Lafzullah

Tafsir Ibn Kathir — النجم 53:19 – القمر 54:55

Author / source: Tafsir Ibn Kathir

Contents
  1. النجم 53:19
  2. النجم 53:20
  3. النجم 53:21
  4. النجم 53:22
  5. النجم 53:23
  6. النجم 53:24
  7. النجم 53:25
  8. النجم 53:26
  9. النجم 53:27
  10. النجم 53:28
  11. النجم 53:29
  12. النجم 53:30
  13. النجم 53:31
  14. النجم 53:32
  15. النجم 53:33
  16. النجم 53:34
  17. النجم 53:35
  18. النجم 53:36
  19. النجم 53:37
  20. النجم 53:38
  21. النجم 53:39
  22. النجم 53:40
  23. النجم 53:41
  24. النجم 53:42
  25. النجم 53:43
  26. النجم 53:44
  27. النجم 53:45
  28. النجم 53:46
  29. النجم 53:47
  30. النجم 53:48
  31. النجم 53:49
  32. النجم 53:50
  33. النجم 53:51
  34. النجم 53:52
  35. النجم 53:53
  36. النجم 53:54
  37. النجم 53:55
  38. النجم 53:56
  39. النجم 53:57
  40. النجم 53:58
  41. النجم 53:59
  42. النجم 53:60
  43. النجم 53:61
  44. النجم 53:62
  45. القمر 54:1
  46. القمر 54:2
  47. القمر 54:3
  48. القمر 54:4
  49. القمر 54:5
  50. القمر 54:6
  51. القمر 54:7
  52. القمر 54:8
  53. القمر 54:9
  54. القمر 54:10
  55. القمر 54:11
  56. القمر 54:12
  57. القمر 54:13
  58. القمر 54:14
  59. القمر 54:15
  60. القمر 54:16
  61. القمر 54:17
  62. القمر 54:18
  63. القمر 54:19
  64. القمر 54:20
  65. القمر 54:21
  66. القمر 54:22
  67. القمر 54:23
  68. القمر 54:24
  69. القمر 54:25
  70. القمر 54:26
  71. القمر 54:27
  72. القمر 54:28
  73. القمر 54:29
  74. القمر 54:30
  75. القمر 54:31
  76. القمر 54:32
  77. القمر 54:33
  78. القمر 54:34
  79. القمر 54:35
  80. القمر 54:36
  81. القمر 54:37
  82. القمر 54:38
  83. القمر 54:39
  84. القمر 54:40
  85. القمر 54:41
  86. القمر 54:42
  87. القمر 54:43
  88. القمر 54:44
  89. القمر 54:45
  90. القمر 54:46
  91. القمر 54:47
  92. القمر 54:48
  93. القمر 54:49
  94. القمر 54:50
  95. القمر 54:51
  96. القمر 54:52
  97. القمر 54:53
  98. القمر 54:54
  99. القمر 54:55

النجم 53:19

بت کدے کیا تھے؟ ٭٭ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ «لات» ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا، غلاف چڑھائے جاتے تھے، مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے، اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے، اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا، قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ «لات» بنایا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/11] ‏ گویا اس کا مؤنث بنایا تھا۔ اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ «لات» تا کی تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے «لات» اس معنی میں اس لیے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا، موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا، اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کر دی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ «عزیٰ» لفظ «عزیز» سے لیا گیا ہے مکے اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابوسفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا «عزیٰ» ہے اور تمہارا نہیں، جس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری والی کوئی نہیں۔ [صحیح بخاری:3039] ‏ صفحہ نمبر8933 صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے اسے چاہیئے کہ فوراً «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آو جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیئے۔ [صحیح بخاری:4860] ‏ مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔ سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ» پڑھ لو اور تین مرتبہ «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا۔“ [سنن ابن ماجہ:2097،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ مکے اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں «مناۃ» تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لیے جاتے تھے۔ [صحیح بخاری:4861] ‏ اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لیے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا۔ [سیرۃ ابن ھشام:83/1] ‏ اس بت کے توڑنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہتے جاتے تھے «یَا عُزَّی کُفْرَانَكِ لَا سُبْحَانَك» *** «اِنِّیْ رَاَیْتُ اللهَ قَدْ اَهانَكِ» اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا جو کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ نہیں کیا، لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ۔“ خالد رضی اللہ عنہ کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکر و فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر ”یا عزیٰ، یا عزیٰ“ کے نعرے لگائے، خالد رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزیٰ یہی تھی۔“ [سنن نسائی:567:حسن] ‏ صفحہ نمبر8934 «لات» قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیرہ بن شعبہ اور ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہم کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنا دی۔ «مناۃ» اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ «ذوالخلصہ» نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے فنا ہوا «فلس» نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مامور ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں۔ قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں «ریام» نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کر دیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور «رضا» نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے۔ «ذوالکعبات» نامی صنم خانہ بکر تغلب اور ایاد قبیلے کا سنداد میں تھا۔ پھر فرماتا ہے کہ ” تمہارے لیے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں؟“ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہو گا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لیے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لیے لڑکے پسند کرو “۔ صفحہ نمبر8935

النجم 53:20

بت کدے کیا تھے؟ ٭٭ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ «لات» ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا، غلاف چڑھائے جاتے تھے، مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے، اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے، اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا، قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ «لات» بنایا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/11] ‏ گویا اس کا مؤنث بنایا تھا۔ اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ «لات» تا کی تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے «لات» اس معنی میں اس لیے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا، موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا، اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کر دی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ «عزیٰ» لفظ «عزیز» سے لیا گیا ہے مکے اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابوسفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا «عزیٰ» ہے اور تمہارا نہیں، جس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری والی کوئی نہیں۔ [صحیح بخاری:3039] ‏ صفحہ نمبر8933 صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے اسے چاہیئے کہ فوراً «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آو جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیئے۔ [صحیح بخاری:4860] ‏ مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔ سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ» پڑھ لو اور تین مرتبہ «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا۔“ [سنن ابن ماجہ:2097،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ مکے اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں «مناۃ» تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لیے جاتے تھے۔ [صحیح بخاری:4861] ‏ اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لیے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا۔ [سیرۃ ابن ھشام:83/1] ‏ اس بت کے توڑنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہتے جاتے تھے «یَا عُزَّی کُفْرَانَكِ لَا سُبْحَانَك» *** «اِنِّیْ رَاَیْتُ اللهَ قَدْ اَهانَكِ» اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا جو کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ نہیں کیا، لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ۔“ خالد رضی اللہ عنہ کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکر و فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر ”یا عزیٰ، یا عزیٰ“ کے نعرے لگائے، خالد رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزیٰ یہی تھی۔“ [سنن نسائی:567:حسن] ‏ صفحہ نمبر8934 «لات» قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیرہ بن شعبہ اور ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہم کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنا دی۔ «مناۃ» اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ «ذوالخلصہ» نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے فنا ہوا «فلس» نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مامور ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں۔ قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں «ریام» نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کر دیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور «رضا» نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے۔ «ذوالکعبات» نامی صنم خانہ بکر تغلب اور ایاد قبیلے کا سنداد میں تھا۔ پھر فرماتا ہے کہ ” تمہارے لیے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں؟“ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہو گا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لیے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لیے لڑکے پسند کرو “۔ صفحہ نمبر8935

النجم 53:21

بت کدے کیا تھے؟ ٭٭ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ «لات» ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا، غلاف چڑھائے جاتے تھے، مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے، اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے، اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا، قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ «لات» بنایا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/11] ‏ گویا اس کا مؤنث بنایا تھا۔ اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ «لات» تا کی تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے «لات» اس معنی میں اس لیے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا، موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا، اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کر دی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ «عزیٰ» لفظ «عزیز» سے لیا گیا ہے مکے اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابوسفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا «عزیٰ» ہے اور تمہارا نہیں، جس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری والی کوئی نہیں۔ [صحیح بخاری:3039] ‏ صفحہ نمبر8933 صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے اسے چاہیئے کہ فوراً «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آو جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیئے۔ [صحیح بخاری:4860] ‏ مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔ سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ» پڑھ لو اور تین مرتبہ «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا۔“ [سنن ابن ماجہ:2097،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ مکے اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں «مناۃ» تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لیے جاتے تھے۔ [صحیح بخاری:4861] ‏ اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لیے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا۔ [سیرۃ ابن ھشام:83/1] ‏ اس بت کے توڑنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہتے جاتے تھے «یَا عُزَّی کُفْرَانَكِ لَا سُبْحَانَك» *** «اِنِّیْ رَاَیْتُ اللهَ قَدْ اَهانَكِ» اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا جو کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ نہیں کیا، لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ۔“ خالد رضی اللہ عنہ کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکر و فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر ”یا عزیٰ، یا عزیٰ“ کے نعرے لگائے، خالد رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزیٰ یہی تھی۔“ [سنن نسائی:567:حسن] ‏ صفحہ نمبر8934 «لات» قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیرہ بن شعبہ اور ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہم کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنا دی۔ «مناۃ» اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ «ذوالخلصہ» نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے فنا ہوا «فلس» نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مامور ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں۔ قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں «ریام» نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کر دیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور «رضا» نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے۔ «ذوالکعبات» نامی صنم خانہ بکر تغلب اور ایاد قبیلے کا سنداد میں تھا۔ پھر فرماتا ہے کہ ” تمہارے لیے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں؟“ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہو گا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لیے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لیے لڑکے پسند کرو “۔ صفحہ نمبر8935

النجم 53:22

بت کدے کیا تھے؟ ٭٭ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ «لات» ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا، غلاف چڑھائے جاتے تھے، مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے، اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے، اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا، قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ «لات» بنایا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/11] ‏ گویا اس کا مؤنث بنایا تھا۔ اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ «لات» تا کی تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے «لات» اس معنی میں اس لیے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا، موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا، اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کر دی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ «عزیٰ» لفظ «عزیز» سے لیا گیا ہے مکے اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابوسفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا «عزیٰ» ہے اور تمہارا نہیں، جس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری والی کوئی نہیں۔ [صحیح بخاری:3039] ‏ صفحہ نمبر8933 صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے اسے چاہیئے کہ فوراً «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آو جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیئے۔ [صحیح بخاری:4860] ‏ مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔ سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ» پڑھ لو اور تین مرتبہ «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا۔“ [سنن ابن ماجہ:2097،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ مکے اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں «مناۃ» تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لیے جاتے تھے۔ [صحیح بخاری:4861] ‏ اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لیے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا۔ [سیرۃ ابن ھشام:83/1] ‏ اس بت کے توڑنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہتے جاتے تھے «یَا عُزَّی کُفْرَانَكِ لَا سُبْحَانَك» *** «اِنِّیْ رَاَیْتُ اللهَ قَدْ اَهانَكِ» اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا جو کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ نہیں کیا، لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ۔“ خالد رضی اللہ عنہ کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکر و فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر ”یا عزیٰ، یا عزیٰ“ کے نعرے لگائے، خالد رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزیٰ یہی تھی۔“ [سنن نسائی:567:حسن] ‏ صفحہ نمبر8934 «لات» قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیرہ بن شعبہ اور ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہم کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنا دی۔ «مناۃ» اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ «ذوالخلصہ» نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے فنا ہوا «فلس» نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مامور ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں۔ قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں «ریام» نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کر دیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور «رضا» نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے۔ «ذوالکعبات» نامی صنم خانہ بکر تغلب اور ایاد قبیلے کا سنداد میں تھا۔ پھر فرماتا ہے کہ ” تمہارے لیے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں؟“ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہو گا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لیے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لیے لڑکے پسند کرو “۔ صفحہ نمبر8935

النجم 53:23

باب پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جو چاہا نام گھڑ لیا ہے، ورنہ نہ وہ معبود ہیں، نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں۔ خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں، مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں، مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آ جانے، اللہ کی باتیں واضح ہو جانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان کی ہر تمنا خواہ مخواہ پوری ہو ہی جاتی ہے؟ جو کہے میں حق پر ہوں تو کیا وہ حق پر ہو ہی گیا؟ تم گو دعوے لمبے چوڑے کرو لیکن دعوؤں سے مراد اور مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ “ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمنا کرتے وقت سوچ لیا کرو کہ کیا تمنا کرتے ہو؟ تمہیں نہیں معلوم کہ اس تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا؟“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2255،] ‏ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہو گا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لیے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا، جیسے فرمایا «مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ» [2-البقرة:255] ‏ ” کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کر سکے۔“ «وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ» [34-سبأ:23] ‏ ” اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ “ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے، تمام رسول علیہ السلام اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔ صفحہ نمبر8939

النجم 53:24

باب پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جو چاہا نام گھڑ لیا ہے، ورنہ نہ وہ معبود ہیں، نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں۔ خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں، مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں، مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آ جانے، اللہ کی باتیں واضح ہو جانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان کی ہر تمنا خواہ مخواہ پوری ہو ہی جاتی ہے؟ جو کہے میں حق پر ہوں تو کیا وہ حق پر ہو ہی گیا؟ تم گو دعوے لمبے چوڑے کرو لیکن دعوؤں سے مراد اور مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ “ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمنا کرتے وقت سوچ لیا کرو کہ کیا تمنا کرتے ہو؟ تمہیں نہیں معلوم کہ اس تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا؟“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2255،] ‏ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہو گا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لیے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا، جیسے فرمایا «مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ» [2-البقرة:255] ‏ ” کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کر سکے۔“ «وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ» [34-سبأ:23] ‏ ” اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ “ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے، تمام رسول علیہ السلام اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔ صفحہ نمبر8939

النجم 53:25

باب پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جو چاہا نام گھڑ لیا ہے، ورنہ نہ وہ معبود ہیں، نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں۔ خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں، مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں، مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آ جانے، اللہ کی باتیں واضح ہو جانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان کی ہر تمنا خواہ مخواہ پوری ہو ہی جاتی ہے؟ جو کہے میں حق پر ہوں تو کیا وہ حق پر ہو ہی گیا؟ تم گو دعوے لمبے چوڑے کرو لیکن دعوؤں سے مراد اور مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ “ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمنا کرتے وقت سوچ لیا کرو کہ کیا تمنا کرتے ہو؟ تمہیں نہیں معلوم کہ اس تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا؟“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2255،] ‏ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہو گا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لیے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا، جیسے فرمایا «مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ» [2-البقرة:255] ‏ ” کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کر سکے۔“ «وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ» [34-سبأ:23] ‏ ” اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ “ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے، تمام رسول علیہ السلام اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔ صفحہ نمبر8939

النجم 53:26

باب پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جو چاہا نام گھڑ لیا ہے، ورنہ نہ وہ معبود ہیں، نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں۔ خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں، مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں، مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آ جانے، اللہ کی باتیں واضح ہو جانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان کی ہر تمنا خواہ مخواہ پوری ہو ہی جاتی ہے؟ جو کہے میں حق پر ہوں تو کیا وہ حق پر ہو ہی گیا؟ تم گو دعوے لمبے چوڑے کرو لیکن دعوؤں سے مراد اور مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ “ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمنا کرتے وقت سوچ لیا کرو کہ کیا تمنا کرتے ہو؟ تمہیں نہیں معلوم کہ اس تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا؟“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2255،] ‏ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہو گا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لیے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا، جیسے فرمایا «مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ» [2-البقرة:255] ‏ ” کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کر سکے۔“ «وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ» [34-سبأ:23] ‏ ” اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ “ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے، تمام رسول علیہ السلام اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔ صفحہ نمبر8939

النجم 53:27

آخرت کا گھر اور دنیا ٭٭ اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّ‌حْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» [43-الزخرف:19] ‏ یعنی ” اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرسش کی جائے گی۔ “ یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے۔ محض جھوٹ، کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے۔ [صحیح بخاری:6066] ‏ صفحہ نمبر8943 پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کر لیں، ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے، اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا (‏آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (‏آخرت میں) کنگال ہو اسے جمع کرنے کی دھن میں وہ رہتا ہے۔“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1933،] ‏ ایک منقول دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں «‏اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَ لاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا» پروردگار! تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ [سنن ترمذي:3502،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے، جسے چاہے ہدایت دے، جسے چاہے ضلالت دے، سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بے انصافی نہیں کرتا۔ صفحہ نمبر8944

النجم 53:28

آخرت کا گھر اور دنیا ٭٭ اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّ‌حْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» [43-الزخرف:19] ‏ یعنی ” اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرسش کی جائے گی۔ “ یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے۔ محض جھوٹ، کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے۔ [صحیح بخاری:6066] ‏ صفحہ نمبر8943 پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کر لیں، ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے، اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا (‏آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (‏آخرت میں) کنگال ہو اسے جمع کرنے کی دھن میں وہ رہتا ہے۔“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1933،] ‏ ایک منقول دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں «‏اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَ لاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا» پروردگار! تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ [سنن ترمذي:3502،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے، جسے چاہے ہدایت دے، جسے چاہے ضلالت دے، سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بے انصافی نہیں کرتا۔ صفحہ نمبر8944

النجم 53:29

آخرت کا گھر اور دنیا ٭٭ اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّ‌حْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» [43-الزخرف:19] ‏ یعنی ” اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرسش کی جائے گی۔ “ یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے۔ محض جھوٹ، کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے۔ [صحیح بخاری:6066] ‏ صفحہ نمبر8943 پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کر لیں، ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے، اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا (‏آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (‏آخرت میں) کنگال ہو اسے جمع کرنے کی دھن میں وہ رہتا ہے۔“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1933،] ‏ ایک منقول دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں «‏اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَ لاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا» پروردگار! تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ [سنن ترمذي:3502،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے، جسے چاہے ہدایت دے، جسے چاہے ضلالت دے، سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بے انصافی نہیں کرتا۔ صفحہ نمبر8944

النجم 53:30

آخرت کا گھر اور دنیا ٭٭ اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّ‌حْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» [43-الزخرف:19] ‏ یعنی ” اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرسش کی جائے گی۔ “ یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے۔ محض جھوٹ، کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے۔ [صحیح بخاری:6066] ‏ صفحہ نمبر8943 پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کر لیں، ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے، اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا (‏آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (‏آخرت میں) کنگال ہو اسے جمع کرنے کی دھن میں وہ رہتا ہے۔“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1933،] ‏ ایک منقول دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں «‏اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَ لاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا» پروردگار! تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ [سنن ترمذي:3502،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے، جسے چاہے ہدایت دے، جسے چاہے ضلالت دے، سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بے انصافی نہیں کرتا۔ صفحہ نمبر8944

النجم 53:31

گناہ اور ضابطہ الہٰی ٭٭ مالک آسمان و زمین، بے پرواہ، مطلق شہنشاہ، حقیقی عادل، خالق، حق و حق کار اللہ تعالیٰ ہی ہے، ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دینے والا، نیکی پر نیک جزا اور بدی پر بری سزا وہی دے گا۔ اس کے نزدیک بھلے لوگ وہ ہیں جو اس کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں سے بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں و نالائقیوں سے الگ رہیں ان سے بتقاضائے بشریت اگر کبھی کوئی چھوٹا سا گناہ سرزد ہو بھی جائے تو پروردگار پردہ پوشی کرتا ہے اور معاف فرما دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ‌ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ‌ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِ‌يمًا» [4-النساء:31] ‏ ” اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے پاکدامن رہے جن سے تمہیں روک دیا گیا ہے تو ہم تمہاری برائیاں معاف فرما دیں گے “۔ یہاں بھی فرمایا: مگر چھوٹی چھوٹی لغزشیں اور انسانیت کی کمزوریاں معاف ہیں۔ صفحہ نمبر8948 سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «لَـمَـمَ» کی تفسیر میرے خیال میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ اس حدیث سے زیادہ اچھی کوئی نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا ہے جسے وہ یقیناً پا کر ہی رہے گا، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، دل امنگ اور آرزو کرتا ہے، اب شرمگاہ خواہ اسے سچا کر دکھائے یا جھوٹا۔“ [صحیح بخاری:2643] ‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آنکھوں کا زنا نظر کرنا ہے اور ہونٹوں کا بوسہ لینا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پیروں کا زنا چلنا ہے اور شرمگاہ اسے سچا کرتی ہے یا جھوٹا کر دیتی ہے یعنی اگر شرمگاہ کو نہ روک سکا اور بدکاری کر بیٹھا تو سب اعضاء کا زنا ثابت اور اگر اپنے اس عضو کو روک لیا تو وہ سب «لَـمَـمَ» میں داخل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:516/11] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «لَـمَـمَ» بوسہ لینا، چھیڑنا، دیکھنا، مس کرنا ہے اور جب شرمگاہیں مل گئیں تو غسل واجب ہو گیا اور زناکاری کا گناہ ثابت ہو گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس جملہ کی تفسیر یہی مروی ہے یعنی جو پہلے گزر چکا، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں گناہ سے آلودگی ہو پھر چھوڑ دے تو «لَـمَـمَ» میں داخل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:528/11] ‏ شاعر کہتا ہے «إِنْ تَغْفِرْ اللَّهُمَّ تَغْفِرْ جَمًّا» *** «أَيّ عَبْدٍ لَك مَا أَلَمَّا» اے اللہ! جبکہ تو معاف فرماتا ہے تو سب کچھ ہی معاف فرما دے ورنہ یوں آلودہ عصیاں تو ہر انسان ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اہل جاہلیت اپنے طواف میں عموماً اس شعر کو پڑھا کرتے تھے۔ ابن جریر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شعر کو پڑھنا بھی مروی ہے، ترمذی میں بھی یہ مروی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي:3284،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہمیں اس کی اور سند معلوم نہیں صرف اسی سند سے مرفوعاً مروی ہے ابن ابی حاتم اور بغوی نے بھی اسے نقل کیا ہے بغوی نے اسے سورۃ تنزیل میں روایت کیا ہے لیکن اس مرفوع کی صحت میں نظر ہے۔ صفحہ نمبر8949 ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مراد یہ ہے کہ زنا سے نزدیکی ہونے کے بعد توبہ کرے اور پھر نہ لوٹے، چوری کے قریب ہو جانے کے بعد چوری نہ کی اور توبہ کر کے لوٹ آیا، اسی طرح شراب پینے کے قریب ہو کر شراب نہ پی اور توبہ کر کے لوٹ گیا، یہ سب «المام» ہیں جو ایک مومن کو معاف ہیں“ ۔ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32569] ‏ ایک روایت میں ہے صحابہ رضی اللہ عنہم سے عمومًا اس کا مروی ہونا بیان کیا گیا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مراد اس سے شرک کے علاوہ گناہ ہیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دو حدوں کے درمیان حد زنا اور عذاب آخرت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہر وہ چیز جو دو حدوں کے درمیان حد دنیا اور حد آخرت نمازیں اس کا کفارہ بن جاتی ہیں اور وہ ہر واجب کر دینے والی سے کم ہے، حد دنیا تو وہ ہے جو کسی گناہ پر اللہ نے دنیاوی سزا مقرر کر دی ہے اور اس کی سزا دنیا میں مقرر نہیں کی۔ تیرے رب کی بخشش بہت وسیع ہے ہر چیز کو گھیر لیا ہے اور تمام گناہوں پر اس کا احاطہٰ ہے جیسے فرمان ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» [39-الزمر:53] ‏ ” اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جان پر اسراف کیا ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہ بڑی بخشش والا اور بڑے رحم والا ہے۔ “ پھر فرمایا وہ تمہیں دیکھنے والا اور تمہارے ہر حال کا علم رکھنے والا اور تمہارے ہر کلام کو سننے والا اور تمہارے تمام تر اعمال سے واقف ہے جبکہ اس نے تمہارے باپ آدم کو زمین سے پیدا کیا اور ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکالی جو چیونٹیوں کی طرح پھیل گئی پھر ان کی تقسیم کر کے دو گروہ بنا دئیے ایک جنت کے لیے اور ایک جہنم کے لیے اور جب تم اپنی ماں کے پیٹ میں بچے تھے اس کی مقرر کردہ فرشتے نے روزی، عمر، عمل، نیکی، بدی لکھ لی۔ بہت سے بچے پیٹ سے ہی گر جاتے ہیں، بہت سے دودھ پینے کی حالت میں فوت ہو جاتے ہیں، بہت سے دودھ چھٹنے کے بعد بلوغت سے پہلے ہی چل بستے ہیں، بہت سے عین جوانی میں دار دنیا خالی کر جاتے ہیں، اب جبکہ ہم تمام منازل کو طے کر چکے اور بڑھاپے میں آ گئے جس کے بعد کوئی منزل موت کے سوا نہیں اب بھی اگر ہم نہ سنبھلیں تو ہم سے بڑھ کر غافل کون ہے؟ خبردار تم اپنے نفس کو پاک نہ کہو اپنے نیک اعمال کی تعریفیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ، اپنے آپ سراہنے نہ لگو، جس کے دل میں رب کا ڈر ہے اسے رب ہی خوب جانتا ہے۔ صفحہ نمبر8950 اور آیت میں ہے «أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم بَلِ اللَّـهُ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا» [4-النساء:49] ‏ ” کیا تو نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جو اپنے نفس کی پاکیزگی آپ بیان کرتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ یہ اللہ کے ہاتھ ہے جسے وہ چاہے برتر اعلیٰ اور پاک صاف کر دے کسی پر کچھ بھی ظلم نہ ہو گا۔“ محمد بن عمرو بن عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے اپنی لڑکی کا نام برہ رکھا تو مجھ سے زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام سے منع فرمایا ہے خود میرا نام بھی برہ تھا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم خود اپنی برتری اور پاکی آپ نہ بیان کرو تم میں سے نیکی والوں کا علم پورے طور پر اللہ ہی کو ہے۔“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ فرمایا: ”زینب نام رکھو“ ۔ [صحیح مسلم:2142] ‏ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی ایک شخص کی بہت تعریفیں بیان کیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس تو نے اس کی گردن ماری، کئی مرتبہ یہی فرما کر ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کی تعریف ہی کرنی ہو تو یوں کہو، میرا گمان فلاں کے بارے میں ایسا ہے حقیقی علم اللہ کو ہی ہے پھر اپنی معلومات بیان کرو خود کسی کی پاکیزگیاں بیان کرنے نہ بیٹھ جاؤ“ ۔ [صحیح بخاری:2662] ‏ ابوداؤد اور مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے ان کی تعریفیں بیان کرنا شروع کر دیں اس پر مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ اس کے منہ میں مٹی بھرنے لگے اور فرمایا: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ تعریفیں کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں۔“ [صحیح مسلم:7431] ‏ صفحہ نمبر8951

النجم 53:32

گناہ اور ضابطہ الہٰی ٭٭ مالک آسمان و زمین، بے پرواہ، مطلق شہنشاہ، حقیقی عادل، خالق، حق و حق کار اللہ تعالیٰ ہی ہے، ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دینے والا، نیکی پر نیک جزا اور بدی پر بری سزا وہی دے گا۔ اس کے نزدیک بھلے لوگ وہ ہیں جو اس کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں سے بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں و نالائقیوں سے الگ رہیں ان سے بتقاضائے بشریت اگر کبھی کوئی چھوٹا سا گناہ سرزد ہو بھی جائے تو پروردگار پردہ پوشی کرتا ہے اور معاف فرما دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ‌ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ‌ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِ‌يمًا» [4-النساء:31] ‏ ” اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے پاکدامن رہے جن سے تمہیں روک دیا گیا ہے تو ہم تمہاری برائیاں معاف فرما دیں گے “۔ یہاں بھی فرمایا: مگر چھوٹی چھوٹی لغزشیں اور انسانیت کی کمزوریاں معاف ہیں۔ صفحہ نمبر8948 سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «لَـمَـمَ» کی تفسیر میرے خیال میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ اس حدیث سے زیادہ اچھی کوئی نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا ہے جسے وہ یقیناً پا کر ہی رہے گا، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، دل امنگ اور آرزو کرتا ہے، اب شرمگاہ خواہ اسے سچا کر دکھائے یا جھوٹا۔“ [صحیح بخاری:2643] ‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آنکھوں کا زنا نظر کرنا ہے اور ہونٹوں کا بوسہ لینا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پیروں کا زنا چلنا ہے اور شرمگاہ اسے سچا کرتی ہے یا جھوٹا کر دیتی ہے یعنی اگر شرمگاہ کو نہ روک سکا اور بدکاری کر بیٹھا تو سب اعضاء کا زنا ثابت اور اگر اپنے اس عضو کو روک لیا تو وہ سب «لَـمَـمَ» میں داخل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:516/11] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «لَـمَـمَ» بوسہ لینا، چھیڑنا، دیکھنا، مس کرنا ہے اور جب شرمگاہیں مل گئیں تو غسل واجب ہو گیا اور زناکاری کا گناہ ثابت ہو گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس جملہ کی تفسیر یہی مروی ہے یعنی جو پہلے گزر چکا، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں گناہ سے آلودگی ہو پھر چھوڑ دے تو «لَـمَـمَ» میں داخل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:528/11] ‏ شاعر کہتا ہے «إِنْ تَغْفِرْ اللَّهُمَّ تَغْفِرْ جَمًّا» *** «أَيّ عَبْدٍ لَك مَا أَلَمَّا» اے اللہ! جبکہ تو معاف فرماتا ہے تو سب کچھ ہی معاف فرما دے ورنہ یوں آلودہ عصیاں تو ہر انسان ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اہل جاہلیت اپنے طواف میں عموماً اس شعر کو پڑھا کرتے تھے۔ ابن جریر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شعر کو پڑھنا بھی مروی ہے، ترمذی میں بھی یہ مروی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي:3284،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہمیں اس کی اور سند معلوم نہیں صرف اسی سند سے مرفوعاً مروی ہے ابن ابی حاتم اور بغوی نے بھی اسے نقل کیا ہے بغوی نے اسے سورۃ تنزیل میں روایت کیا ہے لیکن اس مرفوع کی صحت میں نظر ہے۔ صفحہ نمبر8949 ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مراد یہ ہے کہ زنا سے نزدیکی ہونے کے بعد توبہ کرے اور پھر نہ لوٹے، چوری کے قریب ہو جانے کے بعد چوری نہ کی اور توبہ کر کے لوٹ آیا، اسی طرح شراب پینے کے قریب ہو کر شراب نہ پی اور توبہ کر کے لوٹ گیا، یہ سب «المام» ہیں جو ایک مومن کو معاف ہیں“ ۔ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32569] ‏ ایک روایت میں ہے صحابہ رضی اللہ عنہم سے عمومًا اس کا مروی ہونا بیان کیا گیا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مراد اس سے شرک کے علاوہ گناہ ہیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دو حدوں کے درمیان حد زنا اور عذاب آخرت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہر وہ چیز جو دو حدوں کے درمیان حد دنیا اور حد آخرت نمازیں اس کا کفارہ بن جاتی ہیں اور وہ ہر واجب کر دینے والی سے کم ہے، حد دنیا تو وہ ہے جو کسی گناہ پر اللہ نے دنیاوی سزا مقرر کر دی ہے اور اس کی سزا دنیا میں مقرر نہیں کی۔ تیرے رب کی بخشش بہت وسیع ہے ہر چیز کو گھیر لیا ہے اور تمام گناہوں پر اس کا احاطہٰ ہے جیسے فرمان ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» [39-الزمر:53] ‏ ” اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جان پر اسراف کیا ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہ بڑی بخشش والا اور بڑے رحم والا ہے۔ “ پھر فرمایا وہ تمہیں دیکھنے والا اور تمہارے ہر حال کا علم رکھنے والا اور تمہارے ہر کلام کو سننے والا اور تمہارے تمام تر اعمال سے واقف ہے جبکہ اس نے تمہارے باپ آدم کو زمین سے پیدا کیا اور ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکالی جو چیونٹیوں کی طرح پھیل گئی پھر ان کی تقسیم کر کے دو گروہ بنا دئیے ایک جنت کے لیے اور ایک جہنم کے لیے اور جب تم اپنی ماں کے پیٹ میں بچے تھے اس کی مقرر کردہ فرشتے نے روزی، عمر، عمل، نیکی، بدی لکھ لی۔ بہت سے بچے پیٹ سے ہی گر جاتے ہیں، بہت سے دودھ پینے کی حالت میں فوت ہو جاتے ہیں، بہت سے دودھ چھٹنے کے بعد بلوغت سے پہلے ہی چل بستے ہیں، بہت سے عین جوانی میں دار دنیا خالی کر جاتے ہیں، اب جبکہ ہم تمام منازل کو طے کر چکے اور بڑھاپے میں آ گئے جس کے بعد کوئی منزل موت کے سوا نہیں اب بھی اگر ہم نہ سنبھلیں تو ہم سے بڑھ کر غافل کون ہے؟ خبردار تم اپنے نفس کو پاک نہ کہو اپنے نیک اعمال کی تعریفیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ، اپنے آپ سراہنے نہ لگو، جس کے دل میں رب کا ڈر ہے اسے رب ہی خوب جانتا ہے۔ صفحہ نمبر8950 اور آیت میں ہے «أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم بَلِ اللَّـهُ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا» [4-النساء:49] ‏ ” کیا تو نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جو اپنے نفس کی پاکیزگی آپ بیان کرتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ یہ اللہ کے ہاتھ ہے جسے وہ چاہے برتر اعلیٰ اور پاک صاف کر دے کسی پر کچھ بھی ظلم نہ ہو گا۔“ محمد بن عمرو بن عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے اپنی لڑکی کا نام برہ رکھا تو مجھ سے زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام سے منع فرمایا ہے خود میرا نام بھی برہ تھا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم خود اپنی برتری اور پاکی آپ نہ بیان کرو تم میں سے نیکی والوں کا علم پورے طور پر اللہ ہی کو ہے۔“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ فرمایا: ”زینب نام رکھو“ ۔ [صحیح مسلم:2142] ‏ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی ایک شخص کی بہت تعریفیں بیان کیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس تو نے اس کی گردن ماری، کئی مرتبہ یہی فرما کر ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کی تعریف ہی کرنی ہو تو یوں کہو، میرا گمان فلاں کے بارے میں ایسا ہے حقیقی علم اللہ کو ہی ہے پھر اپنی معلومات بیان کرو خود کسی کی پاکیزگیاں بیان کرنے نہ بیٹھ جاؤ“ ۔ [صحیح بخاری:2662] ‏ ابوداؤد اور مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے ان کی تعریفیں بیان کرنا شروع کر دیں اس پر مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ اس کے منہ میں مٹی بھرنے لگے اور فرمایا: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ تعریفیں کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں۔“ [صحیح مسلم:7431] ‏ صفحہ نمبر8951

النجم 53:33

منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔ عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔ فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔ حدیث میں ہے اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ [طبرانی:1020:ضعیف] ‏ خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ‌ الرَّ‌ازِقِينَ» [34-سبأ:39] ‏ ” تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ “ «وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَ‌اهِيمَ رَ‌بُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» [2-البقرة:124] ‏، ” ابراہیم (‏علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ “ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔ صفحہ نمبر8953 جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل:123] ‏ ” پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ “ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ [ضعیف جدا] ‏ ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» [30-الروم:17] ‏ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ صفحہ نمبر8954 جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» [35-فاطر:18] ‏، ” اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ “ ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (‏رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے“ ۔ [صحیح مسلم:1631] ‏ صفحہ نمبر8955 اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» [36-يس:12] ‏، یعنی ” ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ “ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ [صحیح مسلم:2674] ‏ پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [9-التوبة:105] ‏، یعنی ” کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا “ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ صفحہ نمبر8956

النجم 53:34

منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔ عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔ فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔ حدیث میں ہے اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ [طبرانی:1020:ضعیف] ‏ خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ‌ الرَّ‌ازِقِينَ» [34-سبأ:39] ‏ ” تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ “ «وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَ‌اهِيمَ رَ‌بُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» [2-البقرة:124] ‏، ” ابراہیم (‏علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ “ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔ صفحہ نمبر8953 جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل:123] ‏ ” پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ “ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ [ضعیف جدا] ‏ ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» [30-الروم:17] ‏ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ صفحہ نمبر8954 جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» [35-فاطر:18] ‏، ” اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ “ ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (‏رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے“ ۔ [صحیح مسلم:1631] ‏ صفحہ نمبر8955 اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» [36-يس:12] ‏، یعنی ” ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ “ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ [صحیح مسلم:2674] ‏ پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [9-التوبة:105] ‏، یعنی ” کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا “ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ صفحہ نمبر8956

النجم 53:35

منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔ عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔ فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔ حدیث میں ہے اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ [طبرانی:1020:ضعیف] ‏ خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ‌ الرَّ‌ازِقِينَ» [34-سبأ:39] ‏ ” تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ “ «وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَ‌اهِيمَ رَ‌بُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» [2-البقرة:124] ‏، ” ابراہیم (‏علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ “ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔ صفحہ نمبر8953 جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل:123] ‏ ” پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ “ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ [ضعیف جدا] ‏ ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» [30-الروم:17] ‏ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ صفحہ نمبر8954 جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» [35-فاطر:18] ‏، ” اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ “ ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (‏رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے“ ۔ [صحیح مسلم:1631] ‏ صفحہ نمبر8955 اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» [36-يس:12] ‏، یعنی ” ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ “ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ [صحیح مسلم:2674] ‏ پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [9-التوبة:105] ‏، یعنی ” کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا “ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ صفحہ نمبر8956

النجم 53:36

منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔ عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔ فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔ حدیث میں ہے اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ [طبرانی:1020:ضعیف] ‏ خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ‌ الرَّ‌ازِقِينَ» [34-سبأ:39] ‏ ” تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ “ «وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَ‌اهِيمَ رَ‌بُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» [2-البقرة:124] ‏، ” ابراہیم (‏علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ “ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔ صفحہ نمبر8953 جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل:123] ‏ ” پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ “ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ [ضعیف جدا] ‏ ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» [30-الروم:17] ‏ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ صفحہ نمبر8954 جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» [35-فاطر:18] ‏، ” اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ “ ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (‏رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے“ ۔ [صحیح مسلم:1631] ‏ صفحہ نمبر8955 اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» [36-يس:12] ‏، یعنی ” ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ “ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ [صحیح مسلم:2674] ‏ پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [9-التوبة:105] ‏، یعنی ” کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا “ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ صفحہ نمبر8956

النجم 53:37

منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔ عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔ فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔ حدیث میں ہے اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ [طبرانی:1020:ضعیف] ‏ خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ‌ الرَّ‌ازِقِينَ» [34-سبأ:39] ‏ ” تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ “ «وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَ‌اهِيمَ رَ‌بُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» [2-البقرة:124] ‏، ” ابراہیم (‏علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ “ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔ صفحہ نمبر8953 جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل:123] ‏ ” پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ “ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ [ضعیف جدا] ‏ ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» [30-الروم:17] ‏ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ صفحہ نمبر8954 جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» [35-فاطر:18] ‏، ” اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ “ ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (‏رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے“ ۔ [صحیح مسلم:1631] ‏ صفحہ نمبر8955 اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» [36-يس:12] ‏، یعنی ” ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ “ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ [صحیح مسلم:2674] ‏ پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [9-التوبة:105] ‏، یعنی ” کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا “ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ صفحہ نمبر8956

النجم 53:38

منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔ عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔ فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔ حدیث میں ہے اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ [طبرانی:1020:ضعیف] ‏ خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ‌ الرَّ‌ازِقِينَ» [34-سبأ:39] ‏ ” تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ “ «وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَ‌اهِيمَ رَ‌بُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» [2-البقرة:124] ‏، ” ابراہیم (‏علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ “ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔ صفحہ نمبر8953 جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل:123] ‏ ” پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ “ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ [ضعیف جدا] ‏ ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» [30-الروم:17] ‏ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ صفحہ نمبر8954 جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» [35-فاطر:18] ‏، ” اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ “ ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (‏رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے“ ۔ [صحیح مسلم:1631] ‏ صفحہ نمبر8955 اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» [36-يس:12] ‏، یعنی ” ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ “ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ [صحیح مسلم:2674] ‏ پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [9-التوبة:105] ‏، یعنی ” کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا “ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ صفحہ نمبر8956

النجم 53:39

منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔ عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔ فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔ حدیث میں ہے اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ [طبرانی:1020:ضعیف] ‏ خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ‌ الرَّ‌ازِقِينَ» [34-سبأ:39] ‏ ” تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ “ «وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَ‌اهِيمَ رَ‌بُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» [2-البقرة:124] ‏، ” ابراہیم (‏علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ “ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔ صفحہ نمبر8953 جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل:123] ‏ ” پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ “ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ [ضعیف جدا] ‏ ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» [30-الروم:17] ‏ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ صفحہ نمبر8954 جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» [35-فاطر:18] ‏، ” اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ “ ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (‏رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے“ ۔ [صحیح مسلم:1631] ‏ صفحہ نمبر8955 اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» [36-يس:12] ‏، یعنی ” ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ “ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ [صحیح مسلم:2674] ‏ پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [9-التوبة:105] ‏، یعنی ” کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا “ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ صفحہ نمبر8956

النجم 53:40

منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔ عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔ فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔ حدیث میں ہے اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ [طبرانی:1020:ضعیف] ‏ خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ‌ الرَّ‌ازِقِينَ» [34-سبأ:39] ‏ ” تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ “ «وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَ‌اهِيمَ رَ‌بُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» [2-البقرة:124] ‏، ” ابراہیم (‏علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ “ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔ صفحہ نمبر8953 جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل:123] ‏ ” پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ “ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ [ضعیف جدا] ‏ ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» [30-الروم:17] ‏ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ صفحہ نمبر8954 جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» [35-فاطر:18] ‏، ” اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ “ ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (‏رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے“ ۔ [صحیح مسلم:1631] ‏ صفحہ نمبر8955 اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» [36-يس:12] ‏، یعنی ” ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ “ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ [صحیح مسلم:2674] ‏ پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [9-التوبة:105] ‏، یعنی ” کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا “ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ صفحہ نمبر8956

النجم 53:41

منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔ عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔ فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔ حدیث میں ہے اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ [طبرانی:1020:ضعیف] ‏ خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ‌ الرَّ‌ازِقِينَ» [34-سبأ:39] ‏ ” تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ “ «وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَ‌اهِيمَ رَ‌بُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» [2-البقرة:124] ‏، ” ابراہیم (‏علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ “ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔ صفحہ نمبر8953 جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل:123] ‏ ” پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ “ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ [ضعیف جدا] ‏ ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» [30-الروم:17] ‏ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ صفحہ نمبر8954 جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» [35-فاطر:18] ‏، ” اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ “ ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (‏رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے“ ۔ [صحیح مسلم:1631] ‏ صفحہ نمبر8955 اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» [36-يس:12] ‏، یعنی ” ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ “ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ [صحیح مسلم:2674] ‏ پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [9-التوبة:105] ‏، یعنی ” کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا “ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ صفحہ نمبر8956

النجم 53:42

سب کی آخری منزل اللہ تعالٰی ادراک سے بلند ہے ٭٭ فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا: ”اے بنی اود! میں اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے، پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ۔“ بغوی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں“ ۔ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف] ‏ جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو، اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پا سکتا۔ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف] ‏ گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں، مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے، اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے۔ [صحیح بخاری:3276] ‏ سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو، سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال۔ [صحیح مسلم:134] ‏ پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت و حیات کا خالق ہے۔ جیسے فرمایا «الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ» [67-الملک:2] ‏ ” اس نے موت و حیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا “۔ صفحہ نمبر8965

النجم 53:43

سب کی آخری منزل اللہ تعالٰی ادراک سے بلند ہے ٭٭ فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا: ”اے بنی اود! میں اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے، پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ۔“ بغوی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں“ ۔ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف] ‏ جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو، اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پا سکتا۔ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف] ‏ گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں، مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے، اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے۔ [صحیح بخاری:3276] ‏ سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو، سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال۔ [صحیح مسلم:134] ‏ پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت و حیات کا خالق ہے۔ جیسے فرمایا «الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ» [67-الملک:2] ‏ ” اس نے موت و حیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا “۔ صفحہ نمبر8965

النجم 53:44

سب کی آخری منزل اللہ تعالٰی ادراک سے بلند ہے ٭٭ فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا: ”اے بنی اود! میں اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے، پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ۔“ بغوی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں“ ۔ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف] ‏ جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو، اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پا سکتا۔ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف] ‏ گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں، مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے، اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے۔ [صحیح بخاری:3276] ‏ سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو، سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال۔ [صحیح مسلم:134] ‏ پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت و حیات کا خالق ہے۔ جیسے فرمایا «الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ» [67-الملک:2] ‏ ” اس نے موت و حیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا “۔ صفحہ نمبر8965

النجم 53:45

سب کی آخری منزل اللہ تعالٰی ادراک سے بلند ہے ٭٭ فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا: ”اے بنی اود! میں اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے، پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ۔“ بغوی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں“ ۔ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف] ‏ جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو، اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پا سکتا۔ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف] ‏ گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں، مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے، اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے۔ [صحیح بخاری:3276] ‏ سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو، سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال۔ [صحیح مسلم:134] ‏ پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت و حیات کا خالق ہے۔ جیسے فرمایا «الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ» [67-الملک:2] ‏ ” اس نے موت و حیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا “۔ صفحہ نمبر8965

النجم 53:46

باب جیسے اور جگہ فرمان ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَىٰ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ» [75-القيامة:40-36] ‏، ” کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بےکار چھوڑ دیا جائے گا؟، کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا، جو (‏رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟، پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا؟، پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے، کیا (‏ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے۔“ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا، یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے، اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنا دیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے۔ صفحہ نمبر8969 اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے، اس نے دیا اور خوش ہوا، اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنا دیا، جسے چاہا غنی کیا، جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ «شعریٰ» اس روشن ستارے کا نام ہے جسے «مِرْزَم الْجَوْزَاء» بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے۔ عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کر دیا۔ جیسے فرمایا «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏، یعنی ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ “ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زور آور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی۔ «وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا» [69-الحاقة:6،7] ‏ ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا، اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کر دیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہو چکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن و قہار نے زیر و زبر کر دیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کر دیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (‏پتھروں نے) اور آیت میں ہے «وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ» [26-الشعراء:173] ‏ ” جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ “ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے، آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا: ” پھر تو اے انسان! اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا؟ “ بعض کہتے ہیں خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر رحمہ اللہ بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:540/11] ‏ صفحہ نمبر8970

النجم 53:47

باب جیسے اور جگہ فرمان ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَىٰ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ» [75-القيامة:40-36] ‏، ” کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بےکار چھوڑ دیا جائے گا؟، کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا، جو (‏رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟، پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا؟، پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے، کیا (‏ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے۔“ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا، یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے، اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنا دیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے۔ صفحہ نمبر8969 اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے، اس نے دیا اور خوش ہوا، اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنا دیا، جسے چاہا غنی کیا، جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ «شعریٰ» اس روشن ستارے کا نام ہے جسے «مِرْزَم الْجَوْزَاء» بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے۔ عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کر دیا۔ جیسے فرمایا «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏، یعنی ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ “ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زور آور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی۔ «وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا» [69-الحاقة:6،7] ‏ ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا، اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کر دیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہو چکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن و قہار نے زیر و زبر کر دیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کر دیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (‏پتھروں نے) اور آیت میں ہے «وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ» [26-الشعراء:173] ‏ ” جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ “ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے، آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا: ” پھر تو اے انسان! اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا؟ “ بعض کہتے ہیں خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر رحمہ اللہ بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:540/11] ‏ صفحہ نمبر8970

النجم 53:48

باب جیسے اور جگہ فرمان ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَىٰ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ» [75-القيامة:40-36] ‏، ” کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بےکار چھوڑ دیا جائے گا؟، کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا، جو (‏رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟، پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا؟، پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے، کیا (‏ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے۔“ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا، یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے، اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنا دیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے۔ صفحہ نمبر8969 اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے، اس نے دیا اور خوش ہوا، اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنا دیا، جسے چاہا غنی کیا، جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ «شعریٰ» اس روشن ستارے کا نام ہے جسے «مِرْزَم الْجَوْزَاء» بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے۔ عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کر دیا۔ جیسے فرمایا «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏، یعنی ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ “ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زور آور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی۔ «وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا» [69-الحاقة:6،7] ‏ ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا، اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کر دیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہو چکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن و قہار نے زیر و زبر کر دیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کر دیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (‏پتھروں نے) اور آیت میں ہے «وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ» [26-الشعراء:173] ‏ ” جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ “ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے، آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا: ” پھر تو اے انسان! اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا؟ “ بعض کہتے ہیں خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر رحمہ اللہ بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:540/11] ‏ صفحہ نمبر8970

النجم 53:49

باب جیسے اور جگہ فرمان ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَىٰ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ» [75-القيامة:40-36] ‏، ” کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بےکار چھوڑ دیا جائے گا؟، کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا، جو (‏رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟، پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا؟، پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے، کیا (‏ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے۔“ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا، یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے، اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنا دیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے۔ صفحہ نمبر8969 اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے، اس نے دیا اور خوش ہوا، اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنا دیا، جسے چاہا غنی کیا، جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ «شعریٰ» اس روشن ستارے کا نام ہے جسے «مِرْزَم الْجَوْزَاء» بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے۔ عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کر دیا۔ جیسے فرمایا «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏، یعنی ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ “ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زور آور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی۔ «وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا» [69-الحاقة:6،7] ‏ ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا، اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کر دیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہو چکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن و قہار نے زیر و زبر کر دیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کر دیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (‏پتھروں نے) اور آیت میں ہے «وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ» [26-الشعراء:173] ‏ ” جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ “ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے، آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا: ” پھر تو اے انسان! اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا؟ “ بعض کہتے ہیں خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر رحمہ اللہ بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:540/11] ‏ صفحہ نمبر8970

النجم 53:50

باب جیسے اور جگہ فرمان ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَىٰ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ» [75-القيامة:40-36] ‏، ” کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بےکار چھوڑ دیا جائے گا؟، کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا، جو (‏رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟، پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا؟، پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے، کیا (‏ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے۔“ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا، یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے، اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنا دیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے۔ صفحہ نمبر8969 اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے، اس نے دیا اور خوش ہوا، اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنا دیا، جسے چاہا غنی کیا، جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ «شعریٰ» اس روشن ستارے کا نام ہے جسے «مِرْزَم الْجَوْزَاء» بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے۔ عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کر دیا۔ جیسے فرمایا «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏، یعنی ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ “ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زور آور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی۔ «وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا» [69-الحاقة:6،7] ‏ ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا، اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کر دیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہو چکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن و قہار نے زیر و زبر کر دیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کر دیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (‏پتھروں نے) اور آیت میں ہے «وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ» [26-الشعراء:173] ‏ ” جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ “ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے، آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا: ” پھر تو اے انسان! اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا؟ “ بعض کہتے ہیں خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر رحمہ اللہ بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:540/11] ‏ صفحہ نمبر8970

النجم 53:51

باب جیسے اور جگہ فرمان ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَىٰ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ» [75-القيامة:40-36] ‏، ” کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بےکار چھوڑ دیا جائے گا؟، کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا، جو (‏رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟، پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا؟، پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے، کیا (‏ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے۔“ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا، یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے، اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنا دیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے۔ صفحہ نمبر8969 اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے، اس نے دیا اور خوش ہوا، اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنا دیا، جسے چاہا غنی کیا، جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ «شعریٰ» اس روشن ستارے کا نام ہے جسے «مِرْزَم الْجَوْزَاء» بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے۔ عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کر دیا۔ جیسے فرمایا «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏، یعنی ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ “ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زور آور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی۔ «وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا» [69-الحاقة:6،7] ‏ ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا، اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کر دیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہو چکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن و قہار نے زیر و زبر کر دیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کر دیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (‏پتھروں نے) اور آیت میں ہے «وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ» [26-الشعراء:173] ‏ ” جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ “ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے، آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا: ” پھر تو اے انسان! اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا؟ “ بعض کہتے ہیں خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر رحمہ اللہ بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:540/11] ‏ صفحہ نمبر8970

النجم 53:52

باب جیسے اور جگہ فرمان ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَىٰ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ» [75-القيامة:40-36] ‏، ” کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بےکار چھوڑ دیا جائے گا؟، کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا، جو (‏رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟، پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا؟، پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے، کیا (‏ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے۔“ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا، یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے، اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنا دیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے۔ صفحہ نمبر8969 اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے، اس نے دیا اور خوش ہوا، اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنا دیا، جسے چاہا غنی کیا، جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ «شعریٰ» اس روشن ستارے کا نام ہے جسے «مِرْزَم الْجَوْزَاء» بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے۔ عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کر دیا۔ جیسے فرمایا «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏، یعنی ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ “ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زور آور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی۔ «وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا» [69-الحاقة:6،7] ‏ ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا، اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کر دیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہو چکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن و قہار نے زیر و زبر کر دیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کر دیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (‏پتھروں نے) اور آیت میں ہے «وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ» [26-الشعراء:173] ‏ ” جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ “ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے، آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا: ” پھر تو اے انسان! اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا؟ “ بعض کہتے ہیں خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر رحمہ اللہ بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:540/11] ‏ صفحہ نمبر8970

النجم 53:53

باب جیسے اور جگہ فرمان ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَىٰ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ» [75-القيامة:40-36] ‏، ” کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بےکار چھوڑ دیا جائے گا؟، کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا، جو (‏رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟، پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا؟، پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے، کیا (‏ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے۔“ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا، یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے، اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنا دیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے۔ صفحہ نمبر8969 اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے، اس نے دیا اور خوش ہوا، اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنا دیا، جسے چاہا غنی کیا، جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ «شعریٰ» اس روشن ستارے کا نام ہے جسے «مِرْزَم الْجَوْزَاء» بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے۔ عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کر دیا۔ جیسے فرمایا «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏، یعنی ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ “ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زور آور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی۔ «وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا» [69-الحاقة:6،7] ‏ ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا، اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کر دیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہو چکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن و قہار نے زیر و زبر کر دیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کر دیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (‏پتھروں نے) اور آیت میں ہے «وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ» [26-الشعراء:173] ‏ ” جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ “ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے، آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا: ” پھر تو اے انسان! اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا؟ “ بعض کہتے ہیں خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر رحمہ اللہ بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:540/11] ‏ صفحہ نمبر8970

النجم 53:54

باب جیسے اور جگہ فرمان ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَىٰ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ» [75-القيامة:40-36] ‏، ” کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بےکار چھوڑ دیا جائے گا؟، کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا، جو (‏رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟، پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا؟، پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے، کیا (‏ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے۔“ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا، یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے، اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنا دیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے۔ صفحہ نمبر8969 اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے، اس نے دیا اور خوش ہوا، اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنا دیا، جسے چاہا غنی کیا، جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ «شعریٰ» اس روشن ستارے کا نام ہے جسے «مِرْزَم الْجَوْزَاء» بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے۔ عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کر دیا۔ جیسے فرمایا «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏، یعنی ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ “ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زور آور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی۔ «وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا» [69-الحاقة:6،7] ‏ ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا، اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کر دیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہو چکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن و قہار نے زیر و زبر کر دیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کر دیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (‏پتھروں نے) اور آیت میں ہے «وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ» [26-الشعراء:173] ‏ ” جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ “ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے، آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا: ” پھر تو اے انسان! اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا؟ “ بعض کہتے ہیں خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر رحمہ اللہ بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:540/11] ‏ صفحہ نمبر8970

النجم 53:55

باب جیسے اور جگہ فرمان ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَىٰ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ» [75-القيامة:40-36] ‏، ” کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بےکار چھوڑ دیا جائے گا؟، کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا، جو (‏رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟، پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا؟، پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے، کیا (‏ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے۔“ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا، یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے، اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنا دیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے۔ صفحہ نمبر8969 اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے، اس نے دیا اور خوش ہوا، اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنا دیا، جسے چاہا غنی کیا، جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ «شعریٰ» اس روشن ستارے کا نام ہے جسے «مِرْزَم الْجَوْزَاء» بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے۔ عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کر دیا۔ جیسے فرمایا «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏، یعنی ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ “ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زور آور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی۔ «وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا» [69-الحاقة:6،7] ‏ ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا، اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کر دیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہو چکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن و قہار نے زیر و زبر کر دیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کر دیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (‏پتھروں نے) اور آیت میں ہے «وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ» [26-الشعراء:173] ‏ ” جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ “ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے، آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا: ” پھر تو اے انسان! اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا؟ “ بعض کہتے ہیں خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر رحمہ اللہ بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:540/11] ‏ صفحہ نمبر8970

النجم 53:56

”نذیر“ کا مفہوم ، نذیر کہتے کسے ہیں ٭٭ یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی۔ جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ» [46-الأحقاف:9] ‏ یعنی ” میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں، قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آ گئی، نہ تو اسے کوئی دفع کر سکے، نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔“ صفحہ نمبر8980 «نذیر» عربی میں اسے کہتے ہیں مثلاً ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ» [34-سبأ:46] ‏ ” میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں۔ “ حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ [صحیح بخاری:9482] ‏ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آ جائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آ رہی ہے، فوراً تدارک کر لو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہو گئے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54-القمر:1] ‏ ” قیامت قریب آ چکی۔“ صفحہ نمبر8981 مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو! گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو، سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے، تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کر لی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہو جاتا ہے۔ اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لیے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لیے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتا دیا کہ خبردار ہو جاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ [مسند احمد:331/5:صحیح] ‏ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں، بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے اور ہنسی کرنے لگتے ہیں۔ چاہیئے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ صفحہ نمبر8982 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «سَمَد» گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے «سَامِدُوْنَ» کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں، علی اور حسن رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ ” توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ “۔ صفحہ نمبر8983 صحیح بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، مسلمانوں نے، مشرکوں نے اور جن و انس نے سورۃ النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا ۔ [صحیح بخاری:7462] ‏ مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم پڑھی پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ، راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا، یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورۃ مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے۔ [مسند احمد:400/6:حسن] ‏ یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ [سنن نسائی:959:حسن] ‏ صفحہ نمبر8984

النجم 53:57

”نذیر“ کا مفہوم ، نذیر کہتے کسے ہیں ٭٭ یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی۔ جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ» [46-الأحقاف:9] ‏ یعنی ” میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں، قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آ گئی، نہ تو اسے کوئی دفع کر سکے، نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔“ صفحہ نمبر8980 «نذیر» عربی میں اسے کہتے ہیں مثلاً ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ» [34-سبأ:46] ‏ ” میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں۔ “ حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ [صحیح بخاری:9482] ‏ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آ جائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آ رہی ہے، فوراً تدارک کر لو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہو گئے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54-القمر:1] ‏ ” قیامت قریب آ چکی۔“ صفحہ نمبر8981 مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو! گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو، سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے، تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کر لی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہو جاتا ہے۔ اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لیے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لیے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتا دیا کہ خبردار ہو جاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ [مسند احمد:331/5:صحیح] ‏ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں، بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے اور ہنسی کرنے لگتے ہیں۔ چاہیئے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ صفحہ نمبر8982 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «سَمَد» گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے «سَامِدُوْنَ» کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں، علی اور حسن رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ ” توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ “۔ صفحہ نمبر8983 صحیح بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، مسلمانوں نے، مشرکوں نے اور جن و انس نے سورۃ النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا ۔ [صحیح بخاری:7462] ‏ مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم پڑھی پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ، راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا، یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورۃ مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے۔ [مسند احمد:400/6:حسن] ‏ یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ [سنن نسائی:959:حسن] ‏ صفحہ نمبر8984

النجم 53:58

”نذیر“ کا مفہوم ، نذیر کہتے کسے ہیں ٭٭ یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی۔ جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ» [46-الأحقاف:9] ‏ یعنی ” میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں، قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آ گئی، نہ تو اسے کوئی دفع کر سکے، نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔“ صفحہ نمبر8980 «نذیر» عربی میں اسے کہتے ہیں مثلاً ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ» [34-سبأ:46] ‏ ” میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں۔ “ حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ [صحیح بخاری:9482] ‏ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آ جائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آ رہی ہے، فوراً تدارک کر لو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہو گئے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54-القمر:1] ‏ ” قیامت قریب آ چکی۔“ صفحہ نمبر8981 مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو! گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو، سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے، تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کر لی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہو جاتا ہے۔ اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لیے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لیے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتا دیا کہ خبردار ہو جاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ [مسند احمد:331/5:صحیح] ‏ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں، بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے اور ہنسی کرنے لگتے ہیں۔ چاہیئے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ صفحہ نمبر8982 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «سَمَد» گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے «سَامِدُوْنَ» کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں، علی اور حسن رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ ” توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ “۔ صفحہ نمبر8983 صحیح بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، مسلمانوں نے، مشرکوں نے اور جن و انس نے سورۃ النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا ۔ [صحیح بخاری:7462] ‏ مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم پڑھی پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ، راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا، یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورۃ مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے۔ [مسند احمد:400/6:حسن] ‏ یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ [سنن نسائی:959:حسن] ‏ صفحہ نمبر8984

النجم 53:59

”نذیر“ کا مفہوم ، نذیر کہتے کسے ہیں ٭٭ یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی۔ جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ» [46-الأحقاف:9] ‏ یعنی ” میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں، قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آ گئی، نہ تو اسے کوئی دفع کر سکے، نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔“ صفحہ نمبر8980 «نذیر» عربی میں اسے کہتے ہیں مثلاً ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ» [34-سبأ:46] ‏ ” میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں۔ “ حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ [صحیح بخاری:9482] ‏ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آ جائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آ رہی ہے، فوراً تدارک کر لو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہو گئے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54-القمر:1] ‏ ” قیامت قریب آ چکی۔“ صفحہ نمبر8981 مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو! گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو، سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے، تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کر لی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہو جاتا ہے۔ اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لیے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لیے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتا دیا کہ خبردار ہو جاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ [مسند احمد:331/5:صحیح] ‏ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں، بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے اور ہنسی کرنے لگتے ہیں۔ چاہیئے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ صفحہ نمبر8982 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «سَمَد» گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے «سَامِدُوْنَ» کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں، علی اور حسن رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ ” توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ “۔ صفحہ نمبر8983 صحیح بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، مسلمانوں نے، مشرکوں نے اور جن و انس نے سورۃ النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا ۔ [صحیح بخاری:7462] ‏ مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم پڑھی پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ، راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا، یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورۃ مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے۔ [مسند احمد:400/6:حسن] ‏ یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ [سنن نسائی:959:حسن] ‏ صفحہ نمبر8984

النجم 53:60

”نذیر“ کا مفہوم ، نذیر کہتے کسے ہیں ٭٭ یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی۔ جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ» [46-الأحقاف:9] ‏ یعنی ” میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں، قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آ گئی، نہ تو اسے کوئی دفع کر سکے، نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔“ صفحہ نمبر8980 «نذیر» عربی میں اسے کہتے ہیں مثلاً ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ» [34-سبأ:46] ‏ ” میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں۔ “ حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ [صحیح بخاری:9482] ‏ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آ جائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آ رہی ہے، فوراً تدارک کر لو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہو گئے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54-القمر:1] ‏ ” قیامت قریب آ چکی۔“ صفحہ نمبر8981 مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو! گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو، سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے، تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کر لی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہو جاتا ہے۔ اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لیے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لیے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتا دیا کہ خبردار ہو جاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ [مسند احمد:331/5:صحیح] ‏ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں، بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے اور ہنسی کرنے لگتے ہیں۔ چاہیئے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ صفحہ نمبر8982 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «سَمَد» گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے «سَامِدُوْنَ» کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں، علی اور حسن رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ ” توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ “۔ صفحہ نمبر8983 صحیح بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، مسلمانوں نے، مشرکوں نے اور جن و انس نے سورۃ النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا ۔ [صحیح بخاری:7462] ‏ مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم پڑھی پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ، راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا، یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورۃ مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے۔ [مسند احمد:400/6:حسن] ‏ یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ [سنن نسائی:959:حسن] ‏ صفحہ نمبر8984

النجم 53:61

”نذیر“ کا مفہوم ، نذیر کہتے کسے ہیں ٭٭ یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی۔ جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ» [46-الأحقاف:9] ‏ یعنی ” میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں، قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آ گئی، نہ تو اسے کوئی دفع کر سکے، نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔“ صفحہ نمبر8980 «نذیر» عربی میں اسے کہتے ہیں مثلاً ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ» [34-سبأ:46] ‏ ” میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں۔ “ حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ [صحیح بخاری:9482] ‏ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آ جائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آ رہی ہے، فوراً تدارک کر لو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہو گئے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54-القمر:1] ‏ ” قیامت قریب آ چکی۔“ صفحہ نمبر8981 مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو! گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو، سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے، تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کر لی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہو جاتا ہے۔ اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لیے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لیے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتا دیا کہ خبردار ہو جاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ [مسند احمد:331/5:صحیح] ‏ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں، بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے اور ہنسی کرنے لگتے ہیں۔ چاہیئے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ صفحہ نمبر8982 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «سَمَد» گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے «سَامِدُوْنَ» کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں، علی اور حسن رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ ” توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ “۔ صفحہ نمبر8983 صحیح بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، مسلمانوں نے، مشرکوں نے اور جن و انس نے سورۃ النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا ۔ [صحیح بخاری:7462] ‏ مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم پڑھی پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ، راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا، یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورۃ مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے۔ [مسند احمد:400/6:حسن] ‏ یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ [سنن نسائی:959:حسن] ‏ صفحہ نمبر8984

النجم 53:62

”نذیر“ کا مفہوم ، نذیر کہتے کسے ہیں ٭٭ یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی۔ جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ» [46-الأحقاف:9] ‏ یعنی ” میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں، قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آ گئی، نہ تو اسے کوئی دفع کر سکے، نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔“ صفحہ نمبر8980 «نذیر» عربی میں اسے کہتے ہیں مثلاً ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ» [34-سبأ:46] ‏ ” میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں۔ “ حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ [صحیح بخاری:9482] ‏ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آ جائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آ رہی ہے، فوراً تدارک کر لو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہو گئے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54-القمر:1] ‏ ” قیامت قریب آ چکی۔“ صفحہ نمبر8981 مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو! گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو، سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے، تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کر لی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہو جاتا ہے۔ اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لیے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لیے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتا دیا کہ خبردار ہو جاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ [مسند احمد:331/5:صحیح] ‏ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں، بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے اور ہنسی کرنے لگتے ہیں۔ چاہیئے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ صفحہ نمبر8982 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «سَمَد» گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے «سَامِدُوْنَ» کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں، علی اور حسن رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ ” توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ “۔ صفحہ نمبر8983 صحیح بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، مسلمانوں نے، مشرکوں نے اور جن و انس نے سورۃ النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا ۔ [صحیح بخاری:7462] ‏ مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم پڑھی پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ، راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا، یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورۃ مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے۔ [مسند احمد:400/6:حسن] ‏ یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ [سنن نسائی:959:حسن] ‏ صفحہ نمبر8984

القمر 54:1

تفسیر سورۃ القمر: واقدی کی روایت سے پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں سورۃ ق اور سورۃ اقتربت الساعۃ پڑھا کرتے تھے اسی طرح بڑی بڑی محفلوں میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم:891) کیونکہ اس میں وعدے وعید کا، ابتداء آفرینش اور دوبارہ زندگی کا، ساتھ ہی توحید اور اثبات رسالت وغیرہ اہم مقاصد اسلامیہ کا ذکر ہے۔ قیامت قریب آ چکی ٭٭ اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» [16-النحل:1] ‏ یعنی ” اللہ کا امر آ چکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو “۔ اور فرمایا «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ» [21-الأنبياء:1] ‏ یعنی ” لوگوں کے حساب کا وقت ان کے سروں پر آ پہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں “۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں، مسند بزار میں ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خطبہ دیا جس میں فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا کے گزرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گزرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے ۔ اس حدیث کے راویوں میں خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے۔ [مسند بزار343/2] ‏ صفحہ نمبر8991 باب دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہو چکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے“ ۔ [مسند احمد:116/2:حسن] ‏ مسند کی اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے ۔ [مسند احمد:338/5:صحیح] ‏ ولید بن عبدالملک کے پاس جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر آپ نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم اور قربتِ قیامت ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو“ ۔ [مسند احمد:223/3:صحیح] ‏ اس کی شہادت اس حدیث سے ہو سکتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام «حاشر» آیا ہے اور «حاشر» وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو۔ [صحیح بخاری:3532] ‏ صفحہ نمبر8992 بہز کی روایت سے مروی ہے کہ سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہو چکا، یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھا لیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے، اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا، صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے، تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں، پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ، سنو! ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہو گی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی ۔ [صحیح مسلم:2967] ‏ صفحہ نمبر8993 ابوعبدالرحمٰن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لیے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا سیدنا حذیفہ خطیب رضی اللہ عنہ تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا: لوگو سنو! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند دو ٹکرے ہو گیا۔ بیشک قیامت قریب آ چکی ہے، بیشک چاند پھٹ گیا ہے، بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے، آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے، کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہو گا، میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہو گی؟ جس میں آگے نکلنا ہو گا؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا: تم نادان ہو، یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ «غایت» آگ ہے اور «سابق» وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں «اللزام» بدر کی لڑائی کی ہلاکت، «الروم» غلبہ روم، «البطشة» سخت پکڑ، «القمر» چاند کے ٹکڑے ہونا اور «والدخان‏» دھواں یہ سب گزر چکا ہے۔ [صحیح بخاری:4825] ‏ اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہو گیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے ۔ [صحیح مسلم:2802] ‏ بخاری میں ہے کہ انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے، ایک حراء کے اس طرف، ایک اس طرف [صحیح بخاری:3285] ‏۔ مسند میں ہے ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد نے ہماری آنکھوں پر جادو کر دیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کر دیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کر سکتا ۔ [مسند احمد:81/4:صحیح] ‏ اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں ۔ [طبرانی کبیر:11642:ضعیف] ‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ“، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے۔ [صحیح مسلم:2801-44] ‏ صفحہ نمبر8994 سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا“ ۔ [صحیح مسلم:48] ‏ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب منیٰ میں تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:32697:ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ [ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو، ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کر سکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چنانچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے، کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آ کر یہی کہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا، جب کبھی آیا، جس طرف سے آیا، ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:545/11:] ‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا ۔ [مسند احمد:413/1:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8995 اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصاً سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابوبکر! تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:32714:مرسل] ‏ کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آ چکے ہیں، ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لا سکتا۔ جیسے فرمایا «قُلْ فَلِلَّـهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ» [6-الانعام:149] ‏ ” اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا “۔ اور جگہ ہے «وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» [10-یونس:101] ‏ ” بے ایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا “۔ ٖ صفحہ نمبر8996

القمر 54:2

تفسیر سورۃ القمر: واقدی کی روایت سے پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں سورۃ ق اور سورۃ اقتربت الساعۃ پڑھا کرتے تھے اسی طرح بڑی بڑی محفلوں میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم:891) کیونکہ اس میں وعدے وعید کا، ابتداء آفرینش اور دوبارہ زندگی کا، ساتھ ہی توحید اور اثبات رسالت وغیرہ اہم مقاصد اسلامیہ کا ذکر ہے۔ قیامت قریب آ چکی ٭٭ اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» [16-النحل:1] ‏ یعنی ” اللہ کا امر آ چکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو “۔ اور فرمایا «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ» [21-الأنبياء:1] ‏ یعنی ” لوگوں کے حساب کا وقت ان کے سروں پر آ پہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں “۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں، مسند بزار میں ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خطبہ دیا جس میں فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا کے گزرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گزرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے ۔ اس حدیث کے راویوں میں خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے۔ [مسند بزار343/2] ‏ صفحہ نمبر8991 باب دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہو چکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے“ ۔ [مسند احمد:116/2:حسن] ‏ مسند کی اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے ۔ [مسند احمد:338/5:صحیح] ‏ ولید بن عبدالملک کے پاس جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر آپ نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم اور قربتِ قیامت ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو“ ۔ [مسند احمد:223/3:صحیح] ‏ اس کی شہادت اس حدیث سے ہو سکتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام «حاشر» آیا ہے اور «حاشر» وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو۔ [صحیح بخاری:3532] ‏ صفحہ نمبر8992 بہز کی روایت سے مروی ہے کہ سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہو چکا، یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھا لیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے، اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا، صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے، تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں، پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ، سنو! ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہو گی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی ۔ [صحیح مسلم:2967] ‏ صفحہ نمبر8993 ابوعبدالرحمٰن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لیے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا سیدنا حذیفہ خطیب رضی اللہ عنہ تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا: لوگو سنو! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند دو ٹکرے ہو گیا۔ بیشک قیامت قریب آ چکی ہے، بیشک چاند پھٹ گیا ہے، بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے، آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے، کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہو گا، میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہو گی؟ جس میں آگے نکلنا ہو گا؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا: تم نادان ہو، یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ «غایت» آگ ہے اور «سابق» وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں «اللزام» بدر کی لڑائی کی ہلاکت، «الروم» غلبہ روم، «البطشة» سخت پکڑ، «القمر» چاند کے ٹکڑے ہونا اور «والدخان‏» دھواں یہ سب گزر چکا ہے۔ [صحیح بخاری:4825] ‏ اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہو گیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے ۔ [صحیح مسلم:2802] ‏ بخاری میں ہے کہ انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے، ایک حراء کے اس طرف، ایک اس طرف [صحیح بخاری:3285] ‏۔ مسند میں ہے ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد نے ہماری آنکھوں پر جادو کر دیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کر دیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کر سکتا ۔ [مسند احمد:81/4:صحیح] ‏ اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں ۔ [طبرانی کبیر:11642:ضعیف] ‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ“، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے۔ [صحیح مسلم:2801-44] ‏ صفحہ نمبر8994 سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا“ ۔ [صحیح مسلم:48] ‏ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب منیٰ میں تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:32697:ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ [ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو، ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کر سکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چنانچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے، کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آ کر یہی کہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا، جب کبھی آیا، جس طرف سے آیا، ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:545/11:] ‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا ۔ [مسند احمد:413/1:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8995 اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصاً سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابوبکر! تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:32714:مرسل] ‏ کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آ چکے ہیں، ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لا سکتا۔ جیسے فرمایا «قُلْ فَلِلَّـهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ» [6-الانعام:149] ‏ ” اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا “۔ اور جگہ ہے «وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» [10-یونس:101] ‏ ” بے ایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا “۔ ٖ صفحہ نمبر8996

القمر 54:3

تفسیر سورۃ القمر: واقدی کی روایت سے پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں سورۃ ق اور سورۃ اقتربت الساعۃ پڑھا کرتے تھے اسی طرح بڑی بڑی محفلوں میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم:891) کیونکہ اس میں وعدے وعید کا، ابتداء آفرینش اور دوبارہ زندگی کا، ساتھ ہی توحید اور اثبات رسالت وغیرہ اہم مقاصد اسلامیہ کا ذکر ہے۔ قیامت قریب آ چکی ٭٭ اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» [16-النحل:1] ‏ یعنی ” اللہ کا امر آ چکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو “۔ اور فرمایا «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ» [21-الأنبياء:1] ‏ یعنی ” لوگوں کے حساب کا وقت ان کے سروں پر آ پہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں “۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں، مسند بزار میں ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خطبہ دیا جس میں فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا کے گزرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گزرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے ۔ اس حدیث کے راویوں میں خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے۔ [مسند بزار343/2] ‏ صفحہ نمبر8991 باب دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہو چکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے“ ۔ [مسند احمد:116/2:حسن] ‏ مسند کی اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے ۔ [مسند احمد:338/5:صحیح] ‏ ولید بن عبدالملک کے پاس جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر آپ نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم اور قربتِ قیامت ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو“ ۔ [مسند احمد:223/3:صحیح] ‏ اس کی شہادت اس حدیث سے ہو سکتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام «حاشر» آیا ہے اور «حاشر» وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو۔ [صحیح بخاری:3532] ‏ صفحہ نمبر8992 بہز کی روایت سے مروی ہے کہ سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہو چکا، یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھا لیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے، اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا، صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے، تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں، پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ، سنو! ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہو گی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی ۔ [صحیح مسلم:2967] ‏ صفحہ نمبر8993 ابوعبدالرحمٰن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لیے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا سیدنا حذیفہ خطیب رضی اللہ عنہ تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا: لوگو سنو! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند دو ٹکرے ہو گیا۔ بیشک قیامت قریب آ چکی ہے، بیشک چاند پھٹ گیا ہے، بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے، آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے، کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہو گا، میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہو گی؟ جس میں آگے نکلنا ہو گا؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا: تم نادان ہو، یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ «غایت» آگ ہے اور «سابق» وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں «اللزام» بدر کی لڑائی کی ہلاکت، «الروم» غلبہ روم، «البطشة» سخت پکڑ، «القمر» چاند کے ٹکڑے ہونا اور «والدخان‏» دھواں یہ سب گزر چکا ہے۔ [صحیح بخاری:4825] ‏ اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہو گیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے ۔ [صحیح مسلم:2802] ‏ بخاری میں ہے کہ انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے، ایک حراء کے اس طرف، ایک اس طرف [صحیح بخاری:3285] ‏۔ مسند میں ہے ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد نے ہماری آنکھوں پر جادو کر دیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کر دیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کر سکتا ۔ [مسند احمد:81/4:صحیح] ‏ اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں ۔ [طبرانی کبیر:11642:ضعیف] ‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ“، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے۔ [صحیح مسلم:2801-44] ‏ صفحہ نمبر8994 سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا“ ۔ [صحیح مسلم:48] ‏ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب منیٰ میں تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:32697:ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ [ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو، ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کر سکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چنانچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے، کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آ کر یہی کہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا، جب کبھی آیا، جس طرف سے آیا، ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:545/11:] ‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا ۔ [مسند احمد:413/1:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8995 اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصاً سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابوبکر! تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:32714:مرسل] ‏ کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آ چکے ہیں، ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لا سکتا۔ جیسے فرمایا «قُلْ فَلِلَّـهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ» [6-الانعام:149] ‏ ” اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا “۔ اور جگہ ہے «وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» [10-یونس:101] ‏ ” بے ایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا “۔ ٖ صفحہ نمبر8996

القمر 54:4

تفسیر سورۃ القمر: واقدی کی روایت سے پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں سورۃ ق اور سورۃ اقتربت الساعۃ پڑھا کرتے تھے اسی طرح بڑی بڑی محفلوں میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم:891) کیونکہ اس میں وعدے وعید کا، ابتداء آفرینش اور دوبارہ زندگی کا، ساتھ ہی توحید اور اثبات رسالت وغیرہ اہم مقاصد اسلامیہ کا ذکر ہے۔ قیامت قریب آ چکی ٭٭ اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» [16-النحل:1] ‏ یعنی ” اللہ کا امر آ چکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو “۔ اور فرمایا «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ» [21-الأنبياء:1] ‏ یعنی ” لوگوں کے حساب کا وقت ان کے سروں پر آ پہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں “۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں، مسند بزار میں ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خطبہ دیا جس میں فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا کے گزرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گزرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے ۔ اس حدیث کے راویوں میں خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے۔ [مسند بزار343/2] ‏ صفحہ نمبر8991 باب دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہو چکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے“ ۔ [مسند احمد:116/2:حسن] ‏ مسند کی اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے ۔ [مسند احمد:338/5:صحیح] ‏ ولید بن عبدالملک کے پاس جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر آپ نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم اور قربتِ قیامت ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو“ ۔ [مسند احمد:223/3:صحیح] ‏ اس کی شہادت اس حدیث سے ہو سکتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام «حاشر» آیا ہے اور «حاشر» وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو۔ [صحیح بخاری:3532] ‏ صفحہ نمبر8992 بہز کی روایت سے مروی ہے کہ سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہو چکا، یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھا لیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے، اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا، صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے، تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں، پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ، سنو! ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہو گی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی ۔ [صحیح مسلم:2967] ‏ صفحہ نمبر8993 ابوعبدالرحمٰن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لیے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا سیدنا حذیفہ خطیب رضی اللہ عنہ تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا: لوگو سنو! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند دو ٹکرے ہو گیا۔ بیشک قیامت قریب آ چکی ہے، بیشک چاند پھٹ گیا ہے، بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے، آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے، کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہو گا، میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہو گی؟ جس میں آگے نکلنا ہو گا؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا: تم نادان ہو، یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ «غایت» آگ ہے اور «سابق» وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں «اللزام» بدر کی لڑائی کی ہلاکت، «الروم» غلبہ روم، «البطشة» سخت پکڑ، «القمر» چاند کے ٹکڑے ہونا اور «والدخان‏» دھواں یہ سب گزر چکا ہے۔ [صحیح بخاری:4825] ‏ اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہو گیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے ۔ [صحیح مسلم:2802] ‏ بخاری میں ہے کہ انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے، ایک حراء کے اس طرف، ایک اس طرف [صحیح بخاری:3285] ‏۔ مسند میں ہے ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد نے ہماری آنکھوں پر جادو کر دیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کر دیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کر سکتا ۔ [مسند احمد:81/4:صحیح] ‏ اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں ۔ [طبرانی کبیر:11642:ضعیف] ‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ“، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے۔ [صحیح مسلم:2801-44] ‏ صفحہ نمبر8994 سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا“ ۔ [صحیح مسلم:48] ‏ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب منیٰ میں تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:32697:ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ [ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو، ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کر سکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چنانچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے، کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آ کر یہی کہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا، جب کبھی آیا، جس طرف سے آیا، ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:545/11:] ‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا ۔ [مسند احمد:413/1:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8995 اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصاً سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابوبکر! تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:32714:مرسل] ‏ کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آ چکے ہیں، ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لا سکتا۔ جیسے فرمایا «قُلْ فَلِلَّـهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ» [6-الانعام:149] ‏ ” اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا “۔ اور جگہ ہے «وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» [10-یونس:101] ‏ ” بے ایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا “۔ ٖ صفحہ نمبر8996

القمر 54:5

تفسیر سورۃ القمر: واقدی کی روایت سے پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں سورۃ ق اور سورۃ اقتربت الساعۃ پڑھا کرتے تھے اسی طرح بڑی بڑی محفلوں میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم:891) کیونکہ اس میں وعدے وعید کا، ابتداء آفرینش اور دوبارہ زندگی کا، ساتھ ہی توحید اور اثبات رسالت وغیرہ اہم مقاصد اسلامیہ کا ذکر ہے۔ قیامت قریب آ چکی ٭٭ اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» [16-النحل:1] ‏ یعنی ” اللہ کا امر آ چکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو “۔ اور فرمایا «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ» [21-الأنبياء:1] ‏ یعنی ” لوگوں کے حساب کا وقت ان کے سروں پر آ پہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں “۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں، مسند بزار میں ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خطبہ دیا جس میں فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا کے گزرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گزرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے ۔ اس حدیث کے راویوں میں خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے۔ [مسند بزار343/2] ‏ صفحہ نمبر8991 باب دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہو چکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے“ ۔ [مسند احمد:116/2:حسن] ‏ مسند کی اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے ۔ [مسند احمد:338/5:صحیح] ‏ ولید بن عبدالملک کے پاس جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر آپ نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم اور قربتِ قیامت ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو“ ۔ [مسند احمد:223/3:صحیح] ‏ اس کی شہادت اس حدیث سے ہو سکتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام «حاشر» آیا ہے اور «حاشر» وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو۔ [صحیح بخاری:3532] ‏ صفحہ نمبر8992 بہز کی روایت سے مروی ہے کہ سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہو چکا، یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھا لیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے، اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا، صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے، تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں، پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ، سنو! ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہو گی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی ۔ [صحیح مسلم:2967] ‏ صفحہ نمبر8993 ابوعبدالرحمٰن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لیے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا سیدنا حذیفہ خطیب رضی اللہ عنہ تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا: لوگو سنو! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند دو ٹکرے ہو گیا۔ بیشک قیامت قریب آ چکی ہے، بیشک چاند پھٹ گیا ہے، بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے، آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے، کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہو گا، میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہو گی؟ جس میں آگے نکلنا ہو گا؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا: تم نادان ہو، یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ «غایت» آگ ہے اور «سابق» وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں «اللزام» بدر کی لڑائی کی ہلاکت، «الروم» غلبہ روم، «البطشة» سخت پکڑ، «القمر» چاند کے ٹکڑے ہونا اور «والدخان‏» دھواں یہ سب گزر چکا ہے۔ [صحیح بخاری:4825] ‏ اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہو گیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے ۔ [صحیح مسلم:2802] ‏ بخاری میں ہے کہ انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے، ایک حراء کے اس طرف، ایک اس طرف [صحیح بخاری:3285] ‏۔ مسند میں ہے ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد نے ہماری آنکھوں پر جادو کر دیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کر دیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کر سکتا ۔ [مسند احمد:81/4:صحیح] ‏ اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں ۔ [طبرانی کبیر:11642:ضعیف] ‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ“، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے۔ [صحیح مسلم:2801-44] ‏ صفحہ نمبر8994 سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا“ ۔ [صحیح مسلم:48] ‏ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب منیٰ میں تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:32697:ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ [ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو، ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کر سکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چنانچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے، کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آ کر یہی کہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا، جب کبھی آیا، جس طرف سے آیا، ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:545/11:] ‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا ۔ [مسند احمد:413/1:صحیح] ‏ صفحہ نمبر8995 اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصاً سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابوبکر! تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:32714:مرسل] ‏ کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آ چکے ہیں، ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لا سکتا۔ جیسے فرمایا «قُلْ فَلِلَّـهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ» [6-الانعام:149] ‏ ” اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا “۔ اور جگہ ہے «وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» [10-یونس:101] ‏ ” بے ایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا “۔ ٖ صفحہ نمبر8996

القمر 54:6

معجزات بھی بےاثر ٭٭ رشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کارآمد نہیں، چھوڑ دو، ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لیے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہو گی، جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی، ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہو گی، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے، پھر جس طرح ٹڈی دل چلتا ہے یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے، پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے، نہ مخالفت کی تاب ہے، نہ دیر لگانے کی طاقت «ذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ» * «عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ» ‏ [74-المدثر:9،10] ‏ اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر کافر چیخ اٹھیں گے کہ یہ تو بڑا بھاری اور بےحد سخت دن ہے۔ صفحہ نمبر9001

القمر 54:7

معجزات بھی بےاثر ٭٭ رشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کارآمد نہیں، چھوڑ دو، ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لیے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہو گی، جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی، ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہو گی، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے، پھر جس طرح ٹڈی دل چلتا ہے یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے، پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے، نہ مخالفت کی تاب ہے، نہ دیر لگانے کی طاقت «ذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ» * «عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ» ‏ [74-المدثر:9،10] ‏ اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر کافر چیخ اٹھیں گے کہ یہ تو بڑا بھاری اور بےحد سخت دن ہے۔ صفحہ نمبر9001

القمر 54:8

معجزات بھی بےاثر ٭٭ رشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کارآمد نہیں، چھوڑ دو، ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لیے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہو گی، جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی، ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہو گی، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے، پھر جس طرح ٹڈی دل چلتا ہے یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے، پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے، نہ مخالفت کی تاب ہے، نہ دیر لگانے کی طاقت «ذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ» * «عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ» ‏ [74-المدثر:9،10] ‏ اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر کافر چیخ اٹھیں گے کہ یہ تو بڑا بھاری اور بےحد سخت دن ہے۔ صفحہ نمبر9001

القمر 54:9

دیرینہ انداز کفر ٭٭ یعنی اے نبی! آپ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے نوح تھے تکذیب کی، اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا، ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ «قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ» [26-الشعراء:116] ‏ ” اے نوح علیہ السلام اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے “، ہمارے بندے اور رسول نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں، میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کر سکتا ہوں، تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے، ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا گیا۔ صفحہ نمبر9004

القمر 54:10

دیرینہ انداز کفر ٭٭ یعنی اے نبی! آپ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے نوح تھے تکذیب کی، اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا، ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ «قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ» [26-الشعراء:116] ‏ ” اے نوح علیہ السلام اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے “، ہمارے بندے اور رسول نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں، میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کر سکتا ہوں، تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے، ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا گیا۔ صفحہ نمبر9004

القمر 54:11

دیرینہ انداز کفر ٭٭ یعنی اے نبی! آپ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے نوح تھے تکذیب کی، اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا، ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ «قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ» [26-الشعراء:116] ‏ ” اے نوح علیہ السلام اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے “، ہمارے بندے اور رسول نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں، میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کر سکتا ہوں، تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے، ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا گیا۔ صفحہ نمبر9004

القمر 54:12

طوفان نوح ٭٭ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے، ہر طرف پانی بھر جاتا ہے، نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے، نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے، پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا، نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا، نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے، ادھر سے آسمان کی یہ رنگت، ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہو گئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کر لیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ «دُسُر» کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح و سالم آرپار جار ہی تھی۔ نوح علیہ السلام کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا۔ صفحہ نمبر9007 قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ» * «وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] ‏ یعنی ” ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں “۔ اور جگہ ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» * «لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:12،11] ‏ یعنی ” جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے؟ “۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُدَّكِرٍ» پڑھایا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے ۔ [مسند احمد:395/1:صحیح] ‏ اسود رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے؟ فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دال کے ساتھ سنا ہے ۔ [صحیح بخاری:4874] ‏ اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دال کے ساتھ سنا ہے۔ پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست و نابود کر دیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لیے آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے۔ صفحہ نمبر9008 جیسے فرمایا «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29] ‏ ” ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لیے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں ”۔ اور جگہ ہے «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مریم:97] ‏ یعنی ” ہم نے اسے تیری زبان پر اس لیے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے “۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کر دی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گزر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے ۔ [صحیح بخاری:2419] ‏ اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کر دیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لیے بالکل آسان ہے۔ صفحہ نمبر9009

القمر 54:13

طوفان نوح ٭٭ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے، ہر طرف پانی بھر جاتا ہے، نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے، نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے، پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا، نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا، نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے، ادھر سے آسمان کی یہ رنگت، ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہو گئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کر لیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ «دُسُر» کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح و سالم آرپار جار ہی تھی۔ نوح علیہ السلام کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا۔ صفحہ نمبر9007 قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ» * «وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] ‏ یعنی ” ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں “۔ اور جگہ ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» * «لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:12،11] ‏ یعنی ” جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے؟ “۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُدَّكِرٍ» پڑھایا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے ۔ [مسند احمد:395/1:صحیح] ‏ اسود رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے؟ فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دال کے ساتھ سنا ہے ۔ [صحیح بخاری:4874] ‏ اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دال کے ساتھ سنا ہے۔ پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست و نابود کر دیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لیے آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے۔ صفحہ نمبر9008 جیسے فرمایا «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29] ‏ ” ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لیے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں ”۔ اور جگہ ہے «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مریم:97] ‏ یعنی ” ہم نے اسے تیری زبان پر اس لیے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے “۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کر دی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گزر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے ۔ [صحیح بخاری:2419] ‏ اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کر دیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لیے بالکل آسان ہے۔ صفحہ نمبر9009

القمر 54:14

طوفان نوح ٭٭ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے، ہر طرف پانی بھر جاتا ہے، نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے، نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے، پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا، نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا، نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے، ادھر سے آسمان کی یہ رنگت، ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہو گئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کر لیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ «دُسُر» کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح و سالم آرپار جار ہی تھی۔ نوح علیہ السلام کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا۔ صفحہ نمبر9007 قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ» * «وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] ‏ یعنی ” ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں “۔ اور جگہ ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» * «لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:12،11] ‏ یعنی ” جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے؟ “۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُدَّكِرٍ» پڑھایا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے ۔ [مسند احمد:395/1:صحیح] ‏ اسود رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے؟ فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دال کے ساتھ سنا ہے ۔ [صحیح بخاری:4874] ‏ اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دال کے ساتھ سنا ہے۔ پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست و نابود کر دیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لیے آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے۔ صفحہ نمبر9008 جیسے فرمایا «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29] ‏ ” ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لیے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں ”۔ اور جگہ ہے «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مریم:97] ‏ یعنی ” ہم نے اسے تیری زبان پر اس لیے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے “۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کر دی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گزر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے ۔ [صحیح بخاری:2419] ‏ اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کر دیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لیے بالکل آسان ہے۔ صفحہ نمبر9009

القمر 54:15

طوفان نوح ٭٭ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے، ہر طرف پانی بھر جاتا ہے، نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے، نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے، پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا، نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا، نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے، ادھر سے آسمان کی یہ رنگت، ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہو گئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کر لیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ «دُسُر» کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح و سالم آرپار جار ہی تھی۔ نوح علیہ السلام کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا۔ صفحہ نمبر9007 قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ» * «وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] ‏ یعنی ” ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں “۔ اور جگہ ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» * «لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:12،11] ‏ یعنی ” جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے؟ “۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُدَّكِرٍ» پڑھایا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے ۔ [مسند احمد:395/1:صحیح] ‏ اسود رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے؟ فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دال کے ساتھ سنا ہے ۔ [صحیح بخاری:4874] ‏ اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دال کے ساتھ سنا ہے۔ پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست و نابود کر دیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لیے آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے۔ صفحہ نمبر9008 جیسے فرمایا «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29] ‏ ” ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لیے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں ”۔ اور جگہ ہے «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مریم:97] ‏ یعنی ” ہم نے اسے تیری زبان پر اس لیے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے “۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کر دی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گزر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے ۔ [صحیح بخاری:2419] ‏ اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کر دیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لیے بالکل آسان ہے۔ صفحہ نمبر9009

القمر 54:16

طوفان نوح ٭٭ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے، ہر طرف پانی بھر جاتا ہے، نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے، نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے، پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا، نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا، نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے، ادھر سے آسمان کی یہ رنگت، ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہو گئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کر لیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ «دُسُر» کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح و سالم آرپار جار ہی تھی۔ نوح علیہ السلام کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا۔ صفحہ نمبر9007 قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ» * «وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] ‏ یعنی ” ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں “۔ اور جگہ ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» * «لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:12،11] ‏ یعنی ” جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے؟ “۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُدَّكِرٍ» پڑھایا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے ۔ [مسند احمد:395/1:صحیح] ‏ اسود رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے؟ فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دال کے ساتھ سنا ہے ۔ [صحیح بخاری:4874] ‏ اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دال کے ساتھ سنا ہے۔ پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست و نابود کر دیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لیے آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے۔ صفحہ نمبر9008 جیسے فرمایا «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29] ‏ ” ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لیے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں ”۔ اور جگہ ہے «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مریم:97] ‏ یعنی ” ہم نے اسے تیری زبان پر اس لیے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے “۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کر دی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گزر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے ۔ [صحیح بخاری:2419] ‏ اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کر دیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لیے بالکل آسان ہے۔ صفحہ نمبر9009

القمر 54:17

طوفان نوح ٭٭ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے، ہر طرف پانی بھر جاتا ہے، نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے، نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے، پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا، نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا، نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے، ادھر سے آسمان کی یہ رنگت، ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہو گئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کر لیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ «دُسُر» کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح و سالم آرپار جار ہی تھی۔ نوح علیہ السلام کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا۔ صفحہ نمبر9007 قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ» * «وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] ‏ یعنی ” ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں “۔ اور جگہ ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» * «لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:12،11] ‏ یعنی ” جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے؟ “۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُدَّكِرٍ» پڑھایا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے ۔ [مسند احمد:395/1:صحیح] ‏ اسود رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے؟ فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دال کے ساتھ سنا ہے ۔ [صحیح بخاری:4874] ‏ اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دال کے ساتھ سنا ہے۔ پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست و نابود کر دیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لیے آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے۔ صفحہ نمبر9008 جیسے فرمایا «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29] ‏ ” ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لیے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں ”۔ اور جگہ ہے «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مریم:97] ‏ یعنی ” ہم نے اسے تیری زبان پر اس لیے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے “۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کر دی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گزر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے ۔ [صحیح بخاری:2419] ‏ اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کر دیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لیے بالکل آسان ہے۔ صفحہ نمبر9009

القمر 54:18

کفار کی بدترین روایات ٭٭ اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے، تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی، وہ دن ان کے لیے سراسر منحوس تھا، برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لیے گئے، ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا، یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا، پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا، سر کچل جاتا، بھیجا نکل پڑتا، سر الگ، دھڑ الگ، ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں، دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کر لے۔ صفحہ نمبر9015

القمر 54:19

کفار کی بدترین روایات ٭٭ اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے، تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی، وہ دن ان کے لیے سراسر منحوس تھا، برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لیے گئے، ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا، یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا، پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا، سر کچل جاتا، بھیجا نکل پڑتا، سر الگ، دھڑ الگ، ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں، دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کر لے۔ صفحہ نمبر9015

القمر 54:20

کفار کی بدترین روایات ٭٭ اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے، تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی، وہ دن ان کے لیے سراسر منحوس تھا، برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لیے گئے، ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا، یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا، پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا، سر کچل جاتا، بھیجا نکل پڑتا، سر الگ، دھڑ الگ، ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں، دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کر لے۔ صفحہ نمبر9015

القمر 54:21

کفار کی بدترین روایات ٭٭ اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے، تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی، وہ دن ان کے لیے سراسر منحوس تھا، برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لیے گئے، ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا، یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا، پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا، سر کچل جاتا، بھیجا نکل پڑتا، سر الگ، دھڑ الگ، ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں، دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کر لے۔ صفحہ نمبر9015

القمر 54:22

کفار کی بدترین روایات ٭٭ اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے، تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی، وہ دن ان کے لیے سراسر منحوس تھا، برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لیے گئے، ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا، یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا، پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا، سر کچل جاتا، بھیجا نکل پڑتا، سر الگ، دھڑ الگ، ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں، دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کر لے۔ صفحہ نمبر9015

القمر 54:23

فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭ ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ‏ ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ‏ ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر9020

القمر 54:24

فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭ ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ‏ ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ‏ ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر9020

القمر 54:25

فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭ ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ‏ ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ‏ ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر9020

القمر 54:26

فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭ ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ‏ ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ‏ ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر9020

القمر 54:27

فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭ ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ‏ ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ‏ ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر9020

القمر 54:28

فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭ ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ‏ ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ‏ ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر9020

القمر 54:29

فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭ ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ‏ ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ‏ ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر9020

القمر 54:30

فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭ ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ‏ ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ‏ ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر9020

القمر 54:31

فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭ ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ‏ ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ‏ ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر9020

القمر 54:32

فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭ ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ‏ ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ‏ ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر9020

القمر 54:33

ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭ لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] ‏ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] ‏ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟ صفحہ نمبر9030

القمر 54:34

ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭ لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] ‏ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] ‏ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟ صفحہ نمبر9030

القمر 54:35

ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭ لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] ‏ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] ‏ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟ صفحہ نمبر9030

القمر 54:36

ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭ لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] ‏ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] ‏ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟ صفحہ نمبر9030

القمر 54:37

ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭ لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] ‏ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] ‏ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟ صفحہ نمبر9030

القمر 54:38

ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭ لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] ‏ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] ‏ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟ صفحہ نمبر9030

القمر 54:39

ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭ لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] ‏ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] ‏ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟ صفحہ نمبر9030

القمر 54:40

ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭ لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] ‏ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] ‏ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟ صفحہ نمبر9030

القمر 54:41

سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭ فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔ صفحہ نمبر9038 پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] ‏ جاری تھیں ۔ [صحیح بخاری:4877] ‏ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔ صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] ‏ اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] ‏ مسلم میں یہ حدیث نہیں۔ صفحہ نمبر9039

القمر 54:42

سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭ فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔ صفحہ نمبر9038 پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] ‏ جاری تھیں ۔ [صحیح بخاری:4877] ‏ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔ صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] ‏ اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] ‏ مسلم میں یہ حدیث نہیں۔ صفحہ نمبر9039

القمر 54:43

سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭ فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔ صفحہ نمبر9038 پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] ‏ جاری تھیں ۔ [صحیح بخاری:4877] ‏ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔ صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] ‏ اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] ‏ مسلم میں یہ حدیث نہیں۔ صفحہ نمبر9039

القمر 54:44

سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭ فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔ صفحہ نمبر9038 پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] ‏ جاری تھیں ۔ [صحیح بخاری:4877] ‏ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔ صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] ‏ اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] ‏ مسلم میں یہ حدیث نہیں۔ صفحہ نمبر9039

القمر 54:45

سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭ فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔ صفحہ نمبر9038 پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] ‏ جاری تھیں ۔ [صحیح بخاری:4877] ‏ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔ صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] ‏ اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] ‏ مسلم میں یہ حدیث نہیں۔ صفحہ نمبر9039

القمر 54:46

سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭ فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔ صفحہ نمبر9038 پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] ‏ جاری تھیں ۔ [صحیح بخاری:4877] ‏ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔ صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] ‏ اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] ‏ مسلم میں یہ حدیث نہیں۔ صفحہ نمبر9039

القمر 54:47

شکوک و شبہات کے مریض لوگ ٭٭ بدکار لوگ گمراہ ہو چکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں، خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بے خبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لیے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً» [25-الفرقان:2] ‏ ” ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا “۔ اور جگہ فرمایا «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» * «الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى» * «وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى» [87-سورةالأعلى:1-3] ‏ ” اپنے رب کی جو بلند و بالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی “۔ یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے۔ فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم نے صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں [صحیح مسلم:6696] ‏ بروایت «عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ» مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں۔ [مسند بزار:2265ضعیف] ‏ صفحہ نمبر9045 ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا: ”یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے“ ۔ [طبرانی کبیر:5316صحیح] ‏ عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے، آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے، میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے، لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں ایسا ہو رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں «يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ» * «إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ» ۔ [54-سورةالقمر:48،49] ‏ یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں ۔ صفحہ نمبر9046 ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا: اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو، لوگوں نے کہا: آپ نابینا ہیں، آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے؟ فرمایا: اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آ گئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا ۔ [مسند احمد:333/1:ضعیف] ‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک دوست شامی تھا، جس سے آپ کی خط و کتابت تھی، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے، آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے، اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا، آج سے بند سمجھنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے ۔ [سنن ابوداود:4613،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ صفحہ نمبر9047 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو ۔ [مسند احمد:86/2:ضعیف] ‏ اس امت میں مسخ ہو گا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہو گا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں ۔ [سنن ترمذي:2153،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقلمندی بھی۔‏“ [صحیح مسلم:2655] ‏ صحیح حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن، پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لیے کہ اس طرح ”اگر“ کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2664] ‏ صفحہ نمبر9048 نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے، قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے ۔ [مسند احمد:293/1] ‏ سیدنا ولید بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی! ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا مجھے بٹھا دو، جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا، تو آپ نے فرمایا: اے میرے پیارے بچے! ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو، میں نے پوچھا: ابا جی! میں یہ کیسے معلوم کر سکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے؟ فرمایا: اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا، وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا، وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا، میرے بچو سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا ”لکھ“ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا، اے بیٹے! اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہو گا ۔ [سنن ترمذي:2155،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے۔ صفحہ نمبر9049 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو، گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے۔‏“ [سنن ترمذي:2145،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی «وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ» [11-هود:7] ‏ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا ۔ [صحیح مسلم:2653] ‏ امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک و ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے، تو ٹھیک اسی طرح، جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے، دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہو جاتا ہے۔ عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے «اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولةً فیکون» یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔ صفحہ نمبر9050

القمر 54:48

شکوک و شبہات کے مریض لوگ ٭٭ بدکار لوگ گمراہ ہو چکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں، خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بے خبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لیے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً» [25-الفرقان:2] ‏ ” ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا “۔ اور جگہ فرمایا «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» * «الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى» * «وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى» [87-سورةالأعلى:1-3] ‏ ” اپنے رب کی جو بلند و بالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی “۔ یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے۔ فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم نے صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں [صحیح مسلم:6696] ‏ بروایت «عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ» مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں۔ [مسند بزار:2265ضعیف] ‏ صفحہ نمبر9045 ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا: ”یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے“ ۔ [طبرانی کبیر:5316صحیح] ‏ عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے، آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے، میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے، لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں ایسا ہو رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں «يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ» * «إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ» ۔ [54-سورةالقمر:48،49] ‏ یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں ۔ صفحہ نمبر9046 ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا: اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو، لوگوں نے کہا: آپ نابینا ہیں، آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے؟ فرمایا: اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آ گئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا ۔ [مسند احمد:333/1:ضعیف] ‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک دوست شامی تھا، جس سے آپ کی خط و کتابت تھی، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے، آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے، اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا، آج سے بند سمجھنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے ۔ [سنن ابوداود:4613،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ صفحہ نمبر9047 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو ۔ [مسند احمد:86/2:ضعیف] ‏ اس امت میں مسخ ہو گا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہو گا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں ۔ [سنن ترمذي:2153،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقلمندی بھی۔‏“ [صحیح مسلم:2655] ‏ صحیح حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن، پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لیے کہ اس طرح ”اگر“ کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2664] ‏ صفحہ نمبر9048 نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے، قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے ۔ [مسند احمد:293/1] ‏ سیدنا ولید بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی! ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا مجھے بٹھا دو، جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا، تو آپ نے فرمایا: اے میرے پیارے بچے! ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو، میں نے پوچھا: ابا جی! میں یہ کیسے معلوم کر سکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے؟ فرمایا: اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا، وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا، وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا، میرے بچو سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا ”لکھ“ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا، اے بیٹے! اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہو گا ۔ [سنن ترمذي:2155،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے۔ صفحہ نمبر9049 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو، گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے۔‏“ [سنن ترمذي:2145،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی «وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ» [11-هود:7] ‏ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا ۔ [صحیح مسلم:2653] ‏ امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک و ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے، تو ٹھیک اسی طرح، جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے، دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہو جاتا ہے۔ عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے «اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولةً فیکون» یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔ صفحہ نمبر9050

القمر 54:49

شکوک و شبہات کے مریض لوگ ٭٭ بدکار لوگ گمراہ ہو چکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں، خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بے خبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لیے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً» [25-الفرقان:2] ‏ ” ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا “۔ اور جگہ فرمایا «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» * «الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى» * «وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى» [87-سورةالأعلى:1-3] ‏ ” اپنے رب کی جو بلند و بالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی “۔ یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے۔ فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم نے صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں [صحیح مسلم:6696] ‏ بروایت «عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ» مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں۔ [مسند بزار:2265ضعیف] ‏ صفحہ نمبر9045 ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا: ”یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے“ ۔ [طبرانی کبیر:5316صحیح] ‏ عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے، آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے، میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے، لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں ایسا ہو رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں «يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ» * «إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ» ۔ [54-سورةالقمر:48،49] ‏ یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں ۔ صفحہ نمبر9046 ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا: اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو، لوگوں نے کہا: آپ نابینا ہیں، آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے؟ فرمایا: اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آ گئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا ۔ [مسند احمد:333/1:ضعیف] ‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک دوست شامی تھا، جس سے آپ کی خط و کتابت تھی، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے، آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے، اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا، آج سے بند سمجھنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے ۔ [سنن ابوداود:4613،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ صفحہ نمبر9047 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو ۔ [مسند احمد:86/2:ضعیف] ‏ اس امت میں مسخ ہو گا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہو گا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں ۔ [سنن ترمذي:2153،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقلمندی بھی۔‏“ [صحیح مسلم:2655] ‏ صحیح حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن، پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لیے کہ اس طرح ”اگر“ کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2664] ‏ صفحہ نمبر9048 نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے، قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے ۔ [مسند احمد:293/1] ‏ سیدنا ولید بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی! ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا مجھے بٹھا دو، جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا، تو آپ نے فرمایا: اے میرے پیارے بچے! ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو، میں نے پوچھا: ابا جی! میں یہ کیسے معلوم کر سکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے؟ فرمایا: اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا، وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا، وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا، میرے بچو سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا ”لکھ“ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا، اے بیٹے! اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہو گا ۔ [سنن ترمذي:2155،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے۔ صفحہ نمبر9049 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو، گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے۔‏“ [سنن ترمذي:2145،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی «وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ» [11-هود:7] ‏ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا ۔ [صحیح مسلم:2653] ‏ امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک و ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے، تو ٹھیک اسی طرح، جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے، دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہو جاتا ہے۔ عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے «اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولةً فیکون» یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔ صفحہ نمبر9050

القمر 54:50

شکوک و شبہات کے مریض لوگ ٭٭ بدکار لوگ گمراہ ہو چکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں، خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بے خبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لیے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً» [25-الفرقان:2] ‏ ” ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا “۔ اور جگہ فرمایا «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» * «الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى» * «وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى» [87-سورةالأعلى:1-3] ‏ ” اپنے رب کی جو بلند و بالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی “۔ یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے۔ فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم نے صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں [صحیح مسلم:6696] ‏ بروایت «عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ» مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں۔ [مسند بزار:2265ضعیف] ‏ صفحہ نمبر9045 ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا: ”یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے“ ۔ [طبرانی کبیر:5316صحیح] ‏ عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے، آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے، میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے، لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں ایسا ہو رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں «يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ» * «إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ» ۔ [54-سورةالقمر:48،49] ‏ یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں ۔ صفحہ نمبر9046 ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا: اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو، لوگوں نے کہا: آپ نابینا ہیں، آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے؟ فرمایا: اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آ گئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا ۔ [مسند احمد:333/1:ضعیف] ‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک دوست شامی تھا، جس سے آپ کی خط و کتابت تھی، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے، آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے، اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا، آج سے بند سمجھنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے ۔ [سنن ابوداود:4613،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ صفحہ نمبر9047 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو ۔ [مسند احمد:86/2:ضعیف] ‏ اس امت میں مسخ ہو گا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہو گا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں ۔ [سنن ترمذي:2153،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقلمندی بھی۔‏“ [صحیح مسلم:2655] ‏ صحیح حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن، پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لیے کہ اس طرح ”اگر“ کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2664] ‏ صفحہ نمبر9048 نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے، قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے ۔ [مسند احمد:293/1] ‏ سیدنا ولید بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی! ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا مجھے بٹھا دو، جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا، تو آپ نے فرمایا: اے میرے پیارے بچے! ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو، میں نے پوچھا: ابا جی! میں یہ کیسے معلوم کر سکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے؟ فرمایا: اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا، وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا، وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا، میرے بچو سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا ”لکھ“ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا، اے بیٹے! اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہو گا ۔ [سنن ترمذي:2155،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے۔ صفحہ نمبر9049 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو، گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے۔‏“ [سنن ترمذي:2145،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی «وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ» [11-هود:7] ‏ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا ۔ [صحیح مسلم:2653] ‏ امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک و ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے، تو ٹھیک اسی طرح، جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے، دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہو جاتا ہے۔ عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے «اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولةً فیکون» یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔ صفحہ نمبر9050

القمر 54:51

باب ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لیے نصیحت و تذکیر نہیں؟ جیسے اور آیت میں فرمایا «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِم مِّن قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُّرِيبٍ» [34-سورةسبا:54] ‏ یعنی ” ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا “۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو، اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے“ ۔ [سنن ابن ماجہ:4242،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ سلیمان بن مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہو گیا جسے میں نے حقیر سمجھا، رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے، اے سلیمان! «لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا» یعنی ”صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہو جائیں گے، گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں، بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہو جا کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے، بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہو جاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر، ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہو گا۔‏“ صفحہ نمبر9054 پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہو گی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان، نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہو گا، جو تمام چیزوں کا خالق ہے، سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا، ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا۔ مسند احمد میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عدل و انصاف کرنے والے نیک کردار لوگ اللہ کے پاس نور کے منبروں پر رحمٰن کی دائیں جانب ہوں گے، اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہی ہیں، یہ عادل لوگ وہ ہیں، جو اپنے احکام میں اپنے اہل و عیال میں اور جو چیز ان کے قبضے میں ہو، اس میں اللہ تعالٰی کے فرمان کے خلاف نہیں کرتے بلکہ عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں“ ۔ [صحیح مسلم:1827] ‏ «الحمداللہ» اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔ صفحہ نمبر9055

القمر 54:52

باب ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لیے نصیحت و تذکیر نہیں؟ جیسے اور آیت میں فرمایا «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِم مِّن قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُّرِيبٍ» [34-سورةسبا:54] ‏ یعنی ” ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا “۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو، اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے“ ۔ [سنن ابن ماجہ:4242،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ سلیمان بن مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہو گیا جسے میں نے حقیر سمجھا، رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے، اے سلیمان! «لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا» یعنی ”صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہو جائیں گے، گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں، بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہو جا کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے، بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہو جاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر، ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہو گا۔‏“ صفحہ نمبر9054 پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہو گی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان، نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہو گا، جو تمام چیزوں کا خالق ہے، سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا، ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا۔ مسند احمد میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عدل و انصاف کرنے والے نیک کردار لوگ اللہ کے پاس نور کے منبروں پر رحمٰن کی دائیں جانب ہوں گے، اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہی ہیں، یہ عادل لوگ وہ ہیں، جو اپنے احکام میں اپنے اہل و عیال میں اور جو چیز ان کے قبضے میں ہو، اس میں اللہ تعالٰی کے فرمان کے خلاف نہیں کرتے بلکہ عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں“ ۔ [صحیح مسلم:1827] ‏ «الحمداللہ» اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔ صفحہ نمبر9055

القمر 54:53

باب ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لیے نصیحت و تذکیر نہیں؟ جیسے اور آیت میں فرمایا «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِم مِّن قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُّرِيبٍ» [34-سورةسبا:54] ‏ یعنی ” ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا “۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو، اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے“ ۔ [سنن ابن ماجہ:4242،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ سلیمان بن مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہو گیا جسے میں نے حقیر سمجھا، رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے، اے سلیمان! «لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا» یعنی ”صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہو جائیں گے، گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں، بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہو جا کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے، بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہو جاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر، ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہو گا۔‏“ صفحہ نمبر9054 پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہو گی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان، نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہو گا، جو تمام چیزوں کا خالق ہے، سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا، ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا۔ مسند احمد میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عدل و انصاف کرنے والے نیک کردار لوگ اللہ کے پاس نور کے منبروں پر رحمٰن کی دائیں جانب ہوں گے، اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہی ہیں، یہ عادل لوگ وہ ہیں، جو اپنے احکام میں اپنے اہل و عیال میں اور جو چیز ان کے قبضے میں ہو، اس میں اللہ تعالٰی کے فرمان کے خلاف نہیں کرتے بلکہ عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں“ ۔ [صحیح مسلم:1827] ‏ «الحمداللہ» اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔ صفحہ نمبر9055

القمر 54:54

باب ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لیے نصیحت و تذکیر نہیں؟ جیسے اور آیت میں فرمایا «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِم مِّن قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُّرِيبٍ» [34-سورةسبا:54] ‏ یعنی ” ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا “۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو، اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے“ ۔ [سنن ابن ماجہ:4242،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ سلیمان بن مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہو گیا جسے میں نے حقیر سمجھا، رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے، اے سلیمان! «لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا» یعنی ”صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہو جائیں گے، گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں، بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہو جا کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے، بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہو جاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر، ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہو گا۔‏“ صفحہ نمبر9054 پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہو گی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان، نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہو گا، جو تمام چیزوں کا خالق ہے، سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا، ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا۔ مسند احمد میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عدل و انصاف کرنے والے نیک کردار لوگ اللہ کے پاس نور کے منبروں پر رحمٰن کی دائیں جانب ہوں گے، اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہی ہیں، یہ عادل لوگ وہ ہیں، جو اپنے احکام میں اپنے اہل و عیال میں اور جو چیز ان کے قبضے میں ہو، اس میں اللہ تعالٰی کے فرمان کے خلاف نہیں کرتے بلکہ عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں“ ۔ [صحیح مسلم:1827] ‏ «الحمداللہ» اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔ صفحہ نمبر9055

القمر 54:55

باب ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لیے نصیحت و تذکیر نہیں؟ جیسے اور آیت میں فرمایا «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِم مِّن قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُّرِيبٍ» [34-سورةسبا:54] ‏ یعنی ” ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا “۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو، اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے“ ۔ [سنن ابن ماجہ:4242،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ سلیمان بن مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہو گیا جسے میں نے حقیر سمجھا، رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے، اے سلیمان! «لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا» یعنی ”صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہو جائیں گے، گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں، بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہو جا کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے، بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہو جاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر، ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہو گا۔‏“ صفحہ نمبر9054 پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہو گی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان، نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہو گا، جو تمام چیزوں کا خالق ہے، سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا، ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا۔ مسند احمد میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عدل و انصاف کرنے والے نیک کردار لوگ اللہ کے پاس نور کے منبروں پر رحمٰن کی دائیں جانب ہوں گے، اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہی ہیں، یہ عادل لوگ وہ ہیں، جو اپنے احکام میں اپنے اہل و عیال میں اور جو چیز ان کے قبضے میں ہو، اس میں اللہ تعالٰی کے فرمان کے خلاف نہیں کرتے بلکہ عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں“ ۔ [صحیح مسلم:1827] ‏ «الحمداللہ» اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔ صفحہ نمبر9055