Lafzullah

Tafsir Ibn Kathir — الفجر 89:27 – الليل 92:21

Author / source: Tafsir Ibn Kathir

Contents
  1. الفجر 89:27
  2. الفجر 89:28
  3. الفجر 89:29
  4. الفجر 89:30
  5. البلد 90:1
  6. البلد 90:2
  7. البلد 90:3
  8. البلد 90:4
  9. البلد 90:5
  10. البلد 90:6
  11. البلد 90:7
  12. البلد 90:8
  13. البلد 90:9
  14. البلد 90:10
  15. البلد 90:11
  16. البلد 90:12
  17. البلد 90:13
  18. البلد 90:14
  19. البلد 90:15
  20. البلد 90:16
  21. البلد 90:17
  22. البلد 90:18
  23. البلد 90:19
  24. البلد 90:20
  25. الشمس 91:1
  26. الشمس 91:2
  27. الشمس 91:3
  28. الشمس 91:4
  29. الشمس 91:5
  30. الشمس 91:6
  31. الشمس 91:7
  32. الشمس 91:8
  33. الشمس 91:9
  34. الشمس 91:10
  35. الشمس 91:11
  36. الشمس 91:12
  37. الشمس 91:13
  38. الشمس 91:14
  39. الشمس 91:15
  40. الليل 92:1
  41. الليل 92:2
  42. الليل 92:3
  43. الليل 92:4
  44. الليل 92:5
  45. الليل 92:6
  46. الليل 92:7
  47. الليل 92:8
  48. الليل 92:9
  49. الليل 92:10
  50. الليل 92:11
  51. الليل 92:12
  52. الليل 92:13
  53. الليل 92:14
  54. الليل 92:15
  55. الليل 92:16
  56. الليل 92:17
  57. الليل 92:18
  58. الليل 92:19
  59. الليل 92:20
  60. الليل 92:21

الفجر 89:27

سجدوں کی برکتیں ٭٭ قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ” بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا “۔ یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔ 10598 صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم:2842] ‏ یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ ۔ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے “۔ یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ” تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔ 10599 سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔ یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ” اے روح میرے بندے میں “ یعنی ” اس کے جسم میں چلی جا “، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» [6-الأنعام:62] ‏ یعنی ” پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے “۔ اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» [40-غافر:43] ‏ یعنی ” ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے “۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ ۔ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏ 10600 ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔ ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» [89-الفجر:27-30] ‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔ ابن عساکر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ ۔ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏ سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10601

الفجر 89:28

سجدوں کی برکتیں ٭٭ قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ” بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا “۔ یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔ 10598 صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم:2842] ‏ یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ ۔ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے “۔ یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ” تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔ 10599 سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔ یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ” اے روح میرے بندے میں “ یعنی ” اس کے جسم میں چلی جا “، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» [6-الأنعام:62] ‏ یعنی ” پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے “۔ اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» [40-غافر:43] ‏ یعنی ” ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے “۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ ۔ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏ 10600 ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔ ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» [89-الفجر:27-30] ‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔ ابن عساکر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ ۔ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏ سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10601

الفجر 89:29

سجدوں کی برکتیں ٭٭ قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ” بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا “۔ یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔ 10598 صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم:2842] ‏ یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ ۔ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے “۔ یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ” تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔ 10599 سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔ یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ” اے روح میرے بندے میں “ یعنی ” اس کے جسم میں چلی جا “، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» [6-الأنعام:62] ‏ یعنی ” پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے “۔ اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» [40-غافر:43] ‏ یعنی ” ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے “۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ ۔ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏ 10600 ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔ ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» [89-الفجر:27-30] ‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔ ابن عساکر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ ۔ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏ سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10601

الفجر 89:30

سجدوں کی برکتیں ٭٭ قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ” بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا “۔ یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔ 10598 صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم:2842] ‏ یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ ۔ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے “۔ یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ” تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔ 10599 سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔ یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ” اے روح میرے بندے میں “ یعنی ” اس کے جسم میں چلی جا “، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» [6-الأنعام:62] ‏ یعنی ” پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے “۔ اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» [40-غافر:43] ‏ یعنی ” ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے “۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ ۔ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏ 10600 ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔ ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» [89-الفجر:27-30] ‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔ ابن عساکر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ ۔ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏ سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10601

البلد 90:1

مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭ اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔ ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832] ‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏“ پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ‏، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ‏ ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ‏ ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏“ 10611 قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔ 10612 ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏ پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] ‏ یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔ 10613

البلد 90:2

مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭ اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔ ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832] ‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏“ پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ‏، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ‏ ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ‏ ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏“ 10611 قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔ 10612 ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏ پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] ‏ یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔ 10613

البلد 90:3

مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭ اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔ ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832] ‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏“ پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ‏، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ‏ ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ‏ ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏“ 10611 قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔ 10612 ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏ پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] ‏ یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔ 10613

البلد 90:4

مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭ اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔ ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832] ‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏“ پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ‏، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ‏ ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ‏ ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏“ 10611 قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔ 10612 ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏ پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] ‏ یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔ 10613

البلد 90:5

مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭ اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔ ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832] ‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏“ پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ‏، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ‏ ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ‏ ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏“ 10611 قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔ 10612 ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏ پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] ‏ یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔ 10613

البلد 90:6

مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭ اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔ ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832] ‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏“ پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ‏، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ‏ ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ‏ ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏“ 10611 قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔ 10612 ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏ پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] ‏ یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔ 10613

البلد 90:7

مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭ اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔ ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832] ‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏“ پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ‏، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ‏ ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ‏ ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏“ 10611 قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔ 10612 ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏ پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] ‏ یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔ 10613

البلد 90:8

مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭ اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔ ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832] ‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏“ پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ‏، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ‏ ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ‏ ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏“ 10611 قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔ 10612 ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏ پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] ‏ یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔ 10613

البلد 90:9

مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭ اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔ ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832] ‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏“ پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ‏، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ‏ ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ‏ ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏“ 10611 قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔ 10612 ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏ پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] ‏ یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔ 10613

البلد 90:10

مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭ اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔ ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832] ‏ پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔ ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔‏“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔‏“ پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔ جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ‏، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔ اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ‏ ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔‏“ جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ‏ ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔‏“ 10611 قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔ 10612 ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف] ‏ پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] ‏ یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔ 10613

البلد 90:11

صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517] ‏ 10623 بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ 10624 مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ 10625 مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔ 10626 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ‏ ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] ‏ الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔ جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376] ‏ ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350] ‏ پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔ 10627 مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة» 10628

البلد 90:12

صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517] ‏ 10623 بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ 10624 مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ 10625 مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔ 10626 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ‏ ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] ‏ الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔ جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376] ‏ ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350] ‏ پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔ 10627 مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة» 10628

البلد 90:13

صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517] ‏ 10623 بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ 10624 مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ 10625 مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔ 10626 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ‏ ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] ‏ الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔ جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376] ‏ ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350] ‏ پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔ 10627 مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة» 10628

البلد 90:14

صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517] ‏ 10623 بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ 10624 مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ 10625 مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔ 10626 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ‏ ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] ‏ الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔ جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376] ‏ ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350] ‏ پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔ 10627 مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة» 10628

البلد 90:15

صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517] ‏ 10623 بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ 10624 مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ 10625 مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔ 10626 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ‏ ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] ‏ الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔ جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376] ‏ ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350] ‏ پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔ 10627 مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة» 10628

البلد 90:16

صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517] ‏ 10623 بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ 10624 مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ 10625 مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔ 10626 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ‏ ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] ‏ الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔ جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376] ‏ ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350] ‏ پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔ 10627 مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة» 10628

البلد 90:17

صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517] ‏ 10623 بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ 10624 مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ 10625 مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔ 10626 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ‏ ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] ‏ الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔ جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376] ‏ ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350] ‏ پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔ 10627 مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة» 10628

البلد 90:18

صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517] ‏ 10623 بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ 10624 مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ 10625 مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔ 10626 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ‏ ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] ‏ الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔ جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376] ‏ ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350] ‏ پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔ 10627 مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة» 10628

البلد 90:19

صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517] ‏ 10623 بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ 10624 مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ 10625 مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔ 10626 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ‏ ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] ‏ الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔ جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376] ‏ ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350] ‏ پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔ 10627 مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة» 10628

البلد 90:20

صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔‏“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517] ‏ 10623 بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ 10624 مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح] ‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ‏ ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ‏ ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ 10625 مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح] ‏ «ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔ 10626 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ‏ ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔ اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] ‏ الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔ پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔ جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376] ‏ ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350] ‏ پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔ 10627 مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ‏، میں آئے گا ان شاءاللہ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔‏“ ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔‏“ [ ابن ابی حاتم ] ‏ سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة» 10628

الشمس 91:1

تفسیر سورۃ الشمس: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم نے «سبح اسم ربك الأعلى» اور «والشمس وضحاها» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن ابن ماجہ:836،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ” میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا “ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏ 10638 پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ” آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم “، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» [51-الذریات:48-47] ‏، یعنی ” آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں “۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ” زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم “۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ” نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم “ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» [30-الروم:30] ‏، ” اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں “۔ حدیث میں ہے ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے ۔ [صحیح بخاری:1358] ‏ 10639 صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا ۔ [صحیح مسلم:2865] ‏ پھر فرماتا ہے کہ ” اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» [91-الشمس:7،8] ‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏ 10640 مسند احمد میں بھی ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا ، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» [87-الاعلیٰ:14-15] ‏ ” جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا “۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ” جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا “۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا ۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏ 10641 مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے ۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏ 10642

الشمس 91:2

تفسیر سورۃ الشمس: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم نے «سبح اسم ربك الأعلى» اور «والشمس وضحاها» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن ابن ماجہ:836،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ” میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا “ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏ 10638 پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ” آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم “، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» [51-الذریات:48-47] ‏، یعنی ” آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں “۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ” زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم “۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ” نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم “ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» [30-الروم:30] ‏، ” اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں “۔ حدیث میں ہے ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے ۔ [صحیح بخاری:1358] ‏ 10639 صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا ۔ [صحیح مسلم:2865] ‏ پھر فرماتا ہے کہ ” اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» [91-الشمس:7،8] ‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏ 10640 مسند احمد میں بھی ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا ، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» [87-الاعلیٰ:14-15] ‏ ” جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا “۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ” جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا “۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا ۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏ 10641 مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے ۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏ 10642

الشمس 91:3

تفسیر سورۃ الشمس: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم نے «سبح اسم ربك الأعلى» اور «والشمس وضحاها» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن ابن ماجہ:836،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ” میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا “ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏ 10638 پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ” آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم “، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» [51-الذریات:48-47] ‏، یعنی ” آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں “۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ” زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم “۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ” نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم “ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» [30-الروم:30] ‏، ” اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں “۔ حدیث میں ہے ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے ۔ [صحیح بخاری:1358] ‏ 10639 صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا ۔ [صحیح مسلم:2865] ‏ پھر فرماتا ہے کہ ” اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» [91-الشمس:7،8] ‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏ 10640 مسند احمد میں بھی ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا ، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» [87-الاعلیٰ:14-15] ‏ ” جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا “۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ” جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا “۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا ۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏ 10641 مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے ۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏ 10642

الشمس 91:4

تفسیر سورۃ الشمس: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم نے «سبح اسم ربك الأعلى» اور «والشمس وضحاها» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن ابن ماجہ:836،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ” میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا “ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏ 10638 پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ” آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم “، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» [51-الذریات:48-47] ‏، یعنی ” آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں “۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ” زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم “۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ” نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم “ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» [30-الروم:30] ‏، ” اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں “۔ حدیث میں ہے ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے ۔ [صحیح بخاری:1358] ‏ 10639 صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا ۔ [صحیح مسلم:2865] ‏ پھر فرماتا ہے کہ ” اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» [91-الشمس:7،8] ‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏ 10640 مسند احمد میں بھی ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا ، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» [87-الاعلیٰ:14-15] ‏ ” جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا “۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ” جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا “۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا ۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏ 10641 مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے ۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏ 10642

الشمس 91:5

تفسیر سورۃ الشمس: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم نے «سبح اسم ربك الأعلى» اور «والشمس وضحاها» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن ابن ماجہ:836،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ” میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا “ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏ 10638 پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ” آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم “، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» [51-الذریات:48-47] ‏، یعنی ” آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں “۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ” زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم “۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ” نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم “ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» [30-الروم:30] ‏، ” اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں “۔ حدیث میں ہے ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے ۔ [صحیح بخاری:1358] ‏ 10639 صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا ۔ [صحیح مسلم:2865] ‏ پھر فرماتا ہے کہ ” اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» [91-الشمس:7،8] ‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏ 10640 مسند احمد میں بھی ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا ، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» [87-الاعلیٰ:14-15] ‏ ” جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا “۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ” جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا “۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا ۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏ 10641 مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے ۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏ 10642

الشمس 91:6

تفسیر سورۃ الشمس: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم نے «سبح اسم ربك الأعلى» اور «والشمس وضحاها» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن ابن ماجہ:836،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ” میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا “ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏ 10638 پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ” آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم “، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» [51-الذریات:48-47] ‏، یعنی ” آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں “۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ” زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم “۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ” نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم “ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» [30-الروم:30] ‏، ” اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں “۔ حدیث میں ہے ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے ۔ [صحیح بخاری:1358] ‏ 10639 صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا ۔ [صحیح مسلم:2865] ‏ پھر فرماتا ہے کہ ” اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» [91-الشمس:7،8] ‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏ 10640 مسند احمد میں بھی ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا ، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» [87-الاعلیٰ:14-15] ‏ ” جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا “۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ” جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا “۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا ۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏ 10641 مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے ۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏ 10642

الشمس 91:7

تفسیر سورۃ الشمس: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم نے «سبح اسم ربك الأعلى» اور «والشمس وضحاها» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن ابن ماجہ:836،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ” میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا “ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏ 10638 پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ” آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم “، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» [51-الذریات:48-47] ‏، یعنی ” آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں “۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ” زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم “۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ” نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم “ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» [30-الروم:30] ‏، ” اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں “۔ حدیث میں ہے ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے ۔ [صحیح بخاری:1358] ‏ 10639 صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا ۔ [صحیح مسلم:2865] ‏ پھر فرماتا ہے کہ ” اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» [91-الشمس:7،8] ‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏ 10640 مسند احمد میں بھی ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا ، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» [87-الاعلیٰ:14-15] ‏ ” جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا “۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ” جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا “۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا ۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏ 10641 مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے ۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏ 10642

الشمس 91:8

تفسیر سورۃ الشمس: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم نے «سبح اسم ربك الأعلى» اور «والشمس وضحاها» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن ابن ماجہ:836،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ” میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا “ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏ 10638 پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ” آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم “، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» [51-الذریات:48-47] ‏، یعنی ” آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں “۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ” زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم “۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ” نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم “ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» [30-الروم:30] ‏، ” اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں “۔ حدیث میں ہے ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے ۔ [صحیح بخاری:1358] ‏ 10639 صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا ۔ [صحیح مسلم:2865] ‏ پھر فرماتا ہے کہ ” اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» [91-الشمس:7،8] ‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏ 10640 مسند احمد میں بھی ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا ، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» [87-الاعلیٰ:14-15] ‏ ” جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا “۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ” جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا “۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا ۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏ 10641 مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے ۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏ 10642

الشمس 91:9

تفسیر سورۃ الشمس: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم نے «سبح اسم ربك الأعلى» اور «والشمس وضحاها» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن ابن ماجہ:836،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ” میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا “ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏ 10638 پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ” آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم “، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» [51-الذریات:48-47] ‏، یعنی ” آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں “۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ” زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم “۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ” نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم “ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» [30-الروم:30] ‏، ” اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں “۔ حدیث میں ہے ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے ۔ [صحیح بخاری:1358] ‏ 10639 صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا ۔ [صحیح مسلم:2865] ‏ پھر فرماتا ہے کہ ” اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» [91-الشمس:7،8] ‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏ 10640 مسند احمد میں بھی ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا ، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» [87-الاعلیٰ:14-15] ‏ ” جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا “۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ” جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا “۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا ۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏ 10641 مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے ۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏ 10642

الشمس 91:10

تفسیر سورۃ الشمس: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم نے «سبح اسم ربك الأعلى» اور «والشمس وضحاها» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن ابن ماجہ:836،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ” میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا “ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏ 10638 پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ” آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم “، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» [51-الذریات:48-47] ‏، یعنی ” آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں “۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ” زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم “۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ” نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم “ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» [30-الروم:30] ‏، ” اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں “۔ حدیث میں ہے ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے ۔ [صحیح بخاری:1358] ‏ 10639 صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا ۔ [صحیح مسلم:2865] ‏ پھر فرماتا ہے کہ ” اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» [91-الشمس:7،8] ‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏ 10640 مسند احمد میں بھی ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا ، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» [87-الاعلیٰ:14-15] ‏ ” جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا “۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ” جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا “۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا ۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏ 10641 مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے ۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏ 10642

الشمس 91:11

تفسیر سورۃ الشمس: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم نے «سبح اسم ربك الأعلى» اور «والشمس وضحاها» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن ابن ماجہ:836،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ” میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا “ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏ 10638 پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ” آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم “، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» [51-الذریات:48-47] ‏، یعنی ” آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں “۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ” زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم “۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ” نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم “ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» [30-الروم:30] ‏، ” اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں “۔ حدیث میں ہے ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے ۔ [صحیح بخاری:1358] ‏ 10639 صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا ۔ [صحیح مسلم:2865] ‏ پھر فرماتا ہے کہ ” اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» [91-الشمس:7،8] ‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏ 10640 مسند احمد میں بھی ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا ، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» [87-الاعلیٰ:14-15] ‏ ” جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا “۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ” جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا “۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا ۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏ 10641 مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے ۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏ 10642

الشمس 91:12

آل ثمود کی تباہی کے اسباب ٭٭ اللہ تعالیٰٰ بیان فرما رہا ہے کہ ثمودیوں نے اپنی سرکشی، تکبر و تجّبر کی بناء پر اپنے رسول کی تصدیق نہ کی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «بِطَغْوَاهَا» کا مطلب یہ ہے کہ ان سب نے تکذیب کی“ لیکن پہلی بات ہی زیادہ اولیٰ ہے۔ مجاہد اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے بھی یہی بیان کیا ہے، اس سرکشی اور تکذیب کی شامت سے یہ اس قدر بدبخت ہو گئی کہ ان میں سے جو زیادہ بد شخص تھا وہ تیار ہو گیا اس کا نام قدار بن سالف تھا اسی نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ اسی کے بارے میں فرمان ہے «فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ» [54-القمر:29] ‏ ثمودیوں کی آواز پر یہ آ گیا اور اس نے اونٹنی کو مار ڈالا، یہ شخص اس قوم میں ذی عزت تھا شریف تھا ذی نسب تھا قوم کا رئیس اور سردار تھا۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے خطبے میں اس اونٹنی کا اور اس کے مار ڈالنے والے کا ذکر کیا اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ جیسے ابوزمعہ تھا اسی جیسا یہ شخص بھی اپنی قوم میں شریف عزیز اور بڑا آدمی تھا ۔ [صحیح بخاری:4942] ‏ امام بخاری رحمہ اللہ بھی اسے تفسیر میں اور امام مسلم رحمہ اللہ جہنم کی صفت میں لائے ہیں اور سنن ترمذی، سنن نسائی میں بھی یہ روایت تفسیر میں ہے۔ 10653 ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میں تجھے دنیا بھر کے بدبخت ترین دو شخص بتاتا ہوں ایک تو احیمر ثمود جس نے اونٹنی کو مار ڈالا اور دوسرا وہ شخص جو تیری پیشانی پر زخم لگائے گا یہاں تک کہ داڑھی خون سے تربتر ہو جائے گی ۔ [مسند احمد:263/4:حسن لغیرہ] ‏ اللہ کے رسول صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ ”اے قوم اللہ کی اونٹنی کو برائی پہنچانے سے ڈرو، اس کے پانی پینے کے مقرر دن میں ظلم کر کے اسے پانی سے نہ روکو تمہاری اور اس کی باری مقرر ہے۔‏“ لیکن ان بدبختوں نے پیغمبر علیہ السلام کی نہ مانی جس گناہ کے باعث ان کے دل سخت ہو گئے اور پھر یہ صاف طور پر مقابلہ کے لیے تیار ہو گئے اور اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں، جسے اللہ تعالیٰ نے بغیر ماں باپ کے پتھر کی ایک چٹان سے پیدا کیا تھا جو صالح علیہ السلام کا معجزہ اور اللہ کی قدرت کی کامل نشانی تھی اللہ بھی ان پر غضبناک ہو گیا اور ہلاکت ڈال دی، اور سب پر ابر سے عذاب اترا۔ یہ اس لیے کہ احیمر ثمود کے ہاتھ پر اس کی قوم کے چھوٹے بڑوں نے مرد و عورت نے بیعت کر لی تھی اور سب کے مشورے سے اس نے اس اونٹنی کو کاٹا تھا اس لیے عذاب میں بھی سب پکڑے گئے۔ «وَلَا يَخَافُ» کو «فَلَا یَخَافُ» بھی پڑھا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی کو سزا کرے تو اسے یہ خوف نہیں ہوتا کہ اس کا انجام کیا ہو گا؟ کہیں یہ بگڑ نہ بیٹھیں، یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اس بدکار، احیمر نے اونٹنی کو مار تو ڈالا لیکن انجام سے نہ ڈرا، مگر پہلا قول ہی اولیٰ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الشمس کی تفسیر ختم ہوئی۔ 10654

الشمس 91:13

آل ثمود کی تباہی کے اسباب ٭٭ اللہ تعالیٰٰ بیان فرما رہا ہے کہ ثمودیوں نے اپنی سرکشی، تکبر و تجّبر کی بناء پر اپنے رسول کی تصدیق نہ کی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «بِطَغْوَاهَا» کا مطلب یہ ہے کہ ان سب نے تکذیب کی“ لیکن پہلی بات ہی زیادہ اولیٰ ہے۔ مجاہد اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے بھی یہی بیان کیا ہے، اس سرکشی اور تکذیب کی شامت سے یہ اس قدر بدبخت ہو گئی کہ ان میں سے جو زیادہ بد شخص تھا وہ تیار ہو گیا اس کا نام قدار بن سالف تھا اسی نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ اسی کے بارے میں فرمان ہے «فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ» [54-القمر:29] ‏ ثمودیوں کی آواز پر یہ آ گیا اور اس نے اونٹنی کو مار ڈالا، یہ شخص اس قوم میں ذی عزت تھا شریف تھا ذی نسب تھا قوم کا رئیس اور سردار تھا۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے خطبے میں اس اونٹنی کا اور اس کے مار ڈالنے والے کا ذکر کیا اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ جیسے ابوزمعہ تھا اسی جیسا یہ شخص بھی اپنی قوم میں شریف عزیز اور بڑا آدمی تھا ۔ [صحیح بخاری:4942] ‏ امام بخاری رحمہ اللہ بھی اسے تفسیر میں اور امام مسلم رحمہ اللہ جہنم کی صفت میں لائے ہیں اور سنن ترمذی، سنن نسائی میں بھی یہ روایت تفسیر میں ہے۔ 10653 ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میں تجھے دنیا بھر کے بدبخت ترین دو شخص بتاتا ہوں ایک تو احیمر ثمود جس نے اونٹنی کو مار ڈالا اور دوسرا وہ شخص جو تیری پیشانی پر زخم لگائے گا یہاں تک کہ داڑھی خون سے تربتر ہو جائے گی ۔ [مسند احمد:263/4:حسن لغیرہ] ‏ اللہ کے رسول صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ ”اے قوم اللہ کی اونٹنی کو برائی پہنچانے سے ڈرو، اس کے پانی پینے کے مقرر دن میں ظلم کر کے اسے پانی سے نہ روکو تمہاری اور اس کی باری مقرر ہے۔‏“ لیکن ان بدبختوں نے پیغمبر علیہ السلام کی نہ مانی جس گناہ کے باعث ان کے دل سخت ہو گئے اور پھر یہ صاف طور پر مقابلہ کے لیے تیار ہو گئے اور اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں، جسے اللہ تعالیٰ نے بغیر ماں باپ کے پتھر کی ایک چٹان سے پیدا کیا تھا جو صالح علیہ السلام کا معجزہ اور اللہ کی قدرت کی کامل نشانی تھی اللہ بھی ان پر غضبناک ہو گیا اور ہلاکت ڈال دی، اور سب پر ابر سے عذاب اترا۔ یہ اس لیے کہ احیمر ثمود کے ہاتھ پر اس کی قوم کے چھوٹے بڑوں نے مرد و عورت نے بیعت کر لی تھی اور سب کے مشورے سے اس نے اس اونٹنی کو کاٹا تھا اس لیے عذاب میں بھی سب پکڑے گئے۔ «وَلَا يَخَافُ» کو «فَلَا یَخَافُ» بھی پڑھا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی کو سزا کرے تو اسے یہ خوف نہیں ہوتا کہ اس کا انجام کیا ہو گا؟ کہیں یہ بگڑ نہ بیٹھیں، یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اس بدکار، احیمر نے اونٹنی کو مار تو ڈالا لیکن انجام سے نہ ڈرا، مگر پہلا قول ہی اولیٰ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الشمس کی تفسیر ختم ہوئی۔ 10654

الشمس 91:14

آل ثمود کی تباہی کے اسباب ٭٭ اللہ تعالیٰٰ بیان فرما رہا ہے کہ ثمودیوں نے اپنی سرکشی، تکبر و تجّبر کی بناء پر اپنے رسول کی تصدیق نہ کی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «بِطَغْوَاهَا» کا مطلب یہ ہے کہ ان سب نے تکذیب کی“ لیکن پہلی بات ہی زیادہ اولیٰ ہے۔ مجاہد اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے بھی یہی بیان کیا ہے، اس سرکشی اور تکذیب کی شامت سے یہ اس قدر بدبخت ہو گئی کہ ان میں سے جو زیادہ بد شخص تھا وہ تیار ہو گیا اس کا نام قدار بن سالف تھا اسی نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ اسی کے بارے میں فرمان ہے «فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ» [54-القمر:29] ‏ ثمودیوں کی آواز پر یہ آ گیا اور اس نے اونٹنی کو مار ڈالا، یہ شخص اس قوم میں ذی عزت تھا شریف تھا ذی نسب تھا قوم کا رئیس اور سردار تھا۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے خطبے میں اس اونٹنی کا اور اس کے مار ڈالنے والے کا ذکر کیا اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ جیسے ابوزمعہ تھا اسی جیسا یہ شخص بھی اپنی قوم میں شریف عزیز اور بڑا آدمی تھا ۔ [صحیح بخاری:4942] ‏ امام بخاری رحمہ اللہ بھی اسے تفسیر میں اور امام مسلم رحمہ اللہ جہنم کی صفت میں لائے ہیں اور سنن ترمذی، سنن نسائی میں بھی یہ روایت تفسیر میں ہے۔ 10653 ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میں تجھے دنیا بھر کے بدبخت ترین دو شخص بتاتا ہوں ایک تو احیمر ثمود جس نے اونٹنی کو مار ڈالا اور دوسرا وہ شخص جو تیری پیشانی پر زخم لگائے گا یہاں تک کہ داڑھی خون سے تربتر ہو جائے گی ۔ [مسند احمد:263/4:حسن لغیرہ] ‏ اللہ کے رسول صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ ”اے قوم اللہ کی اونٹنی کو برائی پہنچانے سے ڈرو، اس کے پانی پینے کے مقرر دن میں ظلم کر کے اسے پانی سے نہ روکو تمہاری اور اس کی باری مقرر ہے۔‏“ لیکن ان بدبختوں نے پیغمبر علیہ السلام کی نہ مانی جس گناہ کے باعث ان کے دل سخت ہو گئے اور پھر یہ صاف طور پر مقابلہ کے لیے تیار ہو گئے اور اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں، جسے اللہ تعالیٰ نے بغیر ماں باپ کے پتھر کی ایک چٹان سے پیدا کیا تھا جو صالح علیہ السلام کا معجزہ اور اللہ کی قدرت کی کامل نشانی تھی اللہ بھی ان پر غضبناک ہو گیا اور ہلاکت ڈال دی، اور سب پر ابر سے عذاب اترا۔ یہ اس لیے کہ احیمر ثمود کے ہاتھ پر اس کی قوم کے چھوٹے بڑوں نے مرد و عورت نے بیعت کر لی تھی اور سب کے مشورے سے اس نے اس اونٹنی کو کاٹا تھا اس لیے عذاب میں بھی سب پکڑے گئے۔ «وَلَا يَخَافُ» کو «فَلَا یَخَافُ» بھی پڑھا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی کو سزا کرے تو اسے یہ خوف نہیں ہوتا کہ اس کا انجام کیا ہو گا؟ کہیں یہ بگڑ نہ بیٹھیں، یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اس بدکار، احیمر نے اونٹنی کو مار تو ڈالا لیکن انجام سے نہ ڈرا، مگر پہلا قول ہی اولیٰ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الشمس کی تفسیر ختم ہوئی۔ 10654

الشمس 91:15

آل ثمود کی تباہی کے اسباب ٭٭ اللہ تعالیٰٰ بیان فرما رہا ہے کہ ثمودیوں نے اپنی سرکشی، تکبر و تجّبر کی بناء پر اپنے رسول کی تصدیق نہ کی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «بِطَغْوَاهَا» کا مطلب یہ ہے کہ ان سب نے تکذیب کی“ لیکن پہلی بات ہی زیادہ اولیٰ ہے۔ مجاہد اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے بھی یہی بیان کیا ہے، اس سرکشی اور تکذیب کی شامت سے یہ اس قدر بدبخت ہو گئی کہ ان میں سے جو زیادہ بد شخص تھا وہ تیار ہو گیا اس کا نام قدار بن سالف تھا اسی نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ اسی کے بارے میں فرمان ہے «فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ» [54-القمر:29] ‏ ثمودیوں کی آواز پر یہ آ گیا اور اس نے اونٹنی کو مار ڈالا، یہ شخص اس قوم میں ذی عزت تھا شریف تھا ذی نسب تھا قوم کا رئیس اور سردار تھا۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے خطبے میں اس اونٹنی کا اور اس کے مار ڈالنے والے کا ذکر کیا اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ جیسے ابوزمعہ تھا اسی جیسا یہ شخص بھی اپنی قوم میں شریف عزیز اور بڑا آدمی تھا ۔ [صحیح بخاری:4942] ‏ امام بخاری رحمہ اللہ بھی اسے تفسیر میں اور امام مسلم رحمہ اللہ جہنم کی صفت میں لائے ہیں اور سنن ترمذی، سنن نسائی میں بھی یہ روایت تفسیر میں ہے۔ 10653 ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میں تجھے دنیا بھر کے بدبخت ترین دو شخص بتاتا ہوں ایک تو احیمر ثمود جس نے اونٹنی کو مار ڈالا اور دوسرا وہ شخص جو تیری پیشانی پر زخم لگائے گا یہاں تک کہ داڑھی خون سے تربتر ہو جائے گی ۔ [مسند احمد:263/4:حسن لغیرہ] ‏ اللہ کے رسول صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ ”اے قوم اللہ کی اونٹنی کو برائی پہنچانے سے ڈرو، اس کے پانی پینے کے مقرر دن میں ظلم کر کے اسے پانی سے نہ روکو تمہاری اور اس کی باری مقرر ہے۔‏“ لیکن ان بدبختوں نے پیغمبر علیہ السلام کی نہ مانی جس گناہ کے باعث ان کے دل سخت ہو گئے اور پھر یہ صاف طور پر مقابلہ کے لیے تیار ہو گئے اور اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں، جسے اللہ تعالیٰ نے بغیر ماں باپ کے پتھر کی ایک چٹان سے پیدا کیا تھا جو صالح علیہ السلام کا معجزہ اور اللہ کی قدرت کی کامل نشانی تھی اللہ بھی ان پر غضبناک ہو گیا اور ہلاکت ڈال دی، اور سب پر ابر سے عذاب اترا۔ یہ اس لیے کہ احیمر ثمود کے ہاتھ پر اس کی قوم کے چھوٹے بڑوں نے مرد و عورت نے بیعت کر لی تھی اور سب کے مشورے سے اس نے اس اونٹنی کو کاٹا تھا اس لیے عذاب میں بھی سب پکڑے گئے۔ «وَلَا يَخَافُ» کو «فَلَا یَخَافُ» بھی پڑھا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی کو سزا کرے تو اسے یہ خوف نہیں ہوتا کہ اس کا انجام کیا ہو گا؟ کہیں یہ بگڑ نہ بیٹھیں، یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اس بدکار، احیمر نے اونٹنی کو مار تو ڈالا لیکن انجام سے نہ ڈرا، مگر پہلا قول ہی اولیٰ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الشمس کی تفسیر ختم ہوئی۔ 10654

الليل 92:1

تفسیر سورۃ اللیل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭ مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ 10658 یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔ پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏ 10659 سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏ 10660 اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔ 10661 ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏ 10662 ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔ 10663

الليل 92:2

تفسیر سورۃ اللیل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭ مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ 10658 یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔ پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏ 10659 سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏ 10660 اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔ 10661 ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏ 10662 ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔ 10663

الليل 92:3

تفسیر سورۃ اللیل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭ مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ 10658 یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔ پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏ 10659 سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏ 10660 اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔ 10661 ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏ 10662 ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔ 10663

الليل 92:4

تفسیر سورۃ اللیل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭ مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ 10658 یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔ پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏ 10659 سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏ 10660 اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔ 10661 ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏ 10662 ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔ 10663

الليل 92:5

تفسیر سورۃ اللیل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭ مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ 10658 یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔ پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏ 10659 سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏ 10660 اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔ 10661 ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏ 10662 ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔ 10663

الليل 92:6

تفسیر سورۃ اللیل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭ مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ 10658 یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔ پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏ 10659 سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏ 10660 اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔ 10661 ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏ 10662 ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔ 10663

الليل 92:7

تفسیر سورۃ اللیل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭ مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ 10658 یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔ پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏ 10659 سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏ 10660 اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔ 10661 ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏ 10662 ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔ 10663

الليل 92:8

تفسیر سورۃ اللیل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭ مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ 10658 یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔ پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏ 10659 سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏ 10660 اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔ 10661 ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏ 10662 ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔ 10663

الليل 92:9

تفسیر سورۃ اللیل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭ مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ 10658 یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔ پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏ 10659 سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏ 10660 اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔ 10661 ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏ 10662 ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔ 10663

الليل 92:10

تفسیر سورۃ اللیل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭ مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ 10658 یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔ پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏ 10659 سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏ 10660 اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔ 10661 ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏ 10662 ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔ 10663

الليل 92:11

تفسیر سورۃ اللیل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭ مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ 10658 یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏ الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔ پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔ حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔ پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔ جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔ اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏ 10659 سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏ 10660 اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏ ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏ ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔ 10661 ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“ یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏ 10662 ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏ «تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔ 10663

الليل 92:12

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭ یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏ 10674 مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏ مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏ اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔ 10675 اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔ 10676

الليل 92:13

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭ یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏ 10674 مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏ مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏ اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔ 10675 اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔ 10676

الليل 92:14

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭ یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏ 10674 مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏ مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏ اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔ 10675 اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔ 10676

الليل 92:15

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭ یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏ 10674 مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏ مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏ اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔ 10675 اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔ 10676

الليل 92:16

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭ یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏ 10674 مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏ مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏ اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔ 10675 اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔ 10676

الليل 92:17

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭ یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏ 10674 مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏ مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏ اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔ 10675 اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔ 10676

الليل 92:18

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭ یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏ 10674 مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏ مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏ اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔ 10675 اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔ 10676

الليل 92:19

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭ یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏ 10674 مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏ مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏ اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔ 10675 اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔ 10676

الليل 92:20

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭ یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏ 10674 مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏ مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏ اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔ 10675 اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔ 10676

الليل 92:21

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭ یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔ جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏ 10674 مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏ اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏ مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏ اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔ 10675 اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔ آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔ 10676