Tazkirul Quran(Maulana Wahiduddin Khan) — الطلاق 65:1 – النبأ 78:40
Contents
- الطلاق 65:1
- الطلاق 65:2
- الطلاق 65:3
- الطلاق 65:4
- الطلاق 65:5
- الطلاق 65:6
- الطلاق 65:7
- الطلاق 65:8
- الطلاق 65:9
- الطلاق 65:10
- الطلاق 65:11
- الطلاق 65:12
- التحريم 66:1
- التحريم 66:2
- التحريم 66:3
- التحريم 66:4
- التحريم 66:5
- التحريم 66:6
- التحريم 66:7
- التحريم 66:8
- التحريم 66:9
- التحريم 66:10
- التحريم 66:11
- التحريم 66:12
- الملك 67:1
- الملك 67:2
- الملك 67:3
- الملك 67:4
- الملك 67:5
- الملك 67:6
- الملك 67:7
- الملك 67:8
- الملك 67:9
- الملك 67:10
- الملك 67:11
- الملك 67:12
- الملك 67:13
- الملك 67:14
- الملك 67:15
- الملك 67:16
- الملك 67:17
- الملك 67:18
- الملك 67:19
- الملك 67:20
- الملك 67:21
- الملك 67:22
- الملك 67:23
- الملك 67:24
- الملك 67:25
- الملك 67:26
- الملك 67:27
- الملك 67:28
- الملك 67:29
- الملك 67:30
- القلم 68:1
- القلم 68:2
- القلم 68:3
- القلم 68:4
- القلم 68:5
- القلم 68:6
- القلم 68:7
- القلم 68:8
- القلم 68:9
- القلم 68:10
- القلم 68:11
- القلم 68:12
- القلم 68:13
- القلم 68:14
- القلم 68:15
- القلم 68:16
- القلم 68:17
- القلم 68:18
- القلم 68:19
- القلم 68:20
- القلم 68:21
- القلم 68:22
- القلم 68:23
- القلم 68:24
- القلم 68:25
- القلم 68:26
- القلم 68:27
- القلم 68:28
- القلم 68:29
- القلم 68:30
- القلم 68:31
- القلم 68:32
- القلم 68:33
- القلم 68:34
- القلم 68:35
- القلم 68:36
- القلم 68:37
- القلم 68:38
- القلم 68:39
- القلم 68:40
- القلم 68:41
- القلم 68:42
- القلم 68:43
- القلم 68:44
- القلم 68:45
- القلم 68:46
- القلم 68:47
- القلم 68:48
- القلم 68:49
- القلم 68:50
- القلم 68:51
- القلم 68:52
- الحاقة 69:1
- الحاقة 69:2
- الحاقة 69:3
- الحاقة 69:4
- الحاقة 69:5
- الحاقة 69:6
- الحاقة 69:7
- الحاقة 69:8
- الحاقة 69:9
- الحاقة 69:10
- الحاقة 69:11
- الحاقة 69:12
- الحاقة 69:13
- الحاقة 69:14
- الحاقة 69:15
- الحاقة 69:16
- الحاقة 69:17
- الحاقة 69:18
- الحاقة 69:19
- الحاقة 69:20
- الحاقة 69:21
- الحاقة 69:22
- الحاقة 69:23
- الحاقة 69:24
- الحاقة 69:25
- الحاقة 69:26
- الحاقة 69:27
- الحاقة 69:28
- الحاقة 69:29
- الحاقة 69:30
- الحاقة 69:31
- الحاقة 69:32
- الحاقة 69:33
- الحاقة 69:34
- الحاقة 69:35
- الحاقة 69:36
- الحاقة 69:37
- الحاقة 69:38
- الحاقة 69:39
- الحاقة 69:40
- الحاقة 69:41
- الحاقة 69:42
- الحاقة 69:43
- الحاقة 69:44
- الحاقة 69:45
- الحاقة 69:46
- الحاقة 69:47
- الحاقة 69:48
- الحاقة 69:49
- الحاقة 69:50
- الحاقة 69:51
- الحاقة 69:52
- المعارج 70:1
- المعارج 70:2
- المعارج 70:3
- المعارج 70:4
- المعارج 70:5
- المعارج 70:6
- المعارج 70:7
- المعارج 70:8
- المعارج 70:9
- المعارج 70:10
- المعارج 70:11
- المعارج 70:12
- المعارج 70:13
- المعارج 70:14
- المعارج 70:15
- المعارج 70:16
- المعارج 70:17
- المعارج 70:18
- المعارج 70:19
- المعارج 70:20
- المعارج 70:21
- المعارج 70:22
- المعارج 70:23
- المعارج 70:24
- المعارج 70:25
- المعارج 70:26
- المعارج 70:27
- المعارج 70:28
- المعارج 70:29
- المعارج 70:30
- المعارج 70:31
- المعارج 70:32
- المعارج 70:33
- المعارج 70:34
- المعارج 70:35
- المعارج 70:36
- المعارج 70:37
- المعارج 70:38
- المعارج 70:39
- المعارج 70:40
- المعارج 70:41
- المعارج 70:42
- المعارج 70:43
- المعارج 70:44
- نوح 71:1
- نوح 71:2
- نوح 71:3
- نوح 71:4
- نوح 71:5
- نوح 71:6
- نوح 71:7
- نوح 71:8
- نوح 71:9
- نوح 71:10
- نوح 71:11
- نوح 71:12
- نوح 71:13
- نوح 71:14
- نوح 71:15
- نوح 71:16
- نوح 71:17
- نوح 71:18
- نوح 71:19
- نوح 71:20
- نوح 71:21
- نوح 71:22
- نوح 71:23
- نوح 71:24
- نوح 71:25
- نوح 71:26
- نوح 71:27
- نوح 71:28
- الجن 72:1
- الجن 72:2
- الجن 72:3
- الجن 72:4
- الجن 72:5
- الجن 72:6
- الجن 72:7
- الجن 72:8
- الجن 72:9
- الجن 72:10
- الجن 72:11
- الجن 72:12
- الجن 72:13
- الجن 72:14
- الجن 72:15
- الجن 72:16
- الجن 72:17
- الجن 72:18
- الجن 72:19
- الجن 72:20
- الجن 72:21
- الجن 72:22
- الجن 72:23
- الجن 72:24
- الجن 72:25
- الجن 72:26
- الجن 72:27
- الجن 72:28
- المزمل 73:1
- المزمل 73:2
- المزمل 73:3
- المزمل 73:4
- المزمل 73:5
- المزمل 73:6
- المزمل 73:7
- المزمل 73:8
- المزمل 73:9
- المزمل 73:10
- المزمل 73:11
- المزمل 73:12
- المزمل 73:13
- المزمل 73:14
- المزمل 73:15
- المزمل 73:16
- المزمل 73:17
- المزمل 73:18
- المزمل 73:19
- المزمل 73:20
- المدثر 74:1
- المدثر 74:2
- المدثر 74:3
- المدثر 74:4
- المدثر 74:5
- المدثر 74:6
- المدثر 74:7
- المدثر 74:8
- المدثر 74:9
- المدثر 74:10
- المدثر 74:11
- المدثر 74:12
- المدثر 74:13
- المدثر 74:14
- المدثر 74:15
- المدثر 74:16
- المدثر 74:17
- المدثر 74:18
- المدثر 74:19
- المدثر 74:20
- المدثر 74:21
- المدثر 74:22
- المدثر 74:23
- المدثر 74:24
- المدثر 74:25
- المدثر 74:26
- المدثر 74:27
- المدثر 74:28
- المدثر 74:29
- المدثر 74:30
- المدثر 74:31
- المدثر 74:32
- المدثر 74:33
- المدثر 74:34
- المدثر 74:35
- المدثر 74:36
- المدثر 74:37
- المدثر 74:38
- المدثر 74:39
- المدثر 74:40
- المدثر 74:41
- المدثر 74:42
- المدثر 74:43
- المدثر 74:44
- المدثر 74:45
- المدثر 74:46
- المدثر 74:47
- المدثر 74:48
- المدثر 74:49
- المدثر 74:50
- المدثر 74:51
- المدثر 74:52
- المدثر 74:53
- المدثر 74:54
- المدثر 74:55
- المدثر 74:56
- القيامة 75:1
- القيامة 75:2
- القيامة 75:3
- القيامة 75:4
- القيامة 75:5
- القيامة 75:6
- القيامة 75:7
- القيامة 75:8
- القيامة 75:9
- القيامة 75:10
- القيامة 75:11
- القيامة 75:12
- القيامة 75:13
- القيامة 75:14
- القيامة 75:15
- القيامة 75:16
- القيامة 75:17
- القيامة 75:18
- القيامة 75:19
- القيامة 75:20
- القيامة 75:21
- القيامة 75:22
- القيامة 75:23
- القيامة 75:24
- القيامة 75:25
- القيامة 75:26
- القيامة 75:27
- القيامة 75:28
- القيامة 75:29
- القيامة 75:30
- القيامة 75:31
- القيامة 75:32
- القيامة 75:33
- القيامة 75:34
- القيامة 75:35
- القيامة 75:36
- القيامة 75:37
- القيامة 75:38
- القيامة 75:39
- القيامة 75:40
- الإنسان 76:1
- الإنسان 76:2
- الإنسان 76:3
- الإنسان 76:4
- الإنسان 76:5
- الإنسان 76:6
- الإنسان 76:7
- الإنسان 76:8
- الإنسان 76:9
- الإنسان 76:10
- الإنسان 76:11
- الإنسان 76:12
- الإنسان 76:13
- الإنسان 76:14
- الإنسان 76:15
- الإنسان 76:16
- الإنسان 76:17
- الإنسان 76:18
- الإنسان 76:19
- الإنسان 76:20
- الإنسان 76:21
- الإنسان 76:22
- الإنسان 76:23
- الإنسان 76:24
- الإنسان 76:25
- الإنسان 76:26
- الإنسان 76:27
- الإنسان 76:28
- الإنسان 76:29
- الإنسان 76:30
- الإنسان 76:31
- المرسلات 77:1
- المرسلات 77:2
- المرسلات 77:3
- المرسلات 77:4
- المرسلات 77:5
- المرسلات 77:6
- المرسلات 77:7
- المرسلات 77:8
- المرسلات 77:9
- المرسلات 77:10
- المرسلات 77:11
- المرسلات 77:12
- المرسلات 77:13
- المرسلات 77:14
- المرسلات 77:15
- المرسلات 77:16
- المرسلات 77:17
- المرسلات 77:18
- المرسلات 77:19
- المرسلات 77:20
- المرسلات 77:21
- المرسلات 77:22
- المرسلات 77:23
- المرسلات 77:24
- المرسلات 77:25
- المرسلات 77:26
- المرسلات 77:27
- المرسلات 77:28
- المرسلات 77:29
- المرسلات 77:30
- المرسلات 77:31
- المرسلات 77:32
- المرسلات 77:33
- المرسلات 77:34
- المرسلات 77:35
- المرسلات 77:36
- المرسلات 77:37
- المرسلات 77:38
- المرسلات 77:39
- المرسلات 77:40
- المرسلات 77:41
- المرسلات 77:42
- المرسلات 77:43
- المرسلات 77:44
- المرسلات 77:45
- المرسلات 77:46
- المرسلات 77:47
- المرسلات 77:48
- المرسلات 77:49
- المرسلات 77:50
- النبأ 78:1
- النبأ 78:2
- النبأ 78:3
- النبأ 78:4
- النبأ 78:5
- النبأ 78:6
- النبأ 78:7
- النبأ 78:8
- النبأ 78:9
- النبأ 78:10
- النبأ 78:11
- النبأ 78:12
- النبأ 78:13
- النبأ 78:14
- النبأ 78:15
- النبأ 78:16
- النبأ 78:17
- النبأ 78:18
- النبأ 78:19
- النبأ 78:20
- النبأ 78:21
- النبأ 78:22
- النبأ 78:23
- النبأ 78:24
- النبأ 78:25
- النبأ 78:26
- النبأ 78:27
- النبأ 78:28
- النبأ 78:29
- النبأ 78:30
- النبأ 78:31
- النبأ 78:32
- النبأ 78:33
- النبأ 78:34
- النبأ 78:35
- النبأ 78:36
- النبأ 78:37
- النبأ 78:38
- النبأ 78:39
- النبأ 78:40
الطلاق 65:1
اسلام میں استثنائی طور پر طلاق کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم اس کا ایک طریقِ کار مقرر کیا گیا ہے جو خاص وقفہ کے درمیان پورا ہوتا ہے۔ اس طرح طلاق کے عمل کو کچھ حدود کا پابند کردیا گیا ہے۔ ان حدود کا مقصد یہ ہے کہ فریقین کے درمیان آخروقت تک واپسی کا موقع باقی رہے۔ اور طلاق کا واقعہ کسی قسم کے خاندانی یا سماجی فساد کا ذریعہ نہ بنے— وہی طلاق اسلامی طلاق ہے جس کے پورے عمل کے دوران خدا کے خوف کی روح جاری و ساری رہے۔
الطلاق 65:2
اسلام میں استثنائی طور پر طلاق کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم اس کا ایک طریقِ کار مقرر کیا گیا ہے جو خاص وقفہ کے درمیان پورا ہوتا ہے۔ اس طرح طلاق کے عمل کو کچھ حدود کا پابند کردیا گیا ہے۔ ان حدود کا مقصد یہ ہے کہ فریقین کے درمیان آخروقت تک واپسی کا موقع باقی رہے۔ اور طلاق کا واقعہ کسی قسم کے خاندانی یا سماجی فساد کا ذریعہ نہ بنے— وہی طلاق اسلامی طلاق ہے جس کے پورے عمل کے دوران خدا کے خوف کی روح جاری و ساری رہے۔
الطلاق 65:3
اسلام میں استثنائی طور پر طلاق کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم اس کا ایک طریقِ کار مقرر کیا گیا ہے جو خاص وقفہ کے درمیان پورا ہوتا ہے۔ اس طرح طلاق کے عمل کو کچھ حدود کا پابند کردیا گیا ہے۔ ان حدود کا مقصد یہ ہے کہ فریقین کے درمیان آخروقت تک واپسی کا موقع باقی رہے۔ اور طلاق کا واقعہ کسی قسم کے خاندانی یا سماجی فساد کا ذریعہ نہ بنے— وہی طلاق اسلامی طلاق ہے جس کے پورے عمل کے دوران خدا کے خوف کی روح جاری و ساری رہے۔
الطلاق 65:4
شریعت نے طلاق اور دوسرے معاملات میں انسان کو کچھ ضوابط کا پابند کیا ہے۔ یہ ضوابط بظاہر انسان کی آزادانہ طبیعت کے لیے رکاوٹ ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے یہ نعمت ہیں۔ ان ضوابط کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی بہت سے غیر ضروری نقصانات سے بچ جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہر نقصان کی تلافی کسی نہ کسی طرح کی جاتی ہے۔ تاہم یہ تلافی صرف اس شخص کے حصہ میں آتی ہے جو فطرت کے دائرہ سے باہر نہ جائے۔
الطلاق 65:5
شریعت نے طلاق اور دوسرے معاملات میں انسان کو کچھ ضوابط کا پابند کیا ہے۔ یہ ضوابط بظاہر انسان کی آزادانہ طبیعت کے لیے رکاوٹ ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے یہ نعمت ہیں۔ ان ضوابط کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی بہت سے غیر ضروری نقصانات سے بچ جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہر نقصان کی تلافی کسی نہ کسی طرح کی جاتی ہے۔ تاہم یہ تلافی صرف اس شخص کے حصہ میں آتی ہے جو فطرت کے دائرہ سے باہر نہ جائے۔
الطلاق 65:6
اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ آدمی معاملات میں فریق ثانی کے ساتھ فراخ دلی کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ صبر کے ساتھ خلاف مزاج باتوں کو سہے۔ ناگواریوں کے باوجود دوسرے کا حق ادا کرے۔ جب آدمی ایسا کرتا ہے تو وہ صرف فریق ثانی کے لیے اچھا نہیں کرتا بلکہ خود اپنے لیے بھی اچھا کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کرتا ہے اور حقیقت پسندی کا مزاج بلاشبہ اس دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا زینہ ہے۔
الطلاق 65:7
اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ آدمی معاملات میں فریق ثانی کے ساتھ فراخ دلی کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ صبر کے ساتھ خلاف مزاج باتوں کو سہے۔ ناگواریوں کے باوجود دوسرے کا حق ادا کرے۔ جب آدمی ایسا کرتا ہے تو وہ صرف فریق ثانی کے لیے اچھا نہیں کرتا بلکہ خود اپنے لیے بھی اچھا کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کرتا ہے اور حقیقت پسندی کا مزاج بلاشبہ اس دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا زینہ ہے۔
الطلاق 65:8
وَمِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ سے مراد اگر سات زمینیں ہیں تو علم الافلاک (Astronomy)ابھی تک اس تعداد کو دریافت نہیں کرسکا ہے۔ انسانی معلومات کے مطابق، تادم تحریر، موجودہ زمین ساری کائنات میں ایک استثناء ہے۔ اس لیے یہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس آیت کا واقعی مطلب کیا ہے۔
’’تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘—اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ ’’علم‘‘ ہے، یعنی ذات خداوندی کا شعور۔ کائنات کا عظیم کارخانہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان اس کے ذریعہ خالق کو پہچانے وہ اس کے ذریعہ خدا کی بے پایاں قدرت کی معرفت حاصل کرے ۔
الطلاق 65:9
وَمِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ سے مراد اگر سات زمینیں ہیں تو علم الافلاک (Astronomy)ابھی تک اس تعداد کو دریافت نہیں کرسکا ہے۔ انسانی معلومات کے مطابق، تادم تحریر، موجودہ زمین ساری کائنات میں ایک استثناء ہے۔ اس لیے یہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس آیت کا واقعی مطلب کیا ہے۔
’’تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘—اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ ’’علم‘‘ ہے، یعنی ذات خداوندی کا شعور۔ کائنات کا عظیم کارخانہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان اس کے ذریعہ خالق کو پہچانے وہ اس کے ذریعہ خدا کی بے پایاں قدرت کی معرفت حاصل کرے ۔
الطلاق 65:10
وَمِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ سے مراد اگر سات زمینیں ہیں تو علم الافلاک (Astronomy)ابھی تک اس تعداد کو دریافت نہیں کرسکا ہے۔ انسانی معلومات کے مطابق، تادم تحریر، موجودہ زمین ساری کائنات میں ایک استثناء ہے۔ اس لیے یہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس آیت کا واقعی مطلب کیا ہے۔
’’تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘—اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ ’’علم‘‘ ہے، یعنی ذات خداوندی کا شعور۔ کائنات کا عظیم کارخانہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان اس کے ذریعہ خالق کو پہچانے وہ اس کے ذریعہ خدا کی بے پایاں قدرت کی معرفت حاصل کرے ۔
الطلاق 65:11
وَمِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ سے مراد اگر سات زمینیں ہیں تو علم الافلاک (Astronomy)ابھی تک اس تعداد کو دریافت نہیں کرسکا ہے۔ انسانی معلومات کے مطابق، تادم تحریر، موجودہ زمین ساری کائنات میں ایک استثناء ہے۔ اس لیے یہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس آیت کا واقعی مطلب کیا ہے۔
’’تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘—اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ ’’علم‘‘ ہے، یعنی ذات خداوندی کا شعور۔ کائنات کا عظیم کارخانہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان اس کے ذریعہ خالق کو پہچانے وہ اس کے ذریعہ خدا کی بے پایاں قدرت کی معرفت حاصل کرے ۔
الطلاق 65:12
وَمِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ سے مراد اگر سات زمینیں ہیں تو علم الافلاک (Astronomy)ابھی تک اس تعداد کو دریافت نہیں کرسکا ہے۔ انسانی معلومات کے مطابق، تادم تحریر، موجودہ زمین ساری کائنات میں ایک استثناء ہے۔ اس لیے یہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس آیت کا واقعی مطلب کیا ہے۔
’’تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘—اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ ’’علم‘‘ ہے، یعنی ذات خداوندی کا شعور۔ کائنات کا عظیم کارخانہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان اس کے ذریعہ خالق کو پہچانے وہ اس کے ذریعہ خدا کی بے پایاں قدرت کی معرفت حاصل کرے ۔
التحريم 66:1
بیویوں کے پیدا کردہ بعض اندرونی مسائل کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں قسم کھالی کہ میں شہد نہیں کھاؤں گا۔ مگر پیغمبر کا عمل اس کی امت کے لیے نمونہ بن جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالی نے حکم دیا کہ آپ شرعی طریقہ کے مطابق کفارہ ادا کر کے اپنی قسم کو توڑ دیں۔ اور شہد نہ کھانے کے عہد سے اپنے آپ کو آزادکرلیں ۔تا کہ ایسا نہ ہو کہ آئندہ آپ کے امتی اس کو تقوی کا معیار سمجھ کر شہد کھانے سے پرہیز کرنے لگیں۔
التحريم 66:2
بیویوں کے پیدا کردہ بعض اندرونی مسائل کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں قسم کھالی کہ میں شہد نہیں کھاؤں گا۔ مگر پیغمبر کا عمل اس کی امت کے لیے نمونہ بن جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالی نے حکم دیا کہ آپ شرعی طریقہ کے مطابق کفارہ ادا کر کے اپنی قسم کو توڑ دیں۔ اور شہد نہ کھانے کے عہد سے اپنے آپ کو آزادکرلیں ۔تا کہ ایسا نہ ہو کہ آئندہ آپ کے امتی اس کو تقوی کا معیار سمجھ کر شہد کھانے سے پرہیز کرنے لگیں۔
التحريم 66:3
بیویوں کے پیدا کردہ بعض اندرونی مسائل کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں یہ قسم کھالی کہ میں شہد نہیں کھاؤں گا۔ مگر پیغمبر کا عمل اس کی امت کے لیے نمونہ بن جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ شرعی طریقہ کے مطابق کفارہ ادا کرکے اپنی قسم کو توڑ دیں۔ اور شہد نہ کھانے کے عہد سے اپنے آپ کو آزاد کرلیں۔ تاکہ ایسا نہ ہو کہ آئندہ آپ کے امتی اس کو تقوی کا معیار سمجھ کر شہد کھانے سے پرہیز کرنے لگیں۔
التحريم 66:4
بیویوں کے پیدا کردہ بعض اندرونی مسائل کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں یہ قسم کھالی کہ میں شہد نہیں کھاؤں گا۔ مگر پیغمبر کا عمل اس کی امت کے لیے نمونہ بن جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ شرعی طریقہ کے مطابق کفارہ ادا کرکے اپنی قسم کو توڑ دیں۔ اور شہد نہ کھانے کے عہد سے اپنے آپ کو آزاد کرلیں۔ تاکہ ایسا نہ ہو کہ آئندہ آپ کے امتی اس کو تقوی کا معیار سمجھ کر شہد کھانے سے پرہیز کرنے لگیں۔
التحريم 66:5
بیویوں کے پیدا کردہ بعض اندرونی مسائل کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں یہ قسم کھالی کہ میں شہد نہیں کھاؤں گا۔ مگر پیغمبر کا عمل اس کی امت کے لیے نمونہ بن جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ شرعی طریقہ کے مطابق کفارہ ادا کرکے اپنی قسم کو توڑ دیں۔ اور شہد نہ کھانے کے عہد سے اپنے آپ کو آزاد کرلیں۔ تاکہ ایسا نہ ہو کہ آئندہ آپ کے امتی اس کو تقوی کا معیار سمجھ کر شہد کھانے سے پرہیز کرنے لگیں۔
التحريم 66:6
مذکورہ معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواج نے آپ کے گھر میں جو پیچیدگی پیدا کی تھی، اس پر متنبہ کرنے کے لیے آپ کی ازواج سے الٹی میٹم کے انداز میں کلام کیا گیا۔ اس سے زندگی کے معاملات میں عورتوں کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عورتیں اگر صحیح معنوں میں اپنے شوہروں کی رفاقت کریں تو وہ ان کا ’’نصف بہتر‘‘بن جاتی ہیں۔ اور اگر وہ سچی رفیق ثابت نہ ہوں تو وہ ایک با مقصد انسان کے پورے منصوبہ کو خاک میں ملا سکتی ہیں۔
التحريم 66:7
مذکورہ معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواج نے آپ کے گھر میں جو پیچیدگی پیدا کی تھی، اس پر متنبہ کرنے کے لیے آپ کی ازواج سے الٹی میٹم کے انداز میں کلام کیا گیا۔ اس سے زندگی کے معاملات میں عورتوں کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عورتیں اگر صحیح معنوں میں اپنے شوہروں کی رفاقت کریں تو وہ ان کا ’’نصف بہتر‘‘بن جاتی ہیں۔ اور اگر وہ سچی رفیق ثابت نہ ہوں تو وہ ایک با مقصد انسان کے پورے منصوبہ کو خاک میں ملا سکتی ہیں۔
التحريم 66:8
موجودہ دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک چیز کو حق سمجھتا ہے۔ مگر بیوی بچوں سے بڑھا ہوا تعلق اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ حق کے طریقے کو چھوڑ دے اور وہی کرے جو اس کے بیوی بچے چاہتے ہیں۔ مگر یہ زبردست بھول ہے۔ انسان کو یاد رکھنا چاہيے کہ آج جن بچوں کی رعایت کرنے میں وہ اس حد تک جاتا ہے کہ حق کی رعایت کرنا بھول جاتا ہے، وہ بچے اپنی اس روش کے نتیجہ میں کل ایسے جہنمی کارندوں کے حوالے کیے جائیں گے جو مشینی انسان (Robot) کی طرح بے رحم ہوں گے اور ان کے ساتھ کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں کریں گے۔
التحريم 66:9
فرعون ایک کافر اور ظالم شخص تھا۔ مگر اس کی بیوی آسیہ بنت مزاحم ایمان دار اور باعمل خاتون تھی۔ بیوی نے جب اپنے آپ کو صحیح روش پر قائم رکھا تو شوہر کی غلط روش اس کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکی۔ شوہر جہنم میں داخل کیا گیا اور بیوی کو جنت کے باغوں میں جگہ ملی۔
أَحْصَنَتْ فَرْجَهَادر اصل کنایہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا۔ بچپن سے جوانی تک وہ پوری طرح بے داغ رہیں۔ چنانچہ اللہ نے ان کو معجزاتی پیغمبر کی پیدائش کے لیے چنا۔ بعض روایات کے مطابق جبریل فرشتہ نے ان کے گریبان میں پھونک ماری، جس سے استقرار حمل ہوا اور پھر حضرت مسیح علیہ السلام پیدا ہوئے۔
التحريم 66:10
فرعون ایک کافر اور ظالم شخص تھا۔ مگر اس کی بیوی آسیہ بنت مزاحم ایمان دار اور باعمل خاتون تھی۔ بیوی نے جب اپنے آپ کو صحیح روش پر قائم رکھا تو شوہر کی غلط روش اس کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکی۔ شوہر جہنم میں داخل کیا گیا اور بیوی کو جنت کے باغوں میں جگہ ملی۔
أَحْصَنَتْ فَرْجَهَادر اصل کنایہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا۔ بچپن سے جوانی تک وہ پوری طرح بے داغ رہیں۔ چنانچہ اللہ نے ان کو معجزاتی پیغمبر کی پیدائش کے لیے چنا۔ بعض روایات کے مطابق جبریل فرشتہ نے ان کے گریبان میں پھونک ماری، جس سے استقرار حمل ہوا اور پھر حضرت مسیح علیہ السلام پیدا ہوئے۔
التحريم 66:11
فرعون ایک کافر اور ظالم شخص تھا۔ مگر اس کی بیوی آسیہ بنت مزاحم ایمان دار اور باعمل خاتون تھی۔ بیوی نے جب اپنے آپ کو صحیح روش پر قائم رکھا تو شوہر کی غلط روش اس کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکی۔ شوہر جہنم میں داخل کیا گیا اور بیوی کو جنت کے باغوں میں جگہ ملی۔
أَحْصَنَتْ فَرْجَهَادر اصل کنایہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا۔ بچپن سے جوانی تک وہ پوری طرح بے داغ رہیں۔ چنانچہ اللہ نے ان کو معجزاتی پیغمبر کی پیدائش کے لیے چنا۔ بعض روایات کے مطابق جبریل فرشتہ نے ان کے گریبان میں پھونک ماری، جس سے استقرار حمل ہوا اور پھر حضرت مسیح علیہ السلام پیدا ہوئے۔
التحريم 66:12
فرعون ایک کافر اور ظالم شخص تھا۔ مگر اس کی بیوی آسیہ بنت مزاحم ایمان دار اور باعمل خاتون تھی۔ بیوی نے جب اپنے آپ کو صحیح روش پر قائم رکھا تو شوہر کی غلط روش اس کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکی۔ شوہر جہنم میں داخل کیا گیا اور بیوی کو جنت کے باغوں میں جگہ ملی۔
أَحْصَنَتْ فَرْجَهَادر اصل کنایہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا۔ بچپن سے جوانی تک وہ پوری طرح بے داغ رہیں۔ چنانچہ اللہ نے ان کو معجزاتی پیغمبر کی پیدائش کے لیے چنا۔ بعض روایات کے مطابق جبریل فرشتہ نے ان کے گریبان میں پھونک ماری، جس سے استقرار حمل ہوا اور پھر حضرت مسیح علیہ السلام پیدا ہوئے۔
الملك 67:1
جب ایک شخص موجودہ دنیا کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کو یہاں ایک تضاد نظر آتا ہے۔ انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہے وہ انتہائی حد تک منظم اور کامل ہے۔ اس میں کہیں کوئی نقص نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس، انسانی زندگی میں ظلم و فساد نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ انسان کی علیحدہ نوعیت ہے۔ انسان اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ امتحان لازمی طور پر عمل کی آزادی چاہتا ہے۔ اسی عمل کی آزادی نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ دنیا میں ظلم و فساد کرسکے۔
انسانی دنیا کا ظلم انسانی آزادی کی قیمت ہے۔ اگر یہ حالات نہ ہوں تو ان قیمتی انسانوں کا انتخاب کیسے کیا جائے گا جنہوں نے ظلم کے مواقع پاتے ہوئے ظلم نہیں کیا۔ جنہوں نے سرکشی کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی سے بچایا۔
الملك 67:2
جب ایک شخص موجودہ دنیا کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کو یہاں ایک تضاد نظر آتا ہے۔ انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہے وہ انتہائی حد تک منظم اور کامل ہے۔ اس میں کہیں کوئی نقص نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس، انسانی زندگی میں ظلم و فساد نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ انسان کی علیحدہ نوعیت ہے۔ انسان اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ امتحان لازمی طور پر عمل کی آزادی چاہتا ہے۔ اسی عمل کی آزادی نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ دنیا میں ظلم و فساد کرسکے۔
انسانی دنیا کا ظلم انسانی آزادی کی قیمت ہے۔ اگر یہ حالات نہ ہوں تو ان قیمتی انسانوں کا انتخاب کیسے کیا جائے گا جنہوں نے ظلم کے مواقع پاتے ہوئے ظلم نہیں کیا۔ جنہوں نے سرکشی کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی سے بچایا۔
الملك 67:3
جب ایک شخص موجودہ دنیا کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کو یہاں ایک تضاد نظر آتا ہے۔ انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہے وہ انتہائی حد تک منظم اور کامل ہے۔ اس میں کہیں کوئی نقص نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس، انسانی زندگی میں ظلم و فساد نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ انسان کی علیحدہ نوعیت ہے۔ انسان اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ امتحان لازمی طور پر عمل کی آزادی چاہتا ہے۔ اسی عمل کی آزادی نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ دنیا میں ظلم و فساد کرسکے۔
انسانی دنیا کا ظلم انسانی آزادی کی قیمت ہے۔ اگر یہ حالات نہ ہوں تو ان قیمتی انسانوں کا انتخاب کیسے کیا جائے گا جنہوں نے ظلم کے مواقع پاتے ہوئے ظلم نہیں کیا۔ جنہوں نے سرکشی کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی سے بچایا۔
الملك 67:4
جب ایک شخص موجودہ دنیا کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کو یہاں ایک تضاد نظر آتا ہے۔ انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہے وہ انتہائی حد تک منظم اور کامل ہے۔ اس میں کہیں کوئی نقص نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس، انسانی زندگی میں ظلم و فساد نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ انسان کی علیحدہ نوعیت ہے۔ انسان اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ امتحان لازمی طور پر عمل کی آزادی چاہتا ہے۔ اسی عمل کی آزادی نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ دنیا میں ظلم و فساد کرسکے۔
انسانی دنیا کا ظلم انسانی آزادی کی قیمت ہے۔ اگر یہ حالات نہ ہوں تو ان قیمتی انسانوں کا انتخاب کیسے کیا جائے گا جنہوں نے ظلم کے مواقع پاتے ہوئے ظلم نہیں کیا۔ جنہوں نے سرکشی کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی سے بچایا۔
الملك 67:5
آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔
الملك 67:6
آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔
الملك 67:7
آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔
الملك 67:8
آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔
الملك 67:9
آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔
الملك 67:10
آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔
الملك 67:11
آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔
الملك 67:12
آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔
الملك 67:13
آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔
الملك 67:14
آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔
الملك 67:15
زمین پر ہر چیز نہایت توازن کی حالت میں ہے۔ اسی توازن نے زمین کو انسان کے لیے قابلِ رہائش بنا رکھا ہے۔ اس توازن میں اگر معمولی سا بھی فرق پڑجائے تو انسان کی زندگی برباد ہو کر رہ جائے۔ جو متوازن دنیا میں ہمیں حاصل ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا، اور توازن ٹوٹنے کی صورت میں جو تباہ کن حالات پیدا ہوسکتے ہیں اس کے لیے اللہ سے پناہ مانگنا، یہی وہ چیز ہے جو انسان سے اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔
الملك 67:16
زمین پر ہر چیز نہایت توازن کی حالت میں ہے۔ اسی توازن نے زمین کو انسان کے لیے قابلِ رہائش بنا رکھا ہے۔ اس توازن میں اگر معمولی سا بھی فرق پڑجائے تو انسان کی زندگی برباد ہو کر رہ جائے۔ جو متوازن دنیا میں ہمیں حاصل ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا، اور توازن ٹوٹنے کی صورت میں جو تباہ کن حالات پیدا ہوسکتے ہیں اس کے لیے اللہ سے پناہ مانگنا، یہی وہ چیز ہے جو انسان سے اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔
الملك 67:17
زمین پر ہر چیز نہایت توازن کی حالت میں ہے۔ اسی توازن نے زمین کو انسان کے لیے قابلِ رہائش بنا رکھا ہے۔ اس توازن میں اگر معمولی سا بھی فرق پڑجائے تو انسان کی زندگی برباد ہو کر رہ جائے۔ جو متوازن دنیا میں ہمیں حاصل ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا، اور توازن ٹوٹنے کی صورت میں جو تباہ کن حالات پیدا ہوسکتے ہیں اس کے لیے اللہ سے پناہ مانگنا، یہی وہ چیز ہے جو انسان سے اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔
الملك 67:18
زمین پر ہر چیز نہایت توازن کی حالت میں ہے۔ اسی توازن نے زمین کو انسان کے لیے قابلِ رہائش بنا رکھا ہے۔ اس توازن میں اگر معمولی سا بھی فرق پڑجائے تو انسان کی زندگی برباد ہو کر رہ جائے۔ جو متوازن دنیا میں ہمیں حاصل ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا، اور توازن ٹوٹنے کی صورت میں جو تباہ کن حالات پیدا ہوسکتے ہیں اس کے لیے اللہ سے پناہ مانگنا، یہی وہ چیز ہے جو انسان سے اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔
الملك 67:19
پرندوں کا فضا میں اڑنا، رزق کا زمین سے نکلنا اور اس طرح کے دوسرے واقعات اتنہائی حیرت انگیز ہیں۔ آدمی ان واقعات پر غور کرے تو وہ خدائی احساس میں گم ہوجائے۔ مگر انسان اتنا غافل ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں خدا سے سرکشی کرتا ہے جہاں اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی چیزیں اس کو صرف خدا کی اطاعت کا سبق دے رہی ہیں۔
الملك 67:20
پرندوں کا فضا میں اڑنا، رزق کا زمین سے نکلنا اور اس طرح کے دوسرے واقعات اتنہائی حیرت انگیز ہیں۔ آدمی ان واقعات پر غور کرے تو وہ خدائی احساس میں گم ہوجائے۔ مگر انسان اتنا غافل ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں خدا سے سرکشی کرتا ہے جہاں اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی چیزیں اس کو صرف خدا کی اطاعت کا سبق دے رہی ہیں۔
الملك 67:21
پرندوں کا فضا میں اڑنا، رزق کا زمین سے نکلنا اور اس طرح کے دوسرے واقعات اتنہائی حیرت انگیز ہیں۔ آدمی ان واقعات پر غور کرے تو وہ خدائی احساس میں گم ہوجائے۔ مگر انسان اتنا غافل ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں خدا سے سرکشی کرتا ہے جہاں اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی چیزیں اس کو صرف خدا کی اطاعت کا سبق دے رہی ہیں۔
الملك 67:22
انسان کو سننے اور دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ اب کوئی انسان وہ ہے کہ جو کچھ سنا اسی پر چل پڑا، جو دیکھا اس کو بس اس کے ظاہر کے اعتبار سے مان لیا۔ جو بات ایک بار ذہن میں آگئی اسی پر جم گیا۔ یہ انسان وہ ہے جو جانور کی طرح سرجھکائے ہوئے بس ایک ڈگر پر چلا جا رہا ہے۔
دوسرا انسان وہ ہے جو سنی ہوئی بات کی تحقیق کرے۔ جو دیکھی ہوئی بات کو مزید زیادہ صحت کے ساتھ جاننے کی کوشش کرے۔ جو اپنے ذاتی خول سے باہر نکل کر سچائی کو دریافت کرے۔ یہ دوسرا انسان وہ ہے جو سیدھا ہو کر ایک ہموار راستہ پر چلا جا رہا ہے— سمع و بصر و فواد کی صلاحیت آدمی کو اس لیے دی گئی ہے کہ وہ حق کو پہچانے، نہ یہ کہ وہ اندھے بہرے کی طرح اس سے بے خبر رہے۔
الملك 67:23
انسان کو سننے اور دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ اب کوئی انسان وہ ہے کہ جو کچھ سنا اسی پر چل پڑا، جو دیکھا اس کو بس اس کے ظاہر کے اعتبار سے مان لیا۔ جو بات ایک بار ذہن میں آگئی اسی پر جم گیا۔ یہ انسان وہ ہے جو جانور کی طرح سرجھکائے ہوئے بس ایک ڈگر پر چلا جا رہا ہے۔
دوسرا انسان وہ ہے جو سنی ہوئی بات کی تحقیق کرے۔ جو دیکھی ہوئی بات کو مزید زیادہ صحت کے ساتھ جاننے کی کوشش کرے۔ جو اپنے ذاتی خول سے باہر نکل کر سچائی کو دریافت کرے۔ یہ دوسرا انسان وہ ہے جو سیدھا ہو کر ایک ہموار راستہ پر چلا جا رہا ہے— سمع و بصر و فواد کی صلاحیت آدمی کو اس لیے دی گئی ہے کہ وہ حق کو پہچانے، نہ یہ کہ وہ اندھے بہرے کی طرح اس سے بے خبر رہے۔
الملك 67:24
انسان کو سننے اور دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ اب کوئی انسان وہ ہے کہ جو کچھ سنا اسی پر چل پڑا، جو دیکھا اس کو بس اس کے ظاہر کے اعتبار سے مان لیا۔ جو بات ایک بار ذہن میں آگئی اسی پر جم گیا۔ یہ انسان وہ ہے جو جانور کی طرح سرجھکائے ہوئے بس ایک ڈگر پر چلا جا رہا ہے۔
دوسرا انسان وہ ہے جو سنی ہوئی بات کی تحقیق کرے۔ جو دیکھی ہوئی بات کو مزید زیادہ صحت کے ساتھ جاننے کی کوشش کرے۔ جو اپنے ذاتی خول سے باہر نکل کر سچائی کو دریافت کرے۔ یہ دوسرا انسان وہ ہے جو سیدھا ہو کر ایک ہموار راستہ پر چلا جا رہا ہے— سمع و بصر و فواد کی صلاحیت آدمی کو اس لیے دی گئی ہے کہ وہ حق کو پہچانے، نہ یہ کہ وہ اندھے بہرے کی طرح اس سے بے خبر رہے۔
الملك 67:25
مخاطب جب دلیل سے نہ مانے تو داعی یقین کا کلمہ بول کر اس کے اندرون کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ آیتیں گویا اسی قسم کے یقین کے کلمات ہیں۔ آدمی کے اندر اگر کچھ بھی احساس زندہ ہو تو یہ آخری کلمات اس کو تڑپا دیتے ہیں۔ مگر جس شخص کا احساس بالکل بجھ چکا ہو وہ کسی تدبیر سے بھی نہیں جاگتا۔ وہ ’’پانی‘‘ کی قیمت کو صرف اس وقت تسلیم کرتا ہے جب کہ اس کو پانی سے محروم کرکے صحرا میں ڈال دیا گیا ہو۔
الملك 67:26
مخاطب جب دلیل سے نہ مانے تو داعی یقین کا کلمہ بول کر اس کے اندرون کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ آیتیں گویا اسی قسم کے یقین کے کلمات ہیں۔ آدمی کے اندر اگر کچھ بھی احساس زندہ ہو تو یہ آخری کلمات اس کو تڑپا دیتے ہیں۔ مگر جس شخص کا احساس بالکل بجھ چکا ہو وہ کسی تدبیر سے بھی نہیں جاگتا۔ وہ ’’پانی‘‘ کی قیمت کو صرف اس وقت تسلیم کرتا ہے جب کہ اس کو پانی سے محروم کرکے صحرا میں ڈال دیا گیا ہو۔
الملك 67:27
مخاطب جب دلیل سے نہ مانے تو داعی یقین کا کلمہ بول کر اس کے اندرون کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ آیتیں گویا اسی قسم کے یقین کے کلمات ہیں۔ آدمی کے اندر اگر کچھ بھی احساس زندہ ہو تو یہ آخری کلمات اس کو تڑپا دیتے ہیں۔ مگر جس شخص کا احساس بالکل بجھ چکا ہو وہ کسی تدبیر سے بھی نہیں جاگتا۔ وہ ’’پانی‘‘ کی قیمت کو صرف اس وقت تسلیم کرتا ہے جب کہ اس کو پانی سے محروم کرکے صحرا میں ڈال دیا گیا ہو۔
الملك 67:28
مخاطب جب دلیل سے نہ مانے تو داعی یقین کا کلمہ بول کر اس کے اندرون کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ آیتیں گویا اسی قسم کے یقین کے کلمات ہیں۔ آدمی کے اندر اگر کچھ بھی احساس زندہ ہو تو یہ آخری کلمات اس کو تڑپا دیتے ہیں۔ مگر جس شخص کا احساس بالکل بجھ چکا ہو وہ کسی تدبیر سے بھی نہیں جاگتا۔ وہ ’’پانی‘‘ کی قیمت کو صرف اس وقت تسلیم کرتا ہے جب کہ اس کو پانی سے محروم کرکے صحرا میں ڈال دیا گیا ہو۔
الملك 67:29
مخاطب جب دلیل سے نہ مانے تو داعی یقین کا کلمہ بول کر اس کے اندرون کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ آیتیں گویا اسی قسم کے یقین کے کلمات ہیں۔ آدمی کے اندر اگر کچھ بھی احساس زندہ ہو تو یہ آخری کلمات اس کو تڑپا دیتے ہیں۔ مگر جس شخص کا احساس بالکل بجھ چکا ہو وہ کسی تدبیر سے بھی نہیں جاگتا۔ وہ ’’پانی‘‘ کی قیمت کو صرف اس وقت تسلیم کرتا ہے جب کہ اس کو پانی سے محروم کرکے صحرا میں ڈال دیا گیا ہو۔
الملك 67:30
مخاطب جب دلیل سے نہ مانے تو داعی یقین کا کلمہ بول کر اس کے اندرون کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ آیتیں گویا اسی قسم کے یقین کے کلمات ہیں۔ آدمی کے اندر اگر کچھ بھی احساس زندہ ہو تو یہ آخری کلمات اس کو تڑپا دیتے ہیں۔ مگر جس شخص کا احساس بالکل بجھ چکا ہو وہ کسی تدبیر سے بھی نہیں جاگتا۔ وہ ’’پانی‘‘ کی قیمت کو صرف اس وقت تسلیم کرتا ہے جب کہ اس کو پانی سے محروم کرکے صحرا میں ڈال دیا گیا ہو۔
القلم 68:1
وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ سے مراد تاریخی ریکارڈ ہے۔ تاریخ کی شکل میں انسانی یاد داشت کا جو ریکارڈ جمع ہوا ہے اس میں قرآن ایک استثنائی کتاب ہے۔ اور صاحب قرآن ایک استثنائی شخصیت۔ اس استثناء کی اس کے سوا اور کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کو خدا کی کتاب مانا جائے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا پیغمبر۔
اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے،خواہ دوسرے اس کے ساتھ بُرائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق تھا۔ اس قسم کا اخلاق ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک با اصول انسان تھے۔ آپ کی شخصیت حالات کی پیداوار نہ تھی۔ بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی پیداوار تھی۔ آپ کا یہ اعلیٰ اخلاق آپ کے اس دعوے کے عین مطابق ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔
القلم 68:2
وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ سے مراد تاریخی ریکارڈ ہے۔ تاریخ کی شکل میں انسانی یاد داشت کا جو ریکارڈ جمع ہوا ہے اس میں قرآن ایک استثنائی کتاب ہے۔ اور صاحب قرآن ایک استثنائی شخصیت۔ اس استثناء کی اس کے سوا اور کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کو خدا کی کتاب مانا جائے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا پیغمبر۔
اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے،خواہ دوسرے اس کے ساتھ بُرائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق تھا۔ اس قسم کا اخلاق ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک با اصول انسان تھے۔ آپ کی شخصیت حالات کی پیداوار نہ تھی۔ بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی پیداوار تھی۔ آپ کا یہ اعلیٰ اخلاق آپ کے اس دعوے کے عین مطابق ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔
القلم 68:3
وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ سے مراد تاریخی ریکارڈ ہے۔ تاریخ کی شکل میں انسانی یاد داشت کا جو ریکارڈ جمع ہوا ہے اس میں قرآن ایک استثنائی کتاب ہے۔ اور صاحب قرآن ایک استثنائی شخصیت۔ اس استثناء کی اس کے سوا اور کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کو خدا کی کتاب مانا جائے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا پیغمبر۔
اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے،خواہ دوسرے اس کے ساتھ بُرائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق تھا۔ اس قسم کا اخلاق ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک با اصول انسان تھے۔ آپ کی شخصیت حالات کی پیداوار نہ تھی۔ بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی پیداوار تھی۔ آپ کا یہ اعلیٰ اخلاق آپ کے اس دعوے کے عین مطابق ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔
القلم 68:4
وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ سے مراد تاریخی ریکارڈ ہے۔ تاریخ کی شکل میں انسانی یاد داشت کا جو ریکارڈ جمع ہوا ہے اس میں قرآن ایک استثنائی کتاب ہے۔ اور صاحب قرآن ایک استثنائی شخصیت۔ اس استثناء کی اس کے سوا اور کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کو خدا کی کتاب مانا جائے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا پیغمبر۔
اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے،خواہ دوسرے اس کے ساتھ بُرائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق تھا۔ اس قسم کا اخلاق ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک با اصول انسان تھے۔ آپ کی شخصیت حالات کی پیداوار نہ تھی۔ بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی پیداوار تھی۔ آپ کا یہ اعلیٰ اخلاق آپ کے اس دعوے کے عین مطابق ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔
القلم 68:5
وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ سے مراد تاریخی ریکارڈ ہے۔ تاریخ کی شکل میں انسانی یاد داشت کا جو ریکارڈ جمع ہوا ہے اس میں قرآن ایک استثنائی کتاب ہے۔ اور صاحب قرآن ایک استثنائی شخصیت۔ اس استثناء کی اس کے سوا اور کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کو خدا کی کتاب مانا جائے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا پیغمبر۔
اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے،خواہ دوسرے اس کے ساتھ بُرائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق تھا۔ اس قسم کا اخلاق ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک با اصول انسان تھے۔ آپ کی شخصیت حالات کی پیداوار نہ تھی۔ بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی پیداوار تھی۔ آپ کا یہ اعلیٰ اخلاق آپ کے اس دعوے کے عین مطابق ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔
القلم 68:6
وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ سے مراد تاریخی ریکارڈ ہے۔ تاریخ کی شکل میں انسانی یاد داشت کا جو ریکارڈ جمع ہوا ہے اس میں قرآن ایک استثنائی کتاب ہے۔ اور صاحب قرآن ایک استثنائی شخصیت۔ اس استثناء کی اس کے سوا اور کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کو خدا کی کتاب مانا جائے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا پیغمبر۔
اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے،خواہ دوسرے اس کے ساتھ بُرائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق تھا۔ اس قسم کا اخلاق ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک با اصول انسان تھے۔ آپ کی شخصیت حالات کی پیداوار نہ تھی۔ بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی پیداوار تھی۔ آپ کا یہ اعلیٰ اخلاق آپ کے اس دعوے کے عین مطابق ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔
القلم 68:7
وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ سے مراد تاریخی ریکارڈ ہے۔ تاریخ کی شکل میں انسانی یاد داشت کا جو ریکارڈ جمع ہوا ہے اس میں قرآن ایک استثنائی کتاب ہے۔ اور صاحب قرآن ایک استثنائی شخصیت۔ اس استثناء کی اس کے سوا اور کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کو خدا کی کتاب مانا جائے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا پیغمبر۔
اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے،خواہ دوسرے اس کے ساتھ بُرائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق تھا۔ اس قسم کا اخلاق ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک با اصول انسان تھے۔ آپ کی شخصیت حالات کی پیداوار نہ تھی۔ بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی پیداوار تھی۔ آپ کا یہ اعلیٰ اخلاق آپ کے اس دعوے کے عین مطابق ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔
القلم 68:8
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:9
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:10
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:11
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:12
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:13
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:14
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:15
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:16
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:17
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:18
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:19
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:20
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:21
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:22
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:23
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:24
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:25
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:26
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:27
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:28
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:29
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:30
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:31
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:32
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:33
اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔
القلم 68:34
خدا سے نہ ڈرنے والا آدمی صرف سامنے کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خد اسے ڈرنے والا وہ ہے جو غیبی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے۔ یہ دو بالکل الگ الگ کردار ہیں اور دونوں کا انجام یقینی طور پر یکساں نہیں ہوسکتا۔
القلم 68:35
خدا سے نہ ڈرنے والا آدمی صرف سامنے کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خد اسے ڈرنے والا وہ ہے جو غیبی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے۔ یہ دو بالکل الگ الگ کردار ہیں اور دونوں کا انجام یقینی طور پر یکساں نہیں ہوسکتا۔
القلم 68:36
خدا سے نہ ڈرنے والا آدمی صرف سامنے کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خد اسے ڈرنے والا وہ ہے جو غیبی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے۔ یہ دو بالکل الگ الگ کردار ہیں اور دونوں کا انجام یقینی طور پر یکساں نہیں ہوسکتا۔
القلم 68:37
خدا سے نہ ڈرنے والا آدمی صرف سامنے کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خد اسے ڈرنے والا وہ ہے جو غیبی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے۔ یہ دو بالکل الگ الگ کردار ہیں اور دونوں کا انجام یقینی طور پر یکساں نہیں ہوسکتا۔
القلم 68:38
خدا سے نہ ڈرنے والا آدمی صرف سامنے کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خد اسے ڈرنے والا وہ ہے جو غیبی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے۔ یہ دو بالکل الگ الگ کردار ہیں اور دونوں کا انجام یقینی طور پر یکساں نہیں ہوسکتا۔
القلم 68:39
خدا سے نہ ڈرنے والا آدمی صرف سامنے کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خد اسے ڈرنے والا وہ ہے جو غیبی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے۔ یہ دو بالکل الگ الگ کردار ہیں اور دونوں کا انجام یقینی طور پر یکساں نہیں ہوسکتا۔
القلم 68:40
خدا سے نہ ڈرنے والا آدمی صرف سامنے کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خد اسے ڈرنے والا وہ ہے جو غیبی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے۔ یہ دو بالکل الگ الگ کردار ہیں اور دونوں کا انجام یقینی طور پر یکساں نہیں ہوسکتا۔
القلم 68:41
خدا سے نہ ڈرنے والا آدمی صرف سامنے کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خد اسے ڈرنے والا وہ ہے جو غیبی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے۔ یہ دو بالکل الگ الگ کردار ہیں اور دونوں کا انجام یقینی طور پر یکساں نہیں ہوسکتا۔
القلم 68:42
قیامت میں جب خدا اعیاناً سامنے آجائے گا تو تمام ایمان والے لوگ اپنے رب کے سامنے سجدہ میں گر جائیں گے جس طرح وہ پچھلی زندگی میں اس کے آگے سجدہ میں گرے ہوئے تھے۔ مگر ظہورِ خداوندی کے وقت سجدہ کی یہ توفیق صرف سچے مومنین کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ دنیا میں جھوٹا سجدہ کرتے تھے ان کی کمر اس وقت اکڑ جائے گی جس طرح باعتبار حقیقت وہ دنیا میں اکڑی ہوئی تھی۔ ایسے لوگ سجدہ کرنا چاہیں گے مگر وہ سجدہ نہ کرسکیں گے۔ یہ مخلص اہل ایمان کی سب سے بڑی قدردانی ہوگی کہ خدا خود ظاہر ہو کر ان کا سجدہ قبول کرے۔ اس کے مقابلہ میں ایمان کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کے لیے یہ سب سے زیادہ رسوائی کا لمحہ ہوگا کہ ان کا خالق و مالک ان کے سامنے ہے اور وہ اس کے سامنے اپنی بندگی کا اقرار کرنے پر قادر نہیں۔
القلم 68:43
قیامت میں جب خدا اعیاناً سامنے آجائے گا تو تمام ایمان والے لوگ اپنے رب کے سامنے سجدہ میں گر جائیں گے جس طرح وہ پچھلی زندگی میں اس کے آگے سجدہ میں گرے ہوئے تھے۔ مگر ظہورِ خداوندی کے وقت سجدہ کی یہ توفیق صرف سچے مومنین کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ دنیا میں جھوٹا سجدہ کرتے تھے ان کی کمر اس وقت اکڑ جائے گی جس طرح باعتبار حقیقت وہ دنیا میں اکڑی ہوئی تھی۔ ایسے لوگ سجدہ کرنا چاہیں گے مگر وہ سجدہ نہ کرسکیں گے۔ یہ مخلص اہل ایمان کی سب سے بڑی قدردانی ہوگی کہ خدا خود ظاہر ہو کر ان کا سجدہ قبول کرے۔ اس کے مقابلہ میں ایمان کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کے لیے یہ سب سے زیادہ رسوائی کا لمحہ ہوگا کہ ان کا خالق و مالک ان کے سامنے ہے اور وہ اس کے سامنے اپنی بندگی کا اقرار کرنے پر قادر نہیں۔
القلم 68:44
قیامت میں جب خدا اعیاناً سامنے آجائے گا تو تمام ایمان والے لوگ اپنے رب کے سامنے سجدہ میں گر جائیں گے جس طرح وہ پچھلی زندگی میں اس کے آگے سجدہ میں گرے ہوئے تھے۔ مگر ظہورِ خداوندی کے وقت سجدہ کی یہ توفیق صرف سچے مومنین کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ دنیا میں جھوٹا سجدہ کرتے تھے ان کی کمر اس وقت اکڑ جائے گی جس طرح باعتبار حقیقت وہ دنیا میں اکڑی ہوئی تھی۔ ایسے لوگ سجدہ کرنا چاہیں گے مگر وہ سجدہ نہ کرسکیں گے۔ یہ مخلص اہل ایمان کی سب سے بڑی قدردانی ہوگی کہ خدا خود ظاہر ہو کر ان کا سجدہ قبول کرے۔ اس کے مقابلہ میں ایمان کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کے لیے یہ سب سے زیادہ رسوائی کا لمحہ ہوگا کہ ان کا خالق و مالک ان کے سامنے ہے اور وہ اس کے سامنے اپنی بندگی کا اقرار کرنے پر قادر نہیں۔
القلم 68:45
قیامت میں جب خدا اعیاناً سامنے آجائے گا تو تمام ایمان والے لوگ اپنے رب کے سامنے سجدہ میں گر جائیں گے جس طرح وہ پچھلی زندگی میں اس کے آگے سجدہ میں گرے ہوئے تھے۔ مگر ظہورِ خداوندی کے وقت سجدہ کی یہ توفیق صرف سچے مومنین کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ دنیا میں جھوٹا سجدہ کرتے تھے ان کی کمر اس وقت اکڑ جائے گی جس طرح باعتبار حقیقت وہ دنیا میں اکڑی ہوئی تھی۔ ایسے لوگ سجدہ کرنا چاہیں گے مگر وہ سجدہ نہ کرسکیں گے۔ یہ مخلص اہل ایمان کی سب سے بڑی قدردانی ہوگی کہ خدا خود ظاہر ہو کر ان کا سجدہ قبول کرے۔ اس کے مقابلہ میں ایمان کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کے لیے یہ سب سے زیادہ رسوائی کا لمحہ ہوگا کہ ان کا خالق و مالک ان کے سامنے ہے اور وہ اس کے سامنے اپنی بندگی کا اقرار کرنے پر قادر نہیں۔
القلم 68:46
داعی اور مدعو کا رشتہ بے حد نازک رشتہ ہے۔ داعی کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو حسن اخلاق کا پابند بنانا پڑتا ہے۔ مدعو بے دلیل باتیں کرے، وہ داعی کو حقیر سمجھے، وہ داعی پر جھوٹا الزام لگائے۔ وہ خواہ کچھ بھی کرے، داعی کو ہرحال میں اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچانا ہے۔ داعی کی کامیابی کا راز دو چیزوں میں چھپا ہوا ہے— مدعو کی زیادتیوں پر صبر اور مدعو سے کوئی مادی غرض نہ رکھنا۔
القلم 68:47
داعی اور مدعو کا رشتہ بے حد نازک رشتہ ہے۔ داعی کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو حسن اخلاق کا پابند بنانا پڑتا ہے۔ مدعو بے دلیل باتیں کرے، وہ داعی کو حقیر سمجھے، وہ داعی پر جھوٹا الزام لگائے۔ وہ خواہ کچھ بھی کرے، داعی کو ہرحال میں اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچانا ہے۔ داعی کی کامیابی کا راز دو چیزوں میں چھپا ہوا ہے— مدعو کی زیادتیوں پر صبر اور مدعو سے کوئی مادی غرض نہ رکھنا۔
القلم 68:48
داعی اور مدعو کا رشتہ بے حد نازک رشتہ ہے۔ داعی کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو حسن اخلاق کا پابند بنانا پڑتا ہے۔ مدعو بے دلیل باتیں کرے، وہ داعی کو حقیر سمجھے، وہ داعی پر جھوٹا الزام لگائے۔ وہ خواہ کچھ بھی کرے، داعی کو ہرحال میں اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچانا ہے۔ داعی کی کامیابی کا راز دو چیزوں میں چھپا ہوا ہے— مدعو کی زیادتیوں پر صبر اور مدعو سے کوئی مادی غرض نہ رکھنا۔
القلم 68:49
داعی اور مدعو کا رشتہ بے حد نازک رشتہ ہے۔ داعی کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو حسن اخلاق کا پابند بنانا پڑتا ہے۔ مدعو بے دلیل باتیں کرے، وہ داعی کو حقیر سمجھے، وہ داعی پر جھوٹا الزام لگائے۔ وہ خواہ کچھ بھی کرے، داعی کو ہرحال میں اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچانا ہے۔ داعی کی کامیابی کا راز دو چیزوں میں چھپا ہوا ہے— مدعو کی زیادتیوں پر صبر اور مدعو سے کوئی مادی غرض نہ رکھنا۔
القلم 68:50
داعی اور مدعو کا رشتہ بے حد نازک رشتہ ہے۔ داعی کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو حسن اخلاق کا پابند بنانا پڑتا ہے۔ مدعو بے دلیل باتیں کرے، وہ داعی کو حقیر سمجھے، وہ داعی پر جھوٹا الزام لگائے۔ وہ خواہ کچھ بھی کرے، داعی کو ہرحال میں اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچانا ہے۔ داعی کی کامیابی کا راز دو چیزوں میں چھپا ہوا ہے— مدعو کی زیادتیوں پر صبر اور مدعو سے کوئی مادی غرض نہ رکھنا۔
القلم 68:51
داعی اور مدعو کا رشتہ بے حد نازک رشتہ ہے۔ داعی کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو حسن اخلاق کا پابند بنانا پڑتا ہے۔ مدعو بے دلیل باتیں کرے، وہ داعی کو حقیر سمجھے، وہ داعی پر جھوٹا الزام لگائے۔ وہ خواہ کچھ بھی کرے، داعی کو ہرحال میں اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچانا ہے۔ داعی کی کامیابی کا راز دو چیزوں میں چھپا ہوا ہے— مدعو کی زیادتیوں پر صبر اور مدعو سے کوئی مادی غرض نہ رکھنا۔
القلم 68:52
داعی اور مدعو کا رشتہ بے حد نازک رشتہ ہے۔ داعی کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو حسن اخلاق کا پابند بنانا پڑتا ہے۔ مدعو بے دلیل باتیں کرے، وہ داعی کو حقیر سمجھے، وہ داعی پر جھوٹا الزام لگائے۔ وہ خواہ کچھ بھی کرے، داعی کو ہرحال میں اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچانا ہے۔ داعی کی کامیابی کا راز دو چیزوں میں چھپا ہوا ہے— مدعو کی زیادتیوں پر صبر اور مدعو سے کوئی مادی غرض نہ رکھنا۔
الحاقة 69:1
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔
الحاقة 69:2
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔
الحاقة 69:3
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔
الحاقة 69:4
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔
الحاقة 69:5
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔
الحاقة 69:6
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔
الحاقة 69:7
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔
الحاقة 69:8
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔
الحاقة 69:9
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔
الحاقة 69:10
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔
الحاقة 69:11
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔
الحاقة 69:12
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔
الحاقة 69:13
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔
الحاقة 69:14
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔
الحاقة 69:15
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔
الحاقة 69:16
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔
الحاقة 69:17
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔
الحاقة 69:18
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔
الحاقة 69:19
آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔
الحاقة 69:20
آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔
الحاقة 69:21
آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔
الحاقة 69:22
آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔
الحاقة 69:23
آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔
الحاقة 69:24
آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔
الحاقة 69:25
آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔
الحاقة 69:26
آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔
الحاقة 69:27
آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔
الحاقة 69:28
آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔
الحاقة 69:29
آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔
الحاقة 69:30
آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔
الحاقة 69:31
آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔
الحاقة 69:32
آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔
الحاقة 69:33
آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔
الحاقة 69:34
آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔
الحاقة 69:35
آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔
الحاقة 69:36
آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔
الحاقة 69:37
آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔
الحاقة 69:38
جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔
الحاقة 69:39
جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔
الحاقة 69:40
جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔
الحاقة 69:41
جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔
الحاقة 69:42
جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔
الحاقة 69:43
جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔
الحاقة 69:44
جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔
الحاقة 69:45
جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔
الحاقة 69:46
جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔
الحاقة 69:47
جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔
الحاقة 69:48
جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔
الحاقة 69:49
جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔
الحاقة 69:50
جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔
الحاقة 69:51
جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔
الحاقة 69:52
جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔
المعارج 70:1
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:2
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:3
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:4
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:5
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:6
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:7
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:8
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:9
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:10
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:11
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:12
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:13
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:14
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:15
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:16
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:17
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:18
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:19
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:20
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:21
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:22
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:23
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:24
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:25
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:26
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:27
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:28
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:29
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:30
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:31
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:32
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:33
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:34
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:35
ان آیات میں مختصر طور پر دونوں قسم کے انسانوں کی صفات بیان کر دی گئی ہیں۔ ان لوگوں کی بھی جو جنت میں داخل کيے جانے کے مستحق قرار پائیں گے اور ان لوگوں کی بھی جن کے اعمال انھیں قیامت کے دن جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔
المعارج 70:36
جو لوگ ناحق پر کھڑے ہوئے ہوں وہ اس وقت اپنی حیثیت کو ختم ہوتا ہوا محسوس کرتے ہیں جب کہ ان کے سامنے حق کی کھلی کھلی دعوت پیش کردی جائے۔ وہ ایسی دعوت کو زیر کرنے کے لیے اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ان کی نامعقول روش انہیں جہنم کی طرف لے جارہی ہوتي ہے۔ مگر اپنی جھوٹی خوش فہمی کے تحت وہ یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ جنت کی طرف اپنا تیزرفتار سفر طے کر رہے ہیں۔
المعارج 70:37
جو لوگ ناحق پر کھڑے ہوئے ہوں وہ اس وقت اپنی حیثیت کو ختم ہوتا ہوا محسوس کرتے ہیں جب کہ ان کے سامنے حق کی کھلی کھلی دعوت پیش کردی جائے۔ وہ ایسی دعوت کو زیر کرنے کے لیے اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ان کی نامعقول روش انہیں جہنم کی طرف لے جارہی ہوتي ہے۔ مگر اپنی جھوٹی خوش فہمی کے تحت وہ یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ جنت کی طرف اپنا تیزرفتار سفر طے کر رہے ہیں۔
المعارج 70:38
جو لوگ ناحق پر کھڑے ہوئے ہوں وہ اس وقت اپنی حیثیت کو ختم ہوتا ہوا محسوس کرتے ہیں جب کہ ان کے سامنے حق کی کھلی کھلی دعوت پیش کردی جائے۔ وہ ایسی دعوت کو زیر کرنے کے لیے اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ان کی نامعقول روش انہیں جہنم کی طرف لے جارہی ہوتي ہے۔ مگر اپنی جھوٹی خوش فہمی کے تحت وہ یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ جنت کی طرف اپنا تیزرفتار سفر طے کر رہے ہیں۔
المعارج 70:39
جو لوگ ناحق پر کھڑے ہوئے ہوں وہ اس وقت اپنی حیثیت کو ختم ہوتا ہوا محسوس کرتے ہیں جب کہ ان کے سامنے حق کی کھلی کھلی دعوت پیش کردی جائے۔ وہ ایسی دعوت کو زیر کرنے کے لیے اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ان کی نامعقول روش انہیں جہنم کی طرف لے جارہی ہوتي ہے۔ مگر اپنی جھوٹی خوش فہمی کے تحت وہ یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ جنت کی طرف اپنا تیزرفتار سفر طے کر رہے ہیں۔
المعارج 70:40
زمین پر بار بار مشرق اور مغرب کا بدلنا زمین کی اس انوکھی خصوصیت کی بنا پر ہوتا ہے جس کو محوری جھکاؤ (axial tilt) کہتے ہیں۔ اور جس کی وجہ سے زمین پر مختلف قسم کے موسم پیدا ہوتے ہیں۔ سورج کی نسبت سے اگر زمین میں یہ جھکاؤ نہ ہوتا تو زمین انسان کے لیے بہت کم مفید ہوتی۔ اس جھکاؤ نے زمین کو انسان کے لیے بہت زیادہ مفید بنا دیا۔
جس دنیا میں کم بہتر کو زیادہ بہتر بنانے کی ایسی مثال موجود ہو، اس دنیا میں اسی نوعیت کے دوسرے واقعات کا ظہور میں آنا کچھ بھی مستبعد نہیں۔ ان کھلی کھلی نشانیوں کے باوجود جو لوگ نصیحت نہ پکڑیں وہ بلا شبہ غیرسنجیدہ لوگ ہیں۔ اور غیر سنجیدہ لوگ صرف اس وقت نصیحت پکڑتے ہیں جب کہ وہ اس کے لیے مجبور کردیے گئے ہوں۔
المعارج 70:41
زمین پر بار بار مشرق اور مغرب کا بدلنا زمین کی اس انوکھی خصوصیت کی بنا پر ہوتا ہے جس کو محوری جھکاؤ (axial tilt) کہتے ہیں۔ اور جس کی وجہ سے زمین پر مختلف قسم کے موسم پیدا ہوتے ہیں۔ سورج کی نسبت سے اگر زمین میں یہ جھکاؤ نہ ہوتا تو زمین انسان کے لیے بہت کم مفید ہوتی۔ اس جھکاؤ نے زمین کو انسان کے لیے بہت زیادہ مفید بنا دیا۔
جس دنیا میں کم بہتر کو زیادہ بہتر بنانے کی ایسی مثال موجود ہو، اس دنیا میں اسی نوعیت کے دوسرے واقعات کا ظہور میں آنا کچھ بھی مستبعد نہیں۔ ان کھلی کھلی نشانیوں کے باوجود جو لوگ نصیحت نہ پکڑیں وہ بلا شبہ غیرسنجیدہ لوگ ہیں۔ اور غیر سنجیدہ لوگ صرف اس وقت نصیحت پکڑتے ہیں جب کہ وہ اس کے لیے مجبور کردیے گئے ہوں۔
المعارج 70:42
زمین پر بار بار مشرق اور مغرب کا بدلنا زمین کی اس انوکھی خصوصیت کی بنا پر ہوتا ہے جس کو محوری جھکاؤ (axial tilt) کہتے ہیں۔ اور جس کی وجہ سے زمین پر مختلف قسم کے موسم پیدا ہوتے ہیں۔ سورج کی نسبت سے اگر زمین میں یہ جھکاؤ نہ ہوتا تو زمین انسان کے لیے بہت کم مفید ہوتی۔ اس جھکاؤ نے زمین کو انسان کے لیے بہت زیادہ مفید بنا دیا۔
جس دنیا میں کم بہتر کو زیادہ بہتر بنانے کی ایسی مثال موجود ہو، اس دنیا میں اسی نوعیت کے دوسرے واقعات کا ظہور میں آنا کچھ بھی مستبعد نہیں۔ ان کھلی کھلی نشانیوں کے باوجود جو لوگ نصیحت نہ پکڑیں وہ بلا شبہ غیرسنجیدہ لوگ ہیں۔ اور غیر سنجیدہ لوگ صرف اس وقت نصیحت پکڑتے ہیں جب کہ وہ اس کے لیے مجبور کردیے گئے ہوں۔
المعارج 70:43
زمین پر بار بار مشرق اور مغرب کا بدلنا زمین کی اس انوکھی خصوصیت کی بنا پر ہوتا ہے جس کو محوری جھکاؤ (axial tilt) کہتے ہیں۔ اور جس کی وجہ سے زمین پر مختلف قسم کے موسم پیدا ہوتے ہیں۔ سورج کی نسبت سے اگر زمین میں یہ جھکاؤ نہ ہوتا تو زمین انسان کے لیے بہت کم مفید ہوتی۔ اس جھکاؤ نے زمین کو انسان کے لیے بہت زیادہ مفید بنا دیا۔
جس دنیا میں کم بہتر کو زیادہ بہتر بنانے کی ایسی مثال موجود ہو، اس دنیا میں اسی نوعیت کے دوسرے واقعات کا ظہور میں آنا کچھ بھی مستبعد نہیں۔ ان کھلی کھلی نشانیوں کے باوجود جو لوگ نصیحت نہ پکڑیں وہ بلا شبہ غیرسنجیدہ لوگ ہیں۔ اور غیر سنجیدہ لوگ صرف اس وقت نصیحت پکڑتے ہیں جب کہ وہ اس کے لیے مجبور کردیے گئے ہوں۔
المعارج 70:44
زمین پر بار بار مشرق اور مغرب کا بدلنا زمین کی اس انوکھی خصوصیت کی بنا پر ہوتا ہے جس کو محوری جھکاؤ (axial tilt) کہتے ہیں۔ اور جس کی وجہ سے زمین پر مختلف قسم کے موسم پیدا ہوتے ہیں۔ سورج کی نسبت سے اگر زمین میں یہ جھکاؤ نہ ہوتا تو زمین انسان کے لیے بہت کم مفید ہوتی۔ اس جھکاؤ نے زمین کو انسان کے لیے بہت زیادہ مفید بنا دیا۔
جس دنیا میں کم بہتر کو زیادہ بہتر بنانے کی ایسی مثال موجود ہو، اس دنیا میں اسی نوعیت کے دوسرے واقعات کا ظہور میں آنا کچھ بھی مستبعد نہیں۔ ان کھلی کھلی نشانیوں کے باوجود جو لوگ نصیحت نہ پکڑیں وہ بلا شبہ غیرسنجیدہ لوگ ہیں۔ اور غیر سنجیدہ لوگ صرف اس وقت نصیحت پکڑتے ہیں جب کہ وہ اس کے لیے مجبور کردیے گئے ہوں۔
نوح 71:1
حضرت نوح غالباً حضرت آدم کے بعد سب سے پہلے پیغمبر ہیں۔ اس وقت کے بگڑے ہوئے انسانوں کو انہوں نے جو پیغام دیا اس کو یہاں تین لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ عبادت، تقویٰ، اطاعتِ رسول۔ یعنی غیر اللہ کی پرستش چھوڑ کر ایک اللہ کی پرستش کرنا، دنیا میں اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنا، اور ہر معاملہ میں اللہ کے رسول کو اپنے لیے قابلِ تقلید نمونہ سمجھنا۔ یہی ہر زمانہ میں تمام پیغمبروں کی اصل دعوت رہی ہے۔ اور یہی خود قرآن کی اصل دعوت ہے۔
نوح 71:2
حضرت نوح غالباً حضرت آدم کے بعد سب سے پہلے پیغمبر ہیں۔ اس وقت کے بگڑے ہوئے انسانوں کو انہوں نے جو پیغام دیا اس کو یہاں تین لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ عبادت، تقویٰ، اطاعتِ رسول۔ یعنی غیر اللہ کی پرستش چھوڑ کر ایک اللہ کی پرستش کرنا، دنیا میں اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنا، اور ہر معاملہ میں اللہ کے رسول کو اپنے لیے قابلِ تقلید نمونہ سمجھنا۔ یہی ہر زمانہ میں تمام پیغمبروں کی اصل دعوت رہی ہے۔ اور یہی خود قرآن کی اصل دعوت ہے۔
نوح 71:3
حضرت نوح غالباً حضرت آدم کے بعد سب سے پہلے پیغمبر ہیں۔ اس وقت کے بگڑے ہوئے انسانوں کو انہوں نے جو پیغام دیا اس کو یہاں تین لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ عبادت، تقویٰ، اطاعتِ رسول۔ یعنی غیر اللہ کی پرستش چھوڑ کر ایک اللہ کی پرستش کرنا، دنیا میں اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنا، اور ہر معاملہ میں اللہ کے رسول کو اپنے لیے قابلِ تقلید نمونہ سمجھنا۔ یہی ہر زمانہ میں تمام پیغمبروں کی اصل دعوت رہی ہے۔ اور یہی خود قرآن کی اصل دعوت ہے۔
نوح 71:4
حضرت نوح غالباً حضرت آدم کے بعد سب سے پہلے پیغمبر ہیں۔ اس وقت کے بگڑے ہوئے انسانوں کو انہوں نے جو پیغام دیا اس کو یہاں تین لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ عبادت، تقویٰ، اطاعتِ رسول۔ یعنی غیر اللہ کی پرستش چھوڑ کر ایک اللہ کی پرستش کرنا، دنیا میں اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنا، اور ہر معاملہ میں اللہ کے رسول کو اپنے لیے قابلِ تقلید نمونہ سمجھنا۔ یہی ہر زمانہ میں تمام پیغمبروں کی اصل دعوت رہی ہے۔ اور یہی خود قرآن کی اصل دعوت ہے۔
نوح 71:5
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:6
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:7
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:8
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:9
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:10
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:11
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:12
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:13
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:14
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:15
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:16
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:17
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:18
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:19
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:20
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:21
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:22
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:23
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:24
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:25
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
نوح 71:26
حضرت نوح کی دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے زمانہ میں بگاڑ اپنی آخری حد تک پہنچ چکا تھا۔ پورے معاشرے میں گمراہ عقائد و خیالات اس طرح چھا گئے تھے کہ جو بچہ اس معاشرہ میں پیدا ہو کر اٹھتا، وہ گمراہی کے خیالات لے کر اٹھتا۔ جب معاشرہ اس درجہ کو پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کے لیے اس کے سوا کچھ اور مقدر نہیں ہوتا کہ ’’طوفان نوح‘‘ کے ذریعہ اس کا خاتمہ کردیا جائے۔
نوح 71:27
حضرت نوح کی دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے زمانہ میں بگاڑ اپنی آخری حد تک پہنچ چکا تھا۔ پورے معاشرے میں گمراہ عقائد و خیالات اس طرح چھا گئے تھے کہ جو بچہ اس معاشرہ میں پیدا ہو کر اٹھتا، وہ گمراہی کے خیالات لے کر اٹھتا۔ جب معاشرہ اس درجہ کو پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کے لیے اس کے سوا کچھ اور مقدر نہیں ہوتا کہ ’’طوفان نوح‘‘ کے ذریعہ اس کا خاتمہ کردیا جائے۔
نوح 71:28
حضرت نوح کی دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے زمانہ میں بگاڑ اپنی آخری حد تک پہنچ چکا تھا۔ پورے معاشرے میں گمراہ عقائد و خیالات اس طرح چھا گئے تھے کہ جو بچہ اس معاشرہ میں پیدا ہو کر اٹھتا، وہ گمراہی کے خیالات لے کر اٹھتا۔ جب معاشرہ اس درجہ کو پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کے لیے اس کے سوا کچھ اور مقدر نہیں ہوتا کہ ’’طوفان نوح‘‘ کے ذریعہ اس کا خاتمہ کردیا جائے۔
الجن 72:1
یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔
الجن 72:2
یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔
الجن 72:3
یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔
الجن 72:4
یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔
الجن 72:5
یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔
الجن 72:6
یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔
الجن 72:7
یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔
الجن 72:8
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
الجن 72:9
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
الجن 72:10
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
الجن 72:11
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
الجن 72:12
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
الجن 72:13
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
الجن 72:14
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
الجن 72:15
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
الجن 72:16
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
الجن 72:17
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
الجن 72:18
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
الجن 72:19
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
الجن 72:20
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
الجن 72:21
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
الجن 72:22
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
الجن 72:23
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
الجن 72:24
حق کا داعی بظاہر ایک عام انسان ہوتا ہے اس لیے وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں جن کے اوپر اس کی دعوت کی زد پڑ رہی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ داعی حق کے خلاف کارروائی خود خدا کے خلاف کارروائی ہے۔ اور کون ہے جو خدا کے خلاف کارروائی کرکے کامیاب ہو۔
الجن 72:25
حق کا داعی بظاہر ایک عام انسان ہوتا ہے اس لیے وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں جن کے اوپر اس کی دعوت کی زد پڑ رہی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ داعی حق کے خلاف کارروائی خود خدا کے خلاف کارروائی ہے۔ اور کون ہے جو خدا کے خلاف کارروائی کرکے کامیاب ہو۔
الجن 72:26
حق کا داعی بظاہر ایک عام انسان ہوتا ہے اس لیے وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں جن کے اوپر اس کی دعوت کی زد پڑ رہی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ داعی حق کے خلاف کارروائی خود خدا کے خلاف کارروائی ہے۔ اور کون ہے جو خدا کے خلاف کارروائی کرکے کامیاب ہو۔
الجن 72:27
حق کا داعی بظاہر ایک عام انسان ہوتا ہے اس لیے وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں جن کے اوپر اس کی دعوت کی زد پڑ رہی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ داعی حق کے خلاف کارروائی خود خدا کے خلاف کارروائی ہے۔ اور کون ہے جو خدا کے خلاف کارروائی کرکے کامیاب ہو۔
الجن 72:28
حق کا داعی بظاہر ایک عام انسان ہوتا ہے اس لیے وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں جن کے اوپر اس کی دعوت کی زد پڑ رہی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ داعی حق کے خلاف کارروائی خود خدا کے خلاف کارروائی ہے۔ اور کون ہے جو خدا کے خلاف کارروائی کرکے کامیاب ہو۔
المزمل 73:1
’’ٹھہر ٹھہر کر پڑھو‘‘کا مطلب یہ ہے کہ مفہوم پر دھیان دیتے ہوئے پڑھو۔ جب آدمی ایسا کرے تو قاری اور قرآن کے درمیان ایک دو طرفہ عمل شروع ہوجاتا ہے۔ قرآن اس کے لیے ایک الٰہی خطاب ہوتا ہے اور اس کا دل ہر آیت پر اس خطاب کا جواب دیتا چلا جاتا ہے۔ جب قرآن میں اللہ کی بڑائی کا ذکر آتا ہے تو قاری کا پورا وجود اس کی بڑائی کے احساس سے دب جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کے احسانات بتائے جاتے ہیں تو اس کو سوچ کر قاری کا دل خدا کے شکر سے بھر جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کی پکڑ کا بیان ہوتا ہے تو قاری اس کو پڑھ کر کا نپ اٹھتا ہے۔ جب قرآن میں کوئی حکم بتایا جاتا ہے تو قاری کے اندر یہ جذبه مستحکم ہوتا ہے کہ وہ اس حکم کو اختیار کر کے اپنے رب کا فرماں بردار بنے۔
’’بھاری قول‘‘سے مراد انذار کا وہ حکم ہے جو اگلی سوره المدثرآيت 3میں آ رہا ہے (قُمْ فَأَنْذِرْ)۔ یعنی آخرت کے مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کردے۔ یہ کام بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کے لیے داعی کو بے آمیز حق پر کھڑا ہونا پڑتا ہے، خواہ وہ تمام لوگوں کے درمیان اجنبی بن جائے۔ اس کو لوگوں کی ایذاؤں کو برداشت کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کے اور مخاطبین کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ آخر وقت تک باقی رہے۔ اس کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو صبر اور اعراض کا پابند کرنا پڑتا ہے۔ تاکہ کسی بھی حال میں اس کی داعیانہ حیثیت مجروح نہ ہونے پائے۔
المزمل 73:2
’’ٹھہر ٹھہر کر پڑھو‘‘کا مطلب یہ ہے کہ مفہوم پر دھیان دیتے ہوئے پڑھو۔ جب آدمی ایسا کرے تو قاری اور قرآن کے درمیان ایک دو طرفہ عمل شروع ہوجاتا ہے۔ قرآن اس کے لیے ایک الٰہی خطاب ہوتا ہے اور اس کا دل ہر آیت پر اس خطاب کا جواب دیتا چلا جاتا ہے۔ جب قرآن میں اللہ کی بڑائی کا ذکر آتا ہے تو قاری کا پورا وجود اس کی بڑائی کے احساس سے دب جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کے احسانات بتائے جاتے ہیں تو اس کو سوچ کر قاری کا دل خدا کے شکر سے بھر جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کی پکڑ کا بیان ہوتا ہے تو قاری اس کو پڑھ کر کا نپ اٹھتا ہے۔ جب قرآن میں کوئی حکم بتایا جاتا ہے تو قاری کے اندر یہ جذبه مستحکم ہوتا ہے کہ وہ اس حکم کو اختیار کر کے اپنے رب کا فرماں بردار بنے۔
’’بھاری قول‘‘سے مراد انذار کا وہ حکم ہے جو اگلی سوره المدثرآيت 3میں آ رہا ہے (قُمْ فَأَنْذِرْ)۔ یعنی آخرت کے مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کردے۔ یہ کام بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کے لیے داعی کو بے آمیز حق پر کھڑا ہونا پڑتا ہے، خواہ وہ تمام لوگوں کے درمیان اجنبی بن جائے۔ اس کو لوگوں کی ایذاؤں کو برداشت کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کے اور مخاطبین کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ آخر وقت تک باقی رہے۔ اس کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو صبر اور اعراض کا پابند کرنا پڑتا ہے۔ تاکہ کسی بھی حال میں اس کی داعیانہ حیثیت مجروح نہ ہونے پائے۔
المزمل 73:3
’’ٹھہر ٹھہر کر پڑھو‘‘کا مطلب یہ ہے کہ مفہوم پر دھیان دیتے ہوئے پڑھو۔ جب آدمی ایسا کرے تو قاری اور قرآن کے درمیان ایک دو طرفہ عمل شروع ہوجاتا ہے۔ قرآن اس کے لیے ایک الٰہی خطاب ہوتا ہے اور اس کا دل ہر آیت پر اس خطاب کا جواب دیتا چلا جاتا ہے۔ جب قرآن میں اللہ کی بڑائی کا ذکر آتا ہے تو قاری کا پورا وجود اس کی بڑائی کے احساس سے دب جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کے احسانات بتائے جاتے ہیں تو اس کو سوچ کر قاری کا دل خدا کے شکر سے بھر جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کی پکڑ کا بیان ہوتا ہے تو قاری اس کو پڑھ کر کا نپ اٹھتا ہے۔ جب قرآن میں کوئی حکم بتایا جاتا ہے تو قاری کے اندر یہ جذبه مستحکم ہوتا ہے کہ وہ اس حکم کو اختیار کر کے اپنے رب کا فرماں بردار بنے۔
’’بھاری قول‘‘سے مراد انذار کا وہ حکم ہے جو اگلی سوره المدثرآيت 3میں آ رہا ہے (قُمْ فَأَنْذِرْ)۔ یعنی آخرت کے مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کردے۔ یہ کام بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کے لیے داعی کو بے آمیز حق پر کھڑا ہونا پڑتا ہے، خواہ وہ تمام لوگوں کے درمیان اجنبی بن جائے۔ اس کو لوگوں کی ایذاؤں کو برداشت کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کے اور مخاطبین کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ آخر وقت تک باقی رہے۔ اس کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو صبر اور اعراض کا پابند کرنا پڑتا ہے۔ تاکہ کسی بھی حال میں اس کی داعیانہ حیثیت مجروح نہ ہونے پائے۔
المزمل 73:4
’’ٹھہر ٹھہر کر پڑھو‘‘کا مطلب یہ ہے کہ مفہوم پر دھیان دیتے ہوئے پڑھو۔ جب آدمی ایسا کرے تو قاری اور قرآن کے درمیان ایک دو طرفہ عمل شروع ہوجاتا ہے۔ قرآن اس کے لیے ایک الٰہی خطاب ہوتا ہے اور اس کا دل ہر آیت پر اس خطاب کا جواب دیتا چلا جاتا ہے۔ جب قرآن میں اللہ کی بڑائی کا ذکر آتا ہے تو قاری کا پورا وجود اس کی بڑائی کے احساس سے دب جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کے احسانات بتائے جاتے ہیں تو اس کو سوچ کر قاری کا دل خدا کے شکر سے بھر جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کی پکڑ کا بیان ہوتا ہے تو قاری اس کو پڑھ کر کا نپ اٹھتا ہے۔ جب قرآن میں کوئی حکم بتایا جاتا ہے تو قاری کے اندر یہ جذبه مستحکم ہوتا ہے کہ وہ اس حکم کو اختیار کر کے اپنے رب کا فرماں بردار بنے۔
’’بھاری قول‘‘سے مراد انذار کا وہ حکم ہے جو اگلی سوره المدثرآيت 3میں آ رہا ہے (قُمْ فَأَنْذِرْ)۔ یعنی آخرت کے مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کردے۔ یہ کام بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کے لیے داعی کو بے آمیز حق پر کھڑا ہونا پڑتا ہے، خواہ وہ تمام لوگوں کے درمیان اجنبی بن جائے۔ اس کو لوگوں کی ایذاؤں کو برداشت کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کے اور مخاطبین کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ آخر وقت تک باقی رہے۔ اس کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو صبر اور اعراض کا پابند کرنا پڑتا ہے۔ تاکہ کسی بھی حال میں اس کی داعیانہ حیثیت مجروح نہ ہونے پائے۔
المزمل 73:5
’’ٹھہر ٹھہر کر پڑھو‘‘کا مطلب یہ ہے کہ مفہوم پر دھیان دیتے ہوئے پڑھو۔ جب آدمی ایسا کرے تو قاری اور قرآن کے درمیان ایک دو طرفہ عمل شروع ہوجاتا ہے۔ قرآن اس کے لیے ایک الٰہی خطاب ہوتا ہے اور اس کا دل ہر آیت پر اس خطاب کا جواب دیتا چلا جاتا ہے۔ جب قرآن میں اللہ کی بڑائی کا ذکر آتا ہے تو قاری کا پورا وجود اس کی بڑائی کے احساس سے دب جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کے احسانات بتائے جاتے ہیں تو اس کو سوچ کر قاری کا دل خدا کے شکر سے بھر جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کی پکڑ کا بیان ہوتا ہے تو قاری اس کو پڑھ کر کا نپ اٹھتا ہے۔ جب قرآن میں کوئی حکم بتایا جاتا ہے تو قاری کے اندر یہ جذبه مستحکم ہوتا ہے کہ وہ اس حکم کو اختیار کر کے اپنے رب کا فرماں بردار بنے۔
’’بھاری قول‘‘سے مراد انذار کا وہ حکم ہے جو اگلی سوره المدثرآيت 3میں آ رہا ہے (قُمْ فَأَنْذِرْ)۔ یعنی آخرت کے مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کردے۔ یہ کام بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کے لیے داعی کو بے آمیز حق پر کھڑا ہونا پڑتا ہے، خواہ وہ تمام لوگوں کے درمیان اجنبی بن جائے۔ اس کو لوگوں کی ایذاؤں کو برداشت کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کے اور مخاطبین کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ آخر وقت تک باقی رہے۔ اس کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو صبر اور اعراض کا پابند کرنا پڑتا ہے۔ تاکہ کسی بھی حال میں اس کی داعیانہ حیثیت مجروح نہ ہونے پائے۔
المزمل 73:6
پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔
المزمل 73:7
پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔
المزمل 73:8
پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔
المزمل 73:9
پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔
المزمل 73:10
پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔
المزمل 73:11
پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔
المزمل 73:12
پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔
المزمل 73:13
پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔
المزمل 73:14
پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔
المزمل 73:15
پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔
المزمل 73:16
پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔
المزمل 73:17
پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔
المزمل 73:18
پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔
المزمل 73:19
پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔
المزمل 73:20
دین میں جو فرض اعمال ہیں وہ عام انسان کی استطاعت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مقرر کیے گئے ہیں۔ مگر یہ فرائض صرف لازمی حدود کو بتاتے ہیں۔ اس لازمی حد کے آگے بھی مطلوب اعمال ہیں۔ مگر وہ نوافل ہیں۔ مثلاً پنج وقته نمازوں کے بعد تہجد، زکوۃ کے بعد مزید انفاق وغیرہ۔ یہ آدمی کے اپنے حوصلے کا امتحان ہے کہ وہ کتنا زیادہ عمل کرتا ہے اور آخرت میں کتنا زیادہ انعام کا مستحق بنتا ہے۔
المدثر 74:1
اس دنیا میں اصل پیغمبرانہ کام انذار ہے۔ یعنی آخرت میں پیش آنے والے سنگین مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ یہ کام وہی شخص کرسکتا ہے، جس کا دل اللہ کی بڑائی سے لبریز ہو۔ جو اچھے اخلاق کا مالک ہو۔ جو ہر قسم کی برائی سے دور ہو۔ جو بدلہ کی امید کے بغیر نیکی کرے۔ جو دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں پر یک طرفہ صبر کرسکے۔
المدثر 74:2
اس دنیا میں اصل پیغمبرانہ کام انذار ہے۔ یعنی آخرت میں پیش آنے والے سنگین مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ یہ کام وہی شخص کرسکتا ہے، جس کا دل اللہ کی بڑائی سے لبریز ہو۔ جو اچھے اخلاق کا مالک ہو۔ جو ہر قسم کی برائی سے دور ہو۔ جو بدلہ کی امید کے بغیر نیکی کرے۔ جو دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں پر یک طرفہ صبر کرسکے۔
المدثر 74:3
اس دنیا میں اصل پیغمبرانہ کام انذار ہے۔ یعنی آخرت میں پیش آنے والے سنگین مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ یہ کام وہی شخص کرسکتا ہے، جس کا دل اللہ کی بڑائی سے لبریز ہو۔ جو اچھے اخلاق کا مالک ہو۔ جو ہر قسم کی برائی سے دور ہو۔ جو بدلہ کی امید کے بغیر نیکی کرے۔ جو دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں پر یک طرفہ صبر کرسکے۔
المدثر 74:4
اس دنیا میں اصل پیغمبرانہ کام انذار ہے۔ یعنی آخرت میں پیش آنے والے سنگین مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ یہ کام وہی شخص کرسکتا ہے، جس کا دل اللہ کی بڑائی سے لبریز ہو۔ جو اچھے اخلاق کا مالک ہو۔ جو ہر قسم کی برائی سے دور ہو۔ جو بدلہ کی امید کے بغیر نیکی کرے۔ جو دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں پر یک طرفہ صبر کرسکے۔
المدثر 74:5
اس دنیا میں اصل پیغمبرانہ کام انذار ہے۔ یعنی آخرت میں پیش آنے والے سنگین مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ یہ کام وہی شخص کرسکتا ہے، جس کا دل اللہ کی بڑائی سے لبریز ہو۔ جو اچھے اخلاق کا مالک ہو۔ جو ہر قسم کی برائی سے دور ہو۔ جو بدلہ کی امید کے بغیر نیکی کرے۔ جو دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں پر یک طرفہ صبر کرسکے۔
المدثر 74:6
اس دنیا میں اصل پیغمبرانہ کام انذار ہے۔ یعنی آخرت میں پیش آنے والے سنگین مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ یہ کام وہی شخص کرسکتا ہے، جس کا دل اللہ کی بڑائی سے لبریز ہو۔ جو اچھے اخلاق کا مالک ہو۔ جو ہر قسم کی برائی سے دور ہو۔ جو بدلہ کی امید کے بغیر نیکی کرے۔ جو دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں پر یک طرفہ صبر کرسکے۔
المدثر 74:7
اس دنیا میں اصل پیغمبرانہ کام انذار ہے۔ یعنی آخرت میں پیش آنے والے سنگین مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ یہ کام وہی شخص کرسکتا ہے، جس کا دل اللہ کی بڑائی سے لبریز ہو۔ جو اچھے اخلاق کا مالک ہو۔ جو ہر قسم کی برائی سے دور ہو۔ جو بدلہ کی امید کے بغیر نیکی کرے۔ جو دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں پر یک طرفہ صبر کرسکے۔
المدثر 74:8
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ جو لوگ ماحول میں بڑائی کا درجہ حاصل کرلیں وہ حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ اس کا اعتراف کرنے سے ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ اپنے اس عدم اعتراف کو چھپانے کے لیے وہ مزید یہ کرتے ہیں کہ داعی کے کلام میں عیب نکالتے ہیں۔ وہ داعی پر الزام لگا کر اس کی حیثیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
المدثر 74:9
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ جو لوگ ماحول میں بڑائی کا درجہ حاصل کرلیں وہ حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ اس کا اعتراف کرنے سے ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ اپنے اس عدم اعتراف کو چھپانے کے لیے وہ مزید یہ کرتے ہیں کہ داعی کے کلام میں عیب نکالتے ہیں۔ وہ داعی پر الزام لگا کر اس کی حیثیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
المدثر 74:10
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ جو لوگ ماحول میں بڑائی کا درجہ حاصل کرلیں وہ حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ اس کا اعتراف کرنے سے ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ اپنے اس عدم اعتراف کو چھپانے کے لیے وہ مزید یہ کرتے ہیں کہ داعی کے کلام میں عیب نکالتے ہیں۔ وہ داعی پر الزام لگا کر اس کی حیثیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
المدثر 74:11
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ جو لوگ ماحول میں بڑائی کا درجہ حاصل کرلیں وہ حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ اس کا اعتراف کرنے سے ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ اپنے اس عدم اعتراف کو چھپانے کے لیے وہ مزید یہ کرتے ہیں کہ داعی کے کلام میں عیب نکالتے ہیں۔ وہ داعی پر الزام لگا کر اس کی حیثیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
المدثر 74:12
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ جو لوگ ماحول میں بڑائی کا درجہ حاصل کرلیں وہ حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ اس کا اعتراف کرنے سے ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ اپنے اس عدم اعتراف کو چھپانے کے لیے وہ مزید یہ کرتے ہیں کہ داعی کے کلام میں عیب نکالتے ہیں۔ وہ داعی پر الزام لگا کر اس کی حیثیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
المدثر 74:13
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ جو لوگ ماحول میں بڑائی کا درجہ حاصل کرلیں وہ حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ اس کا اعتراف کرنے سے ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ اپنے اس عدم اعتراف کو چھپانے کے لیے وہ مزید یہ کرتے ہیں کہ داعی کے کلام میں عیب نکالتے ہیں۔ وہ داعی پر الزام لگا کر اس کی حیثیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
المدثر 74:14
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ جو لوگ ماحول میں بڑائی کا درجہ حاصل کرلیں وہ حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ اس کا اعتراف کرنے سے ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ اپنے اس عدم اعتراف کو چھپانے کے لیے وہ مزید یہ کرتے ہیں کہ داعی کے کلام میں عیب نکالتے ہیں۔ وہ داعی پر الزام لگا کر اس کی حیثیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
المدثر 74:15
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ جو لوگ ماحول میں بڑائی کا درجہ حاصل کرلیں وہ حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ اس کا اعتراف کرنے سے ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ اپنے اس عدم اعتراف کو چھپانے کے لیے وہ مزید یہ کرتے ہیں کہ داعی کے کلام میں عیب نکالتے ہیں۔ وہ داعی پر الزام لگا کر اس کی حیثیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
المدثر 74:16
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ جو لوگ ماحول میں بڑائی کا درجہ حاصل کرلیں وہ حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ اس کا اعتراف کرنے سے ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ اپنے اس عدم اعتراف کو چھپانے کے لیے وہ مزید یہ کرتے ہیں کہ داعی کے کلام میں عیب نکالتے ہیں۔ وہ داعی پر الزام لگا کر اس کی حیثیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
المدثر 74:17
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ جو لوگ ماحول میں بڑائی کا درجہ حاصل کرلیں وہ حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ اس کا اعتراف کرنے سے ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ اپنے اس عدم اعتراف کو چھپانے کے لیے وہ مزید یہ کرتے ہیں کہ داعی کے کلام میں عیب نکالتے ہیں۔ وہ داعی پر الزام لگا کر اس کی حیثیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
المدثر 74:18
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ جو لوگ ماحول میں بڑائی کا درجہ حاصل کرلیں وہ حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ اس کا اعتراف کرنے سے ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ اپنے اس عدم اعتراف کو چھپانے کے لیے وہ مزید یہ کرتے ہیں کہ داعی کے کلام میں عیب نکالتے ہیں۔ وہ داعی پر الزام لگا کر اس کی حیثیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
المدثر 74:19
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ جو لوگ ماحول میں بڑائی کا درجہ حاصل کرلیں وہ حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ اس کا اعتراف کرنے سے ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ اپنے اس عدم اعتراف کو چھپانے کے لیے وہ مزید یہ کرتے ہیں کہ داعی کے کلام میں عیب نکالتے ہیں۔ وہ داعی پر الزام لگا کر اس کی حیثیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
المدثر 74:20
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ جو لوگ ماحول میں بڑائی کا درجہ حاصل کرلیں وہ حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ اس کا اعتراف کرنے سے ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ اپنے اس عدم اعتراف کو چھپانے کے لیے وہ مزید یہ کرتے ہیں کہ داعی کے کلام میں عیب نکالتے ہیں۔ وہ داعی پر الزام لگا کر اس کی حیثیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
المدثر 74:21
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ جو لوگ ماحول میں بڑائی کا درجہ حاصل کرلیں وہ حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ اس کا اعتراف کرنے سے ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ اپنے اس عدم اعتراف کو چھپانے کے لیے وہ مزید یہ کرتے ہیں کہ داعی کے کلام میں عیب نکالتے ہیں۔ وہ داعی پر الزام لگا کر اس کی حیثیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
المدثر 74:22
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ جو لوگ ماحول میں بڑائی کا درجہ حاصل کرلیں وہ حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ اس کا اعتراف کرنے سے ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ اپنے اس عدم اعتراف کو چھپانے کے لیے وہ مزید یہ کرتے ہیں کہ داعی کے کلام میں عیب نکالتے ہیں۔ وہ داعی پر الزام لگا کر اس کی حیثیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
المدثر 74:23
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ جو لوگ ماحول میں بڑائی کا درجہ حاصل کرلیں وہ حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ اس کا اعتراف کرنے سے ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ اپنے اس عدم اعتراف کو چھپانے کے لیے وہ مزید یہ کرتے ہیں کہ داعی کے کلام میں عیب نکالتے ہیں۔ وہ داعی پر الزام لگا کر اس کی حیثیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
المدثر 74:24
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ جو لوگ ماحول میں بڑائی کا درجہ حاصل کرلیں وہ حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ اس کا اعتراف کرنے سے ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ اپنے اس عدم اعتراف کو چھپانے کے لیے وہ مزید یہ کرتے ہیں کہ داعی کے کلام میں عیب نکالتے ہیں۔ وہ داعی پر الزام لگا کر اس کی حیثیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
المدثر 74:25
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ جو لوگ ماحول میں بڑائی کا درجہ حاصل کرلیں وہ حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ اس کا اعتراف کرنے سے ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ اپنے اس عدم اعتراف کو چھپانے کے لیے وہ مزید یہ کرتے ہیں کہ داعی کے کلام میں عیب نکالتے ہیں۔ وہ داعی پر الزام لگا کر اس کی حیثیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
المدثر 74:26
جہنم کے احوال جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ سب اَن دیکھی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہنم میں 19 فرشتوں کا ہونا بھی اسی نوعیت کی چیز ہے۔ آدمی اگر موشگافی کرے تو یہ چیزیں اس کے شبہات میں اضافہ کریں گی۔ لیکن اگر مجمل ایمان کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس قسم کی باتوں سے آدمی کے خوفِ آخرت میں اضافہ ہوگا۔
المدثر 74:27
جہنم کے احوال جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ سب اَن دیکھی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہنم میں 19 فرشتوں کا ہونا بھی اسی نوعیت کی چیز ہے۔ آدمی اگر موشگافی کرے تو یہ چیزیں اس کے شبہات میں اضافہ کریں گی۔ لیکن اگر مجمل ایمان کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس قسم کی باتوں سے آدمی کے خوفِ آخرت میں اضافہ ہوگا۔
المدثر 74:28
جہنم کے احوال جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ سب اَن دیکھی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہنم میں 19 فرشتوں کا ہونا بھی اسی نوعیت کی چیز ہے۔ آدمی اگر موشگافی کرے تو یہ چیزیں اس کے شبہات میں اضافہ کریں گی۔ لیکن اگر مجمل ایمان کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس قسم کی باتوں سے آدمی کے خوفِ آخرت میں اضافہ ہوگا۔
المدثر 74:29
جہنم کے احوال جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ سب اَن دیکھی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہنم میں 19 فرشتوں کا ہونا بھی اسی نوعیت کی چیز ہے۔ آدمی اگر موشگافی کرے تو یہ چیزیں اس کے شبہات میں اضافہ کریں گی۔ لیکن اگر مجمل ایمان کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس قسم کی باتوں سے آدمی کے خوفِ آخرت میں اضافہ ہوگا۔
المدثر 74:30
جہنم کے احوال جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ سب اَن دیکھی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہنم میں 19 فرشتوں کا ہونا بھی اسی نوعیت کی چیز ہے۔ آدمی اگر موشگافی کرے تو یہ چیزیں اس کے شبہات میں اضافہ کریں گی۔ لیکن اگر مجمل ایمان کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس قسم کی باتوں سے آدمی کے خوفِ آخرت میں اضافہ ہوگا۔
المدثر 74:31
جہنم کے احوال جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ سب اَن دیکھی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہنم میں 19 فرشتوں کا ہونا بھی اسی نوعیت کی چیز ہے۔ آدمی اگر موشگافی کرے تو یہ چیزیں اس کے شبہات میں اضافہ کریں گی۔ لیکن اگر مجمل ایمان کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس قسم کی باتوں سے آدمی کے خوفِ آخرت میں اضافہ ہوگا۔
المدثر 74:32
اس دنیا میں گردش کا نظام ہے۔ اسی کی وجہ سے چاند کی تاریخیں بدلتی ہیں اور زمین پر باری باری رات اور دن آتے ہیں۔ یہ گردش اور تبدیلی کا نظام گویا ایک اشارہ ہے کہ اسی طرح موجودہ دور بدل کر آخرت کا دور آئے گا۔ جو لوگ اس نظام پر غور کریں، وہ چاہیں گے کہ ’’رات‘‘ کے آنے سے پہلے اپنے ’’دن‘‘ کو استعمال کرلیں۔ وہ جہنم والے اعمال سے بھاگیں گے اور جنت والے اعمال کو اختیار کریں گے۔
المدثر 74:33
اس دنیا میں گردش کا نظام ہے۔ اسی کی وجہ سے چاند کی تاریخیں بدلتی ہیں اور زمین پر باری باری رات اور دن آتے ہیں۔ یہ گردش اور تبدیلی کا نظام گویا ایک اشارہ ہے کہ اسی طرح موجودہ دور بدل کر آخرت کا دور آئے گا۔ جو لوگ اس نظام پر غور کریں، وہ چاہیں گے کہ ’’رات‘‘ کے آنے سے پہلے اپنے ’’دن‘‘ کو استعمال کرلیں۔ وہ جہنم والے اعمال سے بھاگیں گے اور جنت والے اعمال کو اختیار کریں گے۔
المدثر 74:34
اس دنیا میں گردش کا نظام ہے۔ اسی کی وجہ سے چاند کی تاریخیں بدلتی ہیں اور زمین پر باری باری رات اور دن آتے ہیں۔ یہ گردش اور تبدیلی کا نظام گویا ایک اشارہ ہے کہ اسی طرح موجودہ دور بدل کر آخرت کا دور آئے گا۔ جو لوگ اس نظام پر غور کریں، وہ چاہیں گے کہ ’’رات‘‘ کے آنے سے پہلے اپنے ’’دن‘‘ کو استعمال کرلیں۔ وہ جہنم والے اعمال سے بھاگیں گے اور جنت والے اعمال کو اختیار کریں گے۔
المدثر 74:35
اس دنیا میں گردش کا نظام ہے۔ اسی کی وجہ سے چاند کی تاریخیں بدلتی ہیں اور زمین پر باری باری رات اور دن آتے ہیں۔ یہ گردش اور تبدیلی کا نظام گویا ایک اشارہ ہے کہ اسی طرح موجودہ دور بدل کر آخرت کا دور آئے گا۔ جو لوگ اس نظام پر غور کریں، وہ چاہیں گے کہ ’’رات‘‘ کے آنے سے پہلے اپنے ’’دن‘‘ کو استعمال کرلیں۔ وہ جہنم والے اعمال سے بھاگیں گے اور جنت والے اعمال کو اختیار کریں گے۔
المدثر 74:36
اس دنیا میں گردش کا نظام ہے۔ اسی کی وجہ سے چاند کی تاریخیں بدلتی ہیں اور زمین پر باری باری رات اور دن آتے ہیں۔ یہ گردش اور تبدیلی کا نظام گویا ایک اشارہ ہے کہ اسی طرح موجودہ دور بدل کر آخرت کا دور آئے گا۔ جو لوگ اس نظام پر غور کریں، وہ چاہیں گے کہ ’’رات‘‘ کے آنے سے پہلے اپنے ’’دن‘‘ کو استعمال کرلیں۔ وہ جہنم والے اعمال سے بھاگیں گے اور جنت والے اعمال کو اختیار کریں گے۔
المدثر 74:37
اس دنیا میں گردش کا نظام ہے۔ اسی کی وجہ سے چاند کی تاریخیں بدلتی ہیں اور زمین پر باری باری رات اور دن آتے ہیں۔ یہ گردش اور تبدیلی کا نظام گویا ایک اشارہ ہے کہ اسی طرح موجودہ دور بدل کر آخرت کا دور آئے گا۔ جو لوگ اس نظام پر غور کریں، وہ چاہیں گے کہ ’’رات‘‘ کے آنے سے پہلے اپنے ’’دن‘‘ کو استعمال کرلیں۔ وہ جہنم والے اعمال سے بھاگیں گے اور جنت والے اعمال کو اختیار کریں گے۔
المدثر 74:38
اس دنیا میں گردش کا نظام ہے۔ اسی کی وجہ سے چاند کی تاریخیں بدلتی ہیں اور زمین پر باری باری رات اور دن آتے ہیں۔ یہ گردش اور تبدیلی کا نظام گویا ایک اشارہ ہے کہ اسی طرح موجودہ دور بدل کر آخرت کا دور آئے گا۔ جو لوگ اس نظام پر غور کریں، وہ چاہیں گے کہ ’’رات‘‘ کے آنے سے پہلے اپنے ’’دن‘‘ کو استعمال کرلیں۔ وہ جہنم والے اعمال سے بھاگیں گے اور جنت والے اعمال کو اختیار کریں گے۔
المدثر 74:39
اس دنیا میں گردش کا نظام ہے۔ اسی کی وجہ سے چاند کی تاریخیں بدلتی ہیں اور زمین پر باری باری رات اور دن آتے ہیں۔ یہ گردش اور تبدیلی کا نظام گویا ایک اشارہ ہے کہ اسی طرح موجودہ دور بدل کر آخرت کا دور آئے گا۔ جو لوگ اس نظام پر غور کریں، وہ چاہیں گے کہ ’’رات‘‘ کے آنے سے پہلے اپنے ’’دن‘‘ کو استعمال کرلیں۔ وہ جہنم والے اعمال سے بھاگیں گے اور جنت والے اعمال کو اختیار کریں گے۔
المدثر 74:40
اس دنیا میں گردش کا نظام ہے۔ اسی کی وجہ سے چاند کی تاریخیں بدلتی ہیں اور زمین پر باری باری رات اور دن آتے ہیں۔ یہ گردش اور تبدیلی کا نظام گویا ایک اشارہ ہے کہ اسی طرح موجودہ دور بدل کر آخرت کا دور آئے گا۔ جو لوگ اس نظام پر غور کریں، وہ چاہیں گے کہ ’’رات‘‘ کے آنے سے پہلے اپنے ’’دن‘‘ کو استعمال کرلیں۔ وہ جہنم والے اعمال سے بھاگیں گے اور جنت والے اعمال کو اختیار کریں گے۔
المدثر 74:41
اس دنیا میں گردش کا نظام ہے۔ اسی کی وجہ سے چاند کی تاریخیں بدلتی ہیں اور زمین پر باری باری رات اور دن آتے ہیں۔ یہ گردش اور تبدیلی کا نظام گویا ایک اشارہ ہے کہ اسی طرح موجودہ دور بدل کر آخرت کا دور آئے گا۔ جو لوگ اس نظام پر غور کریں، وہ چاہیں گے کہ ’’رات‘‘ کے آنے سے پہلے اپنے ’’دن‘‘ کو استعمال کرلیں۔ وہ جہنم والے اعمال سے بھاگیں گے اور جنت والے اعمال کو اختیار کریں گے۔
المدثر 74:42
اس دنیا میں گردش کا نظام ہے۔ اسی کی وجہ سے چاند کی تاریخیں بدلتی ہیں اور زمین پر باری باری رات اور دن آتے ہیں۔ یہ گردش اور تبدیلی کا نظام گویا ایک اشارہ ہے کہ اسی طرح موجودہ دور بدل کر آخرت کا دور آئے گا۔ جو لوگ اس نظام پر غور کریں، وہ چاہیں گے کہ ’’رات‘‘ کے آنے سے پہلے اپنے ’’دن‘‘ کو استعمال کرلیں۔ وہ جہنم والے اعمال سے بھاگیں گے اور جنت والے اعمال کو اختیار کریں گے۔
المدثر 74:43
اس دنیا میں گردش کا نظام ہے۔ اسی کی وجہ سے چاند کی تاریخیں بدلتی ہیں اور زمین پر باری باری رات اور دن آتے ہیں۔ یہ گردش اور تبدیلی کا نظام گویا ایک اشارہ ہے کہ اسی طرح موجودہ دور بدل کر آخرت کا دور آئے گا۔ جو لوگ اس نظام پر غور کریں، وہ چاہیں گے کہ ’’رات‘‘ کے آنے سے پہلے اپنے ’’دن‘‘ کو استعمال کرلیں۔ وہ جہنم والے اعمال سے بھاگیں گے اور جنت والے اعمال کو اختیار کریں گے۔
المدثر 74:44
اس دنیا میں گردش کا نظام ہے۔ اسی کی وجہ سے چاند کی تاریخیں بدلتی ہیں اور زمین پر باری باری رات اور دن آتے ہیں۔ یہ گردش اور تبدیلی کا نظام گویا ایک اشارہ ہے کہ اسی طرح موجودہ دور بدل کر آخرت کا دور آئے گا۔ جو لوگ اس نظام پر غور کریں، وہ چاہیں گے کہ ’’رات‘‘ کے آنے سے پہلے اپنے ’’دن‘‘ کو استعمال کرلیں۔ وہ جہنم والے اعمال سے بھاگیں گے اور جنت والے اعمال کو اختیار کریں گے۔
المدثر 74:45
اس دنیا میں گردش کا نظام ہے۔ اسی کی وجہ سے چاند کی تاریخیں بدلتی ہیں اور زمین پر باری باری رات اور دن آتے ہیں۔ یہ گردش اور تبدیلی کا نظام گویا ایک اشارہ ہے کہ اسی طرح موجودہ دور بدل کر آخرت کا دور آئے گا۔ جو لوگ اس نظام پر غور کریں، وہ چاہیں گے کہ ’’رات‘‘ کے آنے سے پہلے اپنے ’’دن‘‘ کو استعمال کرلیں۔ وہ جہنم والے اعمال سے بھاگیں گے اور جنت والے اعمال کو اختیار کریں گے۔
المدثر 74:46
اس دنیا میں گردش کا نظام ہے۔ اسی کی وجہ سے چاند کی تاریخیں بدلتی ہیں اور زمین پر باری باری رات اور دن آتے ہیں۔ یہ گردش اور تبدیلی کا نظام گویا ایک اشارہ ہے کہ اسی طرح موجودہ دور بدل کر آخرت کا دور آئے گا۔ جو لوگ اس نظام پر غور کریں، وہ چاہیں گے کہ ’’رات‘‘ کے آنے سے پہلے اپنے ’’دن‘‘ کو استعمال کرلیں۔ وہ جہنم والے اعمال سے بھاگیں گے اور جنت والے اعمال کو اختیار کریں گے۔
المدثر 74:47
اس دنیا میں گردش کا نظام ہے۔ اسی کی وجہ سے چاند کی تاریخیں بدلتی ہیں اور زمین پر باری باری رات اور دن آتے ہیں۔ یہ گردش اور تبدیلی کا نظام گویا ایک اشارہ ہے کہ اسی طرح موجودہ دور بدل کر آخرت کا دور آئے گا۔ جو لوگ اس نظام پر غور کریں، وہ چاہیں گے کہ ’’رات‘‘ کے آنے سے پہلے اپنے ’’دن‘‘ کو استعمال کرلیں۔ وہ جہنم والے اعمال سے بھاگیں گے اور جنت والے اعمال کو اختیار کریں گے۔
المدثر 74:48
اس دنیا میں گردش کا نظام ہے۔ اسی کی وجہ سے چاند کی تاریخیں بدلتی ہیں اور زمین پر باری باری رات اور دن آتے ہیں۔ یہ گردش اور تبدیلی کا نظام گویا ایک اشارہ ہے کہ اسی طرح موجودہ دور بدل کر آخرت کا دور آئے گا۔ جو لوگ اس نظام پر غور کریں، وہ چاہیں گے کہ ’’رات‘‘ کے آنے سے پہلے اپنے ’’دن‘‘ کو استعمال کرلیں۔ وہ جہنم والے اعمال سے بھاگیں گے اور جنت والے اعمال کو اختیار کریں گے۔
المدثر 74:49
نصیحت خواہ کتنی ہی مدلل ہو، سننے والے کے ليے وہ اسی وقت موثر بنتی ہے جب کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ اگر سننے والا سنجیدہ نہ ہو تو نصیحت اس کے دل میں نہیں اترے گی، جو دلیل ایک سنجیدہ انسان کو تڑپادیتی ہے وہ صرف اس کی لایعنی بحثوں میں اضافہ کرنے کا باعث بنے گی۔
المدثر 74:50
نصیحت خواہ کتنی ہی مدلل ہو، سننے والے کے ليے وہ اسی وقت موثر بنتی ہے جب کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ اگر سننے والا سنجیدہ نہ ہو تو نصیحت اس کے دل میں نہیں اترے گی، جو دلیل ایک سنجیدہ انسان کو تڑپادیتی ہے وہ صرف اس کی لایعنی بحثوں میں اضافہ کرنے کا باعث بنے گی۔
المدثر 74:51
نصیحت خواہ کتنی ہی مدلل ہو، سننے والے کے ليے وہ اسی وقت موثر بنتی ہے جب کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ اگر سننے والا سنجیدہ نہ ہو تو نصیحت اس کے دل میں نہیں اترے گی، جو دلیل ایک سنجیدہ انسان کو تڑپادیتی ہے وہ صرف اس کی لایعنی بحثوں میں اضافہ کرنے کا باعث بنے گی۔
المدثر 74:52
نصیحت خواہ کتنی ہی مدلل ہو، سننے والے کے ليے وہ اسی وقت موثر بنتی ہے جب کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ اگر سننے والا سنجیدہ نہ ہو تو نصیحت اس کے دل میں نہیں اترے گی، جو دلیل ایک سنجیدہ انسان کو تڑپادیتی ہے وہ صرف اس کی لایعنی بحثوں میں اضافہ کرنے کا باعث بنے گی۔
المدثر 74:53
نصیحت خواہ کتنی ہی مدلل ہو، سننے والے کے ليے وہ اسی وقت موثر بنتی ہے جب کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ اگر سننے والا سنجیدہ نہ ہو تو نصیحت اس کے دل میں نہیں اترے گی، جو دلیل ایک سنجیدہ انسان کو تڑپادیتی ہے وہ صرف اس کی لایعنی بحثوں میں اضافہ کرنے کا باعث بنے گی۔
المدثر 74:54
نصیحت خواہ کتنی ہی مدلل ہو، سننے والے کے ليے وہ اسی وقت موثر بنتی ہے جب کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ اگر سننے والا سنجیدہ نہ ہو تو نصیحت اس کے دل میں نہیں اترے گی، جو دلیل ایک سنجیدہ انسان کو تڑپادیتی ہے وہ صرف اس کی لایعنی بحثوں میں اضافہ کرنے کا باعث بنے گی۔
المدثر 74:55
نصیحت خواہ کتنی ہی مدلل ہو، سننے والے کے ليے وہ اسی وقت موثر بنتی ہے جب کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ اگر سننے والا سنجیدہ نہ ہو تو نصیحت اس کے دل میں نہیں اترے گی، جو دلیل ایک سنجیدہ انسان کو تڑپادیتی ہے وہ صرف اس کی لایعنی بحثوں میں اضافہ کرنے کا باعث بنے گی۔
المدثر 74:56
نصیحت خواہ کتنی ہی مدلل ہو، سننے والے کے ليے وہ اسی وقت موثر بنتی ہے جب کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ اگر سننے والا سنجیدہ نہ ہو تو نصیحت اس کے دل میں نہیں اترے گی، جو دلیل ایک سنجیدہ انسان کو تڑپادیتی ہے وہ صرف اس کی لایعنی بحثوں میں اضافہ کرنے کا باعث بنے گی۔
القيامة 75:1
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
القيامة 75:2
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
القيامة 75:3
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
القيامة 75:4
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
القيامة 75:5
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
القيامة 75:6
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
القيامة 75:7
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
القيامة 75:8
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
القيامة 75:9
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
القيامة 75:10
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
القيامة 75:11
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
القيامة 75:12
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
القيامة 75:13
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
القيامة 75:14
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
القيامة 75:15
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
القيامة 75:16
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
القيامة 75:17
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
القيامة 75:18
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
القيامة 75:19
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
القيامة 75:20
آخرت کی طرف سے غفلت کی وجہ ہمیشہ صرف ایک ہوتی ہے، اور وہ حبِّ عاجلہ ہے۔ یعنی اپنے عمل کا فوری نتیجہ چاہنا۔ آخرت کے لیے عمل کا نتیجہ دیر میں ملتا ہے ۔ اس لیے آدمی اس کو نظر انداز کردیتا ہے، اور دنیا کے لیے عمل کا نتیجہ فوراً ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس لیے آدمی اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی پر آخر کار موت طاری ہوتی ہے اور اس کی تمام کامیابیوں کو باطل کردیتی ہے۔ مگر کوئی شخص اس سے سبق نہیں لیتا۔ یہاں تک کہ خود اس کی موت کا لمحہ آجائے اور وہ اس سے سبق لینے کی مہلت چھین لے۔
القيامة 75:21
آخرت کی طرف سے غفلت کی وجہ ہمیشہ صرف ایک ہوتی ہے، اور وہ حبِّ عاجلہ ہے۔ یعنی اپنے عمل کا فوری نتیجہ چاہنا۔ آخرت کے لیے عمل کا نتیجہ دیر میں ملتا ہے ۔ اس لیے آدمی اس کو نظر انداز کردیتا ہے، اور دنیا کے لیے عمل کا نتیجہ فوراً ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس لیے آدمی اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی پر آخر کار موت طاری ہوتی ہے اور اس کی تمام کامیابیوں کو باطل کردیتی ہے۔ مگر کوئی شخص اس سے سبق نہیں لیتا۔ یہاں تک کہ خود اس کی موت کا لمحہ آجائے اور وہ اس سے سبق لینے کی مہلت چھین لے۔
القيامة 75:22
آخرت کی طرف سے غفلت کی وجہ ہمیشہ صرف ایک ہوتی ہے، اور وہ حبِّ عاجلہ ہے۔ یعنی اپنے عمل کا فوری نتیجہ چاہنا۔ آخرت کے لیے عمل کا نتیجہ دیر میں ملتا ہے ۔ اس لیے آدمی اس کو نظر انداز کردیتا ہے، اور دنیا کے لیے عمل کا نتیجہ فوراً ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس لیے آدمی اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی پر آخر کار موت طاری ہوتی ہے اور اس کی تمام کامیابیوں کو باطل کردیتی ہے۔ مگر کوئی شخص اس سے سبق نہیں لیتا۔ یہاں تک کہ خود اس کی موت کا لمحہ آجائے اور وہ اس سے سبق لینے کی مہلت چھین لے۔
القيامة 75:23
آخرت کی طرف سے غفلت کی وجہ ہمیشہ صرف ایک ہوتی ہے، اور وہ حبِّ عاجلہ ہے۔ یعنی اپنے عمل کا فوری نتیجہ چاہنا۔ آخرت کے لیے عمل کا نتیجہ دیر میں ملتا ہے ۔ اس لیے آدمی اس کو نظر انداز کردیتا ہے، اور دنیا کے لیے عمل کا نتیجہ فوراً ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس لیے آدمی اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی پر آخر کار موت طاری ہوتی ہے اور اس کی تمام کامیابیوں کو باطل کردیتی ہے۔ مگر کوئی شخص اس سے سبق نہیں لیتا۔ یہاں تک کہ خود اس کی موت کا لمحہ آجائے اور وہ اس سے سبق لینے کی مہلت چھین لے۔
القيامة 75:24
آخرت کی طرف سے غفلت کی وجہ ہمیشہ صرف ایک ہوتی ہے، اور وہ حبِّ عاجلہ ہے۔ یعنی اپنے عمل کا فوری نتیجہ چاہنا۔ آخرت کے لیے عمل کا نتیجہ دیر میں ملتا ہے ۔ اس لیے آدمی اس کو نظر انداز کردیتا ہے، اور دنیا کے لیے عمل کا نتیجہ فوراً ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس لیے آدمی اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی پر آخر کار موت طاری ہوتی ہے اور اس کی تمام کامیابیوں کو باطل کردیتی ہے۔ مگر کوئی شخص اس سے سبق نہیں لیتا۔ یہاں تک کہ خود اس کی موت کا لمحہ آجائے اور وہ اس سے سبق لینے کی مہلت چھین لے۔
القيامة 75:25
آخرت کی طرف سے غفلت کی وجہ ہمیشہ صرف ایک ہوتی ہے، اور وہ حبِّ عاجلہ ہے۔ یعنی اپنے عمل کا فوری نتیجہ چاہنا۔ آخرت کے لیے عمل کا نتیجہ دیر میں ملتا ہے ۔ اس لیے آدمی اس کو نظر انداز کردیتا ہے، اور دنیا کے لیے عمل کا نتیجہ فوراً ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس لیے آدمی اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی پر آخر کار موت طاری ہوتی ہے اور اس کی تمام کامیابیوں کو باطل کردیتی ہے۔ مگر کوئی شخص اس سے سبق نہیں لیتا۔ یہاں تک کہ خود اس کی موت کا لمحہ آجائے اور وہ اس سے سبق لینے کی مہلت چھین لے۔
القيامة 75:26
آخرت کی طرف سے غفلت کی وجہ ہمیشہ صرف ایک ہوتی ہے، اور وہ حبِّ عاجلہ ہے۔ یعنی اپنے عمل کا فوری نتیجہ چاہنا۔ آخرت کے لیے عمل کا نتیجہ دیر میں ملتا ہے ۔ اس لیے آدمی اس کو نظر انداز کردیتا ہے، اور دنیا کے لیے عمل کا نتیجہ فوراً ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس لیے آدمی اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی پر آخر کار موت طاری ہوتی ہے اور اس کی تمام کامیابیوں کو باطل کردیتی ہے۔ مگر کوئی شخص اس سے سبق نہیں لیتا۔ یہاں تک کہ خود اس کی موت کا لمحہ آجائے اور وہ اس سے سبق لینے کی مہلت چھین لے۔
القيامة 75:27
آخرت کی طرف سے غفلت کی وجہ ہمیشہ صرف ایک ہوتی ہے، اور وہ حبِّ عاجلہ ہے۔ یعنی اپنے عمل کا فوری نتیجہ چاہنا۔ آخرت کے لیے عمل کا نتیجہ دیر میں ملتا ہے ۔ اس لیے آدمی اس کو نظر انداز کردیتا ہے، اور دنیا کے لیے عمل کا نتیجہ فوراً ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس لیے آدمی اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی پر آخر کار موت طاری ہوتی ہے اور اس کی تمام کامیابیوں کو باطل کردیتی ہے۔ مگر کوئی شخص اس سے سبق نہیں لیتا۔ یہاں تک کہ خود اس کی موت کا لمحہ آجائے اور وہ اس سے سبق لینے کی مہلت چھین لے۔
القيامة 75:28
آخرت کی طرف سے غفلت کی وجہ ہمیشہ صرف ایک ہوتی ہے، اور وہ حبِّ عاجلہ ہے۔ یعنی اپنے عمل کا فوری نتیجہ چاہنا۔ آخرت کے لیے عمل کا نتیجہ دیر میں ملتا ہے ۔ اس لیے آدمی اس کو نظر انداز کردیتا ہے، اور دنیا کے لیے عمل کا نتیجہ فوراً ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس لیے آدمی اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی پر آخر کار موت طاری ہوتی ہے اور اس کی تمام کامیابیوں کو باطل کردیتی ہے۔ مگر کوئی شخص اس سے سبق نہیں لیتا۔ یہاں تک کہ خود اس کی موت کا لمحہ آجائے اور وہ اس سے سبق لینے کی مہلت چھین لے۔
القيامة 75:29
آخرت کی طرف سے غفلت کی وجہ ہمیشہ صرف ایک ہوتی ہے، اور وہ حبِّ عاجلہ ہے۔ یعنی اپنے عمل کا فوری نتیجہ چاہنا۔ آخرت کے لیے عمل کا نتیجہ دیر میں ملتا ہے ۔ اس لیے آدمی اس کو نظر انداز کردیتا ہے، اور دنیا کے لیے عمل کا نتیجہ فوراً ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس لیے آدمی اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی پر آخر کار موت طاری ہوتی ہے اور اس کی تمام کامیابیوں کو باطل کردیتی ہے۔ مگر کوئی شخص اس سے سبق نہیں لیتا۔ یہاں تک کہ خود اس کی موت کا لمحہ آجائے اور وہ اس سے سبق لینے کی مہلت چھین لے۔
القيامة 75:30
آخرت کی طرف سے غفلت کی وجہ ہمیشہ صرف ایک ہوتی ہے، اور وہ حبِّ عاجلہ ہے۔ یعنی اپنے عمل کا فوری نتیجہ چاہنا۔ آخرت کے لیے عمل کا نتیجہ دیر میں ملتا ہے ۔ اس لیے آدمی اس کو نظر انداز کردیتا ہے، اور دنیا کے لیے عمل کا نتیجہ فوراً ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس لیے آدمی اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی پر آخر کار موت طاری ہوتی ہے اور اس کی تمام کامیابیوں کو باطل کردیتی ہے۔ مگر کوئی شخص اس سے سبق نہیں لیتا۔ یہاں تک کہ خود اس کی موت کا لمحہ آجائے اور وہ اس سے سبق لینے کی مہلت چھین لے۔
القيامة 75:31
انسان ابتداء ًاپنی ماں کی پیٹ میں ایک بوند کی مانند داخل ہوتا ہے۔ پھر وہ بڑھ کر علقہ (جونک) کی مانند ہوجاتا ہے۔ پھر مزید ترقی ہوتی ہے اور اس کے اعضاء اور نقوش بنتے ہیں۔ پھر وہ مرد یا عورت بن کر باہر آتا ہے۔ یہ تمام حیرت ناک تصرفات انسان کی کوشش کے بغیر ہوتے ہیں۔ پھر قدرت کا جو نظام روزانہ یہ عجائب ظہور میں لا رہا ہے اس کے لیے موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا بنا دینا کیا مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو ماننے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ لوگوں کی انانیت ہے، نہ کہ دلائل و قرائن کی کمی۔
القيامة 75:32
انسان ابتداء ًاپنی ماں کی پیٹ میں ایک بوند کی مانند داخل ہوتا ہے۔ پھر وہ بڑھ کر علقہ (جونک) کی مانند ہوجاتا ہے۔ پھر مزید ترقی ہوتی ہے اور اس کے اعضاء اور نقوش بنتے ہیں۔ پھر وہ مرد یا عورت بن کر باہر آتا ہے۔ یہ تمام حیرت ناک تصرفات انسان کی کوشش کے بغیر ہوتے ہیں۔ پھر قدرت کا جو نظام روزانہ یہ عجائب ظہور میں لا رہا ہے اس کے لیے موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا بنا دینا کیا مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو ماننے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ لوگوں کی انانیت ہے، نہ کہ دلائل و قرائن کی کمی۔
القيامة 75:33
انسان ابتداء ًاپنی ماں کی پیٹ میں ایک بوند کی مانند داخل ہوتا ہے۔ پھر وہ بڑھ کر علقہ (جونک) کی مانند ہوجاتا ہے۔ پھر مزید ترقی ہوتی ہے اور اس کے اعضاء اور نقوش بنتے ہیں۔ پھر وہ مرد یا عورت بن کر باہر آتا ہے۔ یہ تمام حیرت ناک تصرفات انسان کی کوشش کے بغیر ہوتے ہیں۔ پھر قدرت کا جو نظام روزانہ یہ عجائب ظہور میں لا رہا ہے اس کے لیے موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا بنا دینا کیا مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو ماننے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ لوگوں کی انانیت ہے، نہ کہ دلائل و قرائن کی کمی۔
القيامة 75:34
انسان ابتداء ًاپنی ماں کی پیٹ میں ایک بوند کی مانند داخل ہوتا ہے۔ پھر وہ بڑھ کر علقہ (جونک) کی مانند ہوجاتا ہے۔ پھر مزید ترقی ہوتی ہے اور اس کے اعضاء اور نقوش بنتے ہیں۔ پھر وہ مرد یا عورت بن کر باہر آتا ہے۔ یہ تمام حیرت ناک تصرفات انسان کی کوشش کے بغیر ہوتے ہیں۔ پھر قدرت کا جو نظام روزانہ یہ عجائب ظہور میں لا رہا ہے اس کے لیے موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا بنا دینا کیا مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو ماننے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ لوگوں کی انانیت ہے، نہ کہ دلائل و قرائن کی کمی۔
القيامة 75:35
انسان ابتداء ًاپنی ماں کی پیٹ میں ایک بوند کی مانند داخل ہوتا ہے۔ پھر وہ بڑھ کر علقہ (جونک) کی مانند ہوجاتا ہے۔ پھر مزید ترقی ہوتی ہے اور اس کے اعضاء اور نقوش بنتے ہیں۔ پھر وہ مرد یا عورت بن کر باہر آتا ہے۔ یہ تمام حیرت ناک تصرفات انسان کی کوشش کے بغیر ہوتے ہیں۔ پھر قدرت کا جو نظام روزانہ یہ عجائب ظہور میں لا رہا ہے اس کے لیے موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا بنا دینا کیا مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو ماننے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ لوگوں کی انانیت ہے، نہ کہ دلائل و قرائن کی کمی۔
القيامة 75:36
انسان ابتداء ًاپنی ماں کی پیٹ میں ایک بوند کی مانند داخل ہوتا ہے۔ پھر وہ بڑھ کر علقہ (جونک) کی مانند ہوجاتا ہے۔ پھر مزید ترقی ہوتی ہے اور اس کے اعضاء اور نقوش بنتے ہیں۔ پھر وہ مرد یا عورت بن کر باہر آتا ہے۔ یہ تمام حیرت ناک تصرفات انسان کی کوشش کے بغیر ہوتے ہیں۔ پھر قدرت کا جو نظام روزانہ یہ عجائب ظہور میں لا رہا ہے اس کے لیے موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا بنا دینا کیا مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو ماننے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ لوگوں کی انانیت ہے، نہ کہ دلائل و قرائن کی کمی۔
القيامة 75:37
انسان ابتداء ًاپنی ماں کی پیٹ میں ایک بوند کی مانند داخل ہوتا ہے۔ پھر وہ بڑھ کر علقہ (جونک) کی مانند ہوجاتا ہے۔ پھر مزید ترقی ہوتی ہے اور اس کے اعضاء اور نقوش بنتے ہیں۔ پھر وہ مرد یا عورت بن کر باہر آتا ہے۔ یہ تمام حیرت ناک تصرفات انسان کی کوشش کے بغیر ہوتے ہیں۔ پھر قدرت کا جو نظام روزانہ یہ عجائب ظہور میں لا رہا ہے اس کے لیے موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا بنا دینا کیا مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو ماننے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ لوگوں کی انانیت ہے، نہ کہ دلائل و قرائن کی کمی۔
القيامة 75:38
انسان ابتداء ًاپنی ماں کی پیٹ میں ایک بوند کی مانند داخل ہوتا ہے۔ پھر وہ بڑھ کر علقہ (جونک) کی مانند ہوجاتا ہے۔ پھر مزید ترقی ہوتی ہے اور اس کے اعضاء اور نقوش بنتے ہیں۔ پھر وہ مرد یا عورت بن کر باہر آتا ہے۔ یہ تمام حیرت ناک تصرفات انسان کی کوشش کے بغیر ہوتے ہیں۔ پھر قدرت کا جو نظام روزانہ یہ عجائب ظہور میں لا رہا ہے اس کے لیے موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا بنا دینا کیا مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو ماننے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ لوگوں کی انانیت ہے، نہ کہ دلائل و قرائن کی کمی۔
القيامة 75:39
انسان ابتداء ًاپنی ماں کی پیٹ میں ایک بوند کی مانند داخل ہوتا ہے۔ پھر وہ بڑھ کر علقہ (جونک) کی مانند ہوجاتا ہے۔ پھر مزید ترقی ہوتی ہے اور اس کے اعضاء اور نقوش بنتے ہیں۔ پھر وہ مرد یا عورت بن کر باہر آتا ہے۔ یہ تمام حیرت ناک تصرفات انسان کی کوشش کے بغیر ہوتے ہیں۔ پھر قدرت کا جو نظام روزانہ یہ عجائب ظہور میں لا رہا ہے اس کے لیے موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا بنا دینا کیا مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو ماننے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ لوگوں کی انانیت ہے، نہ کہ دلائل و قرائن کی کمی۔
القيامة 75:40
انسان ابتداء ًاپنی ماں کی پیٹ میں ایک بوند کی مانند داخل ہوتا ہے۔ پھر وہ بڑھ کر علقہ (جونک) کی مانند ہوجاتا ہے۔ پھر مزید ترقی ہوتی ہے اور اس کے اعضاء اور نقوش بنتے ہیں۔ پھر وہ مرد یا عورت بن کر باہر آتا ہے۔ یہ تمام حیرت ناک تصرفات انسان کی کوشش کے بغیر ہوتے ہیں۔ پھر قدرت کا جو نظام روزانہ یہ عجائب ظہور میں لا رہا ہے اس کے لیے موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا بنا دینا کیا مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو ماننے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ لوگوں کی انانیت ہے، نہ کہ دلائل و قرائن کی کمی۔
الإنسان 76:1
قرآن ساتویں صدی عیسوی میں اترا۔ اس وقت ساری دنیا میں کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ رحم مادر میں انسان کا آغاز ایک مخلوط نطفہ سے ہوتا ہے۔ یہ صرف بیسویں صدی کی بات ہے کہ انسان نے یہ جانا کہ انسان اور (حیوان) کا ابتدائی نطفہ دو اجزاء سے مل کر بنتا ہے۔ ایک، عورت کا بیضہ (Ovum) اور دوسرے، مرد کا نطفہ (Sperm)۔ یہ دونوں خور دبینی اجزاء جب باہم مل جاتے ہیں، اس وقت رحم مادر میں وہ چیز بننا شروع ہوتی ہے، جو بالآخر انسان کی صورت اختیار کرتی ہے۔ ڈیڑھ ہزار سال پہلے قرآن میں نطفہ امشاج (مخلوط نطفہ) کا لفظ آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔
قرآن میں اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں۔ یہ استثنائی مثالیں واضح طور پر قرآن کو خدا کی کتاب ثابت کرتی ہے۔ اور جب یہ بات ثابت ہوجائے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے تو اس کے بعد قرآن کا ہر بیان مجرد قرآن کا بیان ہونے کی بنیاد پر درست ماننا پڑے گا۔
الإنسان 76:2
قرآن ساتویں صدی عیسوی میں اترا۔ اس وقت ساری دنیا میں کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ رحم مادر میں انسان کا آغاز ایک مخلوط نطفہ سے ہوتا ہے۔ یہ صرف بیسویں صدی کی بات ہے کہ انسان نے یہ جانا کہ انسان اور (حیوان) کا ابتدائی نطفہ دو اجزاء سے مل کر بنتا ہے۔ ایک، عورت کا بیضہ (Ovum) اور دوسرے، مرد کا نطفہ (Sperm)۔ یہ دونوں خور دبینی اجزاء جب باہم مل جاتے ہیں، اس وقت رحم مادر میں وہ چیز بننا شروع ہوتی ہے، جو بالآخر انسان کی صورت اختیار کرتی ہے۔ ڈیڑھ ہزار سال پہلے قرآن میں نطفہ امشاج (مخلوط نطفہ) کا لفظ آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔
قرآن میں اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں۔ یہ استثنائی مثالیں واضح طور پر قرآن کو خدا کی کتاب ثابت کرتی ہے۔ اور جب یہ بات ثابت ہوجائے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے تو اس کے بعد قرآن کا ہر بیان مجرد قرآن کا بیان ہونے کی بنیاد پر درست ماننا پڑے گا۔
الإنسان 76:3
قرآن ساتویں صدی عیسوی میں اترا۔ اس وقت ساری دنیا میں کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ رحم مادر میں انسان کا آغاز ایک مخلوط نطفہ سے ہوتا ہے۔ یہ صرف بیسویں صدی کی بات ہے کہ انسان نے یہ جانا کہ انسان اور (حیوان) کا ابتدائی نطفہ دو اجزاء سے مل کر بنتا ہے۔ ایک، عورت کا بیضہ (Ovum) اور دوسرے، مرد کا نطفہ (Sperm)۔ یہ دونوں خور دبینی اجزاء جب باہم مل جاتے ہیں، اس وقت رحم مادر میں وہ چیز بننا شروع ہوتی ہے، جو بالآخر انسان کی صورت اختیار کرتی ہے۔ ڈیڑھ ہزار سال پہلے قرآن میں نطفہ امشاج (مخلوط نطفہ) کا لفظ آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔
قرآن میں اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں۔ یہ استثنائی مثالیں واضح طور پر قرآن کو خدا کی کتاب ثابت کرتی ہے۔ اور جب یہ بات ثابت ہوجائے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے تو اس کے بعد قرآن کا ہر بیان مجرد قرآن کا بیان ہونے کی بنیاد پر درست ماننا پڑے گا۔
الإنسان 76:4
یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔
الإنسان 76:5
یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔
الإنسان 76:6
یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔
الإنسان 76:7
یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔
الإنسان 76:8
یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔
الإنسان 76:9
یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔
الإنسان 76:10
یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔
الإنسان 76:11
یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔
الإنسان 76:12
یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔
الإنسان 76:13
یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔
الإنسان 76:14
یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔
الإنسان 76:15
یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔
الإنسان 76:16
یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔
الإنسان 76:17
یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔
الإنسان 76:18
یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔
الإنسان 76:19
یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔
الإنسان 76:20
یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔
الإنسان 76:21
یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔
الإنسان 76:22
یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔
الإنسان 76:23
حق کی دعوت کو نہ ماننے کے دو خاص سبب ہوتے ہیں۔ یا تو آدمی کے سامنے دنیا کا مفاد ہوتا ہے، اور مفاد سے محرومی کا اندیشہ اس کو حق کی طرف بڑھنے نہیں دیتا۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ آدمی تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو اور اس کا تکبر اس میں مانع بن جائے کہ وہ اپنے سے باہر کسی کی بڑائی کو تسلیم کرے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ دعوتِ حق کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ مگر حق کے داعی کو حکم ہے کہ وہ ان کا لحاظ کیے بغیر اپنا کام صبر کے ساتھ جاری رکھے۔
الإنسان 76:24
حق کی دعوت کو نہ ماننے کے دو خاص سبب ہوتے ہیں۔ یا تو آدمی کے سامنے دنیا کا مفاد ہوتا ہے، اور مفاد سے محرومی کا اندیشہ اس کو حق کی طرف بڑھنے نہیں دیتا۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ آدمی تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو اور اس کا تکبر اس میں مانع بن جائے کہ وہ اپنے سے باہر کسی کی بڑائی کو تسلیم کرے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ دعوتِ حق کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ مگر حق کے داعی کو حکم ہے کہ وہ ان کا لحاظ کیے بغیر اپنا کام صبر کے ساتھ جاری رکھے۔
الإنسان 76:25
حق کی دعوت کو نہ ماننے کے دو خاص سبب ہوتے ہیں۔ یا تو آدمی کے سامنے دنیا کا مفاد ہوتا ہے، اور مفاد سے محرومی کا اندیشہ اس کو حق کی طرف بڑھنے نہیں دیتا۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ آدمی تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو اور اس کا تکبر اس میں مانع بن جائے کہ وہ اپنے سے باہر کسی کی بڑائی کو تسلیم کرے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ دعوتِ حق کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ مگر حق کے داعی کو حکم ہے کہ وہ ان کا لحاظ کیے بغیر اپنا کام صبر کے ساتھ جاری رکھے۔
الإنسان 76:26
حق کی دعوت کو نہ ماننے کے دو خاص سبب ہوتے ہیں۔ یا تو آدمی کے سامنے دنیا کا مفاد ہوتا ہے، اور مفاد سے محرومی کا اندیشہ اس کو حق کی طرف بڑھنے نہیں دیتا۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ آدمی تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو اور اس کا تکبر اس میں مانع بن جائے کہ وہ اپنے سے باہر کسی کی بڑائی کو تسلیم کرے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ دعوتِ حق کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ مگر حق کے داعی کو حکم ہے کہ وہ ان کا لحاظ کیے بغیر اپنا کام صبر کے ساتھ جاری رکھے۔
الإنسان 76:27
حق کی دعوت کو نہ ماننے کے دو خاص سبب ہوتے ہیں۔ یا تو آدمی کے سامنے دنیا کا مفاد ہوتا ہے، اور مفاد سے محرومی کا اندیشہ اس کو حق کی طرف بڑھنے نہیں دیتا۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ آدمی تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو اور اس کا تکبر اس میں مانع بن جائے کہ وہ اپنے سے باہر کسی کی بڑائی کو تسلیم کرے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ دعوتِ حق کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ مگر حق کے داعی کو حکم ہے کہ وہ ان کا لحاظ کیے بغیر اپنا کام صبر کے ساتھ جاری رکھے۔
الإنسان 76:28
حق کی دعوت کو نہ ماننے کے دو خاص سبب ہوتے ہیں۔ یا تو آدمی کے سامنے دنیا کا مفاد ہوتا ہے، اور مفاد سے محرومی کا اندیشہ اس کو حق کی طرف بڑھنے نہیں دیتا۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ آدمی تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو اور اس کا تکبر اس میں مانع بن جائے کہ وہ اپنے سے باہر کسی کی بڑائی کو تسلیم کرے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ دعوتِ حق کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ مگر حق کے داعی کو حکم ہے کہ وہ ان کا لحاظ کیے بغیر اپنا کام صبر کے ساتھ جاری رکھے۔
الإنسان 76:29
حق کی دعوت کو نہ ماننے کے دو خاص سبب ہوتے ہیں۔ یا تو آدمی کے سامنے دنیا کا مفاد ہوتا ہے، اور مفاد سے محرومی کا اندیشہ اس کو حق کی طرف بڑھنے نہیں دیتا۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ آدمی تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو اور اس کا تکبر اس میں مانع بن جائے کہ وہ اپنے سے باہر کسی کی بڑائی کو تسلیم کرے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ دعوتِ حق کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ مگر حق کے داعی کو حکم ہے کہ وہ ان کا لحاظ کیے بغیر اپنا کام صبر کے ساتھ جاری رکھے۔
الإنسان 76:30
حق کی دعوت کو نہ ماننے کے دو خاص سبب ہوتے ہیں۔ یا تو آدمی کے سامنے دنیا کا مفاد ہوتا ہے، اور مفاد سے محرومی کا اندیشہ اس کو حق کی طرف بڑھنے نہیں دیتا۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ آدمی تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو اور اس کا تکبر اس میں مانع بن جائے کہ وہ اپنے سے باہر کسی کی بڑائی کو تسلیم کرے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ دعوتِ حق کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ مگر حق کے داعی کو حکم ہے کہ وہ ان کا لحاظ کیے بغیر اپنا کام صبر کے ساتھ جاری رکھے۔
الإنسان 76:31
حق کی دعوت کو نہ ماننے کے دو خاص سبب ہوتے ہیں۔ یا تو آدمی کے سامنے دنیا کا مفاد ہوتا ہے، اور مفاد سے محرومی کا اندیشہ اس کو حق کی طرف بڑھنے نہیں دیتا۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ آدمی تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو اور اس کا تکبر اس میں مانع بن جائے کہ وہ اپنے سے باہر کسی کی بڑائی کو تسلیم کرے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ دعوتِ حق کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ مگر حق کے داعی کو حکم ہے کہ وہ ان کا لحاظ کیے بغیر اپنا کام صبر کے ساتھ جاری رکھے۔
المرسلات 77:1
سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔
ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔
المرسلات 77:2
سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔
ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔
المرسلات 77:3
سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔
ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔
المرسلات 77:4
سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔
ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔
المرسلات 77:5
سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔
ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔
المرسلات 77:6
سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔
ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔
المرسلات 77:7
سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔
ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔
المرسلات 77:8
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:9
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:10
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:11
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:12
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:13
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:14
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:15
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:16
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:17
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:18
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:19
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:20
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:21
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:22
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:23
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:24
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:25
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:26
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:27
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:28
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔
المرسلات 77:29
آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
المرسلات 77:30
آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
المرسلات 77:31
آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
المرسلات 77:32
آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
المرسلات 77:33
آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
المرسلات 77:34
آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
المرسلات 77:35
آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
المرسلات 77:36
آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
المرسلات 77:37
آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
المرسلات 77:38
آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
المرسلات 77:39
آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
المرسلات 77:40
آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
المرسلات 77:41
موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔
المرسلات 77:42
موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔
المرسلات 77:43
موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔
المرسلات 77:44
موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔
المرسلات 77:45
موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔
المرسلات 77:46
موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔
المرسلات 77:47
موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔
المرسلات 77:48
موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔
المرسلات 77:49
موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔
المرسلات 77:50
موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔
النبأ 78:1
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:2
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:3
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:4
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:5
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:6
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:7
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:8
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:9
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:10
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:11
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:12
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:13
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:14
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:15
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:16
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:17
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:18
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:19
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:20
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:21
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:22
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:23
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:24
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:25
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:26
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:27
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:28
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:29
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:30
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
النبأ 78:31
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
النبأ 78:32
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
النبأ 78:33
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
النبأ 78:34
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
النبأ 78:35
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
النبأ 78:36
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
النبأ 78:37
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
النبأ 78:38
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
النبأ 78:39
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
النبأ 78:40
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔