Lafzullah

Tafsir Ibn Kathir — المرسلات 77:1 – النبأ 78:40

Author / source: Tafsir Ibn Kathir

Contents
  1. المرسلات 77:1
  2. المرسلات 77:2
  3. المرسلات 77:3
  4. المرسلات 77:4
  5. المرسلات 77:5
  6. المرسلات 77:6
  7. المرسلات 77:7
  8. المرسلات 77:8
  9. المرسلات 77:9
  10. المرسلات 77:10
  11. المرسلات 77:11
  12. المرسلات 77:12
  13. المرسلات 77:13
  14. المرسلات 77:14
  15. المرسلات 77:15
  16. المرسلات 77:16
  17. المرسلات 77:17
  18. المرسلات 77:18
  19. المرسلات 77:19
  20. المرسلات 77:20
  21. المرسلات 77:21
  22. المرسلات 77:22
  23. المرسلات 77:23
  24. المرسلات 77:24
  25. المرسلات 77:25
  26. المرسلات 77:26
  27. المرسلات 77:27
  28. المرسلات 77:28
  29. المرسلات 77:29
  30. المرسلات 77:30
  31. المرسلات 77:31
  32. المرسلات 77:32
  33. المرسلات 77:33
  34. المرسلات 77:34
  35. المرسلات 77:35
  36. المرسلات 77:36
  37. المرسلات 77:37
  38. المرسلات 77:38
  39. المرسلات 77:39
  40. المرسلات 77:40
  41. المرسلات 77:41
  42. المرسلات 77:42
  43. المرسلات 77:43
  44. المرسلات 77:44
  45. المرسلات 77:45
  46. المرسلات 77:46
  47. المرسلات 77:47
  48. المرسلات 77:48
  49. المرسلات 77:49
  50. المرسلات 77:50
  51. النبأ 78:1
  52. النبأ 78:2
  53. النبأ 78:3
  54. النبأ 78:4
  55. النبأ 78:5
  56. النبأ 78:6
  57. النبأ 78:7
  58. النبأ 78:8
  59. النبأ 78:9
  60. النبأ 78:10
  61. النبأ 78:11
  62. النبأ 78:12
  63. النبأ 78:13
  64. النبأ 78:14
  65. النبأ 78:15
  66. النبأ 78:16
  67. النبأ 78:17
  68. النبأ 78:18
  69. النبأ 78:19
  70. النبأ 78:20
  71. النبأ 78:21
  72. النبأ 78:22
  73. النبأ 78:23
  74. النبأ 78:24
  75. النبأ 78:25
  76. النبأ 78:26
  77. النبأ 78:27
  78. النبأ 78:28
  79. النبأ 78:29
  80. النبأ 78:30
  81. النبأ 78:31
  82. النبأ 78:32
  83. النبأ 78:33
  84. النبأ 78:34
  85. النبأ 78:35
  86. النبأ 78:36
  87. النبأ 78:37
  88. النبأ 78:38
  89. النبأ 78:39
  90. النبأ 78:40

المرسلات 77:1

تفسیر سورۃ المرسلات: ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏ فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭ بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔ جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔ اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔ «عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔ «فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔ 10123 ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔ جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔ جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔ اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔ ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ 10124

المرسلات 77:2

تفسیر سورۃ المرسلات: ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏ فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭ بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔ جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔ اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔ «عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔ «فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔ 10123 ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔ جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔ جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔ اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔ ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ 10124

المرسلات 77:3

تفسیر سورۃ المرسلات: ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏ فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭ بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔ جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔ اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔ «عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔ «فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔ 10123 ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔ جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔ جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔ اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔ ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ 10124

المرسلات 77:4

تفسیر سورۃ المرسلات: ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏ فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭ بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔ جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔ اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔ «عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔ «فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔ 10123 ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔ جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔ جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔ اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔ ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ 10124

المرسلات 77:5

تفسیر سورۃ المرسلات: ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏ فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭ بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔ جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔ اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔ «عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔ «فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔ 10123 ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔ جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔ جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔ اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔ ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ 10124

المرسلات 77:6

تفسیر سورۃ المرسلات: ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏ فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭ بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔ جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔ اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔ «عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔ «فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔ 10123 ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔ جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔ جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔ اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔ ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ 10124

المرسلات 77:7

تفسیر سورۃ المرسلات: ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏ فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭ بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔ جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔ اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔ «عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔ «فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔ 10123 ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔ جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔ جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔ اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔ ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ 10124

المرسلات 77:8

تفسیر سورۃ المرسلات: ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏ فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭ بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔ جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔ اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔ «عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔ «فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔ 10123 ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔ جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔ جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔ اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔ ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ 10124

المرسلات 77:9

تفسیر سورۃ المرسلات: ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏ فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭ بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔ جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔ اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔ «عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔ «فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔ 10123 ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔ جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔ جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔ اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔ ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ 10124

المرسلات 77:10

تفسیر سورۃ المرسلات: ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏ فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭ بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔ جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔ اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔ «عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔ «فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔ 10123 ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔ جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔ جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔ اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔ ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ 10124

المرسلات 77:11

تفسیر سورۃ المرسلات: ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏ فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭ بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔ جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔ اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔ «عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔ «فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔ 10123 ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔ جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔ جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔ اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔ ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ 10124

المرسلات 77:12

تفسیر سورۃ المرسلات: ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏ فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭ بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔ جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔ اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔ «عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔ «فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔ 10123 ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔ جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔ جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔ اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔ ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ 10124

المرسلات 77:13

تفسیر سورۃ المرسلات: ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏ فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭ بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔ جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔ اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔ «عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔ «فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔ 10123 ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔ جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔ جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔ اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔ ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ 10124

المرسلات 77:14

تفسیر سورۃ المرسلات: ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏ فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭ بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔ جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔ اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔ «عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔ «فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔ 10123 ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔ جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔ جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔ اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔ ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ 10124

المرسلات 77:15

تفسیر سورۃ المرسلات: ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏ فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭ بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔ جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔ اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔ «عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔ «فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔ 10123 ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔ جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔ جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔ اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔ ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ 10124

المرسلات 77:16

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔ پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔ پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔ 10139

المرسلات 77:17

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔ پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔ پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔ 10139

المرسلات 77:18

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔ پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔ پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔ 10139

المرسلات 77:19

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔ پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔ پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔ 10139

المرسلات 77:20

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔ پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔ پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔ 10139

المرسلات 77:21

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔ پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔ پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔ 10139

المرسلات 77:22

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔ پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔ پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔ 10139

المرسلات 77:23

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔ پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔ پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔ 10139

المرسلات 77:24

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔ پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔ پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔ 10139

المرسلات 77:25

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔ پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔ پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔ 10139

المرسلات 77:26

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔ پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔ پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔ 10139

المرسلات 77:27

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔ پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔ پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔ 10139

المرسلات 77:28

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔ پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔ پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔ 10139

المرسلات 77:29

جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ٭٭ جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے، نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بکثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناور درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کر لیتے اسے ہم «قصر» کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہو جاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہو جاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہو چکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہو گئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا، مکرنا، چھپانا، عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہو جائیں گی تو اب بول چال، عذر معذرت، ختم ہو جائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ، کسی وقت وہ، اسی لیے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے ” یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کر لو “۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ ” اب خاموش کیوں ہو؟ وہ عیاری، چالاکی اور بے باکی کیا ہوئی؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کر دیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ» [55-الرحمن:33] ‏ یعنی ” اے جن و انس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جا سکتے اور وہ تم میں نہیں “۔ 10152 اور جگہ ہے «وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ» ‏ [11-ھود:57] ‏ یعنی ” تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے “۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے میرے بندو نہ تو تمہیں، مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے، نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو، نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو “ ۔ [صحیح مسلم:2577] ‏ سیدنا ابوعبداللہ جدلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں عبادہ، عبداللہ اور کعب احبار رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا، آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کر دیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب، مکر حیلہ کر سکتے ہو تو کر لو، سنو! متکبر، سرکش، منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پا سکتا ہے “۔‏“ ”سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں“، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر باآواز بلند کہے گی، اے لوگو! تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہو گا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں، نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہو جائیں گے۔ (‏اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے)۔ آمین 10153

المرسلات 77:30

جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ٭٭ جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے، نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بکثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناور درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کر لیتے اسے ہم «قصر» کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہو جاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہو جاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہو چکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہو گئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا، مکرنا، چھپانا، عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہو جائیں گی تو اب بول چال، عذر معذرت، ختم ہو جائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ، کسی وقت وہ، اسی لیے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے ” یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کر لو “۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ ” اب خاموش کیوں ہو؟ وہ عیاری، چالاکی اور بے باکی کیا ہوئی؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کر دیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ» [55-الرحمن:33] ‏ یعنی ” اے جن و انس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جا سکتے اور وہ تم میں نہیں “۔ 10152 اور جگہ ہے «وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ» ‏ [11-ھود:57] ‏ یعنی ” تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے “۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے میرے بندو نہ تو تمہیں، مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے، نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو، نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو “ ۔ [صحیح مسلم:2577] ‏ سیدنا ابوعبداللہ جدلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں عبادہ، عبداللہ اور کعب احبار رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا، آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کر دیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب، مکر حیلہ کر سکتے ہو تو کر لو، سنو! متکبر، سرکش، منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پا سکتا ہے “۔‏“ ”سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں“، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر باآواز بلند کہے گی، اے لوگو! تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہو گا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں، نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہو جائیں گے۔ (‏اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے)۔ آمین 10153

المرسلات 77:31

جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ٭٭ جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے، نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بکثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناور درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کر لیتے اسے ہم «قصر» کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہو جاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہو جاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہو چکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہو گئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا، مکرنا، چھپانا، عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہو جائیں گی تو اب بول چال، عذر معذرت، ختم ہو جائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ، کسی وقت وہ، اسی لیے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے ” یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کر لو “۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ ” اب خاموش کیوں ہو؟ وہ عیاری، چالاکی اور بے باکی کیا ہوئی؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کر دیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ» [55-الرحمن:33] ‏ یعنی ” اے جن و انس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جا سکتے اور وہ تم میں نہیں “۔ 10152 اور جگہ ہے «وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ» ‏ [11-ھود:57] ‏ یعنی ” تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے “۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے میرے بندو نہ تو تمہیں، مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے، نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو، نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو “ ۔ [صحیح مسلم:2577] ‏ سیدنا ابوعبداللہ جدلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں عبادہ، عبداللہ اور کعب احبار رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا، آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کر دیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب، مکر حیلہ کر سکتے ہو تو کر لو، سنو! متکبر، سرکش، منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پا سکتا ہے “۔‏“ ”سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں“، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر باآواز بلند کہے گی، اے لوگو! تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہو گا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں، نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہو جائیں گے۔ (‏اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے)۔ آمین 10153

المرسلات 77:32

جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ٭٭ جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے، نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بکثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناور درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کر لیتے اسے ہم «قصر» کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہو جاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہو جاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہو چکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہو گئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا، مکرنا، چھپانا، عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہو جائیں گی تو اب بول چال، عذر معذرت، ختم ہو جائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ، کسی وقت وہ، اسی لیے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے ” یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کر لو “۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ ” اب خاموش کیوں ہو؟ وہ عیاری، چالاکی اور بے باکی کیا ہوئی؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کر دیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ» [55-الرحمن:33] ‏ یعنی ” اے جن و انس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جا سکتے اور وہ تم میں نہیں “۔ 10152 اور جگہ ہے «وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ» ‏ [11-ھود:57] ‏ یعنی ” تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے “۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے میرے بندو نہ تو تمہیں، مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے، نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو، نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو “ ۔ [صحیح مسلم:2577] ‏ سیدنا ابوعبداللہ جدلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں عبادہ، عبداللہ اور کعب احبار رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا، آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کر دیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب، مکر حیلہ کر سکتے ہو تو کر لو، سنو! متکبر، سرکش، منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پا سکتا ہے “۔‏“ ”سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں“، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر باآواز بلند کہے گی، اے لوگو! تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہو گا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں، نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہو جائیں گے۔ (‏اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے)۔ آمین 10153

المرسلات 77:33

جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ٭٭ جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے، نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بکثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناور درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کر لیتے اسے ہم «قصر» کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہو جاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہو جاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہو چکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہو گئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا، مکرنا، چھپانا، عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہو جائیں گی تو اب بول چال، عذر معذرت، ختم ہو جائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ، کسی وقت وہ، اسی لیے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے ” یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کر لو “۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ ” اب خاموش کیوں ہو؟ وہ عیاری، چالاکی اور بے باکی کیا ہوئی؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کر دیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ» [55-الرحمن:33] ‏ یعنی ” اے جن و انس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جا سکتے اور وہ تم میں نہیں “۔ 10152 اور جگہ ہے «وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ» ‏ [11-ھود:57] ‏ یعنی ” تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے “۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے میرے بندو نہ تو تمہیں، مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے، نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو، نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو “ ۔ [صحیح مسلم:2577] ‏ سیدنا ابوعبداللہ جدلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں عبادہ، عبداللہ اور کعب احبار رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا، آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کر دیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب، مکر حیلہ کر سکتے ہو تو کر لو، سنو! متکبر، سرکش، منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پا سکتا ہے “۔‏“ ”سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں“، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر باآواز بلند کہے گی، اے لوگو! تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہو گا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں، نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہو جائیں گے۔ (‏اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے)۔ آمین 10153

المرسلات 77:34

جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ٭٭ جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے، نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بکثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناور درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کر لیتے اسے ہم «قصر» کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہو جاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہو جاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہو چکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہو گئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا، مکرنا، چھپانا، عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہو جائیں گی تو اب بول چال، عذر معذرت، ختم ہو جائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ، کسی وقت وہ، اسی لیے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے ” یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کر لو “۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ ” اب خاموش کیوں ہو؟ وہ عیاری، چالاکی اور بے باکی کیا ہوئی؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کر دیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ» [55-الرحمن:33] ‏ یعنی ” اے جن و انس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جا سکتے اور وہ تم میں نہیں “۔ 10152 اور جگہ ہے «وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ» ‏ [11-ھود:57] ‏ یعنی ” تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے “۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے میرے بندو نہ تو تمہیں، مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے، نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو، نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو “ ۔ [صحیح مسلم:2577] ‏ سیدنا ابوعبداللہ جدلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں عبادہ، عبداللہ اور کعب احبار رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا، آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کر دیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب، مکر حیلہ کر سکتے ہو تو کر لو، سنو! متکبر، سرکش، منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پا سکتا ہے “۔‏“ ”سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں“، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر باآواز بلند کہے گی، اے لوگو! تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہو گا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں، نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہو جائیں گے۔ (‏اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے)۔ آمین 10153

المرسلات 77:35

جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ٭٭ جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے، نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بکثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناور درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کر لیتے اسے ہم «قصر» کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہو جاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہو جاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہو چکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہو گئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا، مکرنا، چھپانا، عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہو جائیں گی تو اب بول چال، عذر معذرت، ختم ہو جائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ، کسی وقت وہ، اسی لیے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے ” یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کر لو “۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ ” اب خاموش کیوں ہو؟ وہ عیاری، چالاکی اور بے باکی کیا ہوئی؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کر دیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ» [55-الرحمن:33] ‏ یعنی ” اے جن و انس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جا سکتے اور وہ تم میں نہیں “۔ 10152 اور جگہ ہے «وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ» ‏ [11-ھود:57] ‏ یعنی ” تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے “۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے میرے بندو نہ تو تمہیں، مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے، نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو، نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو “ ۔ [صحیح مسلم:2577] ‏ سیدنا ابوعبداللہ جدلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں عبادہ، عبداللہ اور کعب احبار رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا، آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کر دیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب، مکر حیلہ کر سکتے ہو تو کر لو، سنو! متکبر، سرکش، منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پا سکتا ہے “۔‏“ ”سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں“، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر باآواز بلند کہے گی، اے لوگو! تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہو گا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں، نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہو جائیں گے۔ (‏اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے)۔ آمین 10153

المرسلات 77:36

جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ٭٭ جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے، نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بکثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناور درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کر لیتے اسے ہم «قصر» کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہو جاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہو جاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہو چکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہو گئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا، مکرنا، چھپانا، عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہو جائیں گی تو اب بول چال، عذر معذرت، ختم ہو جائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ، کسی وقت وہ، اسی لیے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے ” یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کر لو “۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ ” اب خاموش کیوں ہو؟ وہ عیاری، چالاکی اور بے باکی کیا ہوئی؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کر دیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ» [55-الرحمن:33] ‏ یعنی ” اے جن و انس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جا سکتے اور وہ تم میں نہیں “۔ 10152 اور جگہ ہے «وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ» ‏ [11-ھود:57] ‏ یعنی ” تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے “۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے میرے بندو نہ تو تمہیں، مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے، نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو، نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو “ ۔ [صحیح مسلم:2577] ‏ سیدنا ابوعبداللہ جدلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں عبادہ، عبداللہ اور کعب احبار رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا، آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کر دیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب، مکر حیلہ کر سکتے ہو تو کر لو، سنو! متکبر، سرکش، منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پا سکتا ہے “۔‏“ ”سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں“، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر باآواز بلند کہے گی، اے لوگو! تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہو گا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں، نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہو جائیں گے۔ (‏اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے)۔ آمین 10153

المرسلات 77:37

جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ٭٭ جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے، نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بکثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناور درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کر لیتے اسے ہم «قصر» کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہو جاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہو جاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہو چکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہو گئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا، مکرنا، چھپانا، عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہو جائیں گی تو اب بول چال، عذر معذرت، ختم ہو جائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ، کسی وقت وہ، اسی لیے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے ” یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کر لو “۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ ” اب خاموش کیوں ہو؟ وہ عیاری، چالاکی اور بے باکی کیا ہوئی؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کر دیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ» [55-الرحمن:33] ‏ یعنی ” اے جن و انس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جا سکتے اور وہ تم میں نہیں “۔ 10152 اور جگہ ہے «وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ» ‏ [11-ھود:57] ‏ یعنی ” تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے “۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے میرے بندو نہ تو تمہیں، مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے، نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو، نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو “ ۔ [صحیح مسلم:2577] ‏ سیدنا ابوعبداللہ جدلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں عبادہ، عبداللہ اور کعب احبار رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا، آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کر دیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب، مکر حیلہ کر سکتے ہو تو کر لو، سنو! متکبر، سرکش، منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پا سکتا ہے “۔‏“ ”سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں“، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر باآواز بلند کہے گی، اے لوگو! تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہو گا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں، نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہو جائیں گے۔ (‏اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے)۔ آمین 10153

المرسلات 77:38

جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ٭٭ جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے، نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بکثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناور درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کر لیتے اسے ہم «قصر» کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہو جاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہو جاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہو چکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہو گئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا، مکرنا، چھپانا، عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہو جائیں گی تو اب بول چال، عذر معذرت، ختم ہو جائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ، کسی وقت وہ، اسی لیے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے ” یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کر لو “۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ ” اب خاموش کیوں ہو؟ وہ عیاری، چالاکی اور بے باکی کیا ہوئی؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کر دیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ» [55-الرحمن:33] ‏ یعنی ” اے جن و انس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جا سکتے اور وہ تم میں نہیں “۔ 10152 اور جگہ ہے «وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ» ‏ [11-ھود:57] ‏ یعنی ” تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے “۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے میرے بندو نہ تو تمہیں، مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے، نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو، نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو “ ۔ [صحیح مسلم:2577] ‏ سیدنا ابوعبداللہ جدلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں عبادہ، عبداللہ اور کعب احبار رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا، آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کر دیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب، مکر حیلہ کر سکتے ہو تو کر لو، سنو! متکبر، سرکش، منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پا سکتا ہے “۔‏“ ”سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں“، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر باآواز بلند کہے گی، اے لوگو! تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہو گا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں، نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہو جائیں گے۔ (‏اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے)۔ آمین 10153

المرسلات 77:39

جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ٭٭ جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے، نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بکثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناور درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کر لیتے اسے ہم «قصر» کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہو جاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہو جاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہو چکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہو گئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا، مکرنا، چھپانا، عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہو جائیں گی تو اب بول چال، عذر معذرت، ختم ہو جائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ، کسی وقت وہ، اسی لیے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے ” یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کر لو “۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ ” اب خاموش کیوں ہو؟ وہ عیاری، چالاکی اور بے باکی کیا ہوئی؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کر دیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ» [55-الرحمن:33] ‏ یعنی ” اے جن و انس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جا سکتے اور وہ تم میں نہیں “۔ 10152 اور جگہ ہے «وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ» ‏ [11-ھود:57] ‏ یعنی ” تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے “۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے میرے بندو نہ تو تمہیں، مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے، نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو، نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو “ ۔ [صحیح مسلم:2577] ‏ سیدنا ابوعبداللہ جدلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں عبادہ، عبداللہ اور کعب احبار رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا، آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کر دیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب، مکر حیلہ کر سکتے ہو تو کر لو، سنو! متکبر، سرکش، منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پا سکتا ہے “۔‏“ ”سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں“، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر باآواز بلند کہے گی، اے لوگو! تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہو گا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں، نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہو جائیں گے۔ (‏اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے)۔ آمین 10153

المرسلات 77:40

جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ٭٭ جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے، نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بکثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناور درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کر لیتے اسے ہم «قصر» کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہو جاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہو جاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہو چکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہو گئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا، مکرنا، چھپانا، عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہو جائیں گی تو اب بول چال، عذر معذرت، ختم ہو جائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ، کسی وقت وہ، اسی لیے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے ” یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کر لو “۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ ” اب خاموش کیوں ہو؟ وہ عیاری، چالاکی اور بے باکی کیا ہوئی؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کر دیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ» [55-الرحمن:33] ‏ یعنی ” اے جن و انس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جا سکتے اور وہ تم میں نہیں “۔ 10152 اور جگہ ہے «وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ» ‏ [11-ھود:57] ‏ یعنی ” تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے “۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے میرے بندو نہ تو تمہیں، مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے، نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو، نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو “ ۔ [صحیح مسلم:2577] ‏ سیدنا ابوعبداللہ جدلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں عبادہ، عبداللہ اور کعب احبار رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا، آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کر دیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب، مکر حیلہ کر سکتے ہو تو کر لو، سنو! متکبر، سرکش، منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پا سکتا ہے “۔‏“ ”سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں“، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر باآواز بلند کہے گی، اے لوگو! تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہو گا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں، نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہو جائیں گے۔ (‏اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے)۔ آمین 10153

المرسلات 77:41

دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ ٭٭ اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ ” جو لوگ متقی پرہیزگار تھے، اللہ کے عبادت گزار تھے، فرائض اور واجبات کے پابند تھے، اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبودار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں باآرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے، نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے “۔ پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دوبالا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے باربار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو! تم باخوشی اور با فراغت لذیذ پر کیف طَعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے “۔ ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ ” اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتا لو، فائدے اٹھا لو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہو جائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے “۔ جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ ” تمہاری بد اعمالیوں اور سیاہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی کو، ہماری وحی کو، نہ ماننے والا، اسے جھوٹا جاننے والا، قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہو گا۔ اسی کی سخت خرابی ہے “۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «‏نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ» [31-لقمان:24] ‏ ” دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کی طرف بے بس کردیں گے “۔ اور جگہ فرمان ہے «‏قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ» [10-یونس:69] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے “۔ 10165 پھر فرمایا کہ ” ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کر لو تو ان سے یہ بھی نہیں ہو سکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کر دیتے ہیں، ان کے لیے جو جھٹلانے میں عمریں گزار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہو گی “۔ پھر فرمایا ” جب یہ لوگ اس پاک کلام پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے؟۔ جیسے اور جگہ ہے «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ» [45-الجاثية:6] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر اور اس کی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے؟ “، ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں «آمَنْت بِاَللَّهِ وَبِمَا أَنْزَلَ» کہنا چاہیئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث سورۃ القیامہ کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔ سورۃ والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10166

المرسلات 77:42

دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ ٭٭ اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ ” جو لوگ متقی پرہیزگار تھے، اللہ کے عبادت گزار تھے، فرائض اور واجبات کے پابند تھے، اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبودار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں باآرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے، نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے “۔ پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دوبالا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے باربار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو! تم باخوشی اور با فراغت لذیذ پر کیف طَعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے “۔ ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ ” اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتا لو، فائدے اٹھا لو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہو جائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے “۔ جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ ” تمہاری بد اعمالیوں اور سیاہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی کو، ہماری وحی کو، نہ ماننے والا، اسے جھوٹا جاننے والا، قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہو گا۔ اسی کی سخت خرابی ہے “۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «‏نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ» [31-لقمان:24] ‏ ” دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کی طرف بے بس کردیں گے “۔ اور جگہ فرمان ہے «‏قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ» [10-یونس:69] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے “۔ 10165 پھر فرمایا کہ ” ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کر لو تو ان سے یہ بھی نہیں ہو سکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کر دیتے ہیں، ان کے لیے جو جھٹلانے میں عمریں گزار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہو گی “۔ پھر فرمایا ” جب یہ لوگ اس پاک کلام پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے؟۔ جیسے اور جگہ ہے «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ» [45-الجاثية:6] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر اور اس کی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے؟ “، ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں «آمَنْت بِاَللَّهِ وَبِمَا أَنْزَلَ» کہنا چاہیئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث سورۃ القیامہ کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔ سورۃ والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10166

المرسلات 77:43

دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ ٭٭ اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ ” جو لوگ متقی پرہیزگار تھے، اللہ کے عبادت گزار تھے، فرائض اور واجبات کے پابند تھے، اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبودار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں باآرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے، نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے “۔ پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دوبالا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے باربار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو! تم باخوشی اور با فراغت لذیذ پر کیف طَعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے “۔ ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ ” اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتا لو، فائدے اٹھا لو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہو جائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے “۔ جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ ” تمہاری بد اعمالیوں اور سیاہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی کو، ہماری وحی کو، نہ ماننے والا، اسے جھوٹا جاننے والا، قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہو گا۔ اسی کی سخت خرابی ہے “۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «‏نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ» [31-لقمان:24] ‏ ” دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کی طرف بے بس کردیں گے “۔ اور جگہ فرمان ہے «‏قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ» [10-یونس:69] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے “۔ 10165 پھر فرمایا کہ ” ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کر لو تو ان سے یہ بھی نہیں ہو سکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کر دیتے ہیں، ان کے لیے جو جھٹلانے میں عمریں گزار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہو گی “۔ پھر فرمایا ” جب یہ لوگ اس پاک کلام پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے؟۔ جیسے اور جگہ ہے «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ» [45-الجاثية:6] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر اور اس کی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے؟ “، ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں «آمَنْت بِاَللَّهِ وَبِمَا أَنْزَلَ» کہنا چاہیئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث سورۃ القیامہ کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔ سورۃ والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10166

المرسلات 77:44

دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ ٭٭ اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ ” جو لوگ متقی پرہیزگار تھے، اللہ کے عبادت گزار تھے، فرائض اور واجبات کے پابند تھے، اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبودار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں باآرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے، نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے “۔ پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دوبالا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے باربار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو! تم باخوشی اور با فراغت لذیذ پر کیف طَعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے “۔ ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ ” اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتا لو، فائدے اٹھا لو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہو جائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے “۔ جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ ” تمہاری بد اعمالیوں اور سیاہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی کو، ہماری وحی کو، نہ ماننے والا، اسے جھوٹا جاننے والا، قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہو گا۔ اسی کی سخت خرابی ہے “۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «‏نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ» [31-لقمان:24] ‏ ” دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کی طرف بے بس کردیں گے “۔ اور جگہ فرمان ہے «‏قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ» [10-یونس:69] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے “۔ 10165 پھر فرمایا کہ ” ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کر لو تو ان سے یہ بھی نہیں ہو سکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کر دیتے ہیں، ان کے لیے جو جھٹلانے میں عمریں گزار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہو گی “۔ پھر فرمایا ” جب یہ لوگ اس پاک کلام پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے؟۔ جیسے اور جگہ ہے «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ» [45-الجاثية:6] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر اور اس کی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے؟ “، ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں «آمَنْت بِاَللَّهِ وَبِمَا أَنْزَلَ» کہنا چاہیئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث سورۃ القیامہ کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔ سورۃ والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10166

المرسلات 77:45

دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ ٭٭ اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ ” جو لوگ متقی پرہیزگار تھے، اللہ کے عبادت گزار تھے، فرائض اور واجبات کے پابند تھے، اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبودار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں باآرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے، نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے “۔ پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دوبالا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے باربار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو! تم باخوشی اور با فراغت لذیذ پر کیف طَعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے “۔ ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ ” اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتا لو، فائدے اٹھا لو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہو جائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے “۔ جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ ” تمہاری بد اعمالیوں اور سیاہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی کو، ہماری وحی کو، نہ ماننے والا، اسے جھوٹا جاننے والا، قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہو گا۔ اسی کی سخت خرابی ہے “۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «‏نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ» [31-لقمان:24] ‏ ” دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کی طرف بے بس کردیں گے “۔ اور جگہ فرمان ہے «‏قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ» [10-یونس:69] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے “۔ 10165 پھر فرمایا کہ ” ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کر لو تو ان سے یہ بھی نہیں ہو سکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کر دیتے ہیں، ان کے لیے جو جھٹلانے میں عمریں گزار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہو گی “۔ پھر فرمایا ” جب یہ لوگ اس پاک کلام پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے؟۔ جیسے اور جگہ ہے «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ» [45-الجاثية:6] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر اور اس کی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے؟ “، ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں «آمَنْت بِاَللَّهِ وَبِمَا أَنْزَلَ» کہنا چاہیئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث سورۃ القیامہ کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔ سورۃ والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10166

المرسلات 77:46

دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ ٭٭ اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ ” جو لوگ متقی پرہیزگار تھے، اللہ کے عبادت گزار تھے، فرائض اور واجبات کے پابند تھے، اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبودار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں باآرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے، نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے “۔ پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دوبالا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے باربار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو! تم باخوشی اور با فراغت لذیذ پر کیف طَعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے “۔ ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ ” اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتا لو، فائدے اٹھا لو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہو جائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے “۔ جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ ” تمہاری بد اعمالیوں اور سیاہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی کو، ہماری وحی کو، نہ ماننے والا، اسے جھوٹا جاننے والا، قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہو گا۔ اسی کی سخت خرابی ہے “۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «‏نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ» [31-لقمان:24] ‏ ” دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کی طرف بے بس کردیں گے “۔ اور جگہ فرمان ہے «‏قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ» [10-یونس:69] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے “۔ 10165 پھر فرمایا کہ ” ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کر لو تو ان سے یہ بھی نہیں ہو سکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کر دیتے ہیں، ان کے لیے جو جھٹلانے میں عمریں گزار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہو گی “۔ پھر فرمایا ” جب یہ لوگ اس پاک کلام پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے؟۔ جیسے اور جگہ ہے «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ» [45-الجاثية:6] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر اور اس کی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے؟ “، ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں «آمَنْت بِاَللَّهِ وَبِمَا أَنْزَلَ» کہنا چاہیئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث سورۃ القیامہ کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔ سورۃ والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10166

المرسلات 77:47

دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ ٭٭ اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ ” جو لوگ متقی پرہیزگار تھے، اللہ کے عبادت گزار تھے، فرائض اور واجبات کے پابند تھے، اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبودار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں باآرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے، نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے “۔ پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دوبالا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے باربار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو! تم باخوشی اور با فراغت لذیذ پر کیف طَعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے “۔ ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ ” اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتا لو، فائدے اٹھا لو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہو جائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے “۔ جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ ” تمہاری بد اعمالیوں اور سیاہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی کو، ہماری وحی کو، نہ ماننے والا، اسے جھوٹا جاننے والا، قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہو گا۔ اسی کی سخت خرابی ہے “۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «‏نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ» [31-لقمان:24] ‏ ” دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کی طرف بے بس کردیں گے “۔ اور جگہ فرمان ہے «‏قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ» [10-یونس:69] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے “۔ 10165 پھر فرمایا کہ ” ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کر لو تو ان سے یہ بھی نہیں ہو سکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کر دیتے ہیں، ان کے لیے جو جھٹلانے میں عمریں گزار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہو گی “۔ پھر فرمایا ” جب یہ لوگ اس پاک کلام پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے؟۔ جیسے اور جگہ ہے «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ» [45-الجاثية:6] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر اور اس کی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے؟ “، ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں «آمَنْت بِاَللَّهِ وَبِمَا أَنْزَلَ» کہنا چاہیئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث سورۃ القیامہ کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔ سورۃ والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10166

المرسلات 77:48

دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ ٭٭ اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ ” جو لوگ متقی پرہیزگار تھے، اللہ کے عبادت گزار تھے، فرائض اور واجبات کے پابند تھے، اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبودار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں باآرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے، نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے “۔ پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دوبالا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے باربار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو! تم باخوشی اور با فراغت لذیذ پر کیف طَعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے “۔ ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ ” اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتا لو، فائدے اٹھا لو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہو جائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے “۔ جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ ” تمہاری بد اعمالیوں اور سیاہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی کو، ہماری وحی کو، نہ ماننے والا، اسے جھوٹا جاننے والا، قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہو گا۔ اسی کی سخت خرابی ہے “۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «‏نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ» [31-لقمان:24] ‏ ” دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کی طرف بے بس کردیں گے “۔ اور جگہ فرمان ہے «‏قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ» [10-یونس:69] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے “۔ 10165 پھر فرمایا کہ ” ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کر لو تو ان سے یہ بھی نہیں ہو سکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کر دیتے ہیں، ان کے لیے جو جھٹلانے میں عمریں گزار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہو گی “۔ پھر فرمایا ” جب یہ لوگ اس پاک کلام پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے؟۔ جیسے اور جگہ ہے «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ» [45-الجاثية:6] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر اور اس کی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے؟ “، ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں «آمَنْت بِاَللَّهِ وَبِمَا أَنْزَلَ» کہنا چاہیئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث سورۃ القیامہ کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔ سورۃ والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10166

المرسلات 77:49

دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ ٭٭ اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ ” جو لوگ متقی پرہیزگار تھے، اللہ کے عبادت گزار تھے، فرائض اور واجبات کے پابند تھے، اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبودار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں باآرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے، نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے “۔ پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دوبالا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے باربار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو! تم باخوشی اور با فراغت لذیذ پر کیف طَعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے “۔ ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ ” اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتا لو، فائدے اٹھا لو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہو جائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے “۔ جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ ” تمہاری بد اعمالیوں اور سیاہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی کو، ہماری وحی کو، نہ ماننے والا، اسے جھوٹا جاننے والا، قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہو گا۔ اسی کی سخت خرابی ہے “۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «‏نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ» [31-لقمان:24] ‏ ” دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کی طرف بے بس کردیں گے “۔ اور جگہ فرمان ہے «‏قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ» [10-یونس:69] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے “۔ 10165 پھر فرمایا کہ ” ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کر لو تو ان سے یہ بھی نہیں ہو سکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کر دیتے ہیں، ان کے لیے جو جھٹلانے میں عمریں گزار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہو گی “۔ پھر فرمایا ” جب یہ لوگ اس پاک کلام پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے؟۔ جیسے اور جگہ ہے «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ» [45-الجاثية:6] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر اور اس کی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے؟ “، ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں «آمَنْت بِاَللَّهِ وَبِمَا أَنْزَلَ» کہنا چاہیئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث سورۃ القیامہ کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔ سورۃ والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10166

المرسلات 77:50

دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ ٭٭ اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ ” جو لوگ متقی پرہیزگار تھے، اللہ کے عبادت گزار تھے، فرائض اور واجبات کے پابند تھے، اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبودار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں باآرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے، نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے “۔ پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دوبالا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے باربار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو! تم باخوشی اور با فراغت لذیذ پر کیف طَعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے “۔ ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ ” اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتا لو، فائدے اٹھا لو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہو جائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے “۔ جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ ” تمہاری بد اعمالیوں اور سیاہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی کو، ہماری وحی کو، نہ ماننے والا، اسے جھوٹا جاننے والا، قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہو گا۔ اسی کی سخت خرابی ہے “۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «‏نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ» [31-لقمان:24] ‏ ” دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کی طرف بے بس کردیں گے “۔ اور جگہ فرمان ہے «‏قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ» [10-یونس:69] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے “۔ 10165 پھر فرمایا کہ ” ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کر لو تو ان سے یہ بھی نہیں ہو سکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کر دیتے ہیں، ان کے لیے جو جھٹلانے میں عمریں گزار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہو گی “۔ پھر فرمایا ” جب یہ لوگ اس پاک کلام پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے؟۔ جیسے اور جگہ ہے «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ» [45-الجاثية:6] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ پر اور اس کی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے؟ “، ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں «آمَنْت بِاَللَّهِ وَبِمَا أَنْزَلَ» کہنا چاہیئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث سورۃ القیامہ کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔ سورۃ والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10166

النبأ 78:1

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭ جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ “ 10176 پھر خود فرماتا ہے کہ ” یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے “۔ مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔ پھر اس آیت «‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏ [78-النبأ:3] ‏ ” جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں “، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ” تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے “، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟ زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ” دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے “۔ انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ” زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں “۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏ [30-الروم:21] ‏ ” اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا “۔ 10177

النبأ 78:2

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭ جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ “ 10176 پھر خود فرماتا ہے کہ ” یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے “۔ مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔ پھر اس آیت «‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏ [78-النبأ:3] ‏ ” جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں “، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ” تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے “، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟ زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ” دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے “۔ انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ” زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں “۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏ [30-الروم:21] ‏ ” اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا “۔ 10177

النبأ 78:3

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭ جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ “ 10176 پھر خود فرماتا ہے کہ ” یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے “۔ مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔ پھر اس آیت «‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏ [78-النبأ:3] ‏ ” جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں “، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ” تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے “، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟ زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ” دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے “۔ انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ” زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں “۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏ [30-الروم:21] ‏ ” اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا “۔ 10177

النبأ 78:4

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭ جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ “ 10176 پھر خود فرماتا ہے کہ ” یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے “۔ مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔ پھر اس آیت «‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏ [78-النبأ:3] ‏ ” جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں “، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ” تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے “، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟ زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ” دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے “۔ انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ” زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں “۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏ [30-الروم:21] ‏ ” اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا “۔ 10177

النبأ 78:5

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭ جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ “ 10176 پھر خود فرماتا ہے کہ ” یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے “۔ مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔ پھر اس آیت «‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏ [78-النبأ:3] ‏ ” جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں “، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ” تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے “، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟ زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ” دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے “۔ انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ” زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں “۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏ [30-الروم:21] ‏ ” اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا “۔ 10177

النبأ 78:6

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭ جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ “ 10176 پھر خود فرماتا ہے کہ ” یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے “۔ مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔ پھر اس آیت «‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏ [78-النبأ:3] ‏ ” جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں “، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ” تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے “، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟ زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ” دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے “۔ انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ” زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں “۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏ [30-الروم:21] ‏ ” اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا “۔ 10177

النبأ 78:7

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭ جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ “ 10176 پھر خود فرماتا ہے کہ ” یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے “۔ مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔ پھر اس آیت «‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏ [78-النبأ:3] ‏ ” جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں “، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ” تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے “، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟ زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ” دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے “۔ انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ” زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں “۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏ [30-الروم:21] ‏ ” اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا “۔ 10177

النبأ 78:8

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭ جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ “ 10176 پھر خود فرماتا ہے کہ ” یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے “۔ مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔ پھر اس آیت «‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏ [78-النبأ:3] ‏ ” جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں “، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ” تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے “، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟ زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ” دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے “۔ انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ” زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں “۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏ [30-الروم:21] ‏ ” اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا “۔ 10177

النبأ 78:9

باب پھر فرماتا ہے ” ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے “، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ” رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے “۔ جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:4] ‏ ” قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے “۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔ 10185 پھر فرمایا ” ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ «الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» [30-الروم:48] ‏ ” اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے “۔ «ثَجَّاجًا» ‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏ «ثَجّاجًا» کی تشریح: ایک حدیث میں ہے «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں ۔ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روئی کا پھایا رکھ لو ، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10186 ” پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں “۔ «أَلْفَافًا» ‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [13-الرعد:4] ‏ ” زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں “۔ 10187

النبأ 78:10

باب پھر فرماتا ہے ” ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے “، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ” رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے “۔ جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:4] ‏ ” قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے “۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔ 10185 پھر فرمایا ” ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ «الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» [30-الروم:48] ‏ ” اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے “۔ «ثَجَّاجًا» ‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏ «ثَجّاجًا» کی تشریح: ایک حدیث میں ہے «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں ۔ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روئی کا پھایا رکھ لو ، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10186 ” پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں “۔ «أَلْفَافًا» ‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [13-الرعد:4] ‏ ” زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں “۔ 10187

النبأ 78:11

باب پھر فرماتا ہے ” ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے “، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ” رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے “۔ جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:4] ‏ ” قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے “۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔ 10185 پھر فرمایا ” ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ «الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» [30-الروم:48] ‏ ” اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے “۔ «ثَجَّاجًا» ‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏ «ثَجّاجًا» کی تشریح: ایک حدیث میں ہے «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں ۔ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روئی کا پھایا رکھ لو ، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10186 ” پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں “۔ «أَلْفَافًا» ‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [13-الرعد:4] ‏ ” زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں “۔ 10187

النبأ 78:12

باب پھر فرماتا ہے ” ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے “، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ” رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے “۔ جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:4] ‏ ” قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے “۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔ 10185 پھر فرمایا ” ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ «الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» [30-الروم:48] ‏ ” اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے “۔ «ثَجَّاجًا» ‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏ «ثَجّاجًا» کی تشریح: ایک حدیث میں ہے «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں ۔ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روئی کا پھایا رکھ لو ، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10186 ” پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں “۔ «أَلْفَافًا» ‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [13-الرعد:4] ‏ ” زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں “۔ 10187

النبأ 78:13

باب پھر فرماتا ہے ” ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے “، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ” رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے “۔ جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:4] ‏ ” قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے “۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔ 10185 پھر فرمایا ” ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ «الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» [30-الروم:48] ‏ ” اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے “۔ «ثَجَّاجًا» ‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏ «ثَجّاجًا» کی تشریح: ایک حدیث میں ہے «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں ۔ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روئی کا پھایا رکھ لو ، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10186 ” پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں “۔ «أَلْفَافًا» ‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [13-الرعد:4] ‏ ” زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں “۔ 10187

النبأ 78:14

باب پھر فرماتا ہے ” ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے “، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ” رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے “۔ جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:4] ‏ ” قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے “۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔ 10185 پھر فرمایا ” ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ «الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» [30-الروم:48] ‏ ” اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے “۔ «ثَجَّاجًا» ‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏ «ثَجّاجًا» کی تشریح: ایک حدیث میں ہے «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں ۔ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روئی کا پھایا رکھ لو ، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10186 ” پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں “۔ «أَلْفَافًا» ‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [13-الرعد:4] ‏ ” زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں “۔ 10187

النبأ 78:15

باب پھر فرماتا ہے ” ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے “، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ” رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے “۔ جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:4] ‏ ” قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے “۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔ 10185 پھر فرمایا ” ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ «الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» [30-الروم:48] ‏ ” اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے “۔ «ثَجَّاجًا» ‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏ «ثَجّاجًا» کی تشریح: ایک حدیث میں ہے «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں ۔ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روئی کا پھایا رکھ لو ، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10186 ” پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں “۔ «أَلْفَافًا» ‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [13-الرعد:4] ‏ ” زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں “۔ 10187

النبأ 78:16

باب پھر فرماتا ہے ” ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے “، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ” رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے “۔ جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:4] ‏ ” قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے “۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔ 10185 پھر فرمایا ” ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ «الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» [30-الروم:48] ‏ ” اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے “۔ «ثَجَّاجًا» ‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏ «ثَجّاجًا» کی تشریح: ایک حدیث میں ہے «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں ۔ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روئی کا پھایا رکھ لو ، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10186 ” پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں “۔ «أَلْفَافًا» ‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [13-الرعد:4] ‏ ” زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں “۔ 10187

النبأ 78:17

جماعت در جماعت حاضری ٭٭ یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آ جائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ ‏ «‏وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» [11-ھود:104] ‏ ” نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لیے “۔ اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «‏يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ» [17-الإسراء:71] ‏ ” جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں سمیت بلائیں گے “۔ 10195 صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دونوں صور کے درمیان چالیس ہوں گے“، لوگوں نے پوچھا چالیس دن؟ کہا ”میں نہیں کہہ سکتا“، پوچھا: چالیس مہینے؟ کہا ”مجھے خبر نہیں۔‏“ پوچھا: چالیس سال؟ کہا ”میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا، پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا اور جس طرح درخت اگتے ہیں لوگ زمین سے اگیں گے، انسان کا تمام بدن گل سڑ جاتا ہے لیکن ایک ہڈی اور وہ کمر کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسی سے قیامت کے دن مخلوق مرکب کی جائے گی۔‏“ [صحیح بخاری:4935] ‏ آسمان کھول دیئے جائیں گے اور اس میں فرشتوں کے اترنے کے راستے اور دورازے بن جائیں گے، پہاڑ چلائے جائیں گے اور بالکل ریت کے ذرے بن جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ اِنَّهٗ خَبِيْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ» [27-النمل:88] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو، جان رہے ہو وہ پختہ مضبوط اور جامد ہیں لیکن یہ بادلوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں گے “۔ اور جگہ ہے‏ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [101-القارعة:5] ‏ ” پہاڑ مثل دھنی ہوئی اون کے ہو جائیں گے “۔ یہاں فرمایا ” پہاڑ سراب ہو جائیں گے “ یعنی دیکھنے والا کہتا ہے کہ وہ کچھ ہے حالانکہ دراصل کچھ نہیں۔ آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے، نام و نشان تک نہ رہے گا۔ 10196 جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» ‏ [20-طه:107-105] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ انہیں میرا رب پراگندہ کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان میں رہ جائے گی جس میں نہ کوئی موڑ ہو گا نہ ٹیلا “۔ اور جگہ ہے ‏ «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏ ” جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین بالکل کھل گئی ہے “۔ 10197

النبأ 78:18

جماعت در جماعت حاضری ٭٭ یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آ جائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ ‏ «‏وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» [11-ھود:104] ‏ ” نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لیے “۔ اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «‏يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ» [17-الإسراء:71] ‏ ” جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں سمیت بلائیں گے “۔ 10195 صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دونوں صور کے درمیان چالیس ہوں گے“، لوگوں نے پوچھا چالیس دن؟ کہا ”میں نہیں کہہ سکتا“، پوچھا: چالیس مہینے؟ کہا ”مجھے خبر نہیں۔‏“ پوچھا: چالیس سال؟ کہا ”میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا، پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا اور جس طرح درخت اگتے ہیں لوگ زمین سے اگیں گے، انسان کا تمام بدن گل سڑ جاتا ہے لیکن ایک ہڈی اور وہ کمر کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسی سے قیامت کے دن مخلوق مرکب کی جائے گی۔‏“ [صحیح بخاری:4935] ‏ آسمان کھول دیئے جائیں گے اور اس میں فرشتوں کے اترنے کے راستے اور دورازے بن جائیں گے، پہاڑ چلائے جائیں گے اور بالکل ریت کے ذرے بن جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ اِنَّهٗ خَبِيْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ» [27-النمل:88] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو، جان رہے ہو وہ پختہ مضبوط اور جامد ہیں لیکن یہ بادلوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں گے “۔ اور جگہ ہے‏ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [101-القارعة:5] ‏ ” پہاڑ مثل دھنی ہوئی اون کے ہو جائیں گے “۔ یہاں فرمایا ” پہاڑ سراب ہو جائیں گے “ یعنی دیکھنے والا کہتا ہے کہ وہ کچھ ہے حالانکہ دراصل کچھ نہیں۔ آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے، نام و نشان تک نہ رہے گا۔ 10196 جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» ‏ [20-طه:107-105] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ انہیں میرا رب پراگندہ کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان میں رہ جائے گی جس میں نہ کوئی موڑ ہو گا نہ ٹیلا “۔ اور جگہ ہے ‏ «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏ ” جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین بالکل کھل گئی ہے “۔ 10197

النبأ 78:19

جماعت در جماعت حاضری ٭٭ یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آ جائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ ‏ «‏وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» [11-ھود:104] ‏ ” نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لیے “۔ اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «‏يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ» [17-الإسراء:71] ‏ ” جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں سمیت بلائیں گے “۔ 10195 صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دونوں صور کے درمیان چالیس ہوں گے“، لوگوں نے پوچھا چالیس دن؟ کہا ”میں نہیں کہہ سکتا“، پوچھا: چالیس مہینے؟ کہا ”مجھے خبر نہیں۔‏“ پوچھا: چالیس سال؟ کہا ”میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا، پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا اور جس طرح درخت اگتے ہیں لوگ زمین سے اگیں گے، انسان کا تمام بدن گل سڑ جاتا ہے لیکن ایک ہڈی اور وہ کمر کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسی سے قیامت کے دن مخلوق مرکب کی جائے گی۔‏“ [صحیح بخاری:4935] ‏ آسمان کھول دیئے جائیں گے اور اس میں فرشتوں کے اترنے کے راستے اور دورازے بن جائیں گے، پہاڑ چلائے جائیں گے اور بالکل ریت کے ذرے بن جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ اِنَّهٗ خَبِيْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ» [27-النمل:88] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو، جان رہے ہو وہ پختہ مضبوط اور جامد ہیں لیکن یہ بادلوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں گے “۔ اور جگہ ہے‏ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [101-القارعة:5] ‏ ” پہاڑ مثل دھنی ہوئی اون کے ہو جائیں گے “۔ یہاں فرمایا ” پہاڑ سراب ہو جائیں گے “ یعنی دیکھنے والا کہتا ہے کہ وہ کچھ ہے حالانکہ دراصل کچھ نہیں۔ آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے، نام و نشان تک نہ رہے گا۔ 10196 جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» ‏ [20-طه:107-105] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ انہیں میرا رب پراگندہ کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان میں رہ جائے گی جس میں نہ کوئی موڑ ہو گا نہ ٹیلا “۔ اور جگہ ہے ‏ «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏ ” جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین بالکل کھل گئی ہے “۔ 10197

النبأ 78:20

جماعت در جماعت حاضری ٭٭ یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آ جائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ ‏ «‏وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» [11-ھود:104] ‏ ” نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لیے “۔ اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «‏يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ» [17-الإسراء:71] ‏ ” جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں سمیت بلائیں گے “۔ 10195 صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دونوں صور کے درمیان چالیس ہوں گے“، لوگوں نے پوچھا چالیس دن؟ کہا ”میں نہیں کہہ سکتا“، پوچھا: چالیس مہینے؟ کہا ”مجھے خبر نہیں۔‏“ پوچھا: چالیس سال؟ کہا ”میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا، پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا اور جس طرح درخت اگتے ہیں لوگ زمین سے اگیں گے، انسان کا تمام بدن گل سڑ جاتا ہے لیکن ایک ہڈی اور وہ کمر کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسی سے قیامت کے دن مخلوق مرکب کی جائے گی۔‏“ [صحیح بخاری:4935] ‏ آسمان کھول دیئے جائیں گے اور اس میں فرشتوں کے اترنے کے راستے اور دورازے بن جائیں گے، پہاڑ چلائے جائیں گے اور بالکل ریت کے ذرے بن جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ اِنَّهٗ خَبِيْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ» [27-النمل:88] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو، جان رہے ہو وہ پختہ مضبوط اور جامد ہیں لیکن یہ بادلوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں گے “۔ اور جگہ ہے‏ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [101-القارعة:5] ‏ ” پہاڑ مثل دھنی ہوئی اون کے ہو جائیں گے “۔ یہاں فرمایا ” پہاڑ سراب ہو جائیں گے “ یعنی دیکھنے والا کہتا ہے کہ وہ کچھ ہے حالانکہ دراصل کچھ نہیں۔ آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے، نام و نشان تک نہ رہے گا۔ 10196 جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» ‏ [20-طه:107-105] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ انہیں میرا رب پراگندہ کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان میں رہ جائے گی جس میں نہ کوئی موڑ ہو گا نہ ٹیلا “۔ اور جگہ ہے ‏ «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏ ” جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین بالکل کھل گئی ہے “۔ 10197

النبأ 78:21

باب پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏ 10201 سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔ 10202 سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏ 10203

النبأ 78:22

باب پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏ 10201 سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔ 10202 سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏ 10203

النبأ 78:23

باب پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏ 10201 سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔ 10202 سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏ 10203

النبأ 78:24

باب پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏ 10201 سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔ 10202 سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏ 10203

النبأ 78:25

باب پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏ 10201 سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔ 10202 سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏ 10203

النبأ 78:26

باب پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏ 10201 سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔ 10202 سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏ 10203

النبأ 78:27

باب پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏ 10201 سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔ 10202 سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏ 10203

النبأ 78:28

باب پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏ 10201 سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔ 10202 سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏ 10203

النبأ 78:29

باب پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏ 10201 سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔ 10202 سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏ 10203

النبأ 78:30

باب پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏ 10201 سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔ 10202 سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏ 10203

النبأ 78:31

فضول اور گناہوں سے پاک دنیا ٭٭ نیک لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصد کو پانے والے اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا۔ ایک حدیث میں ہے کہ جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی ۔ [بیھقی البعث و النشور:ص318:ضعیف] ‏ انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس میں نشہ نہ ہو گا کہ بے ہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں، جیسے اور جگہ ہے «لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ» ‏ [52-الطور:23] ‏ ” اس میں نہ لغو ہو گا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں “، کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہو گی، وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، جو بے حد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔ عرب کہتے ہیں «‏أَعْطَانِي فَأَحْسَبنِي» ‏انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں «حَسْبِي اللَّه» ‏یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔ 10213

النبأ 78:32

فضول اور گناہوں سے پاک دنیا ٭٭ نیک لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصد کو پانے والے اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا۔ ایک حدیث میں ہے کہ جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی ۔ [بیھقی البعث و النشور:ص318:ضعیف] ‏ انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس میں نشہ نہ ہو گا کہ بے ہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں، جیسے اور جگہ ہے «لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ» ‏ [52-الطور:23] ‏ ” اس میں نہ لغو ہو گا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں “، کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہو گی، وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، جو بے حد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔ عرب کہتے ہیں «‏أَعْطَانِي فَأَحْسَبنِي» ‏انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں «حَسْبِي اللَّه» ‏یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔ 10213

النبأ 78:33

فضول اور گناہوں سے پاک دنیا ٭٭ نیک لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصد کو پانے والے اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا۔ ایک حدیث میں ہے کہ جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی ۔ [بیھقی البعث و النشور:ص318:ضعیف] ‏ انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس میں نشہ نہ ہو گا کہ بے ہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں، جیسے اور جگہ ہے «لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ» ‏ [52-الطور:23] ‏ ” اس میں نہ لغو ہو گا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں “، کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہو گی، وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، جو بے حد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔ عرب کہتے ہیں «‏أَعْطَانِي فَأَحْسَبنِي» ‏انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں «حَسْبِي اللَّه» ‏یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔ 10213

النبأ 78:34

فضول اور گناہوں سے پاک دنیا ٭٭ نیک لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصد کو پانے والے اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا۔ ایک حدیث میں ہے کہ جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی ۔ [بیھقی البعث و النشور:ص318:ضعیف] ‏ انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس میں نشہ نہ ہو گا کہ بے ہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں، جیسے اور جگہ ہے «لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ» ‏ [52-الطور:23] ‏ ” اس میں نہ لغو ہو گا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں “، کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہو گی، وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، جو بے حد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔ عرب کہتے ہیں «‏أَعْطَانِي فَأَحْسَبنِي» ‏انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں «حَسْبِي اللَّه» ‏یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔ 10213

النبأ 78:35

فضول اور گناہوں سے پاک دنیا ٭٭ نیک لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصد کو پانے والے اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا۔ ایک حدیث میں ہے کہ جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی ۔ [بیھقی البعث و النشور:ص318:ضعیف] ‏ انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس میں نشہ نہ ہو گا کہ بے ہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں، جیسے اور جگہ ہے «لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ» ‏ [52-الطور:23] ‏ ” اس میں نہ لغو ہو گا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں “، کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہو گی، وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، جو بے حد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔ عرب کہتے ہیں «‏أَعْطَانِي فَأَحْسَبنِي» ‏انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں «حَسْبِي اللَّه» ‏یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔ 10213

النبأ 78:36

فضول اور گناہوں سے پاک دنیا ٭٭ نیک لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصد کو پانے والے اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا۔ ایک حدیث میں ہے کہ جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی ۔ [بیھقی البعث و النشور:ص318:ضعیف] ‏ انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس میں نشہ نہ ہو گا کہ بے ہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں، جیسے اور جگہ ہے «لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ» ‏ [52-الطور:23] ‏ ” اس میں نہ لغو ہو گا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں “، کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہو گی، وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، جو بے حد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔ عرب کہتے ہیں «‏أَعْطَانِي فَأَحْسَبنِي» ‏انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں «حَسْبِي اللَّه» ‏یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔ 10213

النبأ 78:37

روح الامین علیہ السلام ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جلال کی خبر دے رہا ہے کہ ” آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوق کا پالنے پوسنے والا ہے، وہ رحمان ہے، جس کے رحم نے تمام چیزوں کو گھیر لیا ہے، جب تک اس کی اجازت نہ ہو کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا “۔ جیسے اور جگہ ہے «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [2-البقرة:255] ‏ یعنی ” کون ہے جو اس کی اجازت بغیر اس کے سامنے سفارش لے جا سکے “۔ اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ» [11-ھود:105] ‏ ” جس دن وه آ جائے گا کوئی بھی بلا اجازت اس سے بات نہ کر سکے گا “۔ روح سے مراد یا تو کل انسانوں کی روحیں ہیں یا کل انسان ہیں یا ایک قسم کی خاص مخلوق ہے جو انسانوں کی سی صورتوں والے ہیں کھاتے پیتے ہیں نہ وہ فرشتے ہیں نہ انسان، یا مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، جبرائیل علیہ السلام کو اور جگہ بھی «روح» کہا گیا ہے، ارشاد ہے «‏نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [‏26-الشعراء:194،193] ‏ ” اسے امانت دار «روح» نے تیرے دل پر اتارا ہے تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے “، یہاں مراد «روح» سے یقیناً جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ 10219 مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”تمام فرشتوں سے بزرگ، اللہ کے مقرب اور وحی لے کر آنے والے بھی ہیں، یا مراد «روح» سے قرآن ہے، اس کی دلیل میں یہ آیت پیش کی جاسکتی ہے «‏وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا» ‏ [42-الشورى:52] ‏ یعنی ” ہم نے اپنے حکم سے تیری طرف روح اتاری “، یہاں «روح» سے مراد قرآن ہے۔ چھٹا قول یہ ہے کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو تمام مخلوق کے برابر ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”یہ فرشتہ تمام فرشتوں سے بہت بڑا ہے۔‏“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”یہ روح نامی فرشتہ چوتھے آسمان میں ہے، تمام آسمانوں، کل پہاڑوں اور سب فرشتوں سے بڑا ہے، ہر دن بارہ ہزار تسبیحات پڑھتا ہے ہر ایک تسبیح سے ایک ایک فرشتہ پیدا ہوتا ہے، قیامت کے دن وہ اکیلا ایک صف بن کر آئے گا۔‏“ لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:22/30:ضعیف] ‏ طبرانی میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”فرشتوں میں ایک فرشتہ وہ بھی ہے کہ اگر اسے حکم ہو کہ تمام آسمانوں اور زمینوں کو لقمہ بنا لے تو وہ ایک لقمہ میں سب کو لے لے اس کی تسبیح یہ ہے «سُبْحَانك حَيْثُ كُنْتَ» اللہ تو جہاں کہیں بھی ہے پاک ہے“ [طبرانی کبیر:11476،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے بلکہ اس کے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے میں بھی کلام ہے، ممکن ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہو، اور وہ بھی بنی اسرائیل سے لیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ سب اقوال وارد کئے ہیں لیکن کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ میرے نزدیک ان تمام اقوال میں سے بہتر قول یہ ہے کہ یہاں «روح» سے مراد کل انسان ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10220 پھر فرمایا ” صرف وہی اس دن بات کر سکے گا جسے وہ رحمن اجازت دے “۔ جیسے فرمایا «يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [11-ھود:105] ‏ یعنی ” جس دن وہ وقت آئے گا کوئی نفس بغیر اس کی اجازت کے کلام بھی نہیں کر سکے گا “۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس دن سوائے رسولوں کے کوئی بات نہ کر سکے گا۔ [صحیح بخاری:806] ‏ پھر فرمایا کہ ” اس کی بات بھی ٹھیک ٹھاک ہو “، سب سے زیادہ حق بات «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔ پھر فرمایا کہ ” یہ دن حق ہے یقیناً آنے والا ہے، جو چاہے اپنے رب کے پاس اپنے لوٹنے کی جگہ اور وہ راستہ بنا لے جس پر چل کر وہ اس کے پاس سیدھا جا پہنچے، ہم نے تمہیں بالکل قریب آئی ہوئی آفت سے آگاہ کر دیا ہے، آنے والی چیز تو آ گئی ہوئی سمجھنی چاہیئے، اس دن نئے پرانے چھوٹے بڑے اچھے برے کل اعمال انسان کے سامنے ہوں گے “۔ جیسے فرمایا «وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا» [18-الکھف:49] ‏ ” جو کیا اسے سامنے پا لیں گے “ اور جگہ ہے، «‏يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ» ‏ [75-القيامة:13] ‏ ” ہر انسان کو اس کے اگلے پچھلے اعمال سے متنبہ کیا جائے گا “۔ اس دن کافر آرزو کرے گا کاش کہ وہ مٹی ہوتا پیدا ہی نہ کیا جاتا وجود میں ہی نہ آتا، اللہ کے عذاب کو آنکھ سے دیکھ لے گا اپنی بدکاریاں سامنے ہوں گی جو پاک فرشتوں کے منصف ہاتھوں کی لکھی ہوئی ہیں، پس ایک معنی تو یہ ہوئے کہ دنیا میں ہی مٹی ہونے کی یعنی پیدا نہ ہونے کی آرزو کرے گا۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ جب جانوروں کا فیصلہ ہو گا اور ان کے قصاص دلوائے جائیں گے یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس سے بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جاؤ وہ مٹی ہو جائیں گے، اس وقت یہ کافر انسان بھی کہے گا کہ ہائے کاش میں بھی حیوان ہوتا اور اب مٹی بن جاتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لمبی حدیث میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے اور سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ النباء کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـهِ وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيْقُ وَالْعِصْمَة» 10221

النبأ 78:38

روح الامین علیہ السلام ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جلال کی خبر دے رہا ہے کہ ” آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوق کا پالنے پوسنے والا ہے، وہ رحمان ہے، جس کے رحم نے تمام چیزوں کو گھیر لیا ہے، جب تک اس کی اجازت نہ ہو کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا “۔ جیسے اور جگہ ہے «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [2-البقرة:255] ‏ یعنی ” کون ہے جو اس کی اجازت بغیر اس کے سامنے سفارش لے جا سکے “۔ اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ» [11-ھود:105] ‏ ” جس دن وه آ جائے گا کوئی بھی بلا اجازت اس سے بات نہ کر سکے گا “۔ روح سے مراد یا تو کل انسانوں کی روحیں ہیں یا کل انسان ہیں یا ایک قسم کی خاص مخلوق ہے جو انسانوں کی سی صورتوں والے ہیں کھاتے پیتے ہیں نہ وہ فرشتے ہیں نہ انسان، یا مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، جبرائیل علیہ السلام کو اور جگہ بھی «روح» کہا گیا ہے، ارشاد ہے «‏نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [‏26-الشعراء:194،193] ‏ ” اسے امانت دار «روح» نے تیرے دل پر اتارا ہے تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے “، یہاں مراد «روح» سے یقیناً جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ 10219 مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”تمام فرشتوں سے بزرگ، اللہ کے مقرب اور وحی لے کر آنے والے بھی ہیں، یا مراد «روح» سے قرآن ہے، اس کی دلیل میں یہ آیت پیش کی جاسکتی ہے «‏وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا» ‏ [42-الشورى:52] ‏ یعنی ” ہم نے اپنے حکم سے تیری طرف روح اتاری “، یہاں «روح» سے مراد قرآن ہے۔ چھٹا قول یہ ہے کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو تمام مخلوق کے برابر ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”یہ فرشتہ تمام فرشتوں سے بہت بڑا ہے۔‏“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”یہ روح نامی فرشتہ چوتھے آسمان میں ہے، تمام آسمانوں، کل پہاڑوں اور سب فرشتوں سے بڑا ہے، ہر دن بارہ ہزار تسبیحات پڑھتا ہے ہر ایک تسبیح سے ایک ایک فرشتہ پیدا ہوتا ہے، قیامت کے دن وہ اکیلا ایک صف بن کر آئے گا۔‏“ لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:22/30:ضعیف] ‏ طبرانی میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”فرشتوں میں ایک فرشتہ وہ بھی ہے کہ اگر اسے حکم ہو کہ تمام آسمانوں اور زمینوں کو لقمہ بنا لے تو وہ ایک لقمہ میں سب کو لے لے اس کی تسبیح یہ ہے «سُبْحَانك حَيْثُ كُنْتَ» اللہ تو جہاں کہیں بھی ہے پاک ہے“ [طبرانی کبیر:11476،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے بلکہ اس کے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے میں بھی کلام ہے، ممکن ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہو، اور وہ بھی بنی اسرائیل سے لیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ سب اقوال وارد کئے ہیں لیکن کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ میرے نزدیک ان تمام اقوال میں سے بہتر قول یہ ہے کہ یہاں «روح» سے مراد کل انسان ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10220 پھر فرمایا ” صرف وہی اس دن بات کر سکے گا جسے وہ رحمن اجازت دے “۔ جیسے فرمایا «يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [11-ھود:105] ‏ یعنی ” جس دن وہ وقت آئے گا کوئی نفس بغیر اس کی اجازت کے کلام بھی نہیں کر سکے گا “۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس دن سوائے رسولوں کے کوئی بات نہ کر سکے گا۔ [صحیح بخاری:806] ‏ پھر فرمایا کہ ” اس کی بات بھی ٹھیک ٹھاک ہو “، سب سے زیادہ حق بات «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔ پھر فرمایا کہ ” یہ دن حق ہے یقیناً آنے والا ہے، جو چاہے اپنے رب کے پاس اپنے لوٹنے کی جگہ اور وہ راستہ بنا لے جس پر چل کر وہ اس کے پاس سیدھا جا پہنچے، ہم نے تمہیں بالکل قریب آئی ہوئی آفت سے آگاہ کر دیا ہے، آنے والی چیز تو آ گئی ہوئی سمجھنی چاہیئے، اس دن نئے پرانے چھوٹے بڑے اچھے برے کل اعمال انسان کے سامنے ہوں گے “۔ جیسے فرمایا «وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا» [18-الکھف:49] ‏ ” جو کیا اسے سامنے پا لیں گے “ اور جگہ ہے، «‏يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ» ‏ [75-القيامة:13] ‏ ” ہر انسان کو اس کے اگلے پچھلے اعمال سے متنبہ کیا جائے گا “۔ اس دن کافر آرزو کرے گا کاش کہ وہ مٹی ہوتا پیدا ہی نہ کیا جاتا وجود میں ہی نہ آتا، اللہ کے عذاب کو آنکھ سے دیکھ لے گا اپنی بدکاریاں سامنے ہوں گی جو پاک فرشتوں کے منصف ہاتھوں کی لکھی ہوئی ہیں، پس ایک معنی تو یہ ہوئے کہ دنیا میں ہی مٹی ہونے کی یعنی پیدا نہ ہونے کی آرزو کرے گا۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ جب جانوروں کا فیصلہ ہو گا اور ان کے قصاص دلوائے جائیں گے یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس سے بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جاؤ وہ مٹی ہو جائیں گے، اس وقت یہ کافر انسان بھی کہے گا کہ ہائے کاش میں بھی حیوان ہوتا اور اب مٹی بن جاتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لمبی حدیث میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے اور سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ النباء کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـهِ وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيْقُ وَالْعِصْمَة» 10221

النبأ 78:39

روح الامین علیہ السلام ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جلال کی خبر دے رہا ہے کہ ” آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوق کا پالنے پوسنے والا ہے، وہ رحمان ہے، جس کے رحم نے تمام چیزوں کو گھیر لیا ہے، جب تک اس کی اجازت نہ ہو کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا “۔ جیسے اور جگہ ہے «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [2-البقرة:255] ‏ یعنی ” کون ہے جو اس کی اجازت بغیر اس کے سامنے سفارش لے جا سکے “۔ اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ» [11-ھود:105] ‏ ” جس دن وه آ جائے گا کوئی بھی بلا اجازت اس سے بات نہ کر سکے گا “۔ روح سے مراد یا تو کل انسانوں کی روحیں ہیں یا کل انسان ہیں یا ایک قسم کی خاص مخلوق ہے جو انسانوں کی سی صورتوں والے ہیں کھاتے پیتے ہیں نہ وہ فرشتے ہیں نہ انسان، یا مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، جبرائیل علیہ السلام کو اور جگہ بھی «روح» کہا گیا ہے، ارشاد ہے «‏نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [‏26-الشعراء:194،193] ‏ ” اسے امانت دار «روح» نے تیرے دل پر اتارا ہے تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے “، یہاں مراد «روح» سے یقیناً جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ 10219 مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”تمام فرشتوں سے بزرگ، اللہ کے مقرب اور وحی لے کر آنے والے بھی ہیں، یا مراد «روح» سے قرآن ہے، اس کی دلیل میں یہ آیت پیش کی جاسکتی ہے «‏وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا» ‏ [42-الشورى:52] ‏ یعنی ” ہم نے اپنے حکم سے تیری طرف روح اتاری “، یہاں «روح» سے مراد قرآن ہے۔ چھٹا قول یہ ہے کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو تمام مخلوق کے برابر ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”یہ فرشتہ تمام فرشتوں سے بہت بڑا ہے۔‏“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”یہ روح نامی فرشتہ چوتھے آسمان میں ہے، تمام آسمانوں، کل پہاڑوں اور سب فرشتوں سے بڑا ہے، ہر دن بارہ ہزار تسبیحات پڑھتا ہے ہر ایک تسبیح سے ایک ایک فرشتہ پیدا ہوتا ہے، قیامت کے دن وہ اکیلا ایک صف بن کر آئے گا۔‏“ لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:22/30:ضعیف] ‏ طبرانی میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”فرشتوں میں ایک فرشتہ وہ بھی ہے کہ اگر اسے حکم ہو کہ تمام آسمانوں اور زمینوں کو لقمہ بنا لے تو وہ ایک لقمہ میں سب کو لے لے اس کی تسبیح یہ ہے «سُبْحَانك حَيْثُ كُنْتَ» اللہ تو جہاں کہیں بھی ہے پاک ہے“ [طبرانی کبیر:11476،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے بلکہ اس کے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے میں بھی کلام ہے، ممکن ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہو، اور وہ بھی بنی اسرائیل سے لیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ سب اقوال وارد کئے ہیں لیکن کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ میرے نزدیک ان تمام اقوال میں سے بہتر قول یہ ہے کہ یہاں «روح» سے مراد کل انسان ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10220 پھر فرمایا ” صرف وہی اس دن بات کر سکے گا جسے وہ رحمن اجازت دے “۔ جیسے فرمایا «يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [11-ھود:105] ‏ یعنی ” جس دن وہ وقت آئے گا کوئی نفس بغیر اس کی اجازت کے کلام بھی نہیں کر سکے گا “۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس دن سوائے رسولوں کے کوئی بات نہ کر سکے گا۔ [صحیح بخاری:806] ‏ پھر فرمایا کہ ” اس کی بات بھی ٹھیک ٹھاک ہو “، سب سے زیادہ حق بات «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔ پھر فرمایا کہ ” یہ دن حق ہے یقیناً آنے والا ہے، جو چاہے اپنے رب کے پاس اپنے لوٹنے کی جگہ اور وہ راستہ بنا لے جس پر چل کر وہ اس کے پاس سیدھا جا پہنچے، ہم نے تمہیں بالکل قریب آئی ہوئی آفت سے آگاہ کر دیا ہے، آنے والی چیز تو آ گئی ہوئی سمجھنی چاہیئے، اس دن نئے پرانے چھوٹے بڑے اچھے برے کل اعمال انسان کے سامنے ہوں گے “۔ جیسے فرمایا «وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا» [18-الکھف:49] ‏ ” جو کیا اسے سامنے پا لیں گے “ اور جگہ ہے، «‏يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ» ‏ [75-القيامة:13] ‏ ” ہر انسان کو اس کے اگلے پچھلے اعمال سے متنبہ کیا جائے گا “۔ اس دن کافر آرزو کرے گا کاش کہ وہ مٹی ہوتا پیدا ہی نہ کیا جاتا وجود میں ہی نہ آتا، اللہ کے عذاب کو آنکھ سے دیکھ لے گا اپنی بدکاریاں سامنے ہوں گی جو پاک فرشتوں کے منصف ہاتھوں کی لکھی ہوئی ہیں، پس ایک معنی تو یہ ہوئے کہ دنیا میں ہی مٹی ہونے کی یعنی پیدا نہ ہونے کی آرزو کرے گا۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ جب جانوروں کا فیصلہ ہو گا اور ان کے قصاص دلوائے جائیں گے یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس سے بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جاؤ وہ مٹی ہو جائیں گے، اس وقت یہ کافر انسان بھی کہے گا کہ ہائے کاش میں بھی حیوان ہوتا اور اب مٹی بن جاتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لمبی حدیث میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے اور سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ النباء کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـهِ وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيْقُ وَالْعِصْمَة» 10221

النبأ 78:40

روح الامین علیہ السلام ٭٭ اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جلال کی خبر دے رہا ہے کہ ” آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوق کا پالنے پوسنے والا ہے، وہ رحمان ہے، جس کے رحم نے تمام چیزوں کو گھیر لیا ہے، جب تک اس کی اجازت نہ ہو کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا “۔ جیسے اور جگہ ہے «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [2-البقرة:255] ‏ یعنی ” کون ہے جو اس کی اجازت بغیر اس کے سامنے سفارش لے جا سکے “۔ اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ» [11-ھود:105] ‏ ” جس دن وه آ جائے گا کوئی بھی بلا اجازت اس سے بات نہ کر سکے گا “۔ روح سے مراد یا تو کل انسانوں کی روحیں ہیں یا کل انسان ہیں یا ایک قسم کی خاص مخلوق ہے جو انسانوں کی سی صورتوں والے ہیں کھاتے پیتے ہیں نہ وہ فرشتے ہیں نہ انسان، یا مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، جبرائیل علیہ السلام کو اور جگہ بھی «روح» کہا گیا ہے، ارشاد ہے «‏نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [‏26-الشعراء:194،193] ‏ ” اسے امانت دار «روح» نے تیرے دل پر اتارا ہے تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے “، یہاں مراد «روح» سے یقیناً جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ 10219 مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”تمام فرشتوں سے بزرگ، اللہ کے مقرب اور وحی لے کر آنے والے بھی ہیں، یا مراد «روح» سے قرآن ہے، اس کی دلیل میں یہ آیت پیش کی جاسکتی ہے «‏وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا» ‏ [42-الشورى:52] ‏ یعنی ” ہم نے اپنے حکم سے تیری طرف روح اتاری “، یہاں «روح» سے مراد قرآن ہے۔ چھٹا قول یہ ہے کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو تمام مخلوق کے برابر ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”یہ فرشتہ تمام فرشتوں سے بہت بڑا ہے۔‏“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”یہ روح نامی فرشتہ چوتھے آسمان میں ہے، تمام آسمانوں، کل پہاڑوں اور سب فرشتوں سے بڑا ہے، ہر دن بارہ ہزار تسبیحات پڑھتا ہے ہر ایک تسبیح سے ایک ایک فرشتہ پیدا ہوتا ہے، قیامت کے دن وہ اکیلا ایک صف بن کر آئے گا۔‏“ لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:22/30:ضعیف] ‏ طبرانی میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”فرشتوں میں ایک فرشتہ وہ بھی ہے کہ اگر اسے حکم ہو کہ تمام آسمانوں اور زمینوں کو لقمہ بنا لے تو وہ ایک لقمہ میں سب کو لے لے اس کی تسبیح یہ ہے «سُبْحَانك حَيْثُ كُنْتَ» اللہ تو جہاں کہیں بھی ہے پاک ہے“ [طبرانی کبیر:11476،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے بلکہ اس کے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے میں بھی کلام ہے، ممکن ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہو، اور وہ بھی بنی اسرائیل سے لیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ سب اقوال وارد کئے ہیں لیکن کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ میرے نزدیک ان تمام اقوال میں سے بہتر قول یہ ہے کہ یہاں «روح» سے مراد کل انسان ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10220 پھر فرمایا ” صرف وہی اس دن بات کر سکے گا جسے وہ رحمن اجازت دے “۔ جیسے فرمایا «يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [11-ھود:105] ‏ یعنی ” جس دن وہ وقت آئے گا کوئی نفس بغیر اس کی اجازت کے کلام بھی نہیں کر سکے گا “۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس دن سوائے رسولوں کے کوئی بات نہ کر سکے گا۔ [صحیح بخاری:806] ‏ پھر فرمایا کہ ” اس کی بات بھی ٹھیک ٹھاک ہو “، سب سے زیادہ حق بات «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔ پھر فرمایا کہ ” یہ دن حق ہے یقیناً آنے والا ہے، جو چاہے اپنے رب کے پاس اپنے لوٹنے کی جگہ اور وہ راستہ بنا لے جس پر چل کر وہ اس کے پاس سیدھا جا پہنچے، ہم نے تمہیں بالکل قریب آئی ہوئی آفت سے آگاہ کر دیا ہے، آنے والی چیز تو آ گئی ہوئی سمجھنی چاہیئے، اس دن نئے پرانے چھوٹے بڑے اچھے برے کل اعمال انسان کے سامنے ہوں گے “۔ جیسے فرمایا «وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا» [18-الکھف:49] ‏ ” جو کیا اسے سامنے پا لیں گے “ اور جگہ ہے، «‏يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ» ‏ [75-القيامة:13] ‏ ” ہر انسان کو اس کے اگلے پچھلے اعمال سے متنبہ کیا جائے گا “۔ اس دن کافر آرزو کرے گا کاش کہ وہ مٹی ہوتا پیدا ہی نہ کیا جاتا وجود میں ہی نہ آتا، اللہ کے عذاب کو آنکھ سے دیکھ لے گا اپنی بدکاریاں سامنے ہوں گی جو پاک فرشتوں کے منصف ہاتھوں کی لکھی ہوئی ہیں، پس ایک معنی تو یہ ہوئے کہ دنیا میں ہی مٹی ہونے کی یعنی پیدا نہ ہونے کی آرزو کرے گا۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ جب جانوروں کا فیصلہ ہو گا اور ان کے قصاص دلوائے جائیں گے یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس سے بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جاؤ وہ مٹی ہو جائیں گے، اس وقت یہ کافر انسان بھی کہے گا کہ ہائے کاش میں بھی حیوان ہوتا اور اب مٹی بن جاتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لمبی حدیث میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے اور سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ النباء کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـهِ وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيْقُ وَالْعِصْمَة» 10221