Tafsir Ibn Kathir — المدثر 74:1 – المدثر 74:56
Contents
- المدثر 74:1
- المدثر 74:2
- المدثر 74:3
- المدثر 74:4
- المدثر 74:5
- المدثر 74:6
- المدثر 74:7
- المدثر 74:8
- المدثر 74:9
- المدثر 74:10
- المدثر 74:11
- المدثر 74:12
- المدثر 74:13
- المدثر 74:14
- المدثر 74:15
- المدثر 74:16
- المدثر 74:17
- المدثر 74:18
- المدثر 74:19
- المدثر 74:20
- المدثر 74:21
- المدثر 74:22
- المدثر 74:23
- المدثر 74:24
- المدثر 74:25
- المدثر 74:26
- المدثر 74:27
- المدثر 74:28
- المدثر 74:29
- المدثر 74:30
- المدثر 74:31
- المدثر 74:32
- المدثر 74:33
- المدثر 74:34
- المدثر 74:35
- المدثر 74:36
- المدثر 74:37
- المدثر 74:38
- المدثر 74:39
- المدثر 74:40
- المدثر 74:41
- المدثر 74:42
- المدثر 74:43
- المدثر 74:44
- المدثر 74:45
- المدثر 74:46
- المدثر 74:47
- المدثر 74:48
- المدثر 74:49
- المدثر 74:50
- المدثر 74:51
- المدثر 74:52
- المدثر 74:53
- المدثر 74:54
- المدثر 74:55
- المدثر 74:56
المدثر 74:1
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
المدثر 74:2
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
المدثر 74:3
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
المدثر 74:4
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
المدثر 74:5
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
المدثر 74:6
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
المدثر 74:7
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
المدثر 74:8
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
المدثر 74:9
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
المدثر 74:10
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
المدثر 74:11
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ ٭٭
جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ تن تنہا، خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا، مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنا دیا، ہزاروں لاکھوں دینار، زر، زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اور اقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر، چاکر، لونڈی، غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی مہیا تھی، پھر بھی خواہش نفس پوری نہیں ہوتی تھی اور چاہتا تھا کہ اللہ اور بڑھا دے، حالانکہ ایسا اب نہ ہو گا، یہ ہمارے احکامات کے علم کے بعد بھی کفر اور سرکشی کرتا ہے اسے «صعود» پر چڑھایا جائے گا “۔
صفحہ نمبر9973
المدثر 74:12
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ ٭٭
جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ تن تنہا، خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا، مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنا دیا، ہزاروں لاکھوں دینار، زر، زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اور اقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر، چاکر، لونڈی، غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی مہیا تھی، پھر بھی خواہش نفس پوری نہیں ہوتی تھی اور چاہتا تھا کہ اللہ اور بڑھا دے، حالانکہ ایسا اب نہ ہو گا، یہ ہمارے احکامات کے علم کے بعد بھی کفر اور سرکشی کرتا ہے اسے «صعود» پر چڑھایا جائے گا “۔
صفحہ نمبر9973
المدثر 74:13
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ ٭٭
جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ تن تنہا، خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا، مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنا دیا، ہزاروں لاکھوں دینار، زر، زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اور اقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر، چاکر، لونڈی، غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی مہیا تھی، پھر بھی خواہش نفس پوری نہیں ہوتی تھی اور چاہتا تھا کہ اللہ اور بڑھا دے، حالانکہ ایسا اب نہ ہو گا، یہ ہمارے احکامات کے علم کے بعد بھی کفر اور سرکشی کرتا ہے اسے «صعود» پر چڑھایا جائے گا “۔
صفحہ نمبر9973
المدثر 74:14
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ ٭٭
جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ تن تنہا، خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا، مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنا دیا، ہزاروں لاکھوں دینار، زر، زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اور اقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر، چاکر، لونڈی، غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی مہیا تھی، پھر بھی خواہش نفس پوری نہیں ہوتی تھی اور چاہتا تھا کہ اللہ اور بڑھا دے، حالانکہ ایسا اب نہ ہو گا، یہ ہمارے احکامات کے علم کے بعد بھی کفر اور سرکشی کرتا ہے اسے «صعود» پر چڑھایا جائے گا “۔
صفحہ نمبر9973
المدثر 74:15
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ ٭٭
جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ تن تنہا، خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا، مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنا دیا، ہزاروں لاکھوں دینار، زر، زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اور اقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر، چاکر، لونڈی، غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی مہیا تھی، پھر بھی خواہش نفس پوری نہیں ہوتی تھی اور چاہتا تھا کہ اللہ اور بڑھا دے، حالانکہ ایسا اب نہ ہو گا، یہ ہمارے احکامات کے علم کے بعد بھی کفر اور سرکشی کرتا ہے اسے «صعود» پر چڑھایا جائے گا “۔
صفحہ نمبر9973
المدثر 74:16
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
المدثر 74:17
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
المدثر 74:18
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
المدثر 74:19
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
المدثر 74:20
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
المدثر 74:21
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
المدثر 74:22
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
المدثر 74:23
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
المدثر 74:24
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
المدثر 74:25
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
المدثر 74:26
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
المدثر 74:27
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
المدثر 74:28
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
المدثر 74:29
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
المدثر 74:30
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
المدثر 74:31
سخت دل بےرحم فرشتے اور ابو جہل ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بے رحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں “۔
اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابوجہل نے کہا: اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ ” وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو، نہ تھکا سکو “۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو! تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور شخص تھا اور ساتھ ہی بڑا قوی تھا یہ گائے کے چمڑے پر کھڑا ہو جاتا پھر دس طاقتور شخص مل کر اسے اس کے پیروں تلے سے نکالنا چاہتے کھال کے ٹکڑے اڑ جاتے لیکن اس کے قدم جنبش بھی نہ کھاتے۔ یہی شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کہا تھا کہ آپ مجھ سے کشتی لڑیں اگر آپ نے مجھے گرا دیا تو میں آپ کی نبوت کو مان لوں گا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کشتی کی اور کئی بار گرایا لیکن اسے ایمان لانا نصیب نہ ہوا۔ امام ابن اسحاق رحمہ اللہ نے کشتی والا واقعہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن عبدالمطلب کا بتایا ہے، میں کہتا ہوں ان دونوں میں کچھ تفاوت نہیں (ممکن ہے اس سے اور اس سے دونوں سے کشتی ہوئی ہو)۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9999
پھر فرمایا کہ ” اس گنتی کا ذکر تھا ہی امتحان کے لیے “، ایک طرف کافروں کا کفر کھل گیا، دوسری جانب اہل کتاب کا یقین کامل ہو گیا، کہ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت حق ہے کیونکہ خود ان کی کتاب میں بھی یہی گنتی ہے، تیسری طرف ایماندار اپنے ایمان میں مزید توانا ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی تصدیق کی اور ایمان بڑھایا، اہل کتاب اور مسلمانوں کو کوئی شک شبہ نہ رہا بیمار دل اور منافق چیخ اٹھے کہ بھلا بتاؤ کہ اسے یہاں ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ایسی ہی باتیں بہت سے لوگوں کے ایمان کی مضبوطی کا سبب بن جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کے شبہ والے دل اور ڈانوا ڈول ہو جاتے ہیں اللہ کے یہ سب کام حکمت سے اور اسرار سے پر ہیں، تیرے رب کے لشکروں کی گنتی اور ان کی صحیح تعداد اور ان کی کثرت کا کسی کو علم نہیں وہی خوب جانتا ہے “۔
یہ نہ سمجھ لینا کہ بس انیس ہی ہیں، جیسے یونانی فلسفیوں اور ان کے ہم خیال لوگوں نے اپنی جہالت و ضلالت کی وجہ سے سمجھ لیا کہ اس سے مراد «الْعُقُولِ الْعَشَرَةِ» اور «النُّفُوسِ التِّسْعَةِ» ہیں حالانکہ یہ مجرد ان کا دعویٰ ہے جس پر دلیل قائم کرنے سے وہ بالکل عاجز ہیں۔ افسوس کہ آیت کے اول پر تو ان کی نظریں ہیں لیکن آخری حصہ کے ساتھ وہ کفر کر رہے ہیں جہاں صاف الفاظ موجود ہیں کہ ” تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر صرف انیس کے کیا معنی؟ “
بخاری و مسلم کی معراج والی حدیث میں ثابت ہو چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المعمور کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ساتویں آسمان پر ہے اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں اسی طرح دوسرے روز دوسرے ستر ہزار فرشتے اسی طرح ہمیشہ تک لیکن فرشتوں کی تعداد اس قدر کثیر ہے کہ جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی ۔ [صحیح بخاری:3207]
10000
مسند احمد میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان چرچرا رہے ہیں اور انہیں چرچرانے کا حق ہے۔ ایک انگلی ٹکانے کی جگہ ایسی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں نہ پڑا ہو۔ اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تم بہت کم ہنستے، بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی بیویوں کے ساتھ لذت نہ پا سکتے بلکہ فریاد و زاری کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے ۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ یہ نکل جاتا کاش! کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے ـ [سنن ترمذي:2312،قال الشيخ الألباني:حسن] اور امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے۔
طبرانی میں ہے ساتوں آسمانوں میں قدم رکھنے کی بالشت بھر یا ہتھیلی جتنی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام کی یا رکوع کی یا سجدے کی حالت میں نہ ہو پھر بھی یہ سب کل قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہمیں جس قدر تیری عبادت کرنی چاہیئے تھی اس قدر ہم سے ادا نہیں ہو سکتی، البتہ ہم نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا [طبرانی اوسط:3592:ضعیف]
امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کی کتاب الصلوۃ میں ہے کہ حضور علیہ السلام نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: ”کیا جو میں سن رہا ہوں تم بھی سن رہے ہو؟“ انہوں نے جواب میں کہا: یا رسول اللہ! ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمانوں کا چرچر بولنا میں سن رہا ہوں اور وہ اس چرچراہٹ پر ملامت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس پر اس قدر فرشتے ہیں کہ ایک بالشت بھر جگہ خالی نہیں کہیں کوئی رکوع میں ہے اور کہیں کوئی سجدے میں“ ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060:صحیح]
10001
دوسری روایت میں ہے آسمان دنیا میں ایک قدم رکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں سجدے میں یا قیام میں کوئی فرشتہ نہ ہو، اسی لیے فرشتوں کا یہ قول قرآن کریم میں موجود ہے «وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ» [37-الصافات:166-164] یعنی ” ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقرر جگہ ہے اور ہم صفیں باندھنے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے والے ہیں “ ۔ اس حدیث کا مرفوع ہونا بہت ہی غریب ہے،
دوسری روایت میں یہ قول سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان کیا گیا ہے، ایک اور سند سے یہ روایت سیدنا ابن علاء بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً مروی ہے یہ صحابی فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے جہادوں میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لیکن سنداً یہ بھی غریب ہے۔
ایک اور بہت ہی غریب بلکہ سخت منکر حدیث میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے نماز کھڑی ہوئی تھی اور تین شخص بیٹھے ہوئے تھے جن میں کا ایک ابوحجش لیثی تھا آپ نے فرمایا اٹھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہو جاؤ تو دو شخص تو کھڑے ہو گئے لیکن ابوجحش کہنے لگا اگر کوئی ایسا شخص آئے جو طاقت و قوت میں مجھ سے زیادہ ہو اور مجھ سے کشتی لڑے اور مجھے گرا دے پھر میرا منہ مٹی میں ملا دے تو میں اٹھوں گا ورنہ بس اٹھ چکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور کون آئے گا آ جا میں تیار ہوں چنانچہ کشتی ہونے لگی اور میں نے اسے پچھاڑا پھر اس کے منہ کو مٹی میں مل دیا اور اتنے میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آ گئے اور اسے میرے ہاتھ سے چھڑا دیا، میں بڑا بگڑا اور اسی غصہ کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: ”ابوحفص آج کیا بات ہے؟“ میں نے کل واقعہ کہہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عمر اس سے خوش ہوتا تو اس پر رحم کرتا اللہ کی قسم میرے نزدیک تو اس خبیث کا سر اتار لیتا تو اچھا تھا“، یہ سنتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یونہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی طرف لپکے۔
10002
خاصی دور نکل چکے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی اور فرمایا: ”بیٹھو سن تو لو کہ اللہ ابوجحش کی نماز سے بالکل بے نیاز ہے آسمان دنیا میں خشوع و خضوع والے بے شمار فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں جو قیامت کو سجدے سے سر اٹھائیں گے اور یہ کہتے ہوئے حاضر ہوں گے کہ اب بھی ہمارے رب ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا، اسی طرح دوسرے آسمان میں بھی یہی حال ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! ان کی تسبیح کیا ہے؟ فرمایا: ”آسمان دنیا کے فرشتے تو کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْمُلْك وَالْمَلَكُوت» اور دوسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْعِزَّة وَالْجَبَرُوت» اور تیسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان الْحَيّ الَّذِي لَا يَمُوت»، عمر! تو بھی اپنی نماز میں اسے کہا کر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! اس سے پہلے جو پڑھنا آپ نے سکھایا ہے اور جس کے پڑھنے کو فرمایا ہے اس کا کیا ہو گا؟ کہا ”کبھی یہ کہو، کبھی وہ پڑھو“ پہلے جو پڑھنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ یہ تھا «أَعُوذ بِعَفْوِك مِنْ عِقَابك وَأَعُوذ بِرِضَاك مِنْ سَخَطك وَأَعُوذ بِك مِنْك جَلَّ وَجْهك» یعنی اللہ! تیرے عذابوں سے میں تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ پکڑتا ہوں اور تیرا چہرہ جلال والا ہے۔ [تعظیم قدر الصلاۃ،256:ضعیف]
اور اسحاق مروزی رحمہ اللہ جو راوی حدیث ہے اس سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اور امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ بھی انہیں ثقہ راویوں میں گنتے ہیں لیکن امام ابوداؤد، امام نسائی، امام عقیلی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تھے تو یہ سچے مگر نابینا ہو گئے تھے اور کبھی کبھی تلقین قبول کر لیا کرتے تھے ہاں ان کی کتابوں کی مرویات صحیح ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ مضطرب ہیں اور ان کے استاد عبدالملک بن قدامہ ابوقتادہ جمعی میں بھی کلام ہے۔ تعجب ہے کہ امام محمد بن نصر رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی اس حدیث کو کیسے روایت کر دیا؟ اور نہ تو اس پر کلام کیا، نہ اس کے حال کو معلوم کرایا، نہ اس کے بعض راویوں کے ضعف کو بیان کیا۔ ہاں اتنا تو کیا ہے کہ اسے دوسری سند سے مرسلاً روایت کر دیا ہے اور مرسل کی دو سندیں لائے ہیں ایک سعید بن جبیر سے دوسری حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے۔
10003
پھر ایک اور روایت لائے ہیں کہ عدی بن ارطاۃ رحمہ اللہ نے مدائن کی جامع مسجد میں اپنے خطبہ میں فرمایا کہ میں نے ایک صحابی سے سنا ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے بہت سے ایسے فرشتے ہیں جو ہر وقت خوف اللہ سے کپکپاتے رہتے ہیں ان کے آنسو گرتے رہتے ہیں اور وہ ان فرشتوں پر ٹپکتے ہیں جو نماز میں مشغول ہیں اور ان میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ابتداء دنیا سے رکوع میں ہی ہیں اور بعض سجدے میں ہی ہیں قیامت کے دن اپنی پیٹھ اور اپنا سر اٹھائیں گے اور نہایت عاجزی سے جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا۔“ [تعظیم قدر الصلاۃ،260:ضعیف] اس حدیث کی اسناد میں کوئی حرج نہیں۔
پھر فرماتا ہے ” یہ آگ جس کا وصف تم سن چکے یہ لوگوں کے لیے سراسر باعث عبرت و نصیحت ہے “۔ پھر چاند کی رات کے جانے کی صبح کے روشن ہونے کی قسمیں کھا کر فرماتا ہے کہ ” وہ آگ ایک زبردست اور بہت بڑی چیز ہے، جو اس ڈراوے کو قبول کر کے حق کی راہ لگنا چاہے لگ جائے، جو چاہے اس کے باوجود حق کو پیٹھ ہی دکھاتا رہے، اس سے دور بھاگتا رہے، یا اسے رد کرتا رہے “۔
10004
المدثر 74:32
سخت دل بےرحم فرشتے اور ابو جہل ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بے رحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں “۔
اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابوجہل نے کہا: اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ ” وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو، نہ تھکا سکو “۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو! تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور شخص تھا اور ساتھ ہی بڑا قوی تھا یہ گائے کے چمڑے پر کھڑا ہو جاتا پھر دس طاقتور شخص مل کر اسے اس کے پیروں تلے سے نکالنا چاہتے کھال کے ٹکڑے اڑ جاتے لیکن اس کے قدم جنبش بھی نہ کھاتے۔ یہی شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کہا تھا کہ آپ مجھ سے کشتی لڑیں اگر آپ نے مجھے گرا دیا تو میں آپ کی نبوت کو مان لوں گا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کشتی کی اور کئی بار گرایا لیکن اسے ایمان لانا نصیب نہ ہوا۔ امام ابن اسحاق رحمہ اللہ نے کشتی والا واقعہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن عبدالمطلب کا بتایا ہے، میں کہتا ہوں ان دونوں میں کچھ تفاوت نہیں (ممکن ہے اس سے اور اس سے دونوں سے کشتی ہوئی ہو)۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9999
پھر فرمایا کہ ” اس گنتی کا ذکر تھا ہی امتحان کے لیے “، ایک طرف کافروں کا کفر کھل گیا، دوسری جانب اہل کتاب کا یقین کامل ہو گیا، کہ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت حق ہے کیونکہ خود ان کی کتاب میں بھی یہی گنتی ہے، تیسری طرف ایماندار اپنے ایمان میں مزید توانا ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی تصدیق کی اور ایمان بڑھایا، اہل کتاب اور مسلمانوں کو کوئی شک شبہ نہ رہا بیمار دل اور منافق چیخ اٹھے کہ بھلا بتاؤ کہ اسے یہاں ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ایسی ہی باتیں بہت سے لوگوں کے ایمان کی مضبوطی کا سبب بن جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کے شبہ والے دل اور ڈانوا ڈول ہو جاتے ہیں اللہ کے یہ سب کام حکمت سے اور اسرار سے پر ہیں، تیرے رب کے لشکروں کی گنتی اور ان کی صحیح تعداد اور ان کی کثرت کا کسی کو علم نہیں وہی خوب جانتا ہے “۔
یہ نہ سمجھ لینا کہ بس انیس ہی ہیں، جیسے یونانی فلسفیوں اور ان کے ہم خیال لوگوں نے اپنی جہالت و ضلالت کی وجہ سے سمجھ لیا کہ اس سے مراد «الْعُقُولِ الْعَشَرَةِ» اور «النُّفُوسِ التِّسْعَةِ» ہیں حالانکہ یہ مجرد ان کا دعویٰ ہے جس پر دلیل قائم کرنے سے وہ بالکل عاجز ہیں۔ افسوس کہ آیت کے اول پر تو ان کی نظریں ہیں لیکن آخری حصہ کے ساتھ وہ کفر کر رہے ہیں جہاں صاف الفاظ موجود ہیں کہ ” تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر صرف انیس کے کیا معنی؟ “
بخاری و مسلم کی معراج والی حدیث میں ثابت ہو چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المعمور کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ساتویں آسمان پر ہے اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں اسی طرح دوسرے روز دوسرے ستر ہزار فرشتے اسی طرح ہمیشہ تک لیکن فرشتوں کی تعداد اس قدر کثیر ہے کہ جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی ۔ [صحیح بخاری:3207]
10000
مسند احمد میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان چرچرا رہے ہیں اور انہیں چرچرانے کا حق ہے۔ ایک انگلی ٹکانے کی جگہ ایسی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں نہ پڑا ہو۔ اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تم بہت کم ہنستے، بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی بیویوں کے ساتھ لذت نہ پا سکتے بلکہ فریاد و زاری کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے ۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ یہ نکل جاتا کاش! کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے ـ [سنن ترمذي:2312،قال الشيخ الألباني:حسن] اور امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے۔
طبرانی میں ہے ساتوں آسمانوں میں قدم رکھنے کی بالشت بھر یا ہتھیلی جتنی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام کی یا رکوع کی یا سجدے کی حالت میں نہ ہو پھر بھی یہ سب کل قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہمیں جس قدر تیری عبادت کرنی چاہیئے تھی اس قدر ہم سے ادا نہیں ہو سکتی، البتہ ہم نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا [طبرانی اوسط:3592:ضعیف]
امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کی کتاب الصلوۃ میں ہے کہ حضور علیہ السلام نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: ”کیا جو میں سن رہا ہوں تم بھی سن رہے ہو؟“ انہوں نے جواب میں کہا: یا رسول اللہ! ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمانوں کا چرچر بولنا میں سن رہا ہوں اور وہ اس چرچراہٹ پر ملامت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس پر اس قدر فرشتے ہیں کہ ایک بالشت بھر جگہ خالی نہیں کہیں کوئی رکوع میں ہے اور کہیں کوئی سجدے میں“ ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060:صحیح]
10001
دوسری روایت میں ہے آسمان دنیا میں ایک قدم رکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں سجدے میں یا قیام میں کوئی فرشتہ نہ ہو، اسی لیے فرشتوں کا یہ قول قرآن کریم میں موجود ہے «وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ» [37-الصافات:166-164] یعنی ” ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقرر جگہ ہے اور ہم صفیں باندھنے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے والے ہیں “ ۔ اس حدیث کا مرفوع ہونا بہت ہی غریب ہے،
دوسری روایت میں یہ قول سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان کیا گیا ہے، ایک اور سند سے یہ روایت سیدنا ابن علاء بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً مروی ہے یہ صحابی فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے جہادوں میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لیکن سنداً یہ بھی غریب ہے۔
ایک اور بہت ہی غریب بلکہ سخت منکر حدیث میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے نماز کھڑی ہوئی تھی اور تین شخص بیٹھے ہوئے تھے جن میں کا ایک ابوحجش لیثی تھا آپ نے فرمایا اٹھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہو جاؤ تو دو شخص تو کھڑے ہو گئے لیکن ابوجحش کہنے لگا اگر کوئی ایسا شخص آئے جو طاقت و قوت میں مجھ سے زیادہ ہو اور مجھ سے کشتی لڑے اور مجھے گرا دے پھر میرا منہ مٹی میں ملا دے تو میں اٹھوں گا ورنہ بس اٹھ چکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور کون آئے گا آ جا میں تیار ہوں چنانچہ کشتی ہونے لگی اور میں نے اسے پچھاڑا پھر اس کے منہ کو مٹی میں مل دیا اور اتنے میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آ گئے اور اسے میرے ہاتھ سے چھڑا دیا، میں بڑا بگڑا اور اسی غصہ کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: ”ابوحفص آج کیا بات ہے؟“ میں نے کل واقعہ کہہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عمر اس سے خوش ہوتا تو اس پر رحم کرتا اللہ کی قسم میرے نزدیک تو اس خبیث کا سر اتار لیتا تو اچھا تھا“، یہ سنتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یونہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی طرف لپکے۔
10002
خاصی دور نکل چکے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی اور فرمایا: ”بیٹھو سن تو لو کہ اللہ ابوجحش کی نماز سے بالکل بے نیاز ہے آسمان دنیا میں خشوع و خضوع والے بے شمار فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں جو قیامت کو سجدے سے سر اٹھائیں گے اور یہ کہتے ہوئے حاضر ہوں گے کہ اب بھی ہمارے رب ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا، اسی طرح دوسرے آسمان میں بھی یہی حال ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! ان کی تسبیح کیا ہے؟ فرمایا: ”آسمان دنیا کے فرشتے تو کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْمُلْك وَالْمَلَكُوت» اور دوسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْعِزَّة وَالْجَبَرُوت» اور تیسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان الْحَيّ الَّذِي لَا يَمُوت»، عمر! تو بھی اپنی نماز میں اسے کہا کر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! اس سے پہلے جو پڑھنا آپ نے سکھایا ہے اور جس کے پڑھنے کو فرمایا ہے اس کا کیا ہو گا؟ کہا ”کبھی یہ کہو، کبھی وہ پڑھو“ پہلے جو پڑھنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ یہ تھا «أَعُوذ بِعَفْوِك مِنْ عِقَابك وَأَعُوذ بِرِضَاك مِنْ سَخَطك وَأَعُوذ بِك مِنْك جَلَّ وَجْهك» یعنی اللہ! تیرے عذابوں سے میں تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ پکڑتا ہوں اور تیرا چہرہ جلال والا ہے۔ [تعظیم قدر الصلاۃ،256:ضعیف]
اور اسحاق مروزی رحمہ اللہ جو راوی حدیث ہے اس سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اور امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ بھی انہیں ثقہ راویوں میں گنتے ہیں لیکن امام ابوداؤد، امام نسائی، امام عقیلی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تھے تو یہ سچے مگر نابینا ہو گئے تھے اور کبھی کبھی تلقین قبول کر لیا کرتے تھے ہاں ان کی کتابوں کی مرویات صحیح ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ مضطرب ہیں اور ان کے استاد عبدالملک بن قدامہ ابوقتادہ جمعی میں بھی کلام ہے۔ تعجب ہے کہ امام محمد بن نصر رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی اس حدیث کو کیسے روایت کر دیا؟ اور نہ تو اس پر کلام کیا، نہ اس کے حال کو معلوم کرایا، نہ اس کے بعض راویوں کے ضعف کو بیان کیا۔ ہاں اتنا تو کیا ہے کہ اسے دوسری سند سے مرسلاً روایت کر دیا ہے اور مرسل کی دو سندیں لائے ہیں ایک سعید بن جبیر سے دوسری حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے۔
10003
پھر ایک اور روایت لائے ہیں کہ عدی بن ارطاۃ رحمہ اللہ نے مدائن کی جامع مسجد میں اپنے خطبہ میں فرمایا کہ میں نے ایک صحابی سے سنا ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے بہت سے ایسے فرشتے ہیں جو ہر وقت خوف اللہ سے کپکپاتے رہتے ہیں ان کے آنسو گرتے رہتے ہیں اور وہ ان فرشتوں پر ٹپکتے ہیں جو نماز میں مشغول ہیں اور ان میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ابتداء دنیا سے رکوع میں ہی ہیں اور بعض سجدے میں ہی ہیں قیامت کے دن اپنی پیٹھ اور اپنا سر اٹھائیں گے اور نہایت عاجزی سے جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا۔“ [تعظیم قدر الصلاۃ،260:ضعیف] اس حدیث کی اسناد میں کوئی حرج نہیں۔
پھر فرماتا ہے ” یہ آگ جس کا وصف تم سن چکے یہ لوگوں کے لیے سراسر باعث عبرت و نصیحت ہے “۔ پھر چاند کی رات کے جانے کی صبح کے روشن ہونے کی قسمیں کھا کر فرماتا ہے کہ ” وہ آگ ایک زبردست اور بہت بڑی چیز ہے، جو اس ڈراوے کو قبول کر کے حق کی راہ لگنا چاہے لگ جائے، جو چاہے اس کے باوجود حق کو پیٹھ ہی دکھاتا رہے، اس سے دور بھاگتا رہے، یا اسے رد کرتا رہے “۔
10004
المدثر 74:33
سخت دل بےرحم فرشتے اور ابو جہل ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بے رحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں “۔
اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابوجہل نے کہا: اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ ” وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو، نہ تھکا سکو “۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو! تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور شخص تھا اور ساتھ ہی بڑا قوی تھا یہ گائے کے چمڑے پر کھڑا ہو جاتا پھر دس طاقتور شخص مل کر اسے اس کے پیروں تلے سے نکالنا چاہتے کھال کے ٹکڑے اڑ جاتے لیکن اس کے قدم جنبش بھی نہ کھاتے۔ یہی شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کہا تھا کہ آپ مجھ سے کشتی لڑیں اگر آپ نے مجھے گرا دیا تو میں آپ کی نبوت کو مان لوں گا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کشتی کی اور کئی بار گرایا لیکن اسے ایمان لانا نصیب نہ ہوا۔ امام ابن اسحاق رحمہ اللہ نے کشتی والا واقعہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن عبدالمطلب کا بتایا ہے، میں کہتا ہوں ان دونوں میں کچھ تفاوت نہیں (ممکن ہے اس سے اور اس سے دونوں سے کشتی ہوئی ہو)۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9999
پھر فرمایا کہ ” اس گنتی کا ذکر تھا ہی امتحان کے لیے “، ایک طرف کافروں کا کفر کھل گیا، دوسری جانب اہل کتاب کا یقین کامل ہو گیا، کہ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت حق ہے کیونکہ خود ان کی کتاب میں بھی یہی گنتی ہے، تیسری طرف ایماندار اپنے ایمان میں مزید توانا ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی تصدیق کی اور ایمان بڑھایا، اہل کتاب اور مسلمانوں کو کوئی شک شبہ نہ رہا بیمار دل اور منافق چیخ اٹھے کہ بھلا بتاؤ کہ اسے یہاں ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ایسی ہی باتیں بہت سے لوگوں کے ایمان کی مضبوطی کا سبب بن جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کے شبہ والے دل اور ڈانوا ڈول ہو جاتے ہیں اللہ کے یہ سب کام حکمت سے اور اسرار سے پر ہیں، تیرے رب کے لشکروں کی گنتی اور ان کی صحیح تعداد اور ان کی کثرت کا کسی کو علم نہیں وہی خوب جانتا ہے “۔
یہ نہ سمجھ لینا کہ بس انیس ہی ہیں، جیسے یونانی فلسفیوں اور ان کے ہم خیال لوگوں نے اپنی جہالت و ضلالت کی وجہ سے سمجھ لیا کہ اس سے مراد «الْعُقُولِ الْعَشَرَةِ» اور «النُّفُوسِ التِّسْعَةِ» ہیں حالانکہ یہ مجرد ان کا دعویٰ ہے جس پر دلیل قائم کرنے سے وہ بالکل عاجز ہیں۔ افسوس کہ آیت کے اول پر تو ان کی نظریں ہیں لیکن آخری حصہ کے ساتھ وہ کفر کر رہے ہیں جہاں صاف الفاظ موجود ہیں کہ ” تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر صرف انیس کے کیا معنی؟ “
بخاری و مسلم کی معراج والی حدیث میں ثابت ہو چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المعمور کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ساتویں آسمان پر ہے اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں اسی طرح دوسرے روز دوسرے ستر ہزار فرشتے اسی طرح ہمیشہ تک لیکن فرشتوں کی تعداد اس قدر کثیر ہے کہ جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی ۔ [صحیح بخاری:3207]
10000
مسند احمد میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان چرچرا رہے ہیں اور انہیں چرچرانے کا حق ہے۔ ایک انگلی ٹکانے کی جگہ ایسی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں نہ پڑا ہو۔ اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تم بہت کم ہنستے، بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی بیویوں کے ساتھ لذت نہ پا سکتے بلکہ فریاد و زاری کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے ۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ یہ نکل جاتا کاش! کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے ـ [سنن ترمذي:2312،قال الشيخ الألباني:حسن] اور امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے۔
طبرانی میں ہے ساتوں آسمانوں میں قدم رکھنے کی بالشت بھر یا ہتھیلی جتنی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام کی یا رکوع کی یا سجدے کی حالت میں نہ ہو پھر بھی یہ سب کل قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہمیں جس قدر تیری عبادت کرنی چاہیئے تھی اس قدر ہم سے ادا نہیں ہو سکتی، البتہ ہم نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا [طبرانی اوسط:3592:ضعیف]
امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کی کتاب الصلوۃ میں ہے کہ حضور علیہ السلام نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: ”کیا جو میں سن رہا ہوں تم بھی سن رہے ہو؟“ انہوں نے جواب میں کہا: یا رسول اللہ! ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمانوں کا چرچر بولنا میں سن رہا ہوں اور وہ اس چرچراہٹ پر ملامت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس پر اس قدر فرشتے ہیں کہ ایک بالشت بھر جگہ خالی نہیں کہیں کوئی رکوع میں ہے اور کہیں کوئی سجدے میں“ ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060:صحیح]
10001
دوسری روایت میں ہے آسمان دنیا میں ایک قدم رکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں سجدے میں یا قیام میں کوئی فرشتہ نہ ہو، اسی لیے فرشتوں کا یہ قول قرآن کریم میں موجود ہے «وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ» [37-الصافات:166-164] یعنی ” ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقرر جگہ ہے اور ہم صفیں باندھنے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے والے ہیں “ ۔ اس حدیث کا مرفوع ہونا بہت ہی غریب ہے،
دوسری روایت میں یہ قول سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان کیا گیا ہے، ایک اور سند سے یہ روایت سیدنا ابن علاء بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً مروی ہے یہ صحابی فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے جہادوں میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لیکن سنداً یہ بھی غریب ہے۔
ایک اور بہت ہی غریب بلکہ سخت منکر حدیث میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے نماز کھڑی ہوئی تھی اور تین شخص بیٹھے ہوئے تھے جن میں کا ایک ابوحجش لیثی تھا آپ نے فرمایا اٹھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہو جاؤ تو دو شخص تو کھڑے ہو گئے لیکن ابوجحش کہنے لگا اگر کوئی ایسا شخص آئے جو طاقت و قوت میں مجھ سے زیادہ ہو اور مجھ سے کشتی لڑے اور مجھے گرا دے پھر میرا منہ مٹی میں ملا دے تو میں اٹھوں گا ورنہ بس اٹھ چکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور کون آئے گا آ جا میں تیار ہوں چنانچہ کشتی ہونے لگی اور میں نے اسے پچھاڑا پھر اس کے منہ کو مٹی میں مل دیا اور اتنے میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آ گئے اور اسے میرے ہاتھ سے چھڑا دیا، میں بڑا بگڑا اور اسی غصہ کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: ”ابوحفص آج کیا بات ہے؟“ میں نے کل واقعہ کہہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عمر اس سے خوش ہوتا تو اس پر رحم کرتا اللہ کی قسم میرے نزدیک تو اس خبیث کا سر اتار لیتا تو اچھا تھا“، یہ سنتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یونہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی طرف لپکے۔
10002
خاصی دور نکل چکے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی اور فرمایا: ”بیٹھو سن تو لو کہ اللہ ابوجحش کی نماز سے بالکل بے نیاز ہے آسمان دنیا میں خشوع و خضوع والے بے شمار فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں جو قیامت کو سجدے سے سر اٹھائیں گے اور یہ کہتے ہوئے حاضر ہوں گے کہ اب بھی ہمارے رب ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا، اسی طرح دوسرے آسمان میں بھی یہی حال ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! ان کی تسبیح کیا ہے؟ فرمایا: ”آسمان دنیا کے فرشتے تو کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْمُلْك وَالْمَلَكُوت» اور دوسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْعِزَّة وَالْجَبَرُوت» اور تیسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان الْحَيّ الَّذِي لَا يَمُوت»، عمر! تو بھی اپنی نماز میں اسے کہا کر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! اس سے پہلے جو پڑھنا آپ نے سکھایا ہے اور جس کے پڑھنے کو فرمایا ہے اس کا کیا ہو گا؟ کہا ”کبھی یہ کہو، کبھی وہ پڑھو“ پہلے جو پڑھنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ یہ تھا «أَعُوذ بِعَفْوِك مِنْ عِقَابك وَأَعُوذ بِرِضَاك مِنْ سَخَطك وَأَعُوذ بِك مِنْك جَلَّ وَجْهك» یعنی اللہ! تیرے عذابوں سے میں تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ پکڑتا ہوں اور تیرا چہرہ جلال والا ہے۔ [تعظیم قدر الصلاۃ،256:ضعیف]
اور اسحاق مروزی رحمہ اللہ جو راوی حدیث ہے اس سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اور امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ بھی انہیں ثقہ راویوں میں گنتے ہیں لیکن امام ابوداؤد، امام نسائی، امام عقیلی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تھے تو یہ سچے مگر نابینا ہو گئے تھے اور کبھی کبھی تلقین قبول کر لیا کرتے تھے ہاں ان کی کتابوں کی مرویات صحیح ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ مضطرب ہیں اور ان کے استاد عبدالملک بن قدامہ ابوقتادہ جمعی میں بھی کلام ہے۔ تعجب ہے کہ امام محمد بن نصر رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی اس حدیث کو کیسے روایت کر دیا؟ اور نہ تو اس پر کلام کیا، نہ اس کے حال کو معلوم کرایا، نہ اس کے بعض راویوں کے ضعف کو بیان کیا۔ ہاں اتنا تو کیا ہے کہ اسے دوسری سند سے مرسلاً روایت کر دیا ہے اور مرسل کی دو سندیں لائے ہیں ایک سعید بن جبیر سے دوسری حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے۔
10003
پھر ایک اور روایت لائے ہیں کہ عدی بن ارطاۃ رحمہ اللہ نے مدائن کی جامع مسجد میں اپنے خطبہ میں فرمایا کہ میں نے ایک صحابی سے سنا ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے بہت سے ایسے فرشتے ہیں جو ہر وقت خوف اللہ سے کپکپاتے رہتے ہیں ان کے آنسو گرتے رہتے ہیں اور وہ ان فرشتوں پر ٹپکتے ہیں جو نماز میں مشغول ہیں اور ان میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ابتداء دنیا سے رکوع میں ہی ہیں اور بعض سجدے میں ہی ہیں قیامت کے دن اپنی پیٹھ اور اپنا سر اٹھائیں گے اور نہایت عاجزی سے جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا۔“ [تعظیم قدر الصلاۃ،260:ضعیف] اس حدیث کی اسناد میں کوئی حرج نہیں۔
پھر فرماتا ہے ” یہ آگ جس کا وصف تم سن چکے یہ لوگوں کے لیے سراسر باعث عبرت و نصیحت ہے “۔ پھر چاند کی رات کے جانے کی صبح کے روشن ہونے کی قسمیں کھا کر فرماتا ہے کہ ” وہ آگ ایک زبردست اور بہت بڑی چیز ہے، جو اس ڈراوے کو قبول کر کے حق کی راہ لگنا چاہے لگ جائے، جو چاہے اس کے باوجود حق کو پیٹھ ہی دکھاتا رہے، اس سے دور بھاگتا رہے، یا اسے رد کرتا رہے “۔
10004
المدثر 74:34
سخت دل بےرحم فرشتے اور ابو جہل ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بے رحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں “۔
اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابوجہل نے کہا: اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ ” وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو، نہ تھکا سکو “۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو! تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور شخص تھا اور ساتھ ہی بڑا قوی تھا یہ گائے کے چمڑے پر کھڑا ہو جاتا پھر دس طاقتور شخص مل کر اسے اس کے پیروں تلے سے نکالنا چاہتے کھال کے ٹکڑے اڑ جاتے لیکن اس کے قدم جنبش بھی نہ کھاتے۔ یہی شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کہا تھا کہ آپ مجھ سے کشتی لڑیں اگر آپ نے مجھے گرا دیا تو میں آپ کی نبوت کو مان لوں گا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کشتی کی اور کئی بار گرایا لیکن اسے ایمان لانا نصیب نہ ہوا۔ امام ابن اسحاق رحمہ اللہ نے کشتی والا واقعہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن عبدالمطلب کا بتایا ہے، میں کہتا ہوں ان دونوں میں کچھ تفاوت نہیں (ممکن ہے اس سے اور اس سے دونوں سے کشتی ہوئی ہو)۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9999
پھر فرمایا کہ ” اس گنتی کا ذکر تھا ہی امتحان کے لیے “، ایک طرف کافروں کا کفر کھل گیا، دوسری جانب اہل کتاب کا یقین کامل ہو گیا، کہ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت حق ہے کیونکہ خود ان کی کتاب میں بھی یہی گنتی ہے، تیسری طرف ایماندار اپنے ایمان میں مزید توانا ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی تصدیق کی اور ایمان بڑھایا، اہل کتاب اور مسلمانوں کو کوئی شک شبہ نہ رہا بیمار دل اور منافق چیخ اٹھے کہ بھلا بتاؤ کہ اسے یہاں ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ایسی ہی باتیں بہت سے لوگوں کے ایمان کی مضبوطی کا سبب بن جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کے شبہ والے دل اور ڈانوا ڈول ہو جاتے ہیں اللہ کے یہ سب کام حکمت سے اور اسرار سے پر ہیں، تیرے رب کے لشکروں کی گنتی اور ان کی صحیح تعداد اور ان کی کثرت کا کسی کو علم نہیں وہی خوب جانتا ہے “۔
یہ نہ سمجھ لینا کہ بس انیس ہی ہیں، جیسے یونانی فلسفیوں اور ان کے ہم خیال لوگوں نے اپنی جہالت و ضلالت کی وجہ سے سمجھ لیا کہ اس سے مراد «الْعُقُولِ الْعَشَرَةِ» اور «النُّفُوسِ التِّسْعَةِ» ہیں حالانکہ یہ مجرد ان کا دعویٰ ہے جس پر دلیل قائم کرنے سے وہ بالکل عاجز ہیں۔ افسوس کہ آیت کے اول پر تو ان کی نظریں ہیں لیکن آخری حصہ کے ساتھ وہ کفر کر رہے ہیں جہاں صاف الفاظ موجود ہیں کہ ” تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر صرف انیس کے کیا معنی؟ “
بخاری و مسلم کی معراج والی حدیث میں ثابت ہو چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المعمور کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ساتویں آسمان پر ہے اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں اسی طرح دوسرے روز دوسرے ستر ہزار فرشتے اسی طرح ہمیشہ تک لیکن فرشتوں کی تعداد اس قدر کثیر ہے کہ جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی ۔ [صحیح بخاری:3207]
10000
مسند احمد میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان چرچرا رہے ہیں اور انہیں چرچرانے کا حق ہے۔ ایک انگلی ٹکانے کی جگہ ایسی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں نہ پڑا ہو۔ اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تم بہت کم ہنستے، بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی بیویوں کے ساتھ لذت نہ پا سکتے بلکہ فریاد و زاری کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے ۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ یہ نکل جاتا کاش! کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے ـ [سنن ترمذي:2312،قال الشيخ الألباني:حسن] اور امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے۔
طبرانی میں ہے ساتوں آسمانوں میں قدم رکھنے کی بالشت بھر یا ہتھیلی جتنی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام کی یا رکوع کی یا سجدے کی حالت میں نہ ہو پھر بھی یہ سب کل قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہمیں جس قدر تیری عبادت کرنی چاہیئے تھی اس قدر ہم سے ادا نہیں ہو سکتی، البتہ ہم نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا [طبرانی اوسط:3592:ضعیف]
امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کی کتاب الصلوۃ میں ہے کہ حضور علیہ السلام نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: ”کیا جو میں سن رہا ہوں تم بھی سن رہے ہو؟“ انہوں نے جواب میں کہا: یا رسول اللہ! ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمانوں کا چرچر بولنا میں سن رہا ہوں اور وہ اس چرچراہٹ پر ملامت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس پر اس قدر فرشتے ہیں کہ ایک بالشت بھر جگہ خالی نہیں کہیں کوئی رکوع میں ہے اور کہیں کوئی سجدے میں“ ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060:صحیح]
10001
دوسری روایت میں ہے آسمان دنیا میں ایک قدم رکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں سجدے میں یا قیام میں کوئی فرشتہ نہ ہو، اسی لیے فرشتوں کا یہ قول قرآن کریم میں موجود ہے «وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ» [37-الصافات:166-164] یعنی ” ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقرر جگہ ہے اور ہم صفیں باندھنے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے والے ہیں “ ۔ اس حدیث کا مرفوع ہونا بہت ہی غریب ہے،
دوسری روایت میں یہ قول سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان کیا گیا ہے، ایک اور سند سے یہ روایت سیدنا ابن علاء بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً مروی ہے یہ صحابی فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے جہادوں میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لیکن سنداً یہ بھی غریب ہے۔
ایک اور بہت ہی غریب بلکہ سخت منکر حدیث میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے نماز کھڑی ہوئی تھی اور تین شخص بیٹھے ہوئے تھے جن میں کا ایک ابوحجش لیثی تھا آپ نے فرمایا اٹھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہو جاؤ تو دو شخص تو کھڑے ہو گئے لیکن ابوجحش کہنے لگا اگر کوئی ایسا شخص آئے جو طاقت و قوت میں مجھ سے زیادہ ہو اور مجھ سے کشتی لڑے اور مجھے گرا دے پھر میرا منہ مٹی میں ملا دے تو میں اٹھوں گا ورنہ بس اٹھ چکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور کون آئے گا آ جا میں تیار ہوں چنانچہ کشتی ہونے لگی اور میں نے اسے پچھاڑا پھر اس کے منہ کو مٹی میں مل دیا اور اتنے میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آ گئے اور اسے میرے ہاتھ سے چھڑا دیا، میں بڑا بگڑا اور اسی غصہ کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: ”ابوحفص آج کیا بات ہے؟“ میں نے کل واقعہ کہہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عمر اس سے خوش ہوتا تو اس پر رحم کرتا اللہ کی قسم میرے نزدیک تو اس خبیث کا سر اتار لیتا تو اچھا تھا“، یہ سنتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یونہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی طرف لپکے۔
10002
خاصی دور نکل چکے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی اور فرمایا: ”بیٹھو سن تو لو کہ اللہ ابوجحش کی نماز سے بالکل بے نیاز ہے آسمان دنیا میں خشوع و خضوع والے بے شمار فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں جو قیامت کو سجدے سے سر اٹھائیں گے اور یہ کہتے ہوئے حاضر ہوں گے کہ اب بھی ہمارے رب ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا، اسی طرح دوسرے آسمان میں بھی یہی حال ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! ان کی تسبیح کیا ہے؟ فرمایا: ”آسمان دنیا کے فرشتے تو کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْمُلْك وَالْمَلَكُوت» اور دوسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْعِزَّة وَالْجَبَرُوت» اور تیسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان الْحَيّ الَّذِي لَا يَمُوت»، عمر! تو بھی اپنی نماز میں اسے کہا کر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! اس سے پہلے جو پڑھنا آپ نے سکھایا ہے اور جس کے پڑھنے کو فرمایا ہے اس کا کیا ہو گا؟ کہا ”کبھی یہ کہو، کبھی وہ پڑھو“ پہلے جو پڑھنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ یہ تھا «أَعُوذ بِعَفْوِك مِنْ عِقَابك وَأَعُوذ بِرِضَاك مِنْ سَخَطك وَأَعُوذ بِك مِنْك جَلَّ وَجْهك» یعنی اللہ! تیرے عذابوں سے میں تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ پکڑتا ہوں اور تیرا چہرہ جلال والا ہے۔ [تعظیم قدر الصلاۃ،256:ضعیف]
اور اسحاق مروزی رحمہ اللہ جو راوی حدیث ہے اس سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اور امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ بھی انہیں ثقہ راویوں میں گنتے ہیں لیکن امام ابوداؤد، امام نسائی، امام عقیلی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تھے تو یہ سچے مگر نابینا ہو گئے تھے اور کبھی کبھی تلقین قبول کر لیا کرتے تھے ہاں ان کی کتابوں کی مرویات صحیح ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ مضطرب ہیں اور ان کے استاد عبدالملک بن قدامہ ابوقتادہ جمعی میں بھی کلام ہے۔ تعجب ہے کہ امام محمد بن نصر رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی اس حدیث کو کیسے روایت کر دیا؟ اور نہ تو اس پر کلام کیا، نہ اس کے حال کو معلوم کرایا، نہ اس کے بعض راویوں کے ضعف کو بیان کیا۔ ہاں اتنا تو کیا ہے کہ اسے دوسری سند سے مرسلاً روایت کر دیا ہے اور مرسل کی دو سندیں لائے ہیں ایک سعید بن جبیر سے دوسری حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے۔
10003
پھر ایک اور روایت لائے ہیں کہ عدی بن ارطاۃ رحمہ اللہ نے مدائن کی جامع مسجد میں اپنے خطبہ میں فرمایا کہ میں نے ایک صحابی سے سنا ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے بہت سے ایسے فرشتے ہیں جو ہر وقت خوف اللہ سے کپکپاتے رہتے ہیں ان کے آنسو گرتے رہتے ہیں اور وہ ان فرشتوں پر ٹپکتے ہیں جو نماز میں مشغول ہیں اور ان میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ابتداء دنیا سے رکوع میں ہی ہیں اور بعض سجدے میں ہی ہیں قیامت کے دن اپنی پیٹھ اور اپنا سر اٹھائیں گے اور نہایت عاجزی سے جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا۔“ [تعظیم قدر الصلاۃ،260:ضعیف] اس حدیث کی اسناد میں کوئی حرج نہیں۔
پھر فرماتا ہے ” یہ آگ جس کا وصف تم سن چکے یہ لوگوں کے لیے سراسر باعث عبرت و نصیحت ہے “۔ پھر چاند کی رات کے جانے کی صبح کے روشن ہونے کی قسمیں کھا کر فرماتا ہے کہ ” وہ آگ ایک زبردست اور بہت بڑی چیز ہے، جو اس ڈراوے کو قبول کر کے حق کی راہ لگنا چاہے لگ جائے، جو چاہے اس کے باوجود حق کو پیٹھ ہی دکھاتا رہے، اس سے دور بھاگتا رہے، یا اسے رد کرتا رہے “۔
10004
المدثر 74:35
سخت دل بےرحم فرشتے اور ابو جہل ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بے رحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں “۔
اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابوجہل نے کہا: اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ ” وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو، نہ تھکا سکو “۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو! تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور شخص تھا اور ساتھ ہی بڑا قوی تھا یہ گائے کے چمڑے پر کھڑا ہو جاتا پھر دس طاقتور شخص مل کر اسے اس کے پیروں تلے سے نکالنا چاہتے کھال کے ٹکڑے اڑ جاتے لیکن اس کے قدم جنبش بھی نہ کھاتے۔ یہی شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کہا تھا کہ آپ مجھ سے کشتی لڑیں اگر آپ نے مجھے گرا دیا تو میں آپ کی نبوت کو مان لوں گا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کشتی کی اور کئی بار گرایا لیکن اسے ایمان لانا نصیب نہ ہوا۔ امام ابن اسحاق رحمہ اللہ نے کشتی والا واقعہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن عبدالمطلب کا بتایا ہے، میں کہتا ہوں ان دونوں میں کچھ تفاوت نہیں (ممکن ہے اس سے اور اس سے دونوں سے کشتی ہوئی ہو)۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9999
پھر فرمایا کہ ” اس گنتی کا ذکر تھا ہی امتحان کے لیے “، ایک طرف کافروں کا کفر کھل گیا، دوسری جانب اہل کتاب کا یقین کامل ہو گیا، کہ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت حق ہے کیونکہ خود ان کی کتاب میں بھی یہی گنتی ہے، تیسری طرف ایماندار اپنے ایمان میں مزید توانا ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی تصدیق کی اور ایمان بڑھایا، اہل کتاب اور مسلمانوں کو کوئی شک شبہ نہ رہا بیمار دل اور منافق چیخ اٹھے کہ بھلا بتاؤ کہ اسے یہاں ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ایسی ہی باتیں بہت سے لوگوں کے ایمان کی مضبوطی کا سبب بن جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کے شبہ والے دل اور ڈانوا ڈول ہو جاتے ہیں اللہ کے یہ سب کام حکمت سے اور اسرار سے پر ہیں، تیرے رب کے لشکروں کی گنتی اور ان کی صحیح تعداد اور ان کی کثرت کا کسی کو علم نہیں وہی خوب جانتا ہے “۔
یہ نہ سمجھ لینا کہ بس انیس ہی ہیں، جیسے یونانی فلسفیوں اور ان کے ہم خیال لوگوں نے اپنی جہالت و ضلالت کی وجہ سے سمجھ لیا کہ اس سے مراد «الْعُقُولِ الْعَشَرَةِ» اور «النُّفُوسِ التِّسْعَةِ» ہیں حالانکہ یہ مجرد ان کا دعویٰ ہے جس پر دلیل قائم کرنے سے وہ بالکل عاجز ہیں۔ افسوس کہ آیت کے اول پر تو ان کی نظریں ہیں لیکن آخری حصہ کے ساتھ وہ کفر کر رہے ہیں جہاں صاف الفاظ موجود ہیں کہ ” تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر صرف انیس کے کیا معنی؟ “
بخاری و مسلم کی معراج والی حدیث میں ثابت ہو چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المعمور کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ساتویں آسمان پر ہے اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں اسی طرح دوسرے روز دوسرے ستر ہزار فرشتے اسی طرح ہمیشہ تک لیکن فرشتوں کی تعداد اس قدر کثیر ہے کہ جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی ۔ [صحیح بخاری:3207]
10000
مسند احمد میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان چرچرا رہے ہیں اور انہیں چرچرانے کا حق ہے۔ ایک انگلی ٹکانے کی جگہ ایسی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں نہ پڑا ہو۔ اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تم بہت کم ہنستے، بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی بیویوں کے ساتھ لذت نہ پا سکتے بلکہ فریاد و زاری کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے ۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ یہ نکل جاتا کاش! کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے ـ [سنن ترمذي:2312،قال الشيخ الألباني:حسن] اور امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے۔
طبرانی میں ہے ساتوں آسمانوں میں قدم رکھنے کی بالشت بھر یا ہتھیلی جتنی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام کی یا رکوع کی یا سجدے کی حالت میں نہ ہو پھر بھی یہ سب کل قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہمیں جس قدر تیری عبادت کرنی چاہیئے تھی اس قدر ہم سے ادا نہیں ہو سکتی، البتہ ہم نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا [طبرانی اوسط:3592:ضعیف]
امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کی کتاب الصلوۃ میں ہے کہ حضور علیہ السلام نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: ”کیا جو میں سن رہا ہوں تم بھی سن رہے ہو؟“ انہوں نے جواب میں کہا: یا رسول اللہ! ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمانوں کا چرچر بولنا میں سن رہا ہوں اور وہ اس چرچراہٹ پر ملامت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس پر اس قدر فرشتے ہیں کہ ایک بالشت بھر جگہ خالی نہیں کہیں کوئی رکوع میں ہے اور کہیں کوئی سجدے میں“ ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060:صحیح]
10001
دوسری روایت میں ہے آسمان دنیا میں ایک قدم رکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں سجدے میں یا قیام میں کوئی فرشتہ نہ ہو، اسی لیے فرشتوں کا یہ قول قرآن کریم میں موجود ہے «وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ» [37-الصافات:166-164] یعنی ” ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقرر جگہ ہے اور ہم صفیں باندھنے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے والے ہیں “ ۔ اس حدیث کا مرفوع ہونا بہت ہی غریب ہے،
دوسری روایت میں یہ قول سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان کیا گیا ہے، ایک اور سند سے یہ روایت سیدنا ابن علاء بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً مروی ہے یہ صحابی فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے جہادوں میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لیکن سنداً یہ بھی غریب ہے۔
ایک اور بہت ہی غریب بلکہ سخت منکر حدیث میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے نماز کھڑی ہوئی تھی اور تین شخص بیٹھے ہوئے تھے جن میں کا ایک ابوحجش لیثی تھا آپ نے فرمایا اٹھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہو جاؤ تو دو شخص تو کھڑے ہو گئے لیکن ابوجحش کہنے لگا اگر کوئی ایسا شخص آئے جو طاقت و قوت میں مجھ سے زیادہ ہو اور مجھ سے کشتی لڑے اور مجھے گرا دے پھر میرا منہ مٹی میں ملا دے تو میں اٹھوں گا ورنہ بس اٹھ چکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور کون آئے گا آ جا میں تیار ہوں چنانچہ کشتی ہونے لگی اور میں نے اسے پچھاڑا پھر اس کے منہ کو مٹی میں مل دیا اور اتنے میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آ گئے اور اسے میرے ہاتھ سے چھڑا دیا، میں بڑا بگڑا اور اسی غصہ کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: ”ابوحفص آج کیا بات ہے؟“ میں نے کل واقعہ کہہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عمر اس سے خوش ہوتا تو اس پر رحم کرتا اللہ کی قسم میرے نزدیک تو اس خبیث کا سر اتار لیتا تو اچھا تھا“، یہ سنتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یونہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی طرف لپکے۔
10002
خاصی دور نکل چکے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی اور فرمایا: ”بیٹھو سن تو لو کہ اللہ ابوجحش کی نماز سے بالکل بے نیاز ہے آسمان دنیا میں خشوع و خضوع والے بے شمار فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں جو قیامت کو سجدے سے سر اٹھائیں گے اور یہ کہتے ہوئے حاضر ہوں گے کہ اب بھی ہمارے رب ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا، اسی طرح دوسرے آسمان میں بھی یہی حال ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! ان کی تسبیح کیا ہے؟ فرمایا: ”آسمان دنیا کے فرشتے تو کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْمُلْك وَالْمَلَكُوت» اور دوسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْعِزَّة وَالْجَبَرُوت» اور تیسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان الْحَيّ الَّذِي لَا يَمُوت»، عمر! تو بھی اپنی نماز میں اسے کہا کر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! اس سے پہلے جو پڑھنا آپ نے سکھایا ہے اور جس کے پڑھنے کو فرمایا ہے اس کا کیا ہو گا؟ کہا ”کبھی یہ کہو، کبھی وہ پڑھو“ پہلے جو پڑھنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ یہ تھا «أَعُوذ بِعَفْوِك مِنْ عِقَابك وَأَعُوذ بِرِضَاك مِنْ سَخَطك وَأَعُوذ بِك مِنْك جَلَّ وَجْهك» یعنی اللہ! تیرے عذابوں سے میں تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ پکڑتا ہوں اور تیرا چہرہ جلال والا ہے۔ [تعظیم قدر الصلاۃ،256:ضعیف]
اور اسحاق مروزی رحمہ اللہ جو راوی حدیث ہے اس سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اور امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ بھی انہیں ثقہ راویوں میں گنتے ہیں لیکن امام ابوداؤد، امام نسائی، امام عقیلی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تھے تو یہ سچے مگر نابینا ہو گئے تھے اور کبھی کبھی تلقین قبول کر لیا کرتے تھے ہاں ان کی کتابوں کی مرویات صحیح ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ مضطرب ہیں اور ان کے استاد عبدالملک بن قدامہ ابوقتادہ جمعی میں بھی کلام ہے۔ تعجب ہے کہ امام محمد بن نصر رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی اس حدیث کو کیسے روایت کر دیا؟ اور نہ تو اس پر کلام کیا، نہ اس کے حال کو معلوم کرایا، نہ اس کے بعض راویوں کے ضعف کو بیان کیا۔ ہاں اتنا تو کیا ہے کہ اسے دوسری سند سے مرسلاً روایت کر دیا ہے اور مرسل کی دو سندیں لائے ہیں ایک سعید بن جبیر سے دوسری حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے۔
10003
پھر ایک اور روایت لائے ہیں کہ عدی بن ارطاۃ رحمہ اللہ نے مدائن کی جامع مسجد میں اپنے خطبہ میں فرمایا کہ میں نے ایک صحابی سے سنا ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے بہت سے ایسے فرشتے ہیں جو ہر وقت خوف اللہ سے کپکپاتے رہتے ہیں ان کے آنسو گرتے رہتے ہیں اور وہ ان فرشتوں پر ٹپکتے ہیں جو نماز میں مشغول ہیں اور ان میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ابتداء دنیا سے رکوع میں ہی ہیں اور بعض سجدے میں ہی ہیں قیامت کے دن اپنی پیٹھ اور اپنا سر اٹھائیں گے اور نہایت عاجزی سے جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا۔“ [تعظیم قدر الصلاۃ،260:ضعیف] اس حدیث کی اسناد میں کوئی حرج نہیں۔
پھر فرماتا ہے ” یہ آگ جس کا وصف تم سن چکے یہ لوگوں کے لیے سراسر باعث عبرت و نصیحت ہے “۔ پھر چاند کی رات کے جانے کی صبح کے روشن ہونے کی قسمیں کھا کر فرماتا ہے کہ ” وہ آگ ایک زبردست اور بہت بڑی چیز ہے، جو اس ڈراوے کو قبول کر کے حق کی راہ لگنا چاہے لگ جائے، جو چاہے اس کے باوجود حق کو پیٹھ ہی دکھاتا رہے، اس سے دور بھاگتا رہے، یا اسے رد کرتا رہے “۔
10004
المدثر 74:36
سخت دل بےرحم فرشتے اور ابو جہل ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بے رحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں “۔
اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابوجہل نے کہا: اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ ” وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو، نہ تھکا سکو “۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو! تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور شخص تھا اور ساتھ ہی بڑا قوی تھا یہ گائے کے چمڑے پر کھڑا ہو جاتا پھر دس طاقتور شخص مل کر اسے اس کے پیروں تلے سے نکالنا چاہتے کھال کے ٹکڑے اڑ جاتے لیکن اس کے قدم جنبش بھی نہ کھاتے۔ یہی شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کہا تھا کہ آپ مجھ سے کشتی لڑیں اگر آپ نے مجھے گرا دیا تو میں آپ کی نبوت کو مان لوں گا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کشتی کی اور کئی بار گرایا لیکن اسے ایمان لانا نصیب نہ ہوا۔ امام ابن اسحاق رحمہ اللہ نے کشتی والا واقعہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن عبدالمطلب کا بتایا ہے، میں کہتا ہوں ان دونوں میں کچھ تفاوت نہیں (ممکن ہے اس سے اور اس سے دونوں سے کشتی ہوئی ہو)۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9999
پھر فرمایا کہ ” اس گنتی کا ذکر تھا ہی امتحان کے لیے “، ایک طرف کافروں کا کفر کھل گیا، دوسری جانب اہل کتاب کا یقین کامل ہو گیا، کہ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت حق ہے کیونکہ خود ان کی کتاب میں بھی یہی گنتی ہے، تیسری طرف ایماندار اپنے ایمان میں مزید توانا ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی تصدیق کی اور ایمان بڑھایا، اہل کتاب اور مسلمانوں کو کوئی شک شبہ نہ رہا بیمار دل اور منافق چیخ اٹھے کہ بھلا بتاؤ کہ اسے یہاں ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ایسی ہی باتیں بہت سے لوگوں کے ایمان کی مضبوطی کا سبب بن جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کے شبہ والے دل اور ڈانوا ڈول ہو جاتے ہیں اللہ کے یہ سب کام حکمت سے اور اسرار سے پر ہیں، تیرے رب کے لشکروں کی گنتی اور ان کی صحیح تعداد اور ان کی کثرت کا کسی کو علم نہیں وہی خوب جانتا ہے “۔
یہ نہ سمجھ لینا کہ بس انیس ہی ہیں، جیسے یونانی فلسفیوں اور ان کے ہم خیال لوگوں نے اپنی جہالت و ضلالت کی وجہ سے سمجھ لیا کہ اس سے مراد «الْعُقُولِ الْعَشَرَةِ» اور «النُّفُوسِ التِّسْعَةِ» ہیں حالانکہ یہ مجرد ان کا دعویٰ ہے جس پر دلیل قائم کرنے سے وہ بالکل عاجز ہیں۔ افسوس کہ آیت کے اول پر تو ان کی نظریں ہیں لیکن آخری حصہ کے ساتھ وہ کفر کر رہے ہیں جہاں صاف الفاظ موجود ہیں کہ ” تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر صرف انیس کے کیا معنی؟ “
بخاری و مسلم کی معراج والی حدیث میں ثابت ہو چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المعمور کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ساتویں آسمان پر ہے اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں اسی طرح دوسرے روز دوسرے ستر ہزار فرشتے اسی طرح ہمیشہ تک لیکن فرشتوں کی تعداد اس قدر کثیر ہے کہ جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی ۔ [صحیح بخاری:3207]
10000
مسند احمد میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان چرچرا رہے ہیں اور انہیں چرچرانے کا حق ہے۔ ایک انگلی ٹکانے کی جگہ ایسی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں نہ پڑا ہو۔ اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تم بہت کم ہنستے، بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی بیویوں کے ساتھ لذت نہ پا سکتے بلکہ فریاد و زاری کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے ۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ یہ نکل جاتا کاش! کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے ـ [سنن ترمذي:2312،قال الشيخ الألباني:حسن] اور امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے۔
طبرانی میں ہے ساتوں آسمانوں میں قدم رکھنے کی بالشت بھر یا ہتھیلی جتنی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام کی یا رکوع کی یا سجدے کی حالت میں نہ ہو پھر بھی یہ سب کل قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہمیں جس قدر تیری عبادت کرنی چاہیئے تھی اس قدر ہم سے ادا نہیں ہو سکتی، البتہ ہم نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا [طبرانی اوسط:3592:ضعیف]
امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کی کتاب الصلوۃ میں ہے کہ حضور علیہ السلام نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: ”کیا جو میں سن رہا ہوں تم بھی سن رہے ہو؟“ انہوں نے جواب میں کہا: یا رسول اللہ! ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمانوں کا چرچر بولنا میں سن رہا ہوں اور وہ اس چرچراہٹ پر ملامت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس پر اس قدر فرشتے ہیں کہ ایک بالشت بھر جگہ خالی نہیں کہیں کوئی رکوع میں ہے اور کہیں کوئی سجدے میں“ ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060:صحیح]
10001
دوسری روایت میں ہے آسمان دنیا میں ایک قدم رکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں سجدے میں یا قیام میں کوئی فرشتہ نہ ہو، اسی لیے فرشتوں کا یہ قول قرآن کریم میں موجود ہے «وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ» [37-الصافات:166-164] یعنی ” ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقرر جگہ ہے اور ہم صفیں باندھنے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے والے ہیں “ ۔ اس حدیث کا مرفوع ہونا بہت ہی غریب ہے،
دوسری روایت میں یہ قول سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان کیا گیا ہے، ایک اور سند سے یہ روایت سیدنا ابن علاء بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً مروی ہے یہ صحابی فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے جہادوں میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لیکن سنداً یہ بھی غریب ہے۔
ایک اور بہت ہی غریب بلکہ سخت منکر حدیث میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے نماز کھڑی ہوئی تھی اور تین شخص بیٹھے ہوئے تھے جن میں کا ایک ابوحجش لیثی تھا آپ نے فرمایا اٹھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہو جاؤ تو دو شخص تو کھڑے ہو گئے لیکن ابوجحش کہنے لگا اگر کوئی ایسا شخص آئے جو طاقت و قوت میں مجھ سے زیادہ ہو اور مجھ سے کشتی لڑے اور مجھے گرا دے پھر میرا منہ مٹی میں ملا دے تو میں اٹھوں گا ورنہ بس اٹھ چکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور کون آئے گا آ جا میں تیار ہوں چنانچہ کشتی ہونے لگی اور میں نے اسے پچھاڑا پھر اس کے منہ کو مٹی میں مل دیا اور اتنے میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آ گئے اور اسے میرے ہاتھ سے چھڑا دیا، میں بڑا بگڑا اور اسی غصہ کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: ”ابوحفص آج کیا بات ہے؟“ میں نے کل واقعہ کہہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عمر اس سے خوش ہوتا تو اس پر رحم کرتا اللہ کی قسم میرے نزدیک تو اس خبیث کا سر اتار لیتا تو اچھا تھا“، یہ سنتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یونہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی طرف لپکے۔
10002
خاصی دور نکل چکے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی اور فرمایا: ”بیٹھو سن تو لو کہ اللہ ابوجحش کی نماز سے بالکل بے نیاز ہے آسمان دنیا میں خشوع و خضوع والے بے شمار فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں جو قیامت کو سجدے سے سر اٹھائیں گے اور یہ کہتے ہوئے حاضر ہوں گے کہ اب بھی ہمارے رب ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا، اسی طرح دوسرے آسمان میں بھی یہی حال ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! ان کی تسبیح کیا ہے؟ فرمایا: ”آسمان دنیا کے فرشتے تو کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْمُلْك وَالْمَلَكُوت» اور دوسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْعِزَّة وَالْجَبَرُوت» اور تیسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان الْحَيّ الَّذِي لَا يَمُوت»، عمر! تو بھی اپنی نماز میں اسے کہا کر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! اس سے پہلے جو پڑھنا آپ نے سکھایا ہے اور جس کے پڑھنے کو فرمایا ہے اس کا کیا ہو گا؟ کہا ”کبھی یہ کہو، کبھی وہ پڑھو“ پہلے جو پڑھنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ یہ تھا «أَعُوذ بِعَفْوِك مِنْ عِقَابك وَأَعُوذ بِرِضَاك مِنْ سَخَطك وَأَعُوذ بِك مِنْك جَلَّ وَجْهك» یعنی اللہ! تیرے عذابوں سے میں تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ پکڑتا ہوں اور تیرا چہرہ جلال والا ہے۔ [تعظیم قدر الصلاۃ،256:ضعیف]
اور اسحاق مروزی رحمہ اللہ جو راوی حدیث ہے اس سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اور امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ بھی انہیں ثقہ راویوں میں گنتے ہیں لیکن امام ابوداؤد، امام نسائی، امام عقیلی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تھے تو یہ سچے مگر نابینا ہو گئے تھے اور کبھی کبھی تلقین قبول کر لیا کرتے تھے ہاں ان کی کتابوں کی مرویات صحیح ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ مضطرب ہیں اور ان کے استاد عبدالملک بن قدامہ ابوقتادہ جمعی میں بھی کلام ہے۔ تعجب ہے کہ امام محمد بن نصر رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی اس حدیث کو کیسے روایت کر دیا؟ اور نہ تو اس پر کلام کیا، نہ اس کے حال کو معلوم کرایا، نہ اس کے بعض راویوں کے ضعف کو بیان کیا۔ ہاں اتنا تو کیا ہے کہ اسے دوسری سند سے مرسلاً روایت کر دیا ہے اور مرسل کی دو سندیں لائے ہیں ایک سعید بن جبیر سے دوسری حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے۔
10003
پھر ایک اور روایت لائے ہیں کہ عدی بن ارطاۃ رحمہ اللہ نے مدائن کی جامع مسجد میں اپنے خطبہ میں فرمایا کہ میں نے ایک صحابی سے سنا ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے بہت سے ایسے فرشتے ہیں جو ہر وقت خوف اللہ سے کپکپاتے رہتے ہیں ان کے آنسو گرتے رہتے ہیں اور وہ ان فرشتوں پر ٹپکتے ہیں جو نماز میں مشغول ہیں اور ان میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ابتداء دنیا سے رکوع میں ہی ہیں اور بعض سجدے میں ہی ہیں قیامت کے دن اپنی پیٹھ اور اپنا سر اٹھائیں گے اور نہایت عاجزی سے جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا۔“ [تعظیم قدر الصلاۃ،260:ضعیف] اس حدیث کی اسناد میں کوئی حرج نہیں۔
پھر فرماتا ہے ” یہ آگ جس کا وصف تم سن چکے یہ لوگوں کے لیے سراسر باعث عبرت و نصیحت ہے “۔ پھر چاند کی رات کے جانے کی صبح کے روشن ہونے کی قسمیں کھا کر فرماتا ہے کہ ” وہ آگ ایک زبردست اور بہت بڑی چیز ہے، جو اس ڈراوے کو قبول کر کے حق کی راہ لگنا چاہے لگ جائے، جو چاہے اس کے باوجود حق کو پیٹھ ہی دکھاتا رہے، اس سے دور بھاگتا رہے، یا اسے رد کرتا رہے “۔
10004
المدثر 74:37
سخت دل بےرحم فرشتے اور ابو جہل ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بے رحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں “۔
اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابوجہل نے کہا: اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ ” وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو، نہ تھکا سکو “۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو! تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور شخص تھا اور ساتھ ہی بڑا قوی تھا یہ گائے کے چمڑے پر کھڑا ہو جاتا پھر دس طاقتور شخص مل کر اسے اس کے پیروں تلے سے نکالنا چاہتے کھال کے ٹکڑے اڑ جاتے لیکن اس کے قدم جنبش بھی نہ کھاتے۔ یہی شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کہا تھا کہ آپ مجھ سے کشتی لڑیں اگر آپ نے مجھے گرا دیا تو میں آپ کی نبوت کو مان لوں گا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کشتی کی اور کئی بار گرایا لیکن اسے ایمان لانا نصیب نہ ہوا۔ امام ابن اسحاق رحمہ اللہ نے کشتی والا واقعہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن عبدالمطلب کا بتایا ہے، میں کہتا ہوں ان دونوں میں کچھ تفاوت نہیں (ممکن ہے اس سے اور اس سے دونوں سے کشتی ہوئی ہو)۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9999
پھر فرمایا کہ ” اس گنتی کا ذکر تھا ہی امتحان کے لیے “، ایک طرف کافروں کا کفر کھل گیا، دوسری جانب اہل کتاب کا یقین کامل ہو گیا، کہ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت حق ہے کیونکہ خود ان کی کتاب میں بھی یہی گنتی ہے، تیسری طرف ایماندار اپنے ایمان میں مزید توانا ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی تصدیق کی اور ایمان بڑھایا، اہل کتاب اور مسلمانوں کو کوئی شک شبہ نہ رہا بیمار دل اور منافق چیخ اٹھے کہ بھلا بتاؤ کہ اسے یہاں ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ایسی ہی باتیں بہت سے لوگوں کے ایمان کی مضبوطی کا سبب بن جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کے شبہ والے دل اور ڈانوا ڈول ہو جاتے ہیں اللہ کے یہ سب کام حکمت سے اور اسرار سے پر ہیں، تیرے رب کے لشکروں کی گنتی اور ان کی صحیح تعداد اور ان کی کثرت کا کسی کو علم نہیں وہی خوب جانتا ہے “۔
یہ نہ سمجھ لینا کہ بس انیس ہی ہیں، جیسے یونانی فلسفیوں اور ان کے ہم خیال لوگوں نے اپنی جہالت و ضلالت کی وجہ سے سمجھ لیا کہ اس سے مراد «الْعُقُولِ الْعَشَرَةِ» اور «النُّفُوسِ التِّسْعَةِ» ہیں حالانکہ یہ مجرد ان کا دعویٰ ہے جس پر دلیل قائم کرنے سے وہ بالکل عاجز ہیں۔ افسوس کہ آیت کے اول پر تو ان کی نظریں ہیں لیکن آخری حصہ کے ساتھ وہ کفر کر رہے ہیں جہاں صاف الفاظ موجود ہیں کہ ” تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر صرف انیس کے کیا معنی؟ “
بخاری و مسلم کی معراج والی حدیث میں ثابت ہو چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المعمور کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ساتویں آسمان پر ہے اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں اسی طرح دوسرے روز دوسرے ستر ہزار فرشتے اسی طرح ہمیشہ تک لیکن فرشتوں کی تعداد اس قدر کثیر ہے کہ جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی ۔ [صحیح بخاری:3207]
10000
مسند احمد میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان چرچرا رہے ہیں اور انہیں چرچرانے کا حق ہے۔ ایک انگلی ٹکانے کی جگہ ایسی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں نہ پڑا ہو۔ اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تم بہت کم ہنستے، بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی بیویوں کے ساتھ لذت نہ پا سکتے بلکہ فریاد و زاری کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے ۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ یہ نکل جاتا کاش! کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے ـ [سنن ترمذي:2312،قال الشيخ الألباني:حسن] اور امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے۔
طبرانی میں ہے ساتوں آسمانوں میں قدم رکھنے کی بالشت بھر یا ہتھیلی جتنی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام کی یا رکوع کی یا سجدے کی حالت میں نہ ہو پھر بھی یہ سب کل قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہمیں جس قدر تیری عبادت کرنی چاہیئے تھی اس قدر ہم سے ادا نہیں ہو سکتی، البتہ ہم نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا [طبرانی اوسط:3592:ضعیف]
امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کی کتاب الصلوۃ میں ہے کہ حضور علیہ السلام نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: ”کیا جو میں سن رہا ہوں تم بھی سن رہے ہو؟“ انہوں نے جواب میں کہا: یا رسول اللہ! ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمانوں کا چرچر بولنا میں سن رہا ہوں اور وہ اس چرچراہٹ پر ملامت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس پر اس قدر فرشتے ہیں کہ ایک بالشت بھر جگہ خالی نہیں کہیں کوئی رکوع میں ہے اور کہیں کوئی سجدے میں“ ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060:صحیح]
10001
دوسری روایت میں ہے آسمان دنیا میں ایک قدم رکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں سجدے میں یا قیام میں کوئی فرشتہ نہ ہو، اسی لیے فرشتوں کا یہ قول قرآن کریم میں موجود ہے «وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ» [37-الصافات:166-164] یعنی ” ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقرر جگہ ہے اور ہم صفیں باندھنے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے والے ہیں “ ۔ اس حدیث کا مرفوع ہونا بہت ہی غریب ہے،
دوسری روایت میں یہ قول سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان کیا گیا ہے، ایک اور سند سے یہ روایت سیدنا ابن علاء بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً مروی ہے یہ صحابی فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے جہادوں میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لیکن سنداً یہ بھی غریب ہے۔
ایک اور بہت ہی غریب بلکہ سخت منکر حدیث میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے نماز کھڑی ہوئی تھی اور تین شخص بیٹھے ہوئے تھے جن میں کا ایک ابوحجش لیثی تھا آپ نے فرمایا اٹھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہو جاؤ تو دو شخص تو کھڑے ہو گئے لیکن ابوجحش کہنے لگا اگر کوئی ایسا شخص آئے جو طاقت و قوت میں مجھ سے زیادہ ہو اور مجھ سے کشتی لڑے اور مجھے گرا دے پھر میرا منہ مٹی میں ملا دے تو میں اٹھوں گا ورنہ بس اٹھ چکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور کون آئے گا آ جا میں تیار ہوں چنانچہ کشتی ہونے لگی اور میں نے اسے پچھاڑا پھر اس کے منہ کو مٹی میں مل دیا اور اتنے میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آ گئے اور اسے میرے ہاتھ سے چھڑا دیا، میں بڑا بگڑا اور اسی غصہ کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: ”ابوحفص آج کیا بات ہے؟“ میں نے کل واقعہ کہہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عمر اس سے خوش ہوتا تو اس پر رحم کرتا اللہ کی قسم میرے نزدیک تو اس خبیث کا سر اتار لیتا تو اچھا تھا“، یہ سنتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یونہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی طرف لپکے۔
10002
خاصی دور نکل چکے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی اور فرمایا: ”بیٹھو سن تو لو کہ اللہ ابوجحش کی نماز سے بالکل بے نیاز ہے آسمان دنیا میں خشوع و خضوع والے بے شمار فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں جو قیامت کو سجدے سے سر اٹھائیں گے اور یہ کہتے ہوئے حاضر ہوں گے کہ اب بھی ہمارے رب ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا، اسی طرح دوسرے آسمان میں بھی یہی حال ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! ان کی تسبیح کیا ہے؟ فرمایا: ”آسمان دنیا کے فرشتے تو کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْمُلْك وَالْمَلَكُوت» اور دوسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان ذِي الْعِزَّة وَالْجَبَرُوت» اور تیسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں «سُبْحَان الْحَيّ الَّذِي لَا يَمُوت»، عمر! تو بھی اپنی نماز میں اسے کہا کر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! اس سے پہلے جو پڑھنا آپ نے سکھایا ہے اور جس کے پڑھنے کو فرمایا ہے اس کا کیا ہو گا؟ کہا ”کبھی یہ کہو، کبھی وہ پڑھو“ پہلے جو پڑھنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ یہ تھا «أَعُوذ بِعَفْوِك مِنْ عِقَابك وَأَعُوذ بِرِضَاك مِنْ سَخَطك وَأَعُوذ بِك مِنْك جَلَّ وَجْهك» یعنی اللہ! تیرے عذابوں سے میں تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ پکڑتا ہوں اور تیرا چہرہ جلال والا ہے۔ [تعظیم قدر الصلاۃ،256:ضعیف]
اور اسحاق مروزی رحمہ اللہ جو راوی حدیث ہے اس سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اور امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ بھی انہیں ثقہ راویوں میں گنتے ہیں لیکن امام ابوداؤد، امام نسائی، امام عقیلی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تھے تو یہ سچے مگر نابینا ہو گئے تھے اور کبھی کبھی تلقین قبول کر لیا کرتے تھے ہاں ان کی کتابوں کی مرویات صحیح ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ مضطرب ہیں اور ان کے استاد عبدالملک بن قدامہ ابوقتادہ جمعی میں بھی کلام ہے۔ تعجب ہے کہ امام محمد بن نصر رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی اس حدیث کو کیسے روایت کر دیا؟ اور نہ تو اس پر کلام کیا، نہ اس کے حال کو معلوم کرایا، نہ اس کے بعض راویوں کے ضعف کو بیان کیا۔ ہاں اتنا تو کیا ہے کہ اسے دوسری سند سے مرسلاً روایت کر دیا ہے اور مرسل کی دو سندیں لائے ہیں ایک سعید بن جبیر سے دوسری حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے۔
10003
پھر ایک اور روایت لائے ہیں کہ عدی بن ارطاۃ رحمہ اللہ نے مدائن کی جامع مسجد میں اپنے خطبہ میں فرمایا کہ میں نے ایک صحابی سے سنا ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے بہت سے ایسے فرشتے ہیں جو ہر وقت خوف اللہ سے کپکپاتے رہتے ہیں ان کے آنسو گرتے رہتے ہیں اور وہ ان فرشتوں پر ٹپکتے ہیں جو نماز میں مشغول ہیں اور ان میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ابتداء دنیا سے رکوع میں ہی ہیں اور بعض سجدے میں ہی ہیں قیامت کے دن اپنی پیٹھ اور اپنا سر اٹھائیں گے اور نہایت عاجزی سے جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکا۔“ [تعظیم قدر الصلاۃ،260:ضعیف] اس حدیث کی اسناد میں کوئی حرج نہیں۔
پھر فرماتا ہے ” یہ آگ جس کا وصف تم سن چکے یہ لوگوں کے لیے سراسر باعث عبرت و نصیحت ہے “۔ پھر چاند کی رات کے جانے کی صبح کے روشن ہونے کی قسمیں کھا کر فرماتا ہے کہ ” وہ آگ ایک زبردست اور بہت بڑی چیز ہے، جو اس ڈراوے کو قبول کر کے حق کی راہ لگنا چاہے لگ جائے، جو چاہے اس کے باوجود حق کو پیٹھ ہی دکھاتا رہے، اس سے دور بھاگتا رہے، یا اسے رد کرتا رہے “۔
10004
المدثر 74:38
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی “۔
«یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» [15-الحجر:99] یعنی ” موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ “ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ [صحیح بخاری:3929]
10011
المدثر 74:39
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی “۔
«یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» [15-الحجر:99] یعنی ” موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ “ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ [صحیح بخاری:3929]
10011
المدثر 74:40
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی “۔
«یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» [15-الحجر:99] یعنی ” موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ “ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ [صحیح بخاری:3929]
10011
المدثر 74:41
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی “۔
«یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» [15-الحجر:99] یعنی ” موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ “ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ [صحیح بخاری:3929]
10011
المدثر 74:42
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی “۔
«یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» [15-الحجر:99] یعنی ” موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ “ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ [صحیح بخاری:3929]
10011
المدثر 74:43
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی “۔
«یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» [15-الحجر:99] یعنی ” موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ “ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ [صحیح بخاری:3929]
10011
المدثر 74:44
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی “۔
«یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» [15-الحجر:99] یعنی ” موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ “ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ [صحیح بخاری:3929]
10011
المدثر 74:45
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی “۔
«یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» [15-الحجر:99] یعنی ” موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ “ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ [صحیح بخاری:3929]
10011
المدثر 74:46
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی “۔
«یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» [15-الحجر:99] یعنی ” موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ “ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ [صحیح بخاری:3929]
10011
المدثر 74:47
باب
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ” ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے “۔
پھر فرمایا: ” کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے “۔
فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔
پھر فرماتا ہے ” یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے “۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» [6-الأنعام:124] یعنی ” جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے “۔
” اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ “ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ” ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں “۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ” سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے “۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» [76-الإنسان:30] یعنی ” تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں “۔ پھر فرمایا ” اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے “۔
10020
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ ۔ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10021
المدثر 74:48
باب
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ” ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے “۔
پھر فرمایا: ” کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے “۔
فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔
پھر فرماتا ہے ” یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے “۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» [6-الأنعام:124] یعنی ” جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے “۔
” اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ “ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ” ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں “۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ” سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے “۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» [76-الإنسان:30] یعنی ” تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں “۔ پھر فرمایا ” اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے “۔
10020
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ ۔ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10021
المدثر 74:49
باب
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ” ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے “۔
پھر فرمایا: ” کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے “۔
فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔
پھر فرماتا ہے ” یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے “۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» [6-الأنعام:124] یعنی ” جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے “۔
” اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ “ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ” ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں “۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ” سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے “۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» [76-الإنسان:30] یعنی ” تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں “۔ پھر فرمایا ” اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے “۔
10020
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ ۔ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10021
المدثر 74:50
باب
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ” ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے “۔
پھر فرمایا: ” کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے “۔
فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔
پھر فرماتا ہے ” یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے “۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» [6-الأنعام:124] یعنی ” جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے “۔
” اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ “ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ” ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں “۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ” سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے “۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» [76-الإنسان:30] یعنی ” تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں “۔ پھر فرمایا ” اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے “۔
10020
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ ۔ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10021
المدثر 74:51
باب
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ” ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے “۔
پھر فرمایا: ” کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے “۔
فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔
پھر فرماتا ہے ” یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے “۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» [6-الأنعام:124] یعنی ” جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے “۔
” اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ “ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ” ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں “۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ” سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے “۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» [76-الإنسان:30] یعنی ” تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں “۔ پھر فرمایا ” اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے “۔
10020
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ ۔ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10021
المدثر 74:52
باب
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ” ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے “۔
پھر فرمایا: ” کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے “۔
فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔
پھر فرماتا ہے ” یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے “۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» [6-الأنعام:124] یعنی ” جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے “۔
” اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ “ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ” ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں “۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ” سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے “۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» [76-الإنسان:30] یعنی ” تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں “۔ پھر فرمایا ” اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے “۔
10020
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ ۔ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10021
المدثر 74:53
باب
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ” ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے “۔
پھر فرمایا: ” کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے “۔
فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔
پھر فرماتا ہے ” یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے “۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» [6-الأنعام:124] یعنی ” جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے “۔
” اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ “ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ” ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں “۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ” سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے “۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» [76-الإنسان:30] یعنی ” تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں “۔ پھر فرمایا ” اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے “۔
10020
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ ۔ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10021
المدثر 74:54
باب
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ” ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے “۔
پھر فرمایا: ” کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے “۔
فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔
پھر فرماتا ہے ” یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے “۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» [6-الأنعام:124] یعنی ” جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے “۔
” اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ “ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ” ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں “۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ” سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے “۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» [76-الإنسان:30] یعنی ” تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں “۔ پھر فرمایا ” اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے “۔
10020
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ ۔ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10021
المدثر 74:55
باب
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ” ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے “۔
پھر فرمایا: ” کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے “۔
فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔
پھر فرماتا ہے ” یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے “۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» [6-الأنعام:124] یعنی ” جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے “۔
” اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ “ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ” ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں “۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ” سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے “۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» [76-الإنسان:30] یعنی ” تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں “۔ پھر فرمایا ” اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے “۔
10020
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ ۔ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10021
المدثر 74:56
باب
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ” ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے “۔
پھر فرمایا: ” کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے “۔
فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔
پھر فرماتا ہے ” یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے “۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» [6-الأنعام:124] یعنی ” جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے “۔
” اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ “ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ” ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں “۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ” سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے “۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» [76-الإنسان:30] یعنی ” تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں “۔ پھر فرمایا ” اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے “۔
10020
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ ۔ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10021