Tazkirul Quran(Maulana Wahiduddin Khan) — الإسراء 17:1 – مريم 19:98
Contents
- الإسراء 17:1
- الإسراء 17:2
- الإسراء 17:3
- الإسراء 17:4
- الإسراء 17:5
- الإسراء 17:6
- الإسراء 17:7
- الإسراء 17:8
- الإسراء 17:9
- الإسراء 17:10
- الإسراء 17:11
- الإسراء 17:12
- الإسراء 17:13
- الإسراء 17:14
- الإسراء 17:15
- الإسراء 17:16
- الإسراء 17:17
- الإسراء 17:18
- الإسراء 17:19
- الإسراء 17:20
- الإسراء 17:21
- الإسراء 17:22
- الإسراء 17:23
- الإسراء 17:24
- الإسراء 17:25
- الإسراء 17:26
- الإسراء 17:27
- الإسراء 17:28
- الإسراء 17:29
- الإسراء 17:30
- الإسراء 17:31
- الإسراء 17:32
- الإسراء 17:33
- الإسراء 17:34
- الإسراء 17:35
- الإسراء 17:36
- الإسراء 17:37
- الإسراء 17:38
- الإسراء 17:39
- الإسراء 17:40
- الإسراء 17:41
- الإسراء 17:42
- الإسراء 17:43
- الإسراء 17:44
- الإسراء 17:45
- الإسراء 17:46
- الإسراء 17:47
- الإسراء 17:48
- الإسراء 17:49
- الإسراء 17:50
- الإسراء 17:51
- الإسراء 17:52
- الإسراء 17:53
- الإسراء 17:54
- الإسراء 17:55
- الإسراء 17:56
- الإسراء 17:57
- الإسراء 17:58
- الإسراء 17:59
- الإسراء 17:60
- الإسراء 17:61
- الإسراء 17:62
- الإسراء 17:63
- الإسراء 17:64
- الإسراء 17:65
- الإسراء 17:66
- الإسراء 17:67
- الإسراء 17:68
- الإسراء 17:69
- الإسراء 17:70
- الإسراء 17:71
- الإسراء 17:72
- الإسراء 17:73
- الإسراء 17:74
- الإسراء 17:75
- الإسراء 17:76
- الإسراء 17:77
- الإسراء 17:78
- الإسراء 17:79
- الإسراء 17:80
- الإسراء 17:81
- الإسراء 17:82
- الإسراء 17:83
- الإسراء 17:84
- الإسراء 17:85
- الإسراء 17:86
- الإسراء 17:87
- الإسراء 17:88
- الإسراء 17:89
- الإسراء 17:90
- الإسراء 17:91
- الإسراء 17:92
- الإسراء 17:93
- الإسراء 17:94
- الإسراء 17:95
- الإسراء 17:96
- الإسراء 17:97
- الإسراء 17:98
- الإسراء 17:99
- الإسراء 17:100
- الإسراء 17:101
- الإسراء 17:102
- الإسراء 17:103
- الإسراء 17:104
- الإسراء 17:105
- الإسراء 17:106
- الإسراء 17:107
- الإسراء 17:108
- الإسراء 17:109
- الإسراء 17:110
- الإسراء 17:111
- الكهف 18:1
- الكهف 18:2
- الكهف 18:3
- الكهف 18:4
- الكهف 18:5
- الكهف 18:6
- الكهف 18:7
- الكهف 18:8
- الكهف 18:9
- الكهف 18:10
- الكهف 18:11
- الكهف 18:12
- الكهف 18:13
- الكهف 18:14
- الكهف 18:15
- الكهف 18:16
- الكهف 18:17
- الكهف 18:18
- الكهف 18:19
- الكهف 18:20
- الكهف 18:21
- الكهف 18:22
- الكهف 18:23
- الكهف 18:24
- الكهف 18:25
- الكهف 18:26
- الكهف 18:27
- الكهف 18:28
- الكهف 18:29
- الكهف 18:30
- الكهف 18:31
- الكهف 18:32
- الكهف 18:33
- الكهف 18:34
- الكهف 18:35
- الكهف 18:36
- الكهف 18:37
- الكهف 18:38
- الكهف 18:39
- الكهف 18:40
- الكهف 18:41
- الكهف 18:42
- الكهف 18:43
- الكهف 18:44
- الكهف 18:45
- الكهف 18:46
- الكهف 18:47
- الكهف 18:48
- الكهف 18:49
- الكهف 18:50
- الكهف 18:51
- الكهف 18:52
- الكهف 18:53
- الكهف 18:54
- الكهف 18:55
- الكهف 18:56
- الكهف 18:57
- الكهف 18:58
- الكهف 18:59
- الكهف 18:60
- الكهف 18:61
- الكهف 18:62
- الكهف 18:63
- الكهف 18:64
- الكهف 18:65
- الكهف 18:66
- الكهف 18:67
- الكهف 18:68
- الكهف 18:69
- الكهف 18:70
- الكهف 18:71
- الكهف 18:72
- الكهف 18:73
- الكهف 18:74
- الكهف 18:75
- الكهف 18:76
- الكهف 18:77
- الكهف 18:78
- الكهف 18:79
- الكهف 18:80
- الكهف 18:81
- الكهف 18:82
- الكهف 18:83
- الكهف 18:84
- الكهف 18:85
- الكهف 18:86
- الكهف 18:87
- الكهف 18:88
- الكهف 18:89
- الكهف 18:90
- الكهف 18:91
- الكهف 18:92
- الكهف 18:93
- الكهف 18:94
- الكهف 18:95
- الكهف 18:96
- الكهف 18:97
- الكهف 18:98
- الكهف 18:99
- الكهف 18:100
- الكهف 18:101
- الكهف 18:102
- الكهف 18:103
- الكهف 18:104
- الكهف 18:105
- الكهف 18:106
- الكهف 18:107
- الكهف 18:108
- الكهف 18:109
- الكهف 18:110
- مريم 19:1
- مريم 19:2
- مريم 19:3
- مريم 19:4
- مريم 19:5
- مريم 19:6
- مريم 19:7
- مريم 19:8
- مريم 19:9
- مريم 19:10
- مريم 19:11
- مريم 19:12
- مريم 19:13
- مريم 19:14
- مريم 19:15
- مريم 19:16
- مريم 19:17
- مريم 19:18
- مريم 19:19
- مريم 19:20
- مريم 19:21
- مريم 19:22
- مريم 19:23
- مريم 19:24
- مريم 19:25
- مريم 19:26
- مريم 19:27
- مريم 19:28
- مريم 19:29
- مريم 19:30
- مريم 19:31
- مريم 19:32
- مريم 19:33
- مريم 19:34
- مريم 19:35
- مريم 19:36
- مريم 19:37
- مريم 19:38
- مريم 19:39
- مريم 19:40
- مريم 19:41
- مريم 19:42
- مريم 19:43
- مريم 19:44
- مريم 19:45
- مريم 19:46
- مريم 19:47
- مريم 19:48
- مريم 19:49
- مريم 19:50
- مريم 19:51
- مريم 19:52
- مريم 19:53
- مريم 19:54
- مريم 19:55
- مريم 19:56
- مريم 19:57
- مريم 19:58
- مريم 19:59
- مريم 19:60
- مريم 19:61
- مريم 19:62
- مريم 19:63
- مريم 19:64
- مريم 19:65
- مريم 19:66
- مريم 19:67
- مريم 19:68
- مريم 19:69
- مريم 19:70
- مريم 19:71
- مريم 19:72
- مريم 19:73
- مريم 19:74
- مريم 19:75
- مريم 19:76
- مريم 19:77
- مريم 19:78
- مريم 19:79
- مريم 19:80
- مريم 19:81
- مريم 19:82
- مريم 19:83
- مريم 19:84
- مريم 19:85
- مريم 19:86
- مريم 19:87
- مريم 19:88
- مريم 19:89
- مريم 19:90
- مريم 19:91
- مريم 19:92
- مريم 19:93
- مريم 19:94
- مريم 19:95
- مريم 19:96
- مريم 19:97
- مريم 19:98
الإسراء 17:1
ہجرت سے ایک سال پہلے مکہ کے حالات بے حد سخت تھے۔ ایسا معلوم ہوتاتھا کہ اسلام کی تاریخ بننے سے پہلے ختم ہوجائے گی۔عین اس وقت اللہ نے پیغمبر اسلام کو ایک عظیم نشانی دکھائی۔ یہ نشانی اس حقیقت کا محسوس مظاہرہ تھا کہ اسلام کی تاریخ نہ صرف یہ کہ اپنی تکمیل تک پہنچے گی۔ بلکہ اس کے گرد ایسے عملی حالات جمع کيے جائیں گے کہ وہ ابدی طورپر زندہ اور محفوظ رہے۔ کیوں کہ اب اسی کو قیامت تک تمام قوموں کے لیے خدا کے دین کا مستند ماخذ قرار پانا ہے۔
اللہ اپنے خصوصی اہتمام کے تحت پیغمبر اسلام کو مکہ سے فلسطین (بیت المقدس) لے گیا۔ یہ جسمانی یا روحانی سفرآپ کے سفر معراج کی پہلی منزل تھی۔ یہاں بیت المقدس میں پچھلے تمام پیغمبر بھی جمع تھے۔ ان سب نے مل کر با جماعت نماز ادا کی اور پیغمبر اسلام نے آگے کھڑے ہو کر ان سب کی امامت فرمائی۔ آپ کی امامت کا یہ واقعہ گویا اس خدائی فیصلہ کی ایک علامت تھا کہ پچھلی تمام نبوتیں اب ہدایتِ الٰہی کے مستند ماخذ کی حیثیت سے منسوخ کردی گئیں۔ اب خدائی ہدایت کو جاننے کے لیے تمام قوموں کو پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے دین کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
اس اہم تقریب کو انجام دینے کے لیے فلسطین موزوں ترین جگہ تھی۔ فلسطین پچھلے اکثر انبیاء کا مرکزِ دعوت رہاہے۔ اس لیے خدا نے اپنے اس فیصلہ کے اظہار کے لیے اسی خاص علاقہ کا انتخاب فرمایا۔
الإسراء 17:2
اسراء کے مذکورہ واقعہ کا مطلب یہ تھا کہ بني اسرائیل (یہود) کو حاملِ کتاب کے مقام سے معزول کردیا گیا اور ان کی جگہ بنو اسماعیل کو کتابِ الٰہی کا حامل بنا دیا گیا۔ یہ واقعہ خدا کی سنت کے تحت عمل میںآیا ۔ خدا اس دنیا میں حق کے اعلان کے لیے کسی متعین گروہ کو منتخب کرتاہے۔ یہ سب سے بڑا اعزاز ہے جو اس دنیا میں کسی کو ملتاہے۔
تاہم یہ انتخاب نسل یا قوم کی بنیاد پر نہیںہے۔ اس کا استحقاق کسی گروہ کے لیے صرف اس وقت ثابت ہوتاہے جب کہ وہ اس کے لیے ضروری اہلیت کا ثبوت دے۔ اہلیت کے ختم ہوتے ہی اس کا استحقاق بھی ختم ہوجاتا ہے۔ امّتِ آدم، امّتِ نوح، امتِ موسیٰ، امتِ مسیح، ہر ایک کے ساتھ یہ واقعہ ہوچکا ہے۔ آئندہ امت کے لیے بھی خدا کا قانون یہی ہے، اس میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔
اس منصب کے لیے جو اہلیت درکار ہے، وہ یہ کہ خداکے سوا کسی کو وکیل (کارساز) نہ بنایا جائے۔ صرف ایک خدا پر سارا بھروسہ کرکے اپنے تمام معاملات اس کے حوالے کردئے جائیں۔
خدا کو جب آدمی اس کی تمام عظمتوں اور قدرتوں کے ساتھ پاتاہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ خدا کو اپنا وکیل بنا لیتاہے۔ جس شخص کو خدا کی حقیقی معرفت ہوجائے، اس کا حال یہی ہوگا کہ وہ اس دنیا میں خدا کو اپنا سب کچھ بنا لے گا۔ جو لوگ اس طرح خدا کو پالیں وہی موجودہ دنیا میں مومنانہ زندگی گزار سکتے ہیں۔ مومنانہ زندگی گزرانے کے لیے آدمی کو تمام مخلوقات سے اوپر اٹھنا پڑتاہے۔ اور تمام مخلوقات سے وہی شخص اوپر اٹھ سکتا ہے جو سب سے بڑی چیز — مخلوقات کے خالق ومالک کو پالے۔
دعوتِ حق کی ذمہ داری بھی وہی لوگ صحیح طورپر ادا کرسکتے ہیں جن کو خدا کی معرفت کا یہ درجہ حاصل ہوجائے۔ دعوتِ حق کے لیے کامل بے غرضی اورکامل یکسوئی لازمی طورپر ضروری ہے۔ اورکامل بے غرضی اور کامل یکسوئی اس کے بغیر کسی کے اندر پیدانہیں ہوسکتی کہ اس کي تمام امیدیں اور اندیشے خدا سے وابستہ ہوچکے ہوں، خدا ہی اس کا سب کچھ بن چکا ہو۔
الإسراء 17:3
اسراء کے مذکورہ واقعہ کا مطلب یہ تھا کہ بني اسرائیل (یہود) کو حاملِ کتاب کے مقام سے معزول کردیا گیا اور ان کی جگہ بنو اسماعیل کو کتابِ الٰہی کا حامل بنا دیا گیا۔ یہ واقعہ خدا کی سنت کے تحت عمل میںآیا ۔ خدا اس دنیا میں حق کے اعلان کے لیے کسی متعین گروہ کو منتخب کرتاہے۔ یہ سب سے بڑا اعزاز ہے جو اس دنیا میں کسی کو ملتاہے۔
تاہم یہ انتخاب نسل یا قوم کی بنیاد پر نہیںہے۔ اس کا استحقاق کسی گروہ کے لیے صرف اس وقت ثابت ہوتاہے جب کہ وہ اس کے لیے ضروری اہلیت کا ثبوت دے۔ اہلیت کے ختم ہوتے ہی اس کا استحقاق بھی ختم ہوجاتا ہے۔ امّتِ آدم، امّتِ نوح، امتِ موسیٰ، امتِ مسیح، ہر ایک کے ساتھ یہ واقعہ ہوچکا ہے۔ آئندہ امت کے لیے بھی خدا کا قانون یہی ہے، اس میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔
اس منصب کے لیے جو اہلیت درکار ہے، وہ یہ کہ خداکے سوا کسی کو وکیل (کارساز) نہ بنایا جائے۔ صرف ایک خدا پر سارا بھروسہ کرکے اپنے تمام معاملات اس کے حوالے کردئے جائیں۔
خدا کو جب آدمی اس کی تمام عظمتوں اور قدرتوں کے ساتھ پاتاہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ خدا کو اپنا وکیل بنا لیتاہے۔ جس شخص کو خدا کی حقیقی معرفت ہوجائے، اس کا حال یہی ہوگا کہ وہ اس دنیا میں خدا کو اپنا سب کچھ بنا لے گا۔ جو لوگ اس طرح خدا کو پالیں وہی موجودہ دنیا میں مومنانہ زندگی گزار سکتے ہیں۔ مومنانہ زندگی گزرانے کے لیے آدمی کو تمام مخلوقات سے اوپر اٹھنا پڑتاہے۔ اور تمام مخلوقات سے وہی شخص اوپر اٹھ سکتا ہے جو سب سے بڑی چیز — مخلوقات کے خالق ومالک کو پالے۔
دعوتِ حق کی ذمہ داری بھی وہی لوگ صحیح طورپر ادا کرسکتے ہیں جن کو خدا کی معرفت کا یہ درجہ حاصل ہوجائے۔ دعوتِ حق کے لیے کامل بے غرضی اورکامل یکسوئی لازمی طورپر ضروری ہے۔ اورکامل بے غرضی اور کامل یکسوئی اس کے بغیر کسی کے اندر پیدانہیں ہوسکتی کہ اس کي تمام امیدیں اور اندیشے خدا سے وابستہ ہوچکے ہوں، خدا ہی اس کا سب کچھ بن چکا ہو۔
الإسراء 17:4
یہاں فساد سے مراد دینی بگاڑ ہے جو حضرت موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے درمیان ظاہر ہوا۔ اس کے دو دور ہیں۔ پہلے دور کے بگاڑ کی تفصیلات پرانے عہد نامہ میں زبور، یسعیاہ، یرمیاہ اور حزقی ایل کی کتابوں میں پائی جاتی ہے۔ اور دوسرے دور کے بگاڑ کی تفصیل حضرت مسیح کی زبان سے ہے جو نئے عہد نامہ میں متی اور لوقا کی انجیلوں میں موجود ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومکہ سے اٹھا کر بیت المقدس لے جایا گیا تاکہ ’’آپ کو خدا کی نشانیاں دکھائی جائیں‘‘۔ ان نشانیوں میں سے ایک نشانی وہ تاریخ بھی ہے جو بیت المقدس سے وابستہ ہے۔
یہ تاریخ دراصل خدا کے ایک قانون کا ظہور ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ آسمانی کتاب کی حامل قوم اگر کتاب الٰہی کے حقوق ادا کرے تو اس کو (آخرت کی کامیابی کے علاوہ) دنیا میں سرفرازی دی جائے۔اور اگر وہ کتاب کے حقوق ادا نہ کرے تو اس کو دنیا کی جابر قوموں کے حوالے کردیا جائے جو اس کو اپنے ظلم واستغلال کا نشانہ بنائیں۔ یہ گویا ایک علامت ہے جو اسی دنیا میں بتا دیتی ہے کہ خدا اس قوم سے خوش ہے یا نا خوش۔
اس قانون کا ظہور سابق حاملینِ کتاب (یہود) پر بار بار ہوا ہے جن میں سے دو نمایاں واقعات کا یہاں بطور نصیحت حوالہ دیاگیا ہے۔
بنی اسرائیل پر اولاً خدانے یہ انعام کیا کہ ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دلائی اور پھر حضرت موسیٰ کے بعد ان کے لیے ایسے حالات پیدا کيے کہ وہ فلسطین پر قبضہ کرکے اپنی سلطنت قائم کرسکیں۔ مگر بعد کو یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ ایک طرف وہ مشرک قوموں پر داعی بننے کے بجائے خود ان کے مدعو بن گئے اور ان کے اثر سے مشرکانہ اعمال میں مبتلا ہوگئے۔ دوسری طرف وہ آپس کے اختلاف کا شکار ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔
خدا کی نافرمانی کے نتیجہ میں بنی اسرائیل پر جو کچھ گزرا اس میں سے ایک نمایاں واقعہ بابل (عراق) کے بادشاہ نبو کد نضر کا ہے۔ یہود کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر نبو کد نضر نے فلسطین پر اپنی بالادستی قائم کرلی۔ اس کے بعد اس نے خود یہود کے شاہی خاندان میں سے ایک شخص کو اپنا نمائندہ بنا دیا کہ وہ اس کی طرف سے ان کے اوپر حکومت کرے۔ مگر یہود نے اس ’’ماتحتی‘‘ کو اپنے قومی فخر کے خلاف سمجھا اور ا س کے خلاف بغاوت کے درپے ہوگئے۔ ان کے اندر ایسے شاعر اور مقرر پیدا ہوئے جنھوں نے پرجوش انداز میں یہود کو ابھارنا شروع کیا۔ یہود کے پیغمبر یرمیاہ نے متنبہ کیا کہ یہ سب جھوٹے لیڈر ہیں۔ تم ان کے فریب میں نہ آؤ۔ تم اپنی موجودہ کمزوریوں کے ساتھ شاہ بابل کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس کے بجائے تم ایسا کرو کہ شاہ بابل کی سیاسی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی دینی اصلاح اور تعمیری جدوجہد میں لگ جاؤ یہاں تک کہ اللہ آئندہ تمھارے لیے مزید راہیں پیدا کردے۔ مگر یہود نے یرمیاہ نبی کی نصیحت کو نہیں مانا۔ خوش فہم لیڈروں کی باتوں میں آکر انھوں نے شاہ بابل کے خلاف بغاوت کردی۔ اس کے بعد شاہ بابل سخت غضب ناک ہوگیا۔ اس نے دوبارہ
586
ق م میں اپنی پوری طاقت سے فلسطین پر حملہ کیا۔ یہود کو مکمل شکست ہوئی۔ شاہ بابل نے نہ صرف یہود کو زبردست دنیوی نقصانات پہنچائے بلکہ یروشلم میں یہود کے عبادت خانہ کو مکمل طور پر ڈھا دیا جو یہود کی عظمت کا آخری نشان تھا۔
الإسراء 17:5
یہاں فساد سے مراد دینی بگاڑ ہے جو حضرت موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے درمیان ظاہر ہوا۔ اس کے دو دور ہیں۔ پہلے دور کے بگاڑ کی تفصیلات پرانے عہد نامہ میں زبور، یسعیاہ، یرمیاہ اور حزقی ایل کی کتابوں میں پائی جاتی ہے۔ اور دوسرے دور کے بگاڑ کی تفصیل حضرت مسیح کی زبان سے ہے جو نئے عہد نامہ میں متی اور لوقا کی انجیلوں میں موجود ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومکہ سے اٹھا کر بیت المقدس لے جایا گیا تاکہ ’’آپ کو خدا کی نشانیاں دکھائی جائیں‘‘۔ ان نشانیوں میں سے ایک نشانی وہ تاریخ بھی ہے جو بیت المقدس سے وابستہ ہے۔
یہ تاریخ دراصل خدا کے ایک قانون کا ظہور ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ آسمانی کتاب کی حامل قوم اگر کتاب الٰہی کے حقوق ادا کرے تو اس کو (آخرت کی کامیابی کے علاوہ) دنیا میں سرفرازی دی جائے۔اور اگر وہ کتاب کے حقوق ادا نہ کرے تو اس کو دنیا کی جابر قوموں کے حوالے کردیا جائے جو اس کو اپنے ظلم واستغلال کا نشانہ بنائیں۔ یہ گویا ایک علامت ہے جو اسی دنیا میں بتا دیتی ہے کہ خدا اس قوم سے خوش ہے یا نا خوش۔
اس قانون کا ظہور سابق حاملینِ کتاب (یہود) پر بار بار ہوا ہے جن میں سے دو نمایاں واقعات کا یہاں بطور نصیحت حوالہ دیاگیا ہے۔
بنی اسرائیل پر اولاً خدانے یہ انعام کیا کہ ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دلائی اور پھر حضرت موسیٰ کے بعد ان کے لیے ایسے حالات پیدا کيے کہ وہ فلسطین پر قبضہ کرکے اپنی سلطنت قائم کرسکیں۔ مگر بعد کو یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ ایک طرف وہ مشرک قوموں پر داعی بننے کے بجائے خود ان کے مدعو بن گئے اور ان کے اثر سے مشرکانہ اعمال میں مبتلا ہوگئے۔ دوسری طرف وہ آپس کے اختلاف کا شکار ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔
خدا کی نافرمانی کے نتیجہ میں بنی اسرائیل پر جو کچھ گزرا اس میں سے ایک نمایاں واقعہ بابل (عراق) کے بادشاہ نبو کد نضر کا ہے۔ یہود کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر نبو کد نضر نے فلسطین پر اپنی بالادستی قائم کرلی۔ اس کے بعد اس نے خود یہود کے شاہی خاندان میں سے ایک شخص کو اپنا نمائندہ بنا دیا کہ وہ اس کی طرف سے ان کے اوپر حکومت کرے۔ مگر یہود نے اس ’’ماتحتی‘‘ کو اپنے قومی فخر کے خلاف سمجھا اور ا س کے خلاف بغاوت کے درپے ہوگئے۔ ان کے اندر ایسے شاعر اور مقرر پیدا ہوئے جنھوں نے پرجوش انداز میں یہود کو ابھارنا شروع کیا۔ یہود کے پیغمبر یرمیاہ نے متنبہ کیا کہ یہ سب جھوٹے لیڈر ہیں۔ تم ان کے فریب میں نہ آؤ۔ تم اپنی موجودہ کمزوریوں کے ساتھ شاہ بابل کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس کے بجائے تم ایسا کرو کہ شاہ بابل کی سیاسی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی دینی اصلاح اور تعمیری جدوجہد میں لگ جاؤ یہاں تک کہ اللہ آئندہ تمھارے لیے مزید راہیں پیدا کردے۔ مگر یہود نے یرمیاہ نبی کی نصیحت کو نہیں مانا۔ خوش فہم لیڈروں کی باتوں میں آکر انھوں نے شاہ بابل کے خلاف بغاوت کردی۔ اس کے بعد شاہ بابل سخت غضب ناک ہوگیا۔ اس نے دوبارہ
586
ق م میں اپنی پوری طاقت سے فلسطین پر حملہ کیا۔ یہود کو مکمل شکست ہوئی۔ شاہ بابل نے نہ صرف یہود کو زبردست دنیوی نقصانات پہنچائے بلکہ یروشلم میں یہود کے عبادت خانہ کو مکمل طور پر ڈھا دیا جو یہود کی عظمت کا آخری نشان تھا۔
الإسراء 17:6
یہاں فساد سے مراد دینی بگاڑ ہے جو حضرت موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے درمیان ظاہر ہوا۔ اس کے دو دور ہیں۔ پہلے دور کے بگاڑ کی تفصیلات پرانے عہد نامہ میں زبور، یسعیاہ، یرمیاہ اور حزقی ایل کی کتابوں میں پائی جاتی ہے۔ اور دوسرے دور کے بگاڑ کی تفصیل حضرت مسیح کی زبان سے ہے جو نئے عہد نامہ میں متی اور لوقا کی انجیلوں میں موجود ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومکہ سے اٹھا کر بیت المقدس لے جایا گیا تاکہ ’’آپ کو خدا کی نشانیاں دکھائی جائیں‘‘۔ ان نشانیوں میں سے ایک نشانی وہ تاریخ بھی ہے جو بیت المقدس سے وابستہ ہے۔
یہ تاریخ دراصل خدا کے ایک قانون کا ظہور ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ آسمانی کتاب کی حامل قوم اگر کتاب الٰہی کے حقوق ادا کرے تو اس کو (آخرت کی کامیابی کے علاوہ) دنیا میں سرفرازی دی جائے۔اور اگر وہ کتاب کے حقوق ادا نہ کرے تو اس کو دنیا کی جابر قوموں کے حوالے کردیا جائے جو اس کو اپنے ظلم واستغلال کا نشانہ بنائیں۔ یہ گویا ایک علامت ہے جو اسی دنیا میں بتا دیتی ہے کہ خدا اس قوم سے خوش ہے یا نا خوش۔
اس قانون کا ظہور سابق حاملینِ کتاب (یہود) پر بار بار ہوا ہے جن میں سے دو نمایاں واقعات کا یہاں بطور نصیحت حوالہ دیاگیا ہے۔
بنی اسرائیل پر اولاً خدانے یہ انعام کیا کہ ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دلائی اور پھر حضرت موسیٰ کے بعد ان کے لیے ایسے حالات پیدا کيے کہ وہ فلسطین پر قبضہ کرکے اپنی سلطنت قائم کرسکیں۔ مگر بعد کو یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ ایک طرف وہ مشرک قوموں پر داعی بننے کے بجائے خود ان کے مدعو بن گئے اور ان کے اثر سے مشرکانہ اعمال میں مبتلا ہوگئے۔ دوسری طرف وہ آپس کے اختلاف کا شکار ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔
خدا کی نافرمانی کے نتیجہ میں بنی اسرائیل پر جو کچھ گزرا اس میں سے ایک نمایاں واقعہ بابل (عراق) کے بادشاہ نبو کد نضر کا ہے۔ یہود کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر نبو کد نضر نے فلسطین پر اپنی بالادستی قائم کرلی۔ اس کے بعد اس نے خود یہود کے شاہی خاندان میں سے ایک شخص کو اپنا نمائندہ بنا دیا کہ وہ اس کی طرف سے ان کے اوپر حکومت کرے۔ مگر یہود نے اس ’’ماتحتی‘‘ کو اپنے قومی فخر کے خلاف سمجھا اور ا س کے خلاف بغاوت کے درپے ہوگئے۔ ان کے اندر ایسے شاعر اور مقرر پیدا ہوئے جنھوں نے پرجوش انداز میں یہود کو ابھارنا شروع کیا۔ یہود کے پیغمبر یرمیاہ نے متنبہ کیا کہ یہ سب جھوٹے لیڈر ہیں۔ تم ان کے فریب میں نہ آؤ۔ تم اپنی موجودہ کمزوریوں کے ساتھ شاہ بابل کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس کے بجائے تم ایسا کرو کہ شاہ بابل کی سیاسی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی دینی اصلاح اور تعمیری جدوجہد میں لگ جاؤ یہاں تک کہ اللہ آئندہ تمھارے لیے مزید راہیں پیدا کردے۔ مگر یہود نے یرمیاہ نبی کی نصیحت کو نہیں مانا۔ خوش فہم لیڈروں کی باتوں میں آکر انھوں نے شاہ بابل کے خلاف بغاوت کردی۔ اس کے بعد شاہ بابل سخت غضب ناک ہوگیا۔ اس نے دوبارہ
586
ق م میں اپنی پوری طاقت سے فلسطین پر حملہ کیا۔ یہود کو مکمل شکست ہوئی۔ شاہ بابل نے نہ صرف یہود کو زبردست دنیوی نقصانات پہنچائے بلکہ یروشلم میں یہود کے عبادت خانہ کو مکمل طور پر ڈھا دیا جو یہود کی عظمت کا آخری نشان تھا۔
الإسراء 17:7
حوادث کے نتیجے میں بنی اسرائیل کے اندر رجوع الی اللہ کی کیفیت پیدا ہوئی تو خدا نے دوبارہ ان کی مدد کی۔ اس بار خدا نے شاہ ایران سائرس (خسرو) کو اٹھایا۔ اس نے
539
ق م میں بابل پر حملہ کیا، اور اس کی حکومت کو شکست دے کر اس کے اوپر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے یہود پر یہ مہربانی کی کہ ان کو دوبارہ بابل سے ان کے وطن فلسطین جانے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ وہ واپس آئے اور ایک عرصہ کے بعد دوبارہ اپنا عبادت خانہ تعمیر کیا۔
تاہم یہود کی نئی نسل میں دوبارہ وہی بگاڑ پیدا ہونے لگا جو ان کی پچھلی نسل میں پیدا ہوا تھا۔ اس درمیان میں ان کے اندر مختلف اتار چڑھاؤ آئے۔ یہاں تک کہ ان کے درمیان حضرت یحیٰ اور حضرت مسیح اٹھے۔ ان پیغمبروں نے یہود کی روش پر تنقیدیں کیں۔ ان کی اس بے دینی کو کھولا جو وہ دین کے نام پر کررہے تھے۔ مگر یہود اس تنقید وتجزیہ کا اثر قبول کرنے کے بجائے بگڑ گئے۔ حتی کہ انھوںنے حضرت یحییٰ کو قتل کردیا اور حضرت مسیح کو سولی پر چڑھانے کے لیے تیار ہوگئے۔
اب دوبارہ ان پر خدا کا غضب بھڑکا۔ 70 ءمیں رومی بادشاہ تیتس (Titus)اٹھا اور اس نے یروشلم پر حملہ کرکے اس کو بالکل تباہ وبرباد کرڈالا۔
یہود کی تاریخ کے یہ واقعات خود یہود کے نزدیک بھی مسلم ہیں۔ مگر یہود جب ان تاریخی واقعات کا ذکر کرتے ہیں تو وہ ان کو ظالموں کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔ مگر قرآن واضح طورپر ان کو خود یہود کے خانہ میںڈال رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیاسی حالات ہمیشہ اخلاقی حالات کے تابع ہوتے ہیں۔ کوئی ظالم کسی کے اوپر ظلم نہیں کرتا۔ بلکہ قوم کی دینی اور اخلاقی حالت کا بگاڑ لوگوں کو یہ موقع دے دیتاہے کہ وہ اس کو اپنے ظلم و استغلال کا نشانہ بنائیں۔
الإسراء 17:8
حوادث کے نتیجے میں بنی اسرائیل کے اندر رجوع الی اللہ کی کیفیت پیدا ہوئی تو خدا نے دوبارہ ان کی مدد کی۔ اس بار خدا نے شاہ ایران سائرس (خسرو) کو اٹھایا۔ اس نے
539
ق م میں بابل پر حملہ کیا، اور اس کی حکومت کو شکست دے کر اس کے اوپر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے یہود پر یہ مہربانی کی کہ ان کو دوبارہ بابل سے ان کے وطن فلسطین جانے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ وہ واپس آئے اور ایک عرصہ کے بعد دوبارہ اپنا عبادت خانہ تعمیر کیا۔
تاہم یہود کی نئی نسل میں دوبارہ وہی بگاڑ پیدا ہونے لگا جو ان کی پچھلی نسل میں پیدا ہوا تھا۔ اس درمیان میں ان کے اندر مختلف اتار چڑھاؤ آئے۔ یہاں تک کہ ان کے درمیان حضرت یحیٰ اور حضرت مسیح اٹھے۔ ان پیغمبروں نے یہود کی روش پر تنقیدیں کیں۔ ان کی اس بے دینی کو کھولا جو وہ دین کے نام پر کررہے تھے۔ مگر یہود اس تنقید وتجزیہ کا اثر قبول کرنے کے بجائے بگڑ گئے۔ حتی کہ انھوںنے حضرت یحییٰ کو قتل کردیا اور حضرت مسیح کو سولی پر چڑھانے کے لیے تیار ہوگئے۔
اب دوبارہ ان پر خدا کا غضب بھڑکا۔ 70 ءمیں رومی بادشاہ تیتس (Titus)اٹھا اور اس نے یروشلم پر حملہ کرکے اس کو بالکل تباہ وبرباد کرڈالا۔
یہود کی تاریخ کے یہ واقعات خود یہود کے نزدیک بھی مسلم ہیں۔ مگر یہود جب ان تاریخی واقعات کا ذکر کرتے ہیں تو وہ ان کو ظالموں کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔ مگر قرآن واضح طورپر ان کو خود یہود کے خانہ میںڈال رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیاسی حالات ہمیشہ اخلاقی حالات کے تابع ہوتے ہیں۔ کوئی ظالم کسی کے اوپر ظلم نہیں کرتا۔ بلکہ قوم کی دینی اور اخلاقی حالت کا بگاڑ لوگوں کو یہ موقع دے دیتاہے کہ وہ اس کو اپنے ظلم و استغلال کا نشانہ بنائیں۔
الإسراء 17:9
قرآن تمام انسانوں کو توحید کی طرف بلاتا ہے۔ یعنی ایک خدا کو مان کر اپنے آپ کو اس کی اطاعت میں دے دینا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس سے زیادہ صحیح، جس سے زیادہ معقول اور جس سے زیادہ مطابقِ فطرت بات کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ توحید بلاشبہ سب سے بڑی حقیقت ہے اور اسی کے ساتھ سب سے بڑی صداقت۔
توحید کی اس حیثیت کا تقاضا ہے کہ یہی تمام انسانوں کے لیے جانچ کا معیار ہو۔ اسی کی بنیاد پر کسی کو صحیح قرار دیا جائے اور کسی کو غلط۔ کوئی کامیاب ٹھہرے اور کوئی ناکام۔
موجودہ دنیا میں بظاہر یہ معیار سامنے نہیں آتا اور اس کی بنیاد پر انسانوں کی عملی تقسیم نہیں کی جاتی۔ مگر یہ صرف خدا کے قانون امتحان کی وجہ سے ہے۔ انفرادی طورپر موت اور اجتماعی طورپر قیامت اس مدت امتحان کی آخری حد ہے۔ یہ حد آتے ہی انسان دو گروہوں کی صورت میں الگ الگ کردئے جائیں گے۔ توحید کے راستہ کو اختیار کرنے والے اپنے آپ کو جنت میں پائیں گے اور اس کو اختیار نہ کرنے والے اپنے آپ کو جہنم میں۔
الإسراء 17:10
قرآن تمام انسانوں کو توحید کی طرف بلاتا ہے۔ یعنی ایک خدا کو مان کر اپنے آپ کو اس کی اطاعت میں دے دینا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس سے زیادہ صحیح، جس سے زیادہ معقول اور جس سے زیادہ مطابقِ فطرت بات کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ توحید بلاشبہ سب سے بڑی حقیقت ہے اور اسی کے ساتھ سب سے بڑی صداقت۔
توحید کی اس حیثیت کا تقاضا ہے کہ یہی تمام انسانوں کے لیے جانچ کا معیار ہو۔ اسی کی بنیاد پر کسی کو صحیح قرار دیا جائے اور کسی کو غلط۔ کوئی کامیاب ٹھہرے اور کوئی ناکام۔
موجودہ دنیا میں بظاہر یہ معیار سامنے نہیں آتا اور اس کی بنیاد پر انسانوں کی عملی تقسیم نہیں کی جاتی۔ مگر یہ صرف خدا کے قانون امتحان کی وجہ سے ہے۔ انفرادی طورپر موت اور اجتماعی طورپر قیامت اس مدت امتحان کی آخری حد ہے۔ یہ حد آتے ہی انسان دو گروہوں کی صورت میں الگ الگ کردئے جائیں گے۔ توحید کے راستہ کو اختیار کرنے والے اپنے آپ کو جنت میں پائیں گے اور اس کو اختیار نہ کرنے والے اپنے آپ کو جہنم میں۔
الإسراء 17:11
رات اور دن کا نظام بتاتا ہے کہ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے تاریکی ہو اور اس کے بعد روشنی آئے۔ خدائی نقشہ میں دونوں یکساں طورپر ضروری ہیں۔ جس طرح روشنی میں فائدے ہیں اسی طرح تاریکی میں بھی فائدے ہیں۔ دنیا میں اگر رات اور دن کافرق نہ ہو تو آدمی اپنے اوقات کی تقسیم کس طرح کرے۔ وہ اپنے کام اور آرام کا نظام کس طرح بنائے۔
آدمی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ’’تاریکی‘‘ سے گھبرائے اور صرف ’’روشنی‘‘ کا طالب بن جائے۔ کیوں کہ خدا کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ جو آدمی ایسا چاہتا ہو اس كو خدا کی دنیا چھوڑ کر اپنے لیے دوسری دنیا تلاش کرنی پڑے گی۔
مگر عجیب بات ہے کہ یہی انسان کی سب سے بڑی كمزوري ہے۔ وہ ہمیشہ یہ چاہتا ہے کہ اس کو تاریکی کا مرحلہ پیش نہ آئے اور فوراً ہی اس کو روشنی حاصل ہوجائے۔ اسی کمزوری کا نتیجہ وہ چیز ہے جس کو عجلت (جلدبازي) کہاجاتا ہے۔ عجلت دراصل خداوندی منصوبہ پر راضی نہ ہونے کا دوسرا نام ہے۔ اور خداوندی منصوبہ پر راضی نہ ہونا ہی تمام انسانی بربادیوں کا اصل سبب ہے۔
خدا چاہتاہے کہ انسان دنیا کی فوری لذتوں پر صبر کرے تاکہ وہ آخرت کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھ سکے۔ مگر انسان اپنی عجلت کی وجہ سے دنیا کی وقتی لذتوں پر ٹوٹ پڑتاہے۔ وہ آگے کی طرف اپنا سفر طے نہیں کرپاتا۔ آدمی کی عاجلہ(دنيا) پسندی اس کو آخرت کی نعمتوں سے محروم کرنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔
یہی دنیا کا معاملہ بھی ہے۔ دنیا میں بھی حقیقی کامیابی صبر سے ملتی ہے نہ کہ جلد بازی سے۔یہود کو ان کے پیغمبر یرمیاہ نے نصيحت کی کہ تم بابل کے حکمراں کے سیاسی غلبہ کو فی الحال تسلیم کرلو اور ابتدائی مرحلہ میںاپنی کوششوں کو صرف دعوتی اور تعمیری میدان میں لگاؤ۔ اس کے بعد وہ وقت بھی آئے گا جب کہ اللہ تعالیٰ تمھارے لیے غلبہ اور اقتدار کی راہیں کھول دے۔ مگر یہود کی عجلت پسندی اس پر راضی نہیں ہوئی۔ انھوں نے چاہا کہ ’’تاریکی‘‘ کے مرحلہ سے گزرے بغیر وه ’’روشنی‘‘ کے مرحلہ میں داخل ہوجائیں۔ انھوںنے فوراً شاہ بابل کے خلاف سیاسی لڑائی شروع کردی۔ چوں کہ خداکے نظام میں ایسا ہونا ممکن نہیں تھا، ان کے حصہ میں ذلّت اور رسوائی کے سوا اور کچھ نہ آیا۔
الإسراء 17:12
رات اور دن کا نظام بتاتا ہے کہ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے تاریکی ہو اور اس کے بعد روشنی آئے۔ خدائی نقشہ میں دونوں یکساں طورپر ضروری ہیں۔ جس طرح روشنی میں فائدے ہیں اسی طرح تاریکی میں بھی فائدے ہیں۔ دنیا میں اگر رات اور دن کافرق نہ ہو تو آدمی اپنے اوقات کی تقسیم کس طرح کرے۔ وہ اپنے کام اور آرام کا نظام کس طرح بنائے۔
آدمی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ’’تاریکی‘‘ سے گھبرائے اور صرف ’’روشنی‘‘ کا طالب بن جائے۔ کیوں کہ خدا کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ جو آدمی ایسا چاہتا ہو اس كو خدا کی دنیا چھوڑ کر اپنے لیے دوسری دنیا تلاش کرنی پڑے گی۔
مگر عجیب بات ہے کہ یہی انسان کی سب سے بڑی كمزوري ہے۔ وہ ہمیشہ یہ چاہتا ہے کہ اس کو تاریکی کا مرحلہ پیش نہ آئے اور فوراً ہی اس کو روشنی حاصل ہوجائے۔ اسی کمزوری کا نتیجہ وہ چیز ہے جس کو عجلت (جلدبازي) کہاجاتا ہے۔ عجلت دراصل خداوندی منصوبہ پر راضی نہ ہونے کا دوسرا نام ہے۔ اور خداوندی منصوبہ پر راضی نہ ہونا ہی تمام انسانی بربادیوں کا اصل سبب ہے۔
خدا چاہتاہے کہ انسان دنیا کی فوری لذتوں پر صبر کرے تاکہ وہ آخرت کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھ سکے۔ مگر انسان اپنی عجلت کی وجہ سے دنیا کی وقتی لذتوں پر ٹوٹ پڑتاہے۔ وہ آگے کی طرف اپنا سفر طے نہیں کرپاتا۔ آدمی کی عاجلہ(دنيا) پسندی اس کو آخرت کی نعمتوں سے محروم کرنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔
یہی دنیا کا معاملہ بھی ہے۔ دنیا میں بھی حقیقی کامیابی صبر سے ملتی ہے نہ کہ جلد بازی سے۔یہود کو ان کے پیغمبر یرمیاہ نے نصيحت کی کہ تم بابل کے حکمراں کے سیاسی غلبہ کو فی الحال تسلیم کرلو اور ابتدائی مرحلہ میںاپنی کوششوں کو صرف دعوتی اور تعمیری میدان میں لگاؤ۔ اس کے بعد وہ وقت بھی آئے گا جب کہ اللہ تعالیٰ تمھارے لیے غلبہ اور اقتدار کی راہیں کھول دے۔ مگر یہود کی عجلت پسندی اس پر راضی نہیں ہوئی۔ انھوں نے چاہا کہ ’’تاریکی‘‘ کے مرحلہ سے گزرے بغیر وه ’’روشنی‘‘ کے مرحلہ میں داخل ہوجائیں۔ انھوںنے فوراً شاہ بابل کے خلاف سیاسی لڑائی شروع کردی۔ چوں کہ خداکے نظام میں ایسا ہونا ممکن نہیں تھا، ان کے حصہ میں ذلّت اور رسوائی کے سوا اور کچھ نہ آیا۔
الإسراء 17:13
قدیم زمانہ میں توہم پرست لوگ اکثر چڑیوں کے اڑنے سے یا ستاروں کی گردش سے یا طرح طرح کے فال سے اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ اس قسم کے توہمات پر یقین نہیں رکھتے وہ بھی اپنی قسمت کے معاملہ کو کسی نہ کسی پر اسرار سبب کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی خارجی عامل ہے جو اس سلسلے میں اصل موثر حیثیت رکھتا ہے۔
فرمایا کہ تمھاری قسمت نہ چڑیوں اور ستاروں کے ساتھ وابستہ ہے اور نہ کسی دوسری خارجی چیز سے اس کا تعلق ہے۔ ہر آدمی کی قسمت کا معاملہ تمام تر اس کے اپنے عمل پر منحصر ہے۔ ہر آدمی جو کچھ سوچتا یا کرتا ہے وہ اس کے اپنے وجود کے ساتھ نقش ہورہا ہے۔ آدمی اس کو قیامت کے دن ایک ایسی ڈائری کی صورت میں لکھا ہواپائے گا جس میں ہر چھوٹی اور بڑی چیز درج ہو۔
خدا نے قوموں کے درمیان رسول کھڑے کيے اور کتاب اتاری۔ اس نے ایسا اس لیے کیا تا کہ لوگوں کو آنے والے سخت دن سے پہلے اس کی خبر ہوجائے۔ اب یہ ہر آدمی کے اپنے فیصلہ کرنے کی بات ہے کہ زندگی کے اگلے مستقل مرحلہ میں وہ اپنا کیا انجام دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ ہدایت کے طریقہ پر چل کر جنت میں پہنچنا چاہتا ہے یا ہدایت کے طریقہ کو چھوڑ کر جہنم میں گرنے کا سامان کررہا ہے۔
الإسراء 17:14
قدیم زمانہ میں توہم پرست لوگ اکثر چڑیوں کے اڑنے سے یا ستاروں کی گردش سے یا طرح طرح کے فال سے اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ اس قسم کے توہمات پر یقین نہیں رکھتے وہ بھی اپنی قسمت کے معاملہ کو کسی نہ کسی پر اسرار سبب کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی خارجی عامل ہے جو اس سلسلے میں اصل موثر حیثیت رکھتا ہے۔
فرمایا کہ تمھاری قسمت نہ چڑیوں اور ستاروں کے ساتھ وابستہ ہے اور نہ کسی دوسری خارجی چیز سے اس کا تعلق ہے۔ ہر آدمی کی قسمت کا معاملہ تمام تر اس کے اپنے عمل پر منحصر ہے۔ ہر آدمی جو کچھ سوچتا یا کرتا ہے وہ اس کے اپنے وجود کے ساتھ نقش ہورہا ہے۔ آدمی اس کو قیامت کے دن ایک ایسی ڈائری کی صورت میں لکھا ہواپائے گا جس میں ہر چھوٹی اور بڑی چیز درج ہو۔
خدا نے قوموں کے درمیان رسول کھڑے کيے اور کتاب اتاری۔ اس نے ایسا اس لیے کیا تا کہ لوگوں کو آنے والے سخت دن سے پہلے اس کی خبر ہوجائے۔ اب یہ ہر آدمی کے اپنے فیصلہ کرنے کی بات ہے کہ زندگی کے اگلے مستقل مرحلہ میں وہ اپنا کیا انجام دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ ہدایت کے طریقہ پر چل کر جنت میں پہنچنا چاہتا ہے یا ہدایت کے طریقہ کو چھوڑ کر جہنم میں گرنے کا سامان کررہا ہے۔
الإسراء 17:15
قدیم زمانہ میں توہم پرست لوگ اکثر چڑیوں کے اڑنے سے یا ستاروں کی گردش سے یا طرح طرح کے فال سے اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ اس قسم کے توہمات پر یقین نہیں رکھتے وہ بھی اپنی قسمت کے معاملہ کو کسی نہ کسی پر اسرار سبب کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی خارجی عامل ہے جو اس سلسلے میں اصل موثر حیثیت رکھتا ہے۔
فرمایا کہ تمھاری قسمت نہ چڑیوں اور ستاروں کے ساتھ وابستہ ہے اور نہ کسی دوسری خارجی چیز سے اس کا تعلق ہے۔ ہر آدمی کی قسمت کا معاملہ تمام تر اس کے اپنے عمل پر منحصر ہے۔ ہر آدمی جو کچھ سوچتا یا کرتا ہے وہ اس کے اپنے وجود کے ساتھ نقش ہورہا ہے۔ آدمی اس کو قیامت کے دن ایک ایسی ڈائری کی صورت میں لکھا ہواپائے گا جس میں ہر چھوٹی اور بڑی چیز درج ہو۔
خدا نے قوموں کے درمیان رسول کھڑے کيے اور کتاب اتاری۔ اس نے ایسا اس لیے کیا تا کہ لوگوں کو آنے والے سخت دن سے پہلے اس کی خبر ہوجائے۔ اب یہ ہر آدمی کے اپنے فیصلہ کرنے کی بات ہے کہ زندگی کے اگلے مستقل مرحلہ میں وہ اپنا کیا انجام دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ ہدایت کے طریقہ پر چل کر جنت میں پہنچنا چاہتا ہے یا ہدایت کے طریقہ کو چھوڑ کر جہنم میں گرنے کا سامان کررہا ہے۔
الإسراء 17:16
کسی قوم کی اصلاح یا کسی قوم کے بگاڑ کا معیار اس قوم کا سربرآوردہ طبقہ ہوتاہے۔ یہی طبقہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کا مالک ہوتاہے۔ یہی طبقہ اپنے وسائل کے ذریعے لوگوںپر اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہی طبقہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ کسی گروہ کے اوپر قائد بننے کی قیمت ادا کرسکے۔
یہی وجہ ہے کہ کسی قوم کے سربرآوردہ طبقہ کي اصلاح پوری قوم کی اصلاح ہے اور کسی قوم کے سربرآوردہ طبقہ کا بگاڑ پوری قوم کا بگاڑ۔ حضرت نوح کے زمانہ سے لے کر اب تک کی قوموں کا جائزہ لیا جائے تو ہر ایک کی تاریخ اس عام اصول کی صحت کی تصدیق کرے گی۔
اسی عام حکم میں قوم کے ان ’’بڑوں‘‘ کا معاملہ بھی شامل ہے جو قوم کو اپنی قیادت کی شکار گاہ بناتے ہیں، اور اس طرح اس کی غلط رہنمائی کرکے اس کی ہلاکت کا سامان کرتے ہیں۔ وہ قوم کو حقیقت پسندی کے بجائے جذباتیت کا درس دیتے ہیں۔ اس کو معانی کے بجائے الفاظ کے طلسم میں گم کرتے ہیں۔ اس کو سنجیدگی کے بجائے تخیلات کی فضا میں اڑاتے ہیں۔ وہ اس کو حقائق کا اعتراف کرنے کے بجائے خوش خیالیوں میں جینا سکھاتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ وہ قوم کو خدا کے بجائے غیر خدا کی طرف متوجہ کردیتے ہیں۔
جب کسی قوم پر اس قسم کے رہنما چھا جائیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا کے یہاں سے اس قوم کی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس قسم کا ہر واقعہ خدا کی اجازت کے تحت ہوتاہے۔ اور کسی شخص یا قوم کا کوئی عمل خدا سے چھپا ہوا نہیں ہے۔
الإسراء 17:17
کسی قوم کی اصلاح یا کسی قوم کے بگاڑ کا معیار اس قوم کا سربرآوردہ طبقہ ہوتاہے۔ یہی طبقہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کا مالک ہوتاہے۔ یہی طبقہ اپنے وسائل کے ذریعے لوگوںپر اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہی طبقہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ کسی گروہ کے اوپر قائد بننے کی قیمت ادا کرسکے۔
یہی وجہ ہے کہ کسی قوم کے سربرآوردہ طبقہ کي اصلاح پوری قوم کی اصلاح ہے اور کسی قوم کے سربرآوردہ طبقہ کا بگاڑ پوری قوم کا بگاڑ۔ حضرت نوح کے زمانہ سے لے کر اب تک کی قوموں کا جائزہ لیا جائے تو ہر ایک کی تاریخ اس عام اصول کی صحت کی تصدیق کرے گی۔
اسی عام حکم میں قوم کے ان ’’بڑوں‘‘ کا معاملہ بھی شامل ہے جو قوم کو اپنی قیادت کی شکار گاہ بناتے ہیں، اور اس طرح اس کی غلط رہنمائی کرکے اس کی ہلاکت کا سامان کرتے ہیں۔ وہ قوم کو حقیقت پسندی کے بجائے جذباتیت کا درس دیتے ہیں۔ اس کو معانی کے بجائے الفاظ کے طلسم میں گم کرتے ہیں۔ اس کو سنجیدگی کے بجائے تخیلات کی فضا میں اڑاتے ہیں۔ وہ اس کو حقائق کا اعتراف کرنے کے بجائے خوش خیالیوں میں جینا سکھاتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ وہ قوم کو خدا کے بجائے غیر خدا کی طرف متوجہ کردیتے ہیں۔
جب کسی قوم پر اس قسم کے رہنما چھا جائیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا کے یہاں سے اس قوم کی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس قسم کا ہر واقعہ خدا کی اجازت کے تحت ہوتاہے۔ اور کسی شخص یا قوم کا کوئی عمل خدا سے چھپا ہوا نہیں ہے۔
الإسراء 17:18
موجودہ دنیا میں آدمی دو راستوں کے درمیان ہے ایک کا فائدہ نقد ملتاہے اور دوسرے کا فائدہ ادھار۔ جو شخص پہلے راستہ پر چلے اس نے عاجلہ کو پسند کیا۔ اور جو شخص دوسرے راستہ کو اختیار کرے اس نے آخرت کو پسند کیا۔
ایک طرف آدمی کے سامنے مصلحت پرستی کا طریقہ ہے جس کو اختیار کرنے سے فوری طورپر عزت اور دولت ملتی ہے۔ دوسری طرف بے لاگ حق پرستی کا طریقہ ہے جس کا کریڈٹ آدمی کو موت کے بعد کی زندگی میں ملے گا۔ کسی سے شکایت پیدا ہوجائے تو ایک صورت یہ ہے کہ اس کے بارے میں اپنے دل کے اندر انتقام کی نفسیات پیدا کرلی جائے اور اس کے خلاف وہ سب کچھ کیا جائے جو اپنے بس میں ہے۔ اس کے برعکس، دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو معاف کردیا جائے۔ اور ا س کے لیے اچھی دعائیں کرتے ہوئے سارے معاملہ کو اللہ کے حوالے کردیا جائے۔ اسی طرح آدمی کے پاس جو مال ہے اس کے خرچ کی ایک شکل یہ ہے کہ اس کو اپنے شوق کی تکمیل ا ور اپنی عزت کو بڑھانے کی راہوں میں لگایا جائے۔ دوسری شکل یہ ہے کہ اس کو خدا کے دین کے مدوں میں خرچ کیا جائے۔
اسی طرح تمام معاملات میں آدمی کے سامنے دو مختلف طریقے ہوتے ہیں۔ ایک خواہش پرستی کا طریقہ اور دوسرا خدا پرستی کا طریقہ۔ ایک سامنے کی چیزوں کو اہمیت دینا اور دوسرا غیب کی حقیقتوں کو اہمیت دینا۔ ایک مصلحت پرستی کا انداز اور دوسرا اصول پرستی کا انداز۔ ایک بے صبری کے تحت کر گزرنا اور دوسرا صبر کے ساتھ وہ کرنا جو کرنا چاہیے۔
پہلے طریقہ میں وقتی فائدہ ہے اور اس کے بعد ہمیشہ کی محرومی۔ دوسرے طریقہ میں وقتی نقصان ہے اور اس کے بعد ہمیشہ کی عزّت اور کامیابی۔
الإسراء 17:19
موجودہ دنیا میں آدمی دو راستوں کے درمیان ہے ایک کا فائدہ نقد ملتاہے اور دوسرے کا فائدہ ادھار۔ جو شخص پہلے راستہ پر چلے اس نے عاجلہ کو پسند کیا۔ اور جو شخص دوسرے راستہ کو اختیار کرے اس نے آخرت کو پسند کیا۔
ایک طرف آدمی کے سامنے مصلحت پرستی کا طریقہ ہے جس کو اختیار کرنے سے فوری طورپر عزت اور دولت ملتی ہے۔ دوسری طرف بے لاگ حق پرستی کا طریقہ ہے جس کا کریڈٹ آدمی کو موت کے بعد کی زندگی میں ملے گا۔ کسی سے شکایت پیدا ہوجائے تو ایک صورت یہ ہے کہ اس کے بارے میں اپنے دل کے اندر انتقام کی نفسیات پیدا کرلی جائے اور اس کے خلاف وہ سب کچھ کیا جائے جو اپنے بس میں ہے۔ اس کے برعکس، دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو معاف کردیا جائے۔ اور ا س کے لیے اچھی دعائیں کرتے ہوئے سارے معاملہ کو اللہ کے حوالے کردیا جائے۔ اسی طرح آدمی کے پاس جو مال ہے اس کے خرچ کی ایک شکل یہ ہے کہ اس کو اپنے شوق کی تکمیل ا ور اپنی عزت کو بڑھانے کی راہوں میں لگایا جائے۔ دوسری شکل یہ ہے کہ اس کو خدا کے دین کے مدوں میں خرچ کیا جائے۔
اسی طرح تمام معاملات میں آدمی کے سامنے دو مختلف طریقے ہوتے ہیں۔ ایک خواہش پرستی کا طریقہ اور دوسرا خدا پرستی کا طریقہ۔ ایک سامنے کی چیزوں کو اہمیت دینا اور دوسرا غیب کی حقیقتوں کو اہمیت دینا۔ ایک مصلحت پرستی کا انداز اور دوسرا اصول پرستی کا انداز۔ ایک بے صبری کے تحت کر گزرنا اور دوسرا صبر کے ساتھ وہ کرنا جو کرنا چاہیے۔
پہلے طریقہ میں وقتی فائدہ ہے اور اس کے بعد ہمیشہ کی محرومی۔ دوسرے طریقہ میں وقتی نقصان ہے اور اس کے بعد ہمیشہ کی عزّت اور کامیابی۔
الإسراء 17:20
دنیا کی کامیابی ہو یا آخرت کی کامیابی، دونوں ہی اللہ کے فراہم کيے ہوئے مواقع اور انتظامات کو استعمال کرنے کا دوسرا نام ہیں۔ جو شخص دنیا کی کامیابی حاصل کرتا ہے وہ بھی خدا کے انتظامات سے فائدہ اٹھا کر ایسا کرتاہے۔ اسی طرح جو شخص آخرت کو اپنا مقصود بنائے اس کے لیے بھی خدا نے ایسے انتظامات کررکھے ہیں جو اس کے آخرت کے سفر کو آسان بنانے والے ہیں۔
دنیا میں کوئی آدمی آگے نظر آتا ہے اور کوئی پیچھے۔ کسی کے پاس زیادہ ہے اور کسی کے پاس کم۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا کی دنیا میں مواقع کی کوئی حد نہیں۔ دنیا میں جو شخص جتنا زیادہ عمل کرتاہے وہ اتنا زیادہ اس کا پھل پاتا ہے۔ اسی طرح آخرت کے لیے جو شخص جتنا زیادہ عمل کا ثبوت دے گا وہ اتنا ہی زیادہ انعام وہاں پائے گا۔ مزید یہ کہ آخرت میں ملنے والی چیز ابدی ہوگی جب کہ دنیا میں ملنے والی چیز صرف وقتی ہوتی ہے۔
الإسراء 17:21
دنیا کی کامیابی ہو یا آخرت کی کامیابی، دونوں ہی اللہ کے فراہم کيے ہوئے مواقع اور انتظامات کو استعمال کرنے کا دوسرا نام ہیں۔ جو شخص دنیا کی کامیابی حاصل کرتا ہے وہ بھی خدا کے انتظامات سے فائدہ اٹھا کر ایسا کرتاہے۔ اسی طرح جو شخص آخرت کو اپنا مقصود بنائے اس کے لیے بھی خدا نے ایسے انتظامات کررکھے ہیں جو اس کے آخرت کے سفر کو آسان بنانے والے ہیں۔
دنیا میں کوئی آدمی آگے نظر آتا ہے اور کوئی پیچھے۔ کسی کے پاس زیادہ ہے اور کسی کے پاس کم۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا کی دنیا میں مواقع کی کوئی حد نہیں۔ دنیا میں جو شخص جتنا زیادہ عمل کرتاہے وہ اتنا زیادہ اس کا پھل پاتا ہے۔ اسی طرح آخرت کے لیے جو شخص جتنا زیادہ عمل کا ثبوت دے گا وہ اتنا ہی زیادہ انعام وہاں پائے گا۔ مزید یہ کہ آخرت میں ملنے والی چیز ابدی ہوگی جب کہ دنیا میں ملنے والی چیز صرف وقتی ہوتی ہے۔
الإسراء 17:22
خدا انسان کا سب کچھ ہے۔ وہ اس کا خالق بھی ہے اور مالک بھی اور رازق بھی۔ مگر خدا غیب میں ہے۔ وہ اپنے آپ کو منوانے کے لیے انسان کے سامنے نہیں آتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی جب خدا کی بڑائی اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اقرار کرتا ہے تو وہ محض اپنے ارادہ کے تحت ایسا کرتاہے، نہ کہ کسی ظاہری دباؤ کے تحت۔
اس اعتبار سے بوڑھے ماں باپ کا معاملہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے خداکے معاملہ جیسا ہے۔ کیوں کہ بوڑھے ماں باپ کا اپنی اولاد کے اوپر کوئی مادی زور نہیں ہوتا۔اولاد جب اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہے تو وہ اپنے آزادانہ ذہنی فیصلہ کے تحت ایساکرتی ہے، نہ کہ مادی دباؤ کے تحت۔
موجودہ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان یہی ہے۔ یہاں اس کو حق اور انصاف کے راستہ پر چلنا ہے۔ بغیر اس کے کہ اس کو اس کے لیے مجبور کیا گیا ہو۔ اس کو خود اپنے ارادہ کے تحت وہ کرنا ہے جو وہ اُس وقت کرتاہے جب کہ خدا اس کے سامنے اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوجائے۔
یہ اختیارانہ عمل انسان کے لیے بڑا سخت امتحان ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے اس کو انسان کے لیے آسان کردیا ہے۔ وہ انسان کو اس حاكم كي طرح نهيں جانچتا جو چھوٹي چھوٹي باتوں كا بھي سختي سے حساب ليتے هيں۔آدمی اگر بنیادی طورپر خدا کا وفادار ہے تو اس کی چھوٹی چھوٹی خطاؤں کو وہ نظر انداز کردیتاہے۔ انسان اگر غلطی کرکے پلٹ آئے تو وہ اس کو معاف کردیتاہے خواہ اس نے بظاہر کتنا بڑا جرم کردیا ہو۔
الإسراء 17:23
خدا انسان کا سب کچھ ہے۔ وہ اس کا خالق بھی ہے اور مالک بھی اور رازق بھی۔ مگر خدا غیب میں ہے۔ وہ اپنے آپ کو منوانے کے لیے انسان کے سامنے نہیں آتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی جب خدا کی بڑائی اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اقرار کرتا ہے تو وہ محض اپنے ارادہ کے تحت ایسا کرتاہے، نہ کہ کسی ظاہری دباؤ کے تحت۔
اس اعتبار سے بوڑھے ماں باپ کا معاملہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے خداکے معاملہ جیسا ہے۔ کیوں کہ بوڑھے ماں باپ کا اپنی اولاد کے اوپر کوئی مادی زور نہیں ہوتا۔اولاد جب اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہے تو وہ اپنے آزادانہ ذہنی فیصلہ کے تحت ایساکرتی ہے، نہ کہ مادی دباؤ کے تحت۔
موجودہ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان یہی ہے۔ یہاں اس کو حق اور انصاف کے راستہ پر چلنا ہے۔ بغیر اس کے کہ اس کو اس کے لیے مجبور کیا گیا ہو۔ اس کو خود اپنے ارادہ کے تحت وہ کرنا ہے جو وہ اُس وقت کرتاہے جب کہ خدا اس کے سامنے اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوجائے۔
یہ اختیارانہ عمل انسان کے لیے بڑا سخت امتحان ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے اس کو انسان کے لیے آسان کردیا ہے۔ وہ انسان کو اس حاكم كي طرح نهيں جانچتا جو چھوٹي چھوٹي باتوں كا بھي سختي سے حساب ليتے هيں۔آدمی اگر بنیادی طورپر خدا کا وفادار ہے تو اس کی چھوٹی چھوٹی خطاؤں کو وہ نظر انداز کردیتاہے۔ انسان اگر غلطی کرکے پلٹ آئے تو وہ اس کو معاف کردیتاہے خواہ اس نے بظاہر کتنا بڑا جرم کردیا ہو۔
الإسراء 17:24
خدا انسان کا سب کچھ ہے۔ وہ اس کا خالق بھی ہے اور مالک بھی اور رازق بھی۔ مگر خدا غیب میں ہے۔ وہ اپنے آپ کو منوانے کے لیے انسان کے سامنے نہیں آتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی جب خدا کی بڑائی اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اقرار کرتا ہے تو وہ محض اپنے ارادہ کے تحت ایسا کرتاہے، نہ کہ کسی ظاہری دباؤ کے تحت۔
اس اعتبار سے بوڑھے ماں باپ کا معاملہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے خداکے معاملہ جیسا ہے۔ کیوں کہ بوڑھے ماں باپ کا اپنی اولاد کے اوپر کوئی مادی زور نہیں ہوتا۔اولاد جب اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہے تو وہ اپنے آزادانہ ذہنی فیصلہ کے تحت ایساکرتی ہے، نہ کہ مادی دباؤ کے تحت۔
موجودہ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان یہی ہے۔ یہاں اس کو حق اور انصاف کے راستہ پر چلنا ہے۔ بغیر اس کے کہ اس کو اس کے لیے مجبور کیا گیا ہو۔ اس کو خود اپنے ارادہ کے تحت وہ کرنا ہے جو وہ اُس وقت کرتاہے جب کہ خدا اس کے سامنے اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوجائے۔
یہ اختیارانہ عمل انسان کے لیے بڑا سخت امتحان ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے اس کو انسان کے لیے آسان کردیا ہے۔ وہ انسان کو اس حاكم كي طرح نهيں جانچتا جو چھوٹي چھوٹي باتوں كا بھي سختي سے حساب ليتے هيں۔آدمی اگر بنیادی طورپر خدا کا وفادار ہے تو اس کی چھوٹی چھوٹی خطاؤں کو وہ نظر انداز کردیتاہے۔ انسان اگر غلطی کرکے پلٹ آئے تو وہ اس کو معاف کردیتاہے خواہ اس نے بظاہر کتنا بڑا جرم کردیا ہو۔
الإسراء 17:25
خدا انسان کا سب کچھ ہے۔ وہ اس کا خالق بھی ہے اور مالک بھی اور رازق بھی۔ مگر خدا غیب میں ہے۔ وہ اپنے آپ کو منوانے کے لیے انسان کے سامنے نہیں آتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی جب خدا کی بڑائی اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اقرار کرتا ہے تو وہ محض اپنے ارادہ کے تحت ایسا کرتاہے، نہ کہ کسی ظاہری دباؤ کے تحت۔
اس اعتبار سے بوڑھے ماں باپ کا معاملہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے خداکے معاملہ جیسا ہے۔ کیوں کہ بوڑھے ماں باپ کا اپنی اولاد کے اوپر کوئی مادی زور نہیں ہوتا۔اولاد جب اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہے تو وہ اپنے آزادانہ ذہنی فیصلہ کے تحت ایساکرتی ہے، نہ کہ مادی دباؤ کے تحت۔
موجودہ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان یہی ہے۔ یہاں اس کو حق اور انصاف کے راستہ پر چلنا ہے۔ بغیر اس کے کہ اس کو اس کے لیے مجبور کیا گیا ہو۔ اس کو خود اپنے ارادہ کے تحت وہ کرنا ہے جو وہ اُس وقت کرتاہے جب کہ خدا اس کے سامنے اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوجائے۔
یہ اختیارانہ عمل انسان کے لیے بڑا سخت امتحان ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے اس کو انسان کے لیے آسان کردیا ہے۔ وہ انسان کو اس حاكم كي طرح نهيں جانچتا جو چھوٹي چھوٹي باتوں كا بھي سختي سے حساب ليتے هيں۔آدمی اگر بنیادی طورپر خدا کا وفادار ہے تو اس کی چھوٹی چھوٹی خطاؤں کو وہ نظر انداز کردیتاہے۔ انسان اگر غلطی کرکے پلٹ آئے تو وہ اس کو معاف کردیتاہے خواہ اس نے بظاہر کتنا بڑا جرم کردیا ہو۔
الإسراء 17:26
ہر آدمی جو کچھ اپنی محنت سے کماتا ہے اس کو وہ اپنے اوپر خرچ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم شریعت کا حکم ہے کہ وہ فضول خرچی سے بچے۔وہ اپنے مال کو اپنی واقعی ضرورتوں میں خرچ کرے، نہ کہ فخر اور نمائش کے لیے۔
دوسری بات یہ کہ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی کمائی میں دوسرے ضرورت مندوں کا بھی حق سمجھے۔ خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا اس کے پڑوسی ہوں۔ مسافر ہوں یا اور کسی قسم کے حاجت مند ہوں۔
بعض مرتبہ ایسا ہوتاہے کہ آدمی محتاج کو دینے کے قابل نہیں ہوتا۔ تاہم اس وقت کے لیے بھی حکم ہے کہ اگر تم مال دینے کے قابل نہیں تو اپنے ضرورت مند بھائی کو نرم بات دو اور اس سے معافی کا کلمہ کہو۔ کیوں کہ وہ تم کو ایک نیکی کا موقع دینے آیا تھا مگر تم اس موقع کو اپنے لیے استعمال نہ کرسکے۔
اپنے کمائے ہوئے مال کو خدا کی مرضی کے مطابق خرچ کرنے میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے، جو اپنے مال کو بے فائدہ مدوں میں ضائع ہونے سے بچائے۔ ورنہ اس کے پاس مال ہی نہ ہوگا جس کو وہ خدا کے راستوں میں دے۔ حقیقت یہ ہے کہ فضول خرچی شیطان کا ایک حربہ ہے جس کے ذریعہ سے وہ صاحبِ مال کو اس قابل نہیں رکھتا کہ وہ دوسرے ضرورت مندوں کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرسکے۔
الإسراء 17:27
ہر آدمی جو کچھ اپنی محنت سے کماتا ہے اس کو وہ اپنے اوپر خرچ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم شریعت کا حکم ہے کہ وہ فضول خرچی سے بچے۔وہ اپنے مال کو اپنی واقعی ضرورتوں میں خرچ کرے، نہ کہ فخر اور نمائش کے لیے۔
دوسری بات یہ کہ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی کمائی میں دوسرے ضرورت مندوں کا بھی حق سمجھے۔ خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا اس کے پڑوسی ہوں۔ مسافر ہوں یا اور کسی قسم کے حاجت مند ہوں۔
بعض مرتبہ ایسا ہوتاہے کہ آدمی محتاج کو دینے کے قابل نہیں ہوتا۔ تاہم اس وقت کے لیے بھی حکم ہے کہ اگر تم مال دینے کے قابل نہیں تو اپنے ضرورت مند بھائی کو نرم بات دو اور اس سے معافی کا کلمہ کہو۔ کیوں کہ وہ تم کو ایک نیکی کا موقع دینے آیا تھا مگر تم اس موقع کو اپنے لیے استعمال نہ کرسکے۔
اپنے کمائے ہوئے مال کو خدا کی مرضی کے مطابق خرچ کرنے میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے، جو اپنے مال کو بے فائدہ مدوں میں ضائع ہونے سے بچائے۔ ورنہ اس کے پاس مال ہی نہ ہوگا جس کو وہ خدا کے راستوں میں دے۔ حقیقت یہ ہے کہ فضول خرچی شیطان کا ایک حربہ ہے جس کے ذریعہ سے وہ صاحبِ مال کو اس قابل نہیں رکھتا کہ وہ دوسرے ضرورت مندوں کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرسکے۔
الإسراء 17:28
ہر آدمی جو کچھ اپنی محنت سے کماتا ہے اس کو وہ اپنے اوپر خرچ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم شریعت کا حکم ہے کہ وہ فضول خرچی سے بچے۔وہ اپنے مال کو اپنی واقعی ضرورتوں میں خرچ کرے، نہ کہ فخر اور نمائش کے لیے۔
دوسری بات یہ کہ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی کمائی میں دوسرے ضرورت مندوں کا بھی حق سمجھے۔ خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا اس کے پڑوسی ہوں۔ مسافر ہوں یا اور کسی قسم کے حاجت مند ہوں۔
بعض مرتبہ ایسا ہوتاہے کہ آدمی محتاج کو دینے کے قابل نہیں ہوتا۔ تاہم اس وقت کے لیے بھی حکم ہے کہ اگر تم مال دینے کے قابل نہیں تو اپنے ضرورت مند بھائی کو نرم بات دو اور اس سے معافی کا کلمہ کہو۔ کیوں کہ وہ تم کو ایک نیکی کا موقع دینے آیا تھا مگر تم اس موقع کو اپنے لیے استعمال نہ کرسکے۔
اپنے کمائے ہوئے مال کو خدا کی مرضی کے مطابق خرچ کرنے میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے، جو اپنے مال کو بے فائدہ مدوں میں ضائع ہونے سے بچائے۔ ورنہ اس کے پاس مال ہی نہ ہوگا جس کو وہ خدا کے راستوں میں دے۔ حقیقت یہ ہے کہ فضول خرچی شیطان کا ایک حربہ ہے جس کے ذریعہ سے وہ صاحبِ مال کو اس قابل نہیں رکھتا کہ وہ دوسرے ضرورت مندوں کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرسکے۔
الإسراء 17:29
اسلام ہر معاملہ میں اعتدال کو پسند کرتاہے۔ زیادتی اور کمی سے بچ کر جو درمیانی راستہ ہے وہی اسلام کے نزدیک بہترین راستہ ہے (خَيْرُ الأُمُورِ أَوْسَاطُهَا) السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 6319۔چنانچہ یہی تعلیم خرچ کے معاملہ میں بھی دی گئی ہے کہ آدمی نہ تو ایسا کرے کہ اتنا بخیل ہو کہ وہ لوگوں کی نظروں سے گرجائے۔ اور نہ اتنا زیادہ خرچ کرے کہ اس کے بعد بالکل خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ رہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جس نے میانہ روی اختیار کی وہ محتاج نہیں ہوا (مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ) مسند احمد، حدیث نمبر 4269
مال کے سلسلہ میں بے اعتدالی کا ذہن اکثر اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ آدمی کی نظر سے یہ حقیقت اوجھل ہوجاتی ہے کہ دینے والا خدا ہے۔ وہی اپنے مصالح کے تحت کسی کو کم کردیتاہے اور کسی کو زیادہ ۔ حدیث قدسی میں آیا ہے کہ میرے بندوںمیں کوئی ایسا ہے جس کے لیے صرف محتاجی مناسب ہے۔ اگر میں اس کو غنی کردوں تو اس کے دین میں بگاڑ آجائے۔ اور میرے بندوں میں کوئی ایسا ہے جس کے لیے صرف امیری مناسب ہے۔ اگر میں اس کو فقیر بنادوں تو اس کے دین میں بگاڑ آجائے (إِنَّ مِنْ عِبَادِي الْمُؤْمِنِينَ مَنْ لَا يُصْلِحُ إِيمَانَهُ إِلَّا الْغِنَى ،لَوْ أَفْقَرْتُهُ لَأَفْسَدَهُ ذَلِكَ ، وَإِنَّ مِنْ عِبَادِي الْمُؤْمِنِينَ مَنْ لَا يُصْلِحُ إِيمَانَهُ إِلَّا الْفَقْرُ،لَوْ أَغْنَيْتُهُ لَأَفْسَدَهُ ذَلِكَ) بحر الفوائدللكلاباذی، حدیث نمبر
671
۔
الإسراء 17:30
اسلام ہر معاملہ میں اعتدال کو پسند کرتاہے۔ زیادتی اور کمی سے بچ کر جو درمیانی راستہ ہے وہی اسلام کے نزدیک بہترین راستہ ہے (خَيْرُ الأُمُورِ أَوْسَاطُهَا) السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 6319۔چنانچہ یہی تعلیم خرچ کے معاملہ میں بھی دی گئی ہے کہ آدمی نہ تو ایسا کرے کہ اتنا بخیل ہو کہ وہ لوگوں کی نظروں سے گرجائے۔ اور نہ اتنا زیادہ خرچ کرے کہ اس کے بعد بالکل خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ رہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جس نے میانہ روی اختیار کی وہ محتاج نہیں ہوا (مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ) مسند احمد، حدیث نمبر 4269
مال کے سلسلہ میں بے اعتدالی کا ذہن اکثر اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ آدمی کی نظر سے یہ حقیقت اوجھل ہوجاتی ہے کہ دینے والا خدا ہے۔ وہی اپنے مصالح کے تحت کسی کو کم کردیتاہے اور کسی کو زیادہ ۔ حدیث قدسی میں آیا ہے کہ میرے بندوںمیں کوئی ایسا ہے جس کے لیے صرف محتاجی مناسب ہے۔ اگر میں اس کو غنی کردوں تو اس کے دین میں بگاڑ آجائے۔ اور میرے بندوں میں کوئی ایسا ہے جس کے لیے صرف امیری مناسب ہے۔ اگر میں اس کو فقیر بنادوں تو اس کے دین میں بگاڑ آجائے (إِنَّ مِنْ عِبَادِي الْمُؤْمِنِينَ مَنْ لَا يُصْلِحُ إِيمَانَهُ إِلَّا الْغِنَى ،لَوْ أَفْقَرْتُهُ لَأَفْسَدَهُ ذَلِكَ ، وَإِنَّ مِنْ عِبَادِي الْمُؤْمِنِينَ مَنْ لَا يُصْلِحُ إِيمَانَهُ إِلَّا الْفَقْرُ،لَوْ أَغْنَيْتُهُ لَأَفْسَدَهُ ذَلِكَ) بحر الفوائدللكلاباذی، حدیث نمبر
671
۔
الإسراء 17:31
خدا ہی نے تمام جانداروں کو پیداکیا ہے۔ وہی ان کے رزق کا انتظام کرتاہے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کا کسی کو رزق کی تنگی کا نام لے کر ہلاک کرنا ایک ایسا کام کرناہے جس کا اس سے کوئی تعلق نہ تھا۔ جب رزق کا انتظام خداکی طرف سے ہورہا ہے تو کسی کو کیا حق ہے کہ وہ کسی جان کو اس اندیشہ سے ہلاک کرے کہ وہ کھائے گی کیا۔
’’ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تم کو بھی‘‘ ان الفاظ کے ذریعہ انسان کے ذہن کواس معاملہ میں تخریب کے بجائے تعمیر کی طرف موڑا گیا ہے۔ غور کیجيے کہ جو انسان موجود ہیں وہ اپنا رزق کس طرح حاصل کررہے ہیں۔ وہ اس کو خدا کے فراہم کردہ پیداواری وسائل پر عمل کرکے حاصل کررہے ہیں۔ یہی طریقہ آئندہ آنے والی نسل کے لیے بھی درست ہے۔ تم کو چاہیے کہ مزید پیدا ہونے والوں کو خدا کے پیدواری وسائل میں مزید عمل کرنے پر لگاؤ، نہ کہ خود پیدا ہونے والوں کی آمد کو روکنے لگو۔
خدا انسانوں کے درمیان جن اعمال کو مکمل طورپر ختم کرنا چاہتاہے ان میں سے ایک زنا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ’’زنا کے قریب نہ جاؤ‘‘ یعنی زنا اتنی بڑی برائی اور بے حیائی ہے کہ اس کے مقدمات سے بھی تم کو پرہیز کرنا چاہیے۔ یہاں اس سلسلہ میں صرف اصولی حکم دیا گیا ہے۔ اس کے تفصیلی احکام آگے سورۂ نور میں بیان کيے گئے ہیں۔
الإسراء 17:32
خدا ہی نے تمام جانداروں کو پیداکیا ہے۔ وہی ان کے رزق کا انتظام کرتاہے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کا کسی کو رزق کی تنگی کا نام لے کر ہلاک کرنا ایک ایسا کام کرناہے جس کا اس سے کوئی تعلق نہ تھا۔ جب رزق کا انتظام خداکی طرف سے ہورہا ہے تو کسی کو کیا حق ہے کہ وہ کسی جان کو اس اندیشہ سے ہلاک کرے کہ وہ کھائے گی کیا۔
’’ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تم کو بھی‘‘ ان الفاظ کے ذریعہ انسان کے ذہن کواس معاملہ میں تخریب کے بجائے تعمیر کی طرف موڑا گیا ہے۔ غور کیجيے کہ جو انسان موجود ہیں وہ اپنا رزق کس طرح حاصل کررہے ہیں۔ وہ اس کو خدا کے فراہم کردہ پیداواری وسائل پر عمل کرکے حاصل کررہے ہیں۔ یہی طریقہ آئندہ آنے والی نسل کے لیے بھی درست ہے۔ تم کو چاہیے کہ مزید پیدا ہونے والوں کو خدا کے پیدواری وسائل میں مزید عمل کرنے پر لگاؤ، نہ کہ خود پیدا ہونے والوں کی آمد کو روکنے لگو۔
خدا انسانوں کے درمیان جن اعمال کو مکمل طورپر ختم کرنا چاہتاہے ان میں سے ایک زنا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ’’زنا کے قریب نہ جاؤ‘‘ یعنی زنا اتنی بڑی برائی اور بے حیائی ہے کہ اس کے مقدمات سے بھی تم کو پرہیز کرنا چاہیے۔ یہاں اس سلسلہ میں صرف اصولی حکم دیا گیا ہے۔ اس کے تفصیلی احکام آگے سورۂ نور میں بیان کيے گئے ہیں۔
الإسراء 17:33
حق شرعی کے بغیر کسی کو قتل کرنا سراسر حرام ہے۔ جو شخص شرعی جواز کے بغیر قتل کیا جائے وہ مظلومانہ قتل ہوا۔ ایسی حالت میں مقتول کے اولیاء کو قاتل کے اوپر پورا اختیا رہے۔ وہ چاہیں تو اس سے قصا ص لیں۔ چاہیں تو خوں بہا لے کر چھوڑ دیں۔ اور چاہیں تو سرے سے معاف کردیں۔ اسلامی قانون کے مطابق قتل کے معاملہ میں اصل مدعی مقتول کے اولیاء ہیں، نہ کہ حکومت۔ حکومت کا کام صرف یہ ہے کہ وہ مقتول کے اولیاء کی مرضی کو نافذ کرنے میں ان کی مدد کرے۔
قتل اتنا بھیانک جرم ہے کہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ ساری دنیا کا چلا جانا اللہ کے نزدیک اس سے اہون ہے کہ ایک مومن کو ناحق قتل کردیا جائے (لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عِنْدَ اللهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ)سنن النسائی، حدیث نمبر 3987۔ اس کے باوجود مقتول کے اولیاء کو یہ حق نہیں کہ وہ قاتل سے بدلہ لیتے ہوئے اس کے ساتھ زیادتی کریں۔ مثلاً وہ قاتل کا مثلہ کریں یا قاتل کے بدلے اس کے کسی ساتھی کو قتل کردیں، وغیرہ۔ مقتول کے ورثاء اگر بدلہ لینے میں زیادتی کریں تو یہاں حکومت اسی طرح ان کی مزاحم ہوجائے گی جس طرح وہ ان کے حق قصاص کے معاملہ میں ان کی مددگار ہوئی تھی۔
اس سے اسلامی شریعت کی یہ روح معلوم ہوتی ہے کہ کوئی شخص خواہ کتنا ہی زیادہ مظلوم ہو، اگر وہ ظالم سے بدلہ لینا چاہتا ہے تو وہ صرف ظلم کے بقدر بدلہ لے سکتاہے۔ اس سے زیادہ کوئی کارروائی کرنے کی اجازت اسے ہر گز حاصل نہیں۔
الإسراء 17:34
نابالغ یتیم کے سرپرست اس کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں۔ مگر یتیم کا مال ان اولیاء کے ہاتھ میں اس وقت تک کے لیے بطور امانت ہے جب تک کہ یتیم عاقل وبالغ نہ ہوجائے۔ اولیاء کو چاہیے کہ وہ یتیم کے مال کو ہاتھ نہ لگائیں۔ وہ صرف اس وقت اس میں تصرف کرسکتے ہیں جب کہ خود یتیم کی خیر خواہی اور ترقی کا تقاضا ہو۔ اور یتیم جیسے ہی اپنے نفع نقصان کو سمجھنے کے قابل ہو اس کا مال پور ی طرح اس کے حوالے کردیا جائے۔
عہد کو پورا کرنا انسانی کردار کی اہم ترین صفت ہے۔ جو آدمی ایک عہد کرے اور پھر اس کو پورا نہ کرے وہ بالکل بے قیمت انسان ہے، بندوں کے نزدیک بھی اور خدا کے نزدیک بھی۔
’’عہد اللہ کے نزدیک قابل پرسش ہے‘‘— یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب ایک آدمی کسی دوسرے آدمی سے عہد کرتاہے تو یہ صرف دو انسانوں کا باہمی معاملہ نہیں ہوتا بلکہ اس میں خدا بھی تیسرے فرق کی حیثیت سے شریک ہوتاہے۔ آدمی کو عہد توڑتے ہوئے ڈرنا چاہیے کہ عہد کا دوسرا فریق صرف ایک کمزور انسان نہیں ہے بلکہ وہ خدا ہے جس کی پکڑ سے بچنا کسی طرح ممکن نہیں۔
دنیا میں ہر قسم کا کاروبار ناپ تول کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس سلسلہ میں حکم دیاگیا کہ ناپ تول بالکل ٹھیک رکھا جائے اور جو چیز دی جائے پورے ناپ تول کے ساتھ دی جائے۔
یہ طریقہ بیک وقت اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک طرف وہ انسانی عظمت کے مطابق ہے۔ ناپ تول میں فرق کرناکردار کی پستی ہے۔ اور ناپ تول میں پورا دینا کردار کی بلندی۔ اس کادوسرا عظیم فائدہ یہ ہے کہ اس سے کاروبار کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ کیوں کہ کاروبار کی ترقی کی بنیاد تمام تر اعتماد پر ہے اور ناپ تول صحیح دینا وہ چیز ہے جس سے کسی شخص کا کاروبار ی اعتماد لوگوں کے درمیان قائم ہوتاہے۔
الإسراء 17:35
نابالغ یتیم کے سرپرست اس کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں۔ مگر یتیم کا مال ان اولیاء کے ہاتھ میں اس وقت تک کے لیے بطور امانت ہے جب تک کہ یتیم عاقل وبالغ نہ ہوجائے۔ اولیاء کو چاہیے کہ وہ یتیم کے مال کو ہاتھ نہ لگائیں۔ وہ صرف اس وقت اس میں تصرف کرسکتے ہیں جب کہ خود یتیم کی خیر خواہی اور ترقی کا تقاضا ہو۔ اور یتیم جیسے ہی اپنے نفع نقصان کو سمجھنے کے قابل ہو اس کا مال پور ی طرح اس کے حوالے کردیا جائے۔
عہد کو پورا کرنا انسانی کردار کی اہم ترین صفت ہے۔ جو آدمی ایک عہد کرے اور پھر اس کو پورا نہ کرے وہ بالکل بے قیمت انسان ہے، بندوں کے نزدیک بھی اور خدا کے نزدیک بھی۔
’’عہد اللہ کے نزدیک قابل پرسش ہے‘‘— یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب ایک آدمی کسی دوسرے آدمی سے عہد کرتاہے تو یہ صرف دو انسانوں کا باہمی معاملہ نہیں ہوتا بلکہ اس میں خدا بھی تیسرے فرق کی حیثیت سے شریک ہوتاہے۔ آدمی کو عہد توڑتے ہوئے ڈرنا چاہیے کہ عہد کا دوسرا فریق صرف ایک کمزور انسان نہیں ہے بلکہ وہ خدا ہے جس کی پکڑ سے بچنا کسی طرح ممکن نہیں۔
دنیا میں ہر قسم کا کاروبار ناپ تول کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس سلسلہ میں حکم دیاگیا کہ ناپ تول بالکل ٹھیک رکھا جائے اور جو چیز دی جائے پورے ناپ تول کے ساتھ دی جائے۔
یہ طریقہ بیک وقت اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک طرف وہ انسانی عظمت کے مطابق ہے۔ ناپ تول میں فرق کرناکردار کی پستی ہے۔ اور ناپ تول میں پورا دینا کردار کی بلندی۔ اس کادوسرا عظیم فائدہ یہ ہے کہ اس سے کاروبار کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ کیوں کہ کاروبار کی ترقی کی بنیاد تمام تر اعتماد پر ہے اور ناپ تول صحیح دینا وہ چیز ہے جس سے کسی شخص کا کاروبار ی اعتماد لوگوں کے درمیان قائم ہوتاہے۔
الإسراء 17:36
قتادہ نے کہا ہے کہ ’’میں نے دیکھا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے دیکھا نہ ہو۔ ’’میں نے سنا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے سنا نہ ہو۔ ’’میں نے جانا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے جانا نہ ہو )لَا تَقُلْ رَأَيْتُ وَلَمْ تَرَ، وَسَمِعْتُ وَلَمْ تَسْمَعْ، وَعَلِمْتُ وَلَمْ تَعْلَمْ) تفسیر الطبری، جلد
14
، صفحہ
594
۔
جس آدمی کو اس بات کا ڈر ہو کہ خدا کے یہاں ہر بات کی پوچھ ہوگی وہ کبھی بے تحقیق بات اپنی زبان سے نہیں نکالے گا اور نہ آنکھ بند کرکے بے تحقیق بات کی پیروی کرے گا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کان اور آنکھ اور دماغ سے وہ کام لے جس کے لیے وہ بنائے گئے ہیں اور وہی بات منھ سے نکالے یا عمل میں لائے جو پوری طرح ثابت ہوچکی ہو۔ اس حکم میں تمام بے بنیاد چیزیں آگئیں۔ مثلاً جھوٹی گواہی دینا، غلط تہمت لگانا، سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر کسی کے درپے ہوجانا، محض تعصب کی بنا پر ناحق بات کی حمایت کرنا، ایسی چیزوں کے پیچھے پڑنا جن کو اپنی محدودیت کی بناپر انسان جان نہیں سکتا — سمع و بصر وفواد بظاہر انسان کے قبضہ میں ہیں۔ مگر یہ انسان کے پاس بطور امانت ہیں۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ ان چیزوں کو خدا کی منشاء کے مطابق استعمال کرے۔ ورنہ ان کی بابت اس سے سخت باز پرس ہوگی۔
انسان ایک ایسی زمین پر ہے جس کو وہ پھاڑ نہیں سکتا، وہ ایک ایسے ماحول میں ہے جہاں اونچے اونچے پہاڑ اس کی ہر بلندی کی نفی کررہے ہیں۔ یہ خدا کے مقابلے میں انسان کی حیثیت کا ایک تمثیلی اعلان ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی دنیا میں متکبربن کر نہ رہے۔ وہ عجز اور تواضع کا طریقہ اختیار کرے، نہ کہ اکڑنے اور سرکشی کرنے کا۔
الإسراء 17:37
قتادہ نے کہا ہے کہ ’’میں نے دیکھا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے دیکھا نہ ہو۔ ’’میں نے سنا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے سنا نہ ہو۔ ’’میں نے جانا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے جانا نہ ہو )لَا تَقُلْ رَأَيْتُ وَلَمْ تَرَ، وَسَمِعْتُ وَلَمْ تَسْمَعْ، وَعَلِمْتُ وَلَمْ تَعْلَمْ) تفسیر الطبری، جلد
14
، صفحہ
594
۔
جس آدمی کو اس بات کا ڈر ہو کہ خدا کے یہاں ہر بات کی پوچھ ہوگی وہ کبھی بے تحقیق بات اپنی زبان سے نہیں نکالے گا اور نہ آنکھ بند کرکے بے تحقیق بات کی پیروی کرے گا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کان اور آنکھ اور دماغ سے وہ کام لے جس کے لیے وہ بنائے گئے ہیں اور وہی بات منھ سے نکالے یا عمل میں لائے جو پوری طرح ثابت ہوچکی ہو۔ اس حکم میں تمام بے بنیاد چیزیں آگئیں۔ مثلاً جھوٹی گواہی دینا، غلط تہمت لگانا، سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر کسی کے درپے ہوجانا، محض تعصب کی بنا پر ناحق بات کی حمایت کرنا، ایسی چیزوں کے پیچھے پڑنا جن کو اپنی محدودیت کی بناپر انسان جان نہیں سکتا — سمع و بصر وفواد بظاہر انسان کے قبضہ میں ہیں۔ مگر یہ انسان کے پاس بطور امانت ہیں۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ ان چیزوں کو خدا کی منشاء کے مطابق استعمال کرے۔ ورنہ ان کی بابت اس سے سخت باز پرس ہوگی۔
انسان ایک ایسی زمین پر ہے جس کو وہ پھاڑ نہیں سکتا، وہ ایک ایسے ماحول میں ہے جہاں اونچے اونچے پہاڑ اس کی ہر بلندی کی نفی کررہے ہیں۔ یہ خدا کے مقابلے میں انسان کی حیثیت کا ایک تمثیلی اعلان ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی دنیا میں متکبربن کر نہ رہے۔ وہ عجز اور تواضع کا طریقہ اختیار کرے، نہ کہ اکڑنے اور سرکشی کرنے کا۔
الإسراء 17:38
قتادہ نے کہا ہے کہ ’’میں نے دیکھا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے دیکھا نہ ہو۔ ’’میں نے سنا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے سنا نہ ہو۔ ’’میں نے جانا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے جانا نہ ہو )لَا تَقُلْ رَأَيْتُ وَلَمْ تَرَ، وَسَمِعْتُ وَلَمْ تَسْمَعْ، وَعَلِمْتُ وَلَمْ تَعْلَمْ) تفسیر الطبری، جلد
14
، صفحہ
594
۔
جس آدمی کو اس بات کا ڈر ہو کہ خدا کے یہاں ہر بات کی پوچھ ہوگی وہ کبھی بے تحقیق بات اپنی زبان سے نہیں نکالے گا اور نہ آنکھ بند کرکے بے تحقیق بات کی پیروی کرے گا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کان اور آنکھ اور دماغ سے وہ کام لے جس کے لیے وہ بنائے گئے ہیں اور وہی بات منھ سے نکالے یا عمل میں لائے جو پوری طرح ثابت ہوچکی ہو۔ اس حکم میں تمام بے بنیاد چیزیں آگئیں۔ مثلاً جھوٹی گواہی دینا، غلط تہمت لگانا، سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر کسی کے درپے ہوجانا، محض تعصب کی بنا پر ناحق بات کی حمایت کرنا، ایسی چیزوں کے پیچھے پڑنا جن کو اپنی محدودیت کی بناپر انسان جان نہیں سکتا — سمع و بصر وفواد بظاہر انسان کے قبضہ میں ہیں۔ مگر یہ انسان کے پاس بطور امانت ہیں۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ ان چیزوں کو خدا کی منشاء کے مطابق استعمال کرے۔ ورنہ ان کی بابت اس سے سخت باز پرس ہوگی۔
انسان ایک ایسی زمین پر ہے جس کو وہ پھاڑ نہیں سکتا، وہ ایک ایسے ماحول میں ہے جہاں اونچے اونچے پہاڑ اس کی ہر بلندی کی نفی کررہے ہیں۔ یہ خدا کے مقابلے میں انسان کی حیثیت کا ایک تمثیلی اعلان ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی دنیا میں متکبربن کر نہ رہے۔ وہ عجز اور تواضع کا طریقہ اختیار کرے، نہ کہ اکڑنے اور سرکشی کرنے کا۔
الإسراء 17:39
اوپر کی آیتوں میں جو احکام دئے گئے ان کو یہاں حکمت کہاگیاہے۔ حکمت کا مطلب ہے ٹھوس حقیقت، دانائی کی بات۔ یہ باتیں جو یہاں بتائی گئی ہیں یہ زندگی کے محکم حقائق ہیں۔ ان کی بنیاد پر درست زندگی کی تعمیر ہوتی ہے۔ اور جو انسانی معاشرہ ان سے خالی ہو اس کے لیے خدا کی دنیا میں ہلاکت کے سوا اور کوئی چیز مقدر نہیں۔ آج بھی اور آج کے بعد کی زندگی میں بھی۔
مذکورہ بالا نصیحتوں کا بیان توحید سے شروع ہوا تھا (آیت نمبر
22
)، اب ان کا خاتمہ بھی توحید پر کیاگیا ہے (آیت نمبر
39
) یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ تمام بھلائیوں کی بنیاد یہ ہے کہ آدمی ایک خداکو اپنا خدا بنائے۔ وہ اسی سے ڈرے اور اسی سے محبت کرے۔ خدا سے درست تعلق ہی میں زندگی کی درستی کا راز چھپا ہوا ہے۔ اگر خدا سے تعلق درست نہ ہو تو کوئی بھی دوسری چیز انسانی زندگی کے نظام کو درست نہیں کرسکتی۔ خدا انسان کا آغاز ہے اور وہی اس کا اختتام بھی۔
الإسراء 17:40
حقیقت اتنی کامل اور مکمل ہے کہ جو بھی خلاف واقعہ بات اس کے ساتھ منسوب کی جائے وہ فوراً بے جوڑ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا معاملہ ہے۔
مشرک لوگ اپنے مفروضہ شرکاء کو خدا کی اولاد کہتے ہیں مگر یہ بات خود ہی اپنے دعوے کی تردید ہے۔ اگر ان شرکاء کو مؤنث قرار دے کر خدا کی بیٹیا ں کہا جائے تو فوراً یہ اعتراض واقع ہوتاہے کہ بیٹیاں خود مشرکین کے اعتراف کے مطابق، کمزور صنف سے تعلق رکھتی ہیں۔ پھر خدا نے کمزور صنف کو اپنا شریک بنانا کیوں پسند کیا۔ کیسی عجیب بات ہوگی کہ خدا انسانوں کو ان کی محبوب اولاد کی حیثیت سے بیٹا دے اور خود اپنے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرے۔
اس کے برعکس، اگر ان شرکاء کو بیٹا فرض کیاجائے جو انسانی تجربات کے مطابق قوت وطاقت کی علامت ہے تب بھی یہ بات ناقابل فہم ہے۔ کیوں کہ اقتدار ایک ناقابل تقسیم چیز ہے۔ جب بھی کسی نظام میں ایک سے زیادہ صاحب طاقت اور صاحب اقتدار ہوں تو ان کے درمیان لازماً کش مکش شروع ہوجاتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتاہے کہ اس کو مطلق اقتدار مل جائے۔ اب اگر کائنات میں ایک سے زیادہ طاقت ور ہستیاں ہوتیں تو ان کے درمیان ضرور اقتدار کی جنگ برپا ہوجاتی اور کائنات کے سارے نظام میں اختلال و انتشار پیدا ہوجاتا۔ مگر چوں کہ کائنات میں کوئی اختلال وانتشار نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہاں دوسری ایسی ہستیاں بھی موجود نہیں جو خداکے ساتھ اس کی طاقت میں حصہ دار ہوں۔
شرکاء کو اگر بیٹے کہا جائے تب بھی وہ صورت واقعہ سے ٹکراتا ہے اور بیٹیاں کہا جائے تب بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایسے ہر تصور کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے جس میں خدا کی خدائی میں کسی اور کو شریک کیاگیا ہو۔
الإسراء 17:41
حقیقت اتنی کامل اور مکمل ہے کہ جو بھی خلاف واقعہ بات اس کے ساتھ منسوب کی جائے وہ فوراً بے جوڑ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا معاملہ ہے۔
مشرک لوگ اپنے مفروضہ شرکاء کو خدا کی اولاد کہتے ہیں مگر یہ بات خود ہی اپنے دعوے کی تردید ہے۔ اگر ان شرکاء کو مؤنث قرار دے کر خدا کی بیٹیا ں کہا جائے تو فوراً یہ اعتراض واقع ہوتاہے کہ بیٹیاں خود مشرکین کے اعتراف کے مطابق، کمزور صنف سے تعلق رکھتی ہیں۔ پھر خدا نے کمزور صنف کو اپنا شریک بنانا کیوں پسند کیا۔ کیسی عجیب بات ہوگی کہ خدا انسانوں کو ان کی محبوب اولاد کی حیثیت سے بیٹا دے اور خود اپنے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرے۔
اس کے برعکس، اگر ان شرکاء کو بیٹا فرض کیاجائے جو انسانی تجربات کے مطابق قوت وطاقت کی علامت ہے تب بھی یہ بات ناقابل فہم ہے۔ کیوں کہ اقتدار ایک ناقابل تقسیم چیز ہے۔ جب بھی کسی نظام میں ایک سے زیادہ صاحب طاقت اور صاحب اقتدار ہوں تو ان کے درمیان لازماً کش مکش شروع ہوجاتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتاہے کہ اس کو مطلق اقتدار مل جائے۔ اب اگر کائنات میں ایک سے زیادہ طاقت ور ہستیاں ہوتیں تو ان کے درمیان ضرور اقتدار کی جنگ برپا ہوجاتی اور کائنات کے سارے نظام میں اختلال و انتشار پیدا ہوجاتا۔ مگر چوں کہ کائنات میں کوئی اختلال وانتشار نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہاں دوسری ایسی ہستیاں بھی موجود نہیں جو خداکے ساتھ اس کی طاقت میں حصہ دار ہوں۔
شرکاء کو اگر بیٹے کہا جائے تب بھی وہ صورت واقعہ سے ٹکراتا ہے اور بیٹیاں کہا جائے تب بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایسے ہر تصور کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے جس میں خدا کی خدائی میں کسی اور کو شریک کیاگیا ہو۔
الإسراء 17:42
حقیقت اتنی کامل اور مکمل ہے کہ جو بھی خلاف واقعہ بات اس کے ساتھ منسوب کی جائے وہ فوراً بے جوڑ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا معاملہ ہے۔
مشرک لوگ اپنے مفروضہ شرکاء کو خدا کی اولاد کہتے ہیں مگر یہ بات خود ہی اپنے دعوے کی تردید ہے۔ اگر ان شرکاء کو مؤنث قرار دے کر خدا کی بیٹیا ں کہا جائے تو فوراً یہ اعتراض واقع ہوتاہے کہ بیٹیاں خود مشرکین کے اعتراف کے مطابق، کمزور صنف سے تعلق رکھتی ہیں۔ پھر خدا نے کمزور صنف کو اپنا شریک بنانا کیوں پسند کیا۔ کیسی عجیب بات ہوگی کہ خدا انسانوں کو ان کی محبوب اولاد کی حیثیت سے بیٹا دے اور خود اپنے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرے۔
اس کے برعکس، اگر ان شرکاء کو بیٹا فرض کیاجائے جو انسانی تجربات کے مطابق قوت وطاقت کی علامت ہے تب بھی یہ بات ناقابل فہم ہے۔ کیوں کہ اقتدار ایک ناقابل تقسیم چیز ہے۔ جب بھی کسی نظام میں ایک سے زیادہ صاحب طاقت اور صاحب اقتدار ہوں تو ان کے درمیان لازماً کش مکش شروع ہوجاتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتاہے کہ اس کو مطلق اقتدار مل جائے۔ اب اگر کائنات میں ایک سے زیادہ طاقت ور ہستیاں ہوتیں تو ان کے درمیان ضرور اقتدار کی جنگ برپا ہوجاتی اور کائنات کے سارے نظام میں اختلال و انتشار پیدا ہوجاتا۔ مگر چوں کہ کائنات میں کوئی اختلال وانتشار نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہاں دوسری ایسی ہستیاں بھی موجود نہیں جو خداکے ساتھ اس کی طاقت میں حصہ دار ہوں۔
شرکاء کو اگر بیٹے کہا جائے تب بھی وہ صورت واقعہ سے ٹکراتا ہے اور بیٹیاں کہا جائے تب بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایسے ہر تصور کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے جس میں خدا کی خدائی میں کسی اور کو شریک کیاگیا ہو۔
الإسراء 17:43
حقیقت اتنی کامل اور مکمل ہے کہ جو بھی خلاف واقعہ بات اس کے ساتھ منسوب کی جائے وہ فوراً بے جوڑ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا معاملہ ہے۔
مشرک لوگ اپنے مفروضہ شرکاء کو خدا کی اولاد کہتے ہیں مگر یہ بات خود ہی اپنے دعوے کی تردید ہے۔ اگر ان شرکاء کو مؤنث قرار دے کر خدا کی بیٹیا ں کہا جائے تو فوراً یہ اعتراض واقع ہوتاہے کہ بیٹیاں خود مشرکین کے اعتراف کے مطابق، کمزور صنف سے تعلق رکھتی ہیں۔ پھر خدا نے کمزور صنف کو اپنا شریک بنانا کیوں پسند کیا۔ کیسی عجیب بات ہوگی کہ خدا انسانوں کو ان کی محبوب اولاد کی حیثیت سے بیٹا دے اور خود اپنے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرے۔
اس کے برعکس، اگر ان شرکاء کو بیٹا فرض کیاجائے جو انسانی تجربات کے مطابق قوت وطاقت کی علامت ہے تب بھی یہ بات ناقابل فہم ہے۔ کیوں کہ اقتدار ایک ناقابل تقسیم چیز ہے۔ جب بھی کسی نظام میں ایک سے زیادہ صاحب طاقت اور صاحب اقتدار ہوں تو ان کے درمیان لازماً کش مکش شروع ہوجاتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتاہے کہ اس کو مطلق اقتدار مل جائے۔ اب اگر کائنات میں ایک سے زیادہ طاقت ور ہستیاں ہوتیں تو ان کے درمیان ضرور اقتدار کی جنگ برپا ہوجاتی اور کائنات کے سارے نظام میں اختلال و انتشار پیدا ہوجاتا۔ مگر چوں کہ کائنات میں کوئی اختلال وانتشار نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہاں دوسری ایسی ہستیاں بھی موجود نہیں جو خداکے ساتھ اس کی طاقت میں حصہ دار ہوں۔
شرکاء کو اگر بیٹے کہا جائے تب بھی وہ صورت واقعہ سے ٹکراتا ہے اور بیٹیاں کہا جائے تب بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایسے ہر تصور کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے جس میں خدا کی خدائی میں کسی اور کو شریک کیاگیا ہو۔
الإسراء 17:44
حقیقت اتنی کامل اور مکمل ہے کہ جو بھی خلاف واقعہ بات اس کے ساتھ منسوب کی جائے وہ فوراً بے جوڑ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا معاملہ ہے۔
مشرک لوگ اپنے مفروضہ شرکاء کو خدا کی اولاد کہتے ہیں مگر یہ بات خود ہی اپنے دعوے کی تردید ہے۔ اگر ان شرکاء کو مؤنث قرار دے کر خدا کی بیٹیا ں کہا جائے تو فوراً یہ اعتراض واقع ہوتاہے کہ بیٹیاں خود مشرکین کے اعتراف کے مطابق، کمزور صنف سے تعلق رکھتی ہیں۔ پھر خدا نے کمزور صنف کو اپنا شریک بنانا کیوں پسند کیا۔ کیسی عجیب بات ہوگی کہ خدا انسانوں کو ان کی محبوب اولاد کی حیثیت سے بیٹا دے اور خود اپنے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرے۔
اس کے برعکس، اگر ان شرکاء کو بیٹا فرض کیاجائے جو انسانی تجربات کے مطابق قوت وطاقت کی علامت ہے تب بھی یہ بات ناقابل فہم ہے۔ کیوں کہ اقتدار ایک ناقابل تقسیم چیز ہے۔ جب بھی کسی نظام میں ایک سے زیادہ صاحب طاقت اور صاحب اقتدار ہوں تو ان کے درمیان لازماً کش مکش شروع ہوجاتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتاہے کہ اس کو مطلق اقتدار مل جائے۔ اب اگر کائنات میں ایک سے زیادہ طاقت ور ہستیاں ہوتیں تو ان کے درمیان ضرور اقتدار کی جنگ برپا ہوجاتی اور کائنات کے سارے نظام میں اختلال و انتشار پیدا ہوجاتا۔ مگر چوں کہ کائنات میں کوئی اختلال وانتشار نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہاں دوسری ایسی ہستیاں بھی موجود نہیں جو خداکے ساتھ اس کی طاقت میں حصہ دار ہوں۔
شرکاء کو اگر بیٹے کہا جائے تب بھی وہ صورت واقعہ سے ٹکراتا ہے اور بیٹیاں کہا جائے تب بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایسے ہر تصور کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے جس میں خدا کی خدائی میں کسی اور کو شریک کیاگیا ہو۔
الإسراء 17:45
یہاں جس چیز کو ’’چھپا ہوا پردہ‘‘ کہا گیا ہے وہ دراصل نفسیاتی پردہ ہے۔ اس سے مراد وہ صورت حال ہے جب کہ آدمی بطورخود اپنے ذہن میں کسی غیر صداقت کو صداقت کا مقام دے دے۔ ایسے شخص کے سامنے جب ایک ایسا حق آتا ہے جس کے مطابق اس کی مفروضہ صداقتوں کی نفی ہورہی ہو تو ایسی بے آمیز دعوت اس کے لیے ناقابل فہم بن جاتی ہے۔ اپنی مخصوص نفسیات کی بنا پر اس کی سمجھ میں نہیںآتا کہ ایسی دعوت بھی سچی دعوت ہوسکتی ہے جس کو ماننے کی صورت میں وہ چیز باطل قرار پائے جس کو اب تک وہ مسلّمہ صداقت سمجھے ہوئے تھا۔ وہ نئی دعوت کے دلائل کا توڑ نہیں کرپاتا۔ تاہم اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر یہ ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا کہ یہی وہ مطلق صداقت ہے جس کو اسے دوسری تمام چیزوں کو چھوڑ کر مان لینا چاہیے۔
بے آمیز صداقت کا اعلان ہمیشہ دوسری مفروضہ صداقتوں کی نفی کے ہم معنی ہوتاہے۔ اس لیے اس کو سن کر وہ لوگ بپھر اٹھتے ہیں جو اس کے سوا دوسری چیزوں یا شخصیتوں کو بھی عظمت اور تقدس کا مقام دئے ہوئے ہوں۔ ان کے اندر آخرت کی جواب دہی کا یقین نہ ہونا انھیں غیر سنجیدہ بنادیتاہے اور غیر سنجیدہ ذہن کے ساتھ کوئی بات سمجھی نہیں جاسکتی۔
الإسراء 17:46
یہاں جس چیز کو ’’چھپا ہوا پردہ‘‘ کہا گیا ہے وہ دراصل نفسیاتی پردہ ہے۔ اس سے مراد وہ صورت حال ہے جب کہ آدمی بطورخود اپنے ذہن میں کسی غیر صداقت کو صداقت کا مقام دے دے۔ ایسے شخص کے سامنے جب ایک ایسا حق آتا ہے جس کے مطابق اس کی مفروضہ صداقتوں کی نفی ہورہی ہو تو ایسی بے آمیز دعوت اس کے لیے ناقابل فہم بن جاتی ہے۔ اپنی مخصوص نفسیات کی بنا پر اس کی سمجھ میں نہیںآتا کہ ایسی دعوت بھی سچی دعوت ہوسکتی ہے جس کو ماننے کی صورت میں وہ چیز باطل قرار پائے جس کو اب تک وہ مسلّمہ صداقت سمجھے ہوئے تھا۔ وہ نئی دعوت کے دلائل کا توڑ نہیں کرپاتا۔ تاہم اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر یہ ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا کہ یہی وہ مطلق صداقت ہے جس کو اسے دوسری تمام چیزوں کو چھوڑ کر مان لینا چاہیے۔
بے آمیز صداقت کا اعلان ہمیشہ دوسری مفروضہ صداقتوں کی نفی کے ہم معنی ہوتاہے۔ اس لیے اس کو سن کر وہ لوگ بپھر اٹھتے ہیں جو اس کے سوا دوسری چیزوں یا شخصیتوں کو بھی عظمت اور تقدس کا مقام دئے ہوئے ہوں۔ ان کے اندر آخرت کی جواب دہی کا یقین نہ ہونا انھیں غیر سنجیدہ بنادیتاہے اور غیر سنجیدہ ذہن کے ساتھ کوئی بات سمجھی نہیں جاسکتی۔
الإسراء 17:47
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں دلائل کا زور اتنا زیادہ تھا کہ عرب کے عام لوگ اس سے مرعوب ہونے لگے۔ یہ دیکھ کر وہاں کے سرداروں کو خطرہ محسوس ہوا کہ اگر ان لوگوں نے بڑی تعداد میں نئے دین کو قبول کرلیا تو ہماری سرداری ختم ہوجائے گی۔ انھوںنے لوگوں کو اس سے پھیرنے کے لیے ایک تدبیر کی۔ انھوںنے کہا کہ اس شخص کے کلام میں تم جو زور دیکھ رہے ہو وہ دراصل ساحرانہ کلام کا زور ہے۔ یہ ’’ادب‘‘ کا معاملہ ہے، نہ کہ حقیقۃً صداقت کا معاملہ۔ اس طرح انھوںنے یہ کیا کہ جس کلام کی عظمت میں لوگ صداقت کی جھلک دیکھ رہے تھے اس کو لوگوں کی نظر میں ’’قلم کے جادو‘‘ کے ہم معنی بنادیا۔
جو لوگ کسی دعوت کو اس کے جوہر کی بنیاد پر نہ دیکھیں بلکہ اس اعتبار سے دیکھیں کہ وہ ان کی حیثیت کی تصدیق کرتی ہے یا تردید، ایسے لوگ کبھی صداقت کو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔
الإسراء 17:48
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں دلائل کا زور اتنا زیادہ تھا کہ عرب کے عام لوگ اس سے مرعوب ہونے لگے۔ یہ دیکھ کر وہاں کے سرداروں کو خطرہ محسوس ہوا کہ اگر ان لوگوں نے بڑی تعداد میں نئے دین کو قبول کرلیا تو ہماری سرداری ختم ہوجائے گی۔ انھوںنے لوگوں کو اس سے پھیرنے کے لیے ایک تدبیر کی۔ انھوںنے کہا کہ اس شخص کے کلام میں تم جو زور دیکھ رہے ہو وہ دراصل ساحرانہ کلام کا زور ہے۔ یہ ’’ادب‘‘ کا معاملہ ہے، نہ کہ حقیقۃً صداقت کا معاملہ۔ اس طرح انھوںنے یہ کیا کہ جس کلام کی عظمت میں لوگ صداقت کی جھلک دیکھ رہے تھے اس کو لوگوں کی نظر میں ’’قلم کے جادو‘‘ کے ہم معنی بنادیا۔
جو لوگ کسی دعوت کو اس کے جوہر کی بنیاد پر نہ دیکھیں بلکہ اس اعتبار سے دیکھیں کہ وہ ان کی حیثیت کی تصدیق کرتی ہے یا تردید، ایسے لوگ کبھی صداقت کو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔
الإسراء 17:49
انسان کا وجود اول واضح طور پر اس کے وجود ثانی کو ممکن ثابت کرتاہے۔ جو شخص انسان کی پہلی پیدائش کو بطور واقعہ مانتا ہو، اس کے پاس کوئی حقیقی دلیل نہیں جس سے وہ انسان کی دوسری پیدائش کے امکان کو نہ مانے۔
پھر یہ کہ انسان کی پیدائشِ ثانی، کم ازکم ان لوگوں کے لیے ہر گز مستبعد نہیں جو انسان کو پتھر اور لوہا (بالفاظ دیگر مادی اشیاء کا مجموعہ) سمجھتے ہیں کیوں کہ جسم کے خليات(cells) کے ٹوٹنے کے ساتھ اسی معلوم دنیا میں یہ واقعہ ہورہاہے کہ آدمی کا مادی وجود مسلسل ختم ہوتا ہے اور پھر دوبارہ بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حشر ونشر اسی واقعہ کو موت کے بعد ماننا ہے جس کا موت سے پہلے ہم بار بار تجربہ کررہے ہیں۔
قیامت دراصل اسی دن کا نام ہے جب کہ غیب کا پردہ پھٹ جائے اور خدا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ بالکل سامنے آجائے۔ جب ایسا ہوگا تو منکر بھی وہی کرنے پر مجبور ہوگا جو آج صرف سچا مومن کرپاتاہے۔ اس وقت تمام لوگ خدا کے کمالات کااقرار کرتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔
الإسراء 17:50
انسان کا وجود اول واضح طور پر اس کے وجود ثانی کو ممکن ثابت کرتاہے۔ جو شخص انسان کی پہلی پیدائش کو بطور واقعہ مانتا ہو، اس کے پاس کوئی حقیقی دلیل نہیں جس سے وہ انسان کی دوسری پیدائش کے امکان کو نہ مانے۔
پھر یہ کہ انسان کی پیدائشِ ثانی، کم ازکم ان لوگوں کے لیے ہر گز مستبعد نہیں جو انسان کو پتھر اور لوہا (بالفاظ دیگر مادی اشیاء کا مجموعہ) سمجھتے ہیں کیوں کہ جسم کے خليات(cells) کے ٹوٹنے کے ساتھ اسی معلوم دنیا میں یہ واقعہ ہورہاہے کہ آدمی کا مادی وجود مسلسل ختم ہوتا ہے اور پھر دوبارہ بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حشر ونشر اسی واقعہ کو موت کے بعد ماننا ہے جس کا موت سے پہلے ہم بار بار تجربہ کررہے ہیں۔
قیامت دراصل اسی دن کا نام ہے جب کہ غیب کا پردہ پھٹ جائے اور خدا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ بالکل سامنے آجائے۔ جب ایسا ہوگا تو منکر بھی وہی کرنے پر مجبور ہوگا جو آج صرف سچا مومن کرپاتاہے۔ اس وقت تمام لوگ خدا کے کمالات کااقرار کرتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔
الإسراء 17:51
انسان کا وجود اول واضح طور پر اس کے وجود ثانی کو ممکن ثابت کرتاہے۔ جو شخص انسان کی پہلی پیدائش کو بطور واقعہ مانتا ہو، اس کے پاس کوئی حقیقی دلیل نہیں جس سے وہ انسان کی دوسری پیدائش کے امکان کو نہ مانے۔
پھر یہ کہ انسان کی پیدائشِ ثانی، کم ازکم ان لوگوں کے لیے ہر گز مستبعد نہیں جو انسان کو پتھر اور لوہا (بالفاظ دیگر مادی اشیاء کا مجموعہ) سمجھتے ہیں کیوں کہ جسم کے خليات(cells) کے ٹوٹنے کے ساتھ اسی معلوم دنیا میں یہ واقعہ ہورہاہے کہ آدمی کا مادی وجود مسلسل ختم ہوتا ہے اور پھر دوبارہ بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حشر ونشر اسی واقعہ کو موت کے بعد ماننا ہے جس کا موت سے پہلے ہم بار بار تجربہ کررہے ہیں۔
قیامت دراصل اسی دن کا نام ہے جب کہ غیب کا پردہ پھٹ جائے اور خدا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ بالکل سامنے آجائے۔ جب ایسا ہوگا تو منکر بھی وہی کرنے پر مجبور ہوگا جو آج صرف سچا مومن کرپاتاہے۔ اس وقت تمام لوگ خدا کے کمالات کااقرار کرتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔
الإسراء 17:52
انسان کا وجود اول واضح طور پر اس کے وجود ثانی کو ممکن ثابت کرتاہے۔ جو شخص انسان کی پہلی پیدائش کو بطور واقعہ مانتا ہو، اس کے پاس کوئی حقیقی دلیل نہیں جس سے وہ انسان کی دوسری پیدائش کے امکان کو نہ مانے۔
پھر یہ کہ انسان کی پیدائشِ ثانی، کم ازکم ان لوگوں کے لیے ہر گز مستبعد نہیں جو انسان کو پتھر اور لوہا (بالفاظ دیگر مادی اشیاء کا مجموعہ) سمجھتے ہیں کیوں کہ جسم کے خليات(cells) کے ٹوٹنے کے ساتھ اسی معلوم دنیا میں یہ واقعہ ہورہاہے کہ آدمی کا مادی وجود مسلسل ختم ہوتا ہے اور پھر دوبارہ بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حشر ونشر اسی واقعہ کو موت کے بعد ماننا ہے جس کا موت سے پہلے ہم بار بار تجربہ کررہے ہیں۔
قیامت دراصل اسی دن کا نام ہے جب کہ غیب کا پردہ پھٹ جائے اور خدا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ بالکل سامنے آجائے۔ جب ایسا ہوگا تو منکر بھی وہی کرنے پر مجبور ہوگا جو آج صرف سچا مومن کرپاتاہے۔ اس وقت تمام لوگ خدا کے کمالات کااقرار کرتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔
الإسراء 17:53
یہ آیت داعی اور مدعو کے نازک رشتہ کے بارے میں ہے۔ حکم دیا گیا ہے کہ مدعو کی طرف سے خواہ کتنی ہی سخت بات کہی جائے اور کتنا ہی اشتعال انگیز معاملہ کیا جائے، داعی کو ہر حال میں قول احسن کا پابند رہناہے۔ کیوں کہ داعی اگر جوابی ذہن کے تحت کارروائی کرے تو مدعو کے اندر مزید نفرت اور ضد کی نفسیات ابھرے گی۔ اور داعی اور مدعو کے درمیان ایسی کش مکش پیدا ہوگی کہ لوگ داعی کی بات کو ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سننے کے قابل ہی نہ رہیں۔
داعی اور مدعو کے اندر ضد اور نفرت کی فضا پیدا ہونا سراسر شیطان کی موافقت میں ہے تاکہ وہ حق کے پیغام کو لوگوں کے لیے ناقابل قبو ل بنا دے۔ اس لیے اگر داعی اپنے کسی فعل سے مدعو کے اندر ضد اور نفرت کی نفسیات جگانے لگے تو گویا کہ اس نے شیطان کاکام کیا، اس نے اپنے دشمن کا کام خود اپنے ہاتھ سے انجام دے دیا۔
الإسراء 17:54
ایک شخص سچے دین کی دعوت دے اور دوسرا شخص اس کو نہ مانے تو داعی کے اندر جھنجھلاہٹ پیدا ہوجاتی ہے کہ یہ شخص کیسا ہے کہ کھلی ہوئی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ کبھی بات اور آگے بڑھتی ہے اور وہ اعلان کربیٹھتا ہے کہ یہ شخص جہنمی ہے۔ اس قسم کا کلام داعی کے لیے کسی حال میں جائز نہیں۔
ایک ہے حق کا پیغام پہنچانا۔ اور ایک ہے پیغام کے رد عمل کے مطابق ہر ایک کو اس کا بدلہ دینا۔ پہلا کام داعی کا ہے اور دوسرا کام خدا کا۔ داعی کو کبھی یہ غلطی نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے دائرہ سے گزر کر خدا کے دائرہ میںداخل ہوجائے۔
اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان اپنے اپنے مقتداؤں کی فضیلت کی بحث اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ ہر ایک اپنے پیشوا کو دوسرے سے اعلیٰ اور افضل ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو بحث اصول کے دائرہ میں رہنی چاہیے وہ شخصیت کے دائرہ میں چلی جاتی ہے اور تعصبات کو جگا کر قبول حق کی راہ میں مزید رکاوٹ کھڑی کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اس سلسلہ میں کہاگیا کہ یہ خدا کا معاملہ ہے کہ وہ کس کو کیا درجہ دیتاہے۔ تم کو چاہیے کہ اس قسم کی بحث سے اعراض کرتے ہوئے اصل پیغام کو پہنچانے میں لگے رہو۔
الإسراء 17:55
ایک شخص سچے دین کی دعوت دے اور دوسرا شخص اس کو نہ مانے تو داعی کے اندر جھنجھلاہٹ پیدا ہوجاتی ہے کہ یہ شخص کیسا ہے کہ کھلی ہوئی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ کبھی بات اور آگے بڑھتی ہے اور وہ اعلان کربیٹھتا ہے کہ یہ شخص جہنمی ہے۔ اس قسم کا کلام داعی کے لیے کسی حال میں جائز نہیں۔
ایک ہے حق کا پیغام پہنچانا۔ اور ایک ہے پیغام کے رد عمل کے مطابق ہر ایک کو اس کا بدلہ دینا۔ پہلا کام داعی کا ہے اور دوسرا کام خدا کا۔ داعی کو کبھی یہ غلطی نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے دائرہ سے گزر کر خدا کے دائرہ میںداخل ہوجائے۔
اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان اپنے اپنے مقتداؤں کی فضیلت کی بحث اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ ہر ایک اپنے پیشوا کو دوسرے سے اعلیٰ اور افضل ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو بحث اصول کے دائرہ میں رہنی چاہیے وہ شخصیت کے دائرہ میں چلی جاتی ہے اور تعصبات کو جگا کر قبول حق کی راہ میں مزید رکاوٹ کھڑی کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اس سلسلہ میں کہاگیا کہ یہ خدا کا معاملہ ہے کہ وہ کس کو کیا درجہ دیتاہے۔ تم کو چاہیے کہ اس قسم کی بحث سے اعراض کرتے ہوئے اصل پیغام کو پہنچانے میں لگے رہو۔
الإسراء 17:56
انسان جن ہستیوں کو اللہ کے سوا اپنا معبود بناتاہے وہ سب وہی ہیں جو اللہ کی مخلوق ہیں۔ مثلاً بزرگ یا فرشتے وغیرہ۔ غور سے دیکھيے تو یہ معبودیت سراسر یک طرفہ ہوتی ہے۔ ان ہستیوں نے خود اپنے خدا ہونے کا دعویٰ نہیں کیاہے۔ یہ صرف دوسرے لوگ ہیں، جو ان کو معبود فرض کرکے ان کی تقدیس و تعظیم میں لگے ہوئے ہیں۔
اگر کسی کو حاضر سے غائب تک دیکھنے کی نظر حاصل ہو اور وہ پوری صورت حال پر نظر کرے تو وہ عجیب مضحکہ خیز منظر دیکھے گا۔ وہ دیکھے گا کہ انسان کچھ ہستیوں کو بطور خود معبود کا درجہ دے کر ان کی پرستش کر رہا ہے۔ اور ان سے مرادیں مانگ رہا ہے جب کہ عین اسی وقت خود ان ہستیوں کا یہ حال ہے کہ وہ اللہ کی عظمت کے احساس سے سہمے ہوئے ہیںاور اس کی رحمت وقربت کی تلاش میں ہمہ تن سرگرم ہیں۔
الإسراء 17:57
انسان جن ہستیوں کو اللہ کے سوا اپنا معبود بناتاہے وہ سب وہی ہیں جو اللہ کی مخلوق ہیں۔ مثلاً بزرگ یا فرشتے وغیرہ۔ غور سے دیکھيے تو یہ معبودیت سراسر یک طرفہ ہوتی ہے۔ ان ہستیوں نے خود اپنے خدا ہونے کا دعویٰ نہیں کیاہے۔ یہ صرف دوسرے لوگ ہیں، جو ان کو معبود فرض کرکے ان کی تقدیس و تعظیم میں لگے ہوئے ہیں۔
اگر کسی کو حاضر سے غائب تک دیکھنے کی نظر حاصل ہو اور وہ پوری صورت حال پر نظر کرے تو وہ عجیب مضحکہ خیز منظر دیکھے گا۔ وہ دیکھے گا کہ انسان کچھ ہستیوں کو بطور خود معبود کا درجہ دے کر ان کی پرستش کر رہا ہے۔ اور ان سے مرادیں مانگ رہا ہے جب کہ عین اسی وقت خود ان ہستیوں کا یہ حال ہے کہ وہ اللہ کی عظمت کے احساس سے سہمے ہوئے ہیںاور اس کی رحمت وقربت کی تلاش میں ہمہ تن سرگرم ہیں۔
الإسراء 17:58
افراد کے لیے جس طرح فنا کا قانون ہے اسی طرح قوموں اور بستیوں کے لیے بھی فنا کا قانون ہے۔ کوئی بستی چاہے وہ کتنی ہی مضبوط اور پُر رونق ہو، بہر حال وہ ایک دن ختم ہو کر رہے گی۔ خواہ اس کی صورت یہ ہو کہ وہ اپنے گناہ اور سرکشی کی وجہ سے پہلے ہلاک کردی جائے۔ یا وہ باقی رہے یہاں تک کہ جب آخرت قائم ہونے کا وقت آئے تو زمین کی تمام آبادیوں کے ساتھ اس کو اكٹھے مٹا دیا جائے۔
الإسراء 17:59
پیغمبروں کے ساتھ جو غیر معمولی واقعات پیش آتے ہیں وہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کی عمومی نصرت کے لیے ہوتے ہیں۔ ان کو تائید کہا جاسکتا ہے۔ دوسرے وہ ہیں جو مشرکین کے مطالبہ کے طورپر ظاہر کيے جاتے ہیں۔ ان کا اصطلاحی نام معجزہ ہے۔ پیغمبر آخر الزماں اور آپ کے اصحاب کے ساتھ تائید الٰہی کے بے شمار واقعات پیش آئے۔ مگر جہاں تک فرمائشی نشانی (معجزہ) کا تعلق ہے آپ کے لیے ان کو بھیجنا موقوف کردیاگیا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر چیز کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ جو لوگ غیر معمولی نشانی کا مطالبہ کریں، ان کے اوپر غیر معمولی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ چنانچہ خدا کا یہ قانون ہے کہ جو لوگ غیر معمولی نشانی (معجزہ) دیکھنے کے باوجود ایمان نہ لائیں ان کو سخت عذاب بھیج کر نیست و نابود کردیا جائے۔ اب چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم ہونے والا تھا اس لیے آپ کی مخاطب قوم کے ساتھ ایسا نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کیوں کہ بالکلیہ تباہی کی صورت میں قوم مٹ جاتی۔ پھر پیغمبر کے بعد پیغمبر کی نمائندگی کے لیے دنیا میں کون باقی رہتا۔
پیغمبر آخر الزماں کے مخاطبین کے ساتھ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت تھی کہ ان کے مطالبہ کے باوجود ان کو محسوس معجزات نہیں دکھائے گئے۔ اگر ایسا کیا جاتا تو اندیشہ تھا کہ ان کا بھی وہی سخت انجام ہو جو اس سے پہلے قوم ثمود کا ہوا۔
الإسراء 17:60
لوگ خدا کے داعی سے اکثر اپنے تجویز کردہ معجزہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حالاں کہ اگر وہ کھلے ذہن کے ساتھ دیکھیں تو داعی کی خصوصی نصرت کی شکل میں وہ معجزہ انھیں دکھایا جاچکا ہوتاہے، جس کو وہ داعي کی صداقت کو جانچنے کے لیے دیکھنا چاہتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین آپ سے حسی معجزات مانگ رہے تھے۔ فرمایا کہ کیا یہ معجزہ تمھاری آنکھ کھولنے کے لیے کافی نہیں کہ دعوت کے ابتدائی دور میں جب اس کی بظاہر کوئی طاقت نہیں تھی، یہ اعلان کیاگیا کہ خدا تمھیں گھیرے میں لیے ہوئے ہے (وَاللَّهُ مِنْ وَرَائِهِمْ مُحِيطٌ)۔ یہ پیشین گوئی قبائلِ عرب میں اسلام کی توسیع سے پوری ہوگئی۔ پھر اس کی تکمیل بدر کی فتح اور صلح حدیبیہ کے بعد مکہ کی فتح کی صورت میں ہوئی۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی صبح کو جب یہ اعلان کیا کہ آج رات میںبیت الحرام سے بیت المقدس تک گیا تو لوگوں کو یقین نہیں آیا۔ اس کے بعد ایسے افراد بلائے گئے جو بیت المقدس کو دیکھے ہوئے تھے اور ان کے سامنے آپ نے بیت المقدس کی عمارت کی پوری تفصیل بیان کردی۔
مگر ان واقعات کو لوگوں نے مذاق میں ٹال دیا حالاں کہ وہ آپ کی صداقت کا معجزاتی ثبوت تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ حسی معجزہ دکھانے کا نہیں ہے بلکہ دعوت پر سنجیدہ غور وفکر کا ہے۔ اگر لوگ دعوت کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوں تو ہرچیز کو مذاق اور استہزاء کی نذر کردیں گے۔ خواہ وہ بات بذات خود کتنی ہی قابل لحاظ کیوں نہ ہو۔
قرآن میں جب ڈرایا گیا کہ جہنم میں زقوم کا کھانا ہوگا (الصافات،
37:62
) تو روایات میں آتا ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ ہمارے لیے کھجور اور مکھن لے آؤ جب وہ لایا گیا تو وہ دونوں کو ملا کر کھانے لگا اور کہا تم لوگ بھی کھاؤ یہی زقوم ہے (قَالَ أَبُو جَهْلٍ هَاتُوا لَنَا تَمْرًا وَزُبْدًا، وَجَعَلَ يَأْكُلُ هَذَا بِهَذَا وَيَقُولُ تَزَقَّموا، فَلَا نَعْلَمُ الزَّقُّومَ غَيْرَ هَذَا( تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ
92
۔
اسی طرح قرآن میں شجرۂ ملعونہ (بنی اسرائیل،
17:60
) کا ذکر ہےجو جہنمیوںکا کھانا ہوگا۔ جب قرآن میں یہ آیت اتری تو قریش کے ایک سردار نے کہا ابو کبشہ کے لڑکے کو دیکھو۔ وہ ہم سے ایسی آگ کا وعدہ کرتاہے جو پتھر تک کو جلا دے گی۔ پھر اس کا گمان ہے کہ اس کے اندر ایک درخت اگتا ہے حا لانکہ معلوم ہے کہ آگ جلانے والی چیز ہے (إِنَّ ابْنَ أَبِي كَبْشَةَ يُوعِدُكُمْ بِنَارٍ تُحْرِقُ الْحِجَارَةَ ثُمَّ يَزْعُمُ أَنَّهُ يَنْبُتُ فِيهَا شَجَرَةٌ، وَتَعْلَمُونَ أَنَّ النَّارَ تُحْرِقُ الشَّجَرَةَ) تفسیر البغوی، جلد5، صفحہ
103
۔
الإسراء 17:61
فرشتے اور ابلیس کا قصہ بتاتاہے کہ ماننے والے کیسے ہوتے ہیں اور نہ ماننے والے کیسے۔ ماننے والے لوگ حق کو حق کے لحاظ سے دیکھتے ہیں چنانچہ اس کو سمجھنے میں انھیں دیر نہیں لگتی۔ وہ فوراً اس کو سمجھ کر اسے مان لیتے ہیں۔ جیسا کہ آدم کی پیدائش کے وقت فرشتوںنے کیا۔
دوسرے لوگ وہ ہیں جو حق کو اپنے ذات کی نسبت سے دیکھتے ہیں۔ شیطان نے یہی کیا۔ ا س نے حق کو اپنی ذات کی نسبت سے دیکھا۔ چوں کہ سجدۂ آدم کا حکم آدم کو بظاہر بڑا بنارہا تھا اور اس کو چھوٹا، اس نے ایسے حق کو ماننے سے انکار کردیا جس کو ماننے کے بعد اس کی اپنے ذات چھوٹی ہوجائے۔
شیطان نے خدا کو جو چیلنج دیا تھا اس کو سامنے رکھ کر دیکھيے تو ہر وہ شخص شیطان کا شکار نظر آئے گا جو حق کو اس لیے نظر انداز کردے کہ اس کو ماننے کی صورت میں اس کی اپنی ذات دوسرے کے مقابلہ میں چھوٹی ہوجاتی ہے۔
الإسراء 17:62
فرشتے اور ابلیس کا قصہ بتاتاہے کہ ماننے والے کیسے ہوتے ہیں اور نہ ماننے والے کیسے۔ ماننے والے لوگ حق کو حق کے لحاظ سے دیکھتے ہیں چنانچہ اس کو سمجھنے میں انھیں دیر نہیں لگتی۔ وہ فوراً اس کو سمجھ کر اسے مان لیتے ہیں۔ جیسا کہ آدم کی پیدائش کے وقت فرشتوںنے کیا۔
دوسرے لوگ وہ ہیں جو حق کو اپنے ذات کی نسبت سے دیکھتے ہیں۔ شیطان نے یہی کیا۔ ا س نے حق کو اپنی ذات کی نسبت سے دیکھا۔ چوں کہ سجدۂ آدم کا حکم آدم کو بظاہر بڑا بنارہا تھا اور اس کو چھوٹا، اس نے ایسے حق کو ماننے سے انکار کردیا جس کو ماننے کے بعد اس کی اپنے ذات چھوٹی ہوجائے۔
شیطان نے خدا کو جو چیلنج دیا تھا اس کو سامنے رکھ کر دیکھيے تو ہر وہ شخص شیطان کا شکار نظر آئے گا جو حق کو اس لیے نظر انداز کردے کہ اس کو ماننے کی صورت میں اس کی اپنی ذات دوسرے کے مقابلہ میں چھوٹی ہوجاتی ہے۔
الإسراء 17:63
’’انسانوں میں سے جو شخص شیطان کی راہ چلے گا‘‘۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی حاصل ہے کہ وہ خواہ شیطان کے راستے پر چلے یا خدا کے بتائے ہوئے راستہ پر۔ اسی آزادی کے استعمال میںانسان کا اصل امتحان ہے۔ یہیں کامیاب ہو کر وہ یا تو خداکا انعام پاتاہے یا ناکام ہو کر شیطان کے انجام کا مستحق بن جاتا ہے۔
شیطان کو اس دنیا میں آزادی حاصل ہے کہ وہ انسان کو اپنا ساتھی بنائے۔ وہ اس کے اوپر اپنی ساری کوشش استعمال کرے۔ وہ اس کے اندر گھس کر اس کے مال واولاد میں شامل ہوجائے۔ مگر شیطان کو کسی بھی درجہ میںانسان کے اوپر کوئی اختیار نہیں دیاگیاہے۔ شیطان کے بس میں صرف یہ ہے کہ وہ آواز اورالفاظ کے ذریعے لوگوںکو بہکائے۔ وہ بے حقیقت چیزوں کو خوش نما بنا کر انھیں عظیم حقیقت کے روپ میں پیش کرے۔
آیت میں لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ(ان پر تیرا زور نہیں چلے گا ) الفاظ بتاتے ہیں کہ شیطان امکانی طورپرانسان کے مقابلہ میں زیادہ طاقت ور ہے۔ پھر ایک ایسی دنیا جہاں شیطان اپنے تمام ’’سوار اور پیادے‘‘ کے ذریعہ انسان کے اوپر حملہ آور ہو وہاں اس سے بچنے کا راستہ کیا ہے۔ اس کا راستہ صرف یہ ہے کہ انسان خدا کو حقیقی معنوں میں اپنا کارساز بنائے۔ جو شخص ایسا کرے گا خدا اس کو اس طرح اپنی حفاظت میں لے لے گا کہ شیطان اس کے مقابلہ میں اپنی تمام طاقتوں کے باوجود عاجز ہو کر رہ جائے۔
الإسراء 17:64
’’انسانوں میں سے جو شخص شیطان کی راہ چلے گا‘‘۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی حاصل ہے کہ وہ خواہ شیطان کے راستے پر چلے یا خدا کے بتائے ہوئے راستہ پر۔ اسی آزادی کے استعمال میںانسان کا اصل امتحان ہے۔ یہیں کامیاب ہو کر وہ یا تو خداکا انعام پاتاہے یا ناکام ہو کر شیطان کے انجام کا مستحق بن جاتا ہے۔
شیطان کو اس دنیا میں آزادی حاصل ہے کہ وہ انسان کو اپنا ساتھی بنائے۔ وہ اس کے اوپر اپنی ساری کوشش استعمال کرے۔ وہ اس کے اندر گھس کر اس کے مال واولاد میں شامل ہوجائے۔ مگر شیطان کو کسی بھی درجہ میںانسان کے اوپر کوئی اختیار نہیں دیاگیاہے۔ شیطان کے بس میں صرف یہ ہے کہ وہ آواز اورالفاظ کے ذریعے لوگوںکو بہکائے۔ وہ بے حقیقت چیزوں کو خوش نما بنا کر انھیں عظیم حقیقت کے روپ میں پیش کرے۔
آیت میں لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ(ان پر تیرا زور نہیں چلے گا ) الفاظ بتاتے ہیں کہ شیطان امکانی طورپرانسان کے مقابلہ میں زیادہ طاقت ور ہے۔ پھر ایک ایسی دنیا جہاں شیطان اپنے تمام ’’سوار اور پیادے‘‘ کے ذریعہ انسان کے اوپر حملہ آور ہو وہاں اس سے بچنے کا راستہ کیا ہے۔ اس کا راستہ صرف یہ ہے کہ انسان خدا کو حقیقی معنوں میں اپنا کارساز بنائے۔ جو شخص ایسا کرے گا خدا اس کو اس طرح اپنی حفاظت میں لے لے گا کہ شیطان اس کے مقابلہ میں اپنی تمام طاقتوں کے باوجود عاجز ہو کر رہ جائے۔
الإسراء 17:65
’’انسانوں میں سے جو شخص شیطان کی راہ چلے گا‘‘۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی حاصل ہے کہ وہ خواہ شیطان کے راستے پر چلے یا خدا کے بتائے ہوئے راستہ پر۔ اسی آزادی کے استعمال میںانسان کا اصل امتحان ہے۔ یہیں کامیاب ہو کر وہ یا تو خداکا انعام پاتاہے یا ناکام ہو کر شیطان کے انجام کا مستحق بن جاتا ہے۔
شیطان کو اس دنیا میں آزادی حاصل ہے کہ وہ انسان کو اپنا ساتھی بنائے۔ وہ اس کے اوپر اپنی ساری کوشش استعمال کرے۔ وہ اس کے اندر گھس کر اس کے مال واولاد میں شامل ہوجائے۔ مگر شیطان کو کسی بھی درجہ میںانسان کے اوپر کوئی اختیار نہیں دیاگیاہے۔ شیطان کے بس میں صرف یہ ہے کہ وہ آواز اورالفاظ کے ذریعے لوگوںکو بہکائے۔ وہ بے حقیقت چیزوں کو خوش نما بنا کر انھیں عظیم حقیقت کے روپ میں پیش کرے۔
آیت میں لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ(ان پر تیرا زور نہیں چلے گا ) الفاظ بتاتے ہیں کہ شیطان امکانی طورپرانسان کے مقابلہ میں زیادہ طاقت ور ہے۔ پھر ایک ایسی دنیا جہاں شیطان اپنے تمام ’’سوار اور پیادے‘‘ کے ذریعہ انسان کے اوپر حملہ آور ہو وہاں اس سے بچنے کا راستہ کیا ہے۔ اس کا راستہ صرف یہ ہے کہ انسان خدا کو حقیقی معنوں میں اپنا کارساز بنائے۔ جو شخص ایسا کرے گا خدا اس کو اس طرح اپنی حفاظت میں لے لے گا کہ شیطان اس کے مقابلہ میں اپنی تمام طاقتوں کے باوجود عاجز ہو کر رہ جائے۔
الإسراء 17:66
خدا نے موجودہ دنیا کو خاص قوانین کا پابند بنا رکھا ہے۔ اس بنا پر انسان کے لیے یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ سمندر میں اپنا جہاز چلائے اور ہوامیں اپنی سواریاں دوڑائے۔ یہ سب اس لیے تھا کہ انسان اپنے حق میں اپنے خدا کی رحمتوں کو پہچانے اور اس کاشکر گزار بنے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ جو کچھ ہوتے ہوئے دیکھتاہے وہ سمجھتا ہے کہ اس کو بس ایسا ہی ہونا ہے۔ وہ ایک ارادی واقعہ کو اپنے آپ ہونے والا واقعہ فرض کرلیتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان واقعات کو دیکھ کر اس کے اندر کوئی خدائی احساس نہیں جاگتا۔
خدا کی معرفت اتنی حقیقی ہے کہ وہ انسان کی فطرت کے اندر آخری گہرائی تک پیوست ہے۔ اس کا ایک مظاہرہ اس وقت ہوتاہے جب کہ اس پر کوئی آفت آپڑے جس کے مقابلہ میں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرے۔ مثلاً اتھاہ سمندر میں طوفان کا آنا اور جہاز کا اس کے اندر پھنس جانا۔ اس طرح کے لمحات میں انسان کے اوپر سے اس کے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں وہ ایک خدا کو پہچان کراسے پکارنے لگتاہے۔
یہ وقتی تجربہ انسان کو اس لیے کرایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی پوری زندگی کو اس پر ڈھال لے۔ وہ وقتی اعتراف کو اپنا مستقل ایمان بنالے۔ مگر انسان کا یہ حال ہے کہ سمندر کے طوفان میں وہ جس حقیقت کو یاد کرتاہے، خشکی کے ماحول میں پہنچتے ہی وہ اسے بھول جاتا ہے۔
خدا کی خدائی کو ماننے کا نام توحید ہے اور خدا کی خدائی کو نہ ماننے کا نام شرک۔ اس اعتبار سے توحید کی اصل حقیقت اعتراف ہے اور شرک کی اصل حقیقت عدم اعتراف۔ انسان سے اس کے خدا کو اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ یہی اعتراف ہے۔ مگر انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ اعتراف کے بقدر بھی خدا کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
الإسراء 17:67
خدا نے موجودہ دنیا کو خاص قوانین کا پابند بنا رکھا ہے۔ اس بنا پر انسان کے لیے یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ سمندر میں اپنا جہاز چلائے اور ہوامیں اپنی سواریاں دوڑائے۔ یہ سب اس لیے تھا کہ انسان اپنے حق میں اپنے خدا کی رحمتوں کو پہچانے اور اس کاشکر گزار بنے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ جو کچھ ہوتے ہوئے دیکھتاہے وہ سمجھتا ہے کہ اس کو بس ایسا ہی ہونا ہے۔ وہ ایک ارادی واقعہ کو اپنے آپ ہونے والا واقعہ فرض کرلیتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان واقعات کو دیکھ کر اس کے اندر کوئی خدائی احساس نہیں جاگتا۔
خدا کی معرفت اتنی حقیقی ہے کہ وہ انسان کی فطرت کے اندر آخری گہرائی تک پیوست ہے۔ اس کا ایک مظاہرہ اس وقت ہوتاہے جب کہ اس پر کوئی آفت آپڑے جس کے مقابلہ میں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرے۔ مثلاً اتھاہ سمندر میں طوفان کا آنا اور جہاز کا اس کے اندر پھنس جانا۔ اس طرح کے لمحات میں انسان کے اوپر سے اس کے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں وہ ایک خدا کو پہچان کراسے پکارنے لگتاہے۔
یہ وقتی تجربہ انسان کو اس لیے کرایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی پوری زندگی کو اس پر ڈھال لے۔ وہ وقتی اعتراف کو اپنا مستقل ایمان بنالے۔ مگر انسان کا یہ حال ہے کہ سمندر کے طوفان میں وہ جس حقیقت کو یاد کرتاہے، خشکی کے ماحول میں پہنچتے ہی وہ اسے بھول جاتا ہے۔
خدا کی خدائی کو ماننے کا نام توحید ہے اور خدا کی خدائی کو نہ ماننے کا نام شرک۔ اس اعتبار سے توحید کی اصل حقیقت اعتراف ہے اور شرک کی اصل حقیقت عدم اعتراف۔ انسان سے اس کے خدا کو اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ یہی اعتراف ہے۔ مگر انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ اعتراف کے بقدر بھی خدا کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
الإسراء 17:68
خدا انسان کو اس کی سرکشی کے باوجود فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ اس پر وقتی آفت بھیج کر اس کو خبردار کرتاہے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جب آفت آتی ہے تو وقتی طورپر اس کے اندر احساس جاگتا ہے مگر آفت کے رخصت ہوتے ہی اس کا احساس بھی رخصت ہوجاتا ہے۔ حالاں کہ بعد کو بھی وہ اتنا ہی خدا کے قبضہ میں ہوتا ہے جتنا کہ وہ پہلے تھا۔
سمندر کے سفر سے اگر ایک بار وہ سلامتی کے ساتھ واپس آگیا ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس کو دوبارہ سمندر کا سفر پیش آئے اور وہ دوبارہ اسی آفت میں گھر جائے جس میں وہ پہلے گھرا تھا۔ مزید یہ کہ خشکی کے خطرات سمندر کے خطرات سے کم نہیںہیں۔ سمندر میں جو چیز طوفان ہے خشکی پر وہی چیز زلزلہ بن جاتی ہے۔ پھر وہ کون سا مقام ہے جہاں آدمی کوئی ایسی چیز پالے جو خدا کے مقابلہ میں اس کی طرف سے روک بن سکے۔
الإسراء 17:69
خدا انسان کو اس کی سرکشی کے باوجود فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ اس پر وقتی آفت بھیج کر اس کو خبردار کرتاہے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جب آفت آتی ہے تو وقتی طورپر اس کے اندر احساس جاگتا ہے مگر آفت کے رخصت ہوتے ہی اس کا احساس بھی رخصت ہوجاتا ہے۔ حالاں کہ بعد کو بھی وہ اتنا ہی خدا کے قبضہ میں ہوتا ہے جتنا کہ وہ پہلے تھا۔
سمندر کے سفر سے اگر ایک بار وہ سلامتی کے ساتھ واپس آگیا ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس کو دوبارہ سمندر کا سفر پیش آئے اور وہ دوبارہ اسی آفت میں گھر جائے جس میں وہ پہلے گھرا تھا۔ مزید یہ کہ خشکی کے خطرات سمندر کے خطرات سے کم نہیںہیں۔ سمندر میں جو چیز طوفان ہے خشکی پر وہی چیز زلزلہ بن جاتی ہے۔ پھر وہ کون سا مقام ہے جہاں آدمی کوئی ایسی چیز پالے جو خدا کے مقابلہ میں اس کی طرف سے روک بن سکے۔
الإسراء 17:70
دنیا کی تمام مخلوقات میں انسان کو خصوصی فضیلت حاصل ہے۔ چاند اور ستارے بے شعور مخلوق ہیں جب کہ انسان شعور اور ارادہ کا مالک ہے۔ درخت پر دوسرے جس طرح چاہتے ہیں تصرف کرتے ہیں مگر انسان خود دوسری چیزوں کے اوپر تصرف کرتاہے۔ جانور صرف اپنے اعضاء کے ذریعہ عمل کرتے ہیں مگر انسان اوزار اور مشین بنا کر ان کے ذریعہ اپنا مقصد حاصل کرتاہے۔ دریا کے لیے صرف یہ ممکن ہے کہ وہ نشیب کے رخ پر بہے مگر انسان بلندیوں پر چڑھتا ہے اور بہاؤ کے الٹے رخ پر سفر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
انسان کے لیے اس دنیا میں رزق کا شاہانہ انتظام کیا گیا ہے۔ درخت کے پتے شمسی انرجی کو کیمیائی انرجی میں تبدیل کرتے ہیں تا کہ اس سے انسان کی غذا تیار ہو۔ جانور گھاس کھاتے ہیں تاکہ اس کو انسان کے لیے دودھ اور گوشت کی شکل میں لوٹائیں۔ مکھیاں رات دن سرگرم رہتی ہیں تاکہ وہ دنیا بھر کے پھولوں کا رس چوس کر انسان کے لیے شہد کا ذخیرہ کریں، وغیرہ وغیرہ۔
اس انعام کا تقاضا تھا کہ انسان خدا کا شکر گزار بنے۔ مگر تمام مخلوقات میں انسان ہی وہ مخلوق ہے جو سب سے کم خدا کا شکر ادا کرتاہے۔
الإسراء 17:71
دنیا میں ہر انسانی گروہ اپنے رہنماؤں کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ آخرت میں بھی ہر گروہ اپنے اپنے رہنما کے ساتھ بلایا جائے گا۔ اچھے لوگ اپنے رہنما کے ساتھ اور برے لوگ اپنے رہنما کے ساتھ۔
اس کے بعد ہر ایک کو ا س کی زندگی کا اعمال نامہ دیاجائے گا۔ نیک لوگوں کا اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ ميں اور برے لوگوں کا اعمال نامہ ان کے بائیں ہاتھ میں۔ یہ گویا ایک محسوس علامت ہوگی کہ پہلا گروہ خداکا مقبول گروہ ہے اور دوسرا گروہ اس کا نا مقبول گروہ۔
آخرت میںاچھے اور برے کی جو تقسیم ہوگی وہ اس بنیاد پر ہوگی کہ کون دنیا میں اندھا بن کر رہا اور کون بینا بن کر۔ دنیا میں چوں کہ خدا خود براہِ راست انسان سے ہم کلام نہیںہوتا۔ اس لیے دنیا کی زندگی میں خداکی باتوں کو کائنات کی خاموش نشانیوں اور داعیانِ حق کے الفاظ سے جاننا پڑتاہے۔ جو لوگ اس بالواسطہ کلام سے معرفت حاصل کریں، وہ خدا کی نظر میں ’’بینا‘‘ لوگ ہیں۔ اور جو لوگ بالواسطہ کلام کی زبان نہ سمجھیں اور اس وقت کے منتظر ہوں جب خدا ظاہر ہو کر خود کلام فرمائے گا وہ خدا کی نظر میں ’’اندھے‘‘ لوگ ہیں۔ ایسے لوگوں کا براہِ راست کلام کو سننا کچھ بھی کام نہ آئے گا۔ وہ اس وقت بھی حقیقت سے بہت دور رہیں گے جیسا کہ آج اس سے دور پڑے ہوئے ہیں۔
الإسراء 17:72
دنیا میں ہر انسانی گروہ اپنے رہنماؤں کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ آخرت میں بھی ہر گروہ اپنے اپنے رہنما کے ساتھ بلایا جائے گا۔ اچھے لوگ اپنے رہنما کے ساتھ اور برے لوگ اپنے رہنما کے ساتھ۔
اس کے بعد ہر ایک کو ا س کی زندگی کا اعمال نامہ دیاجائے گا۔ نیک لوگوں کا اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ ميں اور برے لوگوں کا اعمال نامہ ان کے بائیں ہاتھ میں۔ یہ گویا ایک محسوس علامت ہوگی کہ پہلا گروہ خداکا مقبول گروہ ہے اور دوسرا گروہ اس کا نا مقبول گروہ۔
آخرت میںاچھے اور برے کی جو تقسیم ہوگی وہ اس بنیاد پر ہوگی کہ کون دنیا میں اندھا بن کر رہا اور کون بینا بن کر۔ دنیا میں چوں کہ خدا خود براہِ راست انسان سے ہم کلام نہیںہوتا۔ اس لیے دنیا کی زندگی میں خداکی باتوں کو کائنات کی خاموش نشانیوں اور داعیانِ حق کے الفاظ سے جاننا پڑتاہے۔ جو لوگ اس بالواسطہ کلام سے معرفت حاصل کریں، وہ خدا کی نظر میں ’’بینا‘‘ لوگ ہیں۔ اور جو لوگ بالواسطہ کلام کی زبان نہ سمجھیں اور اس وقت کے منتظر ہوں جب خدا ظاہر ہو کر خود کلام فرمائے گا وہ خدا کی نظر میں ’’اندھے‘‘ لوگ ہیں۔ ایسے لوگوں کا براہِ راست کلام کو سننا کچھ بھی کام نہ آئے گا۔ وہ اس وقت بھی حقیقت سے بہت دور رہیں گے جیسا کہ آج اس سے دور پڑے ہوئے ہیں۔
الإسراء 17:73
مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا اصل نکتہ یہ تھا کہ خدا صرف ایک ہے اور اس کے سوا جن بتوں کو تم پوجتے ہو وہ سب باطل ہیں۔ اہل مکہ اگرچہ ایک بڑے خدا کا اقرار کرتے تھے مگر اسی کے ساتھ وہ دوسرے خداؤں کو بھی مانتے تھے۔
یہ دوسرے خدا کون تھے۔ یہ ان کے بزرگ اور اکابر تھے جن کو وہ مقدس سمجھتے تھے اور ان کی سنگی تصویریں بنا کر ان کے سامنے جھکنا شروع کردیا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید سے بزرگوں کے اس عقیدہ پر زد پڑتی تھی۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مصالحت کے لیے کہتے تھے کہ ہم آپ کے معبود کو مانیں گے، شرط یہ ہے کہ آپ ہمارے معبودوں کو برا کہنا کہنا چھوڑ دیں (مساومتهم له أن يعبدوا إلهه مقابل أن يترك التنديد بآلهتهم وما كان عليه آباؤهم) صفوۃ التفاسیر، جلد2، صفحہ
157
۔
اس دنیا میں وہ شخص فوراً لوگوں کی نظر میں مبغوض ہوجاتا ہے جو ایسی بات کہے جس کی زد لوگوںکے بڑوں پر پڑتی ہو۔ اس کے برعکس، لوگوں کے درمیان محبوب بننے کا سب سے زیادہ آسان طریقہ یہ ہے کہ ایسی بات کہو جس میں سب لوگ اپنے اپنے بزرگوں کی تصدیق پارہے ہوں۔ مگر پیغمبر کا طریقہ یہ ہے کہ سچائی کا کھلا اعلان کیا جائے۔ اس کی پروانہ کی جائے کہ کس بزرگ پر اس کی زد پڑتی ہے اور کس پر نہیں پڑتی۔
دعوتی عمل سے اصل مقصود حقیقت کا کامل اعلان ہے۔ اسی لیے اعلان کے معاملہ میںکسی کمی یا رعایت کی اجازت نہیں ہے۔ پیغمبر یا غیر پیغمبر، جو بھی دعوتِ حق کے لیے اٹھے اس کو حقیقت کا واشگاف اعلان کرنا ہے، خواہ اس کی یہ قیمت دینی پڑے کہ دنیا میں اس کا کوئی دوست باقی نہ رہے۔
الإسراء 17:74
مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا اصل نکتہ یہ تھا کہ خدا صرف ایک ہے اور اس کے سوا جن بتوں کو تم پوجتے ہو وہ سب باطل ہیں۔ اہل مکہ اگرچہ ایک بڑے خدا کا اقرار کرتے تھے مگر اسی کے ساتھ وہ دوسرے خداؤں کو بھی مانتے تھے۔
یہ دوسرے خدا کون تھے۔ یہ ان کے بزرگ اور اکابر تھے جن کو وہ مقدس سمجھتے تھے اور ان کی سنگی تصویریں بنا کر ان کے سامنے جھکنا شروع کردیا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید سے بزرگوں کے اس عقیدہ پر زد پڑتی تھی۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مصالحت کے لیے کہتے تھے کہ ہم آپ کے معبود کو مانیں گے، شرط یہ ہے کہ آپ ہمارے معبودوں کو برا کہنا کہنا چھوڑ دیں (مساومتهم له أن يعبدوا إلهه مقابل أن يترك التنديد بآلهتهم وما كان عليه آباؤهم) صفوۃ التفاسیر، جلد2، صفحہ
157
۔
اس دنیا میں وہ شخص فوراً لوگوں کی نظر میں مبغوض ہوجاتا ہے جو ایسی بات کہے جس کی زد لوگوںکے بڑوں پر پڑتی ہو۔ اس کے برعکس، لوگوں کے درمیان محبوب بننے کا سب سے زیادہ آسان طریقہ یہ ہے کہ ایسی بات کہو جس میں سب لوگ اپنے اپنے بزرگوں کی تصدیق پارہے ہوں۔ مگر پیغمبر کا طریقہ یہ ہے کہ سچائی کا کھلا اعلان کیا جائے۔ اس کی پروانہ کی جائے کہ کس بزرگ پر اس کی زد پڑتی ہے اور کس پر نہیں پڑتی۔
دعوتی عمل سے اصل مقصود حقیقت کا کامل اعلان ہے۔ اسی لیے اعلان کے معاملہ میںکسی کمی یا رعایت کی اجازت نہیں ہے۔ پیغمبر یا غیر پیغمبر، جو بھی دعوتِ حق کے لیے اٹھے اس کو حقیقت کا واشگاف اعلان کرنا ہے، خواہ اس کی یہ قیمت دینی پڑے کہ دنیا میں اس کا کوئی دوست باقی نہ رہے۔
الإسراء 17:75
مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا اصل نکتہ یہ تھا کہ خدا صرف ایک ہے اور اس کے سوا جن بتوں کو تم پوجتے ہو وہ سب باطل ہیں۔ اہل مکہ اگرچہ ایک بڑے خدا کا اقرار کرتے تھے مگر اسی کے ساتھ وہ دوسرے خداؤں کو بھی مانتے تھے۔
یہ دوسرے خدا کون تھے۔ یہ ان کے بزرگ اور اکابر تھے جن کو وہ مقدس سمجھتے تھے اور ان کی سنگی تصویریں بنا کر ان کے سامنے جھکنا شروع کردیا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید سے بزرگوں کے اس عقیدہ پر زد پڑتی تھی۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مصالحت کے لیے کہتے تھے کہ ہم آپ کے معبود کو مانیں گے، شرط یہ ہے کہ آپ ہمارے معبودوں کو برا کہنا کہنا چھوڑ دیں (مساومتهم له أن يعبدوا إلهه مقابل أن يترك التنديد بآلهتهم وما كان عليه آباؤهم) صفوۃ التفاسیر، جلد2، صفحہ
157
۔
اس دنیا میں وہ شخص فوراً لوگوں کی نظر میں مبغوض ہوجاتا ہے جو ایسی بات کہے جس کی زد لوگوںکے بڑوں پر پڑتی ہو۔ اس کے برعکس، لوگوں کے درمیان محبوب بننے کا سب سے زیادہ آسان طریقہ یہ ہے کہ ایسی بات کہو جس میں سب لوگ اپنے اپنے بزرگوں کی تصدیق پارہے ہوں۔ مگر پیغمبر کا طریقہ یہ ہے کہ سچائی کا کھلا اعلان کیا جائے۔ اس کی پروانہ کی جائے کہ کس بزرگ پر اس کی زد پڑتی ہے اور کس پر نہیں پڑتی۔
دعوتی عمل سے اصل مقصود حقیقت کا کامل اعلان ہے۔ اسی لیے اعلان کے معاملہ میںکسی کمی یا رعایت کی اجازت نہیں ہے۔ پیغمبر یا غیر پیغمبر، جو بھی دعوتِ حق کے لیے اٹھے اس کو حقیقت کا واشگاف اعلان کرنا ہے، خواہ اس کی یہ قیمت دینی پڑے کہ دنیا میں اس کا کوئی دوست باقی نہ رہے۔
الإسراء 17:76
جب بھی کسی گروہ میں سچے دین کی دعوت اٹھتی ہے تو صورت حال یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف وہ لوگ ہوتے ہیں جو مذہب کے نام پر قائم شدہ گدیوں کے مالک ہوتے ہیں۔ دوسری طرف حق کا داعی ہوتاہے جو بے آمیز دین کا نمائندہ ہونے کی وجہ سے وقت کے ماحول میں تنہا اور بے زور دکھائی دیتاہے۔ یہ فرق لوگوں کو غلط فہمی میں ڈال دیتاہے۔ وہ داعی حق کو بالکل بے قیمت سمجھ لیتے ہیں۔ حتی کہ یہ چاہتے ہیں کہ اس کو اپنی بستی سے نکال دیں۔
ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ یہ زمین خدا کی زمین ہے۔ یہاں کسی بندۂ خدا کے خلاف تخریب کا منصوبہ بنانا خود اپنے آپ کو خدا کی نظر میں مجرم ثابت کرنا ہے۔ خدا کے داعی کو کسی بستی سے نکالنا ایسا ہی ہے جیسے کسی شہر سے اس شخص کو نکال دیا جائے جس کو وہاں حکومتِ وقت کے نمائندہ کی حیثیت حاصل ہو۔ ایسے شخص کو بستی میں نہ رہنے دینے کا نتیجہ بالآخر یہ ہوتاہے کہ بستی والے خود وہاں نہ رہنے پائیں۔
آدمی دوسرے کو نکالتاہے حالاں کہ وہ خود اپنے آپ کو نکال رہا ہوتاہے۔ آدمی دوسرے کو چھوٹا کرنا چاہتاہے حالاں کہ وہ خود اپنے آپ کو اس مالک حقیقی کی نظر میں چھوٹا کررہا ہوتاہے، جس کو حقیقۃً یہ اختیار ہے کہ وہ جس کو چاہے چھوٹا کرے اور جس کو چاہے بڑا کرے۔
الإسراء 17:77
جب بھی کسی گروہ میں سچے دین کی دعوت اٹھتی ہے تو صورت حال یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف وہ لوگ ہوتے ہیں جو مذہب کے نام پر قائم شدہ گدیوں کے مالک ہوتے ہیں۔ دوسری طرف حق کا داعی ہوتاہے جو بے آمیز دین کا نمائندہ ہونے کی وجہ سے وقت کے ماحول میں تنہا اور بے زور دکھائی دیتاہے۔ یہ فرق لوگوں کو غلط فہمی میں ڈال دیتاہے۔ وہ داعی حق کو بالکل بے قیمت سمجھ لیتے ہیں۔ حتی کہ یہ چاہتے ہیں کہ اس کو اپنی بستی سے نکال دیں۔
ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ یہ زمین خدا کی زمین ہے۔ یہاں کسی بندۂ خدا کے خلاف تخریب کا منصوبہ بنانا خود اپنے آپ کو خدا کی نظر میں مجرم ثابت کرنا ہے۔ خدا کے داعی کو کسی بستی سے نکالنا ایسا ہی ہے جیسے کسی شہر سے اس شخص کو نکال دیا جائے جس کو وہاں حکومتِ وقت کے نمائندہ کی حیثیت حاصل ہو۔ ایسے شخص کو بستی میں نہ رہنے دینے کا نتیجہ بالآخر یہ ہوتاہے کہ بستی والے خود وہاں نہ رہنے پائیں۔
آدمی دوسرے کو نکالتاہے حالاں کہ وہ خود اپنے آپ کو نکال رہا ہوتاہے۔ آدمی دوسرے کو چھوٹا کرنا چاہتاہے حالاں کہ وہ خود اپنے آپ کو اس مالک حقیقی کی نظر میں چھوٹا کررہا ہوتاہے، جس کو حقیقۃً یہ اختیار ہے کہ وہ جس کو چاہے چھوٹا کرے اور جس کو چاہے بڑا کرے۔
الإسراء 17:78
آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے ’’قائم رکھو نماز کو سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک‘‘۔ ان الفاظ سے بظاہر یہ نکلتاہے کہ دو پہر بعد سے لے کر رات کا اندھیرا چھانے تک مسلسل نماز پڑھی جاتی رہے۔ اس میں شک نہیں کہ خدا کی عظمت اور اس کے احسانات کا تقاضا یہی ہے کہ بندے ہر وقت اس کی عبادت کرتے رہیں۔ مگر حدیث کی تشریح نے اس عام حکم کو خاص کردیا۔ حدیث نے اس مشکل حکم کو اس طرح آسان کردیا کہ اس نے قرار دیا کہ عام اوقات میں لوگ صرف ذکر (یاد) کی حد تک خدا سے اپنا تعلق وابستہ رکھیں، اور دوپہر سے رات تک کے اوقات میں چار بار (ظہر، عصر، مغرب، عشا) اس کی عبادت کر لیا کریں۔
اسی طرح آیت کے دوسرے ٹکڑے کا لفظی ترجمہ یہ ہے— ’’اور قرآن پڑھنا فجر کا‘‘۔ اس کو بھی اگر اس کے ظاہری مفہوم میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ نکلے گا کہ روزانہ صبح کے تمام اوقات میں قرآن پڑھا جاتا رہے۔ مگریہاں حدیث کی تشریح نے ہمارے لیے آسانی پیدا کردی۔ حدیث کے مطابق اس حکم کا متعین مطلب یہ ہے کہ صبح کے وقت بھی ایک نماز ادا کی جائے، اور اس (پانچویں)نماز کانمایاں پہلو یہ ہو کہ اس میں قرآن کی لمبی تلاوت کی جائے۔
الإسراء 17:79
تہجد کی نماز کی روح اللہ کو اپنی مخصوص تنہائیوں میں یاد کرنا ہے۔ تہجد کے لفظی معنی رات کی بیداری کے ہیں۔ رات کا وقت تنہائی اور سکون کاوقت ہوتا ہے۔ رات کو آدمی جب ایک نیند پوری کرکے اٹھتا ہے تو وہ اس کے تمام اوقات میں سب سے بہتر وقت ہوتا ہے۔ ان لمحات میں آدمی جب خدا کی طرف متوجہ ہوتاہے اور نماز کی صورت میں ہاتھ باندھ کر خدا کے کلام کو پڑھتا ہے تو گویا وہ اپنی عبدیت کی آخری تصویر بنا رہا ہوتا ہے۔ خاص طورپر اس وقت جب کہ اس کا دل بھی اس کا ساتھ دے رہا ہو اور ا س کی شخصیت اس طرح پگھل اٹھی ہو کہ وہ بے قرار ہو کر آنکھوں کے راستہ سے بہہ پڑے۔
مقام محمود کے لفظی معنی ہیں تعريف کیا ہوا مقام۔ اس محمودیت کا ایک دنیوی پہلو ہے اور ایک اس کا، اُخروی پہلو۔ اُخروی پہلو وہ ہے جس کو مفسرین شفاعت کبریٰ کہتے ہیں۔ جیسا کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے، قیامت کے دن تمام انبیاء اپنے مومنین کی شفاعت کریں گے۔ یہ شفاعت گویا ان کے مومن ہونے کی تصدیق ہوگی، جس کے بعد ان لوگوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا، جن کو خدا جنت میں داخل کرنا چاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سب سے بڑی ہوگی۔ کیوںکہ اپنے امتیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہونے کی وجہ سے آپ سب سے بڑی تعداد کی شفاعت فرمائیں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محمودیت کا دنیوی پہلو یہ ہے کہ آپ کے ساتھ ایسی تاریخ جمع ہوجائے کہ آپ تمام اقوام عالم کی نظر میں مسلمہ طور پر قابل ستائش اور لائق اعتراف بن جائیں۔ خدا کا یہ منصوبہ آپ کے حق میں مکمل طورپر پورا ہوا۔ آج دنیا کے تمام لوگ آپ کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ آپ کی نبوت ایک مسلّم نبوت بن چکی ہے، نہ کہ نزاعی نبوت جیسا کہ وہ آپ کے ظہور کے ابتدائی سالوں میں تھی۔
محمودی نبوت، دنیوی اعتبار سے مسلمہ (established) نبوت کا دوسرا نام ہے۔ یعنی ایسی نبوت جس کے حق میں تاریخی شہادتیں اتنی زیادہ کامل طورپر موجود ہوں کہ آپ کی شخصیت اور آپ کی تعلیمات کے بارے میں کسی کے لیے شبہ کی گنجائش نہ رہے۔ انسان، خود اپنے مسلمہ علمی معیار کے مطابق آپ کی حیثیت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجائے۔ اقرار واعتراف کی آخری صورت تعریف ہے، اس لیے اس کو ’’مقام محمود‘‘ کہاگیا ہے۔
الإسراء 17:80
پیغمبر اسلام کو عرب کے سردار ’’مذموم‘‘ بنا دینا چاہتے تھے۔ مگر اللہ کا فیصلہ تھا کہ آپ کو ’’محمود‘‘ کے مقام تک پہنچایا جائے۔ اس کے لیے کہ اللہ کا منصوبہ یہ تھا کہ مدینہ میںآپ کے لیے موافق حالات پیدا کيے جائیں اور مکہ سے نکال کر آپ کو مدینہ لے جایا جائے۔ مدینہ میں اسلام کا اقتدار قائم ہو۔ تبلیغی کوشش کے ذریعہ مسلمانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ بڑھائی جائے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ مکہ فتح کرلیں اور بالآخر سارا عرب مسخر ہوجائے۔ اس طرح توحید کی پشت پر وہ طاقت جمع ہوجو مسلسل عمل کے ذریعہ ساری دنیا سے شرک کا غلبہ ختم کردے۔
یہی وہ خدائی منصوبہ تھا جس کو یہاں دعا کی صورت میں پیغمبر اسلام کو تلقین کیاگیا۔
الإسراء 17:81
پیغمبر اسلام کو عرب کے سردار ’’مذموم‘‘ بنا دینا چاہتے تھے۔ مگر اللہ کا فیصلہ تھا کہ آپ کو ’’محمود‘‘ کے مقام تک پہنچایا جائے۔ اس کے لیے کہ اللہ کا منصوبہ یہ تھا کہ مدینہ میںآپ کے لیے موافق حالات پیدا کيے جائیں اور مکہ سے نکال کر آپ کو مدینہ لے جایا جائے۔ مدینہ میں اسلام کا اقتدار قائم ہو۔ تبلیغی کوشش کے ذریعہ مسلمانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ بڑھائی جائے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ مکہ فتح کرلیں اور بالآخر سارا عرب مسخر ہوجائے۔ اس طرح توحید کی پشت پر وہ طاقت جمع ہوجو مسلسل عمل کے ذریعہ ساری دنیا سے شرک کا غلبہ ختم کردے۔
یہی وہ خدائی منصوبہ تھا جس کو یہاں دعا کی صورت میں پیغمبر اسلام کو تلقین کیاگیا۔
الإسراء 17:82
قرآن خالص سچائی کا اعلان ہے۔ خالص سچائی جب پیش کی جاتی ہے تو ان تمام لوگوں پر اس کی زد پڑتی ہے جو یا تو سچائی سے خالی ہوں یا ملاوٹی سچائی ليے ہوئے ہوں۔ اب جو لوگ حقیقت پسند ہیں ان کے سامنے جب خالص سچائی آتی ہے تو وہ سچائی کو معیار بناتے ہیں، نہ کہ اپنی ذات کو۔ وہ اپنے آپ کو سچائی پر ڈھال لیتے ہیں، نہ یہ کہ خود سچائی کو اپنے اوپر ڈھالنے لگیں۔ اس طرح ان کی سنجیدگی اور حقیقت پسندی ان کے قرآن کو ان کے لیے رحمت بنادیتی ہے۔
دوسرے لوگ وہ ہیں جن کے اندر اپنی بڑائی کا احساس چھپا ہوا ہوتا ہے۔ ان کے سامنے جب بے آمیز سچائی آتی ہے تو اپنی مخصوصی نفسیات کی بنا پر ان کا ذہن الٹے رخ پر چل پڑتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچ پاتے کہ ’’اگر میں سچائی کو اختیار کرلوں تو میں سچا بن جاؤں گا‘‘۔ اس کے بجائے کہ وہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ’’اگر میں نے سچائی کو مانا تو میں چھوٹا ہوجاؤں گا‘‘۔ وہ جانے والی چیز کی حفاظت میں رہنے والی چیز کو کھو دیتے ہیں۔ وہ اپنی بڑائی کو قائم رکھنے کی خاطر سچائی کو چھوٹا کرنے پر راضی ہوجاتے ہیں۔
الإسراء 17:83
ہر انسان پر یہ حالات گزرتے ہیں کہ جب ا س کو راحت اور فراوانی حاصل ہوتی ہے تو وہ زبردست خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ کسی بات کو ماننے کے لیے وہ اتنا کڑا بن جاتا ہے جیسے کہ وہ ایسا لوہا ہے جو جھکنا نہیں جانتا۔ مگر جب اس کے اسباب چھن جاتے ہیں اور اس کو عجز کا تجربہ ہوتا ہے تو اچانک وہ بے ہمت ہوجاتاہے۔ وہ مایوسی سے نڈھال ہو جاتا ہے۔
موجودہ دنیا میں ہر آدمی اپنے بارے میں اس تجربہ سے گزرتا ہے۔ مگر کوئی ایسا نہیں جو اس تجربہ میں اپنے آپ كو دریافت کرلے۔ وہ یہ سوچے کہ دنیا میں جب کہ اسے آزادی حاصل ہے وہ حق کے مقابلہ میں اتنی سرکشی دکھا رہا ہے۔ مگر اس وقت اس کا کیا حال ہوگا جب کہ قیامت آئے گی اور اس سے اس کا سارا اختیار چھین لے گی۔ آدمی کتنا زیادہ کمزور ہے مگر وہ کتنا زیادہ اپنے کو طاقت ور سمجھتا ہے۔
شاکلہ سے مراد ذہنی سانچہ ہے۔ ہر آدمی کے حالات اور رجحانات کے تحت دھیرے دھیرے اس کا ایک خاص ذہنی سانچہ بن جاتا ہے۔ وہ اسی کے زیر اثر سوچتاہے اور اسی کے مطابق اس کا نقطۂ نظر بنتا ہے مگر صحیح نقطۂ نظر وہ ہے جو علم الٰہی کے مطابق صحیح ہو اور غلط وہ ہے جو علم الٰہی کے مطابق غلط ہو۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہے۔ آدمی کو یہ کرنا ہے کہ اس کے شاکلہ نے ا س کا جو ذہنی خول بنا دیا ہے وہ اس خول کو توڑے۔ تاکہ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھ سکے جیسی کہ وہ ہیں۔بالفاظ دیگر، وہ چیزوں کو ربانی نگاہ سے دیکھنے لگے— جو لوگ اپنے ذہنی خول میں گم ہوں، وہ بھٹکے ہوئے لوگ ہیں۔ اور جو لوگ اپنے ذہنی خول سے نکل کر خدائی نقطہ نظر کو پالیں وہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت پائی۔
الإسراء 17:84
ہر انسان پر یہ حالات گزرتے ہیں کہ جب ا س کو راحت اور فراوانی حاصل ہوتی ہے تو وہ زبردست خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ کسی بات کو ماننے کے لیے وہ اتنا کڑا بن جاتا ہے جیسے کہ وہ ایسا لوہا ہے جو جھکنا نہیں جانتا۔ مگر جب اس کے اسباب چھن جاتے ہیں اور اس کو عجز کا تجربہ ہوتا ہے تو اچانک وہ بے ہمت ہوجاتاہے۔ وہ مایوسی سے نڈھال ہو جاتا ہے۔
موجودہ دنیا میں ہر آدمی اپنے بارے میں اس تجربہ سے گزرتا ہے۔ مگر کوئی ایسا نہیں جو اس تجربہ میں اپنے آپ كو دریافت کرلے۔ وہ یہ سوچے کہ دنیا میں جب کہ اسے آزادی حاصل ہے وہ حق کے مقابلہ میں اتنی سرکشی دکھا رہا ہے۔ مگر اس وقت اس کا کیا حال ہوگا جب کہ قیامت آئے گی اور اس سے اس کا سارا اختیار چھین لے گی۔ آدمی کتنا زیادہ کمزور ہے مگر وہ کتنا زیادہ اپنے کو طاقت ور سمجھتا ہے۔
شاکلہ سے مراد ذہنی سانچہ ہے۔ ہر آدمی کے حالات اور رجحانات کے تحت دھیرے دھیرے اس کا ایک خاص ذہنی سانچہ بن جاتا ہے۔ وہ اسی کے زیر اثر سوچتاہے اور اسی کے مطابق اس کا نقطۂ نظر بنتا ہے مگر صحیح نقطۂ نظر وہ ہے جو علم الٰہی کے مطابق صحیح ہو اور غلط وہ ہے جو علم الٰہی کے مطابق غلط ہو۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہے۔ آدمی کو یہ کرنا ہے کہ اس کے شاکلہ نے ا س کا جو ذہنی خول بنا دیا ہے وہ اس خول کو توڑے۔ تاکہ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھ سکے جیسی کہ وہ ہیں۔بالفاظ دیگر، وہ چیزوں کو ربانی نگاہ سے دیکھنے لگے— جو لوگ اپنے ذہنی خول میں گم ہوں، وہ بھٹکے ہوئے لوگ ہیں۔ اور جو لوگ اپنے ذہنی خول سے نکل کر خدائی نقطہ نظر کو پالیں وہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت پائی۔
الإسراء 17:85
یہاں روح سے مراد وحی الٰہی ہے۔ عرب کے جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا، وہ وحی والہام کے منکر نہ تھے۔ اس سوال کا رخ ان کے نزدیک رسول اللہ کی بے خبری کی طرف تھا، نہ کہ حقیقۃً اپنی بے خبري کی طرف۔
یہ وہ زمانہ تھا جب کہ رسول اللہ کے گرد عظمت کی تاریخ نہیں بنی تھی۔ لوگوں کو آپ محض ایک عام انسان نظر آتے تھے۔ چوں کہ انھیں یقین نہیں تھا کہ خدا کا فرشتہ آپ کے پاس خدا کی وحی لے کر آتا ہے۔ اس لیے انھوںنے آپ کا مذاق اڑانے کے لیے یہ سوال کیا۔
تاہم اس سوال کے جواب میں قرآن میں ایک اہم اصولی بات بتادی گئی۔ وہ یہ کہ انسان کو صرف ’’علم قلیل‘‘ دیاگیا ہے، وہ ’’علم کثیر‘‘ کا مالک نہیں ہے۔ اس لیے حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ان سوالات میں نہ الجھے جن کو وہ اپنی پیدائشی کم علمی کی بنا پرجان نہیں سکتا۔
قدیم زمانہ میں انسان صرف آنکھ کے ذریعہ چیزوں کو دیکھ سکتاتھا۔ تاہم بصری مطالعہ نے بتایا کہ آنکھ صرف ایک حد تک کام کرتی ہے۔ اس لیے وہ کلی مطالعہ کے لیے کافی نہیں۔ مثلاً ایک چیزجو دور سے دیکھنے میںایک نظر آتی ہے، قریب سے جاکر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ دو تھیں۔
موجودہ زمانہ میں آلاتی مطالعہ وجود میں آیا تو انسان نے سمجھا کہ آلات اس کی محدودیت کا بدل ہیں۔ آلاتی مطالعہ کے ذریعے چیزوں کو ان کی آخری حد تک دیکھا جاسکتا ہے۔ مگر بیسویں صدی میں پہنچ کر اس خوش خیالی کا خاتمہ ہوگیا۔ اب معلوم ہوا کہ چیزیں اس سے زیادہ پيچیدہ اور اس سے زیادہ پراسرار ہیں کہ آلات کی مدد سے ان کو پوری طرح دیکھا جاسکے۔
ایسی حالت میں اجمالی علم پر قانع ہونا انسان کے لیے حقیقت پسندی کا تقاضا بن گیاہے، نہ کہ محض عقیدہ کا تقاضا۔ ہماری صلاحیتیں محدود ہیں اور ہم سے ماورا جو عالم ہے وہ لامحدود۔ پھر محدود کے لیے کس طرح ممکن ہے کہ وہ لامحدود کا احاطہ کرسکے۔ انسان کی محدودیت کا تقاضا ہے کہ وہ بالواسطہ علم پر قناعت کرے اور براہِ راست علم پر اصرار کرنا چھوڑ دے۔ بالفاظ دیگر قرینہ سے حاصل شدہ علم کو بھی اسی طرح معقول (valid) مان لے جس طرح وہ مشاہدہ سے حاصل شدہ علم کو معقول مانتا ہے۔
الإسراء 17:86
قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص خاص اوقات میں اترتاتھا۔ ان مخصوص اوقات کے علاوہ آپ خود بھی اس پر قادر نہ تھے کہ قرآن جیسا کلام وضع کرسکیں۔ دوسرے وقتوں میں آپ کی زبان سے جو کلام نکلتا تھا، وہ ہمیشہ قرآن کے کلام سے مختلف ہوتا تھا۔ جب کبھی لمبی مدت کے لیے وحی رکتی تو آپ بے حد پریشان ہوجاتے۔ مگر آپ کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ خود یا کسی کی مدد سے قرآن جیسا کلام بنالیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کی زبان اور آپ کی اپنی زبان میں بے حد نمایاں فرق ہوتا تھا۔ یہ فرق آج بھی ہر عربی داں قرآن اور حدیث کی زبان کا تقابل کرکے دیکھ سکتا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کا ایک واضح ثبو ت ہے کہ قرآن محمد کا کلام نہیں۔ وہ محمد کے سوا ایک اور برتر ذہن سے نکلا ہوا کلام ہے۔
جو لوگ قرآن کو انسانی کلام کہتے تھے ان سے کہا گیا کہ اگر تمھارا خیال صحیح ہے تو بحیثیت انسان کے تمھیں بھی اس کی قدرت ہونی چاہیے۔ تم تنہا یا دوسرے انسانوں کو لے کر قرآن جیسا کلام بنا لاؤ۔ مگر اس وقت کے لوگوں میں سے کسی کے لیے ممکن نہ ہوسکا کہ وہ اس چیلنج کا جواب دے۔ بعد کے زمانہ میں بھی کوئی ادیب یا عالم قرآن جیسے کلام کا نمونہ پیش نہ کرسکا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے کوشش کی مگر وہ سراسر ناکام رہے۔ وہ قرآن جیسی ایک سورہ بھی نہ بنا سکے۔
الإسراء 17:87
قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص خاص اوقات میں اترتاتھا۔ ان مخصوص اوقات کے علاوہ آپ خود بھی اس پر قادر نہ تھے کہ قرآن جیسا کلام وضع کرسکیں۔ دوسرے وقتوں میں آپ کی زبان سے جو کلام نکلتا تھا، وہ ہمیشہ قرآن کے کلام سے مختلف ہوتا تھا۔ جب کبھی لمبی مدت کے لیے وحی رکتی تو آپ بے حد پریشان ہوجاتے۔ مگر آپ کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ خود یا کسی کی مدد سے قرآن جیسا کلام بنالیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کی زبان اور آپ کی اپنی زبان میں بے حد نمایاں فرق ہوتا تھا۔ یہ فرق آج بھی ہر عربی داں قرآن اور حدیث کی زبان کا تقابل کرکے دیکھ سکتا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کا ایک واضح ثبو ت ہے کہ قرآن محمد کا کلام نہیں۔ وہ محمد کے سوا ایک اور برتر ذہن سے نکلا ہوا کلام ہے۔
جو لوگ قرآن کو انسانی کلام کہتے تھے ان سے کہا گیا کہ اگر تمھارا خیال صحیح ہے تو بحیثیت انسان کے تمھیں بھی اس کی قدرت ہونی چاہیے۔ تم تنہا یا دوسرے انسانوں کو لے کر قرآن جیسا کلام بنا لاؤ۔ مگر اس وقت کے لوگوں میں سے کسی کے لیے ممکن نہ ہوسکا کہ وہ اس چیلنج کا جواب دے۔ بعد کے زمانہ میں بھی کوئی ادیب یا عالم قرآن جیسے کلام کا نمونہ پیش نہ کرسکا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے کوشش کی مگر وہ سراسر ناکام رہے۔ وہ قرآن جیسی ایک سورہ بھی نہ بنا سکے۔
الإسراء 17:88
قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص خاص اوقات میں اترتاتھا۔ ان مخصوص اوقات کے علاوہ آپ خود بھی اس پر قادر نہ تھے کہ قرآن جیسا کلام وضع کرسکیں۔ دوسرے وقتوں میں آپ کی زبان سے جو کلام نکلتا تھا، وہ ہمیشہ قرآن کے کلام سے مختلف ہوتا تھا۔ جب کبھی لمبی مدت کے لیے وحی رکتی تو آپ بے حد پریشان ہوجاتے۔ مگر آپ کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ خود یا کسی کی مدد سے قرآن جیسا کلام بنالیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کی زبان اور آپ کی اپنی زبان میں بے حد نمایاں فرق ہوتا تھا۔ یہ فرق آج بھی ہر عربی داں قرآن اور حدیث کی زبان کا تقابل کرکے دیکھ سکتا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کا ایک واضح ثبو ت ہے کہ قرآن محمد کا کلام نہیں۔ وہ محمد کے سوا ایک اور برتر ذہن سے نکلا ہوا کلام ہے۔
جو لوگ قرآن کو انسانی کلام کہتے تھے ان سے کہا گیا کہ اگر تمھارا خیال صحیح ہے تو بحیثیت انسان کے تمھیں بھی اس کی قدرت ہونی چاہیے۔ تم تنہا یا دوسرے انسانوں کو لے کر قرآن جیسا کلام بنا لاؤ۔ مگر اس وقت کے لوگوں میں سے کسی کے لیے ممکن نہ ہوسکا کہ وہ اس چیلنج کا جواب دے۔ بعد کے زمانہ میں بھی کوئی ادیب یا عالم قرآن جیسے کلام کا نمونہ پیش نہ کرسکا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے کوشش کی مگر وہ سراسر ناکام رہے۔ وہ قرآن جیسی ایک سورہ بھی نہ بنا سکے۔
الإسراء 17:89
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کا پیغام پیش کیا تو آپ کے معاصرین نے کہا کہ ہم تم کو اس وقت مانیں گے جب کہ تم خارقِ عادت کرشمے دکھاؤ۔ مگر اس قسم کے مطالبات خدا کے منصوبۂ تخلیق کے خلاف ہیں۔ انسان کو خدا نے باشعور وجود کے طورپر پیدا کیا ہے۔ یہ ساری کائنات میں ایک انتہائی نادر عطیہ ہے، جو اس لیے دیا گیاہے کہ انسان ذاتی شعور کے ذریعہ حق کو پہچانے، نہ کہ مسحور کن کرشموں کے ذریعہ۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کا امتحان ’’دلیل‘‘ کی سطح پر ہو رہا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو دلیل کی زبان میں حق کو پہچاننا ا ور اس کو اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ دلیل کی سطح پر حق کو نہ پہچانیں، وہی وہ لوگ ہیں جو بالآخر ناکام ونامراد رہیں گے۔
الإسراء 17:90
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کا پیغام پیش کیا تو آپ کے معاصرین نے کہا کہ ہم تم کو اس وقت مانیں گے جب کہ تم خارقِ عادت کرشمے دکھاؤ۔ مگر اس قسم کے مطالبات خدا کے منصوبۂ تخلیق کے خلاف ہیں۔ انسان کو خدا نے باشعور وجود کے طورپر پیدا کیا ہے۔ یہ ساری کائنات میں ایک انتہائی نادر عطیہ ہے، جو اس لیے دیا گیاہے کہ انسان ذاتی شعور کے ذریعہ حق کو پہچانے، نہ کہ مسحور کن کرشموں کے ذریعہ۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کا امتحان ’’دلیل‘‘ کی سطح پر ہو رہا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو دلیل کی زبان میں حق کو پہچاننا ا ور اس کو اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ دلیل کی سطح پر حق کو نہ پہچانیں، وہی وہ لوگ ہیں جو بالآخر ناکام ونامراد رہیں گے۔
الإسراء 17:91
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کا پیغام پیش کیا تو آپ کے معاصرین نے کہا کہ ہم تم کو اس وقت مانیں گے جب کہ تم خارقِ عادت کرشمے دکھاؤ۔ مگر اس قسم کے مطالبات خدا کے منصوبۂ تخلیق کے خلاف ہیں۔ انسان کو خدا نے باشعور وجود کے طورپر پیدا کیا ہے۔ یہ ساری کائنات میں ایک انتہائی نادر عطیہ ہے، جو اس لیے دیا گیاہے کہ انسان ذاتی شعور کے ذریعہ حق کو پہچانے، نہ کہ مسحور کن کرشموں کے ذریعہ۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کا امتحان ’’دلیل‘‘ کی سطح پر ہو رہا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو دلیل کی زبان میں حق کو پہچاننا ا ور اس کو اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ دلیل کی سطح پر حق کو نہ پہچانیں، وہی وہ لوگ ہیں جو بالآخر ناکام ونامراد رہیں گے۔
الإسراء 17:92
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کا پیغام پیش کیا تو آپ کے معاصرین نے کہا کہ ہم تم کو اس وقت مانیں گے جب کہ تم خارقِ عادت کرشمے دکھاؤ۔ مگر اس قسم کے مطالبات خدا کے منصوبۂ تخلیق کے خلاف ہیں۔ انسان کو خدا نے باشعور وجود کے طورپر پیدا کیا ہے۔ یہ ساری کائنات میں ایک انتہائی نادر عطیہ ہے، جو اس لیے دیا گیاہے کہ انسان ذاتی شعور کے ذریعہ حق کو پہچانے، نہ کہ مسحور کن کرشموں کے ذریعہ۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کا امتحان ’’دلیل‘‘ کی سطح پر ہو رہا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو دلیل کی زبان میں حق کو پہچاننا ا ور اس کو اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ دلیل کی سطح پر حق کو نہ پہچانیں، وہی وہ لوگ ہیں جو بالآخر ناکام ونامراد رہیں گے۔
الإسراء 17:93
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کا پیغام پیش کیا تو آپ کے معاصرین نے کہا کہ ہم تم کو اس وقت مانیں گے جب کہ تم خارقِ عادت کرشمے دکھاؤ۔ مگر اس قسم کے مطالبات خدا کے منصوبۂ تخلیق کے خلاف ہیں۔ انسان کو خدا نے باشعور وجود کے طورپر پیدا کیا ہے۔ یہ ساری کائنات میں ایک انتہائی نادر عطیہ ہے، جو اس لیے دیا گیاہے کہ انسان ذاتی شعور کے ذریعہ حق کو پہچانے، نہ کہ مسحور کن کرشموں کے ذریعہ۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کا امتحان ’’دلیل‘‘ کی سطح پر ہو رہا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو دلیل کی زبان میں حق کو پہچاننا ا ور اس کو اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ دلیل کی سطح پر حق کو نہ پہچانیں، وہی وہ لوگ ہیں جو بالآخر ناکام ونامراد رہیں گے۔
الإسراء 17:94
اس طرح کی آیات کو آج جب ایک آدمی پڑھتا ہے تو اسکو تعجب ہوتاہے کہ وہ کیسے ہٹ دھرم لوگ تھے جنھوں نے پیغمبر اعظم (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کا انکار کیا۔ اس تعجب کی وجہ دراصل یہ ہے کہ آج کا ایک آدمی منکرین کا تقابل ’’پیغمبر اعظم‘‘ سے کرتاہے۔ جب کہ دورِ اول کے منکرین کے سامنے جو شخص تھا وہ ایک ایسا شخص تھاجو ابھی تک صرف ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ تھا۔ وہ ساری تاریخ اس وقت مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی تھی جس کے بعد دنیا نے آپ کو پیغمبر اعظم کی حیثیت سے تسلیم کیا۔
پیغمبر اپنے زمانے کے لوگوں کو صرف ایک ’’بشر ‘‘ نظر آتا ہے۔ بعد کو جب تاریخی تصدیقات جمع ہوجاتی ہیں تو لوگوں کو نظر آتا ہے کہ یہ واقعی پیغمبر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پیغمبر کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ اس کے ہم زمانہ مخاطبین نے اس کا انکار کیا اور بعد کے لوگ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے۔
موجودہ دنیا میں آدمی حالتِ امتحان میں ہے۔ اس لیے یہ ممکن نہیں کہ فرشتوں کے ذریعہ اس کو حق سے باخبر کیا جائے۔ فرشتوں کے ذریعہ حق سے باخبر کرنے کا مطلب حقیقت کوآخری حد تک بے نقاب کردیناہے۔ جب حقیقت کو آخری حد تک بے نقاب کردیا جائے تو اس کے بعد آدمی کا امتحان کس چیز میں ہوگا۔
الإسراء 17:95
اس طرح کی آیات کو آج جب ایک آدمی پڑھتا ہے تو اسکو تعجب ہوتاہے کہ وہ کیسے ہٹ دھرم لوگ تھے جنھوں نے پیغمبر اعظم (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کا انکار کیا۔ اس تعجب کی وجہ دراصل یہ ہے کہ آج کا ایک آدمی منکرین کا تقابل ’’پیغمبر اعظم‘‘ سے کرتاہے۔ جب کہ دورِ اول کے منکرین کے سامنے جو شخص تھا وہ ایک ایسا شخص تھاجو ابھی تک صرف ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ تھا۔ وہ ساری تاریخ اس وقت مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی تھی جس کے بعد دنیا نے آپ کو پیغمبر اعظم کی حیثیت سے تسلیم کیا۔
پیغمبر اپنے زمانے کے لوگوں کو صرف ایک ’’بشر ‘‘ نظر آتا ہے۔ بعد کو جب تاریخی تصدیقات جمع ہوجاتی ہیں تو لوگوں کو نظر آتا ہے کہ یہ واقعی پیغمبر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پیغمبر کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ اس کے ہم زمانہ مخاطبین نے اس کا انکار کیا اور بعد کے لوگ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے۔
موجودہ دنیا میں آدمی حالتِ امتحان میں ہے۔ اس لیے یہ ممکن نہیں کہ فرشتوں کے ذریعہ اس کو حق سے باخبر کیا جائے۔ فرشتوں کے ذریعہ حق سے باخبر کرنے کا مطلب حقیقت کوآخری حد تک بے نقاب کردیناہے۔ جب حقیقت کو آخری حد تک بے نقاب کردیا جائے تو اس کے بعد آدمی کا امتحان کس چیز میں ہوگا۔
الإسراء 17:96
اس طرح کی آیات کو آج جب ایک آدمی پڑھتا ہے تو اسکو تعجب ہوتاہے کہ وہ کیسے ہٹ دھرم لوگ تھے جنھوں نے پیغمبر اعظم (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کا انکار کیا۔ اس تعجب کی وجہ دراصل یہ ہے کہ آج کا ایک آدمی منکرین کا تقابل ’’پیغمبر اعظم‘‘ سے کرتاہے۔ جب کہ دورِ اول کے منکرین کے سامنے جو شخص تھا وہ ایک ایسا شخص تھاجو ابھی تک صرف ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ تھا۔ وہ ساری تاریخ اس وقت مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی تھی جس کے بعد دنیا نے آپ کو پیغمبر اعظم کی حیثیت سے تسلیم کیا۔
پیغمبر اپنے زمانے کے لوگوں کو صرف ایک ’’بشر ‘‘ نظر آتا ہے۔ بعد کو جب تاریخی تصدیقات جمع ہوجاتی ہیں تو لوگوں کو نظر آتا ہے کہ یہ واقعی پیغمبر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پیغمبر کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ اس کے ہم زمانہ مخاطبین نے اس کا انکار کیا اور بعد کے لوگ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے۔
موجودہ دنیا میں آدمی حالتِ امتحان میں ہے۔ اس لیے یہ ممکن نہیں کہ فرشتوں کے ذریعہ اس کو حق سے باخبر کیا جائے۔ فرشتوں کے ذریعہ حق سے باخبر کرنے کا مطلب حقیقت کوآخری حد تک بے نقاب کردیناہے۔ جب حقیقت کو آخری حد تک بے نقاب کردیا جائے تو اس کے بعد آدمی کا امتحان کس چیز میں ہوگا۔
الإسراء 17:97
دنیا میں آدمی اپنی حیثیت مادی کے مطابق جیتا ہے، آخرت میں وہ اپنی حیثیت روحانی کے مطابق نظر آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں راہ سے بے راہ ہوئے وہ قیامت میں اٹھیں گے تو اپنے آپ کو اندھا، بہرا، گونگا پائیں گے۔ ان کا راہ سے بے راہ ہونا اس لیے تھا کہ انھوں نے آنکھ اور کان اور زبان کو اس مقصد میں استعمال نہیں کیا جس کے لیے وہ انھیں دئے گئے تھے۔ انھو ںنے خدا کی نشانیوں کو نہیں دیکھا۔ انھوںنے خدا کے دلائل کو نہیں سنا۔ ان کی زبان حق کی حمایت میں نہیں کھلی۔ وہ آنکھ، کان اور زبان رکھتے ہوئے حق کی نسبت سے بے آنکھ، بے کان اور بے زبان ہوگئے۔ موت کے بعد جب وہ عالم حقیقی میں پہنچیں گے تو وہاں وہ اپنے آپ کو اپنی اصلی صورت میں پائیں گے، نہ کہ اس مصنوعی صورت میں جو حالت امتحان میں ہونے کی وجہ سے وقتی طورپر انھیں موجودہ دنیا میں حاصل تھی۔
’’جب ہم ریزہ ریزہ ہوجائیں گے‘‘ کہنے والے ایک وہ ہیں جو زبانِ قال سے یہ جملہ دہرائیں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو زبانِ حال سے اس کو کہیں۔ یہ دوسرے لوگ وہ ہیں جو آنکھ اور کان اور زبان کو اس کے مقصد تخلیق کے خلاف استعمال کریں اور یہ گمان رکھیں کہ ان کا یہ عمل بس اسی دنیا میں گم ہوکر رہ جائے گا، وہ آخرت میں پہنچنے والا نہیں۔
الإسراء 17:98
دنیا میں آدمی اپنی حیثیت مادی کے مطابق جیتا ہے، آخرت میں وہ اپنی حیثیت روحانی کے مطابق نظر آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں راہ سے بے راہ ہوئے وہ قیامت میں اٹھیں گے تو اپنے آپ کو اندھا، بہرا، گونگا پائیں گے۔ ان کا راہ سے بے راہ ہونا اس لیے تھا کہ انھوں نے آنکھ اور کان اور زبان کو اس مقصد میں استعمال نہیں کیا جس کے لیے وہ انھیں دئے گئے تھے۔ انھو ںنے خدا کی نشانیوں کو نہیں دیکھا۔ انھوںنے خدا کے دلائل کو نہیں سنا۔ ان کی زبان حق کی حمایت میں نہیں کھلی۔ وہ آنکھ، کان اور زبان رکھتے ہوئے حق کی نسبت سے بے آنکھ، بے کان اور بے زبان ہوگئے۔ موت کے بعد جب وہ عالم حقیقی میں پہنچیں گے تو وہاں وہ اپنے آپ کو اپنی اصلی صورت میں پائیں گے، نہ کہ اس مصنوعی صورت میں جو حالت امتحان میں ہونے کی وجہ سے وقتی طورپر انھیں موجودہ دنیا میں حاصل تھی۔
’’جب ہم ریزہ ریزہ ہوجائیں گے‘‘ کہنے والے ایک وہ ہیں جو زبانِ قال سے یہ جملہ دہرائیں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو زبانِ حال سے اس کو کہیں۔ یہ دوسرے لوگ وہ ہیں جو آنکھ اور کان اور زبان کو اس کے مقصد تخلیق کے خلاف استعمال کریں اور یہ گمان رکھیں کہ ان کا یہ عمل بس اسی دنیا میں گم ہوکر رہ جائے گا، وہ آخرت میں پہنچنے والا نہیں۔
الإسراء 17:99
زمین وآسمان ہمارے سامنے ایک حقیقت کے طورپر موجود ہیں۔ ہم ان کا انکار نہیں کرسکتے۔ یہ موجودگی ثابت کرتی ہے کہ یہاں کوئی زندہ ہستی ہے جو یہ طاقت رکھتی ہے کہ وہ پہلی بار تخلیق کرے، وہ نہیں سے ہے کو وجود میں لائے۔ پھر جب پہلی تخلیق ممکن ہے تو دوسری تخلیق کیوں ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلی تخلیق کو ماننے کے بعد دوسری تخلیق کو ماننے میں کوئی علمی وعقلی دلیل مانع نہیں رہتی۔
اتنے کھلے ہوئے قرینہ کے باوجود جو شخص تخلیقِ ثانی کو نہ مانے وہ ظالم ہے۔ وہ ہٹ دھرمی کی زمین پر کھڑا ہوا ہے، نہ کہ دلیل اور معقولیت کی زمین پر۔
الإسراء 17:100
انسان تنگ ظرف واقع ہوا ہے۔ وہ ہر قسم کے شرف کو اپنے لیے یا اپنے گروہ کے لیے جمع کرلینا چاہتا ہے۔ اگر نعمتوں کی تقسیم انسان کے ہاتھ میں ہوتی تو جن لوگوں کے پاس دولت وعظمت آگئی تھی وہی نبوت کو بھی اپنے پاس جمع کرلیتے۔ وہ اس کو دوسروں کے پاس جانے نہ دیتے۔
مگر خدا معاملات کو جوہر کے اعتبار سے دیکھتا ہے، نہ کہ گروہی تعصبات کی نظر سے۔ وہ تمام انسانوں پر نظر ڈالتا ہے۔ اور پوری نسل میں جو سب سے بہتر انسان ہوتاہے اس کو نبوت کے لیے چن لیتاہے۔ نبوت کا انتخاب اگر انسان کرنے لگیں تو یہاں بھی وہی کیفیت پیدا ہوجائے جو انسانی اداروں میں جانب داری کی وجہ سے نا اہل انسانوں کی بھیڑ کی صورت میں نظر آتی ہے۔
الإسراء 17:101
فرعون کے سامنے کھلی ہوئی نشانیاں پیش کی گئیں تو اس نے کہا کہ یہ ’’جادو‘‘ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ داعی کی طرف سے خواہ کتنی ہی طاقت ور دلیل اور کتنی ہی بڑی نشانی پیش کردی جائے، انسان کے لیے یہ دروازہ بند نہیں ہوتا کہ وہ کچھ الفاظ بول کر اس کو رد کردے — وہ خدائی نشانی کو انسانی جادو کہہ دے۔ وہ علمی دلیل کو ناقص مطالعہ کہہ کر ٹال دے۔ وہ واضح قرائن کو غیر معقول کہہ کر نظر انداز کردے۔
حق کے مخالفین جب لفظی مخالفت سے حق کی آواز دبانے میں کامیاب نہیں ہوتے تو وہ جارحانہ کارروائیوں پر اتر آتے ہیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کسی انسان کا معاملہ نہیں۔ بلکہ خدا کا معاملہ ہے اور کون ہے جو خدا کے ساتھ جارحیت کرکے کامیاب ہو۔
الإسراء 17:102
فرعون کے سامنے کھلی ہوئی نشانیاں پیش کی گئیں تو اس نے کہا کہ یہ ’’جادو‘‘ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ داعی کی طرف سے خواہ کتنی ہی طاقت ور دلیل اور کتنی ہی بڑی نشانی پیش کردی جائے، انسان کے لیے یہ دروازہ بند نہیں ہوتا کہ وہ کچھ الفاظ بول کر اس کو رد کردے — وہ خدائی نشانی کو انسانی جادو کہہ دے۔ وہ علمی دلیل کو ناقص مطالعہ کہہ کر ٹال دے۔ وہ واضح قرائن کو غیر معقول کہہ کر نظر انداز کردے۔
حق کے مخالفین جب لفظی مخالفت سے حق کی آواز دبانے میں کامیاب نہیں ہوتے تو وہ جارحانہ کارروائیوں پر اتر آتے ہیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کسی انسان کا معاملہ نہیں۔ بلکہ خدا کا معاملہ ہے اور کون ہے جو خدا کے ساتھ جارحیت کرکے کامیاب ہو۔
الإسراء 17:103
فرعون کے سامنے کھلی ہوئی نشانیاں پیش کی گئیں تو اس نے کہا کہ یہ ’’جادو‘‘ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ داعی کی طرف سے خواہ کتنی ہی طاقت ور دلیل اور کتنی ہی بڑی نشانی پیش کردی جائے، انسان کے لیے یہ دروازہ بند نہیں ہوتا کہ وہ کچھ الفاظ بول کر اس کو رد کردے — وہ خدائی نشانی کو انسانی جادو کہہ دے۔ وہ علمی دلیل کو ناقص مطالعہ کہہ کر ٹال دے۔ وہ واضح قرائن کو غیر معقول کہہ کر نظر انداز کردے۔
حق کے مخالفین جب لفظی مخالفت سے حق کی آواز دبانے میں کامیاب نہیں ہوتے تو وہ جارحانہ کارروائیوں پر اتر آتے ہیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کسی انسان کا معاملہ نہیں۔ بلکہ خدا کا معاملہ ہے اور کون ہے جو خدا کے ساتھ جارحیت کرکے کامیاب ہو۔
الإسراء 17:104
فرعون کے سامنے کھلی ہوئی نشانیاں پیش کی گئیں تو اس نے کہا کہ یہ ’’جادو‘‘ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ داعی کی طرف سے خواہ کتنی ہی طاقت ور دلیل اور کتنی ہی بڑی نشانی پیش کردی جائے، انسان کے لیے یہ دروازہ بند نہیں ہوتا کہ وہ کچھ الفاظ بول کر اس کو رد کردے — وہ خدائی نشانی کو انسانی جادو کہہ دے۔ وہ علمی دلیل کو ناقص مطالعہ کہہ کر ٹال دے۔ وہ واضح قرائن کو غیر معقول کہہ کر نظر انداز کردے۔
حق کے مخالفین جب لفظی مخالفت سے حق کی آواز دبانے میں کامیاب نہیں ہوتے تو وہ جارحانہ کارروائیوں پر اتر آتے ہیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کسی انسان کا معاملہ نہیں۔ بلکہ خدا کا معاملہ ہے اور کون ہے جو خدا کے ساتھ جارحیت کرکے کامیاب ہو۔
الإسراء 17:105
قرآن بے آمیز سچائی کا اعلان ہے۔ مگر بے آمیز سچائی ہمیشہ لوگوں کے لیے سب سے کم قابل قبول چیز ہوتی ہے۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے داعی پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی کہ وہ لوگوں کو ضرور منوالے۔ داعی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کامل طورپر سچائی کا اعلان کردے۔
قرآن میں مخاطب کی آخری حد تک رعایت کی گئی ہے۔ اسی مصلحت کی بنا پر قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر اتارا گیا ہے۔ تاکہ جو لوگ سمجھنا چاہتے ہیں وہ اس کو خوب سمجھتے جائیں۔ وہ آہستہ آہستہ ان کے فکر وعمل کا جزء بنتا چلا جائے۔
الإسراء 17:106
قرآن بے آمیز سچائی کا اعلان ہے۔ مگر بے آمیز سچائی ہمیشہ لوگوں کے لیے سب سے کم قابل قبول چیز ہوتی ہے۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے داعی پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی کہ وہ لوگوں کو ضرور منوالے۔ داعی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کامل طورپر سچائی کا اعلان کردے۔
قرآن میں مخاطب کی آخری حد تک رعایت کی گئی ہے۔ اسی مصلحت کی بنا پر قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر اتارا گیا ہے۔ تاکہ جو لوگ سمجھنا چاہتے ہیں وہ اس کو خوب سمجھتے جائیں۔ وہ آہستہ آہستہ ان کے فکر وعمل کا جزء بنتا چلا جائے۔
الإسراء 17:107
خدا کا کلام انسان سے عجزو تواضع کا تقاضا کرتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں خدا اپنا کلام خود سنانے نہیں آتا۔ وہ ایک ’’انسان‘‘ کی زبان سے اپنا کلام جاری کراتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر کبر کی نفسیات لیے ہوئے ہیں، وہ اس کے آگے جھکنے کو ایک انسان کے آگے جھکنے کے ہم معنی بنا لیتے ہیں اور اس بنا پر اس کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔
اس کے برعکس، جو لوگ کبر کی نفسیات سے خالی ہوں وہ خدا کے کلام کو بس خدا کے کلام کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ ان کو انسان کی زبان سے جاری ہونے والے کلام میں خدا کی جھلکیاں نظر آجاتی ہیں۔ وہ اس کے ذریعہ خدا سے مربوط ہوجاتے ہیں۔ وہ خداکی بڑائی کے مقابلہ میں اپنے عجز کو اور اپنے عجز کے مقابلہ میں خدا کی بڑائی کو پالیتے ہیں۔ یہ احساس ان کے سینے کو پگھلادیتا ہے۔ وہ روتے ہوئے اس کے آگے سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔
پہلی قسم کے آدمیوں کی مثال قریش کے سرداروں کی ہے۔ اور دوسری قسم کے آدمیوں کی مثال اہلِ کتاب کے ان مومنین کی جو دورِ اول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔
اس آیت میں بظاہر صالحین اہلِ کتاب کا ذکر ہے۔ انھوں نے قدیم آسمانی صحیفوں میں پڑھا تھا کہ ایک آخری پیغمبر آنے والے ہیں۔ جو لوگ ان پر ایمان لائیں گے اور ان کا ساتھ دیں گے وہ خدا کی خصوصی رحمت کے مستحق قرار پائیںگے۔ اس بنا پر وہ اس آخری نبی کا پہلے سے انتظار کررہے تھے۔ یہ انتظار اتنا شدید تھا کہ جب وہ پیغمبر آیا تو انھوں نے فوراً اس کو پہچان لیا۔ ان کا یہ حال ہوا کہ اس پیغمبر کی لائی ہوئی کتاب (قرآن) کو جب وہ پڑھتے تو شدت احساس سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے اور وہ روتے ہوئے خدا کے آگے سجدہ میں گرجاتے۔
تاہم یہ صرف اہلِ کتاب کے ایک گروہ کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ سارے انسانوں کا معاملہ ہے۔ ہرانسان کے اندر خدا نے پیشگی طورپر حق کی معرفت رکھ دی ہے، گویا کہ ہر انسان پہلے ہی سے خدائی سچائی کا منتظر ہے۔ اب جو لوگ اپنی اس فطرت کو زندہ رکھیں ان کا وہی حال ہوگا جو سابق اہل کتاب کا ہوا۔ وہ اپنی فطرت کے زندہ شعور کی بناپر خدائی سچائی کو پہچان لیں گے اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس کی طرف بے تابانہ دوڑ پڑیںگے۔
الإسراء 17:108
خدا کا کلام انسان سے عجزو تواضع کا تقاضا کرتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں خدا اپنا کلام خود سنانے نہیں آتا۔ وہ ایک ’’انسان‘‘ کی زبان سے اپنا کلام جاری کراتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر کبر کی نفسیات لیے ہوئے ہیں، وہ اس کے آگے جھکنے کو ایک انسان کے آگے جھکنے کے ہم معنی بنا لیتے ہیں اور اس بنا پر اس کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔
اس کے برعکس، جو لوگ کبر کی نفسیات سے خالی ہوں وہ خدا کے کلام کو بس خدا کے کلام کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ ان کو انسان کی زبان سے جاری ہونے والے کلام میں خدا کی جھلکیاں نظر آجاتی ہیں۔ وہ اس کے ذریعہ خدا سے مربوط ہوجاتے ہیں۔ وہ خداکی بڑائی کے مقابلہ میں اپنے عجز کو اور اپنے عجز کے مقابلہ میں خدا کی بڑائی کو پالیتے ہیں۔ یہ احساس ان کے سینے کو پگھلادیتا ہے۔ وہ روتے ہوئے اس کے آگے سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔
پہلی قسم کے آدمیوں کی مثال قریش کے سرداروں کی ہے۔ اور دوسری قسم کے آدمیوں کی مثال اہلِ کتاب کے ان مومنین کی جو دورِ اول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔
اس آیت میں بظاہر صالحین اہلِ کتاب کا ذکر ہے۔ انھوں نے قدیم آسمانی صحیفوں میں پڑھا تھا کہ ایک آخری پیغمبر آنے والے ہیں۔ جو لوگ ان پر ایمان لائیں گے اور ان کا ساتھ دیں گے وہ خدا کی خصوصی رحمت کے مستحق قرار پائیںگے۔ اس بنا پر وہ اس آخری نبی کا پہلے سے انتظار کررہے تھے۔ یہ انتظار اتنا شدید تھا کہ جب وہ پیغمبر آیا تو انھوں نے فوراً اس کو پہچان لیا۔ ان کا یہ حال ہوا کہ اس پیغمبر کی لائی ہوئی کتاب (قرآن) کو جب وہ پڑھتے تو شدت احساس سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے اور وہ روتے ہوئے خدا کے آگے سجدہ میں گرجاتے۔
تاہم یہ صرف اہلِ کتاب کے ایک گروہ کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ سارے انسانوں کا معاملہ ہے۔ ہرانسان کے اندر خدا نے پیشگی طورپر حق کی معرفت رکھ دی ہے، گویا کہ ہر انسان پہلے ہی سے خدائی سچائی کا منتظر ہے۔ اب جو لوگ اپنی اس فطرت کو زندہ رکھیں ان کا وہی حال ہوگا جو سابق اہل کتاب کا ہوا۔ وہ اپنی فطرت کے زندہ شعور کی بناپر خدائی سچائی کو پہچان لیں گے اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس کی طرف بے تابانہ دوڑ پڑیںگے۔
الإسراء 17:109
خدا کا کلام انسان سے عجزو تواضع کا تقاضا کرتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں خدا اپنا کلام خود سنانے نہیں آتا۔ وہ ایک ’’انسان‘‘ کی زبان سے اپنا کلام جاری کراتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر کبر کی نفسیات لیے ہوئے ہیں، وہ اس کے آگے جھکنے کو ایک انسان کے آگے جھکنے کے ہم معنی بنا لیتے ہیں اور اس بنا پر اس کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔
اس کے برعکس، جو لوگ کبر کی نفسیات سے خالی ہوں وہ خدا کے کلام کو بس خدا کے کلام کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ ان کو انسان کی زبان سے جاری ہونے والے کلام میں خدا کی جھلکیاں نظر آجاتی ہیں۔ وہ اس کے ذریعہ خدا سے مربوط ہوجاتے ہیں۔ وہ خداکی بڑائی کے مقابلہ میں اپنے عجز کو اور اپنے عجز کے مقابلہ میں خدا کی بڑائی کو پالیتے ہیں۔ یہ احساس ان کے سینے کو پگھلادیتا ہے۔ وہ روتے ہوئے اس کے آگے سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔
پہلی قسم کے آدمیوں کی مثال قریش کے سرداروں کی ہے۔ اور دوسری قسم کے آدمیوں کی مثال اہلِ کتاب کے ان مومنین کی جو دورِ اول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔
اس آیت میں بظاہر صالحین اہلِ کتاب کا ذکر ہے۔ انھوں نے قدیم آسمانی صحیفوں میں پڑھا تھا کہ ایک آخری پیغمبر آنے والے ہیں۔ جو لوگ ان پر ایمان لائیں گے اور ان کا ساتھ دیں گے وہ خدا کی خصوصی رحمت کے مستحق قرار پائیںگے۔ اس بنا پر وہ اس آخری نبی کا پہلے سے انتظار کررہے تھے۔ یہ انتظار اتنا شدید تھا کہ جب وہ پیغمبر آیا تو انھوں نے فوراً اس کو پہچان لیا۔ ان کا یہ حال ہوا کہ اس پیغمبر کی لائی ہوئی کتاب (قرآن) کو جب وہ پڑھتے تو شدت احساس سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے اور وہ روتے ہوئے خدا کے آگے سجدہ میں گرجاتے۔
تاہم یہ صرف اہلِ کتاب کے ایک گروہ کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ سارے انسانوں کا معاملہ ہے۔ ہرانسان کے اندر خدا نے پیشگی طورپر حق کی معرفت رکھ دی ہے، گویا کہ ہر انسان پہلے ہی سے خدائی سچائی کا منتظر ہے۔ اب جو لوگ اپنی اس فطرت کو زندہ رکھیں ان کا وہی حال ہوگا جو سابق اہل کتاب کا ہوا۔ وہ اپنی فطرت کے زندہ شعور کی بناپر خدائی سچائی کو پہچان لیں گے اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس کی طرف بے تابانہ دوڑ پڑیںگے۔
الإسراء 17:110
جو لوگ سچائی کو گہرائی کے ساتھ پائے ہوئے نہیں ہوتے۔ وہ ہمیشہ ظاہری چیزوں میں الجھے رہتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ خدا کو اِس لفظ سے پکارنا افضل ہے اور کوئی کہتا ہے کہ اُس لفظ سے۔ کوئی کہتا ہے کہ فلاں عبادتی فعل زور سے ادا کرنا چاہیے اور کوئی کہتا ہے کہ دھیرے دھیرے سے۔
عرب میں بھی اس قسم کی بحثیں مختلف اندازسے جاری تھیں ۔ فرمایا کہ خدا کو جس بہتر نام سے پکارو و ہ اسی کا نام ہے۔ اسی طرح عبادت کے بارے میں فرمایا کہ خدا کی عبادت کی ادائگی کا انحصار نہ زور سے بولنے پر ہے اور نہ دھیرے بولنے پر۔ تم عبادت کی اصل روح اپنے اندر پیدا کرو اور ا س کی ادائيگی میں اعتدال سے کام لو۔
عبادت کی روح یہ ہے کہ اللہ کی بڑائی کا کامل احساس آدمی کے اندر پیدا ہو جائے۔ اللہ پر ایمان اس کے لیے ایسی کامل اور عظیم ہستی کی دریافت کے ہم معنی بن جائے جس کو کسی سے مدد لینے کی ضرورت نہ ہو، جس کا کوئی شریک اور برابر نہ ہو۔ جس پر کبھی کوئی ایسا حادثہ نہ گزرتا ہو جب کہ وہ کسی کی مدد کا محتاج ہو۔ یہ یافت جب لفظوں کی صورت میں ڈھل کر زبان سے نکلنے لگے تو اسی کا نام تکبیر ہے۔
الإسراء 17:111
جو لوگ سچائی کو گہرائی کے ساتھ پائے ہوئے نہیں ہوتے۔ وہ ہمیشہ ظاہری چیزوں میں الجھے رہتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ خدا کو اِس لفظ سے پکارنا افضل ہے اور کوئی کہتا ہے کہ اُس لفظ سے۔ کوئی کہتا ہے کہ فلاں عبادتی فعل زور سے ادا کرنا چاہیے اور کوئی کہتا ہے کہ دھیرے دھیرے سے۔
عرب میں بھی اس قسم کی بحثیں مختلف اندازسے جاری تھیں ۔ فرمایا کہ خدا کو جس بہتر نام سے پکارو و ہ اسی کا نام ہے۔ اسی طرح عبادت کے بارے میں فرمایا کہ خدا کی عبادت کی ادائگی کا انحصار نہ زور سے بولنے پر ہے اور نہ دھیرے بولنے پر۔ تم عبادت کی اصل روح اپنے اندر پیدا کرو اور ا س کی ادائيگی میں اعتدال سے کام لو۔
عبادت کی روح یہ ہے کہ اللہ کی بڑائی کا کامل احساس آدمی کے اندر پیدا ہو جائے۔ اللہ پر ایمان اس کے لیے ایسی کامل اور عظیم ہستی کی دریافت کے ہم معنی بن جائے جس کو کسی سے مدد لینے کی ضرورت نہ ہو، جس کا کوئی شریک اور برابر نہ ہو۔ جس پر کبھی کوئی ایسا حادثہ نہ گزرتا ہو جب کہ وہ کسی کی مدد کا محتاج ہو۔ یہ یافت جب لفظوں کی صورت میں ڈھل کر زبان سے نکلنے لگے تو اسی کا نام تکبیر ہے۔
الكهف 18:1
قرآن پچھلی آسمانی کتابوں کا تصحیح شدہ اڈیشن(corrected version)ہے۔ پچھلی کتابوں میںیہ ہوا کہ بعد کے لوگوں نے موشگافیاں کرکے خدائی تعلیمات کو پُر پیچ بنا دیا۔ دوسرے یہ کہ خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ ابتدائی تعلیم میں انحراف پیدا کیا گیا اور اس طرح اس کے رخ کو بدل دیاگیا۔ قرآن ان دونوں قسم کی انسانی آمیزشوں سے پاک ہے۔ اس میں ایک طرف اصل دین اپنی فطری سادگی کے ساتھ موجود ہے۔ دوسری طرف اس کا رخ سیدھا خدا کی طرف ہے، جیسا کہ باعتبار واقعہ ہونا چاہیے۔
خدا نے یہ اہتمام کیوں کیا کہ وہ دنیا والوں کے پاس اپنی کتاب بھیجے۔ اس کا مقصد لوگوں کو خدا کی اسکیم سے آگاہ کرنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس دنیا میں امتحان کی غرض سے آباد کیا ہے۔ اس کے بعد وہ ہر ایک کا حساب لے گا۔ اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق یا تو جہنم میں ڈالے گا یا جنت کے ابدی باغوں میں بسائے گا۔ خدا چاہتاہے کہ ہرآدمی مو ت سے پہلے اس مسئلہ سے باخبر ہوجائے تاکہ کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔
دنیا میں انسان کی گمراہی کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا سہارا بنا لیتاہے۔ اسی کی ایک قبیح صورت کسی کو خدا کا بیٹا فرض کرلینا ہے۔ مگر اس قسم کا ہر عقیدہ صرف ایک جھوٹ ہے کیوں کہ زمین وآسمان میں خدا کے سوا کوئی نہیں جس کو کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل ہو۔
الكهف 18:2
قرآن پچھلی آسمانی کتابوں کا تصحیح شدہ اڈیشن(corrected version)ہے۔ پچھلی کتابوں میںیہ ہوا کہ بعد کے لوگوں نے موشگافیاں کرکے خدائی تعلیمات کو پُر پیچ بنا دیا۔ دوسرے یہ کہ خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ ابتدائی تعلیم میں انحراف پیدا کیا گیا اور اس طرح اس کے رخ کو بدل دیاگیا۔ قرآن ان دونوں قسم کی انسانی آمیزشوں سے پاک ہے۔ اس میں ایک طرف اصل دین اپنی فطری سادگی کے ساتھ موجود ہے۔ دوسری طرف اس کا رخ سیدھا خدا کی طرف ہے، جیسا کہ باعتبار واقعہ ہونا چاہیے۔
خدا نے یہ اہتمام کیوں کیا کہ وہ دنیا والوں کے پاس اپنی کتاب بھیجے۔ اس کا مقصد لوگوں کو خدا کی اسکیم سے آگاہ کرنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس دنیا میں امتحان کی غرض سے آباد کیا ہے۔ اس کے بعد وہ ہر ایک کا حساب لے گا۔ اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق یا تو جہنم میں ڈالے گا یا جنت کے ابدی باغوں میں بسائے گا۔ خدا چاہتاہے کہ ہرآدمی مو ت سے پہلے اس مسئلہ سے باخبر ہوجائے تاکہ کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔
دنیا میں انسان کی گمراہی کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا سہارا بنا لیتاہے۔ اسی کی ایک قبیح صورت کسی کو خدا کا بیٹا فرض کرلینا ہے۔ مگر اس قسم کا ہر عقیدہ صرف ایک جھوٹ ہے کیوں کہ زمین وآسمان میں خدا کے سوا کوئی نہیں جس کو کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل ہو۔
الكهف 18:3
قرآن پچھلی آسمانی کتابوں کا تصحیح شدہ اڈیشن(corrected version)ہے۔ پچھلی کتابوں میںیہ ہوا کہ بعد کے لوگوں نے موشگافیاں کرکے خدائی تعلیمات کو پُر پیچ بنا دیا۔ دوسرے یہ کہ خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ ابتدائی تعلیم میں انحراف پیدا کیا گیا اور اس طرح اس کے رخ کو بدل دیاگیا۔ قرآن ان دونوں قسم کی انسانی آمیزشوں سے پاک ہے۔ اس میں ایک طرف اصل دین اپنی فطری سادگی کے ساتھ موجود ہے۔ دوسری طرف اس کا رخ سیدھا خدا کی طرف ہے، جیسا کہ باعتبار واقعہ ہونا چاہیے۔
خدا نے یہ اہتمام کیوں کیا کہ وہ دنیا والوں کے پاس اپنی کتاب بھیجے۔ اس کا مقصد لوگوں کو خدا کی اسکیم سے آگاہ کرنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس دنیا میں امتحان کی غرض سے آباد کیا ہے۔ اس کے بعد وہ ہر ایک کا حساب لے گا۔ اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق یا تو جہنم میں ڈالے گا یا جنت کے ابدی باغوں میں بسائے گا۔ خدا چاہتاہے کہ ہرآدمی مو ت سے پہلے اس مسئلہ سے باخبر ہوجائے تاکہ کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔
دنیا میں انسان کی گمراہی کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا سہارا بنا لیتاہے۔ اسی کی ایک قبیح صورت کسی کو خدا کا بیٹا فرض کرلینا ہے۔ مگر اس قسم کا ہر عقیدہ صرف ایک جھوٹ ہے کیوں کہ زمین وآسمان میں خدا کے سوا کوئی نہیں جس کو کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل ہو۔
الكهف 18:4
قرآن پچھلی آسمانی کتابوں کا تصحیح شدہ اڈیشن(corrected version)ہے۔ پچھلی کتابوں میںیہ ہوا کہ بعد کے لوگوں نے موشگافیاں کرکے خدائی تعلیمات کو پُر پیچ بنا دیا۔ دوسرے یہ کہ خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ ابتدائی تعلیم میں انحراف پیدا کیا گیا اور اس طرح اس کے رخ کو بدل دیاگیا۔ قرآن ان دونوں قسم کی انسانی آمیزشوں سے پاک ہے۔ اس میں ایک طرف اصل دین اپنی فطری سادگی کے ساتھ موجود ہے۔ دوسری طرف اس کا رخ سیدھا خدا کی طرف ہے، جیسا کہ باعتبار واقعہ ہونا چاہیے۔
خدا نے یہ اہتمام کیوں کیا کہ وہ دنیا والوں کے پاس اپنی کتاب بھیجے۔ اس کا مقصد لوگوں کو خدا کی اسکیم سے آگاہ کرنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس دنیا میں امتحان کی غرض سے آباد کیا ہے۔ اس کے بعد وہ ہر ایک کا حساب لے گا۔ اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق یا تو جہنم میں ڈالے گا یا جنت کے ابدی باغوں میں بسائے گا۔ خدا چاہتاہے کہ ہرآدمی مو ت سے پہلے اس مسئلہ سے باخبر ہوجائے تاکہ کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔
دنیا میں انسان کی گمراہی کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا سہارا بنا لیتاہے۔ اسی کی ایک قبیح صورت کسی کو خدا کا بیٹا فرض کرلینا ہے۔ مگر اس قسم کا ہر عقیدہ صرف ایک جھوٹ ہے کیوں کہ زمین وآسمان میں خدا کے سوا کوئی نہیں جس کو کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل ہو۔
الكهف 18:5
قرآن پچھلی آسمانی کتابوں کا تصحیح شدہ اڈیشن(corrected version)ہے۔ پچھلی کتابوں میںیہ ہوا کہ بعد کے لوگوں نے موشگافیاں کرکے خدائی تعلیمات کو پُر پیچ بنا دیا۔ دوسرے یہ کہ خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ ابتدائی تعلیم میں انحراف پیدا کیا گیا اور اس طرح اس کے رخ کو بدل دیاگیا۔ قرآن ان دونوں قسم کی انسانی آمیزشوں سے پاک ہے۔ اس میں ایک طرف اصل دین اپنی فطری سادگی کے ساتھ موجود ہے۔ دوسری طرف اس کا رخ سیدھا خدا کی طرف ہے، جیسا کہ باعتبار واقعہ ہونا چاہیے۔
خدا نے یہ اہتمام کیوں کیا کہ وہ دنیا والوں کے پاس اپنی کتاب بھیجے۔ اس کا مقصد لوگوں کو خدا کی اسکیم سے آگاہ کرنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس دنیا میں امتحان کی غرض سے آباد کیا ہے۔ اس کے بعد وہ ہر ایک کا حساب لے گا۔ اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق یا تو جہنم میں ڈالے گا یا جنت کے ابدی باغوں میں بسائے گا۔ خدا چاہتاہے کہ ہرآدمی مو ت سے پہلے اس مسئلہ سے باخبر ہوجائے تاکہ کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔
دنیا میں انسان کی گمراہی کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا سہارا بنا لیتاہے۔ اسی کی ایک قبیح صورت کسی کو خدا کا بیٹا فرض کرلینا ہے۔ مگر اس قسم کا ہر عقیدہ صرف ایک جھوٹ ہے کیوں کہ زمین وآسمان میں خدا کے سوا کوئی نہیں جس کو کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل ہو۔
الكهف 18:6
شاید تم اپنے کو ہلاک کرڈالو گے— یہ جملہ بتاتا ہے کہ داعی اگر دعوت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتو شدت احساس سے اس کا کیا حال ہوجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوتِ حق کا اتمام اس انتہا پر پہنچ کر ہوتا ہے جب یہ کہا جانے لگے کہ داعی شاید اس غم میں اپنے کو ہلاک کرلے گا کہ لوگ حق کی دعوت کو قبول نہیں کر رہے ہیں۔
ایک دعوت جو دلیل کے اعتبار سے انتہائی واضح ہو، جس کو پیش کرنے والا درد مندی کی آخری حد پر پہنچ کر اس کو لوگوں کے لیے سنجیدہ غور وفکر کا موضوع بنا دے، اس کے باوجود لوگ اسے نہ مانیں تو اس نہ ماننے کی وجہ کیا ہوتی ہے۔ اس کی وجہ دنیا کی دل فریبیاں ہیں۔ موجودہ دنیا اتني پُر کشش ہے کہ آدمی اس سے اوپر اٹھ نہیں پاتا۔ اس لیے وہ ایسی دعوت کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتا جو اس کی توجہات کو سامنے کی دنیا سے ہٹا کر اس دنیا کی طرف لے جار ہی ہے جس کی رونقیں بظاہر دکھائی نہیں دیتیں۔
مگر زمین کی دل فریبیاں انتہائی عارضی ہیں۔ وہ امتحان کی ایک مقرر مدت تک ہیں۔ اس کے بعد زمین کی یہ حیثیت ختم کردی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ صحراکی طرح بس ایک خشک میدان ہو کر رہ جائے گی۔
الكهف 18:7
شاید تم اپنے کو ہلاک کرڈالو گے— یہ جملہ بتاتا ہے کہ داعی اگر دعوت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتو شدت احساس سے اس کا کیا حال ہوجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوتِ حق کا اتمام اس انتہا پر پہنچ کر ہوتا ہے جب یہ کہا جانے لگے کہ داعی شاید اس غم میں اپنے کو ہلاک کرلے گا کہ لوگ حق کی دعوت کو قبول نہیں کر رہے ہیں۔
ایک دعوت جو دلیل کے اعتبار سے انتہائی واضح ہو، جس کو پیش کرنے والا درد مندی کی آخری حد پر پہنچ کر اس کو لوگوں کے لیے سنجیدہ غور وفکر کا موضوع بنا دے، اس کے باوجود لوگ اسے نہ مانیں تو اس نہ ماننے کی وجہ کیا ہوتی ہے۔ اس کی وجہ دنیا کی دل فریبیاں ہیں۔ موجودہ دنیا اتني پُر کشش ہے کہ آدمی اس سے اوپر اٹھ نہیں پاتا۔ اس لیے وہ ایسی دعوت کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتا جو اس کی توجہات کو سامنے کی دنیا سے ہٹا کر اس دنیا کی طرف لے جار ہی ہے جس کی رونقیں بظاہر دکھائی نہیں دیتیں۔
مگر زمین کی دل فریبیاں انتہائی عارضی ہیں۔ وہ امتحان کی ایک مقرر مدت تک ہیں۔ اس کے بعد زمین کی یہ حیثیت ختم کردی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ صحراکی طرح بس ایک خشک میدان ہو کر رہ جائے گی۔
الكهف 18:8
شاید تم اپنے کو ہلاک کرڈالو گے— یہ جملہ بتاتا ہے کہ داعی اگر دعوت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتو شدت احساس سے اس کا کیا حال ہوجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوتِ حق کا اتمام اس انتہا پر پہنچ کر ہوتا ہے جب یہ کہا جانے لگے کہ داعی شاید اس غم میں اپنے کو ہلاک کرلے گا کہ لوگ حق کی دعوت کو قبول نہیں کر رہے ہیں۔
ایک دعوت جو دلیل کے اعتبار سے انتہائی واضح ہو، جس کو پیش کرنے والا درد مندی کی آخری حد پر پہنچ کر اس کو لوگوں کے لیے سنجیدہ غور وفکر کا موضوع بنا دے، اس کے باوجود لوگ اسے نہ مانیں تو اس نہ ماننے کی وجہ کیا ہوتی ہے۔ اس کی وجہ دنیا کی دل فریبیاں ہیں۔ موجودہ دنیا اتني پُر کشش ہے کہ آدمی اس سے اوپر اٹھ نہیں پاتا۔ اس لیے وہ ایسی دعوت کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتا جو اس کی توجہات کو سامنے کی دنیا سے ہٹا کر اس دنیا کی طرف لے جار ہی ہے جس کی رونقیں بظاہر دکھائی نہیں دیتیں۔
مگر زمین کی دل فریبیاں انتہائی عارضی ہیں۔ وہ امتحان کی ایک مقرر مدت تک ہیں۔ اس کے بعد زمین کی یہ حیثیت ختم کردی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ صحراکی طرح بس ایک خشک میدان ہو کر رہ جائے گی۔
الكهف 18:9
اصحاب کہف کا واقعہ ایک علامتی واقعہ ہے، جو بتاتا ہے کہ سچے اہل ایمان کی زندگی میں کس قسم کے مراحل پیش آتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان بعض اوقات حالات کی شدت کی بنا پر کسی ’’غار‘‘ میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مگر یہ غار جو بظاہر ان کے لیے ایک قبر تھا، وہاں سے زندگی اور حرکت کا ایک نیا سیلاب پھوٹ پڑتا ہے۔ ان کے مخالفین نے جہاں ان کی تاریخ ختم کردینی چاہی تھی وہیں سے دوبارہ ان کے لیے ایک نئی تاریخ شروع ہوجاتی ہے۔
کہف والے اگر وہی ہیں جو مسیحی تاریخ میں سات سونے والے (seven sleepers) کہے جاتے ہیں تو یہ قصہ شہر افیسس (Ephesus) سے تعلق رکھتاہے۔یہ قدیم زمانے کا ایک مشہور شہر ہے۔ جو ترکی کے مغربی ساحل پر واقع تھا اور جس کے پُرعظمت کھنڈر آج بھی وہاں پائے جاتے ہیں۔ 249-251 ء میں اس علاقے میں رومی حکمراں ڈیسیس (Desius)کی حکومت تھی۔ یہاں بت پرستی کا زور تھا۔ اور چاند کو معبود قرار دے کر اسے پوجا جاتا تھا۔ اس زمانہ میں حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں کے ذریعہ یہاں توحید کی دعوت پہنچی اور پھیلنے لگی۔ رومی حکمراں جو خود بھی بت پرست تھا، مذہبِ توحید کی اشاعت کو برداشت نہ کرسکا اور حضرت مسیح کے پیروؤں پر سختیاں کرنے لگا۔ مذکورہ اصحاب کہف افیسس کے اعلیٰ گھرانوں کے سات نوجوان تھے جنھوں نے غالباً 250 ء میں مذہبِ توحید کو قبول کرلیا۔ اور ا س کے مبلغ بن گئے۔ حکومت کی طرف سے ان کی داروگیر ہوئی تو وہ شہر سے نکل کر قریب کے ایک پہاڑ کی طرف چلے گئے اور وہاں ایک بڑے غار میں چھپ گئے۔
اصحابِ رقیم غالباً انھیں اصحابِ کہف کا دوسرا نام ہے۔ رقیم کے معنی مرقوم کے ہیں، یعنی لکھی ہوئی چیز۔ کہا جاتا ہے کہ اعلیٰ خاندانوں کے مذکورہ سات نوجوان جب لا پتہ ہوگئے تو بادشاہ کے حکم سے ان کے نام اور حالات ایک سیسہ کی تختی پر لکھ کر شاہی خزانہ میں رکھ دئے گئے،اس بنا پر ان کا دوسرا نام اصحاب رقیم (تختی والے) پڑ گیا (تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ
139
)
الكهف 18:10
اصحاب کہف کا واقعہ ایک علامتی واقعہ ہے، جو بتاتا ہے کہ سچے اہل ایمان کی زندگی میں کس قسم کے مراحل پیش آتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان بعض اوقات حالات کی شدت کی بنا پر کسی ’’غار‘‘ میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مگر یہ غار جو بظاہر ان کے لیے ایک قبر تھا، وہاں سے زندگی اور حرکت کا ایک نیا سیلاب پھوٹ پڑتا ہے۔ ان کے مخالفین نے جہاں ان کی تاریخ ختم کردینی چاہی تھی وہیں سے دوبارہ ان کے لیے ایک نئی تاریخ شروع ہوجاتی ہے۔
کہف والے اگر وہی ہیں جو مسیحی تاریخ میں سات سونے والے (seven sleepers) کہے جاتے ہیں تو یہ قصہ شہر افیسس (Ephesus) سے تعلق رکھتاہے۔یہ قدیم زمانے کا ایک مشہور شہر ہے۔ جو ترکی کے مغربی ساحل پر واقع تھا اور جس کے پُرعظمت کھنڈر آج بھی وہاں پائے جاتے ہیں۔ 249-251 ء میں اس علاقے میں رومی حکمراں ڈیسیس (Desius)کی حکومت تھی۔ یہاں بت پرستی کا زور تھا۔ اور چاند کو معبود قرار دے کر اسے پوجا جاتا تھا۔ اس زمانہ میں حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں کے ذریعہ یہاں توحید کی دعوت پہنچی اور پھیلنے لگی۔ رومی حکمراں جو خود بھی بت پرست تھا، مذہبِ توحید کی اشاعت کو برداشت نہ کرسکا اور حضرت مسیح کے پیروؤں پر سختیاں کرنے لگا۔ مذکورہ اصحاب کہف افیسس کے اعلیٰ گھرانوں کے سات نوجوان تھے جنھوں نے غالباً 250 ء میں مذہبِ توحید کو قبول کرلیا۔ اور ا س کے مبلغ بن گئے۔ حکومت کی طرف سے ان کی داروگیر ہوئی تو وہ شہر سے نکل کر قریب کے ایک پہاڑ کی طرف چلے گئے اور وہاں ایک بڑے غار میں چھپ گئے۔
اصحابِ رقیم غالباً انھیں اصحابِ کہف کا دوسرا نام ہے۔ رقیم کے معنی مرقوم کے ہیں، یعنی لکھی ہوئی چیز۔ کہا جاتا ہے کہ اعلیٰ خاندانوں کے مذکورہ سات نوجوان جب لا پتہ ہوگئے تو بادشاہ کے حکم سے ان کے نام اور حالات ایک سیسہ کی تختی پر لکھ کر شاہی خزانہ میں رکھ دئے گئے،اس بنا پر ان کا دوسرا نام اصحاب رقیم (تختی والے) پڑ گیا (تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ
139
)
الكهف 18:11
اصحاب کہف کا واقعہ ایک علامتی واقعہ ہے، جو بتاتا ہے کہ سچے اہل ایمان کی زندگی میں کس قسم کے مراحل پیش آتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان بعض اوقات حالات کی شدت کی بنا پر کسی ’’غار‘‘ میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مگر یہ غار جو بظاہر ان کے لیے ایک قبر تھا، وہاں سے زندگی اور حرکت کا ایک نیا سیلاب پھوٹ پڑتا ہے۔ ان کے مخالفین نے جہاں ان کی تاریخ ختم کردینی چاہی تھی وہیں سے دوبارہ ان کے لیے ایک نئی تاریخ شروع ہوجاتی ہے۔
کہف والے اگر وہی ہیں جو مسیحی تاریخ میں سات سونے والے (seven sleepers) کہے جاتے ہیں تو یہ قصہ شہر افیسس (Ephesus) سے تعلق رکھتاہے۔یہ قدیم زمانے کا ایک مشہور شہر ہے۔ جو ترکی کے مغربی ساحل پر واقع تھا اور جس کے پُرعظمت کھنڈر آج بھی وہاں پائے جاتے ہیں۔ 249-251 ء میں اس علاقے میں رومی حکمراں ڈیسیس (Desius)کی حکومت تھی۔ یہاں بت پرستی کا زور تھا۔ اور چاند کو معبود قرار دے کر اسے پوجا جاتا تھا۔ اس زمانہ میں حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں کے ذریعہ یہاں توحید کی دعوت پہنچی اور پھیلنے لگی۔ رومی حکمراں جو خود بھی بت پرست تھا، مذہبِ توحید کی اشاعت کو برداشت نہ کرسکا اور حضرت مسیح کے پیروؤں پر سختیاں کرنے لگا۔ مذکورہ اصحاب کہف افیسس کے اعلیٰ گھرانوں کے سات نوجوان تھے جنھوں نے غالباً 250 ء میں مذہبِ توحید کو قبول کرلیا۔ اور ا س کے مبلغ بن گئے۔ حکومت کی طرف سے ان کی داروگیر ہوئی تو وہ شہر سے نکل کر قریب کے ایک پہاڑ کی طرف چلے گئے اور وہاں ایک بڑے غار میں چھپ گئے۔
اصحابِ رقیم غالباً انھیں اصحابِ کہف کا دوسرا نام ہے۔ رقیم کے معنی مرقوم کے ہیں، یعنی لکھی ہوئی چیز۔ کہا جاتا ہے کہ اعلیٰ خاندانوں کے مذکورہ سات نوجوان جب لا پتہ ہوگئے تو بادشاہ کے حکم سے ان کے نام اور حالات ایک سیسہ کی تختی پر لکھ کر شاہی خزانہ میں رکھ دئے گئے،اس بنا پر ان کا دوسرا نام اصحاب رقیم (تختی والے) پڑ گیا (تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ
139
)
الكهف 18:12
اصحاب کہف کا واقعہ ایک علامتی واقعہ ہے، جو بتاتا ہے کہ سچے اہل ایمان کی زندگی میں کس قسم کے مراحل پیش آتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان بعض اوقات حالات کی شدت کی بنا پر کسی ’’غار‘‘ میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مگر یہ غار جو بظاہر ان کے لیے ایک قبر تھا، وہاں سے زندگی اور حرکت کا ایک نیا سیلاب پھوٹ پڑتا ہے۔ ان کے مخالفین نے جہاں ان کی تاریخ ختم کردینی چاہی تھی وہیں سے دوبارہ ان کے لیے ایک نئی تاریخ شروع ہوجاتی ہے۔
کہف والے اگر وہی ہیں جو مسیحی تاریخ میں سات سونے والے (seven sleepers) کہے جاتے ہیں تو یہ قصہ شہر افیسس (Ephesus) سے تعلق رکھتاہے۔یہ قدیم زمانے کا ایک مشہور شہر ہے۔ جو ترکی کے مغربی ساحل پر واقع تھا اور جس کے پُرعظمت کھنڈر آج بھی وہاں پائے جاتے ہیں۔ 249-251 ء میں اس علاقے میں رومی حکمراں ڈیسیس (Desius)کی حکومت تھی۔ یہاں بت پرستی کا زور تھا۔ اور چاند کو معبود قرار دے کر اسے پوجا جاتا تھا۔ اس زمانہ میں حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں کے ذریعہ یہاں توحید کی دعوت پہنچی اور پھیلنے لگی۔ رومی حکمراں جو خود بھی بت پرست تھا، مذہبِ توحید کی اشاعت کو برداشت نہ کرسکا اور حضرت مسیح کے پیروؤں پر سختیاں کرنے لگا۔ مذکورہ اصحاب کہف افیسس کے اعلیٰ گھرانوں کے سات نوجوان تھے جنھوں نے غالباً 250 ء میں مذہبِ توحید کو قبول کرلیا۔ اور ا س کے مبلغ بن گئے۔ حکومت کی طرف سے ان کی داروگیر ہوئی تو وہ شہر سے نکل کر قریب کے ایک پہاڑ کی طرف چلے گئے اور وہاں ایک بڑے غار میں چھپ گئے۔
اصحابِ رقیم غالباً انھیں اصحابِ کہف کا دوسرا نام ہے۔ رقیم کے معنی مرقوم کے ہیں، یعنی لکھی ہوئی چیز۔ کہا جاتا ہے کہ اعلیٰ خاندانوں کے مذکورہ سات نوجوان جب لا پتہ ہوگئے تو بادشاہ کے حکم سے ان کے نام اور حالات ایک سیسہ کی تختی پر لکھ کر شاہی خزانہ میں رکھ دئے گئے،اس بنا پر ان کا دوسرا نام اصحاب رقیم (تختی والے) پڑ گیا (تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ
139
)
الكهف 18:13
’’یہ لوگ واضح دلیل کیوں نہیں لاتے‘‘ —اس جملہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد ان نوجوانوں اور قوم کے بڑے لوگوں کے درمیان ایک مدت تک بحث وگفتگو رہی۔ مگر اس درمیان میں ان بڑوںکی طرف سے جو باتیں کہی گئیں ان میں شرک کے حق میں کوئی واضح دلیل نہ تھی۔ اس تجربہ نے ان توحید پرست نوجوانوں کے یقین کواور زیادہ بڑھا دیا۔ ان کے لیے ناممکن ہوگیا کہ غیر ثابت شدہ چیز کی خاطر ثابت شدہ چیز کو ترک کردیں۔
مذکورہ مخالفت کے بعد اگر وہ بڑوں کی بڑائی کواہمیت دیتے تو وہ بے یقینی اور تذبذب کا شکار ہوجاتے۔ مگر جب انھوںنے دلیل اور برہان کو اہمیت دی تو اس نے ان کے یقین میں اور اضافہ کردیا۔ کیوں كه دلیل اور برہان کے اعتبار سے یہ بڑے انھیں بالکل چھوٹے نظر آئے۔ اپنی تمام ظاہری عظمتوں کے باوجود وہ لوگ جھوٹ کی زمین پر کھڑے ہوئے ملے، نہ کہ سچ کی زمین پر۔
الكهف 18:14
’’یہ لوگ واضح دلیل کیوں نہیں لاتے‘‘ —اس جملہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد ان نوجوانوں اور قوم کے بڑے لوگوں کے درمیان ایک مدت تک بحث وگفتگو رہی۔ مگر اس درمیان میں ان بڑوںکی طرف سے جو باتیں کہی گئیں ان میں شرک کے حق میں کوئی واضح دلیل نہ تھی۔ اس تجربہ نے ان توحید پرست نوجوانوں کے یقین کواور زیادہ بڑھا دیا۔ ان کے لیے ناممکن ہوگیا کہ غیر ثابت شدہ چیز کی خاطر ثابت شدہ چیز کو ترک کردیں۔
مذکورہ مخالفت کے بعد اگر وہ بڑوں کی بڑائی کواہمیت دیتے تو وہ بے یقینی اور تذبذب کا شکار ہوجاتے۔ مگر جب انھوںنے دلیل اور برہان کو اہمیت دی تو اس نے ان کے یقین میں اور اضافہ کردیا۔ کیوں كه دلیل اور برہان کے اعتبار سے یہ بڑے انھیں بالکل چھوٹے نظر آئے۔ اپنی تمام ظاہری عظمتوں کے باوجود وہ لوگ جھوٹ کی زمین پر کھڑے ہوئے ملے، نہ کہ سچ کی زمین پر۔
الكهف 18:15
’’یہ لوگ واضح دلیل کیوں نہیں لاتے‘‘ —اس جملہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد ان نوجوانوں اور قوم کے بڑے لوگوں کے درمیان ایک مدت تک بحث وگفتگو رہی۔ مگر اس درمیان میں ان بڑوںکی طرف سے جو باتیں کہی گئیں ان میں شرک کے حق میں کوئی واضح دلیل نہ تھی۔ اس تجربہ نے ان توحید پرست نوجوانوں کے یقین کواور زیادہ بڑھا دیا۔ ان کے لیے ناممکن ہوگیا کہ غیر ثابت شدہ چیز کی خاطر ثابت شدہ چیز کو ترک کردیں۔
مذکورہ مخالفت کے بعد اگر وہ بڑوں کی بڑائی کواہمیت دیتے تو وہ بے یقینی اور تذبذب کا شکار ہوجاتے۔ مگر جب انھوںنے دلیل اور برہان کو اہمیت دی تو اس نے ان کے یقین میں اور اضافہ کردیا۔ کیوں كه دلیل اور برہان کے اعتبار سے یہ بڑے انھیں بالکل چھوٹے نظر آئے۔ اپنی تمام ظاہری عظمتوں کے باوجود وہ لوگ جھوٹ کی زمین پر کھڑے ہوئے ملے، نہ کہ سچ کی زمین پر۔
الكهف 18:16
بندہ جب حق کی خاطر انسانوں سے کٹتا ہے تو عین اسی وقت وہ خدا سے جڑ جاتاہے۔ حتی کہ وہ اپنے رب سے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ اس سے اس کی سرگوشیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ وہ اپنے رب سے کلام کرتاہے اور اس سے اس کا جواب پاتا ہے۔
اصحابِ کہف کا نومسلمانہ یقین، ان کی بے خوف تبلیغ، ان کا سب کچھ چھوڑنے پر راضی ہوجانا مگر حق کونہ چھوڑنا، ان چیزوں نے ان کو قربت خداوندی کا اعلیٰ مقام عطا کردیا تھا۔ وہ بظاہر جو کچھ کھورہے تھے، اس سے زیادہ بڑی چیز ان کے لیے وہ تھی جس کو انھوں نے پایا تھا۔ یہی یافت کا وہ احساس تھا جس نے انھیں آمادہ کیا کہ وہ ہر دوسری چیز کی محرومی گوارا کرلیں مگر حق سے محرومی کو گوارا نہ کریں۔ وہ اس پر راضی ہوگئے کہ وہ اپنے گھر اور شہر کو چھوڑ کر غار میں چلے جائیں اور پھر بھی ان کی یہ امید باقی رہے کہ ان کا خدا ضرور ان کی مدد کرے گا اور ان کے حالات کو درست کردے گا۔
ابنِ جریر نے عطا کے حوالے سے ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ ان کی تعداد سات تھی۔ وہ غار میں داخل ہو کر عبادت کرتے رہتے اور روتے اور اللہ سے مدد مانگتے (تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ
148
)، یہاںتک کہ بالآخر خدانے ان پر لمبی نیند طاری کردی۔
الكهف 18:17
دعوتی دور میں جب اصحاب کہف اور ان کی قوم کے لوگوں کے درمیان کش مکش بڑھی، اسی دوران میں غالباً انھوںنے امکانی اندیشہ کے پیش نظر ایک مخصوص غار کا انتخاب کرلیا تھا۔ یہ غار اتنا وسیع تھا کہ سات آدمی بآسانی اس کے اندر قیام کرسکیں۔مزید یہ کہ غالباً وہ شمال رُویہ تھا۔ اس بنا پر سورج کی روشنی صبح یا شام کسی وقت بھی براہِ راست اس کے اندر نہیں پہنچتی تھی اور ادھر سے گزرنے والا کوئی شخص باہر سے دیکھ کر یہ نہیں جان سکتا تھا کہ اس کے اندر کچھ انسان موجود ہیں۔
جب آدمی ایسا کرے کہ حق کے معاملے میں مصلحت کا رویہ نہ اختیار کرے۔ مشکل ترین حالات میں بھی وہ صبر وشکر کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ رہے تو خدا اس کو ایسے راستوں کی طرف رہنمائی فرماتا ہے جس میںاس کا ایمان بھی محفوظ رہے اور وہ اپنے دعوتی مشن کو بھی نہ کھوئے۔ یہ نصرت اصحابِ کہف کو ان کے مخصوص حالات کے اعتبار سے پوری طرح حاصل ہوئی۔
مزید یہ کہ خدا نے ان کو اپنے خاص کام کے لیے چن لیا۔ انھوںنے جس روحانی بلندی کا ثبوت دیا تھا اس کے بعد وہ خدا کی نظر میں اس قابل ہوگئے کہ ان کو زندگی بعد موت کا حسی ثبوت بنادیا جائے— اصحاب کہف کا دو سوسال (يا اس سے زياده مدّت) تک سوکر دوبارہ اٹھنا اسی نوعیت کا ایک واقعہ ہے۔
الكهف 18:18
اللہ تعالیٰ نے ایک طرف یہ کیا کہ اصحابِ کہف پر مسلسل نیند طاری کردی۔ اسی کے ساتھ ان کی حفاظت کے مختلف انتظامات فرما دیے۔ مثلاً وہ برابر کروٹیں لیتے رہتے تھے۔ کیوں کہ حضرت ابن عباس کے الفاظ میں، اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کا جسم زمین کھا جاتی(لَوْ أَنَّهُمْ لَا يُقَلَّبُونَ لَأَكَلَتْهُمُ الْأَرْضُ)تفسیر الطبری، جلد
15
، صفحہ
191
۔ ان کے غار کے دہانہ پر ایک کتا مسلسل بیٹھا رہا۔ یہ غالباً اس لیے تھا کہ کوئی انسان یا جانور اندر داخل نہ ہوسکے۔ مزید یہ کہ غار کے اندر خدا نے ایسا پُرہیبت ماحول بنا دیا تھا کہ کوئی شخص اگر جھانکنے کی کوشش کرے تو پہلی ہی نظر میں دہشت زدہ ہو کر بھاگ جائے۔
الكهف 18:19
اصحابِ کہف جب سوکر اٹھے تو قدرتی طورپر وہ آپس میں ذکر کرنے لگے کہ وہ کتنی مدت تک سوئے ہوں گے۔ مگر زمانہ خدا کے حکم کے تحت ان کے لیے ٹھہر گیا تھا۔ اس لیے جو مدت دوسروں کے لیے صدیوں میں پھیلی ہوئی تھی وہ اصحابِ کہف کو بس ایک دن کے برابر معلوم ہوئی۔
سو کر اٹھنے کے بعد انھیں بھوک کا احساس ہوا۔ ان کے پاس کچھ چاندی کے سکے تھے۔ انھوںنے اپنے میں سے ایک شخص کو ایک سکّہ لے کر بھیجا۔ غالباً ان کا خیال ہوگا کہ شہر کے جن حصوں میں عیسائی بستے ہوں گے وہاں حلال کھانا مل سکے گا۔ اس لیے انھوںنے کہا کہ تلاش کرکے پاکیزہ کھانا لے آنا۔ نیز انھوںنے تاکید کی کہ سارا معاملہ نہایت خوش تدبیری سے انجام دینا۔ کیوں کہ سابقہ تجربہ کی بنا پر انھیں اندیشہ تھا کہ اگر وہ لوگ ہم سے باخبر ہوجائیں گے تو وہ ہمیں دوبارہ بت پرست بنانے کی کوشش کریں گے۔اور جب ہم راضی نہ ہوں گے تو وہ ہم کو مار ڈالیں گے۔
الكهف 18:20
اصحابِ کہف جب سوکر اٹھے تو قدرتی طورپر وہ آپس میں ذکر کرنے لگے کہ وہ کتنی مدت تک سوئے ہوں گے۔ مگر زمانہ خدا کے حکم کے تحت ان کے لیے ٹھہر گیا تھا۔ اس لیے جو مدت دوسروں کے لیے صدیوں میں پھیلی ہوئی تھی وہ اصحابِ کہف کو بس ایک دن کے برابر معلوم ہوئی۔
سو کر اٹھنے کے بعد انھیں بھوک کا احساس ہوا۔ ان کے پاس کچھ چاندی کے سکے تھے۔ انھوںنے اپنے میں سے ایک شخص کو ایک سکّہ لے کر بھیجا۔ غالباً ان کا خیال ہوگا کہ شہر کے جن حصوں میں عیسائی بستے ہوں گے وہاں حلال کھانا مل سکے گا۔ اس لیے انھوںنے کہا کہ تلاش کرکے پاکیزہ کھانا لے آنا۔ نیز انھوںنے تاکید کی کہ سارا معاملہ نہایت خوش تدبیری سے انجام دینا۔ کیوں کہ سابقہ تجربہ کی بنا پر انھیں اندیشہ تھا کہ اگر وہ لوگ ہم سے باخبر ہوجائیں گے تو وہ ہمیں دوبارہ بت پرست بنانے کی کوشش کریں گے۔اور جب ہم راضی نہ ہوں گے تو وہ ہم کو مار ڈالیں گے۔
الكهف 18:21
انسان سو سال یا اس سے بھی کم مدّت موجودہ زمین پر زندگی گزار کر مر جاتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ مر کر باقی رہتا ہے اور دوبارہ ایک نئی دنیامیں اٹھتا ہے جہاں اس کے لیے یا ابدی راحت ہے یا ابدی عذاب۔
یہ انسان کا سب سے زیادہ سنگین مسئلہ ہے اور اس پر لوگوں کے درمیان ہمیشہ بحث جاری رہی ہے۔ اس کی اسی اہمیت کی بنا پر خدا نے ایسا کیا کہ عقلی دلیل کے ساتھ اس کے حق میں حسی دلیل کا بھی انتظام فرمایا، تاکہ ’’زندگی بعد موت‘‘ کے معاملہ میں کسی کے لیے اس کی گنجائش باقی نہ رہے۔ مختلف زمانوں میں یہ حسی دلیل مختلف انداز سے دکھائی جاتی رہی ہے۔ پانچویں صدی عیسوی میں اصحاب کہف کا ’’موت‘‘ کے بعد دوبارہ غار سے نکلنا اسی قسم کا ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ موجودہ زمانہ میں ما فوق سائنس (meta science) کی تحقیقات بھی غالباً اُسی نوعیت کی مثاليں ہیں، جن سے زندگی بعد موت کا نظریہ حسی معیار استدلال پر ثابت ہوتاہے۔
اصحاب کہف دو سوسال ( یا اس سے زیادہ مدت کے بعد) جب غار سے نکلے تو ان کے شہر کی دنیا بالکل بدل چکی تھی۔ غالباً 250 ء میں وہ اپنے شہر افیسس سے نکل کر غار میں گئے تھے۔ اس وقت اس علاقہ میں بت پرست حکمراں ڈیسیس کی حکومت تھی۔ اس درمیان میں مسیحی مبلغین کی کوششوں سے رومی بادشاہ قسطنطین (272-337) عیسائی ہوگیا اور اس کے بعد سارے رومی علاقہ میں عیسائی مذہب پھیل گیا۔
447
ء میں جب اصحاب کہف دوبارہ اپنے شہر میں واپس آئے تو ان کے شہر ميں عیسائیت کا غلبہ ہوچکا تھا۔
جب یہ ساتوں نوجوان غار سے باہر آئے اور شاہی خزانہ میں محفوظ ان کے نام کی تختی، نیز دوسرے قرائن سے تصدیق ہوگئی کہ یہ وہی نوجوان ہیں جو بت پرستی کے دور میں اپنے مسیحی عقائد کی خاطر شہر چھوڑ کر چلے گئے تھے تو وہ فوراً لوگوں کی عقیدت کا مرکز بن گئے۔ نیا رومی حکمراں تھیوڈوسیس خود ان سے ملنے او ر ان کی برکت لینے کے لیے پیدل چل کر ان کے پاس آیا،اور جب ان نوجوانوں کا انتقال ہوا تو ان کی یاد گار میں ان کے غار کے اوپر عبادت خانہ تعمیر کیاگیا۔
الكهف 18:22
اصحاب کہف کے بارہ میں کچھ لوگ غیر ضروری بحثوں میں مبتلا تھے۔ کسی نے کہا کہ ان کی تعداد تین تھی اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ کسی نے کہا کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ کسی نے کہا کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔
مگر اس قسم کی بحثیں مزاج کی خرابی کی علامت ہیں۔ جب دینی روح زندہ ہو تو سارا زور اصل حقیقت پر دیا جاتا ہے۔ اور جب قوم پر زوال آتا ہے تو اصل روح پس پشت چلی جاتی ہے اور ظاہری تفصیلات بحث و مناظرہ کا موضوع بن جاتی ہیں۔ سچے خدا پرست کو چاہیے کہ وہ ان بحثوں میں نہ پڑے بلکہ اگر کوئی دوسرا شخص اس قسم کے سوالات کرے تو اس کو اجمالی جواب دے کر گزر جائے۔
الكهف 18:23
قریش نے نضر بن حارث اور عقبہ بن معیط کو مدینہ بھیجا کہ وہ یہود سے مل کر محمد کے بارے میں پوچھیں۔ کیوں کہ وہ لوگ نبیوں کا علم رکھتے ہیں۔ دونوں مدینہ آئے اور علماء یہود سے کہا کہ ہم کو ہمارے آدمی کے بارے میں بتاؤ۔ انھوں نے کہا کہ تم لوگ ان سے تین چیزوں کے بارے میں پوچھو۔ اگر وہ تم کو ان کی بابت بتا دیں تو وہ پیغمبر ہیں۔ ورنہ وہ متقول (باتیں بنانے والے ) ہیں۔ ان میں سے ایک سوال اصحابِ کہف کے نوجوانوں کے بارے میں تھا۔ دوسرا ذوالقرنین کے بارے میں اور تیسرا روح کے بارے میں۔
پریس کے دور سے پہلے عام لوگوں کو اصحاب کہف کی بابت کچھ معلوم نہ تھا۔ یہ قصہ بعض سریانی مخطوطات میں درج تھا جس کی خبر صرف چند خاص علماء کو تھی۔ آپ کے سامنے یہ سوال آیا تو آپ نے فرمایا کہ تم نے جو بات پوچھی ہے اس کا جواب میں کل دوں گا (أُخْبِرُكُمْ بِمَا سَأَلْتُمْ عَنْهُ غَدًا)آپ کو امید تھی کہ کل تک جبریل آجائیں گے اور میں ان سے معلوم کرکے جواب دے دوں گا۔ مگر جبریل کے آنے میں تاخیر ہوئی۔ یہاں تک کہ وہ پندرہ دن کے بعد سورہ کہف لے کر آئے(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ
301
)۔
وحی میں اس تاخیر سے مکہ کے مخالفین کو موقع مل گیا۔ انھوںنے اس کو بنیاد بنا کر لوگوں کو آپ سے بد ظن کرنا شروع کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم ایک معمولی بات کو شوشہ بنا کر جس شخص کی صداقت سے لوگوں کو مشتبہ کرنا چاہتے ہو اس کی صداقت پر اس سے زیادہ یقینی اور اس سے زیادہ بڑی دلیلیں جمع ہونے والی ہیں (ان الله سيؤتيه من الحجج على صحة نبوته ما هو ادلّ من قصة اصحاب الكهف )التفسیر المظہری، جلد 6، صفحہ
27
۔
یہ بات آج واقعہ بن چکی ہے ، آج پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ صداقت پر اتنے دلائل جمع ہوچکے ہیں کہ کوئی ہوش مند آدمی اس سے انکار کی جرأت نہیں کرسکتا ۔ آپ کی نبوت آج ایک ثابت شدہ نبوت ہے، نہ کہ محض مدعیانہ نبوت۔
الكهف 18:24
قریش نے نضر بن حارث اور عقبہ بن معیط کو مدینہ بھیجا کہ وہ یہود سے مل کر محمد کے بارے میں پوچھیں۔ کیوں کہ وہ لوگ نبیوں کا علم رکھتے ہیں۔ دونوں مدینہ آئے اور علماء یہود سے کہا کہ ہم کو ہمارے آدمی کے بارے میں بتاؤ۔ انھوں نے کہا کہ تم لوگ ان سے تین چیزوں کے بارے میں پوچھو۔ اگر وہ تم کو ان کی بابت بتا دیں تو وہ پیغمبر ہیں۔ ورنہ وہ متقول (باتیں بنانے والے ) ہیں۔ ان میں سے ایک سوال اصحابِ کہف کے نوجوانوں کے بارے میں تھا۔ دوسرا ذوالقرنین کے بارے میں اور تیسرا روح کے بارے میں۔
پریس کے دور سے پہلے عام لوگوں کو اصحاب کہف کی بابت کچھ معلوم نہ تھا۔ یہ قصہ بعض سریانی مخطوطات میں درج تھا جس کی خبر صرف چند خاص علماء کو تھی۔ آپ کے سامنے یہ سوال آیا تو آپ نے فرمایا کہ تم نے جو بات پوچھی ہے اس کا جواب میں کل دوں گا (أُخْبِرُكُمْ بِمَا سَأَلْتُمْ عَنْهُ غَدًا)آپ کو امید تھی کہ کل تک جبریل آجائیں گے اور میں ان سے معلوم کرکے جواب دے دوں گا۔ مگر جبریل کے آنے میں تاخیر ہوئی۔ یہاں تک کہ وہ پندرہ دن کے بعد سورہ کہف لے کر آئے(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ
301
)۔
وحی میں اس تاخیر سے مکہ کے مخالفین کو موقع مل گیا۔ انھوںنے اس کو بنیاد بنا کر لوگوں کو آپ سے بد ظن کرنا شروع کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم ایک معمولی بات کو شوشہ بنا کر جس شخص کی صداقت سے لوگوں کو مشتبہ کرنا چاہتے ہو اس کی صداقت پر اس سے زیادہ یقینی اور اس سے زیادہ بڑی دلیلیں جمع ہونے والی ہیں (ان الله سيؤتيه من الحجج على صحة نبوته ما هو ادلّ من قصة اصحاب الكهف )التفسیر المظہری، جلد 6، صفحہ
27
۔
یہ بات آج واقعہ بن چکی ہے ، آج پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ صداقت پر اتنے دلائل جمع ہوچکے ہیں کہ کوئی ہوش مند آدمی اس سے انکار کی جرأت نہیں کرسکتا ۔ آپ کی نبوت آج ایک ثابت شدہ نبوت ہے، نہ کہ محض مدعیانہ نبوت۔
الكهف 18:25
قتادہ اور مطرف بن عبد اللہ کی تفسیر کے مطابق 300 سال یا
309
سال لوگوں کے قول کی حکایت ہے، نہ کہ خداکی طرف سے خبر۔ عبد اللہ بن مسعود کی قرأت سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ اس زمانہ کے اہلِ کتاب غیر مستند قصوں کی بنیاد پر یہ سمجھتے تھے کہ غار میںاصحاب کہف کے قیام کی مدت شمسي کیلنڈر کے لحاظ سے 300 سال ہے اور قمری کیلنڈر کے لحاظ سے
309
سال (تفسیر ابن کثیر، جلد 5، صفحہ
151
) قرآن نے لوگوں کے اس خیال کو نقل کیا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ کہہ کر اس کو بے بنیاد قرار دے دیا کہ قُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا (کہو کہ اللہ زیادہ جانتا ہے کہ وہ غار میں کتناٹھہرے)۔
موجودہ زمانہ کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ یہ مدت شمسی کیلنڈر کے لحاظ سے
196
سال تھی۔ یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے جو تمام اگلی پچھلی باتوں سے باخبر ہے۔ اور اسی علم کی بنا پر اس نے مذکورہ قول کو قبول نہیں کیا۔ قرآن اگر کوئی انسانی کلام ہوتا تو یقیناً وہ اپنے زمانہ کے مشہور قول کو لے لیتا جو بالآخر بعد کی تحقیق سے ٹکرا جاتا۔
الكهف 18:26
قتادہ اور مطرف بن عبد اللہ کی تفسیر کے مطابق 300 سال یا
309
سال لوگوں کے قول کی حکایت ہے، نہ کہ خداکی طرف سے خبر۔ عبد اللہ بن مسعود کی قرأت سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ اس زمانہ کے اہلِ کتاب غیر مستند قصوں کی بنیاد پر یہ سمجھتے تھے کہ غار میںاصحاب کہف کے قیام کی مدت شمسي کیلنڈر کے لحاظ سے 300 سال ہے اور قمری کیلنڈر کے لحاظ سے
309
سال (تفسیر ابن کثیر، جلد 5، صفحہ
151
) قرآن نے لوگوں کے اس خیال کو نقل کیا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ کہہ کر اس کو بے بنیاد قرار دے دیا کہ قُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا (کہو کہ اللہ زیادہ جانتا ہے کہ وہ غار میں کتناٹھہرے)۔
موجودہ زمانہ کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ یہ مدت شمسی کیلنڈر کے لحاظ سے
196
سال تھی۔ یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے جو تمام اگلی پچھلی باتوں سے باخبر ہے۔ اور اسی علم کی بنا پر اس نے مذکورہ قول کو قبول نہیں کیا۔ قرآن اگر کوئی انسانی کلام ہوتا تو یقیناً وہ اپنے زمانہ کے مشہور قول کو لے لیتا جو بالآخر بعد کی تحقیق سے ٹکرا جاتا۔
الكهف 18:27
قدیم مکہ میں جن لوگوں نے پیغمبر کا ساتھ دے کر بے آمیز دین کو اپنا دین بنایا تھا ان کے لیے یہ اقدام کوئی سادہ چیز نہ تھی۔ یہ مفادات سے وابستہ نظام کو چھوڑ کر ایک ایسے عقیدہ کا ساتھ دینا تھا جس سے بظاہر کوئی مفاد وابستہ نہ تھا۔ پہلا گروہ نئے دین کو اختیار کرتے ہی وقت کے جمے ہوئے نظام سے کٹ گیا تھاجب کہ دوسرا گروہ پوری طرح وقت کے جمے ہوئے نظام کے زور پر کھڑا ہوا تھا۔ پہلے گروہ کے پاس صرف خدا کی یاد کی باتیں تھیں جس کی اہمیت آخرت میں ظاہر ہوگی جب کہ دوسرا گروہ ان چیزوں کا مالک بنا ہوا تھا جس کی قیمت اسی دنیا کے بازار میں ہوتی ہے۔
یہ ظاہری فرق اگر داعی کو متاثر کردے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دین کی بے آمیز دعوت کی اہمیت اس کی نظرمیں کم ہوجائے گی۔ اور آمیزش والا دین اس کی نظر میں اہمیت اختیار کرلے گا جس کا علم بردار بن کر لوگ دنیا کی رونقیں حاصل کيے ہوئے ہیں۔
مگر یہ بہت بڑی بھول ہے۔ کیوں کے یہ اس اصل مشن سے ہٹنا ہے جو خدا کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ داعی اگر ایسا کرے تو وہ خدا کی مدد سے محروم ہوجائے گا۔ وہ خدا کی دنیا میں ایسا ہوجائے گا کہ کوئی درخت اس کو سایہ نہ دے اور کوئی پانی اس کی پیاس نہ بجھائے۔ چنانچہ ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ اے محمد، اگر تم نے لوگوں کو قرآن نہ سنایا تو خداکے مقابلہ میں تمھارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی (يَقُولُ إِنْ أَنْتَ يَا مُحَمَّدُ لَمْ تَتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ، فَإِنَّهُ لَا مَلْجَأَ لَكَ مِنَ اللَّهِ كَمَا قَالَ تَعَالَىيَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ [
5:67
]) تفسیر ابن کثیر، جلد 5 ، صفحہ
151
۔
الكهف 18:28
قدیم مکہ میں جن لوگوں نے پیغمبر کا ساتھ دے کر بے آمیز دین کو اپنا دین بنایا تھا ان کے لیے یہ اقدام کوئی سادہ چیز نہ تھی۔ یہ مفادات سے وابستہ نظام کو چھوڑ کر ایک ایسے عقیدہ کا ساتھ دینا تھا جس سے بظاہر کوئی مفاد وابستہ نہ تھا۔ پہلا گروہ نئے دین کو اختیار کرتے ہی وقت کے جمے ہوئے نظام سے کٹ گیا تھاجب کہ دوسرا گروہ پوری طرح وقت کے جمے ہوئے نظام کے زور پر کھڑا ہوا تھا۔ پہلے گروہ کے پاس صرف خدا کی یاد کی باتیں تھیں جس کی اہمیت آخرت میں ظاہر ہوگی جب کہ دوسرا گروہ ان چیزوں کا مالک بنا ہوا تھا جس کی قیمت اسی دنیا کے بازار میں ہوتی ہے۔
یہ ظاہری فرق اگر داعی کو متاثر کردے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دین کی بے آمیز دعوت کی اہمیت اس کی نظرمیں کم ہوجائے گی۔ اور آمیزش والا دین اس کی نظر میں اہمیت اختیار کرلے گا جس کا علم بردار بن کر لوگ دنیا کی رونقیں حاصل کيے ہوئے ہیں۔
مگر یہ بہت بڑی بھول ہے۔ کیوں کے یہ اس اصل مشن سے ہٹنا ہے جو خدا کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ داعی اگر ایسا کرے تو وہ خدا کی مدد سے محروم ہوجائے گا۔ وہ خدا کی دنیا میں ایسا ہوجائے گا کہ کوئی درخت اس کو سایہ نہ دے اور کوئی پانی اس کی پیاس نہ بجھائے۔ چنانچہ ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ اے محمد، اگر تم نے لوگوں کو قرآن نہ سنایا تو خداکے مقابلہ میں تمھارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی (يَقُولُ إِنْ أَنْتَ يَا مُحَمَّدُ لَمْ تَتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ، فَإِنَّهُ لَا مَلْجَأَ لَكَ مِنَ اللَّهِ كَمَا قَالَ تَعَالَىيَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ [
5:67
]) تفسیر ابن کثیر، جلد 5 ، صفحہ
151
۔
الكهف 18:29
جو حق خدا کی طرف سے آتا ہے وہ آخری حد تک صداقت ہوتا ہے۔ اس لیے لوگوں کی رعایت سے اس میں کسی قسم کی ترمیم نہیں کی جاسکتی۔ خدائی حق میں ترمیم کرنا گویا اس معیار کو تبدیل کرنا ہے۔جس پر جانچ کر ہر شخص کی حیثیت متعین کی جانے والی ہے۔
جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ خدائی حق میں ایسی ترمیم کی جائے کہ اس سے ان کی غلط روش کا جواز نکل آئے وہ گمراہی پر سرکشی کا اضافہ کررہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنے لیے صرف سخت ترین سزا کا انتظار کرنا چاہيے۔
الكهف 18:30
جو لوگ گھمنڈ، مصلحت اور ظاہر پرستی سے خالی ہوتے ہیں، ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب خدائی صداقت ان کے سامنے ظاہر ہوتی ہے تو وہ اس کو فوراً پہچان لیتے ہیں۔ خواہ وہ صداقت ان کے جیسے ایک انسان کی زبان سے کیوں نہ ظاہر ہوئی ہو۔
وہ اپنے آپ کو حق کے آگے ڈال دیتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنا شروع کردیتے ہیں، نہ کہ خود صداقت کو اپنی زندگی کے مطابق ڈھالنے لگیں۔ جو لوگ اس طرح حق پرستی کا ثبوت دیں وہ خدا کے محبوب بندے ہیں۔ان کو آخرت میں شاہانہ انعامات سے نوازا جائے گا۔
الكهف 18:31
جو لوگ گھمنڈ، مصلحت اور ظاہر پرستی سے خالی ہوتے ہیں، ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب خدائی صداقت ان کے سامنے ظاہر ہوتی ہے تو وہ اس کو فوراً پہچان لیتے ہیں۔ خواہ وہ صداقت ان کے جیسے ایک انسان کی زبان سے کیوں نہ ظاہر ہوئی ہو۔
وہ اپنے آپ کو حق کے آگے ڈال دیتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنا شروع کردیتے ہیں، نہ کہ خود صداقت کو اپنی زندگی کے مطابق ڈھالنے لگیں۔ جو لوگ اس طرح حق پرستی کا ثبوت دیں وہ خدا کے محبوب بندے ہیں۔ان کو آخرت میں شاہانہ انعامات سے نوازا جائے گا۔
الكهف 18:32
ایک باغ جو خوب ہرا بھراہو، پھر قدرتی آفت سے اچانک ختم ہوجائے، وہ اس شخص کی تمثیل ہے جو دنیا میں دولت اور عزت پاکر گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ دنیا میں کسی انسان کو دولت یا عزت کا جو حصہ ملتاہے وہ خدا کی طرف سے بطور انعام ہوتا ہے۔ مگر ظالم انسان اکثر اس کو اپنے لیے انعام یا اپنی قوت بازو کا حاصل سمجھ لیتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر سرکشی کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنے لگتاہے جن كو دولت اور عزت میں کم حصہ ملا ہو۔ اس کی نفسیات ایسی ہوجاتی ہے كه گویا اس کی دنیا کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ اور اگر یہ دنیا ختم ہو کر دوسری دنیا بنی تو کوئی وجہ نہیں کہ وہاںبھی اس کا حال اچھا نہ ہو جس طرح یہاں اس کا حال اچھا ہے۔
یہ امتحان کی حالت پر انعام کی حالت کو قیاس کرناہے۔ حالاں کہ دونوں میں کوئی نسبت نہیں۔
الكهف 18:33
ایک باغ جو خوب ہرا بھراہو، پھر قدرتی آفت سے اچانک ختم ہوجائے، وہ اس شخص کی تمثیل ہے جو دنیا میں دولت اور عزت پاکر گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ دنیا میں کسی انسان کو دولت یا عزت کا جو حصہ ملتاہے وہ خدا کی طرف سے بطور انعام ہوتا ہے۔ مگر ظالم انسان اکثر اس کو اپنے لیے انعام یا اپنی قوت بازو کا حاصل سمجھ لیتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر سرکشی کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنے لگتاہے جن كو دولت اور عزت میں کم حصہ ملا ہو۔ اس کی نفسیات ایسی ہوجاتی ہے كه گویا اس کی دنیا کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ اور اگر یہ دنیا ختم ہو کر دوسری دنیا بنی تو کوئی وجہ نہیں کہ وہاںبھی اس کا حال اچھا نہ ہو جس طرح یہاں اس کا حال اچھا ہے۔
یہ امتحان کی حالت پر انعام کی حالت کو قیاس کرناہے۔ حالاں کہ دونوں میں کوئی نسبت نہیں۔
الكهف 18:34
ایک باغ جو خوب ہرا بھراہو، پھر قدرتی آفت سے اچانک ختم ہوجائے، وہ اس شخص کی تمثیل ہے جو دنیا میں دولت اور عزت پاکر گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ دنیا میں کسی انسان کو دولت یا عزت کا جو حصہ ملتاہے وہ خدا کی طرف سے بطور انعام ہوتا ہے۔ مگر ظالم انسان اکثر اس کو اپنے لیے انعام یا اپنی قوت بازو کا حاصل سمجھ لیتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر سرکشی کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنے لگتاہے جن كو دولت اور عزت میں کم حصہ ملا ہو۔ اس کی نفسیات ایسی ہوجاتی ہے كه گویا اس کی دنیا کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ اور اگر یہ دنیا ختم ہو کر دوسری دنیا بنی تو کوئی وجہ نہیں کہ وہاںبھی اس کا حال اچھا نہ ہو جس طرح یہاں اس کا حال اچھا ہے۔
یہ امتحان کی حالت پر انعام کی حالت کو قیاس کرناہے۔ حالاں کہ دونوں میں کوئی نسبت نہیں۔
الكهف 18:35
ایک باغ جو خوب ہرا بھراہو، پھر قدرتی آفت سے اچانک ختم ہوجائے، وہ اس شخص کی تمثیل ہے جو دنیا میں دولت اور عزت پاکر گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ دنیا میں کسی انسان کو دولت یا عزت کا جو حصہ ملتاہے وہ خدا کی طرف سے بطور انعام ہوتا ہے۔ مگر ظالم انسان اکثر اس کو اپنے لیے انعام یا اپنی قوت بازو کا حاصل سمجھ لیتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر سرکشی کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنے لگتاہے جن كو دولت اور عزت میں کم حصہ ملا ہو۔ اس کی نفسیات ایسی ہوجاتی ہے كه گویا اس کی دنیا کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ اور اگر یہ دنیا ختم ہو کر دوسری دنیا بنی تو کوئی وجہ نہیں کہ وہاںبھی اس کا حال اچھا نہ ہو جس طرح یہاں اس کا حال اچھا ہے۔
یہ امتحان کی حالت پر انعام کی حالت کو قیاس کرناہے۔ حالاں کہ دونوں میں کوئی نسبت نہیں۔
الكهف 18:36
ایک باغ جو خوب ہرا بھراہو، پھر قدرتی آفت سے اچانک ختم ہوجائے، وہ اس شخص کی تمثیل ہے جو دنیا میں دولت اور عزت پاکر گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ دنیا میں کسی انسان کو دولت یا عزت کا جو حصہ ملتاہے وہ خدا کی طرف سے بطور انعام ہوتا ہے۔ مگر ظالم انسان اکثر اس کو اپنے لیے انعام یا اپنی قوت بازو کا حاصل سمجھ لیتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر سرکشی کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنے لگتاہے جن كو دولت اور عزت میں کم حصہ ملا ہو۔ اس کی نفسیات ایسی ہوجاتی ہے كه گویا اس کی دنیا کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ اور اگر یہ دنیا ختم ہو کر دوسری دنیا بنی تو کوئی وجہ نہیں کہ وہاںبھی اس کا حال اچھا نہ ہو جس طرح یہاں اس کا حال اچھا ہے۔
یہ امتحان کی حالت پر انعام کی حالت کو قیاس کرناہے۔ حالاں کہ دونوں میں کوئی نسبت نہیں۔
الكهف 18:37
خدا کسی انسان کو دولت دے تو اس کو خدا کا شکرگزار بندہ بن کر رہنا چاہیے۔ لیکن اگر ذہن صحیح نہ ہو تو دولت مندی آدمی کے لیے سرکشی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ذہن صحیح ہے تو مفلسی میں بھی آدمی خدا کو نہیں بھولتا۔ جو کچھ ملا ہے اس پر قانع رہ کر وہ امید رکھتا ہے کہ اس کا خدا اس کو مزید دے گا۔
آدمی اگر آنکھ کھول کر دنيا ميں رہے تو کبھی وہ سرکشی میں مبتلا نہ ہو۔ انسان ایک حقیر وجود کی حیثیت سے پرورش پاتا ہے۔ اس کو حادثات پیش آتے ہیں۔ اس کو بیماری اور بڑھاپا لاحق ہوتاہے۔ پانی اور دوسری چیزیں جن کے ذریعہ وہ اس دنیا میں اپنا ’’باغ‘‘ اگاتاہے ان میں سے کوئی چیز بھی اس کے ذاتی قبضہ میں نہیں۔
یہ سب اس لیے ہے کہ آدمی متواضع بن کر دنیا میں رہے۔ مگر ظالم انسان کسی چیز سے سبق نہیں لیتا۔ اس کو اس وقت تک ہوش نہیں آتا جب تک وہ ہر چیز سے محروم ہوکر اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے کہ اس کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہ تھا۔
الكهف 18:38
خدا کسی انسان کو دولت دے تو اس کو خدا کا شکرگزار بندہ بن کر رہنا چاہیے۔ لیکن اگر ذہن صحیح نہ ہو تو دولت مندی آدمی کے لیے سرکشی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ذہن صحیح ہے تو مفلسی میں بھی آدمی خدا کو نہیں بھولتا۔ جو کچھ ملا ہے اس پر قانع رہ کر وہ امید رکھتا ہے کہ اس کا خدا اس کو مزید دے گا۔
آدمی اگر آنکھ کھول کر دنيا ميں رہے تو کبھی وہ سرکشی میں مبتلا نہ ہو۔ انسان ایک حقیر وجود کی حیثیت سے پرورش پاتا ہے۔ اس کو حادثات پیش آتے ہیں۔ اس کو بیماری اور بڑھاپا لاحق ہوتاہے۔ پانی اور دوسری چیزیں جن کے ذریعہ وہ اس دنیا میں اپنا ’’باغ‘‘ اگاتاہے ان میں سے کوئی چیز بھی اس کے ذاتی قبضہ میں نہیں۔
یہ سب اس لیے ہے کہ آدمی متواضع بن کر دنیا میں رہے۔ مگر ظالم انسان کسی چیز سے سبق نہیں لیتا۔ اس کو اس وقت تک ہوش نہیں آتا جب تک وہ ہر چیز سے محروم ہوکر اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے کہ اس کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہ تھا۔
الكهف 18:39
خدا کسی انسان کو دولت دے تو اس کو خدا کا شکرگزار بندہ بن کر رہنا چاہیے۔ لیکن اگر ذہن صحیح نہ ہو تو دولت مندی آدمی کے لیے سرکشی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ذہن صحیح ہے تو مفلسی میں بھی آدمی خدا کو نہیں بھولتا۔ جو کچھ ملا ہے اس پر قانع رہ کر وہ امید رکھتا ہے کہ اس کا خدا اس کو مزید دے گا۔
آدمی اگر آنکھ کھول کر دنيا ميں رہے تو کبھی وہ سرکشی میں مبتلا نہ ہو۔ انسان ایک حقیر وجود کی حیثیت سے پرورش پاتا ہے۔ اس کو حادثات پیش آتے ہیں۔ اس کو بیماری اور بڑھاپا لاحق ہوتاہے۔ پانی اور دوسری چیزیں جن کے ذریعہ وہ اس دنیا میں اپنا ’’باغ‘‘ اگاتاہے ان میں سے کوئی چیز بھی اس کے ذاتی قبضہ میں نہیں۔
یہ سب اس لیے ہے کہ آدمی متواضع بن کر دنیا میں رہے۔ مگر ظالم انسان کسی چیز سے سبق نہیں لیتا۔ اس کو اس وقت تک ہوش نہیں آتا جب تک وہ ہر چیز سے محروم ہوکر اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے کہ اس کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہ تھا۔
الكهف 18:40
خدا کسی انسان کو دولت دے تو اس کو خدا کا شکرگزار بندہ بن کر رہنا چاہیے۔ لیکن اگر ذہن صحیح نہ ہو تو دولت مندی آدمی کے لیے سرکشی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ذہن صحیح ہے تو مفلسی میں بھی آدمی خدا کو نہیں بھولتا۔ جو کچھ ملا ہے اس پر قانع رہ کر وہ امید رکھتا ہے کہ اس کا خدا اس کو مزید دے گا۔
آدمی اگر آنکھ کھول کر دنيا ميں رہے تو کبھی وہ سرکشی میں مبتلا نہ ہو۔ انسان ایک حقیر وجود کی حیثیت سے پرورش پاتا ہے۔ اس کو حادثات پیش آتے ہیں۔ اس کو بیماری اور بڑھاپا لاحق ہوتاہے۔ پانی اور دوسری چیزیں جن کے ذریعہ وہ اس دنیا میں اپنا ’’باغ‘‘ اگاتاہے ان میں سے کوئی چیز بھی اس کے ذاتی قبضہ میں نہیں۔
یہ سب اس لیے ہے کہ آدمی متواضع بن کر دنیا میں رہے۔ مگر ظالم انسان کسی چیز سے سبق نہیں لیتا۔ اس کو اس وقت تک ہوش نہیں آتا جب تک وہ ہر چیز سے محروم ہوکر اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے کہ اس کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہ تھا۔
الكهف 18:41
خدا کسی انسان کو دولت دے تو اس کو خدا کا شکرگزار بندہ بن کر رہنا چاہیے۔ لیکن اگر ذہن صحیح نہ ہو تو دولت مندی آدمی کے لیے سرکشی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ذہن صحیح ہے تو مفلسی میں بھی آدمی خدا کو نہیں بھولتا۔ جو کچھ ملا ہے اس پر قانع رہ کر وہ امید رکھتا ہے کہ اس کا خدا اس کو مزید دے گا۔
آدمی اگر آنکھ کھول کر دنيا ميں رہے تو کبھی وہ سرکشی میں مبتلا نہ ہو۔ انسان ایک حقیر وجود کی حیثیت سے پرورش پاتا ہے۔ اس کو حادثات پیش آتے ہیں۔ اس کو بیماری اور بڑھاپا لاحق ہوتاہے۔ پانی اور دوسری چیزیں جن کے ذریعہ وہ اس دنیا میں اپنا ’’باغ‘‘ اگاتاہے ان میں سے کوئی چیز بھی اس کے ذاتی قبضہ میں نہیں۔
یہ سب اس لیے ہے کہ آدمی متواضع بن کر دنیا میں رہے۔ مگر ظالم انسان کسی چیز سے سبق نہیں لیتا۔ اس کو اس وقت تک ہوش نہیں آتا جب تک وہ ہر چیز سے محروم ہوکر اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے کہ اس کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہ تھا۔
الكهف 18:42
آدمی ایک کام میں اپنی پونجی لگاتا ہے اور اپنی قابلیت صرف کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میری قابلیت اور میری پونجی کامیاب نتیجہ کے ساتھ میری طرف لوٹے گی۔ مگر مختلف قسم کے حادثات آتے ہیں اور اس کی امیدوں کو تہس نہس کردیتے ہیں۔ آدمی کی کوئی بھی تدبیر یا اس کی کوئی بھی قابلیت اس کو بچانے والی ثابت نہیں ہوتی۔
خدا موجودہ دنیامیں بار بارا اس طرح کے نمونے دکھاتا ہے تاکہ انسان اس سے سبق لے۔ تاکہ وہ خدا کے سوا کسی دوسری چیز کو اہمیت دینے کی غلطی نہ کرے۔
الكهف 18:43
آدمی ایک کام میں اپنی پونجی لگاتا ہے اور اپنی قابلیت صرف کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میری قابلیت اور میری پونجی کامیاب نتیجہ کے ساتھ میری طرف لوٹے گی۔ مگر مختلف قسم کے حادثات آتے ہیں اور اس کی امیدوں کو تہس نہس کردیتے ہیں۔ آدمی کی کوئی بھی تدبیر یا اس کی کوئی بھی قابلیت اس کو بچانے والی ثابت نہیں ہوتی۔
خدا موجودہ دنیامیں بار بارا اس طرح کے نمونے دکھاتا ہے تاکہ انسان اس سے سبق لے۔ تاکہ وہ خدا کے سوا کسی دوسری چیز کو اہمیت دینے کی غلطی نہ کرے۔
الكهف 18:44
آدمی ایک کام میں اپنی پونجی لگاتا ہے اور اپنی قابلیت صرف کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میری قابلیت اور میری پونجی کامیاب نتیجہ کے ساتھ میری طرف لوٹے گی۔ مگر مختلف قسم کے حادثات آتے ہیں اور اس کی امیدوں کو تہس نہس کردیتے ہیں۔ آدمی کی کوئی بھی تدبیر یا اس کی کوئی بھی قابلیت اس کو بچانے والی ثابت نہیں ہوتی۔
خدا موجودہ دنیامیں بار بارا اس طرح کے نمونے دکھاتا ہے تاکہ انسان اس سے سبق لے۔ تاکہ وہ خدا کے سوا کسی دوسری چیز کو اہمیت دینے کی غلطی نہ کرے۔
الكهف 18:45
دنیا آخرت کی تمثیل ہے۔ پانی پاکر زمین جب سر سبز ہوجاتی ہے تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ اسی طرح رہے گی، مگر اس کے بعد موسم بدلتا ہے اور سارا سبزہ سوکھ کر ختم ہو جاتاہے۔
یہی حال دنیا کی رونق کا ہے۔ موجودہ دنیا کی رونقیں آدمی کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ مگر یہ تمام رونقیں انتہائی عارضی ہیں۔ قیامت بہت جلد ان کو اس طرح ختم کردے گی کہ ایسا معلوم ہوگا جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔
دنیا کی رونقیں باقی نہیں رہتیں مگر یہاں ایک اور چیز ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ اور وہ انسان کے نیک اعمال ہیں۔ جس طرح زمین میں بیج ڈالنے سے باغ اگتا ہے اسی طرح اللہ کی یاد اور اللہ کی فرماں برداری سے بھی ایک باغ اگتاہے۔ اس باغ پر کبھی خزاں نہیں آتی۔ مگر دنیوی باغ کے برعکس یہ دوسرا باغ آخرت میں اگتا ہے اور وہیں وہ اپنے اگانے والے کو ملے گا۔
الكهف 18:46
دنیا آخرت کی تمثیل ہے۔ پانی پاکر زمین جب سر سبز ہوجاتی ہے تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ اسی طرح رہے گی، مگر اس کے بعد موسم بدلتا ہے اور سارا سبزہ سوکھ کر ختم ہو جاتاہے۔
یہی حال دنیا کی رونق کا ہے۔ موجودہ دنیا کی رونقیں آدمی کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ مگر یہ تمام رونقیں انتہائی عارضی ہیں۔ قیامت بہت جلد ان کو اس طرح ختم کردے گی کہ ایسا معلوم ہوگا جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔
دنیا کی رونقیں باقی نہیں رہتیں مگر یہاں ایک اور چیز ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ اور وہ انسان کے نیک اعمال ہیں۔ جس طرح زمین میں بیج ڈالنے سے باغ اگتا ہے اسی طرح اللہ کی یاد اور اللہ کی فرماں برداری سے بھی ایک باغ اگتاہے۔ اس باغ پر کبھی خزاں نہیں آتی۔ مگر دنیوی باغ کے برعکس یہ دوسرا باغ آخرت میں اگتا ہے اور وہیں وہ اپنے اگانے والے کو ملے گا۔
الكهف 18:47
موجودہ دنیا میں جو حالات جمع کيے گئے ہیں وہ محض امتحان کے لیے ہیں۔ امتحان کی مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد یہ حالات باقی نہیں رہیں گے۔ اس کے بعد زمین کی ساری زندگی بخش خصوصیات ختم کردی جائیں گی۔ وہ ایسی خالی جگہ ہوجائے گی جہاں نہ کسی کے لیے اکڑنے کا سامان ہوگا اور نہ فخر کرنے کا۔
دنیا میں امتحان کی وجہ سے انسان اپنے آپ کو اختیار کی فضا میں پارہا ہے۔ مگر قیامت اس فضاکو یکسر ختم کردے گی۔ اس دن لوگ بے یارومدد گار فضا میں اپنے رب کے پاس جمع کيے جائیں گے۔ تمام لوگ اپنے مالک کے سامنے اس کا فیصلہ سننے کے لیے کھڑے ہوں گے۔ خدا کے پاس ہر شخص کی زندگی کا انتہائی مکمل ریکارڈ ہوگا۔ اس کے مطابق وہ کسی کو انعام دے گا اور کسی کے لیے سزا کا حکم سنائے گا۔
موجودہ دنیا میں انسان کی بیک وقت دو حالتیں ہیں۔ ایک اعتبار سے وہ عاجز ہے اور دوسرے اعتبار سے آزاد۔ آدمی اگر اپنے عجز کو دیکھے تو اس کے اندر خدا کی طرف رجوع کا جذبہ پیدا ہوگا۔ مگر انسان صرف اپنی آزادی کی حالت کو دیکھتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ غافل اور سرکش بن کر رہ جاتا ہے۔
الكهف 18:48
موجودہ دنیا میں جو حالات جمع کيے گئے ہیں وہ محض امتحان کے لیے ہیں۔ امتحان کی مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد یہ حالات باقی نہیں رہیں گے۔ اس کے بعد زمین کی ساری زندگی بخش خصوصیات ختم کردی جائیں گی۔ وہ ایسی خالی جگہ ہوجائے گی جہاں نہ کسی کے لیے اکڑنے کا سامان ہوگا اور نہ فخر کرنے کا۔
دنیا میں امتحان کی وجہ سے انسان اپنے آپ کو اختیار کی فضا میں پارہا ہے۔ مگر قیامت اس فضاکو یکسر ختم کردے گی۔ اس دن لوگ بے یارومدد گار فضا میں اپنے رب کے پاس جمع کيے جائیں گے۔ تمام لوگ اپنے مالک کے سامنے اس کا فیصلہ سننے کے لیے کھڑے ہوں گے۔ خدا کے پاس ہر شخص کی زندگی کا انتہائی مکمل ریکارڈ ہوگا۔ اس کے مطابق وہ کسی کو انعام دے گا اور کسی کے لیے سزا کا حکم سنائے گا۔
موجودہ دنیا میں انسان کی بیک وقت دو حالتیں ہیں۔ ایک اعتبار سے وہ عاجز ہے اور دوسرے اعتبار سے آزاد۔ آدمی اگر اپنے عجز کو دیکھے تو اس کے اندر خدا کی طرف رجوع کا جذبہ پیدا ہوگا۔ مگر انسان صرف اپنی آزادی کی حالت کو دیکھتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ غافل اور سرکش بن کر رہ جاتا ہے۔
الكهف 18:49
انسان جو کچھ کرتا ہے وہ سب خداکے انتظام کے تحت ریکارڈ ہو رہا ہے۔ آدمی کی نیت، اس کا قول اور اس کا عمل سب کائناتی پردہ پر نقش ہورہے ہیں۔ تاہم یہ انتظام آج دکھائی نہیں دیتا۔ قیامت میں یہ اوٹ ہٹا دی جائے گی۔ اس وقت انسان یہ دیکھ کر دہشت زدہ رہ جائے گا کہ دنیا میں جو کچھ وہ یہ سمجھ کر کر رہا تھا کہ کوئی اس کو جاننے والا نہیں، وہ اتنے کامل طورپر یہاں مندرج ہے کہ اس کی فہرست سے نہ کوئی چھوٹی چیز بچی ہے اور نہ کوئی بڑی چیز۔
قیامت کے دن انسان کے ساتھ جو معاملہ کیا جائے گا اس کی ہرچیز اتنی ثابت شدہ ہوگی کہ آدمی جب اپنے عمل کابدلہ پائے گا تو اس کو یقین ہوگا کہ اس کے ساتھ وہی کیا جارہا ہے جس کاوہ فی الواقع مستحق تھا، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ۔
الكهف 18:50
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس ایک عبادت گزار جن تھا۔ وہ بظاہر عابد وزاہد بنا ہوا تھا۔ مگر جب خدا نے آدم کے سامنے جھکنے کا حکم دیا تووہ گھمنڈ کی بنا پر جھکنے کے لیے تیار نہ ہوا۔ اب جو لوگ گھمنڈ کے جذبہ کے تحت حق کے سامنے جھکنے سے انکار کریں وہ سب ابلیس کی ذرّیت ہیں۔ خواہ وہ بظاہر عبادت گزارہی کیوں نہ دکھائی دیتے ہوں۔
خدا کے سامنے جھکنا دراصل خداکے مقابلہ میںاپنے عجز کا اقرار کرنا ہے۔ اگر کوئی شخص حقیقی معنوں میں خدا کے سامنے جھکنے والا ہو تو جہاں کہیں بھی اس کا سامنا حق سے ہوگا وہ فوراً جھک جائے گا۔ اس کے برعکس، جو شخص ظاہری طورپر سجدہ گزار ہو مگر اپنے اندر گھمنڈ کی نفسیات لیے ہوئے ہو وہ ایسے موقع پر بآسانی سجدہ کر لے گا جہاں اس کی اَنا (ego)کو ٹھیس نہ لگتی ہو۔ مگر جہاں اَناکو جھکانے کی قیمت پر اپنے آپ کو جھکانا پڑے وہاں اچانک وہ سرکش بن جائے گا اور جھکنے سے انکار کردے گا۔
جب حق کی پکار اٹھے اور کچھ لوگ ابلیس اور اس کی ذریت کے اثر میں آکر اس کو قبول نہ کریں تو گویا وہ ابلیس اور اس کی ذرّیت کو خدا کا بدل بنا رہے ہیں۔ جہاں انھیں خدا کے ڈر سے حق کے آگے جھک جانا چاہیے تھا وہاں وہ جھوٹے معبودوں کے ڈر سے اس کے آگے جھکنے سے انکار کررہے ہیں۔ ایسے لوگ بدترین ظالم ہیں۔ بہت جلد انھیں معلوم ہوجائے گا کہ خدا کو چھوڑ کر انھوںنے جن کے اوپر بھروسہ کیا تھا وہ ان کے کچھ کام آنے والے نہیں۔
الكهف 18:51
لوگ اپنے جن بڑوں کو دنیا کی زندگی میں قابل بھروسہ سمجھ لیتے ہیں۔ وہ اس قدر کمزور ہیں کہ نہ کائنات کے وجود میں ان کا کوئی دخل ہے، اور نہ خود اپنے وجود میں ۔ مزید یہ لوگ حق کی دعوت کے مقابلہ میں مضل (گمراہ کرنے والے) کا کردار ادا کرکے ثابت کررہے ہیں کہ وہ قطعاً قابل بھروسہ نہیں۔ ایک ایسی دنیا جہاں ہر طرف حق کی کارفرمائی ہو، وہاں ایسی شخصیتیں کس طرح دخیل ہوسکتی ہیں جن کا واحد سرمایہ لوگوں کو حق سے دور کرنا ہے۔
الكهف 18:52
دنیا میں جن شخصیتوں کے بل پر آدمی حق کا انکار کرتاہے، قیامت میں وہ اس کے کچھ کام نہ آئیں گی۔ آج وہ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں مگر جب حقائق کھلیں گے تو دونوں ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں گے۔ ایسا معلوم ہوگا گویا دونوں کے درمیان ہلاکت خیز رکاوٹ قائم ہوگئی ہے۔ موجودہ دنیا میں وہ اپنے آپ کو مامون ومحفوظ سمجھتے ہیں۔ مگر قیامت میں ان کا انجام صرف یہ ہونے والا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا پائیں اور اس سے بھاگنے کی کوئی تدبیر نہ کرسکیں۔
الكهف 18:53
دنیا میں جن شخصیتوں کے بل پر آدمی حق کا انکار کرتاہے، قیامت میں وہ اس کے کچھ کام نہ آئیں گی۔ آج وہ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں مگر جب حقائق کھلیں گے تو دونوں ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں گے۔ ایسا معلوم ہوگا گویا دونوں کے درمیان ہلاکت خیز رکاوٹ قائم ہوگئی ہے۔ موجودہ دنیا میں وہ اپنے آپ کو مامون ومحفوظ سمجھتے ہیں۔ مگر قیامت میں ان کا انجام صرف یہ ہونے والا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا پائیں اور اس سے بھاگنے کی کوئی تدبیر نہ کرسکیں۔
الكهف 18:54
موجودہ دنیا میں امتحان کی آزادی ہے۔ اس بنا پر یہاں آدمی حق کا اعتراف نہ کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی عذر پالیتاہے۔ ہر بات کو رد کرنے کے لیے اس کو کچھ نہ کچھ الفاظ مل جاتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک کھلی ہوئی دلیل کو بے معنی بحثوں سے کاٹنے کی کوشش کرتاہے۔ کبھی وہ ایسا کرتاہے کہ جو دلیل دی گئی ہے اس کو نظر انداز کرکے ایک اور چیز کا تقاضا کرتاہے جو کسی وجہ سے ابھی پیش نہیں کی گئی۔
اس آخری صورت کی ایک مثال یہ ہے کہ پیغمبر نے اپنے مخاطبین کے سامنے واضح دلائل کے ساتھ اپنا پیغام پیش کیا تو انھوںنے اس پر دھیان نہیں دیا بلکہ اس سے قطع نظر کرتے ہوئے یہ کہا کہ انکار کی صورت میں تم ہم کو جس عذاب کی خبر دے رہے ہو وہ کہاں ہے، اس کو لا کر ہمیں دکھاؤ۔
الكهف 18:55
موجودہ دنیا میں امتحان کی آزادی ہے۔ اس بنا پر یہاں آدمی حق کا اعتراف نہ کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی عذر پالیتاہے۔ ہر بات کو رد کرنے کے لیے اس کو کچھ نہ کچھ الفاظ مل جاتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک کھلی ہوئی دلیل کو بے معنی بحثوں سے کاٹنے کی کوشش کرتاہے۔ کبھی وہ ایسا کرتاہے کہ جو دلیل دی گئی ہے اس کو نظر انداز کرکے ایک اور چیز کا تقاضا کرتاہے جو کسی وجہ سے ابھی پیش نہیں کی گئی۔
اس آخری صورت کی ایک مثال یہ ہے کہ پیغمبر نے اپنے مخاطبین کے سامنے واضح دلائل کے ساتھ اپنا پیغام پیش کیا تو انھوںنے اس پر دھیان نہیں دیا بلکہ اس سے قطع نظر کرتے ہوئے یہ کہا کہ انکار کی صورت میں تم ہم کو جس عذاب کی خبر دے رہے ہو وہ کہاں ہے، اس کو لا کر ہمیں دکھاؤ۔
الكهف 18:56
خدا کی بات سب سے زیادہ سچی بات ہے۔ تمام بہترین دلائل اس کی موافقت کرتے ہیں۔ چنانچہ جو لوگ اس کو ماننا نہیں چاہتے وہ کوئی حقیقی دلیل نہیں پاتے جس کے ذریعہ وہ اسے رد کرسکیں۔ ان کے پاس ہمیشہ صرف بے اصل باتیں ہوتی ہیں جن کے ذریعہ وہ اس کو زیر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔وہ ٹھوس دلائل کا مقابلہ جھوٹے اعتراضات سے کرتے ہیں۔ وہ سنجیدہ کام کو مذاق میں گم کردینا چاہتے ہیں۔
یہ سب وہ اس لیے کرتے ہیں کہ داعی کو عوام کی نظر میں بے اعتبار ثابت کرسکیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ ایسا کرکے وہ خود اپنے آپ کو خدا کی نظر میں بے اعتبار ثابت کررہے ہیں۔
آدمی کو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت اس لیے دی گئی ہے کہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ مگر جب وہ اپنی سوجھ بوجھ کو غلط رخ پر استعمال کرتاہے تو اس کا ذہن اسی غلط رخ پر چل پڑتاہے جس رخ پر اس نے اس کو چلایا ہے۔ اس کے بعد اس کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے کہ کسی بات کو اس کے صحیح رخ سے دیکھے۔ اور اس کی واقعی اہمیت کو سمجھ سکے۔ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بے آنکھ ہوجاتاہے۔ وہ کان رکھتے ہوئے بے کان ہوجاتاہے۔
الكهف 18:57
خدا کی بات سب سے زیادہ سچی بات ہے۔ تمام بہترین دلائل اس کی موافقت کرتے ہیں۔ چنانچہ جو لوگ اس کو ماننا نہیں چاہتے وہ کوئی حقیقی دلیل نہیں پاتے جس کے ذریعہ وہ اسے رد کرسکیں۔ ان کے پاس ہمیشہ صرف بے اصل باتیں ہوتی ہیں جن کے ذریعہ وہ اس کو زیر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔وہ ٹھوس دلائل کا مقابلہ جھوٹے اعتراضات سے کرتے ہیں۔ وہ سنجیدہ کام کو مذاق میں گم کردینا چاہتے ہیں۔
یہ سب وہ اس لیے کرتے ہیں کہ داعی کو عوام کی نظر میں بے اعتبار ثابت کرسکیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ ایسا کرکے وہ خود اپنے آپ کو خدا کی نظر میں بے اعتبار ثابت کررہے ہیں۔
آدمی کو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت اس لیے دی گئی ہے کہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ مگر جب وہ اپنی سوجھ بوجھ کو غلط رخ پر استعمال کرتاہے تو اس کا ذہن اسی غلط رخ پر چل پڑتاہے جس رخ پر اس نے اس کو چلایا ہے۔ اس کے بعد اس کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے کہ کسی بات کو اس کے صحیح رخ سے دیکھے۔ اور اس کی واقعی اہمیت کو سمجھ سکے۔ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بے آنکھ ہوجاتاہے۔ وہ کان رکھتے ہوئے بے کان ہوجاتاہے۔
الكهف 18:58
آدمی حق کے مقابلہ میں سرکشی کرتاہے تو اس کو فوراً اس کی سزا نہیں ملتی۔ اس سے غلط فہمی میں پڑ کر وہ اپنے کو آزاد سمجھ لیتاہے اور مزید سرکشی کرنے لگتا ہے۔ حالاں کہ یہ نہ پکڑا جانا، امتحان کی مہلت کی بنا پر ہے، نہ کہ آزادی اور خود مختاری کی بنا پر۔
آدمی سبق لینا چاہے تو ماضی کا انجام اس کے سامنے موجود ہے جس سے وہ حال کے لیے سبق لے سکتاہے۔ سطح زمین پر بار بار مختلف قومیں اور تہذیبیں ابھر ی ہیں اور تباہ کردی گئی ہیں۔ جب پچھلی نسلوں کے ساتھ ایسا ہوا کہ انھیں ان کی سرکشی کی سزا ملی تو اگلی نسلوں کے ساتھ یہی واقعہ کیوں نہیں ہوگا۔
الكهف 18:59
آدمی حق کے مقابلہ میں سرکشی کرتاہے تو اس کو فوراً اس کی سزا نہیں ملتی۔ اس سے غلط فہمی میں پڑ کر وہ اپنے کو آزاد سمجھ لیتاہے اور مزید سرکشی کرنے لگتا ہے۔ حالاں کہ یہ نہ پکڑا جانا، امتحان کی مہلت کی بنا پر ہے، نہ کہ آزادی اور خود مختاری کی بنا پر۔
آدمی سبق لینا چاہے تو ماضی کا انجام اس کے سامنے موجود ہے جس سے وہ حال کے لیے سبق لے سکتاہے۔ سطح زمین پر بار بار مختلف قومیں اور تہذیبیں ابھر ی ہیں اور تباہ کردی گئی ہیں۔ جب پچھلی نسلوں کے ساتھ ایسا ہوا کہ انھیں ان کی سرکشی کی سزا ملی تو اگلی نسلوں کے ساتھ یہی واقعہ کیوں نہیں ہوگا۔
الكهف 18:60
خدا فرشتوں کے ذریعہ مسلسل دنیا کا انتظام کررہا ہے۔ انسان چوں کہ اس انتظام کو نہیں دیکھتا، وہ اس کے بھیدوں کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتا۔ وہ کم تر واقفیت کی بناپر طرح طرح کے شبہات میں مبتلا ہوجاتاہے۔
اس کے علاج کے لیے خدا نے بالواسطہ مشاہدہ کا انتظام کیا۔ اس نے اپنے چنے ہوئے بندوں کو مخفی دنیا کا مشاہدہ کرایا تاکہ وہ اس کی حکمتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور دوسرے انسانوں کو اس سے باخبر کردیں۔ یہاں حضرت موسیٰ کے جس واقعہ کا ذکر ہے وہ اسی قسم کا ایک استثنائی واقعہ ہے جس کے ذریعے ان کو خداکے چھپے ہوئے نظام کی ایک جھلک دکھائی گئی۔
حضرت موسیٰ نے یہ سفر غالباً مصر وسوڈان کے درمیان اپنے ایک نوجوان شاگرد (یوشع بن نون) کے ساتھ کیا تھا۔ خدا نے بطور علامت انھیں بتایا تھاکہ تم چلتے رہو۔ یہاں تک کہ جب تم اس جگہ پہنچو جہاں دو دریا باہم ملتے ہوں تو وہاں تم کو ہمارا ایک بندہ (غالباً فرشتہ به شکل انسان) ملے گا۔ تم اس کے ساتھ ہو لینا۔
الكهف 18:61
خدا فرشتوں کے ذریعہ مسلسل دنیا کا انتظام کررہا ہے۔ انسان چوں کہ اس انتظام کو نہیں دیکھتا، وہ اس کے بھیدوں کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتا۔ وہ کم تر واقفیت کی بناپر طرح طرح کے شبہات میں مبتلا ہوجاتاہے۔
اس کے علاج کے لیے خدا نے بالواسطہ مشاہدہ کا انتظام کیا۔ اس نے اپنے چنے ہوئے بندوں کو مخفی دنیا کا مشاہدہ کرایا تاکہ وہ اس کی حکمتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور دوسرے انسانوں کو اس سے باخبر کردیں۔ یہاں حضرت موسیٰ کے جس واقعہ کا ذکر ہے وہ اسی قسم کا ایک استثنائی واقعہ ہے جس کے ذریعے ان کو خداکے چھپے ہوئے نظام کی ایک جھلک دکھائی گئی۔
حضرت موسیٰ نے یہ سفر غالباً مصر وسوڈان کے درمیان اپنے ایک نوجوان شاگرد (یوشع بن نون) کے ساتھ کیا تھا۔ خدا نے بطور علامت انھیں بتایا تھاکہ تم چلتے رہو۔ یہاں تک کہ جب تم اس جگہ پہنچو جہاں دو دریا باہم ملتے ہوں تو وہاں تم کو ہمارا ایک بندہ (غالباً فرشتہ به شکل انسان) ملے گا۔ تم اس کے ساتھ ہو لینا۔
الكهف 18:62
خدا فرشتوں کے ذریعہ مسلسل دنیا کا انتظام کررہا ہے۔ انسان چوں کہ اس انتظام کو نہیں دیکھتا، وہ اس کے بھیدوں کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتا۔ وہ کم تر واقفیت کی بناپر طرح طرح کے شبہات میں مبتلا ہوجاتاہے۔
اس کے علاج کے لیے خدا نے بالواسطہ مشاہدہ کا انتظام کیا۔ اس نے اپنے چنے ہوئے بندوں کو مخفی دنیا کا مشاہدہ کرایا تاکہ وہ اس کی حکمتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور دوسرے انسانوں کو اس سے باخبر کردیں۔ یہاں حضرت موسیٰ کے جس واقعہ کا ذکر ہے وہ اسی قسم کا ایک استثنائی واقعہ ہے جس کے ذریعے ان کو خداکے چھپے ہوئے نظام کی ایک جھلک دکھائی گئی۔
حضرت موسیٰ نے یہ سفر غالباً مصر وسوڈان کے درمیان اپنے ایک نوجوان شاگرد (یوشع بن نون) کے ساتھ کیا تھا۔ خدا نے بطور علامت انھیں بتایا تھاکہ تم چلتے رہو۔ یہاں تک کہ جب تم اس جگہ پہنچو جہاں دو دریا باہم ملتے ہوں تو وہاں تم کو ہمارا ایک بندہ (غالباً فرشتہ به شکل انسان) ملے گا۔ تم اس کے ساتھ ہو لینا۔
الكهف 18:63
حضرت موسیٰکو مزید علامت یہ بتائی گئی تھی کہ تم جب مطلوبہ مقام پر پہنچوگے تو تمھارے ناشتہ کی مچھلی عجیب طریقہ سے پانی میں چلی جائے گی۔ یہ واقعہ ایک مقام پر ہوا۔ مگر مچھلی شاگرد کے ساتھ تھی اور شاگرد کسی وجہ سے حضرت موسیٰ کو بتا نہ سکا کہ ایسا واقعہ ہواہے۔ کچھ آگے بڑھنے کے بعد جب موسیٰکو معلوم ہوا تو وہ فوراً واپس ہوئے اور مذکورہ مقام پر اس بندہ (خضر) کو پالیا جس سے ملنے کے لیے انھوں نے یہ لمبا سفر کیا تھا۔
الكهف 18:64
حضرت موسیٰکو مزید علامت یہ بتائی گئی تھی کہ تم جب مطلوبہ مقام پر پہنچوگے تو تمھارے ناشتہ کی مچھلی عجیب طریقہ سے پانی میں چلی جائے گی۔ یہ واقعہ ایک مقام پر ہوا۔ مگر مچھلی شاگرد کے ساتھ تھی اور شاگرد کسی وجہ سے حضرت موسیٰ کو بتا نہ سکا کہ ایسا واقعہ ہواہے۔ کچھ آگے بڑھنے کے بعد جب موسیٰکو معلوم ہوا تو وہ فوراً واپس ہوئے اور مذکورہ مقام پر اس بندہ (خضر) کو پالیا جس سے ملنے کے لیے انھوں نے یہ لمبا سفر کیا تھا۔
الكهف 18:65
حضرت موسیٰکو مزید علامت یہ بتائی گئی تھی کہ تم جب مطلوبہ مقام پر پہنچوگے تو تمھارے ناشتہ کی مچھلی عجیب طریقہ سے پانی میں چلی جائے گی۔ یہ واقعہ ایک مقام پر ہوا۔ مگر مچھلی شاگرد کے ساتھ تھی اور شاگرد کسی وجہ سے حضرت موسیٰ کو بتا نہ سکا کہ ایسا واقعہ ہواہے۔ کچھ آگے بڑھنے کے بعد جب موسیٰکو معلوم ہوا تو وہ فوراً واپس ہوئے اور مذکورہ مقام پر اس بندہ (خضر) کو پالیا جس سے ملنے کے لیے انھوں نے یہ لمبا سفر کیا تھا۔
الكهف 18:66
اس بندہ (خضر) کو خدا نے خصوصی علم اور طاقت عطا کی تھی تاکہ اس کے مطابق وہ دنیا کے معاملات میں غیرمعمولی تصرف کرسکیں۔ اس علم کے تحت وہ اکثر اوقات عام ضابطہ کے خلاف عمل کرتے تھے۔ اس لیے حضرت موسیٰ کی فرمائش پر انھوںنے کہا کہ تم اس کی برداشت نہیں لاسکتے۔
الكهف 18:67
اس بندہ (خضر) کو خدا نے خصوصی علم اور طاقت عطا کی تھی تاکہ اس کے مطابق وہ دنیا کے معاملات میں غیرمعمولی تصرف کرسکیں۔ اس علم کے تحت وہ اکثر اوقات عام ضابطہ کے خلاف عمل کرتے تھے۔ اس لیے حضرت موسیٰ کی فرمائش پر انھوںنے کہا کہ تم اس کی برداشت نہیں لاسکتے۔
الكهف 18:68
اس بندہ (خضر) کو خدا نے خصوصی علم اور طاقت عطا کی تھی تاکہ اس کے مطابق وہ دنیا کے معاملات میں غیرمعمولی تصرف کرسکیں۔ اس علم کے تحت وہ اکثر اوقات عام ضابطہ کے خلاف عمل کرتے تھے۔ اس لیے حضرت موسیٰ کی فرمائش پر انھوںنے کہا کہ تم اس کی برداشت نہیں لاسکتے۔
الكهف 18:69
اس بندہ (خضر) کو خدا نے خصوصی علم اور طاقت عطا کی تھی تاکہ اس کے مطابق وہ دنیا کے معاملات میں غیرمعمولی تصرف کرسکیں۔ اس علم کے تحت وہ اکثر اوقات عام ضابطہ کے خلاف عمل کرتے تھے۔ اس لیے حضرت موسیٰ کی فرمائش پر انھوںنے کہا کہ تم اس کی برداشت نہیں لاسکتے۔
الكهف 18:70
اس بندہ (خضر) کو خدا نے خصوصی علم اور طاقت عطا کی تھی تاکہ اس کے مطابق وہ دنیا کے معاملات میں غیرمعمولی تصرف کرسکیں۔ اس علم کے تحت وہ اکثر اوقات عام ضابطہ کے خلاف عمل کرتے تھے۔ اس لیے حضرت موسیٰ کی فرمائش پر انھوںنے کہا کہ تم اس کی برداشت نہیں لاسکتے۔
الكهف 18:71
اچھی کشتی کو عیب دار بنانا اور چھوٹے بچہ کو ہلاک کرنا بظاہر ایسے کام ہیں جو صحیح نہیں۔ مگر جیسا کہ آگے کی آیات بتاتی ہیں، اس میں نہایت گہری مصلحت چھپی ہوئی تھی۔ یہ بظاہر غلط کام حقیقت کے اعتبار سے بالکل صحیح اور مفید کام تھے۔
اس میں اس مسئلہ کا بھی ایک جواب ہے جس کو عام طورپر خرابی کا مسئلہ (problem of evil) کہاجاتاہے۔ انسانی دنیا کی بہت سی چیزیں جن کو دیکھ کر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ دنیا کے نظام میں خرابیاں ہیں، وہ گہری مصلحت پر مبنی ہوتی ہیں۔ موجودہ زندگی میں یقیناً اس مصلحت پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں یہ پردہ باقی نہ رہے گا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ جو کچھ ہوا وہی ہونا بھی چاہیے تھا۔
الكهف 18:72
اچھی کشتی کو عیب دار بنانا اور چھوٹے بچہ کو ہلاک کرنا بظاہر ایسے کام ہیں جو صحیح نہیں۔ مگر جیسا کہ آگے کی آیات بتاتی ہیں، اس میں نہایت گہری مصلحت چھپی ہوئی تھی۔ یہ بظاہر غلط کام حقیقت کے اعتبار سے بالکل صحیح اور مفید کام تھے۔
اس میں اس مسئلہ کا بھی ایک جواب ہے جس کو عام طورپر خرابی کا مسئلہ (problem of evil) کہاجاتاہے۔ انسانی دنیا کی بہت سی چیزیں جن کو دیکھ کر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ دنیا کے نظام میں خرابیاں ہیں، وہ گہری مصلحت پر مبنی ہوتی ہیں۔ موجودہ زندگی میں یقیناً اس مصلحت پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں یہ پردہ باقی نہ رہے گا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ جو کچھ ہوا وہی ہونا بھی چاہیے تھا۔
الكهف 18:73
اچھی کشتی کو عیب دار بنانا اور چھوٹے بچہ کو ہلاک کرنا بظاہر ایسے کام ہیں جو صحیح نہیں۔ مگر جیسا کہ آگے کی آیات بتاتی ہیں، اس میں نہایت گہری مصلحت چھپی ہوئی تھی۔ یہ بظاہر غلط کام حقیقت کے اعتبار سے بالکل صحیح اور مفید کام تھے۔
اس میں اس مسئلہ کا بھی ایک جواب ہے جس کو عام طورپر خرابی کا مسئلہ (problem of evil) کہاجاتاہے۔ انسانی دنیا کی بہت سی چیزیں جن کو دیکھ کر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ دنیا کے نظام میں خرابیاں ہیں، وہ گہری مصلحت پر مبنی ہوتی ہیں۔ موجودہ زندگی میں یقیناً اس مصلحت پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں یہ پردہ باقی نہ رہے گا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ جو کچھ ہوا وہی ہونا بھی چاہیے تھا۔
الكهف 18:74
اچھی کشتی کو عیب دار بنانا اور چھوٹے بچہ کو ہلاک کرنا بظاہر ایسے کام ہیں جو صحیح نہیں۔ مگر جیسا کہ آگے کی آیات بتاتی ہیں، اس میں نہایت گہری مصلحت چھپی ہوئی تھی۔ یہ بظاہر غلط کام حقیقت کے اعتبار سے بالکل صحیح اور مفید کام تھے۔
اس میں اس مسئلہ کا بھی ایک جواب ہے جس کو عام طورپر خرابی کا مسئلہ (problem of evil) کہاجاتاہے۔ انسانی دنیا کی بہت سی چیزیں جن کو دیکھ کر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ دنیا کے نظام میں خرابیاں ہیں، وہ گہری مصلحت پر مبنی ہوتی ہیں۔ موجودہ زندگی میں یقیناً اس مصلحت پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں یہ پردہ باقی نہ رہے گا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ جو کچھ ہوا وہی ہونا بھی چاہیے تھا۔
الكهف 18:75
حضرت موسیٰ اور حضرت خضر جیسے مقربینِ خدا ایک بستی میں پہنچتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بستی والے مہمان سمجھ کر ان کو کھانا کھلائیں۔ مگر بستی والے کھانا کھلانے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا صادق اور مقرب ہونا کافی نہیں ہے کہ وہ دیکھنے والوں کو بھی صادق اور مقرب نظر آئے۔ اگر بستی والوں نے ان کو پہچانا ہوتا تو ضرور وہ ان کو اپنا خصوصی مہمان بناتے اور ان سے برکت حاصل کرتے، مگر ان کے معمولی ظاہری حلیہ کی بنا پر انھوںنے ان کو نظر انداز کردیا۔ وہ ان کی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے ان کو نہ دیکھ سکے۔
اس ناخوش گوار سلوک کے باوجود حضرت خضر نے بستی والوں کی ایک گرتی ہوئی دیوار سیدھی کردی۔ خدا کے سچے بندوں کا دوسروں سے سلوک جوابی سلوک نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر حال میں وہی ہوتا ہے جو از روئے حق ان کے لیے درست ہے۔
الكهف 18:76
حضرت موسیٰ اور حضرت خضر جیسے مقربینِ خدا ایک بستی میں پہنچتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بستی والے مہمان سمجھ کر ان کو کھانا کھلائیں۔ مگر بستی والے کھانا کھلانے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا صادق اور مقرب ہونا کافی نہیں ہے کہ وہ دیکھنے والوں کو بھی صادق اور مقرب نظر آئے۔ اگر بستی والوں نے ان کو پہچانا ہوتا تو ضرور وہ ان کو اپنا خصوصی مہمان بناتے اور ان سے برکت حاصل کرتے، مگر ان کے معمولی ظاہری حلیہ کی بنا پر انھوںنے ان کو نظر انداز کردیا۔ وہ ان کی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے ان کو نہ دیکھ سکے۔
اس ناخوش گوار سلوک کے باوجود حضرت خضر نے بستی والوں کی ایک گرتی ہوئی دیوار سیدھی کردی۔ خدا کے سچے بندوں کا دوسروں سے سلوک جوابی سلوک نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر حال میں وہی ہوتا ہے جو از روئے حق ان کے لیے درست ہے۔
الكهف 18:77
حضرت موسیٰ اور حضرت خضر جیسے مقربینِ خدا ایک بستی میں پہنچتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بستی والے مہمان سمجھ کر ان کو کھانا کھلائیں۔ مگر بستی والے کھانا کھلانے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا صادق اور مقرب ہونا کافی نہیں ہے کہ وہ دیکھنے والوں کو بھی صادق اور مقرب نظر آئے۔ اگر بستی والوں نے ان کو پہچانا ہوتا تو ضرور وہ ان کو اپنا خصوصی مہمان بناتے اور ان سے برکت حاصل کرتے، مگر ان کے معمولی ظاہری حلیہ کی بنا پر انھوںنے ان کو نظر انداز کردیا۔ وہ ان کی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے ان کو نہ دیکھ سکے۔
اس ناخوش گوار سلوک کے باوجود حضرت خضر نے بستی والوں کی ایک گرتی ہوئی دیوار سیدھی کردی۔ خدا کے سچے بندوں کا دوسروں سے سلوک جوابی سلوک نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر حال میں وہی ہوتا ہے جو از روئے حق ان کے لیے درست ہے۔
الكهف 18:78
حضرت موسیٰ اور حضرت خضر جیسے مقربینِ خدا ایک بستی میں پہنچتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بستی والے مہمان سمجھ کر ان کو کھانا کھلائیں۔ مگر بستی والے کھانا کھلانے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا صادق اور مقرب ہونا کافی نہیں ہے کہ وہ دیکھنے والوں کو بھی صادق اور مقرب نظر آئے۔ اگر بستی والوں نے ان کو پہچانا ہوتا تو ضرور وہ ان کو اپنا خصوصی مہمان بناتے اور ان سے برکت حاصل کرتے، مگر ان کے معمولی ظاہری حلیہ کی بنا پر انھوںنے ان کو نظر انداز کردیا۔ وہ ان کی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے ان کو نہ دیکھ سکے۔
اس ناخوش گوار سلوک کے باوجود حضرت خضر نے بستی والوں کی ایک گرتی ہوئی دیوار سیدھی کردی۔ خدا کے سچے بندوں کا دوسروں سے سلوک جوابی سلوک نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر حال میں وہی ہوتا ہے جو از روئے حق ان کے لیے درست ہے۔
الكهف 18:79
حضرت خضر نے کشتی کو بیکار نہیں کیا تھا بلکہ وقتی طورپر اس کو عیب دار بنا دیا۔ اس کی مصلحت یہ تھی کہ کشتی جس طرف جارہی تھی اس طرف آگے ایک بادشاہ تھا جو غالباً اپنی کسی جنگی مہم کے لیے اچھی کشتیوں کو زبردستی اپنے قبضہ میں لے رہا تھا۔ چنانچہ انھوں نے اس کو ایسا بنا دیا کہ بادشاہ کے کارندے اس کو دیکھیں تو اس کو ناقابلِ توجہ سمجھ کر اسے چھوڑ دیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ بددل نہ ہو۔ وہ یہ سوچ کر اس پر راضی ہوجائے کہ خدا نے جو کچھ کیا ہے اس میں اس کے لیے کوئی فائدہ چھپا ہوگا، اگر چہ وہ ابھی اس سے پوری طرح باخبر نہیں۔
الكهف 18:80
لڑکے کی یہ مثال بتاتی ہے کہ خدا اپنے بندوں کی مدد کہاں کہاں کرتا ہے۔ حتی کہ وہ ایسے معاملہ میں بھی ان کی مدد کرتاہے جس کا انھیںعلم تک نہیں ہوتا کہ وہ ا س کے لیے اپنے رب سے درخواست کرسکیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ صبر شکر کارویہ اختیار کرے۔ وہ ہر حال میں خدا سے خیر کی امید رکھے۔ خدا کلی علم رکھتا ہے، اس لیے وہ کسی بندے کی بھلائی کو اس سے زیادہ جانتا ہے جتنا انسان جزئی علم کی بنا پر نہیں جان سکتا۔
الكهف 18:81
لڑکے کی یہ مثال بتاتی ہے کہ خدا اپنے بندوں کی مدد کہاں کہاں کرتا ہے۔ حتی کہ وہ ایسے معاملہ میں بھی ان کی مدد کرتاہے جس کا انھیںعلم تک نہیں ہوتا کہ وہ ا س کے لیے اپنے رب سے درخواست کرسکیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ صبر شکر کارویہ اختیار کرے۔ وہ ہر حال میں خدا سے خیر کی امید رکھے۔ خدا کلی علم رکھتا ہے، اس لیے وہ کسی بندے کی بھلائی کو اس سے زیادہ جانتا ہے جتنا انسان جزئی علم کی بنا پر نہیں جان سکتا۔
الكهف 18:82
ان مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا ہر وقت موجودہ دنیا کي نگرانی کررہا ہے۔ اس نے اگرچہ امتحان کی مصلحت کی بناپر اس دنیا کا نظام اسباب وعلل کے تحت قائم کررکھا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ اس نظام میں بار بار مداخلت کرتا رہتا ہے۔ خدا کہیں تعمیر کا طریقہ اختیار کرتاہے اور کہیں بظاہر تخریب کا۔ مگر وسیع تر مصلحت کے اعتبار سے سب اس کی رحمت ہوتی ہے۔ اور اس بات کا تیقن حاصل کرنا ہوتاہے کہ اسباب کی آزادانہ گردش میں تخلیق کے اصل مقاصد فوت نہ ہونے پائیں۔
الكهف 18:83
ذوالقرنین کے لفظی معنی ہیں دو سینگوں والا۔ یعنی وہ بادشاہ جس کی فتوحات کا سلسلہ دنیا کے دونوں کناروں (مشرق ومغرب) تک پہنچا ہوا تھا۔ یہاں ذوالقرنین سے مراد غالباً قدیم ایرانی بادشاہ خسرو (Cyrus) ہے۔ اس کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس نے قدیم آباد دنیا کا بڑا حصہ فتح کرڈالا تھا۔ اور بالآخر ایک جنگ میں مارا گیا۔ وہ نہایت منصف اور عادل بادشاہ تھا۔
الكهف 18:84
ذوالقرنین کے لفظی معنی ہیں دو سینگوں والا۔ یعنی وہ بادشاہ جس کی فتوحات کا سلسلہ دنیا کے دونوں کناروں (مشرق ومغرب) تک پہنچا ہوا تھا۔ یہاں ذوالقرنین سے مراد غالباً قدیم ایرانی بادشاہ خسرو (Cyrus) ہے۔ اس کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس نے قدیم آباد دنیا کا بڑا حصہ فتح کرڈالا تھا۔ اور بالآخر ایک جنگ میں مارا گیا۔ وہ نہایت منصف اور عادل بادشاہ تھا۔
الكهف 18:85
ذوالقرنین غالباً ایران کے مغرب میں فتوحات کرتا ہوا ایشیا مائنر تک پہنچ گیا جہاں ایجین سمندر (Aegean Sea) کا’’سیاہ پانی‘‘ خشکی کی حد بندی کررہا ہے۔ یہاں ایک شخص ساحل کے کنارے کھڑا ہو کر سمندر کی طرف دیکھے تو شام کے وقت اس کو نظر آئے گا گویا کہ سورج کا گولا پانی میں داخل ہوکر اس کے اندر ڈوب رہاہے۔ یہ تمثيلي زبان (metaphorical language)میں اس حد کا بیان ہے جہاں تک ذوالقرنین پہنچا تھا۔
ذوالقرنین سمندر کے اس کنارے تک بطور سیاح نہیں آیا تھا بلکہ بطور فاتح آیا تھا۔ یہاں اس وقت جو قوم آباد تھی اس کے اوپر اس کو پورا اختیار مل گیا۔ اس کے اوپر اس کی حکومت قائم ہوگئی۔ بحیثیت حکمراں اس کو کامل اختیار حاصل تھا کہ اس کے ساتھ جو چاہے کرے۔ تاہم ذو القرنین ایک عادل بادشاہ تھا۔ اس نے کسی پر کوئی ظلم نہیںکیا۔ اس نے عام اعلان کردیا کہ ہم صرف اس شخص کے ساتھ سختی کریں گے جو برائی کرتا ہوا پایا جائے۔ جو لوگ امن ونظم کے ساتھ رہیں گے ان کے اوپر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔
الكهف 18:86
ذوالقرنین غالباً ایران کے مغرب میں فتوحات کرتا ہوا ایشیا مائنر تک پہنچ گیا جہاں ایجین سمندر (Aegean Sea) کا’’سیاہ پانی‘‘ خشکی کی حد بندی کررہا ہے۔ یہاں ایک شخص ساحل کے کنارے کھڑا ہو کر سمندر کی طرف دیکھے تو شام کے وقت اس کو نظر آئے گا گویا کہ سورج کا گولا پانی میں داخل ہوکر اس کے اندر ڈوب رہاہے۔ یہ تمثيلي زبان (metaphorical language)میں اس حد کا بیان ہے جہاں تک ذوالقرنین پہنچا تھا۔
ذوالقرنین سمندر کے اس کنارے تک بطور سیاح نہیں آیا تھا بلکہ بطور فاتح آیا تھا۔ یہاں اس وقت جو قوم آباد تھی اس کے اوپر اس کو پورا اختیار مل گیا۔ اس کے اوپر اس کی حکومت قائم ہوگئی۔ بحیثیت حکمراں اس کو کامل اختیار حاصل تھا کہ اس کے ساتھ جو چاہے کرے۔ تاہم ذو القرنین ایک عادل بادشاہ تھا۔ اس نے کسی پر کوئی ظلم نہیںکیا۔ اس نے عام اعلان کردیا کہ ہم صرف اس شخص کے ساتھ سختی کریں گے جو برائی کرتا ہوا پایا جائے۔ جو لوگ امن ونظم کے ساتھ رہیں گے ان کے اوپر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔
الكهف 18:87
ذوالقرنین غالباً ایران کے مغرب میں فتوحات کرتا ہوا ایشیا مائنر تک پہنچ گیا جہاں ایجین سمندر (Aegean Sea) کا’’سیاہ پانی‘‘ خشکی کی حد بندی کررہا ہے۔ یہاں ایک شخص ساحل کے کنارے کھڑا ہو کر سمندر کی طرف دیکھے تو شام کے وقت اس کو نظر آئے گا گویا کہ سورج کا گولا پانی میں داخل ہوکر اس کے اندر ڈوب رہاہے۔ یہ تمثيلي زبان (metaphorical language)میں اس حد کا بیان ہے جہاں تک ذوالقرنین پہنچا تھا۔
ذوالقرنین سمندر کے اس کنارے تک بطور سیاح نہیں آیا تھا بلکہ بطور فاتح آیا تھا۔ یہاں اس وقت جو قوم آباد تھی اس کے اوپر اس کو پورا اختیار مل گیا۔ اس کے اوپر اس کی حکومت قائم ہوگئی۔ بحیثیت حکمراں اس کو کامل اختیار حاصل تھا کہ اس کے ساتھ جو چاہے کرے۔ تاہم ذو القرنین ایک عادل بادشاہ تھا۔ اس نے کسی پر کوئی ظلم نہیںکیا۔ اس نے عام اعلان کردیا کہ ہم صرف اس شخص کے ساتھ سختی کریں گے جو برائی کرتا ہوا پایا جائے۔ جو لوگ امن ونظم کے ساتھ رہیں گے ان کے اوپر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔
الكهف 18:88
ذوالقرنین غالباً ایران کے مغرب میں فتوحات کرتا ہوا ایشیا مائنر تک پہنچ گیا جہاں ایجین سمندر (Aegean Sea) کا’’سیاہ پانی‘‘ خشکی کی حد بندی کررہا ہے۔ یہاں ایک شخص ساحل کے کنارے کھڑا ہو کر سمندر کی طرف دیکھے تو شام کے وقت اس کو نظر آئے گا گویا کہ سورج کا گولا پانی میں داخل ہوکر اس کے اندر ڈوب رہاہے۔ یہ تمثيلي زبان (metaphorical language)میں اس حد کا بیان ہے جہاں تک ذوالقرنین پہنچا تھا۔
ذوالقرنین سمندر کے اس کنارے تک بطور سیاح نہیں آیا تھا بلکہ بطور فاتح آیا تھا۔ یہاں اس وقت جو قوم آباد تھی اس کے اوپر اس کو پورا اختیار مل گیا۔ اس کے اوپر اس کی حکومت قائم ہوگئی۔ بحیثیت حکمراں اس کو کامل اختیار حاصل تھا کہ اس کے ساتھ جو چاہے کرے۔ تاہم ذو القرنین ایک عادل بادشاہ تھا۔ اس نے کسی پر کوئی ظلم نہیںکیا۔ اس نے عام اعلان کردیا کہ ہم صرف اس شخص کے ساتھ سختی کریں گے جو برائی کرتا ہوا پایا جائے۔ جو لوگ امن ونظم کے ساتھ رہیں گے ان کے اوپر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔
الكهف 18:89
ذوالقرنین کی دوسری مہم ایران کے مشرق کی طرف تھی۔ وہ فتوحات کرتا ہوا آگے بڑھا۔ یہاں تک کہ وہ ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاںبالکل غیر متمدن لوگ بستے تھے۔ ’’ان کے اور آفتاب کے درمیان آڑ نہیں تھی‘‘ کا مطلب غالباً یہ ہے وہ خانہ بدوش تھے اور تعمیر شدہ مکانات میں رہنے کے بجائے کھلے میدانوں میں زندگی گزارتے تھے۔
الكهف 18:90
ذوالقرنین کی دوسری مہم ایران کے مشرق کی طرف تھی۔ وہ فتوحات کرتا ہوا آگے بڑھا۔ یہاں تک کہ وہ ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاںبالکل غیر متمدن لوگ بستے تھے۔ ’’ان کے اور آفتاب کے درمیان آڑ نہیں تھی‘‘ کا مطلب غالباً یہ ہے وہ خانہ بدوش تھے اور تعمیر شدہ مکانات میں رہنے کے بجائے کھلے میدانوں میں زندگی گزارتے تھے۔
الكهف 18:91
ذوالقرنین کی دوسری مہم ایران کے مشرق کی طرف تھی۔ وہ فتوحات کرتا ہوا آگے بڑھا۔ یہاں تک کہ وہ ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاںبالکل غیر متمدن لوگ بستے تھے۔ ’’ان کے اور آفتاب کے درمیان آڑ نہیں تھی‘‘ کا مطلب غالباً یہ ہے وہ خانہ بدوش تھے اور تعمیر شدہ مکانات میں رہنے کے بجائے کھلے میدانوں میں زندگی گزارتے تھے۔
الكهف 18:92
ذوالقرنین کی تیسری مہم غالباً ایران کے شمال مشرق کی جانب تھی۔ وہ ایسے علاقہ میں پہنچا جہاں بالکل وحشی قسم کے لوگ آباد تھے۔ دوسری قوموں سے ان کا میل جول نہیں ہوسکا تھا۔ چنانچہ وہ کوئی اور زبان مشکل ہی سے سمجھ پاتے تھے۔
یہ غالباً بحر کیسپین اور بحر اسود کے درمیان کے پہاڑ تھے۔ یہاں وحشی قبائل دوسری طرف سے آکر غارت گری کرتے اور پھر پہاڑی درہ کے راستے سے بھاگ جاتے۔ ذوالقرنین نے یہاں دونوں پہاڑوں کے درمیان آہنی دیوار کھڑی کردی۔
الكهف 18:93
ذوالقرنین کی تیسری مہم غالباً ایران کے شمال مشرق کی جانب تھی۔ وہ ایسے علاقہ میں پہنچا جہاں بالکل وحشی قسم کے لوگ آباد تھے۔ دوسری قوموں سے ان کا میل جول نہیں ہوسکا تھا۔ چنانچہ وہ کوئی اور زبان مشکل ہی سے سمجھ پاتے تھے۔
یہ غالباً بحر کیسپین اور بحر اسود کے درمیان کے پہاڑ تھے۔ یہاں وحشی قبائل دوسری طرف سے آکر غارت گری کرتے اور پھر پہاڑی درہ کے راستے سے بھاگ جاتے۔ ذوالقرنین نے یہاں دونوں پہاڑوں کے درمیان آہنی دیوار کھڑی کردی۔
الكهف 18:94
ذوالقرنین کی تیسری مہم غالباً ایران کے شمال مشرق کی جانب تھی۔ وہ ایسے علاقہ میں پہنچا جہاں بالکل وحشی قسم کے لوگ آباد تھے۔ دوسری قوموں سے ان کا میل جول نہیں ہوسکا تھا۔ چنانچہ وہ کوئی اور زبان مشکل ہی سے سمجھ پاتے تھے۔
یہ غالباً بحر کیسپین اور بحر اسود کے درمیان کے پہاڑ تھے۔ یہاں وحشی قبائل دوسری طرف سے آکر غارت گری کرتے اور پھر پہاڑی درہ کے راستے سے بھاگ جاتے۔ ذوالقرنین نے یہاں دونوں پہاڑوں کے درمیان آہنی دیوار کھڑی کردی۔
الكهف 18:95
موجودہ اشتراکی روس کے علاقہ میں قفقاز پہاڑ (Caucasus Mountains) واقع ہیں۔ ان کا سلسلہ کیسپین سمندر اور بلیک سمندر کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ہیں جو یورپ اور ایشیا کے درمیان قدرتی دیوار کا کام دیتے ہیں۔ اس کوہستانی سلسلہ میں بعض مقامات پر درے تھے جن سے جنوب کے علاقہ سے یاجوج ماجوج کے وحشی قبائل شمال کی طرف آجاتے اور ایرانی مملکت کے حصہ میں غارت گری کرتے۔ یہاں پر آج بھی ایک قدیم دیوار کے آثار موجود ہیں۔ اغلب ہے کہ یہی وہ دیوار ہے جو ذوالقرنین نے حفاظتی مقصد کے تحت تعمیر کی تھی۔
دشمن کے مقابلہ میں ’’لوہے کی دیوار‘‘ کھڑی کرنا ایک ایسا کارنامہ ہے جس پر عام طورپر لوگوں میں فخر اور گھمنڈ کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ مگر ذوالقرنین نے ایسی ناقابل تسخیر دیوار کھڑی کرنے کے بعد بھی اپنی تواضع نہیں کھوئی اس کی نظر اپنی مصنوعات پر نہیں تھی بلکہ خدا کے اختیارات پر تھی اور خدا کے مقابلہ میں کسی انسان کو کوئی زور حاصل نہیں۔
الكهف 18:96
موجودہ اشتراکی روس کے علاقہ میں قفقاز پہاڑ (Caucasus Mountains) واقع ہیں۔ ان کا سلسلہ کیسپین سمندر اور بلیک سمندر کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ہیں جو یورپ اور ایشیا کے درمیان قدرتی دیوار کا کام دیتے ہیں۔ اس کوہستانی سلسلہ میں بعض مقامات پر درے تھے جن سے جنوب کے علاقہ سے یاجوج ماجوج کے وحشی قبائل شمال کی طرف آجاتے اور ایرانی مملکت کے حصہ میں غارت گری کرتے۔ یہاں پر آج بھی ایک قدیم دیوار کے آثار موجود ہیں۔ اغلب ہے کہ یہی وہ دیوار ہے جو ذوالقرنین نے حفاظتی مقصد کے تحت تعمیر کی تھی۔
دشمن کے مقابلہ میں ’’لوہے کی دیوار‘‘ کھڑی کرنا ایک ایسا کارنامہ ہے جس پر عام طورپر لوگوں میں فخر اور گھمنڈ کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ مگر ذوالقرنین نے ایسی ناقابل تسخیر دیوار کھڑی کرنے کے بعد بھی اپنی تواضع نہیں کھوئی اس کی نظر اپنی مصنوعات پر نہیں تھی بلکہ خدا کے اختیارات پر تھی اور خدا کے مقابلہ میں کسی انسان کو کوئی زور حاصل نہیں۔
الكهف 18:97
موجودہ اشتراکی روس کے علاقہ میں قفقاز پہاڑ (Caucasus Mountains) واقع ہیں۔ ان کا سلسلہ کیسپین سمندر اور بلیک سمندر کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ہیں جو یورپ اور ایشیا کے درمیان قدرتی دیوار کا کام دیتے ہیں۔ اس کوہستانی سلسلہ میں بعض مقامات پر درے تھے جن سے جنوب کے علاقہ سے یاجوج ماجوج کے وحشی قبائل شمال کی طرف آجاتے اور ایرانی مملکت کے حصہ میں غارت گری کرتے۔ یہاں پر آج بھی ایک قدیم دیوار کے آثار موجود ہیں۔ اغلب ہے کہ یہی وہ دیوار ہے جو ذوالقرنین نے حفاظتی مقصد کے تحت تعمیر کی تھی۔
دشمن کے مقابلہ میں ’’لوہے کی دیوار‘‘ کھڑی کرنا ایک ایسا کارنامہ ہے جس پر عام طورپر لوگوں میں فخر اور گھمنڈ کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ مگر ذوالقرنین نے ایسی ناقابل تسخیر دیوار کھڑی کرنے کے بعد بھی اپنی تواضع نہیں کھوئی اس کی نظر اپنی مصنوعات پر نہیں تھی بلکہ خدا کے اختیارات پر تھی اور خدا کے مقابلہ میں کسی انسان کو کوئی زور حاصل نہیں۔
الكهف 18:98
موجودہ اشتراکی روس کے علاقہ میں قفقاز پہاڑ (Caucasus Mountains) واقع ہیں۔ ان کا سلسلہ کیسپین سمندر اور بلیک سمندر کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ہیں جو یورپ اور ایشیا کے درمیان قدرتی دیوار کا کام دیتے ہیں۔ اس کوہستانی سلسلہ میں بعض مقامات پر درے تھے جن سے جنوب کے علاقہ سے یاجوج ماجوج کے وحشی قبائل شمال کی طرف آجاتے اور ایرانی مملکت کے حصہ میں غارت گری کرتے۔ یہاں پر آج بھی ایک قدیم دیوار کے آثار موجود ہیں۔ اغلب ہے کہ یہی وہ دیوار ہے جو ذوالقرنین نے حفاظتی مقصد کے تحت تعمیر کی تھی۔
دشمن کے مقابلہ میں ’’لوہے کی دیوار‘‘ کھڑی کرنا ایک ایسا کارنامہ ہے جس پر عام طورپر لوگوں میں فخر اور گھمنڈ کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ مگر ذوالقرنین نے ایسی ناقابل تسخیر دیوار کھڑی کرنے کے بعد بھی اپنی تواضع نہیں کھوئی اس کی نظر اپنی مصنوعات پر نہیں تھی بلکہ خدا کے اختیارات پر تھی اور خدا کے مقابلہ میں کسی انسان کو کوئی زور حاصل نہیں۔
الكهف 18:99
قیامت آنے کے بعد موجودہ دنیا ایک اور دنیا بن جائے گی۔ اس وقت غالباً ایسا ہوگا کہ دریاؤں اور پہاڑوں کی موجودہ حد بندیاں توڑ کر ختم کر دی جائیں گی۔ انسانوں کا ایک ہجوم ہوگا جو ایک دوسرے سے اسی طرح ٹکرائے گا جس طرح سمندر میں موجیں ٹکراتی ہیں۔
آج لوگوں کو عقل کی آنکھ سے جہنم دکھائی جارہی ہے تو وہ ان کو نظر نہیں آتی۔ قیامت میں لوگوں کو پیشانی کی آنکھ سے جہنم دکھائی جائے گی۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا۔ مگر یہ دیکھنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوںکہ نصیحت کے ذریعہ جس نے اپنی آنکھ کا پردہ ہٹایا وہی پردہ ہٹانے والا ہے۔ ورنہ قیامت کے دن پردہ ہٹایا جانا تو صرف اس لیے ہوگا کہ سرکشی کرنے الوں کو ان کے آخری انجام تک پہنچا دیا جائے۔
الكهف 18:100
قیامت آنے کے بعد موجودہ دنیا ایک اور دنیا بن جائے گی۔ اس وقت غالباً ایسا ہوگا کہ دریاؤں اور پہاڑوں کی موجودہ حد بندیاں توڑ کر ختم کر دی جائیں گی۔ انسانوں کا ایک ہجوم ہوگا جو ایک دوسرے سے اسی طرح ٹکرائے گا جس طرح سمندر میں موجیں ٹکراتی ہیں۔
آج لوگوں کو عقل کی آنکھ سے جہنم دکھائی جارہی ہے تو وہ ان کو نظر نہیں آتی۔ قیامت میں لوگوں کو پیشانی کی آنکھ سے جہنم دکھائی جائے گی۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا۔ مگر یہ دیکھنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوںکہ نصیحت کے ذریعہ جس نے اپنی آنکھ کا پردہ ہٹایا وہی پردہ ہٹانے والا ہے۔ ورنہ قیامت کے دن پردہ ہٹایا جانا تو صرف اس لیے ہوگا کہ سرکشی کرنے الوں کو ان کے آخری انجام تک پہنچا دیا جائے۔
الكهف 18:101
قیامت آنے کے بعد موجودہ دنیا ایک اور دنیا بن جائے گی۔ اس وقت غالباً ایسا ہوگا کہ دریاؤں اور پہاڑوں کی موجودہ حد بندیاں توڑ کر ختم کر دی جائیں گی۔ انسانوں کا ایک ہجوم ہوگا جو ایک دوسرے سے اسی طرح ٹکرائے گا جس طرح سمندر میں موجیں ٹکراتی ہیں۔
آج لوگوں کو عقل کی آنکھ سے جہنم دکھائی جارہی ہے تو وہ ان کو نظر نہیں آتی۔ قیامت میں لوگوں کو پیشانی کی آنکھ سے جہنم دکھائی جائے گی۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا۔ مگر یہ دیکھنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوںکہ نصیحت کے ذریعہ جس نے اپنی آنکھ کا پردہ ہٹایا وہی پردہ ہٹانے والا ہے۔ ورنہ قیامت کے دن پردہ ہٹایا جانا تو صرف اس لیے ہوگا کہ سرکشی کرنے الوں کو ان کے آخری انجام تک پہنچا دیا جائے۔
الكهف 18:102
حق کو ماننا خدا کو ماننا ہے اور حق کو نہ ماننا خداکو نہ ماننا۔ جب بھی آدمی حق کو نہ مانے تو وہ کسی نہ کسی چیز یا شخصیت کے بل پر ایسا کرتا ہے ۔ ایسا ہر بھروسہ جھوٹا بھروسہ ہے۔ کیوںکہ اس دنیا میں خداکے سوا کسی کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ فیصلہ کے دن ایسے لوگوں کو بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ کیوں کہ بچانے والا تو صرف خدا تھا اور اس کی حمایت کو انھوں نے پہلے ہی سرکشی کرکے کھودیا۔
الكهف 18:103
آدمی دنیا میں عمل کرتاہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے عمل کا نتیجہ عزت اور دولت کی صورت میں اس کو مل رہا ہے۔ اپنا کوئی کام اس کو بگڑتا ہوا نظر نہیں آتا۔ وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں کامیاب ہوں۔
مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ خدا کے نقشہ میں زندگی کی کامیابی کا معیار آخرت ہے۔ ایسی حالت میں دنیا کی ترقی کو ترقی سمجھنا خدا کے نقشہ کے خلاف اپنا نقشہ بنانا ہے۔ یہ آخرت کو حذف کرکے زندگی کے مسئلہ کو دیکھنا ہے۔ ظاہر ہے ایسے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔
خدا اپنی نشانیاں ظاہر کرتا ہے۔ مگر جو لوگ اپنے ذہن کو دنیا میں لگائے ہوئے ہوں وہ آخرت کی نشانیوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ خدا اپنے دلائل کھولتا ہے مگر جو لوگ دنیا کی باتوں میں گم ہوں ان کو آخرت کی دلیلیں اپیل نہیں کرتیں۔ ایسے لوگ ہدایت کے کنارے کھڑے ہو کر بھی ہدایت کو قبول کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ انھوںنے خدا کی باتوں کو وزن نہیں دیا۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ خدا ان کو اپنے یہاں کسی وزن کا مستحق سمجھے۔
الكهف 18:104
آدمی دنیا میں عمل کرتاہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے عمل کا نتیجہ عزت اور دولت کی صورت میں اس کو مل رہا ہے۔ اپنا کوئی کام اس کو بگڑتا ہوا نظر نہیں آتا۔ وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں کامیاب ہوں۔
مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ خدا کے نقشہ میں زندگی کی کامیابی کا معیار آخرت ہے۔ ایسی حالت میں دنیا کی ترقی کو ترقی سمجھنا خدا کے نقشہ کے خلاف اپنا نقشہ بنانا ہے۔ یہ آخرت کو حذف کرکے زندگی کے مسئلہ کو دیکھنا ہے۔ ظاہر ہے ایسے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔
خدا اپنی نشانیاں ظاہر کرتا ہے۔ مگر جو لوگ اپنے ذہن کو دنیا میں لگائے ہوئے ہوں وہ آخرت کی نشانیوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ خدا اپنے دلائل کھولتا ہے مگر جو لوگ دنیا کی باتوں میں گم ہوں ان کو آخرت کی دلیلیں اپیل نہیں کرتیں۔ ایسے لوگ ہدایت کے کنارے کھڑے ہو کر بھی ہدایت کو قبول کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ انھوںنے خدا کی باتوں کو وزن نہیں دیا۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ خدا ان کو اپنے یہاں کسی وزن کا مستحق سمجھے۔
الكهف 18:105
آدمی دنیا میں عمل کرتاہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے عمل کا نتیجہ عزت اور دولت کی صورت میں اس کو مل رہا ہے۔ اپنا کوئی کام اس کو بگڑتا ہوا نظر نہیں آتا۔ وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں کامیاب ہوں۔
مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ خدا کے نقشہ میں زندگی کی کامیابی کا معیار آخرت ہے۔ ایسی حالت میں دنیا کی ترقی کو ترقی سمجھنا خدا کے نقشہ کے خلاف اپنا نقشہ بنانا ہے۔ یہ آخرت کو حذف کرکے زندگی کے مسئلہ کو دیکھنا ہے۔ ظاہر ہے ایسے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔
خدا اپنی نشانیاں ظاہر کرتا ہے۔ مگر جو لوگ اپنے ذہن کو دنیا میں لگائے ہوئے ہوں وہ آخرت کی نشانیوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ خدا اپنے دلائل کھولتا ہے مگر جو لوگ دنیا کی باتوں میں گم ہوں ان کو آخرت کی دلیلیں اپیل نہیں کرتیں۔ ایسے لوگ ہدایت کے کنارے کھڑے ہو کر بھی ہدایت کو قبول کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ انھوںنے خدا کی باتوں کو وزن نہیں دیا۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ خدا ان کو اپنے یہاں کسی وزن کا مستحق سمجھے۔
الكهف 18:106
آدمی دنیا میں عمل کرتاہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے عمل کا نتیجہ عزت اور دولت کی صورت میں اس کو مل رہا ہے۔ اپنا کوئی کام اس کو بگڑتا ہوا نظر نہیں آتا۔ وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں کامیاب ہوں۔
مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ خدا کے نقشہ میں زندگی کی کامیابی کا معیار آخرت ہے۔ ایسی حالت میں دنیا کی ترقی کو ترقی سمجھنا خدا کے نقشہ کے خلاف اپنا نقشہ بنانا ہے۔ یہ آخرت کو حذف کرکے زندگی کے مسئلہ کو دیکھنا ہے۔ ظاہر ہے ایسے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔
خدا اپنی نشانیاں ظاہر کرتا ہے۔ مگر جو لوگ اپنے ذہن کو دنیا میں لگائے ہوئے ہوں وہ آخرت کی نشانیوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ خدا اپنے دلائل کھولتا ہے مگر جو لوگ دنیا کی باتوں میں گم ہوں ان کو آخرت کی دلیلیں اپیل نہیں کرتیں۔ ایسے لوگ ہدایت کے کنارے کھڑے ہو کر بھی ہدایت کو قبول کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ انھوںنے خدا کی باتوں کو وزن نہیں دیا۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ خدا ان کو اپنے یہاں کسی وزن کا مستحق سمجھے۔
الكهف 18:107
موجودہ دنیا میں ایمان اور عمل کی زندگی اختیار کرنا زبردست قربانی کا ثبوت دینا ہے۔ یہ چھپی ہوئی جنت کی خاطر نظر آنے والی جنت کو چھوڑنا ہے۔ یہ اس مشکل ترین امتحان میں پورا اترنا ہے جب کہ آدمی مجرد دلیل کی سطح پر حق کو پہچانتا ہے اور اپنی زندگی اس کے راستہ پر ڈال دیتا ہے، حالاں کہ ایسا کرنے کے لیے وہاں کوئی دباؤ نہیں ہوتا۔
جو لوگ اس معرفت اور اس کارکردگی کا ثبوت دیں ان کا انعام یہی ہے کہ ان کو ابدی راحت و آرام کے باغوں میں داخل کردیا جائے۔
الكهف 18:108
موجودہ دنیا میں ایمان اور عمل کی زندگی اختیار کرنا زبردست قربانی کا ثبوت دینا ہے۔ یہ چھپی ہوئی جنت کی خاطر نظر آنے والی جنت کو چھوڑنا ہے۔ یہ اس مشکل ترین امتحان میں پورا اترنا ہے جب کہ آدمی مجرد دلیل کی سطح پر حق کو پہچانتا ہے اور اپنی زندگی اس کے راستہ پر ڈال دیتا ہے، حالاں کہ ایسا کرنے کے لیے وہاں کوئی دباؤ نہیں ہوتا۔
جو لوگ اس معرفت اور اس کارکردگی کا ثبوت دیں ان کا انعام یہی ہے کہ ان کو ابدی راحت و آرام کے باغوں میں داخل کردیا جائے۔
الكهف 18:109
جو لوگ خدا کے پیغام کو نہیں مانتے وہ ایسی چیز کو نہیں مانتے جو تمام ثابت شدہ چیزوں سے زیادہ ثابت شدہ ہے۔ وہ اتنی مسلم ہے جس کو لکھنے کے لیے دنیا کے تمام درختوں کے قلم بھی ناکافی ثابت ہوں۔ تمام سمندروں کو روشنائی کی جگہ استعمال کیا جائےتوسمندر بھی خشک ہوجائے اس سے پہلے کہ کلماتِ رب ختم ہوں۔
مگر انسان کیسا ظالم ہے کہ اس کے باوجود وہ حق کو نہیں پہچانتا۔ اس کے باوجود وہ اپنی زندگی کو حق کے مطابق نہیں ڈھالتا۔
الكهف 18:110
پیغمبر خدا یا فرشتہ نہیں ہوتا۔ وہ انسانوں کی طرح ایک انسان ہوتا ہے۔ اس کی مزید خصوصیت صرف یہ ہوتی ہے کہ اس پر غیر مرئی ذریعہ سے خدا کی وحی آتی ہے۔ گویا پیغمبر ایک ایسی ہستی ہے جو اپنے ظاہر کے اعتبار سے ایک انسان ہے اور اپنی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے نمائندہ خدا۔
یہی وجہ ہے کہ حق کو پانے کے لیے جوہر شناسی کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ حق کو پانا صرف اس شخص کے لیے ممکن ہوتا ہے جو حقیقت کو اس کے غیبی روپ میں دیکھ سکے، جو ’’انسان‘‘ کی سطح پر ’’پیغمبر‘‘ کو پہچاننے کا ثبوت دے۔
مريم 19:1
حضرت زکریا حضرت مریم کے بہنوئی تھے۔ حضرت مریم کے والد کا نام عمران تھا۔ حضرت مریم ابھی صرف چند سال کی تھیں کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ وہ ہیکل کے ناظم اعلی تھے۔ ان کے بعد حضرت زکریا ہیکل کے ناظم اعلیٰ (کاہنوں کے سردار) مقرر ہوئے۔ اس زمانہ میں حضرت مریم اپنی والدہ کی نذر کے مطابق ہیکل کی خدمت میں دے دی گئی تھیں۔ حضرت زکریا چوں کہ حضرت مریم کے قریبی عزیز تھے اور ہیکل کے سردار بھی اس لیے وہی حضرت مریم کی تربیت کے ذمہ دار قرار پائے۔
حضرت زکریا علیہ السلام نے ’’چھپی آواز‘‘ میں خدا سے دعا کی۔ یہ دعا حیرت انگیز طورپر پوری ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سچی دعا کیا ہے۔ سچی دعا دراصل اس یقین کا بے تابانہ اظہار ہے کہ سارا اختیار صرف خدا کے پاس ہے۔ اسی کے دینے سے آدمی کو ملے گا اور وہ نہ دے تو کبھی کسی کو کچھ نہیں مل سکتا۔ سچی دعا کا سارا رخ صرف ایک خدا کی طرف ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ سچی دعا سب سے زیادہ اس وقت ابلتی ہے جب کہ آدمی تنہائی میں ہو۔ جہاںاس کے اور خدا کے سوا کوئی تیسرا نہ پایا جائے۔
مريم 19:2
حضرت زکریا حضرت مریم کے بہنوئی تھے۔ حضرت مریم کے والد کا نام عمران تھا۔ حضرت مریم ابھی صرف چند سال کی تھیں کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ وہ ہیکل کے ناظم اعلی تھے۔ ان کے بعد حضرت زکریا ہیکل کے ناظم اعلیٰ (کاہنوں کے سردار) مقرر ہوئے۔ اس زمانہ میں حضرت مریم اپنی والدہ کی نذر کے مطابق ہیکل کی خدمت میں دے دی گئی تھیں۔ حضرت زکریا چوں کہ حضرت مریم کے قریبی عزیز تھے اور ہیکل کے سردار بھی اس لیے وہی حضرت مریم کی تربیت کے ذمہ دار قرار پائے۔
حضرت زکریا علیہ السلام نے ’’چھپی آواز‘‘ میں خدا سے دعا کی۔ یہ دعا حیرت انگیز طورپر پوری ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سچی دعا کیا ہے۔ سچی دعا دراصل اس یقین کا بے تابانہ اظہار ہے کہ سارا اختیار صرف خدا کے پاس ہے۔ اسی کے دینے سے آدمی کو ملے گا اور وہ نہ دے تو کبھی کسی کو کچھ نہیں مل سکتا۔ سچی دعا کا سارا رخ صرف ایک خدا کی طرف ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ سچی دعا سب سے زیادہ اس وقت ابلتی ہے جب کہ آدمی تنہائی میں ہو۔ جہاںاس کے اور خدا کے سوا کوئی تیسرا نہ پایا جائے۔
مريم 19:3
حضرت زکریا حضرت مریم کے بہنوئی تھے۔ حضرت مریم کے والد کا نام عمران تھا۔ حضرت مریم ابھی صرف چند سال کی تھیں کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ وہ ہیکل کے ناظم اعلی تھے۔ ان کے بعد حضرت زکریا ہیکل کے ناظم اعلیٰ (کاہنوں کے سردار) مقرر ہوئے۔ اس زمانہ میں حضرت مریم اپنی والدہ کی نذر کے مطابق ہیکل کی خدمت میں دے دی گئی تھیں۔ حضرت زکریا چوں کہ حضرت مریم کے قریبی عزیز تھے اور ہیکل کے سردار بھی اس لیے وہی حضرت مریم کی تربیت کے ذمہ دار قرار پائے۔
حضرت زکریا علیہ السلام نے ’’چھپی آواز‘‘ میں خدا سے دعا کی۔ یہ دعا حیرت انگیز طورپر پوری ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سچی دعا کیا ہے۔ سچی دعا دراصل اس یقین کا بے تابانہ اظہار ہے کہ سارا اختیار صرف خدا کے پاس ہے۔ اسی کے دینے سے آدمی کو ملے گا اور وہ نہ دے تو کبھی کسی کو کچھ نہیں مل سکتا۔ سچی دعا کا سارا رخ صرف ایک خدا کی طرف ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ سچی دعا سب سے زیادہ اس وقت ابلتی ہے جب کہ آدمی تنہائی میں ہو۔ جہاںاس کے اور خدا کے سوا کوئی تیسرا نہ پایا جائے۔
مريم 19:4
یہ اس بندہ کی زبان سے نکلی ہوئی دعا ہے جو دین کا مشن چلاتے ہوئے بالکل بوڑھا ہوگیا تھا۔ اور اہل خاندان میں کوئی شخص اس کو نظر نہیں آتا تھا جو اس کے بعد اس کے مشن کو جاری رکھے۔ ایک طرف اپنا عجزاور دوسری طرف مشن کی اہمیت۔ یہ دونوں احساسات اس کی زبان پر اس دعا کی صورت میں ڈھل گئے جو مذکورہ آیات میں نظر آتے ہیں۔ گویا یہ عام معنوں میں محض ایک بیٹے کی دعا نہ تھی۔ بلکہ اس بات کی دعا تھی کہ مجھے ایک ایسا لائق شخص حاصل ہوجائے جو میرے بعد میرے پیغمبرانہ مشن کو جاری رکھے۔
مريم 19:5
یہ اس بندہ کی زبان سے نکلی ہوئی دعا ہے جو دین کا مشن چلاتے ہوئے بالکل بوڑھا ہوگیا تھا۔ اور اہل خاندان میں کوئی شخص اس کو نظر نہیں آتا تھا جو اس کے بعد اس کے مشن کو جاری رکھے۔ ایک طرف اپنا عجزاور دوسری طرف مشن کی اہمیت۔ یہ دونوں احساسات اس کی زبان پر اس دعا کی صورت میں ڈھل گئے جو مذکورہ آیات میں نظر آتے ہیں۔ گویا یہ عام معنوں میں محض ایک بیٹے کی دعا نہ تھی۔ بلکہ اس بات کی دعا تھی کہ مجھے ایک ایسا لائق شخص حاصل ہوجائے جو میرے بعد میرے پیغمبرانہ مشن کو جاری رکھے۔
مريم 19:6
یہ اس بندہ کی زبان سے نکلی ہوئی دعا ہے جو دین کا مشن چلاتے ہوئے بالکل بوڑھا ہوگیا تھا۔ اور اہل خاندان میں کوئی شخص اس کو نظر نہیں آتا تھا جو اس کے بعد اس کے مشن کو جاری رکھے۔ ایک طرف اپنا عجزاور دوسری طرف مشن کی اہمیت۔ یہ دونوں احساسات اس کی زبان پر اس دعا کی صورت میں ڈھل گئے جو مذکورہ آیات میں نظر آتے ہیں۔ گویا یہ عام معنوں میں محض ایک بیٹے کی دعا نہ تھی۔ بلکہ اس بات کی دعا تھی کہ مجھے ایک ایسا لائق شخص حاصل ہوجائے جو میرے بعد میرے پیغمبرانہ مشن کو جاری رکھے۔
مريم 19:7
یہ دعا بیٹے کی صورت میں قبول ہوئی۔ ایک ایسا بیٹا جیسا بیٹا عام طورپر لوگوں کے یہاں پیدا نہیں ہوتا۔ ایک شخص جو آخری حد تک بوڑھا ہوچکا ہو ا ور جس کی بیوی پوری عمر تک بانجھ رہی ہو۔ اس کے یہاں بچہ پیدا ہونا یقیناً ایک انتہائی غیر معمولی بات ہے۔ اس بنا پر حضرت زکریا کو اس خبر پر خوشی کے ساتھ تعجب بھی ہوا۔ ملنے والی نعمت کے غیر متوقع ہونے کا احساس ان کی زبان سے ان الفاظ میں نکل پڑا کہ میرے یہاںکیسے بچہ پیدا ہوگا جب کہ میں اور میری بیوی دونوںاس اعتبار سے از کار رفتہ ہوچکے ہیں۔
مريم 19:8
یہ دعا بیٹے کی صورت میں قبول ہوئی۔ ایک ایسا بیٹا جیسا بیٹا عام طورپر لوگوں کے یہاں پیدا نہیں ہوتا۔ ایک شخص جو آخری حد تک بوڑھا ہوچکا ہو ا ور جس کی بیوی پوری عمر تک بانجھ رہی ہو۔ اس کے یہاں بچہ پیدا ہونا یقیناً ایک انتہائی غیر معمولی بات ہے۔ اس بنا پر حضرت زکریا کو اس خبر پر خوشی کے ساتھ تعجب بھی ہوا۔ ملنے والی نعمت کے غیر متوقع ہونے کا احساس ان کی زبان سے ان الفاظ میں نکل پڑا کہ میرے یہاںکیسے بچہ پیدا ہوگا جب کہ میں اور میری بیوی دونوںاس اعتبار سے از کار رفتہ ہوچکے ہیں۔
مريم 19:9
پہلے انسان کا باپ اور ماں کے بغیر پیدا ہونا جس طرح ایک خدائی معجزہ ہے اسی طرح باپ اور ماں کے ذریعہ بچہ کا پیدا ہونا بھی ایک خدائی معجزہ ہے ۔ خواہ یہ ماں باپ بوڑھے ہوں یا جوان۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خدا ہے جو انسان کو پیدا کرتا ہے ۔اسی نے پہلے پیدا کیا اور وہی آج بھی پیدا کرنے والا ہے۔ دوسری ہر چیز محض ایک ظاہری بہانہ ہے،نہ کہ حقیقی وجہ ۔
حضرت زکریا نے رحمتِ خداوندی کے ملنے کی علامت دریافت کی۔ بتایا گیا کہ تندرست ہونے کے باوجود جب کامل تین رات دن تک لوگوں سے زبان کے ذریعہ بات نہ کرسکو، اس وقت سمجھ لینا کہ حمل قرار پاگیاہے۔ چنانچہ جب وہ وقت آیا تو زبان بات چیت سے رک گئی۔ حضرت زکریا اپنے عبادت خانے سے باہر نکلے اور لوگوں سے اشارہ کے ساتھ کہا کہ صبح و شام اللہ کو یاد کرو اور اس کی عبادت و اطاعت میں مشغول رہو۔
حضرت زکریا کا غالباً یہ معمول تھا کہ وہ روزانہ لوگوں کو وعظ و نصیحت فرماتے تھے۔ جب زبان بولنے سے رک گئی تب بھی آپ مقام اجتماع پر آئے اور لوگوں کو نصیحت کی۔ البتہ چونکہ زبان چل نہیں رہی تھی ،آپ نے اشارہ کے ساتھ لوگوں کو تلقین فرمائی۔
مريم 19:10
پہلے انسان کا باپ اور ماں کے بغیر پیدا ہونا جس طرح ایک خدائی معجزہ ہے اسی طرح باپ اور ماں کے ذریعہ بچہ کا پیدا ہونا بھی ایک خدائی معجزہ ہے ۔ خواہ یہ ماں باپ بوڑھے ہوں یا جوان۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خدا ہے جو انسان کو پیدا کرتا ہے ۔اسی نے پہلے پیدا کیا اور وہی آج بھی پیدا کرنے والا ہے۔ دوسری ہر چیز محض ایک ظاہری بہانہ ہے،نہ کہ حقیقی وجہ ۔
حضرت زکریا نے رحمتِ خداوندی کے ملنے کی علامت دریافت کی۔ بتایا گیا کہ تندرست ہونے کے باوجود جب کامل تین رات دن تک لوگوں سے زبان کے ذریعہ بات نہ کرسکو، اس وقت سمجھ لینا کہ حمل قرار پاگیاہے۔ چنانچہ جب وہ وقت آیا تو زبان بات چیت سے رک گئی۔ حضرت زکریا اپنے عبادت خانے سے باہر نکلے اور لوگوں سے اشارہ کے ساتھ کہا کہ صبح و شام اللہ کو یاد کرو اور اس کی عبادت و اطاعت میں مشغول رہو۔
حضرت زکریا کا غالباً یہ معمول تھا کہ وہ روزانہ لوگوں کو وعظ و نصیحت فرماتے تھے۔ جب زبان بولنے سے رک گئی تب بھی آپ مقام اجتماع پر آئے اور لوگوں کو نصیحت کی۔ البتہ چونکہ زبان چل نہیں رہی تھی ،آپ نے اشارہ کے ساتھ لوگوں کو تلقین فرمائی۔
مريم 19:11
پہلے انسان کا باپ اور ماں کے بغیر پیدا ہونا جس طرح ایک خدائی معجزہ ہے اسی طرح باپ اور ماں کے ذریعہ بچہ کا پیدا ہونا بھی ایک خدائی معجزہ ہے ۔ خواہ یہ ماں باپ بوڑھے ہوں یا جوان۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خدا ہے جو انسان کو پیدا کرتا ہے ۔اسی نے پہلے پیدا کیا اور وہی آج بھی پیدا کرنے والا ہے۔ دوسری ہر چیز محض ایک ظاہری بہانہ ہے،نہ کہ حقیقی وجہ ۔
حضرت زکریا نے رحمتِ خداوندی کے ملنے کی علامت دریافت کی۔ بتایا گیا کہ تندرست ہونے کے باوجود جب کامل تین رات دن تک لوگوں سے زبان کے ذریعہ بات نہ کرسکو، اس وقت سمجھ لینا کہ حمل قرار پاگیاہے۔ چنانچہ جب وہ وقت آیا تو زبان بات چیت سے رک گئی۔ حضرت زکریا اپنے عبادت خانے سے باہر نکلے اور لوگوں سے اشارہ کے ساتھ کہا کہ صبح و شام اللہ کو یاد کرو اور اس کی عبادت و اطاعت میں مشغول رہو۔
حضرت زکریا کا غالباً یہ معمول تھا کہ وہ روزانہ لوگوں کو وعظ و نصیحت فرماتے تھے۔ جب زبان بولنے سے رک گئی تب بھی آپ مقام اجتماع پر آئے اور لوگوں کو نصیحت کی۔ البتہ چونکہ زبان چل نہیں رہی تھی ،آپ نے اشارہ کے ساتھ لوگوں کو تلقین فرمائی۔
مريم 19:12
کہا جاتا ہےکہ حضرت یحییٰ جب چھوٹے تھے تو لڑکوں نے ایک بار انھیں کھیلنے کے ليے بلایا۔ انھوںنے انکار کردیا اور کہاکہ’’ ہم اس ليے نہیں بنائے گئے ہیں‘‘۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو بچپن سے یہ شعور حاصل تھا کہ زندگی کو بامقصد ہونا چاہيے۔ اسی طرح ان کے اندر پیدائشی طورپر سوز و گداز موجود تھا۔ وہ نفسیاتی گرہوں سے آزاد تھے۔ وہ اپنے والدین کے حقوق ادا کرنے والے تھے ۔ وہ سرکشی اور نافرمانی سے بالکل خالی تھے۔
یہی وہ اوصاف ہیں جو آدمی کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ کسی حال میں خدا کی کتاب سے نہ ہٹے۔ اور انہیں اوصاف والا آدمی وہ ہے جس پر دنیا میں بھی خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے اور آخرت میں بھی خدا کی رحمت۔
مريم 19:13
کہا جاتا ہےکہ حضرت یحییٰ جب چھوٹے تھے تو لڑکوں نے ایک بار انھیں کھیلنے کے ليے بلایا۔ انھوںنے انکار کردیا اور کہاکہ’’ ہم اس ليے نہیں بنائے گئے ہیں‘‘۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو بچپن سے یہ شعور حاصل تھا کہ زندگی کو بامقصد ہونا چاہيے۔ اسی طرح ان کے اندر پیدائشی طورپر سوز و گداز موجود تھا۔ وہ نفسیاتی گرہوں سے آزاد تھے۔ وہ اپنے والدین کے حقوق ادا کرنے والے تھے ۔ وہ سرکشی اور نافرمانی سے بالکل خالی تھے۔
یہی وہ اوصاف ہیں جو آدمی کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ کسی حال میں خدا کی کتاب سے نہ ہٹے۔ اور انہیں اوصاف والا آدمی وہ ہے جس پر دنیا میں بھی خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے اور آخرت میں بھی خدا کی رحمت۔
مريم 19:14
کہا جاتا ہےکہ حضرت یحییٰ جب چھوٹے تھے تو لڑکوں نے ایک بار انھیں کھیلنے کے ليے بلایا۔ انھوںنے انکار کردیا اور کہاکہ’’ ہم اس ليے نہیں بنائے گئے ہیں‘‘۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو بچپن سے یہ شعور حاصل تھا کہ زندگی کو بامقصد ہونا چاہيے۔ اسی طرح ان کے اندر پیدائشی طورپر سوز و گداز موجود تھا۔ وہ نفسیاتی گرہوں سے آزاد تھے۔ وہ اپنے والدین کے حقوق ادا کرنے والے تھے ۔ وہ سرکشی اور نافرمانی سے بالکل خالی تھے۔
یہی وہ اوصاف ہیں جو آدمی کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ کسی حال میں خدا کی کتاب سے نہ ہٹے۔ اور انہیں اوصاف والا آدمی وہ ہے جس پر دنیا میں بھی خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے اور آخرت میں بھی خدا کی رحمت۔
مريم 19:15
کہا جاتا ہےکہ حضرت یحییٰ جب چھوٹے تھے تو لڑکوں نے ایک بار انھیں کھیلنے کے ليے بلایا۔ انھوںنے انکار کردیا اور کہاکہ’’ ہم اس ليے نہیں بنائے گئے ہیں‘‘۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو بچپن سے یہ شعور حاصل تھا کہ زندگی کو بامقصد ہونا چاہيے۔ اسی طرح ان کے اندر پیدائشی طورپر سوز و گداز موجود تھا۔ وہ نفسیاتی گرہوں سے آزاد تھے۔ وہ اپنے والدین کے حقوق ادا کرنے والے تھے ۔ وہ سرکشی اور نافرمانی سے بالکل خالی تھے۔
یہی وہ اوصاف ہیں جو آدمی کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ کسی حال میں خدا کی کتاب سے نہ ہٹے۔ اور انہیں اوصاف والا آدمی وہ ہے جس پر دنیا میں بھی خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے اور آخرت میں بھی خدا کی رحمت۔
مريم 19:16
حضرت مریم اپنی والدہ کی نذر کے مطابق ہیکل (بیت المقدس) کی خدمت کے لیے دے دی گئی تھیں۔ قدیم ہیکل کا مشرقی حصہ عورتوں کے لیے خاص تھا۔ وہ اس حصہ میں ایک طرف پردہ ڈال کر معتکف ہوگئیں۔ اس کے بعد اچانک ایک روز ایسا ہوا کہ انھوں نے دیکھا کہ ایک تندرست وتوانا آدمی ان کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ اس منظر سے ان کا گھبرا اٹھنا بالکل فطری تھا۔ مگر آدمی نے بتایا کہ وہ فرشتہ ہے۔ اور خدا کی طرف سے اس لیے آیا ہے کہ حضرت مریم کو معجزاتی طورپر ایک بچہ عطا کرے۔
حضرت مسیح علیہ السلام کا اس طرح معجزاتی طورپر پیدا ہونا خدا کی ایک عظیم نشانی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہود آپ کے فرستادۂ خدا ہونے پر شک نہ کریں اور آپ خدا کی طرف سے جو باتیں بتائیں ان کو مان لیں۔ مگر اتنی کھلی ہوئی نشانی کے باوجود انھو ںنے حضرت مسیح کا انکار کردیا۔
مريم 19:17
حضرت مریم اپنی والدہ کی نذر کے مطابق ہیکل (بیت المقدس) کی خدمت کے لیے دے دی گئی تھیں۔ قدیم ہیکل کا مشرقی حصہ عورتوں کے لیے خاص تھا۔ وہ اس حصہ میں ایک طرف پردہ ڈال کر معتکف ہوگئیں۔ اس کے بعد اچانک ایک روز ایسا ہوا کہ انھوں نے دیکھا کہ ایک تندرست وتوانا آدمی ان کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ اس منظر سے ان کا گھبرا اٹھنا بالکل فطری تھا۔ مگر آدمی نے بتایا کہ وہ فرشتہ ہے۔ اور خدا کی طرف سے اس لیے آیا ہے کہ حضرت مریم کو معجزاتی طورپر ایک بچہ عطا کرے۔
حضرت مسیح علیہ السلام کا اس طرح معجزاتی طورپر پیدا ہونا خدا کی ایک عظیم نشانی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہود آپ کے فرستادۂ خدا ہونے پر شک نہ کریں اور آپ خدا کی طرف سے جو باتیں بتائیں ان کو مان لیں۔ مگر اتنی کھلی ہوئی نشانی کے باوجود انھو ںنے حضرت مسیح کا انکار کردیا۔
مريم 19:18
حضرت مریم اپنی والدہ کی نذر کے مطابق ہیکل (بیت المقدس) کی خدمت کے لیے دے دی گئی تھیں۔ قدیم ہیکل کا مشرقی حصہ عورتوں کے لیے خاص تھا۔ وہ اس حصہ میں ایک طرف پردہ ڈال کر معتکف ہوگئیں۔ اس کے بعد اچانک ایک روز ایسا ہوا کہ انھوں نے دیکھا کہ ایک تندرست وتوانا آدمی ان کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ اس منظر سے ان کا گھبرا اٹھنا بالکل فطری تھا۔ مگر آدمی نے بتایا کہ وہ فرشتہ ہے۔ اور خدا کی طرف سے اس لیے آیا ہے کہ حضرت مریم کو معجزاتی طورپر ایک بچہ عطا کرے۔
حضرت مسیح علیہ السلام کا اس طرح معجزاتی طورپر پیدا ہونا خدا کی ایک عظیم نشانی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہود آپ کے فرستادۂ خدا ہونے پر شک نہ کریں اور آپ خدا کی طرف سے جو باتیں بتائیں ان کو مان لیں۔ مگر اتنی کھلی ہوئی نشانی کے باوجود انھو ںنے حضرت مسیح کا انکار کردیا۔
مريم 19:19
حضرت مریم اپنی والدہ کی نذر کے مطابق ہیکل (بیت المقدس) کی خدمت کے لیے دے دی گئی تھیں۔ قدیم ہیکل کا مشرقی حصہ عورتوں کے لیے خاص تھا۔ وہ اس حصہ میں ایک طرف پردہ ڈال کر معتکف ہوگئیں۔ اس کے بعد اچانک ایک روز ایسا ہوا کہ انھوں نے دیکھا کہ ایک تندرست وتوانا آدمی ان کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ اس منظر سے ان کا گھبرا اٹھنا بالکل فطری تھا۔ مگر آدمی نے بتایا کہ وہ فرشتہ ہے۔ اور خدا کی طرف سے اس لیے آیا ہے کہ حضرت مریم کو معجزاتی طورپر ایک بچہ عطا کرے۔
حضرت مسیح علیہ السلام کا اس طرح معجزاتی طورپر پیدا ہونا خدا کی ایک عظیم نشانی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہود آپ کے فرستادۂ خدا ہونے پر شک نہ کریں اور آپ خدا کی طرف سے جو باتیں بتائیں ان کو مان لیں۔ مگر اتنی کھلی ہوئی نشانی کے باوجود انھو ںنے حضرت مسیح کا انکار کردیا۔
مريم 19:20
حضرت مریم اپنی والدہ کی نذر کے مطابق ہیکل (بیت المقدس) کی خدمت کے لیے دے دی گئی تھیں۔ قدیم ہیکل کا مشرقی حصہ عورتوں کے لیے خاص تھا۔ وہ اس حصہ میں ایک طرف پردہ ڈال کر معتکف ہوگئیں۔ اس کے بعد اچانک ایک روز ایسا ہوا کہ انھوں نے دیکھا کہ ایک تندرست وتوانا آدمی ان کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ اس منظر سے ان کا گھبرا اٹھنا بالکل فطری تھا۔ مگر آدمی نے بتایا کہ وہ فرشتہ ہے۔ اور خدا کی طرف سے اس لیے آیا ہے کہ حضرت مریم کو معجزاتی طورپر ایک بچہ عطا کرے۔
حضرت مسیح علیہ السلام کا اس طرح معجزاتی طورپر پیدا ہونا خدا کی ایک عظیم نشانی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہود آپ کے فرستادۂ خدا ہونے پر شک نہ کریں اور آپ خدا کی طرف سے جو باتیں بتائیں ان کو مان لیں۔ مگر اتنی کھلی ہوئی نشانی کے باوجود انھو ںنے حضرت مسیح کا انکار کردیا۔
مريم 19:21
حضرت مریم اپنی والدہ کی نذر کے مطابق ہیکل (بیت المقدس) کی خدمت کے لیے دے دی گئی تھیں۔ قدیم ہیکل کا مشرقی حصہ عورتوں کے لیے خاص تھا۔ وہ اس حصہ میں ایک طرف پردہ ڈال کر معتکف ہوگئیں۔ اس کے بعد اچانک ایک روز ایسا ہوا کہ انھوں نے دیکھا کہ ایک تندرست وتوانا آدمی ان کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ اس منظر سے ان کا گھبرا اٹھنا بالکل فطری تھا۔ مگر آدمی نے بتایا کہ وہ فرشتہ ہے۔ اور خدا کی طرف سے اس لیے آیا ہے کہ حضرت مریم کو معجزاتی طورپر ایک بچہ عطا کرے۔
حضرت مسیح علیہ السلام کا اس طرح معجزاتی طورپر پیدا ہونا خدا کی ایک عظیم نشانی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہود آپ کے فرستادۂ خدا ہونے پر شک نہ کریں اور آپ خدا کی طرف سے جو باتیں بتائیں ان کو مان لیں۔ مگر اتنی کھلی ہوئی نشانی کے باوجود انھو ںنے حضرت مسیح کا انکار کردیا۔
مريم 19:22
حضرت مریم ایک معزز مذہبی گھرانے کی غیر شادی شدہ خاتون تھیں۔ ایسی ایک خاتون کا حاملہ ہونا اس کے لیے ایک ایسی آزمائش ہے جس سے بڑی کوئی آزمائش نہیں۔ اس پریشانی میں مبتلا ہونے کے بعد وہ خاموشی کے ساتھ ہیکل سے نکلیں اور دور کے ایک مقام ( بیت لحم ) چلی گئیں۔ جب وقت پورا ہوا اور درد زہ کی کیفیت پیدا ہوئی تو وہ بستی سے باہر ایک کھجور کے درخت کے نیچے بیٹھ گئیں۔ایک
مريم 19:23
حضرت مریم ایک معزز مذہبی گھرانے کی غیر شادی شدہ خاتون تھیں۔ ایسی ایک خاتون کا حاملہ ہونا اس کے لیے ایک ایسی آزمائش ہے جس سے بڑی کوئی آزمائش نہیں۔ اس پریشانی میں مبتلا ہونے کے بعد وہ خاموشی کے ساتھ ہیکل سے نکلیں اور دور کے ایک مقام ( بیت لحم ) چلی گئیں۔ جب وقت پورا ہوا اور درد زہ کی کیفیت پیدا ہوئی تو وہ بستی سے باہر ایک کھجور کے درخت کے نیچے بیٹھ گئیں۔ایک
مريم 19:24
پاک با ز غیر شادی شدہ خاتون پر ایسے وقت میں جو کیفیت گزرے گی اس کی تصویر ان الفاظ میں ملتی ہے۔ کاش میں اس سے پہلے ختم ہو جاتی اورلوگوں کے حافظے میں میرا کوئی وجود نہ ہوتا۔
مريم 19:25
اتنی نازک آزمائش میں مبتلا ہونے کے بعد حضرت مریم کے لیے تسکین کا صرف ایک ہی ذریعہ ہوسکتا تھا۔ وہ یہ کہ خدا کا فرشتہ ظاہر ہو کر انھیں یقین دلائے۔ چنانچہ یہی ہوا۔ عین اس وقت فرشتے نے آکر آواز دی کہ گھبراؤ مت۔ یہ سب جو ہورہا ہے یہ خدا کے منصوبہ کے تحت ہو رہا ہے۔ تمھارے قریب صاف پانی کا چشمہ رواں کردیاگیا ہے۔ اور کھجور کا یہ درخت تم کو ہر وقت تازہ پھل مہیا کرے گا۔ اس سے کھاؤ اور پیو۔
بچہ کے سلسلہ میں فرشتہ نے یہ کہہ کر مطمئن کردیا کہ خدا کے معجزہ سے پیدا ہونے والا یہ خود تمھارے دفاع کے لیے کافی ہے۔ تم بنی اسرائیل کے رواج کے مطابق چپ کا روزہ رکھ لو۔ اور جب کسی آدمی سے تمھارا سامنا ہو اور وہ تم سے پوچھے تو تم بچے کی طرف اشارہ کردو۔ وہ خود جواب دے کر تم کو بری الذمہ کردے گا۔
مريم 19:26
اتنی نازک آزمائش میں مبتلا ہونے کے بعد حضرت مریم کے لیے تسکین کا صرف ایک ہی ذریعہ ہوسکتا تھا۔ وہ یہ کہ خدا کا فرشتہ ظاہر ہو کر انھیں یقین دلائے۔ چنانچہ یہی ہوا۔ عین اس وقت فرشتے نے آکر آواز دی کہ گھبراؤ مت۔ یہ سب جو ہورہا ہے یہ خدا کے منصوبہ کے تحت ہو رہا ہے۔ تمھارے قریب صاف پانی کا چشمہ رواں کردیاگیا ہے۔ اور کھجور کا یہ درخت تم کو ہر وقت تازہ پھل مہیا کرے گا۔ اس سے کھاؤ اور پیو۔
بچہ کے سلسلہ میں فرشتہ نے یہ کہہ کر مطمئن کردیا کہ خدا کے معجزہ سے پیدا ہونے والا یہ خود تمھارے دفاع کے لیے کافی ہے۔ تم بنی اسرائیل کے رواج کے مطابق چپ کا روزہ رکھ لو۔ اور جب کسی آدمی سے تمھارا سامنا ہو اور وہ تم سے پوچھے تو تم بچے کی طرف اشارہ کردو۔ وہ خود جواب دے کر تم کو بری الذمہ کردے گا۔
مريم 19:27
فرشتے کی بات سننے کے بعد حضرت مریم کے اندر اعتماد پیدا ہوگیا۔ وہ بچہ کو لے کر اپنے خاندان والوں میں واپس آئیں۔ ان کو اس حال میں دیکھ کر یہود کے تمام لوگ انھیں ملامت کرنے لگے۔ حضرت مریم نے وہی کیا جو فرشتہ نے انھیں بتایا تھا۔ انھوںنے خود خاموش رہتے ہوئے بچہ کی طرف اشارہ کردیا۔ مطلب یہ تھاکہ یہ لڑکا کوئی عام قسم کا لڑکا نہیں ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ تم اس سے کلام کرو، وہ گود کا بچہ ہونے کے باوجود تمھارے کلام کو سمجھے گا اور صاف زبان میں تمھارا جواب دے گا۔
مريم 19:28
فرشتے کی بات سننے کے بعد حضرت مریم کے اندر اعتماد پیدا ہوگیا۔ وہ بچہ کو لے کر اپنے خاندان والوں میں واپس آئیں۔ ان کو اس حال میں دیکھ کر یہود کے تمام لوگ انھیں ملامت کرنے لگے۔ حضرت مریم نے وہی کیا جو فرشتہ نے انھیں بتایا تھا۔ انھوںنے خود خاموش رہتے ہوئے بچہ کی طرف اشارہ کردیا۔ مطلب یہ تھاکہ یہ لڑکا کوئی عام قسم کا لڑکا نہیں ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ تم اس سے کلام کرو، وہ گود کا بچہ ہونے کے باوجود تمھارے کلام کو سمجھے گا اور صاف زبان میں تمھارا جواب دے گا۔
مريم 19:29
حضرت مریم کے اشارہ کے باوجود یہود کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ ایک چھوٹے بچہ سے کس طرح بات کریں۔ اس وقت حضرت مسیح خود بول پڑے۔ ان کی معجزانہ گفتگو میں ایک طرف حضرت مریم کی کامل برأت تھی۔ دوسری طرف یہ ایک پیشگی شہادت تھی۔ تاکہ یہ نومولود جب بڑا ہو کر نبوت کا اعلان کرے تو لوگوں کے لیے آپ کی نبوت پر شک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔
مريم 19:30
حضرت مریم کے اشارہ کے باوجود یہود کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ ایک چھوٹے بچہ سے کس طرح بات کریں۔ اس وقت حضرت مسیح خود بول پڑے۔ ان کی معجزانہ گفتگو میں ایک طرف حضرت مریم کی کامل برأت تھی۔ دوسری طرف یہ ایک پیشگی شہادت تھی۔ تاکہ یہ نومولود جب بڑا ہو کر نبوت کا اعلان کرے تو لوگوں کے لیے آپ کی نبوت پر شک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔
مريم 19:31
حضرت مریم کے اشارہ کے باوجود یہود کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ ایک چھوٹے بچہ سے کس طرح بات کریں۔ اس وقت حضرت مسیح خود بول پڑے۔ ان کی معجزانہ گفتگو میں ایک طرف حضرت مریم کی کامل برأت تھی۔ دوسری طرف یہ ایک پیشگی شہادت تھی۔ تاکہ یہ نومولود جب بڑا ہو کر نبوت کا اعلان کرے تو لوگوں کے لیے آپ کی نبوت پر شک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔
مريم 19:32
حضرت مریم کے اشارہ کے باوجود یہود کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ ایک چھوٹے بچہ سے کس طرح بات کریں۔ اس وقت حضرت مسیح خود بول پڑے۔ ان کی معجزانہ گفتگو میں ایک طرف حضرت مریم کی کامل برأت تھی۔ دوسری طرف یہ ایک پیشگی شہادت تھی۔ تاکہ یہ نومولود جب بڑا ہو کر نبوت کا اعلان کرے تو لوگوں کے لیے آپ کی نبوت پر شک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔
مريم 19:33
حضرت مریم کے اشارہ کے باوجود یہود کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ ایک چھوٹے بچہ سے کس طرح بات کریں۔ اس وقت حضرت مسیح خود بول پڑے۔ ان کی معجزانہ گفتگو میں ایک طرف حضرت مریم کی کامل برأت تھی۔ دوسری طرف یہ ایک پیشگی شہادت تھی۔ تاکہ یہ نومولود جب بڑا ہو کر نبوت کا اعلان کرے تو لوگوں کے لیے آپ کی نبوت پر شک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔
مريم 19:34
حضرت مسیح کی غیر معمولی پیدائش ایک انوکھا واقعہ تھا۔ اس انوکھے واقعہ کی توجیہہ میں مسیحی علماء نے عجیب عجیب عقیدے بنا لیے۔ مگر ہمیشہ توجیہہ کی ایک حد ہوتی ہے۔ اور اس حد کے اندر رہ کر ہی کسی چیز کی توجیہہ کی جاسکتی ہے۔ حضرت مسیح کی غیر معمولی پیدائش کی توجیہہ میں ان کو خدا کا بیٹا بنا دینا حد سے باہر جانا ہے۔ کیوں کہ یہ خدا کی یکتائی کے منافی ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو۔
نیز یہ کہ کائنات میں بے شمار انوکھے واقعات ہیں جن کو ہم روزانہ دیکھتے ہیں۔ اس دنیا کی ہر چیز ایک انوکھا واقعہ ہے۔ اب اگر مزید ایک انوکھی چیز سامنے آئے تو انسان کو یہ کہنا چاہيے کہ خدا نے جس طرح دوسری بے شمار انوکھی چیزیں پیدا کی ہیں اسی طرح وہ اس انوکھی چیز کا بھی خالق ہے جو آج ہمارے سامنے ظاہر ہوئی ہے۔
مريم 19:35
حضرت مسیح کی غیر معمولی پیدائش ایک انوکھا واقعہ تھا۔ اس انوکھے واقعہ کی توجیہہ میں مسیحی علماء نے عجیب عجیب عقیدے بنا لیے۔ مگر ہمیشہ توجیہہ کی ایک حد ہوتی ہے۔ اور اس حد کے اندر رہ کر ہی کسی چیز کی توجیہہ کی جاسکتی ہے۔ حضرت مسیح کی غیر معمولی پیدائش کی توجیہہ میں ان کو خدا کا بیٹا بنا دینا حد سے باہر جانا ہے۔ کیوں کہ یہ خدا کی یکتائی کے منافی ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو۔
نیز یہ کہ کائنات میں بے شمار انوکھے واقعات ہیں جن کو ہم روزانہ دیکھتے ہیں۔ اس دنیا کی ہر چیز ایک انوکھا واقعہ ہے۔ اب اگر مزید ایک انوکھی چیز سامنے آئے تو انسان کو یہ کہنا چاہيے کہ خدا نے جس طرح دوسری بے شمار انوکھی چیزیں پیدا کی ہیں اسی طرح وہ اس انوکھی چیز کا بھی خالق ہے جو آج ہمارے سامنے ظاہر ہوئی ہے۔
مريم 19:36
حضرت مسیح اور دوسرے تمام پیغمبروں نے ایک ہی صراطِ مستقیم کی طرف لوگوں کو بلایا۔ وہ یہ کہ آدمی خدا کو اپنا رب بنائے اور اسی کي عبادت کرے۔ مگر ہمیشہ یہ ہوا کہ خود ساختہ تاویلات وتشریحات کے ذریعہ اس صراطِ مستقیم سے انحراف کیاگیا۔ کسی نے ایک بات نکالی اور کسی نے دوسری بات۔ اس طرح اختلاف پیداہوا اور ایک دین کئی دینوں میں تقسیم ہوگیا۔
دنیا میں حق بات پوری طرح واضح ہے مگر یہاں انسان کو امتحان کی وجہ سے آزادی حاصل ہے۔ وہ چاہے تو مانے اور چاہے تو نہ مانے۔اس وقتی آزادی کی وجہ سے انسان غلط فہمی میں پڑجاتا ہے۔ اور سرکشی کرنے لگتا ہے۔ اس کو دلائل کے ذریعہ بتایا جاتا ہے کہ خدا کی صراط مستقیم کیا ہے۔ مگر وہ اس کو نہیں مانتا۔ لیکن آخرت میں جب آزادی چھن چکی ہوگی، انسان کی وہی آنکھیں اور وہی کان خوب دیکھنے اور سننے والے بن جائیں گے۔ جو آج ایسے معلوم ہوتے ہیں گویا کہ وہ دیکھنا اور سننا جانتے ہی نہ ہوں۔
مريم 19:37
حضرت مسیح اور دوسرے تمام پیغمبروں نے ایک ہی صراطِ مستقیم کی طرف لوگوں کو بلایا۔ وہ یہ کہ آدمی خدا کو اپنا رب بنائے اور اسی کي عبادت کرے۔ مگر ہمیشہ یہ ہوا کہ خود ساختہ تاویلات وتشریحات کے ذریعہ اس صراطِ مستقیم سے انحراف کیاگیا۔ کسی نے ایک بات نکالی اور کسی نے دوسری بات۔ اس طرح اختلاف پیداہوا اور ایک دین کئی دینوں میں تقسیم ہوگیا۔
دنیا میں حق بات پوری طرح واضح ہے مگر یہاں انسان کو امتحان کی وجہ سے آزادی حاصل ہے۔ وہ چاہے تو مانے اور چاہے تو نہ مانے۔اس وقتی آزادی کی وجہ سے انسان غلط فہمی میں پڑجاتا ہے۔ اور سرکشی کرنے لگتا ہے۔ اس کو دلائل کے ذریعہ بتایا جاتا ہے کہ خدا کی صراط مستقیم کیا ہے۔ مگر وہ اس کو نہیں مانتا۔ لیکن آخرت میں جب آزادی چھن چکی ہوگی، انسان کی وہی آنکھیں اور وہی کان خوب دیکھنے اور سننے والے بن جائیں گے۔ جو آج ایسے معلوم ہوتے ہیں گویا کہ وہ دیکھنا اور سننا جانتے ہی نہ ہوں۔
مريم 19:38
حضرت مسیح اور دوسرے تمام پیغمبروں نے ایک ہی صراطِ مستقیم کی طرف لوگوں کو بلایا۔ وہ یہ کہ آدمی خدا کو اپنا رب بنائے اور اسی کي عبادت کرے۔ مگر ہمیشہ یہ ہوا کہ خود ساختہ تاویلات وتشریحات کے ذریعہ اس صراطِ مستقیم سے انحراف کیاگیا۔ کسی نے ایک بات نکالی اور کسی نے دوسری بات۔ اس طرح اختلاف پیداہوا اور ایک دین کئی دینوں میں تقسیم ہوگیا۔
دنیا میں حق بات پوری طرح واضح ہے مگر یہاں انسان کو امتحان کی وجہ سے آزادی حاصل ہے۔ وہ چاہے تو مانے اور چاہے تو نہ مانے۔اس وقتی آزادی کی وجہ سے انسان غلط فہمی میں پڑجاتا ہے۔ اور سرکشی کرنے لگتا ہے۔ اس کو دلائل کے ذریعہ بتایا جاتا ہے کہ خدا کی صراط مستقیم کیا ہے۔ مگر وہ اس کو نہیں مانتا۔ لیکن آخرت میں جب آزادی چھن چکی ہوگی، انسان کی وہی آنکھیں اور وہی کان خوب دیکھنے اور سننے والے بن جائیں گے۔ جو آج ایسے معلوم ہوتے ہیں گویا کہ وہ دیکھنا اور سننا جانتے ہی نہ ہوں۔
مريم 19:39
آدمی دنیا میں ناکامی سے دوچار ہوتا ہے تو اس کو موقع ہوتاہے کہ وہ دوبارہ نئی زندگی شروع کرسکے۔ اس کے پاس ساتھی اور مدد گار ہوتے ہیں جو اس کو سنبھالنے کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مگر آخرت کی ناکامی ایسی ناکامی ہے جس کے بعد دوبارہ سنبھلنے کاکوئی امکان نہیں۔ کیسا عجیب حسرت کا لمحہ ہوگا جب آدمی یہ جانے گا کہ وہ سب کچھ کرسکتا تھا مگر اس نے نہیں کیا۔ یہاں تک کہ کرنے کا وقت ہی ختم ہوگیا۔
ساری خرابیوں کی جڑ یہ ہے کہ آدمی یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ اپنا مالک آپ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ایک درمیانی وقفہ ہے۔ پہلے بھی صرف خدا تمام چیزوں کا مالک تھا اور آخر میں بھی یہ صرف خدا ہے جو تمام چیزوں کا مالک ہوگا۔ خداکے سوا کوئی نہیں جس کو یہاں حقیقی معنوں میں کوئی مالکانہ حیثیت حاصل ہو۔
مريم 19:40
آدمی دنیا میں ناکامی سے دوچار ہوتا ہے تو اس کو موقع ہوتاہے کہ وہ دوبارہ نئی زندگی شروع کرسکے۔ اس کے پاس ساتھی اور مدد گار ہوتے ہیں جو اس کو سنبھالنے کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مگر آخرت کی ناکامی ایسی ناکامی ہے جس کے بعد دوبارہ سنبھلنے کاکوئی امکان نہیں۔ کیسا عجیب حسرت کا لمحہ ہوگا جب آدمی یہ جانے گا کہ وہ سب کچھ کرسکتا تھا مگر اس نے نہیں کیا۔ یہاں تک کہ کرنے کا وقت ہی ختم ہوگیا۔
ساری خرابیوں کی جڑ یہ ہے کہ آدمی یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ اپنا مالک آپ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ایک درمیانی وقفہ ہے۔ پہلے بھی صرف خدا تمام چیزوں کا مالک تھا اور آخر میں بھی یہ صرف خدا ہے جو تمام چیزوں کا مالک ہوگا۔ خداکے سوا کوئی نہیں جس کو یہاں حقیقی معنوں میں کوئی مالکانہ حیثیت حاصل ہو۔
مريم 19:41
حضرت ابراہیم عراق میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آزر بت پرست تھے۔ آپ کو نبوت ملی تو آپ نے اپنے والد کو نصیحت کی کہ بتوں کی عبادت چھوڑ دو اور خدا کی عبادت کرو۔ ورنہ تم خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔
شیطان کی عبادت کا مطلب خود شیطان کی عبادت نہیں ہے بلکہ شیطان کی بتائی ہوئی چیز کی عبادت ہے۔ انسان کے اندر فطری طورپر یہ جذبہ رکھاگیا ہے کہ وہ کسی کو اونچا درجہ دے کر اس کے آگے اپنے جذباتِ عقیدت کو نثار کرے۔اس جذبہ کا حقیقی مرکز خدا ہے۔ مگر شیطان مختلف طریقہ سے لوگوں کے ذہن کو پھیرتاہے تاکہ وہ انسان کو مشرک بنادے، تاکہ انسان غیر خدا کو وہ چیز دے دے جو اس کو صرف خدا کو دینا چاہیے۔
مريم 19:42
حضرت ابراہیم عراق میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آزر بت پرست تھے۔ آپ کو نبوت ملی تو آپ نے اپنے والد کو نصیحت کی کہ بتوں کی عبادت چھوڑ دو اور خدا کی عبادت کرو۔ ورنہ تم خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔
شیطان کی عبادت کا مطلب خود شیطان کی عبادت نہیں ہے بلکہ شیطان کی بتائی ہوئی چیز کی عبادت ہے۔ انسان کے اندر فطری طورپر یہ جذبہ رکھاگیا ہے کہ وہ کسی کو اونچا درجہ دے کر اس کے آگے اپنے جذباتِ عقیدت کو نثار کرے۔اس جذبہ کا حقیقی مرکز خدا ہے۔ مگر شیطان مختلف طریقہ سے لوگوں کے ذہن کو پھیرتاہے تاکہ وہ انسان کو مشرک بنادے، تاکہ انسان غیر خدا کو وہ چیز دے دے جو اس کو صرف خدا کو دینا چاہیے۔
مريم 19:43
حضرت ابراہیم عراق میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آزر بت پرست تھے۔ آپ کو نبوت ملی تو آپ نے اپنے والد کو نصیحت کی کہ بتوں کی عبادت چھوڑ دو اور خدا کی عبادت کرو۔ ورنہ تم خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔
شیطان کی عبادت کا مطلب خود شیطان کی عبادت نہیں ہے بلکہ شیطان کی بتائی ہوئی چیز کی عبادت ہے۔ انسان کے اندر فطری طورپر یہ جذبہ رکھاگیا ہے کہ وہ کسی کو اونچا درجہ دے کر اس کے آگے اپنے جذباتِ عقیدت کو نثار کرے۔اس جذبہ کا حقیقی مرکز خدا ہے۔ مگر شیطان مختلف طریقہ سے لوگوں کے ذہن کو پھیرتاہے تاکہ وہ انسان کو مشرک بنادے، تاکہ انسان غیر خدا کو وہ چیز دے دے جو اس کو صرف خدا کو دینا چاہیے۔
مريم 19:44
حضرت ابراہیم عراق میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آزر بت پرست تھے۔ آپ کو نبوت ملی تو آپ نے اپنے والد کو نصیحت کی کہ بتوں کی عبادت چھوڑ دو اور خدا کی عبادت کرو۔ ورنہ تم خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔
شیطان کی عبادت کا مطلب خود شیطان کی عبادت نہیں ہے بلکہ شیطان کی بتائی ہوئی چیز کی عبادت ہے۔ انسان کے اندر فطری طورپر یہ جذبہ رکھاگیا ہے کہ وہ کسی کو اونچا درجہ دے کر اس کے آگے اپنے جذباتِ عقیدت کو نثار کرے۔اس جذبہ کا حقیقی مرکز خدا ہے۔ مگر شیطان مختلف طریقہ سے لوگوں کے ذہن کو پھیرتاہے تاکہ وہ انسان کو مشرک بنادے، تاکہ انسان غیر خدا کو وہ چیز دے دے جو اس کو صرف خدا کو دینا چاہیے۔
مريم 19:45
حضرت ابراہیم عراق میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آزر بت پرست تھے۔ آپ کو نبوت ملی تو آپ نے اپنے والد کو نصیحت کی کہ بتوں کی عبادت چھوڑ دو اور خدا کی عبادت کرو۔ ورنہ تم خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔
شیطان کی عبادت کا مطلب خود شیطان کی عبادت نہیں ہے بلکہ شیطان کی بتائی ہوئی چیز کی عبادت ہے۔ انسان کے اندر فطری طورپر یہ جذبہ رکھاگیا ہے کہ وہ کسی کو اونچا درجہ دے کر اس کے آگے اپنے جذباتِ عقیدت کو نثار کرے۔اس جذبہ کا حقیقی مرکز خدا ہے۔ مگر شیطان مختلف طریقہ سے لوگوں کے ذہن کو پھیرتاہے تاکہ وہ انسان کو مشرک بنادے، تاکہ انسان غیر خدا کو وہ چیز دے دے جو اس کو صرف خدا کو دینا چاہیے۔
مريم 19:46
حضرت ابراہیم نے جن بتوں پر تنقید کی، وہ سادہ معنوں میں محض پتھر کے ٹکڑے نہ تھے بلکہ وہ ان ہستیوں کے نمائندے تھے جن کی طلسماتی عظمت ماضی کی طویل روایات کے نتیجہ میں لوگوں کے ذہنوں پر قائم ہوچکی تھی۔ اس تقابل میں ’’نوجوان ابراہیم ‘‘ ایک معمولی شخص نظر آئے اور عراق کے بت عظمتوں کے پہاڑ دکھائی دئے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابرہیم کے والدنے حقارت کے ساتھ ان کی نصیحت کو نظر انداز کردیا۔
حق کی دعوت ایک مقام پر شروع کی جائے اور پھر وہ اس مرحلہ میں پہنچ جائے کہ لوگ اس کو اچھی طرح سمجھ چکے ہوں مگر وہ ماننے کے بجائے جارحیت پر اتر آئیں تو اس وقت داعی اپنے مقام عمل کو تبدیل کردیتاہے۔ اسی کا دوسرا نام ہجرت ہے۔ مقام عمل کی یہ تبدیلی کبھی قریب کے دائرہ میں ہوتی ہے اور کبھی دور کے دائرہ میں۔
دعوت کا عمل ایک خدائی عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جب بھی شروع ہوتاہے ربانی نفسیات کے ساتھ شروع ہوتاہے ۔ مدعو اگر داعی کے ساتھ ظلم وحقارت کا معاملہ کرے تب بھی داعی کے دل میں اس کے لیے نرم گوشہ موجود رہتاہے۔ اسی طرح داعی اگر اپنے ماحول میں بے یارومددگار ہوجائے تب بھی وہ مایوس نہیں ہوتا کیوں کہ اس کا اصل سہارا خدا ہوتاہے۔ وہ یقین رکھتا ہے کہ وہ بدستور اس کے ساتھ موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا۔
مريم 19:47
حضرت ابراہیم نے جن بتوں پر تنقید کی، وہ سادہ معنوں میں محض پتھر کے ٹکڑے نہ تھے بلکہ وہ ان ہستیوں کے نمائندے تھے جن کی طلسماتی عظمت ماضی کی طویل روایات کے نتیجہ میں لوگوں کے ذہنوں پر قائم ہوچکی تھی۔ اس تقابل میں ’’نوجوان ابراہیم ‘‘ ایک معمولی شخص نظر آئے اور عراق کے بت عظمتوں کے پہاڑ دکھائی دئے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابرہیم کے والدنے حقارت کے ساتھ ان کی نصیحت کو نظر انداز کردیا۔
حق کی دعوت ایک مقام پر شروع کی جائے اور پھر وہ اس مرحلہ میں پہنچ جائے کہ لوگ اس کو اچھی طرح سمجھ چکے ہوں مگر وہ ماننے کے بجائے جارحیت پر اتر آئیں تو اس وقت داعی اپنے مقام عمل کو تبدیل کردیتاہے۔ اسی کا دوسرا نام ہجرت ہے۔ مقام عمل کی یہ تبدیلی کبھی قریب کے دائرہ میں ہوتی ہے اور کبھی دور کے دائرہ میں۔
دعوت کا عمل ایک خدائی عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جب بھی شروع ہوتاہے ربانی نفسیات کے ساتھ شروع ہوتاہے ۔ مدعو اگر داعی کے ساتھ ظلم وحقارت کا معاملہ کرے تب بھی داعی کے دل میں اس کے لیے نرم گوشہ موجود رہتاہے۔ اسی طرح داعی اگر اپنے ماحول میں بے یارومددگار ہوجائے تب بھی وہ مایوس نہیں ہوتا کیوں کہ اس کا اصل سہارا خدا ہوتاہے۔ وہ یقین رکھتا ہے کہ وہ بدستور اس کے ساتھ موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا۔
مريم 19:48
حضرت ابراہیم نے جن بتوں پر تنقید کی، وہ سادہ معنوں میں محض پتھر کے ٹکڑے نہ تھے بلکہ وہ ان ہستیوں کے نمائندے تھے جن کی طلسماتی عظمت ماضی کی طویل روایات کے نتیجہ میں لوگوں کے ذہنوں پر قائم ہوچکی تھی۔ اس تقابل میں ’’نوجوان ابراہیم ‘‘ ایک معمولی شخص نظر آئے اور عراق کے بت عظمتوں کے پہاڑ دکھائی دئے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابرہیم کے والدنے حقارت کے ساتھ ان کی نصیحت کو نظر انداز کردیا۔
حق کی دعوت ایک مقام پر شروع کی جائے اور پھر وہ اس مرحلہ میں پہنچ جائے کہ لوگ اس کو اچھی طرح سمجھ چکے ہوں مگر وہ ماننے کے بجائے جارحیت پر اتر آئیں تو اس وقت داعی اپنے مقام عمل کو تبدیل کردیتاہے۔ اسی کا دوسرا نام ہجرت ہے۔ مقام عمل کی یہ تبدیلی کبھی قریب کے دائرہ میں ہوتی ہے اور کبھی دور کے دائرہ میں۔
دعوت کا عمل ایک خدائی عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جب بھی شروع ہوتاہے ربانی نفسیات کے ساتھ شروع ہوتاہے ۔ مدعو اگر داعی کے ساتھ ظلم وحقارت کا معاملہ کرے تب بھی داعی کے دل میں اس کے لیے نرم گوشہ موجود رہتاہے۔ اسی طرح داعی اگر اپنے ماحول میں بے یارومددگار ہوجائے تب بھی وہ مایوس نہیں ہوتا کیوں کہ اس کا اصل سہارا خدا ہوتاہے۔ وہ یقین رکھتا ہے کہ وہ بدستور اس کے ساتھ موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا۔
مريم 19:49
آدمی اپنے خاندان اور اپنے گروہ کے ساتھ جیتاہے۔ ایسی حالت میں کسی شخص کو اس کے خاندان اور اس کے گروہ سے نکال دینا گویا اس کو بربادی کے صحرا میں دھکیل دیناہے۔ مگر حضرت ابراہیم کے واقعہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے دکھادیا کہ جو بندہ خالص اللہ کے لیے بے گھر کیاجائے اس کو اللہ اپنی طرف سے زیادہ اچھا گھر عطا کردیتاہے۔ جو شخص خالص اللہ کے لیے گم نامی میں ڈال دیا جائے اس کو اللہ زیادہ بڑے پیمانہ پر نیک نام بنا دیتاہے۔
مريم 19:50
آدمی اپنے خاندان اور اپنے گروہ کے ساتھ جیتاہے۔ ایسی حالت میں کسی شخص کو اس کے خاندان اور اس کے گروہ سے نکال دینا گویا اس کو بربادی کے صحرا میں دھکیل دیناہے۔ مگر حضرت ابراہیم کے واقعہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے دکھادیا کہ جو بندہ خالص اللہ کے لیے بے گھر کیاجائے اس کو اللہ اپنی طرف سے زیادہ اچھا گھر عطا کردیتاہے۔ جو شخص خالص اللہ کے لیے گم نامی میں ڈال دیا جائے اس کو اللہ زیادہ بڑے پیمانہ پر نیک نام بنا دیتاہے۔
مريم 19:51
حضرت موسیٰ مدین سے چل کر مصر جارہے تھے۔ اس سفر میں وہ کوہ طور سے گزرے۔ وہاں خدا نے انھیں پیغمبری عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے پچھلے ہر دور میں اپنے پیغمبر منتخب کيے اور ان کے پاس اپنا کلام بھیجا۔ یہ کلام ہمیشہ جبریل فرشتہ کے ذریعہ آیا۔ مگر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ اللہ نے ان سے براہِ راست کلام کیا۔ نیز یہ بھی حضرت موسیٰ کی خصوصیت ہے کہ آپ کے لیے خدا نے ایک مزید پیغمبر (حضرت ہارون ) مقرر فرمایا جو آپ کا مدد گار ہو۔ اس خصوصیت کی وجہ شاید وہ مخصوص حالات ہوں جن میں آپ کو اپنا پیغمبرانہ فرض انجام دینا تھا۔ کیوں کہ آپ کے سامنے ایک طرف فرعون جیسا جابر بادشاہ تھا اور دوسری طرف یہود جیسی قوم جو اپنے زوال کی آخری حد کو پہنچ چکی تھی۔
رحمت و نصرت کے یہ معاملات اپنی انتہائی صورت میں صرف پیغمبروں کے لیے خاص ہیں۔ تاہم اللہ اپنے مومن بندوں کے ساتھ بھی درجہ بدرجہ اسی قسم کا معاملہ فرماتا ہے۔ وہ ان کے حسب استعداد انھیں اپنے کسی کام کو کرنے کی توفیق دیتاہے۔ وہ ان پر خاموشی سے اپنی بات القاء کرتا ہے۔ وہ ان کے لیے ایسی خصوصی تائید کا انتظام کرتاہے جو عام حالات میں کسی کو نہیں ملتیں۔
مريم 19:52
حضرت موسیٰ مدین سے چل کر مصر جارہے تھے۔ اس سفر میں وہ کوہ طور سے گزرے۔ وہاں خدا نے انھیں پیغمبری عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے پچھلے ہر دور میں اپنے پیغمبر منتخب کيے اور ان کے پاس اپنا کلام بھیجا۔ یہ کلام ہمیشہ جبریل فرشتہ کے ذریعہ آیا۔ مگر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ اللہ نے ان سے براہِ راست کلام کیا۔ نیز یہ بھی حضرت موسیٰ کی خصوصیت ہے کہ آپ کے لیے خدا نے ایک مزید پیغمبر (حضرت ہارون ) مقرر فرمایا جو آپ کا مدد گار ہو۔ اس خصوصیت کی وجہ شاید وہ مخصوص حالات ہوں جن میں آپ کو اپنا پیغمبرانہ فرض انجام دینا تھا۔ کیوں کہ آپ کے سامنے ایک طرف فرعون جیسا جابر بادشاہ تھا اور دوسری طرف یہود جیسی قوم جو اپنے زوال کی آخری حد کو پہنچ چکی تھی۔
رحمت و نصرت کے یہ معاملات اپنی انتہائی صورت میں صرف پیغمبروں کے لیے خاص ہیں۔ تاہم اللہ اپنے مومن بندوں کے ساتھ بھی درجہ بدرجہ اسی قسم کا معاملہ فرماتا ہے۔ وہ ان کے حسب استعداد انھیں اپنے کسی کام کو کرنے کی توفیق دیتاہے۔ وہ ان پر خاموشی سے اپنی بات القاء کرتا ہے۔ وہ ان کے لیے ایسی خصوصی تائید کا انتظام کرتاہے جو عام حالات میں کسی کو نہیں ملتیں۔
مريم 19:53
حضرت موسیٰ مدین سے چل کر مصر جارہے تھے۔ اس سفر میں وہ کوہ طور سے گزرے۔ وہاں خدا نے انھیں پیغمبری عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے پچھلے ہر دور میں اپنے پیغمبر منتخب کيے اور ان کے پاس اپنا کلام بھیجا۔ یہ کلام ہمیشہ جبریل فرشتہ کے ذریعہ آیا۔ مگر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ اللہ نے ان سے براہِ راست کلام کیا۔ نیز یہ بھی حضرت موسیٰ کی خصوصیت ہے کہ آپ کے لیے خدا نے ایک مزید پیغمبر (حضرت ہارون ) مقرر فرمایا جو آپ کا مدد گار ہو۔ اس خصوصیت کی وجہ شاید وہ مخصوص حالات ہوں جن میں آپ کو اپنا پیغمبرانہ فرض انجام دینا تھا۔ کیوں کہ آپ کے سامنے ایک طرف فرعون جیسا جابر بادشاہ تھا اور دوسری طرف یہود جیسی قوم جو اپنے زوال کی آخری حد کو پہنچ چکی تھی۔
رحمت و نصرت کے یہ معاملات اپنی انتہائی صورت میں صرف پیغمبروں کے لیے خاص ہیں۔ تاہم اللہ اپنے مومن بندوں کے ساتھ بھی درجہ بدرجہ اسی قسم کا معاملہ فرماتا ہے۔ وہ ان کے حسب استعداد انھیں اپنے کسی کام کو کرنے کی توفیق دیتاہے۔ وہ ان پر خاموشی سے اپنی بات القاء کرتا ہے۔ وہ ان کے لیے ایسی خصوصی تائید کا انتظام کرتاہے جو عام حالات میں کسی کو نہیں ملتیں۔
مريم 19:54
حضرت اسماعیل حضرت ابراہیم کے فرزند تھے۔حضرت ادریس ایک پیغمبر ہیں جو غالباً حضرت نوح سے پہلے پیداہوئے۔ ان پیغمبروں کی دو خاص صفتیں یہاں بیان کی گئی ہیں— سچا ہونا، لوگوں کو نماز (خدا کی عبادت) اور زکوٰۃ (بندوں کے حقوق کی ادائيگی) کی تلقین کرنا۔ ارشاد ہوا ہے کہ ان صفتوں نے ان کو خدا کا پسندیدہ بنا دیا اور وہ انتہائی اعلیٰ درجہ پر پہنچا دئے گئے۔
جن شخصیتوں کو خدا نے اپنی پیغمبری کے لیے چنا۔ ان کے اندر یہ صفتیں کمال درجہ میں موجود ہوتی تھیں۔ تاہم عام اہلِ ایمان سے بھی یہی صفات مطلوب ہیں اور ان کو بھی درجہ بدرجہ اس کے وہ ثمرات حاصل ہوتے ہیں جو خدا نے ان صفتوں کے لیے ابدی طورپر مقرر کيے ہیں۔
مريم 19:55
حضرت اسماعیل حضرت ابراہیم کے فرزند تھے۔حضرت ادریس ایک پیغمبر ہیں جو غالباً حضرت نوح سے پہلے پیداہوئے۔ ان پیغمبروں کی دو خاص صفتیں یہاں بیان کی گئی ہیں— سچا ہونا، لوگوں کو نماز (خدا کی عبادت) اور زکوٰۃ (بندوں کے حقوق کی ادائيگی) کی تلقین کرنا۔ ارشاد ہوا ہے کہ ان صفتوں نے ان کو خدا کا پسندیدہ بنا دیا اور وہ انتہائی اعلیٰ درجہ پر پہنچا دئے گئے۔
جن شخصیتوں کو خدا نے اپنی پیغمبری کے لیے چنا۔ ان کے اندر یہ صفتیں کمال درجہ میں موجود ہوتی تھیں۔ تاہم عام اہلِ ایمان سے بھی یہی صفات مطلوب ہیں اور ان کو بھی درجہ بدرجہ اس کے وہ ثمرات حاصل ہوتے ہیں جو خدا نے ان صفتوں کے لیے ابدی طورپر مقرر کيے ہیں۔
مريم 19:56
حضرت اسماعیل حضرت ابراہیم کے فرزند تھے۔حضرت ادریس ایک پیغمبر ہیں جو غالباً حضرت نوح سے پہلے پیداہوئے۔ ان پیغمبروں کی دو خاص صفتیں یہاں بیان کی گئی ہیں— سچا ہونا، لوگوں کو نماز (خدا کی عبادت) اور زکوٰۃ (بندوں کے حقوق کی ادائيگی) کی تلقین کرنا۔ ارشاد ہوا ہے کہ ان صفتوں نے ان کو خدا کا پسندیدہ بنا دیا اور وہ انتہائی اعلیٰ درجہ پر پہنچا دئے گئے۔
جن شخصیتوں کو خدا نے اپنی پیغمبری کے لیے چنا۔ ان کے اندر یہ صفتیں کمال درجہ میں موجود ہوتی تھیں۔ تاہم عام اہلِ ایمان سے بھی یہی صفات مطلوب ہیں اور ان کو بھی درجہ بدرجہ اس کے وہ ثمرات حاصل ہوتے ہیں جو خدا نے ان صفتوں کے لیے ابدی طورپر مقرر کيے ہیں۔
مريم 19:57
حضرت اسماعیل حضرت ابراہیم کے فرزند تھے۔حضرت ادریس ایک پیغمبر ہیں جو غالباً حضرت نوح سے پہلے پیداہوئے۔ ان پیغمبروں کی دو خاص صفتیں یہاں بیان کی گئی ہیں— سچا ہونا، لوگوں کو نماز (خدا کی عبادت) اور زکوٰۃ (بندوں کے حقوق کی ادائيگی) کی تلقین کرنا۔ ارشاد ہوا ہے کہ ان صفتوں نے ان کو خدا کا پسندیدہ بنا دیا اور وہ انتہائی اعلیٰ درجہ پر پہنچا دئے گئے۔
جن شخصیتوں کو خدا نے اپنی پیغمبری کے لیے چنا۔ ان کے اندر یہ صفتیں کمال درجہ میں موجود ہوتی تھیں۔ تاہم عام اہلِ ایمان سے بھی یہی صفات مطلوب ہیں اور ان کو بھی درجہ بدرجہ اس کے وہ ثمرات حاصل ہوتے ہیں جو خدا نے ان صفتوں کے لیے ابدی طورپر مقرر کيے ہیں۔
مريم 19:58
یہاں ان پیغمبروں کی طرف اشارہ کیاگیا ہے جو آدم کی نسل، نوح کی نسل اور ابراہیم کی نسل میں خصوصیت سے پیدا ہوئے جن کو خدا نے اس کا اہل پایا کہ ان کو اپنی خاص ہدایت سے نوازے اور ان کو لوگوں کے سامنے اپنی نمائندگی کے لیے چن لے۔
ان حضرات پر خدا نے اتنے بڑے بڑے انعامات کیوں كيے۔ فرمایا کہ اس کی وجہ ان کا یہ مشترک وصف تھاکہ وہ خدا کی خدائی کے احساس میں اتنا بڑھے ہوئے تھے کہ اس کا کلام سن کر ان کا سینہ ہل جاتا تھا اور وہ روتے ہوئے اس کے آگے زمین پر گر پڑتے تھے۔
’’روتے ہوئے سجدہ میں گرنا‘‘ خداکے عظمت وجلال کے اعتراف کا آخری درجہ ہے۔ جس کو یہ درجہ ملے اس نے گویا اس ایمان کا ذائقہ چکھا جو نبیوں اور رسولوں کے لیے خاص ہے۔
مريم 19:59
پیغمبر کی دعوت کے ذریعہ جو افراد بنتے ہیں ان کی نمایاں خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ خواہش پرستی سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ وہ اللہ کو یاد کرنے والے بن جاتے ہیں جس کی ایک متعین صورت کا نام نماز ہے۔ دین کی اصل خداکی یاد ہے۔ اور نماز اسی خدا کی یاد کی ایک منظم صورت۔
پیغمبروں کو ماننے والوں کی اگلی نسلیں اگر خدا سے غافل ہوجائیںاور خواہش کے پیچھے چلنے لگیں تو خدا کے نزدیک وہ گمراہ لوگ ہیں۔ پیغمبروں سے وابستگی ان کو کوئی فائدہ دینے والی نہیں۔ ایسے لوگ یقیناً اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ ان میں سے صرف وہی لوگ بچیں گے جو دوبارہ اصل دین کی طرف لوٹیں اور حقیقی معنوں میں ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کریں۔
آخرت کے لیے کوشش کرنے والے کو فوراً اپنی محنتوں اور قربانیوں کا انجام نہیں ملتا۔ اس لیے کوئی شخص شبہ کرسکتا ہے کہ یہ راستہ ایسا ہے جس میں عمل ہے مگر عمل کا انجام نہیں۔ مگر یہ محض غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دنیا کے لیے عمل کرنے والے اپنے عمل کا بدلہ پاتے ہیں اسی طرح آخرت کے لیے عمل کرنے والے بھی اپنے عمل کا بھر پور بدلہ پائیں گے۔ اس معاملہ میںکسی شک میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔
مريم 19:60
پیغمبر کی دعوت کے ذریعہ جو افراد بنتے ہیں ان کی نمایاں خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ خواہش پرستی سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ وہ اللہ کو یاد کرنے والے بن جاتے ہیں جس کی ایک متعین صورت کا نام نماز ہے۔ دین کی اصل خداکی یاد ہے۔ اور نماز اسی خدا کی یاد کی ایک منظم صورت۔
پیغمبروں کو ماننے والوں کی اگلی نسلیں اگر خدا سے غافل ہوجائیںاور خواہش کے پیچھے چلنے لگیں تو خدا کے نزدیک وہ گمراہ لوگ ہیں۔ پیغمبروں سے وابستگی ان کو کوئی فائدہ دینے والی نہیں۔ ایسے لوگ یقیناً اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ ان میں سے صرف وہی لوگ بچیں گے جو دوبارہ اصل دین کی طرف لوٹیں اور حقیقی معنوں میں ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کریں۔
آخرت کے لیے کوشش کرنے والے کو فوراً اپنی محنتوں اور قربانیوں کا انجام نہیں ملتا۔ اس لیے کوئی شخص شبہ کرسکتا ہے کہ یہ راستہ ایسا ہے جس میں عمل ہے مگر عمل کا انجام نہیں۔ مگر یہ محض غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دنیا کے لیے عمل کرنے والے اپنے عمل کا بدلہ پاتے ہیں اسی طرح آخرت کے لیے عمل کرنے والے بھی اپنے عمل کا بھر پور بدلہ پائیں گے۔ اس معاملہ میںکسی شک میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔
مريم 19:61
موجودہ دنیا میں امتحان کی وجہ سے ہر ایک کو آزادی ملی ہوئی ہے۔ یہاںاچھائی کرنے والے بھی آزاد ہیں اور برائی کرنے والے بھی آزاد۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا میںایک سچے انسان کو کبھی سکون حاصل نہیں ہوتا۔ وہ ذاتی طورپر خواہ کتنا ہی ٹھیک ہو مگر دوسرے لوگوں کی بے ٹھیک باتیں اس کو سکون لینے نہیں دیتیں۔ لوگ اپنی آزادی سے غلط فائدہ اٹھا کر ماحول کو گندی باتوںاور بری آوازوں سے بھر دیتے ہیں۔
جنت وہ بستی ہے جس سے اس قسم کے تمام انسان خارج کردئے جائیں گے۔ وہاں صرف وہ اعلیٰ ذوق کے لوگ آباد کيے جائیںگے جنھوںنے دنیا میں یہ ثبوت دیا تھا کہ وہ کانٹوں کی مانند نہیں جیتے بلکہ پھول کی مانند رہنا جانتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ماحول میں جو زندگی بنے گی وہ بلاشبہ ابدی سلامتی کی جنت ہوگی۔
دنیا میں لغو چیزوں سے بچنا اور سلامتی کا پیکر بن کر زندگی گزارنا ایک سخت ترین عمل ہے۔ اس کے لیے اپنی آزاد زندگی کو خود اپنے ارادہ سے پابند زندگی بنا لینا پڑتاہے۔ یہ مشکل ترین قربانی ہے جس کا ثبوت صرف وہ شخص دے سکتا ہے جو فی الواقع اللہ سے ڈرتا ہو۔ اللہ سے ڈرنے والے ہی دنیا میں جنتی انسان بن کر رہ سکتے ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی جنتوں میں داخل کيے جائیں گے۔
مريم 19:62
موجودہ دنیا میں امتحان کی وجہ سے ہر ایک کو آزادی ملی ہوئی ہے۔ یہاںاچھائی کرنے والے بھی آزاد ہیں اور برائی کرنے والے بھی آزاد۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا میںایک سچے انسان کو کبھی سکون حاصل نہیں ہوتا۔ وہ ذاتی طورپر خواہ کتنا ہی ٹھیک ہو مگر دوسرے لوگوں کی بے ٹھیک باتیں اس کو سکون لینے نہیں دیتیں۔ لوگ اپنی آزادی سے غلط فائدہ اٹھا کر ماحول کو گندی باتوںاور بری آوازوں سے بھر دیتے ہیں۔
جنت وہ بستی ہے جس سے اس قسم کے تمام انسان خارج کردئے جائیں گے۔ وہاں صرف وہ اعلیٰ ذوق کے لوگ آباد کيے جائیںگے جنھوںنے دنیا میں یہ ثبوت دیا تھا کہ وہ کانٹوں کی مانند نہیں جیتے بلکہ پھول کی مانند رہنا جانتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ماحول میں جو زندگی بنے گی وہ بلاشبہ ابدی سلامتی کی جنت ہوگی۔
دنیا میں لغو چیزوں سے بچنا اور سلامتی کا پیکر بن کر زندگی گزارنا ایک سخت ترین عمل ہے۔ اس کے لیے اپنی آزاد زندگی کو خود اپنے ارادہ سے پابند زندگی بنا لینا پڑتاہے۔ یہ مشکل ترین قربانی ہے جس کا ثبوت صرف وہ شخص دے سکتا ہے جو فی الواقع اللہ سے ڈرتا ہو۔ اللہ سے ڈرنے والے ہی دنیا میں جنتی انسان بن کر رہ سکتے ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی جنتوں میں داخل کيے جائیں گے۔
مريم 19:63
موجودہ دنیا میں امتحان کی وجہ سے ہر ایک کو آزادی ملی ہوئی ہے۔ یہاںاچھائی کرنے والے بھی آزاد ہیں اور برائی کرنے والے بھی آزاد۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا میںایک سچے انسان کو کبھی سکون حاصل نہیں ہوتا۔ وہ ذاتی طورپر خواہ کتنا ہی ٹھیک ہو مگر دوسرے لوگوں کی بے ٹھیک باتیں اس کو سکون لینے نہیں دیتیں۔ لوگ اپنی آزادی سے غلط فائدہ اٹھا کر ماحول کو گندی باتوںاور بری آوازوں سے بھر دیتے ہیں۔
جنت وہ بستی ہے جس سے اس قسم کے تمام انسان خارج کردئے جائیں گے۔ وہاں صرف وہ اعلیٰ ذوق کے لوگ آباد کيے جائیںگے جنھوںنے دنیا میں یہ ثبوت دیا تھا کہ وہ کانٹوں کی مانند نہیں جیتے بلکہ پھول کی مانند رہنا جانتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ماحول میں جو زندگی بنے گی وہ بلاشبہ ابدی سلامتی کی جنت ہوگی۔
دنیا میں لغو چیزوں سے بچنا اور سلامتی کا پیکر بن کر زندگی گزارنا ایک سخت ترین عمل ہے۔ اس کے لیے اپنی آزاد زندگی کو خود اپنے ارادہ سے پابند زندگی بنا لینا پڑتاہے۔ یہ مشکل ترین قربانی ہے جس کا ثبوت صرف وہ شخص دے سکتا ہے جو فی الواقع اللہ سے ڈرتا ہو۔ اللہ سے ڈرنے والے ہی دنیا میں جنتی انسان بن کر رہ سکتے ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی جنتوں میں داخل کيے جائیں گے۔
مريم 19:64
اسلامی دعوت جب مخالفت کے دور میں ہو تو یہ داعی کے لیے بڑا سخت مرحلہ ہوتاہے۔ داعی ہر روز چاہتا ہے کہ موجودہ کیفیت کو ختم کرنے کے لیے کوئی نیا اقدام کیا جائے۔ جب کہ خدا کا حکم یہ ہوتا ہے کہ صبر اور انتظار کا طریقہ اختیار کرو۔
ایسی ہی کیفیت ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آئی۔ حالات کی شدت کے پیش نظر آپ خدا کی طرف سے مزید ہدایت کے منتظر تھے۔ مگر ایک روایت کے مطابق تقریباً چالیس دن تک جبریل نہیں آئے۔ پھر جب وہ آئے تو آپ نے کہا کہ اے جبریل ، اتنی دیر کیوں کردی۔ انھوںنے جواب دیا کہ ہم خدا کی مرضی کے پابند ہیں۔ جب خدا کی طرف سے کوئی ہدایت ملتی ہے تو آتے ہیں اور جب ہدایت نہیں ملتی تو نہیںآتے۔
یہ واقعہ بیان کرکے یہاں صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ جو صورت حال جاری ہے اس کوخدا پوری طرح دیکھ رہاہے۔ اس کے باوجود اگر اس کی طرف سے نئی ہدایت نہیں آرہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت یہی مطلوب ہے کہ اس صورت حال کو برداشت کیاجائے۔ اگر حکمت کا تقاضا کچھ اور ہوتا تو یقیناً کوئی اور حکم آتا۔ خدا سے زیادہ کوئی جاننے والا نہیں اس لیے خدا سے بہتر کسی کی رہنمائی بھی نہیں ہوسکتی۔
’’رکنے‘‘ والے حالات میں ’’اقدام‘‘ کی آیت تلاش کرنا صحیح نہیں۔ ایسا کرنا گویا اس حکم کو قبل از وقت اتارنے کی کوشش کرناہے، جو ابھی آدمی کے لیے نہیں اترا۔
مريم 19:65
اسلامی دعوت جب مخالفت کے دور میں ہو تو یہ داعی کے لیے بڑا سخت مرحلہ ہوتاہے۔ داعی ہر روز چاہتا ہے کہ موجودہ کیفیت کو ختم کرنے کے لیے کوئی نیا اقدام کیا جائے۔ جب کہ خدا کا حکم یہ ہوتا ہے کہ صبر اور انتظار کا طریقہ اختیار کرو۔
ایسی ہی کیفیت ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آئی۔ حالات کی شدت کے پیش نظر آپ خدا کی طرف سے مزید ہدایت کے منتظر تھے۔ مگر ایک روایت کے مطابق تقریباً چالیس دن تک جبریل نہیں آئے۔ پھر جب وہ آئے تو آپ نے کہا کہ اے جبریل ، اتنی دیر کیوں کردی۔ انھوںنے جواب دیا کہ ہم خدا کی مرضی کے پابند ہیں۔ جب خدا کی طرف سے کوئی ہدایت ملتی ہے تو آتے ہیں اور جب ہدایت نہیں ملتی تو نہیںآتے۔
یہ واقعہ بیان کرکے یہاں صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ جو صورت حال جاری ہے اس کوخدا پوری طرح دیکھ رہاہے۔ اس کے باوجود اگر اس کی طرف سے نئی ہدایت نہیں آرہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت یہی مطلوب ہے کہ اس صورت حال کو برداشت کیاجائے۔ اگر حکمت کا تقاضا کچھ اور ہوتا تو یقیناً کوئی اور حکم آتا۔ خدا سے زیادہ کوئی جاننے والا نہیں اس لیے خدا سے بہتر کسی کی رہنمائی بھی نہیں ہوسکتی۔
’’رکنے‘‘ والے حالات میں ’’اقدام‘‘ کی آیت تلاش کرنا صحیح نہیں۔ ایسا کرنا گویا اس حکم کو قبل از وقت اتارنے کی کوشش کرناہے، جو ابھی آدمی کے لیے نہیں اترا۔
مريم 19:66
عرب کے لوگ جو قرآن کے پہلے مخاطب تھے وہ زندگی بعد موت کو مانتے تھے۔ مگر یہ ماننا صرف رسمی ماننا تھا، وہ حقیقی ماننا نہ تھا۔ قرآن میں آخرت سے متعلق جتنے الفاظ ہیں وہ سب پہلے سے ان کی زبان میں موجود تھے۔ مگر ان کی زندگی پر اس ماننے کا کوئی اثر نہ تھا۔ ان کی عملی زندگی ایسی تھی گویا کہ وہ زبان حال سے کہہ رہے ہوں کہ— زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے۔ مرنے کے بعد کون ہم کو اٹھائے گا اور کون ہمارا حساب لے گا۔
مگر یہ غفلت یا انکار صرف اس لیے ہے کہ آدمی سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کرتا۔ اگر وہ غور کرے تو اس کی پہلی پیدائش ہی اس کے لیے اس کی دوسری پیدائش کی دلیل بن جائے۔
یہاں ’’شیاطین‘‘ سے مراد برے لیڈر ہیں۔ یہ لیڈر پر فریب الفاظ بول کر عوام کو بہکاتے ہیں۔ اس اعتبار سے وہ وہی کام کرتے ہیں جو شیطان کرتاہے۔ موجودہ دنیا میں یہ لیڈر عظمت کے مقام پر کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس لیے لوگ ان کو نظر انداز نہیں کرپاتے۔ مگر آخرت میں ان کی عظمت ختم ہوجائے گی۔ وہاں یہ بڑے لوگ بھی اسی طرح ذلت کے گڑھے میں ڈال دئے جائیں گے جس طرح ان کے چھوٹے لوگ۔
مريم 19:67
عرب کے لوگ جو قرآن کے پہلے مخاطب تھے وہ زندگی بعد موت کو مانتے تھے۔ مگر یہ ماننا صرف رسمی ماننا تھا، وہ حقیقی ماننا نہ تھا۔ قرآن میں آخرت سے متعلق جتنے الفاظ ہیں وہ سب پہلے سے ان کی زبان میں موجود تھے۔ مگر ان کی زندگی پر اس ماننے کا کوئی اثر نہ تھا۔ ان کی عملی زندگی ایسی تھی گویا کہ وہ زبان حال سے کہہ رہے ہوں کہ— زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے۔ مرنے کے بعد کون ہم کو اٹھائے گا اور کون ہمارا حساب لے گا۔
مگر یہ غفلت یا انکار صرف اس لیے ہے کہ آدمی سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کرتا۔ اگر وہ غور کرے تو اس کی پہلی پیدائش ہی اس کے لیے اس کی دوسری پیدائش کی دلیل بن جائے۔
یہاں ’’شیاطین‘‘ سے مراد برے لیڈر ہیں۔ یہ لیڈر پر فریب الفاظ بول کر عوام کو بہکاتے ہیں۔ اس اعتبار سے وہ وہی کام کرتے ہیں جو شیطان کرتاہے۔ موجودہ دنیا میں یہ لیڈر عظمت کے مقام پر کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس لیے لوگ ان کو نظر انداز نہیں کرپاتے۔ مگر آخرت میں ان کی عظمت ختم ہوجائے گی۔ وہاں یہ بڑے لوگ بھی اسی طرح ذلت کے گڑھے میں ڈال دئے جائیں گے جس طرح ان کے چھوٹے لوگ۔
مريم 19:68
عرب کے لوگ جو قرآن کے پہلے مخاطب تھے وہ زندگی بعد موت کو مانتے تھے۔ مگر یہ ماننا صرف رسمی ماننا تھا، وہ حقیقی ماننا نہ تھا۔ قرآن میں آخرت سے متعلق جتنے الفاظ ہیں وہ سب پہلے سے ان کی زبان میں موجود تھے۔ مگر ان کی زندگی پر اس ماننے کا کوئی اثر نہ تھا۔ ان کی عملی زندگی ایسی تھی گویا کہ وہ زبان حال سے کہہ رہے ہوں کہ— زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے۔ مرنے کے بعد کون ہم کو اٹھائے گا اور کون ہمارا حساب لے گا۔
مگر یہ غفلت یا انکار صرف اس لیے ہے کہ آدمی سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کرتا۔ اگر وہ غور کرے تو اس کی پہلی پیدائش ہی اس کے لیے اس کی دوسری پیدائش کی دلیل بن جائے۔
یہاں ’’شیاطین‘‘ سے مراد برے لیڈر ہیں۔ یہ لیڈر پر فریب الفاظ بول کر عوام کو بہکاتے ہیں۔ اس اعتبار سے وہ وہی کام کرتے ہیں جو شیطان کرتاہے۔ موجودہ دنیا میں یہ لیڈر عظمت کے مقام پر کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس لیے لوگ ان کو نظر انداز نہیں کرپاتے۔ مگر آخرت میں ان کی عظمت ختم ہوجائے گی۔ وہاں یہ بڑے لوگ بھی اسی طرح ذلت کے گڑھے میں ڈال دئے جائیں گے جس طرح ان کے چھوٹے لوگ۔
مريم 19:69
حق کو نہ ماننا جرم ہے، مگر حق کو نہ ماننے کی تحریک چلانا اس سے بھی زیادہ بڑا جرم ہے۔ جو لوگ حق کے خلاف تحریک کے قائد بنیں وہ خدا کی نظر میں بدترین سزاکے مستحق ہیں۔ان کو آخرت میں عام لوگوں کے مقابلہ میں دگنی سزا دی جائے گی۔
قرآن کے الفاظ سے اور بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو جہنم سے گزارے گا۔ یہ گزرنا جہنم کے اندر سے نہیں ہوگا بلکہ اس کے اوپر سے ہوگا۔ یہ ایسا ہی ہوگا جیسے گہرے دریا کے اوپر آدمی کھلے پل کے ذریعہ گزر جاتاہے۔ وہ دریا کی خطرناک موجوں کو دیکھتا ہے مگر وہ اس میں غرق نہیں ہوتا۔ اسی طرح قیامت میں تمام لوگ جہنم کے اوپر سے گزریں گے۔ جو نیک لوگ ہیں وہ آگے جاکر جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ اور جوبرے لوگ ہیں وہ آگے نہ بڑھ سکیں گے جہنم انھیں پہچان کر ان کو اپنی طرف کھینچ لے گی۔
اس تجربہ کا مقصد یہ ہوگا کہ جنت میں داخل کيے جانے والے لوگ خدا کی اس عظیم نعمت کا واقعی احساس کرسکیں کہ اس نے کیسی بری جگہ سے بچا کر انھیں کیسی بہتر جگہ پہنچا دیاہے۔
مريم 19:70
حق کو نہ ماننا جرم ہے، مگر حق کو نہ ماننے کی تحریک چلانا اس سے بھی زیادہ بڑا جرم ہے۔ جو لوگ حق کے خلاف تحریک کے قائد بنیں وہ خدا کی نظر میں بدترین سزاکے مستحق ہیں۔ان کو آخرت میں عام لوگوں کے مقابلہ میں دگنی سزا دی جائے گی۔
قرآن کے الفاظ سے اور بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو جہنم سے گزارے گا۔ یہ گزرنا جہنم کے اندر سے نہیں ہوگا بلکہ اس کے اوپر سے ہوگا۔ یہ ایسا ہی ہوگا جیسے گہرے دریا کے اوپر آدمی کھلے پل کے ذریعہ گزر جاتاہے۔ وہ دریا کی خطرناک موجوں کو دیکھتا ہے مگر وہ اس میں غرق نہیں ہوتا۔ اسی طرح قیامت میں تمام لوگ جہنم کے اوپر سے گزریں گے۔ جو نیک لوگ ہیں وہ آگے جاکر جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ اور جوبرے لوگ ہیں وہ آگے نہ بڑھ سکیں گے جہنم انھیں پہچان کر ان کو اپنی طرف کھینچ لے گی۔
اس تجربہ کا مقصد یہ ہوگا کہ جنت میں داخل کيے جانے والے لوگ خدا کی اس عظیم نعمت کا واقعی احساس کرسکیں کہ اس نے کیسی بری جگہ سے بچا کر انھیں کیسی بہتر جگہ پہنچا دیاہے۔
مريم 19:71
حق کو نہ ماننا جرم ہے، مگر حق کو نہ ماننے کی تحریک چلانا اس سے بھی زیادہ بڑا جرم ہے۔ جو لوگ حق کے خلاف تحریک کے قائد بنیں وہ خدا کی نظر میں بدترین سزاکے مستحق ہیں۔ان کو آخرت میں عام لوگوں کے مقابلہ میں دگنی سزا دی جائے گی۔
قرآن کے الفاظ سے اور بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو جہنم سے گزارے گا۔ یہ گزرنا جہنم کے اندر سے نہیں ہوگا بلکہ اس کے اوپر سے ہوگا۔ یہ ایسا ہی ہوگا جیسے گہرے دریا کے اوپر آدمی کھلے پل کے ذریعہ گزر جاتاہے۔ وہ دریا کی خطرناک موجوں کو دیکھتا ہے مگر وہ اس میں غرق نہیں ہوتا۔ اسی طرح قیامت میں تمام لوگ جہنم کے اوپر سے گزریں گے۔ جو نیک لوگ ہیں وہ آگے جاکر جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ اور جوبرے لوگ ہیں وہ آگے نہ بڑھ سکیں گے جہنم انھیں پہچان کر ان کو اپنی طرف کھینچ لے گی۔
اس تجربہ کا مقصد یہ ہوگا کہ جنت میں داخل کيے جانے والے لوگ خدا کی اس عظیم نعمت کا واقعی احساس کرسکیں کہ اس نے کیسی بری جگہ سے بچا کر انھیں کیسی بہتر جگہ پہنچا دیاہے۔
مريم 19:72
حق کو نہ ماننا جرم ہے، مگر حق کو نہ ماننے کی تحریک چلانا اس سے بھی زیادہ بڑا جرم ہے۔ جو لوگ حق کے خلاف تحریک کے قائد بنیں وہ خدا کی نظر میں بدترین سزاکے مستحق ہیں۔ان کو آخرت میں عام لوگوں کے مقابلہ میں دگنی سزا دی جائے گی۔
قرآن کے الفاظ سے اور بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو جہنم سے گزارے گا۔ یہ گزرنا جہنم کے اندر سے نہیں ہوگا بلکہ اس کے اوپر سے ہوگا۔ یہ ایسا ہی ہوگا جیسے گہرے دریا کے اوپر آدمی کھلے پل کے ذریعہ گزر جاتاہے۔ وہ دریا کی خطرناک موجوں کو دیکھتا ہے مگر وہ اس میں غرق نہیں ہوتا۔ اسی طرح قیامت میں تمام لوگ جہنم کے اوپر سے گزریں گے۔ جو نیک لوگ ہیں وہ آگے جاکر جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ اور جوبرے لوگ ہیں وہ آگے نہ بڑھ سکیں گے جہنم انھیں پہچان کر ان کو اپنی طرف کھینچ لے گی۔
اس تجربہ کا مقصد یہ ہوگا کہ جنت میں داخل کيے جانے والے لوگ خدا کی اس عظیم نعمت کا واقعی احساس کرسکیں کہ اس نے کیسی بری جگہ سے بچا کر انھیں کیسی بہتر جگہ پہنچا دیاہے۔
مريم 19:73
جو لوگ حق ناحق کی بحث میں نہ پڑیں، جو آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی مصلحتوں کو اہمیت دیں، جو خدا کو خوش کرنے سے زیادہ عوام کو خوش کرنے کا اہتمام کرتے ہوں۔ ایسے لوگ ہمیشہ زیادہ کامیاب رہتے ہیں۔ ان کے گرد زیادہ رونق اور شان جمع ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف جو لوگ ہر معاملہ میں یہ دیکھیں کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ جو دنیا کی مصلحتوں کو نظر انداز کریں اور آخرت کی مصلحتوں کو ترجیح دیں۔جو عوامی رجحان سے زیادہ خدا کا لحاظ کریں۔ ایسے لوگ اکثر ظاہری شان وشوکت والی چیزوں سے محروم رہتے ہیں۔
یہ فرق بہت سے لوگوں کے لیے غلط فہمی کا سبب بن جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو لوگ دنیوی اعتبار سے بہتر ہیں وہ خدا کے پسندیدہ ہیں اور جو لوگ دنیوی اعتبار سے بہترنہیں وہ خدا کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں۔ مگر یہ معیار سراسر غلط ہے۔ اور ماضی کی تاریخ اس کی تردید کرنے کے لیے کافی ہے۔ کتنے پر فخر سرزمین کے نیچے دفن ہوگئے۔ کتنے محل ہیں جوآج کھنڈر کے سوا کسی اور صورت میں دیکھنے والوں کو نظر نہیں آتے۔
مريم 19:74
جو لوگ حق ناحق کی بحث میں نہ پڑیں، جو آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی مصلحتوں کو اہمیت دیں، جو خدا کو خوش کرنے سے زیادہ عوام کو خوش کرنے کا اہتمام کرتے ہوں۔ ایسے لوگ ہمیشہ زیادہ کامیاب رہتے ہیں۔ ان کے گرد زیادہ رونق اور شان جمع ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف جو لوگ ہر معاملہ میں یہ دیکھیں کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ جو دنیا کی مصلحتوں کو نظر انداز کریں اور آخرت کی مصلحتوں کو ترجیح دیں۔جو عوامی رجحان سے زیادہ خدا کا لحاظ کریں۔ ایسے لوگ اکثر ظاہری شان وشوکت والی چیزوں سے محروم رہتے ہیں۔
یہ فرق بہت سے لوگوں کے لیے غلط فہمی کا سبب بن جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو لوگ دنیوی اعتبار سے بہتر ہیں وہ خدا کے پسندیدہ ہیں اور جو لوگ دنیوی اعتبار سے بہترنہیں وہ خدا کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں۔ مگر یہ معیار سراسر غلط ہے۔ اور ماضی کی تاریخ اس کی تردید کرنے کے لیے کافی ہے۔ کتنے پر فخر سرزمین کے نیچے دفن ہوگئے۔ کتنے محل ہیں جوآج کھنڈر کے سوا کسی اور صورت میں دیکھنے والوں کو نظر نہیں آتے۔
مريم 19:75
سرکش آدمی کو سرکشی کا موقع ملنا مہلت امتحان کی وجہ سے ہوتاہے، نہ کہ کسی حق کی بنا پر۔ مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اس فرق کو سمجھ نہیں پاتا۔ وہ وقتی مہلت کو اپنی مستقل حالت سمجھ لیتاہے۔ اس کی آنکھ اس وقت تک نہیں کھلتی جب تک مدت کے خاتمہ کا اعلان نہ ہوجائے اور اس سے سرکشی کا حق چھین نہ لیا جائے۔
خدا اپنی مصلحت کے تحت کسی کو دنیا ہی میں یہ تجربہ کرادیتاہے۔ کوئی اسی حال پر باقی رہتا ہے۔ یہاں تک کہ موت اس کو وہ چیز دکھادیتی ہے جس کو وہ زندگی میں دیکھنے پر تیار نہ ہوا تھا۔
مريم 19:76
ہدایت یاب ہونا یہ ہے کہ آدمی کا شعور صحیح رخ پر جاگ اٹھے۔ ایسے آدمی کے سامنے کوئی صورتِ حال آتی ہے تو وہ اس کی صحیح توجیہہ کرکے اس کو اپنی غذا بنا لیتاہے۔ اس طرح اس کی ہدایت میں یقین اور کیفیت کے اعتبار سے برابر اضافہ ہوتا رہتاہے۔ اس کی ہدایت جامد چٹان کی طرح نہیں ہوتی بلکہ زندہ درخت کی مانند ہوتی ہے جو برابر بڑھتا چلا جائے۔
جس طرح دنیا کے پیشِ نظر عمل کرنے والا برابر ترقی کرتا رہتا ہے، اسی طرح آخرت کو سامنے رکھ کر عمل کرنے والے کا عمل بھی مسلسل اضافہ پذیر ہے۔ یہ اضافہ پذیری چونکہ آخرت میں ذخیرہ ہورہی ہے۔ اس لیے وہ دنیا میں نظر نہیں آتی۔ مگر قیامت جب پردہ پھاڑ دے گی تو ہر آدمی دیکھ لے گا کہ ہدایت پانے والے کی ہدایت کس طرح بڑھ رہی تھی اور اسی کے ساتھ اس کا عمل بھی۔
مريم 19:77
جب آدمی کے پاس دولت اور طاقت کا کوئی حصہ آتا ہے تو اس کے اندر غلط قسم کی خود اعتمادی پیداہوجاتی ہے۔ وہ ایسی روش اختیار کرتاہے جو ا س کی واقعی حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ وہ ایسی باتیں بولنے لگتا ہے جو اس کو نہیں بولنا چاہیے۔
ایسا ہی ایک واقعہ مکہ میں ہوا۔ عاص بن وائل مکہ کا ایک مشرک سردار تھا۔ حضرت خباب بن الارت کی کچھ رقم اس کے ذمہ باقی تھی۔ انھوںنے رقم کا مطالبہ کیا تو عاص بن وائل نے کہا کہ میںتمھاری رقم اس وقت دوں گا جب کہ تم محمدؐ کا انکار کرو۔ ان کی زبان سے نکلا کہ میں ہر گز محمدؐ کا انکار نہیں کروں گا یہاںتک کہ تم مرو اور پھر پیدا ہو۔ عاص بن وائل نے یہ سن کر کہا کہ جب میں دوبارہ پیداہوں گا (دَعْنِي حَتَّى أَمُوتَ وَأُبْعَثَ)تو وہاں بھی میں مال اور اولاد کا مالک رہوں گا، اس وقت تم مجھ سے اپنی رقم لے لینا۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر 2091)
یہ سب جھوٹی خود اعتمادی کی باتیں ہیں اور جھوٹی خود اعتمادی کسی کے کچھ کام آنے والی نہیں۔
مريم 19:78
جب آدمی کے پاس دولت اور طاقت کا کوئی حصہ آتا ہے تو اس کے اندر غلط قسم کی خود اعتمادی پیداہوجاتی ہے۔ وہ ایسی روش اختیار کرتاہے جو ا س کی واقعی حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ وہ ایسی باتیں بولنے لگتا ہے جو اس کو نہیں بولنا چاہیے۔
ایسا ہی ایک واقعہ مکہ میں ہوا۔ عاص بن وائل مکہ کا ایک مشرک سردار تھا۔ حضرت خباب بن الارت کی کچھ رقم اس کے ذمہ باقی تھی۔ انھوںنے رقم کا مطالبہ کیا تو عاص بن وائل نے کہا کہ میںتمھاری رقم اس وقت دوں گا جب کہ تم محمدؐ کا انکار کرو۔ ان کی زبان سے نکلا کہ میں ہر گز محمدؐ کا انکار نہیں کروں گا یہاںتک کہ تم مرو اور پھر پیدا ہو۔ عاص بن وائل نے یہ سن کر کہا کہ جب میں دوبارہ پیداہوں گا (دَعْنِي حَتَّى أَمُوتَ وَأُبْعَثَ)تو وہاں بھی میں مال اور اولاد کا مالک رہوں گا، اس وقت تم مجھ سے اپنی رقم لے لینا۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر 2091)
یہ سب جھوٹی خود اعتمادی کی باتیں ہیں اور جھوٹی خود اعتمادی کسی کے کچھ کام آنے والی نہیں۔
مريم 19:79
جب آدمی کے پاس دولت اور طاقت کا کوئی حصہ آتا ہے تو اس کے اندر غلط قسم کی خود اعتمادی پیداہوجاتی ہے۔ وہ ایسی روش اختیار کرتاہے جو ا س کی واقعی حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ وہ ایسی باتیں بولنے لگتا ہے جو اس کو نہیں بولنا چاہیے۔
ایسا ہی ایک واقعہ مکہ میں ہوا۔ عاص بن وائل مکہ کا ایک مشرک سردار تھا۔ حضرت خباب بن الارت کی کچھ رقم اس کے ذمہ باقی تھی۔ انھوںنے رقم کا مطالبہ کیا تو عاص بن وائل نے کہا کہ میںتمھاری رقم اس وقت دوں گا جب کہ تم محمدؐ کا انکار کرو۔ ان کی زبان سے نکلا کہ میں ہر گز محمدؐ کا انکار نہیں کروں گا یہاںتک کہ تم مرو اور پھر پیدا ہو۔ عاص بن وائل نے یہ سن کر کہا کہ جب میں دوبارہ پیداہوں گا (دَعْنِي حَتَّى أَمُوتَ وَأُبْعَثَ)تو وہاں بھی میں مال اور اولاد کا مالک رہوں گا، اس وقت تم مجھ سے اپنی رقم لے لینا۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر 2091)
یہ سب جھوٹی خود اعتمادی کی باتیں ہیں اور جھوٹی خود اعتمادی کسی کے کچھ کام آنے والی نہیں۔
مريم 19:80
جب آدمی کے پاس دولت اور طاقت کا کوئی حصہ آتا ہے تو اس کے اندر غلط قسم کی خود اعتمادی پیداہوجاتی ہے۔ وہ ایسی روش اختیار کرتاہے جو ا س کی واقعی حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ وہ ایسی باتیں بولنے لگتا ہے جو اس کو نہیں بولنا چاہیے۔
ایسا ہی ایک واقعہ مکہ میں ہوا۔ عاص بن وائل مکہ کا ایک مشرک سردار تھا۔ حضرت خباب بن الارت کی کچھ رقم اس کے ذمہ باقی تھی۔ انھوںنے رقم کا مطالبہ کیا تو عاص بن وائل نے کہا کہ میںتمھاری رقم اس وقت دوں گا جب کہ تم محمدؐ کا انکار کرو۔ ان کی زبان سے نکلا کہ میں ہر گز محمدؐ کا انکار نہیں کروں گا یہاںتک کہ تم مرو اور پھر پیدا ہو۔ عاص بن وائل نے یہ سن کر کہا کہ جب میں دوبارہ پیداہوں گا (دَعْنِي حَتَّى أَمُوتَ وَأُبْعَثَ)تو وہاں بھی میں مال اور اولاد کا مالک رہوں گا، اس وقت تم مجھ سے اپنی رقم لے لینا۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر 2091)
یہ سب جھوٹی خود اعتمادی کی باتیں ہیں اور جھوٹی خود اعتمادی کسی کے کچھ کام آنے والی نہیں۔
مريم 19:81
انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ دنیا میں جو چاہے کرے، مگر اس کو اس کی بدعملی کا انجام نہ بھگتنا پڑے۔ اس قسم کی حفاظت کسی کو اللہ سے نہیں مل سکتی تھی۔اس لیے اس نے ایسی ہستیاں تجویز کرلیں جو اللہ کی محبوب ہوں اور اس کی طرف سے اللہ کے یہاں سفارشی بن سکیں۔
مگر یہ سب بے بنیاد قیاسات ہیں، جو کسی کے کچھ کام آنے والے نہیں۔ حتی کہ وہ ہستیاں جن کو آدمی نے شریک فرض کرکے ان کے لیے عبادتی مراسم ادا کيے تھے وہ بھی قیامت کے دن اس سے برأت کریں گی۔ انسان کو ان سے نفرت کے سوا اور کچھ حاصل نہ ہوسکے گا۔
مريم 19:82
انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ دنیا میں جو چاہے کرے، مگر اس کو اس کی بدعملی کا انجام نہ بھگتنا پڑے۔ اس قسم کی حفاظت کسی کو اللہ سے نہیں مل سکتی تھی۔اس لیے اس نے ایسی ہستیاں تجویز کرلیں جو اللہ کی محبوب ہوں اور اس کی طرف سے اللہ کے یہاں سفارشی بن سکیں۔
مگر یہ سب بے بنیاد قیاسات ہیں، جو کسی کے کچھ کام آنے والے نہیں۔ حتی کہ وہ ہستیاں جن کو آدمی نے شریک فرض کرکے ان کے لیے عبادتی مراسم ادا کيے تھے وہ بھی قیامت کے دن اس سے برأت کریں گی۔ انسان کو ان سے نفرت کے سوا اور کچھ حاصل نہ ہوسکے گا۔
مريم 19:83
آدمی کے سامنے حق اپنی واضح صورت میں آئے مگر وہ اس کو نظر انداز کردے تو ایسا عمل شیطان کو اپنے اندر راہ دینے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کے بعد آدمی کا ذہن بالکل مخالف سمت میں چل پڑتاہے۔ اب ہر دلیل اس کے ذہن میں جاکر الٹ جاتی ہے۔ خدا کی نشانیاں اس کے سامنے آتی ہیں۔ مگر وہ ان کی خود ساختہ توجیہہ کرکے ان کو اپنی سرکشی کی غذا بنا لیتاہے۔
جو شخص جھوٹے سہاروں کو اپنا سہارا سمجھ لے وہ ہمیشہ اسی قسم کی نادانی میں مبتلا ہوجاتاہے۔ مگر جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ صرف اللہ کو اپنا سہارا سمجھتے ہیں۔ اللہ کا ڈر ان کی نظر میں ان تمام ہستیوں کو حذف کردیتاہے جن کو جھوٹا سہارا بنا کر لوگ گمراہ ہوتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میںاللہ کے باعزت مہمان بنائے جائیںگے۔
مريم 19:84
آدمی کے سامنے حق اپنی واضح صورت میں آئے مگر وہ اس کو نظر انداز کردے تو ایسا عمل شیطان کو اپنے اندر راہ دینے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کے بعد آدمی کا ذہن بالکل مخالف سمت میں چل پڑتاہے۔ اب ہر دلیل اس کے ذہن میں جاکر الٹ جاتی ہے۔ خدا کی نشانیاں اس کے سامنے آتی ہیں۔ مگر وہ ان کی خود ساختہ توجیہہ کرکے ان کو اپنی سرکشی کی غذا بنا لیتاہے۔
جو شخص جھوٹے سہاروں کو اپنا سہارا سمجھ لے وہ ہمیشہ اسی قسم کی نادانی میں مبتلا ہوجاتاہے۔ مگر جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ صرف اللہ کو اپنا سہارا سمجھتے ہیں۔ اللہ کا ڈر ان کی نظر میں ان تمام ہستیوں کو حذف کردیتاہے جن کو جھوٹا سہارا بنا کر لوگ گمراہ ہوتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میںاللہ کے باعزت مہمان بنائے جائیںگے۔
مريم 19:85
آدمی کے سامنے حق اپنی واضح صورت میں آئے مگر وہ اس کو نظر انداز کردے تو ایسا عمل شیطان کو اپنے اندر راہ دینے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کے بعد آدمی کا ذہن بالکل مخالف سمت میں چل پڑتاہے۔ اب ہر دلیل اس کے ذہن میں جاکر الٹ جاتی ہے۔ خدا کی نشانیاں اس کے سامنے آتی ہیں۔ مگر وہ ان کی خود ساختہ توجیہہ کرکے ان کو اپنی سرکشی کی غذا بنا لیتاہے۔
جو شخص جھوٹے سہاروں کو اپنا سہارا سمجھ لے وہ ہمیشہ اسی قسم کی نادانی میں مبتلا ہوجاتاہے۔ مگر جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ صرف اللہ کو اپنا سہارا سمجھتے ہیں۔ اللہ کا ڈر ان کی نظر میں ان تمام ہستیوں کو حذف کردیتاہے جن کو جھوٹا سہارا بنا کر لوگ گمراہ ہوتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میںاللہ کے باعزت مہمان بنائے جائیںگے۔
مريم 19:86
آدمی کے سامنے حق اپنی واضح صورت میں آئے مگر وہ اس کو نظر انداز کردے تو ایسا عمل شیطان کو اپنے اندر راہ دینے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کے بعد آدمی کا ذہن بالکل مخالف سمت میں چل پڑتاہے۔ اب ہر دلیل اس کے ذہن میں جاکر الٹ جاتی ہے۔ خدا کی نشانیاں اس کے سامنے آتی ہیں۔ مگر وہ ان کی خود ساختہ توجیہہ کرکے ان کو اپنی سرکشی کی غذا بنا لیتاہے۔
جو شخص جھوٹے سہاروں کو اپنا سہارا سمجھ لے وہ ہمیشہ اسی قسم کی نادانی میں مبتلا ہوجاتاہے۔ مگر جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ صرف اللہ کو اپنا سہارا سمجھتے ہیں۔ اللہ کا ڈر ان کی نظر میں ان تمام ہستیوں کو حذف کردیتاہے جن کو جھوٹا سہارا بنا کر لوگ گمراہ ہوتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میںاللہ کے باعزت مہمان بنائے جائیںگے۔
مريم 19:87
آدمی کے سامنے حق اپنی واضح صورت میں آئے مگر وہ اس کو نظر انداز کردے تو ایسا عمل شیطان کو اپنے اندر راہ دینے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کے بعد آدمی کا ذہن بالکل مخالف سمت میں چل پڑتاہے۔ اب ہر دلیل اس کے ذہن میں جاکر الٹ جاتی ہے۔ خدا کی نشانیاں اس کے سامنے آتی ہیں۔ مگر وہ ان کی خود ساختہ توجیہہ کرکے ان کو اپنی سرکشی کی غذا بنا لیتاہے۔
جو شخص جھوٹے سہاروں کو اپنا سہارا سمجھ لے وہ ہمیشہ اسی قسم کی نادانی میں مبتلا ہوجاتاہے۔ مگر جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ صرف اللہ کو اپنا سہارا سمجھتے ہیں۔ اللہ کا ڈر ان کی نظر میں ان تمام ہستیوں کو حذف کردیتاہے جن کو جھوٹا سہارا بنا کر لوگ گمراہ ہوتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میںاللہ کے باعزت مہمان بنائے جائیںگے۔
مريم 19:88
خدا کے لیے اولاد ماننا دو وجہوں سے ہوسکتا ہے۔ یا تو یہ کہ خدا کو اپنے لیے مددگار کی ضرورت ہے۔ یا وہ عام انسانوں کی طرح اولاد کی تمنا رکھتا ہے۔ اس لیے اس نے اپنی اولاد بنائی ہے۔ یہ دونوں باتیں بے بنیاد ہیں۔
زمین وآسمان کی بناوٹ اتنی کامل ہے کہ یہ بالکل ناقابل تصور ہے کہ اس کو بنانے اور چلانے والا خدا ایسا ہو جو انسانوں کی طرح کی کمیاں اپنے اندر رکھتا ہو۔ مخلوقات اپنے خالق کا جو تعارف کرا رہی ہیں اس میں خدا کی اولاد کا تصور کسی طرح چسپاں نہیں ہوتا۔
مريم 19:89
خدا کے لیے اولاد ماننا دو وجہوں سے ہوسکتا ہے۔ یا تو یہ کہ خدا کو اپنے لیے مددگار کی ضرورت ہے۔ یا وہ عام انسانوں کی طرح اولاد کی تمنا رکھتا ہے۔ اس لیے اس نے اپنی اولاد بنائی ہے۔ یہ دونوں باتیں بے بنیاد ہیں۔
زمین وآسمان کی بناوٹ اتنی کامل ہے کہ یہ بالکل ناقابل تصور ہے کہ اس کو بنانے اور چلانے والا خدا ایسا ہو جو انسانوں کی طرح کی کمیاں اپنے اندر رکھتا ہو۔ مخلوقات اپنے خالق کا جو تعارف کرا رہی ہیں اس میں خدا کی اولاد کا تصور کسی طرح چسپاں نہیں ہوتا۔
مريم 19:90
خدا کے لیے اولاد ماننا دو وجہوں سے ہوسکتا ہے۔ یا تو یہ کہ خدا کو اپنے لیے مددگار کی ضرورت ہے۔ یا وہ عام انسانوں کی طرح اولاد کی تمنا رکھتا ہے۔ اس لیے اس نے اپنی اولاد بنائی ہے۔ یہ دونوں باتیں بے بنیاد ہیں۔
زمین وآسمان کی بناوٹ اتنی کامل ہے کہ یہ بالکل ناقابل تصور ہے کہ اس کو بنانے اور چلانے والا خدا ایسا ہو جو انسانوں کی طرح کی کمیاں اپنے اندر رکھتا ہو۔ مخلوقات اپنے خالق کا جو تعارف کرا رہی ہیں اس میں خدا کی اولاد کا تصور کسی طرح چسپاں نہیں ہوتا۔
مريم 19:91
خدا کے لیے اولاد ماننا دو وجہوں سے ہوسکتا ہے۔ یا تو یہ کہ خدا کو اپنے لیے مددگار کی ضرورت ہے۔ یا وہ عام انسانوں کی طرح اولاد کی تمنا رکھتا ہے۔ اس لیے اس نے اپنی اولاد بنائی ہے۔ یہ دونوں باتیں بے بنیاد ہیں۔
زمین وآسمان کی بناوٹ اتنی کامل ہے کہ یہ بالکل ناقابل تصور ہے کہ اس کو بنانے اور چلانے والا خدا ایسا ہو جو انسانوں کی طرح کی کمیاں اپنے اندر رکھتا ہو۔ مخلوقات اپنے خالق کا جو تعارف کرا رہی ہیں اس میں خدا کی اولاد کا تصور کسی طرح چسپاں نہیں ہوتا۔
مريم 19:92
خدا کے لیے اولاد ماننا دو وجہوں سے ہوسکتا ہے۔ یا تو یہ کہ خدا کو اپنے لیے مددگار کی ضرورت ہے۔ یا وہ عام انسانوں کی طرح اولاد کی تمنا رکھتا ہے۔ اس لیے اس نے اپنی اولاد بنائی ہے۔ یہ دونوں باتیں بے بنیاد ہیں۔
زمین وآسمان کی بناوٹ اتنی کامل ہے کہ یہ بالکل ناقابل تصور ہے کہ اس کو بنانے اور چلانے والا خدا ایسا ہو جو انسانوں کی طرح کی کمیاں اپنے اندر رکھتا ہو۔ مخلوقات اپنے خالق کا جو تعارف کرا رہی ہیں اس میں خدا کی اولاد کا تصور کسی طرح چسپاں نہیں ہوتا۔
مريم 19:93
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ بے آمیزحق کو لے کر اٹھتے ہیں وہ عوام کے نزدیک مبغوض ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ملاوٹی سچائی پر قائم ہونے والے لوگ بے ملاوٹ والی سچائی کے علم بردار کو وحشت کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔
مگر یہ صرف موجودہ دنیا کا معاملہ ہے۔ آخرت کا معاملہ اس کے بالکل مختلف ہوگا۔ وہاں کا سارا ماحول انھیں لوگوں کے ساتھ ہوگا جو بے آمیز حق پر اپنے آپ کو کھڑا کریں۔ آخرت کی دنیا میں عزت اور مقبولیت تمام تر ان اشخاص کے حصہ میں آئے گی جنھوںنے موجودہ دنیا کی عزت ومقبولیت سے بے پروا ہو کر اپنے آپ کو بے آمیز سچائی کے ساتھ وابستہ کیا تھا۔
ملاوٹی سچائی کی دنیا میں ملاوٹی سچائی پر کھڑا ہونے والا عزت پاتا ہے۔ اسی طرح بے آمیز سچائی کی دنیا میں اس کو عزت ملے گی جو بے آمیز سچائی کی زمین پر کھڑا ہوا تھا۔
مريم 19:94
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ بے آمیزحق کو لے کر اٹھتے ہیں وہ عوام کے نزدیک مبغوض ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ملاوٹی سچائی پر قائم ہونے والے لوگ بے ملاوٹ والی سچائی کے علم بردار کو وحشت کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔
مگر یہ صرف موجودہ دنیا کا معاملہ ہے۔ آخرت کا معاملہ اس کے بالکل مختلف ہوگا۔ وہاں کا سارا ماحول انھیں لوگوں کے ساتھ ہوگا جو بے آمیز حق پر اپنے آپ کو کھڑا کریں۔ آخرت کی دنیا میں عزت اور مقبولیت تمام تر ان اشخاص کے حصہ میں آئے گی جنھوںنے موجودہ دنیا کی عزت ومقبولیت سے بے پروا ہو کر اپنے آپ کو بے آمیز سچائی کے ساتھ وابستہ کیا تھا۔
ملاوٹی سچائی کی دنیا میں ملاوٹی سچائی پر کھڑا ہونے والا عزت پاتا ہے۔ اسی طرح بے آمیز سچائی کی دنیا میں اس کو عزت ملے گی جو بے آمیز سچائی کی زمین پر کھڑا ہوا تھا۔
مريم 19:95
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ بے آمیزحق کو لے کر اٹھتے ہیں وہ عوام کے نزدیک مبغوض ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ملاوٹی سچائی پر قائم ہونے والے لوگ بے ملاوٹ والی سچائی کے علم بردار کو وحشت کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔
مگر یہ صرف موجودہ دنیا کا معاملہ ہے۔ آخرت کا معاملہ اس کے بالکل مختلف ہوگا۔ وہاں کا سارا ماحول انھیں لوگوں کے ساتھ ہوگا جو بے آمیز حق پر اپنے آپ کو کھڑا کریں۔ آخرت کی دنیا میں عزت اور مقبولیت تمام تر ان اشخاص کے حصہ میں آئے گی جنھوںنے موجودہ دنیا کی عزت ومقبولیت سے بے پروا ہو کر اپنے آپ کو بے آمیز سچائی کے ساتھ وابستہ کیا تھا۔
ملاوٹی سچائی کی دنیا میں ملاوٹی سچائی پر کھڑا ہونے والا عزت پاتا ہے۔ اسی طرح بے آمیز سچائی کی دنیا میں اس کو عزت ملے گی جو بے آمیز سچائی کی زمین پر کھڑا ہوا تھا۔
مريم 19:96
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ بے آمیزحق کو لے کر اٹھتے ہیں وہ عوام کے نزدیک مبغوض ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ملاوٹی سچائی پر قائم ہونے والے لوگ بے ملاوٹ والی سچائی کے علم بردار کو وحشت کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔
مگر یہ صرف موجودہ دنیا کا معاملہ ہے۔ آخرت کا معاملہ اس کے بالکل مختلف ہوگا۔ وہاں کا سارا ماحول انھیں لوگوں کے ساتھ ہوگا جو بے آمیز حق پر اپنے آپ کو کھڑا کریں۔ آخرت کی دنیا میں عزت اور مقبولیت تمام تر ان اشخاص کے حصہ میں آئے گی جنھوںنے موجودہ دنیا کی عزت ومقبولیت سے بے پروا ہو کر اپنے آپ کو بے آمیز سچائی کے ساتھ وابستہ کیا تھا۔
ملاوٹی سچائی کی دنیا میں ملاوٹی سچائی پر کھڑا ہونے والا عزت پاتا ہے۔ اسی طرح بے آمیز سچائی کی دنیا میں اس کو عزت ملے گی جو بے آمیز سچائی کی زمین پر کھڑا ہوا تھا۔
مريم 19:97
خدا کی کتاب انسان کی قابلِ فہم زبان میں ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے مضامین میں ان تمام پہلوؤں کی پوری رعایت موجود ہے جو کسی کتاب کو اس قابل بناتے ہیں کہ اس سے رہنمائی لي جا سکے۔ مگر ان سب کے باوجود قرآن انھیں لوگوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتا ہے جو سنجیدہ ہوں اور جن کو یہ کھٹک ہو کہ وہ حق اور ناحق کو جانیں۔ وہ ناحق سے بچیں اور حق کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ جو لوگ سنجیدگی اور طلب سے خالی ہوں وہ قرآن کی تعلیمات کو سن کر صرف بے معنی بحثیں کریں گے، وہ اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتے۔
جو لوگ دعوتِ حق کے مخالف بن کر کھڑے ہوتے ہیں وہ ہمیشہ اس غلط فہمی میں رہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ان کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ ان کے گرد و پیش مخالفینِ حق کی تباہی کے واقعات موجود ہوتے ہیں مگر وہ ان سے عبرت نہیںلیتے۔ وہ آخر وقت تک یہی سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہوا وہ صرف دوسروں کے لیے تھا۔ان کے اپنے ساتھ کچھ ہونے والا نہیں۔
مگر اللہ کے قانون میں کوئی استثناء نہیں۔ یہاں ہر آدمی کے ساتھ وہی ہونے والا ہے جو دوسرے کے ساتھ ہوا، اچھوں کے لیے اچھا اور بروں کے لیے برا۔
مريم 19:98
خدا کی کتاب انسان کی قابلِ فہم زبان میں ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے مضامین میں ان تمام پہلوؤں کی پوری رعایت موجود ہے جو کسی کتاب کو اس قابل بناتے ہیں کہ اس سے رہنمائی لي جا سکے۔ مگر ان سب کے باوجود قرآن انھیں لوگوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتا ہے جو سنجیدہ ہوں اور جن کو یہ کھٹک ہو کہ وہ حق اور ناحق کو جانیں۔ وہ ناحق سے بچیں اور حق کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ جو لوگ سنجیدگی اور طلب سے خالی ہوں وہ قرآن کی تعلیمات کو سن کر صرف بے معنی بحثیں کریں گے، وہ اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتے۔
جو لوگ دعوتِ حق کے مخالف بن کر کھڑے ہوتے ہیں وہ ہمیشہ اس غلط فہمی میں رہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ان کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ ان کے گرد و پیش مخالفینِ حق کی تباہی کے واقعات موجود ہوتے ہیں مگر وہ ان سے عبرت نہیںلیتے۔ وہ آخر وقت تک یہی سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہوا وہ صرف دوسروں کے لیے تھا۔ان کے اپنے ساتھ کچھ ہونے والا نہیں۔
مگر اللہ کے قانون میں کوئی استثناء نہیں۔ یہاں ہر آدمی کے ساتھ وہی ہونے والا ہے جو دوسرے کے ساتھ ہوا، اچھوں کے لیے اچھا اور بروں کے لیے برا۔