Lafzullah

Tafsir Ibn Kathir — الذاريات 51:51 – النجم 53:18

Author / source: Tafsir Ibn Kathir

Contents
  1. الذاريات 51:51
  2. الذاريات 51:52
  3. الذاريات 51:53
  4. الذاريات 51:54
  5. الذاريات 51:55
  6. الذاريات 51:56
  7. الذاريات 51:57
  8. الذاريات 51:58
  9. الذاريات 51:59
  10. الذاريات 51:60
  11. الطور 52:1
  12. الطور 52:2
  13. الطور 52:3
  14. الطور 52:4
  15. الطور 52:5
  16. الطور 52:6
  17. الطور 52:7
  18. الطور 52:8
  19. الطور 52:9
  20. الطور 52:10
  21. الطور 52:11
  22. الطور 52:12
  23. الطور 52:13
  24. الطور 52:14
  25. الطور 52:15
  26. الطور 52:16
  27. الطور 52:17
  28. الطور 52:18
  29. الطور 52:19
  30. الطور 52:20
  31. الطور 52:21
  32. الطور 52:22
  33. الطور 52:23
  34. الطور 52:24
  35. الطور 52:25
  36. الطور 52:26
  37. الطور 52:27
  38. الطور 52:28
  39. الطور 52:29
  40. الطور 52:30
  41. الطور 52:31
  42. الطور 52:32
  43. الطور 52:33
  44. الطور 52:34
  45. الطور 52:35
  46. الطور 52:36
  47. الطور 52:37
  48. الطور 52:38
  49. الطور 52:39
  50. الطور 52:40
  51. الطور 52:41
  52. الطور 52:42
  53. الطور 52:43
  54. الطور 52:44
  55. الطور 52:45
  56. الطور 52:46
  57. الطور 52:47
  58. الطور 52:48
  59. الطور 52:49
  60. النجم 53:1
  61. النجم 53:2
  62. النجم 53:3
  63. النجم 53:4
  64. النجم 53:5
  65. النجم 53:6
  66. النجم 53:7
  67. النجم 53:8
  68. النجم 53:9
  69. النجم 53:10
  70. النجم 53:11
  71. النجم 53:12
  72. النجم 53:13
  73. النجم 53:14
  74. النجم 53:15
  75. النجم 53:16
  76. النجم 53:17
  77. النجم 53:18

الذاريات 51:51

تخلیق کائنات ٭٭ زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ” ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنا دیا ہے “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، ثوری رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ” ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کر دیا ہے اور قائم رکھا ہے، زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لیے بچھونا بنا دیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے، تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے، جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس لیے کہ تمہیں نصیحت حاصل ہو تم جان لو کہ ان کا سب کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ لاشریک اور یکتا ہے پس تم اس کی طرف دوڑو اپنی توجہ کا مرکز صرف اسی کو بناؤ اپنے تمام تر کاموں میں اسی کی ذات پر اعتماد کرو تو تم سب کو صاف صاف آگاہ کر دینے والا ہوں خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا میرے کھلم کھلا خوف دلانے کا لحاظ رکھنا “۔ صفحہ نمبر8825

الذاريات 51:52

تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25] ‏ اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ‏ ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ صفحہ نمبر8830 مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ‏ ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف] ‏ بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔ صفحہ نمبر8831

الذاريات 51:53

تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25] ‏ اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ‏ ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ صفحہ نمبر8830 مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ‏ ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف] ‏ بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔ صفحہ نمبر8831

الذاريات 51:54

تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25] ‏ اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ‏ ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ صفحہ نمبر8830 مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ‏ ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف] ‏ بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔ صفحہ نمبر8831

الذاريات 51:55

تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25] ‏ اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ‏ ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ صفحہ نمبر8830 مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ‏ ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف] ‏ بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔ صفحہ نمبر8831

الذاريات 51:56

تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25] ‏ اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ‏ ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ صفحہ نمبر8830 مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ‏ ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف] ‏ بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔ صفحہ نمبر8831

الذاريات 51:57

تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25] ‏ اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ‏ ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ صفحہ نمبر8830 مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ‏ ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف] ‏ بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔ صفحہ نمبر8831

الذاريات 51:58

تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25] ‏ اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ‏ ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ صفحہ نمبر8830 مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ‏ ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف] ‏ بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔ صفحہ نمبر8831

الذاريات 51:59

تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25] ‏ اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ‏ ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ صفحہ نمبر8830 مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ‏ ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف] ‏ بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔ صفحہ نمبر8831

الذاريات 51:60

تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25] ‏ اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ‏ ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ صفحہ نمبر8830 مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ‏ ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف] ‏ بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔ صفحہ نمبر8831

الطور 52:1

تفسیر سورۃ الطور: سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619) تفسیر سورۂ طور ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207] ‏ صفحہ نمبر8840 جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8841 ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔ صفحہ نمبر8842 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔ صفحہ نمبر8843 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔ صفحہ نمبر8844 ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔ صفحہ نمبر8845

الطور 52:2

تفسیر سورۃ الطور: سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619) تفسیر سورۂ طور ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207] ‏ صفحہ نمبر8840 جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8841 ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔ صفحہ نمبر8842 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔ صفحہ نمبر8843 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔ صفحہ نمبر8844 ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔ صفحہ نمبر8845

الطور 52:3

تفسیر سورۃ الطور: سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619) تفسیر سورۂ طور ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207] ‏ صفحہ نمبر8840 جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8841 ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔ صفحہ نمبر8842 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔ صفحہ نمبر8843 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔ صفحہ نمبر8844 ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔ صفحہ نمبر8845

الطور 52:4

تفسیر سورۃ الطور: سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619) تفسیر سورۂ طور ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207] ‏ صفحہ نمبر8840 جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8841 ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔ صفحہ نمبر8842 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔ صفحہ نمبر8843 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔ صفحہ نمبر8844 ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔ صفحہ نمبر8845

الطور 52:5

تفسیر سورۃ الطور: سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619) تفسیر سورۂ طور ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207] ‏ صفحہ نمبر8840 جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8841 ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔ صفحہ نمبر8842 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔ صفحہ نمبر8843 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔ صفحہ نمبر8844 ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔ صفحہ نمبر8845

الطور 52:6

تفسیر سورۃ الطور: سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619) تفسیر سورۂ طور ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207] ‏ صفحہ نمبر8840 جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8841 ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔ صفحہ نمبر8842 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔ صفحہ نمبر8843 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔ صفحہ نمبر8844 ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔ صفحہ نمبر8845

الطور 52:7

تفسیر سورۃ الطور: سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619) تفسیر سورۂ طور ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207] ‏ صفحہ نمبر8840 جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8841 ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔ صفحہ نمبر8842 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔ صفحہ نمبر8843 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔ صفحہ نمبر8844 ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔ صفحہ نمبر8845

الطور 52:8

تفسیر سورۃ الطور: سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619) تفسیر سورۂ طور ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207] ‏ صفحہ نمبر8840 جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8841 ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔ صفحہ نمبر8842 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔ صفحہ نمبر8843 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔ صفحہ نمبر8844 ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔ صفحہ نمبر8845

الطور 52:9

تفسیر سورۃ الطور: سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619) تفسیر سورۂ طور ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207] ‏ صفحہ نمبر8840 جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8841 ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔ صفحہ نمبر8842 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔ صفحہ نمبر8843 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔ صفحہ نمبر8844 ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔ صفحہ نمبر8845

الطور 52:10

تفسیر سورۃ الطور: سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619) تفسیر سورۂ طور ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207] ‏ صفحہ نمبر8840 جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8841 ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔ صفحہ نمبر8842 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔ صفحہ نمبر8843 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔ صفحہ نمبر8844 ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔ صفحہ نمبر8845

الطور 52:11

تفسیر سورۃ الطور: سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619) تفسیر سورۂ طور ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207] ‏ صفحہ نمبر8840 جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8841 ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔ صفحہ نمبر8842 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔ صفحہ نمبر8843 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔ صفحہ نمبر8844 ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔ صفحہ نمبر8845

الطور 52:12

باب اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔ صفحہ نمبر8856

الطور 52:13

باب اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔ صفحہ نمبر8856

الطور 52:14

باب اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔ صفحہ نمبر8856

الطور 52:15

باب اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔ صفحہ نمبر8856

الطور 52:16

باب اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔ صفحہ نمبر8856

الطور 52:17

جنت کے مناظر ٭٭ اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بدبختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے، جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال، خوش دل ہیں، قسم قسم کے کھانے، طرح طرح کے پینے، بہترین لباس، عمدہ عمدہ سواریاں، بلند و بالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں، کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی، غرض دکھ سے دور، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں، جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو، نہ کسی کان نے سنا ہو، نہ کسی دل پر خیال تک گزرا ہو، پھر اللہ کی طرف سے باربار مہمان نوازی کے طور پر ان سے کہا جاتا ہے «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ‏ کھاتے پیتے رہو، خوش گوار، خوش ذائقہ، بےتکلف مزید مرغوب چیزیں تمہارے لیے مہیا ہیں۔ صفحہ نمبر8861 پھر ان کا دل خوش کرنے حوصلہ بڑھانے اور طبیعت میں امنگ پیدا کرنے کے لیے ساتھ ہی اعلان ہوتا ہے کہ یہ تو تمہارے اعمال کا بدلہ ہے جو تم اس جہان میں کر آئے ہو «عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ» [37-الصفات:45] ‏ مرصع اور جڑاؤ شاہانہ تخت پر بڑی بےفکری اور فارغ البالی سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، ستر ستر سال گزر جائیں گے انہیں ضرورت نہ ہو گی کہ اٹھیں یا ہلیں جلیں، بےشمار سلیقہ شعار، ادب دان خدام ہر طرح کی خدمت کے لیے کمربستہ جس چیز کو جی چاہے آن کی آن میں موجود، آنکھوں کا نور، دل کا سرور، وافر و موفور سامنے بے انتہاء خوبصورت، خوب سیرت، گورے گورے پنڈے والی، بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی، بہت سی حوریں پاک دل، عفت مآب عصمت، خوش دل بہلانے اور خواہش پوری کرنے کے لیے سامنے کھڑی ہر ایک نعمت و رحمت چاروں طرف بکھری ہوئی، پھر بھلا انہیں کس چیز کی کمی۔ ستر سال کے بعد جب دوسری طرف مائل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اور ہی منظر ہے، ہر چیز نئی ہے، ہر نعمت جوبن پر ہے، اس طرف کی حوروں پر نظریں ڈالتے ہیں تو ان کے نور کی چکا چوند حیرت میں ڈال دیتی ہے، ان کی پیاری پیاری، بھولی بھالی شکلیں، اچھوتے پنڈے اور کنوار پن کی شرمیلی نظریں اور جوانی کا بانکپن دل پر مقناطیسی اثر ڈالتا ہے جنتی کچھ کہے اس سے پہلے ہی وہ اپنی شیریں کلامی سے عجیب انداز سے کہتی ہیں، شکر ہے کہ آپ کا التفات ہماری طرف بھی ہوا، غرض اسی طرح من مانی نعمتوں سے مست ہو رہے ہیں۔ پھر ان جنتیوں کے تخت باوجود قطار وار ہونے کے اس طرح نہ ہوں گے کہ کسی کو کسی کی پیٹھ ہو بلکہ آمنے سامنے ہوں گے جیسے اور جگہ ہے «وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ» [15-الحجر:47] ‏ تختوں پر ہوں گے اور ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے ان کے نکاح میں حوریں دے رکھی ہیں جو کبھی دل میلا نہ کریں، جب آنکھ پڑے، جی خوش ہو جائے اور ظاہری خوبصورتی کی تو کسی سے تعریف ہی کیا ہو سکتی ہے؟ ان کے اوصاف کے بیان کی حدیثیں وغیرہ کئی مقامات پر گزر چکی ہیں اس لئے انہیں یہاں وارد کرنا کچھ چنداں ضروری نہیں۔ صفحہ نمبر8862

الطور 52:18

جنت کے مناظر ٭٭ اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بدبختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے، جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال، خوش دل ہیں، قسم قسم کے کھانے، طرح طرح کے پینے، بہترین لباس، عمدہ عمدہ سواریاں، بلند و بالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں، کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی، غرض دکھ سے دور، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں، جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو، نہ کسی کان نے سنا ہو، نہ کسی دل پر خیال تک گزرا ہو، پھر اللہ کی طرف سے باربار مہمان نوازی کے طور پر ان سے کہا جاتا ہے «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ‏ کھاتے پیتے رہو، خوش گوار، خوش ذائقہ، بےتکلف مزید مرغوب چیزیں تمہارے لیے مہیا ہیں۔ صفحہ نمبر8861 پھر ان کا دل خوش کرنے حوصلہ بڑھانے اور طبیعت میں امنگ پیدا کرنے کے لیے ساتھ ہی اعلان ہوتا ہے کہ یہ تو تمہارے اعمال کا بدلہ ہے جو تم اس جہان میں کر آئے ہو «عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ» [37-الصفات:45] ‏ مرصع اور جڑاؤ شاہانہ تخت پر بڑی بےفکری اور فارغ البالی سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، ستر ستر سال گزر جائیں گے انہیں ضرورت نہ ہو گی کہ اٹھیں یا ہلیں جلیں، بےشمار سلیقہ شعار، ادب دان خدام ہر طرح کی خدمت کے لیے کمربستہ جس چیز کو جی چاہے آن کی آن میں موجود، آنکھوں کا نور، دل کا سرور، وافر و موفور سامنے بے انتہاء خوبصورت، خوب سیرت، گورے گورے پنڈے والی، بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی، بہت سی حوریں پاک دل، عفت مآب عصمت، خوش دل بہلانے اور خواہش پوری کرنے کے لیے سامنے کھڑی ہر ایک نعمت و رحمت چاروں طرف بکھری ہوئی، پھر بھلا انہیں کس چیز کی کمی۔ ستر سال کے بعد جب دوسری طرف مائل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اور ہی منظر ہے، ہر چیز نئی ہے، ہر نعمت جوبن پر ہے، اس طرف کی حوروں پر نظریں ڈالتے ہیں تو ان کے نور کی چکا چوند حیرت میں ڈال دیتی ہے، ان کی پیاری پیاری، بھولی بھالی شکلیں، اچھوتے پنڈے اور کنوار پن کی شرمیلی نظریں اور جوانی کا بانکپن دل پر مقناطیسی اثر ڈالتا ہے جنتی کچھ کہے اس سے پہلے ہی وہ اپنی شیریں کلامی سے عجیب انداز سے کہتی ہیں، شکر ہے کہ آپ کا التفات ہماری طرف بھی ہوا، غرض اسی طرح من مانی نعمتوں سے مست ہو رہے ہیں۔ پھر ان جنتیوں کے تخت باوجود قطار وار ہونے کے اس طرح نہ ہوں گے کہ کسی کو کسی کی پیٹھ ہو بلکہ آمنے سامنے ہوں گے جیسے اور جگہ ہے «وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ» [15-الحجر:47] ‏ تختوں پر ہوں گے اور ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے ان کے نکاح میں حوریں دے رکھی ہیں جو کبھی دل میلا نہ کریں، جب آنکھ پڑے، جی خوش ہو جائے اور ظاہری خوبصورتی کی تو کسی سے تعریف ہی کیا ہو سکتی ہے؟ ان کے اوصاف کے بیان کی حدیثیں وغیرہ کئی مقامات پر گزر چکی ہیں اس لئے انہیں یہاں وارد کرنا کچھ چنداں ضروری نہیں۔ صفحہ نمبر8862

الطور 52:19

جنت کے مناظر ٭٭ اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بدبختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے، جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال، خوش دل ہیں، قسم قسم کے کھانے، طرح طرح کے پینے، بہترین لباس، عمدہ عمدہ سواریاں، بلند و بالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں، کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی، غرض دکھ سے دور، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں، جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو، نہ کسی کان نے سنا ہو، نہ کسی دل پر خیال تک گزرا ہو، پھر اللہ کی طرف سے باربار مہمان نوازی کے طور پر ان سے کہا جاتا ہے «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ‏ کھاتے پیتے رہو، خوش گوار، خوش ذائقہ، بےتکلف مزید مرغوب چیزیں تمہارے لیے مہیا ہیں۔ صفحہ نمبر8861 پھر ان کا دل خوش کرنے حوصلہ بڑھانے اور طبیعت میں امنگ پیدا کرنے کے لیے ساتھ ہی اعلان ہوتا ہے کہ یہ تو تمہارے اعمال کا بدلہ ہے جو تم اس جہان میں کر آئے ہو «عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ» [37-الصفات:45] ‏ مرصع اور جڑاؤ شاہانہ تخت پر بڑی بےفکری اور فارغ البالی سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، ستر ستر سال گزر جائیں گے انہیں ضرورت نہ ہو گی کہ اٹھیں یا ہلیں جلیں، بےشمار سلیقہ شعار، ادب دان خدام ہر طرح کی خدمت کے لیے کمربستہ جس چیز کو جی چاہے آن کی آن میں موجود، آنکھوں کا نور، دل کا سرور، وافر و موفور سامنے بے انتہاء خوبصورت، خوب سیرت، گورے گورے پنڈے والی، بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی، بہت سی حوریں پاک دل، عفت مآب عصمت، خوش دل بہلانے اور خواہش پوری کرنے کے لیے سامنے کھڑی ہر ایک نعمت و رحمت چاروں طرف بکھری ہوئی، پھر بھلا انہیں کس چیز کی کمی۔ ستر سال کے بعد جب دوسری طرف مائل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اور ہی منظر ہے، ہر چیز نئی ہے، ہر نعمت جوبن پر ہے، اس طرف کی حوروں پر نظریں ڈالتے ہیں تو ان کے نور کی چکا چوند حیرت میں ڈال دیتی ہے، ان کی پیاری پیاری، بھولی بھالی شکلیں، اچھوتے پنڈے اور کنوار پن کی شرمیلی نظریں اور جوانی کا بانکپن دل پر مقناطیسی اثر ڈالتا ہے جنتی کچھ کہے اس سے پہلے ہی وہ اپنی شیریں کلامی سے عجیب انداز سے کہتی ہیں، شکر ہے کہ آپ کا التفات ہماری طرف بھی ہوا، غرض اسی طرح من مانی نعمتوں سے مست ہو رہے ہیں۔ پھر ان جنتیوں کے تخت باوجود قطار وار ہونے کے اس طرح نہ ہوں گے کہ کسی کو کسی کی پیٹھ ہو بلکہ آمنے سامنے ہوں گے جیسے اور جگہ ہے «وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ» [15-الحجر:47] ‏ تختوں پر ہوں گے اور ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے ان کے نکاح میں حوریں دے رکھی ہیں جو کبھی دل میلا نہ کریں، جب آنکھ پڑے، جی خوش ہو جائے اور ظاہری خوبصورتی کی تو کسی سے تعریف ہی کیا ہو سکتی ہے؟ ان کے اوصاف کے بیان کی حدیثیں وغیرہ کئی مقامات پر گزر چکی ہیں اس لئے انہیں یہاں وارد کرنا کچھ چنداں ضروری نہیں۔ صفحہ نمبر8862

الطور 52:20

جنت کے مناظر ٭٭ اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بدبختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے، جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال، خوش دل ہیں، قسم قسم کے کھانے، طرح طرح کے پینے، بہترین لباس، عمدہ عمدہ سواریاں، بلند و بالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں، کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی، غرض دکھ سے دور، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں، جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو، نہ کسی کان نے سنا ہو، نہ کسی دل پر خیال تک گزرا ہو، پھر اللہ کی طرف سے باربار مہمان نوازی کے طور پر ان سے کہا جاتا ہے «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ‏ کھاتے پیتے رہو، خوش گوار، خوش ذائقہ، بےتکلف مزید مرغوب چیزیں تمہارے لیے مہیا ہیں۔ صفحہ نمبر8861 پھر ان کا دل خوش کرنے حوصلہ بڑھانے اور طبیعت میں امنگ پیدا کرنے کے لیے ساتھ ہی اعلان ہوتا ہے کہ یہ تو تمہارے اعمال کا بدلہ ہے جو تم اس جہان میں کر آئے ہو «عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ» [37-الصفات:45] ‏ مرصع اور جڑاؤ شاہانہ تخت پر بڑی بےفکری اور فارغ البالی سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، ستر ستر سال گزر جائیں گے انہیں ضرورت نہ ہو گی کہ اٹھیں یا ہلیں جلیں، بےشمار سلیقہ شعار، ادب دان خدام ہر طرح کی خدمت کے لیے کمربستہ جس چیز کو جی چاہے آن کی آن میں موجود، آنکھوں کا نور، دل کا سرور، وافر و موفور سامنے بے انتہاء خوبصورت، خوب سیرت، گورے گورے پنڈے والی، بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی، بہت سی حوریں پاک دل، عفت مآب عصمت، خوش دل بہلانے اور خواہش پوری کرنے کے لیے سامنے کھڑی ہر ایک نعمت و رحمت چاروں طرف بکھری ہوئی، پھر بھلا انہیں کس چیز کی کمی۔ ستر سال کے بعد جب دوسری طرف مائل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اور ہی منظر ہے، ہر چیز نئی ہے، ہر نعمت جوبن پر ہے، اس طرف کی حوروں پر نظریں ڈالتے ہیں تو ان کے نور کی چکا چوند حیرت میں ڈال دیتی ہے، ان کی پیاری پیاری، بھولی بھالی شکلیں، اچھوتے پنڈے اور کنوار پن کی شرمیلی نظریں اور جوانی کا بانکپن دل پر مقناطیسی اثر ڈالتا ہے جنتی کچھ کہے اس سے پہلے ہی وہ اپنی شیریں کلامی سے عجیب انداز سے کہتی ہیں، شکر ہے کہ آپ کا التفات ہماری طرف بھی ہوا، غرض اسی طرح من مانی نعمتوں سے مست ہو رہے ہیں۔ پھر ان جنتیوں کے تخت باوجود قطار وار ہونے کے اس طرح نہ ہوں گے کہ کسی کو کسی کی پیٹھ ہو بلکہ آمنے سامنے ہوں گے جیسے اور جگہ ہے «وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ» [15-الحجر:47] ‏ تختوں پر ہوں گے اور ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے ان کے نکاح میں حوریں دے رکھی ہیں جو کبھی دل میلا نہ کریں، جب آنکھ پڑے، جی خوش ہو جائے اور ظاہری خوبصورتی کی تو کسی سے تعریف ہی کیا ہو سکتی ہے؟ ان کے اوصاف کے بیان کی حدیثیں وغیرہ کئی مقامات پر گزر چکی ہیں اس لئے انہیں یہاں وارد کرنا کچھ چنداں ضروری نہیں۔ صفحہ نمبر8862

الطور 52:21

صالح اولاد انمول اثاثہ ٭٭ اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم اپنے احسان اور انعام کا بیان فرماتا ہے کہ جن مومنوں کی اولاد بھی ایمان میں اپنے باپ دادا کی راہ میں لگ جائے لیکن اعمال صالحہ میں اپنے بڑوں سے کم ہو پروردگار ان کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کر انہیں ان کے بڑوں کے درجے میں پہنچا دے گا تاکہ بڑوں کی آنکھیں چھوٹوں کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں اور چھوٹے بھی اپنے بڑوں کے پاس ہشاش بشاش رہیں۔ ان کے عملوں کی بڑھوتری ان کے بزرگوں کے اعمال کی کمی سے نہ کی جائے گی بلکہ محسن و مہربان اللہ انہیں اپنے معمور خزانوں میں سے عطا فرمائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر یہی فرماتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث بھی اس مضمون کی مروی ہے ایک اور روایت میں ہے کہ جب جنتی شخص جنت میں جائے گا اور اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کو نہ پائے گا تو دریافت کرے گا کہ وہ کہاں ہیں جواب ملے گا کہ وہ تمہارے مرتبہ تک نہیں پہنچے یہ کہے گا باری تعالیٰ میں نے تو اپنے لیے اور ان کے لیے نیک اعمال کئے تھے چنانچہ حکم دیا جائے گا اور انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دیا جائے گا۔ یہ بھی مروی ہے کہ جنتیوں کے بچوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام کئے وہ تو ان کے ساتھ ملا دئیے جائیں گے لیکن ان کے جو چھوٹے بچے بچپن ہی میں انتقال کر گئے تھے وہ بھی ان کے پاس پہنچا دئیے جائیں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، شعبی، سعید بن جبیر، ابراہیم، قتادہ، ابوصالح، ربیع بن انس، ضحاک بن زید رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دو بچوں کی نسبت دریافت کیا جو زمانہ جاہلیت میں مرے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں جہنم میں ہیں“، پھر جب مائی صاحبہ کو غمگین دیکھا تو فرمایا اگر تم ان کی جگہ دیکھ لیتیں تو تمہارے دل میں ان کا بغض پیدا ہو جاتا، مائی صاحبہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! میرا بچہ جو آپ سے ہوا وہ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنت میں ہے مومن مع اپنی اولاد کے جنت میں ہیں۔‏“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔ یہ تو ہوئی ماں باپ کے اعمال صالحہ کی وجہ سے اولاد کی بزرگی اب اولاد کی دعا خیر کی وجہ سے ماں باپ کی بزرگی ملاحظہ ہو۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کا درجہ جنت میں دفعۃً بڑھاتا ہے، وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ میرا یہ درجہ کیسے بڑھ گیا؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ تیری اولاد نے تیرے لیے استغفار کیا اس بنا پر میں نے تیرا درجہ بڑھا دیا“ ۔ [مسند احمد:509/2:حسن] ‏ اس حدیث کی اسناد بالکل صحیح ہیں گو بخاری مسلم میں ان لفظوں سے نہیں آئی۔ لیکن اس جیسی ایک روایت صحیح مسلم میں اسی طرح مروی ہے کہ ابن آدم کے مرتے ہی اس کے اعمال موقوف ہو جاتے ہیں لیکن تین عمل کہ وہ مرنے کے بعد بھی ثواب پہنچاتے رہتے ہیں، صدقہ جاریہ، علم دین جس سے نفع پہنچتا ہے، نیک اولاد جو مرنے والے کے لیے دعائے خیر کرتی رہے ۔ [صحیح مسلم:1631] ‏ چونکہ یہاں بیان ہوا تھا کہ مومنوں کی اولاد کے درجے بےعمل بڑھا دئیے گئے تھے تو ساتھ ہی ساتھ اپنے اس فضل کے بعد اپنے عدل کا بیان فرماتا ہے کہ کسی کو کسی کے اعمال میں پکڑا نہ جائے گا بلکہ ہر شخص اپنے اپنے عمل میں رہن ہو گا، باپ کا بوجھ بیٹے پر اور بیٹے کا باپ پر نہ ہو گا۔ صفحہ نمبر8866 جیسے اور جگہ ہے «كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ» * «إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ» * «فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ» * «عَنِ الْمُجْرِمِينَ» [74-المدثر:41-38] ‏ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پہنچے وہ جنتوں میں بیٹھے ہوئے گنہگاروں سے دریافت کرتے ہیں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان جنتیوں کو قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے گوشت دئیے جاتے ہیں، جس چیز کو جی چاہے، جس پر دل آئے وہ یک لخت موجود ہو جاتی ہے، شراب طہور کے چھلکتے ہوئے جام ایک دوسرے کو پلا رہے ہیں، جس کے پینے سے سرور اور کیف لطف اور بہار حاصل ہوتا ہے لیکن بدزبانی بےہودہ گوئی نہیں ہوتی، ہذیان نہیں بکتے، بیہوش نہیں ہوتے، سچا سرور اور پوری خوشی حاصل، بک جھک سے دور، گناہ سے غافل، باطل وکذب سے دور، غیبت و گناہ سے نفور، دنیا میں شرابیوں کی حالت دیکھی ہو گی کہ ان کے سر میں چکر، پیٹ میں درد، عقل زائل، بکواس بہت، بو بری، چہرے بے رونق، اسی طرح شراب کے بدذائقہ اور بدبو یہاں جنت کی شراب ان تمام گندگیوں سے کوسوں دور ہے «بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ» * «لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ» [37-الصافات:46،47] ‏ یہ رنگ میں سفید، پینے میں خوش ذائقہ، نہ اس کے پینے سے حواس معطل ہوں، نہ بک جھک ہو، نہ بہکیں، نہ بھٹکیں، نہ مستی ہو، نہ اور کسی طرح ضرر پہنچائے، ہنسی خوشی اس پاک شراب کے جام پلا رہے ہوں گے۔ صفحہ نمبر8867

الطور 52:22

صالح اولاد انمول اثاثہ ٭٭ اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم اپنے احسان اور انعام کا بیان فرماتا ہے کہ جن مومنوں کی اولاد بھی ایمان میں اپنے باپ دادا کی راہ میں لگ جائے لیکن اعمال صالحہ میں اپنے بڑوں سے کم ہو پروردگار ان کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کر انہیں ان کے بڑوں کے درجے میں پہنچا دے گا تاکہ بڑوں کی آنکھیں چھوٹوں کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں اور چھوٹے بھی اپنے بڑوں کے پاس ہشاش بشاش رہیں۔ ان کے عملوں کی بڑھوتری ان کے بزرگوں کے اعمال کی کمی سے نہ کی جائے گی بلکہ محسن و مہربان اللہ انہیں اپنے معمور خزانوں میں سے عطا فرمائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر یہی فرماتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث بھی اس مضمون کی مروی ہے ایک اور روایت میں ہے کہ جب جنتی شخص جنت میں جائے گا اور اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کو نہ پائے گا تو دریافت کرے گا کہ وہ کہاں ہیں جواب ملے گا کہ وہ تمہارے مرتبہ تک نہیں پہنچے یہ کہے گا باری تعالیٰ میں نے تو اپنے لیے اور ان کے لیے نیک اعمال کئے تھے چنانچہ حکم دیا جائے گا اور انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دیا جائے گا۔ یہ بھی مروی ہے کہ جنتیوں کے بچوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام کئے وہ تو ان کے ساتھ ملا دئیے جائیں گے لیکن ان کے جو چھوٹے بچے بچپن ہی میں انتقال کر گئے تھے وہ بھی ان کے پاس پہنچا دئیے جائیں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، شعبی، سعید بن جبیر، ابراہیم، قتادہ، ابوصالح، ربیع بن انس، ضحاک بن زید رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دو بچوں کی نسبت دریافت کیا جو زمانہ جاہلیت میں مرے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں جہنم میں ہیں“، پھر جب مائی صاحبہ کو غمگین دیکھا تو فرمایا اگر تم ان کی جگہ دیکھ لیتیں تو تمہارے دل میں ان کا بغض پیدا ہو جاتا، مائی صاحبہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! میرا بچہ جو آپ سے ہوا وہ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنت میں ہے مومن مع اپنی اولاد کے جنت میں ہیں۔‏“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔ یہ تو ہوئی ماں باپ کے اعمال صالحہ کی وجہ سے اولاد کی بزرگی اب اولاد کی دعا خیر کی وجہ سے ماں باپ کی بزرگی ملاحظہ ہو۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کا درجہ جنت میں دفعۃً بڑھاتا ہے، وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ میرا یہ درجہ کیسے بڑھ گیا؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ تیری اولاد نے تیرے لیے استغفار کیا اس بنا پر میں نے تیرا درجہ بڑھا دیا“ ۔ [مسند احمد:509/2:حسن] ‏ اس حدیث کی اسناد بالکل صحیح ہیں گو بخاری مسلم میں ان لفظوں سے نہیں آئی۔ لیکن اس جیسی ایک روایت صحیح مسلم میں اسی طرح مروی ہے کہ ابن آدم کے مرتے ہی اس کے اعمال موقوف ہو جاتے ہیں لیکن تین عمل کہ وہ مرنے کے بعد بھی ثواب پہنچاتے رہتے ہیں، صدقہ جاریہ، علم دین جس سے نفع پہنچتا ہے، نیک اولاد جو مرنے والے کے لیے دعائے خیر کرتی رہے ۔ [صحیح مسلم:1631] ‏ چونکہ یہاں بیان ہوا تھا کہ مومنوں کی اولاد کے درجے بےعمل بڑھا دئیے گئے تھے تو ساتھ ہی ساتھ اپنے اس فضل کے بعد اپنے عدل کا بیان فرماتا ہے کہ کسی کو کسی کے اعمال میں پکڑا نہ جائے گا بلکہ ہر شخص اپنے اپنے عمل میں رہن ہو گا، باپ کا بوجھ بیٹے پر اور بیٹے کا باپ پر نہ ہو گا۔ صفحہ نمبر8866 جیسے اور جگہ ہے «كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ» * «إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ» * «فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ» * «عَنِ الْمُجْرِمِينَ» [74-المدثر:41-38] ‏ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پہنچے وہ جنتوں میں بیٹھے ہوئے گنہگاروں سے دریافت کرتے ہیں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان جنتیوں کو قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے گوشت دئیے جاتے ہیں، جس چیز کو جی چاہے، جس پر دل آئے وہ یک لخت موجود ہو جاتی ہے، شراب طہور کے چھلکتے ہوئے جام ایک دوسرے کو پلا رہے ہیں، جس کے پینے سے سرور اور کیف لطف اور بہار حاصل ہوتا ہے لیکن بدزبانی بےہودہ گوئی نہیں ہوتی، ہذیان نہیں بکتے، بیہوش نہیں ہوتے، سچا سرور اور پوری خوشی حاصل، بک جھک سے دور، گناہ سے غافل، باطل وکذب سے دور، غیبت و گناہ سے نفور، دنیا میں شرابیوں کی حالت دیکھی ہو گی کہ ان کے سر میں چکر، پیٹ میں درد، عقل زائل، بکواس بہت، بو بری، چہرے بے رونق، اسی طرح شراب کے بدذائقہ اور بدبو یہاں جنت کی شراب ان تمام گندگیوں سے کوسوں دور ہے «بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ» * «لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ» [37-الصافات:46،47] ‏ یہ رنگ میں سفید، پینے میں خوش ذائقہ، نہ اس کے پینے سے حواس معطل ہوں، نہ بک جھک ہو، نہ بہکیں، نہ بھٹکیں، نہ مستی ہو، نہ اور کسی طرح ضرر پہنچائے، ہنسی خوشی اس پاک شراب کے جام پلا رہے ہوں گے۔ صفحہ نمبر8867

الطور 52:23

صالح اولاد انمول اثاثہ ٭٭ اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم اپنے احسان اور انعام کا بیان فرماتا ہے کہ جن مومنوں کی اولاد بھی ایمان میں اپنے باپ دادا کی راہ میں لگ جائے لیکن اعمال صالحہ میں اپنے بڑوں سے کم ہو پروردگار ان کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کر انہیں ان کے بڑوں کے درجے میں پہنچا دے گا تاکہ بڑوں کی آنکھیں چھوٹوں کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں اور چھوٹے بھی اپنے بڑوں کے پاس ہشاش بشاش رہیں۔ ان کے عملوں کی بڑھوتری ان کے بزرگوں کے اعمال کی کمی سے نہ کی جائے گی بلکہ محسن و مہربان اللہ انہیں اپنے معمور خزانوں میں سے عطا فرمائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر یہی فرماتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث بھی اس مضمون کی مروی ہے ایک اور روایت میں ہے کہ جب جنتی شخص جنت میں جائے گا اور اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کو نہ پائے گا تو دریافت کرے گا کہ وہ کہاں ہیں جواب ملے گا کہ وہ تمہارے مرتبہ تک نہیں پہنچے یہ کہے گا باری تعالیٰ میں نے تو اپنے لیے اور ان کے لیے نیک اعمال کئے تھے چنانچہ حکم دیا جائے گا اور انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دیا جائے گا۔ یہ بھی مروی ہے کہ جنتیوں کے بچوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام کئے وہ تو ان کے ساتھ ملا دئیے جائیں گے لیکن ان کے جو چھوٹے بچے بچپن ہی میں انتقال کر گئے تھے وہ بھی ان کے پاس پہنچا دئیے جائیں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، شعبی، سعید بن جبیر، ابراہیم، قتادہ، ابوصالح، ربیع بن انس، ضحاک بن زید رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دو بچوں کی نسبت دریافت کیا جو زمانہ جاہلیت میں مرے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں جہنم میں ہیں“، پھر جب مائی صاحبہ کو غمگین دیکھا تو فرمایا اگر تم ان کی جگہ دیکھ لیتیں تو تمہارے دل میں ان کا بغض پیدا ہو جاتا، مائی صاحبہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! میرا بچہ جو آپ سے ہوا وہ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنت میں ہے مومن مع اپنی اولاد کے جنت میں ہیں۔‏“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔ یہ تو ہوئی ماں باپ کے اعمال صالحہ کی وجہ سے اولاد کی بزرگی اب اولاد کی دعا خیر کی وجہ سے ماں باپ کی بزرگی ملاحظہ ہو۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کا درجہ جنت میں دفعۃً بڑھاتا ہے، وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ میرا یہ درجہ کیسے بڑھ گیا؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ تیری اولاد نے تیرے لیے استغفار کیا اس بنا پر میں نے تیرا درجہ بڑھا دیا“ ۔ [مسند احمد:509/2:حسن] ‏ اس حدیث کی اسناد بالکل صحیح ہیں گو بخاری مسلم میں ان لفظوں سے نہیں آئی۔ لیکن اس جیسی ایک روایت صحیح مسلم میں اسی طرح مروی ہے کہ ابن آدم کے مرتے ہی اس کے اعمال موقوف ہو جاتے ہیں لیکن تین عمل کہ وہ مرنے کے بعد بھی ثواب پہنچاتے رہتے ہیں، صدقہ جاریہ، علم دین جس سے نفع پہنچتا ہے، نیک اولاد جو مرنے والے کے لیے دعائے خیر کرتی رہے ۔ [صحیح مسلم:1631] ‏ چونکہ یہاں بیان ہوا تھا کہ مومنوں کی اولاد کے درجے بےعمل بڑھا دئیے گئے تھے تو ساتھ ہی ساتھ اپنے اس فضل کے بعد اپنے عدل کا بیان فرماتا ہے کہ کسی کو کسی کے اعمال میں پکڑا نہ جائے گا بلکہ ہر شخص اپنے اپنے عمل میں رہن ہو گا، باپ کا بوجھ بیٹے پر اور بیٹے کا باپ پر نہ ہو گا۔ صفحہ نمبر8866 جیسے اور جگہ ہے «كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ» * «إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ» * «فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ» * «عَنِ الْمُجْرِمِينَ» [74-المدثر:41-38] ‏ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پہنچے وہ جنتوں میں بیٹھے ہوئے گنہگاروں سے دریافت کرتے ہیں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان جنتیوں کو قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے گوشت دئیے جاتے ہیں، جس چیز کو جی چاہے، جس پر دل آئے وہ یک لخت موجود ہو جاتی ہے، شراب طہور کے چھلکتے ہوئے جام ایک دوسرے کو پلا رہے ہیں، جس کے پینے سے سرور اور کیف لطف اور بہار حاصل ہوتا ہے لیکن بدزبانی بےہودہ گوئی نہیں ہوتی، ہذیان نہیں بکتے، بیہوش نہیں ہوتے، سچا سرور اور پوری خوشی حاصل، بک جھک سے دور، گناہ سے غافل، باطل وکذب سے دور، غیبت و گناہ سے نفور، دنیا میں شرابیوں کی حالت دیکھی ہو گی کہ ان کے سر میں چکر، پیٹ میں درد، عقل زائل، بکواس بہت، بو بری، چہرے بے رونق، اسی طرح شراب کے بدذائقہ اور بدبو یہاں جنت کی شراب ان تمام گندگیوں سے کوسوں دور ہے «بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ» * «لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ» [37-الصافات:46،47] ‏ یہ رنگ میں سفید، پینے میں خوش ذائقہ، نہ اس کے پینے سے حواس معطل ہوں، نہ بک جھک ہو، نہ بہکیں، نہ بھٹکیں، نہ مستی ہو، نہ اور کسی طرح ضرر پہنچائے، ہنسی خوشی اس پاک شراب کے جام پلا رہے ہوں گے۔ صفحہ نمبر8867

الطور 52:24

باب ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں، کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں، ان کی آبداری، صفائی، چمک دمک، روپ رنگ کا کیا پوچھنا؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے «يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ» * «بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ» [56-الواقعة:18،17] ‏ یعنی ہمیشہ نوعمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو، نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس باربار لانے کے لیے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے، دنیا کے احوال یاد آئیں گے، کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے، تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے، الحمداللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا، ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے، اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقیناً وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے۔ مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے، اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے، دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا ۔ [مسند بزار:3553:ضعیف] ‏ اس حدیث کی سند کمزور ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ مُنَّ عَلَيْنَا وَقِنَا عَذَاب السَّمُوم إِنَّك أَنْتَ الْبَرّ الرَّحِيم» اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المؤمنین نے نماز میں مانگی تھی؟ جواب دیا ہاں۔ صفحہ نمبر8870

الطور 52:25

باب ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں، کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں، ان کی آبداری، صفائی، چمک دمک، روپ رنگ کا کیا پوچھنا؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے «يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ» * «بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ» [56-الواقعة:18،17] ‏ یعنی ہمیشہ نوعمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو، نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس باربار لانے کے لیے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے، دنیا کے احوال یاد آئیں گے، کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے، تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے، الحمداللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا، ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے، اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقیناً وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے۔ مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے، اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے، دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا ۔ [مسند بزار:3553:ضعیف] ‏ اس حدیث کی سند کمزور ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ مُنَّ عَلَيْنَا وَقِنَا عَذَاب السَّمُوم إِنَّك أَنْتَ الْبَرّ الرَّحِيم» اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المؤمنین نے نماز میں مانگی تھی؟ جواب دیا ہاں۔ صفحہ نمبر8870

الطور 52:26

باب ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں، کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں، ان کی آبداری، صفائی، چمک دمک، روپ رنگ کا کیا پوچھنا؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے «يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ» * «بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ» [56-الواقعة:18،17] ‏ یعنی ہمیشہ نوعمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو، نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس باربار لانے کے لیے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے، دنیا کے احوال یاد آئیں گے، کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے، تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے، الحمداللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا، ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے، اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقیناً وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے۔ مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے، اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے، دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا ۔ [مسند بزار:3553:ضعیف] ‏ اس حدیث کی سند کمزور ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ مُنَّ عَلَيْنَا وَقِنَا عَذَاب السَّمُوم إِنَّك أَنْتَ الْبَرّ الرَّحِيم» اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المؤمنین نے نماز میں مانگی تھی؟ جواب دیا ہاں۔ صفحہ نمبر8870

الطور 52:27

باب ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں، کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں، ان کی آبداری، صفائی، چمک دمک، روپ رنگ کا کیا پوچھنا؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے «يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ» * «بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ» [56-الواقعة:18،17] ‏ یعنی ہمیشہ نوعمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو، نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس باربار لانے کے لیے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے، دنیا کے احوال یاد آئیں گے، کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے، تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے، الحمداللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا، ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے، اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقیناً وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے۔ مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے، اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے، دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا ۔ [مسند بزار:3553:ضعیف] ‏ اس حدیث کی سند کمزور ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ مُنَّ عَلَيْنَا وَقِنَا عَذَاب السَّمُوم إِنَّك أَنْتَ الْبَرّ الرَّحِيم» اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المؤمنین نے نماز میں مانگی تھی؟ جواب دیا ہاں۔ صفحہ نمبر8870

الطور 52:28

باب ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں، کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں، ان کی آبداری، صفائی، چمک دمک، روپ رنگ کا کیا پوچھنا؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے «يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ» * «بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ» [56-الواقعة:18،17] ‏ یعنی ہمیشہ نوعمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو، نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس باربار لانے کے لیے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے، دنیا کے احوال یاد آئیں گے، کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے، تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے، الحمداللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا، ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے، اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقیناً وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے۔ مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے، اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے، دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا ۔ [مسند بزار:3553:ضعیف] ‏ اس حدیث کی سند کمزور ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ مُنَّ عَلَيْنَا وَقِنَا عَذَاب السَّمُوم إِنَّك أَنْتَ الْبَرّ الرَّحِيم» اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المؤمنین نے نماز میں مانگی تھی؟ جواب دیا ہاں۔ صفحہ نمبر8870

الطور 52:29

کاہن کی پہچان ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ صفحہ نمبر8875 پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔ صفحہ نمبر8876

الطور 52:30

کاہن کی پہچان ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ صفحہ نمبر8875 پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔ صفحہ نمبر8876

الطور 52:31

کاہن کی پہچان ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ صفحہ نمبر8875 پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔ صفحہ نمبر8876

الطور 52:32

کاہن کی پہچان ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ صفحہ نمبر8875 پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔ صفحہ نمبر8876

الطور 52:33

کاہن کی پہچان ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ صفحہ نمبر8875 پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔ صفحہ نمبر8876

الطور 52:34

کاہن کی پہچان ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ صفحہ نمبر8875 پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔ صفحہ نمبر8876

الطور 52:35

توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭ توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ” یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏ یہ داروغہ ہیں “ [52-الطور:37] ‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4854] ‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔ صفحہ نمبر8882 پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔ صفحہ نمبر8883

الطور 52:36

توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭ توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ” یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏ یہ داروغہ ہیں “ [52-الطور:37] ‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4854] ‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔ صفحہ نمبر8882 پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔ صفحہ نمبر8883

الطور 52:37

توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭ توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ” یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏ یہ داروغہ ہیں “ [52-الطور:37] ‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4854] ‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔ صفحہ نمبر8882 پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔ صفحہ نمبر8883

الطور 52:38

توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭ توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ” یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏ یہ داروغہ ہیں “ [52-الطور:37] ‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4854] ‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔ صفحہ نمبر8882 پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔ صفحہ نمبر8883

الطور 52:39

توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭ توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ” یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏ یہ داروغہ ہیں “ [52-الطور:37] ‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4854] ‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔ صفحہ نمبر8882 پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔ صفحہ نمبر8883

الطور 52:40

توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭ توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ” یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏ یہ داروغہ ہیں “ [52-الطور:37] ‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4854] ‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔ صفحہ نمبر8882 پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔ صفحہ نمبر8883

الطور 52:41

توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭ توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ” یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏ یہ داروغہ ہیں “ [52-الطور:37] ‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4854] ‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔ صفحہ نمبر8882 پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔ صفحہ نمبر8883

الطور 52:42

توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭ توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ” یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏ یہ داروغہ ہیں “ [52-الطور:37] ‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4854] ‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔ صفحہ نمبر8882 پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔ صفحہ نمبر8883

الطور 52:43

توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭ توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ” یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏ یہ داروغہ ہیں “ [52-الطور:37] ‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4854] ‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔ صفحہ نمبر8882 پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔ صفحہ نمبر8883

الطور 52:44

طے شدہ بدنصیب اور نشست و برخواست کے آداب ٭٭ مشرکوں اور کافروں کے عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ اپنی سرکشی، ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اللہ کے عذاب کو محسوس کر لینے کے بعد بھی انہیں ایمان کی توفیق نہ ہو گی، یہ اگر دیکھ لیں گے کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا اللہ کا عذاب بن کر ان کے سروں پر گر رہا ہے، تو بھی انہیں تصدیق و یقین نہ ہو گا بلکہ صاف کہہ دیں گے کہ غلیظ ابر ہے جو پانی برسانے کو آ رہا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ» * «لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ» [15-الحجر:15،14] ‏ ” اور اگر ہم ان پر آسمان کا دروازه کھول بھی دیں اور یہ وہاں چڑھنے بھی لگ جائیں، تب بھی یہی کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے “، یعنی معجزات جو یہ طلب کر رہے ہیں اگر ان کی چاہت کے مطابق ہی دکھا دئیے جائیں بلکہ خود انہیں آسمانوں پر چڑھا دیا جائے جب بھی یہ کوئی بات بنا کر ٹال دیں گے اور ایمان نہ لائیں گے۔ اے نبی! آپ انہیں چھوڑ دیجئیے قیامت والے دن خود انہیں معلوم ہو جائے گا اس دن ان کی ساری فریب کاریاں دھری کی دھری رہ جائیں گی، کوئی مکاری وہاں کام نہ دے گی، چوکڑی بھول جائیں گے اور چالاکی بھول جائیں گے۔ آج جن جن کو یہ پکارتے ہیں اور اپنا مددگار جانتے ہیں اس دن سب کے منہ تکیں گے اور کوئی نہ ہو گا جو ان کی ذرا سی بھی مدد کر سکے بلکہ ان کی طرف سے کچھ عذر بھی پیش کر سکے یہی نہیں کہ انہیں صرف قیامت کے دن ہی عذاب ہو اور یہاں اطمینان و آرام کے ساتھ زندگی گزار لیں بلکہ ان ناانصافوں کے لیے اس سے پہلے دنیا میں بھی عذاب تیار ہیں۔ صفحہ نمبر8892

الطور 52:45

طے شدہ بدنصیب اور نشست و برخواست کے آداب ٭٭ مشرکوں اور کافروں کے عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ اپنی سرکشی، ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اللہ کے عذاب کو محسوس کر لینے کے بعد بھی انہیں ایمان کی توفیق نہ ہو گی، یہ اگر دیکھ لیں گے کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا اللہ کا عذاب بن کر ان کے سروں پر گر رہا ہے، تو بھی انہیں تصدیق و یقین نہ ہو گا بلکہ صاف کہہ دیں گے کہ غلیظ ابر ہے جو پانی برسانے کو آ رہا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ» * «لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ» [15-الحجر:15،14] ‏ ” اور اگر ہم ان پر آسمان کا دروازه کھول بھی دیں اور یہ وہاں چڑھنے بھی لگ جائیں، تب بھی یہی کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے “، یعنی معجزات جو یہ طلب کر رہے ہیں اگر ان کی چاہت کے مطابق ہی دکھا دئیے جائیں بلکہ خود انہیں آسمانوں پر چڑھا دیا جائے جب بھی یہ کوئی بات بنا کر ٹال دیں گے اور ایمان نہ لائیں گے۔ اے نبی! آپ انہیں چھوڑ دیجئیے قیامت والے دن خود انہیں معلوم ہو جائے گا اس دن ان کی ساری فریب کاریاں دھری کی دھری رہ جائیں گی، کوئی مکاری وہاں کام نہ دے گی، چوکڑی بھول جائیں گے اور چالاکی بھول جائیں گے۔ آج جن جن کو یہ پکارتے ہیں اور اپنا مددگار جانتے ہیں اس دن سب کے منہ تکیں گے اور کوئی نہ ہو گا جو ان کی ذرا سی بھی مدد کر سکے بلکہ ان کی طرف سے کچھ عذر بھی پیش کر سکے یہی نہیں کہ انہیں صرف قیامت کے دن ہی عذاب ہو اور یہاں اطمینان و آرام کے ساتھ زندگی گزار لیں بلکہ ان ناانصافوں کے لیے اس سے پہلے دنیا میں بھی عذاب تیار ہیں۔ صفحہ نمبر8892

الطور 52:46

طے شدہ بدنصیب اور نشست و برخواست کے آداب ٭٭ مشرکوں اور کافروں کے عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ اپنی سرکشی، ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اللہ کے عذاب کو محسوس کر لینے کے بعد بھی انہیں ایمان کی توفیق نہ ہو گی، یہ اگر دیکھ لیں گے کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا اللہ کا عذاب بن کر ان کے سروں پر گر رہا ہے، تو بھی انہیں تصدیق و یقین نہ ہو گا بلکہ صاف کہہ دیں گے کہ غلیظ ابر ہے جو پانی برسانے کو آ رہا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ» * «لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ» [15-الحجر:15،14] ‏ ” اور اگر ہم ان پر آسمان کا دروازه کھول بھی دیں اور یہ وہاں چڑھنے بھی لگ جائیں، تب بھی یہی کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے “، یعنی معجزات جو یہ طلب کر رہے ہیں اگر ان کی چاہت کے مطابق ہی دکھا دئیے جائیں بلکہ خود انہیں آسمانوں پر چڑھا دیا جائے جب بھی یہ کوئی بات بنا کر ٹال دیں گے اور ایمان نہ لائیں گے۔ اے نبی! آپ انہیں چھوڑ دیجئیے قیامت والے دن خود انہیں معلوم ہو جائے گا اس دن ان کی ساری فریب کاریاں دھری کی دھری رہ جائیں گی، کوئی مکاری وہاں کام نہ دے گی، چوکڑی بھول جائیں گے اور چالاکی بھول جائیں گے۔ آج جن جن کو یہ پکارتے ہیں اور اپنا مددگار جانتے ہیں اس دن سب کے منہ تکیں گے اور کوئی نہ ہو گا جو ان کی ذرا سی بھی مدد کر سکے بلکہ ان کی طرف سے کچھ عذر بھی پیش کر سکے یہی نہیں کہ انہیں صرف قیامت کے دن ہی عذاب ہو اور یہاں اطمینان و آرام کے ساتھ زندگی گزار لیں بلکہ ان ناانصافوں کے لیے اس سے پہلے دنیا میں بھی عذاب تیار ہیں۔ صفحہ نمبر8892

الطور 52:47

ظالموں کا حال ٭٭ جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ» [32-السجدة:21] ‏ یعنی ” بالیقین ہم انہیں قریب کے چھوٹے سے بعض عذاب اس بڑے عذاب کے سوا چکھائیں گے تاکہ وه لوٹ آئیں “ لیکن ان میں سے اکثر بےعلم ہیں نہیں جانتے کہ یہ دنیوی مصیبتوں میں بھی مبتلا ہوں گے اور اللہ کی نافرمانیاں رنگ لائیں گی۔ یہی بےعلمی ہے جو انہیں اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ گناہ پر گناہ، ظلم پر ظلم کرتے جائیں۔ پکڑے جانے پر عبرت حاصل ہوتی ہے لیکن جیسے ہی پکڑ ہٹی یہ پھر ویسے کے ویسے، سخت دل بدکار بن گئے۔ بعض احادیث میں ہے کہ منافق کی مثال اونٹ کی سی ہے جس طرح اونٹ نہیں جانتا کہ اسے کیوں باندھا اور کیوں کھولا؟ [سنن ابوداود:3089،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اسی طرح منافق بھی نہیں جانتا کہ کیوں بیمار کیا گیا؟ اور کیوں تندرست کر دیا گیا؟ اثر الٰہی میں ہے کہ میں کتنی ایک تیری نافرمانیاں کروں گا اور تو مجھے سزا نہ دے گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے میرے بندے کتنی مرتبہ میں نے تجھے عافیت دی اور تجھے علم بھی نہ ہوا۔ صفحہ نمبر8895

الطور 52:48

حمد باری کا حکم ٭٭ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی! آپ صبر کیجئے ان کی ایذاء دہی سے تنگ دل نہ ہو جائیے، ان کی طرف سے کوئی خطرہ بھی دل میں نہ لائیے، سنئیے آپ ہماری حفاظت میں ہیں، آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، آپ کی نگہبانی کے ذمہ دار ہم ہیں، تمام دشمنوں سے آپ کو بچانا ہمارے سپرد ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ جب آپ کھڑے ہوں تو اللہ کی پاکی اور تعریف بیان کیجئے اس کا ایک مطلب یہ کیا گیا ہے کہ جب رات کو جاگیں۔ دونوں مطلب درست ہیں چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نماز کو شروع کرتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے «سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ، وَتَعَالٰی جَدُّکَ، وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکَ» یعنی اے اللہ تو پاک ہے تمام تعریفوں کا مستحق ہے تیرا نام برکتوں والا ہے تیری بزرگی بہت بلند و بالا ہے، تیرے سوا معبود برحق کوئی اور نہیں ۔ مسند احمد اور سنن میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا مروی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات کو جاگے اور کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له،‏ له الملك،‏ وله الحمد،‏ وهو على كل شىء قدير‏.‏ الحمد لله،‏ وسبحان الله،‏ ولا إله إلا الله،‏ والله أكبر،‏ ولا حول ولا قوة إلا بالله‏» پھر خواہ اپنے لیے بخشش کی دعا کرے خواہ جو چاہے طلب کرے اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے پھر اگر اس نے پختہ ارادہ کیا اور وضو کر کے نماز بھی ادا کی تو وہ نماز قبول کی جاتی ہے۔ یہ حدیث صحیح بخاری شریف میں اور سنن میں بھی ہے“ ۔ [صحیح بخاری:1154] ‏ صفحہ نمبر8896 مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی تسبیح اور حمد کے بیان کرنے کا حکم ہر مجلس سے کھڑے ہونے کے وقت ہے۔ ابوالاحوص رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے کہ جب مجلس سے اٹھنا چاہے یہ پڑھے «سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ» عطا بن ابورباح رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر اس مجلس میں نیکی ہوئی ہے تو وہ اور بڑھ جاتی ہے اور اگر کچھ اور ہوا ہے تو یہ کلمہ اس کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ جامع عبدالرزاق میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی کہ جب کبھی کسی مجلس سے کھڑے ہوں تو «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وبَحَمْدكَ أشْهدُ أنْ لا إلهَ إلا أنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وأتُوبُ إِلَيْكَ» پڑھو۔ اس کے راوی معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے یہ بھی سنا ہے کہ یہ قول اس مجلس کا کفارہ ہو جاتا ہے ۔ [عبدالرزاق:19796مرسل] ‏ یہ حدیث تو مرسل ہے لیکن مسند حدیثیں بھی اس بارے میں بہت سی مروی ہیں جن کی سندیں ایک دوسری کو تقویت پہنچاتی ہیں۔ ایک حدیث میں ہے جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے وہاں کچھ بک جھک ہو اور کھڑا ہونے سے پہلے ان کلمات کو کہہ لے تو اس مجلس میں جو کچھ ہوا ہے اس کا کفارہ ہو جاتا ہے ۔ [سنن ترمذي:3433،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس حدیث کو امام ترمذی حسن صحیح کہتے ہیں۔ امام حاکم اسے مستدرک میں روایت کر کے فرماتے ہیں اس کی سند شرط مسلم پر ہے، ہاں امام بخاری نے اس میں علت نکالی ہے، میں کہتا ہوں امام احمد، امام مسلم، امام ابوحاتم، امام ابوزرعہ، امام دارقطنی رحمہم اللہ وغیرہ نے بھی اسے معلول کہا ہے اور وہم کی نسبت ابن جریج کی طرف کی ہے مگر یہ روایت ابوداؤد میں جس سند سے مروی ہے اس میں ابن جریج رحمہ اللہ ہیں ہی نہیں، اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں جس مجلس سے کھڑے ہوتے ان کلمات کو کہتے بلکہ ایک شخص نے پوچھا بھی کہ یا رسول اللہ! آپ اس سے پہلے تو اسے نہیں کہتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجلس میں جو کچھ ہوا ہو یہ کلمات اس کا کفارہ ہو جاتے ہیں“ ، یہ روایت مرسل سند سے بھی ابوالعالیہ رحمہ اللہ سے مروی ہے «واللہ اعلم» نسائی وغیرہ۔ [سنن ابوداود:4859،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8897 سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ کلمات ایسے ہیں کہ جو انہیں مجلس سے اٹھتے وقت تین مرتبہ کہہ لے اس کے لیے یہ کفارہ ہو جاتے ہیں، مجلس خیر اور مجلس ذکر میں انہیں کہنے سے یہ مثل مہر کے ہو جاتے ہیں [ ابوداؤد وغیرہ ] ‏ الحمداللہ میں نے ایک علیحدہ جزو میں ان تمام احادیث کو ان کے الفاظ کو اور ان کی سندوں کو جمع کر دیا ہے اور ان کی علتیں بھی بیان کر دی ہیں اور اس کے متعلق جو کچھ لکھنا تھا لکھ دیا ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ رات کے وقت اس کی یاد اور اس کی عبادت تلاوت اور نماز کے ساتھ کرتے رہو جیسے فرمان ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] ‏ رات کے وقت تہجد پڑھا کرو، یہ تیرے لیے نفل ہے، ممکن ہے تیرا رب تجھے مقام محمود پر اٹھائے۔ ستاروں کے ڈوبتے وقت سے مراد صبح کی فرض نماز سے پہلے کی دو رکعتیں ہیں کہ وہ دونوں ستاروں کے غروب ہونے کے لیے جھک جانے کے وقت پڑھی جاتی ہیں چنانچہ ایک مرفوع حدیث میں ہے ان سنتوں کو نہ چھوڑو گو تمہیں گھوڑے کچل ڈالیں۔ [سنن ابوداود:1258،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اسی حدیث پر نظریں رکھ کر امام احمد رحمہ اللہ کے بعض اصحاب نے تو انہیں واجب کہا ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ حدیث میں ہے دن رات میں پانچ نمازیں ہیں، سننے والے نے کہا: کیا مجھ پر اس کے سوا اور کچھ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں مگر یہ کہ تو نفل ادا کرے۔‏“ [صحیح بخاری:1891] ‏ بخاری و مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں سے کسی نفل کی بہ نسبت صبح کی دو سنتوں کے زیادہ پابندی اور نگرانی نہ کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:1169] ‏ صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبح کے فرضوں سے پہلے یہ دو سنتیں ساری دنیا سے اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہیں“ ۔ [صحیح مسلم:96] ‏ «الحمداللہ» سورۃ الطور کی تفسیر پوری ہوئی۔ صفحہ نمبر8898

الطور 52:49

حمد باری کا حکم ٭٭ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی! آپ صبر کیجئے ان کی ایذاء دہی سے تنگ دل نہ ہو جائیے، ان کی طرف سے کوئی خطرہ بھی دل میں نہ لائیے، سنئیے آپ ہماری حفاظت میں ہیں، آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، آپ کی نگہبانی کے ذمہ دار ہم ہیں، تمام دشمنوں سے آپ کو بچانا ہمارے سپرد ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ جب آپ کھڑے ہوں تو اللہ کی پاکی اور تعریف بیان کیجئے اس کا ایک مطلب یہ کیا گیا ہے کہ جب رات کو جاگیں۔ دونوں مطلب درست ہیں چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نماز کو شروع کرتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے «سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ، وَتَعَالٰی جَدُّکَ، وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکَ» یعنی اے اللہ تو پاک ہے تمام تعریفوں کا مستحق ہے تیرا نام برکتوں والا ہے تیری بزرگی بہت بلند و بالا ہے، تیرے سوا معبود برحق کوئی اور نہیں ۔ مسند احمد اور سنن میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا مروی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات کو جاگے اور کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له،‏ له الملك،‏ وله الحمد،‏ وهو على كل شىء قدير‏.‏ الحمد لله،‏ وسبحان الله،‏ ولا إله إلا الله،‏ والله أكبر،‏ ولا حول ولا قوة إلا بالله‏» پھر خواہ اپنے لیے بخشش کی دعا کرے خواہ جو چاہے طلب کرے اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے پھر اگر اس نے پختہ ارادہ کیا اور وضو کر کے نماز بھی ادا کی تو وہ نماز قبول کی جاتی ہے۔ یہ حدیث صحیح بخاری شریف میں اور سنن میں بھی ہے“ ۔ [صحیح بخاری:1154] ‏ صفحہ نمبر8896 مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی تسبیح اور حمد کے بیان کرنے کا حکم ہر مجلس سے کھڑے ہونے کے وقت ہے۔ ابوالاحوص رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے کہ جب مجلس سے اٹھنا چاہے یہ پڑھے «سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ» عطا بن ابورباح رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر اس مجلس میں نیکی ہوئی ہے تو وہ اور بڑھ جاتی ہے اور اگر کچھ اور ہوا ہے تو یہ کلمہ اس کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ جامع عبدالرزاق میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی کہ جب کبھی کسی مجلس سے کھڑے ہوں تو «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وبَحَمْدكَ أشْهدُ أنْ لا إلهَ إلا أنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وأتُوبُ إِلَيْكَ» پڑھو۔ اس کے راوی معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے یہ بھی سنا ہے کہ یہ قول اس مجلس کا کفارہ ہو جاتا ہے ۔ [عبدالرزاق:19796مرسل] ‏ یہ حدیث تو مرسل ہے لیکن مسند حدیثیں بھی اس بارے میں بہت سی مروی ہیں جن کی سندیں ایک دوسری کو تقویت پہنچاتی ہیں۔ ایک حدیث میں ہے جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے وہاں کچھ بک جھک ہو اور کھڑا ہونے سے پہلے ان کلمات کو کہہ لے تو اس مجلس میں جو کچھ ہوا ہے اس کا کفارہ ہو جاتا ہے ۔ [سنن ترمذي:3433،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس حدیث کو امام ترمذی حسن صحیح کہتے ہیں۔ امام حاکم اسے مستدرک میں روایت کر کے فرماتے ہیں اس کی سند شرط مسلم پر ہے، ہاں امام بخاری نے اس میں علت نکالی ہے، میں کہتا ہوں امام احمد، امام مسلم، امام ابوحاتم، امام ابوزرعہ، امام دارقطنی رحمہم اللہ وغیرہ نے بھی اسے معلول کہا ہے اور وہم کی نسبت ابن جریج کی طرف کی ہے مگر یہ روایت ابوداؤد میں جس سند سے مروی ہے اس میں ابن جریج رحمہ اللہ ہیں ہی نہیں، اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں جس مجلس سے کھڑے ہوتے ان کلمات کو کہتے بلکہ ایک شخص نے پوچھا بھی کہ یا رسول اللہ! آپ اس سے پہلے تو اسے نہیں کہتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجلس میں جو کچھ ہوا ہو یہ کلمات اس کا کفارہ ہو جاتے ہیں“ ، یہ روایت مرسل سند سے بھی ابوالعالیہ رحمہ اللہ سے مروی ہے «واللہ اعلم» نسائی وغیرہ۔ [سنن ابوداود:4859،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8897 سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ کلمات ایسے ہیں کہ جو انہیں مجلس سے اٹھتے وقت تین مرتبہ کہہ لے اس کے لیے یہ کفارہ ہو جاتے ہیں، مجلس خیر اور مجلس ذکر میں انہیں کہنے سے یہ مثل مہر کے ہو جاتے ہیں [ ابوداؤد وغیرہ ] ‏ الحمداللہ میں نے ایک علیحدہ جزو میں ان تمام احادیث کو ان کے الفاظ کو اور ان کی سندوں کو جمع کر دیا ہے اور ان کی علتیں بھی بیان کر دی ہیں اور اس کے متعلق جو کچھ لکھنا تھا لکھ دیا ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ رات کے وقت اس کی یاد اور اس کی عبادت تلاوت اور نماز کے ساتھ کرتے رہو جیسے فرمان ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] ‏ رات کے وقت تہجد پڑھا کرو، یہ تیرے لیے نفل ہے، ممکن ہے تیرا رب تجھے مقام محمود پر اٹھائے۔ ستاروں کے ڈوبتے وقت سے مراد صبح کی فرض نماز سے پہلے کی دو رکعتیں ہیں کہ وہ دونوں ستاروں کے غروب ہونے کے لیے جھک جانے کے وقت پڑھی جاتی ہیں چنانچہ ایک مرفوع حدیث میں ہے ان سنتوں کو نہ چھوڑو گو تمہیں گھوڑے کچل ڈالیں۔ [سنن ابوداود:1258،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اسی حدیث پر نظریں رکھ کر امام احمد رحمہ اللہ کے بعض اصحاب نے تو انہیں واجب کہا ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ حدیث میں ہے دن رات میں پانچ نمازیں ہیں، سننے والے نے کہا: کیا مجھ پر اس کے سوا اور کچھ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں مگر یہ کہ تو نفل ادا کرے۔‏“ [صحیح بخاری:1891] ‏ بخاری و مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں سے کسی نفل کی بہ نسبت صبح کی دو سنتوں کے زیادہ پابندی اور نگرانی نہ کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:1169] ‏ صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبح کے فرضوں سے پہلے یہ دو سنتیں ساری دنیا سے اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہیں“ ۔ [صحیح مسلم:96] ‏ «الحمداللہ» سورۃ الطور کی تفسیر پوری ہوئی۔ صفحہ نمبر8898

النجم 53:1

تفسیر سورۃ النجم: صحیح بخاری میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے پہلی سورت جس میں سجدہ تھا سورۃ النجم اتری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے جتنے تھے سب نے سجدہ کیا لیکن ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ اس نے اپنی مٹھی میں مٹی لے کر اسی پر سجدہ کر لیا پھر میں نے دیکھا کہ وہ اس کے بعد کفر کی حالت میں ہی مارا گیا یہ امیہ بن خلف تھا۔ (صحیح بخاری:1067) لیکن اس میں ایک اشکال یہ ہے کہ دوسری روایت میں ہے کہ یہ عتبہ بن ربیعہ تھا۔ تفسیر سورۂ النجم ٭٭ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا لے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی [ابن ابی حاتم] ‏ ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا ستارے کا غائب ہونا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:503/11] ‏ بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہو سکتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت «فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ» * «وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ» * «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» * «فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ» * «لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ» * «تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» [56-الواقعة:80-75] ‏ ہے۔ صفحہ نمبر8900 باب پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں، وہ بے علمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپ کا راستہ سیدھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول، کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپ کو حکم الٰہی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے، کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام پاک ہوتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں، مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے، برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے، قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر۔‏“ اس پر ایک شخص نے کہا: کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔“ [مسند احمد:257/5:صحیح بطرقه و شواھد] ‏ صفحہ نمبر8901 مسند کی اور حدیث میں ہے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا تھا، اسے حفظ کرنے کے لیے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں، کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں، چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھ لیا کرو، اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا۔“ [مسند احمد:192/2،صحیح] ‏ یہ حدیث ابوداؤد [سنن ابوداود:3646،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے۔ بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔“ [مسند بزار:121] ‏ مسند احمد میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا“ اس پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ ! کبھی کبھی آپ ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔“ [مسند احمد:340/2:حسن] ‏ صفحہ نمبر8902

النجم 53:2

تفسیر سورۃ النجم: صحیح بخاری میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے پہلی سورت جس میں سجدہ تھا سورۃ النجم اتری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے جتنے تھے سب نے سجدہ کیا لیکن ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ اس نے اپنی مٹھی میں مٹی لے کر اسی پر سجدہ کر لیا پھر میں نے دیکھا کہ وہ اس کے بعد کفر کی حالت میں ہی مارا گیا یہ امیہ بن خلف تھا۔ (صحیح بخاری:1067) لیکن اس میں ایک اشکال یہ ہے کہ دوسری روایت میں ہے کہ یہ عتبہ بن ربیعہ تھا۔ تفسیر سورۂ النجم ٭٭ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا لے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی [ابن ابی حاتم] ‏ ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا ستارے کا غائب ہونا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:503/11] ‏ بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہو سکتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت «فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ» * «وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ» * «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» * «فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ» * «لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ» * «تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» [56-الواقعة:80-75] ‏ ہے۔ صفحہ نمبر8900 باب پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں، وہ بے علمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپ کا راستہ سیدھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول، کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپ کو حکم الٰہی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے، کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام پاک ہوتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں، مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے، برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے، قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر۔‏“ اس پر ایک شخص نے کہا: کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔“ [مسند احمد:257/5:صحیح بطرقه و شواھد] ‏ صفحہ نمبر8901 مسند کی اور حدیث میں ہے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا تھا، اسے حفظ کرنے کے لیے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں، کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں، چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھ لیا کرو، اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا۔“ [مسند احمد:192/2،صحیح] ‏ یہ حدیث ابوداؤد [سنن ابوداود:3646،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے۔ بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔“ [مسند بزار:121] ‏ مسند احمد میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا“ اس پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ ! کبھی کبھی آپ ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔“ [مسند احمد:340/2:حسن] ‏ صفحہ نمبر8902

النجم 53:3

تفسیر سورۃ النجم: صحیح بخاری میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے پہلی سورت جس میں سجدہ تھا سورۃ النجم اتری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے جتنے تھے سب نے سجدہ کیا لیکن ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ اس نے اپنی مٹھی میں مٹی لے کر اسی پر سجدہ کر لیا پھر میں نے دیکھا کہ وہ اس کے بعد کفر کی حالت میں ہی مارا گیا یہ امیہ بن خلف تھا۔ (صحیح بخاری:1067) لیکن اس میں ایک اشکال یہ ہے کہ دوسری روایت میں ہے کہ یہ عتبہ بن ربیعہ تھا۔ تفسیر سورۂ النجم ٭٭ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا لے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی [ابن ابی حاتم] ‏ ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا ستارے کا غائب ہونا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:503/11] ‏ بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہو سکتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت «فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ» * «وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ» * «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» * «فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ» * «لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ» * «تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» [56-الواقعة:80-75] ‏ ہے۔ صفحہ نمبر8900 باب پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں، وہ بے علمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپ کا راستہ سیدھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول، کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپ کو حکم الٰہی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے، کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام پاک ہوتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں، مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے، برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے، قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر۔‏“ اس پر ایک شخص نے کہا: کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔“ [مسند احمد:257/5:صحیح بطرقه و شواھد] ‏ صفحہ نمبر8901 مسند کی اور حدیث میں ہے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا تھا، اسے حفظ کرنے کے لیے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں، کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں، چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھ لیا کرو، اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا۔“ [مسند احمد:192/2،صحیح] ‏ یہ حدیث ابوداؤد [سنن ابوداود:3646،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے۔ بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔“ [مسند بزار:121] ‏ مسند احمد میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا“ اس پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ ! کبھی کبھی آپ ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔“ [مسند احمد:340/2:حسن] ‏ صفحہ نمبر8902

النجم 53:4

تفسیر سورۃ النجم: صحیح بخاری میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے پہلی سورت جس میں سجدہ تھا سورۃ النجم اتری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے جتنے تھے سب نے سجدہ کیا لیکن ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ اس نے اپنی مٹھی میں مٹی لے کر اسی پر سجدہ کر لیا پھر میں نے دیکھا کہ وہ اس کے بعد کفر کی حالت میں ہی مارا گیا یہ امیہ بن خلف تھا۔ (صحیح بخاری:1067) لیکن اس میں ایک اشکال یہ ہے کہ دوسری روایت میں ہے کہ یہ عتبہ بن ربیعہ تھا۔ تفسیر سورۂ النجم ٭٭ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا لے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی [ابن ابی حاتم] ‏ ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا ستارے کا غائب ہونا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:503/11] ‏ بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہو سکتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت «فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ» * «وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ» * «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» * «فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ» * «لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ» * «تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» [56-الواقعة:80-75] ‏ ہے۔ صفحہ نمبر8900 باب پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں، وہ بے علمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپ کا راستہ سیدھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول، کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپ کو حکم الٰہی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے، کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام پاک ہوتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں، مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے، برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے، قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر۔‏“ اس پر ایک شخص نے کہا: کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔“ [مسند احمد:257/5:صحیح بطرقه و شواھد] ‏ صفحہ نمبر8901 مسند کی اور حدیث میں ہے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا تھا، اسے حفظ کرنے کے لیے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں، کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں، چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھ لیا کرو، اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا۔“ [مسند احمد:192/2،صحیح] ‏ یہ حدیث ابوداؤد [سنن ابوداود:3646،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے۔ بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔“ [مسند بزار:121] ‏ مسند احمد میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا“ اس پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ ! کبھی کبھی آپ ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔“ [مسند احمد:340/2:حسن] ‏ صفحہ نمبر8902

النجم 53:5

تعارف جبرائیل امین علیہ السلام ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” محمد رسول اللہ (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے معلم جبرائیل علیہ السلام ہیں۔“ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ» [81-التكوير:19-21] ‏ ” یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے۔ “ یہاں بھی فرمایا ” وہ قوت والا ہے۔ “ آیت «ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے۔ حدیث میں بھی «مِرَّةٍ» کا لفظ آیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ” «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي» صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔“ [سنن ابوداود:1634،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ” پھر وہ سیدھے کھڑے ہو گئے “ یعنی جبرائیل علیہ السلام، ” اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے۔“ ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] ‏ کا۔ [ضعیف] ‏ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے۔ صفحہ نمبر8906 امام ابن جریر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہو سکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لیے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جبرائیل علیہ السلام اترے تھے اور قریب ہو گئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اس کے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] ‏ کی چند آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو چکی تھیں پھر وحی بند ہو گئی تھی جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے جبرائیل علیہ السلام کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غم غلط ہو جاتا، دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہو جاتا واپس چلے آتے۔ [فتح الباری:360/12] ‏ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامن گیر ہوتا اور وحی الٰہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح جبرائیل علیہ السلام تسکین و تسلی کر دیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے، چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لیے تھے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب آ گئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کی تائید میں پیش ہو سکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں۔ صفحہ نمبر8907 امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جا سکتی۔ ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو۔ اس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں، ایک میں تو جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا، میں نے دیکھا کہ جبرائیل،اس وقت ہیبت الٰہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا، میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ [مسند احمد:395/1:اسنادہ ضعیف] ‏ صفحہ نمبر8908 مسند میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد، موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیہوش ہو گئے، جبرائیل علیہ السلام فوراً آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ [مسند احمد:322/1:ضعیف] ‏ صفحہ نمبر8909 ابن عساکر میں ہے کہ ابولہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا: سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چنانچہ یہ آیا اور کہا اے محمد! جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آ گیا میں تو اس کا منکر ہوں (‏چونکہ یہ ناہنجار سخت بے ادب تھا اور باربار گستاخی سے پیش آتا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے لیے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے۔ یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا: بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہو گیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سر زمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا، راہب نے ان سے کہا: یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آ گئے؟ ابولہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا: دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لیے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے، تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو۔ لوگوں نے اسے منظور کر لیا۔ یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا، جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا، اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا، پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابولہب کہنے لگا، اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ [مستدرک حاکم:539/2:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8910

النجم 53:6

تعارف جبرائیل امین علیہ السلام ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” محمد رسول اللہ (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے معلم جبرائیل علیہ السلام ہیں۔“ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ» [81-التكوير:19-21] ‏ ” یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے۔ “ یہاں بھی فرمایا ” وہ قوت والا ہے۔ “ آیت «ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے۔ حدیث میں بھی «مِرَّةٍ» کا لفظ آیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ” «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي» صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔“ [سنن ابوداود:1634،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ” پھر وہ سیدھے کھڑے ہو گئے “ یعنی جبرائیل علیہ السلام، ” اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے۔“ ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] ‏ کا۔ [ضعیف] ‏ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے۔ صفحہ نمبر8906 امام ابن جریر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہو سکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لیے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جبرائیل علیہ السلام اترے تھے اور قریب ہو گئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اس کے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] ‏ کی چند آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو چکی تھیں پھر وحی بند ہو گئی تھی جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے جبرائیل علیہ السلام کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غم غلط ہو جاتا، دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہو جاتا واپس چلے آتے۔ [فتح الباری:360/12] ‏ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامن گیر ہوتا اور وحی الٰہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح جبرائیل علیہ السلام تسکین و تسلی کر دیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے، چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لیے تھے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب آ گئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کی تائید میں پیش ہو سکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں۔ صفحہ نمبر8907 امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جا سکتی۔ ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو۔ اس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں، ایک میں تو جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا، میں نے دیکھا کہ جبرائیل،اس وقت ہیبت الٰہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا، میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ [مسند احمد:395/1:اسنادہ ضعیف] ‏ صفحہ نمبر8908 مسند میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد، موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیہوش ہو گئے، جبرائیل علیہ السلام فوراً آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ [مسند احمد:322/1:ضعیف] ‏ صفحہ نمبر8909 ابن عساکر میں ہے کہ ابولہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا: سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چنانچہ یہ آیا اور کہا اے محمد! جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آ گیا میں تو اس کا منکر ہوں (‏چونکہ یہ ناہنجار سخت بے ادب تھا اور باربار گستاخی سے پیش آتا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے لیے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے۔ یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا: بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہو گیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سر زمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا، راہب نے ان سے کہا: یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آ گئے؟ ابولہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا: دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لیے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے، تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو۔ لوگوں نے اسے منظور کر لیا۔ یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا، جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا، اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا، پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابولہب کہنے لگا، اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ [مستدرک حاکم:539/2:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8910

النجم 53:7

تعارف جبرائیل امین علیہ السلام ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” محمد رسول اللہ (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے معلم جبرائیل علیہ السلام ہیں۔“ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ» [81-التكوير:19-21] ‏ ” یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے۔ “ یہاں بھی فرمایا ” وہ قوت والا ہے۔ “ آیت «ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے۔ حدیث میں بھی «مِرَّةٍ» کا لفظ آیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ” «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي» صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔“ [سنن ابوداود:1634،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ” پھر وہ سیدھے کھڑے ہو گئے “ یعنی جبرائیل علیہ السلام، ” اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے۔“ ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] ‏ کا۔ [ضعیف] ‏ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے۔ صفحہ نمبر8906 امام ابن جریر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہو سکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لیے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جبرائیل علیہ السلام اترے تھے اور قریب ہو گئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اس کے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] ‏ کی چند آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو چکی تھیں پھر وحی بند ہو گئی تھی جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے جبرائیل علیہ السلام کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غم غلط ہو جاتا، دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہو جاتا واپس چلے آتے۔ [فتح الباری:360/12] ‏ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامن گیر ہوتا اور وحی الٰہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح جبرائیل علیہ السلام تسکین و تسلی کر دیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے، چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لیے تھے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب آ گئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کی تائید میں پیش ہو سکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں۔ صفحہ نمبر8907 امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جا سکتی۔ ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو۔ اس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں، ایک میں تو جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا، میں نے دیکھا کہ جبرائیل،اس وقت ہیبت الٰہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا، میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ [مسند احمد:395/1:اسنادہ ضعیف] ‏ صفحہ نمبر8908 مسند میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد، موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیہوش ہو گئے، جبرائیل علیہ السلام فوراً آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ [مسند احمد:322/1:ضعیف] ‏ صفحہ نمبر8909 ابن عساکر میں ہے کہ ابولہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا: سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چنانچہ یہ آیا اور کہا اے محمد! جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آ گیا میں تو اس کا منکر ہوں (‏چونکہ یہ ناہنجار سخت بے ادب تھا اور باربار گستاخی سے پیش آتا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے لیے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے۔ یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا: بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہو گیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سر زمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا، راہب نے ان سے کہا: یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آ گئے؟ ابولہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا: دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لیے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے، تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو۔ لوگوں نے اسے منظور کر لیا۔ یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا، جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا، اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا، پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابولہب کہنے لگا، اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ [مستدرک حاکم:539/2:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8910

النجم 53:8

جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭ پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ‏ ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ‏ ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ‏ ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ صفحہ نمبر8913 صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ میں ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:] ‏ صفحہ نمبر8914 ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ‏ ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] ‏ اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] ‏ تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔ صفحہ نمبر8915 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8916 ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ‏ ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8917 صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291] ‏ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ پڑھی۔ [ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] ‏ عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] ‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح] ‏ چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (‏راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] ‏ اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔ صفحہ نمبر8918 ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ‏، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] ‏ اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ‏، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] ‏ کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] ‏ آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] ‏ پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8919 مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] ‏ اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] ‏ پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855] ‏ مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] ‏ صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186] ‏ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“ صفحہ نمبر8920 امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] ‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ صفحہ نمبر8921 ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ‏ ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف] ‏ صفحہ نمبر8922

النجم 53:9

جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭ پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ‏ ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ‏ ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ‏ ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ صفحہ نمبر8913 صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ میں ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:] ‏ صفحہ نمبر8914 ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ‏ ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] ‏ اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] ‏ تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔ صفحہ نمبر8915 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8916 ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ‏ ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8917 صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291] ‏ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ پڑھی۔ [ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] ‏ عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] ‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح] ‏ چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (‏راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] ‏ اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔ صفحہ نمبر8918 ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ‏، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] ‏ اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ‏، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] ‏ کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] ‏ آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] ‏ پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8919 مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] ‏ اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] ‏ پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855] ‏ مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] ‏ صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186] ‏ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“ صفحہ نمبر8920 امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] ‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ صفحہ نمبر8921 ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ‏ ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف] ‏ صفحہ نمبر8922

النجم 53:10

جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭ پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ‏ ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ‏ ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ‏ ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ صفحہ نمبر8913 صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ میں ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:] ‏ صفحہ نمبر8914 ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ‏ ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] ‏ اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] ‏ تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔ صفحہ نمبر8915 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8916 ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ‏ ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8917 صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291] ‏ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ پڑھی۔ [ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] ‏ عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] ‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح] ‏ چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (‏راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] ‏ اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔ صفحہ نمبر8918 ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ‏، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] ‏ اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ‏، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] ‏ کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] ‏ آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] ‏ پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8919 مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] ‏ اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] ‏ پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855] ‏ مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] ‏ صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186] ‏ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“ صفحہ نمبر8920 امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] ‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ صفحہ نمبر8921 ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ‏ ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف] ‏ صفحہ نمبر8922

النجم 53:11

جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭ پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ‏ ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ‏ ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ‏ ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ صفحہ نمبر8913 صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ میں ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:] ‏ صفحہ نمبر8914 ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ‏ ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] ‏ اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] ‏ تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔ صفحہ نمبر8915 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8916 ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ‏ ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8917 صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291] ‏ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ پڑھی۔ [ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] ‏ عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] ‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح] ‏ چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (‏راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] ‏ اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔ صفحہ نمبر8918 ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ‏، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] ‏ اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ‏، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] ‏ کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] ‏ آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] ‏ پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8919 مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] ‏ اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] ‏ پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855] ‏ مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] ‏ صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186] ‏ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“ صفحہ نمبر8920 امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] ‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ صفحہ نمبر8921 ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ‏ ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف] ‏ صفحہ نمبر8922

النجم 53:12

جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭ پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ‏ ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ‏ ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ‏ ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ صفحہ نمبر8913 صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ میں ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:] ‏ صفحہ نمبر8914 ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ‏ ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] ‏ اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] ‏ تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔ صفحہ نمبر8915 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8916 ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ‏ ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8917 صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291] ‏ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ پڑھی۔ [ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] ‏ عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] ‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح] ‏ چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (‏راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] ‏ اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔ صفحہ نمبر8918 ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ‏، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] ‏ اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ‏، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] ‏ کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] ‏ آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] ‏ پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8919 مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] ‏ اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] ‏ پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855] ‏ مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] ‏ صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186] ‏ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“ صفحہ نمبر8920 امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] ‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ صفحہ نمبر8921 ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ‏ ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف] ‏ صفحہ نمبر8922

النجم 53:13

جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭ پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ‏ ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ‏ ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ‏ ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ صفحہ نمبر8913 صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ میں ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:] ‏ صفحہ نمبر8914 ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ‏ ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] ‏ اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] ‏ تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔ صفحہ نمبر8915 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8916 ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ‏ ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8917 صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291] ‏ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ پڑھی۔ [ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] ‏ عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] ‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح] ‏ چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (‏راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] ‏ اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔ صفحہ نمبر8918 ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ‏، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] ‏ اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ‏، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] ‏ کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] ‏ آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] ‏ پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8919 مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] ‏ اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] ‏ پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855] ‏ مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] ‏ صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186] ‏ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“ صفحہ نمبر8920 امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] ‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ صفحہ نمبر8921 ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ‏ ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف] ‏ صفحہ نمبر8922

النجم 53:14

جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭ پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ‏ ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ‏ ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ‏ ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ صفحہ نمبر8913 صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ میں ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:] ‏ صفحہ نمبر8914 ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ‏ ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] ‏ اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] ‏ تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔ صفحہ نمبر8915 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8916 ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ‏ ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8917 صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291] ‏ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ پڑھی۔ [ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] ‏ عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] ‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح] ‏ چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (‏راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] ‏ اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔ صفحہ نمبر8918 ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ‏، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] ‏ اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ‏، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] ‏ کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] ‏ آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] ‏ پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8919 مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] ‏ اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] ‏ پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855] ‏ مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] ‏ صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186] ‏ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“ صفحہ نمبر8920 امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] ‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ صفحہ نمبر8921 ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ‏ ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف] ‏ صفحہ نمبر8922

النجم 53:15

جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭ پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ‏ ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ‏ ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ‏ ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ صفحہ نمبر8913 صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ میں ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:] ‏ صفحہ نمبر8914 ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ‏ ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] ‏ اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] ‏ تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔ صفحہ نمبر8915 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8916 ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ‏ ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8917 صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291] ‏ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ پڑھی۔ [ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] ‏ عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] ‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح] ‏ چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (‏راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] ‏ اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔ صفحہ نمبر8918 ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ‏، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] ‏ اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ‏، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] ‏ کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] ‏ آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] ‏ پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8919 مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] ‏ اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] ‏ پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855] ‏ مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] ‏ صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186] ‏ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“ صفحہ نمبر8920 امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] ‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ صفحہ نمبر8921 ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ‏ ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف] ‏ صفحہ نمبر8922

النجم 53:16

جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭ پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ‏ ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ‏ ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ‏ ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ صفحہ نمبر8913 صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ میں ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:] ‏ صفحہ نمبر8914 ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ‏ ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] ‏ اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] ‏ تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔ صفحہ نمبر8915 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8916 ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ‏ ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8917 صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291] ‏ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ پڑھی۔ [ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] ‏ عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] ‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح] ‏ چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (‏راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] ‏ اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔ صفحہ نمبر8918 ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ‏، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] ‏ اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ‏، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] ‏ کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] ‏ آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] ‏ پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8919 مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] ‏ اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] ‏ پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855] ‏ مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] ‏ صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186] ‏ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“ صفحہ نمبر8920 امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] ‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ صفحہ نمبر8921 ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ‏ ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف] ‏ صفحہ نمبر8922

النجم 53:17

جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭ پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ‏ ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ‏ ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ‏ ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ صفحہ نمبر8913 صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ میں ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:] ‏ صفحہ نمبر8914 ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ‏ ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] ‏ اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] ‏ تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔ صفحہ نمبر8915 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8916 ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ‏ ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8917 صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291] ‏ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ پڑھی۔ [ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] ‏ عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] ‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح] ‏ چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (‏راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] ‏ اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔ صفحہ نمبر8918 ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ‏، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] ‏ اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ‏، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] ‏ کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] ‏ آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] ‏ پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8919 مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] ‏ اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] ‏ پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855] ‏ مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] ‏ صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186] ‏ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“ صفحہ نمبر8920 امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] ‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ صفحہ نمبر8921 ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ‏ ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف] ‏ صفحہ نمبر8922

النجم 53:18

جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭ پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ‏ ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ‏ ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ‏ ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ صفحہ نمبر8913 صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ میں ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:] ‏ صفحہ نمبر8914 ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ‏ ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] ‏ اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] ‏ تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔ صفحہ نمبر8915 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] ‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8916 ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ‏ ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8917 صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291] ‏ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ پڑھی۔ [ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] ‏ پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] ‏ عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] ‏ کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] ‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح] ‏ چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (‏راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] ‏ اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔ صفحہ نمبر8918 ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ‏، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] ‏ اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ‏، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] ‏ کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] ‏ آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] ‏ پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8919 مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] ‏ اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] ‏ پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855] ‏ مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] ‏ صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186] ‏ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“ صفحہ نمبر8920 امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] ‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ صفحہ نمبر8921 ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ‏ ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف] ‏ صفحہ نمبر8922