Tafsir Ibn Kathir — الضحى 93:1 – القدر 97:5
Contents
- الضحى 93:1
- الضحى 93:2
- الضحى 93:3
- الضحى 93:4
- الضحى 93:5
- الضحى 93:6
- الضحى 93:7
- الضحى 93:8
- الضحى 93:9
- الضحى 93:10
- الضحى 93:11
- الشرح 94:1
- الشرح 94:2
- الشرح 94:3
- الشرح 94:4
- الشرح 94:5
- الشرح 94:6
- الشرح 94:7
- الشرح 94:8
- التين 95:1
- التين 95:2
- التين 95:3
- التين 95:4
- التين 95:5
- التين 95:6
- التين 95:7
- التين 95:8
- العلق 96:1
- العلق 96:2
- العلق 96:3
- العلق 96:4
- العلق 96:5
- العلق 96:6
- العلق 96:7
- العلق 96:8
- العلق 96:9
- العلق 96:10
- العلق 96:11
- العلق 96:12
- العلق 96:13
- العلق 96:14
- العلق 96:15
- العلق 96:16
- العلق 96:17
- العلق 96:18
- العلق 96:19
- القدر 97:1
- القدر 97:2
- القدر 97:3
- القدر 97:4
- القدر 97:5
الضحى 93:1
تفسیر سورۃ الضحى:
اسماعیل بن قسطنطین اور شبل بن عباد رحمہا اللہ کے سامنے عکرمہ رحمہ اللہ تلاوت قرآن کر رہے تھے جب اس سورت تک پہنچے تو دونوں نے فرمایا کہ اب سے آخر تک ہر سورت کے خاتمہ پر اللہ اکبر کہا کرو۔ ہم نے ابن کثیر کے سامنے پڑھا تو انہوں نے ہمیں یہی فرمایا اور انہوں نے فرمایا کہ ہم سے مجاہد رحمہ اللہ نے یہ فرمایا ہے اور مجاہد رحمہ اللہ کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہی تعلیم تھی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا۔ [مستدرك حاكم:304/3،ضعيف ]
امام القرأت ابوالحسن رحمہ اللہ بھی اسی سنت کے روای ہیں، ابو حاتم رازی اس حدیث کو ضعیف کہتے ہیں اس لیے کہ ابوالحسن ضعیف ہیں، ابوحاتم تو ان سے حدیث ہی نہیں لیتے، اسی طرح ابوجعفر عقیلی رحمہ اللہ بھی انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں لیکن شیخ شہاب الدین ابوشامہ شرح شاطبیہ میں امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک شخص سے سنا کہ وہ نماز میں اس تکبیر کو کہتے تھے تو آپ نے فرمایا تو نے اچھا کیا اور سنت کو پہنچ گیا۔ یہ واقعہ تو اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ حدیث صحیح ہو۔ پھر قاریوں میں اس بات کا بھی اختلاف ہے کہ کس جگہ یہ تکبیر پڑھے اور کس طرح پڑھے، بعض تو یہ کہتے ہیں «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» [ 92-اليل:1] کے خاتمہ پر اور بعض کہتے ہیں «والضحيٰ» کے آخر پر۔ پھر بعض تو کہتے ہیں صرف اللہ اکبر کہے بعض کہتے ہیں «الله اكبر لا اله الله والله اكبر» کہے، بعض قاریوں نے سورۃ والضحیٰ سے ان تکبیروں کے کہنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ جب وحی آنے میں دیر لگی اور کچھ مدت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نہ اتری پھر جبرائیل علیہ السلام آئے اور یہی سورت لائے تو خوشی اور فرحت کے باعث آپ نے تکبیر کہی لیکن یہ کسی ایسی اسناد کے ساتھ مروی نہیں جس سے صحت و ضعف کا پتہ چل سکے۔ [قال الشيخ عبدالرزاق مهدي:لا اصل له] شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور مجھے اس کی کوئی سند بھی نہیں ملی۔ «والله اعلم»
باب
صحیح البخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:1124]
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے «وَالضُّحَى» سے «وَمَا قَلَى» تک کی آیتیں اتاریں ۔ [صحیح مسلم:1797]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «هَلْ أَنْتِ إِلَّا أُصْبُع دَمِيتِ وَفِي سَبِيل اللَّه مَا لَقِيت؟» یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔“ طبعیت کچھ ناساز ہو جانے کی وجہ سے دو تین رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار نہ ہوئے جس پر اس عورت نے وہ ناشائستہ الفاظ نکالے اور یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:6146] کہا گیا ہے کہ یہ عورت ابولہب کی بیوی ام جمیل تھی اس پر اللہ کی مار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کا زخمی ہونا، اور اس موزوں کلام کا بےساختہ زبان مبارک سے ادا ہونا تو بخاری و مسلم میں بھی ثابت ہے۔ لیکن ترک قیام کا سبب اسے بتانا اور اس پر ان آیتوں کا نازل ہونا یہ غریب ہے۔
10686
ابن جریر میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا کہ آپ کا رب آپ سے کہیں ناراض نہ ہو گیا ہو؟ اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37512:مرسل]
اور روایت میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں دیر ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرائے اس پر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے یہ سبب بیان کیا اور اس پر یہ آیتیں اتریں ، یہ دونوں روایات مرسل ہیں اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نام تو اس میں محفوظ نہیں معلوم ہوتا ہاں یہ ممکن ہے کہ ام المومنین نے افسوس اور رنج کے ساتھ یہ فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن اسحاق اور بعض سلف رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوئے تھے اور بہت ہی قریب ہو گئے تھے اس وقت اسی سورت کی وحی نازل فرمائی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ وحی کے رک جانے کی بنا پر مشرکین کے اس ناپاک قول کی تردید میں یہ آیتیں اتریں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے دھوپ پڑنے کے وقت، دن کی روشنی، اور رات کے سکون اور اندھیرے کی قسم کھائی جو قدرت اور خلق خالق کی صاف دلیل ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» [92-الليل:2-1] اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الأنعام:96] ، مطلب یہ ہے کہ اپنی اس قدرت کا یہاں بھی بیان کیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” تیرے رب نے نہ تو تجھے چھوڑا، نہ تجھ سے دشمنی کی، تیرے لیے آخرت اس دنیا سے بہت بہتر ہے “۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں سب سے زیادہ زاہد تھے۔ اور سب سے زیادہ تارک دنیا تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنے والے پر یہ بات ہرگز مخفی نہیں رہ سکتی۔
10687
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بورئیے پر سوئے، جسم مبارک پر بورئیے کے نشان پڑ گئے۔ جب بیدار ہوئے تو میں آپ کی کروٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا اور کہا اے اللہ کے رسول! ہمیں کیوں اجازت نہیں دیتے کہ اس بورئیے پر کچھ بچھا دیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دنیا سے کیا واسطہ؟ میں کہاں، دنیا کہاں؟ میری اور دنیا کی مثال تو اس راہرو سوار کی طرح ہے جو کسی درخت تلے ذرا سی دیر ٹھہر جائے پھر اسے چھوڑ کر چل دے“ ۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور حسن ہے۔ [سنن ترمذي:2377،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا ” تیرا رب تجھے آخرت میں تیری امت کے بارے میں اس قدر نعمتیں دے گا کہ تو خوش ہو جائے، ان کی بڑی تکریم ہو گی اور آپ کو خاص کر کے حوض کوثر عطا فرمایا جائے گا۔ جس کے کنارے کھوکھلے موتیوں کے خیمے ہوں گے جس کی مٹی خالص مشک کی ہو گی “۔ یہ حدیثیں عنقریب آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔
10688
ایک روایت میں ہے کہ جو خزانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ملنے والے تھے وہ ایک ایک کر کے آپ کو بتا دئیے گئے۔ آپ بہت خوش ہوئے اس پر یہ آیت اتری۔ جب ایک ہزار محل آپ کو دئیے گئے ہر ہر محل میں پاک بیویاں اور بہترین غلام ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37513] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تک اس کی سند صحیح ہے اور بہ ظاہر ایسی بات بغیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے روایت نہیں ہو سکتی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کوئی دوزخ میں نہ جائے۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد شفاعت ہے۔
10689
الضحى 93:2
تفسیر سورۃ الضحى:
اسماعیل بن قسطنطین اور شبل بن عباد رحمہا اللہ کے سامنے عکرمہ رحمہ اللہ تلاوت قرآن کر رہے تھے جب اس سورت تک پہنچے تو دونوں نے فرمایا کہ اب سے آخر تک ہر سورت کے خاتمہ پر اللہ اکبر کہا کرو۔ ہم نے ابن کثیر کے سامنے پڑھا تو انہوں نے ہمیں یہی فرمایا اور انہوں نے فرمایا کہ ہم سے مجاہد رحمہ اللہ نے یہ فرمایا ہے اور مجاہد رحمہ اللہ کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہی تعلیم تھی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا۔ [مستدرك حاكم:304/3،ضعيف ]
امام القرأت ابوالحسن رحمہ اللہ بھی اسی سنت کے روای ہیں، ابو حاتم رازی اس حدیث کو ضعیف کہتے ہیں اس لیے کہ ابوالحسن ضعیف ہیں، ابوحاتم تو ان سے حدیث ہی نہیں لیتے، اسی طرح ابوجعفر عقیلی رحمہ اللہ بھی انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں لیکن شیخ شہاب الدین ابوشامہ شرح شاطبیہ میں امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک شخص سے سنا کہ وہ نماز میں اس تکبیر کو کہتے تھے تو آپ نے فرمایا تو نے اچھا کیا اور سنت کو پہنچ گیا۔ یہ واقعہ تو اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ حدیث صحیح ہو۔ پھر قاریوں میں اس بات کا بھی اختلاف ہے کہ کس جگہ یہ تکبیر پڑھے اور کس طرح پڑھے، بعض تو یہ کہتے ہیں «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» [ 92-اليل:1] کے خاتمہ پر اور بعض کہتے ہیں «والضحيٰ» کے آخر پر۔ پھر بعض تو کہتے ہیں صرف اللہ اکبر کہے بعض کہتے ہیں «الله اكبر لا اله الله والله اكبر» کہے، بعض قاریوں نے سورۃ والضحیٰ سے ان تکبیروں کے کہنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ جب وحی آنے میں دیر لگی اور کچھ مدت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نہ اتری پھر جبرائیل علیہ السلام آئے اور یہی سورت لائے تو خوشی اور فرحت کے باعث آپ نے تکبیر کہی لیکن یہ کسی ایسی اسناد کے ساتھ مروی نہیں جس سے صحت و ضعف کا پتہ چل سکے۔ [قال الشيخ عبدالرزاق مهدي:لا اصل له] شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور مجھے اس کی کوئی سند بھی نہیں ملی۔ «والله اعلم»
باب
صحیح البخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:1124]
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے «وَالضُّحَى» سے «وَمَا قَلَى» تک کی آیتیں اتاریں ۔ [صحیح مسلم:1797]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «هَلْ أَنْتِ إِلَّا أُصْبُع دَمِيتِ وَفِي سَبِيل اللَّه مَا لَقِيت؟» یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔“ طبعیت کچھ ناساز ہو جانے کی وجہ سے دو تین رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار نہ ہوئے جس پر اس عورت نے وہ ناشائستہ الفاظ نکالے اور یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:6146] کہا گیا ہے کہ یہ عورت ابولہب کی بیوی ام جمیل تھی اس پر اللہ کی مار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کا زخمی ہونا، اور اس موزوں کلام کا بےساختہ زبان مبارک سے ادا ہونا تو بخاری و مسلم میں بھی ثابت ہے۔ لیکن ترک قیام کا سبب اسے بتانا اور اس پر ان آیتوں کا نازل ہونا یہ غریب ہے۔
10686
ابن جریر میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا کہ آپ کا رب آپ سے کہیں ناراض نہ ہو گیا ہو؟ اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37512:مرسل]
اور روایت میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں دیر ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرائے اس پر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے یہ سبب بیان کیا اور اس پر یہ آیتیں اتریں ، یہ دونوں روایات مرسل ہیں اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نام تو اس میں محفوظ نہیں معلوم ہوتا ہاں یہ ممکن ہے کہ ام المومنین نے افسوس اور رنج کے ساتھ یہ فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن اسحاق اور بعض سلف رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوئے تھے اور بہت ہی قریب ہو گئے تھے اس وقت اسی سورت کی وحی نازل فرمائی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ وحی کے رک جانے کی بنا پر مشرکین کے اس ناپاک قول کی تردید میں یہ آیتیں اتریں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے دھوپ پڑنے کے وقت، دن کی روشنی، اور رات کے سکون اور اندھیرے کی قسم کھائی جو قدرت اور خلق خالق کی صاف دلیل ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» [92-الليل:2-1] اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الأنعام:96] ، مطلب یہ ہے کہ اپنی اس قدرت کا یہاں بھی بیان کیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” تیرے رب نے نہ تو تجھے چھوڑا، نہ تجھ سے دشمنی کی، تیرے لیے آخرت اس دنیا سے بہت بہتر ہے “۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں سب سے زیادہ زاہد تھے۔ اور سب سے زیادہ تارک دنیا تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنے والے پر یہ بات ہرگز مخفی نہیں رہ سکتی۔
10687
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بورئیے پر سوئے، جسم مبارک پر بورئیے کے نشان پڑ گئے۔ جب بیدار ہوئے تو میں آپ کی کروٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا اور کہا اے اللہ کے رسول! ہمیں کیوں اجازت نہیں دیتے کہ اس بورئیے پر کچھ بچھا دیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دنیا سے کیا واسطہ؟ میں کہاں، دنیا کہاں؟ میری اور دنیا کی مثال تو اس راہرو سوار کی طرح ہے جو کسی درخت تلے ذرا سی دیر ٹھہر جائے پھر اسے چھوڑ کر چل دے“ ۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور حسن ہے۔ [سنن ترمذي:2377،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا ” تیرا رب تجھے آخرت میں تیری امت کے بارے میں اس قدر نعمتیں دے گا کہ تو خوش ہو جائے، ان کی بڑی تکریم ہو گی اور آپ کو خاص کر کے حوض کوثر عطا فرمایا جائے گا۔ جس کے کنارے کھوکھلے موتیوں کے خیمے ہوں گے جس کی مٹی خالص مشک کی ہو گی “۔ یہ حدیثیں عنقریب آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔
10688
ایک روایت میں ہے کہ جو خزانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ملنے والے تھے وہ ایک ایک کر کے آپ کو بتا دئیے گئے۔ آپ بہت خوش ہوئے اس پر یہ آیت اتری۔ جب ایک ہزار محل آپ کو دئیے گئے ہر ہر محل میں پاک بیویاں اور بہترین غلام ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37513] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تک اس کی سند صحیح ہے اور بہ ظاہر ایسی بات بغیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے روایت نہیں ہو سکتی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کوئی دوزخ میں نہ جائے۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد شفاعت ہے۔
10689
الضحى 93:3
تفسیر سورۃ الضحى:
اسماعیل بن قسطنطین اور شبل بن عباد رحمہا اللہ کے سامنے عکرمہ رحمہ اللہ تلاوت قرآن کر رہے تھے جب اس سورت تک پہنچے تو دونوں نے فرمایا کہ اب سے آخر تک ہر سورت کے خاتمہ پر اللہ اکبر کہا کرو۔ ہم نے ابن کثیر کے سامنے پڑھا تو انہوں نے ہمیں یہی فرمایا اور انہوں نے فرمایا کہ ہم سے مجاہد رحمہ اللہ نے یہ فرمایا ہے اور مجاہد رحمہ اللہ کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہی تعلیم تھی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا۔ [مستدرك حاكم:304/3،ضعيف ]
امام القرأت ابوالحسن رحمہ اللہ بھی اسی سنت کے روای ہیں، ابو حاتم رازی اس حدیث کو ضعیف کہتے ہیں اس لیے کہ ابوالحسن ضعیف ہیں، ابوحاتم تو ان سے حدیث ہی نہیں لیتے، اسی طرح ابوجعفر عقیلی رحمہ اللہ بھی انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں لیکن شیخ شہاب الدین ابوشامہ شرح شاطبیہ میں امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک شخص سے سنا کہ وہ نماز میں اس تکبیر کو کہتے تھے تو آپ نے فرمایا تو نے اچھا کیا اور سنت کو پہنچ گیا۔ یہ واقعہ تو اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ حدیث صحیح ہو۔ پھر قاریوں میں اس بات کا بھی اختلاف ہے کہ کس جگہ یہ تکبیر پڑھے اور کس طرح پڑھے، بعض تو یہ کہتے ہیں «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» [ 92-اليل:1] کے خاتمہ پر اور بعض کہتے ہیں «والضحيٰ» کے آخر پر۔ پھر بعض تو کہتے ہیں صرف اللہ اکبر کہے بعض کہتے ہیں «الله اكبر لا اله الله والله اكبر» کہے، بعض قاریوں نے سورۃ والضحیٰ سے ان تکبیروں کے کہنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ جب وحی آنے میں دیر لگی اور کچھ مدت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نہ اتری پھر جبرائیل علیہ السلام آئے اور یہی سورت لائے تو خوشی اور فرحت کے باعث آپ نے تکبیر کہی لیکن یہ کسی ایسی اسناد کے ساتھ مروی نہیں جس سے صحت و ضعف کا پتہ چل سکے۔ [قال الشيخ عبدالرزاق مهدي:لا اصل له] شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور مجھے اس کی کوئی سند بھی نہیں ملی۔ «والله اعلم»
باب
صحیح البخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:1124]
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے «وَالضُّحَى» سے «وَمَا قَلَى» تک کی آیتیں اتاریں ۔ [صحیح مسلم:1797]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «هَلْ أَنْتِ إِلَّا أُصْبُع دَمِيتِ وَفِي سَبِيل اللَّه مَا لَقِيت؟» یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔“ طبعیت کچھ ناساز ہو جانے کی وجہ سے دو تین رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار نہ ہوئے جس پر اس عورت نے وہ ناشائستہ الفاظ نکالے اور یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:6146] کہا گیا ہے کہ یہ عورت ابولہب کی بیوی ام جمیل تھی اس پر اللہ کی مار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کا زخمی ہونا، اور اس موزوں کلام کا بےساختہ زبان مبارک سے ادا ہونا تو بخاری و مسلم میں بھی ثابت ہے۔ لیکن ترک قیام کا سبب اسے بتانا اور اس پر ان آیتوں کا نازل ہونا یہ غریب ہے۔
10686
ابن جریر میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا کہ آپ کا رب آپ سے کہیں ناراض نہ ہو گیا ہو؟ اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37512:مرسل]
اور روایت میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں دیر ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرائے اس پر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے یہ سبب بیان کیا اور اس پر یہ آیتیں اتریں ، یہ دونوں روایات مرسل ہیں اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نام تو اس میں محفوظ نہیں معلوم ہوتا ہاں یہ ممکن ہے کہ ام المومنین نے افسوس اور رنج کے ساتھ یہ فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن اسحاق اور بعض سلف رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوئے تھے اور بہت ہی قریب ہو گئے تھے اس وقت اسی سورت کی وحی نازل فرمائی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ وحی کے رک جانے کی بنا پر مشرکین کے اس ناپاک قول کی تردید میں یہ آیتیں اتریں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے دھوپ پڑنے کے وقت، دن کی روشنی، اور رات کے سکون اور اندھیرے کی قسم کھائی جو قدرت اور خلق خالق کی صاف دلیل ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» [92-الليل:2-1] اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الأنعام:96] ، مطلب یہ ہے کہ اپنی اس قدرت کا یہاں بھی بیان کیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” تیرے رب نے نہ تو تجھے چھوڑا، نہ تجھ سے دشمنی کی، تیرے لیے آخرت اس دنیا سے بہت بہتر ہے “۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں سب سے زیادہ زاہد تھے۔ اور سب سے زیادہ تارک دنیا تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنے والے پر یہ بات ہرگز مخفی نہیں رہ سکتی۔
10687
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بورئیے پر سوئے، جسم مبارک پر بورئیے کے نشان پڑ گئے۔ جب بیدار ہوئے تو میں آپ کی کروٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا اور کہا اے اللہ کے رسول! ہمیں کیوں اجازت نہیں دیتے کہ اس بورئیے پر کچھ بچھا دیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دنیا سے کیا واسطہ؟ میں کہاں، دنیا کہاں؟ میری اور دنیا کی مثال تو اس راہرو سوار کی طرح ہے جو کسی درخت تلے ذرا سی دیر ٹھہر جائے پھر اسے چھوڑ کر چل دے“ ۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور حسن ہے۔ [سنن ترمذي:2377،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا ” تیرا رب تجھے آخرت میں تیری امت کے بارے میں اس قدر نعمتیں دے گا کہ تو خوش ہو جائے، ان کی بڑی تکریم ہو گی اور آپ کو خاص کر کے حوض کوثر عطا فرمایا جائے گا۔ جس کے کنارے کھوکھلے موتیوں کے خیمے ہوں گے جس کی مٹی خالص مشک کی ہو گی “۔ یہ حدیثیں عنقریب آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔
10688
ایک روایت میں ہے کہ جو خزانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ملنے والے تھے وہ ایک ایک کر کے آپ کو بتا دئیے گئے۔ آپ بہت خوش ہوئے اس پر یہ آیت اتری۔ جب ایک ہزار محل آپ کو دئیے گئے ہر ہر محل میں پاک بیویاں اور بہترین غلام ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37513] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تک اس کی سند صحیح ہے اور بہ ظاہر ایسی بات بغیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے روایت نہیں ہو سکتی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کوئی دوزخ میں نہ جائے۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد شفاعت ہے۔
10689
الضحى 93:4
تفسیر سورۃ الضحى:
اسماعیل بن قسطنطین اور شبل بن عباد رحمہا اللہ کے سامنے عکرمہ رحمہ اللہ تلاوت قرآن کر رہے تھے جب اس سورت تک پہنچے تو دونوں نے فرمایا کہ اب سے آخر تک ہر سورت کے خاتمہ پر اللہ اکبر کہا کرو۔ ہم نے ابن کثیر کے سامنے پڑھا تو انہوں نے ہمیں یہی فرمایا اور انہوں نے فرمایا کہ ہم سے مجاہد رحمہ اللہ نے یہ فرمایا ہے اور مجاہد رحمہ اللہ کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہی تعلیم تھی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا۔ [مستدرك حاكم:304/3،ضعيف ]
امام القرأت ابوالحسن رحمہ اللہ بھی اسی سنت کے روای ہیں، ابو حاتم رازی اس حدیث کو ضعیف کہتے ہیں اس لیے کہ ابوالحسن ضعیف ہیں، ابوحاتم تو ان سے حدیث ہی نہیں لیتے، اسی طرح ابوجعفر عقیلی رحمہ اللہ بھی انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں لیکن شیخ شہاب الدین ابوشامہ شرح شاطبیہ میں امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک شخص سے سنا کہ وہ نماز میں اس تکبیر کو کہتے تھے تو آپ نے فرمایا تو نے اچھا کیا اور سنت کو پہنچ گیا۔ یہ واقعہ تو اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ حدیث صحیح ہو۔ پھر قاریوں میں اس بات کا بھی اختلاف ہے کہ کس جگہ یہ تکبیر پڑھے اور کس طرح پڑھے، بعض تو یہ کہتے ہیں «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» [ 92-اليل:1] کے خاتمہ پر اور بعض کہتے ہیں «والضحيٰ» کے آخر پر۔ پھر بعض تو کہتے ہیں صرف اللہ اکبر کہے بعض کہتے ہیں «الله اكبر لا اله الله والله اكبر» کہے، بعض قاریوں نے سورۃ والضحیٰ سے ان تکبیروں کے کہنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ جب وحی آنے میں دیر لگی اور کچھ مدت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نہ اتری پھر جبرائیل علیہ السلام آئے اور یہی سورت لائے تو خوشی اور فرحت کے باعث آپ نے تکبیر کہی لیکن یہ کسی ایسی اسناد کے ساتھ مروی نہیں جس سے صحت و ضعف کا پتہ چل سکے۔ [قال الشيخ عبدالرزاق مهدي:لا اصل له] شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور مجھے اس کی کوئی سند بھی نہیں ملی۔ «والله اعلم»
باب
صحیح البخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:1124]
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے «وَالضُّحَى» سے «وَمَا قَلَى» تک کی آیتیں اتاریں ۔ [صحیح مسلم:1797]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «هَلْ أَنْتِ إِلَّا أُصْبُع دَمِيتِ وَفِي سَبِيل اللَّه مَا لَقِيت؟» یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔“ طبعیت کچھ ناساز ہو جانے کی وجہ سے دو تین رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار نہ ہوئے جس پر اس عورت نے وہ ناشائستہ الفاظ نکالے اور یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:6146] کہا گیا ہے کہ یہ عورت ابولہب کی بیوی ام جمیل تھی اس پر اللہ کی مار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کا زخمی ہونا، اور اس موزوں کلام کا بےساختہ زبان مبارک سے ادا ہونا تو بخاری و مسلم میں بھی ثابت ہے۔ لیکن ترک قیام کا سبب اسے بتانا اور اس پر ان آیتوں کا نازل ہونا یہ غریب ہے۔
10686
ابن جریر میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا کہ آپ کا رب آپ سے کہیں ناراض نہ ہو گیا ہو؟ اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37512:مرسل]
اور روایت میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں دیر ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرائے اس پر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے یہ سبب بیان کیا اور اس پر یہ آیتیں اتریں ، یہ دونوں روایات مرسل ہیں اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نام تو اس میں محفوظ نہیں معلوم ہوتا ہاں یہ ممکن ہے کہ ام المومنین نے افسوس اور رنج کے ساتھ یہ فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن اسحاق اور بعض سلف رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوئے تھے اور بہت ہی قریب ہو گئے تھے اس وقت اسی سورت کی وحی نازل فرمائی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ وحی کے رک جانے کی بنا پر مشرکین کے اس ناپاک قول کی تردید میں یہ آیتیں اتریں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے دھوپ پڑنے کے وقت، دن کی روشنی، اور رات کے سکون اور اندھیرے کی قسم کھائی جو قدرت اور خلق خالق کی صاف دلیل ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» [92-الليل:2-1] اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الأنعام:96] ، مطلب یہ ہے کہ اپنی اس قدرت کا یہاں بھی بیان کیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” تیرے رب نے نہ تو تجھے چھوڑا، نہ تجھ سے دشمنی کی، تیرے لیے آخرت اس دنیا سے بہت بہتر ہے “۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں سب سے زیادہ زاہد تھے۔ اور سب سے زیادہ تارک دنیا تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنے والے پر یہ بات ہرگز مخفی نہیں رہ سکتی۔
10687
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بورئیے پر سوئے، جسم مبارک پر بورئیے کے نشان پڑ گئے۔ جب بیدار ہوئے تو میں آپ کی کروٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا اور کہا اے اللہ کے رسول! ہمیں کیوں اجازت نہیں دیتے کہ اس بورئیے پر کچھ بچھا دیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دنیا سے کیا واسطہ؟ میں کہاں، دنیا کہاں؟ میری اور دنیا کی مثال تو اس راہرو سوار کی طرح ہے جو کسی درخت تلے ذرا سی دیر ٹھہر جائے پھر اسے چھوڑ کر چل دے“ ۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور حسن ہے۔ [سنن ترمذي:2377،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا ” تیرا رب تجھے آخرت میں تیری امت کے بارے میں اس قدر نعمتیں دے گا کہ تو خوش ہو جائے، ان کی بڑی تکریم ہو گی اور آپ کو خاص کر کے حوض کوثر عطا فرمایا جائے گا۔ جس کے کنارے کھوکھلے موتیوں کے خیمے ہوں گے جس کی مٹی خالص مشک کی ہو گی “۔ یہ حدیثیں عنقریب آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔
10688
ایک روایت میں ہے کہ جو خزانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ملنے والے تھے وہ ایک ایک کر کے آپ کو بتا دئیے گئے۔ آپ بہت خوش ہوئے اس پر یہ آیت اتری۔ جب ایک ہزار محل آپ کو دئیے گئے ہر ہر محل میں پاک بیویاں اور بہترین غلام ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37513] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تک اس کی سند صحیح ہے اور بہ ظاہر ایسی بات بغیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے روایت نہیں ہو سکتی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کوئی دوزخ میں نہ جائے۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد شفاعت ہے۔
10689
الضحى 93:5
تفسیر سورۃ الضحى:
اسماعیل بن قسطنطین اور شبل بن عباد رحمہا اللہ کے سامنے عکرمہ رحمہ اللہ تلاوت قرآن کر رہے تھے جب اس سورت تک پہنچے تو دونوں نے فرمایا کہ اب سے آخر تک ہر سورت کے خاتمہ پر اللہ اکبر کہا کرو۔ ہم نے ابن کثیر کے سامنے پڑھا تو انہوں نے ہمیں یہی فرمایا اور انہوں نے فرمایا کہ ہم سے مجاہد رحمہ اللہ نے یہ فرمایا ہے اور مجاہد رحمہ اللہ کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہی تعلیم تھی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا۔ [مستدرك حاكم:304/3،ضعيف ]
امام القرأت ابوالحسن رحمہ اللہ بھی اسی سنت کے روای ہیں، ابو حاتم رازی اس حدیث کو ضعیف کہتے ہیں اس لیے کہ ابوالحسن ضعیف ہیں، ابوحاتم تو ان سے حدیث ہی نہیں لیتے، اسی طرح ابوجعفر عقیلی رحمہ اللہ بھی انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں لیکن شیخ شہاب الدین ابوشامہ شرح شاطبیہ میں امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک شخص سے سنا کہ وہ نماز میں اس تکبیر کو کہتے تھے تو آپ نے فرمایا تو نے اچھا کیا اور سنت کو پہنچ گیا۔ یہ واقعہ تو اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ حدیث صحیح ہو۔ پھر قاریوں میں اس بات کا بھی اختلاف ہے کہ کس جگہ یہ تکبیر پڑھے اور کس طرح پڑھے، بعض تو یہ کہتے ہیں «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» [ 92-اليل:1] کے خاتمہ پر اور بعض کہتے ہیں «والضحيٰ» کے آخر پر۔ پھر بعض تو کہتے ہیں صرف اللہ اکبر کہے بعض کہتے ہیں «الله اكبر لا اله الله والله اكبر» کہے، بعض قاریوں نے سورۃ والضحیٰ سے ان تکبیروں کے کہنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ جب وحی آنے میں دیر لگی اور کچھ مدت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نہ اتری پھر جبرائیل علیہ السلام آئے اور یہی سورت لائے تو خوشی اور فرحت کے باعث آپ نے تکبیر کہی لیکن یہ کسی ایسی اسناد کے ساتھ مروی نہیں جس سے صحت و ضعف کا پتہ چل سکے۔ [قال الشيخ عبدالرزاق مهدي:لا اصل له] شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور مجھے اس کی کوئی سند بھی نہیں ملی۔ «والله اعلم»
باب
صحیح البخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:1124]
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے «وَالضُّحَى» سے «وَمَا قَلَى» تک کی آیتیں اتاریں ۔ [صحیح مسلم:1797]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «هَلْ أَنْتِ إِلَّا أُصْبُع دَمِيتِ وَفِي سَبِيل اللَّه مَا لَقِيت؟» یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔“ طبعیت کچھ ناساز ہو جانے کی وجہ سے دو تین رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار نہ ہوئے جس پر اس عورت نے وہ ناشائستہ الفاظ نکالے اور یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:6146] کہا گیا ہے کہ یہ عورت ابولہب کی بیوی ام جمیل تھی اس پر اللہ کی مار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کا زخمی ہونا، اور اس موزوں کلام کا بےساختہ زبان مبارک سے ادا ہونا تو بخاری و مسلم میں بھی ثابت ہے۔ لیکن ترک قیام کا سبب اسے بتانا اور اس پر ان آیتوں کا نازل ہونا یہ غریب ہے۔
10686
ابن جریر میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا کہ آپ کا رب آپ سے کہیں ناراض نہ ہو گیا ہو؟ اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37512:مرسل]
اور روایت میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں دیر ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرائے اس پر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے یہ سبب بیان کیا اور اس پر یہ آیتیں اتریں ، یہ دونوں روایات مرسل ہیں اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نام تو اس میں محفوظ نہیں معلوم ہوتا ہاں یہ ممکن ہے کہ ام المومنین نے افسوس اور رنج کے ساتھ یہ فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن اسحاق اور بعض سلف رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوئے تھے اور بہت ہی قریب ہو گئے تھے اس وقت اسی سورت کی وحی نازل فرمائی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ وحی کے رک جانے کی بنا پر مشرکین کے اس ناپاک قول کی تردید میں یہ آیتیں اتریں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے دھوپ پڑنے کے وقت، دن کی روشنی، اور رات کے سکون اور اندھیرے کی قسم کھائی جو قدرت اور خلق خالق کی صاف دلیل ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» [92-الليل:2-1] اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الأنعام:96] ، مطلب یہ ہے کہ اپنی اس قدرت کا یہاں بھی بیان کیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” تیرے رب نے نہ تو تجھے چھوڑا، نہ تجھ سے دشمنی کی، تیرے لیے آخرت اس دنیا سے بہت بہتر ہے “۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں سب سے زیادہ زاہد تھے۔ اور سب سے زیادہ تارک دنیا تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنے والے پر یہ بات ہرگز مخفی نہیں رہ سکتی۔
10687
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بورئیے پر سوئے، جسم مبارک پر بورئیے کے نشان پڑ گئے۔ جب بیدار ہوئے تو میں آپ کی کروٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا اور کہا اے اللہ کے رسول! ہمیں کیوں اجازت نہیں دیتے کہ اس بورئیے پر کچھ بچھا دیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دنیا سے کیا واسطہ؟ میں کہاں، دنیا کہاں؟ میری اور دنیا کی مثال تو اس راہرو سوار کی طرح ہے جو کسی درخت تلے ذرا سی دیر ٹھہر جائے پھر اسے چھوڑ کر چل دے“ ۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور حسن ہے۔ [سنن ترمذي:2377،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا ” تیرا رب تجھے آخرت میں تیری امت کے بارے میں اس قدر نعمتیں دے گا کہ تو خوش ہو جائے، ان کی بڑی تکریم ہو گی اور آپ کو خاص کر کے حوض کوثر عطا فرمایا جائے گا۔ جس کے کنارے کھوکھلے موتیوں کے خیمے ہوں گے جس کی مٹی خالص مشک کی ہو گی “۔ یہ حدیثیں عنقریب آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔
10688
ایک روایت میں ہے کہ جو خزانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ملنے والے تھے وہ ایک ایک کر کے آپ کو بتا دئیے گئے۔ آپ بہت خوش ہوئے اس پر یہ آیت اتری۔ جب ایک ہزار محل آپ کو دئیے گئے ہر ہر محل میں پاک بیویاں اور بہترین غلام ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37513] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تک اس کی سند صحیح ہے اور بہ ظاہر ایسی بات بغیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے روایت نہیں ہو سکتی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کوئی دوزخ میں نہ جائے۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد شفاعت ہے۔
10689
الضحى 93:6
باب
ابن ابی شیبہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت دنیا پر پسند کر لی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» کی تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی شیبہ377/7:ضعیف]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کی حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کا بچاؤ کیا۔ اور آپ کی حفاظت کی اور پرورش کی اور مقام و مرتبہ عنایت فرمایا۔ آپ کے والد کا انتقال تو آپ کی پیدائش سے پہلے ہی ہو چکا تھا بعض کہتے ہیں ولادت کے بعد ہوا چھ سال کی عمر میں والدہ صاحبہ کا بھی انتقال ہو گیا۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دادا کی کفالت میں تھے لیکن جب آٹھ سال کی آپ کی عمر ہوئی تو دادا کا سایہ بھی اٹھ گیا۔ اب آپ اپنے چچا ابوطالب کی پرورش میں آئے، ابوطالب دل و جان سے آپ کی نگرانی اور امداد میں رہے۔ آپ کی پوری عزت و توقیر کرتے اور قوم کی مخالفت کے چڑھتے طوفان کو روکتے رہتے تھے اور اپنی جان کو بطور ڈھال کے پیش کر دیا کرتے تھے۔
کیونکہ چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی اور قریش سخت تر مخالفت بلکہ دشمن جان ہو گئے تھے ابوطالب باوجود بت پرست مشرک ہونے کے آپ کا ساتھ دیتا تھا۔ اور مخالفین سے لڑتا بھڑتا رہتا تھا۔ یہ تھی منجانب اللہ حسن تدبیر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کے ایام اسی طرح گزرے اور مخالفین سے آپ کی خدمت اس طرح لی، یہاں تک کہ ہجرت سے کچھ پہلے ابوطالب بھی فوت ہو گئے۔
اب سفہاء و جہلا قریش اٹھ کھڑے ہوئے تو پروردگار عالم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ شریف کی طرف ہجرت کرنے کی رخصت عطا فرمائی اور اوس و خزرج جیسی قوموں کو آپ کا انصار بنا دیا۔ ان بزرگوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو جگہ دی۔ مدد کی، حفاظت کی اور مخالفین سے سینہ سپر ہو کر مردانہ وار لڑائیاں کیں۔ اللہ ان سب سے خوش رہے۔ یہ سب کا سب اللہ کی حفاظت اور اس کی عنایت احسان اور اکرام سے تھا۔
پھر فرمایا کہ ” راہ بھولا پا کر صحیح راستہ دکھا دیا “۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ» [42-الشورى:52] الخ، یعنی ” اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح کی وحی کی۔ تم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے؟ تمہیں نہ کتاب کی خبر تھی بلکہ ہم نے اسے نور بنا کر جسے چاہا ہدایت کر دی “۔
بعض کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچپن میں مکہ کی گلیوں میں گم ہو گئے تھے اس وقت اللہ نے لوٹا دیا۔ بعض کہتے ہیں شام کی طرف اپنے چچا کے ساتھ جاتے ہوئے رات کو شیطان نے آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ کر راہ سے ہٹا کر جنگل میں ڈال دیا۔ پس جبرائیل علیہ السلام آئے اور پھونک مار کر شیطان کو تو حبشہ میں ڈال دیا اور سواری کو راہ لگا دیا۔ بغوی نے یہ دونوں قول نقل کئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” بال بچوں والے ہوتے ہوئے تنگ دست پا کر ہم نے آپ کو غنی کر دیا “، پس فقیر صابر اور غنی شاکر ہونے کے درجات آپ کو مل گئے۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
10694
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ سب حال نبوت سے پہلے کے ہیں۔“ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تونگری مال و اسباب کی زیادتی سے نہیں بلکہ حقیقی تونگری وہ ہے جس کا دل بے پرواہ ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6446]
صحیح مسلم شریف میں ہے اس نے فلاح پا لی جسے اسلام نصیب ہوا اور جو کافی ہوا، اتنا رزق بھی ملا اللہ کے دئیے ہوئے پر قناعت کی توفیق بھی ملی ۔ [صحیح مسلم:1054]
پھر فرماتا ہے کہ ” یتیم کو حقیر جان کر نہ ڈانٹ ڈپٹ کر بلکہ اس کے ساتھ احسان و سلوک کر اور اپنی یتیمی کو نہ بھول “۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یتیم کے لیے ایسا ہو جانا چاہیئے جیسے سگا باپ اولاد پر مہربان ہوتا ہے۔“
” سائل کو نہ جھڑک جس طرح تم بے راہ تھے اور اللہ نے ہدایت دی تو اب جو تم سے علمی باتیں پوچھے صحیح راستہ دریافت کرے تو تم اسے ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، غریب مسکین ضعیف بندوں پر تکبر تجبر نہ کرو، انہیں ڈانٹو ڈپٹو نہیں برا بھلا نہ کہو سخت سست نہ بولو، اگر مسکین کو کچھ نہ دے سکے تو بھی بھلا اچھا جواب دے۔ نرمی اور رحم کا سلوک کر “۔
پھر فرمایا کہ ” اپنے رب کی نعمتیں بیان کرتے رہو “۔ یعنی جس طرح تمہاری فقیری کو ہم نے تونگری سے بدل دیا، تم بھی ہماری ان نعمتوں کو بیان کرتے رہو، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ بھی تھا «وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِك مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْك قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» یعنی اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کی شکر گزاری کرنے والا، ان کی وجہ سے تیری ثنا بیان کرنے والا، ان کا اقرار کرنے والا کر دے اور ان نعمتوں کو ہم پر پورا کر دے ۔ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابونضرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ نعمتوں کی شکر گزاری میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کا بیان ہو۔
10695
مسند احمد کی حدیث میں ہے جس نے تھوڑے پر شکر نہ ادا کیا اس نے زیادہ پر بھی شکر نہیں کیا۔ جس نے لوگوں کی شکر گزاری نہ کی اس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ نعمتوں کا بیان بھی شکر ہے اور ان کا بیان نہ کرنا بھی ناشکری ہے، جماعت کے ساتھ رہنا رحمت کا سبب ہے اور تفرقہ عذاب کا باعث ہے ۔ [مسند احمد:375/4:حسن] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
بخاری و مسلم میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے کہا یا رسول اللہ! انصار سارا کا سارا اجر لے گئے۔ فرمایا: ”نہیں جب تک کہ تم ان کے لیے دعا کیا کرو اور ان کی تعریف کرتے رہو“ ۔ [سنن ابوداود:4812،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے اس نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا جس نے بندوں کا شکر ادا نہ کیا ۔ [سنن ابوداود:4811،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ جسے کوئی نعمت ملی اور اس نے اسے بیان کیا تو وہ شکر گزار ہے اور جس نے اسے چھپایا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ جسے کوئی عطیہ دیا جائے اسے چاہیئے کہ اگر ہو سکے تو بدلہ اتار دے اگر نہ ہو سکے تو اس کی ثناء بیان کرے جس نے ثناء کی وہ شکر گزار ہوا اور جس نے اس نعمت کا اظہار نہ کیا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4814،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10696
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہاں نعمت سے مراد نبوت ہے۔“ ایک روایت میں ہے کہ ”قرآن مراد ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”طلب یہ ہے کہ جو بھلائی کی باتیں آپ کو معلوم ہیں وہ اپنے بھائیوں سے بھی بیان کرو۔“ محمد بن اسحاق کہتے ہیں ”جو نعمت و کرامت نبوت کی تمہیں ملی ہے اسے بیان کرو، اس کا ذکر کرو اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو۔“
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والوں میں سے جن پر آپ کو اطمینان ہوتا در پردہ سب سے پہلے پہل دعوت دینی شروع کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز فرض ہوئی جو آپ نے ادا کی۔
سورۃ الضحیٰ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کے احسان پر اس کا شکر ہے۔
10697
الضحى 93:7
باب
ابن ابی شیبہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت دنیا پر پسند کر لی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» کی تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی شیبہ377/7:ضعیف]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کی حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کا بچاؤ کیا۔ اور آپ کی حفاظت کی اور پرورش کی اور مقام و مرتبہ عنایت فرمایا۔ آپ کے والد کا انتقال تو آپ کی پیدائش سے پہلے ہی ہو چکا تھا بعض کہتے ہیں ولادت کے بعد ہوا چھ سال کی عمر میں والدہ صاحبہ کا بھی انتقال ہو گیا۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دادا کی کفالت میں تھے لیکن جب آٹھ سال کی آپ کی عمر ہوئی تو دادا کا سایہ بھی اٹھ گیا۔ اب آپ اپنے چچا ابوطالب کی پرورش میں آئے، ابوطالب دل و جان سے آپ کی نگرانی اور امداد میں رہے۔ آپ کی پوری عزت و توقیر کرتے اور قوم کی مخالفت کے چڑھتے طوفان کو روکتے رہتے تھے اور اپنی جان کو بطور ڈھال کے پیش کر دیا کرتے تھے۔
کیونکہ چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی اور قریش سخت تر مخالفت بلکہ دشمن جان ہو گئے تھے ابوطالب باوجود بت پرست مشرک ہونے کے آپ کا ساتھ دیتا تھا۔ اور مخالفین سے لڑتا بھڑتا رہتا تھا۔ یہ تھی منجانب اللہ حسن تدبیر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کے ایام اسی طرح گزرے اور مخالفین سے آپ کی خدمت اس طرح لی، یہاں تک کہ ہجرت سے کچھ پہلے ابوطالب بھی فوت ہو گئے۔
اب سفہاء و جہلا قریش اٹھ کھڑے ہوئے تو پروردگار عالم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ شریف کی طرف ہجرت کرنے کی رخصت عطا فرمائی اور اوس و خزرج جیسی قوموں کو آپ کا انصار بنا دیا۔ ان بزرگوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو جگہ دی۔ مدد کی، حفاظت کی اور مخالفین سے سینہ سپر ہو کر مردانہ وار لڑائیاں کیں۔ اللہ ان سب سے خوش رہے۔ یہ سب کا سب اللہ کی حفاظت اور اس کی عنایت احسان اور اکرام سے تھا۔
پھر فرمایا کہ ” راہ بھولا پا کر صحیح راستہ دکھا دیا “۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ» [42-الشورى:52] الخ، یعنی ” اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح کی وحی کی۔ تم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے؟ تمہیں نہ کتاب کی خبر تھی بلکہ ہم نے اسے نور بنا کر جسے چاہا ہدایت کر دی “۔
بعض کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچپن میں مکہ کی گلیوں میں گم ہو گئے تھے اس وقت اللہ نے لوٹا دیا۔ بعض کہتے ہیں شام کی طرف اپنے چچا کے ساتھ جاتے ہوئے رات کو شیطان نے آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ کر راہ سے ہٹا کر جنگل میں ڈال دیا۔ پس جبرائیل علیہ السلام آئے اور پھونک مار کر شیطان کو تو حبشہ میں ڈال دیا اور سواری کو راہ لگا دیا۔ بغوی نے یہ دونوں قول نقل کئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” بال بچوں والے ہوتے ہوئے تنگ دست پا کر ہم نے آپ کو غنی کر دیا “، پس فقیر صابر اور غنی شاکر ہونے کے درجات آپ کو مل گئے۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
10694
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ سب حال نبوت سے پہلے کے ہیں۔“ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تونگری مال و اسباب کی زیادتی سے نہیں بلکہ حقیقی تونگری وہ ہے جس کا دل بے پرواہ ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6446]
صحیح مسلم شریف میں ہے اس نے فلاح پا لی جسے اسلام نصیب ہوا اور جو کافی ہوا، اتنا رزق بھی ملا اللہ کے دئیے ہوئے پر قناعت کی توفیق بھی ملی ۔ [صحیح مسلم:1054]
پھر فرماتا ہے کہ ” یتیم کو حقیر جان کر نہ ڈانٹ ڈپٹ کر بلکہ اس کے ساتھ احسان و سلوک کر اور اپنی یتیمی کو نہ بھول “۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یتیم کے لیے ایسا ہو جانا چاہیئے جیسے سگا باپ اولاد پر مہربان ہوتا ہے۔“
” سائل کو نہ جھڑک جس طرح تم بے راہ تھے اور اللہ نے ہدایت دی تو اب جو تم سے علمی باتیں پوچھے صحیح راستہ دریافت کرے تو تم اسے ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، غریب مسکین ضعیف بندوں پر تکبر تجبر نہ کرو، انہیں ڈانٹو ڈپٹو نہیں برا بھلا نہ کہو سخت سست نہ بولو، اگر مسکین کو کچھ نہ دے سکے تو بھی بھلا اچھا جواب دے۔ نرمی اور رحم کا سلوک کر “۔
پھر فرمایا کہ ” اپنے رب کی نعمتیں بیان کرتے رہو “۔ یعنی جس طرح تمہاری فقیری کو ہم نے تونگری سے بدل دیا، تم بھی ہماری ان نعمتوں کو بیان کرتے رہو، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ بھی تھا «وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِك مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْك قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» یعنی اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کی شکر گزاری کرنے والا، ان کی وجہ سے تیری ثنا بیان کرنے والا، ان کا اقرار کرنے والا کر دے اور ان نعمتوں کو ہم پر پورا کر دے ۔ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابونضرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ نعمتوں کی شکر گزاری میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کا بیان ہو۔
10695
مسند احمد کی حدیث میں ہے جس نے تھوڑے پر شکر نہ ادا کیا اس نے زیادہ پر بھی شکر نہیں کیا۔ جس نے لوگوں کی شکر گزاری نہ کی اس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ نعمتوں کا بیان بھی شکر ہے اور ان کا بیان نہ کرنا بھی ناشکری ہے، جماعت کے ساتھ رہنا رحمت کا سبب ہے اور تفرقہ عذاب کا باعث ہے ۔ [مسند احمد:375/4:حسن] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
بخاری و مسلم میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے کہا یا رسول اللہ! انصار سارا کا سارا اجر لے گئے۔ فرمایا: ”نہیں جب تک کہ تم ان کے لیے دعا کیا کرو اور ان کی تعریف کرتے رہو“ ۔ [سنن ابوداود:4812،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے اس نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا جس نے بندوں کا شکر ادا نہ کیا ۔ [سنن ابوداود:4811،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ جسے کوئی نعمت ملی اور اس نے اسے بیان کیا تو وہ شکر گزار ہے اور جس نے اسے چھپایا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ جسے کوئی عطیہ دیا جائے اسے چاہیئے کہ اگر ہو سکے تو بدلہ اتار دے اگر نہ ہو سکے تو اس کی ثناء بیان کرے جس نے ثناء کی وہ شکر گزار ہوا اور جس نے اس نعمت کا اظہار نہ کیا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4814،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10696
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہاں نعمت سے مراد نبوت ہے۔“ ایک روایت میں ہے کہ ”قرآن مراد ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”طلب یہ ہے کہ جو بھلائی کی باتیں آپ کو معلوم ہیں وہ اپنے بھائیوں سے بھی بیان کرو۔“ محمد بن اسحاق کہتے ہیں ”جو نعمت و کرامت نبوت کی تمہیں ملی ہے اسے بیان کرو، اس کا ذکر کرو اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو۔“
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والوں میں سے جن پر آپ کو اطمینان ہوتا در پردہ سب سے پہلے پہل دعوت دینی شروع کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز فرض ہوئی جو آپ نے ادا کی۔
سورۃ الضحیٰ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کے احسان پر اس کا شکر ہے۔
10697
الضحى 93:8
باب
ابن ابی شیبہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت دنیا پر پسند کر لی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» کی تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی شیبہ377/7:ضعیف]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کی حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کا بچاؤ کیا۔ اور آپ کی حفاظت کی اور پرورش کی اور مقام و مرتبہ عنایت فرمایا۔ آپ کے والد کا انتقال تو آپ کی پیدائش سے پہلے ہی ہو چکا تھا بعض کہتے ہیں ولادت کے بعد ہوا چھ سال کی عمر میں والدہ صاحبہ کا بھی انتقال ہو گیا۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دادا کی کفالت میں تھے لیکن جب آٹھ سال کی آپ کی عمر ہوئی تو دادا کا سایہ بھی اٹھ گیا۔ اب آپ اپنے چچا ابوطالب کی پرورش میں آئے، ابوطالب دل و جان سے آپ کی نگرانی اور امداد میں رہے۔ آپ کی پوری عزت و توقیر کرتے اور قوم کی مخالفت کے چڑھتے طوفان کو روکتے رہتے تھے اور اپنی جان کو بطور ڈھال کے پیش کر دیا کرتے تھے۔
کیونکہ چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی اور قریش سخت تر مخالفت بلکہ دشمن جان ہو گئے تھے ابوطالب باوجود بت پرست مشرک ہونے کے آپ کا ساتھ دیتا تھا۔ اور مخالفین سے لڑتا بھڑتا رہتا تھا۔ یہ تھی منجانب اللہ حسن تدبیر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کے ایام اسی طرح گزرے اور مخالفین سے آپ کی خدمت اس طرح لی، یہاں تک کہ ہجرت سے کچھ پہلے ابوطالب بھی فوت ہو گئے۔
اب سفہاء و جہلا قریش اٹھ کھڑے ہوئے تو پروردگار عالم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ شریف کی طرف ہجرت کرنے کی رخصت عطا فرمائی اور اوس و خزرج جیسی قوموں کو آپ کا انصار بنا دیا۔ ان بزرگوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو جگہ دی۔ مدد کی، حفاظت کی اور مخالفین سے سینہ سپر ہو کر مردانہ وار لڑائیاں کیں۔ اللہ ان سب سے خوش رہے۔ یہ سب کا سب اللہ کی حفاظت اور اس کی عنایت احسان اور اکرام سے تھا۔
پھر فرمایا کہ ” راہ بھولا پا کر صحیح راستہ دکھا دیا “۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ» [42-الشورى:52] الخ، یعنی ” اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح کی وحی کی۔ تم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے؟ تمہیں نہ کتاب کی خبر تھی بلکہ ہم نے اسے نور بنا کر جسے چاہا ہدایت کر دی “۔
بعض کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچپن میں مکہ کی گلیوں میں گم ہو گئے تھے اس وقت اللہ نے لوٹا دیا۔ بعض کہتے ہیں شام کی طرف اپنے چچا کے ساتھ جاتے ہوئے رات کو شیطان نے آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ کر راہ سے ہٹا کر جنگل میں ڈال دیا۔ پس جبرائیل علیہ السلام آئے اور پھونک مار کر شیطان کو تو حبشہ میں ڈال دیا اور سواری کو راہ لگا دیا۔ بغوی نے یہ دونوں قول نقل کئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” بال بچوں والے ہوتے ہوئے تنگ دست پا کر ہم نے آپ کو غنی کر دیا “، پس فقیر صابر اور غنی شاکر ہونے کے درجات آپ کو مل گئے۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
10694
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ سب حال نبوت سے پہلے کے ہیں۔“ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تونگری مال و اسباب کی زیادتی سے نہیں بلکہ حقیقی تونگری وہ ہے جس کا دل بے پرواہ ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6446]
صحیح مسلم شریف میں ہے اس نے فلاح پا لی جسے اسلام نصیب ہوا اور جو کافی ہوا، اتنا رزق بھی ملا اللہ کے دئیے ہوئے پر قناعت کی توفیق بھی ملی ۔ [صحیح مسلم:1054]
پھر فرماتا ہے کہ ” یتیم کو حقیر جان کر نہ ڈانٹ ڈپٹ کر بلکہ اس کے ساتھ احسان و سلوک کر اور اپنی یتیمی کو نہ بھول “۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یتیم کے لیے ایسا ہو جانا چاہیئے جیسے سگا باپ اولاد پر مہربان ہوتا ہے۔“
” سائل کو نہ جھڑک جس طرح تم بے راہ تھے اور اللہ نے ہدایت دی تو اب جو تم سے علمی باتیں پوچھے صحیح راستہ دریافت کرے تو تم اسے ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، غریب مسکین ضعیف بندوں پر تکبر تجبر نہ کرو، انہیں ڈانٹو ڈپٹو نہیں برا بھلا نہ کہو سخت سست نہ بولو، اگر مسکین کو کچھ نہ دے سکے تو بھی بھلا اچھا جواب دے۔ نرمی اور رحم کا سلوک کر “۔
پھر فرمایا کہ ” اپنے رب کی نعمتیں بیان کرتے رہو “۔ یعنی جس طرح تمہاری فقیری کو ہم نے تونگری سے بدل دیا، تم بھی ہماری ان نعمتوں کو بیان کرتے رہو، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ بھی تھا «وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِك مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْك قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» یعنی اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کی شکر گزاری کرنے والا، ان کی وجہ سے تیری ثنا بیان کرنے والا، ان کا اقرار کرنے والا کر دے اور ان نعمتوں کو ہم پر پورا کر دے ۔ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابونضرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ نعمتوں کی شکر گزاری میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کا بیان ہو۔
10695
مسند احمد کی حدیث میں ہے جس نے تھوڑے پر شکر نہ ادا کیا اس نے زیادہ پر بھی شکر نہیں کیا۔ جس نے لوگوں کی شکر گزاری نہ کی اس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ نعمتوں کا بیان بھی شکر ہے اور ان کا بیان نہ کرنا بھی ناشکری ہے، جماعت کے ساتھ رہنا رحمت کا سبب ہے اور تفرقہ عذاب کا باعث ہے ۔ [مسند احمد:375/4:حسن] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
بخاری و مسلم میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے کہا یا رسول اللہ! انصار سارا کا سارا اجر لے گئے۔ فرمایا: ”نہیں جب تک کہ تم ان کے لیے دعا کیا کرو اور ان کی تعریف کرتے رہو“ ۔ [سنن ابوداود:4812،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے اس نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا جس نے بندوں کا شکر ادا نہ کیا ۔ [سنن ابوداود:4811،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ جسے کوئی نعمت ملی اور اس نے اسے بیان کیا تو وہ شکر گزار ہے اور جس نے اسے چھپایا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ جسے کوئی عطیہ دیا جائے اسے چاہیئے کہ اگر ہو سکے تو بدلہ اتار دے اگر نہ ہو سکے تو اس کی ثناء بیان کرے جس نے ثناء کی وہ شکر گزار ہوا اور جس نے اس نعمت کا اظہار نہ کیا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4814،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10696
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہاں نعمت سے مراد نبوت ہے۔“ ایک روایت میں ہے کہ ”قرآن مراد ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”طلب یہ ہے کہ جو بھلائی کی باتیں آپ کو معلوم ہیں وہ اپنے بھائیوں سے بھی بیان کرو۔“ محمد بن اسحاق کہتے ہیں ”جو نعمت و کرامت نبوت کی تمہیں ملی ہے اسے بیان کرو، اس کا ذکر کرو اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو۔“
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والوں میں سے جن پر آپ کو اطمینان ہوتا در پردہ سب سے پہلے پہل دعوت دینی شروع کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز فرض ہوئی جو آپ نے ادا کی۔
سورۃ الضحیٰ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کے احسان پر اس کا شکر ہے۔
10697
الضحى 93:9
باب
ابن ابی شیبہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت دنیا پر پسند کر لی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» کی تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی شیبہ377/7:ضعیف]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کی حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کا بچاؤ کیا۔ اور آپ کی حفاظت کی اور پرورش کی اور مقام و مرتبہ عنایت فرمایا۔ آپ کے والد کا انتقال تو آپ کی پیدائش سے پہلے ہی ہو چکا تھا بعض کہتے ہیں ولادت کے بعد ہوا چھ سال کی عمر میں والدہ صاحبہ کا بھی انتقال ہو گیا۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دادا کی کفالت میں تھے لیکن جب آٹھ سال کی آپ کی عمر ہوئی تو دادا کا سایہ بھی اٹھ گیا۔ اب آپ اپنے چچا ابوطالب کی پرورش میں آئے، ابوطالب دل و جان سے آپ کی نگرانی اور امداد میں رہے۔ آپ کی پوری عزت و توقیر کرتے اور قوم کی مخالفت کے چڑھتے طوفان کو روکتے رہتے تھے اور اپنی جان کو بطور ڈھال کے پیش کر دیا کرتے تھے۔
کیونکہ چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی اور قریش سخت تر مخالفت بلکہ دشمن جان ہو گئے تھے ابوطالب باوجود بت پرست مشرک ہونے کے آپ کا ساتھ دیتا تھا۔ اور مخالفین سے لڑتا بھڑتا رہتا تھا۔ یہ تھی منجانب اللہ حسن تدبیر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کے ایام اسی طرح گزرے اور مخالفین سے آپ کی خدمت اس طرح لی، یہاں تک کہ ہجرت سے کچھ پہلے ابوطالب بھی فوت ہو گئے۔
اب سفہاء و جہلا قریش اٹھ کھڑے ہوئے تو پروردگار عالم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ شریف کی طرف ہجرت کرنے کی رخصت عطا فرمائی اور اوس و خزرج جیسی قوموں کو آپ کا انصار بنا دیا۔ ان بزرگوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو جگہ دی۔ مدد کی، حفاظت کی اور مخالفین سے سینہ سپر ہو کر مردانہ وار لڑائیاں کیں۔ اللہ ان سب سے خوش رہے۔ یہ سب کا سب اللہ کی حفاظت اور اس کی عنایت احسان اور اکرام سے تھا۔
پھر فرمایا کہ ” راہ بھولا پا کر صحیح راستہ دکھا دیا “۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ» [42-الشورى:52] الخ، یعنی ” اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح کی وحی کی۔ تم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے؟ تمہیں نہ کتاب کی خبر تھی بلکہ ہم نے اسے نور بنا کر جسے چاہا ہدایت کر دی “۔
بعض کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچپن میں مکہ کی گلیوں میں گم ہو گئے تھے اس وقت اللہ نے لوٹا دیا۔ بعض کہتے ہیں شام کی طرف اپنے چچا کے ساتھ جاتے ہوئے رات کو شیطان نے آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ کر راہ سے ہٹا کر جنگل میں ڈال دیا۔ پس جبرائیل علیہ السلام آئے اور پھونک مار کر شیطان کو تو حبشہ میں ڈال دیا اور سواری کو راہ لگا دیا۔ بغوی نے یہ دونوں قول نقل کئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” بال بچوں والے ہوتے ہوئے تنگ دست پا کر ہم نے آپ کو غنی کر دیا “، پس فقیر صابر اور غنی شاکر ہونے کے درجات آپ کو مل گئے۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
10694
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ سب حال نبوت سے پہلے کے ہیں۔“ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تونگری مال و اسباب کی زیادتی سے نہیں بلکہ حقیقی تونگری وہ ہے جس کا دل بے پرواہ ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6446]
صحیح مسلم شریف میں ہے اس نے فلاح پا لی جسے اسلام نصیب ہوا اور جو کافی ہوا، اتنا رزق بھی ملا اللہ کے دئیے ہوئے پر قناعت کی توفیق بھی ملی ۔ [صحیح مسلم:1054]
پھر فرماتا ہے کہ ” یتیم کو حقیر جان کر نہ ڈانٹ ڈپٹ کر بلکہ اس کے ساتھ احسان و سلوک کر اور اپنی یتیمی کو نہ بھول “۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یتیم کے لیے ایسا ہو جانا چاہیئے جیسے سگا باپ اولاد پر مہربان ہوتا ہے۔“
” سائل کو نہ جھڑک جس طرح تم بے راہ تھے اور اللہ نے ہدایت دی تو اب جو تم سے علمی باتیں پوچھے صحیح راستہ دریافت کرے تو تم اسے ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، غریب مسکین ضعیف بندوں پر تکبر تجبر نہ کرو، انہیں ڈانٹو ڈپٹو نہیں برا بھلا نہ کہو سخت سست نہ بولو، اگر مسکین کو کچھ نہ دے سکے تو بھی بھلا اچھا جواب دے۔ نرمی اور رحم کا سلوک کر “۔
پھر فرمایا کہ ” اپنے رب کی نعمتیں بیان کرتے رہو “۔ یعنی جس طرح تمہاری فقیری کو ہم نے تونگری سے بدل دیا، تم بھی ہماری ان نعمتوں کو بیان کرتے رہو، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ بھی تھا «وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِك مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْك قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» یعنی اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کی شکر گزاری کرنے والا، ان کی وجہ سے تیری ثنا بیان کرنے والا، ان کا اقرار کرنے والا کر دے اور ان نعمتوں کو ہم پر پورا کر دے ۔ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابونضرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ نعمتوں کی شکر گزاری میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کا بیان ہو۔
10695
مسند احمد کی حدیث میں ہے جس نے تھوڑے پر شکر نہ ادا کیا اس نے زیادہ پر بھی شکر نہیں کیا۔ جس نے لوگوں کی شکر گزاری نہ کی اس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ نعمتوں کا بیان بھی شکر ہے اور ان کا بیان نہ کرنا بھی ناشکری ہے، جماعت کے ساتھ رہنا رحمت کا سبب ہے اور تفرقہ عذاب کا باعث ہے ۔ [مسند احمد:375/4:حسن] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
بخاری و مسلم میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے کہا یا رسول اللہ! انصار سارا کا سارا اجر لے گئے۔ فرمایا: ”نہیں جب تک کہ تم ان کے لیے دعا کیا کرو اور ان کی تعریف کرتے رہو“ ۔ [سنن ابوداود:4812،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے اس نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا جس نے بندوں کا شکر ادا نہ کیا ۔ [سنن ابوداود:4811،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ جسے کوئی نعمت ملی اور اس نے اسے بیان کیا تو وہ شکر گزار ہے اور جس نے اسے چھپایا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ جسے کوئی عطیہ دیا جائے اسے چاہیئے کہ اگر ہو سکے تو بدلہ اتار دے اگر نہ ہو سکے تو اس کی ثناء بیان کرے جس نے ثناء کی وہ شکر گزار ہوا اور جس نے اس نعمت کا اظہار نہ کیا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4814،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10696
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہاں نعمت سے مراد نبوت ہے۔“ ایک روایت میں ہے کہ ”قرآن مراد ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”طلب یہ ہے کہ جو بھلائی کی باتیں آپ کو معلوم ہیں وہ اپنے بھائیوں سے بھی بیان کرو۔“ محمد بن اسحاق کہتے ہیں ”جو نعمت و کرامت نبوت کی تمہیں ملی ہے اسے بیان کرو، اس کا ذکر کرو اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو۔“
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والوں میں سے جن پر آپ کو اطمینان ہوتا در پردہ سب سے پہلے پہل دعوت دینی شروع کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز فرض ہوئی جو آپ نے ادا کی۔
سورۃ الضحیٰ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کے احسان پر اس کا شکر ہے۔
10697
الضحى 93:10
باب
ابن ابی شیبہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت دنیا پر پسند کر لی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» کی تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی شیبہ377/7:ضعیف]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کی حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کا بچاؤ کیا۔ اور آپ کی حفاظت کی اور پرورش کی اور مقام و مرتبہ عنایت فرمایا۔ آپ کے والد کا انتقال تو آپ کی پیدائش سے پہلے ہی ہو چکا تھا بعض کہتے ہیں ولادت کے بعد ہوا چھ سال کی عمر میں والدہ صاحبہ کا بھی انتقال ہو گیا۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دادا کی کفالت میں تھے لیکن جب آٹھ سال کی آپ کی عمر ہوئی تو دادا کا سایہ بھی اٹھ گیا۔ اب آپ اپنے چچا ابوطالب کی پرورش میں آئے، ابوطالب دل و جان سے آپ کی نگرانی اور امداد میں رہے۔ آپ کی پوری عزت و توقیر کرتے اور قوم کی مخالفت کے چڑھتے طوفان کو روکتے رہتے تھے اور اپنی جان کو بطور ڈھال کے پیش کر دیا کرتے تھے۔
کیونکہ چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی اور قریش سخت تر مخالفت بلکہ دشمن جان ہو گئے تھے ابوطالب باوجود بت پرست مشرک ہونے کے آپ کا ساتھ دیتا تھا۔ اور مخالفین سے لڑتا بھڑتا رہتا تھا۔ یہ تھی منجانب اللہ حسن تدبیر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کے ایام اسی طرح گزرے اور مخالفین سے آپ کی خدمت اس طرح لی، یہاں تک کہ ہجرت سے کچھ پہلے ابوطالب بھی فوت ہو گئے۔
اب سفہاء و جہلا قریش اٹھ کھڑے ہوئے تو پروردگار عالم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ شریف کی طرف ہجرت کرنے کی رخصت عطا فرمائی اور اوس و خزرج جیسی قوموں کو آپ کا انصار بنا دیا۔ ان بزرگوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو جگہ دی۔ مدد کی، حفاظت کی اور مخالفین سے سینہ سپر ہو کر مردانہ وار لڑائیاں کیں۔ اللہ ان سب سے خوش رہے۔ یہ سب کا سب اللہ کی حفاظت اور اس کی عنایت احسان اور اکرام سے تھا۔
پھر فرمایا کہ ” راہ بھولا پا کر صحیح راستہ دکھا دیا “۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ» [42-الشورى:52] الخ، یعنی ” اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح کی وحی کی۔ تم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے؟ تمہیں نہ کتاب کی خبر تھی بلکہ ہم نے اسے نور بنا کر جسے چاہا ہدایت کر دی “۔
بعض کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچپن میں مکہ کی گلیوں میں گم ہو گئے تھے اس وقت اللہ نے لوٹا دیا۔ بعض کہتے ہیں شام کی طرف اپنے چچا کے ساتھ جاتے ہوئے رات کو شیطان نے آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ کر راہ سے ہٹا کر جنگل میں ڈال دیا۔ پس جبرائیل علیہ السلام آئے اور پھونک مار کر شیطان کو تو حبشہ میں ڈال دیا اور سواری کو راہ لگا دیا۔ بغوی نے یہ دونوں قول نقل کئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” بال بچوں والے ہوتے ہوئے تنگ دست پا کر ہم نے آپ کو غنی کر دیا “، پس فقیر صابر اور غنی شاکر ہونے کے درجات آپ کو مل گئے۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
10694
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ سب حال نبوت سے پہلے کے ہیں۔“ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تونگری مال و اسباب کی زیادتی سے نہیں بلکہ حقیقی تونگری وہ ہے جس کا دل بے پرواہ ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6446]
صحیح مسلم شریف میں ہے اس نے فلاح پا لی جسے اسلام نصیب ہوا اور جو کافی ہوا، اتنا رزق بھی ملا اللہ کے دئیے ہوئے پر قناعت کی توفیق بھی ملی ۔ [صحیح مسلم:1054]
پھر فرماتا ہے کہ ” یتیم کو حقیر جان کر نہ ڈانٹ ڈپٹ کر بلکہ اس کے ساتھ احسان و سلوک کر اور اپنی یتیمی کو نہ بھول “۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یتیم کے لیے ایسا ہو جانا چاہیئے جیسے سگا باپ اولاد پر مہربان ہوتا ہے۔“
” سائل کو نہ جھڑک جس طرح تم بے راہ تھے اور اللہ نے ہدایت دی تو اب جو تم سے علمی باتیں پوچھے صحیح راستہ دریافت کرے تو تم اسے ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، غریب مسکین ضعیف بندوں پر تکبر تجبر نہ کرو، انہیں ڈانٹو ڈپٹو نہیں برا بھلا نہ کہو سخت سست نہ بولو، اگر مسکین کو کچھ نہ دے سکے تو بھی بھلا اچھا جواب دے۔ نرمی اور رحم کا سلوک کر “۔
پھر فرمایا کہ ” اپنے رب کی نعمتیں بیان کرتے رہو “۔ یعنی جس طرح تمہاری فقیری کو ہم نے تونگری سے بدل دیا، تم بھی ہماری ان نعمتوں کو بیان کرتے رہو، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ بھی تھا «وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِك مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْك قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» یعنی اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کی شکر گزاری کرنے والا، ان کی وجہ سے تیری ثنا بیان کرنے والا، ان کا اقرار کرنے والا کر دے اور ان نعمتوں کو ہم پر پورا کر دے ۔ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابونضرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ نعمتوں کی شکر گزاری میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کا بیان ہو۔
10695
مسند احمد کی حدیث میں ہے جس نے تھوڑے پر شکر نہ ادا کیا اس نے زیادہ پر بھی شکر نہیں کیا۔ جس نے لوگوں کی شکر گزاری نہ کی اس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ نعمتوں کا بیان بھی شکر ہے اور ان کا بیان نہ کرنا بھی ناشکری ہے، جماعت کے ساتھ رہنا رحمت کا سبب ہے اور تفرقہ عذاب کا باعث ہے ۔ [مسند احمد:375/4:حسن] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
بخاری و مسلم میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے کہا یا رسول اللہ! انصار سارا کا سارا اجر لے گئے۔ فرمایا: ”نہیں جب تک کہ تم ان کے لیے دعا کیا کرو اور ان کی تعریف کرتے رہو“ ۔ [سنن ابوداود:4812،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے اس نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا جس نے بندوں کا شکر ادا نہ کیا ۔ [سنن ابوداود:4811،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ جسے کوئی نعمت ملی اور اس نے اسے بیان کیا تو وہ شکر گزار ہے اور جس نے اسے چھپایا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ جسے کوئی عطیہ دیا جائے اسے چاہیئے کہ اگر ہو سکے تو بدلہ اتار دے اگر نہ ہو سکے تو اس کی ثناء بیان کرے جس نے ثناء کی وہ شکر گزار ہوا اور جس نے اس نعمت کا اظہار نہ کیا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4814،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10696
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہاں نعمت سے مراد نبوت ہے۔“ ایک روایت میں ہے کہ ”قرآن مراد ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”طلب یہ ہے کہ جو بھلائی کی باتیں آپ کو معلوم ہیں وہ اپنے بھائیوں سے بھی بیان کرو۔“ محمد بن اسحاق کہتے ہیں ”جو نعمت و کرامت نبوت کی تمہیں ملی ہے اسے بیان کرو، اس کا ذکر کرو اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو۔“
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والوں میں سے جن پر آپ کو اطمینان ہوتا در پردہ سب سے پہلے پہل دعوت دینی شروع کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز فرض ہوئی جو آپ نے ادا کی۔
سورۃ الضحیٰ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کے احسان پر اس کا شکر ہے۔
10697
الضحى 93:11
باب
ابن ابی شیبہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت دنیا پر پسند کر لی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» کی تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی شیبہ377/7:ضعیف]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کی حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کا بچاؤ کیا۔ اور آپ کی حفاظت کی اور پرورش کی اور مقام و مرتبہ عنایت فرمایا۔ آپ کے والد کا انتقال تو آپ کی پیدائش سے پہلے ہی ہو چکا تھا بعض کہتے ہیں ولادت کے بعد ہوا چھ سال کی عمر میں والدہ صاحبہ کا بھی انتقال ہو گیا۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دادا کی کفالت میں تھے لیکن جب آٹھ سال کی آپ کی عمر ہوئی تو دادا کا سایہ بھی اٹھ گیا۔ اب آپ اپنے چچا ابوطالب کی پرورش میں آئے، ابوطالب دل و جان سے آپ کی نگرانی اور امداد میں رہے۔ آپ کی پوری عزت و توقیر کرتے اور قوم کی مخالفت کے چڑھتے طوفان کو روکتے رہتے تھے اور اپنی جان کو بطور ڈھال کے پیش کر دیا کرتے تھے۔
کیونکہ چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی اور قریش سخت تر مخالفت بلکہ دشمن جان ہو گئے تھے ابوطالب باوجود بت پرست مشرک ہونے کے آپ کا ساتھ دیتا تھا۔ اور مخالفین سے لڑتا بھڑتا رہتا تھا۔ یہ تھی منجانب اللہ حسن تدبیر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کے ایام اسی طرح گزرے اور مخالفین سے آپ کی خدمت اس طرح لی، یہاں تک کہ ہجرت سے کچھ پہلے ابوطالب بھی فوت ہو گئے۔
اب سفہاء و جہلا قریش اٹھ کھڑے ہوئے تو پروردگار عالم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ شریف کی طرف ہجرت کرنے کی رخصت عطا فرمائی اور اوس و خزرج جیسی قوموں کو آپ کا انصار بنا دیا۔ ان بزرگوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو جگہ دی۔ مدد کی، حفاظت کی اور مخالفین سے سینہ سپر ہو کر مردانہ وار لڑائیاں کیں۔ اللہ ان سب سے خوش رہے۔ یہ سب کا سب اللہ کی حفاظت اور اس کی عنایت احسان اور اکرام سے تھا۔
پھر فرمایا کہ ” راہ بھولا پا کر صحیح راستہ دکھا دیا “۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ» [42-الشورى:52] الخ، یعنی ” اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح کی وحی کی۔ تم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے؟ تمہیں نہ کتاب کی خبر تھی بلکہ ہم نے اسے نور بنا کر جسے چاہا ہدایت کر دی “۔
بعض کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچپن میں مکہ کی گلیوں میں گم ہو گئے تھے اس وقت اللہ نے لوٹا دیا۔ بعض کہتے ہیں شام کی طرف اپنے چچا کے ساتھ جاتے ہوئے رات کو شیطان نے آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ کر راہ سے ہٹا کر جنگل میں ڈال دیا۔ پس جبرائیل علیہ السلام آئے اور پھونک مار کر شیطان کو تو حبشہ میں ڈال دیا اور سواری کو راہ لگا دیا۔ بغوی نے یہ دونوں قول نقل کئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” بال بچوں والے ہوتے ہوئے تنگ دست پا کر ہم نے آپ کو غنی کر دیا “، پس فقیر صابر اور غنی شاکر ہونے کے درجات آپ کو مل گئے۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
10694
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ سب حال نبوت سے پہلے کے ہیں۔“ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تونگری مال و اسباب کی زیادتی سے نہیں بلکہ حقیقی تونگری وہ ہے جس کا دل بے پرواہ ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6446]
صحیح مسلم شریف میں ہے اس نے فلاح پا لی جسے اسلام نصیب ہوا اور جو کافی ہوا، اتنا رزق بھی ملا اللہ کے دئیے ہوئے پر قناعت کی توفیق بھی ملی ۔ [صحیح مسلم:1054]
پھر فرماتا ہے کہ ” یتیم کو حقیر جان کر نہ ڈانٹ ڈپٹ کر بلکہ اس کے ساتھ احسان و سلوک کر اور اپنی یتیمی کو نہ بھول “۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یتیم کے لیے ایسا ہو جانا چاہیئے جیسے سگا باپ اولاد پر مہربان ہوتا ہے۔“
” سائل کو نہ جھڑک جس طرح تم بے راہ تھے اور اللہ نے ہدایت دی تو اب جو تم سے علمی باتیں پوچھے صحیح راستہ دریافت کرے تو تم اسے ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، غریب مسکین ضعیف بندوں پر تکبر تجبر نہ کرو، انہیں ڈانٹو ڈپٹو نہیں برا بھلا نہ کہو سخت سست نہ بولو، اگر مسکین کو کچھ نہ دے سکے تو بھی بھلا اچھا جواب دے۔ نرمی اور رحم کا سلوک کر “۔
پھر فرمایا کہ ” اپنے رب کی نعمتیں بیان کرتے رہو “۔ یعنی جس طرح تمہاری فقیری کو ہم نے تونگری سے بدل دیا، تم بھی ہماری ان نعمتوں کو بیان کرتے رہو، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ بھی تھا «وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِك مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْك قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» یعنی اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کی شکر گزاری کرنے والا، ان کی وجہ سے تیری ثنا بیان کرنے والا، ان کا اقرار کرنے والا کر دے اور ان نعمتوں کو ہم پر پورا کر دے ۔ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابونضرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ نعمتوں کی شکر گزاری میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کا بیان ہو۔
10695
مسند احمد کی حدیث میں ہے جس نے تھوڑے پر شکر نہ ادا کیا اس نے زیادہ پر بھی شکر نہیں کیا۔ جس نے لوگوں کی شکر گزاری نہ کی اس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ نعمتوں کا بیان بھی شکر ہے اور ان کا بیان نہ کرنا بھی ناشکری ہے، جماعت کے ساتھ رہنا رحمت کا سبب ہے اور تفرقہ عذاب کا باعث ہے ۔ [مسند احمد:375/4:حسن] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
بخاری و مسلم میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے کہا یا رسول اللہ! انصار سارا کا سارا اجر لے گئے۔ فرمایا: ”نہیں جب تک کہ تم ان کے لیے دعا کیا کرو اور ان کی تعریف کرتے رہو“ ۔ [سنن ابوداود:4812،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے اس نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا جس نے بندوں کا شکر ادا نہ کیا ۔ [سنن ابوداود:4811،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ جسے کوئی نعمت ملی اور اس نے اسے بیان کیا تو وہ شکر گزار ہے اور جس نے اسے چھپایا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ جسے کوئی عطیہ دیا جائے اسے چاہیئے کہ اگر ہو سکے تو بدلہ اتار دے اگر نہ ہو سکے تو اس کی ثناء بیان کرے جس نے ثناء کی وہ شکر گزار ہوا اور جس نے اس نعمت کا اظہار نہ کیا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4814،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10696
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہاں نعمت سے مراد نبوت ہے۔“ ایک روایت میں ہے کہ ”قرآن مراد ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”طلب یہ ہے کہ جو بھلائی کی باتیں آپ کو معلوم ہیں وہ اپنے بھائیوں سے بھی بیان کرو۔“ محمد بن اسحاق کہتے ہیں ”جو نعمت و کرامت نبوت کی تمہیں ملی ہے اسے بیان کرو، اس کا ذکر کرو اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو۔“
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والوں میں سے جن پر آپ کو اطمینان ہوتا در پردہ سب سے پہلے پہل دعوت دینی شروع کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز فرض ہوئی جو آپ نے ادا کی۔
سورۃ الضحیٰ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کے احسان پر اس کا شکر ہے۔
10697
الشرح 94:1
باب
یعنی ” ہم نے تیرے سینے کو منور کر دیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کر دیا “۔ اور جگہ ہے «فَمَن يُرِدِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ» [6-الأنعام:125] الخ، یعنی ” جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے “۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ کشادہ کر دیا گیا تھا۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بھی کشادگی والی، نرمی اور آسانی والی بنا دی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے، نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف اور سختی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گزر چکا، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ [سنن ترمذي:3346،قال الشيخ الألباني:صحیح]
لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہو سکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ کو راز اللہ کا گنجینہ بنا دینا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بڑی دلیری سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ باتیں پوچھ لیا کرتے تھے جسے دوسرے نہ پوچھ سکتے تھے ایک مرتبہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ! امر نبوت میں سب سے پہلے آپ نے کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”ابوہریرہ میں دس سال کچھ ماہ کا تھا جنگل میں کھڑا تھا کہ میں نے اوپر آسمان کی طرف سے کچھ آواز سنی کہ ایک شخص دوسرے سے کہہ رہا ہے کیا یہ وہی ہیں؟ اب دو شخص میرے سامنے آئے جن کے منہ ایسے منور تھے کہ میں نے ایسے کبھی نہیں دیکھے اور ایسی خوشبو آ رہی تھی کہ میرے دماغ نے ایسی خوشبو کبھی نہیں سونگھی اور ایسے کپڑے پہنے ہوئے تھے کہ میں نے کبھی کسی پر ایسے کپڑے نہیں دیکھے اور آ کر انہوں نے میرے دونوں بازو تھام لیے لیکن مجھے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی میرے بازو تھامے ہوئے ہے۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ انہیں لٹا دو چنانچہ اس نے لٹا دیا لیکن اس میں بھی نہ مجھے تکلیف ہوئی، نہ برا محسوس ہوا۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا ان کا سینہ شق کرو چنانچہ میرا سینہ چیر دیا لیکن نہ تو مجھے اس میں کچھ دکھ ہوا اور نہ میں نے خود دیکھا پھر کہا اس میں سے غل و غش، حسد و بغض سب نکال دو، چنانچہ اس نے ایک خون بستہ جیسی کوئی چیز نکالی اور اسے پھینک دیا پھر اس نے کہا اس میں رافت و رحمت رحم و کرم بھر دو پھر ایک چاندی جیسی چیز جتنی نکالی تھی اتنی ڈال دی پھر میرے دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہلا کر کہا جائیے اور سلامتی سے زندگی گزارئیے اب میں چلا تو میں نے دیکھا کہ ہر چھوٹے پر میرے دل میں شفقت ہے اور ہر بڑے پر رحمت ہے“ ۔ [مسند احمد:139/5:ضعیف]
10703
پھر فرمان ہے کہ ” ہم نے تیرا بوجھ اتار دیا “۔ یہ اسی معنی میں ہے کہ اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے۔ جس بوجھ نے تیری کمر سے آواز نکلوا دی تھی یعنی جس نے تیری کمر کو بوجھل کر دیا تھا۔ ہم نے تیرا ذکر بلند کیا۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”جہاں میرا ذکر کیا جائے گا وہاں تیرا ذکر کیا جائے گا جیسے «أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَأَشْهَد أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللَّه» ۔“
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کر دیا کوئی خطیب، کوئی واعظ، کوئی کلمہ گو، کوئی نمازی ایسا نہیں جو اللہ کی وحدانیت کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا کلمہ نہ پڑھتا ہو۔
ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ میرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب فرماتا ہے کہ میں آپ کا ذکر کس طرح بلند کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ہی کو پورا علم ہے“ فرمایا: جب میں ذکر کیا جاؤں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ذکر کیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37533:ضعیف]
10704
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے اپنے رب سے ایک سوال کیا لیکن نہ کرتا تو اچھا ہوتا میں نے کہا، اللہ مجھ سے پہلے نبیوں میں سے کسی کے لیے تو نے ہوا کو تابعدار کر دیا تھا کسی کے ہاتھوں مردوں کو زندہ کر دیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: کیا تجھے میں نے یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: راہ گم کردہ پا کر میں نے تجھے ہدایت نہیں کی؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا فقیر پا کر غنی نہیں بنا دیا؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا؟ کیا میں نے تیرا ذکر بلند نہیں کیا؟ میں نے کہا ”بیشک“ کیا ہے۔“ [حسن:شیخ عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ اس کی سند حسن ہے]
10705
ابونعیم دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں فارغ ہوا اس چیز سے جس کا حکم مجھے میرے رب عزوجل نے کیا تھا آسمان اور زمین کے کام سے تو میں نے کہا ”اللہ مجھ سے پہلے جتنے انبیاء علیہم السلام ہوئے اب سب کی تو نے تکریم کی، ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا، موسیٰ علیہ السلام کو کلیم بنایا، داؤد علیہ السلام کے لیے پہاڑوں کو مسخر کیا، سلیمان علیہ السلام کے لیے ہواؤں اور شیاطین کو بھی تابعدار بنایا اور عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر مردے زندہ کرائے، پس میرے لیے کیا کیا ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” کیا میں نے تجھے ان سب سے افضل چیز نہیں دی کہ میرے ذکر کے ساتھ ہی تیرا ذکر بھی کیا جاتا ہے اور میں نے تیری امت کے سینوں کو ایسا کر دیا کہ وہ قرآن کو قرأت سے پڑھتے ہیں۔ یہ میں نے کسی اگلی امت کو نہیں دیا اور میں نے تجھے اپنے عرش کے خزانوں میں سے خزانہ دیا جو «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ہے “۔ [اسنادہ ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس سے مراد اذان ہے“ یعنی اذان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے، جس طرح حسان رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے۔
«اأَغَرّ عَلَيْهِ لِلنُّبُوَّةِ خَاتَم» «مِنْ اللَّه مِنْ نُور يَلُوح وَيَشْهَد» «وَضَمَّ الْإِلَه اِسْم النَّبِيّ إِلَى اِسْمه» «إِذَا قَالَ فِي الْخَمْس الْمُؤَذِّن أَشْهَد» «وَشَقَّ لَهُ مِنْ اِسْمه لِيُجِلَّهُ» «فَذُو الْعَرْش مَحْمُود وَهَذَا مُحَمَّد»
یعنی اللہ تعالیٰ نے مہر نبوت کو اپنے پاس کا ایک نور بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ثبت فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہ ہے اپنے نام کے ساتھ اپنے نبی کا نام ملا لیا جبکہ پانچویں وقت «اشھد» کہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و جلال کے اظہار کے لیے اپنے نام میں سے آپ کا نام نکالا دیکھو وہ عرش والا محمود ہے اور آپ محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔
اور لوگ کہتے ہیں کہ اگلوں پچھلوں میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کیا اور تمام انبیاء علیہم السلام سے روز میثاق میں عہد لیا گیا کہ وہ آپ پر ایمان لائیں اور اپنی اپنی امتوں کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا حکم کریں پھر آپ کی امت میں آپ کے ذکر کو مشہور کیا کہ اللہ کے ذکر کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جائے۔
10706
صرصری رحمہ اللہ نے کتنی اچھی بات بیان فرمائی ہے، فرماتے ہیں کہ ”فرضوں کی اذان صحیح نہیں ہوتی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے اور میٹھے نام سے جو پسندیدہ اور اچھے منہ سے ادا ہو۔“ اور فرماتے ہیں کہ ”تم نہیں دیکھتے کہ ہماری اذان اور ہمارا فرض صحیح نہیں ہوتا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر باربار اس میں نہ آئے۔“
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ تکرار اور تاکید کے ساتھ دو دو دفعہ فرماتا ہے کہ ” سختی کے ساتھ آسانی، دشواری کے ساتھ سہولت ہے “۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے سامنے ایک پتھر تھا پس لوگوں نے کہا اور سختی آئے اور اس پتھر پر گھس جائے تو آسانی ہی آئے گی اور اسی میں جائے گی، اور اسے نکال لائے گی اس پر یہ آیت اتری۔
مسند بزار میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر دشواری اس پتھر میں داخل ہو جائے تو آسانی آ کر اسے نکالے گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی ۔ [مسند بزار:2288:ضعیف] یہ حدیث صرف عائز بن شریح انس سے روایت کرتے ہیں اور ان کے بارے میں ابوحاتم رازی کا فیصلہ ہے کہ ان کی حدیث میں ضعف ہے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ موقوف مروی ہے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگ کہتے تھے کہ ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی، حسن رحمہ اللہ سے ابن جریر میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن شادان اور فرحاں آئے اور ہنستے ہوئے فرمانے لگے ”ہرگز ایک دشواری پر دو نرمیوں پر غالب نہیں آ سکتی۔“ پھر اس آیت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی، یہ حدیث مرسل ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خوشخبری سنائی کہ دو آسانیوں پر ایک سختی غالب نہیں آ سکتی ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:37533]
مطلب یہ ہے کہ «عُسْرِہ» کے لفظ کو تو دونوں جگہ معرفہ لائے ہیں تو وہ مفرد ہوا اور «يُسْرً» کے لفظ کو نکرہ لائے ہیں تو وہ متعدد ہو گیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ «نَزَّلَ الْمَعُونَةَ مِنَ السَّمَاءِ عَلَى قَدْرِ الْمَؤُونَةِ، وَنَزَّلَ الصَّبْرَ عَلَى قَدْرِ الْمُصِيبَةِ» «الْمَعُونَةَ» یعنی امداد الٰہی بقدر «الْمَؤُونَةِ» یعنی تکلیف کے آسمان سے نازل ہوتی ہے یعنی صبر مصیبت کی مقدار پر نازل ہوتا ہے۔ [مسند بزار::1506:صحیح]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «صَبْرًا جَمِيلًا مَا أَقْرَبَ الْفَرَجَا» «مَنْ رَاقَبَ اللَّهَ فِي الْأُمُورِ نَجَا» *** «مَنْ صَدَقَ اللَّهَ لَمْ يَنَلْهُ أَذًى» *** «وَمَنْ رَجَاهُ يَكُونُ حَيْثُ رَجَا»
یعنی اچھا صبر آسانیوں سے کیا ہی قریب ہے؟ اپنے کاموں میں اللہ تعالیٰ لحاظ رکھنے والا، نجات یافتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی باتوں کی تصدیق کرنے والے کو کوئی ایذاء نہیں پہنچتی اس سے بھلائی کی امید رکھنے والا اسے اپنی امید کے ساتھ ہی پاتا ہے۔
10707
ابوحاتم سجستانی رحمہ اللہ کے اشعار ہیں کہ
«إِذَا اشْتَمَلَتْ عَلَى الْيَأْسِ الْقُلُوبُ» *** «وَضَاقَ لِمَا بِهِ الصَّدْرُ الرَّحِيبُ» *** «وَأَوْطَأَتِ الْمَكَارِهُ وَاطْمَأَنَّتْ» *** «وَأَرْسَتْ فِي أَمَاكِنِهَا الْخُطُوبُ» *** «وَلَمْ تَرَ لِانْكِشَافِ الضُّرِّ وَجْهًا» *** «وَلَا أَغْنَى بِحِيلَتِهِ الْأَرِيبُ» *** «أَتَاكَ عَلَى قُنُوطٍ مِنْكَ غَوْثٌ» *** «يَمُنُّ بِهِ اللَّطِيفُ الْمُسْتَجِيبُ» *** «وَكُلُّ الْحَادِثَاتِ إِذَا تَنَاهَتْ» «فَمَوْصُولٌ بِهَا الْفَرَجُ الْقَرِيبُ» جب مایوسی دل پر قبضہ کر لیتی ہے اور سینہ باوجود کشادگی کے تنگ ہو جاتا ہے تکلیفیں گھیر لیتی ہیں اور مصیبتیں ڈیرہ جما لیتی ہیں کوئی چارہ سجھائی نہیں دیتا اور کوئی تدبیر نجات کارگر نہیں ہوتی اس وقت اچانک اللہ کی مدد آ پہنچتی ہے۔ اور وہ دعاؤں کا سننے والا باریک بین اللہ اس سختی کو آسانی سے اور اس تکلیف کو راحت میں بدل دیتا ہے۔ تنگیاں جب کہ بھرپور آ پڑی ہیں پروردگار وسعتیں نازل فرما کر نقصان کو فائدے سے بدل دیتا ہے۔
کسی اور شاعر نے کہا ہے: «وَلَرُبَّ نَازِلَةٍ يَضِيقُ بِهَا الْفَتَى» *** «ذَرْعًا وَعِنْدَ اللَّهِ مِنْهَا الْمَخْرَجُ» *** «كَمُلَتْ فَلَمَّا اسْتَحْكَمَتْ حَلْقَاتُهَا» *** «فُرِجَتْ وَكَانَ يَظُنُّهَا لَا تُفْرَجُ» یعنی بہت سی ایسی مصیبتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں جن سے وہ تنگ دل ہو جاتا ہے حالانکہ اللہ کے پاس ان سے چھٹکارا بھی ہے جب یہ مصیبتیں کامل ہو جاتی ہیں اور اس زنجیر کے حلقے، مضبوط ہو جاتے ہیں اور انسان گمان کرنے لگتا ہے کہ بھلا یہ کیا ہٹیں گی کہ اچانک اس رحیم و کریم اللہ کی شفقت بھری نظریں پڑتی ہیں اور اس مصیبت کو اس طرح ودر کرتا ہے کہ گویا آئی ہی نہ تھی۔
اس کے بعد ارشاد باری ہوتا ہے کہ ” جب تو دنیوی کاموں سے اور یہاں کے اشغال سے فرصت پائے تو ہماری عبادتوں میں لگ جا اور فارغ البال ہو کر دلی توجہ کے ساتھ ہمارے سامنے عاجزی میں لگ جا، اپنی نیت خالص کر لے اپنی پوری رغبت کے ساتھ ہماری جناب کی طرف متوجہ ہو جا “۔
10708
اسی معنی کی وہ حدیث ہے جس کی صحت پر اتفاق ہے جس میں ہے کہ کھانا سامنے موجود ہونے کے وقت نماز نہیں اور اس حالت میں بھی کہ انسان کو پاخانہ پیشاب کی حاجت ہو ۔ [صحیح مسلم:560]
اور حدیث میں ہے کہ جب نماز کھڑی کی جائے اور شام کا کھانا سامنے موجود ہو تو پہلے کھانے سے فراغت حاصل کر لو ۔ [صحیح بخاری:5463]
مجاہد رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب امر دنیا سے فارغ ہو کر نماز کے لیے کھڑے ہو تو محنت کے ساتھ عبادت کرو اور مشغولیت کے ساتھ رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب فرض نماز سے فارغ ہو تو تہجد کی نماز میں کھڑا ہو۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہوئے اپنے رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یعنی دعا کر“، زید بن اسلم رحمہ اللہ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جہاد سے فارغ ہو کر اللہ کی عبادت میں لگ جا۔“ ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اپنی نیت اور اپنی رغبت اللہ ہی کی طرف رکھ۔“
سورۃ الم نشرح کی تفسیر اللہ کے فضل و کرم سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10709
الشرح 94:2
باب
یعنی ” ہم نے تیرے سینے کو منور کر دیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کر دیا “۔ اور جگہ ہے «فَمَن يُرِدِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ» [6-الأنعام:125] الخ، یعنی ” جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے “۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ کشادہ کر دیا گیا تھا۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بھی کشادگی والی، نرمی اور آسانی والی بنا دی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے، نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف اور سختی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گزر چکا، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ [سنن ترمذي:3346،قال الشيخ الألباني:صحیح]
لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہو سکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ کو راز اللہ کا گنجینہ بنا دینا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بڑی دلیری سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ باتیں پوچھ لیا کرتے تھے جسے دوسرے نہ پوچھ سکتے تھے ایک مرتبہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ! امر نبوت میں سب سے پہلے آپ نے کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”ابوہریرہ میں دس سال کچھ ماہ کا تھا جنگل میں کھڑا تھا کہ میں نے اوپر آسمان کی طرف سے کچھ آواز سنی کہ ایک شخص دوسرے سے کہہ رہا ہے کیا یہ وہی ہیں؟ اب دو شخص میرے سامنے آئے جن کے منہ ایسے منور تھے کہ میں نے ایسے کبھی نہیں دیکھے اور ایسی خوشبو آ رہی تھی کہ میرے دماغ نے ایسی خوشبو کبھی نہیں سونگھی اور ایسے کپڑے پہنے ہوئے تھے کہ میں نے کبھی کسی پر ایسے کپڑے نہیں دیکھے اور آ کر انہوں نے میرے دونوں بازو تھام لیے لیکن مجھے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی میرے بازو تھامے ہوئے ہے۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ انہیں لٹا دو چنانچہ اس نے لٹا دیا لیکن اس میں بھی نہ مجھے تکلیف ہوئی، نہ برا محسوس ہوا۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا ان کا سینہ شق کرو چنانچہ میرا سینہ چیر دیا لیکن نہ تو مجھے اس میں کچھ دکھ ہوا اور نہ میں نے خود دیکھا پھر کہا اس میں سے غل و غش، حسد و بغض سب نکال دو، چنانچہ اس نے ایک خون بستہ جیسی کوئی چیز نکالی اور اسے پھینک دیا پھر اس نے کہا اس میں رافت و رحمت رحم و کرم بھر دو پھر ایک چاندی جیسی چیز جتنی نکالی تھی اتنی ڈال دی پھر میرے دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہلا کر کہا جائیے اور سلامتی سے زندگی گزارئیے اب میں چلا تو میں نے دیکھا کہ ہر چھوٹے پر میرے دل میں شفقت ہے اور ہر بڑے پر رحمت ہے“ ۔ [مسند احمد:139/5:ضعیف]
10703
پھر فرمان ہے کہ ” ہم نے تیرا بوجھ اتار دیا “۔ یہ اسی معنی میں ہے کہ اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے۔ جس بوجھ نے تیری کمر سے آواز نکلوا دی تھی یعنی جس نے تیری کمر کو بوجھل کر دیا تھا۔ ہم نے تیرا ذکر بلند کیا۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”جہاں میرا ذکر کیا جائے گا وہاں تیرا ذکر کیا جائے گا جیسے «أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَأَشْهَد أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللَّه» ۔“
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کر دیا کوئی خطیب، کوئی واعظ، کوئی کلمہ گو، کوئی نمازی ایسا نہیں جو اللہ کی وحدانیت کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا کلمہ نہ پڑھتا ہو۔
ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ میرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب فرماتا ہے کہ میں آپ کا ذکر کس طرح بلند کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ہی کو پورا علم ہے“ فرمایا: جب میں ذکر کیا جاؤں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ذکر کیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37533:ضعیف]
10704
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے اپنے رب سے ایک سوال کیا لیکن نہ کرتا تو اچھا ہوتا میں نے کہا، اللہ مجھ سے پہلے نبیوں میں سے کسی کے لیے تو نے ہوا کو تابعدار کر دیا تھا کسی کے ہاتھوں مردوں کو زندہ کر دیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: کیا تجھے میں نے یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: راہ گم کردہ پا کر میں نے تجھے ہدایت نہیں کی؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا فقیر پا کر غنی نہیں بنا دیا؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا؟ کیا میں نے تیرا ذکر بلند نہیں کیا؟ میں نے کہا ”بیشک“ کیا ہے۔“ [حسن:شیخ عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ اس کی سند حسن ہے]
10705
ابونعیم دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں فارغ ہوا اس چیز سے جس کا حکم مجھے میرے رب عزوجل نے کیا تھا آسمان اور زمین کے کام سے تو میں نے کہا ”اللہ مجھ سے پہلے جتنے انبیاء علیہم السلام ہوئے اب سب کی تو نے تکریم کی، ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا، موسیٰ علیہ السلام کو کلیم بنایا، داؤد علیہ السلام کے لیے پہاڑوں کو مسخر کیا، سلیمان علیہ السلام کے لیے ہواؤں اور شیاطین کو بھی تابعدار بنایا اور عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر مردے زندہ کرائے، پس میرے لیے کیا کیا ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” کیا میں نے تجھے ان سب سے افضل چیز نہیں دی کہ میرے ذکر کے ساتھ ہی تیرا ذکر بھی کیا جاتا ہے اور میں نے تیری امت کے سینوں کو ایسا کر دیا کہ وہ قرآن کو قرأت سے پڑھتے ہیں۔ یہ میں نے کسی اگلی امت کو نہیں دیا اور میں نے تجھے اپنے عرش کے خزانوں میں سے خزانہ دیا جو «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ہے “۔ [اسنادہ ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس سے مراد اذان ہے“ یعنی اذان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے، جس طرح حسان رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے۔
«اأَغَرّ عَلَيْهِ لِلنُّبُوَّةِ خَاتَم» «مِنْ اللَّه مِنْ نُور يَلُوح وَيَشْهَد» «وَضَمَّ الْإِلَه اِسْم النَّبِيّ إِلَى اِسْمه» «إِذَا قَالَ فِي الْخَمْس الْمُؤَذِّن أَشْهَد» «وَشَقَّ لَهُ مِنْ اِسْمه لِيُجِلَّهُ» «فَذُو الْعَرْش مَحْمُود وَهَذَا مُحَمَّد»
یعنی اللہ تعالیٰ نے مہر نبوت کو اپنے پاس کا ایک نور بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ثبت فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہ ہے اپنے نام کے ساتھ اپنے نبی کا نام ملا لیا جبکہ پانچویں وقت «اشھد» کہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و جلال کے اظہار کے لیے اپنے نام میں سے آپ کا نام نکالا دیکھو وہ عرش والا محمود ہے اور آپ محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔
اور لوگ کہتے ہیں کہ اگلوں پچھلوں میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کیا اور تمام انبیاء علیہم السلام سے روز میثاق میں عہد لیا گیا کہ وہ آپ پر ایمان لائیں اور اپنی اپنی امتوں کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا حکم کریں پھر آپ کی امت میں آپ کے ذکر کو مشہور کیا کہ اللہ کے ذکر کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جائے۔
10706
صرصری رحمہ اللہ نے کتنی اچھی بات بیان فرمائی ہے، فرماتے ہیں کہ ”فرضوں کی اذان صحیح نہیں ہوتی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے اور میٹھے نام سے جو پسندیدہ اور اچھے منہ سے ادا ہو۔“ اور فرماتے ہیں کہ ”تم نہیں دیکھتے کہ ہماری اذان اور ہمارا فرض صحیح نہیں ہوتا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر باربار اس میں نہ آئے۔“
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ تکرار اور تاکید کے ساتھ دو دو دفعہ فرماتا ہے کہ ” سختی کے ساتھ آسانی، دشواری کے ساتھ سہولت ہے “۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے سامنے ایک پتھر تھا پس لوگوں نے کہا اور سختی آئے اور اس پتھر پر گھس جائے تو آسانی ہی آئے گی اور اسی میں جائے گی، اور اسے نکال لائے گی اس پر یہ آیت اتری۔
مسند بزار میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر دشواری اس پتھر میں داخل ہو جائے تو آسانی آ کر اسے نکالے گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی ۔ [مسند بزار:2288:ضعیف] یہ حدیث صرف عائز بن شریح انس سے روایت کرتے ہیں اور ان کے بارے میں ابوحاتم رازی کا فیصلہ ہے کہ ان کی حدیث میں ضعف ہے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ موقوف مروی ہے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگ کہتے تھے کہ ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی، حسن رحمہ اللہ سے ابن جریر میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن شادان اور فرحاں آئے اور ہنستے ہوئے فرمانے لگے ”ہرگز ایک دشواری پر دو نرمیوں پر غالب نہیں آ سکتی۔“ پھر اس آیت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی، یہ حدیث مرسل ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خوشخبری سنائی کہ دو آسانیوں پر ایک سختی غالب نہیں آ سکتی ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:37533]
مطلب یہ ہے کہ «عُسْرِہ» کے لفظ کو تو دونوں جگہ معرفہ لائے ہیں تو وہ مفرد ہوا اور «يُسْرً» کے لفظ کو نکرہ لائے ہیں تو وہ متعدد ہو گیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ «نَزَّلَ الْمَعُونَةَ مِنَ السَّمَاءِ عَلَى قَدْرِ الْمَؤُونَةِ، وَنَزَّلَ الصَّبْرَ عَلَى قَدْرِ الْمُصِيبَةِ» «الْمَعُونَةَ» یعنی امداد الٰہی بقدر «الْمَؤُونَةِ» یعنی تکلیف کے آسمان سے نازل ہوتی ہے یعنی صبر مصیبت کی مقدار پر نازل ہوتا ہے۔ [مسند بزار::1506:صحیح]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «صَبْرًا جَمِيلًا مَا أَقْرَبَ الْفَرَجَا» «مَنْ رَاقَبَ اللَّهَ فِي الْأُمُورِ نَجَا» *** «مَنْ صَدَقَ اللَّهَ لَمْ يَنَلْهُ أَذًى» *** «وَمَنْ رَجَاهُ يَكُونُ حَيْثُ رَجَا»
یعنی اچھا صبر آسانیوں سے کیا ہی قریب ہے؟ اپنے کاموں میں اللہ تعالیٰ لحاظ رکھنے والا، نجات یافتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی باتوں کی تصدیق کرنے والے کو کوئی ایذاء نہیں پہنچتی اس سے بھلائی کی امید رکھنے والا اسے اپنی امید کے ساتھ ہی پاتا ہے۔
10707
ابوحاتم سجستانی رحمہ اللہ کے اشعار ہیں کہ
«إِذَا اشْتَمَلَتْ عَلَى الْيَأْسِ الْقُلُوبُ» *** «وَضَاقَ لِمَا بِهِ الصَّدْرُ الرَّحِيبُ» *** «وَأَوْطَأَتِ الْمَكَارِهُ وَاطْمَأَنَّتْ» *** «وَأَرْسَتْ فِي أَمَاكِنِهَا الْخُطُوبُ» *** «وَلَمْ تَرَ لِانْكِشَافِ الضُّرِّ وَجْهًا» *** «وَلَا أَغْنَى بِحِيلَتِهِ الْأَرِيبُ» *** «أَتَاكَ عَلَى قُنُوطٍ مِنْكَ غَوْثٌ» *** «يَمُنُّ بِهِ اللَّطِيفُ الْمُسْتَجِيبُ» *** «وَكُلُّ الْحَادِثَاتِ إِذَا تَنَاهَتْ» «فَمَوْصُولٌ بِهَا الْفَرَجُ الْقَرِيبُ» جب مایوسی دل پر قبضہ کر لیتی ہے اور سینہ باوجود کشادگی کے تنگ ہو جاتا ہے تکلیفیں گھیر لیتی ہیں اور مصیبتیں ڈیرہ جما لیتی ہیں کوئی چارہ سجھائی نہیں دیتا اور کوئی تدبیر نجات کارگر نہیں ہوتی اس وقت اچانک اللہ کی مدد آ پہنچتی ہے۔ اور وہ دعاؤں کا سننے والا باریک بین اللہ اس سختی کو آسانی سے اور اس تکلیف کو راحت میں بدل دیتا ہے۔ تنگیاں جب کہ بھرپور آ پڑی ہیں پروردگار وسعتیں نازل فرما کر نقصان کو فائدے سے بدل دیتا ہے۔
کسی اور شاعر نے کہا ہے: «وَلَرُبَّ نَازِلَةٍ يَضِيقُ بِهَا الْفَتَى» *** «ذَرْعًا وَعِنْدَ اللَّهِ مِنْهَا الْمَخْرَجُ» *** «كَمُلَتْ فَلَمَّا اسْتَحْكَمَتْ حَلْقَاتُهَا» *** «فُرِجَتْ وَكَانَ يَظُنُّهَا لَا تُفْرَجُ» یعنی بہت سی ایسی مصیبتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں جن سے وہ تنگ دل ہو جاتا ہے حالانکہ اللہ کے پاس ان سے چھٹکارا بھی ہے جب یہ مصیبتیں کامل ہو جاتی ہیں اور اس زنجیر کے حلقے، مضبوط ہو جاتے ہیں اور انسان گمان کرنے لگتا ہے کہ بھلا یہ کیا ہٹیں گی کہ اچانک اس رحیم و کریم اللہ کی شفقت بھری نظریں پڑتی ہیں اور اس مصیبت کو اس طرح ودر کرتا ہے کہ گویا آئی ہی نہ تھی۔
اس کے بعد ارشاد باری ہوتا ہے کہ ” جب تو دنیوی کاموں سے اور یہاں کے اشغال سے فرصت پائے تو ہماری عبادتوں میں لگ جا اور فارغ البال ہو کر دلی توجہ کے ساتھ ہمارے سامنے عاجزی میں لگ جا، اپنی نیت خالص کر لے اپنی پوری رغبت کے ساتھ ہماری جناب کی طرف متوجہ ہو جا “۔
10708
اسی معنی کی وہ حدیث ہے جس کی صحت پر اتفاق ہے جس میں ہے کہ کھانا سامنے موجود ہونے کے وقت نماز نہیں اور اس حالت میں بھی کہ انسان کو پاخانہ پیشاب کی حاجت ہو ۔ [صحیح مسلم:560]
اور حدیث میں ہے کہ جب نماز کھڑی کی جائے اور شام کا کھانا سامنے موجود ہو تو پہلے کھانے سے فراغت حاصل کر لو ۔ [صحیح بخاری:5463]
مجاہد رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب امر دنیا سے فارغ ہو کر نماز کے لیے کھڑے ہو تو محنت کے ساتھ عبادت کرو اور مشغولیت کے ساتھ رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب فرض نماز سے فارغ ہو تو تہجد کی نماز میں کھڑا ہو۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہوئے اپنے رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یعنی دعا کر“، زید بن اسلم رحمہ اللہ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جہاد سے فارغ ہو کر اللہ کی عبادت میں لگ جا۔“ ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اپنی نیت اور اپنی رغبت اللہ ہی کی طرف رکھ۔“
سورۃ الم نشرح کی تفسیر اللہ کے فضل و کرم سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10709
الشرح 94:3
باب
یعنی ” ہم نے تیرے سینے کو منور کر دیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کر دیا “۔ اور جگہ ہے «فَمَن يُرِدِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ» [6-الأنعام:125] الخ، یعنی ” جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے “۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ کشادہ کر دیا گیا تھا۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بھی کشادگی والی، نرمی اور آسانی والی بنا دی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے، نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف اور سختی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گزر چکا، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ [سنن ترمذي:3346،قال الشيخ الألباني:صحیح]
لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہو سکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ کو راز اللہ کا گنجینہ بنا دینا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بڑی دلیری سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ باتیں پوچھ لیا کرتے تھے جسے دوسرے نہ پوچھ سکتے تھے ایک مرتبہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ! امر نبوت میں سب سے پہلے آپ نے کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”ابوہریرہ میں دس سال کچھ ماہ کا تھا جنگل میں کھڑا تھا کہ میں نے اوپر آسمان کی طرف سے کچھ آواز سنی کہ ایک شخص دوسرے سے کہہ رہا ہے کیا یہ وہی ہیں؟ اب دو شخص میرے سامنے آئے جن کے منہ ایسے منور تھے کہ میں نے ایسے کبھی نہیں دیکھے اور ایسی خوشبو آ رہی تھی کہ میرے دماغ نے ایسی خوشبو کبھی نہیں سونگھی اور ایسے کپڑے پہنے ہوئے تھے کہ میں نے کبھی کسی پر ایسے کپڑے نہیں دیکھے اور آ کر انہوں نے میرے دونوں بازو تھام لیے لیکن مجھے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی میرے بازو تھامے ہوئے ہے۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ انہیں لٹا دو چنانچہ اس نے لٹا دیا لیکن اس میں بھی نہ مجھے تکلیف ہوئی، نہ برا محسوس ہوا۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا ان کا سینہ شق کرو چنانچہ میرا سینہ چیر دیا لیکن نہ تو مجھے اس میں کچھ دکھ ہوا اور نہ میں نے خود دیکھا پھر کہا اس میں سے غل و غش، حسد و بغض سب نکال دو، چنانچہ اس نے ایک خون بستہ جیسی کوئی چیز نکالی اور اسے پھینک دیا پھر اس نے کہا اس میں رافت و رحمت رحم و کرم بھر دو پھر ایک چاندی جیسی چیز جتنی نکالی تھی اتنی ڈال دی پھر میرے دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہلا کر کہا جائیے اور سلامتی سے زندگی گزارئیے اب میں چلا تو میں نے دیکھا کہ ہر چھوٹے پر میرے دل میں شفقت ہے اور ہر بڑے پر رحمت ہے“ ۔ [مسند احمد:139/5:ضعیف]
10703
پھر فرمان ہے کہ ” ہم نے تیرا بوجھ اتار دیا “۔ یہ اسی معنی میں ہے کہ اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے۔ جس بوجھ نے تیری کمر سے آواز نکلوا دی تھی یعنی جس نے تیری کمر کو بوجھل کر دیا تھا۔ ہم نے تیرا ذکر بلند کیا۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”جہاں میرا ذکر کیا جائے گا وہاں تیرا ذکر کیا جائے گا جیسے «أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَأَشْهَد أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللَّه» ۔“
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کر دیا کوئی خطیب، کوئی واعظ، کوئی کلمہ گو، کوئی نمازی ایسا نہیں جو اللہ کی وحدانیت کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا کلمہ نہ پڑھتا ہو۔
ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ میرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب فرماتا ہے کہ میں آپ کا ذکر کس طرح بلند کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ہی کو پورا علم ہے“ فرمایا: جب میں ذکر کیا جاؤں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ذکر کیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37533:ضعیف]
10704
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے اپنے رب سے ایک سوال کیا لیکن نہ کرتا تو اچھا ہوتا میں نے کہا، اللہ مجھ سے پہلے نبیوں میں سے کسی کے لیے تو نے ہوا کو تابعدار کر دیا تھا کسی کے ہاتھوں مردوں کو زندہ کر دیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: کیا تجھے میں نے یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: راہ گم کردہ پا کر میں نے تجھے ہدایت نہیں کی؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا فقیر پا کر غنی نہیں بنا دیا؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا؟ کیا میں نے تیرا ذکر بلند نہیں کیا؟ میں نے کہا ”بیشک“ کیا ہے۔“ [حسن:شیخ عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ اس کی سند حسن ہے]
10705
ابونعیم دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں فارغ ہوا اس چیز سے جس کا حکم مجھے میرے رب عزوجل نے کیا تھا آسمان اور زمین کے کام سے تو میں نے کہا ”اللہ مجھ سے پہلے جتنے انبیاء علیہم السلام ہوئے اب سب کی تو نے تکریم کی، ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا، موسیٰ علیہ السلام کو کلیم بنایا، داؤد علیہ السلام کے لیے پہاڑوں کو مسخر کیا، سلیمان علیہ السلام کے لیے ہواؤں اور شیاطین کو بھی تابعدار بنایا اور عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر مردے زندہ کرائے، پس میرے لیے کیا کیا ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” کیا میں نے تجھے ان سب سے افضل چیز نہیں دی کہ میرے ذکر کے ساتھ ہی تیرا ذکر بھی کیا جاتا ہے اور میں نے تیری امت کے سینوں کو ایسا کر دیا کہ وہ قرآن کو قرأت سے پڑھتے ہیں۔ یہ میں نے کسی اگلی امت کو نہیں دیا اور میں نے تجھے اپنے عرش کے خزانوں میں سے خزانہ دیا جو «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ہے “۔ [اسنادہ ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس سے مراد اذان ہے“ یعنی اذان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے، جس طرح حسان رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے۔
«اأَغَرّ عَلَيْهِ لِلنُّبُوَّةِ خَاتَم» «مِنْ اللَّه مِنْ نُور يَلُوح وَيَشْهَد» «وَضَمَّ الْإِلَه اِسْم النَّبِيّ إِلَى اِسْمه» «إِذَا قَالَ فِي الْخَمْس الْمُؤَذِّن أَشْهَد» «وَشَقَّ لَهُ مِنْ اِسْمه لِيُجِلَّهُ» «فَذُو الْعَرْش مَحْمُود وَهَذَا مُحَمَّد»
یعنی اللہ تعالیٰ نے مہر نبوت کو اپنے پاس کا ایک نور بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ثبت فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہ ہے اپنے نام کے ساتھ اپنے نبی کا نام ملا لیا جبکہ پانچویں وقت «اشھد» کہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و جلال کے اظہار کے لیے اپنے نام میں سے آپ کا نام نکالا دیکھو وہ عرش والا محمود ہے اور آپ محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔
اور لوگ کہتے ہیں کہ اگلوں پچھلوں میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کیا اور تمام انبیاء علیہم السلام سے روز میثاق میں عہد لیا گیا کہ وہ آپ پر ایمان لائیں اور اپنی اپنی امتوں کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا حکم کریں پھر آپ کی امت میں آپ کے ذکر کو مشہور کیا کہ اللہ کے ذکر کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جائے۔
10706
صرصری رحمہ اللہ نے کتنی اچھی بات بیان فرمائی ہے، فرماتے ہیں کہ ”فرضوں کی اذان صحیح نہیں ہوتی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے اور میٹھے نام سے جو پسندیدہ اور اچھے منہ سے ادا ہو۔“ اور فرماتے ہیں کہ ”تم نہیں دیکھتے کہ ہماری اذان اور ہمارا فرض صحیح نہیں ہوتا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر باربار اس میں نہ آئے۔“
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ تکرار اور تاکید کے ساتھ دو دو دفعہ فرماتا ہے کہ ” سختی کے ساتھ آسانی، دشواری کے ساتھ سہولت ہے “۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے سامنے ایک پتھر تھا پس لوگوں نے کہا اور سختی آئے اور اس پتھر پر گھس جائے تو آسانی ہی آئے گی اور اسی میں جائے گی، اور اسے نکال لائے گی اس پر یہ آیت اتری۔
مسند بزار میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر دشواری اس پتھر میں داخل ہو جائے تو آسانی آ کر اسے نکالے گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی ۔ [مسند بزار:2288:ضعیف] یہ حدیث صرف عائز بن شریح انس سے روایت کرتے ہیں اور ان کے بارے میں ابوحاتم رازی کا فیصلہ ہے کہ ان کی حدیث میں ضعف ہے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ موقوف مروی ہے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگ کہتے تھے کہ ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی، حسن رحمہ اللہ سے ابن جریر میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن شادان اور فرحاں آئے اور ہنستے ہوئے فرمانے لگے ”ہرگز ایک دشواری پر دو نرمیوں پر غالب نہیں آ سکتی۔“ پھر اس آیت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی، یہ حدیث مرسل ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خوشخبری سنائی کہ دو آسانیوں پر ایک سختی غالب نہیں آ سکتی ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:37533]
مطلب یہ ہے کہ «عُسْرِہ» کے لفظ کو تو دونوں جگہ معرفہ لائے ہیں تو وہ مفرد ہوا اور «يُسْرً» کے لفظ کو نکرہ لائے ہیں تو وہ متعدد ہو گیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ «نَزَّلَ الْمَعُونَةَ مِنَ السَّمَاءِ عَلَى قَدْرِ الْمَؤُونَةِ، وَنَزَّلَ الصَّبْرَ عَلَى قَدْرِ الْمُصِيبَةِ» «الْمَعُونَةَ» یعنی امداد الٰہی بقدر «الْمَؤُونَةِ» یعنی تکلیف کے آسمان سے نازل ہوتی ہے یعنی صبر مصیبت کی مقدار پر نازل ہوتا ہے۔ [مسند بزار::1506:صحیح]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «صَبْرًا جَمِيلًا مَا أَقْرَبَ الْفَرَجَا» «مَنْ رَاقَبَ اللَّهَ فِي الْأُمُورِ نَجَا» *** «مَنْ صَدَقَ اللَّهَ لَمْ يَنَلْهُ أَذًى» *** «وَمَنْ رَجَاهُ يَكُونُ حَيْثُ رَجَا»
یعنی اچھا صبر آسانیوں سے کیا ہی قریب ہے؟ اپنے کاموں میں اللہ تعالیٰ لحاظ رکھنے والا، نجات یافتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی باتوں کی تصدیق کرنے والے کو کوئی ایذاء نہیں پہنچتی اس سے بھلائی کی امید رکھنے والا اسے اپنی امید کے ساتھ ہی پاتا ہے۔
10707
ابوحاتم سجستانی رحمہ اللہ کے اشعار ہیں کہ
«إِذَا اشْتَمَلَتْ عَلَى الْيَأْسِ الْقُلُوبُ» *** «وَضَاقَ لِمَا بِهِ الصَّدْرُ الرَّحِيبُ» *** «وَأَوْطَأَتِ الْمَكَارِهُ وَاطْمَأَنَّتْ» *** «وَأَرْسَتْ فِي أَمَاكِنِهَا الْخُطُوبُ» *** «وَلَمْ تَرَ لِانْكِشَافِ الضُّرِّ وَجْهًا» *** «وَلَا أَغْنَى بِحِيلَتِهِ الْأَرِيبُ» *** «أَتَاكَ عَلَى قُنُوطٍ مِنْكَ غَوْثٌ» *** «يَمُنُّ بِهِ اللَّطِيفُ الْمُسْتَجِيبُ» *** «وَكُلُّ الْحَادِثَاتِ إِذَا تَنَاهَتْ» «فَمَوْصُولٌ بِهَا الْفَرَجُ الْقَرِيبُ» جب مایوسی دل پر قبضہ کر لیتی ہے اور سینہ باوجود کشادگی کے تنگ ہو جاتا ہے تکلیفیں گھیر لیتی ہیں اور مصیبتیں ڈیرہ جما لیتی ہیں کوئی چارہ سجھائی نہیں دیتا اور کوئی تدبیر نجات کارگر نہیں ہوتی اس وقت اچانک اللہ کی مدد آ پہنچتی ہے۔ اور وہ دعاؤں کا سننے والا باریک بین اللہ اس سختی کو آسانی سے اور اس تکلیف کو راحت میں بدل دیتا ہے۔ تنگیاں جب کہ بھرپور آ پڑی ہیں پروردگار وسعتیں نازل فرما کر نقصان کو فائدے سے بدل دیتا ہے۔
کسی اور شاعر نے کہا ہے: «وَلَرُبَّ نَازِلَةٍ يَضِيقُ بِهَا الْفَتَى» *** «ذَرْعًا وَعِنْدَ اللَّهِ مِنْهَا الْمَخْرَجُ» *** «كَمُلَتْ فَلَمَّا اسْتَحْكَمَتْ حَلْقَاتُهَا» *** «فُرِجَتْ وَكَانَ يَظُنُّهَا لَا تُفْرَجُ» یعنی بہت سی ایسی مصیبتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں جن سے وہ تنگ دل ہو جاتا ہے حالانکہ اللہ کے پاس ان سے چھٹکارا بھی ہے جب یہ مصیبتیں کامل ہو جاتی ہیں اور اس زنجیر کے حلقے، مضبوط ہو جاتے ہیں اور انسان گمان کرنے لگتا ہے کہ بھلا یہ کیا ہٹیں گی کہ اچانک اس رحیم و کریم اللہ کی شفقت بھری نظریں پڑتی ہیں اور اس مصیبت کو اس طرح ودر کرتا ہے کہ گویا آئی ہی نہ تھی۔
اس کے بعد ارشاد باری ہوتا ہے کہ ” جب تو دنیوی کاموں سے اور یہاں کے اشغال سے فرصت پائے تو ہماری عبادتوں میں لگ جا اور فارغ البال ہو کر دلی توجہ کے ساتھ ہمارے سامنے عاجزی میں لگ جا، اپنی نیت خالص کر لے اپنی پوری رغبت کے ساتھ ہماری جناب کی طرف متوجہ ہو جا “۔
10708
اسی معنی کی وہ حدیث ہے جس کی صحت پر اتفاق ہے جس میں ہے کہ کھانا سامنے موجود ہونے کے وقت نماز نہیں اور اس حالت میں بھی کہ انسان کو پاخانہ پیشاب کی حاجت ہو ۔ [صحیح مسلم:560]
اور حدیث میں ہے کہ جب نماز کھڑی کی جائے اور شام کا کھانا سامنے موجود ہو تو پہلے کھانے سے فراغت حاصل کر لو ۔ [صحیح بخاری:5463]
مجاہد رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب امر دنیا سے فارغ ہو کر نماز کے لیے کھڑے ہو تو محنت کے ساتھ عبادت کرو اور مشغولیت کے ساتھ رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب فرض نماز سے فارغ ہو تو تہجد کی نماز میں کھڑا ہو۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہوئے اپنے رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یعنی دعا کر“، زید بن اسلم رحمہ اللہ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جہاد سے فارغ ہو کر اللہ کی عبادت میں لگ جا۔“ ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اپنی نیت اور اپنی رغبت اللہ ہی کی طرف رکھ۔“
سورۃ الم نشرح کی تفسیر اللہ کے فضل و کرم سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10709
الشرح 94:4
باب
یعنی ” ہم نے تیرے سینے کو منور کر دیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کر دیا “۔ اور جگہ ہے «فَمَن يُرِدِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ» [6-الأنعام:125] الخ، یعنی ” جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے “۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ کشادہ کر دیا گیا تھا۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بھی کشادگی والی، نرمی اور آسانی والی بنا دی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے، نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف اور سختی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گزر چکا، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ [سنن ترمذي:3346،قال الشيخ الألباني:صحیح]
لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہو سکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ کو راز اللہ کا گنجینہ بنا دینا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بڑی دلیری سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ باتیں پوچھ لیا کرتے تھے جسے دوسرے نہ پوچھ سکتے تھے ایک مرتبہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ! امر نبوت میں سب سے پہلے آپ نے کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”ابوہریرہ میں دس سال کچھ ماہ کا تھا جنگل میں کھڑا تھا کہ میں نے اوپر آسمان کی طرف سے کچھ آواز سنی کہ ایک شخص دوسرے سے کہہ رہا ہے کیا یہ وہی ہیں؟ اب دو شخص میرے سامنے آئے جن کے منہ ایسے منور تھے کہ میں نے ایسے کبھی نہیں دیکھے اور ایسی خوشبو آ رہی تھی کہ میرے دماغ نے ایسی خوشبو کبھی نہیں سونگھی اور ایسے کپڑے پہنے ہوئے تھے کہ میں نے کبھی کسی پر ایسے کپڑے نہیں دیکھے اور آ کر انہوں نے میرے دونوں بازو تھام لیے لیکن مجھے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی میرے بازو تھامے ہوئے ہے۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ انہیں لٹا دو چنانچہ اس نے لٹا دیا لیکن اس میں بھی نہ مجھے تکلیف ہوئی، نہ برا محسوس ہوا۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا ان کا سینہ شق کرو چنانچہ میرا سینہ چیر دیا لیکن نہ تو مجھے اس میں کچھ دکھ ہوا اور نہ میں نے خود دیکھا پھر کہا اس میں سے غل و غش، حسد و بغض سب نکال دو، چنانچہ اس نے ایک خون بستہ جیسی کوئی چیز نکالی اور اسے پھینک دیا پھر اس نے کہا اس میں رافت و رحمت رحم و کرم بھر دو پھر ایک چاندی جیسی چیز جتنی نکالی تھی اتنی ڈال دی پھر میرے دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہلا کر کہا جائیے اور سلامتی سے زندگی گزارئیے اب میں چلا تو میں نے دیکھا کہ ہر چھوٹے پر میرے دل میں شفقت ہے اور ہر بڑے پر رحمت ہے“ ۔ [مسند احمد:139/5:ضعیف]
10703
پھر فرمان ہے کہ ” ہم نے تیرا بوجھ اتار دیا “۔ یہ اسی معنی میں ہے کہ اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے۔ جس بوجھ نے تیری کمر سے آواز نکلوا دی تھی یعنی جس نے تیری کمر کو بوجھل کر دیا تھا۔ ہم نے تیرا ذکر بلند کیا۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”جہاں میرا ذکر کیا جائے گا وہاں تیرا ذکر کیا جائے گا جیسے «أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَأَشْهَد أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللَّه» ۔“
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کر دیا کوئی خطیب، کوئی واعظ، کوئی کلمہ گو، کوئی نمازی ایسا نہیں جو اللہ کی وحدانیت کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا کلمہ نہ پڑھتا ہو۔
ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ میرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب فرماتا ہے کہ میں آپ کا ذکر کس طرح بلند کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ہی کو پورا علم ہے“ فرمایا: جب میں ذکر کیا جاؤں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ذکر کیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37533:ضعیف]
10704
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے اپنے رب سے ایک سوال کیا لیکن نہ کرتا تو اچھا ہوتا میں نے کہا، اللہ مجھ سے پہلے نبیوں میں سے کسی کے لیے تو نے ہوا کو تابعدار کر دیا تھا کسی کے ہاتھوں مردوں کو زندہ کر دیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: کیا تجھے میں نے یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: راہ گم کردہ پا کر میں نے تجھے ہدایت نہیں کی؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا فقیر پا کر غنی نہیں بنا دیا؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا؟ کیا میں نے تیرا ذکر بلند نہیں کیا؟ میں نے کہا ”بیشک“ کیا ہے۔“ [حسن:شیخ عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ اس کی سند حسن ہے]
10705
ابونعیم دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں فارغ ہوا اس چیز سے جس کا حکم مجھے میرے رب عزوجل نے کیا تھا آسمان اور زمین کے کام سے تو میں نے کہا ”اللہ مجھ سے پہلے جتنے انبیاء علیہم السلام ہوئے اب سب کی تو نے تکریم کی، ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا، موسیٰ علیہ السلام کو کلیم بنایا، داؤد علیہ السلام کے لیے پہاڑوں کو مسخر کیا، سلیمان علیہ السلام کے لیے ہواؤں اور شیاطین کو بھی تابعدار بنایا اور عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر مردے زندہ کرائے، پس میرے لیے کیا کیا ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” کیا میں نے تجھے ان سب سے افضل چیز نہیں دی کہ میرے ذکر کے ساتھ ہی تیرا ذکر بھی کیا جاتا ہے اور میں نے تیری امت کے سینوں کو ایسا کر دیا کہ وہ قرآن کو قرأت سے پڑھتے ہیں۔ یہ میں نے کسی اگلی امت کو نہیں دیا اور میں نے تجھے اپنے عرش کے خزانوں میں سے خزانہ دیا جو «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ہے “۔ [اسنادہ ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس سے مراد اذان ہے“ یعنی اذان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے، جس طرح حسان رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے۔
«اأَغَرّ عَلَيْهِ لِلنُّبُوَّةِ خَاتَم» «مِنْ اللَّه مِنْ نُور يَلُوح وَيَشْهَد» «وَضَمَّ الْإِلَه اِسْم النَّبِيّ إِلَى اِسْمه» «إِذَا قَالَ فِي الْخَمْس الْمُؤَذِّن أَشْهَد» «وَشَقَّ لَهُ مِنْ اِسْمه لِيُجِلَّهُ» «فَذُو الْعَرْش مَحْمُود وَهَذَا مُحَمَّد»
یعنی اللہ تعالیٰ نے مہر نبوت کو اپنے پاس کا ایک نور بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ثبت فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہ ہے اپنے نام کے ساتھ اپنے نبی کا نام ملا لیا جبکہ پانچویں وقت «اشھد» کہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و جلال کے اظہار کے لیے اپنے نام میں سے آپ کا نام نکالا دیکھو وہ عرش والا محمود ہے اور آپ محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔
اور لوگ کہتے ہیں کہ اگلوں پچھلوں میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کیا اور تمام انبیاء علیہم السلام سے روز میثاق میں عہد لیا گیا کہ وہ آپ پر ایمان لائیں اور اپنی اپنی امتوں کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا حکم کریں پھر آپ کی امت میں آپ کے ذکر کو مشہور کیا کہ اللہ کے ذکر کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جائے۔
10706
صرصری رحمہ اللہ نے کتنی اچھی بات بیان فرمائی ہے، فرماتے ہیں کہ ”فرضوں کی اذان صحیح نہیں ہوتی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے اور میٹھے نام سے جو پسندیدہ اور اچھے منہ سے ادا ہو۔“ اور فرماتے ہیں کہ ”تم نہیں دیکھتے کہ ہماری اذان اور ہمارا فرض صحیح نہیں ہوتا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر باربار اس میں نہ آئے۔“
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ تکرار اور تاکید کے ساتھ دو دو دفعہ فرماتا ہے کہ ” سختی کے ساتھ آسانی، دشواری کے ساتھ سہولت ہے “۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے سامنے ایک پتھر تھا پس لوگوں نے کہا اور سختی آئے اور اس پتھر پر گھس جائے تو آسانی ہی آئے گی اور اسی میں جائے گی، اور اسے نکال لائے گی اس پر یہ آیت اتری۔
مسند بزار میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر دشواری اس پتھر میں داخل ہو جائے تو آسانی آ کر اسے نکالے گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی ۔ [مسند بزار:2288:ضعیف] یہ حدیث صرف عائز بن شریح انس سے روایت کرتے ہیں اور ان کے بارے میں ابوحاتم رازی کا فیصلہ ہے کہ ان کی حدیث میں ضعف ہے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ موقوف مروی ہے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگ کہتے تھے کہ ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی، حسن رحمہ اللہ سے ابن جریر میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن شادان اور فرحاں آئے اور ہنستے ہوئے فرمانے لگے ”ہرگز ایک دشواری پر دو نرمیوں پر غالب نہیں آ سکتی۔“ پھر اس آیت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی، یہ حدیث مرسل ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خوشخبری سنائی کہ دو آسانیوں پر ایک سختی غالب نہیں آ سکتی ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:37533]
مطلب یہ ہے کہ «عُسْرِہ» کے لفظ کو تو دونوں جگہ معرفہ لائے ہیں تو وہ مفرد ہوا اور «يُسْرً» کے لفظ کو نکرہ لائے ہیں تو وہ متعدد ہو گیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ «نَزَّلَ الْمَعُونَةَ مِنَ السَّمَاءِ عَلَى قَدْرِ الْمَؤُونَةِ، وَنَزَّلَ الصَّبْرَ عَلَى قَدْرِ الْمُصِيبَةِ» «الْمَعُونَةَ» یعنی امداد الٰہی بقدر «الْمَؤُونَةِ» یعنی تکلیف کے آسمان سے نازل ہوتی ہے یعنی صبر مصیبت کی مقدار پر نازل ہوتا ہے۔ [مسند بزار::1506:صحیح]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «صَبْرًا جَمِيلًا مَا أَقْرَبَ الْفَرَجَا» «مَنْ رَاقَبَ اللَّهَ فِي الْأُمُورِ نَجَا» *** «مَنْ صَدَقَ اللَّهَ لَمْ يَنَلْهُ أَذًى» *** «وَمَنْ رَجَاهُ يَكُونُ حَيْثُ رَجَا»
یعنی اچھا صبر آسانیوں سے کیا ہی قریب ہے؟ اپنے کاموں میں اللہ تعالیٰ لحاظ رکھنے والا، نجات یافتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی باتوں کی تصدیق کرنے والے کو کوئی ایذاء نہیں پہنچتی اس سے بھلائی کی امید رکھنے والا اسے اپنی امید کے ساتھ ہی پاتا ہے۔
10707
ابوحاتم سجستانی رحمہ اللہ کے اشعار ہیں کہ
«إِذَا اشْتَمَلَتْ عَلَى الْيَأْسِ الْقُلُوبُ» *** «وَضَاقَ لِمَا بِهِ الصَّدْرُ الرَّحِيبُ» *** «وَأَوْطَأَتِ الْمَكَارِهُ وَاطْمَأَنَّتْ» *** «وَأَرْسَتْ فِي أَمَاكِنِهَا الْخُطُوبُ» *** «وَلَمْ تَرَ لِانْكِشَافِ الضُّرِّ وَجْهًا» *** «وَلَا أَغْنَى بِحِيلَتِهِ الْأَرِيبُ» *** «أَتَاكَ عَلَى قُنُوطٍ مِنْكَ غَوْثٌ» *** «يَمُنُّ بِهِ اللَّطِيفُ الْمُسْتَجِيبُ» *** «وَكُلُّ الْحَادِثَاتِ إِذَا تَنَاهَتْ» «فَمَوْصُولٌ بِهَا الْفَرَجُ الْقَرِيبُ» جب مایوسی دل پر قبضہ کر لیتی ہے اور سینہ باوجود کشادگی کے تنگ ہو جاتا ہے تکلیفیں گھیر لیتی ہیں اور مصیبتیں ڈیرہ جما لیتی ہیں کوئی چارہ سجھائی نہیں دیتا اور کوئی تدبیر نجات کارگر نہیں ہوتی اس وقت اچانک اللہ کی مدد آ پہنچتی ہے۔ اور وہ دعاؤں کا سننے والا باریک بین اللہ اس سختی کو آسانی سے اور اس تکلیف کو راحت میں بدل دیتا ہے۔ تنگیاں جب کہ بھرپور آ پڑی ہیں پروردگار وسعتیں نازل فرما کر نقصان کو فائدے سے بدل دیتا ہے۔
کسی اور شاعر نے کہا ہے: «وَلَرُبَّ نَازِلَةٍ يَضِيقُ بِهَا الْفَتَى» *** «ذَرْعًا وَعِنْدَ اللَّهِ مِنْهَا الْمَخْرَجُ» *** «كَمُلَتْ فَلَمَّا اسْتَحْكَمَتْ حَلْقَاتُهَا» *** «فُرِجَتْ وَكَانَ يَظُنُّهَا لَا تُفْرَجُ» یعنی بہت سی ایسی مصیبتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں جن سے وہ تنگ دل ہو جاتا ہے حالانکہ اللہ کے پاس ان سے چھٹکارا بھی ہے جب یہ مصیبتیں کامل ہو جاتی ہیں اور اس زنجیر کے حلقے، مضبوط ہو جاتے ہیں اور انسان گمان کرنے لگتا ہے کہ بھلا یہ کیا ہٹیں گی کہ اچانک اس رحیم و کریم اللہ کی شفقت بھری نظریں پڑتی ہیں اور اس مصیبت کو اس طرح ودر کرتا ہے کہ گویا آئی ہی نہ تھی۔
اس کے بعد ارشاد باری ہوتا ہے کہ ” جب تو دنیوی کاموں سے اور یہاں کے اشغال سے فرصت پائے تو ہماری عبادتوں میں لگ جا اور فارغ البال ہو کر دلی توجہ کے ساتھ ہمارے سامنے عاجزی میں لگ جا، اپنی نیت خالص کر لے اپنی پوری رغبت کے ساتھ ہماری جناب کی طرف متوجہ ہو جا “۔
10708
اسی معنی کی وہ حدیث ہے جس کی صحت پر اتفاق ہے جس میں ہے کہ کھانا سامنے موجود ہونے کے وقت نماز نہیں اور اس حالت میں بھی کہ انسان کو پاخانہ پیشاب کی حاجت ہو ۔ [صحیح مسلم:560]
اور حدیث میں ہے کہ جب نماز کھڑی کی جائے اور شام کا کھانا سامنے موجود ہو تو پہلے کھانے سے فراغت حاصل کر لو ۔ [صحیح بخاری:5463]
مجاہد رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب امر دنیا سے فارغ ہو کر نماز کے لیے کھڑے ہو تو محنت کے ساتھ عبادت کرو اور مشغولیت کے ساتھ رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب فرض نماز سے فارغ ہو تو تہجد کی نماز میں کھڑا ہو۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہوئے اپنے رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یعنی دعا کر“، زید بن اسلم رحمہ اللہ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جہاد سے فارغ ہو کر اللہ کی عبادت میں لگ جا۔“ ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اپنی نیت اور اپنی رغبت اللہ ہی کی طرف رکھ۔“
سورۃ الم نشرح کی تفسیر اللہ کے فضل و کرم سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10709
الشرح 94:5
باب
یعنی ” ہم نے تیرے سینے کو منور کر دیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کر دیا “۔ اور جگہ ہے «فَمَن يُرِدِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ» [6-الأنعام:125] الخ، یعنی ” جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے “۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ کشادہ کر دیا گیا تھا۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بھی کشادگی والی، نرمی اور آسانی والی بنا دی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے، نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف اور سختی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گزر چکا، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ [سنن ترمذي:3346،قال الشيخ الألباني:صحیح]
لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہو سکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ کو راز اللہ کا گنجینہ بنا دینا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بڑی دلیری سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ باتیں پوچھ لیا کرتے تھے جسے دوسرے نہ پوچھ سکتے تھے ایک مرتبہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ! امر نبوت میں سب سے پہلے آپ نے کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”ابوہریرہ میں دس سال کچھ ماہ کا تھا جنگل میں کھڑا تھا کہ میں نے اوپر آسمان کی طرف سے کچھ آواز سنی کہ ایک شخص دوسرے سے کہہ رہا ہے کیا یہ وہی ہیں؟ اب دو شخص میرے سامنے آئے جن کے منہ ایسے منور تھے کہ میں نے ایسے کبھی نہیں دیکھے اور ایسی خوشبو آ رہی تھی کہ میرے دماغ نے ایسی خوشبو کبھی نہیں سونگھی اور ایسے کپڑے پہنے ہوئے تھے کہ میں نے کبھی کسی پر ایسے کپڑے نہیں دیکھے اور آ کر انہوں نے میرے دونوں بازو تھام لیے لیکن مجھے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی میرے بازو تھامے ہوئے ہے۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ انہیں لٹا دو چنانچہ اس نے لٹا دیا لیکن اس میں بھی نہ مجھے تکلیف ہوئی، نہ برا محسوس ہوا۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا ان کا سینہ شق کرو چنانچہ میرا سینہ چیر دیا لیکن نہ تو مجھے اس میں کچھ دکھ ہوا اور نہ میں نے خود دیکھا پھر کہا اس میں سے غل و غش، حسد و بغض سب نکال دو، چنانچہ اس نے ایک خون بستہ جیسی کوئی چیز نکالی اور اسے پھینک دیا پھر اس نے کہا اس میں رافت و رحمت رحم و کرم بھر دو پھر ایک چاندی جیسی چیز جتنی نکالی تھی اتنی ڈال دی پھر میرے دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہلا کر کہا جائیے اور سلامتی سے زندگی گزارئیے اب میں چلا تو میں نے دیکھا کہ ہر چھوٹے پر میرے دل میں شفقت ہے اور ہر بڑے پر رحمت ہے“ ۔ [مسند احمد:139/5:ضعیف]
10703
پھر فرمان ہے کہ ” ہم نے تیرا بوجھ اتار دیا “۔ یہ اسی معنی میں ہے کہ اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے۔ جس بوجھ نے تیری کمر سے آواز نکلوا دی تھی یعنی جس نے تیری کمر کو بوجھل کر دیا تھا۔ ہم نے تیرا ذکر بلند کیا۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”جہاں میرا ذکر کیا جائے گا وہاں تیرا ذکر کیا جائے گا جیسے «أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَأَشْهَد أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللَّه» ۔“
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کر دیا کوئی خطیب، کوئی واعظ، کوئی کلمہ گو، کوئی نمازی ایسا نہیں جو اللہ کی وحدانیت کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا کلمہ نہ پڑھتا ہو۔
ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ میرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب فرماتا ہے کہ میں آپ کا ذکر کس طرح بلند کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ہی کو پورا علم ہے“ فرمایا: جب میں ذکر کیا جاؤں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ذکر کیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37533:ضعیف]
10704
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے اپنے رب سے ایک سوال کیا لیکن نہ کرتا تو اچھا ہوتا میں نے کہا، اللہ مجھ سے پہلے نبیوں میں سے کسی کے لیے تو نے ہوا کو تابعدار کر دیا تھا کسی کے ہاتھوں مردوں کو زندہ کر دیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: کیا تجھے میں نے یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: راہ گم کردہ پا کر میں نے تجھے ہدایت نہیں کی؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا فقیر پا کر غنی نہیں بنا دیا؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا؟ کیا میں نے تیرا ذکر بلند نہیں کیا؟ میں نے کہا ”بیشک“ کیا ہے۔“ [حسن:شیخ عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ اس کی سند حسن ہے]
10705
ابونعیم دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں فارغ ہوا اس چیز سے جس کا حکم مجھے میرے رب عزوجل نے کیا تھا آسمان اور زمین کے کام سے تو میں نے کہا ”اللہ مجھ سے پہلے جتنے انبیاء علیہم السلام ہوئے اب سب کی تو نے تکریم کی، ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا، موسیٰ علیہ السلام کو کلیم بنایا، داؤد علیہ السلام کے لیے پہاڑوں کو مسخر کیا، سلیمان علیہ السلام کے لیے ہواؤں اور شیاطین کو بھی تابعدار بنایا اور عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر مردے زندہ کرائے، پس میرے لیے کیا کیا ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” کیا میں نے تجھے ان سب سے افضل چیز نہیں دی کہ میرے ذکر کے ساتھ ہی تیرا ذکر بھی کیا جاتا ہے اور میں نے تیری امت کے سینوں کو ایسا کر دیا کہ وہ قرآن کو قرأت سے پڑھتے ہیں۔ یہ میں نے کسی اگلی امت کو نہیں دیا اور میں نے تجھے اپنے عرش کے خزانوں میں سے خزانہ دیا جو «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ہے “۔ [اسنادہ ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس سے مراد اذان ہے“ یعنی اذان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے، جس طرح حسان رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے۔
«اأَغَرّ عَلَيْهِ لِلنُّبُوَّةِ خَاتَم» «مِنْ اللَّه مِنْ نُور يَلُوح وَيَشْهَد» «وَضَمَّ الْإِلَه اِسْم النَّبِيّ إِلَى اِسْمه» «إِذَا قَالَ فِي الْخَمْس الْمُؤَذِّن أَشْهَد» «وَشَقَّ لَهُ مِنْ اِسْمه لِيُجِلَّهُ» «فَذُو الْعَرْش مَحْمُود وَهَذَا مُحَمَّد»
یعنی اللہ تعالیٰ نے مہر نبوت کو اپنے پاس کا ایک نور بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ثبت فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہ ہے اپنے نام کے ساتھ اپنے نبی کا نام ملا لیا جبکہ پانچویں وقت «اشھد» کہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و جلال کے اظہار کے لیے اپنے نام میں سے آپ کا نام نکالا دیکھو وہ عرش والا محمود ہے اور آپ محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔
اور لوگ کہتے ہیں کہ اگلوں پچھلوں میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کیا اور تمام انبیاء علیہم السلام سے روز میثاق میں عہد لیا گیا کہ وہ آپ پر ایمان لائیں اور اپنی اپنی امتوں کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا حکم کریں پھر آپ کی امت میں آپ کے ذکر کو مشہور کیا کہ اللہ کے ذکر کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جائے۔
10706
صرصری رحمہ اللہ نے کتنی اچھی بات بیان فرمائی ہے، فرماتے ہیں کہ ”فرضوں کی اذان صحیح نہیں ہوتی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے اور میٹھے نام سے جو پسندیدہ اور اچھے منہ سے ادا ہو۔“ اور فرماتے ہیں کہ ”تم نہیں دیکھتے کہ ہماری اذان اور ہمارا فرض صحیح نہیں ہوتا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر باربار اس میں نہ آئے۔“
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ تکرار اور تاکید کے ساتھ دو دو دفعہ فرماتا ہے کہ ” سختی کے ساتھ آسانی، دشواری کے ساتھ سہولت ہے “۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے سامنے ایک پتھر تھا پس لوگوں نے کہا اور سختی آئے اور اس پتھر پر گھس جائے تو آسانی ہی آئے گی اور اسی میں جائے گی، اور اسے نکال لائے گی اس پر یہ آیت اتری۔
مسند بزار میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر دشواری اس پتھر میں داخل ہو جائے تو آسانی آ کر اسے نکالے گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی ۔ [مسند بزار:2288:ضعیف] یہ حدیث صرف عائز بن شریح انس سے روایت کرتے ہیں اور ان کے بارے میں ابوحاتم رازی کا فیصلہ ہے کہ ان کی حدیث میں ضعف ہے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ موقوف مروی ہے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگ کہتے تھے کہ ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی، حسن رحمہ اللہ سے ابن جریر میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن شادان اور فرحاں آئے اور ہنستے ہوئے فرمانے لگے ”ہرگز ایک دشواری پر دو نرمیوں پر غالب نہیں آ سکتی۔“ پھر اس آیت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی، یہ حدیث مرسل ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خوشخبری سنائی کہ دو آسانیوں پر ایک سختی غالب نہیں آ سکتی ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:37533]
مطلب یہ ہے کہ «عُسْرِہ» کے لفظ کو تو دونوں جگہ معرفہ لائے ہیں تو وہ مفرد ہوا اور «يُسْرً» کے لفظ کو نکرہ لائے ہیں تو وہ متعدد ہو گیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ «نَزَّلَ الْمَعُونَةَ مِنَ السَّمَاءِ عَلَى قَدْرِ الْمَؤُونَةِ، وَنَزَّلَ الصَّبْرَ عَلَى قَدْرِ الْمُصِيبَةِ» «الْمَعُونَةَ» یعنی امداد الٰہی بقدر «الْمَؤُونَةِ» یعنی تکلیف کے آسمان سے نازل ہوتی ہے یعنی صبر مصیبت کی مقدار پر نازل ہوتا ہے۔ [مسند بزار::1506:صحیح]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «صَبْرًا جَمِيلًا مَا أَقْرَبَ الْفَرَجَا» «مَنْ رَاقَبَ اللَّهَ فِي الْأُمُورِ نَجَا» *** «مَنْ صَدَقَ اللَّهَ لَمْ يَنَلْهُ أَذًى» *** «وَمَنْ رَجَاهُ يَكُونُ حَيْثُ رَجَا»
یعنی اچھا صبر آسانیوں سے کیا ہی قریب ہے؟ اپنے کاموں میں اللہ تعالیٰ لحاظ رکھنے والا، نجات یافتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی باتوں کی تصدیق کرنے والے کو کوئی ایذاء نہیں پہنچتی اس سے بھلائی کی امید رکھنے والا اسے اپنی امید کے ساتھ ہی پاتا ہے۔
10707
ابوحاتم سجستانی رحمہ اللہ کے اشعار ہیں کہ
«إِذَا اشْتَمَلَتْ عَلَى الْيَأْسِ الْقُلُوبُ» *** «وَضَاقَ لِمَا بِهِ الصَّدْرُ الرَّحِيبُ» *** «وَأَوْطَأَتِ الْمَكَارِهُ وَاطْمَأَنَّتْ» *** «وَأَرْسَتْ فِي أَمَاكِنِهَا الْخُطُوبُ» *** «وَلَمْ تَرَ لِانْكِشَافِ الضُّرِّ وَجْهًا» *** «وَلَا أَغْنَى بِحِيلَتِهِ الْأَرِيبُ» *** «أَتَاكَ عَلَى قُنُوطٍ مِنْكَ غَوْثٌ» *** «يَمُنُّ بِهِ اللَّطِيفُ الْمُسْتَجِيبُ» *** «وَكُلُّ الْحَادِثَاتِ إِذَا تَنَاهَتْ» «فَمَوْصُولٌ بِهَا الْفَرَجُ الْقَرِيبُ» جب مایوسی دل پر قبضہ کر لیتی ہے اور سینہ باوجود کشادگی کے تنگ ہو جاتا ہے تکلیفیں گھیر لیتی ہیں اور مصیبتیں ڈیرہ جما لیتی ہیں کوئی چارہ سجھائی نہیں دیتا اور کوئی تدبیر نجات کارگر نہیں ہوتی اس وقت اچانک اللہ کی مدد آ پہنچتی ہے۔ اور وہ دعاؤں کا سننے والا باریک بین اللہ اس سختی کو آسانی سے اور اس تکلیف کو راحت میں بدل دیتا ہے۔ تنگیاں جب کہ بھرپور آ پڑی ہیں پروردگار وسعتیں نازل فرما کر نقصان کو فائدے سے بدل دیتا ہے۔
کسی اور شاعر نے کہا ہے: «وَلَرُبَّ نَازِلَةٍ يَضِيقُ بِهَا الْفَتَى» *** «ذَرْعًا وَعِنْدَ اللَّهِ مِنْهَا الْمَخْرَجُ» *** «كَمُلَتْ فَلَمَّا اسْتَحْكَمَتْ حَلْقَاتُهَا» *** «فُرِجَتْ وَكَانَ يَظُنُّهَا لَا تُفْرَجُ» یعنی بہت سی ایسی مصیبتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں جن سے وہ تنگ دل ہو جاتا ہے حالانکہ اللہ کے پاس ان سے چھٹکارا بھی ہے جب یہ مصیبتیں کامل ہو جاتی ہیں اور اس زنجیر کے حلقے، مضبوط ہو جاتے ہیں اور انسان گمان کرنے لگتا ہے کہ بھلا یہ کیا ہٹیں گی کہ اچانک اس رحیم و کریم اللہ کی شفقت بھری نظریں پڑتی ہیں اور اس مصیبت کو اس طرح ودر کرتا ہے کہ گویا آئی ہی نہ تھی۔
اس کے بعد ارشاد باری ہوتا ہے کہ ” جب تو دنیوی کاموں سے اور یہاں کے اشغال سے فرصت پائے تو ہماری عبادتوں میں لگ جا اور فارغ البال ہو کر دلی توجہ کے ساتھ ہمارے سامنے عاجزی میں لگ جا، اپنی نیت خالص کر لے اپنی پوری رغبت کے ساتھ ہماری جناب کی طرف متوجہ ہو جا “۔
10708
اسی معنی کی وہ حدیث ہے جس کی صحت پر اتفاق ہے جس میں ہے کہ کھانا سامنے موجود ہونے کے وقت نماز نہیں اور اس حالت میں بھی کہ انسان کو پاخانہ پیشاب کی حاجت ہو ۔ [صحیح مسلم:560]
اور حدیث میں ہے کہ جب نماز کھڑی کی جائے اور شام کا کھانا سامنے موجود ہو تو پہلے کھانے سے فراغت حاصل کر لو ۔ [صحیح بخاری:5463]
مجاہد رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب امر دنیا سے فارغ ہو کر نماز کے لیے کھڑے ہو تو محنت کے ساتھ عبادت کرو اور مشغولیت کے ساتھ رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب فرض نماز سے فارغ ہو تو تہجد کی نماز میں کھڑا ہو۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہوئے اپنے رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یعنی دعا کر“، زید بن اسلم رحمہ اللہ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جہاد سے فارغ ہو کر اللہ کی عبادت میں لگ جا۔“ ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اپنی نیت اور اپنی رغبت اللہ ہی کی طرف رکھ۔“
سورۃ الم نشرح کی تفسیر اللہ کے فضل و کرم سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10709
الشرح 94:6
باب
یعنی ” ہم نے تیرے سینے کو منور کر دیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کر دیا “۔ اور جگہ ہے «فَمَن يُرِدِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ» [6-الأنعام:125] الخ، یعنی ” جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے “۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ کشادہ کر دیا گیا تھا۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بھی کشادگی والی، نرمی اور آسانی والی بنا دی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے، نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف اور سختی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گزر چکا، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ [سنن ترمذي:3346،قال الشيخ الألباني:صحیح]
لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہو سکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ کو راز اللہ کا گنجینہ بنا دینا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بڑی دلیری سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ باتیں پوچھ لیا کرتے تھے جسے دوسرے نہ پوچھ سکتے تھے ایک مرتبہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ! امر نبوت میں سب سے پہلے آپ نے کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”ابوہریرہ میں دس سال کچھ ماہ کا تھا جنگل میں کھڑا تھا کہ میں نے اوپر آسمان کی طرف سے کچھ آواز سنی کہ ایک شخص دوسرے سے کہہ رہا ہے کیا یہ وہی ہیں؟ اب دو شخص میرے سامنے آئے جن کے منہ ایسے منور تھے کہ میں نے ایسے کبھی نہیں دیکھے اور ایسی خوشبو آ رہی تھی کہ میرے دماغ نے ایسی خوشبو کبھی نہیں سونگھی اور ایسے کپڑے پہنے ہوئے تھے کہ میں نے کبھی کسی پر ایسے کپڑے نہیں دیکھے اور آ کر انہوں نے میرے دونوں بازو تھام لیے لیکن مجھے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی میرے بازو تھامے ہوئے ہے۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ انہیں لٹا دو چنانچہ اس نے لٹا دیا لیکن اس میں بھی نہ مجھے تکلیف ہوئی، نہ برا محسوس ہوا۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا ان کا سینہ شق کرو چنانچہ میرا سینہ چیر دیا لیکن نہ تو مجھے اس میں کچھ دکھ ہوا اور نہ میں نے خود دیکھا پھر کہا اس میں سے غل و غش، حسد و بغض سب نکال دو، چنانچہ اس نے ایک خون بستہ جیسی کوئی چیز نکالی اور اسے پھینک دیا پھر اس نے کہا اس میں رافت و رحمت رحم و کرم بھر دو پھر ایک چاندی جیسی چیز جتنی نکالی تھی اتنی ڈال دی پھر میرے دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہلا کر کہا جائیے اور سلامتی سے زندگی گزارئیے اب میں چلا تو میں نے دیکھا کہ ہر چھوٹے پر میرے دل میں شفقت ہے اور ہر بڑے پر رحمت ہے“ ۔ [مسند احمد:139/5:ضعیف]
10703
پھر فرمان ہے کہ ” ہم نے تیرا بوجھ اتار دیا “۔ یہ اسی معنی میں ہے کہ اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے۔ جس بوجھ نے تیری کمر سے آواز نکلوا دی تھی یعنی جس نے تیری کمر کو بوجھل کر دیا تھا۔ ہم نے تیرا ذکر بلند کیا۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”جہاں میرا ذکر کیا جائے گا وہاں تیرا ذکر کیا جائے گا جیسے «أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَأَشْهَد أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللَّه» ۔“
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کر دیا کوئی خطیب، کوئی واعظ، کوئی کلمہ گو، کوئی نمازی ایسا نہیں جو اللہ کی وحدانیت کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا کلمہ نہ پڑھتا ہو۔
ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ میرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب فرماتا ہے کہ میں آپ کا ذکر کس طرح بلند کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ہی کو پورا علم ہے“ فرمایا: جب میں ذکر کیا جاؤں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ذکر کیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37533:ضعیف]
10704
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے اپنے رب سے ایک سوال کیا لیکن نہ کرتا تو اچھا ہوتا میں نے کہا، اللہ مجھ سے پہلے نبیوں میں سے کسی کے لیے تو نے ہوا کو تابعدار کر دیا تھا کسی کے ہاتھوں مردوں کو زندہ کر دیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: کیا تجھے میں نے یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: راہ گم کردہ پا کر میں نے تجھے ہدایت نہیں کی؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا فقیر پا کر غنی نہیں بنا دیا؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا؟ کیا میں نے تیرا ذکر بلند نہیں کیا؟ میں نے کہا ”بیشک“ کیا ہے۔“ [حسن:شیخ عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ اس کی سند حسن ہے]
10705
ابونعیم دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں فارغ ہوا اس چیز سے جس کا حکم مجھے میرے رب عزوجل نے کیا تھا آسمان اور زمین کے کام سے تو میں نے کہا ”اللہ مجھ سے پہلے جتنے انبیاء علیہم السلام ہوئے اب سب کی تو نے تکریم کی، ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا، موسیٰ علیہ السلام کو کلیم بنایا، داؤد علیہ السلام کے لیے پہاڑوں کو مسخر کیا، سلیمان علیہ السلام کے لیے ہواؤں اور شیاطین کو بھی تابعدار بنایا اور عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر مردے زندہ کرائے، پس میرے لیے کیا کیا ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” کیا میں نے تجھے ان سب سے افضل چیز نہیں دی کہ میرے ذکر کے ساتھ ہی تیرا ذکر بھی کیا جاتا ہے اور میں نے تیری امت کے سینوں کو ایسا کر دیا کہ وہ قرآن کو قرأت سے پڑھتے ہیں۔ یہ میں نے کسی اگلی امت کو نہیں دیا اور میں نے تجھے اپنے عرش کے خزانوں میں سے خزانہ دیا جو «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ہے “۔ [اسنادہ ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس سے مراد اذان ہے“ یعنی اذان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے، جس طرح حسان رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے۔
«اأَغَرّ عَلَيْهِ لِلنُّبُوَّةِ خَاتَم» «مِنْ اللَّه مِنْ نُور يَلُوح وَيَشْهَد» «وَضَمَّ الْإِلَه اِسْم النَّبِيّ إِلَى اِسْمه» «إِذَا قَالَ فِي الْخَمْس الْمُؤَذِّن أَشْهَد» «وَشَقَّ لَهُ مِنْ اِسْمه لِيُجِلَّهُ» «فَذُو الْعَرْش مَحْمُود وَهَذَا مُحَمَّد»
یعنی اللہ تعالیٰ نے مہر نبوت کو اپنے پاس کا ایک نور بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ثبت فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہ ہے اپنے نام کے ساتھ اپنے نبی کا نام ملا لیا جبکہ پانچویں وقت «اشھد» کہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و جلال کے اظہار کے لیے اپنے نام میں سے آپ کا نام نکالا دیکھو وہ عرش والا محمود ہے اور آپ محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔
اور لوگ کہتے ہیں کہ اگلوں پچھلوں میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کیا اور تمام انبیاء علیہم السلام سے روز میثاق میں عہد لیا گیا کہ وہ آپ پر ایمان لائیں اور اپنی اپنی امتوں کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا حکم کریں پھر آپ کی امت میں آپ کے ذکر کو مشہور کیا کہ اللہ کے ذکر کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جائے۔
10706
صرصری رحمہ اللہ نے کتنی اچھی بات بیان فرمائی ہے، فرماتے ہیں کہ ”فرضوں کی اذان صحیح نہیں ہوتی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے اور میٹھے نام سے جو پسندیدہ اور اچھے منہ سے ادا ہو۔“ اور فرماتے ہیں کہ ”تم نہیں دیکھتے کہ ہماری اذان اور ہمارا فرض صحیح نہیں ہوتا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر باربار اس میں نہ آئے۔“
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ تکرار اور تاکید کے ساتھ دو دو دفعہ فرماتا ہے کہ ” سختی کے ساتھ آسانی، دشواری کے ساتھ سہولت ہے “۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے سامنے ایک پتھر تھا پس لوگوں نے کہا اور سختی آئے اور اس پتھر پر گھس جائے تو آسانی ہی آئے گی اور اسی میں جائے گی، اور اسے نکال لائے گی اس پر یہ آیت اتری۔
مسند بزار میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر دشواری اس پتھر میں داخل ہو جائے تو آسانی آ کر اسے نکالے گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی ۔ [مسند بزار:2288:ضعیف] یہ حدیث صرف عائز بن شریح انس سے روایت کرتے ہیں اور ان کے بارے میں ابوحاتم رازی کا فیصلہ ہے کہ ان کی حدیث میں ضعف ہے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ موقوف مروی ہے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگ کہتے تھے کہ ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی، حسن رحمہ اللہ سے ابن جریر میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن شادان اور فرحاں آئے اور ہنستے ہوئے فرمانے لگے ”ہرگز ایک دشواری پر دو نرمیوں پر غالب نہیں آ سکتی۔“ پھر اس آیت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی، یہ حدیث مرسل ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خوشخبری سنائی کہ دو آسانیوں پر ایک سختی غالب نہیں آ سکتی ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:37533]
مطلب یہ ہے کہ «عُسْرِہ» کے لفظ کو تو دونوں جگہ معرفہ لائے ہیں تو وہ مفرد ہوا اور «يُسْرً» کے لفظ کو نکرہ لائے ہیں تو وہ متعدد ہو گیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ «نَزَّلَ الْمَعُونَةَ مِنَ السَّمَاءِ عَلَى قَدْرِ الْمَؤُونَةِ، وَنَزَّلَ الصَّبْرَ عَلَى قَدْرِ الْمُصِيبَةِ» «الْمَعُونَةَ» یعنی امداد الٰہی بقدر «الْمَؤُونَةِ» یعنی تکلیف کے آسمان سے نازل ہوتی ہے یعنی صبر مصیبت کی مقدار پر نازل ہوتا ہے۔ [مسند بزار::1506:صحیح]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «صَبْرًا جَمِيلًا مَا أَقْرَبَ الْفَرَجَا» «مَنْ رَاقَبَ اللَّهَ فِي الْأُمُورِ نَجَا» *** «مَنْ صَدَقَ اللَّهَ لَمْ يَنَلْهُ أَذًى» *** «وَمَنْ رَجَاهُ يَكُونُ حَيْثُ رَجَا»
یعنی اچھا صبر آسانیوں سے کیا ہی قریب ہے؟ اپنے کاموں میں اللہ تعالیٰ لحاظ رکھنے والا، نجات یافتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی باتوں کی تصدیق کرنے والے کو کوئی ایذاء نہیں پہنچتی اس سے بھلائی کی امید رکھنے والا اسے اپنی امید کے ساتھ ہی پاتا ہے۔
10707
ابوحاتم سجستانی رحمہ اللہ کے اشعار ہیں کہ
«إِذَا اشْتَمَلَتْ عَلَى الْيَأْسِ الْقُلُوبُ» *** «وَضَاقَ لِمَا بِهِ الصَّدْرُ الرَّحِيبُ» *** «وَأَوْطَأَتِ الْمَكَارِهُ وَاطْمَأَنَّتْ» *** «وَأَرْسَتْ فِي أَمَاكِنِهَا الْخُطُوبُ» *** «وَلَمْ تَرَ لِانْكِشَافِ الضُّرِّ وَجْهًا» *** «وَلَا أَغْنَى بِحِيلَتِهِ الْأَرِيبُ» *** «أَتَاكَ عَلَى قُنُوطٍ مِنْكَ غَوْثٌ» *** «يَمُنُّ بِهِ اللَّطِيفُ الْمُسْتَجِيبُ» *** «وَكُلُّ الْحَادِثَاتِ إِذَا تَنَاهَتْ» «فَمَوْصُولٌ بِهَا الْفَرَجُ الْقَرِيبُ» جب مایوسی دل پر قبضہ کر لیتی ہے اور سینہ باوجود کشادگی کے تنگ ہو جاتا ہے تکلیفیں گھیر لیتی ہیں اور مصیبتیں ڈیرہ جما لیتی ہیں کوئی چارہ سجھائی نہیں دیتا اور کوئی تدبیر نجات کارگر نہیں ہوتی اس وقت اچانک اللہ کی مدد آ پہنچتی ہے۔ اور وہ دعاؤں کا سننے والا باریک بین اللہ اس سختی کو آسانی سے اور اس تکلیف کو راحت میں بدل دیتا ہے۔ تنگیاں جب کہ بھرپور آ پڑی ہیں پروردگار وسعتیں نازل فرما کر نقصان کو فائدے سے بدل دیتا ہے۔
کسی اور شاعر نے کہا ہے: «وَلَرُبَّ نَازِلَةٍ يَضِيقُ بِهَا الْفَتَى» *** «ذَرْعًا وَعِنْدَ اللَّهِ مِنْهَا الْمَخْرَجُ» *** «كَمُلَتْ فَلَمَّا اسْتَحْكَمَتْ حَلْقَاتُهَا» *** «فُرِجَتْ وَكَانَ يَظُنُّهَا لَا تُفْرَجُ» یعنی بہت سی ایسی مصیبتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں جن سے وہ تنگ دل ہو جاتا ہے حالانکہ اللہ کے پاس ان سے چھٹکارا بھی ہے جب یہ مصیبتیں کامل ہو جاتی ہیں اور اس زنجیر کے حلقے، مضبوط ہو جاتے ہیں اور انسان گمان کرنے لگتا ہے کہ بھلا یہ کیا ہٹیں گی کہ اچانک اس رحیم و کریم اللہ کی شفقت بھری نظریں پڑتی ہیں اور اس مصیبت کو اس طرح ودر کرتا ہے کہ گویا آئی ہی نہ تھی۔
اس کے بعد ارشاد باری ہوتا ہے کہ ” جب تو دنیوی کاموں سے اور یہاں کے اشغال سے فرصت پائے تو ہماری عبادتوں میں لگ جا اور فارغ البال ہو کر دلی توجہ کے ساتھ ہمارے سامنے عاجزی میں لگ جا، اپنی نیت خالص کر لے اپنی پوری رغبت کے ساتھ ہماری جناب کی طرف متوجہ ہو جا “۔
10708
اسی معنی کی وہ حدیث ہے جس کی صحت پر اتفاق ہے جس میں ہے کہ کھانا سامنے موجود ہونے کے وقت نماز نہیں اور اس حالت میں بھی کہ انسان کو پاخانہ پیشاب کی حاجت ہو ۔ [صحیح مسلم:560]
اور حدیث میں ہے کہ جب نماز کھڑی کی جائے اور شام کا کھانا سامنے موجود ہو تو پہلے کھانے سے فراغت حاصل کر لو ۔ [صحیح بخاری:5463]
مجاہد رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب امر دنیا سے فارغ ہو کر نماز کے لیے کھڑے ہو تو محنت کے ساتھ عبادت کرو اور مشغولیت کے ساتھ رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب فرض نماز سے فارغ ہو تو تہجد کی نماز میں کھڑا ہو۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہوئے اپنے رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یعنی دعا کر“، زید بن اسلم رحمہ اللہ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جہاد سے فارغ ہو کر اللہ کی عبادت میں لگ جا۔“ ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اپنی نیت اور اپنی رغبت اللہ ہی کی طرف رکھ۔“
سورۃ الم نشرح کی تفسیر اللہ کے فضل و کرم سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10709
الشرح 94:7
باب
یعنی ” ہم نے تیرے سینے کو منور کر دیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کر دیا “۔ اور جگہ ہے «فَمَن يُرِدِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ» [6-الأنعام:125] الخ، یعنی ” جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے “۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ کشادہ کر دیا گیا تھا۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بھی کشادگی والی، نرمی اور آسانی والی بنا دی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے، نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف اور سختی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گزر چکا، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ [سنن ترمذي:3346،قال الشيخ الألباني:صحیح]
لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہو سکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ کو راز اللہ کا گنجینہ بنا دینا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بڑی دلیری سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ باتیں پوچھ لیا کرتے تھے جسے دوسرے نہ پوچھ سکتے تھے ایک مرتبہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ! امر نبوت میں سب سے پہلے آپ نے کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”ابوہریرہ میں دس سال کچھ ماہ کا تھا جنگل میں کھڑا تھا کہ میں نے اوپر آسمان کی طرف سے کچھ آواز سنی کہ ایک شخص دوسرے سے کہہ رہا ہے کیا یہ وہی ہیں؟ اب دو شخص میرے سامنے آئے جن کے منہ ایسے منور تھے کہ میں نے ایسے کبھی نہیں دیکھے اور ایسی خوشبو آ رہی تھی کہ میرے دماغ نے ایسی خوشبو کبھی نہیں سونگھی اور ایسے کپڑے پہنے ہوئے تھے کہ میں نے کبھی کسی پر ایسے کپڑے نہیں دیکھے اور آ کر انہوں نے میرے دونوں بازو تھام لیے لیکن مجھے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی میرے بازو تھامے ہوئے ہے۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ انہیں لٹا دو چنانچہ اس نے لٹا دیا لیکن اس میں بھی نہ مجھے تکلیف ہوئی، نہ برا محسوس ہوا۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا ان کا سینہ شق کرو چنانچہ میرا سینہ چیر دیا لیکن نہ تو مجھے اس میں کچھ دکھ ہوا اور نہ میں نے خود دیکھا پھر کہا اس میں سے غل و غش، حسد و بغض سب نکال دو، چنانچہ اس نے ایک خون بستہ جیسی کوئی چیز نکالی اور اسے پھینک دیا پھر اس نے کہا اس میں رافت و رحمت رحم و کرم بھر دو پھر ایک چاندی جیسی چیز جتنی نکالی تھی اتنی ڈال دی پھر میرے دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہلا کر کہا جائیے اور سلامتی سے زندگی گزارئیے اب میں چلا تو میں نے دیکھا کہ ہر چھوٹے پر میرے دل میں شفقت ہے اور ہر بڑے پر رحمت ہے“ ۔ [مسند احمد:139/5:ضعیف]
10703
پھر فرمان ہے کہ ” ہم نے تیرا بوجھ اتار دیا “۔ یہ اسی معنی میں ہے کہ اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے۔ جس بوجھ نے تیری کمر سے آواز نکلوا دی تھی یعنی جس نے تیری کمر کو بوجھل کر دیا تھا۔ ہم نے تیرا ذکر بلند کیا۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”جہاں میرا ذکر کیا جائے گا وہاں تیرا ذکر کیا جائے گا جیسے «أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَأَشْهَد أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللَّه» ۔“
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کر دیا کوئی خطیب، کوئی واعظ، کوئی کلمہ گو، کوئی نمازی ایسا نہیں جو اللہ کی وحدانیت کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا کلمہ نہ پڑھتا ہو۔
ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ میرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب فرماتا ہے کہ میں آپ کا ذکر کس طرح بلند کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ہی کو پورا علم ہے“ فرمایا: جب میں ذکر کیا جاؤں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ذکر کیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37533:ضعیف]
10704
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے اپنے رب سے ایک سوال کیا لیکن نہ کرتا تو اچھا ہوتا میں نے کہا، اللہ مجھ سے پہلے نبیوں میں سے کسی کے لیے تو نے ہوا کو تابعدار کر دیا تھا کسی کے ہاتھوں مردوں کو زندہ کر دیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: کیا تجھے میں نے یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: راہ گم کردہ پا کر میں نے تجھے ہدایت نہیں کی؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا فقیر پا کر غنی نہیں بنا دیا؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا؟ کیا میں نے تیرا ذکر بلند نہیں کیا؟ میں نے کہا ”بیشک“ کیا ہے۔“ [حسن:شیخ عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ اس کی سند حسن ہے]
10705
ابونعیم دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں فارغ ہوا اس چیز سے جس کا حکم مجھے میرے رب عزوجل نے کیا تھا آسمان اور زمین کے کام سے تو میں نے کہا ”اللہ مجھ سے پہلے جتنے انبیاء علیہم السلام ہوئے اب سب کی تو نے تکریم کی، ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا، موسیٰ علیہ السلام کو کلیم بنایا، داؤد علیہ السلام کے لیے پہاڑوں کو مسخر کیا، سلیمان علیہ السلام کے لیے ہواؤں اور شیاطین کو بھی تابعدار بنایا اور عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر مردے زندہ کرائے، پس میرے لیے کیا کیا ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” کیا میں نے تجھے ان سب سے افضل چیز نہیں دی کہ میرے ذکر کے ساتھ ہی تیرا ذکر بھی کیا جاتا ہے اور میں نے تیری امت کے سینوں کو ایسا کر دیا کہ وہ قرآن کو قرأت سے پڑھتے ہیں۔ یہ میں نے کسی اگلی امت کو نہیں دیا اور میں نے تجھے اپنے عرش کے خزانوں میں سے خزانہ دیا جو «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ہے “۔ [اسنادہ ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس سے مراد اذان ہے“ یعنی اذان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے، جس طرح حسان رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے۔
«اأَغَرّ عَلَيْهِ لِلنُّبُوَّةِ خَاتَم» «مِنْ اللَّه مِنْ نُور يَلُوح وَيَشْهَد» «وَضَمَّ الْإِلَه اِسْم النَّبِيّ إِلَى اِسْمه» «إِذَا قَالَ فِي الْخَمْس الْمُؤَذِّن أَشْهَد» «وَشَقَّ لَهُ مِنْ اِسْمه لِيُجِلَّهُ» «فَذُو الْعَرْش مَحْمُود وَهَذَا مُحَمَّد»
یعنی اللہ تعالیٰ نے مہر نبوت کو اپنے پاس کا ایک نور بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ثبت فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہ ہے اپنے نام کے ساتھ اپنے نبی کا نام ملا لیا جبکہ پانچویں وقت «اشھد» کہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و جلال کے اظہار کے لیے اپنے نام میں سے آپ کا نام نکالا دیکھو وہ عرش والا محمود ہے اور آپ محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔
اور لوگ کہتے ہیں کہ اگلوں پچھلوں میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کیا اور تمام انبیاء علیہم السلام سے روز میثاق میں عہد لیا گیا کہ وہ آپ پر ایمان لائیں اور اپنی اپنی امتوں کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا حکم کریں پھر آپ کی امت میں آپ کے ذکر کو مشہور کیا کہ اللہ کے ذکر کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جائے۔
10706
صرصری رحمہ اللہ نے کتنی اچھی بات بیان فرمائی ہے، فرماتے ہیں کہ ”فرضوں کی اذان صحیح نہیں ہوتی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے اور میٹھے نام سے جو پسندیدہ اور اچھے منہ سے ادا ہو۔“ اور فرماتے ہیں کہ ”تم نہیں دیکھتے کہ ہماری اذان اور ہمارا فرض صحیح نہیں ہوتا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر باربار اس میں نہ آئے۔“
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ تکرار اور تاکید کے ساتھ دو دو دفعہ فرماتا ہے کہ ” سختی کے ساتھ آسانی، دشواری کے ساتھ سہولت ہے “۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے سامنے ایک پتھر تھا پس لوگوں نے کہا اور سختی آئے اور اس پتھر پر گھس جائے تو آسانی ہی آئے گی اور اسی میں جائے گی، اور اسے نکال لائے گی اس پر یہ آیت اتری۔
مسند بزار میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر دشواری اس پتھر میں داخل ہو جائے تو آسانی آ کر اسے نکالے گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی ۔ [مسند بزار:2288:ضعیف] یہ حدیث صرف عائز بن شریح انس سے روایت کرتے ہیں اور ان کے بارے میں ابوحاتم رازی کا فیصلہ ہے کہ ان کی حدیث میں ضعف ہے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ موقوف مروی ہے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگ کہتے تھے کہ ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی، حسن رحمہ اللہ سے ابن جریر میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن شادان اور فرحاں آئے اور ہنستے ہوئے فرمانے لگے ”ہرگز ایک دشواری پر دو نرمیوں پر غالب نہیں آ سکتی۔“ پھر اس آیت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی، یہ حدیث مرسل ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خوشخبری سنائی کہ دو آسانیوں پر ایک سختی غالب نہیں آ سکتی ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:37533]
مطلب یہ ہے کہ «عُسْرِہ» کے لفظ کو تو دونوں جگہ معرفہ لائے ہیں تو وہ مفرد ہوا اور «يُسْرً» کے لفظ کو نکرہ لائے ہیں تو وہ متعدد ہو گیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ «نَزَّلَ الْمَعُونَةَ مِنَ السَّمَاءِ عَلَى قَدْرِ الْمَؤُونَةِ، وَنَزَّلَ الصَّبْرَ عَلَى قَدْرِ الْمُصِيبَةِ» «الْمَعُونَةَ» یعنی امداد الٰہی بقدر «الْمَؤُونَةِ» یعنی تکلیف کے آسمان سے نازل ہوتی ہے یعنی صبر مصیبت کی مقدار پر نازل ہوتا ہے۔ [مسند بزار::1506:صحیح]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «صَبْرًا جَمِيلًا مَا أَقْرَبَ الْفَرَجَا» «مَنْ رَاقَبَ اللَّهَ فِي الْأُمُورِ نَجَا» *** «مَنْ صَدَقَ اللَّهَ لَمْ يَنَلْهُ أَذًى» *** «وَمَنْ رَجَاهُ يَكُونُ حَيْثُ رَجَا»
یعنی اچھا صبر آسانیوں سے کیا ہی قریب ہے؟ اپنے کاموں میں اللہ تعالیٰ لحاظ رکھنے والا، نجات یافتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی باتوں کی تصدیق کرنے والے کو کوئی ایذاء نہیں پہنچتی اس سے بھلائی کی امید رکھنے والا اسے اپنی امید کے ساتھ ہی پاتا ہے۔
10707
ابوحاتم سجستانی رحمہ اللہ کے اشعار ہیں کہ
«إِذَا اشْتَمَلَتْ عَلَى الْيَأْسِ الْقُلُوبُ» *** «وَضَاقَ لِمَا بِهِ الصَّدْرُ الرَّحِيبُ» *** «وَأَوْطَأَتِ الْمَكَارِهُ وَاطْمَأَنَّتْ» *** «وَأَرْسَتْ فِي أَمَاكِنِهَا الْخُطُوبُ» *** «وَلَمْ تَرَ لِانْكِشَافِ الضُّرِّ وَجْهًا» *** «وَلَا أَغْنَى بِحِيلَتِهِ الْأَرِيبُ» *** «أَتَاكَ عَلَى قُنُوطٍ مِنْكَ غَوْثٌ» *** «يَمُنُّ بِهِ اللَّطِيفُ الْمُسْتَجِيبُ» *** «وَكُلُّ الْحَادِثَاتِ إِذَا تَنَاهَتْ» «فَمَوْصُولٌ بِهَا الْفَرَجُ الْقَرِيبُ» جب مایوسی دل پر قبضہ کر لیتی ہے اور سینہ باوجود کشادگی کے تنگ ہو جاتا ہے تکلیفیں گھیر لیتی ہیں اور مصیبتیں ڈیرہ جما لیتی ہیں کوئی چارہ سجھائی نہیں دیتا اور کوئی تدبیر نجات کارگر نہیں ہوتی اس وقت اچانک اللہ کی مدد آ پہنچتی ہے۔ اور وہ دعاؤں کا سننے والا باریک بین اللہ اس سختی کو آسانی سے اور اس تکلیف کو راحت میں بدل دیتا ہے۔ تنگیاں جب کہ بھرپور آ پڑی ہیں پروردگار وسعتیں نازل فرما کر نقصان کو فائدے سے بدل دیتا ہے۔
کسی اور شاعر نے کہا ہے: «وَلَرُبَّ نَازِلَةٍ يَضِيقُ بِهَا الْفَتَى» *** «ذَرْعًا وَعِنْدَ اللَّهِ مِنْهَا الْمَخْرَجُ» *** «كَمُلَتْ فَلَمَّا اسْتَحْكَمَتْ حَلْقَاتُهَا» *** «فُرِجَتْ وَكَانَ يَظُنُّهَا لَا تُفْرَجُ» یعنی بہت سی ایسی مصیبتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں جن سے وہ تنگ دل ہو جاتا ہے حالانکہ اللہ کے پاس ان سے چھٹکارا بھی ہے جب یہ مصیبتیں کامل ہو جاتی ہیں اور اس زنجیر کے حلقے، مضبوط ہو جاتے ہیں اور انسان گمان کرنے لگتا ہے کہ بھلا یہ کیا ہٹیں گی کہ اچانک اس رحیم و کریم اللہ کی شفقت بھری نظریں پڑتی ہیں اور اس مصیبت کو اس طرح ودر کرتا ہے کہ گویا آئی ہی نہ تھی۔
اس کے بعد ارشاد باری ہوتا ہے کہ ” جب تو دنیوی کاموں سے اور یہاں کے اشغال سے فرصت پائے تو ہماری عبادتوں میں لگ جا اور فارغ البال ہو کر دلی توجہ کے ساتھ ہمارے سامنے عاجزی میں لگ جا، اپنی نیت خالص کر لے اپنی پوری رغبت کے ساتھ ہماری جناب کی طرف متوجہ ہو جا “۔
10708
اسی معنی کی وہ حدیث ہے جس کی صحت پر اتفاق ہے جس میں ہے کہ کھانا سامنے موجود ہونے کے وقت نماز نہیں اور اس حالت میں بھی کہ انسان کو پاخانہ پیشاب کی حاجت ہو ۔ [صحیح مسلم:560]
اور حدیث میں ہے کہ جب نماز کھڑی کی جائے اور شام کا کھانا سامنے موجود ہو تو پہلے کھانے سے فراغت حاصل کر لو ۔ [صحیح بخاری:5463]
مجاہد رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب امر دنیا سے فارغ ہو کر نماز کے لیے کھڑے ہو تو محنت کے ساتھ عبادت کرو اور مشغولیت کے ساتھ رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب فرض نماز سے فارغ ہو تو تہجد کی نماز میں کھڑا ہو۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہوئے اپنے رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یعنی دعا کر“، زید بن اسلم رحمہ اللہ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جہاد سے فارغ ہو کر اللہ کی عبادت میں لگ جا۔“ ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اپنی نیت اور اپنی رغبت اللہ ہی کی طرف رکھ۔“
سورۃ الم نشرح کی تفسیر اللہ کے فضل و کرم سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10709
الشرح 94:8
باب
یعنی ” ہم نے تیرے سینے کو منور کر دیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کر دیا “۔ اور جگہ ہے «فَمَن يُرِدِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ» [6-الأنعام:125] الخ، یعنی ” جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے “۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ کشادہ کر دیا گیا تھا۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بھی کشادگی والی، نرمی اور آسانی والی بنا دی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے، نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف اور سختی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گزر چکا، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ [سنن ترمذي:3346،قال الشيخ الألباني:صحیح]
لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہو سکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ کو راز اللہ کا گنجینہ بنا دینا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بڑی دلیری سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ باتیں پوچھ لیا کرتے تھے جسے دوسرے نہ پوچھ سکتے تھے ایک مرتبہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ! امر نبوت میں سب سے پہلے آپ نے کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”ابوہریرہ میں دس سال کچھ ماہ کا تھا جنگل میں کھڑا تھا کہ میں نے اوپر آسمان کی طرف سے کچھ آواز سنی کہ ایک شخص دوسرے سے کہہ رہا ہے کیا یہ وہی ہیں؟ اب دو شخص میرے سامنے آئے جن کے منہ ایسے منور تھے کہ میں نے ایسے کبھی نہیں دیکھے اور ایسی خوشبو آ رہی تھی کہ میرے دماغ نے ایسی خوشبو کبھی نہیں سونگھی اور ایسے کپڑے پہنے ہوئے تھے کہ میں نے کبھی کسی پر ایسے کپڑے نہیں دیکھے اور آ کر انہوں نے میرے دونوں بازو تھام لیے لیکن مجھے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی میرے بازو تھامے ہوئے ہے۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ انہیں لٹا دو چنانچہ اس نے لٹا دیا لیکن اس میں بھی نہ مجھے تکلیف ہوئی، نہ برا محسوس ہوا۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا ان کا سینہ شق کرو چنانچہ میرا سینہ چیر دیا لیکن نہ تو مجھے اس میں کچھ دکھ ہوا اور نہ میں نے خود دیکھا پھر کہا اس میں سے غل و غش، حسد و بغض سب نکال دو، چنانچہ اس نے ایک خون بستہ جیسی کوئی چیز نکالی اور اسے پھینک دیا پھر اس نے کہا اس میں رافت و رحمت رحم و کرم بھر دو پھر ایک چاندی جیسی چیز جتنی نکالی تھی اتنی ڈال دی پھر میرے دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہلا کر کہا جائیے اور سلامتی سے زندگی گزارئیے اب میں چلا تو میں نے دیکھا کہ ہر چھوٹے پر میرے دل میں شفقت ہے اور ہر بڑے پر رحمت ہے“ ۔ [مسند احمد:139/5:ضعیف]
10703
پھر فرمان ہے کہ ” ہم نے تیرا بوجھ اتار دیا “۔ یہ اسی معنی میں ہے کہ اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے۔ جس بوجھ نے تیری کمر سے آواز نکلوا دی تھی یعنی جس نے تیری کمر کو بوجھل کر دیا تھا۔ ہم نے تیرا ذکر بلند کیا۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”جہاں میرا ذکر کیا جائے گا وہاں تیرا ذکر کیا جائے گا جیسے «أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَأَشْهَد أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللَّه» ۔“
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کر دیا کوئی خطیب، کوئی واعظ، کوئی کلمہ گو، کوئی نمازی ایسا نہیں جو اللہ کی وحدانیت کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا کلمہ نہ پڑھتا ہو۔
ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ میرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب فرماتا ہے کہ میں آپ کا ذکر کس طرح بلند کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ہی کو پورا علم ہے“ فرمایا: جب میں ذکر کیا جاؤں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ذکر کیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37533:ضعیف]
10704
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے اپنے رب سے ایک سوال کیا لیکن نہ کرتا تو اچھا ہوتا میں نے کہا، اللہ مجھ سے پہلے نبیوں میں سے کسی کے لیے تو نے ہوا کو تابعدار کر دیا تھا کسی کے ہاتھوں مردوں کو زندہ کر دیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: کیا تجھے میں نے یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: راہ گم کردہ پا کر میں نے تجھے ہدایت نہیں کی؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا فقیر پا کر غنی نہیں بنا دیا؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا؟ کیا میں نے تیرا ذکر بلند نہیں کیا؟ میں نے کہا ”بیشک“ کیا ہے۔“ [حسن:شیخ عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ اس کی سند حسن ہے]
10705
ابونعیم دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں فارغ ہوا اس چیز سے جس کا حکم مجھے میرے رب عزوجل نے کیا تھا آسمان اور زمین کے کام سے تو میں نے کہا ”اللہ مجھ سے پہلے جتنے انبیاء علیہم السلام ہوئے اب سب کی تو نے تکریم کی، ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا، موسیٰ علیہ السلام کو کلیم بنایا، داؤد علیہ السلام کے لیے پہاڑوں کو مسخر کیا، سلیمان علیہ السلام کے لیے ہواؤں اور شیاطین کو بھی تابعدار بنایا اور عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر مردے زندہ کرائے، پس میرے لیے کیا کیا ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” کیا میں نے تجھے ان سب سے افضل چیز نہیں دی کہ میرے ذکر کے ساتھ ہی تیرا ذکر بھی کیا جاتا ہے اور میں نے تیری امت کے سینوں کو ایسا کر دیا کہ وہ قرآن کو قرأت سے پڑھتے ہیں۔ یہ میں نے کسی اگلی امت کو نہیں دیا اور میں نے تجھے اپنے عرش کے خزانوں میں سے خزانہ دیا جو «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ہے “۔ [اسنادہ ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس سے مراد اذان ہے“ یعنی اذان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے، جس طرح حسان رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے۔
«اأَغَرّ عَلَيْهِ لِلنُّبُوَّةِ خَاتَم» «مِنْ اللَّه مِنْ نُور يَلُوح وَيَشْهَد» «وَضَمَّ الْإِلَه اِسْم النَّبِيّ إِلَى اِسْمه» «إِذَا قَالَ فِي الْخَمْس الْمُؤَذِّن أَشْهَد» «وَشَقَّ لَهُ مِنْ اِسْمه لِيُجِلَّهُ» «فَذُو الْعَرْش مَحْمُود وَهَذَا مُحَمَّد»
یعنی اللہ تعالیٰ نے مہر نبوت کو اپنے پاس کا ایک نور بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ثبت فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہ ہے اپنے نام کے ساتھ اپنے نبی کا نام ملا لیا جبکہ پانچویں وقت «اشھد» کہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و جلال کے اظہار کے لیے اپنے نام میں سے آپ کا نام نکالا دیکھو وہ عرش والا محمود ہے اور آپ محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔
اور لوگ کہتے ہیں کہ اگلوں پچھلوں میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کیا اور تمام انبیاء علیہم السلام سے روز میثاق میں عہد لیا گیا کہ وہ آپ پر ایمان لائیں اور اپنی اپنی امتوں کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا حکم کریں پھر آپ کی امت میں آپ کے ذکر کو مشہور کیا کہ اللہ کے ذکر کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جائے۔
10706
صرصری رحمہ اللہ نے کتنی اچھی بات بیان فرمائی ہے، فرماتے ہیں کہ ”فرضوں کی اذان صحیح نہیں ہوتی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے اور میٹھے نام سے جو پسندیدہ اور اچھے منہ سے ادا ہو۔“ اور فرماتے ہیں کہ ”تم نہیں دیکھتے کہ ہماری اذان اور ہمارا فرض صحیح نہیں ہوتا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر باربار اس میں نہ آئے۔“
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ تکرار اور تاکید کے ساتھ دو دو دفعہ فرماتا ہے کہ ” سختی کے ساتھ آسانی، دشواری کے ساتھ سہولت ہے “۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے سامنے ایک پتھر تھا پس لوگوں نے کہا اور سختی آئے اور اس پتھر پر گھس جائے تو آسانی ہی آئے گی اور اسی میں جائے گی، اور اسے نکال لائے گی اس پر یہ آیت اتری۔
مسند بزار میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر دشواری اس پتھر میں داخل ہو جائے تو آسانی آ کر اسے نکالے گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی ۔ [مسند بزار:2288:ضعیف] یہ حدیث صرف عائز بن شریح انس سے روایت کرتے ہیں اور ان کے بارے میں ابوحاتم رازی کا فیصلہ ہے کہ ان کی حدیث میں ضعف ہے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ موقوف مروی ہے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگ کہتے تھے کہ ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی، حسن رحمہ اللہ سے ابن جریر میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن شادان اور فرحاں آئے اور ہنستے ہوئے فرمانے لگے ”ہرگز ایک دشواری پر دو نرمیوں پر غالب نہیں آ سکتی۔“ پھر اس آیت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی، یہ حدیث مرسل ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خوشخبری سنائی کہ دو آسانیوں پر ایک سختی غالب نہیں آ سکتی ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:37533]
مطلب یہ ہے کہ «عُسْرِہ» کے لفظ کو تو دونوں جگہ معرفہ لائے ہیں تو وہ مفرد ہوا اور «يُسْرً» کے لفظ کو نکرہ لائے ہیں تو وہ متعدد ہو گیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ «نَزَّلَ الْمَعُونَةَ مِنَ السَّمَاءِ عَلَى قَدْرِ الْمَؤُونَةِ، وَنَزَّلَ الصَّبْرَ عَلَى قَدْرِ الْمُصِيبَةِ» «الْمَعُونَةَ» یعنی امداد الٰہی بقدر «الْمَؤُونَةِ» یعنی تکلیف کے آسمان سے نازل ہوتی ہے یعنی صبر مصیبت کی مقدار پر نازل ہوتا ہے۔ [مسند بزار::1506:صحیح]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «صَبْرًا جَمِيلًا مَا أَقْرَبَ الْفَرَجَا» «مَنْ رَاقَبَ اللَّهَ فِي الْأُمُورِ نَجَا» *** «مَنْ صَدَقَ اللَّهَ لَمْ يَنَلْهُ أَذًى» *** «وَمَنْ رَجَاهُ يَكُونُ حَيْثُ رَجَا»
یعنی اچھا صبر آسانیوں سے کیا ہی قریب ہے؟ اپنے کاموں میں اللہ تعالیٰ لحاظ رکھنے والا، نجات یافتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی باتوں کی تصدیق کرنے والے کو کوئی ایذاء نہیں پہنچتی اس سے بھلائی کی امید رکھنے والا اسے اپنی امید کے ساتھ ہی پاتا ہے۔
10707
ابوحاتم سجستانی رحمہ اللہ کے اشعار ہیں کہ
«إِذَا اشْتَمَلَتْ عَلَى الْيَأْسِ الْقُلُوبُ» *** «وَضَاقَ لِمَا بِهِ الصَّدْرُ الرَّحِيبُ» *** «وَأَوْطَأَتِ الْمَكَارِهُ وَاطْمَأَنَّتْ» *** «وَأَرْسَتْ فِي أَمَاكِنِهَا الْخُطُوبُ» *** «وَلَمْ تَرَ لِانْكِشَافِ الضُّرِّ وَجْهًا» *** «وَلَا أَغْنَى بِحِيلَتِهِ الْأَرِيبُ» *** «أَتَاكَ عَلَى قُنُوطٍ مِنْكَ غَوْثٌ» *** «يَمُنُّ بِهِ اللَّطِيفُ الْمُسْتَجِيبُ» *** «وَكُلُّ الْحَادِثَاتِ إِذَا تَنَاهَتْ» «فَمَوْصُولٌ بِهَا الْفَرَجُ الْقَرِيبُ» جب مایوسی دل پر قبضہ کر لیتی ہے اور سینہ باوجود کشادگی کے تنگ ہو جاتا ہے تکلیفیں گھیر لیتی ہیں اور مصیبتیں ڈیرہ جما لیتی ہیں کوئی چارہ سجھائی نہیں دیتا اور کوئی تدبیر نجات کارگر نہیں ہوتی اس وقت اچانک اللہ کی مدد آ پہنچتی ہے۔ اور وہ دعاؤں کا سننے والا باریک بین اللہ اس سختی کو آسانی سے اور اس تکلیف کو راحت میں بدل دیتا ہے۔ تنگیاں جب کہ بھرپور آ پڑی ہیں پروردگار وسعتیں نازل فرما کر نقصان کو فائدے سے بدل دیتا ہے۔
کسی اور شاعر نے کہا ہے: «وَلَرُبَّ نَازِلَةٍ يَضِيقُ بِهَا الْفَتَى» *** «ذَرْعًا وَعِنْدَ اللَّهِ مِنْهَا الْمَخْرَجُ» *** «كَمُلَتْ فَلَمَّا اسْتَحْكَمَتْ حَلْقَاتُهَا» *** «فُرِجَتْ وَكَانَ يَظُنُّهَا لَا تُفْرَجُ» یعنی بہت سی ایسی مصیبتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں جن سے وہ تنگ دل ہو جاتا ہے حالانکہ اللہ کے پاس ان سے چھٹکارا بھی ہے جب یہ مصیبتیں کامل ہو جاتی ہیں اور اس زنجیر کے حلقے، مضبوط ہو جاتے ہیں اور انسان گمان کرنے لگتا ہے کہ بھلا یہ کیا ہٹیں گی کہ اچانک اس رحیم و کریم اللہ کی شفقت بھری نظریں پڑتی ہیں اور اس مصیبت کو اس طرح ودر کرتا ہے کہ گویا آئی ہی نہ تھی۔
اس کے بعد ارشاد باری ہوتا ہے کہ ” جب تو دنیوی کاموں سے اور یہاں کے اشغال سے فرصت پائے تو ہماری عبادتوں میں لگ جا اور فارغ البال ہو کر دلی توجہ کے ساتھ ہمارے سامنے عاجزی میں لگ جا، اپنی نیت خالص کر لے اپنی پوری رغبت کے ساتھ ہماری جناب کی طرف متوجہ ہو جا “۔
10708
اسی معنی کی وہ حدیث ہے جس کی صحت پر اتفاق ہے جس میں ہے کہ کھانا سامنے موجود ہونے کے وقت نماز نہیں اور اس حالت میں بھی کہ انسان کو پاخانہ پیشاب کی حاجت ہو ۔ [صحیح مسلم:560]
اور حدیث میں ہے کہ جب نماز کھڑی کی جائے اور شام کا کھانا سامنے موجود ہو تو پہلے کھانے سے فراغت حاصل کر لو ۔ [صحیح بخاری:5463]
مجاہد رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب امر دنیا سے فارغ ہو کر نماز کے لیے کھڑے ہو تو محنت کے ساتھ عبادت کرو اور مشغولیت کے ساتھ رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب فرض نماز سے فارغ ہو تو تہجد کی نماز میں کھڑا ہو۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہوئے اپنے رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یعنی دعا کر“، زید بن اسلم رحمہ اللہ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جہاد سے فارغ ہو کر اللہ کی عبادت میں لگ جا۔“ ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اپنی نیت اور اپنی رغبت اللہ ہی کی طرف رکھ۔“
سورۃ الم نشرح کی تفسیر اللہ کے فضل و کرم سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10709
التين 95:1
تفسیر سورۃ التین:
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفر میں دو رکعتوں میں سے کسی ایک میں یہ سورۃ پڑھ رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی آواز اور اچھی قرأت کسی کی نہیں سنی۔ [صحيح بخاري: 767]
باب
«وَالتِّينِ» سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے، کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح علیہ السلام ہے وہ مراد ہے۔
بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے، «زیتون» سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، «طور سِينِينَ» وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر علیہم السلام بھیجے گئے تھے۔
10717
«وَالتِّينِ» سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر عیسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور «وَطُورِ سِينِينَ» سے مراد طور سینا ہے جہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا اور «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ مکرمہ جہاں ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔
تورات کے آخر میں بھی ان تینوں جگہوں کا نام ہے اس میں ہے کہ طور سینا سے اللہ تعالیٰ آیا یعنی وہاں پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور «ساعیر» یعنی بیت المقدس کے پہاڑ سے اس نے اپنا نور چمکایا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں بھیجا اور فاران کی چوٹیوں پر وہ بلند ہوا یعنی مکہ کے پہاڑوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، پھر ان تینوں زبردست بڑے مرتبے والے پیغمبروں کی زمانی اور وجودی ترتیب بیان کر دی۔
اسی طرح یہاں بھی پہلے جس کا نام لیا اس سے زیادہ شریف چیز کا نام پھر لیا اور پھر ان دونوں سے بزرگ تر چیز کا نام آخر میں لیا۔ پھر ان قسموں کے بعد بیان فرمایا کہ ” انسان کو اچھی شکل و صورت میں صحیح قد و قامت والا، درست اور سڈول اعضاء والا خوبصورت اور سہانے چہرے والا پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نِیچ کر دیا یعنی جہنمی ہو گیا، اگر اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کی تو اسی لیے ایمان والوں کو اس سے الگ کر لیا “۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد انتہائی بڑھاپے کی طرف لوٹا دینا ہے۔
10718
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے قرآن جمع کیا وہ رذیل عمر کو نہ پہنچے گا۔“ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن اگر یہی بڑھاپا مراد ہوتا تو مومنوں کا استشناء کیوں ہوتا؟ بڑھاپا تو بعض مومنوں پر بھی آتا ہے پس ٹھیک بات وہی ہے جو اوپر ہم نے ذکر کی۔
جیسے اور جگہ سورۃ والعصر میں ہے کہ «وَالْعَصْر إِنَّ الْإِنْسَان لَفِي خُسْر إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات» [103-العصر:1-3] ” تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ایمان اور اعمال صالح والوں کے کہ انہیں ایسی نیک جزا ملے گی جس کی انتہا نہ ہو “۔ جیسے پہلے بیان ہو چکا ہے۔
پھر فرماتا ہے ” اے انسان جبکہ تو اپنی پہلی اور اول مرتبہ کی پیدائش کو جانتا ہے تو پھر جزا و سزا کے دن کے آنے پر اور تیرے دوبارہ زندہ ہونے پر تجھے کیوں یقین نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ تو اسے نہیں مانتا حالانکہ ظاہر ہے کہ جس نے پہلی دفعہ پیدا کر دیا اس پر دوسری دفعہ کا پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ “۔
مجاہد رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھ بیٹھے کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”معاذاللہ اس سے مراد مطلق انسان ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” کیا اللہ حکم الحاکمین نہیں ہے وہ نہ ظلم کرے نہ بے عدلی کرے اسی لیے وہ قیامت قائم کرے گا اور ہر ایک ظالم سے مظلوم کا انتقام لے گا “۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جو شخص «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھے اور اس کے آخر کی آیت «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» پڑھے تو کہہ دے «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» یعنی ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔ [سنن ترمذي:3347،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ التین کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10719
التين 95:2
تفسیر سورۃ التین:
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفر میں دو رکعتوں میں سے کسی ایک میں یہ سورۃ پڑھ رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی آواز اور اچھی قرأت کسی کی نہیں سنی۔ [صحيح بخاري: 767]
باب
«وَالتِّينِ» سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے، کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح علیہ السلام ہے وہ مراد ہے۔
بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے، «زیتون» سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، «طور سِينِينَ» وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر علیہم السلام بھیجے گئے تھے۔
10717
«وَالتِّينِ» سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر عیسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور «وَطُورِ سِينِينَ» سے مراد طور سینا ہے جہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا اور «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ مکرمہ جہاں ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔
تورات کے آخر میں بھی ان تینوں جگہوں کا نام ہے اس میں ہے کہ طور سینا سے اللہ تعالیٰ آیا یعنی وہاں پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور «ساعیر» یعنی بیت المقدس کے پہاڑ سے اس نے اپنا نور چمکایا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں بھیجا اور فاران کی چوٹیوں پر وہ بلند ہوا یعنی مکہ کے پہاڑوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، پھر ان تینوں زبردست بڑے مرتبے والے پیغمبروں کی زمانی اور وجودی ترتیب بیان کر دی۔
اسی طرح یہاں بھی پہلے جس کا نام لیا اس سے زیادہ شریف چیز کا نام پھر لیا اور پھر ان دونوں سے بزرگ تر چیز کا نام آخر میں لیا۔ پھر ان قسموں کے بعد بیان فرمایا کہ ” انسان کو اچھی شکل و صورت میں صحیح قد و قامت والا، درست اور سڈول اعضاء والا خوبصورت اور سہانے چہرے والا پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نِیچ کر دیا یعنی جہنمی ہو گیا، اگر اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کی تو اسی لیے ایمان والوں کو اس سے الگ کر لیا “۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد انتہائی بڑھاپے کی طرف لوٹا دینا ہے۔
10718
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے قرآن جمع کیا وہ رذیل عمر کو نہ پہنچے گا۔“ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن اگر یہی بڑھاپا مراد ہوتا تو مومنوں کا استشناء کیوں ہوتا؟ بڑھاپا تو بعض مومنوں پر بھی آتا ہے پس ٹھیک بات وہی ہے جو اوپر ہم نے ذکر کی۔
جیسے اور جگہ سورۃ والعصر میں ہے کہ «وَالْعَصْر إِنَّ الْإِنْسَان لَفِي خُسْر إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات» [103-العصر:1-3] ” تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ایمان اور اعمال صالح والوں کے کہ انہیں ایسی نیک جزا ملے گی جس کی انتہا نہ ہو “۔ جیسے پہلے بیان ہو چکا ہے۔
پھر فرماتا ہے ” اے انسان جبکہ تو اپنی پہلی اور اول مرتبہ کی پیدائش کو جانتا ہے تو پھر جزا و سزا کے دن کے آنے پر اور تیرے دوبارہ زندہ ہونے پر تجھے کیوں یقین نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ تو اسے نہیں مانتا حالانکہ ظاہر ہے کہ جس نے پہلی دفعہ پیدا کر دیا اس پر دوسری دفعہ کا پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ “۔
مجاہد رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھ بیٹھے کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”معاذاللہ اس سے مراد مطلق انسان ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” کیا اللہ حکم الحاکمین نہیں ہے وہ نہ ظلم کرے نہ بے عدلی کرے اسی لیے وہ قیامت قائم کرے گا اور ہر ایک ظالم سے مظلوم کا انتقام لے گا “۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جو شخص «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھے اور اس کے آخر کی آیت «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» پڑھے تو کہہ دے «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» یعنی ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔ [سنن ترمذي:3347،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ التین کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10719
التين 95:3
تفسیر سورۃ التین:
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفر میں دو رکعتوں میں سے کسی ایک میں یہ سورۃ پڑھ رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی آواز اور اچھی قرأت کسی کی نہیں سنی۔ [صحيح بخاري: 767]
باب
«وَالتِّينِ» سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے، کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح علیہ السلام ہے وہ مراد ہے۔
بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے، «زیتون» سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، «طور سِينِينَ» وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر علیہم السلام بھیجے گئے تھے۔
10717
«وَالتِّينِ» سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر عیسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور «وَطُورِ سِينِينَ» سے مراد طور سینا ہے جہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا اور «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ مکرمہ جہاں ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔
تورات کے آخر میں بھی ان تینوں جگہوں کا نام ہے اس میں ہے کہ طور سینا سے اللہ تعالیٰ آیا یعنی وہاں پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور «ساعیر» یعنی بیت المقدس کے پہاڑ سے اس نے اپنا نور چمکایا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں بھیجا اور فاران کی چوٹیوں پر وہ بلند ہوا یعنی مکہ کے پہاڑوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، پھر ان تینوں زبردست بڑے مرتبے والے پیغمبروں کی زمانی اور وجودی ترتیب بیان کر دی۔
اسی طرح یہاں بھی پہلے جس کا نام لیا اس سے زیادہ شریف چیز کا نام پھر لیا اور پھر ان دونوں سے بزرگ تر چیز کا نام آخر میں لیا۔ پھر ان قسموں کے بعد بیان فرمایا کہ ” انسان کو اچھی شکل و صورت میں صحیح قد و قامت والا، درست اور سڈول اعضاء والا خوبصورت اور سہانے چہرے والا پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نِیچ کر دیا یعنی جہنمی ہو گیا، اگر اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کی تو اسی لیے ایمان والوں کو اس سے الگ کر لیا “۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد انتہائی بڑھاپے کی طرف لوٹا دینا ہے۔
10718
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے قرآن جمع کیا وہ رذیل عمر کو نہ پہنچے گا۔“ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن اگر یہی بڑھاپا مراد ہوتا تو مومنوں کا استشناء کیوں ہوتا؟ بڑھاپا تو بعض مومنوں پر بھی آتا ہے پس ٹھیک بات وہی ہے جو اوپر ہم نے ذکر کی۔
جیسے اور جگہ سورۃ والعصر میں ہے کہ «وَالْعَصْر إِنَّ الْإِنْسَان لَفِي خُسْر إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات» [103-العصر:1-3] ” تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ایمان اور اعمال صالح والوں کے کہ انہیں ایسی نیک جزا ملے گی جس کی انتہا نہ ہو “۔ جیسے پہلے بیان ہو چکا ہے۔
پھر فرماتا ہے ” اے انسان جبکہ تو اپنی پہلی اور اول مرتبہ کی پیدائش کو جانتا ہے تو پھر جزا و سزا کے دن کے آنے پر اور تیرے دوبارہ زندہ ہونے پر تجھے کیوں یقین نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ تو اسے نہیں مانتا حالانکہ ظاہر ہے کہ جس نے پہلی دفعہ پیدا کر دیا اس پر دوسری دفعہ کا پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ “۔
مجاہد رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھ بیٹھے کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”معاذاللہ اس سے مراد مطلق انسان ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” کیا اللہ حکم الحاکمین نہیں ہے وہ نہ ظلم کرے نہ بے عدلی کرے اسی لیے وہ قیامت قائم کرے گا اور ہر ایک ظالم سے مظلوم کا انتقام لے گا “۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جو شخص «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھے اور اس کے آخر کی آیت «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» پڑھے تو کہہ دے «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» یعنی ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔ [سنن ترمذي:3347،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ التین کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10719
التين 95:4
تفسیر سورۃ التین:
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفر میں دو رکعتوں میں سے کسی ایک میں یہ سورۃ پڑھ رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی آواز اور اچھی قرأت کسی کی نہیں سنی۔ [صحيح بخاري: 767]
باب
«وَالتِّينِ» سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے، کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح علیہ السلام ہے وہ مراد ہے۔
بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے، «زیتون» سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، «طور سِينِينَ» وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر علیہم السلام بھیجے گئے تھے۔
10717
«وَالتِّينِ» سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر عیسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور «وَطُورِ سِينِينَ» سے مراد طور سینا ہے جہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا اور «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ مکرمہ جہاں ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔
تورات کے آخر میں بھی ان تینوں جگہوں کا نام ہے اس میں ہے کہ طور سینا سے اللہ تعالیٰ آیا یعنی وہاں پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور «ساعیر» یعنی بیت المقدس کے پہاڑ سے اس نے اپنا نور چمکایا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں بھیجا اور فاران کی چوٹیوں پر وہ بلند ہوا یعنی مکہ کے پہاڑوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، پھر ان تینوں زبردست بڑے مرتبے والے پیغمبروں کی زمانی اور وجودی ترتیب بیان کر دی۔
اسی طرح یہاں بھی پہلے جس کا نام لیا اس سے زیادہ شریف چیز کا نام پھر لیا اور پھر ان دونوں سے بزرگ تر چیز کا نام آخر میں لیا۔ پھر ان قسموں کے بعد بیان فرمایا کہ ” انسان کو اچھی شکل و صورت میں صحیح قد و قامت والا، درست اور سڈول اعضاء والا خوبصورت اور سہانے چہرے والا پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نِیچ کر دیا یعنی جہنمی ہو گیا، اگر اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کی تو اسی لیے ایمان والوں کو اس سے الگ کر لیا “۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد انتہائی بڑھاپے کی طرف لوٹا دینا ہے۔
10718
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے قرآن جمع کیا وہ رذیل عمر کو نہ پہنچے گا۔“ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن اگر یہی بڑھاپا مراد ہوتا تو مومنوں کا استشناء کیوں ہوتا؟ بڑھاپا تو بعض مومنوں پر بھی آتا ہے پس ٹھیک بات وہی ہے جو اوپر ہم نے ذکر کی۔
جیسے اور جگہ سورۃ والعصر میں ہے کہ «وَالْعَصْر إِنَّ الْإِنْسَان لَفِي خُسْر إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات» [103-العصر:1-3] ” تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ایمان اور اعمال صالح والوں کے کہ انہیں ایسی نیک جزا ملے گی جس کی انتہا نہ ہو “۔ جیسے پہلے بیان ہو چکا ہے۔
پھر فرماتا ہے ” اے انسان جبکہ تو اپنی پہلی اور اول مرتبہ کی پیدائش کو جانتا ہے تو پھر جزا و سزا کے دن کے آنے پر اور تیرے دوبارہ زندہ ہونے پر تجھے کیوں یقین نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ تو اسے نہیں مانتا حالانکہ ظاہر ہے کہ جس نے پہلی دفعہ پیدا کر دیا اس پر دوسری دفعہ کا پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ “۔
مجاہد رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھ بیٹھے کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”معاذاللہ اس سے مراد مطلق انسان ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” کیا اللہ حکم الحاکمین نہیں ہے وہ نہ ظلم کرے نہ بے عدلی کرے اسی لیے وہ قیامت قائم کرے گا اور ہر ایک ظالم سے مظلوم کا انتقام لے گا “۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جو شخص «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھے اور اس کے آخر کی آیت «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» پڑھے تو کہہ دے «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» یعنی ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔ [سنن ترمذي:3347،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ التین کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10719
التين 95:5
تفسیر سورۃ التین:
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفر میں دو رکعتوں میں سے کسی ایک میں یہ سورۃ پڑھ رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی آواز اور اچھی قرأت کسی کی نہیں سنی۔ [صحيح بخاري: 767]
باب
«وَالتِّينِ» سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے، کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح علیہ السلام ہے وہ مراد ہے۔
بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے، «زیتون» سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، «طور سِينِينَ» وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر علیہم السلام بھیجے گئے تھے۔
10717
«وَالتِّينِ» سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر عیسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور «وَطُورِ سِينِينَ» سے مراد طور سینا ہے جہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا اور «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ مکرمہ جہاں ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔
تورات کے آخر میں بھی ان تینوں جگہوں کا نام ہے اس میں ہے کہ طور سینا سے اللہ تعالیٰ آیا یعنی وہاں پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور «ساعیر» یعنی بیت المقدس کے پہاڑ سے اس نے اپنا نور چمکایا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں بھیجا اور فاران کی چوٹیوں پر وہ بلند ہوا یعنی مکہ کے پہاڑوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، پھر ان تینوں زبردست بڑے مرتبے والے پیغمبروں کی زمانی اور وجودی ترتیب بیان کر دی۔
اسی طرح یہاں بھی پہلے جس کا نام لیا اس سے زیادہ شریف چیز کا نام پھر لیا اور پھر ان دونوں سے بزرگ تر چیز کا نام آخر میں لیا۔ پھر ان قسموں کے بعد بیان فرمایا کہ ” انسان کو اچھی شکل و صورت میں صحیح قد و قامت والا، درست اور سڈول اعضاء والا خوبصورت اور سہانے چہرے والا پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نِیچ کر دیا یعنی جہنمی ہو گیا، اگر اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کی تو اسی لیے ایمان والوں کو اس سے الگ کر لیا “۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد انتہائی بڑھاپے کی طرف لوٹا دینا ہے۔
10718
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے قرآن جمع کیا وہ رذیل عمر کو نہ پہنچے گا۔“ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن اگر یہی بڑھاپا مراد ہوتا تو مومنوں کا استشناء کیوں ہوتا؟ بڑھاپا تو بعض مومنوں پر بھی آتا ہے پس ٹھیک بات وہی ہے جو اوپر ہم نے ذکر کی۔
جیسے اور جگہ سورۃ والعصر میں ہے کہ «وَالْعَصْر إِنَّ الْإِنْسَان لَفِي خُسْر إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات» [103-العصر:1-3] ” تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ایمان اور اعمال صالح والوں کے کہ انہیں ایسی نیک جزا ملے گی جس کی انتہا نہ ہو “۔ جیسے پہلے بیان ہو چکا ہے۔
پھر فرماتا ہے ” اے انسان جبکہ تو اپنی پہلی اور اول مرتبہ کی پیدائش کو جانتا ہے تو پھر جزا و سزا کے دن کے آنے پر اور تیرے دوبارہ زندہ ہونے پر تجھے کیوں یقین نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ تو اسے نہیں مانتا حالانکہ ظاہر ہے کہ جس نے پہلی دفعہ پیدا کر دیا اس پر دوسری دفعہ کا پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ “۔
مجاہد رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھ بیٹھے کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”معاذاللہ اس سے مراد مطلق انسان ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” کیا اللہ حکم الحاکمین نہیں ہے وہ نہ ظلم کرے نہ بے عدلی کرے اسی لیے وہ قیامت قائم کرے گا اور ہر ایک ظالم سے مظلوم کا انتقام لے گا “۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جو شخص «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھے اور اس کے آخر کی آیت «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» پڑھے تو کہہ دے «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» یعنی ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔ [سنن ترمذي:3347،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ التین کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10719
التين 95:6
تفسیر سورۃ التین:
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفر میں دو رکعتوں میں سے کسی ایک میں یہ سورۃ پڑھ رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی آواز اور اچھی قرأت کسی کی نہیں سنی۔ [صحيح بخاري: 767]
باب
«وَالتِّينِ» سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے، کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح علیہ السلام ہے وہ مراد ہے۔
بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے، «زیتون» سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، «طور سِينِينَ» وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر علیہم السلام بھیجے گئے تھے۔
10717
«وَالتِّينِ» سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر عیسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور «وَطُورِ سِينِينَ» سے مراد طور سینا ہے جہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا اور «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ مکرمہ جہاں ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔
تورات کے آخر میں بھی ان تینوں جگہوں کا نام ہے اس میں ہے کہ طور سینا سے اللہ تعالیٰ آیا یعنی وہاں پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور «ساعیر» یعنی بیت المقدس کے پہاڑ سے اس نے اپنا نور چمکایا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں بھیجا اور فاران کی چوٹیوں پر وہ بلند ہوا یعنی مکہ کے پہاڑوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، پھر ان تینوں زبردست بڑے مرتبے والے پیغمبروں کی زمانی اور وجودی ترتیب بیان کر دی۔
اسی طرح یہاں بھی پہلے جس کا نام لیا اس سے زیادہ شریف چیز کا نام پھر لیا اور پھر ان دونوں سے بزرگ تر چیز کا نام آخر میں لیا۔ پھر ان قسموں کے بعد بیان فرمایا کہ ” انسان کو اچھی شکل و صورت میں صحیح قد و قامت والا، درست اور سڈول اعضاء والا خوبصورت اور سہانے چہرے والا پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نِیچ کر دیا یعنی جہنمی ہو گیا، اگر اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کی تو اسی لیے ایمان والوں کو اس سے الگ کر لیا “۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد انتہائی بڑھاپے کی طرف لوٹا دینا ہے۔
10718
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے قرآن جمع کیا وہ رذیل عمر کو نہ پہنچے گا۔“ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن اگر یہی بڑھاپا مراد ہوتا تو مومنوں کا استشناء کیوں ہوتا؟ بڑھاپا تو بعض مومنوں پر بھی آتا ہے پس ٹھیک بات وہی ہے جو اوپر ہم نے ذکر کی۔
جیسے اور جگہ سورۃ والعصر میں ہے کہ «وَالْعَصْر إِنَّ الْإِنْسَان لَفِي خُسْر إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات» [103-العصر:1-3] ” تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ایمان اور اعمال صالح والوں کے کہ انہیں ایسی نیک جزا ملے گی جس کی انتہا نہ ہو “۔ جیسے پہلے بیان ہو چکا ہے۔
پھر فرماتا ہے ” اے انسان جبکہ تو اپنی پہلی اور اول مرتبہ کی پیدائش کو جانتا ہے تو پھر جزا و سزا کے دن کے آنے پر اور تیرے دوبارہ زندہ ہونے پر تجھے کیوں یقین نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ تو اسے نہیں مانتا حالانکہ ظاہر ہے کہ جس نے پہلی دفعہ پیدا کر دیا اس پر دوسری دفعہ کا پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ “۔
مجاہد رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھ بیٹھے کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”معاذاللہ اس سے مراد مطلق انسان ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” کیا اللہ حکم الحاکمین نہیں ہے وہ نہ ظلم کرے نہ بے عدلی کرے اسی لیے وہ قیامت قائم کرے گا اور ہر ایک ظالم سے مظلوم کا انتقام لے گا “۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جو شخص «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھے اور اس کے آخر کی آیت «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» پڑھے تو کہہ دے «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» یعنی ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔ [سنن ترمذي:3347،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ التین کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10719
التين 95:7
تفسیر سورۃ التین:
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفر میں دو رکعتوں میں سے کسی ایک میں یہ سورۃ پڑھ رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی آواز اور اچھی قرأت کسی کی نہیں سنی۔ [صحيح بخاري: 767]
باب
«وَالتِّينِ» سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے، کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح علیہ السلام ہے وہ مراد ہے۔
بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے، «زیتون» سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، «طور سِينِينَ» وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر علیہم السلام بھیجے گئے تھے۔
10717
«وَالتِّينِ» سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر عیسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور «وَطُورِ سِينِينَ» سے مراد طور سینا ہے جہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا اور «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ مکرمہ جہاں ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔
تورات کے آخر میں بھی ان تینوں جگہوں کا نام ہے اس میں ہے کہ طور سینا سے اللہ تعالیٰ آیا یعنی وہاں پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور «ساعیر» یعنی بیت المقدس کے پہاڑ سے اس نے اپنا نور چمکایا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں بھیجا اور فاران کی چوٹیوں پر وہ بلند ہوا یعنی مکہ کے پہاڑوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، پھر ان تینوں زبردست بڑے مرتبے والے پیغمبروں کی زمانی اور وجودی ترتیب بیان کر دی۔
اسی طرح یہاں بھی پہلے جس کا نام لیا اس سے زیادہ شریف چیز کا نام پھر لیا اور پھر ان دونوں سے بزرگ تر چیز کا نام آخر میں لیا۔ پھر ان قسموں کے بعد بیان فرمایا کہ ” انسان کو اچھی شکل و صورت میں صحیح قد و قامت والا، درست اور سڈول اعضاء والا خوبصورت اور سہانے چہرے والا پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نِیچ کر دیا یعنی جہنمی ہو گیا، اگر اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کی تو اسی لیے ایمان والوں کو اس سے الگ کر لیا “۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد انتہائی بڑھاپے کی طرف لوٹا دینا ہے۔
10718
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے قرآن جمع کیا وہ رذیل عمر کو نہ پہنچے گا۔“ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن اگر یہی بڑھاپا مراد ہوتا تو مومنوں کا استشناء کیوں ہوتا؟ بڑھاپا تو بعض مومنوں پر بھی آتا ہے پس ٹھیک بات وہی ہے جو اوپر ہم نے ذکر کی۔
جیسے اور جگہ سورۃ والعصر میں ہے کہ «وَالْعَصْر إِنَّ الْإِنْسَان لَفِي خُسْر إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات» [103-العصر:1-3] ” تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ایمان اور اعمال صالح والوں کے کہ انہیں ایسی نیک جزا ملے گی جس کی انتہا نہ ہو “۔ جیسے پہلے بیان ہو چکا ہے۔
پھر فرماتا ہے ” اے انسان جبکہ تو اپنی پہلی اور اول مرتبہ کی پیدائش کو جانتا ہے تو پھر جزا و سزا کے دن کے آنے پر اور تیرے دوبارہ زندہ ہونے پر تجھے کیوں یقین نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ تو اسے نہیں مانتا حالانکہ ظاہر ہے کہ جس نے پہلی دفعہ پیدا کر دیا اس پر دوسری دفعہ کا پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ “۔
مجاہد رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھ بیٹھے کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”معاذاللہ اس سے مراد مطلق انسان ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” کیا اللہ حکم الحاکمین نہیں ہے وہ نہ ظلم کرے نہ بے عدلی کرے اسی لیے وہ قیامت قائم کرے گا اور ہر ایک ظالم سے مظلوم کا انتقام لے گا “۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جو شخص «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھے اور اس کے آخر کی آیت «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» پڑھے تو کہہ دے «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» یعنی ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔ [سنن ترمذي:3347،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ التین کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10719
التين 95:8
تفسیر سورۃ التین:
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفر میں دو رکعتوں میں سے کسی ایک میں یہ سورۃ پڑھ رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی آواز اور اچھی قرأت کسی کی نہیں سنی۔ [صحيح بخاري: 767]
باب
«وَالتِّينِ» سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے، کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح علیہ السلام ہے وہ مراد ہے۔
بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے، «زیتون» سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، «طور سِينِينَ» وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر علیہم السلام بھیجے گئے تھے۔
10717
«وَالتِّينِ» سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر عیسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور «وَطُورِ سِينِينَ» سے مراد طور سینا ہے جہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا اور «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ مکرمہ جہاں ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔
تورات کے آخر میں بھی ان تینوں جگہوں کا نام ہے اس میں ہے کہ طور سینا سے اللہ تعالیٰ آیا یعنی وہاں پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور «ساعیر» یعنی بیت المقدس کے پہاڑ سے اس نے اپنا نور چمکایا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں بھیجا اور فاران کی چوٹیوں پر وہ بلند ہوا یعنی مکہ کے پہاڑوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، پھر ان تینوں زبردست بڑے مرتبے والے پیغمبروں کی زمانی اور وجودی ترتیب بیان کر دی۔
اسی طرح یہاں بھی پہلے جس کا نام لیا اس سے زیادہ شریف چیز کا نام پھر لیا اور پھر ان دونوں سے بزرگ تر چیز کا نام آخر میں لیا۔ پھر ان قسموں کے بعد بیان فرمایا کہ ” انسان کو اچھی شکل و صورت میں صحیح قد و قامت والا، درست اور سڈول اعضاء والا خوبصورت اور سہانے چہرے والا پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نِیچ کر دیا یعنی جہنمی ہو گیا، اگر اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کی تو اسی لیے ایمان والوں کو اس سے الگ کر لیا “۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد انتہائی بڑھاپے کی طرف لوٹا دینا ہے۔
10718
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے قرآن جمع کیا وہ رذیل عمر کو نہ پہنچے گا۔“ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن اگر یہی بڑھاپا مراد ہوتا تو مومنوں کا استشناء کیوں ہوتا؟ بڑھاپا تو بعض مومنوں پر بھی آتا ہے پس ٹھیک بات وہی ہے جو اوپر ہم نے ذکر کی۔
جیسے اور جگہ سورۃ والعصر میں ہے کہ «وَالْعَصْر إِنَّ الْإِنْسَان لَفِي خُسْر إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات» [103-العصر:1-3] ” تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ایمان اور اعمال صالح والوں کے کہ انہیں ایسی نیک جزا ملے گی جس کی انتہا نہ ہو “۔ جیسے پہلے بیان ہو چکا ہے۔
پھر فرماتا ہے ” اے انسان جبکہ تو اپنی پہلی اور اول مرتبہ کی پیدائش کو جانتا ہے تو پھر جزا و سزا کے دن کے آنے پر اور تیرے دوبارہ زندہ ہونے پر تجھے کیوں یقین نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ تو اسے نہیں مانتا حالانکہ ظاہر ہے کہ جس نے پہلی دفعہ پیدا کر دیا اس پر دوسری دفعہ کا پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ “۔
مجاہد رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھ بیٹھے کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”معاذاللہ اس سے مراد مطلق انسان ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” کیا اللہ حکم الحاکمین نہیں ہے وہ نہ ظلم کرے نہ بے عدلی کرے اسی لیے وہ قیامت قائم کرے گا اور ہر ایک ظالم سے مظلوم کا انتقام لے گا “۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جو شخص «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھے اور اس کے آخر کی آیت «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» پڑھے تو کہہ دے «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» یعنی ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔ [سنن ترمذي:3347،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ التین کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10719
العلق 96:1
باب
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہیں عبادت میں گزارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں، شروع شروع میں وحی آئی، فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا «اقْرَأْ» یعنی پڑھئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔“ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا: پڑھو! میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں۔ اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر دبایا اور تکلیف پہنچائی، پھر چھوڑ دیا اور «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» [96-العلق:1] سے «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو لیے ہوئے کانپتے ہوئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”مجھے کپڑا اڑھا دو“، چنانچہ کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ ڈر خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”مجھے اپنی جان جانے کا خوف ہے۔“
10727
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضور آپ خوش ہو جائیے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی باتیں کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق پر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس آئیں، جاہلیت کے زمانہ میں یہ نصرانی ہو گئے تھے عربی کتاب لکھتے تھے اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھی بہت بڑی عمر کے انتہائی بوڑھے تھے آنکھیں جا چکی تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کا واقعہ سنئے۔
ورقہ نے پوچھا بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ ورقہ نے سنتے ہی کہا کہ یہی وہ رازداں فرشتہ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی اللہ کا بھیجا ہوا آیا کرتا تھا، کاش کہ میں اس وقت جوان ہوتا، کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوتا جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے سوال کیا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں، ایک آپ کیا جتنے بھی لوگ آپ کی طرح نبوت سے سرفراز ہو کر آئے ان سب سے دشمنیاں کی گئیں۔ اگر وہ وقت میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا لیکن اس واقعہ کے بعد ورقہ بہت کم زندہ رہے۔
ادھر وحی بھی رک گئی اور اس کے رکنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا قلق تھا کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہار کی چوٹی پر سے اپنے تئیں گرا دینا چاہا لیکن ہر وقت جبرائیل علیہ السلام آ جاتے اور فرما دیتے کہ ”اے محمد آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلق اور رنج و غم جاتا رہتا اور دل میں قدرے اطمینان پیدا ہو جاتا اور آرام سے گھر واپس آ جاتے۔ [صحیح بخاری:4956]
10728
یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بروایت زہری مروی ہے۔ [صحیح بخاری:3] اس کی سند میں، اس کے متن میں، اس کے معانی میں جو کچھ بیان کرنا چاہیئے تھا وہ ہم نے اپنی شرح بخاری میں پورے طور پر بیان کر دیا ہے۔ اگر جی چاہا وہیں دیکھ لیا جائے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
پس قرآن کریم کی باعتبار نزول کے سب سے پہلی آیتیں یہی ہیں، یہی پہلی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الراحمین نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دی اس میں تنبیہ ہے انسان کی اول پیدائش پر کہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتاز نظر آئے علم کبھی تو ذہن میں ہی ہوتا ہے اور کبھی زبان پر ہوتا ہے اور کبھی کتابی صورت میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ پس علم کی تین قسمیں ہوئیں ذہنی، لفظی اور رسمی اور رسمی علم ذہنی اور لفظی کو مستلزم ہے لیکن وہ دونوں اسے مستلزم نہیں اسی لیے فرمایا کہ پڑھ! تیرا رب تو بڑے اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی کو جو وہ نہیں جانتا تھا معلوم کرا دیا۔ ایک اثر میں وارد ہے کہ علم کو لکھ لیا کرو۔ [مستدرک حاکم:106/1:ضعیف جدا]
اور اسی اثر میں ہے کہ جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اسے اللہ تعالیٰ اس علم کا بھی وارث کر دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا تھا ۔ [ابو نعیم15/10-14:لا اصل لہ فی المرفوع]
10729
العلق 96:2
باب
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہیں عبادت میں گزارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں، شروع شروع میں وحی آئی، فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا «اقْرَأْ» یعنی پڑھئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔“ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا: پڑھو! میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں۔ اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر دبایا اور تکلیف پہنچائی، پھر چھوڑ دیا اور «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» [96-العلق:1] سے «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو لیے ہوئے کانپتے ہوئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”مجھے کپڑا اڑھا دو“، چنانچہ کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ ڈر خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”مجھے اپنی جان جانے کا خوف ہے۔“
10727
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضور آپ خوش ہو جائیے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی باتیں کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق پر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس آئیں، جاہلیت کے زمانہ میں یہ نصرانی ہو گئے تھے عربی کتاب لکھتے تھے اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھی بہت بڑی عمر کے انتہائی بوڑھے تھے آنکھیں جا چکی تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کا واقعہ سنئے۔
ورقہ نے پوچھا بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ ورقہ نے سنتے ہی کہا کہ یہی وہ رازداں فرشتہ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی اللہ کا بھیجا ہوا آیا کرتا تھا، کاش کہ میں اس وقت جوان ہوتا، کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوتا جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے سوال کیا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں، ایک آپ کیا جتنے بھی لوگ آپ کی طرح نبوت سے سرفراز ہو کر آئے ان سب سے دشمنیاں کی گئیں۔ اگر وہ وقت میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا لیکن اس واقعہ کے بعد ورقہ بہت کم زندہ رہے۔
ادھر وحی بھی رک گئی اور اس کے رکنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا قلق تھا کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہار کی چوٹی پر سے اپنے تئیں گرا دینا چاہا لیکن ہر وقت جبرائیل علیہ السلام آ جاتے اور فرما دیتے کہ ”اے محمد آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلق اور رنج و غم جاتا رہتا اور دل میں قدرے اطمینان پیدا ہو جاتا اور آرام سے گھر واپس آ جاتے۔ [صحیح بخاری:4956]
10728
یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بروایت زہری مروی ہے۔ [صحیح بخاری:3] اس کی سند میں، اس کے متن میں، اس کے معانی میں جو کچھ بیان کرنا چاہیئے تھا وہ ہم نے اپنی شرح بخاری میں پورے طور پر بیان کر دیا ہے۔ اگر جی چاہا وہیں دیکھ لیا جائے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
پس قرآن کریم کی باعتبار نزول کے سب سے پہلی آیتیں یہی ہیں، یہی پہلی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الراحمین نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دی اس میں تنبیہ ہے انسان کی اول پیدائش پر کہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتاز نظر آئے علم کبھی تو ذہن میں ہی ہوتا ہے اور کبھی زبان پر ہوتا ہے اور کبھی کتابی صورت میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ پس علم کی تین قسمیں ہوئیں ذہنی، لفظی اور رسمی اور رسمی علم ذہنی اور لفظی کو مستلزم ہے لیکن وہ دونوں اسے مستلزم نہیں اسی لیے فرمایا کہ پڑھ! تیرا رب تو بڑے اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی کو جو وہ نہیں جانتا تھا معلوم کرا دیا۔ ایک اثر میں وارد ہے کہ علم کو لکھ لیا کرو۔ [مستدرک حاکم:106/1:ضعیف جدا]
اور اسی اثر میں ہے کہ جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اسے اللہ تعالیٰ اس علم کا بھی وارث کر دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا تھا ۔ [ابو نعیم15/10-14:لا اصل لہ فی المرفوع]
10729
العلق 96:3
باب
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہیں عبادت میں گزارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں، شروع شروع میں وحی آئی، فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا «اقْرَأْ» یعنی پڑھئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔“ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا: پڑھو! میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں۔ اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر دبایا اور تکلیف پہنچائی، پھر چھوڑ دیا اور «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» [96-العلق:1] سے «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو لیے ہوئے کانپتے ہوئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”مجھے کپڑا اڑھا دو“، چنانچہ کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ ڈر خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”مجھے اپنی جان جانے کا خوف ہے۔“
10727
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضور آپ خوش ہو جائیے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی باتیں کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق پر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس آئیں، جاہلیت کے زمانہ میں یہ نصرانی ہو گئے تھے عربی کتاب لکھتے تھے اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھی بہت بڑی عمر کے انتہائی بوڑھے تھے آنکھیں جا چکی تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کا واقعہ سنئے۔
ورقہ نے پوچھا بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ ورقہ نے سنتے ہی کہا کہ یہی وہ رازداں فرشتہ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی اللہ کا بھیجا ہوا آیا کرتا تھا، کاش کہ میں اس وقت جوان ہوتا، کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوتا جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے سوال کیا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں، ایک آپ کیا جتنے بھی لوگ آپ کی طرح نبوت سے سرفراز ہو کر آئے ان سب سے دشمنیاں کی گئیں۔ اگر وہ وقت میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا لیکن اس واقعہ کے بعد ورقہ بہت کم زندہ رہے۔
ادھر وحی بھی رک گئی اور اس کے رکنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا قلق تھا کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہار کی چوٹی پر سے اپنے تئیں گرا دینا چاہا لیکن ہر وقت جبرائیل علیہ السلام آ جاتے اور فرما دیتے کہ ”اے محمد آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلق اور رنج و غم جاتا رہتا اور دل میں قدرے اطمینان پیدا ہو جاتا اور آرام سے گھر واپس آ جاتے۔ [صحیح بخاری:4956]
10728
یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بروایت زہری مروی ہے۔ [صحیح بخاری:3] اس کی سند میں، اس کے متن میں، اس کے معانی میں جو کچھ بیان کرنا چاہیئے تھا وہ ہم نے اپنی شرح بخاری میں پورے طور پر بیان کر دیا ہے۔ اگر جی چاہا وہیں دیکھ لیا جائے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
پس قرآن کریم کی باعتبار نزول کے سب سے پہلی آیتیں یہی ہیں، یہی پہلی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الراحمین نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دی اس میں تنبیہ ہے انسان کی اول پیدائش پر کہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتاز نظر آئے علم کبھی تو ذہن میں ہی ہوتا ہے اور کبھی زبان پر ہوتا ہے اور کبھی کتابی صورت میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ پس علم کی تین قسمیں ہوئیں ذہنی، لفظی اور رسمی اور رسمی علم ذہنی اور لفظی کو مستلزم ہے لیکن وہ دونوں اسے مستلزم نہیں اسی لیے فرمایا کہ پڑھ! تیرا رب تو بڑے اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی کو جو وہ نہیں جانتا تھا معلوم کرا دیا۔ ایک اثر میں وارد ہے کہ علم کو لکھ لیا کرو۔ [مستدرک حاکم:106/1:ضعیف جدا]
اور اسی اثر میں ہے کہ جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اسے اللہ تعالیٰ اس علم کا بھی وارث کر دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا تھا ۔ [ابو نعیم15/10-14:لا اصل لہ فی المرفوع]
10729
العلق 96:4
باب
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہیں عبادت میں گزارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں، شروع شروع میں وحی آئی، فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا «اقْرَأْ» یعنی پڑھئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔“ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا: پڑھو! میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں۔ اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر دبایا اور تکلیف پہنچائی، پھر چھوڑ دیا اور «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» [96-العلق:1] سے «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو لیے ہوئے کانپتے ہوئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”مجھے کپڑا اڑھا دو“، چنانچہ کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ ڈر خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”مجھے اپنی جان جانے کا خوف ہے۔“
10727
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضور آپ خوش ہو جائیے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی باتیں کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق پر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس آئیں، جاہلیت کے زمانہ میں یہ نصرانی ہو گئے تھے عربی کتاب لکھتے تھے اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھی بہت بڑی عمر کے انتہائی بوڑھے تھے آنکھیں جا چکی تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کا واقعہ سنئے۔
ورقہ نے پوچھا بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ ورقہ نے سنتے ہی کہا کہ یہی وہ رازداں فرشتہ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی اللہ کا بھیجا ہوا آیا کرتا تھا، کاش کہ میں اس وقت جوان ہوتا، کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوتا جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے سوال کیا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں، ایک آپ کیا جتنے بھی لوگ آپ کی طرح نبوت سے سرفراز ہو کر آئے ان سب سے دشمنیاں کی گئیں۔ اگر وہ وقت میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا لیکن اس واقعہ کے بعد ورقہ بہت کم زندہ رہے۔
ادھر وحی بھی رک گئی اور اس کے رکنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا قلق تھا کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہار کی چوٹی پر سے اپنے تئیں گرا دینا چاہا لیکن ہر وقت جبرائیل علیہ السلام آ جاتے اور فرما دیتے کہ ”اے محمد آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلق اور رنج و غم جاتا رہتا اور دل میں قدرے اطمینان پیدا ہو جاتا اور آرام سے گھر واپس آ جاتے۔ [صحیح بخاری:4956]
10728
یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بروایت زہری مروی ہے۔ [صحیح بخاری:3] اس کی سند میں، اس کے متن میں، اس کے معانی میں جو کچھ بیان کرنا چاہیئے تھا وہ ہم نے اپنی شرح بخاری میں پورے طور پر بیان کر دیا ہے۔ اگر جی چاہا وہیں دیکھ لیا جائے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
پس قرآن کریم کی باعتبار نزول کے سب سے پہلی آیتیں یہی ہیں، یہی پہلی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الراحمین نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دی اس میں تنبیہ ہے انسان کی اول پیدائش پر کہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتاز نظر آئے علم کبھی تو ذہن میں ہی ہوتا ہے اور کبھی زبان پر ہوتا ہے اور کبھی کتابی صورت میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ پس علم کی تین قسمیں ہوئیں ذہنی، لفظی اور رسمی اور رسمی علم ذہنی اور لفظی کو مستلزم ہے لیکن وہ دونوں اسے مستلزم نہیں اسی لیے فرمایا کہ پڑھ! تیرا رب تو بڑے اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی کو جو وہ نہیں جانتا تھا معلوم کرا دیا۔ ایک اثر میں وارد ہے کہ علم کو لکھ لیا کرو۔ [مستدرک حاکم:106/1:ضعیف جدا]
اور اسی اثر میں ہے کہ جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اسے اللہ تعالیٰ اس علم کا بھی وارث کر دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا تھا ۔ [ابو نعیم15/10-14:لا اصل لہ فی المرفوع]
10729
العلق 96:5
باب
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہیں عبادت میں گزارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں، شروع شروع میں وحی آئی، فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا «اقْرَأْ» یعنی پڑھئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔“ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا: پڑھو! میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں۔ اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر دبایا اور تکلیف پہنچائی، پھر چھوڑ دیا اور «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» [96-العلق:1] سے «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو لیے ہوئے کانپتے ہوئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”مجھے کپڑا اڑھا دو“، چنانچہ کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ ڈر خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”مجھے اپنی جان جانے کا خوف ہے۔“
10727
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضور آپ خوش ہو جائیے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی باتیں کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق پر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس آئیں، جاہلیت کے زمانہ میں یہ نصرانی ہو گئے تھے عربی کتاب لکھتے تھے اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھی بہت بڑی عمر کے انتہائی بوڑھے تھے آنکھیں جا چکی تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کا واقعہ سنئے۔
ورقہ نے پوچھا بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ ورقہ نے سنتے ہی کہا کہ یہی وہ رازداں فرشتہ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی اللہ کا بھیجا ہوا آیا کرتا تھا، کاش کہ میں اس وقت جوان ہوتا، کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوتا جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے سوال کیا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں، ایک آپ کیا جتنے بھی لوگ آپ کی طرح نبوت سے سرفراز ہو کر آئے ان سب سے دشمنیاں کی گئیں۔ اگر وہ وقت میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا لیکن اس واقعہ کے بعد ورقہ بہت کم زندہ رہے۔
ادھر وحی بھی رک گئی اور اس کے رکنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا قلق تھا کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہار کی چوٹی پر سے اپنے تئیں گرا دینا چاہا لیکن ہر وقت جبرائیل علیہ السلام آ جاتے اور فرما دیتے کہ ”اے محمد آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلق اور رنج و غم جاتا رہتا اور دل میں قدرے اطمینان پیدا ہو جاتا اور آرام سے گھر واپس آ جاتے۔ [صحیح بخاری:4956]
10728
یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بروایت زہری مروی ہے۔ [صحیح بخاری:3] اس کی سند میں، اس کے متن میں، اس کے معانی میں جو کچھ بیان کرنا چاہیئے تھا وہ ہم نے اپنی شرح بخاری میں پورے طور پر بیان کر دیا ہے۔ اگر جی چاہا وہیں دیکھ لیا جائے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
پس قرآن کریم کی باعتبار نزول کے سب سے پہلی آیتیں یہی ہیں، یہی پہلی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الراحمین نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دی اس میں تنبیہ ہے انسان کی اول پیدائش پر کہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتاز نظر آئے علم کبھی تو ذہن میں ہی ہوتا ہے اور کبھی زبان پر ہوتا ہے اور کبھی کتابی صورت میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ پس علم کی تین قسمیں ہوئیں ذہنی، لفظی اور رسمی اور رسمی علم ذہنی اور لفظی کو مستلزم ہے لیکن وہ دونوں اسے مستلزم نہیں اسی لیے فرمایا کہ پڑھ! تیرا رب تو بڑے اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی کو جو وہ نہیں جانتا تھا معلوم کرا دیا۔ ایک اثر میں وارد ہے کہ علم کو لکھ لیا کرو۔ [مستدرک حاکم:106/1:ضعیف جدا]
اور اسی اثر میں ہے کہ جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اسے اللہ تعالیٰ اس علم کا بھی وارث کر دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا تھا ۔ [ابو نعیم15/10-14:لا اصل لہ فی المرفوع]
10729
العلق 96:6
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭
فرماتا ہے کہ ” انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ “
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا ۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح]
اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔
اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے ۔ [صحیح بخاری:4958]
10734
دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح]
10735
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔“ [مسند احمد:248/1:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ۔
ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ ۔
پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» [96-العلق:6] سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797]
10736
العلق 96:7
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭
فرماتا ہے کہ ” انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ “
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا ۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح]
اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔
اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے ۔ [صحیح بخاری:4958]
10734
دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح]
10735
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔“ [مسند احمد:248/1:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ۔
ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ ۔
پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» [96-العلق:6] سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797]
10736
العلق 96:8
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭
فرماتا ہے کہ ” انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ “
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا ۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح]
اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔
اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے ۔ [صحیح بخاری:4958]
10734
دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح]
10735
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔“ [مسند احمد:248/1:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ۔
ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ ۔
پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» [96-العلق:6] سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797]
10736
العلق 96:9
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭
فرماتا ہے کہ ” انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ “
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا ۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح]
اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔
اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے ۔ [صحیح بخاری:4958]
10734
دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح]
10735
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔“ [مسند احمد:248/1:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ۔
ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ ۔
پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» [96-العلق:6] سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797]
10736
العلق 96:10
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭
فرماتا ہے کہ ” انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ “
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا ۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح]
اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔
اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے ۔ [صحیح بخاری:4958]
10734
دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح]
10735
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔“ [مسند احمد:248/1:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ۔
ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ ۔
پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» [96-العلق:6] سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797]
10736
العلق 96:11
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭
فرماتا ہے کہ ” انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ “
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا ۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح]
اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔
اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے ۔ [صحیح بخاری:4958]
10734
دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح]
10735
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔“ [مسند احمد:248/1:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ۔
ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ ۔
پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» [96-العلق:6] سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797]
10736
العلق 96:12
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭
فرماتا ہے کہ ” انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ “
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا ۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح]
اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔
اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے ۔ [صحیح بخاری:4958]
10734
دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح]
10735
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔“ [مسند احمد:248/1:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ۔
ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ ۔
پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» [96-العلق:6] سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797]
10736
العلق 96:13
باب
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ ۔ [صحیح مسلم:482]
پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم:578]
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
10743
العلق 96:14
باب
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ ۔ [صحیح مسلم:482]
پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم:578]
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
10743
العلق 96:15
باب
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ ۔ [صحیح مسلم:482]
پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم:578]
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
10743
العلق 96:16
باب
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ ۔ [صحیح مسلم:482]
پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم:578]
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
10743
العلق 96:17
باب
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ ۔ [صحیح مسلم:482]
پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم:578]
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
10743
العلق 96:18
باب
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ ۔ [صحیح مسلم:482]
پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم:578]
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
10743
العلق 96:19
باب
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ ۔ [صحیح مسلم:482]
پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم:578]
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
10743
القدر 97:1
غیر متعلقہ روایات اور بحث ٭٭
مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے، اسی کا نام «اللَّيْلَةُ الْمُبَارَكَةُ» بھی ہے۔
اور جگہ ارشاد ہے «إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ» [44-الدخان:3] اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے مہینے میں ہے، جیسے فرمایا «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ» [2-البقرۃ:185]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول ہے کہ ”پورا قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان اول پر بیت العزت میں اس رات اترا، پھر تفصیل وار واقعات کے مطابق بتدریج تئیس سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔“
پھر اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کی شان و شوکت کا اظہار فرماتا ہے کہ اس رات کی ایک زبردست برکت تو یہ ہے کہ قرآن کریم جیسی اعلیٰ نعمت اسی رات اتری، تو فرماتا ہے کہ ” تمہیں کیا خبر کہ لیلۃ القدر کیا ہے؟ “ پھر خود ہی بتاتا ہے کہ ” یہ ایک رات ایک ہزار مہینہ سے افضل ہے “۔
امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ ترمذی شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ایک روایت لائے ہیں کہ یوسف بن سعد سے کہ ایک آدمی نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے جبکہ آپ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی کہا کہ ”تم نے ایمان والوں کے منہ کالے کر دئیے“ یا یوں کہا کہ ”اے مومنوں کے منہ سیاہ کرنے والے“، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تجھ پر رحم کرے، مجھ پر خفا نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھلایا گیا کہ گویا آپ کے منبر پر بنو امیہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ برا معلوم ہوا تو «إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ» [108-الکوثر:1] نازل ہوئی یعنی جنت کی نہر کوثر آپ کو عطا کیے جانے کی خوشخبری ملی اور «إِنَّا أَنزَلْنَاهُ» اتری، پس ہزار مہینے سے وہ مراد ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بنو امیہ کی مملکت رہے گی، قاسم بن فضل حدانی کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو وہ پورے ایک ہزار دن ہوئے، نہ ایک دن زیادہ، نہ ایک دن کم ۔ [سنن ترمذي:3350،قال الشيخ الألباني:ضعیف] امام ترمذی رحمہ اللہ اس روایت کو غریب بتلاتے ہیں اور اس کی سند میں یوسف بن سعد ہیں جو مجہول ہیں اور صرف اسی سند سے یہ مروی ہے۔
10750
مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت ہے امام ترمذی رحمہ اللہ کا یہ فرمانا کہ یہ یوسف مجہول ہیں اس میں ذرا تذبذب ہے اس کے بہت سے شاگرد ہیں۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں یہ مشہور ہیں اور ثقہ ہیں اور اس کی سند میں کچھ اضطراب ہے جیسا بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بہر صورت یہ بہت ہی منکر روایت ہے۔
ہمارے شیخ حافظ حجت ابوالحجاج مزی بھی اس روایت کو منکر بتلاتے ہیں (یہ یاد رہے کہ قاسم کا قول جو ترمذی کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو بنو امیہ کی سلطنت ٹھیک ایک ہزار دن تک رہی یہ نسخے کی غلطی ہے۔ ایک ہزار مہینے لکھنا چاہیئے تھا، میں نے ترمذی شریف میں دیکھا تو وہاں بھی ایک ہزار مہینے ہیں اور آگے بھی یہی آتا ہے۔ مترجم)
قاسم بن فضل حدانی کا یہ قول کہ بنو امیہ کی سلطنت کی ٹھیک مدت ایک ہزار مہینے تھی یہ بھی صحیح نہیں اس لیے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی مستقل سلطنت سنہ ۴٠ ہجری میں قائم ہوئی جبکہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور امر خلافت آپ کو سونپ دیا اور سب لوگ بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت پر جمع ہو گئے اور اس سال کا نام ہی عام الجماعہ مشہور ہوا۔ پھر شام وغیرہ میں برابر بنو امیہ کی سلطنت قائم رہی ہاں تقریباً نو سال تک حرمین شریفین اور اہواز اور بعض شہروں پر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی سلطنت ہو گئی تھی لیکن تاہم اس مدت میں بھی کلیۃً ان کے ہاتھ سے حکومت نہیں گئی۔ البتہ بعض شہروں پر سے حکومت ہٹ گئی تھی، ہاں سنہ ۱۳۲ ھ میں بنوالعباس نے ان سے خلافت اپنے قبضہ میں کر لی پس ان کی سلطنت کی مدت بانوے برس ہوئی اور یہ ایک ہزار ماہ سے بہت زیادہ ہے ایک ہزار مہینے کے تراسی سال چار ماہ ہوتے ہیں۔ ہاں قاسم بن فضل کا یہ حساب اس طرح تو تقریباً ٹھیک ہو جاتا ہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت اس گنتی میں سے نکال دی جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10751
اس روایت کے ضعیف ہونے کی ایک یہ وجہ بھی ہے کہ بنو امیہ کی سلطنت کے زمانہ کی تو برائی اور مذمت بیان کرنی مقصود ہے اور لیلتہ القدر کی اس زمانہ پر فضیلت کا ثابت ہونا کچھ ان کے زمانے کی مذمت کی دلیل نہیں، لیلۃ القدر تو ہر طرح بزرگی والی ہے ہی اور یہ پوری سورت اس مبارک رات کی مدح و ستائش بیان کر رہی ہے، پس بنو امیہ کے زمانہ کے دنوں کی مذمت سے لیلۃ القدر کی کون سی فضیلت ثابت ہو جائے گی؟ یہ تو بالکل وہی مثل اصل ہو جائے گی کہ کوئی شخص تلوار کی تعریف کرتے ہوئے کہے کہ لکڑی سے بہت تیز ہے، کسی بہترین فضیلت والے شخص کو کسی کم درجہ کے ذلیل شخص پر فضیلت دینا تو اس شریف بزرگ کی توہین کرنا ہے۔
اور وجہ سنئے اس روایت کی بنا پر یہ ایک ہزار مہینے وہ ہوئے جن میں بنو امیہ کی سلطنت رہے گی اور یہ سورت اتری ہے مکہ شریف میں تو اس میں ان مہینوں کا حوالہ کیسے دیا جا سکتا ہے جو بنو امیہ کے زمانہ کے ہیں اس پر نہ تو کوئی لفظ دلالت کرتا ہے، نہ معنی کے طور پر یہ سمجھا جا سکتا ہے، منبر تو مدینہ میں قائم ہوتا ہے اور ہجرت کی ایک مدت بعد منبر بنایا جاتا ہے اور رکھا جاتا ہے۔ پس ان تمام وجوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت ضعیف اور منکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10752
ماہِ رمضان اور لیلتہ القدر کی فضیلت ٭٭
ابن ابی حاتم میں ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا جو ایک ہزار ماہ تک اللہ کی راہ میں یعنی جہاد میں ہتھیار بند رہا مسلمانوں کو یہ سن کر تعجب معلوم ہوا تو اللہ عزوجل نے یہ سورت اتاری کہ لیلۃ القدر کی عبادت اس شخص کی ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے۔ [بیہقی فی السنن:306/4:ضیعف و مرسل]
ابن جریر میں ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو رات کو قیام کرتا تھا صبح تک اور دن میں دشمنان دین سے جہاد کرتا تھا شام تک ایک ہزار مہینے تک یہی کرتا رہا پس اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمایا کہ اس امت کے کسی شخص کا صرف لیلۃ القدر کا قیام اس عابد کی ایک ہزار مہینے کی اس عبادت سے افضل ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے چار عابدوں کا ذکر کیا جنہوں نے اسی سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے نافرمانی نہیں کی تھی ایوب علیہ السلام، زکریا علیہ السلام، حزقیل بن عجوز، یوشع بن نون علیہم السلام“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت تعجب ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت نے اس جماعت کی اس عبادت پر تعجب کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی افضل چیز آپ پر نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ افضل ہے اس سے جن پر آپ اور آپ کی امت نے تعجب ظاہر کیا تھا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بے حد خوش ہوئے ۔ [باطل لا اصل لہ فی المرفوع]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ اس رات کا نیک عمل اس کا روزہ اس کی نماز ایک ہزار مہینوں کے روزے اور نماز سے افضل ہے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو“ اور مفسرین کا بھی یہ قول ہے۔
10753
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو پسند فرمایا ہے کہ ”وہ ایک ہزار مہینے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو“ یہی ٹھیک ہے اس کے سوا اور کوئی قول ٹھیک نہیں۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک رات کی جہاد کی تیاری اس کے سوا ایک ہزار راتوں سے افضل ہے ۔ [مسند احمد:75/1:حسن]
اسی طرح اور حدیث میں ہے کہ جو شخص اچھی نیت اور اچھی حالت سے جمعہ کی نماز کے لیے جائے اس کے لیے ایک سال کے اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے سال بھر کے روزوں کا اور سال بھر کی نمازوں کا ۔ [سنن ترمذي:496،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اسی طرح کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں پس مطلب یہ ہے کہ مراد ایک ہزار مہینے سے وہ مہینے ہیں جن میں لیلۃ القدر نہ آئے جیسے ایک ہزار راتوں سے مراد وہ راتیں ہیں جن میں کوئی رات اس عبادت کی نہ ہو اور جیسے جمعہ کی طرف جانے والے کو ایک سال کی نیکیاں یعنی وہ سال جس میں جمعہ نہ ہو۔
10754
مسند احمد میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو تم پر رمضان کا مہینہ آ گیا یہ بابرکت مہینہ آ گیا اس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کیے ہیں اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں شیاطین قید کر لیے جاتے ہیں اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینے سے افضل ہے اس کی بھلائی سے محروم رہنے والا حقیقی بد قسمت ہے“ ۔ [مسند احمد230/2:صحیح]
نسائی شریف میں بھی یہ روایت ہے چونکہ اس رات کی عبادت ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے اس لیے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص لیلۃ القدر کا قیام ایمانداری اور نیک نیتی سے کرے اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:2014]
پھر فرماتا ہے کہ اس رات کی برکت کی زیادتی کی وجہ سے بکثرت فرشتے اس میں نازل ہوتے ہیں۔ فرشتے تو ہر برکت اور رحمت کے ساتھ نازل ہوتے رہتے ہیں جیسے تلاوت قرآن کے وقت اترتے ہیں اور ذکر کی مجلسوں کو گھیر لیتے ہیں اور علم دین کے سیکھنے والوں کے لیے راضی خوشی اپنے پر بچھا دیا کرتے ہیں اور اس کی عزت و تکریم کرتے ہیں «روح» سے مراد یہاں جبرائیل علیہ السلام ہیں، یہ خاص کا عطف ہے عام پر۔
بعض کہتے ہیں «روح» کے نام کے ایک خاص قسم کے فرشتے ہیں جیسے کہ سورۃ «عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ» [78-النبأ:1] کی تفسیر میں تفصیل سے گزر چکا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا وہ سراسر سلامتی والی رات ہے جس میں شیطان نہ تو برائی کر سکتا ہے نہ ایذاء پہنچا سکتا ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”اس میں تمام کاموں کا فیصلہ کیا جاتا ہے عمر اور رزق مقدر کیا جاتا ہے۔“
جیسے اور جگہ ہے «فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ» [44-الدخان:4] یعنی ” اسی رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے “۔
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس رات میں فرشتے مسجد والوں پر صبح تک سلام بھیجتے رہتے ہیں۔“
امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب فضائل اوقات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک غریب اثر فرشتوں کے نازل ہونے میں اور نمازیوں پر ان کے گزرنے میں اور انہیں برکت حاصل ہونے میں وارد کیا ہے۔ ابن ابی حاتم میں کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ایک عجیب و غریب بہت طول طویل اثر وارد کیا ہے جس میں فرشتوں کا سدرۃ المنتہیٰ سے جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ زمین پر آنا اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں کرنا وارد ہے۔ ابوداؤد طیالسی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لیلۃ القدر ستائیسویں ہے یا انتیسویں اس رات میں فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ [مسند طیالسی:2545:حسن]
عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس رات میں ہر امر سے سلامتی ہے یعنی کوئی نئی بات پیدا نہیں ہوتی۔“
10755
قتادہ رحمہ اللہ اور ابن زید رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”یہ رات سراسر سلامتی والی ہے کوئی برائی صبح ہونے تک نہیں ہوتی۔“
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لیلۃ القدر آخری دس راتوں میں ہے جو ان میں طلب ثواب کی نیت سے قیام کرے اللہ تعالیٰ اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف فرما دیتا ہے یہ رات اکائی کی ہے یعنی اکیسویں یا تیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا آخری رات۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ رات بالکل صاف اور ایسی روشن ہوتی ہے کہ گویا چاند چڑھا ہوا ہے اس میں سکون اور دلجمعی ہوتی ہے، نہ سردی زیادہ ہوتی ہے، نہ گرمی، صبح تک ستارے نہیں جھڑتے ایک نشانی اس کی یہ بھی ہے کہ اس صبح کو سورج تیز شعاؤں کے ساتھ نہیں نکلتا بلکہ وہ چودہویں رات کی طرح صاف نکلتا ہے۔ اس دن اس کے ساتھ شیطان بھی نہیں نکلتا ۔ [مسند احمد:323/5:حسن] یہ اسناد تو صحیح ہے لیکن متن میں غرابت ہے۔
اور بعض الفاظ میں نکارت بھی ہے اور ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لیلۃ القدر صاف پر سکون سردی گرمی سے خالی رات ہے اس کی صبح مدھم روشنی والا سرخ رنگ نکلتا ہے“ ۔ [مسند طیالسی:2680:صحیح]
ابوعاصم نبیل اپنی اسناد سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: ”میں لیلۃ القدر دکھلایا گیا پھر بھلا دیا گیا یہ آخری دس راتوں میں ہے یہ صاف شفاف سکون و وقار والی رات ہے نہ زیادہ سردی ہوتی ہے نہ زیادہ گرمی اس قدر روشنی رات ہوتی ہے کہ یہ معلوم ہوتا ہے گویا چاند چڑھا ہوا ہے سورج کے ساتھ شیطان نہیں نکلتا یہاں تک کہ دھوپ چڑھ جائے“ ۔ [صحیح ابن خریمہ:2190]
10756
فصل ٭٭
اس بات میں علماء کا اختلاف ہے کہ لیلۃ القدر اگلی امتوں میں بھی تھی یا صرف اسی امت کو خصوصیت کے ساتھ عطا کی گئی ہے۔ پس ایک حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نظریں ڈالیں اور یہ معلوم کیا کہ سابقہ لوگوں کی عمریں بہت زیادہ ہوتی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال گزرا کہ میری امت کی عمریں ان کے مقابلہ میں کم ہیں تو نیکیاں بھی کم رہیں گیں اور پھر درجات اور ثواب میں بھی کمی رہیں گی، تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رات عنایت فرمائی اور اس کا ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت سے زیادہ دینے کا وعدہ فرمایا ۔ [مؤطا:321/1:مرسل]
اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف اسی امت کو یہ رات دی گئی ہے بلکہ صاحب عدۃ نے جو شافعیہ میں سے ایک امام ہیں جمہور علماء کا یہی قول نقل کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10757
اور خطابی نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے لیکن ایک اور حدیث ہے جس سے یہ معلوم ہوتا کہ یہ رات جس طرح اس امت میں ہے، اگلی امتوں میں بھی تھی، چنانچہ مرثد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے لیلۃ القدر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سوال کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: سنو! میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اکثر باتیں دریافت کرتا رہتا تھا ایک مرتبہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تو فرمائیے کہ لیلۃ القدر رمضان میں ہی ہے یا اور مہینوں میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان میں۔“ میں نے کہا: اچھا یا رسول اللہ! یہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہی ہے کہ جب تک وہ ہیں یہ بھی ہے جب انبیاء علیہم السلام قبض کئے جاتے ہیں تو یہ اٹھ جاتی ہیں یا یہ قیامت تک باقی رہیں گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ”نہیں وہ قیامت تک باقی رہے گی“، میں نے کہا: اچھا رمضان کے کس حصہ میں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رمضان کے پہلے اور آخری عشرہ میں ڈھونڈ۔“ پھر میں خاموش ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور باتوں میں مشغول ہو گئے۔ میں نے پھر موقع پا کر سوال کیا کہ یا رسول اللہ! ان دونوں عشروں میں سے کس عشرے میں اس رات کو تلاش کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخری عشرے میں، بس کچھ نہ پوچھنا۔“ میں پھر چپکا ہو گیا لیکن پھر موقعہ پا کر میں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کی قسم ہے میرا بھی کچھ حق آپ پر ہے فرما دیجئیے کہ وہ کون سی رات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے ہوئے میں نے تو کبھی آپ کو اپنے اوپر اتنا غصہ ہوتے ہوئے دیکھا ہی نہیں اور فرمایا: ”آخری ہفتہ میں تلاش کرو، اب کچھ نہ پوچھنا“ ۔ [مسند احمد:171/5:ضعیف]
یہ روایت نسائی میں بھی مروی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات اگلی امتوں میں بھی تھی، اور اس حدیث سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی قیامت تک ہر سال آتی رہے گی۔
بعض شیعہ حضرات کا قول ہے کہ یہ رات بالکل اٹھ گئی، یہ قول غلط ہے ان کو غلط فہمی اس حدیث سے ہوئی ہے جس میں ہے کہ وہ اٹھا لی گئی اور ممکن ہے کہ تمہارے لیے اسی میں بہتری ہو یہ حدیث پوری بھی آئے گی۔
10758
مطلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے یہ ہے کہ اس رات کی تعین اور اس کا تقرر بھی اٹھ گیا، نہ یہ کہ سرے سے لیلۃ القدر ہی اٹھ گئی مندرجہ بالا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ رات رمضان شریف میں آتی ہے کسی اور مہینہ میں نہیں۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور علماء کوفہ کا قول ہے کہ سارے سال میں ایک رات ہے اور ہر مہینہ میں اس کا ہو جانا ممکن ہے۔ یہ حدیث اس کے خلاف ہے سنن ابوداؤد میں باب ہے کہ اس شخص کی دلیل جو کہتا ہے لیلۃ القدر سارے رمضان میں ہے۔ پھر حدیث لائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سارے رمضان میں ہے ۔ [سنن ابوداود:1387،قال الشيخ الألباني:ضعیف و الصحیح موقوف] اس کی سند کے کل راوی ثقہ ہیں یہ موقوف بھی مروی ہیں۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت میں ہے کہ ”رمضان المبارک کے سارے مہینہ میں اس رات کا ہونا ممکن ہے“ غزالی رحمہ اللہ نے اسی کو نقل کیا ہے لیکن رافعی رحمہ اللہ اسے بالکل غریب بتلاتے ہیں۔
10759
فصل ٭٭
ابو زرین رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں کہ ”رمضان کی پہلی رات ہی لیلۃ القدر ہے۔“ امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”یہ سترھویں شب ہے۔“ ابوداؤد میں اس مضمون کی ایک حدیث مرفوع مروی ہے۔ [سنن ابوداود:1384،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور سیدنا ابن مسعود، سیدنا زید بن ارقم اور عثمان بن العاص رضی اللہ عنہم سے موقوف بھی مروی ہے۔ حسن بصری کا مذہب بھی یہی نقل کیا گیا ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ رمضان المبارک کی یہی سترھویں رات شب جمعہ تھی اور یہی رات بدر کی رات تھی اور سترھویں تاریخ کو جنگ بدر واقع ہوئی تھی جس دن کو قرآن نے یوم الفرقان کہا ہے۔ سیدنا علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”انیسویں رات لیلۃ القدر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکیسویں رات ہے۔“
10760
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف کے دس پہلے دن کا اعتکاف کیا ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اعتکاف بیٹھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ ”جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو آپ کے آگے ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سے بیس تک کا اعتکاف کیا اور ہم نے بھی۔ پھر جبرائیل علیہ السلام آئے اور یہی فرمایا کہ ”جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو ابھی بھی آگے ہے یعنی لیلۃ القدر۔“ پس رمضان کی بیسویں تاریخ کی صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا اور فرمایا کہ ”میرے ساتھ اعتکاف کرنے والوں کو چاہیئے کہ وہ پھر اعتکاف میں بیٹھ جائیں میں نے لیلۃ القدر دیکھ لی لیکن میں بھول گیا، لیلۃ القدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے، میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی کی چھت صرف کھجور کے پتوں کی تھی آسمان پر اس وقت ابر کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی نہ تھا، پھر ابر اٹھا اور بارش ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب سچا ہوا اور میں نے خود دیکھا کہ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر تر مٹی لگی ہوئی تھی اسی روایت کے ایک طریق میں ہے کہ یہ اکیسویں رات کا واقعہ ہے ۔ [صحیح بخاری:2018] یہ حدیث صحیح بخاری، صحیح مسلم دونوں میں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تمام روایتوں میں سے زیادہ صحیح یہی حدیث ہے۔“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیلۃ القدر رمضان شریف کی تئیسویں رات ہے اور اس کی دلیل عبداللہ بن انیس کی صحیح مسلم والی ایسی ہی ایک روایت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10761
ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ چوبیسویں رات ہے۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لیلۃ القدر چوبیسویں شب ہے“ ۔ [مسند طیالسی:2167] اس کی سند بھی صحیح ہے مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے۔ [مسند احمد:12/6:ضعیف] لیکن اس کی سند میں ابن لہیعہ ہیں جو ضعیف ہیں۔
بخاری میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن ہیں مروی ہے کہ یہ پہلی ساتویں ہے آخری دس میں سے، یہ موقوف روایت ہی صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابن مسعود ابن عباس جابر رضی اللہ عنہم حسن، قتادہ عبداللہ بن وہب رحمہ اللہ علیہم بھی فرماتے ہیں کہ چوبیسویں رات لیلۃ القدر ہے۔ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی روایت کی ہوئی مرفوع حدیث بیان ہو چکی ہے کہ قرآن کریم رمضان شریف کی چوبیسویں رات کو اترا۔
بعض کہتے ہیں پچیسویں رات لیلۃ القدر ہے ان کی دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رمضان کے آخری عشرے میں ڈھونڈو۔ نو باقی رہیں تب، سات باقی رہیں تب، پانچ باقی رہیں تب“ ۔ [صحیح بخاری:2021]
اکثر محدثین نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ اس سے مراد طاق راتیں ہیں یہی زیادہ ظاہر ہے اور زیادہ مشہور ہے گو بعض اوروں نے اسے جفت راتوں پر بھی محمول کیا ہے جیسے کہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اسے جفت پر محمول کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ستائیسویں رات ہے اس کی دلیل صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ ستائیسویں رات ہے“ ۔ [صحیح مسلم:762]
10762
مسند احمد میں ہے سیدنا زر رضی اللہ عنہ نے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود تو فرماتے ہیں جو شخص سال بھر راتوں کو قیام کرے گا وہ لیلۃ القدر کو پائے گا آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے وہ جانتے ہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے یہ ستائیسویں رات رمضان کی ہے پھر اس بات پر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی میں نے پوچھا: آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ جواب دیا کہ ان نشانیوں کو دیکھنے سے جو ہم بتائے گئے ہیں کہ اس دن سورج شعاعوں بغیر نکلتا ہے ۔ [صحیح مسلم:762]
اور روایت میں ہے کہ ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے، آپ نے اس پر ان شاءاللہ بھی نہیں فرمایا اور پختہ قسم کھا لی پھر فرمایا: مجھے خوب معلوم ہے کہ وہ کون سی رات ہے جس میں قیام کرنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے یہ ستائیسویں رات ہے اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی صبح کو سورج سفید رنگ نکلتا ہے اور تیزی زیادہ نہیں ہوتی“ ۔ [صحیح مسلم:762]
سیدنا معاویہ، ابن عمر، ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رات ستائیسویں رات ہے“ ۔
سلف کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مختار مسلک بھی یہی ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت اسی قول کی منقول ہے۔
10763
بعض سلف نے قرآن کریم کے الفاظ سے بھی اس کے ثبوت کا حوالہ دیا ہے اس طرح کہ «هِيَ» اس سورت میں ستائیسواں کلمہ ہے اور اس کے معنی ہیں ”یہ۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
طبرانی میں ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جمع کیا اور ان سے لیلۃ القدر کی بابت سوال کیا تو سب کا اجماع اس امر پر ہوا کہ یہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس وقت فرمایا کہ میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ کون سی رات ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر کہو وہ کون سی رات ہے؟ فرمایا اس آخری عشرے میں سات گزرنے پر یا سات باقی رہنے پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کیسے معلوم ہوا تو جواب دیا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے آسمان بھی سات پیدا کیے اور زمین بھی سات بنائیں، مہینہ بھی ہفتوں پر ہے، انسان کی پیدائش بھی سات پر ہے، کھانا بھی سات ہے، سجدہ بھی سات پر ہے، طواف بیت اللہ کی تعداد بھی سات کی ہے، رمی جمار کی کنکریاں بھی سات ہیں اور اسی طرح کی سات کی گنتی کی بہت سی چیزیں اور گنوا دیں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہاری سمجھ وہاں پہنچی جہاں تک ہمارے خیالات کو رسائی نہ ہو سکی یہ جو فرمایا سات ہی کھانا ہے اس سے قرآن کریم کی آیتیں «فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا حَبًّا» [80-عبس:27] ، مراد ہیں جن میں سات چیزوں کا ذکر ہے جو کھائی جاتی ہیں۔
اس کی اسناد بھی جید اور قوی ہے کہ انتیسویں رات ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے سوال کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اسے آخری عشرے میں ڈھونڈو طاق راتوں میں، اکیس، تیئس، پچیس ستائیس اور انتیس یا آخری رات ۔ [مسند احمد:318/5:حسن دون الجملة]
مسند میں ہے کہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے، یا انتیسویں۔ اس رات فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ [مسند احمد:519/2:حسن] اس کی اسناد بھی اچھی ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ آخری رات لیلۃ القدر ہے کیونکہ ابھی جو حدیث گزری اس میں ہے اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے کہ جب نو باقی رہ جائیں یا سات یا پانچ یا تین یا آخری رات یعنی ان راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش کرو ۔ [سنن ترمذي:794،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مسند میں ہے یہ آخری رات ہے ۔
10764
فصل ٭٭
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان مختلف احادیث میں تطبیق یوں ہو سکتی ہے کہ یہ سوالوں کا جواب ہے کسی نے کہا: ہم اسے فلاں رات میں تلاش کریں تو آپ نے فرما دیا ”ہاں حقیقت یہ ہے کہ لیلۃ القدر مقرر ہے اور اس میں تبدیلی نہیں ہوتی۔“
امام ترمذی نے امام شافعی کا اسی معنی کا قول نقل کیا ہے ابوقلابہ فرماتے ہیں کہ آخری عشرے کی راتوں میں یہ پھیر بدل ہوا کرتی ہے۔ امام مالک، امام ثوری، امام احمد بن حنبل، امام اسحاق بن راہویہ، ابوثور مزنی، ابوبکر بن خزیمہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ سے بھی قاضی نے یہی نقل کیا ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس قول کی تھوڑی بہت تائید بخاری و مسلم کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ چند اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں لیلۃ القدر رمضان کی سات پچھلی راتوں میں دکھائے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب اس بارے میں موافق ہیں ہر طلب کرنے والے کو چاہیئے کہ لیلۃ القدر کو ان سات آخری راتوں میں تلاش کرے“ ۔ [صحیح بخاری:2015]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر کی جستجو کرو“ ۔ [صحیح بخاری:2020]
امام شافعی رحمہ اللہ کے اس فرمان پر کہ لیلۃ القدر ہر رمضان میں ایک معین رات ہے اور اس کا ہیر پھیر نہیں ہوتا یہ حدیث دلیل بن سکتی ہے جو صحیح بخاری میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے (کہ فلاں رات لیلۃ القدر ہے) نکلے۔ دو مسلمان آپس میں جھگڑ رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے آیا تھا لیکن فلاں فلاں کی لڑائی کی وجہ سے وہ اٹھا لی گئی اور ممکن ہے کہ اسی میں تمہاری بہتری ہو اب اسے نویں ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو ۔ [صحیح بخاری:2023]
وجہ دلالت یہ ہے کہ اگر اس کا تعین ہمیشہ کے لیے نہ ہوتا تو ہر سال کی لیلۃ القدر کا علم حاصل نہ ہوتا اگر لیلۃ القدر کا تغیر و تبدل ہوتا رہتا تو صرف اس سال کے لیے تو معلوم ہو جاتا کہ فلاں رات ہے لیکن اور برسوں کے لیے تعین نہ ہوتی۔
10765
ہاں یہ ایک جواب اس کا ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسی سال کی اس مبارک رات کی خبر دینے کے لیے تشریف لائے تھے اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لڑائی جھگڑا خیر و برکت اور نفع دینے والے علم کو غارت کر دیتا ہے ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ بندہ اپنے گناہ کے باعث اللہ کی روزی سے محروم رکھ دیا جاتا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:4022،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة]
یہ یاد رہے کہ اس حدیث میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اٹھالی گئی، اس سے مراد اس کے تعین کے علم کا اٹھا لیا جانا ہے نہ یہ کہ بالکل لیلۃ القدر ہی دنیا سے اٹھا لی گئی جیسے کہ جاہل شیعہ کا قول ہے اس پر بڑی دلیل یہ ہے کہ اس لفظ کے بعد ہی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے نویں، ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ممکن ہے اسی میں تمہاری بہتری ہو، یعنی اس کی مقررہ تعین کا علم نہ ہونے میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ مبہم ہے تو اس کا ڈھونڈنے والا جن جن راتوں میں اس کا ہونا ممکن دیکھے گا ان تمام راتوں میں کوشش و خلوص کے ساتھ عبادت میں لگا رہے گا۔ بخلاف اس کے کہ معلوم ہو جائے کہ فلاں رات ہی ہے تو وہ صرف اسی ایک رات کی عبادت کرے گا کیونکہ ہمتیں پست ہیں اس لیے حکمت حکیم کا تقاضا یہی ہوا کہ اس رات کے تعین کی خبر نہ دی جائے تاکہ اس رات کے پا لینے کے شوق میں اس مبارک مہینہ میں جی لگا کر اور دل کھول کر بندے اپنے معبود برحق کی بندگی کریں اور آخری عشرے میں تو پوری کوشش اور خلوص کے ساتھ عبادتوں میں مشغول رہیں۔
اسی لیے خود محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے انتقال تک رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے۔ [صحیح بخاری:2026]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے ۔ [صحیح بخاری:2025]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آخری دس راتیں رمضان شریف کی رہ جاتیں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات جاگتے اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور کمر کس لیتے ۔ [صحیح بخاری:2024]
10766
مسلم شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں میں جس محنت کے ساتھ عبادت کرتے اتنی محنت سے عبادت آپ کی اور دنوں میں نہیں ہوتی تھی ۔ [صحیح مسلم:1175]
یہی معنی ہیں اوپر والی حدیث کے اس جملہ کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہبند مضبوط باندھ لیا کرتے، یعنی کمر کس لیا کرتے، یعنی عبادت میں پوری کوشش کرتے، گو اس کے یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیویوں سے نہ ملتے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں ہی باتیں مراد ہوں یعنی بیویوں سے ملنا بھی ترک کر دیتے تھے اور عبادت کی مشغولی میں بھی کمر باندھ لیا کرتے تھے۔
چنانچہ مسند احمد کی حدیث کے یہ الفاظ ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ باقی رہ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہبند مضبوط باندھ لیتے اور عورتوں سے الگ رہتے ۔ [مسند احمد:67/6:صحیح دون الجملة]
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”رمضان کی آخری دس راتوں میں لیلۃ القدر کی یکساں جستجو کرے کسی ایک رات کو دوسری رات پر ترجیح نہ دے۔“ [شرح رافعی]
یہ بھی یاد رہے کہ یوں تو ہر وقت دعا کی کثرت مستحب ہے لیکن رمضان میں اور زیادتی کرے اور خصوصاً آخری عشرے میں اور بالخصوص طاق راتوں میں اس دعا کو بکثرت پڑھے «اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي»، اللہ تو درگزر کرنے والا اور درگزر کو پسند فرمانے والا ہے مجھ سے بھی درگزر فرما۔ [مسند احمد:183/6:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر مجھے لیلۃ القدر مل جائے تو میں کیا دعا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دعا «اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي» بتائی یہ حدیث ترمذی نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ابن ماجه:3850،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مستدرک حاکم میں بھی یہ مروی ہے اور امام حاکم اسے شرط بخاری و مسلم پر صحیح بتاتے ہیں۔
10767
ایک عجیب و غریب اثر جس کا تعلق لیلۃ القدر سے ہے، امام ابو محمد بن ابوحاتم رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں، اس سورت کی تفسیر میں، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے اس روایت کے ساتھ وارد کیا ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ جو ساتویں آسمان کی حد پر جنت سے متصل ہے جو دنیا اور آخرت کے فاصلہ پر ہے اس کی بلندی جنت میں ہے، اس کی شاخیں اور ڈالیں کرسی تلے ہیں، اس میں اس قدر فرشتے ہیں جن کی گنتی اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اس کی ہر ایک شاخ پر بےشمار فرشتے ہیں، ایک بال برابر بھی جگہ ایسی نہیں جو فرشتوں سے خالی ہو، اس درخت کے بیچوں بیچ جبرائیل علیہ السلام کا مقام ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبرائیل کو آواز دی جاتی ہے کہ اے جبرائیل! لیلۃ القدر میں اس درخت کے تمام فرشتوں کو لے کر زمین پر جاؤ یہ کل کے کل فرشتے رافت و رحمت والے ہیں جن کے دلوں میں ہر ہر مومن کے لیے رحم کے جذبات موجزن ہیں سورج غروب ہوتے ہی یہ کل کے کل فرشتے جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ لیلۃ القدر میں اترتے ہیں، تمام روئے زمین پر پھیل جاتے ہیں، ہر ہر جگہ پر سجدے میں قیام میں مشغول ہو جاتے ہیں اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ ہاں گرجا گھر میں، مندر میں، آتش کدے میں، بت خانے میں، غرض اللہ کے سوا اوروں کی جہاں پرستش ہوتی ہے وہاں تو یہ فرشتے نہیں جاتے اور ان جگہوں میں بھی جن میں تم گندی چیزیں ڈالتے ہو اور اس گھر میں بھی جہاں نشے والا شخص ہو یا نشہ والی چیز ہو یا جس گھر میں کوئی بت گڑا ہوا ہو یا جس گھر میں باجے گاجے گھنٹیاں ہوں یا مجسمہ ہو یا کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ ہو وہاں تو یہ رحمت کے فرشتے جاتے نہیں باقی چپے چپے پر گھوم جاتے ہیں اور ساری رات مومن مردوں عورتوں کے لیے دعائیں مانگنے میں گزارتے ہیں جبرائیل علیہ السلام تمام مومنوں سے مصافحہ کرتے ہیں اس کی نشانی یہ ہے کہ روئیں جسم پر کھڑے ہو جائیں دل نرم پڑ جائے آنکھیں بہہ نکلیں اس وقت آدمی کو سمجھ لینا چاہیئے کہ اس وقت میرا ہاتھ جبرائیل علیہ السلام کے ہاتھ میں ہے۔
10768
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص اس رات میں تین مرتبہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» پڑھے اس کی پہلی مرتبہ کے پڑھنے پر گناہوں کی بخشش ہو جاتی ہے دوسری مرتبہ کے کہنے پر آگ سے نجات مل جاتی ہے تیسری مرتبہ کے کہنے پر جنت میں داخل ہو جاتا ہے , راوی نے پوچھا کہ اے ابواسحاق جو اس کلمہ کو سچائی سے کہے اس کے؟ فرمایا: یہ تو نکلے گا ہی اس کے منہ سے جو سچائی سے اس کا کہنے والا ہو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ لیلۃ القدر کافر و منافق پر تو اتنی بھاری پڑتی ہے کہ گویا اس کی پیٹھ پر پہاڑ آ پڑا۔
غرض فجر ہونے تک فرشتے اسی طرح رہتے ہیں پھر سب سے پہلے جبرائیل علیہ السلام چڑھتے ہیں اور بہت اونچے چڑھ کر اپنے پروں کو پھیلا دیتے ہیں بالخصوص ان دو سبز پروں کو جنہیں اس رات کے سوا وہ کبھی نہیں پھیلاتے یہی وجہ ہے کہ سورج کی تیزی ماند پڑ جاتی ہے اور شعائیں جاتی رہتی ہیں پھر ایک ایک فرشتے کو پکارتے ہیں اور سب کے سب اوپر چڑھتے ہیں پس فرشتوں کا نور اور جبرائیل علیہ السلام کے پروں کا نور مل کر سورج کو ماند کر دیتا ہے اس دن سورج متحیر رہ جاتا ہے جبرائیل اور یہ سارے کے سارے بےشمار فرشتے اس دن آسمان و زمین کے درمیان مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے رحمت کی دعائیں مانگتے ہیں اور ان کے گناہوں کی بخشش طلب کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ نیک نیتی کے ساتھ روزے رکھنے والوں کے لیے اور ان لوگوں کے لیے بھی جن کا یہ خیال رہا کہ اگلے سال بھی اگر اللہ نے زندگی رکھی تو رمضان کے روزے عمدگی کے ساتھ پورے کریں گے یہی دعائیں مانگتے رہتے ہیں شام کو دنیا کے آسمان پر چڑھ جاتے ہیں وہاں کے تمام فرشتے حلقے باندھ باندھ کر ان کے پاس جمع ہو جاتے ہیں اور ایک ایک مرد اور ایک ایک عورت کے بارے میں ان سے سوال کرتے ہیں اور یہ جواب دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ پوچھتے ہیں کہ فلاں شخص کو امسال تم نے کس حالت میں پایا تو یہ کہتے ہیں کہ گزشتہ سال تو ہم نے اسے عبادتوں میں پایا تھا لیکن اس سال تو وہ بدعتوں میں مبتلا تھا اور فلاں شخص گزشتہ سال بدعتوں میں مبتلا تھا لیکن اس سال ہم نے اسے سنت کے مطابق عبادتوں میں پایا پس یہ فرشتے اس سے پہلے شخص کے لیے بخشش کی دعائیں مانگنی موقوف کر دیتے ہیں اور اس دوسرے شخص کے لیے شروع کر دیتے ہیں اور یہ فرشتے انہیں سناتے ہیں کہ فلاں فلاں کو ہم نے ذکر اللہ میں پایا اور فلاں کو رکوع میں اور فلاں کو سجدے میں اور فلاں کو کتاب اللہ کی تلاوت میں غرض ایک رات دن یہاں گزار کر دوسرے آسمان پر جاتے ہیں یہاں بھی یہی ہوتا ہے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ میں اپنی اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں اس وقت سدرۃ المنتہیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ مجھ میں بسنے والو! میرا بھی تم پر حق ہے میں بھی ان سے محبت رکھتا ہوں جو اللہ سے محبت رکھیں ذرا مجھے بھی تو لوگوں کی حالت کی خبر دو اور ان کے نام بتاؤ۔
10769
سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اب فرشتے اس کے سامنے گنتی کر کے اور ایک ایک مرد و عورت کا مع ولدیت کے نام بتاتے ہیں پھر جنت سدرۃ المنتہیٰ کی طرف متوجہ ہو کر پوچھتی ہے کہ تجھ میں رہنے والے فرشتوں نے جو خبریں تجھے دی ہیں مجھ سے بھی تو بیان کر چنانچہ سدرہ اس سے ذکر کرتا ہے یہ سن کر وہ کہتی ہے اللہ کی رحمت ہو فلاں مرد اور فلاں عورت پر اللہ انہیں جلدی مجھ سے ملا۔
جبرائیل علیہ السلام سب سے پہلے اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں انہیں الہام ہوتا ہے اور یہ عرض کرتے ہیں پروردگار میں نے تیرے فلاں فلاں بندوں کو سجدے میں پایا تو انہیں بخش، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے انہیں بخشا۔ جبرائیل علیہ السلام اسے عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کو سناتے ہیں پھر سب کہتے ہیں فلاں فلاں مرد و عورت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوئی اور مغفرت ہوئی پھر جبرائیل علیہ السلام خبر دیتے ہیں کہ باری تعالیٰ فلاں شخص کو گزشتہ سال تو عامل سنت اور عابد چھوڑا تھا لیکن امسال تو بدعتوں میں پڑ گیا اور تیرے احکام سے روگردانی کر لی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے جبرائیل اگر یہ مرنے سے تین ساعت پہلے بھی توبہ کر لے گا تو میں اسے بخش دوں گا۔ اس وقت جبرائیل علیہ السلام بےساختہ کہہ اٹھتے ہیں اللہ تیرے ہی لیے سب تعریفیں سزاوار ہیں الٰہی تو اپنی مخلوق پر سب سے زیادہ مہربان ہے بندوں پر تیری مہربانی خود ان کی مہربانی سے بھی بڑھی ہوئی ہے۔ اس وقت عرش اور اس کے آس پاس کی چیزیں پردے اور تمام آسمان جنبش میں آ جاتے ہیں اور کہہ اٹھتے ہیں «الْحَمْدُ لِلَّهِ الرَّحِيمِ»، «الْحَمْدُ لِلَّهِ الرَّحِيمِ» ۔
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ”جو شخص رمضان شریف کے روزے پورے کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ رمضان کے بعد بھی میں گناہوں سے بچتا رہوں گا وہ بغیر سوال و جواب کے اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہو گا۔“
سورۃ لیلۃ القدر کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10770
القدر 97:2
غیر متعلقہ روایات اور بحث ٭٭
مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے، اسی کا نام «اللَّيْلَةُ الْمُبَارَكَةُ» بھی ہے۔
اور جگہ ارشاد ہے «إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ» [44-الدخان:3] اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے مہینے میں ہے، جیسے فرمایا «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ» [2-البقرۃ:185]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول ہے کہ ”پورا قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان اول پر بیت العزت میں اس رات اترا، پھر تفصیل وار واقعات کے مطابق بتدریج تئیس سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔“
پھر اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کی شان و شوکت کا اظہار فرماتا ہے کہ اس رات کی ایک زبردست برکت تو یہ ہے کہ قرآن کریم جیسی اعلیٰ نعمت اسی رات اتری، تو فرماتا ہے کہ ” تمہیں کیا خبر کہ لیلۃ القدر کیا ہے؟ “ پھر خود ہی بتاتا ہے کہ ” یہ ایک رات ایک ہزار مہینہ سے افضل ہے “۔
امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ ترمذی شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ایک روایت لائے ہیں کہ یوسف بن سعد سے کہ ایک آدمی نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے جبکہ آپ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی کہا کہ ”تم نے ایمان والوں کے منہ کالے کر دئیے“ یا یوں کہا کہ ”اے مومنوں کے منہ سیاہ کرنے والے“، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تجھ پر رحم کرے، مجھ پر خفا نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھلایا گیا کہ گویا آپ کے منبر پر بنو امیہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ برا معلوم ہوا تو «إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ» [108-الکوثر:1] نازل ہوئی یعنی جنت کی نہر کوثر آپ کو عطا کیے جانے کی خوشخبری ملی اور «إِنَّا أَنزَلْنَاهُ» اتری، پس ہزار مہینے سے وہ مراد ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بنو امیہ کی مملکت رہے گی، قاسم بن فضل حدانی کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو وہ پورے ایک ہزار دن ہوئے، نہ ایک دن زیادہ، نہ ایک دن کم ۔ [سنن ترمذي:3350،قال الشيخ الألباني:ضعیف] امام ترمذی رحمہ اللہ اس روایت کو غریب بتلاتے ہیں اور اس کی سند میں یوسف بن سعد ہیں جو مجہول ہیں اور صرف اسی سند سے یہ مروی ہے۔
10750
مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت ہے امام ترمذی رحمہ اللہ کا یہ فرمانا کہ یہ یوسف مجہول ہیں اس میں ذرا تذبذب ہے اس کے بہت سے شاگرد ہیں۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں یہ مشہور ہیں اور ثقہ ہیں اور اس کی سند میں کچھ اضطراب ہے جیسا بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بہر صورت یہ بہت ہی منکر روایت ہے۔
ہمارے شیخ حافظ حجت ابوالحجاج مزی بھی اس روایت کو منکر بتلاتے ہیں (یہ یاد رہے کہ قاسم کا قول جو ترمذی کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو بنو امیہ کی سلطنت ٹھیک ایک ہزار دن تک رہی یہ نسخے کی غلطی ہے۔ ایک ہزار مہینے لکھنا چاہیئے تھا، میں نے ترمذی شریف میں دیکھا تو وہاں بھی ایک ہزار مہینے ہیں اور آگے بھی یہی آتا ہے۔ مترجم)
قاسم بن فضل حدانی کا یہ قول کہ بنو امیہ کی سلطنت کی ٹھیک مدت ایک ہزار مہینے تھی یہ بھی صحیح نہیں اس لیے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی مستقل سلطنت سنہ ۴٠ ہجری میں قائم ہوئی جبکہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور امر خلافت آپ کو سونپ دیا اور سب لوگ بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت پر جمع ہو گئے اور اس سال کا نام ہی عام الجماعہ مشہور ہوا۔ پھر شام وغیرہ میں برابر بنو امیہ کی سلطنت قائم رہی ہاں تقریباً نو سال تک حرمین شریفین اور اہواز اور بعض شہروں پر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی سلطنت ہو گئی تھی لیکن تاہم اس مدت میں بھی کلیۃً ان کے ہاتھ سے حکومت نہیں گئی۔ البتہ بعض شہروں پر سے حکومت ہٹ گئی تھی، ہاں سنہ ۱۳۲ ھ میں بنوالعباس نے ان سے خلافت اپنے قبضہ میں کر لی پس ان کی سلطنت کی مدت بانوے برس ہوئی اور یہ ایک ہزار ماہ سے بہت زیادہ ہے ایک ہزار مہینے کے تراسی سال چار ماہ ہوتے ہیں۔ ہاں قاسم بن فضل کا یہ حساب اس طرح تو تقریباً ٹھیک ہو جاتا ہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت اس گنتی میں سے نکال دی جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10751
اس روایت کے ضعیف ہونے کی ایک یہ وجہ بھی ہے کہ بنو امیہ کی سلطنت کے زمانہ کی تو برائی اور مذمت بیان کرنی مقصود ہے اور لیلتہ القدر کی اس زمانہ پر فضیلت کا ثابت ہونا کچھ ان کے زمانے کی مذمت کی دلیل نہیں، لیلۃ القدر تو ہر طرح بزرگی والی ہے ہی اور یہ پوری سورت اس مبارک رات کی مدح و ستائش بیان کر رہی ہے، پس بنو امیہ کے زمانہ کے دنوں کی مذمت سے لیلۃ القدر کی کون سی فضیلت ثابت ہو جائے گی؟ یہ تو بالکل وہی مثل اصل ہو جائے گی کہ کوئی شخص تلوار کی تعریف کرتے ہوئے کہے کہ لکڑی سے بہت تیز ہے، کسی بہترین فضیلت والے شخص کو کسی کم درجہ کے ذلیل شخص پر فضیلت دینا تو اس شریف بزرگ کی توہین کرنا ہے۔
اور وجہ سنئے اس روایت کی بنا پر یہ ایک ہزار مہینے وہ ہوئے جن میں بنو امیہ کی سلطنت رہے گی اور یہ سورت اتری ہے مکہ شریف میں تو اس میں ان مہینوں کا حوالہ کیسے دیا جا سکتا ہے جو بنو امیہ کے زمانہ کے ہیں اس پر نہ تو کوئی لفظ دلالت کرتا ہے، نہ معنی کے طور پر یہ سمجھا جا سکتا ہے، منبر تو مدینہ میں قائم ہوتا ہے اور ہجرت کی ایک مدت بعد منبر بنایا جاتا ہے اور رکھا جاتا ہے۔ پس ان تمام وجوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت ضعیف اور منکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10752
ماہِ رمضان اور لیلتہ القدر کی فضیلت ٭٭
ابن ابی حاتم میں ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا جو ایک ہزار ماہ تک اللہ کی راہ میں یعنی جہاد میں ہتھیار بند رہا مسلمانوں کو یہ سن کر تعجب معلوم ہوا تو اللہ عزوجل نے یہ سورت اتاری کہ لیلۃ القدر کی عبادت اس شخص کی ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے۔ [بیہقی فی السنن:306/4:ضیعف و مرسل]
ابن جریر میں ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو رات کو قیام کرتا تھا صبح تک اور دن میں دشمنان دین سے جہاد کرتا تھا شام تک ایک ہزار مہینے تک یہی کرتا رہا پس اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمایا کہ اس امت کے کسی شخص کا صرف لیلۃ القدر کا قیام اس عابد کی ایک ہزار مہینے کی اس عبادت سے افضل ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے چار عابدوں کا ذکر کیا جنہوں نے اسی سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے نافرمانی نہیں کی تھی ایوب علیہ السلام، زکریا علیہ السلام، حزقیل بن عجوز، یوشع بن نون علیہم السلام“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت تعجب ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت نے اس جماعت کی اس عبادت پر تعجب کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی افضل چیز آپ پر نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ افضل ہے اس سے جن پر آپ اور آپ کی امت نے تعجب ظاہر کیا تھا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بے حد خوش ہوئے ۔ [باطل لا اصل لہ فی المرفوع]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ اس رات کا نیک عمل اس کا روزہ اس کی نماز ایک ہزار مہینوں کے روزے اور نماز سے افضل ہے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو“ اور مفسرین کا بھی یہ قول ہے۔
10753
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو پسند فرمایا ہے کہ ”وہ ایک ہزار مہینے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو“ یہی ٹھیک ہے اس کے سوا اور کوئی قول ٹھیک نہیں۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک رات کی جہاد کی تیاری اس کے سوا ایک ہزار راتوں سے افضل ہے ۔ [مسند احمد:75/1:حسن]
اسی طرح اور حدیث میں ہے کہ جو شخص اچھی نیت اور اچھی حالت سے جمعہ کی نماز کے لیے جائے اس کے لیے ایک سال کے اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے سال بھر کے روزوں کا اور سال بھر کی نمازوں کا ۔ [سنن ترمذي:496،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اسی طرح کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں پس مطلب یہ ہے کہ مراد ایک ہزار مہینے سے وہ مہینے ہیں جن میں لیلۃ القدر نہ آئے جیسے ایک ہزار راتوں سے مراد وہ راتیں ہیں جن میں کوئی رات اس عبادت کی نہ ہو اور جیسے جمعہ کی طرف جانے والے کو ایک سال کی نیکیاں یعنی وہ سال جس میں جمعہ نہ ہو۔
10754
مسند احمد میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو تم پر رمضان کا مہینہ آ گیا یہ بابرکت مہینہ آ گیا اس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کیے ہیں اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں شیاطین قید کر لیے جاتے ہیں اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینے سے افضل ہے اس کی بھلائی سے محروم رہنے والا حقیقی بد قسمت ہے“ ۔ [مسند احمد230/2:صحیح]
نسائی شریف میں بھی یہ روایت ہے چونکہ اس رات کی عبادت ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے اس لیے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص لیلۃ القدر کا قیام ایمانداری اور نیک نیتی سے کرے اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:2014]
پھر فرماتا ہے کہ اس رات کی برکت کی زیادتی کی وجہ سے بکثرت فرشتے اس میں نازل ہوتے ہیں۔ فرشتے تو ہر برکت اور رحمت کے ساتھ نازل ہوتے رہتے ہیں جیسے تلاوت قرآن کے وقت اترتے ہیں اور ذکر کی مجلسوں کو گھیر لیتے ہیں اور علم دین کے سیکھنے والوں کے لیے راضی خوشی اپنے پر بچھا دیا کرتے ہیں اور اس کی عزت و تکریم کرتے ہیں «روح» سے مراد یہاں جبرائیل علیہ السلام ہیں، یہ خاص کا عطف ہے عام پر۔
بعض کہتے ہیں «روح» کے نام کے ایک خاص قسم کے فرشتے ہیں جیسے کہ سورۃ «عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ» [78-النبأ:1] کی تفسیر میں تفصیل سے گزر چکا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا وہ سراسر سلامتی والی رات ہے جس میں شیطان نہ تو برائی کر سکتا ہے نہ ایذاء پہنچا سکتا ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”اس میں تمام کاموں کا فیصلہ کیا جاتا ہے عمر اور رزق مقدر کیا جاتا ہے۔“
جیسے اور جگہ ہے «فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ» [44-الدخان:4] یعنی ” اسی رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے “۔
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس رات میں فرشتے مسجد والوں پر صبح تک سلام بھیجتے رہتے ہیں۔“
امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب فضائل اوقات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک غریب اثر فرشتوں کے نازل ہونے میں اور نمازیوں پر ان کے گزرنے میں اور انہیں برکت حاصل ہونے میں وارد کیا ہے۔ ابن ابی حاتم میں کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ایک عجیب و غریب بہت طول طویل اثر وارد کیا ہے جس میں فرشتوں کا سدرۃ المنتہیٰ سے جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ زمین پر آنا اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں کرنا وارد ہے۔ ابوداؤد طیالسی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لیلۃ القدر ستائیسویں ہے یا انتیسویں اس رات میں فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ [مسند طیالسی:2545:حسن]
عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس رات میں ہر امر سے سلامتی ہے یعنی کوئی نئی بات پیدا نہیں ہوتی۔“
10755
قتادہ رحمہ اللہ اور ابن زید رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”یہ رات سراسر سلامتی والی ہے کوئی برائی صبح ہونے تک نہیں ہوتی۔“
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لیلۃ القدر آخری دس راتوں میں ہے جو ان میں طلب ثواب کی نیت سے قیام کرے اللہ تعالیٰ اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف فرما دیتا ہے یہ رات اکائی کی ہے یعنی اکیسویں یا تیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا آخری رات۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ رات بالکل صاف اور ایسی روشن ہوتی ہے کہ گویا چاند چڑھا ہوا ہے اس میں سکون اور دلجمعی ہوتی ہے، نہ سردی زیادہ ہوتی ہے، نہ گرمی، صبح تک ستارے نہیں جھڑتے ایک نشانی اس کی یہ بھی ہے کہ اس صبح کو سورج تیز شعاؤں کے ساتھ نہیں نکلتا بلکہ وہ چودہویں رات کی طرح صاف نکلتا ہے۔ اس دن اس کے ساتھ شیطان بھی نہیں نکلتا ۔ [مسند احمد:323/5:حسن] یہ اسناد تو صحیح ہے لیکن متن میں غرابت ہے۔
اور بعض الفاظ میں نکارت بھی ہے اور ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لیلۃ القدر صاف پر سکون سردی گرمی سے خالی رات ہے اس کی صبح مدھم روشنی والا سرخ رنگ نکلتا ہے“ ۔ [مسند طیالسی:2680:صحیح]
ابوعاصم نبیل اپنی اسناد سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: ”میں لیلۃ القدر دکھلایا گیا پھر بھلا دیا گیا یہ آخری دس راتوں میں ہے یہ صاف شفاف سکون و وقار والی رات ہے نہ زیادہ سردی ہوتی ہے نہ زیادہ گرمی اس قدر روشنی رات ہوتی ہے کہ یہ معلوم ہوتا ہے گویا چاند چڑھا ہوا ہے سورج کے ساتھ شیطان نہیں نکلتا یہاں تک کہ دھوپ چڑھ جائے“ ۔ [صحیح ابن خریمہ:2190]
10756
فصل ٭٭
اس بات میں علماء کا اختلاف ہے کہ لیلۃ القدر اگلی امتوں میں بھی تھی یا صرف اسی امت کو خصوصیت کے ساتھ عطا کی گئی ہے۔ پس ایک حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نظریں ڈالیں اور یہ معلوم کیا کہ سابقہ لوگوں کی عمریں بہت زیادہ ہوتی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال گزرا کہ میری امت کی عمریں ان کے مقابلہ میں کم ہیں تو نیکیاں بھی کم رہیں گیں اور پھر درجات اور ثواب میں بھی کمی رہیں گی، تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رات عنایت فرمائی اور اس کا ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت سے زیادہ دینے کا وعدہ فرمایا ۔ [مؤطا:321/1:مرسل]
اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف اسی امت کو یہ رات دی گئی ہے بلکہ صاحب عدۃ نے جو شافعیہ میں سے ایک امام ہیں جمہور علماء کا یہی قول نقل کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10757
اور خطابی نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے لیکن ایک اور حدیث ہے جس سے یہ معلوم ہوتا کہ یہ رات جس طرح اس امت میں ہے، اگلی امتوں میں بھی تھی، چنانچہ مرثد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے لیلۃ القدر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سوال کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: سنو! میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اکثر باتیں دریافت کرتا رہتا تھا ایک مرتبہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تو فرمائیے کہ لیلۃ القدر رمضان میں ہی ہے یا اور مہینوں میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان میں۔“ میں نے کہا: اچھا یا رسول اللہ! یہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہی ہے کہ جب تک وہ ہیں یہ بھی ہے جب انبیاء علیہم السلام قبض کئے جاتے ہیں تو یہ اٹھ جاتی ہیں یا یہ قیامت تک باقی رہیں گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ”نہیں وہ قیامت تک باقی رہے گی“، میں نے کہا: اچھا رمضان کے کس حصہ میں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رمضان کے پہلے اور آخری عشرہ میں ڈھونڈ۔“ پھر میں خاموش ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور باتوں میں مشغول ہو گئے۔ میں نے پھر موقع پا کر سوال کیا کہ یا رسول اللہ! ان دونوں عشروں میں سے کس عشرے میں اس رات کو تلاش کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخری عشرے میں، بس کچھ نہ پوچھنا۔“ میں پھر چپکا ہو گیا لیکن پھر موقعہ پا کر میں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کی قسم ہے میرا بھی کچھ حق آپ پر ہے فرما دیجئیے کہ وہ کون سی رات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے ہوئے میں نے تو کبھی آپ کو اپنے اوپر اتنا غصہ ہوتے ہوئے دیکھا ہی نہیں اور فرمایا: ”آخری ہفتہ میں تلاش کرو، اب کچھ نہ پوچھنا“ ۔ [مسند احمد:171/5:ضعیف]
یہ روایت نسائی میں بھی مروی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات اگلی امتوں میں بھی تھی، اور اس حدیث سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی قیامت تک ہر سال آتی رہے گی۔
بعض شیعہ حضرات کا قول ہے کہ یہ رات بالکل اٹھ گئی، یہ قول غلط ہے ان کو غلط فہمی اس حدیث سے ہوئی ہے جس میں ہے کہ وہ اٹھا لی گئی اور ممکن ہے کہ تمہارے لیے اسی میں بہتری ہو یہ حدیث پوری بھی آئے گی۔
10758
مطلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے یہ ہے کہ اس رات کی تعین اور اس کا تقرر بھی اٹھ گیا، نہ یہ کہ سرے سے لیلۃ القدر ہی اٹھ گئی مندرجہ بالا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ رات رمضان شریف میں آتی ہے کسی اور مہینہ میں نہیں۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور علماء کوفہ کا قول ہے کہ سارے سال میں ایک رات ہے اور ہر مہینہ میں اس کا ہو جانا ممکن ہے۔ یہ حدیث اس کے خلاف ہے سنن ابوداؤد میں باب ہے کہ اس شخص کی دلیل جو کہتا ہے لیلۃ القدر سارے رمضان میں ہے۔ پھر حدیث لائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سارے رمضان میں ہے ۔ [سنن ابوداود:1387،قال الشيخ الألباني:ضعیف و الصحیح موقوف] اس کی سند کے کل راوی ثقہ ہیں یہ موقوف بھی مروی ہیں۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت میں ہے کہ ”رمضان المبارک کے سارے مہینہ میں اس رات کا ہونا ممکن ہے“ غزالی رحمہ اللہ نے اسی کو نقل کیا ہے لیکن رافعی رحمہ اللہ اسے بالکل غریب بتلاتے ہیں۔
10759
فصل ٭٭
ابو زرین رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں کہ ”رمضان کی پہلی رات ہی لیلۃ القدر ہے۔“ امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”یہ سترھویں شب ہے۔“ ابوداؤد میں اس مضمون کی ایک حدیث مرفوع مروی ہے۔ [سنن ابوداود:1384،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور سیدنا ابن مسعود، سیدنا زید بن ارقم اور عثمان بن العاص رضی اللہ عنہم سے موقوف بھی مروی ہے۔ حسن بصری کا مذہب بھی یہی نقل کیا گیا ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ رمضان المبارک کی یہی سترھویں رات شب جمعہ تھی اور یہی رات بدر کی رات تھی اور سترھویں تاریخ کو جنگ بدر واقع ہوئی تھی جس دن کو قرآن نے یوم الفرقان کہا ہے۔ سیدنا علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”انیسویں رات لیلۃ القدر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکیسویں رات ہے۔“
10760
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف کے دس پہلے دن کا اعتکاف کیا ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اعتکاف بیٹھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ ”جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو آپ کے آگے ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سے بیس تک کا اعتکاف کیا اور ہم نے بھی۔ پھر جبرائیل علیہ السلام آئے اور یہی فرمایا کہ ”جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو ابھی بھی آگے ہے یعنی لیلۃ القدر۔“ پس رمضان کی بیسویں تاریخ کی صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا اور فرمایا کہ ”میرے ساتھ اعتکاف کرنے والوں کو چاہیئے کہ وہ پھر اعتکاف میں بیٹھ جائیں میں نے لیلۃ القدر دیکھ لی لیکن میں بھول گیا، لیلۃ القدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے، میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی کی چھت صرف کھجور کے پتوں کی تھی آسمان پر اس وقت ابر کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی نہ تھا، پھر ابر اٹھا اور بارش ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب سچا ہوا اور میں نے خود دیکھا کہ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر تر مٹی لگی ہوئی تھی اسی روایت کے ایک طریق میں ہے کہ یہ اکیسویں رات کا واقعہ ہے ۔ [صحیح بخاری:2018] یہ حدیث صحیح بخاری، صحیح مسلم دونوں میں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تمام روایتوں میں سے زیادہ صحیح یہی حدیث ہے۔“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیلۃ القدر رمضان شریف کی تئیسویں رات ہے اور اس کی دلیل عبداللہ بن انیس کی صحیح مسلم والی ایسی ہی ایک روایت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10761
ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ چوبیسویں رات ہے۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لیلۃ القدر چوبیسویں شب ہے“ ۔ [مسند طیالسی:2167] اس کی سند بھی صحیح ہے مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے۔ [مسند احمد:12/6:ضعیف] لیکن اس کی سند میں ابن لہیعہ ہیں جو ضعیف ہیں۔
بخاری میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن ہیں مروی ہے کہ یہ پہلی ساتویں ہے آخری دس میں سے، یہ موقوف روایت ہی صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابن مسعود ابن عباس جابر رضی اللہ عنہم حسن، قتادہ عبداللہ بن وہب رحمہ اللہ علیہم بھی فرماتے ہیں کہ چوبیسویں رات لیلۃ القدر ہے۔ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی روایت کی ہوئی مرفوع حدیث بیان ہو چکی ہے کہ قرآن کریم رمضان شریف کی چوبیسویں رات کو اترا۔
بعض کہتے ہیں پچیسویں رات لیلۃ القدر ہے ان کی دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رمضان کے آخری عشرے میں ڈھونڈو۔ نو باقی رہیں تب، سات باقی رہیں تب، پانچ باقی رہیں تب“ ۔ [صحیح بخاری:2021]
اکثر محدثین نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ اس سے مراد طاق راتیں ہیں یہی زیادہ ظاہر ہے اور زیادہ مشہور ہے گو بعض اوروں نے اسے جفت راتوں پر بھی محمول کیا ہے جیسے کہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اسے جفت پر محمول کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ستائیسویں رات ہے اس کی دلیل صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ ستائیسویں رات ہے“ ۔ [صحیح مسلم:762]
10762
مسند احمد میں ہے سیدنا زر رضی اللہ عنہ نے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود تو فرماتے ہیں جو شخص سال بھر راتوں کو قیام کرے گا وہ لیلۃ القدر کو پائے گا آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے وہ جانتے ہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے یہ ستائیسویں رات رمضان کی ہے پھر اس بات پر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی میں نے پوچھا: آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ جواب دیا کہ ان نشانیوں کو دیکھنے سے جو ہم بتائے گئے ہیں کہ اس دن سورج شعاعوں بغیر نکلتا ہے ۔ [صحیح مسلم:762]
اور روایت میں ہے کہ ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے، آپ نے اس پر ان شاءاللہ بھی نہیں فرمایا اور پختہ قسم کھا لی پھر فرمایا: مجھے خوب معلوم ہے کہ وہ کون سی رات ہے جس میں قیام کرنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے یہ ستائیسویں رات ہے اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی صبح کو سورج سفید رنگ نکلتا ہے اور تیزی زیادہ نہیں ہوتی“ ۔ [صحیح مسلم:762]
سیدنا معاویہ، ابن عمر، ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رات ستائیسویں رات ہے“ ۔
سلف کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مختار مسلک بھی یہی ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت اسی قول کی منقول ہے۔
10763
بعض سلف نے قرآن کریم کے الفاظ سے بھی اس کے ثبوت کا حوالہ دیا ہے اس طرح کہ «هِيَ» اس سورت میں ستائیسواں کلمہ ہے اور اس کے معنی ہیں ”یہ۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
طبرانی میں ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جمع کیا اور ان سے لیلۃ القدر کی بابت سوال کیا تو سب کا اجماع اس امر پر ہوا کہ یہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس وقت فرمایا کہ میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ کون سی رات ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر کہو وہ کون سی رات ہے؟ فرمایا اس آخری عشرے میں سات گزرنے پر یا سات باقی رہنے پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کیسے معلوم ہوا تو جواب دیا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے آسمان بھی سات پیدا کیے اور زمین بھی سات بنائیں، مہینہ بھی ہفتوں پر ہے، انسان کی پیدائش بھی سات پر ہے، کھانا بھی سات ہے، سجدہ بھی سات پر ہے، طواف بیت اللہ کی تعداد بھی سات کی ہے، رمی جمار کی کنکریاں بھی سات ہیں اور اسی طرح کی سات کی گنتی کی بہت سی چیزیں اور گنوا دیں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہاری سمجھ وہاں پہنچی جہاں تک ہمارے خیالات کو رسائی نہ ہو سکی یہ جو فرمایا سات ہی کھانا ہے اس سے قرآن کریم کی آیتیں «فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا حَبًّا» [80-عبس:27] ، مراد ہیں جن میں سات چیزوں کا ذکر ہے جو کھائی جاتی ہیں۔
اس کی اسناد بھی جید اور قوی ہے کہ انتیسویں رات ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے سوال کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اسے آخری عشرے میں ڈھونڈو طاق راتوں میں، اکیس، تیئس، پچیس ستائیس اور انتیس یا آخری رات ۔ [مسند احمد:318/5:حسن دون الجملة]
مسند میں ہے کہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے، یا انتیسویں۔ اس رات فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ [مسند احمد:519/2:حسن] اس کی اسناد بھی اچھی ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ آخری رات لیلۃ القدر ہے کیونکہ ابھی جو حدیث گزری اس میں ہے اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے کہ جب نو باقی رہ جائیں یا سات یا پانچ یا تین یا آخری رات یعنی ان راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش کرو ۔ [سنن ترمذي:794،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مسند میں ہے یہ آخری رات ہے ۔
10764
فصل ٭٭
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان مختلف احادیث میں تطبیق یوں ہو سکتی ہے کہ یہ سوالوں کا جواب ہے کسی نے کہا: ہم اسے فلاں رات میں تلاش کریں تو آپ نے فرما دیا ”ہاں حقیقت یہ ہے کہ لیلۃ القدر مقرر ہے اور اس میں تبدیلی نہیں ہوتی۔“
امام ترمذی نے امام شافعی کا اسی معنی کا قول نقل کیا ہے ابوقلابہ فرماتے ہیں کہ آخری عشرے کی راتوں میں یہ پھیر بدل ہوا کرتی ہے۔ امام مالک، امام ثوری، امام احمد بن حنبل، امام اسحاق بن راہویہ، ابوثور مزنی، ابوبکر بن خزیمہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ سے بھی قاضی نے یہی نقل کیا ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس قول کی تھوڑی بہت تائید بخاری و مسلم کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ چند اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں لیلۃ القدر رمضان کی سات پچھلی راتوں میں دکھائے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب اس بارے میں موافق ہیں ہر طلب کرنے والے کو چاہیئے کہ لیلۃ القدر کو ان سات آخری راتوں میں تلاش کرے“ ۔ [صحیح بخاری:2015]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر کی جستجو کرو“ ۔ [صحیح بخاری:2020]
امام شافعی رحمہ اللہ کے اس فرمان پر کہ لیلۃ القدر ہر رمضان میں ایک معین رات ہے اور اس کا ہیر پھیر نہیں ہوتا یہ حدیث دلیل بن سکتی ہے جو صحیح بخاری میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے (کہ فلاں رات لیلۃ القدر ہے) نکلے۔ دو مسلمان آپس میں جھگڑ رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے آیا تھا لیکن فلاں فلاں کی لڑائی کی وجہ سے وہ اٹھا لی گئی اور ممکن ہے کہ اسی میں تمہاری بہتری ہو اب اسے نویں ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو ۔ [صحیح بخاری:2023]
وجہ دلالت یہ ہے کہ اگر اس کا تعین ہمیشہ کے لیے نہ ہوتا تو ہر سال کی لیلۃ القدر کا علم حاصل نہ ہوتا اگر لیلۃ القدر کا تغیر و تبدل ہوتا رہتا تو صرف اس سال کے لیے تو معلوم ہو جاتا کہ فلاں رات ہے لیکن اور برسوں کے لیے تعین نہ ہوتی۔
10765
ہاں یہ ایک جواب اس کا ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسی سال کی اس مبارک رات کی خبر دینے کے لیے تشریف لائے تھے اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لڑائی جھگڑا خیر و برکت اور نفع دینے والے علم کو غارت کر دیتا ہے ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ بندہ اپنے گناہ کے باعث اللہ کی روزی سے محروم رکھ دیا جاتا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:4022،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة]
یہ یاد رہے کہ اس حدیث میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اٹھالی گئی، اس سے مراد اس کے تعین کے علم کا اٹھا لیا جانا ہے نہ یہ کہ بالکل لیلۃ القدر ہی دنیا سے اٹھا لی گئی جیسے کہ جاہل شیعہ کا قول ہے اس پر بڑی دلیل یہ ہے کہ اس لفظ کے بعد ہی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے نویں، ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ممکن ہے اسی میں تمہاری بہتری ہو، یعنی اس کی مقررہ تعین کا علم نہ ہونے میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ مبہم ہے تو اس کا ڈھونڈنے والا جن جن راتوں میں اس کا ہونا ممکن دیکھے گا ان تمام راتوں میں کوشش و خلوص کے ساتھ عبادت میں لگا رہے گا۔ بخلاف اس کے کہ معلوم ہو جائے کہ فلاں رات ہی ہے تو وہ صرف اسی ایک رات کی عبادت کرے گا کیونکہ ہمتیں پست ہیں اس لیے حکمت حکیم کا تقاضا یہی ہوا کہ اس رات کے تعین کی خبر نہ دی جائے تاکہ اس رات کے پا لینے کے شوق میں اس مبارک مہینہ میں جی لگا کر اور دل کھول کر بندے اپنے معبود برحق کی بندگی کریں اور آخری عشرے میں تو پوری کوشش اور خلوص کے ساتھ عبادتوں میں مشغول رہیں۔
اسی لیے خود محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے انتقال تک رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے۔ [صحیح بخاری:2026]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے ۔ [صحیح بخاری:2025]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آخری دس راتیں رمضان شریف کی رہ جاتیں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات جاگتے اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور کمر کس لیتے ۔ [صحیح بخاری:2024]
10766
مسلم شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں میں جس محنت کے ساتھ عبادت کرتے اتنی محنت سے عبادت آپ کی اور دنوں میں نہیں ہوتی تھی ۔ [صحیح مسلم:1175]
یہی معنی ہیں اوپر والی حدیث کے اس جملہ کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہبند مضبوط باندھ لیا کرتے، یعنی کمر کس لیا کرتے، یعنی عبادت میں پوری کوشش کرتے، گو اس کے یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیویوں سے نہ ملتے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں ہی باتیں مراد ہوں یعنی بیویوں سے ملنا بھی ترک کر دیتے تھے اور عبادت کی مشغولی میں بھی کمر باندھ لیا کرتے تھے۔
چنانچہ مسند احمد کی حدیث کے یہ الفاظ ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ باقی رہ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہبند مضبوط باندھ لیتے اور عورتوں سے الگ رہتے ۔ [مسند احمد:67/6:صحیح دون الجملة]
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”رمضان کی آخری دس راتوں میں لیلۃ القدر کی یکساں جستجو کرے کسی ایک رات کو دوسری رات پر ترجیح نہ دے۔“ [شرح رافعی]
یہ بھی یاد رہے کہ یوں تو ہر وقت دعا کی کثرت مستحب ہے لیکن رمضان میں اور زیادتی کرے اور خصوصاً آخری عشرے میں اور بالخصوص طاق راتوں میں اس دعا کو بکثرت پڑھے «اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي»، اللہ تو درگزر کرنے والا اور درگزر کو پسند فرمانے والا ہے مجھ سے بھی درگزر فرما۔ [مسند احمد:183/6:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر مجھے لیلۃ القدر مل جائے تو میں کیا دعا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دعا «اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي» بتائی یہ حدیث ترمذی نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ابن ماجه:3850،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مستدرک حاکم میں بھی یہ مروی ہے اور امام حاکم اسے شرط بخاری و مسلم پر صحیح بتاتے ہیں۔
10767
ایک عجیب و غریب اثر جس کا تعلق لیلۃ القدر سے ہے، امام ابو محمد بن ابوحاتم رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں، اس سورت کی تفسیر میں، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے اس روایت کے ساتھ وارد کیا ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ جو ساتویں آسمان کی حد پر جنت سے متصل ہے جو دنیا اور آخرت کے فاصلہ پر ہے اس کی بلندی جنت میں ہے، اس کی شاخیں اور ڈالیں کرسی تلے ہیں، اس میں اس قدر فرشتے ہیں جن کی گنتی اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اس کی ہر ایک شاخ پر بےشمار فرشتے ہیں، ایک بال برابر بھی جگہ ایسی نہیں جو فرشتوں سے خالی ہو، اس درخت کے بیچوں بیچ جبرائیل علیہ السلام کا مقام ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبرائیل کو آواز دی جاتی ہے کہ اے جبرائیل! لیلۃ القدر میں اس درخت کے تمام فرشتوں کو لے کر زمین پر جاؤ یہ کل کے کل فرشتے رافت و رحمت والے ہیں جن کے دلوں میں ہر ہر مومن کے لیے رحم کے جذبات موجزن ہیں سورج غروب ہوتے ہی یہ کل کے کل فرشتے جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ لیلۃ القدر میں اترتے ہیں، تمام روئے زمین پر پھیل جاتے ہیں، ہر ہر جگہ پر سجدے میں قیام میں مشغول ہو جاتے ہیں اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ ہاں گرجا گھر میں، مندر میں، آتش کدے میں، بت خانے میں، غرض اللہ کے سوا اوروں کی جہاں پرستش ہوتی ہے وہاں تو یہ فرشتے نہیں جاتے اور ان جگہوں میں بھی جن میں تم گندی چیزیں ڈالتے ہو اور اس گھر میں بھی جہاں نشے والا شخص ہو یا نشہ والی چیز ہو یا جس گھر میں کوئی بت گڑا ہوا ہو یا جس گھر میں باجے گاجے گھنٹیاں ہوں یا مجسمہ ہو یا کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ ہو وہاں تو یہ رحمت کے فرشتے جاتے نہیں باقی چپے چپے پر گھوم جاتے ہیں اور ساری رات مومن مردوں عورتوں کے لیے دعائیں مانگنے میں گزارتے ہیں جبرائیل علیہ السلام تمام مومنوں سے مصافحہ کرتے ہیں اس کی نشانی یہ ہے کہ روئیں جسم پر کھڑے ہو جائیں دل نرم پڑ جائے آنکھیں بہہ نکلیں اس وقت آدمی کو سمجھ لینا چاہیئے کہ اس وقت میرا ہاتھ جبرائیل علیہ السلام کے ہاتھ میں ہے۔
10768
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص اس رات میں تین مرتبہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» پڑھے اس کی پہلی مرتبہ کے پڑھنے پر گناہوں کی بخشش ہو جاتی ہے دوسری مرتبہ کے کہنے پر آگ سے نجات مل جاتی ہے تیسری مرتبہ کے کہنے پر جنت میں داخل ہو جاتا ہے , راوی نے پوچھا کہ اے ابواسحاق جو اس کلمہ کو سچائی سے کہے اس کے؟ فرمایا: یہ تو نکلے گا ہی اس کے منہ سے جو سچائی سے اس کا کہنے والا ہو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ لیلۃ القدر کافر و منافق پر تو اتنی بھاری پڑتی ہے کہ گویا اس کی پیٹھ پر پہاڑ آ پڑا۔
غرض فجر ہونے تک فرشتے اسی طرح رہتے ہیں پھر سب سے پہلے جبرائیل علیہ السلام چڑھتے ہیں اور بہت اونچے چڑھ کر اپنے پروں کو پھیلا دیتے ہیں بالخصوص ان دو سبز پروں کو جنہیں اس رات کے سوا وہ کبھی نہیں پھیلاتے یہی وجہ ہے کہ سورج کی تیزی ماند پڑ جاتی ہے اور شعائیں جاتی رہتی ہیں پھر ایک ایک فرشتے کو پکارتے ہیں اور سب کے سب اوپر چڑھتے ہیں پس فرشتوں کا نور اور جبرائیل علیہ السلام کے پروں کا نور مل کر سورج کو ماند کر دیتا ہے اس دن سورج متحیر رہ جاتا ہے جبرائیل اور یہ سارے کے سارے بےشمار فرشتے اس دن آسمان و زمین کے درمیان مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے رحمت کی دعائیں مانگتے ہیں اور ان کے گناہوں کی بخشش طلب کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ نیک نیتی کے ساتھ روزے رکھنے والوں کے لیے اور ان لوگوں کے لیے بھی جن کا یہ خیال رہا کہ اگلے سال بھی اگر اللہ نے زندگی رکھی تو رمضان کے روزے عمدگی کے ساتھ پورے کریں گے یہی دعائیں مانگتے رہتے ہیں شام کو دنیا کے آسمان پر چڑھ جاتے ہیں وہاں کے تمام فرشتے حلقے باندھ باندھ کر ان کے پاس جمع ہو جاتے ہیں اور ایک ایک مرد اور ایک ایک عورت کے بارے میں ان سے سوال کرتے ہیں اور یہ جواب دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ پوچھتے ہیں کہ فلاں شخص کو امسال تم نے کس حالت میں پایا تو یہ کہتے ہیں کہ گزشتہ سال تو ہم نے اسے عبادتوں میں پایا تھا لیکن اس سال تو وہ بدعتوں میں مبتلا تھا اور فلاں شخص گزشتہ سال بدعتوں میں مبتلا تھا لیکن اس سال ہم نے اسے سنت کے مطابق عبادتوں میں پایا پس یہ فرشتے اس سے پہلے شخص کے لیے بخشش کی دعائیں مانگنی موقوف کر دیتے ہیں اور اس دوسرے شخص کے لیے شروع کر دیتے ہیں اور یہ فرشتے انہیں سناتے ہیں کہ فلاں فلاں کو ہم نے ذکر اللہ میں پایا اور فلاں کو رکوع میں اور فلاں کو سجدے میں اور فلاں کو کتاب اللہ کی تلاوت میں غرض ایک رات دن یہاں گزار کر دوسرے آسمان پر جاتے ہیں یہاں بھی یہی ہوتا ہے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ میں اپنی اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں اس وقت سدرۃ المنتہیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ مجھ میں بسنے والو! میرا بھی تم پر حق ہے میں بھی ان سے محبت رکھتا ہوں جو اللہ سے محبت رکھیں ذرا مجھے بھی تو لوگوں کی حالت کی خبر دو اور ان کے نام بتاؤ۔
10769
سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اب فرشتے اس کے سامنے گنتی کر کے اور ایک ایک مرد و عورت کا مع ولدیت کے نام بتاتے ہیں پھر جنت سدرۃ المنتہیٰ کی طرف متوجہ ہو کر پوچھتی ہے کہ تجھ میں رہنے والے فرشتوں نے جو خبریں تجھے دی ہیں مجھ سے بھی تو بیان کر چنانچہ سدرہ اس سے ذکر کرتا ہے یہ سن کر وہ کہتی ہے اللہ کی رحمت ہو فلاں مرد اور فلاں عورت پر اللہ انہیں جلدی مجھ سے ملا۔
جبرائیل علیہ السلام سب سے پہلے اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں انہیں الہام ہوتا ہے اور یہ عرض کرتے ہیں پروردگار میں نے تیرے فلاں فلاں بندوں کو سجدے میں پایا تو انہیں بخش، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے انہیں بخشا۔ جبرائیل علیہ السلام اسے عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کو سناتے ہیں پھر سب کہتے ہیں فلاں فلاں مرد و عورت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوئی اور مغفرت ہوئی پھر جبرائیل علیہ السلام خبر دیتے ہیں کہ باری تعالیٰ فلاں شخص کو گزشتہ سال تو عامل سنت اور عابد چھوڑا تھا لیکن امسال تو بدعتوں میں پڑ گیا اور تیرے احکام سے روگردانی کر لی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے جبرائیل اگر یہ مرنے سے تین ساعت پہلے بھی توبہ کر لے گا تو میں اسے بخش دوں گا۔ اس وقت جبرائیل علیہ السلام بےساختہ کہہ اٹھتے ہیں اللہ تیرے ہی لیے سب تعریفیں سزاوار ہیں الٰہی تو اپنی مخلوق پر سب سے زیادہ مہربان ہے بندوں پر تیری مہربانی خود ان کی مہربانی سے بھی بڑھی ہوئی ہے۔ اس وقت عرش اور اس کے آس پاس کی چیزیں پردے اور تمام آسمان جنبش میں آ جاتے ہیں اور کہہ اٹھتے ہیں «الْحَمْدُ لِلَّهِ الرَّحِيمِ»، «الْحَمْدُ لِلَّهِ الرَّحِيمِ» ۔
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ”جو شخص رمضان شریف کے روزے پورے کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ رمضان کے بعد بھی میں گناہوں سے بچتا رہوں گا وہ بغیر سوال و جواب کے اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہو گا۔“
سورۃ لیلۃ القدر کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10770
القدر 97:3
غیر متعلقہ روایات اور بحث ٭٭
مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے، اسی کا نام «اللَّيْلَةُ الْمُبَارَكَةُ» بھی ہے۔
اور جگہ ارشاد ہے «إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ» [44-الدخان:3] اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے مہینے میں ہے، جیسے فرمایا «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ» [2-البقرۃ:185]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول ہے کہ ”پورا قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان اول پر بیت العزت میں اس رات اترا، پھر تفصیل وار واقعات کے مطابق بتدریج تئیس سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔“
پھر اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کی شان و شوکت کا اظہار فرماتا ہے کہ اس رات کی ایک زبردست برکت تو یہ ہے کہ قرآن کریم جیسی اعلیٰ نعمت اسی رات اتری، تو فرماتا ہے کہ ” تمہیں کیا خبر کہ لیلۃ القدر کیا ہے؟ “ پھر خود ہی بتاتا ہے کہ ” یہ ایک رات ایک ہزار مہینہ سے افضل ہے “۔
امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ ترمذی شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ایک روایت لائے ہیں کہ یوسف بن سعد سے کہ ایک آدمی نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے جبکہ آپ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی کہا کہ ”تم نے ایمان والوں کے منہ کالے کر دئیے“ یا یوں کہا کہ ”اے مومنوں کے منہ سیاہ کرنے والے“، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تجھ پر رحم کرے، مجھ پر خفا نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھلایا گیا کہ گویا آپ کے منبر پر بنو امیہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ برا معلوم ہوا تو «إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ» [108-الکوثر:1] نازل ہوئی یعنی جنت کی نہر کوثر آپ کو عطا کیے جانے کی خوشخبری ملی اور «إِنَّا أَنزَلْنَاهُ» اتری، پس ہزار مہینے سے وہ مراد ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بنو امیہ کی مملکت رہے گی، قاسم بن فضل حدانی کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو وہ پورے ایک ہزار دن ہوئے، نہ ایک دن زیادہ، نہ ایک دن کم ۔ [سنن ترمذي:3350،قال الشيخ الألباني:ضعیف] امام ترمذی رحمہ اللہ اس روایت کو غریب بتلاتے ہیں اور اس کی سند میں یوسف بن سعد ہیں جو مجہول ہیں اور صرف اسی سند سے یہ مروی ہے۔
10750
مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت ہے امام ترمذی رحمہ اللہ کا یہ فرمانا کہ یہ یوسف مجہول ہیں اس میں ذرا تذبذب ہے اس کے بہت سے شاگرد ہیں۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں یہ مشہور ہیں اور ثقہ ہیں اور اس کی سند میں کچھ اضطراب ہے جیسا بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بہر صورت یہ بہت ہی منکر روایت ہے۔
ہمارے شیخ حافظ حجت ابوالحجاج مزی بھی اس روایت کو منکر بتلاتے ہیں (یہ یاد رہے کہ قاسم کا قول جو ترمذی کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو بنو امیہ کی سلطنت ٹھیک ایک ہزار دن تک رہی یہ نسخے کی غلطی ہے۔ ایک ہزار مہینے لکھنا چاہیئے تھا، میں نے ترمذی شریف میں دیکھا تو وہاں بھی ایک ہزار مہینے ہیں اور آگے بھی یہی آتا ہے۔ مترجم)
قاسم بن فضل حدانی کا یہ قول کہ بنو امیہ کی سلطنت کی ٹھیک مدت ایک ہزار مہینے تھی یہ بھی صحیح نہیں اس لیے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی مستقل سلطنت سنہ ۴٠ ہجری میں قائم ہوئی جبکہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور امر خلافت آپ کو سونپ دیا اور سب لوگ بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت پر جمع ہو گئے اور اس سال کا نام ہی عام الجماعہ مشہور ہوا۔ پھر شام وغیرہ میں برابر بنو امیہ کی سلطنت قائم رہی ہاں تقریباً نو سال تک حرمین شریفین اور اہواز اور بعض شہروں پر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی سلطنت ہو گئی تھی لیکن تاہم اس مدت میں بھی کلیۃً ان کے ہاتھ سے حکومت نہیں گئی۔ البتہ بعض شہروں پر سے حکومت ہٹ گئی تھی، ہاں سنہ ۱۳۲ ھ میں بنوالعباس نے ان سے خلافت اپنے قبضہ میں کر لی پس ان کی سلطنت کی مدت بانوے برس ہوئی اور یہ ایک ہزار ماہ سے بہت زیادہ ہے ایک ہزار مہینے کے تراسی سال چار ماہ ہوتے ہیں۔ ہاں قاسم بن فضل کا یہ حساب اس طرح تو تقریباً ٹھیک ہو جاتا ہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت اس گنتی میں سے نکال دی جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10751
اس روایت کے ضعیف ہونے کی ایک یہ وجہ بھی ہے کہ بنو امیہ کی سلطنت کے زمانہ کی تو برائی اور مذمت بیان کرنی مقصود ہے اور لیلتہ القدر کی اس زمانہ پر فضیلت کا ثابت ہونا کچھ ان کے زمانے کی مذمت کی دلیل نہیں، لیلۃ القدر تو ہر طرح بزرگی والی ہے ہی اور یہ پوری سورت اس مبارک رات کی مدح و ستائش بیان کر رہی ہے، پس بنو امیہ کے زمانہ کے دنوں کی مذمت سے لیلۃ القدر کی کون سی فضیلت ثابت ہو جائے گی؟ یہ تو بالکل وہی مثل اصل ہو جائے گی کہ کوئی شخص تلوار کی تعریف کرتے ہوئے کہے کہ لکڑی سے بہت تیز ہے، کسی بہترین فضیلت والے شخص کو کسی کم درجہ کے ذلیل شخص پر فضیلت دینا تو اس شریف بزرگ کی توہین کرنا ہے۔
اور وجہ سنئے اس روایت کی بنا پر یہ ایک ہزار مہینے وہ ہوئے جن میں بنو امیہ کی سلطنت رہے گی اور یہ سورت اتری ہے مکہ شریف میں تو اس میں ان مہینوں کا حوالہ کیسے دیا جا سکتا ہے جو بنو امیہ کے زمانہ کے ہیں اس پر نہ تو کوئی لفظ دلالت کرتا ہے، نہ معنی کے طور پر یہ سمجھا جا سکتا ہے، منبر تو مدینہ میں قائم ہوتا ہے اور ہجرت کی ایک مدت بعد منبر بنایا جاتا ہے اور رکھا جاتا ہے۔ پس ان تمام وجوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت ضعیف اور منکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10752
ماہِ رمضان اور لیلتہ القدر کی فضیلت ٭٭
ابن ابی حاتم میں ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا جو ایک ہزار ماہ تک اللہ کی راہ میں یعنی جہاد میں ہتھیار بند رہا مسلمانوں کو یہ سن کر تعجب معلوم ہوا تو اللہ عزوجل نے یہ سورت اتاری کہ لیلۃ القدر کی عبادت اس شخص کی ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے۔ [بیہقی فی السنن:306/4:ضیعف و مرسل]
ابن جریر میں ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو رات کو قیام کرتا تھا صبح تک اور دن میں دشمنان دین سے جہاد کرتا تھا شام تک ایک ہزار مہینے تک یہی کرتا رہا پس اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمایا کہ اس امت کے کسی شخص کا صرف لیلۃ القدر کا قیام اس عابد کی ایک ہزار مہینے کی اس عبادت سے افضل ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے چار عابدوں کا ذکر کیا جنہوں نے اسی سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے نافرمانی نہیں کی تھی ایوب علیہ السلام، زکریا علیہ السلام، حزقیل بن عجوز، یوشع بن نون علیہم السلام“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت تعجب ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت نے اس جماعت کی اس عبادت پر تعجب کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی افضل چیز آپ پر نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ افضل ہے اس سے جن پر آپ اور آپ کی امت نے تعجب ظاہر کیا تھا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بے حد خوش ہوئے ۔ [باطل لا اصل لہ فی المرفوع]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ اس رات کا نیک عمل اس کا روزہ اس کی نماز ایک ہزار مہینوں کے روزے اور نماز سے افضل ہے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو“ اور مفسرین کا بھی یہ قول ہے۔
10753
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو پسند فرمایا ہے کہ ”وہ ایک ہزار مہینے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو“ یہی ٹھیک ہے اس کے سوا اور کوئی قول ٹھیک نہیں۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک رات کی جہاد کی تیاری اس کے سوا ایک ہزار راتوں سے افضل ہے ۔ [مسند احمد:75/1:حسن]
اسی طرح اور حدیث میں ہے کہ جو شخص اچھی نیت اور اچھی حالت سے جمعہ کی نماز کے لیے جائے اس کے لیے ایک سال کے اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے سال بھر کے روزوں کا اور سال بھر کی نمازوں کا ۔ [سنن ترمذي:496،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اسی طرح کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں پس مطلب یہ ہے کہ مراد ایک ہزار مہینے سے وہ مہینے ہیں جن میں لیلۃ القدر نہ آئے جیسے ایک ہزار راتوں سے مراد وہ راتیں ہیں جن میں کوئی رات اس عبادت کی نہ ہو اور جیسے جمعہ کی طرف جانے والے کو ایک سال کی نیکیاں یعنی وہ سال جس میں جمعہ نہ ہو۔
10754
مسند احمد میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو تم پر رمضان کا مہینہ آ گیا یہ بابرکت مہینہ آ گیا اس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کیے ہیں اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں شیاطین قید کر لیے جاتے ہیں اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینے سے افضل ہے اس کی بھلائی سے محروم رہنے والا حقیقی بد قسمت ہے“ ۔ [مسند احمد230/2:صحیح]
نسائی شریف میں بھی یہ روایت ہے چونکہ اس رات کی عبادت ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے اس لیے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص لیلۃ القدر کا قیام ایمانداری اور نیک نیتی سے کرے اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:2014]
پھر فرماتا ہے کہ اس رات کی برکت کی زیادتی کی وجہ سے بکثرت فرشتے اس میں نازل ہوتے ہیں۔ فرشتے تو ہر برکت اور رحمت کے ساتھ نازل ہوتے رہتے ہیں جیسے تلاوت قرآن کے وقت اترتے ہیں اور ذکر کی مجلسوں کو گھیر لیتے ہیں اور علم دین کے سیکھنے والوں کے لیے راضی خوشی اپنے پر بچھا دیا کرتے ہیں اور اس کی عزت و تکریم کرتے ہیں «روح» سے مراد یہاں جبرائیل علیہ السلام ہیں، یہ خاص کا عطف ہے عام پر۔
بعض کہتے ہیں «روح» کے نام کے ایک خاص قسم کے فرشتے ہیں جیسے کہ سورۃ «عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ» [78-النبأ:1] کی تفسیر میں تفصیل سے گزر چکا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا وہ سراسر سلامتی والی رات ہے جس میں شیطان نہ تو برائی کر سکتا ہے نہ ایذاء پہنچا سکتا ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”اس میں تمام کاموں کا فیصلہ کیا جاتا ہے عمر اور رزق مقدر کیا جاتا ہے۔“
جیسے اور جگہ ہے «فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ» [44-الدخان:4] یعنی ” اسی رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے “۔
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس رات میں فرشتے مسجد والوں پر صبح تک سلام بھیجتے رہتے ہیں۔“
امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب فضائل اوقات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک غریب اثر فرشتوں کے نازل ہونے میں اور نمازیوں پر ان کے گزرنے میں اور انہیں برکت حاصل ہونے میں وارد کیا ہے۔ ابن ابی حاتم میں کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ایک عجیب و غریب بہت طول طویل اثر وارد کیا ہے جس میں فرشتوں کا سدرۃ المنتہیٰ سے جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ زمین پر آنا اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں کرنا وارد ہے۔ ابوداؤد طیالسی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لیلۃ القدر ستائیسویں ہے یا انتیسویں اس رات میں فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ [مسند طیالسی:2545:حسن]
عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس رات میں ہر امر سے سلامتی ہے یعنی کوئی نئی بات پیدا نہیں ہوتی۔“
10755
قتادہ رحمہ اللہ اور ابن زید رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”یہ رات سراسر سلامتی والی ہے کوئی برائی صبح ہونے تک نہیں ہوتی۔“
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لیلۃ القدر آخری دس راتوں میں ہے جو ان میں طلب ثواب کی نیت سے قیام کرے اللہ تعالیٰ اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف فرما دیتا ہے یہ رات اکائی کی ہے یعنی اکیسویں یا تیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا آخری رات۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ رات بالکل صاف اور ایسی روشن ہوتی ہے کہ گویا چاند چڑھا ہوا ہے اس میں سکون اور دلجمعی ہوتی ہے، نہ سردی زیادہ ہوتی ہے، نہ گرمی، صبح تک ستارے نہیں جھڑتے ایک نشانی اس کی یہ بھی ہے کہ اس صبح کو سورج تیز شعاؤں کے ساتھ نہیں نکلتا بلکہ وہ چودہویں رات کی طرح صاف نکلتا ہے۔ اس دن اس کے ساتھ شیطان بھی نہیں نکلتا ۔ [مسند احمد:323/5:حسن] یہ اسناد تو صحیح ہے لیکن متن میں غرابت ہے۔
اور بعض الفاظ میں نکارت بھی ہے اور ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لیلۃ القدر صاف پر سکون سردی گرمی سے خالی رات ہے اس کی صبح مدھم روشنی والا سرخ رنگ نکلتا ہے“ ۔ [مسند طیالسی:2680:صحیح]
ابوعاصم نبیل اپنی اسناد سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: ”میں لیلۃ القدر دکھلایا گیا پھر بھلا دیا گیا یہ آخری دس راتوں میں ہے یہ صاف شفاف سکون و وقار والی رات ہے نہ زیادہ سردی ہوتی ہے نہ زیادہ گرمی اس قدر روشنی رات ہوتی ہے کہ یہ معلوم ہوتا ہے گویا چاند چڑھا ہوا ہے سورج کے ساتھ شیطان نہیں نکلتا یہاں تک کہ دھوپ چڑھ جائے“ ۔ [صحیح ابن خریمہ:2190]
10756
فصل ٭٭
اس بات میں علماء کا اختلاف ہے کہ لیلۃ القدر اگلی امتوں میں بھی تھی یا صرف اسی امت کو خصوصیت کے ساتھ عطا کی گئی ہے۔ پس ایک حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نظریں ڈالیں اور یہ معلوم کیا کہ سابقہ لوگوں کی عمریں بہت زیادہ ہوتی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال گزرا کہ میری امت کی عمریں ان کے مقابلہ میں کم ہیں تو نیکیاں بھی کم رہیں گیں اور پھر درجات اور ثواب میں بھی کمی رہیں گی، تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رات عنایت فرمائی اور اس کا ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت سے زیادہ دینے کا وعدہ فرمایا ۔ [مؤطا:321/1:مرسل]
اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف اسی امت کو یہ رات دی گئی ہے بلکہ صاحب عدۃ نے جو شافعیہ میں سے ایک امام ہیں جمہور علماء کا یہی قول نقل کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10757
اور خطابی نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے لیکن ایک اور حدیث ہے جس سے یہ معلوم ہوتا کہ یہ رات جس طرح اس امت میں ہے، اگلی امتوں میں بھی تھی، چنانچہ مرثد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے لیلۃ القدر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سوال کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: سنو! میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اکثر باتیں دریافت کرتا رہتا تھا ایک مرتبہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تو فرمائیے کہ لیلۃ القدر رمضان میں ہی ہے یا اور مہینوں میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان میں۔“ میں نے کہا: اچھا یا رسول اللہ! یہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہی ہے کہ جب تک وہ ہیں یہ بھی ہے جب انبیاء علیہم السلام قبض کئے جاتے ہیں تو یہ اٹھ جاتی ہیں یا یہ قیامت تک باقی رہیں گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ”نہیں وہ قیامت تک باقی رہے گی“، میں نے کہا: اچھا رمضان کے کس حصہ میں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رمضان کے پہلے اور آخری عشرہ میں ڈھونڈ۔“ پھر میں خاموش ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور باتوں میں مشغول ہو گئے۔ میں نے پھر موقع پا کر سوال کیا کہ یا رسول اللہ! ان دونوں عشروں میں سے کس عشرے میں اس رات کو تلاش کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخری عشرے میں، بس کچھ نہ پوچھنا۔“ میں پھر چپکا ہو گیا لیکن پھر موقعہ پا کر میں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کی قسم ہے میرا بھی کچھ حق آپ پر ہے فرما دیجئیے کہ وہ کون سی رات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے ہوئے میں نے تو کبھی آپ کو اپنے اوپر اتنا غصہ ہوتے ہوئے دیکھا ہی نہیں اور فرمایا: ”آخری ہفتہ میں تلاش کرو، اب کچھ نہ پوچھنا“ ۔ [مسند احمد:171/5:ضعیف]
یہ روایت نسائی میں بھی مروی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات اگلی امتوں میں بھی تھی، اور اس حدیث سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی قیامت تک ہر سال آتی رہے گی۔
بعض شیعہ حضرات کا قول ہے کہ یہ رات بالکل اٹھ گئی، یہ قول غلط ہے ان کو غلط فہمی اس حدیث سے ہوئی ہے جس میں ہے کہ وہ اٹھا لی گئی اور ممکن ہے کہ تمہارے لیے اسی میں بہتری ہو یہ حدیث پوری بھی آئے گی۔
10758
مطلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے یہ ہے کہ اس رات کی تعین اور اس کا تقرر بھی اٹھ گیا، نہ یہ کہ سرے سے لیلۃ القدر ہی اٹھ گئی مندرجہ بالا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ رات رمضان شریف میں آتی ہے کسی اور مہینہ میں نہیں۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور علماء کوفہ کا قول ہے کہ سارے سال میں ایک رات ہے اور ہر مہینہ میں اس کا ہو جانا ممکن ہے۔ یہ حدیث اس کے خلاف ہے سنن ابوداؤد میں باب ہے کہ اس شخص کی دلیل جو کہتا ہے لیلۃ القدر سارے رمضان میں ہے۔ پھر حدیث لائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سارے رمضان میں ہے ۔ [سنن ابوداود:1387،قال الشيخ الألباني:ضعیف و الصحیح موقوف] اس کی سند کے کل راوی ثقہ ہیں یہ موقوف بھی مروی ہیں۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت میں ہے کہ ”رمضان المبارک کے سارے مہینہ میں اس رات کا ہونا ممکن ہے“ غزالی رحمہ اللہ نے اسی کو نقل کیا ہے لیکن رافعی رحمہ اللہ اسے بالکل غریب بتلاتے ہیں۔
10759
فصل ٭٭
ابو زرین رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں کہ ”رمضان کی پہلی رات ہی لیلۃ القدر ہے۔“ امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”یہ سترھویں شب ہے۔“ ابوداؤد میں اس مضمون کی ایک حدیث مرفوع مروی ہے۔ [سنن ابوداود:1384،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور سیدنا ابن مسعود، سیدنا زید بن ارقم اور عثمان بن العاص رضی اللہ عنہم سے موقوف بھی مروی ہے۔ حسن بصری کا مذہب بھی یہی نقل کیا گیا ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ رمضان المبارک کی یہی سترھویں رات شب جمعہ تھی اور یہی رات بدر کی رات تھی اور سترھویں تاریخ کو جنگ بدر واقع ہوئی تھی جس دن کو قرآن نے یوم الفرقان کہا ہے۔ سیدنا علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”انیسویں رات لیلۃ القدر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکیسویں رات ہے۔“
10760
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف کے دس پہلے دن کا اعتکاف کیا ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اعتکاف بیٹھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ ”جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو آپ کے آگے ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سے بیس تک کا اعتکاف کیا اور ہم نے بھی۔ پھر جبرائیل علیہ السلام آئے اور یہی فرمایا کہ ”جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو ابھی بھی آگے ہے یعنی لیلۃ القدر۔“ پس رمضان کی بیسویں تاریخ کی صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا اور فرمایا کہ ”میرے ساتھ اعتکاف کرنے والوں کو چاہیئے کہ وہ پھر اعتکاف میں بیٹھ جائیں میں نے لیلۃ القدر دیکھ لی لیکن میں بھول گیا، لیلۃ القدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے، میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی کی چھت صرف کھجور کے پتوں کی تھی آسمان پر اس وقت ابر کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی نہ تھا، پھر ابر اٹھا اور بارش ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب سچا ہوا اور میں نے خود دیکھا کہ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر تر مٹی لگی ہوئی تھی اسی روایت کے ایک طریق میں ہے کہ یہ اکیسویں رات کا واقعہ ہے ۔ [صحیح بخاری:2018] یہ حدیث صحیح بخاری، صحیح مسلم دونوں میں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تمام روایتوں میں سے زیادہ صحیح یہی حدیث ہے۔“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیلۃ القدر رمضان شریف کی تئیسویں رات ہے اور اس کی دلیل عبداللہ بن انیس کی صحیح مسلم والی ایسی ہی ایک روایت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10761
ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ چوبیسویں رات ہے۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لیلۃ القدر چوبیسویں شب ہے“ ۔ [مسند طیالسی:2167] اس کی سند بھی صحیح ہے مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے۔ [مسند احمد:12/6:ضعیف] لیکن اس کی سند میں ابن لہیعہ ہیں جو ضعیف ہیں۔
بخاری میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن ہیں مروی ہے کہ یہ پہلی ساتویں ہے آخری دس میں سے، یہ موقوف روایت ہی صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابن مسعود ابن عباس جابر رضی اللہ عنہم حسن، قتادہ عبداللہ بن وہب رحمہ اللہ علیہم بھی فرماتے ہیں کہ چوبیسویں رات لیلۃ القدر ہے۔ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی روایت کی ہوئی مرفوع حدیث بیان ہو چکی ہے کہ قرآن کریم رمضان شریف کی چوبیسویں رات کو اترا۔
بعض کہتے ہیں پچیسویں رات لیلۃ القدر ہے ان کی دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رمضان کے آخری عشرے میں ڈھونڈو۔ نو باقی رہیں تب، سات باقی رہیں تب، پانچ باقی رہیں تب“ ۔ [صحیح بخاری:2021]
اکثر محدثین نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ اس سے مراد طاق راتیں ہیں یہی زیادہ ظاہر ہے اور زیادہ مشہور ہے گو بعض اوروں نے اسے جفت راتوں پر بھی محمول کیا ہے جیسے کہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اسے جفت پر محمول کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ستائیسویں رات ہے اس کی دلیل صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ ستائیسویں رات ہے“ ۔ [صحیح مسلم:762]
10762
مسند احمد میں ہے سیدنا زر رضی اللہ عنہ نے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود تو فرماتے ہیں جو شخص سال بھر راتوں کو قیام کرے گا وہ لیلۃ القدر کو پائے گا آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے وہ جانتے ہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے یہ ستائیسویں رات رمضان کی ہے پھر اس بات پر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی میں نے پوچھا: آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ جواب دیا کہ ان نشانیوں کو دیکھنے سے جو ہم بتائے گئے ہیں کہ اس دن سورج شعاعوں بغیر نکلتا ہے ۔ [صحیح مسلم:762]
اور روایت میں ہے کہ ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے، آپ نے اس پر ان شاءاللہ بھی نہیں فرمایا اور پختہ قسم کھا لی پھر فرمایا: مجھے خوب معلوم ہے کہ وہ کون سی رات ہے جس میں قیام کرنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے یہ ستائیسویں رات ہے اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی صبح کو سورج سفید رنگ نکلتا ہے اور تیزی زیادہ نہیں ہوتی“ ۔ [صحیح مسلم:762]
سیدنا معاویہ، ابن عمر، ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رات ستائیسویں رات ہے“ ۔
سلف کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مختار مسلک بھی یہی ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت اسی قول کی منقول ہے۔
10763
بعض سلف نے قرآن کریم کے الفاظ سے بھی اس کے ثبوت کا حوالہ دیا ہے اس طرح کہ «هِيَ» اس سورت میں ستائیسواں کلمہ ہے اور اس کے معنی ہیں ”یہ۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
طبرانی میں ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جمع کیا اور ان سے لیلۃ القدر کی بابت سوال کیا تو سب کا اجماع اس امر پر ہوا کہ یہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس وقت فرمایا کہ میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ کون سی رات ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر کہو وہ کون سی رات ہے؟ فرمایا اس آخری عشرے میں سات گزرنے پر یا سات باقی رہنے پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کیسے معلوم ہوا تو جواب دیا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے آسمان بھی سات پیدا کیے اور زمین بھی سات بنائیں، مہینہ بھی ہفتوں پر ہے، انسان کی پیدائش بھی سات پر ہے، کھانا بھی سات ہے، سجدہ بھی سات پر ہے، طواف بیت اللہ کی تعداد بھی سات کی ہے، رمی جمار کی کنکریاں بھی سات ہیں اور اسی طرح کی سات کی گنتی کی بہت سی چیزیں اور گنوا دیں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہاری سمجھ وہاں پہنچی جہاں تک ہمارے خیالات کو رسائی نہ ہو سکی یہ جو فرمایا سات ہی کھانا ہے اس سے قرآن کریم کی آیتیں «فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا حَبًّا» [80-عبس:27] ، مراد ہیں جن میں سات چیزوں کا ذکر ہے جو کھائی جاتی ہیں۔
اس کی اسناد بھی جید اور قوی ہے کہ انتیسویں رات ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے سوال کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اسے آخری عشرے میں ڈھونڈو طاق راتوں میں، اکیس، تیئس، پچیس ستائیس اور انتیس یا آخری رات ۔ [مسند احمد:318/5:حسن دون الجملة]
مسند میں ہے کہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے، یا انتیسویں۔ اس رات فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ [مسند احمد:519/2:حسن] اس کی اسناد بھی اچھی ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ آخری رات لیلۃ القدر ہے کیونکہ ابھی جو حدیث گزری اس میں ہے اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے کہ جب نو باقی رہ جائیں یا سات یا پانچ یا تین یا آخری رات یعنی ان راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش کرو ۔ [سنن ترمذي:794،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مسند میں ہے یہ آخری رات ہے ۔
10764
فصل ٭٭
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان مختلف احادیث میں تطبیق یوں ہو سکتی ہے کہ یہ سوالوں کا جواب ہے کسی نے کہا: ہم اسے فلاں رات میں تلاش کریں تو آپ نے فرما دیا ”ہاں حقیقت یہ ہے کہ لیلۃ القدر مقرر ہے اور اس میں تبدیلی نہیں ہوتی۔“
امام ترمذی نے امام شافعی کا اسی معنی کا قول نقل کیا ہے ابوقلابہ فرماتے ہیں کہ آخری عشرے کی راتوں میں یہ پھیر بدل ہوا کرتی ہے۔ امام مالک، امام ثوری، امام احمد بن حنبل، امام اسحاق بن راہویہ، ابوثور مزنی، ابوبکر بن خزیمہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ سے بھی قاضی نے یہی نقل کیا ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس قول کی تھوڑی بہت تائید بخاری و مسلم کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ چند اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں لیلۃ القدر رمضان کی سات پچھلی راتوں میں دکھائے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب اس بارے میں موافق ہیں ہر طلب کرنے والے کو چاہیئے کہ لیلۃ القدر کو ان سات آخری راتوں میں تلاش کرے“ ۔ [صحیح بخاری:2015]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر کی جستجو کرو“ ۔ [صحیح بخاری:2020]
امام شافعی رحمہ اللہ کے اس فرمان پر کہ لیلۃ القدر ہر رمضان میں ایک معین رات ہے اور اس کا ہیر پھیر نہیں ہوتا یہ حدیث دلیل بن سکتی ہے جو صحیح بخاری میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے (کہ فلاں رات لیلۃ القدر ہے) نکلے۔ دو مسلمان آپس میں جھگڑ رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے آیا تھا لیکن فلاں فلاں کی لڑائی کی وجہ سے وہ اٹھا لی گئی اور ممکن ہے کہ اسی میں تمہاری بہتری ہو اب اسے نویں ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو ۔ [صحیح بخاری:2023]
وجہ دلالت یہ ہے کہ اگر اس کا تعین ہمیشہ کے لیے نہ ہوتا تو ہر سال کی لیلۃ القدر کا علم حاصل نہ ہوتا اگر لیلۃ القدر کا تغیر و تبدل ہوتا رہتا تو صرف اس سال کے لیے تو معلوم ہو جاتا کہ فلاں رات ہے لیکن اور برسوں کے لیے تعین نہ ہوتی۔
10765
ہاں یہ ایک جواب اس کا ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسی سال کی اس مبارک رات کی خبر دینے کے لیے تشریف لائے تھے اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لڑائی جھگڑا خیر و برکت اور نفع دینے والے علم کو غارت کر دیتا ہے ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ بندہ اپنے گناہ کے باعث اللہ کی روزی سے محروم رکھ دیا جاتا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:4022،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة]
یہ یاد رہے کہ اس حدیث میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اٹھالی گئی، اس سے مراد اس کے تعین کے علم کا اٹھا لیا جانا ہے نہ یہ کہ بالکل لیلۃ القدر ہی دنیا سے اٹھا لی گئی جیسے کہ جاہل شیعہ کا قول ہے اس پر بڑی دلیل یہ ہے کہ اس لفظ کے بعد ہی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے نویں، ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ممکن ہے اسی میں تمہاری بہتری ہو، یعنی اس کی مقررہ تعین کا علم نہ ہونے میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ مبہم ہے تو اس کا ڈھونڈنے والا جن جن راتوں میں اس کا ہونا ممکن دیکھے گا ان تمام راتوں میں کوشش و خلوص کے ساتھ عبادت میں لگا رہے گا۔ بخلاف اس کے کہ معلوم ہو جائے کہ فلاں رات ہی ہے تو وہ صرف اسی ایک رات کی عبادت کرے گا کیونکہ ہمتیں پست ہیں اس لیے حکمت حکیم کا تقاضا یہی ہوا کہ اس رات کے تعین کی خبر نہ دی جائے تاکہ اس رات کے پا لینے کے شوق میں اس مبارک مہینہ میں جی لگا کر اور دل کھول کر بندے اپنے معبود برحق کی بندگی کریں اور آخری عشرے میں تو پوری کوشش اور خلوص کے ساتھ عبادتوں میں مشغول رہیں۔
اسی لیے خود محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے انتقال تک رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے۔ [صحیح بخاری:2026]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے ۔ [صحیح بخاری:2025]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آخری دس راتیں رمضان شریف کی رہ جاتیں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات جاگتے اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور کمر کس لیتے ۔ [صحیح بخاری:2024]
10766
مسلم شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں میں جس محنت کے ساتھ عبادت کرتے اتنی محنت سے عبادت آپ کی اور دنوں میں نہیں ہوتی تھی ۔ [صحیح مسلم:1175]
یہی معنی ہیں اوپر والی حدیث کے اس جملہ کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہبند مضبوط باندھ لیا کرتے، یعنی کمر کس لیا کرتے، یعنی عبادت میں پوری کوشش کرتے، گو اس کے یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیویوں سے نہ ملتے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں ہی باتیں مراد ہوں یعنی بیویوں سے ملنا بھی ترک کر دیتے تھے اور عبادت کی مشغولی میں بھی کمر باندھ لیا کرتے تھے۔
چنانچہ مسند احمد کی حدیث کے یہ الفاظ ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ باقی رہ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہبند مضبوط باندھ لیتے اور عورتوں سے الگ رہتے ۔ [مسند احمد:67/6:صحیح دون الجملة]
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”رمضان کی آخری دس راتوں میں لیلۃ القدر کی یکساں جستجو کرے کسی ایک رات کو دوسری رات پر ترجیح نہ دے۔“ [شرح رافعی]
یہ بھی یاد رہے کہ یوں تو ہر وقت دعا کی کثرت مستحب ہے لیکن رمضان میں اور زیادتی کرے اور خصوصاً آخری عشرے میں اور بالخصوص طاق راتوں میں اس دعا کو بکثرت پڑھے «اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي»، اللہ تو درگزر کرنے والا اور درگزر کو پسند فرمانے والا ہے مجھ سے بھی درگزر فرما۔ [مسند احمد:183/6:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر مجھے لیلۃ القدر مل جائے تو میں کیا دعا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دعا «اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي» بتائی یہ حدیث ترمذی نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ابن ماجه:3850،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مستدرک حاکم میں بھی یہ مروی ہے اور امام حاکم اسے شرط بخاری و مسلم پر صحیح بتاتے ہیں۔
10767
ایک عجیب و غریب اثر جس کا تعلق لیلۃ القدر سے ہے، امام ابو محمد بن ابوحاتم رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں، اس سورت کی تفسیر میں، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے اس روایت کے ساتھ وارد کیا ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ جو ساتویں آسمان کی حد پر جنت سے متصل ہے جو دنیا اور آخرت کے فاصلہ پر ہے اس کی بلندی جنت میں ہے، اس کی شاخیں اور ڈالیں کرسی تلے ہیں، اس میں اس قدر فرشتے ہیں جن کی گنتی اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اس کی ہر ایک شاخ پر بےشمار فرشتے ہیں، ایک بال برابر بھی جگہ ایسی نہیں جو فرشتوں سے خالی ہو، اس درخت کے بیچوں بیچ جبرائیل علیہ السلام کا مقام ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبرائیل کو آواز دی جاتی ہے کہ اے جبرائیل! لیلۃ القدر میں اس درخت کے تمام فرشتوں کو لے کر زمین پر جاؤ یہ کل کے کل فرشتے رافت و رحمت والے ہیں جن کے دلوں میں ہر ہر مومن کے لیے رحم کے جذبات موجزن ہیں سورج غروب ہوتے ہی یہ کل کے کل فرشتے جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ لیلۃ القدر میں اترتے ہیں، تمام روئے زمین پر پھیل جاتے ہیں، ہر ہر جگہ پر سجدے میں قیام میں مشغول ہو جاتے ہیں اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ ہاں گرجا گھر میں، مندر میں، آتش کدے میں، بت خانے میں، غرض اللہ کے سوا اوروں کی جہاں پرستش ہوتی ہے وہاں تو یہ فرشتے نہیں جاتے اور ان جگہوں میں بھی جن میں تم گندی چیزیں ڈالتے ہو اور اس گھر میں بھی جہاں نشے والا شخص ہو یا نشہ والی چیز ہو یا جس گھر میں کوئی بت گڑا ہوا ہو یا جس گھر میں باجے گاجے گھنٹیاں ہوں یا مجسمہ ہو یا کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ ہو وہاں تو یہ رحمت کے فرشتے جاتے نہیں باقی چپے چپے پر گھوم جاتے ہیں اور ساری رات مومن مردوں عورتوں کے لیے دعائیں مانگنے میں گزارتے ہیں جبرائیل علیہ السلام تمام مومنوں سے مصافحہ کرتے ہیں اس کی نشانی یہ ہے کہ روئیں جسم پر کھڑے ہو جائیں دل نرم پڑ جائے آنکھیں بہہ نکلیں اس وقت آدمی کو سمجھ لینا چاہیئے کہ اس وقت میرا ہاتھ جبرائیل علیہ السلام کے ہاتھ میں ہے۔
10768
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص اس رات میں تین مرتبہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» پڑھے اس کی پہلی مرتبہ کے پڑھنے پر گناہوں کی بخشش ہو جاتی ہے دوسری مرتبہ کے کہنے پر آگ سے نجات مل جاتی ہے تیسری مرتبہ کے کہنے پر جنت میں داخل ہو جاتا ہے , راوی نے پوچھا کہ اے ابواسحاق جو اس کلمہ کو سچائی سے کہے اس کے؟ فرمایا: یہ تو نکلے گا ہی اس کے منہ سے جو سچائی سے اس کا کہنے والا ہو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ لیلۃ القدر کافر و منافق پر تو اتنی بھاری پڑتی ہے کہ گویا اس کی پیٹھ پر پہاڑ آ پڑا۔
غرض فجر ہونے تک فرشتے اسی طرح رہتے ہیں پھر سب سے پہلے جبرائیل علیہ السلام چڑھتے ہیں اور بہت اونچے چڑھ کر اپنے پروں کو پھیلا دیتے ہیں بالخصوص ان دو سبز پروں کو جنہیں اس رات کے سوا وہ کبھی نہیں پھیلاتے یہی وجہ ہے کہ سورج کی تیزی ماند پڑ جاتی ہے اور شعائیں جاتی رہتی ہیں پھر ایک ایک فرشتے کو پکارتے ہیں اور سب کے سب اوپر چڑھتے ہیں پس فرشتوں کا نور اور جبرائیل علیہ السلام کے پروں کا نور مل کر سورج کو ماند کر دیتا ہے اس دن سورج متحیر رہ جاتا ہے جبرائیل اور یہ سارے کے سارے بےشمار فرشتے اس دن آسمان و زمین کے درمیان مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے رحمت کی دعائیں مانگتے ہیں اور ان کے گناہوں کی بخشش طلب کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ نیک نیتی کے ساتھ روزے رکھنے والوں کے لیے اور ان لوگوں کے لیے بھی جن کا یہ خیال رہا کہ اگلے سال بھی اگر اللہ نے زندگی رکھی تو رمضان کے روزے عمدگی کے ساتھ پورے کریں گے یہی دعائیں مانگتے رہتے ہیں شام کو دنیا کے آسمان پر چڑھ جاتے ہیں وہاں کے تمام فرشتے حلقے باندھ باندھ کر ان کے پاس جمع ہو جاتے ہیں اور ایک ایک مرد اور ایک ایک عورت کے بارے میں ان سے سوال کرتے ہیں اور یہ جواب دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ پوچھتے ہیں کہ فلاں شخص کو امسال تم نے کس حالت میں پایا تو یہ کہتے ہیں کہ گزشتہ سال تو ہم نے اسے عبادتوں میں پایا تھا لیکن اس سال تو وہ بدعتوں میں مبتلا تھا اور فلاں شخص گزشتہ سال بدعتوں میں مبتلا تھا لیکن اس سال ہم نے اسے سنت کے مطابق عبادتوں میں پایا پس یہ فرشتے اس سے پہلے شخص کے لیے بخشش کی دعائیں مانگنی موقوف کر دیتے ہیں اور اس دوسرے شخص کے لیے شروع کر دیتے ہیں اور یہ فرشتے انہیں سناتے ہیں کہ فلاں فلاں کو ہم نے ذکر اللہ میں پایا اور فلاں کو رکوع میں اور فلاں کو سجدے میں اور فلاں کو کتاب اللہ کی تلاوت میں غرض ایک رات دن یہاں گزار کر دوسرے آسمان پر جاتے ہیں یہاں بھی یہی ہوتا ہے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ میں اپنی اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں اس وقت سدرۃ المنتہیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ مجھ میں بسنے والو! میرا بھی تم پر حق ہے میں بھی ان سے محبت رکھتا ہوں جو اللہ سے محبت رکھیں ذرا مجھے بھی تو لوگوں کی حالت کی خبر دو اور ان کے نام بتاؤ۔
10769
سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اب فرشتے اس کے سامنے گنتی کر کے اور ایک ایک مرد و عورت کا مع ولدیت کے نام بتاتے ہیں پھر جنت سدرۃ المنتہیٰ کی طرف متوجہ ہو کر پوچھتی ہے کہ تجھ میں رہنے والے فرشتوں نے جو خبریں تجھے دی ہیں مجھ سے بھی تو بیان کر چنانچہ سدرہ اس سے ذکر کرتا ہے یہ سن کر وہ کہتی ہے اللہ کی رحمت ہو فلاں مرد اور فلاں عورت پر اللہ انہیں جلدی مجھ سے ملا۔
جبرائیل علیہ السلام سب سے پہلے اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں انہیں الہام ہوتا ہے اور یہ عرض کرتے ہیں پروردگار میں نے تیرے فلاں فلاں بندوں کو سجدے میں پایا تو انہیں بخش، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے انہیں بخشا۔ جبرائیل علیہ السلام اسے عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کو سناتے ہیں پھر سب کہتے ہیں فلاں فلاں مرد و عورت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوئی اور مغفرت ہوئی پھر جبرائیل علیہ السلام خبر دیتے ہیں کہ باری تعالیٰ فلاں شخص کو گزشتہ سال تو عامل سنت اور عابد چھوڑا تھا لیکن امسال تو بدعتوں میں پڑ گیا اور تیرے احکام سے روگردانی کر لی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے جبرائیل اگر یہ مرنے سے تین ساعت پہلے بھی توبہ کر لے گا تو میں اسے بخش دوں گا۔ اس وقت جبرائیل علیہ السلام بےساختہ کہہ اٹھتے ہیں اللہ تیرے ہی لیے سب تعریفیں سزاوار ہیں الٰہی تو اپنی مخلوق پر سب سے زیادہ مہربان ہے بندوں پر تیری مہربانی خود ان کی مہربانی سے بھی بڑھی ہوئی ہے۔ اس وقت عرش اور اس کے آس پاس کی چیزیں پردے اور تمام آسمان جنبش میں آ جاتے ہیں اور کہہ اٹھتے ہیں «الْحَمْدُ لِلَّهِ الرَّحِيمِ»، «الْحَمْدُ لِلَّهِ الرَّحِيمِ» ۔
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ”جو شخص رمضان شریف کے روزے پورے کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ رمضان کے بعد بھی میں گناہوں سے بچتا رہوں گا وہ بغیر سوال و جواب کے اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہو گا۔“
سورۃ لیلۃ القدر کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10770
القدر 97:4
غیر متعلقہ روایات اور بحث ٭٭
مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے، اسی کا نام «اللَّيْلَةُ الْمُبَارَكَةُ» بھی ہے۔
اور جگہ ارشاد ہے «إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ» [44-الدخان:3] اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے مہینے میں ہے، جیسے فرمایا «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ» [2-البقرۃ:185]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول ہے کہ ”پورا قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان اول پر بیت العزت میں اس رات اترا، پھر تفصیل وار واقعات کے مطابق بتدریج تئیس سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔“
پھر اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کی شان و شوکت کا اظہار فرماتا ہے کہ اس رات کی ایک زبردست برکت تو یہ ہے کہ قرآن کریم جیسی اعلیٰ نعمت اسی رات اتری، تو فرماتا ہے کہ ” تمہیں کیا خبر کہ لیلۃ القدر کیا ہے؟ “ پھر خود ہی بتاتا ہے کہ ” یہ ایک رات ایک ہزار مہینہ سے افضل ہے “۔
امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ ترمذی شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ایک روایت لائے ہیں کہ یوسف بن سعد سے کہ ایک آدمی نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے جبکہ آپ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی کہا کہ ”تم نے ایمان والوں کے منہ کالے کر دئیے“ یا یوں کہا کہ ”اے مومنوں کے منہ سیاہ کرنے والے“، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تجھ پر رحم کرے، مجھ پر خفا نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھلایا گیا کہ گویا آپ کے منبر پر بنو امیہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ برا معلوم ہوا تو «إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ» [108-الکوثر:1] نازل ہوئی یعنی جنت کی نہر کوثر آپ کو عطا کیے جانے کی خوشخبری ملی اور «إِنَّا أَنزَلْنَاهُ» اتری، پس ہزار مہینے سے وہ مراد ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بنو امیہ کی مملکت رہے گی، قاسم بن فضل حدانی کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو وہ پورے ایک ہزار دن ہوئے، نہ ایک دن زیادہ، نہ ایک دن کم ۔ [سنن ترمذي:3350،قال الشيخ الألباني:ضعیف] امام ترمذی رحمہ اللہ اس روایت کو غریب بتلاتے ہیں اور اس کی سند میں یوسف بن سعد ہیں جو مجہول ہیں اور صرف اسی سند سے یہ مروی ہے۔
10750
مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت ہے امام ترمذی رحمہ اللہ کا یہ فرمانا کہ یہ یوسف مجہول ہیں اس میں ذرا تذبذب ہے اس کے بہت سے شاگرد ہیں۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں یہ مشہور ہیں اور ثقہ ہیں اور اس کی سند میں کچھ اضطراب ہے جیسا بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بہر صورت یہ بہت ہی منکر روایت ہے۔
ہمارے شیخ حافظ حجت ابوالحجاج مزی بھی اس روایت کو منکر بتلاتے ہیں (یہ یاد رہے کہ قاسم کا قول جو ترمذی کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو بنو امیہ کی سلطنت ٹھیک ایک ہزار دن تک رہی یہ نسخے کی غلطی ہے۔ ایک ہزار مہینے لکھنا چاہیئے تھا، میں نے ترمذی شریف میں دیکھا تو وہاں بھی ایک ہزار مہینے ہیں اور آگے بھی یہی آتا ہے۔ مترجم)
قاسم بن فضل حدانی کا یہ قول کہ بنو امیہ کی سلطنت کی ٹھیک مدت ایک ہزار مہینے تھی یہ بھی صحیح نہیں اس لیے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی مستقل سلطنت سنہ ۴٠ ہجری میں قائم ہوئی جبکہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور امر خلافت آپ کو سونپ دیا اور سب لوگ بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت پر جمع ہو گئے اور اس سال کا نام ہی عام الجماعہ مشہور ہوا۔ پھر شام وغیرہ میں برابر بنو امیہ کی سلطنت قائم رہی ہاں تقریباً نو سال تک حرمین شریفین اور اہواز اور بعض شہروں پر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی سلطنت ہو گئی تھی لیکن تاہم اس مدت میں بھی کلیۃً ان کے ہاتھ سے حکومت نہیں گئی۔ البتہ بعض شہروں پر سے حکومت ہٹ گئی تھی، ہاں سنہ ۱۳۲ ھ میں بنوالعباس نے ان سے خلافت اپنے قبضہ میں کر لی پس ان کی سلطنت کی مدت بانوے برس ہوئی اور یہ ایک ہزار ماہ سے بہت زیادہ ہے ایک ہزار مہینے کے تراسی سال چار ماہ ہوتے ہیں۔ ہاں قاسم بن فضل کا یہ حساب اس طرح تو تقریباً ٹھیک ہو جاتا ہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت اس گنتی میں سے نکال دی جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10751
اس روایت کے ضعیف ہونے کی ایک یہ وجہ بھی ہے کہ بنو امیہ کی سلطنت کے زمانہ کی تو برائی اور مذمت بیان کرنی مقصود ہے اور لیلتہ القدر کی اس زمانہ پر فضیلت کا ثابت ہونا کچھ ان کے زمانے کی مذمت کی دلیل نہیں، لیلۃ القدر تو ہر طرح بزرگی والی ہے ہی اور یہ پوری سورت اس مبارک رات کی مدح و ستائش بیان کر رہی ہے، پس بنو امیہ کے زمانہ کے دنوں کی مذمت سے لیلۃ القدر کی کون سی فضیلت ثابت ہو جائے گی؟ یہ تو بالکل وہی مثل اصل ہو جائے گی کہ کوئی شخص تلوار کی تعریف کرتے ہوئے کہے کہ لکڑی سے بہت تیز ہے، کسی بہترین فضیلت والے شخص کو کسی کم درجہ کے ذلیل شخص پر فضیلت دینا تو اس شریف بزرگ کی توہین کرنا ہے۔
اور وجہ سنئے اس روایت کی بنا پر یہ ایک ہزار مہینے وہ ہوئے جن میں بنو امیہ کی سلطنت رہے گی اور یہ سورت اتری ہے مکہ شریف میں تو اس میں ان مہینوں کا حوالہ کیسے دیا جا سکتا ہے جو بنو امیہ کے زمانہ کے ہیں اس پر نہ تو کوئی لفظ دلالت کرتا ہے، نہ معنی کے طور پر یہ سمجھا جا سکتا ہے، منبر تو مدینہ میں قائم ہوتا ہے اور ہجرت کی ایک مدت بعد منبر بنایا جاتا ہے اور رکھا جاتا ہے۔ پس ان تمام وجوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت ضعیف اور منکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10752
ماہِ رمضان اور لیلتہ القدر کی فضیلت ٭٭
ابن ابی حاتم میں ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا جو ایک ہزار ماہ تک اللہ کی راہ میں یعنی جہاد میں ہتھیار بند رہا مسلمانوں کو یہ سن کر تعجب معلوم ہوا تو اللہ عزوجل نے یہ سورت اتاری کہ لیلۃ القدر کی عبادت اس شخص کی ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے۔ [بیہقی فی السنن:306/4:ضیعف و مرسل]
ابن جریر میں ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو رات کو قیام کرتا تھا صبح تک اور دن میں دشمنان دین سے جہاد کرتا تھا شام تک ایک ہزار مہینے تک یہی کرتا رہا پس اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمایا کہ اس امت کے کسی شخص کا صرف لیلۃ القدر کا قیام اس عابد کی ایک ہزار مہینے کی اس عبادت سے افضل ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے چار عابدوں کا ذکر کیا جنہوں نے اسی سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے نافرمانی نہیں کی تھی ایوب علیہ السلام، زکریا علیہ السلام، حزقیل بن عجوز، یوشع بن نون علیہم السلام“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت تعجب ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت نے اس جماعت کی اس عبادت پر تعجب کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی افضل چیز آپ پر نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ افضل ہے اس سے جن پر آپ اور آپ کی امت نے تعجب ظاہر کیا تھا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بے حد خوش ہوئے ۔ [باطل لا اصل لہ فی المرفوع]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ اس رات کا نیک عمل اس کا روزہ اس کی نماز ایک ہزار مہینوں کے روزے اور نماز سے افضل ہے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو“ اور مفسرین کا بھی یہ قول ہے۔
10753
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو پسند فرمایا ہے کہ ”وہ ایک ہزار مہینے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو“ یہی ٹھیک ہے اس کے سوا اور کوئی قول ٹھیک نہیں۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک رات کی جہاد کی تیاری اس کے سوا ایک ہزار راتوں سے افضل ہے ۔ [مسند احمد:75/1:حسن]
اسی طرح اور حدیث میں ہے کہ جو شخص اچھی نیت اور اچھی حالت سے جمعہ کی نماز کے لیے جائے اس کے لیے ایک سال کے اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے سال بھر کے روزوں کا اور سال بھر کی نمازوں کا ۔ [سنن ترمذي:496،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اسی طرح کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں پس مطلب یہ ہے کہ مراد ایک ہزار مہینے سے وہ مہینے ہیں جن میں لیلۃ القدر نہ آئے جیسے ایک ہزار راتوں سے مراد وہ راتیں ہیں جن میں کوئی رات اس عبادت کی نہ ہو اور جیسے جمعہ کی طرف جانے والے کو ایک سال کی نیکیاں یعنی وہ سال جس میں جمعہ نہ ہو۔
10754
مسند احمد میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو تم پر رمضان کا مہینہ آ گیا یہ بابرکت مہینہ آ گیا اس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کیے ہیں اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں شیاطین قید کر لیے جاتے ہیں اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینے سے افضل ہے اس کی بھلائی سے محروم رہنے والا حقیقی بد قسمت ہے“ ۔ [مسند احمد230/2:صحیح]
نسائی شریف میں بھی یہ روایت ہے چونکہ اس رات کی عبادت ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے اس لیے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص لیلۃ القدر کا قیام ایمانداری اور نیک نیتی سے کرے اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:2014]
پھر فرماتا ہے کہ اس رات کی برکت کی زیادتی کی وجہ سے بکثرت فرشتے اس میں نازل ہوتے ہیں۔ فرشتے تو ہر برکت اور رحمت کے ساتھ نازل ہوتے رہتے ہیں جیسے تلاوت قرآن کے وقت اترتے ہیں اور ذکر کی مجلسوں کو گھیر لیتے ہیں اور علم دین کے سیکھنے والوں کے لیے راضی خوشی اپنے پر بچھا دیا کرتے ہیں اور اس کی عزت و تکریم کرتے ہیں «روح» سے مراد یہاں جبرائیل علیہ السلام ہیں، یہ خاص کا عطف ہے عام پر۔
بعض کہتے ہیں «روح» کے نام کے ایک خاص قسم کے فرشتے ہیں جیسے کہ سورۃ «عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ» [78-النبأ:1] کی تفسیر میں تفصیل سے گزر چکا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا وہ سراسر سلامتی والی رات ہے جس میں شیطان نہ تو برائی کر سکتا ہے نہ ایذاء پہنچا سکتا ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”اس میں تمام کاموں کا فیصلہ کیا جاتا ہے عمر اور رزق مقدر کیا جاتا ہے۔“
جیسے اور جگہ ہے «فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ» [44-الدخان:4] یعنی ” اسی رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے “۔
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس رات میں فرشتے مسجد والوں پر صبح تک سلام بھیجتے رہتے ہیں۔“
امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب فضائل اوقات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک غریب اثر فرشتوں کے نازل ہونے میں اور نمازیوں پر ان کے گزرنے میں اور انہیں برکت حاصل ہونے میں وارد کیا ہے۔ ابن ابی حاتم میں کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ایک عجیب و غریب بہت طول طویل اثر وارد کیا ہے جس میں فرشتوں کا سدرۃ المنتہیٰ سے جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ زمین پر آنا اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں کرنا وارد ہے۔ ابوداؤد طیالسی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لیلۃ القدر ستائیسویں ہے یا انتیسویں اس رات میں فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ [مسند طیالسی:2545:حسن]
عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس رات میں ہر امر سے سلامتی ہے یعنی کوئی نئی بات پیدا نہیں ہوتی۔“
10755
قتادہ رحمہ اللہ اور ابن زید رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”یہ رات سراسر سلامتی والی ہے کوئی برائی صبح ہونے تک نہیں ہوتی۔“
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لیلۃ القدر آخری دس راتوں میں ہے جو ان میں طلب ثواب کی نیت سے قیام کرے اللہ تعالیٰ اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف فرما دیتا ہے یہ رات اکائی کی ہے یعنی اکیسویں یا تیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا آخری رات۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ رات بالکل صاف اور ایسی روشن ہوتی ہے کہ گویا چاند چڑھا ہوا ہے اس میں سکون اور دلجمعی ہوتی ہے، نہ سردی زیادہ ہوتی ہے، نہ گرمی، صبح تک ستارے نہیں جھڑتے ایک نشانی اس کی یہ بھی ہے کہ اس صبح کو سورج تیز شعاؤں کے ساتھ نہیں نکلتا بلکہ وہ چودہویں رات کی طرح صاف نکلتا ہے۔ اس دن اس کے ساتھ شیطان بھی نہیں نکلتا ۔ [مسند احمد:323/5:حسن] یہ اسناد تو صحیح ہے لیکن متن میں غرابت ہے۔
اور بعض الفاظ میں نکارت بھی ہے اور ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لیلۃ القدر صاف پر سکون سردی گرمی سے خالی رات ہے اس کی صبح مدھم روشنی والا سرخ رنگ نکلتا ہے“ ۔ [مسند طیالسی:2680:صحیح]
ابوعاصم نبیل اپنی اسناد سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: ”میں لیلۃ القدر دکھلایا گیا پھر بھلا دیا گیا یہ آخری دس راتوں میں ہے یہ صاف شفاف سکون و وقار والی رات ہے نہ زیادہ سردی ہوتی ہے نہ زیادہ گرمی اس قدر روشنی رات ہوتی ہے کہ یہ معلوم ہوتا ہے گویا چاند چڑھا ہوا ہے سورج کے ساتھ شیطان نہیں نکلتا یہاں تک کہ دھوپ چڑھ جائے“ ۔ [صحیح ابن خریمہ:2190]
10756
فصل ٭٭
اس بات میں علماء کا اختلاف ہے کہ لیلۃ القدر اگلی امتوں میں بھی تھی یا صرف اسی امت کو خصوصیت کے ساتھ عطا کی گئی ہے۔ پس ایک حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نظریں ڈالیں اور یہ معلوم کیا کہ سابقہ لوگوں کی عمریں بہت زیادہ ہوتی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال گزرا کہ میری امت کی عمریں ان کے مقابلہ میں کم ہیں تو نیکیاں بھی کم رہیں گیں اور پھر درجات اور ثواب میں بھی کمی رہیں گی، تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رات عنایت فرمائی اور اس کا ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت سے زیادہ دینے کا وعدہ فرمایا ۔ [مؤطا:321/1:مرسل]
اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف اسی امت کو یہ رات دی گئی ہے بلکہ صاحب عدۃ نے جو شافعیہ میں سے ایک امام ہیں جمہور علماء کا یہی قول نقل کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10757
اور خطابی نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے لیکن ایک اور حدیث ہے جس سے یہ معلوم ہوتا کہ یہ رات جس طرح اس امت میں ہے، اگلی امتوں میں بھی تھی، چنانچہ مرثد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے لیلۃ القدر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سوال کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: سنو! میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اکثر باتیں دریافت کرتا رہتا تھا ایک مرتبہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تو فرمائیے کہ لیلۃ القدر رمضان میں ہی ہے یا اور مہینوں میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان میں۔“ میں نے کہا: اچھا یا رسول اللہ! یہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہی ہے کہ جب تک وہ ہیں یہ بھی ہے جب انبیاء علیہم السلام قبض کئے جاتے ہیں تو یہ اٹھ جاتی ہیں یا یہ قیامت تک باقی رہیں گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ”نہیں وہ قیامت تک باقی رہے گی“، میں نے کہا: اچھا رمضان کے کس حصہ میں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رمضان کے پہلے اور آخری عشرہ میں ڈھونڈ۔“ پھر میں خاموش ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور باتوں میں مشغول ہو گئے۔ میں نے پھر موقع پا کر سوال کیا کہ یا رسول اللہ! ان دونوں عشروں میں سے کس عشرے میں اس رات کو تلاش کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخری عشرے میں، بس کچھ نہ پوچھنا۔“ میں پھر چپکا ہو گیا لیکن پھر موقعہ پا کر میں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کی قسم ہے میرا بھی کچھ حق آپ پر ہے فرما دیجئیے کہ وہ کون سی رات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے ہوئے میں نے تو کبھی آپ کو اپنے اوپر اتنا غصہ ہوتے ہوئے دیکھا ہی نہیں اور فرمایا: ”آخری ہفتہ میں تلاش کرو، اب کچھ نہ پوچھنا“ ۔ [مسند احمد:171/5:ضعیف]
یہ روایت نسائی میں بھی مروی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات اگلی امتوں میں بھی تھی، اور اس حدیث سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی قیامت تک ہر سال آتی رہے گی۔
بعض شیعہ حضرات کا قول ہے کہ یہ رات بالکل اٹھ گئی، یہ قول غلط ہے ان کو غلط فہمی اس حدیث سے ہوئی ہے جس میں ہے کہ وہ اٹھا لی گئی اور ممکن ہے کہ تمہارے لیے اسی میں بہتری ہو یہ حدیث پوری بھی آئے گی۔
10758
مطلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے یہ ہے کہ اس رات کی تعین اور اس کا تقرر بھی اٹھ گیا، نہ یہ کہ سرے سے لیلۃ القدر ہی اٹھ گئی مندرجہ بالا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ رات رمضان شریف میں آتی ہے کسی اور مہینہ میں نہیں۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور علماء کوفہ کا قول ہے کہ سارے سال میں ایک رات ہے اور ہر مہینہ میں اس کا ہو جانا ممکن ہے۔ یہ حدیث اس کے خلاف ہے سنن ابوداؤد میں باب ہے کہ اس شخص کی دلیل جو کہتا ہے لیلۃ القدر سارے رمضان میں ہے۔ پھر حدیث لائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سارے رمضان میں ہے ۔ [سنن ابوداود:1387،قال الشيخ الألباني:ضعیف و الصحیح موقوف] اس کی سند کے کل راوی ثقہ ہیں یہ موقوف بھی مروی ہیں۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت میں ہے کہ ”رمضان المبارک کے سارے مہینہ میں اس رات کا ہونا ممکن ہے“ غزالی رحمہ اللہ نے اسی کو نقل کیا ہے لیکن رافعی رحمہ اللہ اسے بالکل غریب بتلاتے ہیں۔
10759
فصل ٭٭
ابو زرین رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں کہ ”رمضان کی پہلی رات ہی لیلۃ القدر ہے۔“ امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”یہ سترھویں شب ہے۔“ ابوداؤد میں اس مضمون کی ایک حدیث مرفوع مروی ہے۔ [سنن ابوداود:1384،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور سیدنا ابن مسعود، سیدنا زید بن ارقم اور عثمان بن العاص رضی اللہ عنہم سے موقوف بھی مروی ہے۔ حسن بصری کا مذہب بھی یہی نقل کیا گیا ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ رمضان المبارک کی یہی سترھویں رات شب جمعہ تھی اور یہی رات بدر کی رات تھی اور سترھویں تاریخ کو جنگ بدر واقع ہوئی تھی جس دن کو قرآن نے یوم الفرقان کہا ہے۔ سیدنا علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”انیسویں رات لیلۃ القدر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکیسویں رات ہے۔“
10760
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف کے دس پہلے دن کا اعتکاف کیا ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اعتکاف بیٹھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ ”جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو آپ کے آگے ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سے بیس تک کا اعتکاف کیا اور ہم نے بھی۔ پھر جبرائیل علیہ السلام آئے اور یہی فرمایا کہ ”جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو ابھی بھی آگے ہے یعنی لیلۃ القدر۔“ پس رمضان کی بیسویں تاریخ کی صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا اور فرمایا کہ ”میرے ساتھ اعتکاف کرنے والوں کو چاہیئے کہ وہ پھر اعتکاف میں بیٹھ جائیں میں نے لیلۃ القدر دیکھ لی لیکن میں بھول گیا، لیلۃ القدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے، میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی کی چھت صرف کھجور کے پتوں کی تھی آسمان پر اس وقت ابر کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی نہ تھا، پھر ابر اٹھا اور بارش ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب سچا ہوا اور میں نے خود دیکھا کہ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر تر مٹی لگی ہوئی تھی اسی روایت کے ایک طریق میں ہے کہ یہ اکیسویں رات کا واقعہ ہے ۔ [صحیح بخاری:2018] یہ حدیث صحیح بخاری، صحیح مسلم دونوں میں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تمام روایتوں میں سے زیادہ صحیح یہی حدیث ہے۔“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیلۃ القدر رمضان شریف کی تئیسویں رات ہے اور اس کی دلیل عبداللہ بن انیس کی صحیح مسلم والی ایسی ہی ایک روایت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10761
ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ چوبیسویں رات ہے۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لیلۃ القدر چوبیسویں شب ہے“ ۔ [مسند طیالسی:2167] اس کی سند بھی صحیح ہے مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے۔ [مسند احمد:12/6:ضعیف] لیکن اس کی سند میں ابن لہیعہ ہیں جو ضعیف ہیں۔
بخاری میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن ہیں مروی ہے کہ یہ پہلی ساتویں ہے آخری دس میں سے، یہ موقوف روایت ہی صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابن مسعود ابن عباس جابر رضی اللہ عنہم حسن، قتادہ عبداللہ بن وہب رحمہ اللہ علیہم بھی فرماتے ہیں کہ چوبیسویں رات لیلۃ القدر ہے۔ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی روایت کی ہوئی مرفوع حدیث بیان ہو چکی ہے کہ قرآن کریم رمضان شریف کی چوبیسویں رات کو اترا۔
بعض کہتے ہیں پچیسویں رات لیلۃ القدر ہے ان کی دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رمضان کے آخری عشرے میں ڈھونڈو۔ نو باقی رہیں تب، سات باقی رہیں تب، پانچ باقی رہیں تب“ ۔ [صحیح بخاری:2021]
اکثر محدثین نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ اس سے مراد طاق راتیں ہیں یہی زیادہ ظاہر ہے اور زیادہ مشہور ہے گو بعض اوروں نے اسے جفت راتوں پر بھی محمول کیا ہے جیسے کہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اسے جفت پر محمول کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ستائیسویں رات ہے اس کی دلیل صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ ستائیسویں رات ہے“ ۔ [صحیح مسلم:762]
10762
مسند احمد میں ہے سیدنا زر رضی اللہ عنہ نے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود تو فرماتے ہیں جو شخص سال بھر راتوں کو قیام کرے گا وہ لیلۃ القدر کو پائے گا آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے وہ جانتے ہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے یہ ستائیسویں رات رمضان کی ہے پھر اس بات پر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی میں نے پوچھا: آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ جواب دیا کہ ان نشانیوں کو دیکھنے سے جو ہم بتائے گئے ہیں کہ اس دن سورج شعاعوں بغیر نکلتا ہے ۔ [صحیح مسلم:762]
اور روایت میں ہے کہ ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے، آپ نے اس پر ان شاءاللہ بھی نہیں فرمایا اور پختہ قسم کھا لی پھر فرمایا: مجھے خوب معلوم ہے کہ وہ کون سی رات ہے جس میں قیام کرنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے یہ ستائیسویں رات ہے اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی صبح کو سورج سفید رنگ نکلتا ہے اور تیزی زیادہ نہیں ہوتی“ ۔ [صحیح مسلم:762]
سیدنا معاویہ، ابن عمر، ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رات ستائیسویں رات ہے“ ۔
سلف کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مختار مسلک بھی یہی ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت اسی قول کی منقول ہے۔
10763
بعض سلف نے قرآن کریم کے الفاظ سے بھی اس کے ثبوت کا حوالہ دیا ہے اس طرح کہ «هِيَ» اس سورت میں ستائیسواں کلمہ ہے اور اس کے معنی ہیں ”یہ۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
طبرانی میں ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جمع کیا اور ان سے لیلۃ القدر کی بابت سوال کیا تو سب کا اجماع اس امر پر ہوا کہ یہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس وقت فرمایا کہ میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ کون سی رات ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر کہو وہ کون سی رات ہے؟ فرمایا اس آخری عشرے میں سات گزرنے پر یا سات باقی رہنے پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کیسے معلوم ہوا تو جواب دیا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے آسمان بھی سات پیدا کیے اور زمین بھی سات بنائیں، مہینہ بھی ہفتوں پر ہے، انسان کی پیدائش بھی سات پر ہے، کھانا بھی سات ہے، سجدہ بھی سات پر ہے، طواف بیت اللہ کی تعداد بھی سات کی ہے، رمی جمار کی کنکریاں بھی سات ہیں اور اسی طرح کی سات کی گنتی کی بہت سی چیزیں اور گنوا دیں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہاری سمجھ وہاں پہنچی جہاں تک ہمارے خیالات کو رسائی نہ ہو سکی یہ جو فرمایا سات ہی کھانا ہے اس سے قرآن کریم کی آیتیں «فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا حَبًّا» [80-عبس:27] ، مراد ہیں جن میں سات چیزوں کا ذکر ہے جو کھائی جاتی ہیں۔
اس کی اسناد بھی جید اور قوی ہے کہ انتیسویں رات ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے سوال کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اسے آخری عشرے میں ڈھونڈو طاق راتوں میں، اکیس، تیئس، پچیس ستائیس اور انتیس یا آخری رات ۔ [مسند احمد:318/5:حسن دون الجملة]
مسند میں ہے کہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے، یا انتیسویں۔ اس رات فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ [مسند احمد:519/2:حسن] اس کی اسناد بھی اچھی ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ آخری رات لیلۃ القدر ہے کیونکہ ابھی جو حدیث گزری اس میں ہے اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے کہ جب نو باقی رہ جائیں یا سات یا پانچ یا تین یا آخری رات یعنی ان راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش کرو ۔ [سنن ترمذي:794،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مسند میں ہے یہ آخری رات ہے ۔
10764
فصل ٭٭
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان مختلف احادیث میں تطبیق یوں ہو سکتی ہے کہ یہ سوالوں کا جواب ہے کسی نے کہا: ہم اسے فلاں رات میں تلاش کریں تو آپ نے فرما دیا ”ہاں حقیقت یہ ہے کہ لیلۃ القدر مقرر ہے اور اس میں تبدیلی نہیں ہوتی۔“
امام ترمذی نے امام شافعی کا اسی معنی کا قول نقل کیا ہے ابوقلابہ فرماتے ہیں کہ آخری عشرے کی راتوں میں یہ پھیر بدل ہوا کرتی ہے۔ امام مالک، امام ثوری، امام احمد بن حنبل، امام اسحاق بن راہویہ، ابوثور مزنی، ابوبکر بن خزیمہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ سے بھی قاضی نے یہی نقل کیا ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس قول کی تھوڑی بہت تائید بخاری و مسلم کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ چند اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں لیلۃ القدر رمضان کی سات پچھلی راتوں میں دکھائے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب اس بارے میں موافق ہیں ہر طلب کرنے والے کو چاہیئے کہ لیلۃ القدر کو ان سات آخری راتوں میں تلاش کرے“ ۔ [صحیح بخاری:2015]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر کی جستجو کرو“ ۔ [صحیح بخاری:2020]
امام شافعی رحمہ اللہ کے اس فرمان پر کہ لیلۃ القدر ہر رمضان میں ایک معین رات ہے اور اس کا ہیر پھیر نہیں ہوتا یہ حدیث دلیل بن سکتی ہے جو صحیح بخاری میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے (کہ فلاں رات لیلۃ القدر ہے) نکلے۔ دو مسلمان آپس میں جھگڑ رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے آیا تھا لیکن فلاں فلاں کی لڑائی کی وجہ سے وہ اٹھا لی گئی اور ممکن ہے کہ اسی میں تمہاری بہتری ہو اب اسے نویں ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو ۔ [صحیح بخاری:2023]
وجہ دلالت یہ ہے کہ اگر اس کا تعین ہمیشہ کے لیے نہ ہوتا تو ہر سال کی لیلۃ القدر کا علم حاصل نہ ہوتا اگر لیلۃ القدر کا تغیر و تبدل ہوتا رہتا تو صرف اس سال کے لیے تو معلوم ہو جاتا کہ فلاں رات ہے لیکن اور برسوں کے لیے تعین نہ ہوتی۔
10765
ہاں یہ ایک جواب اس کا ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسی سال کی اس مبارک رات کی خبر دینے کے لیے تشریف لائے تھے اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لڑائی جھگڑا خیر و برکت اور نفع دینے والے علم کو غارت کر دیتا ہے ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ بندہ اپنے گناہ کے باعث اللہ کی روزی سے محروم رکھ دیا جاتا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:4022،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة]
یہ یاد رہے کہ اس حدیث میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اٹھالی گئی، اس سے مراد اس کے تعین کے علم کا اٹھا لیا جانا ہے نہ یہ کہ بالکل لیلۃ القدر ہی دنیا سے اٹھا لی گئی جیسے کہ جاہل شیعہ کا قول ہے اس پر بڑی دلیل یہ ہے کہ اس لفظ کے بعد ہی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے نویں، ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ممکن ہے اسی میں تمہاری بہتری ہو، یعنی اس کی مقررہ تعین کا علم نہ ہونے میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ مبہم ہے تو اس کا ڈھونڈنے والا جن جن راتوں میں اس کا ہونا ممکن دیکھے گا ان تمام راتوں میں کوشش و خلوص کے ساتھ عبادت میں لگا رہے گا۔ بخلاف اس کے کہ معلوم ہو جائے کہ فلاں رات ہی ہے تو وہ صرف اسی ایک رات کی عبادت کرے گا کیونکہ ہمتیں پست ہیں اس لیے حکمت حکیم کا تقاضا یہی ہوا کہ اس رات کے تعین کی خبر نہ دی جائے تاکہ اس رات کے پا لینے کے شوق میں اس مبارک مہینہ میں جی لگا کر اور دل کھول کر بندے اپنے معبود برحق کی بندگی کریں اور آخری عشرے میں تو پوری کوشش اور خلوص کے ساتھ عبادتوں میں مشغول رہیں۔
اسی لیے خود محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے انتقال تک رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے۔ [صحیح بخاری:2026]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے ۔ [صحیح بخاری:2025]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آخری دس راتیں رمضان شریف کی رہ جاتیں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات جاگتے اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور کمر کس لیتے ۔ [صحیح بخاری:2024]
10766
مسلم شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں میں جس محنت کے ساتھ عبادت کرتے اتنی محنت سے عبادت آپ کی اور دنوں میں نہیں ہوتی تھی ۔ [صحیح مسلم:1175]
یہی معنی ہیں اوپر والی حدیث کے اس جملہ کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہبند مضبوط باندھ لیا کرتے، یعنی کمر کس لیا کرتے، یعنی عبادت میں پوری کوشش کرتے، گو اس کے یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیویوں سے نہ ملتے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں ہی باتیں مراد ہوں یعنی بیویوں سے ملنا بھی ترک کر دیتے تھے اور عبادت کی مشغولی میں بھی کمر باندھ لیا کرتے تھے۔
چنانچہ مسند احمد کی حدیث کے یہ الفاظ ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ باقی رہ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہبند مضبوط باندھ لیتے اور عورتوں سے الگ رہتے ۔ [مسند احمد:67/6:صحیح دون الجملة]
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”رمضان کی آخری دس راتوں میں لیلۃ القدر کی یکساں جستجو کرے کسی ایک رات کو دوسری رات پر ترجیح نہ دے۔“ [شرح رافعی]
یہ بھی یاد رہے کہ یوں تو ہر وقت دعا کی کثرت مستحب ہے لیکن رمضان میں اور زیادتی کرے اور خصوصاً آخری عشرے میں اور بالخصوص طاق راتوں میں اس دعا کو بکثرت پڑھے «اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي»، اللہ تو درگزر کرنے والا اور درگزر کو پسند فرمانے والا ہے مجھ سے بھی درگزر فرما۔ [مسند احمد:183/6:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر مجھے لیلۃ القدر مل جائے تو میں کیا دعا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دعا «اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي» بتائی یہ حدیث ترمذی نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ابن ماجه:3850،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مستدرک حاکم میں بھی یہ مروی ہے اور امام حاکم اسے شرط بخاری و مسلم پر صحیح بتاتے ہیں۔
10767
ایک عجیب و غریب اثر جس کا تعلق لیلۃ القدر سے ہے، امام ابو محمد بن ابوحاتم رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں، اس سورت کی تفسیر میں، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے اس روایت کے ساتھ وارد کیا ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ جو ساتویں آسمان کی حد پر جنت سے متصل ہے جو دنیا اور آخرت کے فاصلہ پر ہے اس کی بلندی جنت میں ہے، اس کی شاخیں اور ڈالیں کرسی تلے ہیں، اس میں اس قدر فرشتے ہیں جن کی گنتی اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اس کی ہر ایک شاخ پر بےشمار فرشتے ہیں، ایک بال برابر بھی جگہ ایسی نہیں جو فرشتوں سے خالی ہو، اس درخت کے بیچوں بیچ جبرائیل علیہ السلام کا مقام ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبرائیل کو آواز دی جاتی ہے کہ اے جبرائیل! لیلۃ القدر میں اس درخت کے تمام فرشتوں کو لے کر زمین پر جاؤ یہ کل کے کل فرشتے رافت و رحمت والے ہیں جن کے دلوں میں ہر ہر مومن کے لیے رحم کے جذبات موجزن ہیں سورج غروب ہوتے ہی یہ کل کے کل فرشتے جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ لیلۃ القدر میں اترتے ہیں، تمام روئے زمین پر پھیل جاتے ہیں، ہر ہر جگہ پر سجدے میں قیام میں مشغول ہو جاتے ہیں اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ ہاں گرجا گھر میں، مندر میں، آتش کدے میں، بت خانے میں، غرض اللہ کے سوا اوروں کی جہاں پرستش ہوتی ہے وہاں تو یہ فرشتے نہیں جاتے اور ان جگہوں میں بھی جن میں تم گندی چیزیں ڈالتے ہو اور اس گھر میں بھی جہاں نشے والا شخص ہو یا نشہ والی چیز ہو یا جس گھر میں کوئی بت گڑا ہوا ہو یا جس گھر میں باجے گاجے گھنٹیاں ہوں یا مجسمہ ہو یا کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ ہو وہاں تو یہ رحمت کے فرشتے جاتے نہیں باقی چپے چپے پر گھوم جاتے ہیں اور ساری رات مومن مردوں عورتوں کے لیے دعائیں مانگنے میں گزارتے ہیں جبرائیل علیہ السلام تمام مومنوں سے مصافحہ کرتے ہیں اس کی نشانی یہ ہے کہ روئیں جسم پر کھڑے ہو جائیں دل نرم پڑ جائے آنکھیں بہہ نکلیں اس وقت آدمی کو سمجھ لینا چاہیئے کہ اس وقت میرا ہاتھ جبرائیل علیہ السلام کے ہاتھ میں ہے۔
10768
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص اس رات میں تین مرتبہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» پڑھے اس کی پہلی مرتبہ کے پڑھنے پر گناہوں کی بخشش ہو جاتی ہے دوسری مرتبہ کے کہنے پر آگ سے نجات مل جاتی ہے تیسری مرتبہ کے کہنے پر جنت میں داخل ہو جاتا ہے , راوی نے پوچھا کہ اے ابواسحاق جو اس کلمہ کو سچائی سے کہے اس کے؟ فرمایا: یہ تو نکلے گا ہی اس کے منہ سے جو سچائی سے اس کا کہنے والا ہو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ لیلۃ القدر کافر و منافق پر تو اتنی بھاری پڑتی ہے کہ گویا اس کی پیٹھ پر پہاڑ آ پڑا۔
غرض فجر ہونے تک فرشتے اسی طرح رہتے ہیں پھر سب سے پہلے جبرائیل علیہ السلام چڑھتے ہیں اور بہت اونچے چڑھ کر اپنے پروں کو پھیلا دیتے ہیں بالخصوص ان دو سبز پروں کو جنہیں اس رات کے سوا وہ کبھی نہیں پھیلاتے یہی وجہ ہے کہ سورج کی تیزی ماند پڑ جاتی ہے اور شعائیں جاتی رہتی ہیں پھر ایک ایک فرشتے کو پکارتے ہیں اور سب کے سب اوپر چڑھتے ہیں پس فرشتوں کا نور اور جبرائیل علیہ السلام کے پروں کا نور مل کر سورج کو ماند کر دیتا ہے اس دن سورج متحیر رہ جاتا ہے جبرائیل اور یہ سارے کے سارے بےشمار فرشتے اس دن آسمان و زمین کے درمیان مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے رحمت کی دعائیں مانگتے ہیں اور ان کے گناہوں کی بخشش طلب کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ نیک نیتی کے ساتھ روزے رکھنے والوں کے لیے اور ان لوگوں کے لیے بھی جن کا یہ خیال رہا کہ اگلے سال بھی اگر اللہ نے زندگی رکھی تو رمضان کے روزے عمدگی کے ساتھ پورے کریں گے یہی دعائیں مانگتے رہتے ہیں شام کو دنیا کے آسمان پر چڑھ جاتے ہیں وہاں کے تمام فرشتے حلقے باندھ باندھ کر ان کے پاس جمع ہو جاتے ہیں اور ایک ایک مرد اور ایک ایک عورت کے بارے میں ان سے سوال کرتے ہیں اور یہ جواب دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ پوچھتے ہیں کہ فلاں شخص کو امسال تم نے کس حالت میں پایا تو یہ کہتے ہیں کہ گزشتہ سال تو ہم نے اسے عبادتوں میں پایا تھا لیکن اس سال تو وہ بدعتوں میں مبتلا تھا اور فلاں شخص گزشتہ سال بدعتوں میں مبتلا تھا لیکن اس سال ہم نے اسے سنت کے مطابق عبادتوں میں پایا پس یہ فرشتے اس سے پہلے شخص کے لیے بخشش کی دعائیں مانگنی موقوف کر دیتے ہیں اور اس دوسرے شخص کے لیے شروع کر دیتے ہیں اور یہ فرشتے انہیں سناتے ہیں کہ فلاں فلاں کو ہم نے ذکر اللہ میں پایا اور فلاں کو رکوع میں اور فلاں کو سجدے میں اور فلاں کو کتاب اللہ کی تلاوت میں غرض ایک رات دن یہاں گزار کر دوسرے آسمان پر جاتے ہیں یہاں بھی یہی ہوتا ہے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ میں اپنی اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں اس وقت سدرۃ المنتہیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ مجھ میں بسنے والو! میرا بھی تم پر حق ہے میں بھی ان سے محبت رکھتا ہوں جو اللہ سے محبت رکھیں ذرا مجھے بھی تو لوگوں کی حالت کی خبر دو اور ان کے نام بتاؤ۔
10769
سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اب فرشتے اس کے سامنے گنتی کر کے اور ایک ایک مرد و عورت کا مع ولدیت کے نام بتاتے ہیں پھر جنت سدرۃ المنتہیٰ کی طرف متوجہ ہو کر پوچھتی ہے کہ تجھ میں رہنے والے فرشتوں نے جو خبریں تجھے دی ہیں مجھ سے بھی تو بیان کر چنانچہ سدرہ اس سے ذکر کرتا ہے یہ سن کر وہ کہتی ہے اللہ کی رحمت ہو فلاں مرد اور فلاں عورت پر اللہ انہیں جلدی مجھ سے ملا۔
جبرائیل علیہ السلام سب سے پہلے اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں انہیں الہام ہوتا ہے اور یہ عرض کرتے ہیں پروردگار میں نے تیرے فلاں فلاں بندوں کو سجدے میں پایا تو انہیں بخش، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے انہیں بخشا۔ جبرائیل علیہ السلام اسے عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کو سناتے ہیں پھر سب کہتے ہیں فلاں فلاں مرد و عورت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوئی اور مغفرت ہوئی پھر جبرائیل علیہ السلام خبر دیتے ہیں کہ باری تعالیٰ فلاں شخص کو گزشتہ سال تو عامل سنت اور عابد چھوڑا تھا لیکن امسال تو بدعتوں میں پڑ گیا اور تیرے احکام سے روگردانی کر لی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے جبرائیل اگر یہ مرنے سے تین ساعت پہلے بھی توبہ کر لے گا تو میں اسے بخش دوں گا۔ اس وقت جبرائیل علیہ السلام بےساختہ کہہ اٹھتے ہیں اللہ تیرے ہی لیے سب تعریفیں سزاوار ہیں الٰہی تو اپنی مخلوق پر سب سے زیادہ مہربان ہے بندوں پر تیری مہربانی خود ان کی مہربانی سے بھی بڑھی ہوئی ہے۔ اس وقت عرش اور اس کے آس پاس کی چیزیں پردے اور تمام آسمان جنبش میں آ جاتے ہیں اور کہہ اٹھتے ہیں «الْحَمْدُ لِلَّهِ الرَّحِيمِ»، «الْحَمْدُ لِلَّهِ الرَّحِيمِ» ۔
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ”جو شخص رمضان شریف کے روزے پورے کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ رمضان کے بعد بھی میں گناہوں سے بچتا رہوں گا وہ بغیر سوال و جواب کے اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہو گا۔“
سورۃ لیلۃ القدر کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10770
القدر 97:5
غیر متعلقہ روایات اور بحث ٭٭
مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے، اسی کا نام «اللَّيْلَةُ الْمُبَارَكَةُ» بھی ہے۔
اور جگہ ارشاد ہے «إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ» [44-الدخان:3] اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے مہینے میں ہے، جیسے فرمایا «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ» [2-البقرۃ:185]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول ہے کہ ”پورا قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان اول پر بیت العزت میں اس رات اترا، پھر تفصیل وار واقعات کے مطابق بتدریج تئیس سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔“
پھر اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کی شان و شوکت کا اظہار فرماتا ہے کہ اس رات کی ایک زبردست برکت تو یہ ہے کہ قرآن کریم جیسی اعلیٰ نعمت اسی رات اتری، تو فرماتا ہے کہ ” تمہیں کیا خبر کہ لیلۃ القدر کیا ہے؟ “ پھر خود ہی بتاتا ہے کہ ” یہ ایک رات ایک ہزار مہینہ سے افضل ہے “۔
امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ ترمذی شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ایک روایت لائے ہیں کہ یوسف بن سعد سے کہ ایک آدمی نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے جبکہ آپ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی کہا کہ ”تم نے ایمان والوں کے منہ کالے کر دئیے“ یا یوں کہا کہ ”اے مومنوں کے منہ سیاہ کرنے والے“، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تجھ پر رحم کرے، مجھ پر خفا نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھلایا گیا کہ گویا آپ کے منبر پر بنو امیہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ برا معلوم ہوا تو «إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ» [108-الکوثر:1] نازل ہوئی یعنی جنت کی نہر کوثر آپ کو عطا کیے جانے کی خوشخبری ملی اور «إِنَّا أَنزَلْنَاهُ» اتری، پس ہزار مہینے سے وہ مراد ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بنو امیہ کی مملکت رہے گی، قاسم بن فضل حدانی کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو وہ پورے ایک ہزار دن ہوئے، نہ ایک دن زیادہ، نہ ایک دن کم ۔ [سنن ترمذي:3350،قال الشيخ الألباني:ضعیف] امام ترمذی رحمہ اللہ اس روایت کو غریب بتلاتے ہیں اور اس کی سند میں یوسف بن سعد ہیں جو مجہول ہیں اور صرف اسی سند سے یہ مروی ہے۔
10750
مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت ہے امام ترمذی رحمہ اللہ کا یہ فرمانا کہ یہ یوسف مجہول ہیں اس میں ذرا تذبذب ہے اس کے بہت سے شاگرد ہیں۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں یہ مشہور ہیں اور ثقہ ہیں اور اس کی سند میں کچھ اضطراب ہے جیسا بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بہر صورت یہ بہت ہی منکر روایت ہے۔
ہمارے شیخ حافظ حجت ابوالحجاج مزی بھی اس روایت کو منکر بتلاتے ہیں (یہ یاد رہے کہ قاسم کا قول جو ترمذی کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو بنو امیہ کی سلطنت ٹھیک ایک ہزار دن تک رہی یہ نسخے کی غلطی ہے۔ ایک ہزار مہینے لکھنا چاہیئے تھا، میں نے ترمذی شریف میں دیکھا تو وہاں بھی ایک ہزار مہینے ہیں اور آگے بھی یہی آتا ہے۔ مترجم)
قاسم بن فضل حدانی کا یہ قول کہ بنو امیہ کی سلطنت کی ٹھیک مدت ایک ہزار مہینے تھی یہ بھی صحیح نہیں اس لیے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی مستقل سلطنت سنہ ۴٠ ہجری میں قائم ہوئی جبکہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور امر خلافت آپ کو سونپ دیا اور سب لوگ بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت پر جمع ہو گئے اور اس سال کا نام ہی عام الجماعہ مشہور ہوا۔ پھر شام وغیرہ میں برابر بنو امیہ کی سلطنت قائم رہی ہاں تقریباً نو سال تک حرمین شریفین اور اہواز اور بعض شہروں پر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی سلطنت ہو گئی تھی لیکن تاہم اس مدت میں بھی کلیۃً ان کے ہاتھ سے حکومت نہیں گئی۔ البتہ بعض شہروں پر سے حکومت ہٹ گئی تھی، ہاں سنہ ۱۳۲ ھ میں بنوالعباس نے ان سے خلافت اپنے قبضہ میں کر لی پس ان کی سلطنت کی مدت بانوے برس ہوئی اور یہ ایک ہزار ماہ سے بہت زیادہ ہے ایک ہزار مہینے کے تراسی سال چار ماہ ہوتے ہیں۔ ہاں قاسم بن فضل کا یہ حساب اس طرح تو تقریباً ٹھیک ہو جاتا ہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت اس گنتی میں سے نکال دی جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10751
اس روایت کے ضعیف ہونے کی ایک یہ وجہ بھی ہے کہ بنو امیہ کی سلطنت کے زمانہ کی تو برائی اور مذمت بیان کرنی مقصود ہے اور لیلتہ القدر کی اس زمانہ پر فضیلت کا ثابت ہونا کچھ ان کے زمانے کی مذمت کی دلیل نہیں، لیلۃ القدر تو ہر طرح بزرگی والی ہے ہی اور یہ پوری سورت اس مبارک رات کی مدح و ستائش بیان کر رہی ہے، پس بنو امیہ کے زمانہ کے دنوں کی مذمت سے لیلۃ القدر کی کون سی فضیلت ثابت ہو جائے گی؟ یہ تو بالکل وہی مثل اصل ہو جائے گی کہ کوئی شخص تلوار کی تعریف کرتے ہوئے کہے کہ لکڑی سے بہت تیز ہے، کسی بہترین فضیلت والے شخص کو کسی کم درجہ کے ذلیل شخص پر فضیلت دینا تو اس شریف بزرگ کی توہین کرنا ہے۔
اور وجہ سنئے اس روایت کی بنا پر یہ ایک ہزار مہینے وہ ہوئے جن میں بنو امیہ کی سلطنت رہے گی اور یہ سورت اتری ہے مکہ شریف میں تو اس میں ان مہینوں کا حوالہ کیسے دیا جا سکتا ہے جو بنو امیہ کے زمانہ کے ہیں اس پر نہ تو کوئی لفظ دلالت کرتا ہے، نہ معنی کے طور پر یہ سمجھا جا سکتا ہے، منبر تو مدینہ میں قائم ہوتا ہے اور ہجرت کی ایک مدت بعد منبر بنایا جاتا ہے اور رکھا جاتا ہے۔ پس ان تمام وجوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت ضعیف اور منکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10752
ماہِ رمضان اور لیلتہ القدر کی فضیلت ٭٭
ابن ابی حاتم میں ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا جو ایک ہزار ماہ تک اللہ کی راہ میں یعنی جہاد میں ہتھیار بند رہا مسلمانوں کو یہ سن کر تعجب معلوم ہوا تو اللہ عزوجل نے یہ سورت اتاری کہ لیلۃ القدر کی عبادت اس شخص کی ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے۔ [بیہقی فی السنن:306/4:ضیعف و مرسل]
ابن جریر میں ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو رات کو قیام کرتا تھا صبح تک اور دن میں دشمنان دین سے جہاد کرتا تھا شام تک ایک ہزار مہینے تک یہی کرتا رہا پس اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمایا کہ اس امت کے کسی شخص کا صرف لیلۃ القدر کا قیام اس عابد کی ایک ہزار مہینے کی اس عبادت سے افضل ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے چار عابدوں کا ذکر کیا جنہوں نے اسی سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے نافرمانی نہیں کی تھی ایوب علیہ السلام، زکریا علیہ السلام، حزقیل بن عجوز، یوشع بن نون علیہم السلام“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت تعجب ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت نے اس جماعت کی اس عبادت پر تعجب کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی افضل چیز آپ پر نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ افضل ہے اس سے جن پر آپ اور آپ کی امت نے تعجب ظاہر کیا تھا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بے حد خوش ہوئے ۔ [باطل لا اصل لہ فی المرفوع]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ اس رات کا نیک عمل اس کا روزہ اس کی نماز ایک ہزار مہینوں کے روزے اور نماز سے افضل ہے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو“ اور مفسرین کا بھی یہ قول ہے۔
10753
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو پسند فرمایا ہے کہ ”وہ ایک ہزار مہینے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو“ یہی ٹھیک ہے اس کے سوا اور کوئی قول ٹھیک نہیں۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک رات کی جہاد کی تیاری اس کے سوا ایک ہزار راتوں سے افضل ہے ۔ [مسند احمد:75/1:حسن]
اسی طرح اور حدیث میں ہے کہ جو شخص اچھی نیت اور اچھی حالت سے جمعہ کی نماز کے لیے جائے اس کے لیے ایک سال کے اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے سال بھر کے روزوں کا اور سال بھر کی نمازوں کا ۔ [سنن ترمذي:496،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اسی طرح کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں پس مطلب یہ ہے کہ مراد ایک ہزار مہینے سے وہ مہینے ہیں جن میں لیلۃ القدر نہ آئے جیسے ایک ہزار راتوں سے مراد وہ راتیں ہیں جن میں کوئی رات اس عبادت کی نہ ہو اور جیسے جمعہ کی طرف جانے والے کو ایک سال کی نیکیاں یعنی وہ سال جس میں جمعہ نہ ہو۔
10754
مسند احمد میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو تم پر رمضان کا مہینہ آ گیا یہ بابرکت مہینہ آ گیا اس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کیے ہیں اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں شیاطین قید کر لیے جاتے ہیں اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینے سے افضل ہے اس کی بھلائی سے محروم رہنے والا حقیقی بد قسمت ہے“ ۔ [مسند احمد230/2:صحیح]
نسائی شریف میں بھی یہ روایت ہے چونکہ اس رات کی عبادت ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے اس لیے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص لیلۃ القدر کا قیام ایمانداری اور نیک نیتی سے کرے اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:2014]
پھر فرماتا ہے کہ اس رات کی برکت کی زیادتی کی وجہ سے بکثرت فرشتے اس میں نازل ہوتے ہیں۔ فرشتے تو ہر برکت اور رحمت کے ساتھ نازل ہوتے رہتے ہیں جیسے تلاوت قرآن کے وقت اترتے ہیں اور ذکر کی مجلسوں کو گھیر لیتے ہیں اور علم دین کے سیکھنے والوں کے لیے راضی خوشی اپنے پر بچھا دیا کرتے ہیں اور اس کی عزت و تکریم کرتے ہیں «روح» سے مراد یہاں جبرائیل علیہ السلام ہیں، یہ خاص کا عطف ہے عام پر۔
بعض کہتے ہیں «روح» کے نام کے ایک خاص قسم کے فرشتے ہیں جیسے کہ سورۃ «عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ» [78-النبأ:1] کی تفسیر میں تفصیل سے گزر چکا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا وہ سراسر سلامتی والی رات ہے جس میں شیطان نہ تو برائی کر سکتا ہے نہ ایذاء پہنچا سکتا ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”اس میں تمام کاموں کا فیصلہ کیا جاتا ہے عمر اور رزق مقدر کیا جاتا ہے۔“
جیسے اور جگہ ہے «فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ» [44-الدخان:4] یعنی ” اسی رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے “۔
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس رات میں فرشتے مسجد والوں پر صبح تک سلام بھیجتے رہتے ہیں۔“
امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب فضائل اوقات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک غریب اثر فرشتوں کے نازل ہونے میں اور نمازیوں پر ان کے گزرنے میں اور انہیں برکت حاصل ہونے میں وارد کیا ہے۔ ابن ابی حاتم میں کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ایک عجیب و غریب بہت طول طویل اثر وارد کیا ہے جس میں فرشتوں کا سدرۃ المنتہیٰ سے جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ زمین پر آنا اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں کرنا وارد ہے۔ ابوداؤد طیالسی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لیلۃ القدر ستائیسویں ہے یا انتیسویں اس رات میں فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ [مسند طیالسی:2545:حسن]
عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس رات میں ہر امر سے سلامتی ہے یعنی کوئی نئی بات پیدا نہیں ہوتی۔“
10755
قتادہ رحمہ اللہ اور ابن زید رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”یہ رات سراسر سلامتی والی ہے کوئی برائی صبح ہونے تک نہیں ہوتی۔“
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لیلۃ القدر آخری دس راتوں میں ہے جو ان میں طلب ثواب کی نیت سے قیام کرے اللہ تعالیٰ اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف فرما دیتا ہے یہ رات اکائی کی ہے یعنی اکیسویں یا تیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا آخری رات۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ رات بالکل صاف اور ایسی روشن ہوتی ہے کہ گویا چاند چڑھا ہوا ہے اس میں سکون اور دلجمعی ہوتی ہے، نہ سردی زیادہ ہوتی ہے، نہ گرمی، صبح تک ستارے نہیں جھڑتے ایک نشانی اس کی یہ بھی ہے کہ اس صبح کو سورج تیز شعاؤں کے ساتھ نہیں نکلتا بلکہ وہ چودہویں رات کی طرح صاف نکلتا ہے۔ اس دن اس کے ساتھ شیطان بھی نہیں نکلتا ۔ [مسند احمد:323/5:حسن] یہ اسناد تو صحیح ہے لیکن متن میں غرابت ہے۔
اور بعض الفاظ میں نکارت بھی ہے اور ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لیلۃ القدر صاف پر سکون سردی گرمی سے خالی رات ہے اس کی صبح مدھم روشنی والا سرخ رنگ نکلتا ہے“ ۔ [مسند طیالسی:2680:صحیح]
ابوعاصم نبیل اپنی اسناد سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: ”میں لیلۃ القدر دکھلایا گیا پھر بھلا دیا گیا یہ آخری دس راتوں میں ہے یہ صاف شفاف سکون و وقار والی رات ہے نہ زیادہ سردی ہوتی ہے نہ زیادہ گرمی اس قدر روشنی رات ہوتی ہے کہ یہ معلوم ہوتا ہے گویا چاند چڑھا ہوا ہے سورج کے ساتھ شیطان نہیں نکلتا یہاں تک کہ دھوپ چڑھ جائے“ ۔ [صحیح ابن خریمہ:2190]
10756
فصل ٭٭
اس بات میں علماء کا اختلاف ہے کہ لیلۃ القدر اگلی امتوں میں بھی تھی یا صرف اسی امت کو خصوصیت کے ساتھ عطا کی گئی ہے۔ پس ایک حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نظریں ڈالیں اور یہ معلوم کیا کہ سابقہ لوگوں کی عمریں بہت زیادہ ہوتی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال گزرا کہ میری امت کی عمریں ان کے مقابلہ میں کم ہیں تو نیکیاں بھی کم رہیں گیں اور پھر درجات اور ثواب میں بھی کمی رہیں گی، تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رات عنایت فرمائی اور اس کا ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت سے زیادہ دینے کا وعدہ فرمایا ۔ [مؤطا:321/1:مرسل]
اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف اسی امت کو یہ رات دی گئی ہے بلکہ صاحب عدۃ نے جو شافعیہ میں سے ایک امام ہیں جمہور علماء کا یہی قول نقل کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10757
اور خطابی نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے لیکن ایک اور حدیث ہے جس سے یہ معلوم ہوتا کہ یہ رات جس طرح اس امت میں ہے، اگلی امتوں میں بھی تھی، چنانچہ مرثد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے لیلۃ القدر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سوال کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: سنو! میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اکثر باتیں دریافت کرتا رہتا تھا ایک مرتبہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تو فرمائیے کہ لیلۃ القدر رمضان میں ہی ہے یا اور مہینوں میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان میں۔“ میں نے کہا: اچھا یا رسول اللہ! یہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہی ہے کہ جب تک وہ ہیں یہ بھی ہے جب انبیاء علیہم السلام قبض کئے جاتے ہیں تو یہ اٹھ جاتی ہیں یا یہ قیامت تک باقی رہیں گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ”نہیں وہ قیامت تک باقی رہے گی“، میں نے کہا: اچھا رمضان کے کس حصہ میں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رمضان کے پہلے اور آخری عشرہ میں ڈھونڈ۔“ پھر میں خاموش ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور باتوں میں مشغول ہو گئے۔ میں نے پھر موقع پا کر سوال کیا کہ یا رسول اللہ! ان دونوں عشروں میں سے کس عشرے میں اس رات کو تلاش کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخری عشرے میں، بس کچھ نہ پوچھنا۔“ میں پھر چپکا ہو گیا لیکن پھر موقعہ پا کر میں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کی قسم ہے میرا بھی کچھ حق آپ پر ہے فرما دیجئیے کہ وہ کون سی رات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے ہوئے میں نے تو کبھی آپ کو اپنے اوپر اتنا غصہ ہوتے ہوئے دیکھا ہی نہیں اور فرمایا: ”آخری ہفتہ میں تلاش کرو، اب کچھ نہ پوچھنا“ ۔ [مسند احمد:171/5:ضعیف]
یہ روایت نسائی میں بھی مروی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات اگلی امتوں میں بھی تھی، اور اس حدیث سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی قیامت تک ہر سال آتی رہے گی۔
بعض شیعہ حضرات کا قول ہے کہ یہ رات بالکل اٹھ گئی، یہ قول غلط ہے ان کو غلط فہمی اس حدیث سے ہوئی ہے جس میں ہے کہ وہ اٹھا لی گئی اور ممکن ہے کہ تمہارے لیے اسی میں بہتری ہو یہ حدیث پوری بھی آئے گی۔
10758
مطلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے یہ ہے کہ اس رات کی تعین اور اس کا تقرر بھی اٹھ گیا، نہ یہ کہ سرے سے لیلۃ القدر ہی اٹھ گئی مندرجہ بالا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ رات رمضان شریف میں آتی ہے کسی اور مہینہ میں نہیں۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور علماء کوفہ کا قول ہے کہ سارے سال میں ایک رات ہے اور ہر مہینہ میں اس کا ہو جانا ممکن ہے۔ یہ حدیث اس کے خلاف ہے سنن ابوداؤد میں باب ہے کہ اس شخص کی دلیل جو کہتا ہے لیلۃ القدر سارے رمضان میں ہے۔ پھر حدیث لائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سارے رمضان میں ہے ۔ [سنن ابوداود:1387،قال الشيخ الألباني:ضعیف و الصحیح موقوف] اس کی سند کے کل راوی ثقہ ہیں یہ موقوف بھی مروی ہیں۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت میں ہے کہ ”رمضان المبارک کے سارے مہینہ میں اس رات کا ہونا ممکن ہے“ غزالی رحمہ اللہ نے اسی کو نقل کیا ہے لیکن رافعی رحمہ اللہ اسے بالکل غریب بتلاتے ہیں۔
10759
فصل ٭٭
ابو زرین رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں کہ ”رمضان کی پہلی رات ہی لیلۃ القدر ہے۔“ امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”یہ سترھویں شب ہے۔“ ابوداؤد میں اس مضمون کی ایک حدیث مرفوع مروی ہے۔ [سنن ابوداود:1384،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور سیدنا ابن مسعود، سیدنا زید بن ارقم اور عثمان بن العاص رضی اللہ عنہم سے موقوف بھی مروی ہے۔ حسن بصری کا مذہب بھی یہی نقل کیا گیا ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ رمضان المبارک کی یہی سترھویں رات شب جمعہ تھی اور یہی رات بدر کی رات تھی اور سترھویں تاریخ کو جنگ بدر واقع ہوئی تھی جس دن کو قرآن نے یوم الفرقان کہا ہے۔ سیدنا علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”انیسویں رات لیلۃ القدر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکیسویں رات ہے۔“
10760
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف کے دس پہلے دن کا اعتکاف کیا ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اعتکاف بیٹھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ ”جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو آپ کے آگے ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سے بیس تک کا اعتکاف کیا اور ہم نے بھی۔ پھر جبرائیل علیہ السلام آئے اور یہی فرمایا کہ ”جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو ابھی بھی آگے ہے یعنی لیلۃ القدر۔“ پس رمضان کی بیسویں تاریخ کی صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا اور فرمایا کہ ”میرے ساتھ اعتکاف کرنے والوں کو چاہیئے کہ وہ پھر اعتکاف میں بیٹھ جائیں میں نے لیلۃ القدر دیکھ لی لیکن میں بھول گیا، لیلۃ القدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے، میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی کی چھت صرف کھجور کے پتوں کی تھی آسمان پر اس وقت ابر کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی نہ تھا، پھر ابر اٹھا اور بارش ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب سچا ہوا اور میں نے خود دیکھا کہ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر تر مٹی لگی ہوئی تھی اسی روایت کے ایک طریق میں ہے کہ یہ اکیسویں رات کا واقعہ ہے ۔ [صحیح بخاری:2018] یہ حدیث صحیح بخاری، صحیح مسلم دونوں میں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تمام روایتوں میں سے زیادہ صحیح یہی حدیث ہے۔“ یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیلۃ القدر رمضان شریف کی تئیسویں رات ہے اور اس کی دلیل عبداللہ بن انیس کی صحیح مسلم والی ایسی ہی ایک روایت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10761
ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ چوبیسویں رات ہے۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لیلۃ القدر چوبیسویں شب ہے“ ۔ [مسند طیالسی:2167] اس کی سند بھی صحیح ہے مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے۔ [مسند احمد:12/6:ضعیف] لیکن اس کی سند میں ابن لہیعہ ہیں جو ضعیف ہیں۔
بخاری میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن ہیں مروی ہے کہ یہ پہلی ساتویں ہے آخری دس میں سے، یہ موقوف روایت ہی صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابن مسعود ابن عباس جابر رضی اللہ عنہم حسن، قتادہ عبداللہ بن وہب رحمہ اللہ علیہم بھی فرماتے ہیں کہ چوبیسویں رات لیلۃ القدر ہے۔ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی روایت کی ہوئی مرفوع حدیث بیان ہو چکی ہے کہ قرآن کریم رمضان شریف کی چوبیسویں رات کو اترا۔
بعض کہتے ہیں پچیسویں رات لیلۃ القدر ہے ان کی دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رمضان کے آخری عشرے میں ڈھونڈو۔ نو باقی رہیں تب، سات باقی رہیں تب، پانچ باقی رہیں تب“ ۔ [صحیح بخاری:2021]
اکثر محدثین نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ اس سے مراد طاق راتیں ہیں یہی زیادہ ظاہر ہے اور زیادہ مشہور ہے گو بعض اوروں نے اسے جفت راتوں پر بھی محمول کیا ہے جیسے کہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اسے جفت پر محمول کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ستائیسویں رات ہے اس کی دلیل صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ ستائیسویں رات ہے“ ۔ [صحیح مسلم:762]
10762
مسند احمد میں ہے سیدنا زر رضی اللہ عنہ نے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود تو فرماتے ہیں جو شخص سال بھر راتوں کو قیام کرے گا وہ لیلۃ القدر کو پائے گا آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے وہ جانتے ہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے یہ ستائیسویں رات رمضان کی ہے پھر اس بات پر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی میں نے پوچھا: آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ جواب دیا کہ ان نشانیوں کو دیکھنے سے جو ہم بتائے گئے ہیں کہ اس دن سورج شعاعوں بغیر نکلتا ہے ۔ [صحیح مسلم:762]
اور روایت میں ہے کہ ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے، آپ نے اس پر ان شاءاللہ بھی نہیں فرمایا اور پختہ قسم کھا لی پھر فرمایا: مجھے خوب معلوم ہے کہ وہ کون سی رات ہے جس میں قیام کرنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے یہ ستائیسویں رات ہے اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی صبح کو سورج سفید رنگ نکلتا ہے اور تیزی زیادہ نہیں ہوتی“ ۔ [صحیح مسلم:762]
سیدنا معاویہ، ابن عمر، ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رات ستائیسویں رات ہے“ ۔
سلف کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مختار مسلک بھی یہی ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت اسی قول کی منقول ہے۔
10763
بعض سلف نے قرآن کریم کے الفاظ سے بھی اس کے ثبوت کا حوالہ دیا ہے اس طرح کہ «هِيَ» اس سورت میں ستائیسواں کلمہ ہے اور اس کے معنی ہیں ”یہ۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
طبرانی میں ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جمع کیا اور ان سے لیلۃ القدر کی بابت سوال کیا تو سب کا اجماع اس امر پر ہوا کہ یہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس وقت فرمایا کہ میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ کون سی رات ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر کہو وہ کون سی رات ہے؟ فرمایا اس آخری عشرے میں سات گزرنے پر یا سات باقی رہنے پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کیسے معلوم ہوا تو جواب دیا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے آسمان بھی سات پیدا کیے اور زمین بھی سات بنائیں، مہینہ بھی ہفتوں پر ہے، انسان کی پیدائش بھی سات پر ہے، کھانا بھی سات ہے، سجدہ بھی سات پر ہے، طواف بیت اللہ کی تعداد بھی سات کی ہے، رمی جمار کی کنکریاں بھی سات ہیں اور اسی طرح کی سات کی گنتی کی بہت سی چیزیں اور گنوا دیں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہاری سمجھ وہاں پہنچی جہاں تک ہمارے خیالات کو رسائی نہ ہو سکی یہ جو فرمایا سات ہی کھانا ہے اس سے قرآن کریم کی آیتیں «فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا حَبًّا» [80-عبس:27] ، مراد ہیں جن میں سات چیزوں کا ذکر ہے جو کھائی جاتی ہیں۔
اس کی اسناد بھی جید اور قوی ہے کہ انتیسویں رات ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے سوال کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اسے آخری عشرے میں ڈھونڈو طاق راتوں میں، اکیس، تیئس، پچیس ستائیس اور انتیس یا آخری رات ۔ [مسند احمد:318/5:حسن دون الجملة]
مسند میں ہے کہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے، یا انتیسویں۔ اس رات فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ [مسند احمد:519/2:حسن] اس کی اسناد بھی اچھی ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ آخری رات لیلۃ القدر ہے کیونکہ ابھی جو حدیث گزری اس میں ہے اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے کہ جب نو باقی رہ جائیں یا سات یا پانچ یا تین یا آخری رات یعنی ان راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش کرو ۔ [سنن ترمذي:794،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مسند میں ہے یہ آخری رات ہے ۔
10764
فصل ٭٭
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان مختلف احادیث میں تطبیق یوں ہو سکتی ہے کہ یہ سوالوں کا جواب ہے کسی نے کہا: ہم اسے فلاں رات میں تلاش کریں تو آپ نے فرما دیا ”ہاں حقیقت یہ ہے کہ لیلۃ القدر مقرر ہے اور اس میں تبدیلی نہیں ہوتی۔“
امام ترمذی نے امام شافعی کا اسی معنی کا قول نقل کیا ہے ابوقلابہ فرماتے ہیں کہ آخری عشرے کی راتوں میں یہ پھیر بدل ہوا کرتی ہے۔ امام مالک، امام ثوری، امام احمد بن حنبل، امام اسحاق بن راہویہ، ابوثور مزنی، ابوبکر بن خزیمہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ سے بھی قاضی نے یہی نقل کیا ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس قول کی تھوڑی بہت تائید بخاری و مسلم کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ چند اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں لیلۃ القدر رمضان کی سات پچھلی راتوں میں دکھائے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب اس بارے میں موافق ہیں ہر طلب کرنے والے کو چاہیئے کہ لیلۃ القدر کو ان سات آخری راتوں میں تلاش کرے“ ۔ [صحیح بخاری:2015]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر کی جستجو کرو“ ۔ [صحیح بخاری:2020]
امام شافعی رحمہ اللہ کے اس فرمان پر کہ لیلۃ القدر ہر رمضان میں ایک معین رات ہے اور اس کا ہیر پھیر نہیں ہوتا یہ حدیث دلیل بن سکتی ہے جو صحیح بخاری میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے (کہ فلاں رات لیلۃ القدر ہے) نکلے۔ دو مسلمان آپس میں جھگڑ رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے آیا تھا لیکن فلاں فلاں کی لڑائی کی وجہ سے وہ اٹھا لی گئی اور ممکن ہے کہ اسی میں تمہاری بہتری ہو اب اسے نویں ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو ۔ [صحیح بخاری:2023]
وجہ دلالت یہ ہے کہ اگر اس کا تعین ہمیشہ کے لیے نہ ہوتا تو ہر سال کی لیلۃ القدر کا علم حاصل نہ ہوتا اگر لیلۃ القدر کا تغیر و تبدل ہوتا رہتا تو صرف اس سال کے لیے تو معلوم ہو جاتا کہ فلاں رات ہے لیکن اور برسوں کے لیے تعین نہ ہوتی۔
10765
ہاں یہ ایک جواب اس کا ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسی سال کی اس مبارک رات کی خبر دینے کے لیے تشریف لائے تھے اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لڑائی جھگڑا خیر و برکت اور نفع دینے والے علم کو غارت کر دیتا ہے ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ بندہ اپنے گناہ کے باعث اللہ کی روزی سے محروم رکھ دیا جاتا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:4022،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة]
یہ یاد رہے کہ اس حدیث میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اٹھالی گئی، اس سے مراد اس کے تعین کے علم کا اٹھا لیا جانا ہے نہ یہ کہ بالکل لیلۃ القدر ہی دنیا سے اٹھا لی گئی جیسے کہ جاہل شیعہ کا قول ہے اس پر بڑی دلیل یہ ہے کہ اس لفظ کے بعد ہی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے نویں، ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ممکن ہے اسی میں تمہاری بہتری ہو، یعنی اس کی مقررہ تعین کا علم نہ ہونے میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ مبہم ہے تو اس کا ڈھونڈنے والا جن جن راتوں میں اس کا ہونا ممکن دیکھے گا ان تمام راتوں میں کوشش و خلوص کے ساتھ عبادت میں لگا رہے گا۔ بخلاف اس کے کہ معلوم ہو جائے کہ فلاں رات ہی ہے تو وہ صرف اسی ایک رات کی عبادت کرے گا کیونکہ ہمتیں پست ہیں اس لیے حکمت حکیم کا تقاضا یہی ہوا کہ اس رات کے تعین کی خبر نہ دی جائے تاکہ اس رات کے پا لینے کے شوق میں اس مبارک مہینہ میں جی لگا کر اور دل کھول کر بندے اپنے معبود برحق کی بندگی کریں اور آخری عشرے میں تو پوری کوشش اور خلوص کے ساتھ عبادتوں میں مشغول رہیں۔
اسی لیے خود محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے انتقال تک رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے۔ [صحیح بخاری:2026]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے ۔ [صحیح بخاری:2025]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آخری دس راتیں رمضان شریف کی رہ جاتیں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات جاگتے اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور کمر کس لیتے ۔ [صحیح بخاری:2024]
10766
مسلم شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں میں جس محنت کے ساتھ عبادت کرتے اتنی محنت سے عبادت آپ کی اور دنوں میں نہیں ہوتی تھی ۔ [صحیح مسلم:1175]
یہی معنی ہیں اوپر والی حدیث کے اس جملہ کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہبند مضبوط باندھ لیا کرتے، یعنی کمر کس لیا کرتے، یعنی عبادت میں پوری کوشش کرتے، گو اس کے یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیویوں سے نہ ملتے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں ہی باتیں مراد ہوں یعنی بیویوں سے ملنا بھی ترک کر دیتے تھے اور عبادت کی مشغولی میں بھی کمر باندھ لیا کرتے تھے۔
چنانچہ مسند احمد کی حدیث کے یہ الفاظ ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ باقی رہ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہبند مضبوط باندھ لیتے اور عورتوں سے الگ رہتے ۔ [مسند احمد:67/6:صحیح دون الجملة]
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”رمضان کی آخری دس راتوں میں لیلۃ القدر کی یکساں جستجو کرے کسی ایک رات کو دوسری رات پر ترجیح نہ دے۔“ [شرح رافعی]
یہ بھی یاد رہے کہ یوں تو ہر وقت دعا کی کثرت مستحب ہے لیکن رمضان میں اور زیادتی کرے اور خصوصاً آخری عشرے میں اور بالخصوص طاق راتوں میں اس دعا کو بکثرت پڑھے «اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي»، اللہ تو درگزر کرنے والا اور درگزر کو پسند فرمانے والا ہے مجھ سے بھی درگزر فرما۔ [مسند احمد:183/6:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر مجھے لیلۃ القدر مل جائے تو میں کیا دعا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دعا «اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي» بتائی یہ حدیث ترمذی نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ابن ماجه:3850،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مستدرک حاکم میں بھی یہ مروی ہے اور امام حاکم اسے شرط بخاری و مسلم پر صحیح بتاتے ہیں۔
10767
ایک عجیب و غریب اثر جس کا تعلق لیلۃ القدر سے ہے، امام ابو محمد بن ابوحاتم رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں، اس سورت کی تفسیر میں، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے اس روایت کے ساتھ وارد کیا ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ جو ساتویں آسمان کی حد پر جنت سے متصل ہے جو دنیا اور آخرت کے فاصلہ پر ہے اس کی بلندی جنت میں ہے، اس کی شاخیں اور ڈالیں کرسی تلے ہیں، اس میں اس قدر فرشتے ہیں جن کی گنتی اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اس کی ہر ایک شاخ پر بےشمار فرشتے ہیں، ایک بال برابر بھی جگہ ایسی نہیں جو فرشتوں سے خالی ہو، اس درخت کے بیچوں بیچ جبرائیل علیہ السلام کا مقام ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبرائیل کو آواز دی جاتی ہے کہ اے جبرائیل! لیلۃ القدر میں اس درخت کے تمام فرشتوں کو لے کر زمین پر جاؤ یہ کل کے کل فرشتے رافت و رحمت والے ہیں جن کے دلوں میں ہر ہر مومن کے لیے رحم کے جذبات موجزن ہیں سورج غروب ہوتے ہی یہ کل کے کل فرشتے جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ لیلۃ القدر میں اترتے ہیں، تمام روئے زمین پر پھیل جاتے ہیں، ہر ہر جگہ پر سجدے میں قیام میں مشغول ہو جاتے ہیں اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ ہاں گرجا گھر میں، مندر میں، آتش کدے میں، بت خانے میں، غرض اللہ کے سوا اوروں کی جہاں پرستش ہوتی ہے وہاں تو یہ فرشتے نہیں جاتے اور ان جگہوں میں بھی جن میں تم گندی چیزیں ڈالتے ہو اور اس گھر میں بھی جہاں نشے والا شخص ہو یا نشہ والی چیز ہو یا جس گھر میں کوئی بت گڑا ہوا ہو یا جس گھر میں باجے گاجے گھنٹیاں ہوں یا مجسمہ ہو یا کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ ہو وہاں تو یہ رحمت کے فرشتے جاتے نہیں باقی چپے چپے پر گھوم جاتے ہیں اور ساری رات مومن مردوں عورتوں کے لیے دعائیں مانگنے میں گزارتے ہیں جبرائیل علیہ السلام تمام مومنوں سے مصافحہ کرتے ہیں اس کی نشانی یہ ہے کہ روئیں جسم پر کھڑے ہو جائیں دل نرم پڑ جائے آنکھیں بہہ نکلیں اس وقت آدمی کو سمجھ لینا چاہیئے کہ اس وقت میرا ہاتھ جبرائیل علیہ السلام کے ہاتھ میں ہے۔
10768
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص اس رات میں تین مرتبہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» پڑھے اس کی پہلی مرتبہ کے پڑھنے پر گناہوں کی بخشش ہو جاتی ہے دوسری مرتبہ کے کہنے پر آگ سے نجات مل جاتی ہے تیسری مرتبہ کے کہنے پر جنت میں داخل ہو جاتا ہے , راوی نے پوچھا کہ اے ابواسحاق جو اس کلمہ کو سچائی سے کہے اس کے؟ فرمایا: یہ تو نکلے گا ہی اس کے منہ سے جو سچائی سے اس کا کہنے والا ہو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ لیلۃ القدر کافر و منافق پر تو اتنی بھاری پڑتی ہے کہ گویا اس کی پیٹھ پر پہاڑ آ پڑا۔
غرض فجر ہونے تک فرشتے اسی طرح رہتے ہیں پھر سب سے پہلے جبرائیل علیہ السلام چڑھتے ہیں اور بہت اونچے چڑھ کر اپنے پروں کو پھیلا دیتے ہیں بالخصوص ان دو سبز پروں کو جنہیں اس رات کے سوا وہ کبھی نہیں پھیلاتے یہی وجہ ہے کہ سورج کی تیزی ماند پڑ جاتی ہے اور شعائیں جاتی رہتی ہیں پھر ایک ایک فرشتے کو پکارتے ہیں اور سب کے سب اوپر چڑھتے ہیں پس فرشتوں کا نور اور جبرائیل علیہ السلام کے پروں کا نور مل کر سورج کو ماند کر دیتا ہے اس دن سورج متحیر رہ جاتا ہے جبرائیل اور یہ سارے کے سارے بےشمار فرشتے اس دن آسمان و زمین کے درمیان مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے رحمت کی دعائیں مانگتے ہیں اور ان کے گناہوں کی بخشش طلب کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ نیک نیتی کے ساتھ روزے رکھنے والوں کے لیے اور ان لوگوں کے لیے بھی جن کا یہ خیال رہا کہ اگلے سال بھی اگر اللہ نے زندگی رکھی تو رمضان کے روزے عمدگی کے ساتھ پورے کریں گے یہی دعائیں مانگتے رہتے ہیں شام کو دنیا کے آسمان پر چڑھ جاتے ہیں وہاں کے تمام فرشتے حلقے باندھ باندھ کر ان کے پاس جمع ہو جاتے ہیں اور ایک ایک مرد اور ایک ایک عورت کے بارے میں ان سے سوال کرتے ہیں اور یہ جواب دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ پوچھتے ہیں کہ فلاں شخص کو امسال تم نے کس حالت میں پایا تو یہ کہتے ہیں کہ گزشتہ سال تو ہم نے اسے عبادتوں میں پایا تھا لیکن اس سال تو وہ بدعتوں میں مبتلا تھا اور فلاں شخص گزشتہ سال بدعتوں میں مبتلا تھا لیکن اس سال ہم نے اسے سنت کے مطابق عبادتوں میں پایا پس یہ فرشتے اس سے پہلے شخص کے لیے بخشش کی دعائیں مانگنی موقوف کر دیتے ہیں اور اس دوسرے شخص کے لیے شروع کر دیتے ہیں اور یہ فرشتے انہیں سناتے ہیں کہ فلاں فلاں کو ہم نے ذکر اللہ میں پایا اور فلاں کو رکوع میں اور فلاں کو سجدے میں اور فلاں کو کتاب اللہ کی تلاوت میں غرض ایک رات دن یہاں گزار کر دوسرے آسمان پر جاتے ہیں یہاں بھی یہی ہوتا ہے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ میں اپنی اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں اس وقت سدرۃ المنتہیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ مجھ میں بسنے والو! میرا بھی تم پر حق ہے میں بھی ان سے محبت رکھتا ہوں جو اللہ سے محبت رکھیں ذرا مجھے بھی تو لوگوں کی حالت کی خبر دو اور ان کے نام بتاؤ۔
10769
سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اب فرشتے اس کے سامنے گنتی کر کے اور ایک ایک مرد و عورت کا مع ولدیت کے نام بتاتے ہیں پھر جنت سدرۃ المنتہیٰ کی طرف متوجہ ہو کر پوچھتی ہے کہ تجھ میں رہنے والے فرشتوں نے جو خبریں تجھے دی ہیں مجھ سے بھی تو بیان کر چنانچہ سدرہ اس سے ذکر کرتا ہے یہ سن کر وہ کہتی ہے اللہ کی رحمت ہو فلاں مرد اور فلاں عورت پر اللہ انہیں جلدی مجھ سے ملا۔
جبرائیل علیہ السلام سب سے پہلے اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں انہیں الہام ہوتا ہے اور یہ عرض کرتے ہیں پروردگار میں نے تیرے فلاں فلاں بندوں کو سجدے میں پایا تو انہیں بخش، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے انہیں بخشا۔ جبرائیل علیہ السلام اسے عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کو سناتے ہیں پھر سب کہتے ہیں فلاں فلاں مرد و عورت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوئی اور مغفرت ہوئی پھر جبرائیل علیہ السلام خبر دیتے ہیں کہ باری تعالیٰ فلاں شخص کو گزشتہ سال تو عامل سنت اور عابد چھوڑا تھا لیکن امسال تو بدعتوں میں پڑ گیا اور تیرے احکام سے روگردانی کر لی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے جبرائیل اگر یہ مرنے سے تین ساعت پہلے بھی توبہ کر لے گا تو میں اسے بخش دوں گا۔ اس وقت جبرائیل علیہ السلام بےساختہ کہہ اٹھتے ہیں اللہ تیرے ہی لیے سب تعریفیں سزاوار ہیں الٰہی تو اپنی مخلوق پر سب سے زیادہ مہربان ہے بندوں پر تیری مہربانی خود ان کی مہربانی سے بھی بڑھی ہوئی ہے۔ اس وقت عرش اور اس کے آس پاس کی چیزیں پردے اور تمام آسمان جنبش میں آ جاتے ہیں اور کہہ اٹھتے ہیں «الْحَمْدُ لِلَّهِ الرَّحِيمِ»، «الْحَمْدُ لِلَّهِ الرَّحِيمِ» ۔
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ”جو شخص رمضان شریف کے روزے پورے کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ رمضان کے بعد بھی میں گناہوں سے بچتا رہوں گا وہ بغیر سوال و جواب کے اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہو گا۔“
سورۃ لیلۃ القدر کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10770