Tafsir Ibn Kathir — طه 20:68 – الأنبياء 21:78
Contents
- طه 20:68
- طه 20:69
- طه 20:70
- طه 20:71
- طه 20:72
- طه 20:73
- طه 20:74
- طه 20:75
- طه 20:76
- طه 20:77
- طه 20:78
- طه 20:79
- طه 20:80
- طه 20:81
- طه 20:82
- طه 20:83
- طه 20:84
- طه 20:85
- طه 20:86
- طه 20:87
- طه 20:88
- طه 20:89
- طه 20:90
- طه 20:91
- طه 20:92
- طه 20:93
- طه 20:94
- طه 20:95
- طه 20:96
- طه 20:97
- طه 20:98
- طه 20:99
- طه 20:100
- طه 20:101
- طه 20:102
- طه 20:103
- طه 20:104
- طه 20:105
- طه 20:106
- طه 20:107
- طه 20:108
- طه 20:109
- طه 20:110
- طه 20:111
- طه 20:112
- طه 20:113
- طه 20:114
- طه 20:115
- طه 20:116
- طه 20:117
- طه 20:118
- طه 20:119
- طه 20:120
- طه 20:121
- طه 20:122
- طه 20:123
- طه 20:124
- طه 20:125
- طه 20:126
- طه 20:127
- طه 20:128
- طه 20:129
- طه 20:130
- طه 20:131
- طه 20:132
- طه 20:133
- طه 20:134
- طه 20:135
- الأنبياء 21:1
- الأنبياء 21:2
- الأنبياء 21:3
- الأنبياء 21:4
- الأنبياء 21:5
- الأنبياء 21:6
- الأنبياء 21:7
- الأنبياء 21:8
- الأنبياء 21:9
- الأنبياء 21:10
- الأنبياء 21:11
- الأنبياء 21:12
- الأنبياء 21:13
- الأنبياء 21:14
- الأنبياء 21:15
- الأنبياء 21:16
- الأنبياء 21:17
- الأنبياء 21:18
- الأنبياء 21:19
- الأنبياء 21:20
- الأنبياء 21:21
- الأنبياء 21:22
- الأنبياء 21:23
- الأنبياء 21:24
- الأنبياء 21:25
- الأنبياء 21:26
- الأنبياء 21:27
- الأنبياء 21:28
- الأنبياء 21:29
- الأنبياء 21:30
- الأنبياء 21:31
- الأنبياء 21:32
- الأنبياء 21:33
- الأنبياء 21:34
- الأنبياء 21:35
- الأنبياء 21:36
- الأنبياء 21:37
- الأنبياء 21:38
- الأنبياء 21:39
- الأنبياء 21:40
- الأنبياء 21:41
- الأنبياء 21:42
- الأنبياء 21:43
- الأنبياء 21:44
- الأنبياء 21:45
- الأنبياء 21:46
- الأنبياء 21:47
- الأنبياء 21:48
- الأنبياء 21:49
- الأنبياء 21:50
- الأنبياء 21:51
- الأنبياء 21:52
- الأنبياء 21:53
- الأنبياء 21:54
- الأنبياء 21:55
- الأنبياء 21:56
- الأنبياء 21:57
- الأنبياء 21:58
- الأنبياء 21:59
- الأنبياء 21:60
- الأنبياء 21:61
- الأنبياء 21:62
- الأنبياء 21:63
- الأنبياء 21:64
- الأنبياء 21:65
- الأنبياء 21:66
- الأنبياء 21:67
- الأنبياء 21:68
- الأنبياء 21:69
- الأنبياء 21:70
- الأنبياء 21:71
- الأنبياء 21:72
- الأنبياء 21:73
- الأنبياء 21:74
- الأنبياء 21:75
- الأنبياء 21:76
- الأنبياء 21:77
- الأنبياء 21:78
طه 20:68
مقابلہ شروع ہوا ٭٭
جادوگروں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اب بتاؤ، تم اپنا وار پہلے کرتے ہو یا ہم پہل کریں؟ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا، تم ہی پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ تم نے کیا کیا؟ اور پھر اللہ نے تمہارے کئے کو کس طرح مٹا دیا؟ «فَأَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ» [26-الشعراء:44]
اسی وقت انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں۔ کچھ ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ سانپ بن کر چل پھر رہی ہیں اور میدان میں دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ کہنے لگے فرعون کے اقبال سے غالب ہم ہی رہیں گے، «سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [7-الأعراف:116]
لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں خوفزدہ کر دیا اور جادو کے زبردست کرتب دکھا دیئے۔ یہ لوگ بہت زیادہ تھے۔ ان کی پھینکی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں سے اب سارے کا سارا میدان سانپوں سے پر ہو گیا، وہ آپس میں گڈ مڈ ہو کر اوپر تلے ہونے لگے۔ اس منظر نے موسیٰ علیہ السلام کو خوفزدہ کر دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو لوگ ان کے کرتب کے قائل ہو جائیں اور اس باطل میں پھنس جائیں۔ اسی وقت جناب باری نے وحی نازل فرمائی کہ اپنے داہنے ہاتھ کی لکڑی کو میدان میں ڈال دو، ہراساں نہ ہو۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی۔ اللہ کے حکم سے یہ لکڑی ایک زبردست بیمثال اژدھا بن گئی، جس کے پیر بھی تھے اور سر بھی تھا۔ کچلیاں اور دانت بھی تھے۔ اس نے سب کے دیکھتے سارے میدان کو صاف کر دیا۔ اس نے جادوگروں کے جتنے کرتب تھے، سب کو ہڑپ کر لیا۔ اب سب پر حق واضح ہو گیا، معجزے اور جادو میں تمیز ہو گئی۔ حق و باطل میں پہچان ہو گئی۔ سب نے جان لیا کہ جادوگروں کی بناوٹ میں اصلیت کچھ بھی نہ تھی۔ فی الواقع جادوگر کوئی چال چلیں لیکن اس میں غالب نہیں آ سکتے۔
صفحہ نمبر5281
ابن ابی حاتم میں حدیث ہے، ترمذی میں بھی موقوفاً اور مرفوعاً مروی ہے کہ جادوگر کو جہاں پکڑو، مار ڈالو۔ [سنن ترمذي:1460،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر آپ نے یہی جملہ تلاوت فرمایا۔ یعنی جہاں پایا جائے امن نہ دیا جائے۔ جادوگروں نے جب یہ دیکھا، انہیں یقین ہو گیا کہ یہ کام انسانی طاقت سے خارج ہے۔ وہ جادو کے فن میں ماہر تھے، بہ یک نگاہ پہچان گئے کہ واقعی یہ اس اللہ کا کام ہے جسکے فرمان اٹل ہیں، جو کچھ وہ چاہے اس کے حکم سے ہو جاتا ہے۔ اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں۔ اس کا اتنا کامل یقین انہیں ہو گیا کہ اسی وقت اسی میدان میں سب کے سامنے بادشاہ کی موجودگی میں وہ اللہ کے سامنے سر بہ سجود ہو گئے اور پکار اٹھے کہ «قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» [26-الشعراء:47-48] ” ہم رب العالمین پر یعنی ہارون اور موسیٰ علیہما السلام کے پروردگار پر ایمان لائے۔ “
سبحان اللہ! صبح کے وقت کافر اور جادوگر تھے اور شام کو پاکباز مومن اور اللہ کی راہ کے شہید تھے۔ کہتے ہیں کہ ان کی تعداد اسی ہزار تھی یا ستر ہزار یا کچھ اوپر تیس ہزار یا انیس ہزار یا پندرہ ہزار یا بارہ ہزار۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ ستر تھے۔ صبح جادوگر، شام کو شہید۔ مروی ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے، اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت دکھا دی اور انہوں نے اپنی منزلیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔
صفحہ نمبر5282
طه 20:69
مقابلہ شروع ہوا ٭٭
جادوگروں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اب بتاؤ، تم اپنا وار پہلے کرتے ہو یا ہم پہل کریں؟ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا، تم ہی پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ تم نے کیا کیا؟ اور پھر اللہ نے تمہارے کئے کو کس طرح مٹا دیا؟ «فَأَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ» [26-الشعراء:44]
اسی وقت انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں۔ کچھ ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ سانپ بن کر چل پھر رہی ہیں اور میدان میں دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ کہنے لگے فرعون کے اقبال سے غالب ہم ہی رہیں گے، «سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [7-الأعراف:116]
لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں خوفزدہ کر دیا اور جادو کے زبردست کرتب دکھا دیئے۔ یہ لوگ بہت زیادہ تھے۔ ان کی پھینکی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں سے اب سارے کا سارا میدان سانپوں سے پر ہو گیا، وہ آپس میں گڈ مڈ ہو کر اوپر تلے ہونے لگے۔ اس منظر نے موسیٰ علیہ السلام کو خوفزدہ کر دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو لوگ ان کے کرتب کے قائل ہو جائیں اور اس باطل میں پھنس جائیں۔ اسی وقت جناب باری نے وحی نازل فرمائی کہ اپنے داہنے ہاتھ کی لکڑی کو میدان میں ڈال دو، ہراساں نہ ہو۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی۔ اللہ کے حکم سے یہ لکڑی ایک زبردست بیمثال اژدھا بن گئی، جس کے پیر بھی تھے اور سر بھی تھا۔ کچلیاں اور دانت بھی تھے۔ اس نے سب کے دیکھتے سارے میدان کو صاف کر دیا۔ اس نے جادوگروں کے جتنے کرتب تھے، سب کو ہڑپ کر لیا۔ اب سب پر حق واضح ہو گیا، معجزے اور جادو میں تمیز ہو گئی۔ حق و باطل میں پہچان ہو گئی۔ سب نے جان لیا کہ جادوگروں کی بناوٹ میں اصلیت کچھ بھی نہ تھی۔ فی الواقع جادوگر کوئی چال چلیں لیکن اس میں غالب نہیں آ سکتے۔
صفحہ نمبر5281
ابن ابی حاتم میں حدیث ہے، ترمذی میں بھی موقوفاً اور مرفوعاً مروی ہے کہ جادوگر کو جہاں پکڑو، مار ڈالو۔ [سنن ترمذي:1460،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر آپ نے یہی جملہ تلاوت فرمایا۔ یعنی جہاں پایا جائے امن نہ دیا جائے۔ جادوگروں نے جب یہ دیکھا، انہیں یقین ہو گیا کہ یہ کام انسانی طاقت سے خارج ہے۔ وہ جادو کے فن میں ماہر تھے، بہ یک نگاہ پہچان گئے کہ واقعی یہ اس اللہ کا کام ہے جسکے فرمان اٹل ہیں، جو کچھ وہ چاہے اس کے حکم سے ہو جاتا ہے۔ اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں۔ اس کا اتنا کامل یقین انہیں ہو گیا کہ اسی وقت اسی میدان میں سب کے سامنے بادشاہ کی موجودگی میں وہ اللہ کے سامنے سر بہ سجود ہو گئے اور پکار اٹھے کہ «قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» [26-الشعراء:47-48] ” ہم رب العالمین پر یعنی ہارون اور موسیٰ علیہما السلام کے پروردگار پر ایمان لائے۔ “
سبحان اللہ! صبح کے وقت کافر اور جادوگر تھے اور شام کو پاکباز مومن اور اللہ کی راہ کے شہید تھے۔ کہتے ہیں کہ ان کی تعداد اسی ہزار تھی یا ستر ہزار یا کچھ اوپر تیس ہزار یا انیس ہزار یا پندرہ ہزار یا بارہ ہزار۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ ستر تھے۔ صبح جادوگر، شام کو شہید۔ مروی ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے، اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت دکھا دی اور انہوں نے اپنی منزلیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔
صفحہ نمبر5282
طه 20:70
مقابلہ شروع ہوا ٭٭
جادوگروں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اب بتاؤ، تم اپنا وار پہلے کرتے ہو یا ہم پہل کریں؟ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا، تم ہی پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ تم نے کیا کیا؟ اور پھر اللہ نے تمہارے کئے کو کس طرح مٹا دیا؟ «فَأَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ» [26-الشعراء:44]
اسی وقت انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں۔ کچھ ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ سانپ بن کر چل پھر رہی ہیں اور میدان میں دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ کہنے لگے فرعون کے اقبال سے غالب ہم ہی رہیں گے، «سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [7-الأعراف:116]
لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں خوفزدہ کر دیا اور جادو کے زبردست کرتب دکھا دیئے۔ یہ لوگ بہت زیادہ تھے۔ ان کی پھینکی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں سے اب سارے کا سارا میدان سانپوں سے پر ہو گیا، وہ آپس میں گڈ مڈ ہو کر اوپر تلے ہونے لگے۔ اس منظر نے موسیٰ علیہ السلام کو خوفزدہ کر دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو لوگ ان کے کرتب کے قائل ہو جائیں اور اس باطل میں پھنس جائیں۔ اسی وقت جناب باری نے وحی نازل فرمائی کہ اپنے داہنے ہاتھ کی لکڑی کو میدان میں ڈال دو، ہراساں نہ ہو۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی۔ اللہ کے حکم سے یہ لکڑی ایک زبردست بیمثال اژدھا بن گئی، جس کے پیر بھی تھے اور سر بھی تھا۔ کچلیاں اور دانت بھی تھے۔ اس نے سب کے دیکھتے سارے میدان کو صاف کر دیا۔ اس نے جادوگروں کے جتنے کرتب تھے، سب کو ہڑپ کر لیا۔ اب سب پر حق واضح ہو گیا، معجزے اور جادو میں تمیز ہو گئی۔ حق و باطل میں پہچان ہو گئی۔ سب نے جان لیا کہ جادوگروں کی بناوٹ میں اصلیت کچھ بھی نہ تھی۔ فی الواقع جادوگر کوئی چال چلیں لیکن اس میں غالب نہیں آ سکتے۔
صفحہ نمبر5281
ابن ابی حاتم میں حدیث ہے، ترمذی میں بھی موقوفاً اور مرفوعاً مروی ہے کہ جادوگر کو جہاں پکڑو، مار ڈالو۔ [سنن ترمذي:1460،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر آپ نے یہی جملہ تلاوت فرمایا۔ یعنی جہاں پایا جائے امن نہ دیا جائے۔ جادوگروں نے جب یہ دیکھا، انہیں یقین ہو گیا کہ یہ کام انسانی طاقت سے خارج ہے۔ وہ جادو کے فن میں ماہر تھے، بہ یک نگاہ پہچان گئے کہ واقعی یہ اس اللہ کا کام ہے جسکے فرمان اٹل ہیں، جو کچھ وہ چاہے اس کے حکم سے ہو جاتا ہے۔ اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں۔ اس کا اتنا کامل یقین انہیں ہو گیا کہ اسی وقت اسی میدان میں سب کے سامنے بادشاہ کی موجودگی میں وہ اللہ کے سامنے سر بہ سجود ہو گئے اور پکار اٹھے کہ «قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» [26-الشعراء:47-48] ” ہم رب العالمین پر یعنی ہارون اور موسیٰ علیہما السلام کے پروردگار پر ایمان لائے۔ “
سبحان اللہ! صبح کے وقت کافر اور جادوگر تھے اور شام کو پاکباز مومن اور اللہ کی راہ کے شہید تھے۔ کہتے ہیں کہ ان کی تعداد اسی ہزار تھی یا ستر ہزار یا کچھ اوپر تیس ہزار یا انیس ہزار یا پندرہ ہزار یا بارہ ہزار۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ ستر تھے۔ صبح جادوگر، شام کو شہید۔ مروی ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے، اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت دکھا دی اور انہوں نے اپنی منزلیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔
صفحہ نمبر5282
طه 20:71
نتیجہ موسیٰ علیہ السلام کی صداقت کا گواہ بنا ٭٭
اللہ کی شان دیکھئے! چاہیئے تو یہ تھا کہ فرعون اب راہ راست پر آ جاتا۔ جن کو اس نے مقابلے کیلئے بلوایا تھا وہ عام مجمع میں ہارے۔ انہوں نے اپنی ہار مان لی، اپنے کرتوت کو جادو اور موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء کردہ معجزہ تسلیم کر لیا۔ خود وہ ایمان لے آئے جو مقابلے کے لیے بلوائے گئے تھے۔ مجمع عام میں سب کے سامنے بے جھجک انہوں نے دین حق کو قبول کر لیا۔ لیکن یہ اپنی شیطنیت میں اور بڑھ گیا اور اپنی قوت وطاقت دکھانے لگا لیکن بھلا حق والے مادی طاقتوں کو سمجھتے ہی کیا ہیں؟ «قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُم بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ» [7-الأعراف:123]
پہلے تو جادوگروں کے اس مسلم گروہ سے کہنے لگا کہ میری اجازت کے بغیر تم اس پر ایمان کیوں لائے؟ پھر ایسا بہتان باندھا جس کا جھوٹ ہونا بالکل واضح ہے کہ موسیٰ علیہ السلام تو تمہارے استاد ہیں انہی سے تم نے جادو سیکھا ہے۔ تم سب آپس میں ایک ہی ہو، مشورہ کر کے ہمیں تاراج کرنے کے لیے تم نے پہلے انہیں بھیجا پھر اس کے مقابلے میں خود آئے اور اپنے اندرونی سمجھوتے کے مطابق سامنے ہار گئے۔ اور اسے جتا دیا اور پھر اس کا دین قبول کر لیا تاکہ تمہاری دیکھا دیکھی میری رعایا بھی اس چکر میں پھنس جائے مگر تمہیں اپنی اس ساز باز کا انجام بھی معلوم ہو جائے گا۔ میں الٹی سیدھی طرف سے تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ کر تم کو کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا اور اس بری طرح تمہاری جان لوں گا کہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔
صفحہ نمبر5288
اسی بادشاہ نے سب سے پہلے یہ سزا دی ہے۔ تم جو اپنے آپکو ہدایت پر اور مجھے اور میری قوم کو گمراہی پرسمجھتے ہو، اس کا حال بھی تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ دائمی عذاب کس پر آتا ہے؟ اس دھمکی کا ان کے دلوں پر الٹا اثر ہوا۔ وہ اپنے ایمان میں کامل بن گئے اور نہایت بےپرواہی سے جواب دیا کہ اس ہدایت و یقین کے مقابلے میں جو ہمیں اب اللہ کی طرف سے حاصل ہوا ہے، ہم تیرا مذہب کسی طرح قبول کرنے کے نہیں۔ نہ تجھے ہم اپنے سچے خالق مالک کے سامنے کوئی چیزسمجھیں۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جملہ قسم ہو یعنی اس اللہ کی قسم جس نے ہمیں اولاً پیدا کیا ہے، ہم ان واضح دلیلوں پر تیری گمراہی کو ترجیح دے ہی نہیں سکتے خواہ تو ہمارے ساتھ کچھ ہی کر لے۔ مستحق عبادت وہ ہے جس نے ہمیں بنایا نہ کہ تو، جو خود اسی کا بنایا ہوا ہے۔ تجھے جو کرنا ہو اس میں کمی نہ کر، تو تو ہمیں اسی وقت تک سزا دے سکتا ہے جب تک ہم اس دنیا کی حیات کی قید میں ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کے بعد ابدی راحت اور غیر فانی خوشی ومسرت نصیب ہو گی۔ ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں ہمیں امید ہے کہ وہ ہمارے اگلے قصوروں سے درگزر فرمالے گا بالخصوص یہ قصور جو ہم سے اللہ کے سچے نبی کے مقابلے پر جادو بازی کرنے کا سرزد ہوا ہے۔
صفحہ نمبر5289
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، فرعون نے بنی اسرائیل کے چالیس بچے لے کر انہیں جادوگروں کے سپرد کیا تھا کہ انہیں جادو کی پوری تعلیم دو۔ اب یہ لڑکے یہ مقولہ کہہ رہے ہیں کہ تو نے ہم سے جبراً جادوگری کی خدمت لی۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ پھر فرمایا ہمارے لیے بہ نسبت تیرے، اللہ بہت بہتر ہے اور دائمی ثواب دینے والا ہے۔ نہ ہمیں تیری سزاؤں سے ڈر نہ تیرے انعام کی لالچ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی اس لائق ہے کہ اس کی عبادت و اطاعت کی جائے۔
اسی کے عذاب دائمی ہیں اور سخت خطرناک ہیں، اگر اس کی نافرمانی کی جائے۔ پس فرعون نے بھی ان کے ساتھ یہ کیا۔ سب کے ہاتھ پاؤں الٹی سیدھی طرف سے کاٹ کرسولی پر چڑھا دیا۔ وہ جماعت جو سورج کے نکلنے کے وقت کافر تھی، وہی جماعت سورج ڈوبنے سے پہلے مومن اور شہید تھی رحمتہ اللہ علیہم اجمعین۔
صفحہ نمبر5290
طه 20:72
نتیجہ موسیٰ علیہ السلام کی صداقت کا گواہ بنا ٭٭
اللہ کی شان دیکھئے! چاہیئے تو یہ تھا کہ فرعون اب راہ راست پر آ جاتا۔ جن کو اس نے مقابلے کیلئے بلوایا تھا وہ عام مجمع میں ہارے۔ انہوں نے اپنی ہار مان لی، اپنے کرتوت کو جادو اور موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء کردہ معجزہ تسلیم کر لیا۔ خود وہ ایمان لے آئے جو مقابلے کے لیے بلوائے گئے تھے۔ مجمع عام میں سب کے سامنے بے جھجک انہوں نے دین حق کو قبول کر لیا۔ لیکن یہ اپنی شیطنیت میں اور بڑھ گیا اور اپنی قوت وطاقت دکھانے لگا لیکن بھلا حق والے مادی طاقتوں کو سمجھتے ہی کیا ہیں؟ «قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُم بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ» [7-الأعراف:123]
پہلے تو جادوگروں کے اس مسلم گروہ سے کہنے لگا کہ میری اجازت کے بغیر تم اس پر ایمان کیوں لائے؟ پھر ایسا بہتان باندھا جس کا جھوٹ ہونا بالکل واضح ہے کہ موسیٰ علیہ السلام تو تمہارے استاد ہیں انہی سے تم نے جادو سیکھا ہے۔ تم سب آپس میں ایک ہی ہو، مشورہ کر کے ہمیں تاراج کرنے کے لیے تم نے پہلے انہیں بھیجا پھر اس کے مقابلے میں خود آئے اور اپنے اندرونی سمجھوتے کے مطابق سامنے ہار گئے۔ اور اسے جتا دیا اور پھر اس کا دین قبول کر لیا تاکہ تمہاری دیکھا دیکھی میری رعایا بھی اس چکر میں پھنس جائے مگر تمہیں اپنی اس ساز باز کا انجام بھی معلوم ہو جائے گا۔ میں الٹی سیدھی طرف سے تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ کر تم کو کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا اور اس بری طرح تمہاری جان لوں گا کہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔
صفحہ نمبر5288
اسی بادشاہ نے سب سے پہلے یہ سزا دی ہے۔ تم جو اپنے آپکو ہدایت پر اور مجھے اور میری قوم کو گمراہی پرسمجھتے ہو، اس کا حال بھی تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ دائمی عذاب کس پر آتا ہے؟ اس دھمکی کا ان کے دلوں پر الٹا اثر ہوا۔ وہ اپنے ایمان میں کامل بن گئے اور نہایت بےپرواہی سے جواب دیا کہ اس ہدایت و یقین کے مقابلے میں جو ہمیں اب اللہ کی طرف سے حاصل ہوا ہے، ہم تیرا مذہب کسی طرح قبول کرنے کے نہیں۔ نہ تجھے ہم اپنے سچے خالق مالک کے سامنے کوئی چیزسمجھیں۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جملہ قسم ہو یعنی اس اللہ کی قسم جس نے ہمیں اولاً پیدا کیا ہے، ہم ان واضح دلیلوں پر تیری گمراہی کو ترجیح دے ہی نہیں سکتے خواہ تو ہمارے ساتھ کچھ ہی کر لے۔ مستحق عبادت وہ ہے جس نے ہمیں بنایا نہ کہ تو، جو خود اسی کا بنایا ہوا ہے۔ تجھے جو کرنا ہو اس میں کمی نہ کر، تو تو ہمیں اسی وقت تک سزا دے سکتا ہے جب تک ہم اس دنیا کی حیات کی قید میں ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کے بعد ابدی راحت اور غیر فانی خوشی ومسرت نصیب ہو گی۔ ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں ہمیں امید ہے کہ وہ ہمارے اگلے قصوروں سے درگزر فرمالے گا بالخصوص یہ قصور جو ہم سے اللہ کے سچے نبی کے مقابلے پر جادو بازی کرنے کا سرزد ہوا ہے۔
صفحہ نمبر5289
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، فرعون نے بنی اسرائیل کے چالیس بچے لے کر انہیں جادوگروں کے سپرد کیا تھا کہ انہیں جادو کی پوری تعلیم دو۔ اب یہ لڑکے یہ مقولہ کہہ رہے ہیں کہ تو نے ہم سے جبراً جادوگری کی خدمت لی۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ پھر فرمایا ہمارے لیے بہ نسبت تیرے، اللہ بہت بہتر ہے اور دائمی ثواب دینے والا ہے۔ نہ ہمیں تیری سزاؤں سے ڈر نہ تیرے انعام کی لالچ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی اس لائق ہے کہ اس کی عبادت و اطاعت کی جائے۔
اسی کے عذاب دائمی ہیں اور سخت خطرناک ہیں، اگر اس کی نافرمانی کی جائے۔ پس فرعون نے بھی ان کے ساتھ یہ کیا۔ سب کے ہاتھ پاؤں الٹی سیدھی طرف سے کاٹ کرسولی پر چڑھا دیا۔ وہ جماعت جو سورج کے نکلنے کے وقت کافر تھی، وہی جماعت سورج ڈوبنے سے پہلے مومن اور شہید تھی رحمتہ اللہ علیہم اجمعین۔
صفحہ نمبر5290
طه 20:73
نتیجہ موسیٰ علیہ السلام کی صداقت کا گواہ بنا ٭٭
اللہ کی شان دیکھئے! چاہیئے تو یہ تھا کہ فرعون اب راہ راست پر آ جاتا۔ جن کو اس نے مقابلے کیلئے بلوایا تھا وہ عام مجمع میں ہارے۔ انہوں نے اپنی ہار مان لی، اپنے کرتوت کو جادو اور موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء کردہ معجزہ تسلیم کر لیا۔ خود وہ ایمان لے آئے جو مقابلے کے لیے بلوائے گئے تھے۔ مجمع عام میں سب کے سامنے بے جھجک انہوں نے دین حق کو قبول کر لیا۔ لیکن یہ اپنی شیطنیت میں اور بڑھ گیا اور اپنی قوت وطاقت دکھانے لگا لیکن بھلا حق والے مادی طاقتوں کو سمجھتے ہی کیا ہیں؟ «قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُم بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ» [7-الأعراف:123]
پہلے تو جادوگروں کے اس مسلم گروہ سے کہنے لگا کہ میری اجازت کے بغیر تم اس پر ایمان کیوں لائے؟ پھر ایسا بہتان باندھا جس کا جھوٹ ہونا بالکل واضح ہے کہ موسیٰ علیہ السلام تو تمہارے استاد ہیں انہی سے تم نے جادو سیکھا ہے۔ تم سب آپس میں ایک ہی ہو، مشورہ کر کے ہمیں تاراج کرنے کے لیے تم نے پہلے انہیں بھیجا پھر اس کے مقابلے میں خود آئے اور اپنے اندرونی سمجھوتے کے مطابق سامنے ہار گئے۔ اور اسے جتا دیا اور پھر اس کا دین قبول کر لیا تاکہ تمہاری دیکھا دیکھی میری رعایا بھی اس چکر میں پھنس جائے مگر تمہیں اپنی اس ساز باز کا انجام بھی معلوم ہو جائے گا۔ میں الٹی سیدھی طرف سے تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ کر تم کو کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا اور اس بری طرح تمہاری جان لوں گا کہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔
صفحہ نمبر5288
اسی بادشاہ نے سب سے پہلے یہ سزا دی ہے۔ تم جو اپنے آپکو ہدایت پر اور مجھے اور میری قوم کو گمراہی پرسمجھتے ہو، اس کا حال بھی تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ دائمی عذاب کس پر آتا ہے؟ اس دھمکی کا ان کے دلوں پر الٹا اثر ہوا۔ وہ اپنے ایمان میں کامل بن گئے اور نہایت بےپرواہی سے جواب دیا کہ اس ہدایت و یقین کے مقابلے میں جو ہمیں اب اللہ کی طرف سے حاصل ہوا ہے، ہم تیرا مذہب کسی طرح قبول کرنے کے نہیں۔ نہ تجھے ہم اپنے سچے خالق مالک کے سامنے کوئی چیزسمجھیں۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جملہ قسم ہو یعنی اس اللہ کی قسم جس نے ہمیں اولاً پیدا کیا ہے، ہم ان واضح دلیلوں پر تیری گمراہی کو ترجیح دے ہی نہیں سکتے خواہ تو ہمارے ساتھ کچھ ہی کر لے۔ مستحق عبادت وہ ہے جس نے ہمیں بنایا نہ کہ تو، جو خود اسی کا بنایا ہوا ہے۔ تجھے جو کرنا ہو اس میں کمی نہ کر، تو تو ہمیں اسی وقت تک سزا دے سکتا ہے جب تک ہم اس دنیا کی حیات کی قید میں ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کے بعد ابدی راحت اور غیر فانی خوشی ومسرت نصیب ہو گی۔ ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں ہمیں امید ہے کہ وہ ہمارے اگلے قصوروں سے درگزر فرمالے گا بالخصوص یہ قصور جو ہم سے اللہ کے سچے نبی کے مقابلے پر جادو بازی کرنے کا سرزد ہوا ہے۔
صفحہ نمبر5289
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، فرعون نے بنی اسرائیل کے چالیس بچے لے کر انہیں جادوگروں کے سپرد کیا تھا کہ انہیں جادو کی پوری تعلیم دو۔ اب یہ لڑکے یہ مقولہ کہہ رہے ہیں کہ تو نے ہم سے جبراً جادوگری کی خدمت لی۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ پھر فرمایا ہمارے لیے بہ نسبت تیرے، اللہ بہت بہتر ہے اور دائمی ثواب دینے والا ہے۔ نہ ہمیں تیری سزاؤں سے ڈر نہ تیرے انعام کی لالچ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی اس لائق ہے کہ اس کی عبادت و اطاعت کی جائے۔
اسی کے عذاب دائمی ہیں اور سخت خطرناک ہیں، اگر اس کی نافرمانی کی جائے۔ پس فرعون نے بھی ان کے ساتھ یہ کیا۔ سب کے ہاتھ پاؤں الٹی سیدھی طرف سے کاٹ کرسولی پر چڑھا دیا۔ وہ جماعت جو سورج کے نکلنے کے وقت کافر تھی، وہی جماعت سورج ڈوبنے سے پہلے مومن اور شہید تھی رحمتہ اللہ علیہم اجمعین۔
صفحہ نمبر5290
طه 20:74
ایمان یافتہ جادوگروں پر فرعون کا عتاب ٭٭
بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ جادوگروں نے ایمان قبول فرما کر فرعون کو جو نصیحتیں کیں، انہیں میں یہ آیتیں بھی ہیں۔ اسے اللہ کے عذابوں سے ڈرا رہے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کا لالچ دلا رہے ہیں کہ گنہگاروں کا ٹھکانا جہنم ہے جہاں موت تو کبھی آنے ہی کی نہیں لیکن زندگی بھی بڑی ہی مشقت والی موت سے بدتر ہو گی۔
جیسے فرمان ہے «لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ» [35-فاطر:36] ” یعنی نہ تو موت ہی آئے گی نہ عذاب ہلکے ہوں گے، کافروں کو ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں۔ “
اور آیتوں میں ہے «وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى * الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ * ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ» [87-الأعلى:11-13] ” یعنی اللہ کی نصیحتوں سے بے فیض وہی رہے گا جو ازلی بدبخت ہو جو آخرکار بڑی سخت آگ میں گرے گا جہاں نہ تو موت آئے نہ چین کی زندگی نصیب ہو۔ “
اور آیت میں ہے کہ «وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۖ قَالَ إِنَّكُم مَّاكِثُونَ» [43-الزخرف:77] ” جہنم میں جھلستے ہوئے کہیں گے کہ اے داروغہ دوزخ! تم دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں موت ہی دیدے “ لیکن وہ جواب دے گا کہ نہ تم مرنے والے ہو نہ نکلنے والے۔
صفحہ نمبر5293
طه 20:75
باب
مسند احمد میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اصلی جہنمی تو جہنم میں ہی پڑے رہیں گے نہ وہاں انہیں موت آئے نہ آرام کی زندگی ملے۔ ہاں ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں دوزخ میں ڈال دیا جائے گا جہاں وہ جل کر کوئلہ ہو جائیں گے جان نکل جائے گی۔ پھر شفاعت کی اجازت کے بعد ان کا چورا نکالاجائے گا اور جنت کی نہروں کے کناروں پر بکھیردیا جائے گا اور جنتیوں سے فرمایا جائے گا کہ ان پر پانی ڈالو تو جس طرح تم نے نہر کے کنارے کے کھیت کے دانوں کو اگتے ہوئے دیکھا ہے، اسی طرح وہ اگیں گے۔ یہ سن کر ایک شخص کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال تو ایسی دی ہے گویا آپ کچھ زمانہ جنگل میں گزار چکے ہیں۔ [صحیح مسلم:185]
اور حدیث میں ہے کہ خطبے میں اس آیت کی تلاوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا۔ اور جو اللہ سے قیامت کے دن ایمان اور عمل صالح کے ساتھ جا ملا، اسے اونچے بالا خانوں والی جنت ملے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، جنت کے سو درجوں میں اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں۔ سب سے اوپر جنت الفردوس ہے اسی سے چاروں نہریں جاری ہوتی ہیں، اس کی چھت رحمان کا عرش ہے۔ اللہ سے جب جنت مانگو تو جنت الفردوس کی دعا کیا کرو۔ [سنن ترمذي:2531،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5294
ابن ابی حاتم میں ہے کہ کہا جاتا تھا کہ جنت کے سو درجے ہیں، ہر درجے کے پھر سو درجے ہیں، دو درجوں میں اتنی دوری ہے جتنی آسمان و زمین میں۔ ان میں یاقوت اور موتی ہیں اور زیور بھی۔ ہر جنت میں امیر ہے جس کی فضیلت اور سرداری کے دوسرے قائل ہیں۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اعلی علیین والے ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے تم لوگ آسمان کے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ لوگوں نے کہا پھر یہ بلند درجے تو نبیوں کے لیے ہی مخصوص ہونگے؟ فرمایا سنو اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور نبیوں کو سچا جانا۔ [صحیح بخاری:3256]
سنن کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما انہی میں سے ہیں۔ اور کتنے ہی اچھے مرتبے والے ہیں۔ [سنن ابوداود:3987،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہ جنتیں ہمیشگی کی اقامت ہیں جہاں یہ ہمیشہ ابد الاباد رہیں گے۔ جو لوگ اپنے نفس پاک رکھیں، گناہوں سے، خباثت سے، گندگی سے، شرک و کفر سے دور رہیں، اللہ واحد کی عبادت کرتے رہیں، رسولوں کی اطاعت میں عمرگزاردیں، ان کے لیے یہی قابل رشک مقامات اور قابل صد مبارکباد انعام ہیں «رَزَقَّنَا الّلهُ اِيَّاھَا» ۔
صفحہ نمبر5295
طه 20:76
باب
مسند احمد میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اصلی جہنمی تو جہنم میں ہی پڑے رہیں گے نہ وہاں انہیں موت آئے نہ آرام کی زندگی ملے۔ ہاں ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں دوزخ میں ڈال دیا جائے گا جہاں وہ جل کر کوئلہ ہو جائیں گے جان نکل جائے گی۔ پھر شفاعت کی اجازت کے بعد ان کا چورا نکالاجائے گا اور جنت کی نہروں کے کناروں پر بکھیردیا جائے گا اور جنتیوں سے فرمایا جائے گا کہ ان پر پانی ڈالو تو جس طرح تم نے نہر کے کنارے کے کھیت کے دانوں کو اگتے ہوئے دیکھا ہے، اسی طرح وہ اگیں گے۔ یہ سن کر ایک شخص کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال تو ایسی دی ہے گویا آپ کچھ زمانہ جنگل میں گزار چکے ہیں۔ [صحیح مسلم:185]
اور حدیث میں ہے کہ خطبے میں اس آیت کی تلاوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا۔ اور جو اللہ سے قیامت کے دن ایمان اور عمل صالح کے ساتھ جا ملا، اسے اونچے بالا خانوں والی جنت ملے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، جنت کے سو درجوں میں اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں۔ سب سے اوپر جنت الفردوس ہے اسی سے چاروں نہریں جاری ہوتی ہیں، اس کی چھت رحمان کا عرش ہے۔ اللہ سے جب جنت مانگو تو جنت الفردوس کی دعا کیا کرو۔ [سنن ترمذي:2531،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5294
ابن ابی حاتم میں ہے کہ کہا جاتا تھا کہ جنت کے سو درجے ہیں، ہر درجے کے پھر سو درجے ہیں، دو درجوں میں اتنی دوری ہے جتنی آسمان و زمین میں۔ ان میں یاقوت اور موتی ہیں اور زیور بھی۔ ہر جنت میں امیر ہے جس کی فضیلت اور سرداری کے دوسرے قائل ہیں۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اعلی علیین والے ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے تم لوگ آسمان کے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ لوگوں نے کہا پھر یہ بلند درجے تو نبیوں کے لیے ہی مخصوص ہونگے؟ فرمایا سنو اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور نبیوں کو سچا جانا۔ [صحیح بخاری:3256]
سنن کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما انہی میں سے ہیں۔ اور کتنے ہی اچھے مرتبے والے ہیں۔ [سنن ابوداود:3987،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہ جنتیں ہمیشگی کی اقامت ہیں جہاں یہ ہمیشہ ابد الاباد رہیں گے۔ جو لوگ اپنے نفس پاک رکھیں، گناہوں سے، خباثت سے، گندگی سے، شرک و کفر سے دور رہیں، اللہ واحد کی عبادت کرتے رہیں، رسولوں کی اطاعت میں عمرگزاردیں، ان کے لیے یہی قابل رشک مقامات اور قابل صد مبارکباد انعام ہیں «رَزَقَّنَا الّلهُ اِيَّاھَا» ۔
صفحہ نمبر5295
طه 20:77
بنی اسرائیل کی ہجرت اور فرعون کا تعاقب ٭٭
چونکہ موسیٰ علیہ السلام کے اس فرمان کو بھی فرعون نے ٹال دیا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر کے انہیں موسیٰ علیہ السلام کے سپرد کر دے، اس لیے جناب باری نے آپ کو حکم فرمایا کہ آپ راتوں رات ان کی بے خبری میں تمام بنی اسرائیل کو چپ چاپ لے کر یہاں سے چلے جائیں جیسے کہ اس کا تفصیلی بیان قرآن کریم میں اور بہت سی جگہ پر ہوا ہے۔
چنانچہ حسب ارشاد آپ نے بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر یہاں سے ہجرت کی۔ صبح جب فرعونی جاگے اور سارے شہر میں ایک بنی اسرائیلی نہ دیکھا۔ فرعون کو اطلاع دی، وہ مارے غصے کے چکر کھا گیا اور ہر طرف منادی دوڑا دئیے کہ لشکر جمع ہو جائیں اور دانت پیس پیس کر کہنے لگا کہ اس مٹھی بھر جماعت نے ہمارا ناک میں دم کر رکھا ہے آج ان سب کو تہ تیغ کر دوں گا۔ سورج نکلتے ہی لشکر آ موجود ہوا، اسی وقت خود سارے لشکرکو لے کر ان کے تعاقب میں روانہ ہو گیا۔ بنی اسرائیل دریا کے کنارے پہنچے ہی تھے کہ فرعونی لشکر انہیں دکھائی دے گیا، گھبرا کر اپنے نبی علیہ السلام سے کہنے لگے، لو اب کیا ہو گا سامنے دریا ہے پیچھے فرعونی ہیں۔ آپ نے جواب دیا، گھبرانے کی کوئی بات نہیں، میری مدد پر خود میرا رب ہے، وہ ابھی مجھے راہ دکھا دے گا۔ اسی وقت وحی الٰہی آئی کہ موسیٰ دریا پر اپنی لکڑی مارو، وہ ہٹ کر تمہیں راستہ دیدے گا۔
صفحہ نمبر5297
چنانچہ آپ نے یہ کہہ کر لکڑی ماری کہ اے دریا! بحکم الٰہی تو ہٹ جا۔ اسی وقت اس کا پانی پتھر کی طرح ادھر اْدھر جم گیا اور بیچ میں راستے نمایاں ہو گئے۔ ادھر ادھر پانی مثل پہاڑوں کے کھڑا ہو گیا اور تیز اور خشک ہواؤں کے جھونکوں نے راستوں کو بالکل سوکھی زمین کے راستوں کی طرح کر دیا۔ نہ تو فرعون کی پکڑ کا خوف رہا نہ دریا میں ڈوب جانے کا خطرہ رہا۔
فرعون اور اس کے لشکری یہ حال دیکھ رہے تھے۔ فرعون نے حکم دیا کہ انہی راستوں سے تم بھی پار ہو جاؤ۔ چیختا کودتا مع تمام لشکر کے ان ہی راہوں میں اتر پڑا، ان کے اترتے ہی پانی کو بہنے کا حکم ہو گیا اور چشم زدن میں تمام فرعونی ڈبو دیئے گئے۔ دریا کی موجوں نے انہیں چھپا لیا۔ یہاں جو فرمایا کہ انہیں اس چیز نے ڈھانپ لیا۔ یہ اس لیے کہ یہ مشہور ومعروف ہے نام لینے کی ضرورت نہیں یعنی دریا کی موجوں نے۔ اسی جیسی آیت «وَالْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰى * فَغَشّٰـىهَا مَا غَشّٰى» [53-النجم:53-54] ہے ” یعنی قوم لوط کی بستیوں کو بھی اسی نے دے پٹکا تھا۔ پھر ان پر جو تباہی آئی، سو آئی۔ “ عرب کے اشعار میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔
الغرض فرعون نے اپنی قوم کو بہکا دیا اور راہ راست انہیں نہ دکھائی۔ جس طرح دنیا میں انہیں اس نے آگے بڑھ کر دریا برد کیا، «يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۖ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ» [11-هود:98] ” اسی طرح آگے ہو کر قیامت کے دن انہیں جہنم میں جا جھونکے گا جو بدترین جگہ ہے۔ “
صفحہ نمبر5298
طه 20:78
بنی اسرائیل کی ہجرت اور فرعون کا تعاقب ٭٭
چونکہ موسیٰ علیہ السلام کے اس فرمان کو بھی فرعون نے ٹال دیا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر کے انہیں موسیٰ علیہ السلام کے سپرد کر دے، اس لیے جناب باری نے آپ کو حکم فرمایا کہ آپ راتوں رات ان کی بے خبری میں تمام بنی اسرائیل کو چپ چاپ لے کر یہاں سے چلے جائیں جیسے کہ اس کا تفصیلی بیان قرآن کریم میں اور بہت سی جگہ پر ہوا ہے۔
چنانچہ حسب ارشاد آپ نے بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر یہاں سے ہجرت کی۔ صبح جب فرعونی جاگے اور سارے شہر میں ایک بنی اسرائیلی نہ دیکھا۔ فرعون کو اطلاع دی، وہ مارے غصے کے چکر کھا گیا اور ہر طرف منادی دوڑا دئیے کہ لشکر جمع ہو جائیں اور دانت پیس پیس کر کہنے لگا کہ اس مٹھی بھر جماعت نے ہمارا ناک میں دم کر رکھا ہے آج ان سب کو تہ تیغ کر دوں گا۔ سورج نکلتے ہی لشکر آ موجود ہوا، اسی وقت خود سارے لشکرکو لے کر ان کے تعاقب میں روانہ ہو گیا۔ بنی اسرائیل دریا کے کنارے پہنچے ہی تھے کہ فرعونی لشکر انہیں دکھائی دے گیا، گھبرا کر اپنے نبی علیہ السلام سے کہنے لگے، لو اب کیا ہو گا سامنے دریا ہے پیچھے فرعونی ہیں۔ آپ نے جواب دیا، گھبرانے کی کوئی بات نہیں، میری مدد پر خود میرا رب ہے، وہ ابھی مجھے راہ دکھا دے گا۔ اسی وقت وحی الٰہی آئی کہ موسیٰ دریا پر اپنی لکڑی مارو، وہ ہٹ کر تمہیں راستہ دیدے گا۔
صفحہ نمبر5297
چنانچہ آپ نے یہ کہہ کر لکڑی ماری کہ اے دریا! بحکم الٰہی تو ہٹ جا۔ اسی وقت اس کا پانی پتھر کی طرح ادھر اْدھر جم گیا اور بیچ میں راستے نمایاں ہو گئے۔ ادھر ادھر پانی مثل پہاڑوں کے کھڑا ہو گیا اور تیز اور خشک ہواؤں کے جھونکوں نے راستوں کو بالکل سوکھی زمین کے راستوں کی طرح کر دیا۔ نہ تو فرعون کی پکڑ کا خوف رہا نہ دریا میں ڈوب جانے کا خطرہ رہا۔
فرعون اور اس کے لشکری یہ حال دیکھ رہے تھے۔ فرعون نے حکم دیا کہ انہی راستوں سے تم بھی پار ہو جاؤ۔ چیختا کودتا مع تمام لشکر کے ان ہی راہوں میں اتر پڑا، ان کے اترتے ہی پانی کو بہنے کا حکم ہو گیا اور چشم زدن میں تمام فرعونی ڈبو دیئے گئے۔ دریا کی موجوں نے انہیں چھپا لیا۔ یہاں جو فرمایا کہ انہیں اس چیز نے ڈھانپ لیا۔ یہ اس لیے کہ یہ مشہور ومعروف ہے نام لینے کی ضرورت نہیں یعنی دریا کی موجوں نے۔ اسی جیسی آیت «وَالْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰى * فَغَشّٰـىهَا مَا غَشّٰى» [53-النجم:53-54] ہے ” یعنی قوم لوط کی بستیوں کو بھی اسی نے دے پٹکا تھا۔ پھر ان پر جو تباہی آئی، سو آئی۔ “ عرب کے اشعار میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔
الغرض فرعون نے اپنی قوم کو بہکا دیا اور راہ راست انہیں نہ دکھائی۔ جس طرح دنیا میں انہیں اس نے آگے بڑھ کر دریا برد کیا، «يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۖ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ» [11-هود:98] ” اسی طرح آگے ہو کر قیامت کے دن انہیں جہنم میں جا جھونکے گا جو بدترین جگہ ہے۔ “
صفحہ نمبر5298
طه 20:79
بنی اسرائیل کی ہجرت اور فرعون کا تعاقب ٭٭
چونکہ موسیٰ علیہ السلام کے اس فرمان کو بھی فرعون نے ٹال دیا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر کے انہیں موسیٰ علیہ السلام کے سپرد کر دے، اس لیے جناب باری نے آپ کو حکم فرمایا کہ آپ راتوں رات ان کی بے خبری میں تمام بنی اسرائیل کو چپ چاپ لے کر یہاں سے چلے جائیں جیسے کہ اس کا تفصیلی بیان قرآن کریم میں اور بہت سی جگہ پر ہوا ہے۔
چنانچہ حسب ارشاد آپ نے بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر یہاں سے ہجرت کی۔ صبح جب فرعونی جاگے اور سارے شہر میں ایک بنی اسرائیلی نہ دیکھا۔ فرعون کو اطلاع دی، وہ مارے غصے کے چکر کھا گیا اور ہر طرف منادی دوڑا دئیے کہ لشکر جمع ہو جائیں اور دانت پیس پیس کر کہنے لگا کہ اس مٹھی بھر جماعت نے ہمارا ناک میں دم کر رکھا ہے آج ان سب کو تہ تیغ کر دوں گا۔ سورج نکلتے ہی لشکر آ موجود ہوا، اسی وقت خود سارے لشکرکو لے کر ان کے تعاقب میں روانہ ہو گیا۔ بنی اسرائیل دریا کے کنارے پہنچے ہی تھے کہ فرعونی لشکر انہیں دکھائی دے گیا، گھبرا کر اپنے نبی علیہ السلام سے کہنے لگے، لو اب کیا ہو گا سامنے دریا ہے پیچھے فرعونی ہیں۔ آپ نے جواب دیا، گھبرانے کی کوئی بات نہیں، میری مدد پر خود میرا رب ہے، وہ ابھی مجھے راہ دکھا دے گا۔ اسی وقت وحی الٰہی آئی کہ موسیٰ دریا پر اپنی لکڑی مارو، وہ ہٹ کر تمہیں راستہ دیدے گا۔
صفحہ نمبر5297
چنانچہ آپ نے یہ کہہ کر لکڑی ماری کہ اے دریا! بحکم الٰہی تو ہٹ جا۔ اسی وقت اس کا پانی پتھر کی طرح ادھر اْدھر جم گیا اور بیچ میں راستے نمایاں ہو گئے۔ ادھر ادھر پانی مثل پہاڑوں کے کھڑا ہو گیا اور تیز اور خشک ہواؤں کے جھونکوں نے راستوں کو بالکل سوکھی زمین کے راستوں کی طرح کر دیا۔ نہ تو فرعون کی پکڑ کا خوف رہا نہ دریا میں ڈوب جانے کا خطرہ رہا۔
فرعون اور اس کے لشکری یہ حال دیکھ رہے تھے۔ فرعون نے حکم دیا کہ انہی راستوں سے تم بھی پار ہو جاؤ۔ چیختا کودتا مع تمام لشکر کے ان ہی راہوں میں اتر پڑا، ان کے اترتے ہی پانی کو بہنے کا حکم ہو گیا اور چشم زدن میں تمام فرعونی ڈبو دیئے گئے۔ دریا کی موجوں نے انہیں چھپا لیا۔ یہاں جو فرمایا کہ انہیں اس چیز نے ڈھانپ لیا۔ یہ اس لیے کہ یہ مشہور ومعروف ہے نام لینے کی ضرورت نہیں یعنی دریا کی موجوں نے۔ اسی جیسی آیت «وَالْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰى * فَغَشّٰـىهَا مَا غَشّٰى» [53-النجم:53-54] ہے ” یعنی قوم لوط کی بستیوں کو بھی اسی نے دے پٹکا تھا۔ پھر ان پر جو تباہی آئی، سو آئی۔ “ عرب کے اشعار میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔
الغرض فرعون نے اپنی قوم کو بہکا دیا اور راہ راست انہیں نہ دکھائی۔ جس طرح دنیا میں انہیں اس نے آگے بڑھ کر دریا برد کیا، «يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۖ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ» [11-هود:98] ” اسی طرح آگے ہو کر قیامت کے دن انہیں جہنم میں جا جھونکے گا جو بدترین جگہ ہے۔ “
صفحہ نمبر5298
طه 20:80
احسانات کی یاد دہانی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جو بڑے بڑے احسان کئے تھے، انہیں یاد دلا رہا ہے۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ انہیں ان کے دشمن سے نجات دی۔ اور اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے دشمنوں کو ان کے دیکھتے ہوئے دریا میں ڈبو دیا۔ ایک بھی ان میں سے باقی نہ بچا۔ جیسے فرمان ہے «وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ» [2-البقرة:50] ۔ ” یعنی ہم نے تمہارے دیکھتے ہوئے فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ “
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ مدینے کے یہودیوں کو عاشورے کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کا سبب دریافت فرمایا تو انہوں نے جواب دیا کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر کامیاب کیا تھا۔ آپ نے فرمایا، پھر تو ہمیں بہ نسبت تمہارے ان سے زیادہ قرب ہے چنانچہ آپ نے مسلمانوں کو اس دن کے روزے کا حکم دیا۔ [صحیح بخاری:4680]
پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور کی دائیں جانب کا وعدہ دیا۔ آپ وہاں گئے اور پیچھے سے بنو اسرائیل نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی۔ جس کا بیان ابھی آگے آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اسی طرح ایک احسان ان پر یہ کیا کہ من وسلوی کھانے کو دیا۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ وغیرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ من ایک میٹھی چیز تھی جو ان کے لیے آسمان سے اترتی تھی اور سلوی ایک قسم کے پرند تھے جو بہ حکم خداوندی ان کے سامنے آ جاتے تھے، یہ بقدر ایک دن کی خوراک کے انہیں لے لیتے تھے۔ ہماری یہ دی ہوئی روزی کھاؤ، اس میں حد سے نہ گزر جاؤ، حرام چیز یا حرام ذریعہ سے اسے نہ طلب کرو۔ ورنہ میرا غضب نازل ہو گا اور جس پر میرا غضب اترے یقین مانو کہ وہ بدبخت ہو گیا۔ شغی بن مانع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہنم میں ایک اونچی جگہ بنی ہوئی ہے جہاں سے کافر کو جہنم میں گرایا جاتا ہے تو زنجیروں کی جگہ تک چالیس سال میں پہنچتا ہے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ وہ گڑھے میں گر پڑا۔ ہاں جو بھی اپنے گناہوں سے میرے سامنے توبہ کرے، میں اس کی توبہ قبول فرماتا ہوں۔
صفحہ نمبر5301
دیکھو بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی، ان کی توبہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی بخش دیا۔ غرض جس کفر و شرک، گناہ و معصیت پر کوئی ہو، پھر وہ اسے بخوف الٰہی چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے۔ ہاں دل میں ایمان ہو اور اعمال صالحہ بھی کرتا ہو اور ہو بھی راہ راست پر، شکی نہ ہو، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جماعت صحابہ رضی اللہ عنہم کی روش پر ہو۔ اس میں ثواب جانتا ہو، یہاں پر «ثم» کا لفظ خبر کی خبر پر ترتیب کرنے کے لیے آیا ہے۔ جیسے فرمان ہے «ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّالِحاتِ» ۔ [90-البلد:17]
صفحہ نمبر5302
طه 20:81
احسانات کی یاد دہانی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جو بڑے بڑے احسان کئے تھے، انہیں یاد دلا رہا ہے۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ انہیں ان کے دشمن سے نجات دی۔ اور اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے دشمنوں کو ان کے دیکھتے ہوئے دریا میں ڈبو دیا۔ ایک بھی ان میں سے باقی نہ بچا۔ جیسے فرمان ہے «وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ» [2-البقرة:50] ۔ ” یعنی ہم نے تمہارے دیکھتے ہوئے فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ “
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ مدینے کے یہودیوں کو عاشورے کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کا سبب دریافت فرمایا تو انہوں نے جواب دیا کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر کامیاب کیا تھا۔ آپ نے فرمایا، پھر تو ہمیں بہ نسبت تمہارے ان سے زیادہ قرب ہے چنانچہ آپ نے مسلمانوں کو اس دن کے روزے کا حکم دیا۔ [صحیح بخاری:4680]
پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور کی دائیں جانب کا وعدہ دیا۔ آپ وہاں گئے اور پیچھے سے بنو اسرائیل نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی۔ جس کا بیان ابھی آگے آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اسی طرح ایک احسان ان پر یہ کیا کہ من وسلوی کھانے کو دیا۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ وغیرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ من ایک میٹھی چیز تھی جو ان کے لیے آسمان سے اترتی تھی اور سلوی ایک قسم کے پرند تھے جو بہ حکم خداوندی ان کے سامنے آ جاتے تھے، یہ بقدر ایک دن کی خوراک کے انہیں لے لیتے تھے۔ ہماری یہ دی ہوئی روزی کھاؤ، اس میں حد سے نہ گزر جاؤ، حرام چیز یا حرام ذریعہ سے اسے نہ طلب کرو۔ ورنہ میرا غضب نازل ہو گا اور جس پر میرا غضب اترے یقین مانو کہ وہ بدبخت ہو گیا۔ شغی بن مانع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہنم میں ایک اونچی جگہ بنی ہوئی ہے جہاں سے کافر کو جہنم میں گرایا جاتا ہے تو زنجیروں کی جگہ تک چالیس سال میں پہنچتا ہے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ وہ گڑھے میں گر پڑا۔ ہاں جو بھی اپنے گناہوں سے میرے سامنے توبہ کرے، میں اس کی توبہ قبول فرماتا ہوں۔
صفحہ نمبر5301
دیکھو بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی، ان کی توبہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی بخش دیا۔ غرض جس کفر و شرک، گناہ و معصیت پر کوئی ہو، پھر وہ اسے بخوف الٰہی چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے۔ ہاں دل میں ایمان ہو اور اعمال صالحہ بھی کرتا ہو اور ہو بھی راہ راست پر، شکی نہ ہو، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جماعت صحابہ رضی اللہ عنہم کی روش پر ہو۔ اس میں ثواب جانتا ہو، یہاں پر «ثم» کا لفظ خبر کی خبر پر ترتیب کرنے کے لیے آیا ہے۔ جیسے فرمان ہے «ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّالِحاتِ» ۔ [90-البلد:17]
صفحہ نمبر5302
طه 20:82
احسانات کی یاد دہانی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جو بڑے بڑے احسان کئے تھے، انہیں یاد دلا رہا ہے۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ انہیں ان کے دشمن سے نجات دی۔ اور اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے دشمنوں کو ان کے دیکھتے ہوئے دریا میں ڈبو دیا۔ ایک بھی ان میں سے باقی نہ بچا۔ جیسے فرمان ہے «وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ» [2-البقرة:50] ۔ ” یعنی ہم نے تمہارے دیکھتے ہوئے فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ “
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ مدینے کے یہودیوں کو عاشورے کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کا سبب دریافت فرمایا تو انہوں نے جواب دیا کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر کامیاب کیا تھا۔ آپ نے فرمایا، پھر تو ہمیں بہ نسبت تمہارے ان سے زیادہ قرب ہے چنانچہ آپ نے مسلمانوں کو اس دن کے روزے کا حکم دیا۔ [صحیح بخاری:4680]
پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور کی دائیں جانب کا وعدہ دیا۔ آپ وہاں گئے اور پیچھے سے بنو اسرائیل نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی۔ جس کا بیان ابھی آگے آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اسی طرح ایک احسان ان پر یہ کیا کہ من وسلوی کھانے کو دیا۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ وغیرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ من ایک میٹھی چیز تھی جو ان کے لیے آسمان سے اترتی تھی اور سلوی ایک قسم کے پرند تھے جو بہ حکم خداوندی ان کے سامنے آ جاتے تھے، یہ بقدر ایک دن کی خوراک کے انہیں لے لیتے تھے۔ ہماری یہ دی ہوئی روزی کھاؤ، اس میں حد سے نہ گزر جاؤ، حرام چیز یا حرام ذریعہ سے اسے نہ طلب کرو۔ ورنہ میرا غضب نازل ہو گا اور جس پر میرا غضب اترے یقین مانو کہ وہ بدبخت ہو گیا۔ شغی بن مانع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہنم میں ایک اونچی جگہ بنی ہوئی ہے جہاں سے کافر کو جہنم میں گرایا جاتا ہے تو زنجیروں کی جگہ تک چالیس سال میں پہنچتا ہے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ وہ گڑھے میں گر پڑا۔ ہاں جو بھی اپنے گناہوں سے میرے سامنے توبہ کرے، میں اس کی توبہ قبول فرماتا ہوں۔
صفحہ نمبر5301
دیکھو بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی، ان کی توبہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی بخش دیا۔ غرض جس کفر و شرک، گناہ و معصیت پر کوئی ہو، پھر وہ اسے بخوف الٰہی چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے۔ ہاں دل میں ایمان ہو اور اعمال صالحہ بھی کرتا ہو اور ہو بھی راہ راست پر، شکی نہ ہو، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جماعت صحابہ رضی اللہ عنہم کی روش پر ہو۔ اس میں ثواب جانتا ہو، یہاں پر «ثم» کا لفظ خبر کی خبر پر ترتیب کرنے کے لیے آیا ہے۔ جیسے فرمان ہے «ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّالِحاتِ» ۔ [90-البلد:17]
صفحہ نمبر5302
طه 20:83
بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭
موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے۔ پورے چالیس ہو گئے، دن رات روزے سے رہتے تھے۔ اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے۔ بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی ہیں، آ رہے ہیں، میں نے جلدی کی ہے کہ تیری رضا مندی حاصل کر لوں اور اس میں بڑھ جاؤں۔
صفحہ نمبر5305
موسی علیہ السلام کے بعد پھر شرک ٭٭
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے چلے آنے کے بعد تیری قوم میں نیا فتنہ برپا ہوا اور انہوں نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی ہے۔ اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اور انہیں اس کی عبادت میں لگا دیا ہے۔ اسرائیلی کتابوں میں ہے کہ سامری کا نام بھی ہارون تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمانے کے لیے تورات کی تختیاں لکھ لی گئی تھیں، جیسے فرمان ہے «وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ» [7-الأعراف:145] ۔ ” یعنی ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر شے کا تذکرہ اور ہرچیز کی تفصیل لکھ دی تھی اور کہہ دیا کہ اسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنی قوم سے بھی کہو کہ اس پر عمدگی سے عمل کریں۔ میں تمہیں عنقریب فاسقوں کا انجام دکھا دوں گا۔ “
موسیٰ علیہ السلام کو جب اپنی قوم کے مشرکانہ فعل کا علم ہوا تو سخت رنج ہوا اور غم و غصے میں بھرے ہوئے وہاں سے واپس قوم کی طرف چلے کہ دیکھو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے باوجود ایسے سخت احمقانہ اور مشرکانہ فعل کا ارتکاب کیا۔ غم و اندوہ، رنج و غصہ آپ کو بہت آیا۔
صفحہ نمبر5306
واپس آتے ہی کہنے لگے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم سے تمام نیک وعدے کئے تھے، تمہارے ساتھ بڑے بڑے سلوک و انعام کئے لیکن ذرا سے وقفے میں تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلا بیٹھے بلکہ تم نے وہ حرکت کی جس سے اللہ کا غضب تم پر اتر پڑا۔ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا مطلق لحاظ نہ رکھا۔
اب بنی اسرائیل معذرت کرنے لگے کہ ہم نے یہ کام اپنے اختیار سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ جو زیور فرعونیوں کے ہمارے پاس مستعار لیے ہوئے تھے، ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ انہیں پھینک دیں چنانچہ ہم نے سب کے سب بطور پرہیزگاری کے پھینک دئیے۔ ایک روایت میں ہے کہ خود ہارون علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلا کر ان سے فرمایا کہ وہ زیور سب اس میں ڈال دو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہارون علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ سب زیور ایکجا ہو جائیں اور پگھل کر ایک ڈلا بن جائے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام آ جائیں جیسا وہ فرمائیں ویسا کیا جائے۔ سامری نے اس میں وہ مٹی ڈال دی جو اس نے اللہ کے قاصد کے نشان سے لی تھی اور ہارون علیہ السلام سے کہا، آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے کہ وہ میری خواہش قبول فرما لے، آپ کو کیا خبر تھی، آپ نے دعا کی۔ اس نے خواہش یہ کی کہ اس کا ایک بچھڑا بن جائے جس میں سے بچھڑے کی سی آوازبھی نکلے چنانچہ وہ بن گیا اور بنی اسرائیل کے فتنے کا باعث ہو گیا۔ پس فرمان ہے کہ اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا۔
صفحہ نمبر5307
ہارون علیہ السلام ایک مرتبہ سامری کے پاس سے گزرے، تو وہ اس بچھڑے کو ٹھیک ٹھاک کر رہا تھا۔ آپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا وہ چیز بنا رہا ہوں جو نقصان دے اور نفع نہ دے۔ آپ نے دعا کی اے اللہ! خود اسے ایسا ہی کر دے اور آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔ سامری کی دعا سے یہ بچھڑا بنا اور آواز نکالنے لگا۔
بنی اسرائیل بہکاوے میں آ گئے اور اس کی پرستش شروع کر دی۔ اس کی آواز پر یہ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑتے اور دوسری آواز پر سجدے سے سر اٹھاتے۔ یہ گروہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بہکانے لگا کہ دراصل اللہ یہی ہے۔ موسیٰ بھول کر کہیں اور اس کی جستجو میں چل دئیے ہیں، وہ یہ کہنا بھول گئے کہ تمہارا رب یہی ہے۔ یہ لوگ مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔ ان کے دلوں میں اس کی محبت رچ گئی۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سامری اپنے سچے اللہ کو اور اپنے پاک دین اسلام کو بھول بیٹھا۔ ان کی بیوقوفی دیکھئے کہ یہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا تو محض بے جان چیز ہے۔ ان کی کسی بات کا نہ تو جواب دے نہ سنے، نہ دنیا و آخرت کی کسی بات کا اسے اختیار نہ کوئی نفع نقصان اس کے ہاتھ میں۔ آواز جو نکلتی تھی، اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ پیچھے کے سوراخ میں سے ہوا گزر کر منہ کے راستے نکلتی تھی، اسی کی آواز آتی تھی۔ اس بچھڑے کا نام انہوں نے بہموت رکھ چھوڑا تھا۔ ان کی دوسری حماقت دیکھئے کہ چھوٹے گناہ سے بچنے کے لیے بڑا گناہ کر لیا۔ فرعونیوں کی امانتوں سے آزاد ہونے کے لیے شرک شروع کر دیا۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ کسی عراقی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر اگر مچھر کا خون لگ جائے تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ آپ نے فرمایا، ان عراقیوں کو دیکھو، بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر کو تو قتل کر دیں اور مچھر کے خون کے مسئلے پوچھتے پھریں؟ [صحیح بخاری:5994]
صفحہ نمبر5308
طه 20:84
بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭
موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے۔ پورے چالیس ہو گئے، دن رات روزے سے رہتے تھے۔ اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے۔ بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی ہیں، آ رہے ہیں، میں نے جلدی کی ہے کہ تیری رضا مندی حاصل کر لوں اور اس میں بڑھ جاؤں۔
صفحہ نمبر5305
موسی علیہ السلام کے بعد پھر شرک ٭٭
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے چلے آنے کے بعد تیری قوم میں نیا فتنہ برپا ہوا اور انہوں نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی ہے۔ اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اور انہیں اس کی عبادت میں لگا دیا ہے۔ اسرائیلی کتابوں میں ہے کہ سامری کا نام بھی ہارون تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمانے کے لیے تورات کی تختیاں لکھ لی گئی تھیں، جیسے فرمان ہے «وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ» [7-الأعراف:145] ۔ ” یعنی ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر شے کا تذکرہ اور ہرچیز کی تفصیل لکھ دی تھی اور کہہ دیا کہ اسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنی قوم سے بھی کہو کہ اس پر عمدگی سے عمل کریں۔ میں تمہیں عنقریب فاسقوں کا انجام دکھا دوں گا۔ “
موسیٰ علیہ السلام کو جب اپنی قوم کے مشرکانہ فعل کا علم ہوا تو سخت رنج ہوا اور غم و غصے میں بھرے ہوئے وہاں سے واپس قوم کی طرف چلے کہ دیکھو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے باوجود ایسے سخت احمقانہ اور مشرکانہ فعل کا ارتکاب کیا۔ غم و اندوہ، رنج و غصہ آپ کو بہت آیا۔
صفحہ نمبر5306
واپس آتے ہی کہنے لگے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم سے تمام نیک وعدے کئے تھے، تمہارے ساتھ بڑے بڑے سلوک و انعام کئے لیکن ذرا سے وقفے میں تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلا بیٹھے بلکہ تم نے وہ حرکت کی جس سے اللہ کا غضب تم پر اتر پڑا۔ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا مطلق لحاظ نہ رکھا۔
اب بنی اسرائیل معذرت کرنے لگے کہ ہم نے یہ کام اپنے اختیار سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ جو زیور فرعونیوں کے ہمارے پاس مستعار لیے ہوئے تھے، ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ انہیں پھینک دیں چنانچہ ہم نے سب کے سب بطور پرہیزگاری کے پھینک دئیے۔ ایک روایت میں ہے کہ خود ہارون علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلا کر ان سے فرمایا کہ وہ زیور سب اس میں ڈال دو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہارون علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ سب زیور ایکجا ہو جائیں اور پگھل کر ایک ڈلا بن جائے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام آ جائیں جیسا وہ فرمائیں ویسا کیا جائے۔ سامری نے اس میں وہ مٹی ڈال دی جو اس نے اللہ کے قاصد کے نشان سے لی تھی اور ہارون علیہ السلام سے کہا، آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے کہ وہ میری خواہش قبول فرما لے، آپ کو کیا خبر تھی، آپ نے دعا کی۔ اس نے خواہش یہ کی کہ اس کا ایک بچھڑا بن جائے جس میں سے بچھڑے کی سی آوازبھی نکلے چنانچہ وہ بن گیا اور بنی اسرائیل کے فتنے کا باعث ہو گیا۔ پس فرمان ہے کہ اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا۔
صفحہ نمبر5307
ہارون علیہ السلام ایک مرتبہ سامری کے پاس سے گزرے، تو وہ اس بچھڑے کو ٹھیک ٹھاک کر رہا تھا۔ آپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا وہ چیز بنا رہا ہوں جو نقصان دے اور نفع نہ دے۔ آپ نے دعا کی اے اللہ! خود اسے ایسا ہی کر دے اور آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔ سامری کی دعا سے یہ بچھڑا بنا اور آواز نکالنے لگا۔
بنی اسرائیل بہکاوے میں آ گئے اور اس کی پرستش شروع کر دی۔ اس کی آواز پر یہ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑتے اور دوسری آواز پر سجدے سے سر اٹھاتے۔ یہ گروہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بہکانے لگا کہ دراصل اللہ یہی ہے۔ موسیٰ بھول کر کہیں اور اس کی جستجو میں چل دئیے ہیں، وہ یہ کہنا بھول گئے کہ تمہارا رب یہی ہے۔ یہ لوگ مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔ ان کے دلوں میں اس کی محبت رچ گئی۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سامری اپنے سچے اللہ کو اور اپنے پاک دین اسلام کو بھول بیٹھا۔ ان کی بیوقوفی دیکھئے کہ یہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا تو محض بے جان چیز ہے۔ ان کی کسی بات کا نہ تو جواب دے نہ سنے، نہ دنیا و آخرت کی کسی بات کا اسے اختیار نہ کوئی نفع نقصان اس کے ہاتھ میں۔ آواز جو نکلتی تھی، اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ پیچھے کے سوراخ میں سے ہوا گزر کر منہ کے راستے نکلتی تھی، اسی کی آواز آتی تھی۔ اس بچھڑے کا نام انہوں نے بہموت رکھ چھوڑا تھا۔ ان کی دوسری حماقت دیکھئے کہ چھوٹے گناہ سے بچنے کے لیے بڑا گناہ کر لیا۔ فرعونیوں کی امانتوں سے آزاد ہونے کے لیے شرک شروع کر دیا۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ کسی عراقی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر اگر مچھر کا خون لگ جائے تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ آپ نے فرمایا، ان عراقیوں کو دیکھو، بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر کو تو قتل کر دیں اور مچھر کے خون کے مسئلے پوچھتے پھریں؟ [صحیح بخاری:5994]
صفحہ نمبر5308
طه 20:85
بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭
موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے۔ پورے چالیس ہو گئے، دن رات روزے سے رہتے تھے۔ اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے۔ بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی ہیں، آ رہے ہیں، میں نے جلدی کی ہے کہ تیری رضا مندی حاصل کر لوں اور اس میں بڑھ جاؤں۔
صفحہ نمبر5305
موسی علیہ السلام کے بعد پھر شرک ٭٭
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے چلے آنے کے بعد تیری قوم میں نیا فتنہ برپا ہوا اور انہوں نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی ہے۔ اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اور انہیں اس کی عبادت میں لگا دیا ہے۔ اسرائیلی کتابوں میں ہے کہ سامری کا نام بھی ہارون تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمانے کے لیے تورات کی تختیاں لکھ لی گئی تھیں، جیسے فرمان ہے «وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ» [7-الأعراف:145] ۔ ” یعنی ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر شے کا تذکرہ اور ہرچیز کی تفصیل لکھ دی تھی اور کہہ دیا کہ اسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنی قوم سے بھی کہو کہ اس پر عمدگی سے عمل کریں۔ میں تمہیں عنقریب فاسقوں کا انجام دکھا دوں گا۔ “
موسیٰ علیہ السلام کو جب اپنی قوم کے مشرکانہ فعل کا علم ہوا تو سخت رنج ہوا اور غم و غصے میں بھرے ہوئے وہاں سے واپس قوم کی طرف چلے کہ دیکھو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے باوجود ایسے سخت احمقانہ اور مشرکانہ فعل کا ارتکاب کیا۔ غم و اندوہ، رنج و غصہ آپ کو بہت آیا۔
صفحہ نمبر5306
واپس آتے ہی کہنے لگے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم سے تمام نیک وعدے کئے تھے، تمہارے ساتھ بڑے بڑے سلوک و انعام کئے لیکن ذرا سے وقفے میں تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلا بیٹھے بلکہ تم نے وہ حرکت کی جس سے اللہ کا غضب تم پر اتر پڑا۔ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا مطلق لحاظ نہ رکھا۔
اب بنی اسرائیل معذرت کرنے لگے کہ ہم نے یہ کام اپنے اختیار سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ جو زیور فرعونیوں کے ہمارے پاس مستعار لیے ہوئے تھے، ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ انہیں پھینک دیں چنانچہ ہم نے سب کے سب بطور پرہیزگاری کے پھینک دئیے۔ ایک روایت میں ہے کہ خود ہارون علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلا کر ان سے فرمایا کہ وہ زیور سب اس میں ڈال دو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہارون علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ سب زیور ایکجا ہو جائیں اور پگھل کر ایک ڈلا بن جائے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام آ جائیں جیسا وہ فرمائیں ویسا کیا جائے۔ سامری نے اس میں وہ مٹی ڈال دی جو اس نے اللہ کے قاصد کے نشان سے لی تھی اور ہارون علیہ السلام سے کہا، آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے کہ وہ میری خواہش قبول فرما لے، آپ کو کیا خبر تھی، آپ نے دعا کی۔ اس نے خواہش یہ کی کہ اس کا ایک بچھڑا بن جائے جس میں سے بچھڑے کی سی آوازبھی نکلے چنانچہ وہ بن گیا اور بنی اسرائیل کے فتنے کا باعث ہو گیا۔ پس فرمان ہے کہ اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا۔
صفحہ نمبر5307
ہارون علیہ السلام ایک مرتبہ سامری کے پاس سے گزرے، تو وہ اس بچھڑے کو ٹھیک ٹھاک کر رہا تھا۔ آپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا وہ چیز بنا رہا ہوں جو نقصان دے اور نفع نہ دے۔ آپ نے دعا کی اے اللہ! خود اسے ایسا ہی کر دے اور آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔ سامری کی دعا سے یہ بچھڑا بنا اور آواز نکالنے لگا۔
بنی اسرائیل بہکاوے میں آ گئے اور اس کی پرستش شروع کر دی۔ اس کی آواز پر یہ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑتے اور دوسری آواز پر سجدے سے سر اٹھاتے۔ یہ گروہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بہکانے لگا کہ دراصل اللہ یہی ہے۔ موسیٰ بھول کر کہیں اور اس کی جستجو میں چل دئیے ہیں، وہ یہ کہنا بھول گئے کہ تمہارا رب یہی ہے۔ یہ لوگ مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔ ان کے دلوں میں اس کی محبت رچ گئی۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سامری اپنے سچے اللہ کو اور اپنے پاک دین اسلام کو بھول بیٹھا۔ ان کی بیوقوفی دیکھئے کہ یہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا تو محض بے جان چیز ہے۔ ان کی کسی بات کا نہ تو جواب دے نہ سنے، نہ دنیا و آخرت کی کسی بات کا اسے اختیار نہ کوئی نفع نقصان اس کے ہاتھ میں۔ آواز جو نکلتی تھی، اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ پیچھے کے سوراخ میں سے ہوا گزر کر منہ کے راستے نکلتی تھی، اسی کی آواز آتی تھی۔ اس بچھڑے کا نام انہوں نے بہموت رکھ چھوڑا تھا۔ ان کی دوسری حماقت دیکھئے کہ چھوٹے گناہ سے بچنے کے لیے بڑا گناہ کر لیا۔ فرعونیوں کی امانتوں سے آزاد ہونے کے لیے شرک شروع کر دیا۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ کسی عراقی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر اگر مچھر کا خون لگ جائے تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ آپ نے فرمایا، ان عراقیوں کو دیکھو، بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر کو تو قتل کر دیں اور مچھر کے خون کے مسئلے پوچھتے پھریں؟ [صحیح بخاری:5994]
صفحہ نمبر5308
طه 20:86
بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭
موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے۔ پورے چالیس ہو گئے، دن رات روزے سے رہتے تھے۔ اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے۔ بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی ہیں، آ رہے ہیں، میں نے جلدی کی ہے کہ تیری رضا مندی حاصل کر لوں اور اس میں بڑھ جاؤں۔
صفحہ نمبر5305
موسی علیہ السلام کے بعد پھر شرک ٭٭
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے چلے آنے کے بعد تیری قوم میں نیا فتنہ برپا ہوا اور انہوں نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی ہے۔ اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اور انہیں اس کی عبادت میں لگا دیا ہے۔ اسرائیلی کتابوں میں ہے کہ سامری کا نام بھی ہارون تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمانے کے لیے تورات کی تختیاں لکھ لی گئی تھیں، جیسے فرمان ہے «وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ» [7-الأعراف:145] ۔ ” یعنی ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر شے کا تذکرہ اور ہرچیز کی تفصیل لکھ دی تھی اور کہہ دیا کہ اسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنی قوم سے بھی کہو کہ اس پر عمدگی سے عمل کریں۔ میں تمہیں عنقریب فاسقوں کا انجام دکھا دوں گا۔ “
موسیٰ علیہ السلام کو جب اپنی قوم کے مشرکانہ فعل کا علم ہوا تو سخت رنج ہوا اور غم و غصے میں بھرے ہوئے وہاں سے واپس قوم کی طرف چلے کہ دیکھو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے باوجود ایسے سخت احمقانہ اور مشرکانہ فعل کا ارتکاب کیا۔ غم و اندوہ، رنج و غصہ آپ کو بہت آیا۔
صفحہ نمبر5306
واپس آتے ہی کہنے لگے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم سے تمام نیک وعدے کئے تھے، تمہارے ساتھ بڑے بڑے سلوک و انعام کئے لیکن ذرا سے وقفے میں تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلا بیٹھے بلکہ تم نے وہ حرکت کی جس سے اللہ کا غضب تم پر اتر پڑا۔ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا مطلق لحاظ نہ رکھا۔
اب بنی اسرائیل معذرت کرنے لگے کہ ہم نے یہ کام اپنے اختیار سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ جو زیور فرعونیوں کے ہمارے پاس مستعار لیے ہوئے تھے، ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ انہیں پھینک دیں چنانچہ ہم نے سب کے سب بطور پرہیزگاری کے پھینک دئیے۔ ایک روایت میں ہے کہ خود ہارون علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلا کر ان سے فرمایا کہ وہ زیور سب اس میں ڈال دو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہارون علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ سب زیور ایکجا ہو جائیں اور پگھل کر ایک ڈلا بن جائے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام آ جائیں جیسا وہ فرمائیں ویسا کیا جائے۔ سامری نے اس میں وہ مٹی ڈال دی جو اس نے اللہ کے قاصد کے نشان سے لی تھی اور ہارون علیہ السلام سے کہا، آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے کہ وہ میری خواہش قبول فرما لے، آپ کو کیا خبر تھی، آپ نے دعا کی۔ اس نے خواہش یہ کی کہ اس کا ایک بچھڑا بن جائے جس میں سے بچھڑے کی سی آوازبھی نکلے چنانچہ وہ بن گیا اور بنی اسرائیل کے فتنے کا باعث ہو گیا۔ پس فرمان ہے کہ اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا۔
صفحہ نمبر5307
ہارون علیہ السلام ایک مرتبہ سامری کے پاس سے گزرے، تو وہ اس بچھڑے کو ٹھیک ٹھاک کر رہا تھا۔ آپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا وہ چیز بنا رہا ہوں جو نقصان دے اور نفع نہ دے۔ آپ نے دعا کی اے اللہ! خود اسے ایسا ہی کر دے اور آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔ سامری کی دعا سے یہ بچھڑا بنا اور آواز نکالنے لگا۔
بنی اسرائیل بہکاوے میں آ گئے اور اس کی پرستش شروع کر دی۔ اس کی آواز پر یہ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑتے اور دوسری آواز پر سجدے سے سر اٹھاتے۔ یہ گروہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بہکانے لگا کہ دراصل اللہ یہی ہے۔ موسیٰ بھول کر کہیں اور اس کی جستجو میں چل دئیے ہیں، وہ یہ کہنا بھول گئے کہ تمہارا رب یہی ہے۔ یہ لوگ مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔ ان کے دلوں میں اس کی محبت رچ گئی۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سامری اپنے سچے اللہ کو اور اپنے پاک دین اسلام کو بھول بیٹھا۔ ان کی بیوقوفی دیکھئے کہ یہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا تو محض بے جان چیز ہے۔ ان کی کسی بات کا نہ تو جواب دے نہ سنے، نہ دنیا و آخرت کی کسی بات کا اسے اختیار نہ کوئی نفع نقصان اس کے ہاتھ میں۔ آواز جو نکلتی تھی، اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ پیچھے کے سوراخ میں سے ہوا گزر کر منہ کے راستے نکلتی تھی، اسی کی آواز آتی تھی۔ اس بچھڑے کا نام انہوں نے بہموت رکھ چھوڑا تھا۔ ان کی دوسری حماقت دیکھئے کہ چھوٹے گناہ سے بچنے کے لیے بڑا گناہ کر لیا۔ فرعونیوں کی امانتوں سے آزاد ہونے کے لیے شرک شروع کر دیا۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ کسی عراقی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر اگر مچھر کا خون لگ جائے تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ آپ نے فرمایا، ان عراقیوں کو دیکھو، بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر کو تو قتل کر دیں اور مچھر کے خون کے مسئلے پوچھتے پھریں؟ [صحیح بخاری:5994]
صفحہ نمبر5308
طه 20:87
بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭
موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے۔ پورے چالیس ہو گئے، دن رات روزے سے رہتے تھے۔ اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے۔ بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی ہیں، آ رہے ہیں، میں نے جلدی کی ہے کہ تیری رضا مندی حاصل کر لوں اور اس میں بڑھ جاؤں۔
صفحہ نمبر5305
موسی علیہ السلام کے بعد پھر شرک ٭٭
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے چلے آنے کے بعد تیری قوم میں نیا فتنہ برپا ہوا اور انہوں نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی ہے۔ اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اور انہیں اس کی عبادت میں لگا دیا ہے۔ اسرائیلی کتابوں میں ہے کہ سامری کا نام بھی ہارون تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمانے کے لیے تورات کی تختیاں لکھ لی گئی تھیں، جیسے فرمان ہے «وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ» [7-الأعراف:145] ۔ ” یعنی ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر شے کا تذکرہ اور ہرچیز کی تفصیل لکھ دی تھی اور کہہ دیا کہ اسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنی قوم سے بھی کہو کہ اس پر عمدگی سے عمل کریں۔ میں تمہیں عنقریب فاسقوں کا انجام دکھا دوں گا۔ “
موسیٰ علیہ السلام کو جب اپنی قوم کے مشرکانہ فعل کا علم ہوا تو سخت رنج ہوا اور غم و غصے میں بھرے ہوئے وہاں سے واپس قوم کی طرف چلے کہ دیکھو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے باوجود ایسے سخت احمقانہ اور مشرکانہ فعل کا ارتکاب کیا۔ غم و اندوہ، رنج و غصہ آپ کو بہت آیا۔
صفحہ نمبر5306
واپس آتے ہی کہنے لگے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم سے تمام نیک وعدے کئے تھے، تمہارے ساتھ بڑے بڑے سلوک و انعام کئے لیکن ذرا سے وقفے میں تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلا بیٹھے بلکہ تم نے وہ حرکت کی جس سے اللہ کا غضب تم پر اتر پڑا۔ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا مطلق لحاظ نہ رکھا۔
اب بنی اسرائیل معذرت کرنے لگے کہ ہم نے یہ کام اپنے اختیار سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ جو زیور فرعونیوں کے ہمارے پاس مستعار لیے ہوئے تھے، ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ انہیں پھینک دیں چنانچہ ہم نے سب کے سب بطور پرہیزگاری کے پھینک دئیے۔ ایک روایت میں ہے کہ خود ہارون علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلا کر ان سے فرمایا کہ وہ زیور سب اس میں ڈال دو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہارون علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ سب زیور ایکجا ہو جائیں اور پگھل کر ایک ڈلا بن جائے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام آ جائیں جیسا وہ فرمائیں ویسا کیا جائے۔ سامری نے اس میں وہ مٹی ڈال دی جو اس نے اللہ کے قاصد کے نشان سے لی تھی اور ہارون علیہ السلام سے کہا، آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے کہ وہ میری خواہش قبول فرما لے، آپ کو کیا خبر تھی، آپ نے دعا کی۔ اس نے خواہش یہ کی کہ اس کا ایک بچھڑا بن جائے جس میں سے بچھڑے کی سی آوازبھی نکلے چنانچہ وہ بن گیا اور بنی اسرائیل کے فتنے کا باعث ہو گیا۔ پس فرمان ہے کہ اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا۔
صفحہ نمبر5307
ہارون علیہ السلام ایک مرتبہ سامری کے پاس سے گزرے، تو وہ اس بچھڑے کو ٹھیک ٹھاک کر رہا تھا۔ آپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا وہ چیز بنا رہا ہوں جو نقصان دے اور نفع نہ دے۔ آپ نے دعا کی اے اللہ! خود اسے ایسا ہی کر دے اور آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔ سامری کی دعا سے یہ بچھڑا بنا اور آواز نکالنے لگا۔
بنی اسرائیل بہکاوے میں آ گئے اور اس کی پرستش شروع کر دی۔ اس کی آواز پر یہ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑتے اور دوسری آواز پر سجدے سے سر اٹھاتے۔ یہ گروہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بہکانے لگا کہ دراصل اللہ یہی ہے۔ موسیٰ بھول کر کہیں اور اس کی جستجو میں چل دئیے ہیں، وہ یہ کہنا بھول گئے کہ تمہارا رب یہی ہے۔ یہ لوگ مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔ ان کے دلوں میں اس کی محبت رچ گئی۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سامری اپنے سچے اللہ کو اور اپنے پاک دین اسلام کو بھول بیٹھا۔ ان کی بیوقوفی دیکھئے کہ یہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا تو محض بے جان چیز ہے۔ ان کی کسی بات کا نہ تو جواب دے نہ سنے، نہ دنیا و آخرت کی کسی بات کا اسے اختیار نہ کوئی نفع نقصان اس کے ہاتھ میں۔ آواز جو نکلتی تھی، اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ پیچھے کے سوراخ میں سے ہوا گزر کر منہ کے راستے نکلتی تھی، اسی کی آواز آتی تھی۔ اس بچھڑے کا نام انہوں نے بہموت رکھ چھوڑا تھا۔ ان کی دوسری حماقت دیکھئے کہ چھوٹے گناہ سے بچنے کے لیے بڑا گناہ کر لیا۔ فرعونیوں کی امانتوں سے آزاد ہونے کے لیے شرک شروع کر دیا۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ کسی عراقی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر اگر مچھر کا خون لگ جائے تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ آپ نے فرمایا، ان عراقیوں کو دیکھو، بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر کو تو قتل کر دیں اور مچھر کے خون کے مسئلے پوچھتے پھریں؟ [صحیح بخاری:5994]
صفحہ نمبر5308
طه 20:88
بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭
موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے۔ پورے چالیس ہو گئے، دن رات روزے سے رہتے تھے۔ اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے۔ بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی ہیں، آ رہے ہیں، میں نے جلدی کی ہے کہ تیری رضا مندی حاصل کر لوں اور اس میں بڑھ جاؤں۔
صفحہ نمبر5305
موسی علیہ السلام کے بعد پھر شرک ٭٭
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے چلے آنے کے بعد تیری قوم میں نیا فتنہ برپا ہوا اور انہوں نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی ہے۔ اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اور انہیں اس کی عبادت میں لگا دیا ہے۔ اسرائیلی کتابوں میں ہے کہ سامری کا نام بھی ہارون تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمانے کے لیے تورات کی تختیاں لکھ لی گئی تھیں، جیسے فرمان ہے «وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ» [7-الأعراف:145] ۔ ” یعنی ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر شے کا تذکرہ اور ہرچیز کی تفصیل لکھ دی تھی اور کہہ دیا کہ اسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنی قوم سے بھی کہو کہ اس پر عمدگی سے عمل کریں۔ میں تمہیں عنقریب فاسقوں کا انجام دکھا دوں گا۔ “
موسیٰ علیہ السلام کو جب اپنی قوم کے مشرکانہ فعل کا علم ہوا تو سخت رنج ہوا اور غم و غصے میں بھرے ہوئے وہاں سے واپس قوم کی طرف چلے کہ دیکھو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے باوجود ایسے سخت احمقانہ اور مشرکانہ فعل کا ارتکاب کیا۔ غم و اندوہ، رنج و غصہ آپ کو بہت آیا۔
صفحہ نمبر5306
واپس آتے ہی کہنے لگے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم سے تمام نیک وعدے کئے تھے، تمہارے ساتھ بڑے بڑے سلوک و انعام کئے لیکن ذرا سے وقفے میں تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلا بیٹھے بلکہ تم نے وہ حرکت کی جس سے اللہ کا غضب تم پر اتر پڑا۔ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا مطلق لحاظ نہ رکھا۔
اب بنی اسرائیل معذرت کرنے لگے کہ ہم نے یہ کام اپنے اختیار سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ جو زیور فرعونیوں کے ہمارے پاس مستعار لیے ہوئے تھے، ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ انہیں پھینک دیں چنانچہ ہم نے سب کے سب بطور پرہیزگاری کے پھینک دئیے۔ ایک روایت میں ہے کہ خود ہارون علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلا کر ان سے فرمایا کہ وہ زیور سب اس میں ڈال دو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہارون علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ سب زیور ایکجا ہو جائیں اور پگھل کر ایک ڈلا بن جائے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام آ جائیں جیسا وہ فرمائیں ویسا کیا جائے۔ سامری نے اس میں وہ مٹی ڈال دی جو اس نے اللہ کے قاصد کے نشان سے لی تھی اور ہارون علیہ السلام سے کہا، آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے کہ وہ میری خواہش قبول فرما لے، آپ کو کیا خبر تھی، آپ نے دعا کی۔ اس نے خواہش یہ کی کہ اس کا ایک بچھڑا بن جائے جس میں سے بچھڑے کی سی آوازبھی نکلے چنانچہ وہ بن گیا اور بنی اسرائیل کے فتنے کا باعث ہو گیا۔ پس فرمان ہے کہ اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا۔
صفحہ نمبر5307
ہارون علیہ السلام ایک مرتبہ سامری کے پاس سے گزرے، تو وہ اس بچھڑے کو ٹھیک ٹھاک کر رہا تھا۔ آپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا وہ چیز بنا رہا ہوں جو نقصان دے اور نفع نہ دے۔ آپ نے دعا کی اے اللہ! خود اسے ایسا ہی کر دے اور آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔ سامری کی دعا سے یہ بچھڑا بنا اور آواز نکالنے لگا۔
بنی اسرائیل بہکاوے میں آ گئے اور اس کی پرستش شروع کر دی۔ اس کی آواز پر یہ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑتے اور دوسری آواز پر سجدے سے سر اٹھاتے۔ یہ گروہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بہکانے لگا کہ دراصل اللہ یہی ہے۔ موسیٰ بھول کر کہیں اور اس کی جستجو میں چل دئیے ہیں، وہ یہ کہنا بھول گئے کہ تمہارا رب یہی ہے۔ یہ لوگ مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔ ان کے دلوں میں اس کی محبت رچ گئی۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سامری اپنے سچے اللہ کو اور اپنے پاک دین اسلام کو بھول بیٹھا۔ ان کی بیوقوفی دیکھئے کہ یہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا تو محض بے جان چیز ہے۔ ان کی کسی بات کا نہ تو جواب دے نہ سنے، نہ دنیا و آخرت کی کسی بات کا اسے اختیار نہ کوئی نفع نقصان اس کے ہاتھ میں۔ آواز جو نکلتی تھی، اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ پیچھے کے سوراخ میں سے ہوا گزر کر منہ کے راستے نکلتی تھی، اسی کی آواز آتی تھی۔ اس بچھڑے کا نام انہوں نے بہموت رکھ چھوڑا تھا۔ ان کی دوسری حماقت دیکھئے کہ چھوٹے گناہ سے بچنے کے لیے بڑا گناہ کر لیا۔ فرعونیوں کی امانتوں سے آزاد ہونے کے لیے شرک شروع کر دیا۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ کسی عراقی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر اگر مچھر کا خون لگ جائے تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ آپ نے فرمایا، ان عراقیوں کو دیکھو، بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر کو تو قتل کر دیں اور مچھر کے خون کے مسئلے پوچھتے پھریں؟ [صحیح بخاری:5994]
صفحہ نمبر5308
طه 20:89
بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭
موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے۔ پورے چالیس ہو گئے، دن رات روزے سے رہتے تھے۔ اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے۔ بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی ہیں، آ رہے ہیں، میں نے جلدی کی ہے کہ تیری رضا مندی حاصل کر لوں اور اس میں بڑھ جاؤں۔
صفحہ نمبر5305
موسی علیہ السلام کے بعد پھر شرک ٭٭
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے چلے آنے کے بعد تیری قوم میں نیا فتنہ برپا ہوا اور انہوں نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی ہے۔ اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اور انہیں اس کی عبادت میں لگا دیا ہے۔ اسرائیلی کتابوں میں ہے کہ سامری کا نام بھی ہارون تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمانے کے لیے تورات کی تختیاں لکھ لی گئی تھیں، جیسے فرمان ہے «وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ» [7-الأعراف:145] ۔ ” یعنی ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر شے کا تذکرہ اور ہرچیز کی تفصیل لکھ دی تھی اور کہہ دیا کہ اسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنی قوم سے بھی کہو کہ اس پر عمدگی سے عمل کریں۔ میں تمہیں عنقریب فاسقوں کا انجام دکھا دوں گا۔ “
موسیٰ علیہ السلام کو جب اپنی قوم کے مشرکانہ فعل کا علم ہوا تو سخت رنج ہوا اور غم و غصے میں بھرے ہوئے وہاں سے واپس قوم کی طرف چلے کہ دیکھو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے باوجود ایسے سخت احمقانہ اور مشرکانہ فعل کا ارتکاب کیا۔ غم و اندوہ، رنج و غصہ آپ کو بہت آیا۔
صفحہ نمبر5306
واپس آتے ہی کہنے لگے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم سے تمام نیک وعدے کئے تھے، تمہارے ساتھ بڑے بڑے سلوک و انعام کئے لیکن ذرا سے وقفے میں تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلا بیٹھے بلکہ تم نے وہ حرکت کی جس سے اللہ کا غضب تم پر اتر پڑا۔ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا مطلق لحاظ نہ رکھا۔
اب بنی اسرائیل معذرت کرنے لگے کہ ہم نے یہ کام اپنے اختیار سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ جو زیور فرعونیوں کے ہمارے پاس مستعار لیے ہوئے تھے، ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ انہیں پھینک دیں چنانچہ ہم نے سب کے سب بطور پرہیزگاری کے پھینک دئیے۔ ایک روایت میں ہے کہ خود ہارون علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلا کر ان سے فرمایا کہ وہ زیور سب اس میں ڈال دو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہارون علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ سب زیور ایکجا ہو جائیں اور پگھل کر ایک ڈلا بن جائے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام آ جائیں جیسا وہ فرمائیں ویسا کیا جائے۔ سامری نے اس میں وہ مٹی ڈال دی جو اس نے اللہ کے قاصد کے نشان سے لی تھی اور ہارون علیہ السلام سے کہا، آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے کہ وہ میری خواہش قبول فرما لے، آپ کو کیا خبر تھی، آپ نے دعا کی۔ اس نے خواہش یہ کی کہ اس کا ایک بچھڑا بن جائے جس میں سے بچھڑے کی سی آوازبھی نکلے چنانچہ وہ بن گیا اور بنی اسرائیل کے فتنے کا باعث ہو گیا۔ پس فرمان ہے کہ اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا۔
صفحہ نمبر5307
ہارون علیہ السلام ایک مرتبہ سامری کے پاس سے گزرے، تو وہ اس بچھڑے کو ٹھیک ٹھاک کر رہا تھا۔ آپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا وہ چیز بنا رہا ہوں جو نقصان دے اور نفع نہ دے۔ آپ نے دعا کی اے اللہ! خود اسے ایسا ہی کر دے اور آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔ سامری کی دعا سے یہ بچھڑا بنا اور آواز نکالنے لگا۔
بنی اسرائیل بہکاوے میں آ گئے اور اس کی پرستش شروع کر دی۔ اس کی آواز پر یہ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑتے اور دوسری آواز پر سجدے سے سر اٹھاتے۔ یہ گروہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بہکانے لگا کہ دراصل اللہ یہی ہے۔ موسیٰ بھول کر کہیں اور اس کی جستجو میں چل دئیے ہیں، وہ یہ کہنا بھول گئے کہ تمہارا رب یہی ہے۔ یہ لوگ مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔ ان کے دلوں میں اس کی محبت رچ گئی۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سامری اپنے سچے اللہ کو اور اپنے پاک دین اسلام کو بھول بیٹھا۔ ان کی بیوقوفی دیکھئے کہ یہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا تو محض بے جان چیز ہے۔ ان کی کسی بات کا نہ تو جواب دے نہ سنے، نہ دنیا و آخرت کی کسی بات کا اسے اختیار نہ کوئی نفع نقصان اس کے ہاتھ میں۔ آواز جو نکلتی تھی، اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ پیچھے کے سوراخ میں سے ہوا گزر کر منہ کے راستے نکلتی تھی، اسی کی آواز آتی تھی۔ اس بچھڑے کا نام انہوں نے بہموت رکھ چھوڑا تھا۔ ان کی دوسری حماقت دیکھئے کہ چھوٹے گناہ سے بچنے کے لیے بڑا گناہ کر لیا۔ فرعونیوں کی امانتوں سے آزاد ہونے کے لیے شرک شروع کر دیا۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ کسی عراقی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر اگر مچھر کا خون لگ جائے تو نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ آپ نے فرمایا، ان عراقیوں کو دیکھو، بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر کو تو قتل کر دیں اور مچھر کے خون کے مسئلے پوچھتے پھریں؟ [صحیح بخاری:5994]
صفحہ نمبر5308
طه 20:90
بنی اسرائیل اور ہارون علیہ السلام ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کے آنے سے پہلے ہارون علیہ السلام نے انہیں ہر چند سمجھایا بجھایا کہ دیکھو فتنے میں نہ پڑو۔ اللہ رحمان کے سوا اور کسی کے سامنے نہ جھکو۔ وہ ہرچیز کا خالق و مالک ہے، سب کا اندازہ مقرر کرنے والا وہی ہے، وہی عرش مجید کا مالک ہے، وہی جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔ تم میری تابعداری اور حکم برداری کرتے رہو۔ جو میں کہوں وہ بجا لاؤ، جس سے روکوں رک جاؤ۔ لیکن ان سرکشوں نے جواب دیا کہ موسیٰ علیہ السلام کی سن کر تو خیر ہم مان لیں گے۔ تب تک تو ہم اس کی پرستش نہیں چھوڑیں گے۔ چنانچہ لڑنے اور مرنے مارنے کے واسطے تیار ہو گئے۔
صفحہ نمبر5315
طه 20:91
بنی اسرائیل اور ہارون علیہ السلام ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کے آنے سے پہلے ہارون علیہ السلام نے انہیں ہر چند سمجھایا بجھایا کہ دیکھو فتنے میں نہ پڑو۔ اللہ رحمان کے سوا اور کسی کے سامنے نہ جھکو۔ وہ ہرچیز کا خالق و مالک ہے، سب کا اندازہ مقرر کرنے والا وہی ہے، وہی عرش مجید کا مالک ہے، وہی جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔ تم میری تابعداری اور حکم برداری کرتے رہو۔ جو میں کہوں وہ بجا لاؤ، جس سے روکوں رک جاؤ۔ لیکن ان سرکشوں نے جواب دیا کہ موسیٰ علیہ السلام کی سن کر تو خیر ہم مان لیں گے۔ تب تک تو ہم اس کی پرستش نہیں چھوڑیں گے۔ چنانچہ لڑنے اور مرنے مارنے کے واسطے تیار ہو گئے۔
صفحہ نمبر5315
طه 20:92
کوہ طور سے واپسی اور بنی اسرائیل کی حرکت پہ غصہ ٭٭
موسیٰ علیہ السلام سخت غصے اور پورے غم میں لوٹے تھے۔ تختیاں زمین پردے ماریں اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کی طرف غصے سے بڑھ گئے اور ان کے سر کے بال تھام کر اپنی طرف گھسیٹنے لگے۔ اس کا تفصیلی بیان سورۃ الاعراف کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور وہیں وہ حدیث بھی بیان ہو چکی ہے کہ سننا دیکھنے کے مطابق نہیں۔ آپ نے اپنے بھائی اور اپنے جانشین کو ملامت کرنی شروع کی کہ اس بت پرستی کے شروع ہوتے ہی تو نے مجھے خبر کیوں نہ کی؟ کیا جو کچھ میں تجھے کہہ گیا تھا، تو بھی اس کا مخالف بن بیٹھا؟ میں تو صاف کہہ گیا تھا کہ میری قوم میں میری جانشینی کر۔ اصلاح کے درپے رہ اور مفسدوں کی نہ مان۔
ہارون علیہ السلام نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اے میرے ماں جائے بھائی! یہ صرف اس لیے (کہا) کہ موسیٰ علیہ السلام کو زیادہ رحم اور محبت آئے ورنہ باپ الگ الگ نہ تھے، باپ بھی ایک ہی تھے، دونوں سگے بھائی تھے۔ آپ عذر پیش کرتے ہیں کہ جی میں تو میرے بھی آئی تھی کہ آپ کے پاس آ کر آپ کو اس کی خبر کروں لیکن پھر خیال آیا کہ انہیں تنہا چھوڑنا مناسب نہیں۔ کہیں آپ مجھ پر نہ بگڑ بیٹھیں کہ انہیں تنہا کیوں چھوڑ دیا؟ اور اولاد یعقوب میں یہ جدائی کیوں ڈال دی؟ اور جو میں کہہ گیا تھا، اس کی نگہبانی کیوں نہ کی؟ بات یہ ہے کہ ہارون علیہ السلام میں جہاں اطاعت کا پورا مادہ تھا، وہاں موسیٰ علیہ السلام کی عزت بھی بہت کرتے تھے اور ان کا بہت ہی لحاظ رکھتے تھے۔
صفحہ نمبر5317
طه 20:93
کوہ طور سے واپسی اور بنی اسرائیل کی حرکت پہ غصہ ٭٭
موسیٰ علیہ السلام سخت غصے اور پورے غم میں لوٹے تھے۔ تختیاں زمین پردے ماریں اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کی طرف غصے سے بڑھ گئے اور ان کے سر کے بال تھام کر اپنی طرف گھسیٹنے لگے۔ اس کا تفصیلی بیان سورۃ الاعراف کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور وہیں وہ حدیث بھی بیان ہو چکی ہے کہ سننا دیکھنے کے مطابق نہیں۔ آپ نے اپنے بھائی اور اپنے جانشین کو ملامت کرنی شروع کی کہ اس بت پرستی کے شروع ہوتے ہی تو نے مجھے خبر کیوں نہ کی؟ کیا جو کچھ میں تجھے کہہ گیا تھا، تو بھی اس کا مخالف بن بیٹھا؟ میں تو صاف کہہ گیا تھا کہ میری قوم میں میری جانشینی کر۔ اصلاح کے درپے رہ اور مفسدوں کی نہ مان۔
ہارون علیہ السلام نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اے میرے ماں جائے بھائی! یہ صرف اس لیے (کہا) کہ موسیٰ علیہ السلام کو زیادہ رحم اور محبت آئے ورنہ باپ الگ الگ نہ تھے، باپ بھی ایک ہی تھے، دونوں سگے بھائی تھے۔ آپ عذر پیش کرتے ہیں کہ جی میں تو میرے بھی آئی تھی کہ آپ کے پاس آ کر آپ کو اس کی خبر کروں لیکن پھر خیال آیا کہ انہیں تنہا چھوڑنا مناسب نہیں۔ کہیں آپ مجھ پر نہ بگڑ بیٹھیں کہ انہیں تنہا کیوں چھوڑ دیا؟ اور اولاد یعقوب میں یہ جدائی کیوں ڈال دی؟ اور جو میں کہہ گیا تھا، اس کی نگہبانی کیوں نہ کی؟ بات یہ ہے کہ ہارون علیہ السلام میں جہاں اطاعت کا پورا مادہ تھا، وہاں موسیٰ علیہ السلام کی عزت بھی بہت کرتے تھے اور ان کا بہت ہی لحاظ رکھتے تھے۔
صفحہ نمبر5317
طه 20:94
کوہ طور سے واپسی اور بنی اسرائیل کی حرکت پہ غصہ ٭٭
موسیٰ علیہ السلام سخت غصے اور پورے غم میں لوٹے تھے۔ تختیاں زمین پردے ماریں اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کی طرف غصے سے بڑھ گئے اور ان کے سر کے بال تھام کر اپنی طرف گھسیٹنے لگے۔ اس کا تفصیلی بیان سورۃ الاعراف کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور وہیں وہ حدیث بھی بیان ہو چکی ہے کہ سننا دیکھنے کے مطابق نہیں۔ آپ نے اپنے بھائی اور اپنے جانشین کو ملامت کرنی شروع کی کہ اس بت پرستی کے شروع ہوتے ہی تو نے مجھے خبر کیوں نہ کی؟ کیا جو کچھ میں تجھے کہہ گیا تھا، تو بھی اس کا مخالف بن بیٹھا؟ میں تو صاف کہہ گیا تھا کہ میری قوم میں میری جانشینی کر۔ اصلاح کے درپے رہ اور مفسدوں کی نہ مان۔
ہارون علیہ السلام نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اے میرے ماں جائے بھائی! یہ صرف اس لیے (کہا) کہ موسیٰ علیہ السلام کو زیادہ رحم اور محبت آئے ورنہ باپ الگ الگ نہ تھے، باپ بھی ایک ہی تھے، دونوں سگے بھائی تھے۔ آپ عذر پیش کرتے ہیں کہ جی میں تو میرے بھی آئی تھی کہ آپ کے پاس آ کر آپ کو اس کی خبر کروں لیکن پھر خیال آیا کہ انہیں تنہا چھوڑنا مناسب نہیں۔ کہیں آپ مجھ پر نہ بگڑ بیٹھیں کہ انہیں تنہا کیوں چھوڑ دیا؟ اور اولاد یعقوب میں یہ جدائی کیوں ڈال دی؟ اور جو میں کہہ گیا تھا، اس کی نگہبانی کیوں نہ کی؟ بات یہ ہے کہ ہارون علیہ السلام میں جہاں اطاعت کا پورا مادہ تھا، وہاں موسیٰ علیہ السلام کی عزت بھی بہت کرتے تھے اور ان کا بہت ہی لحاظ رکھتے تھے۔
صفحہ نمبر5317
طه 20:95
گائے پرست سامری اور بچھڑا ٭٭
موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے پوچھا کہ تو نے یہ فتنہ کیوں اٹھایا؟ یہ شخص باجرو کا رہنے والا تھا، اس کی قوم گائے پرست تھی۔ اس کے دل میں گائے کی محبت گھر کئے ہوئے تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کیا تھا۔ اس کا نام موسیٰ بن ظفر تھا۔ ایک روایت میں ہے، یہ کرمانی تھا۔ ایک روایت میں ہے، اس کی بستی کا نام سامرا تھا۔ اس نے جواب دیا کہ جب فرعون کی ہلاکت کے لیے جبرائیل علیہ السلام آئے تو میں نے ان کے گھوڑے کے ٹاپ تلے کی تھوڑی سی مٹی اٹھا لی۔ اکثر مفسرین کے نزدیک مشہور بات یہی ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام آئے اور موسیٰ علیہ السلام کو لے کر چڑھنے لگے تو سامری نے دیکھ لیا۔ اس نے جلدی سے ان کے گھوڑے کے سم تلے کی مٹی اٹھا لی۔ موسیٰ علیہ السلام کو جبرائیل علیہ السلام آسمان تک لے گئے، اللہ تعالیٰ نے تورات لکھی، موسیٰ علیہ السلام قلم کی تحریر کی آواز سن رہے تھے لیکن جب آپ کو اپنی قوم کی مصیبت معلوم ہوئی تو نیچے اتر آئے اور اس بچھڑے کو جلا دیا۔ لیکن اس اثر کی سند غریب ہے۔ اسی خاک کی چٹکی یا مٹھی کو اس نے بنی اسرائیل کے جمع کردہ زیوروں کے جلنے کے وقت ان میں ڈال دی۔ جو بصورت بچھڑا بن گئے اور چونکہ بیچ میں خلا تھا، وہاں سے ہوا گھستی تھی اور اس سے آواز نکلتی تھی۔ جبرائیل علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس کے دل میں خیال گزرا تھا کہ میں ان کے گھوڑے کے ٹاپوں تلے کی مٹی اٹھا لوں، میں جو چاہوں گا، وہ اس مٹی کے ڈالنے سے بن جائے گا۔ اس کی انگلیاں اسی وقت سوکھ گئی تھیں۔ جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ ان کے پاس فرعونیوں کے زیورات رہ گئے اور فرعونی ہلاک ہو گئے اور یہ اب ان کو واپس نہیں ہو سکتے تو غمزدہ ہونے لگے۔ سامری نے کہا، دیکھو اس کی وجہ سے تم پر مصیبت نازل ہوئی ہے، اسے جمع کر کے آگ لگا دو۔ جب وہ جمع ہو گئے اور آگ سے پگھل گئے تو اس کے جی میں آئی کہ وہ خاک اس پر ڈال دے اور اسے بچھڑے کی شکل میں بنا لے چنانچہ یہی ہوا۔ اور اس نے کہہ دیا کہ تمہارا اور موسیٰ علیہ السلام کا رب یہی ہے۔ یہی وہ جواب دے رہا ہے کہ میں نے اسے ڈال دیا اور میرے دل نے یہی ترکیب مجھے اچھی طرح سمجھا دی۔
صفحہ نمبر5320
کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا، تو نے نہ لینے کی چیز کو ہاتھ لگایا، تیری سزا دنیا میں یہی ہے کہ اب نہ تو تو کسی کو ہاتھ لگا سکے نہ کوئی اور تجھے ہاتھ لگا سکے۔ باقی سزا تیری قیامت کو ہو گی جس سے چھٹکارا محال ہے۔ ان کے بقایا اب تک یہی کہتے ہیں کہ نہ چھونا۔ اب تو اپنے معبود کا حشر بھی دیکھ لے جس کی عبادت پر اوندھا پڑا ہوا تھا کہ ہم اسے جلا کر راکھ کر دیتے ہیں
چنانچہ وہ سونے کا بچھڑا اس طرح جل گیا جیسے خون اور گوشت والا بچھڑا جلے۔ پھر اس کی راکھ کو تیز ہوا میں دریا میں ذرہ ذرہ کر کے اڑا دیا۔ مروی ہے کہ اس نے بنی اسرائیل کی عورتوں کے زیور جہاں تک اس کے بس میں تھے لیے ان کا بچھڑا بنایا جسے موسیٰ علیہ السلام نے جلا دیا اور دریا میں اس کی خاک بہا دی۔ جس نے بھی اس کا پانی پیا، اس کا چہرہ زرد پڑ گیا، اس سے سارے گئوسالہ پرست معلوم ہو گئے۔ اب انہوں نے توبہ کی اور موسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ہماری توبہ کیسے قبول ہو گی؟ حکم ہوا کہ ایک دوسرے کو قتل کرو۔ اس کا پورا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا معبود یہ نہیں۔ مستحق عبادت تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ باقی تمام جہان اس کا محتاج ہے اور اس کے ماتحت ہے۔ وہ ہرچیز کا عالم ہے، اس کے علم نے تمام مخلوق کا احاطہٰ کر رکھا ہے، ہرچیز کی گنتی اسے معلوم ہے۔ ایک ذرہ بھی اس کے علم سے باہر نہیں، ہر پتے کا اور ہر دانے کا اسے علم ہے بلکہ اس کے پاس کی کتاب میں وہ لکھا ہوا موجود ہے۔ زمین کے تمام جانداروں کو روزیاں وہی پہنچاتا ہے، سب کی جگہ اسے معلوم ہے، سب کچھ کھلی اور واضح کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ علم الٰہی محیط کل اور سب کو حاوی ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
صفحہ نمبر5321
طه 20:96
گائے پرست سامری اور بچھڑا ٭٭
موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے پوچھا کہ تو نے یہ فتنہ کیوں اٹھایا؟ یہ شخص باجرو کا رہنے والا تھا، اس کی قوم گائے پرست تھی۔ اس کے دل میں گائے کی محبت گھر کئے ہوئے تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کیا تھا۔ اس کا نام موسیٰ بن ظفر تھا۔ ایک روایت میں ہے، یہ کرمانی تھا۔ ایک روایت میں ہے، اس کی بستی کا نام سامرا تھا۔ اس نے جواب دیا کہ جب فرعون کی ہلاکت کے لیے جبرائیل علیہ السلام آئے تو میں نے ان کے گھوڑے کے ٹاپ تلے کی تھوڑی سی مٹی اٹھا لی۔ اکثر مفسرین کے نزدیک مشہور بات یہی ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام آئے اور موسیٰ علیہ السلام کو لے کر چڑھنے لگے تو سامری نے دیکھ لیا۔ اس نے جلدی سے ان کے گھوڑے کے سم تلے کی مٹی اٹھا لی۔ موسیٰ علیہ السلام کو جبرائیل علیہ السلام آسمان تک لے گئے، اللہ تعالیٰ نے تورات لکھی، موسیٰ علیہ السلام قلم کی تحریر کی آواز سن رہے تھے لیکن جب آپ کو اپنی قوم کی مصیبت معلوم ہوئی تو نیچے اتر آئے اور اس بچھڑے کو جلا دیا۔ لیکن اس اثر کی سند غریب ہے۔ اسی خاک کی چٹکی یا مٹھی کو اس نے بنی اسرائیل کے جمع کردہ زیوروں کے جلنے کے وقت ان میں ڈال دی۔ جو بصورت بچھڑا بن گئے اور چونکہ بیچ میں خلا تھا، وہاں سے ہوا گھستی تھی اور اس سے آواز نکلتی تھی۔ جبرائیل علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس کے دل میں خیال گزرا تھا کہ میں ان کے گھوڑے کے ٹاپوں تلے کی مٹی اٹھا لوں، میں جو چاہوں گا، وہ اس مٹی کے ڈالنے سے بن جائے گا۔ اس کی انگلیاں اسی وقت سوکھ گئی تھیں۔ جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ ان کے پاس فرعونیوں کے زیورات رہ گئے اور فرعونی ہلاک ہو گئے اور یہ اب ان کو واپس نہیں ہو سکتے تو غمزدہ ہونے لگے۔ سامری نے کہا، دیکھو اس کی وجہ سے تم پر مصیبت نازل ہوئی ہے، اسے جمع کر کے آگ لگا دو۔ جب وہ جمع ہو گئے اور آگ سے پگھل گئے تو اس کے جی میں آئی کہ وہ خاک اس پر ڈال دے اور اسے بچھڑے کی شکل میں بنا لے چنانچہ یہی ہوا۔ اور اس نے کہہ دیا کہ تمہارا اور موسیٰ علیہ السلام کا رب یہی ہے۔ یہی وہ جواب دے رہا ہے کہ میں نے اسے ڈال دیا اور میرے دل نے یہی ترکیب مجھے اچھی طرح سمجھا دی۔
صفحہ نمبر5320
کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا، تو نے نہ لینے کی چیز کو ہاتھ لگایا، تیری سزا دنیا میں یہی ہے کہ اب نہ تو تو کسی کو ہاتھ لگا سکے نہ کوئی اور تجھے ہاتھ لگا سکے۔ باقی سزا تیری قیامت کو ہو گی جس سے چھٹکارا محال ہے۔ ان کے بقایا اب تک یہی کہتے ہیں کہ نہ چھونا۔ اب تو اپنے معبود کا حشر بھی دیکھ لے جس کی عبادت پر اوندھا پڑا ہوا تھا کہ ہم اسے جلا کر راکھ کر دیتے ہیں
چنانچہ وہ سونے کا بچھڑا اس طرح جل گیا جیسے خون اور گوشت والا بچھڑا جلے۔ پھر اس کی راکھ کو تیز ہوا میں دریا میں ذرہ ذرہ کر کے اڑا دیا۔ مروی ہے کہ اس نے بنی اسرائیل کی عورتوں کے زیور جہاں تک اس کے بس میں تھے لیے ان کا بچھڑا بنایا جسے موسیٰ علیہ السلام نے جلا دیا اور دریا میں اس کی خاک بہا دی۔ جس نے بھی اس کا پانی پیا، اس کا چہرہ زرد پڑ گیا، اس سے سارے گئوسالہ پرست معلوم ہو گئے۔ اب انہوں نے توبہ کی اور موسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ہماری توبہ کیسے قبول ہو گی؟ حکم ہوا کہ ایک دوسرے کو قتل کرو۔ اس کا پورا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا معبود یہ نہیں۔ مستحق عبادت تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ باقی تمام جہان اس کا محتاج ہے اور اس کے ماتحت ہے۔ وہ ہرچیز کا عالم ہے، اس کے علم نے تمام مخلوق کا احاطہٰ کر رکھا ہے، ہرچیز کی گنتی اسے معلوم ہے۔ ایک ذرہ بھی اس کے علم سے باہر نہیں، ہر پتے کا اور ہر دانے کا اسے علم ہے بلکہ اس کے پاس کی کتاب میں وہ لکھا ہوا موجود ہے۔ زمین کے تمام جانداروں کو روزیاں وہی پہنچاتا ہے، سب کی جگہ اسے معلوم ہے، سب کچھ کھلی اور واضح کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ علم الٰہی محیط کل اور سب کو حاوی ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
صفحہ نمبر5321
طه 20:97
گائے پرست سامری اور بچھڑا ٭٭
موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے پوچھا کہ تو نے یہ فتنہ کیوں اٹھایا؟ یہ شخص باجرو کا رہنے والا تھا، اس کی قوم گائے پرست تھی۔ اس کے دل میں گائے کی محبت گھر کئے ہوئے تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کیا تھا۔ اس کا نام موسیٰ بن ظفر تھا۔ ایک روایت میں ہے، یہ کرمانی تھا۔ ایک روایت میں ہے، اس کی بستی کا نام سامرا تھا۔ اس نے جواب دیا کہ جب فرعون کی ہلاکت کے لیے جبرائیل علیہ السلام آئے تو میں نے ان کے گھوڑے کے ٹاپ تلے کی تھوڑی سی مٹی اٹھا لی۔ اکثر مفسرین کے نزدیک مشہور بات یہی ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام آئے اور موسیٰ علیہ السلام کو لے کر چڑھنے لگے تو سامری نے دیکھ لیا۔ اس نے جلدی سے ان کے گھوڑے کے سم تلے کی مٹی اٹھا لی۔ موسیٰ علیہ السلام کو جبرائیل علیہ السلام آسمان تک لے گئے، اللہ تعالیٰ نے تورات لکھی، موسیٰ علیہ السلام قلم کی تحریر کی آواز سن رہے تھے لیکن جب آپ کو اپنی قوم کی مصیبت معلوم ہوئی تو نیچے اتر آئے اور اس بچھڑے کو جلا دیا۔ لیکن اس اثر کی سند غریب ہے۔ اسی خاک کی چٹکی یا مٹھی کو اس نے بنی اسرائیل کے جمع کردہ زیوروں کے جلنے کے وقت ان میں ڈال دی۔ جو بصورت بچھڑا بن گئے اور چونکہ بیچ میں خلا تھا، وہاں سے ہوا گھستی تھی اور اس سے آواز نکلتی تھی۔ جبرائیل علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس کے دل میں خیال گزرا تھا کہ میں ان کے گھوڑے کے ٹاپوں تلے کی مٹی اٹھا لوں، میں جو چاہوں گا، وہ اس مٹی کے ڈالنے سے بن جائے گا۔ اس کی انگلیاں اسی وقت سوکھ گئی تھیں۔ جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ ان کے پاس فرعونیوں کے زیورات رہ گئے اور فرعونی ہلاک ہو گئے اور یہ اب ان کو واپس نہیں ہو سکتے تو غمزدہ ہونے لگے۔ سامری نے کہا، دیکھو اس کی وجہ سے تم پر مصیبت نازل ہوئی ہے، اسے جمع کر کے آگ لگا دو۔ جب وہ جمع ہو گئے اور آگ سے پگھل گئے تو اس کے جی میں آئی کہ وہ خاک اس پر ڈال دے اور اسے بچھڑے کی شکل میں بنا لے چنانچہ یہی ہوا۔ اور اس نے کہہ دیا کہ تمہارا اور موسیٰ علیہ السلام کا رب یہی ہے۔ یہی وہ جواب دے رہا ہے کہ میں نے اسے ڈال دیا اور میرے دل نے یہی ترکیب مجھے اچھی طرح سمجھا دی۔
صفحہ نمبر5320
کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا، تو نے نہ لینے کی چیز کو ہاتھ لگایا، تیری سزا دنیا میں یہی ہے کہ اب نہ تو تو کسی کو ہاتھ لگا سکے نہ کوئی اور تجھے ہاتھ لگا سکے۔ باقی سزا تیری قیامت کو ہو گی جس سے چھٹکارا محال ہے۔ ان کے بقایا اب تک یہی کہتے ہیں کہ نہ چھونا۔ اب تو اپنے معبود کا حشر بھی دیکھ لے جس کی عبادت پر اوندھا پڑا ہوا تھا کہ ہم اسے جلا کر راکھ کر دیتے ہیں
چنانچہ وہ سونے کا بچھڑا اس طرح جل گیا جیسے خون اور گوشت والا بچھڑا جلے۔ پھر اس کی راکھ کو تیز ہوا میں دریا میں ذرہ ذرہ کر کے اڑا دیا۔ مروی ہے کہ اس نے بنی اسرائیل کی عورتوں کے زیور جہاں تک اس کے بس میں تھے لیے ان کا بچھڑا بنایا جسے موسیٰ علیہ السلام نے جلا دیا اور دریا میں اس کی خاک بہا دی۔ جس نے بھی اس کا پانی پیا، اس کا چہرہ زرد پڑ گیا، اس سے سارے گئوسالہ پرست معلوم ہو گئے۔ اب انہوں نے توبہ کی اور موسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ہماری توبہ کیسے قبول ہو گی؟ حکم ہوا کہ ایک دوسرے کو قتل کرو۔ اس کا پورا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا معبود یہ نہیں۔ مستحق عبادت تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ باقی تمام جہان اس کا محتاج ہے اور اس کے ماتحت ہے۔ وہ ہرچیز کا عالم ہے، اس کے علم نے تمام مخلوق کا احاطہٰ کر رکھا ہے، ہرچیز کی گنتی اسے معلوم ہے۔ ایک ذرہ بھی اس کے علم سے باہر نہیں، ہر پتے کا اور ہر دانے کا اسے علم ہے بلکہ اس کے پاس کی کتاب میں وہ لکھا ہوا موجود ہے۔ زمین کے تمام جانداروں کو روزیاں وہی پہنچاتا ہے، سب کی جگہ اسے معلوم ہے، سب کچھ کھلی اور واضح کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ علم الٰہی محیط کل اور سب کو حاوی ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
صفحہ نمبر5321
طه 20:98
گائے پرست سامری اور بچھڑا ٭٭
موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے پوچھا کہ تو نے یہ فتنہ کیوں اٹھایا؟ یہ شخص باجرو کا رہنے والا تھا، اس کی قوم گائے پرست تھی۔ اس کے دل میں گائے کی محبت گھر کئے ہوئے تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کیا تھا۔ اس کا نام موسیٰ بن ظفر تھا۔ ایک روایت میں ہے، یہ کرمانی تھا۔ ایک روایت میں ہے، اس کی بستی کا نام سامرا تھا۔ اس نے جواب دیا کہ جب فرعون کی ہلاکت کے لیے جبرائیل علیہ السلام آئے تو میں نے ان کے گھوڑے کے ٹاپ تلے کی تھوڑی سی مٹی اٹھا لی۔ اکثر مفسرین کے نزدیک مشہور بات یہی ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام آئے اور موسیٰ علیہ السلام کو لے کر چڑھنے لگے تو سامری نے دیکھ لیا۔ اس نے جلدی سے ان کے گھوڑے کے سم تلے کی مٹی اٹھا لی۔ موسیٰ علیہ السلام کو جبرائیل علیہ السلام آسمان تک لے گئے، اللہ تعالیٰ نے تورات لکھی، موسیٰ علیہ السلام قلم کی تحریر کی آواز سن رہے تھے لیکن جب آپ کو اپنی قوم کی مصیبت معلوم ہوئی تو نیچے اتر آئے اور اس بچھڑے کو جلا دیا۔ لیکن اس اثر کی سند غریب ہے۔ اسی خاک کی چٹکی یا مٹھی کو اس نے بنی اسرائیل کے جمع کردہ زیوروں کے جلنے کے وقت ان میں ڈال دی۔ جو بصورت بچھڑا بن گئے اور چونکہ بیچ میں خلا تھا، وہاں سے ہوا گھستی تھی اور اس سے آواز نکلتی تھی۔ جبرائیل علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس کے دل میں خیال گزرا تھا کہ میں ان کے گھوڑے کے ٹاپوں تلے کی مٹی اٹھا لوں، میں جو چاہوں گا، وہ اس مٹی کے ڈالنے سے بن جائے گا۔ اس کی انگلیاں اسی وقت سوکھ گئی تھیں۔ جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ ان کے پاس فرعونیوں کے زیورات رہ گئے اور فرعونی ہلاک ہو گئے اور یہ اب ان کو واپس نہیں ہو سکتے تو غمزدہ ہونے لگے۔ سامری نے کہا، دیکھو اس کی وجہ سے تم پر مصیبت نازل ہوئی ہے، اسے جمع کر کے آگ لگا دو۔ جب وہ جمع ہو گئے اور آگ سے پگھل گئے تو اس کے جی میں آئی کہ وہ خاک اس پر ڈال دے اور اسے بچھڑے کی شکل میں بنا لے چنانچہ یہی ہوا۔ اور اس نے کہہ دیا کہ تمہارا اور موسیٰ علیہ السلام کا رب یہی ہے۔ یہی وہ جواب دے رہا ہے کہ میں نے اسے ڈال دیا اور میرے دل نے یہی ترکیب مجھے اچھی طرح سمجھا دی۔
صفحہ نمبر5320
کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا، تو نے نہ لینے کی چیز کو ہاتھ لگایا، تیری سزا دنیا میں یہی ہے کہ اب نہ تو تو کسی کو ہاتھ لگا سکے نہ کوئی اور تجھے ہاتھ لگا سکے۔ باقی سزا تیری قیامت کو ہو گی جس سے چھٹکارا محال ہے۔ ان کے بقایا اب تک یہی کہتے ہیں کہ نہ چھونا۔ اب تو اپنے معبود کا حشر بھی دیکھ لے جس کی عبادت پر اوندھا پڑا ہوا تھا کہ ہم اسے جلا کر راکھ کر دیتے ہیں
چنانچہ وہ سونے کا بچھڑا اس طرح جل گیا جیسے خون اور گوشت والا بچھڑا جلے۔ پھر اس کی راکھ کو تیز ہوا میں دریا میں ذرہ ذرہ کر کے اڑا دیا۔ مروی ہے کہ اس نے بنی اسرائیل کی عورتوں کے زیور جہاں تک اس کے بس میں تھے لیے ان کا بچھڑا بنایا جسے موسیٰ علیہ السلام نے جلا دیا اور دریا میں اس کی خاک بہا دی۔ جس نے بھی اس کا پانی پیا، اس کا چہرہ زرد پڑ گیا، اس سے سارے گئوسالہ پرست معلوم ہو گئے۔ اب انہوں نے توبہ کی اور موسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ہماری توبہ کیسے قبول ہو گی؟ حکم ہوا کہ ایک دوسرے کو قتل کرو۔ اس کا پورا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا معبود یہ نہیں۔ مستحق عبادت تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ باقی تمام جہان اس کا محتاج ہے اور اس کے ماتحت ہے۔ وہ ہرچیز کا عالم ہے، اس کے علم نے تمام مخلوق کا احاطہٰ کر رکھا ہے، ہرچیز کی گنتی اسے معلوم ہے۔ ایک ذرہ بھی اس کے علم سے باہر نہیں، ہر پتے کا اور ہر دانے کا اسے علم ہے بلکہ اس کے پاس کی کتاب میں وہ لکھا ہوا موجود ہے۔ زمین کے تمام جانداروں کو روزیاں وہی پہنچاتا ہے، سب کی جگہ اسے معلوم ہے، سب کچھ کھلی اور واضح کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ علم الٰہی محیط کل اور سب کو حاوی ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
صفحہ نمبر5321
طه 20:99
سب سے اعلی کتاب ٭٭
فرمان ہے کہ جیسے موسیٰ علیہ السلام کا قصہ اصلی رنگ میں آپ کے سامنے بیان ہوا، ایسے ہی اور بھی حالات گزشتہ آپ کے سامنے ہم ہو بہو بیان فرما رہے ہیں۔ ہم نے تو آپ کو قرآن عظیم دے رکھا ہے، جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا کیونکہ آپ حکمت و حمد والے ہیں۔ کسی نبی کو کوئی کتاب اس سے زیادہ کمال والی اور اس سے زیادہ جامع اور اس سے زیادہ بابرکت نہیں ملی۔ ہرطرح سب سے اعلیٰ کتاب یہی کلام اللہ شریف ہے جس میں گذشتہ کی خبریں، آئندہ کے امور اور ہر کام کے طریقے مذکور ہیں۔
اسے نہ ماننے والا، اس سے منہ پھیرنے والا، اس کے احکام سے بھاگنے والا، اس کے سوا کسی اور میں ہدایت کو تلاش کرنے والا گمراہ ہے اور جہنم کی طرف جانے والا ہے۔ قیامت کو وہ اپنا بوجھ آپ اٹھائے گا اور اس میں دب جائے گا۔ اس کے ساتھ جو بھی کفر کرے، وہ جہنمی ہے، کتابی ہو یا غیر کتابی، عجمی ہو یا عربی، اس کا منکر جہنمی ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں تمہیں بھی ہوشیار کرنے والا ہوں اور جسے بھی یہ پہنچے۔ پس اس کا متبع ہدایت والا اور اس کا مخالف ضلالت و شقاوت والا۔ جو یہاں برباد ہوا، وہ وہاں دوزخی بنا۔ اس عذاب سے اسے نہ تو کبھی چھٹکارا حاصل ہو، نہ بچ سکے، برا بوجھ ہے جو اس پر اس دن ہو گا۔
صفحہ نمبر5325
طه 20:100
سب سے اعلی کتاب ٭٭
فرمان ہے کہ جیسے موسیٰ علیہ السلام کا قصہ اصلی رنگ میں آپ کے سامنے بیان ہوا، ایسے ہی اور بھی حالات گزشتہ آپ کے سامنے ہم ہو بہو بیان فرما رہے ہیں۔ ہم نے تو آپ کو قرآن عظیم دے رکھا ہے، جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا کیونکہ آپ حکمت و حمد والے ہیں۔ کسی نبی کو کوئی کتاب اس سے زیادہ کمال والی اور اس سے زیادہ جامع اور اس سے زیادہ بابرکت نہیں ملی۔ ہرطرح سب سے اعلیٰ کتاب یہی کلام اللہ شریف ہے جس میں گذشتہ کی خبریں، آئندہ کے امور اور ہر کام کے طریقے مذکور ہیں۔
اسے نہ ماننے والا، اس سے منہ پھیرنے والا، اس کے احکام سے بھاگنے والا، اس کے سوا کسی اور میں ہدایت کو تلاش کرنے والا گمراہ ہے اور جہنم کی طرف جانے والا ہے۔ قیامت کو وہ اپنا بوجھ آپ اٹھائے گا اور اس میں دب جائے گا۔ اس کے ساتھ جو بھی کفر کرے، وہ جہنمی ہے، کتابی ہو یا غیر کتابی، عجمی ہو یا عربی، اس کا منکر جہنمی ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں تمہیں بھی ہوشیار کرنے والا ہوں اور جسے بھی یہ پہنچے۔ پس اس کا متبع ہدایت والا اور اس کا مخالف ضلالت و شقاوت والا۔ جو یہاں برباد ہوا، وہ وہاں دوزخی بنا۔ اس عذاب سے اسے نہ تو کبھی چھٹکارا حاصل ہو، نہ بچ سکے، برا بوجھ ہے جو اس پر اس دن ہو گا۔
صفحہ نمبر5325
طه 20:101
سب سے اعلی کتاب ٭٭
فرمان ہے کہ جیسے موسیٰ علیہ السلام کا قصہ اصلی رنگ میں آپ کے سامنے بیان ہوا، ایسے ہی اور بھی حالات گزشتہ آپ کے سامنے ہم ہو بہو بیان فرما رہے ہیں۔ ہم نے تو آپ کو قرآن عظیم دے رکھا ہے، جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا کیونکہ آپ حکمت و حمد والے ہیں۔ کسی نبی کو کوئی کتاب اس سے زیادہ کمال والی اور اس سے زیادہ جامع اور اس سے زیادہ بابرکت نہیں ملی۔ ہرطرح سب سے اعلیٰ کتاب یہی کلام اللہ شریف ہے جس میں گذشتہ کی خبریں، آئندہ کے امور اور ہر کام کے طریقے مذکور ہیں۔
اسے نہ ماننے والا، اس سے منہ پھیرنے والا، اس کے احکام سے بھاگنے والا، اس کے سوا کسی اور میں ہدایت کو تلاش کرنے والا گمراہ ہے اور جہنم کی طرف جانے والا ہے۔ قیامت کو وہ اپنا بوجھ آپ اٹھائے گا اور اس میں دب جائے گا۔ اس کے ساتھ جو بھی کفر کرے، وہ جہنمی ہے، کتابی ہو یا غیر کتابی، عجمی ہو یا عربی، اس کا منکر جہنمی ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں تمہیں بھی ہوشیار کرنے والا ہوں اور جسے بھی یہ پہنچے۔ پس اس کا متبع ہدایت والا اور اس کا مخالف ضلالت و شقاوت والا۔ جو یہاں برباد ہوا، وہ وہاں دوزخی بنا۔ اس عذاب سے اسے نہ تو کبھی چھٹکارا حاصل ہو، نہ بچ سکے، برا بوجھ ہے جو اس پر اس دن ہو گا۔
صفحہ نمبر5325
طه 20:102
صور کیا ہے ؟ ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ صور کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا وہ ایک قرن ہے جو پھونکا جائے گا۔ [سنن ترمذي:3244،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ اس کا دائرہ بقدر آسمانوں اور زمینوں کے ہے۔ اسرافیل علیہ السلام اسے پھونکیں گے۔ اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا، میں کیسے آرام حاصل کروں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کا لقمہ بنا لیا ہے، پیشانی جھکا دی ہے اور انتظار میں ہے کہ کب حکم دیا جائے۔ لوگوں نے کہا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں؟ فرمایا کہو «حَسبُنَا اللہُ وَنِعمَ الوَکِیلُ عَلَی اللہِ تَوَکَّلنَا» ۔ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس وقت تمام لوگوں کا حشر ہو گا کہ مارے ڈر اور گھبراہٹ کے گنہگاروں کی آنکھیں ٹیڑھی ہو رہی ہوں گی۔ ایک دوسرے سے پوشیدہ پوشیدہ کہہ رہے ہوں گے کہ دنیا میں تو ہم بہت ہی کم رہے، زیادہ سے زیادہ شاید دس دن وہاں گزرے ہونگے۔ ہم ان کی اس رازداری کی گفتگو کو بھی بخوبی جانتے ہیں جب کہ ان میں سے بڑا عاقل اور کامل انسان کہے گا کہ میاں دس دن بھی کہاں رکے؟ ہم تو صرف ایک دن ہی دنیا میں رہے۔ غرض کفار کو دنیا کی زندگی ایک سپنے کی طرح معلوم ہو گی۔ اس وقت وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ صرف ایک ساعت ہی دنیا میں ہم تو ٹھہرے ہوں گے۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ» [35-فاطر:37] الخ۔
ہم نے تمہیں عبرت حاصل کرنے کے قابل عمر بھی دی تھی۔ پھر ہوشیار کرنے والے بھی تمہارے پاس آچکے تھے۔ اور آیتوں میں ہے کہ «قَالَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَاسْأَلِ الْعَادِّينَ قَالَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا ۖ لَّوْ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» [23-المؤمنون:112]
اس سوال پر کہ تم کتنا عرصہ زمین پر گزار آئے؟ ان کا جواب ہے ایک دن بلکہ اس سے بھی کم۔ فی الواقع دنیا ہے بھی آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی۔ لیکن اگر اس بات کو پہلے سے باور کر لیتے تو اس فانی کو اس باقی پر، اس تھوڑی کو اس بہت پر پسند نہ کرتے بلکہ آخرت کا سامان اس دنیا میں کرتے۔
صفحہ نمبر5328
طه 20:103
صور کیا ہے ؟ ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ صور کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا وہ ایک قرن ہے جو پھونکا جائے گا۔ [سنن ترمذي:3244،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ اس کا دائرہ بقدر آسمانوں اور زمینوں کے ہے۔ اسرافیل علیہ السلام اسے پھونکیں گے۔ اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا، میں کیسے آرام حاصل کروں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کا لقمہ بنا لیا ہے، پیشانی جھکا دی ہے اور انتظار میں ہے کہ کب حکم دیا جائے۔ لوگوں نے کہا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں؟ فرمایا کہو «حَسبُنَا اللہُ وَنِعمَ الوَکِیلُ عَلَی اللہِ تَوَکَّلنَا» ۔ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس وقت تمام لوگوں کا حشر ہو گا کہ مارے ڈر اور گھبراہٹ کے گنہگاروں کی آنکھیں ٹیڑھی ہو رہی ہوں گی۔ ایک دوسرے سے پوشیدہ پوشیدہ کہہ رہے ہوں گے کہ دنیا میں تو ہم بہت ہی کم رہے، زیادہ سے زیادہ شاید دس دن وہاں گزرے ہونگے۔ ہم ان کی اس رازداری کی گفتگو کو بھی بخوبی جانتے ہیں جب کہ ان میں سے بڑا عاقل اور کامل انسان کہے گا کہ میاں دس دن بھی کہاں رکے؟ ہم تو صرف ایک دن ہی دنیا میں رہے۔ غرض کفار کو دنیا کی زندگی ایک سپنے کی طرح معلوم ہو گی۔ اس وقت وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ صرف ایک ساعت ہی دنیا میں ہم تو ٹھہرے ہوں گے۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ» [35-فاطر:37] الخ۔
ہم نے تمہیں عبرت حاصل کرنے کے قابل عمر بھی دی تھی۔ پھر ہوشیار کرنے والے بھی تمہارے پاس آچکے تھے۔ اور آیتوں میں ہے کہ «قَالَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَاسْأَلِ الْعَادِّينَ قَالَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا ۖ لَّوْ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» [23-المؤمنون:112]
اس سوال پر کہ تم کتنا عرصہ زمین پر گزار آئے؟ ان کا جواب ہے ایک دن بلکہ اس سے بھی کم۔ فی الواقع دنیا ہے بھی آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی۔ لیکن اگر اس بات کو پہلے سے باور کر لیتے تو اس فانی کو اس باقی پر، اس تھوڑی کو اس بہت پر پسند نہ کرتے بلکہ آخرت کا سامان اس دنیا میں کرتے۔
صفحہ نمبر5328
طه 20:104
صور کیا ہے ؟ ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ صور کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا وہ ایک قرن ہے جو پھونکا جائے گا۔ [سنن ترمذي:3244،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ اس کا دائرہ بقدر آسمانوں اور زمینوں کے ہے۔ اسرافیل علیہ السلام اسے پھونکیں گے۔ اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا، میں کیسے آرام حاصل کروں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کا لقمہ بنا لیا ہے، پیشانی جھکا دی ہے اور انتظار میں ہے کہ کب حکم دیا جائے۔ لوگوں نے کہا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں؟ فرمایا کہو «حَسبُنَا اللہُ وَنِعمَ الوَکِیلُ عَلَی اللہِ تَوَکَّلنَا» ۔ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس وقت تمام لوگوں کا حشر ہو گا کہ مارے ڈر اور گھبراہٹ کے گنہگاروں کی آنکھیں ٹیڑھی ہو رہی ہوں گی۔ ایک دوسرے سے پوشیدہ پوشیدہ کہہ رہے ہوں گے کہ دنیا میں تو ہم بہت ہی کم رہے، زیادہ سے زیادہ شاید دس دن وہاں گزرے ہونگے۔ ہم ان کی اس رازداری کی گفتگو کو بھی بخوبی جانتے ہیں جب کہ ان میں سے بڑا عاقل اور کامل انسان کہے گا کہ میاں دس دن بھی کہاں رکے؟ ہم تو صرف ایک دن ہی دنیا میں رہے۔ غرض کفار کو دنیا کی زندگی ایک سپنے کی طرح معلوم ہو گی۔ اس وقت وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ صرف ایک ساعت ہی دنیا میں ہم تو ٹھہرے ہوں گے۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ» [35-فاطر:37] الخ۔
ہم نے تمہیں عبرت حاصل کرنے کے قابل عمر بھی دی تھی۔ پھر ہوشیار کرنے والے بھی تمہارے پاس آچکے تھے۔ اور آیتوں میں ہے کہ «قَالَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَاسْأَلِ الْعَادِّينَ قَالَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا ۖ لَّوْ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» [23-المؤمنون:112]
اس سوال پر کہ تم کتنا عرصہ زمین پر گزار آئے؟ ان کا جواب ہے ایک دن بلکہ اس سے بھی کم۔ فی الواقع دنیا ہے بھی آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی۔ لیکن اگر اس بات کو پہلے سے باور کر لیتے تو اس فانی کو اس باقی پر، اس تھوڑی کو اس بہت پر پسند نہ کرتے بلکہ آخرت کا سامان اس دنیا میں کرتے۔
صفحہ نمبر5328
طه 20:105
پہاڑوں کا کیا ہو گا؟ ٭٭
لوگوں نے پوچھا کہ قیامت کے دن یہ پہاڑ باقی رہیں گے یا نہیں؟ ان کا سوال نقل کر کے جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہٹ جائیں گے، چلتے پھرتے نظر آئیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ زمین صاف چٹیل ہموار میدان کی صورت میں ہو جائے گی۔ «قاع» کے معنی ہموار صاف میدان ہے۔ «صفصفا» اسی کی تاکید ہے اور «صفصف» کے معنی بغیر روئیدگی کی زمین کے بھی ہیں لیکن پہلے معنی زیادہ اچھے ہیں اور دوسرے مرادی اور لازمی ہیں۔
نہ اس میں کوئی وادی رہے گی نہ ٹیلہ، نہ اونچان رہے گی نہ نیچائی۔ ان دہشت ناک امور کے ساتھ ہی ایک آواز دینے والا آواز دے گا جس کی آواز پر ساری مخلوق لگ جائے گی، دوڑتی ہوئی حسب فرمان ایک طرف چلی جا رہی ہو گی، نہ ادھر ادھر ہو گی نہ ٹیڑھی بان کی چلے گی۔ کاش کہ یہی روش دنیا میں رکھتے اور اللہ کے احکام کی بجا آوری میں مشغول رہتے۔ لیکن آج کی یہ روش بالکل بےسود ہے۔ «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا» [19-مريم:38]
اس دن تو خوب دیکھتے سنتے بن جائیں گے اور آواز کے ساتھ فرماں برداری کریں گے۔ اندھیری جگہ حشر ہو گا۔ آسمان لپیٹ لیا جائے گا، ستارے جھڑ پڑیں گے، سورج چاند مٹ جائے گا۔ «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ ۖ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8]
آواز دینے والے کی آواز پر سب چل کھڑے ہوں گے۔ اس ایک میدان میں ساری مخلوق جمع ہو گی مگر اس غضب کا سناٹا ہو گا کہ آداب بارگاہ الٰہی کی وجہ سے ایک آواز نہ اٹھے گی۔ بالکل سکون وسکوت ہو گا، صرف پیروں کی چاپ ہو گی اور کانا پھوسی۔ چل کر جا رہے ہوں گے تو پیروں کی چاپ تو لامحالہ ہونی ہی ہے اور بااجازت الٰہی کبھی کبھی کسی کسی حال میں بولیں گے بھی۔ لیکن چلنا بھی باادب اور بولنا بھی باادب۔ جیسے ارشاد ہے، «يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ» ۔ [11-هود:105] ” یعنی جس دن وہ میرے سامنے حاضر ہوں گے، کسی کی مجال نہ ہو گی کہ بغیرمیری اجازت کے زبان کھول لے۔ بعض نیک ہوں گے اور بعض بد ہوں گے۔“
صفحہ نمبر5331
طه 20:106
پہاڑوں کا کیا ہو گا؟ ٭٭
لوگوں نے پوچھا کہ قیامت کے دن یہ پہاڑ باقی رہیں گے یا نہیں؟ ان کا سوال نقل کر کے جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہٹ جائیں گے، چلتے پھرتے نظر آئیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ زمین صاف چٹیل ہموار میدان کی صورت میں ہو جائے گی۔ «قاع» کے معنی ہموار صاف میدان ہے۔ «صفصفا» اسی کی تاکید ہے اور «صفصف» کے معنی بغیر روئیدگی کی زمین کے بھی ہیں لیکن پہلے معنی زیادہ اچھے ہیں اور دوسرے مرادی اور لازمی ہیں۔
نہ اس میں کوئی وادی رہے گی نہ ٹیلہ، نہ اونچان رہے گی نہ نیچائی۔ ان دہشت ناک امور کے ساتھ ہی ایک آواز دینے والا آواز دے گا جس کی آواز پر ساری مخلوق لگ جائے گی، دوڑتی ہوئی حسب فرمان ایک طرف چلی جا رہی ہو گی، نہ ادھر ادھر ہو گی نہ ٹیڑھی بان کی چلے گی۔ کاش کہ یہی روش دنیا میں رکھتے اور اللہ کے احکام کی بجا آوری میں مشغول رہتے۔ لیکن آج کی یہ روش بالکل بےسود ہے۔ «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا» [19-مريم:38]
اس دن تو خوب دیکھتے سنتے بن جائیں گے اور آواز کے ساتھ فرماں برداری کریں گے۔ اندھیری جگہ حشر ہو گا۔ آسمان لپیٹ لیا جائے گا، ستارے جھڑ پڑیں گے، سورج چاند مٹ جائے گا۔ «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ ۖ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8]
آواز دینے والے کی آواز پر سب چل کھڑے ہوں گے۔ اس ایک میدان میں ساری مخلوق جمع ہو گی مگر اس غضب کا سناٹا ہو گا کہ آداب بارگاہ الٰہی کی وجہ سے ایک آواز نہ اٹھے گی۔ بالکل سکون وسکوت ہو گا، صرف پیروں کی چاپ ہو گی اور کانا پھوسی۔ چل کر جا رہے ہوں گے تو پیروں کی چاپ تو لامحالہ ہونی ہی ہے اور بااجازت الٰہی کبھی کبھی کسی کسی حال میں بولیں گے بھی۔ لیکن چلنا بھی باادب اور بولنا بھی باادب۔ جیسے ارشاد ہے، «يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ» ۔ [11-هود:105] ” یعنی جس دن وہ میرے سامنے حاضر ہوں گے، کسی کی مجال نہ ہو گی کہ بغیرمیری اجازت کے زبان کھول لے۔ بعض نیک ہوں گے اور بعض بد ہوں گے۔“
صفحہ نمبر5331
طه 20:107
پہاڑوں کا کیا ہو گا؟ ٭٭
لوگوں نے پوچھا کہ قیامت کے دن یہ پہاڑ باقی رہیں گے یا نہیں؟ ان کا سوال نقل کر کے جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہٹ جائیں گے، چلتے پھرتے نظر آئیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ زمین صاف چٹیل ہموار میدان کی صورت میں ہو جائے گی۔ «قاع» کے معنی ہموار صاف میدان ہے۔ «صفصفا» اسی کی تاکید ہے اور «صفصف» کے معنی بغیر روئیدگی کی زمین کے بھی ہیں لیکن پہلے معنی زیادہ اچھے ہیں اور دوسرے مرادی اور لازمی ہیں۔
نہ اس میں کوئی وادی رہے گی نہ ٹیلہ، نہ اونچان رہے گی نہ نیچائی۔ ان دہشت ناک امور کے ساتھ ہی ایک آواز دینے والا آواز دے گا جس کی آواز پر ساری مخلوق لگ جائے گی، دوڑتی ہوئی حسب فرمان ایک طرف چلی جا رہی ہو گی، نہ ادھر ادھر ہو گی نہ ٹیڑھی بان کی چلے گی۔ کاش کہ یہی روش دنیا میں رکھتے اور اللہ کے احکام کی بجا آوری میں مشغول رہتے۔ لیکن آج کی یہ روش بالکل بےسود ہے۔ «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا» [19-مريم:38]
اس دن تو خوب دیکھتے سنتے بن جائیں گے اور آواز کے ساتھ فرماں برداری کریں گے۔ اندھیری جگہ حشر ہو گا۔ آسمان لپیٹ لیا جائے گا، ستارے جھڑ پڑیں گے، سورج چاند مٹ جائے گا۔ «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ ۖ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8]
آواز دینے والے کی آواز پر سب چل کھڑے ہوں گے۔ اس ایک میدان میں ساری مخلوق جمع ہو گی مگر اس غضب کا سناٹا ہو گا کہ آداب بارگاہ الٰہی کی وجہ سے ایک آواز نہ اٹھے گی۔ بالکل سکون وسکوت ہو گا، صرف پیروں کی چاپ ہو گی اور کانا پھوسی۔ چل کر جا رہے ہوں گے تو پیروں کی چاپ تو لامحالہ ہونی ہی ہے اور بااجازت الٰہی کبھی کبھی کسی کسی حال میں بولیں گے بھی۔ لیکن چلنا بھی باادب اور بولنا بھی باادب۔ جیسے ارشاد ہے، «يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ» ۔ [11-هود:105] ” یعنی جس دن وہ میرے سامنے حاضر ہوں گے، کسی کی مجال نہ ہو گی کہ بغیرمیری اجازت کے زبان کھول لے۔ بعض نیک ہوں گے اور بعض بد ہوں گے۔“
صفحہ نمبر5331
طه 20:108
پہاڑوں کا کیا ہو گا؟ ٭٭
لوگوں نے پوچھا کہ قیامت کے دن یہ پہاڑ باقی رہیں گے یا نہیں؟ ان کا سوال نقل کر کے جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہٹ جائیں گے، چلتے پھرتے نظر آئیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ زمین صاف چٹیل ہموار میدان کی صورت میں ہو جائے گی۔ «قاع» کے معنی ہموار صاف میدان ہے۔ «صفصفا» اسی کی تاکید ہے اور «صفصف» کے معنی بغیر روئیدگی کی زمین کے بھی ہیں لیکن پہلے معنی زیادہ اچھے ہیں اور دوسرے مرادی اور لازمی ہیں۔
نہ اس میں کوئی وادی رہے گی نہ ٹیلہ، نہ اونچان رہے گی نہ نیچائی۔ ان دہشت ناک امور کے ساتھ ہی ایک آواز دینے والا آواز دے گا جس کی آواز پر ساری مخلوق لگ جائے گی، دوڑتی ہوئی حسب فرمان ایک طرف چلی جا رہی ہو گی، نہ ادھر ادھر ہو گی نہ ٹیڑھی بان کی چلے گی۔ کاش کہ یہی روش دنیا میں رکھتے اور اللہ کے احکام کی بجا آوری میں مشغول رہتے۔ لیکن آج کی یہ روش بالکل بےسود ہے۔ «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا» [19-مريم:38]
اس دن تو خوب دیکھتے سنتے بن جائیں گے اور آواز کے ساتھ فرماں برداری کریں گے۔ اندھیری جگہ حشر ہو گا۔ آسمان لپیٹ لیا جائے گا، ستارے جھڑ پڑیں گے، سورج چاند مٹ جائے گا۔ «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ ۖ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8]
آواز دینے والے کی آواز پر سب چل کھڑے ہوں گے۔ اس ایک میدان میں ساری مخلوق جمع ہو گی مگر اس غضب کا سناٹا ہو گا کہ آداب بارگاہ الٰہی کی وجہ سے ایک آواز نہ اٹھے گی۔ بالکل سکون وسکوت ہو گا، صرف پیروں کی چاپ ہو گی اور کانا پھوسی۔ چل کر جا رہے ہوں گے تو پیروں کی چاپ تو لامحالہ ہونی ہی ہے اور بااجازت الٰہی کبھی کبھی کسی کسی حال میں بولیں گے بھی۔ لیکن چلنا بھی باادب اور بولنا بھی باادب۔ جیسے ارشاد ہے، «يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ» ۔ [11-هود:105] ” یعنی جس دن وہ میرے سامنے حاضر ہوں گے، کسی کی مجال نہ ہو گی کہ بغیرمیری اجازت کے زبان کھول لے۔ بعض نیک ہوں گے اور بعض بد ہوں گے۔“
صفحہ نمبر5331
طه 20:109
نوعیت شفاعت اور روز قیامت ٭٭
قیامت کے دن کسی کی مجال نہ ہو گی کہ «مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ» [2-البقرة:255] ” دوسرے کے لیے شفاعت کرے ہاں جسے اللہ اجازت دے۔ “
«وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّـهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ» [53-النجم:26] ” نہ آسمان کے فرشتے بے اجازت کسی کی سفارش کر سکیں نہ اور کوئی بزرگ بندہ۔ سب کو خود خوف لگا ہو گا، بے اجازت کسی کی سفارش نہ ہو گی۔ “
«يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» [78-النبأ:38] ” فرشتے اور روح صف بستہ کھڑے ہوں گے، بے اجازت الٰہی کوئی لب نہ کھول سکے گا۔ “
خود سید الناس اکرم الناس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عرش تلے اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے، اللہ کی خوب حمد و ثنا کریں گے، دیر تک سجدے میں پڑے رہیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ پھر حد مقرر ہو گی آپ ان کی شفاعت کر کے جنت میں لے جائیں گے، پھر لوٹیں گے پھر یہی حکم ہو گا۔ «صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی سائر الانبیاء» ۔
اور حدیث میں ہے کہ حکم ہو گا کہ جہنم سے ان لوگوں کو بھی نکال لاؤ جن کے دل میں ایک مثقال ایمان ہو، پس بہت سے لوگوں کو نکال لائیں گے۔ پھر فرمائے گا جس کے دل میں آدھا مثقال ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں بقدر ایک ذرے کے ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں اس سے بھی کم اس سے بھی کم، اس سے بھی کم ایمان ہو، اسے بھی جہنم سے آزاد کرو، الخ۔ [صحیح مسلم:183] اس نے تمام مخلوق کا اپنے علم سے احاطہٰ کر رکھا ہے، مخلوق اس کے علم کا احاطہٰ کر ہی نہیں سکتی۔
صفحہ نمبر5335
جیسے فرمان ہے «وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ» [2-البقرة:265] ” اس کے علم میں سے صرف وہی معلوم کر سکتے ہیں جو وہ چاہے۔ “
تمام مخلوق کے چہرے عاجزی پستی ذلت و نرمی کے ساتھ اس کے سامنے پست ہیں، اس لیے کہ وہ موت و فوت سے پاک ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی رہنے والا ہے، وہ نہ سوئے نہ اونگھے۔ خود اپنے آپ قائم رہنے والا اور ہرچیز کو اپنی تدبیر سے قائم رکھنے والا ہے۔ سب کی دیکھ بھال حفاظت اور سنبھال وہی کرتا ہے، وہ تمام کمالات رکھتا ہے اور ساری مخلوق اس کی محتاج ہے، بغیر رب کی مرضی کے نہ پیدا ہو سکے نہ باقی رہ سکے۔ جس نے یہاں ظلم کئے ہوں گے وہ وہاں برباد ہو گا۔ کیونکہ ہر حقدار کو اللہ تعالیٰ اس دن اس کے حق دلوائے گا یہاں تک کہ بے سینگ کی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔ حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ عزوجل فرمائے گا، مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم، کسی ظالم کے ظلم کو میں اپنے سامنے سے نہ گزرنے دوں گا۔ صحیح حدیث میں ہے لوگو! ظلم سے بچو۔ ظلم قیامت کے دن اندھیرا بن کر آئے گا [صحیح مسلم:2578]
اور سب سے بڑھ کرنقصان یافتہ وہ ہے جو اللہ سے شرک کرتا ہوا مرا، وہ تباہ و برباد ہوا، اس لیے کہ «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» [31-لقمان:13] ” شرک ظلم عظیم ہے۔ “
ظالموں کا بدلہ بیان فرما کر متقیوں کا ثواب بیان ہو رہا ہے کہ نہ ان کی برائیاں بڑھائی جائیں نہ ان کی نیکیاں گھٹائی جائیں۔ گناہ کی زیادتی اور نیکی کی کمی سے وہ بے کھٹکے ہیں۔
صفحہ نمبر5336
طه 20:110
نوعیت شفاعت اور روز قیامت ٭٭
قیامت کے دن کسی کی مجال نہ ہو گی کہ «مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ» [2-البقرة:255] ” دوسرے کے لیے شفاعت کرے ہاں جسے اللہ اجازت دے۔ “
«وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّـهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ» [53-النجم:26] ” نہ آسمان کے فرشتے بے اجازت کسی کی سفارش کر سکیں نہ اور کوئی بزرگ بندہ۔ سب کو خود خوف لگا ہو گا، بے اجازت کسی کی سفارش نہ ہو گی۔ “
«يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» [78-النبأ:38] ” فرشتے اور روح صف بستہ کھڑے ہوں گے، بے اجازت الٰہی کوئی لب نہ کھول سکے گا۔ “
خود سید الناس اکرم الناس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عرش تلے اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے، اللہ کی خوب حمد و ثنا کریں گے، دیر تک سجدے میں پڑے رہیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ پھر حد مقرر ہو گی آپ ان کی شفاعت کر کے جنت میں لے جائیں گے، پھر لوٹیں گے پھر یہی حکم ہو گا۔ «صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی سائر الانبیاء» ۔
اور حدیث میں ہے کہ حکم ہو گا کہ جہنم سے ان لوگوں کو بھی نکال لاؤ جن کے دل میں ایک مثقال ایمان ہو، پس بہت سے لوگوں کو نکال لائیں گے۔ پھر فرمائے گا جس کے دل میں آدھا مثقال ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں بقدر ایک ذرے کے ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں اس سے بھی کم اس سے بھی کم، اس سے بھی کم ایمان ہو، اسے بھی جہنم سے آزاد کرو، الخ۔ [صحیح مسلم:183] اس نے تمام مخلوق کا اپنے علم سے احاطہٰ کر رکھا ہے، مخلوق اس کے علم کا احاطہٰ کر ہی نہیں سکتی۔
صفحہ نمبر5335
جیسے فرمان ہے «وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ» [2-البقرة:265] ” اس کے علم میں سے صرف وہی معلوم کر سکتے ہیں جو وہ چاہے۔ “
تمام مخلوق کے چہرے عاجزی پستی ذلت و نرمی کے ساتھ اس کے سامنے پست ہیں، اس لیے کہ وہ موت و فوت سے پاک ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی رہنے والا ہے، وہ نہ سوئے نہ اونگھے۔ خود اپنے آپ قائم رہنے والا اور ہرچیز کو اپنی تدبیر سے قائم رکھنے والا ہے۔ سب کی دیکھ بھال حفاظت اور سنبھال وہی کرتا ہے، وہ تمام کمالات رکھتا ہے اور ساری مخلوق اس کی محتاج ہے، بغیر رب کی مرضی کے نہ پیدا ہو سکے نہ باقی رہ سکے۔ جس نے یہاں ظلم کئے ہوں گے وہ وہاں برباد ہو گا۔ کیونکہ ہر حقدار کو اللہ تعالیٰ اس دن اس کے حق دلوائے گا یہاں تک کہ بے سینگ کی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔ حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ عزوجل فرمائے گا، مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم، کسی ظالم کے ظلم کو میں اپنے سامنے سے نہ گزرنے دوں گا۔ صحیح حدیث میں ہے لوگو! ظلم سے بچو۔ ظلم قیامت کے دن اندھیرا بن کر آئے گا [صحیح مسلم:2578]
اور سب سے بڑھ کرنقصان یافتہ وہ ہے جو اللہ سے شرک کرتا ہوا مرا، وہ تباہ و برباد ہوا، اس لیے کہ «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» [31-لقمان:13] ” شرک ظلم عظیم ہے۔ “
ظالموں کا بدلہ بیان فرما کر متقیوں کا ثواب بیان ہو رہا ہے کہ نہ ان کی برائیاں بڑھائی جائیں نہ ان کی نیکیاں گھٹائی جائیں۔ گناہ کی زیادتی اور نیکی کی کمی سے وہ بے کھٹکے ہیں۔
صفحہ نمبر5336
طه 20:111
نوعیت شفاعت اور روز قیامت ٭٭
قیامت کے دن کسی کی مجال نہ ہو گی کہ «مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ» [2-البقرة:255] ” دوسرے کے لیے شفاعت کرے ہاں جسے اللہ اجازت دے۔ “
«وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّـهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ» [53-النجم:26] ” نہ آسمان کے فرشتے بے اجازت کسی کی سفارش کر سکیں نہ اور کوئی بزرگ بندہ۔ سب کو خود خوف لگا ہو گا، بے اجازت کسی کی سفارش نہ ہو گی۔ “
«يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» [78-النبأ:38] ” فرشتے اور روح صف بستہ کھڑے ہوں گے، بے اجازت الٰہی کوئی لب نہ کھول سکے گا۔ “
خود سید الناس اکرم الناس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عرش تلے اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے، اللہ کی خوب حمد و ثنا کریں گے، دیر تک سجدے میں پڑے رہیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ پھر حد مقرر ہو گی آپ ان کی شفاعت کر کے جنت میں لے جائیں گے، پھر لوٹیں گے پھر یہی حکم ہو گا۔ «صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی سائر الانبیاء» ۔
اور حدیث میں ہے کہ حکم ہو گا کہ جہنم سے ان لوگوں کو بھی نکال لاؤ جن کے دل میں ایک مثقال ایمان ہو، پس بہت سے لوگوں کو نکال لائیں گے۔ پھر فرمائے گا جس کے دل میں آدھا مثقال ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں بقدر ایک ذرے کے ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں اس سے بھی کم اس سے بھی کم، اس سے بھی کم ایمان ہو، اسے بھی جہنم سے آزاد کرو، الخ۔ [صحیح مسلم:183] اس نے تمام مخلوق کا اپنے علم سے احاطہٰ کر رکھا ہے، مخلوق اس کے علم کا احاطہٰ کر ہی نہیں سکتی۔
صفحہ نمبر5335
جیسے فرمان ہے «وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ» [2-البقرة:265] ” اس کے علم میں سے صرف وہی معلوم کر سکتے ہیں جو وہ چاہے۔ “
تمام مخلوق کے چہرے عاجزی پستی ذلت و نرمی کے ساتھ اس کے سامنے پست ہیں، اس لیے کہ وہ موت و فوت سے پاک ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی رہنے والا ہے، وہ نہ سوئے نہ اونگھے۔ خود اپنے آپ قائم رہنے والا اور ہرچیز کو اپنی تدبیر سے قائم رکھنے والا ہے۔ سب کی دیکھ بھال حفاظت اور سنبھال وہی کرتا ہے، وہ تمام کمالات رکھتا ہے اور ساری مخلوق اس کی محتاج ہے، بغیر رب کی مرضی کے نہ پیدا ہو سکے نہ باقی رہ سکے۔ جس نے یہاں ظلم کئے ہوں گے وہ وہاں برباد ہو گا۔ کیونکہ ہر حقدار کو اللہ تعالیٰ اس دن اس کے حق دلوائے گا یہاں تک کہ بے سینگ کی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔ حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ عزوجل فرمائے گا، مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم، کسی ظالم کے ظلم کو میں اپنے سامنے سے نہ گزرنے دوں گا۔ صحیح حدیث میں ہے لوگو! ظلم سے بچو۔ ظلم قیامت کے دن اندھیرا بن کر آئے گا [صحیح مسلم:2578]
اور سب سے بڑھ کرنقصان یافتہ وہ ہے جو اللہ سے شرک کرتا ہوا مرا، وہ تباہ و برباد ہوا، اس لیے کہ «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» [31-لقمان:13] ” شرک ظلم عظیم ہے۔ “
ظالموں کا بدلہ بیان فرما کر متقیوں کا ثواب بیان ہو رہا ہے کہ نہ ان کی برائیاں بڑھائی جائیں نہ ان کی نیکیاں گھٹائی جائیں۔ گناہ کی زیادتی اور نیکی کی کمی سے وہ بے کھٹکے ہیں۔
صفحہ نمبر5336
طه 20:112
نوعیت شفاعت اور روز قیامت ٭٭
قیامت کے دن کسی کی مجال نہ ہو گی کہ «مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ» [2-البقرة:255] ” دوسرے کے لیے شفاعت کرے ہاں جسے اللہ اجازت دے۔ “
«وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّـهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ» [53-النجم:26] ” نہ آسمان کے فرشتے بے اجازت کسی کی سفارش کر سکیں نہ اور کوئی بزرگ بندہ۔ سب کو خود خوف لگا ہو گا، بے اجازت کسی کی سفارش نہ ہو گی۔ “
«يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» [78-النبأ:38] ” فرشتے اور روح صف بستہ کھڑے ہوں گے، بے اجازت الٰہی کوئی لب نہ کھول سکے گا۔ “
خود سید الناس اکرم الناس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عرش تلے اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے، اللہ کی خوب حمد و ثنا کریں گے، دیر تک سجدے میں پڑے رہیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ پھر حد مقرر ہو گی آپ ان کی شفاعت کر کے جنت میں لے جائیں گے، پھر لوٹیں گے پھر یہی حکم ہو گا۔ «صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی سائر الانبیاء» ۔
اور حدیث میں ہے کہ حکم ہو گا کہ جہنم سے ان لوگوں کو بھی نکال لاؤ جن کے دل میں ایک مثقال ایمان ہو، پس بہت سے لوگوں کو نکال لائیں گے۔ پھر فرمائے گا جس کے دل میں آدھا مثقال ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں بقدر ایک ذرے کے ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں اس سے بھی کم اس سے بھی کم، اس سے بھی کم ایمان ہو، اسے بھی جہنم سے آزاد کرو، الخ۔ [صحیح مسلم:183] اس نے تمام مخلوق کا اپنے علم سے احاطہٰ کر رکھا ہے، مخلوق اس کے علم کا احاطہٰ کر ہی نہیں سکتی۔
صفحہ نمبر5335
جیسے فرمان ہے «وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ» [2-البقرة:265] ” اس کے علم میں سے صرف وہی معلوم کر سکتے ہیں جو وہ چاہے۔ “
تمام مخلوق کے چہرے عاجزی پستی ذلت و نرمی کے ساتھ اس کے سامنے پست ہیں، اس لیے کہ وہ موت و فوت سے پاک ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی رہنے والا ہے، وہ نہ سوئے نہ اونگھے۔ خود اپنے آپ قائم رہنے والا اور ہرچیز کو اپنی تدبیر سے قائم رکھنے والا ہے۔ سب کی دیکھ بھال حفاظت اور سنبھال وہی کرتا ہے، وہ تمام کمالات رکھتا ہے اور ساری مخلوق اس کی محتاج ہے، بغیر رب کی مرضی کے نہ پیدا ہو سکے نہ باقی رہ سکے۔ جس نے یہاں ظلم کئے ہوں گے وہ وہاں برباد ہو گا۔ کیونکہ ہر حقدار کو اللہ تعالیٰ اس دن اس کے حق دلوائے گا یہاں تک کہ بے سینگ کی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔ حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ عزوجل فرمائے گا، مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم، کسی ظالم کے ظلم کو میں اپنے سامنے سے نہ گزرنے دوں گا۔ صحیح حدیث میں ہے لوگو! ظلم سے بچو۔ ظلم قیامت کے دن اندھیرا بن کر آئے گا [صحیح مسلم:2578]
اور سب سے بڑھ کرنقصان یافتہ وہ ہے جو اللہ سے شرک کرتا ہوا مرا، وہ تباہ و برباد ہوا، اس لیے کہ «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» [31-لقمان:13] ” شرک ظلم عظیم ہے۔ “
ظالموں کا بدلہ بیان فرما کر متقیوں کا ثواب بیان ہو رہا ہے کہ نہ ان کی برائیاں بڑھائی جائیں نہ ان کی نیکیاں گھٹائی جائیں۔ گناہ کی زیادتی اور نیکی کی کمی سے وہ بے کھٹکے ہیں۔
صفحہ نمبر5336
طه 20:113
وعدہ حق وعید حق ٭٭
چونکہ قیامت کا دن آنا ہی ہے اور اس دن نیک و بد اعمال کا بدلہ ملنا ہی ہے، لوگوں کو ہوشیار کرنے کے لیے ہم نے بشارت والا اور دھمکانے والا اپنا پاک کلام عربی صاف زبان میں اتارا تاکہ ہر شخص سمجھ سکے اور اس میں گو ناگوں طور پر لوگوں کو ڈرایا، طرح طرح سے ڈراوے سنائے۔ تاکہ لوگ برائیوں سے بچیں، بھلائیوں کے حاصل کرنے میں لگ جائیں یا ان کے دلوں میں غور و فکر نصیحت و پند پیدا ہو، اطاعت کی طرف جھک جائیں، نیک کاموں کی کوشش میں لگ جائیں۔
پس پاک اور برتر ہے وہ اللہ جو حقیقی شہنشاہ ہے، دونوں جہاں کا تنہا مالک ہے، وہ خود حق ہے، اس کا وعدہ حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اس کے رسول علیہم السلام حق ہیں، جنت دوزخ حق ہے، اس کے سب فرمان اور اس کی طرف سے جو ہو سراسر عدل و حق ہے۔ اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ آگاہ کئے بغیر کسی کوسزا دے، وہ سب کے عذر کاٹ دیتا ہے کسی کے شبہ کو باقی نہیں رکھتا، حق کو کھول دیتا ہے پھر سرکشوں کو عدل کے ساتھ سزا دیتا ہے۔ جب ہماری وحی اتر رہی ہو، اس وقت تم ہمارے کلام کو پڑھنے میں جلدی نہ کرو، پہلے پوری طرح سن لیا کرو۔ جیسے سورۃ القیامہ میں فرمایا «لَا تُحَرِّكْ بِهِ * لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ * فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ * ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ» [75-القيامة:16-19] ” یعنی جلدی کر کے بھول جانے کے خوف سے وحی اترتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ اسے نہ پڑھنے لگو۔ اس کا آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کی زبان سے تلاوت کرانا ہمارے ذمے ہے۔ جب ہم اسے پڑھیں تو آپ اس پڑھنے کے تابع ہو جائیں پھر اس کا سمجھا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ “
صفحہ نمبر5340
حدیث میں ہے کہ پہلے آپ جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے جس میں آپ کودقت ہوتی تھی، جب یہ آیت اتری تو آپ اس مشقت سے چھوٹ گئے [صحیح بخاری:5]
اور اطمینان ہو گیا کہ وحی الٰہی جتنی نازل ہو گی، مجھے یاد ہو جایا کرے گی۔ ایک حرف بھی نہ بھولوں گا کیونکہ اللہ کا وعدہ ہو چکا۔ یہی فرمان یہاں ہے کہ فرشتے کی قرأت چپکے سے سنو۔ جب وہ پڑھ چکے پھر تم پڑھو اور مجھ سے اپنے علم کی زیادتی کی دعا کیا کرو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، اللہ نے قبول کی اور انتقال تک علم میں بڑھتے ہی رہے۔ حدیث میں ہے کہ وحی برابر پے در پے آتی رہی یہاں تک کہ جس دن آپ فوت ہونے کو تھے، اس دن بھی بکثرت وحی اتری۔ [صحیح بخاری:4982]
ابن ماجہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا منقول ہے «اللَّهُمَّ اِنْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتنِي وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعنِي وَزِدْنِي عِلْمًا وَالْحَمْد لِلَّهِ عَلَى كُلّ حَال» ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور آخر میں یہ الفاظ زیادہ ہیں «وَأَعُوذ بِاَللَّهِ مِنْ حَال أَهْل النَّار» ۔ [سنن ترمذي:3599،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5341
طه 20:114
وعدہ حق وعید حق ٭٭
چونکہ قیامت کا دن آنا ہی ہے اور اس دن نیک و بد اعمال کا بدلہ ملنا ہی ہے، لوگوں کو ہوشیار کرنے کے لیے ہم نے بشارت والا اور دھمکانے والا اپنا پاک کلام عربی صاف زبان میں اتارا تاکہ ہر شخص سمجھ سکے اور اس میں گو ناگوں طور پر لوگوں کو ڈرایا، طرح طرح سے ڈراوے سنائے۔ تاکہ لوگ برائیوں سے بچیں، بھلائیوں کے حاصل کرنے میں لگ جائیں یا ان کے دلوں میں غور و فکر نصیحت و پند پیدا ہو، اطاعت کی طرف جھک جائیں، نیک کاموں کی کوشش میں لگ جائیں۔
پس پاک اور برتر ہے وہ اللہ جو حقیقی شہنشاہ ہے، دونوں جہاں کا تنہا مالک ہے، وہ خود حق ہے، اس کا وعدہ حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اس کے رسول علیہم السلام حق ہیں، جنت دوزخ حق ہے، اس کے سب فرمان اور اس کی طرف سے جو ہو سراسر عدل و حق ہے۔ اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ آگاہ کئے بغیر کسی کوسزا دے، وہ سب کے عذر کاٹ دیتا ہے کسی کے شبہ کو باقی نہیں رکھتا، حق کو کھول دیتا ہے پھر سرکشوں کو عدل کے ساتھ سزا دیتا ہے۔ جب ہماری وحی اتر رہی ہو، اس وقت تم ہمارے کلام کو پڑھنے میں جلدی نہ کرو، پہلے پوری طرح سن لیا کرو۔ جیسے سورۃ القیامہ میں فرمایا «لَا تُحَرِّكْ بِهِ * لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ * فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ * ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ» [75-القيامة:16-19] ” یعنی جلدی کر کے بھول جانے کے خوف سے وحی اترتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ اسے نہ پڑھنے لگو۔ اس کا آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کی زبان سے تلاوت کرانا ہمارے ذمے ہے۔ جب ہم اسے پڑھیں تو آپ اس پڑھنے کے تابع ہو جائیں پھر اس کا سمجھا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ “
صفحہ نمبر5340
حدیث میں ہے کہ پہلے آپ جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے جس میں آپ کودقت ہوتی تھی، جب یہ آیت اتری تو آپ اس مشقت سے چھوٹ گئے [صحیح بخاری:5]
اور اطمینان ہو گیا کہ وحی الٰہی جتنی نازل ہو گی، مجھے یاد ہو جایا کرے گی۔ ایک حرف بھی نہ بھولوں گا کیونکہ اللہ کا وعدہ ہو چکا۔ یہی فرمان یہاں ہے کہ فرشتے کی قرأت چپکے سے سنو۔ جب وہ پڑھ چکے پھر تم پڑھو اور مجھ سے اپنے علم کی زیادتی کی دعا کیا کرو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، اللہ نے قبول کی اور انتقال تک علم میں بڑھتے ہی رہے۔ حدیث میں ہے کہ وحی برابر پے در پے آتی رہی یہاں تک کہ جس دن آپ فوت ہونے کو تھے، اس دن بھی بکثرت وحی اتری۔ [صحیح بخاری:4982]
ابن ماجہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا منقول ہے «اللَّهُمَّ اِنْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتنِي وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعنِي وَزِدْنِي عِلْمًا وَالْحَمْد لِلَّهِ عَلَى كُلّ حَال» ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور آخر میں یہ الفاظ زیادہ ہیں «وَأَعُوذ بِاَللَّهِ مِنْ حَال أَهْل النَّار» ۔ [سنن ترمذي:3599،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5341
طه 20:115
انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟ ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ اسے بھول گیا۔ مجاہد اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس حکم کو آدم علیہ السلام نے چھوڑ دیا۔ پھر آدم علیہ السلام کی شرافت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے۔ «سورۃ البقرہ»، «سورۃ الاعراف»، «سورۃ الحجر» اور «سورۃ الکہف» میں شیطان کے سجدہ نہ کرنے والے واقعہ کی پوری تفسیر بیان کی جا چکی ہے اور سورۃ ص میں بھی اس کا بیان آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔
ان تمام سورتوں میں آدم علیہ السلام کی پیدائش کا، پھر ان کی بزرگی کے اظہار کے لیے فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کے حکم کا اور ابلیس کی مخفی عداوت کے اظہار کا بیان ہوا ہے، اس نے تکبر کیا اور حکم الٰہی کا انکار کر دیا۔ اس وقت آدم علیہ السلام کو سمجھا دیا گیا کہ دیکھ یہ تیرا اور تیری بیوی حواء علیہا السلام کا دشمن ہے، اس کے بہکاوے میں نہ آ جانا ورنہ محروم ہو کر جنت سے نکال دیے جاؤ گے اور سخت مشقت میں پڑ جاؤ گے۔ روزی کی تلاش کی محنت سر پڑ جائے گی۔ یہاں تو بے محنت و مشقت روزی پہنچ رہی ہے۔ یہاں تو ناممکن ہے کہ بھوکے رہو، ناممکن ہے کہ ننگے رہو۔ اس اندورنی اور بیرونی تکلیف سے بچے ہوئے ہو۔ پھر یہاں نہ پیاس کی گرمی اندرونی طور سے ستائے، نہ دھوپ کی تیزی کی گرمی بیرونی طور پر پریشان کرے۔ اگر شیطان کے بہکاوے میں آ گئے تو یہ راحتیں چھین لی جائیں گی اور ان کے مقابل کی تکلیفیں سامنے آ جائیں گی۔ لیکن شیطان نے اپنے جال میں انہیں پھانس لیا اور مکاری سے انہیں اپنی باتوں میں لے لیا قسمیں کھا کھا کر انہیں اپنی خیر خواہی کا یقین دلا دیا۔
صفحہ نمبر5343
طه 20:116
انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟ ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ اسے بھول گیا۔ مجاہد اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس حکم کو آدم علیہ السلام نے چھوڑ دیا۔ پھر آدم علیہ السلام کی شرافت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے۔ «سورۃ البقرہ»، «سورۃ الاعراف»، «سورۃ الحجر» اور «سورۃ الکہف» میں شیطان کے سجدہ نہ کرنے والے واقعہ کی پوری تفسیر بیان کی جا چکی ہے اور سورۃ ص میں بھی اس کا بیان آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔
ان تمام سورتوں میں آدم علیہ السلام کی پیدائش کا، پھر ان کی بزرگی کے اظہار کے لیے فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کے حکم کا اور ابلیس کی مخفی عداوت کے اظہار کا بیان ہوا ہے، اس نے تکبر کیا اور حکم الٰہی کا انکار کر دیا۔ اس وقت آدم علیہ السلام کو سمجھا دیا گیا کہ دیکھ یہ تیرا اور تیری بیوی حواء علیہا السلام کا دشمن ہے، اس کے بہکاوے میں نہ آ جانا ورنہ محروم ہو کر جنت سے نکال دیے جاؤ گے اور سخت مشقت میں پڑ جاؤ گے۔ روزی کی تلاش کی محنت سر پڑ جائے گی۔ یہاں تو بے محنت و مشقت روزی پہنچ رہی ہے۔ یہاں تو ناممکن ہے کہ بھوکے رہو، ناممکن ہے کہ ننگے رہو۔ اس اندورنی اور بیرونی تکلیف سے بچے ہوئے ہو۔ پھر یہاں نہ پیاس کی گرمی اندرونی طور سے ستائے، نہ دھوپ کی تیزی کی گرمی بیرونی طور پر پریشان کرے۔ اگر شیطان کے بہکاوے میں آ گئے تو یہ راحتیں چھین لی جائیں گی اور ان کے مقابل کی تکلیفیں سامنے آ جائیں گی۔ لیکن شیطان نے اپنے جال میں انہیں پھانس لیا اور مکاری سے انہیں اپنی باتوں میں لے لیا قسمیں کھا کھا کر انہیں اپنی خیر خواہی کا یقین دلا دیا۔
صفحہ نمبر5343
طه 20:117
انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟ ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ اسے بھول گیا۔ مجاہد اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس حکم کو آدم علیہ السلام نے چھوڑ دیا۔ پھر آدم علیہ السلام کی شرافت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے۔ «سورۃ البقرہ»، «سورۃ الاعراف»، «سورۃ الحجر» اور «سورۃ الکہف» میں شیطان کے سجدہ نہ کرنے والے واقعہ کی پوری تفسیر بیان کی جا چکی ہے اور سورۃ ص میں بھی اس کا بیان آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔
ان تمام سورتوں میں آدم علیہ السلام کی پیدائش کا، پھر ان کی بزرگی کے اظہار کے لیے فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کے حکم کا اور ابلیس کی مخفی عداوت کے اظہار کا بیان ہوا ہے، اس نے تکبر کیا اور حکم الٰہی کا انکار کر دیا۔ اس وقت آدم علیہ السلام کو سمجھا دیا گیا کہ دیکھ یہ تیرا اور تیری بیوی حواء علیہا السلام کا دشمن ہے، اس کے بہکاوے میں نہ آ جانا ورنہ محروم ہو کر جنت سے نکال دیے جاؤ گے اور سخت مشقت میں پڑ جاؤ گے۔ روزی کی تلاش کی محنت سر پڑ جائے گی۔ یہاں تو بے محنت و مشقت روزی پہنچ رہی ہے۔ یہاں تو ناممکن ہے کہ بھوکے رہو، ناممکن ہے کہ ننگے رہو۔ اس اندورنی اور بیرونی تکلیف سے بچے ہوئے ہو۔ پھر یہاں نہ پیاس کی گرمی اندرونی طور سے ستائے، نہ دھوپ کی تیزی کی گرمی بیرونی طور پر پریشان کرے۔ اگر شیطان کے بہکاوے میں آ گئے تو یہ راحتیں چھین لی جائیں گی اور ان کے مقابل کی تکلیفیں سامنے آ جائیں گی۔ لیکن شیطان نے اپنے جال میں انہیں پھانس لیا اور مکاری سے انہیں اپنی باتوں میں لے لیا قسمیں کھا کھا کر انہیں اپنی خیر خواہی کا یقین دلا دیا۔
صفحہ نمبر5343
طه 20:118
انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟ ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ اسے بھول گیا۔ مجاہد اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس حکم کو آدم علیہ السلام نے چھوڑ دیا۔ پھر آدم علیہ السلام کی شرافت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے۔ «سورۃ البقرہ»، «سورۃ الاعراف»، «سورۃ الحجر» اور «سورۃ الکہف» میں شیطان کے سجدہ نہ کرنے والے واقعہ کی پوری تفسیر بیان کی جا چکی ہے اور سورۃ ص میں بھی اس کا بیان آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔
ان تمام سورتوں میں آدم علیہ السلام کی پیدائش کا، پھر ان کی بزرگی کے اظہار کے لیے فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کے حکم کا اور ابلیس کی مخفی عداوت کے اظہار کا بیان ہوا ہے، اس نے تکبر کیا اور حکم الٰہی کا انکار کر دیا۔ اس وقت آدم علیہ السلام کو سمجھا دیا گیا کہ دیکھ یہ تیرا اور تیری بیوی حواء علیہا السلام کا دشمن ہے، اس کے بہکاوے میں نہ آ جانا ورنہ محروم ہو کر جنت سے نکال دیے جاؤ گے اور سخت مشقت میں پڑ جاؤ گے۔ روزی کی تلاش کی محنت سر پڑ جائے گی۔ یہاں تو بے محنت و مشقت روزی پہنچ رہی ہے۔ یہاں تو ناممکن ہے کہ بھوکے رہو، ناممکن ہے کہ ننگے رہو۔ اس اندورنی اور بیرونی تکلیف سے بچے ہوئے ہو۔ پھر یہاں نہ پیاس کی گرمی اندرونی طور سے ستائے، نہ دھوپ کی تیزی کی گرمی بیرونی طور پر پریشان کرے۔ اگر شیطان کے بہکاوے میں آ گئے تو یہ راحتیں چھین لی جائیں گی اور ان کے مقابل کی تکلیفیں سامنے آ جائیں گی۔ لیکن شیطان نے اپنے جال میں انہیں پھانس لیا اور مکاری سے انہیں اپنی باتوں میں لے لیا قسمیں کھا کھا کر انہیں اپنی خیر خواہی کا یقین دلا دیا۔
صفحہ نمبر5343
طه 20:119
باب
پہلے ہی سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سے فرما دیا تھا کہ جنت کے تمام میوے کھانا لیکن اس درخت کے نزدیک بھی نہ جانا۔ مگر شیطان نے انہیں اس قدر پھسلایا کہ آخرکار یہ اس درخت میں سے کھا بیٹھے۔ اس نے دھوکہ کرتے ہوئے ان سے کہا کہ جو اس درخت کو کھا لیتا ہے، وہ ہمیشہ یہیں رہتا ہے۔ صادق و مصدوق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے تلے سوار سو سال تک چلا جائے گا لیکن تاہم وہ ختم نہ ہو گا، اس کا نام شجرۃ الخلد ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح دون الجملہ]
صفحہ نمبر5347
دونوں نے درخت میں سے کچھ کھایا ہی تھا کہ لباس اتر گیا اور اعضاء ظاہر ہو گئے۔ ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو گندمی رنگ کا لمبے قد و قامت والا زیادہ بالوں والا بنایا تھا۔ کھجور کے درخت جتنا قد تھا۔ ممنوع درخت کو کھاتے ہی لباس چھن گیا۔ اپنے ستر کو دیکھتے ہی مارے شرم کے ادھر ادھر چھپنے لگے، ایک درخت میں بال الجھ گئے، جلدی سے چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ آدم (علیہ السلام) کیا مجھ سے بھاگ رہا ہے؟ کلام رحمان سن کر ادب سے عرض کیا کہ اے اللہ! مارے شرمندگی کے سر چھپانا چاہتا ہوں۔ اچھا اب یہ تو فرما دے کہ توبہ اور رجوع کے بعد بھی جنت میں پہنچ سکتا ہوں؟ جواب ملا کہ ہاں۔
صفحہ نمبر5348
یہی معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے۔ آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند کلمات لے لیے جس کی بنا پر اللہ نے اسے پھر سے اپنی مہربانی میں لے لیا۔ یہ روایت منقطع ہے اور اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے۔ جب آدم علیہ السلام وحضرت حواء علیہا السلام سے لباس چھن گیا تو اب جنت کے درختوں کے پتے اپنے جسم پر چپکانے لگے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، انجیر کے پتوں سے اپنا آپ چھپانے لگے۔ اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے راہ راست سے ہٹ گئے۔ لیکن آخرکار اللہ تعالیٰ نے پھر ان کی رہنمائی کی۔ توبہ قبول فرمائی اور اپنے خاص بندوں میں شامل کر لیا۔
صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور آدم علیہ السلام میں گفتگو ہوئی۔ موسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے آپ نے اپنے گناہ کی وجہ سے تمام انسانوں کو جنت سے نکلوا دیا اور انہیں مشقت میں ڈال دیا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا، اے موسیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت سے اور اپنے کلام سے ممتاز فرمایا آپ مجھے اس بات پر الزام دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے پہلے ہی مقدر اور مقرر کر لیا تھا۔ پس آدم علیہ السلام نے اس گفتگو میں موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا۔ [صحیح بخاری:6614]
اور روایت میں موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بھی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا اور آپ میں آپ کی روح اس نے پھونکی تھی اور آپ کے سامنے اپنے فرشتوں کو سجدہ کرایا تھا اور آپ کو اپنی جنت میں بسایا تھا۔ آدم علیہ السلام کے اس جواب میں یہ بھی مروی ہے کہ اللہ نے آپ کو وہ تختیاں دیں جن میں ہر چیز کا بیان تھا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ کو قریب کر لیا۔ بتلاؤ اللہ نے تورات کب لکھی تھی؟ جواب دیا آپ سے چالیس سال پہلے۔ پوچھا کیا اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ بھول گیا کہا ہاں۔ فرمایا پھر تم مجھے اس امر کا الزام کیوں دیتے ہو؟ جو میری تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا۔
صفحہ نمبر5349
طه 20:120
باب
پہلے ہی سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سے فرما دیا تھا کہ جنت کے تمام میوے کھانا لیکن اس درخت کے نزدیک بھی نہ جانا۔ مگر شیطان نے انہیں اس قدر پھسلایا کہ آخرکار یہ اس درخت میں سے کھا بیٹھے۔ اس نے دھوکہ کرتے ہوئے ان سے کہا کہ جو اس درخت کو کھا لیتا ہے، وہ ہمیشہ یہیں رہتا ہے۔ صادق و مصدوق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے تلے سوار سو سال تک چلا جائے گا لیکن تاہم وہ ختم نہ ہو گا، اس کا نام شجرۃ الخلد ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح دون الجملہ]
صفحہ نمبر5347
دونوں نے درخت میں سے کچھ کھایا ہی تھا کہ لباس اتر گیا اور اعضاء ظاہر ہو گئے۔ ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو گندمی رنگ کا لمبے قد و قامت والا زیادہ بالوں والا بنایا تھا۔ کھجور کے درخت جتنا قد تھا۔ ممنوع درخت کو کھاتے ہی لباس چھن گیا۔ اپنے ستر کو دیکھتے ہی مارے شرم کے ادھر ادھر چھپنے لگے، ایک درخت میں بال الجھ گئے، جلدی سے چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ آدم (علیہ السلام) کیا مجھ سے بھاگ رہا ہے؟ کلام رحمان سن کر ادب سے عرض کیا کہ اے اللہ! مارے شرمندگی کے سر چھپانا چاہتا ہوں۔ اچھا اب یہ تو فرما دے کہ توبہ اور رجوع کے بعد بھی جنت میں پہنچ سکتا ہوں؟ جواب ملا کہ ہاں۔
صفحہ نمبر5348
یہی معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے۔ آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند کلمات لے لیے جس کی بنا پر اللہ نے اسے پھر سے اپنی مہربانی میں لے لیا۔ یہ روایت منقطع ہے اور اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے۔ جب آدم علیہ السلام وحضرت حواء علیہا السلام سے لباس چھن گیا تو اب جنت کے درختوں کے پتے اپنے جسم پر چپکانے لگے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، انجیر کے پتوں سے اپنا آپ چھپانے لگے۔ اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے راہ راست سے ہٹ گئے۔ لیکن آخرکار اللہ تعالیٰ نے پھر ان کی رہنمائی کی۔ توبہ قبول فرمائی اور اپنے خاص بندوں میں شامل کر لیا۔
صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور آدم علیہ السلام میں گفتگو ہوئی۔ موسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے آپ نے اپنے گناہ کی وجہ سے تمام انسانوں کو جنت سے نکلوا دیا اور انہیں مشقت میں ڈال دیا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا، اے موسیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت سے اور اپنے کلام سے ممتاز فرمایا آپ مجھے اس بات پر الزام دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے پہلے ہی مقدر اور مقرر کر لیا تھا۔ پس آدم علیہ السلام نے اس گفتگو میں موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا۔ [صحیح بخاری:6614]
اور روایت میں موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بھی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا اور آپ میں آپ کی روح اس نے پھونکی تھی اور آپ کے سامنے اپنے فرشتوں کو سجدہ کرایا تھا اور آپ کو اپنی جنت میں بسایا تھا۔ آدم علیہ السلام کے اس جواب میں یہ بھی مروی ہے کہ اللہ نے آپ کو وہ تختیاں دیں جن میں ہر چیز کا بیان تھا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ کو قریب کر لیا۔ بتلاؤ اللہ نے تورات کب لکھی تھی؟ جواب دیا آپ سے چالیس سال پہلے۔ پوچھا کیا اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ بھول گیا کہا ہاں۔ فرمایا پھر تم مجھے اس امر کا الزام کیوں دیتے ہو؟ جو میری تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا۔
صفحہ نمبر5349
طه 20:121
باب
پہلے ہی سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سے فرما دیا تھا کہ جنت کے تمام میوے کھانا لیکن اس درخت کے نزدیک بھی نہ جانا۔ مگر شیطان نے انہیں اس قدر پھسلایا کہ آخرکار یہ اس درخت میں سے کھا بیٹھے۔ اس نے دھوکہ کرتے ہوئے ان سے کہا کہ جو اس درخت کو کھا لیتا ہے، وہ ہمیشہ یہیں رہتا ہے۔ صادق و مصدوق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے تلے سوار سو سال تک چلا جائے گا لیکن تاہم وہ ختم نہ ہو گا، اس کا نام شجرۃ الخلد ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح دون الجملہ]
صفحہ نمبر5347
دونوں نے درخت میں سے کچھ کھایا ہی تھا کہ لباس اتر گیا اور اعضاء ظاہر ہو گئے۔ ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو گندمی رنگ کا لمبے قد و قامت والا زیادہ بالوں والا بنایا تھا۔ کھجور کے درخت جتنا قد تھا۔ ممنوع درخت کو کھاتے ہی لباس چھن گیا۔ اپنے ستر کو دیکھتے ہی مارے شرم کے ادھر ادھر چھپنے لگے، ایک درخت میں بال الجھ گئے، جلدی سے چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ آدم (علیہ السلام) کیا مجھ سے بھاگ رہا ہے؟ کلام رحمان سن کر ادب سے عرض کیا کہ اے اللہ! مارے شرمندگی کے سر چھپانا چاہتا ہوں۔ اچھا اب یہ تو فرما دے کہ توبہ اور رجوع کے بعد بھی جنت میں پہنچ سکتا ہوں؟ جواب ملا کہ ہاں۔
صفحہ نمبر5348
یہی معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے۔ آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند کلمات لے لیے جس کی بنا پر اللہ نے اسے پھر سے اپنی مہربانی میں لے لیا۔ یہ روایت منقطع ہے اور اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے۔ جب آدم علیہ السلام وحضرت حواء علیہا السلام سے لباس چھن گیا تو اب جنت کے درختوں کے پتے اپنے جسم پر چپکانے لگے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، انجیر کے پتوں سے اپنا آپ چھپانے لگے۔ اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے راہ راست سے ہٹ گئے۔ لیکن آخرکار اللہ تعالیٰ نے پھر ان کی رہنمائی کی۔ توبہ قبول فرمائی اور اپنے خاص بندوں میں شامل کر لیا۔
صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور آدم علیہ السلام میں گفتگو ہوئی۔ موسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے آپ نے اپنے گناہ کی وجہ سے تمام انسانوں کو جنت سے نکلوا دیا اور انہیں مشقت میں ڈال دیا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا، اے موسیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت سے اور اپنے کلام سے ممتاز فرمایا آپ مجھے اس بات پر الزام دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے پہلے ہی مقدر اور مقرر کر لیا تھا۔ پس آدم علیہ السلام نے اس گفتگو میں موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا۔ [صحیح بخاری:6614]
اور روایت میں موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بھی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا اور آپ میں آپ کی روح اس نے پھونکی تھی اور آپ کے سامنے اپنے فرشتوں کو سجدہ کرایا تھا اور آپ کو اپنی جنت میں بسایا تھا۔ آدم علیہ السلام کے اس جواب میں یہ بھی مروی ہے کہ اللہ نے آپ کو وہ تختیاں دیں جن میں ہر چیز کا بیان تھا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ کو قریب کر لیا۔ بتلاؤ اللہ نے تورات کب لکھی تھی؟ جواب دیا آپ سے چالیس سال پہلے۔ پوچھا کیا اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ بھول گیا کہا ہاں۔ فرمایا پھر تم مجھے اس امر کا الزام کیوں دیتے ہو؟ جو میری تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا۔
صفحہ نمبر5349
طه 20:122
باب
پہلے ہی سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سے فرما دیا تھا کہ جنت کے تمام میوے کھانا لیکن اس درخت کے نزدیک بھی نہ جانا۔ مگر شیطان نے انہیں اس قدر پھسلایا کہ آخرکار یہ اس درخت میں سے کھا بیٹھے۔ اس نے دھوکہ کرتے ہوئے ان سے کہا کہ جو اس درخت کو کھا لیتا ہے، وہ ہمیشہ یہیں رہتا ہے۔ صادق و مصدوق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے تلے سوار سو سال تک چلا جائے گا لیکن تاہم وہ ختم نہ ہو گا، اس کا نام شجرۃ الخلد ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح دون الجملہ]
صفحہ نمبر5347
دونوں نے درخت میں سے کچھ کھایا ہی تھا کہ لباس اتر گیا اور اعضاء ظاہر ہو گئے۔ ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو گندمی رنگ کا لمبے قد و قامت والا زیادہ بالوں والا بنایا تھا۔ کھجور کے درخت جتنا قد تھا۔ ممنوع درخت کو کھاتے ہی لباس چھن گیا۔ اپنے ستر کو دیکھتے ہی مارے شرم کے ادھر ادھر چھپنے لگے، ایک درخت میں بال الجھ گئے، جلدی سے چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ آدم (علیہ السلام) کیا مجھ سے بھاگ رہا ہے؟ کلام رحمان سن کر ادب سے عرض کیا کہ اے اللہ! مارے شرمندگی کے سر چھپانا چاہتا ہوں۔ اچھا اب یہ تو فرما دے کہ توبہ اور رجوع کے بعد بھی جنت میں پہنچ سکتا ہوں؟ جواب ملا کہ ہاں۔
صفحہ نمبر5348
یہی معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے۔ آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند کلمات لے لیے جس کی بنا پر اللہ نے اسے پھر سے اپنی مہربانی میں لے لیا۔ یہ روایت منقطع ہے اور اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے۔ جب آدم علیہ السلام وحضرت حواء علیہا السلام سے لباس چھن گیا تو اب جنت کے درختوں کے پتے اپنے جسم پر چپکانے لگے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، انجیر کے پتوں سے اپنا آپ چھپانے لگے۔ اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے راہ راست سے ہٹ گئے۔ لیکن آخرکار اللہ تعالیٰ نے پھر ان کی رہنمائی کی۔ توبہ قبول فرمائی اور اپنے خاص بندوں میں شامل کر لیا۔
صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور آدم علیہ السلام میں گفتگو ہوئی۔ موسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے آپ نے اپنے گناہ کی وجہ سے تمام انسانوں کو جنت سے نکلوا دیا اور انہیں مشقت میں ڈال دیا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا، اے موسیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت سے اور اپنے کلام سے ممتاز فرمایا آپ مجھے اس بات پر الزام دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے پہلے ہی مقدر اور مقرر کر لیا تھا۔ پس آدم علیہ السلام نے اس گفتگو میں موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا۔ [صحیح بخاری:6614]
اور روایت میں موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بھی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا اور آپ میں آپ کی روح اس نے پھونکی تھی اور آپ کے سامنے اپنے فرشتوں کو سجدہ کرایا تھا اور آپ کو اپنی جنت میں بسایا تھا۔ آدم علیہ السلام کے اس جواب میں یہ بھی مروی ہے کہ اللہ نے آپ کو وہ تختیاں دیں جن میں ہر چیز کا بیان تھا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ کو قریب کر لیا۔ بتلاؤ اللہ نے تورات کب لکھی تھی؟ جواب دیا آپ سے چالیس سال پہلے۔ پوچھا کیا اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ بھول گیا کہا ہاں۔ فرمایا پھر تم مجھے اس امر کا الزام کیوں دیتے ہو؟ جو میری تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا۔
صفحہ نمبر5349
طه 20:123
ایک دوسرے کے دشمن ٭٭
آدم علیہ السلام و حواء علیہا السلام اور ابلیس لعین سے اسی وقت فرما دیا گیا کہ تم سب جنت سے نکل جاؤ۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گزر چکی ہے۔ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو یعنی اولاد آدم اور اولاد ابلیس۔ تمہارے پاس میرے رسول اور میری کتابیں آئیں گی۔ میری بتائی ہوئی راہ کی پیروی کرنے والے نہ تو دنیا میں رسوا ہوں گے نہ آخرت میں ذلیل ہوں گے۔
ہاں حکموں کے مخالف، میرے رسول کی راہ کے تارک، دوسری راہوں پہ چلنے والے دنیا میں بھی تنگ رہیں گے، اطمینان اور کشادہ دلی میسر نہ ہو گی۔ اپنی گمراہی کی وجہ سے تنگیوں میں ہی رہیں گے گو بظاہر کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کی فراخی ہو لیکن دل میں یقین و ہدایت نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ شک و شبہے اور تنگی اور قلت میں مبتلا رہیں گے۔ بدنصیب، رحمت الٰہی سے محروم، خیر سے خالی۔ کیونکہ اللہ پر ایمان نہیں، اس کے وعدوں کا یقین نہیں، مرنے کے بعد کی نعمتوں میں کوئی حصہ نہیں۔ اللہ کے ساتھ بدگمان ہیں، گئی ہوئی چیز کو آنے والی نہیں سمجھتے۔ خبیث روزیاں ہیں، گندے عمل ہیں، قبر تنگ و تاریک ہے۔ وہاں اس طرح دبوچا جائے گا کہ دائیں پسلیاں بائیں میں اور بائیں طرف کی دائیں طرف میں گھس جائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، مومن کی قبر ہرا بھرا سرسبز باغیچہ ہے، ستر (70) ہاتھ کی کشادہ ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے گویا چاند اس میں ہے، خوب نور اور روشنی پھیل رہی ہے جیسے چودھویں رات کا چاند چڑھا ہوا ہو۔ اس آیت کا شان نزول معلوم ہے کہ میرے ذکر سے منہ پھیرنے والوں کی معیشت تنگ ہے۔ اس سے مراد کافر کی قبر میں اس پر عذاب ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:227/16:ضعیف] اللہ کی قسم اس پر ننانوے اژدھے مقرر کئے جاتے ہیں ہر ایک کے سات سات سر ہوتے ہیں جو اسے قیامت تک ڈستے رہتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24426:ضعیف] اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل منکر ہے۔
صفحہ نمبر5353
ایک عمدہ سند سے بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے۔ [مستدرک حاکم:381/2:حسن] یہ قیامت کے دن اندھا بنا کر اٹھایا جائے گا سوائے جہنم کے کوئی چیز اسے نظر نہ آئے گی۔ نابینا ہو گا اور میدان حشر کی طرف چلایا جائے گا اور جہنم کے سامنے کھڑا کر دیا جائے گا۔
جیسے فرمان ہے «وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا» [17-الإسراء:97] ۔ ” یعنی ہم انہیں قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے بہرے بنا کر حشر میں لے جائیں گے ان کا اصلی ٹھکانہ دوزخ ہے۔ “ یہ کہیں گے کہ میں تو دنیا میں آنکھوں والا خوب دیکھتا بھالتا تھا، پھر مجھے اندھا کیوں کر دیا گیا؟ جواب ملے گا کہ یہ بدلہ ہے اللہ کی آیتوں سے منہ موڑ لینے کا اور ایسا ہو جانے کا گویا خبر ہی نہیں۔
پس آج ہم بھی تیرے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے کہ جیسے تو ہماری یاد سے اتر گیا۔ جیسے فرمان ہے «فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَاۗءَ يَوْمِهِمْ ھٰذَا ۙ وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ» [7-الأعراف:51] ۔ ” آج ہم انہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا۔ “
پس یہ برابر کا اور عمل کی طرح کا بدلہ ہے۔ قرآن پر ایمان رکھتے ہوئے اس کے احکام کا عامل ہوتے ہوئے کسی شخص سے اگر اس کے الفاظ حفظ سے نکل جائیں تو وہ اس وعید میں داخل نہیں۔ اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے جذامی ہونے کی حالت میں ملاقات کرے گا۔ [سنن ابوداود:1474:ضعیف]
صفحہ نمبر5354
طه 20:124
ایک دوسرے کے دشمن ٭٭
آدم علیہ السلام و حواء علیہا السلام اور ابلیس لعین سے اسی وقت فرما دیا گیا کہ تم سب جنت سے نکل جاؤ۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گزر چکی ہے۔ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو یعنی اولاد آدم اور اولاد ابلیس۔ تمہارے پاس میرے رسول اور میری کتابیں آئیں گی۔ میری بتائی ہوئی راہ کی پیروی کرنے والے نہ تو دنیا میں رسوا ہوں گے نہ آخرت میں ذلیل ہوں گے۔
ہاں حکموں کے مخالف، میرے رسول کی راہ کے تارک، دوسری راہوں پہ چلنے والے دنیا میں بھی تنگ رہیں گے، اطمینان اور کشادہ دلی میسر نہ ہو گی۔ اپنی گمراہی کی وجہ سے تنگیوں میں ہی رہیں گے گو بظاہر کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کی فراخی ہو لیکن دل میں یقین و ہدایت نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ شک و شبہے اور تنگی اور قلت میں مبتلا رہیں گے۔ بدنصیب، رحمت الٰہی سے محروم، خیر سے خالی۔ کیونکہ اللہ پر ایمان نہیں، اس کے وعدوں کا یقین نہیں، مرنے کے بعد کی نعمتوں میں کوئی حصہ نہیں۔ اللہ کے ساتھ بدگمان ہیں، گئی ہوئی چیز کو آنے والی نہیں سمجھتے۔ خبیث روزیاں ہیں، گندے عمل ہیں، قبر تنگ و تاریک ہے۔ وہاں اس طرح دبوچا جائے گا کہ دائیں پسلیاں بائیں میں اور بائیں طرف کی دائیں طرف میں گھس جائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، مومن کی قبر ہرا بھرا سرسبز باغیچہ ہے، ستر (70) ہاتھ کی کشادہ ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے گویا چاند اس میں ہے، خوب نور اور روشنی پھیل رہی ہے جیسے چودھویں رات کا چاند چڑھا ہوا ہو۔ اس آیت کا شان نزول معلوم ہے کہ میرے ذکر سے منہ پھیرنے والوں کی معیشت تنگ ہے۔ اس سے مراد کافر کی قبر میں اس پر عذاب ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:227/16:ضعیف] اللہ کی قسم اس پر ننانوے اژدھے مقرر کئے جاتے ہیں ہر ایک کے سات سات سر ہوتے ہیں جو اسے قیامت تک ڈستے رہتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24426:ضعیف] اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل منکر ہے۔
صفحہ نمبر5353
ایک عمدہ سند سے بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے۔ [مستدرک حاکم:381/2:حسن] یہ قیامت کے دن اندھا بنا کر اٹھایا جائے گا سوائے جہنم کے کوئی چیز اسے نظر نہ آئے گی۔ نابینا ہو گا اور میدان حشر کی طرف چلایا جائے گا اور جہنم کے سامنے کھڑا کر دیا جائے گا۔
جیسے فرمان ہے «وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا» [17-الإسراء:97] ۔ ” یعنی ہم انہیں قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے بہرے بنا کر حشر میں لے جائیں گے ان کا اصلی ٹھکانہ دوزخ ہے۔ “ یہ کہیں گے کہ میں تو دنیا میں آنکھوں والا خوب دیکھتا بھالتا تھا، پھر مجھے اندھا کیوں کر دیا گیا؟ جواب ملے گا کہ یہ بدلہ ہے اللہ کی آیتوں سے منہ موڑ لینے کا اور ایسا ہو جانے کا گویا خبر ہی نہیں۔
پس آج ہم بھی تیرے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے کہ جیسے تو ہماری یاد سے اتر گیا۔ جیسے فرمان ہے «فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَاۗءَ يَوْمِهِمْ ھٰذَا ۙ وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ» [7-الأعراف:51] ۔ ” آج ہم انہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا۔ “
پس یہ برابر کا اور عمل کی طرح کا بدلہ ہے۔ قرآن پر ایمان رکھتے ہوئے اس کے احکام کا عامل ہوتے ہوئے کسی شخص سے اگر اس کے الفاظ حفظ سے نکل جائیں تو وہ اس وعید میں داخل نہیں۔ اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے جذامی ہونے کی حالت میں ملاقات کرے گا۔ [سنن ابوداود:1474:ضعیف]
صفحہ نمبر5354
طه 20:125
ایک دوسرے کے دشمن ٭٭
آدم علیہ السلام و حواء علیہا السلام اور ابلیس لعین سے اسی وقت فرما دیا گیا کہ تم سب جنت سے نکل جاؤ۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گزر چکی ہے۔ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو یعنی اولاد آدم اور اولاد ابلیس۔ تمہارے پاس میرے رسول اور میری کتابیں آئیں گی۔ میری بتائی ہوئی راہ کی پیروی کرنے والے نہ تو دنیا میں رسوا ہوں گے نہ آخرت میں ذلیل ہوں گے۔
ہاں حکموں کے مخالف، میرے رسول کی راہ کے تارک، دوسری راہوں پہ چلنے والے دنیا میں بھی تنگ رہیں گے، اطمینان اور کشادہ دلی میسر نہ ہو گی۔ اپنی گمراہی کی وجہ سے تنگیوں میں ہی رہیں گے گو بظاہر کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کی فراخی ہو لیکن دل میں یقین و ہدایت نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ شک و شبہے اور تنگی اور قلت میں مبتلا رہیں گے۔ بدنصیب، رحمت الٰہی سے محروم، خیر سے خالی۔ کیونکہ اللہ پر ایمان نہیں، اس کے وعدوں کا یقین نہیں، مرنے کے بعد کی نعمتوں میں کوئی حصہ نہیں۔ اللہ کے ساتھ بدگمان ہیں، گئی ہوئی چیز کو آنے والی نہیں سمجھتے۔ خبیث روزیاں ہیں، گندے عمل ہیں، قبر تنگ و تاریک ہے۔ وہاں اس طرح دبوچا جائے گا کہ دائیں پسلیاں بائیں میں اور بائیں طرف کی دائیں طرف میں گھس جائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، مومن کی قبر ہرا بھرا سرسبز باغیچہ ہے، ستر (70) ہاتھ کی کشادہ ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے گویا چاند اس میں ہے، خوب نور اور روشنی پھیل رہی ہے جیسے چودھویں رات کا چاند چڑھا ہوا ہو۔ اس آیت کا شان نزول معلوم ہے کہ میرے ذکر سے منہ پھیرنے والوں کی معیشت تنگ ہے۔ اس سے مراد کافر کی قبر میں اس پر عذاب ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:227/16:ضعیف] اللہ کی قسم اس پر ننانوے اژدھے مقرر کئے جاتے ہیں ہر ایک کے سات سات سر ہوتے ہیں جو اسے قیامت تک ڈستے رہتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24426:ضعیف] اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل منکر ہے۔
صفحہ نمبر5353
ایک عمدہ سند سے بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے۔ [مستدرک حاکم:381/2:حسن] یہ قیامت کے دن اندھا بنا کر اٹھایا جائے گا سوائے جہنم کے کوئی چیز اسے نظر نہ آئے گی۔ نابینا ہو گا اور میدان حشر کی طرف چلایا جائے گا اور جہنم کے سامنے کھڑا کر دیا جائے گا۔
جیسے فرمان ہے «وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا» [17-الإسراء:97] ۔ ” یعنی ہم انہیں قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے بہرے بنا کر حشر میں لے جائیں گے ان کا اصلی ٹھکانہ دوزخ ہے۔ “ یہ کہیں گے کہ میں تو دنیا میں آنکھوں والا خوب دیکھتا بھالتا تھا، پھر مجھے اندھا کیوں کر دیا گیا؟ جواب ملے گا کہ یہ بدلہ ہے اللہ کی آیتوں سے منہ موڑ لینے کا اور ایسا ہو جانے کا گویا خبر ہی نہیں۔
پس آج ہم بھی تیرے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے کہ جیسے تو ہماری یاد سے اتر گیا۔ جیسے فرمان ہے «فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَاۗءَ يَوْمِهِمْ ھٰذَا ۙ وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ» [7-الأعراف:51] ۔ ” آج ہم انہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا۔ “
پس یہ برابر کا اور عمل کی طرح کا بدلہ ہے۔ قرآن پر ایمان رکھتے ہوئے اس کے احکام کا عامل ہوتے ہوئے کسی شخص سے اگر اس کے الفاظ حفظ سے نکل جائیں تو وہ اس وعید میں داخل نہیں۔ اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے جذامی ہونے کی حالت میں ملاقات کرے گا۔ [سنن ابوداود:1474:ضعیف]
صفحہ نمبر5354
طه 20:126
ایک دوسرے کے دشمن ٭٭
آدم علیہ السلام و حواء علیہا السلام اور ابلیس لعین سے اسی وقت فرما دیا گیا کہ تم سب جنت سے نکل جاؤ۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گزر چکی ہے۔ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو یعنی اولاد آدم اور اولاد ابلیس۔ تمہارے پاس میرے رسول اور میری کتابیں آئیں گی۔ میری بتائی ہوئی راہ کی پیروی کرنے والے نہ تو دنیا میں رسوا ہوں گے نہ آخرت میں ذلیل ہوں گے۔
ہاں حکموں کے مخالف، میرے رسول کی راہ کے تارک، دوسری راہوں پہ چلنے والے دنیا میں بھی تنگ رہیں گے، اطمینان اور کشادہ دلی میسر نہ ہو گی۔ اپنی گمراہی کی وجہ سے تنگیوں میں ہی رہیں گے گو بظاہر کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کی فراخی ہو لیکن دل میں یقین و ہدایت نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ شک و شبہے اور تنگی اور قلت میں مبتلا رہیں گے۔ بدنصیب، رحمت الٰہی سے محروم، خیر سے خالی۔ کیونکہ اللہ پر ایمان نہیں، اس کے وعدوں کا یقین نہیں، مرنے کے بعد کی نعمتوں میں کوئی حصہ نہیں۔ اللہ کے ساتھ بدگمان ہیں، گئی ہوئی چیز کو آنے والی نہیں سمجھتے۔ خبیث روزیاں ہیں، گندے عمل ہیں، قبر تنگ و تاریک ہے۔ وہاں اس طرح دبوچا جائے گا کہ دائیں پسلیاں بائیں میں اور بائیں طرف کی دائیں طرف میں گھس جائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، مومن کی قبر ہرا بھرا سرسبز باغیچہ ہے، ستر (70) ہاتھ کی کشادہ ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے گویا چاند اس میں ہے، خوب نور اور روشنی پھیل رہی ہے جیسے چودھویں رات کا چاند چڑھا ہوا ہو۔ اس آیت کا شان نزول معلوم ہے کہ میرے ذکر سے منہ پھیرنے والوں کی معیشت تنگ ہے۔ اس سے مراد کافر کی قبر میں اس پر عذاب ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:227/16:ضعیف] اللہ کی قسم اس پر ننانوے اژدھے مقرر کئے جاتے ہیں ہر ایک کے سات سات سر ہوتے ہیں جو اسے قیامت تک ڈستے رہتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24426:ضعیف] اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل منکر ہے۔
صفحہ نمبر5353
ایک عمدہ سند سے بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے۔ [مستدرک حاکم:381/2:حسن] یہ قیامت کے دن اندھا بنا کر اٹھایا جائے گا سوائے جہنم کے کوئی چیز اسے نظر نہ آئے گی۔ نابینا ہو گا اور میدان حشر کی طرف چلایا جائے گا اور جہنم کے سامنے کھڑا کر دیا جائے گا۔
جیسے فرمان ہے «وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا» [17-الإسراء:97] ۔ ” یعنی ہم انہیں قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے بہرے بنا کر حشر میں لے جائیں گے ان کا اصلی ٹھکانہ دوزخ ہے۔ “ یہ کہیں گے کہ میں تو دنیا میں آنکھوں والا خوب دیکھتا بھالتا تھا، پھر مجھے اندھا کیوں کر دیا گیا؟ جواب ملے گا کہ یہ بدلہ ہے اللہ کی آیتوں سے منہ موڑ لینے کا اور ایسا ہو جانے کا گویا خبر ہی نہیں۔
پس آج ہم بھی تیرے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے کہ جیسے تو ہماری یاد سے اتر گیا۔ جیسے فرمان ہے «فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَاۗءَ يَوْمِهِمْ ھٰذَا ۙ وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ» [7-الأعراف:51] ۔ ” آج ہم انہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا۔ “
پس یہ برابر کا اور عمل کی طرح کا بدلہ ہے۔ قرآن پر ایمان رکھتے ہوئے اس کے احکام کا عامل ہوتے ہوئے کسی شخص سے اگر اس کے الفاظ حفظ سے نکل جائیں تو وہ اس وعید میں داخل نہیں۔ اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے جذامی ہونے کی حالت میں ملاقات کرے گا۔ [سنن ابوداود:1474:ضعیف]
صفحہ نمبر5354
طه 20:127
دنیا کی سزائیں ٭٭
جو حدود الٰہی کی پرواہ نہ کریں، اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں، انہیں ہم اسی طرح دنیا و آخرت کے عذابوں میں مبتلاکرتے ہیں۔ خصوصا آخرت کا عذاب تو بہت ہی بھاری ہے اور وہاں کوئی نہ ہو گا جو بچا سکے۔ دنیا کے عذاب نہ تو سختی میں اس کے مقابلے کے ہیں نہ مدت میں دائمی اور نہایت المناک ہیں۔ ملاعنہ کرنے والوں کو سمجھاتے ہوئے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تھا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں کے مقابلے میں بہت ہی ہلکی اور ناچیز ہے۔ [صحیح مسلم:1493]
صفحہ نمبر5358
طه 20:128
ویرانوں سے عبرت حاصل کرو ٭٭
جو لوگ تجھے نہیں مان رہے اور تیری شریعت کا انکار کر رہے ہیں، کیا وہ اس بات سے بھی عبرت حاصل نہیں کرتے کہ ان سے پہلے جنہوں نے یہ ڈھنگ نکالے تھے، ہم نے انہیں تباہ و برباد کر دیا؟ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی اور ایک سانس چلتا ہوا اور ایک زبان بولتی ہوئی باقی نہیں بچی۔ ان کے بلند و بالا، پختہ اور خوبصورت، کشادہ اور زینت دار محل ویران کھنڈر پڑے ہوئے ہیں جہاں سے ان کی آمد ورفت رہتی ہے۔
اگر یہ عقلمند ہوتے تو یہ سامان عبرت ان کے لیے بہت کچھ تھا۔ کیا یہ زمین میں چل پھر کر قدرت کی ان نشانیوں پر دل سے غور فکر نہیں کرتے؟ کیا کانوں سے ان کے درد ناک فسانے سن کرعبرت حاصل نہیں کرتے؟ کیا ان کی اجڑی ہوئی بستیاں دیکھ کر بھی آنکھیں نہیں کھولتے؟ یہ آنکھوں کے ہی اندھے نہیں بلکہ دل کے بھی اندھے ہیں۔ سورۃ «الم السجدہ» میں بھی مندرجہ بالا آیت جیسی آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ بات مقرر کر چکا ہے کہ جب تک بندوں پر اپنی حجت ختم نہ کر دے انہیں عذاب نہیں کرتا۔ ان کے لیے اس نے ایک وقت مقرر کر دیا ہے، اسی وقت ان کو ان کے اعمال کی سزا ملے گی۔ اگریہ بات نہ ہوتی تو ادھر گناہ کرتے ادھر پکڑ لیے جاتے۔ تو ان کی تکذیب پر صبر کر، ان کی بے ہودہ باتوں پر برداشت کر۔ تسلی رکھ یہ میرے قبضے سے باہر نہیں۔
سورج نکلنے سے پہلے سے مراد تو نماز فجر ہے اور سورج ڈوبنے سے پہلے سے مراد نماز عصر ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ ہم ایک مرتبہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھ کر فرمایا کہ تم عنقریب اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو بغیر مزاحمت اور تکلیف کے دیکھ رہے ہو، پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز کی پوری طرح حفاظت کرو۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [صحیح بخاری:554]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ان دونوں وقتوں کی نماز پڑھنے والا آگ میں نہ جائے گا۔ [صحیح مسلم:634]
مسند اور سنن میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سب سے ادنی درجے کا جنتی وہ ہے جو دو ہزار برس کی راہ تک اپنی ہی اپنی ملکیت دیکھے گا سب سے دور کی چیز بھی اس کے لیے ایسی ہی ہو گی جیسے سب سے نزدیک کی اور سب سے اعلیٰ منزل والے تو دن میں دو دو دفعہ دیدار الٰہی کریں گے۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5359
پھر فرماتا ہے رات کے وقتوں میں بھی تہجد پڑھا کر۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد مغرب اور عشاء کی نماز ہے۔ اور دن کے وقتوں میں بھی اللہ کی پاکیزگی بیان کیا کر۔ تاکہ اللہ کے اجر و ثواب سے تو خوش ہو جائے۔ جیسے فرمان ہے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» [93-الضحى:5] عنقریب تیرا اللہ تجھے وہ دے گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔ “
صحیح حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے جنتیو! وہ کہیں گے «لبیک ربنا و سعدیک» ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم خوش ہو گئے؟ وہ کہیں گے اے اللہ ہم بہت ہی خوش ہیں تو نے ہمیں وہ نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں جو مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیں۔ پھر کیا وجہ کہ ہم راضی نہ ہوں۔ جناب باری ارحم الراحمین فرمائے گا، لو میں تمہیں ان سب سے افضل چیز دیتا ہوں۔ پوچھیں گے اے اللہ! اس سے افضل چیز کیا ہے؟ فرمائے گا میں تمہیں اپنی رضا مندی دیتا ہوں کہ اب کسی وقت بھی میں تم سے ناخوش نہ ہوں گا۔ [صحیح بخاری:6549]
اور حدیث میں ہے کہ جنتیوں سے فرمایا جائے گا کہ اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا، وہ اسے پورا کرنے والا ہے، کہیں گے اللہ کے سب وعدے پورے ہوئے۔ ہمارے چہرے روشن ہیں، ہماری نیکیوں کا پلہ گراں رہا، ہمیں دوزخ سے ہٹا دیا گیا، جنت میں داخل کر دیا گیا۔ اب کون سی چیز باقی ہے؟ اسی وقت حجاب اٹھ جائیں گے اور دیدار الٰہی ہو گا۔ اللہ کی قسم اس سے بہتر اور کوئی نعمت نہ ہو گی۔ یہی زیادتی ہے۔ [صحیح مسلم:181]
صفحہ نمبر5360
صفحہ نمبر5361
طه 20:129
ویرانوں سے عبرت حاصل کرو ٭٭
جو لوگ تجھے نہیں مان رہے اور تیری شریعت کا انکار کر رہے ہیں، کیا وہ اس بات سے بھی عبرت حاصل نہیں کرتے کہ ان سے پہلے جنہوں نے یہ ڈھنگ نکالے تھے، ہم نے انہیں تباہ و برباد کر دیا؟ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی اور ایک سانس چلتا ہوا اور ایک زبان بولتی ہوئی باقی نہیں بچی۔ ان کے بلند و بالا، پختہ اور خوبصورت، کشادہ اور زینت دار محل ویران کھنڈر پڑے ہوئے ہیں جہاں سے ان کی آمد ورفت رہتی ہے۔
اگر یہ عقلمند ہوتے تو یہ سامان عبرت ان کے لیے بہت کچھ تھا۔ کیا یہ زمین میں چل پھر کر قدرت کی ان نشانیوں پر دل سے غور فکر نہیں کرتے؟ کیا کانوں سے ان کے درد ناک فسانے سن کرعبرت حاصل نہیں کرتے؟ کیا ان کی اجڑی ہوئی بستیاں دیکھ کر بھی آنکھیں نہیں کھولتے؟ یہ آنکھوں کے ہی اندھے نہیں بلکہ دل کے بھی اندھے ہیں۔ سورۃ «الم السجدہ» میں بھی مندرجہ بالا آیت جیسی آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ بات مقرر کر چکا ہے کہ جب تک بندوں پر اپنی حجت ختم نہ کر دے انہیں عذاب نہیں کرتا۔ ان کے لیے اس نے ایک وقت مقرر کر دیا ہے، اسی وقت ان کو ان کے اعمال کی سزا ملے گی۔ اگریہ بات نہ ہوتی تو ادھر گناہ کرتے ادھر پکڑ لیے جاتے۔ تو ان کی تکذیب پر صبر کر، ان کی بے ہودہ باتوں پر برداشت کر۔ تسلی رکھ یہ میرے قبضے سے باہر نہیں۔
سورج نکلنے سے پہلے سے مراد تو نماز فجر ہے اور سورج ڈوبنے سے پہلے سے مراد نماز عصر ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ ہم ایک مرتبہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھ کر فرمایا کہ تم عنقریب اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو بغیر مزاحمت اور تکلیف کے دیکھ رہے ہو، پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز کی پوری طرح حفاظت کرو۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [صحیح بخاری:554]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ان دونوں وقتوں کی نماز پڑھنے والا آگ میں نہ جائے گا۔ [صحیح مسلم:634]
مسند اور سنن میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سب سے ادنی درجے کا جنتی وہ ہے جو دو ہزار برس کی راہ تک اپنی ہی اپنی ملکیت دیکھے گا سب سے دور کی چیز بھی اس کے لیے ایسی ہی ہو گی جیسے سب سے نزدیک کی اور سب سے اعلیٰ منزل والے تو دن میں دو دو دفعہ دیدار الٰہی کریں گے۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5359
پھر فرماتا ہے رات کے وقتوں میں بھی تہجد پڑھا کر۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد مغرب اور عشاء کی نماز ہے۔ اور دن کے وقتوں میں بھی اللہ کی پاکیزگی بیان کیا کر۔ تاکہ اللہ کے اجر و ثواب سے تو خوش ہو جائے۔ جیسے فرمان ہے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» [93-الضحى:5] عنقریب تیرا اللہ تجھے وہ دے گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔ “
صحیح حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے جنتیو! وہ کہیں گے «لبیک ربنا و سعدیک» ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم خوش ہو گئے؟ وہ کہیں گے اے اللہ ہم بہت ہی خوش ہیں تو نے ہمیں وہ نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں جو مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیں۔ پھر کیا وجہ کہ ہم راضی نہ ہوں۔ جناب باری ارحم الراحمین فرمائے گا، لو میں تمہیں ان سب سے افضل چیز دیتا ہوں۔ پوچھیں گے اے اللہ! اس سے افضل چیز کیا ہے؟ فرمائے گا میں تمہیں اپنی رضا مندی دیتا ہوں کہ اب کسی وقت بھی میں تم سے ناخوش نہ ہوں گا۔ [صحیح بخاری:6549]
اور حدیث میں ہے کہ جنتیوں سے فرمایا جائے گا کہ اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا، وہ اسے پورا کرنے والا ہے، کہیں گے اللہ کے سب وعدے پورے ہوئے۔ ہمارے چہرے روشن ہیں، ہماری نیکیوں کا پلہ گراں رہا، ہمیں دوزخ سے ہٹا دیا گیا، جنت میں داخل کر دیا گیا۔ اب کون سی چیز باقی ہے؟ اسی وقت حجاب اٹھ جائیں گے اور دیدار الٰہی ہو گا۔ اللہ کی قسم اس سے بہتر اور کوئی نعمت نہ ہو گی۔ یہی زیادتی ہے۔ [صحیح مسلم:181]
صفحہ نمبر5360
صفحہ نمبر5361
طه 20:130
ویرانوں سے عبرت حاصل کرو ٭٭
جو لوگ تجھے نہیں مان رہے اور تیری شریعت کا انکار کر رہے ہیں، کیا وہ اس بات سے بھی عبرت حاصل نہیں کرتے کہ ان سے پہلے جنہوں نے یہ ڈھنگ نکالے تھے، ہم نے انہیں تباہ و برباد کر دیا؟ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی اور ایک سانس چلتا ہوا اور ایک زبان بولتی ہوئی باقی نہیں بچی۔ ان کے بلند و بالا، پختہ اور خوبصورت، کشادہ اور زینت دار محل ویران کھنڈر پڑے ہوئے ہیں جہاں سے ان کی آمد ورفت رہتی ہے۔
اگر یہ عقلمند ہوتے تو یہ سامان عبرت ان کے لیے بہت کچھ تھا۔ کیا یہ زمین میں چل پھر کر قدرت کی ان نشانیوں پر دل سے غور فکر نہیں کرتے؟ کیا کانوں سے ان کے درد ناک فسانے سن کرعبرت حاصل نہیں کرتے؟ کیا ان کی اجڑی ہوئی بستیاں دیکھ کر بھی آنکھیں نہیں کھولتے؟ یہ آنکھوں کے ہی اندھے نہیں بلکہ دل کے بھی اندھے ہیں۔ سورۃ «الم السجدہ» میں بھی مندرجہ بالا آیت جیسی آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ بات مقرر کر چکا ہے کہ جب تک بندوں پر اپنی حجت ختم نہ کر دے انہیں عذاب نہیں کرتا۔ ان کے لیے اس نے ایک وقت مقرر کر دیا ہے، اسی وقت ان کو ان کے اعمال کی سزا ملے گی۔ اگریہ بات نہ ہوتی تو ادھر گناہ کرتے ادھر پکڑ لیے جاتے۔ تو ان کی تکذیب پر صبر کر، ان کی بے ہودہ باتوں پر برداشت کر۔ تسلی رکھ یہ میرے قبضے سے باہر نہیں۔
سورج نکلنے سے پہلے سے مراد تو نماز فجر ہے اور سورج ڈوبنے سے پہلے سے مراد نماز عصر ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ ہم ایک مرتبہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھ کر فرمایا کہ تم عنقریب اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو بغیر مزاحمت اور تکلیف کے دیکھ رہے ہو، پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز کی پوری طرح حفاظت کرو۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [صحیح بخاری:554]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ان دونوں وقتوں کی نماز پڑھنے والا آگ میں نہ جائے گا۔ [صحیح مسلم:634]
مسند اور سنن میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سب سے ادنی درجے کا جنتی وہ ہے جو دو ہزار برس کی راہ تک اپنی ہی اپنی ملکیت دیکھے گا سب سے دور کی چیز بھی اس کے لیے ایسی ہی ہو گی جیسے سب سے نزدیک کی اور سب سے اعلیٰ منزل والے تو دن میں دو دو دفعہ دیدار الٰہی کریں گے۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5359
پھر فرماتا ہے رات کے وقتوں میں بھی تہجد پڑھا کر۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد مغرب اور عشاء کی نماز ہے۔ اور دن کے وقتوں میں بھی اللہ کی پاکیزگی بیان کیا کر۔ تاکہ اللہ کے اجر و ثواب سے تو خوش ہو جائے۔ جیسے فرمان ہے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» [93-الضحى:5] عنقریب تیرا اللہ تجھے وہ دے گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔ “
صحیح حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے جنتیو! وہ کہیں گے «لبیک ربنا و سعدیک» ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم خوش ہو گئے؟ وہ کہیں گے اے اللہ ہم بہت ہی خوش ہیں تو نے ہمیں وہ نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں جو مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیں۔ پھر کیا وجہ کہ ہم راضی نہ ہوں۔ جناب باری ارحم الراحمین فرمائے گا، لو میں تمہیں ان سب سے افضل چیز دیتا ہوں۔ پوچھیں گے اے اللہ! اس سے افضل چیز کیا ہے؟ فرمائے گا میں تمہیں اپنی رضا مندی دیتا ہوں کہ اب کسی وقت بھی میں تم سے ناخوش نہ ہوں گا۔ [صحیح بخاری:6549]
اور حدیث میں ہے کہ جنتیوں سے فرمایا جائے گا کہ اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا، وہ اسے پورا کرنے والا ہے، کہیں گے اللہ کے سب وعدے پورے ہوئے۔ ہمارے چہرے روشن ہیں، ہماری نیکیوں کا پلہ گراں رہا، ہمیں دوزخ سے ہٹا دیا گیا، جنت میں داخل کر دیا گیا۔ اب کون سی چیز باقی ہے؟ اسی وقت حجاب اٹھ جائیں گے اور دیدار الٰہی ہو گا۔ اللہ کی قسم اس سے بہتر اور کوئی نعمت نہ ہو گی۔ یہی زیادتی ہے۔ [صحیح مسلم:181]
صفحہ نمبر5360
صفحہ نمبر5361
طه 20:131
شکر یا تکبر؟ ٭٭
ان کفار کی دنیاوی زینت اور ان کی ٹیپ ٹاپ کو تو حسرت بھری نگاہوں سے نہ دیکھ، یہ تو ذرا سی دیر کی چیزیں ہیں۔ یہ صرف ان کی آزمائش کے لیے انہیں یہاں ملی ہیں کہ دیکھیں شکر و تواضع کرتے ہیں یا ناشکری اور تکبر کرتے ہیں؟ حقیقتاً شکر گزاروں کی کمی ہے۔ ان کے مالداروں کو جو کچھ ملا ہے اس سے تجھے تو بہت ہی بہتر نعمت ملی ہے۔
ہم نے تجھے سات آیتیں دی ہیں جو دوہرائی جاتی ہیں اور قرآن عظیم عطا فرما رکھا ہے، پس اپنی نظریں ان کے دنیاوی ساز و سامان کی طرف نہ ڈال۔ اسی طرح اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لیے اللہ کے پاس جو مہمانداری ہے، اس کی نہ تو کوئی انتہا ہے اور نہ اس وقت کوئی اس کے بیان کی طاقت رکھتا ہے۔ تجھے تیرا پروردگار اس قدر دے گا کہ تو راضی رضامند ہو جائے گا۔ اللہ کی دین بہتر اور باقی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلا کیا تھا اور ایک بالاخانے میں مقیم تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ آپ ایک کھردرے بوریے پر لیٹے ہوئے ہیں۔ چمڑے کا ایک ٹکڑا ایک طرف رکھا تھا اور کچھ مشکیں لٹک رہی تھیں۔ یہ بے سر و سامانی کی حالت دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیوں رو دیے؟ جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیصر و کسریٰ کس قدر عیش وعشرت میں ہیں اور آپ باوجود ساری مخلوق میں سے اللہ کے برگزیدہ ہونے کے کس حالت میں ہیں؟ آپ نے فرمایا! اے خطاب کے بیٹے کیا اب تک تم شک میں ہی ہو؟ ان لوگوں کی اچھائیوں نے دنیا میں ہی جلدی کر لی ہے۔ [صحیح بخاری:2468]
پس رسول صلی اللہ علیہ وسلم باوجود قدرت اور دسترس کے دنیا سے نہایت ہی بے رغبت تھے۔ جو ہاتھ لگتا، اسے راہ للہ دے دیتے اور اپنے لیے ایک پیسہ بھی نہ بچا رکھتے۔
صفحہ نمبر5364
ابن ابی حاتم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ آپ نے فرمایا مجھے تو تم پر سب سے زیادہ خوف اس وقت کا ہے کہ دنیا تمہارے قدموں میں اپنا تمام ساز و سامان ڈال دے گی۔ اپنی برکتیں تم پر الٹ دے گی۔
الغرض کفار کو زینت کی زندگی اور دنیا صرف ان کی آزمائش کے لیے دی جاتی ہے۔ اپنے گھرانے کے لوگوں کو نماز کی تاکید کرو تاکہ وہ عذاب الٰہی سے بچ جائیں، خود بھی پابندی کے ساتھ اس کی ادائیگی کرو۔ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم سے بچالو۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عادت مبارکہ تھی کہ رات کو جب تہجد کے لیے اٹھتے تو اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور اسی آیت کی تلاوت فرماتے۔ ہم تجھ سے رزق کے طالب نہیں۔ نماز کی پابندی کر لو، اللہ ایسی جگہ سے روزی پہنچائے گا جو خواب و خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے لیے چھٹکارا کر دیتا ہے اور بے شان و گمان جگہ سے روزی پہنچاتا ہے۔ تمام جنات اور انسان صرف عبادت الٰہی کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔ رزاق اور زبردست قوتوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرماتا ہے ہم خود تمام مخلوق کے روزی رساں ہیں۔ ہم تمیں طلب کی تکلیف نہیں دیتے۔ ہشام رحمہ اللہ کے والد صاحب جب امیر امراء کے مکانوں پر جاتے اور ان کا ٹھاٹھ دیکھتے تو واپس اپنے مکان پر آ کر اسی آیت کی تلاوت فرماتے۔ اور کہتے میرے کنبے والو! نماز کی حفاظت کرو نماز کی پابندی کرو۔ اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تنگی ہوتی تو اپنے گھر کے سب لوگوں کو فرماتے، اے میرے گھر والو، نمازیں پڑھو نمازیں قائم رکھو۔ تمام انبیاء علیہم السلام کا یہی طریقہ رہا ہے کہ اپنی ہر گھبراہٹ اور ہر کام کے وقت نماز شروع کر دیتے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:561/4:مرسل]
ترمذی ابن ماجہ وغیرہ کی قدسی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرا سینہ امیری اور بےپرواہی سے پر کر دوں گا۔ تیری فقیری اور حاجت کو دور کر دوں گا اور اگر تو نے یہ نہ کیا تو میں تیرا دل اشغال سے بھر دونگا اور تیری فقیری بند ہی نہ کروں گا۔ [سنن ترمذي:2466،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5365
ابن ماجہ شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نے اپنی تمام غور و فکر اور قصد و خیال کو اکٹھا کر کے آخرت کا خیال باندھ لیا اور اسی میں مشغول ہو گیا، اللہ تعالیٰ اسے دنیا کی تمام پریشانیوں سے محفوظ کر لے گا۔ اور جس نے دنیا کی فکریں پال لیں، یہاں کے غم مول لے لیے، اللہ کو اس کی مطلقا پرواہ نہ رہے گی خواہ کسی حیرانی میں ہلاک ہو جائے۔ [سنن ابن ماجه:4105:قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ دنیا کے غموں میں ہی، اسی کی فکروں میں ہی مصروف ہو جانے والے کے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ پریشانیاں ڈال دے گا اور اس کی فقیری اس کی آنکھوں کے سامنے کر دے گا اور دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی مقدر میں ہے۔ اور جو اپنے دل کا مرکز آخرت کو بنا لے گا، اپنی نیت وہی رکھے گا، اللہ تعالیٰ اسے ہرکام کا اطمینان نصیب فرما دے گا۔ اس کے دل کو سیراور شیر بنا دے گا اور دنیا اس کے قدموں کی ٹھوکروں میں آیا کرے گی۔ [سنن ابن ماجه:،قال4106 الشيخ الألباني:حسن]
پھر فرمایا دنیا و آخرت میں نیک انجام پرہیزگار لوگ ہی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، میں نے آج رات خواب میں دیکھا کہ گویا ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں۔ وہاں ہمارے سامنے ابن طالب کے باغ کی تر کھجوریں پیش کی گئی ہیں۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ دنیا میں بھی انجام کے لحاظ سے ہمارا ہی پلہ گراں رہے گا اور بلندی اور اونچائی ہم کو ہی ملے گی اور ہمارا دین پاک صاف، طیب و طاہر، کامل و مکمل ہے۔ [صحیح مسلم:2270]
صفحہ نمبر5366
طه 20:132
شکر یا تکبر؟ ٭٭
ان کفار کی دنیاوی زینت اور ان کی ٹیپ ٹاپ کو تو حسرت بھری نگاہوں سے نہ دیکھ، یہ تو ذرا سی دیر کی چیزیں ہیں۔ یہ صرف ان کی آزمائش کے لیے انہیں یہاں ملی ہیں کہ دیکھیں شکر و تواضع کرتے ہیں یا ناشکری اور تکبر کرتے ہیں؟ حقیقتاً شکر گزاروں کی کمی ہے۔ ان کے مالداروں کو جو کچھ ملا ہے اس سے تجھے تو بہت ہی بہتر نعمت ملی ہے۔
ہم نے تجھے سات آیتیں دی ہیں جو دوہرائی جاتی ہیں اور قرآن عظیم عطا فرما رکھا ہے، پس اپنی نظریں ان کے دنیاوی ساز و سامان کی طرف نہ ڈال۔ اسی طرح اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لیے اللہ کے پاس جو مہمانداری ہے، اس کی نہ تو کوئی انتہا ہے اور نہ اس وقت کوئی اس کے بیان کی طاقت رکھتا ہے۔ تجھے تیرا پروردگار اس قدر دے گا کہ تو راضی رضامند ہو جائے گا۔ اللہ کی دین بہتر اور باقی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلا کیا تھا اور ایک بالاخانے میں مقیم تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ آپ ایک کھردرے بوریے پر لیٹے ہوئے ہیں۔ چمڑے کا ایک ٹکڑا ایک طرف رکھا تھا اور کچھ مشکیں لٹک رہی تھیں۔ یہ بے سر و سامانی کی حالت دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیوں رو دیے؟ جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیصر و کسریٰ کس قدر عیش وعشرت میں ہیں اور آپ باوجود ساری مخلوق میں سے اللہ کے برگزیدہ ہونے کے کس حالت میں ہیں؟ آپ نے فرمایا! اے خطاب کے بیٹے کیا اب تک تم شک میں ہی ہو؟ ان لوگوں کی اچھائیوں نے دنیا میں ہی جلدی کر لی ہے۔ [صحیح بخاری:2468]
پس رسول صلی اللہ علیہ وسلم باوجود قدرت اور دسترس کے دنیا سے نہایت ہی بے رغبت تھے۔ جو ہاتھ لگتا، اسے راہ للہ دے دیتے اور اپنے لیے ایک پیسہ بھی نہ بچا رکھتے۔
صفحہ نمبر5364
ابن ابی حاتم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ آپ نے فرمایا مجھے تو تم پر سب سے زیادہ خوف اس وقت کا ہے کہ دنیا تمہارے قدموں میں اپنا تمام ساز و سامان ڈال دے گی۔ اپنی برکتیں تم پر الٹ دے گی۔
الغرض کفار کو زینت کی زندگی اور دنیا صرف ان کی آزمائش کے لیے دی جاتی ہے۔ اپنے گھرانے کے لوگوں کو نماز کی تاکید کرو تاکہ وہ عذاب الٰہی سے بچ جائیں، خود بھی پابندی کے ساتھ اس کی ادائیگی کرو۔ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم سے بچالو۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عادت مبارکہ تھی کہ رات کو جب تہجد کے لیے اٹھتے تو اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور اسی آیت کی تلاوت فرماتے۔ ہم تجھ سے رزق کے طالب نہیں۔ نماز کی پابندی کر لو، اللہ ایسی جگہ سے روزی پہنچائے گا جو خواب و خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے لیے چھٹکارا کر دیتا ہے اور بے شان و گمان جگہ سے روزی پہنچاتا ہے۔ تمام جنات اور انسان صرف عبادت الٰہی کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔ رزاق اور زبردست قوتوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرماتا ہے ہم خود تمام مخلوق کے روزی رساں ہیں۔ ہم تمیں طلب کی تکلیف نہیں دیتے۔ ہشام رحمہ اللہ کے والد صاحب جب امیر امراء کے مکانوں پر جاتے اور ان کا ٹھاٹھ دیکھتے تو واپس اپنے مکان پر آ کر اسی آیت کی تلاوت فرماتے۔ اور کہتے میرے کنبے والو! نماز کی حفاظت کرو نماز کی پابندی کرو۔ اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تنگی ہوتی تو اپنے گھر کے سب لوگوں کو فرماتے، اے میرے گھر والو، نمازیں پڑھو نمازیں قائم رکھو۔ تمام انبیاء علیہم السلام کا یہی طریقہ رہا ہے کہ اپنی ہر گھبراہٹ اور ہر کام کے وقت نماز شروع کر دیتے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:561/4:مرسل]
ترمذی ابن ماجہ وغیرہ کی قدسی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرا سینہ امیری اور بےپرواہی سے پر کر دوں گا۔ تیری فقیری اور حاجت کو دور کر دوں گا اور اگر تو نے یہ نہ کیا تو میں تیرا دل اشغال سے بھر دونگا اور تیری فقیری بند ہی نہ کروں گا۔ [سنن ترمذي:2466،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5365
ابن ماجہ شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نے اپنی تمام غور و فکر اور قصد و خیال کو اکٹھا کر کے آخرت کا خیال باندھ لیا اور اسی میں مشغول ہو گیا، اللہ تعالیٰ اسے دنیا کی تمام پریشانیوں سے محفوظ کر لے گا۔ اور جس نے دنیا کی فکریں پال لیں، یہاں کے غم مول لے لیے، اللہ کو اس کی مطلقا پرواہ نہ رہے گی خواہ کسی حیرانی میں ہلاک ہو جائے۔ [سنن ابن ماجه:4105:قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ دنیا کے غموں میں ہی، اسی کی فکروں میں ہی مصروف ہو جانے والے کے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ پریشانیاں ڈال دے گا اور اس کی فقیری اس کی آنکھوں کے سامنے کر دے گا اور دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی مقدر میں ہے۔ اور جو اپنے دل کا مرکز آخرت کو بنا لے گا، اپنی نیت وہی رکھے گا، اللہ تعالیٰ اسے ہرکام کا اطمینان نصیب فرما دے گا۔ اس کے دل کو سیراور شیر بنا دے گا اور دنیا اس کے قدموں کی ٹھوکروں میں آیا کرے گی۔ [سنن ابن ماجه:،قال4106 الشيخ الألباني:حسن]
پھر فرمایا دنیا و آخرت میں نیک انجام پرہیزگار لوگ ہی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، میں نے آج رات خواب میں دیکھا کہ گویا ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں۔ وہاں ہمارے سامنے ابن طالب کے باغ کی تر کھجوریں پیش کی گئی ہیں۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ دنیا میں بھی انجام کے لحاظ سے ہمارا ہی پلہ گراں رہے گا اور بلندی اور اونچائی ہم کو ہی ملے گی اور ہمارا دین پاک صاف، طیب و طاہر، کامل و مکمل ہے۔ [صحیح مسلم:2270]
صفحہ نمبر5366
طه 20:133
قرآن حکیم سب سے بڑا معجزہ ٭٭
کفار یہ بھی کہا کرتے تھے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ نبی اپنی سچائی کا کوئی معجزہ ہمیں نہیں دکھاتے؟ جواب ملتا ہے کہ یہ ہے قرآن کریم جو اگلی کتابوں کی خبر کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا ہے، جو نہ لکھنا جانیں نہ پڑھنا۔ دیکھ لو اس میں اگلے لوگوں کے حالات ہیں اور بالکل ان کتابوں کے مطابق جو اللہ کی طرف سے اس سے پہلے نازل شدہ ہیں۔
قرآن ان سب کا نگہبان ہے۔ چونکہ اگلی کتابیں کمی بیشی سے پاک نہیں رہیں، اس لیے قرآن اترا ہے کہ ان کی صحت و غیر صحت کو ممتاز کر دے۔ سورۃ العنکبوت میں کافروں کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا «وَقَالُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَاتٌ مِّن رَّبِّهِ ۖ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّـهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ * أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» [29-العنكبوت:50-51] ” یعنی کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہر قسم کے معجزات ظاہر کرنے پر قادر ہے، میں تو صرف تنبیہہ کرنے والا رسول ہوں۔ میرے قبضے میں کوئی معجزہ نہیں لیکن کیا انہیں یہ معجزہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر کتاب نازل فرمائی ہے جو ان کے سامنے برابر تلاوت کی جا رہی ہے جس میں ہر یقین والے کے لیے رحمت و عبرت ہے۔ “
صحیح بخاری و مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، ہرنبی کو ایسے معجزے ملے کہ انہیں دیکھ کر لوگ ان کی نبوت پر ایمان لے آئے۔ لیکن مجھے جیتا جاگتا زندہ اور ہمیشہ رہنے والا معجزہ دیا گیا ہے یعنی اللہ کی یہ کتاب قرآن مجید جو بذریعہ وحی مجھ پر اتری ہے۔ پس مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن تمام نبیوں کے تابعداروں سے میرے تابعدار زیادہ ہوں گے۔ [صحیح بخاری:4981]
یہ یاد رہے کہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ بیان ہوا ہے اس سے یہ مطلب نہیں کہ آپ کے معجزے اور تھے ہی نہیں۔ علاوہ اس پاک اور معجز قرآن کے آپ کے ہاتھوں اس قدر معجزات سرزد ہوئے ہیں جو گنتی میں نہیں آ سکتے۔ لیکن ان تمام بےشمار معجزوں سے بڑھ چڑھ کر آپ کا سب سے اعلیٰ معجزہ یہ قرآن کریم ہے۔ اگر اس محترم ختم المرسلین آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے سے پہلے ہی ہم ان نہ ماننے والوں کو اپنے عذاب سے ہلاک کر دیتے تو ان کا یہ عذر باقی رہ جاتا کہ اگرہمارے سامنے کوئی پیغمبر آتا، کوئی وحی الٰہی نازل ہوتی تو ہم ضرور اس پر ایمان لاتے اور اس کی تابعداری اور فرماں برداری میں لگ جاتے اور اس ذلت و رسوائی سے بچ جاتے۔
اس لیے ہم نے ان کا یہ عذر بھی کاٹ دیا۔ رسول بھیج دیا، کتاب نازل فرما دی، انہیں ایمان نصیب نہ ہوا، عذابوں کے مستحق بن گئے اور عذر بھی دور ہو گئے۔ «وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-يونس:97] ” ہم خوب جانتے ہیں کہ ایک کیا ہزاروں آیتیں اور نشانات دیکھ کر بھی انہیں ایمان نہیں آنے کا۔ ہاں جب عذابوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے، اس وقت ایمان لائیں گے لیکن وہ محض بےسود ہے۔ “
صفحہ نمبر5368
ّجیسے فرمایا، «وَهَـٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ» [6-الأنعام:155] ” ہم نے یہ پاک اور بہتر کتاب نازل فرما دی ہے جو بابرکت ہے، تم اسے مان لو اور اس کی فرماں برداری کرو تو تم پر رحم کیا جائے گا۔ “
یہی مضمون آیت «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَتْهُمْ آيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا ۚ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّـهِ ۖ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [6-الأنعام:109]
میں ہے کہ کہتے ہیں کہ رسول کی آمد پر ہم مومن بن جائیں گے، معجزہ دیکھ کر ایمان قبول کر لیں گے لیکن ہم ان کی سرشت سے واقف ہیں، یہ تمام آیتیں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں گے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کافروں سے کہہ دیجئیے کہ ادھر ہم ادھر تم منتظر ہیں۔ «وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» [25-الفرقان:42] ” ابھی حال کھل جائے گا کہ راہ مستقیم پر کون ہے؟ “
حق کی طرف کون چل رہا ہے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اس وقت معلوم ہو جائے گا کون گمراہی میں مبتلا تھا۔ گھبراؤ نہیں۔ ابھی ابھی جان لو گے کہ «سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ» [54-القمر:26] کذاب و شریر کون تھا؟ یقیناً مسلمان راہ راست پر ہیں اور غیرمسلم اس سے ہٹے ہوئے ہیں۔
سورۃ طہ کی تفسیر ختم ہوئی۔ اور اسی کے ساتھ تفسیر محمدی کا سولہواں پارہ بھی ختم ہوا، «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
صفحہ نمبر5369
طه 20:134
قرآن حکیم سب سے بڑا معجزہ ٭٭
کفار یہ بھی کہا کرتے تھے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ نبی اپنی سچائی کا کوئی معجزہ ہمیں نہیں دکھاتے؟ جواب ملتا ہے کہ یہ ہے قرآن کریم جو اگلی کتابوں کی خبر کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا ہے، جو نہ لکھنا جانیں نہ پڑھنا۔ دیکھ لو اس میں اگلے لوگوں کے حالات ہیں اور بالکل ان کتابوں کے مطابق جو اللہ کی طرف سے اس سے پہلے نازل شدہ ہیں۔
قرآن ان سب کا نگہبان ہے۔ چونکہ اگلی کتابیں کمی بیشی سے پاک نہیں رہیں، اس لیے قرآن اترا ہے کہ ان کی صحت و غیر صحت کو ممتاز کر دے۔ سورۃ العنکبوت میں کافروں کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا «وَقَالُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَاتٌ مِّن رَّبِّهِ ۖ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّـهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ * أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» [29-العنكبوت:50-51] ” یعنی کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہر قسم کے معجزات ظاہر کرنے پر قادر ہے، میں تو صرف تنبیہہ کرنے والا رسول ہوں۔ میرے قبضے میں کوئی معجزہ نہیں لیکن کیا انہیں یہ معجزہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر کتاب نازل فرمائی ہے جو ان کے سامنے برابر تلاوت کی جا رہی ہے جس میں ہر یقین والے کے لیے رحمت و عبرت ہے۔ “
صحیح بخاری و مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، ہرنبی کو ایسے معجزے ملے کہ انہیں دیکھ کر لوگ ان کی نبوت پر ایمان لے آئے۔ لیکن مجھے جیتا جاگتا زندہ اور ہمیشہ رہنے والا معجزہ دیا گیا ہے یعنی اللہ کی یہ کتاب قرآن مجید جو بذریعہ وحی مجھ پر اتری ہے۔ پس مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن تمام نبیوں کے تابعداروں سے میرے تابعدار زیادہ ہوں گے۔ [صحیح بخاری:4981]
یہ یاد رہے کہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ بیان ہوا ہے اس سے یہ مطلب نہیں کہ آپ کے معجزے اور تھے ہی نہیں۔ علاوہ اس پاک اور معجز قرآن کے آپ کے ہاتھوں اس قدر معجزات سرزد ہوئے ہیں جو گنتی میں نہیں آ سکتے۔ لیکن ان تمام بےشمار معجزوں سے بڑھ چڑھ کر آپ کا سب سے اعلیٰ معجزہ یہ قرآن کریم ہے۔ اگر اس محترم ختم المرسلین آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے سے پہلے ہی ہم ان نہ ماننے والوں کو اپنے عذاب سے ہلاک کر دیتے تو ان کا یہ عذر باقی رہ جاتا کہ اگرہمارے سامنے کوئی پیغمبر آتا، کوئی وحی الٰہی نازل ہوتی تو ہم ضرور اس پر ایمان لاتے اور اس کی تابعداری اور فرماں برداری میں لگ جاتے اور اس ذلت و رسوائی سے بچ جاتے۔
اس لیے ہم نے ان کا یہ عذر بھی کاٹ دیا۔ رسول بھیج دیا، کتاب نازل فرما دی، انہیں ایمان نصیب نہ ہوا، عذابوں کے مستحق بن گئے اور عذر بھی دور ہو گئے۔ «وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-يونس:97] ” ہم خوب جانتے ہیں کہ ایک کیا ہزاروں آیتیں اور نشانات دیکھ کر بھی انہیں ایمان نہیں آنے کا۔ ہاں جب عذابوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے، اس وقت ایمان لائیں گے لیکن وہ محض بےسود ہے۔ “
صفحہ نمبر5368
ّجیسے فرمایا، «وَهَـٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ» [6-الأنعام:155] ” ہم نے یہ پاک اور بہتر کتاب نازل فرما دی ہے جو بابرکت ہے، تم اسے مان لو اور اس کی فرماں برداری کرو تو تم پر رحم کیا جائے گا۔ “
یہی مضمون آیت «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَتْهُمْ آيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا ۚ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّـهِ ۖ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [6-الأنعام:109]
میں ہے کہ کہتے ہیں کہ رسول کی آمد پر ہم مومن بن جائیں گے، معجزہ دیکھ کر ایمان قبول کر لیں گے لیکن ہم ان کی سرشت سے واقف ہیں، یہ تمام آیتیں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں گے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کافروں سے کہہ دیجئیے کہ ادھر ہم ادھر تم منتظر ہیں۔ «وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» [25-الفرقان:42] ” ابھی حال کھل جائے گا کہ راہ مستقیم پر کون ہے؟ “
حق کی طرف کون چل رہا ہے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اس وقت معلوم ہو جائے گا کون گمراہی میں مبتلا تھا۔ گھبراؤ نہیں۔ ابھی ابھی جان لو گے کہ «سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ» [54-القمر:26] کذاب و شریر کون تھا؟ یقیناً مسلمان راہ راست پر ہیں اور غیرمسلم اس سے ہٹے ہوئے ہیں۔
سورۃ طہ کی تفسیر ختم ہوئی۔ اور اسی کے ساتھ تفسیر محمدی کا سولہواں پارہ بھی ختم ہوا، «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
صفحہ نمبر5369
طه 20:135
قرآن حکیم سب سے بڑا معجزہ ٭٭
کفار یہ بھی کہا کرتے تھے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ نبی اپنی سچائی کا کوئی معجزہ ہمیں نہیں دکھاتے؟ جواب ملتا ہے کہ یہ ہے قرآن کریم جو اگلی کتابوں کی خبر کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا ہے، جو نہ لکھنا جانیں نہ پڑھنا۔ دیکھ لو اس میں اگلے لوگوں کے حالات ہیں اور بالکل ان کتابوں کے مطابق جو اللہ کی طرف سے اس سے پہلے نازل شدہ ہیں۔
قرآن ان سب کا نگہبان ہے۔ چونکہ اگلی کتابیں کمی بیشی سے پاک نہیں رہیں، اس لیے قرآن اترا ہے کہ ان کی صحت و غیر صحت کو ممتاز کر دے۔ سورۃ العنکبوت میں کافروں کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا «وَقَالُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَاتٌ مِّن رَّبِّهِ ۖ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّـهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ * أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» [29-العنكبوت:50-51] ” یعنی کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہر قسم کے معجزات ظاہر کرنے پر قادر ہے، میں تو صرف تنبیہہ کرنے والا رسول ہوں۔ میرے قبضے میں کوئی معجزہ نہیں لیکن کیا انہیں یہ معجزہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر کتاب نازل فرمائی ہے جو ان کے سامنے برابر تلاوت کی جا رہی ہے جس میں ہر یقین والے کے لیے رحمت و عبرت ہے۔ “
صحیح بخاری و مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، ہرنبی کو ایسے معجزے ملے کہ انہیں دیکھ کر لوگ ان کی نبوت پر ایمان لے آئے۔ لیکن مجھے جیتا جاگتا زندہ اور ہمیشہ رہنے والا معجزہ دیا گیا ہے یعنی اللہ کی یہ کتاب قرآن مجید جو بذریعہ وحی مجھ پر اتری ہے۔ پس مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن تمام نبیوں کے تابعداروں سے میرے تابعدار زیادہ ہوں گے۔ [صحیح بخاری:4981]
یہ یاد رہے کہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ بیان ہوا ہے اس سے یہ مطلب نہیں کہ آپ کے معجزے اور تھے ہی نہیں۔ علاوہ اس پاک اور معجز قرآن کے آپ کے ہاتھوں اس قدر معجزات سرزد ہوئے ہیں جو گنتی میں نہیں آ سکتے۔ لیکن ان تمام بےشمار معجزوں سے بڑھ چڑھ کر آپ کا سب سے اعلیٰ معجزہ یہ قرآن کریم ہے۔ اگر اس محترم ختم المرسلین آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے سے پہلے ہی ہم ان نہ ماننے والوں کو اپنے عذاب سے ہلاک کر دیتے تو ان کا یہ عذر باقی رہ جاتا کہ اگرہمارے سامنے کوئی پیغمبر آتا، کوئی وحی الٰہی نازل ہوتی تو ہم ضرور اس پر ایمان لاتے اور اس کی تابعداری اور فرماں برداری میں لگ جاتے اور اس ذلت و رسوائی سے بچ جاتے۔
اس لیے ہم نے ان کا یہ عذر بھی کاٹ دیا۔ رسول بھیج دیا، کتاب نازل فرما دی، انہیں ایمان نصیب نہ ہوا، عذابوں کے مستحق بن گئے اور عذر بھی دور ہو گئے۔ «وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-يونس:97] ” ہم خوب جانتے ہیں کہ ایک کیا ہزاروں آیتیں اور نشانات دیکھ کر بھی انہیں ایمان نہیں آنے کا۔ ہاں جب عذابوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے، اس وقت ایمان لائیں گے لیکن وہ محض بےسود ہے۔ “
صفحہ نمبر5368
ّجیسے فرمایا، «وَهَـٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ» [6-الأنعام:155] ” ہم نے یہ پاک اور بہتر کتاب نازل فرما دی ہے جو بابرکت ہے، تم اسے مان لو اور اس کی فرماں برداری کرو تو تم پر رحم کیا جائے گا۔ “
یہی مضمون آیت «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَتْهُمْ آيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا ۚ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّـهِ ۖ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [6-الأنعام:109]
میں ہے کہ کہتے ہیں کہ رسول کی آمد پر ہم مومن بن جائیں گے، معجزہ دیکھ کر ایمان قبول کر لیں گے لیکن ہم ان کی سرشت سے واقف ہیں، یہ تمام آیتیں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں گے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کافروں سے کہہ دیجئیے کہ ادھر ہم ادھر تم منتظر ہیں۔ «وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» [25-الفرقان:42] ” ابھی حال کھل جائے گا کہ راہ مستقیم پر کون ہے؟ “
حق کی طرف کون چل رہا ہے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اس وقت معلوم ہو جائے گا کون گمراہی میں مبتلا تھا۔ گھبراؤ نہیں۔ ابھی ابھی جان لو گے کہ «سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ» [54-القمر:26] کذاب و شریر کون تھا؟ یقیناً مسلمان راہ راست پر ہیں اور غیرمسلم اس سے ہٹے ہوئے ہیں۔
سورۃ طہ کی تفسیر ختم ہوئی۔ اور اسی کے ساتھ تفسیر محمدی کا سولہواں پارہ بھی ختم ہوا، «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
صفحہ نمبر5369
الأنبياء 21:1
تفسیر سورۃ الأنبیاء :
صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورۃ بنی اسرائیل، سورۃ کہف، سورۃ مریم، سورۃ طہ اور سورۃ انبیا عتاق اول سے ہیں اور یہی تلادی ہیں۔ [صحیح بخاری:4739]
قیامت سے غافل انسان ٭٭
اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ ” قیامت قریب آ گئی ہے۔ پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لیے کوئی تیاری کر رہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہو گئے ہیں “۔
جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ» [16-النحل:1] ” امر ربی آ گیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو؟ “
دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54-القمر:2-1] ” قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا “ الخ۔
ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے «(النَّاسُ فِي غَفَلَاتِهِمْ)» «(وَرَحَا الْمَنِيَّةِ تَطْحَنُ)» ”موت کی چکی زور زور سے چل رہی ہے اور لوگ غفلتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔“
صفحہ نمبر5372
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کے ہاں ایک صاحب مہمان بن کر آئے، انہوں نے بڑے اکرام اور احترام سے انہیں اپنے ہاں اتارا اور ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سفارش کی۔ ایک دن یہ بزرگ مہمان ان کے پاس آئے اور کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فلاں وادی عطا فرما دی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس بہترین زمین کا ایک ٹکڑا میں آپ کے نام کردوں کہ آپ کو بھی فارغ البالی رہے اور آپ کے بعد آپ کے بال بچے بھی آسودگی سے گزر کریں۔ عامر رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ بھائی مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے کہ ہمیں تو دنیا کڑوی معلوم ہونے لگی ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ» کی تلاوت فرمائی۔ [میزان الاعتدال:256/2:ضعیف]
اس کے بعد کفار قریش اور انہی جیسے اور کافروں کی بابت فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ کلام اللہ اور وحی الٰہی کی طرف کان ہی نہیں لگاتے۔ یہ تازہ اور نیا آیا ہوا ذکر دل لگا کر سنتے ہی نہیں۔ اس کان سنتے ہیں اس کان اڑا دیتے ہیں۔ دل ہنسی کھیل میں مشغول ہیں “۔
بخاری شریف میں ہے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمہیں اہل کتاب کی کتابوں کی باتوں کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے تو کتاب اللہ میں بہت کچھ ردوبدل کر لیا، تحریف اور تبدیلی کرلی، کمی زیادتی کرلی اور تمہارے پاس تو اللہ کی اتاری ہوئی خالص کتاب موجود ہے جس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہونے پائی۔ [صحیح بخاری:7523]
یہ لوگ کتاب اللہ سے بے پرواہی کررہے ہیں اپنے دلوں کو اس کے اثر سے خالی رکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یہ ظالم اوروں کو بھی بہکاتے ہیں کہتے ہیں کہ اپنے جیسے ایک انسان کی ماتحتی تو ہم نہیں کر سکتے۔ تم کیسے لوگ ہو کہ دیکھتے بھالتے جادو کو مان رہے ہو؟ یہ ناممکن ہے کہ ہم جیسے آدمی کو اللہ تعالیٰ رسالت اور وحی کے ساتھ مختص کر دے، پھر تعجب ہے کہ لوگ باوجود علم کے اس کے جادو میں آجاتے ہیں؟
صفحہ نمبر5373
الأنبياء 21:2
تفسیر سورۃ الأنبیاء :
صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورۃ بنی اسرائیل، سورۃ کہف، سورۃ مریم، سورۃ طہ اور سورۃ انبیا عتاق اول سے ہیں اور یہی تلادی ہیں۔ [صحیح بخاری:4739]
قیامت سے غافل انسان ٭٭
اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ ” قیامت قریب آ گئی ہے۔ پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لیے کوئی تیاری کر رہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہو گئے ہیں “۔
جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ» [16-النحل:1] ” امر ربی آ گیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو؟ “
دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54-القمر:2-1] ” قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا “ الخ۔
ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے «(النَّاسُ فِي غَفَلَاتِهِمْ)» «(وَرَحَا الْمَنِيَّةِ تَطْحَنُ)» ”موت کی چکی زور زور سے چل رہی ہے اور لوگ غفلتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔“
صفحہ نمبر5372
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کے ہاں ایک صاحب مہمان بن کر آئے، انہوں نے بڑے اکرام اور احترام سے انہیں اپنے ہاں اتارا اور ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سفارش کی۔ ایک دن یہ بزرگ مہمان ان کے پاس آئے اور کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فلاں وادی عطا فرما دی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس بہترین زمین کا ایک ٹکڑا میں آپ کے نام کردوں کہ آپ کو بھی فارغ البالی رہے اور آپ کے بعد آپ کے بال بچے بھی آسودگی سے گزر کریں۔ عامر رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ بھائی مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے کہ ہمیں تو دنیا کڑوی معلوم ہونے لگی ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ» کی تلاوت فرمائی۔ [میزان الاعتدال:256/2:ضعیف]
اس کے بعد کفار قریش اور انہی جیسے اور کافروں کی بابت فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ کلام اللہ اور وحی الٰہی کی طرف کان ہی نہیں لگاتے۔ یہ تازہ اور نیا آیا ہوا ذکر دل لگا کر سنتے ہی نہیں۔ اس کان سنتے ہیں اس کان اڑا دیتے ہیں۔ دل ہنسی کھیل میں مشغول ہیں “۔
بخاری شریف میں ہے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمہیں اہل کتاب کی کتابوں کی باتوں کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے تو کتاب اللہ میں بہت کچھ ردوبدل کر لیا، تحریف اور تبدیلی کرلی، کمی زیادتی کرلی اور تمہارے پاس تو اللہ کی اتاری ہوئی خالص کتاب موجود ہے جس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہونے پائی۔ [صحیح بخاری:7523]
یہ لوگ کتاب اللہ سے بے پرواہی کررہے ہیں اپنے دلوں کو اس کے اثر سے خالی رکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یہ ظالم اوروں کو بھی بہکاتے ہیں کہتے ہیں کہ اپنے جیسے ایک انسان کی ماتحتی تو ہم نہیں کر سکتے۔ تم کیسے لوگ ہو کہ دیکھتے بھالتے جادو کو مان رہے ہو؟ یہ ناممکن ہے کہ ہم جیسے آدمی کو اللہ تعالیٰ رسالت اور وحی کے ساتھ مختص کر دے، پھر تعجب ہے کہ لوگ باوجود علم کے اس کے جادو میں آجاتے ہیں؟
صفحہ نمبر5373
الأنبياء 21:3
تفسیر سورۃ الأنبیاء :
صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورۃ بنی اسرائیل، سورۃ کہف، سورۃ مریم، سورۃ طہ اور سورۃ انبیا عتاق اول سے ہیں اور یہی تلادی ہیں۔ [صحیح بخاری:4739]
قیامت سے غافل انسان ٭٭
اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ ” قیامت قریب آ گئی ہے۔ پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لیے کوئی تیاری کر رہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہو گئے ہیں “۔
جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ» [16-النحل:1] ” امر ربی آ گیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو؟ “
دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54-القمر:2-1] ” قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا “ الخ۔
ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے «(النَّاسُ فِي غَفَلَاتِهِمْ)» «(وَرَحَا الْمَنِيَّةِ تَطْحَنُ)» ”موت کی چکی زور زور سے چل رہی ہے اور لوگ غفلتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔“
صفحہ نمبر5372
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کے ہاں ایک صاحب مہمان بن کر آئے، انہوں نے بڑے اکرام اور احترام سے انہیں اپنے ہاں اتارا اور ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سفارش کی۔ ایک دن یہ بزرگ مہمان ان کے پاس آئے اور کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فلاں وادی عطا فرما دی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس بہترین زمین کا ایک ٹکڑا میں آپ کے نام کردوں کہ آپ کو بھی فارغ البالی رہے اور آپ کے بعد آپ کے بال بچے بھی آسودگی سے گزر کریں۔ عامر رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ بھائی مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے کہ ہمیں تو دنیا کڑوی معلوم ہونے لگی ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ» کی تلاوت فرمائی۔ [میزان الاعتدال:256/2:ضعیف]
اس کے بعد کفار قریش اور انہی جیسے اور کافروں کی بابت فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ کلام اللہ اور وحی الٰہی کی طرف کان ہی نہیں لگاتے۔ یہ تازہ اور نیا آیا ہوا ذکر دل لگا کر سنتے ہی نہیں۔ اس کان سنتے ہیں اس کان اڑا دیتے ہیں۔ دل ہنسی کھیل میں مشغول ہیں “۔
بخاری شریف میں ہے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمہیں اہل کتاب کی کتابوں کی باتوں کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے تو کتاب اللہ میں بہت کچھ ردوبدل کر لیا، تحریف اور تبدیلی کرلی، کمی زیادتی کرلی اور تمہارے پاس تو اللہ کی اتاری ہوئی خالص کتاب موجود ہے جس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہونے پائی۔ [صحیح بخاری:7523]
یہ لوگ کتاب اللہ سے بے پرواہی کررہے ہیں اپنے دلوں کو اس کے اثر سے خالی رکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یہ ظالم اوروں کو بھی بہکاتے ہیں کہتے ہیں کہ اپنے جیسے ایک انسان کی ماتحتی تو ہم نہیں کر سکتے۔ تم کیسے لوگ ہو کہ دیکھتے بھالتے جادو کو مان رہے ہو؟ یہ ناممکن ہے کہ ہم جیسے آدمی کو اللہ تعالیٰ رسالت اور وحی کے ساتھ مختص کر دے، پھر تعجب ہے کہ لوگ باوجود علم کے اس کے جادو میں آجاتے ہیں؟
صفحہ نمبر5373
الأنبياء 21:4
باب
ان بدکرداروں کے جواب میں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ” یہ جو بہتان باندھتے ہیں ان سے کہئے کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تمام باتیں جانتا ہے جس پر کوئی بات پوشیدہ نہیں، اس نے اس پاک کلام قرآن کریم کو نازل فرمایا۔ اس میں اگلی پچھلی تمام خبروں کا موجود ہونا ہی دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا اتارنے والا عالم الغیب ہے۔ وہ تمہاری سب باتوں کا سننے والا اور تمہارے تمام حالات کا علم رکھنے والا ہے۔ پس تمہیں اس کا ڈر رکھنا چاہیئے “۔
پھر کفار کی ضد، ناسمجھی اور کٹ حجتی بیان فرما رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خود حیران ہیں۔ کسی بات پر جم نہیں سکتے۔ کبھی کلام اللہ کو جادو کہتے ہیں تو کبھی شاعری کہتے ہیں۔ کبھی پراگندہ اور بے معنی باتیں کہتے ہیں اور کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ازخود گھڑلیا ہوا بتاتے ہیں۔
اور آیت میں ہے «انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا» [17-الإسراء:48 و 25-الفرقان:9] ” دیکھیں تو سہی، آپ کے لیے کیا کیا مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وه بہک رہے ہیں۔ اب تو راه پانا ان کے بس میں نہیں رہا “۔
خیال کرو کہ اپنے کسی قول پر بھروسہ نہ رکھنے والا، جو زبان پر چڑھے بک دینے و الا بھی مستقل مزاج کہلانے کامستحق ہے؟ کبھی کہتے تھے، اچھا اگر یہ سچا نبی ہے تو صالح علیہ السلام کی طرح کوئی اونٹنی لے آتا یا موسیٰ علیہ السلام کی طرح کا کوئی معجزہ دکھاتا یا عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی معجزہ ظاہر کرتا۔ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا» [17-الاسراء:59] ” بیشک اللہ ان چیزوں پر قادر تو ضرور ہے لیکن اگر ظاہر ہوئیں اور پھر بھی یہ اپنے کفر سے نہ ہٹے تو عادت الٰہی کے تحت عذاب الٰہی میں پکڑ لیے جائیں گے اور پیس دئیے جائیں گے۔ عموماً اگلے لوگوں نے یہی کہا اور ایمان نصیب نہ ہوا اور غارت کر دئیے گئے۔ اسی طرح یہ بھی ایسے معجزے طلب کر رہے ہیں۔ اگر ظاہر ہوئے تو ایمان نہ لائیں گے اور تباہ ہوجائینگے “۔
جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-یونس:97-96] ” جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ گو تمام تر معجزے دیکھ لیں، ایمان قبول نہ کریں گے۔ ہاں عذاب الیم کے معائنہ کے بعد تو فوراً تسلیم کر لیں گے لیکن وہ محض بے سود ہے “۔ بات بھی یہی ہے کہ انہیں ایمان لانا ہی نہ تھا ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بےشمار معجزات روز مرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔
صفحہ نمبر5376
بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ معجزے دیگر انبیاء علیہم السلام سے بہت زیادہ ظاہر اور کھلے ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب روایت میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع مسجد میں تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کر رہے تھے۔ اتنے میں عبداللہ بن سلول منافق آیا۔ اپنی گدی بچھا کر اپنا تکیہ لگا کر وجاہت سے بیٹھ گیا۔ تھا بھی گورا چٹا، بڑھ بڑھ کر فصاحت کے ساتھ باتیں بنانے والا، کہنے لگا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نشان ہمیں دکھائیں جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیاء نشانات لائے تھے مثلا موسیٰ علیہ السلام تختیاں لائے، داؤد علیہ السلام زبور لائے، صالح علیہ السلام اونٹنی لائے، عیسیٰ علیہ السلام انجیل لائے اور آسمانی دستر خوان۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا یہ سن کر رونے لگے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو آپ رضی اللہ عنہ نے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاؤ، اور اس منافق کی فریاد دربار رسالت میں پہنچاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سنو میرے لیے کھڑے نہ ہوا کرو۔ صرف اللہ ہی کے لیے کھڑے ہوا کرو ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس منافق سے بڑی ایذاء پہنچی ہے۔
صفحہ نمبر5377
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے فرمایا کہ باہر جاؤ اور لوگوں کے سامنے اپنے ان فضائل کو ظاہر کرو اور ان نعمتوں کا بیان کرو جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں۔ میں ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنات کو بھی پیغام الٰہی پہنچا دوں۔ مجھے میرے رب نے اپنی پاک کتاب عنایت فرمائی ہے حالانکہ محض بے پڑھا ہوں۔ میرے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے ہیں۔ میرا نام اذان میں رکھا ہے۔ میری مدد فرشتوں سے کرائی ہے۔ مجھے اپنی امداد و نصرت عطا فرمائی ہے۔ رعب میرا میرے آگے آگے کر دیا ہے۔ مجھے حوض کوثر عطا فرمایا ہے جو قیامت کے دن تمام اور حوضوں سے بڑا ہوگا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے مقام محمود کا وعدہ دیا ہے۔ اس وقت جب کہ سب لوگ حیران و پریشان سر جھکائے ہوئے ہوں گے، مجھے اللہ نے اس پہلے گروہ میں چنا ہے جو لوگوں سے نکلے گا۔ میری شفاعت سے میری امت کے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ مجھے غلبہ اور سلطنت عطا فرمائی ہے۔ مجھے جنت نعیم کا وہ بلند و بالا اعلیٰ بالاخانہ ملے گا کہ اس سے اعلیٰ منزل کسی کی نہ ہوگی۔ میرے اوپر صرف وہ فرشتے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ میرے اور میری امت کے لیے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لیے حلال نہ تھے ۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف]
صفحہ نمبر5378
الأنبياء 21:5
باب
ان بدکرداروں کے جواب میں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ” یہ جو بہتان باندھتے ہیں ان سے کہئے کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تمام باتیں جانتا ہے جس پر کوئی بات پوشیدہ نہیں، اس نے اس پاک کلام قرآن کریم کو نازل فرمایا۔ اس میں اگلی پچھلی تمام خبروں کا موجود ہونا ہی دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا اتارنے والا عالم الغیب ہے۔ وہ تمہاری سب باتوں کا سننے والا اور تمہارے تمام حالات کا علم رکھنے والا ہے۔ پس تمہیں اس کا ڈر رکھنا چاہیئے “۔
پھر کفار کی ضد، ناسمجھی اور کٹ حجتی بیان فرما رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خود حیران ہیں۔ کسی بات پر جم نہیں سکتے۔ کبھی کلام اللہ کو جادو کہتے ہیں تو کبھی شاعری کہتے ہیں۔ کبھی پراگندہ اور بے معنی باتیں کہتے ہیں اور کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ازخود گھڑلیا ہوا بتاتے ہیں۔
اور آیت میں ہے «انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا» [17-الإسراء:48 و 25-الفرقان:9] ” دیکھیں تو سہی، آپ کے لیے کیا کیا مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وه بہک رہے ہیں۔ اب تو راه پانا ان کے بس میں نہیں رہا “۔
خیال کرو کہ اپنے کسی قول پر بھروسہ نہ رکھنے والا، جو زبان پر چڑھے بک دینے و الا بھی مستقل مزاج کہلانے کامستحق ہے؟ کبھی کہتے تھے، اچھا اگر یہ سچا نبی ہے تو صالح علیہ السلام کی طرح کوئی اونٹنی لے آتا یا موسیٰ علیہ السلام کی طرح کا کوئی معجزہ دکھاتا یا عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی معجزہ ظاہر کرتا۔ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا» [17-الاسراء:59] ” بیشک اللہ ان چیزوں پر قادر تو ضرور ہے لیکن اگر ظاہر ہوئیں اور پھر بھی یہ اپنے کفر سے نہ ہٹے تو عادت الٰہی کے تحت عذاب الٰہی میں پکڑ لیے جائیں گے اور پیس دئیے جائیں گے۔ عموماً اگلے لوگوں نے یہی کہا اور ایمان نصیب نہ ہوا اور غارت کر دئیے گئے۔ اسی طرح یہ بھی ایسے معجزے طلب کر رہے ہیں۔ اگر ظاہر ہوئے تو ایمان نہ لائیں گے اور تباہ ہوجائینگے “۔
جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-یونس:97-96] ” جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ گو تمام تر معجزے دیکھ لیں، ایمان قبول نہ کریں گے۔ ہاں عذاب الیم کے معائنہ کے بعد تو فوراً تسلیم کر لیں گے لیکن وہ محض بے سود ہے “۔ بات بھی یہی ہے کہ انہیں ایمان لانا ہی نہ تھا ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بےشمار معجزات روز مرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔
صفحہ نمبر5376
بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ معجزے دیگر انبیاء علیہم السلام سے بہت زیادہ ظاہر اور کھلے ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب روایت میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع مسجد میں تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کر رہے تھے۔ اتنے میں عبداللہ بن سلول منافق آیا۔ اپنی گدی بچھا کر اپنا تکیہ لگا کر وجاہت سے بیٹھ گیا۔ تھا بھی گورا چٹا، بڑھ بڑھ کر فصاحت کے ساتھ باتیں بنانے والا، کہنے لگا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نشان ہمیں دکھائیں جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیاء نشانات لائے تھے مثلا موسیٰ علیہ السلام تختیاں لائے، داؤد علیہ السلام زبور لائے، صالح علیہ السلام اونٹنی لائے، عیسیٰ علیہ السلام انجیل لائے اور آسمانی دستر خوان۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا یہ سن کر رونے لگے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو آپ رضی اللہ عنہ نے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاؤ، اور اس منافق کی فریاد دربار رسالت میں پہنچاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سنو میرے لیے کھڑے نہ ہوا کرو۔ صرف اللہ ہی کے لیے کھڑے ہوا کرو ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس منافق سے بڑی ایذاء پہنچی ہے۔
صفحہ نمبر5377
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے فرمایا کہ باہر جاؤ اور لوگوں کے سامنے اپنے ان فضائل کو ظاہر کرو اور ان نعمتوں کا بیان کرو جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں۔ میں ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنات کو بھی پیغام الٰہی پہنچا دوں۔ مجھے میرے رب نے اپنی پاک کتاب عنایت فرمائی ہے حالانکہ محض بے پڑھا ہوں۔ میرے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے ہیں۔ میرا نام اذان میں رکھا ہے۔ میری مدد فرشتوں سے کرائی ہے۔ مجھے اپنی امداد و نصرت عطا فرمائی ہے۔ رعب میرا میرے آگے آگے کر دیا ہے۔ مجھے حوض کوثر عطا فرمایا ہے جو قیامت کے دن تمام اور حوضوں سے بڑا ہوگا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے مقام محمود کا وعدہ دیا ہے۔ اس وقت جب کہ سب لوگ حیران و پریشان سر جھکائے ہوئے ہوں گے، مجھے اللہ نے اس پہلے گروہ میں چنا ہے جو لوگوں سے نکلے گا۔ میری شفاعت سے میری امت کے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ مجھے غلبہ اور سلطنت عطا فرمائی ہے۔ مجھے جنت نعیم کا وہ بلند و بالا اعلیٰ بالاخانہ ملے گا کہ اس سے اعلیٰ منزل کسی کی نہ ہوگی۔ میرے اوپر صرف وہ فرشتے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ میرے اور میری امت کے لیے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لیے حلال نہ تھے ۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف]
صفحہ نمبر5378
الأنبياء 21:6
باب
ان بدکرداروں کے جواب میں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ” یہ جو بہتان باندھتے ہیں ان سے کہئے کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تمام باتیں جانتا ہے جس پر کوئی بات پوشیدہ نہیں، اس نے اس پاک کلام قرآن کریم کو نازل فرمایا۔ اس میں اگلی پچھلی تمام خبروں کا موجود ہونا ہی دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا اتارنے والا عالم الغیب ہے۔ وہ تمہاری سب باتوں کا سننے والا اور تمہارے تمام حالات کا علم رکھنے والا ہے۔ پس تمہیں اس کا ڈر رکھنا چاہیئے “۔
پھر کفار کی ضد، ناسمجھی اور کٹ حجتی بیان فرما رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خود حیران ہیں۔ کسی بات پر جم نہیں سکتے۔ کبھی کلام اللہ کو جادو کہتے ہیں تو کبھی شاعری کہتے ہیں۔ کبھی پراگندہ اور بے معنی باتیں کہتے ہیں اور کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ازخود گھڑلیا ہوا بتاتے ہیں۔
اور آیت میں ہے «انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا» [17-الإسراء:48 و 25-الفرقان:9] ” دیکھیں تو سہی، آپ کے لیے کیا کیا مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وه بہک رہے ہیں۔ اب تو راه پانا ان کے بس میں نہیں رہا “۔
خیال کرو کہ اپنے کسی قول پر بھروسہ نہ رکھنے والا، جو زبان پر چڑھے بک دینے و الا بھی مستقل مزاج کہلانے کامستحق ہے؟ کبھی کہتے تھے، اچھا اگر یہ سچا نبی ہے تو صالح علیہ السلام کی طرح کوئی اونٹنی لے آتا یا موسیٰ علیہ السلام کی طرح کا کوئی معجزہ دکھاتا یا عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی معجزہ ظاہر کرتا۔ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا» [17-الاسراء:59] ” بیشک اللہ ان چیزوں پر قادر تو ضرور ہے لیکن اگر ظاہر ہوئیں اور پھر بھی یہ اپنے کفر سے نہ ہٹے تو عادت الٰہی کے تحت عذاب الٰہی میں پکڑ لیے جائیں گے اور پیس دئیے جائیں گے۔ عموماً اگلے لوگوں نے یہی کہا اور ایمان نصیب نہ ہوا اور غارت کر دئیے گئے۔ اسی طرح یہ بھی ایسے معجزے طلب کر رہے ہیں۔ اگر ظاہر ہوئے تو ایمان نہ لائیں گے اور تباہ ہوجائینگے “۔
جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-یونس:97-96] ” جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ گو تمام تر معجزے دیکھ لیں، ایمان قبول نہ کریں گے۔ ہاں عذاب الیم کے معائنہ کے بعد تو فوراً تسلیم کر لیں گے لیکن وہ محض بے سود ہے “۔ بات بھی یہی ہے کہ انہیں ایمان لانا ہی نہ تھا ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بےشمار معجزات روز مرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔
صفحہ نمبر5376
بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ معجزے دیگر انبیاء علیہم السلام سے بہت زیادہ ظاہر اور کھلے ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب روایت میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع مسجد میں تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کر رہے تھے۔ اتنے میں عبداللہ بن سلول منافق آیا۔ اپنی گدی بچھا کر اپنا تکیہ لگا کر وجاہت سے بیٹھ گیا۔ تھا بھی گورا چٹا، بڑھ بڑھ کر فصاحت کے ساتھ باتیں بنانے والا، کہنے لگا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نشان ہمیں دکھائیں جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیاء نشانات لائے تھے مثلا موسیٰ علیہ السلام تختیاں لائے، داؤد علیہ السلام زبور لائے، صالح علیہ السلام اونٹنی لائے، عیسیٰ علیہ السلام انجیل لائے اور آسمانی دستر خوان۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا یہ سن کر رونے لگے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو آپ رضی اللہ عنہ نے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاؤ، اور اس منافق کی فریاد دربار رسالت میں پہنچاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سنو میرے لیے کھڑے نہ ہوا کرو۔ صرف اللہ ہی کے لیے کھڑے ہوا کرو ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس منافق سے بڑی ایذاء پہنچی ہے۔
صفحہ نمبر5377
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے فرمایا کہ باہر جاؤ اور لوگوں کے سامنے اپنے ان فضائل کو ظاہر کرو اور ان نعمتوں کا بیان کرو جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں۔ میں ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنات کو بھی پیغام الٰہی پہنچا دوں۔ مجھے میرے رب نے اپنی پاک کتاب عنایت فرمائی ہے حالانکہ محض بے پڑھا ہوں۔ میرے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے ہیں۔ میرا نام اذان میں رکھا ہے۔ میری مدد فرشتوں سے کرائی ہے۔ مجھے اپنی امداد و نصرت عطا فرمائی ہے۔ رعب میرا میرے آگے آگے کر دیا ہے۔ مجھے حوض کوثر عطا فرمایا ہے جو قیامت کے دن تمام اور حوضوں سے بڑا ہوگا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے مقام محمود کا وعدہ دیا ہے۔ اس وقت جب کہ سب لوگ حیران و پریشان سر جھکائے ہوئے ہوں گے، مجھے اللہ نے اس پہلے گروہ میں چنا ہے جو لوگوں سے نکلے گا۔ میری شفاعت سے میری امت کے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ مجھے غلبہ اور سلطنت عطا فرمائی ہے۔ مجھے جنت نعیم کا وہ بلند و بالا اعلیٰ بالاخانہ ملے گا کہ اس سے اعلیٰ منزل کسی کی نہ ہوگی۔ میرے اوپر صرف وہ فرشتے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ میرے اور میری امت کے لیے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لیے حلال نہ تھے ۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف]
صفحہ نمبر5378
الأنبياء 21:7
مشرکین مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے منکر تھے ٭٭
چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے۔ فرماتا ہے، ” تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے، ان میں ایک بھی فرشتہ نہ تھا “۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-یوسف:109] یعنی ” تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے اور ان کی طرف وحی نازل فرمائی، سب شہروں کے رہنے والے انسان ہی تھے “۔
اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» [46-الأحقاف:9] یعنی ” کہہ دے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا اور سب سے پہلا رسول تو ہوں ہی نہیں “۔
ان کافروں سے پہلے کے کفار نے بھی نبیوں کے نہ ماننے کا یہی حیلہ اٹھایا تھا جسے قرآن نے بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا تھا آیت «أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا» [64-التغابن:6] ” کیا ایک انسان ہمارا رہبر ہو گا؟ “
اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ” اچھا تم اہل علم سے (یعنی یہودیوں اور نصرانیوں سے) اور دوسرے گروہ سے پوچھ لو کہ ان کے پاس انسان ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یا فرشتے؟ “
یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ انسانوں کے پاس انہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کے پاس بیٹھ اٹھ سکیں، ان کی تعلیم حاصل کرسکیں اور ان کی باتیں سن سمجھ سکیں۔ کیا وہ اگلے پیغمبر سب کے سب ایسے جسم کے نہ تھے جو کھانے پینے کی حاجت نہ رکھتے ہوں۔ بلکہ وہ کھانے پینے کے محتاج تھے۔
صفحہ نمبر5381
جیسے فرمان ہے آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] یعنی ” تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے، وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں آمد و رفت بھی کرتے تھے “ یعنی وہ سب انسان تھے، انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے اور کام کاج، بیوپار، تجارت کے لیے بازاروں میں بھی آنا جانا رکھتے تھے۔ پس یہ بات ان کی پیغمبری کے منافی نہیں۔
جیسے مشرکین کا قول تھا آیت «وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» [25-الفرقان:7، 8] ، یعنی ” یہ رسول کیسا ہے؟ جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے۔ اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ اس کے دین کی تبلیغ کرتا۔ اچھا یہ نہیں تو اسے کسی خزانے کا مالک کیوں نہیں کر دیا جاتا یا اسے کوئی باغ ہی دے دیا جاتا جس سے یہ با فراغت کھا پی تو لیتا “، الخ۔
اسی طرح اگلے پیغمبر بھی دنیا میں نہ رہے، آئے اور گئے جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ» [21-الأنبياء:34] یعنی ” تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کو دوام نہیں بخشا۔ ان کے پاس البتہ وحی الٰہی آتی رہی۔ فرشتہ اللہ کے حکم احکام پہنچا دیا کرتا تھا۔ پھر رب کا جو وعدہ ان سے تھا، وہ سچا ہو کر رہا “ یعنی ان کے مخالفین بوجہ اپنے ظلم کے تباہ ہو گئے۔ اور پیغمبر علیہم السلام نجات پاگئے ان کے تابعدار بھی کامیاب ہوئے۔ اور حد سے گزر جانے والوں کو یعنی نبیوں کے جھٹلانے والوں کو اللہ نے ہلاک کر دیا۔
صفحہ نمبر5382
الأنبياء 21:8
مشرکین مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے منکر تھے ٭٭
چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے۔ فرماتا ہے، ” تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے، ان میں ایک بھی فرشتہ نہ تھا “۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-یوسف:109] یعنی ” تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے اور ان کی طرف وحی نازل فرمائی، سب شہروں کے رہنے والے انسان ہی تھے “۔
اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» [46-الأحقاف:9] یعنی ” کہہ دے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا اور سب سے پہلا رسول تو ہوں ہی نہیں “۔
ان کافروں سے پہلے کے کفار نے بھی نبیوں کے نہ ماننے کا یہی حیلہ اٹھایا تھا جسے قرآن نے بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا تھا آیت «أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا» [64-التغابن:6] ” کیا ایک انسان ہمارا رہبر ہو گا؟ “
اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ” اچھا تم اہل علم سے (یعنی یہودیوں اور نصرانیوں سے) اور دوسرے گروہ سے پوچھ لو کہ ان کے پاس انسان ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یا فرشتے؟ “
یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ انسانوں کے پاس انہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کے پاس بیٹھ اٹھ سکیں، ان کی تعلیم حاصل کرسکیں اور ان کی باتیں سن سمجھ سکیں۔ کیا وہ اگلے پیغمبر سب کے سب ایسے جسم کے نہ تھے جو کھانے پینے کی حاجت نہ رکھتے ہوں۔ بلکہ وہ کھانے پینے کے محتاج تھے۔
صفحہ نمبر5381
جیسے فرمان ہے آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] یعنی ” تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے، وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں آمد و رفت بھی کرتے تھے “ یعنی وہ سب انسان تھے، انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے اور کام کاج، بیوپار، تجارت کے لیے بازاروں میں بھی آنا جانا رکھتے تھے۔ پس یہ بات ان کی پیغمبری کے منافی نہیں۔
جیسے مشرکین کا قول تھا آیت «وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» [25-الفرقان:7، 8] ، یعنی ” یہ رسول کیسا ہے؟ جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے۔ اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ اس کے دین کی تبلیغ کرتا۔ اچھا یہ نہیں تو اسے کسی خزانے کا مالک کیوں نہیں کر دیا جاتا یا اسے کوئی باغ ہی دے دیا جاتا جس سے یہ با فراغت کھا پی تو لیتا “، الخ۔
اسی طرح اگلے پیغمبر بھی دنیا میں نہ رہے، آئے اور گئے جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ» [21-الأنبياء:34] یعنی ” تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کو دوام نہیں بخشا۔ ان کے پاس البتہ وحی الٰہی آتی رہی۔ فرشتہ اللہ کے حکم احکام پہنچا دیا کرتا تھا۔ پھر رب کا جو وعدہ ان سے تھا، وہ سچا ہو کر رہا “ یعنی ان کے مخالفین بوجہ اپنے ظلم کے تباہ ہو گئے۔ اور پیغمبر علیہم السلام نجات پاگئے ان کے تابعدار بھی کامیاب ہوئے۔ اور حد سے گزر جانے والوں کو یعنی نبیوں کے جھٹلانے والوں کو اللہ نے ہلاک کر دیا۔
صفحہ نمبر5382
الأنبياء 21:9
مشرکین مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے منکر تھے ٭٭
چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے۔ فرماتا ہے، ” تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے، ان میں ایک بھی فرشتہ نہ تھا “۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-یوسف:109] یعنی ” تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے اور ان کی طرف وحی نازل فرمائی، سب شہروں کے رہنے والے انسان ہی تھے “۔
اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» [46-الأحقاف:9] یعنی ” کہہ دے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا اور سب سے پہلا رسول تو ہوں ہی نہیں “۔
ان کافروں سے پہلے کے کفار نے بھی نبیوں کے نہ ماننے کا یہی حیلہ اٹھایا تھا جسے قرآن نے بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا تھا آیت «أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا» [64-التغابن:6] ” کیا ایک انسان ہمارا رہبر ہو گا؟ “
اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ” اچھا تم اہل علم سے (یعنی یہودیوں اور نصرانیوں سے) اور دوسرے گروہ سے پوچھ لو کہ ان کے پاس انسان ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یا فرشتے؟ “
یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ انسانوں کے پاس انہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کے پاس بیٹھ اٹھ سکیں، ان کی تعلیم حاصل کرسکیں اور ان کی باتیں سن سمجھ سکیں۔ کیا وہ اگلے پیغمبر سب کے سب ایسے جسم کے نہ تھے جو کھانے پینے کی حاجت نہ رکھتے ہوں۔ بلکہ وہ کھانے پینے کے محتاج تھے۔
صفحہ نمبر5381
جیسے فرمان ہے آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] یعنی ” تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے، وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں آمد و رفت بھی کرتے تھے “ یعنی وہ سب انسان تھے، انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے اور کام کاج، بیوپار، تجارت کے لیے بازاروں میں بھی آنا جانا رکھتے تھے۔ پس یہ بات ان کی پیغمبری کے منافی نہیں۔
جیسے مشرکین کا قول تھا آیت «وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» [25-الفرقان:7، 8] ، یعنی ” یہ رسول کیسا ہے؟ جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے۔ اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ اس کے دین کی تبلیغ کرتا۔ اچھا یہ نہیں تو اسے کسی خزانے کا مالک کیوں نہیں کر دیا جاتا یا اسے کوئی باغ ہی دے دیا جاتا جس سے یہ با فراغت کھا پی تو لیتا “، الخ۔
اسی طرح اگلے پیغمبر بھی دنیا میں نہ رہے، آئے اور گئے جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ» [21-الأنبياء:34] یعنی ” تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کو دوام نہیں بخشا۔ ان کے پاس البتہ وحی الٰہی آتی رہی۔ فرشتہ اللہ کے حکم احکام پہنچا دیا کرتا تھا۔ پھر رب کا جو وعدہ ان سے تھا، وہ سچا ہو کر رہا “ یعنی ان کے مخالفین بوجہ اپنے ظلم کے تباہ ہو گئے۔ اور پیغمبر علیہم السلام نجات پاگئے ان کے تابعدار بھی کامیاب ہوئے۔ اور حد سے گزر جانے والوں کو یعنی نبیوں کے جھٹلانے والوں کو اللہ نے ہلاک کر دیا۔
صفحہ نمبر5382
الأنبياء 21:10
قدر ناشناس لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ” ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:]
جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» [43-الزخرف:44] ” تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے “۔
صفحہ نمبر5385
پھر فرماتا ہے ” ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے “۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» [17-الإسراء:17] ” ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں “۔
اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» [22-الحج:45] ” کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی “۔
ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ” اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ “ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔
صفحہ نمبر5386
الأنبياء 21:11
قدر ناشناس لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ” ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:]
جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» [43-الزخرف:44] ” تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے “۔
صفحہ نمبر5385
پھر فرماتا ہے ” ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے “۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» [17-الإسراء:17] ” ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں “۔
اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» [22-الحج:45] ” کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی “۔
ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ” اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ “ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔
صفحہ نمبر5386
الأنبياء 21:12
قدر ناشناس لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ” ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:]
جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» [43-الزخرف:44] ” تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے “۔
صفحہ نمبر5385
پھر فرماتا ہے ” ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے “۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» [17-الإسراء:17] ” ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں “۔
اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» [22-الحج:45] ” کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی “۔
ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ” اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ “ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔
صفحہ نمبر5386
الأنبياء 21:13
قدر ناشناس لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ” ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:]
جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» [43-الزخرف:44] ” تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے “۔
صفحہ نمبر5385
پھر فرماتا ہے ” ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے “۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» [17-الإسراء:17] ” ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں “۔
اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» [22-الحج:45] ” کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی “۔
ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ” اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ “ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔
صفحہ نمبر5386
الأنبياء 21:14
قدر ناشناس لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ” ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:]
جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» [43-الزخرف:44] ” تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے “۔
صفحہ نمبر5385
پھر فرماتا ہے ” ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے “۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» [17-الإسراء:17] ” ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں “۔
اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» [22-الحج:45] ” کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی “۔
ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ” اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ “ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔
صفحہ نمبر5386
الأنبياء 21:15
قدر ناشناس لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ” ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:]
جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» [43-الزخرف:44] ” تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے “۔
صفحہ نمبر5385
پھر فرماتا ہے ” ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے “۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» [17-الإسراء:17] ” ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں “۔
اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» [22-الحج:45] ” کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی “۔
ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ” اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ “ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔
صفحہ نمبر5386
الأنبياء 21:16
آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں ٭٭
«وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» [53-النجم:31] ” آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے “۔ اس نے انہیں بے کار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔
اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» [38-ص:27] ” یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لیے جہنم کی آگ تیار ہے “۔
دوسری آیت [21-الأنبياء:17] کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ” اگر ہم کھیل تماشا ہی چاہتے تو اسے بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ ہیں کہ ” اگر ہم عورت کرنا چاہتے “۔ «اللَّهْوُ» کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/18:] یعنی یہ دونوں معنی ہیں، ” ہم اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے، کسی کو بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ” اگر ہم اولاد چاہتے “۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» [39-الزمر:4] ، یعنی ” اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو اپنی مخلوق میں سے کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے “۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔
پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر علیہم السلام۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ «سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا» [17-الاسراء:43] ان عیسائیوں، یہودیوں اور کفار مکہ کی ان لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔
آیت «إِن كُنَّا فَاعِلِينَ» میں «إِن» کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ” ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:421/18:] بلکہ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لیے ہی ہے۔“ [الدر المنشور للسیوطی:620/5:]
صفحہ نمبر5392
فرشتوں کا تذکرہ ٭٭
” ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہو جاتا ہے اور فوراً ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی اسی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لیے جو لوگ اولادیں ٹھہرا رہے ہیں، ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لیے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے “۔
پھر ارشاد فرماتا ہے کہ ” جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو، ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو۔ آسمان و زمین کی ہرچیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں “۔
«لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّـهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا» [4-النساء:172] ” نہ مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آ رہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہو گا اور اپنا کیا بھرے گا “۔
یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں، اس کی عبادت میں، اس کی تسبیح و اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ «لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ» [66-التحریم:6] ” اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں “۔
صفحہ نمبر5393
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں تھے کہ فرمایا: لوگو! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو؟ سب نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہیئے، اس لیے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060،]
عبداللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں، میں کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا، میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا، اللہ کا پیغام لے کر جانا، عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہوکر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ بچہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب میں سے ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا، ”پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لیے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے، بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/17:]
صفحہ نمبر5394
الأنبياء 21:17
آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں ٭٭
«وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» [53-النجم:31] ” آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے “۔ اس نے انہیں بے کار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔
اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» [38-ص:27] ” یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لیے جہنم کی آگ تیار ہے “۔
دوسری آیت [21-الأنبياء:17] کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ” اگر ہم کھیل تماشا ہی چاہتے تو اسے بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ ہیں کہ ” اگر ہم عورت کرنا چاہتے “۔ «اللَّهْوُ» کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/18:] یعنی یہ دونوں معنی ہیں، ” ہم اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے، کسی کو بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ” اگر ہم اولاد چاہتے “۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» [39-الزمر:4] ، یعنی ” اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو اپنی مخلوق میں سے کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے “۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔
پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر علیہم السلام۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ «سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا» [17-الاسراء:43] ان عیسائیوں، یہودیوں اور کفار مکہ کی ان لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔
آیت «إِن كُنَّا فَاعِلِينَ» میں «إِن» کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ” ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:421/18:] بلکہ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لیے ہی ہے۔“ [الدر المنشور للسیوطی:620/5:]
صفحہ نمبر5392
فرشتوں کا تذکرہ ٭٭
” ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہو جاتا ہے اور فوراً ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی اسی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لیے جو لوگ اولادیں ٹھہرا رہے ہیں، ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لیے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے “۔
پھر ارشاد فرماتا ہے کہ ” جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو، ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو۔ آسمان و زمین کی ہرچیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں “۔
«لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّـهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا» [4-النساء:172] ” نہ مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آ رہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہو گا اور اپنا کیا بھرے گا “۔
یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں، اس کی عبادت میں، اس کی تسبیح و اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ «لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ» [66-التحریم:6] ” اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں “۔
صفحہ نمبر5393
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں تھے کہ فرمایا: لوگو! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو؟ سب نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہیئے، اس لیے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060،]
عبداللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں، میں کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا، میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا، اللہ کا پیغام لے کر جانا، عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہوکر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ بچہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب میں سے ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا، ”پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لیے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے، بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/17:]
صفحہ نمبر5394
الأنبياء 21:18
آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں ٭٭
«وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» [53-النجم:31] ” آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے “۔ اس نے انہیں بے کار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔
اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» [38-ص:27] ” یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لیے جہنم کی آگ تیار ہے “۔
دوسری آیت [21-الأنبياء:17] کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ” اگر ہم کھیل تماشا ہی چاہتے تو اسے بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ ہیں کہ ” اگر ہم عورت کرنا چاہتے “۔ «اللَّهْوُ» کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/18:] یعنی یہ دونوں معنی ہیں، ” ہم اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے، کسی کو بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ” اگر ہم اولاد چاہتے “۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» [39-الزمر:4] ، یعنی ” اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو اپنی مخلوق میں سے کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے “۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔
پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر علیہم السلام۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ «سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا» [17-الاسراء:43] ان عیسائیوں، یہودیوں اور کفار مکہ کی ان لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔
آیت «إِن كُنَّا فَاعِلِينَ» میں «إِن» کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ” ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:421/18:] بلکہ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لیے ہی ہے۔“ [الدر المنشور للسیوطی:620/5:]
صفحہ نمبر5392
فرشتوں کا تذکرہ ٭٭
” ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہو جاتا ہے اور فوراً ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی اسی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لیے جو لوگ اولادیں ٹھہرا رہے ہیں، ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لیے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے “۔
پھر ارشاد فرماتا ہے کہ ” جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو، ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو۔ آسمان و زمین کی ہرچیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں “۔
«لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّـهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا» [4-النساء:172] ” نہ مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آ رہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہو گا اور اپنا کیا بھرے گا “۔
یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں، اس کی عبادت میں، اس کی تسبیح و اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ «لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ» [66-التحریم:6] ” اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں “۔
صفحہ نمبر5393
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں تھے کہ فرمایا: لوگو! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو؟ سب نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہیئے، اس لیے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060،]
عبداللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں، میں کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا، میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا، اللہ کا پیغام لے کر جانا، عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہوکر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ بچہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب میں سے ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا، ”پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لیے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے، بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/17:]
صفحہ نمبر5394
الأنبياء 21:19
آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں ٭٭
«وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» [53-النجم:31] ” آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے “۔ اس نے انہیں بے کار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔
اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» [38-ص:27] ” یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لیے جہنم کی آگ تیار ہے “۔
دوسری آیت [21-الأنبياء:17] کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ” اگر ہم کھیل تماشا ہی چاہتے تو اسے بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ ہیں کہ ” اگر ہم عورت کرنا چاہتے “۔ «اللَّهْوُ» کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/18:] یعنی یہ دونوں معنی ہیں، ” ہم اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے، کسی کو بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ” اگر ہم اولاد چاہتے “۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» [39-الزمر:4] ، یعنی ” اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو اپنی مخلوق میں سے کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے “۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔
پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر علیہم السلام۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ «سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا» [17-الاسراء:43] ان عیسائیوں، یہودیوں اور کفار مکہ کی ان لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔
آیت «إِن كُنَّا فَاعِلِينَ» میں «إِن» کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ” ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:421/18:] بلکہ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لیے ہی ہے۔“ [الدر المنشور للسیوطی:620/5:]
صفحہ نمبر5392
فرشتوں کا تذکرہ ٭٭
” ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہو جاتا ہے اور فوراً ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی اسی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لیے جو لوگ اولادیں ٹھہرا رہے ہیں، ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لیے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے “۔
پھر ارشاد فرماتا ہے کہ ” جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو، ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو۔ آسمان و زمین کی ہرچیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں “۔
«لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّـهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا» [4-النساء:172] ” نہ مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آ رہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہو گا اور اپنا کیا بھرے گا “۔
یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں، اس کی عبادت میں، اس کی تسبیح و اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ «لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ» [66-التحریم:6] ” اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں “۔
صفحہ نمبر5393
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں تھے کہ فرمایا: لوگو! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو؟ سب نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہیئے، اس لیے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060،]
عبداللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں، میں کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا، میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا، اللہ کا پیغام لے کر جانا، عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہوکر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ بچہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب میں سے ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا، ”پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لیے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے، بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/17:]
صفحہ نمبر5394
الأنبياء 21:20
آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں ٭٭
«وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» [53-النجم:31] ” آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے “۔ اس نے انہیں بے کار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔
اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» [38-ص:27] ” یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لیے جہنم کی آگ تیار ہے “۔
دوسری آیت [21-الأنبياء:17] کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ” اگر ہم کھیل تماشا ہی چاہتے تو اسے بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ ہیں کہ ” اگر ہم عورت کرنا چاہتے “۔ «اللَّهْوُ» کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/18:] یعنی یہ دونوں معنی ہیں، ” ہم اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے، کسی کو بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ” اگر ہم اولاد چاہتے “۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» [39-الزمر:4] ، یعنی ” اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو اپنی مخلوق میں سے کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے “۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔
پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر علیہم السلام۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ «سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا» [17-الاسراء:43] ان عیسائیوں، یہودیوں اور کفار مکہ کی ان لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔
آیت «إِن كُنَّا فَاعِلِينَ» میں «إِن» کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ” ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:421/18:] بلکہ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لیے ہی ہے۔“ [الدر المنشور للسیوطی:620/5:]
صفحہ نمبر5392
فرشتوں کا تذکرہ ٭٭
” ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہو جاتا ہے اور فوراً ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی اسی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لیے جو لوگ اولادیں ٹھہرا رہے ہیں، ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لیے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے “۔
پھر ارشاد فرماتا ہے کہ ” جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو، ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو۔ آسمان و زمین کی ہرچیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں “۔
«لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّـهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا» [4-النساء:172] ” نہ مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آ رہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہو گا اور اپنا کیا بھرے گا “۔
یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں، اس کی عبادت میں، اس کی تسبیح و اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ «لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ» [66-التحریم:6] ” اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں “۔
صفحہ نمبر5393
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں تھے کہ فرمایا: لوگو! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو؟ سب نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہیئے، اس لیے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060،]
عبداللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں، میں کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا، میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا، اللہ کا پیغام لے کر جانا، عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہوکر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ بچہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب میں سے ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا، ”پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لیے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے، بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/17:]
صفحہ نمبر5394
الأنبياء 21:21
سب تہمتوں سے بلند اللہ جل شانہ ٭٭
شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ ” جن جن کو تم اللہ کے سوا پوج رہے ہو، ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو مردوں کو جلا سکے۔ کسی میں یا سب میں مل کر بھی یہ قدرت نہیں، پھر انہیں اس قدرت والے کے برابر ماننا یا ان کی بھی عبادت کرنا کس قدر ناانصافی ہے؟ “
پھر فرماتا ہے ” سنو! اگر یہ مان لیا جائے کہ فی الواقع بہت سے الہٰ ہیں تو لازم آئے گا کہ زمین و آسمان تباہ و برباد ہو جائیں “۔
جیسے فرمان ہے آیت «مَا اتَّخَذَ اللَّـهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَـٰهٍ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَـٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ» [23-المؤمنون:91] ، ” اللہ کی اولاد نہیں، نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لیے پھرتا اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا، اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ اوصاف سے مبرا اور منزہ ہے “۔
صفحہ نمبر5399
یہاں فرمایا، ” اللہ تعالیٰ مالک عرش ان کے کہے ہوئے ردی اوصاف سے (یعنی لڑکے لڑکیوں سے) پاک ہے “۔ اسی طرح شریک اور ساجھی سے، مثل اور ساتھی سے بھی بلند و بالا ہے۔ ان کی یہ سب تہمتیں ہیں جن سے اللہ کی ذات برتر ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ علی الاطلاق شہنشاہ حقیقی ہے، اس پر کوئی حاکم نہیں۔ سب اس کے غلبے اور قہر تلے ہیں۔ نہ تو اس کے حکم کا کوئی تعاقب کرسکے، نہ اس کے فرمان کو کوئی ٹال سکے۔ اس کی کبریائی اور عظمت و جلال اور حکومت، علم اور حکمت، لطف اور رحمت بے پایاں ہے۔ کسی کو اس کے آگے دم مارنے کی مجال نہیں۔ سب پست اور عاجز ہیں لاچار اور بے بس ہیں۔
کوئی نہیں جو چوں کرے، کوئی نہیں جو اس کے سامنے بول سکے، کوئی نہیں جسے چوں چرا کا اختیار ہو جو اس سے پوچھ سکے کہ یہ کام کیوں کیا؟ ایسا کیوں ہوا؟ وہ چونکہ تمام مخلوق کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، اسے اختیار ہے جس سے جو چاہے سوال کرے، ہر ایک کے اعمال کی وہ بازپرس کرے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [15-الحجر:92-93] ، ” تیرے رب کی قسم ہم ان سب سے سوال کریں گے ہر اس فعل سے جو انہوں نے کیا “۔ «وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ» [23-المؤمنون:88] ” وہی ہے کہ جو اس کی پناہ میں آگیا، سب شر سے بچ گیا اور کوئی نہیں جو اس کے مجرم کو پناہ دے سکے “۔
صفحہ نمبر5400
الأنبياء 21:22
سب تہمتوں سے بلند اللہ جل شانہ ٭٭
شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ ” جن جن کو تم اللہ کے سوا پوج رہے ہو، ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو مردوں کو جلا سکے۔ کسی میں یا سب میں مل کر بھی یہ قدرت نہیں، پھر انہیں اس قدرت والے کے برابر ماننا یا ان کی بھی عبادت کرنا کس قدر ناانصافی ہے؟ “
پھر فرماتا ہے ” سنو! اگر یہ مان لیا جائے کہ فی الواقع بہت سے الہٰ ہیں تو لازم آئے گا کہ زمین و آسمان تباہ و برباد ہو جائیں “۔
جیسے فرمان ہے آیت «مَا اتَّخَذَ اللَّـهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَـٰهٍ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَـٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ» [23-المؤمنون:91] ، ” اللہ کی اولاد نہیں، نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لیے پھرتا اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا، اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ اوصاف سے مبرا اور منزہ ہے “۔
صفحہ نمبر5399
یہاں فرمایا، ” اللہ تعالیٰ مالک عرش ان کے کہے ہوئے ردی اوصاف سے (یعنی لڑکے لڑکیوں سے) پاک ہے “۔ اسی طرح شریک اور ساجھی سے، مثل اور ساتھی سے بھی بلند و بالا ہے۔ ان کی یہ سب تہمتیں ہیں جن سے اللہ کی ذات برتر ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ علی الاطلاق شہنشاہ حقیقی ہے، اس پر کوئی حاکم نہیں۔ سب اس کے غلبے اور قہر تلے ہیں۔ نہ تو اس کے حکم کا کوئی تعاقب کرسکے، نہ اس کے فرمان کو کوئی ٹال سکے۔ اس کی کبریائی اور عظمت و جلال اور حکومت، علم اور حکمت، لطف اور رحمت بے پایاں ہے۔ کسی کو اس کے آگے دم مارنے کی مجال نہیں۔ سب پست اور عاجز ہیں لاچار اور بے بس ہیں۔
کوئی نہیں جو چوں کرے، کوئی نہیں جو اس کے سامنے بول سکے، کوئی نہیں جسے چوں چرا کا اختیار ہو جو اس سے پوچھ سکے کہ یہ کام کیوں کیا؟ ایسا کیوں ہوا؟ وہ چونکہ تمام مخلوق کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، اسے اختیار ہے جس سے جو چاہے سوال کرے، ہر ایک کے اعمال کی وہ بازپرس کرے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [15-الحجر:92-93] ، ” تیرے رب کی قسم ہم ان سب سے سوال کریں گے ہر اس فعل سے جو انہوں نے کیا “۔ «وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ» [23-المؤمنون:88] ” وہی ہے کہ جو اس کی پناہ میں آگیا، سب شر سے بچ گیا اور کوئی نہیں جو اس کے مجرم کو پناہ دے سکے “۔
صفحہ نمبر5400
الأنبياء 21:23
سب تہمتوں سے بلند اللہ جل شانہ ٭٭
شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ ” جن جن کو تم اللہ کے سوا پوج رہے ہو، ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو مردوں کو جلا سکے۔ کسی میں یا سب میں مل کر بھی یہ قدرت نہیں، پھر انہیں اس قدرت والے کے برابر ماننا یا ان کی بھی عبادت کرنا کس قدر ناانصافی ہے؟ “
پھر فرماتا ہے ” سنو! اگر یہ مان لیا جائے کہ فی الواقع بہت سے الہٰ ہیں تو لازم آئے گا کہ زمین و آسمان تباہ و برباد ہو جائیں “۔
جیسے فرمان ہے آیت «مَا اتَّخَذَ اللَّـهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَـٰهٍ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَـٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ» [23-المؤمنون:91] ، ” اللہ کی اولاد نہیں، نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لیے پھرتا اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا، اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ اوصاف سے مبرا اور منزہ ہے “۔
صفحہ نمبر5399
یہاں فرمایا، ” اللہ تعالیٰ مالک عرش ان کے کہے ہوئے ردی اوصاف سے (یعنی لڑکے لڑکیوں سے) پاک ہے “۔ اسی طرح شریک اور ساجھی سے، مثل اور ساتھی سے بھی بلند و بالا ہے۔ ان کی یہ سب تہمتیں ہیں جن سے اللہ کی ذات برتر ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ علی الاطلاق شہنشاہ حقیقی ہے، اس پر کوئی حاکم نہیں۔ سب اس کے غلبے اور قہر تلے ہیں۔ نہ تو اس کے حکم کا کوئی تعاقب کرسکے، نہ اس کے فرمان کو کوئی ٹال سکے۔ اس کی کبریائی اور عظمت و جلال اور حکومت، علم اور حکمت، لطف اور رحمت بے پایاں ہے۔ کسی کو اس کے آگے دم مارنے کی مجال نہیں۔ سب پست اور عاجز ہیں لاچار اور بے بس ہیں۔
کوئی نہیں جو چوں کرے، کوئی نہیں جو اس کے سامنے بول سکے، کوئی نہیں جسے چوں چرا کا اختیار ہو جو اس سے پوچھ سکے کہ یہ کام کیوں کیا؟ ایسا کیوں ہوا؟ وہ چونکہ تمام مخلوق کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، اسے اختیار ہے جس سے جو چاہے سوال کرے، ہر ایک کے اعمال کی وہ بازپرس کرے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [15-الحجر:92-93] ، ” تیرے رب کی قسم ہم ان سب سے سوال کریں گے ہر اس فعل سے جو انہوں نے کیا “۔ «وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ» [23-المؤمنون:88] ” وہی ہے کہ جو اس کی پناہ میں آگیا، سب شر سے بچ گیا اور کوئی نہیں جو اس کے مجرم کو پناہ دے سکے “۔
صفحہ نمبر5400
الأنبياء 21:24
حق سے غافل مشرک ٭٭
ان لوگوں نے اللہ کے سوا جن جن کو معبود بنا رکھا ہے، ان کی عبادت پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ہم جس اللہ کی عبادت کر رہے ہیں، اس میں سچے ہیں۔ ہمارے ہاتھوں میں اعلیٰ تر دلیل کلام اللہ موجود ہے اور اس سے پہلے کی تمام الہامی کتابیں اسی کی دلیل میں باآواز بلند شہادت دیتی ہیں جو توحید کی موافقت میں اور کافروں کی خود پرستی کے خلاف میں ہیں۔ جو کتاب جس پیغمبر علیہ السلام پر اتری، اس میں یہ بیان موجود رہا کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں لیکن اکثر مشرک حق سے غافل ہیں اور اللہ کی باتوں سے منکر ہیں۔ تمام رسولوں کو توحید الٰہی کی ہی تلقین ہوتی رہی۔
فرمان ہے آیت «وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ» [43-الزخرف:45] ” تجھ سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں، تو خود پوچھ لے کہ ہم نے ان کے لیے اپنے سوا اور کوئی معبود مقرر کیا تھا کہ وہ اس کی عبادت کرتے ہوں؟ “
اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» [16-النحل:36] ” ہم نے ہر امت میں اپنا پیغمبر بھیجا جس نے لوگوں میں اعلان کیا کہ تم سب ایک اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو “۔
پس انبیاء کی شہادت بھی یہی ہے اور خود فطرت اللہ بھی اسی کی شاہد ہے۔ اور مشرکین کی کوئی دلیل نہیں۔ ان کی ساری حجتیں بے کار ہیں اور ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔
صفحہ نمبر5403
الأنبياء 21:25
حق سے غافل مشرک ٭٭
ان لوگوں نے اللہ کے سوا جن جن کو معبود بنا رکھا ہے، ان کی عبادت پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ہم جس اللہ کی عبادت کر رہے ہیں، اس میں سچے ہیں۔ ہمارے ہاتھوں میں اعلیٰ تر دلیل کلام اللہ موجود ہے اور اس سے پہلے کی تمام الہامی کتابیں اسی کی دلیل میں باآواز بلند شہادت دیتی ہیں جو توحید کی موافقت میں اور کافروں کی خود پرستی کے خلاف میں ہیں۔ جو کتاب جس پیغمبر علیہ السلام پر اتری، اس میں یہ بیان موجود رہا کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں لیکن اکثر مشرک حق سے غافل ہیں اور اللہ کی باتوں سے منکر ہیں۔ تمام رسولوں کو توحید الٰہی کی ہی تلقین ہوتی رہی۔
فرمان ہے آیت «وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ» [43-الزخرف:45] ” تجھ سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں، تو خود پوچھ لے کہ ہم نے ان کے لیے اپنے سوا اور کوئی معبود مقرر کیا تھا کہ وہ اس کی عبادت کرتے ہوں؟ “
اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» [16-النحل:36] ” ہم نے ہر امت میں اپنا پیغمبر بھیجا جس نے لوگوں میں اعلان کیا کہ تم سب ایک اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو “۔
پس انبیاء کی شہادت بھی یہی ہے اور خود فطرت اللہ بھی اسی کی شاہد ہے۔ اور مشرکین کی کوئی دلیل نہیں۔ ان کی ساری حجتیں بے کار ہیں اور ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔
صفحہ نمبر5403
الأنبياء 21:26
خشیت الٰہی ٭٭
کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ ” یہ بالکل غلط ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑی بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں۔ قولاً اور فعلاً ہروقت اطاعت الٰہی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے، دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ آگے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے، ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے لیے لب ہلا سکیں “۔
جیسے فرمان ہے آیت «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [2-البقرة:255] ” وہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش اس کے پاس لے جا سکے؟ “
اور آیت میں ہے «وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ» [34-سبأ:23] یعنی ” اس کے پاس کسی کی شفاعت اس کی اپنی اجازت کے بغیر چل نہیں سکتی “۔
اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فرشتے اور اللہ کے مقرب بندے کل کے کل خشیت الٰہی سے، ہیبت رب سے لرزاں و ترساں رہا کرتے ہیں۔ ” ان میں سے جو بھی خدائی کا دعویٰ کرے، ہم اسے جہنم واصل کردیں۔ ظالموں سے ہم ضرور انتقام لے لیا کرتے ہیں “۔ یہ بات بطور شرط ہے اور شرط کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کا وقوع بھی ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ خاص بندگان اللہ میں سے کوئی ایسا ناپاک دعویٰ کرے اور ایسی سخت سزا بھگتے۔
اسی طرح کی آیت «قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ» [43-الزخرف:81] اور «لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39-الزمر:65] ، ہے۔ پس نہ تو رحمن کی اولاد ہے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک ممکن۔
صفحہ نمبر5405
الأنبياء 21:27
خشیت الٰہی ٭٭
کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ ” یہ بالکل غلط ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑی بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں۔ قولاً اور فعلاً ہروقت اطاعت الٰہی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے، دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ آگے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے، ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے لیے لب ہلا سکیں “۔
جیسے فرمان ہے آیت «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [2-البقرة:255] ” وہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش اس کے پاس لے جا سکے؟ “
اور آیت میں ہے «وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ» [34-سبأ:23] یعنی ” اس کے پاس کسی کی شفاعت اس کی اپنی اجازت کے بغیر چل نہیں سکتی “۔
اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فرشتے اور اللہ کے مقرب بندے کل کے کل خشیت الٰہی سے، ہیبت رب سے لرزاں و ترساں رہا کرتے ہیں۔ ” ان میں سے جو بھی خدائی کا دعویٰ کرے، ہم اسے جہنم واصل کردیں۔ ظالموں سے ہم ضرور انتقام لے لیا کرتے ہیں “۔ یہ بات بطور شرط ہے اور شرط کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کا وقوع بھی ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ خاص بندگان اللہ میں سے کوئی ایسا ناپاک دعویٰ کرے اور ایسی سخت سزا بھگتے۔
اسی طرح کی آیت «قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ» [43-الزخرف:81] اور «لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39-الزمر:65] ، ہے۔ پس نہ تو رحمن کی اولاد ہے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک ممکن۔
صفحہ نمبر5405
الأنبياء 21:28
خشیت الٰہی ٭٭
کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ ” یہ بالکل غلط ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑی بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں۔ قولاً اور فعلاً ہروقت اطاعت الٰہی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے، دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ آگے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے، ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے لیے لب ہلا سکیں “۔
جیسے فرمان ہے آیت «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [2-البقرة:255] ” وہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش اس کے پاس لے جا سکے؟ “
اور آیت میں ہے «وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ» [34-سبأ:23] یعنی ” اس کے پاس کسی کی شفاعت اس کی اپنی اجازت کے بغیر چل نہیں سکتی “۔
اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فرشتے اور اللہ کے مقرب بندے کل کے کل خشیت الٰہی سے، ہیبت رب سے لرزاں و ترساں رہا کرتے ہیں۔ ” ان میں سے جو بھی خدائی کا دعویٰ کرے، ہم اسے جہنم واصل کردیں۔ ظالموں سے ہم ضرور انتقام لے لیا کرتے ہیں “۔ یہ بات بطور شرط ہے اور شرط کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کا وقوع بھی ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ خاص بندگان اللہ میں سے کوئی ایسا ناپاک دعویٰ کرے اور ایسی سخت سزا بھگتے۔
اسی طرح کی آیت «قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ» [43-الزخرف:81] اور «لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39-الزمر:65] ، ہے۔ پس نہ تو رحمن کی اولاد ہے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک ممکن۔
صفحہ نمبر5405
الأنبياء 21:29
خشیت الٰہی ٭٭
کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ ” یہ بالکل غلط ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑی بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں۔ قولاً اور فعلاً ہروقت اطاعت الٰہی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے، دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ آگے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے، ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے لیے لب ہلا سکیں “۔
جیسے فرمان ہے آیت «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [2-البقرة:255] ” وہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش اس کے پاس لے جا سکے؟ “
اور آیت میں ہے «وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ» [34-سبأ:23] یعنی ” اس کے پاس کسی کی شفاعت اس کی اپنی اجازت کے بغیر چل نہیں سکتی “۔
اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فرشتے اور اللہ کے مقرب بندے کل کے کل خشیت الٰہی سے، ہیبت رب سے لرزاں و ترساں رہا کرتے ہیں۔ ” ان میں سے جو بھی خدائی کا دعویٰ کرے، ہم اسے جہنم واصل کردیں۔ ظالموں سے ہم ضرور انتقام لے لیا کرتے ہیں “۔ یہ بات بطور شرط ہے اور شرط کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کا وقوع بھی ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ خاص بندگان اللہ میں سے کوئی ایسا ناپاک دعویٰ کرے اور ایسی سخت سزا بھگتے۔
اسی طرح کی آیت «قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ» [43-الزخرف:81] اور «لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39-الزمر:65] ، ہے۔ پس نہ تو رحمن کی اولاد ہے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک ممکن۔
صفحہ نمبر5405
الأنبياء 21:30
زبردست غالب ٭٭
اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ” جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں، کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور سب چیز کا نگہبان بھی وہی ہے، پھر اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت تم کیوں کرتے ہو؟ “
ابتداء میں زمین و آسمان ملے جلے ایک دوسرے سے پیوست تہ بہ تہ تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا۔ زمینوں کو نیچے، آسمانوں کو اوپر فاصلے سے اور حکمت سے قائم کیا۔ سات زمینیں پیدا کیں اور سات ہی آسمان بنائے۔ زمین اور پہلے آسمان کے درمیان جوف اور خلأ رکھا۔ آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے پیداوار اگائی۔ ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ کیا یہ تمام چیزیں جن میں سے ہر ایک صانع کی خود مختاری، قدرت اور وحدت پر دلالت کرتی ہے، اپنے سامنے موجود پاتے ہوئے بھی یہ لوگ اللہ کی عظمت کے قائل ہو کر شرک کو نہیں چھوڑتے؟ ؎ «فَفِيْ كُلِّ شَيِْئ لَّهُ ايَةٌ» «تَدُلُّ عَلٰي اَنَّهُ وَاحِدٌ» یعنی ہرچیز میں اللہ کی الوہیت اور اس کی وحدانیت کا نشان موجود ہے۔
صفحہ نمبر5409
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ پہلے رات تھی یا دن؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”پہلے زمین و آسمان ملے جلے تہ بہ تہ تھے تو ظاہر ہے کہ ان میں اندھیرا ہوگا اور اندھیرے کا نام ہی رات ہے تو ثابت ہوا کہ رات پہلے تھی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/18:]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”تم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کرو اور جو وہ جواب دیں، مجھ سے بھی کہو۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”زمین و آسمان سب ایک ساتھ تھے، نہ بارش برستی تھی نہ پیداوار اگتی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذی روح مخلوق پیدا کی تو آسمان کو پھاڑ کر اس میں سے پانی برسایا اور زمین کو چیر کر اس میں پیداوار اگائی۔“ جب سائل نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ جواب بیان کیا تو آپ رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے، ”آج مجھے اور بھی یقین ہو گیا کہ قرآن کے علم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ بہت ہی بڑھے ہوئے ہیں۔ میرے جی میں کبھی خیال آتا تھا کہ ایسا تو نہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی جرأت بڑھ گئی ہو؟ لیکن آج وہ وسوسہ دل سے جاتا رہا۔“ آسمان کو پھاڑ کر سات آسمان بنائے۔ زمین کے مجموعے کو چیر کر سات زمینیں بنائیں۔
صفحہ نمبر5410
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر میں یہ بھی ہے کہ یہ ملے ہوئے تھے یعنی پہلے ساتوں آسمان ایک ساتھ تھے اور اسی طرح ساتوں زمینیں بھی ملی ہوئی تھیں پھر جدا جدا کر دی گئیں۔
سعید رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر ہے کہ یہ دونوں پہلے ایک ہی تھے پھر الگ الگ کر دیئے گئے۔ زمین و آسمان کے درمیان خلا رکھ دی گئی۔ پانی کو تمام جانداروں کی اصل بنا دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہوں میرا جی خوش ہو جاتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام چیزوں کی اصلیت سے خبردار کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ تمام چیزیں پانی سے پیدا کی گئی ہیں ۔ [مسند احمد:295/2:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ پھر میں نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو سلام کیا کرو اور کھانا کھلایا کرو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور رات کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تم تہجد کی نماز پڑھا کرو تاکہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ ۔ [مسند احمد:493/2:صحیح]
زمین کو جناب باری عزوجل نے پہاڑوں کی میخوں سے مضبوط کر دیا تاکہ وہ ہل جل کر لوگوں کو پریشان نہ کرے اور مخلوق کو زلزلے میں نہ ڈالے۔ زمین کی تین چوتھائیاں تو پانی میں ہیں اور صرف چوتھائی حصہ سورج اور ہوا کے لیے کھلا ہوا ہے۔ تاکہ لوگ آسمان کو اور اس کے عجائبات کو بچشم خود ملاحظہ کر سکیں۔ پھر زمین میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ سے راہیں بنا دیں کہ لوگ باآسانی اپنے سفر طے کر سکیں اور دور دراز ملکوں میں بھی پہنچ سکیں۔
صفحہ نمبر5411
شان الٰہی دیکھئیے اس حصے اور اس ٹکڑے کے درمیان بلند پہاڑی حائل ہے۔ یہاں سے وہاں پہنچنا بظاہر سخت دشوار معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الٰہی خود اس پہاڑ میں راستہ بنا دیتی ہے کہ یہاں کے لوگ وہاں اور وہاں کے یہاں پہنچ جائیں اور اپنے کام کاج پورے کر لیں۔ آسمان کو زمین پر مثل قبے کے بنا دیا۔
جیسے فرمان ہے کہ «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ» [51-الذاريات:47] ” ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم وسعت اور کشادگی والے ہیں “۔
فرماتا ہے «وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا» [91-الشمس:5] ” قسم آسمان کی اور اس کی بناوٹ کی “۔
ارشاد ہے، «أَفَلَمْ يَنظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ» [50-ق:6] ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے سروں پر آسمان کو کس کیفیت کا بنایا ہے اور کس طرح زینت دے رکھی ہے اور لطف یہ ہے کہ اتنے بڑے آسمان میں کوئی سوراخ تک نہیں “۔
«بنا» کہتے ہیں، قبے یا خیمے کے کھڑا کرنے کو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «بُنِىَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ» اسلام کی بنائیں پانچ ہیں جیسے پانچ ستون پر کوئی قبہ یا خیمہ کھڑا ہوا ہو ۔ [صحیح بخاری:8]
پھر آسمان جو مثل چھت کے ہے، یہ ہے بھی محفوظ اور بلند پہرے چوکی والا کہ کہیں سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ بلندو بالا، اونچا اور صاف ہے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یہ آسمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رکی ہوئی موج ہے ۔ [ابو الشيخ فى العظمة:541] یہ روایت سنداً غریب ہے۔
صفحہ نمبر5412
لیکن لوگ اللہ پاک کی ان زبردست نشانیوں سے بھی بے پرواہ ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَكَأَيِّن مِّنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ» [12-یوسف:105] ” آسمان و زمین کی بہت سی نشانیاں ہیں جو لوگوں کی نگاہوں تلے ہیں لیکن پھر بھی وہ ان سے منہ موڑے ہوئے ہیں “۔
کوئی غور و فکر ہی نہیں کرتے، کبھی نہیں سوچتے کہ کتنا پھیلا ہوا، کتنا بلند، کس قدر عظیم الشان یہ آسمان ہمارے سروں پر بغیر ستون کے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے۔ پھر اس میں کس خوبصورتی سے ستاروں کاجڑاؤ ہو رہا ہے۔ ان میں بھی کوئی ٹھہرا ہوا ہے، کوئی چلتا پھرتا ہے۔ پھر سورج کی چال مقرر ہے۔ اس کی موجودگی دن ہے اس کا نظر نہ آنا رات ہے۔ پورے آسمان کا چکر صرف ایک دن رات میں سورج پورا کر لیتا ہے۔ اس کی چال کو، اس کی تیزی کو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ یوں قیاس آرائیاں اور اندازے کرنا اور بات ہے۔ بنی اسرائیل کے عابدوں میں سے ایک نے اپنی تیس سال کی مدت عبادت پوری کرلی مگر جس طرح اور عابدوں پر تیس سال کی عبادت کے بعد ابر کا سایہ ہو جایا کرتا تھا، اس پر نہ ہوا تو اس نے اپنی والدہ سے یہ حال بیان کیا۔ اس نے کہا، بیٹے تم نے اپنی اس عبادت کے زمانے میں کوئی گناہ کر لیا ہوگا؟ اس نے کہا اماں ایک بھی نہیں۔ کہا پھر تم نے کسی گناہ کا پورا قصد کیا ہوگا؟ جواب دیا کہ ایسا بھی مطلقاً نہیں ہوا۔ ماں نے کہا، بہت ممکن ہے کہ تم نے آسمان کی طرف نظر کی ہو اور غور و تدبر کے بغیر ہی ہٹالی ہو۔ عابد نے جواب دیا ایسا تو برابر ہوتا رہا، فرمایا بس یہی سبب ہے۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کی بعض نشانیاں بیان فرماتا ہے کہ ” رات اور اس کے اندھیرے کو دیکھو، دن اور اس کی روشنی پر نظر ڈالو، پھر ایک کے بعد دوسرے کا بڑھنا دیکھو، سورج چاند کو دیکھو۔ سورج کا نور ایک مخصوص نور ہے اور اس کا آسمان، اس کا زمانہ، اس کی حرکت، اس کی چال علیحدہ ہے۔ چاند کا نور الگ ہے، فلک الگ ہے، چال الگ ہے، انداز اور ہے “۔
«وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ” ہر ایک اپنے اپنے فلک میں گویا تیرتا پھرتا ہے اور حکم الٰہی کی بجا آوری میں مشغول ہے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/18:]
جیسے فرمان ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الأنعام:96] ” وہی صبح کاروشن کرنے والا ہے وہی رات کو پرسکون بنانے والا ہے۔ وہی سورج چاند کا انداز مقرر کرنے والا ہے۔ وہی ذی عزت، غلبے والا اور ذی علم علم والا ہے “۔
صفحہ نمبر5413
الأنبياء 21:31
زبردست غالب ٭٭
اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ” جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں، کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور سب چیز کا نگہبان بھی وہی ہے، پھر اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت تم کیوں کرتے ہو؟ “
ابتداء میں زمین و آسمان ملے جلے ایک دوسرے سے پیوست تہ بہ تہ تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا۔ زمینوں کو نیچے، آسمانوں کو اوپر فاصلے سے اور حکمت سے قائم کیا۔ سات زمینیں پیدا کیں اور سات ہی آسمان بنائے۔ زمین اور پہلے آسمان کے درمیان جوف اور خلأ رکھا۔ آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے پیداوار اگائی۔ ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ کیا یہ تمام چیزیں جن میں سے ہر ایک صانع کی خود مختاری، قدرت اور وحدت پر دلالت کرتی ہے، اپنے سامنے موجود پاتے ہوئے بھی یہ لوگ اللہ کی عظمت کے قائل ہو کر شرک کو نہیں چھوڑتے؟ ؎ «فَفِيْ كُلِّ شَيِْئ لَّهُ ايَةٌ» «تَدُلُّ عَلٰي اَنَّهُ وَاحِدٌ» یعنی ہرچیز میں اللہ کی الوہیت اور اس کی وحدانیت کا نشان موجود ہے۔
صفحہ نمبر5409
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ پہلے رات تھی یا دن؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”پہلے زمین و آسمان ملے جلے تہ بہ تہ تھے تو ظاہر ہے کہ ان میں اندھیرا ہوگا اور اندھیرے کا نام ہی رات ہے تو ثابت ہوا کہ رات پہلے تھی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/18:]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”تم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کرو اور جو وہ جواب دیں، مجھ سے بھی کہو۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”زمین و آسمان سب ایک ساتھ تھے، نہ بارش برستی تھی نہ پیداوار اگتی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذی روح مخلوق پیدا کی تو آسمان کو پھاڑ کر اس میں سے پانی برسایا اور زمین کو چیر کر اس میں پیداوار اگائی۔“ جب سائل نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ جواب بیان کیا تو آپ رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے، ”آج مجھے اور بھی یقین ہو گیا کہ قرآن کے علم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ بہت ہی بڑھے ہوئے ہیں۔ میرے جی میں کبھی خیال آتا تھا کہ ایسا تو نہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی جرأت بڑھ گئی ہو؟ لیکن آج وہ وسوسہ دل سے جاتا رہا۔“ آسمان کو پھاڑ کر سات آسمان بنائے۔ زمین کے مجموعے کو چیر کر سات زمینیں بنائیں۔
صفحہ نمبر5410
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر میں یہ بھی ہے کہ یہ ملے ہوئے تھے یعنی پہلے ساتوں آسمان ایک ساتھ تھے اور اسی طرح ساتوں زمینیں بھی ملی ہوئی تھیں پھر جدا جدا کر دی گئیں۔
سعید رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر ہے کہ یہ دونوں پہلے ایک ہی تھے پھر الگ الگ کر دیئے گئے۔ زمین و آسمان کے درمیان خلا رکھ دی گئی۔ پانی کو تمام جانداروں کی اصل بنا دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہوں میرا جی خوش ہو جاتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام چیزوں کی اصلیت سے خبردار کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ تمام چیزیں پانی سے پیدا کی گئی ہیں ۔ [مسند احمد:295/2:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ پھر میں نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو سلام کیا کرو اور کھانا کھلایا کرو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور رات کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تم تہجد کی نماز پڑھا کرو تاکہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ ۔ [مسند احمد:493/2:صحیح]
زمین کو جناب باری عزوجل نے پہاڑوں کی میخوں سے مضبوط کر دیا تاکہ وہ ہل جل کر لوگوں کو پریشان نہ کرے اور مخلوق کو زلزلے میں نہ ڈالے۔ زمین کی تین چوتھائیاں تو پانی میں ہیں اور صرف چوتھائی حصہ سورج اور ہوا کے لیے کھلا ہوا ہے۔ تاکہ لوگ آسمان کو اور اس کے عجائبات کو بچشم خود ملاحظہ کر سکیں۔ پھر زمین میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ سے راہیں بنا دیں کہ لوگ باآسانی اپنے سفر طے کر سکیں اور دور دراز ملکوں میں بھی پہنچ سکیں۔
صفحہ نمبر5411
شان الٰہی دیکھئیے اس حصے اور اس ٹکڑے کے درمیان بلند پہاڑی حائل ہے۔ یہاں سے وہاں پہنچنا بظاہر سخت دشوار معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الٰہی خود اس پہاڑ میں راستہ بنا دیتی ہے کہ یہاں کے لوگ وہاں اور وہاں کے یہاں پہنچ جائیں اور اپنے کام کاج پورے کر لیں۔ آسمان کو زمین پر مثل قبے کے بنا دیا۔
جیسے فرمان ہے کہ «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ» [51-الذاريات:47] ” ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم وسعت اور کشادگی والے ہیں “۔
فرماتا ہے «وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا» [91-الشمس:5] ” قسم آسمان کی اور اس کی بناوٹ کی “۔
ارشاد ہے، «أَفَلَمْ يَنظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ» [50-ق:6] ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے سروں پر آسمان کو کس کیفیت کا بنایا ہے اور کس طرح زینت دے رکھی ہے اور لطف یہ ہے کہ اتنے بڑے آسمان میں کوئی سوراخ تک نہیں “۔
«بنا» کہتے ہیں، قبے یا خیمے کے کھڑا کرنے کو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «بُنِىَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ» اسلام کی بنائیں پانچ ہیں جیسے پانچ ستون پر کوئی قبہ یا خیمہ کھڑا ہوا ہو ۔ [صحیح بخاری:8]
پھر آسمان جو مثل چھت کے ہے، یہ ہے بھی محفوظ اور بلند پہرے چوکی والا کہ کہیں سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ بلندو بالا، اونچا اور صاف ہے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یہ آسمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رکی ہوئی موج ہے ۔ [ابو الشيخ فى العظمة:541] یہ روایت سنداً غریب ہے۔
صفحہ نمبر5412
لیکن لوگ اللہ پاک کی ان زبردست نشانیوں سے بھی بے پرواہ ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَكَأَيِّن مِّنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ» [12-یوسف:105] ” آسمان و زمین کی بہت سی نشانیاں ہیں جو لوگوں کی نگاہوں تلے ہیں لیکن پھر بھی وہ ان سے منہ موڑے ہوئے ہیں “۔
کوئی غور و فکر ہی نہیں کرتے، کبھی نہیں سوچتے کہ کتنا پھیلا ہوا، کتنا بلند، کس قدر عظیم الشان یہ آسمان ہمارے سروں پر بغیر ستون کے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے۔ پھر اس میں کس خوبصورتی سے ستاروں کاجڑاؤ ہو رہا ہے۔ ان میں بھی کوئی ٹھہرا ہوا ہے، کوئی چلتا پھرتا ہے۔ پھر سورج کی چال مقرر ہے۔ اس کی موجودگی دن ہے اس کا نظر نہ آنا رات ہے۔ پورے آسمان کا چکر صرف ایک دن رات میں سورج پورا کر لیتا ہے۔ اس کی چال کو، اس کی تیزی کو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ یوں قیاس آرائیاں اور اندازے کرنا اور بات ہے۔ بنی اسرائیل کے عابدوں میں سے ایک نے اپنی تیس سال کی مدت عبادت پوری کرلی مگر جس طرح اور عابدوں پر تیس سال کی عبادت کے بعد ابر کا سایہ ہو جایا کرتا تھا، اس پر نہ ہوا تو اس نے اپنی والدہ سے یہ حال بیان کیا۔ اس نے کہا، بیٹے تم نے اپنی اس عبادت کے زمانے میں کوئی گناہ کر لیا ہوگا؟ اس نے کہا اماں ایک بھی نہیں۔ کہا پھر تم نے کسی گناہ کا پورا قصد کیا ہوگا؟ جواب دیا کہ ایسا بھی مطلقاً نہیں ہوا۔ ماں نے کہا، بہت ممکن ہے کہ تم نے آسمان کی طرف نظر کی ہو اور غور و تدبر کے بغیر ہی ہٹالی ہو۔ عابد نے جواب دیا ایسا تو برابر ہوتا رہا، فرمایا بس یہی سبب ہے۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کی بعض نشانیاں بیان فرماتا ہے کہ ” رات اور اس کے اندھیرے کو دیکھو، دن اور اس کی روشنی پر نظر ڈالو، پھر ایک کے بعد دوسرے کا بڑھنا دیکھو، سورج چاند کو دیکھو۔ سورج کا نور ایک مخصوص نور ہے اور اس کا آسمان، اس کا زمانہ، اس کی حرکت، اس کی چال علیحدہ ہے۔ چاند کا نور الگ ہے، فلک الگ ہے، چال الگ ہے، انداز اور ہے “۔
«وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ” ہر ایک اپنے اپنے فلک میں گویا تیرتا پھرتا ہے اور حکم الٰہی کی بجا آوری میں مشغول ہے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/18:]
جیسے فرمان ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الأنعام:96] ” وہی صبح کاروشن کرنے والا ہے وہی رات کو پرسکون بنانے والا ہے۔ وہی سورج چاند کا انداز مقرر کرنے والا ہے۔ وہی ذی عزت، غلبے والا اور ذی علم علم والا ہے “۔
صفحہ نمبر5413
الأنبياء 21:32
زبردست غالب ٭٭
اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ” جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں، کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور سب چیز کا نگہبان بھی وہی ہے، پھر اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت تم کیوں کرتے ہو؟ “
ابتداء میں زمین و آسمان ملے جلے ایک دوسرے سے پیوست تہ بہ تہ تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا۔ زمینوں کو نیچے، آسمانوں کو اوپر فاصلے سے اور حکمت سے قائم کیا۔ سات زمینیں پیدا کیں اور سات ہی آسمان بنائے۔ زمین اور پہلے آسمان کے درمیان جوف اور خلأ رکھا۔ آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے پیداوار اگائی۔ ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ کیا یہ تمام چیزیں جن میں سے ہر ایک صانع کی خود مختاری، قدرت اور وحدت پر دلالت کرتی ہے، اپنے سامنے موجود پاتے ہوئے بھی یہ لوگ اللہ کی عظمت کے قائل ہو کر شرک کو نہیں چھوڑتے؟ ؎ «فَفِيْ كُلِّ شَيِْئ لَّهُ ايَةٌ» «تَدُلُّ عَلٰي اَنَّهُ وَاحِدٌ» یعنی ہرچیز میں اللہ کی الوہیت اور اس کی وحدانیت کا نشان موجود ہے۔
صفحہ نمبر5409
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ پہلے رات تھی یا دن؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”پہلے زمین و آسمان ملے جلے تہ بہ تہ تھے تو ظاہر ہے کہ ان میں اندھیرا ہوگا اور اندھیرے کا نام ہی رات ہے تو ثابت ہوا کہ رات پہلے تھی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/18:]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”تم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کرو اور جو وہ جواب دیں، مجھ سے بھی کہو۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”زمین و آسمان سب ایک ساتھ تھے، نہ بارش برستی تھی نہ پیداوار اگتی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذی روح مخلوق پیدا کی تو آسمان کو پھاڑ کر اس میں سے پانی برسایا اور زمین کو چیر کر اس میں پیداوار اگائی۔“ جب سائل نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ جواب بیان کیا تو آپ رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے، ”آج مجھے اور بھی یقین ہو گیا کہ قرآن کے علم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ بہت ہی بڑھے ہوئے ہیں۔ میرے جی میں کبھی خیال آتا تھا کہ ایسا تو نہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی جرأت بڑھ گئی ہو؟ لیکن آج وہ وسوسہ دل سے جاتا رہا۔“ آسمان کو پھاڑ کر سات آسمان بنائے۔ زمین کے مجموعے کو چیر کر سات زمینیں بنائیں۔
صفحہ نمبر5410
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر میں یہ بھی ہے کہ یہ ملے ہوئے تھے یعنی پہلے ساتوں آسمان ایک ساتھ تھے اور اسی طرح ساتوں زمینیں بھی ملی ہوئی تھیں پھر جدا جدا کر دی گئیں۔
سعید رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر ہے کہ یہ دونوں پہلے ایک ہی تھے پھر الگ الگ کر دیئے گئے۔ زمین و آسمان کے درمیان خلا رکھ دی گئی۔ پانی کو تمام جانداروں کی اصل بنا دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہوں میرا جی خوش ہو جاتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام چیزوں کی اصلیت سے خبردار کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ تمام چیزیں پانی سے پیدا کی گئی ہیں ۔ [مسند احمد:295/2:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ پھر میں نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو سلام کیا کرو اور کھانا کھلایا کرو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور رات کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تم تہجد کی نماز پڑھا کرو تاکہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ ۔ [مسند احمد:493/2:صحیح]
زمین کو جناب باری عزوجل نے پہاڑوں کی میخوں سے مضبوط کر دیا تاکہ وہ ہل جل کر لوگوں کو پریشان نہ کرے اور مخلوق کو زلزلے میں نہ ڈالے۔ زمین کی تین چوتھائیاں تو پانی میں ہیں اور صرف چوتھائی حصہ سورج اور ہوا کے لیے کھلا ہوا ہے۔ تاکہ لوگ آسمان کو اور اس کے عجائبات کو بچشم خود ملاحظہ کر سکیں۔ پھر زمین میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ سے راہیں بنا دیں کہ لوگ باآسانی اپنے سفر طے کر سکیں اور دور دراز ملکوں میں بھی پہنچ سکیں۔
صفحہ نمبر5411
شان الٰہی دیکھئیے اس حصے اور اس ٹکڑے کے درمیان بلند پہاڑی حائل ہے۔ یہاں سے وہاں پہنچنا بظاہر سخت دشوار معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الٰہی خود اس پہاڑ میں راستہ بنا دیتی ہے کہ یہاں کے لوگ وہاں اور وہاں کے یہاں پہنچ جائیں اور اپنے کام کاج پورے کر لیں۔ آسمان کو زمین پر مثل قبے کے بنا دیا۔
جیسے فرمان ہے کہ «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ» [51-الذاريات:47] ” ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم وسعت اور کشادگی والے ہیں “۔
فرماتا ہے «وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا» [91-الشمس:5] ” قسم آسمان کی اور اس کی بناوٹ کی “۔
ارشاد ہے، «أَفَلَمْ يَنظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ» [50-ق:6] ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے سروں پر آسمان کو کس کیفیت کا بنایا ہے اور کس طرح زینت دے رکھی ہے اور لطف یہ ہے کہ اتنے بڑے آسمان میں کوئی سوراخ تک نہیں “۔
«بنا» کہتے ہیں، قبے یا خیمے کے کھڑا کرنے کو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «بُنِىَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ» اسلام کی بنائیں پانچ ہیں جیسے پانچ ستون پر کوئی قبہ یا خیمہ کھڑا ہوا ہو ۔ [صحیح بخاری:8]
پھر آسمان جو مثل چھت کے ہے، یہ ہے بھی محفوظ اور بلند پہرے چوکی والا کہ کہیں سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ بلندو بالا، اونچا اور صاف ہے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یہ آسمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رکی ہوئی موج ہے ۔ [ابو الشيخ فى العظمة:541] یہ روایت سنداً غریب ہے۔
صفحہ نمبر5412
لیکن لوگ اللہ پاک کی ان زبردست نشانیوں سے بھی بے پرواہ ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَكَأَيِّن مِّنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ» [12-یوسف:105] ” آسمان و زمین کی بہت سی نشانیاں ہیں جو لوگوں کی نگاہوں تلے ہیں لیکن پھر بھی وہ ان سے منہ موڑے ہوئے ہیں “۔
کوئی غور و فکر ہی نہیں کرتے، کبھی نہیں سوچتے کہ کتنا پھیلا ہوا، کتنا بلند، کس قدر عظیم الشان یہ آسمان ہمارے سروں پر بغیر ستون کے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے۔ پھر اس میں کس خوبصورتی سے ستاروں کاجڑاؤ ہو رہا ہے۔ ان میں بھی کوئی ٹھہرا ہوا ہے، کوئی چلتا پھرتا ہے۔ پھر سورج کی چال مقرر ہے۔ اس کی موجودگی دن ہے اس کا نظر نہ آنا رات ہے۔ پورے آسمان کا چکر صرف ایک دن رات میں سورج پورا کر لیتا ہے۔ اس کی چال کو، اس کی تیزی کو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ یوں قیاس آرائیاں اور اندازے کرنا اور بات ہے۔ بنی اسرائیل کے عابدوں میں سے ایک نے اپنی تیس سال کی مدت عبادت پوری کرلی مگر جس طرح اور عابدوں پر تیس سال کی عبادت کے بعد ابر کا سایہ ہو جایا کرتا تھا، اس پر نہ ہوا تو اس نے اپنی والدہ سے یہ حال بیان کیا۔ اس نے کہا، بیٹے تم نے اپنی اس عبادت کے زمانے میں کوئی گناہ کر لیا ہوگا؟ اس نے کہا اماں ایک بھی نہیں۔ کہا پھر تم نے کسی گناہ کا پورا قصد کیا ہوگا؟ جواب دیا کہ ایسا بھی مطلقاً نہیں ہوا۔ ماں نے کہا، بہت ممکن ہے کہ تم نے آسمان کی طرف نظر کی ہو اور غور و تدبر کے بغیر ہی ہٹالی ہو۔ عابد نے جواب دیا ایسا تو برابر ہوتا رہا، فرمایا بس یہی سبب ہے۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کی بعض نشانیاں بیان فرماتا ہے کہ ” رات اور اس کے اندھیرے کو دیکھو، دن اور اس کی روشنی پر نظر ڈالو، پھر ایک کے بعد دوسرے کا بڑھنا دیکھو، سورج چاند کو دیکھو۔ سورج کا نور ایک مخصوص نور ہے اور اس کا آسمان، اس کا زمانہ، اس کی حرکت، اس کی چال علیحدہ ہے۔ چاند کا نور الگ ہے، فلک الگ ہے، چال الگ ہے، انداز اور ہے “۔
«وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ” ہر ایک اپنے اپنے فلک میں گویا تیرتا پھرتا ہے اور حکم الٰہی کی بجا آوری میں مشغول ہے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/18:]
جیسے فرمان ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الأنعام:96] ” وہی صبح کاروشن کرنے والا ہے وہی رات کو پرسکون بنانے والا ہے۔ وہی سورج چاند کا انداز مقرر کرنے والا ہے۔ وہی ذی عزت، غلبے والا اور ذی علم علم والا ہے “۔
صفحہ نمبر5413
الأنبياء 21:33
زبردست غالب ٭٭
اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ” جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں، کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور سب چیز کا نگہبان بھی وہی ہے، پھر اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت تم کیوں کرتے ہو؟ “
ابتداء میں زمین و آسمان ملے جلے ایک دوسرے سے پیوست تہ بہ تہ تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا۔ زمینوں کو نیچے، آسمانوں کو اوپر فاصلے سے اور حکمت سے قائم کیا۔ سات زمینیں پیدا کیں اور سات ہی آسمان بنائے۔ زمین اور پہلے آسمان کے درمیان جوف اور خلأ رکھا۔ آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے پیداوار اگائی۔ ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ کیا یہ تمام چیزیں جن میں سے ہر ایک صانع کی خود مختاری، قدرت اور وحدت پر دلالت کرتی ہے، اپنے سامنے موجود پاتے ہوئے بھی یہ لوگ اللہ کی عظمت کے قائل ہو کر شرک کو نہیں چھوڑتے؟ ؎ «فَفِيْ كُلِّ شَيِْئ لَّهُ ايَةٌ» «تَدُلُّ عَلٰي اَنَّهُ وَاحِدٌ» یعنی ہرچیز میں اللہ کی الوہیت اور اس کی وحدانیت کا نشان موجود ہے۔
صفحہ نمبر5409
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ پہلے رات تھی یا دن؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”پہلے زمین و آسمان ملے جلے تہ بہ تہ تھے تو ظاہر ہے کہ ان میں اندھیرا ہوگا اور اندھیرے کا نام ہی رات ہے تو ثابت ہوا کہ رات پہلے تھی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/18:]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”تم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کرو اور جو وہ جواب دیں، مجھ سے بھی کہو۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”زمین و آسمان سب ایک ساتھ تھے، نہ بارش برستی تھی نہ پیداوار اگتی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذی روح مخلوق پیدا کی تو آسمان کو پھاڑ کر اس میں سے پانی برسایا اور زمین کو چیر کر اس میں پیداوار اگائی۔“ جب سائل نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ جواب بیان کیا تو آپ رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے، ”آج مجھے اور بھی یقین ہو گیا کہ قرآن کے علم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ بہت ہی بڑھے ہوئے ہیں۔ میرے جی میں کبھی خیال آتا تھا کہ ایسا تو نہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی جرأت بڑھ گئی ہو؟ لیکن آج وہ وسوسہ دل سے جاتا رہا۔“ آسمان کو پھاڑ کر سات آسمان بنائے۔ زمین کے مجموعے کو چیر کر سات زمینیں بنائیں۔
صفحہ نمبر5410
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر میں یہ بھی ہے کہ یہ ملے ہوئے تھے یعنی پہلے ساتوں آسمان ایک ساتھ تھے اور اسی طرح ساتوں زمینیں بھی ملی ہوئی تھیں پھر جدا جدا کر دی گئیں۔
سعید رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر ہے کہ یہ دونوں پہلے ایک ہی تھے پھر الگ الگ کر دیئے گئے۔ زمین و آسمان کے درمیان خلا رکھ دی گئی۔ پانی کو تمام جانداروں کی اصل بنا دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہوں میرا جی خوش ہو جاتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام چیزوں کی اصلیت سے خبردار کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ تمام چیزیں پانی سے پیدا کی گئی ہیں ۔ [مسند احمد:295/2:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ پھر میں نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو سلام کیا کرو اور کھانا کھلایا کرو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور رات کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تم تہجد کی نماز پڑھا کرو تاکہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ ۔ [مسند احمد:493/2:صحیح]
زمین کو جناب باری عزوجل نے پہاڑوں کی میخوں سے مضبوط کر دیا تاکہ وہ ہل جل کر لوگوں کو پریشان نہ کرے اور مخلوق کو زلزلے میں نہ ڈالے۔ زمین کی تین چوتھائیاں تو پانی میں ہیں اور صرف چوتھائی حصہ سورج اور ہوا کے لیے کھلا ہوا ہے۔ تاکہ لوگ آسمان کو اور اس کے عجائبات کو بچشم خود ملاحظہ کر سکیں۔ پھر زمین میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ سے راہیں بنا دیں کہ لوگ باآسانی اپنے سفر طے کر سکیں اور دور دراز ملکوں میں بھی پہنچ سکیں۔
صفحہ نمبر5411
شان الٰہی دیکھئیے اس حصے اور اس ٹکڑے کے درمیان بلند پہاڑی حائل ہے۔ یہاں سے وہاں پہنچنا بظاہر سخت دشوار معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الٰہی خود اس پہاڑ میں راستہ بنا دیتی ہے کہ یہاں کے لوگ وہاں اور وہاں کے یہاں پہنچ جائیں اور اپنے کام کاج پورے کر لیں۔ آسمان کو زمین پر مثل قبے کے بنا دیا۔
جیسے فرمان ہے کہ «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ» [51-الذاريات:47] ” ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم وسعت اور کشادگی والے ہیں “۔
فرماتا ہے «وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا» [91-الشمس:5] ” قسم آسمان کی اور اس کی بناوٹ کی “۔
ارشاد ہے، «أَفَلَمْ يَنظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ» [50-ق:6] ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے سروں پر آسمان کو کس کیفیت کا بنایا ہے اور کس طرح زینت دے رکھی ہے اور لطف یہ ہے کہ اتنے بڑے آسمان میں کوئی سوراخ تک نہیں “۔
«بنا» کہتے ہیں، قبے یا خیمے کے کھڑا کرنے کو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «بُنِىَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ» اسلام کی بنائیں پانچ ہیں جیسے پانچ ستون پر کوئی قبہ یا خیمہ کھڑا ہوا ہو ۔ [صحیح بخاری:8]
پھر آسمان جو مثل چھت کے ہے، یہ ہے بھی محفوظ اور بلند پہرے چوکی والا کہ کہیں سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ بلندو بالا، اونچا اور صاف ہے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یہ آسمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رکی ہوئی موج ہے ۔ [ابو الشيخ فى العظمة:541] یہ روایت سنداً غریب ہے۔
صفحہ نمبر5412
لیکن لوگ اللہ پاک کی ان زبردست نشانیوں سے بھی بے پرواہ ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَكَأَيِّن مِّنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ» [12-یوسف:105] ” آسمان و زمین کی بہت سی نشانیاں ہیں جو لوگوں کی نگاہوں تلے ہیں لیکن پھر بھی وہ ان سے منہ موڑے ہوئے ہیں “۔
کوئی غور و فکر ہی نہیں کرتے، کبھی نہیں سوچتے کہ کتنا پھیلا ہوا، کتنا بلند، کس قدر عظیم الشان یہ آسمان ہمارے سروں پر بغیر ستون کے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے۔ پھر اس میں کس خوبصورتی سے ستاروں کاجڑاؤ ہو رہا ہے۔ ان میں بھی کوئی ٹھہرا ہوا ہے، کوئی چلتا پھرتا ہے۔ پھر سورج کی چال مقرر ہے۔ اس کی موجودگی دن ہے اس کا نظر نہ آنا رات ہے۔ پورے آسمان کا چکر صرف ایک دن رات میں سورج پورا کر لیتا ہے۔ اس کی چال کو، اس کی تیزی کو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ یوں قیاس آرائیاں اور اندازے کرنا اور بات ہے۔ بنی اسرائیل کے عابدوں میں سے ایک نے اپنی تیس سال کی مدت عبادت پوری کرلی مگر جس طرح اور عابدوں پر تیس سال کی عبادت کے بعد ابر کا سایہ ہو جایا کرتا تھا، اس پر نہ ہوا تو اس نے اپنی والدہ سے یہ حال بیان کیا۔ اس نے کہا، بیٹے تم نے اپنی اس عبادت کے زمانے میں کوئی گناہ کر لیا ہوگا؟ اس نے کہا اماں ایک بھی نہیں۔ کہا پھر تم نے کسی گناہ کا پورا قصد کیا ہوگا؟ جواب دیا کہ ایسا بھی مطلقاً نہیں ہوا۔ ماں نے کہا، بہت ممکن ہے کہ تم نے آسمان کی طرف نظر کی ہو اور غور و تدبر کے بغیر ہی ہٹالی ہو۔ عابد نے جواب دیا ایسا تو برابر ہوتا رہا، فرمایا بس یہی سبب ہے۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کی بعض نشانیاں بیان فرماتا ہے کہ ” رات اور اس کے اندھیرے کو دیکھو، دن اور اس کی روشنی پر نظر ڈالو، پھر ایک کے بعد دوسرے کا بڑھنا دیکھو، سورج چاند کو دیکھو۔ سورج کا نور ایک مخصوص نور ہے اور اس کا آسمان، اس کا زمانہ، اس کی حرکت، اس کی چال علیحدہ ہے۔ چاند کا نور الگ ہے، فلک الگ ہے، چال الگ ہے، انداز اور ہے “۔
«وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ” ہر ایک اپنے اپنے فلک میں گویا تیرتا پھرتا ہے اور حکم الٰہی کی بجا آوری میں مشغول ہے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/18:]
جیسے فرمان ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الأنعام:96] ” وہی صبح کاروشن کرنے والا ہے وہی رات کو پرسکون بنانے والا ہے۔ وہی سورج چاند کا انداز مقرر کرنے والا ہے۔ وہی ذی عزت، غلبے والا اور ذی علم علم والا ہے “۔
صفحہ نمبر5413
الأنبياء 21:34
خضر علیہ السلام مر چکے ہیں ٭٭
جتنے لوگ ہوئے، سب کو ہی موت ایک روز ختم کرنے والی ہے۔ «كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» [55-الرحمن:26-27] ” تمام روئے زمین کے لوگ موت سے ملنے والے ہیں۔ ہاں رب کی جلال و اکرام والی ذات ہی ہمیشہ اور لازوال ہے “۔
اسی آیت سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ خضر علیہ السلام مرگئے۔ یہ غلط ہے کہ وہ اب تک زندہ ہوں کیونکہ وہ بھی انسان ہی تھے، ولی ہوں یا نبی ہوں یا رسول ہوں، تھے تو انسان ہی۔ ” ان کفار کی یہ آرزو کتنی ناپاک ہے کہ تم مرجاؤ؟ تو کیا یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں؟ “ ایسا تو محض ناممکن ہے، دنیا میں تو چل چلاؤ لگ رہا ہے۔ کسی کو بجز ذات باری کے دوام نہیں۔ کوئی آگے ہے کوئی پیچھے۔
پھر فرمایا «كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ» [آیت35] ” موت کا ذائقہ ہر ایک کو چکھنا پڑے گا “۔
امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ”لوگ میری موت کے آرزو مند ہیں تو کیا اس کے بارے میں میں ہی اکیلا ہوں؟ یہ وہ ذائقہ نہیں جو کسی کو چھوڑ دے۔“
پھر فرماتا ہے ”بھلائی برائی سے، سکھ دکھ سے، مٹھاس کڑواہٹ سے، کشادگی تنگی سے ہم اپنے بندوں کو آزما لیتے ہیں تاکہ شکر گزار اور ناشکرا، صابر اور ناامید کھل جائے۔ صحت و بیماری، تونگری، فقیری، سختی، نرمی، حلال، حرام، ہدایت، گمراہی، اطاعت، معصیت۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:440/18:] یہ سب آزمائشیں ہیں۔ اس میں بھلے برے کھل جاتے ہیں۔ تمہارا سب کا لوٹنا ہماری ہی طرف ہے۔ اس وقت جو جیسا تھا کھل جائے گا۔ بروں کوسزا نیکوں کو جزا ملے گی “۔
صفحہ نمبر5417
الأنبياء 21:35
خضر علیہ السلام مر چکے ہیں ٭٭
جتنے لوگ ہوئے، سب کو ہی موت ایک روز ختم کرنے والی ہے۔ «كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» [55-الرحمن:26-27] ” تمام روئے زمین کے لوگ موت سے ملنے والے ہیں۔ ہاں رب کی جلال و اکرام والی ذات ہی ہمیشہ اور لازوال ہے “۔
اسی آیت سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ خضر علیہ السلام مرگئے۔ یہ غلط ہے کہ وہ اب تک زندہ ہوں کیونکہ وہ بھی انسان ہی تھے، ولی ہوں یا نبی ہوں یا رسول ہوں، تھے تو انسان ہی۔ ” ان کفار کی یہ آرزو کتنی ناپاک ہے کہ تم مرجاؤ؟ تو کیا یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں؟ “ ایسا تو محض ناممکن ہے، دنیا میں تو چل چلاؤ لگ رہا ہے۔ کسی کو بجز ذات باری کے دوام نہیں۔ کوئی آگے ہے کوئی پیچھے۔
پھر فرمایا «كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ» [آیت35] ” موت کا ذائقہ ہر ایک کو چکھنا پڑے گا “۔
امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ”لوگ میری موت کے آرزو مند ہیں تو کیا اس کے بارے میں میں ہی اکیلا ہوں؟ یہ وہ ذائقہ نہیں جو کسی کو چھوڑ دے۔“
پھر فرماتا ہے ”بھلائی برائی سے، سکھ دکھ سے، مٹھاس کڑواہٹ سے، کشادگی تنگی سے ہم اپنے بندوں کو آزما لیتے ہیں تاکہ شکر گزار اور ناشکرا، صابر اور ناامید کھل جائے۔ صحت و بیماری، تونگری، فقیری، سختی، نرمی، حلال، حرام، ہدایت، گمراہی، اطاعت، معصیت۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:440/18:] یہ سب آزمائشیں ہیں۔ اس میں بھلے برے کھل جاتے ہیں۔ تمہارا سب کا لوٹنا ہماری ہی طرف ہے۔ اس وقت جو جیسا تھا کھل جائے گا۔ بروں کوسزا نیکوں کو جزا ملے گی “۔
صفحہ نمبر5417
الأنبياء 21:36
جلد باز انسان ٭٭
ابوجہل وغیرہ کفار قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی ہنسی مذاق شروع کردیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کرنے لگتے۔ کہنے لگتے کہ لو میاں دیکھ لو، یہی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں، تمہارے بزرگوں کو بیوقوف بتاتے ہیں۔ ایک تو ان کی یہ سرکشی ہے۔ دوسرے یہ کہ خود ذکر رحمن کے منکر ہیں۔ اللہ کے منکر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر۔
اور آیت میں ان کے اسی کفر کا بیان کر کے فرمایا گیا ہے آیت «وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّـهُ رَسُولًا إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلَا أَن صَبَرْنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» [25-الفرقان:41-42] یعنی ” وہ تو کہیے ہم جمے رہے ورنہ اس نے تو ہمیں ہمارے پرانے معبودوں سے برگشتہ کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ خیر انہیں عذاب کے معائنہ سے معلوم ہو جائے گا کہ گمراہ کون تھا؟ “ «وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا» [17-الاسراء:11] ” انسان بڑا ہی جلدباز ہے “۔
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ”اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کی پیدائش کے بعد آدم علیہ السلام کو پیدا کرنا شروع کیا۔ شام کے قریب جب ان میں روح پھونکی گئی، سر، آنکھ اور زبان میں جب روح آ گئی تو کہنے لگے، الٰہی مغرب سے پہلے ہی میری پیدائش مکمل ہو جائے۔“
صفحہ نمبر5419
حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تمام دنوں میں بہتر و افضل دن جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے اسی میں جنت میں داخل ہوئے اسی میں وہاں سے اتارے گئے، اسی میں قیامت قائم ہوگی، اسی دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت جو بندہ نماز میں ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو کچھ طلب کرے، اللہ اسے عطا فرماتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کرکے بتلایا کہ وہ ساعت بہت تھوڑی سی ہے ۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، مجھے معلوم ہے کہ وہ ساعت کون سی ہے وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے، اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی ۔ [سنن ابوداود:1046، قال الشيخ الألباني:صحیح]
پہلی آیت میں کافروں کی بدبختی کا ذکر کرکے اس کے بعد ہی انسانی عجلت کا ذکر اس حکمت سے ہے کہ گویا کافروں کی سرکشی سنتے ہی مسلمان کا انتقامی جذبہ بھڑک اٹھتا ہے اور وہ جلد بدلہ لینا چاہتا ہے اس لیے کہ انسانی جبلت میں ہی جلدبازی ہے۔ لیکن عادت الٰہی یہ ہے کہ وہ ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے۔ پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ ” میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھانے والا ہی ہوں کہ عاصیوں پر کس طرح سختی ہوتی ہے۔ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مذاق میں اڑانے والوں کی کس طرح کھال ادھڑتی ہے۔ تم ابھی ہی دیکھ لو گے۔ جلدی نہ مچاؤ، دیر ہے اندھیر نہیں، مہلت ہے بھول نہیں “۔
صفحہ نمبر5420
الأنبياء 21:37
جلد باز انسان ٭٭
ابوجہل وغیرہ کفار قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی ہنسی مذاق شروع کردیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کرنے لگتے۔ کہنے لگتے کہ لو میاں دیکھ لو، یہی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں، تمہارے بزرگوں کو بیوقوف بتاتے ہیں۔ ایک تو ان کی یہ سرکشی ہے۔ دوسرے یہ کہ خود ذکر رحمن کے منکر ہیں۔ اللہ کے منکر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر۔
اور آیت میں ان کے اسی کفر کا بیان کر کے فرمایا گیا ہے آیت «وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّـهُ رَسُولًا إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلَا أَن صَبَرْنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» [25-الفرقان:41-42] یعنی ” وہ تو کہیے ہم جمے رہے ورنہ اس نے تو ہمیں ہمارے پرانے معبودوں سے برگشتہ کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ خیر انہیں عذاب کے معائنہ سے معلوم ہو جائے گا کہ گمراہ کون تھا؟ “ «وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا» [17-الاسراء:11] ” انسان بڑا ہی جلدباز ہے “۔
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ”اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کی پیدائش کے بعد آدم علیہ السلام کو پیدا کرنا شروع کیا۔ شام کے قریب جب ان میں روح پھونکی گئی، سر، آنکھ اور زبان میں جب روح آ گئی تو کہنے لگے، الٰہی مغرب سے پہلے ہی میری پیدائش مکمل ہو جائے۔“
صفحہ نمبر5419
حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تمام دنوں میں بہتر و افضل دن جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے اسی میں جنت میں داخل ہوئے اسی میں وہاں سے اتارے گئے، اسی میں قیامت قائم ہوگی، اسی دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت جو بندہ نماز میں ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو کچھ طلب کرے، اللہ اسے عطا فرماتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کرکے بتلایا کہ وہ ساعت بہت تھوڑی سی ہے ۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، مجھے معلوم ہے کہ وہ ساعت کون سی ہے وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے، اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی ۔ [سنن ابوداود:1046، قال الشيخ الألباني:صحیح]
پہلی آیت میں کافروں کی بدبختی کا ذکر کرکے اس کے بعد ہی انسانی عجلت کا ذکر اس حکمت سے ہے کہ گویا کافروں کی سرکشی سنتے ہی مسلمان کا انتقامی جذبہ بھڑک اٹھتا ہے اور وہ جلد بدلہ لینا چاہتا ہے اس لیے کہ انسانی جبلت میں ہی جلدبازی ہے۔ لیکن عادت الٰہی یہ ہے کہ وہ ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے۔ پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ ” میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھانے والا ہی ہوں کہ عاصیوں پر کس طرح سختی ہوتی ہے۔ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مذاق میں اڑانے والوں کی کس طرح کھال ادھڑتی ہے۔ تم ابھی ہی دیکھ لو گے۔ جلدی نہ مچاؤ، دیر ہے اندھیر نہیں، مہلت ہے بھول نہیں “۔
صفحہ نمبر5420
الأنبياء 21:38
خود عذاب کے طالب لوگ ٭٭
عذاب الٰہی کو، قیامت کے آنے کو یہ لوگ چونکہ محال جانتے تھے، اس لیے جرأت سے کہتے تھے کہ بتاؤ تو سہی تمہارے یہ ڈراوے کب پورے ہوں گے؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ” تم اگر سمجھ دار ہوتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ ہوتے تو جلدی نہ مچاتے “۔
«لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ» [39-الزمر:16] ” اس وقت عذاب الٰہی اوپر تلے سے اوڑھنا بچھونا بنے ہوئے ہونگے “، «لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [7-الأعراف:41] ” طاقت نہ ہوگی کہ آگے پیچھے سے اللہ کا عذاب ہٹا سکو “۔
«سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ النَّارُ» [14-ابراھیم:50] ” گندھک کا لباس ہوگا جس میں آگ لگی ہوئی ہوگی اور کھڑے جل رہے ہوں گے، ہرطرف سے جہنم گھیرے ہوئے ہوگی “۔ «وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن وَاقٍ» [13-الرعد:34] ” کوئی نہ ہوگا جو مدد کو اٹھے۔ جہنم اچانک دبوچ لے گی۔ اس وقت ہکے بکے رہ جاؤ گے، مبہوت اور بے ہوش ہو جاؤ گے، حیران و پریشان ہو جاؤ گے، کوئی حیلہ نہ ملے گا کہ اسے دفع کرو، اس سے بچ جاؤ اور نہ ایک ساعت کی ڈھیل اور مہلت ملے گی “۔
صفحہ نمبر5422
الأنبياء 21:39
خود عذاب کے طالب لوگ ٭٭
عذاب الٰہی کو، قیامت کے آنے کو یہ لوگ چونکہ محال جانتے تھے، اس لیے جرأت سے کہتے تھے کہ بتاؤ تو سہی تمہارے یہ ڈراوے کب پورے ہوں گے؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ” تم اگر سمجھ دار ہوتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ ہوتے تو جلدی نہ مچاتے “۔
«لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ» [39-الزمر:16] ” اس وقت عذاب الٰہی اوپر تلے سے اوڑھنا بچھونا بنے ہوئے ہونگے “، «لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [7-الأعراف:41] ” طاقت نہ ہوگی کہ آگے پیچھے سے اللہ کا عذاب ہٹا سکو “۔
«سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ النَّارُ» [14-ابراھیم:50] ” گندھک کا لباس ہوگا جس میں آگ لگی ہوئی ہوگی اور کھڑے جل رہے ہوں گے، ہرطرف سے جہنم گھیرے ہوئے ہوگی “۔ «وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن وَاقٍ» [13-الرعد:34] ” کوئی نہ ہوگا جو مدد کو اٹھے۔ جہنم اچانک دبوچ لے گی۔ اس وقت ہکے بکے رہ جاؤ گے، مبہوت اور بے ہوش ہو جاؤ گے، حیران و پریشان ہو جاؤ گے، کوئی حیلہ نہ ملے گا کہ اسے دفع کرو، اس سے بچ جاؤ اور نہ ایک ساعت کی ڈھیل اور مہلت ملے گی “۔
صفحہ نمبر5422
الأنبياء 21:40
خود عذاب کے طالب لوگ ٭٭
عذاب الٰہی کو، قیامت کے آنے کو یہ لوگ چونکہ محال جانتے تھے، اس لیے جرأت سے کہتے تھے کہ بتاؤ تو سہی تمہارے یہ ڈراوے کب پورے ہوں گے؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ” تم اگر سمجھ دار ہوتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ ہوتے تو جلدی نہ مچاتے “۔
«لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ» [39-الزمر:16] ” اس وقت عذاب الٰہی اوپر تلے سے اوڑھنا بچھونا بنے ہوئے ہونگے “، «لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [7-الأعراف:41] ” طاقت نہ ہوگی کہ آگے پیچھے سے اللہ کا عذاب ہٹا سکو “۔
«سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ النَّارُ» [14-ابراھیم:50] ” گندھک کا لباس ہوگا جس میں آگ لگی ہوئی ہوگی اور کھڑے جل رہے ہوں گے، ہرطرف سے جہنم گھیرے ہوئے ہوگی “۔ «وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن وَاقٍ» [13-الرعد:34] ” کوئی نہ ہوگا جو مدد کو اٹھے۔ جہنم اچانک دبوچ لے گی۔ اس وقت ہکے بکے رہ جاؤ گے، مبہوت اور بے ہوش ہو جاؤ گے، حیران و پریشان ہو جاؤ گے، کوئی حیلہ نہ ملے گا کہ اسے دفع کرو، اس سے بچ جاؤ اور نہ ایک ساعت کی ڈھیل اور مہلت ملے گی “۔
صفحہ نمبر5422
الأنبياء 21:41
انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” تمہیں جو ستایا جا رہا ہے، مذاق میں اڑایا جاتا ہے اور جھوٹا کہا جاتا ہے، اس پر پریشان نہ ہونا، کافروں کی یہ پرانی عادت ہے۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی انہوں نے یہی کیا جس کی وجہ سے آخرش عذابوں میں پھنس گئے “۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ» [6-الأنعام:34] ، ” تجھ سے پہلے کے انبیاء بھی جھٹلائے گئے اور انہوں نے اپنے جھٹلائے جانے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ اللہ کی باتوں کا بدلنے والا کوئی نہیں۔ تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آچکی ہیں “۔
پھر اپنی نعمت بیان فرماتا ہے کہ ” وہ تم سب کی حفاظت دن رات اپنی ان آنکھوں سے کر رہا ہے جو نہ کبھی تھکیں نہ سوئیں “۔
«مِنَ الرَّحْمَٰنِ» کا معنی رحمان کے بدلے یعنی رحمان کے سوا ہیں۔ عربی شعروں میں بھی «مِنَ» بدل کے معنی میں ہے۔ اسی ایک احسان پر کیا موقوف ہے۔ یہ کفار تو اللہ کے ہر ایک احسان کی ناشکری کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کے منکر اور ان سے منہ پھیرنے والے ہیں۔
پھر بطور انکار کے ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کہ ” کیا ان کے معبود جو اللہ کے سوا ہیں، انہیں اپنی حفاظت میں رکھتے ہیں؟ “ یعنی وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ ان کا یہ گمان محض غلط ہے۔ بلکہ ان کے معبودان باطل خود اپنی مدد و حفاظت کے بھی مالک نہیں۔ بلکہ وہ ہم سے بچ بھی نہیں سکتے۔ ہماری جانب سے کوئی خبر ان کے ہاتھوں میں نہیں۔ ایک معنی اس جملے کے یہ بھی ہیں کہ ” نہ تو وہ کسی کو بچا سکیں نہ خود بچ سکیں “۔
صفحہ نمبر5425
الأنبياء 21:42
انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” تمہیں جو ستایا جا رہا ہے، مذاق میں اڑایا جاتا ہے اور جھوٹا کہا جاتا ہے، اس پر پریشان نہ ہونا، کافروں کی یہ پرانی عادت ہے۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی انہوں نے یہی کیا جس کی وجہ سے آخرش عذابوں میں پھنس گئے “۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ» [6-الأنعام:34] ، ” تجھ سے پہلے کے انبیاء بھی جھٹلائے گئے اور انہوں نے اپنے جھٹلائے جانے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ اللہ کی باتوں کا بدلنے والا کوئی نہیں۔ تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آچکی ہیں “۔
پھر اپنی نعمت بیان فرماتا ہے کہ ” وہ تم سب کی حفاظت دن رات اپنی ان آنکھوں سے کر رہا ہے جو نہ کبھی تھکیں نہ سوئیں “۔
«مِنَ الرَّحْمَٰنِ» کا معنی رحمان کے بدلے یعنی رحمان کے سوا ہیں۔ عربی شعروں میں بھی «مِنَ» بدل کے معنی میں ہے۔ اسی ایک احسان پر کیا موقوف ہے۔ یہ کفار تو اللہ کے ہر ایک احسان کی ناشکری کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کے منکر اور ان سے منہ پھیرنے والے ہیں۔
پھر بطور انکار کے ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کہ ” کیا ان کے معبود جو اللہ کے سوا ہیں، انہیں اپنی حفاظت میں رکھتے ہیں؟ “ یعنی وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ ان کا یہ گمان محض غلط ہے۔ بلکہ ان کے معبودان باطل خود اپنی مدد و حفاظت کے بھی مالک نہیں۔ بلکہ وہ ہم سے بچ بھی نہیں سکتے۔ ہماری جانب سے کوئی خبر ان کے ہاتھوں میں نہیں۔ ایک معنی اس جملے کے یہ بھی ہیں کہ ” نہ تو وہ کسی کو بچا سکیں نہ خود بچ سکیں “۔
صفحہ نمبر5425
الأنبياء 21:43
انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” تمہیں جو ستایا جا رہا ہے، مذاق میں اڑایا جاتا ہے اور جھوٹا کہا جاتا ہے، اس پر پریشان نہ ہونا، کافروں کی یہ پرانی عادت ہے۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی انہوں نے یہی کیا جس کی وجہ سے آخرش عذابوں میں پھنس گئے “۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ» [6-الأنعام:34] ، ” تجھ سے پہلے کے انبیاء بھی جھٹلائے گئے اور انہوں نے اپنے جھٹلائے جانے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ اللہ کی باتوں کا بدلنے والا کوئی نہیں۔ تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آچکی ہیں “۔
پھر اپنی نعمت بیان فرماتا ہے کہ ” وہ تم سب کی حفاظت دن رات اپنی ان آنکھوں سے کر رہا ہے جو نہ کبھی تھکیں نہ سوئیں “۔
«مِنَ الرَّحْمَٰنِ» کا معنی رحمان کے بدلے یعنی رحمان کے سوا ہیں۔ عربی شعروں میں بھی «مِنَ» بدل کے معنی میں ہے۔ اسی ایک احسان پر کیا موقوف ہے۔ یہ کفار تو اللہ کے ہر ایک احسان کی ناشکری کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کے منکر اور ان سے منہ پھیرنے والے ہیں۔
پھر بطور انکار کے ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کہ ” کیا ان کے معبود جو اللہ کے سوا ہیں، انہیں اپنی حفاظت میں رکھتے ہیں؟ “ یعنی وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ ان کا یہ گمان محض غلط ہے۔ بلکہ ان کے معبودان باطل خود اپنی مدد و حفاظت کے بھی مالک نہیں۔ بلکہ وہ ہم سے بچ بھی نہیں سکتے۔ ہماری جانب سے کوئی خبر ان کے ہاتھوں میں نہیں۔ ایک معنی اس جملے کے یہ بھی ہیں کہ ” نہ تو وہ کسی کو بچا سکیں نہ خود بچ سکیں “۔
صفحہ نمبر5425
الأنبياء 21:44
ذلت و رسوائی کے مارے لوگ ٭٭
کافروں کے کینے کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان ہو رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتا رہا، لمبی لمبی عمریں ملیں، انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں۔
اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ ” کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ان کے کفر کے ملیامیٹ کر دیں؟ “ اس جملے کے اور بھی بہت سے معنی کئے گئے ہیں جو سورۃ الرعد میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ لیکن زیادہ ٹھیک معنی یہی ہیں۔
جیسے فرمایا آیت «ووَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [46-الأحقاف:27] ، ” ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں ہلاک کیں اور اپنی نشانیاں ہیر پھیر کر کے تمہیں دکھا دیں تاکہ لوگ اپنی برائیوں سے باز آجائیں “۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے ہیں کہ ” ہم کفر پر اسلام کو غالب کرتے چلے آئے ہیں “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:494/1:]
کیا تم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو اپنے دشمنوں پر غالب کر دیا اور کس طرح جھٹلانے والی اگلی امتوں کو اس نے ملیامیٹ کر دیا اور اپنے مومنوں کو نجات دے دی۔ کیا اب بھی یہ لوگ اپنے آپ کو غالب ہی سمجھ رہے ہیں؟ نہیں نہیں بلکہ یہ مغلوب ہیں، ذلیل ہیں، رذیل ہیں، نقصان میں ہیں، بربادی کے ماتحت ہیں۔ میں تو اللہ کی طرف سے مبلغ ہوں، جن جن عذابوں سے تمہیں خبردار کر رہا ہوں، یہ اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ کا کہا ہوا ہے۔ ہاں جن کی آنکھیں اللہ نے اندھی کر دی ہیں، جن کے دل و دماغ بند کر دیئے ہیں، انہیں یہ اللہ کی باتیں سود مند نہیں پڑتیں۔ بہروں کو آگاہ کرنا بے کار ہے کیونکہ وہ تو سنتے ہی نہیں۔ ان گنہگاروں پر اک ادنیٰ سا بھی عذاب آ جائے تو واویلا کرنے لگتے ہیں اور اسی وقت بے ساختہ اپنے قصور کا اقرار کر لیتے ہیں۔ قیامت کے دن عدل کی ترازو قائم کی جائے گی۔ یہ ترازو ایک ہی ہوگی لیکن چونکہ جو اعمال اس میں تولے جائیں گے وہ بہت سے ہوں گے، اس اعتبار سے لفظ جمع لائے۔ «وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» [18-الكهف:49] ” اس دن کسی پر کسی طرح کا ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا “۔
اس لیے کہ حساب لینے والا خود اللہ ہے جو اکیلا ہی تمام مخلوق کے حساب کے لیے کافی ہے۔ ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی وہاں موجود ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر5428
اور آیت میں فرمایا تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ فرمان ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» [4-النساء:40] ، ” اللہ تعالیٰ ایک رائی کے دانے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، نیکی کو بڑھاتا ہے اور اس کا اجر اپنے پاس سے بہت بڑا عنایت فرماتا ہے “۔
لقمان رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی وصیتوں میں اپنے بیٹے سے فرمایا تھا، «يَابُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:16] ” بیٹے ایک رائی کے دانے برابر بھی جو عمل ہو خواہ وہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں، وہ اللہ اسے لائے گا، وہ بڑا ہی باریک بین اور باخبر ہے “۔
بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں وزن دار ہیں اور اللہ کو بہت پیارے ہیں «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» ۔ [صحیح مسلم:2695]
صفحہ نمبر5429
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اہل محشر کے سامنے اپنے پاس بلائے گا اور اس کے گناہوں کے ایک کم ایک سو دفتر اس کے سامنے کھولے جائیں گے۔ جہاں تک نگاہ کام کرے وہاں تک کا ایک ایک دفتر ہوگا۔ پھر اس سے جناب باری تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ ” کیا تجھے اپنے کئے ہوئے ان گناہوں میں سے کسی کا انکار ہے؟ میری طرف سے جو محافظ فرشتے تیرے اعمال لکھنے پر مقرر تھے انہوں نے تجھ پر کوئی ظلم تو نہیں کیا؟ “ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! نہ انکار کی گنجائش ہے نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ظلماً لکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اچھا تیرے پاس کوئی عذر ہے یا کوئی نیکی ہے؟ “ وہ گھبرایا ہوا کہے گا اے اللہ کوئی نہیں۔ پروردگار عالم فرمائے گا ” کیوں نہیں؟ بیشک تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا “۔ اب ایک چھوٹا سا پرچہ نکالا جائے گا جس میں «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَ اَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» لکھا ہوا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اسے پیش کرو “۔ وہ کہے گا اے اللہ یہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا کرے گا؟ جناب باری فرمائے گا ” تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا “۔ اب تمام کے تمام دفتر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو اس پرچے کا وزن ان تمام دفتروں سے بڑھ جائے گا۔ یہ جھک جائے گا اور وہ اونچے ہو جائیں گے اور اللہ رحمان و رحیم کے نام سے کوئی چیز وزنی نہ ہوگی ۔ ابن ماجہ اور ترمذی میں بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن جب ترازوئیں رکھی جائیں گی پس ایک شخص کو لایا جائے گا اور ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور جو کچھ اس پر شمار کیا گیا ہے، وہ بھی رکھا جائے گا تو وہ پلڑا جھک جائے گا اور اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ ابھی اس نے پیٹھ پھیری ہی ہوگی کہ اللہ کی طرف سے ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا اور کہے گا جلدی نہ کرو۔ ایک چیز اس کی ابھی باقی رہ گئی ہے پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ہوگا وہ اس شخص کے ساتھ ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے گا اور یہ پلڑا نیکی کا جھک جائے گا ۔ [مسند احمد:221/2:حسن]
صفحہ نمبر5430
مسند احمد میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے غلام ہیں جو مجھے جھٹلاتے بھی ہیں، میری خیانت بھی کرتے ہیں، میری نافرمانی بھی کرتے ہیں اور میں بھی انہیں مارتا پیٹتا ہوں اور برا بھلا بھی کہتا ہوں۔ اب فرمائیے میرا ان کا کیا حال ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی خیانت، نافرمانی، جھٹلانا وغیرہ جمع کیا جائے گا اور تیرا مارنا پیٹنا برا بھلا کہنا بھی۔ اگر تیری سزا ان کی خطاؤں کے برابر ہوئی تو تو چھوٹ گیا نہ عذاب نہ ثواب۔ ہاں اگر تیری سزا کم رہی تو تجھے اللہ کا فضل و کرم ملے گا اور اگر تیری سزا ان کے کرتوتوں سے بڑھ گئی تو تجھ سے اس بڑھی ہوئی سزا کا انتقام لیا جائے گا ۔ یہ سن کر وہ صحابی رضی اللہ عنہ رونے لگے اور چیخنا شروع کردیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کیا ہو گیا؟ کیا اس نے قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھا آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» [آیت:47] یہ سن کر اس صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات کو سن کر تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے ان تمام غلاموں کو آزاد کردوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ رہئے یہ سب اللہ کی راہ میں آزاد ہیں ۔ [سنن ترمذي:3165،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5431
الأنبياء 21:45
ذلت و رسوائی کے مارے لوگ ٭٭
کافروں کے کینے کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان ہو رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتا رہا، لمبی لمبی عمریں ملیں، انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں۔
اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ ” کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ان کے کفر کے ملیامیٹ کر دیں؟ “ اس جملے کے اور بھی بہت سے معنی کئے گئے ہیں جو سورۃ الرعد میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ لیکن زیادہ ٹھیک معنی یہی ہیں۔
جیسے فرمایا آیت «ووَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [46-الأحقاف:27] ، ” ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں ہلاک کیں اور اپنی نشانیاں ہیر پھیر کر کے تمہیں دکھا دیں تاکہ لوگ اپنی برائیوں سے باز آجائیں “۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے ہیں کہ ” ہم کفر پر اسلام کو غالب کرتے چلے آئے ہیں “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:494/1:]
کیا تم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو اپنے دشمنوں پر غالب کر دیا اور کس طرح جھٹلانے والی اگلی امتوں کو اس نے ملیامیٹ کر دیا اور اپنے مومنوں کو نجات دے دی۔ کیا اب بھی یہ لوگ اپنے آپ کو غالب ہی سمجھ رہے ہیں؟ نہیں نہیں بلکہ یہ مغلوب ہیں، ذلیل ہیں، رذیل ہیں، نقصان میں ہیں، بربادی کے ماتحت ہیں۔ میں تو اللہ کی طرف سے مبلغ ہوں، جن جن عذابوں سے تمہیں خبردار کر رہا ہوں، یہ اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ کا کہا ہوا ہے۔ ہاں جن کی آنکھیں اللہ نے اندھی کر دی ہیں، جن کے دل و دماغ بند کر دیئے ہیں، انہیں یہ اللہ کی باتیں سود مند نہیں پڑتیں۔ بہروں کو آگاہ کرنا بے کار ہے کیونکہ وہ تو سنتے ہی نہیں۔ ان گنہگاروں پر اک ادنیٰ سا بھی عذاب آ جائے تو واویلا کرنے لگتے ہیں اور اسی وقت بے ساختہ اپنے قصور کا اقرار کر لیتے ہیں۔ قیامت کے دن عدل کی ترازو قائم کی جائے گی۔ یہ ترازو ایک ہی ہوگی لیکن چونکہ جو اعمال اس میں تولے جائیں گے وہ بہت سے ہوں گے، اس اعتبار سے لفظ جمع لائے۔ «وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» [18-الكهف:49] ” اس دن کسی پر کسی طرح کا ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا “۔
اس لیے کہ حساب لینے والا خود اللہ ہے جو اکیلا ہی تمام مخلوق کے حساب کے لیے کافی ہے۔ ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی وہاں موجود ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر5428
اور آیت میں فرمایا تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ فرمان ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» [4-النساء:40] ، ” اللہ تعالیٰ ایک رائی کے دانے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، نیکی کو بڑھاتا ہے اور اس کا اجر اپنے پاس سے بہت بڑا عنایت فرماتا ہے “۔
لقمان رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی وصیتوں میں اپنے بیٹے سے فرمایا تھا، «يَابُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:16] ” بیٹے ایک رائی کے دانے برابر بھی جو عمل ہو خواہ وہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں، وہ اللہ اسے لائے گا، وہ بڑا ہی باریک بین اور باخبر ہے “۔
بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں وزن دار ہیں اور اللہ کو بہت پیارے ہیں «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» ۔ [صحیح مسلم:2695]
صفحہ نمبر5429
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اہل محشر کے سامنے اپنے پاس بلائے گا اور اس کے گناہوں کے ایک کم ایک سو دفتر اس کے سامنے کھولے جائیں گے۔ جہاں تک نگاہ کام کرے وہاں تک کا ایک ایک دفتر ہوگا۔ پھر اس سے جناب باری تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ ” کیا تجھے اپنے کئے ہوئے ان گناہوں میں سے کسی کا انکار ہے؟ میری طرف سے جو محافظ فرشتے تیرے اعمال لکھنے پر مقرر تھے انہوں نے تجھ پر کوئی ظلم تو نہیں کیا؟ “ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! نہ انکار کی گنجائش ہے نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ظلماً لکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اچھا تیرے پاس کوئی عذر ہے یا کوئی نیکی ہے؟ “ وہ گھبرایا ہوا کہے گا اے اللہ کوئی نہیں۔ پروردگار عالم فرمائے گا ” کیوں نہیں؟ بیشک تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا “۔ اب ایک چھوٹا سا پرچہ نکالا جائے گا جس میں «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَ اَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» لکھا ہوا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اسے پیش کرو “۔ وہ کہے گا اے اللہ یہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا کرے گا؟ جناب باری فرمائے گا ” تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا “۔ اب تمام کے تمام دفتر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو اس پرچے کا وزن ان تمام دفتروں سے بڑھ جائے گا۔ یہ جھک جائے گا اور وہ اونچے ہو جائیں گے اور اللہ رحمان و رحیم کے نام سے کوئی چیز وزنی نہ ہوگی ۔ ابن ماجہ اور ترمذی میں بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن جب ترازوئیں رکھی جائیں گی پس ایک شخص کو لایا جائے گا اور ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور جو کچھ اس پر شمار کیا گیا ہے، وہ بھی رکھا جائے گا تو وہ پلڑا جھک جائے گا اور اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ ابھی اس نے پیٹھ پھیری ہی ہوگی کہ اللہ کی طرف سے ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا اور کہے گا جلدی نہ کرو۔ ایک چیز اس کی ابھی باقی رہ گئی ہے پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ہوگا وہ اس شخص کے ساتھ ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے گا اور یہ پلڑا نیکی کا جھک جائے گا ۔ [مسند احمد:221/2:حسن]
صفحہ نمبر5430
مسند احمد میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے غلام ہیں جو مجھے جھٹلاتے بھی ہیں، میری خیانت بھی کرتے ہیں، میری نافرمانی بھی کرتے ہیں اور میں بھی انہیں مارتا پیٹتا ہوں اور برا بھلا بھی کہتا ہوں۔ اب فرمائیے میرا ان کا کیا حال ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی خیانت، نافرمانی، جھٹلانا وغیرہ جمع کیا جائے گا اور تیرا مارنا پیٹنا برا بھلا کہنا بھی۔ اگر تیری سزا ان کی خطاؤں کے برابر ہوئی تو تو چھوٹ گیا نہ عذاب نہ ثواب۔ ہاں اگر تیری سزا کم رہی تو تجھے اللہ کا فضل و کرم ملے گا اور اگر تیری سزا ان کے کرتوتوں سے بڑھ گئی تو تجھ سے اس بڑھی ہوئی سزا کا انتقام لیا جائے گا ۔ یہ سن کر وہ صحابی رضی اللہ عنہ رونے لگے اور چیخنا شروع کردیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کیا ہو گیا؟ کیا اس نے قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھا آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» [آیت:47] یہ سن کر اس صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات کو سن کر تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے ان تمام غلاموں کو آزاد کردوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ رہئے یہ سب اللہ کی راہ میں آزاد ہیں ۔ [سنن ترمذي:3165،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5431
الأنبياء 21:46
ذلت و رسوائی کے مارے لوگ ٭٭
کافروں کے کینے کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان ہو رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتا رہا، لمبی لمبی عمریں ملیں، انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں۔
اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ ” کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ان کے کفر کے ملیامیٹ کر دیں؟ “ اس جملے کے اور بھی بہت سے معنی کئے گئے ہیں جو سورۃ الرعد میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ لیکن زیادہ ٹھیک معنی یہی ہیں۔
جیسے فرمایا آیت «ووَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [46-الأحقاف:27] ، ” ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں ہلاک کیں اور اپنی نشانیاں ہیر پھیر کر کے تمہیں دکھا دیں تاکہ لوگ اپنی برائیوں سے باز آجائیں “۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے ہیں کہ ” ہم کفر پر اسلام کو غالب کرتے چلے آئے ہیں “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:494/1:]
کیا تم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو اپنے دشمنوں پر غالب کر دیا اور کس طرح جھٹلانے والی اگلی امتوں کو اس نے ملیامیٹ کر دیا اور اپنے مومنوں کو نجات دے دی۔ کیا اب بھی یہ لوگ اپنے آپ کو غالب ہی سمجھ رہے ہیں؟ نہیں نہیں بلکہ یہ مغلوب ہیں، ذلیل ہیں، رذیل ہیں، نقصان میں ہیں، بربادی کے ماتحت ہیں۔ میں تو اللہ کی طرف سے مبلغ ہوں، جن جن عذابوں سے تمہیں خبردار کر رہا ہوں، یہ اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ کا کہا ہوا ہے۔ ہاں جن کی آنکھیں اللہ نے اندھی کر دی ہیں، جن کے دل و دماغ بند کر دیئے ہیں، انہیں یہ اللہ کی باتیں سود مند نہیں پڑتیں۔ بہروں کو آگاہ کرنا بے کار ہے کیونکہ وہ تو سنتے ہی نہیں۔ ان گنہگاروں پر اک ادنیٰ سا بھی عذاب آ جائے تو واویلا کرنے لگتے ہیں اور اسی وقت بے ساختہ اپنے قصور کا اقرار کر لیتے ہیں۔ قیامت کے دن عدل کی ترازو قائم کی جائے گی۔ یہ ترازو ایک ہی ہوگی لیکن چونکہ جو اعمال اس میں تولے جائیں گے وہ بہت سے ہوں گے، اس اعتبار سے لفظ جمع لائے۔ «وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» [18-الكهف:49] ” اس دن کسی پر کسی طرح کا ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا “۔
اس لیے کہ حساب لینے والا خود اللہ ہے جو اکیلا ہی تمام مخلوق کے حساب کے لیے کافی ہے۔ ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی وہاں موجود ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر5428
اور آیت میں فرمایا تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ فرمان ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» [4-النساء:40] ، ” اللہ تعالیٰ ایک رائی کے دانے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، نیکی کو بڑھاتا ہے اور اس کا اجر اپنے پاس سے بہت بڑا عنایت فرماتا ہے “۔
لقمان رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی وصیتوں میں اپنے بیٹے سے فرمایا تھا، «يَابُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:16] ” بیٹے ایک رائی کے دانے برابر بھی جو عمل ہو خواہ وہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں، وہ اللہ اسے لائے گا، وہ بڑا ہی باریک بین اور باخبر ہے “۔
بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں وزن دار ہیں اور اللہ کو بہت پیارے ہیں «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» ۔ [صحیح مسلم:2695]
صفحہ نمبر5429
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اہل محشر کے سامنے اپنے پاس بلائے گا اور اس کے گناہوں کے ایک کم ایک سو دفتر اس کے سامنے کھولے جائیں گے۔ جہاں تک نگاہ کام کرے وہاں تک کا ایک ایک دفتر ہوگا۔ پھر اس سے جناب باری تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ ” کیا تجھے اپنے کئے ہوئے ان گناہوں میں سے کسی کا انکار ہے؟ میری طرف سے جو محافظ فرشتے تیرے اعمال لکھنے پر مقرر تھے انہوں نے تجھ پر کوئی ظلم تو نہیں کیا؟ “ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! نہ انکار کی گنجائش ہے نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ظلماً لکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اچھا تیرے پاس کوئی عذر ہے یا کوئی نیکی ہے؟ “ وہ گھبرایا ہوا کہے گا اے اللہ کوئی نہیں۔ پروردگار عالم فرمائے گا ” کیوں نہیں؟ بیشک تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا “۔ اب ایک چھوٹا سا پرچہ نکالا جائے گا جس میں «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَ اَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» لکھا ہوا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اسے پیش کرو “۔ وہ کہے گا اے اللہ یہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا کرے گا؟ جناب باری فرمائے گا ” تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا “۔ اب تمام کے تمام دفتر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو اس پرچے کا وزن ان تمام دفتروں سے بڑھ جائے گا۔ یہ جھک جائے گا اور وہ اونچے ہو جائیں گے اور اللہ رحمان و رحیم کے نام سے کوئی چیز وزنی نہ ہوگی ۔ ابن ماجہ اور ترمذی میں بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن جب ترازوئیں رکھی جائیں گی پس ایک شخص کو لایا جائے گا اور ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور جو کچھ اس پر شمار کیا گیا ہے، وہ بھی رکھا جائے گا تو وہ پلڑا جھک جائے گا اور اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ ابھی اس نے پیٹھ پھیری ہی ہوگی کہ اللہ کی طرف سے ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا اور کہے گا جلدی نہ کرو۔ ایک چیز اس کی ابھی باقی رہ گئی ہے پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ہوگا وہ اس شخص کے ساتھ ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے گا اور یہ پلڑا نیکی کا جھک جائے گا ۔ [مسند احمد:221/2:حسن]
صفحہ نمبر5430
مسند احمد میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے غلام ہیں جو مجھے جھٹلاتے بھی ہیں، میری خیانت بھی کرتے ہیں، میری نافرمانی بھی کرتے ہیں اور میں بھی انہیں مارتا پیٹتا ہوں اور برا بھلا بھی کہتا ہوں۔ اب فرمائیے میرا ان کا کیا حال ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی خیانت، نافرمانی، جھٹلانا وغیرہ جمع کیا جائے گا اور تیرا مارنا پیٹنا برا بھلا کہنا بھی۔ اگر تیری سزا ان کی خطاؤں کے برابر ہوئی تو تو چھوٹ گیا نہ عذاب نہ ثواب۔ ہاں اگر تیری سزا کم رہی تو تجھے اللہ کا فضل و کرم ملے گا اور اگر تیری سزا ان کے کرتوتوں سے بڑھ گئی تو تجھ سے اس بڑھی ہوئی سزا کا انتقام لیا جائے گا ۔ یہ سن کر وہ صحابی رضی اللہ عنہ رونے لگے اور چیخنا شروع کردیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کیا ہو گیا؟ کیا اس نے قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھا آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» [آیت:47] یہ سن کر اس صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات کو سن کر تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے ان تمام غلاموں کو آزاد کردوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ رہئے یہ سب اللہ کی راہ میں آزاد ہیں ۔ [سنن ترمذي:3165،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5431
الأنبياء 21:47
ذلت و رسوائی کے مارے لوگ ٭٭
کافروں کے کینے کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان ہو رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتا رہا، لمبی لمبی عمریں ملیں، انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں۔
اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ ” کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ان کے کفر کے ملیامیٹ کر دیں؟ “ اس جملے کے اور بھی بہت سے معنی کئے گئے ہیں جو سورۃ الرعد میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ لیکن زیادہ ٹھیک معنی یہی ہیں۔
جیسے فرمایا آیت «ووَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [46-الأحقاف:27] ، ” ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں ہلاک کیں اور اپنی نشانیاں ہیر پھیر کر کے تمہیں دکھا دیں تاکہ لوگ اپنی برائیوں سے باز آجائیں “۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے ہیں کہ ” ہم کفر پر اسلام کو غالب کرتے چلے آئے ہیں “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:494/1:]
کیا تم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو اپنے دشمنوں پر غالب کر دیا اور کس طرح جھٹلانے والی اگلی امتوں کو اس نے ملیامیٹ کر دیا اور اپنے مومنوں کو نجات دے دی۔ کیا اب بھی یہ لوگ اپنے آپ کو غالب ہی سمجھ رہے ہیں؟ نہیں نہیں بلکہ یہ مغلوب ہیں، ذلیل ہیں، رذیل ہیں، نقصان میں ہیں، بربادی کے ماتحت ہیں۔ میں تو اللہ کی طرف سے مبلغ ہوں، جن جن عذابوں سے تمہیں خبردار کر رہا ہوں، یہ اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ کا کہا ہوا ہے۔ ہاں جن کی آنکھیں اللہ نے اندھی کر دی ہیں، جن کے دل و دماغ بند کر دیئے ہیں، انہیں یہ اللہ کی باتیں سود مند نہیں پڑتیں۔ بہروں کو آگاہ کرنا بے کار ہے کیونکہ وہ تو سنتے ہی نہیں۔ ان گنہگاروں پر اک ادنیٰ سا بھی عذاب آ جائے تو واویلا کرنے لگتے ہیں اور اسی وقت بے ساختہ اپنے قصور کا اقرار کر لیتے ہیں۔ قیامت کے دن عدل کی ترازو قائم کی جائے گی۔ یہ ترازو ایک ہی ہوگی لیکن چونکہ جو اعمال اس میں تولے جائیں گے وہ بہت سے ہوں گے، اس اعتبار سے لفظ جمع لائے۔ «وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» [18-الكهف:49] ” اس دن کسی پر کسی طرح کا ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا “۔
اس لیے کہ حساب لینے والا خود اللہ ہے جو اکیلا ہی تمام مخلوق کے حساب کے لیے کافی ہے۔ ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی وہاں موجود ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر5428
اور آیت میں فرمایا تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ فرمان ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» [4-النساء:40] ، ” اللہ تعالیٰ ایک رائی کے دانے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، نیکی کو بڑھاتا ہے اور اس کا اجر اپنے پاس سے بہت بڑا عنایت فرماتا ہے “۔
لقمان رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی وصیتوں میں اپنے بیٹے سے فرمایا تھا، «يَابُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:16] ” بیٹے ایک رائی کے دانے برابر بھی جو عمل ہو خواہ وہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں، وہ اللہ اسے لائے گا، وہ بڑا ہی باریک بین اور باخبر ہے “۔
بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں وزن دار ہیں اور اللہ کو بہت پیارے ہیں «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» ۔ [صحیح مسلم:2695]
صفحہ نمبر5429
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اہل محشر کے سامنے اپنے پاس بلائے گا اور اس کے گناہوں کے ایک کم ایک سو دفتر اس کے سامنے کھولے جائیں گے۔ جہاں تک نگاہ کام کرے وہاں تک کا ایک ایک دفتر ہوگا۔ پھر اس سے جناب باری تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ ” کیا تجھے اپنے کئے ہوئے ان گناہوں میں سے کسی کا انکار ہے؟ میری طرف سے جو محافظ فرشتے تیرے اعمال لکھنے پر مقرر تھے انہوں نے تجھ پر کوئی ظلم تو نہیں کیا؟ “ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! نہ انکار کی گنجائش ہے نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ظلماً لکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اچھا تیرے پاس کوئی عذر ہے یا کوئی نیکی ہے؟ “ وہ گھبرایا ہوا کہے گا اے اللہ کوئی نہیں۔ پروردگار عالم فرمائے گا ” کیوں نہیں؟ بیشک تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا “۔ اب ایک چھوٹا سا پرچہ نکالا جائے گا جس میں «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَ اَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» لکھا ہوا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اسے پیش کرو “۔ وہ کہے گا اے اللہ یہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا کرے گا؟ جناب باری فرمائے گا ” تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا “۔ اب تمام کے تمام دفتر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو اس پرچے کا وزن ان تمام دفتروں سے بڑھ جائے گا۔ یہ جھک جائے گا اور وہ اونچے ہو جائیں گے اور اللہ رحمان و رحیم کے نام سے کوئی چیز وزنی نہ ہوگی ۔ ابن ماجہ اور ترمذی میں بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن جب ترازوئیں رکھی جائیں گی پس ایک شخص کو لایا جائے گا اور ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور جو کچھ اس پر شمار کیا گیا ہے، وہ بھی رکھا جائے گا تو وہ پلڑا جھک جائے گا اور اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ ابھی اس نے پیٹھ پھیری ہی ہوگی کہ اللہ کی طرف سے ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا اور کہے گا جلدی نہ کرو۔ ایک چیز اس کی ابھی باقی رہ گئی ہے پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ہوگا وہ اس شخص کے ساتھ ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے گا اور یہ پلڑا نیکی کا جھک جائے گا ۔ [مسند احمد:221/2:حسن]
صفحہ نمبر5430
مسند احمد میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے غلام ہیں جو مجھے جھٹلاتے بھی ہیں، میری خیانت بھی کرتے ہیں، میری نافرمانی بھی کرتے ہیں اور میں بھی انہیں مارتا پیٹتا ہوں اور برا بھلا بھی کہتا ہوں۔ اب فرمائیے میرا ان کا کیا حال ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی خیانت، نافرمانی، جھٹلانا وغیرہ جمع کیا جائے گا اور تیرا مارنا پیٹنا برا بھلا کہنا بھی۔ اگر تیری سزا ان کی خطاؤں کے برابر ہوئی تو تو چھوٹ گیا نہ عذاب نہ ثواب۔ ہاں اگر تیری سزا کم رہی تو تجھے اللہ کا فضل و کرم ملے گا اور اگر تیری سزا ان کے کرتوتوں سے بڑھ گئی تو تجھ سے اس بڑھی ہوئی سزا کا انتقام لیا جائے گا ۔ یہ سن کر وہ صحابی رضی اللہ عنہ رونے لگے اور چیخنا شروع کردیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کیا ہو گیا؟ کیا اس نے قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھا آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» [آیت:47] یہ سن کر اس صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات کو سن کر تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے ان تمام غلاموں کو آزاد کردوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ رہئے یہ سب اللہ کی راہ میں آزاد ہیں ۔ [سنن ترمذي:3165،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5431
الأنبياء 21:48
کتاب النور ٭٭
ہم پہلے بھی اس بات کو جتا چکے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اکثر ملا جلا آتا ہے اور اسی طرح توراۃ اور قرآن کا ذکر بھی عموماً ایک ساتھ ہی ہوتا ہے۔ فرقان سے مراد کتاب [تفسیر ابن جریر الطبری:353/18:] یعنی تورات ہے جو حق و باطل، حرام و حلال میں فرق کرنے والی تھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:353/18:] اسی سے جناب موسیٰ علیہ السلام کو مدد ملی۔ کل کی کل آسمانی کتابیں حق وباطل، ہدایت وگمراہی، بھلائی برائی، حلال و حرام میں جدائی کرنے والی ہوتی ہیں۔ ان سے دلوں میں نورانیت، اعمال میں حقانیت، اللہ کا خوف وخشیت، ڈر اور اللہ کی طرف رجوع حاصل ہوتا ہے۔
اسی لیے فرمایا کہ ” اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے یہ کتاب نصیحت و پند اور نور و روشنی ہے “۔ پھر ان متقیوں کا وصف بیان فرمایا کہ ” وہ اپنے اللہ سے غائبانہ ڈرتے رہتے ہیں “۔ جیسے جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا آیت «مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبِ» [50-ق:33] ” جو رحمن سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور جھکنے والا دل رکھتے ہیں “۔
اور آیت میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ» [67-الملک:12] ” جو لوگ اپنے رب کا غائبانہ ڈر رکھتے ہیں، ان کے لیے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر ہے “۔ ان متقیوں کا دوسرا وصف یہ ہے کہ یہ قیامت کا کھٹکا رکھتے ہیں۔ اس کی ہولناکیوں سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” اس قرآن عظیم کو بھی ہم نے ہی نازل فرمایا ہے جس کے آس پاس بھی باطل نہیں آ سکتا۔ جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اترا ہے۔ افسوس کیا اس قدر وضاحت وحقانیت، صداقت ونورانیت والا قرآن بھی اس قابل ہے کہ تم اس کے منکر بنے رہو؟ “
صفحہ نمبر5435
الأنبياء 21:49
کتاب النور ٭٭
ہم پہلے بھی اس بات کو جتا چکے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اکثر ملا جلا آتا ہے اور اسی طرح توراۃ اور قرآن کا ذکر بھی عموماً ایک ساتھ ہی ہوتا ہے۔ فرقان سے مراد کتاب [تفسیر ابن جریر الطبری:353/18:] یعنی تورات ہے جو حق و باطل، حرام و حلال میں فرق کرنے والی تھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:353/18:] اسی سے جناب موسیٰ علیہ السلام کو مدد ملی۔ کل کی کل آسمانی کتابیں حق وباطل، ہدایت وگمراہی، بھلائی برائی، حلال و حرام میں جدائی کرنے والی ہوتی ہیں۔ ان سے دلوں میں نورانیت، اعمال میں حقانیت، اللہ کا خوف وخشیت، ڈر اور اللہ کی طرف رجوع حاصل ہوتا ہے۔
اسی لیے فرمایا کہ ” اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے یہ کتاب نصیحت و پند اور نور و روشنی ہے “۔ پھر ان متقیوں کا وصف بیان فرمایا کہ ” وہ اپنے اللہ سے غائبانہ ڈرتے رہتے ہیں “۔ جیسے جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا آیت «مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبِ» [50-ق:33] ” جو رحمن سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور جھکنے والا دل رکھتے ہیں “۔
اور آیت میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ» [67-الملک:12] ” جو لوگ اپنے رب کا غائبانہ ڈر رکھتے ہیں، ان کے لیے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر ہے “۔ ان متقیوں کا دوسرا وصف یہ ہے کہ یہ قیامت کا کھٹکا رکھتے ہیں۔ اس کی ہولناکیوں سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” اس قرآن عظیم کو بھی ہم نے ہی نازل فرمایا ہے جس کے آس پاس بھی باطل نہیں آ سکتا۔ جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اترا ہے۔ افسوس کیا اس قدر وضاحت وحقانیت، صداقت ونورانیت والا قرآن بھی اس قابل ہے کہ تم اس کے منکر بنے رہو؟ “
صفحہ نمبر5435
الأنبياء 21:50
کتاب النور ٭٭
ہم پہلے بھی اس بات کو جتا چکے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اکثر ملا جلا آتا ہے اور اسی طرح توراۃ اور قرآن کا ذکر بھی عموماً ایک ساتھ ہی ہوتا ہے۔ فرقان سے مراد کتاب [تفسیر ابن جریر الطبری:353/18:] یعنی تورات ہے جو حق و باطل، حرام و حلال میں فرق کرنے والی تھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:353/18:] اسی سے جناب موسیٰ علیہ السلام کو مدد ملی۔ کل کی کل آسمانی کتابیں حق وباطل، ہدایت وگمراہی، بھلائی برائی، حلال و حرام میں جدائی کرنے والی ہوتی ہیں۔ ان سے دلوں میں نورانیت، اعمال میں حقانیت، اللہ کا خوف وخشیت، ڈر اور اللہ کی طرف رجوع حاصل ہوتا ہے۔
اسی لیے فرمایا کہ ” اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے یہ کتاب نصیحت و پند اور نور و روشنی ہے “۔ پھر ان متقیوں کا وصف بیان فرمایا کہ ” وہ اپنے اللہ سے غائبانہ ڈرتے رہتے ہیں “۔ جیسے جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا آیت «مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبِ» [50-ق:33] ” جو رحمن سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور جھکنے والا دل رکھتے ہیں “۔
اور آیت میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ» [67-الملک:12] ” جو لوگ اپنے رب کا غائبانہ ڈر رکھتے ہیں، ان کے لیے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر ہے “۔ ان متقیوں کا دوسرا وصف یہ ہے کہ یہ قیامت کا کھٹکا رکھتے ہیں۔ اس کی ہولناکیوں سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” اس قرآن عظیم کو بھی ہم نے ہی نازل فرمایا ہے جس کے آس پاس بھی باطل نہیں آ سکتا۔ جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اترا ہے۔ افسوس کیا اس قدر وضاحت وحقانیت، صداقت ونورانیت والا قرآن بھی اس قابل ہے کہ تم اس کے منکر بنے رہو؟ “
صفحہ نمبر5435
الأنبياء 21:51
یہودی روایتوں سے بچو ٭٭
فرمان ہے کہ ” خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی “۔ جیسے آیت میں ہے «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» [6-الأنعام:83] ۔ ” یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کر سکیں “۔
یہ جو قصے مشہور ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا ً چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا، یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت، وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لیے کہ وہ صحت کے مطابق ہے۔ اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت ومخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کر سکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لیے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع و نافع، کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا، وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے، ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔
صفحہ نمبر5438
غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ” ہم نے اس سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے “۔ بچپنے میں ہی آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا اور نہایت جرأت سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو؟
اصبغ بن نباتہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔“
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا! واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے۔ ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی؟ میں کہتا ہوں، تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہو گئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔ اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے، اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبرا گئے اور کہنے لگے ابراہیم (علیہ السلام) کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کر رہے ہو؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ علیہ السلام کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ ”رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے، تمام چیزوں کا خالق و مالک وہی ہے۔ تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی نہ خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود و مسجود کیسے ہو گئے؟ میری گواہی ہے کہ خالق و مالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اس کے سوا کوئی رب نہ معبود۔“
صفحہ نمبر5439
الأنبياء 21:52
یہودی روایتوں سے بچو ٭٭
فرمان ہے کہ ” خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی “۔ جیسے آیت میں ہے «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» [6-الأنعام:83] ۔ ” یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کر سکیں “۔
یہ جو قصے مشہور ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا ً چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا، یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت، وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لیے کہ وہ صحت کے مطابق ہے۔ اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت ومخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کر سکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لیے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع و نافع، کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا، وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے، ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔
صفحہ نمبر5438
غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ” ہم نے اس سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے “۔ بچپنے میں ہی آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا اور نہایت جرأت سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو؟
اصبغ بن نباتہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔“
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا! واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے۔ ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی؟ میں کہتا ہوں، تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہو گئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔ اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے، اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبرا گئے اور کہنے لگے ابراہیم (علیہ السلام) کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کر رہے ہو؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ علیہ السلام کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ ”رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے، تمام چیزوں کا خالق و مالک وہی ہے۔ تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی نہ خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود و مسجود کیسے ہو گئے؟ میری گواہی ہے کہ خالق و مالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اس کے سوا کوئی رب نہ معبود۔“
صفحہ نمبر5439
الأنبياء 21:53
یہودی روایتوں سے بچو ٭٭
فرمان ہے کہ ” خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی “۔ جیسے آیت میں ہے «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» [6-الأنعام:83] ۔ ” یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کر سکیں “۔
یہ جو قصے مشہور ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا ً چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا، یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت، وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لیے کہ وہ صحت کے مطابق ہے۔ اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت ومخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کر سکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لیے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع و نافع، کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا، وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے، ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔
صفحہ نمبر5438
غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ” ہم نے اس سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے “۔ بچپنے میں ہی آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا اور نہایت جرأت سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو؟
اصبغ بن نباتہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔“
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا! واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے۔ ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی؟ میں کہتا ہوں، تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہو گئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔ اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے، اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبرا گئے اور کہنے لگے ابراہیم (علیہ السلام) کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کر رہے ہو؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ علیہ السلام کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ ”رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے، تمام چیزوں کا خالق و مالک وہی ہے۔ تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی نہ خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود و مسجود کیسے ہو گئے؟ میری گواہی ہے کہ خالق و مالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اس کے سوا کوئی رب نہ معبود۔“
صفحہ نمبر5439
الأنبياء 21:54
یہودی روایتوں سے بچو ٭٭
فرمان ہے کہ ” خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی “۔ جیسے آیت میں ہے «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» [6-الأنعام:83] ۔ ” یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کر سکیں “۔
یہ جو قصے مشہور ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا ً چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا، یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت، وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لیے کہ وہ صحت کے مطابق ہے۔ اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت ومخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کر سکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لیے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع و نافع، کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا، وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے، ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔
صفحہ نمبر5438
غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ” ہم نے اس سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے “۔ بچپنے میں ہی آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا اور نہایت جرأت سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو؟
اصبغ بن نباتہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔“
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا! واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے۔ ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی؟ میں کہتا ہوں، تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہو گئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔ اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے، اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبرا گئے اور کہنے لگے ابراہیم (علیہ السلام) کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کر رہے ہو؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ علیہ السلام کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ ”رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے، تمام چیزوں کا خالق و مالک وہی ہے۔ تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی نہ خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود و مسجود کیسے ہو گئے؟ میری گواہی ہے کہ خالق و مالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اس کے سوا کوئی رب نہ معبود۔“
صفحہ نمبر5439
الأنبياء 21:55
یہودی روایتوں سے بچو ٭٭
فرمان ہے کہ ” خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی “۔ جیسے آیت میں ہے «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» [6-الأنعام:83] ۔ ” یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کر سکیں “۔
یہ جو قصے مشہور ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا ً چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا، یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت، وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لیے کہ وہ صحت کے مطابق ہے۔ اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت ومخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کر سکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لیے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع و نافع، کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا، وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے، ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔
صفحہ نمبر5438
غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ” ہم نے اس سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے “۔ بچپنے میں ہی آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا اور نہایت جرأت سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو؟
اصبغ بن نباتہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔“
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا! واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے۔ ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی؟ میں کہتا ہوں، تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہو گئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔ اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے، اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبرا گئے اور کہنے لگے ابراہیم (علیہ السلام) کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کر رہے ہو؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ علیہ السلام کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ ”رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے، تمام چیزوں کا خالق و مالک وہی ہے۔ تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی نہ خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود و مسجود کیسے ہو گئے؟ میری گواہی ہے کہ خالق و مالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اس کے سوا کوئی رب نہ معبود۔“
صفحہ نمبر5439
الأنبياء 21:56
یہودی روایتوں سے بچو ٭٭
فرمان ہے کہ ” خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی “۔ جیسے آیت میں ہے «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» [6-الأنعام:83] ۔ ” یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کر سکیں “۔
یہ جو قصے مشہور ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا ً چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا، یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت، وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لیے کہ وہ صحت کے مطابق ہے۔ اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت ومخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کر سکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لیے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع و نافع، کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا، وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے، ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔
صفحہ نمبر5438
غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ” ہم نے اس سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے “۔ بچپنے میں ہی آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا اور نہایت جرأت سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو؟
اصبغ بن نباتہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔“
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا! واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے۔ ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی؟ میں کہتا ہوں، تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہو گئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔ اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے، اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبرا گئے اور کہنے لگے ابراہیم (علیہ السلام) کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کر رہے ہو؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ علیہ السلام کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ ”رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے، تمام چیزوں کا خالق و مالک وہی ہے۔ تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی نہ خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود و مسجود کیسے ہو گئے؟ میری گواہی ہے کہ خالق و مالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اس کے سوا کوئی رب نہ معبود۔“
صفحہ نمبر5439
الأنبياء 21:57
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے ٭٭
اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا، اور جذبہ توحید میں آکر آپ علیہ السلام نے قسم کھا لی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔
ان کی عید کا دن جو مقرر تھا، خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لیے باہر جاؤ گے، میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کر دوں گا۔“ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ علیہ السلام کے والد نے آپ علیہ السلام سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہو جائے۔
صفحہ نمبر5445
چنانچہ یہ آپ علیہ السلام کو لے چلا، کچھ دور جانے کے بعد ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم گر پڑے اور فرمانے لگے، ابا میں بیمار ہو گیا۔ باپ آپ علیہ السلام کو چھوڑ کرمراسم کفر بجا لانے کے لیے آگے بڑھ گئے اور جو لوگ راستے سے گزرتے، آپ علیہ السلام سے پوچھتے، کیا بات ہے راستے پر کیسے بیٹھے ہو؟ جواب دیتے کہ میں بیمار ہوں۔
جب عام لوگ نکل گئے اور بڈھے بڑے لوگ رہ گئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”تم سب کے چلے جانے کے بعد آج میں تمہارے معبودوں کی مرمت کر دوں گا۔“ آپ علیہ السلام نے جو فرمایا کہ میں بیمار ہوں تو واقعی آپ علیہ السلام اس دن کے اگلے دن قدرے علیل بھی تھے۔ جب کہ وہ لوگ چلے گئے تو میدان خالی پا کر آپ علیہ السلام نے اپنا ارادہ پورا کیا اور بڑے بت کو چھوڑ کر تمام بتوں کا چورا کر دیا۔
جیسے اور آیتوں میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے کہ «فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ» [37-الصفات:93] ” اپنے ہاتھ سے ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے “۔ اس بڑے بت کے باقی رکھنے میں حکمت ومصلحت یہ تھی کہ اولاً ان لوگوں کے ذہن میں خیال آئے کہ شاید اس بڑے بت نے ان چھوٹے بتوں کو غارت کر دیا ہوگا؟ کیونکہ اسے غیرت معلوم ہوئی ہوگی کہ مجھ بڑے کے ہوتے ہوئے یہ چھوٹے خدائی کے لائق کیسے ہوگئے؟
چنانچہ اس خیال کی پختگی ان کے ذہنوں میں قائم کرنے کے لیے آپ علیہ السلام نے کلہاڑا بھی اس کی گردن پر رکھ دیا تھا، جیسے کہ مروی ہے۔ جب یہ مشرکین اپنے میلے سے واپس آئے تو دیکھا کہ ان کے سارے معبود منہ کے بل اوندھے گرے ہوئے ہیں، اور اپنی حالت سے وہ بتا رہے ہیں کہ وہ محض بے جان، بے نفع و نقصان، ذلیل و حقیر چیز ہیں۔ اور گویا اپنی اس حالت سے اپنے پجاریوں کی بے وقوفی پر وہ مہر لگا رہے تھے۔ لیکن ان بے وقوفوں پر الٹا اثر ہوا کہنے لگے، یہ کون ظالم شخص تھا جس نے ہمارے معبودوں کی ایسی اہانت کی؟ اس وقت جن لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کا وہ کلام سنا تھا، انہیں خیال آ گیا اور کہنے لگے، وہ نوجوان جس کا نام ابراہیم (علیہ السلام) ہے اسے ہم نے اپنے معبودوں کی مذمت کرتے ہوئے سنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کو پڑھتے اور فرماتے، جو نبی آیا جوان۔ جو عالم بنا جوان۔ [ضعیف]
شان الٰہی دیکھئیے جو مقصد خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کا تھا، وہ اب پورا ہو رہا ہے۔
صفحہ نمبر5446
الأنبياء 21:58
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے ٭٭
اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا، اور جذبہ توحید میں آکر آپ علیہ السلام نے قسم کھا لی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔
ان کی عید کا دن جو مقرر تھا، خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لیے باہر جاؤ گے، میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کر دوں گا۔“ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ علیہ السلام کے والد نے آپ علیہ السلام سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہو جائے۔
صفحہ نمبر5445
چنانچہ یہ آپ علیہ السلام کو لے چلا، کچھ دور جانے کے بعد ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم گر پڑے اور فرمانے لگے، ابا میں بیمار ہو گیا۔ باپ آپ علیہ السلام کو چھوڑ کرمراسم کفر بجا لانے کے لیے آگے بڑھ گئے اور جو لوگ راستے سے گزرتے، آپ علیہ السلام سے پوچھتے، کیا بات ہے راستے پر کیسے بیٹھے ہو؟ جواب دیتے کہ میں بیمار ہوں۔
جب عام لوگ نکل گئے اور بڈھے بڑے لوگ رہ گئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”تم سب کے چلے جانے کے بعد آج میں تمہارے معبودوں کی مرمت کر دوں گا۔“ آپ علیہ السلام نے جو فرمایا کہ میں بیمار ہوں تو واقعی آپ علیہ السلام اس دن کے اگلے دن قدرے علیل بھی تھے۔ جب کہ وہ لوگ چلے گئے تو میدان خالی پا کر آپ علیہ السلام نے اپنا ارادہ پورا کیا اور بڑے بت کو چھوڑ کر تمام بتوں کا چورا کر دیا۔
جیسے اور آیتوں میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے کہ «فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ» [37-الصفات:93] ” اپنے ہاتھ سے ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے “۔ اس بڑے بت کے باقی رکھنے میں حکمت ومصلحت یہ تھی کہ اولاً ان لوگوں کے ذہن میں خیال آئے کہ شاید اس بڑے بت نے ان چھوٹے بتوں کو غارت کر دیا ہوگا؟ کیونکہ اسے غیرت معلوم ہوئی ہوگی کہ مجھ بڑے کے ہوتے ہوئے یہ چھوٹے خدائی کے لائق کیسے ہوگئے؟
چنانچہ اس خیال کی پختگی ان کے ذہنوں میں قائم کرنے کے لیے آپ علیہ السلام نے کلہاڑا بھی اس کی گردن پر رکھ دیا تھا، جیسے کہ مروی ہے۔ جب یہ مشرکین اپنے میلے سے واپس آئے تو دیکھا کہ ان کے سارے معبود منہ کے بل اوندھے گرے ہوئے ہیں، اور اپنی حالت سے وہ بتا رہے ہیں کہ وہ محض بے جان، بے نفع و نقصان، ذلیل و حقیر چیز ہیں۔ اور گویا اپنی اس حالت سے اپنے پجاریوں کی بے وقوفی پر وہ مہر لگا رہے تھے۔ لیکن ان بے وقوفوں پر الٹا اثر ہوا کہنے لگے، یہ کون ظالم شخص تھا جس نے ہمارے معبودوں کی ایسی اہانت کی؟ اس وقت جن لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کا وہ کلام سنا تھا، انہیں خیال آ گیا اور کہنے لگے، وہ نوجوان جس کا نام ابراہیم (علیہ السلام) ہے اسے ہم نے اپنے معبودوں کی مذمت کرتے ہوئے سنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کو پڑھتے اور فرماتے، جو نبی آیا جوان۔ جو عالم بنا جوان۔ [ضعیف]
شان الٰہی دیکھئیے جو مقصد خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کا تھا، وہ اب پورا ہو رہا ہے۔
صفحہ نمبر5446
الأنبياء 21:59
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے ٭٭
اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا، اور جذبہ توحید میں آکر آپ علیہ السلام نے قسم کھا لی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔
ان کی عید کا دن جو مقرر تھا، خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لیے باہر جاؤ گے، میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کر دوں گا۔“ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ علیہ السلام کے والد نے آپ علیہ السلام سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہو جائے۔
صفحہ نمبر5445
چنانچہ یہ آپ علیہ السلام کو لے چلا، کچھ دور جانے کے بعد ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم گر پڑے اور فرمانے لگے، ابا میں بیمار ہو گیا۔ باپ آپ علیہ السلام کو چھوڑ کرمراسم کفر بجا لانے کے لیے آگے بڑھ گئے اور جو لوگ راستے سے گزرتے، آپ علیہ السلام سے پوچھتے، کیا بات ہے راستے پر کیسے بیٹھے ہو؟ جواب دیتے کہ میں بیمار ہوں۔
جب عام لوگ نکل گئے اور بڈھے بڑے لوگ رہ گئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”تم سب کے چلے جانے کے بعد آج میں تمہارے معبودوں کی مرمت کر دوں گا۔“ آپ علیہ السلام نے جو فرمایا کہ میں بیمار ہوں تو واقعی آپ علیہ السلام اس دن کے اگلے دن قدرے علیل بھی تھے۔ جب کہ وہ لوگ چلے گئے تو میدان خالی پا کر آپ علیہ السلام نے اپنا ارادہ پورا کیا اور بڑے بت کو چھوڑ کر تمام بتوں کا چورا کر دیا۔
جیسے اور آیتوں میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے کہ «فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ» [37-الصفات:93] ” اپنے ہاتھ سے ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے “۔ اس بڑے بت کے باقی رکھنے میں حکمت ومصلحت یہ تھی کہ اولاً ان لوگوں کے ذہن میں خیال آئے کہ شاید اس بڑے بت نے ان چھوٹے بتوں کو غارت کر دیا ہوگا؟ کیونکہ اسے غیرت معلوم ہوئی ہوگی کہ مجھ بڑے کے ہوتے ہوئے یہ چھوٹے خدائی کے لائق کیسے ہوگئے؟
چنانچہ اس خیال کی پختگی ان کے ذہنوں میں قائم کرنے کے لیے آپ علیہ السلام نے کلہاڑا بھی اس کی گردن پر رکھ دیا تھا، جیسے کہ مروی ہے۔ جب یہ مشرکین اپنے میلے سے واپس آئے تو دیکھا کہ ان کے سارے معبود منہ کے بل اوندھے گرے ہوئے ہیں، اور اپنی حالت سے وہ بتا رہے ہیں کہ وہ محض بے جان، بے نفع و نقصان، ذلیل و حقیر چیز ہیں۔ اور گویا اپنی اس حالت سے اپنے پجاریوں کی بے وقوفی پر وہ مہر لگا رہے تھے۔ لیکن ان بے وقوفوں پر الٹا اثر ہوا کہنے لگے، یہ کون ظالم شخص تھا جس نے ہمارے معبودوں کی ایسی اہانت کی؟ اس وقت جن لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کا وہ کلام سنا تھا، انہیں خیال آ گیا اور کہنے لگے، وہ نوجوان جس کا نام ابراہیم (علیہ السلام) ہے اسے ہم نے اپنے معبودوں کی مذمت کرتے ہوئے سنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کو پڑھتے اور فرماتے، جو نبی آیا جوان۔ جو عالم بنا جوان۔ [ضعیف]
شان الٰہی دیکھئیے جو مقصد خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کا تھا، وہ اب پورا ہو رہا ہے۔
صفحہ نمبر5446
الأنبياء 21:60
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے ٭٭
اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا، اور جذبہ توحید میں آکر آپ علیہ السلام نے قسم کھا لی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔
ان کی عید کا دن جو مقرر تھا، خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لیے باہر جاؤ گے، میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کر دوں گا۔“ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ علیہ السلام کے والد نے آپ علیہ السلام سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہو جائے۔
صفحہ نمبر5445
چنانچہ یہ آپ علیہ السلام کو لے چلا، کچھ دور جانے کے بعد ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم گر پڑے اور فرمانے لگے، ابا میں بیمار ہو گیا۔ باپ آپ علیہ السلام کو چھوڑ کرمراسم کفر بجا لانے کے لیے آگے بڑھ گئے اور جو لوگ راستے سے گزرتے، آپ علیہ السلام سے پوچھتے، کیا بات ہے راستے پر کیسے بیٹھے ہو؟ جواب دیتے کہ میں بیمار ہوں۔
جب عام لوگ نکل گئے اور بڈھے بڑے لوگ رہ گئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”تم سب کے چلے جانے کے بعد آج میں تمہارے معبودوں کی مرمت کر دوں گا۔“ آپ علیہ السلام نے جو فرمایا کہ میں بیمار ہوں تو واقعی آپ علیہ السلام اس دن کے اگلے دن قدرے علیل بھی تھے۔ جب کہ وہ لوگ چلے گئے تو میدان خالی پا کر آپ علیہ السلام نے اپنا ارادہ پورا کیا اور بڑے بت کو چھوڑ کر تمام بتوں کا چورا کر دیا۔
جیسے اور آیتوں میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے کہ «فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ» [37-الصفات:93] ” اپنے ہاتھ سے ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے “۔ اس بڑے بت کے باقی رکھنے میں حکمت ومصلحت یہ تھی کہ اولاً ان لوگوں کے ذہن میں خیال آئے کہ شاید اس بڑے بت نے ان چھوٹے بتوں کو غارت کر دیا ہوگا؟ کیونکہ اسے غیرت معلوم ہوئی ہوگی کہ مجھ بڑے کے ہوتے ہوئے یہ چھوٹے خدائی کے لائق کیسے ہوگئے؟
چنانچہ اس خیال کی پختگی ان کے ذہنوں میں قائم کرنے کے لیے آپ علیہ السلام نے کلہاڑا بھی اس کی گردن پر رکھ دیا تھا، جیسے کہ مروی ہے۔ جب یہ مشرکین اپنے میلے سے واپس آئے تو دیکھا کہ ان کے سارے معبود منہ کے بل اوندھے گرے ہوئے ہیں، اور اپنی حالت سے وہ بتا رہے ہیں کہ وہ محض بے جان، بے نفع و نقصان، ذلیل و حقیر چیز ہیں۔ اور گویا اپنی اس حالت سے اپنے پجاریوں کی بے وقوفی پر وہ مہر لگا رہے تھے۔ لیکن ان بے وقوفوں پر الٹا اثر ہوا کہنے لگے، یہ کون ظالم شخص تھا جس نے ہمارے معبودوں کی ایسی اہانت کی؟ اس وقت جن لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کا وہ کلام سنا تھا، انہیں خیال آ گیا اور کہنے لگے، وہ نوجوان جس کا نام ابراہیم (علیہ السلام) ہے اسے ہم نے اپنے معبودوں کی مذمت کرتے ہوئے سنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کو پڑھتے اور فرماتے، جو نبی آیا جوان۔ جو عالم بنا جوان۔ [ضعیف]
شان الٰہی دیکھئیے جو مقصد خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کا تھا، وہ اب پورا ہو رہا ہے۔
صفحہ نمبر5446
الأنبياء 21:61
باب
قوم کے یہ لوگ مشورہ کرتے ہیں کہ آؤ سب کو جمع کرو اور اسے بلاؤ اور پھر اس کو سزا دو۔ خلیل اللہ علیہ السلام یہی چاہتے تھے کہ کوئی ایسا مجمع ہو اور میں اس میں ان کی غلطیاں ان پر واضح کروں اور ان میں توحید کی تبلیغ کروں، اور انہیں بتلاؤں کہ یہ کیسے ظالم و جاہل ہیں کہ ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو نفع نقصان کے مالک نہیں بلکہ اپنی جان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ چنانچہ مجمع ہوا، سب چھوٹے بڑے آگئے۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام بھی ملزم کی حیثیت سے موجود ہوئے اور آپ علیہ السلام سے سوال ہوا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ لغو حرکت تم نے کی ہے؟ اس پر آپ علیہ السلام نے انہیں قائل معقول کرنے کے لیے فرمایا کہ ”یہ کام تو ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے“ اور اس کی طرف اشارہ کیا جسے آپ علیہ السلام نے توڑا نہ تھا۔
پھر فرمایا کہ ”مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ اپنے ان معبودوں سے ہی کیوں دریافت نہیں کرتے کہ تمہارے ٹکڑے اڑانے والا کون ہے؟“ اس سے مقصود خلیل اللہ علیہ السلام کا یہ تھا کہ یہ لوگ خودبخود ہی سمجھ لیں کہ یہ پتھر کیا بولیں گے؟ اور جب وہ اتنے عاجز ہیں تو یہ لائق عبادت کیسے ٹھہر سکتے ہیں؟ چنانچہ یہ مقصد بھی آپ کا بفضل الٰہی پورا ہوا اور یہ دوسری ضرب بھی کاری لگی۔
صفحہ نمبر5450
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ خلیل اللہ نے تین جھوٹ بولے ہیں۔ دو تو راہ اللہ میں: ایک تو انکا یہ فرمانا کہ ”ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے۔“ دوسرا یہ فرمانا کہ ”میں بیمار ہوں“، اور ایک مرتبہ سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر میں تھے۔ اتفاق سے ایک ظالم بادشاہ کی حدود سے آپ علیہ السلام گزر رہے تھے، آپ علیہ السلام نے وہاں منزل کی تھی۔ کسی نے بادشاہ کو خبر کر دی کہ ایک مسافر کے ساتھ بہترین عورت ہے اور وہ اس وقت ہماری سلطنت میں ہے۔ بادشاہ نے جھٹ سپاہی بھیجا کہ وہ سارہ رضی اللہ عنہا کو لے آئے۔ اس نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا ”میری بہن ہے“ اس نے کہا اسے بادشاہ کے دربار میں بھیجو۔ آپ علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا ”سنو، اس ظالم نے تمہیں طلب کیا ہے اور میں تمہیں اپنی بہن بتا چکا ہوں۔ اگر تم سے بھی پوچھا جائے تو یہی کہنا، اس لیے کہ دین کے اعتبار سے تم میری بہن ہو، روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مسلمان نہیں“، یہ کہہ کر آپ علیہ السلام چلے آئے۔ سارہ رضی اللہ عنہا وہاں سے چلیں اور آپ علیہ السلام نماز میں کھڑے ہوگئے۔ جب سارہ رضی اللہ عنہا کو اس ظالم نے دیکھا اور ان کی طرف لپکا، اسی وقت اللہ کے عذاب نے اسے پکڑ لیا، ہاتھ پاؤں اینٹھ گئے۔ گھبرا کر عاجزی سے کہنے لگا اے نیک عورت اللہ سے دعا کر کہ وہ مجھے چھوڑ دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے دعا کی اسی وقت وہ اچھا ہو گیا لیکن اچھا ہوتے ہی اس نے پھر قصد کیا اور آپ رضی اللہ عنہا کو پکڑنا چاہا۔ وہی پھر عذاب الٰہی آ پہنچا اور یہ پہلی دفعہ سے زیادہ سخت پکڑ لیا گیا پھر عاجزی کرنے لگا۔ غرض تین دفعہ پے در پے یہی ہوا۔ تیسری دفعہ چھوٹتے ہی اس نے اپنے قریب کے ملازم کو آواز دی اور کہا تو میرے پاس کسی انسان عورت کو نہیں لایا بلکہ شیطانہ کو لایا ہے۔ جا اسے نکال اور ہاجرہ کو اس کے ساتھ کر دے۔ اسی وقت آپ وہاں سے نکال دی گئیں اور ہاجرہ آپ کے حوالے کی گئیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان کی آہٹ پاتے ہی نماز سے فراغت حاصل کی اور دریافت فرمایا کہ ”کہو کیا گزری؟“ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اللہ نے اس کافر کے مکر کو اسی پر لوٹا دیا اور حاجرہ میری خدمت کے لیے آگئیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہا اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ ”یہ ہیں تمہاری اماں اے آسمانی پانی کے لڑکو“ ۔ [صحیح بخاری:3358]
صفحہ نمبر5451
الأنبياء 21:62
باب
قوم کے یہ لوگ مشورہ کرتے ہیں کہ آؤ سب کو جمع کرو اور اسے بلاؤ اور پھر اس کو سزا دو۔ خلیل اللہ علیہ السلام یہی چاہتے تھے کہ کوئی ایسا مجمع ہو اور میں اس میں ان کی غلطیاں ان پر واضح کروں اور ان میں توحید کی تبلیغ کروں، اور انہیں بتلاؤں کہ یہ کیسے ظالم و جاہل ہیں کہ ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو نفع نقصان کے مالک نہیں بلکہ اپنی جان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ چنانچہ مجمع ہوا، سب چھوٹے بڑے آگئے۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام بھی ملزم کی حیثیت سے موجود ہوئے اور آپ علیہ السلام سے سوال ہوا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ لغو حرکت تم نے کی ہے؟ اس پر آپ علیہ السلام نے انہیں قائل معقول کرنے کے لیے فرمایا کہ ”یہ کام تو ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے“ اور اس کی طرف اشارہ کیا جسے آپ علیہ السلام نے توڑا نہ تھا۔
پھر فرمایا کہ ”مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ اپنے ان معبودوں سے ہی کیوں دریافت نہیں کرتے کہ تمہارے ٹکڑے اڑانے والا کون ہے؟“ اس سے مقصود خلیل اللہ علیہ السلام کا یہ تھا کہ یہ لوگ خودبخود ہی سمجھ لیں کہ یہ پتھر کیا بولیں گے؟ اور جب وہ اتنے عاجز ہیں تو یہ لائق عبادت کیسے ٹھہر سکتے ہیں؟ چنانچہ یہ مقصد بھی آپ کا بفضل الٰہی پورا ہوا اور یہ دوسری ضرب بھی کاری لگی۔
صفحہ نمبر5450
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ خلیل اللہ نے تین جھوٹ بولے ہیں۔ دو تو راہ اللہ میں: ایک تو انکا یہ فرمانا کہ ”ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے۔“ دوسرا یہ فرمانا کہ ”میں بیمار ہوں“، اور ایک مرتبہ سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر میں تھے۔ اتفاق سے ایک ظالم بادشاہ کی حدود سے آپ علیہ السلام گزر رہے تھے، آپ علیہ السلام نے وہاں منزل کی تھی۔ کسی نے بادشاہ کو خبر کر دی کہ ایک مسافر کے ساتھ بہترین عورت ہے اور وہ اس وقت ہماری سلطنت میں ہے۔ بادشاہ نے جھٹ سپاہی بھیجا کہ وہ سارہ رضی اللہ عنہا کو لے آئے۔ اس نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا ”میری بہن ہے“ اس نے کہا اسے بادشاہ کے دربار میں بھیجو۔ آپ علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا ”سنو، اس ظالم نے تمہیں طلب کیا ہے اور میں تمہیں اپنی بہن بتا چکا ہوں۔ اگر تم سے بھی پوچھا جائے تو یہی کہنا، اس لیے کہ دین کے اعتبار سے تم میری بہن ہو، روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مسلمان نہیں“، یہ کہہ کر آپ علیہ السلام چلے آئے۔ سارہ رضی اللہ عنہا وہاں سے چلیں اور آپ علیہ السلام نماز میں کھڑے ہوگئے۔ جب سارہ رضی اللہ عنہا کو اس ظالم نے دیکھا اور ان کی طرف لپکا، اسی وقت اللہ کے عذاب نے اسے پکڑ لیا، ہاتھ پاؤں اینٹھ گئے۔ گھبرا کر عاجزی سے کہنے لگا اے نیک عورت اللہ سے دعا کر کہ وہ مجھے چھوڑ دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے دعا کی اسی وقت وہ اچھا ہو گیا لیکن اچھا ہوتے ہی اس نے پھر قصد کیا اور آپ رضی اللہ عنہا کو پکڑنا چاہا۔ وہی پھر عذاب الٰہی آ پہنچا اور یہ پہلی دفعہ سے زیادہ سخت پکڑ لیا گیا پھر عاجزی کرنے لگا۔ غرض تین دفعہ پے در پے یہی ہوا۔ تیسری دفعہ چھوٹتے ہی اس نے اپنے قریب کے ملازم کو آواز دی اور کہا تو میرے پاس کسی انسان عورت کو نہیں لایا بلکہ شیطانہ کو لایا ہے۔ جا اسے نکال اور ہاجرہ کو اس کے ساتھ کر دے۔ اسی وقت آپ وہاں سے نکال دی گئیں اور ہاجرہ آپ کے حوالے کی گئیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان کی آہٹ پاتے ہی نماز سے فراغت حاصل کی اور دریافت فرمایا کہ ”کہو کیا گزری؟“ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اللہ نے اس کافر کے مکر کو اسی پر لوٹا دیا اور حاجرہ میری خدمت کے لیے آگئیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہا اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ ”یہ ہیں تمہاری اماں اے آسمانی پانی کے لڑکو“ ۔ [صحیح بخاری:3358]
صفحہ نمبر5451
الأنبياء 21:63
باب
قوم کے یہ لوگ مشورہ کرتے ہیں کہ آؤ سب کو جمع کرو اور اسے بلاؤ اور پھر اس کو سزا دو۔ خلیل اللہ علیہ السلام یہی چاہتے تھے کہ کوئی ایسا مجمع ہو اور میں اس میں ان کی غلطیاں ان پر واضح کروں اور ان میں توحید کی تبلیغ کروں، اور انہیں بتلاؤں کہ یہ کیسے ظالم و جاہل ہیں کہ ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو نفع نقصان کے مالک نہیں بلکہ اپنی جان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ چنانچہ مجمع ہوا، سب چھوٹے بڑے آگئے۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام بھی ملزم کی حیثیت سے موجود ہوئے اور آپ علیہ السلام سے سوال ہوا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ لغو حرکت تم نے کی ہے؟ اس پر آپ علیہ السلام نے انہیں قائل معقول کرنے کے لیے فرمایا کہ ”یہ کام تو ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے“ اور اس کی طرف اشارہ کیا جسے آپ علیہ السلام نے توڑا نہ تھا۔
پھر فرمایا کہ ”مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ اپنے ان معبودوں سے ہی کیوں دریافت نہیں کرتے کہ تمہارے ٹکڑے اڑانے والا کون ہے؟“ اس سے مقصود خلیل اللہ علیہ السلام کا یہ تھا کہ یہ لوگ خودبخود ہی سمجھ لیں کہ یہ پتھر کیا بولیں گے؟ اور جب وہ اتنے عاجز ہیں تو یہ لائق عبادت کیسے ٹھہر سکتے ہیں؟ چنانچہ یہ مقصد بھی آپ کا بفضل الٰہی پورا ہوا اور یہ دوسری ضرب بھی کاری لگی۔
صفحہ نمبر5450
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ خلیل اللہ نے تین جھوٹ بولے ہیں۔ دو تو راہ اللہ میں: ایک تو انکا یہ فرمانا کہ ”ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے۔“ دوسرا یہ فرمانا کہ ”میں بیمار ہوں“، اور ایک مرتبہ سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر میں تھے۔ اتفاق سے ایک ظالم بادشاہ کی حدود سے آپ علیہ السلام گزر رہے تھے، آپ علیہ السلام نے وہاں منزل کی تھی۔ کسی نے بادشاہ کو خبر کر دی کہ ایک مسافر کے ساتھ بہترین عورت ہے اور وہ اس وقت ہماری سلطنت میں ہے۔ بادشاہ نے جھٹ سپاہی بھیجا کہ وہ سارہ رضی اللہ عنہا کو لے آئے۔ اس نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا ”میری بہن ہے“ اس نے کہا اسے بادشاہ کے دربار میں بھیجو۔ آپ علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا ”سنو، اس ظالم نے تمہیں طلب کیا ہے اور میں تمہیں اپنی بہن بتا چکا ہوں۔ اگر تم سے بھی پوچھا جائے تو یہی کہنا، اس لیے کہ دین کے اعتبار سے تم میری بہن ہو، روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مسلمان نہیں“، یہ کہہ کر آپ علیہ السلام چلے آئے۔ سارہ رضی اللہ عنہا وہاں سے چلیں اور آپ علیہ السلام نماز میں کھڑے ہوگئے۔ جب سارہ رضی اللہ عنہا کو اس ظالم نے دیکھا اور ان کی طرف لپکا، اسی وقت اللہ کے عذاب نے اسے پکڑ لیا، ہاتھ پاؤں اینٹھ گئے۔ گھبرا کر عاجزی سے کہنے لگا اے نیک عورت اللہ سے دعا کر کہ وہ مجھے چھوڑ دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے دعا کی اسی وقت وہ اچھا ہو گیا لیکن اچھا ہوتے ہی اس نے پھر قصد کیا اور آپ رضی اللہ عنہا کو پکڑنا چاہا۔ وہی پھر عذاب الٰہی آ پہنچا اور یہ پہلی دفعہ سے زیادہ سخت پکڑ لیا گیا پھر عاجزی کرنے لگا۔ غرض تین دفعہ پے در پے یہی ہوا۔ تیسری دفعہ چھوٹتے ہی اس نے اپنے قریب کے ملازم کو آواز دی اور کہا تو میرے پاس کسی انسان عورت کو نہیں لایا بلکہ شیطانہ کو لایا ہے۔ جا اسے نکال اور ہاجرہ کو اس کے ساتھ کر دے۔ اسی وقت آپ وہاں سے نکال دی گئیں اور ہاجرہ آپ کے حوالے کی گئیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان کی آہٹ پاتے ہی نماز سے فراغت حاصل کی اور دریافت فرمایا کہ ”کہو کیا گزری؟“ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اللہ نے اس کافر کے مکر کو اسی پر لوٹا دیا اور حاجرہ میری خدمت کے لیے آگئیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہا اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ ”یہ ہیں تمہاری اماں اے آسمانی پانی کے لڑکو“ ۔ [صحیح بخاری:3358]
صفحہ نمبر5451
الأنبياء 21:64
اپنی حماقت سے پریشان کافر ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی باتیں سن کر انہیں خیال تو پیدا ہو گیا۔ اپنے آپ کو اپنی بیوقوفی پر ملامت کرنے لگے۔ سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے بڑی غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کیلئے نہ چھوڑا اور چل دئیے۔ پھر غور وفکر کر کے بات بنائی کہ آپ علیہ السلام جو کچھ ہم سے کہتے ہیں کہ ان سے ہم پوچھ لیں کہ تمہیں کس نے توڑا ہے تو کیا آپ علیہ السلام کو علم نہیں کہ یہ بت بے زبان ہیں؟
عاجزی، حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا۔ اب خلیل اللہ علیہ السلام کو خاصا موقعہ مل گیا اور آپ علیہ السلام فوراً فرمانے لگے کہ ”بے زبان، بے نفع و ضرر چیز کی عبادت کیسی؟ تم کیوں اس قدر بے سمجھ ہو رہے ہو؟ تف ہے تم پر اور تمہارے ان جھوٹے خداؤں پر۔ آہ کس قدر ظلم وجہل ہے کہ ایسی چیزوں کی پرستش کی جائے اور اللہ واحد کو چھوڑ دیا جائے؟ یہی تھیں وہ دلیلیں جن کا ذکر پہلے ہوا تھا کہ «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» [6-الأنعام:83] ” ہم نے ابراہیم کو وہ دلیلیں سکھا دیں جن سے قوم حقیقت تک پہنچ جائے “۔
صفحہ نمبر5454
آگ گلستان بن گئی ٭٭
یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہو جاتا ہے تو یا نیکی اسے گھسیٹ لیتی ہے یا بدی غالب آ جاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کو ان کی بدبختی نے گھیرلیا اور دلیل سے عاجز آ کر قائل معقول ہو کر لگے اپنے دباؤ کا مظاہرہ کرنے۔ آپس میں مشورہ کیا کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال کر اس کی جان لے لو تاکہ ہمارے ان معبودوں کی عزت رہے۔ اس بات پر سب نے اتفاق کر لیا اور لکڑیاں جمع کرنی شروع کر دیں۔ یہاں تک کہ بیمار عورتیں بھی نذر مانتی تھیں تو یہی کہ اگر انہیں شفاء ہو جائے تو ابراہیم علیہ السلام کے جلانے کو لکڑیاں لائیں گی۔
زمین میں ایک بہت بڑا اور بہت گہرا گڑھا کھودا، لکڑیوں سے اسے پر کیا اور انبار کھڑا کر کے اس میں آگ لگائی۔ روئے زمین پر کبھی اتنی بڑی آگ دیکھی نہیں گئی۔ جب آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے، اس کے پاس جانا محال ہو گیا، اب گھبرائے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالیں کیسے؟ آخر ایک کردی فارسی اعرابی کے مشورے سے جس کا نام ہیزن تھا، ایک منجنیق تیار کرائی گئی کہ اس میں بٹھا کر جھولا کر پھینک دو۔ [تفسیر قرطبی:303/11:] مروی ہے کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک وہ اندر اترتا جاتا ہے۔
جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» [3-آل عمران:173] ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس بھی جب یہ خبر پہنچی کہ تمام عرب لشکر جرار لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کے لیے آ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی پڑھا تھا ۔ [صحیح بخاری:4563]
یہ بھی مروی ہے کہ جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، «اللَّهُمَّ إِنَّكَ فِي السَّمَاءِ وَاحِدٌ وَأَنَا فِي الْأَرْضِ وَاحِدٌ أَعْبُدُكَ» ”الٰہی تو آسمانوں میں اکیلا معبود ہے اور توحید کے ساتھ تیرا عابد زمین پر صرف میں ہی ہوں۔“ [مسند بزار:2349:ضعیف]
مروی ہے کہ جب کافر آپ علیہ السلام کو باندھنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”الٰہی تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، تیری ذات پاک ہے، تمام حمد و ثنا تیرے ہی لیے سزاوار ہے۔ سارے ملک کا تو اکیلا ہی مالک ہے کوئی بھی تیرا شریک و ساجھی نہیں۔“ شعیب جبائی فرماتے ہیں کہ ”اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر صرف سولہ سال کی تھی۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5455
بعض سلف سے منقول ہے کہ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے سامنے آسمان و زمین کے درمیان ظاہر ہوئے اور فرمایا، ”کیا آپ علیہ السلام کو کوئی حاجت ہے؟“ آپ علیہ السلام نے جواب دیا ”تم سے تو کوئی حاجت نہیں البتہ اللہ تعالیٰ سے حاجت ہے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بارش کا داروغہ فرشتہ کان لگائے ہوئے تیار تھا کہ کب اللہ کا حکم ہو اور میں اس آگ پر بارش برسا کر اسے ٹھنڈی کر دوں لیکن براہ راست حکم الٰہی آگ کو ہی پہنچا کہ ” میرے خلیل پر تو سلامتی اور ٹھنڈک بن جا “۔ فرماتے ہیں کہ ”اس حکم کے ساتھ ہی روئے زمین کی آگ ٹھنڈی ہوگئی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:]
کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اس دن دنیا بھر میں آگ سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا، اور ابراہیم علیہ السلام کی جوتیاں تو آگ نے جلا دیں لیکن آپ علیہ السلام کے ایک رونگٹے کو بھی آگ نہ لگی۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، ”آگ کو حکم ہوا کہ وہ خلیل اللہ علیہ السلام کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اگر آگ کو صرف ٹھنڈا ہونے کا ہی حکم ہوتا تو پھر ٹھنڈک بھی آپ علیہ السلام کو ضرر پہنچاتی، [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:] اس لیے ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ ” ٹھنڈک کے ساتھ ہی سلامتی بن جا “۔ مذکور ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے ساتھ تھے، آپ علیہ السلام کے منہ پر سے پسینا پونچھ رہے تھے بس اس کے سوا آگ نے کوئی تکلیف نہیں دی۔
صفحہ نمبر5456
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ”سایہ یا فرشتہ اس وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔“ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام اس میں چالیس یا پچاس دن رہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ”مجھے اس زمانے میں جو راحت وسرور حاصل تھا ویسا اس سے نکلنے کے بعد حاصل نہیں ہوا، کیا اچھا ہوتا کہ میری ساری زندگی اسی میں گزرتی۔“ [الدر المنشور للسیوطی:479/4:ضعیف]
صفحہ نمبر5457
الأنبياء 21:65
اپنی حماقت سے پریشان کافر ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی باتیں سن کر انہیں خیال تو پیدا ہو گیا۔ اپنے آپ کو اپنی بیوقوفی پر ملامت کرنے لگے۔ سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے بڑی غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کیلئے نہ چھوڑا اور چل دئیے۔ پھر غور وفکر کر کے بات بنائی کہ آپ علیہ السلام جو کچھ ہم سے کہتے ہیں کہ ان سے ہم پوچھ لیں کہ تمہیں کس نے توڑا ہے تو کیا آپ علیہ السلام کو علم نہیں کہ یہ بت بے زبان ہیں؟
عاجزی، حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا۔ اب خلیل اللہ علیہ السلام کو خاصا موقعہ مل گیا اور آپ علیہ السلام فوراً فرمانے لگے کہ ”بے زبان، بے نفع و ضرر چیز کی عبادت کیسی؟ تم کیوں اس قدر بے سمجھ ہو رہے ہو؟ تف ہے تم پر اور تمہارے ان جھوٹے خداؤں پر۔ آہ کس قدر ظلم وجہل ہے کہ ایسی چیزوں کی پرستش کی جائے اور اللہ واحد کو چھوڑ دیا جائے؟ یہی تھیں وہ دلیلیں جن کا ذکر پہلے ہوا تھا کہ «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» [6-الأنعام:83] ” ہم نے ابراہیم کو وہ دلیلیں سکھا دیں جن سے قوم حقیقت تک پہنچ جائے “۔
صفحہ نمبر5454
آگ گلستان بن گئی ٭٭
یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہو جاتا ہے تو یا نیکی اسے گھسیٹ لیتی ہے یا بدی غالب آ جاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کو ان کی بدبختی نے گھیرلیا اور دلیل سے عاجز آ کر قائل معقول ہو کر لگے اپنے دباؤ کا مظاہرہ کرنے۔ آپس میں مشورہ کیا کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال کر اس کی جان لے لو تاکہ ہمارے ان معبودوں کی عزت رہے۔ اس بات پر سب نے اتفاق کر لیا اور لکڑیاں جمع کرنی شروع کر دیں۔ یہاں تک کہ بیمار عورتیں بھی نذر مانتی تھیں تو یہی کہ اگر انہیں شفاء ہو جائے تو ابراہیم علیہ السلام کے جلانے کو لکڑیاں لائیں گی۔
زمین میں ایک بہت بڑا اور بہت گہرا گڑھا کھودا، لکڑیوں سے اسے پر کیا اور انبار کھڑا کر کے اس میں آگ لگائی۔ روئے زمین پر کبھی اتنی بڑی آگ دیکھی نہیں گئی۔ جب آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے، اس کے پاس جانا محال ہو گیا، اب گھبرائے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالیں کیسے؟ آخر ایک کردی فارسی اعرابی کے مشورے سے جس کا نام ہیزن تھا، ایک منجنیق تیار کرائی گئی کہ اس میں بٹھا کر جھولا کر پھینک دو۔ [تفسیر قرطبی:303/11:] مروی ہے کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک وہ اندر اترتا جاتا ہے۔
جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» [3-آل عمران:173] ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس بھی جب یہ خبر پہنچی کہ تمام عرب لشکر جرار لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کے لیے آ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی پڑھا تھا ۔ [صحیح بخاری:4563]
یہ بھی مروی ہے کہ جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، «اللَّهُمَّ إِنَّكَ فِي السَّمَاءِ وَاحِدٌ وَأَنَا فِي الْأَرْضِ وَاحِدٌ أَعْبُدُكَ» ”الٰہی تو آسمانوں میں اکیلا معبود ہے اور توحید کے ساتھ تیرا عابد زمین پر صرف میں ہی ہوں۔“ [مسند بزار:2349:ضعیف]
مروی ہے کہ جب کافر آپ علیہ السلام کو باندھنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”الٰہی تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، تیری ذات پاک ہے، تمام حمد و ثنا تیرے ہی لیے سزاوار ہے۔ سارے ملک کا تو اکیلا ہی مالک ہے کوئی بھی تیرا شریک و ساجھی نہیں۔“ شعیب جبائی فرماتے ہیں کہ ”اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر صرف سولہ سال کی تھی۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5455
بعض سلف سے منقول ہے کہ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے سامنے آسمان و زمین کے درمیان ظاہر ہوئے اور فرمایا، ”کیا آپ علیہ السلام کو کوئی حاجت ہے؟“ آپ علیہ السلام نے جواب دیا ”تم سے تو کوئی حاجت نہیں البتہ اللہ تعالیٰ سے حاجت ہے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بارش کا داروغہ فرشتہ کان لگائے ہوئے تیار تھا کہ کب اللہ کا حکم ہو اور میں اس آگ پر بارش برسا کر اسے ٹھنڈی کر دوں لیکن براہ راست حکم الٰہی آگ کو ہی پہنچا کہ ” میرے خلیل پر تو سلامتی اور ٹھنڈک بن جا “۔ فرماتے ہیں کہ ”اس حکم کے ساتھ ہی روئے زمین کی آگ ٹھنڈی ہوگئی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:]
کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اس دن دنیا بھر میں آگ سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا، اور ابراہیم علیہ السلام کی جوتیاں تو آگ نے جلا دیں لیکن آپ علیہ السلام کے ایک رونگٹے کو بھی آگ نہ لگی۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، ”آگ کو حکم ہوا کہ وہ خلیل اللہ علیہ السلام کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اگر آگ کو صرف ٹھنڈا ہونے کا ہی حکم ہوتا تو پھر ٹھنڈک بھی آپ علیہ السلام کو ضرر پہنچاتی، [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:] اس لیے ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ ” ٹھنڈک کے ساتھ ہی سلامتی بن جا “۔ مذکور ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے ساتھ تھے، آپ علیہ السلام کے منہ پر سے پسینا پونچھ رہے تھے بس اس کے سوا آگ نے کوئی تکلیف نہیں دی۔
صفحہ نمبر5456
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ”سایہ یا فرشتہ اس وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔“ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام اس میں چالیس یا پچاس دن رہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ”مجھے اس زمانے میں جو راحت وسرور حاصل تھا ویسا اس سے نکلنے کے بعد حاصل نہیں ہوا، کیا اچھا ہوتا کہ میری ساری زندگی اسی میں گزرتی۔“ [الدر المنشور للسیوطی:479/4:ضعیف]
صفحہ نمبر5457
الأنبياء 21:66
اپنی حماقت سے پریشان کافر ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی باتیں سن کر انہیں خیال تو پیدا ہو گیا۔ اپنے آپ کو اپنی بیوقوفی پر ملامت کرنے لگے۔ سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے بڑی غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کیلئے نہ چھوڑا اور چل دئیے۔ پھر غور وفکر کر کے بات بنائی کہ آپ علیہ السلام جو کچھ ہم سے کہتے ہیں کہ ان سے ہم پوچھ لیں کہ تمہیں کس نے توڑا ہے تو کیا آپ علیہ السلام کو علم نہیں کہ یہ بت بے زبان ہیں؟
عاجزی، حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا۔ اب خلیل اللہ علیہ السلام کو خاصا موقعہ مل گیا اور آپ علیہ السلام فوراً فرمانے لگے کہ ”بے زبان، بے نفع و ضرر چیز کی عبادت کیسی؟ تم کیوں اس قدر بے سمجھ ہو رہے ہو؟ تف ہے تم پر اور تمہارے ان جھوٹے خداؤں پر۔ آہ کس قدر ظلم وجہل ہے کہ ایسی چیزوں کی پرستش کی جائے اور اللہ واحد کو چھوڑ دیا جائے؟ یہی تھیں وہ دلیلیں جن کا ذکر پہلے ہوا تھا کہ «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» [6-الأنعام:83] ” ہم نے ابراہیم کو وہ دلیلیں سکھا دیں جن سے قوم حقیقت تک پہنچ جائے “۔
صفحہ نمبر5454
آگ گلستان بن گئی ٭٭
یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہو جاتا ہے تو یا نیکی اسے گھسیٹ لیتی ہے یا بدی غالب آ جاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کو ان کی بدبختی نے گھیرلیا اور دلیل سے عاجز آ کر قائل معقول ہو کر لگے اپنے دباؤ کا مظاہرہ کرنے۔ آپس میں مشورہ کیا کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال کر اس کی جان لے لو تاکہ ہمارے ان معبودوں کی عزت رہے۔ اس بات پر سب نے اتفاق کر لیا اور لکڑیاں جمع کرنی شروع کر دیں۔ یہاں تک کہ بیمار عورتیں بھی نذر مانتی تھیں تو یہی کہ اگر انہیں شفاء ہو جائے تو ابراہیم علیہ السلام کے جلانے کو لکڑیاں لائیں گی۔
زمین میں ایک بہت بڑا اور بہت گہرا گڑھا کھودا، لکڑیوں سے اسے پر کیا اور انبار کھڑا کر کے اس میں آگ لگائی۔ روئے زمین پر کبھی اتنی بڑی آگ دیکھی نہیں گئی۔ جب آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے، اس کے پاس جانا محال ہو گیا، اب گھبرائے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالیں کیسے؟ آخر ایک کردی فارسی اعرابی کے مشورے سے جس کا نام ہیزن تھا، ایک منجنیق تیار کرائی گئی کہ اس میں بٹھا کر جھولا کر پھینک دو۔ [تفسیر قرطبی:303/11:] مروی ہے کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک وہ اندر اترتا جاتا ہے۔
جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» [3-آل عمران:173] ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس بھی جب یہ خبر پہنچی کہ تمام عرب لشکر جرار لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کے لیے آ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی پڑھا تھا ۔ [صحیح بخاری:4563]
یہ بھی مروی ہے کہ جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، «اللَّهُمَّ إِنَّكَ فِي السَّمَاءِ وَاحِدٌ وَأَنَا فِي الْأَرْضِ وَاحِدٌ أَعْبُدُكَ» ”الٰہی تو آسمانوں میں اکیلا معبود ہے اور توحید کے ساتھ تیرا عابد زمین پر صرف میں ہی ہوں۔“ [مسند بزار:2349:ضعیف]
مروی ہے کہ جب کافر آپ علیہ السلام کو باندھنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”الٰہی تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، تیری ذات پاک ہے، تمام حمد و ثنا تیرے ہی لیے سزاوار ہے۔ سارے ملک کا تو اکیلا ہی مالک ہے کوئی بھی تیرا شریک و ساجھی نہیں۔“ شعیب جبائی فرماتے ہیں کہ ”اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر صرف سولہ سال کی تھی۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5455
بعض سلف سے منقول ہے کہ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے سامنے آسمان و زمین کے درمیان ظاہر ہوئے اور فرمایا، ”کیا آپ علیہ السلام کو کوئی حاجت ہے؟“ آپ علیہ السلام نے جواب دیا ”تم سے تو کوئی حاجت نہیں البتہ اللہ تعالیٰ سے حاجت ہے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بارش کا داروغہ فرشتہ کان لگائے ہوئے تیار تھا کہ کب اللہ کا حکم ہو اور میں اس آگ پر بارش برسا کر اسے ٹھنڈی کر دوں لیکن براہ راست حکم الٰہی آگ کو ہی پہنچا کہ ” میرے خلیل پر تو سلامتی اور ٹھنڈک بن جا “۔ فرماتے ہیں کہ ”اس حکم کے ساتھ ہی روئے زمین کی آگ ٹھنڈی ہوگئی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:]
کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اس دن دنیا بھر میں آگ سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا، اور ابراہیم علیہ السلام کی جوتیاں تو آگ نے جلا دیں لیکن آپ علیہ السلام کے ایک رونگٹے کو بھی آگ نہ لگی۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، ”آگ کو حکم ہوا کہ وہ خلیل اللہ علیہ السلام کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اگر آگ کو صرف ٹھنڈا ہونے کا ہی حکم ہوتا تو پھر ٹھنڈک بھی آپ علیہ السلام کو ضرر پہنچاتی، [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:] اس لیے ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ ” ٹھنڈک کے ساتھ ہی سلامتی بن جا “۔ مذکور ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے ساتھ تھے، آپ علیہ السلام کے منہ پر سے پسینا پونچھ رہے تھے بس اس کے سوا آگ نے کوئی تکلیف نہیں دی۔
صفحہ نمبر5456
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ”سایہ یا فرشتہ اس وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔“ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام اس میں چالیس یا پچاس دن رہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ”مجھے اس زمانے میں جو راحت وسرور حاصل تھا ویسا اس سے نکلنے کے بعد حاصل نہیں ہوا، کیا اچھا ہوتا کہ میری ساری زندگی اسی میں گزرتی۔“ [الدر المنشور للسیوطی:479/4:ضعیف]
صفحہ نمبر5457
الأنبياء 21:67
اپنی حماقت سے پریشان کافر ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی باتیں سن کر انہیں خیال تو پیدا ہو گیا۔ اپنے آپ کو اپنی بیوقوفی پر ملامت کرنے لگے۔ سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے بڑی غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کیلئے نہ چھوڑا اور چل دئیے۔ پھر غور وفکر کر کے بات بنائی کہ آپ علیہ السلام جو کچھ ہم سے کہتے ہیں کہ ان سے ہم پوچھ لیں کہ تمہیں کس نے توڑا ہے تو کیا آپ علیہ السلام کو علم نہیں کہ یہ بت بے زبان ہیں؟
عاجزی، حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا۔ اب خلیل اللہ علیہ السلام کو خاصا موقعہ مل گیا اور آپ علیہ السلام فوراً فرمانے لگے کہ ”بے زبان، بے نفع و ضرر چیز کی عبادت کیسی؟ تم کیوں اس قدر بے سمجھ ہو رہے ہو؟ تف ہے تم پر اور تمہارے ان جھوٹے خداؤں پر۔ آہ کس قدر ظلم وجہل ہے کہ ایسی چیزوں کی پرستش کی جائے اور اللہ واحد کو چھوڑ دیا جائے؟ یہی تھیں وہ دلیلیں جن کا ذکر پہلے ہوا تھا کہ «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» [6-الأنعام:83] ” ہم نے ابراہیم کو وہ دلیلیں سکھا دیں جن سے قوم حقیقت تک پہنچ جائے “۔
صفحہ نمبر5454
آگ گلستان بن گئی ٭٭
یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہو جاتا ہے تو یا نیکی اسے گھسیٹ لیتی ہے یا بدی غالب آ جاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کو ان کی بدبختی نے گھیرلیا اور دلیل سے عاجز آ کر قائل معقول ہو کر لگے اپنے دباؤ کا مظاہرہ کرنے۔ آپس میں مشورہ کیا کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال کر اس کی جان لے لو تاکہ ہمارے ان معبودوں کی عزت رہے۔ اس بات پر سب نے اتفاق کر لیا اور لکڑیاں جمع کرنی شروع کر دیں۔ یہاں تک کہ بیمار عورتیں بھی نذر مانتی تھیں تو یہی کہ اگر انہیں شفاء ہو جائے تو ابراہیم علیہ السلام کے جلانے کو لکڑیاں لائیں گی۔
زمین میں ایک بہت بڑا اور بہت گہرا گڑھا کھودا، لکڑیوں سے اسے پر کیا اور انبار کھڑا کر کے اس میں آگ لگائی۔ روئے زمین پر کبھی اتنی بڑی آگ دیکھی نہیں گئی۔ جب آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے، اس کے پاس جانا محال ہو گیا، اب گھبرائے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالیں کیسے؟ آخر ایک کردی فارسی اعرابی کے مشورے سے جس کا نام ہیزن تھا، ایک منجنیق تیار کرائی گئی کہ اس میں بٹھا کر جھولا کر پھینک دو۔ [تفسیر قرطبی:303/11:] مروی ہے کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک وہ اندر اترتا جاتا ہے۔
جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» [3-آل عمران:173] ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس بھی جب یہ خبر پہنچی کہ تمام عرب لشکر جرار لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کے لیے آ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی پڑھا تھا ۔ [صحیح بخاری:4563]
یہ بھی مروی ہے کہ جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، «اللَّهُمَّ إِنَّكَ فِي السَّمَاءِ وَاحِدٌ وَأَنَا فِي الْأَرْضِ وَاحِدٌ أَعْبُدُكَ» ”الٰہی تو آسمانوں میں اکیلا معبود ہے اور توحید کے ساتھ تیرا عابد زمین پر صرف میں ہی ہوں۔“ [مسند بزار:2349:ضعیف]
مروی ہے کہ جب کافر آپ علیہ السلام کو باندھنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”الٰہی تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، تیری ذات پاک ہے، تمام حمد و ثنا تیرے ہی لیے سزاوار ہے۔ سارے ملک کا تو اکیلا ہی مالک ہے کوئی بھی تیرا شریک و ساجھی نہیں۔“ شعیب جبائی فرماتے ہیں کہ ”اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر صرف سولہ سال کی تھی۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5455
بعض سلف سے منقول ہے کہ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے سامنے آسمان و زمین کے درمیان ظاہر ہوئے اور فرمایا، ”کیا آپ علیہ السلام کو کوئی حاجت ہے؟“ آپ علیہ السلام نے جواب دیا ”تم سے تو کوئی حاجت نہیں البتہ اللہ تعالیٰ سے حاجت ہے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بارش کا داروغہ فرشتہ کان لگائے ہوئے تیار تھا کہ کب اللہ کا حکم ہو اور میں اس آگ پر بارش برسا کر اسے ٹھنڈی کر دوں لیکن براہ راست حکم الٰہی آگ کو ہی پہنچا کہ ” میرے خلیل پر تو سلامتی اور ٹھنڈک بن جا “۔ فرماتے ہیں کہ ”اس حکم کے ساتھ ہی روئے زمین کی آگ ٹھنڈی ہوگئی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:]
کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اس دن دنیا بھر میں آگ سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا، اور ابراہیم علیہ السلام کی جوتیاں تو آگ نے جلا دیں لیکن آپ علیہ السلام کے ایک رونگٹے کو بھی آگ نہ لگی۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، ”آگ کو حکم ہوا کہ وہ خلیل اللہ علیہ السلام کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اگر آگ کو صرف ٹھنڈا ہونے کا ہی حکم ہوتا تو پھر ٹھنڈک بھی آپ علیہ السلام کو ضرر پہنچاتی، [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:] اس لیے ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ ” ٹھنڈک کے ساتھ ہی سلامتی بن جا “۔ مذکور ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے ساتھ تھے، آپ علیہ السلام کے منہ پر سے پسینا پونچھ رہے تھے بس اس کے سوا آگ نے کوئی تکلیف نہیں دی۔
صفحہ نمبر5456
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ”سایہ یا فرشتہ اس وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔“ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام اس میں چالیس یا پچاس دن رہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ”مجھے اس زمانے میں جو راحت وسرور حاصل تھا ویسا اس سے نکلنے کے بعد حاصل نہیں ہوا، کیا اچھا ہوتا کہ میری ساری زندگی اسی میں گزرتی۔“ [الدر المنشور للسیوطی:479/4:ضعیف]
صفحہ نمبر5457
الأنبياء 21:68
آگ گلستان بن گئی ٭٭
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام کے والد نے سب سے اچھا کلمہ جو کہا ہے وہ یہ ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام آگ سے زندہ صحیح سالم نکلے، اس وقت آپ علیہ السلام کو اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے دیکھ کر آپ علیہ السلام کے والد نے کہا، ابراہیم (علیہ السلام) ”تیرا رب بہت ہی بزرگ اور بڑا ہے۔“ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، اس دن جو جانور نکلا وہ آپ علیہ السلام کی آگ کو بجھانے کی کوشش کرتا رہا سوائے گرگٹ کے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:467/18:]
صفحہ نمبر5461
زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے اور اسے فاسق کہا ہے۔“
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک نیزہ دیکھ کر ایک عورت نے سوال کیا کہ یہ کیوں رکھ چھوڑا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”گرگٹوں کو مار ڈالنے کے لیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس وقت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے اس وقت تمام جانور اس آگ کو بجھا رہے تھے سوائے گرگٹ کے، یہ اور پھونک رہا تھا ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:3231،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5462
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ان کا مکر ہم نے ان پر الٹ دیا “۔ کافروں نے اللہ کے نبی علیہ السلام کو نیچا کرنا چاہا اللہ نے انہیں نیچا دکھایا۔
. عطیہ عوفی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں جلائے جانے کا تماشا دیکھنے کے لیے ان کافروں کا بادشاہ بھی آیا تھا، ادھر خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا جاتا ہے ادھر آگ میں سے ایک چنگاری اڑتی ہے اور اس کافر بادشاہ کے انگوٹھے پر آ پڑتی ہے اور وہیں کھڑے کھڑے سب کے سامنے اس طرح اسے جلا دیتی ہے جیسے روئی جل جائے۔“
صفحہ نمبر5463
الأنبياء 21:69
آگ گلستان بن گئی ٭٭
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام کے والد نے سب سے اچھا کلمہ جو کہا ہے وہ یہ ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام آگ سے زندہ صحیح سالم نکلے، اس وقت آپ علیہ السلام کو اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے دیکھ کر آپ علیہ السلام کے والد نے کہا، ابراہیم (علیہ السلام) ”تیرا رب بہت ہی بزرگ اور بڑا ہے۔“ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، اس دن جو جانور نکلا وہ آپ علیہ السلام کی آگ کو بجھانے کی کوشش کرتا رہا سوائے گرگٹ کے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:467/18:]
صفحہ نمبر5461
زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے اور اسے فاسق کہا ہے۔“
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک نیزہ دیکھ کر ایک عورت نے سوال کیا کہ یہ کیوں رکھ چھوڑا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”گرگٹوں کو مار ڈالنے کے لیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس وقت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے اس وقت تمام جانور اس آگ کو بجھا رہے تھے سوائے گرگٹ کے، یہ اور پھونک رہا تھا ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:3231،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5462
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ان کا مکر ہم نے ان پر الٹ دیا “۔ کافروں نے اللہ کے نبی علیہ السلام کو نیچا کرنا چاہا اللہ نے انہیں نیچا دکھایا۔
. عطیہ عوفی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں جلائے جانے کا تماشا دیکھنے کے لیے ان کافروں کا بادشاہ بھی آیا تھا، ادھر خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا جاتا ہے ادھر آگ میں سے ایک چنگاری اڑتی ہے اور اس کافر بادشاہ کے انگوٹھے پر آ پڑتی ہے اور وہیں کھڑے کھڑے سب کے سامنے اس طرح اسے جلا دیتی ہے جیسے روئی جل جائے۔“
صفحہ نمبر5463
الأنبياء 21:70
آگ گلستان بن گئی ٭٭
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام کے والد نے سب سے اچھا کلمہ جو کہا ہے وہ یہ ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام آگ سے زندہ صحیح سالم نکلے، اس وقت آپ علیہ السلام کو اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے دیکھ کر آپ علیہ السلام کے والد نے کہا، ابراہیم (علیہ السلام) ”تیرا رب بہت ہی بزرگ اور بڑا ہے۔“ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، اس دن جو جانور نکلا وہ آپ علیہ السلام کی آگ کو بجھانے کی کوشش کرتا رہا سوائے گرگٹ کے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:467/18:]
صفحہ نمبر5461
زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے اور اسے فاسق کہا ہے۔“
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک نیزہ دیکھ کر ایک عورت نے سوال کیا کہ یہ کیوں رکھ چھوڑا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”گرگٹوں کو مار ڈالنے کے لیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس وقت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے اس وقت تمام جانور اس آگ کو بجھا رہے تھے سوائے گرگٹ کے، یہ اور پھونک رہا تھا ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:3231،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5462
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ان کا مکر ہم نے ان پر الٹ دیا “۔ کافروں نے اللہ کے نبی علیہ السلام کو نیچا کرنا چاہا اللہ نے انہیں نیچا دکھایا۔
. عطیہ عوفی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں جلائے جانے کا تماشا دیکھنے کے لیے ان کافروں کا بادشاہ بھی آیا تھا، ادھر خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا جاتا ہے ادھر آگ میں سے ایک چنگاری اڑتی ہے اور اس کافر بادشاہ کے انگوٹھے پر آ پڑتی ہے اور وہیں کھڑے کھڑے سب کے سامنے اس طرح اسے جلا دیتی ہے جیسے روئی جل جائے۔“
صفحہ نمبر5463
الأنبياء 21:71
ہجرت خلیل علیہ السلام ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام کو عراق کی سر زمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔
شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سر زمین ہے۔ یہیں عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب رحمہ اللہ آپ علیہ السلام حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ علیہ السلام نے ان سے اس قرار پر نکاح کر لیا کہ وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے، انہی کا نام سارہ ہے رضی اللہ عنہا۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ سارہ آپ علیہ السلام کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکے شریف میں ختم ہوئی۔ مکے ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [3-آل عمران:97-96] ” یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت وہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آ جانے والا امن وسلامتی میں آ جاتا ہے “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا “۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [11-ھود:71] چونکہ خلیل اللہ علیہ السلام کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت «رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ» [37-الصافات:100] اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکوکار بنایا۔
صفحہ نمبر5466
ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنا دیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیان فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ ” وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے “۔
پھر لوط علیہ السلام کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور آپ علیہ السلام کی تابعداری میں آپ علیہ السلام ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت «فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ» [29-العنكبوت:26] ، ” لوط علیہ السلام آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں “۔
پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فنا کر دئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ ” ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا “۔
صفحہ نمبر5467
الأنبياء 21:72
ہجرت خلیل علیہ السلام ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام کو عراق کی سر زمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔
شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سر زمین ہے۔ یہیں عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب رحمہ اللہ آپ علیہ السلام حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ علیہ السلام نے ان سے اس قرار پر نکاح کر لیا کہ وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے، انہی کا نام سارہ ہے رضی اللہ عنہا۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ سارہ آپ علیہ السلام کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکے شریف میں ختم ہوئی۔ مکے ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [3-آل عمران:97-96] ” یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت وہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آ جانے والا امن وسلامتی میں آ جاتا ہے “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا “۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [11-ھود:71] چونکہ خلیل اللہ علیہ السلام کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت «رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ» [37-الصافات:100] اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکوکار بنایا۔
صفحہ نمبر5466
ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنا دیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیان فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ ” وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے “۔
پھر لوط علیہ السلام کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور آپ علیہ السلام کی تابعداری میں آپ علیہ السلام ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت «فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ» [29-العنكبوت:26] ، ” لوط علیہ السلام آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں “۔
پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فنا کر دئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ ” ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا “۔
صفحہ نمبر5467
الأنبياء 21:73
ہجرت خلیل علیہ السلام ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام کو عراق کی سر زمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔
شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سر زمین ہے۔ یہیں عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب رحمہ اللہ آپ علیہ السلام حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ علیہ السلام نے ان سے اس قرار پر نکاح کر لیا کہ وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے، انہی کا نام سارہ ہے رضی اللہ عنہا۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ سارہ آپ علیہ السلام کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکے شریف میں ختم ہوئی۔ مکے ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [3-آل عمران:97-96] ” یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت وہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آ جانے والا امن وسلامتی میں آ جاتا ہے “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا “۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [11-ھود:71] چونکہ خلیل اللہ علیہ السلام کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت «رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ» [37-الصافات:100] اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکوکار بنایا۔
صفحہ نمبر5466
ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنا دیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیان فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ ” وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے “۔
پھر لوط علیہ السلام کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور آپ علیہ السلام کی تابعداری میں آپ علیہ السلام ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت «فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ» [29-العنكبوت:26] ، ” لوط علیہ السلام آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں “۔
پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فنا کر دئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ ” ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا “۔
صفحہ نمبر5467
الأنبياء 21:74
ہجرت خلیل علیہ السلام ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام کو عراق کی سر زمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔
شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سر زمین ہے۔ یہیں عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب رحمہ اللہ آپ علیہ السلام حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ علیہ السلام نے ان سے اس قرار پر نکاح کر لیا کہ وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے، انہی کا نام سارہ ہے رضی اللہ عنہا۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ سارہ آپ علیہ السلام کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکے شریف میں ختم ہوئی۔ مکے ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [3-آل عمران:97-96] ” یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت وہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آ جانے والا امن وسلامتی میں آ جاتا ہے “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا “۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [11-ھود:71] چونکہ خلیل اللہ علیہ السلام کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت «رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ» [37-الصافات:100] اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکوکار بنایا۔
صفحہ نمبر5466
ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنا دیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیان فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ ” وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے “۔
پھر لوط علیہ السلام کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور آپ علیہ السلام کی تابعداری میں آپ علیہ السلام ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت «فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ» [29-العنكبوت:26] ، ” لوط علیہ السلام آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں “۔
پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فنا کر دئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ ” ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا “۔
صفحہ نمبر5467
الأنبياء 21:75
ہجرت خلیل علیہ السلام ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام کو عراق کی سر زمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔
شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سر زمین ہے۔ یہیں عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب رحمہ اللہ آپ علیہ السلام حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ علیہ السلام نے ان سے اس قرار پر نکاح کر لیا کہ وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے، انہی کا نام سارہ ہے رضی اللہ عنہا۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ سارہ آپ علیہ السلام کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکے شریف میں ختم ہوئی۔ مکے ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [3-آل عمران:97-96] ” یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت وہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آ جانے والا امن وسلامتی میں آ جاتا ہے “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا “۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [11-ھود:71] چونکہ خلیل اللہ علیہ السلام کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت «رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ» [37-الصافات:100] اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکوکار بنایا۔
صفحہ نمبر5466
ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنا دیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیان فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ ” وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے “۔
پھر لوط علیہ السلام کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور آپ علیہ السلام کی تابعداری میں آپ علیہ السلام ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت «فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ» [29-العنكبوت:26] ، ” لوط علیہ السلام آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں “۔
پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فنا کر دئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ ” ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا “۔
صفحہ نمبر5467
الأنبياء 21:76
نوح علیہ السلام کی دعا ٭٭
نوح نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی قوم نے ستایا۔ تکلیفیں دیں تو آپ علیہ السلام نے اللہ کو پکارا کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» [54-القمر:10] ” باری تعالیٰ میں عاجز آ گیا ہوں تو میری مدد فرما “۔ «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا» [71-نوح:26-27] ” زمین پر ان کافروں میں سے کسی ایک کو بھی باقی نہ رکھ ورنہ یہ تیرے بندوں کو بہکائیں گے۔ اور ان کی اولادیں بھی ایسی ہی فاجر و کافر ہوں گی “۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی دعا قبول فرمائی «وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ ۚ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ» [11-ھود:40] اور آپ علیہ السلام کو اور مومنوں کو نجات دی اور آپ علیہ السلام کے اہل کو بھی سوائے ان کے جن کے نام برباد ہونے والوں میں آگئے تھے۔ آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کی بہت ہی کم مقدار تھی۔ قوم کی سختی، ایذاء دہی اور تکلیف سے رب عالم نے اپنے نبی علیہ السلام کو بچا لیا۔ ساڑھے نو سو سال تک آپ علیہ السلام ان میں رہے اور انہیں دین اسلام کی طرف بلاتے رہے مگر سوائے چند لوگوں کے اور سب اپنے شرک و کفر سے باز نہ آئے، بلکہ آپ علیہ السلام کو سخت ایذائیں دیں اور ایک دوسرے کو اذیت دینے کے لیے بھڑکاتے رہے۔
” ہم نے ان کی مدد فرمائی اور عزت و آبرو کے ساتھ کفار کی ایذاء رسانیوں سے چھٹکارا دیا اور ان برے لوگوں کوٹھکانے لگا دیا “، اور نوح علیہ السلام کی دعا کے مطابق روئے زمین پر ایک بھی کافر نہ بچا۔ سب ڈبو دئے گئے۔
صفحہ نمبر5472
الأنبياء 21:77
نوح علیہ السلام کی دعا ٭٭
نوح نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی قوم نے ستایا۔ تکلیفیں دیں تو آپ علیہ السلام نے اللہ کو پکارا کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» [54-القمر:10] ” باری تعالیٰ میں عاجز آ گیا ہوں تو میری مدد فرما “۔ «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا» [71-نوح:26-27] ” زمین پر ان کافروں میں سے کسی ایک کو بھی باقی نہ رکھ ورنہ یہ تیرے بندوں کو بہکائیں گے۔ اور ان کی اولادیں بھی ایسی ہی فاجر و کافر ہوں گی “۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی دعا قبول فرمائی «وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ ۚ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ» [11-ھود:40] اور آپ علیہ السلام کو اور مومنوں کو نجات دی اور آپ علیہ السلام کے اہل کو بھی سوائے ان کے جن کے نام برباد ہونے والوں میں آگئے تھے۔ آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کی بہت ہی کم مقدار تھی۔ قوم کی سختی، ایذاء دہی اور تکلیف سے رب عالم نے اپنے نبی علیہ السلام کو بچا لیا۔ ساڑھے نو سو سال تک آپ علیہ السلام ان میں رہے اور انہیں دین اسلام کی طرف بلاتے رہے مگر سوائے چند لوگوں کے اور سب اپنے شرک و کفر سے باز نہ آئے، بلکہ آپ علیہ السلام کو سخت ایذائیں دیں اور ایک دوسرے کو اذیت دینے کے لیے بھڑکاتے رہے۔
” ہم نے ان کی مدد فرمائی اور عزت و آبرو کے ساتھ کفار کی ایذاء رسانیوں سے چھٹکارا دیا اور ان برے لوگوں کوٹھکانے لگا دیا “، اور نوح علیہ السلام کی دعا کے مطابق روئے زمین پر ایک بھی کافر نہ بچا۔ سب ڈبو دئے گئے۔
صفحہ نمبر5472
الأنبياء 21:78
ایک ہی مقدمہ میں داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کے مختلف فیصلے ٭٭
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ کھیتی انگور کی تھی جس کے خوشے لٹک رہے تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:475/18:] «نَفَشَتْ» کے معنی ہیں رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے، اور دن کے وقت چرنے کو عربی میں «ھَمَل» کہتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:477/18:]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا۔ داؤد علیہ السلام نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں۔ سلیمان علیہ السلام نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا وہ کیا؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کر دی جائیں، وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے۔ یہ اس میں انگور کی بیلوں کی خدمت کرے یہاں تک کہ بیلیں ٹھیک ٹھاک ہو جائیں۔ انگور لگیں اور پھر اسی حالت پر آ جائیں جس پر تھے تو باغ والے کو اس کا باغ سونپ دے اور باغ والا اسے اس کی بکریاں سونپ دے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ ہم نے اس جھگڑے کا صحیح فیصلہ سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:475/18:]
صفحہ نمبر5474
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”داؤد علیہ السلام کا یہ فیصلہ سن کر بکریوں والے اپنا سا منہ لے کر صرف کتوں کو اپنے ساتھ لیے ہوئے واپس جا رہے تھے۔ سلیمان علیہ السلام نے انہیں دیکھ کر دریافت کیا کہ تمہارا فیصلہ کیا ہوا؟ انہوں نے خبر دی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ”اگر میں اس جگہ ہوتا تو یہ فیصلہ نہ دیتا بلکہ کچھ اور فیصلہ کرتا۔“ داؤد علیہ السلام کو جب یہ بات پہنچی تو آپ علیہ السلام نے انہیں بلوایا اور پوچھا کہ بیٹے تم کیا فیصلہ کرتے؟ آپ نے وہی اوپر والا فیصلہ سنایا۔
مسروق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ان بکریوں نے خوشے اور پتے سب کھالئے تھے۔ تو داؤد علیہ السلام کے فیصلے کے خلاف سلیمان علیہ السلام نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کی بکریاں باغ والوں کو دے دی جائیں اور یہ باغ انہیں سونپا جائے، جب تک باغ اپنی اصلی حالت پر آئے تب تک بکریوں کے بچے اور ان کا دودھ اور ان کا کل نفع باغ والوں کا۔ پھر ہر ایک کو ان کی چیز سونپ دی جائے۔“
قاضی شریح رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بھی ایک ایسا ہی جھگڑا آیا تھا تو آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دن کو بکریوں نے نقصان پہنچایا ہے تب تو کوئی معاوضہ نہیں۔ اور اگر رات کو نقصان پہنچایا ہے تو بکریوں والے ضامن ہیں۔ پھر آپ رحمہ اللہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:479/18:]
صفحہ نمبر5475
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کسی باغ میں چلی گئی اور وہاں باغ کا بڑا نقصان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ باغ والوں پر دن کے وقت باغ کی حفاظت ہے اور جو نقصان جانوروں سے رات کو ہو اس کا جرمانہ جانور والوں پر ہے ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:238] اس حدیث میں علتیں نکالی گئی ہیں اور ہم نے کتاب الاحکام میں اللہ کے فضل سے اس کی پوری تفصیل بیان کر دی ہے۔
مروی ہے کہ ایاس بن معاویہ رحمتہ اللہ علیہ سے جب کہ قاضی بننے کی درخواست کی گئی تو وہ حسن رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آئے اور رو دئے۔ پوچھا گیا کہ اے ابوسعید آپ کیوں روتے ہیں؟ فرمایا مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ اگر قاضی نے اجتہاد کیا، پھر غلطی کی، وہ جہنمی ہے اور جو خواہش نفس کی طرف جھک گیا، وہ بھی جہنمی ہے۔ ہاں جس نے اجتہاد کیا اور صحت پر پہنچ گیا، وہ جنت میں پہنچا۔ حسن رحمہ اللہ یہ سن کر فرمانے لگے، ”سنو اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی «قضاۃ» کا ذکر فرمایا ہے، ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام اعلیٰ منصب پر ہوتے ہیں، ان کے قول سے ان لوگوں کی باتیں رد ہو سکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کی تعریف تو بیان فرمائی ہے لیکن داؤد علیہ السلام کی مذمت بیان نہیں فرمائی۔ پھر فرمانے لگے، سنو تین باتوں کا عہد اللہ تعالیٰ نے قاضیوں سے لیا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ منصفین شرع دنیوی نفع کی وجہ سے بدل نہ دیں، دوسرے یہ کہ اپنے دلی ارادوں اور خواہشوں کے پیچھے نہ پڑ جائیں، تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» [38-ص:26] یعنی ” اے داؤد! ہم نے تجھے زمین کا خلیفہ بنایا ہے تو لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کرتا رہ خواہش کے پیچے نہ پڑ کہ اللہ کی راہ سے بہک جائے “۔
اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ» [5-المائدہ:44] ” لوگوں سے نہ ڈرو مجھی سے ڈرتے رہا کرو “۔ اور فرمان ہے آیت «وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا» [2-البقرة:41] ، ” میری آیتوں کو معمولی نفع کی خاطر بیچ نہ دیا کرو “۔
میں کہتا ہوں انبیاء علیہم السلام کی معصومیت میں اور ان کی منجانب اللہ ہر وقت تائید ہوتے رہنے میں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ رہے اور لوگ تو صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب حاکم اجتہاد اور کوشش کرے پھر صحت تک پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور جب پوری کوشش کے بعد بھی غلطی کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے ۔ [صحیح بخاری:7352]
یہ حدیث صاف بتا رہی ہے کہ حضرت ایاس رحمہ اللہ کو جو وہم تھا کہ باوجود پوری جدوجہد کے بھی خطا کر جائے تو دوزخی ہے یہ غلط ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5476
سنن کی اور حدیث میں ہے، قاضی تین قسم کے ہیں۔ ایک جنتی دو جہنمی اور جس نے حق کو معلوم کر لیا اور اسی سے فیصلہ کیا وہ جنتی۔ اور جس نے جہالت کے ساتھ فیصلہ کیا وہ جہنمی اور جس نے حق کو جانتے ہوئے اس کے خلاف فیصلہ دیا وہ بھی جہنمی ۔ [سنن ابوداود:3573، قال الشيخ الألباني:صحیح]
قرآن کریم کے بیان کردہ اس واقعے کے قریب ہی وہ قصہ ہے جو مسند احمد میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، دو عورتیں تھیں جن کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے۔ بھیڑیا آ کر ایک بچے کو اٹھا لے گیا، اب ہر ایک دوسری سے کہنے لگی کہ تیرا بچہ گیا اور جو ہے وہ میرا بچہ ہے۔ آخر یہ قصہ داؤد علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا۔ آپ علیہ السلام نے بڑی عورت کو ڈگری دے دی کہ یہ بچہ تیرا ہے۔ یہ یہاں سے نکلیں راستے میں سلیمان علیہ السلام تھے، آپ علیہ السلام نے دونوں کو بلایا اور فرمایا چھری لاؤ۔ میں اس لڑکے کے دو ٹکڑے کر کے آدھا آدھا ان دونوں کو دے دیتا ہوں۔ اس پر بڑی تو خاموش ہوگئی لیکن چھوٹی نے ہائے واویلا شروع کر دیا کہ اللہ آپ علیہ السلام پر رحم کرے آپ علیہ السلام ایسا نہ کیجئے، یہ لڑکا اسی بڑی کا ہے اسی کو دے دیجئیے۔ سلیمان علیہ السلام معاملے کو سمجھ گئے اور لڑکا چھوٹی عورت کو دلادیا ۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:3427]
صفحہ نمبر5477
امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ نے اس پر باب باندھا ہے کہ حاکم کو جائز ہے کہ اپنا فیصلہ اپنے دل میں رکھ کر حقیقت کو معلوم کرنے کے لیے اس کے خلاف کچھ کہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ابن عساکر میں ہے کہ ایک خوبصورت عورت سے ایک رئیس نے ملنا چاہا لیکن عورت نے نہ مانا، اسی طرح تین اور شخصوں نے بھی اس سے بدکاری کا ارادہ کیا لیکن وہ باز رہی۔ اس پر وہ رؤسا خار کھا گئے اور آپس میں اتفاق کر کے داؤد علیہ السلام کی عدالت میں جا کر سب نے گواہی دی کہ وہ عورت اپنے کتے سے ایسا کام کراتی ہے چاروں کے متفقہ بیان پر حکم ہوگیا کہ اسے رجم کر دیا جائے۔
اسی شام کو سلیمان علیہ السلام اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر خود حاکم بنے اور چار لڑکے ان لوگوں کی طرح آپ علیہ السلام کے پاس اس مقدمے کو لائے اور ایک عورت کی نسبت یہی کہا۔ سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا ان چاروں کو الگ الگ کر دو۔ پھر ایک کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس کتے کا رنگ کیسا تھا؟ اس نے کہا سیاہ۔ پھر دوسرے کو تنہا بلایا اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سرخ۔ تیسرے نے کہا خاکی۔ چوتھے نے کہا سفید۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فیصلہ دیا کہ عورت پر یہ نری تہمت ہے اور ان چاروں کو قتل کر دیا جائے۔ داؤد علیہ السلام کے پاس بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فی الفور ان چاروں امیروں کو بلایا اور اسی طرح الگ الگ ان سے اس کتے کے رنگ کی بابت سوال کیا۔ یہ گڑبڑا گئے۔ کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ۔ آپ کو ان کا جھوٹ معلوم ہو گیا اور حکم فرمایا کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔
صفحہ نمبر5478
پھر بیان ہو رہا ہے کہ ” داؤد علیہ السلام کو وہ نورانی گلا عطا فرمایا گیا تھا اور آپ علیہ السلام ایسی خوش آوازی اور خلوص کے ساتھ زبور پڑھتے تھے کہ پرند بھی اپنی پرواز چھوڑ کر تھم جاتے تھے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے لگتے تھے۔ اسی طرح پہاڑ بھی “۔
آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ» [34-سبأ:10] ” اور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا، اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کر دیا “۔
صفحہ نمبر5479
ایک روایت میں ہے کہ رات کے وقت سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کریم کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی میٹھی رسیلی اور خلوص بھری آواز سن کر ٹھہر گئے اور دیر تک سنتے رہے، پھر فرمانے لگے یہ تو آل داؤد کی آوازوں کی شیرینی دیئے گئے ہیں ۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو فرمانے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری قرأت سن رہے ہیں تو میں اور بھی اچھی طرح پڑھتا ۔ [صحیح بخاری:5048]
صفحہ نمبر5480