Tafsir Ibn Kathir — القيامة 75:1 – الإنسان 76:31
Contents
- القيامة 75:1
- القيامة 75:2
- القيامة 75:3
- القيامة 75:4
- القيامة 75:5
- القيامة 75:6
- القيامة 75:7
- القيامة 75:8
- القيامة 75:9
- القيامة 75:10
- القيامة 75:11
- القيامة 75:12
- القيامة 75:13
- القيامة 75:14
- القيامة 75:15
- القيامة 75:16
- القيامة 75:17
- القيامة 75:18
- القيامة 75:19
- القيامة 75:20
- القيامة 75:21
- القيامة 75:22
- القيامة 75:23
- القيامة 75:24
- القيامة 75:25
- القيامة 75:26
- القيامة 75:27
- القيامة 75:28
- القيامة 75:29
- القيامة 75:30
- القيامة 75:31
- القيامة 75:32
- القيامة 75:33
- القيامة 75:34
- القيامة 75:35
- القيامة 75:36
- القيامة 75:37
- القيامة 75:38
- القيامة 75:39
- القيامة 75:40
- الإنسان 76:1
- الإنسان 76:2
- الإنسان 76:3
- الإنسان 76:4
- الإنسان 76:5
- الإنسان 76:6
- الإنسان 76:7
- الإنسان 76:8
- الإنسان 76:9
- الإنسان 76:10
- الإنسان 76:11
- الإنسان 76:12
- الإنسان 76:13
- الإنسان 76:14
- الإنسان 76:15
- الإنسان 76:16
- الإنسان 76:17
- الإنسان 76:18
- الإنسان 76:19
- الإنسان 76:20
- الإنسان 76:21
- الإنسان 76:22
- الإنسان 76:23
- الإنسان 76:24
- الإنسان 76:25
- الإنسان 76:26
- الإنسان 76:27
- الإنسان 76:28
- الإنسان 76:29
- الإنسان 76:30
- الإنسان 76:31
القيامة 75:1
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں ٭٭
یہ کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے «لا» کا کلمہ نفی کی تائید کے لیے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہو گی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے ” قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی “۔
حسن رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج رحمہ اللہ علیہم کی قرأت «لَأُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» ہے اس سے بھی حسن رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک پہلے کی قسم ہے اور دوسرے کی نہیں، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ دونوں کی قسم کھائی ہے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول بھی یہی ہے۔ یوم قیامت کو تو ہر شخص جانتا ہی ہے۔
10031
«نفس لوامہ» کی تفسیر میں حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مومن کا نفس ہے وہ ہر وقت اپنے تئیں ملامت ہی کرتا رہتا ہے کہ یوں کیوں کہہ دیا؟، یہ کیوں کھا لیا؟، یہ خیال دل میں کیوں آیا؟ ہاں فاسق، فاجر، غافل ہوتا ہے اسے کیا پڑی جو اپنے نفس کو روکے۔
یہ بھی مروی ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق قیامت کے دن اپنے تئیں ملامت کرے گی، خیر والے خیر کی کمی پر اور شر والے شر کے سرزد ہونے پر، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مذموم نفس ہے جو نافرمان ہو، فوت شدہ پر نادم ہونے والا اور اس پر ملامت کرنے والا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ”یہ سب اقوال قریب قریب ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ نفس والا ہے جو نیکی کی کمی پر برائی کے ہو جانے پر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور فوت شدہ پر ندامت کرتا ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” کیا انسان یہ سوچے ہوئے ہے کہ ہم قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کے جمع کرنے پر قادر نہ ہوں گے، یہ تو نہایت غلط خیال ہے ہم اسے متفرق جگہ سے جمع کر کے دوبارہ کھڑا کریں گے اور اس کی بالشت بالشت بنا دیں گے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”ہم قادر ہیں کہ اسے اونٹ یا گھوڑے کے تلوے کی طرح بنا دیں“، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”دنیا میں بھی اگر ہم چاہتے اسے ایسا کر دیتے۔“
آیت کے لفظوں سے تو ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ «قَادِرِينَ» حال ہے «نَّجْمَعَ» سے یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہاں ہم عنقریب جمع کریں گے درآنحالیکہ ہمیں ان کے جمع کرنے کی قدرت ہے بلکہ اگر ہم چاہیں تو جتنا یہ تھا اس سے بھی کچھ زیادہ بنا کر اسے اٹھائیں اس کی انگلیوں کے سرے تک برابر کر کے پیدا کریں۔ ابن قتیبہ اور زجاج کے قول کے یہی معنی ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ انسان اپنے آگے فسق و فجور کرنا چاہتا ہے یعنی قدم بہ قدم بڑھ رہا ہے، امیدیں باندھے ہوئے ہے، کہتا جاتا ہے کہ گناہ کر تو لوں توبہ بھی ہو جائے گی قیامت کے دن سے جو اس کے آگے ہے کفر کرتا ہے، وہ گویا اپنے سر پر سوار ہو کر آگے بڑھ رہا ہے، ہر وقت یہی پایا جاتا ہے کہ ایک ایک قدم اپنے نفس کو اللہ کی معصیت کی طرف بڑھاتا جاتا ہے مگر جن پر رب کا رحم ہے۔ اکثر سلف کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ گناہوں میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں تاخیر کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو یوم حساب کا منکر ہے“، ابن زید رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ظاہر مراد ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ وہ پوچھتا ہے قیامت کب ہوگی، اس کا یہ سوال بھی بطور انکار کے ہے یہ جانتا ہے کہ قیامت کا آنا محال ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ» [34-سبأ:29،30] ، ” کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتا دو کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دے کہ اس کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک ساعت آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے “۔
10032
القيامة 75:2
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں ٭٭
یہ کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے «لا» کا کلمہ نفی کی تائید کے لیے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہو گی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے ” قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی “۔
حسن رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج رحمہ اللہ علیہم کی قرأت «لَأُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» ہے اس سے بھی حسن رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک پہلے کی قسم ہے اور دوسرے کی نہیں، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ دونوں کی قسم کھائی ہے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول بھی یہی ہے۔ یوم قیامت کو تو ہر شخص جانتا ہی ہے۔
10031
«نفس لوامہ» کی تفسیر میں حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مومن کا نفس ہے وہ ہر وقت اپنے تئیں ملامت ہی کرتا رہتا ہے کہ یوں کیوں کہہ دیا؟، یہ کیوں کھا لیا؟، یہ خیال دل میں کیوں آیا؟ ہاں فاسق، فاجر، غافل ہوتا ہے اسے کیا پڑی جو اپنے نفس کو روکے۔
یہ بھی مروی ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق قیامت کے دن اپنے تئیں ملامت کرے گی، خیر والے خیر کی کمی پر اور شر والے شر کے سرزد ہونے پر، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مذموم نفس ہے جو نافرمان ہو، فوت شدہ پر نادم ہونے والا اور اس پر ملامت کرنے والا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ”یہ سب اقوال قریب قریب ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ نفس والا ہے جو نیکی کی کمی پر برائی کے ہو جانے پر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور فوت شدہ پر ندامت کرتا ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” کیا انسان یہ سوچے ہوئے ہے کہ ہم قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کے جمع کرنے پر قادر نہ ہوں گے، یہ تو نہایت غلط خیال ہے ہم اسے متفرق جگہ سے جمع کر کے دوبارہ کھڑا کریں گے اور اس کی بالشت بالشت بنا دیں گے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”ہم قادر ہیں کہ اسے اونٹ یا گھوڑے کے تلوے کی طرح بنا دیں“، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”دنیا میں بھی اگر ہم چاہتے اسے ایسا کر دیتے۔“
آیت کے لفظوں سے تو ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ «قَادِرِينَ» حال ہے «نَّجْمَعَ» سے یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہاں ہم عنقریب جمع کریں گے درآنحالیکہ ہمیں ان کے جمع کرنے کی قدرت ہے بلکہ اگر ہم چاہیں تو جتنا یہ تھا اس سے بھی کچھ زیادہ بنا کر اسے اٹھائیں اس کی انگلیوں کے سرے تک برابر کر کے پیدا کریں۔ ابن قتیبہ اور زجاج کے قول کے یہی معنی ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ انسان اپنے آگے فسق و فجور کرنا چاہتا ہے یعنی قدم بہ قدم بڑھ رہا ہے، امیدیں باندھے ہوئے ہے، کہتا جاتا ہے کہ گناہ کر تو لوں توبہ بھی ہو جائے گی قیامت کے دن سے جو اس کے آگے ہے کفر کرتا ہے، وہ گویا اپنے سر پر سوار ہو کر آگے بڑھ رہا ہے، ہر وقت یہی پایا جاتا ہے کہ ایک ایک قدم اپنے نفس کو اللہ کی معصیت کی طرف بڑھاتا جاتا ہے مگر جن پر رب کا رحم ہے۔ اکثر سلف کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ گناہوں میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں تاخیر کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو یوم حساب کا منکر ہے“، ابن زید رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ظاہر مراد ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ وہ پوچھتا ہے قیامت کب ہوگی، اس کا یہ سوال بھی بطور انکار کے ہے یہ جانتا ہے کہ قیامت کا آنا محال ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ» [34-سبأ:29،30] ، ” کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتا دو کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دے کہ اس کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک ساعت آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے “۔
10032
القيامة 75:3
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں ٭٭
یہ کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے «لا» کا کلمہ نفی کی تائید کے لیے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہو گی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے ” قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی “۔
حسن رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج رحمہ اللہ علیہم کی قرأت «لَأُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» ہے اس سے بھی حسن رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک پہلے کی قسم ہے اور دوسرے کی نہیں، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ دونوں کی قسم کھائی ہے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول بھی یہی ہے۔ یوم قیامت کو تو ہر شخص جانتا ہی ہے۔
10031
«نفس لوامہ» کی تفسیر میں حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مومن کا نفس ہے وہ ہر وقت اپنے تئیں ملامت ہی کرتا رہتا ہے کہ یوں کیوں کہہ دیا؟، یہ کیوں کھا لیا؟، یہ خیال دل میں کیوں آیا؟ ہاں فاسق، فاجر، غافل ہوتا ہے اسے کیا پڑی جو اپنے نفس کو روکے۔
یہ بھی مروی ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق قیامت کے دن اپنے تئیں ملامت کرے گی، خیر والے خیر کی کمی پر اور شر والے شر کے سرزد ہونے پر، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مذموم نفس ہے جو نافرمان ہو، فوت شدہ پر نادم ہونے والا اور اس پر ملامت کرنے والا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ”یہ سب اقوال قریب قریب ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ نفس والا ہے جو نیکی کی کمی پر برائی کے ہو جانے پر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور فوت شدہ پر ندامت کرتا ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” کیا انسان یہ سوچے ہوئے ہے کہ ہم قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کے جمع کرنے پر قادر نہ ہوں گے، یہ تو نہایت غلط خیال ہے ہم اسے متفرق جگہ سے جمع کر کے دوبارہ کھڑا کریں گے اور اس کی بالشت بالشت بنا دیں گے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”ہم قادر ہیں کہ اسے اونٹ یا گھوڑے کے تلوے کی طرح بنا دیں“، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”دنیا میں بھی اگر ہم چاہتے اسے ایسا کر دیتے۔“
آیت کے لفظوں سے تو ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ «قَادِرِينَ» حال ہے «نَّجْمَعَ» سے یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہاں ہم عنقریب جمع کریں گے درآنحالیکہ ہمیں ان کے جمع کرنے کی قدرت ہے بلکہ اگر ہم چاہیں تو جتنا یہ تھا اس سے بھی کچھ زیادہ بنا کر اسے اٹھائیں اس کی انگلیوں کے سرے تک برابر کر کے پیدا کریں۔ ابن قتیبہ اور زجاج کے قول کے یہی معنی ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ انسان اپنے آگے فسق و فجور کرنا چاہتا ہے یعنی قدم بہ قدم بڑھ رہا ہے، امیدیں باندھے ہوئے ہے، کہتا جاتا ہے کہ گناہ کر تو لوں توبہ بھی ہو جائے گی قیامت کے دن سے جو اس کے آگے ہے کفر کرتا ہے، وہ گویا اپنے سر پر سوار ہو کر آگے بڑھ رہا ہے، ہر وقت یہی پایا جاتا ہے کہ ایک ایک قدم اپنے نفس کو اللہ کی معصیت کی طرف بڑھاتا جاتا ہے مگر جن پر رب کا رحم ہے۔ اکثر سلف کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ گناہوں میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں تاخیر کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو یوم حساب کا منکر ہے“، ابن زید رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ظاہر مراد ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ وہ پوچھتا ہے قیامت کب ہوگی، اس کا یہ سوال بھی بطور انکار کے ہے یہ جانتا ہے کہ قیامت کا آنا محال ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ» [34-سبأ:29،30] ، ” کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتا دو کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دے کہ اس کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک ساعت آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے “۔
10032
القيامة 75:4
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں ٭٭
یہ کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے «لا» کا کلمہ نفی کی تائید کے لیے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہو گی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے ” قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی “۔
حسن رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج رحمہ اللہ علیہم کی قرأت «لَأُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» ہے اس سے بھی حسن رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک پہلے کی قسم ہے اور دوسرے کی نہیں، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ دونوں کی قسم کھائی ہے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول بھی یہی ہے۔ یوم قیامت کو تو ہر شخص جانتا ہی ہے۔
10031
«نفس لوامہ» کی تفسیر میں حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مومن کا نفس ہے وہ ہر وقت اپنے تئیں ملامت ہی کرتا رہتا ہے کہ یوں کیوں کہہ دیا؟، یہ کیوں کھا لیا؟، یہ خیال دل میں کیوں آیا؟ ہاں فاسق، فاجر، غافل ہوتا ہے اسے کیا پڑی جو اپنے نفس کو روکے۔
یہ بھی مروی ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق قیامت کے دن اپنے تئیں ملامت کرے گی، خیر والے خیر کی کمی پر اور شر والے شر کے سرزد ہونے پر، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مذموم نفس ہے جو نافرمان ہو، فوت شدہ پر نادم ہونے والا اور اس پر ملامت کرنے والا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ”یہ سب اقوال قریب قریب ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ نفس والا ہے جو نیکی کی کمی پر برائی کے ہو جانے پر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور فوت شدہ پر ندامت کرتا ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” کیا انسان یہ سوچے ہوئے ہے کہ ہم قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کے جمع کرنے پر قادر نہ ہوں گے، یہ تو نہایت غلط خیال ہے ہم اسے متفرق جگہ سے جمع کر کے دوبارہ کھڑا کریں گے اور اس کی بالشت بالشت بنا دیں گے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”ہم قادر ہیں کہ اسے اونٹ یا گھوڑے کے تلوے کی طرح بنا دیں“، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”دنیا میں بھی اگر ہم چاہتے اسے ایسا کر دیتے۔“
آیت کے لفظوں سے تو ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ «قَادِرِينَ» حال ہے «نَّجْمَعَ» سے یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہاں ہم عنقریب جمع کریں گے درآنحالیکہ ہمیں ان کے جمع کرنے کی قدرت ہے بلکہ اگر ہم چاہیں تو جتنا یہ تھا اس سے بھی کچھ زیادہ بنا کر اسے اٹھائیں اس کی انگلیوں کے سرے تک برابر کر کے پیدا کریں۔ ابن قتیبہ اور زجاج کے قول کے یہی معنی ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ انسان اپنے آگے فسق و فجور کرنا چاہتا ہے یعنی قدم بہ قدم بڑھ رہا ہے، امیدیں باندھے ہوئے ہے، کہتا جاتا ہے کہ گناہ کر تو لوں توبہ بھی ہو جائے گی قیامت کے دن سے جو اس کے آگے ہے کفر کرتا ہے، وہ گویا اپنے سر پر سوار ہو کر آگے بڑھ رہا ہے، ہر وقت یہی پایا جاتا ہے کہ ایک ایک قدم اپنے نفس کو اللہ کی معصیت کی طرف بڑھاتا جاتا ہے مگر جن پر رب کا رحم ہے۔ اکثر سلف کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ گناہوں میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں تاخیر کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو یوم حساب کا منکر ہے“، ابن زید رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ظاہر مراد ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ وہ پوچھتا ہے قیامت کب ہوگی، اس کا یہ سوال بھی بطور انکار کے ہے یہ جانتا ہے کہ قیامت کا آنا محال ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ» [34-سبأ:29،30] ، ” کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتا دو کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دے کہ اس کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک ساعت آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے “۔
10032
القيامة 75:5
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں ٭٭
یہ کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے «لا» کا کلمہ نفی کی تائید کے لیے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہو گی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے ” قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی “۔
حسن رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج رحمہ اللہ علیہم کی قرأت «لَأُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» ہے اس سے بھی حسن رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک پہلے کی قسم ہے اور دوسرے کی نہیں، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ دونوں کی قسم کھائی ہے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول بھی یہی ہے۔ یوم قیامت کو تو ہر شخص جانتا ہی ہے۔
10031
«نفس لوامہ» کی تفسیر میں حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مومن کا نفس ہے وہ ہر وقت اپنے تئیں ملامت ہی کرتا رہتا ہے کہ یوں کیوں کہہ دیا؟، یہ کیوں کھا لیا؟، یہ خیال دل میں کیوں آیا؟ ہاں فاسق، فاجر، غافل ہوتا ہے اسے کیا پڑی جو اپنے نفس کو روکے۔
یہ بھی مروی ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق قیامت کے دن اپنے تئیں ملامت کرے گی، خیر والے خیر کی کمی پر اور شر والے شر کے سرزد ہونے پر، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مذموم نفس ہے جو نافرمان ہو، فوت شدہ پر نادم ہونے والا اور اس پر ملامت کرنے والا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ”یہ سب اقوال قریب قریب ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ نفس والا ہے جو نیکی کی کمی پر برائی کے ہو جانے پر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور فوت شدہ پر ندامت کرتا ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” کیا انسان یہ سوچے ہوئے ہے کہ ہم قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کے جمع کرنے پر قادر نہ ہوں گے، یہ تو نہایت غلط خیال ہے ہم اسے متفرق جگہ سے جمع کر کے دوبارہ کھڑا کریں گے اور اس کی بالشت بالشت بنا دیں گے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”ہم قادر ہیں کہ اسے اونٹ یا گھوڑے کے تلوے کی طرح بنا دیں“، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”دنیا میں بھی اگر ہم چاہتے اسے ایسا کر دیتے۔“
آیت کے لفظوں سے تو ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ «قَادِرِينَ» حال ہے «نَّجْمَعَ» سے یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہاں ہم عنقریب جمع کریں گے درآنحالیکہ ہمیں ان کے جمع کرنے کی قدرت ہے بلکہ اگر ہم چاہیں تو جتنا یہ تھا اس سے بھی کچھ زیادہ بنا کر اسے اٹھائیں اس کی انگلیوں کے سرے تک برابر کر کے پیدا کریں۔ ابن قتیبہ اور زجاج کے قول کے یہی معنی ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ انسان اپنے آگے فسق و فجور کرنا چاہتا ہے یعنی قدم بہ قدم بڑھ رہا ہے، امیدیں باندھے ہوئے ہے، کہتا جاتا ہے کہ گناہ کر تو لوں توبہ بھی ہو جائے گی قیامت کے دن سے جو اس کے آگے ہے کفر کرتا ہے، وہ گویا اپنے سر پر سوار ہو کر آگے بڑھ رہا ہے، ہر وقت یہی پایا جاتا ہے کہ ایک ایک قدم اپنے نفس کو اللہ کی معصیت کی طرف بڑھاتا جاتا ہے مگر جن پر رب کا رحم ہے۔ اکثر سلف کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ گناہوں میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں تاخیر کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو یوم حساب کا منکر ہے“، ابن زید رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ظاہر مراد ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ وہ پوچھتا ہے قیامت کب ہوگی، اس کا یہ سوال بھی بطور انکار کے ہے یہ جانتا ہے کہ قیامت کا آنا محال ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ» [34-سبأ:29،30] ، ” کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتا دو کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دے کہ اس کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک ساعت آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے “۔
10032
القيامة 75:6
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں ٭٭
یہ کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے «لا» کا کلمہ نفی کی تائید کے لیے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہو گی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے ” قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی “۔
حسن رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج رحمہ اللہ علیہم کی قرأت «لَأُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» ہے اس سے بھی حسن رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک پہلے کی قسم ہے اور دوسرے کی نہیں، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ دونوں کی قسم کھائی ہے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول بھی یہی ہے۔ یوم قیامت کو تو ہر شخص جانتا ہی ہے۔
10031
«نفس لوامہ» کی تفسیر میں حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مومن کا نفس ہے وہ ہر وقت اپنے تئیں ملامت ہی کرتا رہتا ہے کہ یوں کیوں کہہ دیا؟، یہ کیوں کھا لیا؟، یہ خیال دل میں کیوں آیا؟ ہاں فاسق، فاجر، غافل ہوتا ہے اسے کیا پڑی جو اپنے نفس کو روکے۔
یہ بھی مروی ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق قیامت کے دن اپنے تئیں ملامت کرے گی، خیر والے خیر کی کمی پر اور شر والے شر کے سرزد ہونے پر، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مذموم نفس ہے جو نافرمان ہو، فوت شدہ پر نادم ہونے والا اور اس پر ملامت کرنے والا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ”یہ سب اقوال قریب قریب ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ نفس والا ہے جو نیکی کی کمی پر برائی کے ہو جانے پر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور فوت شدہ پر ندامت کرتا ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” کیا انسان یہ سوچے ہوئے ہے کہ ہم قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کے جمع کرنے پر قادر نہ ہوں گے، یہ تو نہایت غلط خیال ہے ہم اسے متفرق جگہ سے جمع کر کے دوبارہ کھڑا کریں گے اور اس کی بالشت بالشت بنا دیں گے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”ہم قادر ہیں کہ اسے اونٹ یا گھوڑے کے تلوے کی طرح بنا دیں“، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”دنیا میں بھی اگر ہم چاہتے اسے ایسا کر دیتے۔“
آیت کے لفظوں سے تو ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ «قَادِرِينَ» حال ہے «نَّجْمَعَ» سے یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہاں ہم عنقریب جمع کریں گے درآنحالیکہ ہمیں ان کے جمع کرنے کی قدرت ہے بلکہ اگر ہم چاہیں تو جتنا یہ تھا اس سے بھی کچھ زیادہ بنا کر اسے اٹھائیں اس کی انگلیوں کے سرے تک برابر کر کے پیدا کریں۔ ابن قتیبہ اور زجاج کے قول کے یہی معنی ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ انسان اپنے آگے فسق و فجور کرنا چاہتا ہے یعنی قدم بہ قدم بڑھ رہا ہے، امیدیں باندھے ہوئے ہے، کہتا جاتا ہے کہ گناہ کر تو لوں توبہ بھی ہو جائے گی قیامت کے دن سے جو اس کے آگے ہے کفر کرتا ہے، وہ گویا اپنے سر پر سوار ہو کر آگے بڑھ رہا ہے، ہر وقت یہی پایا جاتا ہے کہ ایک ایک قدم اپنے نفس کو اللہ کی معصیت کی طرف بڑھاتا جاتا ہے مگر جن پر رب کا رحم ہے۔ اکثر سلف کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ گناہوں میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں تاخیر کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو یوم حساب کا منکر ہے“، ابن زید رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ظاہر مراد ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ وہ پوچھتا ہے قیامت کب ہوگی، اس کا یہ سوال بھی بطور انکار کے ہے یہ جانتا ہے کہ قیامت کا آنا محال ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ» [34-سبأ:29،30] ، ” کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتا دو کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دے کہ اس کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک ساعت آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے “۔
10032
القيامة 75:7
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں ٭٭
یہ کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے «لا» کا کلمہ نفی کی تائید کے لیے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہو گی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے ” قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی “۔
حسن رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج رحمہ اللہ علیہم کی قرأت «لَأُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» ہے اس سے بھی حسن رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک پہلے کی قسم ہے اور دوسرے کی نہیں، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ دونوں کی قسم کھائی ہے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول بھی یہی ہے۔ یوم قیامت کو تو ہر شخص جانتا ہی ہے۔
10031
«نفس لوامہ» کی تفسیر میں حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مومن کا نفس ہے وہ ہر وقت اپنے تئیں ملامت ہی کرتا رہتا ہے کہ یوں کیوں کہہ دیا؟، یہ کیوں کھا لیا؟، یہ خیال دل میں کیوں آیا؟ ہاں فاسق، فاجر، غافل ہوتا ہے اسے کیا پڑی جو اپنے نفس کو روکے۔
یہ بھی مروی ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق قیامت کے دن اپنے تئیں ملامت کرے گی، خیر والے خیر کی کمی پر اور شر والے شر کے سرزد ہونے پر، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مذموم نفس ہے جو نافرمان ہو، فوت شدہ پر نادم ہونے والا اور اس پر ملامت کرنے والا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ”یہ سب اقوال قریب قریب ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ نفس والا ہے جو نیکی کی کمی پر برائی کے ہو جانے پر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور فوت شدہ پر ندامت کرتا ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” کیا انسان یہ سوچے ہوئے ہے کہ ہم قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کے جمع کرنے پر قادر نہ ہوں گے، یہ تو نہایت غلط خیال ہے ہم اسے متفرق جگہ سے جمع کر کے دوبارہ کھڑا کریں گے اور اس کی بالشت بالشت بنا دیں گے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”ہم قادر ہیں کہ اسے اونٹ یا گھوڑے کے تلوے کی طرح بنا دیں“، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”دنیا میں بھی اگر ہم چاہتے اسے ایسا کر دیتے۔“
آیت کے لفظوں سے تو ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ «قَادِرِينَ» حال ہے «نَّجْمَعَ» سے یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہاں ہم عنقریب جمع کریں گے درآنحالیکہ ہمیں ان کے جمع کرنے کی قدرت ہے بلکہ اگر ہم چاہیں تو جتنا یہ تھا اس سے بھی کچھ زیادہ بنا کر اسے اٹھائیں اس کی انگلیوں کے سرے تک برابر کر کے پیدا کریں۔ ابن قتیبہ اور زجاج کے قول کے یہی معنی ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ انسان اپنے آگے فسق و فجور کرنا چاہتا ہے یعنی قدم بہ قدم بڑھ رہا ہے، امیدیں باندھے ہوئے ہے، کہتا جاتا ہے کہ گناہ کر تو لوں توبہ بھی ہو جائے گی قیامت کے دن سے جو اس کے آگے ہے کفر کرتا ہے، وہ گویا اپنے سر پر سوار ہو کر آگے بڑھ رہا ہے، ہر وقت یہی پایا جاتا ہے کہ ایک ایک قدم اپنے نفس کو اللہ کی معصیت کی طرف بڑھاتا جاتا ہے مگر جن پر رب کا رحم ہے۔ اکثر سلف کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ گناہوں میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں تاخیر کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو یوم حساب کا منکر ہے“، ابن زید رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ظاہر مراد ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ وہ پوچھتا ہے قیامت کب ہوگی، اس کا یہ سوال بھی بطور انکار کے ہے یہ جانتا ہے کہ قیامت کا آنا محال ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ» [34-سبأ:29،30] ، ” کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتا دو کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دے کہ اس کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک ساعت آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے “۔
10032
القيامة 75:8
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں ٭٭
یہ کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے «لا» کا کلمہ نفی کی تائید کے لیے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہو گی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے ” قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی “۔
حسن رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج رحمہ اللہ علیہم کی قرأت «لَأُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» ہے اس سے بھی حسن رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک پہلے کی قسم ہے اور دوسرے کی نہیں، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ دونوں کی قسم کھائی ہے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول بھی یہی ہے۔ یوم قیامت کو تو ہر شخص جانتا ہی ہے۔
10031
«نفس لوامہ» کی تفسیر میں حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مومن کا نفس ہے وہ ہر وقت اپنے تئیں ملامت ہی کرتا رہتا ہے کہ یوں کیوں کہہ دیا؟، یہ کیوں کھا لیا؟، یہ خیال دل میں کیوں آیا؟ ہاں فاسق، فاجر، غافل ہوتا ہے اسے کیا پڑی جو اپنے نفس کو روکے۔
یہ بھی مروی ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق قیامت کے دن اپنے تئیں ملامت کرے گی، خیر والے خیر کی کمی پر اور شر والے شر کے سرزد ہونے پر، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مذموم نفس ہے جو نافرمان ہو، فوت شدہ پر نادم ہونے والا اور اس پر ملامت کرنے والا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ”یہ سب اقوال قریب قریب ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ نفس والا ہے جو نیکی کی کمی پر برائی کے ہو جانے پر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور فوت شدہ پر ندامت کرتا ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” کیا انسان یہ سوچے ہوئے ہے کہ ہم قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کے جمع کرنے پر قادر نہ ہوں گے، یہ تو نہایت غلط خیال ہے ہم اسے متفرق جگہ سے جمع کر کے دوبارہ کھڑا کریں گے اور اس کی بالشت بالشت بنا دیں گے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”ہم قادر ہیں کہ اسے اونٹ یا گھوڑے کے تلوے کی طرح بنا دیں“، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”دنیا میں بھی اگر ہم چاہتے اسے ایسا کر دیتے۔“
آیت کے لفظوں سے تو ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ «قَادِرِينَ» حال ہے «نَّجْمَعَ» سے یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہاں ہم عنقریب جمع کریں گے درآنحالیکہ ہمیں ان کے جمع کرنے کی قدرت ہے بلکہ اگر ہم چاہیں تو جتنا یہ تھا اس سے بھی کچھ زیادہ بنا کر اسے اٹھائیں اس کی انگلیوں کے سرے تک برابر کر کے پیدا کریں۔ ابن قتیبہ اور زجاج کے قول کے یہی معنی ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ انسان اپنے آگے فسق و فجور کرنا چاہتا ہے یعنی قدم بہ قدم بڑھ رہا ہے، امیدیں باندھے ہوئے ہے، کہتا جاتا ہے کہ گناہ کر تو لوں توبہ بھی ہو جائے گی قیامت کے دن سے جو اس کے آگے ہے کفر کرتا ہے، وہ گویا اپنے سر پر سوار ہو کر آگے بڑھ رہا ہے، ہر وقت یہی پایا جاتا ہے کہ ایک ایک قدم اپنے نفس کو اللہ کی معصیت کی طرف بڑھاتا جاتا ہے مگر جن پر رب کا رحم ہے۔ اکثر سلف کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ گناہوں میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں تاخیر کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو یوم حساب کا منکر ہے“، ابن زید رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ظاہر مراد ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ وہ پوچھتا ہے قیامت کب ہوگی، اس کا یہ سوال بھی بطور انکار کے ہے یہ جانتا ہے کہ قیامت کا آنا محال ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ» [34-سبأ:29،30] ، ” کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتا دو کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دے کہ اس کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک ساعت آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے “۔
10032
القيامة 75:9
باب
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” جب آنکھیں پتھرا جائیں گی “، جیسے اور جگہ ہے «لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاءٌ» [14-إبراھیم:43] ، یعنی ” پلکیں جھپکیں گی نہیں بلکہ رعب و دہشت خوف و وحشت کے مارے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھتے رہیں گے “۔
«بَرِقَ» کی دوسری قرأت «بَرَقَ» بھی ہے، معنی قریب قریب ہیں اور چاند کی روشنی بالکل جاتی رہے گی اور سورج چاند جمع کر دیئے جائیں گے یعنی دونوں کو بے نور کر کے لپیٹ لیا جائے گا۔
جیسے فرمایا «إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ» [81-التكوير:2،1]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَجُمِعَ بَيْنَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ» ہے۔ انسان جب یہ پریشانی، شدت ہول، گھبراہٹ اور انتظام عالم کی یہ خطرناک حالت دیکھے گا تو بھاگا جائے گا اور کہے گا کہ جائے پناہ یعنی بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ملے گا کہ کوئی پناہ نہیں رب کے سامنے اور اس کے پاس ٹھہرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں، جیسے اور جگہ ہے «مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] یعنی ” آج نہ تو کوئی جائے پناہ ہے، نہ ایسی جگہ کہ وہاں جا کر تم انجان اور بے پہچان بن جاؤ، آج ہر شخص کو اس کے اگلے پچھلے نئے پرانے چھوٹے بڑے اعمال سے مطلع کیا جائے گا “۔
جیسے فرمان ہے «وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا» [18-الكهف:49] ” جو کیا تھا، موجود پا لیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا “۔ انسان اپنے آپ کو بخوبی جانتا ہے اپنے اعمال کا خود آئینہ ہے گو انکار کرے اور عذر معذرت پیش کرتا پھرے۔
جیسے فرمان ہے «اِقْرَاْ كِتٰبَكَ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا» [17-الإسراء:14] ” اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور اپنے تئیں آپ ہی جانچ لے، اس کے کان آنکھ، پاؤں اور دیگر اعضاء ہی اس پر شہادت دینے کافی ہیں، لیکن افسوس کہ یہ دوسروں کے عیبوں اور نقصانوں کو دیکھتا ہے اور اپنے کیڑے چننے سے غافل ہے “۔
کہا جاتا ہے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے اے ابن آدم تو دوسروں کی آنکھوں کا تو تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر بھی تجھے دکھائی نہیں دیتا؟ قیامت کے دن چاہے انسان فضول بہانے بنائے گا اور جھوٹی دلیلیں دے گا، بے کار عذر پیش کرے گا مگر ایک بھی قبول نہ کیا جائے گا۔ اس آیت کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ وہ پردے ڈالے۔
10040
اہل یمن پردے کو «الْمِعْذَارَ» کہتے ہیں، لیکن صحیح معنی اوپر والے ہیں جیسے اور جگہ ہے کہ «ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» [6-الأنعام:23] ” کوئی معقول عذر نہ پا کر اپنے شرک کا سرے سے انکار ہی کر دیں گے کہ اللہ کی قسم ہم مشرک تھے ہی نہیں “۔
اور جگہ ہے کہ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ» [58-المجادلہ:18] ” قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کھا کر سچا ہونا چاہیں گے جیسے دنیا میں تمہارے سامنے ان کی حالت ہے لیکن اللہ پر تو ان کا جھوٹ ظاہر ہے چاہے کتنا ہی وہ اپنی تئیں کچھ بھی سمجھتے رہیں “، غرض عذر معذرت انہیں قیامت کے دن کچھ کار آمد نہ ہو گا۔
جیسے اور جگہ فرماتا ہے «يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْءُ الدَّارِ» [40-غافر:52] ” ظالموں کو ان کی معذرت کچھ کام نہ آئے گی یہ تو اپنے شکر کے ساتھ اپنی تمام بداعمالیوں کا بھی انکار کردیں گے لیکن بے سود ہوگا “۔
10041
القيامة 75:10
باب
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” جب آنکھیں پتھرا جائیں گی “، جیسے اور جگہ ہے «لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاءٌ» [14-إبراھیم:43] ، یعنی ” پلکیں جھپکیں گی نہیں بلکہ رعب و دہشت خوف و وحشت کے مارے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھتے رہیں گے “۔
«بَرِقَ» کی دوسری قرأت «بَرَقَ» بھی ہے، معنی قریب قریب ہیں اور چاند کی روشنی بالکل جاتی رہے گی اور سورج چاند جمع کر دیئے جائیں گے یعنی دونوں کو بے نور کر کے لپیٹ لیا جائے گا۔
جیسے فرمایا «إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ» [81-التكوير:2،1]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَجُمِعَ بَيْنَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ» ہے۔ انسان جب یہ پریشانی، شدت ہول، گھبراہٹ اور انتظام عالم کی یہ خطرناک حالت دیکھے گا تو بھاگا جائے گا اور کہے گا کہ جائے پناہ یعنی بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ملے گا کہ کوئی پناہ نہیں رب کے سامنے اور اس کے پاس ٹھہرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں، جیسے اور جگہ ہے «مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] یعنی ” آج نہ تو کوئی جائے پناہ ہے، نہ ایسی جگہ کہ وہاں جا کر تم انجان اور بے پہچان بن جاؤ، آج ہر شخص کو اس کے اگلے پچھلے نئے پرانے چھوٹے بڑے اعمال سے مطلع کیا جائے گا “۔
جیسے فرمان ہے «وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا» [18-الكهف:49] ” جو کیا تھا، موجود پا لیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا “۔ انسان اپنے آپ کو بخوبی جانتا ہے اپنے اعمال کا خود آئینہ ہے گو انکار کرے اور عذر معذرت پیش کرتا پھرے۔
جیسے فرمان ہے «اِقْرَاْ كِتٰبَكَ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا» [17-الإسراء:14] ” اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور اپنے تئیں آپ ہی جانچ لے، اس کے کان آنکھ، پاؤں اور دیگر اعضاء ہی اس پر شہادت دینے کافی ہیں، لیکن افسوس کہ یہ دوسروں کے عیبوں اور نقصانوں کو دیکھتا ہے اور اپنے کیڑے چننے سے غافل ہے “۔
کہا جاتا ہے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے اے ابن آدم تو دوسروں کی آنکھوں کا تو تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر بھی تجھے دکھائی نہیں دیتا؟ قیامت کے دن چاہے انسان فضول بہانے بنائے گا اور جھوٹی دلیلیں دے گا، بے کار عذر پیش کرے گا مگر ایک بھی قبول نہ کیا جائے گا۔ اس آیت کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ وہ پردے ڈالے۔
10040
اہل یمن پردے کو «الْمِعْذَارَ» کہتے ہیں، لیکن صحیح معنی اوپر والے ہیں جیسے اور جگہ ہے کہ «ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» [6-الأنعام:23] ” کوئی معقول عذر نہ پا کر اپنے شرک کا سرے سے انکار ہی کر دیں گے کہ اللہ کی قسم ہم مشرک تھے ہی نہیں “۔
اور جگہ ہے کہ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ» [58-المجادلہ:18] ” قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کھا کر سچا ہونا چاہیں گے جیسے دنیا میں تمہارے سامنے ان کی حالت ہے لیکن اللہ پر تو ان کا جھوٹ ظاہر ہے چاہے کتنا ہی وہ اپنی تئیں کچھ بھی سمجھتے رہیں “، غرض عذر معذرت انہیں قیامت کے دن کچھ کار آمد نہ ہو گا۔
جیسے اور جگہ فرماتا ہے «يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْءُ الدَّارِ» [40-غافر:52] ” ظالموں کو ان کی معذرت کچھ کام نہ آئے گی یہ تو اپنے شکر کے ساتھ اپنی تمام بداعمالیوں کا بھی انکار کردیں گے لیکن بے سود ہوگا “۔
10041
القيامة 75:11
باب
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” جب آنکھیں پتھرا جائیں گی “، جیسے اور جگہ ہے «لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاءٌ» [14-إبراھیم:43] ، یعنی ” پلکیں جھپکیں گی نہیں بلکہ رعب و دہشت خوف و وحشت کے مارے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھتے رہیں گے “۔
«بَرِقَ» کی دوسری قرأت «بَرَقَ» بھی ہے، معنی قریب قریب ہیں اور چاند کی روشنی بالکل جاتی رہے گی اور سورج چاند جمع کر دیئے جائیں گے یعنی دونوں کو بے نور کر کے لپیٹ لیا جائے گا۔
جیسے فرمایا «إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ» [81-التكوير:2،1]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَجُمِعَ بَيْنَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ» ہے۔ انسان جب یہ پریشانی، شدت ہول، گھبراہٹ اور انتظام عالم کی یہ خطرناک حالت دیکھے گا تو بھاگا جائے گا اور کہے گا کہ جائے پناہ یعنی بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ملے گا کہ کوئی پناہ نہیں رب کے سامنے اور اس کے پاس ٹھہرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں، جیسے اور جگہ ہے «مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] یعنی ” آج نہ تو کوئی جائے پناہ ہے، نہ ایسی جگہ کہ وہاں جا کر تم انجان اور بے پہچان بن جاؤ، آج ہر شخص کو اس کے اگلے پچھلے نئے پرانے چھوٹے بڑے اعمال سے مطلع کیا جائے گا “۔
جیسے فرمان ہے «وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا» [18-الكهف:49] ” جو کیا تھا، موجود پا لیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا “۔ انسان اپنے آپ کو بخوبی جانتا ہے اپنے اعمال کا خود آئینہ ہے گو انکار کرے اور عذر معذرت پیش کرتا پھرے۔
جیسے فرمان ہے «اِقْرَاْ كِتٰبَكَ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا» [17-الإسراء:14] ” اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور اپنے تئیں آپ ہی جانچ لے، اس کے کان آنکھ، پاؤں اور دیگر اعضاء ہی اس پر شہادت دینے کافی ہیں، لیکن افسوس کہ یہ دوسروں کے عیبوں اور نقصانوں کو دیکھتا ہے اور اپنے کیڑے چننے سے غافل ہے “۔
کہا جاتا ہے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے اے ابن آدم تو دوسروں کی آنکھوں کا تو تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر بھی تجھے دکھائی نہیں دیتا؟ قیامت کے دن چاہے انسان فضول بہانے بنائے گا اور جھوٹی دلیلیں دے گا، بے کار عذر پیش کرے گا مگر ایک بھی قبول نہ کیا جائے گا۔ اس آیت کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ وہ پردے ڈالے۔
10040
اہل یمن پردے کو «الْمِعْذَارَ» کہتے ہیں، لیکن صحیح معنی اوپر والے ہیں جیسے اور جگہ ہے کہ «ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» [6-الأنعام:23] ” کوئی معقول عذر نہ پا کر اپنے شرک کا سرے سے انکار ہی کر دیں گے کہ اللہ کی قسم ہم مشرک تھے ہی نہیں “۔
اور جگہ ہے کہ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ» [58-المجادلہ:18] ” قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کھا کر سچا ہونا چاہیں گے جیسے دنیا میں تمہارے سامنے ان کی حالت ہے لیکن اللہ پر تو ان کا جھوٹ ظاہر ہے چاہے کتنا ہی وہ اپنی تئیں کچھ بھی سمجھتے رہیں “، غرض عذر معذرت انہیں قیامت کے دن کچھ کار آمد نہ ہو گا۔
جیسے اور جگہ فرماتا ہے «يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْءُ الدَّارِ» [40-غافر:52] ” ظالموں کو ان کی معذرت کچھ کام نہ آئے گی یہ تو اپنے شکر کے ساتھ اپنی تمام بداعمالیوں کا بھی انکار کردیں گے لیکن بے سود ہوگا “۔
10041
القيامة 75:12
باب
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” جب آنکھیں پتھرا جائیں گی “، جیسے اور جگہ ہے «لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاءٌ» [14-إبراھیم:43] ، یعنی ” پلکیں جھپکیں گی نہیں بلکہ رعب و دہشت خوف و وحشت کے مارے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھتے رہیں گے “۔
«بَرِقَ» کی دوسری قرأت «بَرَقَ» بھی ہے، معنی قریب قریب ہیں اور چاند کی روشنی بالکل جاتی رہے گی اور سورج چاند جمع کر دیئے جائیں گے یعنی دونوں کو بے نور کر کے لپیٹ لیا جائے گا۔
جیسے فرمایا «إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ» [81-التكوير:2،1]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَجُمِعَ بَيْنَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ» ہے۔ انسان جب یہ پریشانی، شدت ہول، گھبراہٹ اور انتظام عالم کی یہ خطرناک حالت دیکھے گا تو بھاگا جائے گا اور کہے گا کہ جائے پناہ یعنی بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ملے گا کہ کوئی پناہ نہیں رب کے سامنے اور اس کے پاس ٹھہرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں، جیسے اور جگہ ہے «مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] یعنی ” آج نہ تو کوئی جائے پناہ ہے، نہ ایسی جگہ کہ وہاں جا کر تم انجان اور بے پہچان بن جاؤ، آج ہر شخص کو اس کے اگلے پچھلے نئے پرانے چھوٹے بڑے اعمال سے مطلع کیا جائے گا “۔
جیسے فرمان ہے «وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا» [18-الكهف:49] ” جو کیا تھا، موجود پا لیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا “۔ انسان اپنے آپ کو بخوبی جانتا ہے اپنے اعمال کا خود آئینہ ہے گو انکار کرے اور عذر معذرت پیش کرتا پھرے۔
جیسے فرمان ہے «اِقْرَاْ كِتٰبَكَ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا» [17-الإسراء:14] ” اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور اپنے تئیں آپ ہی جانچ لے، اس کے کان آنکھ، پاؤں اور دیگر اعضاء ہی اس پر شہادت دینے کافی ہیں، لیکن افسوس کہ یہ دوسروں کے عیبوں اور نقصانوں کو دیکھتا ہے اور اپنے کیڑے چننے سے غافل ہے “۔
کہا جاتا ہے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے اے ابن آدم تو دوسروں کی آنکھوں کا تو تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر بھی تجھے دکھائی نہیں دیتا؟ قیامت کے دن چاہے انسان فضول بہانے بنائے گا اور جھوٹی دلیلیں دے گا، بے کار عذر پیش کرے گا مگر ایک بھی قبول نہ کیا جائے گا۔ اس آیت کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ وہ پردے ڈالے۔
10040
اہل یمن پردے کو «الْمِعْذَارَ» کہتے ہیں، لیکن صحیح معنی اوپر والے ہیں جیسے اور جگہ ہے کہ «ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» [6-الأنعام:23] ” کوئی معقول عذر نہ پا کر اپنے شرک کا سرے سے انکار ہی کر دیں گے کہ اللہ کی قسم ہم مشرک تھے ہی نہیں “۔
اور جگہ ہے کہ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ» [58-المجادلہ:18] ” قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کھا کر سچا ہونا چاہیں گے جیسے دنیا میں تمہارے سامنے ان کی حالت ہے لیکن اللہ پر تو ان کا جھوٹ ظاہر ہے چاہے کتنا ہی وہ اپنی تئیں کچھ بھی سمجھتے رہیں “، غرض عذر معذرت انہیں قیامت کے دن کچھ کار آمد نہ ہو گا۔
جیسے اور جگہ فرماتا ہے «يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْءُ الدَّارِ» [40-غافر:52] ” ظالموں کو ان کی معذرت کچھ کام نہ آئے گی یہ تو اپنے شکر کے ساتھ اپنی تمام بداعمالیوں کا بھی انکار کردیں گے لیکن بے سود ہوگا “۔
10041
القيامة 75:13
باب
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” جب آنکھیں پتھرا جائیں گی “، جیسے اور جگہ ہے «لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاءٌ» [14-إبراھیم:43] ، یعنی ” پلکیں جھپکیں گی نہیں بلکہ رعب و دہشت خوف و وحشت کے مارے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھتے رہیں گے “۔
«بَرِقَ» کی دوسری قرأت «بَرَقَ» بھی ہے، معنی قریب قریب ہیں اور چاند کی روشنی بالکل جاتی رہے گی اور سورج چاند جمع کر دیئے جائیں گے یعنی دونوں کو بے نور کر کے لپیٹ لیا جائے گا۔
جیسے فرمایا «إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ» [81-التكوير:2،1]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَجُمِعَ بَيْنَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ» ہے۔ انسان جب یہ پریشانی، شدت ہول، گھبراہٹ اور انتظام عالم کی یہ خطرناک حالت دیکھے گا تو بھاگا جائے گا اور کہے گا کہ جائے پناہ یعنی بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ملے گا کہ کوئی پناہ نہیں رب کے سامنے اور اس کے پاس ٹھہرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں، جیسے اور جگہ ہے «مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] یعنی ” آج نہ تو کوئی جائے پناہ ہے، نہ ایسی جگہ کہ وہاں جا کر تم انجان اور بے پہچان بن جاؤ، آج ہر شخص کو اس کے اگلے پچھلے نئے پرانے چھوٹے بڑے اعمال سے مطلع کیا جائے گا “۔
جیسے فرمان ہے «وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا» [18-الكهف:49] ” جو کیا تھا، موجود پا لیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا “۔ انسان اپنے آپ کو بخوبی جانتا ہے اپنے اعمال کا خود آئینہ ہے گو انکار کرے اور عذر معذرت پیش کرتا پھرے۔
جیسے فرمان ہے «اِقْرَاْ كِتٰبَكَ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا» [17-الإسراء:14] ” اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور اپنے تئیں آپ ہی جانچ لے، اس کے کان آنکھ، پاؤں اور دیگر اعضاء ہی اس پر شہادت دینے کافی ہیں، لیکن افسوس کہ یہ دوسروں کے عیبوں اور نقصانوں کو دیکھتا ہے اور اپنے کیڑے چننے سے غافل ہے “۔
کہا جاتا ہے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے اے ابن آدم تو دوسروں کی آنکھوں کا تو تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر بھی تجھے دکھائی نہیں دیتا؟ قیامت کے دن چاہے انسان فضول بہانے بنائے گا اور جھوٹی دلیلیں دے گا، بے کار عذر پیش کرے گا مگر ایک بھی قبول نہ کیا جائے گا۔ اس آیت کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ وہ پردے ڈالے۔
10040
اہل یمن پردے کو «الْمِعْذَارَ» کہتے ہیں، لیکن صحیح معنی اوپر والے ہیں جیسے اور جگہ ہے کہ «ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» [6-الأنعام:23] ” کوئی معقول عذر نہ پا کر اپنے شرک کا سرے سے انکار ہی کر دیں گے کہ اللہ کی قسم ہم مشرک تھے ہی نہیں “۔
اور جگہ ہے کہ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ» [58-المجادلہ:18] ” قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کھا کر سچا ہونا چاہیں گے جیسے دنیا میں تمہارے سامنے ان کی حالت ہے لیکن اللہ پر تو ان کا جھوٹ ظاہر ہے چاہے کتنا ہی وہ اپنی تئیں کچھ بھی سمجھتے رہیں “، غرض عذر معذرت انہیں قیامت کے دن کچھ کار آمد نہ ہو گا۔
جیسے اور جگہ فرماتا ہے «يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْءُ الدَّارِ» [40-غافر:52] ” ظالموں کو ان کی معذرت کچھ کام نہ آئے گی یہ تو اپنے شکر کے ساتھ اپنی تمام بداعمالیوں کا بھی انکار کردیں گے لیکن بے سود ہوگا “۔
10041
القيامة 75:14
باب
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” جب آنکھیں پتھرا جائیں گی “، جیسے اور جگہ ہے «لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاءٌ» [14-إبراھیم:43] ، یعنی ” پلکیں جھپکیں گی نہیں بلکہ رعب و دہشت خوف و وحشت کے مارے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھتے رہیں گے “۔
«بَرِقَ» کی دوسری قرأت «بَرَقَ» بھی ہے، معنی قریب قریب ہیں اور چاند کی روشنی بالکل جاتی رہے گی اور سورج چاند جمع کر دیئے جائیں گے یعنی دونوں کو بے نور کر کے لپیٹ لیا جائے گا۔
جیسے فرمایا «إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ» [81-التكوير:2،1]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَجُمِعَ بَيْنَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ» ہے۔ انسان جب یہ پریشانی، شدت ہول، گھبراہٹ اور انتظام عالم کی یہ خطرناک حالت دیکھے گا تو بھاگا جائے گا اور کہے گا کہ جائے پناہ یعنی بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ملے گا کہ کوئی پناہ نہیں رب کے سامنے اور اس کے پاس ٹھہرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں، جیسے اور جگہ ہے «مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] یعنی ” آج نہ تو کوئی جائے پناہ ہے، نہ ایسی جگہ کہ وہاں جا کر تم انجان اور بے پہچان بن جاؤ، آج ہر شخص کو اس کے اگلے پچھلے نئے پرانے چھوٹے بڑے اعمال سے مطلع کیا جائے گا “۔
جیسے فرمان ہے «وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا» [18-الكهف:49] ” جو کیا تھا، موجود پا لیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا “۔ انسان اپنے آپ کو بخوبی جانتا ہے اپنے اعمال کا خود آئینہ ہے گو انکار کرے اور عذر معذرت پیش کرتا پھرے۔
جیسے فرمان ہے «اِقْرَاْ كِتٰبَكَ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا» [17-الإسراء:14] ” اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور اپنے تئیں آپ ہی جانچ لے، اس کے کان آنکھ، پاؤں اور دیگر اعضاء ہی اس پر شہادت دینے کافی ہیں، لیکن افسوس کہ یہ دوسروں کے عیبوں اور نقصانوں کو دیکھتا ہے اور اپنے کیڑے چننے سے غافل ہے “۔
کہا جاتا ہے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے اے ابن آدم تو دوسروں کی آنکھوں کا تو تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر بھی تجھے دکھائی نہیں دیتا؟ قیامت کے دن چاہے انسان فضول بہانے بنائے گا اور جھوٹی دلیلیں دے گا، بے کار عذر پیش کرے گا مگر ایک بھی قبول نہ کیا جائے گا۔ اس آیت کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ وہ پردے ڈالے۔
10040
اہل یمن پردے کو «الْمِعْذَارَ» کہتے ہیں، لیکن صحیح معنی اوپر والے ہیں جیسے اور جگہ ہے کہ «ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» [6-الأنعام:23] ” کوئی معقول عذر نہ پا کر اپنے شرک کا سرے سے انکار ہی کر دیں گے کہ اللہ کی قسم ہم مشرک تھے ہی نہیں “۔
اور جگہ ہے کہ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ» [58-المجادلہ:18] ” قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کھا کر سچا ہونا چاہیں گے جیسے دنیا میں تمہارے سامنے ان کی حالت ہے لیکن اللہ پر تو ان کا جھوٹ ظاہر ہے چاہے کتنا ہی وہ اپنی تئیں کچھ بھی سمجھتے رہیں “، غرض عذر معذرت انہیں قیامت کے دن کچھ کار آمد نہ ہو گا۔
جیسے اور جگہ فرماتا ہے «يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْءُ الدَّارِ» [40-غافر:52] ” ظالموں کو ان کی معذرت کچھ کام نہ آئے گی یہ تو اپنے شکر کے ساتھ اپنی تمام بداعمالیوں کا بھی انکار کردیں گے لیکن بے سود ہوگا “۔
10041
القيامة 75:15
باب
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” جب آنکھیں پتھرا جائیں گی “، جیسے اور جگہ ہے «لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاءٌ» [14-إبراھیم:43] ، یعنی ” پلکیں جھپکیں گی نہیں بلکہ رعب و دہشت خوف و وحشت کے مارے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھتے رہیں گے “۔
«بَرِقَ» کی دوسری قرأت «بَرَقَ» بھی ہے، معنی قریب قریب ہیں اور چاند کی روشنی بالکل جاتی رہے گی اور سورج چاند جمع کر دیئے جائیں گے یعنی دونوں کو بے نور کر کے لپیٹ لیا جائے گا۔
جیسے فرمایا «إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ» [81-التكوير:2،1]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَجُمِعَ بَيْنَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ» ہے۔ انسان جب یہ پریشانی، شدت ہول، گھبراہٹ اور انتظام عالم کی یہ خطرناک حالت دیکھے گا تو بھاگا جائے گا اور کہے گا کہ جائے پناہ یعنی بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ملے گا کہ کوئی پناہ نہیں رب کے سامنے اور اس کے پاس ٹھہرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں، جیسے اور جگہ ہے «مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] یعنی ” آج نہ تو کوئی جائے پناہ ہے، نہ ایسی جگہ کہ وہاں جا کر تم انجان اور بے پہچان بن جاؤ، آج ہر شخص کو اس کے اگلے پچھلے نئے پرانے چھوٹے بڑے اعمال سے مطلع کیا جائے گا “۔
جیسے فرمان ہے «وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا» [18-الكهف:49] ” جو کیا تھا، موجود پا لیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا “۔ انسان اپنے آپ کو بخوبی جانتا ہے اپنے اعمال کا خود آئینہ ہے گو انکار کرے اور عذر معذرت پیش کرتا پھرے۔
جیسے فرمان ہے «اِقْرَاْ كِتٰبَكَ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا» [17-الإسراء:14] ” اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور اپنے تئیں آپ ہی جانچ لے، اس کے کان آنکھ، پاؤں اور دیگر اعضاء ہی اس پر شہادت دینے کافی ہیں، لیکن افسوس کہ یہ دوسروں کے عیبوں اور نقصانوں کو دیکھتا ہے اور اپنے کیڑے چننے سے غافل ہے “۔
کہا جاتا ہے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے اے ابن آدم تو دوسروں کی آنکھوں کا تو تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر بھی تجھے دکھائی نہیں دیتا؟ قیامت کے دن چاہے انسان فضول بہانے بنائے گا اور جھوٹی دلیلیں دے گا، بے کار عذر پیش کرے گا مگر ایک بھی قبول نہ کیا جائے گا۔ اس آیت کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ وہ پردے ڈالے۔
10040
اہل یمن پردے کو «الْمِعْذَارَ» کہتے ہیں، لیکن صحیح معنی اوپر والے ہیں جیسے اور جگہ ہے کہ «ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» [6-الأنعام:23] ” کوئی معقول عذر نہ پا کر اپنے شرک کا سرے سے انکار ہی کر دیں گے کہ اللہ کی قسم ہم مشرک تھے ہی نہیں “۔
اور جگہ ہے کہ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ» [58-المجادلہ:18] ” قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کھا کر سچا ہونا چاہیں گے جیسے دنیا میں تمہارے سامنے ان کی حالت ہے لیکن اللہ پر تو ان کا جھوٹ ظاہر ہے چاہے کتنا ہی وہ اپنی تئیں کچھ بھی سمجھتے رہیں “، غرض عذر معذرت انہیں قیامت کے دن کچھ کار آمد نہ ہو گا۔
جیسے اور جگہ فرماتا ہے «يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْءُ الدَّارِ» [40-غافر:52] ” ظالموں کو ان کی معذرت کچھ کام نہ آئے گی یہ تو اپنے شکر کے ساتھ اپنی تمام بداعمالیوں کا بھی انکار کردیں گے لیکن بے سود ہوگا “۔
10041
القيامة 75:16
حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ٭٭
یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ ” جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے “۔ پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی،
جیسے اور جگہ ہے «لَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰٓى اِلَيْكَ وَحْيُهٗ ۡ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا» [20-طه:114] یعنی ” جب تک تیرے پاس وحی پوری نہ آئے تو پڑھنے میں جلدی نہ کیا کر ہم سے دعا مانگ کہ میرے رب میرے علم کو زیادہ کرتا رہے “۔
پھر فرماتا ہے ” اسے تیرے سینے میں جمع کرنا اور اسے تجھ سے پڑھوانا ہمارا ذمہ ہے جب ہم اسے پڑھیں (یعنی ہمارا نازل کردہ فرشتہ جب اسے تلاوت کرے تو) تو سن لے جب وہ پڑھ چکے تب تو پڑھ ہماری مہربانی سے تجھے پورا یاد ہو گا اتنا ہی نہیں بلکہ حفظ کرانے تلاوت کرانے کے بعد ہم تجھے اس کی معنی مطالب تعین و توضیح کے ساتھ سمجھا دیں گے تاکہ ہماری اصلی مراد اور صاف شریعت سے تو پوری طرح آگاہ ہو جائے “۔
10048
مسند میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے وحی کو دل میں اتارنے کی سخت تکلیف ہوتی تھی اس ڈر کے مارے کہ کہیں میں بھول نہ جاؤں فرشتے کے ساتھ ساتھ پڑھتے جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹ ہلتے جاتے تھے چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما راوی حدیث نے اپنے ہونٹ ہلا کر دکھایا کہ اس طرح اور ان کے شاگرد سعید رحمہ اللہ نے بھی اپنے استاد کی طرح ہلا کر اپنے شاگرد کو دکھائے اس پر یہ آیت اتری کہ ” اتنی جلدی نہ کرو اور ہونٹ نہ ہلاؤ اسے آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کی زبان سے اس کی تلاوت کرانا ہمارے سپرد ہے جب ہم اسے پڑھیں تو آپ سنئے اور چپ رہئے جبرائیل کے چلے جانے کے بعد انہی کی طرح ان کا پڑھایا ہوا پڑھنا بھی ہمارے سپرد ہے “ ۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے، [صحیح بخاری:50]
10049
القيامة 75:17
حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ٭٭
یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ ” جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے “۔ پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی،
جیسے اور جگہ ہے «لَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰٓى اِلَيْكَ وَحْيُهٗ ۡ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا» [20-طه:114] یعنی ” جب تک تیرے پاس وحی پوری نہ آئے تو پڑھنے میں جلدی نہ کیا کر ہم سے دعا مانگ کہ میرے رب میرے علم کو زیادہ کرتا رہے “۔
پھر فرماتا ہے ” اسے تیرے سینے میں جمع کرنا اور اسے تجھ سے پڑھوانا ہمارا ذمہ ہے جب ہم اسے پڑھیں (یعنی ہمارا نازل کردہ فرشتہ جب اسے تلاوت کرے تو) تو سن لے جب وہ پڑھ چکے تب تو پڑھ ہماری مہربانی سے تجھے پورا یاد ہو گا اتنا ہی نہیں بلکہ حفظ کرانے تلاوت کرانے کے بعد ہم تجھے اس کی معنی مطالب تعین و توضیح کے ساتھ سمجھا دیں گے تاکہ ہماری اصلی مراد اور صاف شریعت سے تو پوری طرح آگاہ ہو جائے “۔
10048
مسند میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے وحی کو دل میں اتارنے کی سخت تکلیف ہوتی تھی اس ڈر کے مارے کہ کہیں میں بھول نہ جاؤں فرشتے کے ساتھ ساتھ پڑھتے جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹ ہلتے جاتے تھے چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما راوی حدیث نے اپنے ہونٹ ہلا کر دکھایا کہ اس طرح اور ان کے شاگرد سعید رحمہ اللہ نے بھی اپنے استاد کی طرح ہلا کر اپنے شاگرد کو دکھائے اس پر یہ آیت اتری کہ ” اتنی جلدی نہ کرو اور ہونٹ نہ ہلاؤ اسے آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کی زبان سے اس کی تلاوت کرانا ہمارے سپرد ہے جب ہم اسے پڑھیں تو آپ سنئے اور چپ رہئے جبرائیل کے چلے جانے کے بعد انہی کی طرح ان کا پڑھایا ہوا پڑھنا بھی ہمارے سپرد ہے “ ۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے، [صحیح بخاری:50]
10049
القيامة 75:18
باب
بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ پھر جب وحی اترتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظریں نیچی کر لیتے اور جب وحی چلی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے ۔ [صحیح بخاری:4927] ۔
ابن ابی حاتم میں بھی بروایت ابن عباس یہ حدیث مروی ہے اور بہت سے مفسرین سلف صالحین نے یہی فرمایا ہے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں اس پر یہ آیتیں اتریں ۔
10051
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطیہ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا بیان ہم پر ہے یعنی حلال حرام کا واضح کرنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔
پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” ان کافروں کو قیامت کے انکار، اللہ کی پاک کتاب کو نہ ماننے اور اللہ کے عظیم الشان رسول کی اطاعت نہ کرنے پر آمادہ کرنے والی چیز حب دنیا اور غفلت آخرت ہے، حالانکہ آخرت کا دن بڑی اہمیت والا دن ہے، اس دن بہت سے لوگ تو وہ ہوں گے جن کے چہرے ہشاش بشاش، تروتازہ، خوش و خرم ہوں گے اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہو رہے ہوں گے “۔
جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ عنقریب تم اپنے رب کو صاف صاف کھلم کھلا اپنے سامنے دیکھو گے [صحیح بخاری:7434] ، بہت سی صحیح احادیث سے متواتر سندوں سے جو ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں وارد کی ہیں ثابت ہو چکا ہے کہ ایمان والے اپنے رب کے دیدار سے قیامت کے دن مشرف ہوں گے ان احادیث کو نہ تو کوئی ہٹا سکے نہ ان کا کوئی انکار کر سکے۔
صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو جبکہ آسمان صاف بے ابر ہو دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت یا رکاوٹ ہوتی ہے؟“، انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے“ ۔ [صحیح بخاری:7437]
بخاری و مسلم میں ہے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودہویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی نماز (یعنی صبح کی نماز) اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز (یعنی عصر کی نماز) میں کسی طرح کی سستی نہ کرو“ ۔ [صحیح بخاری:573]
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے انہی دونوں متبرک کتابوں میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں سونے کی ہیں وہاں کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں اور ان کے برتن اور ہر چیز چاندی ہی کی ہے سوائے کبریائی کی چادروں کے اور کوئی آڑ نہیں“ یہ جنت عدن کا ذکر ہے ۔ [صحیح بخاری:4878]
10052
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا ” کچھ چاہتے ہو کہ بڑھا دوں؟ “ وہ کہیں گے الٰہی تو نے ہمارے چہرے سفید نورانی کر دیئے، ہمیں جنت میں پہنچا دیا جہنم سے بچا لیا اب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ اسی وقت حجاب ہٹا دیئے جائیں گے اور ان اہل جنت کی نگاہیں جمال باری سے منور ہوں گی اس میں انہیں جو سرور و لذت حاصل ہو گی وہ کسی چیز میں نہ حاصل ہو گی سب سے زیادہ محبوب انہیں دیدار باری ہو گا اسی کو اس آیت میں لفظ «الزِّيَادَةُ» سے تعبیر کیا گیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» [10-یونس:26] یعنی ” احسان کرنے والوں کو جنت بھی ملے گی اور دیدار رب بھی “۔ [صحیح مسلم:181]
صحیح مسلم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں پر قیامت کے میدان میں مسکراتا ہوا تجلی فرمائے گا ۔ [صحیح مسلم:191] پس معلوم ہوا کہ ایماندار قیامت کے عرصات میں اور جنتوں میں دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے ہلکے درجہ کا جنتی اپنے ملک اور اپنی ملکیت کو دو ہزار سال دیکھتا رہے گا دور اور نزدیک کی چیزیں یکساں نگاہ میں ہوں گی ہر طرف اور ہر جگہ اسی کی بیویاں اور خادم نظر آئیں گے اور اعلیٰ درجہ کے جنتی ایک ایک دن میں دو دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے بزرگ چہرے کو دیکھیں گے“ ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ترمذی شریف میں بھی یہ حدیث ہے، یہ حدیث بروایت ابن عمر مرفوعًا بھی مروی ہے۔
ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس قسم کی تمام حدیثیں اور روایتیں اور ان کی سندیں اور ان کے مختلف الفاظ یہاں جمع کریں گے تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا بہت ہی صحیح اور حسن حدیثیں بہت سی مسند اور سنن کی کتابوں میں مروی ہیں جن میں اکثر ہماری اس تفسیر میں متفرق مقامات پر آ بھی گئی ہیں، ہاں توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس مسئلہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار مومنوں کو قیامت کے دن ہونے میں صحابہ، تابعین اور سلف امت کا اتفاق اور اجماع ہے ائمہ اسلام اور ہداۃ انام سب اس پر متفق ہیں، جو لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھنا جیسے مجاہد اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم سے تفسیر ابن جریر میں مروی ہے ان کا قول حق سے دور اور سراسر تکلف سے معمور ہے، ان کے پاس اس آیت کا کیا جواب ہے جہاں بدکاروں کی نسبت فرمایا گیا ہے «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» [83-المطففين:15] یعنی ” فاجر قیامت کے دن اپنے پروردگار سے پردے میں کر دیئے جائیں گے “۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ ”فاجروں کے دیدار الٰہی سے محروم رہنے کا صاف مطلب یہی ہے کہ «ابرار» یعنی نیک کار لوگ دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے“ اور متواتر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے اور اسی پر اس آیت کی روانگی الفاظ صاف دلالت کرتی ہے کہ ایماندار دیدار باری سے محظوظ ہوں گے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ چہرے حسن و خوبی والے ہوں گے کیونکہ دیدار رب پر ان کی نگاہیں پڑتی ہوں گی پھر بھلا یہ منور و حسین کیوں نہ ہوں اور بہت سے منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے، بدشکل ہو رہے ہوں گے، بے رونق اور اداس ہوں گے، انہیں یقین ہو گا کہ ہم کوئی ہلاکت اور اللہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا۔
10053
جیسے اور جگہ ہے «يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ» [3-آل عمران:106] ” جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو “۔
اور آیت میں ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ» [80-عبس:38-42] یعنی ” اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے “۔
اور جگہ سے «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» [88-الغاشية:7-2] ، یعنی ” قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے، بدرونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے، تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے “۔
پھر فرمایا «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌلِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» [88-الغاشية:10-8] ، یعنی ” بعض چہرے ان دن نعتموں والے خوش و خرم چمکیلے اور شادان و فرحان بھی ہوں گے، جو اپنے گزشتہ اعمال سے خوش ہوں گے اور بلند و بالا جنتوں میں اقامت رکھتے ہوں گے “، اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
10054
القيامة 75:19
باب
بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ پھر جب وحی اترتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظریں نیچی کر لیتے اور جب وحی چلی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے ۔ [صحیح بخاری:4927] ۔
ابن ابی حاتم میں بھی بروایت ابن عباس یہ حدیث مروی ہے اور بہت سے مفسرین سلف صالحین نے یہی فرمایا ہے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں اس پر یہ آیتیں اتریں ۔
10051
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطیہ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا بیان ہم پر ہے یعنی حلال حرام کا واضح کرنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔
پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” ان کافروں کو قیامت کے انکار، اللہ کی پاک کتاب کو نہ ماننے اور اللہ کے عظیم الشان رسول کی اطاعت نہ کرنے پر آمادہ کرنے والی چیز حب دنیا اور غفلت آخرت ہے، حالانکہ آخرت کا دن بڑی اہمیت والا دن ہے، اس دن بہت سے لوگ تو وہ ہوں گے جن کے چہرے ہشاش بشاش، تروتازہ، خوش و خرم ہوں گے اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہو رہے ہوں گے “۔
جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ عنقریب تم اپنے رب کو صاف صاف کھلم کھلا اپنے سامنے دیکھو گے [صحیح بخاری:7434] ، بہت سی صحیح احادیث سے متواتر سندوں سے جو ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں وارد کی ہیں ثابت ہو چکا ہے کہ ایمان والے اپنے رب کے دیدار سے قیامت کے دن مشرف ہوں گے ان احادیث کو نہ تو کوئی ہٹا سکے نہ ان کا کوئی انکار کر سکے۔
صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو جبکہ آسمان صاف بے ابر ہو دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت یا رکاوٹ ہوتی ہے؟“، انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے“ ۔ [صحیح بخاری:7437]
بخاری و مسلم میں ہے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودہویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی نماز (یعنی صبح کی نماز) اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز (یعنی عصر کی نماز) میں کسی طرح کی سستی نہ کرو“ ۔ [صحیح بخاری:573]
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے انہی دونوں متبرک کتابوں میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں سونے کی ہیں وہاں کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں اور ان کے برتن اور ہر چیز چاندی ہی کی ہے سوائے کبریائی کی چادروں کے اور کوئی آڑ نہیں“ یہ جنت عدن کا ذکر ہے ۔ [صحیح بخاری:4878]
10052
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا ” کچھ چاہتے ہو کہ بڑھا دوں؟ “ وہ کہیں گے الٰہی تو نے ہمارے چہرے سفید نورانی کر دیئے، ہمیں جنت میں پہنچا دیا جہنم سے بچا لیا اب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ اسی وقت حجاب ہٹا دیئے جائیں گے اور ان اہل جنت کی نگاہیں جمال باری سے منور ہوں گی اس میں انہیں جو سرور و لذت حاصل ہو گی وہ کسی چیز میں نہ حاصل ہو گی سب سے زیادہ محبوب انہیں دیدار باری ہو گا اسی کو اس آیت میں لفظ «الزِّيَادَةُ» سے تعبیر کیا گیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» [10-یونس:26] یعنی ” احسان کرنے والوں کو جنت بھی ملے گی اور دیدار رب بھی “۔ [صحیح مسلم:181]
صحیح مسلم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں پر قیامت کے میدان میں مسکراتا ہوا تجلی فرمائے گا ۔ [صحیح مسلم:191] پس معلوم ہوا کہ ایماندار قیامت کے عرصات میں اور جنتوں میں دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے ہلکے درجہ کا جنتی اپنے ملک اور اپنی ملکیت کو دو ہزار سال دیکھتا رہے گا دور اور نزدیک کی چیزیں یکساں نگاہ میں ہوں گی ہر طرف اور ہر جگہ اسی کی بیویاں اور خادم نظر آئیں گے اور اعلیٰ درجہ کے جنتی ایک ایک دن میں دو دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے بزرگ چہرے کو دیکھیں گے“ ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ترمذی شریف میں بھی یہ حدیث ہے، یہ حدیث بروایت ابن عمر مرفوعًا بھی مروی ہے۔
ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس قسم کی تمام حدیثیں اور روایتیں اور ان کی سندیں اور ان کے مختلف الفاظ یہاں جمع کریں گے تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا بہت ہی صحیح اور حسن حدیثیں بہت سی مسند اور سنن کی کتابوں میں مروی ہیں جن میں اکثر ہماری اس تفسیر میں متفرق مقامات پر آ بھی گئی ہیں، ہاں توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس مسئلہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار مومنوں کو قیامت کے دن ہونے میں صحابہ، تابعین اور سلف امت کا اتفاق اور اجماع ہے ائمہ اسلام اور ہداۃ انام سب اس پر متفق ہیں، جو لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھنا جیسے مجاہد اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم سے تفسیر ابن جریر میں مروی ہے ان کا قول حق سے دور اور سراسر تکلف سے معمور ہے، ان کے پاس اس آیت کا کیا جواب ہے جہاں بدکاروں کی نسبت فرمایا گیا ہے «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» [83-المطففين:15] یعنی ” فاجر قیامت کے دن اپنے پروردگار سے پردے میں کر دیئے جائیں گے “۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ ”فاجروں کے دیدار الٰہی سے محروم رہنے کا صاف مطلب یہی ہے کہ «ابرار» یعنی نیک کار لوگ دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے“ اور متواتر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے اور اسی پر اس آیت کی روانگی الفاظ صاف دلالت کرتی ہے کہ ایماندار دیدار باری سے محظوظ ہوں گے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ چہرے حسن و خوبی والے ہوں گے کیونکہ دیدار رب پر ان کی نگاہیں پڑتی ہوں گی پھر بھلا یہ منور و حسین کیوں نہ ہوں اور بہت سے منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے، بدشکل ہو رہے ہوں گے، بے رونق اور اداس ہوں گے، انہیں یقین ہو گا کہ ہم کوئی ہلاکت اور اللہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا۔
10053
جیسے اور جگہ ہے «يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ» [3-آل عمران:106] ” جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو “۔
اور آیت میں ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ» [80-عبس:38-42] یعنی ” اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے “۔
اور جگہ سے «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» [88-الغاشية:7-2] ، یعنی ” قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے، بدرونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے، تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے “۔
پھر فرمایا «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌلِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» [88-الغاشية:10-8] ، یعنی ” بعض چہرے ان دن نعتموں والے خوش و خرم چمکیلے اور شادان و فرحان بھی ہوں گے، جو اپنے گزشتہ اعمال سے خوش ہوں گے اور بلند و بالا جنتوں میں اقامت رکھتے ہوں گے “، اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
10054
القيامة 75:20
باب
بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ پھر جب وحی اترتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظریں نیچی کر لیتے اور جب وحی چلی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے ۔ [صحیح بخاری:4927] ۔
ابن ابی حاتم میں بھی بروایت ابن عباس یہ حدیث مروی ہے اور بہت سے مفسرین سلف صالحین نے یہی فرمایا ہے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں اس پر یہ آیتیں اتریں ۔
10051
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطیہ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا بیان ہم پر ہے یعنی حلال حرام کا واضح کرنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔
پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” ان کافروں کو قیامت کے انکار، اللہ کی پاک کتاب کو نہ ماننے اور اللہ کے عظیم الشان رسول کی اطاعت نہ کرنے پر آمادہ کرنے والی چیز حب دنیا اور غفلت آخرت ہے، حالانکہ آخرت کا دن بڑی اہمیت والا دن ہے، اس دن بہت سے لوگ تو وہ ہوں گے جن کے چہرے ہشاش بشاش، تروتازہ، خوش و خرم ہوں گے اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہو رہے ہوں گے “۔
جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ عنقریب تم اپنے رب کو صاف صاف کھلم کھلا اپنے سامنے دیکھو گے [صحیح بخاری:7434] ، بہت سی صحیح احادیث سے متواتر سندوں سے جو ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں وارد کی ہیں ثابت ہو چکا ہے کہ ایمان والے اپنے رب کے دیدار سے قیامت کے دن مشرف ہوں گے ان احادیث کو نہ تو کوئی ہٹا سکے نہ ان کا کوئی انکار کر سکے۔
صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو جبکہ آسمان صاف بے ابر ہو دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت یا رکاوٹ ہوتی ہے؟“، انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے“ ۔ [صحیح بخاری:7437]
بخاری و مسلم میں ہے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودہویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی نماز (یعنی صبح کی نماز) اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز (یعنی عصر کی نماز) میں کسی طرح کی سستی نہ کرو“ ۔ [صحیح بخاری:573]
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے انہی دونوں متبرک کتابوں میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں سونے کی ہیں وہاں کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں اور ان کے برتن اور ہر چیز چاندی ہی کی ہے سوائے کبریائی کی چادروں کے اور کوئی آڑ نہیں“ یہ جنت عدن کا ذکر ہے ۔ [صحیح بخاری:4878]
10052
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا ” کچھ چاہتے ہو کہ بڑھا دوں؟ “ وہ کہیں گے الٰہی تو نے ہمارے چہرے سفید نورانی کر دیئے، ہمیں جنت میں پہنچا دیا جہنم سے بچا لیا اب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ اسی وقت حجاب ہٹا دیئے جائیں گے اور ان اہل جنت کی نگاہیں جمال باری سے منور ہوں گی اس میں انہیں جو سرور و لذت حاصل ہو گی وہ کسی چیز میں نہ حاصل ہو گی سب سے زیادہ محبوب انہیں دیدار باری ہو گا اسی کو اس آیت میں لفظ «الزِّيَادَةُ» سے تعبیر کیا گیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» [10-یونس:26] یعنی ” احسان کرنے والوں کو جنت بھی ملے گی اور دیدار رب بھی “۔ [صحیح مسلم:181]
صحیح مسلم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں پر قیامت کے میدان میں مسکراتا ہوا تجلی فرمائے گا ۔ [صحیح مسلم:191] پس معلوم ہوا کہ ایماندار قیامت کے عرصات میں اور جنتوں میں دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے ہلکے درجہ کا جنتی اپنے ملک اور اپنی ملکیت کو دو ہزار سال دیکھتا رہے گا دور اور نزدیک کی چیزیں یکساں نگاہ میں ہوں گی ہر طرف اور ہر جگہ اسی کی بیویاں اور خادم نظر آئیں گے اور اعلیٰ درجہ کے جنتی ایک ایک دن میں دو دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے بزرگ چہرے کو دیکھیں گے“ ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ترمذی شریف میں بھی یہ حدیث ہے، یہ حدیث بروایت ابن عمر مرفوعًا بھی مروی ہے۔
ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس قسم کی تمام حدیثیں اور روایتیں اور ان کی سندیں اور ان کے مختلف الفاظ یہاں جمع کریں گے تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا بہت ہی صحیح اور حسن حدیثیں بہت سی مسند اور سنن کی کتابوں میں مروی ہیں جن میں اکثر ہماری اس تفسیر میں متفرق مقامات پر آ بھی گئی ہیں، ہاں توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس مسئلہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار مومنوں کو قیامت کے دن ہونے میں صحابہ، تابعین اور سلف امت کا اتفاق اور اجماع ہے ائمہ اسلام اور ہداۃ انام سب اس پر متفق ہیں، جو لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھنا جیسے مجاہد اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم سے تفسیر ابن جریر میں مروی ہے ان کا قول حق سے دور اور سراسر تکلف سے معمور ہے، ان کے پاس اس آیت کا کیا جواب ہے جہاں بدکاروں کی نسبت فرمایا گیا ہے «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» [83-المطففين:15] یعنی ” فاجر قیامت کے دن اپنے پروردگار سے پردے میں کر دیئے جائیں گے “۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ ”فاجروں کے دیدار الٰہی سے محروم رہنے کا صاف مطلب یہی ہے کہ «ابرار» یعنی نیک کار لوگ دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے“ اور متواتر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے اور اسی پر اس آیت کی روانگی الفاظ صاف دلالت کرتی ہے کہ ایماندار دیدار باری سے محظوظ ہوں گے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ چہرے حسن و خوبی والے ہوں گے کیونکہ دیدار رب پر ان کی نگاہیں پڑتی ہوں گی پھر بھلا یہ منور و حسین کیوں نہ ہوں اور بہت سے منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے، بدشکل ہو رہے ہوں گے، بے رونق اور اداس ہوں گے، انہیں یقین ہو گا کہ ہم کوئی ہلاکت اور اللہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا۔
10053
جیسے اور جگہ ہے «يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ» [3-آل عمران:106] ” جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو “۔
اور آیت میں ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ» [80-عبس:38-42] یعنی ” اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے “۔
اور جگہ سے «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» [88-الغاشية:7-2] ، یعنی ” قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے، بدرونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے، تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے “۔
پھر فرمایا «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌلِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» [88-الغاشية:10-8] ، یعنی ” بعض چہرے ان دن نعتموں والے خوش و خرم چمکیلے اور شادان و فرحان بھی ہوں گے، جو اپنے گزشتہ اعمال سے خوش ہوں گے اور بلند و بالا جنتوں میں اقامت رکھتے ہوں گے “، اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
10054
القيامة 75:21
باب
بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ پھر جب وحی اترتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظریں نیچی کر لیتے اور جب وحی چلی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے ۔ [صحیح بخاری:4927] ۔
ابن ابی حاتم میں بھی بروایت ابن عباس یہ حدیث مروی ہے اور بہت سے مفسرین سلف صالحین نے یہی فرمایا ہے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں اس پر یہ آیتیں اتریں ۔
10051
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطیہ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا بیان ہم پر ہے یعنی حلال حرام کا واضح کرنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔
پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” ان کافروں کو قیامت کے انکار، اللہ کی پاک کتاب کو نہ ماننے اور اللہ کے عظیم الشان رسول کی اطاعت نہ کرنے پر آمادہ کرنے والی چیز حب دنیا اور غفلت آخرت ہے، حالانکہ آخرت کا دن بڑی اہمیت والا دن ہے، اس دن بہت سے لوگ تو وہ ہوں گے جن کے چہرے ہشاش بشاش، تروتازہ، خوش و خرم ہوں گے اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہو رہے ہوں گے “۔
جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ عنقریب تم اپنے رب کو صاف صاف کھلم کھلا اپنے سامنے دیکھو گے [صحیح بخاری:7434] ، بہت سی صحیح احادیث سے متواتر سندوں سے جو ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں وارد کی ہیں ثابت ہو چکا ہے کہ ایمان والے اپنے رب کے دیدار سے قیامت کے دن مشرف ہوں گے ان احادیث کو نہ تو کوئی ہٹا سکے نہ ان کا کوئی انکار کر سکے۔
صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو جبکہ آسمان صاف بے ابر ہو دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت یا رکاوٹ ہوتی ہے؟“، انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے“ ۔ [صحیح بخاری:7437]
بخاری و مسلم میں ہے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودہویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی نماز (یعنی صبح کی نماز) اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز (یعنی عصر کی نماز) میں کسی طرح کی سستی نہ کرو“ ۔ [صحیح بخاری:573]
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے انہی دونوں متبرک کتابوں میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں سونے کی ہیں وہاں کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں اور ان کے برتن اور ہر چیز چاندی ہی کی ہے سوائے کبریائی کی چادروں کے اور کوئی آڑ نہیں“ یہ جنت عدن کا ذکر ہے ۔ [صحیح بخاری:4878]
10052
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا ” کچھ چاہتے ہو کہ بڑھا دوں؟ “ وہ کہیں گے الٰہی تو نے ہمارے چہرے سفید نورانی کر دیئے، ہمیں جنت میں پہنچا دیا جہنم سے بچا لیا اب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ اسی وقت حجاب ہٹا دیئے جائیں گے اور ان اہل جنت کی نگاہیں جمال باری سے منور ہوں گی اس میں انہیں جو سرور و لذت حاصل ہو گی وہ کسی چیز میں نہ حاصل ہو گی سب سے زیادہ محبوب انہیں دیدار باری ہو گا اسی کو اس آیت میں لفظ «الزِّيَادَةُ» سے تعبیر کیا گیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» [10-یونس:26] یعنی ” احسان کرنے والوں کو جنت بھی ملے گی اور دیدار رب بھی “۔ [صحیح مسلم:181]
صحیح مسلم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں پر قیامت کے میدان میں مسکراتا ہوا تجلی فرمائے گا ۔ [صحیح مسلم:191] پس معلوم ہوا کہ ایماندار قیامت کے عرصات میں اور جنتوں میں دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے ہلکے درجہ کا جنتی اپنے ملک اور اپنی ملکیت کو دو ہزار سال دیکھتا رہے گا دور اور نزدیک کی چیزیں یکساں نگاہ میں ہوں گی ہر طرف اور ہر جگہ اسی کی بیویاں اور خادم نظر آئیں گے اور اعلیٰ درجہ کے جنتی ایک ایک دن میں دو دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے بزرگ چہرے کو دیکھیں گے“ ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ترمذی شریف میں بھی یہ حدیث ہے، یہ حدیث بروایت ابن عمر مرفوعًا بھی مروی ہے۔
ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس قسم کی تمام حدیثیں اور روایتیں اور ان کی سندیں اور ان کے مختلف الفاظ یہاں جمع کریں گے تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا بہت ہی صحیح اور حسن حدیثیں بہت سی مسند اور سنن کی کتابوں میں مروی ہیں جن میں اکثر ہماری اس تفسیر میں متفرق مقامات پر آ بھی گئی ہیں، ہاں توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس مسئلہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار مومنوں کو قیامت کے دن ہونے میں صحابہ، تابعین اور سلف امت کا اتفاق اور اجماع ہے ائمہ اسلام اور ہداۃ انام سب اس پر متفق ہیں، جو لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھنا جیسے مجاہد اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم سے تفسیر ابن جریر میں مروی ہے ان کا قول حق سے دور اور سراسر تکلف سے معمور ہے، ان کے پاس اس آیت کا کیا جواب ہے جہاں بدکاروں کی نسبت فرمایا گیا ہے «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» [83-المطففين:15] یعنی ” فاجر قیامت کے دن اپنے پروردگار سے پردے میں کر دیئے جائیں گے “۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ ”فاجروں کے دیدار الٰہی سے محروم رہنے کا صاف مطلب یہی ہے کہ «ابرار» یعنی نیک کار لوگ دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے“ اور متواتر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے اور اسی پر اس آیت کی روانگی الفاظ صاف دلالت کرتی ہے کہ ایماندار دیدار باری سے محظوظ ہوں گے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ چہرے حسن و خوبی والے ہوں گے کیونکہ دیدار رب پر ان کی نگاہیں پڑتی ہوں گی پھر بھلا یہ منور و حسین کیوں نہ ہوں اور بہت سے منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے، بدشکل ہو رہے ہوں گے، بے رونق اور اداس ہوں گے، انہیں یقین ہو گا کہ ہم کوئی ہلاکت اور اللہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا۔
10053
جیسے اور جگہ ہے «يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ» [3-آل عمران:106] ” جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو “۔
اور آیت میں ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ» [80-عبس:38-42] یعنی ” اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے “۔
اور جگہ سے «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» [88-الغاشية:7-2] ، یعنی ” قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے، بدرونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے، تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے “۔
پھر فرمایا «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌلِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» [88-الغاشية:10-8] ، یعنی ” بعض چہرے ان دن نعتموں والے خوش و خرم چمکیلے اور شادان و فرحان بھی ہوں گے، جو اپنے گزشتہ اعمال سے خوش ہوں گے اور بلند و بالا جنتوں میں اقامت رکھتے ہوں گے “، اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
10054
القيامة 75:22
باب
بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ پھر جب وحی اترتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظریں نیچی کر لیتے اور جب وحی چلی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے ۔ [صحیح بخاری:4927] ۔
ابن ابی حاتم میں بھی بروایت ابن عباس یہ حدیث مروی ہے اور بہت سے مفسرین سلف صالحین نے یہی فرمایا ہے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں اس پر یہ آیتیں اتریں ۔
10051
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطیہ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا بیان ہم پر ہے یعنی حلال حرام کا واضح کرنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔
پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” ان کافروں کو قیامت کے انکار، اللہ کی پاک کتاب کو نہ ماننے اور اللہ کے عظیم الشان رسول کی اطاعت نہ کرنے پر آمادہ کرنے والی چیز حب دنیا اور غفلت آخرت ہے، حالانکہ آخرت کا دن بڑی اہمیت والا دن ہے، اس دن بہت سے لوگ تو وہ ہوں گے جن کے چہرے ہشاش بشاش، تروتازہ، خوش و خرم ہوں گے اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہو رہے ہوں گے “۔
جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ عنقریب تم اپنے رب کو صاف صاف کھلم کھلا اپنے سامنے دیکھو گے [صحیح بخاری:7434] ، بہت سی صحیح احادیث سے متواتر سندوں سے جو ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں وارد کی ہیں ثابت ہو چکا ہے کہ ایمان والے اپنے رب کے دیدار سے قیامت کے دن مشرف ہوں گے ان احادیث کو نہ تو کوئی ہٹا سکے نہ ان کا کوئی انکار کر سکے۔
صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو جبکہ آسمان صاف بے ابر ہو دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت یا رکاوٹ ہوتی ہے؟“، انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے“ ۔ [صحیح بخاری:7437]
بخاری و مسلم میں ہے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودہویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی نماز (یعنی صبح کی نماز) اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز (یعنی عصر کی نماز) میں کسی طرح کی سستی نہ کرو“ ۔ [صحیح بخاری:573]
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے انہی دونوں متبرک کتابوں میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں سونے کی ہیں وہاں کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں اور ان کے برتن اور ہر چیز چاندی ہی کی ہے سوائے کبریائی کی چادروں کے اور کوئی آڑ نہیں“ یہ جنت عدن کا ذکر ہے ۔ [صحیح بخاری:4878]
10052
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا ” کچھ چاہتے ہو کہ بڑھا دوں؟ “ وہ کہیں گے الٰہی تو نے ہمارے چہرے سفید نورانی کر دیئے، ہمیں جنت میں پہنچا دیا جہنم سے بچا لیا اب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ اسی وقت حجاب ہٹا دیئے جائیں گے اور ان اہل جنت کی نگاہیں جمال باری سے منور ہوں گی اس میں انہیں جو سرور و لذت حاصل ہو گی وہ کسی چیز میں نہ حاصل ہو گی سب سے زیادہ محبوب انہیں دیدار باری ہو گا اسی کو اس آیت میں لفظ «الزِّيَادَةُ» سے تعبیر کیا گیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» [10-یونس:26] یعنی ” احسان کرنے والوں کو جنت بھی ملے گی اور دیدار رب بھی “۔ [صحیح مسلم:181]
صحیح مسلم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں پر قیامت کے میدان میں مسکراتا ہوا تجلی فرمائے گا ۔ [صحیح مسلم:191] پس معلوم ہوا کہ ایماندار قیامت کے عرصات میں اور جنتوں میں دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے ہلکے درجہ کا جنتی اپنے ملک اور اپنی ملکیت کو دو ہزار سال دیکھتا رہے گا دور اور نزدیک کی چیزیں یکساں نگاہ میں ہوں گی ہر طرف اور ہر جگہ اسی کی بیویاں اور خادم نظر آئیں گے اور اعلیٰ درجہ کے جنتی ایک ایک دن میں دو دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے بزرگ چہرے کو دیکھیں گے“ ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ترمذی شریف میں بھی یہ حدیث ہے، یہ حدیث بروایت ابن عمر مرفوعًا بھی مروی ہے۔
ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس قسم کی تمام حدیثیں اور روایتیں اور ان کی سندیں اور ان کے مختلف الفاظ یہاں جمع کریں گے تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا بہت ہی صحیح اور حسن حدیثیں بہت سی مسند اور سنن کی کتابوں میں مروی ہیں جن میں اکثر ہماری اس تفسیر میں متفرق مقامات پر آ بھی گئی ہیں، ہاں توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس مسئلہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار مومنوں کو قیامت کے دن ہونے میں صحابہ، تابعین اور سلف امت کا اتفاق اور اجماع ہے ائمہ اسلام اور ہداۃ انام سب اس پر متفق ہیں، جو لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھنا جیسے مجاہد اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم سے تفسیر ابن جریر میں مروی ہے ان کا قول حق سے دور اور سراسر تکلف سے معمور ہے، ان کے پاس اس آیت کا کیا جواب ہے جہاں بدکاروں کی نسبت فرمایا گیا ہے «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» [83-المطففين:15] یعنی ” فاجر قیامت کے دن اپنے پروردگار سے پردے میں کر دیئے جائیں گے “۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ ”فاجروں کے دیدار الٰہی سے محروم رہنے کا صاف مطلب یہی ہے کہ «ابرار» یعنی نیک کار لوگ دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے“ اور متواتر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے اور اسی پر اس آیت کی روانگی الفاظ صاف دلالت کرتی ہے کہ ایماندار دیدار باری سے محظوظ ہوں گے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ چہرے حسن و خوبی والے ہوں گے کیونکہ دیدار رب پر ان کی نگاہیں پڑتی ہوں گی پھر بھلا یہ منور و حسین کیوں نہ ہوں اور بہت سے منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے، بدشکل ہو رہے ہوں گے، بے رونق اور اداس ہوں گے، انہیں یقین ہو گا کہ ہم کوئی ہلاکت اور اللہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا۔
10053
جیسے اور جگہ ہے «يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ» [3-آل عمران:106] ” جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو “۔
اور آیت میں ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ» [80-عبس:38-42] یعنی ” اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے “۔
اور جگہ سے «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» [88-الغاشية:7-2] ، یعنی ” قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے، بدرونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے، تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے “۔
پھر فرمایا «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌلِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» [88-الغاشية:10-8] ، یعنی ” بعض چہرے ان دن نعتموں والے خوش و خرم چمکیلے اور شادان و فرحان بھی ہوں گے، جو اپنے گزشتہ اعمال سے خوش ہوں گے اور بلند و بالا جنتوں میں اقامت رکھتے ہوں گے “، اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
10054
القيامة 75:23
باب
بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ پھر جب وحی اترتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظریں نیچی کر لیتے اور جب وحی چلی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے ۔ [صحیح بخاری:4927] ۔
ابن ابی حاتم میں بھی بروایت ابن عباس یہ حدیث مروی ہے اور بہت سے مفسرین سلف صالحین نے یہی فرمایا ہے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں اس پر یہ آیتیں اتریں ۔
10051
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطیہ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا بیان ہم پر ہے یعنی حلال حرام کا واضح کرنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔
پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” ان کافروں کو قیامت کے انکار، اللہ کی پاک کتاب کو نہ ماننے اور اللہ کے عظیم الشان رسول کی اطاعت نہ کرنے پر آمادہ کرنے والی چیز حب دنیا اور غفلت آخرت ہے، حالانکہ آخرت کا دن بڑی اہمیت والا دن ہے، اس دن بہت سے لوگ تو وہ ہوں گے جن کے چہرے ہشاش بشاش، تروتازہ، خوش و خرم ہوں گے اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہو رہے ہوں گے “۔
جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ عنقریب تم اپنے رب کو صاف صاف کھلم کھلا اپنے سامنے دیکھو گے [صحیح بخاری:7434] ، بہت سی صحیح احادیث سے متواتر سندوں سے جو ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں وارد کی ہیں ثابت ہو چکا ہے کہ ایمان والے اپنے رب کے دیدار سے قیامت کے دن مشرف ہوں گے ان احادیث کو نہ تو کوئی ہٹا سکے نہ ان کا کوئی انکار کر سکے۔
صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو جبکہ آسمان صاف بے ابر ہو دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت یا رکاوٹ ہوتی ہے؟“، انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے“ ۔ [صحیح بخاری:7437]
بخاری و مسلم میں ہے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودہویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی نماز (یعنی صبح کی نماز) اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز (یعنی عصر کی نماز) میں کسی طرح کی سستی نہ کرو“ ۔ [صحیح بخاری:573]
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے انہی دونوں متبرک کتابوں میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں سونے کی ہیں وہاں کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں اور ان کے برتن اور ہر چیز چاندی ہی کی ہے سوائے کبریائی کی چادروں کے اور کوئی آڑ نہیں“ یہ جنت عدن کا ذکر ہے ۔ [صحیح بخاری:4878]
10052
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا ” کچھ چاہتے ہو کہ بڑھا دوں؟ “ وہ کہیں گے الٰہی تو نے ہمارے چہرے سفید نورانی کر دیئے، ہمیں جنت میں پہنچا دیا جہنم سے بچا لیا اب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ اسی وقت حجاب ہٹا دیئے جائیں گے اور ان اہل جنت کی نگاہیں جمال باری سے منور ہوں گی اس میں انہیں جو سرور و لذت حاصل ہو گی وہ کسی چیز میں نہ حاصل ہو گی سب سے زیادہ محبوب انہیں دیدار باری ہو گا اسی کو اس آیت میں لفظ «الزِّيَادَةُ» سے تعبیر کیا گیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» [10-یونس:26] یعنی ” احسان کرنے والوں کو جنت بھی ملے گی اور دیدار رب بھی “۔ [صحیح مسلم:181]
صحیح مسلم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں پر قیامت کے میدان میں مسکراتا ہوا تجلی فرمائے گا ۔ [صحیح مسلم:191] پس معلوم ہوا کہ ایماندار قیامت کے عرصات میں اور جنتوں میں دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے ہلکے درجہ کا جنتی اپنے ملک اور اپنی ملکیت کو دو ہزار سال دیکھتا رہے گا دور اور نزدیک کی چیزیں یکساں نگاہ میں ہوں گی ہر طرف اور ہر جگہ اسی کی بیویاں اور خادم نظر آئیں گے اور اعلیٰ درجہ کے جنتی ایک ایک دن میں دو دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے بزرگ چہرے کو دیکھیں گے“ ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ترمذی شریف میں بھی یہ حدیث ہے، یہ حدیث بروایت ابن عمر مرفوعًا بھی مروی ہے۔
ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس قسم کی تمام حدیثیں اور روایتیں اور ان کی سندیں اور ان کے مختلف الفاظ یہاں جمع کریں گے تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا بہت ہی صحیح اور حسن حدیثیں بہت سی مسند اور سنن کی کتابوں میں مروی ہیں جن میں اکثر ہماری اس تفسیر میں متفرق مقامات پر آ بھی گئی ہیں، ہاں توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس مسئلہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار مومنوں کو قیامت کے دن ہونے میں صحابہ، تابعین اور سلف امت کا اتفاق اور اجماع ہے ائمہ اسلام اور ہداۃ انام سب اس پر متفق ہیں، جو لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھنا جیسے مجاہد اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم سے تفسیر ابن جریر میں مروی ہے ان کا قول حق سے دور اور سراسر تکلف سے معمور ہے، ان کے پاس اس آیت کا کیا جواب ہے جہاں بدکاروں کی نسبت فرمایا گیا ہے «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» [83-المطففين:15] یعنی ” فاجر قیامت کے دن اپنے پروردگار سے پردے میں کر دیئے جائیں گے “۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ ”فاجروں کے دیدار الٰہی سے محروم رہنے کا صاف مطلب یہی ہے کہ «ابرار» یعنی نیک کار لوگ دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے“ اور متواتر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے اور اسی پر اس آیت کی روانگی الفاظ صاف دلالت کرتی ہے کہ ایماندار دیدار باری سے محظوظ ہوں گے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ چہرے حسن و خوبی والے ہوں گے کیونکہ دیدار رب پر ان کی نگاہیں پڑتی ہوں گی پھر بھلا یہ منور و حسین کیوں نہ ہوں اور بہت سے منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے، بدشکل ہو رہے ہوں گے، بے رونق اور اداس ہوں گے، انہیں یقین ہو گا کہ ہم کوئی ہلاکت اور اللہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا۔
10053
جیسے اور جگہ ہے «يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ» [3-آل عمران:106] ” جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو “۔
اور آیت میں ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ» [80-عبس:38-42] یعنی ” اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے “۔
اور جگہ سے «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» [88-الغاشية:7-2] ، یعنی ” قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے، بدرونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے، تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے “۔
پھر فرمایا «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌلِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» [88-الغاشية:10-8] ، یعنی ” بعض چہرے ان دن نعتموں والے خوش و خرم چمکیلے اور شادان و فرحان بھی ہوں گے، جو اپنے گزشتہ اعمال سے خوش ہوں گے اور بلند و بالا جنتوں میں اقامت رکھتے ہوں گے “، اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
10054
القيامة 75:24
باب
بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ پھر جب وحی اترتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظریں نیچی کر لیتے اور جب وحی چلی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے ۔ [صحیح بخاری:4927] ۔
ابن ابی حاتم میں بھی بروایت ابن عباس یہ حدیث مروی ہے اور بہت سے مفسرین سلف صالحین نے یہی فرمایا ہے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں اس پر یہ آیتیں اتریں ۔
10051
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطیہ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا بیان ہم پر ہے یعنی حلال حرام کا واضح کرنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔
پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” ان کافروں کو قیامت کے انکار، اللہ کی پاک کتاب کو نہ ماننے اور اللہ کے عظیم الشان رسول کی اطاعت نہ کرنے پر آمادہ کرنے والی چیز حب دنیا اور غفلت آخرت ہے، حالانکہ آخرت کا دن بڑی اہمیت والا دن ہے، اس دن بہت سے لوگ تو وہ ہوں گے جن کے چہرے ہشاش بشاش، تروتازہ، خوش و خرم ہوں گے اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہو رہے ہوں گے “۔
جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ عنقریب تم اپنے رب کو صاف صاف کھلم کھلا اپنے سامنے دیکھو گے [صحیح بخاری:7434] ، بہت سی صحیح احادیث سے متواتر سندوں سے جو ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں وارد کی ہیں ثابت ہو چکا ہے کہ ایمان والے اپنے رب کے دیدار سے قیامت کے دن مشرف ہوں گے ان احادیث کو نہ تو کوئی ہٹا سکے نہ ان کا کوئی انکار کر سکے۔
صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو جبکہ آسمان صاف بے ابر ہو دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت یا رکاوٹ ہوتی ہے؟“، انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے“ ۔ [صحیح بخاری:7437]
بخاری و مسلم میں ہے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودہویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی نماز (یعنی صبح کی نماز) اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز (یعنی عصر کی نماز) میں کسی طرح کی سستی نہ کرو“ ۔ [صحیح بخاری:573]
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے انہی دونوں متبرک کتابوں میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں سونے کی ہیں وہاں کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں اور ان کے برتن اور ہر چیز چاندی ہی کی ہے سوائے کبریائی کی چادروں کے اور کوئی آڑ نہیں“ یہ جنت عدن کا ذکر ہے ۔ [صحیح بخاری:4878]
10052
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا ” کچھ چاہتے ہو کہ بڑھا دوں؟ “ وہ کہیں گے الٰہی تو نے ہمارے چہرے سفید نورانی کر دیئے، ہمیں جنت میں پہنچا دیا جہنم سے بچا لیا اب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ اسی وقت حجاب ہٹا دیئے جائیں گے اور ان اہل جنت کی نگاہیں جمال باری سے منور ہوں گی اس میں انہیں جو سرور و لذت حاصل ہو گی وہ کسی چیز میں نہ حاصل ہو گی سب سے زیادہ محبوب انہیں دیدار باری ہو گا اسی کو اس آیت میں لفظ «الزِّيَادَةُ» سے تعبیر کیا گیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» [10-یونس:26] یعنی ” احسان کرنے والوں کو جنت بھی ملے گی اور دیدار رب بھی “۔ [صحیح مسلم:181]
صحیح مسلم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں پر قیامت کے میدان میں مسکراتا ہوا تجلی فرمائے گا ۔ [صحیح مسلم:191] پس معلوم ہوا کہ ایماندار قیامت کے عرصات میں اور جنتوں میں دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے ہلکے درجہ کا جنتی اپنے ملک اور اپنی ملکیت کو دو ہزار سال دیکھتا رہے گا دور اور نزدیک کی چیزیں یکساں نگاہ میں ہوں گی ہر طرف اور ہر جگہ اسی کی بیویاں اور خادم نظر آئیں گے اور اعلیٰ درجہ کے جنتی ایک ایک دن میں دو دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے بزرگ چہرے کو دیکھیں گے“ ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ترمذی شریف میں بھی یہ حدیث ہے، یہ حدیث بروایت ابن عمر مرفوعًا بھی مروی ہے۔
ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس قسم کی تمام حدیثیں اور روایتیں اور ان کی سندیں اور ان کے مختلف الفاظ یہاں جمع کریں گے تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا بہت ہی صحیح اور حسن حدیثیں بہت سی مسند اور سنن کی کتابوں میں مروی ہیں جن میں اکثر ہماری اس تفسیر میں متفرق مقامات پر آ بھی گئی ہیں، ہاں توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس مسئلہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار مومنوں کو قیامت کے دن ہونے میں صحابہ، تابعین اور سلف امت کا اتفاق اور اجماع ہے ائمہ اسلام اور ہداۃ انام سب اس پر متفق ہیں، جو لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھنا جیسے مجاہد اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم سے تفسیر ابن جریر میں مروی ہے ان کا قول حق سے دور اور سراسر تکلف سے معمور ہے، ان کے پاس اس آیت کا کیا جواب ہے جہاں بدکاروں کی نسبت فرمایا گیا ہے «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» [83-المطففين:15] یعنی ” فاجر قیامت کے دن اپنے پروردگار سے پردے میں کر دیئے جائیں گے “۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ ”فاجروں کے دیدار الٰہی سے محروم رہنے کا صاف مطلب یہی ہے کہ «ابرار» یعنی نیک کار لوگ دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے“ اور متواتر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے اور اسی پر اس آیت کی روانگی الفاظ صاف دلالت کرتی ہے کہ ایماندار دیدار باری سے محظوظ ہوں گے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ چہرے حسن و خوبی والے ہوں گے کیونکہ دیدار رب پر ان کی نگاہیں پڑتی ہوں گی پھر بھلا یہ منور و حسین کیوں نہ ہوں اور بہت سے منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے، بدشکل ہو رہے ہوں گے، بے رونق اور اداس ہوں گے، انہیں یقین ہو گا کہ ہم کوئی ہلاکت اور اللہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا۔
10053
جیسے اور جگہ ہے «يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ» [3-آل عمران:106] ” جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو “۔
اور آیت میں ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ» [80-عبس:38-42] یعنی ” اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے “۔
اور جگہ سے «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» [88-الغاشية:7-2] ، یعنی ” قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے، بدرونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے، تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے “۔
پھر فرمایا «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌلِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» [88-الغاشية:10-8] ، یعنی ” بعض چہرے ان دن نعتموں والے خوش و خرم چمکیلے اور شادان و فرحان بھی ہوں گے، جو اپنے گزشتہ اعمال سے خوش ہوں گے اور بلند و بالا جنتوں میں اقامت رکھتے ہوں گے “، اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
10054
القيامة 75:25
باب
بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ پھر جب وحی اترتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظریں نیچی کر لیتے اور جب وحی چلی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے ۔ [صحیح بخاری:4927] ۔
ابن ابی حاتم میں بھی بروایت ابن عباس یہ حدیث مروی ہے اور بہت سے مفسرین سلف صالحین نے یہی فرمایا ہے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں اس پر یہ آیتیں اتریں ۔
10051
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطیہ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا بیان ہم پر ہے یعنی حلال حرام کا واضح کرنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔
پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” ان کافروں کو قیامت کے انکار، اللہ کی پاک کتاب کو نہ ماننے اور اللہ کے عظیم الشان رسول کی اطاعت نہ کرنے پر آمادہ کرنے والی چیز حب دنیا اور غفلت آخرت ہے، حالانکہ آخرت کا دن بڑی اہمیت والا دن ہے، اس دن بہت سے لوگ تو وہ ہوں گے جن کے چہرے ہشاش بشاش، تروتازہ، خوش و خرم ہوں گے اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہو رہے ہوں گے “۔
جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ عنقریب تم اپنے رب کو صاف صاف کھلم کھلا اپنے سامنے دیکھو گے [صحیح بخاری:7434] ، بہت سی صحیح احادیث سے متواتر سندوں سے جو ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں وارد کی ہیں ثابت ہو چکا ہے کہ ایمان والے اپنے رب کے دیدار سے قیامت کے دن مشرف ہوں گے ان احادیث کو نہ تو کوئی ہٹا سکے نہ ان کا کوئی انکار کر سکے۔
صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو جبکہ آسمان صاف بے ابر ہو دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت یا رکاوٹ ہوتی ہے؟“، انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے“ ۔ [صحیح بخاری:7437]
بخاری و مسلم میں ہے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودہویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی نماز (یعنی صبح کی نماز) اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز (یعنی عصر کی نماز) میں کسی طرح کی سستی نہ کرو“ ۔ [صحیح بخاری:573]
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے انہی دونوں متبرک کتابوں میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں سونے کی ہیں وہاں کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں اور ان کے برتن اور ہر چیز چاندی ہی کی ہے سوائے کبریائی کی چادروں کے اور کوئی آڑ نہیں“ یہ جنت عدن کا ذکر ہے ۔ [صحیح بخاری:4878]
10052
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا ” کچھ چاہتے ہو کہ بڑھا دوں؟ “ وہ کہیں گے الٰہی تو نے ہمارے چہرے سفید نورانی کر دیئے، ہمیں جنت میں پہنچا دیا جہنم سے بچا لیا اب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ اسی وقت حجاب ہٹا دیئے جائیں گے اور ان اہل جنت کی نگاہیں جمال باری سے منور ہوں گی اس میں انہیں جو سرور و لذت حاصل ہو گی وہ کسی چیز میں نہ حاصل ہو گی سب سے زیادہ محبوب انہیں دیدار باری ہو گا اسی کو اس آیت میں لفظ «الزِّيَادَةُ» سے تعبیر کیا گیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» [10-یونس:26] یعنی ” احسان کرنے والوں کو جنت بھی ملے گی اور دیدار رب بھی “۔ [صحیح مسلم:181]
صحیح مسلم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں پر قیامت کے میدان میں مسکراتا ہوا تجلی فرمائے گا ۔ [صحیح مسلم:191] پس معلوم ہوا کہ ایماندار قیامت کے عرصات میں اور جنتوں میں دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے ہلکے درجہ کا جنتی اپنے ملک اور اپنی ملکیت کو دو ہزار سال دیکھتا رہے گا دور اور نزدیک کی چیزیں یکساں نگاہ میں ہوں گی ہر طرف اور ہر جگہ اسی کی بیویاں اور خادم نظر آئیں گے اور اعلیٰ درجہ کے جنتی ایک ایک دن میں دو دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے بزرگ چہرے کو دیکھیں گے“ ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ترمذی شریف میں بھی یہ حدیث ہے، یہ حدیث بروایت ابن عمر مرفوعًا بھی مروی ہے۔
ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس قسم کی تمام حدیثیں اور روایتیں اور ان کی سندیں اور ان کے مختلف الفاظ یہاں جمع کریں گے تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا بہت ہی صحیح اور حسن حدیثیں بہت سی مسند اور سنن کی کتابوں میں مروی ہیں جن میں اکثر ہماری اس تفسیر میں متفرق مقامات پر آ بھی گئی ہیں، ہاں توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس مسئلہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار مومنوں کو قیامت کے دن ہونے میں صحابہ، تابعین اور سلف امت کا اتفاق اور اجماع ہے ائمہ اسلام اور ہداۃ انام سب اس پر متفق ہیں، جو لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھنا جیسے مجاہد اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم سے تفسیر ابن جریر میں مروی ہے ان کا قول حق سے دور اور سراسر تکلف سے معمور ہے، ان کے پاس اس آیت کا کیا جواب ہے جہاں بدکاروں کی نسبت فرمایا گیا ہے «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» [83-المطففين:15] یعنی ” فاجر قیامت کے دن اپنے پروردگار سے پردے میں کر دیئے جائیں گے “۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ ”فاجروں کے دیدار الٰہی سے محروم رہنے کا صاف مطلب یہی ہے کہ «ابرار» یعنی نیک کار لوگ دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے“ اور متواتر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے اور اسی پر اس آیت کی روانگی الفاظ صاف دلالت کرتی ہے کہ ایماندار دیدار باری سے محظوظ ہوں گے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ چہرے حسن و خوبی والے ہوں گے کیونکہ دیدار رب پر ان کی نگاہیں پڑتی ہوں گی پھر بھلا یہ منور و حسین کیوں نہ ہوں اور بہت سے منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے، بدشکل ہو رہے ہوں گے، بے رونق اور اداس ہوں گے، انہیں یقین ہو گا کہ ہم کوئی ہلاکت اور اللہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا۔
10053
جیسے اور جگہ ہے «يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ» [3-آل عمران:106] ” جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو “۔
اور آیت میں ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ» [80-عبس:38-42] یعنی ” اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے “۔
اور جگہ سے «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» [88-الغاشية:7-2] ، یعنی ” قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے، بدرونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے، تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے “۔
پھر فرمایا «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌلِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» [88-الغاشية:10-8] ، یعنی ” بعض چہرے ان دن نعتموں والے خوش و خرم چمکیلے اور شادان و فرحان بھی ہوں گے، جو اپنے گزشتہ اعمال سے خوش ہوں گے اور بلند و بالا جنتوں میں اقامت رکھتے ہوں گے “، اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
10054
القيامة 75:26
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے ٭٭
یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ «كَلَّا» کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ ” اے ابن آدم! تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے “ اور اگر اس لفظ کو «حقا» کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی ” یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے “۔
«تَّرَاقِيَ» جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [56-الواقعة:87-83] فرمایا ہے یعنی ” جبکہ روح حلق تک پہنچ جائے اور تم دیکھ رہے ہو اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے پس اگر تم حکم الٰہی کے ماتحت نہیں ہو اور اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لاتے؟ “
اس مقام پر اس حدیث پر بھی نظر ڈال لی جائے جو بشر بن حجاج کی روایت سے سورۃ یٰسین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ «تَّرَاقِيَ» جو جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو «حلقوم» کے قریب ہیں اس وقت ہائی دہائی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کرے یعنی کسی طبیب وغیرہ کے ذریعہ شفاء ہو سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے یعنی اس روح کو لے کر کون چڑھے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟
اور پنڈلی سے پنڈلی کے رگڑا کھانے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ”دنیا اور آخرت اس پر جمع ہو جاتی ہے دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور آخرت کا پہلا دن ہوتا ہے جس سے سختی اور سخت ہو جاتی ہے مگر جس پر رب رحیم کا رحم و کرم ہو۔“
دوسرا مطلب عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ایک بہت بڑا امیر دوسرے بہت بڑے امیر سے مل جاتا ہے بلا پر بلا آ جاتی ہے، تیسرا مطلب حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ خود مرنے والے کی بے قراری، شدت درد سے پاؤں پر پاؤں کا چڑھ جانا مراد ہے۔ پہلے تو ان پیروں پر چلتا پھرتا تھا اب ان میں جان کہاں؟ اور یہ بھی مروی ہے کہ کفن کے وقت پنڈلی سے پنڈلی کامل جانا مراد ہے۔
10062
چوتھا مطلب ضحاک رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ دو کام دو طرف جمع ہو جاتے ہیں ادھر تو لوگ اس کے جسم کو نہلا دھلا کر سپرد خاک کرنے کو تیار ہیں، ادھر فرشتے اس کی روح لے جانے میں مشغول ہیں، اگر نیک ہے تو عمدہ تیاری اور دھوم کے ساتھ، اگر بد ہے تو نہایت ہی برائی اور بدتر حالت کے ساتھ، اب لوٹنے، قرار پانے، رہنے سہنے، پہنچ جانے، کھچ کر اور چل کر پہنچنے کی جگہ اللہ ہی کی طرف ہے روح آسمان کی طرف چڑھائی جاتی ہے پھر وہاں سے حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ میں نے ان سب کو اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹا کر لے جاؤں گا اور پھر اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔“
جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں آیا ہے، یہی مضمون اور جگہ بیان ہوا ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الأنعام:62،61] ، ” وہی اپنے بندوں پر غالب ہے وہی تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پاس فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے فوت کر لیتے ہیں اور وہ کوئی قصور نہیں کرتے پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یقین مانو کہ حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے “۔
پھر اس کافر انسان کا حال بیان ہو رہا ہے جو اپنے دل اور عقیدے سے حق کا جھٹلانے والا اور اپنے بدن اور عمل سے حق سے روگردانی کرنے والا تھا جس کا ظاہر باطن برباد ہو چکا تھا اور کوئی بھلائی اس میں باقی نہیں رہی تھی، نہ وہ اللہ کی باتوں کی دل سے تصدیق کرتا تھا نہ جسم سے عبادت اللہ بجا لاتا تھا یہاں تک کہ نماز کا بھی چور تھا۔
10063
القيامة 75:27
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے ٭٭
یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ «كَلَّا» کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ ” اے ابن آدم! تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے “ اور اگر اس لفظ کو «حقا» کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی ” یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے “۔
«تَّرَاقِيَ» جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [56-الواقعة:87-83] فرمایا ہے یعنی ” جبکہ روح حلق تک پہنچ جائے اور تم دیکھ رہے ہو اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے پس اگر تم حکم الٰہی کے ماتحت نہیں ہو اور اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لاتے؟ “
اس مقام پر اس حدیث پر بھی نظر ڈال لی جائے جو بشر بن حجاج کی روایت سے سورۃ یٰسین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ «تَّرَاقِيَ» جو جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو «حلقوم» کے قریب ہیں اس وقت ہائی دہائی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کرے یعنی کسی طبیب وغیرہ کے ذریعہ شفاء ہو سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے یعنی اس روح کو لے کر کون چڑھے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟
اور پنڈلی سے پنڈلی کے رگڑا کھانے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ”دنیا اور آخرت اس پر جمع ہو جاتی ہے دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور آخرت کا پہلا دن ہوتا ہے جس سے سختی اور سخت ہو جاتی ہے مگر جس پر رب رحیم کا رحم و کرم ہو۔“
دوسرا مطلب عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ایک بہت بڑا امیر دوسرے بہت بڑے امیر سے مل جاتا ہے بلا پر بلا آ جاتی ہے، تیسرا مطلب حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ خود مرنے والے کی بے قراری، شدت درد سے پاؤں پر پاؤں کا چڑھ جانا مراد ہے۔ پہلے تو ان پیروں پر چلتا پھرتا تھا اب ان میں جان کہاں؟ اور یہ بھی مروی ہے کہ کفن کے وقت پنڈلی سے پنڈلی کامل جانا مراد ہے۔
10062
چوتھا مطلب ضحاک رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ دو کام دو طرف جمع ہو جاتے ہیں ادھر تو لوگ اس کے جسم کو نہلا دھلا کر سپرد خاک کرنے کو تیار ہیں، ادھر فرشتے اس کی روح لے جانے میں مشغول ہیں، اگر نیک ہے تو عمدہ تیاری اور دھوم کے ساتھ، اگر بد ہے تو نہایت ہی برائی اور بدتر حالت کے ساتھ، اب لوٹنے، قرار پانے، رہنے سہنے، پہنچ جانے، کھچ کر اور چل کر پہنچنے کی جگہ اللہ ہی کی طرف ہے روح آسمان کی طرف چڑھائی جاتی ہے پھر وہاں سے حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ میں نے ان سب کو اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹا کر لے جاؤں گا اور پھر اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔“
جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں آیا ہے، یہی مضمون اور جگہ بیان ہوا ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الأنعام:62،61] ، ” وہی اپنے بندوں پر غالب ہے وہی تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پاس فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے فوت کر لیتے ہیں اور وہ کوئی قصور نہیں کرتے پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یقین مانو کہ حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے “۔
پھر اس کافر انسان کا حال بیان ہو رہا ہے جو اپنے دل اور عقیدے سے حق کا جھٹلانے والا اور اپنے بدن اور عمل سے حق سے روگردانی کرنے والا تھا جس کا ظاہر باطن برباد ہو چکا تھا اور کوئی بھلائی اس میں باقی نہیں رہی تھی، نہ وہ اللہ کی باتوں کی دل سے تصدیق کرتا تھا نہ جسم سے عبادت اللہ بجا لاتا تھا یہاں تک کہ نماز کا بھی چور تھا۔
10063
القيامة 75:28
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے ٭٭
یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ «كَلَّا» کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ ” اے ابن آدم! تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے “ اور اگر اس لفظ کو «حقا» کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی ” یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے “۔
«تَّرَاقِيَ» جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [56-الواقعة:87-83] فرمایا ہے یعنی ” جبکہ روح حلق تک پہنچ جائے اور تم دیکھ رہے ہو اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے پس اگر تم حکم الٰہی کے ماتحت نہیں ہو اور اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لاتے؟ “
اس مقام پر اس حدیث پر بھی نظر ڈال لی جائے جو بشر بن حجاج کی روایت سے سورۃ یٰسین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ «تَّرَاقِيَ» جو جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو «حلقوم» کے قریب ہیں اس وقت ہائی دہائی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کرے یعنی کسی طبیب وغیرہ کے ذریعہ شفاء ہو سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے یعنی اس روح کو لے کر کون چڑھے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟
اور پنڈلی سے پنڈلی کے رگڑا کھانے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ”دنیا اور آخرت اس پر جمع ہو جاتی ہے دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور آخرت کا پہلا دن ہوتا ہے جس سے سختی اور سخت ہو جاتی ہے مگر جس پر رب رحیم کا رحم و کرم ہو۔“
دوسرا مطلب عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ایک بہت بڑا امیر دوسرے بہت بڑے امیر سے مل جاتا ہے بلا پر بلا آ جاتی ہے، تیسرا مطلب حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ خود مرنے والے کی بے قراری، شدت درد سے پاؤں پر پاؤں کا چڑھ جانا مراد ہے۔ پہلے تو ان پیروں پر چلتا پھرتا تھا اب ان میں جان کہاں؟ اور یہ بھی مروی ہے کہ کفن کے وقت پنڈلی سے پنڈلی کامل جانا مراد ہے۔
10062
چوتھا مطلب ضحاک رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ دو کام دو طرف جمع ہو جاتے ہیں ادھر تو لوگ اس کے جسم کو نہلا دھلا کر سپرد خاک کرنے کو تیار ہیں، ادھر فرشتے اس کی روح لے جانے میں مشغول ہیں، اگر نیک ہے تو عمدہ تیاری اور دھوم کے ساتھ، اگر بد ہے تو نہایت ہی برائی اور بدتر حالت کے ساتھ، اب لوٹنے، قرار پانے، رہنے سہنے، پہنچ جانے، کھچ کر اور چل کر پہنچنے کی جگہ اللہ ہی کی طرف ہے روح آسمان کی طرف چڑھائی جاتی ہے پھر وہاں سے حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ میں نے ان سب کو اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹا کر لے جاؤں گا اور پھر اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔“
جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں آیا ہے، یہی مضمون اور جگہ بیان ہوا ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الأنعام:62،61] ، ” وہی اپنے بندوں پر غالب ہے وہی تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پاس فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے فوت کر لیتے ہیں اور وہ کوئی قصور نہیں کرتے پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یقین مانو کہ حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے “۔
پھر اس کافر انسان کا حال بیان ہو رہا ہے جو اپنے دل اور عقیدے سے حق کا جھٹلانے والا اور اپنے بدن اور عمل سے حق سے روگردانی کرنے والا تھا جس کا ظاہر باطن برباد ہو چکا تھا اور کوئی بھلائی اس میں باقی نہیں رہی تھی، نہ وہ اللہ کی باتوں کی دل سے تصدیق کرتا تھا نہ جسم سے عبادت اللہ بجا لاتا تھا یہاں تک کہ نماز کا بھی چور تھا۔
10063
القيامة 75:29
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے ٭٭
یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ «كَلَّا» کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ ” اے ابن آدم! تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے “ اور اگر اس لفظ کو «حقا» کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی ” یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے “۔
«تَّرَاقِيَ» جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [56-الواقعة:87-83] فرمایا ہے یعنی ” جبکہ روح حلق تک پہنچ جائے اور تم دیکھ رہے ہو اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے پس اگر تم حکم الٰہی کے ماتحت نہیں ہو اور اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لاتے؟ “
اس مقام پر اس حدیث پر بھی نظر ڈال لی جائے جو بشر بن حجاج کی روایت سے سورۃ یٰسین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ «تَّرَاقِيَ» جو جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو «حلقوم» کے قریب ہیں اس وقت ہائی دہائی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کرے یعنی کسی طبیب وغیرہ کے ذریعہ شفاء ہو سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے یعنی اس روح کو لے کر کون چڑھے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟
اور پنڈلی سے پنڈلی کے رگڑا کھانے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ”دنیا اور آخرت اس پر جمع ہو جاتی ہے دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور آخرت کا پہلا دن ہوتا ہے جس سے سختی اور سخت ہو جاتی ہے مگر جس پر رب رحیم کا رحم و کرم ہو۔“
دوسرا مطلب عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ایک بہت بڑا امیر دوسرے بہت بڑے امیر سے مل جاتا ہے بلا پر بلا آ جاتی ہے، تیسرا مطلب حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ خود مرنے والے کی بے قراری، شدت درد سے پاؤں پر پاؤں کا چڑھ جانا مراد ہے۔ پہلے تو ان پیروں پر چلتا پھرتا تھا اب ان میں جان کہاں؟ اور یہ بھی مروی ہے کہ کفن کے وقت پنڈلی سے پنڈلی کامل جانا مراد ہے۔
10062
چوتھا مطلب ضحاک رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ دو کام دو طرف جمع ہو جاتے ہیں ادھر تو لوگ اس کے جسم کو نہلا دھلا کر سپرد خاک کرنے کو تیار ہیں، ادھر فرشتے اس کی روح لے جانے میں مشغول ہیں، اگر نیک ہے تو عمدہ تیاری اور دھوم کے ساتھ، اگر بد ہے تو نہایت ہی برائی اور بدتر حالت کے ساتھ، اب لوٹنے، قرار پانے، رہنے سہنے، پہنچ جانے، کھچ کر اور چل کر پہنچنے کی جگہ اللہ ہی کی طرف ہے روح آسمان کی طرف چڑھائی جاتی ہے پھر وہاں سے حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ میں نے ان سب کو اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹا کر لے جاؤں گا اور پھر اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔“
جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں آیا ہے، یہی مضمون اور جگہ بیان ہوا ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الأنعام:62،61] ، ” وہی اپنے بندوں پر غالب ہے وہی تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پاس فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے فوت کر لیتے ہیں اور وہ کوئی قصور نہیں کرتے پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یقین مانو کہ حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے “۔
پھر اس کافر انسان کا حال بیان ہو رہا ہے جو اپنے دل اور عقیدے سے حق کا جھٹلانے والا اور اپنے بدن اور عمل سے حق سے روگردانی کرنے والا تھا جس کا ظاہر باطن برباد ہو چکا تھا اور کوئی بھلائی اس میں باقی نہیں رہی تھی، نہ وہ اللہ کی باتوں کی دل سے تصدیق کرتا تھا نہ جسم سے عبادت اللہ بجا لاتا تھا یہاں تک کہ نماز کا بھی چور تھا۔
10063
القيامة 75:30
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے ٭٭
یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ «كَلَّا» کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ ” اے ابن آدم! تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے “ اور اگر اس لفظ کو «حقا» کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی ” یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے “۔
«تَّرَاقِيَ» جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [56-الواقعة:87-83] فرمایا ہے یعنی ” جبکہ روح حلق تک پہنچ جائے اور تم دیکھ رہے ہو اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے پس اگر تم حکم الٰہی کے ماتحت نہیں ہو اور اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لاتے؟ “
اس مقام پر اس حدیث پر بھی نظر ڈال لی جائے جو بشر بن حجاج کی روایت سے سورۃ یٰسین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ «تَّرَاقِيَ» جو جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو «حلقوم» کے قریب ہیں اس وقت ہائی دہائی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کرے یعنی کسی طبیب وغیرہ کے ذریعہ شفاء ہو سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے یعنی اس روح کو لے کر کون چڑھے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟
اور پنڈلی سے پنڈلی کے رگڑا کھانے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ”دنیا اور آخرت اس پر جمع ہو جاتی ہے دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور آخرت کا پہلا دن ہوتا ہے جس سے سختی اور سخت ہو جاتی ہے مگر جس پر رب رحیم کا رحم و کرم ہو۔“
دوسرا مطلب عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ایک بہت بڑا امیر دوسرے بہت بڑے امیر سے مل جاتا ہے بلا پر بلا آ جاتی ہے، تیسرا مطلب حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ خود مرنے والے کی بے قراری، شدت درد سے پاؤں پر پاؤں کا چڑھ جانا مراد ہے۔ پہلے تو ان پیروں پر چلتا پھرتا تھا اب ان میں جان کہاں؟ اور یہ بھی مروی ہے کہ کفن کے وقت پنڈلی سے پنڈلی کامل جانا مراد ہے۔
10062
چوتھا مطلب ضحاک رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ دو کام دو طرف جمع ہو جاتے ہیں ادھر تو لوگ اس کے جسم کو نہلا دھلا کر سپرد خاک کرنے کو تیار ہیں، ادھر فرشتے اس کی روح لے جانے میں مشغول ہیں، اگر نیک ہے تو عمدہ تیاری اور دھوم کے ساتھ، اگر بد ہے تو نہایت ہی برائی اور بدتر حالت کے ساتھ، اب لوٹنے، قرار پانے، رہنے سہنے، پہنچ جانے، کھچ کر اور چل کر پہنچنے کی جگہ اللہ ہی کی طرف ہے روح آسمان کی طرف چڑھائی جاتی ہے پھر وہاں سے حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ میں نے ان سب کو اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹا کر لے جاؤں گا اور پھر اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔“
جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں آیا ہے، یہی مضمون اور جگہ بیان ہوا ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الأنعام:62،61] ، ” وہی اپنے بندوں پر غالب ہے وہی تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پاس فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے فوت کر لیتے ہیں اور وہ کوئی قصور نہیں کرتے پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یقین مانو کہ حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے “۔
پھر اس کافر انسان کا حال بیان ہو رہا ہے جو اپنے دل اور عقیدے سے حق کا جھٹلانے والا اور اپنے بدن اور عمل سے حق سے روگردانی کرنے والا تھا جس کا ظاہر باطن برباد ہو چکا تھا اور کوئی بھلائی اس میں باقی نہیں رہی تھی، نہ وہ اللہ کی باتوں کی دل سے تصدیق کرتا تھا نہ جسم سے عبادت اللہ بجا لاتا تھا یہاں تک کہ نماز کا بھی چور تھا۔
10063
القيامة 75:31
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے ٭٭
یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ «كَلَّا» کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ ” اے ابن آدم! تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے “ اور اگر اس لفظ کو «حقا» کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی ” یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے “۔
«تَّرَاقِيَ» جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [56-الواقعة:87-83] فرمایا ہے یعنی ” جبکہ روح حلق تک پہنچ جائے اور تم دیکھ رہے ہو اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے پس اگر تم حکم الٰہی کے ماتحت نہیں ہو اور اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لاتے؟ “
اس مقام پر اس حدیث پر بھی نظر ڈال لی جائے جو بشر بن حجاج کی روایت سے سورۃ یٰسین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ «تَّرَاقِيَ» جو جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو «حلقوم» کے قریب ہیں اس وقت ہائی دہائی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کرے یعنی کسی طبیب وغیرہ کے ذریعہ شفاء ہو سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے یعنی اس روح کو لے کر کون چڑھے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟
اور پنڈلی سے پنڈلی کے رگڑا کھانے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ”دنیا اور آخرت اس پر جمع ہو جاتی ہے دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور آخرت کا پہلا دن ہوتا ہے جس سے سختی اور سخت ہو جاتی ہے مگر جس پر رب رحیم کا رحم و کرم ہو۔“
دوسرا مطلب عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ایک بہت بڑا امیر دوسرے بہت بڑے امیر سے مل جاتا ہے بلا پر بلا آ جاتی ہے، تیسرا مطلب حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ خود مرنے والے کی بے قراری، شدت درد سے پاؤں پر پاؤں کا چڑھ جانا مراد ہے۔ پہلے تو ان پیروں پر چلتا پھرتا تھا اب ان میں جان کہاں؟ اور یہ بھی مروی ہے کہ کفن کے وقت پنڈلی سے پنڈلی کامل جانا مراد ہے۔
10062
چوتھا مطلب ضحاک رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ دو کام دو طرف جمع ہو جاتے ہیں ادھر تو لوگ اس کے جسم کو نہلا دھلا کر سپرد خاک کرنے کو تیار ہیں، ادھر فرشتے اس کی روح لے جانے میں مشغول ہیں، اگر نیک ہے تو عمدہ تیاری اور دھوم کے ساتھ، اگر بد ہے تو نہایت ہی برائی اور بدتر حالت کے ساتھ، اب لوٹنے، قرار پانے، رہنے سہنے، پہنچ جانے، کھچ کر اور چل کر پہنچنے کی جگہ اللہ ہی کی طرف ہے روح آسمان کی طرف چڑھائی جاتی ہے پھر وہاں سے حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ میں نے ان سب کو اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹا کر لے جاؤں گا اور پھر اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔“
جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں آیا ہے، یہی مضمون اور جگہ بیان ہوا ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الأنعام:62،61] ، ” وہی اپنے بندوں پر غالب ہے وہی تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پاس فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے فوت کر لیتے ہیں اور وہ کوئی قصور نہیں کرتے پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یقین مانو کہ حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے “۔
پھر اس کافر انسان کا حال بیان ہو رہا ہے جو اپنے دل اور عقیدے سے حق کا جھٹلانے والا اور اپنے بدن اور عمل سے حق سے روگردانی کرنے والا تھا جس کا ظاہر باطن برباد ہو چکا تھا اور کوئی بھلائی اس میں باقی نہیں رہی تھی، نہ وہ اللہ کی باتوں کی دل سے تصدیق کرتا تھا نہ جسم سے عبادت اللہ بجا لاتا تھا یہاں تک کہ نماز کا بھی چور تھا۔
10063
القيامة 75:32
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے ٭٭
یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ «كَلَّا» کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ ” اے ابن آدم! تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے “ اور اگر اس لفظ کو «حقا» کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی ” یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے “۔
«تَّرَاقِيَ» جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [56-الواقعة:87-83] فرمایا ہے یعنی ” جبکہ روح حلق تک پہنچ جائے اور تم دیکھ رہے ہو اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے پس اگر تم حکم الٰہی کے ماتحت نہیں ہو اور اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لاتے؟ “
اس مقام پر اس حدیث پر بھی نظر ڈال لی جائے جو بشر بن حجاج کی روایت سے سورۃ یٰسین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ «تَّرَاقِيَ» جو جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو «حلقوم» کے قریب ہیں اس وقت ہائی دہائی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کرے یعنی کسی طبیب وغیرہ کے ذریعہ شفاء ہو سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے یعنی اس روح کو لے کر کون چڑھے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟
اور پنڈلی سے پنڈلی کے رگڑا کھانے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ”دنیا اور آخرت اس پر جمع ہو جاتی ہے دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور آخرت کا پہلا دن ہوتا ہے جس سے سختی اور سخت ہو جاتی ہے مگر جس پر رب رحیم کا رحم و کرم ہو۔“
دوسرا مطلب عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ایک بہت بڑا امیر دوسرے بہت بڑے امیر سے مل جاتا ہے بلا پر بلا آ جاتی ہے، تیسرا مطلب حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ خود مرنے والے کی بے قراری، شدت درد سے پاؤں پر پاؤں کا چڑھ جانا مراد ہے۔ پہلے تو ان پیروں پر چلتا پھرتا تھا اب ان میں جان کہاں؟ اور یہ بھی مروی ہے کہ کفن کے وقت پنڈلی سے پنڈلی کامل جانا مراد ہے۔
10062
چوتھا مطلب ضحاک رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ دو کام دو طرف جمع ہو جاتے ہیں ادھر تو لوگ اس کے جسم کو نہلا دھلا کر سپرد خاک کرنے کو تیار ہیں، ادھر فرشتے اس کی روح لے جانے میں مشغول ہیں، اگر نیک ہے تو عمدہ تیاری اور دھوم کے ساتھ، اگر بد ہے تو نہایت ہی برائی اور بدتر حالت کے ساتھ، اب لوٹنے، قرار پانے، رہنے سہنے، پہنچ جانے، کھچ کر اور چل کر پہنچنے کی جگہ اللہ ہی کی طرف ہے روح آسمان کی طرف چڑھائی جاتی ہے پھر وہاں سے حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ میں نے ان سب کو اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹا کر لے جاؤں گا اور پھر اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔“
جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں آیا ہے، یہی مضمون اور جگہ بیان ہوا ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الأنعام:62،61] ، ” وہی اپنے بندوں پر غالب ہے وہی تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پاس فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے فوت کر لیتے ہیں اور وہ کوئی قصور نہیں کرتے پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یقین مانو کہ حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے “۔
پھر اس کافر انسان کا حال بیان ہو رہا ہے جو اپنے دل اور عقیدے سے حق کا جھٹلانے والا اور اپنے بدن اور عمل سے حق سے روگردانی کرنے والا تھا جس کا ظاہر باطن برباد ہو چکا تھا اور کوئی بھلائی اس میں باقی نہیں رہی تھی، نہ وہ اللہ کی باتوں کی دل سے تصدیق کرتا تھا نہ جسم سے عبادت اللہ بجا لاتا تھا یہاں تک کہ نماز کا بھی چور تھا۔
10063
القيامة 75:33
باب
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» [83-المطففين:31] یعنی ” جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» [84-الإنشقاق:13-15] یعنی ” یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں “۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ” خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» [44-الدخان:49] یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ” لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا “۔
اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» [77-المرسلات:46] ” کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو “۔
اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:15] ” جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو “ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» [75-القيامة:34] ، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل]
10070
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل]
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے “۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10071
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے ۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔
ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» [95-التين:8] پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ” ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں “ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» [75-القيامة:40] پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» [77-المرسلات:50] پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔
ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔
سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10072
القيامة 75:34
باب
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» [83-المطففين:31] یعنی ” جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» [84-الإنشقاق:13-15] یعنی ” یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں “۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ” خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» [44-الدخان:49] یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ” لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا “۔
اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» [77-المرسلات:46] ” کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو “۔
اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:15] ” جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو “ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» [75-القيامة:34] ، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل]
10070
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل]
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے “۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10071
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے ۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔
ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» [95-التين:8] پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ” ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں “ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» [75-القيامة:40] پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» [77-المرسلات:50] پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔
ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔
سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10072
القيامة 75:35
باب
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» [83-المطففين:31] یعنی ” جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» [84-الإنشقاق:13-15] یعنی ” یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں “۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ” خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» [44-الدخان:49] یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ” لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا “۔
اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» [77-المرسلات:46] ” کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو “۔
اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:15] ” جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو “ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» [75-القيامة:34] ، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل]
10070
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل]
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے “۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10071
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے ۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔
ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» [95-التين:8] پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ” ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں “ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» [75-القيامة:40] پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» [77-المرسلات:50] پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔
ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔
سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10072
القيامة 75:36
باب
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» [83-المطففين:31] یعنی ” جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» [84-الإنشقاق:13-15] یعنی ” یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں “۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ” خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» [44-الدخان:49] یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ” لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا “۔
اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» [77-المرسلات:46] ” کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو “۔
اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:15] ” جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو “ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» [75-القيامة:34] ، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل]
10070
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل]
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے “۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10071
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے ۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔
ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» [95-التين:8] پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ” ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں “ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» [75-القيامة:40] پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» [77-المرسلات:50] پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔
ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔
سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10072
القيامة 75:37
باب
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» [83-المطففين:31] یعنی ” جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» [84-الإنشقاق:13-15] یعنی ” یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں “۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ” خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» [44-الدخان:49] یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ” لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا “۔
اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» [77-المرسلات:46] ” کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو “۔
اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:15] ” جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو “ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» [75-القيامة:34] ، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل]
10070
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل]
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے “۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10071
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے ۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔
ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» [95-التين:8] پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ” ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں “ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» [75-القيامة:40] پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» [77-المرسلات:50] پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔
ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔
سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10072
القيامة 75:38
باب
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» [83-المطففين:31] یعنی ” جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» [84-الإنشقاق:13-15] یعنی ” یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں “۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ” خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» [44-الدخان:49] یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ” لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا “۔
اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» [77-المرسلات:46] ” کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو “۔
اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:15] ” جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو “ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» [75-القيامة:34] ، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل]
10070
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل]
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے “۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10071
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے ۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔
ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» [95-التين:8] پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ” ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں “ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» [75-القيامة:40] پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» [77-المرسلات:50] پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔
ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔
سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10072
القيامة 75:39
باب
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» [83-المطففين:31] یعنی ” جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» [84-الإنشقاق:13-15] یعنی ” یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں “۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ” خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» [44-الدخان:49] یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ” لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا “۔
اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» [77-المرسلات:46] ” کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو “۔
اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:15] ” جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو “ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» [75-القيامة:34] ، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل]
10070
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل]
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے “۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10071
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے ۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔
ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» [95-التين:8] پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ” ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں “ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» [75-القيامة:40] پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» [77-المرسلات:50] پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔
ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔
سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10072
القيامة 75:40
باب
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» [83-المطففين:31] یعنی ” جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» [84-الإنشقاق:13-15] یعنی ” یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں “۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ” خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» [44-الدخان:49] یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ” لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا “۔
اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» [77-المرسلات:46] ” کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو “۔
اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:15] ” جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو “ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» [75-القيامة:34] ، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل]
10070
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل]
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے “۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10071
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے ۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔
ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» [95-التين:8] پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ” ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں “ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» [75-القيامة:40] پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» [77-المرسلات:50] پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔
ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔
سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10072
الإنسان 76:1
تفسیر سورۃ الإنسان:
صحیح مسلم کے حوالے سے یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ جمعہ کے دن صبح کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الم تنزیل [یعنی سورۃ السجدہ] اور سورۃ «هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ» پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:891]
ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت اتری اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اس وقت آپ کے پاس ایک سانولے رنگ کے صحابی بیٹھے ہوئے تھے، جب جنت کی صفتوں کا ذکر آیا تو ان کے منہ سے بےساختہ ایک چیخ نکل گئی اور ساتھ ہی روح پرواز کر گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ساتھی اور تمہارے بھائی کی جان جنت کے شوق میں نکل گئی۔“ [اللآلي المصنوعة للسيوطي:410/1،ضعيف]
اے انسان اپنے فرائض پہچان ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے۔ اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» [67-الملك:2] ” تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ “
پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کر سکو۔ ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا سیدھا راستہ اس پر کھول دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» [41-فصلت:17] یعنی ” ثمودیوں کو ہم نے ہدایت کی لیکن انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی “۔
10080
اور جگہ ہے «وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ» [90- البلد:10] ” ہم نے انسان کو دونوں راہیں دکھا دیں “، یعنی بھلائی برائی کی، اس آیت کی تفسیر میں مجاہد ابوصالح ضحاک اور سدی رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ ”اسے ہم نے راہ دکھائی“ یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آنے کی، لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اور جمہور سے یہی منقول ہے۔
«شاکراً» اور «کفوراً» کا نصب حال کی وجہ سے ذوالحال «لا» کی ضمیر ہے جو «اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» [76-الإنسان:3] میں ہے، یعنی ” وہ اس حالت میں یا تو شقی ہے یا سعید ہے “۔
جیسے صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر شخص صبح کے وقت اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے یا تو اسے ہلاک کر دیتا ہے یا آزاد کرا لیتا ہے ۔ [صحیح مسلم:223]
10081
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے۔“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا:یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ فرمایا: ”وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے، نہ میرے طریقوں پر چلیں گے پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آ سکتے اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے۔ اے کعب! روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب اللہ کا سبب ہے“ یا فرمایا ”دلیل نجات ہے۔ اے کعب! وہ گوشت پوست جنت میں نہیں جا سکتا جو حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم میں ہی جانے کے قابل ہے، اے کعب! لوگ ہر صبح اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتے ہیں کوئی تو اسے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر گزرتا ہے“ ۔ [مسند احمد:321/3:اسنادہ قوی]
10082
سورۃ الروم کی آیت «فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [30-الروم:30] کی تفسیر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی گزر چکا ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ زبان چلنے لگتی ہے، پھر یا تو شکر گزار بنتا ہے یا ناشکرا ۔
مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ جو نکلنے والا نکلتا ہے اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ایک فرشتے کے ہاتھ میں، دوسرا شیطان کے ہاتھ میں، پس اگر وہ اس کام کے لیے نکلا جو اللہ کی مرضی کا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لیے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ واپسی تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہی رہتا ہے اور اگر اللہ کی ناراضگی کے کام کے لیے نکلا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لگائے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور واپسی تک یہ شیطانی جھنڈے تلے رہتا ہے ۔ [مسند احمد:323/2:ضعیف]
10083
الإنسان 76:2
تفسیر سورۃ الإنسان:
صحیح مسلم کے حوالے سے یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ جمعہ کے دن صبح کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الم تنزیل [یعنی سورۃ السجدہ] اور سورۃ «هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ» پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:891]
ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت اتری اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اس وقت آپ کے پاس ایک سانولے رنگ کے صحابی بیٹھے ہوئے تھے، جب جنت کی صفتوں کا ذکر آیا تو ان کے منہ سے بےساختہ ایک چیخ نکل گئی اور ساتھ ہی روح پرواز کر گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ساتھی اور تمہارے بھائی کی جان جنت کے شوق میں نکل گئی۔“ [اللآلي المصنوعة للسيوطي:410/1،ضعيف]
اے انسان اپنے فرائض پہچان ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے۔ اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» [67-الملك:2] ” تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ “
پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کر سکو۔ ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا سیدھا راستہ اس پر کھول دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» [41-فصلت:17] یعنی ” ثمودیوں کو ہم نے ہدایت کی لیکن انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی “۔
10080
اور جگہ ہے «وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ» [90- البلد:10] ” ہم نے انسان کو دونوں راہیں دکھا دیں “، یعنی بھلائی برائی کی، اس آیت کی تفسیر میں مجاہد ابوصالح ضحاک اور سدی رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ ”اسے ہم نے راہ دکھائی“ یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آنے کی، لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اور جمہور سے یہی منقول ہے۔
«شاکراً» اور «کفوراً» کا نصب حال کی وجہ سے ذوالحال «لا» کی ضمیر ہے جو «اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» [76-الإنسان:3] میں ہے، یعنی ” وہ اس حالت میں یا تو شقی ہے یا سعید ہے “۔
جیسے صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر شخص صبح کے وقت اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے یا تو اسے ہلاک کر دیتا ہے یا آزاد کرا لیتا ہے ۔ [صحیح مسلم:223]
10081
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے۔“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا:یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ فرمایا: ”وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے، نہ میرے طریقوں پر چلیں گے پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آ سکتے اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے۔ اے کعب! روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب اللہ کا سبب ہے“ یا فرمایا ”دلیل نجات ہے۔ اے کعب! وہ گوشت پوست جنت میں نہیں جا سکتا جو حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم میں ہی جانے کے قابل ہے، اے کعب! لوگ ہر صبح اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتے ہیں کوئی تو اسے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر گزرتا ہے“ ۔ [مسند احمد:321/3:اسنادہ قوی]
10082
سورۃ الروم کی آیت «فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [30-الروم:30] کی تفسیر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی گزر چکا ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ زبان چلنے لگتی ہے، پھر یا تو شکر گزار بنتا ہے یا ناشکرا ۔
مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ جو نکلنے والا نکلتا ہے اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ایک فرشتے کے ہاتھ میں، دوسرا شیطان کے ہاتھ میں، پس اگر وہ اس کام کے لیے نکلا جو اللہ کی مرضی کا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لیے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ واپسی تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہی رہتا ہے اور اگر اللہ کی ناراضگی کے کام کے لیے نکلا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لگائے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور واپسی تک یہ شیطانی جھنڈے تلے رہتا ہے ۔ [مسند احمد:323/2:ضعیف]
10083
الإنسان 76:3
تفسیر سورۃ الإنسان:
صحیح مسلم کے حوالے سے یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ جمعہ کے دن صبح کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الم تنزیل [یعنی سورۃ السجدہ] اور سورۃ «هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ» پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:891]
ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت اتری اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اس وقت آپ کے پاس ایک سانولے رنگ کے صحابی بیٹھے ہوئے تھے، جب جنت کی صفتوں کا ذکر آیا تو ان کے منہ سے بےساختہ ایک چیخ نکل گئی اور ساتھ ہی روح پرواز کر گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ساتھی اور تمہارے بھائی کی جان جنت کے شوق میں نکل گئی۔“ [اللآلي المصنوعة للسيوطي:410/1،ضعيف]
اے انسان اپنے فرائض پہچان ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے۔ اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» [67-الملك:2] ” تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ “
پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کر سکو۔ ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا سیدھا راستہ اس پر کھول دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» [41-فصلت:17] یعنی ” ثمودیوں کو ہم نے ہدایت کی لیکن انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی “۔
10080
اور جگہ ہے «وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ» [90- البلد:10] ” ہم نے انسان کو دونوں راہیں دکھا دیں “، یعنی بھلائی برائی کی، اس آیت کی تفسیر میں مجاہد ابوصالح ضحاک اور سدی رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ ”اسے ہم نے راہ دکھائی“ یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آنے کی، لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اور جمہور سے یہی منقول ہے۔
«شاکراً» اور «کفوراً» کا نصب حال کی وجہ سے ذوالحال «لا» کی ضمیر ہے جو «اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» [76-الإنسان:3] میں ہے، یعنی ” وہ اس حالت میں یا تو شقی ہے یا سعید ہے “۔
جیسے صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر شخص صبح کے وقت اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے یا تو اسے ہلاک کر دیتا ہے یا آزاد کرا لیتا ہے ۔ [صحیح مسلم:223]
10081
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے۔“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا:یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ فرمایا: ”وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے، نہ میرے طریقوں پر چلیں گے پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آ سکتے اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے۔ اے کعب! روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب اللہ کا سبب ہے“ یا فرمایا ”دلیل نجات ہے۔ اے کعب! وہ گوشت پوست جنت میں نہیں جا سکتا جو حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم میں ہی جانے کے قابل ہے، اے کعب! لوگ ہر صبح اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتے ہیں کوئی تو اسے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر گزرتا ہے“ ۔ [مسند احمد:321/3:اسنادہ قوی]
10082
سورۃ الروم کی آیت «فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [30-الروم:30] کی تفسیر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی گزر چکا ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ زبان چلنے لگتی ہے، پھر یا تو شکر گزار بنتا ہے یا ناشکرا ۔
مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ جو نکلنے والا نکلتا ہے اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ایک فرشتے کے ہاتھ میں، دوسرا شیطان کے ہاتھ میں، پس اگر وہ اس کام کے لیے نکلا جو اللہ کی مرضی کا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لیے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ واپسی تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہی رہتا ہے اور اگر اللہ کی ناراضگی کے کام کے لیے نکلا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لگائے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور واپسی تک یہ شیطانی جھنڈے تلے رہتا ہے ۔ [مسند احمد:323/2:ضعیف]
10083
الإنسان 76:4
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر:71-72] ” جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے “۔
ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو “۔
کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔
«تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» [18-الکھف:33] میں۔
10086
پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔
حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:6696]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» [2-البقرة:177] یعنی ” مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں “۔
اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [3-آل عمران:92] یعنی ” تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو “۔
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ [بیہقی]
10087
اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے ۔ [صحیح بخاری:1419] یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔
یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو ۔ [مسند احمد:3/117:صحیح] یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔
10088
سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔
10089
«قَمْطَرِيرً» کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔
اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» [80-عبس:38-39] ” اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے “۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ [صحیح بخاری:4418]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں الخ۔، [صحیح بخاری:3555]
پھر فرماتا ہے ” ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا “۔
ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
10090
الإنسان 76:5
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر:71-72] ” جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے “۔
ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو “۔
کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔
«تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» [18-الکھف:33] میں۔
10086
پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔
حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:6696]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» [2-البقرة:177] یعنی ” مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں “۔
اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [3-آل عمران:92] یعنی ” تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو “۔
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ [بیہقی]
10087
اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے ۔ [صحیح بخاری:1419] یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔
یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو ۔ [مسند احمد:3/117:صحیح] یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔
10088
سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔
10089
«قَمْطَرِيرً» کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔
اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» [80-عبس:38-39] ” اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے “۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ [صحیح بخاری:4418]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں الخ۔، [صحیح بخاری:3555]
پھر فرماتا ہے ” ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا “۔
ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
10090
الإنسان 76:6
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر:71-72] ” جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے “۔
ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو “۔
کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔
«تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» [18-الکھف:33] میں۔
10086
پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔
حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:6696]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» [2-البقرة:177] یعنی ” مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں “۔
اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [3-آل عمران:92] یعنی ” تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو “۔
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ [بیہقی]
10087
اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے ۔ [صحیح بخاری:1419] یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔
یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو ۔ [مسند احمد:3/117:صحیح] یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔
10088
سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔
10089
«قَمْطَرِيرً» کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔
اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» [80-عبس:38-39] ” اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے “۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ [صحیح بخاری:4418]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں الخ۔، [صحیح بخاری:3555]
پھر فرماتا ہے ” ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا “۔
ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
10090
الإنسان 76:7
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر:71-72] ” جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے “۔
ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو “۔
کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔
«تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» [18-الکھف:33] میں۔
10086
پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔
حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:6696]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» [2-البقرة:177] یعنی ” مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں “۔
اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [3-آل عمران:92] یعنی ” تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو “۔
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ [بیہقی]
10087
اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے ۔ [صحیح بخاری:1419] یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔
یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو ۔ [مسند احمد:3/117:صحیح] یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔
10088
سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔
10089
«قَمْطَرِيرً» کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔
اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» [80-عبس:38-39] ” اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے “۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ [صحیح بخاری:4418]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں الخ۔، [صحیح بخاری:3555]
پھر فرماتا ہے ” ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا “۔
ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
10090
الإنسان 76:8
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر:71-72] ” جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے “۔
ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو “۔
کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔
«تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» [18-الکھف:33] میں۔
10086
پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔
حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:6696]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» [2-البقرة:177] یعنی ” مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں “۔
اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [3-آل عمران:92] یعنی ” تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو “۔
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ [بیہقی]
10087
اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے ۔ [صحیح بخاری:1419] یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔
یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو ۔ [مسند احمد:3/117:صحیح] یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔
10088
سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔
10089
«قَمْطَرِيرً» کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔
اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» [80-عبس:38-39] ” اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے “۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ [صحیح بخاری:4418]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں الخ۔، [صحیح بخاری:3555]
پھر فرماتا ہے ” ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا “۔
ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
10090
الإنسان 76:9
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر:71-72] ” جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے “۔
ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو “۔
کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔
«تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» [18-الکھف:33] میں۔
10086
پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔
حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:6696]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» [2-البقرة:177] یعنی ” مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں “۔
اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [3-آل عمران:92] یعنی ” تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو “۔
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ [بیہقی]
10087
اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے ۔ [صحیح بخاری:1419] یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔
یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو ۔ [مسند احمد:3/117:صحیح] یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔
10088
سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔
10089
«قَمْطَرِيرً» کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔
اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» [80-عبس:38-39] ” اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے “۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ [صحیح بخاری:4418]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں الخ۔، [صحیح بخاری:3555]
پھر فرماتا ہے ” ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا “۔
ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
10090
الإنسان 76:10
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر:71-72] ” جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے “۔
ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو “۔
کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔
«تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» [18-الکھف:33] میں۔
10086
پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔
حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:6696]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» [2-البقرة:177] یعنی ” مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں “۔
اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [3-آل عمران:92] یعنی ” تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو “۔
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ [بیہقی]
10087
اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے ۔ [صحیح بخاری:1419] یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔
یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو ۔ [مسند احمد:3/117:صحیح] یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔
10088
سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔
10089
«قَمْطَرِيرً» کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔
اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» [80-عبس:38-39] ” اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے “۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ [صحیح بخاری:4418]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں الخ۔، [صحیح بخاری:3555]
پھر فرماتا ہے ” ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا “۔
ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
10090
الإنسان 76:11
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر:71-72] ” جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے “۔
ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو “۔
کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔
«تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» [18-الکھف:33] میں۔
10086
پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔
حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:6696]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» [2-البقرة:177] یعنی ” مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں “۔
اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [3-آل عمران:92] یعنی ” تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو “۔
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ [بیہقی]
10087
اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے ۔ [صحیح بخاری:1419] یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔
یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو ۔ [مسند احمد:3/117:صحیح] یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔
10088
سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔
10089
«قَمْطَرِيرً» کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔
اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» [80-عبس:38-39] ” اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے “۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ [صحیح بخاری:4418]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں الخ۔، [صحیح بخاری:3555]
پھر فرماتا ہے ” ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا “۔
ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
10090
الإنسان 76:12
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر:71-72] ” جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے “۔
ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو “۔
کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔
«تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» [18-الکھف:33] میں۔
10086
پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔
حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:6696]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» [2-البقرة:177] یعنی ” مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں “۔
اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [3-آل عمران:92] یعنی ” تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو “۔
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ [بیہقی]
10087
اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے ۔ [صحیح بخاری:1419] یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔
یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو ۔ [مسند احمد:3/117:صحیح] یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔
10088
سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔
10089
«قَمْطَرِيرً» کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔
اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» [80-عبس:38-39] ” اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے “۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ [صحیح بخاری:4418]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں الخ۔، [صحیح بخاری:3555]
پھر فرماتا ہے ” ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا “۔
ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
10090
الإنسان 76:13
دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی ٭٭
اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکیے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے “۔
سورۃ الصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گزر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اِتکَّاً» سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اَرَائِک» چھپرکھٹوں کو کہتے ہیں۔
پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ ” وہاں نہ تو سورج کی تیز شعاعوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گزریں بلکہ بہار کا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھا لیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کر لے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں سروں پر میوے دار گچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھا لیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آ گئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے “۔
10099
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے، اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں، ڈالیاں لولو زبرجد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی دقت اور مشکل نہیں چاہو بیٹھے بیٹھے توڑ لو، چاہو کھڑے کھڑے، بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ـ
ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لیے کھڑے ہیں۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لیے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظیر نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ «قواریر» پر زبر تو اس لیے ہے کہ وہ «کان» کی خبر ہے اور دوسرے پر زبر یا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور پینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔
ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بے نشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر «سلسبیل» کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گزر چکا ہے کہ نہر کافور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اسی ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے، کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے۔
10100
الإنسان 76:14
دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی ٭٭
اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکیے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے “۔
سورۃ الصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گزر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اِتکَّاً» سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اَرَائِک» چھپرکھٹوں کو کہتے ہیں۔
پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ ” وہاں نہ تو سورج کی تیز شعاعوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گزریں بلکہ بہار کا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھا لیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کر لے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں سروں پر میوے دار گچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھا لیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آ گئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے “۔
10099
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے، اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں، ڈالیاں لولو زبرجد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی دقت اور مشکل نہیں چاہو بیٹھے بیٹھے توڑ لو، چاہو کھڑے کھڑے، بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ـ
ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لیے کھڑے ہیں۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لیے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظیر نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ «قواریر» پر زبر تو اس لیے ہے کہ وہ «کان» کی خبر ہے اور دوسرے پر زبر یا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور پینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔
ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بے نشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر «سلسبیل» کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گزر چکا ہے کہ نہر کافور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اسی ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے، کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے۔
10100
الإنسان 76:15
دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی ٭٭
اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکیے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے “۔
سورۃ الصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گزر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اِتکَّاً» سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اَرَائِک» چھپرکھٹوں کو کہتے ہیں۔
پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ ” وہاں نہ تو سورج کی تیز شعاعوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گزریں بلکہ بہار کا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھا لیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کر لے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں سروں پر میوے دار گچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھا لیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آ گئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے “۔
10099
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے، اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں، ڈالیاں لولو زبرجد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی دقت اور مشکل نہیں چاہو بیٹھے بیٹھے توڑ لو، چاہو کھڑے کھڑے، بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ـ
ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لیے کھڑے ہیں۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لیے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظیر نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ «قواریر» پر زبر تو اس لیے ہے کہ وہ «کان» کی خبر ہے اور دوسرے پر زبر یا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور پینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔
ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بے نشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر «سلسبیل» کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گزر چکا ہے کہ نہر کافور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اسی ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے، کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے۔
10100
الإنسان 76:16
دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی ٭٭
اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکیے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے “۔
سورۃ الصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گزر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اِتکَّاً» سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اَرَائِک» چھپرکھٹوں کو کہتے ہیں۔
پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ ” وہاں نہ تو سورج کی تیز شعاعوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گزریں بلکہ بہار کا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھا لیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کر لے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں سروں پر میوے دار گچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھا لیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آ گئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے “۔
10099
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے، اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں، ڈالیاں لولو زبرجد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی دقت اور مشکل نہیں چاہو بیٹھے بیٹھے توڑ لو، چاہو کھڑے کھڑے، بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ـ
ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لیے کھڑے ہیں۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لیے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظیر نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ «قواریر» پر زبر تو اس لیے ہے کہ وہ «کان» کی خبر ہے اور دوسرے پر زبر یا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور پینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔
ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بے نشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر «سلسبیل» کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گزر چکا ہے کہ نہر کافور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اسی ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے، کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے۔
10100
الإنسان 76:17
باب
«سَلْسَبِيْلً» بقول عکرمہ رحمہ اللہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہر یا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوشبو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔
ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمت جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لیے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال، بوٹے سے قد والے، سفید نورانی چہروں والے، پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے، زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پرتکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں۔
10104
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے “۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ” جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا “ ۔ [صحیح بخاری:6571]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر، یکساں نگاہیں ہوں گی ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضیف]
یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی۔ (اے اللہ! اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے، ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقوف نہیں، آمین۔ مترجم)
10105
طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے، اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا“ پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہے اس کے لیے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص «سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ» کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ ۔
تو ایک شخص نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیسے ہلاک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے“ ۔ اس وقت یہ سورۃ «وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا» [76-الإنسان:20] تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا ۔ [طبرانی کبیر:13595،قال الشيخ زبیر علی زئی:ضعیف]
10106
پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا، «سُندُسٍ» اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا، اور «اِسْتَبْرَقْ» عمدہ، بیش بہا، گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس «ابرار» کا ہے “۔
اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ» [22-الحج:23] ” انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خالص نرم ریشمی لباس ہو گا “۔ ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائی جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے، حسد، کینہ، بدخلقی، غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں ازخود خیال پیدا ہو گا، ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔“ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو باربار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوششوں کی قدردانی ہے،
جیسے اور جگہ ہے «كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ” دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو “۔
اور فرمان ہے «وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [7-الأعراف:43] یعنی ” منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے “۔ یہاں بھی فرمایا ہے ” تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے “۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
10107
الإنسان 76:18
باب
«سَلْسَبِيْلً» بقول عکرمہ رحمہ اللہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہر یا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوشبو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔
ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمت جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لیے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال، بوٹے سے قد والے، سفید نورانی چہروں والے، پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے، زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پرتکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں۔
10104
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے “۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ” جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا “ ۔ [صحیح بخاری:6571]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر، یکساں نگاہیں ہوں گی ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضیف]
یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی۔ (اے اللہ! اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے، ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقوف نہیں، آمین۔ مترجم)
10105
طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے، اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا“ پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہے اس کے لیے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص «سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ» کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ ۔
تو ایک شخص نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیسے ہلاک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے“ ۔ اس وقت یہ سورۃ «وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا» [76-الإنسان:20] تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا ۔ [طبرانی کبیر:13595،قال الشيخ زبیر علی زئی:ضعیف]
10106
پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا، «سُندُسٍ» اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا، اور «اِسْتَبْرَقْ» عمدہ، بیش بہا، گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس «ابرار» کا ہے “۔
اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ» [22-الحج:23] ” انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خالص نرم ریشمی لباس ہو گا “۔ ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائی جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے، حسد، کینہ، بدخلقی، غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں ازخود خیال پیدا ہو گا، ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔“ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو باربار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوششوں کی قدردانی ہے،
جیسے اور جگہ ہے «كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ” دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو “۔
اور فرمان ہے «وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [7-الأعراف:43] یعنی ” منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے “۔ یہاں بھی فرمایا ہے ” تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے “۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
10107
الإنسان 76:19
باب
«سَلْسَبِيْلً» بقول عکرمہ رحمہ اللہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہر یا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوشبو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔
ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمت جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لیے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال، بوٹے سے قد والے، سفید نورانی چہروں والے، پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے، زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پرتکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں۔
10104
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے “۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ” جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا “ ۔ [صحیح بخاری:6571]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر، یکساں نگاہیں ہوں گی ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضیف]
یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی۔ (اے اللہ! اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے، ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقوف نہیں، آمین۔ مترجم)
10105
طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے، اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا“ پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہے اس کے لیے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص «سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ» کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ ۔
تو ایک شخص نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیسے ہلاک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے“ ۔ اس وقت یہ سورۃ «وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا» [76-الإنسان:20] تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا ۔ [طبرانی کبیر:13595،قال الشيخ زبیر علی زئی:ضعیف]
10106
پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا، «سُندُسٍ» اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا، اور «اِسْتَبْرَقْ» عمدہ، بیش بہا، گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس «ابرار» کا ہے “۔
اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ» [22-الحج:23] ” انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خالص نرم ریشمی لباس ہو گا “۔ ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائی جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے، حسد، کینہ، بدخلقی، غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں ازخود خیال پیدا ہو گا، ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔“ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو باربار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوششوں کی قدردانی ہے،
جیسے اور جگہ ہے «كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ” دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو “۔
اور فرمان ہے «وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [7-الأعراف:43] یعنی ” منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے “۔ یہاں بھی فرمایا ہے ” تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے “۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
10107
الإنسان 76:20
باب
«سَلْسَبِيْلً» بقول عکرمہ رحمہ اللہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہر یا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوشبو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔
ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمت جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لیے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال، بوٹے سے قد والے، سفید نورانی چہروں والے، پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے، زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پرتکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں۔
10104
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے “۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ” جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا “ ۔ [صحیح بخاری:6571]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر، یکساں نگاہیں ہوں گی ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضیف]
یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی۔ (اے اللہ! اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے، ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقوف نہیں، آمین۔ مترجم)
10105
طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے، اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا“ پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہے اس کے لیے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص «سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ» کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ ۔
تو ایک شخص نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیسے ہلاک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے“ ۔ اس وقت یہ سورۃ «وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا» [76-الإنسان:20] تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا ۔ [طبرانی کبیر:13595،قال الشيخ زبیر علی زئی:ضعیف]
10106
پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا، «سُندُسٍ» اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا، اور «اِسْتَبْرَقْ» عمدہ، بیش بہا، گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس «ابرار» کا ہے “۔
اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ» [22-الحج:23] ” انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خالص نرم ریشمی لباس ہو گا “۔ ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائی جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے، حسد، کینہ، بدخلقی، غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں ازخود خیال پیدا ہو گا، ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔“ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو باربار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوششوں کی قدردانی ہے،
جیسے اور جگہ ہے «كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ” دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو “۔
اور فرمان ہے «وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [7-الأعراف:43] یعنی ” منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے “۔ یہاں بھی فرمایا ہے ” تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے “۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
10107
الإنسان 76:21
باب
«سَلْسَبِيْلً» بقول عکرمہ رحمہ اللہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہر یا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوشبو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔
ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمت جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لیے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال، بوٹے سے قد والے، سفید نورانی چہروں والے، پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے، زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پرتکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں۔
10104
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے “۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ” جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا “ ۔ [صحیح بخاری:6571]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر، یکساں نگاہیں ہوں گی ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضیف]
یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی۔ (اے اللہ! اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے، ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقوف نہیں، آمین۔ مترجم)
10105
طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے، اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا“ پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہے اس کے لیے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص «سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ» کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ ۔
تو ایک شخص نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیسے ہلاک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے“ ۔ اس وقت یہ سورۃ «وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا» [76-الإنسان:20] تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا ۔ [طبرانی کبیر:13595،قال الشيخ زبیر علی زئی:ضعیف]
10106
پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا، «سُندُسٍ» اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا، اور «اِسْتَبْرَقْ» عمدہ، بیش بہا، گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس «ابرار» کا ہے “۔
اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ» [22-الحج:23] ” انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خالص نرم ریشمی لباس ہو گا “۔ ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائی جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے، حسد، کینہ، بدخلقی، غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں ازخود خیال پیدا ہو گا، ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔“ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو باربار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوششوں کی قدردانی ہے،
جیسے اور جگہ ہے «كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ” دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو “۔
اور فرمان ہے «وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [7-الأعراف:43] یعنی ” منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے “۔ یہاں بھی فرمایا ہے ” تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے “۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
10107
الإنسان 76:22
باب
«سَلْسَبِيْلً» بقول عکرمہ رحمہ اللہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہر یا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوشبو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔
ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمت جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لیے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال، بوٹے سے قد والے، سفید نورانی چہروں والے، پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے، زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پرتکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں۔
10104
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے “۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ” جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا “ ۔ [صحیح بخاری:6571]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر، یکساں نگاہیں ہوں گی ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضیف]
یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی۔ (اے اللہ! اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے، ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقوف نہیں، آمین۔ مترجم)
10105
طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے، اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا“ پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہے اس کے لیے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص «سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ» کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ ۔
تو ایک شخص نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیسے ہلاک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے“ ۔ اس وقت یہ سورۃ «وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا» [76-الإنسان:20] تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا ۔ [طبرانی کبیر:13595،قال الشيخ زبیر علی زئی:ضعیف]
10106
پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا، «سُندُسٍ» اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا، اور «اِسْتَبْرَقْ» عمدہ، بیش بہا، گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس «ابرار» کا ہے “۔
اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ» [22-الحج:23] ” انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خالص نرم ریشمی لباس ہو گا “۔ ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائی جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے، حسد، کینہ، بدخلقی، غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں ازخود خیال پیدا ہو گا، ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔“ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو باربار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوششوں کی قدردانی ہے،
جیسے اور جگہ ہے «كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ” دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو “۔
اور فرمان ہے «وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [7-الأعراف:43] یعنی ” منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے “۔ یہاں بھی فرمایا ہے ” تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے “۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
10107
الإنسان 76:23
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ” ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں “۔
، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ” دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» [17-الإسراء:79] ” رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا “۔
سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» [73-المزمل:1-4] ” اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ “ ـ
پھر کفار کو روکتا ہے کہ ” حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں “۔
10113
پھر فرماتا ہے ” سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں “۔
یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ” اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» [4-النساء:133] ” اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے “۔
اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-إبراهيم:19-20] ” اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں “۔
پھر فرماتا ہے ” یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» [4-النساء:39] ” ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے “۔
پھر فرمایا ” بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے “۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
10114
الإنسان 76:24
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ” ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں “۔
، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ” دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» [17-الإسراء:79] ” رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا “۔
سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» [73-المزمل:1-4] ” اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ “ ـ
پھر کفار کو روکتا ہے کہ ” حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں “۔
10113
پھر فرماتا ہے ” سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں “۔
یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ” اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» [4-النساء:133] ” اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے “۔
اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-إبراهيم:19-20] ” اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں “۔
پھر فرماتا ہے ” یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» [4-النساء:39] ” ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے “۔
پھر فرمایا ” بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے “۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
10114
الإنسان 76:25
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ” ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں “۔
، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ” دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» [17-الإسراء:79] ” رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا “۔
سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» [73-المزمل:1-4] ” اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ “ ـ
پھر کفار کو روکتا ہے کہ ” حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں “۔
10113
پھر فرماتا ہے ” سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں “۔
یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ” اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» [4-النساء:133] ” اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے “۔
اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-إبراهيم:19-20] ” اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں “۔
پھر فرماتا ہے ” یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» [4-النساء:39] ” ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے “۔
پھر فرمایا ” بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے “۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
10114
الإنسان 76:26
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ” ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں “۔
، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ” دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» [17-الإسراء:79] ” رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا “۔
سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» [73-المزمل:1-4] ” اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ “ ـ
پھر کفار کو روکتا ہے کہ ” حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں “۔
10113
پھر فرماتا ہے ” سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں “۔
یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ” اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» [4-النساء:133] ” اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے “۔
اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-إبراهيم:19-20] ” اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں “۔
پھر فرماتا ہے ” یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» [4-النساء:39] ” ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے “۔
پھر فرمایا ” بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے “۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
10114
الإنسان 76:27
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ” ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں “۔
، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ” دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» [17-الإسراء:79] ” رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا “۔
سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» [73-المزمل:1-4] ” اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ “ ـ
پھر کفار کو روکتا ہے کہ ” حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں “۔
10113
پھر فرماتا ہے ” سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں “۔
یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ” اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» [4-النساء:133] ” اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے “۔
اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-إبراهيم:19-20] ” اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں “۔
پھر فرماتا ہے ” یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» [4-النساء:39] ” ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے “۔
پھر فرمایا ” بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے “۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
10114
الإنسان 76:28
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ” ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں “۔
، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ” دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» [17-الإسراء:79] ” رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا “۔
سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» [73-المزمل:1-4] ” اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ “ ـ
پھر کفار کو روکتا ہے کہ ” حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں “۔
10113
پھر فرماتا ہے ” سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں “۔
یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ” اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» [4-النساء:133] ” اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے “۔
اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-إبراهيم:19-20] ” اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں “۔
پھر فرماتا ہے ” یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» [4-النساء:39] ” ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے “۔
پھر فرمایا ” بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے “۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
10114
الإنسان 76:29
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ” ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں “۔
، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ” دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» [17-الإسراء:79] ” رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا “۔
سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» [73-المزمل:1-4] ” اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ “ ـ
پھر کفار کو روکتا ہے کہ ” حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں “۔
10113
پھر فرماتا ہے ” سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں “۔
یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ” اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» [4-النساء:133] ” اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے “۔
اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-إبراهيم:19-20] ” اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں “۔
پھر فرماتا ہے ” یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» [4-النساء:39] ” ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے “۔
پھر فرمایا ” بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے “۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
10114
الإنسان 76:30
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ” ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں “۔
، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ” دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» [17-الإسراء:79] ” رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا “۔
سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» [73-المزمل:1-4] ” اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ “ ـ
پھر کفار کو روکتا ہے کہ ” حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں “۔
10113
پھر فرماتا ہے ” سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں “۔
یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ” اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» [4-النساء:133] ” اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے “۔
اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-إبراهيم:19-20] ” اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں “۔
پھر فرماتا ہے ” یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» [4-النساء:39] ” ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے “۔
پھر فرمایا ” بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے “۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
10114
الإنسان 76:31
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ” ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں “۔
، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ” دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» [17-الإسراء:79] ” رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا “۔
سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» [73-المزمل:1-4] ” اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ “ ـ
پھر کفار کو روکتا ہے کہ ” حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں “۔
10113
پھر فرماتا ہے ” سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں “۔
یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ” اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» [4-النساء:133] ” اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے “۔
اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-إبراهيم:19-20] ” اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں “۔
پھر فرماتا ہے ” یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» [4-النساء:39] ” ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے “۔
پھر فرمایا ” بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے “۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
10114