ان کی قوم اگرچہ خدا اور رسالت کی منکر نہ تھی مگر اس نے حضرت صالح کی بات کو ایک مذاق سمجھا۔ کیوں کہ حضرت صالح کے پاس اپنی پیغمبری کو ثابت کرنے کے لیے صرف نظری دلیل تھی اور یہ انسان کی کمزوری ہے کہ ہ وہ صرف نظری دلیل کی بنیاد پر بہت کم اس کے لیے تیار ہوتا ہے کہ ایک مانوس چیز کو چھوڑے اور دوسری غیر مانوس چیز کو اختیار کرلے۔ حضرت صالح کی قوم جب نظری نشانیوں کے آگے جھکنے پر تیار نہ ہوئی تو آخری مرحلہ میں اس کے مطالبہ کے مطابق اس کے لیے حسّی نشانی بھی ظاہر کردی گئی۔ یہ ایک اونٹنی تھی جو لوگوں کے سامنے ٹھوس چٹان کے اندر سے نکل آئی۔ ایسی نشانی کے بارے میں خدا کا قانون ہے کہ جب وہ ظاہر کی جاتی ہے تو اس کے بعد لوگوں کے لیے امتحان کی مزید مہلت باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ حضرت صالح نے اعلان کر دیا کہ اب تم لوگ یا تو توبہ کرکے میری بات مان لو، ورنہ تم سب لوگ ہلاک کرديے جاؤگے۔ مگر جو لوگ نظری دلائل کی قوت کو محسوس نہ کرسکیں وہ حسی دلائل کو دیکھ کر بھی اس سے عبرت پکڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد بھی حضرت صالح کی قوم اپنی سرکشی سے باز نہ آئی۔ حتی کہ اس نے خود اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس کے بعد ان لوگوں کے لیے مزید مہلت کا سوال نہ تھا۔ چنانچہ وہ مٹا دی گئی۔ قوم صالح (ثمود) کا علاقہ شمالی مغربی عرب (الحجر) تھا۔ حضرت صالح کو حکم ہوا کہ تم یہاں سے باہر چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ اپنے مخلص ساتھیوں کو لے کر شام کی طرف چلے گئے۔ اس کے بعد ایک سخت زلزلہ آیااور ساری قوم اس کی لپیٹ میں آکر بری طرح ہلاک ہوگئی۔

هود 11:68

حضرت صالح اپنی قوم سے کہتے تھے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم خدا کی پکڑ میںآجاؤ گے۔ ان کی قوم اگرچہ خدا اور رسالت کی منکر نہ تھی مگر اس نے حضرت صالح کی بات کو ایک مذاق سمجھا۔ کیوں کہ حضرت صالح کے پاس اپنی پیغمبری کو ثابت کرنے کے لیے صرف نظری دلیل تھی اور یہ انسان کی کمزوری ہے کہ ہ وہ صرف نظری دلیل کی بنیاد پر بہت کم اس کے لیے تیار ہوتا ہے کہ ایک مانوس چیز کو چھوڑے اور دوسری غیر مانوس چیز کو اختیار کرلے۔ حضرت صالح کی قوم جب نظری نشانیوں کے آگے جھکنے پر تیار نہ ہوئی تو آخری مرحلہ میں اس کے مطالبہ کے مطابق اس کے لیے حسّی نشانی بھی ظاہر کردی گئی۔ یہ ایک اونٹنی تھی جو لوگوں کے سامنے ٹھوس چٹان کے اندر سے نکل آئی۔ ایسی نشانی کے بارے میں خدا کا قانون ہے کہ جب وہ ظاہر کی جاتی ہے تو اس کے بعد لوگوں کے لیے امتحان کی مزید مہلت باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ حضرت صالح نے اعلان کر دیا کہ اب تم لوگ یا تو توبہ کرکے میری بات مان لو، ورنہ تم سب لوگ ہلاک کرديے جاؤگے۔ مگر جو لوگ نظری دلائل کی قوت کو محسوس نہ کرسکیں وہ حسی دلائل کو دیکھ کر بھی اس سے عبرت پکڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد بھی حضرت صالح کی قوم اپنی سرکشی سے باز نہ آئی۔ حتی کہ اس نے خود اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس کے بعد ان لوگوں کے لیے مزید مہلت کا سوال نہ تھا۔ چنانچہ وہ مٹا دی گئی۔ قوم صالح (ثمود) کا علاقہ شمالی مغربی عرب (الحجر) تھا۔ حضرت صالح کو حکم ہوا کہ تم یہاں سے باہر چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ اپنے مخلص ساتھیوں کو لے کر شام کی طرف چلے گئے۔ اس کے بعد ایک سخت زلزلہ آیااور ساری قوم اس کی لپیٹ میں آکر بری طرح ہلاک ہوگئی۔

هود 11:69

حضرت ابراہیم کی عمر تقریباً سوسال ہوچکی تھی کہ ایک روز چند انتہائی خوب صورت نوجوان ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ حضرت ابراہیم نے ان کو مہمان سمجھ کر فوراً ان کے کھانے کا انتظام کیا۔ مگر وہ انسان نہیں تھے بلکہ خداکے فرشتے تھے۔ وہ بیک وقت دو مقصد کے لیے آئے تھے۔ ایک، حضرت ابراہیم کو اولاد کی بشارت دینا۔ دوسرے، حضرت لوط کی قوم کو ہلاک کرنا جو انکار اور سرکشی کی آخری حد پر پہنچ چکی تھی۔ حضرت ابراہیم اور ان کی اہلیہ کو اسحاق (بیٹے) اور یعقوب (پوتے) کی بشارت دینا عام معنوں میں محض اولاد کی بشارت نہ تھی۔ یہ صالح اور داعی انسانوں کا ایک گھرانا وجود میں لانا تھا۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ اکثر کوئی ’’گھرانا‘‘ ہوتا ہے جو دین حق کی خدمت کے لیے کھڑا ہوتاہے۔ نبیوں کی تاریخ اور نبیوں کے بعد ان کے سچے پیروؤں کے واقعات یہی بتاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص جس پرسچائی کا انکشاف ہوتا ہے وہ اپنے زمانہ کے لوگوں کی نظر میں ایک معمولی انسان ہوتاہے۔ اس بنا پر عام لوگوں کے لیے اس کے مقام کو پہچاننا اور اس کا ساتھ دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مگر اس کے اپنے گھر والوں کے لیے ذاتی رشتہ ایک مزید وجہ بن جاتاہے۔ جس چیز کو باہر والے ظاہر بینی کی بنا پر دیکھ نہیں پاتے، گھر والے ذاتی تعلق کی بنا پر اس کو محسوس کرلیتے ہیں۔ اور اس کے مشن میںاس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔

هود 11:70

حضرت ابراہیم کی عمر تقریباً سوسال ہوچکی تھی کہ ایک روز چند انتہائی خوب صورت نوجوان ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ حضرت ابراہیم نے ان کو مہمان سمجھ کر فوراً ان کے کھانے کا انتظام کیا۔ مگر وہ انسان نہیں تھے بلکہ خداکے فرشتے تھے۔ وہ بیک وقت دو مقصد کے لیے آئے تھے۔ ایک، حضرت ابراہیم کو اولاد کی بشارت دینا۔ دوسرے، حضرت لوط کی قوم کو ہلاک کرنا جو انکار اور سرکشی کی آخری حد پر پہنچ چکی تھی۔ حضرت ابراہیم اور ان کی اہلیہ کو اسحاق (بیٹے) اور یعقوب (پوتے) کی بشارت دینا عام معنوں میں محض اولاد کی بشارت نہ تھی۔ یہ صالح اور داعی انسانوں کا ایک گھرانا وجود میں لانا تھا۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ اکثر کوئی ’’گھرانا‘‘ ہوتا ہے جو دین حق کی خدمت کے لیے کھڑا ہوتاہے۔ نبیوں کی تاریخ اور نبیوں کے بعد ان کے سچے پیروؤں کے واقعات یہی بتاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص جس پرسچائی کا انکشاف ہوتا ہے وہ اپنے زمانہ کے لوگوں کی نظر میں ایک معمولی انسان ہوتاہے۔ اس بنا پر عام لوگوں کے لیے اس کے مقام کو پہچاننا اور اس کا ساتھ دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مگر اس کے اپنے گھر والوں کے لیے ذاتی رشتہ ایک مزید وجہ بن جاتاہے۔ جس چیز کو باہر والے ظاہر بینی کی بنا پر دیکھ نہیں پاتے، گھر والے ذاتی تعلق کی بنا پر اس کو محسوس کرلیتے ہیں۔ اور اس کے مشن میںاس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔

هود 11:71

حضرت ابراہیم کی عمر تقریباً سوسال ہوچکی تھی کہ ایک روز چند انتہائی خوب صورت نوجوان ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ حضرت ابراہیم نے ان کو مہمان سمجھ کر فوراً ان کے کھانے کا انتظام کیا۔ مگر وہ انسان نہیں تھے بلکہ خداکے فرشتے تھے۔ وہ بیک وقت دو مقصد کے لیے آئے تھے۔ ایک، حضرت ابراہیم کو اولاد کی بشارت دینا۔ دوسرے، حضرت لوط کی قوم کو ہلاک کرنا جو انکار اور سرکشی کی آخری حد پر پہنچ چکی تھی۔ حضرت ابراہیم اور ان کی اہلیہ کو اسحاق (بیٹے) اور یعقوب (پوتے) کی بشارت دینا عام معنوں میں محض اولاد کی بشارت نہ تھی۔ یہ صالح اور داعی انسانوں کا ایک گھرانا وجود میں لانا تھا۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ اکثر کوئی ’’گھرانا‘‘ ہوتا ہے جو دین حق کی خدمت کے لیے کھڑا ہوتاہے۔ نبیوں کی تاریخ اور نبیوں کے بعد ان کے سچے پیروؤں کے واقعات یہی بتاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص جس پرسچائی کا انکشاف ہوتا ہے وہ اپنے زمانہ کے لوگوں کی نظر میں ایک معمولی انسان ہوتاہے۔ اس بنا پر عام لوگوں کے لیے اس کے مقام کو پہچاننا اور اس کا ساتھ دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مگر اس کے اپنے گھر والوں کے لیے ذاتی رشتہ ایک مزید وجہ بن جاتاہے۔ جس چیز کو باہر والے ظاہر بینی کی بنا پر دیکھ نہیں پاتے، گھر والے ذاتی تعلق کی بنا پر اس کو محسوس کرلیتے ہیں۔ اور اس کے مشن میںاس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔

هود 11:72

حضرت ابراہیم کی عمر تقریباً سوسال ہوچکی تھی کہ ایک روز چند انتہائی خوب صورت نوجوان ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ حضرت ابراہیم نے ان کو مہمان سمجھ کر فوراً ان کے کھانے کا انتظام کیا۔ مگر وہ انسان نہیں تھے بلکہ خداکے فرشتے تھے۔ وہ بیک وقت دو مقصد کے لیے آئے تھے۔ ایک، حضرت ابراہیم کو اولاد کی بشارت دینا۔ دوسرے، حضرت لوط کی قوم کو ہلاک کرنا جو انکار اور سرکشی کی آخری حد پر پہنچ چکی تھی۔ حضرت ابراہیم اور ان کی اہلیہ کو اسحاق (بیٹے) اور یعقوب (پوتے) کی بشارت دینا عام معنوں میں محض اولاد کی بشارت نہ تھی۔ یہ صالح اور داعی انسانوں کا ایک گھرانا وجود میں لانا تھا۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ اکثر کوئی ’’گھرانا‘‘ ہوتا ہے جو دین حق کی خدمت کے لیے کھڑا ہوتاہے۔ نبیوں کی تاریخ اور نبیوں کے بعد ان کے سچے پیروؤں کے واقعات یہی بتاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص جس پرسچائی کا انکشاف ہوتا ہے وہ اپنے زمانہ کے لوگوں کی نظر میں ایک معمولی انسان ہوتاہے۔ اس بنا پر عام لوگوں کے لیے اس کے مقام کو پہچاننا اور اس کا ساتھ دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مگر اس کے اپنے گھر والوں کے لیے ذاتی رشتہ ایک مزید وجہ بن جاتاہے۔ جس چیز کو باہر والے ظاہر بینی کی بنا پر دیکھ نہیں پاتے، گھر والے ذاتی تعلق کی بنا پر اس کو محسوس کرلیتے ہیں۔ اور اس کے مشن میںاس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔

هود 11:73

حضرت ابراہیم کی عمر تقریباً سوسال ہوچکی تھی کہ ایک روز چند انتہائی خوب صورت نوجوان ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ حضرت ابراہیم نے ان کو مہمان سمجھ کر فوراً ان کے کھانے کا انتظام کیا۔ مگر وہ انسان نہیں تھے بلکہ خداکے فرشتے تھے۔ وہ بیک وقت دو مقصد کے لیے آئے تھے۔ ایک، حضرت ابراہیم کو اولاد کی بشارت دینا۔ دوسرے، حضرت لوط کی قوم کو ہلاک کرنا جو انکار اور سرکشی کی آخری حد پر پہنچ چکی تھی۔ حضرت ابراہیم اور ان کی اہلیہ کو اسحاق (بیٹے) اور یعقوب (پوتے) کی بشارت دینا عام معنوں میں محض اولاد کی بشارت نہ تھی۔ یہ صالح اور داعی انسانوں کا ایک گھرانا وجود میں لانا تھا۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ اکثر کوئی ’’گھرانا‘‘ ہوتا ہے جو دین حق کی خدمت کے لیے کھڑا ہوتاہے۔ نبیوں کی تاریخ اور نبیوں کے بعد ان کے سچے پیروؤں کے واقعات یہی بتاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص جس پرسچائی کا انکشاف ہوتا ہے وہ اپنے زمانہ کے لوگوں کی نظر میں ایک معمولی انسان ہوتاہے۔ اس بنا پر عام لوگوں کے لیے اس کے مقام کو پہچاننا اور اس کا ساتھ دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مگر اس کے اپنے گھر والوں کے لیے ذاتی رشتہ ایک مزید وجہ بن جاتاہے۔ جس چیز کو باہر والے ظاہر بینی کی بنا پر دیکھ نہیں پاتے، گھر والے ذاتی تعلق کی بنا پر اس کو محسوس کرلیتے ہیں۔ اور اس کے مشن میںاس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔

هود 11:74

حضرت ابراہیم کی یہ گفتگو ان فرشتوں سے ہوئی جو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے آئے تھے۔ چونکہ یہ فرشتے خدا کی طرف سے اور اس کے حکم کی تعمیل میں آئے تھے، اس لیے خدا نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔ پیغمبر اور فرشتوں کے درمیان اس گفتگو کا ایک جزء سورۂ عنکبوت (آیت 32 ) میں مذکور ہے۔ اور اس کا تفصیلی ذکر موجودہ بائبل (پیدائش باب 18 ) میں آیا ہے۔ حضرت ابراہیم کی دعا قوم لوط کے حق میں منظور نہیں ہوئی۔ اسی طرح اس سے پہلے حضرت نوح کی دعا اپنے بیٹے کے لیے منظو ر نہیں ہوئی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغفرت کی دعا معروف معنوں میں کوئی سفارش نہیں ہے جو کہ ایک شخص دوسرے شخص کے لیے کرے۔ اور وہ دعا کرنے والے کی بزرگی کی بنا پر اس کے حق میں مان لی جائے۔ دعا خود اپنے آپ کو خدا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اگر حضرت نوح کے بیٹے یا حضرت لوط کی قوم کے لوگوں کے اندر خود دعا کا جذبہ ابھر آتا اور وہ اپنی نجات کے لیے خدا کو پکارتے تو یقیناً خدا انھیں معاف کردیتا اور اپنی رحمت ان کی طرف بھیج ديتا ۔ عذاب کا لوٹا دیا جانا ممکن ہے، جیسا کہ حضرت یونس کی قوم کی مثال سے ثابت ہوتاہے۔ مگر وہ جب بھی لوٹے گا خود زیرِ سزا افراد کی دعاؤں سے لوٹے گا، نہ کہ کسی غیر شخص کی دعاؤں سے، خواہ یہ غیر شخص پیغمبر ہی کیوں نہ ہو۔ ایک شخص کو دوسرے شخص کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے۔ اور ہرزمانہ میں پیغمبروں نے اور صالح لوگوں نے دوسروں کے لیے دعائیں کی ہیں۔ مگر یہ دعا حقیقۃً خود دعا کرنے والے کے حلیم اور اوّاہ اور منیب ہونے کا اظہار ہوتاہے۔ اللہ کا ایک بندہ جو اللہ سے ڈرتاہو وہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر کانپ اٹھتا ہے اور اپنے لیے اور دوسروں کے لیے دعائیں کرنے لگتا ہے ۔ تاہم کسی کی دعا دوسرے کے حق میں اسی وقت مفیدہوگی جب کہ وہ خود بھی اللہ سے ڈر کر اللہ کو پکار رہا ہو۔

هود 11:75

حضرت ابراہیم کی یہ گفتگو ان فرشتوں سے ہوئی جو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے آئے تھے۔ چونکہ یہ فرشتے خدا کی طرف سے اور اس کے حکم کی تعمیل میں آئے تھے، اس لیے خدا نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔ پیغمبر اور فرشتوں کے درمیان اس گفتگو کا ایک جزء سورۂ عنکبوت (آیت 32 ) میں مذکور ہے۔ اور اس کا تفصیلی ذکر موجودہ بائبل (پیدائش باب 18 ) میں آیا ہے۔ حضرت ابراہیم کی دعا قوم لوط کے حق میں منظور نہیں ہوئی۔ اسی طرح اس سے پہلے حضرت نوح کی دعا اپنے بیٹے کے لیے منظو ر نہیں ہوئی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغفرت کی دعا معروف معنوں میں کوئی سفارش نہیں ہے جو کہ ایک شخص دوسرے شخص کے لیے کرے۔ اور وہ دعا کرنے والے کی بزرگی کی بنا پر اس کے حق میں مان لی جائے۔ دعا خود اپنے آپ کو خدا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اگر حضرت نوح کے بیٹے یا حضرت لوط کی قوم کے لوگوں کے اندر خود دعا کا جذبہ ابھر آتا اور وہ اپنی نجات کے لیے خدا کو پکارتے تو یقیناً خدا انھیں معاف کردیتا اور اپنی رحمت ان کی طرف بھیج ديتا ۔ عذاب کا لوٹا دیا جانا ممکن ہے، جیسا کہ حضرت یونس کی قوم کی مثال سے ثابت ہوتاہے۔ مگر وہ جب بھی لوٹے گا خود زیرِ سزا افراد کی دعاؤں سے لوٹے گا، نہ کہ کسی غیر شخص کی دعاؤں سے، خواہ یہ غیر شخص پیغمبر ہی کیوں نہ ہو۔ ایک شخص کو دوسرے شخص کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے۔ اور ہرزمانہ میں پیغمبروں نے اور صالح لوگوں نے دوسروں کے لیے دعائیں کی ہیں۔ مگر یہ دعا حقیقۃً خود دعا کرنے والے کے حلیم اور اوّاہ اور منیب ہونے کا اظہار ہوتاہے۔ اللہ کا ایک بندہ جو اللہ سے ڈرتاہو وہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر کانپ اٹھتا ہے اور اپنے لیے اور دوسروں کے لیے دعائیں کرنے لگتا ہے ۔ تاہم کسی کی دعا دوسرے کے حق میں اسی وقت مفیدہوگی جب کہ وہ خود بھی اللہ سے ڈر کر اللہ کو پکار رہا ہو۔

هود 11:76

حضرت ابراہیم کی یہ گفتگو ان فرشتوں سے ہوئی جو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے آئے تھے۔ چونکہ یہ فرشتے خدا کی طرف سے اور اس کے حکم کی تعمیل میں آئے تھے، اس لیے خدا نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔ پیغمبر اور فرشتوں کے درمیان اس گفتگو کا ایک جزء سورۂ عنکبوت (آیت 32 ) میں مذکور ہے۔ اور اس کا تفصیلی ذکر موجودہ بائبل (پیدائش باب 18 ) میں آیا ہے۔ حضرت ابراہیم کی دعا قوم لوط کے حق میں منظور نہیں ہوئی۔ اسی طرح اس سے پہلے حضرت نوح کی دعا اپنے بیٹے کے لیے منظو ر نہیں ہوئی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغفرت کی دعا معروف معنوں میں کوئی سفارش نہیں ہے جو کہ ایک شخص دوسرے شخص کے لیے کرے۔ اور وہ دعا کرنے والے کی بزرگی کی بنا پر اس کے حق میں مان لی جائے۔ دعا خود اپنے آپ کو خدا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اگر حضرت نوح کے بیٹے یا حضرت لوط کی قوم کے لوگوں کے اندر خود دعا کا جذبہ ابھر آتا اور وہ اپنی نجات کے لیے خدا کو پکارتے تو یقیناً خدا انھیں معاف کردیتا اور اپنی رحمت ان کی طرف بھیج ديتا ۔ عذاب کا لوٹا دیا جانا ممکن ہے، جیسا کہ حضرت یونس کی قوم کی مثال سے ثابت ہوتاہے۔ مگر وہ جب بھی لوٹے گا خود زیرِ سزا افراد کی دعاؤں سے لوٹے گا، نہ کہ کسی غیر شخص کی دعاؤں سے، خواہ یہ غیر شخص پیغمبر ہی کیوں نہ ہو۔ ایک شخص کو دوسرے شخص کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے۔ اور ہرزمانہ میں پیغمبروں نے اور صالح لوگوں نے دوسروں کے لیے دعائیں کی ہیں۔ مگر یہ دعا حقیقۃً خود دعا کرنے والے کے حلیم اور اوّاہ اور منیب ہونے کا اظہار ہوتاہے۔ اللہ کا ایک بندہ جو اللہ سے ڈرتاہو وہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر کانپ اٹھتا ہے اور اپنے لیے اور دوسروں کے لیے دعائیں کرنے لگتا ہے ۔ تاہم کسی کی دعا دوسرے کے حق میں اسی وقت مفیدہوگی جب کہ وہ خود بھی اللہ سے ڈر کر اللہ کو پکار رہا ہو۔

هود 11:77

حضرت لوط کے پاس جو فرشتے آئے وہ عذاب کے فرشتے تھے۔ مگر وہ نہایت خوب صورت نوجوانوں کی صورت میں بستی کے اندر داخل ہوئے۔ یہ دراصل ان کو آخری طورپر مجرم ثابت کرنے کے لیے تھا۔ آدمی جب مسلسل ایک برائی کرتا ہے تو اس کے بارے میں وہ بالکل بے حس ہوجاتا ہے۔ یہی حال قوم لوط کا تھا۔ وہ اب کھلم کھلا بدکاری کرنے لگے تھے۔ چنانچہ جب انھوںنے دیکھا کہ خوبصورت لڑکے حضرت لوط کے گھر آئے ہوئے ہیں تو وہ شہوت کے جذبات ليے ہوئے آپ کے گھر کی طرف دوڑپڑے۔ انھوںنے انتہائی بے حیائی کے ساتھ مطالبہ شروع کردیا کہ ان لڑکوں کو ہمارے حوالے کردیا جائے۔ حضرت لوط نے شریر لوگوں کو اس طرح آتے ہوئے دیکھا تو آپ پر سخت شرم اور غیرت طاری ہوئی۔ آپ نے کہا ’’یہ قوم کی بیٹیاں ہیں، ان میں سے جس سے چاہو نکاح کرلو اور اپنی فطری خواہش پوری کرو‘‘۔ کسی قوم میں جو بڑے بوڑھے ہوتے ہیں وہ قوم کی تمام لڑکیوں کو بیٹی کہہ کر پکارتے ہیں۔ اسی معنی میں حضرت لوط نے قوم کی بیٹیوں کو ’’میری بیٹیاں‘‘ فرمایا۔مگر ان لوگوں نے حضرت لوط کی جائز پیش کش کو ٹھکرا دیا اور ناجائز کی طرف بدستور دوڑتے رہے۔ اس سے آخری طور پر ثابت ہوگیا کہ یہ مجرم لوگ ہیں اور یقیناً اس قابل ہیں کہ انھیں ہلاک کردیا جائے۔ چنانچہ اس کے بعد وہ سب کے سب ہلاک کرديے گئے۔ ’’کیا تم میں ایک بھی رجلِ رشید نہیں‘‘— یہ اس بندۂ خدا کا آخری کلمہ ہوتا ہے جس کے پاس شریر لوگوں کو روکنے کے لیے مادی قوت نہ ہو اور معقولیت کی تمام باتیں ان کو روکنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی ہوں۔ اس وقت اس طرح کا جملہ بول کر وہ قوم کی غیرت کو پکارتا ہے اور اس کے ضمیر کو بیدار کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر ایسا ہو کہ لوگ بدستور بے حس بنے رہیں تو اس کا مطلب ہوتاہے کہ ان کے اندر انسانیت اور شرافت کاکوئی درجہ باقی نہیں رہا۔

هود 11:78

حضرت لوط کے پاس جو فرشتے آئے وہ عذاب کے فرشتے تھے۔ مگر وہ نہایت خوب صورت نوجوانوں کی صورت میں بستی کے اندر داخل ہوئے۔ یہ دراصل ان کو آخری طورپر مجرم ثابت کرنے کے لیے تھا۔ آدمی جب مسلسل ایک برائی کرتا ہے تو اس کے بارے میں وہ بالکل بے حس ہوجاتا ہے۔ یہی حال قوم لوط کا تھا۔ وہ اب کھلم کھلا بدکاری کرنے لگے تھے۔ چنانچہ جب انھوںنے دیکھا کہ خوبصورت لڑکے حضرت لوط کے گھر آئے ہوئے ہیں تو وہ شہوت کے جذبات ليے ہوئے آپ کے گھر کی طرف دوڑپڑے۔ انھوںنے انتہائی بے حیائی کے ساتھ مطالبہ شروع کردیا کہ ان لڑکوں کو ہمارے حوالے کردیا جائے۔ حضرت لوط نے شریر لوگوں کو اس طرح آتے ہوئے دیکھا تو آپ پر سخت شرم اور غیرت طاری ہوئی۔ آپ نے کہا ’’یہ قوم کی بیٹیاں ہیں، ان میں سے جس سے چاہو نکاح کرلو اور اپنی فطری خواہش پوری کرو‘‘۔ کسی قوم میں جو بڑے بوڑھے ہوتے ہیں وہ قوم کی تمام لڑکیوں کو بیٹی کہہ کر پکارتے ہیں۔ اسی معنی میں حضرت لوط نے قوم کی بیٹیوں کو ’’میری بیٹیاں‘‘ فرمایا۔مگر ان لوگوں نے حضرت لوط کی جائز پیش کش کو ٹھکرا دیا اور ناجائز کی طرف بدستور دوڑتے رہے۔ اس سے آخری طور پر ثابت ہوگیا کہ یہ مجرم لوگ ہیں اور یقیناً اس قابل ہیں کہ انھیں ہلاک کردیا جائے۔ چنانچہ اس کے بعد وہ سب کے سب ہلاک کرديے گئے۔ ’’کیا تم میں ایک بھی رجلِ رشید نہیں‘‘— یہ اس بندۂ خدا کا آخری کلمہ ہوتا ہے جس کے پاس شریر لوگوں کو روکنے کے لیے مادی قوت نہ ہو اور معقولیت کی تمام باتیں ان کو روکنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی ہوں۔ اس وقت اس طرح کا جملہ بول کر وہ قوم کی غیرت کو پکارتا ہے اور اس کے ضمیر کو بیدار کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر ایسا ہو کہ لوگ بدستور بے حس بنے رہیں تو اس کا مطلب ہوتاہے کہ ان کے اندر انسانیت اور شرافت کاکوئی درجہ باقی نہیں رہا۔

هود 11:79

حضرت لوط کے پاس جو فرشتے آئے وہ عذاب کے فرشتے تھے۔ مگر وہ نہایت خوب صورت نوجوانوں کی صورت میں بستی کے اندر داخل ہوئے۔ یہ دراصل ان کو آخری طورپر مجرم ثابت کرنے کے لیے تھا۔ آدمی جب مسلسل ایک برائی کرتا ہے تو اس کے بارے میں وہ بالکل بے حس ہوجاتا ہے۔ یہی حال قوم لوط کا تھا۔ وہ اب کھلم کھلا بدکاری کرنے لگے تھے۔ چنانچہ جب انھوںنے دیکھا کہ خوبصورت لڑکے حضرت لوط کے گھر آئے ہوئے ہیں تو وہ شہوت کے جذبات ليے ہوئے آپ کے گھر کی طرف دوڑپڑے۔ انھوںنے انتہائی بے حیائی کے ساتھ مطالبہ شروع کردیا کہ ان لڑکوں کو ہمارے حوالے کردیا جائے۔ حضرت لوط نے شریر لوگوں کو اس طرح آتے ہوئے دیکھا تو آپ پر سخت شرم اور غیرت طاری ہوئی۔ آپ نے کہا ’’یہ قوم کی بیٹیاں ہیں، ان میں سے جس سے چاہو نکاح کرلو اور اپنی فطری خواہش پوری کرو‘‘۔ کسی قوم میں جو بڑے بوڑھے ہوتے ہیں وہ قوم کی تمام لڑکیوں کو بیٹی کہہ کر پکارتے ہیں۔ اسی معنی میں حضرت لوط نے قوم کی بیٹیوں کو ’’میری بیٹیاں‘‘ فرمایا۔مگر ان لوگوں نے حضرت لوط کی جائز پیش کش کو ٹھکرا دیا اور ناجائز کی طرف بدستور دوڑتے رہے۔ اس سے آخری طور پر ثابت ہوگیا کہ یہ مجرم لوگ ہیں اور یقیناً اس قابل ہیں کہ انھیں ہلاک کردیا جائے۔ چنانچہ اس کے بعد وہ سب کے سب ہلاک کرديے گئے۔ ’’کیا تم میں ایک بھی رجلِ رشید نہیں‘‘— یہ اس بندۂ خدا کا آخری کلمہ ہوتا ہے جس کے پاس شریر لوگوں کو روکنے کے لیے مادی قوت نہ ہو اور معقولیت کی تمام باتیں ان کو روکنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی ہوں۔ اس وقت اس طرح کا جملہ بول کر وہ قوم کی غیرت کو پکارتا ہے اور اس کے ضمیر کو بیدار کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر ایسا ہو کہ لوگ بدستور بے حس بنے رہیں تو اس کا مطلب ہوتاہے کہ ان کے اندر انسانیت اور شرافت کاکوئی درجہ باقی نہیں رہا۔

هود 11:80

حضرت لوط ابتداء ً آنے والے نوجوانوں کو انسان سمجھ رہے تھے۔جب حضرت لوط کی پریشانی بڑھی اور وہ اپنے کو خطرہ ميں محسوس کرنے لگے تو انھوںنے بتایا کہ ہم فرشتے ہیں۔ اور خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ یعنی یہ معاملہ انسانی معاملہ نہیں بلکہ خدائی معاملہ ہے۔ وہ نہ ہمارا کچھ بگاڑ سکیں گے اور نہ تمھارا۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب قوم لوط کے لوگ آگے بڑھنے سے نہ رکے تو ایک فرشتہ نے اپنا بازو گھمایا۔ اس کے بعد وہ سب کے سب اندھے ہوگئے اور یہ کہتے ہوئے لوٹ گئے کہ— بھاگو، لوط کے مہمان تو بڑے جادو گر معلوم ہوتے ہیں۔ جب خدا کسی قوم کو اس کی سرکشی کی بنا پر ہلاک کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ اس پورے علاقے کے لیے ایک عام حکم ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اس علاقے میں بسنے والے تمام جاندار خدائی عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ البتہ خدا کے خصوصی انتظامات کے تحت وہ لوگ اس سے بچا لیے جاتے ہیں جنھوں نے ان سرکش لوگوں کے اوپر حق کا اعلان کیا ہو۔ اعلانِ حق خدا کی پکڑ سے بچنے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ موجودہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ حضرت لوط کی بیوی کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ وہ دل سے حضرت لوط کے ساتھ نہ تھی۔ مگر آخر وقت میں جب حضرت لوط یہ کہہ کر بستی سے نکلے کہ صبح تک یہاں عذاب آجائے گا تو وہ بھی آپ کے قافلہ کے ساتھ ہوگئی۔ تاہم ابھی یہ لوگ راستے میں تھے کہ پیچھے زلزلہ اور طوفان کا شور سنائی دیا۔ حضرت لوط اور ا ن کے مخلص ساتھیوں نے پیچھے توجہ نہ دی۔ مگر حضرت لوط کی بیوی پیچھے مڑ کر دیکھنے لگی اور جب اس کو دھواں اور شور دکھائی دیا تو اس کی زبان سے نکلا واقوماہ (ہائے میری قوم)۔اس وقت عذاب کا ایک پتھر آکر اس کو لگا اور وہیں اس کا خاتمہ ہوگیا۔ اس میں سبق یہ ہے کہ ایک شخص اگر واقعۃً خدا اور رسول کا وفادار نہیں ہے تو کسی اور محرک کے تحت قافلۂ حق کے ساتھ لگ جانے سے وہ نجات نہیں پائے گا۔ اس کی کمزوری کہیں نہ کہیں ظاہر ہوگی اور وہیں وہ بیٹھ کر رہ جائے گا۔

هود 11:81

حضرت لوط ابتداء ً آنے والے نوجوانوں کو انسان سمجھ رہے تھے۔جب حضرت لوط کی پریشانی بڑھی اور وہ اپنے کو خطرہ ميں محسوس کرنے لگے تو انھوںنے بتایا کہ ہم فرشتے ہیں۔ اور خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ یعنی یہ معاملہ انسانی معاملہ نہیں بلکہ خدائی معاملہ ہے۔ وہ نہ ہمارا کچھ بگاڑ سکیں گے اور نہ تمھارا۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب قوم لوط کے لوگ آگے بڑھنے سے نہ رکے تو ایک فرشتہ نے اپنا بازو گھمایا۔ اس کے بعد وہ سب کے سب اندھے ہوگئے اور یہ کہتے ہوئے لوٹ گئے کہ— بھاگو، لوط کے مہمان تو بڑے جادو گر معلوم ہوتے ہیں۔ جب خدا کسی قوم کو اس کی سرکشی کی بنا پر ہلاک کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ اس پورے علاقے کے لیے ایک عام حکم ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اس علاقے میں بسنے والے تمام جاندار خدائی عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ البتہ خدا کے خصوصی انتظامات کے تحت وہ لوگ اس سے بچا لیے جاتے ہیں جنھوں نے ان سرکش لوگوں کے اوپر حق کا اعلان کیا ہو۔ اعلانِ حق خدا کی پکڑ سے بچنے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ موجودہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ حضرت لوط کی بیوی کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ وہ دل سے حضرت لوط کے ساتھ نہ تھی۔ مگر آخر وقت میں جب حضرت لوط یہ کہہ کر بستی سے نکلے کہ صبح تک یہاں عذاب آجائے گا تو وہ بھی آپ کے قافلہ کے ساتھ ہوگئی۔ تاہم ابھی یہ لوگ راستے میں تھے کہ پیچھے زلزلہ اور طوفان کا شور سنائی دیا۔ حضرت لوط اور ا ن کے مخلص ساتھیوں نے پیچھے توجہ نہ دی۔ مگر حضرت لوط کی بیوی پیچھے مڑ کر دیکھنے لگی اور جب اس کو دھواں اور شور دکھائی دیا تو اس کی زبان سے نکلا واقوماہ (ہائے میری قوم)۔اس وقت عذاب کا ایک پتھر آکر اس کو لگا اور وہیں اس کا خاتمہ ہوگیا۔ اس میں سبق یہ ہے کہ ایک شخص اگر واقعۃً خدا اور رسول کا وفادار نہیں ہے تو کسی اور محرک کے تحت قافلۂ حق کے ساتھ لگ جانے سے وہ نجات نہیں پائے گا۔ اس کی کمزوری کہیں نہ کہیں ظاہر ہوگی اور وہیں وہ بیٹھ کر رہ جائے گا۔

هود 11:82

حضرت لوط ابتداء ً آنے والے نوجوانوں کو انسان سمجھ رہے تھے۔جب حضرت لوط کی پریشانی بڑھی اور وہ اپنے کو خطرہ ميں محسوس کرنے لگے تو انھوںنے بتایا کہ ہم فرشتے ہیں۔ اور خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ یعنی یہ معاملہ انسانی معاملہ نہیں بلکہ خدائی معاملہ ہے۔ وہ نہ ہمارا کچھ بگاڑ سکیں گے اور نہ تمھارا۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب قوم لوط کے لوگ آگے بڑھنے سے نہ رکے تو ایک فرشتہ نے اپنا بازو گھمایا۔ اس کے بعد وہ سب کے سب اندھے ہوگئے اور یہ کہتے ہوئے لوٹ گئے کہ— بھاگو، لوط کے مہمان تو بڑے جادو گر معلوم ہوتے ہیں۔ جب خدا کسی قوم کو اس کی سرکشی کی بنا پر ہلاک کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ اس پورے علاقے کے لیے ایک عام حکم ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اس علاقے میں بسنے والے تمام جاندار خدائی عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ البتہ خدا کے خصوصی انتظامات کے تحت وہ لوگ اس سے بچا لیے جاتے ہیں جنھوں نے ان سرکش لوگوں کے اوپر حق کا اعلان کیا ہو۔ اعلانِ حق خدا کی پکڑ سے بچنے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ موجودہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ حضرت لوط کی بیوی کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ وہ دل سے حضرت لوط کے ساتھ نہ تھی۔ مگر آخر وقت میں جب حضرت لوط یہ کہہ کر بستی سے نکلے کہ صبح تک یہاں عذاب آجائے گا تو وہ بھی آپ کے قافلہ کے ساتھ ہوگئی۔ تاہم ابھی یہ لوگ راستے میں تھے کہ پیچھے زلزلہ اور طوفان کا شور سنائی دیا۔ حضرت لوط اور ا ن کے مخلص ساتھیوں نے پیچھے توجہ نہ دی۔ مگر حضرت لوط کی بیوی پیچھے مڑ کر دیکھنے لگی اور جب اس کو دھواں اور شور دکھائی دیا تو اس کی زبان سے نکلا واقوماہ (ہائے میری قوم)۔اس وقت عذاب کا ایک پتھر آکر اس کو لگا اور وہیں اس کا خاتمہ ہوگیا۔ اس میں سبق یہ ہے کہ ایک شخص اگر واقعۃً خدا اور رسول کا وفادار نہیں ہے تو کسی اور محرک کے تحت قافلۂ حق کے ساتھ لگ جانے سے وہ نجات نہیں پائے گا۔ اس کی کمزوری کہیں نہ کہیں ظاہر ہوگی اور وہیں وہ بیٹھ کر رہ جائے گا۔

هود 11:83

حضرت لوط ابتداء ً آنے والے نوجوانوں کو انسان سمجھ رہے تھے۔جب حضرت لوط کی پریشانی بڑھی اور وہ اپنے کو خطرہ ميں محسوس کرنے لگے تو انھوںنے بتایا کہ ہم فرشتے ہیں۔ اور خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ یعنی یہ معاملہ انسانی معاملہ نہیں بلکہ خدائی معاملہ ہے۔ وہ نہ ہمارا کچھ بگاڑ سکیں گے اور نہ تمھارا۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب قوم لوط کے لوگ آگے بڑھنے سے نہ رکے تو ایک فرشتہ نے اپنا بازو گھمایا۔ اس کے بعد وہ سب کے سب اندھے ہوگئے اور یہ کہتے ہوئے لوٹ گئے کہ— بھاگو، لوط کے مہمان تو بڑے جادو گر معلوم ہوتے ہیں۔ جب خدا کسی قوم کو اس کی سرکشی کی بنا پر ہلاک کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ اس پورے علاقے کے لیے ایک عام حکم ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اس علاقے میں بسنے والے تمام جاندار خدائی عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ البتہ خدا کے خصوصی انتظامات کے تحت وہ لوگ اس سے بچا لیے جاتے ہیں جنھوں نے ان سرکش لوگوں کے اوپر حق کا اعلان کیا ہو۔ اعلانِ حق خدا کی پکڑ سے بچنے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ موجودہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ حضرت لوط کی بیوی کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ وہ دل سے حضرت لوط کے ساتھ نہ تھی۔ مگر آخر وقت میں جب حضرت لوط یہ کہہ کر بستی سے نکلے کہ صبح تک یہاں عذاب آجائے گا تو وہ بھی آپ کے قافلہ کے ساتھ ہوگئی۔ تاہم ابھی یہ لوگ راستے میں تھے کہ پیچھے زلزلہ اور طوفان کا شور سنائی دیا۔ حضرت لوط اور ا ن کے مخلص ساتھیوں نے پیچھے توجہ نہ دی۔ مگر حضرت لوط کی بیوی پیچھے مڑ کر دیکھنے لگی اور جب اس کو دھواں اور شور دکھائی دیا تو اس کی زبان سے نکلا واقوماہ (ہائے میری قوم)۔اس وقت عذاب کا ایک پتھر آکر اس کو لگا اور وہیں اس کا خاتمہ ہوگیا۔ اس میں سبق یہ ہے کہ ایک شخص اگر واقعۃً خدا اور رسول کا وفادار نہیں ہے تو کسی اور محرک کے تحت قافلۂ حق کے ساتھ لگ جانے سے وہ نجات نہیں پائے گا۔ اس کی کمزوری کہیں نہ کہیں ظاہر ہوگی اور وہیں وہ بیٹھ کر رہ جائے گا۔

هود 11:84

مدین کا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان تھا۔ ان کے پیغمبر حضرت شعیب کا اپنی قوم سے یہ کہنا کہ ’’اگر تم ایمان والے ہو‘‘ ظاہر کرتاہے کہ ان کی قوم مومن ہونے کی مدعی تھی۔ بالفاظ دیگر، وہ اپنے زمانہ کی مسلمان قوم تھی۔ وہ حضرت شعیب سے پہلے آنے والے نبی کی امت تھی اور اب لمبا عرصہ گزرنے کے بعد ان کی بعد کی نسلوں میں بگاڑ آگیا تھا۔ حضرت شعیب نے ان سے کہا کہ اگر تم مومن ہونے کے دعوے دار ہو تو تمھارا دعویٰ خدا کے یہاں اسی وقت مانا جائے گا جب کہ تم اپنے دعوے کے تقاضے پورے کرو۔ تقاضا پورا کیے بغیر دعوے کی کوئی قیمت نہیں۔ تمھارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ لین دین میں انصاف برتو۔ دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے حقوق ٹھیک ٹھیک ادا کرے۔ اور اس میں کسی طرح کی کمی نہ کرے۔ زمین میں اس طرح رہو جس طرح خدا چاہتا ہے کہ اس کے بندے رہیں۔ جائز طریقہ سے حاصل كيے ہوئے رزق پر قناعت کرو، نہ کہ نافرمانی کرکے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اگر تم ایسا کرو تبھی تم خدا کے یہاں مومن ٹھہرو گے۔ورنہ اندیشہ ہے کہ خدا کا عذاب تم کو پکڑ لے۔ حضرت شعیب نے ایک طرف یہ کہا کہ لوگوں کو کم نہ دو۔ دوسری طرف یہ فرمایا کہ ’’آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں‘‘۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ قوم شعیب میں کچھ غریب تھے اور کچھ امیر۔ کچھ زیادہ پانے والے تھے اور کچھ وہ تھے جن کو گھٹا کر مل رہا تھا۔ اگر سارے لوگ کم پانے والے ہوتے تو ان میں ’’اچھے حال والا‘‘ کون باقی رہتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جن مخاطبین کا ذکر ہے وہ قوم کے بااثر اور صاحب حیثیت افراد تھے۔ انبیاء اگر چہ ہر ایک کی ہدایت کے لیے آتے ہیں مگر ان کا خطاب خاص طور پر وقت کے ممتاز طبقہ سے ہوتاہے۔کیونکہ عوام انھیں لوگوں کے تابع ہوتے ہیں۔ وہ زیادہ تر اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ خواص تک دعوت پہنچنا بالواسطہ طورپر عوام تک بھی دعوت کا پہنچنا ہے۔

هود 11:85

مدین کا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان تھا۔ ان کے پیغمبر حضرت شعیب کا اپنی قوم سے یہ کہنا کہ ’’اگر تم ایمان والے ہو‘‘ ظاہر کرتاہے کہ ان کی قوم مومن ہونے کی مدعی تھی۔ بالفاظ دیگر، وہ اپنے زمانہ کی مسلمان قوم تھی۔ وہ حضرت شعیب سے پہلے آنے والے نبی کی امت تھی اور اب لمبا عرصہ گزرنے کے بعد ان کی بعد کی نسلوں میں بگاڑ آگیا تھا۔ حضرت شعیب نے ان سے کہا کہ اگر تم مومن ہونے کے دعوے دار ہو تو تمھارا دعویٰ خدا کے یہاں اسی وقت مانا جائے گا جب کہ تم اپنے دعوے کے تقاضے پورے کرو۔ تقاضا پورا کیے بغیر دعوے کی کوئی قیمت نہیں۔ تمھارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ لین دین میں انصاف برتو۔ دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے حقوق ٹھیک ٹھیک ادا کرے۔ اور اس میں کسی طرح کی کمی نہ کرے۔ زمین میں اس طرح رہو جس طرح خدا چاہتا ہے کہ اس کے بندے رہیں۔ جائز طریقہ سے حاصل كيے ہوئے رزق پر قناعت کرو، نہ کہ نافرمانی کرکے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اگر تم ایسا کرو تبھی تم خدا کے یہاں مومن ٹھہرو گے۔ورنہ اندیشہ ہے کہ خدا کا عذاب تم کو پکڑ لے۔ حضرت شعیب نے ایک طرف یہ کہا کہ لوگوں کو کم نہ دو۔ دوسری طرف یہ فرمایا کہ ’’آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں‘‘۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ قوم شعیب میں کچھ غریب تھے اور کچھ امیر۔ کچھ زیادہ پانے والے تھے اور کچھ وہ تھے جن کو گھٹا کر مل رہا تھا۔ اگر سارے لوگ کم پانے والے ہوتے تو ان میں ’’اچھے حال والا‘‘ کون باقی رہتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جن مخاطبین کا ذکر ہے وہ قوم کے بااثر اور صاحب حیثیت افراد تھے۔ انبیاء اگر چہ ہر ایک کی ہدایت کے لیے آتے ہیں مگر ان کا خطاب خاص طور پر وقت کے ممتاز طبقہ سے ہوتاہے۔کیونکہ عوام انھیں لوگوں کے تابع ہوتے ہیں۔ وہ زیادہ تر اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ خواص تک دعوت پہنچنا بالواسطہ طورپر عوام تک بھی دعوت کا پہنچنا ہے۔

هود 11:86

مدین کا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان تھا۔ ان کے پیغمبر حضرت شعیب کا اپنی قوم سے یہ کہنا کہ ’’اگر تم ایمان والے ہو‘‘ ظاہر کرتاہے کہ ان کی قوم مومن ہونے کی مدعی تھی۔ بالفاظ دیگر، وہ اپنے زمانہ کی مسلمان قوم تھی۔ وہ حضرت شعیب سے پہلے آنے والے نبی کی امت تھی اور اب لمبا عرصہ گزرنے کے بعد ان کی بعد کی نسلوں میں بگاڑ آگیا تھا۔ حضرت شعیب نے ان سے کہا کہ اگر تم مومن ہونے کے دعوے دار ہو تو تمھارا دعویٰ خدا کے یہاں اسی وقت مانا جائے گا جب کہ تم اپنے دعوے کے تقاضے پورے کرو۔ تقاضا پورا کیے بغیر دعوے کی کوئی قیمت نہیں۔ تمھارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ لین دین میں انصاف برتو۔ دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے حقوق ٹھیک ٹھیک ادا کرے۔ اور اس میں کسی طرح کی کمی نہ کرے۔ زمین میں اس طرح رہو جس طرح خدا چاہتا ہے کہ اس کے بندے رہیں۔ جائز طریقہ سے حاصل كيے ہوئے رزق پر قناعت کرو، نہ کہ نافرمانی کرکے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اگر تم ایسا کرو تبھی تم خدا کے یہاں مومن ٹھہرو گے۔ورنہ اندیشہ ہے کہ خدا کا عذاب تم کو پکڑ لے۔ حضرت شعیب نے ایک طرف یہ کہا کہ لوگوں کو کم نہ دو۔ دوسری طرف یہ فرمایا کہ ’’آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں‘‘۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ قوم شعیب میں کچھ غریب تھے اور کچھ امیر۔ کچھ زیادہ پانے والے تھے اور کچھ وہ تھے جن کو گھٹا کر مل رہا تھا۔ اگر سارے لوگ کم پانے والے ہوتے تو ان میں ’’اچھے حال والا‘‘ کون باقی رہتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جن مخاطبین کا ذکر ہے وہ قوم کے بااثر اور صاحب حیثیت افراد تھے۔ انبیاء اگر چہ ہر ایک کی ہدایت کے لیے آتے ہیں مگر ان کا خطاب خاص طور پر وقت کے ممتاز طبقہ سے ہوتاہے۔کیونکہ عوام انھیں لوگوں کے تابع ہوتے ہیں۔ وہ زیادہ تر اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ خواص تک دعوت پہنچنا بالواسطہ طورپر عوام تک بھی دعوت کا پہنچنا ہے۔

هود 11:87

بعض مرتبہ ایسا ہوتاہے کہ نمازبول کر دین مراد لیا جاتاہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمھارا دین تم کو ایسا حکم دے رہا ے۔ انھوں نے نماز کا لفظ اس لیے استعمال کیا کہ نماز دین کی سب سے زیادہ واضح علامت ہے۔ (وقد يراد بالصلاة الدينُ والمعنىدينُك يأمرك بذلك؟ وأطلق عليه الصلاة لأنها أظهر شعار الدين) صفوۃ التفاسیر، جلد2، صفحہ 25 حضرت شعیب کی قوم دین دار ہونے کی مدعی تھی۔ وہ عبادت بھی کرتی تھی۔ مگر انھوں نے اپنے دین اور عبادت کے ساتھ شرک اور بد معاملگی کو بھی جمع کررکھا تھا۔ حضرت شعیب نے ان کو سچی خدا پرستی اور لوگوں کے ساتھ حسن معاملہ کی دعوت دی اور کہا کہ دین کے ساتھ اگر شرک ہے اور عبادت کے ساتھ اگر بد معاملگی بھی جاری ہے تو ایسے دین اور ایسی عبادت کی خدا کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ اس قسم کی باتوں سے قوم کا دینی بھرم کھلتا تھا۔ اس سے ان کے اس زعم پر زد پڑتی تھی کہ سب کچھ کرتے ہوئے بھی وہ دین دار ہیں اور عبادت گزاری کا تمغہ بھی ہر حال میں انھیں ملا ہوا ہے۔ چنانچہ وہ بگڑ گئے۔ انھوں نے کہا کہ کیا تم ہی ایک خدا کے عبادت گزار ہو۔ کیا ہمارے وہ تمام بزرگ جاہل تھے یا ہیں جن کے طریقہ کو ہم نے اختیار کررکھا ہے۔ کیا تمھارے سوا کوئی یہ جاننے والا نہیں کہ عبادت کیا ہے اور اس کے تقاضے کیا ہیں۔ شاید تم سمجھتے ہو کہ صرف تم ہی دنیا بھر میں ایک سمجھ دار اور صالح پیدا ہوئے ہو۔ قوم شعیب کو وہ لوگ زیادہ بڑے معلوم ہوتے تھے جو لمبی روایات کے نتیجہ میں بڑے بن چکے تھے۔ یا جواب اونچی گدیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی لیے ان کو حضرت شعیب کے بارے میںایسا کہنے کی جرأت ہوئی۔

هود 11:88

ماننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے تقلیدی طورپر ماننا۔ دوسراصحیح سمجھ کر ماننا۔ پہلی صورت میں آدمی کسی بات کو اس لیے مانتا ہے کہ لوگ اس کو مانتے ہیں۔ دوسری صورت میں وہ اس کواس لیے مانتا ہے کہ اس نے خود دلیل کی بنیاد پر پایا ہے کہ وہ بات صحیح ہے۔ اوّل الذکر اگر رسمی اقرار ہے تو ثانی الذکر شعوری دریافت۔ حق کو دلیل (ياشعور) کی سطح پر پانا ہی مومن کا اصل سرمایہ ہے۔ اسی سے وہ زندہ یقین حاصل ہوتا ہے جب کہ آدمی ہر چیز سے بے پروا ہو کر لوگوں کے درمیان کھڑا ہو اور حق کی نمائندگی کرسکے۔ حق کی شعوری یافت ہر دوسری چیز کا بدل ہے۔ جس کو یہ نعمت حاصل ہوجائے اس کو پھر کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ عام آدمی’’روٹی‘‘ پر جیتاہے۔ مومن وہ انسان ہے جو دلیل حق پر جیتاہے۔ اس طرح کا رزق (شعوری یافت) ملنے کے بعد آدمی کے لیے ناممکن ہوجاتاہے کہ وہ اس کے خلاف رویہ اختیار کرے۔قول وعمل کا تضاد رسمی ایمان کا نتیجہ ہے اور قول وعمل کی یکسانیت شعوری ایمان کا نتیجہ۔ ’’شقاق‘‘ کی تشریح میں حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ میری دشمنی تم کو ایمان کا راستہ چھوڑ دینے پر نہ ابھارے کہ اس کے بعد تم کو وہ سزا ملے جو کافروں کو ملی (لَا يَحْمِلَنَّكُمْ مُعَادَاتِي عَلَى تَرْكِ الْإِيمَانِ فَيُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَ الْكُفَّارَ ) تفسیر القرطبی، جلد9، صفحہ 90 داعی چونکہ اپنے زمانہ کے لوگوں کو ایک عام انسان کی مانند نظر آتاہے۔ اس لیے ا س كي ناقدانہ باتوں سے وہ لوگ بگڑ ا ٹھتے ہیں جن کو ماحول میں اونچی حیثیت حاصل ہو۔ ایک معمولی آدمی کی یہ جرأت ان کے لیے ناقابل برداشت ہوجاتی ہے کہ وہ ان پر اور ان کے بڑوں پر تنقید کرے۔ اس وجہ سے ان کے اندر داعی کے خلاف ضد اور نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ کسی آدمی کے اندر اس قسم کی نفسیات کا پیدا ہونا اس کا نہایت کڑے امتحان میں مبتلا کیا جانا ہے۔ کیونکہ ایساآدمی ایک شخص کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے اس کی طرف سے آنے والی خدائی بات کو بھی حقیر سمجھ لیتاہے۔ وہ ایک انسان کو نظر انداز کرنے کے نام پر خود خدا کو نظر انداز کردیتاہے۔

هود 11:89

ماننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے تقلیدی طورپر ماننا۔ دوسراصحیح سمجھ کر ماننا۔ پہلی صورت میں آدمی کسی بات کو اس لیے مانتا ہے کہ لوگ اس کو مانتے ہیں۔ دوسری صورت میں وہ اس کواس لیے مانتا ہے کہ اس نے خود دلیل کی بنیاد پر پایا ہے کہ وہ بات صحیح ہے۔ اوّل الذکر اگر رسمی اقرار ہے تو ثانی الذکر شعوری دریافت۔ حق کو دلیل (ياشعور) کی سطح پر پانا ہی مومن کا اصل سرمایہ ہے۔ اسی سے وہ زندہ یقین حاصل ہوتا ہے جب کہ آدمی ہر چیز سے بے پروا ہو کر لوگوں کے درمیان کھڑا ہو اور حق کی نمائندگی کرسکے۔ حق کی شعوری یافت ہر دوسری چیز کا بدل ہے۔ جس کو یہ نعمت حاصل ہوجائے اس کو پھر کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ عام آدمی’’روٹی‘‘ پر جیتاہے۔ مومن وہ انسان ہے جو دلیل حق پر جیتاہے۔ اس طرح کا رزق (شعوری یافت) ملنے کے بعد آدمی کے لیے ناممکن ہوجاتاہے کہ وہ اس کے خلاف رویہ اختیار کرے۔قول وعمل کا تضاد رسمی ایمان کا نتیجہ ہے اور قول وعمل کی یکسانیت شعوری ایمان کا نتیجہ۔ ’’شقاق‘‘ کی تشریح میں حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ میری دشمنی تم کو ایمان کا راستہ چھوڑ دینے پر نہ ابھارے کہ اس کے بعد تم کو وہ سزا ملے جو کافروں کو ملی (لَا يَحْمِلَنَّكُمْ مُعَادَاتِي عَلَى تَرْكِ الْإِيمَانِ فَيُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَ الْكُفَّارَ ) تفسیر القرطبی، جلد9، صفحہ 90 داعی چونکہ اپنے زمانہ کے لوگوں کو ایک عام انسان کی مانند نظر آتاہے۔ اس لیے ا س كي ناقدانہ باتوں سے وہ لوگ بگڑ ا ٹھتے ہیں جن کو ماحول میں اونچی حیثیت حاصل ہو۔ ایک معمولی آدمی کی یہ جرأت ان کے لیے ناقابل برداشت ہوجاتی ہے کہ وہ ان پر اور ان کے بڑوں پر تنقید کرے۔ اس وجہ سے ان کے اندر داعی کے خلاف ضد اور نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ کسی آدمی کے اندر اس قسم کی نفسیات کا پیدا ہونا اس کا نہایت کڑے امتحان میں مبتلا کیا جانا ہے۔ کیونکہ ایساآدمی ایک شخص کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے اس کی طرف سے آنے والی خدائی بات کو بھی حقیر سمجھ لیتاہے۔ وہ ایک انسان کو نظر انداز کرنے کے نام پر خود خدا کو نظر انداز کردیتاہے۔

هود 11:90

ماننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے تقلیدی طورپر ماننا۔ دوسراصحیح سمجھ کر ماننا۔ پہلی صورت میں آدمی کسی بات کو اس لیے مانتا ہے کہ لوگ اس کو مانتے ہیں۔ دوسری صورت میں وہ اس کواس لیے مانتا ہے کہ اس نے خود دلیل کی بنیاد پر پایا ہے کہ وہ بات صحیح ہے۔ اوّل الذکر اگر رسمی اقرار ہے تو ثانی الذکر شعوری دریافت۔ حق کو دلیل (ياشعور) کی سطح پر پانا ہی مومن کا اصل سرمایہ ہے۔ اسی سے وہ زندہ یقین حاصل ہوتا ہے جب کہ آدمی ہر چیز سے بے پروا ہو کر لوگوں کے درمیان کھڑا ہو اور حق کی نمائندگی کرسکے۔ حق کی شعوری یافت ہر دوسری چیز کا بدل ہے۔ جس کو یہ نعمت حاصل ہوجائے اس کو پھر کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ عام آدمی’’روٹی‘‘ پر جیتاہے۔ مومن وہ انسان ہے جو دلیل حق پر جیتاہے۔ اس طرح کا رزق (شعوری یافت) ملنے کے بعد آدمی کے لیے ناممکن ہوجاتاہے کہ وہ اس کے خلاف رویہ اختیار کرے۔قول وعمل کا تضاد رسمی ایمان کا نتیجہ ہے اور قول وعمل کی یکسانیت شعوری ایمان کا نتیجہ۔ ’’شقاق‘‘ کی تشریح میں حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ میری دشمنی تم کو ایمان کا راستہ چھوڑ دینے پر نہ ابھارے کہ اس کے بعد تم کو وہ سزا ملے جو کافروں کو ملی (لَا يَحْمِلَنَّكُمْ مُعَادَاتِي عَلَى تَرْكِ الْإِيمَانِ فَيُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَ الْكُفَّارَ ) تفسیر القرطبی، جلد9، صفحہ 90 داعی چونکہ اپنے زمانہ کے لوگوں کو ایک عام انسان کی مانند نظر آتاہے۔ اس لیے ا س كي ناقدانہ باتوں سے وہ لوگ بگڑ ا ٹھتے ہیں جن کو ماحول میں اونچی حیثیت حاصل ہو۔ ایک معمولی آدمی کی یہ جرأت ان کے لیے ناقابل برداشت ہوجاتی ہے کہ وہ ان پر اور ان کے بڑوں پر تنقید کرے۔ اس وجہ سے ان کے اندر داعی کے خلاف ضد اور نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ کسی آدمی کے اندر اس قسم کی نفسیات کا پیدا ہونا اس کا نہایت کڑے امتحان میں مبتلا کیا جانا ہے۔ کیونکہ ایساآدمی ایک شخص کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے اس کی طرف سے آنے والی خدائی بات کو بھی حقیر سمجھ لیتاہے۔ وہ ایک انسان کو نظر انداز کرنے کے نام پر خود خدا کو نظر انداز کردیتاہے۔

هود 11:91

حضرت شعیب کو حدیث میں خطیب الانبیاء کہاگیا ہے۔ آنجناب اپنی قوم کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں نہایت موثر انداز میں سمجھاتے تھے۔ پھر آپ کی بات قوم کی سمجھ میں کیوں نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قوم کا ذہنی سانچہ (شاكله)بگڑا ہوا تھا۔ اس کے سوچنے کا انداز اور تھا اور حضرت شعیب کے سوچنے کا انداز اور۔ اس بنا پر آنجناب کی بات اس کی سمجھ میں نہ آسکی۔ قوم انسانوں کی تعظیم میں گم تھی۔ آپ اس کو ایک اللہ کی تعظیم کی طرف بلاتے تھے۔ وہ خوش عقیدگی کو نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھی، آپ کا کہنا تھا کہ صرف عمل کے ذریعہ نجات ہوسکتی ہے۔ قوم کا خیال تھا کہ وہ اپنے کو مومن سمجھتی ہے اس لیے وہ مومن ہے۔ آپ نے کہا کہ مومن وہ ہے جو خدا کی میزان میں مومن قرار پائے۔ قوم کے نزدیک نماز کی حیثیت بس ایک غیر موثر قسم کے رسمی ضمیمہ کی تھی، آپ نے اعلان کیا کہ نماز آدمی کی زندگی اور اس کے آمد وخرچ کی محاسب ہے۔ قوم سمجھتی تھی کہ ایمان بس ایک بے روح اقرار ہے، آپ نے بتایا کہ ایمان وہ ہے جو ایک زندہ شعور کے طور پر حاصل ہوا ہو۔ اس طرح حضرت شعیب اور ان کی قوم کے درمیان ایک قسم کا فصل (gap) پیدا ہوگیا تھا۔ یہی ذہنی فصل قوم کے لیے آپ کی سیدھی اور سچی بات کو سمجھنے میں رکاوٹ بنا رہا۔ ’’اگر تمھارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کردیتے‘‘— یہ جملہ بتاتا ہے کہ حضرت شعیب کی قوم کس قدر بے حس اور ظاہر پرست ہوچکی تھی۔ قصہ یہ تھا کہ حضرت شعیب نے جب قوم کے دینی بھرم کو بے نقاب کیا تو قوم کے لوگ ان کے دشمن بن گئے۔ اس وقت حضرت شعیب کے ساتھ نہ عوام کی بھیڑ تھی جو لوگوں کو روکے اور نہ آپ دولت اورحیثیت کے مالک تھے جس کو دیکھ کر لوگ مرعوب ہوں۔ آپ کے پاس صرف صداقت اور معقولیت کا زور تھا اور ایسے لوگوں کے نزدیک صرف صداقت اور معقولیت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ ایسی حالت میں وہ یقیناً آپ پر قاتلانہ حملہ کردیتے۔ تاہم جس چیز نے انھیں اس قسم کے اقدام سے روکا وہ قبیلہ کے انتقام کا اندیشہ تھا۔ قبائلی دور میں قبیلہ کے کسی فرد کو مارنے کا مطلب یہ تھا کہ قبائلی دستور کے مطابق پورا قبیلہ اس سے خون کا بدلہ لینے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوجائے۔ یہ اندیشہ قوم شعیب کے لیے آپ کے خلاف کسی انتہائی اقدام میں مانع بن گیا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے موجودہ زمانہ میں شریر افراد کی شرارت سے اکثر اوقات لوگ اس لیے محفوظ رہتے ہیں کہ ان کو اندیشہ ہوتاہے کہ اگر انھوں نے کوئی جارحیت کی تو ان کو پولیس اور عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

هود 11:92

حضرت شعیب کو حدیث میں خطیب الانبیاء کہاگیا ہے۔ آنجناب اپنی قوم کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں نہایت موثر انداز میں سمجھاتے تھے۔ پھر آپ کی بات قوم کی سمجھ میں کیوں نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قوم کا ذہنی سانچہ (شاكله)بگڑا ہوا تھا۔ اس کے سوچنے کا انداز اور تھا اور حضرت شعیب کے سوچنے کا انداز اور۔ اس بنا پر آنجناب کی بات اس کی سمجھ میں نہ آسکی۔ قوم انسانوں کی تعظیم میں گم تھی۔ آپ اس کو ایک اللہ کی تعظیم کی طرف بلاتے تھے۔ وہ خوش عقیدگی کو نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھی، آپ کا کہنا تھا کہ صرف عمل کے ذریعہ نجات ہوسکتی ہے۔ قوم کا خیال تھا کہ وہ اپنے کو مومن سمجھتی ہے اس لیے وہ مومن ہے۔ آپ نے کہا کہ مومن وہ ہے جو خدا کی میزان میں مومن قرار پائے۔ قوم کے نزدیک نماز کی حیثیت بس ایک غیر موثر قسم کے رسمی ضمیمہ کی تھی، آپ نے اعلان کیا کہ نماز آدمی کی زندگی اور اس کے آمد وخرچ کی محاسب ہے۔ قوم سمجھتی تھی کہ ایمان بس ایک بے روح اقرار ہے، آپ نے بتایا کہ ایمان وہ ہے جو ایک زندہ شعور کے طور پر حاصل ہوا ہو۔ اس طرح حضرت شعیب اور ان کی قوم کے درمیان ایک قسم کا فصل (gap) پیدا ہوگیا تھا۔ یہی ذہنی فصل قوم کے لیے آپ کی سیدھی اور سچی بات کو سمجھنے میں رکاوٹ بنا رہا۔ ’’اگر تمھارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کردیتے‘‘— یہ جملہ بتاتا ہے کہ حضرت شعیب کی قوم کس قدر بے حس اور ظاہر پرست ہوچکی تھی۔ قصہ یہ تھا کہ حضرت شعیب نے جب قوم کے دینی بھرم کو بے نقاب کیا تو قوم کے لوگ ان کے دشمن بن گئے۔ اس وقت حضرت شعیب کے ساتھ نہ عوام کی بھیڑ تھی جو لوگوں کو روکے اور نہ آپ دولت اورحیثیت کے مالک تھے جس کو دیکھ کر لوگ مرعوب ہوں۔ آپ کے پاس صرف صداقت اور معقولیت کا زور تھا اور ایسے لوگوں کے نزدیک صرف صداقت اور معقولیت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ ایسی حالت میں وہ یقیناً آپ پر قاتلانہ حملہ کردیتے۔ تاہم جس چیز نے انھیں اس قسم کے اقدام سے روکا وہ قبیلہ کے انتقام کا اندیشہ تھا۔ قبائلی دور میں قبیلہ کے کسی فرد کو مارنے کا مطلب یہ تھا کہ قبائلی دستور کے مطابق پورا قبیلہ اس سے خون کا بدلہ لینے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوجائے۔ یہ اندیشہ قوم شعیب کے لیے آپ کے خلاف کسی انتہائی اقدام میں مانع بن گیا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے موجودہ زمانہ میں شریر افراد کی شرارت سے اکثر اوقات لوگ اس لیے محفوظ رہتے ہیں کہ ان کو اندیشہ ہوتاہے کہ اگر انھوں نے کوئی جارحیت کی تو ان کو پولیس اور عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

هود 11:93

حضرت شعیب کو حدیث میں خطیب الانبیاء کہاگیا ہے۔ آنجناب اپنی قوم کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں نہایت موثر انداز میں سمجھاتے تھے۔ پھر آپ کی بات قوم کی سمجھ میں کیوں نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قوم کا ذہنی سانچہ (شاكله)بگڑا ہوا تھا۔ اس کے سوچنے کا انداز اور تھا اور حضرت شعیب کے سوچنے کا انداز اور۔ اس بنا پر آنجناب کی بات اس کی سمجھ میں نہ آسکی۔ قوم انسانوں کی تعظیم میں گم تھی۔ آپ اس کو ایک اللہ کی تعظیم کی طرف بلاتے تھے۔ وہ خوش عقیدگی کو نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھی، آپ کا کہنا تھا کہ صرف عمل کے ذریعہ نجات ہوسکتی ہے۔ قوم کا خیال تھا کہ وہ اپنے کو مومن سمجھتی ہے اس لیے وہ مومن ہے۔ آپ نے کہا کہ مومن وہ ہے جو خدا کی میزان میں مومن قرار پائے۔ قوم کے نزدیک نماز کی حیثیت بس ایک غیر موثر قسم کے رسمی ضمیمہ کی تھی، آپ نے اعلان کیا کہ نماز آدمی کی زندگی اور اس کے آمد وخرچ کی محاسب ہے۔ قوم سمجھتی تھی کہ ایمان بس ایک بے روح اقرار ہے، آپ نے بتایا کہ ایمان وہ ہے جو ایک زندہ شعور کے طور پر حاصل ہوا ہو۔ اس طرح حضرت شعیب اور ان کی قوم کے درمیان ایک قسم کا فصل (gap) پیدا ہوگیا تھا۔ یہی ذہنی فصل قوم کے لیے آپ کی سیدھی اور سچی بات کو سمجھنے میں رکاوٹ بنا رہا۔ ’’اگر تمھارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کردیتے‘‘— یہ جملہ بتاتا ہے کہ حضرت شعیب کی قوم کس قدر بے حس اور ظاہر پرست ہوچکی تھی۔ قصہ یہ تھا کہ حضرت شعیب نے جب قوم کے دینی بھرم کو بے نقاب کیا تو قوم کے لوگ ان کے دشمن بن گئے۔ اس وقت حضرت شعیب کے ساتھ نہ عوام کی بھیڑ تھی جو لوگوں کو روکے اور نہ آپ دولت اورحیثیت کے مالک تھے جس کو دیکھ کر لوگ مرعوب ہوں۔ آپ کے پاس صرف صداقت اور معقولیت کا زور تھا اور ایسے لوگوں کے نزدیک صرف صداقت اور معقولیت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ ایسی حالت میں وہ یقیناً آپ پر قاتلانہ حملہ کردیتے۔ تاہم جس چیز نے انھیں اس قسم کے اقدام سے روکا وہ قبیلہ کے انتقام کا اندیشہ تھا۔ قبائلی دور میں قبیلہ کے کسی فرد کو مارنے کا مطلب یہ تھا کہ قبائلی دستور کے مطابق پورا قبیلہ اس سے خون کا بدلہ لینے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوجائے۔ یہ اندیشہ قوم شعیب کے لیے آپ کے خلاف کسی انتہائی اقدام میں مانع بن گیا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے موجودہ زمانہ میں شریر افراد کی شرارت سے اکثر اوقات لوگ اس لیے محفوظ رہتے ہیں کہ ان کو اندیشہ ہوتاہے کہ اگر انھوں نے کوئی جارحیت کی تو ان کو پولیس اور عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

هود 11:94

حضرت شعیب کی قوم کے لوگ سمجھتے تھے کہ وہ مدین کے مالک ہیں جو چیز انھیں امتحان کی مصلحت کے تحت دی گئی تھی اس کو انھوں نے اپنا مستقل حق سمجھ لیا۔ اس احساس کے تحت انھوںنے آپ کے خلاف جارحانہ تدبیریں کیں۔ انھوںنے آپ کو یہ دھمکی بھی دی کہ ہم تم کو اور تمھارے ساتھیوں کو اپنی سرزمین سے نکال دیں گے (الاعراف، 7:88 ) مگر وہی زمین جس کو وہ اپنی زمین سمجھتے تھے اور جس کے وہ مالک بنے ہوئے تھے، وہاں خدا کے حکم سے ہولناک گڑگڑاہٹ کے ساتھ زلزلہ آیا، جس کے نتیجہ میں یہ پورا علاقہ تباہ ہوگیا۔ وہ خود اپنی دنیا میں اس طرح مٹ کر رہ گئے جیسے کبھی ان کا وجود ہی نہ تھا۔ البتہ قوم کے وہ افراد جنھوں نے حضرت شعیب کی بات مانی تھی اور آپ کے ساتھ ہوگئے تھے ان کو خصوصی نصرت سے بچا لیا گیا۔

هود 11:95

حضرت شعیب کی قوم کے لوگ سمجھتے تھے کہ وہ مدین کے مالک ہیں جو چیز انھیں امتحان کی مصلحت کے تحت دی گئی تھی اس کو انھوں نے اپنا مستقل حق سمجھ لیا۔ اس احساس کے تحت انھوںنے آپ کے خلاف جارحانہ تدبیریں کیں۔ انھوںنے آپ کو یہ دھمکی بھی دی کہ ہم تم کو اور تمھارے ساتھیوں کو اپنی سرزمین سے نکال دیں گے (الاعراف، 7:88 ) مگر وہی زمین جس کو وہ اپنی زمین سمجھتے تھے اور جس کے وہ مالک بنے ہوئے تھے، وہاں خدا کے حکم سے ہولناک گڑگڑاہٹ کے ساتھ زلزلہ آیا، جس کے نتیجہ میں یہ پورا علاقہ تباہ ہوگیا۔ وہ خود اپنی دنیا میں اس طرح مٹ کر رہ گئے جیسے کبھی ان کا وجود ہی نہ تھا۔ البتہ قوم کے وہ افراد جنھوں نے حضرت شعیب کی بات مانی تھی اور آپ کے ساتھ ہوگئے تھے ان کو خصوصی نصرت سے بچا لیا گیا۔

هود 11:96

حضرت موسیٰ نے حق کی دعوت آخری ممکن حد تک پیش کردی۔انھوں نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو نہ صرف نظری طورپر بے دلیل کردیا بلکہ عصا کے معجزے کی صورت میں اپنی صداقت کاکھلا ہوا ظاہری ثبوت بھی انھیں دکھادیا پھر بھی فرعون کی قوم فرعون ہی کے ساتھ رہی، وہ حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے پر تیار نہ ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کے نزدیک ساری اہمیت اقتدار اور دنیوی سازوسامان کی تھی اور یہ چیزیں وہ حضرت موسیٰ کے اندر نہ دیکھتے تھے۔ وہ آپ کی باتوں پر حیران ضرور ہوتے تھے۔ مگر جب وہ حضرت موسیٰ کا مقابلہ فرعون سے کرتے تو ان کو ایک طرف بے سروسامانی دکھائی دیتی اور دوسری طرف ہر قسم کا مادی جاہ وجلال۔یہ تقابل ان کے لیے فیصلہ کن بن گیا۔ اور وہ دلائل اور معجزات دیکھنے کے باوجود اس کے لیے تیار نہ ہوئے کہ فرعون کو چھوڑ دیں اور اس سے الگ ہوکر حضرت موسی کے ساتھ ہوجائیں۔ جو لوگ دنیا میں کسی کا ساتھ صرف اس لیے دیں گے کہ اس کے پاس مادی بڑائی کی چیزیں تھیں، وہ آخرت میں بھی اس کے ساتھ کرديے جائیں گے۔ مگر دنیا کے برعکس یہ بہت برا ساتھ ہوگا۔ کیونکہ اس دن اس آدمی سے اس کا تمام سامان چھن چکا ہوگا۔ اب اس کا وجود صرف ذلّت اور بربادی کا نشان ہوگا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو بھی اسی آگ میں پہنچا دے گا جو خود اس کے لیے اس کی گمراہ قیادت کے نتیجہ میں خداکی طرف سے مقدر کی جاچکی ہے۔

هود 11:97

حضرت موسیٰ نے حق کی دعوت آخری ممکن حد تک پیش کردی۔انھوں نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو نہ صرف نظری طورپر بے دلیل کردیا بلکہ عصا کے معجزے کی صورت میں اپنی صداقت کاکھلا ہوا ظاہری ثبوت بھی انھیں دکھادیا پھر بھی فرعون کی قوم فرعون ہی کے ساتھ رہی، وہ حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے پر تیار نہ ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کے نزدیک ساری اہمیت اقتدار اور دنیوی سازوسامان کی تھی اور یہ چیزیں وہ حضرت موسیٰ کے اندر نہ دیکھتے تھے۔ وہ آپ کی باتوں پر حیران ضرور ہوتے تھے۔ مگر جب وہ حضرت موسیٰ کا مقابلہ فرعون سے کرتے تو ان کو ایک طرف بے سروسامانی دکھائی دیتی اور دوسری طرف ہر قسم کا مادی جاہ وجلال۔یہ تقابل ان کے لیے فیصلہ کن بن گیا۔ اور وہ دلائل اور معجزات دیکھنے کے باوجود اس کے لیے تیار نہ ہوئے کہ فرعون کو چھوڑ دیں اور اس سے الگ ہوکر حضرت موسی کے ساتھ ہوجائیں۔ جو لوگ دنیا میں کسی کا ساتھ صرف اس لیے دیں گے کہ اس کے پاس مادی بڑائی کی چیزیں تھیں، وہ آخرت میں بھی اس کے ساتھ کرديے جائیں گے۔ مگر دنیا کے برعکس یہ بہت برا ساتھ ہوگا۔ کیونکہ اس دن اس آدمی سے اس کا تمام سامان چھن چکا ہوگا۔ اب اس کا وجود صرف ذلّت اور بربادی کا نشان ہوگا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو بھی اسی آگ میں پہنچا دے گا جو خود اس کے لیے اس کی گمراہ قیادت کے نتیجہ میں خداکی طرف سے مقدر کی جاچکی ہے۔

هود 11:98

حضرت موسیٰ نے حق کی دعوت آخری ممکن حد تک پیش کردی۔انھوں نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو نہ صرف نظری طورپر بے دلیل کردیا بلکہ عصا کے معجزے کی صورت میں اپنی صداقت کاکھلا ہوا ظاہری ثبوت بھی انھیں دکھادیا پھر بھی فرعون کی قوم فرعون ہی کے ساتھ رہی، وہ حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے پر تیار نہ ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کے نزدیک ساری اہمیت اقتدار اور دنیوی سازوسامان کی تھی اور یہ چیزیں وہ حضرت موسیٰ کے اندر نہ دیکھتے تھے۔ وہ آپ کی باتوں پر حیران ضرور ہوتے تھے۔ مگر جب وہ حضرت موسیٰ کا مقابلہ فرعون سے کرتے تو ان کو ایک طرف بے سروسامانی دکھائی دیتی اور دوسری طرف ہر قسم کا مادی جاہ وجلال۔یہ تقابل ان کے لیے فیصلہ کن بن گیا۔ اور وہ دلائل اور معجزات دیکھنے کے باوجود اس کے لیے تیار نہ ہوئے کہ فرعون کو چھوڑ دیں اور اس سے الگ ہوکر حضرت موسی کے ساتھ ہوجائیں۔ جو لوگ دنیا میں کسی کا ساتھ صرف اس لیے دیں گے کہ اس کے پاس مادی بڑائی کی چیزیں تھیں، وہ آخرت میں بھی اس کے ساتھ کرديے جائیں گے۔ مگر دنیا کے برعکس یہ بہت برا ساتھ ہوگا۔ کیونکہ اس دن اس آدمی سے اس کا تمام سامان چھن چکا ہوگا۔ اب اس کا وجود صرف ذلّت اور بربادی کا نشان ہوگا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو بھی اسی آگ میں پہنچا دے گا جو خود اس کے لیے اس کی گمراہ قیادت کے نتیجہ میں خداکی طرف سے مقدر کی جاچکی ہے۔

هود 11:99

حضرت موسیٰ نے حق کی دعوت آخری ممکن حد تک پیش کردی۔انھوں نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو نہ صرف نظری طورپر بے دلیل کردیا بلکہ عصا کے معجزے کی صورت میں اپنی صداقت کاکھلا ہوا ظاہری ثبوت بھی انھیں دکھادیا پھر بھی فرعون کی قوم فرعون ہی کے ساتھ رہی، وہ حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے پر تیار نہ ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کے نزدیک ساری اہمیت اقتدار اور دنیوی سازوسامان کی تھی اور یہ چیزیں وہ حضرت موسیٰ کے اندر نہ دیکھتے تھے۔ وہ آپ کی باتوں پر حیران ضرور ہوتے تھے۔ مگر جب وہ حضرت موسیٰ کا مقابلہ فرعون سے کرتے تو ان کو ایک طرف بے سروسامانی دکھائی دیتی اور دوسری طرف ہر قسم کا مادی جاہ وجلال۔یہ تقابل ان کے لیے فیصلہ کن بن گیا۔ اور وہ دلائل اور معجزات دیکھنے کے باوجود اس کے لیے تیار نہ ہوئے کہ فرعون کو چھوڑ دیں اور اس سے الگ ہوکر حضرت موسی کے ساتھ ہوجائیں۔ جو لوگ دنیا میں کسی کا ساتھ صرف اس لیے دیں گے کہ اس کے پاس مادی بڑائی کی چیزیں تھیں، وہ آخرت میں بھی اس کے ساتھ کرديے جائیں گے۔ مگر دنیا کے برعکس یہ بہت برا ساتھ ہوگا۔ کیونکہ اس دن اس آدمی سے اس کا تمام سامان چھن چکا ہوگا۔ اب اس کا وجود صرف ذلّت اور بربادی کا نشان ہوگا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو بھی اسی آگ میں پہنچا دے گا جو خود اس کے لیے اس کی گمراہ قیادت کے نتیجہ میں خداکی طرف سے مقدر کی جاچکی ہے۔

هود 11:100

قدیم تاریخوںمیں بادشاہوں اور فوجی جنرلوں کے حالات درج ہیں مگر نبیوں اور ان کی اقوام کے حالات کسی تاریخ میں درج نہیں۔ دوسری طرف قرآن کو دیکھيے تو اس میں سب سے زیادہ اہتمام کے ساتھ نبیوںاور ان کی قوموں کے حالات ملتے ہیں۔ بقیہ باتیں اس نے اس طرح نظر انداز کردی ہیں جیسے اس کی نظر میں ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ انسان نے جو تاریخ لکھی اس میں اس نے وہی بات چھوڑدی جو خالق کے نزدیک سب سے زیادہ قابل تذکرہ تھی۔ دور نبوت کی ان ہلاک شدہ بستیوں میں سے بعض بستیاں ایسی ہیں، جو ابھی تک آباد ہیں۔ جیسے مصر جو فرعون کا مقام تھا دوسری طرف قوم ہود اور قوم لوط جیسی اقوام ہیں جن کی بستیاں ان کے باشندوں سمیت ناپید ہوگئیں۔ البتہ کہیں کہیں ان کے کچھ نشانات کھنڈر کی صورت میں کھڑے ہیں یا زمین کی کھدائی سے برآمد كيے گئے ہیں۔ ان بستیوں کا ہلاک کیا جانا بظاہر ایک ظالمانہ واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر جب یہ دیکھيے کہ کیوں ایسا ہوا تو عین مطابق حقیقت بن جاتا ہے۔ کیونکہ یہ ان کی اپنی بد عملی کے نتائج تھے۔ جو کچھ ہوا وہ ان کی بدکرداری کے بعد ہوا، نہ کہ ان کی بدکرداری سے پہلے۔ جب بھی آدمی سرکشی اور ظلم کرتاہے تو وہ کسی برتے پر کرتا ہے۔ وہ کچھ چیزوں یا ہستیوں کو اپنا سہارا سمجھ لیتاہے اور خیال کرتا ہے کہ یہ مشکل وقتوں میںاس کے مدد گار ثابت ہوں گے۔ مگر یہ سہارے اسی وقت تک سہارے ہیں جب تک خدا ڈھیل دے رہا ہو۔ جب خدا کے قانون کے مطابق ڈھیل کی مدّت ختم ہوجائے اور خدا اپنا آخری فیصلہ ظاہر کردے اس وقت آدمی کو معلوم ہوتاہے کہ وہ سب محض جھوٹے مفروضے تھے جن کو اس نے اپنی نادانی کی وجہ سے سہارا سمجھ لیا تھا۔

هود 11:101

قدیم تاریخوںمیں بادشاہوں اور فوجی جنرلوں کے حالات درج ہیں مگر نبیوں اور ان کی اقوام کے حالات کسی تاریخ میں درج نہیں۔ دوسری طرف قرآن کو دیکھيے تو اس میں سب سے زیادہ اہتمام کے ساتھ نبیوںاور ان کی قوموں کے حالات ملتے ہیں۔ بقیہ باتیں اس نے اس طرح نظر انداز کردی ہیں جیسے اس کی نظر میں ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ انسان نے جو تاریخ لکھی اس میں اس نے وہی بات چھوڑدی جو خالق کے نزدیک سب سے زیادہ قابل تذکرہ تھی۔ دور نبوت کی ان ہلاک شدہ بستیوں میں سے بعض بستیاں ایسی ہیں، جو ابھی تک آباد ہیں۔ جیسے مصر جو فرعون کا مقام تھا دوسری طرف قوم ہود اور قوم لوط جیسی اقوام ہیں جن کی بستیاں ان کے باشندوں سمیت ناپید ہوگئیں۔ البتہ کہیں کہیں ان کے کچھ نشانات کھنڈر کی صورت میں کھڑے ہیں یا زمین کی کھدائی سے برآمد كيے گئے ہیں۔ ان بستیوں کا ہلاک کیا جانا بظاہر ایک ظالمانہ واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر جب یہ دیکھيے کہ کیوں ایسا ہوا تو عین مطابق حقیقت بن جاتا ہے۔ کیونکہ یہ ان کی اپنی بد عملی کے نتائج تھے۔ جو کچھ ہوا وہ ان کی بدکرداری کے بعد ہوا، نہ کہ ان کی بدکرداری سے پہلے۔ جب بھی آدمی سرکشی اور ظلم کرتاہے تو وہ کسی برتے پر کرتا ہے۔ وہ کچھ چیزوں یا ہستیوں کو اپنا سہارا سمجھ لیتاہے اور خیال کرتا ہے کہ یہ مشکل وقتوں میںاس کے مدد گار ثابت ہوں گے۔ مگر یہ سہارے اسی وقت تک سہارے ہیں جب تک خدا ڈھیل دے رہا ہو۔ جب خدا کے قانون کے مطابق ڈھیل کی مدّت ختم ہوجائے اور خدا اپنا آخری فیصلہ ظاہر کردے اس وقت آدمی کو معلوم ہوتاہے کہ وہ سب محض جھوٹے مفروضے تھے جن کو اس نے اپنی نادانی کی وجہ سے سہارا سمجھ لیا تھا۔

هود 11:102

موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے اور بسنے کا موقع صرف امتحان کی بنا پر حاصل ہے۔ پیغمبروں کی ذریعہ اتمام حجت کے بعد بھی جو لوگ منکر بنے رہیں وہ خدا کی زمین میں مزید ٹھہرنے کا حق کھودیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے منکرین کو خدا نے ہلاک کردیا (العنکبوت، 35:40 ) یہ ہلاکت زیادہ تر اس طرح ہوئی کہ عام زمینی آفتوں میں شدت پیدا کردی گئی مثلاً آندھی، سیلاب، یا زلزلہ جو عام حالات میں ایک حد کے اندر رہتے ہیں، ان کو غیر محدود طورپر شدید کردیا گیا۔ ماضی میں اس طرح قوموں کی تباہی کے واقعات کو جغرافی تاریخ کے علماء موسمی تغیّرات (climatic pulsations) کانام دیتے ہیں۔ گویا جو کچھ ہوا وہ محض جغرافی اتھل پتھل کے نتیجہ میں ہوا۔ اگرچہ وہ اس واقعہ کی کوئی توجیہہ نہیں کر پاتے کہ اس قسم کے شدید موسمی تغیرات صرف ماضی میں کیوں پیش آئے۔ وہ اب (ختم نبوت کے بعد) کیوں نہیں پیش آتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعات سادہ معنوں میں صرف جغرافی واقعات نہ تھے بلکہ یہ حکم خداوندی کا ظہور تھا۔ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام عدل پر قائم ہے۔ یہاں خود قانون قدرت کے تحت لازماً ایسا ہونے والا ہے کہ ظالم اپنے ظلم کی سزا پائے اور عادل کو اپنے عدل کا انعام ملے۔ ان واقعات کو موسمی تغیرات کہنا ان کو جغرافیہ کے خانہ میں ڈال دینا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ان کو خدائی تغیرات مانا جائے تووہ آدمی کے ليے خوفِ خدا اور فکر آخرت کا زبردست سبق بن جائیں گے۔ پیغمبروں کے زمانہ میں جو واقعات پیش آئے وہ گویا بڑی قیامت سے پہلے اس کی ایک چھوٹی نشانی تھے۔ ان میں ایسا ہوا کہ منکرین کو ایک مدّت تک ڈھیل دی گئی۔ اس کے بعد خدا کا فیصلہ ظاہر ہوا تو سب کے سب ہلاک کرديے گئے۔ صرف وہ لوگ بچ سکے جو حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے خداکے نزدیک نیک بخت قرار پا چکے تھے۔ ان کے علاوہ جو لوگ خدا کی میزان میںسرکش اور بد بخت تھے وہ لازمی طورپر عذا ب کی زد میں آئے۔ حتی کہ پیغمبروں کی سفارش بھی ان کو بچا نہ سکی، جیسا کہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی مثال سے ثابت ہوتاہے۔

هود 11:103

موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے اور بسنے کا موقع صرف امتحان کی بنا پر حاصل ہے۔ پیغمبروں کی ذریعہ اتمام حجت کے بعد بھی جو لوگ منکر بنے رہیں وہ خدا کی زمین میں مزید ٹھہرنے کا حق کھودیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے منکرین کو خدا نے ہلاک کردیا (العنکبوت، 35:40 ) یہ ہلاکت زیادہ تر اس طرح ہوئی کہ عام زمینی آفتوں میں شدت پیدا کردی گئی مثلاً آندھی، سیلاب، یا زلزلہ جو عام حالات میں ایک حد کے اندر رہتے ہیں، ان کو غیر محدود طورپر شدید کردیا گیا۔ ماضی میں اس طرح قوموں کی تباہی کے واقعات کو جغرافی تاریخ کے علماء موسمی تغیّرات (climatic pulsations) کانام دیتے ہیں۔ گویا جو کچھ ہوا وہ محض جغرافی اتھل پتھل کے نتیجہ میں ہوا۔ اگرچہ وہ اس واقعہ کی کوئی توجیہہ نہیں کر پاتے کہ اس قسم کے شدید موسمی تغیرات صرف ماضی میں کیوں پیش آئے۔ وہ اب (ختم نبوت کے بعد) کیوں نہیں پیش آتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعات سادہ معنوں میں صرف جغرافی واقعات نہ تھے بلکہ یہ حکم خداوندی کا ظہور تھا۔ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام عدل پر قائم ہے۔ یہاں خود قانون قدرت کے تحت لازماً ایسا ہونے والا ہے کہ ظالم اپنے ظلم کی سزا پائے اور عادل کو اپنے عدل کا انعام ملے۔ ان واقعات کو موسمی تغیرات کہنا ان کو جغرافیہ کے خانہ میں ڈال دینا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ان کو خدائی تغیرات مانا جائے تووہ آدمی کے ليے خوفِ خدا اور فکر آخرت کا زبردست سبق بن جائیں گے۔ پیغمبروں کے زمانہ میں جو واقعات پیش آئے وہ گویا بڑی قیامت سے پہلے اس کی ایک چھوٹی نشانی تھے۔ ان میں ایسا ہوا کہ منکرین کو ایک مدّت تک ڈھیل دی گئی۔ اس کے بعد خدا کا فیصلہ ظاہر ہوا تو سب کے سب ہلاک کرديے گئے۔ صرف وہ لوگ بچ سکے جو حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے خداکے نزدیک نیک بخت قرار پا چکے تھے۔ ان کے علاوہ جو لوگ خدا کی میزان میںسرکش اور بد بخت تھے وہ لازمی طورپر عذا ب کی زد میں آئے۔ حتی کہ پیغمبروں کی سفارش بھی ان کو بچا نہ سکی، جیسا کہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی مثال سے ثابت ہوتاہے۔

هود 11:104

موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے اور بسنے کا موقع صرف امتحان کی بنا پر حاصل ہے۔ پیغمبروں کی ذریعہ اتمام حجت کے بعد بھی جو لوگ منکر بنے رہیں وہ خدا کی زمین میں مزید ٹھہرنے کا حق کھودیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے منکرین کو خدا نے ہلاک کردیا (العنکبوت، 35:40 ) یہ ہلاکت زیادہ تر اس طرح ہوئی کہ عام زمینی آفتوں میں شدت پیدا کردی گئی مثلاً آندھی، سیلاب، یا زلزلہ جو عام حالات میں ایک حد کے اندر رہتے ہیں، ان کو غیر محدود طورپر شدید کردیا گیا۔ ماضی میں اس طرح قوموں کی تباہی کے واقعات کو جغرافی تاریخ کے علماء موسمی تغیّرات (climatic pulsations) کانام دیتے ہیں۔ گویا جو کچھ ہوا وہ محض جغرافی اتھل پتھل کے نتیجہ میں ہوا۔ اگرچہ وہ اس واقعہ کی کوئی توجیہہ نہیں کر پاتے کہ اس قسم کے شدید موسمی تغیرات صرف ماضی میں کیوں پیش آئے۔ وہ اب (ختم نبوت کے بعد) کیوں نہیں پیش آتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعات سادہ معنوں میں صرف جغرافی واقعات نہ تھے بلکہ یہ حکم خداوندی کا ظہور تھا۔ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام عدل پر قائم ہے۔ یہاں خود قانون قدرت کے تحت لازماً ایسا ہونے والا ہے کہ ظالم اپنے ظلم کی سزا پائے اور عادل کو اپنے عدل کا انعام ملے۔ ان واقعات کو موسمی تغیرات کہنا ان کو جغرافیہ کے خانہ میں ڈال دینا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ان کو خدائی تغیرات مانا جائے تووہ آدمی کے ليے خوفِ خدا اور فکر آخرت کا زبردست سبق بن جائیں گے۔ پیغمبروں کے زمانہ میں جو واقعات پیش آئے وہ گویا بڑی قیامت سے پہلے اس کی ایک چھوٹی نشانی تھے۔ ان میں ایسا ہوا کہ منکرین کو ایک مدّت تک ڈھیل دی گئی۔ اس کے بعد خدا کا فیصلہ ظاہر ہوا تو سب کے سب ہلاک کرديے گئے۔ صرف وہ لوگ بچ سکے جو حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے خداکے نزدیک نیک بخت قرار پا چکے تھے۔ ان کے علاوہ جو لوگ خدا کی میزان میںسرکش اور بد بخت تھے وہ لازمی طورپر عذا ب کی زد میں آئے۔ حتی کہ پیغمبروں کی سفارش بھی ان کو بچا نہ سکی، جیسا کہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی مثال سے ثابت ہوتاہے۔

هود 11:105

موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے اور بسنے کا موقع صرف امتحان کی بنا پر حاصل ہے۔ پیغمبروں کی ذریعہ اتمام حجت کے بعد بھی جو لوگ منکر بنے رہیں وہ خدا کی زمین میں مزید ٹھہرنے کا حق کھودیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے منکرین کو خدا نے ہلاک کردیا (العنکبوت، 35:40 ) یہ ہلاکت زیادہ تر اس طرح ہوئی کہ عام زمینی آفتوں میں شدت پیدا کردی گئی مثلاً آندھی، سیلاب، یا زلزلہ جو عام حالات میں ایک حد کے اندر رہتے ہیں، ان کو غیر محدود طورپر شدید کردیا گیا۔ ماضی میں اس طرح قوموں کی تباہی کے واقعات کو جغرافی تاریخ کے علماء موسمی تغیّرات (climatic pulsations) کانام دیتے ہیں۔ گویا جو کچھ ہوا وہ محض جغرافی اتھل پتھل کے نتیجہ میں ہوا۔ اگرچہ وہ اس واقعہ کی کوئی توجیہہ نہیں کر پاتے کہ اس قسم کے شدید موسمی تغیرات صرف ماضی میں کیوں پیش آئے۔ وہ اب (ختم نبوت کے بعد) کیوں نہیں پیش آتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعات سادہ معنوں میں صرف جغرافی واقعات نہ تھے بلکہ یہ حکم خداوندی کا ظہور تھا۔ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام عدل پر قائم ہے۔ یہاں خود قانون قدرت کے تحت لازماً ایسا ہونے والا ہے کہ ظالم اپنے ظلم کی سزا پائے اور عادل کو اپنے عدل کا انعام ملے۔ ان واقعات کو موسمی تغیرات کہنا ان کو جغرافیہ کے خانہ میں ڈال دینا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ان کو خدائی تغیرات مانا جائے تووہ آدمی کے ليے خوفِ خدا اور فکر آخرت کا زبردست سبق بن جائیں گے۔ پیغمبروں کے زمانہ میں جو واقعات پیش آئے وہ گویا بڑی قیامت سے پہلے اس کی ایک چھوٹی نشانی تھے۔ ان میں ایسا ہوا کہ منکرین کو ایک مدّت تک ڈھیل دی گئی۔ اس کے بعد خدا کا فیصلہ ظاہر ہوا تو سب کے سب ہلاک کرديے گئے۔ صرف وہ لوگ بچ سکے جو حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے خداکے نزدیک نیک بخت قرار پا چکے تھے۔ ان کے علاوہ جو لوگ خدا کی میزان میںسرکش اور بد بخت تھے وہ لازمی طورپر عذا ب کی زد میں آئے۔ حتی کہ پیغمبروں کی سفارش بھی ان کو بچا نہ سکی، جیسا کہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی مثال سے ثابت ہوتاہے۔

هود 11:106

قرآن میں سب سے زیادہ اہمیت اور سب سے زیادہ تکرار کے ساتھ جس چیز کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی موجودہ حالت پر چھوڑ نہیں ديے جائیں گے۔ بلکہ موت کے بعد وہ خدا کی عدالت میں حاضر كيے جائیں گے۔ وہاں ہر ایک اپنی کاركردگی کے مطابق جنت یا دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ اس اہمیت اور تکرارکی وجہ لوگوں کا ’’شک‘‘ ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ زمین پر بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت کو نہیں مانتے۔ بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت سے آزاد ہو کر عمل کرتے ہیں۔ بیشتر انسان خدا پسند زندگی کے بجائے خود پسند زندگی گزاررہے ہیں۔ پھر بھی ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔ پھر بھی سارے لوگ کامیاب ہیں۔ بظاہر یہاں کہیں دکھائی نہیں دیتا کہ خدا کے وفاداروںکو کوئی خصوصی انعام مل رہا ہو یا خدا کے نافرمانوں کو کوئی خاص سزا بھگتنی پڑتی ہو۔ اس بنا پر لوگوں کو شک ہونے لگتاہے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ انسانوں کا جو انجام مسلسل وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس کے سوا بھی کوئی انجام ان کے لیے مقدر ہے۔ یہاں قرآن بتاتا ہے کہ لوگوں کا مسلسل غیرحق پر چلنا اس لیے نہیں ہے کہ انھوںنے مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر غور کیا اور پھر اس کو معقول پاکر اسے اختیار کرلیا۔ اس کا سبب دراصل رواج کی پیروی ہے، نہ کہ دلیل اور معقولیت کی پیروی۔ اس کے باوجود لوگوں کے عمل کا انجام ان کے سامنے نہیں آتا تو اس کا سبب مہلتِ امتحان ہے۔ زمین پر موت سے پہلے کی زندگی جانچ کی زندگی ہے۔ اس لیے موت تک انسان کو یہاں ڈھیل دی جارہی ہے کہ وہ جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ موت اس مقررہ مدت کا خاتمہ ہے۔ موت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو مقام امتحان سے اٹھا کر مقام عدالت میں پہنچا دیا جائے۔ وہاں ہر ایک کو وہی ملے گا جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا اورہر ایک سے وہ چھن جائےگا جس کو اس نے استحقاق کے بغیر اپنے گرد جمع کررکھا تھا۔

هود 11:107

قرآن میں سب سے زیادہ اہمیت اور سب سے زیادہ تکرار کے ساتھ جس چیز کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی موجودہ حالت پر چھوڑ نہیں ديے جائیں گے۔ بلکہ موت کے بعد وہ خدا کی عدالت میں حاضر كيے جائیں گے۔ وہاں ہر ایک اپنی کاركردگی کے مطابق جنت یا دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ اس اہمیت اور تکرارکی وجہ لوگوں کا ’’شک‘‘ ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ زمین پر بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت کو نہیں مانتے۔ بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت سے آزاد ہو کر عمل کرتے ہیں۔ بیشتر انسان خدا پسند زندگی کے بجائے خود پسند زندگی گزاررہے ہیں۔ پھر بھی ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔ پھر بھی سارے لوگ کامیاب ہیں۔ بظاہر یہاں کہیں دکھائی نہیں دیتا کہ خدا کے وفاداروںکو کوئی خصوصی انعام مل رہا ہو یا خدا کے نافرمانوں کو کوئی خاص سزا بھگتنی پڑتی ہو۔ اس بنا پر لوگوں کو شک ہونے لگتاہے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ انسانوں کا جو انجام مسلسل وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس کے سوا بھی کوئی انجام ان کے لیے مقدر ہے۔ یہاں قرآن بتاتا ہے کہ لوگوں کا مسلسل غیرحق پر چلنا اس لیے نہیں ہے کہ انھوںنے مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر غور کیا اور پھر اس کو معقول پاکر اسے اختیار کرلیا۔ اس کا سبب دراصل رواج کی پیروی ہے، نہ کہ دلیل اور معقولیت کی پیروی۔ اس کے باوجود لوگوں کے عمل کا انجام ان کے سامنے نہیں آتا تو اس کا سبب مہلتِ امتحان ہے۔ زمین پر موت سے پہلے کی زندگی جانچ کی زندگی ہے۔ اس لیے موت تک انسان کو یہاں ڈھیل دی جارہی ہے کہ وہ جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ موت اس مقررہ مدت کا خاتمہ ہے۔ موت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو مقام امتحان سے اٹھا کر مقام عدالت میں پہنچا دیا جائے۔ وہاں ہر ایک کو وہی ملے گا جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا اورہر ایک سے وہ چھن جائےگا جس کو اس نے استحقاق کے بغیر اپنے گرد جمع کررکھا تھا۔

هود 11:108

قرآن میں سب سے زیادہ اہمیت اور سب سے زیادہ تکرار کے ساتھ جس چیز کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی موجودہ حالت پر چھوڑ نہیں ديے جائیں گے۔ بلکہ موت کے بعد وہ خدا کی عدالت میں حاضر كيے جائیں گے۔ وہاں ہر ایک اپنی کاركردگی کے مطابق جنت یا دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ اس اہمیت اور تکرارکی وجہ لوگوں کا ’’شک‘‘ ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ زمین پر بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت کو نہیں مانتے۔ بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت سے آزاد ہو کر عمل کرتے ہیں۔ بیشتر انسان خدا پسند زندگی کے بجائے خود پسند زندگی گزاررہے ہیں۔ پھر بھی ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔ پھر بھی سارے لوگ کامیاب ہیں۔ بظاہر یہاں کہیں دکھائی نہیں دیتا کہ خدا کے وفاداروںکو کوئی خصوصی انعام مل رہا ہو یا خدا کے نافرمانوں کو کوئی خاص سزا بھگتنی پڑتی ہو۔ اس بنا پر لوگوں کو شک ہونے لگتاہے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ انسانوں کا جو انجام مسلسل وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس کے سوا بھی کوئی انجام ان کے لیے مقدر ہے۔ یہاں قرآن بتاتا ہے کہ لوگوں کا مسلسل غیرحق پر چلنا اس لیے نہیں ہے کہ انھوںنے مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر غور کیا اور پھر اس کو معقول پاکر اسے اختیار کرلیا۔ اس کا سبب دراصل رواج کی پیروی ہے، نہ کہ دلیل اور معقولیت کی پیروی۔ اس کے باوجود لوگوں کے عمل کا انجام ان کے سامنے نہیں آتا تو اس کا سبب مہلتِ امتحان ہے۔ زمین پر موت سے پہلے کی زندگی جانچ کی زندگی ہے۔ اس لیے موت تک انسان کو یہاں ڈھیل دی جارہی ہے کہ وہ جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ موت اس مقررہ مدت کا خاتمہ ہے۔ موت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو مقام امتحان سے اٹھا کر مقام عدالت میں پہنچا دیا جائے۔ وہاں ہر ایک کو وہی ملے گا جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا اورہر ایک سے وہ چھن جائےگا جس کو اس نے استحقاق کے بغیر اپنے گرد جمع کررکھا تھا۔

هود 11:109

قرآن میں سب سے زیادہ اہمیت اور سب سے زیادہ تکرار کے ساتھ جس چیز کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی موجودہ حالت پر چھوڑ نہیں ديے جائیں گے۔ بلکہ موت کے بعد وہ خدا کی عدالت میں حاضر كيے جائیں گے۔ وہاں ہر ایک اپنی کاركردگی کے مطابق جنت یا دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ اس اہمیت اور تکرارکی وجہ لوگوں کا ’’شک‘‘ ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ زمین پر بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت کو نہیں مانتے۔ بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت سے آزاد ہو کر عمل کرتے ہیں۔ بیشتر انسان خدا پسند زندگی کے بجائے خود پسند زندگی گزاررہے ہیں۔ پھر بھی ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔ پھر بھی سارے لوگ کامیاب ہیں۔ بظاہر یہاں کہیں دکھائی نہیں دیتا کہ خدا کے وفاداروںکو کوئی خصوصی انعام مل رہا ہو یا خدا کے نافرمانوں کو کوئی خاص سزا بھگتنی پڑتی ہو۔ اس بنا پر لوگوں کو شک ہونے لگتاہے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ انسانوں کا جو انجام مسلسل وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس کے سوا بھی کوئی انجام ان کے لیے مقدر ہے۔ یہاں قرآن بتاتا ہے کہ لوگوں کا مسلسل غیرحق پر چلنا اس لیے نہیں ہے کہ انھوںنے مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر غور کیا اور پھر اس کو معقول پاکر اسے اختیار کرلیا۔ اس کا سبب دراصل رواج کی پیروی ہے، نہ کہ دلیل اور معقولیت کی پیروی۔ اس کے باوجود لوگوں کے عمل کا انجام ان کے سامنے نہیں آتا تو اس کا سبب مہلتِ امتحان ہے۔ زمین پر موت سے پہلے کی زندگی جانچ کی زندگی ہے۔ اس لیے موت تک انسان کو یہاں ڈھیل دی جارہی ہے کہ وہ جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ موت اس مقررہ مدت کا خاتمہ ہے۔ موت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو مقام امتحان سے اٹھا کر مقام عدالت میں پہنچا دیا جائے۔ وہاں ہر ایک کو وہی ملے گا جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا اورہر ایک سے وہ چھن جائےگا جس کو اس نے استحقاق کے بغیر اپنے گرد جمع کررکھا تھا۔

هود 11:110

’’موسی کی کتاب میں اختلاف‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مخاطبین اس کے بیانات کے بارے میں کئی رائے ہوگئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے جھٹلایا اور کچھ لوگوں نے تسلیم کیا (فَاخْتَلَفَ فِي ذَلِكَ الْكِتَابِ قَوْمُ مُوسَى فَكَذَّبَ بِهِ بَعْضُهُمْ، وَصَدَّقَ بِهِ بَعْضُهُمْ) تفسیر الطبری، جلد 12 ، صفحہ 592 ۔ جب بھی کوئی بات کہی جائے تو آدمی اس کے بارے میں ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان ہوتاہے۔ ایک، صحیح تعبیر۔ دوسري، غلط تعبیر۔ اگر سننے والے فی الواقع سنجیدہ ہوں تو وہ ہمیشہ ایک ہی صحیح تعبیر تک پہنچیں گے۔ ان کی سنجیدگی ان کے لیے اتحاد رائے کی ضامن بن جائے گی۔ اس کے برعکس، اگر وہ بات کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوں تو وہ اس کو کوئی اہمیت نہ دیں گے اور اپنے خیال کے مطابق اس کی مختلف تعبیریں کریں گے۔ کوئی ایک بات کہے گا، کوئی دوسری بات۔ اس طرح ان کی غیر سنجیدگی انھیں اختلاف رائے تک پہنچا دے گی۔ یہ صورت تمام پیغمبروں کے ساتھ پیش آئی۔ اس کے باوجود خدا اس کو گوارا کرتا رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو عمل کی جگہ بنایا ہے اور اگلی آنے والی دنیا کو بدلہ پانے کی جگہ۔ خدا کی یہی سنت ہے جس کی بنا پر لوگوں کو مکمل آزادی ملی ہوئی ہے۔ موجودہ صورتِ حال اسی مہلت امتحان کی بنا پر ہے، نہ کہ خدا کے عجز یا لوگوں کے کسی استحقاق کی بنا پر۔

هود 11:111

’’موسی کی کتاب میں اختلاف‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مخاطبین اس کے بیانات کے بارے میں کئی رائے ہوگئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے جھٹلایا اور کچھ لوگوں نے تسلیم کیا (فَاخْتَلَفَ فِي ذَلِكَ الْكِتَابِ قَوْمُ مُوسَى فَكَذَّبَ بِهِ بَعْضُهُمْ، وَصَدَّقَ بِهِ بَعْضُهُمْ) تفسیر الطبری، جلد 12 ، صفحہ 592 ۔ جب بھی کوئی بات کہی جائے تو آدمی اس کے بارے میں ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان ہوتاہے۔ ایک، صحیح تعبیر۔ دوسري، غلط تعبیر۔ اگر سننے والے فی الواقع سنجیدہ ہوں تو وہ ہمیشہ ایک ہی صحیح تعبیر تک پہنچیں گے۔ ان کی سنجیدگی ان کے لیے اتحاد رائے کی ضامن بن جائے گی۔ اس کے برعکس، اگر وہ بات کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوں تو وہ اس کو کوئی اہمیت نہ دیں گے اور اپنے خیال کے مطابق اس کی مختلف تعبیریں کریں گے۔ کوئی ایک بات کہے گا، کوئی دوسری بات۔ اس طرح ان کی غیر سنجیدگی انھیں اختلاف رائے تک پہنچا دے گی۔ یہ صورت تمام پیغمبروں کے ساتھ پیش آئی۔ اس کے باوجود خدا اس کو گوارا کرتا رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو عمل کی جگہ بنایا ہے اور اگلی آنے والی دنیا کو بدلہ پانے کی جگہ۔ خدا کی یہی سنت ہے جس کی بنا پر لوگوں کو مکمل آزادی ملی ہوئی ہے۔ موجودہ صورتِ حال اسی مہلت امتحان کی بنا پر ہے، نہ کہ خدا کے عجز یا لوگوں کے کسی استحقاق کی بنا پر۔

هود 11:112

دعوتِ حق کا ابتدائی استقبال نظر انداز کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد مخالفت شروع ہوتی ہے، یہاں تک کہ مخالفت اپنے آخری نقطہ پر پہنچ جاتی ہے۔ یہ داعیوں کے لیے بڑا نازک وقت ہوتا ہے۔ اس وقت ان کے درمیان دوقسم کے ذہن ابھرتے ہیں۔ کچھ لوگ جھنجھلا کر یہ چاہنے لگتے ہیں کہ مخالفین سے ٹکرا جائیں اور ان لوگوں سے قوت کے ذریعے نپٹیں جن کے لیے نظری دلائل بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ دوسرا ذہن وہ ہے جو یہ سوچتاہے کہ مخاطبین کے لیے قابل قبول بنانے کی خاطر اپنی دعوت میں کچھ ترمیم کرلی جائے۔ دعوت کے ان اجزاء کا ذکر نہ کیا جائے جن کو سن کر مخاطبین بگڑ جاتے ہیں۔ پہلا رویہ اگر حد سے تجاوز کرناہے تو دوسرا رویہ باطل سے مصالحت کرنا۔ اور یہ دونوں ہی اللہ کی نظر میں یکساں طورپر غلط ہیں۔ خاص طور پر دوسری چیز (قابل قبول بنانے کی خاطر تبدیلی) تو جرم کا درجہ رکھتی ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے، وہ حق کا اعلان ہے۔ اور مصالحت کی صورت میں حق کا واضح اعلان نہیں ہوسکتا۔ دعوت کی راہ میں جب کوئی مشکل پیش آئے تو داعی کو چاہیے کہ خدا کی طرف زیادہ سے زیادہ رجوع کرے کیونکہ سب کچھ کرنے والا وہی ہے۔ خدا کی مدد ہی تمام مشکلات کے حل کا واحد یقینی ذریعہ ہے۔

هود 11:113

دعوتِ حق کا ابتدائی استقبال نظر انداز کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد مخالفت شروع ہوتی ہے، یہاں تک کہ مخالفت اپنے آخری نقطہ پر پہنچ جاتی ہے۔ یہ داعیوں کے لیے بڑا نازک وقت ہوتا ہے۔ اس وقت ان کے درمیان دوقسم کے ذہن ابھرتے ہیں۔ کچھ لوگ جھنجھلا کر یہ چاہنے لگتے ہیں کہ مخالفین سے ٹکرا جائیں اور ان لوگوں سے قوت کے ذریعے نپٹیں جن کے لیے نظری دلائل بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ دوسرا ذہن وہ ہے جو یہ سوچتاہے کہ مخاطبین کے لیے قابل قبول بنانے کی خاطر اپنی دعوت میں کچھ ترمیم کرلی جائے۔ دعوت کے ان اجزاء کا ذکر نہ کیا جائے جن کو سن کر مخاطبین بگڑ جاتے ہیں۔ پہلا رویہ اگر حد سے تجاوز کرناہے تو دوسرا رویہ باطل سے مصالحت کرنا۔ اور یہ دونوں ہی اللہ کی نظر میں یکساں طورپر غلط ہیں۔ خاص طور پر دوسری چیز (قابل قبول بنانے کی خاطر تبدیلی) تو جرم کا درجہ رکھتی ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے، وہ حق کا اعلان ہے۔ اور مصالحت کی صورت میں حق کا واضح اعلان نہیں ہوسکتا۔ دعوت کی راہ میں جب کوئی مشکل پیش آئے تو داعی کو چاہیے کہ خدا کی طرف زیادہ سے زیادہ رجوع کرے کیونکہ سب کچھ کرنے والا وہی ہے۔ خدا کی مدد ہی تمام مشکلات کے حل کا واحد یقینی ذریعہ ہے۔

هود 11:114

دعوتِ حق کا ابتدائی استقبال نظر انداز کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد مخالفت شروع ہوتی ہے، یہاں تک کہ مخالفت اپنے آخری نقطہ پر پہنچ جاتی ہے۔ یہ داعیوں کے لیے بڑا نازک وقت ہوتا ہے۔ اس وقت ان کے درمیان دوقسم کے ذہن ابھرتے ہیں۔ کچھ لوگ جھنجھلا کر یہ چاہنے لگتے ہیں کہ مخالفین سے ٹکرا جائیں اور ان لوگوں سے قوت کے ذریعے نپٹیں جن کے لیے نظری دلائل بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ دوسرا ذہن وہ ہے جو یہ سوچتاہے کہ مخاطبین کے لیے قابل قبول بنانے کی خاطر اپنی دعوت میں کچھ ترمیم کرلی جائے۔ دعوت کے ان اجزاء کا ذکر نہ کیا جائے جن کو سن کر مخاطبین بگڑ جاتے ہیں۔ پہلا رویہ اگر حد سے تجاوز کرناہے تو دوسرا رویہ باطل سے مصالحت کرنا۔ اور یہ دونوں ہی اللہ کی نظر میں یکساں طورپر غلط ہیں۔ خاص طور پر دوسری چیز (قابل قبول بنانے کی خاطر تبدیلی) تو جرم کا درجہ رکھتی ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے، وہ حق کا اعلان ہے۔ اور مصالحت کی صورت میں حق کا واضح اعلان نہیں ہوسکتا۔ دعوت کی راہ میں جب کوئی مشکل پیش آئے تو داعی کو چاہیے کہ خدا کی طرف زیادہ سے زیادہ رجوع کرے کیونکہ سب کچھ کرنے والا وہی ہے۔ خدا کی مدد ہی تمام مشکلات کے حل کا واحد یقینی ذریعہ ہے۔

هود 11:115

دعوتِ حق کا ابتدائی استقبال نظر انداز کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد مخالفت شروع ہوتی ہے، یہاں تک کہ مخالفت اپنے آخری نقطہ پر پہنچ جاتی ہے۔ یہ داعیوں کے لیے بڑا نازک وقت ہوتا ہے۔ اس وقت ان کے درمیان دوقسم کے ذہن ابھرتے ہیں۔ کچھ لوگ جھنجھلا کر یہ چاہنے لگتے ہیں کہ مخالفین سے ٹکرا جائیں اور ان لوگوں سے قوت کے ذریعے نپٹیں جن کے لیے نظری دلائل بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ دوسرا ذہن وہ ہے جو یہ سوچتاہے کہ مخاطبین کے لیے قابل قبول بنانے کی خاطر اپنی دعوت میں کچھ ترمیم کرلی جائے۔ دعوت کے ان اجزاء کا ذکر نہ کیا جائے جن کو سن کر مخاطبین بگڑ جاتے ہیں۔ پہلا رویہ اگر حد سے تجاوز کرناہے تو دوسرا رویہ باطل سے مصالحت کرنا۔ اور یہ دونوں ہی اللہ کی نظر میں یکساں طورپر غلط ہیں۔ خاص طور پر دوسری چیز (قابل قبول بنانے کی خاطر تبدیلی) تو جرم کا درجہ رکھتی ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے، وہ حق کا اعلان ہے۔ اور مصالحت کی صورت میں حق کا واضح اعلان نہیں ہوسکتا۔ دعوت کی راہ میں جب کوئی مشکل پیش آئے تو داعی کو چاہیے کہ خدا کی طرف زیادہ سے زیادہ رجوع کرے کیونکہ سب کچھ کرنے والا وہی ہے۔ خدا کی مدد ہی تمام مشکلات کے حل کا واحد یقینی ذریعہ ہے۔

هود 11:116

یہاں پچھلوں سے مراد پچھلی امتیں بالفاظ دیگر پچھلی مسلم قومیں ہیں۔ قوم کا بگاڑ ہمیشہ اس طرح ہوتاہے کہ دنیوی سامان جو خدا کی طرف سے انھیں اس لیے دیا گیا تھاکہ اس سے ان کے اندر شکر کا جذبہ ابھر ے، وہ ان کے لیے سرمستی اور دنیا پرستی پیدا کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ ایسی حالت میں مسلم قوم کی اصلاح کے لیے جو کام کرنا ہے اس کا عنوان شریعت کی اصطلاح میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ یہ حکم ایک مسلمان کی اس ذمہ داری کو بتاتا ہے جو اپنے قریبی ماحول کی اصلاح کے سلسلہ میں اس پر عائد ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں ہمیشہ ایسے افراد موجود رہنے چاہیے جو مسلمانوں کو خدا اور آخرت کی یاد دلائیں۔ وہ ان کے اخلاق کی نگرانی کریں۔ وہ معاملات میں ان کو راہِ راست پر قائم رکھنے کی کوشش کریں۔ کسی قوم میںایسے اہل ِ خیر کا نہ نکلنا ہمیشہ دو سبب سے ہوتاہے۔ یا تو پوری قوم کی قوم بگڑ چکی ہو اور اس میں کوئی صالح انسان باقی نہ رہا ہو یا صالح افراد موجود تو ہوں مگر عمومی بگاڑ کی وجہ سے وہ زبان کھولنے کی ہمت نہ کرتے ہوں۔ انھیں اندیشہ ہو کہ اگر انھوں نے سچی بات کہی تو قوم کے درمیان وہ بے عزت ہو کر رہ جائیںگے۔ مذکورہ دونوں صورتوں میں قوم خدا کی نظر میں اپنا اعتبار کھو دیتی ہے اور اس کی مستحق ہوجاتی ہے کہ ایک یا دوسری صورت میں وہ عتابِ خداوندی کی زد میں آجائے۔

هود 11:117

یہاں پچھلوں سے مراد پچھلی امتیں بالفاظ دیگر پچھلی مسلم قومیں ہیں۔ قوم کا بگاڑ ہمیشہ اس طرح ہوتاہے کہ دنیوی سامان جو خدا کی طرف سے انھیں اس لیے دیا گیا تھاکہ اس سے ان کے اندر شکر کا جذبہ ابھر ے، وہ ان کے لیے سرمستی اور دنیا پرستی پیدا کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ ایسی حالت میں مسلم قوم کی اصلاح کے لیے جو کام کرنا ہے اس کا عنوان شریعت کی اصطلاح میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ یہ حکم ایک مسلمان کی اس ذمہ داری کو بتاتا ہے جو اپنے قریبی ماحول کی اصلاح کے سلسلہ میں اس پر عائد ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں ہمیشہ ایسے افراد موجود رہنے چاہیے جو مسلمانوں کو خدا اور آخرت کی یاد دلائیں۔ وہ ان کے اخلاق کی نگرانی کریں۔ وہ معاملات میں ان کو راہِ راست پر قائم رکھنے کی کوشش کریں۔ کسی قوم میںایسے اہل ِ خیر کا نہ نکلنا ہمیشہ دو سبب سے ہوتاہے۔ یا تو پوری قوم کی قوم بگڑ چکی ہو اور اس میں کوئی صالح انسان باقی نہ رہا ہو یا صالح افراد موجود تو ہوں مگر عمومی بگاڑ کی وجہ سے وہ زبان کھولنے کی ہمت نہ کرتے ہوں۔ انھیں اندیشہ ہو کہ اگر انھوں نے سچی بات کہی تو قوم کے درمیان وہ بے عزت ہو کر رہ جائیںگے۔ مذکورہ دونوں صورتوں میں قوم خدا کی نظر میں اپنا اعتبار کھو دیتی ہے اور اس کی مستحق ہوجاتی ہے کہ ایک یا دوسری صورت میں وہ عتابِ خداوندی کی زد میں آجائے۔

هود 11:118

ہماری دنیا میں انسان کے سوا دوسری بے شمار مخلوقات بھی ہیں۔ یہ سب ہمیشہ فطرت کے ایک ہی مقرر راستہ پر چلتی ہیں۔ اسی طرح انسان کو بھی خدا ایک ہی صراطِ مستقیم کا پابند بنا سکتا تھا۔ مگر انسان کے بارے میں خدا کی یہ اسکیم ہی نہیں۔ انسان کے سلسلے میں خدا کا منصوبہ یہ تھا کہ ایک ایسی مخلوق پیدا کی جائے جو خود اپنے آزادانہ اختیار کے تحت ایک چیز کو لے اور دوسری چیز کو چھوڑ دے۔ انسان کی دنیا میں اختلاف (کسی کا ایک راستہ پر چلنااور کسی کا دوسرے راستہ پر) دراصل اسی خاص خدائی منصوبہ کی بنا پر ہے۔ یہ منصوبہ یقیناً ایک پر خطر منصوبہ تھا کیوںکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ بہت سے لوگ آزادی کا غلط استعمال کرکے اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنالیں گے۔ مگر اسی پر خطر منصوبہ کے ذریعے وہ اعلیٰ روحیں بھی چنی جاسکتی تھیں جو خداکی رحمت خاص کی مستحق قرار پائیں۔ خدا نے اپنی رحمتیں ساری کائنات کو بطور عطیہ دے رکھی ہیں۔ اب خدا نے یہ منصوبہ اس لیے بنایا تاکہ اپنی رحمت وہ اپنی ایک مخلوق کو یہ کہہ کر دے کہ یہ تمھارا حق ہے۔ خدا کی رحمت اس شخص کو ملتی ہے جس کا شعور اتنا بیدار ہوگیاہو کہ وہ امتحانی اختیار کے اندر اپنی حقیقی بے اختیاری کو جان لے۔ وہ انسانی قدرت کے پردہ میں خدا کی قدرت کو دیکھ لے۔ یہ شعور ایسے آدمی سے سرکشی کی طاقت چھین لیتاہے۔ حتی کہ اس کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ جب خدا اپنی رحمت کو اس کا حق کہہ کر پیش کرے تو اس کا شعورِ حقیقت پکار اٹھے — خدایا، یہ تیری رحمتوں ہی کا ایک کرشمہ ہے، ورنہ میرا عمل تو کسی قیمت کا مستحق نہیں۔

هود 11:119

ہماری دنیا میں انسان کے سوا دوسری بے شمار مخلوقات بھی ہیں۔ یہ سب ہمیشہ فطرت کے ایک ہی مقرر راستہ پر چلتی ہیں۔ اسی طرح انسان کو بھی خدا ایک ہی صراطِ مستقیم کا پابند بنا سکتا تھا۔ مگر انسان کے بارے میں خدا کی یہ اسکیم ہی نہیں۔ انسان کے سلسلے میں خدا کا منصوبہ یہ تھا کہ ایک ایسی مخلوق پیدا کی جائے جو خود اپنے آزادانہ اختیار کے تحت ایک چیز کو لے اور دوسری چیز کو چھوڑ دے۔ انسان کی دنیا میں اختلاف (کسی کا ایک راستہ پر چلنااور کسی کا دوسرے راستہ پر) دراصل اسی خاص خدائی منصوبہ کی بنا پر ہے۔ یہ منصوبہ یقیناً ایک پر خطر منصوبہ تھا کیوںکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ بہت سے لوگ آزادی کا غلط استعمال کرکے اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنالیں گے۔ مگر اسی پر خطر منصوبہ کے ذریعے وہ اعلیٰ روحیں بھی چنی جاسکتی تھیں جو خداکی رحمت خاص کی مستحق قرار پائیں۔ خدا نے اپنی رحمتیں ساری کائنات کو بطور عطیہ دے رکھی ہیں۔ اب خدا نے یہ منصوبہ اس لیے بنایا تاکہ اپنی رحمت وہ اپنی ایک مخلوق کو یہ کہہ کر دے کہ یہ تمھارا حق ہے۔ خدا کی رحمت اس شخص کو ملتی ہے جس کا شعور اتنا بیدار ہوگیاہو کہ وہ امتحانی اختیار کے اندر اپنی حقیقی بے اختیاری کو جان لے۔ وہ انسانی قدرت کے پردہ میں خدا کی قدرت کو دیکھ لے۔ یہ شعور ایسے آدمی سے سرکشی کی طاقت چھین لیتاہے۔ حتی کہ اس کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ جب خدا اپنی رحمت کو اس کا حق کہہ کر پیش کرے تو اس کا شعورِ حقیقت پکار اٹھے — خدایا، یہ تیری رحمتوں ہی کا ایک کرشمہ ہے، ورنہ میرا عمل تو کسی قیمت کا مستحق نہیں۔

هود 11:120

قرآن میں رسولوں کے احوال اس لیے سنائے گئے ہیں کہ بعد کے داعیوں کو اس سے سبق حاصل ہو۔ رسولوں کے احوال میں داعی دیکھتاہے کہ ان کی مخاطب قوموںنے ان سے جھگڑے كيے۔ سیدھی بات کو غلط رخ دے کر انھیں مطعون کیا۔ ان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ ان کو اس طرح رد کردیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ مگر بالآخر اللہ نے ان کی مدد کی۔ ان کی بات سب سے برتر ثابت ہوئی۔ مخالفین کی تمام کارروائیاں ناکام ہوکر رہ گئیں۔ دونوں گروہوں کا یہ مختلف انجام اپنی ابتدائی صورت میں موجودہ دنیا ہی میں پیش آیا اور آخرت میں وہ اپنی کامل ترین صورت میں پیش آئے گا۔ ان مثالوں سے داعی کو یہ تاریخی اعتماد حاصل ہوتا ہے کہ اس کو دعوتِ حق کی راہ میں جو مشکلیں پیش آرہی ہیں ان میں اس کے لیے نہ مایوسی کا سوال ہے اور نہ گھبراہٹ کا۔ دعوت حق کی راہ میں یہ چیزیں ہمیشہ پیش آتی ہیں۔ اور اس کو بھی بالآخر اس طرح کامیابی حاصل ہوگی جس طرح اس سے پہلے خداکے سچے داعیوں کو حاصل ہوئی۔

هود 11:121

قرآن میں رسولوں کے احوال اس لیے سنائے گئے ہیں کہ بعد کے داعیوں کو اس سے سبق حاصل ہو۔ رسولوں کے احوال میں داعی دیکھتاہے کہ ان کی مخاطب قوموںنے ان سے جھگڑے كيے۔ سیدھی بات کو غلط رخ دے کر انھیں مطعون کیا۔ ان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ ان کو اس طرح رد کردیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ مگر بالآخر اللہ نے ان کی مدد کی۔ ان کی بات سب سے برتر ثابت ہوئی۔ مخالفین کی تمام کارروائیاں ناکام ہوکر رہ گئیں۔ دونوں گروہوں کا یہ مختلف انجام اپنی ابتدائی صورت میں موجودہ دنیا ہی میں پیش آیا اور آخرت میں وہ اپنی کامل ترین صورت میں پیش آئے گا۔ ان مثالوں سے داعی کو یہ تاریخی اعتماد حاصل ہوتا ہے کہ اس کو دعوتِ حق کی راہ میں جو مشکلیں پیش آرہی ہیں ان میں اس کے لیے نہ مایوسی کا سوال ہے اور نہ گھبراہٹ کا۔ دعوت حق کی راہ میں یہ چیزیں ہمیشہ پیش آتی ہیں۔ اور اس کو بھی بالآخر اس طرح کامیابی حاصل ہوگی جس طرح اس سے پہلے خداکے سچے داعیوں کو حاصل ہوئی۔

هود 11:122

قرآن میں رسولوں کے احوال اس لیے سنائے گئے ہیں کہ بعد کے داعیوں کو اس سے سبق حاصل ہو۔ رسولوں کے احوال میں داعی دیکھتاہے کہ ان کی مخاطب قوموںنے ان سے جھگڑے كيے۔ سیدھی بات کو غلط رخ دے کر انھیں مطعون کیا۔ ان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ ان کو اس طرح رد کردیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ مگر بالآخر اللہ نے ان کی مدد کی۔ ان کی بات سب سے برتر ثابت ہوئی۔ مخالفین کی تمام کارروائیاں ناکام ہوکر رہ گئیں۔ دونوں گروہوں کا یہ مختلف انجام اپنی ابتدائی صورت میں موجودہ دنیا ہی میں پیش آیا اور آخرت میں وہ اپنی کامل ترین صورت میں پیش آئے گا۔ ان مثالوں سے داعی کو یہ تاریخی اعتماد حاصل ہوتا ہے کہ اس کو دعوتِ حق کی راہ میں جو مشکلیں پیش آرہی ہیں ان میں اس کے لیے نہ مایوسی کا سوال ہے اور نہ گھبراہٹ کا۔ دعوت حق کی راہ میں یہ چیزیں ہمیشہ پیش آتی ہیں۔ اور اس کو بھی بالآخر اس طرح کامیابی حاصل ہوگی جس طرح اس سے پہلے خداکے سچے داعیوں کو حاصل ہوئی۔

هود 11:123

قرآن میں رسولوں کے احوال اس لیے سنائے گئے ہیں کہ بعد کے داعیوں کو اس سے سبق حاصل ہو۔ رسولوں کے احوال میں داعی دیکھتاہے کہ ان کی مخاطب قوموںنے ان سے جھگڑے كيے۔ سیدھی بات کو غلط رخ دے کر انھیں مطعون کیا۔ ان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ ان کو اس طرح رد کردیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ مگر بالآخر اللہ نے ان کی مدد کی۔ ان کی بات سب سے برتر ثابت ہوئی۔ مخالفین کی تمام کارروائیاں ناکام ہوکر رہ گئیں۔ دونوں گروہوں کا یہ مختلف انجام اپنی ابتدائی صورت میں موجودہ دنیا ہی میں پیش آیا اور آخرت میں وہ اپنی کامل ترین صورت میں پیش آئے گا۔ ان مثالوں سے داعی کو یہ تاریخی اعتماد حاصل ہوتا ہے کہ اس کو دعوتِ حق کی راہ میں جو مشکلیں پیش آرہی ہیں ان میں اس کے لیے نہ مایوسی کا سوال ہے اور نہ گھبراہٹ کا۔ دعوت حق کی راہ میں یہ چیزیں ہمیشہ پیش آتی ہیں۔ اور اس کو بھی بالآخر اس طرح کامیابی حاصل ہوگی جس طرح اس سے پہلے خداکے سچے داعیوں کو حاصل ہوئی۔