Lafzullah

Tazkirul Quran(Maulana Wahiduddin Khan) — المؤمنون 23:1 – الفرقان 25:77

Author / source: Maulana Wahid Uddin Khan

Contents
  1. المؤمنون 23:1
  2. المؤمنون 23:2
  3. المؤمنون 23:3
  4. المؤمنون 23:4
  5. المؤمنون 23:5
  6. المؤمنون 23:6
  7. المؤمنون 23:7
  8. المؤمنون 23:8
  9. المؤمنون 23:9
  10. المؤمنون 23:10
  11. المؤمنون 23:11
  12. المؤمنون 23:12
  13. المؤمنون 23:13
  14. المؤمنون 23:14
  15. المؤمنون 23:15
  16. المؤمنون 23:16
  17. المؤمنون 23:17
  18. المؤمنون 23:18
  19. المؤمنون 23:19
  20. المؤمنون 23:20
  21. المؤمنون 23:21
  22. المؤمنون 23:22
  23. المؤمنون 23:23
  24. المؤمنون 23:24
  25. المؤمنون 23:25
  26. المؤمنون 23:26
  27. المؤمنون 23:27
  28. المؤمنون 23:28
  29. المؤمنون 23:29
  30. المؤمنون 23:30
  31. المؤمنون 23:31
  32. المؤمنون 23:32
  33. المؤمنون 23:33
  34. المؤمنون 23:34
  35. المؤمنون 23:35
  36. المؤمنون 23:36
  37. المؤمنون 23:37
  38. المؤمنون 23:38
  39. المؤمنون 23:39
  40. المؤمنون 23:40
  41. المؤمنون 23:41
  42. المؤمنون 23:42
  43. المؤمنون 23:43
  44. المؤمنون 23:44
  45. المؤمنون 23:45
  46. المؤمنون 23:46
  47. المؤمنون 23:47
  48. المؤمنون 23:48
  49. المؤمنون 23:49
  50. المؤمنون 23:50
  51. المؤمنون 23:51
  52. المؤمنون 23:52
  53. المؤمنون 23:53
  54. المؤمنون 23:54
  55. المؤمنون 23:55
  56. المؤمنون 23:56
  57. المؤمنون 23:57
  58. المؤمنون 23:58
  59. المؤمنون 23:59
  60. المؤمنون 23:60
  61. المؤمنون 23:61
  62. المؤمنون 23:62
  63. المؤمنون 23:63
  64. المؤمنون 23:64
  65. المؤمنون 23:65
  66. المؤمنون 23:66
  67. المؤمنون 23:67
  68. المؤمنون 23:68
  69. المؤمنون 23:69
  70. المؤمنون 23:70
  71. المؤمنون 23:71
  72. المؤمنون 23:72
  73. المؤمنون 23:73
  74. المؤمنون 23:74
  75. المؤمنون 23:75
  76. المؤمنون 23:76
  77. المؤمنون 23:77
  78. المؤمنون 23:78
  79. المؤمنون 23:79
  80. المؤمنون 23:80
  81. المؤمنون 23:81
  82. المؤمنون 23:82
  83. المؤمنون 23:83
  84. المؤمنون 23:84
  85. المؤمنون 23:85
  86. المؤمنون 23:86
  87. المؤمنون 23:87
  88. المؤمنون 23:88
  89. المؤمنون 23:89
  90. المؤمنون 23:90
  91. المؤمنون 23:91
  92. المؤمنون 23:92
  93. المؤمنون 23:93
  94. المؤمنون 23:94
  95. المؤمنون 23:95
  96. المؤمنون 23:96
  97. المؤمنون 23:97
  98. المؤمنون 23:98
  99. المؤمنون 23:99
  100. المؤمنون 23:100
  101. المؤمنون 23:101
  102. المؤمنون 23:102
  103. المؤمنون 23:103
  104. المؤمنون 23:104
  105. المؤمنون 23:105
  106. المؤمنون 23:106
  107. المؤمنون 23:107
  108. المؤمنون 23:108
  109. المؤمنون 23:109
  110. المؤمنون 23:110
  111. المؤمنون 23:111
  112. المؤمنون 23:112
  113. المؤمنون 23:113
  114. المؤمنون 23:114
  115. المؤمنون 23:115
  116. المؤمنون 23:116
  117. المؤمنون 23:117
  118. المؤمنون 23:118
  119. النور 24:1
  120. النور 24:2
  121. النور 24:3
  122. النور 24:4
  123. النور 24:5
  124. النور 24:6
  125. النور 24:7
  126. النور 24:8
  127. النور 24:9
  128. النور 24:10
  129. النور 24:11
  130. النور 24:12
  131. النور 24:13
  132. النور 24:14
  133. النور 24:15
  134. النور 24:16
  135. النور 24:17
  136. النور 24:18
  137. النور 24:19
  138. النور 24:20
  139. النور 24:21
  140. النور 24:22
  141. النور 24:23
  142. النور 24:24
  143. النور 24:25
  144. النور 24:26
  145. النور 24:27
  146. النور 24:28
  147. النور 24:29
  148. النور 24:30
  149. النور 24:31
  150. النور 24:32
  151. النور 24:33
  152. النور 24:34
  153. النور 24:35
  154. النور 24:36
  155. النور 24:37
  156. النور 24:38
  157. النور 24:39
  158. النور 24:40
  159. النور 24:41
  160. النور 24:42
  161. النور 24:43
  162. النور 24:44
  163. النور 24:45
  164. النور 24:46
  165. النور 24:47
  166. النور 24:48
  167. النور 24:49
  168. النور 24:50
  169. النور 24:51
  170. النور 24:52
  171. النور 24:53
  172. النور 24:54
  173. النور 24:55
  174. النور 24:56
  175. النور 24:57
  176. النور 24:58
  177. النور 24:59
  178. النور 24:60
  179. النور 24:61
  180. النور 24:62
  181. النور 24:63
  182. النور 24:64
  183. الفرقان 25:1
  184. الفرقان 25:2
  185. الفرقان 25:3
  186. الفرقان 25:4
  187. الفرقان 25:5
  188. الفرقان 25:6
  189. الفرقان 25:7
  190. الفرقان 25:8
  191. الفرقان 25:9
  192. الفرقان 25:10
  193. الفرقان 25:11
  194. الفرقان 25:12
  195. الفرقان 25:13
  196. الفرقان 25:14
  197. الفرقان 25:15
  198. الفرقان 25:16
  199. الفرقان 25:17
  200. الفرقان 25:18
  201. الفرقان 25:19
  202. الفرقان 25:20
  203. الفرقان 25:21
  204. الفرقان 25:22
  205. الفرقان 25:23
  206. الفرقان 25:24
  207. الفرقان 25:25
  208. الفرقان 25:26
  209. الفرقان 25:27
  210. الفرقان 25:28
  211. الفرقان 25:29
  212. الفرقان 25:30
  213. الفرقان 25:31
  214. الفرقان 25:32
  215. الفرقان 25:33
  216. الفرقان 25:34
  217. الفرقان 25:35
  218. الفرقان 25:36
  219. الفرقان 25:37
  220. الفرقان 25:38
  221. الفرقان 25:39
  222. الفرقان 25:40
  223. الفرقان 25:41
  224. الفرقان 25:42
  225. الفرقان 25:43
  226. الفرقان 25:44
  227. الفرقان 25:45
  228. الفرقان 25:46
  229. الفرقان 25:47
  230. الفرقان 25:48
  231. الفرقان 25:49
  232. الفرقان 25:50
  233. الفرقان 25:51
  234. الفرقان 25:52
  235. الفرقان 25:53
  236. الفرقان 25:54
  237. الفرقان 25:55
  238. الفرقان 25:56
  239. الفرقان 25:57
  240. الفرقان 25:58
  241. الفرقان 25:59
  242. الفرقان 25:60
  243. الفرقان 25:61
  244. الفرقان 25:62
  245. الفرقان 25:63
  246. الفرقان 25:64
  247. الفرقان 25:65
  248. الفرقان 25:66
  249. الفرقان 25:67
  250. الفرقان 25:68
  251. الفرقان 25:69
  252. الفرقان 25:70
  253. الفرقان 25:71
  254. الفرقان 25:72
  255. الفرقان 25:73
  256. الفرقان 25:74
  257. الفرقان 25:75
  258. الفرقان 25:76
  259. الفرقان 25:77

المؤمنون 23:1

انسان کا بچہ ماں کے پیٹ کے اندر پرورش پاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں استقرار حمل سے لے کر بچہ کی پیدائش تک کی پوری مدت انسان کے ليے ایک چھپی ہوئی چیز کی حیثیت رکھتی تھی۔ بیسویں صدی میں جدید سائنسی ذرائع کے بعد یہ ممکن ہوا ہے كه پیٹ میں پرورش پانے والے بچہ کا مشاہدہ کیا جائے اور اس کی بابت براہ راست معلومات حاصل کی جائیں۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے انسانی تخلیق کے جو مختلف تدریجی مراحل بتائے تھے، وہ حیرت انگیز طورپر دور جدید کے مشینی مشاہدہ کے عین مطابق ثابت ہوئے ہیں۔ یہ ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جدید تحقیق اور قرآن کے بیان میں اتنی کامل مطابقت ممکن نہ تھی۔ تخلیق کا یہ واقعہ جو ہر روز ماں کے پیٹ میں ہورہا ہے وہ بتاتاہے کہ اس دنیا کاخالق ایک حد درجہ باکمال ہستی ہے۔ انسان کی تخلیقِ اول کا حیرت ناک واقعہ جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رها ہے وہی یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اسی طرح تخلیقِ ثانی کا واقعہ بھی ہوگا۔ اور عین اس کے مطابق ہوگا جس کی خبر نبیوں کے ذریعہ دی گئی ہے۔

المؤمنون 23:2

انسان کا بچہ ماں کے پیٹ کے اندر پرورش پاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں استقرار حمل سے لے کر بچہ کی پیدائش تک کی پوری مدت انسان کے ليے ایک چھپی ہوئی چیز کی حیثیت رکھتی تھی۔ بیسویں صدی میں جدید سائنسی ذرائع کے بعد یہ ممکن ہوا ہے كه پیٹ میں پرورش پانے والے بچہ کا مشاہدہ کیا جائے اور اس کی بابت براہ راست معلومات حاصل کی جائیں۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے انسانی تخلیق کے جو مختلف تدریجی مراحل بتائے تھے، وہ حیرت انگیز طورپر دور جدید کے مشینی مشاہدہ کے عین مطابق ثابت ہوئے ہیں۔ یہ ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جدید تحقیق اور قرآن کے بیان میں اتنی کامل مطابقت ممکن نہ تھی۔ تخلیق کا یہ واقعہ جو ہر روز ماں کے پیٹ میں ہورہا ہے وہ بتاتاہے کہ اس دنیا کاخالق ایک حد درجہ باکمال ہستی ہے۔ انسان کی تخلیقِ اول کا حیرت ناک واقعہ جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رها ہے وہی یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اسی طرح تخلیقِ ثانی کا واقعہ بھی ہوگا۔ اور عین اس کے مطابق ہوگا جس کی خبر نبیوں کے ذریعہ دی گئی ہے۔

المؤمنون 23:3

انسان کا بچہ ماں کے پیٹ کے اندر پرورش پاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں استقرار حمل سے لے کر بچہ کی پیدائش تک کی پوری مدت انسان کے ليے ایک چھپی ہوئی چیز کی حیثیت رکھتی تھی۔ بیسویں صدی میں جدید سائنسی ذرائع کے بعد یہ ممکن ہوا ہے كه پیٹ میں پرورش پانے والے بچہ کا مشاہدہ کیا جائے اور اس کی بابت براہ راست معلومات حاصل کی جائیں۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے انسانی تخلیق کے جو مختلف تدریجی مراحل بتائے تھے، وہ حیرت انگیز طورپر دور جدید کے مشینی مشاہدہ کے عین مطابق ثابت ہوئے ہیں۔ یہ ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جدید تحقیق اور قرآن کے بیان میں اتنی کامل مطابقت ممکن نہ تھی۔ تخلیق کا یہ واقعہ جو ہر روز ماں کے پیٹ میں ہورہا ہے وہ بتاتاہے کہ اس دنیا کاخالق ایک حد درجہ باکمال ہستی ہے۔ انسان کی تخلیقِ اول کا حیرت ناک واقعہ جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رها ہے وہی یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اسی طرح تخلیقِ ثانی کا واقعہ بھی ہوگا۔ اور عین اس کے مطابق ہوگا جس کی خبر نبیوں کے ذریعہ دی گئی ہے۔

المؤمنون 23:4

انسان کا بچہ ماں کے پیٹ کے اندر پرورش پاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں استقرار حمل سے لے کر بچہ کی پیدائش تک کی پوری مدت انسان کے ليے ایک چھپی ہوئی چیز کی حیثیت رکھتی تھی۔ بیسویں صدی میں جدید سائنسی ذرائع کے بعد یہ ممکن ہوا ہے كه پیٹ میں پرورش پانے والے بچہ کا مشاہدہ کیا جائے اور اس کی بابت براہ راست معلومات حاصل کی جائیں۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے انسانی تخلیق کے جو مختلف تدریجی مراحل بتائے تھے، وہ حیرت انگیز طورپر دور جدید کے مشینی مشاہدہ کے عین مطابق ثابت ہوئے ہیں۔ یہ ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جدید تحقیق اور قرآن کے بیان میں اتنی کامل مطابقت ممکن نہ تھی۔ تخلیق کا یہ واقعہ جو ہر روز ماں کے پیٹ میں ہورہا ہے وہ بتاتاہے کہ اس دنیا کاخالق ایک حد درجہ باکمال ہستی ہے۔ انسان کی تخلیقِ اول کا حیرت ناک واقعہ جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رها ہے وہی یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اسی طرح تخلیقِ ثانی کا واقعہ بھی ہوگا۔ اور عین اس کے مطابق ہوگا جس کی خبر نبیوں کے ذریعہ دی گئی ہے۔

المؤمنون 23:5

انسان کا بچہ ماں کے پیٹ کے اندر پرورش پاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں استقرار حمل سے لے کر بچہ کی پیدائش تک کی پوری مدت انسان کے ليے ایک چھپی ہوئی چیز کی حیثیت رکھتی تھی۔ بیسویں صدی میں جدید سائنسی ذرائع کے بعد یہ ممکن ہوا ہے كه پیٹ میں پرورش پانے والے بچہ کا مشاہدہ کیا جائے اور اس کی بابت براہ راست معلومات حاصل کی جائیں۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے انسانی تخلیق کے جو مختلف تدریجی مراحل بتائے تھے، وہ حیرت انگیز طورپر دور جدید کے مشینی مشاہدہ کے عین مطابق ثابت ہوئے ہیں۔ یہ ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جدید تحقیق اور قرآن کے بیان میں اتنی کامل مطابقت ممکن نہ تھی۔ تخلیق کا یہ واقعہ جو ہر روز ماں کے پیٹ میں ہورہا ہے وہ بتاتاہے کہ اس دنیا کاخالق ایک حد درجہ باکمال ہستی ہے۔ انسان کی تخلیقِ اول کا حیرت ناک واقعہ جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رها ہے وہی یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اسی طرح تخلیقِ ثانی کا واقعہ بھی ہوگا۔ اور عین اس کے مطابق ہوگا جس کی خبر نبیوں کے ذریعہ دی گئی ہے۔

المؤمنون 23:6

انسان کا بچہ ماں کے پیٹ کے اندر پرورش پاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں استقرار حمل سے لے کر بچہ کی پیدائش تک کی پوری مدت انسان کے ليے ایک چھپی ہوئی چیز کی حیثیت رکھتی تھی۔ بیسویں صدی میں جدید سائنسی ذرائع کے بعد یہ ممکن ہوا ہے كه پیٹ میں پرورش پانے والے بچہ کا مشاہدہ کیا جائے اور اس کی بابت براہ راست معلومات حاصل کی جائیں۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے انسانی تخلیق کے جو مختلف تدریجی مراحل بتائے تھے، وہ حیرت انگیز طورپر دور جدید کے مشینی مشاہدہ کے عین مطابق ثابت ہوئے ہیں۔ یہ ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جدید تحقیق اور قرآن کے بیان میں اتنی کامل مطابقت ممکن نہ تھی۔ تخلیق کا یہ واقعہ جو ہر روز ماں کے پیٹ میں ہورہا ہے وہ بتاتاہے کہ اس دنیا کاخالق ایک حد درجہ باکمال ہستی ہے۔ انسان کی تخلیقِ اول کا حیرت ناک واقعہ جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رها ہے وہی یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اسی طرح تخلیقِ ثانی کا واقعہ بھی ہوگا۔ اور عین اس کے مطابق ہوگا جس کی خبر نبیوں کے ذریعہ دی گئی ہے۔

المؤمنون 23:7

انسان کا بچہ ماں کے پیٹ کے اندر پرورش پاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں استقرار حمل سے لے کر بچہ کی پیدائش تک کی پوری مدت انسان کے ليے ایک چھپی ہوئی چیز کی حیثیت رکھتی تھی۔ بیسویں صدی میں جدید سائنسی ذرائع کے بعد یہ ممکن ہوا ہے كه پیٹ میں پرورش پانے والے بچہ کا مشاہدہ کیا جائے اور اس کی بابت براہ راست معلومات حاصل کی جائیں۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے انسانی تخلیق کے جو مختلف تدریجی مراحل بتائے تھے، وہ حیرت انگیز طورپر دور جدید کے مشینی مشاہدہ کے عین مطابق ثابت ہوئے ہیں۔ یہ ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جدید تحقیق اور قرآن کے بیان میں اتنی کامل مطابقت ممکن نہ تھی۔ تخلیق کا یہ واقعہ جو ہر روز ماں کے پیٹ میں ہورہا ہے وہ بتاتاہے کہ اس دنیا کاخالق ایک حد درجہ باکمال ہستی ہے۔ انسان کی تخلیقِ اول کا حیرت ناک واقعہ جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رها ہے وہی یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اسی طرح تخلیقِ ثانی کا واقعہ بھی ہوگا۔ اور عین اس کے مطابق ہوگا جس کی خبر نبیوں کے ذریعہ دی گئی ہے۔

المؤمنون 23:8

انسان کا بچہ ماں کے پیٹ کے اندر پرورش پاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں استقرار حمل سے لے کر بچہ کی پیدائش تک کی پوری مدت انسان کے ليے ایک چھپی ہوئی چیز کی حیثیت رکھتی تھی۔ بیسویں صدی میں جدید سائنسی ذرائع کے بعد یہ ممکن ہوا ہے كه پیٹ میں پرورش پانے والے بچہ کا مشاہدہ کیا جائے اور اس کی بابت براہ راست معلومات حاصل کی جائیں۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے انسانی تخلیق کے جو مختلف تدریجی مراحل بتائے تھے، وہ حیرت انگیز طورپر دور جدید کے مشینی مشاہدہ کے عین مطابق ثابت ہوئے ہیں۔ یہ ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جدید تحقیق اور قرآن کے بیان میں اتنی کامل مطابقت ممکن نہ تھی۔ تخلیق کا یہ واقعہ جو ہر روز ماں کے پیٹ میں ہورہا ہے وہ بتاتاہے کہ اس دنیا کاخالق ایک حد درجہ باکمال ہستی ہے۔ انسان کی تخلیقِ اول کا حیرت ناک واقعہ جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رها ہے وہی یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اسی طرح تخلیقِ ثانی کا واقعہ بھی ہوگا۔ اور عین اس کے مطابق ہوگا جس کی خبر نبیوں کے ذریعہ دی گئی ہے۔

المؤمنون 23:9

انسان کا بچہ ماں کے پیٹ کے اندر پرورش پاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں استقرار حمل سے لے کر بچہ کی پیدائش تک کی پوری مدت انسان کے ليے ایک چھپی ہوئی چیز کی حیثیت رکھتی تھی۔ بیسویں صدی میں جدید سائنسی ذرائع کے بعد یہ ممکن ہوا ہے كه پیٹ میں پرورش پانے والے بچہ کا مشاہدہ کیا جائے اور اس کی بابت براہ راست معلومات حاصل کی جائیں۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے انسانی تخلیق کے جو مختلف تدریجی مراحل بتائے تھے، وہ حیرت انگیز طورپر دور جدید کے مشینی مشاہدہ کے عین مطابق ثابت ہوئے ہیں۔ یہ ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جدید تحقیق اور قرآن کے بیان میں اتنی کامل مطابقت ممکن نہ تھی۔ تخلیق کا یہ واقعہ جو ہر روز ماں کے پیٹ میں ہورہا ہے وہ بتاتاہے کہ اس دنیا کاخالق ایک حد درجہ باکمال ہستی ہے۔ انسان کی تخلیقِ اول کا حیرت ناک واقعہ جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رها ہے وہی یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اسی طرح تخلیقِ ثانی کا واقعہ بھی ہوگا۔ اور عین اس کے مطابق ہوگا جس کی خبر نبیوں کے ذریعہ دی گئی ہے۔

المؤمنون 23:10

انسان کا بچہ ماں کے پیٹ کے اندر پرورش پاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں استقرار حمل سے لے کر بچہ کی پیدائش تک کی پوری مدت انسان کے ليے ایک چھپی ہوئی چیز کی حیثیت رکھتی تھی۔ بیسویں صدی میں جدید سائنسی ذرائع کے بعد یہ ممکن ہوا ہے كه پیٹ میں پرورش پانے والے بچہ کا مشاہدہ کیا جائے اور اس کی بابت براہ راست معلومات حاصل کی جائیں۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے انسانی تخلیق کے جو مختلف تدریجی مراحل بتائے تھے، وہ حیرت انگیز طورپر دور جدید کے مشینی مشاہدہ کے عین مطابق ثابت ہوئے ہیں۔ یہ ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جدید تحقیق اور قرآن کے بیان میں اتنی کامل مطابقت ممکن نہ تھی۔ تخلیق کا یہ واقعہ جو ہر روز ماں کے پیٹ میں ہورہا ہے وہ بتاتاہے کہ اس دنیا کاخالق ایک حد درجہ باکمال ہستی ہے۔ انسان کی تخلیقِ اول کا حیرت ناک واقعہ جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رها ہے وہی یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اسی طرح تخلیقِ ثانی کا واقعہ بھی ہوگا۔ اور عین اس کے مطابق ہوگا جس کی خبر نبیوں کے ذریعہ دی گئی ہے۔

المؤمنون 23:11

انسان کا بچہ ماں کے پیٹ کے اندر پرورش پاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں استقرار حمل سے لے کر بچہ کی پیدائش تک کی پوری مدت انسان کے ليے ایک چھپی ہوئی چیز کی حیثیت رکھتی تھی۔ بیسویں صدی میں جدید سائنسی ذرائع کے بعد یہ ممکن ہوا ہے كه پیٹ میں پرورش پانے والے بچہ کا مشاہدہ کیا جائے اور اس کی بابت براہ راست معلومات حاصل کی جائیں۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے انسانی تخلیق کے جو مختلف تدریجی مراحل بتائے تھے، وہ حیرت انگیز طورپر دور جدید کے مشینی مشاہدہ کے عین مطابق ثابت ہوئے ہیں۔ یہ ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جدید تحقیق اور قرآن کے بیان میں اتنی کامل مطابقت ممکن نہ تھی۔ تخلیق کا یہ واقعہ جو ہر روز ماں کے پیٹ میں ہورہا ہے وہ بتاتاہے کہ اس دنیا کاخالق ایک حد درجہ باکمال ہستی ہے۔ انسان کی تخلیقِ اول کا حیرت ناک واقعہ جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رها ہے وہی یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اسی طرح تخلیقِ ثانی کا واقعہ بھی ہوگا۔ اور عین اس کے مطابق ہوگا جس کی خبر نبیوں کے ذریعہ دی گئی ہے۔

المؤمنون 23:12

انسان کا بچہ ماں کے پیٹ کے اندر پرورش پاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں استقرار حمل سے لے کر بچہ کی پیدائش تک کی پوری مدت انسان کے ليے ایک چھپی ہوئی چیز کی حیثیت رکھتی تھی۔ بیسویں صدی میں جدید سائنسی ذرائع کے بعد یہ ممکن ہوا ہے كه پیٹ میں پرورش پانے والے بچہ کا مشاہدہ کیا جائے اور اس کی بابت براہ راست معلومات حاصل کی جائیں۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے انسانی تخلیق کے جو مختلف تدریجی مراحل بتائے تھے، وہ حیرت انگیز طورپر دور جدید کے مشینی مشاہدہ کے عین مطابق ثابت ہوئے ہیں۔ یہ ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جدید تحقیق اور قرآن کے بیان میں اتنی کامل مطابقت ممکن نہ تھی۔ تخلیق کا یہ واقعہ جو ہر روز ماں کے پیٹ میں ہورہا ہے وہ بتاتاہے کہ اس دنیا کاخالق ایک حد درجہ باکمال ہستی ہے۔ انسان کی تخلیقِ اول کا حیرت ناک واقعہ جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رها ہے وہی یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اسی طرح تخلیقِ ثانی کا واقعہ بھی ہوگا۔ اور عین اس کے مطابق ہوگا جس کی خبر نبیوں کے ذریعہ دی گئی ہے۔

المؤمنون 23:13

انسان کا بچہ ماں کے پیٹ کے اندر پرورش پاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں استقرار حمل سے لے کر بچہ کی پیدائش تک کی پوری مدت انسان کے ليے ایک چھپی ہوئی چیز کی حیثیت رکھتی تھی۔ بیسویں صدی میں جدید سائنسی ذرائع کے بعد یہ ممکن ہوا ہے كه پیٹ میں پرورش پانے والے بچہ کا مشاہدہ کیا جائے اور اس کی بابت براہ راست معلومات حاصل کی جائیں۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے انسانی تخلیق کے جو مختلف تدریجی مراحل بتائے تھے، وہ حیرت انگیز طورپر دور جدید کے مشینی مشاہدہ کے عین مطابق ثابت ہوئے ہیں۔ یہ ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جدید تحقیق اور قرآن کے بیان میں اتنی کامل مطابقت ممکن نہ تھی۔ تخلیق کا یہ واقعہ جو ہر روز ماں کے پیٹ میں ہورہا ہے وہ بتاتاہے کہ اس دنیا کاخالق ایک حد درجہ باکمال ہستی ہے۔ انسان کی تخلیقِ اول کا حیرت ناک واقعہ جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رها ہے وہی یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اسی طرح تخلیقِ ثانی کا واقعہ بھی ہوگا۔ اور عین اس کے مطابق ہوگا جس کی خبر نبیوں کے ذریعہ دی گئی ہے۔

المؤمنون 23:14

انسان کا بچہ ماں کے پیٹ کے اندر پرورش پاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں استقرار حمل سے لے کر بچہ کی پیدائش تک کی پوری مدت انسان کے ليے ایک چھپی ہوئی چیز کی حیثیت رکھتی تھی۔ بیسویں صدی میں جدید سائنسی ذرائع کے بعد یہ ممکن ہوا ہے كه پیٹ میں پرورش پانے والے بچہ کا مشاہدہ کیا جائے اور اس کی بابت براہ راست معلومات حاصل کی جائیں۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے انسانی تخلیق کے جو مختلف تدریجی مراحل بتائے تھے، وہ حیرت انگیز طورپر دور جدید کے مشینی مشاہدہ کے عین مطابق ثابت ہوئے ہیں۔ یہ ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جدید تحقیق اور قرآن کے بیان میں اتنی کامل مطابقت ممکن نہ تھی۔ تخلیق کا یہ واقعہ جو ہر روز ماں کے پیٹ میں ہورہا ہے وہ بتاتاہے کہ اس دنیا کاخالق ایک حد درجہ باکمال ہستی ہے۔ انسان کی تخلیقِ اول کا حیرت ناک واقعہ جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رها ہے وہی یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اسی طرح تخلیقِ ثانی کا واقعہ بھی ہوگا۔ اور عین اس کے مطابق ہوگا جس کی خبر نبیوں کے ذریعہ دی گئی ہے۔

المؤمنون 23:15

انسان کا بچہ ماں کے پیٹ کے اندر پرورش پاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں استقرار حمل سے لے کر بچہ کی پیدائش تک کی پوری مدت انسان کے ليے ایک چھپی ہوئی چیز کی حیثیت رکھتی تھی۔ بیسویں صدی میں جدید سائنسی ذرائع کے بعد یہ ممکن ہوا ہے كه پیٹ میں پرورش پانے والے بچہ کا مشاہدہ کیا جائے اور اس کی بابت براہ راست معلومات حاصل کی جائیں۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے انسانی تخلیق کے جو مختلف تدریجی مراحل بتائے تھے، وہ حیرت انگیز طورپر دور جدید کے مشینی مشاہدہ کے عین مطابق ثابت ہوئے ہیں۔ یہ ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جدید تحقیق اور قرآن کے بیان میں اتنی کامل مطابقت ممکن نہ تھی۔ تخلیق کا یہ واقعہ جو ہر روز ماں کے پیٹ میں ہورہا ہے وہ بتاتاہے کہ اس دنیا کاخالق ایک حد درجہ باکمال ہستی ہے۔ انسان کی تخلیقِ اول کا حیرت ناک واقعہ جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رها ہے وہی یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اسی طرح تخلیقِ ثانی کا واقعہ بھی ہوگا۔ اور عین اس کے مطابق ہوگا جس کی خبر نبیوں کے ذریعہ دی گئی ہے۔

المؤمنون 23:16

انسان کا بچہ ماں کے پیٹ کے اندر پرورش پاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں استقرار حمل سے لے کر بچہ کی پیدائش تک کی پوری مدت انسان کے ليے ایک چھپی ہوئی چیز کی حیثیت رکھتی تھی۔ بیسویں صدی میں جدید سائنسی ذرائع کے بعد یہ ممکن ہوا ہے كه پیٹ میں پرورش پانے والے بچہ کا مشاہدہ کیا جائے اور اس کی بابت براہ راست معلومات حاصل کی جائیں۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے انسانی تخلیق کے جو مختلف تدریجی مراحل بتائے تھے، وہ حیرت انگیز طورپر دور جدید کے مشینی مشاہدہ کے عین مطابق ثابت ہوئے ہیں۔ یہ ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جدید تحقیق اور قرآن کے بیان میں اتنی کامل مطابقت ممکن نہ تھی۔ تخلیق کا یہ واقعہ جو ہر روز ماں کے پیٹ میں ہورہا ہے وہ بتاتاہے کہ اس دنیا کاخالق ایک حد درجہ باکمال ہستی ہے۔ انسان کی تخلیقِ اول کا حیرت ناک واقعہ جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رها ہے وہی یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اسی طرح تخلیقِ ثانی کا واقعہ بھی ہوگا۔ اور عین اس کے مطابق ہوگا جس کی خبر نبیوں کے ذریعہ دی گئی ہے۔

المؤمنون 23:17

انسان ایک حقیر وجود ہے۔ اس کے مقابلہ میں کائنات دہشت ناک حد تک عظیم ہے۔ مگر کائنات کا سب سے زیادہ حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کے ليے انتہائی طورپر موافق ہے۔ یہاں وسیع خلا میں اَن گنت ستارے اور سیارے تیز رفتاری کے ساتھ گھوم رہے ہیں مگر بے شمار ناموافق امکانات کے باوجود وہ انسان کے ليے کوئی ناموافق صورت حال پیدا نہیں کرتے۔ بارش اگر بہت زیادہ برسنے لگے تو انسانی آبادیا ں تباہ ہوجائیں مگر اس کی بھی ایک حد ہے، وہ اس حد سے باہر نہیں جاتی۔ زمین پر پانی کے جو ذخیرے ہیں وہ سب کے سب زمین میں جذب ہوسکتے ہیں یا بھاپ بن کر فضا میں اڑ سکتے ہیں مگر کبھی ایسا نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ زمین کی صورت میں ایک استثنائی کرہ موجود ہے جو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خاص طورپر انسان کی ضروریات کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے۔ یہاں انسان کی غذائی ضروریات سے لے کر اس کی صنعتی ضروریات تک تمام چیزیں افراط کے ساتھ موجود ہیں۔زمین کے جانور بظاہر وحشی مخلوق ہیں مگر ان کو خدانے طرح طرح سے انسان کے ليے کار آمد بنادیا ہے۔ ان جانوروں کا پیٹ ایک حیرت انگیز کارخانہ هے جو گھاس اور چارہ لیتا ہے اور اس کو د ودھ اور گوشت جیسی قیمتی چیزوں میں تبدیل کرتا ہے۔ جانوروں میں سے بہت سے جانور ہیں جو جانور ہونے کے باوجود اپنے آپ کو پوری طرح انسان کے قبضہ میں دے دیتے ہیں کہ وہ ان پر سواری کرے اور ان سے دوسرے مختلف فائدے حاصل کرے۔یہ واقعات اس کا تقاضا کرتے ہیں کہ انسان اپنے مہربان خدا کو پہچانے اور اس کا شکر گزار بندہ بن کر رہے۔

المؤمنون 23:18

انسان ایک حقیر وجود ہے۔ اس کے مقابلہ میں کائنات دہشت ناک حد تک عظیم ہے۔ مگر کائنات کا سب سے زیادہ حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کے ليے انتہائی طورپر موافق ہے۔ یہاں وسیع خلا میں اَن گنت ستارے اور سیارے تیز رفتاری کے ساتھ گھوم رہے ہیں مگر بے شمار ناموافق امکانات کے باوجود وہ انسان کے ليے کوئی ناموافق صورت حال پیدا نہیں کرتے۔ بارش اگر بہت زیادہ برسنے لگے تو انسانی آبادیا ں تباہ ہوجائیں مگر اس کی بھی ایک حد ہے، وہ اس حد سے باہر نہیں جاتی۔ زمین پر پانی کے جو ذخیرے ہیں وہ سب کے سب زمین میں جذب ہوسکتے ہیں یا بھاپ بن کر فضا میں اڑ سکتے ہیں مگر کبھی ایسا نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ زمین کی صورت میں ایک استثنائی کرہ موجود ہے جو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خاص طورپر انسان کی ضروریات کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے۔ یہاں انسان کی غذائی ضروریات سے لے کر اس کی صنعتی ضروریات تک تمام چیزیں افراط کے ساتھ موجود ہیں۔زمین کے جانور بظاہر وحشی مخلوق ہیں مگر ان کو خدانے طرح طرح سے انسان کے ليے کار آمد بنادیا ہے۔ ان جانوروں کا پیٹ ایک حیرت انگیز کارخانہ هے جو گھاس اور چارہ لیتا ہے اور اس کو د ودھ اور گوشت جیسی قیمتی چیزوں میں تبدیل کرتا ہے۔ جانوروں میں سے بہت سے جانور ہیں جو جانور ہونے کے باوجود اپنے آپ کو پوری طرح انسان کے قبضہ میں دے دیتے ہیں کہ وہ ان پر سواری کرے اور ان سے دوسرے مختلف فائدے حاصل کرے۔یہ واقعات اس کا تقاضا کرتے ہیں کہ انسان اپنے مہربان خدا کو پہچانے اور اس کا شکر گزار بندہ بن کر رہے۔

المؤمنون 23:19

انسان ایک حقیر وجود ہے۔ اس کے مقابلہ میں کائنات دہشت ناک حد تک عظیم ہے۔ مگر کائنات کا سب سے زیادہ حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کے ليے انتہائی طورپر موافق ہے۔ یہاں وسیع خلا میں اَن گنت ستارے اور سیارے تیز رفتاری کے ساتھ گھوم رہے ہیں مگر بے شمار ناموافق امکانات کے باوجود وہ انسان کے ليے کوئی ناموافق صورت حال پیدا نہیں کرتے۔ بارش اگر بہت زیادہ برسنے لگے تو انسانی آبادیا ں تباہ ہوجائیں مگر اس کی بھی ایک حد ہے، وہ اس حد سے باہر نہیں جاتی۔ زمین پر پانی کے جو ذخیرے ہیں وہ سب کے سب زمین میں جذب ہوسکتے ہیں یا بھاپ بن کر فضا میں اڑ سکتے ہیں مگر کبھی ایسا نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ زمین کی صورت میں ایک استثنائی کرہ موجود ہے جو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خاص طورپر انسان کی ضروریات کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے۔ یہاں انسان کی غذائی ضروریات سے لے کر اس کی صنعتی ضروریات تک تمام چیزیں افراط کے ساتھ موجود ہیں۔زمین کے جانور بظاہر وحشی مخلوق ہیں مگر ان کو خدانے طرح طرح سے انسان کے ليے کار آمد بنادیا ہے۔ ان جانوروں کا پیٹ ایک حیرت انگیز کارخانہ هے جو گھاس اور چارہ لیتا ہے اور اس کو د ودھ اور گوشت جیسی قیمتی چیزوں میں تبدیل کرتا ہے۔ جانوروں میں سے بہت سے جانور ہیں جو جانور ہونے کے باوجود اپنے آپ کو پوری طرح انسان کے قبضہ میں دے دیتے ہیں کہ وہ ان پر سواری کرے اور ان سے دوسرے مختلف فائدے حاصل کرے۔یہ واقعات اس کا تقاضا کرتے ہیں کہ انسان اپنے مہربان خدا کو پہچانے اور اس کا شکر گزار بندہ بن کر رہے۔

المؤمنون 23:20

انسان ایک حقیر وجود ہے۔ اس کے مقابلہ میں کائنات دہشت ناک حد تک عظیم ہے۔ مگر کائنات کا سب سے زیادہ حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کے ليے انتہائی طورپر موافق ہے۔ یہاں وسیع خلا میں اَن گنت ستارے اور سیارے تیز رفتاری کے ساتھ گھوم رہے ہیں مگر بے شمار ناموافق امکانات کے باوجود وہ انسان کے ليے کوئی ناموافق صورت حال پیدا نہیں کرتے۔ بارش اگر بہت زیادہ برسنے لگے تو انسانی آبادیا ں تباہ ہوجائیں مگر اس کی بھی ایک حد ہے، وہ اس حد سے باہر نہیں جاتی۔ زمین پر پانی کے جو ذخیرے ہیں وہ سب کے سب زمین میں جذب ہوسکتے ہیں یا بھاپ بن کر فضا میں اڑ سکتے ہیں مگر کبھی ایسا نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ زمین کی صورت میں ایک استثنائی کرہ موجود ہے جو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خاص طورپر انسان کی ضروریات کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے۔ یہاں انسان کی غذائی ضروریات سے لے کر اس کی صنعتی ضروریات تک تمام چیزیں افراط کے ساتھ موجود ہیں۔زمین کے جانور بظاہر وحشی مخلوق ہیں مگر ان کو خدانے طرح طرح سے انسان کے ليے کار آمد بنادیا ہے۔ ان جانوروں کا پیٹ ایک حیرت انگیز کارخانہ هے جو گھاس اور چارہ لیتا ہے اور اس کو د ودھ اور گوشت جیسی قیمتی چیزوں میں تبدیل کرتا ہے۔ جانوروں میں سے بہت سے جانور ہیں جو جانور ہونے کے باوجود اپنے آپ کو پوری طرح انسان کے قبضہ میں دے دیتے ہیں کہ وہ ان پر سواری کرے اور ان سے دوسرے مختلف فائدے حاصل کرے۔یہ واقعات اس کا تقاضا کرتے ہیں کہ انسان اپنے مہربان خدا کو پہچانے اور اس کا شکر گزار بندہ بن کر رہے۔

المؤمنون 23:21

انسان ایک حقیر وجود ہے۔ اس کے مقابلہ میں کائنات دہشت ناک حد تک عظیم ہے۔ مگر کائنات کا سب سے زیادہ حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کے ليے انتہائی طورپر موافق ہے۔ یہاں وسیع خلا میں اَن گنت ستارے اور سیارے تیز رفتاری کے ساتھ گھوم رہے ہیں مگر بے شمار ناموافق امکانات کے باوجود وہ انسان کے ليے کوئی ناموافق صورت حال پیدا نہیں کرتے۔ بارش اگر بہت زیادہ برسنے لگے تو انسانی آبادیا ں تباہ ہوجائیں مگر اس کی بھی ایک حد ہے، وہ اس حد سے باہر نہیں جاتی۔ زمین پر پانی کے جو ذخیرے ہیں وہ سب کے سب زمین میں جذب ہوسکتے ہیں یا بھاپ بن کر فضا میں اڑ سکتے ہیں مگر کبھی ایسا نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ زمین کی صورت میں ایک استثنائی کرہ موجود ہے جو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خاص طورپر انسان کی ضروریات کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے۔ یہاں انسان کی غذائی ضروریات سے لے کر اس کی صنعتی ضروریات تک تمام چیزیں افراط کے ساتھ موجود ہیں۔زمین کے جانور بظاہر وحشی مخلوق ہیں مگر ان کو خدانے طرح طرح سے انسان کے ليے کار آمد بنادیا ہے۔ ان جانوروں کا پیٹ ایک حیرت انگیز کارخانہ هے جو گھاس اور چارہ لیتا ہے اور اس کو د ودھ اور گوشت جیسی قیمتی چیزوں میں تبدیل کرتا ہے۔ جانوروں میں سے بہت سے جانور ہیں جو جانور ہونے کے باوجود اپنے آپ کو پوری طرح انسان کے قبضہ میں دے دیتے ہیں کہ وہ ان پر سواری کرے اور ان سے دوسرے مختلف فائدے حاصل کرے۔یہ واقعات اس کا تقاضا کرتے ہیں کہ انسان اپنے مہربان خدا کو پہچانے اور اس کا شکر گزار بندہ بن کر رہے۔

المؤمنون 23:22

انسان ایک حقیر وجود ہے۔ اس کے مقابلہ میں کائنات دہشت ناک حد تک عظیم ہے۔ مگر کائنات کا سب سے زیادہ حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کے ليے انتہائی طورپر موافق ہے۔ یہاں وسیع خلا میں اَن گنت ستارے اور سیارے تیز رفتاری کے ساتھ گھوم رہے ہیں مگر بے شمار ناموافق امکانات کے باوجود وہ انسان کے ليے کوئی ناموافق صورت حال پیدا نہیں کرتے۔ بارش اگر بہت زیادہ برسنے لگے تو انسانی آبادیا ں تباہ ہوجائیں مگر اس کی بھی ایک حد ہے، وہ اس حد سے باہر نہیں جاتی۔ زمین پر پانی کے جو ذخیرے ہیں وہ سب کے سب زمین میں جذب ہوسکتے ہیں یا بھاپ بن کر فضا میں اڑ سکتے ہیں مگر کبھی ایسا نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ زمین کی صورت میں ایک استثنائی کرہ موجود ہے جو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خاص طورپر انسان کی ضروریات کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے۔ یہاں انسان کی غذائی ضروریات سے لے کر اس کی صنعتی ضروریات تک تمام چیزیں افراط کے ساتھ موجود ہیں۔زمین کے جانور بظاہر وحشی مخلوق ہیں مگر ان کو خدانے طرح طرح سے انسان کے ليے کار آمد بنادیا ہے۔ ان جانوروں کا پیٹ ایک حیرت انگیز کارخانہ هے جو گھاس اور چارہ لیتا ہے اور اس کو د ودھ اور گوشت جیسی قیمتی چیزوں میں تبدیل کرتا ہے۔ جانوروں میں سے بہت سے جانور ہیں جو جانور ہونے کے باوجود اپنے آپ کو پوری طرح انسان کے قبضہ میں دے دیتے ہیں کہ وہ ان پر سواری کرے اور ان سے دوسرے مختلف فائدے حاصل کرے۔یہ واقعات اس کا تقاضا کرتے ہیں کہ انسان اپنے مہربان خدا کو پہچانے اور اس کا شکر گزار بندہ بن کر رہے۔

المؤمنون 23:23

حضرت نوح جس قوم میں آئے وہ معروف معنوں میں کوئی ’’کافر‘‘ قوم نہ تھی۔ بلکہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کی امت تھی۔ وہ خدا پر اور رسالت پر عقیدہ رکھتی تھی۔ اس کے باوجود کیوں اس نے حضرت نوح کو خدا کا پیغمبر ماننے سے انکار کردیا۔ اس کی وجہ صرف ایک تھی— نوح اس کو اپنے جیسے ایک آدمی معلوم ہوئے۔ پیغمبر ایک انسان ہوتا ہے وہ ماں باپ کے ذریعے پیدا ہوتاہے۔ اس ليے اپنے زمانہ کے لوگوں کو وہ ہمیشہ اپنے ہی جیسا ایک آدمی دکھائی دیتاہے۔ یہ صرف بعد کی تاریخ میں ہوتاہے کہ پیغمبر کا نام لوگوں کو ایک پُرعظمت نام محسوس ہونے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر کے ہم عصر پیغمبر کو پهچان نہیں پاتے۔ ان کو پیغمبر ایک ایسا آدمی معلوم ہوتاہے جو بڑا بننے کے ليے فرضی طورپر پیغمبری کا دعویٰ کرنے لگے۔ وہ پیغمبر کو ایک مجنون سمجھ کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ ہر امت کا یہ حال ہوا کہ بعد کے زمانہ میں وہ خدا کی تعلیمات کے بجائے اپنے اسلاف کی روایت پر قائم ہوگئی۔ پیغمبر نے آکر جب اصل دینی تعلیمات کو دوبارہ پیش کیا تو پیغمبر کا دین اس کو اسلاف کی روایات سے ہٹا ہوا معلوم ہوا۔ اس کے اپنے ذہنی سانچہ میں اس کو اسلاف بر تر نظر آئے اور وقت کا پیغمبر ان کے مقابلہ میں اس کو کمتر دکھائی دیا۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر ہر دور میں ایسا ہوا کہ پیغمبروں کی دعوت ان کے ہم عصروں کے ليے اجنبی بنی رہي۔

المؤمنون 23:24

حضرت نوح جس قوم میں آئے وہ معروف معنوں میں کوئی ’’کافر‘‘ قوم نہ تھی۔ بلکہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کی امت تھی۔ وہ خدا پر اور رسالت پر عقیدہ رکھتی تھی۔ اس کے باوجود کیوں اس نے حضرت نوح کو خدا کا پیغمبر ماننے سے انکار کردیا۔ اس کی وجہ صرف ایک تھی— نوح اس کو اپنے جیسے ایک آدمی معلوم ہوئے۔ پیغمبر ایک انسان ہوتا ہے وہ ماں باپ کے ذریعے پیدا ہوتاہے۔ اس ليے اپنے زمانہ کے لوگوں کو وہ ہمیشہ اپنے ہی جیسا ایک آدمی دکھائی دیتاہے۔ یہ صرف بعد کی تاریخ میں ہوتاہے کہ پیغمبر کا نام لوگوں کو ایک پُرعظمت نام محسوس ہونے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر کے ہم عصر پیغمبر کو پهچان نہیں پاتے۔ ان کو پیغمبر ایک ایسا آدمی معلوم ہوتاہے جو بڑا بننے کے ليے فرضی طورپر پیغمبری کا دعویٰ کرنے لگے۔ وہ پیغمبر کو ایک مجنون سمجھ کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ ہر امت کا یہ حال ہوا کہ بعد کے زمانہ میں وہ خدا کی تعلیمات کے بجائے اپنے اسلاف کی روایت پر قائم ہوگئی۔ پیغمبر نے آکر جب اصل دینی تعلیمات کو دوبارہ پیش کیا تو پیغمبر کا دین اس کو اسلاف کی روایات سے ہٹا ہوا معلوم ہوا۔ اس کے اپنے ذہنی سانچہ میں اس کو اسلاف بر تر نظر آئے اور وقت کا پیغمبر ان کے مقابلہ میں اس کو کمتر دکھائی دیا۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر ہر دور میں ایسا ہوا کہ پیغمبروں کی دعوت ان کے ہم عصروں کے ليے اجنبی بنی رہي۔

المؤمنون 23:25

حضرت نوح جس قوم میں آئے وہ معروف معنوں میں کوئی ’’کافر‘‘ قوم نہ تھی۔ بلکہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کی امت تھی۔ وہ خدا پر اور رسالت پر عقیدہ رکھتی تھی۔ اس کے باوجود کیوں اس نے حضرت نوح کو خدا کا پیغمبر ماننے سے انکار کردیا۔ اس کی وجہ صرف ایک تھی— نوح اس کو اپنے جیسے ایک آدمی معلوم ہوئے۔ پیغمبر ایک انسان ہوتا ہے وہ ماں باپ کے ذریعے پیدا ہوتاہے۔ اس ليے اپنے زمانہ کے لوگوں کو وہ ہمیشہ اپنے ہی جیسا ایک آدمی دکھائی دیتاہے۔ یہ صرف بعد کی تاریخ میں ہوتاہے کہ پیغمبر کا نام لوگوں کو ایک پُرعظمت نام محسوس ہونے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر کے ہم عصر پیغمبر کو پهچان نہیں پاتے۔ ان کو پیغمبر ایک ایسا آدمی معلوم ہوتاہے جو بڑا بننے کے ليے فرضی طورپر پیغمبری کا دعویٰ کرنے لگے۔ وہ پیغمبر کو ایک مجنون سمجھ کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ ہر امت کا یہ حال ہوا کہ بعد کے زمانہ میں وہ خدا کی تعلیمات کے بجائے اپنے اسلاف کی روایت پر قائم ہوگئی۔ پیغمبر نے آکر جب اصل دینی تعلیمات کو دوبارہ پیش کیا تو پیغمبر کا دین اس کو اسلاف کی روایات سے ہٹا ہوا معلوم ہوا۔ اس کے اپنے ذہنی سانچہ میں اس کو اسلاف بر تر نظر آئے اور وقت کا پیغمبر ان کے مقابلہ میں اس کو کمتر دکھائی دیا۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر ہر دور میں ایسا ہوا کہ پیغمبروں کی دعوت ان کے ہم عصروں کے ليے اجنبی بنی رہي۔

المؤمنون 23:26

حضرت نوح لمبی مدت تک اپنی قوم کو تلقین کرتے رہے۔ مگر ان کی قوم ان کی بات ماننے کے ليے تیار نہ ہوئی۔ آخر کار حضرت نوح نے دعا کی کہ خدایا، میری دعوت وتبلیغ ان سے امرحق کو منوا نہ سکی۔ اب توہی ان پر امر حق کو ظاہر کردے۔مگر جب انسانی عمل کی حد ختم ہو کر خدائی عمل کی حد شروع ہو تو یہ مواخذہ کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ وعظ و تلقین کا۔ چنانچہ خدا کا حکم ناقابل تسخیر طوفان کی صورت میں ظاہر ہواا ور چند مومنین نوح کو چھوڑ کر بقیہ ساری قوم غرق ہو کر رہ گئی۔ امر حق کا اعتراف نہ کرنا سب سے بڑا ظلم ہے۔ جو لوگ اس ظلم کا ارتکاب کریں وہ ہمیشہ خدا کی پکڑ میں آجاتے ہیں۔ کوئی دوسری چیز انھیں اس پکڑ سے بچانے والی ثابت نہیں ہوتی۔

المؤمنون 23:27

حضرت نوح لمبی مدت تک اپنی قوم کو تلقین کرتے رہے۔ مگر ان کی قوم ان کی بات ماننے کے ليے تیار نہ ہوئی۔ آخر کار حضرت نوح نے دعا کی کہ خدایا، میری دعوت وتبلیغ ان سے امرحق کو منوا نہ سکی۔ اب توہی ان پر امر حق کو ظاہر کردے۔مگر جب انسانی عمل کی حد ختم ہو کر خدائی عمل کی حد شروع ہو تو یہ مواخذہ کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ وعظ و تلقین کا۔ چنانچہ خدا کا حکم ناقابل تسخیر طوفان کی صورت میں ظاہر ہواا ور چند مومنین نوح کو چھوڑ کر بقیہ ساری قوم غرق ہو کر رہ گئی۔ امر حق کا اعتراف نہ کرنا سب سے بڑا ظلم ہے۔ جو لوگ اس ظلم کا ارتکاب کریں وہ ہمیشہ خدا کی پکڑ میں آجاتے ہیں۔ کوئی دوسری چیز انھیں اس پکڑ سے بچانے والی ثابت نہیں ہوتی۔

المؤمنون 23:28

شرک سے بھرے ہوئے ماحول میں جو چند افراد حضرت نوح پر ایمان لائے وہ اسی دن معنوی اعتبار سے خدا کی کشتی میں داخل ہوچکے تھے۔ اس کے بعد جب طوفان کے وقت وہ لکڑی کی بنائی ہوئی کشتی میں بیٹھے تو یہ گویا ان کے ابتدائی فیصلے کی تکمیل تھی۔ انھوں نے اپنے آپ کو فکری طورپر بدی کے طوفان سے بچایا تھا۔ خدا نے ان کو عملی طورپر بدی کے سخت انجام سے بچا لیا۔ مومن ہر کامیابی کو خدا کی طرف سے سمجھتا ہے۔ اس ليے وہ ہر کامیابی پر خدا کا شکر ادا کرتاہے۔ اور طوفان نوح سے نجات تو کھلا ہوا خدائی نصرت کا واقعہ تھا۔ ایسے موقع پر مومن کی زبان سے جو کلمات نکلتے ہیں وہ وہي ہیں جن کی ایک تصویر مذکورہ آیت میں نظر آتی ہے۔ وہ حال کے ليے خدا کی قدرت کا اعتراف کرتے ہوئے مستقبل کے ليے مزید عنایت کی التجا کرنے لگتا ہے، کیوں کہ اس کو یقین ہوتاہے کہ حال بھی خدا کے قبضہ میں ہے اور مستقبل بھی خداکے قبضہ میں۔

المؤمنون 23:29

شرک سے بھرے ہوئے ماحول میں جو چند افراد حضرت نوح پر ایمان لائے وہ اسی دن معنوی اعتبار سے خدا کی کشتی میں داخل ہوچکے تھے۔ اس کے بعد جب طوفان کے وقت وہ لکڑی کی بنائی ہوئی کشتی میں بیٹھے تو یہ گویا ان کے ابتدائی فیصلے کی تکمیل تھی۔ انھوں نے اپنے آپ کو فکری طورپر بدی کے طوفان سے بچایا تھا۔ خدا نے ان کو عملی طورپر بدی کے سخت انجام سے بچا لیا۔ مومن ہر کامیابی کو خدا کی طرف سے سمجھتا ہے۔ اس ليے وہ ہر کامیابی پر خدا کا شکر ادا کرتاہے۔ اور طوفان نوح سے نجات تو کھلا ہوا خدائی نصرت کا واقعہ تھا۔ ایسے موقع پر مومن کی زبان سے جو کلمات نکلتے ہیں وہ وہي ہیں جن کی ایک تصویر مذکورہ آیت میں نظر آتی ہے۔ وہ حال کے ليے خدا کی قدرت کا اعتراف کرتے ہوئے مستقبل کے ليے مزید عنایت کی التجا کرنے لگتا ہے، کیوں کہ اس کو یقین ہوتاہے کہ حال بھی خدا کے قبضہ میں ہے اور مستقبل بھی خداکے قبضہ میں۔

المؤمنون 23:30

شرک سے بھرے ہوئے ماحول میں جو چند افراد حضرت نوح پر ایمان لائے وہ اسی دن معنوی اعتبار سے خدا کی کشتی میں داخل ہوچکے تھے۔ اس کے بعد جب طوفان کے وقت وہ لکڑی کی بنائی ہوئی کشتی میں بیٹھے تو یہ گویا ان کے ابتدائی فیصلے کی تکمیل تھی۔ انھوں نے اپنے آپ کو فکری طورپر بدی کے طوفان سے بچایا تھا۔ خدا نے ان کو عملی طورپر بدی کے سخت انجام سے بچا لیا۔ مومن ہر کامیابی کو خدا کی طرف سے سمجھتا ہے۔ اس ليے وہ ہر کامیابی پر خدا کا شکر ادا کرتاہے۔ اور طوفان نوح سے نجات تو کھلا ہوا خدائی نصرت کا واقعہ تھا۔ ایسے موقع پر مومن کی زبان سے جو کلمات نکلتے ہیں وہ وہي ہیں جن کی ایک تصویر مذکورہ آیت میں نظر آتی ہے۔ وہ حال کے ليے خدا کی قدرت کا اعتراف کرتے ہوئے مستقبل کے ليے مزید عنایت کی التجا کرنے لگتا ہے، کیوں کہ اس کو یقین ہوتاہے کہ حال بھی خدا کے قبضہ میں ہے اور مستقبل بھی خداکے قبضہ میں۔

المؤمنون 23:31

حضرت نوح کے مومنین کی نسل بڑھی اور اس پر صدیاں گزر گئیں تو دوبارہ وہ اسی گمراہی میں مبتلا ہوگئے،جس میں ان کے پچھلے لوگ مبتلا ہوئے تھے۔ اس سے مراد غالباً وہی قوم ہے جس کو قوم عاد کہاجاتاہے۔ یہ لوگ خدا سے غافل ہو کر غیر خداؤں میں مشغول ہوگئے۔ اب دوبارہ ان کے درمیان خدا کا رسول آیا۔ اور اس نے ان کو حق سے آگاہ کیا۔ مگر دو بارہ یہی ہوا کہ قوم کے سردار پیغمبر کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے۔ یہ سردار وہ لوگ تھے جو وقت کے خیالات سے موافقت کرکے لوگوں کے قائد بنے ہوئے تھے۔ اسی کے ساتھ خوش حالی بھی ان کے گرد جمع ہوگئی تھی۔ یہ ایک عام کمزوری ہے کہ جن لوگوں کو دولت اور اقتدار حاصل ہوجائے وہ اس کو اپنے برسر حق ہونے کی دلیل سمجھ لیتے ہیں۔ یہی ان سرداروں کے ساتھ ہوا۔ ان کی خوش حالی اور اقتدار ان کے ليے یہ سمجھنے میں مانع ہوگئے کہ وہ غلطی پر بھی ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے دیکھا کہ پیغمبر کے گرد نہ دولت کا ڈھیر جمع ہے اور نہ اس کو اقتدار کی گدی حاصل ہے۔ اس ليے انھوں نے پیغمبر کو حقیر سمجھ لیا۔ وہ اپنی ظاہر پرستی کی بنا پر پیغمبر کی معنوی عظمت کو دیکھنے میں ناکام رہے۔

المؤمنون 23:32

حضرت نوح کے مومنین کی نسل بڑھی اور اس پر صدیاں گزر گئیں تو دوبارہ وہ اسی گمراہی میں مبتلا ہوگئے،جس میں ان کے پچھلے لوگ مبتلا ہوئے تھے۔ اس سے مراد غالباً وہی قوم ہے جس کو قوم عاد کہاجاتاہے۔ یہ لوگ خدا سے غافل ہو کر غیر خداؤں میں مشغول ہوگئے۔ اب دوبارہ ان کے درمیان خدا کا رسول آیا۔ اور اس نے ان کو حق سے آگاہ کیا۔ مگر دو بارہ یہی ہوا کہ قوم کے سردار پیغمبر کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے۔ یہ سردار وہ لوگ تھے جو وقت کے خیالات سے موافقت کرکے لوگوں کے قائد بنے ہوئے تھے۔ اسی کے ساتھ خوش حالی بھی ان کے گرد جمع ہوگئی تھی۔ یہ ایک عام کمزوری ہے کہ جن لوگوں کو دولت اور اقتدار حاصل ہوجائے وہ اس کو اپنے برسر حق ہونے کی دلیل سمجھ لیتے ہیں۔ یہی ان سرداروں کے ساتھ ہوا۔ ان کی خوش حالی اور اقتدار ان کے ليے یہ سمجھنے میں مانع ہوگئے کہ وہ غلطی پر بھی ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے دیکھا کہ پیغمبر کے گرد نہ دولت کا ڈھیر جمع ہے اور نہ اس کو اقتدار کی گدی حاصل ہے۔ اس ليے انھوں نے پیغمبر کو حقیر سمجھ لیا۔ وہ اپنی ظاہر پرستی کی بنا پر پیغمبر کی معنوی عظمت کو دیکھنے میں ناکام رہے۔

المؤمنون 23:33

حضرت نوح کے مومنین کی نسل بڑھی اور اس پر صدیاں گزر گئیں تو دوبارہ وہ اسی گمراہی میں مبتلا ہوگئے،جس میں ان کے پچھلے لوگ مبتلا ہوئے تھے۔ اس سے مراد غالباً وہی قوم ہے جس کو قوم عاد کہاجاتاہے۔ یہ لوگ خدا سے غافل ہو کر غیر خداؤں میں مشغول ہوگئے۔ اب دوبارہ ان کے درمیان خدا کا رسول آیا۔ اور اس نے ان کو حق سے آگاہ کیا۔ مگر دو بارہ یہی ہوا کہ قوم کے سردار پیغمبر کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے۔ یہ سردار وہ لوگ تھے جو وقت کے خیالات سے موافقت کرکے لوگوں کے قائد بنے ہوئے تھے۔ اسی کے ساتھ خوش حالی بھی ان کے گرد جمع ہوگئی تھی۔ یہ ایک عام کمزوری ہے کہ جن لوگوں کو دولت اور اقتدار حاصل ہوجائے وہ اس کو اپنے برسر حق ہونے کی دلیل سمجھ لیتے ہیں۔ یہی ان سرداروں کے ساتھ ہوا۔ ان کی خوش حالی اور اقتدار ان کے ليے یہ سمجھنے میں مانع ہوگئے کہ وہ غلطی پر بھی ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے دیکھا کہ پیغمبر کے گرد نہ دولت کا ڈھیر جمع ہے اور نہ اس کو اقتدار کی گدی حاصل ہے۔ اس ليے انھوں نے پیغمبر کو حقیر سمجھ لیا۔ وہ اپنی ظاہر پرستی کی بنا پر پیغمبر کی معنوی عظمت کو دیکھنے میں ناکام رہے۔

المؤمنون 23:34

حضرت نوح کے مومنین کی نسل بڑھی اور اس پر صدیاں گزر گئیں تو دوبارہ وہ اسی گمراہی میں مبتلا ہوگئے،جس میں ان کے پچھلے لوگ مبتلا ہوئے تھے۔ اس سے مراد غالباً وہی قوم ہے جس کو قوم عاد کہاجاتاہے۔ یہ لوگ خدا سے غافل ہو کر غیر خداؤں میں مشغول ہوگئے۔ اب دوبارہ ان کے درمیان خدا کا رسول آیا۔ اور اس نے ان کو حق سے آگاہ کیا۔ مگر دو بارہ یہی ہوا کہ قوم کے سردار پیغمبر کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے۔ یہ سردار وہ لوگ تھے جو وقت کے خیالات سے موافقت کرکے لوگوں کے قائد بنے ہوئے تھے۔ اسی کے ساتھ خوش حالی بھی ان کے گرد جمع ہوگئی تھی۔ یہ ایک عام کمزوری ہے کہ جن لوگوں کو دولت اور اقتدار حاصل ہوجائے وہ اس کو اپنے برسر حق ہونے کی دلیل سمجھ لیتے ہیں۔ یہی ان سرداروں کے ساتھ ہوا۔ ان کی خوش حالی اور اقتدار ان کے ليے یہ سمجھنے میں مانع ہوگئے کہ وہ غلطی پر بھی ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے دیکھا کہ پیغمبر کے گرد نہ دولت کا ڈھیر جمع ہے اور نہ اس کو اقتدار کی گدی حاصل ہے۔ اس ليے انھوں نے پیغمبر کو حقیر سمجھ لیا۔ وہ اپنی ظاہر پرستی کی بنا پر پیغمبر کی معنوی عظمت کو دیکھنے میں ناکام رہے۔

المؤمنون 23:35

اس آیت میں آخرت کے بارے میں جو کلمات نقل کيے گئے ہیں وہ کبھی زبان حال سے ادا ہوتے ہیں اور کبھی زبان قال سے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ہمہ تن بس دنیا کی چیزوں میں مشغول ہوتا ہے۔ وہ آخرت سے اس طرح غافل نظر آتا ہے جیسے کے آخرت اس کے نزدیک بالکل بعید از قیاس بات ہے۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس کی آخرت سے غفلت اس کو سرکشی کی اس حدتک پہنچا دیتی ہے کہ وہ اپنی زبان سے بھی کہہ دیتا ہے کہ آخرت تو بہت بعید از قیاس چیز ہے۔ اس ليے آج جو کچھ مل رہا ہے اس کو حاصل کرو، کل کے موہوم فائدہ کی خاطر آج کے یقینی فائدہ کو نہ کھوؤ۔ ’’اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے‘‘— اس کلمہ کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی عین اسی جملہ کو اپنی زبان سے ادا کرے۔ د وسرے یہ کہ وہ داعیٔ حق کو اس طرح نظر انداز کرے جیسے کہ اس کی بات محض ایک سرپھرے شخص کی بات ہے۔ اس کا خدا سے کوئی تعلق نہیں۔

المؤمنون 23:36

اس آیت میں آخرت کے بارے میں جو کلمات نقل کيے گئے ہیں وہ کبھی زبان حال سے ادا ہوتے ہیں اور کبھی زبان قال سے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ہمہ تن بس دنیا کی چیزوں میں مشغول ہوتا ہے۔ وہ آخرت سے اس طرح غافل نظر آتا ہے جیسے کے آخرت اس کے نزدیک بالکل بعید از قیاس بات ہے۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس کی آخرت سے غفلت اس کو سرکشی کی اس حدتک پہنچا دیتی ہے کہ وہ اپنی زبان سے بھی کہہ دیتا ہے کہ آخرت تو بہت بعید از قیاس چیز ہے۔ اس ليے آج جو کچھ مل رہا ہے اس کو حاصل کرو، کل کے موہوم فائدہ کی خاطر آج کے یقینی فائدہ کو نہ کھوؤ۔ ’’اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے‘‘— اس کلمہ کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی عین اسی جملہ کو اپنی زبان سے ادا کرے۔ د وسرے یہ کہ وہ داعیٔ حق کو اس طرح نظر انداز کرے جیسے کہ اس کی بات محض ایک سرپھرے شخص کی بات ہے۔ اس کا خدا سے کوئی تعلق نہیں۔

المؤمنون 23:37

اس آیت میں آخرت کے بارے میں جو کلمات نقل کيے گئے ہیں وہ کبھی زبان حال سے ادا ہوتے ہیں اور کبھی زبان قال سے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ہمہ تن بس دنیا کی چیزوں میں مشغول ہوتا ہے۔ وہ آخرت سے اس طرح غافل نظر آتا ہے جیسے کے آخرت اس کے نزدیک بالکل بعید از قیاس بات ہے۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس کی آخرت سے غفلت اس کو سرکشی کی اس حدتک پہنچا دیتی ہے کہ وہ اپنی زبان سے بھی کہہ دیتا ہے کہ آخرت تو بہت بعید از قیاس چیز ہے۔ اس ليے آج جو کچھ مل رہا ہے اس کو حاصل کرو، کل کے موہوم فائدہ کی خاطر آج کے یقینی فائدہ کو نہ کھوؤ۔ ’’اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے‘‘— اس کلمہ کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی عین اسی جملہ کو اپنی زبان سے ادا کرے۔ د وسرے یہ کہ وہ داعیٔ حق کو اس طرح نظر انداز کرے جیسے کہ اس کی بات محض ایک سرپھرے شخص کی بات ہے۔ اس کا خدا سے کوئی تعلق نہیں۔

المؤمنون 23:38

اس آیت میں آخرت کے بارے میں جو کلمات نقل کيے گئے ہیں وہ کبھی زبان حال سے ادا ہوتے ہیں اور کبھی زبان قال سے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ہمہ تن بس دنیا کی چیزوں میں مشغول ہوتا ہے۔ وہ آخرت سے اس طرح غافل نظر آتا ہے جیسے کے آخرت اس کے نزدیک بالکل بعید از قیاس بات ہے۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس کی آخرت سے غفلت اس کو سرکشی کی اس حدتک پہنچا دیتی ہے کہ وہ اپنی زبان سے بھی کہہ دیتا ہے کہ آخرت تو بہت بعید از قیاس چیز ہے۔ اس ليے آج جو کچھ مل رہا ہے اس کو حاصل کرو، کل کے موہوم فائدہ کی خاطر آج کے یقینی فائدہ کو نہ کھوؤ۔ ’’اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے‘‘— اس کلمہ کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی عین اسی جملہ کو اپنی زبان سے ادا کرے۔ د وسرے یہ کہ وہ داعیٔ حق کو اس طرح نظر انداز کرے جیسے کہ اس کی بات محض ایک سرپھرے شخص کی بات ہے۔ اس کا خدا سے کوئی تعلق نہیں۔

المؤمنون 23:39

خدا کا پیغمبر جس چیز کے اعلان کے ليے آتا ہے وہ اس کائنات کی سب سے سنگین حقیقت ہے۔ مگر پیغمبر اس حقیقت کو صرف دلیل کے روپ میں ظاہر کرتاہے۔ وہی لوگ دراصل مومن ہیں جو اس کو دلیل کے روپ میں پہچانیں اور اپنے آپ کو اس کے حوالہ کردیں۔ جب کوئی گروہ آخری طورپر یہ ثابت کردے کہ وہ حقیقت کو دلیل کے روپ میں پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو پھر خدا حقیقت کو ’’صَیْحَه‘‘ کے روپ میں ظاہر کرتا ہے۔ حقیقت ایک ایسی چنگھاڑ بن جاتی ہے جس کا سامنا کرنے کی طاقت کسی کو نہ ہو۔ مگر جب حقیقت صَیْحَهکے روپ میں ظاہر ہو جائے تو یہ اس کو بھگتنے کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ اس کو ماننے کا۔ حقیقت جب صَیْحَهکے روپ میں ظاہر ہوتی ہے تو آدمی کے حصہ میں صرف یہ رہ جاتا ہے کہ وہ ابد تک اپنی اس نادانی پر پچھتاتا رہے کہ اس نے حقیقت کو دیکھا مگر وہ اس کی طرف سے اندھا بنا رہا۔ حقیقت کی آواز اس کے کان سے ٹکرائی مگر اس نے اس کو سننے کے ليے اپنے کان بند کرلئے۔

المؤمنون 23:40

خدا کا پیغمبر جس چیز کے اعلان کے ليے آتا ہے وہ اس کائنات کی سب سے سنگین حقیقت ہے۔ مگر پیغمبر اس حقیقت کو صرف دلیل کے روپ میں ظاہر کرتاہے۔ وہی لوگ دراصل مومن ہیں جو اس کو دلیل کے روپ میں پہچانیں اور اپنے آپ کو اس کے حوالہ کردیں۔ جب کوئی گروہ آخری طورپر یہ ثابت کردے کہ وہ حقیقت کو دلیل کے روپ میں پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو پھر خدا حقیقت کو ’’صَیْحَه‘‘ کے روپ میں ظاہر کرتا ہے۔ حقیقت ایک ایسی چنگھاڑ بن جاتی ہے جس کا سامنا کرنے کی طاقت کسی کو نہ ہو۔ مگر جب حقیقت صَیْحَهکے روپ میں ظاہر ہو جائے تو یہ اس کو بھگتنے کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ اس کو ماننے کا۔ حقیقت جب صَیْحَهکے روپ میں ظاہر ہوتی ہے تو آدمی کے حصہ میں صرف یہ رہ جاتا ہے کہ وہ ابد تک اپنی اس نادانی پر پچھتاتا رہے کہ اس نے حقیقت کو دیکھا مگر وہ اس کی طرف سے اندھا بنا رہا۔ حقیقت کی آواز اس کے کان سے ٹکرائی مگر اس نے اس کو سننے کے ليے اپنے کان بند کرلئے۔

المؤمنون 23:41

خدا کا پیغمبر جس چیز کے اعلان کے ليے آتا ہے وہ اس کائنات کی سب سے سنگین حقیقت ہے۔ مگر پیغمبر اس حقیقت کو صرف دلیل کے روپ میں ظاہر کرتاہے۔ وہی لوگ دراصل مومن ہیں جو اس کو دلیل کے روپ میں پہچانیں اور اپنے آپ کو اس کے حوالہ کردیں۔ جب کوئی گروہ آخری طورپر یہ ثابت کردے کہ وہ حقیقت کو دلیل کے روپ میں پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو پھر خدا حقیقت کو ’’صَیْحَه‘‘ کے روپ میں ظاہر کرتا ہے۔ حقیقت ایک ایسی چنگھاڑ بن جاتی ہے جس کا سامنا کرنے کی طاقت کسی کو نہ ہو۔ مگر جب حقیقت صَیْحَهکے روپ میں ظاہر ہو جائے تو یہ اس کو بھگتنے کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ اس کو ماننے کا۔ حقیقت جب صَیْحَهکے روپ میں ظاہر ہوتی ہے تو آدمی کے حصہ میں صرف یہ رہ جاتا ہے کہ وہ ابد تک اپنی اس نادانی پر پچھتاتا رہے کہ اس نے حقیقت کو دیکھا مگر وہ اس کی طرف سے اندھا بنا رہا۔ حقیقت کی آواز اس کے کان سے ٹکرائی مگر اس نے اس کو سننے کے ليے اپنے کان بند کرلئے۔

المؤمنون 23:42

پیغمبروں کے بعد ہمیشہ ان کی امتوں میں بگاڑ آتا رہا۔ ان کی اصلاح کے ليے بار بار پیغمبر بھیجے گئے — امت آدم میں حضرت نوح آئے۔ اس کے بعد امت نوح (عاد) میں حضرت ہود آئے۔ پھر امت ہود (ثمود) حضرت صالح آئے، وغیرہ۔ مگر ہر بار یہ ہوا کہ وہی لوگ جو ماضی کے پیغمبر کو بلا بحث مانے ہوئے تھے وہ حال کے پیغمبر کو کسی طرح ماننے پر تیار نہ ہوئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی کا پیغمبر طویل روایات کے نتیجے میں قومی فخر کا نشان بن جاتا ہے۔ وہ قوموں کے ليے ان کی قومی تشخص کی علامت ہوتا ہے۔ وہ ان کے ليے قومی ہیرو کا درجہ اختیار کرلیتا ہے۔ اس کو مان کر آدمی کے احساس برتری کو تسکین ملتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے پیغمبر کو کون نہیں مانے گا۔ مگر حال کے پیغمبر کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتاہے۔ حال کے پیغمبر کے ساتھ اس کی تاریخ وابستہ نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ عظمت اور تقدس کی روایت شامل نہیں ہوتی۔ اس کو ماننا صرف ایک معنوی حقیقت کے اعتراف کے ہم معنی ہوتا ہے، نہ کہ کسی ہمالیائی عظمت سے اپنے آپ کو وابستہ کرنا۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی کے پیغمبروں کو ماننے والے ہمیشہ حال کے پیغمبر کا انکار کرتے رہے۔ ’’دور ہوں جو ایمان نہیں لاتے‘‘— اس کو لفظ بدل کر کہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دور ہوں وہ لوگ جو خدا کے سفیر کو خدا کے سفیر کی حیثیت سے نہیں پہچان پاتے۔ وہ خدا کے سفیر کو صرف اسی وقت پہچانتے ہیں جب کہ تاریخی عمل کے نتیجے میں وہ ان کا قومی ہیرو بن چکا ہو۔

المؤمنون 23:43

پیغمبروں کے بعد ہمیشہ ان کی امتوں میں بگاڑ آتا رہا۔ ان کی اصلاح کے ليے بار بار پیغمبر بھیجے گئے — امت آدم میں حضرت نوح آئے۔ اس کے بعد امت نوح (عاد) میں حضرت ہود آئے۔ پھر امت ہود (ثمود) حضرت صالح آئے، وغیرہ۔ مگر ہر بار یہ ہوا کہ وہی لوگ جو ماضی کے پیغمبر کو بلا بحث مانے ہوئے تھے وہ حال کے پیغمبر کو کسی طرح ماننے پر تیار نہ ہوئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی کا پیغمبر طویل روایات کے نتیجے میں قومی فخر کا نشان بن جاتا ہے۔ وہ قوموں کے ليے ان کی قومی تشخص کی علامت ہوتا ہے۔ وہ ان کے ليے قومی ہیرو کا درجہ اختیار کرلیتا ہے۔ اس کو مان کر آدمی کے احساس برتری کو تسکین ملتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے پیغمبر کو کون نہیں مانے گا۔ مگر حال کے پیغمبر کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتاہے۔ حال کے پیغمبر کے ساتھ اس کی تاریخ وابستہ نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ عظمت اور تقدس کی روایت شامل نہیں ہوتی۔ اس کو ماننا صرف ایک معنوی حقیقت کے اعتراف کے ہم معنی ہوتا ہے، نہ کہ کسی ہمالیائی عظمت سے اپنے آپ کو وابستہ کرنا۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی کے پیغمبروں کو ماننے والے ہمیشہ حال کے پیغمبر کا انکار کرتے رہے۔ ’’دور ہوں جو ایمان نہیں لاتے‘‘— اس کو لفظ بدل کر کہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دور ہوں وہ لوگ جو خدا کے سفیر کو خدا کے سفیر کی حیثیت سے نہیں پہچان پاتے۔ وہ خدا کے سفیر کو صرف اسی وقت پہچانتے ہیں جب کہ تاریخی عمل کے نتیجے میں وہ ان کا قومی ہیرو بن چکا ہو۔

المؤمنون 23:44

پیغمبروں کے بعد ہمیشہ ان کی امتوں میں بگاڑ آتا رہا۔ ان کی اصلاح کے ليے بار بار پیغمبر بھیجے گئے — امت آدم میں حضرت نوح آئے۔ اس کے بعد امت نوح (عاد) میں حضرت ہود آئے۔ پھر امت ہود (ثمود) حضرت صالح آئے، وغیرہ۔ مگر ہر بار یہ ہوا کہ وہی لوگ جو ماضی کے پیغمبر کو بلا بحث مانے ہوئے تھے وہ حال کے پیغمبر کو کسی طرح ماننے پر تیار نہ ہوئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی کا پیغمبر طویل روایات کے نتیجے میں قومی فخر کا نشان بن جاتا ہے۔ وہ قوموں کے ليے ان کی قومی تشخص کی علامت ہوتا ہے۔ وہ ان کے ليے قومی ہیرو کا درجہ اختیار کرلیتا ہے۔ اس کو مان کر آدمی کے احساس برتری کو تسکین ملتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے پیغمبر کو کون نہیں مانے گا۔ مگر حال کے پیغمبر کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتاہے۔ حال کے پیغمبر کے ساتھ اس کی تاریخ وابستہ نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ عظمت اور تقدس کی روایت شامل نہیں ہوتی۔ اس کو ماننا صرف ایک معنوی حقیقت کے اعتراف کے ہم معنی ہوتا ہے، نہ کہ کسی ہمالیائی عظمت سے اپنے آپ کو وابستہ کرنا۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی کے پیغمبروں کو ماننے والے ہمیشہ حال کے پیغمبر کا انکار کرتے رہے۔ ’’دور ہوں جو ایمان نہیں لاتے‘‘— اس کو لفظ بدل کر کہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دور ہوں وہ لوگ جو خدا کے سفیر کو خدا کے سفیر کی حیثیت سے نہیں پہچان پاتے۔ وہ خدا کے سفیر کو صرف اسی وقت پہچانتے ہیں جب کہ تاریخی عمل کے نتیجے میں وہ ان کا قومی ہیرو بن چکا ہو۔

المؤمنون 23:45

حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون بنی اسرائیل کے فرد تھے۔ بنی اسرائیل اس وقت مصر میں تھے اور وہاں کی حکمراں قوم کے ليے مزدور کی حیثیت رکھتے تھے۔ بنی اسرائیل کی کمتر حیثیت اور ان کے مقابلہ میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کی برتر حیثیت ان کے ليے مانع بن گئی۔ وہ ایک اسرائیلی پیغمبر کو نمائندہ خدا ماننے کے ليے تیار نہ ہوئے۔ حضرت موسیٰ نے اگرچہ ان کے سامنے نہایت محکم دلائل پیش کئے۔ مگر دلائل کا وزن انھیں اس کے ليے مجبور نہ کرسکا کہ وہ اپنی بر تر نفسیات کو بدلیں اور ایک محکوم شخص کی زبان سے ظاہر ہونے والی صداقت کا اعتراف کریں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کی مدد کی۔ فرعون اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ غرق کردیا گیا۔ دوسری طرف جن لوگوں نے پیغمبر کا ساتھ دیا تھا۔ ان پر خدا نے یہ احسان فرمایا کہ ان کے پاس اپنا ہدایت نامہ بھیجا جس کو اختیار کرکے آدمی دنیا اور آخرت میں کامیابی کو اپنے ليے یقینی بنا سکتا ہے۔

المؤمنون 23:46

حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون بنی اسرائیل کے فرد تھے۔ بنی اسرائیل اس وقت مصر میں تھے اور وہاں کی حکمراں قوم کے ليے مزدور کی حیثیت رکھتے تھے۔ بنی اسرائیل کی کمتر حیثیت اور ان کے مقابلہ میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کی برتر حیثیت ان کے ليے مانع بن گئی۔ وہ ایک اسرائیلی پیغمبر کو نمائندہ خدا ماننے کے ليے تیار نہ ہوئے۔ حضرت موسیٰ نے اگرچہ ان کے سامنے نہایت محکم دلائل پیش کئے۔ مگر دلائل کا وزن انھیں اس کے ليے مجبور نہ کرسکا کہ وہ اپنی بر تر نفسیات کو بدلیں اور ایک محکوم شخص کی زبان سے ظاہر ہونے والی صداقت کا اعتراف کریں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کی مدد کی۔ فرعون اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ غرق کردیا گیا۔ دوسری طرف جن لوگوں نے پیغمبر کا ساتھ دیا تھا۔ ان پر خدا نے یہ احسان فرمایا کہ ان کے پاس اپنا ہدایت نامہ بھیجا جس کو اختیار کرکے آدمی دنیا اور آخرت میں کامیابی کو اپنے ليے یقینی بنا سکتا ہے۔

المؤمنون 23:47

حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون بنی اسرائیل کے فرد تھے۔ بنی اسرائیل اس وقت مصر میں تھے اور وہاں کی حکمراں قوم کے ليے مزدور کی حیثیت رکھتے تھے۔ بنی اسرائیل کی کمتر حیثیت اور ان کے مقابلہ میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کی برتر حیثیت ان کے ليے مانع بن گئی۔ وہ ایک اسرائیلی پیغمبر کو نمائندہ خدا ماننے کے ليے تیار نہ ہوئے۔ حضرت موسیٰ نے اگرچہ ان کے سامنے نہایت محکم دلائل پیش کئے۔ مگر دلائل کا وزن انھیں اس کے ليے مجبور نہ کرسکا کہ وہ اپنی بر تر نفسیات کو بدلیں اور ایک محکوم شخص کی زبان سے ظاہر ہونے والی صداقت کا اعتراف کریں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کی مدد کی۔ فرعون اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ غرق کردیا گیا۔ دوسری طرف جن لوگوں نے پیغمبر کا ساتھ دیا تھا۔ ان پر خدا نے یہ احسان فرمایا کہ ان کے پاس اپنا ہدایت نامہ بھیجا جس کو اختیار کرکے آدمی دنیا اور آخرت میں کامیابی کو اپنے ليے یقینی بنا سکتا ہے۔

المؤمنون 23:48

حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون بنی اسرائیل کے فرد تھے۔ بنی اسرائیل اس وقت مصر میں تھے اور وہاں کی حکمراں قوم کے ليے مزدور کی حیثیت رکھتے تھے۔ بنی اسرائیل کی کمتر حیثیت اور ان کے مقابلہ میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کی برتر حیثیت ان کے ليے مانع بن گئی۔ وہ ایک اسرائیلی پیغمبر کو نمائندہ خدا ماننے کے ليے تیار نہ ہوئے۔ حضرت موسیٰ نے اگرچہ ان کے سامنے نہایت محکم دلائل پیش کئے۔ مگر دلائل کا وزن انھیں اس کے ليے مجبور نہ کرسکا کہ وہ اپنی بر تر نفسیات کو بدلیں اور ایک محکوم شخص کی زبان سے ظاہر ہونے والی صداقت کا اعتراف کریں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کی مدد کی۔ فرعون اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ غرق کردیا گیا۔ دوسری طرف جن لوگوں نے پیغمبر کا ساتھ دیا تھا۔ ان پر خدا نے یہ احسان فرمایا کہ ان کے پاس اپنا ہدایت نامہ بھیجا جس کو اختیار کرکے آدمی دنیا اور آخرت میں کامیابی کو اپنے ليے یقینی بنا سکتا ہے۔

المؤمنون 23:49

حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون بنی اسرائیل کے فرد تھے۔ بنی اسرائیل اس وقت مصر میں تھے اور وہاں کی حکمراں قوم کے ليے مزدور کی حیثیت رکھتے تھے۔ بنی اسرائیل کی کمتر حیثیت اور ان کے مقابلہ میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کی برتر حیثیت ان کے ليے مانع بن گئی۔ وہ ایک اسرائیلی پیغمبر کو نمائندہ خدا ماننے کے ليے تیار نہ ہوئے۔ حضرت موسیٰ نے اگرچہ ان کے سامنے نہایت محکم دلائل پیش کئے۔ مگر دلائل کا وزن انھیں اس کے ليے مجبور نہ کرسکا کہ وہ اپنی بر تر نفسیات کو بدلیں اور ایک محکوم شخص کی زبان سے ظاہر ہونے والی صداقت کا اعتراف کریں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کی مدد کی۔ فرعون اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ غرق کردیا گیا۔ دوسری طرف جن لوگوں نے پیغمبر کا ساتھ دیا تھا۔ ان پر خدا نے یہ احسان فرمایا کہ ان کے پاس اپنا ہدایت نامہ بھیجا جس کو اختیار کرکے آدمی دنیا اور آخرت میں کامیابی کو اپنے ليے یقینی بنا سکتا ہے۔

المؤمنون 23:50

حضرت مسیح کی بغیر باپ کے پیدائش ایک بے حد انوکھا واقعہ تھا۔ یہ واقعہ کیوں ہوا۔ یہ ایک ’’نشانی‘‘ کے طورپر ہوا۔ قدیم زمانہ میں یہود کو حاملِ رسالت گروہ کی حیثیت حاصل تھی۔ مگر انھوں نے مسلسل سرکشی سے اپنے ليے اس کا استحقاق کھو دیا۔ اب وقت آگیا تھا کہ یہ امانت ان سے لے کر بنو اسماعیل کو دے دی جائے۔ چناںچہ یہود کے اوپر آخری اتمام حجت کے ليے ان کے آخری پیغمبر کو معجزاتی انداز میں پیدا کیا گیا۔ اور اس پیغمبر کو مزید غیر معمولی معجزے دئے گئے۔ اس کے باوجود جب یہود آپ کے منکر بنے رہے تو یہ بات آخری طور پر ثابت ہوگئی کہ وہ حامل رسالت بننے کے اہل نہیں ہیں۔ حضرت مسیح کی والدہ حضرت مریم کے ليے یہ انتہائی نازک مرحلہ تھا۔ ایسے حا ل میں ان کو سخت ضرورت تھی کہ کوئی ایسا گوشہ ہو جہاں وہ لوگوں کی نظروں سے دور ہو کر رہ سکیں۔ وہاں زندگی کی ضروری چیزیں بھی ہوں اور سکون واطمینان بھی حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جب ان کو اس نازک امتحان میں ڈالا تو اسی کے ساتھ ان کے وطن کے قریب ایک پُرامن گوشہ بھی ان کے ليے مہیا فرمادیا۔

المؤمنون 23:51

دین اصلاً صرف ایک ہے۔ اور یہی ایک دین تمام پیغمبروں کو بتایا گیا۔ وہ یہ کہ آدمی خدا کو ایک ایسی عظیم ہستی کی حیثیت سے پائے کہ وہ اس سے ڈرنے لگے۔ اس کے دل ودماغ پر یہ تصور چھا جائے کہ اس کے اوپر ایک خدا ہے۔ وہ ہرحال میں اس کو دیکھ رہا ہے اور وہ موت کے بعد اس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لے گا۔ یہ معرفت ہی اصل دین ہے۔ اس معرفت اور اس احساس کے تحت جو زندگی بنے وہ یہی ہوگی کہ آدمی دنیا کی چیزوں میں سے پاکیزہ اور ستھری چیزیں لے گا۔ وہ اپنے معاملات میں نیکی اور بھلائی کا طریقہ اختیار کرے گا۔ خدا کی معرفت کا لازمی نتیجہ خدا کا خوف ہے اور خدا کے خوف کا لازمی نتیجہ نیک زندگی۔

المؤمنون 23:52

دین اصلاً صرف ایک ہے۔ اور یہی ایک دین تمام پیغمبروں کو بتایا گیا۔ وہ یہ کہ آدمی خدا کو ایک ایسی عظیم ہستی کی حیثیت سے پائے کہ وہ اس سے ڈرنے لگے۔ اس کے دل ودماغ پر یہ تصور چھا جائے کہ اس کے اوپر ایک خدا ہے۔ وہ ہرحال میں اس کو دیکھ رہا ہے اور وہ موت کے بعد اس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لے گا۔ یہ معرفت ہی اصل دین ہے۔ اس معرفت اور اس احساس کے تحت جو زندگی بنے وہ یہی ہوگی کہ آدمی دنیا کی چیزوں میں سے پاکیزہ اور ستھری چیزیں لے گا۔ وہ اپنے معاملات میں نیکی اور بھلائی کا طریقہ اختیار کرے گا۔ خدا کی معرفت کا لازمی نتیجہ خدا کا خوف ہے اور خدا کے خوف کا لازمی نتیجہ نیک زندگی۔

المؤمنون 23:53

خدا کا دین جب اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ ہو تو وہ لوگوں میں خوف پیدا کرتاہے اور جب دین کی اصل روح نکل جائے تو وہ فخر کا ذریعہ بن جاتاہے۔ یہی وہ وقت ہے جب کہ اہلِ دین گروہوں میںبٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے ہیں۔ ہر گروہ اپنے حالات کے لحاظ سے کوئی ایسا پہلو لے لیتاہے جس میں اس کے ليے فخر کا سامان موجود ہو۔ فخر والے دین ہمیشہ کئی ہوتے ہیں اور خوف والا دین ہمیشہ ایک ہوتاہے۔ بے خوفی کی نفسیات رایوں کا تعدد پیدا کرتی ہے اور خوف کی نفسیات رایوں کا اتحاد۔ موجودہ دنیا میں انسان حالتِ امتحان میں ہے۔ خدا کے علم میں کسی شخص یا گروہ کی جو مدت ہے اس مدت تک اس کو زندگی کا سامان لازماً دیا جاتا ہے۔ اس بنا پر غافل لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں۔ صحیح کررہے ہیں۔ اگر وہ غلطی پر ہوتے تو ان کا مال واسباب ان سے چھین لیا جاتا۔ حالاں کہ خدا کا قانون یہ ہے کہ مال واسباب مدتِ امتحان کے ختم ہونے پر چھینا جائے، نہ کہ امتحان کے دوران میں ہدایت سے انحراف پر ۔

المؤمنون 23:54

خدا کا دین جب اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ ہو تو وہ لوگوں میں خوف پیدا کرتاہے اور جب دین کی اصل روح نکل جائے تو وہ فخر کا ذریعہ بن جاتاہے۔ یہی وہ وقت ہے جب کہ اہلِ دین گروہوں میںبٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے ہیں۔ ہر گروہ اپنے حالات کے لحاظ سے کوئی ایسا پہلو لے لیتاہے جس میں اس کے ليے فخر کا سامان موجود ہو۔ فخر والے دین ہمیشہ کئی ہوتے ہیں اور خوف والا دین ہمیشہ ایک ہوتاہے۔ بے خوفی کی نفسیات رایوں کا تعدد پیدا کرتی ہے اور خوف کی نفسیات رایوں کا اتحاد۔ موجودہ دنیا میں انسان حالتِ امتحان میں ہے۔ خدا کے علم میں کسی شخص یا گروہ کی جو مدت ہے اس مدت تک اس کو زندگی کا سامان لازماً دیا جاتا ہے۔ اس بنا پر غافل لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں۔ صحیح کررہے ہیں۔ اگر وہ غلطی پر ہوتے تو ان کا مال واسباب ان سے چھین لیا جاتا۔ حالاں کہ خدا کا قانون یہ ہے کہ مال واسباب مدتِ امتحان کے ختم ہونے پر چھینا جائے، نہ کہ امتحان کے دوران میں ہدایت سے انحراف پر ۔

المؤمنون 23:55

خدا کا دین جب اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ ہو تو وہ لوگوں میں خوف پیدا کرتاہے اور جب دین کی اصل روح نکل جائے تو وہ فخر کا ذریعہ بن جاتاہے۔ یہی وہ وقت ہے جب کہ اہلِ دین گروہوں میںبٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے ہیں۔ ہر گروہ اپنے حالات کے لحاظ سے کوئی ایسا پہلو لے لیتاہے جس میں اس کے ليے فخر کا سامان موجود ہو۔ فخر والے دین ہمیشہ کئی ہوتے ہیں اور خوف والا دین ہمیشہ ایک ہوتاہے۔ بے خوفی کی نفسیات رایوں کا تعدد پیدا کرتی ہے اور خوف کی نفسیات رایوں کا اتحاد۔ موجودہ دنیا میں انسان حالتِ امتحان میں ہے۔ خدا کے علم میں کسی شخص یا گروہ کی جو مدت ہے اس مدت تک اس کو زندگی کا سامان لازماً دیا جاتا ہے۔ اس بنا پر غافل لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں۔ صحیح کررہے ہیں۔ اگر وہ غلطی پر ہوتے تو ان کا مال واسباب ان سے چھین لیا جاتا۔ حالاں کہ خدا کا قانون یہ ہے کہ مال واسباب مدتِ امتحان کے ختم ہونے پر چھینا جائے، نہ کہ امتحان کے دوران میں ہدایت سے انحراف پر ۔

المؤمنون 23:56

خدا کا دین جب اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ ہو تو وہ لوگوں میں خوف پیدا کرتاہے اور جب دین کی اصل روح نکل جائے تو وہ فخر کا ذریعہ بن جاتاہے۔ یہی وہ وقت ہے جب کہ اہلِ دین گروہوں میںبٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے ہیں۔ ہر گروہ اپنے حالات کے لحاظ سے کوئی ایسا پہلو لے لیتاہے جس میں اس کے ليے فخر کا سامان موجود ہو۔ فخر والے دین ہمیشہ کئی ہوتے ہیں اور خوف والا دین ہمیشہ ایک ہوتاہے۔ بے خوفی کی نفسیات رایوں کا تعدد پیدا کرتی ہے اور خوف کی نفسیات رایوں کا اتحاد۔ موجودہ دنیا میں انسان حالتِ امتحان میں ہے۔ خدا کے علم میں کسی شخص یا گروہ کی جو مدت ہے اس مدت تک اس کو زندگی کا سامان لازماً دیا جاتا ہے۔ اس بنا پر غافل لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں۔ صحیح کررہے ہیں۔ اگر وہ غلطی پر ہوتے تو ان کا مال واسباب ان سے چھین لیا جاتا۔ حالاں کہ خدا کا قانون یہ ہے کہ مال واسباب مدتِ امتحان کے ختم ہونے پر چھینا جائے، نہ کہ امتحان کے دوران میں ہدایت سے انحراف پر ۔

المؤمنون 23:57

جو شخص اللہ کو اس طرح پائے کہ اس پر اللہ کی ہیبت طاری ہوجائے وہ عام انسانوں سے بالکل مختلف انسان ہوتاہے ۔ خوف کی نفسیات اس کو انتہائی حد تک سنجیدہ بنادیتی ہے۔ اس کی سنجیدگی اس کی ضامن بن جاتی ہے کہ وہ دلائلِ خداوندی کے وزن کو پوری طرح سمجھے اور اس کے آگے فوراً جھک جائے۔ خدا کے سوا ہر چیز اس کی نظر میں اپنا وزن کھودے۔ وہ سب کچھ کرکے بھی یہ سمجھے کہ اس نے کچھ نہیں کیا۔ موجودہ دنیا میں دوڑ دھوپ کی دو راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ ایک دنیا کی راہ اور دوسری آخرت کی راہ۔ جن لوگوں کے اندر مذکورہ صفات پائی جائیں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی طرف دوڑنے والے ہیں۔ تاہم آخرت کی طرف دوڑنا موجودہ دنیا میں ایک بے حد مشکل کام ہے۔ اس میں انسان سے طرح طرح کی کوتاہیاں ہوجاتی ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کا مطالبہ ہر آدمی سے اس کی طاقت کے بقدر ہے، نہ کہ طاقت سے زیادہ۔ ہر آدمی کی استطاعت اور اس کا کارنامہ دونوں کامل طورپر خدا کے علم میں هيں۔ اور یہی واقعہ اس بات کی ضمانت ہے کہ قیامت میں ہر شخص کو وہ رعایت ملے جو ازروئے انصاف اسے ملنی چاہیے۔ اور ہر شخص وہ انعام پائے جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا۔

المؤمنون 23:58

جو شخص اللہ کو اس طرح پائے کہ اس پر اللہ کی ہیبت طاری ہوجائے وہ عام انسانوں سے بالکل مختلف انسان ہوتاہے ۔ خوف کی نفسیات اس کو انتہائی حد تک سنجیدہ بنادیتی ہے۔ اس کی سنجیدگی اس کی ضامن بن جاتی ہے کہ وہ دلائلِ خداوندی کے وزن کو پوری طرح سمجھے اور اس کے آگے فوراً جھک جائے۔ خدا کے سوا ہر چیز اس کی نظر میں اپنا وزن کھودے۔ وہ سب کچھ کرکے بھی یہ سمجھے کہ اس نے کچھ نہیں کیا۔ موجودہ دنیا میں دوڑ دھوپ کی دو راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ ایک دنیا کی راہ اور دوسری آخرت کی راہ۔ جن لوگوں کے اندر مذکورہ صفات پائی جائیں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی طرف دوڑنے والے ہیں۔ تاہم آخرت کی طرف دوڑنا موجودہ دنیا میں ایک بے حد مشکل کام ہے۔ اس میں انسان سے طرح طرح کی کوتاہیاں ہوجاتی ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کا مطالبہ ہر آدمی سے اس کی طاقت کے بقدر ہے، نہ کہ طاقت سے زیادہ۔ ہر آدمی کی استطاعت اور اس کا کارنامہ دونوں کامل طورپر خدا کے علم میں هيں۔ اور یہی واقعہ اس بات کی ضمانت ہے کہ قیامت میں ہر شخص کو وہ رعایت ملے جو ازروئے انصاف اسے ملنی چاہیے۔ اور ہر شخص وہ انعام پائے جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا۔

المؤمنون 23:59

جو شخص اللہ کو اس طرح پائے کہ اس پر اللہ کی ہیبت طاری ہوجائے وہ عام انسانوں سے بالکل مختلف انسان ہوتاہے ۔ خوف کی نفسیات اس کو انتہائی حد تک سنجیدہ بنادیتی ہے۔ اس کی سنجیدگی اس کی ضامن بن جاتی ہے کہ وہ دلائلِ خداوندی کے وزن کو پوری طرح سمجھے اور اس کے آگے فوراً جھک جائے۔ خدا کے سوا ہر چیز اس کی نظر میں اپنا وزن کھودے۔ وہ سب کچھ کرکے بھی یہ سمجھے کہ اس نے کچھ نہیں کیا۔ موجودہ دنیا میں دوڑ دھوپ کی دو راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ ایک دنیا کی راہ اور دوسری آخرت کی راہ۔ جن لوگوں کے اندر مذکورہ صفات پائی جائیں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی طرف دوڑنے والے ہیں۔ تاہم آخرت کی طرف دوڑنا موجودہ دنیا میں ایک بے حد مشکل کام ہے۔ اس میں انسان سے طرح طرح کی کوتاہیاں ہوجاتی ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کا مطالبہ ہر آدمی سے اس کی طاقت کے بقدر ہے، نہ کہ طاقت سے زیادہ۔ ہر آدمی کی استطاعت اور اس کا کارنامہ دونوں کامل طورپر خدا کے علم میں هيں۔ اور یہی واقعہ اس بات کی ضمانت ہے کہ قیامت میں ہر شخص کو وہ رعایت ملے جو ازروئے انصاف اسے ملنی چاہیے۔ اور ہر شخص وہ انعام پائے جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا۔

المؤمنون 23:60

جو شخص اللہ کو اس طرح پائے کہ اس پر اللہ کی ہیبت طاری ہوجائے وہ عام انسانوں سے بالکل مختلف انسان ہوتاہے ۔ خوف کی نفسیات اس کو انتہائی حد تک سنجیدہ بنادیتی ہے۔ اس کی سنجیدگی اس کی ضامن بن جاتی ہے کہ وہ دلائلِ خداوندی کے وزن کو پوری طرح سمجھے اور اس کے آگے فوراً جھک جائے۔ خدا کے سوا ہر چیز اس کی نظر میں اپنا وزن کھودے۔ وہ سب کچھ کرکے بھی یہ سمجھے کہ اس نے کچھ نہیں کیا۔ موجودہ دنیا میں دوڑ دھوپ کی دو راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ ایک دنیا کی راہ اور دوسری آخرت کی راہ۔ جن لوگوں کے اندر مذکورہ صفات پائی جائیں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی طرف دوڑنے والے ہیں۔ تاہم آخرت کی طرف دوڑنا موجودہ دنیا میں ایک بے حد مشکل کام ہے۔ اس میں انسان سے طرح طرح کی کوتاہیاں ہوجاتی ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کا مطالبہ ہر آدمی سے اس کی طاقت کے بقدر ہے، نہ کہ طاقت سے زیادہ۔ ہر آدمی کی استطاعت اور اس کا کارنامہ دونوں کامل طورپر خدا کے علم میں هيں۔ اور یہی واقعہ اس بات کی ضمانت ہے کہ قیامت میں ہر شخص کو وہ رعایت ملے جو ازروئے انصاف اسے ملنی چاہیے۔ اور ہر شخص وہ انعام پائے جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا۔

المؤمنون 23:61

جو شخص اللہ کو اس طرح پائے کہ اس پر اللہ کی ہیبت طاری ہوجائے وہ عام انسانوں سے بالکل مختلف انسان ہوتاہے ۔ خوف کی نفسیات اس کو انتہائی حد تک سنجیدہ بنادیتی ہے۔ اس کی سنجیدگی اس کی ضامن بن جاتی ہے کہ وہ دلائلِ خداوندی کے وزن کو پوری طرح سمجھے اور اس کے آگے فوراً جھک جائے۔ خدا کے سوا ہر چیز اس کی نظر میں اپنا وزن کھودے۔ وہ سب کچھ کرکے بھی یہ سمجھے کہ اس نے کچھ نہیں کیا۔ موجودہ دنیا میں دوڑ دھوپ کی دو راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ ایک دنیا کی راہ اور دوسری آخرت کی راہ۔ جن لوگوں کے اندر مذکورہ صفات پائی جائیں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی طرف دوڑنے والے ہیں۔ تاہم آخرت کی طرف دوڑنا موجودہ دنیا میں ایک بے حد مشکل کام ہے۔ اس میں انسان سے طرح طرح کی کوتاہیاں ہوجاتی ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کا مطالبہ ہر آدمی سے اس کی طاقت کے بقدر ہے، نہ کہ طاقت سے زیادہ۔ ہر آدمی کی استطاعت اور اس کا کارنامہ دونوں کامل طورپر خدا کے علم میں هيں۔ اور یہی واقعہ اس بات کی ضمانت ہے کہ قیامت میں ہر شخص کو وہ رعایت ملے جو ازروئے انصاف اسے ملنی چاہیے۔ اور ہر شخص وہ انعام پائے جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا۔

المؤمنون 23:62

جو شخص اللہ کو اس طرح پائے کہ اس پر اللہ کی ہیبت طاری ہوجائے وہ عام انسانوں سے بالکل مختلف انسان ہوتاہے ۔ خوف کی نفسیات اس کو انتہائی حد تک سنجیدہ بنادیتی ہے۔ اس کی سنجیدگی اس کی ضامن بن جاتی ہے کہ وہ دلائلِ خداوندی کے وزن کو پوری طرح سمجھے اور اس کے آگے فوراً جھک جائے۔ خدا کے سوا ہر چیز اس کی نظر میں اپنا وزن کھودے۔ وہ سب کچھ کرکے بھی یہ سمجھے کہ اس نے کچھ نہیں کیا۔ موجودہ دنیا میں دوڑ دھوپ کی دو راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ ایک دنیا کی راہ اور دوسری آخرت کی راہ۔ جن لوگوں کے اندر مذکورہ صفات پائی جائیں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی طرف دوڑنے والے ہیں۔ تاہم آخرت کی طرف دوڑنا موجودہ دنیا میں ایک بے حد مشکل کام ہے۔ اس میں انسان سے طرح طرح کی کوتاہیاں ہوجاتی ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کا مطالبہ ہر آدمی سے اس کی طاقت کے بقدر ہے، نہ کہ طاقت سے زیادہ۔ ہر آدمی کی استطاعت اور اس کا کارنامہ دونوں کامل طورپر خدا کے علم میں هيں۔ اور یہی واقعہ اس بات کی ضمانت ہے کہ قیامت میں ہر شخص کو وہ رعایت ملے جو ازروئے انصاف اسے ملنی چاہیے۔ اور ہر شخص وہ انعام پائے جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا۔

المؤمنون 23:63

جو لوگ دنیا پرستی میں غرق ہوں انھیں خدا اور آخرت کی باتوں سے دل چسپی نہیں ہوتی۔ ان کی دل چسپی کی چیزیں اس سے مختلف ہوتی ہیں جو سچے اہل ایمان کی دل چسپی کی چیزیں ہوتی ہیں۔ خدا اور آخرت کی بات خواہ کتنے ہی مؤثر انداز میں بیان کی جائے، انھیں وہ زیادہ اپیل نہیں کرتی۔ وہ ایسی باتوں کو نظر انداز کرکے اپنی دوسری دلچسپیوں میں گم رہتے ہیں۔ وہ داعی حق کی مجلس سے اس طرح اٹھ جاتے ہیں جیسے وه کسی فضول قصہ گو کو چھوڑ کر چلے گئے۔ مگر جب خدا کی پکڑ آتی ہے تو ایسے لوگ غفلت اور سرکشی کو بھول کر عاجزانہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ اس وقت وہ خدا کے آگے جھک جاتے ہیں۔ مگر اس وقت کا جھکنا بیکار ہو تا ہے۔ کیوں کہ خدا کے آگے جھکنا وہ معتبر ہے جب کہ آدمی خدا کی نشانی کو دیکھ کر جھک گیا ہو۔ جب خدا خود اپنی طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوجائے اس وقت جھکنے کی کوئی قیمت نہیں۔

المؤمنون 23:64

جو لوگ دنیا پرستی میں غرق ہوں انھیں خدا اور آخرت کی باتوں سے دل چسپی نہیں ہوتی۔ ان کی دل چسپی کی چیزیں اس سے مختلف ہوتی ہیں جو سچے اہل ایمان کی دل چسپی کی چیزیں ہوتی ہیں۔ خدا اور آخرت کی بات خواہ کتنے ہی مؤثر انداز میں بیان کی جائے، انھیں وہ زیادہ اپیل نہیں کرتی۔ وہ ایسی باتوں کو نظر انداز کرکے اپنی دوسری دلچسپیوں میں گم رہتے ہیں۔ وہ داعی حق کی مجلس سے اس طرح اٹھ جاتے ہیں جیسے وه کسی فضول قصہ گو کو چھوڑ کر چلے گئے۔ مگر جب خدا کی پکڑ آتی ہے تو ایسے لوگ غفلت اور سرکشی کو بھول کر عاجزانہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ اس وقت وہ خدا کے آگے جھک جاتے ہیں۔ مگر اس وقت کا جھکنا بیکار ہو تا ہے۔ کیوں کہ خدا کے آگے جھکنا وہ معتبر ہے جب کہ آدمی خدا کی نشانی کو دیکھ کر جھک گیا ہو۔ جب خدا خود اپنی طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوجائے اس وقت جھکنے کی کوئی قیمت نہیں۔

المؤمنون 23:65

جو لوگ دنیا پرستی میں غرق ہوں انھیں خدا اور آخرت کی باتوں سے دل چسپی نہیں ہوتی۔ ان کی دل چسپی کی چیزیں اس سے مختلف ہوتی ہیں جو سچے اہل ایمان کی دل چسپی کی چیزیں ہوتی ہیں۔ خدا اور آخرت کی بات خواہ کتنے ہی مؤثر انداز میں بیان کی جائے، انھیں وہ زیادہ اپیل نہیں کرتی۔ وہ ایسی باتوں کو نظر انداز کرکے اپنی دوسری دلچسپیوں میں گم رہتے ہیں۔ وہ داعی حق کی مجلس سے اس طرح اٹھ جاتے ہیں جیسے وه کسی فضول قصہ گو کو چھوڑ کر چلے گئے۔ مگر جب خدا کی پکڑ آتی ہے تو ایسے لوگ غفلت اور سرکشی کو بھول کر عاجزانہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ اس وقت وہ خدا کے آگے جھک جاتے ہیں۔ مگر اس وقت کا جھکنا بیکار ہو تا ہے۔ کیوں کہ خدا کے آگے جھکنا وہ معتبر ہے جب کہ آدمی خدا کی نشانی کو دیکھ کر جھک گیا ہو۔ جب خدا خود اپنی طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوجائے اس وقت جھکنے کی کوئی قیمت نہیں۔

المؤمنون 23:66

جو لوگ دنیا پرستی میں غرق ہوں انھیں خدا اور آخرت کی باتوں سے دل چسپی نہیں ہوتی۔ ان کی دل چسپی کی چیزیں اس سے مختلف ہوتی ہیں جو سچے اہل ایمان کی دل چسپی کی چیزیں ہوتی ہیں۔ خدا اور آخرت کی بات خواہ کتنے ہی مؤثر انداز میں بیان کی جائے، انھیں وہ زیادہ اپیل نہیں کرتی۔ وہ ایسی باتوں کو نظر انداز کرکے اپنی دوسری دلچسپیوں میں گم رہتے ہیں۔ وہ داعی حق کی مجلس سے اس طرح اٹھ جاتے ہیں جیسے وه کسی فضول قصہ گو کو چھوڑ کر چلے گئے۔ مگر جب خدا کی پکڑ آتی ہے تو ایسے لوگ غفلت اور سرکشی کو بھول کر عاجزانہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ اس وقت وہ خدا کے آگے جھک جاتے ہیں۔ مگر اس وقت کا جھکنا بیکار ہو تا ہے۔ کیوں کہ خدا کے آگے جھکنا وہ معتبر ہے جب کہ آدمی خدا کی نشانی کو دیکھ کر جھک گیا ہو۔ جب خدا خود اپنی طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوجائے اس وقت جھکنے کی کوئی قیمت نہیں۔

المؤمنون 23:67

جو لوگ دنیا پرستی میں غرق ہوں انھیں خدا اور آخرت کی باتوں سے دل چسپی نہیں ہوتی۔ ان کی دل چسپی کی چیزیں اس سے مختلف ہوتی ہیں جو سچے اہل ایمان کی دل چسپی کی چیزیں ہوتی ہیں۔ خدا اور آخرت کی بات خواہ کتنے ہی مؤثر انداز میں بیان کی جائے، انھیں وہ زیادہ اپیل نہیں کرتی۔ وہ ایسی باتوں کو نظر انداز کرکے اپنی دوسری دلچسپیوں میں گم رہتے ہیں۔ وہ داعی حق کی مجلس سے اس طرح اٹھ جاتے ہیں جیسے وه کسی فضول قصہ گو کو چھوڑ کر چلے گئے۔ مگر جب خدا کی پکڑ آتی ہے تو ایسے لوگ غفلت اور سرکشی کو بھول کر عاجزانہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ اس وقت وہ خدا کے آگے جھک جاتے ہیں۔ مگر اس وقت کا جھکنا بیکار ہو تا ہے۔ کیوں کہ خدا کے آگے جھکنا وہ معتبر ہے جب کہ آدمی خدا کی نشانی کو دیکھ کر جھک گیا ہو۔ جب خدا خود اپنی طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوجائے اس وقت جھکنے کی کوئی قیمت نہیں۔

المؤمنون 23:68

حق وہ ہے جو حقیقتِ واقعہ کے مطابق ہو۔ مگر خواہش پرست انسان یہ چاہنے لگتا ہے کہ حق کو اس کی خواہش کے تابع کردیا جائے۔ اس قسم کے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ داعی جب حق بات کہتا ہے تو وہ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔ وہ حق کے تابع نہیں بننا چاہتے۔ اس ليے وہ چاہنے لگتے ہیں کہ حق کو ان کے تابع کردیا جائے۔ اپنی اس نفسیات کی بنا پر وہ حق کی آواز پر دھیان نہیں دیتے۔ حق ان کو اجنبی دکھائی دیتا ہے۔ وہ داعی حق کو اس کی اصل حیثیت میں پہچان نہیں پاتے۔ اپنے کو برسر حق ظاہر کرنے کے ليے وہ داعی کو مطعون کرنے لگتے ہیں۔ کائنات میں کامل درستگی نظر آتی ہے۔ اس کے برعکس، انسانی دنیا میں ہر طرف فساداور بگاڑ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کائنات کا نظام حق کی بنیاد پر چل رہا ہے۔ یعنی وہی ہونا جو ہونا چاہيے، اور وہ نہ ہونا جو نہ ہونا چاہيے۔ اب اگر کائنات کا نظام بھی انسان کی خواہشوں پر چلنے لگے تو جو فساد انسانی دنیا میں ہے وہی فساد بقیہ کائنات میں بھی برپا ہوجائے گا۔ نصیحت اور تنقید ہمیشہ آدمی کے ليے سب سے زیادہ تلخ چیز ہوتی ہے۔ بہت ہی کم وہ خداکے بندے ہیں جو نصیحت اور تنقید کو کھلے ذہن کے ساتھ سنیں۔ بیشتر لوگ اس کو نظر انداز کرکے گزر جاتے ہیں۔

المؤمنون 23:69

حق وہ ہے جو حقیقتِ واقعہ کے مطابق ہو۔ مگر خواہش پرست انسان یہ چاہنے لگتا ہے کہ حق کو اس کی خواہش کے تابع کردیا جائے۔ اس قسم کے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ داعی جب حق بات کہتا ہے تو وہ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔ وہ حق کے تابع نہیں بننا چاہتے۔ اس ليے وہ چاہنے لگتے ہیں کہ حق کو ان کے تابع کردیا جائے۔ اپنی اس نفسیات کی بنا پر وہ حق کی آواز پر دھیان نہیں دیتے۔ حق ان کو اجنبی دکھائی دیتا ہے۔ وہ داعی حق کو اس کی اصل حیثیت میں پہچان نہیں پاتے۔ اپنے کو برسر حق ظاہر کرنے کے ليے وہ داعی کو مطعون کرنے لگتے ہیں۔ کائنات میں کامل درستگی نظر آتی ہے۔ اس کے برعکس، انسانی دنیا میں ہر طرف فساداور بگاڑ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کائنات کا نظام حق کی بنیاد پر چل رہا ہے۔ یعنی وہی ہونا جو ہونا چاہيے، اور وہ نہ ہونا جو نہ ہونا چاہيے۔ اب اگر کائنات کا نظام بھی انسان کی خواہشوں پر چلنے لگے تو جو فساد انسانی دنیا میں ہے وہی فساد بقیہ کائنات میں بھی برپا ہوجائے گا۔ نصیحت اور تنقید ہمیشہ آدمی کے ليے سب سے زیادہ تلخ چیز ہوتی ہے۔ بہت ہی کم وہ خداکے بندے ہیں جو نصیحت اور تنقید کو کھلے ذہن کے ساتھ سنیں۔ بیشتر لوگ اس کو نظر انداز کرکے گزر جاتے ہیں۔

المؤمنون 23:70

حق وہ ہے جو حقیقتِ واقعہ کے مطابق ہو۔ مگر خواہش پرست انسان یہ چاہنے لگتا ہے کہ حق کو اس کی خواہش کے تابع کردیا جائے۔ اس قسم کے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ داعی جب حق بات کہتا ہے تو وہ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔ وہ حق کے تابع نہیں بننا چاہتے۔ اس ليے وہ چاہنے لگتے ہیں کہ حق کو ان کے تابع کردیا جائے۔ اپنی اس نفسیات کی بنا پر وہ حق کی آواز پر دھیان نہیں دیتے۔ حق ان کو اجنبی دکھائی دیتا ہے۔ وہ داعی حق کو اس کی اصل حیثیت میں پہچان نہیں پاتے۔ اپنے کو برسر حق ظاہر کرنے کے ليے وہ داعی کو مطعون کرنے لگتے ہیں۔ کائنات میں کامل درستگی نظر آتی ہے۔ اس کے برعکس، انسانی دنیا میں ہر طرف فساداور بگاڑ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کائنات کا نظام حق کی بنیاد پر چل رہا ہے۔ یعنی وہی ہونا جو ہونا چاہيے، اور وہ نہ ہونا جو نہ ہونا چاہيے۔ اب اگر کائنات کا نظام بھی انسان کی خواہشوں پر چلنے لگے تو جو فساد انسانی دنیا میں ہے وہی فساد بقیہ کائنات میں بھی برپا ہوجائے گا۔ نصیحت اور تنقید ہمیشہ آدمی کے ليے سب سے زیادہ تلخ چیز ہوتی ہے۔ بہت ہی کم وہ خداکے بندے ہیں جو نصیحت اور تنقید کو کھلے ذہن کے ساتھ سنیں۔ بیشتر لوگ اس کو نظر انداز کرکے گزر جاتے ہیں۔

المؤمنون 23:71

حق وہ ہے جو حقیقتِ واقعہ کے مطابق ہو۔ مگر خواہش پرست انسان یہ چاہنے لگتا ہے کہ حق کو اس کی خواہش کے تابع کردیا جائے۔ اس قسم کے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ داعی جب حق بات کہتا ہے تو وہ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔ وہ حق کے تابع نہیں بننا چاہتے۔ اس ليے وہ چاہنے لگتے ہیں کہ حق کو ان کے تابع کردیا جائے۔ اپنی اس نفسیات کی بنا پر وہ حق کی آواز پر دھیان نہیں دیتے۔ حق ان کو اجنبی دکھائی دیتا ہے۔ وہ داعی حق کو اس کی اصل حیثیت میں پہچان نہیں پاتے۔ اپنے کو برسر حق ظاہر کرنے کے ليے وہ داعی کو مطعون کرنے لگتے ہیں۔ کائنات میں کامل درستگی نظر آتی ہے۔ اس کے برعکس، انسانی دنیا میں ہر طرف فساداور بگاڑ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کائنات کا نظام حق کی بنیاد پر چل رہا ہے۔ یعنی وہی ہونا جو ہونا چاہيے، اور وہ نہ ہونا جو نہ ہونا چاہيے۔ اب اگر کائنات کا نظام بھی انسان کی خواہشوں پر چلنے لگے تو جو فساد انسانی دنیا میں ہے وہی فساد بقیہ کائنات میں بھی برپا ہوجائے گا۔ نصیحت اور تنقید ہمیشہ آدمی کے ليے سب سے زیادہ تلخ چیز ہوتی ہے۔ بہت ہی کم وہ خداکے بندے ہیں جو نصیحت اور تنقید کو کھلے ذہن کے ساتھ سنیں۔ بیشتر لوگ اس کو نظر انداز کرکے گزر جاتے ہیں۔

المؤمنون 23:72

پیغمبر اپنے مخاطبین سے کبھی مالی غرض نہیں رکھتا۔ پیغمبر اور اس کے مخاطبین کا تعلق داعی اور مدعو کا تعلق ہوتا ہے۔ داعی اور مدعو کا تعلق بے حد نازک تعلق ہے۔ داعی اگر ایک طرف لوگوں کو آخرت کا پیغام دے اور اسی کے ساتھ وہ ان سے دنیا کے مطالبات بھی چھیڑے ہوئے ہو تو اس کی دعوت لوگوں کی نظر میں مذاق بن کررہ جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر کسی بھی حال میں اپنے مدعو سے کوئی مادی مطالبہ نہیں کرتا، خواہ اس کی وجہ سے اس کو یک طرفہ طور پر ہر قسم کا نقصان برداشت کرنا پڑے۔ داعی کا اصل معاوضہ خود وہ حق ہوتا ہے جس کو لے کر وہ کھڑا ہوا ہے۔ خدا کی دریافت اس کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتی ہے۔ داعیانہ زندگی گزارنے کے نتیجہ میں اس کو جو ربانی تجربات ہوتے ہیں وہ اس کی روح کو سب سے بڑی غذا فراہم کرتے ہیں۔ اعلیٰ ترین مقصد کے ليے سرگرم رہنے سے جو لذت ملتی ہے وہ اس کی تسکین كا سب سے بڑا سامان ہوتی ہے۔ حق کی دعوت کو وہی شخص مانے گا جس کو آخرت کا کھٹکا لگا ہوا ہو۔ آخرت کا احساس آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے اور سنجیدگی ہی وہ چیز ہے جو آدمی کو مجبور کرتی ہے کہ وہ حقیقت کو مانے۔ جو شخص سنجیدہ نہ ہو وہ کبھی حقیقت کو تسلیم نہیں کرے گا، خواہ اس کو دلائل سے کتنا ہی زیادہ ثابت شدہ بنادیا جائے۔

المؤمنون 23:73

پیغمبر اپنے مخاطبین سے کبھی مالی غرض نہیں رکھتا۔ پیغمبر اور اس کے مخاطبین کا تعلق داعی اور مدعو کا تعلق ہوتا ہے۔ داعی اور مدعو کا تعلق بے حد نازک تعلق ہے۔ داعی اگر ایک طرف لوگوں کو آخرت کا پیغام دے اور اسی کے ساتھ وہ ان سے دنیا کے مطالبات بھی چھیڑے ہوئے ہو تو اس کی دعوت لوگوں کی نظر میں مذاق بن کررہ جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر کسی بھی حال میں اپنے مدعو سے کوئی مادی مطالبہ نہیں کرتا، خواہ اس کی وجہ سے اس کو یک طرفہ طور پر ہر قسم کا نقصان برداشت کرنا پڑے۔ داعی کا اصل معاوضہ خود وہ حق ہوتا ہے جس کو لے کر وہ کھڑا ہوا ہے۔ خدا کی دریافت اس کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتی ہے۔ داعیانہ زندگی گزارنے کے نتیجہ میں اس کو جو ربانی تجربات ہوتے ہیں وہ اس کی روح کو سب سے بڑی غذا فراہم کرتے ہیں۔ اعلیٰ ترین مقصد کے ليے سرگرم رہنے سے جو لذت ملتی ہے وہ اس کی تسکین كا سب سے بڑا سامان ہوتی ہے۔ حق کی دعوت کو وہی شخص مانے گا جس کو آخرت کا کھٹکا لگا ہوا ہو۔ آخرت کا احساس آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے اور سنجیدگی ہی وہ چیز ہے جو آدمی کو مجبور کرتی ہے کہ وہ حقیقت کو مانے۔ جو شخص سنجیدہ نہ ہو وہ کبھی حقیقت کو تسلیم نہیں کرے گا، خواہ اس کو دلائل سے کتنا ہی زیادہ ثابت شدہ بنادیا جائے۔

المؤمنون 23:74

پیغمبر اپنے مخاطبین سے کبھی مالی غرض نہیں رکھتا۔ پیغمبر اور اس کے مخاطبین کا تعلق داعی اور مدعو کا تعلق ہوتا ہے۔ داعی اور مدعو کا تعلق بے حد نازک تعلق ہے۔ داعی اگر ایک طرف لوگوں کو آخرت کا پیغام دے اور اسی کے ساتھ وہ ان سے دنیا کے مطالبات بھی چھیڑے ہوئے ہو تو اس کی دعوت لوگوں کی نظر میں مذاق بن کررہ جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر کسی بھی حال میں اپنے مدعو سے کوئی مادی مطالبہ نہیں کرتا، خواہ اس کی وجہ سے اس کو یک طرفہ طور پر ہر قسم کا نقصان برداشت کرنا پڑے۔ داعی کا اصل معاوضہ خود وہ حق ہوتا ہے جس کو لے کر وہ کھڑا ہوا ہے۔ خدا کی دریافت اس کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتی ہے۔ داعیانہ زندگی گزارنے کے نتیجہ میں اس کو جو ربانی تجربات ہوتے ہیں وہ اس کی روح کو سب سے بڑی غذا فراہم کرتے ہیں۔ اعلیٰ ترین مقصد کے ليے سرگرم رہنے سے جو لذت ملتی ہے وہ اس کی تسکین كا سب سے بڑا سامان ہوتی ہے۔ حق کی دعوت کو وہی شخص مانے گا جس کو آخرت کا کھٹکا لگا ہوا ہو۔ آخرت کا احساس آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے اور سنجیدگی ہی وہ چیز ہے جو آدمی کو مجبور کرتی ہے کہ وہ حقیقت کو مانے۔ جو شخص سنجیدہ نہ ہو وہ کبھی حقیقت کو تسلیم نہیں کرے گا، خواہ اس کو دلائل سے کتنا ہی زیادہ ثابت شدہ بنادیا جائے۔

المؤمنون 23:75

مکی دور میں جب قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کورد کردیا تو اللہ تعالیٰ نے چند سال کے ليے مکہ والوں کو قحط میں مبتلا کردیا۔ یہ قحط اتنا شدید تھا کہ بہت سے لوگ مردار کھانے پر مجبور ہوگئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک عام سنت ہے کہ جب کوئی گروہی سرکشی اختیار کرتا ہے اور نصیحت قبول کرنے پر تیارنہیںہوتا تو وہ اس گروہ پر تنبیہی عذاب بھیجتا ہے تاکہ ان کے دل نرم ہوں اور وہ حق بات کی طرف دھیان دے سکیں۔ مگر تاریخ کا تجربہ ہے کہ انسان نہ اچھے حالات سے سبق لیتا هے اور نہ برے حالات سے۔ دونوں قسم کے حالات کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آدمی اللہ کی طرف رجوع کرے۔ مگر انسان یہ کرتا ہے کہ وہ اچھے حالات کو اپنی تدبیر کا نتیجہ سمجھ لیتاہے اور برے حالات کو زمانہ کے الٹ پھیر کا۔ اس طرح وہ دونوں ہی قسم کے واقعات سے سبق لینے سے محروم رہتا ہے۔ آدمی اسی طرح غفلت میں پڑا رہتا ہے يہاں تک کہ خدا کا آخری فیصلہ آجاتا ہے۔ اس وقت وہ حیران رہ جاتا ہے کہ وہ چیز جس کو اس نے غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیا تھا وہی اس دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے اہم حقیقت تھی۔

المؤمنون 23:76

مکی دور میں جب قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کورد کردیا تو اللہ تعالیٰ نے چند سال کے ليے مکہ والوں کو قحط میں مبتلا کردیا۔ یہ قحط اتنا شدید تھا کہ بہت سے لوگ مردار کھانے پر مجبور ہوگئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک عام سنت ہے کہ جب کوئی گروہی سرکشی اختیار کرتا ہے اور نصیحت قبول کرنے پر تیارنہیںہوتا تو وہ اس گروہ پر تنبیہی عذاب بھیجتا ہے تاکہ ان کے دل نرم ہوں اور وہ حق بات کی طرف دھیان دے سکیں۔ مگر تاریخ کا تجربہ ہے کہ انسان نہ اچھے حالات سے سبق لیتا هے اور نہ برے حالات سے۔ دونوں قسم کے حالات کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آدمی اللہ کی طرف رجوع کرے۔ مگر انسان یہ کرتا ہے کہ وہ اچھے حالات کو اپنی تدبیر کا نتیجہ سمجھ لیتاہے اور برے حالات کو زمانہ کے الٹ پھیر کا۔ اس طرح وہ دونوں ہی قسم کے واقعات سے سبق لینے سے محروم رہتا ہے۔ آدمی اسی طرح غفلت میں پڑا رہتا ہے يہاں تک کہ خدا کا آخری فیصلہ آجاتا ہے۔ اس وقت وہ حیران رہ جاتا ہے کہ وہ چیز جس کو اس نے غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیا تھا وہی اس دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے اہم حقیقت تھی۔

المؤمنون 23:77

مکی دور میں جب قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کورد کردیا تو اللہ تعالیٰ نے چند سال کے ليے مکہ والوں کو قحط میں مبتلا کردیا۔ یہ قحط اتنا شدید تھا کہ بہت سے لوگ مردار کھانے پر مجبور ہوگئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک عام سنت ہے کہ جب کوئی گروہی سرکشی اختیار کرتا ہے اور نصیحت قبول کرنے پر تیارنہیںہوتا تو وہ اس گروہ پر تنبیہی عذاب بھیجتا ہے تاکہ ان کے دل نرم ہوں اور وہ حق بات کی طرف دھیان دے سکیں۔ مگر تاریخ کا تجربہ ہے کہ انسان نہ اچھے حالات سے سبق لیتا هے اور نہ برے حالات سے۔ دونوں قسم کے حالات کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آدمی اللہ کی طرف رجوع کرے۔ مگر انسان یہ کرتا ہے کہ وہ اچھے حالات کو اپنی تدبیر کا نتیجہ سمجھ لیتاہے اور برے حالات کو زمانہ کے الٹ پھیر کا۔ اس طرح وہ دونوں ہی قسم کے واقعات سے سبق لینے سے محروم رہتا ہے۔ آدمی اسی طرح غفلت میں پڑا رہتا ہے يہاں تک کہ خدا کا آخری فیصلہ آجاتا ہے۔ اس وقت وہ حیران رہ جاتا ہے کہ وہ چیز جس کو اس نے غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیا تھا وہی اس دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے اہم حقیقت تھی۔

المؤمنون 23:78

انسان اس کائنات کی وہ خاص مخلوق ہے جس کو استثنائی طورپر سننے اور دیکھنے او ر سوچنے کی اعلیٰ صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ یہ خصوصی صلاحیتیں یقیناً کسی خصوصی مقصد کے ليے ہیں۔ وہ مقصد یہ ہے کہ آدمی ان کو حقیقتِ حیات کی معرفت کے ليے استعمال کرے۔ وہ اپنے کان سے اس صداقت کی آواز کو سنے جس کا اعلان یہاں کیا جارہا ہے۔ وہ اپنی آنکھ سے ان نشانیوں کو دیکھے جو اس کے چاروں طرف بکھری ہوئی ہیں۔ وہ اپنی سوچنے کی صلاحیت کو استعمال کرکے ان کی گہرائی تک پہنچے۔ یہی کان اور آنکھ اور دل کا شکر ہے۔ جو لوگ موجودہ دنیا میں اس شکر کا ثبوت نہ دیں وہ ان انعامات کا استحقاق ہمیشہ کے ليے کھورہے ہیں۔ خدا کی جو صفات دنیا میں نمایاں ہورہی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ زندہ کو مُردہ اور مُردہ کو زندہ کرتا ہے۔ یہ خدا بالآخر تمام مَرے ہوئے لوگوں کو دوبارہ جمع کرے گا۔ پھر جس طرح وہ رات کو دن بناتا ہے اسی طرح وہ لوگوں کی نگاہوں سے غفلت کا پردہ ہٹادے گا۔ اس کے بعد اشیاء کی حقیقت لوگوں پر ٹھیک ٹھیک منکشف ہوجائے گی۔

المؤمنون 23:79

انسان اس کائنات کی وہ خاص مخلوق ہے جس کو استثنائی طورپر سننے اور دیکھنے او ر سوچنے کی اعلیٰ صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ یہ خصوصی صلاحیتیں یقیناً کسی خصوصی مقصد کے ليے ہیں۔ وہ مقصد یہ ہے کہ آدمی ان کو حقیقتِ حیات کی معرفت کے ليے استعمال کرے۔ وہ اپنے کان سے اس صداقت کی آواز کو سنے جس کا اعلان یہاں کیا جارہا ہے۔ وہ اپنی آنکھ سے ان نشانیوں کو دیکھے جو اس کے چاروں طرف بکھری ہوئی ہیں۔ وہ اپنی سوچنے کی صلاحیت کو استعمال کرکے ان کی گہرائی تک پہنچے۔ یہی کان اور آنکھ اور دل کا شکر ہے۔ جو لوگ موجودہ دنیا میں اس شکر کا ثبوت نہ دیں وہ ان انعامات کا استحقاق ہمیشہ کے ليے کھورہے ہیں۔ خدا کی جو صفات دنیا میں نمایاں ہورہی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ زندہ کو مُردہ اور مُردہ کو زندہ کرتا ہے۔ یہ خدا بالآخر تمام مَرے ہوئے لوگوں کو دوبارہ جمع کرے گا۔ پھر جس طرح وہ رات کو دن بناتا ہے اسی طرح وہ لوگوں کی نگاہوں سے غفلت کا پردہ ہٹادے گا۔ اس کے بعد اشیاء کی حقیقت لوگوں پر ٹھیک ٹھیک منکشف ہوجائے گی۔

المؤمنون 23:80

انسان اس کائنات کی وہ خاص مخلوق ہے جس کو استثنائی طورپر سننے اور دیکھنے او ر سوچنے کی اعلیٰ صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ یہ خصوصی صلاحیتیں یقیناً کسی خصوصی مقصد کے ليے ہیں۔ وہ مقصد یہ ہے کہ آدمی ان کو حقیقتِ حیات کی معرفت کے ليے استعمال کرے۔ وہ اپنے کان سے اس صداقت کی آواز کو سنے جس کا اعلان یہاں کیا جارہا ہے۔ وہ اپنی آنکھ سے ان نشانیوں کو دیکھے جو اس کے چاروں طرف بکھری ہوئی ہیں۔ وہ اپنی سوچنے کی صلاحیت کو استعمال کرکے ان کی گہرائی تک پہنچے۔ یہی کان اور آنکھ اور دل کا شکر ہے۔ جو لوگ موجودہ دنیا میں اس شکر کا ثبوت نہ دیں وہ ان انعامات کا استحقاق ہمیشہ کے ليے کھورہے ہیں۔ خدا کی جو صفات دنیا میں نمایاں ہورہی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ زندہ کو مُردہ اور مُردہ کو زندہ کرتا ہے۔ یہ خدا بالآخر تمام مَرے ہوئے لوگوں کو دوبارہ جمع کرے گا۔ پھر جس طرح وہ رات کو دن بناتا ہے اسی طرح وہ لوگوں کی نگاہوں سے غفلت کا پردہ ہٹادے گا۔ اس کے بعد اشیاء کی حقیقت لوگوں پر ٹھیک ٹھیک منکشف ہوجائے گی۔

المؤمنون 23:81

انسان کو عقل دی گئی ہے۔ عقل کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ معاملات کی گہرائی میں داخل ہو اور اصل حقیقت کو دریافت کرکے اس کو سمجھ سکے۔ مگر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ انسان حقیقی معنوں میں اپنی عقل کو استعمال کرے۔ وہ بس ظاہری تأثر کے تحت ایک رائے قائم کرلیتا ہے اور اس کو دہرانے لگتا ہے۔ ماضی کے لوگ بھی ایسا کرتے رہے اور حال کے لوگ بھی یہی کررہے ہیں۔ موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا شعوری یا لفظی انکار کرنے والے بہت کم ہوتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو اس عقیدے کا عملی منکر کہاجاسکتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو رسمی طورپر زندگی بعد موت کو مانتے ہوئے عملاً ایسی زندگی گزارتے ہیں جیسے کہ انھیں اس پر یقین نہ ہو کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اور جس طرح آج وہ ہوش وحواس کے ساتھ زندہ ہیں، اسی طرح دوبارہ ہوش وحواس اس کے ساتھ زندہ ہو کر خدا کے سامنے پیش ہوں گے۔

المؤمنون 23:82

انسان کو عقل دی گئی ہے۔ عقل کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ معاملات کی گہرائی میں داخل ہو اور اصل حقیقت کو دریافت کرکے اس کو سمجھ سکے۔ مگر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ انسان حقیقی معنوں میں اپنی عقل کو استعمال کرے۔ وہ بس ظاہری تأثر کے تحت ایک رائے قائم کرلیتا ہے اور اس کو دہرانے لگتا ہے۔ ماضی کے لوگ بھی ایسا کرتے رہے اور حال کے لوگ بھی یہی کررہے ہیں۔ موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا شعوری یا لفظی انکار کرنے والے بہت کم ہوتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو اس عقیدے کا عملی منکر کہاجاسکتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو رسمی طورپر زندگی بعد موت کو مانتے ہوئے عملاً ایسی زندگی گزارتے ہیں جیسے کہ انھیں اس پر یقین نہ ہو کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اور جس طرح آج وہ ہوش وحواس کے ساتھ زندہ ہیں، اسی طرح دوبارہ ہوش وحواس اس کے ساتھ زندہ ہو کر خدا کے سامنے پیش ہوں گے۔

المؤمنون 23:83

انسان کو عقل دی گئی ہے۔ عقل کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ معاملات کی گہرائی میں داخل ہو اور اصل حقیقت کو دریافت کرکے اس کو سمجھ سکے۔ مگر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ انسان حقیقی معنوں میں اپنی عقل کو استعمال کرے۔ وہ بس ظاہری تأثر کے تحت ایک رائے قائم کرلیتا ہے اور اس کو دہرانے لگتا ہے۔ ماضی کے لوگ بھی ایسا کرتے رہے اور حال کے لوگ بھی یہی کررہے ہیں۔ موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا شعوری یا لفظی انکار کرنے والے بہت کم ہوتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو اس عقیدے کا عملی منکر کہاجاسکتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو رسمی طورپر زندگی بعد موت کو مانتے ہوئے عملاً ایسی زندگی گزارتے ہیں جیسے کہ انھیں اس پر یقین نہ ہو کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اور جس طرح آج وہ ہوش وحواس کے ساتھ زندہ ہیں، اسی طرح دوبارہ ہوش وحواس اس کے ساتھ زندہ ہو کر خدا کے سامنے پیش ہوں گے۔

المؤمنون 23:84

ان آیات میں اس تضادِ فکر کا تذکرہ ہے جس میں ہر دور کے بیشتر لوگ مبتلا رہے ہیں۔ خواہ وہ مشرک ہوں یا غیر مشرک۔ بظاہر خدا کو ایک ماننے والے ہوں یا کئی ماننے والے۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ زمین وآسمان کا خالق ایک اللہ ہے۔ وہی اس کا مالک ہے۔ وہی اس کو چلا رہا ہے۔ تمام بر تر اختیارات اسی کو حاصل ہیں۔ مگر اس ماننے کا جو لازمی تقاضا ہے اس کا کوئی اثر ان کی زندگیوں میں نہیں پایا جاتا۔ اس عظیم اقرار کا تقاضا ہے کہ وہی ان کی سوچ بن جائے۔ خدا کا احساس ان کے اندر خوف بن کر داخل ہوجائے۔ ان کے اندر یہ مادہ پیدا ہو کہ ان کے سامنے حق آئے تو وہ فوراً اس کا اعتراف کرلیں۔ ان کی زندگی پوری کی پوری اسی میں ڈھل جائے۔ مگر یہ سب کچھ نہیں ہوتا۔ وہ اگرچہ عقیدہ کے طورپر خدا کو مانتے ہیں مگر ان کا عقیدۂ خدا الگ رہتا ہے اور ان کی حقیقی زندگی الگ۔ خدا کا تصور انسان کو مسحور نہیں کرتا۔ البتہ دوسری چیزیں اس کی نظر میں اتنی اہم بن جاتی ہیں جن سے وہ مسحور ہو کر رہ جائے۔ کیسا عجیب ہے انسان کا معاملہ۔

المؤمنون 23:85

ان آیات میں اس تضادِ فکر کا تذکرہ ہے جس میں ہر دور کے بیشتر لوگ مبتلا رہے ہیں۔ خواہ وہ مشرک ہوں یا غیر مشرک۔ بظاہر خدا کو ایک ماننے والے ہوں یا کئی ماننے والے۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ زمین وآسمان کا خالق ایک اللہ ہے۔ وہی اس کا مالک ہے۔ وہی اس کو چلا رہا ہے۔ تمام بر تر اختیارات اسی کو حاصل ہیں۔ مگر اس ماننے کا جو لازمی تقاضا ہے اس کا کوئی اثر ان کی زندگیوں میں نہیں پایا جاتا۔ اس عظیم اقرار کا تقاضا ہے کہ وہی ان کی سوچ بن جائے۔ خدا کا احساس ان کے اندر خوف بن کر داخل ہوجائے۔ ان کے اندر یہ مادہ پیدا ہو کہ ان کے سامنے حق آئے تو وہ فوراً اس کا اعتراف کرلیں۔ ان کی زندگی پوری کی پوری اسی میں ڈھل جائے۔ مگر یہ سب کچھ نہیں ہوتا۔ وہ اگرچہ عقیدہ کے طورپر خدا کو مانتے ہیں مگر ان کا عقیدۂ خدا الگ رہتا ہے اور ان کی حقیقی زندگی الگ۔ خدا کا تصور انسان کو مسحور نہیں کرتا۔ البتہ دوسری چیزیں اس کی نظر میں اتنی اہم بن جاتی ہیں جن سے وہ مسحور ہو کر رہ جائے۔ کیسا عجیب ہے انسان کا معاملہ۔

المؤمنون 23:86

ان آیات میں اس تضادِ فکر کا تذکرہ ہے جس میں ہر دور کے بیشتر لوگ مبتلا رہے ہیں۔ خواہ وہ مشرک ہوں یا غیر مشرک۔ بظاہر خدا کو ایک ماننے والے ہوں یا کئی ماننے والے۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ زمین وآسمان کا خالق ایک اللہ ہے۔ وہی اس کا مالک ہے۔ وہی اس کو چلا رہا ہے۔ تمام بر تر اختیارات اسی کو حاصل ہیں۔ مگر اس ماننے کا جو لازمی تقاضا ہے اس کا کوئی اثر ان کی زندگیوں میں نہیں پایا جاتا۔ اس عظیم اقرار کا تقاضا ہے کہ وہی ان کی سوچ بن جائے۔ خدا کا احساس ان کے اندر خوف بن کر داخل ہوجائے۔ ان کے اندر یہ مادہ پیدا ہو کہ ان کے سامنے حق آئے تو وہ فوراً اس کا اعتراف کرلیں۔ ان کی زندگی پوری کی پوری اسی میں ڈھل جائے۔ مگر یہ سب کچھ نہیں ہوتا۔ وہ اگرچہ عقیدہ کے طورپر خدا کو مانتے ہیں مگر ان کا عقیدۂ خدا الگ رہتا ہے اور ان کی حقیقی زندگی الگ۔ خدا کا تصور انسان کو مسحور نہیں کرتا۔ البتہ دوسری چیزیں اس کی نظر میں اتنی اہم بن جاتی ہیں جن سے وہ مسحور ہو کر رہ جائے۔ کیسا عجیب ہے انسان کا معاملہ۔

المؤمنون 23:87

ان آیات میں اس تضادِ فکر کا تذکرہ ہے جس میں ہر دور کے بیشتر لوگ مبتلا رہے ہیں۔ خواہ وہ مشرک ہوں یا غیر مشرک۔ بظاہر خدا کو ایک ماننے والے ہوں یا کئی ماننے والے۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ زمین وآسمان کا خالق ایک اللہ ہے۔ وہی اس کا مالک ہے۔ وہی اس کو چلا رہا ہے۔ تمام بر تر اختیارات اسی کو حاصل ہیں۔ مگر اس ماننے کا جو لازمی تقاضا ہے اس کا کوئی اثر ان کی زندگیوں میں نہیں پایا جاتا۔ اس عظیم اقرار کا تقاضا ہے کہ وہی ان کی سوچ بن جائے۔ خدا کا احساس ان کے اندر خوف بن کر داخل ہوجائے۔ ان کے اندر یہ مادہ پیدا ہو کہ ان کے سامنے حق آئے تو وہ فوراً اس کا اعتراف کرلیں۔ ان کی زندگی پوری کی پوری اسی میں ڈھل جائے۔ مگر یہ سب کچھ نہیں ہوتا۔ وہ اگرچہ عقیدہ کے طورپر خدا کو مانتے ہیں مگر ان کا عقیدۂ خدا الگ رہتا ہے اور ان کی حقیقی زندگی الگ۔ خدا کا تصور انسان کو مسحور نہیں کرتا۔ البتہ دوسری چیزیں اس کی نظر میں اتنی اہم بن جاتی ہیں جن سے وہ مسحور ہو کر رہ جائے۔ کیسا عجیب ہے انسان کا معاملہ۔

المؤمنون 23:88

ان آیات میں اس تضادِ فکر کا تذکرہ ہے جس میں ہر دور کے بیشتر لوگ مبتلا رہے ہیں۔ خواہ وہ مشرک ہوں یا غیر مشرک۔ بظاہر خدا کو ایک ماننے والے ہوں یا کئی ماننے والے۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ زمین وآسمان کا خالق ایک اللہ ہے۔ وہی اس کا مالک ہے۔ وہی اس کو چلا رہا ہے۔ تمام بر تر اختیارات اسی کو حاصل ہیں۔ مگر اس ماننے کا جو لازمی تقاضا ہے اس کا کوئی اثر ان کی زندگیوں میں نہیں پایا جاتا۔ اس عظیم اقرار کا تقاضا ہے کہ وہی ان کی سوچ بن جائے۔ خدا کا احساس ان کے اندر خوف بن کر داخل ہوجائے۔ ان کے اندر یہ مادہ پیدا ہو کہ ان کے سامنے حق آئے تو وہ فوراً اس کا اعتراف کرلیں۔ ان کی زندگی پوری کی پوری اسی میں ڈھل جائے۔ مگر یہ سب کچھ نہیں ہوتا۔ وہ اگرچہ عقیدہ کے طورپر خدا کو مانتے ہیں مگر ان کا عقیدۂ خدا الگ رہتا ہے اور ان کی حقیقی زندگی الگ۔ خدا کا تصور انسان کو مسحور نہیں کرتا۔ البتہ دوسری چیزیں اس کی نظر میں اتنی اہم بن جاتی ہیں جن سے وہ مسحور ہو کر رہ جائے۔ کیسا عجیب ہے انسان کا معاملہ۔

المؤمنون 23:89

ان آیات میں اس تضادِ فکر کا تذکرہ ہے جس میں ہر دور کے بیشتر لوگ مبتلا رہے ہیں۔ خواہ وہ مشرک ہوں یا غیر مشرک۔ بظاہر خدا کو ایک ماننے والے ہوں یا کئی ماننے والے۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ زمین وآسمان کا خالق ایک اللہ ہے۔ وہی اس کا مالک ہے۔ وہی اس کو چلا رہا ہے۔ تمام بر تر اختیارات اسی کو حاصل ہیں۔ مگر اس ماننے کا جو لازمی تقاضا ہے اس کا کوئی اثر ان کی زندگیوں میں نہیں پایا جاتا۔ اس عظیم اقرار کا تقاضا ہے کہ وہی ان کی سوچ بن جائے۔ خدا کا احساس ان کے اندر خوف بن کر داخل ہوجائے۔ ان کے اندر یہ مادہ پیدا ہو کہ ان کے سامنے حق آئے تو وہ فوراً اس کا اعتراف کرلیں۔ ان کی زندگی پوری کی پوری اسی میں ڈھل جائے۔ مگر یہ سب کچھ نہیں ہوتا۔ وہ اگرچہ عقیدہ کے طورپر خدا کو مانتے ہیں مگر ان کا عقیدۂ خدا الگ رہتا ہے اور ان کی حقیقی زندگی الگ۔ خدا کا تصور انسان کو مسحور نہیں کرتا۔ البتہ دوسری چیزیں اس کی نظر میں اتنی اہم بن جاتی ہیں جن سے وہ مسحور ہو کر رہ جائے۔ کیسا عجیب ہے انسان کا معاملہ۔

المؤمنون 23:90

اقتدار کی یہ فطرت ہے کہ وہ تقسیم کو گوارا نہیں کرتا۔ انسانوں میں جب بھی کئی صاحب اقتدار ہوں تو وہ آپس میں ایک دوسرے کو زیر کرنے یا نیچا دکھانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ حتی کہ جو قومیں مختلف دیوتاؤں کو مانتی ہیں ان کی میتھا لوجی میں کثرت سے دکھایا گیا ہے کہ ایک دیوتا اور دوسرے دیوتا میں لڑائیاں جاری ہیں۔ کائنات میں اس صورت حال کی موجود گی کہ اس کے ایک حصہ اور اس کے دوسرے حصہ میں کوئی ٹکراؤ نہیںہوتا، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہر حصہ کا خدا ایک ہی ہے۔ اگر ہر حصہ کے الگ الگ خداہوتے تو ہر حصہ کا خدا اپنے حصہ کو لے کر الگ ہوجاتا اور اس کے نتیجہ میں کائنات کے مختلف حصوں کی موجودہ ہم آہنگی باقی نہ رہتی۔ مختلف خداؤں کی کشاکش میں کائنات کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ایسی حالت میں توحید کا نظریہ سراپا سچائی ہے اور شرک کا نظریہ سراپا جھوٹ۔

المؤمنون 23:91

اقتدار کی یہ فطرت ہے کہ وہ تقسیم کو گوارا نہیں کرتا۔ انسانوں میں جب بھی کئی صاحب اقتدار ہوں تو وہ آپس میں ایک دوسرے کو زیر کرنے یا نیچا دکھانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ حتی کہ جو قومیں مختلف دیوتاؤں کو مانتی ہیں ان کی میتھا لوجی میں کثرت سے دکھایا گیا ہے کہ ایک دیوتا اور دوسرے دیوتا میں لڑائیاں جاری ہیں۔ کائنات میں اس صورت حال کی موجود گی کہ اس کے ایک حصہ اور اس کے دوسرے حصہ میں کوئی ٹکراؤ نہیںہوتا، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہر حصہ کا خدا ایک ہی ہے۔ اگر ہر حصہ کے الگ الگ خداہوتے تو ہر حصہ کا خدا اپنے حصہ کو لے کر الگ ہوجاتا اور اس کے نتیجہ میں کائنات کے مختلف حصوں کی موجودہ ہم آہنگی باقی نہ رہتی۔ مختلف خداؤں کی کشاکش میں کائنات کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ایسی حالت میں توحید کا نظریہ سراپا سچائی ہے اور شرک کا نظریہ سراپا جھوٹ۔

المؤمنون 23:92

اقتدار کی یہ فطرت ہے کہ وہ تقسیم کو گوارا نہیں کرتا۔ انسانوں میں جب بھی کئی صاحب اقتدار ہوں تو وہ آپس میں ایک دوسرے کو زیر کرنے یا نیچا دکھانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ حتی کہ جو قومیں مختلف دیوتاؤں کو مانتی ہیں ان کی میتھا لوجی میں کثرت سے دکھایا گیا ہے کہ ایک دیوتا اور دوسرے دیوتا میں لڑائیاں جاری ہیں۔ کائنات میں اس صورت حال کی موجود گی کہ اس کے ایک حصہ اور اس کے دوسرے حصہ میں کوئی ٹکراؤ نہیںہوتا، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہر حصہ کا خدا ایک ہی ہے۔ اگر ہر حصہ کے الگ الگ خداہوتے تو ہر حصہ کا خدا اپنے حصہ کو لے کر الگ ہوجاتا اور اس کے نتیجہ میں کائنات کے مختلف حصوں کی موجودہ ہم آہنگی باقی نہ رہتی۔ مختلف خداؤں کی کشاکش میں کائنات کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ایسی حالت میں توحید کا نظریہ سراپا سچائی ہے اور شرک کا نظریہ سراپا جھوٹ۔

المؤمنون 23:93

پیغمبر کی اس دعا کا تعلق خود پیغمبر کے دل کی کیفیت سے ہے، نہ کہ خدا کے عذاب سے۔ پیغمبر کی یہ دعا بتاتی ہے کہ مومن ہر حال میں خدا سے ڈرنے والا انسان ہوتا ہے۔ خدا کا عذاب جب دوسروں کے ليے آرہا ہو اس وقت بھی مومن کا دل کانپ اٹھتا ہے۔ وہ عاجزی کے ساتھ خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ انسان صرف خدا کی عنایت سے بچ سکتا ہے نہ کہ اپنے کسی عمل یا اپنی کسی طاقت سے۔ پیغمبر کے منکرین پر خدا کا فیصلہ کبھی پیغمبر کی زندگی میں آتا ہے اور کبھی پیغمبر کی وفات کے بعد۔ آیت کا آخری ٹکڑا بتاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین پر خدا کا یہ فیصلہ آپ کی زندگی ہی میں آیا۔ آپ کے دشمن آپ کی زندگی ہی میں پامال کردئے گئے۔

المؤمنون 23:94

پیغمبر کی اس دعا کا تعلق خود پیغمبر کے دل کی کیفیت سے ہے، نہ کہ خدا کے عذاب سے۔ پیغمبر کی یہ دعا بتاتی ہے کہ مومن ہر حال میں خدا سے ڈرنے والا انسان ہوتا ہے۔ خدا کا عذاب جب دوسروں کے ليے آرہا ہو اس وقت بھی مومن کا دل کانپ اٹھتا ہے۔ وہ عاجزی کے ساتھ خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ انسان صرف خدا کی عنایت سے بچ سکتا ہے نہ کہ اپنے کسی عمل یا اپنی کسی طاقت سے۔ پیغمبر کے منکرین پر خدا کا فیصلہ کبھی پیغمبر کی زندگی میں آتا ہے اور کبھی پیغمبر کی وفات کے بعد۔ آیت کا آخری ٹکڑا بتاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین پر خدا کا یہ فیصلہ آپ کی زندگی ہی میں آیا۔ آپ کے دشمن آپ کی زندگی ہی میں پامال کردئے گئے۔

المؤمنون 23:95

پیغمبر کی اس دعا کا تعلق خود پیغمبر کے دل کی کیفیت سے ہے، نہ کہ خدا کے عذاب سے۔ پیغمبر کی یہ دعا بتاتی ہے کہ مومن ہر حال میں خدا سے ڈرنے والا انسان ہوتا ہے۔ خدا کا عذاب جب دوسروں کے ليے آرہا ہو اس وقت بھی مومن کا دل کانپ اٹھتا ہے۔ وہ عاجزی کے ساتھ خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ انسان صرف خدا کی عنایت سے بچ سکتا ہے نہ کہ اپنے کسی عمل یا اپنی کسی طاقت سے۔ پیغمبر کے منکرین پر خدا کا فیصلہ کبھی پیغمبر کی زندگی میں آتا ہے اور کبھی پیغمبر کی وفات کے بعد۔ آیت کا آخری ٹکڑا بتاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین پر خدا کا یہ فیصلہ آپ کی زندگی ہی میں آیا۔ آپ کے دشمن آپ کی زندگی ہی میں پامال کردئے گئے۔

المؤمنون 23:96

خدا کا داعی جب لوگوں کو حق کی طرف بلاتا ہے تو اکثر ایسا ہوتاہے کہ لوگ اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔ وہ اس کے خلاف جھوٹے پروپيگنڈے کرتے ہیں۔ وہ اس کو اپنے شرکا نشانہ بناتے ہیں۔ اس وقت داعی کے اندر بھی جوابی ذہن ابھرتا ہے۔ اس کے دل میں یہ خیال آتاہے کہ جن لوگوں نے تمھارے ساتھ برا سلوک کیا ہے تم بھی ان کے ساتھ برا سلوک کرو۔ اگر تم خاموش رہے تو ان کے حوصلے بڑھیں گے اور وہ مزید مخالفانہ کارروائی کرنے کے ليے دلیر ہوجائیں گے۔ مگر اس قسم کے خیالات شیطان کا وسوسہ ہیں۔ شیطان اس نازک موقع پر آدمی کو بہکاتا ہے تاکہ اس کو راہ سے بے راہ کردے۔ ایسے موقع پر داعی اور مومن کو چاہيے کہ وہ شیطانی بہکاووں کے مقابلہ میں خدا کی پناہ مانگے نہ کہ شیطانی بہکاووں کو مان کر اپنے مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے لگے۔

المؤمنون 23:97

خدا کا داعی جب لوگوں کو حق کی طرف بلاتا ہے تو اکثر ایسا ہوتاہے کہ لوگ اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔ وہ اس کے خلاف جھوٹے پروپيگنڈے کرتے ہیں۔ وہ اس کو اپنے شرکا نشانہ بناتے ہیں۔ اس وقت داعی کے اندر بھی جوابی ذہن ابھرتا ہے۔ اس کے دل میں یہ خیال آتاہے کہ جن لوگوں نے تمھارے ساتھ برا سلوک کیا ہے تم بھی ان کے ساتھ برا سلوک کرو۔ اگر تم خاموش رہے تو ان کے حوصلے بڑھیں گے اور وہ مزید مخالفانہ کارروائی کرنے کے ليے دلیر ہوجائیں گے۔ مگر اس قسم کے خیالات شیطان کا وسوسہ ہیں۔ شیطان اس نازک موقع پر آدمی کو بہکاتا ہے تاکہ اس کو راہ سے بے راہ کردے۔ ایسے موقع پر داعی اور مومن کو چاہيے کہ وہ شیطانی بہکاووں کے مقابلہ میں خدا کی پناہ مانگے نہ کہ شیطانی بہکاووں کو مان کر اپنے مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے لگے۔

المؤمنون 23:98

خدا کا داعی جب لوگوں کو حق کی طرف بلاتا ہے تو اکثر ایسا ہوتاہے کہ لوگ اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔ وہ اس کے خلاف جھوٹے پروپيگنڈے کرتے ہیں۔ وہ اس کو اپنے شرکا نشانہ بناتے ہیں۔ اس وقت داعی کے اندر بھی جوابی ذہن ابھرتا ہے۔ اس کے دل میں یہ خیال آتاہے کہ جن لوگوں نے تمھارے ساتھ برا سلوک کیا ہے تم بھی ان کے ساتھ برا سلوک کرو۔ اگر تم خاموش رہے تو ان کے حوصلے بڑھیں گے اور وہ مزید مخالفانہ کارروائی کرنے کے ليے دلیر ہوجائیں گے۔ مگر اس قسم کے خیالات شیطان کا وسوسہ ہیں۔ شیطان اس نازک موقع پر آدمی کو بہکاتا ہے تاکہ اس کو راہ سے بے راہ کردے۔ ایسے موقع پر داعی اور مومن کو چاہيے کہ وہ شیطانی بہکاووں کے مقابلہ میں خدا کی پناہ مانگے نہ کہ شیطانی بہکاووں کو مان کر اپنے مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے لگے۔

المؤمنون 23:99

آخرت کے مناظر آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد کسی کویہ موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ دوبارہ موجودہ دنیا میں آکر رہے اور صحیح عمل کا ثبوت دے۔ کیوں کہ دنیا کی زندگی کا مقصد امتحان ہے— اس بات کا امتحان کہ آدمی دیکھے بغیر جھکتا ہے یا نہیں۔ جب آخرت کا مشاہدہ کرادیا جائے تو اس کے بعد نہ جھکنے کی کوئی قیمت ہے اور نہ واپس بھیجنے کا کوئی امکان۔ آدمی کا امتحان دیکھ کر ماننے میں نہیں ہے بلکہ سوچ کر ماننے میں ہے۔ طالب علم کی جانچ پرچہ آؤٹ ہونے سے پہلے کی جاتی ہے۔ جب پرچہ آؤٹ ہو کر اخباروں میں چھپ چکا ہو، اس کے بعد کسی طالب علم کی جانچ کرنے کا کوئی سوال نہیں۔

المؤمنون 23:100

آخرت کے مناظر آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد کسی کویہ موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ دوبارہ موجودہ دنیا میں آکر رہے اور صحیح عمل کا ثبوت دے۔ کیوں کہ دنیا کی زندگی کا مقصد امتحان ہے— اس بات کا امتحان کہ آدمی دیکھے بغیر جھکتا ہے یا نہیں۔ جب آخرت کا مشاہدہ کرادیا جائے تو اس کے بعد نہ جھکنے کی کوئی قیمت ہے اور نہ واپس بھیجنے کا کوئی امکان۔ آدمی کا امتحان دیکھ کر ماننے میں نہیں ہے بلکہ سوچ کر ماننے میں ہے۔ طالب علم کی جانچ پرچہ آؤٹ ہونے سے پہلے کی جاتی ہے۔ جب پرچہ آؤٹ ہو کر اخباروں میں چھپ چکا ہو، اس کے بعد کسی طالب علم کی جانچ کرنے کا کوئی سوال نہیں۔

المؤمنون 23:101

آخرت کے مناظر آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد کسی کویہ موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ دوبارہ موجودہ دنیا میں آکر رہے اور صحیح عمل کا ثبوت دے۔ کیوں کہ دنیا کی زندگی کا مقصد امتحان ہے— اس بات کا امتحان کہ آدمی دیکھے بغیر جھکتا ہے یا نہیں۔ جب آخرت کا مشاہدہ کرادیا جائے تو اس کے بعد نہ جھکنے کی کوئی قیمت ہے اور نہ واپس بھیجنے کا کوئی امکان۔ آدمی کا امتحان دیکھ کر ماننے میں نہیں ہے بلکہ سوچ کر ماننے میں ہے۔ طالب علم کی جانچ پرچہ آؤٹ ہونے سے پہلے کی جاتی ہے۔ جب پرچہ آؤٹ ہو کر اخباروں میں چھپ چکا ہو، اس کے بعد کسی طالب علم کی جانچ کرنے کا کوئی سوال نہیں۔

المؤمنون 23:102

آخرت کے مناظر آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد کسی کویہ موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ دوبارہ موجودہ دنیا میں آکر رہے اور صحیح عمل کا ثبوت دے۔ کیوں کہ دنیا کی زندگی کا مقصد امتحان ہے— اس بات کا امتحان کہ آدمی دیکھے بغیر جھکتا ہے یا نہیں۔ جب آخرت کا مشاہدہ کرادیا جائے تو اس کے بعد نہ جھکنے کی کوئی قیمت ہے اور نہ واپس بھیجنے کا کوئی امکان۔ آدمی کا امتحان دیکھ کر ماننے میں نہیں ہے بلکہ سوچ کر ماننے میں ہے۔ طالب علم کی جانچ پرچہ آؤٹ ہونے سے پہلے کی جاتی ہے۔ جب پرچہ آؤٹ ہو کر اخباروں میں چھپ چکا ہو، اس کے بعد کسی طالب علم کی جانچ کرنے کا کوئی سوال نہیں۔

المؤمنون 23:103

آخرت کے مناظر آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد کسی کویہ موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ دوبارہ موجودہ دنیا میں آکر رہے اور صحیح عمل کا ثبوت دے۔ کیوں کہ دنیا کی زندگی کا مقصد امتحان ہے— اس بات کا امتحان کہ آدمی دیکھے بغیر جھکتا ہے یا نہیں۔ جب آخرت کا مشاہدہ کرادیا جائے تو اس کے بعد نہ جھکنے کی کوئی قیمت ہے اور نہ واپس بھیجنے کا کوئی امکان۔ آدمی کا امتحان دیکھ کر ماننے میں نہیں ہے بلکہ سوچ کر ماننے میں ہے۔ طالب علم کی جانچ پرچہ آؤٹ ہونے سے پہلے کی جاتی ہے۔ جب پرچہ آؤٹ ہو کر اخباروں میں چھپ چکا ہو، اس کے بعد کسی طالب علم کی جانچ کرنے کا کوئی سوال نہیں۔

المؤمنون 23:104

آخرت کے مناظر آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد کسی کویہ موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ دوبارہ موجودہ دنیا میں آکر رہے اور صحیح عمل کا ثبوت دے۔ کیوں کہ دنیا کی زندگی کا مقصد امتحان ہے— اس بات کا امتحان کہ آدمی دیکھے بغیر جھکتا ہے یا نہیں۔ جب آخرت کا مشاہدہ کرادیا جائے تو اس کے بعد نہ جھکنے کی کوئی قیمت ہے اور نہ واپس بھیجنے کا کوئی امکان۔ آدمی کا امتحان دیکھ کر ماننے میں نہیں ہے بلکہ سوچ کر ماننے میں ہے۔ طالب علم کی جانچ پرچہ آؤٹ ہونے سے پہلے کی جاتی ہے۔ جب پرچہ آؤٹ ہو کر اخباروں میں چھپ چکا ہو، اس کے بعد کسی طالب علم کی جانچ کرنے کا کوئی سوال نہیں۔

المؤمنون 23:105

آخرت کے مناظر آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد کسی کویہ موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ دوبارہ موجودہ دنیا میں آکر رہے اور صحیح عمل کا ثبوت دے۔ کیوں کہ دنیا کی زندگی کا مقصد امتحان ہے— اس بات کا امتحان کہ آدمی دیکھے بغیر جھکتا ہے یا نہیں۔ جب آخرت کا مشاہدہ کرادیا جائے تو اس کے بعد نہ جھکنے کی کوئی قیمت ہے اور نہ واپس بھیجنے کا کوئی امکان۔ آدمی کا امتحان دیکھ کر ماننے میں نہیں ہے بلکہ سوچ کر ماننے میں ہے۔ طالب علم کی جانچ پرچہ آؤٹ ہونے سے پہلے کی جاتی ہے۔ جب پرچہ آؤٹ ہو کر اخباروں میں چھپ چکا ہو، اس کے بعد کسی طالب علم کی جانچ کرنے کا کوئی سوال نہیں۔

المؤمنون 23:106

آخرت کے مناظر آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد کسی کویہ موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ دوبارہ موجودہ دنیا میں آکر رہے اور صحیح عمل کا ثبوت دے۔ کیوں کہ دنیا کی زندگی کا مقصد امتحان ہے— اس بات کا امتحان کہ آدمی دیکھے بغیر جھکتا ہے یا نہیں۔ جب آخرت کا مشاہدہ کرادیا جائے تو اس کے بعد نہ جھکنے کی کوئی قیمت ہے اور نہ واپس بھیجنے کا کوئی امکان۔ آدمی کا امتحان دیکھ کر ماننے میں نہیں ہے بلکہ سوچ کر ماننے میں ہے۔ طالب علم کی جانچ پرچہ آؤٹ ہونے سے پہلے کی جاتی ہے۔ جب پرچہ آؤٹ ہو کر اخباروں میں چھپ چکا ہو، اس کے بعد کسی طالب علم کی جانچ کرنے کا کوئی سوال نہیں۔

المؤمنون 23:107

آخرت کے مناظر آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد کسی کویہ موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ دوبارہ موجودہ دنیا میں آکر رہے اور صحیح عمل کا ثبوت دے۔ کیوں کہ دنیا کی زندگی کا مقصد امتحان ہے— اس بات کا امتحان کہ آدمی دیکھے بغیر جھکتا ہے یا نہیں۔ جب آخرت کا مشاہدہ کرادیا جائے تو اس کے بعد نہ جھکنے کی کوئی قیمت ہے اور نہ واپس بھیجنے کا کوئی امکان۔ آدمی کا امتحان دیکھ کر ماننے میں نہیں ہے بلکہ سوچ کر ماننے میں ہے۔ طالب علم کی جانچ پرچہ آؤٹ ہونے سے پہلے کی جاتی ہے۔ جب پرچہ آؤٹ ہو کر اخباروں میں چھپ چکا ہو، اس کے بعد کسی طالب علم کی جانچ کرنے کا کوئی سوال نہیں۔

المؤمنون 23:108

آخرت کے مناظر آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد کسی کویہ موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ دوبارہ موجودہ دنیا میں آکر رہے اور صحیح عمل کا ثبوت دے۔ کیوں کہ دنیا کی زندگی کا مقصد امتحان ہے— اس بات کا امتحان کہ آدمی دیکھے بغیر جھکتا ہے یا نہیں۔ جب آخرت کا مشاہدہ کرادیا جائے تو اس کے بعد نہ جھکنے کی کوئی قیمت ہے اور نہ واپس بھیجنے کا کوئی امکان۔ آدمی کا امتحان دیکھ کر ماننے میں نہیں ہے بلکہ سوچ کر ماننے میں ہے۔ طالب علم کی جانچ پرچہ آؤٹ ہونے سے پہلے کی جاتی ہے۔ جب پرچہ آؤٹ ہو کر اخباروں میں چھپ چکا ہو، اس کے بعد کسی طالب علم کی جانچ کرنے کا کوئی سوال نہیں۔

المؤمنون 23:109

دنیا کی زندگی میں جب کہ ابھی آخرت کے حقائق آنکھوں کے سامنے نہیں آئے تھے۔ اس وقت خدا کے کچھ بندوں نے خدا کو اس کے جلال وکمال کے ساتھ پہچانا۔ ان کے سامنے حق کی دعوت مجرد دلائل کی سطح پر آئی۔ اس کے باوجود انھوں نے اس پر یقین کیا۔وہ اس کے بارے میں اس حد تک سنجیدہ ہوئے کہ اسی کو اپنی کامیابی اور ناکامی کا معیار بنا لیا۔ ایک اجنبی حق کے ساتھ اپنی کامل وابستگی کی انھیں یہ قیمت دینی پڑی کہ ماحول میں وہ مذاق کا موضوع بن گئے۔ اس کے باوجود انھوں نے اس سے اپنی وابستگی کو ختم نہیں کیا۔ یہ فکری استقامت ہی سب سے بڑا صبر ہے اور آخرت کا انعام آدمی کو اسی صبر کی قیمت میں ملتا ہے۔ وہی لوگ در اصل کامیاب ہیں جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اس صبر کا ثبوت دے سکیں۔

المؤمنون 23:110

دنیا کی زندگی میں جب کہ ابھی آخرت کے حقائق آنکھوں کے سامنے نہیں آئے تھے۔ اس وقت خدا کے کچھ بندوں نے خدا کو اس کے جلال وکمال کے ساتھ پہچانا۔ ان کے سامنے حق کی دعوت مجرد دلائل کی سطح پر آئی۔ اس کے باوجود انھوں نے اس پر یقین کیا۔وہ اس کے بارے میں اس حد تک سنجیدہ ہوئے کہ اسی کو اپنی کامیابی اور ناکامی کا معیار بنا لیا۔ ایک اجنبی حق کے ساتھ اپنی کامل وابستگی کی انھیں یہ قیمت دینی پڑی کہ ماحول میں وہ مذاق کا موضوع بن گئے۔ اس کے باوجود انھوں نے اس سے اپنی وابستگی کو ختم نہیں کیا۔ یہ فکری استقامت ہی سب سے بڑا صبر ہے اور آخرت کا انعام آدمی کو اسی صبر کی قیمت میں ملتا ہے۔ وہی لوگ در اصل کامیاب ہیں جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اس صبر کا ثبوت دے سکیں۔

المؤمنون 23:111

دنیا کی زندگی میں جب کہ ابھی آخرت کے حقائق آنکھوں کے سامنے نہیں آئے تھے۔ اس وقت خدا کے کچھ بندوں نے خدا کو اس کے جلال وکمال کے ساتھ پہچانا۔ ان کے سامنے حق کی دعوت مجرد دلائل کی سطح پر آئی۔ اس کے باوجود انھوں نے اس پر یقین کیا۔وہ اس کے بارے میں اس حد تک سنجیدہ ہوئے کہ اسی کو اپنی کامیابی اور ناکامی کا معیار بنا لیا۔ ایک اجنبی حق کے ساتھ اپنی کامل وابستگی کی انھیں یہ قیمت دینی پڑی کہ ماحول میں وہ مذاق کا موضوع بن گئے۔ اس کے باوجود انھوں نے اس سے اپنی وابستگی کو ختم نہیں کیا۔ یہ فکری استقامت ہی سب سے بڑا صبر ہے اور آخرت کا انعام آدمی کو اسی صبر کی قیمت میں ملتا ہے۔ وہی لوگ در اصل کامیاب ہیں جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اس صبر کا ثبوت دے سکیں۔

المؤمنون 23:112

عیش وہی ہے جو ابدی ہو۔ جو عیش ابدی نہ ہو وہ جب ختم ہوتا ہے تو ایسامعلوم ہوتا ہے کہ وہ بس ایک لمحہ تھا جو آیا اور گزر گیا۔ دنیا کی زندگی میں آدمی اس حقیقت کو بھولا رہتاہے۔ مگر آخرت میں یہ حقیقت اس پر آخری حد تک کھل جائے گی۔ اس وقت وہ جانے گا۔ مگر اس وقت جاننے کا کوئی فائدہ نہیں۔ دنیا میں آدمی کے سامنے حق آتاہے مگر وہ اپنے سکون کو برہم کرنا نہیں چاہتا اس ليے وہ اس کو قبول نہیںکرتا۔ وہ ملنے والے فائدے کی خاطر ملے ہوئے فائدہ کو چھوڑنے کے ليے تیار نہیںہوتا۔ یہاں کی عزت، یہاں کا آرام، یہاں کی مصلحتیں اس کو اتنی قیمتی معلوم ہوتی ہیں کہ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس طرح ایسا کرے کہ ’’چیز‘‘ کو نظر انداز کرکے اپنے آپ کو ’’بے چیز‘‘ سے وابستہ کرلے۔ حالاں کہ جب عمر کی مہلت پوری ہوگی تو سو سال بھی ایسا معلوم ہوگا جیسے کہ وہ بس ایک دن تھا جو آیا اور ختم ہوگیا۔

المؤمنون 23:113

عیش وہی ہے جو ابدی ہو۔ جو عیش ابدی نہ ہو وہ جب ختم ہوتا ہے تو ایسامعلوم ہوتا ہے کہ وہ بس ایک لمحہ تھا جو آیا اور گزر گیا۔ دنیا کی زندگی میں آدمی اس حقیقت کو بھولا رہتاہے۔ مگر آخرت میں یہ حقیقت اس پر آخری حد تک کھل جائے گی۔ اس وقت وہ جانے گا۔ مگر اس وقت جاننے کا کوئی فائدہ نہیں۔ دنیا میں آدمی کے سامنے حق آتاہے مگر وہ اپنے سکون کو برہم کرنا نہیں چاہتا اس ليے وہ اس کو قبول نہیںکرتا۔ وہ ملنے والے فائدے کی خاطر ملے ہوئے فائدہ کو چھوڑنے کے ليے تیار نہیںہوتا۔ یہاں کی عزت، یہاں کا آرام، یہاں کی مصلحتیں اس کو اتنی قیمتی معلوم ہوتی ہیں کہ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس طرح ایسا کرے کہ ’’چیز‘‘ کو نظر انداز کرکے اپنے آپ کو ’’بے چیز‘‘ سے وابستہ کرلے۔ حالاں کہ جب عمر کی مہلت پوری ہوگی تو سو سال بھی ایسا معلوم ہوگا جیسے کہ وہ بس ایک دن تھا جو آیا اور ختم ہوگیا۔

المؤمنون 23:114

عیش وہی ہے جو ابدی ہو۔ جو عیش ابدی نہ ہو وہ جب ختم ہوتا ہے تو ایسامعلوم ہوتا ہے کہ وہ بس ایک لمحہ تھا جو آیا اور گزر گیا۔ دنیا کی زندگی میں آدمی اس حقیقت کو بھولا رہتاہے۔ مگر آخرت میں یہ حقیقت اس پر آخری حد تک کھل جائے گی۔ اس وقت وہ جانے گا۔ مگر اس وقت جاننے کا کوئی فائدہ نہیں۔ دنیا میں آدمی کے سامنے حق آتاہے مگر وہ اپنے سکون کو برہم کرنا نہیں چاہتا اس ليے وہ اس کو قبول نہیںکرتا۔ وہ ملنے والے فائدے کی خاطر ملے ہوئے فائدہ کو چھوڑنے کے ليے تیار نہیںہوتا۔ یہاں کی عزت، یہاں کا آرام، یہاں کی مصلحتیں اس کو اتنی قیمتی معلوم ہوتی ہیں کہ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس طرح ایسا کرے کہ ’’چیز‘‘ کو نظر انداز کرکے اپنے آپ کو ’’بے چیز‘‘ سے وابستہ کرلے۔ حالاں کہ جب عمر کی مہلت پوری ہوگی تو سو سال بھی ایسا معلوم ہوگا جیسے کہ وہ بس ایک دن تھا جو آیا اور ختم ہوگیا۔

المؤمنون 23:115

انسانوں میں دو قسم کے انسان ہیں۔ کوئی انسان با اصول زندگی گزارتا ہے۔ اورکوئی بے اصول۔ کوئی اَن دیکھی صداقت کے ليے اپنے آپ کو قربان کردیتاہے اور کوئی صرف دکھائی دینے والی چیزوں میں مشغول رہتا ہے۔ کوئی حق کی دعوت کو اس کی ساری اجنبیت کے باوجود قبول کرتا ہے۔ اور کوئی اس کو نظر انداز کردیتا ہے اور اس کا مذاق اڑاتا ہے۔ کوئی اپنے آپ کو ظلم سے روکتا ہے، صرف اس ليے کہ خدا نے اس کو ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔ کوئی موقع پاتے ہی دوسروں کے ليے ظالم بن جاتا ہے۔ کیوں کہ اس کا نفس اس سے ایسا ہی کرنے کے ليے کہہ رہا ہے۔ اگر اس دنیا کا کوئی انجام نہ ہو، اگر وہ اسی طرح چلتی رہے اور اسی طرح بالآخر اس کا خاتمہ ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بے مقصد ہنگامہ کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ مگر کائنات کی معنویت اس قسم کے بے معنیٰ نظریہ کی تردید کرتی ہے۔ کائنات کا اعلیٰ نظام اس سے انکار کرتا ہے کہ اس کا خالق ایک غیر سنجیدہ ہستی ہو۔ کائنات اپنے وسیع نظام کے ساتھ جس خالق کا تعارف کرارہی ہے وہ ایک ایسا خالق ہے جو اپنی ذات میں آخری حد تک کامل ہے۔ ایسے خالق کے بارے میں ناقابلِ قیاس ہے کہ وہ دو مختلف قسم کے انسانوں کا یکساں انجام ہوتے ہوئے دیکھے اور اس کو گوارا کرلے۔ یہ سراسر ناممکن ہے۔ یقیناً ایسا ہونے والا ہے کہ مالک کائنات ایک طبقہ کو بے قیمت کردے جس طرح انھوں نے حق کو بے قیمت کیا اور دوسرے طبقہ کی قدر دانی کرے جس طرح انھوں نے حق کی قدر دانی کی۔

المؤمنون 23:116

انسانوں میں دو قسم کے انسان ہیں۔ کوئی انسان با اصول زندگی گزارتا ہے۔ اورکوئی بے اصول۔ کوئی اَن دیکھی صداقت کے ليے اپنے آپ کو قربان کردیتاہے اور کوئی صرف دکھائی دینے والی چیزوں میں مشغول رہتا ہے۔ کوئی حق کی دعوت کو اس کی ساری اجنبیت کے باوجود قبول کرتا ہے۔ اور کوئی اس کو نظر انداز کردیتا ہے اور اس کا مذاق اڑاتا ہے۔ کوئی اپنے آپ کو ظلم سے روکتا ہے، صرف اس ليے کہ خدا نے اس کو ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔ کوئی موقع پاتے ہی دوسروں کے ليے ظالم بن جاتا ہے۔ کیوں کہ اس کا نفس اس سے ایسا ہی کرنے کے ليے کہہ رہا ہے۔ اگر اس دنیا کا کوئی انجام نہ ہو، اگر وہ اسی طرح چلتی رہے اور اسی طرح بالآخر اس کا خاتمہ ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بے مقصد ہنگامہ کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ مگر کائنات کی معنویت اس قسم کے بے معنیٰ نظریہ کی تردید کرتی ہے۔ کائنات کا اعلیٰ نظام اس سے انکار کرتا ہے کہ اس کا خالق ایک غیر سنجیدہ ہستی ہو۔ کائنات اپنے وسیع نظام کے ساتھ جس خالق کا تعارف کرارہی ہے وہ ایک ایسا خالق ہے جو اپنی ذات میں آخری حد تک کامل ہے۔ ایسے خالق کے بارے میں ناقابلِ قیاس ہے کہ وہ دو مختلف قسم کے انسانوں کا یکساں انجام ہوتے ہوئے دیکھے اور اس کو گوارا کرلے۔ یہ سراسر ناممکن ہے۔ یقیناً ایسا ہونے والا ہے کہ مالک کائنات ایک طبقہ کو بے قیمت کردے جس طرح انھوں نے حق کو بے قیمت کیا اور دوسرے طبقہ کی قدر دانی کرے جس طرح انھوں نے حق کی قدر دانی کی۔

المؤمنون 23:117

انسانوں میں دو قسم کے انسان ہیں۔ کوئی انسان با اصول زندگی گزارتا ہے۔ اورکوئی بے اصول۔ کوئی اَن دیکھی صداقت کے ليے اپنے آپ کو قربان کردیتاہے اور کوئی صرف دکھائی دینے والی چیزوں میں مشغول رہتا ہے۔ کوئی حق کی دعوت کو اس کی ساری اجنبیت کے باوجود قبول کرتا ہے۔ اور کوئی اس کو نظر انداز کردیتا ہے اور اس کا مذاق اڑاتا ہے۔ کوئی اپنے آپ کو ظلم سے روکتا ہے، صرف اس ليے کہ خدا نے اس کو ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔ کوئی موقع پاتے ہی دوسروں کے ليے ظالم بن جاتا ہے۔ کیوں کہ اس کا نفس اس سے ایسا ہی کرنے کے ليے کہہ رہا ہے۔ اگر اس دنیا کا کوئی انجام نہ ہو، اگر وہ اسی طرح چلتی رہے اور اسی طرح بالآخر اس کا خاتمہ ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بے مقصد ہنگامہ کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ مگر کائنات کی معنویت اس قسم کے بے معنیٰ نظریہ کی تردید کرتی ہے۔ کائنات کا اعلیٰ نظام اس سے انکار کرتا ہے کہ اس کا خالق ایک غیر سنجیدہ ہستی ہو۔ کائنات اپنے وسیع نظام کے ساتھ جس خالق کا تعارف کرارہی ہے وہ ایک ایسا خالق ہے جو اپنی ذات میں آخری حد تک کامل ہے۔ ایسے خالق کے بارے میں ناقابلِ قیاس ہے کہ وہ دو مختلف قسم کے انسانوں کا یکساں انجام ہوتے ہوئے دیکھے اور اس کو گوارا کرلے۔ یہ سراسر ناممکن ہے۔ یقیناً ایسا ہونے والا ہے کہ مالک کائنات ایک طبقہ کو بے قیمت کردے جس طرح انھوں نے حق کو بے قیمت کیا اور دوسرے طبقہ کی قدر دانی کرے جس طرح انھوں نے حق کی قدر دانی کی۔

المؤمنون 23:118

انسانوں میں دو قسم کے انسان ہیں۔ کوئی انسان با اصول زندگی گزارتا ہے۔ اورکوئی بے اصول۔ کوئی اَن دیکھی صداقت کے ليے اپنے آپ کو قربان کردیتاہے اور کوئی صرف دکھائی دینے والی چیزوں میں مشغول رہتا ہے۔ کوئی حق کی دعوت کو اس کی ساری اجنبیت کے باوجود قبول کرتا ہے۔ اور کوئی اس کو نظر انداز کردیتا ہے اور اس کا مذاق اڑاتا ہے۔ کوئی اپنے آپ کو ظلم سے روکتا ہے، صرف اس ليے کہ خدا نے اس کو ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔ کوئی موقع پاتے ہی دوسروں کے ليے ظالم بن جاتا ہے۔ کیوں کہ اس کا نفس اس سے ایسا ہی کرنے کے ليے کہہ رہا ہے۔ اگر اس دنیا کا کوئی انجام نہ ہو، اگر وہ اسی طرح چلتی رہے اور اسی طرح بالآخر اس کا خاتمہ ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بے مقصد ہنگامہ کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ مگر کائنات کی معنویت اس قسم کے بے معنیٰ نظریہ کی تردید کرتی ہے۔ کائنات کا اعلیٰ نظام اس سے انکار کرتا ہے کہ اس کا خالق ایک غیر سنجیدہ ہستی ہو۔ کائنات اپنے وسیع نظام کے ساتھ جس خالق کا تعارف کرارہی ہے وہ ایک ایسا خالق ہے جو اپنی ذات میں آخری حد تک کامل ہے۔ ایسے خالق کے بارے میں ناقابلِ قیاس ہے کہ وہ دو مختلف قسم کے انسانوں کا یکساں انجام ہوتے ہوئے دیکھے اور اس کو گوارا کرلے۔ یہ سراسر ناممکن ہے۔ یقیناً ایسا ہونے والا ہے کہ مالک کائنات ایک طبقہ کو بے قیمت کردے جس طرح انھوں نے حق کو بے قیمت کیا اور دوسرے طبقہ کی قدر دانی کرے جس طرح انھوں نے حق کی قدر دانی کی۔

النور 24:1

سورہ نور غزوۂ بنی المصطلق کے بعد 6ہجری میں نازل ہوئی۔ اس غزوہ میں ایک معمولی واقعہ پیش آیا۔ اس کو شوشہ بنا کر مدینہ کے منافقین نے حضرت عائشہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنا شروع کیا۔ اس سورہ میں ایک طرف حضرت عائشہ کی کامل برأت کردی گئی اور دوسری وہ خاص احکام دئے گئے جو معاشرہ میں اس قسم کی صورت حال پیش آنے کے بعد نافذکيے جانے چاہئیں۔ اسلامی قانون میں زنا بے حد سنگین جرم ہے۔ تاہم اسلامی قانون دو قسم کے انسانوں میں فرق کرتاہے۔ ایک وہ جس کے ليے جائز صنفی تعلق کے مواقع موجود ہوں اس کے باوجود وہ ناجائز صنفی تعلق قائم کرے۔ دوسرا وہ جس کو ابھی جائز صنفی تعلق کے مواقع حاصل نہ ہوئے ہوں۔ ’’زانی اور زانیہ کو سو کوڑے مارو‘‘— قرآن میں کچھ ایسے قانونی احکام ہیں جو حکومتی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً چوری، زنا، شراب خوری، قذَف، قتل، وغیرہ۔ مگر اس قسم کے احکام بہت کم ہیں۔ ان احکام کو وضع کرنے کا مقصد ’’معیار ی سماج‘‘بنانا نہیں ہے بلکہ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ سماج میں ضروری نظم برقرار رہے It is just to maintain a necessary level of order in society عوام کے سامنے سزا دینا دراصل سزا میں عبرت کا پہلو شامل کرناہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ حال کے مجرم کا انجام دیکھ کر مستقبل کے مجرم ڈر جائیں اور اس قسم کا جرم کرنے سے باز رہیں۔زانی اور زانیہ اگر سزا کے بعد توبہ اور اصلاح کرلیں تو وہ دوبارہ عام مسلمانوں کی طرح ہوجائیں گے۔ لیکن اگر وہ توبہ اور اصلاح نہ کریں تو اس کے بعد وہ اس قابل نہیں رہتے کہ اسلام معاشرہ میں وہ رشتہ اور تعلق کے ليے قبول کيے جاسکیں۔

النور 24:2

سورہ نور غزوۂ بنی المصطلق کے بعد 6ہجری میں نازل ہوئی۔ اس غزوہ میں ایک معمولی واقعہ پیش آیا۔ اس کو شوشہ بنا کر مدینہ کے منافقین نے حضرت عائشہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنا شروع کیا۔ اس سورہ میں ایک طرف حضرت عائشہ کی کامل برأت کردی گئی اور دوسری وہ خاص احکام دئے گئے جو معاشرہ میں اس قسم کی صورت حال پیش آنے کے بعد نافذکيے جانے چاہئیں۔ اسلامی قانون میں زنا بے حد سنگین جرم ہے۔ تاہم اسلامی قانون دو قسم کے انسانوں میں فرق کرتاہے۔ ایک وہ جس کے ليے جائز صنفی تعلق کے مواقع موجود ہوں اس کے باوجود وہ ناجائز صنفی تعلق قائم کرے۔ دوسرا وہ جس کو ابھی جائز صنفی تعلق کے مواقع حاصل نہ ہوئے ہوں۔ ’’زانی اور زانیہ کو سو کوڑے مارو‘‘— قرآن میں کچھ ایسے قانونی احکام ہیں جو حکومتی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً چوری، زنا، شراب خوری، قذَف، قتل، وغیرہ۔ مگر اس قسم کے احکام بہت کم ہیں۔ ان احکام کو وضع کرنے کا مقصد ’’معیار ی سماج‘‘بنانا نہیں ہے بلکہ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ سماج میں ضروری نظم برقرار رہے It is just to maintain a necessary level of order in society عوام کے سامنے سزا دینا دراصل سزا میں عبرت کا پہلو شامل کرناہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ حال کے مجرم کا انجام دیکھ کر مستقبل کے مجرم ڈر جائیں اور اس قسم کا جرم کرنے سے باز رہیں۔زانی اور زانیہ اگر سزا کے بعد توبہ اور اصلاح کرلیں تو وہ دوبارہ عام مسلمانوں کی طرح ہوجائیں گے۔ لیکن اگر وہ توبہ اور اصلاح نہ کریں تو اس کے بعد وہ اس قابل نہیں رہتے کہ اسلام معاشرہ میں وہ رشتہ اور تعلق کے ليے قبول کيے جاسکیں۔

النور 24:3

سورہ نور غزوۂ بنی المصطلق کے بعد 6ہجری میں نازل ہوئی۔ اس غزوہ میں ایک معمولی واقعہ پیش آیا۔ اس کو شوشہ بنا کر مدینہ کے منافقین نے حضرت عائشہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنا شروع کیا۔ اس سورہ میں ایک طرف حضرت عائشہ کی کامل برأت کردی گئی اور دوسری وہ خاص احکام دئے گئے جو معاشرہ میں اس قسم کی صورت حال پیش آنے کے بعد نافذکيے جانے چاہئیں۔ اسلامی قانون میں زنا بے حد سنگین جرم ہے۔ تاہم اسلامی قانون دو قسم کے انسانوں میں فرق کرتاہے۔ ایک وہ جس کے ليے جائز صنفی تعلق کے مواقع موجود ہوں اس کے باوجود وہ ناجائز صنفی تعلق قائم کرے۔ دوسرا وہ جس کو ابھی جائز صنفی تعلق کے مواقع حاصل نہ ہوئے ہوں۔ ’’زانی اور زانیہ کو سو کوڑے مارو‘‘— قرآن میں کچھ ایسے قانونی احکام ہیں جو حکومتی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً چوری، زنا، شراب خوری، قذَف، قتل، وغیرہ۔ مگر اس قسم کے احکام بہت کم ہیں۔ ان احکام کو وضع کرنے کا مقصد ’’معیار ی سماج‘‘بنانا نہیں ہے بلکہ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ سماج میں ضروری نظم برقرار رہے It is just to maintain a necessary level of order in society عوام کے سامنے سزا دینا دراصل سزا میں عبرت کا پہلو شامل کرناہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ حال کے مجرم کا انجام دیکھ کر مستقبل کے مجرم ڈر جائیں اور اس قسم کا جرم کرنے سے باز رہیں۔زانی اور زانیہ اگر سزا کے بعد توبہ اور اصلاح کرلیں تو وہ دوبارہ عام مسلمانوں کی طرح ہوجائیں گے۔ لیکن اگر وہ توبہ اور اصلاح نہ کریں تو اس کے بعد وہ اس قابل نہیں رہتے کہ اسلام معاشرہ میں وہ رشتہ اور تعلق کے ليے قبول کيے جاسکیں۔

النور 24:4

زنا کو شدید جرم قرار دینے کا فطری تقاضا یہ ہے کہ کسی غیر زانی پر زنا کا الزام لگانا بھی شدید جرم ہو۔ چنانچہ یہ حکم دیاگیا کہ جو شخص کسی پر زنا کا الزام لگائے اور پھر اس کو شرعی قاعدہ کے مطابق ثابت نہ کرسکے، اس کو اَسّی کوڑے مارے جائیں۔ مزید یہ کہ ایسے شخص کو ہمیشہ کے ليے مردود الشہادت قرار دے دیا جائے۔ حتی کہ احناف کے نزدیک توبہ کے بعد بھی اس کی گواہی معاملات میں قبول نہیں کی جائے گی۔ کسی شخص پر جھوٹا الزام لگانااس کو اخلاقی طورپر قتل کرنے کی کوشش ہے۔ ایسے جرم پر اسلام میں سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اور اگر کوئی شخص دنیا میں سزا پانے سے بچ جائے تب بھی وہ آخرت کی سزا سے بہر حال نہیں بچ سکتا۔ إلاّ یہ کہ وہ توبہ کرے اور اللہ سے معافی کا طلب گار ہو۔

النور 24:5

زنا کو شدید جرم قرار دینے کا فطری تقاضا یہ ہے کہ کسی غیر زانی پر زنا کا الزام لگانا بھی شدید جرم ہو۔ چنانچہ یہ حکم دیاگیا کہ جو شخص کسی پر زنا کا الزام لگائے اور پھر اس کو شرعی قاعدہ کے مطابق ثابت نہ کرسکے، اس کو اَسّی کوڑے مارے جائیں۔ مزید یہ کہ ایسے شخص کو ہمیشہ کے ليے مردود الشہادت قرار دے دیا جائے۔ حتی کہ احناف کے نزدیک توبہ کے بعد بھی اس کی گواہی معاملات میں قبول نہیں کی جائے گی۔ کسی شخص پر جھوٹا الزام لگانااس کو اخلاقی طورپر قتل کرنے کی کوشش ہے۔ ایسے جرم پر اسلام میں سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اور اگر کوئی شخص دنیا میں سزا پانے سے بچ جائے تب بھی وہ آخرت کی سزا سے بہر حال نہیں بچ سکتا۔ إلاّ یہ کہ وہ توبہ کرے اور اللہ سے معافی کا طلب گار ہو۔

النور 24:6

داعی اگر واقعۃ ً سچائی پر ہے تو اس کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے ہمیشہ اس کے حق میں مفید ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ جھو ٹے پروپیگنڈوں کی حقیقت آخر کا رکھل کر رہتی ہے۔ اور جب حقیقت کھلتی ہے تو ایک طرف داعی کا برسر حق ہونا اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے اور جو لوگ اس کے بارے میں مذبذب تھے وہ اس کے بعد یقین کے درجہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ عملاً دیکھ لیتے ہیں کہ داعیٔ حق کے مخالفین کے پاس جھوٹے الزام اور بے بنیاد اتہام کے سوا اور کچھ نہیں۔ حضرت عائشہ ؓصدیقہ کے خلاف الزام میں سب سے بڑا حصہ لینے والا مشہور منافق عبد اللہ بن ابی تھا۔ اس کے ليے قرآن میں سخت اخروی عذاب کا اعلان کیاگیا۔ مگر دنیا میں اس کو کوئی سزا نہیں دی گئی، یہاں تک کہ وہ اپنی طبعی موت مرگیا۔اس واقعہ کے بعد حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اس شخص کو قتل کردیا جائے۔ آپ نے فرمایا اے عمرؓ، کیا ہوگا جب لوگ کہیں گے کہ محمدؐ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں (فَكَيْفَ يَا عُمَرُ إذَا تَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 291 ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات حکمت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ بڑے بڑے مجرمین کو بھی دنیا میں سزا نہ دی جائے بلکہ ان کے معاملہ کو آخرت کے اوپر چھوڑ دیا جائے۔

النور 24:7

داعی اگر واقعۃ ً سچائی پر ہے تو اس کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے ہمیشہ اس کے حق میں مفید ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ جھو ٹے پروپیگنڈوں کی حقیقت آخر کا رکھل کر رہتی ہے۔ اور جب حقیقت کھلتی ہے تو ایک طرف داعی کا برسر حق ہونا اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے اور جو لوگ اس کے بارے میں مذبذب تھے وہ اس کے بعد یقین کے درجہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ عملاً دیکھ لیتے ہیں کہ داعیٔ حق کے مخالفین کے پاس جھوٹے الزام اور بے بنیاد اتہام کے سوا اور کچھ نہیں۔ حضرت عائشہ ؓصدیقہ کے خلاف الزام میں سب سے بڑا حصہ لینے والا مشہور منافق عبد اللہ بن ابی تھا۔ اس کے ليے قرآن میں سخت اخروی عذاب کا اعلان کیاگیا۔ مگر دنیا میں اس کو کوئی سزا نہیں دی گئی، یہاں تک کہ وہ اپنی طبعی موت مرگیا۔اس واقعہ کے بعد حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اس شخص کو قتل کردیا جائے۔ آپ نے فرمایا اے عمرؓ، کیا ہوگا جب لوگ کہیں گے کہ محمدؐ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں (فَكَيْفَ يَا عُمَرُ إذَا تَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 291 ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات حکمت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ بڑے بڑے مجرمین کو بھی دنیا میں سزا نہ دی جائے بلکہ ان کے معاملہ کو آخرت کے اوپر چھوڑ دیا جائے۔

النور 24:8

داعی اگر واقعۃ ً سچائی پر ہے تو اس کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے ہمیشہ اس کے حق میں مفید ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ جھو ٹے پروپیگنڈوں کی حقیقت آخر کا رکھل کر رہتی ہے۔ اور جب حقیقت کھلتی ہے تو ایک طرف داعی کا برسر حق ہونا اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے اور جو لوگ اس کے بارے میں مذبذب تھے وہ اس کے بعد یقین کے درجہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ عملاً دیکھ لیتے ہیں کہ داعیٔ حق کے مخالفین کے پاس جھوٹے الزام اور بے بنیاد اتہام کے سوا اور کچھ نہیں۔ حضرت عائشہ ؓصدیقہ کے خلاف الزام میں سب سے بڑا حصہ لینے والا مشہور منافق عبد اللہ بن ابی تھا۔ اس کے ليے قرآن میں سخت اخروی عذاب کا اعلان کیاگیا۔ مگر دنیا میں اس کو کوئی سزا نہیں دی گئی، یہاں تک کہ وہ اپنی طبعی موت مرگیا۔اس واقعہ کے بعد حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اس شخص کو قتل کردیا جائے۔ آپ نے فرمایا اے عمرؓ، کیا ہوگا جب لوگ کہیں گے کہ محمدؐ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں (فَكَيْفَ يَا عُمَرُ إذَا تَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 291 ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات حکمت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ بڑے بڑے مجرمین کو بھی دنیا میں سزا نہ دی جائے بلکہ ان کے معاملہ کو آخرت کے اوپر چھوڑ دیا جائے۔

النور 24:9

داعی اگر واقعۃ ً سچائی پر ہے تو اس کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے ہمیشہ اس کے حق میں مفید ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ جھو ٹے پروپیگنڈوں کی حقیقت آخر کا رکھل کر رہتی ہے۔ اور جب حقیقت کھلتی ہے تو ایک طرف داعی کا برسر حق ہونا اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے اور جو لوگ اس کے بارے میں مذبذب تھے وہ اس کے بعد یقین کے درجہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ عملاً دیکھ لیتے ہیں کہ داعیٔ حق کے مخالفین کے پاس جھوٹے الزام اور بے بنیاد اتہام کے سوا اور کچھ نہیں۔ حضرت عائشہ ؓصدیقہ کے خلاف الزام میں سب سے بڑا حصہ لینے والا مشہور منافق عبد اللہ بن ابی تھا۔ اس کے ليے قرآن میں سخت اخروی عذاب کا اعلان کیاگیا۔ مگر دنیا میں اس کو کوئی سزا نہیں دی گئی، یہاں تک کہ وہ اپنی طبعی موت مرگیا۔اس واقعہ کے بعد حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اس شخص کو قتل کردیا جائے۔ آپ نے فرمایا اے عمرؓ، کیا ہوگا جب لوگ کہیں گے کہ محمدؐ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں (فَكَيْفَ يَا عُمَرُ إذَا تَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 291 ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات حکمت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ بڑے بڑے مجرمین کو بھی دنیا میں سزا نہ دی جائے بلکہ ان کے معاملہ کو آخرت کے اوپر چھوڑ دیا جائے۔

النور 24:10

داعی اگر واقعۃ ً سچائی پر ہے تو اس کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے ہمیشہ اس کے حق میں مفید ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ جھو ٹے پروپیگنڈوں کی حقیقت آخر کا رکھل کر رہتی ہے۔ اور جب حقیقت کھلتی ہے تو ایک طرف داعی کا برسر حق ہونا اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے اور جو لوگ اس کے بارے میں مذبذب تھے وہ اس کے بعد یقین کے درجہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ عملاً دیکھ لیتے ہیں کہ داعیٔ حق کے مخالفین کے پاس جھوٹے الزام اور بے بنیاد اتہام کے سوا اور کچھ نہیں۔ حضرت عائشہ ؓصدیقہ کے خلاف الزام میں سب سے بڑا حصہ لینے والا مشہور منافق عبد اللہ بن ابی تھا۔ اس کے ليے قرآن میں سخت اخروی عذاب کا اعلان کیاگیا۔ مگر دنیا میں اس کو کوئی سزا نہیں دی گئی، یہاں تک کہ وہ اپنی طبعی موت مرگیا۔اس واقعہ کے بعد حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اس شخص کو قتل کردیا جائے۔ آپ نے فرمایا اے عمرؓ، کیا ہوگا جب لوگ کہیں گے کہ محمدؐ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں (فَكَيْفَ يَا عُمَرُ إذَا تَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 291 ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات حکمت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ بڑے بڑے مجرمین کو بھی دنیا میں سزا نہ دی جائے بلکہ ان کے معاملہ کو آخرت کے اوپر چھوڑ دیا جائے۔

النور 24:11

داعی اگر واقعۃ ً سچائی پر ہے تو اس کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے ہمیشہ اس کے حق میں مفید ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ جھو ٹے پروپیگنڈوں کی حقیقت آخر کا رکھل کر رہتی ہے۔ اور جب حقیقت کھلتی ہے تو ایک طرف داعی کا برسر حق ہونا اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے اور جو لوگ اس کے بارے میں مذبذب تھے وہ اس کے بعد یقین کے درجہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ عملاً دیکھ لیتے ہیں کہ داعیٔ حق کے مخالفین کے پاس جھوٹے الزام اور بے بنیاد اتہام کے سوا اور کچھ نہیں۔ حضرت عائشہ ؓصدیقہ کے خلاف الزام میں سب سے بڑا حصہ لینے والا مشہور منافق عبد اللہ بن ابی تھا۔ اس کے ليے قرآن میں سخت اخروی عذاب کا اعلان کیاگیا۔ مگر دنیا میں اس کو کوئی سزا نہیں دی گئی، یہاں تک کہ وہ اپنی طبعی موت مرگیا۔اس واقعہ کے بعد حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اس شخص کو قتل کردیا جائے۔ آپ نے فرمایا اے عمرؓ، کیا ہوگا جب لوگ کہیں گے کہ محمدؐ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں (فَكَيْفَ يَا عُمَرُ إذَا تَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 291 ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات حکمت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ بڑے بڑے مجرمین کو بھی دنیا میں سزا نہ دی جائے بلکہ ان کے معاملہ کو آخرت کے اوپر چھوڑ دیا جائے۔

النور 24:12

ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا یہ حق ہے کہ وہ اس کے بارے میں ہمیشہ نیک گمان کرے۔ دوسرے کے بارے میں بدگمانی کرنا خود اپنے بد نفسی کا ثبوت ہے۔ اور دوسرے کے بارے میں نیک گمان کرنااپنی نیک نفسی کا ثبوت۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص کسی کے بارے میں بری خبر دے تو فوراً اس سے ثبوت کا مطالبہ کیا جائے۔ جو شخص سنے وہ محض سن کر اس کو دہرانے نہ لگے بلکہ وہ خبر دینے والے سے کہے کہ اگر تم سچے ہو تو شریعت کے مطابق گواہ لے آؤ۔ اگر وہ گواہ لے آئے تو اس کی بات قابلِ لحاظ ہوسکتی ہے۔ اور اگر وہ اپنی بات کے حق میں گواہ نہ لائے تو وہ خود سب سے بڑا مجرم ہے۔ کیوں کہ کسی شخص کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ بلا ثبوت کسی کے اوپر عیب لگانے لگے۔

النور 24:13

ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا یہ حق ہے کہ وہ اس کے بارے میں ہمیشہ نیک گمان کرے۔ دوسرے کے بارے میں بدگمانی کرنا خود اپنے بد نفسی کا ثبوت ہے۔ اور دوسرے کے بارے میں نیک گمان کرنااپنی نیک نفسی کا ثبوت۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص کسی کے بارے میں بری خبر دے تو فوراً اس سے ثبوت کا مطالبہ کیا جائے۔ جو شخص سنے وہ محض سن کر اس کو دہرانے نہ لگے بلکہ وہ خبر دینے والے سے کہے کہ اگر تم سچے ہو تو شریعت کے مطابق گواہ لے آؤ۔ اگر وہ گواہ لے آئے تو اس کی بات قابلِ لحاظ ہوسکتی ہے۔ اور اگر وہ اپنی بات کے حق میں گواہ نہ لائے تو وہ خود سب سے بڑا مجرم ہے۔ کیوں کہ کسی شخص کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ بلا ثبوت کسی کے اوپر عیب لگانے لگے۔

النور 24:14

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت حق کے داعی کی تھی۔ داعی کا معاملہ بے حد نازک معاملہ ہوتا ہے۔ کردار کی ایک غلطی اس کے پورے مشن کو ڈھادینے کے ليے کافی ہوتی ہے۔ایسی حالت میں جن لوگوں نے یہ کیا کہ ایک اسلامی خاتون کے بارے میں ایک بے بنیاد بات سن کر اس کو اِدھر اُدھر بیان کرنے لگے، انھوں نے سخت غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد سے اس الزام کی بروقت تردید نہ ہو گئی ہوتی تو یہ غلطی اسلام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا سبب بن جاتی۔ اس کے نتیجے میں پورا سلامی معاشرہ بد گمانیوں کا شکار ہوجاتا۔ مسلمان دو گروہوں میں بٹ کر آپس میں لڑنے لگتے۔ جس گروہ کے ليے خدا کا منصوبہ یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے شرک کا عالمی غلبہ ختم کیا جائے وہ آپس کی جنگ میں خود اپنے آپ کو ختم کرلیتا۔

النور 24:15

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت حق کے داعی کی تھی۔ داعی کا معاملہ بے حد نازک معاملہ ہوتا ہے۔ کردار کی ایک غلطی اس کے پورے مشن کو ڈھادینے کے ليے کافی ہوتی ہے۔ایسی حالت میں جن لوگوں نے یہ کیا کہ ایک اسلامی خاتون کے بارے میں ایک بے بنیاد بات سن کر اس کو اِدھر اُدھر بیان کرنے لگے، انھوں نے سخت غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد سے اس الزام کی بروقت تردید نہ ہو گئی ہوتی تو یہ غلطی اسلام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا سبب بن جاتی۔ اس کے نتیجے میں پورا سلامی معاشرہ بد گمانیوں کا شکار ہوجاتا۔ مسلمان دو گروہوں میں بٹ کر آپس میں لڑنے لگتے۔ جس گروہ کے ليے خدا کا منصوبہ یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے شرک کا عالمی غلبہ ختم کیا جائے وہ آپس کی جنگ میں خود اپنے آپ کو ختم کرلیتا۔

النور 24:16

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت حق کے داعی کی تھی۔ داعی کا معاملہ بے حد نازک معاملہ ہوتا ہے۔ کردار کی ایک غلطی اس کے پورے مشن کو ڈھادینے کے ليے کافی ہوتی ہے۔ایسی حالت میں جن لوگوں نے یہ کیا کہ ایک اسلامی خاتون کے بارے میں ایک بے بنیاد بات سن کر اس کو اِدھر اُدھر بیان کرنے لگے، انھوں نے سخت غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد سے اس الزام کی بروقت تردید نہ ہو گئی ہوتی تو یہ غلطی اسلام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا سبب بن جاتی۔ اس کے نتیجے میں پورا سلامی معاشرہ بد گمانیوں کا شکار ہوجاتا۔ مسلمان دو گروہوں میں بٹ کر آپس میں لڑنے لگتے۔ جس گروہ کے ليے خدا کا منصوبہ یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے شرک کا عالمی غلبہ ختم کیا جائے وہ آپس کی جنگ میں خود اپنے آپ کو ختم کرلیتا۔

النور 24:17

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت حق کے داعی کی تھی۔ داعی کا معاملہ بے حد نازک معاملہ ہوتا ہے۔ کردار کی ایک غلطی اس کے پورے مشن کو ڈھادینے کے ليے کافی ہوتی ہے۔ایسی حالت میں جن لوگوں نے یہ کیا کہ ایک اسلامی خاتون کے بارے میں ایک بے بنیاد بات سن کر اس کو اِدھر اُدھر بیان کرنے لگے، انھوں نے سخت غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد سے اس الزام کی بروقت تردید نہ ہو گئی ہوتی تو یہ غلطی اسلام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا سبب بن جاتی۔ اس کے نتیجے میں پورا سلامی معاشرہ بد گمانیوں کا شکار ہوجاتا۔ مسلمان دو گروہوں میں بٹ کر آپس میں لڑنے لگتے۔ جس گروہ کے ليے خدا کا منصوبہ یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے شرک کا عالمی غلبہ ختم کیا جائے وہ آپس کی جنگ میں خود اپنے آپ کو ختم کرلیتا۔

النور 24:18

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت حق کے داعی کی تھی۔ داعی کا معاملہ بے حد نازک معاملہ ہوتا ہے۔ کردار کی ایک غلطی اس کے پورے مشن کو ڈھادینے کے ليے کافی ہوتی ہے۔ایسی حالت میں جن لوگوں نے یہ کیا کہ ایک اسلامی خاتون کے بارے میں ایک بے بنیاد بات سن کر اس کو اِدھر اُدھر بیان کرنے لگے، انھوں نے سخت غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد سے اس الزام کی بروقت تردید نہ ہو گئی ہوتی تو یہ غلطی اسلام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا سبب بن جاتی۔ اس کے نتیجے میں پورا سلامی معاشرہ بد گمانیوں کا شکار ہوجاتا۔ مسلمان دو گروہوں میں بٹ کر آپس میں لڑنے لگتے۔ جس گروہ کے ليے خدا کا منصوبہ یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے شرک کا عالمی غلبہ ختم کیا جائے وہ آپس کی جنگ میں خود اپنے آپ کو ختم کرلیتا۔

النور 24:19

اس آیت میں ’’فاحشہ‘‘ کی اشاعت سے مراد اسی چیز کی اشاعت ہے جس کو اوپر آیت نمبر 11 میں اِفک کہا گیا ہے۔ یعنی کسی کے خلاف بے بنیاد الزام وضع کرنا اور اس کو لوگوں کے اندر پھیلانا۔ بات کہنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی صرف وہ بات اپنے منه سے نکالے جس کے حق میں اس کے پاس فی الواقع کوئی مضبوط دلیل ہو، جو شرعی طورپر ثابت کی جاسکے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کسی حقیقی بنیاد کے بغیر خود اپنے ذہن سے بات گھڑنا اور اس کو لوگوں سے بیان کرنا۔ پہلا طریقہ جائز طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ سراسر ناجائز طریقہ۔ عام طورپر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے مخالف کے بارے میں کوئی بات ہو تو آدمی اس کی زیادہ تحقیق کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ وہ بلا بحث اس کو مان لیتا ہے اور دوسروں سے اس کو بیان کرنا شروع کردیتا ہے۔ یہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ فعل ہے بلکہ وہ بہت بڑا جرم ہے۔ وہ دنیا میں بھی قابل سزا ہے اور آخرت میں بھی۔

النور 24:20

اس آیت میں ’’فاحشہ‘‘ کی اشاعت سے مراد اسی چیز کی اشاعت ہے جس کو اوپر آیت نمبر 11 میں اِفک کہا گیا ہے۔ یعنی کسی کے خلاف بے بنیاد الزام وضع کرنا اور اس کو لوگوں کے اندر پھیلانا۔ بات کہنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی صرف وہ بات اپنے منه سے نکالے جس کے حق میں اس کے پاس فی الواقع کوئی مضبوط دلیل ہو، جو شرعی طورپر ثابت کی جاسکے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کسی حقیقی بنیاد کے بغیر خود اپنے ذہن سے بات گھڑنا اور اس کو لوگوں سے بیان کرنا۔ پہلا طریقہ جائز طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ سراسر ناجائز طریقہ۔ عام طورپر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے مخالف کے بارے میں کوئی بات ہو تو آدمی اس کی زیادہ تحقیق کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ وہ بلا بحث اس کو مان لیتا ہے اور دوسروں سے اس کو بیان کرنا شروع کردیتا ہے۔ یہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ فعل ہے بلکہ وہ بہت بڑا جرم ہے۔ وہ دنیا میں بھی قابل سزا ہے اور آخرت میں بھی۔

النور 24:21

شیطان کے قدموں پر چلنا یہ ہے کہ آدمی شیطانی وسوسوں کی پیروی کرنے لگے۔ ایک بے بنیاد بات پر جب کسی کے اندر بد گمانی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں تو یہ ایک شیطانی وسوسہ ہوتا ہے۔ اپنے مخالف کے بارے میں جب آدمی کے اندر منفی خیالات ابھرتے ہیں تو یہ بھی دراصل شیطان ہوتا ہے جو اس کے دل میں رینگتا ہے۔ ایسے جذبات اور خیالات جب کسی کے اندر پیداہوں تو اس کو چاہيے کہ وہ اندر ہی اندر ان کو کچل دے، نہ یہ کہ وہ ان کی پیروی کرنے لگے۔ ایسے احساسات کی پیروی کرنا براہ راست شیطان کی پیروی کرناہے۔ دوسروں کے خلاف طوفان اٹھانا ایک ایسا عمل ہے جو تواضع کے خلاف ہے۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے بارے میں ضرورت سے زیادہ خوش گمان ہوتا ہے۔ اور دوسرے کے بارے میں ضرورت سے زیادہ بدگمان۔ یہ دونوں ہی باتیں ایسی ہیں جو ایمان کےساتھ مطابقت نہیں رکھتیں۔ اگر آدمی کے اندر ایمانی تواضع پیدا ہوجائے تو وہ اپنے احتساب میں اتنا زیادہ مشغول ہوگا کہ اس کو فرصت ہی نہ ہوگی کہ وہ دوسرے کے احتساب کا جھوٹا جھنڈا اٹھائے۔

النور 24:22

حضرت عائشہ کے خلاف طوفان اٹھانے والوں میں ایک صاحب مسطح بن اُثاثہ تھے۔ وہ ایک مفلس مہاجر تھے اور حضرت ابوبکر کے دور کے رشتہ دار تھے۔ حضرت ابوبکر اعانت کے طورپر ان کو کچھ رقم دیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ ابوبکر کی صاحب زادی تھیں۔ قدرتی طورپر حضرت ابو بکر کو مسطح بن اثاثہ کے عمل سے تکلیف ہوئی۔ آپ نے قسم کھالی کہ وہ آئندہ مسطح کی کوئی مدد نہ کریںگے۔ اسلام میں محتاجوں کی مدد ان کی محتاجی کی بنیاد پر ہوتی ہے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ چنانچہ قرآن میں یہ حکم اترا کہ تم میں سے جو لوگ صاحب مال ہیں وہ ذاتی شکایت کی بنا پر بے مال لوگوں کی امداد بند نہ کریں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ خداتم کو معاف کردے۔ اگر تم اپنے ليے خدا سے معافی کے امیدوار ہو تو تمھیں بھی دوسروں کے بارے میں معافی کا طریقہ اختیار کرنا چاہيے۔ یہ آیت سن کر حضرت ابوبکر نے کہا بَلَى وَاَللهِ، إنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لِي (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 303-4)۔ ہاں، خدا کی قسم، میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف کردے۔ اور دوبارہ مسطح کی امداد جاری کردی۔ مومن کی نظر میں سب سے زیادہ اہمیت خدا کے حکم کی ہوتی ہے۔ خدا کا حکم سامنے آتے ہی وہ فوراً جھک جاتا ہے، خواہ خدا کا حکم اس کی خواہش کے سراسر خلاف کیوں نہ ہو۔

النور 24:23

انسان اپنی زبان سے دوسروں کے خلاف برے الفاظ نکالتا ہے۔ مگر وہ نہیں جانتا کہ اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ دوسروں تک پہنچنے سے پہلے خدا تک پہنچ رہے ہیں۔ آدمی اپنے ہاتھ اور اپنے پاؤں کو دوسروں پر ظلم کرنے کے ليے استعمال کرتا ہے۔ مگر وہ اس سے بے خبر ہوتا ہے کہ قیامت جب آئے گی تو اس کے ہاتھ اور پاؤں اس کے ہاتھ اور پاؤں نہ رہیں گے بلکہ وہ خدا کے گواہ بن جائیں گے۔ یہی بے خبری تمام برائیوں کی اصل جڑ ہے۔ اگر آدمی کو اس حقیقت حال کا واقعی احساس ہو کہ وہ ایسی دنیا میں ہے جہاں وہ ہر آن خدا کی نگاہ میں ہے، جہاں اس کا ہر عمل خدائی نظام کے تحت ریکارڈ ہورہا ہے تو اس کی زندگی بالکل بدل جائے۔ وہ ہر لفظ تول کر اپنی زبان سے نکالے۔ وہ اپنے ہاتھ اور پاؤں کی طاقت کو انتہائی احتیاط کے ساتھ استعمال کرے۔

النور 24:24

انسان اپنی زبان سے دوسروں کے خلاف برے الفاظ نکالتا ہے۔ مگر وہ نہیں جانتا کہ اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ دوسروں تک پہنچنے سے پہلے خدا تک پہنچ رہے ہیں۔ آدمی اپنے ہاتھ اور اپنے پاؤں کو دوسروں پر ظلم کرنے کے ليے استعمال کرتا ہے۔ مگر وہ اس سے بے خبر ہوتا ہے کہ قیامت جب آئے گی تو اس کے ہاتھ اور پاؤں اس کے ہاتھ اور پاؤں نہ رہیں گے بلکہ وہ خدا کے گواہ بن جائیں گے۔ یہی بے خبری تمام برائیوں کی اصل جڑ ہے۔ اگر آدمی کو اس حقیقت حال کا واقعی احساس ہو کہ وہ ایسی دنیا میں ہے جہاں وہ ہر آن خدا کی نگاہ میں ہے، جہاں اس کا ہر عمل خدائی نظام کے تحت ریکارڈ ہورہا ہے تو اس کی زندگی بالکل بدل جائے۔ وہ ہر لفظ تول کر اپنی زبان سے نکالے۔ وہ اپنے ہاتھ اور پاؤں کی طاقت کو انتہائی احتیاط کے ساتھ استعمال کرے۔

النور 24:25

انسان اپنی زبان سے دوسروں کے خلاف برے الفاظ نکالتا ہے۔ مگر وہ نہیں جانتا کہ اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ دوسروں تک پہنچنے سے پہلے خدا تک پہنچ رہے ہیں۔ آدمی اپنے ہاتھ اور اپنے پاؤں کو دوسروں پر ظلم کرنے کے ليے استعمال کرتا ہے۔ مگر وہ اس سے بے خبر ہوتا ہے کہ قیامت جب آئے گی تو اس کے ہاتھ اور پاؤں اس کے ہاتھ اور پاؤں نہ رہیں گے بلکہ وہ خدا کے گواہ بن جائیں گے۔ یہی بے خبری تمام برائیوں کی اصل جڑ ہے۔ اگر آدمی کو اس حقیقت حال کا واقعی احساس ہو کہ وہ ایسی دنیا میں ہے جہاں وہ ہر آن خدا کی نگاہ میں ہے، جہاں اس کا ہر عمل خدائی نظام کے تحت ریکارڈ ہورہا ہے تو اس کی زندگی بالکل بدل جائے۔ وہ ہر لفظ تول کر اپنی زبان سے نکالے۔ وہ اپنے ہاتھ اور پاؤں کی طاقت کو انتہائی احتیاط کے ساتھ استعمال کرے۔

النور 24:26

خبیثات سے مراد خبیث کلمات ہیں اور اسی طرح طیبات سے مراد طیب کلمات۔مطلب یہ ہے کہ محض کسی کے برا کہنے سے کوئی شخص برا نہیں ہوجاتا۔ آدمی خود جیسا ہو ویسی ہی بات اس کے اوپر چسپاں ہوتی ہے۔ برے لوگ اچھے لوگوں کے بارے میں بری بات کہیں تو ایسی بات آخرکار خود کہنے والے پر پڑتی ہے اور اچھے لوگ اس سے پوری طرح بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔ جو لوگ اپنی ذات میںاچھے ہوں وہ دنیا میں بھی جھوٹے الزامات سے بری ہو کر رہتے ہیں۔ اور آخرت میں تو ان کا بری ہونا بالکل یقینی ہے۔ آخرت میں انھیں مزید اضافہ کے ساتھ خدا کے انعامات ملیںگے۔ کیوں کہ ان کے خلاف ناحق باتیں دراصل اس بات کی قیمت تھیں کہ انھوںنے اپنے آپ کو ناحق سے کاٹا اور اپنے آپ کو پوری طرح حق کے ساتھ وابستہ کیا۔

النور 24:27

اجتماعی زندگی میں اکثر ملاقات کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اب ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی بلا اطلاع کسی کے یہاں پہنچے اور اچانک اس کے مکان کے اندر داخل ہوجائے۔ یہ طریقہ دونوں ہی کے لیے تکلیف کا باعث ہے۔ اس ليے پیشگی اجازت کو ملاقات کے آداب میں شامل کیاگیا۔ اگر ممکن ہو تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنے گھر سے روانہ ہونے سے پہلے صاحب ملاقات سے ربط قائم کیا جائے اور اس سے پیشگی طورپر ملاقات کا وقت مقرر کرلیا جائے۔ اور پھر جب آدمی اس کے مکان پر پہنچے تو اندر داخل ہونے سے پہلے اس کی باقاعدہ اجازت لے۔ تمدنی حالات کے لحاظ سے اس اجازت کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں۔ تاہم ہر طریقہ میںاسلامی شائستگی کی شرط موجود رہنا ضروری ہے۔ اسلام اجتماعی زندگی کے تمام معاملات کو اعلیٰ ظرفی کی بنیاد پر قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہی اعلیٰ ظرفی ملاقات کے معاملہ میں بھی مطلوب ہے۔ اگر آپ کسی سے ملنے کے ليے اس کے گھر جائیں، اور صاحب خانہ کسی وجہ سے اس وقت ملاقات سے معذرت کرے تو آپ کو خوش دلی کے ساتھ واپس آجانا چاہیے۔ تاہم وہ اجتماعی مقامات اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جہاں اصولاً لوگوں کے ليے داخلہ کی عام اجازت ہوتی ہے۔

النور 24:28

اجتماعی زندگی میں اکثر ملاقات کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اب ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی بلا اطلاع کسی کے یہاں پہنچے اور اچانک اس کے مکان کے اندر داخل ہوجائے۔ یہ طریقہ دونوں ہی کے لیے تکلیف کا باعث ہے۔ اس ليے پیشگی اجازت کو ملاقات کے آداب میں شامل کیاگیا۔ اگر ممکن ہو تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنے گھر سے روانہ ہونے سے پہلے صاحب ملاقات سے ربط قائم کیا جائے اور اس سے پیشگی طورپر ملاقات کا وقت مقرر کرلیا جائے۔ اور پھر جب آدمی اس کے مکان پر پہنچے تو اندر داخل ہونے سے پہلے اس کی باقاعدہ اجازت لے۔ تمدنی حالات کے لحاظ سے اس اجازت کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں۔ تاہم ہر طریقہ میںاسلامی شائستگی کی شرط موجود رہنا ضروری ہے۔ اسلام اجتماعی زندگی کے تمام معاملات کو اعلیٰ ظرفی کی بنیاد پر قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہی اعلیٰ ظرفی ملاقات کے معاملہ میں بھی مطلوب ہے۔ اگر آپ کسی سے ملنے کے ليے اس کے گھر جائیں، اور صاحب خانہ کسی وجہ سے اس وقت ملاقات سے معذرت کرے تو آپ کو خوش دلی کے ساتھ واپس آجانا چاہیے۔ تاہم وہ اجتماعی مقامات اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جہاں اصولاً لوگوں کے ليے داخلہ کی عام اجازت ہوتی ہے۔

النور 24:29

اجتماعی زندگی میں اکثر ملاقات کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اب ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی بلا اطلاع کسی کے یہاں پہنچے اور اچانک اس کے مکان کے اندر داخل ہوجائے۔ یہ طریقہ دونوں ہی کے لیے تکلیف کا باعث ہے۔ اس ليے پیشگی اجازت کو ملاقات کے آداب میں شامل کیاگیا۔ اگر ممکن ہو تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنے گھر سے روانہ ہونے سے پہلے صاحب ملاقات سے ربط قائم کیا جائے اور اس سے پیشگی طورپر ملاقات کا وقت مقرر کرلیا جائے۔ اور پھر جب آدمی اس کے مکان پر پہنچے تو اندر داخل ہونے سے پہلے اس کی باقاعدہ اجازت لے۔ تمدنی حالات کے لحاظ سے اس اجازت کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں۔ تاہم ہر طریقہ میںاسلامی شائستگی کی شرط موجود رہنا ضروری ہے۔ اسلام اجتماعی زندگی کے تمام معاملات کو اعلیٰ ظرفی کی بنیاد پر قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہی اعلیٰ ظرفی ملاقات کے معاملہ میں بھی مطلوب ہے۔ اگر آپ کسی سے ملنے کے ليے اس کے گھر جائیں، اور صاحب خانہ کسی وجہ سے اس وقت ملاقات سے معذرت کرے تو آپ کو خوش دلی کے ساتھ واپس آجانا چاہیے۔ تاہم وہ اجتماعی مقامات اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جہاں اصولاً لوگوں کے ليے داخلہ کی عام اجازت ہوتی ہے۔

النور 24:30

عورت اور مرد گھر میں اور معاشرہ میں کس طرح رہیں، اس سلسلہ میں یہاں دو اصولی ہدایتیں دی گئی ہیں۔ ایک ہے ستر کو ڈھانکنا۔ اور دوسرے نگاہ کو نیچی رکھنا۔ مرد کے جسم کا وہ حصہ جو اس کو ہر حال میں چھپائے رکھنا ہے وہ ناف سے لے کر گھٹنے تک ہے۔ یہ ستر ہے اور اس کو اپنی بیوی کے سوا کسی اور کے سامنے کھولنا جائز نہیں۔ اِلاّ یہ کہ اس نوعیت کی کوئی ضرورت پیش آجائے جب کہ حرام بھی حلال ہوجاتا ہے۔ مثلاً طبی معائنہ کے ليے۔ دوسری ضروری چیز یہ ہے کہ جب مرد اور عورت کا سامنا ہو تو مردوں کو چاہيے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔ مرد اور عورت کی ملاقات اس طرح بے تکلف انداز میں نہیں ہونی چاہيے جس طرح مرد اور مرد ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ مرد اور عورت کی ملاقات میں مرد کی نگاہیں نیچی رہنی چاہئیں۔ اگر اتفاقاً مرد کی نگاہ کسی اجنبی عورت پر پڑ جائے تو وہ فوراً اپنی نظر اس سے ہٹا لے۔ وہ بالقصد دوسری بار اس کی طرف نہ دیکھے۔ غض بصر اور حفاظت فروج کا جو حکم مردوں کے ليے ہے وہی حکم عورتوں کے ليے بھی ہے، جیسا کہ اگلی آیت 31 سے واضح ہے۔

النور 24:31

خواتین کے سلسلہ میں اسلام کے احکام دو پہلوؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک وہ جس کا عنوان ستر ہے اور دوسرے وہ جس کا عنوان حجاب ہے۔ ستر کا تعلق جسم کے پردہ سے ہے۔ یعنی عورت خواہ گھر کے اندر ہو یا گھر کے باہر، اس کو اپنے بدن کا کون سا حصہ، کس کے سامنے اور کن حالات میں کھلا رکھنا جائز ہے اور کب کھلا رکھنا جائز نہیں۔ حجاب کا تعلق باہر کے پردہ سے ہے، یعنی اس مسئلہ سے کہ شریعت نے عورت کوکن حالات میں گھر سے باہر نکلنے اور سفر کرنے کی اجازت دی ہے۔ ان آیات میں بنیادی طورپر ستر کا مسئلہ بیان ہوا ہے۔ حجاب کا مسئلہ آگے سورہ احزاب میں ہے۔ ’’اے مومنو تم سب اللہ کی طرف رجوع کرو‘‘— یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ احکام شریعت کی تعمیل کے سلسلہ میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ دلوں کے اندر اس کی آمادگی ہو۔ صحابہ اور صحابیات اس معاملہ میں آخری معیاری درجہ پر تھے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ خدا کی قسم میں نے خداکی کتاب کی تصدیق اور اس کے احکام پر ایمان کے معاملہ میں انصار کی عورتوں سے بہتر کسی کو نہیں پایا۔ جب سورہ نور کی آیت (وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ) اتری تو ان کے مرد اپنے گھروں کی طرف لوٹے۔ انھوں نے اپنی عورتوں اور لڑکیوں اور بہنوں کو وہ حکم سنایا جو خدانے ان کے ليے اتارا تھا۔ پس انصار کی عورتوں میں سے ہر عورت فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔ کسی نے اپنی کمر پٹی کھول کر اور کسی نے اپنی چادر لے کر اس کا دوپٹہ بنایا اور اس کو اوڑھ لیا۔ اگلے دن صبح کی نماز انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پڑھی تو دوپٹہ کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا تھا گویا ان کے سروں پر کوّے ہوں (تفسیر ابن ابی حاتم، حدیث نمبر 14406)۔

النور 24:32

اسلام مرد اور عورت کے ليے شادی شدہ زندگی پسند کرتا ہے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر نکاح سے رکنا اسلام میں درست نہیں۔ کچھ لوگ کسی ذاتی سبب سے غیر شادی شدہ رہ جائیں تو اس وقت اسلام پورے معاشرہ میں یہ روح دیکھنا چاہتا ہے کہ تمام لوگ اس کو ایک مشترک مسئلہ سمجھیں اور اس وقت تک مطمئن نہ ہوں جب تک وہ اس مسئلہ کو شرعی طریقوں سے حل نہ کرلیں۔ کتاب یا مکاتبت کے لفظی معنی ہیں لکھنا۔ اس سے مراد وہ تحریر ہے جس میں کوئی لونڈی یا غلام اپنے آقا سے یہ عہد کرے کہ میں اتنی مدت میں اتنا مال کما کر تجھے دے دوں گا اور اس کے بعد سے میں آزاد ہوں گا۔ اسلام جس زمانہ میں آیا اس وقت عرب میں اور ساری دنیا میں غلام بنانے کا رواج تھا۔ اسلام نے نہایت منظم طورپر اس کو ختم کرناشروع کیا۔ اسی میں سے ایک طریقہ وہ تھا جس کو مکاتبت کہاجاتا ہے۔ تاہم اسلام نے فک رقبہ (گردنیں چھڑانے) کی یہ مہم اپنے عام اصول کے مطابق تدریج کے تحت چلائی۔ مختلف طریقوں سے غلاموں اور لونڈیوں کو رہا کیا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ خلافت راشدہ کے آخری دور تک اس ادارہ کا تقریباً خاتمہ ہوگیا۔ قدیم زمانہ میں بعض لوگ اپنی لونڈیوں سے کسب کراتے تھے۔ مدینہ کے منافق عبد اللہ بن ابی کے پاس کئی لونڈیاں تھیں جن سے بدکاری کراکر وہ رقم حاصل کرتا تھا۔ ان میں سے ایک لونڈی نے اسلام قبول کرلیا اور کسب سے باز آنا چاہا تو عبد اللہ بن ابی نے اس پر جبر کرنا شروع کیا۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے یہ لونڈی عبد اللہ بن ابی کے قبضہ سے رہا کرائی گئی۔

النور 24:33

اسلام مرد اور عورت کے ليے شادی شدہ زندگی پسند کرتا ہے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر نکاح سے رکنا اسلام میں درست نہیں۔ کچھ لوگ کسی ذاتی سبب سے غیر شادی شدہ رہ جائیں تو اس وقت اسلام پورے معاشرہ میں یہ روح دیکھنا چاہتا ہے کہ تمام لوگ اس کو ایک مشترک مسئلہ سمجھیں اور اس وقت تک مطمئن نہ ہوں جب تک وہ اس مسئلہ کو شرعی طریقوں سے حل نہ کرلیں۔ کتاب یا مکاتبت کے لفظی معنی ہیں لکھنا۔ اس سے مراد وہ تحریر ہے جس میں کوئی لونڈی یا غلام اپنے آقا سے یہ عہد کرے کہ میں اتنی مدت میں اتنا مال کما کر تجھے دے دوں گا اور اس کے بعد سے میں آزاد ہوں گا۔ اسلام جس زمانہ میں آیا اس وقت عرب میں اور ساری دنیا میں غلام بنانے کا رواج تھا۔ اسلام نے نہایت منظم طورپر اس کو ختم کرناشروع کیا۔ اسی میں سے ایک طریقہ وہ تھا جس کو مکاتبت کہاجاتا ہے۔ تاہم اسلام نے فک رقبہ (گردنیں چھڑانے) کی یہ مہم اپنے عام اصول کے مطابق تدریج کے تحت چلائی۔ مختلف طریقوں سے غلاموں اور لونڈیوں کو رہا کیا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ خلافت راشدہ کے آخری دور تک اس ادارہ کا تقریباً خاتمہ ہوگیا۔ قدیم زمانہ میں بعض لوگ اپنی لونڈیوں سے کسب کراتے تھے۔ مدینہ کے منافق عبد اللہ بن ابی کے پاس کئی لونڈیاں تھیں جن سے بدکاری کراکر وہ رقم حاصل کرتا تھا۔ ان میں سے ایک لونڈی نے اسلام قبول کرلیا اور کسب سے باز آنا چاہا تو عبد اللہ بن ابی نے اس پر جبر کرنا شروع کیا۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے یہ لونڈی عبد اللہ بن ابی کے قبضہ سے رہا کرائی گئی۔

النور 24:34

اسلام مرد اور عورت کے ليے شادی شدہ زندگی پسند کرتا ہے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر نکاح سے رکنا اسلام میں درست نہیں۔ کچھ لوگ کسی ذاتی سبب سے غیر شادی شدہ رہ جائیں تو اس وقت اسلام پورے معاشرہ میں یہ روح دیکھنا چاہتا ہے کہ تمام لوگ اس کو ایک مشترک مسئلہ سمجھیں اور اس وقت تک مطمئن نہ ہوں جب تک وہ اس مسئلہ کو شرعی طریقوں سے حل نہ کرلیں۔ کتاب یا مکاتبت کے لفظی معنی ہیں لکھنا۔ اس سے مراد وہ تحریر ہے جس میں کوئی لونڈی یا غلام اپنے آقا سے یہ عہد کرے کہ میں اتنی مدت میں اتنا مال کما کر تجھے دے دوں گا اور اس کے بعد سے میں آزاد ہوں گا۔ اسلام جس زمانہ میں آیا اس وقت عرب میں اور ساری دنیا میں غلام بنانے کا رواج تھا۔ اسلام نے نہایت منظم طورپر اس کو ختم کرناشروع کیا۔ اسی میں سے ایک طریقہ وہ تھا جس کو مکاتبت کہاجاتا ہے۔ تاہم اسلام نے فک رقبہ (گردنیں چھڑانے) کی یہ مہم اپنے عام اصول کے مطابق تدریج کے تحت چلائی۔ مختلف طریقوں سے غلاموں اور لونڈیوں کو رہا کیا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ خلافت راشدہ کے آخری دور تک اس ادارہ کا تقریباً خاتمہ ہوگیا۔ قدیم زمانہ میں بعض لوگ اپنی لونڈیوں سے کسب کراتے تھے۔ مدینہ کے منافق عبد اللہ بن ابی کے پاس کئی لونڈیاں تھیں جن سے بدکاری کراکر وہ رقم حاصل کرتا تھا۔ ان میں سے ایک لونڈی نے اسلام قبول کرلیا اور کسب سے باز آنا چاہا تو عبد اللہ بن ابی نے اس پر جبر کرنا شروع کیا۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے یہ لونڈی عبد اللہ بن ابی کے قبضہ سے رہا کرائی گئی۔

النور 24:35

یہ ایک مرکب تمثیل ہے۔ اس آیت میں روشنی سے مراد اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے۔ طاق سے مراد انسان کا دل ہے اور چراغ سے مراد ایمان کی استعداد ہے۔ شیشہ اور تیل اسی استعداد کی مزید خصوصیت کو بتارہے ہیں۔شیشہ اس بات کی تعبیر ہے کہ یہ استعداد قلبِ انسانی میں اس طرح رکھی گئی ہے کہ وہ خارجی اثرات سے پوری طرح محفوظ رہے۔ اور شفاف تیل اس بات کی تعبیر ہے کہ اس کی یہ استعداد اتنی قوی ہے کہ وہ بے تاب ہورہی ہے کہ کب اس کے سامنے حق آئے اور وہ اس کو بلا تاخیر قبول کرلے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کائنات میں روشنی کا واحد ماخذ صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔ اسی سے ہر ایک کوروشنی اور ہدایات ملتی ہے۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس کے اندر فطری طورپر حق کی طلب موجود ہے۔ یہ طلب بے حد طاقت ور ہے۔ اور اگر اس کو ضائع نہ کیا جائے تو وہ ہر آن اپنا جواب پانے کے ليے بے تاب رہتی ہے۔ باعتبار فطرت انسان کی استعدادِ قبول اتنی بڑھی ہوئی ہے گویا وہ کوئی پٹرول ہے کہ آگ اگر اس کے قریب بھی لائی جائے تو وہ فوراً بھڑک اٹھے۔ مومن وہ حقیقی انسان ہے جس نے اپنی فطری استعداد کو ضائع نہیں کیا۔ چنانچہ حق کی دعوت سامنے آتے ہی اس کی استعداد جاگ اٹھی۔ نور فطرت کے ساتھ نور ہدایت نے مل کر اس کے پورے وجود کو روشن کردیا۔

النور 24:36

انسانی جسم میں جو مقام دل کا ہے وہی مقام انسانی بستی میں مسجد کا ہے۔ انسان کا دل ایمان سے آباد ہوتا ہے اور مسجدیں اللہ کی عبادت سے آباد ہوتی ہیں۔ مسجدیں خدا کا گھر ہیں۔وہ اسی ليے بنائی جاتی ہیں کہ وہاں اللہ کی یاد کی جائے۔ وہاں آنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو اس ليے آتے ہیں کہ وہاں کے روحانی ماحول میں اللہ کی طرف متوجہ ہوسکیں۔ وہ اس ليے آتے ہیں کہ اپنے آپ کو یکسو کرکے کچھ وقت اللہ کی عبادت میں گزاریں۔ جس انسان کو یہ توفیق ملے کہ وہ اپنی فطرت کی آواز کو پہچان کر خدا پر ایمان لائے۔ اور پھر وہ اپنے آپ کو مسجد والے اعمال میں مشغول کرلے اس کے دل میں اللہ اپنی ہیبت کا احساس ڈال دیتا ہے جو موجودہ دنیا میں کسی انسان کے ليے سب سے بڑی نعمت ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو قربانی کی سطح پر خدا پرستی کو اختیار کرتے ہیں۔ اور غیر خدا سے کٹ کر خداوالے بنتے ہیں۔ یہی وہ انسان ہے جو اللہ کے یہاں بہترین انعام کا مستحق ہے۔ اللہ اس کو بے حساب فضل عطا فرمائے گا۔

النور 24:37

انسانی جسم میں جو مقام دل کا ہے وہی مقام انسانی بستی میں مسجد کا ہے۔ انسان کا دل ایمان سے آباد ہوتا ہے اور مسجدیں اللہ کی عبادت سے آباد ہوتی ہیں۔ مسجدیں خدا کا گھر ہیں۔وہ اسی ليے بنائی جاتی ہیں کہ وہاں اللہ کی یاد کی جائے۔ وہاں آنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو اس ليے آتے ہیں کہ وہاں کے روحانی ماحول میں اللہ کی طرف متوجہ ہوسکیں۔ وہ اس ليے آتے ہیں کہ اپنے آپ کو یکسو کرکے کچھ وقت اللہ کی عبادت میں گزاریں۔ جس انسان کو یہ توفیق ملے کہ وہ اپنی فطرت کی آواز کو پہچان کر خدا پر ایمان لائے۔ اور پھر وہ اپنے آپ کو مسجد والے اعمال میں مشغول کرلے اس کے دل میں اللہ اپنی ہیبت کا احساس ڈال دیتا ہے جو موجودہ دنیا میں کسی انسان کے ليے سب سے بڑی نعمت ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو قربانی کی سطح پر خدا پرستی کو اختیار کرتے ہیں۔ اور غیر خدا سے کٹ کر خداوالے بنتے ہیں۔ یہی وہ انسان ہے جو اللہ کے یہاں بہترین انعام کا مستحق ہے۔ اللہ اس کو بے حساب فضل عطا فرمائے گا۔

النور 24:38

انسانی جسم میں جو مقام دل کا ہے وہی مقام انسانی بستی میں مسجد کا ہے۔ انسان کا دل ایمان سے آباد ہوتا ہے اور مسجدیں اللہ کی عبادت سے آباد ہوتی ہیں۔ مسجدیں خدا کا گھر ہیں۔وہ اسی ليے بنائی جاتی ہیں کہ وہاں اللہ کی یاد کی جائے۔ وہاں آنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو اس ليے آتے ہیں کہ وہاں کے روحانی ماحول میں اللہ کی طرف متوجہ ہوسکیں۔ وہ اس ليے آتے ہیں کہ اپنے آپ کو یکسو کرکے کچھ وقت اللہ کی عبادت میں گزاریں۔ جس انسان کو یہ توفیق ملے کہ وہ اپنی فطرت کی آواز کو پہچان کر خدا پر ایمان لائے۔ اور پھر وہ اپنے آپ کو مسجد والے اعمال میں مشغول کرلے اس کے دل میں اللہ اپنی ہیبت کا احساس ڈال دیتا ہے جو موجودہ دنیا میں کسی انسان کے ليے سب سے بڑی نعمت ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو قربانی کی سطح پر خدا پرستی کو اختیار کرتے ہیں۔ اور غیر خدا سے کٹ کر خداوالے بنتے ہیں۔ یہی وہ انسان ہے جو اللہ کے یہاں بہترین انعام کا مستحق ہے۔ اللہ اس کو بے حساب فضل عطا فرمائے گا۔

النور 24:39

انسانوں کی ایک قسم وہ ہے جس کا ذکر آیت 35 میں تھا۔ یہ وہ انسان ہے جو اپنی فطری استعداد کو زندہ رکھتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایمان کی دولت سے سرفراز ہوتا ہے۔ اب آیت 39-40 میںانسانوں کی مزید دو قسموں کا ذکر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا تیل دعوتِ حق کی آگ سے بھڑکنے کے ليے تیار نہیں ہوتا۔ ایک قسم وہ ہے جو کسی خود ساختہ دین پر قائم رہتی ہے۔ وہ جھوٹی تمناؤں کا ایک محل بناکر اس میں خوش رہتی ہے۔ یہ لوگ اسی طرح خوش گمانیوں میں پڑے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب موت آتی ہے تو ان کی خوش گمانیوں کا طلسم ٹوٹ جاتا ہے۔ اور پھر اچانک انھیں معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز کو وہ منزل سمجھے ہوئے تھے وہ ہلاکت کے گڑھے کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ دوسری قسم وہ ہے جو کھلم کھلا منکروں اور باغیوں کی ہے۔ یہ لوگ خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر بطور خود ہدایت وضع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر وہ سراسر ناکام رہتے ہیں۔ کیوں کہ اس دنیا میں ہدایت دینے والا خدا کے سوا اور کوئی نہیں۔ خدا کو چھوڑنے کے بعد آدمی کے حصہ میں اس کے سوا کچھ نہیں رہتا کہ وہ ابدی طورپر اندھیرے میں بھٹکتا رہے۔

النور 24:40

انسانوں کی ایک قسم وہ ہے جس کا ذکر آیت 35 میں تھا۔ یہ وہ انسان ہے جو اپنی فطری استعداد کو زندہ رکھتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایمان کی دولت سے سرفراز ہوتا ہے۔ اب آیت 39-40 میںانسانوں کی مزید دو قسموں کا ذکر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا تیل دعوتِ حق کی آگ سے بھڑکنے کے ليے تیار نہیں ہوتا۔ ایک قسم وہ ہے جو کسی خود ساختہ دین پر قائم رہتی ہے۔ وہ جھوٹی تمناؤں کا ایک محل بناکر اس میں خوش رہتی ہے۔ یہ لوگ اسی طرح خوش گمانیوں میں پڑے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب موت آتی ہے تو ان کی خوش گمانیوں کا طلسم ٹوٹ جاتا ہے۔ اور پھر اچانک انھیں معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز کو وہ منزل سمجھے ہوئے تھے وہ ہلاکت کے گڑھے کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ دوسری قسم وہ ہے جو کھلم کھلا منکروں اور باغیوں کی ہے۔ یہ لوگ خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر بطور خود ہدایت وضع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر وہ سراسر ناکام رہتے ہیں۔ کیوں کہ اس دنیا میں ہدایت دینے والا خدا کے سوا اور کوئی نہیں۔ خدا کو چھوڑنے کے بعد آدمی کے حصہ میں اس کے سوا کچھ نہیں رہتا کہ وہ ابدی طورپر اندھیرے میں بھٹکتا رہے۔

النور 24:41

انسان سے خدا کا جو مطالبہ ہے اس کو لفظ بدل کر کہیں تو وہ یہ ہے کہ انسان ویسا ہی رہے جیسا کہ از روئے حقیقت اسے رہنا چاہيے۔ یہی دین حق ہے۔ اس اعتبار سے ساری کائنات دین حق پر ہے۔ کیوں کہ اس کائنات کی ہر چیز عین اسی طرح عمل کرتی ہے جیسا کہ فی الواقع اسے عمل کرنا چاہيے۔ انسان کے سوا اس کائنات میں کوئی بھی چیزنہیں جس کے عمل میں اور حقیقت واقعہ میں کوئی ٹکراؤ ہو۔ انھیں بے شمار چیزوں میں سے ایک مثال چڑیا کی ہے۔ چڑیا جب اپناپر پھیلائے ہوئے فضا میں اڑتی ہے تو وہ اسی حقیقت کا ایک کامل نمونہ ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا وہ ابدی حقیقت کی دنیا میں کامل موافقت کرکے تیر رہی ہو۔ گویا اس نے اپنے انفرادی وجود کو حقائق کے وسیع تر سمندر میں گم کردیا ہو۔ ہر ایک کی ایک تسبیح ِخداوندی ہے اور وہی اس سے مطلوب ہے۔ اسی طرح انسان کی ایک تسبیح ِخداوندی ہے اور وہ اس سے مطلوب ہے۔ انسان اگر اس معاملہ میں غفلت یا سرکشی کا رویہ اختیار کرے تو اس وقت اس کو اس کی سخت قیمت ادا کرنی ہوگی جب خدا کے ساتھ اس کا سامنا پیش آئے گا۔

النور 24:42

انسان سے خدا کا جو مطالبہ ہے اس کو لفظ بدل کر کہیں تو وہ یہ ہے کہ انسان ویسا ہی رہے جیسا کہ از روئے حقیقت اسے رہنا چاہيے۔ یہی دین حق ہے۔ اس اعتبار سے ساری کائنات دین حق پر ہے۔ کیوں کہ اس کائنات کی ہر چیز عین اسی طرح عمل کرتی ہے جیسا کہ فی الواقع اسے عمل کرنا چاہيے۔ انسان کے سوا اس کائنات میں کوئی بھی چیزنہیں جس کے عمل میں اور حقیقت واقعہ میں کوئی ٹکراؤ ہو۔ انھیں بے شمار چیزوں میں سے ایک مثال چڑیا کی ہے۔ چڑیا جب اپناپر پھیلائے ہوئے فضا میں اڑتی ہے تو وہ اسی حقیقت کا ایک کامل نمونہ ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا وہ ابدی حقیقت کی دنیا میں کامل موافقت کرکے تیر رہی ہو۔ گویا اس نے اپنے انفرادی وجود کو حقائق کے وسیع تر سمندر میں گم کردیا ہو۔ ہر ایک کی ایک تسبیح ِخداوندی ہے اور وہی اس سے مطلوب ہے۔ اسی طرح انسان کی ایک تسبیح ِخداوندی ہے اور وہ اس سے مطلوب ہے۔ انسان اگر اس معاملہ میں غفلت یا سرکشی کا رویہ اختیار کرے تو اس وقت اس کو اس کی سخت قیمت ادا کرنی ہوگی جب خدا کے ساتھ اس کا سامنا پیش آئے گا۔

النور 24:43

مکہ کے لوگ اس زمانہ میں عرب کے قائد سمجھے جاتے تھے۔ یہ قیادت ان کے ليے خدا کی ایک نعمت تھی۔ مگر اس سے انھوں نے کبر کی غذا لی۔ چنانچہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے حق کا اعلان ہوا تو انھوںنے اپنی متکبرانہ نفسیات کی بنا پر اس کا انکار کردیا۔ یہ مکہ میں اسلام کا حال تھا۔ مگر باہر کي عوام جو اس قسم کی نفسیاتی پیچیدگیوں میں مبتلا نہ تھي ان کے اندر اسلام کی صداقت پھیلتی جارہی تھی۔ مکہ میں اسلام کو رد کردیا گیا تھا مگر باہر کے قبائل میں اسلام کو اختیار کیا جارہا تھا۔ مدینہ کے باشندوں کے بڑے پیمانے پر قبولِ اسلام نے یہ بات آخری طورپر واضح کردی کہ مکہ كے لوگوں کی قیادت کا دائرہ سمٹتا جارہا ہے۔ یہ ایک کھلی ہوئی تنبیہ تھی۔ مگر جو لوگ بڑائی کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ کسی بھی تنبیہ سے سبق لینے والے نہیں بنتے۔

النور 24:44

مکہ کے لوگ اس زمانہ میں عرب کے قائد سمجھے جاتے تھے۔ یہ قیادت ان کے ليے خدا کی ایک نعمت تھی۔ مگر اس سے انھوں نے کبر کی غذا لی۔ چنانچہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے حق کا اعلان ہوا تو انھوںنے اپنی متکبرانہ نفسیات کی بنا پر اس کا انکار کردیا۔ یہ مکہ میں اسلام کا حال تھا۔ مگر باہر کي عوام جو اس قسم کی نفسیاتی پیچیدگیوں میں مبتلا نہ تھي ان کے اندر اسلام کی صداقت پھیلتی جارہی تھی۔ مکہ میں اسلام کو رد کردیا گیا تھا مگر باہر کے قبائل میں اسلام کو اختیار کیا جارہا تھا۔ مدینہ کے باشندوں کے بڑے پیمانے پر قبولِ اسلام نے یہ بات آخری طورپر واضح کردی کہ مکہ كے لوگوں کی قیادت کا دائرہ سمٹتا جارہا ہے۔ یہ ایک کھلی ہوئی تنبیہ تھی۔ مگر جو لوگ بڑائی کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ کسی بھی تنبیہ سے سبق لینے والے نہیں بنتے۔

النور 24:45

دنیا کی چیزوں میں بظاہر تعدد ہے۔ اس سے مشرک انسان نے یہ قیاس کیا کہ چیزوں کے خالق بھی متعدد ہیں۔ مگر جب چیزوں کو اس پہلو سے دیکھا جائے کہ ظاہری تعداد اور تنوع کے اندر ایک یکسانیت چھپی ہوئی ہے تو معاملہ بالکل بدل جاتا ہے۔ حیوانات کی لاکھوں قسمیں ہیں۔ مگر گہرا مطالعہ بتاتاہے کہ ان سب کی اصل ایک ہے۔ تمام حیوانات کا حیاتیاتی نظام بالکل یکساں ہے۔ اس مطالعہ کے بعد چیزوں کا تعدد اور تنوع خالق کی قدرت کا کرشمہ بن جاتا ہے۔ ایک اعتبار سے جو چیز تعددِ تخلیق کا اظہار معلوم ہورہی تھی وہ دوسرے اعتبار سے توحید تخلیق کا ثبوت بن جاتی ہے۔ موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں فریب کے درمیان حقیقت کو پانا پڑتا ہے۔ یہاں اپنے آپ کو دھوکا دینے والی باتوں سے اوپر اٹھانا پڑتا ہے۔ تاکہ آدمی حق کا مشاہدہ کرسکے۔ اسی خاص کام کے ليے اللہ تعالیٰ نے آدمی کو عقل کی صلاحیت دی ہے۔ جو شخص اس خدائی ٹارچ کو صحیح طورپر استعمال کرے گا وہ راستہ پالے گا۔ اور جو شخص اس کو استعمال نہیں کرے گا اس کے ليے اس دنیا میں بھٹکنے کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔

النور 24:46

دنیا کی چیزوں میں بظاہر تعدد ہے۔ اس سے مشرک انسان نے یہ قیاس کیا کہ چیزوں کے خالق بھی متعدد ہیں۔ مگر جب چیزوں کو اس پہلو سے دیکھا جائے کہ ظاہری تعداد اور تنوع کے اندر ایک یکسانیت چھپی ہوئی ہے تو معاملہ بالکل بدل جاتا ہے۔ حیوانات کی لاکھوں قسمیں ہیں۔ مگر گہرا مطالعہ بتاتاہے کہ ان سب کی اصل ایک ہے۔ تمام حیوانات کا حیاتیاتی نظام بالکل یکساں ہے۔ اس مطالعہ کے بعد چیزوں کا تعدد اور تنوع خالق کی قدرت کا کرشمہ بن جاتا ہے۔ ایک اعتبار سے جو چیز تعددِ تخلیق کا اظہار معلوم ہورہی تھی وہ دوسرے اعتبار سے توحید تخلیق کا ثبوت بن جاتی ہے۔ موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں فریب کے درمیان حقیقت کو پانا پڑتا ہے۔ یہاں اپنے آپ کو دھوکا دینے والی باتوں سے اوپر اٹھانا پڑتا ہے۔ تاکہ آدمی حق کا مشاہدہ کرسکے۔ اسی خاص کام کے ليے اللہ تعالیٰ نے آدمی کو عقل کی صلاحیت دی ہے۔ جو شخص اس خدائی ٹارچ کو صحیح طورپر استعمال کرے گا وہ راستہ پالے گا۔ اور جو شخص اس کو استعمال نہیں کرے گا اس کے ليے اس دنیا میں بھٹکنے کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔

النور 24:47

قدیم مدینہ میںایک طبقہ وہ تھا جس نے بظاہر اسلام قبول کرلیا تھا مگر وہ اسلام کے معاملہ میں مخلص نہ تھا۔ اس گروہ کو منافق کہاجاتا ہے۔ یہ لوگ زبان سے تو خدا ورسول کی اطاعت کے الفاظ بولتے تھے مگر جب تجربہ پیش آتا تو وہ خود اپنے عمل سے اپنے اس دعوے کی تردید کردیتے۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ مدینہ میں باقاعدہ نوعیت کی اسلامی عدالت ابھی قائم نہیں ہوئی تھی۔ وہاں ایک طرف یہودی سردار تھے جو سیکڑوں سال سے رواجی طورپر لوگوں کے فیصلے کرتے چلے آرہے تھے۔ دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے وہاں پہنچ چکے تھے۔ منافقین کا حال یہ تھا کہ اگر کسی مسلمان سے ان کی نزاع ہو جائے اور وہ کہے کہ چلو رسول اللہ کے یہاں اس کا فیصلہ کرالو تو مذکورہ منافق اس کے ليے صرف اس صورت میں راضی ہوتا تھا، جب کہ اس کو یقین ہوتا کہ مقدمے کی نوعیت ایسی ہے کہ فیصلہ اس کے اپنے حق میں ہوجائے گا۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا تو وہ کہتا کہ فلاں یہودی سردار کے یہاں چلو اور اس سے فیصلہ کرالو۔ یہ بظاہر ہوشیاری ہے مگر یہ خود اپنے اوپر ظلم کرنا ہے۔ اس طرح جیتنے والے آخرت میں اس حال میں پہنچیں گے کہ وہ اپنا مقدمہ بالکل ہارچکے ہوں گے۔

النور 24:48

قدیم مدینہ میںایک طبقہ وہ تھا جس نے بظاہر اسلام قبول کرلیا تھا مگر وہ اسلام کے معاملہ میں مخلص نہ تھا۔ اس گروہ کو منافق کہاجاتا ہے۔ یہ لوگ زبان سے تو خدا ورسول کی اطاعت کے الفاظ بولتے تھے مگر جب تجربہ پیش آتا تو وہ خود اپنے عمل سے اپنے اس دعوے کی تردید کردیتے۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ مدینہ میں باقاعدہ نوعیت کی اسلامی عدالت ابھی قائم نہیں ہوئی تھی۔ وہاں ایک طرف یہودی سردار تھے جو سیکڑوں سال سے رواجی طورپر لوگوں کے فیصلے کرتے چلے آرہے تھے۔ دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے وہاں پہنچ چکے تھے۔ منافقین کا حال یہ تھا کہ اگر کسی مسلمان سے ان کی نزاع ہو جائے اور وہ کہے کہ چلو رسول اللہ کے یہاں اس کا فیصلہ کرالو تو مذکورہ منافق اس کے ليے صرف اس صورت میں راضی ہوتا تھا، جب کہ اس کو یقین ہوتا کہ مقدمے کی نوعیت ایسی ہے کہ فیصلہ اس کے اپنے حق میں ہوجائے گا۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا تو وہ کہتا کہ فلاں یہودی سردار کے یہاں چلو اور اس سے فیصلہ کرالو۔ یہ بظاہر ہوشیاری ہے مگر یہ خود اپنے اوپر ظلم کرنا ہے۔ اس طرح جیتنے والے آخرت میں اس حال میں پہنچیں گے کہ وہ اپنا مقدمہ بالکل ہارچکے ہوں گے۔

النور 24:49

قدیم مدینہ میںایک طبقہ وہ تھا جس نے بظاہر اسلام قبول کرلیا تھا مگر وہ اسلام کے معاملہ میں مخلص نہ تھا۔ اس گروہ کو منافق کہاجاتا ہے۔ یہ لوگ زبان سے تو خدا ورسول کی اطاعت کے الفاظ بولتے تھے مگر جب تجربہ پیش آتا تو وہ خود اپنے عمل سے اپنے اس دعوے کی تردید کردیتے۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ مدینہ میں باقاعدہ نوعیت کی اسلامی عدالت ابھی قائم نہیں ہوئی تھی۔ وہاں ایک طرف یہودی سردار تھے جو سیکڑوں سال سے رواجی طورپر لوگوں کے فیصلے کرتے چلے آرہے تھے۔ دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے وہاں پہنچ چکے تھے۔ منافقین کا حال یہ تھا کہ اگر کسی مسلمان سے ان کی نزاع ہو جائے اور وہ کہے کہ چلو رسول اللہ کے یہاں اس کا فیصلہ کرالو تو مذکورہ منافق اس کے ليے صرف اس صورت میں راضی ہوتا تھا، جب کہ اس کو یقین ہوتا کہ مقدمے کی نوعیت ایسی ہے کہ فیصلہ اس کے اپنے حق میں ہوجائے گا۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا تو وہ کہتا کہ فلاں یہودی سردار کے یہاں چلو اور اس سے فیصلہ کرالو۔ یہ بظاہر ہوشیاری ہے مگر یہ خود اپنے اوپر ظلم کرنا ہے۔ اس طرح جیتنے والے آخرت میں اس حال میں پہنچیں گے کہ وہ اپنا مقدمہ بالکل ہارچکے ہوں گے۔

النور 24:50

قدیم مدینہ میںایک طبقہ وہ تھا جس نے بظاہر اسلام قبول کرلیا تھا مگر وہ اسلام کے معاملہ میں مخلص نہ تھا۔ اس گروہ کو منافق کہاجاتا ہے۔ یہ لوگ زبان سے تو خدا ورسول کی اطاعت کے الفاظ بولتے تھے مگر جب تجربہ پیش آتا تو وہ خود اپنے عمل سے اپنے اس دعوے کی تردید کردیتے۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ مدینہ میں باقاعدہ نوعیت کی اسلامی عدالت ابھی قائم نہیں ہوئی تھی۔ وہاں ایک طرف یہودی سردار تھے جو سیکڑوں سال سے رواجی طورپر لوگوں کے فیصلے کرتے چلے آرہے تھے۔ دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے وہاں پہنچ چکے تھے۔ منافقین کا حال یہ تھا کہ اگر کسی مسلمان سے ان کی نزاع ہو جائے اور وہ کہے کہ چلو رسول اللہ کے یہاں اس کا فیصلہ کرالو تو مذکورہ منافق اس کے ليے صرف اس صورت میں راضی ہوتا تھا، جب کہ اس کو یقین ہوتا کہ مقدمے کی نوعیت ایسی ہے کہ فیصلہ اس کے اپنے حق میں ہوجائے گا۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا تو وہ کہتا کہ فلاں یہودی سردار کے یہاں چلو اور اس سے فیصلہ کرالو۔ یہ بظاہر ہوشیاری ہے مگر یہ خود اپنے اوپر ظلم کرنا ہے۔ اس طرح جیتنے والے آخرت میں اس حال میں پہنچیں گے کہ وہ اپنا مقدمہ بالکل ہارچکے ہوں گے۔

النور 24:51

عام آدمی اپنے مفاد کے تابع ہوتا ہے۔ مومن وہ ہے جو اپنے آپ کو اللہ اور رسول کا تابع بنالے۔ جب خدا اور رسول کا فیصلہ سامنے آجائے تو وہ ہر حال میں وہی کرے جو خدا ورسول کا فیصلہ ہو۔ خواہ وہ اس کی خواہش کے مطابق ہو یا اس کی خواہش کے خلاف۔ خواہ اس میں اس کا مفاد محفوظ ہوتا ہو یا اس میں اس کا مفاد مجروح ہو رہا ہو۔ آخرت کی کامیابی صرف اس شخص کے ليے ہے جس کا ایمان اس کو خدا اور رسول کے حکم کے آگے جھکادے۔ خدا کا احساس اس کے دل میںاس طرح اتر جائے کہ وہ اسی سے سب سے زیادہ ڈرنے لگے۔ خدا کی ناراضگی سے اپنے آپ کو بچانا اس کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بن جائے۔

النور 24:52

عام آدمی اپنے مفاد کے تابع ہوتا ہے۔ مومن وہ ہے جو اپنے آپ کو اللہ اور رسول کا تابع بنالے۔ جب خدا اور رسول کا فیصلہ سامنے آجائے تو وہ ہر حال میں وہی کرے جو خدا ورسول کا فیصلہ ہو۔ خواہ وہ اس کی خواہش کے مطابق ہو یا اس کی خواہش کے خلاف۔ خواہ اس میں اس کا مفاد محفوظ ہوتا ہو یا اس میں اس کا مفاد مجروح ہو رہا ہو۔ آخرت کی کامیابی صرف اس شخص کے ليے ہے جس کا ایمان اس کو خدا اور رسول کے حکم کے آگے جھکادے۔ خدا کا احساس اس کے دل میںاس طرح اتر جائے کہ وہ اسی سے سب سے زیادہ ڈرنے لگے۔ خدا کی ناراضگی سے اپنے آپ کو بچانا اس کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بن جائے۔

النور 24:53

جس شخص کے دل میں گہرائی کے ساتھ خدا اترا ہوا ہو اس کی نگاہیں جھک جاتی ہیں۔اس کی زبان بند ہوجاتی ہے۔ اس کا احساسِ ذمہ داری اس سے بڑی بڑی قربانیاں کرادیتاہے۔ مگر زبانی دعدوں کے وقت وہ دیکھنے والے لوگوں کو گونگا نظر آتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص خدا سے تعلق کے معاملہ میں کم ہو وہ الفاظ کے معاملہ میں زیادہ ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے عمل کی کمی کو الفاظ کی زیادتی سے پورا کرتا ہے۔ اس کے پاس چونکہ کردار کی گواہی نہیں ہوتی اس ليے وہ اپنے کو معتبر ثابت کرنے کے ليے بڑے بڑے الفاظ کا مظاہرہ کرتا ہے۔ جو لوگ الفاظ کا کمال دکھا کر دوسروں کو متاثر کرنا چاہتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ سارا معاملہ بس انسانوں کا معاملہ ہے۔ مگر جس شخص کو یقین ہو کہ اصل معاملہ وہ ہے جو خدا کے یہاں پیش آنے والا ہے۔ اس کا سارا انداز بالکل بدل جائے گا۔

النور 24:54

جس شخص کے دل میں گہرائی کے ساتھ خدا اترا ہوا ہو اس کی نگاہیں جھک جاتی ہیں۔اس کی زبان بند ہوجاتی ہے۔ اس کا احساسِ ذمہ داری اس سے بڑی بڑی قربانیاں کرادیتاہے۔ مگر زبانی دعدوں کے وقت وہ دیکھنے والے لوگوں کو گونگا نظر آتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص خدا سے تعلق کے معاملہ میں کم ہو وہ الفاظ کے معاملہ میں زیادہ ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے عمل کی کمی کو الفاظ کی زیادتی سے پورا کرتا ہے۔ اس کے پاس چونکہ کردار کی گواہی نہیں ہوتی اس ليے وہ اپنے کو معتبر ثابت کرنے کے ليے بڑے بڑے الفاظ کا مظاہرہ کرتا ہے۔ جو لوگ الفاظ کا کمال دکھا کر دوسروں کو متاثر کرنا چاہتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ سارا معاملہ بس انسانوں کا معاملہ ہے۔ مگر جس شخص کو یقین ہو کہ اصل معاملہ وہ ہے جو خدا کے یہاں پیش آنے والا ہے۔ اس کا سارا انداز بالکل بدل جائے گا۔

النور 24:55

یہاں جس غلبہ کا وعدہ کیاگیا ہے اس کا تعلق اولاً رسول اور اصحابِ رسول سے ہے۔ مگر تبعاً اس کا تعلق پوری امت سے ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غلبہ اور اقتدار اہلِ ایمان کے عمل کا نشانہ نہیں۔ وہ ایک خدائی انعام ہے جو ایمان اور عمل کے نتیجہ میں مومنین کی جماعت کو دیا جاتا ہے۔ اس غلبہ کا مقصد یہ ہے کہ اہل ایمان کو زمین میںاستحکام عطا کیا جائے۔ ان کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ دشمنانِ حق کے اندیشوں سے مامون ہو کر رہ سکیں۔ وہ آزادانہ طورپر خدا کی عبادت کریں۔ اور صرف ایک خدا کے بندے بن کر زندگی گزاریں۔ اہل ایمان کے غلبہ کی یہ حالت اس وقت تک باقی رہے گی جب تک وہ خدا کے شکر کرنے والے بنے رہیں، اور تقویٰ کی کیفیت نہ کھوئیں۔ خلیفہ کے معنی عربی زبان میں جانشین یا بعد کو آنے والے کے ہیں۔ استخلاف یا خلیفہ بنانا یہ ہے کہ ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو اس کی جگہ پر غلبہ اور استحکام عطا کیا جائے — غلبہ دراصل خدائی امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ خدا ایک کے بعد ایک، ہر قوم کو زمین میں غلبہ دیتا ہے۔ اور اس طرح اس کو جانچتا ہے۔ اہل ایمان کی جماعت کے ليے یہ غلبہ امتحان کے ساتھ ایک انعام بھی ہے۔

النور 24:56

خدا کی رحمت یہ ہے کہ دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت عطا کی جائے۔ جو لوگ خدا کی اس رحمت کا مستحق بننا چاہیں انھیں اپنے اندر تین صفتیں پیدا کرنی چاہئیں۔ ایک اقامت صلوٰۃ۔ اقامت صلوٰۃ صورتاً پنچ وقتہ نماز کا نظام قائم کرنے کا نام ہے۔ اور معنوي طور پر اس کا مطلب یہ هے کہ لوگ خشوع اورتواضع میں جینے والے بنیں، نہ کہ کبر اور سرکشی میں جینے والے۔ اسی طرح زکوٰۃ کی عملی صورت یہ ہے کہ اپنے اموال میں مقررہ شرح کے مطابق سالانہ ایک رقم نکالی جائے اور اس کو بیت المال کے حوالے کیا جائےاور بيت المال نه هونے كي صورت ميں مستحقين كو براهِ راست دے ديا جائے۔ اور زکوٰۃ اپنی معنوی حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ لوگ خود غرض بن کر نہ رہیں بلکہ وہ دوسروں کے خیر خواہ بن کررہیں۔ حتی کہ ان کی خیر خواہی اتنی بڑھے کہ اپنی ذات اور اثاثہ میں وہ دوسروں کا حق سمجھنے لگیں۔ رسو ل کی اطاعت رسول کے زمانے میں ذاتِ رسول کی اطاعت تھی۔ اور بعد کے زمانہ میں سنتِ رسول کی اطاعت۔ اس کامطلب یہ ہے کہ لوگوں کے ليے زندگی کا نمونہ اللہ کا رسول ہو۔ لوگ اپنی زندگی کے تمام معاملات میںصرف رسولِ خدا کو اپنا رہنما سمجھیں۔ رسول کی رائے سامنے آنے کے بعد لوگ اپنی ذاتی رائے سے دست بردار ہوجائیں۔ رسول آگے ہو اور تمام لوگ اس کے پیچھے۔

النور 24:57

خدا کی رحمت یہ ہے کہ دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت عطا کی جائے۔ جو لوگ خدا کی اس رحمت کا مستحق بننا چاہیں انھیں اپنے اندر تین صفتیں پیدا کرنی چاہئیں۔ ایک اقامت صلوٰۃ۔ اقامت صلوٰۃ صورتاً پنچ وقتہ نماز کا نظام قائم کرنے کا نام ہے۔ اور معنوي طور پر اس کا مطلب یہ هے کہ لوگ خشوع اورتواضع میں جینے والے بنیں، نہ کہ کبر اور سرکشی میں جینے والے۔ اسی طرح زکوٰۃ کی عملی صورت یہ ہے کہ اپنے اموال میں مقررہ شرح کے مطابق سالانہ ایک رقم نکالی جائے اور اس کو بیت المال کے حوالے کیا جائےاور بيت المال نه هونے كي صورت ميں مستحقين كو براهِ راست دے ديا جائے۔ اور زکوٰۃ اپنی معنوی حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ لوگ خود غرض بن کر نہ رہیں بلکہ وہ دوسروں کے خیر خواہ بن کررہیں۔ حتی کہ ان کی خیر خواہی اتنی بڑھے کہ اپنی ذات اور اثاثہ میں وہ دوسروں کا حق سمجھنے لگیں۔ رسو ل کی اطاعت رسول کے زمانے میں ذاتِ رسول کی اطاعت تھی۔ اور بعد کے زمانہ میں سنتِ رسول کی اطاعت۔ اس کامطلب یہ ہے کہ لوگوں کے ليے زندگی کا نمونہ اللہ کا رسول ہو۔ لوگ اپنی زندگی کے تمام معاملات میںصرف رسولِ خدا کو اپنا رہنما سمجھیں۔ رسول کی رائے سامنے آنے کے بعد لوگ اپنی ذاتی رائے سے دست بردار ہوجائیں۔ رسول آگے ہو اور تمام لوگ اس کے پیچھے۔

النور 24:58

اوپر معاشرتی احکام بیان ہوئے تھے۔ یہ آیتیں غالباً بعد کو ان کے تتمہ یا توضیح کے طورپر نازل ہوئیں۔ مثلاً اوپر (آيت 31 )عورتوں کے ليے گھر کے اندر پردہ کی جو ہدایات دی گئی ہیں ان میں یہ ہے کہ عورتیں اپنی اوڑھنی کے آنچل اپنے سینہ پر ڈال لیا کریں۔ یہاں (آیت 60) میں اس عام حکم سے ان عورتوں کو الگ کردیا گیا جو نکاح کی عمر سے گزر چکی ہوں۔ فرمایا کہ اگر وہ اوڑھنی کا اہتمام نہ کریں تو کوئی حرج نہیں۔ یہ دونوں قسم کے احکام ایک ساتھ اتر سکتے تھے۔ مگر ان کے درمیان 29 آيتوں کا فاصلہ ہے۔ ان درمیانی آيات میں دوسرے مضامین ہیں۔ جیسا کہ روایت سے معلوم ہوتاہے، ابتدائی احکام اترنے کے بعد کچھ عملی سوالات پیدا ہوئے۔ چنانچہ ان کی وضاحت میں یہ آخری آیتیں اتریں اور یہاں شامل کی گئیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا انداز ترتیب اور تدریج کا انداز ہے، نہ کہ یکبارگی اقدام کا۔ خدا کے ليے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ تمام احکام ایک ساتھ بیک وقت نازل کردے، مگر خدا نے حالات کے اعتبار سے احکام کو بتدریج نازل فرمایا۔

النور 24:59

اوپر معاشرتی احکام بیان ہوئے تھے۔ یہ آیتیں غالباً بعد کو ان کے تتمہ یا توضیح کے طورپر نازل ہوئیں۔ مثلاً اوپر (آيت 31 )عورتوں کے ليے گھر کے اندر پردہ کی جو ہدایات دی گئی ہیں ان میں یہ ہے کہ عورتیں اپنی اوڑھنی کے آنچل اپنے سینہ پر ڈال لیا کریں۔ یہاں (آیت 60) میں اس عام حکم سے ان عورتوں کو الگ کردیا گیا جو نکاح کی عمر سے گزر چکی ہوں۔ فرمایا کہ اگر وہ اوڑھنی کا اہتمام نہ کریں تو کوئی حرج نہیں۔ یہ دونوں قسم کے احکام ایک ساتھ اتر سکتے تھے۔ مگر ان کے درمیان 29 آيتوں کا فاصلہ ہے۔ ان درمیانی آيات میں دوسرے مضامین ہیں۔ جیسا کہ روایت سے معلوم ہوتاہے، ابتدائی احکام اترنے کے بعد کچھ عملی سوالات پیدا ہوئے۔ چنانچہ ان کی وضاحت میں یہ آخری آیتیں اتریں اور یہاں شامل کی گئیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا انداز ترتیب اور تدریج کا انداز ہے، نہ کہ یکبارگی اقدام کا۔ خدا کے ليے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ تمام احکام ایک ساتھ بیک وقت نازل کردے، مگر خدا نے حالات کے اعتبار سے احکام کو بتدریج نازل فرمایا۔

النور 24:60

اوپر معاشرتی احکام بیان ہوئے تھے۔ یہ آیتیں غالباً بعد کو ان کے تتمہ یا توضیح کے طورپر نازل ہوئیں۔ مثلاً اوپر (آيت 31 )عورتوں کے ليے گھر کے اندر پردہ کی جو ہدایات دی گئی ہیں ان میں یہ ہے کہ عورتیں اپنی اوڑھنی کے آنچل اپنے سینہ پر ڈال لیا کریں۔ یہاں (آیت 60) میں اس عام حکم سے ان عورتوں کو الگ کردیا گیا جو نکاح کی عمر سے گزر چکی ہوں۔ فرمایا کہ اگر وہ اوڑھنی کا اہتمام نہ کریں تو کوئی حرج نہیں۔ یہ دونوں قسم کے احکام ایک ساتھ اتر سکتے تھے۔ مگر ان کے درمیان 29 آيتوں کا فاصلہ ہے۔ ان درمیانی آيات میں دوسرے مضامین ہیں۔ جیسا کہ روایت سے معلوم ہوتاہے، ابتدائی احکام اترنے کے بعد کچھ عملی سوالات پیدا ہوئے۔ چنانچہ ان کی وضاحت میں یہ آخری آیتیں اتریں اور یہاں شامل کی گئیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا انداز ترتیب اور تدریج کا انداز ہے، نہ کہ یکبارگی اقدام کا۔ خدا کے ليے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ تمام احکام ایک ساتھ بیک وقت نازل کردے، مگر خدا نے حالات کے اعتبار سے احکام کو بتدریج نازل فرمایا۔

النور 24:61

اسلام سے پہلے عرب کا معاشرہ ایک آزاد معاشرہ تھا۔ وہاں کسی قسم کی کوئی پابندی نہ تھی۔ اس کے بعد اسلام نے گھروں کے اندر جانے پر پردہ کی پابندیاں عائد کیں جن کا بیان اوپر کی آیتوں میں ہے، تو کچھ لوگوں کو احساس ہوا کہ ان پابندیوں کے بعد ہماری سماجی زندگی بالکل محدود ہو کر رہ جائے گی۔ اس سلسلہ میں یہ وضاحتی آیتیں نازل ہوئیں۔ فرمایا کہ یہ پابندیاں تمھاری سماجی زندگی کو منظم کرنے کے لیے ہیں، نہ کہ تمہاری آزادی کو ختم کرنے کے لیے۔ مثلاً اندھے، لنگڑے اور بیمار اگر اپنے تعلق کے لوگوں سے دورہوجائیں تو یہ عملاً ان کو بے سہارا کردینے کے ہم معنیٰ ہوگا۔ مگر اسلام کا یہ منشا ہر گز نہیں۔ چنانچہ سابقہ احکام میں ضروری گنجائشیں دیتے ہوئے اس کی اصل روح کی نشان دہی فرمادی۔ ارشاد ہوا کہ اسلام کا اصل مطلوب یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی سچی خیر خواہی ہو۔ جب ایک آدمی دوسرے کے گھر میں داخل ہو تو وہ سلام کرے۔ اور کہے کہ ’’تمھارے اوپر سلامتی ہو اور اللہ کی برکتیں تمھارے اوپر نازل ہوں‘‘۔ یہ روح اگر حقیقی طورپر لوگوں کے اندر موجود ہو تو اکثر اجتماعی خرابیوں کا اپنے آپ خاتمہ ہوجائے گا۔

النور 24:62

جب کچھ لوگ اپنے آپ کو اسلام کے ساتھ وابستہ کریں تو مختلف اسباب سے بار بار اس کي ضرورت پیش آتی ہے کہ انھیں اكٹھا کیا جائے۔ مثلاً مسلمانوں کے کسی مشترک معاملہ میں مشورہ کرنے کے ليے، کسی اجتماعی مہم پر لوگوں کا تعاون حاصل کرنے کے ليے، وغیرہ۔ ایسے مواقع پر یہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں پر اپنے انفرادی تقاضے غالب ہوں وہ تھوڑی دیر کے بعد اپنی دلچسپی کھو دیتے ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ خاموشی کے ساتھ اٹھ کر چلے جائیں۔ یہ مزاج صحیح اسلامی مزاج نہیں۔ تاہم جو لوگ اس ذہنیت سے پاک ہوں ان میں بھی بعض ایسے افراد ہوسکتے ہیں جو کسی وقتی ضرورت کی بنا پر اجتماع کے ختم ہونے سے پہلے اٹھنا چاہیں۔ ایسے افراد کا طریقہ یہ ہوتاہے کہ وہ ذمہ دار شخصیت سے (اور رسول کے زمانہ میں رسول سے) باقاعدہ اجازت لے کر اواپس جاتے ہیں۔ نیز اگر ذمہ دار انھیں کسی وجہ سے اجازت نہ دے تو وہ کسی ناگواری کے بغیر آخر وقت تک کارروائی میں شریک رہتے ہیں۔ جو شخص مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کا ذمہ دار ہو اس کے اندر یہ مزاج ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اگر وقتی ضرورت کی بناپر معذرت پیش کرے تو وہ اس کی معذرت کو دل سے قبول کرے۔ اور اس کے حق میں دعا کرے که اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے۔

النور 24:63

یہاں جس اطاعتِ رسول کا ذکر ہے اس کا تعلق رسول کی زندگی میں رسول سے تھا۔ رسول کے بعد اس کا تعلق ہر اس شخص سے ہے جو مسلمانوں کے معاملہ کا ذمہ دار بنایا جائے۔ اجتماعی معاملات میں اپنا حصہ ادا کرنے سے جو لوگ کترائیں وہ بطور خود یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اجتماعی کام میں وقت ضائع نہ کرکے اپنے انفرادی معاملہ کو مضبوط کررہے ہیں۔ مگر جو گروہ اجتماعیت کو کھو دے اس کے دشمن اس کے اندر گھسنے کی راہ پالیتے ہیں۔ اس طرح جو بربادی آتی ہے وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے عمومی بربادی ہوتی ہے۔ اس کا نقصان ہر ایک کو پہنچتا ہے، حتی کہ اس کو بھی جو یہ سمجھ رہا تھا کہ اس نے ذاتی معاملات میں پوری توجہ لگا کر اپنے آپ کو محفوظ کرلیا ہے۔ آدمی جب اس قسم کی کمزوری دکھاتا ہے تو بطور خود وہ سمجھتا ہے کہ وہ جو کچھ کررہا ہے انسانوں کے ساتھ کررہاہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ جو کچھ کرر ہا ہوتا ہے وہ خدا کے ساتھ کررہا ہوتاہے۔ اگر یہ احساس زندہ ہو تو آدمی کبھی اس قسم کی بے اصولی کی جرأت نہ کرے۔

النور 24:64

یہاں جس اطاعتِ رسول کا ذکر ہے اس کا تعلق رسول کی زندگی میں رسول سے تھا۔ رسول کے بعد اس کا تعلق ہر اس شخص سے ہے جو مسلمانوں کے معاملہ کا ذمہ دار بنایا جائے۔ اجتماعی معاملات میں اپنا حصہ ادا کرنے سے جو لوگ کترائیں وہ بطور خود یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اجتماعی کام میں وقت ضائع نہ کرکے اپنے انفرادی معاملہ کو مضبوط کررہے ہیں۔ مگر جو گروہ اجتماعیت کو کھو دے اس کے دشمن اس کے اندر گھسنے کی راہ پالیتے ہیں۔ اس طرح جو بربادی آتی ہے وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے عمومی بربادی ہوتی ہے۔ اس کا نقصان ہر ایک کو پہنچتا ہے، حتی کہ اس کو بھی جو یہ سمجھ رہا تھا کہ اس نے ذاتی معاملات میں پوری توجہ لگا کر اپنے آپ کو محفوظ کرلیا ہے۔ آدمی جب اس قسم کی کمزوری دکھاتا ہے تو بطور خود وہ سمجھتا ہے کہ وہ جو کچھ کررہا ہے انسانوں کے ساتھ کررہاہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ جو کچھ کرر ہا ہوتا ہے وہ خدا کے ساتھ کررہا ہوتاہے۔ اگر یہ احساس زندہ ہو تو آدمی کبھی اس قسم کی بے اصولی کی جرأت نہ کرے۔

الفرقان 25:1

’’فرقان‘‘ کے لفظی معنی ہیں فرق کرنے والا۔ یعنی حق وباطل کے درمیان امتیاز کرنے کا معیار (criterion)۔ یہاں فرقان سے مراد قرآن ہے۔ خدا علیم وخبیربھی ہے اور حاکم مطلق بھی۔ اس ليے خدا کی طرف سے ایک کتاب فرقان کا آنا بیک وقت اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ یقینی طورپر صحیح ہے اس کی صحت و قطعیت میں کوئی شبہ نہیں۔ دوسرے یہ کہ اس کو ماننا اور اس کو نہ ماننا دونوں کا انجام یکساں نہیں ہوسکتا۔ خدا تنہا تمام اختیارات کا مالک ہے۔ کوئی اس کی رائے پراثر انداز نہیں ہوسکتا۔ کوئی اس کے اور اس کے فیصلوں کے درمیان حائل نہیں ہوسکتا۔ یہی واقعہ اس بات کی ضمانت ہے کہ جو شخص قرآن کو اپنی رہنما کتاب بنائے گا وہ کامیاب ہوگا اور جو شخص اس کو نظر انداز کرے گا اس کے ليے کسی طرح یہ ممکن نہیں کہ اپنے آپ کو اس ناکامی سے بچائے جو حق کو نظر انداز کرنے والے کے ليے خدا نے مقدر کردیا ہے۔

الفرقان 25:2

’’فرقان‘‘ کے لفظی معنی ہیں فرق کرنے والا۔ یعنی حق وباطل کے درمیان امتیاز کرنے کا معیار (criterion)۔ یہاں فرقان سے مراد قرآن ہے۔ خدا علیم وخبیربھی ہے اور حاکم مطلق بھی۔ اس ليے خدا کی طرف سے ایک کتاب فرقان کا آنا بیک وقت اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ یقینی طورپر صحیح ہے اس کی صحت و قطعیت میں کوئی شبہ نہیں۔ دوسرے یہ کہ اس کو ماننا اور اس کو نہ ماننا دونوں کا انجام یکساں نہیں ہوسکتا۔ خدا تنہا تمام اختیارات کا مالک ہے۔ کوئی اس کی رائے پراثر انداز نہیں ہوسکتا۔ کوئی اس کے اور اس کے فیصلوں کے درمیان حائل نہیں ہوسکتا۔ یہی واقعہ اس بات کی ضمانت ہے کہ جو شخص قرآن کو اپنی رہنما کتاب بنائے گا وہ کامیاب ہوگا اور جو شخص اس کو نظر انداز کرے گا اس کے ليے کسی طرح یہ ممکن نہیں کہ اپنے آپ کو اس ناکامی سے بچائے جو حق کو نظر انداز کرنے والے کے ليے خدا نے مقدر کردیا ہے۔

الفرقان 25:3

’’فرقان‘‘ کے لفظی معنی ہیں فرق کرنے والا۔ یعنی حق وباطل کے درمیان امتیاز کرنے کا معیار (criterion)۔ یہاں فرقان سے مراد قرآن ہے۔ خدا علیم وخبیربھی ہے اور حاکم مطلق بھی۔ اس ليے خدا کی طرف سے ایک کتاب فرقان کا آنا بیک وقت اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ یقینی طورپر صحیح ہے اس کی صحت و قطعیت میں کوئی شبہ نہیں۔ دوسرے یہ کہ اس کو ماننا اور اس کو نہ ماننا دونوں کا انجام یکساں نہیں ہوسکتا۔ خدا تنہا تمام اختیارات کا مالک ہے۔ کوئی اس کی رائے پراثر انداز نہیں ہوسکتا۔ کوئی اس کے اور اس کے فیصلوں کے درمیان حائل نہیں ہوسکتا۔ یہی واقعہ اس بات کی ضمانت ہے کہ جو شخص قرآن کو اپنی رہنما کتاب بنائے گا وہ کامیاب ہوگا اور جو شخص اس کو نظر انداز کرے گا اس کے ليے کسی طرح یہ ممکن نہیں کہ اپنے آپ کو اس ناکامی سے بچائے جو حق کو نظر انداز کرنے والے کے ليے خدا نے مقدر کردیا ہے۔

الفرقان 25:4

منکرین بظاہر قرآن کو جھوٹی کتاب کہتے تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے اس قول کا رخ پیغمبر کی طرف تھا۔ پیغمبر انھیں دیکھنے میں ایک معمولی انسان دکھائی دیتا تھا۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ایک معمولی انسان ایک غیر معمولی کتاب کا مالک کس طرح ہوسکتا ہے۔ قرآن ہر قسم کے مضامین کو چھوتا ہے— تاریخی، طبیعی، نفسیاتی، معاشرتی، وغیرہ۔ مگر اس میں آج تک کسی واقعی غلطی کی نشاندہی نہ کی جاسکی۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن ایک ایسی ہستی کا کلام ہے جو کائنات کے بھیدوں کو آخری حد تک جاننے والا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو قرآن میں بھی غلطیاں ملتیں جس طرح دوسری انسانی کتابوں میں ملتی ہیں۔ یہی واقعہ قرآن کے خدائی کتاب ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جو لوگ قرآن کے بارے میں بے بنیاد باتیں کہیں وہ بہت زیادہ جسارت کی بات کرتے ہیں۔ ایسے لوگ یقیناً خداکی پکڑ میںآجائیںگے۔ البتہ اگر وہ رجوع کرلیں تو خدا کا یہ طریقہ نہیں کہ اس کے بعد بھی وہ ان سے انتقام لے۔ خدا آدمی کے حال کو دیکھتا ہے، نہ کہ اس کے ماضی کو۔

الفرقان 25:5

منکرین بظاہر قرآن کو جھوٹی کتاب کہتے تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے اس قول کا رخ پیغمبر کی طرف تھا۔ پیغمبر انھیں دیکھنے میں ایک معمولی انسان دکھائی دیتا تھا۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ایک معمولی انسان ایک غیر معمولی کتاب کا مالک کس طرح ہوسکتا ہے۔ قرآن ہر قسم کے مضامین کو چھوتا ہے— تاریخی، طبیعی، نفسیاتی، معاشرتی، وغیرہ۔ مگر اس میں آج تک کسی واقعی غلطی کی نشاندہی نہ کی جاسکی۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن ایک ایسی ہستی کا کلام ہے جو کائنات کے بھیدوں کو آخری حد تک جاننے والا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو قرآن میں بھی غلطیاں ملتیں جس طرح دوسری انسانی کتابوں میں ملتی ہیں۔ یہی واقعہ قرآن کے خدائی کتاب ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جو لوگ قرآن کے بارے میں بے بنیاد باتیں کہیں وہ بہت زیادہ جسارت کی بات کرتے ہیں۔ ایسے لوگ یقیناً خداکی پکڑ میںآجائیںگے۔ البتہ اگر وہ رجوع کرلیں تو خدا کا یہ طریقہ نہیں کہ اس کے بعد بھی وہ ان سے انتقام لے۔ خدا آدمی کے حال کو دیکھتا ہے، نہ کہ اس کے ماضی کو۔

الفرقان 25:6

منکرین بظاہر قرآن کو جھوٹی کتاب کہتے تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے اس قول کا رخ پیغمبر کی طرف تھا۔ پیغمبر انھیں دیکھنے میں ایک معمولی انسان دکھائی دیتا تھا۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ایک معمولی انسان ایک غیر معمولی کتاب کا مالک کس طرح ہوسکتا ہے۔ قرآن ہر قسم کے مضامین کو چھوتا ہے— تاریخی، طبیعی، نفسیاتی، معاشرتی، وغیرہ۔ مگر اس میں آج تک کسی واقعی غلطی کی نشاندہی نہ کی جاسکی۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن ایک ایسی ہستی کا کلام ہے جو کائنات کے بھیدوں کو آخری حد تک جاننے والا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو قرآن میں بھی غلطیاں ملتیں جس طرح دوسری انسانی کتابوں میں ملتی ہیں۔ یہی واقعہ قرآن کے خدائی کتاب ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جو لوگ قرآن کے بارے میں بے بنیاد باتیں کہیں وہ بہت زیادہ جسارت کی بات کرتے ہیں۔ ایسے لوگ یقیناً خداکی پکڑ میںآجائیںگے۔ البتہ اگر وہ رجوع کرلیں تو خدا کا یہ طریقہ نہیں کہ اس کے بعد بھی وہ ان سے انتقام لے۔ خدا آدمی کے حال کو دیکھتا ہے، نہ کہ اس کے ماضی کو۔

الفرقان 25:7

حق کے ہر داعی کے ساتھ یہ ہوا ہے کہ اس کے زمانہ کے لوگوں نے اس کو حقیر سمجھا۔ اور بعد کے لوگوں نے اس کی پرستش کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی زندگی میں وہ اپنی حقیقی شخصیت کے ساتھ لوگوں کے سامنے ہوتا ہے۔ اس ليے وہ انھیں بس ایک عام انسان کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ مگر بعد کو اس کی شخصیت کے گرد افسانوی قصوں کا ہالہ بن جاتا ہے۔ بعد کے لوگ اس کو مبالغہ آمیز روپ میں دیکھتے ہیں۔ اس ليے بعد کے لوگ مبالغہ آمیز حد تک اس کی تعظیم وتقدیس کرنے لگتے ہیں۔ بعد کے زمانے میں لوگوں کے ذہنوں میں پیغمبر کی غیر معمولی عظمت قائم ہوجاتی ہے۔ اس ليے کوئی بڑا اپنے آپ کو پیغمبر سے بڑا نہیں پاتا۔ مگر پیغمبر کی زندگی میں اس کی جو ظاہری صورت حال ہوتی ہے وہ وقت کے بڑوں کو موقع دیتی ہے کہ وہ پیغمبر کے مقابلہ میں متکبرانہ نفسیات میں مبتلا ہوسکیں۔ ایسے لوگ جب کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ پیغمبر کی باتوں کو سن کر متاثر ہورہے ہیں تو وہ ان کے تاثر کو گھٹانے کے ليے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو ایک مجنون ہے، یہ تو ایک سحر زدہ انسان ہے، وغیرہ۔ وہ دلیل کے میدان میں اپنے آپ کو عاجز پاکر عیب لگانے کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ حالاں کہ دلیل کے ذریعہ کسی کو ردکرنا عین درست ہے جب کہ عیب لگا کر کسی کو بدنام کرنا سراسر نادرست۔

الفرقان 25:8

حق کے ہر داعی کے ساتھ یہ ہوا ہے کہ اس کے زمانہ کے لوگوں نے اس کو حقیر سمجھا۔ اور بعد کے لوگوں نے اس کی پرستش کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی زندگی میں وہ اپنی حقیقی شخصیت کے ساتھ لوگوں کے سامنے ہوتا ہے۔ اس ليے وہ انھیں بس ایک عام انسان کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ مگر بعد کو اس کی شخصیت کے گرد افسانوی قصوں کا ہالہ بن جاتا ہے۔ بعد کے لوگ اس کو مبالغہ آمیز روپ میں دیکھتے ہیں۔ اس ليے بعد کے لوگ مبالغہ آمیز حد تک اس کی تعظیم وتقدیس کرنے لگتے ہیں۔ بعد کے زمانے میں لوگوں کے ذہنوں میں پیغمبر کی غیر معمولی عظمت قائم ہوجاتی ہے۔ اس ليے کوئی بڑا اپنے آپ کو پیغمبر سے بڑا نہیں پاتا۔ مگر پیغمبر کی زندگی میں اس کی جو ظاہری صورت حال ہوتی ہے وہ وقت کے بڑوں کو موقع دیتی ہے کہ وہ پیغمبر کے مقابلہ میں متکبرانہ نفسیات میں مبتلا ہوسکیں۔ ایسے لوگ جب کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ پیغمبر کی باتوں کو سن کر متاثر ہورہے ہیں تو وہ ان کے تاثر کو گھٹانے کے ليے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو ایک مجنون ہے، یہ تو ایک سحر زدہ انسان ہے، وغیرہ۔ وہ دلیل کے میدان میں اپنے آپ کو عاجز پاکر عیب لگانے کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ حالاں کہ دلیل کے ذریعہ کسی کو ردکرنا عین درست ہے جب کہ عیب لگا کر کسی کو بدنام کرنا سراسر نادرست۔

الفرقان 25:9

حق کے ہر داعی کے ساتھ یہ ہوا ہے کہ اس کے زمانہ کے لوگوں نے اس کو حقیر سمجھا۔ اور بعد کے لوگوں نے اس کی پرستش کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی زندگی میں وہ اپنی حقیقی شخصیت کے ساتھ لوگوں کے سامنے ہوتا ہے۔ اس ليے وہ انھیں بس ایک عام انسان کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ مگر بعد کو اس کی شخصیت کے گرد افسانوی قصوں کا ہالہ بن جاتا ہے۔ بعد کے لوگ اس کو مبالغہ آمیز روپ میں دیکھتے ہیں۔ اس ليے بعد کے لوگ مبالغہ آمیز حد تک اس کی تعظیم وتقدیس کرنے لگتے ہیں۔ بعد کے زمانے میں لوگوں کے ذہنوں میں پیغمبر کی غیر معمولی عظمت قائم ہوجاتی ہے۔ اس ليے کوئی بڑا اپنے آپ کو پیغمبر سے بڑا نہیں پاتا۔ مگر پیغمبر کی زندگی میں اس کی جو ظاہری صورت حال ہوتی ہے وہ وقت کے بڑوں کو موقع دیتی ہے کہ وہ پیغمبر کے مقابلہ میں متکبرانہ نفسیات میں مبتلا ہوسکیں۔ ایسے لوگ جب کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ پیغمبر کی باتوں کو سن کر متاثر ہورہے ہیں تو وہ ان کے تاثر کو گھٹانے کے ليے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو ایک مجنون ہے، یہ تو ایک سحر زدہ انسان ہے، وغیرہ۔ وہ دلیل کے میدان میں اپنے آپ کو عاجز پاکر عیب لگانے کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ حالاں کہ دلیل کے ذریعہ کسی کو ردکرنا عین درست ہے جب کہ عیب لگا کر کسی کو بدنام کرنا سراسر نادرست۔

الفرقان 25:10

حق کے مخالفین اکثر حق کے داعی کی ذات کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ داعی کو غیر معتبر ثابت کرنے کے ليے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ اس طرح وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ حق کا داعی اگر ان کے معیار پر ہوتاہے تو وہ اس کی بات مان لیتے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ ان کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حق کا داعی ان کو قابل اعتبار نظر نہیں آتا۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ قیامت کی پکڑ سے بے خوف ہیں، اس ليے وہ غیر ذمہ دارانہ طورپر طرح طرح کے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ حق اور ناحق کے معاملہ کی ساری اہمیت اس بنا پر ہے کہ آخرت میں اس کی بابت پوچھ ہوگی۔ جو لوگ آخرت کی پکڑ کے بارے میں بے خوف ہوجائیں وہ اس کے بالکل لازمی نتیجہ کے طورپر حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں رہتے۔ اور جس چیز کے بارے میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کی اہمیت کو کسی طرح محسوس نہیں کرسکتا، خواہ اس کے حق میں کتنی ہی زیادہ دلیلیں دے دی جائیں۔ ایسے لوگوں کے الفاظ صرف اس وقت ختم ہوں گے جب کہ قیامت کی چنگھاڑ ان سے ان کے الفاظ چھین لے۔

الفرقان 25:11

حق کے مخالفین اکثر حق کے داعی کی ذات کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ داعی کو غیر معتبر ثابت کرنے کے ليے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ اس طرح وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ حق کا داعی اگر ان کے معیار پر ہوتاہے تو وہ اس کی بات مان لیتے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ ان کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حق کا داعی ان کو قابل اعتبار نظر نہیں آتا۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ قیامت کی پکڑ سے بے خوف ہیں، اس ليے وہ غیر ذمہ دارانہ طورپر طرح طرح کے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ حق اور ناحق کے معاملہ کی ساری اہمیت اس بنا پر ہے کہ آخرت میں اس کی بابت پوچھ ہوگی۔ جو لوگ آخرت کی پکڑ کے بارے میں بے خوف ہوجائیں وہ اس کے بالکل لازمی نتیجہ کے طورپر حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں رہتے۔ اور جس چیز کے بارے میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کی اہمیت کو کسی طرح محسوس نہیں کرسکتا، خواہ اس کے حق میں کتنی ہی زیادہ دلیلیں دے دی جائیں۔ ایسے لوگوں کے الفاظ صرف اس وقت ختم ہوں گے جب کہ قیامت کی چنگھاڑ ان سے ان کے الفاظ چھین لے۔

الفرقان 25:12

حق کے مخالفین اکثر حق کے داعی کی ذات کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ داعی کو غیر معتبر ثابت کرنے کے ليے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ اس طرح وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ حق کا داعی اگر ان کے معیار پر ہوتاہے تو وہ اس کی بات مان لیتے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ ان کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حق کا داعی ان کو قابل اعتبار نظر نہیں آتا۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ قیامت کی پکڑ سے بے خوف ہیں، اس ليے وہ غیر ذمہ دارانہ طورپر طرح طرح کے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ حق اور ناحق کے معاملہ کی ساری اہمیت اس بنا پر ہے کہ آخرت میں اس کی بابت پوچھ ہوگی۔ جو لوگ آخرت کی پکڑ کے بارے میں بے خوف ہوجائیں وہ اس کے بالکل لازمی نتیجہ کے طورپر حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں رہتے۔ اور جس چیز کے بارے میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کی اہمیت کو کسی طرح محسوس نہیں کرسکتا، خواہ اس کے حق میں کتنی ہی زیادہ دلیلیں دے دی جائیں۔ ایسے لوگوں کے الفاظ صرف اس وقت ختم ہوں گے جب کہ قیامت کی چنگھاڑ ان سے ان کے الفاظ چھین لے۔

الفرقان 25:13

حق کے مخالفین اکثر حق کے داعی کی ذات کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ داعی کو غیر معتبر ثابت کرنے کے ليے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ اس طرح وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ حق کا داعی اگر ان کے معیار پر ہوتاہے تو وہ اس کی بات مان لیتے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ ان کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حق کا داعی ان کو قابل اعتبار نظر نہیں آتا۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ قیامت کی پکڑ سے بے خوف ہیں، اس ليے وہ غیر ذمہ دارانہ طورپر طرح طرح کے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ حق اور ناحق کے معاملہ کی ساری اہمیت اس بنا پر ہے کہ آخرت میں اس کی بابت پوچھ ہوگی۔ جو لوگ آخرت کی پکڑ کے بارے میں بے خوف ہوجائیں وہ اس کے بالکل لازمی نتیجہ کے طورپر حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں رہتے۔ اور جس چیز کے بارے میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کی اہمیت کو کسی طرح محسوس نہیں کرسکتا، خواہ اس کے حق میں کتنی ہی زیادہ دلیلیں دے دی جائیں۔ ایسے لوگوں کے الفاظ صرف اس وقت ختم ہوں گے جب کہ قیامت کی چنگھاڑ ان سے ان کے الفاظ چھین لے۔

الفرقان 25:14

حق کے مخالفین اکثر حق کے داعی کی ذات کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ داعی کو غیر معتبر ثابت کرنے کے ليے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ اس طرح وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ حق کا داعی اگر ان کے معیار پر ہوتاہے تو وہ اس کی بات مان لیتے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ ان کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حق کا داعی ان کو قابل اعتبار نظر نہیں آتا۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ قیامت کی پکڑ سے بے خوف ہیں، اس ليے وہ غیر ذمہ دارانہ طورپر طرح طرح کے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ حق اور ناحق کے معاملہ کی ساری اہمیت اس بنا پر ہے کہ آخرت میں اس کی بابت پوچھ ہوگی۔ جو لوگ آخرت کی پکڑ کے بارے میں بے خوف ہوجائیں وہ اس کے بالکل لازمی نتیجہ کے طورپر حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں رہتے۔ اور جس چیز کے بارے میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کی اہمیت کو کسی طرح محسوس نہیں کرسکتا، خواہ اس کے حق میں کتنی ہی زیادہ دلیلیں دے دی جائیں۔ ایسے لوگوں کے الفاظ صرف اس وقت ختم ہوں گے جب کہ قیامت کی چنگھاڑ ان سے ان کے الفاظ چھین لے۔

الفرقان 25:15

حق کے مخالفین اکثر حق کے داعی کی ذات کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ داعی کو غیر معتبر ثابت کرنے کے ليے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ اس طرح وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ حق کا داعی اگر ان کے معیار پر ہوتاہے تو وہ اس کی بات مان لیتے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ ان کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حق کا داعی ان کو قابل اعتبار نظر نہیں آتا۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ قیامت کی پکڑ سے بے خوف ہیں، اس ليے وہ غیر ذمہ دارانہ طورپر طرح طرح کے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ حق اور ناحق کے معاملہ کی ساری اہمیت اس بنا پر ہے کہ آخرت میں اس کی بابت پوچھ ہوگی۔ جو لوگ آخرت کی پکڑ کے بارے میں بے خوف ہوجائیں وہ اس کے بالکل لازمی نتیجہ کے طورپر حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں رہتے۔ اور جس چیز کے بارے میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کی اہمیت کو کسی طرح محسوس نہیں کرسکتا، خواہ اس کے حق میں کتنی ہی زیادہ دلیلیں دے دی جائیں۔ ایسے لوگوں کے الفاظ صرف اس وقت ختم ہوں گے جب کہ قیامت کی چنگھاڑ ان سے ان کے الفاظ چھین لے۔

الفرقان 25:16

حق کے مخالفین اکثر حق کے داعی کی ذات کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ داعی کو غیر معتبر ثابت کرنے کے ليے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ اس طرح وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ حق کا داعی اگر ان کے معیار پر ہوتاہے تو وہ اس کی بات مان لیتے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ ان کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حق کا داعی ان کو قابل اعتبار نظر نہیں آتا۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ قیامت کی پکڑ سے بے خوف ہیں، اس ليے وہ غیر ذمہ دارانہ طورپر طرح طرح کے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ حق اور ناحق کے معاملہ کی ساری اہمیت اس بنا پر ہے کہ آخرت میں اس کی بابت پوچھ ہوگی۔ جو لوگ آخرت کی پکڑ کے بارے میں بے خوف ہوجائیں وہ اس کے بالکل لازمی نتیجہ کے طورپر حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں رہتے۔ اور جس چیز کے بارے میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کی اہمیت کو کسی طرح محسوس نہیں کرسکتا، خواہ اس کے حق میں کتنی ہی زیادہ دلیلیں دے دی جائیں۔ ایسے لوگوں کے الفاظ صرف اس وقت ختم ہوں گے جب کہ قیامت کی چنگھاڑ ان سے ان کے الفاظ چھین لے۔

الفرقان 25:17

’’ذکر‘‘ کی تشریح مفسر ابن کثیر نے ان الفاظ میں کی ہے أَيْ نَسُوا مَا أَنْزَلْتَهُ إِلَيْهِمْ عَلَى أَلْسِنَةِ رُسُلِكَ، مِنَ الدَّعْوَةِ إِلَى عِبَادَتِكَ وَحْدَكَ لا شريك لك (تفسیر ابن کثیر، جلد6، صفحہ 99 )۔ یعنی،وہ اس دعوتي پیغام کو بھول گئے جو ان کی طرف تونے اپنے پیغمبروں کی زبان سے تنہا اور لاشریک اپنی عبادت کے ليے اتارا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کی مخاطب قومیں معروف معنوں میں کافر اور مشرک قومیں نہ تھیں۔ وہ دراصل پچھلے انبیاء کی امتیں تھیں۔ ان کے پیغمبروں نے ان کو خدا کی ہدایت پہنچائی۔ مگر زمانہ گزرنے کے بعد وہ دنیا میں مشغول ہوگئے اور اپنے بزرگوں اور پیغمبروں کے بارے میں یہ عقیدہ بنالیا کہ وہ خدا کے یہاں ان کی بخشش کا ذریعہ بن جائیں گے۔ مگر جب قیامت آئے گی تو اس قسم کے تمام عقیدے باطل ثابت ہوں گے۔ اس وقت لوگوں کو معلوم ہوگا کہ اللہ کی پکڑ سے بچانے والا خود اللہ کے سوا کوئی اور نہ تھا۔

الفرقان 25:18

’’ذکر‘‘ کی تشریح مفسر ابن کثیر نے ان الفاظ میں کی ہے أَيْ نَسُوا مَا أَنْزَلْتَهُ إِلَيْهِمْ عَلَى أَلْسِنَةِ رُسُلِكَ، مِنَ الدَّعْوَةِ إِلَى عِبَادَتِكَ وَحْدَكَ لا شريك لك (تفسیر ابن کثیر، جلد6، صفحہ 99 )۔ یعنی،وہ اس دعوتي پیغام کو بھول گئے جو ان کی طرف تونے اپنے پیغمبروں کی زبان سے تنہا اور لاشریک اپنی عبادت کے ليے اتارا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کی مخاطب قومیں معروف معنوں میں کافر اور مشرک قومیں نہ تھیں۔ وہ دراصل پچھلے انبیاء کی امتیں تھیں۔ ان کے پیغمبروں نے ان کو خدا کی ہدایت پہنچائی۔ مگر زمانہ گزرنے کے بعد وہ دنیا میں مشغول ہوگئے اور اپنے بزرگوں اور پیغمبروں کے بارے میں یہ عقیدہ بنالیا کہ وہ خدا کے یہاں ان کی بخشش کا ذریعہ بن جائیں گے۔ مگر جب قیامت آئے گی تو اس قسم کے تمام عقیدے باطل ثابت ہوں گے۔ اس وقت لوگوں کو معلوم ہوگا کہ اللہ کی پکڑ سے بچانے والا خود اللہ کے سوا کوئی اور نہ تھا۔

الفرقان 25:19

’’ذکر‘‘ کی تشریح مفسر ابن کثیر نے ان الفاظ میں کی ہے أَيْ نَسُوا مَا أَنْزَلْتَهُ إِلَيْهِمْ عَلَى أَلْسِنَةِ رُسُلِكَ، مِنَ الدَّعْوَةِ إِلَى عِبَادَتِكَ وَحْدَكَ لا شريك لك (تفسیر ابن کثیر، جلد6، صفحہ 99 )۔ یعنی،وہ اس دعوتي پیغام کو بھول گئے جو ان کی طرف تونے اپنے پیغمبروں کی زبان سے تنہا اور لاشریک اپنی عبادت کے ليے اتارا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کی مخاطب قومیں معروف معنوں میں کافر اور مشرک قومیں نہ تھیں۔ وہ دراصل پچھلے انبیاء کی امتیں تھیں۔ ان کے پیغمبروں نے ان کو خدا کی ہدایت پہنچائی۔ مگر زمانہ گزرنے کے بعد وہ دنیا میں مشغول ہوگئے اور اپنے بزرگوں اور پیغمبروں کے بارے میں یہ عقیدہ بنالیا کہ وہ خدا کے یہاں ان کی بخشش کا ذریعہ بن جائیں گے۔ مگر جب قیامت آئے گی تو اس قسم کے تمام عقیدے باطل ثابت ہوں گے۔ اس وقت لوگوں کو معلوم ہوگا کہ اللہ کی پکڑ سے بچانے والا خود اللہ کے سوا کوئی اور نہ تھا۔

الفرقان 25:20

قرآن کے مخاطبین اوّل حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل ، حضرت موسیٰ اور دوسرے پیغمبروں کو مانتے تھے۔ اس کے باوجود انھوںنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے سے انکار کردیا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اپنے گزرے ہوئے پیغمبروں کو اعلیٰ اور افضل ثابت کرنے کے ليے بطور خود طلسماتی کہانیاں وضع کرتے ہیں۔ ان کہانیوں میں ان کے سابق پیغمبر کی شخصیت ایک پر عجوبہ شخصیت کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے۔اب اس کے بعد جب ان کا ہم عصر نبی ان کے سامنے آتا ہے تو وہ بظاہر صرف ایک انسان دکھائی دیتا ہے۔ ان کے تصور میں ایک طرف ماضی کا پیغمبر ہوتا ے جو ان کو فوق البشر ہستی معلوم ہوتا ہے۔ دوسری طرف زندہ پیغمبر ہوتاہے جو صرف ایک بشر کے روپ میں نظر آتا ہے۔ اس تقابل میں وہ حال کے پیغمبر پر یقین نہیں کرپاتے۔ وہ پیغمبری کو مانتے ہوئے پیغمبر کا انکار کردیتے ہیں۔ منکرین کے ليے رسول اور اہل ایمان آزمائش ہیں۔ اور رسول اور اہل ایمان کے ليے منکرین آزمائش ہیں۔ منکرین کی آزمائش یہ ہے کہ وہ رسول کے بظاہر بے عظمت حلیہ میں اس کے اندر چھپی ہوئی عظمت کو دریافت کریں۔ اور اہل ایمان کی آزمائش یہ ہے کہ وہ منکرین کی لایعنی باتوں پر بے برداشت نہ ہوں۔ وہ ہر حال میں صابر و شاکر بنے رہیں۔

الفرقان 25:21

جو لوگ داعی کے پیغام کو ماننے کے ليے فرشتے اور خدا کے ظہور کا مطالبہ کریں وہ کوئی واقعی بات نہیں کہتے۔ وہ صرف اپنی غیر سنجیدگی کا ثبوت دیتے ہیں۔ انھیں معلوم نہیں کہ خدا اور فرشتوں کا ظہور کیا معنی رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ليے بولنے کا جو موقع ہے وہ صرف اسی وقت تک ہے جب تک حق کو داعی کی سطح پر ظاہر کیا گیا ہو۔ جب حق خدا اور فرشتوں کی سطح پر ظاہر ہو جائے تو وہ فیصلہ کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ ماننے اور تصدیق کرنے کا۔ بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں رہتے ہیں کہ قیامت میں جب خدا پوچھے گا کہ کیا لائے تو میں اپنا فلاں عمل پیش کردوں گا۔ میں کہوں گا کہ فلاں اور فلاں بزرگوں کی نسبت مجھے حاصل ہے۔ مگر قیامت کے آتے ہی اس قسم کی خوش خیالیاں اس طرح بے حقیقت ثابت ہوں گی جیسے گرم لوہے پر پانی کا قطرہ پڑے اور فوراً اڑ جائے۔ اس دن صرف حقیقی عمل کسی کے کام آئے گا، نہ کہ کسی قسم کی جھوٹی خوش خیالی۔

الفرقان 25:22

جو لوگ داعی کے پیغام کو ماننے کے ليے فرشتے اور خدا کے ظہور کا مطالبہ کریں وہ کوئی واقعی بات نہیں کہتے۔ وہ صرف اپنی غیر سنجیدگی کا ثبوت دیتے ہیں۔ انھیں معلوم نہیں کہ خدا اور فرشتوں کا ظہور کیا معنی رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ليے بولنے کا جو موقع ہے وہ صرف اسی وقت تک ہے جب تک حق کو داعی کی سطح پر ظاہر کیا گیا ہو۔ جب حق خدا اور فرشتوں کی سطح پر ظاہر ہو جائے تو وہ فیصلہ کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ ماننے اور تصدیق کرنے کا۔ بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں رہتے ہیں کہ قیامت میں جب خدا پوچھے گا کہ کیا لائے تو میں اپنا فلاں عمل پیش کردوں گا۔ میں کہوں گا کہ فلاں اور فلاں بزرگوں کی نسبت مجھے حاصل ہے۔ مگر قیامت کے آتے ہی اس قسم کی خوش خیالیاں اس طرح بے حقیقت ثابت ہوں گی جیسے گرم لوہے پر پانی کا قطرہ پڑے اور فوراً اڑ جائے۔ اس دن صرف حقیقی عمل کسی کے کام آئے گا، نہ کہ کسی قسم کی جھوٹی خوش خیالی۔

الفرقان 25:23

جو لوگ داعی کے پیغام کو ماننے کے ليے فرشتے اور خدا کے ظہور کا مطالبہ کریں وہ کوئی واقعی بات نہیں کہتے۔ وہ صرف اپنی غیر سنجیدگی کا ثبوت دیتے ہیں۔ انھیں معلوم نہیں کہ خدا اور فرشتوں کا ظہور کیا معنی رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ليے بولنے کا جو موقع ہے وہ صرف اسی وقت تک ہے جب تک حق کو داعی کی سطح پر ظاہر کیا گیا ہو۔ جب حق خدا اور فرشتوں کی سطح پر ظاہر ہو جائے تو وہ فیصلہ کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ ماننے اور تصدیق کرنے کا۔ بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں رہتے ہیں کہ قیامت میں جب خدا پوچھے گا کہ کیا لائے تو میں اپنا فلاں عمل پیش کردوں گا۔ میں کہوں گا کہ فلاں اور فلاں بزرگوں کی نسبت مجھے حاصل ہے۔ مگر قیامت کے آتے ہی اس قسم کی خوش خیالیاں اس طرح بے حقیقت ثابت ہوں گی جیسے گرم لوہے پر پانی کا قطرہ پڑے اور فوراً اڑ جائے۔ اس دن صرف حقیقی عمل کسی کے کام آئے گا، نہ کہ کسی قسم کی جھوٹی خوش خیالی۔

الفرقان 25:24

جو لوگ داعی کے پیغام کو ماننے کے ليے فرشتے اور خدا کے ظہور کا مطالبہ کریں وہ کوئی واقعی بات نہیں کہتے۔ وہ صرف اپنی غیر سنجیدگی کا ثبوت دیتے ہیں۔ انھیں معلوم نہیں کہ خدا اور فرشتوں کا ظہور کیا معنی رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ليے بولنے کا جو موقع ہے وہ صرف اسی وقت تک ہے جب تک حق کو داعی کی سطح پر ظاہر کیا گیا ہو۔ جب حق خدا اور فرشتوں کی سطح پر ظاہر ہو جائے تو وہ فیصلہ کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ ماننے اور تصدیق کرنے کا۔ بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں رہتے ہیں کہ قیامت میں جب خدا پوچھے گا کہ کیا لائے تو میں اپنا فلاں عمل پیش کردوں گا۔ میں کہوں گا کہ فلاں اور فلاں بزرگوں کی نسبت مجھے حاصل ہے۔ مگر قیامت کے آتے ہی اس قسم کی خوش خیالیاں اس طرح بے حقیقت ثابت ہوں گی جیسے گرم لوہے پر پانی کا قطرہ پڑے اور فوراً اڑ جائے۔ اس دن صرف حقیقی عمل کسی کے کام آئے گا، نہ کہ کسی قسم کی جھوٹی خوش خیالی۔

الفرقان 25:25

جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ لوگ اس کے دشمن بن جاتے ہیں جو حق کے نام پر ناحق کا کاروبار کررہے ہوں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکال کر داعی کی صداقت کو مشتبہ ثابت کرتے ہیں، اور بہت سے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا لیتے ہیں۔ جو لوگ ان جھوٹے لیڈروں کی باتوں پر یقین کرکے حق کے داعی کا ساتھ نہیں دیتے ان پر قیامت کے دن کھل جائے گا کہ لیڈروں کی دلیلیں دلیلیں نہ تھیں۔ وہ محض جھوٹے شوشے تھے جن کو انھوں نے اپنے مفاد کے مطابق پاکر مان لیا، اور اس کو حق سے دور رہنے کا بہانہ بنا لیا۔ اس وقت وہ افسوس کریںگے کہ کیوں انھوں نے ایسا کیا کہ وہ لیڈروں کے جھوٹے شوشوں کے فریب میں پڑے رہے، اور داعی حق کا ساتھ دینے والے نہ بنے۔

الفرقان 25:26

جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ لوگ اس کے دشمن بن جاتے ہیں جو حق کے نام پر ناحق کا کاروبار کررہے ہوں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکال کر داعی کی صداقت کو مشتبہ ثابت کرتے ہیں، اور بہت سے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا لیتے ہیں۔ جو لوگ ان جھوٹے لیڈروں کی باتوں پر یقین کرکے حق کے داعی کا ساتھ نہیں دیتے ان پر قیامت کے دن کھل جائے گا کہ لیڈروں کی دلیلیں دلیلیں نہ تھیں۔ وہ محض جھوٹے شوشے تھے جن کو انھوں نے اپنے مفاد کے مطابق پاکر مان لیا، اور اس کو حق سے دور رہنے کا بہانہ بنا لیا۔ اس وقت وہ افسوس کریںگے کہ کیوں انھوں نے ایسا کیا کہ وہ لیڈروں کے جھوٹے شوشوں کے فریب میں پڑے رہے، اور داعی حق کا ساتھ دینے والے نہ بنے۔

الفرقان 25:27

جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ لوگ اس کے دشمن بن جاتے ہیں جو حق کے نام پر ناحق کا کاروبار کررہے ہوں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکال کر داعی کی صداقت کو مشتبہ ثابت کرتے ہیں، اور بہت سے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا لیتے ہیں۔ جو لوگ ان جھوٹے لیڈروں کی باتوں پر یقین کرکے حق کے داعی کا ساتھ نہیں دیتے ان پر قیامت کے دن کھل جائے گا کہ لیڈروں کی دلیلیں دلیلیں نہ تھیں۔ وہ محض جھوٹے شوشے تھے جن کو انھوں نے اپنے مفاد کے مطابق پاکر مان لیا، اور اس کو حق سے دور رہنے کا بہانہ بنا لیا۔ اس وقت وہ افسوس کریںگے کہ کیوں انھوں نے ایسا کیا کہ وہ لیڈروں کے جھوٹے شوشوں کے فریب میں پڑے رہے، اور داعی حق کا ساتھ دینے والے نہ بنے۔

الفرقان 25:28

جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ لوگ اس کے دشمن بن جاتے ہیں جو حق کے نام پر ناحق کا کاروبار کررہے ہوں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکال کر داعی کی صداقت کو مشتبہ ثابت کرتے ہیں، اور بہت سے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا لیتے ہیں۔ جو لوگ ان جھوٹے لیڈروں کی باتوں پر یقین کرکے حق کے داعی کا ساتھ نہیں دیتے ان پر قیامت کے دن کھل جائے گا کہ لیڈروں کی دلیلیں دلیلیں نہ تھیں۔ وہ محض جھوٹے شوشے تھے جن کو انھوں نے اپنے مفاد کے مطابق پاکر مان لیا، اور اس کو حق سے دور رہنے کا بہانہ بنا لیا۔ اس وقت وہ افسوس کریںگے کہ کیوں انھوں نے ایسا کیا کہ وہ لیڈروں کے جھوٹے شوشوں کے فریب میں پڑے رہے، اور داعی حق کا ساتھ دینے والے نہ بنے۔

الفرقان 25:29

جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ لوگ اس کے دشمن بن جاتے ہیں جو حق کے نام پر ناحق کا کاروبار کررہے ہوں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکال کر داعی کی صداقت کو مشتبہ ثابت کرتے ہیں، اور بہت سے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا لیتے ہیں۔ جو لوگ ان جھوٹے لیڈروں کی باتوں پر یقین کرکے حق کے داعی کا ساتھ نہیں دیتے ان پر قیامت کے دن کھل جائے گا کہ لیڈروں کی دلیلیں دلیلیں نہ تھیں۔ وہ محض جھوٹے شوشے تھے جن کو انھوں نے اپنے مفاد کے مطابق پاکر مان لیا، اور اس کو حق سے دور رہنے کا بہانہ بنا لیا۔ اس وقت وہ افسوس کریںگے کہ کیوں انھوں نے ایسا کیا کہ وہ لیڈروں کے جھوٹے شوشوں کے فریب میں پڑے رہے، اور داعی حق کا ساتھ دینے والے نہ بنے۔

الفرقان 25:30

جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ لوگ اس کے دشمن بن جاتے ہیں جو حق کے نام پر ناحق کا کاروبار کررہے ہوں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکال کر داعی کی صداقت کو مشتبہ ثابت کرتے ہیں، اور بہت سے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا لیتے ہیں۔ جو لوگ ان جھوٹے لیڈروں کی باتوں پر یقین کرکے حق کے داعی کا ساتھ نہیں دیتے ان پر قیامت کے دن کھل جائے گا کہ لیڈروں کی دلیلیں دلیلیں نہ تھیں۔ وہ محض جھوٹے شوشے تھے جن کو انھوں نے اپنے مفاد کے مطابق پاکر مان لیا، اور اس کو حق سے دور رہنے کا بہانہ بنا لیا۔ اس وقت وہ افسوس کریںگے کہ کیوں انھوں نے ایسا کیا کہ وہ لیڈروں کے جھوٹے شوشوں کے فریب میں پڑے رہے، اور داعی حق کا ساتھ دینے والے نہ بنے۔

الفرقان 25:31

جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ لوگ اس کے دشمن بن جاتے ہیں جو حق کے نام پر ناحق کا کاروبار کررہے ہوں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکال کر داعی کی صداقت کو مشتبہ ثابت کرتے ہیں، اور بہت سے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا لیتے ہیں۔ جو لوگ ان جھوٹے لیڈروں کی باتوں پر یقین کرکے حق کے داعی کا ساتھ نہیں دیتے ان پر قیامت کے دن کھل جائے گا کہ لیڈروں کی دلیلیں دلیلیں نہ تھیں۔ وہ محض جھوٹے شوشے تھے جن کو انھوں نے اپنے مفاد کے مطابق پاکر مان لیا، اور اس کو حق سے دور رہنے کا بہانہ بنا لیا۔ اس وقت وہ افسوس کریںگے کہ کیوں انھوں نے ایسا کیا کہ وہ لیڈروں کے جھوٹے شوشوں کے فریب میں پڑے رہے، اور داعی حق کا ساتھ دینے والے نہ بنے۔

الفرقان 25:32

قرآن جب اترا تو وہ بیک وقت ایک پوری کتاب کی شکل میں نہیں اترا بلکہ جزء جزء کرکے 23 سال میںاتارا گیا۔ اس کو منکرین نے شوشہ بنالیا اور کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انسان کی کتاب ہے، نہ کہ خدا کی کتاب۔ کیوں کہ خداکے ليے بیک وقت پوری کتاب بنا دینا کچھ مشکل نہیں۔ فرمایا کہ قرآن محض ایک تصنیف نہیں، وہ ایک دعوت ہے۔ اور دعوت کی مصلحتوں میں سے ایک مصلحت یہ ہے کہ اس کو بتدریج سامنے لایا جائے تاکہ وہ ماحول میں مستحکم ہوتی چلی جائے۔ جو دعوت کامل حق ہو اس کے خلاف ہر اعتراض جھوٹا اعتراض ہوتاہے۔ اس کے خلاف جب بھی کوئی اعتراض اٹھے اور پھر اس کی سچی وضاحت کردی جائے تو اس سے دعوت کی صداقت مزید ثابت ہوجاتی ہے۔ وہ کسی بھی درجہ میں مشتبہ نہیں ہوتی۔

الفرقان 25:33

قرآن جب اترا تو وہ بیک وقت ایک پوری کتاب کی شکل میں نہیں اترا بلکہ جزء جزء کرکے 23 سال میںاتارا گیا۔ اس کو منکرین نے شوشہ بنالیا اور کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انسان کی کتاب ہے، نہ کہ خدا کی کتاب۔ کیوں کہ خداکے ليے بیک وقت پوری کتاب بنا دینا کچھ مشکل نہیں۔ فرمایا کہ قرآن محض ایک تصنیف نہیں، وہ ایک دعوت ہے۔ اور دعوت کی مصلحتوں میں سے ایک مصلحت یہ ہے کہ اس کو بتدریج سامنے لایا جائے تاکہ وہ ماحول میں مستحکم ہوتی چلی جائے۔ جو دعوت کامل حق ہو اس کے خلاف ہر اعتراض جھوٹا اعتراض ہوتاہے۔ اس کے خلاف جب بھی کوئی اعتراض اٹھے اور پھر اس کی سچی وضاحت کردی جائے تو اس سے دعوت کی صداقت مزید ثابت ہوجاتی ہے۔ وہ کسی بھی درجہ میں مشتبہ نہیں ہوتی۔

الفرقان 25:34

قرآن جب اترا تو وہ بیک وقت ایک پوری کتاب کی شکل میں نہیں اترا بلکہ جزء جزء کرکے 23 سال میںاتارا گیا۔ اس کو منکرین نے شوشہ بنالیا اور کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انسان کی کتاب ہے، نہ کہ خدا کی کتاب۔ کیوں کہ خداکے ليے بیک وقت پوری کتاب بنا دینا کچھ مشکل نہیں۔ فرمایا کہ قرآن محض ایک تصنیف نہیں، وہ ایک دعوت ہے۔ اور دعوت کی مصلحتوں میں سے ایک مصلحت یہ ہے کہ اس کو بتدریج سامنے لایا جائے تاکہ وہ ماحول میں مستحکم ہوتی چلی جائے۔ جو دعوت کامل حق ہو اس کے خلاف ہر اعتراض جھوٹا اعتراض ہوتاہے۔ اس کے خلاف جب بھی کوئی اعتراض اٹھے اور پھر اس کی سچی وضاحت کردی جائے تو اس سے دعوت کی صداقت مزید ثابت ہوجاتی ہے۔ وہ کسی بھی درجہ میں مشتبہ نہیں ہوتی۔

الفرقان 25:35

قرآن بار بار جن پیغمبروں کا حوالہ دیتاہے ان میں سے اکثر وہ ہیں جن کا ذکر انسانیت کی مدون تاریخ میں جگہ نہ پاسکا۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ ان پیغمبروں کے ہم عصر عقلاء نے ان کو کوئی اہمیت نہ دی۔ انھوںنے بادشاہوں اور فوجی ہیروؤں کے حالات جوش کے ساتھ لکھے کیوں کہ ان کے حالات میں سیاسی پہلو موجود تھا۔ مگر انھوں نے پیغمبروں کو نظر انداز کردیا کیوں کہ ان کے حالات میں سیاسی ذوق کی تسکین کا سامان موجود نہ تھا۔ عجیب بات ہے کہ یہ مزاج آج بھی مکمل طورپر موجود ہے۔ آج بھی جو لوگ اپنے آپ کو سیاسی پلیٹ فارم پر نمایاں کریں وہ فوراً پریس اور ریڈیو میں جگہ پالیتے ہیں اور جو لوگ غیر سیاسی میدان میں کام کریں ان کو آج کا انسان بھی زیادہ قابل تذکرہ نہیں سمجھتا۔ انسان سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ واقعات سے سبق لے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر سب سے کم پائی جاتی ہے، موجودہ زمانہ میں بھی اور اس سے پہلے کے زمانہ میں بھی۔

الفرقان 25:36

قرآن بار بار جن پیغمبروں کا حوالہ دیتاہے ان میں سے اکثر وہ ہیں جن کا ذکر انسانیت کی مدون تاریخ میں جگہ نہ پاسکا۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ ان پیغمبروں کے ہم عصر عقلاء نے ان کو کوئی اہمیت نہ دی۔ انھوںنے بادشاہوں اور فوجی ہیروؤں کے حالات جوش کے ساتھ لکھے کیوں کہ ان کے حالات میں سیاسی پہلو موجود تھا۔ مگر انھوں نے پیغمبروں کو نظر انداز کردیا کیوں کہ ان کے حالات میں سیاسی ذوق کی تسکین کا سامان موجود نہ تھا۔ عجیب بات ہے کہ یہ مزاج آج بھی مکمل طورپر موجود ہے۔ آج بھی جو لوگ اپنے آپ کو سیاسی پلیٹ فارم پر نمایاں کریں وہ فوراً پریس اور ریڈیو میں جگہ پالیتے ہیں اور جو لوگ غیر سیاسی میدان میں کام کریں ان کو آج کا انسان بھی زیادہ قابل تذکرہ نہیں سمجھتا۔ انسان سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ واقعات سے سبق لے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر سب سے کم پائی جاتی ہے، موجودہ زمانہ میں بھی اور اس سے پہلے کے زمانہ میں بھی۔

الفرقان 25:37

قرآن بار بار جن پیغمبروں کا حوالہ دیتاہے ان میں سے اکثر وہ ہیں جن کا ذکر انسانیت کی مدون تاریخ میں جگہ نہ پاسکا۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ ان پیغمبروں کے ہم عصر عقلاء نے ان کو کوئی اہمیت نہ دی۔ انھوںنے بادشاہوں اور فوجی ہیروؤں کے حالات جوش کے ساتھ لکھے کیوں کہ ان کے حالات میں سیاسی پہلو موجود تھا۔ مگر انھوں نے پیغمبروں کو نظر انداز کردیا کیوں کہ ان کے حالات میں سیاسی ذوق کی تسکین کا سامان موجود نہ تھا۔ عجیب بات ہے کہ یہ مزاج آج بھی مکمل طورپر موجود ہے۔ آج بھی جو لوگ اپنے آپ کو سیاسی پلیٹ فارم پر نمایاں کریں وہ فوراً پریس اور ریڈیو میں جگہ پالیتے ہیں اور جو لوگ غیر سیاسی میدان میں کام کریں ان کو آج کا انسان بھی زیادہ قابل تذکرہ نہیں سمجھتا۔ انسان سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ واقعات سے سبق لے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر سب سے کم پائی جاتی ہے، موجودہ زمانہ میں بھی اور اس سے پہلے کے زمانہ میں بھی۔

الفرقان 25:38

قرآن بار بار جن پیغمبروں کا حوالہ دیتاہے ان میں سے اکثر وہ ہیں جن کا ذکر انسانیت کی مدون تاریخ میں جگہ نہ پاسکا۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ ان پیغمبروں کے ہم عصر عقلاء نے ان کو کوئی اہمیت نہ دی۔ انھوںنے بادشاہوں اور فوجی ہیروؤں کے حالات جوش کے ساتھ لکھے کیوں کہ ان کے حالات میں سیاسی پہلو موجود تھا۔ مگر انھوں نے پیغمبروں کو نظر انداز کردیا کیوں کہ ان کے حالات میں سیاسی ذوق کی تسکین کا سامان موجود نہ تھا۔ عجیب بات ہے کہ یہ مزاج آج بھی مکمل طورپر موجود ہے۔ آج بھی جو لوگ اپنے آپ کو سیاسی پلیٹ فارم پر نمایاں کریں وہ فوراً پریس اور ریڈیو میں جگہ پالیتے ہیں اور جو لوگ غیر سیاسی میدان میں کام کریں ان کو آج کا انسان بھی زیادہ قابل تذکرہ نہیں سمجھتا۔ انسان سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ واقعات سے سبق لے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر سب سے کم پائی جاتی ہے، موجودہ زمانہ میں بھی اور اس سے پہلے کے زمانہ میں بھی۔

الفرقان 25:39

قرآن بار بار جن پیغمبروں کا حوالہ دیتاہے ان میں سے اکثر وہ ہیں جن کا ذکر انسانیت کی مدون تاریخ میں جگہ نہ پاسکا۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ ان پیغمبروں کے ہم عصر عقلاء نے ان کو کوئی اہمیت نہ دی۔ انھوںنے بادشاہوں اور فوجی ہیروؤں کے حالات جوش کے ساتھ لکھے کیوں کہ ان کے حالات میں سیاسی پہلو موجود تھا۔ مگر انھوں نے پیغمبروں کو نظر انداز کردیا کیوں کہ ان کے حالات میں سیاسی ذوق کی تسکین کا سامان موجود نہ تھا۔ عجیب بات ہے کہ یہ مزاج آج بھی مکمل طورپر موجود ہے۔ آج بھی جو لوگ اپنے آپ کو سیاسی پلیٹ فارم پر نمایاں کریں وہ فوراً پریس اور ریڈیو میں جگہ پالیتے ہیں اور جو لوگ غیر سیاسی میدان میں کام کریں ان کو آج کا انسان بھی زیادہ قابل تذکرہ نہیں سمجھتا۔ انسان سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ واقعات سے سبق لے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر سب سے کم پائی جاتی ہے، موجودہ زمانہ میں بھی اور اس سے پہلے کے زمانہ میں بھی۔

الفرقان 25:40

قرآن بار بار جن پیغمبروں کا حوالہ دیتاہے ان میں سے اکثر وہ ہیں جن کا ذکر انسانیت کی مدون تاریخ میں جگہ نہ پاسکا۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ ان پیغمبروں کے ہم عصر عقلاء نے ان کو کوئی اہمیت نہ دی۔ انھوںنے بادشاہوں اور فوجی ہیروؤں کے حالات جوش کے ساتھ لکھے کیوں کہ ان کے حالات میں سیاسی پہلو موجود تھا۔ مگر انھوں نے پیغمبروں کو نظر انداز کردیا کیوں کہ ان کے حالات میں سیاسی ذوق کی تسکین کا سامان موجود نہ تھا۔ عجیب بات ہے کہ یہ مزاج آج بھی مکمل طورپر موجود ہے۔ آج بھی جو لوگ اپنے آپ کو سیاسی پلیٹ فارم پر نمایاں کریں وہ فوراً پریس اور ریڈیو میں جگہ پالیتے ہیں اور جو لوگ غیر سیاسی میدان میں کام کریں ان کو آج کا انسان بھی زیادہ قابل تذکرہ نہیں سمجھتا۔ انسان سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ واقعات سے سبق لے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر سب سے کم پائی جاتی ہے، موجودہ زمانہ میں بھی اور اس سے پہلے کے زمانہ میں بھی۔

الفرقان 25:41

’’اگر ہم جمے نہ رہتے تو وہ ہم کو ہمارے دین سے ہٹا دیتا‘‘— اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اپنے دین پر قائم رہنے کی وجہ ان کا تعصب تھا نہ کہ کوئی دلیل۔ دلیل کے میدان میں وہ بے ہتھیار ہوچکے تھے۔ مگر تعصب کے بل پر وہ اپنے آبائی دین پر جمے رہے۔ یہی اکثر انسانوں کا حال ہوتا ہے۔ بیشتر انسان محض تعصب کی زمین پر کھڑے ہوتے ہیں۔ اگرچہ زبان سے وہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ دلیل کی زمین پر کھڑے ہوئے ہیں۔ کسی دعوت کا مقابلہ کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے اس کو دلیل سے رد کرنا۔ دوسراہے اس کا مذاق اڑانا۔ پہلا طریقہ جائز ہے اور دوسرا طریقہ سراسر ناجائز۔ جو لوگ کسی دعوت کا مذاق اڑائیں وہ صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ دلیل کے میدان میں وہ اپنی بازی ہار چکے ہیں۔ اور اب مذاق اور استہزاء کی باتوں سے اپنی ہارپر پرده ڈالنا چاہتے ہوں۔

الفرقان 25:42

’’اگر ہم جمے نہ رہتے تو وہ ہم کو ہمارے دین سے ہٹا دیتا‘‘— اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اپنے دین پر قائم رہنے کی وجہ ان کا تعصب تھا نہ کہ کوئی دلیل۔ دلیل کے میدان میں وہ بے ہتھیار ہوچکے تھے۔ مگر تعصب کے بل پر وہ اپنے آبائی دین پر جمے رہے۔ یہی اکثر انسانوں کا حال ہوتا ہے۔ بیشتر انسان محض تعصب کی زمین پر کھڑے ہوتے ہیں۔ اگرچہ زبان سے وہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ دلیل کی زمین پر کھڑے ہوئے ہیں۔ کسی دعوت کا مقابلہ کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے اس کو دلیل سے رد کرنا۔ دوسراہے اس کا مذاق اڑانا۔ پہلا طریقہ جائز ہے اور دوسرا طریقہ سراسر ناجائز۔ جو لوگ کسی دعوت کا مذاق اڑائیں وہ صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ دلیل کے میدان میں وہ اپنی بازی ہار چکے ہیں۔ اور اب مذاق اور استہزاء کی باتوں سے اپنی ہارپر پرده ڈالنا چاہتے ہوں۔

الفرقان 25:43

ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان کے سایہ کے نیچے اللہ کے سوا پوجے جانے والے معبودں میں سب سے زیادہ سنگین اللہ کے نزدیک وہ خواہش ہے جس کی پیروی کی جائے( مَا تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ مِنْ إِلَهٍ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللهِ أَعْظَمُ مِنْ عِنْدِ اللهِ مِنْ هَوًى مُتَّبَعٍ )المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 7502۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سب سے بڑا بت آدمی کی خواہش نفس ہے۔ بلکہ یہی اصل بت ہے۔ بقیہ تمام بت صرف خواہش پرستی کے دین کو جائز ثابت کرنے کے ليے وضع کيے گئے ہیں۔ خواہش کو اپنا رہبر بنانے کے بعد انسان اسی سطح پر آجاتا ہے جو جانوروں کی سطح ہے۔ جانور سوچ کر کوئی کام نہیں کرتے بلکہ صرف جبلّی تقاضے کے تحت کرتے ہیں۔ اب اگر انسان بھی اپنے سوچنے کی صلاحیت کو کام میں نہ لائے اور صرف خواہش نفس کے تحت چلنے لگے تو اس میں اور جانور میں کیا فرق باقی رہا۔

الفرقان 25:44

ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان کے سایہ کے نیچے اللہ کے سوا پوجے جانے والے معبودں میں سب سے زیادہ سنگین اللہ کے نزدیک وہ خواہش ہے جس کی پیروی کی جائے( مَا تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ مِنْ إِلَهٍ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللهِ أَعْظَمُ مِنْ عِنْدِ اللهِ مِنْ هَوًى مُتَّبَعٍ )المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 7502۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سب سے بڑا بت آدمی کی خواہش نفس ہے۔ بلکہ یہی اصل بت ہے۔ بقیہ تمام بت صرف خواہش پرستی کے دین کو جائز ثابت کرنے کے ليے وضع کيے گئے ہیں۔ خواہش کو اپنا رہبر بنانے کے بعد انسان اسی سطح پر آجاتا ہے جو جانوروں کی سطح ہے۔ جانور سوچ کر کوئی کام نہیں کرتے بلکہ صرف جبلّی تقاضے کے تحت کرتے ہیں۔ اب اگر انسان بھی اپنے سوچنے کی صلاحیت کو کام میں نہ لائے اور صرف خواہش نفس کے تحت چلنے لگے تو اس میں اور جانور میں کیا فرق باقی رہا۔

الفرقان 25:45

یہاں عام مشاہد کی زبان میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیاگیا ہے جس کو موجود زمانہ میں زمین کی محوری گردش کہاجاتاہے۔ زمین اپنے محور پر ہر 24 گھنٹے میں ایک بار گھوم جاتی ہے۔ اسی سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک حیرت انگیز کرشمہ ہے۔ اگر زمین کی محوری گردش نہ ہو تو زمین کے نصف حصہ پر مسلسل تیز دھوپ رہے۔ اور دوسرے نصف حصہ پر مسلسل رات کی تاریکی چھائی رہے۔ اور اس طرح زمین پر زندگی گزارنا انتہائی حد تک دشوار ہوجائے۔ زمین کے اس نظام میں بہت سی معنوی نصیحتیں موجود ہیں۔ جس طرح رات کی تاریکی کے بعد لازماً دن کی روشنی آتی ہے۔ اسی طرح ناحق کے بعد حق کا آنا بھی اس زمین پر لازمی ہے۔ رات کو سو کر دوبارہ صبح کو اٹھنا موت کے بعد دوبارہ آخرت کی دنیا میں اٹھنے کی تمثیل ہے، وغیرہ۔ اسی طرح بارش کے نظام میں اس کے مادی پہلو کے ساتھ عظیم معنوی سبق کا پہلو بھی چھپا ہوا ہے۔ جس طرح بارش سے مردہ زمین سر سبز ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی ہدایت اس سینہ کو ایمان اور تقویٰ کا چمنستان بنادیتی ہے جس کے اندر واقعی صلاحیت ہو، جو بنجر زمین کی طرح بے جان نہ ہوچکا۔

الفرقان 25:46

یہاں عام مشاہد کی زبان میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیاگیا ہے جس کو موجود زمانہ میں زمین کی محوری گردش کہاجاتاہے۔ زمین اپنے محور پر ہر 24 گھنٹے میں ایک بار گھوم جاتی ہے۔ اسی سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک حیرت انگیز کرشمہ ہے۔ اگر زمین کی محوری گردش نہ ہو تو زمین کے نصف حصہ پر مسلسل تیز دھوپ رہے۔ اور دوسرے نصف حصہ پر مسلسل رات کی تاریکی چھائی رہے۔ اور اس طرح زمین پر زندگی گزارنا انتہائی حد تک دشوار ہوجائے۔ زمین کے اس نظام میں بہت سی معنوی نصیحتیں موجود ہیں۔ جس طرح رات کی تاریکی کے بعد لازماً دن کی روشنی آتی ہے۔ اسی طرح ناحق کے بعد حق کا آنا بھی اس زمین پر لازمی ہے۔ رات کو سو کر دوبارہ صبح کو اٹھنا موت کے بعد دوبارہ آخرت کی دنیا میں اٹھنے کی تمثیل ہے، وغیرہ۔ اسی طرح بارش کے نظام میں اس کے مادی پہلو کے ساتھ عظیم معنوی سبق کا پہلو بھی چھپا ہوا ہے۔ جس طرح بارش سے مردہ زمین سر سبز ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی ہدایت اس سینہ کو ایمان اور تقویٰ کا چمنستان بنادیتی ہے جس کے اندر واقعی صلاحیت ہو، جو بنجر زمین کی طرح بے جان نہ ہوچکا۔

الفرقان 25:47

یہاں عام مشاہد کی زبان میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیاگیا ہے جس کو موجود زمانہ میں زمین کی محوری گردش کہاجاتاہے۔ زمین اپنے محور پر ہر 24 گھنٹے میں ایک بار گھوم جاتی ہے۔ اسی سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک حیرت انگیز کرشمہ ہے۔ اگر زمین کی محوری گردش نہ ہو تو زمین کے نصف حصہ پر مسلسل تیز دھوپ رہے۔ اور دوسرے نصف حصہ پر مسلسل رات کی تاریکی چھائی رہے۔ اور اس طرح زمین پر زندگی گزارنا انتہائی حد تک دشوار ہوجائے۔ زمین کے اس نظام میں بہت سی معنوی نصیحتیں موجود ہیں۔ جس طرح رات کی تاریکی کے بعد لازماً دن کی روشنی آتی ہے۔ اسی طرح ناحق کے بعد حق کا آنا بھی اس زمین پر لازمی ہے۔ رات کو سو کر دوبارہ صبح کو اٹھنا موت کے بعد دوبارہ آخرت کی دنیا میں اٹھنے کی تمثیل ہے، وغیرہ۔ اسی طرح بارش کے نظام میں اس کے مادی پہلو کے ساتھ عظیم معنوی سبق کا پہلو بھی چھپا ہوا ہے۔ جس طرح بارش سے مردہ زمین سر سبز ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی ہدایت اس سینہ کو ایمان اور تقویٰ کا چمنستان بنادیتی ہے جس کے اندر واقعی صلاحیت ہو، جو بنجر زمین کی طرح بے جان نہ ہوچکا۔

الفرقان 25:48

یہاں عام مشاہد کی زبان میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیاگیا ہے جس کو موجود زمانہ میں زمین کی محوری گردش کہاجاتاہے۔ زمین اپنے محور پر ہر 24 گھنٹے میں ایک بار گھوم جاتی ہے۔ اسی سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک حیرت انگیز کرشمہ ہے۔ اگر زمین کی محوری گردش نہ ہو تو زمین کے نصف حصہ پر مسلسل تیز دھوپ رہے۔ اور دوسرے نصف حصہ پر مسلسل رات کی تاریکی چھائی رہے۔ اور اس طرح زمین پر زندگی گزارنا انتہائی حد تک دشوار ہوجائے۔ زمین کے اس نظام میں بہت سی معنوی نصیحتیں موجود ہیں۔ جس طرح رات کی تاریکی کے بعد لازماً دن کی روشنی آتی ہے۔ اسی طرح ناحق کے بعد حق کا آنا بھی اس زمین پر لازمی ہے۔ رات کو سو کر دوبارہ صبح کو اٹھنا موت کے بعد دوبارہ آخرت کی دنیا میں اٹھنے کی تمثیل ہے، وغیرہ۔ اسی طرح بارش کے نظام میں اس کے مادی پہلو کے ساتھ عظیم معنوی سبق کا پہلو بھی چھپا ہوا ہے۔ جس طرح بارش سے مردہ زمین سر سبز ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی ہدایت اس سینہ کو ایمان اور تقویٰ کا چمنستان بنادیتی ہے جس کے اندر واقعی صلاحیت ہو، جو بنجر زمین کی طرح بے جان نہ ہوچکا۔

الفرقان 25:49

یہاں عام مشاہد کی زبان میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیاگیا ہے جس کو موجود زمانہ میں زمین کی محوری گردش کہاجاتاہے۔ زمین اپنے محور پر ہر 24 گھنٹے میں ایک بار گھوم جاتی ہے۔ اسی سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک حیرت انگیز کرشمہ ہے۔ اگر زمین کی محوری گردش نہ ہو تو زمین کے نصف حصہ پر مسلسل تیز دھوپ رہے۔ اور دوسرے نصف حصہ پر مسلسل رات کی تاریکی چھائی رہے۔ اور اس طرح زمین پر زندگی گزارنا انتہائی حد تک دشوار ہوجائے۔ زمین کے اس نظام میں بہت سی معنوی نصیحتیں موجود ہیں۔ جس طرح رات کی تاریکی کے بعد لازماً دن کی روشنی آتی ہے۔ اسی طرح ناحق کے بعد حق کا آنا بھی اس زمین پر لازمی ہے۔ رات کو سو کر دوبارہ صبح کو اٹھنا موت کے بعد دوبارہ آخرت کی دنیا میں اٹھنے کی تمثیل ہے، وغیرہ۔ اسی طرح بارش کے نظام میں اس کے مادی پہلو کے ساتھ عظیم معنوی سبق کا پہلو بھی چھپا ہوا ہے۔ جس طرح بارش سے مردہ زمین سر سبز ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی ہدایت اس سینہ کو ایمان اور تقویٰ کا چمنستان بنادیتی ہے جس کے اندر واقعی صلاحیت ہو، جو بنجر زمین کی طرح بے جان نہ ہوچکا۔

الفرقان 25:50

قرآن میں توحید اور آخرت کے مضامین مختلف انداز اور مختلف اسلوب سے بار بار بیان ہوئے ہیں۔ آدمی اگر سنجیدہ ہو تو یہ مضامین اس کو تڑپا دینے کے ليے کافی ہیں۔ مگر غافل انسان کسی دلیل سے کوئی اثرنہیں لیتا۔ ’’ اس کے ذریعہ جہاد کبیر کرو‘‘ سے مراد قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرنا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ قرآن کے ذریعہ جہاد، بالفاظ دیگر، پُرامن دعوتی جدوجہد ہی اصل جہاد ہے۔ بلکہ یہی سب سے بڑا جہاد ہے۔ منکر لوگ اگر یہ کوشش کریں کہ اہلِ ایمان کو دعوت کے میدان سے ہٹا کر دوسرے میدان میں الجھائیں تب بھی اہل ایمان کی ساری کوشش یہ ہونی چاہيے کہ وہ اپنے عمل کو قرآنی دعوت کے میدان میں مرتکز رکھیں۔ اور اگر مخالفین کے ہنگاموں کی وجہ سے کسی وقت عمل کا میدان بدلتا ہوانظر آئے تو ہر ممکن تدبیر کرکے دوبارہ اس کو دعوت کے میدان میں لے آئیں۔

الفرقان 25:51

قرآن میں توحید اور آخرت کے مضامین مختلف انداز اور مختلف اسلوب سے بار بار بیان ہوئے ہیں۔ آدمی اگر سنجیدہ ہو تو یہ مضامین اس کو تڑپا دینے کے ليے کافی ہیں۔ مگر غافل انسان کسی دلیل سے کوئی اثرنہیں لیتا۔ ’’ اس کے ذریعہ جہاد کبیر کرو‘‘ سے مراد قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرنا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ قرآن کے ذریعہ جہاد، بالفاظ دیگر، پُرامن دعوتی جدوجہد ہی اصل جہاد ہے۔ بلکہ یہی سب سے بڑا جہاد ہے۔ منکر لوگ اگر یہ کوشش کریں کہ اہلِ ایمان کو دعوت کے میدان سے ہٹا کر دوسرے میدان میں الجھائیں تب بھی اہل ایمان کی ساری کوشش یہ ہونی چاہيے کہ وہ اپنے عمل کو قرآنی دعوت کے میدان میں مرتکز رکھیں۔ اور اگر مخالفین کے ہنگاموں کی وجہ سے کسی وقت عمل کا میدان بدلتا ہوانظر آئے تو ہر ممکن تدبیر کرکے دوبارہ اس کو دعوت کے میدان میں لے آئیں۔

الفرقان 25:52

قرآن میں توحید اور آخرت کے مضامین مختلف انداز اور مختلف اسلوب سے بار بار بیان ہوئے ہیں۔ آدمی اگر سنجیدہ ہو تو یہ مضامین اس کو تڑپا دینے کے ليے کافی ہیں۔ مگر غافل انسان کسی دلیل سے کوئی اثرنہیں لیتا۔ ’’ اس کے ذریعہ جہاد کبیر کرو‘‘ سے مراد قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرنا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ قرآن کے ذریعہ جہاد، بالفاظ دیگر، پُرامن دعوتی جدوجہد ہی اصل جہاد ہے۔ بلکہ یہی سب سے بڑا جہاد ہے۔ منکر لوگ اگر یہ کوشش کریں کہ اہلِ ایمان کو دعوت کے میدان سے ہٹا کر دوسرے میدان میں الجھائیں تب بھی اہل ایمان کی ساری کوشش یہ ہونی چاہيے کہ وہ اپنے عمل کو قرآنی دعوت کے میدان میں مرتکز رکھیں۔ اور اگر مخالفین کے ہنگاموں کی وجہ سے کسی وقت عمل کا میدان بدلتا ہوانظر آئے تو ہر ممکن تدبیر کرکے دوبارہ اس کو دعوت کے میدان میں لے آئیں۔

الفرقان 25:53

جب کسی سنگم پر دو دریا ملتے ہیں یا کوئی بڑا دریا سمندر میں جاکر گرتاہے تو ایسے مقام پر باہم ملنے کے باوجود دونوں پانی الگ الگ رہتا ہے۔ دونوں کے بیچ میں ایک دھاری دور تک جاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ راقم الحروف نےیہ منظر الٰہ آباد میں گنگا اور جمنا کے سنگم پر دیکھا ہے۔ یہ واقعہ اس قدرتی قانون کے تحت ہوتا ہے جس کو موجودہ زمانہ میں سطحی تناؤ (surface tension) کہاجاتا ہے۔ اسی طرح جب سمندر میں جوار بھاٹا آتا ہے تو سمندر کا کھاری پانی ساحلی دریا کے میٹھے پانی کے اوپر چڑھ جاتاہے۔ مگر سطحی تناؤ دونوں پانی کو بالکل الگ رکھتا ہے۔اور جب سمندر کا پانی دوبارہ اترتا ہے تو اس کا کھاری پانی اوپر اوپر سے واپس چلا جاتاہے اور نیچے کا میٹھا پانی بدستور اپنی سابقہ حالت پر باقی رہتا ہے۔ حتی کہ اسی سطحی تناؤ کے قانون کی وجہ سے یہ ممکن ہوا ہے کہ کھاری سمندروں کے عین بیچ میں میٹھے پانی کے ذخیرے موجود رہیں اور بحری مسافروں کو میٹھا پانی فراہم کرسکیں۔ انسانی جسم کی اصل پانی ہے۔ پانی سے انسان جیسی حیرت انگیز نوع بنی۔ پھر نسبی تعلقات اور سسرالی روابط کے ذریعے اس کی نسل چلتی رہی— اس طرح کے مختلف واقعات جو زمین پر پائے جاتے ہیں ان پر غور کیا جائے تو ان میں خدا کی قدرت کی نشانیاں چھپی ہوئی نظر آئیں گی۔

الفرقان 25:54

جب کسی سنگم پر دو دریا ملتے ہیں یا کوئی بڑا دریا سمندر میں جاکر گرتاہے تو ایسے مقام پر باہم ملنے کے باوجود دونوں پانی الگ الگ رہتا ہے۔ دونوں کے بیچ میں ایک دھاری دور تک جاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ راقم الحروف نےیہ منظر الٰہ آباد میں گنگا اور جمنا کے سنگم پر دیکھا ہے۔ یہ واقعہ اس قدرتی قانون کے تحت ہوتا ہے جس کو موجودہ زمانہ میں سطحی تناؤ (surface tension) کہاجاتا ہے۔ اسی طرح جب سمندر میں جوار بھاٹا آتا ہے تو سمندر کا کھاری پانی ساحلی دریا کے میٹھے پانی کے اوپر چڑھ جاتاہے۔ مگر سطحی تناؤ دونوں پانی کو بالکل الگ رکھتا ہے۔اور جب سمندر کا پانی دوبارہ اترتا ہے تو اس کا کھاری پانی اوپر اوپر سے واپس چلا جاتاہے اور نیچے کا میٹھا پانی بدستور اپنی سابقہ حالت پر باقی رہتا ہے۔ حتی کہ اسی سطحی تناؤ کے قانون کی وجہ سے یہ ممکن ہوا ہے کہ کھاری سمندروں کے عین بیچ میں میٹھے پانی کے ذخیرے موجود رہیں اور بحری مسافروں کو میٹھا پانی فراہم کرسکیں۔ انسانی جسم کی اصل پانی ہے۔ پانی سے انسان جیسی حیرت انگیز نوع بنی۔ پھر نسبی تعلقات اور سسرالی روابط کے ذریعے اس کی نسل چلتی رہی— اس طرح کے مختلف واقعات جو زمین پر پائے جاتے ہیں ان پر غور کیا جائے تو ان میں خدا کی قدرت کی نشانیاں چھپی ہوئی نظر آئیں گی۔

الفرقان 25:55

خدا نے انسان کو ایسی دنیا میں رکھا ہے جہاں کی ہر چیز اور اس کا پورا ماحول توحید کی گواہی دیتا ہے۔ مگر انسان اس سے روشنی حاصل نہیں کرتا۔ وہ اپنی گمراہی میں اس حد تک جاتا ہے کہ وہ توحید کے بجائے شرک کی بنیاد پر اپنی زندگی کا نظام بناتا ہے۔ اور جب کوئی خدا کا بندہ انسانوں کو توحید کی طرف پکارنے کے ليے اٹھے تو وہ دعوت توحید کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتاہے۔ تاہم حق کے داعی کو جارحیت کی حد تک جانے کی اجازت نہیں۔اس کو صرف تلقین اور نصیحت کے دائرہ میں اپنا کام جاری رکھنا ہے۔ اگر دعوت کار گر نہ ہورہی ہو تو اس کا یہ کام نہیں کہ وہ دعوت پر جارحیت کا اضافہ کرے۔ اسے جس چیز کا اضافہ کرنا ہے وہ ہے — خدا سے دعا، ہر قسم کے مادی جھگڑوں کو یک طرفہ طور پر ختم کرنا، بے غرضی اور اخلاق کے ذریعہ مخاطب کے دل کو متاثر کرنا۔

الفرقان 25:56

خدا نے انسان کو ایسی دنیا میں رکھا ہے جہاں کی ہر چیز اور اس کا پورا ماحول توحید کی گواہی دیتا ہے۔ مگر انسان اس سے روشنی حاصل نہیں کرتا۔ وہ اپنی گمراہی میں اس حد تک جاتا ہے کہ وہ توحید کے بجائے شرک کی بنیاد پر اپنی زندگی کا نظام بناتا ہے۔ اور جب کوئی خدا کا بندہ انسانوں کو توحید کی طرف پکارنے کے ليے اٹھے تو وہ دعوت توحید کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتاہے۔ تاہم حق کے داعی کو جارحیت کی حد تک جانے کی اجازت نہیں۔اس کو صرف تلقین اور نصیحت کے دائرہ میں اپنا کام جاری رکھنا ہے۔ اگر دعوت کار گر نہ ہورہی ہو تو اس کا یہ کام نہیں کہ وہ دعوت پر جارحیت کا اضافہ کرے۔ اسے جس چیز کا اضافہ کرنا ہے وہ ہے — خدا سے دعا، ہر قسم کے مادی جھگڑوں کو یک طرفہ طور پر ختم کرنا، بے غرضی اور اخلاق کے ذریعہ مخاطب کے دل کو متاثر کرنا۔

الفرقان 25:57

خدا نے انسان کو ایسی دنیا میں رکھا ہے جہاں کی ہر چیز اور اس کا پورا ماحول توحید کی گواہی دیتا ہے۔ مگر انسان اس سے روشنی حاصل نہیں کرتا۔ وہ اپنی گمراہی میں اس حد تک جاتا ہے کہ وہ توحید کے بجائے شرک کی بنیاد پر اپنی زندگی کا نظام بناتا ہے۔ اور جب کوئی خدا کا بندہ انسانوں کو توحید کی طرف پکارنے کے ليے اٹھے تو وہ دعوت توحید کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتاہے۔ تاہم حق کے داعی کو جارحیت کی حد تک جانے کی اجازت نہیں۔اس کو صرف تلقین اور نصیحت کے دائرہ میں اپنا کام جاری رکھنا ہے۔ اگر دعوت کار گر نہ ہورہی ہو تو اس کا یہ کام نہیں کہ وہ دعوت پر جارحیت کا اضافہ کرے۔ اسے جس چیز کا اضافہ کرنا ہے وہ ہے — خدا سے دعا، ہر قسم کے مادی جھگڑوں کو یک طرفہ طور پر ختم کرنا، بے غرضی اور اخلاق کے ذریعہ مخاطب کے دل کو متاثر کرنا۔

الفرقان 25:58

’’رحمان کی بابت جاننے والے سے پوچھو‘‘— اس میں پوچھي جانے والی بات پر زور ہے، نہ کہ پوچھے جانے والے شخص پر۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص خدائے رحمان کے کرشموں کو جانے تو وہ تم کو بتائے گا کہ رحمن کی ذات کتنی بلند و برتر ہے۔ موجودہ زمانہ میں سائنس دانوں نے کائنات میں جو تحقیق کی ہے وہ جزئی طورپر اس آیت کی مصداق ہے۔ سائنس دانوں کی تحقیقات سے کائنات کے جو بھید سامنے آئے ہیں وہ اتنے حیرت ناک ہیں کہ ان کو پڑھ کر آدمی کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور اس کا دل بے اختیار خالق کی عظمتوں کے آگے جھک جائے۔ ’’چھ دن‘‘ سے مراد خدا کے چھ دن ہیں۔ انسان کی زبان میںاس کو چھ ادوار کہا جاسکتا ہے۔ چھ دوروں میں پیدا کرنا ظاہر کرتاہے کہ کائنات کی تخلیق منصوبہ بند طريقے سے ہوئی ہے۔ اور جو چیز منصوبہ اور اہتمام کے ساتھ وجود میں لائی جائے وہ کبھی عبث نہیں ہوسکتی ۔

الفرقان 25:59

’’رحمان کی بابت جاننے والے سے پوچھو‘‘— اس میں پوچھي جانے والی بات پر زور ہے، نہ کہ پوچھے جانے والے شخص پر۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص خدائے رحمان کے کرشموں کو جانے تو وہ تم کو بتائے گا کہ رحمن کی ذات کتنی بلند و برتر ہے۔ موجودہ زمانہ میں سائنس دانوں نے کائنات میں جو تحقیق کی ہے وہ جزئی طورپر اس آیت کی مصداق ہے۔ سائنس دانوں کی تحقیقات سے کائنات کے جو بھید سامنے آئے ہیں وہ اتنے حیرت ناک ہیں کہ ان کو پڑھ کر آدمی کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور اس کا دل بے اختیار خالق کی عظمتوں کے آگے جھک جائے۔ ’’چھ دن‘‘ سے مراد خدا کے چھ دن ہیں۔ انسان کی زبان میںاس کو چھ ادوار کہا جاسکتا ہے۔ چھ دوروں میں پیدا کرنا ظاہر کرتاہے کہ کائنات کی تخلیق منصوبہ بند طريقے سے ہوئی ہے۔ اور جو چیز منصوبہ اور اہتمام کے ساتھ وجود میں لائی جائے وہ کبھی عبث نہیں ہوسکتی ۔

الفرقان 25:60

’’رحمان کی بابت جاننے والے سے پوچھو‘‘— اس میں پوچھي جانے والی بات پر زور ہے، نہ کہ پوچھے جانے والے شخص پر۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص خدائے رحمان کے کرشموں کو جانے تو وہ تم کو بتائے گا کہ رحمن کی ذات کتنی بلند و برتر ہے۔ موجودہ زمانہ میں سائنس دانوں نے کائنات میں جو تحقیق کی ہے وہ جزئی طورپر اس آیت کی مصداق ہے۔ سائنس دانوں کی تحقیقات سے کائنات کے جو بھید سامنے آئے ہیں وہ اتنے حیرت ناک ہیں کہ ان کو پڑھ کر آدمی کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور اس کا دل بے اختیار خالق کی عظمتوں کے آگے جھک جائے۔ ’’چھ دن‘‘ سے مراد خدا کے چھ دن ہیں۔ انسان کی زبان میںاس کو چھ ادوار کہا جاسکتا ہے۔ چھ دوروں میں پیدا کرنا ظاہر کرتاہے کہ کائنات کی تخلیق منصوبہ بند طريقے سے ہوئی ہے۔ اور جو چیز منصوبہ اور اہتمام کے ساتھ وجود میں لائی جائے وہ کبھی عبث نہیں ہوسکتی ۔

الفرقان 25:61

برج کے لفظی معنی قلعہ کے ہیں۔ آسمانی برج سے کیا مراد ہے، اس کی کوئی متفقہ تفسیر ابھی تک نہیں کی جاسکی ہے۔ ممکن ہے کہ اس سے مراد وہ چیز ہو جس کو موجودہ زمانہ میں شمسی نظام کہاجاتا ہے۔ کائنات میں کروڑوں کی تعداد میں شمسی نظام پائے جاتے ہیں۔ انھیں میں سے ایک وہ ہے جو ہم سے قریب ہے اور جس کے اندر ہماری زمین اور سورج اور چاند واقع ہیں۔ شمسی نظام کی بے شمار نشانیوں میں سے ایک نشانی زمین کا سورج کے گرد مسلسل گھومنا ہے۔ اس کی ایک گردش مدار پر ہوتی ہے۔ یہ گردش سال میں پوری ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے موسم واقع ہوتے ہیں۔ اس کی دوسری گردش اس کے محور پر ہوتی ہے۔ یہ 24 گھنٹہ میں پوری ہوجاتی ہے اور اس سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں۔ اتھاہ خلا میں حددرجہ صحت کے ساتھ زمین کی گردش اور اس کا انسانی مصلحتوں کے اتنا زیادہ موافق ہونا اتنے حیرت ناک واقعات ہیں کہ جو شخص ان پر غور کرے گا وہ شکر خداوندی کے جذبہ میں غرق ہو کر رہ جائے گا۔

الفرقان 25:62

برج کے لفظی معنی قلعہ کے ہیں۔ آسمانی برج سے کیا مراد ہے، اس کی کوئی متفقہ تفسیر ابھی تک نہیں کی جاسکی ہے۔ ممکن ہے کہ اس سے مراد وہ چیز ہو جس کو موجودہ زمانہ میں شمسی نظام کہاجاتا ہے۔ کائنات میں کروڑوں کی تعداد میں شمسی نظام پائے جاتے ہیں۔ انھیں میں سے ایک وہ ہے جو ہم سے قریب ہے اور جس کے اندر ہماری زمین اور سورج اور چاند واقع ہیں۔ شمسی نظام کی بے شمار نشانیوں میں سے ایک نشانی زمین کا سورج کے گرد مسلسل گھومنا ہے۔ اس کی ایک گردش مدار پر ہوتی ہے۔ یہ گردش سال میں پوری ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے موسم واقع ہوتے ہیں۔ اس کی دوسری گردش اس کے محور پر ہوتی ہے۔ یہ 24 گھنٹہ میں پوری ہوجاتی ہے اور اس سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں۔ اتھاہ خلا میں حددرجہ صحت کے ساتھ زمین کی گردش اور اس کا انسانی مصلحتوں کے اتنا زیادہ موافق ہونا اتنے حیرت ناک واقعات ہیں کہ جو شخص ان پر غور کرے گا وہ شکر خداوندی کے جذبہ میں غرق ہو کر رہ جائے گا۔

الفرقان 25:63

’’چلنا‘‘ پوری شخصیت کی علامت ہے۔ جن لوگوں کے دل میں اللہ کا یقین اتر جائے وہ سراپا عجز وتواضع بن جاتے ہیں۔ خدا کا خوف ان سے بڑائی کا احساس چھین لیتاہے۔ ان کا چلنا پھرنا اور رہنا سہنا ایسا ہوجاتا ہے جس میں عبدیت کی روح پوری طرح سمائی ہوئی ہو۔ رحمن کے بندوں کا معاملہ اگر صرف اتنا ہی ہو تو کوئی بھی ان سے نہ الجھے۔ مگر خدا کی معرفت انھیں خدا کا داعی بھی بنا دیتی ہے۔ بس یہیںسے ان کا ٹکراؤ دوسروں سے شروع ہوجاتاہے۔ ان کا اعلان حق باطل پرستوں کے ليے ناقابل برداشت ہوجاتاہے اور وہ ان سے ٹکرانے کے ليے آجاتے ہیں۔ مگر یہاں بھی خدا کا خوف انھیں جوابی ٹکراؤ سے روک دیتاہے۔ وہ ان کے حق میں ہدایت کی دعا کرتے ہوئے ان سے الگ ہوجاتے ہیں۔ خدا کی معرفت ہی کا یہ نتیجہ بھی ہے کہ ان کی زندگی میںایک کبھی نہ ختم ہونے والی بے چینی شامل ہوجاتی ہے۔ وہ نہ صرف دن کے وقت خدا کو بے تابانہ پکارتے رہتے ہیں بلکہ ان کی راتوں کی تنہائیاں بھی خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتی ہیں۔ اسی طرح خدا کا احساس انھیں حد درجہ محتاط بنا دیتاہے۔ وہ ذمہ دارانہ طورپر کماتے ہیں اور ذمہ دارانہ طورپر خرچ کرتے ہیں۔ خداکے آگے جواب دہی کا احساس انھیں اپنے آمد وخرچ کے معاملے میں معتدل اور محتاط بنا دیتاہے۔ حدیث میں آتاہے کہ یہ آدمی کی دانائی میں سے ہے کہ وہ اپنی معیشت میں بیچ کی راہ اختیار کرے (مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ رِفْقُهُ فِي مَعِيشَتِهِ) مسند احمد، حدیث نمبر 21695۔ رفقہ ای قصدہ۔

الفرقان 25:64

’’چلنا‘‘ پوری شخصیت کی علامت ہے۔ جن لوگوں کے دل میں اللہ کا یقین اتر جائے وہ سراپا عجز وتواضع بن جاتے ہیں۔ خدا کا خوف ان سے بڑائی کا احساس چھین لیتاہے۔ ان کا چلنا پھرنا اور رہنا سہنا ایسا ہوجاتا ہے جس میں عبدیت کی روح پوری طرح سمائی ہوئی ہو۔ رحمن کے بندوں کا معاملہ اگر صرف اتنا ہی ہو تو کوئی بھی ان سے نہ الجھے۔ مگر خدا کی معرفت انھیں خدا کا داعی بھی بنا دیتی ہے۔ بس یہیںسے ان کا ٹکراؤ دوسروں سے شروع ہوجاتاہے۔ ان کا اعلان حق باطل پرستوں کے ليے ناقابل برداشت ہوجاتاہے اور وہ ان سے ٹکرانے کے ليے آجاتے ہیں۔ مگر یہاں بھی خدا کا خوف انھیں جوابی ٹکراؤ سے روک دیتاہے۔ وہ ان کے حق میں ہدایت کی دعا کرتے ہوئے ان سے الگ ہوجاتے ہیں۔ خدا کی معرفت ہی کا یہ نتیجہ بھی ہے کہ ان کی زندگی میںایک کبھی نہ ختم ہونے والی بے چینی شامل ہوجاتی ہے۔ وہ نہ صرف دن کے وقت خدا کو بے تابانہ پکارتے رہتے ہیں بلکہ ان کی راتوں کی تنہائیاں بھی خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتی ہیں۔ اسی طرح خدا کا احساس انھیں حد درجہ محتاط بنا دیتاہے۔ وہ ذمہ دارانہ طورپر کماتے ہیں اور ذمہ دارانہ طورپر خرچ کرتے ہیں۔ خداکے آگے جواب دہی کا احساس انھیں اپنے آمد وخرچ کے معاملے میں معتدل اور محتاط بنا دیتاہے۔ حدیث میں آتاہے کہ یہ آدمی کی دانائی میں سے ہے کہ وہ اپنی معیشت میں بیچ کی راہ اختیار کرے (مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ رِفْقُهُ فِي مَعِيشَتِهِ) مسند احمد، حدیث نمبر 21695۔ رفقہ ای قصدہ۔

الفرقان 25:65

’’چلنا‘‘ پوری شخصیت کی علامت ہے۔ جن لوگوں کے دل میں اللہ کا یقین اتر جائے وہ سراپا عجز وتواضع بن جاتے ہیں۔ خدا کا خوف ان سے بڑائی کا احساس چھین لیتاہے۔ ان کا چلنا پھرنا اور رہنا سہنا ایسا ہوجاتا ہے جس میں عبدیت کی روح پوری طرح سمائی ہوئی ہو۔ رحمن کے بندوں کا معاملہ اگر صرف اتنا ہی ہو تو کوئی بھی ان سے نہ الجھے۔ مگر خدا کی معرفت انھیں خدا کا داعی بھی بنا دیتی ہے۔ بس یہیںسے ان کا ٹکراؤ دوسروں سے شروع ہوجاتاہے۔ ان کا اعلان حق باطل پرستوں کے ليے ناقابل برداشت ہوجاتاہے اور وہ ان سے ٹکرانے کے ليے آجاتے ہیں۔ مگر یہاں بھی خدا کا خوف انھیں جوابی ٹکراؤ سے روک دیتاہے۔ وہ ان کے حق میں ہدایت کی دعا کرتے ہوئے ان سے الگ ہوجاتے ہیں۔ خدا کی معرفت ہی کا یہ نتیجہ بھی ہے کہ ان کی زندگی میںایک کبھی نہ ختم ہونے والی بے چینی شامل ہوجاتی ہے۔ وہ نہ صرف دن کے وقت خدا کو بے تابانہ پکارتے رہتے ہیں بلکہ ان کی راتوں کی تنہائیاں بھی خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتی ہیں۔ اسی طرح خدا کا احساس انھیں حد درجہ محتاط بنا دیتاہے۔ وہ ذمہ دارانہ طورپر کماتے ہیں اور ذمہ دارانہ طورپر خرچ کرتے ہیں۔ خداکے آگے جواب دہی کا احساس انھیں اپنے آمد وخرچ کے معاملے میں معتدل اور محتاط بنا دیتاہے۔ حدیث میں آتاہے کہ یہ آدمی کی دانائی میں سے ہے کہ وہ اپنی معیشت میں بیچ کی راہ اختیار کرے (مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ رِفْقُهُ فِي مَعِيشَتِهِ) مسند احمد، حدیث نمبر 21695۔ رفقہ ای قصدہ۔

الفرقان 25:66

’’چلنا‘‘ پوری شخصیت کی علامت ہے۔ جن لوگوں کے دل میں اللہ کا یقین اتر جائے وہ سراپا عجز وتواضع بن جاتے ہیں۔ خدا کا خوف ان سے بڑائی کا احساس چھین لیتاہے۔ ان کا چلنا پھرنا اور رہنا سہنا ایسا ہوجاتا ہے جس میں عبدیت کی روح پوری طرح سمائی ہوئی ہو۔ رحمن کے بندوں کا معاملہ اگر صرف اتنا ہی ہو تو کوئی بھی ان سے نہ الجھے۔ مگر خدا کی معرفت انھیں خدا کا داعی بھی بنا دیتی ہے۔ بس یہیںسے ان کا ٹکراؤ دوسروں سے شروع ہوجاتاہے۔ ان کا اعلان حق باطل پرستوں کے ليے ناقابل برداشت ہوجاتاہے اور وہ ان سے ٹکرانے کے ليے آجاتے ہیں۔ مگر یہاں بھی خدا کا خوف انھیں جوابی ٹکراؤ سے روک دیتاہے۔ وہ ان کے حق میں ہدایت کی دعا کرتے ہوئے ان سے الگ ہوجاتے ہیں۔ خدا کی معرفت ہی کا یہ نتیجہ بھی ہے کہ ان کی زندگی میںایک کبھی نہ ختم ہونے والی بے چینی شامل ہوجاتی ہے۔ وہ نہ صرف دن کے وقت خدا کو بے تابانہ پکارتے رہتے ہیں بلکہ ان کی راتوں کی تنہائیاں بھی خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتی ہیں۔ اسی طرح خدا کا احساس انھیں حد درجہ محتاط بنا دیتاہے۔ وہ ذمہ دارانہ طورپر کماتے ہیں اور ذمہ دارانہ طورپر خرچ کرتے ہیں۔ خداکے آگے جواب دہی کا احساس انھیں اپنے آمد وخرچ کے معاملے میں معتدل اور محتاط بنا دیتاہے۔ حدیث میں آتاہے کہ یہ آدمی کی دانائی میں سے ہے کہ وہ اپنی معیشت میں بیچ کی راہ اختیار کرے (مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ رِفْقُهُ فِي مَعِيشَتِهِ) مسند احمد، حدیث نمبر 21695۔ رفقہ ای قصدہ۔

الفرقان 25:67

’’چلنا‘‘ پوری شخصیت کی علامت ہے۔ جن لوگوں کے دل میں اللہ کا یقین اتر جائے وہ سراپا عجز وتواضع بن جاتے ہیں۔ خدا کا خوف ان سے بڑائی کا احساس چھین لیتاہے۔ ان کا چلنا پھرنا اور رہنا سہنا ایسا ہوجاتا ہے جس میں عبدیت کی روح پوری طرح سمائی ہوئی ہو۔ رحمن کے بندوں کا معاملہ اگر صرف اتنا ہی ہو تو کوئی بھی ان سے نہ الجھے۔ مگر خدا کی معرفت انھیں خدا کا داعی بھی بنا دیتی ہے۔ بس یہیںسے ان کا ٹکراؤ دوسروں سے شروع ہوجاتاہے۔ ان کا اعلان حق باطل پرستوں کے ليے ناقابل برداشت ہوجاتاہے اور وہ ان سے ٹکرانے کے ليے آجاتے ہیں۔ مگر یہاں بھی خدا کا خوف انھیں جوابی ٹکراؤ سے روک دیتاہے۔ وہ ان کے حق میں ہدایت کی دعا کرتے ہوئے ان سے الگ ہوجاتے ہیں۔ خدا کی معرفت ہی کا یہ نتیجہ بھی ہے کہ ان کی زندگی میںایک کبھی نہ ختم ہونے والی بے چینی شامل ہوجاتی ہے۔ وہ نہ صرف دن کے وقت خدا کو بے تابانہ پکارتے رہتے ہیں بلکہ ان کی راتوں کی تنہائیاں بھی خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتی ہیں۔ اسی طرح خدا کا احساس انھیں حد درجہ محتاط بنا دیتاہے۔ وہ ذمہ دارانہ طورپر کماتے ہیں اور ذمہ دارانہ طورپر خرچ کرتے ہیں۔ خداکے آگے جواب دہی کا احساس انھیں اپنے آمد وخرچ کے معاملے میں معتدل اور محتاط بنا دیتاہے۔ حدیث میں آتاہے کہ یہ آدمی کی دانائی میں سے ہے کہ وہ اپنی معیشت میں بیچ کی راہ اختیار کرے (مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ رِفْقُهُ فِي مَعِيشَتِهِ) مسند احمد، حدیث نمبر 21695۔ رفقہ ای قصدہ۔

الفرقان 25:68

اِس آیت میں تین گناہوں کا ذکر ہے۔ شرک اور قتل ناحق اور زنا۔ یہ تینوں گناہ خدااور بندوں کے حق میں سب سے بڑے گناہ ہیں۔ اللہ پر حقیقی ایمان کی علامت یہ ہے کہ آدمی ان تینوں گناہوں سے دور ہو جائے جو لوگ ان گناہوں میں ملوث ہوں وہ توبہ کرکے ان کے انجام سے بچ سکتے ہیں۔ جو لوگ توبہ اور رجوع کے بغیر مرجائیں ان کے ليے خدا کے یہاں نہایت سخت سزا ہے جس سے وہ کسی حال میں بچ نہ سکیں گے۔ خدا کے نزدیک اصل نیکی یہ ہے کہ آدمی خدا سے ڈرنے والا بن جائے۔ جو نیکی آدمی کو خدا سے بے خوف کرے وہ بدی ہے۔ اور جو بدی آدمی کو خدا سے ڈرائے وہ اپنے انجام کے اعتبار سے نیکی۔ اگر ایک آدمی سے برائی ہوجائے۔ اس کے بعد اس کو خدا کی یاد آئے۔ وہ خداکی باز پرس کو سوچ کر تڑپ اٹھے اور توبہ اور استغفار کرتے ہوئے خدا کی طرف دوڑ پڑے تو خدا اپنی رحمت سے ایسی برائی کو نیکی کے خانہ میں لکھ دے گا۔ کیوں کہ وہ آدمی کو خدا کی طرف رجوع کرنے کا سبب بن گئی۔

الفرقان 25:69

اِس آیت میں تین گناہوں کا ذکر ہے۔ شرک اور قتل ناحق اور زنا۔ یہ تینوں گناہ خدااور بندوں کے حق میں سب سے بڑے گناہ ہیں۔ اللہ پر حقیقی ایمان کی علامت یہ ہے کہ آدمی ان تینوں گناہوں سے دور ہو جائے جو لوگ ان گناہوں میں ملوث ہوں وہ توبہ کرکے ان کے انجام سے بچ سکتے ہیں۔ جو لوگ توبہ اور رجوع کے بغیر مرجائیں ان کے ليے خدا کے یہاں نہایت سخت سزا ہے جس سے وہ کسی حال میں بچ نہ سکیں گے۔ خدا کے نزدیک اصل نیکی یہ ہے کہ آدمی خدا سے ڈرنے والا بن جائے۔ جو نیکی آدمی کو خدا سے بے خوف کرے وہ بدی ہے۔ اور جو بدی آدمی کو خدا سے ڈرائے وہ اپنے انجام کے اعتبار سے نیکی۔ اگر ایک آدمی سے برائی ہوجائے۔ اس کے بعد اس کو خدا کی یاد آئے۔ وہ خداکی باز پرس کو سوچ کر تڑپ اٹھے اور توبہ اور استغفار کرتے ہوئے خدا کی طرف دوڑ پڑے تو خدا اپنی رحمت سے ایسی برائی کو نیکی کے خانہ میں لکھ دے گا۔ کیوں کہ وہ آدمی کو خدا کی طرف رجوع کرنے کا سبب بن گئی۔

الفرقان 25:70

اِس آیت میں تین گناہوں کا ذکر ہے۔ شرک اور قتل ناحق اور زنا۔ یہ تینوں گناہ خدااور بندوں کے حق میں سب سے بڑے گناہ ہیں۔ اللہ پر حقیقی ایمان کی علامت یہ ہے کہ آدمی ان تینوں گناہوں سے دور ہو جائے جو لوگ ان گناہوں میں ملوث ہوں وہ توبہ کرکے ان کے انجام سے بچ سکتے ہیں۔ جو لوگ توبہ اور رجوع کے بغیر مرجائیں ان کے ليے خدا کے یہاں نہایت سخت سزا ہے جس سے وہ کسی حال میں بچ نہ سکیں گے۔ خدا کے نزدیک اصل نیکی یہ ہے کہ آدمی خدا سے ڈرنے والا بن جائے۔ جو نیکی آدمی کو خدا سے بے خوف کرے وہ بدی ہے۔ اور جو بدی آدمی کو خدا سے ڈرائے وہ اپنے انجام کے اعتبار سے نیکی۔ اگر ایک آدمی سے برائی ہوجائے۔ اس کے بعد اس کو خدا کی یاد آئے۔ وہ خداکی باز پرس کو سوچ کر تڑپ اٹھے اور توبہ اور استغفار کرتے ہوئے خدا کی طرف دوڑ پڑے تو خدا اپنی رحمت سے ایسی برائی کو نیکی کے خانہ میں لکھ دے گا۔ کیوں کہ وہ آدمی کو خدا کی طرف رجوع کرنے کا سبب بن گئی۔

الفرقان 25:71

اِس آیت میں تین گناہوں کا ذکر ہے۔ شرک اور قتل ناحق اور زنا۔ یہ تینوں گناہ خدااور بندوں کے حق میں سب سے بڑے گناہ ہیں۔ اللہ پر حقیقی ایمان کی علامت یہ ہے کہ آدمی ان تینوں گناہوں سے دور ہو جائے جو لوگ ان گناہوں میں ملوث ہوں وہ توبہ کرکے ان کے انجام سے بچ سکتے ہیں۔ جو لوگ توبہ اور رجوع کے بغیر مرجائیں ان کے ليے خدا کے یہاں نہایت سخت سزا ہے جس سے وہ کسی حال میں بچ نہ سکیں گے۔ خدا کے نزدیک اصل نیکی یہ ہے کہ آدمی خدا سے ڈرنے والا بن جائے۔ جو نیکی آدمی کو خدا سے بے خوف کرے وہ بدی ہے۔ اور جو بدی آدمی کو خدا سے ڈرائے وہ اپنے انجام کے اعتبار سے نیکی۔ اگر ایک آدمی سے برائی ہوجائے۔ اس کے بعد اس کو خدا کی یاد آئے۔ وہ خداکی باز پرس کو سوچ کر تڑپ اٹھے اور توبہ اور استغفار کرتے ہوئے خدا کی طرف دوڑ پڑے تو خدا اپنی رحمت سے ایسی برائی کو نیکی کے خانہ میں لکھ دے گا۔ کیوں کہ وہ آدمی کو خدا کی طرف رجوع کرنے کا سبب بن گئی۔

الفرقان 25:72

موجودہ دنیا میں جو غلط کام ہیں ان سب کا معاملہ یہ ہے کہ شیطان نے ان کو ظاہری طورپر خوب صورت بنا رکھا ہے۔ ہر باطل پرست اپنے نظریہ کو خوش نما الفاظ میں پیش کرتاہے۔ اسی ظاہر فریبی کی وجہ سے لوگ ان چیزوں کی طرف کھنچتے ہیں۔ اگر ان کے اس ظاہری غلاف کو ہٹا دیا جائے تو ہر چیز اتنی مکروہ دکھائی دینے لگے کہ کوئی شخص اس کے قریب جانے کے ليے تیار نہ ہو۔ اس اعتبار سے ہر برائی ایک قسم کا جھوٹ ہے جس میںآدمی مبتلا ہوتا ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ جھوٹ کو پہچانے۔ وہ ظاہری پردہ کو پھاڑ کر چیزوں کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھ سکے۔ جب کسی کو ایک ایسی نصیحت کی جائے جس میں اس کی ذات پر زد پڑتی ہو تو وہ فوراً بپھر اٹھتاہے۔ ایسا شخص خدا کی نظر میں اندھا بہرا ہے۔ کیوں کہ اس نے اپنی آنکھ سے یہ کام نہ لیا کہ وہ حقیقت کو دیکھے۔ اس نے اپنے کان سے یہ کام نہ لیا کہ وہ سچائی کی آواز کو سنے۔ اس نے نصیحت کا استقبال سننے اور دیکھنے والے آدمی کی حیثیت سے نہیں کیا۔ اس نے نصیحت کا استقبال ایک ایسے آدمی کی حیثیت سے کیا جو سننے اور دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو۔ خدا کی نظر میں دیکھنے اور سننے والا وہ ہے جو لغو کو دیکھے تو اس سے اعراض کرے اور جب اس کے سامنے سچی نصیحت آئے تو فوراً اس کو قبول کرلے۔ ہر آدمی جو کنبہ والا ہے وہ اپنے کنبہ کا ’’امام‘‘ ہے۔ اگر اس کے کنبہ والے متقی ہیں تو وہ متقیوں کا امام ہے۔ اور اگر اس کے کنبہ والے خدا فراموش ہیں تو وہ خدا فراموشوں کا امام۔

الفرقان 25:73

موجودہ دنیا میں جو غلط کام ہیں ان سب کا معاملہ یہ ہے کہ شیطان نے ان کو ظاہری طورپر خوب صورت بنا رکھا ہے۔ ہر باطل پرست اپنے نظریہ کو خوش نما الفاظ میں پیش کرتاہے۔ اسی ظاہر فریبی کی وجہ سے لوگ ان چیزوں کی طرف کھنچتے ہیں۔ اگر ان کے اس ظاہری غلاف کو ہٹا دیا جائے تو ہر چیز اتنی مکروہ دکھائی دینے لگے کہ کوئی شخص اس کے قریب جانے کے ليے تیار نہ ہو۔ اس اعتبار سے ہر برائی ایک قسم کا جھوٹ ہے جس میںآدمی مبتلا ہوتا ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ جھوٹ کو پہچانے۔ وہ ظاہری پردہ کو پھاڑ کر چیزوں کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھ سکے۔ جب کسی کو ایک ایسی نصیحت کی جائے جس میں اس کی ذات پر زد پڑتی ہو تو وہ فوراً بپھر اٹھتاہے۔ ایسا شخص خدا کی نظر میں اندھا بہرا ہے۔ کیوں کہ اس نے اپنی آنکھ سے یہ کام نہ لیا کہ وہ حقیقت کو دیکھے۔ اس نے اپنے کان سے یہ کام نہ لیا کہ وہ سچائی کی آواز کو سنے۔ اس نے نصیحت کا استقبال سننے اور دیکھنے والے آدمی کی حیثیت سے نہیں کیا۔ اس نے نصیحت کا استقبال ایک ایسے آدمی کی حیثیت سے کیا جو سننے اور دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو۔ خدا کی نظر میں دیکھنے اور سننے والا وہ ہے جو لغو کو دیکھے تو اس سے اعراض کرے اور جب اس کے سامنے سچی نصیحت آئے تو فوراً اس کو قبول کرلے۔ ہر آدمی جو کنبہ والا ہے وہ اپنے کنبہ کا ’’امام‘‘ ہے۔ اگر اس کے کنبہ والے متقی ہیں تو وہ متقیوں کا امام ہے۔ اور اگر اس کے کنبہ والے خدا فراموش ہیں تو وہ خدا فراموشوں کا امام۔

الفرقان 25:74

موجودہ دنیا میں جو غلط کام ہیں ان سب کا معاملہ یہ ہے کہ شیطان نے ان کو ظاہری طورپر خوب صورت بنا رکھا ہے۔ ہر باطل پرست اپنے نظریہ کو خوش نما الفاظ میں پیش کرتاہے۔ اسی ظاہر فریبی کی وجہ سے لوگ ان چیزوں کی طرف کھنچتے ہیں۔ اگر ان کے اس ظاہری غلاف کو ہٹا دیا جائے تو ہر چیز اتنی مکروہ دکھائی دینے لگے کہ کوئی شخص اس کے قریب جانے کے ليے تیار نہ ہو۔ اس اعتبار سے ہر برائی ایک قسم کا جھوٹ ہے جس میںآدمی مبتلا ہوتا ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ جھوٹ کو پہچانے۔ وہ ظاہری پردہ کو پھاڑ کر چیزوں کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھ سکے۔ جب کسی کو ایک ایسی نصیحت کی جائے جس میں اس کی ذات پر زد پڑتی ہو تو وہ فوراً بپھر اٹھتاہے۔ ایسا شخص خدا کی نظر میں اندھا بہرا ہے۔ کیوں کہ اس نے اپنی آنکھ سے یہ کام نہ لیا کہ وہ حقیقت کو دیکھے۔ اس نے اپنے کان سے یہ کام نہ لیا کہ وہ سچائی کی آواز کو سنے۔ اس نے نصیحت کا استقبال سننے اور دیکھنے والے آدمی کی حیثیت سے نہیں کیا۔ اس نے نصیحت کا استقبال ایک ایسے آدمی کی حیثیت سے کیا جو سننے اور دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو۔ خدا کی نظر میں دیکھنے اور سننے والا وہ ہے جو لغو کو دیکھے تو اس سے اعراض کرے اور جب اس کے سامنے سچی نصیحت آئے تو فوراً اس کو قبول کرلے۔ ہر آدمی جو کنبہ والا ہے وہ اپنے کنبہ کا ’’امام‘‘ ہے۔ اگر اس کے کنبہ والے متقی ہیں تو وہ متقیوں کا امام ہے۔ اور اگر اس کے کنبہ والے خدا فراموش ہیں تو وہ خدا فراموشوں کا امام۔

الفرقان 25:75

جنت کے اونچے بالا خانوں میں وہ لوگ جگہ پائیں گے جنھوں نے دنیا میںاپنے آپ کو حق کی خاطر نیچا کرلیاتھا۔ انھوں نے دنیا میں تواضع اختیار کی تھی اس ليے آخرت میں ان کا خدا انھیں سرفرازی عطا فرمائے گا۔ یہی وہ بات ہے جس کو حضرت مسیح نے ان لفظوں میں ادا فرمایا مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں۔ آسمان کی بادشاہی میں وہی داخل ہوں گے(متی 5:3 )۔ وہ اوصاف جو کسی آدمی کو جنت میں لے جانے والے ہیں ان کو حاصل کرنا اس شخص کے ليے ممکن ہوتاہے جو صبر کرنے کے ليے تیار ہو۔ جنت وہ اعلیٰ مقام ہے جہاں آدمی کی تمام خواہشیں کامل طورپر پوری ہوں گی۔ مگر جنت اسی صابر انسان کے حصہ میں آئے گی جس نے دنیا میں اپنی خواہشوں پر کامل روک لگائی ہو۔ جنت صبر کی قیمت ہے۔ اور جہنم اس کے ليے ہے جو دنیا کی زندگی میں صبر کی مطلوبہ قیمت دینے کے ليے تیار نہیں ہوا تھا۔

الفرقان 25:76

جنت کے اونچے بالا خانوں میں وہ لوگ جگہ پائیں گے جنھوں نے دنیا میںاپنے آپ کو حق کی خاطر نیچا کرلیاتھا۔ انھوں نے دنیا میں تواضع اختیار کی تھی اس ليے آخرت میں ان کا خدا انھیں سرفرازی عطا فرمائے گا۔ یہی وہ بات ہے جس کو حضرت مسیح نے ان لفظوں میں ادا فرمایا مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں۔ آسمان کی بادشاہی میں وہی داخل ہوں گے(متی 5:3 )۔ وہ اوصاف جو کسی آدمی کو جنت میں لے جانے والے ہیں ان کو حاصل کرنا اس شخص کے ليے ممکن ہوتاہے جو صبر کرنے کے ليے تیار ہو۔ جنت وہ اعلیٰ مقام ہے جہاں آدمی کی تمام خواہشیں کامل طورپر پوری ہوں گی۔ مگر جنت اسی صابر انسان کے حصہ میں آئے گی جس نے دنیا میں اپنی خواہشوں پر کامل روک لگائی ہو۔ جنت صبر کی قیمت ہے۔ اور جہنم اس کے ليے ہے جو دنیا کی زندگی میں صبر کی مطلوبہ قیمت دینے کے ليے تیار نہیں ہوا تھا۔

الفرقان 25:77

جنت کے اونچے بالا خانوں میں وہ لوگ جگہ پائیں گے جنھوں نے دنیا میںاپنے آپ کو حق کی خاطر نیچا کرلیاتھا۔ انھوں نے دنیا میں تواضع اختیار کی تھی اس ليے آخرت میں ان کا خدا انھیں سرفرازی عطا فرمائے گا۔ یہی وہ بات ہے جس کو حضرت مسیح نے ان لفظوں میں ادا فرمایا مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں۔ آسمان کی بادشاہی میں وہی داخل ہوں گے(متی 5:3 )۔ وہ اوصاف جو کسی آدمی کو جنت میں لے جانے والے ہیں ان کو حاصل کرنا اس شخص کے ليے ممکن ہوتاہے جو صبر کرنے کے ليے تیار ہو۔ جنت وہ اعلیٰ مقام ہے جہاں آدمی کی تمام خواہشیں کامل طورپر پوری ہوں گی۔ مگر جنت اسی صابر انسان کے حصہ میں آئے گی جس نے دنیا میں اپنی خواہشوں پر کامل روک لگائی ہو۔ جنت صبر کی قیمت ہے۔ اور جہنم اس کے ليے ہے جو دنیا کی زندگی میں صبر کی مطلوبہ قیمت دینے کے ليے تیار نہیں ہوا تھا۔