Tafsir Ibn Kathir — مريم 19:79 – طه 20:67
Contents
- مريم 19:79
- مريم 19:80
- مريم 19:81
- مريم 19:82
- مريم 19:83
- مريم 19:84
- مريم 19:85
- مريم 19:86
- مريم 19:87
- مريم 19:88
- مريم 19:89
- مريم 19:90
- مريم 19:91
- مريم 19:92
- مريم 19:93
- مريم 19:94
- مريم 19:95
- مريم 19:96
- مريم 19:97
- مريم 19:98
- طه 20:1
- طه 20:2
- طه 20:3
- طه 20:4
- طه 20:5
- طه 20:6
- طه 20:7
- طه 20:8
- طه 20:9
- طه 20:10
- طه 20:11
- طه 20:12
- طه 20:13
- طه 20:14
- طه 20:15
- طه 20:16
- طه 20:17
- طه 20:18
- طه 20:19
- طه 20:20
- طه 20:21
- طه 20:22
- طه 20:23
- طه 20:24
- طه 20:25
- طه 20:26
- طه 20:27
- طه 20:28
- طه 20:29
- طه 20:30
- طه 20:31
- طه 20:32
- طه 20:33
- طه 20:34
- طه 20:35
- طه 20:36
- طه 20:37
- طه 20:38
- طه 20:39
- طه 20:40
- طه 20:41
- طه 20:42
- طه 20:43
- طه 20:44
- طه 20:45
- طه 20:46
- طه 20:47
- طه 20:48
- طه 20:49
- طه 20:50
- طه 20:51
- طه 20:52
- طه 20:53
- طه 20:54
- طه 20:55
- طه 20:56
- طه 20:57
- طه 20:58
- طه 20:59
- طه 20:60
- طه 20:61
- طه 20:62
- طه 20:63
- طه 20:64
- طه 20:65
- طه 20:66
- طه 20:67
مريم 19:79
عیار مقروض اور حضرت خباب ٭٭
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا۔ میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری سے نہ نکل جائے۔ میں نے کہا، میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کر سکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو۔ اس کافر نے کہا، بس تو پھر یہی رہی، جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی، وہیں تیرا قرض بھی ادا کر دوں گا، تو آ جانا۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ [صحیح بخاری:2091]
دوسری روایت میں ہے کہ میں نے مکے میں اس کی تلوار بنائی تھی، اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ اللہ فرماتا ہے کہ ” کیا اسے غیب کی خبر مل گئی؟ یا اس نے اللہ رحمان سے کوئی قول و قرار لے لیا؟ “
اور روایت میں ہے کہ اس پر میرے بہت سے درہم بطور قرض کے چڑھ گئے تھے، اس لیے مجھے جو جواب دیا، میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، اس پر یہ آیتیں آتریں ۔
اور روایت میں ہے کہ کئی ایک مسلمانوں کا قرض اس کے ذمے تھا، ان کے تقاضوں پر اس نے کہا کہ کیا تمہارے دین میں یہ نہیں کہ جنت میں سونا، چاندی، ریشم، پھل پھول وغیرہ ہوں گے؟ ہم نے کہا ہاں ہے، تو کہا بس تو یہ چیزیں مجھے ضرور ملیں گی میں وہیں تم سب کو دے دوں گا۔ پس یہ آیتیں «وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا» [19-مريم:80] تک اتریں ۔
«وَلَدًا» کی دوسری قرأت واؤ کے پیش سے بھی ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبر سے تو مفرد کے معنی میں ہے اور پیش سے جمع کے معنی میں ہے۔ قیس قبیلے کی یہی لغت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5145
اس مغرور کو جواب ملتا ہے کہ ” کیا اسے غیب پر اطلاع ہے؟ اسے آخرت کے اپنے انجام کی خبر ہے؟ جو یہ قسمیں کھا کر کہہ رہا ہے؟ یا اس نے اللہ سے کوئی قول و قرار، عہد و پیمان لیا ہے یا اس نے اللہ کی توحید مان لی ہے کہ اس کی وجہ سے اسے دخول جنت کا یقین ہو؟ “
چنانچہ آیت «أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَٰنِ عَهْدًا» [19-مریم:78] میں اللہ کی وحدانیت کے کلمے کا قائل ہو جانا ہی مراد لیا گیا ہے۔ پھر اس کے کلام کی تاکید کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ اور اس کے خلاف موکد بیان ہو رہا ہے کہ اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ہمارے ہاں لکھا جا چکا ہے، اس کا کفر بھی ہم پر روشن ہے۔ دار آخرت میں تو اس کے لیے عذاب ہی عذاب ہے، جو ہر وقت بڑھتا رہے گا۔ اسے مال و اولاد وہاں بھی ملنا تو کجا، اس کے برعکس دنیا کا مال و متاع اور اولاد و کنبہ بھی اس سے چھین لیا جائے گا اور وہ تن تنہا ہمارے حضور میں پیش ہو گا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَنَرِثُهُ مَا عِنْدَهُ» ہے۔ ” اس کی جمع جتھا اور اس کے عمل ہمارے قبضے میں ہیں۔ یہ تو خالی ہاتھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ہمارے سامنے پیش ہوگا “۔
صفحہ نمبر5146
مريم 19:80
عیار مقروض اور حضرت خباب ٭٭
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا۔ میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری سے نہ نکل جائے۔ میں نے کہا، میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کر سکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو۔ اس کافر نے کہا، بس تو پھر یہی رہی، جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی، وہیں تیرا قرض بھی ادا کر دوں گا، تو آ جانا۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ [صحیح بخاری:2091]
دوسری روایت میں ہے کہ میں نے مکے میں اس کی تلوار بنائی تھی، اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ اللہ فرماتا ہے کہ ” کیا اسے غیب کی خبر مل گئی؟ یا اس نے اللہ رحمان سے کوئی قول و قرار لے لیا؟ “
اور روایت میں ہے کہ اس پر میرے بہت سے درہم بطور قرض کے چڑھ گئے تھے، اس لیے مجھے جو جواب دیا، میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، اس پر یہ آیتیں آتریں ۔
اور روایت میں ہے کہ کئی ایک مسلمانوں کا قرض اس کے ذمے تھا، ان کے تقاضوں پر اس نے کہا کہ کیا تمہارے دین میں یہ نہیں کہ جنت میں سونا، چاندی، ریشم، پھل پھول وغیرہ ہوں گے؟ ہم نے کہا ہاں ہے، تو کہا بس تو یہ چیزیں مجھے ضرور ملیں گی میں وہیں تم سب کو دے دوں گا۔ پس یہ آیتیں «وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا» [19-مريم:80] تک اتریں ۔
«وَلَدًا» کی دوسری قرأت واؤ کے پیش سے بھی ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبر سے تو مفرد کے معنی میں ہے اور پیش سے جمع کے معنی میں ہے۔ قیس قبیلے کی یہی لغت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5145
اس مغرور کو جواب ملتا ہے کہ ” کیا اسے غیب پر اطلاع ہے؟ اسے آخرت کے اپنے انجام کی خبر ہے؟ جو یہ قسمیں کھا کر کہہ رہا ہے؟ یا اس نے اللہ سے کوئی قول و قرار، عہد و پیمان لیا ہے یا اس نے اللہ کی توحید مان لی ہے کہ اس کی وجہ سے اسے دخول جنت کا یقین ہو؟ “
چنانچہ آیت «أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَٰنِ عَهْدًا» [19-مریم:78] میں اللہ کی وحدانیت کے کلمے کا قائل ہو جانا ہی مراد لیا گیا ہے۔ پھر اس کے کلام کی تاکید کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ اور اس کے خلاف موکد بیان ہو رہا ہے کہ اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ہمارے ہاں لکھا جا چکا ہے، اس کا کفر بھی ہم پر روشن ہے۔ دار آخرت میں تو اس کے لیے عذاب ہی عذاب ہے، جو ہر وقت بڑھتا رہے گا۔ اسے مال و اولاد وہاں بھی ملنا تو کجا، اس کے برعکس دنیا کا مال و متاع اور اولاد و کنبہ بھی اس سے چھین لیا جائے گا اور وہ تن تنہا ہمارے حضور میں پیش ہو گا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَنَرِثُهُ مَا عِنْدَهُ» ہے۔ ” اس کی جمع جتھا اور اس کے عمل ہمارے قبضے میں ہیں۔ یہ تو خالی ہاتھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ہمارے سامنے پیش ہوگا “۔
صفحہ نمبر5146
مريم 19:81
اللہ تعالٰی کے سوا معبود ٭٭
کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی و مددگار ہوں گے۔ غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے۔ ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہو جائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔
جیسے فرمایا، «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» [46-الأحقاف:5،6] ” ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں، ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں “۔
«كَلَّا» کی دوسری قرأت «کُلٌ» بھی ہے۔ خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ سب عابد و معبود جہنمی ہوں گے، ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ وہ اس پر، یہ اس پر لعنت و پھٹکار کرے گا، ہر ایک دوسرے پر ڈالے گا، ایک دوسرے کو برا کہے گا، سخت تر جھگڑے پڑیں گے، سارے تعلقات کٹ جائیں گے، ایک دوسرے کے کھلے دشمن ہو جائیں گے۔ مدد تو کہاں مروت تک نہ ہو گی۔ معبود عابدوں کے لیے اور عابد معبودوں کے لیے بلائے بیدرماں حسرت بے پایاں ہو جائیں گے۔
کیا تجھے نہیں معلوم کہ ان کافروں کو ہر وقت شیاطین نافرمانیوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں، مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے ہیں، آرزو میں بڑھاتے رہتے ہیں، طغیان اور سرکشی میں آگے کرتے رہتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» [43-الزخرف:36] ” ذکر رحمان سے منہ موڑنے والے شیطان کے حوالے ہو جاتے ہیں “۔
” تو جلدی نہ کر، ان کے لیے کوئی بد دعا نہ کر، ہم نے خود عمداً انہیں ڈھیل دے رکھی ہے انہیں بڑھتا رہنے دے آخر وقت مقررہ پر دبوچ لیے جائیں گے “۔
«وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» [14-ابراھیم:42] ” اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے، انہیں تو کچھ یونہی سی ڈھیل ہے جس میں یہ اپنے گناہوں میں بڑھے چلے جار ہے ہیں، آخر سخت عذابوں کی طرف بے بس ی کے ساتھ جا پڑیں گے۔ تم فائدہ حاصل کر لو لیکن یاد رکھو کہ تمہارا اصلی ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔ ہم ان کے سال، مہینے، دن اور وقت شمار کر رہے ہیں ان کے سانس بھی ہمارے گنے ہوئے ہیں۔ مقررہ وقت پورا ہوتے ہی عذابوں میں پھنس جائیں گے “۔
صفحہ نمبر5150
مريم 19:82
اللہ تعالٰی کے سوا معبود ٭٭
کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی و مددگار ہوں گے۔ غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے۔ ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہو جائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔
جیسے فرمایا، «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» [46-الأحقاف:5،6] ” ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں، ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں “۔
«كَلَّا» کی دوسری قرأت «کُلٌ» بھی ہے۔ خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ سب عابد و معبود جہنمی ہوں گے، ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ وہ اس پر، یہ اس پر لعنت و پھٹکار کرے گا، ہر ایک دوسرے پر ڈالے گا، ایک دوسرے کو برا کہے گا، سخت تر جھگڑے پڑیں گے، سارے تعلقات کٹ جائیں گے، ایک دوسرے کے کھلے دشمن ہو جائیں گے۔ مدد تو کہاں مروت تک نہ ہو گی۔ معبود عابدوں کے لیے اور عابد معبودوں کے لیے بلائے بیدرماں حسرت بے پایاں ہو جائیں گے۔
کیا تجھے نہیں معلوم کہ ان کافروں کو ہر وقت شیاطین نافرمانیوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں، مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے ہیں، آرزو میں بڑھاتے رہتے ہیں، طغیان اور سرکشی میں آگے کرتے رہتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» [43-الزخرف:36] ” ذکر رحمان سے منہ موڑنے والے شیطان کے حوالے ہو جاتے ہیں “۔
” تو جلدی نہ کر، ان کے لیے کوئی بد دعا نہ کر، ہم نے خود عمداً انہیں ڈھیل دے رکھی ہے انہیں بڑھتا رہنے دے آخر وقت مقررہ پر دبوچ لیے جائیں گے “۔
«وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» [14-ابراھیم:42] ” اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے، انہیں تو کچھ یونہی سی ڈھیل ہے جس میں یہ اپنے گناہوں میں بڑھے چلے جار ہے ہیں، آخر سخت عذابوں کی طرف بے بس ی کے ساتھ جا پڑیں گے۔ تم فائدہ حاصل کر لو لیکن یاد رکھو کہ تمہارا اصلی ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔ ہم ان کے سال، مہینے، دن اور وقت شمار کر رہے ہیں ان کے سانس بھی ہمارے گنے ہوئے ہیں۔ مقررہ وقت پورا ہوتے ہی عذابوں میں پھنس جائیں گے “۔
صفحہ نمبر5150
مريم 19:83
اللہ تعالٰی کے سوا معبود ٭٭
کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی و مددگار ہوں گے۔ غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے۔ ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہو جائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔
جیسے فرمایا، «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» [46-الأحقاف:5،6] ” ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں، ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں “۔
«كَلَّا» کی دوسری قرأت «کُلٌ» بھی ہے۔ خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ سب عابد و معبود جہنمی ہوں گے، ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ وہ اس پر، یہ اس پر لعنت و پھٹکار کرے گا، ہر ایک دوسرے پر ڈالے گا، ایک دوسرے کو برا کہے گا، سخت تر جھگڑے پڑیں گے، سارے تعلقات کٹ جائیں گے، ایک دوسرے کے کھلے دشمن ہو جائیں گے۔ مدد تو کہاں مروت تک نہ ہو گی۔ معبود عابدوں کے لیے اور عابد معبودوں کے لیے بلائے بیدرماں حسرت بے پایاں ہو جائیں گے۔
کیا تجھے نہیں معلوم کہ ان کافروں کو ہر وقت شیاطین نافرمانیوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں، مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے ہیں، آرزو میں بڑھاتے رہتے ہیں، طغیان اور سرکشی میں آگے کرتے رہتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» [43-الزخرف:36] ” ذکر رحمان سے منہ موڑنے والے شیطان کے حوالے ہو جاتے ہیں “۔
” تو جلدی نہ کر، ان کے لیے کوئی بد دعا نہ کر، ہم نے خود عمداً انہیں ڈھیل دے رکھی ہے انہیں بڑھتا رہنے دے آخر وقت مقررہ پر دبوچ لیے جائیں گے “۔
«وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» [14-ابراھیم:42] ” اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے، انہیں تو کچھ یونہی سی ڈھیل ہے جس میں یہ اپنے گناہوں میں بڑھے چلے جار ہے ہیں، آخر سخت عذابوں کی طرف بے بس ی کے ساتھ جا پڑیں گے۔ تم فائدہ حاصل کر لو لیکن یاد رکھو کہ تمہارا اصلی ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔ ہم ان کے سال، مہینے، دن اور وقت شمار کر رہے ہیں ان کے سانس بھی ہمارے گنے ہوئے ہیں۔ مقررہ وقت پورا ہوتے ہی عذابوں میں پھنس جائیں گے “۔
صفحہ نمبر5150
مريم 19:84
اللہ تعالٰی کے سوا معبود ٭٭
کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی و مددگار ہوں گے۔ غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے۔ ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہو جائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔
جیسے فرمایا، «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» [46-الأحقاف:5،6] ” ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں، ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں “۔
«كَلَّا» کی دوسری قرأت «کُلٌ» بھی ہے۔ خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ سب عابد و معبود جہنمی ہوں گے، ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ وہ اس پر، یہ اس پر لعنت و پھٹکار کرے گا، ہر ایک دوسرے پر ڈالے گا، ایک دوسرے کو برا کہے گا، سخت تر جھگڑے پڑیں گے، سارے تعلقات کٹ جائیں گے، ایک دوسرے کے کھلے دشمن ہو جائیں گے۔ مدد تو کہاں مروت تک نہ ہو گی۔ معبود عابدوں کے لیے اور عابد معبودوں کے لیے بلائے بیدرماں حسرت بے پایاں ہو جائیں گے۔
کیا تجھے نہیں معلوم کہ ان کافروں کو ہر وقت شیاطین نافرمانیوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں، مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے ہیں، آرزو میں بڑھاتے رہتے ہیں، طغیان اور سرکشی میں آگے کرتے رہتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» [43-الزخرف:36] ” ذکر رحمان سے منہ موڑنے والے شیطان کے حوالے ہو جاتے ہیں “۔
” تو جلدی نہ کر، ان کے لیے کوئی بد دعا نہ کر، ہم نے خود عمداً انہیں ڈھیل دے رکھی ہے انہیں بڑھتا رہنے دے آخر وقت مقررہ پر دبوچ لیے جائیں گے “۔
«وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» [14-ابراھیم:42] ” اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے، انہیں تو کچھ یونہی سی ڈھیل ہے جس میں یہ اپنے گناہوں میں بڑھے چلے جار ہے ہیں، آخر سخت عذابوں کی طرف بے بس ی کے ساتھ جا پڑیں گے۔ تم فائدہ حاصل کر لو لیکن یاد رکھو کہ تمہارا اصلی ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔ ہم ان کے سال، مہینے، دن اور وقت شمار کر رہے ہیں ان کے سانس بھی ہمارے گنے ہوئے ہیں۔ مقررہ وقت پورا ہوتے ہی عذابوں میں پھنس جائیں گے “۔
صفحہ نمبر5150
مريم 19:85
اللہ تعالٰی کے معزز مہمان ٭٭
جو لوگ اللہ کی باتوں پر ایمان لائے، پیغمبروں کی تصدیق کی، اللہ کی فرمانبرداری کی، گناہوں سے بچے رہے، پروردگار کا ڈر دل میں رکھا، وہ اللہ کے ہاں بطور معزز مہمانوں کے جمع ہوں گے۔ نورانی سانڈنیوں کی سواری پر آئیں گے اور خدائی مہمان خانے میں بہ عزت داخل کئے جائیں گے۔
ان کے برخلاف بے ترس، گنہگار، رسولوں کے دشمن، دھکے کھا کھا کر اوندھے منہ گھسٹتے ہوئے پیاس کے مارے زبان نکالے ہوئے جبراً قہراً جہنم کے پاس جمع کئے جائیں گے۔ اب بتلاؤ کہ کون مرتبے والا اور کون اچھے ساتھیوں والا ہے؟ مومن اپنی قبر سے منہ اٹھا کر دیکھے گا کہ اس کے سامنے ایک حسین خوبصورت شخص پاکیزہ پوشاک پہنے خوشبو سے مہکتا چمکتا دمکتا چہرہ لیے کھڑا ہے، پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گا آپ نے پہچانا نہیں میں تو آپ کے نیک اعمال کا مجسمہ ہوں۔ آپ کے عمل نورانی حسین اور مہکتے ہوئے تھے، آئیے اب آپ کو میں اپنے کندھوں پر چڑھا کر بہ عزت و اکرام محشر میں لے چلوں گا کیونکہ دنیا کی زندگی میں میں آپ پر سوار رہا ہوں۔ پس مومن اللہ کے پاس سواری پر سوار جائے گا۔ ان کی سواری کے لیے نورانی اونٹ بھی مہیا ہوں گے۔ یہ سب ہنسی خوشی آبرو عزت کے ساتھ جنت میں جائیں گے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وفد کا یہ دستور ہی نہیں کہ وہ پیدل آئے۔ یہ متقی حضرات ایسی نورانی اونٹنیوں پر سوار ہوں گے کہ مخلوق کی نگاہوں میں ان سے بہتر کوئی سواری کبھی نہیں آئی۔ ان کے پالان سونے کے ہوں گے۔ یہ جنت کے دروازوں تک ان ہی سواریوں پر جائیں گے۔ ان کی نکیلیں زبر جد کی ہونگی ۔ [صحیح بخاری:4733] ایک مرفوع روایت میں ہے لیکن حدیث بہت ہی غریب ہے۔
صفحہ نمبر5154
ابن ابی حاتم کی روایت ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، میں نے اس آیت کی تلاوت کی اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفد تو سواری پر سوار آیا کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہ پارسا لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور اسی وقت سفید رنگ نورانی پردار اونٹنیاں اپنی سواری کے لیے موجود پائیں گے، جن پر سونے کے پالان ہوں گے، جن کے پیروں سے نور بلند ہو رہا ہو گا، جو ایک ایک قدم اتنی دور رکھیں گی جہاں تک نگاہ کام کرے۔ یہ ان پر سوار ہو کر ایک جنتی درخت کے پاس پہنچیں گے جہاں سے دو نہریں جاری دیکھیں گے، ایک کا پانی پئیں گے جس سے ان کے دلوں کے میل دور ہو جائیں گے۔ دوسری میں غسل کریں گے جس سے ان کے جسم نورانی ہو جائیں گے اور بال جم جائیں گے۔ اس کے بعد نہ کبھی ان کے بال الجھیں نہ جسم میلے ہوں، ان کے چہرے چمک اٹھیں گے اور یہ جنت کے دروازے پر پہنچیں گے۔ سرخ یاقوت کا حلقہ سونے کے دروازے پر ہو گا جسے یہ کھٹکھٹائیں گے، نہایت سریلی آواز اس سے نکلے گی اور حوروں کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے خاوند آ گئے۔ خازن جنت آئیں گے اور دروازے کھولیں گے، جنتی ان کے نورانی جسموں اور شگفتہ چہروں کو دیکھ کر سجدے میں گر پڑنا چاہیں گے لیکن وہ فوراً کہہ اٹھے گا کہ میں تو آپ کا تابع ہوں، آپ کا حکم بردار ہوں، اب ان کے ساتھ یہ چلیں گے۔ ان کی حوریں تاب نہ لا سکیں گی اور خیموں سے نکل کر ان سے چمٹ جائیں گی اور کہیں گی کہ آپ ہمارے سرتاج ہیں، ہمارے محبوب ہیں، میں ہمیشہ آپ کی والی ہوں جو موت سے دور ہوں، میں نعمتوں والی ہوں کہ کبھی میری نعمتیں ختم نہ ہوں گی، میں خوش رہنے والی ہوں کہ کبھی نہ روٹھوں گی، میں یہیں رہنے والی ہوں کہ کبھی آپ سے دور نہ ہوؤں گی ۔
صفحہ نمبر5155
یہ اندر داخل ہوں گے، دیکھیں گے کہ سو سو گز بلند بالاخانے ہیں، لولو اور موتیوں پر زرد سرخ سبز رنگ کی دیواریں سونے کی ہیں۔ ہر دیوار ایک دوسرے کی ہم شکل ہے۔ ہر مکان میں ستر تخت ہیں، ہر تخت پر ستر حوریں ہیں، ہر حور پر ستر جوڑے ہیں تاہم ان کی کمر جھلک رہی ہے۔ ان کے جماع کی مقدار دنیا کی پوری ایک رات کے برابر ہو گی۔ صاف شفاف پانی کی، خالص دودھ کی جو جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا، بہترین خوش ذائقہ بےضرر شراب طہور کی جسے کسی انسان نے نہیں نچوڑا، عمدہ خالص شہد کی جو مکھیوں کے پیٹ سے نہیں نکلا، نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ پھلدار درخت میووں سے لدے ہوئے جھوم رہے ہوں گے، چاہے کھڑے کھڑے میوے توڑ لیں چاہے بیٹھے بیٹھے چاہے لیٹے لیٹے۔ سبز و سفید پرند اڑ رہے ہیں جس کا گوشت کھانے کو جی چاہا، وہ خودبخود حاضر ہو گیا، جہاں کا گوشت کھانا چاہا کھا لیا اور پھر وہ قدرت الٰہی سے زندہ چلا گیا۔ چاروں طرف سے فرشتے آ رہے ہیں اور سلام کہہ رہے ہیں اور بشارتیں سنا رہے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہی وہ جنت ہے جس کی تم خوشخبریاں دئیے جاتے رہے اور آج اس کے مالک بنا دئیے گئے ہو۔ یہ ہے بدلہ تمہارے نیک اعمال کا جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ ان کی حوروں میں سے اگر کسی کا ایک بال بھی زمین پر ظاہر کر دیا جائے تو سورج کی روشنی ماند پڑ جائے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6724:باطل و موضوع]
یہ حدیث تو مرفوع بیان ہوئی ہے لیکن تعجب نہیں کہ یہ موقوف ہی ہو جیسے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اپنے قول سے بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5156
ٹھیک اس کے برعکس گنہگار لوگ اوندھے منہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے جانوروں کی طرح دھکے دے کر جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے، اس وقت پیاس کے مارے ان کی حالت بری ہو رہی ہوگی۔ کوئی ان کی شفاعت کرنے والا، ان کے حق میں ایک بھلا لفظ نکالنے والا نہ ہوگا۔ مومن تو ایک دوسرے کی شفاعت کریں گے لیکن یہ بدنصیب اس سے محروم ہیں۔ یہ خود کہیں گے کہ «فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِيْنَ وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ» [26-الشعراء:101،100] ” ہمارا کوئی سفارشی نہیں، نہ سچا دوست ہے “۔
ہاں جنہوں نے اللہ سے عہد لے لیا ہے، یہ استثنا منقطع ہے۔ مراد اس عہد سے اللہ کی توحید کی گواہی اور اس پر استقامت ہے یعنی صرف اللہ کی عبادت، دوسروں کی پوجا سے بیزاری اور لاتعلقی، صرف اسی سے مدد کی امید، تمام آرزوؤں کے پورا ہونے کی اسی سے آس۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ان موحدین نے اللہ کا وعدہ حاصل کر لیا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ” جس سے میرا عہد ہے، وہ کھڑا ہو جائے “۔ لوگوں نے کہا ہمیں بھی وہ بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا یوں کہو «اللَّـهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَإِنِّي أَعْهَد إِلَيْك فِي هَذِهِ الْحَيَاة الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكِلنِي إِلَى عَمَل يُقَرِّبنِي مِنْ الشَّرّ وَيُبَاعِدنِي مِنْ الْخَيْر وَإِنِّي لَا أَثِق إِلَّا بِرَحْمَتِك فَاجْعَلْ لِي عِنْدك عَهْدًا تُؤَدِّيه إِلَيَّ يَوْم الْقِيَامَة إِنَّك لَا تُخْلِف الْمِيعَاد» اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے «خَائِفًا مُسْتَجِيرًا مُسْتَغْفِرًا رَاهِبًا رَاغِبًا إِلَيْك» [ابن ابی حاتم] ۔
صفحہ نمبر5157
مريم 19:86
اللہ تعالٰی کے معزز مہمان ٭٭
جو لوگ اللہ کی باتوں پر ایمان لائے، پیغمبروں کی تصدیق کی، اللہ کی فرمانبرداری کی، گناہوں سے بچے رہے، پروردگار کا ڈر دل میں رکھا، وہ اللہ کے ہاں بطور معزز مہمانوں کے جمع ہوں گے۔ نورانی سانڈنیوں کی سواری پر آئیں گے اور خدائی مہمان خانے میں بہ عزت داخل کئے جائیں گے۔
ان کے برخلاف بے ترس، گنہگار، رسولوں کے دشمن، دھکے کھا کھا کر اوندھے منہ گھسٹتے ہوئے پیاس کے مارے زبان نکالے ہوئے جبراً قہراً جہنم کے پاس جمع کئے جائیں گے۔ اب بتلاؤ کہ کون مرتبے والا اور کون اچھے ساتھیوں والا ہے؟ مومن اپنی قبر سے منہ اٹھا کر دیکھے گا کہ اس کے سامنے ایک حسین خوبصورت شخص پاکیزہ پوشاک پہنے خوشبو سے مہکتا چمکتا دمکتا چہرہ لیے کھڑا ہے، پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گا آپ نے پہچانا نہیں میں تو آپ کے نیک اعمال کا مجسمہ ہوں۔ آپ کے عمل نورانی حسین اور مہکتے ہوئے تھے، آئیے اب آپ کو میں اپنے کندھوں پر چڑھا کر بہ عزت و اکرام محشر میں لے چلوں گا کیونکہ دنیا کی زندگی میں میں آپ پر سوار رہا ہوں۔ پس مومن اللہ کے پاس سواری پر سوار جائے گا۔ ان کی سواری کے لیے نورانی اونٹ بھی مہیا ہوں گے۔ یہ سب ہنسی خوشی آبرو عزت کے ساتھ جنت میں جائیں گے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وفد کا یہ دستور ہی نہیں کہ وہ پیدل آئے۔ یہ متقی حضرات ایسی نورانی اونٹنیوں پر سوار ہوں گے کہ مخلوق کی نگاہوں میں ان سے بہتر کوئی سواری کبھی نہیں آئی۔ ان کے پالان سونے کے ہوں گے۔ یہ جنت کے دروازوں تک ان ہی سواریوں پر جائیں گے۔ ان کی نکیلیں زبر جد کی ہونگی ۔ [صحیح بخاری:4733] ایک مرفوع روایت میں ہے لیکن حدیث بہت ہی غریب ہے۔
صفحہ نمبر5154
ابن ابی حاتم کی روایت ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، میں نے اس آیت کی تلاوت کی اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفد تو سواری پر سوار آیا کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہ پارسا لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور اسی وقت سفید رنگ نورانی پردار اونٹنیاں اپنی سواری کے لیے موجود پائیں گے، جن پر سونے کے پالان ہوں گے، جن کے پیروں سے نور بلند ہو رہا ہو گا، جو ایک ایک قدم اتنی دور رکھیں گی جہاں تک نگاہ کام کرے۔ یہ ان پر سوار ہو کر ایک جنتی درخت کے پاس پہنچیں گے جہاں سے دو نہریں جاری دیکھیں گے، ایک کا پانی پئیں گے جس سے ان کے دلوں کے میل دور ہو جائیں گے۔ دوسری میں غسل کریں گے جس سے ان کے جسم نورانی ہو جائیں گے اور بال جم جائیں گے۔ اس کے بعد نہ کبھی ان کے بال الجھیں نہ جسم میلے ہوں، ان کے چہرے چمک اٹھیں گے اور یہ جنت کے دروازے پر پہنچیں گے۔ سرخ یاقوت کا حلقہ سونے کے دروازے پر ہو گا جسے یہ کھٹکھٹائیں گے، نہایت سریلی آواز اس سے نکلے گی اور حوروں کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے خاوند آ گئے۔ خازن جنت آئیں گے اور دروازے کھولیں گے، جنتی ان کے نورانی جسموں اور شگفتہ چہروں کو دیکھ کر سجدے میں گر پڑنا چاہیں گے لیکن وہ فوراً کہہ اٹھے گا کہ میں تو آپ کا تابع ہوں، آپ کا حکم بردار ہوں، اب ان کے ساتھ یہ چلیں گے۔ ان کی حوریں تاب نہ لا سکیں گی اور خیموں سے نکل کر ان سے چمٹ جائیں گی اور کہیں گی کہ آپ ہمارے سرتاج ہیں، ہمارے محبوب ہیں، میں ہمیشہ آپ کی والی ہوں جو موت سے دور ہوں، میں نعمتوں والی ہوں کہ کبھی میری نعمتیں ختم نہ ہوں گی، میں خوش رہنے والی ہوں کہ کبھی نہ روٹھوں گی، میں یہیں رہنے والی ہوں کہ کبھی آپ سے دور نہ ہوؤں گی ۔
صفحہ نمبر5155
یہ اندر داخل ہوں گے، دیکھیں گے کہ سو سو گز بلند بالاخانے ہیں، لولو اور موتیوں پر زرد سرخ سبز رنگ کی دیواریں سونے کی ہیں۔ ہر دیوار ایک دوسرے کی ہم شکل ہے۔ ہر مکان میں ستر تخت ہیں، ہر تخت پر ستر حوریں ہیں، ہر حور پر ستر جوڑے ہیں تاہم ان کی کمر جھلک رہی ہے۔ ان کے جماع کی مقدار دنیا کی پوری ایک رات کے برابر ہو گی۔ صاف شفاف پانی کی، خالص دودھ کی جو جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا، بہترین خوش ذائقہ بےضرر شراب طہور کی جسے کسی انسان نے نہیں نچوڑا، عمدہ خالص شہد کی جو مکھیوں کے پیٹ سے نہیں نکلا، نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ پھلدار درخت میووں سے لدے ہوئے جھوم رہے ہوں گے، چاہے کھڑے کھڑے میوے توڑ لیں چاہے بیٹھے بیٹھے چاہے لیٹے لیٹے۔ سبز و سفید پرند اڑ رہے ہیں جس کا گوشت کھانے کو جی چاہا، وہ خودبخود حاضر ہو گیا، جہاں کا گوشت کھانا چاہا کھا لیا اور پھر وہ قدرت الٰہی سے زندہ چلا گیا۔ چاروں طرف سے فرشتے آ رہے ہیں اور سلام کہہ رہے ہیں اور بشارتیں سنا رہے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہی وہ جنت ہے جس کی تم خوشخبریاں دئیے جاتے رہے اور آج اس کے مالک بنا دئیے گئے ہو۔ یہ ہے بدلہ تمہارے نیک اعمال کا جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ ان کی حوروں میں سے اگر کسی کا ایک بال بھی زمین پر ظاہر کر دیا جائے تو سورج کی روشنی ماند پڑ جائے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6724:باطل و موضوع]
یہ حدیث تو مرفوع بیان ہوئی ہے لیکن تعجب نہیں کہ یہ موقوف ہی ہو جیسے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اپنے قول سے بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5156
ٹھیک اس کے برعکس گنہگار لوگ اوندھے منہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے جانوروں کی طرح دھکے دے کر جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے، اس وقت پیاس کے مارے ان کی حالت بری ہو رہی ہوگی۔ کوئی ان کی شفاعت کرنے والا، ان کے حق میں ایک بھلا لفظ نکالنے والا نہ ہوگا۔ مومن تو ایک دوسرے کی شفاعت کریں گے لیکن یہ بدنصیب اس سے محروم ہیں۔ یہ خود کہیں گے کہ «فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِيْنَ وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ» [26-الشعراء:101،100] ” ہمارا کوئی سفارشی نہیں، نہ سچا دوست ہے “۔
ہاں جنہوں نے اللہ سے عہد لے لیا ہے، یہ استثنا منقطع ہے۔ مراد اس عہد سے اللہ کی توحید کی گواہی اور اس پر استقامت ہے یعنی صرف اللہ کی عبادت، دوسروں کی پوجا سے بیزاری اور لاتعلقی، صرف اسی سے مدد کی امید، تمام آرزوؤں کے پورا ہونے کی اسی سے آس۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ان موحدین نے اللہ کا وعدہ حاصل کر لیا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ” جس سے میرا عہد ہے، وہ کھڑا ہو جائے “۔ لوگوں نے کہا ہمیں بھی وہ بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا یوں کہو «اللَّـهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَإِنِّي أَعْهَد إِلَيْك فِي هَذِهِ الْحَيَاة الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكِلنِي إِلَى عَمَل يُقَرِّبنِي مِنْ الشَّرّ وَيُبَاعِدنِي مِنْ الْخَيْر وَإِنِّي لَا أَثِق إِلَّا بِرَحْمَتِك فَاجْعَلْ لِي عِنْدك عَهْدًا تُؤَدِّيه إِلَيَّ يَوْم الْقِيَامَة إِنَّك لَا تُخْلِف الْمِيعَاد» اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے «خَائِفًا مُسْتَجِيرًا مُسْتَغْفِرًا رَاهِبًا رَاغِبًا إِلَيْك» [ابن ابی حاتم] ۔
صفحہ نمبر5157
مريم 19:87
اللہ تعالٰی کے معزز مہمان ٭٭
جو لوگ اللہ کی باتوں پر ایمان لائے، پیغمبروں کی تصدیق کی، اللہ کی فرمانبرداری کی، گناہوں سے بچے رہے، پروردگار کا ڈر دل میں رکھا، وہ اللہ کے ہاں بطور معزز مہمانوں کے جمع ہوں گے۔ نورانی سانڈنیوں کی سواری پر آئیں گے اور خدائی مہمان خانے میں بہ عزت داخل کئے جائیں گے۔
ان کے برخلاف بے ترس، گنہگار، رسولوں کے دشمن، دھکے کھا کھا کر اوندھے منہ گھسٹتے ہوئے پیاس کے مارے زبان نکالے ہوئے جبراً قہراً جہنم کے پاس جمع کئے جائیں گے۔ اب بتلاؤ کہ کون مرتبے والا اور کون اچھے ساتھیوں والا ہے؟ مومن اپنی قبر سے منہ اٹھا کر دیکھے گا کہ اس کے سامنے ایک حسین خوبصورت شخص پاکیزہ پوشاک پہنے خوشبو سے مہکتا چمکتا دمکتا چہرہ لیے کھڑا ہے، پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گا آپ نے پہچانا نہیں میں تو آپ کے نیک اعمال کا مجسمہ ہوں۔ آپ کے عمل نورانی حسین اور مہکتے ہوئے تھے، آئیے اب آپ کو میں اپنے کندھوں پر چڑھا کر بہ عزت و اکرام محشر میں لے چلوں گا کیونکہ دنیا کی زندگی میں میں آپ پر سوار رہا ہوں۔ پس مومن اللہ کے پاس سواری پر سوار جائے گا۔ ان کی سواری کے لیے نورانی اونٹ بھی مہیا ہوں گے۔ یہ سب ہنسی خوشی آبرو عزت کے ساتھ جنت میں جائیں گے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وفد کا یہ دستور ہی نہیں کہ وہ پیدل آئے۔ یہ متقی حضرات ایسی نورانی اونٹنیوں پر سوار ہوں گے کہ مخلوق کی نگاہوں میں ان سے بہتر کوئی سواری کبھی نہیں آئی۔ ان کے پالان سونے کے ہوں گے۔ یہ جنت کے دروازوں تک ان ہی سواریوں پر جائیں گے۔ ان کی نکیلیں زبر جد کی ہونگی ۔ [صحیح بخاری:4733] ایک مرفوع روایت میں ہے لیکن حدیث بہت ہی غریب ہے۔
صفحہ نمبر5154
ابن ابی حاتم کی روایت ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، میں نے اس آیت کی تلاوت کی اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفد تو سواری پر سوار آیا کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہ پارسا لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور اسی وقت سفید رنگ نورانی پردار اونٹنیاں اپنی سواری کے لیے موجود پائیں گے، جن پر سونے کے پالان ہوں گے، جن کے پیروں سے نور بلند ہو رہا ہو گا، جو ایک ایک قدم اتنی دور رکھیں گی جہاں تک نگاہ کام کرے۔ یہ ان پر سوار ہو کر ایک جنتی درخت کے پاس پہنچیں گے جہاں سے دو نہریں جاری دیکھیں گے، ایک کا پانی پئیں گے جس سے ان کے دلوں کے میل دور ہو جائیں گے۔ دوسری میں غسل کریں گے جس سے ان کے جسم نورانی ہو جائیں گے اور بال جم جائیں گے۔ اس کے بعد نہ کبھی ان کے بال الجھیں نہ جسم میلے ہوں، ان کے چہرے چمک اٹھیں گے اور یہ جنت کے دروازے پر پہنچیں گے۔ سرخ یاقوت کا حلقہ سونے کے دروازے پر ہو گا جسے یہ کھٹکھٹائیں گے، نہایت سریلی آواز اس سے نکلے گی اور حوروں کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے خاوند آ گئے۔ خازن جنت آئیں گے اور دروازے کھولیں گے، جنتی ان کے نورانی جسموں اور شگفتہ چہروں کو دیکھ کر سجدے میں گر پڑنا چاہیں گے لیکن وہ فوراً کہہ اٹھے گا کہ میں تو آپ کا تابع ہوں، آپ کا حکم بردار ہوں، اب ان کے ساتھ یہ چلیں گے۔ ان کی حوریں تاب نہ لا سکیں گی اور خیموں سے نکل کر ان سے چمٹ جائیں گی اور کہیں گی کہ آپ ہمارے سرتاج ہیں، ہمارے محبوب ہیں، میں ہمیشہ آپ کی والی ہوں جو موت سے دور ہوں، میں نعمتوں والی ہوں کہ کبھی میری نعمتیں ختم نہ ہوں گی، میں خوش رہنے والی ہوں کہ کبھی نہ روٹھوں گی، میں یہیں رہنے والی ہوں کہ کبھی آپ سے دور نہ ہوؤں گی ۔
صفحہ نمبر5155
یہ اندر داخل ہوں گے، دیکھیں گے کہ سو سو گز بلند بالاخانے ہیں، لولو اور موتیوں پر زرد سرخ سبز رنگ کی دیواریں سونے کی ہیں۔ ہر دیوار ایک دوسرے کی ہم شکل ہے۔ ہر مکان میں ستر تخت ہیں، ہر تخت پر ستر حوریں ہیں، ہر حور پر ستر جوڑے ہیں تاہم ان کی کمر جھلک رہی ہے۔ ان کے جماع کی مقدار دنیا کی پوری ایک رات کے برابر ہو گی۔ صاف شفاف پانی کی، خالص دودھ کی جو جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا، بہترین خوش ذائقہ بےضرر شراب طہور کی جسے کسی انسان نے نہیں نچوڑا، عمدہ خالص شہد کی جو مکھیوں کے پیٹ سے نہیں نکلا، نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ پھلدار درخت میووں سے لدے ہوئے جھوم رہے ہوں گے، چاہے کھڑے کھڑے میوے توڑ لیں چاہے بیٹھے بیٹھے چاہے لیٹے لیٹے۔ سبز و سفید پرند اڑ رہے ہیں جس کا گوشت کھانے کو جی چاہا، وہ خودبخود حاضر ہو گیا، جہاں کا گوشت کھانا چاہا کھا لیا اور پھر وہ قدرت الٰہی سے زندہ چلا گیا۔ چاروں طرف سے فرشتے آ رہے ہیں اور سلام کہہ رہے ہیں اور بشارتیں سنا رہے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہی وہ جنت ہے جس کی تم خوشخبریاں دئیے جاتے رہے اور آج اس کے مالک بنا دئیے گئے ہو۔ یہ ہے بدلہ تمہارے نیک اعمال کا جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ ان کی حوروں میں سے اگر کسی کا ایک بال بھی زمین پر ظاہر کر دیا جائے تو سورج کی روشنی ماند پڑ جائے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6724:باطل و موضوع]
یہ حدیث تو مرفوع بیان ہوئی ہے لیکن تعجب نہیں کہ یہ موقوف ہی ہو جیسے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اپنے قول سے بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5156
ٹھیک اس کے برعکس گنہگار لوگ اوندھے منہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے جانوروں کی طرح دھکے دے کر جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے، اس وقت پیاس کے مارے ان کی حالت بری ہو رہی ہوگی۔ کوئی ان کی شفاعت کرنے والا، ان کے حق میں ایک بھلا لفظ نکالنے والا نہ ہوگا۔ مومن تو ایک دوسرے کی شفاعت کریں گے لیکن یہ بدنصیب اس سے محروم ہیں۔ یہ خود کہیں گے کہ «فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِيْنَ وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ» [26-الشعراء:101،100] ” ہمارا کوئی سفارشی نہیں، نہ سچا دوست ہے “۔
ہاں جنہوں نے اللہ سے عہد لے لیا ہے، یہ استثنا منقطع ہے۔ مراد اس عہد سے اللہ کی توحید کی گواہی اور اس پر استقامت ہے یعنی صرف اللہ کی عبادت، دوسروں کی پوجا سے بیزاری اور لاتعلقی، صرف اسی سے مدد کی امید، تمام آرزوؤں کے پورا ہونے کی اسی سے آس۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ان موحدین نے اللہ کا وعدہ حاصل کر لیا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ” جس سے میرا عہد ہے، وہ کھڑا ہو جائے “۔ لوگوں نے کہا ہمیں بھی وہ بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا یوں کہو «اللَّـهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَإِنِّي أَعْهَد إِلَيْك فِي هَذِهِ الْحَيَاة الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكِلنِي إِلَى عَمَل يُقَرِّبنِي مِنْ الشَّرّ وَيُبَاعِدنِي مِنْ الْخَيْر وَإِنِّي لَا أَثِق إِلَّا بِرَحْمَتِك فَاجْعَلْ لِي عِنْدك عَهْدًا تُؤَدِّيه إِلَيَّ يَوْم الْقِيَامَة إِنَّك لَا تُخْلِف الْمِيعَاد» اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے «خَائِفًا مُسْتَجِيرًا مُسْتَغْفِرًا رَاهِبًا رَاغِبًا إِلَيْك» [ابن ابی حاتم] ۔
صفحہ نمبر5157
مريم 19:88
عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭
اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔
«اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔
تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔
صفحہ نمبر5160
جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:]
اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“
مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔
صفحہ نمبر5161
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6099]
پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ»، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔
صفحہ نمبر5162
مريم 19:89
عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭
اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔
«اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔
تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔
صفحہ نمبر5160
جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:]
اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“
مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔
صفحہ نمبر5161
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6099]
پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ»، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔
صفحہ نمبر5162
مريم 19:90
عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭
اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔
«اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔
تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔
صفحہ نمبر5160
جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:]
اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“
مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔
صفحہ نمبر5161
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6099]
پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ»، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔
صفحہ نمبر5162
مريم 19:91
عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭
اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔
«اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔
تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔
صفحہ نمبر5160
جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:]
اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“
مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔
صفحہ نمبر5161
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6099]
پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ»، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔
صفحہ نمبر5162
مريم 19:92
عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭
اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔
«اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔
تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔
صفحہ نمبر5160
جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:]
اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“
مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔
صفحہ نمبر5161
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6099]
پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ»، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔
صفحہ نمبر5162
مريم 19:93
عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭
اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔
«اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔
تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔
صفحہ نمبر5160
جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:]
اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“
مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔
صفحہ نمبر5161
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6099]
پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ»، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔
صفحہ نمبر5162
مريم 19:94
عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭
اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔
«اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔
تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔
صفحہ نمبر5160
جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:]
اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“
مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔
صفحہ نمبر5161
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6099]
پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ»، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔
صفحہ نمبر5162
مريم 19:95
عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭
اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔
«اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔
تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔
صفحہ نمبر5160
جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:]
اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“
مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔
صفحہ نمبر5161
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6099]
پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ»، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔
صفحہ نمبر5162
مريم 19:96
اللہ تعالٰی کا امین فرشتہ ٭٭
فرمان ہے کہ ” جن کے دلوں میں توحید رچی ہوئی ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا نور ہے، ضروری بات ہے کہ ہم اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کر دیں گے “۔
چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے کہ ” میں فلاں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی فلاں انسان سے محبت رکھ “۔ اللہ تعالیٰ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ پھر آسمانوں میں ندا کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں انسان سے محبت رکھتا ہے، اے فرشتو! تم بھی اس سے محبت رکھو چنانچہ کل آسمانوں کے فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پر اتاری جاتی ہے۔ اور جب کسی بندے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ” اس سے میں ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ “، جبرائیل علیہ السلام بھی اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔ پھر آسمانوں میں ندا کر دیتے ہیں کہ فلاں دشمن رب ہے، تم سب اس سے بیزار رہنا چنانچہ آسمان والے اس سے بگڑ بیٹھتے ہیں۔ پھر وہی غضب اور ناراضگی زمین پر نازل ہوتی ہے ۔ [صحیح بخاری:3209]
صفحہ نمبر5170
مسند احمد میں ہے کہ جو بندہ اپنے مولا کی مرضی کا طالب ہو جاتا ہے اور اس کی خوشی کے کاموں میں مشغول ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ عزوجل جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ” میرا فلاں بندہ مجھے خوش کرنا چاہتا ہے۔ سنو میں اس سے خوش ہو گیا میں نے اپنی رحمتیں اس پر نازل کرنی شروع کر دیں “۔ پس جبرائیل علیہ السلام ندا کرتے ہیں کہ فلاں پر رحمت الٰہی ہو گئی۔ پھر حاملان عرش بھی یہی منادی کرتے ہیں۔ پھر ان کے پاس والے غرض ساتوں آسمانوں میں یہ آواز گونج جاتی ہے، پھر زمین پر اس کی مقبولیت اترتی ہے ۔ [مسند احمد:279/5:حسن] یہ حدیث غریب ہے۔
ایسی ہی ایک اور حدیث بھی مسند احمد میں غرابت والی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ محبت اور شہرت کسی کی برائی یا بھلائی کے ساتھ آسمانوں سے اللہ کی جانب سے اترتی ہے ۔ [مسند احمد:263/5:صحیح لغیرہ]
ابن ابی حاتم میں اسی قسم کی حدیث کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس آیت قرآنی کو پڑھنا بھی مروی ہے ۔ [صحیح مسلم:2637]
پس مطلب آیت کا یہ ہوا کہ نیک عمل کرنے والے ایمانداروں سے اللہ خود محبت کرتا ہے اور زمین پر بھی ان کی محبت اور مقبولیت اتاری جاتی ہے۔ مومن ان سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ ان کا ذکر خیر ہوتا ہے اور ان کی موت کے بعد بھی ان کی بہترین شہرت باقی رہتی ہے۔ مصرم بن حبان کہتے ہیں کہ جو بندہ سچے اور مخلص دل سے اللہ کی طرف جھکتا ہے، اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کو اس کی طرف جھکا دیتا ہے وہ اس سے محبت اور پیار کرنے لگتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے بندہ جو بھلائی برائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کی چادر اوڑھا دیتا ہے۔
صفحہ نمبر5171
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ایک شخص نے ارادہ کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کروں گا کہ تمام لوگوں میں میری نیکی کی شہرت ہو جائے اب وہ عبادت الٰہی کی طرف جھک پڑا۔ جب دیکھو نماز میں مسجد میں سب سے اول آئے اور سب کے بعد جائے اسی طرح سات ماہ اسے گزر گئے لیکن اس نے جب بھی سنا یہی سنا کہ لوگ اسے ریا کار کہتے ہیں۔ اس نے یہ حالت دیکھ کر اب اپنے جی میں عہد کر لیا کہ میں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے عمل کروں گا، کسی عمل میں تو نہ بڑھا لیکن خلوص کے ساتھ اعمال شروع کر دئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں میں ہر شخص کی زبان سے نکلنے لگا کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص پر رحم فرمائے اب تو وہ واقعی اللہ والا بن گیا ہے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔“
ابن جریر میں ہے کہ یہ آیت سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن یہ قول درست نہیں، اس لیے کہ یہ پوری سورت مکے میں نازل ہوئی ہے، ہجرت کے بعد اس سورت کی کسی آیت کا نازل ہونا ثابت نہیں۔ اور جو اثر امام صاحب نے وارد کیا ہے وہ سنداً بھی صحیح نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5172
” ہم نے اس قرآن کو اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیری زبان میں یعنی عربی زبان میں بالکل آسان کر کے نازل فرمایا ہے جو فصاحت و بلاغت والی بہترین زبان ہے تاکہ تو انہیں جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں، دلوں میں ایمان اور ظاہر میں نیک اعمال رکھتے ہیں، اللہ کی بشارتیں سنا دے اور جو حق سے ہٹے ہوئے، باطل پر مٹے ہوئے، استقامت سے دور، خود بینی میں مخمور، جھگڑالو، جھوٹے، اندھے، بہرے، فاسق، فاجر، ظالم، گنہگار، بد کردار ہیں انہیں اللہ کی پکڑ سے اور اس کے عذابوں سے متنبہ کر دے “، جیسے قریش کے کفار وغیرہ۔
” بہت سی امتوں کو جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا تھا، نبیوں کا انکار کیا تھا، ہم نے ہلاک کر دیا۔ جن میں سے ایک بھی باقی نہیں بچا۔ ایک کی آواز بھی دنیا میں نہیں رہی “۔ «رِكْزًا» کے لفظی معنی ہلکی اور دھیمی آواز کے ہیں۔
صفحہ نمبر5173
مريم 19:97
اللہ تعالٰی کا امین فرشتہ ٭٭
فرمان ہے کہ ” جن کے دلوں میں توحید رچی ہوئی ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا نور ہے، ضروری بات ہے کہ ہم اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کر دیں گے “۔
چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے کہ ” میں فلاں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی فلاں انسان سے محبت رکھ “۔ اللہ تعالیٰ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ پھر آسمانوں میں ندا کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں انسان سے محبت رکھتا ہے، اے فرشتو! تم بھی اس سے محبت رکھو چنانچہ کل آسمانوں کے فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پر اتاری جاتی ہے۔ اور جب کسی بندے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ” اس سے میں ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ “، جبرائیل علیہ السلام بھی اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔ پھر آسمانوں میں ندا کر دیتے ہیں کہ فلاں دشمن رب ہے، تم سب اس سے بیزار رہنا چنانچہ آسمان والے اس سے بگڑ بیٹھتے ہیں۔ پھر وہی غضب اور ناراضگی زمین پر نازل ہوتی ہے ۔ [صحیح بخاری:3209]
صفحہ نمبر5170
مسند احمد میں ہے کہ جو بندہ اپنے مولا کی مرضی کا طالب ہو جاتا ہے اور اس کی خوشی کے کاموں میں مشغول ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ عزوجل جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ” میرا فلاں بندہ مجھے خوش کرنا چاہتا ہے۔ سنو میں اس سے خوش ہو گیا میں نے اپنی رحمتیں اس پر نازل کرنی شروع کر دیں “۔ پس جبرائیل علیہ السلام ندا کرتے ہیں کہ فلاں پر رحمت الٰہی ہو گئی۔ پھر حاملان عرش بھی یہی منادی کرتے ہیں۔ پھر ان کے پاس والے غرض ساتوں آسمانوں میں یہ آواز گونج جاتی ہے، پھر زمین پر اس کی مقبولیت اترتی ہے ۔ [مسند احمد:279/5:حسن] یہ حدیث غریب ہے۔
ایسی ہی ایک اور حدیث بھی مسند احمد میں غرابت والی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ محبت اور شہرت کسی کی برائی یا بھلائی کے ساتھ آسمانوں سے اللہ کی جانب سے اترتی ہے ۔ [مسند احمد:263/5:صحیح لغیرہ]
ابن ابی حاتم میں اسی قسم کی حدیث کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس آیت قرآنی کو پڑھنا بھی مروی ہے ۔ [صحیح مسلم:2637]
پس مطلب آیت کا یہ ہوا کہ نیک عمل کرنے والے ایمانداروں سے اللہ خود محبت کرتا ہے اور زمین پر بھی ان کی محبت اور مقبولیت اتاری جاتی ہے۔ مومن ان سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ ان کا ذکر خیر ہوتا ہے اور ان کی موت کے بعد بھی ان کی بہترین شہرت باقی رہتی ہے۔ مصرم بن حبان کہتے ہیں کہ جو بندہ سچے اور مخلص دل سے اللہ کی طرف جھکتا ہے، اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کو اس کی طرف جھکا دیتا ہے وہ اس سے محبت اور پیار کرنے لگتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے بندہ جو بھلائی برائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کی چادر اوڑھا دیتا ہے۔
صفحہ نمبر5171
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ایک شخص نے ارادہ کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کروں گا کہ تمام لوگوں میں میری نیکی کی شہرت ہو جائے اب وہ عبادت الٰہی کی طرف جھک پڑا۔ جب دیکھو نماز میں مسجد میں سب سے اول آئے اور سب کے بعد جائے اسی طرح سات ماہ اسے گزر گئے لیکن اس نے جب بھی سنا یہی سنا کہ لوگ اسے ریا کار کہتے ہیں۔ اس نے یہ حالت دیکھ کر اب اپنے جی میں عہد کر لیا کہ میں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے عمل کروں گا، کسی عمل میں تو نہ بڑھا لیکن خلوص کے ساتھ اعمال شروع کر دئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں میں ہر شخص کی زبان سے نکلنے لگا کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص پر رحم فرمائے اب تو وہ واقعی اللہ والا بن گیا ہے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔“
ابن جریر میں ہے کہ یہ آیت سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن یہ قول درست نہیں، اس لیے کہ یہ پوری سورت مکے میں نازل ہوئی ہے، ہجرت کے بعد اس سورت کی کسی آیت کا نازل ہونا ثابت نہیں۔ اور جو اثر امام صاحب نے وارد کیا ہے وہ سنداً بھی صحیح نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5172
” ہم نے اس قرآن کو اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیری زبان میں یعنی عربی زبان میں بالکل آسان کر کے نازل فرمایا ہے جو فصاحت و بلاغت والی بہترین زبان ہے تاکہ تو انہیں جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں، دلوں میں ایمان اور ظاہر میں نیک اعمال رکھتے ہیں، اللہ کی بشارتیں سنا دے اور جو حق سے ہٹے ہوئے، باطل پر مٹے ہوئے، استقامت سے دور، خود بینی میں مخمور، جھگڑالو، جھوٹے، اندھے، بہرے، فاسق، فاجر، ظالم، گنہگار، بد کردار ہیں انہیں اللہ کی پکڑ سے اور اس کے عذابوں سے متنبہ کر دے “، جیسے قریش کے کفار وغیرہ۔
” بہت سی امتوں کو جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا تھا، نبیوں کا انکار کیا تھا، ہم نے ہلاک کر دیا۔ جن میں سے ایک بھی باقی نہیں بچا۔ ایک کی آواز بھی دنیا میں نہیں رہی “۔ «رِكْزًا» کے لفظی معنی ہلکی اور دھیمی آواز کے ہیں۔
صفحہ نمبر5173
مريم 19:98
اللہ تعالٰی کا امین فرشتہ ٭٭
فرمان ہے کہ ” جن کے دلوں میں توحید رچی ہوئی ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا نور ہے، ضروری بات ہے کہ ہم اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کر دیں گے “۔
چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے کہ ” میں فلاں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی فلاں انسان سے محبت رکھ “۔ اللہ تعالیٰ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ پھر آسمانوں میں ندا کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں انسان سے محبت رکھتا ہے، اے فرشتو! تم بھی اس سے محبت رکھو چنانچہ کل آسمانوں کے فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پر اتاری جاتی ہے۔ اور جب کسی بندے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ” اس سے میں ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ “، جبرائیل علیہ السلام بھی اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔ پھر آسمانوں میں ندا کر دیتے ہیں کہ فلاں دشمن رب ہے، تم سب اس سے بیزار رہنا چنانچہ آسمان والے اس سے بگڑ بیٹھتے ہیں۔ پھر وہی غضب اور ناراضگی زمین پر نازل ہوتی ہے ۔ [صحیح بخاری:3209]
صفحہ نمبر5170
مسند احمد میں ہے کہ جو بندہ اپنے مولا کی مرضی کا طالب ہو جاتا ہے اور اس کی خوشی کے کاموں میں مشغول ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ عزوجل جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ” میرا فلاں بندہ مجھے خوش کرنا چاہتا ہے۔ سنو میں اس سے خوش ہو گیا میں نے اپنی رحمتیں اس پر نازل کرنی شروع کر دیں “۔ پس جبرائیل علیہ السلام ندا کرتے ہیں کہ فلاں پر رحمت الٰہی ہو گئی۔ پھر حاملان عرش بھی یہی منادی کرتے ہیں۔ پھر ان کے پاس والے غرض ساتوں آسمانوں میں یہ آواز گونج جاتی ہے، پھر زمین پر اس کی مقبولیت اترتی ہے ۔ [مسند احمد:279/5:حسن] یہ حدیث غریب ہے۔
ایسی ہی ایک اور حدیث بھی مسند احمد میں غرابت والی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ محبت اور شہرت کسی کی برائی یا بھلائی کے ساتھ آسمانوں سے اللہ کی جانب سے اترتی ہے ۔ [مسند احمد:263/5:صحیح لغیرہ]
ابن ابی حاتم میں اسی قسم کی حدیث کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس آیت قرآنی کو پڑھنا بھی مروی ہے ۔ [صحیح مسلم:2637]
پس مطلب آیت کا یہ ہوا کہ نیک عمل کرنے والے ایمانداروں سے اللہ خود محبت کرتا ہے اور زمین پر بھی ان کی محبت اور مقبولیت اتاری جاتی ہے۔ مومن ان سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ ان کا ذکر خیر ہوتا ہے اور ان کی موت کے بعد بھی ان کی بہترین شہرت باقی رہتی ہے۔ مصرم بن حبان کہتے ہیں کہ جو بندہ سچے اور مخلص دل سے اللہ کی طرف جھکتا ہے، اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کو اس کی طرف جھکا دیتا ہے وہ اس سے محبت اور پیار کرنے لگتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے بندہ جو بھلائی برائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کی چادر اوڑھا دیتا ہے۔
صفحہ نمبر5171
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ایک شخص نے ارادہ کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کروں گا کہ تمام لوگوں میں میری نیکی کی شہرت ہو جائے اب وہ عبادت الٰہی کی طرف جھک پڑا۔ جب دیکھو نماز میں مسجد میں سب سے اول آئے اور سب کے بعد جائے اسی طرح سات ماہ اسے گزر گئے لیکن اس نے جب بھی سنا یہی سنا کہ لوگ اسے ریا کار کہتے ہیں۔ اس نے یہ حالت دیکھ کر اب اپنے جی میں عہد کر لیا کہ میں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے عمل کروں گا، کسی عمل میں تو نہ بڑھا لیکن خلوص کے ساتھ اعمال شروع کر دئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں میں ہر شخص کی زبان سے نکلنے لگا کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص پر رحم فرمائے اب تو وہ واقعی اللہ والا بن گیا ہے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔“
ابن جریر میں ہے کہ یہ آیت سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن یہ قول درست نہیں، اس لیے کہ یہ پوری سورت مکے میں نازل ہوئی ہے، ہجرت کے بعد اس سورت کی کسی آیت کا نازل ہونا ثابت نہیں۔ اور جو اثر امام صاحب نے وارد کیا ہے وہ سنداً بھی صحیح نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5172
” ہم نے اس قرآن کو اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیری زبان میں یعنی عربی زبان میں بالکل آسان کر کے نازل فرمایا ہے جو فصاحت و بلاغت والی بہترین زبان ہے تاکہ تو انہیں جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں، دلوں میں ایمان اور ظاہر میں نیک اعمال رکھتے ہیں، اللہ کی بشارتیں سنا دے اور جو حق سے ہٹے ہوئے، باطل پر مٹے ہوئے، استقامت سے دور، خود بینی میں مخمور، جھگڑالو، جھوٹے، اندھے، بہرے، فاسق، فاجر، ظالم، گنہگار، بد کردار ہیں انہیں اللہ کی پکڑ سے اور اس کے عذابوں سے متنبہ کر دے “، جیسے قریش کے کفار وغیرہ۔
” بہت سی امتوں کو جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا تھا، نبیوں کا انکار کیا تھا، ہم نے ہلاک کر دیا۔ جن میں سے ایک بھی باقی نہیں بچا۔ ایک کی آواز بھی دنیا میں نہیں رہی “۔ «رِكْزًا» کے لفظی معنی ہلکی اور دھیمی آواز کے ہیں۔
صفحہ نمبر5173
طه 20:1
تفسیر سورۃ طہ:
امام الائمہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب التوحید میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال پہلے سورۃ طہ اور سورۃ یاسین کی تلاوت فرمائی، جسے سن کر فرشتے کہنے لگے وہ امت بہت ہی خوش نصیب ہے جس پر یہ کلام نزل ہو گا۔ وہ زبانیں یقیناً مستحق مبارکباد ہیں جن سے کلام اللہ کے یہ الفاظ ادا ہوں گے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:476/2:ضعیف و موضوع] یہ روایت غریب ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اور اس کے راوی ابراہیم بن مہاجر اور ان کے استاد پر جرح بھی ہے۔
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭
سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے]
یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:71]
صفحہ نمبر5176
حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف]
پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» [73-المزمل:20] ” جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو “
یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5177
حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔
تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔
صفحہ نمبر5178
حدیث میں ہے ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف]
مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں،
وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔
صفحہ نمبر5179
آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً]
یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔
صفحہ نمبر5180
جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6] ” اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ “
ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔
صفحہ نمبر5181
طه 20:2
تفسیر سورۃ طہ:
امام الائمہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب التوحید میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال پہلے سورۃ طہ اور سورۃ یاسین کی تلاوت فرمائی، جسے سن کر فرشتے کہنے لگے وہ امت بہت ہی خوش نصیب ہے جس پر یہ کلام نزل ہو گا۔ وہ زبانیں یقیناً مستحق مبارکباد ہیں جن سے کلام اللہ کے یہ الفاظ ادا ہوں گے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:476/2:ضعیف و موضوع] یہ روایت غریب ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اور اس کے راوی ابراہیم بن مہاجر اور ان کے استاد پر جرح بھی ہے۔
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭
سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے]
یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:71]
صفحہ نمبر5176
حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف]
پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» [73-المزمل:20] ” جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو “
یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5177
حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔
تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔
صفحہ نمبر5178
حدیث میں ہے ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف]
مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں،
وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔
صفحہ نمبر5179
آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً]
یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔
صفحہ نمبر5180
جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6] ” اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ “
ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔
صفحہ نمبر5181
طه 20:3
تفسیر سورۃ طہ:
امام الائمہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب التوحید میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال پہلے سورۃ طہ اور سورۃ یاسین کی تلاوت فرمائی، جسے سن کر فرشتے کہنے لگے وہ امت بہت ہی خوش نصیب ہے جس پر یہ کلام نزل ہو گا۔ وہ زبانیں یقیناً مستحق مبارکباد ہیں جن سے کلام اللہ کے یہ الفاظ ادا ہوں گے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:476/2:ضعیف و موضوع] یہ روایت غریب ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اور اس کے راوی ابراہیم بن مہاجر اور ان کے استاد پر جرح بھی ہے۔
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭
سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے]
یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:71]
صفحہ نمبر5176
حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف]
پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» [73-المزمل:20] ” جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو “
یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5177
حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔
تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔
صفحہ نمبر5178
حدیث میں ہے ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف]
مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں،
وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔
صفحہ نمبر5179
آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً]
یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔
صفحہ نمبر5180
جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6] ” اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ “
ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔
صفحہ نمبر5181
طه 20:4
تفسیر سورۃ طہ:
امام الائمہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب التوحید میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال پہلے سورۃ طہ اور سورۃ یاسین کی تلاوت فرمائی، جسے سن کر فرشتے کہنے لگے وہ امت بہت ہی خوش نصیب ہے جس پر یہ کلام نزل ہو گا۔ وہ زبانیں یقیناً مستحق مبارکباد ہیں جن سے کلام اللہ کے یہ الفاظ ادا ہوں گے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:476/2:ضعیف و موضوع] یہ روایت غریب ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اور اس کے راوی ابراہیم بن مہاجر اور ان کے استاد پر جرح بھی ہے۔
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭
سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے]
یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:71]
صفحہ نمبر5176
حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف]
پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» [73-المزمل:20] ” جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو “
یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5177
حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔
تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔
صفحہ نمبر5178
حدیث میں ہے ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف]
مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں،
وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔
صفحہ نمبر5179
آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً]
یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔
صفحہ نمبر5180
جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6] ” اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ “
ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔
صفحہ نمبر5181
طه 20:5
تفسیر سورۃ طہ:
امام الائمہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب التوحید میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال پہلے سورۃ طہ اور سورۃ یاسین کی تلاوت فرمائی، جسے سن کر فرشتے کہنے لگے وہ امت بہت ہی خوش نصیب ہے جس پر یہ کلام نزل ہو گا۔ وہ زبانیں یقیناً مستحق مبارکباد ہیں جن سے کلام اللہ کے یہ الفاظ ادا ہوں گے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:476/2:ضعیف و موضوع] یہ روایت غریب ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اور اس کے راوی ابراہیم بن مہاجر اور ان کے استاد پر جرح بھی ہے۔
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭
سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے]
یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:71]
صفحہ نمبر5176
حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف]
پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» [73-المزمل:20] ” جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو “
یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5177
حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔
تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔
صفحہ نمبر5178
حدیث میں ہے ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف]
مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں،
وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔
صفحہ نمبر5179
آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً]
یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔
صفحہ نمبر5180
جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6] ” اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ “
ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔
صفحہ نمبر5181
طه 20:6
تفسیر سورۃ طہ:
امام الائمہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب التوحید میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال پہلے سورۃ طہ اور سورۃ یاسین کی تلاوت فرمائی، جسے سن کر فرشتے کہنے لگے وہ امت بہت ہی خوش نصیب ہے جس پر یہ کلام نزل ہو گا۔ وہ زبانیں یقیناً مستحق مبارکباد ہیں جن سے کلام اللہ کے یہ الفاظ ادا ہوں گے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:476/2:ضعیف و موضوع] یہ روایت غریب ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اور اس کے راوی ابراہیم بن مہاجر اور ان کے استاد پر جرح بھی ہے۔
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭
سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے]
یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:71]
صفحہ نمبر5176
حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف]
پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» [73-المزمل:20] ” جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو “
یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5177
حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔
تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔
صفحہ نمبر5178
حدیث میں ہے ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف]
مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں،
وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔
صفحہ نمبر5179
آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً]
یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔
صفحہ نمبر5180
جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6] ” اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ “
ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔
صفحہ نمبر5181
طه 20:7
تفسیر سورۃ طہ:
امام الائمہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب التوحید میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال پہلے سورۃ طہ اور سورۃ یاسین کی تلاوت فرمائی، جسے سن کر فرشتے کہنے لگے وہ امت بہت ہی خوش نصیب ہے جس پر یہ کلام نزل ہو گا۔ وہ زبانیں یقیناً مستحق مبارکباد ہیں جن سے کلام اللہ کے یہ الفاظ ادا ہوں گے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:476/2:ضعیف و موضوع] یہ روایت غریب ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اور اس کے راوی ابراہیم بن مہاجر اور ان کے استاد پر جرح بھی ہے۔
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭
سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے]
یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:71]
صفحہ نمبر5176
حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف]
پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» [73-المزمل:20] ” جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو “
یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5177
حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔
تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔
صفحہ نمبر5178
حدیث میں ہے ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف]
مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں،
وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔
صفحہ نمبر5179
آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً]
یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔
صفحہ نمبر5180
جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6] ” اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ “
ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔
صفحہ نمبر5181
طه 20:8
تفسیر سورۃ طہ:
امام الائمہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب التوحید میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال پہلے سورۃ طہ اور سورۃ یاسین کی تلاوت فرمائی، جسے سن کر فرشتے کہنے لگے وہ امت بہت ہی خوش نصیب ہے جس پر یہ کلام نزل ہو گا۔ وہ زبانیں یقیناً مستحق مبارکباد ہیں جن سے کلام اللہ کے یہ الفاظ ادا ہوں گے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:476/2:ضعیف و موضوع] یہ روایت غریب ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اور اس کے راوی ابراہیم بن مہاجر اور ان کے استاد پر جرح بھی ہے۔
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭
سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے]
یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:71]
صفحہ نمبر5176
حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف]
پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» [73-المزمل:20] ” جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو “
یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5177
حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔
تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔
صفحہ نمبر5178
حدیث میں ہے ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف]
مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں،
وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔
صفحہ نمبر5179
آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً]
یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔
صفحہ نمبر5180
جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6] ” اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ “
ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔
صفحہ نمبر5181
طه 20:9
آگ کی تلاش ٭٭
یہاں سے موسیٰ علیہ السلام کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ آپ اس مدت کو پوری کر چکے تھے جو آپ کے اور آپ کے خسر صاحب کے درمیان طے ہوئی تھی اور آپ اپنے اہل و عیال کو لے کر دس سال سے زیادہ عرصے کے بعد اپنے وطن مصر کی طرف جا رہے تھے۔
سردی کی رات تھی راستہ بھول گئے تھے۔ پہاڑوں کی گھاٹیوں کے درمیان اندھیرا تھا، ابر چھایا ہوا تھا۔ ہر چند چقماق سے آگ نکالنا چاہی لیکن اس سے بالکل آگ نہ نکلی۔ ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو دائیں جانب کے پہاڑ پر کچھ آگ دکھائی دی تو بیوی صاحبہ سے فرمایا، اس طرف آگ سی نظر آ رہی ہے، میں جاتا ہوں کہ وہاں سے کچھ انگارے لے آؤں تاکہ تم سینک تاپ کرلو اور کچھ روشنی بھی ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں کوئی آدمی مل جائے جو راستہ بھی بتا دے۔ بہر صورت راستے کا پتہ یا آگ مل ہی جائے گی۔
صفحہ نمبر5189
طه 20:10
آگ کی تلاش ٭٭
یہاں سے موسیٰ علیہ السلام کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ آپ اس مدت کو پوری کر چکے تھے جو آپ کے اور آپ کے خسر صاحب کے درمیان طے ہوئی تھی اور آپ اپنے اہل و عیال کو لے کر دس سال سے زیادہ عرصے کے بعد اپنے وطن مصر کی طرف جا رہے تھے۔
سردی کی رات تھی راستہ بھول گئے تھے۔ پہاڑوں کی گھاٹیوں کے درمیان اندھیرا تھا، ابر چھایا ہوا تھا۔ ہر چند چقماق سے آگ نکالنا چاہی لیکن اس سے بالکل آگ نہ نکلی۔ ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو دائیں جانب کے پہاڑ پر کچھ آگ دکھائی دی تو بیوی صاحبہ سے فرمایا، اس طرف آگ سی نظر آ رہی ہے، میں جاتا ہوں کہ وہاں سے کچھ انگارے لے آؤں تاکہ تم سینک تاپ کرلو اور کچھ روشنی بھی ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں کوئی آدمی مل جائے جو راستہ بھی بتا دے۔ بہر صورت راستے کا پتہ یا آگ مل ہی جائے گی۔
صفحہ نمبر5189
طه 20:11
اللہ تعالٰی سے ہمکلامی ٭٭
جب موسیٰ علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ «فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» [28-القصص:30] ” اے موسیٰ! میں تیرا رب ہوں، تو جوتیاں اتار دے۔ “
یا تو اس لیے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لیے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسا کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لیے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں، اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ طویٰ اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور باربار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» [79-النازعات:16]
میں نے تجھے اپنا برگزیدہ کر لیا ہے، دنیا میں سے تجھے منتخب کر لیا ہے، اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے ممتاز فرما رہا ہوں، اس وقت کے روئے زمین کے تمام لوگوں سے تیرا مرتبہ بڑھا رہا ہوں۔ کہا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، جانتے بھی ہو کہ میں نے تجھے دوسرے تمام لوگوں میں سے مختار اور پسندیدہ کر کے شرف ہم کلامی کیوں بخشا؟ آپ نے جواب دیا اے اللہ مجھے اس کی وجہ معلوم نہیں، فرمایا گیا اس لیے کہ تیری طرح اور کوئی میری طرف نہیں جھکا۔ اب تو میری وحی کو کان لگا کر دھیان دے کر سن۔ میں ہی معبود ہوں کوئی اور نہیں۔ یہی پہلا فریضہ ہے تو صرف میری ہی عبادت کئے چلے جانا، کسی اور کی کسی قسم کی عبادت نہ کرنا۔ میری یاد کے لیے نمازیں قائم کرنا، میری یاد کا یہ بہترین اور افضل ترین طریقہ ہے یا یہ مطلب کہ جب میں یاد آؤں نماز پڑھو۔ جیسے حدیث میں ہے کہ تم میں سے اگر کسی کو نیند آ جائے یا غفلت ہو جائے تو جب یاد آ جائے نماز پڑھ لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے میری یاد کے وقت نماز قائم کرو۔ [صحیح بخاری:597]
بخاری و مسلم میں ہے جو شخص سوتے میں یا بھول میں نماز کا وقت گزار دے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ یاد آتے ہی نماز پڑھ لے، اس کے سوا اور کفارہ نہیں۔
صفحہ نمبر5191
طه 20:12
اللہ تعالٰی سے ہمکلامی ٭٭
جب موسیٰ علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ «فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» [28-القصص:30] ” اے موسیٰ! میں تیرا رب ہوں، تو جوتیاں اتار دے۔ “
یا تو اس لیے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لیے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسا کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لیے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں، اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ طویٰ اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور باربار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» [79-النازعات:16]
میں نے تجھے اپنا برگزیدہ کر لیا ہے، دنیا میں سے تجھے منتخب کر لیا ہے، اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے ممتاز فرما رہا ہوں، اس وقت کے روئے زمین کے تمام لوگوں سے تیرا مرتبہ بڑھا رہا ہوں۔ کہا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، جانتے بھی ہو کہ میں نے تجھے دوسرے تمام لوگوں میں سے مختار اور پسندیدہ کر کے شرف ہم کلامی کیوں بخشا؟ آپ نے جواب دیا اے اللہ مجھے اس کی وجہ معلوم نہیں، فرمایا گیا اس لیے کہ تیری طرح اور کوئی میری طرف نہیں جھکا۔ اب تو میری وحی کو کان لگا کر دھیان دے کر سن۔ میں ہی معبود ہوں کوئی اور نہیں۔ یہی پہلا فریضہ ہے تو صرف میری ہی عبادت کئے چلے جانا، کسی اور کی کسی قسم کی عبادت نہ کرنا۔ میری یاد کے لیے نمازیں قائم کرنا، میری یاد کا یہ بہترین اور افضل ترین طریقہ ہے یا یہ مطلب کہ جب میں یاد آؤں نماز پڑھو۔ جیسے حدیث میں ہے کہ تم میں سے اگر کسی کو نیند آ جائے یا غفلت ہو جائے تو جب یاد آ جائے نماز پڑھ لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے میری یاد کے وقت نماز قائم کرو۔ [صحیح بخاری:597]
بخاری و مسلم میں ہے جو شخص سوتے میں یا بھول میں نماز کا وقت گزار دے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ یاد آتے ہی نماز پڑھ لے، اس کے سوا اور کفارہ نہیں۔
صفحہ نمبر5191
طه 20:13
اللہ تعالٰی سے ہمکلامی ٭٭
جب موسیٰ علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ «فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» [28-القصص:30] ” اے موسیٰ! میں تیرا رب ہوں، تو جوتیاں اتار دے۔ “
یا تو اس لیے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لیے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسا کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لیے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں، اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ طویٰ اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور باربار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» [79-النازعات:16]
میں نے تجھے اپنا برگزیدہ کر لیا ہے، دنیا میں سے تجھے منتخب کر لیا ہے، اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے ممتاز فرما رہا ہوں، اس وقت کے روئے زمین کے تمام لوگوں سے تیرا مرتبہ بڑھا رہا ہوں۔ کہا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، جانتے بھی ہو کہ میں نے تجھے دوسرے تمام لوگوں میں سے مختار اور پسندیدہ کر کے شرف ہم کلامی کیوں بخشا؟ آپ نے جواب دیا اے اللہ مجھے اس کی وجہ معلوم نہیں، فرمایا گیا اس لیے کہ تیری طرح اور کوئی میری طرف نہیں جھکا۔ اب تو میری وحی کو کان لگا کر دھیان دے کر سن۔ میں ہی معبود ہوں کوئی اور نہیں۔ یہی پہلا فریضہ ہے تو صرف میری ہی عبادت کئے چلے جانا، کسی اور کی کسی قسم کی عبادت نہ کرنا۔ میری یاد کے لیے نمازیں قائم کرنا، میری یاد کا یہ بہترین اور افضل ترین طریقہ ہے یا یہ مطلب کہ جب میں یاد آؤں نماز پڑھو۔ جیسے حدیث میں ہے کہ تم میں سے اگر کسی کو نیند آ جائے یا غفلت ہو جائے تو جب یاد آ جائے نماز پڑھ لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے میری یاد کے وقت نماز قائم کرو۔ [صحیح بخاری:597]
بخاری و مسلم میں ہے جو شخص سوتے میں یا بھول میں نماز کا وقت گزار دے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ یاد آتے ہی نماز پڑھ لے، اس کے سوا اور کفارہ نہیں۔
صفحہ نمبر5191
طه 20:14
اللہ تعالٰی سے ہمکلامی ٭٭
جب موسیٰ علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ «فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» [28-القصص:30] ” اے موسیٰ! میں تیرا رب ہوں، تو جوتیاں اتار دے۔ “
یا تو اس لیے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لیے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسا کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لیے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں، اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ طویٰ اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور باربار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» [79-النازعات:16]
میں نے تجھے اپنا برگزیدہ کر لیا ہے، دنیا میں سے تجھے منتخب کر لیا ہے، اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے ممتاز فرما رہا ہوں، اس وقت کے روئے زمین کے تمام لوگوں سے تیرا مرتبہ بڑھا رہا ہوں۔ کہا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، جانتے بھی ہو کہ میں نے تجھے دوسرے تمام لوگوں میں سے مختار اور پسندیدہ کر کے شرف ہم کلامی کیوں بخشا؟ آپ نے جواب دیا اے اللہ مجھے اس کی وجہ معلوم نہیں، فرمایا گیا اس لیے کہ تیری طرح اور کوئی میری طرف نہیں جھکا۔ اب تو میری وحی کو کان لگا کر دھیان دے کر سن۔ میں ہی معبود ہوں کوئی اور نہیں۔ یہی پہلا فریضہ ہے تو صرف میری ہی عبادت کئے چلے جانا، کسی اور کی کسی قسم کی عبادت نہ کرنا۔ میری یاد کے لیے نمازیں قائم کرنا، میری یاد کا یہ بہترین اور افضل ترین طریقہ ہے یا یہ مطلب کہ جب میں یاد آؤں نماز پڑھو۔ جیسے حدیث میں ہے کہ تم میں سے اگر کسی کو نیند آ جائے یا غفلت ہو جائے تو جب یاد آ جائے نماز پڑھ لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے میری یاد کے وقت نماز قائم کرو۔ [صحیح بخاری:597]
بخاری و مسلم میں ہے جو شخص سوتے میں یا بھول میں نماز کا وقت گزار دے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ یاد آتے ہی نماز پڑھ لے، اس کے سوا اور کفارہ نہیں۔
صفحہ نمبر5191
طه 20:15
باب
قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ ممکن ہے میں اس کے وقت کے صحیح علم کو ظاہر نہ کروں۔ ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» کے بعد «مِنْ نَّفْسِیْ» کے لفظ بھی ہیں کیونکہ اللہ کی ذات سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ یعنی اس کا علم بجز اپنے کسی کو نہیں دوں گا۔ پس روئے زمین پر کوئی ایسا نہیں ہوا جسے قیامت کے قائم ہونے کا مقررہ وقت معلوم ہو۔ یہ وہ چیز ہے کہ اگر ہو سکے تو خود میں اپنے سے بھی اسے چھپا دوں لیکن رب سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ چنانچہ یہ ملائکہ سے پوشیدہ ہے انبیاء اس سے بےعلم ہیں۔
جیسے فرمان ہے «قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ ۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ» [27-النمل:65] ” زمین و آسمان والوں میں سے سوائے اللہ واحد کے کوئی اور غیب دان نہیں۔ “
اور آیت میں ہے «ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً» [7-الأعراف:187] قیامت زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، وہ اچانک آ جائے گی یعنی اس کا علم کسی کو نہیں۔
ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» ہے۔ ورقہ فرماتے ہیں مجھے سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اسی طرح پڑھایا ہے، اس کے معنی ہیں «اَظْھَرَھَا»، اس دن ہر عامل کو اپنے عمل کا بدلہ دیا جائے گا خواہ ذرہ برابر نیکی ہو، خواہ بدی ہو، اپنے کرتوت کا بدلہ اس دن ضرور ملنا ہے۔
پس کسی کو بھی بے ایمان لوگ بہکا نہ دیں۔ قیامت کے منکر، دنیا کے مفتوں، مولا کے نافرمان، خواہش کے غلام، کسی اللہ کے بندے کے اس پاک عقیدے میں اسے تزلزل پیدا نہ کرنے پائیں۔ اگر وہ اپنی چاہت میں کامیاب ہو گئے تو یہ غارت ہوا اور نقصان میں پڑا۔
صفحہ نمبر5195
طه 20:16
باب
قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ ممکن ہے میں اس کے وقت کے صحیح علم کو ظاہر نہ کروں۔ ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» کے بعد «مِنْ نَّفْسِیْ» کے لفظ بھی ہیں کیونکہ اللہ کی ذات سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ یعنی اس کا علم بجز اپنے کسی کو نہیں دوں گا۔ پس روئے زمین پر کوئی ایسا نہیں ہوا جسے قیامت کے قائم ہونے کا مقررہ وقت معلوم ہو۔ یہ وہ چیز ہے کہ اگر ہو سکے تو خود میں اپنے سے بھی اسے چھپا دوں لیکن رب سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ چنانچہ یہ ملائکہ سے پوشیدہ ہے انبیاء اس سے بےعلم ہیں۔
جیسے فرمان ہے «قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ ۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ» [27-النمل:65] ” زمین و آسمان والوں میں سے سوائے اللہ واحد کے کوئی اور غیب دان نہیں۔ “
اور آیت میں ہے «ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً» [7-الأعراف:187] قیامت زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، وہ اچانک آ جائے گی یعنی اس کا علم کسی کو نہیں۔
ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» ہے۔ ورقہ فرماتے ہیں مجھے سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اسی طرح پڑھایا ہے، اس کے معنی ہیں «اَظْھَرَھَا»، اس دن ہر عامل کو اپنے عمل کا بدلہ دیا جائے گا خواہ ذرہ برابر نیکی ہو، خواہ بدی ہو، اپنے کرتوت کا بدلہ اس دن ضرور ملنا ہے۔
پس کسی کو بھی بے ایمان لوگ بہکا نہ دیں۔ قیامت کے منکر، دنیا کے مفتوں، مولا کے نافرمان، خواہش کے غلام، کسی اللہ کے بندے کے اس پاک عقیدے میں اسے تزلزل پیدا نہ کرنے پائیں۔ اگر وہ اپنی چاہت میں کامیاب ہو گئے تو یہ غارت ہوا اور نقصان میں پڑا۔
صفحہ نمبر5195
طه 20:17
موسیٰ علیہ السلام کو معجزات ملے ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کے ایک بہت بڑے اور صاف کھلے معجزے کا ذکر ہو رہا ہے جو بغیر اللہ کی قدرت کے ناممکن اور جو غیر نبی کے ہاتھ پر بھی ناممکن۔ طور پہاڑ پر دریافت ہو رہا ہے کہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ یہ سوال اس لیے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی گھبراہٹ دور ہو جائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سوال بطور تقریر کے ہے یعنی تیرے ہاتھ میں لکڑی ہی ہے، یہ جیسی کچھ ہے، تجھے معلوم ہے، اب یہ جو ہو جائے گی، وہ دیکھ لینا۔
اس سوال کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام عرض کرتے ہیں، یہ میری اپنی لکڑی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں یعنی چلنے میں مجھے یہ سہارا دیتی ہے، اس سے میں اپنی بکریوں کا چارہ درخت سے جھاڑ لیتا ہوں۔ ایسی لکڑیوں میں ذرا مڑا ہوا لوہا لگا لیا کرتے ہیں تاکہ پتے پھل آسانی سے اتر آئیں اور لکڑی ٹوٹے بھی نہیں۔ اور بھی بہت سے فوائد اس میں ہیں۔ ان فوائد کے بیان میں بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہی لکڑی رات کے وقت روشن چراغ بن جاتی تھی۔ دن کو جب آپ سو جاتے تو یہی لکڑی آپ کی بکریوں کی رکھوالی کرتی، جہاں کہیں سایہ دار جگہ نہ ہوتی آپ اسے گاڑ دیتے یہ خیمے کی طرح آپ پر سایہ کرتی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن بظاہر یہ قول بنی اسرائیل کا افسانہ معلوم ہوتا ہے ورنہ پھر آج اسے بصورت سانپ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام اس قدر کیوں گھبراتے؟ وہ تو اس لکڑی کے عجائبات دیکھتے چلے آتے تھے۔ پھر بعض کا قول ہے کہ دراصل یہ لکڑی آدم علیہ السلام کی تھی۔ کوئی کہتا ہے یہی لکڑی قیامت کے قریب دابتہ الارض کی صورت میں ظاہر ہو گی۔ کہتے ہیں اس کا نام ماشا تھا۔ اللہ ہی جانے ان اقوال میں کہاں تک جان ہے؟
صفحہ نمبر5197
لاٹھی اژدھا بن گئی ٭٭
صفحہ نمبر5198
طه 20:18
موسیٰ علیہ السلام کو معجزات ملے ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کے ایک بہت بڑے اور صاف کھلے معجزے کا ذکر ہو رہا ہے جو بغیر اللہ کی قدرت کے ناممکن اور جو غیر نبی کے ہاتھ پر بھی ناممکن۔ طور پہاڑ پر دریافت ہو رہا ہے کہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ یہ سوال اس لیے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی گھبراہٹ دور ہو جائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سوال بطور تقریر کے ہے یعنی تیرے ہاتھ میں لکڑی ہی ہے، یہ جیسی کچھ ہے، تجھے معلوم ہے، اب یہ جو ہو جائے گی، وہ دیکھ لینا۔
اس سوال کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام عرض کرتے ہیں، یہ میری اپنی لکڑی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں یعنی چلنے میں مجھے یہ سہارا دیتی ہے، اس سے میں اپنی بکریوں کا چارہ درخت سے جھاڑ لیتا ہوں۔ ایسی لکڑیوں میں ذرا مڑا ہوا لوہا لگا لیا کرتے ہیں تاکہ پتے پھل آسانی سے اتر آئیں اور لکڑی ٹوٹے بھی نہیں۔ اور بھی بہت سے فوائد اس میں ہیں۔ ان فوائد کے بیان میں بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہی لکڑی رات کے وقت روشن چراغ بن جاتی تھی۔ دن کو جب آپ سو جاتے تو یہی لکڑی آپ کی بکریوں کی رکھوالی کرتی، جہاں کہیں سایہ دار جگہ نہ ہوتی آپ اسے گاڑ دیتے یہ خیمے کی طرح آپ پر سایہ کرتی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن بظاہر یہ قول بنی اسرائیل کا افسانہ معلوم ہوتا ہے ورنہ پھر آج اسے بصورت سانپ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام اس قدر کیوں گھبراتے؟ وہ تو اس لکڑی کے عجائبات دیکھتے چلے آتے تھے۔ پھر بعض کا قول ہے کہ دراصل یہ لکڑی آدم علیہ السلام کی تھی۔ کوئی کہتا ہے یہی لکڑی قیامت کے قریب دابتہ الارض کی صورت میں ظاہر ہو گی۔ کہتے ہیں اس کا نام ماشا تھا۔ اللہ ہی جانے ان اقوال میں کہاں تک جان ہے؟
صفحہ نمبر5197
لاٹھی اژدھا بن گئی ٭٭
صفحہ نمبر5198
طه 20:19
موسیٰ علیہ السلام کو معجزات ملے ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کے ایک بہت بڑے اور صاف کھلے معجزے کا ذکر ہو رہا ہے جو بغیر اللہ کی قدرت کے ناممکن اور جو غیر نبی کے ہاتھ پر بھی ناممکن۔ طور پہاڑ پر دریافت ہو رہا ہے کہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ یہ سوال اس لیے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی گھبراہٹ دور ہو جائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سوال بطور تقریر کے ہے یعنی تیرے ہاتھ میں لکڑی ہی ہے، یہ جیسی کچھ ہے، تجھے معلوم ہے، اب یہ جو ہو جائے گی، وہ دیکھ لینا۔
اس سوال کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام عرض کرتے ہیں، یہ میری اپنی لکڑی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں یعنی چلنے میں مجھے یہ سہارا دیتی ہے، اس سے میں اپنی بکریوں کا چارہ درخت سے جھاڑ لیتا ہوں۔ ایسی لکڑیوں میں ذرا مڑا ہوا لوہا لگا لیا کرتے ہیں تاکہ پتے پھل آسانی سے اتر آئیں اور لکڑی ٹوٹے بھی نہیں۔ اور بھی بہت سے فوائد اس میں ہیں۔ ان فوائد کے بیان میں بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہی لکڑی رات کے وقت روشن چراغ بن جاتی تھی۔ دن کو جب آپ سو جاتے تو یہی لکڑی آپ کی بکریوں کی رکھوالی کرتی، جہاں کہیں سایہ دار جگہ نہ ہوتی آپ اسے گاڑ دیتے یہ خیمے کی طرح آپ پر سایہ کرتی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن بظاہر یہ قول بنی اسرائیل کا افسانہ معلوم ہوتا ہے ورنہ پھر آج اسے بصورت سانپ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام اس قدر کیوں گھبراتے؟ وہ تو اس لکڑی کے عجائبات دیکھتے چلے آتے تھے۔ پھر بعض کا قول ہے کہ دراصل یہ لکڑی آدم علیہ السلام کی تھی۔ کوئی کہتا ہے یہی لکڑی قیامت کے قریب دابتہ الارض کی صورت میں ظاہر ہو گی۔ کہتے ہیں اس کا نام ماشا تھا۔ اللہ ہی جانے ان اقوال میں کہاں تک جان ہے؟
صفحہ نمبر5197
لاٹھی اژدھا بن گئی ٭٭
صفحہ نمبر5198
طه 20:20
باب
” پہلا معجزہ “ موسیٰ علیہ السلام کو لکڑی کا لکڑی ہونا جتا کر انہیں بخوبی بیدار اور ہوشیار کر کے حکم ملا کہ اسے زمین پر ڈال دو۔ زمین پر پڑتے ہی وہ ایک زبردست اژدھے کی صورت میں پھنپھناتی ہوئی ادھر ادھر چلنے پھرنے بلکہ دوڑنے بھاگنے لگی۔ ایسا خوفناک اژدھا اس سے پہلے کسی نے دیکھا ہی نہ تھا۔ اس کی تو یہ حالت تھی کہ ایک درخت سامنے آ گیا تو یہ اسے ہضم کر گیا۔ ایک پتھر کی چٹان راستے میں آ گئی تو اس کا لقمہ بنا گیا۔ یہ حال دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام الٹے پاؤں بھاگے۔ آواز دی گئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) پکڑ لے لیکن ہمت نہ پڑی، پھر فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) ڈر نہیں پکڑ لے پھر بھی جھجک باقی رہی۔ تیسری مرتبہ فرمایا تو ہمارے امن میں ہے، اب ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا۔
کہتے ہیں فرمان الٰہی کے ساتھ ہی آپ نے لکڑی زمین پر ڈال دی، پھر ادھر ادھر آپ کی نگاہ ہو گئی، اب جو نظر ڈالی بجائے لکڑی کے ایک خوفناک اژدھا دکھائی دیا جو اس طرح چل پھر رہا ہے جیسے کسی کی جستجو میں ہو۔ گابھن اونٹنی جیسے بڑے بڑے پتھروں کو، آسمان سے باتیں کرتے ہوئے اونچے اونچے درختوں کو ایک لقمے میں ہی پیٹ میں پہنچا رہا ہے، آنکھیں انگاروں کی طرح چمک رہی ہیں۔ اس ہیبت ناک خونخوار اژدھے کو دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سہم گئے اور پیٹھ موڑ کر زور سے بھاگے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی ہمکلامی یاد آ گئی تو شرما کر ٹھہر گئے، وہیں آواز آئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) لوٹ کر وہیں آ جاؤ جہاں تھے، آپ لوٹے لیکن نہایت خوفزدہ تھے۔
تو حکم ہوا کہ اپنے داہنے ہاتھ سے اسے تھام لو، کچھ بھی خوف نہ کرو، ہم اسے اس کی اسی اگلی حالت میں لوٹا دیں گے۔ اس وقت موسیٰ علیہ السلام صوف کا کمبل اوڑھے ہوئے تھے جسے ایک کانٹے سے اٹکا رکھا تھا۔ آپ نے اسی کمبل کو اپنے ہاتھ پر لپیٹ کر اس ہیبت ناک اژدھے کو پکڑنا چاہا تو فرشتے نے کہا موسیٰ علیہ السلام اگر اللہ تعالیٰ اسے کاٹنے کا حکم دیدے تو کیا تیرا یہ کمبل بچا سکتا ہے؟ آپ نے جواب دیا ہرگز نہیں، لیکن یہ حرکت مجھ سے بہ سبب میرے ضعف کے سرزد ہو گئی، میں ضعیف اور کمزور ہی پیدا کیا گیا ہوں۔ اب دلیری کے ساتھ کمبل ہٹا کر ہاتھ بڑھا کر اس کے سر کو تھام لیا اسی وقت وہ اژدھا پھر لکڑی بن گیا جیسے پہلے تھا۔ اس وقت جب کہ آپ اس گھاٹی پر چڑھ رہے تھے اور آپ کے ہاتھ میں یہ لکڑی تھی جس پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، اسی حال میں آپ نے پہلے دیکھا تھا اسی حالت پر اب ہاتھ میں بصورت عصا موجود تھا۔
صفحہ نمبر5201
طه 20:21
باب
” پہلا معجزہ “ موسیٰ علیہ السلام کو لکڑی کا لکڑی ہونا جتا کر انہیں بخوبی بیدار اور ہوشیار کر کے حکم ملا کہ اسے زمین پر ڈال دو۔ زمین پر پڑتے ہی وہ ایک زبردست اژدھے کی صورت میں پھنپھناتی ہوئی ادھر ادھر چلنے پھرنے بلکہ دوڑنے بھاگنے لگی۔ ایسا خوفناک اژدھا اس سے پہلے کسی نے دیکھا ہی نہ تھا۔ اس کی تو یہ حالت تھی کہ ایک درخت سامنے آ گیا تو یہ اسے ہضم کر گیا۔ ایک پتھر کی چٹان راستے میں آ گئی تو اس کا لقمہ بنا گیا۔ یہ حال دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام الٹے پاؤں بھاگے۔ آواز دی گئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) پکڑ لے لیکن ہمت نہ پڑی، پھر فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) ڈر نہیں پکڑ لے پھر بھی جھجک باقی رہی۔ تیسری مرتبہ فرمایا تو ہمارے امن میں ہے، اب ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا۔
کہتے ہیں فرمان الٰہی کے ساتھ ہی آپ نے لکڑی زمین پر ڈال دی، پھر ادھر ادھر آپ کی نگاہ ہو گئی، اب جو نظر ڈالی بجائے لکڑی کے ایک خوفناک اژدھا دکھائی دیا جو اس طرح چل پھر رہا ہے جیسے کسی کی جستجو میں ہو۔ گابھن اونٹنی جیسے بڑے بڑے پتھروں کو، آسمان سے باتیں کرتے ہوئے اونچے اونچے درختوں کو ایک لقمے میں ہی پیٹ میں پہنچا رہا ہے، آنکھیں انگاروں کی طرح چمک رہی ہیں۔ اس ہیبت ناک خونخوار اژدھے کو دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سہم گئے اور پیٹھ موڑ کر زور سے بھاگے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی ہمکلامی یاد آ گئی تو شرما کر ٹھہر گئے، وہیں آواز آئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) لوٹ کر وہیں آ جاؤ جہاں تھے، آپ لوٹے لیکن نہایت خوفزدہ تھے۔
تو حکم ہوا کہ اپنے داہنے ہاتھ سے اسے تھام لو، کچھ بھی خوف نہ کرو، ہم اسے اس کی اسی اگلی حالت میں لوٹا دیں گے۔ اس وقت موسیٰ علیہ السلام صوف کا کمبل اوڑھے ہوئے تھے جسے ایک کانٹے سے اٹکا رکھا تھا۔ آپ نے اسی کمبل کو اپنے ہاتھ پر لپیٹ کر اس ہیبت ناک اژدھے کو پکڑنا چاہا تو فرشتے نے کہا موسیٰ علیہ السلام اگر اللہ تعالیٰ اسے کاٹنے کا حکم دیدے تو کیا تیرا یہ کمبل بچا سکتا ہے؟ آپ نے جواب دیا ہرگز نہیں، لیکن یہ حرکت مجھ سے بہ سبب میرے ضعف کے سرزد ہو گئی، میں ضعیف اور کمزور ہی پیدا کیا گیا ہوں۔ اب دلیری کے ساتھ کمبل ہٹا کر ہاتھ بڑھا کر اس کے سر کو تھام لیا اسی وقت وہ اژدھا پھر لکڑی بن گیا جیسے پہلے تھا۔ اس وقت جب کہ آپ اس گھاٹی پر چڑھ رہے تھے اور آپ کے ہاتھ میں یہ لکڑی تھی جس پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، اسی حال میں آپ نے پہلے دیکھا تھا اسی حالت پر اب ہاتھ میں بصورت عصا موجود تھا۔
صفحہ نمبر5201
طه 20:22
باب
” پہلا معجزہ “ موسیٰ علیہ السلام کو لکڑی کا لکڑی ہونا جتا کر انہیں بخوبی بیدار اور ہوشیار کر کے حکم ملا کہ اسے زمین پر ڈال دو۔ زمین پر پڑتے ہی وہ ایک زبردست اژدھے کی صورت میں پھنپھناتی ہوئی ادھر ادھر چلنے پھرنے بلکہ دوڑنے بھاگنے لگی۔ ایسا خوفناک اژدھا اس سے پہلے کسی نے دیکھا ہی نہ تھا۔ اس کی تو یہ حالت تھی کہ ایک درخت سامنے آ گیا تو یہ اسے ہضم کر گیا۔ ایک پتھر کی چٹان راستے میں آ گئی تو اس کا لقمہ بنا گیا۔ یہ حال دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام الٹے پاؤں بھاگے۔ آواز دی گئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) پکڑ لے لیکن ہمت نہ پڑی، پھر فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) ڈر نہیں پکڑ لے پھر بھی جھجک باقی رہی۔ تیسری مرتبہ فرمایا تو ہمارے امن میں ہے، اب ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا۔
کہتے ہیں فرمان الٰہی کے ساتھ ہی آپ نے لکڑی زمین پر ڈال دی، پھر ادھر ادھر آپ کی نگاہ ہو گئی، اب جو نظر ڈالی بجائے لکڑی کے ایک خوفناک اژدھا دکھائی دیا جو اس طرح چل پھر رہا ہے جیسے کسی کی جستجو میں ہو۔ گابھن اونٹنی جیسے بڑے بڑے پتھروں کو، آسمان سے باتیں کرتے ہوئے اونچے اونچے درختوں کو ایک لقمے میں ہی پیٹ میں پہنچا رہا ہے، آنکھیں انگاروں کی طرح چمک رہی ہیں۔ اس ہیبت ناک خونخوار اژدھے کو دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سہم گئے اور پیٹھ موڑ کر زور سے بھاگے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی ہمکلامی یاد آ گئی تو شرما کر ٹھہر گئے، وہیں آواز آئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) لوٹ کر وہیں آ جاؤ جہاں تھے، آپ لوٹے لیکن نہایت خوفزدہ تھے۔
تو حکم ہوا کہ اپنے داہنے ہاتھ سے اسے تھام لو، کچھ بھی خوف نہ کرو، ہم اسے اس کی اسی اگلی حالت میں لوٹا دیں گے۔ اس وقت موسیٰ علیہ السلام صوف کا کمبل اوڑھے ہوئے تھے جسے ایک کانٹے سے اٹکا رکھا تھا۔ آپ نے اسی کمبل کو اپنے ہاتھ پر لپیٹ کر اس ہیبت ناک اژدھے کو پکڑنا چاہا تو فرشتے نے کہا موسیٰ علیہ السلام اگر اللہ تعالیٰ اسے کاٹنے کا حکم دیدے تو کیا تیرا یہ کمبل بچا سکتا ہے؟ آپ نے جواب دیا ہرگز نہیں، لیکن یہ حرکت مجھ سے بہ سبب میرے ضعف کے سرزد ہو گئی، میں ضعیف اور کمزور ہی پیدا کیا گیا ہوں۔ اب دلیری کے ساتھ کمبل ہٹا کر ہاتھ بڑھا کر اس کے سر کو تھام لیا اسی وقت وہ اژدھا پھر لکڑی بن گیا جیسے پہلے تھا۔ اس وقت جب کہ آپ اس گھاٹی پر چڑھ رہے تھے اور آپ کے ہاتھ میں یہ لکڑی تھی جس پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، اسی حال میں آپ نے پہلے دیکھا تھا اسی حالت پر اب ہاتھ میں بصورت عصا موجود تھا۔
صفحہ نمبر5201
طه 20:23
معجزات کی نوعیت ٭٭
” دوسرا معجزہ “ موسیٰ علیہ السلام کو دوسرا معجزہ دیا جاتا ہے۔ حکم ہوتا ہے کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال کر پھر اسے نکال لو تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا روشن بن کر نکلے گا۔ یہ نہیں کہ برص کی سفیدی ہو یا کوئی بیماری اور عیب ہو۔
چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے جب ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چراغ کی طرح روشن نکلا جس سے آپ کا یہ یقین کہ آپ اللہ تعالیٰ سے کلام کر رہے ہیں، اور بڑھ گیا۔ یہ دونوں معجزے یہیں اسی لیے ملے تھے کہ آپ اللہ کی ان زبردست نشانیوں کو دیکھ کر یقین کر لیں۔
صفحہ نمبر5204
طه 20:24
فرعون کے سامنے کلمہ حق ٭٭
پھر حکم ہوا کہ فرعون نے ہماری بغاوت پر کمر کس لی ہے، اس کے پاس جا کر اسے سمجھاؤ۔ وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو قریب ہونے کا حکم دیا یہاں تک کہ آپ اس درخت کے تنے سے لگ کر کھڑے ہو گئے، دل ٹھہر گیا، خوف و خطر دور ہو گیا۔
دونوں ہاتھ اپنی لکڑی پر ٹکا کر سرجھکا کر گردن خم کر کے با ادب ارشاد الٰہی سننے لگے تو فرمایا گیا کہ ملک مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف ہمارا پیغام لے کر جاؤ، یہیں سے تم بھاگ کر آئے ہو۔ اس سے کہو کہ وہ ہماری عبادت کرے، کسی کو شریک نہ بنائے، بنو اسرائیل کے ساتھ سلوک و احسان کرے، انہیں تکلیف اور ایذاء نہ دے۔ فرعون بڑا باغی ہو گیا ہے، دنیا کا مفتون بن کر آخرت کو فراموش کر بیٹھا ہے اور اپنے پیدا کرنے والے کو بھول گیا ہے، تو میری رسالت لے کر اس کے پاس جا۔ میرے کان اور میری آنکھیں تیرے ساتھ ہیں، میں تجھے دیکھتا بھالتا اور تیری باتیں سنتا سناتا رہوں گا۔ میری مدد تیرے پاس ہو گی، میں نے اپنی طرف سے تجھے حجتیں عطا فرما دی ہیں اور تجھے قوی اور مضبوط کر دیا ہے، تو اکیلا ہی میرا پورا لشکر ہے۔ اپنے ایک ضعیف بندے کی طرف تجھے بھیج رہا ہوں جو میری نعمتیں پا کر پھول گیا ہے اور میری پکڑ کو بھول گیا ہے، دنیا میں پھنس گیا اور غرور و تکبر میں دھنس گیا ہے۔ میری ربوبیت سے بیزار، میری الوہیت سے برسر پیکار ہے۔ مجھ سے آنکھیں پھیر لی ہیں، دیدے بدل لیے ہیں۔ میری پکڑ سے غافل ہو گیا ہے۔ میرے عذابوں سے بیخوف ہو گیا ہے۔ مجھے اپنی عزت کی قسم اگر میں اسے ڈھیل دینا نہ چاہتا تو آسمان اس پر ٹوٹ پڑتے زمین اسے نگل جاتی دریا اسے ڈبو دیتے لیکن چونکہ وہ میرے مقابلے کا نہیں، ہر وقت میرے بس میں ہے، میں اسے ڈھیل دیے ہوئے ہوں اور اس سے بےپرواہی برت رہا ہوں۔ میں ہوں بھی ساری مخلوق سے بےپرواہ۔ حق تو یہ ہے کہ بےپروائی صرف میری ہی صفت ہے۔ تو میری رسالت ادا کر، اسے میری عبادت کی ہدایت کر، اسے توحید و اخلاص کی دعوت دے، میری نعمتیں یاد دلا۔ میرے عذابوں سے دھمکا، میرے غضب سے ہوشیار کر دے۔ جب میں غصہ کر بیٹھتا ہوں تو امن نہیں ملتا۔ اسے نرمی سے سمجھا تاکہ نہ ماننے کا عذر ٹوٹ جائے۔
صفحہ نمبر5205
میری بخشش کی، میرے کرم و رحم کی اسے خبر دے۔ کہہ دے کہ اب بھی اگر میری طرف جھکے گا تو میں تمام بد اعمالیوں سے قطع نظر کر لوں گا۔ میری رحمت میرے غضب سے بہت زیادہ وسیع ہے۔ خبردار اس کا دنیوی ٹھاٹھ دیکھ کر رعب میں نہ آ جانا، اس کی چوٹی میرے ہاتھ میں ہے۔ اس کی زبان چل نہیں سکتی اس کے ہاتھ اٹھ نہیں سکتے اس کی آنکھ پھڑک نہیں سکتی اس کا سانس چل نہیں سکتا جب تک میری اجازت نہ ہو۔ اسے سمجھا کہ میری مان لے تو میں بھی مغفرت سے پیش آؤں گا۔
چار سو سال اسے سرکشی کرتے، میرے بندوں پر ظلم ڈھاتے، میری عبادت سے لوگوں کو روکتے گزر چکے ہیں۔ تاہم نہ میں نے اس پر بارش بند کی نہ پیداوار روکی نہ بیمار ڈالا نہ بوڑھا کیا نہ مغلوب کیا۔ اگر چاہتا ظلم کے ساتھ ہی پکڑ لیتا لیکن میرا حلم بہت بڑھا ہوا ہے۔ تو اپنے بھائی کے ساتھ مل کر اس سے پوری طرح جہاد کر اور میری مدد پر بھروسہ رکھ، میں اگر چاہوں تو اپنے لشکروں کو بھیج کر اس کا بھیجا نکال دوں۔ لیکن اس بے بنیاد بندے کو دکھانا چاہتا ہوں کہ میری جماعت کا ایک بھی روئے زمین کی طاقتوں پر غالب آ سکتا ہے۔ مدد میرے اختیار میں ہے۔ دنیاوی جاہ و جلال کی تو پرواہ نہ کرنا بلکہ آنکھ بھر کر دیکھنا بھی نہیں۔ میں اگر چاہوں تو تمہیں اتنا دے دوں کہ فرعون کی دولت اس کے پاسنگ میں بھی نہ آ سکے لیکن میں اپنے بندوں کو عموماً غریب ہی رکھتا ہوں تاکہ ان کی آخرت سنوری رہے۔ یہ اس لیے نہیں ہوتا کہ وہ میرے نزدیک قابل اکرام نہیں بلکہ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ دونوں جہان کی نعمتیں آنے والے جہان میں جمع مل جائیں۔ میرے نزدیک بندے کا کوئی عمل اتنا وقعت والا نہیں جتنا زہد اور دنیا سے دوری۔ میں اپنے خاص بندوں کو سکینت اور خشوع خضوع کا لباس پہنا دیتا ہوں، ان کے چہرے سجدوں کی چمک سے روشن ہو جاتے ہیں۔ یہی سچے اولیا اللہ ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے ہر ایک کو با ادب رہنا چاہیئے۔ اپنی زبان اور دل کو ان کا تابع رکھنا چاہیئے۔
صفحہ نمبر5206
سن لے! میرے دوستوں سے دشمنی رکھنے والا گویا مجھے لڑائی کا اعلان دیتا ہے۔ تو کیا مجھ سے لڑنے کا ارادہ رکھنے والا کبھی سرسبز ہو سکتا ہے؟ میں نے قہر کی نظر سے اسے دیکھا اور وہ تہس نہس ہوا۔ میرے دشمن مجھ پر غالب نہیں آ سکتے، میرے مخالف میرا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔ میں اپنے دوستوں کی خود مدد کرتا ہوں، انہیں دشمنوں کا شکار نہیں ہونے دیتا۔ دنیا و آخرت میں انہیں سرخرو رکھتا ہوں اور ان کی مدد کرتا ہوں۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنا بچپن کا زمانہ فرعون کے گھر میں بلکہ اس کی گود میں گزارا تھا، جوانی تک ملک مصر میں اسی کی بادشاہت میں ٹھہرے رہے تھے۔ پھر ایک قبطی بے ارادہ آپ کے ہاتھ سے مر گیا تھا جس سے آپ یہاں سے بھاگ نکلے تھے تب سے لے کر آج تک مصر کی صورت نہیں دیکھی تھی۔ فرعون ایک سخت دل، بدخلق، اکھڑ مزاج، آوارہ انسان تھا۔ غرور اور تکبر اتنا بڑھ گیا تھا کہ کہتا تھا کہ میں اللہ کو جانتا ہی نہیں۔ اپنی رعایا سے کہتا تھا کہ تمہارا رب میں ہی ہوں۔ ملک و مال میں، دولت و متاع میں، لاؤ لشکر اور کروفر میں کوئی روئے زمین پر اس کے مقابلے کا نہ تھا۔
صفحہ نمبر5207
طه 20:25
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭
جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔
صفحہ نمبر5208
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔
صفحہ نمبر5209
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
صفحہ نمبر5210
طه 20:26
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭
جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔
صفحہ نمبر5208
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔
صفحہ نمبر5209
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
صفحہ نمبر5210
طه 20:27
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭
جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔
صفحہ نمبر5208
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔
صفحہ نمبر5209
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
صفحہ نمبر5210
طه 20:28
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭
جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔
صفحہ نمبر5208
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔
صفحہ نمبر5209
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
صفحہ نمبر5210
طه 20:29
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭
جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔
صفحہ نمبر5208
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔
صفحہ نمبر5209
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
صفحہ نمبر5210
طه 20:30
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭
جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔
صفحہ نمبر5208
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔
صفحہ نمبر5209
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
صفحہ نمبر5210
طه 20:31
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭
جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔
صفحہ نمبر5208
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔
صفحہ نمبر5209
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
صفحہ نمبر5210
طه 20:32
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭
جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔
صفحہ نمبر5208
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔
صفحہ نمبر5209
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
صفحہ نمبر5210
طه 20:33
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭
جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔
صفحہ نمبر5208
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔
صفحہ نمبر5209
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
صفحہ نمبر5210
طه 20:34
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭
جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔
صفحہ نمبر5208
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔
صفحہ نمبر5209
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
صفحہ نمبر5210
طه 20:35
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭
جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔
صفحہ نمبر5208
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔
صفحہ نمبر5209
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر انشاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
صفحہ نمبر5210
طه 20:36
موسیٰ علیہ السلام کا بچپن ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تمام دعائیں قبول ہوئیں اور فرما دیا گیا کہ تمہاری درخواست منظور ہے۔ اس احسان کے ساتھ ہی اور احسان کا بھی ذکر کر دیا گیا کہ ہم نے تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی بڑا احسان کیا ہے۔ پھر اس واقعہ کو مختصر طور پر یاد دلایا کہ ہم نے تیرے بچپن کے وقت تیری ماں کی طرف وحی بھیجی جس کا ذکر اب تم سے ہو رہا ہے۔ تم اس وقت دودھ پیتے بچے تھے، تمہاری والدہ کو فرعون اور فرعونیوں کا کھٹکا تھا کیونکہ اس سال وہ بنو اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کر رہا تھا۔
اس خوف کے مارے وہ ہر وقت کانپتی رہتی تھیں تو ہم نے وحی کی کہ ایک صندوق بنا لو، دودھ پلا کر بچے کو اس میں لٹا کر دریائے نیل میں اس صندوق کو چھوڑ دو چنانچہ وہ یہی کرتی رہیں۔ ایک رسی اس میں باندھ رکھی تھی جس کا ایک سرا اپنے مکان سے باندھ لیتی تھیں۔ ایک مرتبہ باندھ رہی تھیں جو رسی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور صندوق کو پانی کی موجیں بہا لے چلیں۔ اب تو کلیجہ تھام کر رہ گئیں اس قدر غمزدہ ہوئیں کہ صبر ناممکن تھا، شاید راز فاش کر دیتیں لیکن ہم نے دل مضبوط کر دیا۔ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا آل فرعون نے اسے اٹھا لیا کہ جس غم سے وہ بچنا چاہتے تھے، جس صدمے سے وہ محفوظ رہنا چاہتے تھے، وہ ان کے سامنے آ جائے۔ جسکی شمع حیات کو بجھانے کے لیے وہ بےگناہ معصوموں کا قتل عام کر رہے تھے، وہ انہی کے تیل سے انہی کے ہاں روشن ہوا اور اللہ کے ارادے بیروک پورے ہو جائیں۔ ان کا دشمن انہی کے ہاتھوں پلے انہی کا کھائے ان کے ہاں تربیت پائے۔
صفحہ نمبر5221
خود فرعون اور اس کی اہلیہ محترمہ نے جب بچے کو دیکھا، رگ رگ میں محبت سما گئی، لے کر پرورش کرنے لگے۔ آنکھوں کا تارا سمجھنے لگے شاہزادوں کی طرح ناز و نعمت سے پلنے لگے شاہی دربار میں رہنے لگے۔
اللہ نے اپنی محبت تجھ پر ڈال دی گو فرعون تیرا دشمن تھا لیکن رب کی بات کون بدلے؟ اللہ کے ارادے کو کون ٹالے؟ فرعون پر ہی کیا منحصر ہے، جو دیکھتا آپ کا والہ و شیدا بن جاتا۔ یہ اس لیے تھا کہ تیری پرورش میری نگاہ کے سامنے ہو، شاہی خوراکیں کھا عزت و وقعت کے ساتھ رہ۔ فرعون والوں نے صندوقچہ اٹھا لیا کھولا بچے کو دیکھا، پالنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کسی دایہ کا دودھ دباتے ہی نہیں بلکہ منہ میں ہی نہیں لیتے۔ بہن جو صندوق کو دیکھتی بھالتی کنارے کنارے آ رہی تھی وہ بھی موقعہ پر پہنچ گئیں، کہنے لگیں کہ آپ اگر اس کی پرورش کی تمنا کرتے ہیں اور معقول اجرت بھی دیتے ہیں تو میں ایک گھرانہ بتاؤں جو اسے محبت سے پالے اور خیر خواہانہ برتاؤ کرے۔ سب نے کہا ہم تیار ہیں۔ آپ انہیں لیے ہوئے اپنی والدہ کے پاس پہنچیں، جب بچہ ان کی گود میں ڈال دیا گیا، آپ نے جھٹ سے منہ لگا دودھ پینا شروع کیا۔ جس سے فرعون کے ہاں بڑی خوشیاں منائی گئیں اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا گیا۔ تنخواہ مقرر ہو گئی، اپنے ہی بچے کو دودھ پلاتیں اور تنخواہ اور انعام بھی اور عزت و اکرام بھی پاتیں۔ دنیا بھی ملے دین بھی بڑھے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص اپنے کام کو کرے اور نیک نیتی سے کرے، اس کی مثال ام موسیٰ علیہ السلام کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے۔
پس یہ بھی ہماری کرم فرمائی ہے کہ ہم نے تجھے تیری ماں کی گود میں واپس کیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غم و رنج جاتا رہے۔ پھر تمہارے ہاتھ سے ایک فرعونی قبطی مار ڈالا گیا تو بھی ہم نے تمہیں بچا لیا، فرعونیوں نے تمہارے قتل کا ارادہ کر لیا تھا، راز فاش ہو چکا تھا۔ تمہیں یہاں سے نجات دی تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ مدین کے کنوئیں پر جا کر تم نے دم لیا۔ وہیں ہمارے ایک نیک بندے نے تمہیں بشارت سنائی کہ اب کوئی خوف نہیں ان ظالموں سے تم نے نجات پا لی۔ تجھے ہم نے بطور آزمائش اور بھی بہت سے فتنوں میں ڈالا۔
صفحہ نمبر5222
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا اب تو دن ڈوبنے کو ہے واقعات زیادہ ہیں پھر سہی۔ چنانچہ میں نے دوسری صبح پھر سوال کیا تو آپ نے فرمایا سنو! فرعون کے دربار میں ایک دن اس بات کا ذکر چھڑا کہ اللہ کا وعدہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے یہ تھا کہ ان کی اولاد میں انبیاء اور بادشاہ ہوں گے۔
چنانچہ بنو اسرائیل اس کے آج تک منتظر ہیں اور انہیں یقین ہے کہ مصر کی سلطنت پھر ان میں جائے گی۔ پہلے تو ان کا خیال تھا کہ یہ وعدہ یوسف علیہ السلام کی بابت تھا لیکن ان کی وفات تک جب کہ یہ وعدہ پورا نہیں ہوا تو وہ اب عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ ان میں اپنے ایک پیغمبر کو بھیجے گا جن کے ہاتھوں انہیں سلطنت بھی ملے گی اور ان کی قومی و مذہبی ترقی ہو گی۔ ً یہ باتیں کر کے انہوں نے مجلس مشاورت قائم کی کہ اب کیا کیا جائے جس سے آئندہ کے اس خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔ آخر اس جلسے میں قرار داد منظور ہوئی کہ پولیس کا ایک محکمہ قائم کیا جائے جو شہر کا گشت لگاتا رہے اور بنی اسرائیل میں جو نرینہ اولاد ہو، اسے اسی وقت سرکار میں پیش کیا جائے اور ذبح کر دیا جائے۔ لیکن جب ایک مدت گزر گئی تو انہیں خیال پیدا ہوا کہ اس طرح تو بنی اسرائیل بالکل فنا ہو جائیں گے اور جو ذلیل خدمتیں ان سے لی جاتی ہیں، جو بیگاریں ان سے وصول ہو رہی ہیں، سب موقوف ہو جائیں گی، اس لیے اب تجویز ہوا کہ ایک سال ان کے بچوں کو چھوڑ دیا جائے اور ایک سال ان کے لڑکے قتل کر دیئے جائیں۔ اس طرح موجودہ بنی اسرائیلیوں کی تعداد بھی نہ بڑھے گی اور نہ اتنی کم ہو جائے گی کہ ہمیں اپنی خدمت گزاری کے لیے بھی نہ مل سکیں۔ جتنے بڈھے دو سال میں مریں گے، اتنے بچے ایک سال میں پیدا ہو جائیں گے۔
صفحہ نمبر5223
جس سال قتل موقوف تھا، اس سال تو ہارون علیہ السلام پیدا ہوئے اور جس سال قتل عام بچوں کا جاری تھا، اس برس موسیٰ علیہ السلام تولد ہوئے۔ آپ کی والدہ کی اس وقت کی گھبراہٹ اور پریشانی کا کیا پوچھنا؟ بے اندازہ تھی۔ ایک فتنہ تو یہ تھا۔ چنانچہ یہ خطرہ اس وقت دفع ہو گیا جب کہ اللہ کی وحی ان کے پاس آئی کہ ڈر خوف نہ کر ہم اسے تیری طرف پھر لوٹائیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔
چنانچہ بحکم الٰہی آپ نے اپنے بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دیا، جب صندوق نظروں سے اوجھل ہو گیا تو شیطان نے دل میں وسوسے ڈالنے شروع کئے کہ افسوس اس سے تو یہی بہتر تھا کہ میرے سامنے ہی اسے ذبح کر دیا جاتا تو میں اسے خود ہی کفناتی دفناتی تو سہی لیکن اب تو میں نے خود اسے مچھلیوں کا شکار بنایا۔ یہ صندوق یونہی بہتا ہوا خاص فرعونی گھاٹ سے جا لگا، وہاں اس وقت محل کی لونڈیاں موجود تھیں، انہوں نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور ارادہ کیا کہ کھول کر دیکھیں لیکن پھر ڈر گئیں کہ ایسا نہ ہو کہ چوری کا الزام لگے یونہی مقفل صندوق ملکہ فرعون کے پاس پہنچا دیا۔ یہ صندوق بادشاہ ملکہ کے سامنے کھولا گیا تو اس میں سے چاند جیسی صورت کا ایک چھوٹا سا معصوم بچہ نکلا جسے دیکھتے ہی فرعون کی بیوی صاحبہ کا دل محبت کے جوش سے اچھلنے لگا۔
صفحہ نمبر5224
ادھر ام موسیٰ کی حالت غیر ہو گئی، سوائے اپنے اس پیارے بچے کے خیال کے دل میں اور کوئی تصور ہی نہ تھا۔ ادھر ان قصائیوں کو جو حکومت کی طرف سے بچوں کے قتل کے محکمے کے ملازم تھے، معلوم ہوا تو وہ اپنی چھریاں تیز کئے ہوئے بڑھے اور ملکہ سے تقاضا کیا کہ بچہ انہیں سونپ دیں تاکہ وہ اسے ذبح کر ڈالیں۔
یہ دوسرا فتنہ تھا، آخر ملکہ نے جواب دیا کہ ٹھہرو میں خود بادشاہ سے ملتی ہوں اور اس بچے کو طلب کرتی ہوں، اگر وہ مجھے دے دیں تو خیر ورنہ تمہیں اختیار ہے۔ چنانچہ آپ آئیں اور بادشاہ سے کہا کہ یہ بچہ تو میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہو گا۔ اس خبیث نے کہا بس تم ہی اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھو، میری ٹھنڈک وہ کیوں ہونے لگا؟ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
صفحہ نمبر5225
اللہ تعالٰی کی تدابیر اعلیٰ اور محروم ہدایت فرعون ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ حلف بیان فرماتے ہیں کہ اگر وہ بھی کہہ دیتا کہ ہاں بیشک وہ میری آنکھوں کی بھی ٹھنڈک ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بھی ضرور راہ راست دکھا دیتا جیسا کہ اس کی بیوی صاحبہ مشرف بہ ہدایت ہوئی لیکن اس نے خود اس سے محروم رہنا چاہا اللہ نے بھی اسے محروم کر دیا۔
الغرض فرعون کو جوں توں راضی رضامند کر کے اس بچے کے پالنے کی اجازت لے کر آپ آئیں، اب محل کی جتنی دایہ تھیں سب کو جمع کیا ایک ایک کی گود میں بچہ دیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کا دودھ آپ پر حرام کر دیا، آپ نے کسی کا دودھ منہ میں لیا ہی نہیں۔ اس سے ملکہ گھبرائیں کہ یہ تو بہت ہی برا ہوا، یہ پیارا بچہ یونہی ہلاک ہو جائے گا۔ آخر سوچ کر حکم دیا کہ انہیں باہر لے جاؤ، ادھر ادھر تلاش کرو اور اگر کسی کا دودھ یہ معصوم قبول کرے تو اسے بہ منت سونپ دو۔ باہر بازار میں میلہ سا لگ گیا ہر شخص اس سعادت سے مالا مال ہونا چاہتا تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام نے کسی کا دودھ نہ پیا۔ آپ کی والدہ نے اپنی بڑی صاحبزادی آپ کی بہن کو باہر بھیج رکھا تھا کہ وہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ وہ اس مجمع میں موجود تھیں اور تمام واقعات دیکھ سن رہی تھیں۔ جب یہ لوگ عاجز آ گئے تو آپ نے فرمایا، اگر تم کہو تو میں ایک گھرانہ ایسا بتلاؤں جو اس کی نگہبانی کرے اور ہو بھی اس کا خیرخواہ۔ یہ کہنا تھا کہ لوگوں کو شک ہوا کہ ضرور یہ لڑکی اس بچے کو جانتی ہے اور اس کے گھر کو بھی پہچانتی ہے۔ اے ابن جبیر یہ تھا تیسرا فتنہ۔ لیکن اللہ نے لڑکی کو سمجھ دے دی اور اس نے جھٹ سے کہا کہ بھلا تم اتنا نہیں سمجھے کون بدنصیب ایسا ہو گا جو اس بچے کی خیر خواہی یا پرورش میں کمی کرے جو بچہ ہماری ملکہ کا پیارا ہے۔ کون نہ چاہے گا کہ یہ ہمارے ہاں پلے تاکہ انعام و اکرام سے اس کا گھر بھر جائے۔ یہ سن کر سب کی سمجھ میں آ گیا اسے چھوڑ دیا اور کہا بتا تو کون سی دایہ اس کے لیے تجویز کرتی ہے؟ اس نے کہا میں ابھی لائی، دوڑی ہوئی گئیں اور والدہ کو یہ خوشخبری سنائی۔ والدہ صاحبہ شوق و امید سے آئیں اپنے پیارے بچے کو گود میں لیا، اپنا دودھ منہ میں دیا بچے نے پیٹ بھر کر پیا۔ اسی وقت شاہی محلات میں یہ خوشخبری پہنچائی گئی ملکہ کا حکم ہوا کہ فوراً اس دایہ کو اور بچے کو میرے پاس لاؤ، جب ماں بیٹا پہنچے تو اپنے سامنے دودھ پلوایا اور یہ دیکھ کر کہ بچہ اچھی طرح دودھ پیتا ہے، بہت ہی خوش ہوئیں اور فرمانے لگیں کہ دائی اماں مجھے اس بچے سے وہ محبت ہے جو دنیا کی کسی اور چیز سے نہیں، تم یہیں محل میں رہو اور اس بچے کی پرورش کرو۔
صفحہ نمبر5226
لیکن موسیٰ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ کے سامنے اللہ کا وعدہ تھا انہیں یقین کامل تھا اس لیے آپ ذرا رکیں اور فرمایا کہ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اپنے گھر کو اور اپنے بچوں کو چھوڑ کر یہاں رہوں۔ اگر آپ چاہتی ہیں تو یہ بچہ میرے سپرد کر دیں میں اسے اپنے گھر لے جاتی ہوں ان کی پرورش میں کوئی کوتاہی نہ کروں گی۔ ملکہ صاحبہ نے مجبوراً اس بات کو بھی مان لیا اور آپ اسی دن خوشی خوشی اپنے بچے کو لیے ہوئے گھر آ گئیں۔
اس بچے کی وجہ سے اس محلے کے بنو اسرائیل بھی فرعونی مظالم سے رہائی پا گئے۔ جب کچھ زمانہ گزر گیا تو بادشاہ بیگم نے حکم بھیجا کہ کسی دن میرے بچے کو میرے پاس لاؤ، ایک دن مقرر ہو گیا، تمام ارکان سلطنت اور درباریوں کو حکم ہوا کہ آج میرا بچہ میرے پاس آئے گا۔ تم سب قدم قدم پر اس کا استقبال کرو اور دھوم دھام سے نذریں دیتے ہوئے اسے میرے محل سرائے تک لاؤ۔ چنانچہ جب سواری روانہ ہوئی، وہاں سے لے کر محل سرائے سلطانی تک برابر تحفے تحائف نذریں اور ہدیے پیشکش ہوتے رہے اور بڑے ہی عزت و اکرام کے ساتھ آپ یہاں پہنچے تو خود بیگم نے بھی خوشی خوشی بہت بڑی رقم پیش کی اور بڑی خوشی منائی گئی۔ پھر کہنے لگی کہ میں تو اسے بادشاہ کے پاس لے جاؤں گی، وہ بھی اسے انعام و اکرام دیں گے، لے گئیں اور بادشاہ کی گود میں لٹا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کی داڑھی پکڑ کر زور سے گھسیٹی۔ فرعون کھٹک گیا اور اس کے درباریوں نے کہنا شروع کیا کہ کیا عجب یہی وہ لڑکا ہو آپ اسے فوراً قتل کرا دیجئیے۔
صفحہ نمبر5227
اے ابن جبیر یہ تھا چوتھا فتنہ۔ ملکہ بیتاب ہو کر بول اٹھیں، اے بادشاہ کیا ارادہ کر رہے ہو؟ آپ اسے مجھے دے چکے ہیں میں اسے اپنا بیٹا بنا چکی ہوں۔ بادشاہ نے کہا یہ سب ٹھیک ہے لیکن دیکھو تو اس نے تو آتے ہی داڑھی پکڑ کر مجھے نیچا کر دیا گویا یہی میرا گرانے والا اور مجھے تاخت و تاراج کرنے والا ہے۔
بیگم صاحبہ نے فرمایا، بادشاہ بچوں کو ان چیزوں کی کیا تمیز؟ سنو میں ایک فیصلہ کن بات بتاؤں، اس کے سامنے دو انگارے آگ کے سرخ رکھ دو اور دو موتی آبدار چمکتے ہوئے رکھ دو پھر دیکھو یہ کیا اٹھاتا ہے؟ اگر موتی اٹھا لے تو سمجھنا کہ اس میں عقل ہے اور اگر آگ کے انگارے تھام لے تو سمجھ لینا کہ عقل نہیں۔ جب عقل و تمیز نہیں تو اس کی داڑھی پکڑ لینے پر اتنے لمبے خیالات کر کے اس کی جان کا دشمن بن جانا کون سی دانائی کی بات ہے؟ چنانچہ یہی کیا گیا دونوں چیزیں آپ کے سامنے رکھی گئیں۔ آپ نے دہکتے ہوئے انگارے اٹھا لیے اسی وقت وہ چھین لیے کہ ایسا نہ ہو ہاتھ جل جائیں۔ اب فرعون کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور اس کا بدلا ہوا رخ ٹھیک ہو گیا۔ حق تو یہ ہے کہ اللہ کو جو کام کرنا مقصود ہوتا ہے، اس کے قدرتی اسباب مہیا ہو ہی جاتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کی دربار فرعون میں فرعون کے خاص محل میں فرعون کی بیوی کی گود میں ہی پرورش ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ آپ اچھی عمر کو پہنچ گئے اور بالغ ہو گئے۔
صفحہ نمبر5228
اب تو فرعونیوں کے جو مظالم اسرائیلیوں پر ہو رہے تھے، ان میں بھی کمی ہو گئی تھی سب امن و امان سے تھے۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک فرعونی اور ایک اسرائیلی کی لڑائی ہو رہی تھی۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام سے فریاد کی آپ کو سخت غصہ آیا اسلئے کہ اس وقت وہ فرعونی اس بنی اسرائیلی کو دبوچے ہوئے تھا، آپ نے اسے ایک مکا مارا، اللہ کی شان مکا لگتے ہی وہ مر گیا۔
یہ تو لوگوں کو عموماً معلوم تھا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیلیوں کی طرف داری کرتے ہیں لیکن لوگ اس کی وجہ اب تک یہی سمجھتے تھے کہ چونکہ آپ نے انہی میں دودھ پیا ہے، اس لیے ان کے طرفدار ہیں۔ اصلی راز کا علم تو صرف آپ کی والدہ کو تھا اور ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم کو بھی معلوم کرا دیا ہو۔ اسے مردہ دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام کانپ اٹھے کہ یہ تو شیطانی حرکت ہے وہ بہکانے والا اور کھلا دشمن ہے۔
صفحہ نمبر5229
پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے کہ باری تعالیٰ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا تو معاف فرما۔ پروردگار نے بھی آپ کی اس خطا سے درگزر فرما لیا وہ تو غفور و رحیم ہے ہی۔ چونکہ قتل کا معاملہ تھا، آپ پھر بھی خوفزدہ ہی رہے، تاک جھانک میں رہے کہ کہیں معاملہ کھل تو نہیں گیا۔ ادھر فرعون کے پاس شکایت ہوئی کہ ایک قبطی کو کسی بنی اسرائیلی نے مار ڈالا ہے، فرعون نے حکم جاری کر دیا کہ واقعہ کی پوری تحقیق کرو قاتل کو تلاش کر کے پکڑ لاؤ اور گواہ بھی پیش کرو اور جرم ثابت ہو جانے کی صورت میں اسے بھی قتل کر دو۔
پولیس نے ہر چند تفتیش کی لیکن قاتل کا کوئی سراغ نہ ملا۔ اتفاق کی بات کہ دوسرے ہی دن موسیٰ علیہ السلام پھر کہیں جا رہے تھے کہ دیکھا وہی بنی اسرائیلی شخص ایک دوسرے فرعونی سے جھگڑ رہا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی وہ دہائی دینے لگا لیکن اس نے یہ محسوس کیا کہ شاید موسیٰ علیہ السلام اپنے کل کے فعل سے نادم ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس کا یہ باربار کا جھگڑنا اور فریاد کرنا برا معلوم ہوا اور کہا تم تو بڑے لڑاکا ہو، یہ فرما کر اس فرعونی کو پکڑنا چاہا لیکن اس بنی اسرائیلی بزدل نے سمجھا کہ شاید آپ چونکہ مجھ پر ناراض ہیں مجھے ہی پکڑنا چاہتے ہیں۔
صفحہ نمبر5230
حالانکہ اس کا یہ صرف بزدلانہ خیال تھا آپ تو اسی فرعونی کو پکڑنا چاہتے تھے اور اسے بچانا چاہتے تھے لیکن خوف و ہراس کی حالت میں بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جیسے کہ کل تو نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا، کیا آج مجھے مار ڈالنا چاہتا ہے؟ یہ سن کر وہ فرعونی اسے چھوڑ بھاگا، دوڑا گیا اور سرکاری سپاہ کو اس واقعہ کی خبر کر دی۔
فرعون کو بھی قصہ معلوم ہوا۔ اسی وقت جلادوں کو حکم دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو پکڑ کر قتل کر دو۔ یہ لوگ شارع عام سے آپ کی جستجو میں چلے۔ ادھر ایک بنی اسرائیلی نے راستہ کاٹ کر نزدیک کے راستے سے آ کر موسیٰ علیہ السلام کو خبر کر دی۔ اے ابن جبیر رحمہ اللہ یہ ہے پانچواں فتنہ۔
موسیٰ علیہ السلام یہ سنتے ہی مٹھیاں بند کرکے مصر سے بھاگ کھڑے ہوئے، نہ کبھی پیدل چلے تھے نہ کبھی کسی مصیبت میں پھنسے تھے، شہزادوں کی طرح لاڈ چاؤ میں پلے تھے، نہ راستے کی خبر تھی نہ کبھی سفر کا اتفاق پڑا تھا۔ رب پر بھروسہ کر کے یہ دعا کر کے کہ اے اللہ مجھے سیدھی راہ لے چلنا، چل کھڑے ہوئے یہاں تک کہ مدین کی حدود میں پہنچے۔
صفحہ نمبر5231
یہاں دیکھا کہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں وہیں دو لڑکیوں کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو روکے کھڑی ہیں۔ پوچھا کہ تم ان کے ساتھ اپنے جانوروں کو پانی کیوں نہیں پلا لیتیں؟ الگ کھڑی ہوئی انہیں کیوں روک رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس بھیڑ میں ہمارے بس کی بات نہیں کہ اپنے جانوروں کو پانی پلائیں، ہم تو جب یہ لوگ پانی پلا چکتے ہیں ان کا بقیہ اپنے جانوروں کو پلا دیا کرتی ہیں۔ آپ فوراً آگے بڑھے اور ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔ چونکہ بہت جلد پانی کھینچا، آپ بہت قوی آدمی تھے، سب سے پہلے ان کے جانوروں کو سیر کر دیا۔
یہ اپنی بکریاں لے کر اپنے گھر روانہ ہوئیں اور آپ ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے اور اللہ سے دعا کرنے لگے کہ پروردگار میں تیری تمام تر مہربانیوں کا محتاج ہوں۔ یہ دونوں لڑکیاں جب اپنے والد کے پاس پہنچیں تو انہوں نے کہا، آج کیا بات ہے کہ تم وقت سے پہلے ہی آ گئیں؟ اور بکریاں بھی خوب آسودہ اور شکم سیر معلوم ہوتی ہیں۔ تو ان بچیوں نے سارا واقعہ کہہ سنایا آپ نے حکم دیا کہ تم میں سے ایک ابھی چلی جائے اور انہیں میرے پاس بلا لائے۔ وہ آئیں اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنے والد صاحب کے پاس لے گئیں۔ انہوں نے سرسری ملاقات کے بعد واقعہ پوچھا تو آپ نے سارا قصہ کہہ سنایا، اس پر وہ فرمانے لگے اب کوئی ڈر کی بات نہیں آپ ان ظالموں سے چھوٹ گئے۔ ہم لوگ فرعون کی رعایا نہیں نہ ہم پر اس کا کوئی دباؤ ہے۔ اسی وقت ایک لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جی انہوں نے ہمارا کام کر دیا ہے اور یہ ہیں بھی قوت والے امانت دار شخص، کیا اچھا ہو کہ آپ انہیں اپنے ہاں مقرر کر لیجئے کہ یہ اجرت پر ہماری بکریاں چرا لایا کریں۔ باپ کو غیرت اور غصہ آ گیا اور پوچھا بیٹی تمہیں یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ یہ قوی اور امین ہیں؟ بچی نے جواب دیا کہ قوت تو اس وقت معلوم ہوئی جب انہوں نے ہماری بکریوں کے لیے پانی نکالا اتنے بڑے ڈول کو اکیلے ہی کھینچتے تھے اور بڑی پھرتی اور ہرپن سے۔ امانت داری یوں معلوم ہوئی کہ میری آواز سن کر انہوں نے نظر اونچی کی اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ میں عورت ہوں، پھر نیچی گردن کر کے میری باتیں سنتے رہے، واللہ! آپ کا پورا پیغام پہنچانے تک انہوں نے نگاہ اونچی نہیں کی۔ پھر مجھ سے فرمایا کہ تم میرے پیچھے رہو مجھے دور سے راستہ بتا دیا کرنا۔ یہ بھی دلیل ہے ان کی اللہ خوفی اور امانت داری کی۔ باپ کی غیرت و حمیت بھی رہ گئی، بچی کی طرف سے بھی دل صاف ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام کی محبت دل میں سما گئی۔
صفحہ نمبر5232
اب موسیٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے، میرا ارادہ ہے کہ اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کر دوں اس شرط پر کہ آپ آٹھ سال تک میرے ہاں کام کاج کرتے رہیں، ہاں اگر دس سال تک کریں تو اور بھی اچھا ہے، ان شاءاللہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں بھلا آدمی ہوں۔ چنانچہ یہ معاملہ طے ہو گیا اور اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے بجائے آٹھ سال کے دس سال پورے کئے۔
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہلے مجھے یہ معلوم نہ تھا اور ایک نصرانی عالم مجھ سے یہ پوچھ بیٹھا تھا تو میں اسے کوئی جواب نہ دے سکا، پھر جب میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا اور آپ نے جواب دیا تو میں نے اس سے ذکر کیا، اس نے کہا تمہارے استاد بڑے عالم ہیں۔ میں نے کہا، ہاں ہیں ہی۔ اب موسیٰ علیہ السلام اس مدت کو پوری کر کے اپنی اہلیہ صاحبہ کو لیے ہوئے یہاں سے چلے۔ پھر وہ واقعات ہوئے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ آگ دیکھی، گئے، اللہ سے کلام کیا، لکڑی کا اژدھا بننا، ہاتھ کا نورانی بننا ملاحظہ کیا، نبوت پائی، فرعون کی طرف بھیجے گئے تو قتل کے واقعہ کے بدلے کا اندیشہ ظاہر فرمایا۔ اس سے اطمینان حاصل کر کے زبان کی گرہ کشائی کی طلب کی۔ اس کو حاصل کر کے اپنے بھائی ہارون کی ہمدردی اور شرکت کار چاہی۔ یہ بھی حاصل کر کے لکڑی لیے ہوئے شاہ مصر کی طرف چلے۔
صفحہ نمبر5233
ادھر ہارون علیہ السلام کے پاس وحی پہنچی کہ اپنے بھائی کی موافقت کریں اور ان کا ساتھ دیں۔ دونوں بھائی ملے اور فرعون کے دربار میں پہنچے۔ اطلاع کرائی بڑی دیر میں اجازت ملی، اندر گئے، فرعون پر ظاہر کیا کہ ہم اللہ کے رسول بن کر تیرے پاس آئے ہیں۔ اب جو سوال جواب ہوئے وہ قرآن میں موجود ہیں۔
فرعون نے کہا اچھا تم چاہتے کیا ہو؟ اور واقعہ قتل یاد دلایا جس کا عذر موسیٰ علیہ السلام نے بیان کیا جو قرآن میں موجود ہے اور کہا، ہمارا ارادہ یہ ہے کہ تو ایمان لا اور ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے رہائی دے۔ اس نے انکار کیا اور کہا کہ اگر سچے ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ، آپ نے اسی وقت اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی وہ زمین پر پڑتے ہی ایک زبردست خوفناک اژدھے کی صورت میں منہ پھاڑے کچلیاں نکالے فرعون کی طرف لپکا۔ مارے خوف کے فرعون تخت سے کود گیا اور بھاگتا ہوا عاجزی سے فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے واسطے اسے پکڑ لو۔ آپ نے ہاتھ لگایا اسی وقت لاٹھی اپنی اصلی حالت میں آ گئی۔
پھر آپ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ بغیر کسی مرض کے داغ کے چمکتا ہوا نکلا جسے دیکھ کر وہ حیران ہو گیا، آپ نے پھر ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ اپنی اصلی حالت میں تھا۔ اب فرعون نے اپنے درباریوں کی طرف دیکھ کر کہا کہ تم نے دیکھا، یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور تمہارے ملک پر قابض ہو کر تمہارے طریقے مٹا دیں۔
صفحہ نمبر5234
پھر موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمیں آپ کی نبوت ماننے سے بھی انکار ہے اور آپ کا کوئی مطالبہ بھی ہم پورا نہیں کر سکتے بلکہ ہم اپنے جادوگروں کو تمہارے مقابلہ کے لیے بلا رہے ہیں جو تمہارے اس جادو پر غالب آ جائیں گے۔ چنانچہ یہ لوگ اپنی کوششوں میں مشغول ہو گئے۔ تمام ملک سے جادوگروں کو بڑی عزت سے بلوایا جب سب جمع ہو گئے تو انہوں نے پوچھا کہ اس کا جادو کس قسم کا ہے؟ فرعون والوں نے کہا لکڑی کا سانپ بنا دیتا ہے۔
انہوں نے کہا، اس میں کیا ہے؟ ہم لکڑیوں کی رسیوں کے وہ سانپ بنائیں گے کہ روئے زمین پر ان کا کوئی مقابلہ نہ کر سکے۔ لیکن ہمارے لیے انعام مقرر ہو جانا چاہیئے۔ فرعون نے ان سے قول و قرار کیا کہ انعام کیسا؟ میں تو تمہیں اپنا مقرب خاص اور درباری بنا لوں گا اور تمہیں نہال نہال کر دونگا جو مانگو گے پاؤ گے۔ چنانچہ انہوں نے اعلان کر دیا کہ عید کے روز دن چڑھے فلاں میدان میں مقابلہ ہو گا۔ مروی ہے کہ ان کی یہ عید عاشورا کے دن تھی۔
صفحہ نمبر5235
اس دن تمام لوگ صبح ہی صبح اس میدان میں پہنچ گئے کہ آج چل کر دیکھیں گے کہ کون غالب آتا ہے؟ ہم تو جادوگروں کے کمالات کے قائل ہیں وہی غالب آئیں گے اور ہم انہی کی مانیں گے۔ مذاق سے اس بات کو بدل کر کہتے تھے کہ چلو انہی دونوں جادوگروں کے مطیع بن جائیں گے اگر وہ غالب رہیں۔ میدان میں آ کر جادوگروں نے انبیاء اللہ علیہم السلام سے کہا کہ لو اب بتاؤ، تم پہلے اپنا جادو ظاہر کرتے ہو یا ہم ہی شروع کریں؟ آپ نے فرمایا تم ہی ابتداء کرو تاکہ تمہارے ارمان پورے ہوں۔
اب انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈالیں تو ایسا لگا کہ وہ سب سانپ اور بلائیں بن کر اللہ کے نبیوں کی طرف دوڑیں جس سے خوفزدہ ہو کر آپ پیچھے ہٹنے لگے۔ اس وقت اللہ کی وحی آئی کہ آپ اپنی لکڑی زمین پر ڈال دیجئیے، آپ نے ڈالدی، وہ ایک خوفناک بھیانک عظیم الشان اژدھابن کر ان کی طرف دوڑا یہ لکڑیاں رسیاں سب گڈ مڈ ہو گئیں اور وہ ان سب کو نگل گیا۔ جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کیطرف کا نشان ہے، جادو میں یہ بات کہاں؟ چنانچہ سب نے اپنے ایمان کا اعلان کر دیا کہ ہم موسیٰ کے رب پر ایمان لائے اور ان دونوں بھائیوں کی نبوت ہمیں تسلیم ہے۔ ہم اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔ فرعون اور فرعونیوں کی کمر ٹوٹ گئی، رسوا ہوئے، منہ کالے پڑ گئے، ذلت کے ساتھ خاموش ہو گئے۔ خون کے گھونٹ پی کر چپ ہو گئے۔ ادھر یہ ہو رہا تھا۔ ادھر فرعون کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنے سگے بچے کی طرح پالا تھا، بیقرار بیٹھی تھیں اور اللہ سے دعائیں مانگ رہی تھیں کہ اللہ ذولجلال اپنے نبی کو غالب کرے۔ فرعونیوں نے بھی اس حال کو دیکھا تھا لیکن انہوں نے خیال کیا کہ اپنے خاوند کی طرفداری میں ان کا یہ حال ہے۔ یہاں سے ناکام واپس جانے پر فرعون نے بےایمانی پر کمر باندھ لی۔ اللہ کی طرف سے موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں بہت سے نشانات ظاہر ہوئے۔ جب کبھی کوئی پکڑ آ جاتی، یہ گھبرا کر بلکہ گڑ گڑا کر وعدہ کرتا کہ اچھا اس مصیبت کے ہٹ جانے پر میں بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ کر دونگا لیکن جب عذاب ہٹ جاتا پھر منکر بن کر سرکشی پر آ جاتا اور کہتا تیرا رب اس کے سوا کچھ اور بھی کر سکتا ہے؟ چنانچہ ان پر طوفان آیا، ٹڈیاں آئیں، جوئیں آئیں، مینڈک آئے، خون آیا اور بھی بہت سی صاف صاف نشانیاں دیکھیں۔ جہاں آفت آئی، ڈرا وعدہ کیا، جہاں وہ ٹل گئی، مکر گیا اور اکڑ گیا۔ اب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو لے کر یہاں سے نکل جاؤ آپ راتوں رات انہیں لے کر روانہ ہو گئے۔
صفحہ نمبر5236
صبح فرعونیوں نے دیکھا کہ رات کو سارے بنی اسرائیل چلے گئے ہیں۔ انہوں نے فرعون سے کہا۔ اس نے سارے ملک میں احکام بھیج کر ہر طرف سے فوجیں جمع کیں اور بہت بڑی جمعیت کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ راستے میں جو دریا پڑتا تھا اس کی طرف اللہ کی وحی پہنچی کہ تجھ پر جب میرے بندے موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی پڑے تو تو انہیں راستہ دے دینا۔ تجھ میں بارہ راستے ہو جائیں کہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے الگ الگ اپنی راہ لگ جائیں۔ پھر جب یہ پار ہو جائیں اور فرعونی آ جائیں تو تو مل جانا اور ان میں سے ایک کو بھی بے ڈبوئے نہ چھوڑنا۔
موسیٰ علیہ السلام جب دریا پر پہنچے دیکھا کہ وہ موجیں مار رہا ہے پانی چڑھا ہوا ہے شور اٹھ رہا ہے، گھبرا گئے اور لکڑی مارنا بھول گئے۔ دریا بیقرار یوں تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کے کسی حصے پر موسیٰ علیہ السلام لکڑی مار دیں اور اسے خبر نہ ہو تو عذاب الٰہی میں بہ سبب اللہ کی نافرمانی کے پھنس جائے۔ اتنے میں فرعون کا لشکر بنی اسرائیل کے سر پر جا پہنچا، یہ گھبرا گئے اور کہنے لگے لو موسیٰ ہم تو پکڑ لیے گئے۔ اب آپ وہ کیجئے جو اللہ کا آپ کو حکم ہے یقیناً نہ تو اللہ جھوٹا ہے نہ آپ۔
صفحہ نمبر5237
آپ نے فرمایا مجھے سے تو یہ فرمایا گیا ہے کہ جب تو دریا پر پہنچے گا، وہ تجھے بارہ راستے دیدے گا، تو گزر جانا۔ اسی وقت یاد آیا کہ لکڑی مارنے کا حکم ہوا ہے، چنانچہ لکڑی ماری۔ ادھر فرعونی لشکر کا اول حصہ بنی اسرائیل کے آخری حصے کے پاس آ چکا تھا کہ دریا خشک ہو گیا اور اس میں راستے نمایاں ہو گئے اور آپ اپنی قوم کو لیے ہوئے اس میں بیخطر اتر گئے اور با آرام جانے لگے۔ جب یہ نکل چکے، فرعونی سپاہ ان کے تعاقب میں دریا میں اتری۔
جب یہ سارا لشکر اس میں اتر گیا تو فرمان الٰہی کے مطابق دریا رواں ہو گیا اور سب کو بیک وقت غرق کر دیا۔ بنو اسرایئل اس واقعہ کو اپنی آنکھوں دیکھ رہے تھے تاہم انہوں نے کہا کہ اے رسول اللہ! (علیہ السلام) ہمیں کیا خبر کہ فرعون بھی مرا یا نہیں؟ آپ نے دعا کی اور دریا نے فرعون کی بے جان لاش کو کنارے پر پھینک دیا۔ جسے دیکھ کر انہیں یقین کامل ہو گیا کہ ان کا دشمن مع اپنے لاؤ و لشکر کے تباہ ہو گیا۔
صفحہ نمبر5238
فرعون سے نجات کے بعد بنی اسرائیل کی نافرمانیاں ٭٭
اب یہاں سے آگے چلے تو دیکھا کہ ایک قوم اپنے بتوں کی مجاور بن کر بیٹھی ہے تو کہنے لگے اے اللہ کے رسول ہمارے لئے بھی کوئی معبود ایسا ہی مقرر کر دیجئیے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ناراض ہو کر کہا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو، تم نے اتنی بڑی عبرتناک نشانیاں دیکھیں۔ ایسے اہم واقعات سنے لیکن اب تک نہ عبرت ہے نہ غیرت۔
یہاں سے آگے بڑھ کر ایک منزل پر آپ نے قیام کیا اور یہاں اپنے خلیفہ اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو بنا کر قوم سے فرمایا کہ میری واپسی تک ان کی فرمانبرداری کرتے رہنا میں اپنے رب کے پاس جا رہا ہوں۔ تیس دن کا اس کا وعدہ ہے۔ چنانچہ قوم سے الگ ہو کر وعدے کی جگہ پہنچ کر تیس دن رات کے روزے پورے کر کے اللہ سے باتیں کرنے کا دھیان پیدا ہوا لیکن یہ سمجھ کر کہ روزوں کی وجہ سے منہ سے بھبکا نکل رہا ہو گا، تھوڑی سی گھاس لے کر آپ نے چبا لی۔ اللہ تعالیٰ نے باوجود علم کے دریافت فرمایا کہ ایسا کیوں کیا؟ آپ نے جواب دیا، صرف اس لیے کہ تجھ سے باتیں کرتے وقت میرا منہ خوشبودار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کیا تجھے معلوم نہیں کہ روزہ دار کے منہ کی بو مجھے مشک و عنبر کی خوشبو سے زیادہ اچھی لگتی ہے؟ اب تو دس روزے اور رکھ پھر مجھ سے کلام کرنا۔ آپ نے روزے رکھنا شروع کر دیئے۔ قوم پر تیس دن جب گزر گئے اور حسب وعدہ موسیٰ علیہ السلام نہ لوٹے تو وہ غمگین رہنے لگے۔
صفحہ نمبر5239
ہارون علیہ السلام نے ان میں خطبہ کیا اور فرمایا کہ جب تم مصر سے چلے تھے تو قبطیوں کی رقمیں تم میں سے بعض پر ادھار تھیں اسی طرح ان کی امانتیں بھی تمہارے پاس رہ گئی ہیں، یہ ہم انہیں واپس تو کرنے کے نہیں لیکن میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ وہ ہماری ملکیت میں رہیں۔ اس لیے تم ایک گہرا گڑھا کھودو اور جو اسباب برتن بھانڈا زیور سونا چاندی وغیرہ ان کا تمہارے پاس ہے، سب اس میں ڈالو پھر آگ لگا دو۔
چنانچہ یہی کیا گیا۔ ان کے ساتھ سامری نامی ایک شخص تھا، یہ گائے بچھڑے پوجنے والوں میں سے تھا، بنی اسرائیل میں سے نہ تھا لیکن بوجہ پڑوسی ہونے کے اور فرعون کی قوم میں سے نہ ہونے کے یہ بھی ان کے ساتھ وہاں سے نکل آیا تھا، اس نے کسی نشان سے کچھ مٹھی میں اٹھا لیا تھا۔ ہارون علیہ السلام نے فرمایا تو بھی اسے ڈال دے، اس نے جواب دیا کہ یہ تو اس کے اثر سے ہے جو تمہیں دریا سے پار کرا لے گیا۔ خیر میں اسے ڈال دیتا ہوں لیکن اس شرط پر کہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ اس سے وہ بن جائے جو میں چاہتا ہوں۔ آپ نے دعا کی اور اس نے اپنی مٹھی میں جو تھا اسے ڈال دیا اور کہا میں چاہتا ہوں اس کا ایک بچھڑا بن جائے۔ قدرت الٰہی سے اس گڑھے میں جو تھا، وہ ایک بچھڑے کی صورت میں ہو گیا جو اندر سے کھوکھلا تھا اس میں روح نہ تھی لیکن ہوا اس کے پیچھے کے سوراخ سے جا کر منہ سے نکلتی تھی اس سے ایک آواز پیدا ہوتی تھی۔
صفحہ نمبر5240
بنو اسرائیل نے پوچھا سامری یہ کیا ہے؟ اس بے ایمان نے کہا، یہی تمہارا سب کا رب ہے لیکن موسیٰ علیہ السلام راستہ بھول گئے اور دوسری جگہ رب کی تلاش میں چلے گئے۔ اس بات نے بنی اسرائیل کے کئی فرقے کر دیئے۔ ایک فرقے نے تو کہا کہ موسیٰ علیہ السلام کے آنے تک ہم اس کی بابت کوئی بات طے نہیں کر سکتے، ممکن ہے یہی اللہ ہو تو ہم اس کی بے ادبی کیوں کریں؟ اور اگر یہ رب نہیں ہے تو موسیٰ علیہ السلام کے آتے ہی حقیقت کھل جائے گی۔
دوسری جماعت نے کہا، محض واہیات ہے یہ شیطانی حرکت ہے ہم اس لغویت پر مطلقاً ایمان نہیں رکھتے، نہ یہ ہمارا رب نہ ہمارا اس پر ایمان۔ ایک پاجی فرقے نے دل سے اسے مان لیا اور سامری کی بات پر ایمان لائے مگر بہ ظاہر اس کی بات کو جھٹلایا۔ ہارون علیہ السلام نے اسی وقت سب کو جمع کر کے فرمایا کہ لوگو! یہ اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہے تم اس جھگڑے میں کہاں پھنس گئے؟ تمہارا رب تو رحمان ہے تم میری اتباع کرو اور میرا کہنا مانو۔ انہوں نے کہا آخر اس کی کیا وجہ کہ تیس دن کا وعدہ کر کے موسیٰ علیہ السلام گئے ہیں اور آج چالیس دن ہونے کو آئے لیکن اب تک لوٹے نہیں۔ بعض بیوقوفوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ان سے ان کا رب خطا کر گیا اب یہ اس کی تلاش میں ہوں گے۔ ادھر دس روزے اور پورے ہونے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کو بتایا گیا کہ آپ کے بعد آپ کی قوم کا اس وقت کیا حال ہے؟ آپ اسی وقت رنج و افسوس اور غم و غصے کے ساتھ واپس لوٹے اور یہاں آ کر قوم سے بہت کچھ کہا سنا، اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر گھسیٹنے لگے۔ غصے کی زیادتی کی وجہ سے تختیاں بھی ہاتھ سے پھینک دیں۔ پھر اصل حقیقت معلوم ہو جانے پر آپ نے اپنے بھائی سے معذرت کی، ان کے لیے استغفار کیا۔
صفحہ نمبر5241
اور سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے جواب دیا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے کے پاؤں تلے سے میں نے ایک مٹھی اٹھالی یہ لوگ اسے نہ پہچان سکے اور میں نے جان لیا تھا۔ میں نے وہی مٹھی اس آگ میں ڈال دی تھی میری رائے میں یہی بات آئی۔ آپ نے فرمایا، جا اس کی سزا دنیا میں تو یہ ہے کہ تو یہی کہتا رہے کہ“ہاتھ لگانا نہیں“ پھر ایک وعدے کا وقت ہے جس کا ٹلنا ناممکن ہے اور تیرے دیکھتے دیکھتے ہم تیرے اس معبود کو جلا کر اس کی خاک بھی دریا میں بہا دیں گے۔ چنانچہ آپ نے یہی کیا۔
اس وقت بنی اسرائیل کو یقین آ گیا کہ واقعی وہ اللہ نہ تھا۔ اب وہ بڑے نادم ہوئے اور سوائے ان مسلمانوں کے جو ہارون علیہ السلام کے ہم عقیدہ رہے تھے، باقی کے لوگوں نے عذر معذرت کی اور کہا کہ اے اللہ کے نبی! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمارے لیے توبہ کا دروازہ کھول دے، جو وہ فرمائے گا ہم بجا لائیں گے تاکہ ہماری یہ زبردست خطا معاف ہو جائے۔
صفحہ نمبر5242
آپ نے بنی اسرائیل کے اس گروہ میں سے ستر لوگوں کو چھانٹ کر علیحدہ کیا اور توبہ کے لیے چلے، وہاں زمین پھٹ گئی اور آپ کے سب ساتھی اس میں اتار دیئے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام کو فکر لاحق ہوا کہ میں بنی اسرائیل کو کیا منہ دکھاؤں گا؟ گریہ و زاری شروع کی اور دعا کی کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے ہی مجھے اور ان سب کو ہلاک کر دیتا، ہمارے بیوقوفوں کے گناہ کے بدلے تو ہمیں ہلاک نہ کر۔
آپ تو ان کے ظاہر کو دیکھ رہے تھے اور اللہ کی نظریں ان کے باطن پر تھیں۔ ان میں ایسے بھی تھے جو بہ ظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے لیکن دراصل دلی عقیدہ ان کا اس بچھڑے کے رب ہونے پر تھا۔ ان ہی منافقین کی وجہ سے سب کو تہ زمین کر دیا گیا تھا۔ نبی اللہ علیہ السلام کی اس آہ و زاری پر رحمت الٰہی جوش میں آئی اور جواب ملا کہ یوں تو میری رحمت سب پر چھائے ہوئے ہے لیکن میں اسے ان کے نام ہبہ کروں گا جو متقی پرہیزگار ہوں، زکوٰۃ کے ادا کرنے والے ہوں، میری باتوں پر ایمان لائیں اور میرے اس رسول و نبی کی اتباع کریں جس کے اوصاف وہ اپنی کتابوں میں لکھے پاتے ہیں یعنی توراۃ و انجیل میں۔
صفحہ نمبر5243
کلیم اللہ علیہ السلام نے عرض کی کہ یا الٰہی میں نے اپنی قوم کے لیے توبہ طلب کی، تو نے جواب دیا کہ تو اپنی رحمت کو ان کے ساتھ کر دے گا جو آگے آنے والے ہیں، پھر اللہ مجھے بھی تو اپنے اسی رحمت والے نبی کی امت میں پیدا کرتا۔ رب العالمین نے فرمایا، سنو ان کی توبہ اس وقت قبول ہو گی کہ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں، نہ باپ بیٹے کو دیکھے نہ بیٹا باپ کو چھوڑے، آپس میں گتھ جائیں اور ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں۔
چنانچہ بنو اسرائیل نے یہی کیا اور جو منافق لوگ تھے، انہوں نے بھی سچے دل سے توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، جو بچ گئے تھے وہ بھی بخشے گئے، جو قتل ہوئے وہ بھی بخش دیئے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام اب یہاں سے بیت المقدس کی طرف چلے۔ توراۃ کی تختیاں اپنے ساتھ لیں اور انہیں احکام الٰہی سنائے جو ان پر بہت بھاری پڑے اور انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ چنانچہ ایک پہاڑ ان کے سروں پر معلق کھڑا کر دیا گیا، وہ مثل سائبان کے سروں پر تھا اور ہر دم ڈر تھا کہ اب گرا، انہوں نے اب اقرار کیا اور تورات قبول کر لی پہاڑ ہٹ گیا۔ اس پاک زمین پر پہنچے جہاں کلیم اللہ علیہ السلام انہیں لے جانا چاہتے تھے، دیکھا کہ وہاں ایک بڑی طاقتور زبردست قوم کا قبضہ ہے۔ تو موسیٰ علیہ السلام کے سامنے نہایت نامردی سے کہا کہ یہاں تو بڑی زور آور قوم ہے، ہم میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں، یہ نکل جائیں تو ہم شہر میں داخل ہو سکتے ہیں۔ یہ تو یونہی نامردی اور بزدلی ظاہر کرتے رہے۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے ان سرکشوں میں سے دو شخصوں کو ہدایت دے دی، وہ شہر سے نکل کر موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں آ ملے اور انہیں سمجھانے لگے کہ تم ان کے جسموں اور تعداد سے مرعوب نہ ہو جاؤ، یہ لوگ بہادر نہیں ان کے دل گردے کمزور ہیں، تم آگے تو بڑھو۔ ان کے شہر کے دروازے میں گئے اور ان کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے ہوئے، یقیناً تم ان پر غالب آ جاؤ گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دونوں شخص جنہوں نے بنی اسرائیل کو سمجھایا اور انہیں دلیر بنایا، خود بنی اسرایئل میں سے ہی تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5244
لیکن ان کے سمجھانے بجھانے، اللہ کے حکم ہو جانے اور موسیٰ علیہ السلام کے وعدے نے بھی ان پر کوئی اثر نہ کیا بلکہ انہوں نے صاف کورا جواب دے دیا کہ جب تک یہ لوگ شہر میں ہیں، ہم تو یہاں سے اٹھنے کے بھی نہیں، موسیٰ علیہ السلام تو آپ اپنے رب کو اپنے ساتھ لے کر چلا جا اور ان سے لڑ بھڑ لے، ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔
اب تو موسیٰ علیہ السلام سے صبر نہ ہو سکا، آپ کے منہ سے ان بزدلوں اور ناقدروں کے حق میں بد دعا نکل گئی اور آپ نے ان کا نام فاسق رکھ دیا۔ اللہ کی طرف سے بھی ان کا یہی نام مقرر ہو گیا اور انہیں اسی میدان میں قدرتی طور پر قید کر دیا گیا۔ چالیس سال انہیں یہیں گزر گئے کہیں قرار نہ تھا، اسی بیاباں میں پریشانی کے ساتھ بھٹکتے پھرتے تھے۔ اسی میدان قید میں ان پر ابر کا سایہ کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا، کپڑے نہ پھٹتے تھے نہ میلے ہوتے تھے۔ ایک چوکونہ پتھر رکھا ہوا تھا جس پر موسیٰ علیہ السلام نے لکڑی ماری تو اس میں سے بارہ نہریں جاری ہو گئیں، ہر طرف سے تین تین لوگ چلتے چلتے آگے بڑھ جاتے، تھک کر قیام کر دیتے، صبح اٹھتے تو دیکھتے کہ وہ پتھر وہیں ہے جہاں کل تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس حدیث کو مرفوع بیان کیا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنی تو فرمایا کہ اس فرعونی نے موسیٰ علیہ السلام کے اگلے دن کے قتل کی خبر رسانی کی تھی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کیونکہ قبطی کے قتل کے وقت سوائے اس بنی اسرایئلی ایک شخص کے جو قبطی سے لڑ رہا تھا، وہاں کوئی اور نہ تھا۔
صفحہ نمبر5245
اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بہت بگڑے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے اور ان سے کہا، آپ کو یاد ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس شخص کا حال بیان فرمایا تھا جس نے موسیٰ کے قتل کے راز کو کھولا تھا، بتاؤ وہ بنی اسرائیلی شخص تھا یا فرعونی؟ سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا، بنی اسرائیلی سے اس فرعونی نے سنا، پھر اس نے جا کر حکومت سے کہا اور خود اس کا شاہد بنا [تفسیر ابن جریر الطبری:24131:ضعیف]
یہی روایت اور کتابوں میں بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اپنے کلام سے بہت تھوڑا سا حصہ مرفوع بیان کیا گیا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ آپ نے بنو اسرائیل میں سے کسی سے یہ روایت لی ہو کیونکہ ان سے روایتیں لینا مباح ہیں۔ یا تو آپ نے سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ہی یہ روایت سنی ہو گی اور ممکن ہے کسی اور سے سنی ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ میں نے اپنے استاد شیخ حافظ ابو الحجاج مزی علیہ السلام سے بھی یہی سنا ہے۔
صفحہ نمبر5246
طه 20:37
موسیٰ علیہ السلام کا بچپن ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تمام دعائیں قبول ہوئیں اور فرما دیا گیا کہ تمہاری درخواست منظور ہے۔ اس احسان کے ساتھ ہی اور احسان کا بھی ذکر کر دیا گیا کہ ہم نے تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی بڑا احسان کیا ہے۔ پھر اس واقعہ کو مختصر طور پر یاد دلایا کہ ہم نے تیرے بچپن کے وقت تیری ماں کی طرف وحی بھیجی جس کا ذکر اب تم سے ہو رہا ہے۔ تم اس وقت دودھ پیتے بچے تھے، تمہاری والدہ کو فرعون اور فرعونیوں کا کھٹکا تھا کیونکہ اس سال وہ بنو اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کر رہا تھا۔
اس خوف کے مارے وہ ہر وقت کانپتی رہتی تھیں تو ہم نے وحی کی کہ ایک صندوق بنا لو، دودھ پلا کر بچے کو اس میں لٹا کر دریائے نیل میں اس صندوق کو چھوڑ دو چنانچہ وہ یہی کرتی رہیں۔ ایک رسی اس میں باندھ رکھی تھی جس کا ایک سرا اپنے مکان سے باندھ لیتی تھیں۔ ایک مرتبہ باندھ رہی تھیں جو رسی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور صندوق کو پانی کی موجیں بہا لے چلیں۔ اب تو کلیجہ تھام کر رہ گئیں اس قدر غمزدہ ہوئیں کہ صبر ناممکن تھا، شاید راز فاش کر دیتیں لیکن ہم نے دل مضبوط کر دیا۔ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا آل فرعون نے اسے اٹھا لیا کہ جس غم سے وہ بچنا چاہتے تھے، جس صدمے سے وہ محفوظ رہنا چاہتے تھے، وہ ان کے سامنے آ جائے۔ جسکی شمع حیات کو بجھانے کے لیے وہ بےگناہ معصوموں کا قتل عام کر رہے تھے، وہ انہی کے تیل سے انہی کے ہاں روشن ہوا اور اللہ کے ارادے بیروک پورے ہو جائیں۔ ان کا دشمن انہی کے ہاتھوں پلے انہی کا کھائے ان کے ہاں تربیت پائے۔
صفحہ نمبر5221
خود فرعون اور اس کی اہلیہ محترمہ نے جب بچے کو دیکھا، رگ رگ میں محبت سما گئی، لے کر پرورش کرنے لگے۔ آنکھوں کا تارا سمجھنے لگے شاہزادوں کی طرح ناز و نعمت سے پلنے لگے شاہی دربار میں رہنے لگے۔
اللہ نے اپنی محبت تجھ پر ڈال دی گو فرعون تیرا دشمن تھا لیکن رب کی بات کون بدلے؟ اللہ کے ارادے کو کون ٹالے؟ فرعون پر ہی کیا منحصر ہے، جو دیکھتا آپ کا والہ و شیدا بن جاتا۔ یہ اس لیے تھا کہ تیری پرورش میری نگاہ کے سامنے ہو، شاہی خوراکیں کھا عزت و وقعت کے ساتھ رہ۔ فرعون والوں نے صندوقچہ اٹھا لیا کھولا بچے کو دیکھا، پالنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کسی دایہ کا دودھ دباتے ہی نہیں بلکہ منہ میں ہی نہیں لیتے۔ بہن جو صندوق کو دیکھتی بھالتی کنارے کنارے آ رہی تھی وہ بھی موقعہ پر پہنچ گئیں، کہنے لگیں کہ آپ اگر اس کی پرورش کی تمنا کرتے ہیں اور معقول اجرت بھی دیتے ہیں تو میں ایک گھرانہ بتاؤں جو اسے محبت سے پالے اور خیر خواہانہ برتاؤ کرے۔ سب نے کہا ہم تیار ہیں۔ آپ انہیں لیے ہوئے اپنی والدہ کے پاس پہنچیں، جب بچہ ان کی گود میں ڈال دیا گیا، آپ نے جھٹ سے منہ لگا دودھ پینا شروع کیا۔ جس سے فرعون کے ہاں بڑی خوشیاں منائی گئیں اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا گیا۔ تنخواہ مقرر ہو گئی، اپنے ہی بچے کو دودھ پلاتیں اور تنخواہ اور انعام بھی اور عزت و اکرام بھی پاتیں۔ دنیا بھی ملے دین بھی بڑھے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص اپنے کام کو کرے اور نیک نیتی سے کرے، اس کی مثال ام موسیٰ علیہ السلام کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے۔
پس یہ بھی ہماری کرم فرمائی ہے کہ ہم نے تجھے تیری ماں کی گود میں واپس کیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غم و رنج جاتا رہے۔ پھر تمہارے ہاتھ سے ایک فرعونی قبطی مار ڈالا گیا تو بھی ہم نے تمہیں بچا لیا، فرعونیوں نے تمہارے قتل کا ارادہ کر لیا تھا، راز فاش ہو چکا تھا۔ تمہیں یہاں سے نجات دی تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ مدین کے کنوئیں پر جا کر تم نے دم لیا۔ وہیں ہمارے ایک نیک بندے نے تمہیں بشارت سنائی کہ اب کوئی خوف نہیں ان ظالموں سے تم نے نجات پا لی۔ تجھے ہم نے بطور آزمائش اور بھی بہت سے فتنوں میں ڈالا۔
صفحہ نمبر5222
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا اب تو دن ڈوبنے کو ہے واقعات زیادہ ہیں پھر سہی۔ چنانچہ میں نے دوسری صبح پھر سوال کیا تو آپ نے فرمایا سنو! فرعون کے دربار میں ایک دن اس بات کا ذکر چھڑا کہ اللہ کا وعدہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے یہ تھا کہ ان کی اولاد میں انبیاء اور بادشاہ ہوں گے۔
چنانچہ بنو اسرائیل اس کے آج تک منتظر ہیں اور انہیں یقین ہے کہ مصر کی سلطنت پھر ان میں جائے گی۔ پہلے تو ان کا خیال تھا کہ یہ وعدہ یوسف علیہ السلام کی بابت تھا لیکن ان کی وفات تک جب کہ یہ وعدہ پورا نہیں ہوا تو وہ اب عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ ان میں اپنے ایک پیغمبر کو بھیجے گا جن کے ہاتھوں انہیں سلطنت بھی ملے گی اور ان کی قومی و مذہبی ترقی ہو گی۔ ً یہ باتیں کر کے انہوں نے مجلس مشاورت قائم کی کہ اب کیا کیا جائے جس سے آئندہ کے اس خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔ آخر اس جلسے میں قرار داد منظور ہوئی کہ پولیس کا ایک محکمہ قائم کیا جائے جو شہر کا گشت لگاتا رہے اور بنی اسرائیل میں جو نرینہ اولاد ہو، اسے اسی وقت سرکار میں پیش کیا جائے اور ذبح کر دیا جائے۔ لیکن جب ایک مدت گزر گئی تو انہیں خیال پیدا ہوا کہ اس طرح تو بنی اسرائیل بالکل فنا ہو جائیں گے اور جو ذلیل خدمتیں ان سے لی جاتی ہیں، جو بیگاریں ان سے وصول ہو رہی ہیں، سب موقوف ہو جائیں گی، اس لیے اب تجویز ہوا کہ ایک سال ان کے بچوں کو چھوڑ دیا جائے اور ایک سال ان کے لڑکے قتل کر دیئے جائیں۔ اس طرح موجودہ بنی اسرائیلیوں کی تعداد بھی نہ بڑھے گی اور نہ اتنی کم ہو جائے گی کہ ہمیں اپنی خدمت گزاری کے لیے بھی نہ مل سکیں۔ جتنے بڈھے دو سال میں مریں گے، اتنے بچے ایک سال میں پیدا ہو جائیں گے۔
صفحہ نمبر5223
جس سال قتل موقوف تھا، اس سال تو ہارون علیہ السلام پیدا ہوئے اور جس سال قتل عام بچوں کا جاری تھا، اس برس موسیٰ علیہ السلام تولد ہوئے۔ آپ کی والدہ کی اس وقت کی گھبراہٹ اور پریشانی کا کیا پوچھنا؟ بے اندازہ تھی۔ ایک فتنہ تو یہ تھا۔ چنانچہ یہ خطرہ اس وقت دفع ہو گیا جب کہ اللہ کی وحی ان کے پاس آئی کہ ڈر خوف نہ کر ہم اسے تیری طرف پھر لوٹائیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔
چنانچہ بحکم الٰہی آپ نے اپنے بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دیا، جب صندوق نظروں سے اوجھل ہو گیا تو شیطان نے دل میں وسوسے ڈالنے شروع کئے کہ افسوس اس سے تو یہی بہتر تھا کہ میرے سامنے ہی اسے ذبح کر دیا جاتا تو میں اسے خود ہی کفناتی دفناتی تو سہی لیکن اب تو میں نے خود اسے مچھلیوں کا شکار بنایا۔ یہ صندوق یونہی بہتا ہوا خاص فرعونی گھاٹ سے جا لگا، وہاں اس وقت محل کی لونڈیاں موجود تھیں، انہوں نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور ارادہ کیا کہ کھول کر دیکھیں لیکن پھر ڈر گئیں کہ ایسا نہ ہو کہ چوری کا الزام لگے یونہی مقفل صندوق ملکہ فرعون کے پاس پہنچا دیا۔ یہ صندوق بادشاہ ملکہ کے سامنے کھولا گیا تو اس میں سے چاند جیسی صورت کا ایک چھوٹا سا معصوم بچہ نکلا جسے دیکھتے ہی فرعون کی بیوی صاحبہ کا دل محبت کے جوش سے اچھلنے لگا۔
صفحہ نمبر5224
ادھر ام موسیٰ کی حالت غیر ہو گئی، سوائے اپنے اس پیارے بچے کے خیال کے دل میں اور کوئی تصور ہی نہ تھا۔ ادھر ان قصائیوں کو جو حکومت کی طرف سے بچوں کے قتل کے محکمے کے ملازم تھے، معلوم ہوا تو وہ اپنی چھریاں تیز کئے ہوئے بڑھے اور ملکہ سے تقاضا کیا کہ بچہ انہیں سونپ دیں تاکہ وہ اسے ذبح کر ڈالیں۔
یہ دوسرا فتنہ تھا، آخر ملکہ نے جواب دیا کہ ٹھہرو میں خود بادشاہ سے ملتی ہوں اور اس بچے کو طلب کرتی ہوں، اگر وہ مجھے دے دیں تو خیر ورنہ تمہیں اختیار ہے۔ چنانچہ آپ آئیں اور بادشاہ سے کہا کہ یہ بچہ تو میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہو گا۔ اس خبیث نے کہا بس تم ہی اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھو، میری ٹھنڈک وہ کیوں ہونے لگا؟ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
صفحہ نمبر5225
اللہ تعالٰی کی تدابیر اعلیٰ اور محروم ہدایت فرعون ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ حلف بیان فرماتے ہیں کہ اگر وہ بھی کہہ دیتا کہ ہاں بیشک وہ میری آنکھوں کی بھی ٹھنڈک ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بھی ضرور راہ راست دکھا دیتا جیسا کہ اس کی بیوی صاحبہ مشرف بہ ہدایت ہوئی لیکن اس نے خود اس سے محروم رہنا چاہا اللہ نے بھی اسے محروم کر دیا۔
الغرض فرعون کو جوں توں راضی رضامند کر کے اس بچے کے پالنے کی اجازت لے کر آپ آئیں، اب محل کی جتنی دایہ تھیں سب کو جمع کیا ایک ایک کی گود میں بچہ دیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کا دودھ آپ پر حرام کر دیا، آپ نے کسی کا دودھ منہ میں لیا ہی نہیں۔ اس سے ملکہ گھبرائیں کہ یہ تو بہت ہی برا ہوا، یہ پیارا بچہ یونہی ہلاک ہو جائے گا۔ آخر سوچ کر حکم دیا کہ انہیں باہر لے جاؤ، ادھر ادھر تلاش کرو اور اگر کسی کا دودھ یہ معصوم قبول کرے تو اسے بہ منت سونپ دو۔ باہر بازار میں میلہ سا لگ گیا ہر شخص اس سعادت سے مالا مال ہونا چاہتا تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام نے کسی کا دودھ نہ پیا۔ آپ کی والدہ نے اپنی بڑی صاحبزادی آپ کی بہن کو باہر بھیج رکھا تھا کہ وہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ وہ اس مجمع میں موجود تھیں اور تمام واقعات دیکھ سن رہی تھیں۔ جب یہ لوگ عاجز آ گئے تو آپ نے فرمایا، اگر تم کہو تو میں ایک گھرانہ ایسا بتلاؤں جو اس کی نگہبانی کرے اور ہو بھی اس کا خیرخواہ۔ یہ کہنا تھا کہ لوگوں کو شک ہوا کہ ضرور یہ لڑکی اس بچے کو جانتی ہے اور اس کے گھر کو بھی پہچانتی ہے۔ اے ابن جبیر یہ تھا تیسرا فتنہ۔ لیکن اللہ نے لڑکی کو سمجھ دے دی اور اس نے جھٹ سے کہا کہ بھلا تم اتنا نہیں سمجھے کون بدنصیب ایسا ہو گا جو اس بچے کی خیر خواہی یا پرورش میں کمی کرے جو بچہ ہماری ملکہ کا پیارا ہے۔ کون نہ چاہے گا کہ یہ ہمارے ہاں پلے تاکہ انعام و اکرام سے اس کا گھر بھر جائے۔ یہ سن کر سب کی سمجھ میں آ گیا اسے چھوڑ دیا اور کہا بتا تو کون سی دایہ اس کے لیے تجویز کرتی ہے؟ اس نے کہا میں ابھی لائی، دوڑی ہوئی گئیں اور والدہ کو یہ خوشخبری سنائی۔ والدہ صاحبہ شوق و امید سے آئیں اپنے پیارے بچے کو گود میں لیا، اپنا دودھ منہ میں دیا بچے نے پیٹ بھر کر پیا۔ اسی وقت شاہی محلات میں یہ خوشخبری پہنچائی گئی ملکہ کا حکم ہوا کہ فوراً اس دایہ کو اور بچے کو میرے پاس لاؤ، جب ماں بیٹا پہنچے تو اپنے سامنے دودھ پلوایا اور یہ دیکھ کر کہ بچہ اچھی طرح دودھ پیتا ہے، بہت ہی خوش ہوئیں اور فرمانے لگیں کہ دائی اماں مجھے اس بچے سے وہ محبت ہے جو دنیا کی کسی اور چیز سے نہیں، تم یہیں محل میں رہو اور اس بچے کی پرورش کرو۔
صفحہ نمبر5226
لیکن موسیٰ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ کے سامنے اللہ کا وعدہ تھا انہیں یقین کامل تھا اس لیے آپ ذرا رکیں اور فرمایا کہ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اپنے گھر کو اور اپنے بچوں کو چھوڑ کر یہاں رہوں۔ اگر آپ چاہتی ہیں تو یہ بچہ میرے سپرد کر دیں میں اسے اپنے گھر لے جاتی ہوں ان کی پرورش میں کوئی کوتاہی نہ کروں گی۔ ملکہ صاحبہ نے مجبوراً اس بات کو بھی مان لیا اور آپ اسی دن خوشی خوشی اپنے بچے کو لیے ہوئے گھر آ گئیں۔
اس بچے کی وجہ سے اس محلے کے بنو اسرائیل بھی فرعونی مظالم سے رہائی پا گئے۔ جب کچھ زمانہ گزر گیا تو بادشاہ بیگم نے حکم بھیجا کہ کسی دن میرے بچے کو میرے پاس لاؤ، ایک دن مقرر ہو گیا، تمام ارکان سلطنت اور درباریوں کو حکم ہوا کہ آج میرا بچہ میرے پاس آئے گا۔ تم سب قدم قدم پر اس کا استقبال کرو اور دھوم دھام سے نذریں دیتے ہوئے اسے میرے محل سرائے تک لاؤ۔ چنانچہ جب سواری روانہ ہوئی، وہاں سے لے کر محل سرائے سلطانی تک برابر تحفے تحائف نذریں اور ہدیے پیشکش ہوتے رہے اور بڑے ہی عزت و اکرام کے ساتھ آپ یہاں پہنچے تو خود بیگم نے بھی خوشی خوشی بہت بڑی رقم پیش کی اور بڑی خوشی منائی گئی۔ پھر کہنے لگی کہ میں تو اسے بادشاہ کے پاس لے جاؤں گی، وہ بھی اسے انعام و اکرام دیں گے، لے گئیں اور بادشاہ کی گود میں لٹا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کی داڑھی پکڑ کر زور سے گھسیٹی۔ فرعون کھٹک گیا اور اس کے درباریوں نے کہنا شروع کیا کہ کیا عجب یہی وہ لڑکا ہو آپ اسے فوراً قتل کرا دیجئیے۔
صفحہ نمبر5227
اے ابن جبیر یہ تھا چوتھا فتنہ۔ ملکہ بیتاب ہو کر بول اٹھیں، اے بادشاہ کیا ارادہ کر رہے ہو؟ آپ اسے مجھے دے چکے ہیں میں اسے اپنا بیٹا بنا چکی ہوں۔ بادشاہ نے کہا یہ سب ٹھیک ہے لیکن دیکھو تو اس نے تو آتے ہی داڑھی پکڑ کر مجھے نیچا کر دیا گویا یہی میرا گرانے والا اور مجھے تاخت و تاراج کرنے والا ہے۔
بیگم صاحبہ نے فرمایا، بادشاہ بچوں کو ان چیزوں کی کیا تمیز؟ سنو میں ایک فیصلہ کن بات بتاؤں، اس کے سامنے دو انگارے آگ کے سرخ رکھ دو اور دو موتی آبدار چمکتے ہوئے رکھ دو پھر دیکھو یہ کیا اٹھاتا ہے؟ اگر موتی اٹھا لے تو سمجھنا کہ اس میں عقل ہے اور اگر آگ کے انگارے تھام لے تو سمجھ لینا کہ عقل نہیں۔ جب عقل و تمیز نہیں تو اس کی داڑھی پکڑ لینے پر اتنے لمبے خیالات کر کے اس کی جان کا دشمن بن جانا کون سی دانائی کی بات ہے؟ چنانچہ یہی کیا گیا دونوں چیزیں آپ کے سامنے رکھی گئیں۔ آپ نے دہکتے ہوئے انگارے اٹھا لیے اسی وقت وہ چھین لیے کہ ایسا نہ ہو ہاتھ جل جائیں۔ اب فرعون کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور اس کا بدلا ہوا رخ ٹھیک ہو گیا۔ حق تو یہ ہے کہ اللہ کو جو کام کرنا مقصود ہوتا ہے، اس کے قدرتی اسباب مہیا ہو ہی جاتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کی دربار فرعون میں فرعون کے خاص محل میں فرعون کی بیوی کی گود میں ہی پرورش ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ آپ اچھی عمر کو پہنچ گئے اور بالغ ہو گئے۔
صفحہ نمبر5228
اب تو فرعونیوں کے جو مظالم اسرائیلیوں پر ہو رہے تھے، ان میں بھی کمی ہو گئی تھی سب امن و امان سے تھے۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک فرعونی اور ایک اسرائیلی کی لڑائی ہو رہی تھی۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام سے فریاد کی آپ کو سخت غصہ آیا اسلئے کہ اس وقت وہ فرعونی اس بنی اسرائیلی کو دبوچے ہوئے تھا، آپ نے اسے ایک مکا مارا، اللہ کی شان مکا لگتے ہی وہ مر گیا۔
یہ تو لوگوں کو عموماً معلوم تھا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیلیوں کی طرف داری کرتے ہیں لیکن لوگ اس کی وجہ اب تک یہی سمجھتے تھے کہ چونکہ آپ نے انہی میں دودھ پیا ہے، اس لیے ان کے طرفدار ہیں۔ اصلی راز کا علم تو صرف آپ کی والدہ کو تھا اور ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم کو بھی معلوم کرا دیا ہو۔ اسے مردہ دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام کانپ اٹھے کہ یہ تو شیطانی حرکت ہے وہ بہکانے والا اور کھلا دشمن ہے۔
صفحہ نمبر5229
پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے کہ باری تعالیٰ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا تو معاف فرما۔ پروردگار نے بھی آپ کی اس خطا سے درگزر فرما لیا وہ تو غفور و رحیم ہے ہی۔ چونکہ قتل کا معاملہ تھا، آپ پھر بھی خوفزدہ ہی رہے، تاک جھانک میں رہے کہ کہیں معاملہ کھل تو نہیں گیا۔ ادھر فرعون کے پاس شکایت ہوئی کہ ایک قبطی کو کسی بنی اسرائیلی نے مار ڈالا ہے، فرعون نے حکم جاری کر دیا کہ واقعہ کی پوری تحقیق کرو قاتل کو تلاش کر کے پکڑ لاؤ اور گواہ بھی پیش کرو اور جرم ثابت ہو جانے کی صورت میں اسے بھی قتل کر دو۔
پولیس نے ہر چند تفتیش کی لیکن قاتل کا کوئی سراغ نہ ملا۔ اتفاق کی بات کہ دوسرے ہی دن موسیٰ علیہ السلام پھر کہیں جا رہے تھے کہ دیکھا وہی بنی اسرائیلی شخص ایک دوسرے فرعونی سے جھگڑ رہا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی وہ دہائی دینے لگا لیکن اس نے یہ محسوس کیا کہ شاید موسیٰ علیہ السلام اپنے کل کے فعل سے نادم ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس کا یہ باربار کا جھگڑنا اور فریاد کرنا برا معلوم ہوا اور کہا تم تو بڑے لڑاکا ہو، یہ فرما کر اس فرعونی کو پکڑنا چاہا لیکن اس بنی اسرائیلی بزدل نے سمجھا کہ شاید آپ چونکہ مجھ پر ناراض ہیں مجھے ہی پکڑنا چاہتے ہیں۔
صفحہ نمبر5230
حالانکہ اس کا یہ صرف بزدلانہ خیال تھا آپ تو اسی فرعونی کو پکڑنا چاہتے تھے اور اسے بچانا چاہتے تھے لیکن خوف و ہراس کی حالت میں بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جیسے کہ کل تو نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا، کیا آج مجھے مار ڈالنا چاہتا ہے؟ یہ سن کر وہ فرعونی اسے چھوڑ بھاگا، دوڑا گیا اور سرکاری سپاہ کو اس واقعہ کی خبر کر دی۔
فرعون کو بھی قصہ معلوم ہوا۔ اسی وقت جلادوں کو حکم دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو پکڑ کر قتل کر دو۔ یہ لوگ شارع عام سے آپ کی جستجو میں چلے۔ ادھر ایک بنی اسرائیلی نے راستہ کاٹ کر نزدیک کے راستے سے آ کر موسیٰ علیہ السلام کو خبر کر دی۔ اے ابن جبیر رحمہ اللہ یہ ہے پانچواں فتنہ۔
موسیٰ علیہ السلام یہ سنتے ہی مٹھیاں بند کرکے مصر سے بھاگ کھڑے ہوئے، نہ کبھی پیدل چلے تھے نہ کبھی کسی مصیبت میں پھنسے تھے، شہزادوں کی طرح لاڈ چاؤ میں پلے تھے، نہ راستے کی خبر تھی نہ کبھی سفر کا اتفاق پڑا تھا۔ رب پر بھروسہ کر کے یہ دعا کر کے کہ اے اللہ مجھے سیدھی راہ لے چلنا، چل کھڑے ہوئے یہاں تک کہ مدین کی حدود میں پہنچے۔
صفحہ نمبر5231
یہاں دیکھا کہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں وہیں دو لڑکیوں کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو روکے کھڑی ہیں۔ پوچھا کہ تم ان کے ساتھ اپنے جانوروں کو پانی کیوں نہیں پلا لیتیں؟ الگ کھڑی ہوئی انہیں کیوں روک رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس بھیڑ میں ہمارے بس کی بات نہیں کہ اپنے جانوروں کو پانی پلائیں، ہم تو جب یہ لوگ پانی پلا چکتے ہیں ان کا بقیہ اپنے جانوروں کو پلا دیا کرتی ہیں۔ آپ فوراً آگے بڑھے اور ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔ چونکہ بہت جلد پانی کھینچا، آپ بہت قوی آدمی تھے، سب سے پہلے ان کے جانوروں کو سیر کر دیا۔
یہ اپنی بکریاں لے کر اپنے گھر روانہ ہوئیں اور آپ ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے اور اللہ سے دعا کرنے لگے کہ پروردگار میں تیری تمام تر مہربانیوں کا محتاج ہوں۔ یہ دونوں لڑکیاں جب اپنے والد کے پاس پہنچیں تو انہوں نے کہا، آج کیا بات ہے کہ تم وقت سے پہلے ہی آ گئیں؟ اور بکریاں بھی خوب آسودہ اور شکم سیر معلوم ہوتی ہیں۔ تو ان بچیوں نے سارا واقعہ کہہ سنایا آپ نے حکم دیا کہ تم میں سے ایک ابھی چلی جائے اور انہیں میرے پاس بلا لائے۔ وہ آئیں اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنے والد صاحب کے پاس لے گئیں۔ انہوں نے سرسری ملاقات کے بعد واقعہ پوچھا تو آپ نے سارا قصہ کہہ سنایا، اس پر وہ فرمانے لگے اب کوئی ڈر کی بات نہیں آپ ان ظالموں سے چھوٹ گئے۔ ہم لوگ فرعون کی رعایا نہیں نہ ہم پر اس کا کوئی دباؤ ہے۔ اسی وقت ایک لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جی انہوں نے ہمارا کام کر دیا ہے اور یہ ہیں بھی قوت والے امانت دار شخص، کیا اچھا ہو کہ آپ انہیں اپنے ہاں مقرر کر لیجئے کہ یہ اجرت پر ہماری بکریاں چرا لایا کریں۔ باپ کو غیرت اور غصہ آ گیا اور پوچھا بیٹی تمہیں یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ یہ قوی اور امین ہیں؟ بچی نے جواب دیا کہ قوت تو اس وقت معلوم ہوئی جب انہوں نے ہماری بکریوں کے لیے پانی نکالا اتنے بڑے ڈول کو اکیلے ہی کھینچتے تھے اور بڑی پھرتی اور ہرپن سے۔ امانت داری یوں معلوم ہوئی کہ میری آواز سن کر انہوں نے نظر اونچی کی اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ میں عورت ہوں، پھر نیچی گردن کر کے میری باتیں سنتے رہے، واللہ! آپ کا پورا پیغام پہنچانے تک انہوں نے نگاہ اونچی نہیں کی۔ پھر مجھ سے فرمایا کہ تم میرے پیچھے رہو مجھے دور سے راستہ بتا دیا کرنا۔ یہ بھی دلیل ہے ان کی اللہ خوفی اور امانت داری کی۔ باپ کی غیرت و حمیت بھی رہ گئی، بچی کی طرف سے بھی دل صاف ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام کی محبت دل میں سما گئی۔
صفحہ نمبر5232
اب موسیٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے، میرا ارادہ ہے کہ اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کر دوں اس شرط پر کہ آپ آٹھ سال تک میرے ہاں کام کاج کرتے رہیں، ہاں اگر دس سال تک کریں تو اور بھی اچھا ہے، ان شاءاللہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں بھلا آدمی ہوں۔ چنانچہ یہ معاملہ طے ہو گیا اور اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے بجائے آٹھ سال کے دس سال پورے کئے۔
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہلے مجھے یہ معلوم نہ تھا اور ایک نصرانی عالم مجھ سے یہ پوچھ بیٹھا تھا تو میں اسے کوئی جواب نہ دے سکا، پھر جب میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا اور آپ نے جواب دیا تو میں نے اس سے ذکر کیا، اس نے کہا تمہارے استاد بڑے عالم ہیں۔ میں نے کہا، ہاں ہیں ہی۔ اب موسیٰ علیہ السلام اس مدت کو پوری کر کے اپنی اہلیہ صاحبہ کو لیے ہوئے یہاں سے چلے۔ پھر وہ واقعات ہوئے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ آگ دیکھی، گئے، اللہ سے کلام کیا، لکڑی کا اژدھا بننا، ہاتھ کا نورانی بننا ملاحظہ کیا، نبوت پائی، فرعون کی طرف بھیجے گئے تو قتل کے واقعہ کے بدلے کا اندیشہ ظاہر فرمایا۔ اس سے اطمینان حاصل کر کے زبان کی گرہ کشائی کی طلب کی۔ اس کو حاصل کر کے اپنے بھائی ہارون کی ہمدردی اور شرکت کار چاہی۔ یہ بھی حاصل کر کے لکڑی لیے ہوئے شاہ مصر کی طرف چلے۔
صفحہ نمبر5233
ادھر ہارون علیہ السلام کے پاس وحی پہنچی کہ اپنے بھائی کی موافقت کریں اور ان کا ساتھ دیں۔ دونوں بھائی ملے اور فرعون کے دربار میں پہنچے۔ اطلاع کرائی بڑی دیر میں اجازت ملی، اندر گئے، فرعون پر ظاہر کیا کہ ہم اللہ کے رسول بن کر تیرے پاس آئے ہیں۔ اب جو سوال جواب ہوئے وہ قرآن میں موجود ہیں۔
فرعون نے کہا اچھا تم چاہتے کیا ہو؟ اور واقعہ قتل یاد دلایا جس کا عذر موسیٰ علیہ السلام نے بیان کیا جو قرآن میں موجود ہے اور کہا، ہمارا ارادہ یہ ہے کہ تو ایمان لا اور ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے رہائی دے۔ اس نے انکار کیا اور کہا کہ اگر سچے ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ، آپ نے اسی وقت اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی وہ زمین پر پڑتے ہی ایک زبردست خوفناک اژدھے کی صورت میں منہ پھاڑے کچلیاں نکالے فرعون کی طرف لپکا۔ مارے خوف کے فرعون تخت سے کود گیا اور بھاگتا ہوا عاجزی سے فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے واسطے اسے پکڑ لو۔ آپ نے ہاتھ لگایا اسی وقت لاٹھی اپنی اصلی حالت میں آ گئی۔
پھر آپ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ بغیر کسی مرض کے داغ کے چمکتا ہوا نکلا جسے دیکھ کر وہ حیران ہو گیا، آپ نے پھر ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ اپنی اصلی حالت میں تھا۔ اب فرعون نے اپنے درباریوں کی طرف دیکھ کر کہا کہ تم نے دیکھا، یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور تمہارے ملک پر قابض ہو کر تمہارے طریقے مٹا دیں۔
صفحہ نمبر5234
پھر موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمیں آپ کی نبوت ماننے سے بھی انکار ہے اور آپ کا کوئی مطالبہ بھی ہم پورا نہیں کر سکتے بلکہ ہم اپنے جادوگروں کو تمہارے مقابلہ کے لیے بلا رہے ہیں جو تمہارے اس جادو پر غالب آ جائیں گے۔ چنانچہ یہ لوگ اپنی کوششوں میں مشغول ہو گئے۔ تمام ملک سے جادوگروں کو بڑی عزت سے بلوایا جب سب جمع ہو گئے تو انہوں نے پوچھا کہ اس کا جادو کس قسم کا ہے؟ فرعون والوں نے کہا لکڑی کا سانپ بنا دیتا ہے۔
انہوں نے کہا، اس میں کیا ہے؟ ہم لکڑیوں کی رسیوں کے وہ سانپ بنائیں گے کہ روئے زمین پر ان کا کوئی مقابلہ نہ کر سکے۔ لیکن ہمارے لیے انعام مقرر ہو جانا چاہیئے۔ فرعون نے ان سے قول و قرار کیا کہ انعام کیسا؟ میں تو تمہیں اپنا مقرب خاص اور درباری بنا لوں گا اور تمہیں نہال نہال کر دونگا جو مانگو گے پاؤ گے۔ چنانچہ انہوں نے اعلان کر دیا کہ عید کے روز دن چڑھے فلاں میدان میں مقابلہ ہو گا۔ مروی ہے کہ ان کی یہ عید عاشورا کے دن تھی۔
صفحہ نمبر5235
اس دن تمام لوگ صبح ہی صبح اس میدان میں پہنچ گئے کہ آج چل کر دیکھیں گے کہ کون غالب آتا ہے؟ ہم تو جادوگروں کے کمالات کے قائل ہیں وہی غالب آئیں گے اور ہم انہی کی مانیں گے۔ مذاق سے اس بات کو بدل کر کہتے تھے کہ چلو انہی دونوں جادوگروں کے مطیع بن جائیں گے اگر وہ غالب رہیں۔ میدان میں آ کر جادوگروں نے انبیاء اللہ علیہم السلام سے کہا کہ لو اب بتاؤ، تم پہلے اپنا جادو ظاہر کرتے ہو یا ہم ہی شروع کریں؟ آپ نے فرمایا تم ہی ابتداء کرو تاکہ تمہارے ارمان پورے ہوں۔
اب انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈالیں تو ایسا لگا کہ وہ سب سانپ اور بلائیں بن کر اللہ کے نبیوں کی طرف دوڑیں جس سے خوفزدہ ہو کر آپ پیچھے ہٹنے لگے۔ اس وقت اللہ کی وحی آئی کہ آپ اپنی لکڑی زمین پر ڈال دیجئیے، آپ نے ڈالدی، وہ ایک خوفناک بھیانک عظیم الشان اژدھابن کر ان کی طرف دوڑا یہ لکڑیاں رسیاں سب گڈ مڈ ہو گئیں اور وہ ان سب کو نگل گیا۔ جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کیطرف کا نشان ہے، جادو میں یہ بات کہاں؟ چنانچہ سب نے اپنے ایمان کا اعلان کر دیا کہ ہم موسیٰ کے رب پر ایمان لائے اور ان دونوں بھائیوں کی نبوت ہمیں تسلیم ہے۔ ہم اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔ فرعون اور فرعونیوں کی کمر ٹوٹ گئی، رسوا ہوئے، منہ کالے پڑ گئے، ذلت کے ساتھ خاموش ہو گئے۔ خون کے گھونٹ پی کر چپ ہو گئے۔ ادھر یہ ہو رہا تھا۔ ادھر فرعون کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنے سگے بچے کی طرح پالا تھا، بیقرار بیٹھی تھیں اور اللہ سے دعائیں مانگ رہی تھیں کہ اللہ ذولجلال اپنے نبی کو غالب کرے۔ فرعونیوں نے بھی اس حال کو دیکھا تھا لیکن انہوں نے خیال کیا کہ اپنے خاوند کی طرفداری میں ان کا یہ حال ہے۔ یہاں سے ناکام واپس جانے پر فرعون نے بےایمانی پر کمر باندھ لی۔ اللہ کی طرف سے موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں بہت سے نشانات ظاہر ہوئے۔ جب کبھی کوئی پکڑ آ جاتی، یہ گھبرا کر بلکہ گڑ گڑا کر وعدہ کرتا کہ اچھا اس مصیبت کے ہٹ جانے پر میں بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ کر دونگا لیکن جب عذاب ہٹ جاتا پھر منکر بن کر سرکشی پر آ جاتا اور کہتا تیرا رب اس کے سوا کچھ اور بھی کر سکتا ہے؟ چنانچہ ان پر طوفان آیا، ٹڈیاں آئیں، جوئیں آئیں، مینڈک آئے، خون آیا اور بھی بہت سی صاف صاف نشانیاں دیکھیں۔ جہاں آفت آئی، ڈرا وعدہ کیا، جہاں وہ ٹل گئی، مکر گیا اور اکڑ گیا۔ اب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو لے کر یہاں سے نکل جاؤ آپ راتوں رات انہیں لے کر روانہ ہو گئے۔
صفحہ نمبر5236
صبح فرعونیوں نے دیکھا کہ رات کو سارے بنی اسرائیل چلے گئے ہیں۔ انہوں نے فرعون سے کہا۔ اس نے سارے ملک میں احکام بھیج کر ہر طرف سے فوجیں جمع کیں اور بہت بڑی جمعیت کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ راستے میں جو دریا پڑتا تھا اس کی طرف اللہ کی وحی پہنچی کہ تجھ پر جب میرے بندے موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی پڑے تو تو انہیں راستہ دے دینا۔ تجھ میں بارہ راستے ہو جائیں کہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے الگ الگ اپنی راہ لگ جائیں۔ پھر جب یہ پار ہو جائیں اور فرعونی آ جائیں تو تو مل جانا اور ان میں سے ایک کو بھی بے ڈبوئے نہ چھوڑنا۔
موسیٰ علیہ السلام جب دریا پر پہنچے دیکھا کہ وہ موجیں مار رہا ہے پانی چڑھا ہوا ہے شور اٹھ رہا ہے، گھبرا گئے اور لکڑی مارنا بھول گئے۔ دریا بیقرار یوں تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کے کسی حصے پر موسیٰ علیہ السلام لکڑی مار دیں اور اسے خبر نہ ہو تو عذاب الٰہی میں بہ سبب اللہ کی نافرمانی کے پھنس جائے۔ اتنے میں فرعون کا لشکر بنی اسرائیل کے سر پر جا پہنچا، یہ گھبرا گئے اور کہنے لگے لو موسیٰ ہم تو پکڑ لیے گئے۔ اب آپ وہ کیجئے جو اللہ کا آپ کو حکم ہے یقیناً نہ تو اللہ جھوٹا ہے نہ آپ۔
صفحہ نمبر5237
آپ نے فرمایا مجھے سے تو یہ فرمایا گیا ہے کہ جب تو دریا پر پہنچے گا، وہ تجھے بارہ راستے دیدے گا، تو گزر جانا۔ اسی وقت یاد آیا کہ لکڑی مارنے کا حکم ہوا ہے، چنانچہ لکڑی ماری۔ ادھر فرعونی لشکر کا اول حصہ بنی اسرائیل کے آخری حصے کے پاس آ چکا تھا کہ دریا خشک ہو گیا اور اس میں راستے نمایاں ہو گئے اور آپ اپنی قوم کو لیے ہوئے اس میں بیخطر اتر گئے اور با آرام جانے لگے۔ جب یہ نکل چکے، فرعونی سپاہ ان کے تعاقب میں دریا میں اتری۔
جب یہ سارا لشکر اس میں اتر گیا تو فرمان الٰہی کے مطابق دریا رواں ہو گیا اور سب کو بیک وقت غرق کر دیا۔ بنو اسرایئل اس واقعہ کو اپنی آنکھوں دیکھ رہے تھے تاہم انہوں نے کہا کہ اے رسول اللہ! (علیہ السلام) ہمیں کیا خبر کہ فرعون بھی مرا یا نہیں؟ آپ نے دعا کی اور دریا نے فرعون کی بے جان لاش کو کنارے پر پھینک دیا۔ جسے دیکھ کر انہیں یقین کامل ہو گیا کہ ان کا دشمن مع اپنے لاؤ و لشکر کے تباہ ہو گیا۔
صفحہ نمبر5238
فرعون سے نجات کے بعد بنی اسرائیل کی نافرمانیاں ٭٭
اب یہاں سے آگے چلے تو دیکھا کہ ایک قوم اپنے بتوں کی مجاور بن کر بیٹھی ہے تو کہنے لگے اے اللہ کے رسول ہمارے لئے بھی کوئی معبود ایسا ہی مقرر کر دیجئیے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ناراض ہو کر کہا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو، تم نے اتنی بڑی عبرتناک نشانیاں دیکھیں۔ ایسے اہم واقعات سنے لیکن اب تک نہ عبرت ہے نہ غیرت۔
یہاں سے آگے بڑھ کر ایک منزل پر آپ نے قیام کیا اور یہاں اپنے خلیفہ اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو بنا کر قوم سے فرمایا کہ میری واپسی تک ان کی فرمانبرداری کرتے رہنا میں اپنے رب کے پاس جا رہا ہوں۔ تیس دن کا اس کا وعدہ ہے۔ چنانچہ قوم سے الگ ہو کر وعدے کی جگہ پہنچ کر تیس دن رات کے روزے پورے کر کے اللہ سے باتیں کرنے کا دھیان پیدا ہوا لیکن یہ سمجھ کر کہ روزوں کی وجہ سے منہ سے بھبکا نکل رہا ہو گا، تھوڑی سی گھاس لے کر آپ نے چبا لی۔ اللہ تعالیٰ نے باوجود علم کے دریافت فرمایا کہ ایسا کیوں کیا؟ آپ نے جواب دیا، صرف اس لیے کہ تجھ سے باتیں کرتے وقت میرا منہ خوشبودار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کیا تجھے معلوم نہیں کہ روزہ دار کے منہ کی بو مجھے مشک و عنبر کی خوشبو سے زیادہ اچھی لگتی ہے؟ اب تو دس روزے اور رکھ پھر مجھ سے کلام کرنا۔ آپ نے روزے رکھنا شروع کر دیئے۔ قوم پر تیس دن جب گزر گئے اور حسب وعدہ موسیٰ علیہ السلام نہ لوٹے تو وہ غمگین رہنے لگے۔
صفحہ نمبر5239
ہارون علیہ السلام نے ان میں خطبہ کیا اور فرمایا کہ جب تم مصر سے چلے تھے تو قبطیوں کی رقمیں تم میں سے بعض پر ادھار تھیں اسی طرح ان کی امانتیں بھی تمہارے پاس رہ گئی ہیں، یہ ہم انہیں واپس تو کرنے کے نہیں لیکن میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ وہ ہماری ملکیت میں رہیں۔ اس لیے تم ایک گہرا گڑھا کھودو اور جو اسباب برتن بھانڈا زیور سونا چاندی وغیرہ ان کا تمہارے پاس ہے، سب اس میں ڈالو پھر آگ لگا دو۔
چنانچہ یہی کیا گیا۔ ان کے ساتھ سامری نامی ایک شخص تھا، یہ گائے بچھڑے پوجنے والوں میں سے تھا، بنی اسرائیل میں سے نہ تھا لیکن بوجہ پڑوسی ہونے کے اور فرعون کی قوم میں سے نہ ہونے کے یہ بھی ان کے ساتھ وہاں سے نکل آیا تھا، اس نے کسی نشان سے کچھ مٹھی میں اٹھا لیا تھا۔ ہارون علیہ السلام نے فرمایا تو بھی اسے ڈال دے، اس نے جواب دیا کہ یہ تو اس کے اثر سے ہے جو تمہیں دریا سے پار کرا لے گیا۔ خیر میں اسے ڈال دیتا ہوں لیکن اس شرط پر کہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ اس سے وہ بن جائے جو میں چاہتا ہوں۔ آپ نے دعا کی اور اس نے اپنی مٹھی میں جو تھا اسے ڈال دیا اور کہا میں چاہتا ہوں اس کا ایک بچھڑا بن جائے۔ قدرت الٰہی سے اس گڑھے میں جو تھا، وہ ایک بچھڑے کی صورت میں ہو گیا جو اندر سے کھوکھلا تھا اس میں روح نہ تھی لیکن ہوا اس کے پیچھے کے سوراخ سے جا کر منہ سے نکلتی تھی اس سے ایک آواز پیدا ہوتی تھی۔
صفحہ نمبر5240
بنو اسرائیل نے پوچھا سامری یہ کیا ہے؟ اس بے ایمان نے کہا، یہی تمہارا سب کا رب ہے لیکن موسیٰ علیہ السلام راستہ بھول گئے اور دوسری جگہ رب کی تلاش میں چلے گئے۔ اس بات نے بنی اسرائیل کے کئی فرقے کر دیئے۔ ایک فرقے نے تو کہا کہ موسیٰ علیہ السلام کے آنے تک ہم اس کی بابت کوئی بات طے نہیں کر سکتے، ممکن ہے یہی اللہ ہو تو ہم اس کی بے ادبی کیوں کریں؟ اور اگر یہ رب نہیں ہے تو موسیٰ علیہ السلام کے آتے ہی حقیقت کھل جائے گی۔
دوسری جماعت نے کہا، محض واہیات ہے یہ شیطانی حرکت ہے ہم اس لغویت پر مطلقاً ایمان نہیں رکھتے، نہ یہ ہمارا رب نہ ہمارا اس پر ایمان۔ ایک پاجی فرقے نے دل سے اسے مان لیا اور سامری کی بات پر ایمان لائے مگر بہ ظاہر اس کی بات کو جھٹلایا۔ ہارون علیہ السلام نے اسی وقت سب کو جمع کر کے فرمایا کہ لوگو! یہ اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہے تم اس جھگڑے میں کہاں پھنس گئے؟ تمہارا رب تو رحمان ہے تم میری اتباع کرو اور میرا کہنا مانو۔ انہوں نے کہا آخر اس کی کیا وجہ کہ تیس دن کا وعدہ کر کے موسیٰ علیہ السلام گئے ہیں اور آج چالیس دن ہونے کو آئے لیکن اب تک لوٹے نہیں۔ بعض بیوقوفوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ان سے ان کا رب خطا کر گیا اب یہ اس کی تلاش میں ہوں گے۔ ادھر دس روزے اور پورے ہونے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کو بتایا گیا کہ آپ کے بعد آپ کی قوم کا اس وقت کیا حال ہے؟ آپ اسی وقت رنج و افسوس اور غم و غصے کے ساتھ واپس لوٹے اور یہاں آ کر قوم سے بہت کچھ کہا سنا، اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر گھسیٹنے لگے۔ غصے کی زیادتی کی وجہ سے تختیاں بھی ہاتھ سے پھینک دیں۔ پھر اصل حقیقت معلوم ہو جانے پر آپ نے اپنے بھائی سے معذرت کی، ان کے لیے استغفار کیا۔
صفحہ نمبر5241
اور سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے جواب دیا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے کے پاؤں تلے سے میں نے ایک مٹھی اٹھالی یہ لوگ اسے نہ پہچان سکے اور میں نے جان لیا تھا۔ میں نے وہی مٹھی اس آگ میں ڈال دی تھی میری رائے میں یہی بات آئی۔ آپ نے فرمایا، جا اس کی سزا دنیا میں تو یہ ہے کہ تو یہی کہتا رہے کہ“ہاتھ لگانا نہیں“ پھر ایک وعدے کا وقت ہے جس کا ٹلنا ناممکن ہے اور تیرے دیکھتے دیکھتے ہم تیرے اس معبود کو جلا کر اس کی خاک بھی دریا میں بہا دیں گے۔ چنانچہ آپ نے یہی کیا۔
اس وقت بنی اسرائیل کو یقین آ گیا کہ واقعی وہ اللہ نہ تھا۔ اب وہ بڑے نادم ہوئے اور سوائے ان مسلمانوں کے جو ہارون علیہ السلام کے ہم عقیدہ رہے تھے، باقی کے لوگوں نے عذر معذرت کی اور کہا کہ اے اللہ کے نبی! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمارے لیے توبہ کا دروازہ کھول دے، جو وہ فرمائے گا ہم بجا لائیں گے تاکہ ہماری یہ زبردست خطا معاف ہو جائے۔
صفحہ نمبر5242
آپ نے بنی اسرائیل کے اس گروہ میں سے ستر لوگوں کو چھانٹ کر علیحدہ کیا اور توبہ کے لیے چلے، وہاں زمین پھٹ گئی اور آپ کے سب ساتھی اس میں اتار دیئے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام کو فکر لاحق ہوا کہ میں بنی اسرائیل کو کیا منہ دکھاؤں گا؟ گریہ و زاری شروع کی اور دعا کی کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے ہی مجھے اور ان سب کو ہلاک کر دیتا، ہمارے بیوقوفوں کے گناہ کے بدلے تو ہمیں ہلاک نہ کر۔
آپ تو ان کے ظاہر کو دیکھ رہے تھے اور اللہ کی نظریں ان کے باطن پر تھیں۔ ان میں ایسے بھی تھے جو بہ ظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے لیکن دراصل دلی عقیدہ ان کا اس بچھڑے کے رب ہونے پر تھا۔ ان ہی منافقین کی وجہ سے سب کو تہ زمین کر دیا گیا تھا۔ نبی اللہ علیہ السلام کی اس آہ و زاری پر رحمت الٰہی جوش میں آئی اور جواب ملا کہ یوں تو میری رحمت سب پر چھائے ہوئے ہے لیکن میں اسے ان کے نام ہبہ کروں گا جو متقی پرہیزگار ہوں، زکوٰۃ کے ادا کرنے والے ہوں، میری باتوں پر ایمان لائیں اور میرے اس رسول و نبی کی اتباع کریں جس کے اوصاف وہ اپنی کتابوں میں لکھے پاتے ہیں یعنی توراۃ و انجیل میں۔
صفحہ نمبر5243
کلیم اللہ علیہ السلام نے عرض کی کہ یا الٰہی میں نے اپنی قوم کے لیے توبہ طلب کی، تو نے جواب دیا کہ تو اپنی رحمت کو ان کے ساتھ کر دے گا جو آگے آنے والے ہیں، پھر اللہ مجھے بھی تو اپنے اسی رحمت والے نبی کی امت میں پیدا کرتا۔ رب العالمین نے فرمایا، سنو ان کی توبہ اس وقت قبول ہو گی کہ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں، نہ باپ بیٹے کو دیکھے نہ بیٹا باپ کو چھوڑے، آپس میں گتھ جائیں اور ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں۔
چنانچہ بنو اسرائیل نے یہی کیا اور جو منافق لوگ تھے، انہوں نے بھی سچے دل سے توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، جو بچ گئے تھے وہ بھی بخشے گئے، جو قتل ہوئے وہ بھی بخش دیئے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام اب یہاں سے بیت المقدس کی طرف چلے۔ توراۃ کی تختیاں اپنے ساتھ لیں اور انہیں احکام الٰہی سنائے جو ان پر بہت بھاری پڑے اور انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ چنانچہ ایک پہاڑ ان کے سروں پر معلق کھڑا کر دیا گیا، وہ مثل سائبان کے سروں پر تھا اور ہر دم ڈر تھا کہ اب گرا، انہوں نے اب اقرار کیا اور تورات قبول کر لی پہاڑ ہٹ گیا۔ اس پاک زمین پر پہنچے جہاں کلیم اللہ علیہ السلام انہیں لے جانا چاہتے تھے، دیکھا کہ وہاں ایک بڑی طاقتور زبردست قوم کا قبضہ ہے۔ تو موسیٰ علیہ السلام کے سامنے نہایت نامردی سے کہا کہ یہاں تو بڑی زور آور قوم ہے، ہم میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں، یہ نکل جائیں تو ہم شہر میں داخل ہو سکتے ہیں۔ یہ تو یونہی نامردی اور بزدلی ظاہر کرتے رہے۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے ان سرکشوں میں سے دو شخصوں کو ہدایت دے دی، وہ شہر سے نکل کر موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں آ ملے اور انہیں سمجھانے لگے کہ تم ان کے جسموں اور تعداد سے مرعوب نہ ہو جاؤ، یہ لوگ بہادر نہیں ان کے دل گردے کمزور ہیں، تم آگے تو بڑھو۔ ان کے شہر کے دروازے میں گئے اور ان کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے ہوئے، یقیناً تم ان پر غالب آ جاؤ گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دونوں شخص جنہوں نے بنی اسرائیل کو سمجھایا اور انہیں دلیر بنایا، خود بنی اسرایئل میں سے ہی تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5244
لیکن ان کے سمجھانے بجھانے، اللہ کے حکم ہو جانے اور موسیٰ علیہ السلام کے وعدے نے بھی ان پر کوئی اثر نہ کیا بلکہ انہوں نے صاف کورا جواب دے دیا کہ جب تک یہ لوگ شہر میں ہیں، ہم تو یہاں سے اٹھنے کے بھی نہیں، موسیٰ علیہ السلام تو آپ اپنے رب کو اپنے ساتھ لے کر چلا جا اور ان سے لڑ بھڑ لے، ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔
اب تو موسیٰ علیہ السلام سے صبر نہ ہو سکا، آپ کے منہ سے ان بزدلوں اور ناقدروں کے حق میں بد دعا نکل گئی اور آپ نے ان کا نام فاسق رکھ دیا۔ اللہ کی طرف سے بھی ان کا یہی نام مقرر ہو گیا اور انہیں اسی میدان میں قدرتی طور پر قید کر دیا گیا۔ چالیس سال انہیں یہیں گزر گئے کہیں قرار نہ تھا، اسی بیاباں میں پریشانی کے ساتھ بھٹکتے پھرتے تھے۔ اسی میدان قید میں ان پر ابر کا سایہ کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا، کپڑے نہ پھٹتے تھے نہ میلے ہوتے تھے۔ ایک چوکونہ پتھر رکھا ہوا تھا جس پر موسیٰ علیہ السلام نے لکڑی ماری تو اس میں سے بارہ نہریں جاری ہو گئیں، ہر طرف سے تین تین لوگ چلتے چلتے آگے بڑھ جاتے، تھک کر قیام کر دیتے، صبح اٹھتے تو دیکھتے کہ وہ پتھر وہیں ہے جہاں کل تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس حدیث کو مرفوع بیان کیا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنی تو فرمایا کہ اس فرعونی نے موسیٰ علیہ السلام کے اگلے دن کے قتل کی خبر رسانی کی تھی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کیونکہ قبطی کے قتل کے وقت سوائے اس بنی اسرایئلی ایک شخص کے جو قبطی سے لڑ رہا تھا، وہاں کوئی اور نہ تھا۔
صفحہ نمبر5245
اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بہت بگڑے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے اور ان سے کہا، آپ کو یاد ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس شخص کا حال بیان فرمایا تھا جس نے موسیٰ کے قتل کے راز کو کھولا تھا، بتاؤ وہ بنی اسرائیلی شخص تھا یا فرعونی؟ سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا، بنی اسرائیلی سے اس فرعونی نے سنا، پھر اس نے جا کر حکومت سے کہا اور خود اس کا شاہد بنا [تفسیر ابن جریر الطبری:24131:ضعیف]
یہی روایت اور کتابوں میں بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اپنے کلام سے بہت تھوڑا سا حصہ مرفوع بیان کیا گیا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ آپ نے بنو اسرائیل میں سے کسی سے یہ روایت لی ہو کیونکہ ان سے روایتیں لینا مباح ہیں۔ یا تو آپ نے سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ہی یہ روایت سنی ہو گی اور ممکن ہے کسی اور سے سنی ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ میں نے اپنے استاد شیخ حافظ ابو الحجاج مزی علیہ السلام سے بھی یہی سنا ہے۔
صفحہ نمبر5246
طه 20:38
موسیٰ علیہ السلام کا بچپن ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تمام دعائیں قبول ہوئیں اور فرما دیا گیا کہ تمہاری درخواست منظور ہے۔ اس احسان کے ساتھ ہی اور احسان کا بھی ذکر کر دیا گیا کہ ہم نے تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی بڑا احسان کیا ہے۔ پھر اس واقعہ کو مختصر طور پر یاد دلایا کہ ہم نے تیرے بچپن کے وقت تیری ماں کی طرف وحی بھیجی جس کا ذکر اب تم سے ہو رہا ہے۔ تم اس وقت دودھ پیتے بچے تھے، تمہاری والدہ کو فرعون اور فرعونیوں کا کھٹکا تھا کیونکہ اس سال وہ بنو اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کر رہا تھا۔
اس خوف کے مارے وہ ہر وقت کانپتی رہتی تھیں تو ہم نے وحی کی کہ ایک صندوق بنا لو، دودھ پلا کر بچے کو اس میں لٹا کر دریائے نیل میں اس صندوق کو چھوڑ دو چنانچہ وہ یہی کرتی رہیں۔ ایک رسی اس میں باندھ رکھی تھی جس کا ایک سرا اپنے مکان سے باندھ لیتی تھیں۔ ایک مرتبہ باندھ رہی تھیں جو رسی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور صندوق کو پانی کی موجیں بہا لے چلیں۔ اب تو کلیجہ تھام کر رہ گئیں اس قدر غمزدہ ہوئیں کہ صبر ناممکن تھا، شاید راز فاش کر دیتیں لیکن ہم نے دل مضبوط کر دیا۔ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا آل فرعون نے اسے اٹھا لیا کہ جس غم سے وہ بچنا چاہتے تھے، جس صدمے سے وہ محفوظ رہنا چاہتے تھے، وہ ان کے سامنے آ جائے۔ جسکی شمع حیات کو بجھانے کے لیے وہ بےگناہ معصوموں کا قتل عام کر رہے تھے، وہ انہی کے تیل سے انہی کے ہاں روشن ہوا اور اللہ کے ارادے بیروک پورے ہو جائیں۔ ان کا دشمن انہی کے ہاتھوں پلے انہی کا کھائے ان کے ہاں تربیت پائے۔
صفحہ نمبر5221
خود فرعون اور اس کی اہلیہ محترمہ نے جب بچے کو دیکھا، رگ رگ میں محبت سما گئی، لے کر پرورش کرنے لگے۔ آنکھوں کا تارا سمجھنے لگے شاہزادوں کی طرح ناز و نعمت سے پلنے لگے شاہی دربار میں رہنے لگے۔
اللہ نے اپنی محبت تجھ پر ڈال دی گو فرعون تیرا دشمن تھا لیکن رب کی بات کون بدلے؟ اللہ کے ارادے کو کون ٹالے؟ فرعون پر ہی کیا منحصر ہے، جو دیکھتا آپ کا والہ و شیدا بن جاتا۔ یہ اس لیے تھا کہ تیری پرورش میری نگاہ کے سامنے ہو، شاہی خوراکیں کھا عزت و وقعت کے ساتھ رہ۔ فرعون والوں نے صندوقچہ اٹھا لیا کھولا بچے کو دیکھا، پالنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کسی دایہ کا دودھ دباتے ہی نہیں بلکہ منہ میں ہی نہیں لیتے۔ بہن جو صندوق کو دیکھتی بھالتی کنارے کنارے آ رہی تھی وہ بھی موقعہ پر پہنچ گئیں، کہنے لگیں کہ آپ اگر اس کی پرورش کی تمنا کرتے ہیں اور معقول اجرت بھی دیتے ہیں تو میں ایک گھرانہ بتاؤں جو اسے محبت سے پالے اور خیر خواہانہ برتاؤ کرے۔ سب نے کہا ہم تیار ہیں۔ آپ انہیں لیے ہوئے اپنی والدہ کے پاس پہنچیں، جب بچہ ان کی گود میں ڈال دیا گیا، آپ نے جھٹ سے منہ لگا دودھ پینا شروع کیا۔ جس سے فرعون کے ہاں بڑی خوشیاں منائی گئیں اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا گیا۔ تنخواہ مقرر ہو گئی، اپنے ہی بچے کو دودھ پلاتیں اور تنخواہ اور انعام بھی اور عزت و اکرام بھی پاتیں۔ دنیا بھی ملے دین بھی بڑھے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص اپنے کام کو کرے اور نیک نیتی سے کرے، اس کی مثال ام موسیٰ علیہ السلام کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے۔
پس یہ بھی ہماری کرم فرمائی ہے کہ ہم نے تجھے تیری ماں کی گود میں واپس کیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غم و رنج جاتا رہے۔ پھر تمہارے ہاتھ سے ایک فرعونی قبطی مار ڈالا گیا تو بھی ہم نے تمہیں بچا لیا، فرعونیوں نے تمہارے قتل کا ارادہ کر لیا تھا، راز فاش ہو چکا تھا۔ تمہیں یہاں سے نجات دی تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ مدین کے کنوئیں پر جا کر تم نے دم لیا۔ وہیں ہمارے ایک نیک بندے نے تمہیں بشارت سنائی کہ اب کوئی خوف نہیں ان ظالموں سے تم نے نجات پا لی۔ تجھے ہم نے بطور آزمائش اور بھی بہت سے فتنوں میں ڈالا۔
صفحہ نمبر5222
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا اب تو دن ڈوبنے کو ہے واقعات زیادہ ہیں پھر سہی۔ چنانچہ میں نے دوسری صبح پھر سوال کیا تو آپ نے فرمایا سنو! فرعون کے دربار میں ایک دن اس بات کا ذکر چھڑا کہ اللہ کا وعدہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے یہ تھا کہ ان کی اولاد میں انبیاء اور بادشاہ ہوں گے۔
چنانچہ بنو اسرائیل اس کے آج تک منتظر ہیں اور انہیں یقین ہے کہ مصر کی سلطنت پھر ان میں جائے گی۔ پہلے تو ان کا خیال تھا کہ یہ وعدہ یوسف علیہ السلام کی بابت تھا لیکن ان کی وفات تک جب کہ یہ وعدہ پورا نہیں ہوا تو وہ اب عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ ان میں اپنے ایک پیغمبر کو بھیجے گا جن کے ہاتھوں انہیں سلطنت بھی ملے گی اور ان کی قومی و مذہبی ترقی ہو گی۔ ً یہ باتیں کر کے انہوں نے مجلس مشاورت قائم کی کہ اب کیا کیا جائے جس سے آئندہ کے اس خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔ آخر اس جلسے میں قرار داد منظور ہوئی کہ پولیس کا ایک محکمہ قائم کیا جائے جو شہر کا گشت لگاتا رہے اور بنی اسرائیل میں جو نرینہ اولاد ہو، اسے اسی وقت سرکار میں پیش کیا جائے اور ذبح کر دیا جائے۔ لیکن جب ایک مدت گزر گئی تو انہیں خیال پیدا ہوا کہ اس طرح تو بنی اسرائیل بالکل فنا ہو جائیں گے اور جو ذلیل خدمتیں ان سے لی جاتی ہیں، جو بیگاریں ان سے وصول ہو رہی ہیں، سب موقوف ہو جائیں گی، اس لیے اب تجویز ہوا کہ ایک سال ان کے بچوں کو چھوڑ دیا جائے اور ایک سال ان کے لڑکے قتل کر دیئے جائیں۔ اس طرح موجودہ بنی اسرائیلیوں کی تعداد بھی نہ بڑھے گی اور نہ اتنی کم ہو جائے گی کہ ہمیں اپنی خدمت گزاری کے لیے بھی نہ مل سکیں۔ جتنے بڈھے دو سال میں مریں گے، اتنے بچے ایک سال میں پیدا ہو جائیں گے۔
صفحہ نمبر5223
جس سال قتل موقوف تھا، اس سال تو ہارون علیہ السلام پیدا ہوئے اور جس سال قتل عام بچوں کا جاری تھا، اس برس موسیٰ علیہ السلام تولد ہوئے۔ آپ کی والدہ کی اس وقت کی گھبراہٹ اور پریشانی کا کیا پوچھنا؟ بے اندازہ تھی۔ ایک فتنہ تو یہ تھا۔ چنانچہ یہ خطرہ اس وقت دفع ہو گیا جب کہ اللہ کی وحی ان کے پاس آئی کہ ڈر خوف نہ کر ہم اسے تیری طرف پھر لوٹائیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔
چنانچہ بحکم الٰہی آپ نے اپنے بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دیا، جب صندوق نظروں سے اوجھل ہو گیا تو شیطان نے دل میں وسوسے ڈالنے شروع کئے کہ افسوس اس سے تو یہی بہتر تھا کہ میرے سامنے ہی اسے ذبح کر دیا جاتا تو میں اسے خود ہی کفناتی دفناتی تو سہی لیکن اب تو میں نے خود اسے مچھلیوں کا شکار بنایا۔ یہ صندوق یونہی بہتا ہوا خاص فرعونی گھاٹ سے جا لگا، وہاں اس وقت محل کی لونڈیاں موجود تھیں، انہوں نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور ارادہ کیا کہ کھول کر دیکھیں لیکن پھر ڈر گئیں کہ ایسا نہ ہو کہ چوری کا الزام لگے یونہی مقفل صندوق ملکہ فرعون کے پاس پہنچا دیا۔ یہ صندوق بادشاہ ملکہ کے سامنے کھولا گیا تو اس میں سے چاند جیسی صورت کا ایک چھوٹا سا معصوم بچہ نکلا جسے دیکھتے ہی فرعون کی بیوی صاحبہ کا دل محبت کے جوش سے اچھلنے لگا۔
صفحہ نمبر5224
ادھر ام موسیٰ کی حالت غیر ہو گئی، سوائے اپنے اس پیارے بچے کے خیال کے دل میں اور کوئی تصور ہی نہ تھا۔ ادھر ان قصائیوں کو جو حکومت کی طرف سے بچوں کے قتل کے محکمے کے ملازم تھے، معلوم ہوا تو وہ اپنی چھریاں تیز کئے ہوئے بڑھے اور ملکہ سے تقاضا کیا کہ بچہ انہیں سونپ دیں تاکہ وہ اسے ذبح کر ڈالیں۔
یہ دوسرا فتنہ تھا، آخر ملکہ نے جواب دیا کہ ٹھہرو میں خود بادشاہ سے ملتی ہوں اور اس بچے کو طلب کرتی ہوں، اگر وہ مجھے دے دیں تو خیر ورنہ تمہیں اختیار ہے۔ چنانچہ آپ آئیں اور بادشاہ سے کہا کہ یہ بچہ تو میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہو گا۔ اس خبیث نے کہا بس تم ہی اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھو، میری ٹھنڈک وہ کیوں ہونے لگا؟ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
صفحہ نمبر5225
اللہ تعالٰی کی تدابیر اعلیٰ اور محروم ہدایت فرعون ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ حلف بیان فرماتے ہیں کہ اگر وہ بھی کہہ دیتا کہ ہاں بیشک وہ میری آنکھوں کی بھی ٹھنڈک ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بھی ضرور راہ راست دکھا دیتا جیسا کہ اس کی بیوی صاحبہ مشرف بہ ہدایت ہوئی لیکن اس نے خود اس سے محروم رہنا چاہا اللہ نے بھی اسے محروم کر دیا۔
الغرض فرعون کو جوں توں راضی رضامند کر کے اس بچے کے پالنے کی اجازت لے کر آپ آئیں، اب محل کی جتنی دایہ تھیں سب کو جمع کیا ایک ایک کی گود میں بچہ دیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کا دودھ آپ پر حرام کر دیا، آپ نے کسی کا دودھ منہ میں لیا ہی نہیں۔ اس سے ملکہ گھبرائیں کہ یہ تو بہت ہی برا ہوا، یہ پیارا بچہ یونہی ہلاک ہو جائے گا۔ آخر سوچ کر حکم دیا کہ انہیں باہر لے جاؤ، ادھر ادھر تلاش کرو اور اگر کسی کا دودھ یہ معصوم قبول کرے تو اسے بہ منت سونپ دو۔ باہر بازار میں میلہ سا لگ گیا ہر شخص اس سعادت سے مالا مال ہونا چاہتا تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام نے کسی کا دودھ نہ پیا۔ آپ کی والدہ نے اپنی بڑی صاحبزادی آپ کی بہن کو باہر بھیج رکھا تھا کہ وہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ وہ اس مجمع میں موجود تھیں اور تمام واقعات دیکھ سن رہی تھیں۔ جب یہ لوگ عاجز آ گئے تو آپ نے فرمایا، اگر تم کہو تو میں ایک گھرانہ ایسا بتلاؤں جو اس کی نگہبانی کرے اور ہو بھی اس کا خیرخواہ۔ یہ کہنا تھا کہ لوگوں کو شک ہوا کہ ضرور یہ لڑکی اس بچے کو جانتی ہے اور اس کے گھر کو بھی پہچانتی ہے۔ اے ابن جبیر یہ تھا تیسرا فتنہ۔ لیکن اللہ نے لڑکی کو سمجھ دے دی اور اس نے جھٹ سے کہا کہ بھلا تم اتنا نہیں سمجھے کون بدنصیب ایسا ہو گا جو اس بچے کی خیر خواہی یا پرورش میں کمی کرے جو بچہ ہماری ملکہ کا پیارا ہے۔ کون نہ چاہے گا کہ یہ ہمارے ہاں پلے تاکہ انعام و اکرام سے اس کا گھر بھر جائے۔ یہ سن کر سب کی سمجھ میں آ گیا اسے چھوڑ دیا اور کہا بتا تو کون سی دایہ اس کے لیے تجویز کرتی ہے؟ اس نے کہا میں ابھی لائی، دوڑی ہوئی گئیں اور والدہ کو یہ خوشخبری سنائی۔ والدہ صاحبہ شوق و امید سے آئیں اپنے پیارے بچے کو گود میں لیا، اپنا دودھ منہ میں دیا بچے نے پیٹ بھر کر پیا۔ اسی وقت شاہی محلات میں یہ خوشخبری پہنچائی گئی ملکہ کا حکم ہوا کہ فوراً اس دایہ کو اور بچے کو میرے پاس لاؤ، جب ماں بیٹا پہنچے تو اپنے سامنے دودھ پلوایا اور یہ دیکھ کر کہ بچہ اچھی طرح دودھ پیتا ہے، بہت ہی خوش ہوئیں اور فرمانے لگیں کہ دائی اماں مجھے اس بچے سے وہ محبت ہے جو دنیا کی کسی اور چیز سے نہیں، تم یہیں محل میں رہو اور اس بچے کی پرورش کرو۔
صفحہ نمبر5226
لیکن موسیٰ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ کے سامنے اللہ کا وعدہ تھا انہیں یقین کامل تھا اس لیے آپ ذرا رکیں اور فرمایا کہ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اپنے گھر کو اور اپنے بچوں کو چھوڑ کر یہاں رہوں۔ اگر آپ چاہتی ہیں تو یہ بچہ میرے سپرد کر دیں میں اسے اپنے گھر لے جاتی ہوں ان کی پرورش میں کوئی کوتاہی نہ کروں گی۔ ملکہ صاحبہ نے مجبوراً اس بات کو بھی مان لیا اور آپ اسی دن خوشی خوشی اپنے بچے کو لیے ہوئے گھر آ گئیں۔
اس بچے کی وجہ سے اس محلے کے بنو اسرائیل بھی فرعونی مظالم سے رہائی پا گئے۔ جب کچھ زمانہ گزر گیا تو بادشاہ بیگم نے حکم بھیجا کہ کسی دن میرے بچے کو میرے پاس لاؤ، ایک دن مقرر ہو گیا، تمام ارکان سلطنت اور درباریوں کو حکم ہوا کہ آج میرا بچہ میرے پاس آئے گا۔ تم سب قدم قدم پر اس کا استقبال کرو اور دھوم دھام سے نذریں دیتے ہوئے اسے میرے محل سرائے تک لاؤ۔ چنانچہ جب سواری روانہ ہوئی، وہاں سے لے کر محل سرائے سلطانی تک برابر تحفے تحائف نذریں اور ہدیے پیشکش ہوتے رہے اور بڑے ہی عزت و اکرام کے ساتھ آپ یہاں پہنچے تو خود بیگم نے بھی خوشی خوشی بہت بڑی رقم پیش کی اور بڑی خوشی منائی گئی۔ پھر کہنے لگی کہ میں تو اسے بادشاہ کے پاس لے جاؤں گی، وہ بھی اسے انعام و اکرام دیں گے، لے گئیں اور بادشاہ کی گود میں لٹا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کی داڑھی پکڑ کر زور سے گھسیٹی۔ فرعون کھٹک گیا اور اس کے درباریوں نے کہنا شروع کیا کہ کیا عجب یہی وہ لڑکا ہو آپ اسے فوراً قتل کرا دیجئیے۔
صفحہ نمبر5227
اے ابن جبیر یہ تھا چوتھا فتنہ۔ ملکہ بیتاب ہو کر بول اٹھیں، اے بادشاہ کیا ارادہ کر رہے ہو؟ آپ اسے مجھے دے چکے ہیں میں اسے اپنا بیٹا بنا چکی ہوں۔ بادشاہ نے کہا یہ سب ٹھیک ہے لیکن دیکھو تو اس نے تو آتے ہی داڑھی پکڑ کر مجھے نیچا کر دیا گویا یہی میرا گرانے والا اور مجھے تاخت و تاراج کرنے والا ہے۔
بیگم صاحبہ نے فرمایا، بادشاہ بچوں کو ان چیزوں کی کیا تمیز؟ سنو میں ایک فیصلہ کن بات بتاؤں، اس کے سامنے دو انگارے آگ کے سرخ رکھ دو اور دو موتی آبدار چمکتے ہوئے رکھ دو پھر دیکھو یہ کیا اٹھاتا ہے؟ اگر موتی اٹھا لے تو سمجھنا کہ اس میں عقل ہے اور اگر آگ کے انگارے تھام لے تو سمجھ لینا کہ عقل نہیں۔ جب عقل و تمیز نہیں تو اس کی داڑھی پکڑ لینے پر اتنے لمبے خیالات کر کے اس کی جان کا دشمن بن جانا کون سی دانائی کی بات ہے؟ چنانچہ یہی کیا گیا دونوں چیزیں آپ کے سامنے رکھی گئیں۔ آپ نے دہکتے ہوئے انگارے اٹھا لیے اسی وقت وہ چھین لیے کہ ایسا نہ ہو ہاتھ جل جائیں۔ اب فرعون کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور اس کا بدلا ہوا رخ ٹھیک ہو گیا۔ حق تو یہ ہے کہ اللہ کو جو کام کرنا مقصود ہوتا ہے، اس کے قدرتی اسباب مہیا ہو ہی جاتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کی دربار فرعون میں فرعون کے خاص محل میں فرعون کی بیوی کی گود میں ہی پرورش ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ آپ اچھی عمر کو پہنچ گئے اور بالغ ہو گئے۔
صفحہ نمبر5228
اب تو فرعونیوں کے جو مظالم اسرائیلیوں پر ہو رہے تھے، ان میں بھی کمی ہو گئی تھی سب امن و امان سے تھے۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک فرعونی اور ایک اسرائیلی کی لڑائی ہو رہی تھی۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام سے فریاد کی آپ کو سخت غصہ آیا اسلئے کہ اس وقت وہ فرعونی اس بنی اسرائیلی کو دبوچے ہوئے تھا، آپ نے اسے ایک مکا مارا، اللہ کی شان مکا لگتے ہی وہ مر گیا۔
یہ تو لوگوں کو عموماً معلوم تھا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیلیوں کی طرف داری کرتے ہیں لیکن لوگ اس کی وجہ اب تک یہی سمجھتے تھے کہ چونکہ آپ نے انہی میں دودھ پیا ہے، اس لیے ان کے طرفدار ہیں۔ اصلی راز کا علم تو صرف آپ کی والدہ کو تھا اور ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم کو بھی معلوم کرا دیا ہو۔ اسے مردہ دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام کانپ اٹھے کہ یہ تو شیطانی حرکت ہے وہ بہکانے والا اور کھلا دشمن ہے۔
صفحہ نمبر5229
پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے کہ باری تعالیٰ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا تو معاف فرما۔ پروردگار نے بھی آپ کی اس خطا سے درگزر فرما لیا وہ تو غفور و رحیم ہے ہی۔ چونکہ قتل کا معاملہ تھا، آپ پھر بھی خوفزدہ ہی رہے، تاک جھانک میں رہے کہ کہیں معاملہ کھل تو نہیں گیا۔ ادھر فرعون کے پاس شکایت ہوئی کہ ایک قبطی کو کسی بنی اسرائیلی نے مار ڈالا ہے، فرعون نے حکم جاری کر دیا کہ واقعہ کی پوری تحقیق کرو قاتل کو تلاش کر کے پکڑ لاؤ اور گواہ بھی پیش کرو اور جرم ثابت ہو جانے کی صورت میں اسے بھی قتل کر دو۔
پولیس نے ہر چند تفتیش کی لیکن قاتل کا کوئی سراغ نہ ملا۔ اتفاق کی بات کہ دوسرے ہی دن موسیٰ علیہ السلام پھر کہیں جا رہے تھے کہ دیکھا وہی بنی اسرائیلی شخص ایک دوسرے فرعونی سے جھگڑ رہا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی وہ دہائی دینے لگا لیکن اس نے یہ محسوس کیا کہ شاید موسیٰ علیہ السلام اپنے کل کے فعل سے نادم ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس کا یہ باربار کا جھگڑنا اور فریاد کرنا برا معلوم ہوا اور کہا تم تو بڑے لڑاکا ہو، یہ فرما کر اس فرعونی کو پکڑنا چاہا لیکن اس بنی اسرائیلی بزدل نے سمجھا کہ شاید آپ چونکہ مجھ پر ناراض ہیں مجھے ہی پکڑنا چاہتے ہیں۔
صفحہ نمبر5230
حالانکہ اس کا یہ صرف بزدلانہ خیال تھا آپ تو اسی فرعونی کو پکڑنا چاہتے تھے اور اسے بچانا چاہتے تھے لیکن خوف و ہراس کی حالت میں بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جیسے کہ کل تو نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا، کیا آج مجھے مار ڈالنا چاہتا ہے؟ یہ سن کر وہ فرعونی اسے چھوڑ بھاگا، دوڑا گیا اور سرکاری سپاہ کو اس واقعہ کی خبر کر دی۔
فرعون کو بھی قصہ معلوم ہوا۔ اسی وقت جلادوں کو حکم دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو پکڑ کر قتل کر دو۔ یہ لوگ شارع عام سے آپ کی جستجو میں چلے۔ ادھر ایک بنی اسرائیلی نے راستہ کاٹ کر نزدیک کے راستے سے آ کر موسیٰ علیہ السلام کو خبر کر دی۔ اے ابن جبیر رحمہ اللہ یہ ہے پانچواں فتنہ۔
موسیٰ علیہ السلام یہ سنتے ہی مٹھیاں بند کرکے مصر سے بھاگ کھڑے ہوئے، نہ کبھی پیدل چلے تھے نہ کبھی کسی مصیبت میں پھنسے تھے، شہزادوں کی طرح لاڈ چاؤ میں پلے تھے، نہ راستے کی خبر تھی نہ کبھی سفر کا اتفاق پڑا تھا۔ رب پر بھروسہ کر کے یہ دعا کر کے کہ اے اللہ مجھے سیدھی راہ لے چلنا، چل کھڑے ہوئے یہاں تک کہ مدین کی حدود میں پہنچے۔
صفحہ نمبر5231
یہاں دیکھا کہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں وہیں دو لڑکیوں کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو روکے کھڑی ہیں۔ پوچھا کہ تم ان کے ساتھ اپنے جانوروں کو پانی کیوں نہیں پلا لیتیں؟ الگ کھڑی ہوئی انہیں کیوں روک رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس بھیڑ میں ہمارے بس کی بات نہیں کہ اپنے جانوروں کو پانی پلائیں، ہم تو جب یہ لوگ پانی پلا چکتے ہیں ان کا بقیہ اپنے جانوروں کو پلا دیا کرتی ہیں۔ آپ فوراً آگے بڑھے اور ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔ چونکہ بہت جلد پانی کھینچا، آپ بہت قوی آدمی تھے، سب سے پہلے ان کے جانوروں کو سیر کر دیا۔
یہ اپنی بکریاں لے کر اپنے گھر روانہ ہوئیں اور آپ ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے اور اللہ سے دعا کرنے لگے کہ پروردگار میں تیری تمام تر مہربانیوں کا محتاج ہوں۔ یہ دونوں لڑکیاں جب اپنے والد کے پاس پہنچیں تو انہوں نے کہا، آج کیا بات ہے کہ تم وقت سے پہلے ہی آ گئیں؟ اور بکریاں بھی خوب آسودہ اور شکم سیر معلوم ہوتی ہیں۔ تو ان بچیوں نے سارا واقعہ کہہ سنایا آپ نے حکم دیا کہ تم میں سے ایک ابھی چلی جائے اور انہیں میرے پاس بلا لائے۔ وہ آئیں اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنے والد صاحب کے پاس لے گئیں۔ انہوں نے سرسری ملاقات کے بعد واقعہ پوچھا تو آپ نے سارا قصہ کہہ سنایا، اس پر وہ فرمانے لگے اب کوئی ڈر کی بات نہیں آپ ان ظالموں سے چھوٹ گئے۔ ہم لوگ فرعون کی رعایا نہیں نہ ہم پر اس کا کوئی دباؤ ہے۔ اسی وقت ایک لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جی انہوں نے ہمارا کام کر دیا ہے اور یہ ہیں بھی قوت والے امانت دار شخص، کیا اچھا ہو کہ آپ انہیں اپنے ہاں مقرر کر لیجئے کہ یہ اجرت پر ہماری بکریاں چرا لایا کریں۔ باپ کو غیرت اور غصہ آ گیا اور پوچھا بیٹی تمہیں یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ یہ قوی اور امین ہیں؟ بچی نے جواب دیا کہ قوت تو اس وقت معلوم ہوئی جب انہوں نے ہماری بکریوں کے لیے پانی نکالا اتنے بڑے ڈول کو اکیلے ہی کھینچتے تھے اور بڑی پھرتی اور ہرپن سے۔ امانت داری یوں معلوم ہوئی کہ میری آواز سن کر انہوں نے نظر اونچی کی اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ میں عورت ہوں، پھر نیچی گردن کر کے میری باتیں سنتے رہے، واللہ! آپ کا پورا پیغام پہنچانے تک انہوں نے نگاہ اونچی نہیں کی۔ پھر مجھ سے فرمایا کہ تم میرے پیچھے رہو مجھے دور سے راستہ بتا دیا کرنا۔ یہ بھی دلیل ہے ان کی اللہ خوفی اور امانت داری کی۔ باپ کی غیرت و حمیت بھی رہ گئی، بچی کی طرف سے بھی دل صاف ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام کی محبت دل میں سما گئی۔
صفحہ نمبر5232
اب موسیٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے، میرا ارادہ ہے کہ اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کر دوں اس شرط پر کہ آپ آٹھ سال تک میرے ہاں کام کاج کرتے رہیں، ہاں اگر دس سال تک کریں تو اور بھی اچھا ہے، ان شاءاللہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں بھلا آدمی ہوں۔ چنانچہ یہ معاملہ طے ہو گیا اور اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے بجائے آٹھ سال کے دس سال پورے کئے۔
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہلے مجھے یہ معلوم نہ تھا اور ایک نصرانی عالم مجھ سے یہ پوچھ بیٹھا تھا تو میں اسے کوئی جواب نہ دے سکا، پھر جب میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا اور آپ نے جواب دیا تو میں نے اس سے ذکر کیا، اس نے کہا تمہارے استاد بڑے عالم ہیں۔ میں نے کہا، ہاں ہیں ہی۔ اب موسیٰ علیہ السلام اس مدت کو پوری کر کے اپنی اہلیہ صاحبہ کو لیے ہوئے یہاں سے چلے۔ پھر وہ واقعات ہوئے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ آگ دیکھی، گئے، اللہ سے کلام کیا، لکڑی کا اژدھا بننا، ہاتھ کا نورانی بننا ملاحظہ کیا، نبوت پائی، فرعون کی طرف بھیجے گئے تو قتل کے واقعہ کے بدلے کا اندیشہ ظاہر فرمایا۔ اس سے اطمینان حاصل کر کے زبان کی گرہ کشائی کی طلب کی۔ اس کو حاصل کر کے اپنے بھائی ہارون کی ہمدردی اور شرکت کار چاہی۔ یہ بھی حاصل کر کے لکڑی لیے ہوئے شاہ مصر کی طرف چلے۔
صفحہ نمبر5233
ادھر ہارون علیہ السلام کے پاس وحی پہنچی کہ اپنے بھائی کی موافقت کریں اور ان کا ساتھ دیں۔ دونوں بھائی ملے اور فرعون کے دربار میں پہنچے۔ اطلاع کرائی بڑی دیر میں اجازت ملی، اندر گئے، فرعون پر ظاہر کیا کہ ہم اللہ کے رسول بن کر تیرے پاس آئے ہیں۔ اب جو سوال جواب ہوئے وہ قرآن میں موجود ہیں۔
فرعون نے کہا اچھا تم چاہتے کیا ہو؟ اور واقعہ قتل یاد دلایا جس کا عذر موسیٰ علیہ السلام نے بیان کیا جو قرآن میں موجود ہے اور کہا، ہمارا ارادہ یہ ہے کہ تو ایمان لا اور ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے رہائی دے۔ اس نے انکار کیا اور کہا کہ اگر سچے ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ، آپ نے اسی وقت اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی وہ زمین پر پڑتے ہی ایک زبردست خوفناک اژدھے کی صورت میں منہ پھاڑے کچلیاں نکالے فرعون کی طرف لپکا۔ مارے خوف کے فرعون تخت سے کود گیا اور بھاگتا ہوا عاجزی سے فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے واسطے اسے پکڑ لو۔ آپ نے ہاتھ لگایا اسی وقت لاٹھی اپنی اصلی حالت میں آ گئی۔
پھر آپ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ بغیر کسی مرض کے داغ کے چمکتا ہوا نکلا جسے دیکھ کر وہ حیران ہو گیا، آپ نے پھر ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ اپنی اصلی حالت میں تھا۔ اب فرعون نے اپنے درباریوں کی طرف دیکھ کر کہا کہ تم نے دیکھا، یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور تمہارے ملک پر قابض ہو کر تمہارے طریقے مٹا دیں۔
صفحہ نمبر5234
پھر موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمیں آپ کی نبوت ماننے سے بھی انکار ہے اور آپ کا کوئی مطالبہ بھی ہم پورا نہیں کر سکتے بلکہ ہم اپنے جادوگروں کو تمہارے مقابلہ کے لیے بلا رہے ہیں جو تمہارے اس جادو پر غالب آ جائیں گے۔ چنانچہ یہ لوگ اپنی کوششوں میں مشغول ہو گئے۔ تمام ملک سے جادوگروں کو بڑی عزت سے بلوایا جب سب جمع ہو گئے تو انہوں نے پوچھا کہ اس کا جادو کس قسم کا ہے؟ فرعون والوں نے کہا لکڑی کا سانپ بنا دیتا ہے۔
انہوں نے کہا، اس میں کیا ہے؟ ہم لکڑیوں کی رسیوں کے وہ سانپ بنائیں گے کہ روئے زمین پر ان کا کوئی مقابلہ نہ کر سکے۔ لیکن ہمارے لیے انعام مقرر ہو جانا چاہیئے۔ فرعون نے ان سے قول و قرار کیا کہ انعام کیسا؟ میں تو تمہیں اپنا مقرب خاص اور درباری بنا لوں گا اور تمہیں نہال نہال کر دونگا جو مانگو گے پاؤ گے۔ چنانچہ انہوں نے اعلان کر دیا کہ عید کے روز دن چڑھے فلاں میدان میں مقابلہ ہو گا۔ مروی ہے کہ ان کی یہ عید عاشورا کے دن تھی۔
صفحہ نمبر5235
اس دن تمام لوگ صبح ہی صبح اس میدان میں پہنچ گئے کہ آج چل کر دیکھیں گے کہ کون غالب آتا ہے؟ ہم تو جادوگروں کے کمالات کے قائل ہیں وہی غالب آئیں گے اور ہم انہی کی مانیں گے۔ مذاق سے اس بات کو بدل کر کہتے تھے کہ چلو انہی دونوں جادوگروں کے مطیع بن جائیں گے اگر وہ غالب رہیں۔ میدان میں آ کر جادوگروں نے انبیاء اللہ علیہم السلام سے کہا کہ لو اب بتاؤ، تم پہلے اپنا جادو ظاہر کرتے ہو یا ہم ہی شروع کریں؟ آپ نے فرمایا تم ہی ابتداء کرو تاکہ تمہارے ارمان پورے ہوں۔
اب انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈالیں تو ایسا لگا کہ وہ سب سانپ اور بلائیں بن کر اللہ کے نبیوں کی طرف دوڑیں جس سے خوفزدہ ہو کر آپ پیچھے ہٹنے لگے۔ اس وقت اللہ کی وحی آئی کہ آپ اپنی لکڑی زمین پر ڈال دیجئیے، آپ نے ڈالدی، وہ ایک خوفناک بھیانک عظیم الشان اژدھابن کر ان کی طرف دوڑا یہ لکڑیاں رسیاں سب گڈ مڈ ہو گئیں اور وہ ان سب کو نگل گیا۔ جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کیطرف کا نشان ہے، جادو میں یہ بات کہاں؟ چنانچہ سب نے اپنے ایمان کا اعلان کر دیا کہ ہم موسیٰ کے رب پر ایمان لائے اور ان دونوں بھائیوں کی نبوت ہمیں تسلیم ہے۔ ہم اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔ فرعون اور فرعونیوں کی کمر ٹوٹ گئی، رسوا ہوئے، منہ کالے پڑ گئے، ذلت کے ساتھ خاموش ہو گئے۔ خون کے گھونٹ پی کر چپ ہو گئے۔ ادھر یہ ہو رہا تھا۔ ادھر فرعون کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنے سگے بچے کی طرح پالا تھا، بیقرار بیٹھی تھیں اور اللہ سے دعائیں مانگ رہی تھیں کہ اللہ ذولجلال اپنے نبی کو غالب کرے۔ فرعونیوں نے بھی اس حال کو دیکھا تھا لیکن انہوں نے خیال کیا کہ اپنے خاوند کی طرفداری میں ان کا یہ حال ہے۔ یہاں سے ناکام واپس جانے پر فرعون نے بےایمانی پر کمر باندھ لی۔ اللہ کی طرف سے موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں بہت سے نشانات ظاہر ہوئے۔ جب کبھی کوئی پکڑ آ جاتی، یہ گھبرا کر بلکہ گڑ گڑا کر وعدہ کرتا کہ اچھا اس مصیبت کے ہٹ جانے پر میں بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ کر دونگا لیکن جب عذاب ہٹ جاتا پھر منکر بن کر سرکشی پر آ جاتا اور کہتا تیرا رب اس کے سوا کچھ اور بھی کر سکتا ہے؟ چنانچہ ان پر طوفان آیا، ٹڈیاں آئیں، جوئیں آئیں، مینڈک آئے، خون آیا اور بھی بہت سی صاف صاف نشانیاں دیکھیں۔ جہاں آفت آئی، ڈرا وعدہ کیا، جہاں وہ ٹل گئی، مکر گیا اور اکڑ گیا۔ اب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو لے کر یہاں سے نکل جاؤ آپ راتوں رات انہیں لے کر روانہ ہو گئے۔
صفحہ نمبر5236
صبح فرعونیوں نے دیکھا کہ رات کو سارے بنی اسرائیل چلے گئے ہیں۔ انہوں نے فرعون سے کہا۔ اس نے سارے ملک میں احکام بھیج کر ہر طرف سے فوجیں جمع کیں اور بہت بڑی جمعیت کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ راستے میں جو دریا پڑتا تھا اس کی طرف اللہ کی وحی پہنچی کہ تجھ پر جب میرے بندے موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی پڑے تو تو انہیں راستہ دے دینا۔ تجھ میں بارہ راستے ہو جائیں کہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے الگ الگ اپنی راہ لگ جائیں۔ پھر جب یہ پار ہو جائیں اور فرعونی آ جائیں تو تو مل جانا اور ان میں سے ایک کو بھی بے ڈبوئے نہ چھوڑنا۔
موسیٰ علیہ السلام جب دریا پر پہنچے دیکھا کہ وہ موجیں مار رہا ہے پانی چڑھا ہوا ہے شور اٹھ رہا ہے، گھبرا گئے اور لکڑی مارنا بھول گئے۔ دریا بیقرار یوں تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کے کسی حصے پر موسیٰ علیہ السلام لکڑی مار دیں اور اسے خبر نہ ہو تو عذاب الٰہی میں بہ سبب اللہ کی نافرمانی کے پھنس جائے۔ اتنے میں فرعون کا لشکر بنی اسرائیل کے سر پر جا پہنچا، یہ گھبرا گئے اور کہنے لگے لو موسیٰ ہم تو پکڑ لیے گئے۔ اب آپ وہ کیجئے جو اللہ کا آپ کو حکم ہے یقیناً نہ تو اللہ جھوٹا ہے نہ آپ۔
صفحہ نمبر5237
آپ نے فرمایا مجھے سے تو یہ فرمایا گیا ہے کہ جب تو دریا پر پہنچے گا، وہ تجھے بارہ راستے دیدے گا، تو گزر جانا۔ اسی وقت یاد آیا کہ لکڑی مارنے کا حکم ہوا ہے، چنانچہ لکڑی ماری۔ ادھر فرعونی لشکر کا اول حصہ بنی اسرائیل کے آخری حصے کے پاس آ چکا تھا کہ دریا خشک ہو گیا اور اس میں راستے نمایاں ہو گئے اور آپ اپنی قوم کو لیے ہوئے اس میں بیخطر اتر گئے اور با آرام جانے لگے۔ جب یہ نکل چکے، فرعونی سپاہ ان کے تعاقب میں دریا میں اتری۔
جب یہ سارا لشکر اس میں اتر گیا تو فرمان الٰہی کے مطابق دریا رواں ہو گیا اور سب کو بیک وقت غرق کر دیا۔ بنو اسرایئل اس واقعہ کو اپنی آنکھوں دیکھ رہے تھے تاہم انہوں نے کہا کہ اے رسول اللہ! (علیہ السلام) ہمیں کیا خبر کہ فرعون بھی مرا یا نہیں؟ آپ نے دعا کی اور دریا نے فرعون کی بے جان لاش کو کنارے پر پھینک دیا۔ جسے دیکھ کر انہیں یقین کامل ہو گیا کہ ان کا دشمن مع اپنے لاؤ و لشکر کے تباہ ہو گیا۔
صفحہ نمبر5238
فرعون سے نجات کے بعد بنی اسرائیل کی نافرمانیاں ٭٭
اب یہاں سے آگے چلے تو دیکھا کہ ایک قوم اپنے بتوں کی مجاور بن کر بیٹھی ہے تو کہنے لگے اے اللہ کے رسول ہمارے لئے بھی کوئی معبود ایسا ہی مقرر کر دیجئیے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ناراض ہو کر کہا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو، تم نے اتنی بڑی عبرتناک نشانیاں دیکھیں۔ ایسے اہم واقعات سنے لیکن اب تک نہ عبرت ہے نہ غیرت۔
یہاں سے آگے بڑھ کر ایک منزل پر آپ نے قیام کیا اور یہاں اپنے خلیفہ اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو بنا کر قوم سے فرمایا کہ میری واپسی تک ان کی فرمانبرداری کرتے رہنا میں اپنے رب کے پاس جا رہا ہوں۔ تیس دن کا اس کا وعدہ ہے۔ چنانچہ قوم سے الگ ہو کر وعدے کی جگہ پہنچ کر تیس دن رات کے روزے پورے کر کے اللہ سے باتیں کرنے کا دھیان پیدا ہوا لیکن یہ سمجھ کر کہ روزوں کی وجہ سے منہ سے بھبکا نکل رہا ہو گا، تھوڑی سی گھاس لے کر آپ نے چبا لی۔ اللہ تعالیٰ نے باوجود علم کے دریافت فرمایا کہ ایسا کیوں کیا؟ آپ نے جواب دیا، صرف اس لیے کہ تجھ سے باتیں کرتے وقت میرا منہ خوشبودار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کیا تجھے معلوم نہیں کہ روزہ دار کے منہ کی بو مجھے مشک و عنبر کی خوشبو سے زیادہ اچھی لگتی ہے؟ اب تو دس روزے اور رکھ پھر مجھ سے کلام کرنا۔ آپ نے روزے رکھنا شروع کر دیئے۔ قوم پر تیس دن جب گزر گئے اور حسب وعدہ موسیٰ علیہ السلام نہ لوٹے تو وہ غمگین رہنے لگے۔
صفحہ نمبر5239
ہارون علیہ السلام نے ان میں خطبہ کیا اور فرمایا کہ جب تم مصر سے چلے تھے تو قبطیوں کی رقمیں تم میں سے بعض پر ادھار تھیں اسی طرح ان کی امانتیں بھی تمہارے پاس رہ گئی ہیں، یہ ہم انہیں واپس تو کرنے کے نہیں لیکن میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ وہ ہماری ملکیت میں رہیں۔ اس لیے تم ایک گہرا گڑھا کھودو اور جو اسباب برتن بھانڈا زیور سونا چاندی وغیرہ ان کا تمہارے پاس ہے، سب اس میں ڈالو پھر آگ لگا دو۔
چنانچہ یہی کیا گیا۔ ان کے ساتھ سامری نامی ایک شخص تھا، یہ گائے بچھڑے پوجنے والوں میں سے تھا، بنی اسرائیل میں سے نہ تھا لیکن بوجہ پڑوسی ہونے کے اور فرعون کی قوم میں سے نہ ہونے کے یہ بھی ان کے ساتھ وہاں سے نکل آیا تھا، اس نے کسی نشان سے کچھ مٹھی میں اٹھا لیا تھا۔ ہارون علیہ السلام نے فرمایا تو بھی اسے ڈال دے، اس نے جواب دیا کہ یہ تو اس کے اثر سے ہے جو تمہیں دریا سے پار کرا لے گیا۔ خیر میں اسے ڈال دیتا ہوں لیکن اس شرط پر کہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ اس سے وہ بن جائے جو میں چاہتا ہوں۔ آپ نے دعا کی اور اس نے اپنی مٹھی میں جو تھا اسے ڈال دیا اور کہا میں چاہتا ہوں اس کا ایک بچھڑا بن جائے۔ قدرت الٰہی سے اس گڑھے میں جو تھا، وہ ایک بچھڑے کی صورت میں ہو گیا جو اندر سے کھوکھلا تھا اس میں روح نہ تھی لیکن ہوا اس کے پیچھے کے سوراخ سے جا کر منہ سے نکلتی تھی اس سے ایک آواز پیدا ہوتی تھی۔
صفحہ نمبر5240
بنو اسرائیل نے پوچھا سامری یہ کیا ہے؟ اس بے ایمان نے کہا، یہی تمہارا سب کا رب ہے لیکن موسیٰ علیہ السلام راستہ بھول گئے اور دوسری جگہ رب کی تلاش میں چلے گئے۔ اس بات نے بنی اسرائیل کے کئی فرقے کر دیئے۔ ایک فرقے نے تو کہا کہ موسیٰ علیہ السلام کے آنے تک ہم اس کی بابت کوئی بات طے نہیں کر سکتے، ممکن ہے یہی اللہ ہو تو ہم اس کی بے ادبی کیوں کریں؟ اور اگر یہ رب نہیں ہے تو موسیٰ علیہ السلام کے آتے ہی حقیقت کھل جائے گی۔
دوسری جماعت نے کہا، محض واہیات ہے یہ شیطانی حرکت ہے ہم اس لغویت پر مطلقاً ایمان نہیں رکھتے، نہ یہ ہمارا رب نہ ہمارا اس پر ایمان۔ ایک پاجی فرقے نے دل سے اسے مان لیا اور سامری کی بات پر ایمان لائے مگر بہ ظاہر اس کی بات کو جھٹلایا۔ ہارون علیہ السلام نے اسی وقت سب کو جمع کر کے فرمایا کہ لوگو! یہ اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہے تم اس جھگڑے میں کہاں پھنس گئے؟ تمہارا رب تو رحمان ہے تم میری اتباع کرو اور میرا کہنا مانو۔ انہوں نے کہا آخر اس کی کیا وجہ کہ تیس دن کا وعدہ کر کے موسیٰ علیہ السلام گئے ہیں اور آج چالیس دن ہونے کو آئے لیکن اب تک لوٹے نہیں۔ بعض بیوقوفوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ان سے ان کا رب خطا کر گیا اب یہ اس کی تلاش میں ہوں گے۔ ادھر دس روزے اور پورے ہونے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کو بتایا گیا کہ آپ کے بعد آپ کی قوم کا اس وقت کیا حال ہے؟ آپ اسی وقت رنج و افسوس اور غم و غصے کے ساتھ واپس لوٹے اور یہاں آ کر قوم سے بہت کچھ کہا سنا، اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر گھسیٹنے لگے۔ غصے کی زیادتی کی وجہ سے تختیاں بھی ہاتھ سے پھینک دیں۔ پھر اصل حقیقت معلوم ہو جانے پر آپ نے اپنے بھائی سے معذرت کی، ان کے لیے استغفار کیا۔
صفحہ نمبر5241
اور سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے جواب دیا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے کے پاؤں تلے سے میں نے ایک مٹھی اٹھالی یہ لوگ اسے نہ پہچان سکے اور میں نے جان لیا تھا۔ میں نے وہی مٹھی اس آگ میں ڈال دی تھی میری رائے میں یہی بات آئی۔ آپ نے فرمایا، جا اس کی سزا دنیا میں تو یہ ہے کہ تو یہی کہتا رہے کہ“ہاتھ لگانا نہیں“ پھر ایک وعدے کا وقت ہے جس کا ٹلنا ناممکن ہے اور تیرے دیکھتے دیکھتے ہم تیرے اس معبود کو جلا کر اس کی خاک بھی دریا میں بہا دیں گے۔ چنانچہ آپ نے یہی کیا۔
اس وقت بنی اسرائیل کو یقین آ گیا کہ واقعی وہ اللہ نہ تھا۔ اب وہ بڑے نادم ہوئے اور سوائے ان مسلمانوں کے جو ہارون علیہ السلام کے ہم عقیدہ رہے تھے، باقی کے لوگوں نے عذر معذرت کی اور کہا کہ اے اللہ کے نبی! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمارے لیے توبہ کا دروازہ کھول دے، جو وہ فرمائے گا ہم بجا لائیں گے تاکہ ہماری یہ زبردست خطا معاف ہو جائے۔
صفحہ نمبر5242
آپ نے بنی اسرائیل کے اس گروہ میں سے ستر لوگوں کو چھانٹ کر علیحدہ کیا اور توبہ کے لیے چلے، وہاں زمین پھٹ گئی اور آپ کے سب ساتھی اس میں اتار دیئے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام کو فکر لاحق ہوا کہ میں بنی اسرائیل کو کیا منہ دکھاؤں گا؟ گریہ و زاری شروع کی اور دعا کی کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے ہی مجھے اور ان سب کو ہلاک کر دیتا، ہمارے بیوقوفوں کے گناہ کے بدلے تو ہمیں ہلاک نہ کر۔
آپ تو ان کے ظاہر کو دیکھ رہے تھے اور اللہ کی نظریں ان کے باطن پر تھیں۔ ان میں ایسے بھی تھے جو بہ ظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے لیکن دراصل دلی عقیدہ ان کا اس بچھڑے کے رب ہونے پر تھا۔ ان ہی منافقین کی وجہ سے سب کو تہ زمین کر دیا گیا تھا۔ نبی اللہ علیہ السلام کی اس آہ و زاری پر رحمت الٰہی جوش میں آئی اور جواب ملا کہ یوں تو میری رحمت سب پر چھائے ہوئے ہے لیکن میں اسے ان کے نام ہبہ کروں گا جو متقی پرہیزگار ہوں، زکوٰۃ کے ادا کرنے والے ہوں، میری باتوں پر ایمان لائیں اور میرے اس رسول و نبی کی اتباع کریں جس کے اوصاف وہ اپنی کتابوں میں لکھے پاتے ہیں یعنی توراۃ و انجیل میں۔
صفحہ نمبر5243
کلیم اللہ علیہ السلام نے عرض کی کہ یا الٰہی میں نے اپنی قوم کے لیے توبہ طلب کی، تو نے جواب دیا کہ تو اپنی رحمت کو ان کے ساتھ کر دے گا جو آگے آنے والے ہیں، پھر اللہ مجھے بھی تو اپنے اسی رحمت والے نبی کی امت میں پیدا کرتا۔ رب العالمین نے فرمایا، سنو ان کی توبہ اس وقت قبول ہو گی کہ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں، نہ باپ بیٹے کو دیکھے نہ بیٹا باپ کو چھوڑے، آپس میں گتھ جائیں اور ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں۔
چنانچہ بنو اسرائیل نے یہی کیا اور جو منافق لوگ تھے، انہوں نے بھی سچے دل سے توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، جو بچ گئے تھے وہ بھی بخشے گئے، جو قتل ہوئے وہ بھی بخش دیئے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام اب یہاں سے بیت المقدس کی طرف چلے۔ توراۃ کی تختیاں اپنے ساتھ لیں اور انہیں احکام الٰہی سنائے جو ان پر بہت بھاری پڑے اور انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ چنانچہ ایک پہاڑ ان کے سروں پر معلق کھڑا کر دیا گیا، وہ مثل سائبان کے سروں پر تھا اور ہر دم ڈر تھا کہ اب گرا، انہوں نے اب اقرار کیا اور تورات قبول کر لی پہاڑ ہٹ گیا۔ اس پاک زمین پر پہنچے جہاں کلیم اللہ علیہ السلام انہیں لے جانا چاہتے تھے، دیکھا کہ وہاں ایک بڑی طاقتور زبردست قوم کا قبضہ ہے۔ تو موسیٰ علیہ السلام کے سامنے نہایت نامردی سے کہا کہ یہاں تو بڑی زور آور قوم ہے، ہم میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں، یہ نکل جائیں تو ہم شہر میں داخل ہو سکتے ہیں۔ یہ تو یونہی نامردی اور بزدلی ظاہر کرتے رہے۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے ان سرکشوں میں سے دو شخصوں کو ہدایت دے دی، وہ شہر سے نکل کر موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں آ ملے اور انہیں سمجھانے لگے کہ تم ان کے جسموں اور تعداد سے مرعوب نہ ہو جاؤ، یہ لوگ بہادر نہیں ان کے دل گردے کمزور ہیں، تم آگے تو بڑھو۔ ان کے شہر کے دروازے میں گئے اور ان کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے ہوئے، یقیناً تم ان پر غالب آ جاؤ گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دونوں شخص جنہوں نے بنی اسرائیل کو سمجھایا اور انہیں دلیر بنایا، خود بنی اسرایئل میں سے ہی تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5244
لیکن ان کے سمجھانے بجھانے، اللہ کے حکم ہو جانے اور موسیٰ علیہ السلام کے وعدے نے بھی ان پر کوئی اثر نہ کیا بلکہ انہوں نے صاف کورا جواب دے دیا کہ جب تک یہ لوگ شہر میں ہیں، ہم تو یہاں سے اٹھنے کے بھی نہیں، موسیٰ علیہ السلام تو آپ اپنے رب کو اپنے ساتھ لے کر چلا جا اور ان سے لڑ بھڑ لے، ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔
اب تو موسیٰ علیہ السلام سے صبر نہ ہو سکا، آپ کے منہ سے ان بزدلوں اور ناقدروں کے حق میں بد دعا نکل گئی اور آپ نے ان کا نام فاسق رکھ دیا۔ اللہ کی طرف سے بھی ان کا یہی نام مقرر ہو گیا اور انہیں اسی میدان میں قدرتی طور پر قید کر دیا گیا۔ چالیس سال انہیں یہیں گزر گئے کہیں قرار نہ تھا، اسی بیاباں میں پریشانی کے ساتھ بھٹکتے پھرتے تھے۔ اسی میدان قید میں ان پر ابر کا سایہ کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا، کپڑے نہ پھٹتے تھے نہ میلے ہوتے تھے۔ ایک چوکونہ پتھر رکھا ہوا تھا جس پر موسیٰ علیہ السلام نے لکڑی ماری تو اس میں سے بارہ نہریں جاری ہو گئیں، ہر طرف سے تین تین لوگ چلتے چلتے آگے بڑھ جاتے، تھک کر قیام کر دیتے، صبح اٹھتے تو دیکھتے کہ وہ پتھر وہیں ہے جہاں کل تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس حدیث کو مرفوع بیان کیا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنی تو فرمایا کہ اس فرعونی نے موسیٰ علیہ السلام کے اگلے دن کے قتل کی خبر رسانی کی تھی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کیونکہ قبطی کے قتل کے وقت سوائے اس بنی اسرایئلی ایک شخص کے جو قبطی سے لڑ رہا تھا، وہاں کوئی اور نہ تھا۔
صفحہ نمبر5245
اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بہت بگڑے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے اور ان سے کہا، آپ کو یاد ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس شخص کا حال بیان فرمایا تھا جس نے موسیٰ کے قتل کے راز کو کھولا تھا، بتاؤ وہ بنی اسرائیلی شخص تھا یا فرعونی؟ سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا، بنی اسرائیلی سے اس فرعونی نے سنا، پھر اس نے جا کر حکومت سے کہا اور خود اس کا شاہد بنا [تفسیر ابن جریر الطبری:24131:ضعیف]
یہی روایت اور کتابوں میں بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اپنے کلام سے بہت تھوڑا سا حصہ مرفوع بیان کیا گیا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ آپ نے بنو اسرائیل میں سے کسی سے یہ روایت لی ہو کیونکہ ان سے روایتیں لینا مباح ہیں۔ یا تو آپ نے سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ہی یہ روایت سنی ہو گی اور ممکن ہے کسی اور سے سنی ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ میں نے اپنے استاد شیخ حافظ ابو الحجاج مزی علیہ السلام سے بھی یہی سنا ہے۔
صفحہ نمبر5246
طه 20:39
موسیٰ علیہ السلام کا بچپن ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تمام دعائیں قبول ہوئیں اور فرما دیا گیا کہ تمہاری درخواست منظور ہے۔ اس احسان کے ساتھ ہی اور احسان کا بھی ذکر کر دیا گیا کہ ہم نے تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی بڑا احسان کیا ہے۔ پھر اس واقعہ کو مختصر طور پر یاد دلایا کہ ہم نے تیرے بچپن کے وقت تیری ماں کی طرف وحی بھیجی جس کا ذکر اب تم سے ہو رہا ہے۔ تم اس وقت دودھ پیتے بچے تھے، تمہاری والدہ کو فرعون اور فرعونیوں کا کھٹکا تھا کیونکہ اس سال وہ بنو اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کر رہا تھا۔
اس خوف کے مارے وہ ہر وقت کانپتی رہتی تھیں تو ہم نے وحی کی کہ ایک صندوق بنا لو، دودھ پلا کر بچے کو اس میں لٹا کر دریائے نیل میں اس صندوق کو چھوڑ دو چنانچہ وہ یہی کرتی رہیں۔ ایک رسی اس میں باندھ رکھی تھی جس کا ایک سرا اپنے مکان سے باندھ لیتی تھیں۔ ایک مرتبہ باندھ رہی تھیں جو رسی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور صندوق کو پانی کی موجیں بہا لے چلیں۔ اب تو کلیجہ تھام کر رہ گئیں اس قدر غمزدہ ہوئیں کہ صبر ناممکن تھا، شاید راز فاش کر دیتیں لیکن ہم نے دل مضبوط کر دیا۔ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا آل فرعون نے اسے اٹھا لیا کہ جس غم سے وہ بچنا چاہتے تھے، جس صدمے سے وہ محفوظ رہنا چاہتے تھے، وہ ان کے سامنے آ جائے۔ جسکی شمع حیات کو بجھانے کے لیے وہ بےگناہ معصوموں کا قتل عام کر رہے تھے، وہ انہی کے تیل سے انہی کے ہاں روشن ہوا اور اللہ کے ارادے بیروک پورے ہو جائیں۔ ان کا دشمن انہی کے ہاتھوں پلے انہی کا کھائے ان کے ہاں تربیت پائے۔
صفحہ نمبر5221
خود فرعون اور اس کی اہلیہ محترمہ نے جب بچے کو دیکھا، رگ رگ میں محبت سما گئی، لے کر پرورش کرنے لگے۔ آنکھوں کا تارا سمجھنے لگے شاہزادوں کی طرح ناز و نعمت سے پلنے لگے شاہی دربار میں رہنے لگے۔
اللہ نے اپنی محبت تجھ پر ڈال دی گو فرعون تیرا دشمن تھا لیکن رب کی بات کون بدلے؟ اللہ کے ارادے کو کون ٹالے؟ فرعون پر ہی کیا منحصر ہے، جو دیکھتا آپ کا والہ و شیدا بن جاتا۔ یہ اس لیے تھا کہ تیری پرورش میری نگاہ کے سامنے ہو، شاہی خوراکیں کھا عزت و وقعت کے ساتھ رہ۔ فرعون والوں نے صندوقچہ اٹھا لیا کھولا بچے کو دیکھا، پالنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کسی دایہ کا دودھ دباتے ہی نہیں بلکہ منہ میں ہی نہیں لیتے۔ بہن جو صندوق کو دیکھتی بھالتی کنارے کنارے آ رہی تھی وہ بھی موقعہ پر پہنچ گئیں، کہنے لگیں کہ آپ اگر اس کی پرورش کی تمنا کرتے ہیں اور معقول اجرت بھی دیتے ہیں تو میں ایک گھرانہ بتاؤں جو اسے محبت سے پالے اور خیر خواہانہ برتاؤ کرے۔ سب نے کہا ہم تیار ہیں۔ آپ انہیں لیے ہوئے اپنی والدہ کے پاس پہنچیں، جب بچہ ان کی گود میں ڈال دیا گیا، آپ نے جھٹ سے منہ لگا دودھ پینا شروع کیا۔ جس سے فرعون کے ہاں بڑی خوشیاں منائی گئیں اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا گیا۔ تنخواہ مقرر ہو گئی، اپنے ہی بچے کو دودھ پلاتیں اور تنخواہ اور انعام بھی اور عزت و اکرام بھی پاتیں۔ دنیا بھی ملے دین بھی بڑھے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص اپنے کام کو کرے اور نیک نیتی سے کرے، اس کی مثال ام موسیٰ علیہ السلام کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے۔
پس یہ بھی ہماری کرم فرمائی ہے کہ ہم نے تجھے تیری ماں کی گود میں واپس کیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غم و رنج جاتا رہے۔ پھر تمہارے ہاتھ سے ایک فرعونی قبطی مار ڈالا گیا تو بھی ہم نے تمہیں بچا لیا، فرعونیوں نے تمہارے قتل کا ارادہ کر لیا تھا، راز فاش ہو چکا تھا۔ تمہیں یہاں سے نجات دی تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ مدین کے کنوئیں پر جا کر تم نے دم لیا۔ وہیں ہمارے ایک نیک بندے نے تمہیں بشارت سنائی کہ اب کوئی خوف نہیں ان ظالموں سے تم نے نجات پا لی۔ تجھے ہم نے بطور آزمائش اور بھی بہت سے فتنوں میں ڈالا۔
صفحہ نمبر5222
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا اب تو دن ڈوبنے کو ہے واقعات زیادہ ہیں پھر سہی۔ چنانچہ میں نے دوسری صبح پھر سوال کیا تو آپ نے فرمایا سنو! فرعون کے دربار میں ایک دن اس بات کا ذکر چھڑا کہ اللہ کا وعدہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے یہ تھا کہ ان کی اولاد میں انبیاء اور بادشاہ ہوں گے۔
چنانچہ بنو اسرائیل اس کے آج تک منتظر ہیں اور انہیں یقین ہے کہ مصر کی سلطنت پھر ان میں جائے گی۔ پہلے تو ان کا خیال تھا کہ یہ وعدہ یوسف علیہ السلام کی بابت تھا لیکن ان کی وفات تک جب کہ یہ وعدہ پورا نہیں ہوا تو وہ اب عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ ان میں اپنے ایک پیغمبر کو بھیجے گا جن کے ہاتھوں انہیں سلطنت بھی ملے گی اور ان کی قومی و مذہبی ترقی ہو گی۔ ً یہ باتیں کر کے انہوں نے مجلس مشاورت قائم کی کہ اب کیا کیا جائے جس سے آئندہ کے اس خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔ آخر اس جلسے میں قرار داد منظور ہوئی کہ پولیس کا ایک محکمہ قائم کیا جائے جو شہر کا گشت لگاتا رہے اور بنی اسرائیل میں جو نرینہ اولاد ہو، اسے اسی وقت سرکار میں پیش کیا جائے اور ذبح کر دیا جائے۔ لیکن جب ایک مدت گزر گئی تو انہیں خیال پیدا ہوا کہ اس طرح تو بنی اسرائیل بالکل فنا ہو جائیں گے اور جو ذلیل خدمتیں ان سے لی جاتی ہیں، جو بیگاریں ان سے وصول ہو رہی ہیں، سب موقوف ہو جائیں گی، اس لیے اب تجویز ہوا کہ ایک سال ان کے بچوں کو چھوڑ دیا جائے اور ایک سال ان کے لڑکے قتل کر دیئے جائیں۔ اس طرح موجودہ بنی اسرائیلیوں کی تعداد بھی نہ بڑھے گی اور نہ اتنی کم ہو جائے گی کہ ہمیں اپنی خدمت گزاری کے لیے بھی نہ مل سکیں۔ جتنے بڈھے دو سال میں مریں گے، اتنے بچے ایک سال میں پیدا ہو جائیں گے۔
صفحہ نمبر5223
جس سال قتل موقوف تھا، اس سال تو ہارون علیہ السلام پیدا ہوئے اور جس سال قتل عام بچوں کا جاری تھا، اس برس موسیٰ علیہ السلام تولد ہوئے۔ آپ کی والدہ کی اس وقت کی گھبراہٹ اور پریشانی کا کیا پوچھنا؟ بے اندازہ تھی۔ ایک فتنہ تو یہ تھا۔ چنانچہ یہ خطرہ اس وقت دفع ہو گیا جب کہ اللہ کی وحی ان کے پاس آئی کہ ڈر خوف نہ کر ہم اسے تیری طرف پھر لوٹائیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔
چنانچہ بحکم الٰہی آپ نے اپنے بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دیا، جب صندوق نظروں سے اوجھل ہو گیا تو شیطان نے دل میں وسوسے ڈالنے شروع کئے کہ افسوس اس سے تو یہی بہتر تھا کہ میرے سامنے ہی اسے ذبح کر دیا جاتا تو میں اسے خود ہی کفناتی دفناتی تو سہی لیکن اب تو میں نے خود اسے مچھلیوں کا شکار بنایا۔ یہ صندوق یونہی بہتا ہوا خاص فرعونی گھاٹ سے جا لگا، وہاں اس وقت محل کی لونڈیاں موجود تھیں، انہوں نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور ارادہ کیا کہ کھول کر دیکھیں لیکن پھر ڈر گئیں کہ ایسا نہ ہو کہ چوری کا الزام لگے یونہی مقفل صندوق ملکہ فرعون کے پاس پہنچا دیا۔ یہ صندوق بادشاہ ملکہ کے سامنے کھولا گیا تو اس میں سے چاند جیسی صورت کا ایک چھوٹا سا معصوم بچہ نکلا جسے دیکھتے ہی فرعون کی بیوی صاحبہ کا دل محبت کے جوش سے اچھلنے لگا۔
صفحہ نمبر5224
ادھر ام موسیٰ کی حالت غیر ہو گئی، سوائے اپنے اس پیارے بچے کے خیال کے دل میں اور کوئی تصور ہی نہ تھا۔ ادھر ان قصائیوں کو جو حکومت کی طرف سے بچوں کے قتل کے محکمے کے ملازم تھے، معلوم ہوا تو وہ اپنی چھریاں تیز کئے ہوئے بڑھے اور ملکہ سے تقاضا کیا کہ بچہ انہیں سونپ دیں تاکہ وہ اسے ذبح کر ڈالیں۔
یہ دوسرا فتنہ تھا، آخر ملکہ نے جواب دیا کہ ٹھہرو میں خود بادشاہ سے ملتی ہوں اور اس بچے کو طلب کرتی ہوں، اگر وہ مجھے دے دیں تو خیر ورنہ تمہیں اختیار ہے۔ چنانچہ آپ آئیں اور بادشاہ سے کہا کہ یہ بچہ تو میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہو گا۔ اس خبیث نے کہا بس تم ہی اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھو، میری ٹھنڈک وہ کیوں ہونے لگا؟ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
صفحہ نمبر5225
اللہ تعالٰی کی تدابیر اعلیٰ اور محروم ہدایت فرعون ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ حلف بیان فرماتے ہیں کہ اگر وہ بھی کہہ دیتا کہ ہاں بیشک وہ میری آنکھوں کی بھی ٹھنڈک ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بھی ضرور راہ راست دکھا دیتا جیسا کہ اس کی بیوی صاحبہ مشرف بہ ہدایت ہوئی لیکن اس نے خود اس سے محروم رہنا چاہا اللہ نے بھی اسے محروم کر دیا۔
الغرض فرعون کو جوں توں راضی رضامند کر کے اس بچے کے پالنے کی اجازت لے کر آپ آئیں، اب محل کی جتنی دایہ تھیں سب کو جمع کیا ایک ایک کی گود میں بچہ دیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کا دودھ آپ پر حرام کر دیا، آپ نے کسی کا دودھ منہ میں لیا ہی نہیں۔ اس سے ملکہ گھبرائیں کہ یہ تو بہت ہی برا ہوا، یہ پیارا بچہ یونہی ہلاک ہو جائے گا۔ آخر سوچ کر حکم دیا کہ انہیں باہر لے جاؤ، ادھر ادھر تلاش کرو اور اگر کسی کا دودھ یہ معصوم قبول کرے تو اسے بہ منت سونپ دو۔ باہر بازار میں میلہ سا لگ گیا ہر شخص اس سعادت سے مالا مال ہونا چاہتا تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام نے کسی کا دودھ نہ پیا۔ آپ کی والدہ نے اپنی بڑی صاحبزادی آپ کی بہن کو باہر بھیج رکھا تھا کہ وہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ وہ اس مجمع میں موجود تھیں اور تمام واقعات دیکھ سن رہی تھیں۔ جب یہ لوگ عاجز آ گئے تو آپ نے فرمایا، اگر تم کہو تو میں ایک گھرانہ ایسا بتلاؤں جو اس کی نگہبانی کرے اور ہو بھی اس کا خیرخواہ۔ یہ کہنا تھا کہ لوگوں کو شک ہوا کہ ضرور یہ لڑکی اس بچے کو جانتی ہے اور اس کے گھر کو بھی پہچانتی ہے۔ اے ابن جبیر یہ تھا تیسرا فتنہ۔ لیکن اللہ نے لڑکی کو سمجھ دے دی اور اس نے جھٹ سے کہا کہ بھلا تم اتنا نہیں سمجھے کون بدنصیب ایسا ہو گا جو اس بچے کی خیر خواہی یا پرورش میں کمی کرے جو بچہ ہماری ملکہ کا پیارا ہے۔ کون نہ چاہے گا کہ یہ ہمارے ہاں پلے تاکہ انعام و اکرام سے اس کا گھر بھر جائے۔ یہ سن کر سب کی سمجھ میں آ گیا اسے چھوڑ دیا اور کہا بتا تو کون سی دایہ اس کے لیے تجویز کرتی ہے؟ اس نے کہا میں ابھی لائی، دوڑی ہوئی گئیں اور والدہ کو یہ خوشخبری سنائی۔ والدہ صاحبہ شوق و امید سے آئیں اپنے پیارے بچے کو گود میں لیا، اپنا دودھ منہ میں دیا بچے نے پیٹ بھر کر پیا۔ اسی وقت شاہی محلات میں یہ خوشخبری پہنچائی گئی ملکہ کا حکم ہوا کہ فوراً اس دایہ کو اور بچے کو میرے پاس لاؤ، جب ماں بیٹا پہنچے تو اپنے سامنے دودھ پلوایا اور یہ دیکھ کر کہ بچہ اچھی طرح دودھ پیتا ہے، بہت ہی خوش ہوئیں اور فرمانے لگیں کہ دائی اماں مجھے اس بچے سے وہ محبت ہے جو دنیا کی کسی اور چیز سے نہیں، تم یہیں محل میں رہو اور اس بچے کی پرورش کرو۔
صفحہ نمبر5226
لیکن موسیٰ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ کے سامنے اللہ کا وعدہ تھا انہیں یقین کامل تھا اس لیے آپ ذرا رکیں اور فرمایا کہ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اپنے گھر کو اور اپنے بچوں کو چھوڑ کر یہاں رہوں۔ اگر آپ چاہتی ہیں تو یہ بچہ میرے سپرد کر دیں میں اسے اپنے گھر لے جاتی ہوں ان کی پرورش میں کوئی کوتاہی نہ کروں گی۔ ملکہ صاحبہ نے مجبوراً اس بات کو بھی مان لیا اور آپ اسی دن خوشی خوشی اپنے بچے کو لیے ہوئے گھر آ گئیں۔
اس بچے کی وجہ سے اس محلے کے بنو اسرائیل بھی فرعونی مظالم سے رہائی پا گئے۔ جب کچھ زمانہ گزر گیا تو بادشاہ بیگم نے حکم بھیجا کہ کسی دن میرے بچے کو میرے پاس لاؤ، ایک دن مقرر ہو گیا، تمام ارکان سلطنت اور درباریوں کو حکم ہوا کہ آج میرا بچہ میرے پاس آئے گا۔ تم سب قدم قدم پر اس کا استقبال کرو اور دھوم دھام سے نذریں دیتے ہوئے اسے میرے محل سرائے تک لاؤ۔ چنانچہ جب سواری روانہ ہوئی، وہاں سے لے کر محل سرائے سلطانی تک برابر تحفے تحائف نذریں اور ہدیے پیشکش ہوتے رہے اور بڑے ہی عزت و اکرام کے ساتھ آپ یہاں پہنچے تو خود بیگم نے بھی خوشی خوشی بہت بڑی رقم پیش کی اور بڑی خوشی منائی گئی۔ پھر کہنے لگی کہ میں تو اسے بادشاہ کے پاس لے جاؤں گی، وہ بھی اسے انعام و اکرام دیں گے، لے گئیں اور بادشاہ کی گود میں لٹا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کی داڑھی پکڑ کر زور سے گھسیٹی۔ فرعون کھٹک گیا اور اس کے درباریوں نے کہنا شروع کیا کہ کیا عجب یہی وہ لڑکا ہو آپ اسے فوراً قتل کرا دیجئیے۔
صفحہ نمبر5227
اے ابن جبیر یہ تھا چوتھا فتنہ۔ ملکہ بیتاب ہو کر بول اٹھیں، اے بادشاہ کیا ارادہ کر رہے ہو؟ آپ اسے مجھے دے چکے ہیں میں اسے اپنا بیٹا بنا چکی ہوں۔ بادشاہ نے کہا یہ سب ٹھیک ہے لیکن دیکھو تو اس نے تو آتے ہی داڑھی پکڑ کر مجھے نیچا کر دیا گویا یہی میرا گرانے والا اور مجھے تاخت و تاراج کرنے والا ہے۔
بیگم صاحبہ نے فرمایا، بادشاہ بچوں کو ان چیزوں کی کیا تمیز؟ سنو میں ایک فیصلہ کن بات بتاؤں، اس کے سامنے دو انگارے آگ کے سرخ رکھ دو اور دو موتی آبدار چمکتے ہوئے رکھ دو پھر دیکھو یہ کیا اٹھاتا ہے؟ اگر موتی اٹھا لے تو سمجھنا کہ اس میں عقل ہے اور اگر آگ کے انگارے تھام لے تو سمجھ لینا کہ عقل نہیں۔ جب عقل و تمیز نہیں تو اس کی داڑھی پکڑ لینے پر اتنے لمبے خیالات کر کے اس کی جان کا دشمن بن جانا کون سی دانائی کی بات ہے؟ چنانچہ یہی کیا گیا دونوں چیزیں آپ کے سامنے رکھی گئیں۔ آپ نے دہکتے ہوئے انگارے اٹھا لیے اسی وقت وہ چھین لیے کہ ایسا نہ ہو ہاتھ جل جائیں۔ اب فرعون کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور اس کا بدلا ہوا رخ ٹھیک ہو گیا۔ حق تو یہ ہے کہ اللہ کو جو کام کرنا مقصود ہوتا ہے، اس کے قدرتی اسباب مہیا ہو ہی جاتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کی دربار فرعون میں فرعون کے خاص محل میں فرعون کی بیوی کی گود میں ہی پرورش ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ آپ اچھی عمر کو پہنچ گئے اور بالغ ہو گئے۔
صفحہ نمبر5228
اب تو فرعونیوں کے جو مظالم اسرائیلیوں پر ہو رہے تھے، ان میں بھی کمی ہو گئی تھی سب امن و امان سے تھے۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک فرعونی اور ایک اسرائیلی کی لڑائی ہو رہی تھی۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام سے فریاد کی آپ کو سخت غصہ آیا اسلئے کہ اس وقت وہ فرعونی اس بنی اسرائیلی کو دبوچے ہوئے تھا، آپ نے اسے ایک مکا مارا، اللہ کی شان مکا لگتے ہی وہ مر گیا۔
یہ تو لوگوں کو عموماً معلوم تھا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیلیوں کی طرف داری کرتے ہیں لیکن لوگ اس کی وجہ اب تک یہی سمجھتے تھے کہ چونکہ آپ نے انہی میں دودھ پیا ہے، اس لیے ان کے طرفدار ہیں۔ اصلی راز کا علم تو صرف آپ کی والدہ کو تھا اور ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم کو بھی معلوم کرا دیا ہو۔ اسے مردہ دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام کانپ اٹھے کہ یہ تو شیطانی حرکت ہے وہ بہکانے والا اور کھلا دشمن ہے۔
صفحہ نمبر5229
پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے کہ باری تعالیٰ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا تو معاف فرما۔ پروردگار نے بھی آپ کی اس خطا سے درگزر فرما لیا وہ تو غفور و رحیم ہے ہی۔ چونکہ قتل کا معاملہ تھا، آپ پھر بھی خوفزدہ ہی رہے، تاک جھانک میں رہے کہ کہیں معاملہ کھل تو نہیں گیا۔ ادھر فرعون کے پاس شکایت ہوئی کہ ایک قبطی کو کسی بنی اسرائیلی نے مار ڈالا ہے، فرعون نے حکم جاری کر دیا کہ واقعہ کی پوری تحقیق کرو قاتل کو تلاش کر کے پکڑ لاؤ اور گواہ بھی پیش کرو اور جرم ثابت ہو جانے کی صورت میں اسے بھی قتل کر دو۔
پولیس نے ہر چند تفتیش کی لیکن قاتل کا کوئی سراغ نہ ملا۔ اتفاق کی بات کہ دوسرے ہی دن موسیٰ علیہ السلام پھر کہیں جا رہے تھے کہ دیکھا وہی بنی اسرائیلی شخص ایک دوسرے فرعونی سے جھگڑ رہا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی وہ دہائی دینے لگا لیکن اس نے یہ محسوس کیا کہ شاید موسیٰ علیہ السلام اپنے کل کے فعل سے نادم ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس کا یہ باربار کا جھگڑنا اور فریاد کرنا برا معلوم ہوا اور کہا تم تو بڑے لڑاکا ہو، یہ فرما کر اس فرعونی کو پکڑنا چاہا لیکن اس بنی اسرائیلی بزدل نے سمجھا کہ شاید آپ چونکہ مجھ پر ناراض ہیں مجھے ہی پکڑنا چاہتے ہیں۔
صفحہ نمبر5230
حالانکہ اس کا یہ صرف بزدلانہ خیال تھا آپ تو اسی فرعونی کو پکڑنا چاہتے تھے اور اسے بچانا چاہتے تھے لیکن خوف و ہراس کی حالت میں بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جیسے کہ کل تو نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا، کیا آج مجھے مار ڈالنا چاہتا ہے؟ یہ سن کر وہ فرعونی اسے چھوڑ بھاگا، دوڑا گیا اور سرکاری سپاہ کو اس واقعہ کی خبر کر دی۔
فرعون کو بھی قصہ معلوم ہوا۔ اسی وقت جلادوں کو حکم دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو پکڑ کر قتل کر دو۔ یہ لوگ شارع عام سے آپ کی جستجو میں چلے۔ ادھر ایک بنی اسرائیلی نے راستہ کاٹ کر نزدیک کے راستے سے آ کر موسیٰ علیہ السلام کو خبر کر دی۔ اے ابن جبیر رحمہ اللہ یہ ہے پانچواں فتنہ۔
موسیٰ علیہ السلام یہ سنتے ہی مٹھیاں بند کرکے مصر سے بھاگ کھڑے ہوئے، نہ کبھی پیدل چلے تھے نہ کبھی کسی مصیبت میں پھنسے تھے، شہزادوں کی طرح لاڈ چاؤ میں پلے تھے، نہ راستے کی خبر تھی نہ کبھی سفر کا اتفاق پڑا تھا۔ رب پر بھروسہ کر کے یہ دعا کر کے کہ اے اللہ مجھے سیدھی راہ لے چلنا، چل کھڑے ہوئے یہاں تک کہ مدین کی حدود میں پہنچے۔
صفحہ نمبر5231
یہاں دیکھا کہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں وہیں دو لڑکیوں کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو روکے کھڑی ہیں۔ پوچھا کہ تم ان کے ساتھ اپنے جانوروں کو پانی کیوں نہیں پلا لیتیں؟ الگ کھڑی ہوئی انہیں کیوں روک رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس بھیڑ میں ہمارے بس کی بات نہیں کہ اپنے جانوروں کو پانی پلائیں، ہم تو جب یہ لوگ پانی پلا چکتے ہیں ان کا بقیہ اپنے جانوروں کو پلا دیا کرتی ہیں۔ آپ فوراً آگے بڑھے اور ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔ چونکہ بہت جلد پانی کھینچا، آپ بہت قوی آدمی تھے، سب سے پہلے ان کے جانوروں کو سیر کر دیا۔
یہ اپنی بکریاں لے کر اپنے گھر روانہ ہوئیں اور آپ ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے اور اللہ سے دعا کرنے لگے کہ پروردگار میں تیری تمام تر مہربانیوں کا محتاج ہوں۔ یہ دونوں لڑکیاں جب اپنے والد کے پاس پہنچیں تو انہوں نے کہا، آج کیا بات ہے کہ تم وقت سے پہلے ہی آ گئیں؟ اور بکریاں بھی خوب آسودہ اور شکم سیر معلوم ہوتی ہیں۔ تو ان بچیوں نے سارا واقعہ کہہ سنایا آپ نے حکم دیا کہ تم میں سے ایک ابھی چلی جائے اور انہیں میرے پاس بلا لائے۔ وہ آئیں اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنے والد صاحب کے پاس لے گئیں۔ انہوں نے سرسری ملاقات کے بعد واقعہ پوچھا تو آپ نے سارا قصہ کہہ سنایا، اس پر وہ فرمانے لگے اب کوئی ڈر کی بات نہیں آپ ان ظالموں سے چھوٹ گئے۔ ہم لوگ فرعون کی رعایا نہیں نہ ہم پر اس کا کوئی دباؤ ہے۔ اسی وقت ایک لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جی انہوں نے ہمارا کام کر دیا ہے اور یہ ہیں بھی قوت والے امانت دار شخص، کیا اچھا ہو کہ آپ انہیں اپنے ہاں مقرر کر لیجئے کہ یہ اجرت پر ہماری بکریاں چرا لایا کریں۔ باپ کو غیرت اور غصہ آ گیا اور پوچھا بیٹی تمہیں یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ یہ قوی اور امین ہیں؟ بچی نے جواب دیا کہ قوت تو اس وقت معلوم ہوئی جب انہوں نے ہماری بکریوں کے لیے پانی نکالا اتنے بڑے ڈول کو اکیلے ہی کھینچتے تھے اور بڑی پھرتی اور ہرپن سے۔ امانت داری یوں معلوم ہوئی کہ میری آواز سن کر انہوں نے نظر اونچی کی اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ میں عورت ہوں، پھر نیچی گردن کر کے میری باتیں سنتے رہے، واللہ! آپ کا پورا پیغام پہنچانے تک انہوں نے نگاہ اونچی نہیں کی۔ پھر مجھ سے فرمایا کہ تم میرے پیچھے رہو مجھے دور سے راستہ بتا دیا کرنا۔ یہ بھی دلیل ہے ان کی اللہ خوفی اور امانت داری کی۔ باپ کی غیرت و حمیت بھی رہ گئی، بچی کی طرف سے بھی دل صاف ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام کی محبت دل میں سما گئی۔
صفحہ نمبر5232
اب موسیٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے، میرا ارادہ ہے کہ اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کر دوں اس شرط پر کہ آپ آٹھ سال تک میرے ہاں کام کاج کرتے رہیں، ہاں اگر دس سال تک کریں تو اور بھی اچھا ہے، ان شاءاللہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں بھلا آدمی ہوں۔ چنانچہ یہ معاملہ طے ہو گیا اور اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے بجائے آٹھ سال کے دس سال پورے کئے۔
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہلے مجھے یہ معلوم نہ تھا اور ایک نصرانی عالم مجھ سے یہ پوچھ بیٹھا تھا تو میں اسے کوئی جواب نہ دے سکا، پھر جب میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا اور آپ نے جواب دیا تو میں نے اس سے ذکر کیا، اس نے کہا تمہارے استاد بڑے عالم ہیں۔ میں نے کہا، ہاں ہیں ہی۔ اب موسیٰ علیہ السلام اس مدت کو پوری کر کے اپنی اہلیہ صاحبہ کو لیے ہوئے یہاں سے چلے۔ پھر وہ واقعات ہوئے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ آگ دیکھی، گئے، اللہ سے کلام کیا، لکڑی کا اژدھا بننا، ہاتھ کا نورانی بننا ملاحظہ کیا، نبوت پائی، فرعون کی طرف بھیجے گئے تو قتل کے واقعہ کے بدلے کا اندیشہ ظاہر فرمایا۔ اس سے اطمینان حاصل کر کے زبان کی گرہ کشائی کی طلب کی۔ اس کو حاصل کر کے اپنے بھائی ہارون کی ہمدردی اور شرکت کار چاہی۔ یہ بھی حاصل کر کے لکڑی لیے ہوئے شاہ مصر کی طرف چلے۔
صفحہ نمبر5233
ادھر ہارون علیہ السلام کے پاس وحی پہنچی کہ اپنے بھائی کی موافقت کریں اور ان کا ساتھ دیں۔ دونوں بھائی ملے اور فرعون کے دربار میں پہنچے۔ اطلاع کرائی بڑی دیر میں اجازت ملی، اندر گئے، فرعون پر ظاہر کیا کہ ہم اللہ کے رسول بن کر تیرے پاس آئے ہیں۔ اب جو سوال جواب ہوئے وہ قرآن میں موجود ہیں۔
فرعون نے کہا اچھا تم چاہتے کیا ہو؟ اور واقعہ قتل یاد دلایا جس کا عذر موسیٰ علیہ السلام نے بیان کیا جو قرآن میں موجود ہے اور کہا، ہمارا ارادہ یہ ہے کہ تو ایمان لا اور ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے رہائی دے۔ اس نے انکار کیا اور کہا کہ اگر سچے ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ، آپ نے اسی وقت اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی وہ زمین پر پڑتے ہی ایک زبردست خوفناک اژدھے کی صورت میں منہ پھاڑے کچلیاں نکالے فرعون کی طرف لپکا۔ مارے خوف کے فرعون تخت سے کود گیا اور بھاگتا ہوا عاجزی سے فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے واسطے اسے پکڑ لو۔ آپ نے ہاتھ لگایا اسی وقت لاٹھی اپنی اصلی حالت میں آ گئی۔
پھر آپ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ بغیر کسی مرض کے داغ کے چمکتا ہوا نکلا جسے دیکھ کر وہ حیران ہو گیا، آپ نے پھر ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ اپنی اصلی حالت میں تھا۔ اب فرعون نے اپنے درباریوں کی طرف دیکھ کر کہا کہ تم نے دیکھا، یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور تمہارے ملک پر قابض ہو کر تمہارے طریقے مٹا دیں۔
صفحہ نمبر5234
پھر موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمیں آپ کی نبوت ماننے سے بھی انکار ہے اور آپ کا کوئی مطالبہ بھی ہم پورا نہیں کر سکتے بلکہ ہم اپنے جادوگروں کو تمہارے مقابلہ کے لیے بلا رہے ہیں جو تمہارے اس جادو پر غالب آ جائیں گے۔ چنانچہ یہ لوگ اپنی کوششوں میں مشغول ہو گئے۔ تمام ملک سے جادوگروں کو بڑی عزت سے بلوایا جب سب جمع ہو گئے تو انہوں نے پوچھا کہ اس کا جادو کس قسم کا ہے؟ فرعون والوں نے کہا لکڑی کا سانپ بنا دیتا ہے۔
انہوں نے کہا، اس میں کیا ہے؟ ہم لکڑیوں کی رسیوں کے وہ سانپ بنائیں گے کہ روئے زمین پر ان کا کوئی مقابلہ نہ کر سکے۔ لیکن ہمارے لیے انعام مقرر ہو جانا چاہیئے۔ فرعون نے ان سے قول و قرار کیا کہ انعام کیسا؟ میں تو تمہیں اپنا مقرب خاص اور درباری بنا لوں گا اور تمہیں نہال نہال کر دونگا جو مانگو گے پاؤ گے۔ چنانچہ انہوں نے اعلان کر دیا کہ عید کے روز دن چڑھے فلاں میدان میں مقابلہ ہو گا۔ مروی ہے کہ ان کی یہ عید عاشورا کے دن تھی۔
صفحہ نمبر5235
اس دن تمام لوگ صبح ہی صبح اس میدان میں پہنچ گئے کہ آج چل کر دیکھیں گے کہ کون غالب آتا ہے؟ ہم تو جادوگروں کے کمالات کے قائل ہیں وہی غالب آئیں گے اور ہم انہی کی مانیں گے۔ مذاق سے اس بات کو بدل کر کہتے تھے کہ چلو انہی دونوں جادوگروں کے مطیع بن جائیں گے اگر وہ غالب رہیں۔ میدان میں آ کر جادوگروں نے انبیاء اللہ علیہم السلام سے کہا کہ لو اب بتاؤ، تم پہلے اپنا جادو ظاہر کرتے ہو یا ہم ہی شروع کریں؟ آپ نے فرمایا تم ہی ابتداء کرو تاکہ تمہارے ارمان پورے ہوں۔
اب انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈالیں تو ایسا لگا کہ وہ سب سانپ اور بلائیں بن کر اللہ کے نبیوں کی طرف دوڑیں جس سے خوفزدہ ہو کر آپ پیچھے ہٹنے لگے۔ اس وقت اللہ کی وحی آئی کہ آپ اپنی لکڑی زمین پر ڈال دیجئیے، آپ نے ڈالدی، وہ ایک خوفناک بھیانک عظیم الشان اژدھابن کر ان کی طرف دوڑا یہ لکڑیاں رسیاں سب گڈ مڈ ہو گئیں اور وہ ان سب کو نگل گیا۔ جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کیطرف کا نشان ہے، جادو میں یہ بات کہاں؟ چنانچہ سب نے اپنے ایمان کا اعلان کر دیا کہ ہم موسیٰ کے رب پر ایمان لائے اور ان دونوں بھائیوں کی نبوت ہمیں تسلیم ہے۔ ہم اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔ فرعون اور فرعونیوں کی کمر ٹوٹ گئی، رسوا ہوئے، منہ کالے پڑ گئے، ذلت کے ساتھ خاموش ہو گئے۔ خون کے گھونٹ پی کر چپ ہو گئے۔ ادھر یہ ہو رہا تھا۔ ادھر فرعون کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنے سگے بچے کی طرح پالا تھا، بیقرار بیٹھی تھیں اور اللہ سے دعائیں مانگ رہی تھیں کہ اللہ ذولجلال اپنے نبی کو غالب کرے۔ فرعونیوں نے بھی اس حال کو دیکھا تھا لیکن انہوں نے خیال کیا کہ اپنے خاوند کی طرفداری میں ان کا یہ حال ہے۔ یہاں سے ناکام واپس جانے پر فرعون نے بےایمانی پر کمر باندھ لی۔ اللہ کی طرف سے موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں بہت سے نشانات ظاہر ہوئے۔ جب کبھی کوئی پکڑ آ جاتی، یہ گھبرا کر بلکہ گڑ گڑا کر وعدہ کرتا کہ اچھا اس مصیبت کے ہٹ جانے پر میں بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ کر دونگا لیکن جب عذاب ہٹ جاتا پھر منکر بن کر سرکشی پر آ جاتا اور کہتا تیرا رب اس کے سوا کچھ اور بھی کر سکتا ہے؟ چنانچہ ان پر طوفان آیا، ٹڈیاں آئیں، جوئیں آئیں، مینڈک آئے، خون آیا اور بھی بہت سی صاف صاف نشانیاں دیکھیں۔ جہاں آفت آئی، ڈرا وعدہ کیا، جہاں وہ ٹل گئی، مکر گیا اور اکڑ گیا۔ اب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو لے کر یہاں سے نکل جاؤ آپ راتوں رات انہیں لے کر روانہ ہو گئے۔
صفحہ نمبر5236
صبح فرعونیوں نے دیکھا کہ رات کو سارے بنی اسرائیل چلے گئے ہیں۔ انہوں نے فرعون سے کہا۔ اس نے سارے ملک میں احکام بھیج کر ہر طرف سے فوجیں جمع کیں اور بہت بڑی جمعیت کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ راستے میں جو دریا پڑتا تھا اس کی طرف اللہ کی وحی پہنچی کہ تجھ پر جب میرے بندے موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی پڑے تو تو انہیں راستہ دے دینا۔ تجھ میں بارہ راستے ہو جائیں کہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے الگ الگ اپنی راہ لگ جائیں۔ پھر جب یہ پار ہو جائیں اور فرعونی آ جائیں تو تو مل جانا اور ان میں سے ایک کو بھی بے ڈبوئے نہ چھوڑنا۔
موسیٰ علیہ السلام جب دریا پر پہنچے دیکھا کہ وہ موجیں مار رہا ہے پانی چڑھا ہوا ہے شور اٹھ رہا ہے، گھبرا گئے اور لکڑی مارنا بھول گئے۔ دریا بیقرار یوں تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کے کسی حصے پر موسیٰ علیہ السلام لکڑی مار دیں اور اسے خبر نہ ہو تو عذاب الٰہی میں بہ سبب اللہ کی نافرمانی کے پھنس جائے۔ اتنے میں فرعون کا لشکر بنی اسرائیل کے سر پر جا پہنچا، یہ گھبرا گئے اور کہنے لگے لو موسیٰ ہم تو پکڑ لیے گئے۔ اب آپ وہ کیجئے جو اللہ کا آپ کو حکم ہے یقیناً نہ تو اللہ جھوٹا ہے نہ آپ۔
صفحہ نمبر5237
آپ نے فرمایا مجھے سے تو یہ فرمایا گیا ہے کہ جب تو دریا پر پہنچے گا، وہ تجھے بارہ راستے دیدے گا، تو گزر جانا۔ اسی وقت یاد آیا کہ لکڑی مارنے کا حکم ہوا ہے، چنانچہ لکڑی ماری۔ ادھر فرعونی لشکر کا اول حصہ بنی اسرائیل کے آخری حصے کے پاس آ چکا تھا کہ دریا خشک ہو گیا اور اس میں راستے نمایاں ہو گئے اور آپ اپنی قوم کو لیے ہوئے اس میں بیخطر اتر گئے اور با آرام جانے لگے۔ جب یہ نکل چکے، فرعونی سپاہ ان کے تعاقب میں دریا میں اتری۔
جب یہ سارا لشکر اس میں اتر گیا تو فرمان الٰہی کے مطابق دریا رواں ہو گیا اور سب کو بیک وقت غرق کر دیا۔ بنو اسرایئل اس واقعہ کو اپنی آنکھوں دیکھ رہے تھے تاہم انہوں نے کہا کہ اے رسول اللہ! (علیہ السلام) ہمیں کیا خبر کہ فرعون بھی مرا یا نہیں؟ آپ نے دعا کی اور دریا نے فرعون کی بے جان لاش کو کنارے پر پھینک دیا۔ جسے دیکھ کر انہیں یقین کامل ہو گیا کہ ان کا دشمن مع اپنے لاؤ و لشکر کے تباہ ہو گیا۔
صفحہ نمبر5238
فرعون سے نجات کے بعد بنی اسرائیل کی نافرمانیاں ٭٭
اب یہاں سے آگے چلے تو دیکھا کہ ایک قوم اپنے بتوں کی مجاور بن کر بیٹھی ہے تو کہنے لگے اے اللہ کے رسول ہمارے لئے بھی کوئی معبود ایسا ہی مقرر کر دیجئیے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ناراض ہو کر کہا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو، تم نے اتنی بڑی عبرتناک نشانیاں دیکھیں۔ ایسے اہم واقعات سنے لیکن اب تک نہ عبرت ہے نہ غیرت۔
یہاں سے آگے بڑھ کر ایک منزل پر آپ نے قیام کیا اور یہاں اپنے خلیفہ اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو بنا کر قوم سے فرمایا کہ میری واپسی تک ان کی فرمانبرداری کرتے رہنا میں اپنے رب کے پاس جا رہا ہوں۔ تیس دن کا اس کا وعدہ ہے۔ چنانچہ قوم سے الگ ہو کر وعدے کی جگہ پہنچ کر تیس دن رات کے روزے پورے کر کے اللہ سے باتیں کرنے کا دھیان پیدا ہوا لیکن یہ سمجھ کر کہ روزوں کی وجہ سے منہ سے بھبکا نکل رہا ہو گا، تھوڑی سی گھاس لے کر آپ نے چبا لی۔ اللہ تعالیٰ نے باوجود علم کے دریافت فرمایا کہ ایسا کیوں کیا؟ آپ نے جواب دیا، صرف اس لیے کہ تجھ سے باتیں کرتے وقت میرا منہ خوشبودار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کیا تجھے معلوم نہیں کہ روزہ دار کے منہ کی بو مجھے مشک و عنبر کی خوشبو سے زیادہ اچھی لگتی ہے؟ اب تو دس روزے اور رکھ پھر مجھ سے کلام کرنا۔ آپ نے روزے رکھنا شروع کر دیئے۔ قوم پر تیس دن جب گزر گئے اور حسب وعدہ موسیٰ علیہ السلام نہ لوٹے تو وہ غمگین رہنے لگے۔
صفحہ نمبر5239
ہارون علیہ السلام نے ان میں خطبہ کیا اور فرمایا کہ جب تم مصر سے چلے تھے تو قبطیوں کی رقمیں تم میں سے بعض پر ادھار تھیں اسی طرح ان کی امانتیں بھی تمہارے پاس رہ گئی ہیں، یہ ہم انہیں واپس تو کرنے کے نہیں لیکن میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ وہ ہماری ملکیت میں رہیں۔ اس لیے تم ایک گہرا گڑھا کھودو اور جو اسباب برتن بھانڈا زیور سونا چاندی وغیرہ ان کا تمہارے پاس ہے، سب اس میں ڈالو پھر آگ لگا دو۔
چنانچہ یہی کیا گیا۔ ان کے ساتھ سامری نامی ایک شخص تھا، یہ گائے بچھڑے پوجنے والوں میں سے تھا، بنی اسرائیل میں سے نہ تھا لیکن بوجہ پڑوسی ہونے کے اور فرعون کی قوم میں سے نہ ہونے کے یہ بھی ان کے ساتھ وہاں سے نکل آیا تھا، اس نے کسی نشان سے کچھ مٹھی میں اٹھا لیا تھا۔ ہارون علیہ السلام نے فرمایا تو بھی اسے ڈال دے، اس نے جواب دیا کہ یہ تو اس کے اثر سے ہے جو تمہیں دریا سے پار کرا لے گیا۔ خیر میں اسے ڈال دیتا ہوں لیکن اس شرط پر کہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ اس سے وہ بن جائے جو میں چاہتا ہوں۔ آپ نے دعا کی اور اس نے اپنی مٹھی میں جو تھا اسے ڈال دیا اور کہا میں چاہتا ہوں اس کا ایک بچھڑا بن جائے۔ قدرت الٰہی سے اس گڑھے میں جو تھا، وہ ایک بچھڑے کی صورت میں ہو گیا جو اندر سے کھوکھلا تھا اس میں روح نہ تھی لیکن ہوا اس کے پیچھے کے سوراخ سے جا کر منہ سے نکلتی تھی اس سے ایک آواز پیدا ہوتی تھی۔
صفحہ نمبر5240
بنو اسرائیل نے پوچھا سامری یہ کیا ہے؟ اس بے ایمان نے کہا، یہی تمہارا سب کا رب ہے لیکن موسیٰ علیہ السلام راستہ بھول گئے اور دوسری جگہ رب کی تلاش میں چلے گئے۔ اس بات نے بنی اسرائیل کے کئی فرقے کر دیئے۔ ایک فرقے نے تو کہا کہ موسیٰ علیہ السلام کے آنے تک ہم اس کی بابت کوئی بات طے نہیں کر سکتے، ممکن ہے یہی اللہ ہو تو ہم اس کی بے ادبی کیوں کریں؟ اور اگر یہ رب نہیں ہے تو موسیٰ علیہ السلام کے آتے ہی حقیقت کھل جائے گی۔
دوسری جماعت نے کہا، محض واہیات ہے یہ شیطانی حرکت ہے ہم اس لغویت پر مطلقاً ایمان نہیں رکھتے، نہ یہ ہمارا رب نہ ہمارا اس پر ایمان۔ ایک پاجی فرقے نے دل سے اسے مان لیا اور سامری کی بات پر ایمان لائے مگر بہ ظاہر اس کی بات کو جھٹلایا۔ ہارون علیہ السلام نے اسی وقت سب کو جمع کر کے فرمایا کہ لوگو! یہ اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہے تم اس جھگڑے میں کہاں پھنس گئے؟ تمہارا رب تو رحمان ہے تم میری اتباع کرو اور میرا کہنا مانو۔ انہوں نے کہا آخر اس کی کیا وجہ کہ تیس دن کا وعدہ کر کے موسیٰ علیہ السلام گئے ہیں اور آج چالیس دن ہونے کو آئے لیکن اب تک لوٹے نہیں۔ بعض بیوقوفوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ان سے ان کا رب خطا کر گیا اب یہ اس کی تلاش میں ہوں گے۔ ادھر دس روزے اور پورے ہونے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کو بتایا گیا کہ آپ کے بعد آپ کی قوم کا اس وقت کیا حال ہے؟ آپ اسی وقت رنج و افسوس اور غم و غصے کے ساتھ واپس لوٹے اور یہاں آ کر قوم سے بہت کچھ کہا سنا، اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر گھسیٹنے لگے۔ غصے کی زیادتی کی وجہ سے تختیاں بھی ہاتھ سے پھینک دیں۔ پھر اصل حقیقت معلوم ہو جانے پر آپ نے اپنے بھائی سے معذرت کی، ان کے لیے استغفار کیا۔
صفحہ نمبر5241
اور سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے جواب دیا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے کے پاؤں تلے سے میں نے ایک مٹھی اٹھالی یہ لوگ اسے نہ پہچان سکے اور میں نے جان لیا تھا۔ میں نے وہی مٹھی اس آگ میں ڈال دی تھی میری رائے میں یہی بات آئی۔ آپ نے فرمایا، جا اس کی سزا دنیا میں تو یہ ہے کہ تو یہی کہتا رہے کہ“ہاتھ لگانا نہیں“ پھر ایک وعدے کا وقت ہے جس کا ٹلنا ناممکن ہے اور تیرے دیکھتے دیکھتے ہم تیرے اس معبود کو جلا کر اس کی خاک بھی دریا میں بہا دیں گے۔ چنانچہ آپ نے یہی کیا۔
اس وقت بنی اسرائیل کو یقین آ گیا کہ واقعی وہ اللہ نہ تھا۔ اب وہ بڑے نادم ہوئے اور سوائے ان مسلمانوں کے جو ہارون علیہ السلام کے ہم عقیدہ رہے تھے، باقی کے لوگوں نے عذر معذرت کی اور کہا کہ اے اللہ کے نبی! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمارے لیے توبہ کا دروازہ کھول دے، جو وہ فرمائے گا ہم بجا لائیں گے تاکہ ہماری یہ زبردست خطا معاف ہو جائے۔
صفحہ نمبر5242
آپ نے بنی اسرائیل کے اس گروہ میں سے ستر لوگوں کو چھانٹ کر علیحدہ کیا اور توبہ کے لیے چلے، وہاں زمین پھٹ گئی اور آپ کے سب ساتھی اس میں اتار دیئے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام کو فکر لاحق ہوا کہ میں بنی اسرائیل کو کیا منہ دکھاؤں گا؟ گریہ و زاری شروع کی اور دعا کی کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے ہی مجھے اور ان سب کو ہلاک کر دیتا، ہمارے بیوقوفوں کے گناہ کے بدلے تو ہمیں ہلاک نہ کر۔
آپ تو ان کے ظاہر کو دیکھ رہے تھے اور اللہ کی نظریں ان کے باطن پر تھیں۔ ان میں ایسے بھی تھے جو بہ ظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے لیکن دراصل دلی عقیدہ ان کا اس بچھڑے کے رب ہونے پر تھا۔ ان ہی منافقین کی وجہ سے سب کو تہ زمین کر دیا گیا تھا۔ نبی اللہ علیہ السلام کی اس آہ و زاری پر رحمت الٰہی جوش میں آئی اور جواب ملا کہ یوں تو میری رحمت سب پر چھائے ہوئے ہے لیکن میں اسے ان کے نام ہبہ کروں گا جو متقی پرہیزگار ہوں، زکوٰۃ کے ادا کرنے والے ہوں، میری باتوں پر ایمان لائیں اور میرے اس رسول و نبی کی اتباع کریں جس کے اوصاف وہ اپنی کتابوں میں لکھے پاتے ہیں یعنی توراۃ و انجیل میں۔
صفحہ نمبر5243
کلیم اللہ علیہ السلام نے عرض کی کہ یا الٰہی میں نے اپنی قوم کے لیے توبہ طلب کی، تو نے جواب دیا کہ تو اپنی رحمت کو ان کے ساتھ کر دے گا جو آگے آنے والے ہیں، پھر اللہ مجھے بھی تو اپنے اسی رحمت والے نبی کی امت میں پیدا کرتا۔ رب العالمین نے فرمایا، سنو ان کی توبہ اس وقت قبول ہو گی کہ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں، نہ باپ بیٹے کو دیکھے نہ بیٹا باپ کو چھوڑے، آپس میں گتھ جائیں اور ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں۔
چنانچہ بنو اسرائیل نے یہی کیا اور جو منافق لوگ تھے، انہوں نے بھی سچے دل سے توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، جو بچ گئے تھے وہ بھی بخشے گئے، جو قتل ہوئے وہ بھی بخش دیئے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام اب یہاں سے بیت المقدس کی طرف چلے۔ توراۃ کی تختیاں اپنے ساتھ لیں اور انہیں احکام الٰہی سنائے جو ان پر بہت بھاری پڑے اور انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ چنانچہ ایک پہاڑ ان کے سروں پر معلق کھڑا کر دیا گیا، وہ مثل سائبان کے سروں پر تھا اور ہر دم ڈر تھا کہ اب گرا، انہوں نے اب اقرار کیا اور تورات قبول کر لی پہاڑ ہٹ گیا۔ اس پاک زمین پر پہنچے جہاں کلیم اللہ علیہ السلام انہیں لے جانا چاہتے تھے، دیکھا کہ وہاں ایک بڑی طاقتور زبردست قوم کا قبضہ ہے۔ تو موسیٰ علیہ السلام کے سامنے نہایت نامردی سے کہا کہ یہاں تو بڑی زور آور قوم ہے، ہم میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں، یہ نکل جائیں تو ہم شہر میں داخل ہو سکتے ہیں۔ یہ تو یونہی نامردی اور بزدلی ظاہر کرتے رہے۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے ان سرکشوں میں سے دو شخصوں کو ہدایت دے دی، وہ شہر سے نکل کر موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں آ ملے اور انہیں سمجھانے لگے کہ تم ان کے جسموں اور تعداد سے مرعوب نہ ہو جاؤ، یہ لوگ بہادر نہیں ان کے دل گردے کمزور ہیں، تم آگے تو بڑھو۔ ان کے شہر کے دروازے میں گئے اور ان کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے ہوئے، یقیناً تم ان پر غالب آ جاؤ گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دونوں شخص جنہوں نے بنی اسرائیل کو سمجھایا اور انہیں دلیر بنایا، خود بنی اسرایئل میں سے ہی تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5244
لیکن ان کے سمجھانے بجھانے، اللہ کے حکم ہو جانے اور موسیٰ علیہ السلام کے وعدے نے بھی ان پر کوئی اثر نہ کیا بلکہ انہوں نے صاف کورا جواب دے دیا کہ جب تک یہ لوگ شہر میں ہیں، ہم تو یہاں سے اٹھنے کے بھی نہیں، موسیٰ علیہ السلام تو آپ اپنے رب کو اپنے ساتھ لے کر چلا جا اور ان سے لڑ بھڑ لے، ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔
اب تو موسیٰ علیہ السلام سے صبر نہ ہو سکا، آپ کے منہ سے ان بزدلوں اور ناقدروں کے حق میں بد دعا نکل گئی اور آپ نے ان کا نام فاسق رکھ دیا۔ اللہ کی طرف سے بھی ان کا یہی نام مقرر ہو گیا اور انہیں اسی میدان میں قدرتی طور پر قید کر دیا گیا۔ چالیس سال انہیں یہیں گزر گئے کہیں قرار نہ تھا، اسی بیاباں میں پریشانی کے ساتھ بھٹکتے پھرتے تھے۔ اسی میدان قید میں ان پر ابر کا سایہ کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا، کپڑے نہ پھٹتے تھے نہ میلے ہوتے تھے۔ ایک چوکونہ پتھر رکھا ہوا تھا جس پر موسیٰ علیہ السلام نے لکڑی ماری تو اس میں سے بارہ نہریں جاری ہو گئیں، ہر طرف سے تین تین لوگ چلتے چلتے آگے بڑھ جاتے، تھک کر قیام کر دیتے، صبح اٹھتے تو دیکھتے کہ وہ پتھر وہیں ہے جہاں کل تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس حدیث کو مرفوع بیان کیا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنی تو فرمایا کہ اس فرعونی نے موسیٰ علیہ السلام کے اگلے دن کے قتل کی خبر رسانی کی تھی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کیونکہ قبطی کے قتل کے وقت سوائے اس بنی اسرایئلی ایک شخص کے جو قبطی سے لڑ رہا تھا، وہاں کوئی اور نہ تھا۔
صفحہ نمبر5245
اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بہت بگڑے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے اور ان سے کہا، آپ کو یاد ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس شخص کا حال بیان فرمایا تھا جس نے موسیٰ کے قتل کے راز کو کھولا تھا، بتاؤ وہ بنی اسرائیلی شخص تھا یا فرعونی؟ سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا، بنی اسرائیلی سے اس فرعونی نے سنا، پھر اس نے جا کر حکومت سے کہا اور خود اس کا شاہد بنا [تفسیر ابن جریر الطبری:24131:ضعیف]
یہی روایت اور کتابوں میں بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اپنے کلام سے بہت تھوڑا سا حصہ مرفوع بیان کیا گیا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ آپ نے بنو اسرائیل میں سے کسی سے یہ روایت لی ہو کیونکہ ان سے روایتیں لینا مباح ہیں۔ یا تو آپ نے سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ہی یہ روایت سنی ہو گی اور ممکن ہے کسی اور سے سنی ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ میں نے اپنے استاد شیخ حافظ ابو الحجاج مزی علیہ السلام سے بھی یہی سنا ہے۔
صفحہ نمبر5246
طه 20:40
موسیٰ علیہ السلام کا بچپن ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تمام دعائیں قبول ہوئیں اور فرما دیا گیا کہ تمہاری درخواست منظور ہے۔ اس احسان کے ساتھ ہی اور احسان کا بھی ذکر کر دیا گیا کہ ہم نے تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی بڑا احسان کیا ہے۔ پھر اس واقعہ کو مختصر طور پر یاد دلایا کہ ہم نے تیرے بچپن کے وقت تیری ماں کی طرف وحی بھیجی جس کا ذکر اب تم سے ہو رہا ہے۔ تم اس وقت دودھ پیتے بچے تھے، تمہاری والدہ کو فرعون اور فرعونیوں کا کھٹکا تھا کیونکہ اس سال وہ بنو اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کر رہا تھا۔
اس خوف کے مارے وہ ہر وقت کانپتی رہتی تھیں تو ہم نے وحی کی کہ ایک صندوق بنا لو، دودھ پلا کر بچے کو اس میں لٹا کر دریائے نیل میں اس صندوق کو چھوڑ دو چنانچہ وہ یہی کرتی رہیں۔ ایک رسی اس میں باندھ رکھی تھی جس کا ایک سرا اپنے مکان سے باندھ لیتی تھیں۔ ایک مرتبہ باندھ رہی تھیں جو رسی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور صندوق کو پانی کی موجیں بہا لے چلیں۔ اب تو کلیجہ تھام کر رہ گئیں اس قدر غمزدہ ہوئیں کہ صبر ناممکن تھا، شاید راز فاش کر دیتیں لیکن ہم نے دل مضبوط کر دیا۔ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا آل فرعون نے اسے اٹھا لیا کہ جس غم سے وہ بچنا چاہتے تھے، جس صدمے سے وہ محفوظ رہنا چاہتے تھے، وہ ان کے سامنے آ جائے۔ جسکی شمع حیات کو بجھانے کے لیے وہ بےگناہ معصوموں کا قتل عام کر رہے تھے، وہ انہی کے تیل سے انہی کے ہاں روشن ہوا اور اللہ کے ارادے بیروک پورے ہو جائیں۔ ان کا دشمن انہی کے ہاتھوں پلے انہی کا کھائے ان کے ہاں تربیت پائے۔
صفحہ نمبر5221
خود فرعون اور اس کی اہلیہ محترمہ نے جب بچے کو دیکھا، رگ رگ میں محبت سما گئی، لے کر پرورش کرنے لگے۔ آنکھوں کا تارا سمجھنے لگے شاہزادوں کی طرح ناز و نعمت سے پلنے لگے شاہی دربار میں رہنے لگے۔
اللہ نے اپنی محبت تجھ پر ڈال دی گو فرعون تیرا دشمن تھا لیکن رب کی بات کون بدلے؟ اللہ کے ارادے کو کون ٹالے؟ فرعون پر ہی کیا منحصر ہے، جو دیکھتا آپ کا والہ و شیدا بن جاتا۔ یہ اس لیے تھا کہ تیری پرورش میری نگاہ کے سامنے ہو، شاہی خوراکیں کھا عزت و وقعت کے ساتھ رہ۔ فرعون والوں نے صندوقچہ اٹھا لیا کھولا بچے کو دیکھا، پالنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کسی دایہ کا دودھ دباتے ہی نہیں بلکہ منہ میں ہی نہیں لیتے۔ بہن جو صندوق کو دیکھتی بھالتی کنارے کنارے آ رہی تھی وہ بھی موقعہ پر پہنچ گئیں، کہنے لگیں کہ آپ اگر اس کی پرورش کی تمنا کرتے ہیں اور معقول اجرت بھی دیتے ہیں تو میں ایک گھرانہ بتاؤں جو اسے محبت سے پالے اور خیر خواہانہ برتاؤ کرے۔ سب نے کہا ہم تیار ہیں۔ آپ انہیں لیے ہوئے اپنی والدہ کے پاس پہنچیں، جب بچہ ان کی گود میں ڈال دیا گیا، آپ نے جھٹ سے منہ لگا دودھ پینا شروع کیا۔ جس سے فرعون کے ہاں بڑی خوشیاں منائی گئیں اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا گیا۔ تنخواہ مقرر ہو گئی، اپنے ہی بچے کو دودھ پلاتیں اور تنخواہ اور انعام بھی اور عزت و اکرام بھی پاتیں۔ دنیا بھی ملے دین بھی بڑھے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص اپنے کام کو کرے اور نیک نیتی سے کرے، اس کی مثال ام موسیٰ علیہ السلام کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے۔
پس یہ بھی ہماری کرم فرمائی ہے کہ ہم نے تجھے تیری ماں کی گود میں واپس کیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غم و رنج جاتا رہے۔ پھر تمہارے ہاتھ سے ایک فرعونی قبطی مار ڈالا گیا تو بھی ہم نے تمہیں بچا لیا، فرعونیوں نے تمہارے قتل کا ارادہ کر لیا تھا، راز فاش ہو چکا تھا۔ تمہیں یہاں سے نجات دی تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ مدین کے کنوئیں پر جا کر تم نے دم لیا۔ وہیں ہمارے ایک نیک بندے نے تمہیں بشارت سنائی کہ اب کوئی خوف نہیں ان ظالموں سے تم نے نجات پا لی۔ تجھے ہم نے بطور آزمائش اور بھی بہت سے فتنوں میں ڈالا۔
صفحہ نمبر5222
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا اب تو دن ڈوبنے کو ہے واقعات زیادہ ہیں پھر سہی۔ چنانچہ میں نے دوسری صبح پھر سوال کیا تو آپ نے فرمایا سنو! فرعون کے دربار میں ایک دن اس بات کا ذکر چھڑا کہ اللہ کا وعدہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے یہ تھا کہ ان کی اولاد میں انبیاء اور بادشاہ ہوں گے۔
چنانچہ بنو اسرائیل اس کے آج تک منتظر ہیں اور انہیں یقین ہے کہ مصر کی سلطنت پھر ان میں جائے گی۔ پہلے تو ان کا خیال تھا کہ یہ وعدہ یوسف علیہ السلام کی بابت تھا لیکن ان کی وفات تک جب کہ یہ وعدہ پورا نہیں ہوا تو وہ اب عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ ان میں اپنے ایک پیغمبر کو بھیجے گا جن کے ہاتھوں انہیں سلطنت بھی ملے گی اور ان کی قومی و مذہبی ترقی ہو گی۔ ً یہ باتیں کر کے انہوں نے مجلس مشاورت قائم کی کہ اب کیا کیا جائے جس سے آئندہ کے اس خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔ آخر اس جلسے میں قرار داد منظور ہوئی کہ پولیس کا ایک محکمہ قائم کیا جائے جو شہر کا گشت لگاتا رہے اور بنی اسرائیل میں جو نرینہ اولاد ہو، اسے اسی وقت سرکار میں پیش کیا جائے اور ذبح کر دیا جائے۔ لیکن جب ایک مدت گزر گئی تو انہیں خیال پیدا ہوا کہ اس طرح تو بنی اسرائیل بالکل فنا ہو جائیں گے اور جو ذلیل خدمتیں ان سے لی جاتی ہیں، جو بیگاریں ان سے وصول ہو رہی ہیں، سب موقوف ہو جائیں گی، اس لیے اب تجویز ہوا کہ ایک سال ان کے بچوں کو چھوڑ دیا جائے اور ایک سال ان کے لڑکے قتل کر دیئے جائیں۔ اس طرح موجودہ بنی اسرائیلیوں کی تعداد بھی نہ بڑھے گی اور نہ اتنی کم ہو جائے گی کہ ہمیں اپنی خدمت گزاری کے لیے بھی نہ مل سکیں۔ جتنے بڈھے دو سال میں مریں گے، اتنے بچے ایک سال میں پیدا ہو جائیں گے۔
صفحہ نمبر5223
جس سال قتل موقوف تھا، اس سال تو ہارون علیہ السلام پیدا ہوئے اور جس سال قتل عام بچوں کا جاری تھا، اس برس موسیٰ علیہ السلام تولد ہوئے۔ آپ کی والدہ کی اس وقت کی گھبراہٹ اور پریشانی کا کیا پوچھنا؟ بے اندازہ تھی۔ ایک فتنہ تو یہ تھا۔ چنانچہ یہ خطرہ اس وقت دفع ہو گیا جب کہ اللہ کی وحی ان کے پاس آئی کہ ڈر خوف نہ کر ہم اسے تیری طرف پھر لوٹائیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔
چنانچہ بحکم الٰہی آپ نے اپنے بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دیا، جب صندوق نظروں سے اوجھل ہو گیا تو شیطان نے دل میں وسوسے ڈالنے شروع کئے کہ افسوس اس سے تو یہی بہتر تھا کہ میرے سامنے ہی اسے ذبح کر دیا جاتا تو میں اسے خود ہی کفناتی دفناتی تو سہی لیکن اب تو میں نے خود اسے مچھلیوں کا شکار بنایا۔ یہ صندوق یونہی بہتا ہوا خاص فرعونی گھاٹ سے جا لگا، وہاں اس وقت محل کی لونڈیاں موجود تھیں، انہوں نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور ارادہ کیا کہ کھول کر دیکھیں لیکن پھر ڈر گئیں کہ ایسا نہ ہو کہ چوری کا الزام لگے یونہی مقفل صندوق ملکہ فرعون کے پاس پہنچا دیا۔ یہ صندوق بادشاہ ملکہ کے سامنے کھولا گیا تو اس میں سے چاند جیسی صورت کا ایک چھوٹا سا معصوم بچہ نکلا جسے دیکھتے ہی فرعون کی بیوی صاحبہ کا دل محبت کے جوش سے اچھلنے لگا۔
صفحہ نمبر5224
ادھر ام موسیٰ کی حالت غیر ہو گئی، سوائے اپنے اس پیارے بچے کے خیال کے دل میں اور کوئی تصور ہی نہ تھا۔ ادھر ان قصائیوں کو جو حکومت کی طرف سے بچوں کے قتل کے محکمے کے ملازم تھے، معلوم ہوا تو وہ اپنی چھریاں تیز کئے ہوئے بڑھے اور ملکہ سے تقاضا کیا کہ بچہ انہیں سونپ دیں تاکہ وہ اسے ذبح کر ڈالیں۔
یہ دوسرا فتنہ تھا، آخر ملکہ نے جواب دیا کہ ٹھہرو میں خود بادشاہ سے ملتی ہوں اور اس بچے کو طلب کرتی ہوں، اگر وہ مجھے دے دیں تو خیر ورنہ تمہیں اختیار ہے۔ چنانچہ آپ آئیں اور بادشاہ سے کہا کہ یہ بچہ تو میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہو گا۔ اس خبیث نے کہا بس تم ہی اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھو، میری ٹھنڈک وہ کیوں ہونے لگا؟ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
صفحہ نمبر5225
اللہ تعالٰی کی تدابیر اعلیٰ اور محروم ہدایت فرعون ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ حلف بیان فرماتے ہیں کہ اگر وہ بھی کہہ دیتا کہ ہاں بیشک وہ میری آنکھوں کی بھی ٹھنڈک ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بھی ضرور راہ راست دکھا دیتا جیسا کہ اس کی بیوی صاحبہ مشرف بہ ہدایت ہوئی لیکن اس نے خود اس سے محروم رہنا چاہا اللہ نے بھی اسے محروم کر دیا۔
الغرض فرعون کو جوں توں راضی رضامند کر کے اس بچے کے پالنے کی اجازت لے کر آپ آئیں، اب محل کی جتنی دایہ تھیں سب کو جمع کیا ایک ایک کی گود میں بچہ دیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کا دودھ آپ پر حرام کر دیا، آپ نے کسی کا دودھ منہ میں لیا ہی نہیں۔ اس سے ملکہ گھبرائیں کہ یہ تو بہت ہی برا ہوا، یہ پیارا بچہ یونہی ہلاک ہو جائے گا۔ آخر سوچ کر حکم دیا کہ انہیں باہر لے جاؤ، ادھر ادھر تلاش کرو اور اگر کسی کا دودھ یہ معصوم قبول کرے تو اسے بہ منت سونپ دو۔ باہر بازار میں میلہ سا لگ گیا ہر شخص اس سعادت سے مالا مال ہونا چاہتا تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام نے کسی کا دودھ نہ پیا۔ آپ کی والدہ نے اپنی بڑی صاحبزادی آپ کی بہن کو باہر بھیج رکھا تھا کہ وہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ وہ اس مجمع میں موجود تھیں اور تمام واقعات دیکھ سن رہی تھیں۔ جب یہ لوگ عاجز آ گئے تو آپ نے فرمایا، اگر تم کہو تو میں ایک گھرانہ ایسا بتلاؤں جو اس کی نگہبانی کرے اور ہو بھی اس کا خیرخواہ۔ یہ کہنا تھا کہ لوگوں کو شک ہوا کہ ضرور یہ لڑکی اس بچے کو جانتی ہے اور اس کے گھر کو بھی پہچانتی ہے۔ اے ابن جبیر یہ تھا تیسرا فتنہ۔ لیکن اللہ نے لڑکی کو سمجھ دے دی اور اس نے جھٹ سے کہا کہ بھلا تم اتنا نہیں سمجھے کون بدنصیب ایسا ہو گا جو اس بچے کی خیر خواہی یا پرورش میں کمی کرے جو بچہ ہماری ملکہ کا پیارا ہے۔ کون نہ چاہے گا کہ یہ ہمارے ہاں پلے تاکہ انعام و اکرام سے اس کا گھر بھر جائے۔ یہ سن کر سب کی سمجھ میں آ گیا اسے چھوڑ دیا اور کہا بتا تو کون سی دایہ اس کے لیے تجویز کرتی ہے؟ اس نے کہا میں ابھی لائی، دوڑی ہوئی گئیں اور والدہ کو یہ خوشخبری سنائی۔ والدہ صاحبہ شوق و امید سے آئیں اپنے پیارے بچے کو گود میں لیا، اپنا دودھ منہ میں دیا بچے نے پیٹ بھر کر پیا۔ اسی وقت شاہی محلات میں یہ خوشخبری پہنچائی گئی ملکہ کا حکم ہوا کہ فوراً اس دایہ کو اور بچے کو میرے پاس لاؤ، جب ماں بیٹا پہنچے تو اپنے سامنے دودھ پلوایا اور یہ دیکھ کر کہ بچہ اچھی طرح دودھ پیتا ہے، بہت ہی خوش ہوئیں اور فرمانے لگیں کہ دائی اماں مجھے اس بچے سے وہ محبت ہے جو دنیا کی کسی اور چیز سے نہیں، تم یہیں محل میں رہو اور اس بچے کی پرورش کرو۔
صفحہ نمبر5226
لیکن موسیٰ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ کے سامنے اللہ کا وعدہ تھا انہیں یقین کامل تھا اس لیے آپ ذرا رکیں اور فرمایا کہ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اپنے گھر کو اور اپنے بچوں کو چھوڑ کر یہاں رہوں۔ اگر آپ چاہتی ہیں تو یہ بچہ میرے سپرد کر دیں میں اسے اپنے گھر لے جاتی ہوں ان کی پرورش میں کوئی کوتاہی نہ کروں گی۔ ملکہ صاحبہ نے مجبوراً اس بات کو بھی مان لیا اور آپ اسی دن خوشی خوشی اپنے بچے کو لیے ہوئے گھر آ گئیں۔
اس بچے کی وجہ سے اس محلے کے بنو اسرائیل بھی فرعونی مظالم سے رہائی پا گئے۔ جب کچھ زمانہ گزر گیا تو بادشاہ بیگم نے حکم بھیجا کہ کسی دن میرے بچے کو میرے پاس لاؤ، ایک دن مقرر ہو گیا، تمام ارکان سلطنت اور درباریوں کو حکم ہوا کہ آج میرا بچہ میرے پاس آئے گا۔ تم سب قدم قدم پر اس کا استقبال کرو اور دھوم دھام سے نذریں دیتے ہوئے اسے میرے محل سرائے تک لاؤ۔ چنانچہ جب سواری روانہ ہوئی، وہاں سے لے کر محل سرائے سلطانی تک برابر تحفے تحائف نذریں اور ہدیے پیشکش ہوتے رہے اور بڑے ہی عزت و اکرام کے ساتھ آپ یہاں پہنچے تو خود بیگم نے بھی خوشی خوشی بہت بڑی رقم پیش کی اور بڑی خوشی منائی گئی۔ پھر کہنے لگی کہ میں تو اسے بادشاہ کے پاس لے جاؤں گی، وہ بھی اسے انعام و اکرام دیں گے، لے گئیں اور بادشاہ کی گود میں لٹا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کی داڑھی پکڑ کر زور سے گھسیٹی۔ فرعون کھٹک گیا اور اس کے درباریوں نے کہنا شروع کیا کہ کیا عجب یہی وہ لڑکا ہو آپ اسے فوراً قتل کرا دیجئیے۔
صفحہ نمبر5227
اے ابن جبیر یہ تھا چوتھا فتنہ۔ ملکہ بیتاب ہو کر بول اٹھیں، اے بادشاہ کیا ارادہ کر رہے ہو؟ آپ اسے مجھے دے چکے ہیں میں اسے اپنا بیٹا بنا چکی ہوں۔ بادشاہ نے کہا یہ سب ٹھیک ہے لیکن دیکھو تو اس نے تو آتے ہی داڑھی پکڑ کر مجھے نیچا کر دیا گویا یہی میرا گرانے والا اور مجھے تاخت و تاراج کرنے والا ہے۔
بیگم صاحبہ نے فرمایا، بادشاہ بچوں کو ان چیزوں کی کیا تمیز؟ سنو میں ایک فیصلہ کن بات بتاؤں، اس کے سامنے دو انگارے آگ کے سرخ رکھ دو اور دو موتی آبدار چمکتے ہوئے رکھ دو پھر دیکھو یہ کیا اٹھاتا ہے؟ اگر موتی اٹھا لے تو سمجھنا کہ اس میں عقل ہے اور اگر آگ کے انگارے تھام لے تو سمجھ لینا کہ عقل نہیں۔ جب عقل و تمیز نہیں تو اس کی داڑھی پکڑ لینے پر اتنے لمبے خیالات کر کے اس کی جان کا دشمن بن جانا کون سی دانائی کی بات ہے؟ چنانچہ یہی کیا گیا دونوں چیزیں آپ کے سامنے رکھی گئیں۔ آپ نے دہکتے ہوئے انگارے اٹھا لیے اسی وقت وہ چھین لیے کہ ایسا نہ ہو ہاتھ جل جائیں۔ اب فرعون کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور اس کا بدلا ہوا رخ ٹھیک ہو گیا۔ حق تو یہ ہے کہ اللہ کو جو کام کرنا مقصود ہوتا ہے، اس کے قدرتی اسباب مہیا ہو ہی جاتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کی دربار فرعون میں فرعون کے خاص محل میں فرعون کی بیوی کی گود میں ہی پرورش ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ آپ اچھی عمر کو پہنچ گئے اور بالغ ہو گئے۔
صفحہ نمبر5228
اب تو فرعونیوں کے جو مظالم اسرائیلیوں پر ہو رہے تھے، ان میں بھی کمی ہو گئی تھی سب امن و امان سے تھے۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک فرعونی اور ایک اسرائیلی کی لڑائی ہو رہی تھی۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام سے فریاد کی آپ کو سخت غصہ آیا اسلئے کہ اس وقت وہ فرعونی اس بنی اسرائیلی کو دبوچے ہوئے تھا، آپ نے اسے ایک مکا مارا، اللہ کی شان مکا لگتے ہی وہ مر گیا۔
یہ تو لوگوں کو عموماً معلوم تھا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیلیوں کی طرف داری کرتے ہیں لیکن لوگ اس کی وجہ اب تک یہی سمجھتے تھے کہ چونکہ آپ نے انہی میں دودھ پیا ہے، اس لیے ان کے طرفدار ہیں۔ اصلی راز کا علم تو صرف آپ کی والدہ کو تھا اور ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم کو بھی معلوم کرا دیا ہو۔ اسے مردہ دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام کانپ اٹھے کہ یہ تو شیطانی حرکت ہے وہ بہکانے والا اور کھلا دشمن ہے۔
صفحہ نمبر5229
پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے کہ باری تعالیٰ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا تو معاف فرما۔ پروردگار نے بھی آپ کی اس خطا سے درگزر فرما لیا وہ تو غفور و رحیم ہے ہی۔ چونکہ قتل کا معاملہ تھا، آپ پھر بھی خوفزدہ ہی رہے، تاک جھانک میں رہے کہ کہیں معاملہ کھل تو نہیں گیا۔ ادھر فرعون کے پاس شکایت ہوئی کہ ایک قبطی کو کسی بنی اسرائیلی نے مار ڈالا ہے، فرعون نے حکم جاری کر دیا کہ واقعہ کی پوری تحقیق کرو قاتل کو تلاش کر کے پکڑ لاؤ اور گواہ بھی پیش کرو اور جرم ثابت ہو جانے کی صورت میں اسے بھی قتل کر دو۔
پولیس نے ہر چند تفتیش کی لیکن قاتل کا کوئی سراغ نہ ملا۔ اتفاق کی بات کہ دوسرے ہی دن موسیٰ علیہ السلام پھر کہیں جا رہے تھے کہ دیکھا وہی بنی اسرائیلی شخص ایک دوسرے فرعونی سے جھگڑ رہا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی وہ دہائی دینے لگا لیکن اس نے یہ محسوس کیا کہ شاید موسیٰ علیہ السلام اپنے کل کے فعل سے نادم ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس کا یہ باربار کا جھگڑنا اور فریاد کرنا برا معلوم ہوا اور کہا تم تو بڑے لڑاکا ہو، یہ فرما کر اس فرعونی کو پکڑنا چاہا لیکن اس بنی اسرائیلی بزدل نے سمجھا کہ شاید آپ چونکہ مجھ پر ناراض ہیں مجھے ہی پکڑنا چاہتے ہیں۔
صفحہ نمبر5230
حالانکہ اس کا یہ صرف بزدلانہ خیال تھا آپ تو اسی فرعونی کو پکڑنا چاہتے تھے اور اسے بچانا چاہتے تھے لیکن خوف و ہراس کی حالت میں بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جیسے کہ کل تو نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا، کیا آج مجھے مار ڈالنا چاہتا ہے؟ یہ سن کر وہ فرعونی اسے چھوڑ بھاگا، دوڑا گیا اور سرکاری سپاہ کو اس واقعہ کی خبر کر دی۔
فرعون کو بھی قصہ معلوم ہوا۔ اسی وقت جلادوں کو حکم دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو پکڑ کر قتل کر دو۔ یہ لوگ شارع عام سے آپ کی جستجو میں چلے۔ ادھر ایک بنی اسرائیلی نے راستہ کاٹ کر نزدیک کے راستے سے آ کر موسیٰ علیہ السلام کو خبر کر دی۔ اے ابن جبیر رحمہ اللہ یہ ہے پانچواں فتنہ۔
موسیٰ علیہ السلام یہ سنتے ہی مٹھیاں بند کرکے مصر سے بھاگ کھڑے ہوئے، نہ کبھی پیدل چلے تھے نہ کبھی کسی مصیبت میں پھنسے تھے، شہزادوں کی طرح لاڈ چاؤ میں پلے تھے، نہ راستے کی خبر تھی نہ کبھی سفر کا اتفاق پڑا تھا۔ رب پر بھروسہ کر کے یہ دعا کر کے کہ اے اللہ مجھے سیدھی راہ لے چلنا، چل کھڑے ہوئے یہاں تک کہ مدین کی حدود میں پہنچے۔
صفحہ نمبر5231
یہاں دیکھا کہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں وہیں دو لڑکیوں کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو روکے کھڑی ہیں۔ پوچھا کہ تم ان کے ساتھ اپنے جانوروں کو پانی کیوں نہیں پلا لیتیں؟ الگ کھڑی ہوئی انہیں کیوں روک رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس بھیڑ میں ہمارے بس کی بات نہیں کہ اپنے جانوروں کو پانی پلائیں، ہم تو جب یہ لوگ پانی پلا چکتے ہیں ان کا بقیہ اپنے جانوروں کو پلا دیا کرتی ہیں۔ آپ فوراً آگے بڑھے اور ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔ چونکہ بہت جلد پانی کھینچا، آپ بہت قوی آدمی تھے، سب سے پہلے ان کے جانوروں کو سیر کر دیا۔
یہ اپنی بکریاں لے کر اپنے گھر روانہ ہوئیں اور آپ ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے اور اللہ سے دعا کرنے لگے کہ پروردگار میں تیری تمام تر مہربانیوں کا محتاج ہوں۔ یہ دونوں لڑکیاں جب اپنے والد کے پاس پہنچیں تو انہوں نے کہا، آج کیا بات ہے کہ تم وقت سے پہلے ہی آ گئیں؟ اور بکریاں بھی خوب آسودہ اور شکم سیر معلوم ہوتی ہیں۔ تو ان بچیوں نے سارا واقعہ کہہ سنایا آپ نے حکم دیا کہ تم میں سے ایک ابھی چلی جائے اور انہیں میرے پاس بلا لائے۔ وہ آئیں اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنے والد صاحب کے پاس لے گئیں۔ انہوں نے سرسری ملاقات کے بعد واقعہ پوچھا تو آپ نے سارا قصہ کہہ سنایا، اس پر وہ فرمانے لگے اب کوئی ڈر کی بات نہیں آپ ان ظالموں سے چھوٹ گئے۔ ہم لوگ فرعون کی رعایا نہیں نہ ہم پر اس کا کوئی دباؤ ہے۔ اسی وقت ایک لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جی انہوں نے ہمارا کام کر دیا ہے اور یہ ہیں بھی قوت والے امانت دار شخص، کیا اچھا ہو کہ آپ انہیں اپنے ہاں مقرر کر لیجئے کہ یہ اجرت پر ہماری بکریاں چرا لایا کریں۔ باپ کو غیرت اور غصہ آ گیا اور پوچھا بیٹی تمہیں یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ یہ قوی اور امین ہیں؟ بچی نے جواب دیا کہ قوت تو اس وقت معلوم ہوئی جب انہوں نے ہماری بکریوں کے لیے پانی نکالا اتنے بڑے ڈول کو اکیلے ہی کھینچتے تھے اور بڑی پھرتی اور ہرپن سے۔ امانت داری یوں معلوم ہوئی کہ میری آواز سن کر انہوں نے نظر اونچی کی اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ میں عورت ہوں، پھر نیچی گردن کر کے میری باتیں سنتے رہے، واللہ! آپ کا پورا پیغام پہنچانے تک انہوں نے نگاہ اونچی نہیں کی۔ پھر مجھ سے فرمایا کہ تم میرے پیچھے رہو مجھے دور سے راستہ بتا دیا کرنا۔ یہ بھی دلیل ہے ان کی اللہ خوفی اور امانت داری کی۔ باپ کی غیرت و حمیت بھی رہ گئی، بچی کی طرف سے بھی دل صاف ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام کی محبت دل میں سما گئی۔
صفحہ نمبر5232
اب موسیٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے، میرا ارادہ ہے کہ اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کر دوں اس شرط پر کہ آپ آٹھ سال تک میرے ہاں کام کاج کرتے رہیں، ہاں اگر دس سال تک کریں تو اور بھی اچھا ہے، ان شاءاللہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں بھلا آدمی ہوں۔ چنانچہ یہ معاملہ طے ہو گیا اور اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے بجائے آٹھ سال کے دس سال پورے کئے۔
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہلے مجھے یہ معلوم نہ تھا اور ایک نصرانی عالم مجھ سے یہ پوچھ بیٹھا تھا تو میں اسے کوئی جواب نہ دے سکا، پھر جب میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا اور آپ نے جواب دیا تو میں نے اس سے ذکر کیا، اس نے کہا تمہارے استاد بڑے عالم ہیں۔ میں نے کہا، ہاں ہیں ہی۔ اب موسیٰ علیہ السلام اس مدت کو پوری کر کے اپنی اہلیہ صاحبہ کو لیے ہوئے یہاں سے چلے۔ پھر وہ واقعات ہوئے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ آگ دیکھی، گئے، اللہ سے کلام کیا، لکڑی کا اژدھا بننا، ہاتھ کا نورانی بننا ملاحظہ کیا، نبوت پائی، فرعون کی طرف بھیجے گئے تو قتل کے واقعہ کے بدلے کا اندیشہ ظاہر فرمایا۔ اس سے اطمینان حاصل کر کے زبان کی گرہ کشائی کی طلب کی۔ اس کو حاصل کر کے اپنے بھائی ہارون کی ہمدردی اور شرکت کار چاہی۔ یہ بھی حاصل کر کے لکڑی لیے ہوئے شاہ مصر کی طرف چلے۔
صفحہ نمبر5233
ادھر ہارون علیہ السلام کے پاس وحی پہنچی کہ اپنے بھائی کی موافقت کریں اور ان کا ساتھ دیں۔ دونوں بھائی ملے اور فرعون کے دربار میں پہنچے۔ اطلاع کرائی بڑی دیر میں اجازت ملی، اندر گئے، فرعون پر ظاہر کیا کہ ہم اللہ کے رسول بن کر تیرے پاس آئے ہیں۔ اب جو سوال جواب ہوئے وہ قرآن میں موجود ہیں۔
فرعون نے کہا اچھا تم چاہتے کیا ہو؟ اور واقعہ قتل یاد دلایا جس کا عذر موسیٰ علیہ السلام نے بیان کیا جو قرآن میں موجود ہے اور کہا، ہمارا ارادہ یہ ہے کہ تو ایمان لا اور ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے رہائی دے۔ اس نے انکار کیا اور کہا کہ اگر سچے ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ، آپ نے اسی وقت اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی وہ زمین پر پڑتے ہی ایک زبردست خوفناک اژدھے کی صورت میں منہ پھاڑے کچلیاں نکالے فرعون کی طرف لپکا۔ مارے خوف کے فرعون تخت سے کود گیا اور بھاگتا ہوا عاجزی سے فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے واسطے اسے پکڑ لو۔ آپ نے ہاتھ لگایا اسی وقت لاٹھی اپنی اصلی حالت میں آ گئی۔
پھر آپ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ بغیر کسی مرض کے داغ کے چمکتا ہوا نکلا جسے دیکھ کر وہ حیران ہو گیا، آپ نے پھر ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ اپنی اصلی حالت میں تھا۔ اب فرعون نے اپنے درباریوں کی طرف دیکھ کر کہا کہ تم نے دیکھا، یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور تمہارے ملک پر قابض ہو کر تمہارے طریقے مٹا دیں۔
صفحہ نمبر5234
پھر موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمیں آپ کی نبوت ماننے سے بھی انکار ہے اور آپ کا کوئی مطالبہ بھی ہم پورا نہیں کر سکتے بلکہ ہم اپنے جادوگروں کو تمہارے مقابلہ کے لیے بلا رہے ہیں جو تمہارے اس جادو پر غالب آ جائیں گے۔ چنانچہ یہ لوگ اپنی کوششوں میں مشغول ہو گئے۔ تمام ملک سے جادوگروں کو بڑی عزت سے بلوایا جب سب جمع ہو گئے تو انہوں نے پوچھا کہ اس کا جادو کس قسم کا ہے؟ فرعون والوں نے کہا لکڑی کا سانپ بنا دیتا ہے۔
انہوں نے کہا، اس میں کیا ہے؟ ہم لکڑیوں کی رسیوں کے وہ سانپ بنائیں گے کہ روئے زمین پر ان کا کوئی مقابلہ نہ کر سکے۔ لیکن ہمارے لیے انعام مقرر ہو جانا چاہیئے۔ فرعون نے ان سے قول و قرار کیا کہ انعام کیسا؟ میں تو تمہیں اپنا مقرب خاص اور درباری بنا لوں گا اور تمہیں نہال نہال کر دونگا جو مانگو گے پاؤ گے۔ چنانچہ انہوں نے اعلان کر دیا کہ عید کے روز دن چڑھے فلاں میدان میں مقابلہ ہو گا۔ مروی ہے کہ ان کی یہ عید عاشورا کے دن تھی۔
صفحہ نمبر5235
اس دن تمام لوگ صبح ہی صبح اس میدان میں پہنچ گئے کہ آج چل کر دیکھیں گے کہ کون غالب آتا ہے؟ ہم تو جادوگروں کے کمالات کے قائل ہیں وہی غالب آئیں گے اور ہم انہی کی مانیں گے۔ مذاق سے اس بات کو بدل کر کہتے تھے کہ چلو انہی دونوں جادوگروں کے مطیع بن جائیں گے اگر وہ غالب رہیں۔ میدان میں آ کر جادوگروں نے انبیاء اللہ علیہم السلام سے کہا کہ لو اب بتاؤ، تم پہلے اپنا جادو ظاہر کرتے ہو یا ہم ہی شروع کریں؟ آپ نے فرمایا تم ہی ابتداء کرو تاکہ تمہارے ارمان پورے ہوں۔
اب انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈالیں تو ایسا لگا کہ وہ سب سانپ اور بلائیں بن کر اللہ کے نبیوں کی طرف دوڑیں جس سے خوفزدہ ہو کر آپ پیچھے ہٹنے لگے۔ اس وقت اللہ کی وحی آئی کہ آپ اپنی لکڑی زمین پر ڈال دیجئیے، آپ نے ڈالدی، وہ ایک خوفناک بھیانک عظیم الشان اژدھابن کر ان کی طرف دوڑا یہ لکڑیاں رسیاں سب گڈ مڈ ہو گئیں اور وہ ان سب کو نگل گیا۔ جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کیطرف کا نشان ہے، جادو میں یہ بات کہاں؟ چنانچہ سب نے اپنے ایمان کا اعلان کر دیا کہ ہم موسیٰ کے رب پر ایمان لائے اور ان دونوں بھائیوں کی نبوت ہمیں تسلیم ہے۔ ہم اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔ فرعون اور فرعونیوں کی کمر ٹوٹ گئی، رسوا ہوئے، منہ کالے پڑ گئے، ذلت کے ساتھ خاموش ہو گئے۔ خون کے گھونٹ پی کر چپ ہو گئے۔ ادھر یہ ہو رہا تھا۔ ادھر فرعون کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنے سگے بچے کی طرح پالا تھا، بیقرار بیٹھی تھیں اور اللہ سے دعائیں مانگ رہی تھیں کہ اللہ ذولجلال اپنے نبی کو غالب کرے۔ فرعونیوں نے بھی اس حال کو دیکھا تھا لیکن انہوں نے خیال کیا کہ اپنے خاوند کی طرفداری میں ان کا یہ حال ہے۔ یہاں سے ناکام واپس جانے پر فرعون نے بےایمانی پر کمر باندھ لی۔ اللہ کی طرف سے موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں بہت سے نشانات ظاہر ہوئے۔ جب کبھی کوئی پکڑ آ جاتی، یہ گھبرا کر بلکہ گڑ گڑا کر وعدہ کرتا کہ اچھا اس مصیبت کے ہٹ جانے پر میں بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ کر دونگا لیکن جب عذاب ہٹ جاتا پھر منکر بن کر سرکشی پر آ جاتا اور کہتا تیرا رب اس کے سوا کچھ اور بھی کر سکتا ہے؟ چنانچہ ان پر طوفان آیا، ٹڈیاں آئیں، جوئیں آئیں، مینڈک آئے، خون آیا اور بھی بہت سی صاف صاف نشانیاں دیکھیں۔ جہاں آفت آئی، ڈرا وعدہ کیا، جہاں وہ ٹل گئی، مکر گیا اور اکڑ گیا۔ اب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو لے کر یہاں سے نکل جاؤ آپ راتوں رات انہیں لے کر روانہ ہو گئے۔
صفحہ نمبر5236
صبح فرعونیوں نے دیکھا کہ رات کو سارے بنی اسرائیل چلے گئے ہیں۔ انہوں نے فرعون سے کہا۔ اس نے سارے ملک میں احکام بھیج کر ہر طرف سے فوجیں جمع کیں اور بہت بڑی جمعیت کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ راستے میں جو دریا پڑتا تھا اس کی طرف اللہ کی وحی پہنچی کہ تجھ پر جب میرے بندے موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی پڑے تو تو انہیں راستہ دے دینا۔ تجھ میں بارہ راستے ہو جائیں کہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے الگ الگ اپنی راہ لگ جائیں۔ پھر جب یہ پار ہو جائیں اور فرعونی آ جائیں تو تو مل جانا اور ان میں سے ایک کو بھی بے ڈبوئے نہ چھوڑنا۔
موسیٰ علیہ السلام جب دریا پر پہنچے دیکھا کہ وہ موجیں مار رہا ہے پانی چڑھا ہوا ہے شور اٹھ رہا ہے، گھبرا گئے اور لکڑی مارنا بھول گئے۔ دریا بیقرار یوں تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کے کسی حصے پر موسیٰ علیہ السلام لکڑی مار دیں اور اسے خبر نہ ہو تو عذاب الٰہی میں بہ سبب اللہ کی نافرمانی کے پھنس جائے۔ اتنے میں فرعون کا لشکر بنی اسرائیل کے سر پر جا پہنچا، یہ گھبرا گئے اور کہنے لگے لو موسیٰ ہم تو پکڑ لیے گئے۔ اب آپ وہ کیجئے جو اللہ کا آپ کو حکم ہے یقیناً نہ تو اللہ جھوٹا ہے نہ آپ۔
صفحہ نمبر5237
آپ نے فرمایا مجھے سے تو یہ فرمایا گیا ہے کہ جب تو دریا پر پہنچے گا، وہ تجھے بارہ راستے دیدے گا، تو گزر جانا۔ اسی وقت یاد آیا کہ لکڑی مارنے کا حکم ہوا ہے، چنانچہ لکڑی ماری۔ ادھر فرعونی لشکر کا اول حصہ بنی اسرائیل کے آخری حصے کے پاس آ چکا تھا کہ دریا خشک ہو گیا اور اس میں راستے نمایاں ہو گئے اور آپ اپنی قوم کو لیے ہوئے اس میں بیخطر اتر گئے اور با آرام جانے لگے۔ جب یہ نکل چکے، فرعونی سپاہ ان کے تعاقب میں دریا میں اتری۔
جب یہ سارا لشکر اس میں اتر گیا تو فرمان الٰہی کے مطابق دریا رواں ہو گیا اور سب کو بیک وقت غرق کر دیا۔ بنو اسرایئل اس واقعہ کو اپنی آنکھوں دیکھ رہے تھے تاہم انہوں نے کہا کہ اے رسول اللہ! (علیہ السلام) ہمیں کیا خبر کہ فرعون بھی مرا یا نہیں؟ آپ نے دعا کی اور دریا نے فرعون کی بے جان لاش کو کنارے پر پھینک دیا۔ جسے دیکھ کر انہیں یقین کامل ہو گیا کہ ان کا دشمن مع اپنے لاؤ و لشکر کے تباہ ہو گیا۔
صفحہ نمبر5238
فرعون سے نجات کے بعد بنی اسرائیل کی نافرمانیاں ٭٭
اب یہاں سے آگے چلے تو دیکھا کہ ایک قوم اپنے بتوں کی مجاور بن کر بیٹھی ہے تو کہنے لگے اے اللہ کے رسول ہمارے لئے بھی کوئی معبود ایسا ہی مقرر کر دیجئیے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ناراض ہو کر کہا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو، تم نے اتنی بڑی عبرتناک نشانیاں دیکھیں۔ ایسے اہم واقعات سنے لیکن اب تک نہ عبرت ہے نہ غیرت۔
یہاں سے آگے بڑھ کر ایک منزل پر آپ نے قیام کیا اور یہاں اپنے خلیفہ اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو بنا کر قوم سے فرمایا کہ میری واپسی تک ان کی فرمانبرداری کرتے رہنا میں اپنے رب کے پاس جا رہا ہوں۔ تیس دن کا اس کا وعدہ ہے۔ چنانچہ قوم سے الگ ہو کر وعدے کی جگہ پہنچ کر تیس دن رات کے روزے پورے کر کے اللہ سے باتیں کرنے کا دھیان پیدا ہوا لیکن یہ سمجھ کر کہ روزوں کی وجہ سے منہ سے بھبکا نکل رہا ہو گا، تھوڑی سی گھاس لے کر آپ نے چبا لی۔ اللہ تعالیٰ نے باوجود علم کے دریافت فرمایا کہ ایسا کیوں کیا؟ آپ نے جواب دیا، صرف اس لیے کہ تجھ سے باتیں کرتے وقت میرا منہ خوشبودار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کیا تجھے معلوم نہیں کہ روزہ دار کے منہ کی بو مجھے مشک و عنبر کی خوشبو سے زیادہ اچھی لگتی ہے؟ اب تو دس روزے اور رکھ پھر مجھ سے کلام کرنا۔ آپ نے روزے رکھنا شروع کر دیئے۔ قوم پر تیس دن جب گزر گئے اور حسب وعدہ موسیٰ علیہ السلام نہ لوٹے تو وہ غمگین رہنے لگے۔
صفحہ نمبر5239
ہارون علیہ السلام نے ان میں خطبہ کیا اور فرمایا کہ جب تم مصر سے چلے تھے تو قبطیوں کی رقمیں تم میں سے بعض پر ادھار تھیں اسی طرح ان کی امانتیں بھی تمہارے پاس رہ گئی ہیں، یہ ہم انہیں واپس تو کرنے کے نہیں لیکن میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ وہ ہماری ملکیت میں رہیں۔ اس لیے تم ایک گہرا گڑھا کھودو اور جو اسباب برتن بھانڈا زیور سونا چاندی وغیرہ ان کا تمہارے پاس ہے، سب اس میں ڈالو پھر آگ لگا دو۔
چنانچہ یہی کیا گیا۔ ان کے ساتھ سامری نامی ایک شخص تھا، یہ گائے بچھڑے پوجنے والوں میں سے تھا، بنی اسرائیل میں سے نہ تھا لیکن بوجہ پڑوسی ہونے کے اور فرعون کی قوم میں سے نہ ہونے کے یہ بھی ان کے ساتھ وہاں سے نکل آیا تھا، اس نے کسی نشان سے کچھ مٹھی میں اٹھا لیا تھا۔ ہارون علیہ السلام نے فرمایا تو بھی اسے ڈال دے، اس نے جواب دیا کہ یہ تو اس کے اثر سے ہے جو تمہیں دریا سے پار کرا لے گیا۔ خیر میں اسے ڈال دیتا ہوں لیکن اس شرط پر کہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ اس سے وہ بن جائے جو میں چاہتا ہوں۔ آپ نے دعا کی اور اس نے اپنی مٹھی میں جو تھا اسے ڈال دیا اور کہا میں چاہتا ہوں اس کا ایک بچھڑا بن جائے۔ قدرت الٰہی سے اس گڑھے میں جو تھا، وہ ایک بچھڑے کی صورت میں ہو گیا جو اندر سے کھوکھلا تھا اس میں روح نہ تھی لیکن ہوا اس کے پیچھے کے سوراخ سے جا کر منہ سے نکلتی تھی اس سے ایک آواز پیدا ہوتی تھی۔
صفحہ نمبر5240
بنو اسرائیل نے پوچھا سامری یہ کیا ہے؟ اس بے ایمان نے کہا، یہی تمہارا سب کا رب ہے لیکن موسیٰ علیہ السلام راستہ بھول گئے اور دوسری جگہ رب کی تلاش میں چلے گئے۔ اس بات نے بنی اسرائیل کے کئی فرقے کر دیئے۔ ایک فرقے نے تو کہا کہ موسیٰ علیہ السلام کے آنے تک ہم اس کی بابت کوئی بات طے نہیں کر سکتے، ممکن ہے یہی اللہ ہو تو ہم اس کی بے ادبی کیوں کریں؟ اور اگر یہ رب نہیں ہے تو موسیٰ علیہ السلام کے آتے ہی حقیقت کھل جائے گی۔
دوسری جماعت نے کہا، محض واہیات ہے یہ شیطانی حرکت ہے ہم اس لغویت پر مطلقاً ایمان نہیں رکھتے، نہ یہ ہمارا رب نہ ہمارا اس پر ایمان۔ ایک پاجی فرقے نے دل سے اسے مان لیا اور سامری کی بات پر ایمان لائے مگر بہ ظاہر اس کی بات کو جھٹلایا۔ ہارون علیہ السلام نے اسی وقت سب کو جمع کر کے فرمایا کہ لوگو! یہ اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہے تم اس جھگڑے میں کہاں پھنس گئے؟ تمہارا رب تو رحمان ہے تم میری اتباع کرو اور میرا کہنا مانو۔ انہوں نے کہا آخر اس کی کیا وجہ کہ تیس دن کا وعدہ کر کے موسیٰ علیہ السلام گئے ہیں اور آج چالیس دن ہونے کو آئے لیکن اب تک لوٹے نہیں۔ بعض بیوقوفوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ان سے ان کا رب خطا کر گیا اب یہ اس کی تلاش میں ہوں گے۔ ادھر دس روزے اور پورے ہونے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کو بتایا گیا کہ آپ کے بعد آپ کی قوم کا اس وقت کیا حال ہے؟ آپ اسی وقت رنج و افسوس اور غم و غصے کے ساتھ واپس لوٹے اور یہاں آ کر قوم سے بہت کچھ کہا سنا، اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر گھسیٹنے لگے۔ غصے کی زیادتی کی وجہ سے تختیاں بھی ہاتھ سے پھینک دیں۔ پھر اصل حقیقت معلوم ہو جانے پر آپ نے اپنے بھائی سے معذرت کی، ان کے لیے استغفار کیا۔
صفحہ نمبر5241
اور سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے جواب دیا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے کے پاؤں تلے سے میں نے ایک مٹھی اٹھالی یہ لوگ اسے نہ پہچان سکے اور میں نے جان لیا تھا۔ میں نے وہی مٹھی اس آگ میں ڈال دی تھی میری رائے میں یہی بات آئی۔ آپ نے فرمایا، جا اس کی سزا دنیا میں تو یہ ہے کہ تو یہی کہتا رہے کہ“ہاتھ لگانا نہیں“ پھر ایک وعدے کا وقت ہے جس کا ٹلنا ناممکن ہے اور تیرے دیکھتے دیکھتے ہم تیرے اس معبود کو جلا کر اس کی خاک بھی دریا میں بہا دیں گے۔ چنانچہ آپ نے یہی کیا۔
اس وقت بنی اسرائیل کو یقین آ گیا کہ واقعی وہ اللہ نہ تھا۔ اب وہ بڑے نادم ہوئے اور سوائے ان مسلمانوں کے جو ہارون علیہ السلام کے ہم عقیدہ رہے تھے، باقی کے لوگوں نے عذر معذرت کی اور کہا کہ اے اللہ کے نبی! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمارے لیے توبہ کا دروازہ کھول دے، جو وہ فرمائے گا ہم بجا لائیں گے تاکہ ہماری یہ زبردست خطا معاف ہو جائے۔
صفحہ نمبر5242
آپ نے بنی اسرائیل کے اس گروہ میں سے ستر لوگوں کو چھانٹ کر علیحدہ کیا اور توبہ کے لیے چلے، وہاں زمین پھٹ گئی اور آپ کے سب ساتھی اس میں اتار دیئے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام کو فکر لاحق ہوا کہ میں بنی اسرائیل کو کیا منہ دکھاؤں گا؟ گریہ و زاری شروع کی اور دعا کی کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے ہی مجھے اور ان سب کو ہلاک کر دیتا، ہمارے بیوقوفوں کے گناہ کے بدلے تو ہمیں ہلاک نہ کر۔
آپ تو ان کے ظاہر کو دیکھ رہے تھے اور اللہ کی نظریں ان کے باطن پر تھیں۔ ان میں ایسے بھی تھے جو بہ ظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے لیکن دراصل دلی عقیدہ ان کا اس بچھڑے کے رب ہونے پر تھا۔ ان ہی منافقین کی وجہ سے سب کو تہ زمین کر دیا گیا تھا۔ نبی اللہ علیہ السلام کی اس آہ و زاری پر رحمت الٰہی جوش میں آئی اور جواب ملا کہ یوں تو میری رحمت سب پر چھائے ہوئے ہے لیکن میں اسے ان کے نام ہبہ کروں گا جو متقی پرہیزگار ہوں، زکوٰۃ کے ادا کرنے والے ہوں، میری باتوں پر ایمان لائیں اور میرے اس رسول و نبی کی اتباع کریں جس کے اوصاف وہ اپنی کتابوں میں لکھے پاتے ہیں یعنی توراۃ و انجیل میں۔
صفحہ نمبر5243
کلیم اللہ علیہ السلام نے عرض کی کہ یا الٰہی میں نے اپنی قوم کے لیے توبہ طلب کی، تو نے جواب دیا کہ تو اپنی رحمت کو ان کے ساتھ کر دے گا جو آگے آنے والے ہیں، پھر اللہ مجھے بھی تو اپنے اسی رحمت والے نبی کی امت میں پیدا کرتا۔ رب العالمین نے فرمایا، سنو ان کی توبہ اس وقت قبول ہو گی کہ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں، نہ باپ بیٹے کو دیکھے نہ بیٹا باپ کو چھوڑے، آپس میں گتھ جائیں اور ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں۔
چنانچہ بنو اسرائیل نے یہی کیا اور جو منافق لوگ تھے، انہوں نے بھی سچے دل سے توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، جو بچ گئے تھے وہ بھی بخشے گئے، جو قتل ہوئے وہ بھی بخش دیئے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام اب یہاں سے بیت المقدس کی طرف چلے۔ توراۃ کی تختیاں اپنے ساتھ لیں اور انہیں احکام الٰہی سنائے جو ان پر بہت بھاری پڑے اور انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ چنانچہ ایک پہاڑ ان کے سروں پر معلق کھڑا کر دیا گیا، وہ مثل سائبان کے سروں پر تھا اور ہر دم ڈر تھا کہ اب گرا، انہوں نے اب اقرار کیا اور تورات قبول کر لی پہاڑ ہٹ گیا۔ اس پاک زمین پر پہنچے جہاں کلیم اللہ علیہ السلام انہیں لے جانا چاہتے تھے، دیکھا کہ وہاں ایک بڑی طاقتور زبردست قوم کا قبضہ ہے۔ تو موسیٰ علیہ السلام کے سامنے نہایت نامردی سے کہا کہ یہاں تو بڑی زور آور قوم ہے، ہم میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں، یہ نکل جائیں تو ہم شہر میں داخل ہو سکتے ہیں۔ یہ تو یونہی نامردی اور بزدلی ظاہر کرتے رہے۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے ان سرکشوں میں سے دو شخصوں کو ہدایت دے دی، وہ شہر سے نکل کر موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں آ ملے اور انہیں سمجھانے لگے کہ تم ان کے جسموں اور تعداد سے مرعوب نہ ہو جاؤ، یہ لوگ بہادر نہیں ان کے دل گردے کمزور ہیں، تم آگے تو بڑھو۔ ان کے شہر کے دروازے میں گئے اور ان کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے ہوئے، یقیناً تم ان پر غالب آ جاؤ گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دونوں شخص جنہوں نے بنی اسرائیل کو سمجھایا اور انہیں دلیر بنایا، خود بنی اسرایئل میں سے ہی تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5244
لیکن ان کے سمجھانے بجھانے، اللہ کے حکم ہو جانے اور موسیٰ علیہ السلام کے وعدے نے بھی ان پر کوئی اثر نہ کیا بلکہ انہوں نے صاف کورا جواب دے دیا کہ جب تک یہ لوگ شہر میں ہیں، ہم تو یہاں سے اٹھنے کے بھی نہیں، موسیٰ علیہ السلام تو آپ اپنے رب کو اپنے ساتھ لے کر چلا جا اور ان سے لڑ بھڑ لے، ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔
اب تو موسیٰ علیہ السلام سے صبر نہ ہو سکا، آپ کے منہ سے ان بزدلوں اور ناقدروں کے حق میں بد دعا نکل گئی اور آپ نے ان کا نام فاسق رکھ دیا۔ اللہ کی طرف سے بھی ان کا یہی نام مقرر ہو گیا اور انہیں اسی میدان میں قدرتی طور پر قید کر دیا گیا۔ چالیس سال انہیں یہیں گزر گئے کہیں قرار نہ تھا، اسی بیاباں میں پریشانی کے ساتھ بھٹکتے پھرتے تھے۔ اسی میدان قید میں ان پر ابر کا سایہ کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا، کپڑے نہ پھٹتے تھے نہ میلے ہوتے تھے۔ ایک چوکونہ پتھر رکھا ہوا تھا جس پر موسیٰ علیہ السلام نے لکڑی ماری تو اس میں سے بارہ نہریں جاری ہو گئیں، ہر طرف سے تین تین لوگ چلتے چلتے آگے بڑھ جاتے، تھک کر قیام کر دیتے، صبح اٹھتے تو دیکھتے کہ وہ پتھر وہیں ہے جہاں کل تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس حدیث کو مرفوع بیان کیا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنی تو فرمایا کہ اس فرعونی نے موسیٰ علیہ السلام کے اگلے دن کے قتل کی خبر رسانی کی تھی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کیونکہ قبطی کے قتل کے وقت سوائے اس بنی اسرایئلی ایک شخص کے جو قبطی سے لڑ رہا تھا، وہاں کوئی اور نہ تھا۔
صفحہ نمبر5245
اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بہت بگڑے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے اور ان سے کہا، آپ کو یاد ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس شخص کا حال بیان فرمایا تھا جس نے موسیٰ کے قتل کے راز کو کھولا تھا، بتاؤ وہ بنی اسرائیلی شخص تھا یا فرعونی؟ سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا، بنی اسرائیلی سے اس فرعونی نے سنا، پھر اس نے جا کر حکومت سے کہا اور خود اس کا شاہد بنا [تفسیر ابن جریر الطبری:24131:ضعیف]
یہی روایت اور کتابوں میں بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اپنے کلام سے بہت تھوڑا سا حصہ مرفوع بیان کیا گیا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ آپ نے بنو اسرائیل میں سے کسی سے یہ روایت لی ہو کیونکہ ان سے روایتیں لینا مباح ہیں۔ یا تو آپ نے سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ہی یہ روایت سنی ہو گی اور ممکن ہے کسی اور سے سنی ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ میں نے اپنے استاد شیخ حافظ ابو الحجاج مزی علیہ السلام سے بھی یہی سنا ہے۔
صفحہ نمبر5246
طه 20:41
موسیٰ علیہ السلام فرار کے بعد ٭٭
موسیٰ علیہ السلام سے جناب باری عزوجل فرما رہا ہے کہ تم فرعون سے بھاگ کر مدین پہنچے، یہاں سسرال مل گئے اور شرط کے مطابق ان کی بکریاں برسوں تک چراتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اندازے اور اس کے مقررہ وقت پر تم اس کے پاس پہنچے۔ اس رب کی کوئی چاہت ناکام نہیں رہتی، کوئی فرمان نہیں ٹوٹتا، اس کے وعدے کے مطابق اس کے مقررہ وقت پر تمہارا اس کے پاس پہنچنا لازمی امر تھا۔ یہ بھی مطلب ہے کہ تم اپنی قدر و عزت کو پہنچے یعنی رسالت و نبوت ملی۔ میں نے تمہیں اپنا برگزیدہ پیغمبر بنا لیا۔
صحیح بخاری شریف میں ہے، آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا، آپ نے تو لوگوں کو مشقت میں ڈال دیا انہیں جنت سے نکال دیا۔ آدم علیہ السلام نے فرمایا، آپ کو اللہ نے اپنی رسالت سے ممتاز فرمایا اور اپنے لیے پسند فرمایا اور تورات عطافرمائی، کیا اس میں آپ نے یہ نہیں پڑھا کہ میری پیدائش سے پہلے یہ سب مقدر ہو چکا تھا؟ کہاں ہاں۔ الغرض آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر دلیل میں غلبہ پا گئے۔ [صحیح بخاری:4736]
میری دی ہوئی دلیل اور معجزے لے کر تو اور تیرا بھائی دونوں فرعون کے پاس جاؤ۔ میری یاد میں غفلت نہ کرنا تھک کر بیٹھ نہ رہنا۔ چنانچہ فرعون کے سامنے دونوں ذکر اللہ میں لگے رہتے تاکہ اللہ کی مدد ان کا ساتھ دے، انہیں قوی اور مضبوط بنا دے اور فرعون کی شان و شوکت ٹال دے۔
صفحہ نمبر5251
چنانچہ حدیث شریف میں بھی ہے کہ میرا پورا اور سچا بندہ وہ ہے جو پوری عمر میری یاد کرتا رہے۔ [سنن ترمذي:3580،قال الشيخ الألباني:ضیف] فرعون کے پاس تم میرا پیغام لے کر پہنچو۔ اس نے بہت سر اٹھا رکھا ہے، اللہ کی نافرمانیوں پر دلیر ہو گیا ہے، بہت پھول گیا ہے اور اپنے خالق و مالک کو بھول گیا ہے۔ اس سے گفتگو نرم کرنا۔ دیکھو فرعون کس قدر برا ہے۔ موسیٰ کس قدر بھلے ہیں لیکن حکم یہ ہو رہا ہے کہ نرمی سے سمجھانا۔
یزید قاشی رحمہ اللہ اس آیت کو پڑھ کر فرماتے «يَاَمَنْ يتَّجَبَّبُ اِلٰي مِنْ يُّعَادِيْهِ -فَكَيفَ مَن يَّتَوَلاَهُ وَيُنَادِيْهِ» یعنی اے وہ اللہ! جو دشمنوں سے بھی محبت اور نرمی کرتا ہے۔ تیرا کیسا کچھ پاکیزہ برتاؤ ہو گا، اس کے ساتھ جو تجھ سے محبت کرتا ہو اور تجھے پکارا کرتا ہو۔ وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نرم گفتگو کرنے سے مراد یہ ہے کہ اسے کہنا کہ میرے غضب و غصے سے میری مغفرت و رحمت بہت بڑھی ہوئی ہے۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرم بات کہنے سے مراد اللہ کی وحدانیت کی طرف دعوت دینا ہے کہ وہ «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه» کا قائل ہو جائے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس سے کہنا کہ تیرا رب ہے، تجھے مر کر اللہ کے وعدے پر پہنچنا ہے جہاں جنت دوزخ دونوں ہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے میرے دروازے پر لا کھڑا کرو۔ الغرض تم اس سے نرمی اور آرام سے گفتگو کرنا تاکہ اس کے دل میں تمہاری باتیں بیٹھ جائیں۔
جیسے فرمان الٰہی ہے «ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ» [16-النحل:125] یعنی اپنے رب کی راہ کی دعوت انہیں حکمت اور اچھے وعظ سے دے اور انہیں بہترین طریقے سے سمجھا بجھا دے تاکہ وہ سمجھ لے اور اپنی ضلالت و ہلاکت سے ہٹ جائے یا اپنے اللہ سے ڈرنے لگے اور اس کی اطاعت و عبادت کی طرف متوجہ ہو جائے۔
جیسے فرمان ہے، «مَنْ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا» [25-الفرقان:62] ” یہ نصیحت اس کے لیے ہے جو عبرت حاصل کر لے یا شکر گزار بن جائے۔ “ پس عبرت حاصل کرنے سے مراد برائیوں سے اور خوف کی چیز سے ہٹ جانا اور ڈر سے مراد اطاعت کی طرف مائل ہو جانا ہے۔
صفحہ نمبر5252
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس کی ہلاکت کی دعا نہ کرنا جب تک کہ اس کے تمام عذر ختم نہ ہو جائیں۔ زید بن عمرو بن نفیل کے یا امیہ بن ابی صلت کے شعروں میں ہے کہ اے اللہ! تو وہ ہے جس نے اپنے فضل و کرم سے موسیٰ علیہ السلام کو یہ کہہ کر باغی فرعون کی طرف بھیجا کہ اس سے پوچھو تو کہ کیا اس آسمان کو بےستون کے تو نے تھام رکھا ہے اور تو نے ہی اسے بنایا ہے؟ اور کیا تو نے ہی اس کے درمیان روشن سورج کو چڑھایا ہے جو اندھیرے کو اجالے سے بدل دیتا ہے، ادھر صبح کے وقت وہ نکلا ادھر دنیا سے ظلمت دور ہوئی۔ بھلا بتلا تو کہ مٹی میں سے دانے نکالنے والا کون ہے؟ اور اس میں بالیاں پیدا کرنے والا کون ہے؟ کیا ان تمام نشانیوں سے بھی تو اللہ کو نہیں پہچان سکتا؟
صفحہ نمبر5253
طه 20:42
موسیٰ علیہ السلام فرار کے بعد ٭٭
موسیٰ علیہ السلام سے جناب باری عزوجل فرما رہا ہے کہ تم فرعون سے بھاگ کر مدین پہنچے، یہاں سسرال مل گئے اور شرط کے مطابق ان کی بکریاں برسوں تک چراتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اندازے اور اس کے مقررہ وقت پر تم اس کے پاس پہنچے۔ اس رب کی کوئی چاہت ناکام نہیں رہتی، کوئی فرمان نہیں ٹوٹتا، اس کے وعدے کے مطابق اس کے مقررہ وقت پر تمہارا اس کے پاس پہنچنا لازمی امر تھا۔ یہ بھی مطلب ہے کہ تم اپنی قدر و عزت کو پہنچے یعنی رسالت و نبوت ملی۔ میں نے تمہیں اپنا برگزیدہ پیغمبر بنا لیا۔
صحیح بخاری شریف میں ہے، آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا، آپ نے تو لوگوں کو مشقت میں ڈال دیا انہیں جنت سے نکال دیا۔ آدم علیہ السلام نے فرمایا، آپ کو اللہ نے اپنی رسالت سے ممتاز فرمایا اور اپنے لیے پسند فرمایا اور تورات عطافرمائی، کیا اس میں آپ نے یہ نہیں پڑھا کہ میری پیدائش سے پہلے یہ سب مقدر ہو چکا تھا؟ کہاں ہاں۔ الغرض آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر دلیل میں غلبہ پا گئے۔ [صحیح بخاری:4736]
میری دی ہوئی دلیل اور معجزے لے کر تو اور تیرا بھائی دونوں فرعون کے پاس جاؤ۔ میری یاد میں غفلت نہ کرنا تھک کر بیٹھ نہ رہنا۔ چنانچہ فرعون کے سامنے دونوں ذکر اللہ میں لگے رہتے تاکہ اللہ کی مدد ان کا ساتھ دے، انہیں قوی اور مضبوط بنا دے اور فرعون کی شان و شوکت ٹال دے۔
صفحہ نمبر5251
چنانچہ حدیث شریف میں بھی ہے کہ میرا پورا اور سچا بندہ وہ ہے جو پوری عمر میری یاد کرتا رہے۔ [سنن ترمذي:3580،قال الشيخ الألباني:ضیف] فرعون کے پاس تم میرا پیغام لے کر پہنچو۔ اس نے بہت سر اٹھا رکھا ہے، اللہ کی نافرمانیوں پر دلیر ہو گیا ہے، بہت پھول گیا ہے اور اپنے خالق و مالک کو بھول گیا ہے۔ اس سے گفتگو نرم کرنا۔ دیکھو فرعون کس قدر برا ہے۔ موسیٰ کس قدر بھلے ہیں لیکن حکم یہ ہو رہا ہے کہ نرمی سے سمجھانا۔
یزید قاشی رحمہ اللہ اس آیت کو پڑھ کر فرماتے «يَاَمَنْ يتَّجَبَّبُ اِلٰي مِنْ يُّعَادِيْهِ -فَكَيفَ مَن يَّتَوَلاَهُ وَيُنَادِيْهِ» یعنی اے وہ اللہ! جو دشمنوں سے بھی محبت اور نرمی کرتا ہے۔ تیرا کیسا کچھ پاکیزہ برتاؤ ہو گا، اس کے ساتھ جو تجھ سے محبت کرتا ہو اور تجھے پکارا کرتا ہو۔ وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نرم گفتگو کرنے سے مراد یہ ہے کہ اسے کہنا کہ میرے غضب و غصے سے میری مغفرت و رحمت بہت بڑھی ہوئی ہے۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرم بات کہنے سے مراد اللہ کی وحدانیت کی طرف دعوت دینا ہے کہ وہ «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه» کا قائل ہو جائے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس سے کہنا کہ تیرا رب ہے، تجھے مر کر اللہ کے وعدے پر پہنچنا ہے جہاں جنت دوزخ دونوں ہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے میرے دروازے پر لا کھڑا کرو۔ الغرض تم اس سے نرمی اور آرام سے گفتگو کرنا تاکہ اس کے دل میں تمہاری باتیں بیٹھ جائیں۔
جیسے فرمان الٰہی ہے «ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ» [16-النحل:125] یعنی اپنے رب کی راہ کی دعوت انہیں حکمت اور اچھے وعظ سے دے اور انہیں بہترین طریقے سے سمجھا بجھا دے تاکہ وہ سمجھ لے اور اپنی ضلالت و ہلاکت سے ہٹ جائے یا اپنے اللہ سے ڈرنے لگے اور اس کی اطاعت و عبادت کی طرف متوجہ ہو جائے۔
جیسے فرمان ہے، «مَنْ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا» [25-الفرقان:62] ” یہ نصیحت اس کے لیے ہے جو عبرت حاصل کر لے یا شکر گزار بن جائے۔ “ پس عبرت حاصل کرنے سے مراد برائیوں سے اور خوف کی چیز سے ہٹ جانا اور ڈر سے مراد اطاعت کی طرف مائل ہو جانا ہے۔
صفحہ نمبر5252
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس کی ہلاکت کی دعا نہ کرنا جب تک کہ اس کے تمام عذر ختم نہ ہو جائیں۔ زید بن عمرو بن نفیل کے یا امیہ بن ابی صلت کے شعروں میں ہے کہ اے اللہ! تو وہ ہے جس نے اپنے فضل و کرم سے موسیٰ علیہ السلام کو یہ کہہ کر باغی فرعون کی طرف بھیجا کہ اس سے پوچھو تو کہ کیا اس آسمان کو بےستون کے تو نے تھام رکھا ہے اور تو نے ہی اسے بنایا ہے؟ اور کیا تو نے ہی اس کے درمیان روشن سورج کو چڑھایا ہے جو اندھیرے کو اجالے سے بدل دیتا ہے، ادھر صبح کے وقت وہ نکلا ادھر دنیا سے ظلمت دور ہوئی۔ بھلا بتلا تو کہ مٹی میں سے دانے نکالنے والا کون ہے؟ اور اس میں بالیاں پیدا کرنے والا کون ہے؟ کیا ان تمام نشانیوں سے بھی تو اللہ کو نہیں پہچان سکتا؟
صفحہ نمبر5253
طه 20:43
موسیٰ علیہ السلام فرار کے بعد ٭٭
موسیٰ علیہ السلام سے جناب باری عزوجل فرما رہا ہے کہ تم فرعون سے بھاگ کر مدین پہنچے، یہاں سسرال مل گئے اور شرط کے مطابق ان کی بکریاں برسوں تک چراتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اندازے اور اس کے مقررہ وقت پر تم اس کے پاس پہنچے۔ اس رب کی کوئی چاہت ناکام نہیں رہتی، کوئی فرمان نہیں ٹوٹتا، اس کے وعدے کے مطابق اس کے مقررہ وقت پر تمہارا اس کے پاس پہنچنا لازمی امر تھا۔ یہ بھی مطلب ہے کہ تم اپنی قدر و عزت کو پہنچے یعنی رسالت و نبوت ملی۔ میں نے تمہیں اپنا برگزیدہ پیغمبر بنا لیا۔
صحیح بخاری شریف میں ہے، آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا، آپ نے تو لوگوں کو مشقت میں ڈال دیا انہیں جنت سے نکال دیا۔ آدم علیہ السلام نے فرمایا، آپ کو اللہ نے اپنی رسالت سے ممتاز فرمایا اور اپنے لیے پسند فرمایا اور تورات عطافرمائی، کیا اس میں آپ نے یہ نہیں پڑھا کہ میری پیدائش سے پہلے یہ سب مقدر ہو چکا تھا؟ کہاں ہاں۔ الغرض آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر دلیل میں غلبہ پا گئے۔ [صحیح بخاری:4736]
میری دی ہوئی دلیل اور معجزے لے کر تو اور تیرا بھائی دونوں فرعون کے پاس جاؤ۔ میری یاد میں غفلت نہ کرنا تھک کر بیٹھ نہ رہنا۔ چنانچہ فرعون کے سامنے دونوں ذکر اللہ میں لگے رہتے تاکہ اللہ کی مدد ان کا ساتھ دے، انہیں قوی اور مضبوط بنا دے اور فرعون کی شان و شوکت ٹال دے۔
صفحہ نمبر5251
چنانچہ حدیث شریف میں بھی ہے کہ میرا پورا اور سچا بندہ وہ ہے جو پوری عمر میری یاد کرتا رہے۔ [سنن ترمذي:3580،قال الشيخ الألباني:ضیف] فرعون کے پاس تم میرا پیغام لے کر پہنچو۔ اس نے بہت سر اٹھا رکھا ہے، اللہ کی نافرمانیوں پر دلیر ہو گیا ہے، بہت پھول گیا ہے اور اپنے خالق و مالک کو بھول گیا ہے۔ اس سے گفتگو نرم کرنا۔ دیکھو فرعون کس قدر برا ہے۔ موسیٰ کس قدر بھلے ہیں لیکن حکم یہ ہو رہا ہے کہ نرمی سے سمجھانا۔
یزید قاشی رحمہ اللہ اس آیت کو پڑھ کر فرماتے «يَاَمَنْ يتَّجَبَّبُ اِلٰي مِنْ يُّعَادِيْهِ -فَكَيفَ مَن يَّتَوَلاَهُ وَيُنَادِيْهِ» یعنی اے وہ اللہ! جو دشمنوں سے بھی محبت اور نرمی کرتا ہے۔ تیرا کیسا کچھ پاکیزہ برتاؤ ہو گا، اس کے ساتھ جو تجھ سے محبت کرتا ہو اور تجھے پکارا کرتا ہو۔ وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نرم گفتگو کرنے سے مراد یہ ہے کہ اسے کہنا کہ میرے غضب و غصے سے میری مغفرت و رحمت بہت بڑھی ہوئی ہے۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرم بات کہنے سے مراد اللہ کی وحدانیت کی طرف دعوت دینا ہے کہ وہ «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه» کا قائل ہو جائے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس سے کہنا کہ تیرا رب ہے، تجھے مر کر اللہ کے وعدے پر پہنچنا ہے جہاں جنت دوزخ دونوں ہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے میرے دروازے پر لا کھڑا کرو۔ الغرض تم اس سے نرمی اور آرام سے گفتگو کرنا تاکہ اس کے دل میں تمہاری باتیں بیٹھ جائیں۔
جیسے فرمان الٰہی ہے «ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ» [16-النحل:125] یعنی اپنے رب کی راہ کی دعوت انہیں حکمت اور اچھے وعظ سے دے اور انہیں بہترین طریقے سے سمجھا بجھا دے تاکہ وہ سمجھ لے اور اپنی ضلالت و ہلاکت سے ہٹ جائے یا اپنے اللہ سے ڈرنے لگے اور اس کی اطاعت و عبادت کی طرف متوجہ ہو جائے۔
جیسے فرمان ہے، «مَنْ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا» [25-الفرقان:62] ” یہ نصیحت اس کے لیے ہے جو عبرت حاصل کر لے یا شکر گزار بن جائے۔ “ پس عبرت حاصل کرنے سے مراد برائیوں سے اور خوف کی چیز سے ہٹ جانا اور ڈر سے مراد اطاعت کی طرف مائل ہو جانا ہے۔
صفحہ نمبر5252
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس کی ہلاکت کی دعا نہ کرنا جب تک کہ اس کے تمام عذر ختم نہ ہو جائیں۔ زید بن عمرو بن نفیل کے یا امیہ بن ابی صلت کے شعروں میں ہے کہ اے اللہ! تو وہ ہے جس نے اپنے فضل و کرم سے موسیٰ علیہ السلام کو یہ کہہ کر باغی فرعون کی طرف بھیجا کہ اس سے پوچھو تو کہ کیا اس آسمان کو بےستون کے تو نے تھام رکھا ہے اور تو نے ہی اسے بنایا ہے؟ اور کیا تو نے ہی اس کے درمیان روشن سورج کو چڑھایا ہے جو اندھیرے کو اجالے سے بدل دیتا ہے، ادھر صبح کے وقت وہ نکلا ادھر دنیا سے ظلمت دور ہوئی۔ بھلا بتلا تو کہ مٹی میں سے دانے نکالنے والا کون ہے؟ اور اس میں بالیاں پیدا کرنے والا کون ہے؟ کیا ان تمام نشانیوں سے بھی تو اللہ کو نہیں پہچان سکتا؟
صفحہ نمبر5253
طه 20:44
موسیٰ علیہ السلام فرار کے بعد ٭٭
موسیٰ علیہ السلام سے جناب باری عزوجل فرما رہا ہے کہ تم فرعون سے بھاگ کر مدین پہنچے، یہاں سسرال مل گئے اور شرط کے مطابق ان کی بکریاں برسوں تک چراتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اندازے اور اس کے مقررہ وقت پر تم اس کے پاس پہنچے۔ اس رب کی کوئی چاہت ناکام نہیں رہتی، کوئی فرمان نہیں ٹوٹتا، اس کے وعدے کے مطابق اس کے مقررہ وقت پر تمہارا اس کے پاس پہنچنا لازمی امر تھا۔ یہ بھی مطلب ہے کہ تم اپنی قدر و عزت کو پہنچے یعنی رسالت و نبوت ملی۔ میں نے تمہیں اپنا برگزیدہ پیغمبر بنا لیا۔
صحیح بخاری شریف میں ہے، آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا، آپ نے تو لوگوں کو مشقت میں ڈال دیا انہیں جنت سے نکال دیا۔ آدم علیہ السلام نے فرمایا، آپ کو اللہ نے اپنی رسالت سے ممتاز فرمایا اور اپنے لیے پسند فرمایا اور تورات عطافرمائی، کیا اس میں آپ نے یہ نہیں پڑھا کہ میری پیدائش سے پہلے یہ سب مقدر ہو چکا تھا؟ کہاں ہاں۔ الغرض آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر دلیل میں غلبہ پا گئے۔ [صحیح بخاری:4736]
میری دی ہوئی دلیل اور معجزے لے کر تو اور تیرا بھائی دونوں فرعون کے پاس جاؤ۔ میری یاد میں غفلت نہ کرنا تھک کر بیٹھ نہ رہنا۔ چنانچہ فرعون کے سامنے دونوں ذکر اللہ میں لگے رہتے تاکہ اللہ کی مدد ان کا ساتھ دے، انہیں قوی اور مضبوط بنا دے اور فرعون کی شان و شوکت ٹال دے۔
صفحہ نمبر5251
چنانچہ حدیث شریف میں بھی ہے کہ میرا پورا اور سچا بندہ وہ ہے جو پوری عمر میری یاد کرتا رہے۔ [سنن ترمذي:3580،قال الشيخ الألباني:ضیف] فرعون کے پاس تم میرا پیغام لے کر پہنچو۔ اس نے بہت سر اٹھا رکھا ہے، اللہ کی نافرمانیوں پر دلیر ہو گیا ہے، بہت پھول گیا ہے اور اپنے خالق و مالک کو بھول گیا ہے۔ اس سے گفتگو نرم کرنا۔ دیکھو فرعون کس قدر برا ہے۔ موسیٰ کس قدر بھلے ہیں لیکن حکم یہ ہو رہا ہے کہ نرمی سے سمجھانا۔
یزید قاشی رحمہ اللہ اس آیت کو پڑھ کر فرماتے «يَاَمَنْ يتَّجَبَّبُ اِلٰي مِنْ يُّعَادِيْهِ -فَكَيفَ مَن يَّتَوَلاَهُ وَيُنَادِيْهِ» یعنی اے وہ اللہ! جو دشمنوں سے بھی محبت اور نرمی کرتا ہے۔ تیرا کیسا کچھ پاکیزہ برتاؤ ہو گا، اس کے ساتھ جو تجھ سے محبت کرتا ہو اور تجھے پکارا کرتا ہو۔ وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نرم گفتگو کرنے سے مراد یہ ہے کہ اسے کہنا کہ میرے غضب و غصے سے میری مغفرت و رحمت بہت بڑھی ہوئی ہے۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرم بات کہنے سے مراد اللہ کی وحدانیت کی طرف دعوت دینا ہے کہ وہ «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه» کا قائل ہو جائے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس سے کہنا کہ تیرا رب ہے، تجھے مر کر اللہ کے وعدے پر پہنچنا ہے جہاں جنت دوزخ دونوں ہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے میرے دروازے پر لا کھڑا کرو۔ الغرض تم اس سے نرمی اور آرام سے گفتگو کرنا تاکہ اس کے دل میں تمہاری باتیں بیٹھ جائیں۔
جیسے فرمان الٰہی ہے «ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ» [16-النحل:125] یعنی اپنے رب کی راہ کی دعوت انہیں حکمت اور اچھے وعظ سے دے اور انہیں بہترین طریقے سے سمجھا بجھا دے تاکہ وہ سمجھ لے اور اپنی ضلالت و ہلاکت سے ہٹ جائے یا اپنے اللہ سے ڈرنے لگے اور اس کی اطاعت و عبادت کی طرف متوجہ ہو جائے۔
جیسے فرمان ہے، «مَنْ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا» [25-الفرقان:62] ” یہ نصیحت اس کے لیے ہے جو عبرت حاصل کر لے یا شکر گزار بن جائے۔ “ پس عبرت حاصل کرنے سے مراد برائیوں سے اور خوف کی چیز سے ہٹ جانا اور ڈر سے مراد اطاعت کی طرف مائل ہو جانا ہے۔
صفحہ نمبر5252
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس کی ہلاکت کی دعا نہ کرنا جب تک کہ اس کے تمام عذر ختم نہ ہو جائیں۔ زید بن عمرو بن نفیل کے یا امیہ بن ابی صلت کے شعروں میں ہے کہ اے اللہ! تو وہ ہے جس نے اپنے فضل و کرم سے موسیٰ علیہ السلام کو یہ کہہ کر باغی فرعون کی طرف بھیجا کہ اس سے پوچھو تو کہ کیا اس آسمان کو بےستون کے تو نے تھام رکھا ہے اور تو نے ہی اسے بنایا ہے؟ اور کیا تو نے ہی اس کے درمیان روشن سورج کو چڑھایا ہے جو اندھیرے کو اجالے سے بدل دیتا ہے، ادھر صبح کے وقت وہ نکلا ادھر دنیا سے ظلمت دور ہوئی۔ بھلا بتلا تو کہ مٹی میں سے دانے نکالنے والا کون ہے؟ اور اس میں بالیاں پیدا کرنے والا کون ہے؟ کیا ان تمام نشانیوں سے بھی تو اللہ کو نہیں پہچان سکتا؟
صفحہ نمبر5253
طه 20:45
اللہ کے سامنے اظہار بےبسی ٭٭
اللہ کے ان دونوں رسولوں علیہم السلام نے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہوئے اپنی کمزوری کی شکایت رب کے سامنے کی کہ ہمیں خوف ہے کہ فرعون کہیں ہم پر کوئی ظلم نہ کرے اور بدسلوکی سے پیش نہ آئے۔ ہماری آواز کو دبانے کے لیے جلدی سے ہمیں کسی مصیبت میں مبتلا نہ کر دے اور ہمارے ساتھ ناانصافی سے پیش نہ آئے۔ رب العالمین کی طرف سے ان کی تشفی کر دی گئی۔
ارشاد ہوا کہ اس کا کچھ خوف نہ کھاؤ، میں خود تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری اور اس کی بات چیت سنتا رہوں گا اور تمہارا حال دیکھتا رہوں گا۔ کوئی بات مجھ پر مخفی نہیں رہ سکتی۔ اس کی چوٹی میرے ہاتھ میں ہے، وہ بغیر میری اجازت کے سانس بھی تو نہیں لے سکتا۔ میرے قبضے سے کبھی باہر نہیں نکل سکتا۔ میری حفاظت و نصرت، تائید و مدد تمہارے ساتھ ہے۔
صفحہ نمبر5257
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں دعا کی کہ مجھے وہ دعا تعلیم فرمائی جائے جو میں فرعون کے پاس جاتے ہوئے پڑھ لیا کروں تو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا تعلیم فرمائی۔ «هَيَّا شراهيا» جس کے معنی عربی میں «أَنَا الْحَيّ قَبْل كُلّ شَيْء وَالْحَيّ بَعْد كُلّ شَيْء» ” یعنی میں ہی ہوں سب سے پہلے زندہ اور سب سے بعد بھی زندہ۔ “ [الدر المنثور للسیوطی:537/4:ضعیف]
پھر انہیں بتلایا گیا کہ یہ فرعون کو کیا کہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، یہ گئے دروازے پر ٹھہرے، اجازت مانگی، بڑی دیر کے بعد اجازت ملی۔ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں پیغمبر دو سال تک روزانہ صبح شام فرعون کے ہاں جاتے رہے، دربانوں سے کہتے رہے کہ ہم دونوں پیغمبروں کی آمد کی خبر بادشاہ سے کرو۔ لیکن فرعون کے ڈر کے مارے کسی نے خبر نہ کی۔ دو سال کے بعد ایک روز اس کے ایک بے تکلف دوست نے جو بادشاہ سے ہنسی دل لگی بھی کر لیا کرتا تھا، کہا کہ آپ کے دروازے پر ایک شخص کھڑا ہے اور ایک عجیب مزے کی بات کہہ رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آپ کے سوا اس کا کوئی اور رب ہے اور اس کے رب نے اسے آپ کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس نے کہا، کیا میرے دروازے پر وہ ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ حکم دیا کہ اندر بلا لو۔ چنانچہ آدمی گیا اور دونوں پیغمبر دربار میں آئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، میں رب العالمین کا رسول ہوں، فرعون نے آپ کو پہچان لیا کہ یہ تو موسیٰ (علیہ السلام) ہے۔
صفحہ نمبر5258
سدی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ آپ مصر میں اپنے ہی گھر ٹھہرے تھے۔ ماں نے اور بھائی نے پہلے تو آپ کو پہچانا نہیں، گھر میں جو پکا تھا وہ مہمان سمجھ کر ان کے پاس لا رکھا۔ اس کے بعد پہچانا سلام کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اس بادشاہ کو اللہ کی طرف بلاؤں اور تمہاری نسبت فرمان ہوا ہے کہ تم میری تائید کرو۔ ہارون علیہ السلام نے فرمایا پھر بسم اللہ کیجئے۔
رات کو دونوں صاحب بادشاہ کے ہاں گئے، موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لکڑی سے کواڑ کھٹکھٹائے۔ فرعون آگ بگولا ہو گیا کہ اتنا بڑا دلیر آدمی کون آ گیا؟ جو یوں بےساختہ دربار کے آداب کے خلاف اپنی لکڑی سے مجھے ہوشیار کر رہا ہے؟ درباریوں نے کہا، کچھ نہیں، یونہی ایک مجنوں آدمی ہے، کہتا پھرتا ہے کہ میں رسول ہوں۔ فرعون نے حکم دیا کہ اسے میرے سامنے پیش کرو۔ چنانچہ ہارون علیہ السلام کو لیے ہوئے آپ اس کے پاس گئے۔ اور اس سے فرمایا کہ ہم اللہ کے رسول ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے انہیں سزائیں نہ کر۔ ہم رب العالمین کیطرف سے اپنی رسالت کی دلیلیں اور معجزے لے کر آئے ہیں، اگر توہماری بات مان لے تو تجھ پر اللہ کی طرف سے سلامتی نازل ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جو خط شاہ روم ہرقل کے نام لکھا تھا، اس میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کے بعد یہ مضمون تھا کہ یہ خط محمد رسول اللہ کی طرف سے شاہ روم ہرقل کے نام ہے، جو ہدایت کی پیروی کرے اس پر سلام ہو۔ اس کے بعد یہ کہ تم اسلام قبول کر لو تو سلامت رہو گے اللہ تعالیٰ دوہرا اجر عنایت فرمائے گا۔ [صحیح بخاری:7]
صفحہ نمبر5259
مسیلمہ کذاب نے صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خط لکھا تھا جس میں تحریر تھا کہ یہ خط اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے اللہ کے رسول محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نام، آپ پر سلام ہو، میں نے آپ کو شریک کار کر لیا ہے شہری آپ کے لیے اور دیہاتی میرے لیے۔ یہ قریشی تو بڑے ہی ظالم لوگ ہیں۔
اس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکھا کہ یہ محمد رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام ہے۔ سلام ہو ان پر جو ہدایت کی تابعداری کریں۔ سن لے، زمین اللہ کی ملکیت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کے لحاظ سے بھلے لوگ وہ ہیں جن کے دل خوف الٰہی سے پر ہوں۔ [سیرۃ ابن ھشام:600/2:ضعیف]
الغرض رسول اللہ کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرعون سے یہی کہا کہ سلام ان پر ہے جو ہدایت کے پیرو ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ ہمیں بذریعہ وحی الٰہی یہ بات معلوم کرائی گئی ہے کہ عذاب کے لائق صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ کے کلام کو جھٹلائیں اور اللہ کی باتوں کے ماننے سے انکار کر جائیں۔ جیسے ارشاد ہے «فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» [79-النازعات:37-39] ” جو شخص سرکشی کرے اور دنیا کی زندگانی پر مر مٹ کر اسی کو پسند کر لے، اس کا آخری ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ “
اور آیتوں میں ہے کہ «فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» [92-الليل:14-16] ” میں تمہیں شعلے مارنے والی آگ جہنم سے ڈرا رہا ہوں جس میں صرف وہ بدبخت داخل ہوں گے جو جھٹلائیں اور منہ موڑ لیں۔ “
اور آیتوں میں ہے کہ «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» [75-القيامة:31-32] ” اس نے نہ تو مانا نہ نماز ادا کی بلکہ دل سے منکر رہا اور کام فرمان کے خلاف کئے۔ “
صفحہ نمبر5260
طه 20:46
اللہ کے سامنے اظہار بےبسی ٭٭
اللہ کے ان دونوں رسولوں علیہم السلام نے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہوئے اپنی کمزوری کی شکایت رب کے سامنے کی کہ ہمیں خوف ہے کہ فرعون کہیں ہم پر کوئی ظلم نہ کرے اور بدسلوکی سے پیش نہ آئے۔ ہماری آواز کو دبانے کے لیے جلدی سے ہمیں کسی مصیبت میں مبتلا نہ کر دے اور ہمارے ساتھ ناانصافی سے پیش نہ آئے۔ رب العالمین کی طرف سے ان کی تشفی کر دی گئی۔
ارشاد ہوا کہ اس کا کچھ خوف نہ کھاؤ، میں خود تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری اور اس کی بات چیت سنتا رہوں گا اور تمہارا حال دیکھتا رہوں گا۔ کوئی بات مجھ پر مخفی نہیں رہ سکتی۔ اس کی چوٹی میرے ہاتھ میں ہے، وہ بغیر میری اجازت کے سانس بھی تو نہیں لے سکتا۔ میرے قبضے سے کبھی باہر نہیں نکل سکتا۔ میری حفاظت و نصرت، تائید و مدد تمہارے ساتھ ہے۔
صفحہ نمبر5257
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں دعا کی کہ مجھے وہ دعا تعلیم فرمائی جائے جو میں فرعون کے پاس جاتے ہوئے پڑھ لیا کروں تو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا تعلیم فرمائی۔ «هَيَّا شراهيا» جس کے معنی عربی میں «أَنَا الْحَيّ قَبْل كُلّ شَيْء وَالْحَيّ بَعْد كُلّ شَيْء» ” یعنی میں ہی ہوں سب سے پہلے زندہ اور سب سے بعد بھی زندہ۔ “ [الدر المنثور للسیوطی:537/4:ضعیف]
پھر انہیں بتلایا گیا کہ یہ فرعون کو کیا کہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، یہ گئے دروازے پر ٹھہرے، اجازت مانگی، بڑی دیر کے بعد اجازت ملی۔ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں پیغمبر دو سال تک روزانہ صبح شام فرعون کے ہاں جاتے رہے، دربانوں سے کہتے رہے کہ ہم دونوں پیغمبروں کی آمد کی خبر بادشاہ سے کرو۔ لیکن فرعون کے ڈر کے مارے کسی نے خبر نہ کی۔ دو سال کے بعد ایک روز اس کے ایک بے تکلف دوست نے جو بادشاہ سے ہنسی دل لگی بھی کر لیا کرتا تھا، کہا کہ آپ کے دروازے پر ایک شخص کھڑا ہے اور ایک عجیب مزے کی بات کہہ رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آپ کے سوا اس کا کوئی اور رب ہے اور اس کے رب نے اسے آپ کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس نے کہا، کیا میرے دروازے پر وہ ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ حکم دیا کہ اندر بلا لو۔ چنانچہ آدمی گیا اور دونوں پیغمبر دربار میں آئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، میں رب العالمین کا رسول ہوں، فرعون نے آپ کو پہچان لیا کہ یہ تو موسیٰ (علیہ السلام) ہے۔
صفحہ نمبر5258
سدی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ آپ مصر میں اپنے ہی گھر ٹھہرے تھے۔ ماں نے اور بھائی نے پہلے تو آپ کو پہچانا نہیں، گھر میں جو پکا تھا وہ مہمان سمجھ کر ان کے پاس لا رکھا۔ اس کے بعد پہچانا سلام کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اس بادشاہ کو اللہ کی طرف بلاؤں اور تمہاری نسبت فرمان ہوا ہے کہ تم میری تائید کرو۔ ہارون علیہ السلام نے فرمایا پھر بسم اللہ کیجئے۔
رات کو دونوں صاحب بادشاہ کے ہاں گئے، موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لکڑی سے کواڑ کھٹکھٹائے۔ فرعون آگ بگولا ہو گیا کہ اتنا بڑا دلیر آدمی کون آ گیا؟ جو یوں بےساختہ دربار کے آداب کے خلاف اپنی لکڑی سے مجھے ہوشیار کر رہا ہے؟ درباریوں نے کہا، کچھ نہیں، یونہی ایک مجنوں آدمی ہے، کہتا پھرتا ہے کہ میں رسول ہوں۔ فرعون نے حکم دیا کہ اسے میرے سامنے پیش کرو۔ چنانچہ ہارون علیہ السلام کو لیے ہوئے آپ اس کے پاس گئے۔ اور اس سے فرمایا کہ ہم اللہ کے رسول ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے انہیں سزائیں نہ کر۔ ہم رب العالمین کیطرف سے اپنی رسالت کی دلیلیں اور معجزے لے کر آئے ہیں، اگر توہماری بات مان لے تو تجھ پر اللہ کی طرف سے سلامتی نازل ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جو خط شاہ روم ہرقل کے نام لکھا تھا، اس میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کے بعد یہ مضمون تھا کہ یہ خط محمد رسول اللہ کی طرف سے شاہ روم ہرقل کے نام ہے، جو ہدایت کی پیروی کرے اس پر سلام ہو۔ اس کے بعد یہ کہ تم اسلام قبول کر لو تو سلامت رہو گے اللہ تعالیٰ دوہرا اجر عنایت فرمائے گا۔ [صحیح بخاری:7]
صفحہ نمبر5259
مسیلمہ کذاب نے صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خط لکھا تھا جس میں تحریر تھا کہ یہ خط اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے اللہ کے رسول محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نام، آپ پر سلام ہو، میں نے آپ کو شریک کار کر لیا ہے شہری آپ کے لیے اور دیہاتی میرے لیے۔ یہ قریشی تو بڑے ہی ظالم لوگ ہیں۔
اس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکھا کہ یہ محمد رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام ہے۔ سلام ہو ان پر جو ہدایت کی تابعداری کریں۔ سن لے، زمین اللہ کی ملکیت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کے لحاظ سے بھلے لوگ وہ ہیں جن کے دل خوف الٰہی سے پر ہوں۔ [سیرۃ ابن ھشام:600/2:ضعیف]
الغرض رسول اللہ کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرعون سے یہی کہا کہ سلام ان پر ہے جو ہدایت کے پیرو ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ ہمیں بذریعہ وحی الٰہی یہ بات معلوم کرائی گئی ہے کہ عذاب کے لائق صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ کے کلام کو جھٹلائیں اور اللہ کی باتوں کے ماننے سے انکار کر جائیں۔ جیسے ارشاد ہے «فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» [79-النازعات:37-39] ” جو شخص سرکشی کرے اور دنیا کی زندگانی پر مر مٹ کر اسی کو پسند کر لے، اس کا آخری ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ “
اور آیتوں میں ہے کہ «فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» [92-الليل:14-16] ” میں تمہیں شعلے مارنے والی آگ جہنم سے ڈرا رہا ہوں جس میں صرف وہ بدبخت داخل ہوں گے جو جھٹلائیں اور منہ موڑ لیں۔ “
اور آیتوں میں ہے کہ «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» [75-القيامة:31-32] ” اس نے نہ تو مانا نہ نماز ادا کی بلکہ دل سے منکر رہا اور کام فرمان کے خلاف کئے۔ “
صفحہ نمبر5260
طه 20:47
اللہ کے سامنے اظہار بےبسی ٭٭
اللہ کے ان دونوں رسولوں علیہم السلام نے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہوئے اپنی کمزوری کی شکایت رب کے سامنے کی کہ ہمیں خوف ہے کہ فرعون کہیں ہم پر کوئی ظلم نہ کرے اور بدسلوکی سے پیش نہ آئے۔ ہماری آواز کو دبانے کے لیے جلدی سے ہمیں کسی مصیبت میں مبتلا نہ کر دے اور ہمارے ساتھ ناانصافی سے پیش نہ آئے۔ رب العالمین کی طرف سے ان کی تشفی کر دی گئی۔
ارشاد ہوا کہ اس کا کچھ خوف نہ کھاؤ، میں خود تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری اور اس کی بات چیت سنتا رہوں گا اور تمہارا حال دیکھتا رہوں گا۔ کوئی بات مجھ پر مخفی نہیں رہ سکتی۔ اس کی چوٹی میرے ہاتھ میں ہے، وہ بغیر میری اجازت کے سانس بھی تو نہیں لے سکتا۔ میرے قبضے سے کبھی باہر نہیں نکل سکتا۔ میری حفاظت و نصرت، تائید و مدد تمہارے ساتھ ہے۔
صفحہ نمبر5257
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں دعا کی کہ مجھے وہ دعا تعلیم فرمائی جائے جو میں فرعون کے پاس جاتے ہوئے پڑھ لیا کروں تو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا تعلیم فرمائی۔ «هَيَّا شراهيا» جس کے معنی عربی میں «أَنَا الْحَيّ قَبْل كُلّ شَيْء وَالْحَيّ بَعْد كُلّ شَيْء» ” یعنی میں ہی ہوں سب سے پہلے زندہ اور سب سے بعد بھی زندہ۔ “ [الدر المنثور للسیوطی:537/4:ضعیف]
پھر انہیں بتلایا گیا کہ یہ فرعون کو کیا کہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، یہ گئے دروازے پر ٹھہرے، اجازت مانگی، بڑی دیر کے بعد اجازت ملی۔ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں پیغمبر دو سال تک روزانہ صبح شام فرعون کے ہاں جاتے رہے، دربانوں سے کہتے رہے کہ ہم دونوں پیغمبروں کی آمد کی خبر بادشاہ سے کرو۔ لیکن فرعون کے ڈر کے مارے کسی نے خبر نہ کی۔ دو سال کے بعد ایک روز اس کے ایک بے تکلف دوست نے جو بادشاہ سے ہنسی دل لگی بھی کر لیا کرتا تھا، کہا کہ آپ کے دروازے پر ایک شخص کھڑا ہے اور ایک عجیب مزے کی بات کہہ رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آپ کے سوا اس کا کوئی اور رب ہے اور اس کے رب نے اسے آپ کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس نے کہا، کیا میرے دروازے پر وہ ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ حکم دیا کہ اندر بلا لو۔ چنانچہ آدمی گیا اور دونوں پیغمبر دربار میں آئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، میں رب العالمین کا رسول ہوں، فرعون نے آپ کو پہچان لیا کہ یہ تو موسیٰ (علیہ السلام) ہے۔
صفحہ نمبر5258
سدی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ آپ مصر میں اپنے ہی گھر ٹھہرے تھے۔ ماں نے اور بھائی نے پہلے تو آپ کو پہچانا نہیں، گھر میں جو پکا تھا وہ مہمان سمجھ کر ان کے پاس لا رکھا۔ اس کے بعد پہچانا سلام کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اس بادشاہ کو اللہ کی طرف بلاؤں اور تمہاری نسبت فرمان ہوا ہے کہ تم میری تائید کرو۔ ہارون علیہ السلام نے فرمایا پھر بسم اللہ کیجئے۔
رات کو دونوں صاحب بادشاہ کے ہاں گئے، موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لکڑی سے کواڑ کھٹکھٹائے۔ فرعون آگ بگولا ہو گیا کہ اتنا بڑا دلیر آدمی کون آ گیا؟ جو یوں بےساختہ دربار کے آداب کے خلاف اپنی لکڑی سے مجھے ہوشیار کر رہا ہے؟ درباریوں نے کہا، کچھ نہیں، یونہی ایک مجنوں آدمی ہے، کہتا پھرتا ہے کہ میں رسول ہوں۔ فرعون نے حکم دیا کہ اسے میرے سامنے پیش کرو۔ چنانچہ ہارون علیہ السلام کو لیے ہوئے آپ اس کے پاس گئے۔ اور اس سے فرمایا کہ ہم اللہ کے رسول ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے انہیں سزائیں نہ کر۔ ہم رب العالمین کیطرف سے اپنی رسالت کی دلیلیں اور معجزے لے کر آئے ہیں، اگر توہماری بات مان لے تو تجھ پر اللہ کی طرف سے سلامتی نازل ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جو خط شاہ روم ہرقل کے نام لکھا تھا، اس میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کے بعد یہ مضمون تھا کہ یہ خط محمد رسول اللہ کی طرف سے شاہ روم ہرقل کے نام ہے، جو ہدایت کی پیروی کرے اس پر سلام ہو۔ اس کے بعد یہ کہ تم اسلام قبول کر لو تو سلامت رہو گے اللہ تعالیٰ دوہرا اجر عنایت فرمائے گا۔ [صحیح بخاری:7]
صفحہ نمبر5259
مسیلمہ کذاب نے صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خط لکھا تھا جس میں تحریر تھا کہ یہ خط اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے اللہ کے رسول محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نام، آپ پر سلام ہو، میں نے آپ کو شریک کار کر لیا ہے شہری آپ کے لیے اور دیہاتی میرے لیے۔ یہ قریشی تو بڑے ہی ظالم لوگ ہیں۔
اس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکھا کہ یہ محمد رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام ہے۔ سلام ہو ان پر جو ہدایت کی تابعداری کریں۔ سن لے، زمین اللہ کی ملکیت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کے لحاظ سے بھلے لوگ وہ ہیں جن کے دل خوف الٰہی سے پر ہوں۔ [سیرۃ ابن ھشام:600/2:ضعیف]
الغرض رسول اللہ کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرعون سے یہی کہا کہ سلام ان پر ہے جو ہدایت کے پیرو ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ ہمیں بذریعہ وحی الٰہی یہ بات معلوم کرائی گئی ہے کہ عذاب کے لائق صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ کے کلام کو جھٹلائیں اور اللہ کی باتوں کے ماننے سے انکار کر جائیں۔ جیسے ارشاد ہے «فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» [79-النازعات:37-39] ” جو شخص سرکشی کرے اور دنیا کی زندگانی پر مر مٹ کر اسی کو پسند کر لے، اس کا آخری ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ “
اور آیتوں میں ہے کہ «فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» [92-الليل:14-16] ” میں تمہیں شعلے مارنے والی آگ جہنم سے ڈرا رہا ہوں جس میں صرف وہ بدبخت داخل ہوں گے جو جھٹلائیں اور منہ موڑ لیں۔ “
اور آیتوں میں ہے کہ «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» [75-القيامة:31-32] ” اس نے نہ تو مانا نہ نماز ادا کی بلکہ دل سے منکر رہا اور کام فرمان کے خلاف کئے۔ “
صفحہ نمبر5260
طه 20:48
اللہ کے سامنے اظہار بےبسی ٭٭
اللہ کے ان دونوں رسولوں علیہم السلام نے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہوئے اپنی کمزوری کی شکایت رب کے سامنے کی کہ ہمیں خوف ہے کہ فرعون کہیں ہم پر کوئی ظلم نہ کرے اور بدسلوکی سے پیش نہ آئے۔ ہماری آواز کو دبانے کے لیے جلدی سے ہمیں کسی مصیبت میں مبتلا نہ کر دے اور ہمارے ساتھ ناانصافی سے پیش نہ آئے۔ رب العالمین کی طرف سے ان کی تشفی کر دی گئی۔
ارشاد ہوا کہ اس کا کچھ خوف نہ کھاؤ، میں خود تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری اور اس کی بات چیت سنتا رہوں گا اور تمہارا حال دیکھتا رہوں گا۔ کوئی بات مجھ پر مخفی نہیں رہ سکتی۔ اس کی چوٹی میرے ہاتھ میں ہے، وہ بغیر میری اجازت کے سانس بھی تو نہیں لے سکتا۔ میرے قبضے سے کبھی باہر نہیں نکل سکتا۔ میری حفاظت و نصرت، تائید و مدد تمہارے ساتھ ہے۔
صفحہ نمبر5257
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں دعا کی کہ مجھے وہ دعا تعلیم فرمائی جائے جو میں فرعون کے پاس جاتے ہوئے پڑھ لیا کروں تو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا تعلیم فرمائی۔ «هَيَّا شراهيا» جس کے معنی عربی میں «أَنَا الْحَيّ قَبْل كُلّ شَيْء وَالْحَيّ بَعْد كُلّ شَيْء» ” یعنی میں ہی ہوں سب سے پہلے زندہ اور سب سے بعد بھی زندہ۔ “ [الدر المنثور للسیوطی:537/4:ضعیف]
پھر انہیں بتلایا گیا کہ یہ فرعون کو کیا کہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، یہ گئے دروازے پر ٹھہرے، اجازت مانگی، بڑی دیر کے بعد اجازت ملی۔ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں پیغمبر دو سال تک روزانہ صبح شام فرعون کے ہاں جاتے رہے، دربانوں سے کہتے رہے کہ ہم دونوں پیغمبروں کی آمد کی خبر بادشاہ سے کرو۔ لیکن فرعون کے ڈر کے مارے کسی نے خبر نہ کی۔ دو سال کے بعد ایک روز اس کے ایک بے تکلف دوست نے جو بادشاہ سے ہنسی دل لگی بھی کر لیا کرتا تھا، کہا کہ آپ کے دروازے پر ایک شخص کھڑا ہے اور ایک عجیب مزے کی بات کہہ رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آپ کے سوا اس کا کوئی اور رب ہے اور اس کے رب نے اسے آپ کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس نے کہا، کیا میرے دروازے پر وہ ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ حکم دیا کہ اندر بلا لو۔ چنانچہ آدمی گیا اور دونوں پیغمبر دربار میں آئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، میں رب العالمین کا رسول ہوں، فرعون نے آپ کو پہچان لیا کہ یہ تو موسیٰ (علیہ السلام) ہے۔
صفحہ نمبر5258
سدی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ آپ مصر میں اپنے ہی گھر ٹھہرے تھے۔ ماں نے اور بھائی نے پہلے تو آپ کو پہچانا نہیں، گھر میں جو پکا تھا وہ مہمان سمجھ کر ان کے پاس لا رکھا۔ اس کے بعد پہچانا سلام کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اس بادشاہ کو اللہ کی طرف بلاؤں اور تمہاری نسبت فرمان ہوا ہے کہ تم میری تائید کرو۔ ہارون علیہ السلام نے فرمایا پھر بسم اللہ کیجئے۔
رات کو دونوں صاحب بادشاہ کے ہاں گئے، موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لکڑی سے کواڑ کھٹکھٹائے۔ فرعون آگ بگولا ہو گیا کہ اتنا بڑا دلیر آدمی کون آ گیا؟ جو یوں بےساختہ دربار کے آداب کے خلاف اپنی لکڑی سے مجھے ہوشیار کر رہا ہے؟ درباریوں نے کہا، کچھ نہیں، یونہی ایک مجنوں آدمی ہے، کہتا پھرتا ہے کہ میں رسول ہوں۔ فرعون نے حکم دیا کہ اسے میرے سامنے پیش کرو۔ چنانچہ ہارون علیہ السلام کو لیے ہوئے آپ اس کے پاس گئے۔ اور اس سے فرمایا کہ ہم اللہ کے رسول ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے انہیں سزائیں نہ کر۔ ہم رب العالمین کیطرف سے اپنی رسالت کی دلیلیں اور معجزے لے کر آئے ہیں، اگر توہماری بات مان لے تو تجھ پر اللہ کی طرف سے سلامتی نازل ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جو خط شاہ روم ہرقل کے نام لکھا تھا، اس میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کے بعد یہ مضمون تھا کہ یہ خط محمد رسول اللہ کی طرف سے شاہ روم ہرقل کے نام ہے، جو ہدایت کی پیروی کرے اس پر سلام ہو۔ اس کے بعد یہ کہ تم اسلام قبول کر لو تو سلامت رہو گے اللہ تعالیٰ دوہرا اجر عنایت فرمائے گا۔ [صحیح بخاری:7]
صفحہ نمبر5259
مسیلمہ کذاب نے صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خط لکھا تھا جس میں تحریر تھا کہ یہ خط اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے اللہ کے رسول محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نام، آپ پر سلام ہو، میں نے آپ کو شریک کار کر لیا ہے شہری آپ کے لیے اور دیہاتی میرے لیے۔ یہ قریشی تو بڑے ہی ظالم لوگ ہیں۔
اس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکھا کہ یہ محمد رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام ہے۔ سلام ہو ان پر جو ہدایت کی تابعداری کریں۔ سن لے، زمین اللہ کی ملکیت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کے لحاظ سے بھلے لوگ وہ ہیں جن کے دل خوف الٰہی سے پر ہوں۔ [سیرۃ ابن ھشام:600/2:ضعیف]
الغرض رسول اللہ کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرعون سے یہی کہا کہ سلام ان پر ہے جو ہدایت کے پیرو ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ ہمیں بذریعہ وحی الٰہی یہ بات معلوم کرائی گئی ہے کہ عذاب کے لائق صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ کے کلام کو جھٹلائیں اور اللہ کی باتوں کے ماننے سے انکار کر جائیں۔ جیسے ارشاد ہے «فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» [79-النازعات:37-39] ” جو شخص سرکشی کرے اور دنیا کی زندگانی پر مر مٹ کر اسی کو پسند کر لے، اس کا آخری ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ “
اور آیتوں میں ہے کہ «فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» [92-الليل:14-16] ” میں تمہیں شعلے مارنے والی آگ جہنم سے ڈرا رہا ہوں جس میں صرف وہ بدبخت داخل ہوں گے جو جھٹلائیں اور منہ موڑ لیں۔ “
اور آیتوں میں ہے کہ «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» [75-القيامة:31-32] ” اس نے نہ تو مانا نہ نماز ادا کی بلکہ دل سے منکر رہا اور کام فرمان کے خلاف کئے۔ “
صفحہ نمبر5260
طه 20:49
مکالمات موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭
چونکہ یہ ناہنجار یعنی فرعون مصر وجود باری تعالیٰ کا منکر تھا، پیغام الٰہی کلیم اللہ علیہ السلام کی زبانی سن کر وجود خالق کے انکار کے طور پر سوال کرنے لگا کہ تمہارا بھیجنے والا اور تمہارا رب کون ہے؟ میں تو اسے نہیں جانتا نہ اسے مانتا ہوں۔ بلکہ میری دانست میں تو تم سب کا رب میرے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سچے رسول علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شخص کو اس کا جوڑا عطا فرمایا ہے۔ انسان کو بصورت انسان، گدھے کو اس کی صورت پر، بکری کو ایک علیحدہ صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ ہر ایک کو اس کی مخصوص صورت میں بنایا ہے۔ ہر ایک کی پیدائش نرالی شان سے درست کر دی ہے۔
انسانی پیدائش کا طریقہ الگ ہے، چوپائے الگ صورت میں ہیں، درندے الگ وضع میں ہیں۔ ہر ایک کے جوڑے کی ہئیت ترکیبی علیحدہ ہے۔ کھانا پینا، کھانے پینے کی چیزیں، جوڑے سب الگ الگ اور ممتاز و مخصوص ہیں۔ ہر ایک کا انداز مقرر کر کے پھر اس کی ترکیب اسے بتلا دی ہے۔ عمل اجل، رزق مقدر اور مقرر کر کے اسی پر لگا دیا ہے۔ نظام کے ساتھ ساری مخلوق کا کارخانہ چل رہا ہے۔ کوئی اس سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتا۔ خلق کا خالق، تقدیروں کا مقرر کرنے والا، اپنے ارادے پر مخلوق کی پیدائش کرنے والا ہی ہمارا رب ہے۔ یہ سب سن کر اس بےسمجھ نے پوچھا کہ اچھا تو پھر ان کا کیا حال ہے جو ہم سے پہلے تھے اور اللہ کی عبادت کے منکر تھے؟ اس سوال کو اس نے اہمیت کے ساتھ کیا۔ لیکن اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے ایسا جواب دیا کہ عاجز ہو گیا۔ فرمایا ان سب کا علم میرے رب کو ہے۔ لوح محفوظ میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں، جزا سزا کا دن مقرر ہے۔ نہ وہ غلط کرے کہ کوئی چھوٹا بڑا اس کی پکڑ سے چھوٹ جائے، نہ وہ بھولے کہ مجرم اس کی گرفت سے رہ جائیں۔ اس کا علم تمام چیزوں کو اپنے میں گھیرے ہوئے ہے۔ اس کی ذات بھول چوک سے پاک ہے۔ نہ اس کے علم سے کوئی چیز باہر، نہ علم کے بعد بھول جانے کا اس کا وصف، وہ کمی علم کے نقصان سے، وہ بھول کے نقصان سے پاک ہے۔
صفحہ نمبر5264
طه 20:50
مکالمات موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭
چونکہ یہ ناہنجار یعنی فرعون مصر وجود باری تعالیٰ کا منکر تھا، پیغام الٰہی کلیم اللہ علیہ السلام کی زبانی سن کر وجود خالق کے انکار کے طور پر سوال کرنے لگا کہ تمہارا بھیجنے والا اور تمہارا رب کون ہے؟ میں تو اسے نہیں جانتا نہ اسے مانتا ہوں۔ بلکہ میری دانست میں تو تم سب کا رب میرے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سچے رسول علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شخص کو اس کا جوڑا عطا فرمایا ہے۔ انسان کو بصورت انسان، گدھے کو اس کی صورت پر، بکری کو ایک علیحدہ صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ ہر ایک کو اس کی مخصوص صورت میں بنایا ہے۔ ہر ایک کی پیدائش نرالی شان سے درست کر دی ہے۔
انسانی پیدائش کا طریقہ الگ ہے، چوپائے الگ صورت میں ہیں، درندے الگ وضع میں ہیں۔ ہر ایک کے جوڑے کی ہئیت ترکیبی علیحدہ ہے۔ کھانا پینا، کھانے پینے کی چیزیں، جوڑے سب الگ الگ اور ممتاز و مخصوص ہیں۔ ہر ایک کا انداز مقرر کر کے پھر اس کی ترکیب اسے بتلا دی ہے۔ عمل اجل، رزق مقدر اور مقرر کر کے اسی پر لگا دیا ہے۔ نظام کے ساتھ ساری مخلوق کا کارخانہ چل رہا ہے۔ کوئی اس سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتا۔ خلق کا خالق، تقدیروں کا مقرر کرنے والا، اپنے ارادے پر مخلوق کی پیدائش کرنے والا ہی ہمارا رب ہے۔ یہ سب سن کر اس بےسمجھ نے پوچھا کہ اچھا تو پھر ان کا کیا حال ہے جو ہم سے پہلے تھے اور اللہ کی عبادت کے منکر تھے؟ اس سوال کو اس نے اہمیت کے ساتھ کیا۔ لیکن اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے ایسا جواب دیا کہ عاجز ہو گیا۔ فرمایا ان سب کا علم میرے رب کو ہے۔ لوح محفوظ میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں، جزا سزا کا دن مقرر ہے۔ نہ وہ غلط کرے کہ کوئی چھوٹا بڑا اس کی پکڑ سے چھوٹ جائے، نہ وہ بھولے کہ مجرم اس کی گرفت سے رہ جائیں۔ اس کا علم تمام چیزوں کو اپنے میں گھیرے ہوئے ہے۔ اس کی ذات بھول چوک سے پاک ہے۔ نہ اس کے علم سے کوئی چیز باہر، نہ علم کے بعد بھول جانے کا اس کا وصف، وہ کمی علم کے نقصان سے، وہ بھول کے نقصان سے پاک ہے۔
صفحہ نمبر5264
طه 20:51
مکالمات موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭
چونکہ یہ ناہنجار یعنی فرعون مصر وجود باری تعالیٰ کا منکر تھا، پیغام الٰہی کلیم اللہ علیہ السلام کی زبانی سن کر وجود خالق کے انکار کے طور پر سوال کرنے لگا کہ تمہارا بھیجنے والا اور تمہارا رب کون ہے؟ میں تو اسے نہیں جانتا نہ اسے مانتا ہوں۔ بلکہ میری دانست میں تو تم سب کا رب میرے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سچے رسول علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شخص کو اس کا جوڑا عطا فرمایا ہے۔ انسان کو بصورت انسان، گدھے کو اس کی صورت پر، بکری کو ایک علیحدہ صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ ہر ایک کو اس کی مخصوص صورت میں بنایا ہے۔ ہر ایک کی پیدائش نرالی شان سے درست کر دی ہے۔
انسانی پیدائش کا طریقہ الگ ہے، چوپائے الگ صورت میں ہیں، درندے الگ وضع میں ہیں۔ ہر ایک کے جوڑے کی ہئیت ترکیبی علیحدہ ہے۔ کھانا پینا، کھانے پینے کی چیزیں، جوڑے سب الگ الگ اور ممتاز و مخصوص ہیں۔ ہر ایک کا انداز مقرر کر کے پھر اس کی ترکیب اسے بتلا دی ہے۔ عمل اجل، رزق مقدر اور مقرر کر کے اسی پر لگا دیا ہے۔ نظام کے ساتھ ساری مخلوق کا کارخانہ چل رہا ہے۔ کوئی اس سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتا۔ خلق کا خالق، تقدیروں کا مقرر کرنے والا، اپنے ارادے پر مخلوق کی پیدائش کرنے والا ہی ہمارا رب ہے۔ یہ سب سن کر اس بےسمجھ نے پوچھا کہ اچھا تو پھر ان کا کیا حال ہے جو ہم سے پہلے تھے اور اللہ کی عبادت کے منکر تھے؟ اس سوال کو اس نے اہمیت کے ساتھ کیا۔ لیکن اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے ایسا جواب دیا کہ عاجز ہو گیا۔ فرمایا ان سب کا علم میرے رب کو ہے۔ لوح محفوظ میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں، جزا سزا کا دن مقرر ہے۔ نہ وہ غلط کرے کہ کوئی چھوٹا بڑا اس کی پکڑ سے چھوٹ جائے، نہ وہ بھولے کہ مجرم اس کی گرفت سے رہ جائیں۔ اس کا علم تمام چیزوں کو اپنے میں گھیرے ہوئے ہے۔ اس کی ذات بھول چوک سے پاک ہے۔ نہ اس کے علم سے کوئی چیز باہر، نہ علم کے بعد بھول جانے کا اس کا وصف، وہ کمی علم کے نقصان سے، وہ بھول کے نقصان سے پاک ہے۔
صفحہ نمبر5264
طه 20:52
مکالمات موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭
چونکہ یہ ناہنجار یعنی فرعون مصر وجود باری تعالیٰ کا منکر تھا، پیغام الٰہی کلیم اللہ علیہ السلام کی زبانی سن کر وجود خالق کے انکار کے طور پر سوال کرنے لگا کہ تمہارا بھیجنے والا اور تمہارا رب کون ہے؟ میں تو اسے نہیں جانتا نہ اسے مانتا ہوں۔ بلکہ میری دانست میں تو تم سب کا رب میرے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سچے رسول علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شخص کو اس کا جوڑا عطا فرمایا ہے۔ انسان کو بصورت انسان، گدھے کو اس کی صورت پر، بکری کو ایک علیحدہ صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ ہر ایک کو اس کی مخصوص صورت میں بنایا ہے۔ ہر ایک کی پیدائش نرالی شان سے درست کر دی ہے۔
انسانی پیدائش کا طریقہ الگ ہے، چوپائے الگ صورت میں ہیں، درندے الگ وضع میں ہیں۔ ہر ایک کے جوڑے کی ہئیت ترکیبی علیحدہ ہے۔ کھانا پینا، کھانے پینے کی چیزیں، جوڑے سب الگ الگ اور ممتاز و مخصوص ہیں۔ ہر ایک کا انداز مقرر کر کے پھر اس کی ترکیب اسے بتلا دی ہے۔ عمل اجل، رزق مقدر اور مقرر کر کے اسی پر لگا دیا ہے۔ نظام کے ساتھ ساری مخلوق کا کارخانہ چل رہا ہے۔ کوئی اس سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتا۔ خلق کا خالق، تقدیروں کا مقرر کرنے والا، اپنے ارادے پر مخلوق کی پیدائش کرنے والا ہی ہمارا رب ہے۔ یہ سب سن کر اس بےسمجھ نے پوچھا کہ اچھا تو پھر ان کا کیا حال ہے جو ہم سے پہلے تھے اور اللہ کی عبادت کے منکر تھے؟ اس سوال کو اس نے اہمیت کے ساتھ کیا۔ لیکن اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے ایسا جواب دیا کہ عاجز ہو گیا۔ فرمایا ان سب کا علم میرے رب کو ہے۔ لوح محفوظ میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں، جزا سزا کا دن مقرر ہے۔ نہ وہ غلط کرے کہ کوئی چھوٹا بڑا اس کی پکڑ سے چھوٹ جائے، نہ وہ بھولے کہ مجرم اس کی گرفت سے رہ جائیں۔ اس کا علم تمام چیزوں کو اپنے میں گھیرے ہوئے ہے۔ اس کی ذات بھول چوک سے پاک ہے۔ نہ اس کے علم سے کوئی چیز باہر، نہ علم کے بعد بھول جانے کا اس کا وصف، وہ کمی علم کے نقصان سے، وہ بھول کے نقصان سے پاک ہے۔
صفحہ نمبر5264
طه 20:53
اللہ رب العزت کا تعارف ٭٭
موسیٰ علیہ السلام فرعون کے سوال کے جواب میں اوصاف الٰہی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسی اللہ نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش بنایا ہے۔ «مَهْدًا» کی دوسری قرأت «مھَادًا» ہے۔ زمین کو اللہ تعالیٰ نے بطور فرش کے بنا دیا ہے کہ تم اس پر قرار کئے ہوئے ہو، اسی پر سوتے بیٹھتے رہتے سہتے ہو۔ «وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ» [21-الأنبياء:31] ” اس نے زمین میں تمہارے چلنے پھرنے اور سفر کرنے کے لیے راہیں بنا دی ہیں تاکہ تم راستہ نہ بھولو۔ “
اور منزل مقصود تک بہ آسانی پہنچ سکو۔ وہی آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس کی وجہ سے زمین سے ہر قسم کی پیداوار اگاتا ہے۔ کھیتیاں، باغات، میوے، قسم قسم کے ذائقے دار کہ تم خود کھا لو اور اپنے جانوروں کو چارہ بھی دو۔ تمہارا کھانا اور میوے، تمہارے جانوروں کا چارا، خشک اور تر سب اسی سے اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔ جن کی عقلیں صحیح سالم ہیں، ان کے لیے تو قدرت کی یہ تمام نشانیاں دلیل ہیں اللہ کی الوہیت، اس کی وحدانیت اور اس کے وجود پر۔ اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا فرمایا ہے، تمہاری ابتداء اسی سے ہے۔ اس لیے کہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام کی پیدائش اسی سے ہوئی ہے۔ اسی میں تمہیں پھر لوٹنا ہے، مر کر اسی میں دفن ہونا ہے، اسی سے پھر قیامت کے دن کھڑے کئے جاؤ گے۔ «يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الإسراء:52] ” ہماری پکار پر ہماری تعریفیں کرتے ہوئے اٹھو گے اور یقین کر لو گے کہ تم بہت ہی تھوڑی دیر رہے۔ “
جیسے اور آیت میں ہے کہ «قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ» [7-الأعراف:25] ” اسی زمین پر تمہاری زندگی گزرے گی، مر کر بھی اسی میں جاؤ گے، پھر اسی میں سے نکالے جاؤ گے۔“
سنن کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کے دفن کے بعد اس کی قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے پہلی بار فرمایا «مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ» دوسری لپ ڈالتے ہوئے فرمایا «وَفِيهَا نُعِيدكُمْ» تیسری بار فرمایا «وَمِنْهَا نُخْرِجكُمْ تَارَة أُخْرَى» ۔
الغرض فرعون کے سامنے دلیلیں آ چکیں، اس نے معجزے اور نشان دیکھ لیے لیکن سب کا انکار اور تکذیب کرتا رہا، کفر، سرکشی، ضد اور تکبر سے باز نہ آیا۔ جیسے فرمان ہے «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» [27-النمل:14] ” یعنی باوجود یہ کہ ان کے دلوں میں یقین ہو چکا تھا لیکن تاہم ازراہ ظلم و زیادتی انکار سے باز نہ آئے۔ “
صفحہ نمبر5268
طه 20:54
اللہ رب العزت کا تعارف ٭٭
موسیٰ علیہ السلام فرعون کے سوال کے جواب میں اوصاف الٰہی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسی اللہ نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش بنایا ہے۔ «مَهْدًا» کی دوسری قرأت «مھَادًا» ہے۔ زمین کو اللہ تعالیٰ نے بطور فرش کے بنا دیا ہے کہ تم اس پر قرار کئے ہوئے ہو، اسی پر سوتے بیٹھتے رہتے سہتے ہو۔ «وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ» [21-الأنبياء:31] ” اس نے زمین میں تمہارے چلنے پھرنے اور سفر کرنے کے لیے راہیں بنا دی ہیں تاکہ تم راستہ نہ بھولو۔ “
اور منزل مقصود تک بہ آسانی پہنچ سکو۔ وہی آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس کی وجہ سے زمین سے ہر قسم کی پیداوار اگاتا ہے۔ کھیتیاں، باغات، میوے، قسم قسم کے ذائقے دار کہ تم خود کھا لو اور اپنے جانوروں کو چارہ بھی دو۔ تمہارا کھانا اور میوے، تمہارے جانوروں کا چارا، خشک اور تر سب اسی سے اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔ جن کی عقلیں صحیح سالم ہیں، ان کے لیے تو قدرت کی یہ تمام نشانیاں دلیل ہیں اللہ کی الوہیت، اس کی وحدانیت اور اس کے وجود پر۔ اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا فرمایا ہے، تمہاری ابتداء اسی سے ہے۔ اس لیے کہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام کی پیدائش اسی سے ہوئی ہے۔ اسی میں تمہیں پھر لوٹنا ہے، مر کر اسی میں دفن ہونا ہے، اسی سے پھر قیامت کے دن کھڑے کئے جاؤ گے۔ «يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الإسراء:52] ” ہماری پکار پر ہماری تعریفیں کرتے ہوئے اٹھو گے اور یقین کر لو گے کہ تم بہت ہی تھوڑی دیر رہے۔ “
جیسے اور آیت میں ہے کہ «قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ» [7-الأعراف:25] ” اسی زمین پر تمہاری زندگی گزرے گی، مر کر بھی اسی میں جاؤ گے، پھر اسی میں سے نکالے جاؤ گے۔“
سنن کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کے دفن کے بعد اس کی قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے پہلی بار فرمایا «مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ» دوسری لپ ڈالتے ہوئے فرمایا «وَفِيهَا نُعِيدكُمْ» تیسری بار فرمایا «وَمِنْهَا نُخْرِجكُمْ تَارَة أُخْرَى» ۔
الغرض فرعون کے سامنے دلیلیں آ چکیں، اس نے معجزے اور نشان دیکھ لیے لیکن سب کا انکار اور تکذیب کرتا رہا، کفر، سرکشی، ضد اور تکبر سے باز نہ آیا۔ جیسے فرمان ہے «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» [27-النمل:14] ” یعنی باوجود یہ کہ ان کے دلوں میں یقین ہو چکا تھا لیکن تاہم ازراہ ظلم و زیادتی انکار سے باز نہ آئے۔ “
صفحہ نمبر5268
طه 20:55
اللہ رب العزت کا تعارف ٭٭
موسیٰ علیہ السلام فرعون کے سوال کے جواب میں اوصاف الٰہی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسی اللہ نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش بنایا ہے۔ «مَهْدًا» کی دوسری قرأت «مھَادًا» ہے۔ زمین کو اللہ تعالیٰ نے بطور فرش کے بنا دیا ہے کہ تم اس پر قرار کئے ہوئے ہو، اسی پر سوتے بیٹھتے رہتے سہتے ہو۔ «وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ» [21-الأنبياء:31] ” اس نے زمین میں تمہارے چلنے پھرنے اور سفر کرنے کے لیے راہیں بنا دی ہیں تاکہ تم راستہ نہ بھولو۔ “
اور منزل مقصود تک بہ آسانی پہنچ سکو۔ وہی آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس کی وجہ سے زمین سے ہر قسم کی پیداوار اگاتا ہے۔ کھیتیاں، باغات، میوے، قسم قسم کے ذائقے دار کہ تم خود کھا لو اور اپنے جانوروں کو چارہ بھی دو۔ تمہارا کھانا اور میوے، تمہارے جانوروں کا چارا، خشک اور تر سب اسی سے اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔ جن کی عقلیں صحیح سالم ہیں، ان کے لیے تو قدرت کی یہ تمام نشانیاں دلیل ہیں اللہ کی الوہیت، اس کی وحدانیت اور اس کے وجود پر۔ اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا فرمایا ہے، تمہاری ابتداء اسی سے ہے۔ اس لیے کہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام کی پیدائش اسی سے ہوئی ہے۔ اسی میں تمہیں پھر لوٹنا ہے، مر کر اسی میں دفن ہونا ہے، اسی سے پھر قیامت کے دن کھڑے کئے جاؤ گے۔ «يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الإسراء:52] ” ہماری پکار پر ہماری تعریفیں کرتے ہوئے اٹھو گے اور یقین کر لو گے کہ تم بہت ہی تھوڑی دیر رہے۔ “
جیسے اور آیت میں ہے کہ «قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ» [7-الأعراف:25] ” اسی زمین پر تمہاری زندگی گزرے گی، مر کر بھی اسی میں جاؤ گے، پھر اسی میں سے نکالے جاؤ گے۔“
سنن کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کے دفن کے بعد اس کی قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے پہلی بار فرمایا «مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ» دوسری لپ ڈالتے ہوئے فرمایا «وَفِيهَا نُعِيدكُمْ» تیسری بار فرمایا «وَمِنْهَا نُخْرِجكُمْ تَارَة أُخْرَى» ۔
الغرض فرعون کے سامنے دلیلیں آ چکیں، اس نے معجزے اور نشان دیکھ لیے لیکن سب کا انکار اور تکذیب کرتا رہا، کفر، سرکشی، ضد اور تکبر سے باز نہ آیا۔ جیسے فرمان ہے «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» [27-النمل:14] ” یعنی باوجود یہ کہ ان کے دلوں میں یقین ہو چکا تھا لیکن تاہم ازراہ ظلم و زیادتی انکار سے باز نہ آئے۔ “
صفحہ نمبر5268
طه 20:56
اللہ رب العزت کا تعارف ٭٭
موسیٰ علیہ السلام فرعون کے سوال کے جواب میں اوصاف الٰہی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسی اللہ نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش بنایا ہے۔ «مَهْدًا» کی دوسری قرأت «مھَادًا» ہے۔ زمین کو اللہ تعالیٰ نے بطور فرش کے بنا دیا ہے کہ تم اس پر قرار کئے ہوئے ہو، اسی پر سوتے بیٹھتے رہتے سہتے ہو۔ «وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ» [21-الأنبياء:31] ” اس نے زمین میں تمہارے چلنے پھرنے اور سفر کرنے کے لیے راہیں بنا دی ہیں تاکہ تم راستہ نہ بھولو۔ “
اور منزل مقصود تک بہ آسانی پہنچ سکو۔ وہی آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس کی وجہ سے زمین سے ہر قسم کی پیداوار اگاتا ہے۔ کھیتیاں، باغات، میوے، قسم قسم کے ذائقے دار کہ تم خود کھا لو اور اپنے جانوروں کو چارہ بھی دو۔ تمہارا کھانا اور میوے، تمہارے جانوروں کا چارا، خشک اور تر سب اسی سے اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔ جن کی عقلیں صحیح سالم ہیں، ان کے لیے تو قدرت کی یہ تمام نشانیاں دلیل ہیں اللہ کی الوہیت، اس کی وحدانیت اور اس کے وجود پر۔ اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا فرمایا ہے، تمہاری ابتداء اسی سے ہے۔ اس لیے کہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام کی پیدائش اسی سے ہوئی ہے۔ اسی میں تمہیں پھر لوٹنا ہے، مر کر اسی میں دفن ہونا ہے، اسی سے پھر قیامت کے دن کھڑے کئے جاؤ گے۔ «يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الإسراء:52] ” ہماری پکار پر ہماری تعریفیں کرتے ہوئے اٹھو گے اور یقین کر لو گے کہ تم بہت ہی تھوڑی دیر رہے۔ “
جیسے اور آیت میں ہے کہ «قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ» [7-الأعراف:25] ” اسی زمین پر تمہاری زندگی گزرے گی، مر کر بھی اسی میں جاؤ گے، پھر اسی میں سے نکالے جاؤ گے۔“
سنن کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کے دفن کے بعد اس کی قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے پہلی بار فرمایا «مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ» دوسری لپ ڈالتے ہوئے فرمایا «وَفِيهَا نُعِيدكُمْ» تیسری بار فرمایا «وَمِنْهَا نُخْرِجكُمْ تَارَة أُخْرَى» ۔
الغرض فرعون کے سامنے دلیلیں آ چکیں، اس نے معجزے اور نشان دیکھ لیے لیکن سب کا انکار اور تکذیب کرتا رہا، کفر، سرکشی، ضد اور تکبر سے باز نہ آیا۔ جیسے فرمان ہے «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» [27-النمل:14] ” یعنی باوجود یہ کہ ان کے دلوں میں یقین ہو چکا تھا لیکن تاہم ازراہ ظلم و زیادتی انکار سے باز نہ آئے۔ “
صفحہ نمبر5268
طه 20:57
فرعون کے ساحر اور موسیٰ علیہ السلام ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ لکڑی کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا روشن ہو جانا وغیرہ دیکھ کر فرعون نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور تو جادو کے زور سے ہمارا ملک چھیننا چاہتا ہے۔ تو مغرور نہ ہو۔ جا ہم بھی اس جادو میں تیرا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ دن اور جگہ مقرر ہو جائے اور مقابلہ ہو جائے۔ ہم بھی اس دن اس جگہ آ جائیں اور تو بھی، ایسا نہ ہو کہ کوئی نہ آئے۔ کھلے میدان میں سب کے سامنے ہار جیت کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، مجھے منظور ہے اور میرے خیال سے تو اس کے لیے تمہاری عید کا دن مناسب ہے۔ کیونکہ وہ فرصت کا دن ہوتا ہے سب آ جائیں گے اور دیکھ کر حق و باطل میں تمیز کر لیں گے۔ معجزے اور جادو کا فرق سب پر ظاہر ہو جائے گا۔ وقت دن چڑھے کا رکھنا چاہیئے تاکہ جو کچھ میدان میں آئے سب دیکھ سکیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ان کی زینت اور عید کا دن عاشورے کا دن تھا۔ یہ یاد رہے کہ انبیاء علیہ السلام ایسے موقعوں پر کبھی پیچھے نہیں رہتے۔ ایسا کام کرتے ہیں جس سے حق صاف واضح ہو جائے اور ہر ایک پرکھ لے۔ اسی لیے آپ نے ان کی عید کا دن مقرر کیا اور وقت دن چڑھے کا بتایا اور صاف ہموار میدان مقرر کیا کہ جہاں سے ہر ایک دیکھ سکے اور جو باتیں ہوں وہ بھی سن سکے وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرعون نے مہلت چاہی۔ موسیٰ علیہ السلام نے انکار کیا، اس پر وحی اتری کہ مدت مقرر کر لو۔ فرعون نے چالیس دن کی مہلت مانگی جو منظور کی گئی۔
صفحہ نمبر5272
طه 20:58
فرعون کے ساحر اور موسیٰ علیہ السلام ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ لکڑی کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا روشن ہو جانا وغیرہ دیکھ کر فرعون نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور تو جادو کے زور سے ہمارا ملک چھیننا چاہتا ہے۔ تو مغرور نہ ہو۔ جا ہم بھی اس جادو میں تیرا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ دن اور جگہ مقرر ہو جائے اور مقابلہ ہو جائے۔ ہم بھی اس دن اس جگہ آ جائیں اور تو بھی، ایسا نہ ہو کہ کوئی نہ آئے۔ کھلے میدان میں سب کے سامنے ہار جیت کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، مجھے منظور ہے اور میرے خیال سے تو اس کے لیے تمہاری عید کا دن مناسب ہے۔ کیونکہ وہ فرصت کا دن ہوتا ہے سب آ جائیں گے اور دیکھ کر حق و باطل میں تمیز کر لیں گے۔ معجزے اور جادو کا فرق سب پر ظاہر ہو جائے گا۔ وقت دن چڑھے کا رکھنا چاہیئے تاکہ جو کچھ میدان میں آئے سب دیکھ سکیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ان کی زینت اور عید کا دن عاشورے کا دن تھا۔ یہ یاد رہے کہ انبیاء علیہ السلام ایسے موقعوں پر کبھی پیچھے نہیں رہتے۔ ایسا کام کرتے ہیں جس سے حق صاف واضح ہو جائے اور ہر ایک پرکھ لے۔ اسی لیے آپ نے ان کی عید کا دن مقرر کیا اور وقت دن چڑھے کا بتایا اور صاف ہموار میدان مقرر کیا کہ جہاں سے ہر ایک دیکھ سکے اور جو باتیں ہوں وہ بھی سن سکے وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرعون نے مہلت چاہی۔ موسیٰ علیہ السلام نے انکار کیا، اس پر وحی اتری کہ مدت مقرر کر لو۔ فرعون نے چالیس دن کی مہلت مانگی جو منظور کی گئی۔
صفحہ نمبر5272
طه 20:59
فرعون کے ساحر اور موسیٰ علیہ السلام ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ لکڑی کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا روشن ہو جانا وغیرہ دیکھ کر فرعون نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور تو جادو کے زور سے ہمارا ملک چھیننا چاہتا ہے۔ تو مغرور نہ ہو۔ جا ہم بھی اس جادو میں تیرا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ دن اور جگہ مقرر ہو جائے اور مقابلہ ہو جائے۔ ہم بھی اس دن اس جگہ آ جائیں اور تو بھی، ایسا نہ ہو کہ کوئی نہ آئے۔ کھلے میدان میں سب کے سامنے ہار جیت کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، مجھے منظور ہے اور میرے خیال سے تو اس کے لیے تمہاری عید کا دن مناسب ہے۔ کیونکہ وہ فرصت کا دن ہوتا ہے سب آ جائیں گے اور دیکھ کر حق و باطل میں تمیز کر لیں گے۔ معجزے اور جادو کا فرق سب پر ظاہر ہو جائے گا۔ وقت دن چڑھے کا رکھنا چاہیئے تاکہ جو کچھ میدان میں آئے سب دیکھ سکیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ان کی زینت اور عید کا دن عاشورے کا دن تھا۔ یہ یاد رہے کہ انبیاء علیہ السلام ایسے موقعوں پر کبھی پیچھے نہیں رہتے۔ ایسا کام کرتے ہیں جس سے حق صاف واضح ہو جائے اور ہر ایک پرکھ لے۔ اسی لیے آپ نے ان کی عید کا دن مقرر کیا اور وقت دن چڑھے کا بتایا اور صاف ہموار میدان مقرر کیا کہ جہاں سے ہر ایک دیکھ سکے اور جو باتیں ہوں وہ بھی سن سکے وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرعون نے مہلت چاہی۔ موسیٰ علیہ السلام نے انکار کیا، اس پر وحی اتری کہ مدت مقرر کر لو۔ فرعون نے چالیس دن کی مہلت مانگی جو منظور کی گئی۔
صفحہ نمبر5272
طه 20:60
مقابلہ اور نتیجہ ٭٭
جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ دن وقت اور جگہ بھی مقرر ہو گئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا۔ اس زمانے میں جادو کا بہت زور تھا اور بڑے بڑے جادوگر موجود تھے۔ فرعون نے عام طور سے حکم جاری کر دیا تھا کہ تمام ہوشیار جادوگروں کو میرے پاس بھیج دو۔ مقررہ وقت تک تمام جادوگر جمع ہو گئے۔ فرعون نے اسی میدان میں اپنا تخت نکلوایا اس پر بیٹھا۔ تمام امراء وزراء اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے، رعایا سب جمع ہو گئی، جادوگروں کی جماعت صفیں باندھے تخت کے آگے کھڑی ہو گئیں۔
فرعون نے ان کی کمر ٹھونکنی شروع کی اور کہا، دیکھو آج اپنا وہ ہنر دکھاؤ کہ دنیا میں یادگار رہ جائے۔ جادوگروں نے کہا کہ اگر ہم بازی لے جائیں تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟ کہا کیوں نہیں؟ میں تو تمہیں اپنا خاص درباری بنا لوں گا۔ ادھر سے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تبلیغ شروع کی کہ دیکھو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ شامت اعمال برباد کر دے گی۔ لوگوں کی آنکھوں میں خاک نہ جھونکو کہ درحقیقت کچھ نہ ہو اور تم اپنے جادو سے بہت کچھ دکھا دو۔ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں جو فی الواقع کسی چیز کو پیدا کر سکے۔ یاد رکھو ایسے جھوٹے بہتانی لوگ فلاح نہیں پاتے۔ یہ سن کر ان میں آپس میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔
صفحہ نمبر5275
بعض تو سمجھ گئے اور کہنے لگے یہ کلام جادوگروں کا نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے کہا نہیں بلکہ یہ جادوگر ہیں مقابلہ کرو۔ یہ باتیں بہت ہی احتیاط اور راز سے کی گئیں۔ «إِنْ هَٰذَانِ» کی دوسری قرأت «اِنَّ ھٰذَیْنِ» بھی ہے، مطلب اور معنی دونوں قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ اب با آواز بلند کہنے لگے کہ یہ دونوں بھائی سیانے اور پہنچے ہوئے جادوگر ہیں۔ اس وقت تک تو تمہاری ہوا بندھی ہوئی ہے، بادشاہ کا قرب نصیب ہے، مال و دولت قدموں تلے لوٹ رہا ہے لیکن آج اگر یہ بازی لے گئے تو ظاہر ہے کہ ریاست ان ہی کی ہو جائے گی۔ تمہیں ملک سے نکال دیں گے، عوام ان کے ماتحت ہو جائیں گے، ان کا زور بند بندھ جائے گا، یہ بادشاہت چھین لیں گے اور ساتھ ہی تمہارے مذہب کو ملیا میٹ کر دیں گے۔ بادشاہت، عیش و آرام سب چیزیں تم سے چھن جائیں گی۔
شرافت، عقلمندی، ریاست سب ان کے قبضے میں آ جائے گی، تم یونہی بھٹے بھونتے رہ جاؤ گے۔ تمہارے اشراف ذلیل ہو جائیں گے، امیر فقیر بن جائیں گے، ساری رونق اور بہار جاتی رہے گی۔ بنی اسرائیل جو تمہارے لونڈی غلام بنے ہوئے ہیں، یہ سب ان کے ساتھ ہو جائیں گے اور تمہاری حکومت پاش پاش ہو جائے گی۔ تم سب اتفاق کر لو۔ ان کے مقابلے میں صف بندی کر کے اپنا کوئی فن باقی نہ رکھو، جی کھول کر ہوشیاری اور دانائی سے اپنے جادو کے زور سے اسے دبا لو۔ ایک ہی دفعہ ہر استاد اپنی کاری گری دکھا دے تاکہ میدان ہمارے جادو سے پر ہو جائے۔ دیکھو اگر وہ جیت گیا تو یہ ریاست اسی کی ہو جائے گی اور اگر ہم غالب آ گئے تو تم سن چکے ہو کہ بادشاہ ہمیں اپنا مقرب اور دربار خاص کے اراکین بنا دے گا۔
صفحہ نمبر5276
طه 20:61
مقابلہ اور نتیجہ ٭٭
جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ دن وقت اور جگہ بھی مقرر ہو گئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا۔ اس زمانے میں جادو کا بہت زور تھا اور بڑے بڑے جادوگر موجود تھے۔ فرعون نے عام طور سے حکم جاری کر دیا تھا کہ تمام ہوشیار جادوگروں کو میرے پاس بھیج دو۔ مقررہ وقت تک تمام جادوگر جمع ہو گئے۔ فرعون نے اسی میدان میں اپنا تخت نکلوایا اس پر بیٹھا۔ تمام امراء وزراء اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے، رعایا سب جمع ہو گئی، جادوگروں کی جماعت صفیں باندھے تخت کے آگے کھڑی ہو گئیں۔
فرعون نے ان کی کمر ٹھونکنی شروع کی اور کہا، دیکھو آج اپنا وہ ہنر دکھاؤ کہ دنیا میں یادگار رہ جائے۔ جادوگروں نے کہا کہ اگر ہم بازی لے جائیں تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟ کہا کیوں نہیں؟ میں تو تمہیں اپنا خاص درباری بنا لوں گا۔ ادھر سے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تبلیغ شروع کی کہ دیکھو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ شامت اعمال برباد کر دے گی۔ لوگوں کی آنکھوں میں خاک نہ جھونکو کہ درحقیقت کچھ نہ ہو اور تم اپنے جادو سے بہت کچھ دکھا دو۔ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں جو فی الواقع کسی چیز کو پیدا کر سکے۔ یاد رکھو ایسے جھوٹے بہتانی لوگ فلاح نہیں پاتے۔ یہ سن کر ان میں آپس میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔
صفحہ نمبر5275
بعض تو سمجھ گئے اور کہنے لگے یہ کلام جادوگروں کا نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے کہا نہیں بلکہ یہ جادوگر ہیں مقابلہ کرو۔ یہ باتیں بہت ہی احتیاط اور راز سے کی گئیں۔ «إِنْ هَٰذَانِ» کی دوسری قرأت «اِنَّ ھٰذَیْنِ» بھی ہے، مطلب اور معنی دونوں قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ اب با آواز بلند کہنے لگے کہ یہ دونوں بھائی سیانے اور پہنچے ہوئے جادوگر ہیں۔ اس وقت تک تو تمہاری ہوا بندھی ہوئی ہے، بادشاہ کا قرب نصیب ہے، مال و دولت قدموں تلے لوٹ رہا ہے لیکن آج اگر یہ بازی لے گئے تو ظاہر ہے کہ ریاست ان ہی کی ہو جائے گی۔ تمہیں ملک سے نکال دیں گے، عوام ان کے ماتحت ہو جائیں گے، ان کا زور بند بندھ جائے گا، یہ بادشاہت چھین لیں گے اور ساتھ ہی تمہارے مذہب کو ملیا میٹ کر دیں گے۔ بادشاہت، عیش و آرام سب چیزیں تم سے چھن جائیں گی۔
شرافت، عقلمندی، ریاست سب ان کے قبضے میں آ جائے گی، تم یونہی بھٹے بھونتے رہ جاؤ گے۔ تمہارے اشراف ذلیل ہو جائیں گے، امیر فقیر بن جائیں گے، ساری رونق اور بہار جاتی رہے گی۔ بنی اسرائیل جو تمہارے لونڈی غلام بنے ہوئے ہیں، یہ سب ان کے ساتھ ہو جائیں گے اور تمہاری حکومت پاش پاش ہو جائے گی۔ تم سب اتفاق کر لو۔ ان کے مقابلے میں صف بندی کر کے اپنا کوئی فن باقی نہ رکھو، جی کھول کر ہوشیاری اور دانائی سے اپنے جادو کے زور سے اسے دبا لو۔ ایک ہی دفعہ ہر استاد اپنی کاری گری دکھا دے تاکہ میدان ہمارے جادو سے پر ہو جائے۔ دیکھو اگر وہ جیت گیا تو یہ ریاست اسی کی ہو جائے گی اور اگر ہم غالب آ گئے تو تم سن چکے ہو کہ بادشاہ ہمیں اپنا مقرب اور دربار خاص کے اراکین بنا دے گا۔
صفحہ نمبر5276
طه 20:62
مقابلہ اور نتیجہ ٭٭
جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ دن وقت اور جگہ بھی مقرر ہو گئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا۔ اس زمانے میں جادو کا بہت زور تھا اور بڑے بڑے جادوگر موجود تھے۔ فرعون نے عام طور سے حکم جاری کر دیا تھا کہ تمام ہوشیار جادوگروں کو میرے پاس بھیج دو۔ مقررہ وقت تک تمام جادوگر جمع ہو گئے۔ فرعون نے اسی میدان میں اپنا تخت نکلوایا اس پر بیٹھا۔ تمام امراء وزراء اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے، رعایا سب جمع ہو گئی، جادوگروں کی جماعت صفیں باندھے تخت کے آگے کھڑی ہو گئیں۔
فرعون نے ان کی کمر ٹھونکنی شروع کی اور کہا، دیکھو آج اپنا وہ ہنر دکھاؤ کہ دنیا میں یادگار رہ جائے۔ جادوگروں نے کہا کہ اگر ہم بازی لے جائیں تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟ کہا کیوں نہیں؟ میں تو تمہیں اپنا خاص درباری بنا لوں گا۔ ادھر سے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تبلیغ شروع کی کہ دیکھو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ شامت اعمال برباد کر دے گی۔ لوگوں کی آنکھوں میں خاک نہ جھونکو کہ درحقیقت کچھ نہ ہو اور تم اپنے جادو سے بہت کچھ دکھا دو۔ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں جو فی الواقع کسی چیز کو پیدا کر سکے۔ یاد رکھو ایسے جھوٹے بہتانی لوگ فلاح نہیں پاتے۔ یہ سن کر ان میں آپس میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔
صفحہ نمبر5275
بعض تو سمجھ گئے اور کہنے لگے یہ کلام جادوگروں کا نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے کہا نہیں بلکہ یہ جادوگر ہیں مقابلہ کرو۔ یہ باتیں بہت ہی احتیاط اور راز سے کی گئیں۔ «إِنْ هَٰذَانِ» کی دوسری قرأت «اِنَّ ھٰذَیْنِ» بھی ہے، مطلب اور معنی دونوں قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ اب با آواز بلند کہنے لگے کہ یہ دونوں بھائی سیانے اور پہنچے ہوئے جادوگر ہیں۔ اس وقت تک تو تمہاری ہوا بندھی ہوئی ہے، بادشاہ کا قرب نصیب ہے، مال و دولت قدموں تلے لوٹ رہا ہے لیکن آج اگر یہ بازی لے گئے تو ظاہر ہے کہ ریاست ان ہی کی ہو جائے گی۔ تمہیں ملک سے نکال دیں گے، عوام ان کے ماتحت ہو جائیں گے، ان کا زور بند بندھ جائے گا، یہ بادشاہت چھین لیں گے اور ساتھ ہی تمہارے مذہب کو ملیا میٹ کر دیں گے۔ بادشاہت، عیش و آرام سب چیزیں تم سے چھن جائیں گی۔
شرافت، عقلمندی، ریاست سب ان کے قبضے میں آ جائے گی، تم یونہی بھٹے بھونتے رہ جاؤ گے۔ تمہارے اشراف ذلیل ہو جائیں گے، امیر فقیر بن جائیں گے، ساری رونق اور بہار جاتی رہے گی۔ بنی اسرائیل جو تمہارے لونڈی غلام بنے ہوئے ہیں، یہ سب ان کے ساتھ ہو جائیں گے اور تمہاری حکومت پاش پاش ہو جائے گی۔ تم سب اتفاق کر لو۔ ان کے مقابلے میں صف بندی کر کے اپنا کوئی فن باقی نہ رکھو، جی کھول کر ہوشیاری اور دانائی سے اپنے جادو کے زور سے اسے دبا لو۔ ایک ہی دفعہ ہر استاد اپنی کاری گری دکھا دے تاکہ میدان ہمارے جادو سے پر ہو جائے۔ دیکھو اگر وہ جیت گیا تو یہ ریاست اسی کی ہو جائے گی اور اگر ہم غالب آ گئے تو تم سن چکے ہو کہ بادشاہ ہمیں اپنا مقرب اور دربار خاص کے اراکین بنا دے گا۔
صفحہ نمبر5276
طه 20:63
مقابلہ اور نتیجہ ٭٭
جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ دن وقت اور جگہ بھی مقرر ہو گئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا۔ اس زمانے میں جادو کا بہت زور تھا اور بڑے بڑے جادوگر موجود تھے۔ فرعون نے عام طور سے حکم جاری کر دیا تھا کہ تمام ہوشیار جادوگروں کو میرے پاس بھیج دو۔ مقررہ وقت تک تمام جادوگر جمع ہو گئے۔ فرعون نے اسی میدان میں اپنا تخت نکلوایا اس پر بیٹھا۔ تمام امراء وزراء اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے، رعایا سب جمع ہو گئی، جادوگروں کی جماعت صفیں باندھے تخت کے آگے کھڑی ہو گئیں۔
فرعون نے ان کی کمر ٹھونکنی شروع کی اور کہا، دیکھو آج اپنا وہ ہنر دکھاؤ کہ دنیا میں یادگار رہ جائے۔ جادوگروں نے کہا کہ اگر ہم بازی لے جائیں تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟ کہا کیوں نہیں؟ میں تو تمہیں اپنا خاص درباری بنا لوں گا۔ ادھر سے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تبلیغ شروع کی کہ دیکھو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ شامت اعمال برباد کر دے گی۔ لوگوں کی آنکھوں میں خاک نہ جھونکو کہ درحقیقت کچھ نہ ہو اور تم اپنے جادو سے بہت کچھ دکھا دو۔ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں جو فی الواقع کسی چیز کو پیدا کر سکے۔ یاد رکھو ایسے جھوٹے بہتانی لوگ فلاح نہیں پاتے۔ یہ سن کر ان میں آپس میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔
صفحہ نمبر5275
بعض تو سمجھ گئے اور کہنے لگے یہ کلام جادوگروں کا نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے کہا نہیں بلکہ یہ جادوگر ہیں مقابلہ کرو۔ یہ باتیں بہت ہی احتیاط اور راز سے کی گئیں۔ «إِنْ هَٰذَانِ» کی دوسری قرأت «اِنَّ ھٰذَیْنِ» بھی ہے، مطلب اور معنی دونوں قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ اب با آواز بلند کہنے لگے کہ یہ دونوں بھائی سیانے اور پہنچے ہوئے جادوگر ہیں۔ اس وقت تک تو تمہاری ہوا بندھی ہوئی ہے، بادشاہ کا قرب نصیب ہے، مال و دولت قدموں تلے لوٹ رہا ہے لیکن آج اگر یہ بازی لے گئے تو ظاہر ہے کہ ریاست ان ہی کی ہو جائے گی۔ تمہیں ملک سے نکال دیں گے، عوام ان کے ماتحت ہو جائیں گے، ان کا زور بند بندھ جائے گا، یہ بادشاہت چھین لیں گے اور ساتھ ہی تمہارے مذہب کو ملیا میٹ کر دیں گے۔ بادشاہت، عیش و آرام سب چیزیں تم سے چھن جائیں گی۔
شرافت، عقلمندی، ریاست سب ان کے قبضے میں آ جائے گی، تم یونہی بھٹے بھونتے رہ جاؤ گے۔ تمہارے اشراف ذلیل ہو جائیں گے، امیر فقیر بن جائیں گے، ساری رونق اور بہار جاتی رہے گی۔ بنی اسرائیل جو تمہارے لونڈی غلام بنے ہوئے ہیں، یہ سب ان کے ساتھ ہو جائیں گے اور تمہاری حکومت پاش پاش ہو جائے گی۔ تم سب اتفاق کر لو۔ ان کے مقابلے میں صف بندی کر کے اپنا کوئی فن باقی نہ رکھو، جی کھول کر ہوشیاری اور دانائی سے اپنے جادو کے زور سے اسے دبا لو۔ ایک ہی دفعہ ہر استاد اپنی کاری گری دکھا دے تاکہ میدان ہمارے جادو سے پر ہو جائے۔ دیکھو اگر وہ جیت گیا تو یہ ریاست اسی کی ہو جائے گی اور اگر ہم غالب آ گئے تو تم سن چکے ہو کہ بادشاہ ہمیں اپنا مقرب اور دربار خاص کے اراکین بنا دے گا۔
صفحہ نمبر5276
طه 20:64
مقابلہ اور نتیجہ ٭٭
جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ دن وقت اور جگہ بھی مقرر ہو گئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا۔ اس زمانے میں جادو کا بہت زور تھا اور بڑے بڑے جادوگر موجود تھے۔ فرعون نے عام طور سے حکم جاری کر دیا تھا کہ تمام ہوشیار جادوگروں کو میرے پاس بھیج دو۔ مقررہ وقت تک تمام جادوگر جمع ہو گئے۔ فرعون نے اسی میدان میں اپنا تخت نکلوایا اس پر بیٹھا۔ تمام امراء وزراء اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے، رعایا سب جمع ہو گئی، جادوگروں کی جماعت صفیں باندھے تخت کے آگے کھڑی ہو گئیں۔
فرعون نے ان کی کمر ٹھونکنی شروع کی اور کہا، دیکھو آج اپنا وہ ہنر دکھاؤ کہ دنیا میں یادگار رہ جائے۔ جادوگروں نے کہا کہ اگر ہم بازی لے جائیں تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟ کہا کیوں نہیں؟ میں تو تمہیں اپنا خاص درباری بنا لوں گا۔ ادھر سے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تبلیغ شروع کی کہ دیکھو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ شامت اعمال برباد کر دے گی۔ لوگوں کی آنکھوں میں خاک نہ جھونکو کہ درحقیقت کچھ نہ ہو اور تم اپنے جادو سے بہت کچھ دکھا دو۔ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں جو فی الواقع کسی چیز کو پیدا کر سکے۔ یاد رکھو ایسے جھوٹے بہتانی لوگ فلاح نہیں پاتے۔ یہ سن کر ان میں آپس میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔
صفحہ نمبر5275
بعض تو سمجھ گئے اور کہنے لگے یہ کلام جادوگروں کا نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے کہا نہیں بلکہ یہ جادوگر ہیں مقابلہ کرو۔ یہ باتیں بہت ہی احتیاط اور راز سے کی گئیں۔ «إِنْ هَٰذَانِ» کی دوسری قرأت «اِنَّ ھٰذَیْنِ» بھی ہے، مطلب اور معنی دونوں قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ اب با آواز بلند کہنے لگے کہ یہ دونوں بھائی سیانے اور پہنچے ہوئے جادوگر ہیں۔ اس وقت تک تو تمہاری ہوا بندھی ہوئی ہے، بادشاہ کا قرب نصیب ہے، مال و دولت قدموں تلے لوٹ رہا ہے لیکن آج اگر یہ بازی لے گئے تو ظاہر ہے کہ ریاست ان ہی کی ہو جائے گی۔ تمہیں ملک سے نکال دیں گے، عوام ان کے ماتحت ہو جائیں گے، ان کا زور بند بندھ جائے گا، یہ بادشاہت چھین لیں گے اور ساتھ ہی تمہارے مذہب کو ملیا میٹ کر دیں گے۔ بادشاہت، عیش و آرام سب چیزیں تم سے چھن جائیں گی۔
شرافت، عقلمندی، ریاست سب ان کے قبضے میں آ جائے گی، تم یونہی بھٹے بھونتے رہ جاؤ گے۔ تمہارے اشراف ذلیل ہو جائیں گے، امیر فقیر بن جائیں گے، ساری رونق اور بہار جاتی رہے گی۔ بنی اسرائیل جو تمہارے لونڈی غلام بنے ہوئے ہیں، یہ سب ان کے ساتھ ہو جائیں گے اور تمہاری حکومت پاش پاش ہو جائے گی۔ تم سب اتفاق کر لو۔ ان کے مقابلے میں صف بندی کر کے اپنا کوئی فن باقی نہ رکھو، جی کھول کر ہوشیاری اور دانائی سے اپنے جادو کے زور سے اسے دبا لو۔ ایک ہی دفعہ ہر استاد اپنی کاری گری دکھا دے تاکہ میدان ہمارے جادو سے پر ہو جائے۔ دیکھو اگر وہ جیت گیا تو یہ ریاست اسی کی ہو جائے گی اور اگر ہم غالب آ گئے تو تم سن چکے ہو کہ بادشاہ ہمیں اپنا مقرب اور دربار خاص کے اراکین بنا دے گا۔
صفحہ نمبر5276
طه 20:65
مقابلہ شروع ہوا ٭٭
جادوگروں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اب بتاؤ، تم اپنا وار پہلے کرتے ہو یا ہم پہل کریں؟ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا، تم ہی پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ تم نے کیا کیا؟ اور پھر اللہ نے تمہارے کئے کو کس طرح مٹا دیا؟ «فَأَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ» [26-الشعراء:44]
اسی وقت انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں۔ کچھ ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ سانپ بن کر چل پھر رہی ہیں اور میدان میں دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ کہنے لگے فرعون کے اقبال سے غالب ہم ہی رہیں گے، «سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [7-الأعراف:116]
لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں خوفزدہ کر دیا اور جادو کے زبردست کرتب دکھا دیئے۔ یہ لوگ بہت زیادہ تھے۔ ان کی پھینکی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں سے اب سارے کا سارا میدان سانپوں سے پر ہو گیا، وہ آپس میں گڈ مڈ ہو کر اوپر تلے ہونے لگے۔ اس منظر نے موسیٰ علیہ السلام کو خوفزدہ کر دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو لوگ ان کے کرتب کے قائل ہو جائیں اور اس باطل میں پھنس جائیں۔ اسی وقت جناب باری نے وحی نازل فرمائی کہ اپنے داہنے ہاتھ کی لکڑی کو میدان میں ڈال دو، ہراساں نہ ہو۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی۔ اللہ کے حکم سے یہ لکڑی ایک زبردست بیمثال اژدھا بن گئی، جس کے پیر بھی تھے اور سر بھی تھا۔ کچلیاں اور دانت بھی تھے۔ اس نے سب کے دیکھتے سارے میدان کو صاف کر دیا۔ اس نے جادوگروں کے جتنے کرتب تھے، سب کو ہڑپ کر لیا۔ اب سب پر حق واضح ہو گیا، معجزے اور جادو میں تمیز ہو گئی۔ حق و باطل میں پہچان ہو گئی۔ سب نے جان لیا کہ جادوگروں کی بناوٹ میں اصلیت کچھ بھی نہ تھی۔ فی الواقع جادوگر کوئی چال چلیں لیکن اس میں غالب نہیں آ سکتے۔
صفحہ نمبر5281
ابن ابی حاتم میں حدیث ہے، ترمذی میں بھی موقوفاً اور مرفوعاً مروی ہے کہ جادوگر کو جہاں پکڑو، مار ڈالو۔ [سنن ترمذي:1460،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر آپ نے یہی جملہ تلاوت فرمایا۔ یعنی جہاں پایا جائے امن نہ دیا جائے۔ جادوگروں نے جب یہ دیکھا، انہیں یقین ہو گیا کہ یہ کام انسانی طاقت سے خارج ہے۔ وہ جادو کے فن میں ماہر تھے، بہ یک نگاہ پہچان گئے کہ واقعی یہ اس اللہ کا کام ہے جسکے فرمان اٹل ہیں، جو کچھ وہ چاہے اس کے حکم سے ہو جاتا ہے۔ اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں۔ اس کا اتنا کامل یقین انہیں ہو گیا کہ اسی وقت اسی میدان میں سب کے سامنے بادشاہ کی موجودگی میں وہ اللہ کے سامنے سر بہ سجود ہو گئے اور پکار اٹھے کہ «قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» [26-الشعراء:47-48] ” ہم رب العالمین پر یعنی ہارون اور موسیٰ علیہما السلام کے پروردگار پر ایمان لائے۔ “
سبحان اللہ! صبح کے وقت کافر اور جادوگر تھے اور شام کو پاکباز مومن اور اللہ کی راہ کے شہید تھے۔ کہتے ہیں کہ ان کی تعداد اسی ہزار تھی یا ستر ہزار یا کچھ اوپر تیس ہزار یا انیس ہزار یا پندرہ ہزار یا بارہ ہزار۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ ستر تھے۔ صبح جادوگر، شام کو شہید۔ مروی ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے، اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت دکھا دی اور انہوں نے اپنی منزلیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔
صفحہ نمبر5282
طه 20:66
مقابلہ شروع ہوا ٭٭
جادوگروں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اب بتاؤ، تم اپنا وار پہلے کرتے ہو یا ہم پہل کریں؟ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا، تم ہی پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ تم نے کیا کیا؟ اور پھر اللہ نے تمہارے کئے کو کس طرح مٹا دیا؟ «فَأَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ» [26-الشعراء:44]
اسی وقت انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں۔ کچھ ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ سانپ بن کر چل پھر رہی ہیں اور میدان میں دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ کہنے لگے فرعون کے اقبال سے غالب ہم ہی رہیں گے، «سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [7-الأعراف:116]
لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں خوفزدہ کر دیا اور جادو کے زبردست کرتب دکھا دیئے۔ یہ لوگ بہت زیادہ تھے۔ ان کی پھینکی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں سے اب سارے کا سارا میدان سانپوں سے پر ہو گیا، وہ آپس میں گڈ مڈ ہو کر اوپر تلے ہونے لگے۔ اس منظر نے موسیٰ علیہ السلام کو خوفزدہ کر دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو لوگ ان کے کرتب کے قائل ہو جائیں اور اس باطل میں پھنس جائیں۔ اسی وقت جناب باری نے وحی نازل فرمائی کہ اپنے داہنے ہاتھ کی لکڑی کو میدان میں ڈال دو، ہراساں نہ ہو۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی۔ اللہ کے حکم سے یہ لکڑی ایک زبردست بیمثال اژدھا بن گئی، جس کے پیر بھی تھے اور سر بھی تھا۔ کچلیاں اور دانت بھی تھے۔ اس نے سب کے دیکھتے سارے میدان کو صاف کر دیا۔ اس نے جادوگروں کے جتنے کرتب تھے، سب کو ہڑپ کر لیا۔ اب سب پر حق واضح ہو گیا، معجزے اور جادو میں تمیز ہو گئی۔ حق و باطل میں پہچان ہو گئی۔ سب نے جان لیا کہ جادوگروں کی بناوٹ میں اصلیت کچھ بھی نہ تھی۔ فی الواقع جادوگر کوئی چال چلیں لیکن اس میں غالب نہیں آ سکتے۔
صفحہ نمبر5281
ابن ابی حاتم میں حدیث ہے، ترمذی میں بھی موقوفاً اور مرفوعاً مروی ہے کہ جادوگر کو جہاں پکڑو، مار ڈالو۔ [سنن ترمذي:1460،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر آپ نے یہی جملہ تلاوت فرمایا۔ یعنی جہاں پایا جائے امن نہ دیا جائے۔ جادوگروں نے جب یہ دیکھا، انہیں یقین ہو گیا کہ یہ کام انسانی طاقت سے خارج ہے۔ وہ جادو کے فن میں ماہر تھے، بہ یک نگاہ پہچان گئے کہ واقعی یہ اس اللہ کا کام ہے جسکے فرمان اٹل ہیں، جو کچھ وہ چاہے اس کے حکم سے ہو جاتا ہے۔ اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں۔ اس کا اتنا کامل یقین انہیں ہو گیا کہ اسی وقت اسی میدان میں سب کے سامنے بادشاہ کی موجودگی میں وہ اللہ کے سامنے سر بہ سجود ہو گئے اور پکار اٹھے کہ «قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» [26-الشعراء:47-48] ” ہم رب العالمین پر یعنی ہارون اور موسیٰ علیہما السلام کے پروردگار پر ایمان لائے۔ “
سبحان اللہ! صبح کے وقت کافر اور جادوگر تھے اور شام کو پاکباز مومن اور اللہ کی راہ کے شہید تھے۔ کہتے ہیں کہ ان کی تعداد اسی ہزار تھی یا ستر ہزار یا کچھ اوپر تیس ہزار یا انیس ہزار یا پندرہ ہزار یا بارہ ہزار۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ ستر تھے۔ صبح جادوگر، شام کو شہید۔ مروی ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے، اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت دکھا دی اور انہوں نے اپنی منزلیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔
صفحہ نمبر5282
طه 20:67
مقابلہ شروع ہوا ٭٭
جادوگروں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اب بتاؤ، تم اپنا وار پہلے کرتے ہو یا ہم پہل کریں؟ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا، تم ہی پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ تم نے کیا کیا؟ اور پھر اللہ نے تمہارے کئے کو کس طرح مٹا دیا؟ «فَأَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ» [26-الشعراء:44]
اسی وقت انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں۔ کچھ ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ سانپ بن کر چل پھر رہی ہیں اور میدان میں دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ کہنے لگے فرعون کے اقبال سے غالب ہم ہی رہیں گے، «سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [7-الأعراف:116]
لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں خوفزدہ کر دیا اور جادو کے زبردست کرتب دکھا دیئے۔ یہ لوگ بہت زیادہ تھے۔ ان کی پھینکی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں سے اب سارے کا سارا میدان سانپوں سے پر ہو گیا، وہ آپس میں گڈ مڈ ہو کر اوپر تلے ہونے لگے۔ اس منظر نے موسیٰ علیہ السلام کو خوفزدہ کر دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو لوگ ان کے کرتب کے قائل ہو جائیں اور اس باطل میں پھنس جائیں۔ اسی وقت جناب باری نے وحی نازل فرمائی کہ اپنے داہنے ہاتھ کی لکڑی کو میدان میں ڈال دو، ہراساں نہ ہو۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی۔ اللہ کے حکم سے یہ لکڑی ایک زبردست بیمثال اژدھا بن گئی، جس کے پیر بھی تھے اور سر بھی تھا۔ کچلیاں اور دانت بھی تھے۔ اس نے سب کے دیکھتے سارے میدان کو صاف کر دیا۔ اس نے جادوگروں کے جتنے کرتب تھے، سب کو ہڑپ کر لیا۔ اب سب پر حق واضح ہو گیا، معجزے اور جادو میں تمیز ہو گئی۔ حق و باطل میں پہچان ہو گئی۔ سب نے جان لیا کہ جادوگروں کی بناوٹ میں اصلیت کچھ بھی نہ تھی۔ فی الواقع جادوگر کوئی چال چلیں لیکن اس میں غالب نہیں آ سکتے۔
صفحہ نمبر5281
ابن ابی حاتم میں حدیث ہے، ترمذی میں بھی موقوفاً اور مرفوعاً مروی ہے کہ جادوگر کو جہاں پکڑو، مار ڈالو۔ [سنن ترمذي:1460،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر آپ نے یہی جملہ تلاوت فرمایا۔ یعنی جہاں پایا جائے امن نہ دیا جائے۔ جادوگروں نے جب یہ دیکھا، انہیں یقین ہو گیا کہ یہ کام انسانی طاقت سے خارج ہے۔ وہ جادو کے فن میں ماہر تھے، بہ یک نگاہ پہچان گئے کہ واقعی یہ اس اللہ کا کام ہے جسکے فرمان اٹل ہیں، جو کچھ وہ چاہے اس کے حکم سے ہو جاتا ہے۔ اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں۔ اس کا اتنا کامل یقین انہیں ہو گیا کہ اسی وقت اسی میدان میں سب کے سامنے بادشاہ کی موجودگی میں وہ اللہ کے سامنے سر بہ سجود ہو گئے اور پکار اٹھے کہ «قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» [26-الشعراء:47-48] ” ہم رب العالمین پر یعنی ہارون اور موسیٰ علیہما السلام کے پروردگار پر ایمان لائے۔ “
سبحان اللہ! صبح کے وقت کافر اور جادوگر تھے اور شام کو پاکباز مومن اور اللہ کی راہ کے شہید تھے۔ کہتے ہیں کہ ان کی تعداد اسی ہزار تھی یا ستر ہزار یا کچھ اوپر تیس ہزار یا انیس ہزار یا پندرہ ہزار یا بارہ ہزار۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ ستر تھے۔ صبح جادوگر، شام کو شہید۔ مروی ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے، اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت دکھا دی اور انہوں نے اپنی منزلیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔
صفحہ نمبر5282