Tafsir Ibn Kathir — ق 50:1 – الذاريات 51:50
Contents
- ق 50:1
- ق 50:2
- ق 50:3
- ق 50:4
- ق 50:5
- ق 50:6
- ق 50:7
- ق 50:8
- ق 50:9
- ق 50:10
- ق 50:11
- ق 50:12
- ق 50:13
- ق 50:14
- ق 50:15
- ق 50:16
- ق 50:17
- ق 50:18
- ق 50:19
- ق 50:20
- ق 50:21
- ق 50:22
- ق 50:23
- ق 50:24
- ق 50:25
- ق 50:26
- ق 50:27
- ق 50:28
- ق 50:29
- ق 50:30
- ق 50:31
- ق 50:32
- ق 50:33
- ق 50:34
- ق 50:35
- ق 50:36
- ق 50:37
- ق 50:38
- ق 50:39
- ق 50:40
- ق 50:41
- ق 50:42
- ق 50:43
- ق 50:44
- ق 50:45
- الذاريات 51:1
- الذاريات 51:2
- الذاريات 51:3
- الذاريات 51:4
- الذاريات 51:5
- الذاريات 51:6
- الذاريات 51:7
- الذاريات 51:8
- الذاريات 51:9
- الذاريات 51:10
- الذاريات 51:11
- الذاريات 51:12
- الذاريات 51:13
- الذاريات 51:14
- الذاريات 51:15
- الذاريات 51:16
- الذاريات 51:17
- الذاريات 51:18
- الذاريات 51:19
- الذاريات 51:20
- الذاريات 51:21
- الذاريات 51:22
- الذاريات 51:23
- الذاريات 51:24
- الذاريات 51:25
- الذاريات 51:26
- الذاريات 51:27
- الذاريات 51:28
- الذاريات 51:29
- الذاريات 51:30
- الذاريات 51:31
- الذاريات 51:32
- الذاريات 51:33
- الذاريات 51:34
- الذاريات 51:35
- الذاريات 51:36
- الذاريات 51:37
- الذاريات 51:38
- الذاريات 51:39
- الذاريات 51:40
- الذاريات 51:41
- الذاريات 51:42
- الذاريات 51:43
- الذاريات 51:44
- الذاريات 51:45
- الذاريات 51:46
- الذاريات 51:47
- الذاريات 51:48
- الذاريات 51:49
- الذاريات 51:50
ق 50:1
تفسیر سورۃ ق:
جن سورتوں کو مفصل کی سورتیں کہا جاتا ہے ان میں سب سے پہلی سورت یہی ہے، گو ایک قول یہ بھی ہے کہ مفصل کی سورتیں سورۃ الحجرات سے شروع ہوتی ہیں یہ بالکل بے اصل بات ہے، علماء میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں، مفصل کی سورتوں کی پہلی سورت یہی ہے، اس کی دلیل ابوداؤد کی یہ حدیث ہے جو [ باب تحریب القران ] میں ہے۔ سیدنا اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وفد ثقیف میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے اور بنو مالک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قبے میں ٹھہرایا۔ فرماتے ہیں: ہر رات عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آتے اور کھڑے کھڑے ہمیں اپنی باتیں سناتے یہاں تک کہ آپ کو دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے قدموں کو بدلنے کی ضرورت پڑتی، کبھی اس قدم کھڑے ہوتے، کبھی اس قدم پر، عموماً آپ ہم سے وہ واقعات بیان کرتے جو آپ کو اپنی قوم قریش سے سہنے پڑے تھے، پھر فرماتے کوئی حرج نہیں ہم مکے میں کمزور تھے بے وقعت تھے۔ پھر ہم مدینے میں آ گئے اب ہم میں ان میں لڑائی ڈولوں کے مثل ہے کبھی ہم ان پر غالب، کبھی وہ ہم پر، غرض ہر رات یہ لطف صحبت رہا کرتا تھا، ایک رات کو وقت ہو چکا اور آپ نہ آئے۔ بہت دیر کے بعد تشریف لائے ہم نے کہا: یا رسول اللہ ! آج تو آپ کو بہت دیر ہو گئی، آپ نے فرمایا: ”ہاں قرآن کا جو حصہ روزانہ پڑھا کرتا تھا آج اس وقت اسے پڑھا اور ادھورا چھوڑ کر آنے کو جی نہ چاہا“۔ سیدنا اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تم قرآن کے حصے کسی طرح کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلی تین سورتوں کی ایک منزل، پھر پانچ سورتوں کی ایک منزل، پھر سات سورتوں کی ایک منزل، پھر نو سورتوں کی ایک منزل، پھر گیارہ سورتوں کی ایک منزل، پھر تیرہ سورتوں کی ایک منزل اور مفصل کی سورتوں کی ایک منزل۔ (سنن ابوداود:1393،قال الشيخ الألباني:ضعیف) یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے
پس پہلی چھ منزلوں کی کل اڑتالیس سورتیں ہوئیں پھر ان کے بعد مفصل کی تمام سورتوں کی ایک منزل تو انچاسویں سورت یہی سورۃ ق پڑتی ہے۔ باقاعدہ گنتی سنئیے۔ پہلی منزل کی تین سورتیں البقرہ، آل عمران اور النساء ہوئیں۔ دوسری منزل کی پانچ سورتیں المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہوئیں۔ تیسری منزل کی سات سورتیں یونس، ہود، یوسف، الرعد، ابراہیم، الحجر، اور النحل ہوئیں۔ چوتھی منزل کی نو سورتیں الاِسراء، الکہف، مریم، طہٰ، الانبیاء، الحج، المومنون، النور اور الفرقان ہوئیں۔ پانچویں منزل کی گیارہ سورتیں الشعراء، النمل، القصص، العنکبوت، الروم، لقمان، السجدہ، الاحزاب، سبا، فاطر، اور یٰسین ہوئیں۔ چھٹی منزل کی تیرہ سورتیں الصافات، ص، الزمر، غافر، فصلت، الشوریٰ، الزخرف، الدخان، الجاثیہ، الاحقاف، محمد، الفتح اور الحجرات ہوئیں۔ اب ساتویں منزل مفصل کی سورتیں باقی رہیں جو الحجرات کے بعد کی سورت سے شروع ہوں گی اور وہ سورۃ ق ہے۔ اور یہی ہم نے کہا تھا۔ «فالحمداللہ»
مسلم شریف میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عید کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھتے تھے؟ آپ نے فرمایا: سورۃ ق اور سورۃ القمر «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» الخ (صحیح مسلم:891)
مسلم میں ہے سیدہ ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو سال تک یا ایک سال کچھ ماہ تک ایک ہی دستور رہا میں نے سورۃ ق کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن سن کر یاد کر لیا، اس لیے کہ ہر جمعہ کے دن جب آپ لوگوں کو خطبہ سنانے کیلئے منبر پر آتے تو اس سورت کی تلاوت کرتے۔ (صحیح مسلم:873-45)
الغرض بڑے بڑے مجمع کے موقع پر جیسے عید ہے جمعہ ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سورت کی تلاوت کرتے کیونکہ اس میں ابتداء خلق کا، مرنے کے بعد جینے کا، اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا، حساب کتاب کا، جنت دوزخ کا ثواب عذاب اور رغبت و ڈراوے کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
تفسیر سورۂ ق ٭٭
«ق» حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے «ص، ن، الم، حم، طس»، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورۃ البقرہ کی تفسیر میں شروع میں کر دی ہے۔
بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کر سکتے۔
صفحہ نمبر8693
اہل کتاب کی موضوع روایتیں ٭٭
لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بددینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کر دیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجود یہ کہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت ہر زمانے میں موجود ہے تاہم بددینوں نے بہت تھوڑی مدت میں موضوع احادیث تک گھڑ لیں۔
صفحہ نمبر8694
پس بنی اسرائیل جن پر مدتیں گزر چکیں، جو حفظ سے عاری تھے، جن میں نقادان فن موجود نہ تھے، جو کلام اللہ کو اصلیت سے ہٹا دیا کرتے تھے، جو شرابوں میں مخمور رہا کرتے تھے، جو آیات اللہ کو بدل ڈالا کرتے تھے، ان کا کیا ٹھیک ہے؟ پس حدیث نے جن روایات کو ان سے لینا مباح رکھا ہے یہ وہ ہیں جو کم از کم عقل و فہم میں تو آ سکیں، نہ وہ جو صریح خلاف عقل ہوں، سنتے ہی ان کے باطل اور غلط ہونے کا فیصلہ عقل کر دیتی ہو اور اس کا جھوٹ ہونا اتنا واضح ہو کہ اس پر دلیل لانے کی ضرورت نہ پڑے۔
پس مندرجہ بالا روایات بھی ایسی ہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ افسوس کہ بہت سلف و خلف نے اہل کتاب سے اس قسم کی حکایتیں قرآن مجید کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں دراصل قرآن کریم ایسی بےسروپا باتوں کا کچھ محتاج نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
صفحہ نمبر8695
یہاں تک کہ امام ابو محمد عبدالرحمٰن بن ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے بھی یہاں ایک عجیب و غریب اثر بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وارد کر دیا ہے جو ازروے سند ثابت نہیں۔ اس میں ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک سمندر پیدا کیا ہے جو اس ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس سمندر کے پچھے ایک پہاڑ ہے جو اس کو روکے ہوئے ہے اس کا نام قاف ہے، آسمان اور دنیا اسی پر اٹھا ہوا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ کے پیچھے ایک زمین بنائی ہے جو اس زمین سے سات گنا بڑی ہے، پھر اس کے پیچھے ایک سمندر ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، پھر اس کے پیچھے پہاڑ ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اسے بھی قاف کہتے ہیں دوسرا آسمان اسی پر بلند کیا ہوا ہے اسی طرح سات زمینیں، سات سمندر، سات پہاڑ اور سات آسمان گنوائے۔ پھر یہ آیت پڑھی «وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [31-لقمان:27] اس اثر کی اسناد میں انقطاع ہے۔ [ضعیف و منقطع]
صفحہ نمبر8696
علی بن ابوطلحہ جو روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کرتے ہیں اس میں ہے کہ «ق» اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ق» بھی مثل «ص، ن، طس، الم» وغیرہ کے حروف ہجا میں سے ہے۔
پس ان روایات سے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان ہونا اور بعید ہو جاتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ کام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے قسم اللہ کی اور «ق» کہہ کر باقی جملہ چھوڑ دیا گیا کہ یہ دلیل ہے محذوف پر۔
جیسے شاعر کہتا ہے۔ «قلت لھا قفی فقالت ق» لیکن یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ محذوف پر دلالت کرنے والا کلام صاف ہونا چاہیئے اور یہاں کون سا کلام ہے؟ جس سے اتنے بڑے جملے کے محذوف ہونے کا پتہ چلے۔ پھر اس کرم اور عظمت والے قرآن کی قسم کھائی جس کے آگے سے یا پیچھے سے باطل نہیں آ سکتا، جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔
اس قسم کا جواب کیا ہے؟ اس میں بھی کئی قول ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے تو بعض نحویوں سے نقل کیا ہے کہ اس کا جواب «قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ» [50-ق:4] پوری آیت تک ہے۔
لیکن یہ بھی غور طلب ہے بلکہ جواب قسم کے بعد کا مضمون کلام ہے یعنی نبوت اور دوبارہ جی اٹھنے کا ثبوت اور تحقیق گو قسم لفظوں سے اس کا جواب نہ بتاتی ہو ایسا قرآن کی قسموں کے جواب میں اکثر ہے جیسے کہ سورۃ ص کی تفسیر کے شروع میں گزر چکا ہے، اسی طرح یہاں بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ انہی میں سے ایک انسان کیسے رسول بن گیا؟ جیسے اور آیت میں ہے «اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ» [10-يونس:2] یعنی ” کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی تاکہ تم لوگوں کو خبردار کر دے۔ “ یعنی دراصل یہ کوئی تعجب کی چیز نہ تھی اللہ جسے چاہے اپنے فرشتوں میں سے اپنی رسالت کے لیے چن لیتا ہے اور جسے چاہے انسانوں میں سے چن لیتا ہے۔
اسی کے ساتھ یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد جینے کو بھی تعجب کی نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے جسم کے اجزا جدا جدا ہو کر، ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی ہو جائیں گے اس کے بعد تو اسی ہئیت و ترکیب میں ہمارا دوبارہ جینا بالکل محال ہے اس کے جواب میں فرمان صادر ہوا کہ زمین ان کے جسموں کو جو کھا جاتی ہے اس سے بھی ہم غافل نہیں ہمیں معلوم ہے کہ ان کے ذرے کہاں گئے اور کس حالت میں کہاں ہیں؟ ہمارے پاس کتاب ہے جو اس کی حافظ ہے ہمارا علم ان سب معلومات پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی کتاب میں محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر8697
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیاں اور بال جو کچھ زمین کھا جاتی ہے، ہمارے علم میں ہے۔ پھر پروردگار عالم ان کے اس محال سمجھنے کی اصل وجہ بیان فرما رہا ہے کہ دراصل یہ حق کو جھٹلانے والے لوگ ہیں اور جو لوگ اپنے پاس حق کے آ جانے کے بعد اس کا انکار کر دیں ان سے اچھی سمجھ ہی چھن جاتی ہے، «مریج» کے معنی ہیں مختلف، مضطرب، منکر اور خلط ملط کے جیسے فرمان ہے «اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ» [51-الذاريات:8] یعنی ” یقیناً تم ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو۔ “ نافرمانی وہی کرتا ہے جو بھلائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔
صفحہ نمبر8698
ق 50:2
تفسیر سورۃ ق:
جن سورتوں کو مفصل کی سورتیں کہا جاتا ہے ان میں سب سے پہلی سورت یہی ہے، گو ایک قول یہ بھی ہے کہ مفصل کی سورتیں سورۃ الحجرات سے شروع ہوتی ہیں یہ بالکل بے اصل بات ہے، علماء میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں، مفصل کی سورتوں کی پہلی سورت یہی ہے، اس کی دلیل ابوداؤد کی یہ حدیث ہے جو [ باب تحریب القران ] میں ہے۔ سیدنا اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وفد ثقیف میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے اور بنو مالک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قبے میں ٹھہرایا۔ فرماتے ہیں: ہر رات عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آتے اور کھڑے کھڑے ہمیں اپنی باتیں سناتے یہاں تک کہ آپ کو دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے قدموں کو بدلنے کی ضرورت پڑتی، کبھی اس قدم کھڑے ہوتے، کبھی اس قدم پر، عموماً آپ ہم سے وہ واقعات بیان کرتے جو آپ کو اپنی قوم قریش سے سہنے پڑے تھے، پھر فرماتے کوئی حرج نہیں ہم مکے میں کمزور تھے بے وقعت تھے۔ پھر ہم مدینے میں آ گئے اب ہم میں ان میں لڑائی ڈولوں کے مثل ہے کبھی ہم ان پر غالب، کبھی وہ ہم پر، غرض ہر رات یہ لطف صحبت رہا کرتا تھا، ایک رات کو وقت ہو چکا اور آپ نہ آئے۔ بہت دیر کے بعد تشریف لائے ہم نے کہا: یا رسول اللہ ! آج تو آپ کو بہت دیر ہو گئی، آپ نے فرمایا: ”ہاں قرآن کا جو حصہ روزانہ پڑھا کرتا تھا آج اس وقت اسے پڑھا اور ادھورا چھوڑ کر آنے کو جی نہ چاہا“۔ سیدنا اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تم قرآن کے حصے کسی طرح کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلی تین سورتوں کی ایک منزل، پھر پانچ سورتوں کی ایک منزل، پھر سات سورتوں کی ایک منزل، پھر نو سورتوں کی ایک منزل، پھر گیارہ سورتوں کی ایک منزل، پھر تیرہ سورتوں کی ایک منزل اور مفصل کی سورتوں کی ایک منزل۔ (سنن ابوداود:1393،قال الشيخ الألباني:ضعیف) یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے
پس پہلی چھ منزلوں کی کل اڑتالیس سورتیں ہوئیں پھر ان کے بعد مفصل کی تمام سورتوں کی ایک منزل تو انچاسویں سورت یہی سورۃ ق پڑتی ہے۔ باقاعدہ گنتی سنئیے۔ پہلی منزل کی تین سورتیں البقرہ، آل عمران اور النساء ہوئیں۔ دوسری منزل کی پانچ سورتیں المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہوئیں۔ تیسری منزل کی سات سورتیں یونس، ہود، یوسف، الرعد، ابراہیم، الحجر، اور النحل ہوئیں۔ چوتھی منزل کی نو سورتیں الاِسراء، الکہف، مریم، طہٰ، الانبیاء، الحج، المومنون، النور اور الفرقان ہوئیں۔ پانچویں منزل کی گیارہ سورتیں الشعراء، النمل، القصص، العنکبوت، الروم، لقمان، السجدہ، الاحزاب، سبا، فاطر، اور یٰسین ہوئیں۔ چھٹی منزل کی تیرہ سورتیں الصافات، ص، الزمر، غافر، فصلت، الشوریٰ، الزخرف، الدخان، الجاثیہ، الاحقاف، محمد، الفتح اور الحجرات ہوئیں۔ اب ساتویں منزل مفصل کی سورتیں باقی رہیں جو الحجرات کے بعد کی سورت سے شروع ہوں گی اور وہ سورۃ ق ہے۔ اور یہی ہم نے کہا تھا۔ «فالحمداللہ»
مسلم شریف میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عید کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھتے تھے؟ آپ نے فرمایا: سورۃ ق اور سورۃ القمر «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» الخ (صحیح مسلم:891)
مسلم میں ہے سیدہ ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو سال تک یا ایک سال کچھ ماہ تک ایک ہی دستور رہا میں نے سورۃ ق کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن سن کر یاد کر لیا، اس لیے کہ ہر جمعہ کے دن جب آپ لوگوں کو خطبہ سنانے کیلئے منبر پر آتے تو اس سورت کی تلاوت کرتے۔ (صحیح مسلم:873-45)
الغرض بڑے بڑے مجمع کے موقع پر جیسے عید ہے جمعہ ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سورت کی تلاوت کرتے کیونکہ اس میں ابتداء خلق کا، مرنے کے بعد جینے کا، اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا، حساب کتاب کا، جنت دوزخ کا ثواب عذاب اور رغبت و ڈراوے کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
تفسیر سورۂ ق ٭٭
«ق» حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے «ص، ن، الم، حم، طس»، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورۃ البقرہ کی تفسیر میں شروع میں کر دی ہے۔
بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کر سکتے۔
صفحہ نمبر8693
اہل کتاب کی موضوع روایتیں ٭٭
لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بددینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کر دیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجود یہ کہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت ہر زمانے میں موجود ہے تاہم بددینوں نے بہت تھوڑی مدت میں موضوع احادیث تک گھڑ لیں۔
صفحہ نمبر8694
پس بنی اسرائیل جن پر مدتیں گزر چکیں، جو حفظ سے عاری تھے، جن میں نقادان فن موجود نہ تھے، جو کلام اللہ کو اصلیت سے ہٹا دیا کرتے تھے، جو شرابوں میں مخمور رہا کرتے تھے، جو آیات اللہ کو بدل ڈالا کرتے تھے، ان کا کیا ٹھیک ہے؟ پس حدیث نے جن روایات کو ان سے لینا مباح رکھا ہے یہ وہ ہیں جو کم از کم عقل و فہم میں تو آ سکیں، نہ وہ جو صریح خلاف عقل ہوں، سنتے ہی ان کے باطل اور غلط ہونے کا فیصلہ عقل کر دیتی ہو اور اس کا جھوٹ ہونا اتنا واضح ہو کہ اس پر دلیل لانے کی ضرورت نہ پڑے۔
پس مندرجہ بالا روایات بھی ایسی ہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ افسوس کہ بہت سلف و خلف نے اہل کتاب سے اس قسم کی حکایتیں قرآن مجید کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں دراصل قرآن کریم ایسی بےسروپا باتوں کا کچھ محتاج نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
صفحہ نمبر8695
یہاں تک کہ امام ابو محمد عبدالرحمٰن بن ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے بھی یہاں ایک عجیب و غریب اثر بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وارد کر دیا ہے جو ازروے سند ثابت نہیں۔ اس میں ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک سمندر پیدا کیا ہے جو اس ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس سمندر کے پچھے ایک پہاڑ ہے جو اس کو روکے ہوئے ہے اس کا نام قاف ہے، آسمان اور دنیا اسی پر اٹھا ہوا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ کے پیچھے ایک زمین بنائی ہے جو اس زمین سے سات گنا بڑی ہے، پھر اس کے پیچھے ایک سمندر ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، پھر اس کے پیچھے پہاڑ ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اسے بھی قاف کہتے ہیں دوسرا آسمان اسی پر بلند کیا ہوا ہے اسی طرح سات زمینیں، سات سمندر، سات پہاڑ اور سات آسمان گنوائے۔ پھر یہ آیت پڑھی «وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [31-لقمان:27] اس اثر کی اسناد میں انقطاع ہے۔ [ضعیف و منقطع]
صفحہ نمبر8696
علی بن ابوطلحہ جو روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کرتے ہیں اس میں ہے کہ «ق» اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ق» بھی مثل «ص، ن، طس، الم» وغیرہ کے حروف ہجا میں سے ہے۔
پس ان روایات سے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان ہونا اور بعید ہو جاتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ کام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے قسم اللہ کی اور «ق» کہہ کر باقی جملہ چھوڑ دیا گیا کہ یہ دلیل ہے محذوف پر۔
جیسے شاعر کہتا ہے۔ «قلت لھا قفی فقالت ق» لیکن یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ محذوف پر دلالت کرنے والا کلام صاف ہونا چاہیئے اور یہاں کون سا کلام ہے؟ جس سے اتنے بڑے جملے کے محذوف ہونے کا پتہ چلے۔ پھر اس کرم اور عظمت والے قرآن کی قسم کھائی جس کے آگے سے یا پیچھے سے باطل نہیں آ سکتا، جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔
اس قسم کا جواب کیا ہے؟ اس میں بھی کئی قول ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے تو بعض نحویوں سے نقل کیا ہے کہ اس کا جواب «قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ» [50-ق:4] پوری آیت تک ہے۔
لیکن یہ بھی غور طلب ہے بلکہ جواب قسم کے بعد کا مضمون کلام ہے یعنی نبوت اور دوبارہ جی اٹھنے کا ثبوت اور تحقیق گو قسم لفظوں سے اس کا جواب نہ بتاتی ہو ایسا قرآن کی قسموں کے جواب میں اکثر ہے جیسے کہ سورۃ ص کی تفسیر کے شروع میں گزر چکا ہے، اسی طرح یہاں بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ انہی میں سے ایک انسان کیسے رسول بن گیا؟ جیسے اور آیت میں ہے «اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ» [10-يونس:2] یعنی ” کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی تاکہ تم لوگوں کو خبردار کر دے۔ “ یعنی دراصل یہ کوئی تعجب کی چیز نہ تھی اللہ جسے چاہے اپنے فرشتوں میں سے اپنی رسالت کے لیے چن لیتا ہے اور جسے چاہے انسانوں میں سے چن لیتا ہے۔
اسی کے ساتھ یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد جینے کو بھی تعجب کی نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے جسم کے اجزا جدا جدا ہو کر، ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی ہو جائیں گے اس کے بعد تو اسی ہئیت و ترکیب میں ہمارا دوبارہ جینا بالکل محال ہے اس کے جواب میں فرمان صادر ہوا کہ زمین ان کے جسموں کو جو کھا جاتی ہے اس سے بھی ہم غافل نہیں ہمیں معلوم ہے کہ ان کے ذرے کہاں گئے اور کس حالت میں کہاں ہیں؟ ہمارے پاس کتاب ہے جو اس کی حافظ ہے ہمارا علم ان سب معلومات پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی کتاب میں محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر8697
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیاں اور بال جو کچھ زمین کھا جاتی ہے، ہمارے علم میں ہے۔ پھر پروردگار عالم ان کے اس محال سمجھنے کی اصل وجہ بیان فرما رہا ہے کہ دراصل یہ حق کو جھٹلانے والے لوگ ہیں اور جو لوگ اپنے پاس حق کے آ جانے کے بعد اس کا انکار کر دیں ان سے اچھی سمجھ ہی چھن جاتی ہے، «مریج» کے معنی ہیں مختلف، مضطرب، منکر اور خلط ملط کے جیسے فرمان ہے «اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ» [51-الذاريات:8] یعنی ” یقیناً تم ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو۔ “ نافرمانی وہی کرتا ہے جو بھلائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔
صفحہ نمبر8698
ق 50:3
تفسیر سورۃ ق:
جن سورتوں کو مفصل کی سورتیں کہا جاتا ہے ان میں سب سے پہلی سورت یہی ہے، گو ایک قول یہ بھی ہے کہ مفصل کی سورتیں سورۃ الحجرات سے شروع ہوتی ہیں یہ بالکل بے اصل بات ہے، علماء میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں، مفصل کی سورتوں کی پہلی سورت یہی ہے، اس کی دلیل ابوداؤد کی یہ حدیث ہے جو [ باب تحریب القران ] میں ہے۔ سیدنا اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وفد ثقیف میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے اور بنو مالک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قبے میں ٹھہرایا۔ فرماتے ہیں: ہر رات عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آتے اور کھڑے کھڑے ہمیں اپنی باتیں سناتے یہاں تک کہ آپ کو دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے قدموں کو بدلنے کی ضرورت پڑتی، کبھی اس قدم کھڑے ہوتے، کبھی اس قدم پر، عموماً آپ ہم سے وہ واقعات بیان کرتے جو آپ کو اپنی قوم قریش سے سہنے پڑے تھے، پھر فرماتے کوئی حرج نہیں ہم مکے میں کمزور تھے بے وقعت تھے۔ پھر ہم مدینے میں آ گئے اب ہم میں ان میں لڑائی ڈولوں کے مثل ہے کبھی ہم ان پر غالب، کبھی وہ ہم پر، غرض ہر رات یہ لطف صحبت رہا کرتا تھا، ایک رات کو وقت ہو چکا اور آپ نہ آئے۔ بہت دیر کے بعد تشریف لائے ہم نے کہا: یا رسول اللہ ! آج تو آپ کو بہت دیر ہو گئی، آپ نے فرمایا: ”ہاں قرآن کا جو حصہ روزانہ پڑھا کرتا تھا آج اس وقت اسے پڑھا اور ادھورا چھوڑ کر آنے کو جی نہ چاہا“۔ سیدنا اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تم قرآن کے حصے کسی طرح کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلی تین سورتوں کی ایک منزل، پھر پانچ سورتوں کی ایک منزل، پھر سات سورتوں کی ایک منزل، پھر نو سورتوں کی ایک منزل، پھر گیارہ سورتوں کی ایک منزل، پھر تیرہ سورتوں کی ایک منزل اور مفصل کی سورتوں کی ایک منزل۔ (سنن ابوداود:1393،قال الشيخ الألباني:ضعیف) یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے
پس پہلی چھ منزلوں کی کل اڑتالیس سورتیں ہوئیں پھر ان کے بعد مفصل کی تمام سورتوں کی ایک منزل تو انچاسویں سورت یہی سورۃ ق پڑتی ہے۔ باقاعدہ گنتی سنئیے۔ پہلی منزل کی تین سورتیں البقرہ، آل عمران اور النساء ہوئیں۔ دوسری منزل کی پانچ سورتیں المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہوئیں۔ تیسری منزل کی سات سورتیں یونس، ہود، یوسف، الرعد، ابراہیم، الحجر، اور النحل ہوئیں۔ چوتھی منزل کی نو سورتیں الاِسراء، الکہف، مریم، طہٰ، الانبیاء، الحج، المومنون، النور اور الفرقان ہوئیں۔ پانچویں منزل کی گیارہ سورتیں الشعراء، النمل، القصص، العنکبوت، الروم، لقمان، السجدہ، الاحزاب، سبا، فاطر، اور یٰسین ہوئیں۔ چھٹی منزل کی تیرہ سورتیں الصافات، ص، الزمر، غافر، فصلت، الشوریٰ، الزخرف، الدخان، الجاثیہ، الاحقاف، محمد، الفتح اور الحجرات ہوئیں۔ اب ساتویں منزل مفصل کی سورتیں باقی رہیں جو الحجرات کے بعد کی سورت سے شروع ہوں گی اور وہ سورۃ ق ہے۔ اور یہی ہم نے کہا تھا۔ «فالحمداللہ»
مسلم شریف میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عید کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھتے تھے؟ آپ نے فرمایا: سورۃ ق اور سورۃ القمر «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» الخ (صحیح مسلم:891)
مسلم میں ہے سیدہ ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو سال تک یا ایک سال کچھ ماہ تک ایک ہی دستور رہا میں نے سورۃ ق کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن سن کر یاد کر لیا، اس لیے کہ ہر جمعہ کے دن جب آپ لوگوں کو خطبہ سنانے کیلئے منبر پر آتے تو اس سورت کی تلاوت کرتے۔ (صحیح مسلم:873-45)
الغرض بڑے بڑے مجمع کے موقع پر جیسے عید ہے جمعہ ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سورت کی تلاوت کرتے کیونکہ اس میں ابتداء خلق کا، مرنے کے بعد جینے کا، اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا، حساب کتاب کا، جنت دوزخ کا ثواب عذاب اور رغبت و ڈراوے کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
تفسیر سورۂ ق ٭٭
«ق» حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے «ص، ن، الم، حم، طس»، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورۃ البقرہ کی تفسیر میں شروع میں کر دی ہے۔
بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کر سکتے۔
صفحہ نمبر8693
اہل کتاب کی موضوع روایتیں ٭٭
لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بددینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کر دیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجود یہ کہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت ہر زمانے میں موجود ہے تاہم بددینوں نے بہت تھوڑی مدت میں موضوع احادیث تک گھڑ لیں۔
صفحہ نمبر8694
پس بنی اسرائیل جن پر مدتیں گزر چکیں، جو حفظ سے عاری تھے، جن میں نقادان فن موجود نہ تھے، جو کلام اللہ کو اصلیت سے ہٹا دیا کرتے تھے، جو شرابوں میں مخمور رہا کرتے تھے، جو آیات اللہ کو بدل ڈالا کرتے تھے، ان کا کیا ٹھیک ہے؟ پس حدیث نے جن روایات کو ان سے لینا مباح رکھا ہے یہ وہ ہیں جو کم از کم عقل و فہم میں تو آ سکیں، نہ وہ جو صریح خلاف عقل ہوں، سنتے ہی ان کے باطل اور غلط ہونے کا فیصلہ عقل کر دیتی ہو اور اس کا جھوٹ ہونا اتنا واضح ہو کہ اس پر دلیل لانے کی ضرورت نہ پڑے۔
پس مندرجہ بالا روایات بھی ایسی ہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ افسوس کہ بہت سلف و خلف نے اہل کتاب سے اس قسم کی حکایتیں قرآن مجید کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں دراصل قرآن کریم ایسی بےسروپا باتوں کا کچھ محتاج نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
صفحہ نمبر8695
یہاں تک کہ امام ابو محمد عبدالرحمٰن بن ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے بھی یہاں ایک عجیب و غریب اثر بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وارد کر دیا ہے جو ازروے سند ثابت نہیں۔ اس میں ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک سمندر پیدا کیا ہے جو اس ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس سمندر کے پچھے ایک پہاڑ ہے جو اس کو روکے ہوئے ہے اس کا نام قاف ہے، آسمان اور دنیا اسی پر اٹھا ہوا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ کے پیچھے ایک زمین بنائی ہے جو اس زمین سے سات گنا بڑی ہے، پھر اس کے پیچھے ایک سمندر ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، پھر اس کے پیچھے پہاڑ ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اسے بھی قاف کہتے ہیں دوسرا آسمان اسی پر بلند کیا ہوا ہے اسی طرح سات زمینیں، سات سمندر، سات پہاڑ اور سات آسمان گنوائے۔ پھر یہ آیت پڑھی «وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [31-لقمان:27] اس اثر کی اسناد میں انقطاع ہے۔ [ضعیف و منقطع]
صفحہ نمبر8696
علی بن ابوطلحہ جو روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کرتے ہیں اس میں ہے کہ «ق» اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ق» بھی مثل «ص، ن، طس، الم» وغیرہ کے حروف ہجا میں سے ہے۔
پس ان روایات سے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان ہونا اور بعید ہو جاتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ کام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے قسم اللہ کی اور «ق» کہہ کر باقی جملہ چھوڑ دیا گیا کہ یہ دلیل ہے محذوف پر۔
جیسے شاعر کہتا ہے۔ «قلت لھا قفی فقالت ق» لیکن یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ محذوف پر دلالت کرنے والا کلام صاف ہونا چاہیئے اور یہاں کون سا کلام ہے؟ جس سے اتنے بڑے جملے کے محذوف ہونے کا پتہ چلے۔ پھر اس کرم اور عظمت والے قرآن کی قسم کھائی جس کے آگے سے یا پیچھے سے باطل نہیں آ سکتا، جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔
اس قسم کا جواب کیا ہے؟ اس میں بھی کئی قول ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے تو بعض نحویوں سے نقل کیا ہے کہ اس کا جواب «قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ» [50-ق:4] پوری آیت تک ہے۔
لیکن یہ بھی غور طلب ہے بلکہ جواب قسم کے بعد کا مضمون کلام ہے یعنی نبوت اور دوبارہ جی اٹھنے کا ثبوت اور تحقیق گو قسم لفظوں سے اس کا جواب نہ بتاتی ہو ایسا قرآن کی قسموں کے جواب میں اکثر ہے جیسے کہ سورۃ ص کی تفسیر کے شروع میں گزر چکا ہے، اسی طرح یہاں بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ انہی میں سے ایک انسان کیسے رسول بن گیا؟ جیسے اور آیت میں ہے «اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ» [10-يونس:2] یعنی ” کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی تاکہ تم لوگوں کو خبردار کر دے۔ “ یعنی دراصل یہ کوئی تعجب کی چیز نہ تھی اللہ جسے چاہے اپنے فرشتوں میں سے اپنی رسالت کے لیے چن لیتا ہے اور جسے چاہے انسانوں میں سے چن لیتا ہے۔
اسی کے ساتھ یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد جینے کو بھی تعجب کی نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے جسم کے اجزا جدا جدا ہو کر، ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی ہو جائیں گے اس کے بعد تو اسی ہئیت و ترکیب میں ہمارا دوبارہ جینا بالکل محال ہے اس کے جواب میں فرمان صادر ہوا کہ زمین ان کے جسموں کو جو کھا جاتی ہے اس سے بھی ہم غافل نہیں ہمیں معلوم ہے کہ ان کے ذرے کہاں گئے اور کس حالت میں کہاں ہیں؟ ہمارے پاس کتاب ہے جو اس کی حافظ ہے ہمارا علم ان سب معلومات پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی کتاب میں محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر8697
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیاں اور بال جو کچھ زمین کھا جاتی ہے، ہمارے علم میں ہے۔ پھر پروردگار عالم ان کے اس محال سمجھنے کی اصل وجہ بیان فرما رہا ہے کہ دراصل یہ حق کو جھٹلانے والے لوگ ہیں اور جو لوگ اپنے پاس حق کے آ جانے کے بعد اس کا انکار کر دیں ان سے اچھی سمجھ ہی چھن جاتی ہے، «مریج» کے معنی ہیں مختلف، مضطرب، منکر اور خلط ملط کے جیسے فرمان ہے «اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ» [51-الذاريات:8] یعنی ” یقیناً تم ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو۔ “ نافرمانی وہی کرتا ہے جو بھلائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔
صفحہ نمبر8698
ق 50:4
تفسیر سورۃ ق:
جن سورتوں کو مفصل کی سورتیں کہا جاتا ہے ان میں سب سے پہلی سورت یہی ہے، گو ایک قول یہ بھی ہے کہ مفصل کی سورتیں سورۃ الحجرات سے شروع ہوتی ہیں یہ بالکل بے اصل بات ہے، علماء میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں، مفصل کی سورتوں کی پہلی سورت یہی ہے، اس کی دلیل ابوداؤد کی یہ حدیث ہے جو [ باب تحریب القران ] میں ہے۔ سیدنا اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وفد ثقیف میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے اور بنو مالک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قبے میں ٹھہرایا۔ فرماتے ہیں: ہر رات عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آتے اور کھڑے کھڑے ہمیں اپنی باتیں سناتے یہاں تک کہ آپ کو دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے قدموں کو بدلنے کی ضرورت پڑتی، کبھی اس قدم کھڑے ہوتے، کبھی اس قدم پر، عموماً آپ ہم سے وہ واقعات بیان کرتے جو آپ کو اپنی قوم قریش سے سہنے پڑے تھے، پھر فرماتے کوئی حرج نہیں ہم مکے میں کمزور تھے بے وقعت تھے۔ پھر ہم مدینے میں آ گئے اب ہم میں ان میں لڑائی ڈولوں کے مثل ہے کبھی ہم ان پر غالب، کبھی وہ ہم پر، غرض ہر رات یہ لطف صحبت رہا کرتا تھا، ایک رات کو وقت ہو چکا اور آپ نہ آئے۔ بہت دیر کے بعد تشریف لائے ہم نے کہا: یا رسول اللہ ! آج تو آپ کو بہت دیر ہو گئی، آپ نے فرمایا: ”ہاں قرآن کا جو حصہ روزانہ پڑھا کرتا تھا آج اس وقت اسے پڑھا اور ادھورا چھوڑ کر آنے کو جی نہ چاہا“۔ سیدنا اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تم قرآن کے حصے کسی طرح کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلی تین سورتوں کی ایک منزل، پھر پانچ سورتوں کی ایک منزل، پھر سات سورتوں کی ایک منزل، پھر نو سورتوں کی ایک منزل، پھر گیارہ سورتوں کی ایک منزل، پھر تیرہ سورتوں کی ایک منزل اور مفصل کی سورتوں کی ایک منزل۔ (سنن ابوداود:1393،قال الشيخ الألباني:ضعیف) یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے
پس پہلی چھ منزلوں کی کل اڑتالیس سورتیں ہوئیں پھر ان کے بعد مفصل کی تمام سورتوں کی ایک منزل تو انچاسویں سورت یہی سورۃ ق پڑتی ہے۔ باقاعدہ گنتی سنئیے۔ پہلی منزل کی تین سورتیں البقرہ، آل عمران اور النساء ہوئیں۔ دوسری منزل کی پانچ سورتیں المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہوئیں۔ تیسری منزل کی سات سورتیں یونس، ہود، یوسف، الرعد، ابراہیم، الحجر، اور النحل ہوئیں۔ چوتھی منزل کی نو سورتیں الاِسراء، الکہف، مریم، طہٰ، الانبیاء، الحج، المومنون، النور اور الفرقان ہوئیں۔ پانچویں منزل کی گیارہ سورتیں الشعراء، النمل، القصص، العنکبوت، الروم، لقمان، السجدہ، الاحزاب، سبا، فاطر، اور یٰسین ہوئیں۔ چھٹی منزل کی تیرہ سورتیں الصافات، ص، الزمر، غافر، فصلت، الشوریٰ، الزخرف، الدخان، الجاثیہ، الاحقاف، محمد، الفتح اور الحجرات ہوئیں۔ اب ساتویں منزل مفصل کی سورتیں باقی رہیں جو الحجرات کے بعد کی سورت سے شروع ہوں گی اور وہ سورۃ ق ہے۔ اور یہی ہم نے کہا تھا۔ «فالحمداللہ»
مسلم شریف میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عید کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھتے تھے؟ آپ نے فرمایا: سورۃ ق اور سورۃ القمر «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» الخ (صحیح مسلم:891)
مسلم میں ہے سیدہ ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو سال تک یا ایک سال کچھ ماہ تک ایک ہی دستور رہا میں نے سورۃ ق کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن سن کر یاد کر لیا، اس لیے کہ ہر جمعہ کے دن جب آپ لوگوں کو خطبہ سنانے کیلئے منبر پر آتے تو اس سورت کی تلاوت کرتے۔ (صحیح مسلم:873-45)
الغرض بڑے بڑے مجمع کے موقع پر جیسے عید ہے جمعہ ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سورت کی تلاوت کرتے کیونکہ اس میں ابتداء خلق کا، مرنے کے بعد جینے کا، اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا، حساب کتاب کا، جنت دوزخ کا ثواب عذاب اور رغبت و ڈراوے کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
تفسیر سورۂ ق ٭٭
«ق» حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے «ص، ن، الم، حم، طس»، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورۃ البقرہ کی تفسیر میں شروع میں کر دی ہے۔
بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کر سکتے۔
صفحہ نمبر8693
اہل کتاب کی موضوع روایتیں ٭٭
لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بددینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کر دیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجود یہ کہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت ہر زمانے میں موجود ہے تاہم بددینوں نے بہت تھوڑی مدت میں موضوع احادیث تک گھڑ لیں۔
صفحہ نمبر8694
پس بنی اسرائیل جن پر مدتیں گزر چکیں، جو حفظ سے عاری تھے، جن میں نقادان فن موجود نہ تھے، جو کلام اللہ کو اصلیت سے ہٹا دیا کرتے تھے، جو شرابوں میں مخمور رہا کرتے تھے، جو آیات اللہ کو بدل ڈالا کرتے تھے، ان کا کیا ٹھیک ہے؟ پس حدیث نے جن روایات کو ان سے لینا مباح رکھا ہے یہ وہ ہیں جو کم از کم عقل و فہم میں تو آ سکیں، نہ وہ جو صریح خلاف عقل ہوں، سنتے ہی ان کے باطل اور غلط ہونے کا فیصلہ عقل کر دیتی ہو اور اس کا جھوٹ ہونا اتنا واضح ہو کہ اس پر دلیل لانے کی ضرورت نہ پڑے۔
پس مندرجہ بالا روایات بھی ایسی ہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ افسوس کہ بہت سلف و خلف نے اہل کتاب سے اس قسم کی حکایتیں قرآن مجید کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں دراصل قرآن کریم ایسی بےسروپا باتوں کا کچھ محتاج نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
صفحہ نمبر8695
یہاں تک کہ امام ابو محمد عبدالرحمٰن بن ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے بھی یہاں ایک عجیب و غریب اثر بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وارد کر دیا ہے جو ازروے سند ثابت نہیں۔ اس میں ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک سمندر پیدا کیا ہے جو اس ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس سمندر کے پچھے ایک پہاڑ ہے جو اس کو روکے ہوئے ہے اس کا نام قاف ہے، آسمان اور دنیا اسی پر اٹھا ہوا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ کے پیچھے ایک زمین بنائی ہے جو اس زمین سے سات گنا بڑی ہے، پھر اس کے پیچھے ایک سمندر ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، پھر اس کے پیچھے پہاڑ ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اسے بھی قاف کہتے ہیں دوسرا آسمان اسی پر بلند کیا ہوا ہے اسی طرح سات زمینیں، سات سمندر، سات پہاڑ اور سات آسمان گنوائے۔ پھر یہ آیت پڑھی «وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [31-لقمان:27] اس اثر کی اسناد میں انقطاع ہے۔ [ضعیف و منقطع]
صفحہ نمبر8696
علی بن ابوطلحہ جو روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کرتے ہیں اس میں ہے کہ «ق» اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ق» بھی مثل «ص، ن، طس، الم» وغیرہ کے حروف ہجا میں سے ہے۔
پس ان روایات سے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان ہونا اور بعید ہو جاتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ کام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے قسم اللہ کی اور «ق» کہہ کر باقی جملہ چھوڑ دیا گیا کہ یہ دلیل ہے محذوف پر۔
جیسے شاعر کہتا ہے۔ «قلت لھا قفی فقالت ق» لیکن یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ محذوف پر دلالت کرنے والا کلام صاف ہونا چاہیئے اور یہاں کون سا کلام ہے؟ جس سے اتنے بڑے جملے کے محذوف ہونے کا پتہ چلے۔ پھر اس کرم اور عظمت والے قرآن کی قسم کھائی جس کے آگے سے یا پیچھے سے باطل نہیں آ سکتا، جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔
اس قسم کا جواب کیا ہے؟ اس میں بھی کئی قول ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے تو بعض نحویوں سے نقل کیا ہے کہ اس کا جواب «قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ» [50-ق:4] پوری آیت تک ہے۔
لیکن یہ بھی غور طلب ہے بلکہ جواب قسم کے بعد کا مضمون کلام ہے یعنی نبوت اور دوبارہ جی اٹھنے کا ثبوت اور تحقیق گو قسم لفظوں سے اس کا جواب نہ بتاتی ہو ایسا قرآن کی قسموں کے جواب میں اکثر ہے جیسے کہ سورۃ ص کی تفسیر کے شروع میں گزر چکا ہے، اسی طرح یہاں بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ انہی میں سے ایک انسان کیسے رسول بن گیا؟ جیسے اور آیت میں ہے «اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ» [10-يونس:2] یعنی ” کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی تاکہ تم لوگوں کو خبردار کر دے۔ “ یعنی دراصل یہ کوئی تعجب کی چیز نہ تھی اللہ جسے چاہے اپنے فرشتوں میں سے اپنی رسالت کے لیے چن لیتا ہے اور جسے چاہے انسانوں میں سے چن لیتا ہے۔
اسی کے ساتھ یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد جینے کو بھی تعجب کی نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے جسم کے اجزا جدا جدا ہو کر، ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی ہو جائیں گے اس کے بعد تو اسی ہئیت و ترکیب میں ہمارا دوبارہ جینا بالکل محال ہے اس کے جواب میں فرمان صادر ہوا کہ زمین ان کے جسموں کو جو کھا جاتی ہے اس سے بھی ہم غافل نہیں ہمیں معلوم ہے کہ ان کے ذرے کہاں گئے اور کس حالت میں کہاں ہیں؟ ہمارے پاس کتاب ہے جو اس کی حافظ ہے ہمارا علم ان سب معلومات پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی کتاب میں محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر8697
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیاں اور بال جو کچھ زمین کھا جاتی ہے، ہمارے علم میں ہے۔ پھر پروردگار عالم ان کے اس محال سمجھنے کی اصل وجہ بیان فرما رہا ہے کہ دراصل یہ حق کو جھٹلانے والے لوگ ہیں اور جو لوگ اپنے پاس حق کے آ جانے کے بعد اس کا انکار کر دیں ان سے اچھی سمجھ ہی چھن جاتی ہے، «مریج» کے معنی ہیں مختلف، مضطرب، منکر اور خلط ملط کے جیسے فرمان ہے «اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ» [51-الذاريات:8] یعنی ” یقیناً تم ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو۔ “ نافرمانی وہی کرتا ہے جو بھلائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔
صفحہ نمبر8698
ق 50:5
تفسیر سورۃ ق:
جن سورتوں کو مفصل کی سورتیں کہا جاتا ہے ان میں سب سے پہلی سورت یہی ہے، گو ایک قول یہ بھی ہے کہ مفصل کی سورتیں سورۃ الحجرات سے شروع ہوتی ہیں یہ بالکل بے اصل بات ہے، علماء میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں، مفصل کی سورتوں کی پہلی سورت یہی ہے، اس کی دلیل ابوداؤد کی یہ حدیث ہے جو [ باب تحریب القران ] میں ہے۔ سیدنا اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وفد ثقیف میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے اور بنو مالک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قبے میں ٹھہرایا۔ فرماتے ہیں: ہر رات عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آتے اور کھڑے کھڑے ہمیں اپنی باتیں سناتے یہاں تک کہ آپ کو دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے قدموں کو بدلنے کی ضرورت پڑتی، کبھی اس قدم کھڑے ہوتے، کبھی اس قدم پر، عموماً آپ ہم سے وہ واقعات بیان کرتے جو آپ کو اپنی قوم قریش سے سہنے پڑے تھے، پھر فرماتے کوئی حرج نہیں ہم مکے میں کمزور تھے بے وقعت تھے۔ پھر ہم مدینے میں آ گئے اب ہم میں ان میں لڑائی ڈولوں کے مثل ہے کبھی ہم ان پر غالب، کبھی وہ ہم پر، غرض ہر رات یہ لطف صحبت رہا کرتا تھا، ایک رات کو وقت ہو چکا اور آپ نہ آئے۔ بہت دیر کے بعد تشریف لائے ہم نے کہا: یا رسول اللہ ! آج تو آپ کو بہت دیر ہو گئی، آپ نے فرمایا: ”ہاں قرآن کا جو حصہ روزانہ پڑھا کرتا تھا آج اس وقت اسے پڑھا اور ادھورا چھوڑ کر آنے کو جی نہ چاہا“۔ سیدنا اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تم قرآن کے حصے کسی طرح کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلی تین سورتوں کی ایک منزل، پھر پانچ سورتوں کی ایک منزل، پھر سات سورتوں کی ایک منزل، پھر نو سورتوں کی ایک منزل، پھر گیارہ سورتوں کی ایک منزل، پھر تیرہ سورتوں کی ایک منزل اور مفصل کی سورتوں کی ایک منزل۔ (سنن ابوداود:1393،قال الشيخ الألباني:ضعیف) یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے
پس پہلی چھ منزلوں کی کل اڑتالیس سورتیں ہوئیں پھر ان کے بعد مفصل کی تمام سورتوں کی ایک منزل تو انچاسویں سورت یہی سورۃ ق پڑتی ہے۔ باقاعدہ گنتی سنئیے۔ پہلی منزل کی تین سورتیں البقرہ، آل عمران اور النساء ہوئیں۔ دوسری منزل کی پانچ سورتیں المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہوئیں۔ تیسری منزل کی سات سورتیں یونس، ہود، یوسف، الرعد، ابراہیم، الحجر، اور النحل ہوئیں۔ چوتھی منزل کی نو سورتیں الاِسراء، الکہف، مریم، طہٰ، الانبیاء، الحج، المومنون، النور اور الفرقان ہوئیں۔ پانچویں منزل کی گیارہ سورتیں الشعراء، النمل، القصص، العنکبوت، الروم، لقمان، السجدہ، الاحزاب، سبا، فاطر، اور یٰسین ہوئیں۔ چھٹی منزل کی تیرہ سورتیں الصافات، ص، الزمر، غافر، فصلت، الشوریٰ، الزخرف، الدخان، الجاثیہ، الاحقاف، محمد، الفتح اور الحجرات ہوئیں۔ اب ساتویں منزل مفصل کی سورتیں باقی رہیں جو الحجرات کے بعد کی سورت سے شروع ہوں گی اور وہ سورۃ ق ہے۔ اور یہی ہم نے کہا تھا۔ «فالحمداللہ»
مسلم شریف میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عید کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھتے تھے؟ آپ نے فرمایا: سورۃ ق اور سورۃ القمر «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» الخ (صحیح مسلم:891)
مسلم میں ہے سیدہ ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو سال تک یا ایک سال کچھ ماہ تک ایک ہی دستور رہا میں نے سورۃ ق کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن سن کر یاد کر لیا، اس لیے کہ ہر جمعہ کے دن جب آپ لوگوں کو خطبہ سنانے کیلئے منبر پر آتے تو اس سورت کی تلاوت کرتے۔ (صحیح مسلم:873-45)
الغرض بڑے بڑے مجمع کے موقع پر جیسے عید ہے جمعہ ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سورت کی تلاوت کرتے کیونکہ اس میں ابتداء خلق کا، مرنے کے بعد جینے کا، اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا، حساب کتاب کا، جنت دوزخ کا ثواب عذاب اور رغبت و ڈراوے کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
تفسیر سورۂ ق ٭٭
«ق» حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے «ص، ن، الم، حم، طس»، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورۃ البقرہ کی تفسیر میں شروع میں کر دی ہے۔
بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کر سکتے۔
صفحہ نمبر8693
اہل کتاب کی موضوع روایتیں ٭٭
لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بددینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کر دیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجود یہ کہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت ہر زمانے میں موجود ہے تاہم بددینوں نے بہت تھوڑی مدت میں موضوع احادیث تک گھڑ لیں۔
صفحہ نمبر8694
پس بنی اسرائیل جن پر مدتیں گزر چکیں، جو حفظ سے عاری تھے، جن میں نقادان فن موجود نہ تھے، جو کلام اللہ کو اصلیت سے ہٹا دیا کرتے تھے، جو شرابوں میں مخمور رہا کرتے تھے، جو آیات اللہ کو بدل ڈالا کرتے تھے، ان کا کیا ٹھیک ہے؟ پس حدیث نے جن روایات کو ان سے لینا مباح رکھا ہے یہ وہ ہیں جو کم از کم عقل و فہم میں تو آ سکیں، نہ وہ جو صریح خلاف عقل ہوں، سنتے ہی ان کے باطل اور غلط ہونے کا فیصلہ عقل کر دیتی ہو اور اس کا جھوٹ ہونا اتنا واضح ہو کہ اس پر دلیل لانے کی ضرورت نہ پڑے۔
پس مندرجہ بالا روایات بھی ایسی ہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ افسوس کہ بہت سلف و خلف نے اہل کتاب سے اس قسم کی حکایتیں قرآن مجید کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں دراصل قرآن کریم ایسی بےسروپا باتوں کا کچھ محتاج نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
صفحہ نمبر8695
یہاں تک کہ امام ابو محمد عبدالرحمٰن بن ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے بھی یہاں ایک عجیب و غریب اثر بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وارد کر دیا ہے جو ازروے سند ثابت نہیں۔ اس میں ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک سمندر پیدا کیا ہے جو اس ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس سمندر کے پچھے ایک پہاڑ ہے جو اس کو روکے ہوئے ہے اس کا نام قاف ہے، آسمان اور دنیا اسی پر اٹھا ہوا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ کے پیچھے ایک زمین بنائی ہے جو اس زمین سے سات گنا بڑی ہے، پھر اس کے پیچھے ایک سمندر ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، پھر اس کے پیچھے پہاڑ ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اسے بھی قاف کہتے ہیں دوسرا آسمان اسی پر بلند کیا ہوا ہے اسی طرح سات زمینیں، سات سمندر، سات پہاڑ اور سات آسمان گنوائے۔ پھر یہ آیت پڑھی «وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [31-لقمان:27] اس اثر کی اسناد میں انقطاع ہے۔ [ضعیف و منقطع]
صفحہ نمبر8696
علی بن ابوطلحہ جو روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کرتے ہیں اس میں ہے کہ «ق» اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ق» بھی مثل «ص، ن، طس، الم» وغیرہ کے حروف ہجا میں سے ہے۔
پس ان روایات سے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان ہونا اور بعید ہو جاتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ کام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے قسم اللہ کی اور «ق» کہہ کر باقی جملہ چھوڑ دیا گیا کہ یہ دلیل ہے محذوف پر۔
جیسے شاعر کہتا ہے۔ «قلت لھا قفی فقالت ق» لیکن یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ محذوف پر دلالت کرنے والا کلام صاف ہونا چاہیئے اور یہاں کون سا کلام ہے؟ جس سے اتنے بڑے جملے کے محذوف ہونے کا پتہ چلے۔ پھر اس کرم اور عظمت والے قرآن کی قسم کھائی جس کے آگے سے یا پیچھے سے باطل نہیں آ سکتا، جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔
اس قسم کا جواب کیا ہے؟ اس میں بھی کئی قول ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے تو بعض نحویوں سے نقل کیا ہے کہ اس کا جواب «قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ» [50-ق:4] پوری آیت تک ہے۔
لیکن یہ بھی غور طلب ہے بلکہ جواب قسم کے بعد کا مضمون کلام ہے یعنی نبوت اور دوبارہ جی اٹھنے کا ثبوت اور تحقیق گو قسم لفظوں سے اس کا جواب نہ بتاتی ہو ایسا قرآن کی قسموں کے جواب میں اکثر ہے جیسے کہ سورۃ ص کی تفسیر کے شروع میں گزر چکا ہے، اسی طرح یہاں بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ انہی میں سے ایک انسان کیسے رسول بن گیا؟ جیسے اور آیت میں ہے «اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ» [10-يونس:2] یعنی ” کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی تاکہ تم لوگوں کو خبردار کر دے۔ “ یعنی دراصل یہ کوئی تعجب کی چیز نہ تھی اللہ جسے چاہے اپنے فرشتوں میں سے اپنی رسالت کے لیے چن لیتا ہے اور جسے چاہے انسانوں میں سے چن لیتا ہے۔
اسی کے ساتھ یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد جینے کو بھی تعجب کی نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے جسم کے اجزا جدا جدا ہو کر، ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی ہو جائیں گے اس کے بعد تو اسی ہئیت و ترکیب میں ہمارا دوبارہ جینا بالکل محال ہے اس کے جواب میں فرمان صادر ہوا کہ زمین ان کے جسموں کو جو کھا جاتی ہے اس سے بھی ہم غافل نہیں ہمیں معلوم ہے کہ ان کے ذرے کہاں گئے اور کس حالت میں کہاں ہیں؟ ہمارے پاس کتاب ہے جو اس کی حافظ ہے ہمارا علم ان سب معلومات پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی کتاب میں محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر8697
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیاں اور بال جو کچھ زمین کھا جاتی ہے، ہمارے علم میں ہے۔ پھر پروردگار عالم ان کے اس محال سمجھنے کی اصل وجہ بیان فرما رہا ہے کہ دراصل یہ حق کو جھٹلانے والے لوگ ہیں اور جو لوگ اپنے پاس حق کے آ جانے کے بعد اس کا انکار کر دیں ان سے اچھی سمجھ ہی چھن جاتی ہے، «مریج» کے معنی ہیں مختلف، مضطرب، منکر اور خلط ملط کے جیسے فرمان ہے «اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ» [51-الذاريات:8] یعنی ” یقیناً تم ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو۔ “ نافرمانی وہی کرتا ہے جو بھلائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔
صفحہ نمبر8698
ق 50:6
اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭
یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» [67-الملك:3] ، ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ “ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔
پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» [51-الذاريات:49] ” ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ “ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔
صفحہ نمبر8703
پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔
پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] یعنی ” آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ “
اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [46-الأحقاف:33] یعنی ” کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“
اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [41-فصلت:39] ” یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ “
صفحہ نمبر8704
ق 50:7
اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭
یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» [67-الملك:3] ، ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ “ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔
پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» [51-الذاريات:49] ” ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ “ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔
صفحہ نمبر8703
پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔
پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] یعنی ” آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ “
اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [46-الأحقاف:33] یعنی ” کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“
اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [41-فصلت:39] ” یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ “
صفحہ نمبر8704
ق 50:8
اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭
یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» [67-الملك:3] ، ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ “ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔
پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» [51-الذاريات:49] ” ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ “ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔
صفحہ نمبر8703
پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔
پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] یعنی ” آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ “
اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [46-الأحقاف:33] یعنی ” کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“
اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [41-فصلت:39] ” یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ “
صفحہ نمبر8704
ق 50:9
اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭
یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» [67-الملك:3] ، ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ “ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔
پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» [51-الذاريات:49] ” ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ “ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔
صفحہ نمبر8703
پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔
پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] یعنی ” آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ “
اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [46-الأحقاف:33] یعنی ” کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“
اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [41-فصلت:39] ” یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ “
صفحہ نمبر8704
ق 50:10
اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭
یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» [67-الملك:3] ، ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ “ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔
پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» [51-الذاريات:49] ” ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ “ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔
صفحہ نمبر8703
پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔
پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] یعنی ” آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ “
اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [46-الأحقاف:33] یعنی ” کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“
اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [41-فصلت:39] ” یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ “
صفحہ نمبر8704
ق 50:11
اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭
یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» [67-الملك:3] ، ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ “ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔
پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» [51-الذاريات:49] ” ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ “ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔
صفحہ نمبر8703
پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔
پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] یعنی ” آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ “
اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [46-الأحقاف:33] یعنی ” کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“
اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [41-فصلت:39] ” یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ “
صفحہ نمبر8704
ق 50:12
شامت اعمال ٭٭
اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان عذابوں سے ڈرا رہا ہے جو ان جیسے جھٹلانے والوں پر ان سے پہلے آچکے ہیں، جیسے کہ نوح علیہ السلام کی قوم جنہیں اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کر دیا اور اصحاب «رس» جن کا پورا قصہ سورۃ الفرقان کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور ثمود اور عاد اور امت لوط جسے زمین میں دھنسا دیا اور اس زمین کو سڑا ہوا دلدل بنا دیا یہ سب کیا تھا؟ ان کے کفر، ان کی سرکشی، اور مخالفت حق کا نتیجہ تھا اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اور قوم تبع سے مراد یمانی ہیں۔
سورۃ الدخان میں ان کا واقعہ بھی گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر ہے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
ان تمام امتوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی اور عذاب اللہ سے ہلاک کر دئیے گئے یہی اللہ کا اصول جاری ہے۔ یہ یاد رہے کہ ایک رسول کا جھٹلانے والا تمام رسولوں کا منکر ہے۔
صفحہ نمبر8710
جیسے اللہ عزوجل و علا کا فرمان ہے «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:105] ” قوم نوح نے رسولوں کا انکار کیا “ حالانکہ ان کے پاس صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے، پس دراصل یہ تھے ایسے کہ اگر ان کے پاس تمام رسول آ جاتے تو یہ سب کو جھٹلاتے، ایک کو بھی نہ مانتے، سب کی تکذیب کرتے، ایک کی بھی تصدیق نہ کرتے، ان سب پر اللہ کے عذاب کا وعدہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ثابت ہو گیا اور صادق آ گیا۔
پس اہل مکہ اور دیگر مخاطب لوگوں کو بھی اس بدخصلت سے پرہیز کرنا چاہیئے کہیں ایسا نہ ہو کہ عذاب کا کوڑا ان پر بھی برس پڑے، کیا جب یہ کچھ نہ تھے ان کا بسانا ہم پر بھاری پڑا تھا؟ جو اب دوبارہ پیدا کرنے کے منکر ہو رہے ہیں، ابتداء سے تو اعادہ بہت ہی آسان ہوا کرتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] یعنی ” ابتداءً اسی نے پیدا کیا ہے اور دوبارہ بھی وہی اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے “۔
سورۃ یٰسین میں فرمان الٰہی جل جلالہ گزر چکا کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-يس:79-78] ” یعنی اپنی پیدائش کو بھول کر ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اور کہنے لگا، بوسیدہ سڑی گلی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ ان کو تو جواب دے کہ وہ جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا اور تمام خلق کو جانتا ہے۔ “
صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے بنی آدم ایذاء دیتا ہے جب یہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے کچھ آسان نہیں۔
صفحہ نمبر8711
ق 50:13
شامت اعمال ٭٭
اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان عذابوں سے ڈرا رہا ہے جو ان جیسے جھٹلانے والوں پر ان سے پہلے آچکے ہیں، جیسے کہ نوح علیہ السلام کی قوم جنہیں اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کر دیا اور اصحاب «رس» جن کا پورا قصہ سورۃ الفرقان کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور ثمود اور عاد اور امت لوط جسے زمین میں دھنسا دیا اور اس زمین کو سڑا ہوا دلدل بنا دیا یہ سب کیا تھا؟ ان کے کفر، ان کی سرکشی، اور مخالفت حق کا نتیجہ تھا اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اور قوم تبع سے مراد یمانی ہیں۔
سورۃ الدخان میں ان کا واقعہ بھی گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر ہے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
ان تمام امتوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی اور عذاب اللہ سے ہلاک کر دئیے گئے یہی اللہ کا اصول جاری ہے۔ یہ یاد رہے کہ ایک رسول کا جھٹلانے والا تمام رسولوں کا منکر ہے۔
صفحہ نمبر8710
جیسے اللہ عزوجل و علا کا فرمان ہے «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:105] ” قوم نوح نے رسولوں کا انکار کیا “ حالانکہ ان کے پاس صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے، پس دراصل یہ تھے ایسے کہ اگر ان کے پاس تمام رسول آ جاتے تو یہ سب کو جھٹلاتے، ایک کو بھی نہ مانتے، سب کی تکذیب کرتے، ایک کی بھی تصدیق نہ کرتے، ان سب پر اللہ کے عذاب کا وعدہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ثابت ہو گیا اور صادق آ گیا۔
پس اہل مکہ اور دیگر مخاطب لوگوں کو بھی اس بدخصلت سے پرہیز کرنا چاہیئے کہیں ایسا نہ ہو کہ عذاب کا کوڑا ان پر بھی برس پڑے، کیا جب یہ کچھ نہ تھے ان کا بسانا ہم پر بھاری پڑا تھا؟ جو اب دوبارہ پیدا کرنے کے منکر ہو رہے ہیں، ابتداء سے تو اعادہ بہت ہی آسان ہوا کرتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] یعنی ” ابتداءً اسی نے پیدا کیا ہے اور دوبارہ بھی وہی اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے “۔
سورۃ یٰسین میں فرمان الٰہی جل جلالہ گزر چکا کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-يس:79-78] ” یعنی اپنی پیدائش کو بھول کر ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اور کہنے لگا، بوسیدہ سڑی گلی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ ان کو تو جواب دے کہ وہ جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا اور تمام خلق کو جانتا ہے۔ “
صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے بنی آدم ایذاء دیتا ہے جب یہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے کچھ آسان نہیں۔
صفحہ نمبر8711
ق 50:14
شامت اعمال ٭٭
اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان عذابوں سے ڈرا رہا ہے جو ان جیسے جھٹلانے والوں پر ان سے پہلے آچکے ہیں، جیسے کہ نوح علیہ السلام کی قوم جنہیں اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کر دیا اور اصحاب «رس» جن کا پورا قصہ سورۃ الفرقان کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور ثمود اور عاد اور امت لوط جسے زمین میں دھنسا دیا اور اس زمین کو سڑا ہوا دلدل بنا دیا یہ سب کیا تھا؟ ان کے کفر، ان کی سرکشی، اور مخالفت حق کا نتیجہ تھا اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اور قوم تبع سے مراد یمانی ہیں۔
سورۃ الدخان میں ان کا واقعہ بھی گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر ہے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
ان تمام امتوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی اور عذاب اللہ سے ہلاک کر دئیے گئے یہی اللہ کا اصول جاری ہے۔ یہ یاد رہے کہ ایک رسول کا جھٹلانے والا تمام رسولوں کا منکر ہے۔
صفحہ نمبر8710
جیسے اللہ عزوجل و علا کا فرمان ہے «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:105] ” قوم نوح نے رسولوں کا انکار کیا “ حالانکہ ان کے پاس صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے، پس دراصل یہ تھے ایسے کہ اگر ان کے پاس تمام رسول آ جاتے تو یہ سب کو جھٹلاتے، ایک کو بھی نہ مانتے، سب کی تکذیب کرتے، ایک کی بھی تصدیق نہ کرتے، ان سب پر اللہ کے عذاب کا وعدہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ثابت ہو گیا اور صادق آ گیا۔
پس اہل مکہ اور دیگر مخاطب لوگوں کو بھی اس بدخصلت سے پرہیز کرنا چاہیئے کہیں ایسا نہ ہو کہ عذاب کا کوڑا ان پر بھی برس پڑے، کیا جب یہ کچھ نہ تھے ان کا بسانا ہم پر بھاری پڑا تھا؟ جو اب دوبارہ پیدا کرنے کے منکر ہو رہے ہیں، ابتداء سے تو اعادہ بہت ہی آسان ہوا کرتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] یعنی ” ابتداءً اسی نے پیدا کیا ہے اور دوبارہ بھی وہی اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے “۔
سورۃ یٰسین میں فرمان الٰہی جل جلالہ گزر چکا کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-يس:79-78] ” یعنی اپنی پیدائش کو بھول کر ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اور کہنے لگا، بوسیدہ سڑی گلی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ ان کو تو جواب دے کہ وہ جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا اور تمام خلق کو جانتا ہے۔ “
صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے بنی آدم ایذاء دیتا ہے جب یہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے کچھ آسان نہیں۔
صفحہ نمبر8711
ق 50:15
شامت اعمال ٭٭
اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان عذابوں سے ڈرا رہا ہے جو ان جیسے جھٹلانے والوں پر ان سے پہلے آچکے ہیں، جیسے کہ نوح علیہ السلام کی قوم جنہیں اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کر دیا اور اصحاب «رس» جن کا پورا قصہ سورۃ الفرقان کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور ثمود اور عاد اور امت لوط جسے زمین میں دھنسا دیا اور اس زمین کو سڑا ہوا دلدل بنا دیا یہ سب کیا تھا؟ ان کے کفر، ان کی سرکشی، اور مخالفت حق کا نتیجہ تھا اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اور قوم تبع سے مراد یمانی ہیں۔
سورۃ الدخان میں ان کا واقعہ بھی گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر ہے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
ان تمام امتوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی اور عذاب اللہ سے ہلاک کر دئیے گئے یہی اللہ کا اصول جاری ہے۔ یہ یاد رہے کہ ایک رسول کا جھٹلانے والا تمام رسولوں کا منکر ہے۔
صفحہ نمبر8710
جیسے اللہ عزوجل و علا کا فرمان ہے «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:105] ” قوم نوح نے رسولوں کا انکار کیا “ حالانکہ ان کے پاس صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے، پس دراصل یہ تھے ایسے کہ اگر ان کے پاس تمام رسول آ جاتے تو یہ سب کو جھٹلاتے، ایک کو بھی نہ مانتے، سب کی تکذیب کرتے، ایک کی بھی تصدیق نہ کرتے، ان سب پر اللہ کے عذاب کا وعدہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ثابت ہو گیا اور صادق آ گیا۔
پس اہل مکہ اور دیگر مخاطب لوگوں کو بھی اس بدخصلت سے پرہیز کرنا چاہیئے کہیں ایسا نہ ہو کہ عذاب کا کوڑا ان پر بھی برس پڑے، کیا جب یہ کچھ نہ تھے ان کا بسانا ہم پر بھاری پڑا تھا؟ جو اب دوبارہ پیدا کرنے کے منکر ہو رہے ہیں، ابتداء سے تو اعادہ بہت ہی آسان ہوا کرتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] یعنی ” ابتداءً اسی نے پیدا کیا ہے اور دوبارہ بھی وہی اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے “۔
سورۃ یٰسین میں فرمان الٰہی جل جلالہ گزر چکا کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-يس:79-78] ” یعنی اپنی پیدائش کو بھول کر ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اور کہنے لگا، بوسیدہ سڑی گلی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ ان کو تو جواب دے کہ وہ جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا اور تمام خلق کو جانتا ہے۔ “
صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے بنی آدم ایذاء دیتا ہے جب یہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے کچھ آسان نہیں۔
صفحہ نمبر8711
ق 50:16
دائیں اور بائیں دو فرشتے ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہی انسان کا خالق ہے اور اس کا علم تمام چیزوں کا احاطہٰ کئے ہوئے ہے یہاں تک کہ انسان کے دل میں جو بھلے برے خیالات پیدا ہوتے ہیں انہیں بھی وہ جانتا ہے۔
صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دل میں جو خیالات آئیں ان سے درگزر فرما لیا ہے جب تک کہ وہ زبان سے نہ نکالیں یا عمل نہ کریں۔ [صحیح بخاری:2528]
اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے نزدیک ہیں یعنی ہمارے فرشتے اور بعض نے کہا ہے ہمارا علم۔ ان کی غرض یہ ہے کہ کہیں حلول اور اتحاد نہ لازم آ جائے جو بالاجماع اس رب کی مقدس ذات سے بعید ہے اور وہ اس سے بالکل پاک ہے لیکن لفظ کا اقتضاء یہ نہیں ہے اس لیے کہ «وانا» نہیں کہا بلکہ «ونحن» کہا ہے یعنی میں نہیں کہا بلکہ ہم کہا ہے۔ یہی لفظ اس شخص کے بارے میں کہے گئے ہیں جس کی موت قریب آ گئی ہو اور وہ نزع کے عالم میں ہو فرمان ہے «وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ» [56-الواقعة:85] یعنی ” ہم تم سب سے زیادہ اس سے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھتے۔ “
یہاں بھی مراد فرشتوں کا اس قدر قریب ہونا ہے۔ جیسے فرمان ہے «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» [15-الحجر:9] ” یعنی ہم نے ذکر کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کے محافظ بھی ہیں “ فرشتے ہی ذکر قرآن کریم کو لے کر نازل ہوئے ہیں اور یہاں بھی مراد فرشتوں کی اتنی نزدیکی ہے جس پر اللہ نے انہیں قدرت بخش رکھی ہے۔
پس انسان پر ایک پہرا فرشتے کا ہوتا ہے اور ایک شیطان کا اسی طرح شیطان بھی جسم انسان میں اسی طرح پھرتا ہے جس طرح خون۔ [صحیح بخاری:3107] جیسے کہ سچوں کے سچے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر8715
ق 50:17
باب
اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ دو فرشتے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، ابن آدم کے منہ سے جو کلمہ نکلتا ہے، اسے محفوظ رکھنے والے اور اسے نہ چھوڑنے والے اور فوراً لکھ لینے والے فرشتے مقرر ہیں۔
جیسے فرمان ہے «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» [82-الإنفطار:12-10] ” تم پر محافظ ہیں بزرگ فرشتے جو تمہارے فعل سے باخبر ہیں اور لکھنے والے ہیں “
حسن اور قتادہ رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں یہ فرشتے ہر نیک و بد عمل لکھ لیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دو قول ہیں ایک تو یہی ہے دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ ثواب و عذاب لکھ لیا کرتے ہیں۔ لیکن آیت کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی ہی تائید کرتے ہیں کیونکہ فرمان ہے جو لفظ نکلتا ہے اس کے پاس محافظ تیار ہیں۔
صفحہ نمبر8716
مسند احمد میں ہے انسان ایک کلمہ اللہ کی رضا مندی کا کہہ گزرتا ہے جسے وہ کوئی بہت بڑا اجر کا کلمہ نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی رضا مندی اس کے لیے قیامت تک کی لکھ دیتا ہے۔ اور کوئی برائی کا کلمہ، ناراضگی اللہ کا اسی طرح بےپرواہی سے کہہ گزرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ اپنی ناراضی اس پر اپنی ملاقات کے دن تک کی لکھ دیتا ہے۔ [سنن ترمذي:2319،قال الشيخ الألباني:صحیح]
علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث نے مجھے بہت سی باتوں سے بچا لیا۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتلاتے ہیں احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں دائیں طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور یہ بائیں طرف والے پر امین ہے۔ جب بندے سے کوئی خطا ہو جاتی ہے تو یہ کہتا ہے ٹھہر جا اگر اس نے اسی وقت توبہ کر لی تو اسے لکھنے نہیں دیتا اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ لکھ لیتا ہے۔ (ابن ابی حاتم)
صفحہ نمبر8717
امام حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے تھے اے ابن آدم تیرے لیے صحیفہ کھول دیا گیا ہے اور دو بزرگ فرشتے تجھ پر مقرر کر دئیے گئے ہیں، ایک تیرے دائیں دوسرا بائیں، دائیں طرف والا تو تیری نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے اور بائیں طرف والا برائیوں کو دیکھتا رہتا ہے اب تو جو چاہے عمل کر کمی کر یا زیادتی کر جب تو مرے گا تو یہ دفتر لپیٹ دیا جائے گا اور تیرے ساتھ تیری قبر میں رکھ دیا جائے گا اور قیامت کے دن جب تو اپنی قبر سے اٹھے گا تو یہ تیرے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔
اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا» * «اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا» [17-الإسراء:14-13] ” ہر انسان کی شامت اعمال کی تفصیل ہم نے اس کے گلے لگا دی ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے سامنے نامہ اعمال کی ایک کتاب پھینک دیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا پھر اس سے کہیں گے کہ اپنی کتاب پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔ “
پھر حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس نے بڑا ہی عدل کیا جس نے خود تجھے ہی تیرا محاسب بنا دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو کچھ تو بھلا برا کلمہ زبان سے نکالتا ہے وہ سب لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں گیا، میں آیا، میں نے دیکھا۔ پھر جمعرات والے دن اس کے اقوال و افعال پیش کئے جاتے ہیں خیر و شر باقی رکھ لی جاتی ہے اور سب کچھ مٹا دیا جاتا ہے یہی معنی ہیں فرمان باری تعالیٰ شانہ کے «يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» ” اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے “ [13-الرعد:39]
امام احمد رحمہ اللہ کی بابت مروی ہے کہ آپ اپنے مرض الموت میں کراہ رہے تھے تو آپ کو معلوم ہوا کہ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے اسے بھی لکھتے ہیں چنانچہ آپ نے کراہنا بھی چھوڑ دیا اللہ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اپنی موت کے وقت تک اف بھی نہ کی۔
صفحہ نمبر8718
پھر فرماتا ہے، اے انسان! موت کی بیہوشی یقینًا آئے گی اس وقت وہ شک دور ہو جائے گا جس میں آج کل تو مبتلا ہے، اس وقت تجھ سے کہا جائے گا کہ یہی ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا، اب وہ آ گئی، تو کسی طرح اس سے نجات نہیں پا سکتا، نہ بچ سکتا ہے، نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اسے دفع کر سکتا ہے، نہ ٹال سکتا ہے، نہ مقابلہ کر سکتا ہے، نہ کسی کی مدد و سفارش کچھ کام آ سکتی ہے۔
صحیح یہی ہے کہ یہاں خطاب مطلق انسان سے ہے اگرچہ بعض نے کہا ہے کافر سے ہے اور بعض نے کچھ اور بھی کہا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنے والد کے آخری وقت میں آپ کے سرہانے بیٹھی تھی آپ پر غشی طاری ہوئی، تو میں نے یہ بیت پڑھا «من لا یزال دمعہ مقننعا» *** «فانہ لا بد مرۃ مدفوق» مطلب یہ ہے کہ جس کے آنسو ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ایک مرتبہ ٹپک پڑیں گے۔ تو آپ نے اپنا سر اٹھا کر کہا پیاری بچی یوں نہیں بلکہ جس طرح اللہ نے فرمایا «وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ» [50-ق:19] ” اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا “۔
اور روایت میں بیت کا پڑھنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ یوں نہیں بلکہ یہ آیت پڑھو۔ اس اثر کے اور بھی بہت سے طریق ہیں جنہیں میں نے سیرۃ الصدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کی وفات کے بیان میں جمع کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر8719
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب موت کی غشی طاری ہونے لگی تو آپ اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے: ”سبحان اللہ موت کی بڑی سختیاں ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4449]
اس آیت کے پچھلے جملے کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے ایک تو یہ کہ «ما» موصولہ ہے یعنی یہ وہی ہے جسے تو بعید از مکان جانتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں «ما» نافیہ ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ چیز ہے جس کے جدا کرنے کی، جس سے بچنے کی تجھے قدرت نہیں تو اس سے ہٹ نہیں سکتا۔
معجم کبیر طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص کی مثال جو موت سے بھاگتا ہے اس لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ طلب کرنے لگی اور یہ اس سے بھاگنے لگی، بھاگتے بھاگتے جب تھک گئی اور بالکل چکنا چور ہو گئی تو اپنے بھٹ میں جا گھسی، زمین چونکہ وہاں بھی موجود تھی اس نے لومڑی سے کہا: میرا قرض دے تو یہ وہاں سے پھر بھاگی سانس پھولا ہوا تھا حال برا ہو رہا تھا آخر یونہی بھاگتے بھاگتے بےدم ہو کر مر گئی“ ۔ [طبرانی:6922:ضعیف]
الغرض جس طرح اس لومڑی کو زمین سے بھاگنے کی راہیں بند تھیں اسی طرح انسان کو موت سے بچنے کے راستے بند ہیں اس کے بعد صور پھونکے جانے کا ذکر ہے جس کی پوری تفسیر والی حدیث گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8720
اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں کس طرح راحت و آرام حاصل کر سکتا ہوں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور منہ میں لے لیا ہے اور گردن جھکائے حکم اللہ کا انتظار کر رہا ہے کہ کب حکم ملے اور کب وہ پھونک دے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہو «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ” ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے ““ [3-آل عمران:173] [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرماتا ہے ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ تو میدان محشر کی طرف لانے والا ہو گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال کی گواہی دینے والا ہو گا۔ ظاہر آیت یہی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت منبر پر کی اور فرمایا: ایک چلانے والا جس کے ہمراہ یہ میدان محشر میں آئے گا اور ایک گواہ ہو گا جو اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «سائق» سے مراد فرشتہ ہے اور شہید سے مراد عمل ہے۔
صفحہ نمبر8721
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے «سائق» فرشتوں میں سے ہوں گے اور «شہید» سے مراد خود انسان ہے جو اپنے اوپر آپ گواہی دے گا، پھر اس کے بعد کی آیت میں جو خطاب ہے اس کی نسبت تین قول ہیں، ایک تو یہ کہ یہ خطاب کافر سے ہو گا، دوسرا یہ کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نیک و بد سب، تیسرا یہ کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/11]
دوسرے قول کی توجیہ یہ ہے کہ آخرت اور دنیا میں وہی نسبت ہے جو بیداری اور خواب میں ہے اور تیسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ تو اس قرآن کی وحی سے پہلے غفلت میں تھا۔ ہم نے یہ قرآن نازل فرما کر تیری آنکھوں پر سے پردہ ہٹا دیا اور تیری نظر قوی ہو گئی۔ لیکن الفاظ قرآنی سے تو ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد عام ہے یعنی ہر شخص سے کہا جائے گا کہ تو اس دن سے غافل تھا اس لیے کہ قیامت کے دن ہر شخص کی آنکھیں خوب کھل جائیں گی یہاں تک کہ کافر بھی استقامت پر ہو جائے گا لیکن یہ استقامت اسے نفع نہ دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَـكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» [19-مريم:38] یعنی ” کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “
اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» [32-السجدة:12] یعنی ” کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں “۔
صفحہ نمبر8722
ق 50:18
باب
اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ دو فرشتے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، ابن آدم کے منہ سے جو کلمہ نکلتا ہے، اسے محفوظ رکھنے والے اور اسے نہ چھوڑنے والے اور فوراً لکھ لینے والے فرشتے مقرر ہیں۔
جیسے فرمان ہے «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» [82-الإنفطار:12-10] ” تم پر محافظ ہیں بزرگ فرشتے جو تمہارے فعل سے باخبر ہیں اور لکھنے والے ہیں “
حسن اور قتادہ رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں یہ فرشتے ہر نیک و بد عمل لکھ لیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دو قول ہیں ایک تو یہی ہے دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ ثواب و عذاب لکھ لیا کرتے ہیں۔ لیکن آیت کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی ہی تائید کرتے ہیں کیونکہ فرمان ہے جو لفظ نکلتا ہے اس کے پاس محافظ تیار ہیں۔
صفحہ نمبر8716
مسند احمد میں ہے انسان ایک کلمہ اللہ کی رضا مندی کا کہہ گزرتا ہے جسے وہ کوئی بہت بڑا اجر کا کلمہ نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی رضا مندی اس کے لیے قیامت تک کی لکھ دیتا ہے۔ اور کوئی برائی کا کلمہ، ناراضگی اللہ کا اسی طرح بےپرواہی سے کہہ گزرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ اپنی ناراضی اس پر اپنی ملاقات کے دن تک کی لکھ دیتا ہے۔ [سنن ترمذي:2319،قال الشيخ الألباني:صحیح]
علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث نے مجھے بہت سی باتوں سے بچا لیا۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتلاتے ہیں احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں دائیں طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور یہ بائیں طرف والے پر امین ہے۔ جب بندے سے کوئی خطا ہو جاتی ہے تو یہ کہتا ہے ٹھہر جا اگر اس نے اسی وقت توبہ کر لی تو اسے لکھنے نہیں دیتا اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ لکھ لیتا ہے۔ (ابن ابی حاتم)
صفحہ نمبر8717
امام حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے تھے اے ابن آدم تیرے لیے صحیفہ کھول دیا گیا ہے اور دو بزرگ فرشتے تجھ پر مقرر کر دئیے گئے ہیں، ایک تیرے دائیں دوسرا بائیں، دائیں طرف والا تو تیری نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے اور بائیں طرف والا برائیوں کو دیکھتا رہتا ہے اب تو جو چاہے عمل کر کمی کر یا زیادتی کر جب تو مرے گا تو یہ دفتر لپیٹ دیا جائے گا اور تیرے ساتھ تیری قبر میں رکھ دیا جائے گا اور قیامت کے دن جب تو اپنی قبر سے اٹھے گا تو یہ تیرے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔
اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا» * «اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا» [17-الإسراء:14-13] ” ہر انسان کی شامت اعمال کی تفصیل ہم نے اس کے گلے لگا دی ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے سامنے نامہ اعمال کی ایک کتاب پھینک دیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا پھر اس سے کہیں گے کہ اپنی کتاب پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔ “
پھر حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس نے بڑا ہی عدل کیا جس نے خود تجھے ہی تیرا محاسب بنا دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو کچھ تو بھلا برا کلمہ زبان سے نکالتا ہے وہ سب لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں گیا، میں آیا، میں نے دیکھا۔ پھر جمعرات والے دن اس کے اقوال و افعال پیش کئے جاتے ہیں خیر و شر باقی رکھ لی جاتی ہے اور سب کچھ مٹا دیا جاتا ہے یہی معنی ہیں فرمان باری تعالیٰ شانہ کے «يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» ” اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے “ [13-الرعد:39]
امام احمد رحمہ اللہ کی بابت مروی ہے کہ آپ اپنے مرض الموت میں کراہ رہے تھے تو آپ کو معلوم ہوا کہ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے اسے بھی لکھتے ہیں چنانچہ آپ نے کراہنا بھی چھوڑ دیا اللہ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اپنی موت کے وقت تک اف بھی نہ کی۔
صفحہ نمبر8718
پھر فرماتا ہے، اے انسان! موت کی بیہوشی یقینًا آئے گی اس وقت وہ شک دور ہو جائے گا جس میں آج کل تو مبتلا ہے، اس وقت تجھ سے کہا جائے گا کہ یہی ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا، اب وہ آ گئی، تو کسی طرح اس سے نجات نہیں پا سکتا، نہ بچ سکتا ہے، نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اسے دفع کر سکتا ہے، نہ ٹال سکتا ہے، نہ مقابلہ کر سکتا ہے، نہ کسی کی مدد و سفارش کچھ کام آ سکتی ہے۔
صحیح یہی ہے کہ یہاں خطاب مطلق انسان سے ہے اگرچہ بعض نے کہا ہے کافر سے ہے اور بعض نے کچھ اور بھی کہا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنے والد کے آخری وقت میں آپ کے سرہانے بیٹھی تھی آپ پر غشی طاری ہوئی، تو میں نے یہ بیت پڑھا «من لا یزال دمعہ مقننعا» *** «فانہ لا بد مرۃ مدفوق» مطلب یہ ہے کہ جس کے آنسو ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ایک مرتبہ ٹپک پڑیں گے۔ تو آپ نے اپنا سر اٹھا کر کہا پیاری بچی یوں نہیں بلکہ جس طرح اللہ نے فرمایا «وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ» [50-ق:19] ” اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا “۔
اور روایت میں بیت کا پڑھنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ یوں نہیں بلکہ یہ آیت پڑھو۔ اس اثر کے اور بھی بہت سے طریق ہیں جنہیں میں نے سیرۃ الصدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کی وفات کے بیان میں جمع کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر8719
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب موت کی غشی طاری ہونے لگی تو آپ اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے: ”سبحان اللہ موت کی بڑی سختیاں ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4449]
اس آیت کے پچھلے جملے کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے ایک تو یہ کہ «ما» موصولہ ہے یعنی یہ وہی ہے جسے تو بعید از مکان جانتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں «ما» نافیہ ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ چیز ہے جس کے جدا کرنے کی، جس سے بچنے کی تجھے قدرت نہیں تو اس سے ہٹ نہیں سکتا۔
معجم کبیر طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص کی مثال جو موت سے بھاگتا ہے اس لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ طلب کرنے لگی اور یہ اس سے بھاگنے لگی، بھاگتے بھاگتے جب تھک گئی اور بالکل چکنا چور ہو گئی تو اپنے بھٹ میں جا گھسی، زمین چونکہ وہاں بھی موجود تھی اس نے لومڑی سے کہا: میرا قرض دے تو یہ وہاں سے پھر بھاگی سانس پھولا ہوا تھا حال برا ہو رہا تھا آخر یونہی بھاگتے بھاگتے بےدم ہو کر مر گئی“ ۔ [طبرانی:6922:ضعیف]
الغرض جس طرح اس لومڑی کو زمین سے بھاگنے کی راہیں بند تھیں اسی طرح انسان کو موت سے بچنے کے راستے بند ہیں اس کے بعد صور پھونکے جانے کا ذکر ہے جس کی پوری تفسیر والی حدیث گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8720
اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں کس طرح راحت و آرام حاصل کر سکتا ہوں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور منہ میں لے لیا ہے اور گردن جھکائے حکم اللہ کا انتظار کر رہا ہے کہ کب حکم ملے اور کب وہ پھونک دے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہو «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ” ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے ““ [3-آل عمران:173] [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرماتا ہے ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ تو میدان محشر کی طرف لانے والا ہو گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال کی گواہی دینے والا ہو گا۔ ظاہر آیت یہی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت منبر پر کی اور فرمایا: ایک چلانے والا جس کے ہمراہ یہ میدان محشر میں آئے گا اور ایک گواہ ہو گا جو اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «سائق» سے مراد فرشتہ ہے اور شہید سے مراد عمل ہے۔
صفحہ نمبر8721
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے «سائق» فرشتوں میں سے ہوں گے اور «شہید» سے مراد خود انسان ہے جو اپنے اوپر آپ گواہی دے گا، پھر اس کے بعد کی آیت میں جو خطاب ہے اس کی نسبت تین قول ہیں، ایک تو یہ کہ یہ خطاب کافر سے ہو گا، دوسرا یہ کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نیک و بد سب، تیسرا یہ کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/11]
دوسرے قول کی توجیہ یہ ہے کہ آخرت اور دنیا میں وہی نسبت ہے جو بیداری اور خواب میں ہے اور تیسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ تو اس قرآن کی وحی سے پہلے غفلت میں تھا۔ ہم نے یہ قرآن نازل فرما کر تیری آنکھوں پر سے پردہ ہٹا دیا اور تیری نظر قوی ہو گئی۔ لیکن الفاظ قرآنی سے تو ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد عام ہے یعنی ہر شخص سے کہا جائے گا کہ تو اس دن سے غافل تھا اس لیے کہ قیامت کے دن ہر شخص کی آنکھیں خوب کھل جائیں گی یہاں تک کہ کافر بھی استقامت پر ہو جائے گا لیکن یہ استقامت اسے نفع نہ دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَـكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» [19-مريم:38] یعنی ” کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “
اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» [32-السجدة:12] یعنی ” کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں “۔
صفحہ نمبر8722
ق 50:19
باب
اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ دو فرشتے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، ابن آدم کے منہ سے جو کلمہ نکلتا ہے، اسے محفوظ رکھنے والے اور اسے نہ چھوڑنے والے اور فوراً لکھ لینے والے فرشتے مقرر ہیں۔
جیسے فرمان ہے «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» [82-الإنفطار:12-10] ” تم پر محافظ ہیں بزرگ فرشتے جو تمہارے فعل سے باخبر ہیں اور لکھنے والے ہیں “
حسن اور قتادہ رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں یہ فرشتے ہر نیک و بد عمل لکھ لیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دو قول ہیں ایک تو یہی ہے دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ ثواب و عذاب لکھ لیا کرتے ہیں۔ لیکن آیت کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی ہی تائید کرتے ہیں کیونکہ فرمان ہے جو لفظ نکلتا ہے اس کے پاس محافظ تیار ہیں۔
صفحہ نمبر8716
مسند احمد میں ہے انسان ایک کلمہ اللہ کی رضا مندی کا کہہ گزرتا ہے جسے وہ کوئی بہت بڑا اجر کا کلمہ نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی رضا مندی اس کے لیے قیامت تک کی لکھ دیتا ہے۔ اور کوئی برائی کا کلمہ، ناراضگی اللہ کا اسی طرح بےپرواہی سے کہہ گزرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ اپنی ناراضی اس پر اپنی ملاقات کے دن تک کی لکھ دیتا ہے۔ [سنن ترمذي:2319،قال الشيخ الألباني:صحیح]
علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث نے مجھے بہت سی باتوں سے بچا لیا۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتلاتے ہیں احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں دائیں طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور یہ بائیں طرف والے پر امین ہے۔ جب بندے سے کوئی خطا ہو جاتی ہے تو یہ کہتا ہے ٹھہر جا اگر اس نے اسی وقت توبہ کر لی تو اسے لکھنے نہیں دیتا اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ لکھ لیتا ہے۔ (ابن ابی حاتم)
صفحہ نمبر8717
امام حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے تھے اے ابن آدم تیرے لیے صحیفہ کھول دیا گیا ہے اور دو بزرگ فرشتے تجھ پر مقرر کر دئیے گئے ہیں، ایک تیرے دائیں دوسرا بائیں، دائیں طرف والا تو تیری نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے اور بائیں طرف والا برائیوں کو دیکھتا رہتا ہے اب تو جو چاہے عمل کر کمی کر یا زیادتی کر جب تو مرے گا تو یہ دفتر لپیٹ دیا جائے گا اور تیرے ساتھ تیری قبر میں رکھ دیا جائے گا اور قیامت کے دن جب تو اپنی قبر سے اٹھے گا تو یہ تیرے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔
اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا» * «اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا» [17-الإسراء:14-13] ” ہر انسان کی شامت اعمال کی تفصیل ہم نے اس کے گلے لگا دی ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے سامنے نامہ اعمال کی ایک کتاب پھینک دیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا پھر اس سے کہیں گے کہ اپنی کتاب پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔ “
پھر حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس نے بڑا ہی عدل کیا جس نے خود تجھے ہی تیرا محاسب بنا دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو کچھ تو بھلا برا کلمہ زبان سے نکالتا ہے وہ سب لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں گیا، میں آیا، میں نے دیکھا۔ پھر جمعرات والے دن اس کے اقوال و افعال پیش کئے جاتے ہیں خیر و شر باقی رکھ لی جاتی ہے اور سب کچھ مٹا دیا جاتا ہے یہی معنی ہیں فرمان باری تعالیٰ شانہ کے «يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» ” اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے “ [13-الرعد:39]
امام احمد رحمہ اللہ کی بابت مروی ہے کہ آپ اپنے مرض الموت میں کراہ رہے تھے تو آپ کو معلوم ہوا کہ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے اسے بھی لکھتے ہیں چنانچہ آپ نے کراہنا بھی چھوڑ دیا اللہ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اپنی موت کے وقت تک اف بھی نہ کی۔
صفحہ نمبر8718
پھر فرماتا ہے، اے انسان! موت کی بیہوشی یقینًا آئے گی اس وقت وہ شک دور ہو جائے گا جس میں آج کل تو مبتلا ہے، اس وقت تجھ سے کہا جائے گا کہ یہی ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا، اب وہ آ گئی، تو کسی طرح اس سے نجات نہیں پا سکتا، نہ بچ سکتا ہے، نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اسے دفع کر سکتا ہے، نہ ٹال سکتا ہے، نہ مقابلہ کر سکتا ہے، نہ کسی کی مدد و سفارش کچھ کام آ سکتی ہے۔
صحیح یہی ہے کہ یہاں خطاب مطلق انسان سے ہے اگرچہ بعض نے کہا ہے کافر سے ہے اور بعض نے کچھ اور بھی کہا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنے والد کے آخری وقت میں آپ کے سرہانے بیٹھی تھی آپ پر غشی طاری ہوئی، تو میں نے یہ بیت پڑھا «من لا یزال دمعہ مقننعا» *** «فانہ لا بد مرۃ مدفوق» مطلب یہ ہے کہ جس کے آنسو ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ایک مرتبہ ٹپک پڑیں گے۔ تو آپ نے اپنا سر اٹھا کر کہا پیاری بچی یوں نہیں بلکہ جس طرح اللہ نے فرمایا «وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ» [50-ق:19] ” اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا “۔
اور روایت میں بیت کا پڑھنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ یوں نہیں بلکہ یہ آیت پڑھو۔ اس اثر کے اور بھی بہت سے طریق ہیں جنہیں میں نے سیرۃ الصدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کی وفات کے بیان میں جمع کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر8719
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب موت کی غشی طاری ہونے لگی تو آپ اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے: ”سبحان اللہ موت کی بڑی سختیاں ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4449]
اس آیت کے پچھلے جملے کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے ایک تو یہ کہ «ما» موصولہ ہے یعنی یہ وہی ہے جسے تو بعید از مکان جانتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں «ما» نافیہ ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ چیز ہے جس کے جدا کرنے کی، جس سے بچنے کی تجھے قدرت نہیں تو اس سے ہٹ نہیں سکتا۔
معجم کبیر طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص کی مثال جو موت سے بھاگتا ہے اس لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ طلب کرنے لگی اور یہ اس سے بھاگنے لگی، بھاگتے بھاگتے جب تھک گئی اور بالکل چکنا چور ہو گئی تو اپنے بھٹ میں جا گھسی، زمین چونکہ وہاں بھی موجود تھی اس نے لومڑی سے کہا: میرا قرض دے تو یہ وہاں سے پھر بھاگی سانس پھولا ہوا تھا حال برا ہو رہا تھا آخر یونہی بھاگتے بھاگتے بےدم ہو کر مر گئی“ ۔ [طبرانی:6922:ضعیف]
الغرض جس طرح اس لومڑی کو زمین سے بھاگنے کی راہیں بند تھیں اسی طرح انسان کو موت سے بچنے کے راستے بند ہیں اس کے بعد صور پھونکے جانے کا ذکر ہے جس کی پوری تفسیر والی حدیث گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8720
اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں کس طرح راحت و آرام حاصل کر سکتا ہوں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور منہ میں لے لیا ہے اور گردن جھکائے حکم اللہ کا انتظار کر رہا ہے کہ کب حکم ملے اور کب وہ پھونک دے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہو «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ” ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے ““ [3-آل عمران:173] [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرماتا ہے ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ تو میدان محشر کی طرف لانے والا ہو گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال کی گواہی دینے والا ہو گا۔ ظاہر آیت یہی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت منبر پر کی اور فرمایا: ایک چلانے والا جس کے ہمراہ یہ میدان محشر میں آئے گا اور ایک گواہ ہو گا جو اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «سائق» سے مراد فرشتہ ہے اور شہید سے مراد عمل ہے۔
صفحہ نمبر8721
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے «سائق» فرشتوں میں سے ہوں گے اور «شہید» سے مراد خود انسان ہے جو اپنے اوپر آپ گواہی دے گا، پھر اس کے بعد کی آیت میں جو خطاب ہے اس کی نسبت تین قول ہیں، ایک تو یہ کہ یہ خطاب کافر سے ہو گا، دوسرا یہ کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نیک و بد سب، تیسرا یہ کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/11]
دوسرے قول کی توجیہ یہ ہے کہ آخرت اور دنیا میں وہی نسبت ہے جو بیداری اور خواب میں ہے اور تیسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ تو اس قرآن کی وحی سے پہلے غفلت میں تھا۔ ہم نے یہ قرآن نازل فرما کر تیری آنکھوں پر سے پردہ ہٹا دیا اور تیری نظر قوی ہو گئی۔ لیکن الفاظ قرآنی سے تو ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد عام ہے یعنی ہر شخص سے کہا جائے گا کہ تو اس دن سے غافل تھا اس لیے کہ قیامت کے دن ہر شخص کی آنکھیں خوب کھل جائیں گی یہاں تک کہ کافر بھی استقامت پر ہو جائے گا لیکن یہ استقامت اسے نفع نہ دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَـكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» [19-مريم:38] یعنی ” کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “
اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» [32-السجدة:12] یعنی ” کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں “۔
صفحہ نمبر8722
ق 50:20
باب
اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ دو فرشتے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، ابن آدم کے منہ سے جو کلمہ نکلتا ہے، اسے محفوظ رکھنے والے اور اسے نہ چھوڑنے والے اور فوراً لکھ لینے والے فرشتے مقرر ہیں۔
جیسے فرمان ہے «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» [82-الإنفطار:12-10] ” تم پر محافظ ہیں بزرگ فرشتے جو تمہارے فعل سے باخبر ہیں اور لکھنے والے ہیں “
حسن اور قتادہ رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں یہ فرشتے ہر نیک و بد عمل لکھ لیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دو قول ہیں ایک تو یہی ہے دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ ثواب و عذاب لکھ لیا کرتے ہیں۔ لیکن آیت کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی ہی تائید کرتے ہیں کیونکہ فرمان ہے جو لفظ نکلتا ہے اس کے پاس محافظ تیار ہیں۔
صفحہ نمبر8716
مسند احمد میں ہے انسان ایک کلمہ اللہ کی رضا مندی کا کہہ گزرتا ہے جسے وہ کوئی بہت بڑا اجر کا کلمہ نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی رضا مندی اس کے لیے قیامت تک کی لکھ دیتا ہے۔ اور کوئی برائی کا کلمہ، ناراضگی اللہ کا اسی طرح بےپرواہی سے کہہ گزرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ اپنی ناراضی اس پر اپنی ملاقات کے دن تک کی لکھ دیتا ہے۔ [سنن ترمذي:2319،قال الشيخ الألباني:صحیح]
علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث نے مجھے بہت سی باتوں سے بچا لیا۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتلاتے ہیں احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں دائیں طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور یہ بائیں طرف والے پر امین ہے۔ جب بندے سے کوئی خطا ہو جاتی ہے تو یہ کہتا ہے ٹھہر جا اگر اس نے اسی وقت توبہ کر لی تو اسے لکھنے نہیں دیتا اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ لکھ لیتا ہے۔ (ابن ابی حاتم)
صفحہ نمبر8717
امام حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے تھے اے ابن آدم تیرے لیے صحیفہ کھول دیا گیا ہے اور دو بزرگ فرشتے تجھ پر مقرر کر دئیے گئے ہیں، ایک تیرے دائیں دوسرا بائیں، دائیں طرف والا تو تیری نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے اور بائیں طرف والا برائیوں کو دیکھتا رہتا ہے اب تو جو چاہے عمل کر کمی کر یا زیادتی کر جب تو مرے گا تو یہ دفتر لپیٹ دیا جائے گا اور تیرے ساتھ تیری قبر میں رکھ دیا جائے گا اور قیامت کے دن جب تو اپنی قبر سے اٹھے گا تو یہ تیرے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔
اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا» * «اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا» [17-الإسراء:14-13] ” ہر انسان کی شامت اعمال کی تفصیل ہم نے اس کے گلے لگا دی ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے سامنے نامہ اعمال کی ایک کتاب پھینک دیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا پھر اس سے کہیں گے کہ اپنی کتاب پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔ “
پھر حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس نے بڑا ہی عدل کیا جس نے خود تجھے ہی تیرا محاسب بنا دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو کچھ تو بھلا برا کلمہ زبان سے نکالتا ہے وہ سب لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں گیا، میں آیا، میں نے دیکھا۔ پھر جمعرات والے دن اس کے اقوال و افعال پیش کئے جاتے ہیں خیر و شر باقی رکھ لی جاتی ہے اور سب کچھ مٹا دیا جاتا ہے یہی معنی ہیں فرمان باری تعالیٰ شانہ کے «يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» ” اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے “ [13-الرعد:39]
امام احمد رحمہ اللہ کی بابت مروی ہے کہ آپ اپنے مرض الموت میں کراہ رہے تھے تو آپ کو معلوم ہوا کہ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے اسے بھی لکھتے ہیں چنانچہ آپ نے کراہنا بھی چھوڑ دیا اللہ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اپنی موت کے وقت تک اف بھی نہ کی۔
صفحہ نمبر8718
پھر فرماتا ہے، اے انسان! موت کی بیہوشی یقینًا آئے گی اس وقت وہ شک دور ہو جائے گا جس میں آج کل تو مبتلا ہے، اس وقت تجھ سے کہا جائے گا کہ یہی ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا، اب وہ آ گئی، تو کسی طرح اس سے نجات نہیں پا سکتا، نہ بچ سکتا ہے، نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اسے دفع کر سکتا ہے، نہ ٹال سکتا ہے، نہ مقابلہ کر سکتا ہے، نہ کسی کی مدد و سفارش کچھ کام آ سکتی ہے۔
صحیح یہی ہے کہ یہاں خطاب مطلق انسان سے ہے اگرچہ بعض نے کہا ہے کافر سے ہے اور بعض نے کچھ اور بھی کہا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنے والد کے آخری وقت میں آپ کے سرہانے بیٹھی تھی آپ پر غشی طاری ہوئی، تو میں نے یہ بیت پڑھا «من لا یزال دمعہ مقننعا» *** «فانہ لا بد مرۃ مدفوق» مطلب یہ ہے کہ جس کے آنسو ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ایک مرتبہ ٹپک پڑیں گے۔ تو آپ نے اپنا سر اٹھا کر کہا پیاری بچی یوں نہیں بلکہ جس طرح اللہ نے فرمایا «وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ» [50-ق:19] ” اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا “۔
اور روایت میں بیت کا پڑھنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ یوں نہیں بلکہ یہ آیت پڑھو۔ اس اثر کے اور بھی بہت سے طریق ہیں جنہیں میں نے سیرۃ الصدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کی وفات کے بیان میں جمع کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر8719
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب موت کی غشی طاری ہونے لگی تو آپ اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے: ”سبحان اللہ موت کی بڑی سختیاں ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4449]
اس آیت کے پچھلے جملے کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے ایک تو یہ کہ «ما» موصولہ ہے یعنی یہ وہی ہے جسے تو بعید از مکان جانتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں «ما» نافیہ ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ چیز ہے جس کے جدا کرنے کی، جس سے بچنے کی تجھے قدرت نہیں تو اس سے ہٹ نہیں سکتا۔
معجم کبیر طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص کی مثال جو موت سے بھاگتا ہے اس لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ طلب کرنے لگی اور یہ اس سے بھاگنے لگی، بھاگتے بھاگتے جب تھک گئی اور بالکل چکنا چور ہو گئی تو اپنے بھٹ میں جا گھسی، زمین چونکہ وہاں بھی موجود تھی اس نے لومڑی سے کہا: میرا قرض دے تو یہ وہاں سے پھر بھاگی سانس پھولا ہوا تھا حال برا ہو رہا تھا آخر یونہی بھاگتے بھاگتے بےدم ہو کر مر گئی“ ۔ [طبرانی:6922:ضعیف]
الغرض جس طرح اس لومڑی کو زمین سے بھاگنے کی راہیں بند تھیں اسی طرح انسان کو موت سے بچنے کے راستے بند ہیں اس کے بعد صور پھونکے جانے کا ذکر ہے جس کی پوری تفسیر والی حدیث گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8720
اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں کس طرح راحت و آرام حاصل کر سکتا ہوں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور منہ میں لے لیا ہے اور گردن جھکائے حکم اللہ کا انتظار کر رہا ہے کہ کب حکم ملے اور کب وہ پھونک دے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہو «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ” ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے ““ [3-آل عمران:173] [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرماتا ہے ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ تو میدان محشر کی طرف لانے والا ہو گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال کی گواہی دینے والا ہو گا۔ ظاہر آیت یہی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت منبر پر کی اور فرمایا: ایک چلانے والا جس کے ہمراہ یہ میدان محشر میں آئے گا اور ایک گواہ ہو گا جو اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «سائق» سے مراد فرشتہ ہے اور شہید سے مراد عمل ہے۔
صفحہ نمبر8721
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے «سائق» فرشتوں میں سے ہوں گے اور «شہید» سے مراد خود انسان ہے جو اپنے اوپر آپ گواہی دے گا، پھر اس کے بعد کی آیت میں جو خطاب ہے اس کی نسبت تین قول ہیں، ایک تو یہ کہ یہ خطاب کافر سے ہو گا، دوسرا یہ کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نیک و بد سب، تیسرا یہ کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/11]
دوسرے قول کی توجیہ یہ ہے کہ آخرت اور دنیا میں وہی نسبت ہے جو بیداری اور خواب میں ہے اور تیسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ تو اس قرآن کی وحی سے پہلے غفلت میں تھا۔ ہم نے یہ قرآن نازل فرما کر تیری آنکھوں پر سے پردہ ہٹا دیا اور تیری نظر قوی ہو گئی۔ لیکن الفاظ قرآنی سے تو ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد عام ہے یعنی ہر شخص سے کہا جائے گا کہ تو اس دن سے غافل تھا اس لیے کہ قیامت کے دن ہر شخص کی آنکھیں خوب کھل جائیں گی یہاں تک کہ کافر بھی استقامت پر ہو جائے گا لیکن یہ استقامت اسے نفع نہ دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَـكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» [19-مريم:38] یعنی ” کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “
اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» [32-السجدة:12] یعنی ” کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں “۔
صفحہ نمبر8722
ق 50:21
باب
اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ دو فرشتے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، ابن آدم کے منہ سے جو کلمہ نکلتا ہے، اسے محفوظ رکھنے والے اور اسے نہ چھوڑنے والے اور فوراً لکھ لینے والے فرشتے مقرر ہیں۔
جیسے فرمان ہے «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» [82-الإنفطار:12-10] ” تم پر محافظ ہیں بزرگ فرشتے جو تمہارے فعل سے باخبر ہیں اور لکھنے والے ہیں “
حسن اور قتادہ رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں یہ فرشتے ہر نیک و بد عمل لکھ لیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دو قول ہیں ایک تو یہی ہے دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ ثواب و عذاب لکھ لیا کرتے ہیں۔ لیکن آیت کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی ہی تائید کرتے ہیں کیونکہ فرمان ہے جو لفظ نکلتا ہے اس کے پاس محافظ تیار ہیں۔
صفحہ نمبر8716
مسند احمد میں ہے انسان ایک کلمہ اللہ کی رضا مندی کا کہہ گزرتا ہے جسے وہ کوئی بہت بڑا اجر کا کلمہ نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی رضا مندی اس کے لیے قیامت تک کی لکھ دیتا ہے۔ اور کوئی برائی کا کلمہ، ناراضگی اللہ کا اسی طرح بےپرواہی سے کہہ گزرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ اپنی ناراضی اس پر اپنی ملاقات کے دن تک کی لکھ دیتا ہے۔ [سنن ترمذي:2319،قال الشيخ الألباني:صحیح]
علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث نے مجھے بہت سی باتوں سے بچا لیا۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتلاتے ہیں احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں دائیں طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور یہ بائیں طرف والے پر امین ہے۔ جب بندے سے کوئی خطا ہو جاتی ہے تو یہ کہتا ہے ٹھہر جا اگر اس نے اسی وقت توبہ کر لی تو اسے لکھنے نہیں دیتا اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ لکھ لیتا ہے۔ (ابن ابی حاتم)
صفحہ نمبر8717
امام حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے تھے اے ابن آدم تیرے لیے صحیفہ کھول دیا گیا ہے اور دو بزرگ فرشتے تجھ پر مقرر کر دئیے گئے ہیں، ایک تیرے دائیں دوسرا بائیں، دائیں طرف والا تو تیری نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے اور بائیں طرف والا برائیوں کو دیکھتا رہتا ہے اب تو جو چاہے عمل کر کمی کر یا زیادتی کر جب تو مرے گا تو یہ دفتر لپیٹ دیا جائے گا اور تیرے ساتھ تیری قبر میں رکھ دیا جائے گا اور قیامت کے دن جب تو اپنی قبر سے اٹھے گا تو یہ تیرے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔
اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا» * «اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا» [17-الإسراء:14-13] ” ہر انسان کی شامت اعمال کی تفصیل ہم نے اس کے گلے لگا دی ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے سامنے نامہ اعمال کی ایک کتاب پھینک دیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا پھر اس سے کہیں گے کہ اپنی کتاب پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔ “
پھر حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس نے بڑا ہی عدل کیا جس نے خود تجھے ہی تیرا محاسب بنا دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو کچھ تو بھلا برا کلمہ زبان سے نکالتا ہے وہ سب لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں گیا، میں آیا، میں نے دیکھا۔ پھر جمعرات والے دن اس کے اقوال و افعال پیش کئے جاتے ہیں خیر و شر باقی رکھ لی جاتی ہے اور سب کچھ مٹا دیا جاتا ہے یہی معنی ہیں فرمان باری تعالیٰ شانہ کے «يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» ” اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے “ [13-الرعد:39]
امام احمد رحمہ اللہ کی بابت مروی ہے کہ آپ اپنے مرض الموت میں کراہ رہے تھے تو آپ کو معلوم ہوا کہ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے اسے بھی لکھتے ہیں چنانچہ آپ نے کراہنا بھی چھوڑ دیا اللہ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اپنی موت کے وقت تک اف بھی نہ کی۔
صفحہ نمبر8718
پھر فرماتا ہے، اے انسان! موت کی بیہوشی یقینًا آئے گی اس وقت وہ شک دور ہو جائے گا جس میں آج کل تو مبتلا ہے، اس وقت تجھ سے کہا جائے گا کہ یہی ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا، اب وہ آ گئی، تو کسی طرح اس سے نجات نہیں پا سکتا، نہ بچ سکتا ہے، نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اسے دفع کر سکتا ہے، نہ ٹال سکتا ہے، نہ مقابلہ کر سکتا ہے، نہ کسی کی مدد و سفارش کچھ کام آ سکتی ہے۔
صحیح یہی ہے کہ یہاں خطاب مطلق انسان سے ہے اگرچہ بعض نے کہا ہے کافر سے ہے اور بعض نے کچھ اور بھی کہا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنے والد کے آخری وقت میں آپ کے سرہانے بیٹھی تھی آپ پر غشی طاری ہوئی، تو میں نے یہ بیت پڑھا «من لا یزال دمعہ مقننعا» *** «فانہ لا بد مرۃ مدفوق» مطلب یہ ہے کہ جس کے آنسو ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ایک مرتبہ ٹپک پڑیں گے۔ تو آپ نے اپنا سر اٹھا کر کہا پیاری بچی یوں نہیں بلکہ جس طرح اللہ نے فرمایا «وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ» [50-ق:19] ” اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا “۔
اور روایت میں بیت کا پڑھنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ یوں نہیں بلکہ یہ آیت پڑھو۔ اس اثر کے اور بھی بہت سے طریق ہیں جنہیں میں نے سیرۃ الصدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کی وفات کے بیان میں جمع کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر8719
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب موت کی غشی طاری ہونے لگی تو آپ اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے: ”سبحان اللہ موت کی بڑی سختیاں ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4449]
اس آیت کے پچھلے جملے کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے ایک تو یہ کہ «ما» موصولہ ہے یعنی یہ وہی ہے جسے تو بعید از مکان جانتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں «ما» نافیہ ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ چیز ہے جس کے جدا کرنے کی، جس سے بچنے کی تجھے قدرت نہیں تو اس سے ہٹ نہیں سکتا۔
معجم کبیر طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص کی مثال جو موت سے بھاگتا ہے اس لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ طلب کرنے لگی اور یہ اس سے بھاگنے لگی، بھاگتے بھاگتے جب تھک گئی اور بالکل چکنا چور ہو گئی تو اپنے بھٹ میں جا گھسی، زمین چونکہ وہاں بھی موجود تھی اس نے لومڑی سے کہا: میرا قرض دے تو یہ وہاں سے پھر بھاگی سانس پھولا ہوا تھا حال برا ہو رہا تھا آخر یونہی بھاگتے بھاگتے بےدم ہو کر مر گئی“ ۔ [طبرانی:6922:ضعیف]
الغرض جس طرح اس لومڑی کو زمین سے بھاگنے کی راہیں بند تھیں اسی طرح انسان کو موت سے بچنے کے راستے بند ہیں اس کے بعد صور پھونکے جانے کا ذکر ہے جس کی پوری تفسیر والی حدیث گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8720
اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں کس طرح راحت و آرام حاصل کر سکتا ہوں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور منہ میں لے لیا ہے اور گردن جھکائے حکم اللہ کا انتظار کر رہا ہے کہ کب حکم ملے اور کب وہ پھونک دے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہو «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ” ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے ““ [3-آل عمران:173] [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرماتا ہے ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ تو میدان محشر کی طرف لانے والا ہو گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال کی گواہی دینے والا ہو گا۔ ظاہر آیت یہی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت منبر پر کی اور فرمایا: ایک چلانے والا جس کے ہمراہ یہ میدان محشر میں آئے گا اور ایک گواہ ہو گا جو اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «سائق» سے مراد فرشتہ ہے اور شہید سے مراد عمل ہے۔
صفحہ نمبر8721
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے «سائق» فرشتوں میں سے ہوں گے اور «شہید» سے مراد خود انسان ہے جو اپنے اوپر آپ گواہی دے گا، پھر اس کے بعد کی آیت میں جو خطاب ہے اس کی نسبت تین قول ہیں، ایک تو یہ کہ یہ خطاب کافر سے ہو گا، دوسرا یہ کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نیک و بد سب، تیسرا یہ کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/11]
دوسرے قول کی توجیہ یہ ہے کہ آخرت اور دنیا میں وہی نسبت ہے جو بیداری اور خواب میں ہے اور تیسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ تو اس قرآن کی وحی سے پہلے غفلت میں تھا۔ ہم نے یہ قرآن نازل فرما کر تیری آنکھوں پر سے پردہ ہٹا دیا اور تیری نظر قوی ہو گئی۔ لیکن الفاظ قرآنی سے تو ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد عام ہے یعنی ہر شخص سے کہا جائے گا کہ تو اس دن سے غافل تھا اس لیے کہ قیامت کے دن ہر شخص کی آنکھیں خوب کھل جائیں گی یہاں تک کہ کافر بھی استقامت پر ہو جائے گا لیکن یہ استقامت اسے نفع نہ دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَـكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» [19-مريم:38] یعنی ” کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “
اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» [32-السجدة:12] یعنی ” کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں “۔
صفحہ نمبر8722
ق 50:22
باب
اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ دو فرشتے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، ابن آدم کے منہ سے جو کلمہ نکلتا ہے، اسے محفوظ رکھنے والے اور اسے نہ چھوڑنے والے اور فوراً لکھ لینے والے فرشتے مقرر ہیں۔
جیسے فرمان ہے «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» [82-الإنفطار:12-10] ” تم پر محافظ ہیں بزرگ فرشتے جو تمہارے فعل سے باخبر ہیں اور لکھنے والے ہیں “
حسن اور قتادہ رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں یہ فرشتے ہر نیک و بد عمل لکھ لیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دو قول ہیں ایک تو یہی ہے دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ ثواب و عذاب لکھ لیا کرتے ہیں۔ لیکن آیت کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی ہی تائید کرتے ہیں کیونکہ فرمان ہے جو لفظ نکلتا ہے اس کے پاس محافظ تیار ہیں۔
صفحہ نمبر8716
مسند احمد میں ہے انسان ایک کلمہ اللہ کی رضا مندی کا کہہ گزرتا ہے جسے وہ کوئی بہت بڑا اجر کا کلمہ نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی رضا مندی اس کے لیے قیامت تک کی لکھ دیتا ہے۔ اور کوئی برائی کا کلمہ، ناراضگی اللہ کا اسی طرح بےپرواہی سے کہہ گزرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ اپنی ناراضی اس پر اپنی ملاقات کے دن تک کی لکھ دیتا ہے۔ [سنن ترمذي:2319،قال الشيخ الألباني:صحیح]
علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث نے مجھے بہت سی باتوں سے بچا لیا۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتلاتے ہیں احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں دائیں طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور یہ بائیں طرف والے پر امین ہے۔ جب بندے سے کوئی خطا ہو جاتی ہے تو یہ کہتا ہے ٹھہر جا اگر اس نے اسی وقت توبہ کر لی تو اسے لکھنے نہیں دیتا اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ لکھ لیتا ہے۔ (ابن ابی حاتم)
صفحہ نمبر8717
امام حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے تھے اے ابن آدم تیرے لیے صحیفہ کھول دیا گیا ہے اور دو بزرگ فرشتے تجھ پر مقرر کر دئیے گئے ہیں، ایک تیرے دائیں دوسرا بائیں، دائیں طرف والا تو تیری نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے اور بائیں طرف والا برائیوں کو دیکھتا رہتا ہے اب تو جو چاہے عمل کر کمی کر یا زیادتی کر جب تو مرے گا تو یہ دفتر لپیٹ دیا جائے گا اور تیرے ساتھ تیری قبر میں رکھ دیا جائے گا اور قیامت کے دن جب تو اپنی قبر سے اٹھے گا تو یہ تیرے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔
اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا» * «اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا» [17-الإسراء:14-13] ” ہر انسان کی شامت اعمال کی تفصیل ہم نے اس کے گلے لگا دی ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے سامنے نامہ اعمال کی ایک کتاب پھینک دیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا پھر اس سے کہیں گے کہ اپنی کتاب پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔ “
پھر حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس نے بڑا ہی عدل کیا جس نے خود تجھے ہی تیرا محاسب بنا دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو کچھ تو بھلا برا کلمہ زبان سے نکالتا ہے وہ سب لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں گیا، میں آیا، میں نے دیکھا۔ پھر جمعرات والے دن اس کے اقوال و افعال پیش کئے جاتے ہیں خیر و شر باقی رکھ لی جاتی ہے اور سب کچھ مٹا دیا جاتا ہے یہی معنی ہیں فرمان باری تعالیٰ شانہ کے «يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» ” اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے “ [13-الرعد:39]
امام احمد رحمہ اللہ کی بابت مروی ہے کہ آپ اپنے مرض الموت میں کراہ رہے تھے تو آپ کو معلوم ہوا کہ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے اسے بھی لکھتے ہیں چنانچہ آپ نے کراہنا بھی چھوڑ دیا اللہ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اپنی موت کے وقت تک اف بھی نہ کی۔
صفحہ نمبر8718
پھر فرماتا ہے، اے انسان! موت کی بیہوشی یقینًا آئے گی اس وقت وہ شک دور ہو جائے گا جس میں آج کل تو مبتلا ہے، اس وقت تجھ سے کہا جائے گا کہ یہی ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا، اب وہ آ گئی، تو کسی طرح اس سے نجات نہیں پا سکتا، نہ بچ سکتا ہے، نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اسے دفع کر سکتا ہے، نہ ٹال سکتا ہے، نہ مقابلہ کر سکتا ہے، نہ کسی کی مدد و سفارش کچھ کام آ سکتی ہے۔
صحیح یہی ہے کہ یہاں خطاب مطلق انسان سے ہے اگرچہ بعض نے کہا ہے کافر سے ہے اور بعض نے کچھ اور بھی کہا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنے والد کے آخری وقت میں آپ کے سرہانے بیٹھی تھی آپ پر غشی طاری ہوئی، تو میں نے یہ بیت پڑھا «من لا یزال دمعہ مقننعا» *** «فانہ لا بد مرۃ مدفوق» مطلب یہ ہے کہ جس کے آنسو ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ایک مرتبہ ٹپک پڑیں گے۔ تو آپ نے اپنا سر اٹھا کر کہا پیاری بچی یوں نہیں بلکہ جس طرح اللہ نے فرمایا «وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ» [50-ق:19] ” اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا “۔
اور روایت میں بیت کا پڑھنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ یوں نہیں بلکہ یہ آیت پڑھو۔ اس اثر کے اور بھی بہت سے طریق ہیں جنہیں میں نے سیرۃ الصدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کی وفات کے بیان میں جمع کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر8719
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب موت کی غشی طاری ہونے لگی تو آپ اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے: ”سبحان اللہ موت کی بڑی سختیاں ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4449]
اس آیت کے پچھلے جملے کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے ایک تو یہ کہ «ما» موصولہ ہے یعنی یہ وہی ہے جسے تو بعید از مکان جانتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں «ما» نافیہ ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ چیز ہے جس کے جدا کرنے کی، جس سے بچنے کی تجھے قدرت نہیں تو اس سے ہٹ نہیں سکتا۔
معجم کبیر طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص کی مثال جو موت سے بھاگتا ہے اس لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ طلب کرنے لگی اور یہ اس سے بھاگنے لگی، بھاگتے بھاگتے جب تھک گئی اور بالکل چکنا چور ہو گئی تو اپنے بھٹ میں جا گھسی، زمین چونکہ وہاں بھی موجود تھی اس نے لومڑی سے کہا: میرا قرض دے تو یہ وہاں سے پھر بھاگی سانس پھولا ہوا تھا حال برا ہو رہا تھا آخر یونہی بھاگتے بھاگتے بےدم ہو کر مر گئی“ ۔ [طبرانی:6922:ضعیف]
الغرض جس طرح اس لومڑی کو زمین سے بھاگنے کی راہیں بند تھیں اسی طرح انسان کو موت سے بچنے کے راستے بند ہیں اس کے بعد صور پھونکے جانے کا ذکر ہے جس کی پوری تفسیر والی حدیث گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8720
اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں کس طرح راحت و آرام حاصل کر سکتا ہوں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور منہ میں لے لیا ہے اور گردن جھکائے حکم اللہ کا انتظار کر رہا ہے کہ کب حکم ملے اور کب وہ پھونک دے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہو «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ” ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے ““ [3-آل عمران:173] [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرماتا ہے ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ تو میدان محشر کی طرف لانے والا ہو گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال کی گواہی دینے والا ہو گا۔ ظاہر آیت یہی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت منبر پر کی اور فرمایا: ایک چلانے والا جس کے ہمراہ یہ میدان محشر میں آئے گا اور ایک گواہ ہو گا جو اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «سائق» سے مراد فرشتہ ہے اور شہید سے مراد عمل ہے۔
صفحہ نمبر8721
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے «سائق» فرشتوں میں سے ہوں گے اور «شہید» سے مراد خود انسان ہے جو اپنے اوپر آپ گواہی دے گا، پھر اس کے بعد کی آیت میں جو خطاب ہے اس کی نسبت تین قول ہیں، ایک تو یہ کہ یہ خطاب کافر سے ہو گا، دوسرا یہ کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نیک و بد سب، تیسرا یہ کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/11]
دوسرے قول کی توجیہ یہ ہے کہ آخرت اور دنیا میں وہی نسبت ہے جو بیداری اور خواب میں ہے اور تیسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ تو اس قرآن کی وحی سے پہلے غفلت میں تھا۔ ہم نے یہ قرآن نازل فرما کر تیری آنکھوں پر سے پردہ ہٹا دیا اور تیری نظر قوی ہو گئی۔ لیکن الفاظ قرآنی سے تو ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد عام ہے یعنی ہر شخص سے کہا جائے گا کہ تو اس دن سے غافل تھا اس لیے کہ قیامت کے دن ہر شخص کی آنکھیں خوب کھل جائیں گی یہاں تک کہ کافر بھی استقامت پر ہو جائے گا لیکن یہ استقامت اسے نفع نہ دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَـكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» [19-مريم:38] یعنی ” کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “
اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» [32-السجدة:12] یعنی ” کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں “۔
صفحہ نمبر8722
ق 50:23
ہمارے اعمال کے گواہ ٭٭
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ جو فرشتہ ابن آدم کے اعمال پر مقرر ہے وہ اس کے اعمال کی شہادت دے گا اور کہے گا کہ یہ ہے میرے پاس تفصیل بلا کم و کاست حاضر ہے۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اس فرشتے کا کلام ہو گا جسے سائق کہا گیا ہے جو اس کو محشر میں لے آیا تھا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ وہ اس فرشتے پر بھی اور گواہی دینے والے فرشتے دونوں پہ مشتمل ہے اب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے عدل و انصاف سے کرے گا۔ «القیا» تثنیہ کا صیغہ ہے بعض نحوی کہتے ہیں کہ بعض عرب واحد کو «تثنیہ» کر دیا کرتے ہیں جیسے کہ حجاج کا مقولہ مشہور ہے کہ وہ اپنے جلاد سے کہتا تھا «اضربا عنقہ» تم دونوں اس کی گردن مار دو حالانکہ جلاد ایک ہی ہوتا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی شہادت میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:422/11]
بعض کہتے ہیں کہ دراصل یہ نون تاکید ہے جس کی تسہیل الف کی طرف کر لی ہے لیکن یہ بعید ہے اس لیے کہ ایسا تو وقف کی حالت میں ہوتا ہے بظاہر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب اوپر والے دونوں فرشتوں سے ہو گا، لانے والے فرشتے نے اسے حساب کے لیے پیش کیا اور گواہی دینے والے نے گواہی دے دی تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کو حکم دے گا کہ اسے جہنم کی آگ میں ڈال دو جو بدترین جگہ ہے اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔
صفحہ نمبر8728
ق 50:24
ہمارے اعمال کے گواہ ٭٭
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ جو فرشتہ ابن آدم کے اعمال پر مقرر ہے وہ اس کے اعمال کی شہادت دے گا اور کہے گا کہ یہ ہے میرے پاس تفصیل بلا کم و کاست حاضر ہے۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اس فرشتے کا کلام ہو گا جسے سائق کہا گیا ہے جو اس کو محشر میں لے آیا تھا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ وہ اس فرشتے پر بھی اور گواہی دینے والے فرشتے دونوں پہ مشتمل ہے اب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے عدل و انصاف سے کرے گا۔ «القیا» تثنیہ کا صیغہ ہے بعض نحوی کہتے ہیں کہ بعض عرب واحد کو «تثنیہ» کر دیا کرتے ہیں جیسے کہ حجاج کا مقولہ مشہور ہے کہ وہ اپنے جلاد سے کہتا تھا «اضربا عنقہ» تم دونوں اس کی گردن مار دو حالانکہ جلاد ایک ہی ہوتا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی شہادت میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:422/11]
بعض کہتے ہیں کہ دراصل یہ نون تاکید ہے جس کی تسہیل الف کی طرف کر لی ہے لیکن یہ بعید ہے اس لیے کہ ایسا تو وقف کی حالت میں ہوتا ہے بظاہر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب اوپر والے دونوں فرشتوں سے ہو گا، لانے والے فرشتے نے اسے حساب کے لیے پیش کیا اور گواہی دینے والے نے گواہی دے دی تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کو حکم دے گا کہ اسے جہنم کی آگ میں ڈال دو جو بدترین جگہ ہے اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔
صفحہ نمبر8728
ق 50:25
باب
پھر فرماتا ہے کہ ہر کافر اور ہر حق کے مخالف اور ہر حق کے نہ ادا کرنے والے اور ہر نیکی صلہ رحمی اور بھلائی سے خالی رہنے والے اور ہر حد سے گزر جانے والے خواہ وہ مال کے خرچ میں اسراف کرتا ہو، خواہ بولنے اور چلنے پھرنے میں اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا ہو اور ہر شک کرنے والے اور ہر اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کے لیے یہی حکم ہے کہ اسے پکڑ کر سخت عذاب میں ڈال دو۔
پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جہنم قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اپنی گردن نکالے گی اور باآواز بلند پکار کر کہے گی جسے تمام محشر کا مجمع سنے گا کہ میں تین قسم کے لوگوں پر مقرر کی گئی ہوں ہر سرکش حق کے مخالف کے لیے اور ہر مشرک کے لیے اور ہر تصویر بنانے والے کے لیے، پھر وہ ان سب سے لپٹ جائے گی۔
مسند کی حدیث میں تیسری قسم کے لوگ وہ بتائے ہیں جو ظالمانہ قتل کرنے والے ہوں۔ [مسند احمد:40/3:ضعیف]
پھر فرمایا اس کا ساتھی کہے گا، اس سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ موکل تھا یہ اس کافر کو دیکھ کر اپنی براءت کرے گا اور کہے گا کہ میں نے اسے نہیں بہکایا بلکہ یہ تو خود گمراہ تھا باطل کو از خود قبول کر لیتا تھا حق کا اپنے آپ مخالف تھا۔
صفحہ نمبر8730
جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [14-إبراهيم:22] ” شیطان جب دیکھے گا کہ کام ختم ہوا تو کہے گا اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی، میرا کوئی زور تو تم پر تھا ہی نہیں، میں نے تم سے کہا تم نے فوراً مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو، نہ میں تمہیں کام دے سکوں گا، نہ تم میرے کام آ سکوں تم جو مجھے شریک بنا رہے تھے تو میں پہلے ہی سے ان کا انکاری تھا، ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ “
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انسان سے اور اس کے ساتھی شیطان سے فرمائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ انسان کہہ رہا ہو گا کہ اللہ اس نے مجھے جبکہ میرے پاس نصیحت آ چکی گمراہ کر دیا اور شیطان کہے گا اللہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، تو اللہ انہیں تو تو میں میں سے روک دے گا اور فرمائے گا، میں تو اپنی حجت ختم کر چکا رسولوں کی زبانی یہ سب باتیں تمہیں سنا چکا تھا، تمہیں کتابیں بھیج دی تھیں اور ہر ہر طریقہ سے ہر طرح سے تمہیں سمجھا بھجا دیا تھا، ہر شخص پر اتمام حجت ہو چکی اور ہر شخص اپنے گناہوں کا خود ذمہ دار ہے۔
صفحہ نمبر8731
ق 50:26
باب
پھر فرماتا ہے کہ ہر کافر اور ہر حق کے مخالف اور ہر حق کے نہ ادا کرنے والے اور ہر نیکی صلہ رحمی اور بھلائی سے خالی رہنے والے اور ہر حد سے گزر جانے والے خواہ وہ مال کے خرچ میں اسراف کرتا ہو، خواہ بولنے اور چلنے پھرنے میں اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا ہو اور ہر شک کرنے والے اور ہر اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کے لیے یہی حکم ہے کہ اسے پکڑ کر سخت عذاب میں ڈال دو۔
پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جہنم قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اپنی گردن نکالے گی اور باآواز بلند پکار کر کہے گی جسے تمام محشر کا مجمع سنے گا کہ میں تین قسم کے لوگوں پر مقرر کی گئی ہوں ہر سرکش حق کے مخالف کے لیے اور ہر مشرک کے لیے اور ہر تصویر بنانے والے کے لیے، پھر وہ ان سب سے لپٹ جائے گی۔
مسند کی حدیث میں تیسری قسم کے لوگ وہ بتائے ہیں جو ظالمانہ قتل کرنے والے ہوں۔ [مسند احمد:40/3:ضعیف]
پھر فرمایا اس کا ساتھی کہے گا، اس سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ موکل تھا یہ اس کافر کو دیکھ کر اپنی براءت کرے گا اور کہے گا کہ میں نے اسے نہیں بہکایا بلکہ یہ تو خود گمراہ تھا باطل کو از خود قبول کر لیتا تھا حق کا اپنے آپ مخالف تھا۔
صفحہ نمبر8730
جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [14-إبراهيم:22] ” شیطان جب دیکھے گا کہ کام ختم ہوا تو کہے گا اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی، میرا کوئی زور تو تم پر تھا ہی نہیں، میں نے تم سے کہا تم نے فوراً مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو، نہ میں تمہیں کام دے سکوں گا، نہ تم میرے کام آ سکوں تم جو مجھے شریک بنا رہے تھے تو میں پہلے ہی سے ان کا انکاری تھا، ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ “
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انسان سے اور اس کے ساتھی شیطان سے فرمائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ انسان کہہ رہا ہو گا کہ اللہ اس نے مجھے جبکہ میرے پاس نصیحت آ چکی گمراہ کر دیا اور شیطان کہے گا اللہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، تو اللہ انہیں تو تو میں میں سے روک دے گا اور فرمائے گا، میں تو اپنی حجت ختم کر چکا رسولوں کی زبانی یہ سب باتیں تمہیں سنا چکا تھا، تمہیں کتابیں بھیج دی تھیں اور ہر ہر طریقہ سے ہر طرح سے تمہیں سمجھا بھجا دیا تھا، ہر شخص پر اتمام حجت ہو چکی اور ہر شخص اپنے گناہوں کا خود ذمہ دار ہے۔
صفحہ نمبر8731
ق 50:27
باب
پھر فرماتا ہے کہ ہر کافر اور ہر حق کے مخالف اور ہر حق کے نہ ادا کرنے والے اور ہر نیکی صلہ رحمی اور بھلائی سے خالی رہنے والے اور ہر حد سے گزر جانے والے خواہ وہ مال کے خرچ میں اسراف کرتا ہو، خواہ بولنے اور چلنے پھرنے میں اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا ہو اور ہر شک کرنے والے اور ہر اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کے لیے یہی حکم ہے کہ اسے پکڑ کر سخت عذاب میں ڈال دو۔
پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جہنم قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اپنی گردن نکالے گی اور باآواز بلند پکار کر کہے گی جسے تمام محشر کا مجمع سنے گا کہ میں تین قسم کے لوگوں پر مقرر کی گئی ہوں ہر سرکش حق کے مخالف کے لیے اور ہر مشرک کے لیے اور ہر تصویر بنانے والے کے لیے، پھر وہ ان سب سے لپٹ جائے گی۔
مسند کی حدیث میں تیسری قسم کے لوگ وہ بتائے ہیں جو ظالمانہ قتل کرنے والے ہوں۔ [مسند احمد:40/3:ضعیف]
پھر فرمایا اس کا ساتھی کہے گا، اس سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ موکل تھا یہ اس کافر کو دیکھ کر اپنی براءت کرے گا اور کہے گا کہ میں نے اسے نہیں بہکایا بلکہ یہ تو خود گمراہ تھا باطل کو از خود قبول کر لیتا تھا حق کا اپنے آپ مخالف تھا۔
صفحہ نمبر8730
جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [14-إبراهيم:22] ” شیطان جب دیکھے گا کہ کام ختم ہوا تو کہے گا اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی، میرا کوئی زور تو تم پر تھا ہی نہیں، میں نے تم سے کہا تم نے فوراً مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو، نہ میں تمہیں کام دے سکوں گا، نہ تم میرے کام آ سکوں تم جو مجھے شریک بنا رہے تھے تو میں پہلے ہی سے ان کا انکاری تھا، ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ “
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انسان سے اور اس کے ساتھی شیطان سے فرمائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ انسان کہہ رہا ہو گا کہ اللہ اس نے مجھے جبکہ میرے پاس نصیحت آ چکی گمراہ کر دیا اور شیطان کہے گا اللہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، تو اللہ انہیں تو تو میں میں سے روک دے گا اور فرمائے گا، میں تو اپنی حجت ختم کر چکا رسولوں کی زبانی یہ سب باتیں تمہیں سنا چکا تھا، تمہیں کتابیں بھیج دی تھیں اور ہر ہر طریقہ سے ہر طرح سے تمہیں سمجھا بھجا دیا تھا، ہر شخص پر اتمام حجت ہو چکی اور ہر شخص اپنے گناہوں کا خود ذمہ دار ہے۔
صفحہ نمبر8731
ق 50:28
باب
پھر فرماتا ہے کہ ہر کافر اور ہر حق کے مخالف اور ہر حق کے نہ ادا کرنے والے اور ہر نیکی صلہ رحمی اور بھلائی سے خالی رہنے والے اور ہر حد سے گزر جانے والے خواہ وہ مال کے خرچ میں اسراف کرتا ہو، خواہ بولنے اور چلنے پھرنے میں اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا ہو اور ہر شک کرنے والے اور ہر اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کے لیے یہی حکم ہے کہ اسے پکڑ کر سخت عذاب میں ڈال دو۔
پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جہنم قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اپنی گردن نکالے گی اور باآواز بلند پکار کر کہے گی جسے تمام محشر کا مجمع سنے گا کہ میں تین قسم کے لوگوں پر مقرر کی گئی ہوں ہر سرکش حق کے مخالف کے لیے اور ہر مشرک کے لیے اور ہر تصویر بنانے والے کے لیے، پھر وہ ان سب سے لپٹ جائے گی۔
مسند کی حدیث میں تیسری قسم کے لوگ وہ بتائے ہیں جو ظالمانہ قتل کرنے والے ہوں۔ [مسند احمد:40/3:ضعیف]
پھر فرمایا اس کا ساتھی کہے گا، اس سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ موکل تھا یہ اس کافر کو دیکھ کر اپنی براءت کرے گا اور کہے گا کہ میں نے اسے نہیں بہکایا بلکہ یہ تو خود گمراہ تھا باطل کو از خود قبول کر لیتا تھا حق کا اپنے آپ مخالف تھا۔
صفحہ نمبر8730
جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [14-إبراهيم:22] ” شیطان جب دیکھے گا کہ کام ختم ہوا تو کہے گا اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی، میرا کوئی زور تو تم پر تھا ہی نہیں، میں نے تم سے کہا تم نے فوراً مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو، نہ میں تمہیں کام دے سکوں گا، نہ تم میرے کام آ سکوں تم جو مجھے شریک بنا رہے تھے تو میں پہلے ہی سے ان کا انکاری تھا، ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ “
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انسان سے اور اس کے ساتھی شیطان سے فرمائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ انسان کہہ رہا ہو گا کہ اللہ اس نے مجھے جبکہ میرے پاس نصیحت آ چکی گمراہ کر دیا اور شیطان کہے گا اللہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، تو اللہ انہیں تو تو میں میں سے روک دے گا اور فرمائے گا، میں تو اپنی حجت ختم کر چکا رسولوں کی زبانی یہ سب باتیں تمہیں سنا چکا تھا، تمہیں کتابیں بھیج دی تھیں اور ہر ہر طریقہ سے ہر طرح سے تمہیں سمجھا بھجا دیا تھا، ہر شخص پر اتمام حجت ہو چکی اور ہر شخص اپنے گناہوں کا خود ذمہ دار ہے۔
صفحہ نمبر8731
ق 50:29
باب
پھر فرماتا ہے کہ ہر کافر اور ہر حق کے مخالف اور ہر حق کے نہ ادا کرنے والے اور ہر نیکی صلہ رحمی اور بھلائی سے خالی رہنے والے اور ہر حد سے گزر جانے والے خواہ وہ مال کے خرچ میں اسراف کرتا ہو، خواہ بولنے اور چلنے پھرنے میں اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا ہو اور ہر شک کرنے والے اور ہر اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کے لیے یہی حکم ہے کہ اسے پکڑ کر سخت عذاب میں ڈال دو۔
پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جہنم قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اپنی گردن نکالے گی اور باآواز بلند پکار کر کہے گی جسے تمام محشر کا مجمع سنے گا کہ میں تین قسم کے لوگوں پر مقرر کی گئی ہوں ہر سرکش حق کے مخالف کے لیے اور ہر مشرک کے لیے اور ہر تصویر بنانے والے کے لیے، پھر وہ ان سب سے لپٹ جائے گی۔
مسند کی حدیث میں تیسری قسم کے لوگ وہ بتائے ہیں جو ظالمانہ قتل کرنے والے ہوں۔ [مسند احمد:40/3:ضعیف]
پھر فرمایا اس کا ساتھی کہے گا، اس سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ موکل تھا یہ اس کافر کو دیکھ کر اپنی براءت کرے گا اور کہے گا کہ میں نے اسے نہیں بہکایا بلکہ یہ تو خود گمراہ تھا باطل کو از خود قبول کر لیتا تھا حق کا اپنے آپ مخالف تھا۔
صفحہ نمبر8730
جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [14-إبراهيم:22] ” شیطان جب دیکھے گا کہ کام ختم ہوا تو کہے گا اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی، میرا کوئی زور تو تم پر تھا ہی نہیں، میں نے تم سے کہا تم نے فوراً مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو، نہ میں تمہیں کام دے سکوں گا، نہ تم میرے کام آ سکوں تم جو مجھے شریک بنا رہے تھے تو میں پہلے ہی سے ان کا انکاری تھا، ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ “
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انسان سے اور اس کے ساتھی شیطان سے فرمائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ انسان کہہ رہا ہو گا کہ اللہ اس نے مجھے جبکہ میرے پاس نصیحت آ چکی گمراہ کر دیا اور شیطان کہے گا اللہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، تو اللہ انہیں تو تو میں میں سے روک دے گا اور فرمائے گا، میں تو اپنی حجت ختم کر چکا رسولوں کی زبانی یہ سب باتیں تمہیں سنا چکا تھا، تمہیں کتابیں بھیج دی تھیں اور ہر ہر طریقہ سے ہر طرح سے تمہیں سمجھا بھجا دیا تھا، ہر شخص پر اتمام حجت ہو چکی اور ہر شخص اپنے گناہوں کا خود ذمہ دار ہے۔
صفحہ نمبر8731
ق 50:30
متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ ٭٭
چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لیے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہو گئی؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔
صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس“ ۔ [صحیح بخاری:4848]
مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم، بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک نئی مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا۔ [صحیح مسلم:2848]
صحیح بخاری میں ہے جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی، جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لیے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی، تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لیے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا۔ [صحیح بخاری:4850]
مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ مجھ میں جبر کرنے والے، تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے۔ [مسند احمد:13/3:صحیح]
صفحہ نمبر8736
مسند ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا، میں سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہو جائے گا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گزرنے لگے گی، بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہو جائیں گے، بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گزر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہو گا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔“ لوگوں نے کہا: حوض کیا ہے؟ فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کر سکے۔ [ذکرہ ابن حجر فی المطالب العالیہ:383/4:ضعیف و موضوع]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے؟ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے؟ میں بھر گئی۔
صفحہ نمبر8737
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے؟
امام ابن جریر رحمہ اللہ پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے، اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آ سکے؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہو گئی۔ عوفی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8738
پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لیے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔
«اواب» کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔
«حفیظ» کے معنی وعدوں کا پابند۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «اواب حفیظ» وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کر لے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔
حدیث میں ہے وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ [صحیح بخاری:660]
اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ «خلود» کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔
پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گزرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی۔
صفحہ نمبر8739
کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہو جائے گا“ ۔
مسند احمد میں ہے کہ اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہو جائے گی ۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہو جائے گا۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن]
اور آیت میں ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» [10-يونس:26]
صہیب بن سنان رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ [صحیح مسلم:181]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہو گا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے جبرائیل علیہ السلام ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں آپ کے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی آپ کے لیے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام «یوم المزید» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں، جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے، اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء علیہم السلام رونق افروز ہوتے ہیں، یہ منبر سونے کے ہیں، جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضا مندی مطلوب ہے، اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہو گیا، اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے، پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہشمند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی۔ [مسند ابویعلیٰ:229/7:ضعیف]
اسی طرح اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہو گی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہو گی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہو گا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہو جائے، وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں «مزید» کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہو گا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کر دینے کے لیے کافی ہے“ ۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف]
صفحہ نمبر8740
ق 50:31
متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ ٭٭
چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لیے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہو گئی؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔
صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس“ ۔ [صحیح بخاری:4848]
مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم، بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک نئی مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا۔ [صحیح مسلم:2848]
صحیح بخاری میں ہے جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی، جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لیے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی، تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لیے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا۔ [صحیح بخاری:4850]
مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ مجھ میں جبر کرنے والے، تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے۔ [مسند احمد:13/3:صحیح]
صفحہ نمبر8736
مسند ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا، میں سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہو جائے گا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گزرنے لگے گی، بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہو جائیں گے، بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گزر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہو گا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔“ لوگوں نے کہا: حوض کیا ہے؟ فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کر سکے۔ [ذکرہ ابن حجر فی المطالب العالیہ:383/4:ضعیف و موضوع]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے؟ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے؟ میں بھر گئی۔
صفحہ نمبر8737
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے؟
امام ابن جریر رحمہ اللہ پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے، اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آ سکے؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہو گئی۔ عوفی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8738
پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لیے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔
«اواب» کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔
«حفیظ» کے معنی وعدوں کا پابند۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «اواب حفیظ» وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کر لے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔
حدیث میں ہے وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ [صحیح بخاری:660]
اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ «خلود» کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔
پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گزرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی۔
صفحہ نمبر8739
کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہو جائے گا“ ۔
مسند احمد میں ہے کہ اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہو جائے گی ۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہو جائے گا۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن]
اور آیت میں ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» [10-يونس:26]
صہیب بن سنان رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ [صحیح مسلم:181]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہو گا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے جبرائیل علیہ السلام ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں آپ کے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی آپ کے لیے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام «یوم المزید» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں، جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے، اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء علیہم السلام رونق افروز ہوتے ہیں، یہ منبر سونے کے ہیں، جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضا مندی مطلوب ہے، اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہو گیا، اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے، پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہشمند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی۔ [مسند ابویعلیٰ:229/7:ضعیف]
اسی طرح اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہو گی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہو گی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہو گا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہو جائے، وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں «مزید» کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہو گا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کر دینے کے لیے کافی ہے“ ۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف]
صفحہ نمبر8740
ق 50:32
متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ ٭٭
چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لیے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہو گئی؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔
صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس“ ۔ [صحیح بخاری:4848]
مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم، بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک نئی مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا۔ [صحیح مسلم:2848]
صحیح بخاری میں ہے جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی، جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لیے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی، تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لیے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا۔ [صحیح بخاری:4850]
مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ مجھ میں جبر کرنے والے، تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے۔ [مسند احمد:13/3:صحیح]
صفحہ نمبر8736
مسند ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا، میں سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہو جائے گا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گزرنے لگے گی، بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہو جائیں گے، بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گزر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہو گا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔“ لوگوں نے کہا: حوض کیا ہے؟ فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کر سکے۔ [ذکرہ ابن حجر فی المطالب العالیہ:383/4:ضعیف و موضوع]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے؟ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے؟ میں بھر گئی۔
صفحہ نمبر8737
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے؟
امام ابن جریر رحمہ اللہ پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے، اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آ سکے؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہو گئی۔ عوفی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8738
پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لیے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔
«اواب» کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔
«حفیظ» کے معنی وعدوں کا پابند۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «اواب حفیظ» وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کر لے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔
حدیث میں ہے وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ [صحیح بخاری:660]
اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ «خلود» کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔
پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گزرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی۔
صفحہ نمبر8739
کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہو جائے گا“ ۔
مسند احمد میں ہے کہ اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہو جائے گی ۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہو جائے گا۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن]
اور آیت میں ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» [10-يونس:26]
صہیب بن سنان رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ [صحیح مسلم:181]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہو گا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے جبرائیل علیہ السلام ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں آپ کے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی آپ کے لیے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام «یوم المزید» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں، جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے، اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء علیہم السلام رونق افروز ہوتے ہیں، یہ منبر سونے کے ہیں، جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضا مندی مطلوب ہے، اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہو گیا، اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے، پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہشمند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی۔ [مسند ابویعلیٰ:229/7:ضعیف]
اسی طرح اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہو گی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہو گی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہو گا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہو جائے، وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں «مزید» کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہو گا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کر دینے کے لیے کافی ہے“ ۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف]
صفحہ نمبر8740
ق 50:33
متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ ٭٭
چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لیے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہو گئی؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔
صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس“ ۔ [صحیح بخاری:4848]
مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم، بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک نئی مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا۔ [صحیح مسلم:2848]
صحیح بخاری میں ہے جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی، جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لیے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی، تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لیے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا۔ [صحیح بخاری:4850]
مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ مجھ میں جبر کرنے والے، تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے۔ [مسند احمد:13/3:صحیح]
صفحہ نمبر8736
مسند ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا، میں سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہو جائے گا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گزرنے لگے گی، بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہو جائیں گے، بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گزر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہو گا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔“ لوگوں نے کہا: حوض کیا ہے؟ فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کر سکے۔ [ذکرہ ابن حجر فی المطالب العالیہ:383/4:ضعیف و موضوع]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے؟ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے؟ میں بھر گئی۔
صفحہ نمبر8737
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے؟
امام ابن جریر رحمہ اللہ پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے، اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آ سکے؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہو گئی۔ عوفی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8738
پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لیے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔
«اواب» کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔
«حفیظ» کے معنی وعدوں کا پابند۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «اواب حفیظ» وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کر لے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔
حدیث میں ہے وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ [صحیح بخاری:660]
اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ «خلود» کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔
پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گزرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی۔
صفحہ نمبر8739
کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہو جائے گا“ ۔
مسند احمد میں ہے کہ اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہو جائے گی ۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہو جائے گا۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن]
اور آیت میں ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» [10-يونس:26]
صہیب بن سنان رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ [صحیح مسلم:181]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہو گا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے جبرائیل علیہ السلام ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں آپ کے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی آپ کے لیے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام «یوم المزید» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں، جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے، اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء علیہم السلام رونق افروز ہوتے ہیں، یہ منبر سونے کے ہیں، جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضا مندی مطلوب ہے، اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہو گیا، اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے، پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہشمند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی۔ [مسند ابویعلیٰ:229/7:ضعیف]
اسی طرح اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہو گی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہو گی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہو گا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہو جائے، وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں «مزید» کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہو گا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کر دینے کے لیے کافی ہے“ ۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف]
صفحہ نمبر8740
ق 50:34
متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ ٭٭
چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لیے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہو گئی؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔
صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس“ ۔ [صحیح بخاری:4848]
مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم، بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک نئی مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا۔ [صحیح مسلم:2848]
صحیح بخاری میں ہے جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی، جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لیے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی، تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لیے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا۔ [صحیح بخاری:4850]
مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ مجھ میں جبر کرنے والے، تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے۔ [مسند احمد:13/3:صحیح]
صفحہ نمبر8736
مسند ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا، میں سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہو جائے گا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گزرنے لگے گی، بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہو جائیں گے، بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گزر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہو گا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔“ لوگوں نے کہا: حوض کیا ہے؟ فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کر سکے۔ [ذکرہ ابن حجر فی المطالب العالیہ:383/4:ضعیف و موضوع]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے؟ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے؟ میں بھر گئی۔
صفحہ نمبر8737
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے؟
امام ابن جریر رحمہ اللہ پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے، اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آ سکے؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہو گئی۔ عوفی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8738
پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لیے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔
«اواب» کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔
«حفیظ» کے معنی وعدوں کا پابند۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «اواب حفیظ» وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کر لے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔
حدیث میں ہے وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ [صحیح بخاری:660]
اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ «خلود» کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔
پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گزرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی۔
صفحہ نمبر8739
کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہو جائے گا“ ۔
مسند احمد میں ہے کہ اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہو جائے گی ۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہو جائے گا۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن]
اور آیت میں ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» [10-يونس:26]
صہیب بن سنان رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ [صحیح مسلم:181]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہو گا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے جبرائیل علیہ السلام ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں آپ کے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی آپ کے لیے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام «یوم المزید» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں، جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے، اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء علیہم السلام رونق افروز ہوتے ہیں، یہ منبر سونے کے ہیں، جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضا مندی مطلوب ہے، اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہو گیا، اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے، پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہشمند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی۔ [مسند ابویعلیٰ:229/7:ضعیف]
اسی طرح اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہو گی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہو گی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہو گا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہو جائے، وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں «مزید» کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہو گا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کر دینے کے لیے کافی ہے“ ۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف]
صفحہ نمبر8740
ق 50:35
متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ ٭٭
چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لیے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہو گئی؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔
صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس“ ۔ [صحیح بخاری:4848]
مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم، بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک نئی مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا۔ [صحیح مسلم:2848]
صحیح بخاری میں ہے جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی، جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لیے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی، تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لیے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا۔ [صحیح بخاری:4850]
مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ مجھ میں جبر کرنے والے، تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے۔ [مسند احمد:13/3:صحیح]
صفحہ نمبر8736
مسند ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا، میں سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہو جائے گا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گزرنے لگے گی، بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہو جائیں گے، بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گزر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہو گا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔“ لوگوں نے کہا: حوض کیا ہے؟ فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کر سکے۔ [ذکرہ ابن حجر فی المطالب العالیہ:383/4:ضعیف و موضوع]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے؟ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے؟ میں بھر گئی۔
صفحہ نمبر8737
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے؟
امام ابن جریر رحمہ اللہ پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے، اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آ سکے؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہو گئی۔ عوفی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8738
پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لیے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔
«اواب» کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔
«حفیظ» کے معنی وعدوں کا پابند۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «اواب حفیظ» وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کر لے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔
حدیث میں ہے وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ [صحیح بخاری:660]
اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ «خلود» کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔
پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گزرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی۔
صفحہ نمبر8739
کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہو جائے گا“ ۔
مسند احمد میں ہے کہ اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہو جائے گی ۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہو جائے گا۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن]
اور آیت میں ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» [10-يونس:26]
صہیب بن سنان رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ [صحیح مسلم:181]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہو گا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے جبرائیل علیہ السلام ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں آپ کے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی آپ کے لیے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام «یوم المزید» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں، جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے، اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء علیہم السلام رونق افروز ہوتے ہیں، یہ منبر سونے کے ہیں، جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضا مندی مطلوب ہے، اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہو گیا، اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے، پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہشمند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی۔ [مسند ابویعلیٰ:229/7:ضعیف]
اسی طرح اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہو گی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہو گی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہو گا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہو جائے، وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں «مزید» کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہو گا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کر دینے کے لیے کافی ہے“ ۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف]
صفحہ نمبر8740
ق 50:36
بےسود کوشش ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں؟ ان سے بہت زیادہ قوت و طاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ و بالا کر چکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں، زمین میں خوب فساد کیا، لمبے لمبے سفر کرتے تھے، ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے، مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی، اللہ کی قضاء و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا؟
پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آ گیا، بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لیے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ کان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پا سکتا ہے، یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/11]
پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس کے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کیا اور وہ تھکا نہیں، اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کر چکا ہے اس پر مردوں کو جلانا کیا بھاری ہے؟ قتادۃ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتوں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے «یوم الراحت» رکھ چھوڑا تھا۔
صفحہ نمبر8746
پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا؟ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [46-الأحقاف:33] ” یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے “
اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ” البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے “
اور آیت میں ہے «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاءُ بَنٰىهَا» [79-النازعات:27] ” کیا تمہاری پیدائش زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی، اسے اللہ نے بنایا ہے۔ “
پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہو گیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے۔
صفحہ نمبر8747
مسند احمد میں ہے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا: ”تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے، وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں، پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہو جایا کرو“ ۔ پھر آپ نے آیت «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى» [20-طه:130] پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:554]
رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] یعنی ” رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لیے ہی ہے، تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے “، سجدوں کے پیچھے سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔
بخاری و مسلم میں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کر چکے آپ نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“، جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کر سکتے آپ نے فرمایا: ”آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سبحان اللہ»، تینتیس مرتبہ «الحمداللہ»، تینتیس مرتبہ «اللہ اکبر» پڑھ لیا کرو“، پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے“ ۔ [صحیح بخاری:841]
دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا حسن بن علی، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہم کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے مجاہد عکرمہ شعبی نخعی قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے، عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ [مسند احمد:124/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8748
ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں، پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا: ”اے ابن عباس! فجر کے پہلے کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ» [52-الطور:49] ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ» ہیں۔ [50-ق:40] [سنن ترمذي:3275،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ [صحیح بخاری:1198] ممکن ہے کہ پچھلا کلام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8749
ق 50:37
بےسود کوشش ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں؟ ان سے بہت زیادہ قوت و طاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ و بالا کر چکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں، زمین میں خوب فساد کیا، لمبے لمبے سفر کرتے تھے، ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے، مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی، اللہ کی قضاء و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا؟
پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آ گیا، بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لیے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ کان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پا سکتا ہے، یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/11]
پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس کے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کیا اور وہ تھکا نہیں، اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کر چکا ہے اس پر مردوں کو جلانا کیا بھاری ہے؟ قتادۃ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتوں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے «یوم الراحت» رکھ چھوڑا تھا۔
صفحہ نمبر8746
پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا؟ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [46-الأحقاف:33] ” یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے “
اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ” البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے “
اور آیت میں ہے «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاءُ بَنٰىهَا» [79-النازعات:27] ” کیا تمہاری پیدائش زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی، اسے اللہ نے بنایا ہے۔ “
پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہو گیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے۔
صفحہ نمبر8747
مسند احمد میں ہے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا: ”تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے، وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں، پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہو جایا کرو“ ۔ پھر آپ نے آیت «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى» [20-طه:130] پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:554]
رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] یعنی ” رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لیے ہی ہے، تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے “، سجدوں کے پیچھے سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔
بخاری و مسلم میں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کر چکے آپ نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“، جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کر سکتے آپ نے فرمایا: ”آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سبحان اللہ»، تینتیس مرتبہ «الحمداللہ»، تینتیس مرتبہ «اللہ اکبر» پڑھ لیا کرو“، پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے“ ۔ [صحیح بخاری:841]
دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا حسن بن علی، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہم کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے مجاہد عکرمہ شعبی نخعی قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے، عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ [مسند احمد:124/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8748
ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں، پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا: ”اے ابن عباس! فجر کے پہلے کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ» [52-الطور:49] ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ» ہیں۔ [50-ق:40] [سنن ترمذي:3275،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ [صحیح بخاری:1198] ممکن ہے کہ پچھلا کلام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8749
ق 50:38
بےسود کوشش ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں؟ ان سے بہت زیادہ قوت و طاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ و بالا کر چکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں، زمین میں خوب فساد کیا، لمبے لمبے سفر کرتے تھے، ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے، مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی، اللہ کی قضاء و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا؟
پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آ گیا، بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لیے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ کان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پا سکتا ہے، یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/11]
پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس کے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کیا اور وہ تھکا نہیں، اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کر چکا ہے اس پر مردوں کو جلانا کیا بھاری ہے؟ قتادۃ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتوں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے «یوم الراحت» رکھ چھوڑا تھا۔
صفحہ نمبر8746
پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا؟ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [46-الأحقاف:33] ” یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے “
اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ” البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے “
اور آیت میں ہے «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاءُ بَنٰىهَا» [79-النازعات:27] ” کیا تمہاری پیدائش زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی، اسے اللہ نے بنایا ہے۔ “
پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہو گیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے۔
صفحہ نمبر8747
مسند احمد میں ہے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا: ”تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے، وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں، پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہو جایا کرو“ ۔ پھر آپ نے آیت «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى» [20-طه:130] پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:554]
رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] یعنی ” رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لیے ہی ہے، تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے “، سجدوں کے پیچھے سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔
بخاری و مسلم میں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کر چکے آپ نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“، جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کر سکتے آپ نے فرمایا: ”آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سبحان اللہ»، تینتیس مرتبہ «الحمداللہ»، تینتیس مرتبہ «اللہ اکبر» پڑھ لیا کرو“، پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے“ ۔ [صحیح بخاری:841]
دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا حسن بن علی، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہم کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے مجاہد عکرمہ شعبی نخعی قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے، عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ [مسند احمد:124/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8748
ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں، پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا: ”اے ابن عباس! فجر کے پہلے کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ» [52-الطور:49] ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ» ہیں۔ [50-ق:40] [سنن ترمذي:3275،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ [صحیح بخاری:1198] ممکن ہے کہ پچھلا کلام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8749
ق 50:39
بےسود کوشش ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں؟ ان سے بہت زیادہ قوت و طاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ و بالا کر چکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں، زمین میں خوب فساد کیا، لمبے لمبے سفر کرتے تھے، ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے، مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی، اللہ کی قضاء و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا؟
پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آ گیا، بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لیے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ کان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پا سکتا ہے، یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/11]
پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس کے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کیا اور وہ تھکا نہیں، اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کر چکا ہے اس پر مردوں کو جلانا کیا بھاری ہے؟ قتادۃ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتوں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے «یوم الراحت» رکھ چھوڑا تھا۔
صفحہ نمبر8746
پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا؟ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [46-الأحقاف:33] ” یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے “
اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ” البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے “
اور آیت میں ہے «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاءُ بَنٰىهَا» [79-النازعات:27] ” کیا تمہاری پیدائش زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی، اسے اللہ نے بنایا ہے۔ “
پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہو گیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے۔
صفحہ نمبر8747
مسند احمد میں ہے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا: ”تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے، وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں، پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہو جایا کرو“ ۔ پھر آپ نے آیت «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى» [20-طه:130] پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:554]
رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] یعنی ” رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لیے ہی ہے، تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے “، سجدوں کے پیچھے سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔
بخاری و مسلم میں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کر چکے آپ نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“، جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کر سکتے آپ نے فرمایا: ”آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سبحان اللہ»، تینتیس مرتبہ «الحمداللہ»، تینتیس مرتبہ «اللہ اکبر» پڑھ لیا کرو“، پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے“ ۔ [صحیح بخاری:841]
دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا حسن بن علی، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہم کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے مجاہد عکرمہ شعبی نخعی قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے، عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ [مسند احمد:124/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8748
ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں، پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا: ”اے ابن عباس! فجر کے پہلے کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ» [52-الطور:49] ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ» ہیں۔ [50-ق:40] [سنن ترمذي:3275،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ [صحیح بخاری:1198] ممکن ہے کہ پچھلا کلام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8749
ق 50:40
بےسود کوشش ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں؟ ان سے بہت زیادہ قوت و طاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ و بالا کر چکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں، زمین میں خوب فساد کیا، لمبے لمبے سفر کرتے تھے، ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے، مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی، اللہ کی قضاء و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا؟
پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آ گیا، بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لیے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ کان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پا سکتا ہے، یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/11]
پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس کے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کیا اور وہ تھکا نہیں، اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کر چکا ہے اس پر مردوں کو جلانا کیا بھاری ہے؟ قتادۃ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتوں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے «یوم الراحت» رکھ چھوڑا تھا۔
صفحہ نمبر8746
پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا؟ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [46-الأحقاف:33] ” یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے “
اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ” البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے “
اور آیت میں ہے «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاءُ بَنٰىهَا» [79-النازعات:27] ” کیا تمہاری پیدائش زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی، اسے اللہ نے بنایا ہے۔ “
پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہو گیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے۔
صفحہ نمبر8747
مسند احمد میں ہے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا: ”تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے، وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں، پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہو جایا کرو“ ۔ پھر آپ نے آیت «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى» [20-طه:130] پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:554]
رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] یعنی ” رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لیے ہی ہے، تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے “، سجدوں کے پیچھے سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔
بخاری و مسلم میں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کر چکے آپ نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“، جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کر سکتے آپ نے فرمایا: ”آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سبحان اللہ»، تینتیس مرتبہ «الحمداللہ»، تینتیس مرتبہ «اللہ اکبر» پڑھ لیا کرو“، پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے“ ۔ [صحیح بخاری:841]
دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا حسن بن علی، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہم کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے مجاہد عکرمہ شعبی نخعی قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے، عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ [مسند احمد:124/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8748
ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں، پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا: ”اے ابن عباس! فجر کے پہلے کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ» [52-الطور:49] ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ» ہیں۔ [50-ق:40] [سنن ترمذي:3275،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ [صحیح بخاری:1198] ممکن ہے کہ پچھلا کلام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8749
ق 50:41
جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ٭٭
سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیوں اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ، اللہ تمہیں جمع ہو جانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے، یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہو گا، ابتداء پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پا لے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا، جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی، ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی، اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہو جائے گی یہ وقت ہو گا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہو گا۔
فرمان باری ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] یعنی ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے “۔
صفحہ نمبر8754
صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہو گی“ ۔ [صحیح مسلم:2278-3]
فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ” یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔
اور آیت میں ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» [31-لقمان:28] ” یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ “
پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» [15-الحجر:99-97] ” واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں، اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں، سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہئیے اور نمازوں میں رہئیے اور موت آ جانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہئیے۔ “
پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لا سکتا، نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو جائیے۔ جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آ جائے گا جیسے فرمایا ہے «وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] ” یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے “
اور آیت میں ہے «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» [88-الغاشية:22-21] ” تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں “۔
اور جگہ ہے «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ» [2-البقرة:272] ” تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے “
اور جگہ ہے «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» [28-القصص:56] ” یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے “ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر8755
قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے «اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم» یعنی اے اللہ! تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں، اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔
سورۃ ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ «والحمدللہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل»
صفحہ نمبر8756
ق 50:42
جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ٭٭
سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیوں اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ، اللہ تمہیں جمع ہو جانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے، یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہو گا، ابتداء پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پا لے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا، جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی، ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی، اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہو جائے گی یہ وقت ہو گا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہو گا۔
فرمان باری ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] یعنی ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے “۔
صفحہ نمبر8754
صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہو گی“ ۔ [صحیح مسلم:2278-3]
فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ” یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔
اور آیت میں ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» [31-لقمان:28] ” یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ “
پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» [15-الحجر:99-97] ” واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں، اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں، سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہئیے اور نمازوں میں رہئیے اور موت آ جانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہئیے۔ “
پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لا سکتا، نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو جائیے۔ جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آ جائے گا جیسے فرمایا ہے «وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] ” یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے “
اور آیت میں ہے «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» [88-الغاشية:22-21] ” تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں “۔
اور جگہ ہے «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ» [2-البقرة:272] ” تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے “
اور جگہ ہے «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» [28-القصص:56] ” یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے “ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر8755
قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے «اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم» یعنی اے اللہ! تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں، اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔
سورۃ ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ «والحمدللہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل»
صفحہ نمبر8756
ق 50:43
جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ٭٭
سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیوں اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ، اللہ تمہیں جمع ہو جانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے، یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہو گا، ابتداء پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پا لے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا، جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی، ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی، اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہو جائے گی یہ وقت ہو گا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہو گا۔
فرمان باری ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] یعنی ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے “۔
صفحہ نمبر8754
صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہو گی“ ۔ [صحیح مسلم:2278-3]
فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ” یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔
اور آیت میں ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» [31-لقمان:28] ” یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ “
پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» [15-الحجر:99-97] ” واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں، اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں، سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہئیے اور نمازوں میں رہئیے اور موت آ جانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہئیے۔ “
پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لا سکتا، نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو جائیے۔ جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آ جائے گا جیسے فرمایا ہے «وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] ” یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے “
اور آیت میں ہے «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» [88-الغاشية:22-21] ” تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں “۔
اور جگہ ہے «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ» [2-البقرة:272] ” تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے “
اور جگہ ہے «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» [28-القصص:56] ” یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے “ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر8755
قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے «اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم» یعنی اے اللہ! تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں، اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔
سورۃ ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ «والحمدللہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل»
صفحہ نمبر8756
ق 50:44
جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ٭٭
سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیوں اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ، اللہ تمہیں جمع ہو جانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے، یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہو گا، ابتداء پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پا لے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا، جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی، ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی، اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہو جائے گی یہ وقت ہو گا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہو گا۔
فرمان باری ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] یعنی ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے “۔
صفحہ نمبر8754
صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہو گی“ ۔ [صحیح مسلم:2278-3]
فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ” یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔
اور آیت میں ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» [31-لقمان:28] ” یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ “
پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» [15-الحجر:99-97] ” واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں، اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں، سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہئیے اور نمازوں میں رہئیے اور موت آ جانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہئیے۔ “
پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لا سکتا، نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو جائیے۔ جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آ جائے گا جیسے فرمایا ہے «وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] ” یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے “
اور آیت میں ہے «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» [88-الغاشية:22-21] ” تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں “۔
اور جگہ ہے «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ» [2-البقرة:272] ” تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے “
اور جگہ ہے «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» [28-القصص:56] ” یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے “ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر8755
قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے «اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم» یعنی اے اللہ! تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں، اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔
سورۃ ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ «والحمدللہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل»
صفحہ نمبر8756
ق 50:45
جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ٭٭
سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیوں اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ، اللہ تمہیں جمع ہو جانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے، یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہو گا، ابتداء پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پا لے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا، جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی، ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی، اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہو جائے گی یہ وقت ہو گا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہو گا۔
فرمان باری ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] یعنی ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے “۔
صفحہ نمبر8754
صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہو گی“ ۔ [صحیح مسلم:2278-3]
فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ” یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔
اور آیت میں ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» [31-لقمان:28] ” یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ “
پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» [15-الحجر:99-97] ” واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں، اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں، سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہئیے اور نمازوں میں رہئیے اور موت آ جانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہئیے۔ “
پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لا سکتا، نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو جائیے۔ جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آ جائے گا جیسے فرمایا ہے «وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] ” یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے “
اور آیت میں ہے «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» [88-الغاشية:22-21] ” تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں “۔
اور جگہ ہے «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ» [2-البقرة:272] ” تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے “
اور جگہ ہے «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» [28-القصص:56] ” یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے “ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر8755
قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے «اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم» یعنی اے اللہ! تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں، اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔
سورۃ ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ «والحمدللہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل»
صفحہ نمبر8756
الذاريات 51:1
باب
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔
مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف]
صفحہ نمبر8761
امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔
امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔
«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»
یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1]
صفحہ نمبر8762
«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔
چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔
پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔
ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔
ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11]
صفحہ نمبر8763
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔
صفحہ نمبر8764
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔
پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔
صفحہ نمبر8765
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔“
پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔
پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8766
الذاريات 51:2
باب
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔
مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف]
صفحہ نمبر8761
امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔
امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔
«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»
یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1]
صفحہ نمبر8762
«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔
چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔
پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔
ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔
ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11]
صفحہ نمبر8763
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔
صفحہ نمبر8764
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔
پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔
صفحہ نمبر8765
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔“
پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔
پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8766
الذاريات 51:3
باب
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔
مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف]
صفحہ نمبر8761
امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔
امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔
«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»
یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1]
صفحہ نمبر8762
«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔
چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔
پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔
ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔
ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11]
صفحہ نمبر8763
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔
صفحہ نمبر8764
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔
پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔
صفحہ نمبر8765
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔“
پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔
پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8766
الذاريات 51:4
باب
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔
مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف]
صفحہ نمبر8761
امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔
امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔
«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»
یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1]
صفحہ نمبر8762
«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔
چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔
پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔
ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔
ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11]
صفحہ نمبر8763
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔
صفحہ نمبر8764
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔
پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔
صفحہ نمبر8765
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔“
پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔
پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8766
الذاريات 51:5
باب
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔
مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف]
صفحہ نمبر8761
امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔
امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔
«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»
یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1]
صفحہ نمبر8762
«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔
چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔
پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔
ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔
ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11]
صفحہ نمبر8763
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔
صفحہ نمبر8764
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔
پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔
صفحہ نمبر8765
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔“
پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔
پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8766
الذاريات 51:6
باب
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔
مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف]
صفحہ نمبر8761
امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔
امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔
«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»
یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1]
صفحہ نمبر8762
«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔
چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔
پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔
ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔
ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11]
صفحہ نمبر8763
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔
صفحہ نمبر8764
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔
پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔
صفحہ نمبر8765
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔“
پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔
پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8766
الذاريات 51:7
باب
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔
مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف]
صفحہ نمبر8761
امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔
امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔
«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»
یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1]
صفحہ نمبر8762
«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔
چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔
پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔
ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔
ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11]
صفحہ نمبر8763
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔
صفحہ نمبر8764
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔
پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔
صفحہ نمبر8765
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔“
پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔
پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8766
الذاريات 51:8
باب
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔
مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف]
صفحہ نمبر8761
امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔
امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔
«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»
یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1]
صفحہ نمبر8762
«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔
چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔
پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔
ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔
ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11]
صفحہ نمبر8763
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔
صفحہ نمبر8764
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔
پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔
صفحہ نمبر8765
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔“
پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔
پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8766
الذاريات 51:9
باب
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔
مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف]
صفحہ نمبر8761
امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔
امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔
«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»
یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1]
صفحہ نمبر8762
«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔
چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔
پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔
ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔
ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11]
صفحہ نمبر8763
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔
صفحہ نمبر8764
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔
پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔
صفحہ نمبر8765
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔“
پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔
پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8766
الذاريات 51:10
باب
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔
مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف]
صفحہ نمبر8761
امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔
امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔
«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»
یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1]
صفحہ نمبر8762
«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔
چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔
پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔
ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔
ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11]
صفحہ نمبر8763
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔
صفحہ نمبر8764
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔
پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔
صفحہ نمبر8765
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔“
پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔
پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8766
الذاريات 51:11
باب
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔
مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف]
صفحہ نمبر8761
امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔
امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔
«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»
یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1]
صفحہ نمبر8762
«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔
چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔
پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔
ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔
ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11]
صفحہ نمبر8763
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔
صفحہ نمبر8764
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔
پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔
صفحہ نمبر8765
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔“
پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔
پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8766
الذاريات 51:12
باب
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔
مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف]
صفحہ نمبر8761
امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔
امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔
«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»
یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1]
صفحہ نمبر8762
«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔
چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔
پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔
ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔
ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11]
صفحہ نمبر8763
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔
صفحہ نمبر8764
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔
پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔
صفحہ نمبر8765
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔“
پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔
پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8766
الذاريات 51:13
باب
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔
مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف]
صفحہ نمبر8761
امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔
امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔
«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»
یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1]
صفحہ نمبر8762
«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔
چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔
پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔
ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔
ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11]
صفحہ نمبر8763
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔
صفحہ نمبر8764
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔
پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔
صفحہ نمبر8765
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔“
پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔
پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8766
الذاريات 51:14
باب
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔
مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف]
صفحہ نمبر8761
امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔
امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔
«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»
یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1]
صفحہ نمبر8762
«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔
چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔
پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔
ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔
ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11]
صفحہ نمبر8763
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔
صفحہ نمبر8764
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔
پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔
صفحہ نمبر8765
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔“
پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔
پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8766
الذاريات 51:15
حسن کارکردگی کے انعامات ٭٭
پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے دن جنتوں میں اور نہروں میں ہوں گے بخلاف ان بدکرداروں کے جو عذاب و سزا، طوق و زنجیر، سختی اور مار پیٹ میں ہوں گے۔ جو فرائض الٰہی ان کے پاس آئے تھے یہ ان کے عامل تھے اور ان سے پہلے بھی وہ اخلاص سے کام کرنے والے تھے۔
لیکن اس تفسیر میں ذرا تامل ہے دو وجہ سے اول تو یہ کہ یہ تفسیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی کہی جاتی ہے لیکن سند صحیح سے ان تک نہیں پہنچتی بلکہ اس کی یہ سند بالکل ضعیف ہے۔ دوسرے یہ کہ «اٰخِذِیْنَ» کا لفظ حال ہے، اگلے جملے سے تو یہ مطلب ہوا کہ متقی لوگ جنت میں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں حاصل کر رہے ہوں گے اس سے پہلے وہ بھلائی کے کام کرنے والے تھے یعنی دنیا میں جیسے اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے اور آیتوں میں فرمایا «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] یعنی ” دار دنیا میں تم نے جو نیکیاں کی تھیں ان کے بدلے اب تم یہاں شوق سے پاکیزہ و پسندیدہ کھاتے پیتے رہو “۔
صفحہ نمبر8780
الذاريات 51:16
حسن کارکردگی کے انعامات ٭٭
پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے دن جنتوں میں اور نہروں میں ہوں گے بخلاف ان بدکرداروں کے جو عذاب و سزا، طوق و زنجیر، سختی اور مار پیٹ میں ہوں گے۔ جو فرائض الٰہی ان کے پاس آئے تھے یہ ان کے عامل تھے اور ان سے پہلے بھی وہ اخلاص سے کام کرنے والے تھے۔
لیکن اس تفسیر میں ذرا تامل ہے دو وجہ سے اول تو یہ کہ یہ تفسیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی کہی جاتی ہے لیکن سند صحیح سے ان تک نہیں پہنچتی بلکہ اس کی یہ سند بالکل ضعیف ہے۔ دوسرے یہ کہ «اٰخِذِیْنَ» کا لفظ حال ہے، اگلے جملے سے تو یہ مطلب ہوا کہ متقی لوگ جنت میں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں حاصل کر رہے ہوں گے اس سے پہلے وہ بھلائی کے کام کرنے والے تھے یعنی دنیا میں جیسے اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے اور آیتوں میں فرمایا «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] یعنی ” دار دنیا میں تم نے جو نیکیاں کی تھیں ان کے بدلے اب تم یہاں شوق سے پاکیزہ و پسندیدہ کھاتے پیتے رہو “۔
صفحہ نمبر8780
الذاريات 51:17
باب
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔
بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔“
ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔“
بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔“
احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔
”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:102] یعنی ” جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے “۔
زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔“
صفحہ نمبر8782
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ ۔ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ ۔ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ]
زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔“
ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔
پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ” سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں “۔
مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔“
جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» [3-آل عمران:17] یعنی ” سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں “۔
اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:1145]
اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [12-یوسف:98] ” میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا “، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔
صفحہ نمبر8783
پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔
ابوداؤد وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ ۔ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔“
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔“
اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔
ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ ۔ [صحیح بخاری:1479]
صفحہ نمبر8784
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔
امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11]
ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔
پھر فرماتا ہے ” یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں “، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ” خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ “
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ” آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت “۔
واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔
صفحہ نمبر8785
پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے “۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔
صفحہ نمبر8786
الذاريات 51:18
باب
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔
بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔“
ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔“
بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔“
احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔
”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:102] یعنی ” جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے “۔
زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔“
صفحہ نمبر8782
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ ۔ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ ۔ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ]
زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔“
ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔
پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ” سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں “۔
مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔“
جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» [3-آل عمران:17] یعنی ” سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں “۔
اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:1145]
اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [12-یوسف:98] ” میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا “، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔
صفحہ نمبر8783
پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔
ابوداؤد وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ ۔ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔“
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔“
اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔
ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ ۔ [صحیح بخاری:1479]
صفحہ نمبر8784
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔
امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11]
ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔
پھر فرماتا ہے ” یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں “، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ” خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ “
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ” آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت “۔
واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔
صفحہ نمبر8785
پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے “۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔
صفحہ نمبر8786
الذاريات 51:19
باب
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔
بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔“
ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔“
بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔“
احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔
”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:102] یعنی ” جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے “۔
زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔“
صفحہ نمبر8782
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ ۔ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ ۔ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ]
زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔“
ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔
پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ” سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں “۔
مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔“
جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» [3-آل عمران:17] یعنی ” سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں “۔
اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:1145]
اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [12-یوسف:98] ” میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا “، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔
صفحہ نمبر8783
پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔
ابوداؤد وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ ۔ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔“
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔“
اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔
ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ ۔ [صحیح بخاری:1479]
صفحہ نمبر8784
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔
امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11]
ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔
پھر فرماتا ہے ” یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں “، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ” خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ “
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ” آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت “۔
واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔
صفحہ نمبر8785
پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے “۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔
صفحہ نمبر8786
الذاريات 51:20
باب
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔
بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔“
ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔“
بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔“
احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔
”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:102] یعنی ” جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے “۔
زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔“
صفحہ نمبر8782
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ ۔ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ ۔ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ]
زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔“
ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔
پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ” سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں “۔
مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔“
جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» [3-آل عمران:17] یعنی ” سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں “۔
اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:1145]
اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [12-یوسف:98] ” میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا “، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔
صفحہ نمبر8783
پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔
ابوداؤد وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ ۔ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔“
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔“
اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔
ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ ۔ [صحیح بخاری:1479]
صفحہ نمبر8784
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔
امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11]
ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔
پھر فرماتا ہے ” یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں “، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ” خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ “
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ” آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت “۔
واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔
صفحہ نمبر8785
پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے “۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔
صفحہ نمبر8786
الذاريات 51:21
باب
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔
بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔“
ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔“
بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔“
احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔
”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:102] یعنی ” جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے “۔
زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔“
صفحہ نمبر8782
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ ۔ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ ۔ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ]
زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔“
ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔
پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ” سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں “۔
مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔“
جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» [3-آل عمران:17] یعنی ” سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں “۔
اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:1145]
اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [12-یوسف:98] ” میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا “، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔
صفحہ نمبر8783
پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔
ابوداؤد وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ ۔ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔“
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔“
اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔
ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ ۔ [صحیح بخاری:1479]
صفحہ نمبر8784
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔
امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11]
ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔
پھر فرماتا ہے ” یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں “، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ” خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ “
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ” آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت “۔
واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔
صفحہ نمبر8785
پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے “۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔
صفحہ نمبر8786
الذاريات 51:22
باب
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔
بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔“
ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔“
بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔“
احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔
”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:102] یعنی ” جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے “۔
زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔“
صفحہ نمبر8782
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ ۔ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ ۔ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ]
زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔“
ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔
پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ” سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں “۔
مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔“
جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» [3-آل عمران:17] یعنی ” سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں “۔
اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:1145]
اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [12-یوسف:98] ” میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا “، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔
صفحہ نمبر8783
پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔
ابوداؤد وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ ۔ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔“
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔“
اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔
ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ ۔ [صحیح بخاری:1479]
صفحہ نمبر8784
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔
امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11]
ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔
پھر فرماتا ہے ” یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں “، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ” خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ “
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ” آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت “۔
واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔
صفحہ نمبر8785
پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے “۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔
صفحہ نمبر8786
الذاريات 51:23
باب
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔
بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔“
ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔“
بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔“
احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔
”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:102] یعنی ” جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے “۔
زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔“
صفحہ نمبر8782
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ ۔ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ ۔ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ]
زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔“
ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔
پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ” سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں “۔
مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔“
جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» [3-آل عمران:17] یعنی ” سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں “۔
اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:1145]
اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [12-یوسف:98] ” میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا “، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔
صفحہ نمبر8783
پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔
ابوداؤد وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ ۔ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔“
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔“
اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔
ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ ۔ [صحیح بخاری:1479]
صفحہ نمبر8784
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔
امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11]
ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔
پھر فرماتا ہے ” یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں “، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ” خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ “
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ” آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت “۔
واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔
صفحہ نمبر8785
پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے “۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔
صفحہ نمبر8786
الذاريات 51:24
مہمان اور میزبان ؟ ٭٭
یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔
حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» [4-النساء:86] یعنی ” جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی “۔
پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔
صفحہ نمبر8793
ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“
اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” خلیل اللہ (علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے “۔
جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَأَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَأَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ، یعنی ” آپ (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں “، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ” تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب “۔
اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ” بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے “۔
صفحہ نمبر8794
پھر فرماتا ہے ” یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ “
اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔
صفحہ نمبر8795
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»
صفحہ نمبر8796
الذاريات 51:25
مہمان اور میزبان ؟ ٭٭
یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔
حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» [4-النساء:86] یعنی ” جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی “۔
پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔
صفحہ نمبر8793
ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“
اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” خلیل اللہ (علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے “۔
جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَأَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَأَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ، یعنی ” آپ (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں “، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ” تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب “۔
اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ” بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے “۔
صفحہ نمبر8794
پھر فرماتا ہے ” یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ “
اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔
صفحہ نمبر8795
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»
صفحہ نمبر8796
الذاريات 51:26
مہمان اور میزبان ؟ ٭٭
یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔
حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» [4-النساء:86] یعنی ” جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی “۔
پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔
صفحہ نمبر8793
ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“
اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” خلیل اللہ (علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے “۔
جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَأَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَأَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ، یعنی ” آپ (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں “، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ” تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب “۔
اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ” بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے “۔
صفحہ نمبر8794
پھر فرماتا ہے ” یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ “
اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔
صفحہ نمبر8795
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»
صفحہ نمبر8796
الذاريات 51:27
مہمان اور میزبان ؟ ٭٭
یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔
حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» [4-النساء:86] یعنی ” جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی “۔
پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔
صفحہ نمبر8793
ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“
اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” خلیل اللہ (علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے “۔
جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَأَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَأَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ، یعنی ” آپ (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں “، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ” تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب “۔
اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ” بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے “۔
صفحہ نمبر8794
پھر فرماتا ہے ” یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ “
اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔
صفحہ نمبر8795
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»
صفحہ نمبر8796
الذاريات 51:28
مہمان اور میزبان ؟ ٭٭
یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔
حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» [4-النساء:86] یعنی ” جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی “۔
پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔
صفحہ نمبر8793
ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“
اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” خلیل اللہ (علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے “۔
جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَأَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَأَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ، یعنی ” آپ (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں “، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ” تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب “۔
اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ” بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے “۔
صفحہ نمبر8794
پھر فرماتا ہے ” یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ “
اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔
صفحہ نمبر8795
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»
صفحہ نمبر8796
الذاريات 51:29
مہمان اور میزبان ؟ ٭٭
یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔
حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» [4-النساء:86] یعنی ” جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی “۔
پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔
صفحہ نمبر8793
ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“
اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” خلیل اللہ (علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے “۔
جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَأَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَأَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ، یعنی ” آپ (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں “، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ” تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب “۔
اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ” بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے “۔
صفحہ نمبر8794
پھر فرماتا ہے ” یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ “
اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔
صفحہ نمبر8795
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»
صفحہ نمبر8796
الذاريات 51:30
مہمان اور میزبان ؟ ٭٭
یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔
حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» [4-النساء:86] یعنی ” جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی “۔
پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔
صفحہ نمبر8793
ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“
اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” خلیل اللہ (علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے “۔
جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَأَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَأَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ، یعنی ” آپ (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں “، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ” تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب “۔
اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ” بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے “۔
صفحہ نمبر8794
پھر فرماتا ہے ” یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ “
اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔
صفحہ نمبر8795
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»
صفحہ نمبر8796
الذاريات 51:31
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ” جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی “، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔
سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» [29-العنكبوت:32] یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ” اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا “، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔
صفحہ نمبر8803
چنانچہ فرما دیا گیا کہ ” وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں “۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔
معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے کہ ” ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں “۔
صفحہ نمبر8804
الذاريات 51:32
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ” جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی “، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔
سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» [29-العنكبوت:32] یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ” اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا “، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔
صفحہ نمبر8803
چنانچہ فرما دیا گیا کہ ” وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں “۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔
معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے کہ ” ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں “۔
صفحہ نمبر8804
الذاريات 51:33
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ” جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی “، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔
سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» [29-العنكبوت:32] یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ” اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا “، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔
صفحہ نمبر8803
چنانچہ فرما دیا گیا کہ ” وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں “۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔
معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے کہ ” ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں “۔
صفحہ نمبر8804
الذاريات 51:34
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ” جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی “، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔
سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» [29-العنكبوت:32] یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ” اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا “، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔
صفحہ نمبر8803
چنانچہ فرما دیا گیا کہ ” وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں “۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔
معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے کہ ” ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں “۔
صفحہ نمبر8804
الذاريات 51:35
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ” جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی “، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔
سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» [29-العنكبوت:32] یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ” اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا “، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔
صفحہ نمبر8803
چنانچہ فرما دیا گیا کہ ” وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں “۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔
معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے کہ ” ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں “۔
صفحہ نمبر8804
الذاريات 51:36
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ” جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی “، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔
سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» [29-العنكبوت:32] یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ” اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا “، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔
صفحہ نمبر8803
چنانچہ فرما دیا گیا کہ ” وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں “۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔
معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے کہ ” ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں “۔
صفحہ نمبر8804
الذاريات 51:37
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ” جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی “، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔
سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» [29-العنكبوت:32] یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ” اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا “، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔
صفحہ نمبر8803
چنانچہ فرما دیا گیا کہ ” وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں “۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔
معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے کہ ” ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں “۔
صفحہ نمبر8804
الذاريات 51:38
انجام تکبر ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ” جس طرح قوم لوط کے انجام کو دیکھ کر لوگ عبرت حاصل کر سکتے ہیں اسی قسم کا فرعونیوں کا واقعہ ہے ہم نے ان کی طرف اپنے کلیم پیغمبر موسیٰ علیہ السلام کو روشن دلیلیں اور واضح برہان دے کر بھیجا لیکن ان کے سردار فرعون نے جو تکبر کا مجسمہ تھا حق کے ماننے سے عناد کیا اور ہمارے فرمان کو بےپرواہی سے ٹال دیا “۔
اس دشمن الٰہی نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر اپنے راج لشکر کے بل بوتے پر رب کے فرمان کی عزت نہ کی اور اپنے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر موسیٰ علیہ السلام کی ایذاء رسانی پر اتر آیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ یا تو جادوگر ہے یا دیوانہ ہے ” پس اس ملامتی کافر، فاجر، معاند، متکبر شخص کو ہم نے اس کے لاؤ لشکر سمیت دریا برد کر دیا “۔
” اسی طرح عادیوں کے سراسر عبرتناک واقعات بھی تمہارے گوش گزار ہو چکے ہیں جن کی سیاہ کاریوں کے وبال میں ان پر بے برکت ہوائیں بھیجی گئیں جن ہواؤں نے سب کے حلیے بگاڑ دئیے ایک لپٹ جس چیز کو لگ گئی وہ گلی سڑی ہڈی کی طرح ہو گئی “۔
صفحہ نمبر8811
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہوا دوسری زمین میں مسخر ہے جب اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو ہلاک کرنا چاہا تو ہوا کے داروغہ کو حکم دیا کہ ان کی تباہی کے لیے ہوائیں چلا دو، فرشتے نے کہا: کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا وزن کر دوں جتنا بیل کا نتھنا ہوتا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: نہیں، اگر اتنا وزن کر دیا تو زمین کو اور اس کائنات کو الٹ دے گی بلکہ اتنا وزن کرو جتنا انگوٹھی کا حلقہ ہوتا ہے یہ تھیں وہ ہوائیں جو کہ جہاں جہاں سے گزر گئیں تمام چیزوں کو تہ و بالا کرتی گئیں“ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/22:ضعیف] اس حدیث کا فرمان رسول ہونا تو منکر ہے سمجھ سے زیادہ قریب بات یہی ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا قول ہے یرموک کی لڑائی میں انہیں دو بورے اہل کتاب کی کتابوں کے ملے تھے ممکن ہے انہی میں سے یہ بات آپ نے بیان فرمائی ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
یہ ہوائیں جنوبی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میری مدد پروا ہواؤں سے کی گئی ہے اور عادی پچھوا ہواؤں سے ہلاک ہوئے ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4105]
صفحہ نمبر8812
ٹھیک اسی طرح ثمودیوں کے حالات پر اور ان کے انجام پر غور کرو کہ ان سے کہہ دیا گیا کہ ایک وقت مقررہ تک تو تم فائدہ اٹھاؤ جیسے اور جگہ فرمایا «وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَـهُمْ فَاسْتَحَبُّواْ الْعَمَى عَلَى الْهُدَى فَأَخَذَتْهُمْ صَـعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُونِ» [41-فصلت:17] یعنی ” ثمودیوں کو ہم نے ہدایت دی لیکن انہوں نے ہدایت پر ضلالت کو پسند کیا جس کے باعث ذلت کے عذاب کی ہولناک چیخ نے ان کے پتے پانی کر دئیے اور کلیجے پھاڑ دئیے یہ صرف ان کی سرکشی سرتابی نافرمانی اور سیاہ کاری کا بدلہ تھا “۔
صفحہ نمبر8813
ان پر ان کے دیکھتے دیکھتے عذاب الٰہی آ گیا تین دن تک تو یہ انتظار میں رہے عذاب کے آثار دیکھتے رہے، آخر چوتھے دن صبح ہی صبح رب کا عذاب دفعۃً آ پڑا، حواس باختہ ہو گئے کوئی تدبیر نہ بن پڑی، اتنی بھی مہلت نہ ملی کہ کھڑے ہو کر بھاگنے کی کوشش تو کرتے یا کسی اور طرح اپنے بچاؤ کی کچھ تو فکر کر سکتے اسی طرح ان سے پہلے قوم نوح بھی ہمارے عذاب چکھ چکی ہے اپنی بدکاری اور کھلی نافرمانی کا خمیازہ وہ بھی بھگت چکی ہے یہ تمام مفصل واقعات فرعونیوں، عادیوں، ثمودیوں اور قوم نوح کے اس سے پہلے کی سورتوں کی تفسیر میں کئی بار بیان ہو چکے۔
صفحہ نمبر8814
الذاريات 51:39
گناہ گاروں کا انجام ٭٭
no t(fseer
صفحہ نمبر8815
no t(fseer
صفحہ نمبر8816
no t(fseer
صفحہ نمبر8817
الذاريات 51:40
گناہ گاروں کا انجام ٭٭
no t(fseer
صفحہ نمبر8815
no t(fseer
صفحہ نمبر8816
no t(fseer
صفحہ نمبر8817
الذاريات 51:41
گناہ گاروں کا انجام ٭٭
no t(fseer
صفحہ نمبر8815
no t(fseer
صفحہ نمبر8816
no t(fseer
صفحہ نمبر8817
الذاريات 51:42
گناہ گاروں کا انجام ٭٭
no t(fseer
صفحہ نمبر8815
no t(fseer
صفحہ نمبر8816
no t(fseer
صفحہ نمبر8817
الذاريات 51:43
گناہ گاروں کا انجام ٭٭
no t(fseer
صفحہ نمبر8815
no t(fseer
صفحہ نمبر8816
no t(fseer
صفحہ نمبر8817
الذاريات 51:44
گناہ گاروں کا انجام ٭٭
no t(fseer
صفحہ نمبر8815
no t(fseer
صفحہ نمبر8816
no t(fseer
صفحہ نمبر8817
الذاريات 51:45
گناہ گاروں کا انجام ٭٭
no t(fseer
صفحہ نمبر8815
no t(fseer
صفحہ نمبر8816
no t(fseer
صفحہ نمبر8817
الذاريات 51:46
گناہ گاروں کا انجام ٭٭
no t(fseer
صفحہ نمبر8815
no t(fseer
صفحہ نمبر8816
no t(fseer
صفحہ نمبر8817
الذاريات 51:47
تخلیق کائنات ٭٭
زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ” ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنا دیا ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، ثوری رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ” ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کر دیا ہے اور قائم رکھا ہے، زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لیے بچھونا بنا دیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے، تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے، جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس لیے کہ تمہیں نصیحت حاصل ہو تم جان لو کہ ان کا سب کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ لاشریک اور یکتا ہے پس تم اس کی طرف دوڑو اپنی توجہ کا مرکز صرف اسی کو بناؤ اپنے تمام تر کاموں میں اسی کی ذات پر اعتماد کرو تو تم سب کو صاف صاف آگاہ کر دینے والا ہوں خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا میرے کھلم کھلا خوف دلانے کا لحاظ رکھنا “۔
صفحہ نمبر8825
الذاريات 51:48
تخلیق کائنات ٭٭
زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ” ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنا دیا ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، ثوری رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ” ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کر دیا ہے اور قائم رکھا ہے، زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لیے بچھونا بنا دیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے، تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے، جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس لیے کہ تمہیں نصیحت حاصل ہو تم جان لو کہ ان کا سب کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ لاشریک اور یکتا ہے پس تم اس کی طرف دوڑو اپنی توجہ کا مرکز صرف اسی کو بناؤ اپنے تمام تر کاموں میں اسی کی ذات پر اعتماد کرو تو تم سب کو صاف صاف آگاہ کر دینے والا ہوں خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا میرے کھلم کھلا خوف دلانے کا لحاظ رکھنا “۔
صفحہ نمبر8825
الذاريات 51:49
تخلیق کائنات ٭٭
زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ” ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنا دیا ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، ثوری رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ” ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کر دیا ہے اور قائم رکھا ہے، زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لیے بچھونا بنا دیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے، تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے، جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس لیے کہ تمہیں نصیحت حاصل ہو تم جان لو کہ ان کا سب کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ لاشریک اور یکتا ہے پس تم اس کی طرف دوڑو اپنی توجہ کا مرکز صرف اسی کو بناؤ اپنے تمام تر کاموں میں اسی کی ذات پر اعتماد کرو تو تم سب کو صاف صاف آگاہ کر دینے والا ہوں خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا میرے کھلم کھلا خوف دلانے کا لحاظ رکھنا “۔
صفحہ نمبر8825
الذاريات 51:50
تخلیق کائنات ٭٭
زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ” ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنا دیا ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، ثوری رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ” ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کر دیا ہے اور قائم رکھا ہے، زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لیے بچھونا بنا دیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے، تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے، جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس لیے کہ تمہیں نصیحت حاصل ہو تم جان لو کہ ان کا سب کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ لاشریک اور یکتا ہے پس تم اس کی طرف دوڑو اپنی توجہ کا مرکز صرف اسی کو بناؤ اپنے تمام تر کاموں میں اسی کی ذات پر اعتماد کرو تو تم سب کو صاف صاف آگاہ کر دینے والا ہوں خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا میرے کھلم کھلا خوف دلانے کا لحاظ رکھنا “۔
صفحہ نمبر8825