Tafsir Ibn Kathir — المسد 111:1 – الناس 114:6
Contents
المسد 111:1
بدترین اور بدنصیب میاں بیوی ٭٭
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء میں جا کر ایک پہاڑی پر چڑھ گئے اور اونچی آواز سے «يَا صَبَاحَاهُ، يَا صَبَاحَاهُ» کہنے لگے قریش سب جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں تم سے کہوں کہ صبح یا شام دشمن تم پر چھاپہ مارنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟“ سب نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! میں تمہیں اللہ کے سخت عذاب کے آنے کی خبر دے رہا ہوں“، تو ابولہب نے کہا: تجھے ہلاکت ہو، کیا اسی لیے تو نے ہمیں جمع کیا تھا؟ اس پر یہ سورت اتری [صحیح بخاری:4972]
دوسری روایت میں ہے کہ یہ ہاتھ جھاڑتا ہوا یوں کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ «تَبَّتْ» بد دعا ہے اور «تَبَّ» خبر ہے، یہ ابولہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا اس کا نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب تھا۔ اس کی کنیت ابوعتبہ تھی اس کے چہرے کی خوبصورتی اور چمک دمک کی وجہ سے اسے ابولہب یعنی شعلے والا کہا جاتا تھا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بدترین دشمن تھا ہر وقت ایذا دہی تکلیف رسانی اور نقصان پہنچانے کے درپے رہا کرتا تھا۔
سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے کے بعد اپنا جاہلیت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں: ”لوگو! «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه» کہو تو فلاح پاؤ گے“، لوگوں کا مجمع آپ کے آس پاس لگا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ آپ کے پیچھے ہی ایک گورے چٹے چمکتے چہرے والا بھینگی آنکھ والا جس کے سر کے بڑے بالوں کے دو مینڈھیاں تھیں۔ آیا اور کہنے لگا: لوگو! یہ بےدین ہے، جھوٹا ہے۔ غرض آپ لوگوں کے مجمع میں جا کر اللہ کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور یہ دشمن پیچھے پیچھے یہ کہتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ آپ کا چچا ابولہب ہے۔ «لعنہ اللہ» (مسند احمد) ابو الزیاد نے راوی حدیث ربیعہ سے کہا کہ آپ تو اس وقت بچہ ہوں گے؟ فرمایا: نہیں میں اس وقت خاصی عمر کا تھا مشک لاد کر پانی بھر لایا کرتا تھا ۔ [مسند احمد:341/4:صحیح لغیرہ]
10908
دوسری روایت میں ہے میں اپنے باپ کے ساتھ تھا میری جوان عمر تھی اور میں نے دیکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک قبیلے کے پاس جاتے اور فرماتے: لوگو! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں میں تم سے کہتا ہوں کہ ایک اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، مجھے سچا جانو مجھے میرے دشمنوں سے بچاؤ تاکہ میں اس کا کام بجا لاؤں جس کا حکم مجھے دے کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، آپ یہ پیغام پہنچا کر فارغ ہوتے تو آپ کا چچا ابولہب پیچھے سے پہنچتا اور کہتا، اے فلاں قبیلے کے لوگو! یہ شخص تمہیں لات و عزیٰ سے ہٹانا چاہتا ہے اور بنو مالک بن اقیش کے تمہارے حلیف جنوں سے تمہیں دور کر رہا ہے اور اپنی نئی لائی ہوئی گمراہی کی طرف تمہیں گھسیٹ رہا ہے، خبردار نہ اس کی سننا نہ ماننا۔ [مسند احمد:492/3:ضعیف]
10909
اللہ تعالیٰ اس سورت میں فرماتا ہے کہ ابولہب برباد ہوا اس کی کوشش غارت ہوئی اس کے اعمال ہلاک ہوئے بالیقین اس کی بربادی ہو چکی، اس کی اولاد اس کے کام نہ آئی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا تو ابولہب کہنے لگا اگر میرے بھتیجے کی باتیں حق ہیں تو میں قیامت کے دن اپنا مال و اولاد اللہ کو فدیہ میں دے کر اس عذاب سے چھوٹ جاؤں گا اس پر آیتیں «مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ» [111-المسد:2] ، اتری۔
پھر فرمایا: کہ یہ شعلے مارنے والی آگ میں جو سخت جلانے والی اور بہت تیز ہے داخل ہو گا، اور اس کی بیوی بھی جو قریش عورتوں کی سردار تھی اس کی کنیت ام جمیل تھی نام ارویٰ تھا، حرب بن امیہ کی لڑکی تھی ابوسفیان کی بہن تھی اور اپنے خاوند کے کفر و عناد اور سرکشی و دشمنی میں یہ بھی اس کے ساتھ تھی اس لیے قیامت کے دن عذابوں میں بھی اسی کے ساتھ ہو گی، لکڑیاں اٹھا اٹھا کر لائے گی اور جس آگ میں اس کا خاوند جل رہا ہو گا ڈالتی جائے گی اس کے گلے میں آگ کی رسی ہو گی۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ «حَمَّالَةَ الْحَطَبِ» سے مراد اس کا غیب گو ہونا ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند کرتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ یہ جنگل سے خار دار لکڑیاں چن لاتی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں بچھا دیا کرتی تھی، یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فقیری کا طعنہ دیا کرتی تھی تو اسے اس کا لکڑیاں چننا یاد دلایا گیا، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10910
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے پاس ایک نفیس ہار تھا کہتی تھی کہ اسے میں فروخت کر کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں خرچ کروں گی تو یہاں فرمایا گیا کہ اس کے بدلے اس کے گلے میں آگ کا طوق ڈالا جائے گا۔
«مسد» کے معنی کھجور کی رسی کے ہیں۔ عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ جہنم کی زنجیر ہے جس کی ایک ایک کڑی ستر ستر گز کی ہے۔ ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جہنم کا طوق ہے جس کی لمبائی ستر ہاتھ ہے۔ جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اونٹ کی کھال کی اور اونٹ کے بالوں کی بنائی جاتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی لوہے کا طوق۔
10911
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب یہ سورت اتری تو یہ بھینگی عورت ام جمیل بنت کرب اپنے ہاتھ میں نوکدار پتھر لیے یوں کہتی ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ «مُذَمَّمَا اَبَيْنَا ... وَدِيْنَه قَلَيْنَا ... وَاَمْرَه عَصَيْنَا» یعنی ہم مذمم کے منکر ہیں ... اور اس کے دین کے دشمن ہیں ... اور اس کے نافرمان ہیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبۃ اللہ میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ کے ساتھ میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی تھے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اسے اس حالت میں دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ آ رہی ہے ایسا نہ ہو آپ کو دیکھ لے، آپ نے فرمایا: ”صدیق بےغم رہو یہ مجھے نہیں دیکھ سکتی“، پھر آپ نے قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دی تاکہ اس سے بچ جائیں، خود قرآن فرماتا ہے «وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا» [17-الإسراء:45] یعنی ”جب تو قرآن پڑھتا ہے تو ہم تیرے اور ایمان نہ لانے والوں کے درمیان پوشیدہ پردہ ڈال دیتے ہیں“۔ یہ ڈائن آ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑی ہو گئی گو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ہی بالکل ظاہر بیٹھے ہوئے تھے لیکن حجابوں نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگی مجھے معلوم ہوا ہے کہ تیرے ساتھی نے میری ہجو کی ہے یعنی شعروں میں میری مذمت کی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، نہیں، رب البیت کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیری کوئی ہجو نہیں کی تو یہ کہتی ہوئی لوٹ گئی کہ قریش تو جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی بیٹی ہوں ۔ [مستدرک حاکم:361/2:صحیح] (ابن ابی حاتم)
10912
ایک مرتبہ یہ اپنی چادر اوڑھے طواف کر رہی تھی پیر چادر میں الجھ گیا اور پھسل پڑی تو کہنے لگی مذمم غارت ہو۔ ام حکیم بنت عبدالطلب نے کہا میں تو پاک دامن عورت ہوں اپنی زبان نہیں بگاڑوں گی اور دوست پسند ہوں پس داغ نہ لگاؤں گی اور ہم سب ایک ہی دادا کی اولاد میں سے ہیں اور قریش ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔
بزار میں ہے کہ اس نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تیرے ساتھی نے میری ہجو کی ہے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر جواب دیا کہ نہ تو آپ شعر گوئی جانتے ہیں نہ کبھی آپ نے شعر کہے، اس کے جانے کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اس نے آپ کو دیکھا نہیں؟ آپ نے فرمایا: ”فرشتہ آڑ بن کر کھڑا ہوا تھا جب تک وہ واپس چلی نہ گئی“ ۔ [مسند ابویعلی:23585:حسن]
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اس کے گلے میں جہنم کی آگ کی رسی ہو گی جس سے اسے کھینچ کر جہنم کے اوپر لایا جائے گا پھر ڈھیلی چھوڑ کر جہنم کی تہہ میں ڈال دیا جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا، ڈول کی رسی کو عرب «مسد» کہہ دیا کرتے ہیں۔ عربی شعروں میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں لایا گیا ہے۔
ہاں یہ یاد رہے کہ یہ بابرکت سورت ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک اعلیٰ دلیل ہے کیونکہ جس طرح ان کی بدبختی کی خبر اس سورت میں دی گئی تھی اسی طرح واقعہ بھی ہوا ان دونوں کو ایمان لانا آخر تک نصیب ہی نہ ہوا نہ تو وہ ظاہر میں مسلمان ہوئے، نہ باطن میں، نہ چھپے، نہ کھلے، پس یہ سورت زبردست بہت صاف اور روشن دلیل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی۔
اس سورت کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں ہیں اور اسی کے فضل و کرم اور اسی کے احسان و انعام کی یہ برکت ہے۔
10913
المسد 111:2
بدترین اور بدنصیب میاں بیوی ٭٭
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء میں جا کر ایک پہاڑی پر چڑھ گئے اور اونچی آواز سے «يَا صَبَاحَاهُ، يَا صَبَاحَاهُ» کہنے لگے قریش سب جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں تم سے کہوں کہ صبح یا شام دشمن تم پر چھاپہ مارنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟“ سب نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! میں تمہیں اللہ کے سخت عذاب کے آنے کی خبر دے رہا ہوں“، تو ابولہب نے کہا: تجھے ہلاکت ہو، کیا اسی لیے تو نے ہمیں جمع کیا تھا؟ اس پر یہ سورت اتری [صحیح بخاری:4972]
دوسری روایت میں ہے کہ یہ ہاتھ جھاڑتا ہوا یوں کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ «تَبَّتْ» بد دعا ہے اور «تَبَّ» خبر ہے، یہ ابولہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا اس کا نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب تھا۔ اس کی کنیت ابوعتبہ تھی اس کے چہرے کی خوبصورتی اور چمک دمک کی وجہ سے اسے ابولہب یعنی شعلے والا کہا جاتا تھا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بدترین دشمن تھا ہر وقت ایذا دہی تکلیف رسانی اور نقصان پہنچانے کے درپے رہا کرتا تھا۔
سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے کے بعد اپنا جاہلیت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں: ”لوگو! «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه» کہو تو فلاح پاؤ گے“، لوگوں کا مجمع آپ کے آس پاس لگا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ آپ کے پیچھے ہی ایک گورے چٹے چمکتے چہرے والا بھینگی آنکھ والا جس کے سر کے بڑے بالوں کے دو مینڈھیاں تھیں۔ آیا اور کہنے لگا: لوگو! یہ بےدین ہے، جھوٹا ہے۔ غرض آپ لوگوں کے مجمع میں جا کر اللہ کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور یہ دشمن پیچھے پیچھے یہ کہتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ آپ کا چچا ابولہب ہے۔ «لعنہ اللہ» (مسند احمد) ابو الزیاد نے راوی حدیث ربیعہ سے کہا کہ آپ تو اس وقت بچہ ہوں گے؟ فرمایا: نہیں میں اس وقت خاصی عمر کا تھا مشک لاد کر پانی بھر لایا کرتا تھا ۔ [مسند احمد:341/4:صحیح لغیرہ]
10908
دوسری روایت میں ہے میں اپنے باپ کے ساتھ تھا میری جوان عمر تھی اور میں نے دیکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک قبیلے کے پاس جاتے اور فرماتے: لوگو! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں میں تم سے کہتا ہوں کہ ایک اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، مجھے سچا جانو مجھے میرے دشمنوں سے بچاؤ تاکہ میں اس کا کام بجا لاؤں جس کا حکم مجھے دے کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، آپ یہ پیغام پہنچا کر فارغ ہوتے تو آپ کا چچا ابولہب پیچھے سے پہنچتا اور کہتا، اے فلاں قبیلے کے لوگو! یہ شخص تمہیں لات و عزیٰ سے ہٹانا چاہتا ہے اور بنو مالک بن اقیش کے تمہارے حلیف جنوں سے تمہیں دور کر رہا ہے اور اپنی نئی لائی ہوئی گمراہی کی طرف تمہیں گھسیٹ رہا ہے، خبردار نہ اس کی سننا نہ ماننا۔ [مسند احمد:492/3:ضعیف]
10909
اللہ تعالیٰ اس سورت میں فرماتا ہے کہ ابولہب برباد ہوا اس کی کوشش غارت ہوئی اس کے اعمال ہلاک ہوئے بالیقین اس کی بربادی ہو چکی، اس کی اولاد اس کے کام نہ آئی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا تو ابولہب کہنے لگا اگر میرے بھتیجے کی باتیں حق ہیں تو میں قیامت کے دن اپنا مال و اولاد اللہ کو فدیہ میں دے کر اس عذاب سے چھوٹ جاؤں گا اس پر آیتیں «مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ» [111-المسد:2] ، اتری۔
پھر فرمایا: کہ یہ شعلے مارنے والی آگ میں جو سخت جلانے والی اور بہت تیز ہے داخل ہو گا، اور اس کی بیوی بھی جو قریش عورتوں کی سردار تھی اس کی کنیت ام جمیل تھی نام ارویٰ تھا، حرب بن امیہ کی لڑکی تھی ابوسفیان کی بہن تھی اور اپنے خاوند کے کفر و عناد اور سرکشی و دشمنی میں یہ بھی اس کے ساتھ تھی اس لیے قیامت کے دن عذابوں میں بھی اسی کے ساتھ ہو گی، لکڑیاں اٹھا اٹھا کر لائے گی اور جس آگ میں اس کا خاوند جل رہا ہو گا ڈالتی جائے گی اس کے گلے میں آگ کی رسی ہو گی۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ «حَمَّالَةَ الْحَطَبِ» سے مراد اس کا غیب گو ہونا ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند کرتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ یہ جنگل سے خار دار لکڑیاں چن لاتی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں بچھا دیا کرتی تھی، یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فقیری کا طعنہ دیا کرتی تھی تو اسے اس کا لکڑیاں چننا یاد دلایا گیا، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10910
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے پاس ایک نفیس ہار تھا کہتی تھی کہ اسے میں فروخت کر کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں خرچ کروں گی تو یہاں فرمایا گیا کہ اس کے بدلے اس کے گلے میں آگ کا طوق ڈالا جائے گا۔
«مسد» کے معنی کھجور کی رسی کے ہیں۔ عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ جہنم کی زنجیر ہے جس کی ایک ایک کڑی ستر ستر گز کی ہے۔ ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جہنم کا طوق ہے جس کی لمبائی ستر ہاتھ ہے۔ جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اونٹ کی کھال کی اور اونٹ کے بالوں کی بنائی جاتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی لوہے کا طوق۔
10911
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب یہ سورت اتری تو یہ بھینگی عورت ام جمیل بنت کرب اپنے ہاتھ میں نوکدار پتھر لیے یوں کہتی ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ «مُذَمَّمَا اَبَيْنَا ... وَدِيْنَه قَلَيْنَا ... وَاَمْرَه عَصَيْنَا» یعنی ہم مذمم کے منکر ہیں ... اور اس کے دین کے دشمن ہیں ... اور اس کے نافرمان ہیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبۃ اللہ میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ کے ساتھ میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی تھے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اسے اس حالت میں دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ آ رہی ہے ایسا نہ ہو آپ کو دیکھ لے، آپ نے فرمایا: ”صدیق بےغم رہو یہ مجھے نہیں دیکھ سکتی“، پھر آپ نے قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دی تاکہ اس سے بچ جائیں، خود قرآن فرماتا ہے «وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا» [17-الإسراء:45] یعنی ”جب تو قرآن پڑھتا ہے تو ہم تیرے اور ایمان نہ لانے والوں کے درمیان پوشیدہ پردہ ڈال دیتے ہیں“۔ یہ ڈائن آ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑی ہو گئی گو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ہی بالکل ظاہر بیٹھے ہوئے تھے لیکن حجابوں نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگی مجھے معلوم ہوا ہے کہ تیرے ساتھی نے میری ہجو کی ہے یعنی شعروں میں میری مذمت کی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، نہیں، رب البیت کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیری کوئی ہجو نہیں کی تو یہ کہتی ہوئی لوٹ گئی کہ قریش تو جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی بیٹی ہوں ۔ [مستدرک حاکم:361/2:صحیح] (ابن ابی حاتم)
10912
ایک مرتبہ یہ اپنی چادر اوڑھے طواف کر رہی تھی پیر چادر میں الجھ گیا اور پھسل پڑی تو کہنے لگی مذمم غارت ہو۔ ام حکیم بنت عبدالطلب نے کہا میں تو پاک دامن عورت ہوں اپنی زبان نہیں بگاڑوں گی اور دوست پسند ہوں پس داغ نہ لگاؤں گی اور ہم سب ایک ہی دادا کی اولاد میں سے ہیں اور قریش ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔
بزار میں ہے کہ اس نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تیرے ساتھی نے میری ہجو کی ہے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر جواب دیا کہ نہ تو آپ شعر گوئی جانتے ہیں نہ کبھی آپ نے شعر کہے، اس کے جانے کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اس نے آپ کو دیکھا نہیں؟ آپ نے فرمایا: ”فرشتہ آڑ بن کر کھڑا ہوا تھا جب تک وہ واپس چلی نہ گئی“ ۔ [مسند ابویعلی:23585:حسن]
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اس کے گلے میں جہنم کی آگ کی رسی ہو گی جس سے اسے کھینچ کر جہنم کے اوپر لایا جائے گا پھر ڈھیلی چھوڑ کر جہنم کی تہہ میں ڈال دیا جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا، ڈول کی رسی کو عرب «مسد» کہہ دیا کرتے ہیں۔ عربی شعروں میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں لایا گیا ہے۔
ہاں یہ یاد رہے کہ یہ بابرکت سورت ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک اعلیٰ دلیل ہے کیونکہ جس طرح ان کی بدبختی کی خبر اس سورت میں دی گئی تھی اسی طرح واقعہ بھی ہوا ان دونوں کو ایمان لانا آخر تک نصیب ہی نہ ہوا نہ تو وہ ظاہر میں مسلمان ہوئے، نہ باطن میں، نہ چھپے، نہ کھلے، پس یہ سورت زبردست بہت صاف اور روشن دلیل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی۔
اس سورت کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں ہیں اور اسی کے فضل و کرم اور اسی کے احسان و انعام کی یہ برکت ہے۔
10913
المسد 111:3
بدترین اور بدنصیب میاں بیوی ٭٭
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء میں جا کر ایک پہاڑی پر چڑھ گئے اور اونچی آواز سے «يَا صَبَاحَاهُ، يَا صَبَاحَاهُ» کہنے لگے قریش سب جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں تم سے کہوں کہ صبح یا شام دشمن تم پر چھاپہ مارنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟“ سب نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! میں تمہیں اللہ کے سخت عذاب کے آنے کی خبر دے رہا ہوں“، تو ابولہب نے کہا: تجھے ہلاکت ہو، کیا اسی لیے تو نے ہمیں جمع کیا تھا؟ اس پر یہ سورت اتری [صحیح بخاری:4972]
دوسری روایت میں ہے کہ یہ ہاتھ جھاڑتا ہوا یوں کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ «تَبَّتْ» بد دعا ہے اور «تَبَّ» خبر ہے، یہ ابولہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا اس کا نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب تھا۔ اس کی کنیت ابوعتبہ تھی اس کے چہرے کی خوبصورتی اور چمک دمک کی وجہ سے اسے ابولہب یعنی شعلے والا کہا جاتا تھا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بدترین دشمن تھا ہر وقت ایذا دہی تکلیف رسانی اور نقصان پہنچانے کے درپے رہا کرتا تھا۔
سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے کے بعد اپنا جاہلیت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں: ”لوگو! «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه» کہو تو فلاح پاؤ گے“، لوگوں کا مجمع آپ کے آس پاس لگا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ آپ کے پیچھے ہی ایک گورے چٹے چمکتے چہرے والا بھینگی آنکھ والا جس کے سر کے بڑے بالوں کے دو مینڈھیاں تھیں۔ آیا اور کہنے لگا: لوگو! یہ بےدین ہے، جھوٹا ہے۔ غرض آپ لوگوں کے مجمع میں جا کر اللہ کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور یہ دشمن پیچھے پیچھے یہ کہتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ آپ کا چچا ابولہب ہے۔ «لعنہ اللہ» (مسند احمد) ابو الزیاد نے راوی حدیث ربیعہ سے کہا کہ آپ تو اس وقت بچہ ہوں گے؟ فرمایا: نہیں میں اس وقت خاصی عمر کا تھا مشک لاد کر پانی بھر لایا کرتا تھا ۔ [مسند احمد:341/4:صحیح لغیرہ]
10908
دوسری روایت میں ہے میں اپنے باپ کے ساتھ تھا میری جوان عمر تھی اور میں نے دیکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک قبیلے کے پاس جاتے اور فرماتے: لوگو! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں میں تم سے کہتا ہوں کہ ایک اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، مجھے سچا جانو مجھے میرے دشمنوں سے بچاؤ تاکہ میں اس کا کام بجا لاؤں جس کا حکم مجھے دے کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، آپ یہ پیغام پہنچا کر فارغ ہوتے تو آپ کا چچا ابولہب پیچھے سے پہنچتا اور کہتا، اے فلاں قبیلے کے لوگو! یہ شخص تمہیں لات و عزیٰ سے ہٹانا چاہتا ہے اور بنو مالک بن اقیش کے تمہارے حلیف جنوں سے تمہیں دور کر رہا ہے اور اپنی نئی لائی ہوئی گمراہی کی طرف تمہیں گھسیٹ رہا ہے، خبردار نہ اس کی سننا نہ ماننا۔ [مسند احمد:492/3:ضعیف]
10909
اللہ تعالیٰ اس سورت میں فرماتا ہے کہ ابولہب برباد ہوا اس کی کوشش غارت ہوئی اس کے اعمال ہلاک ہوئے بالیقین اس کی بربادی ہو چکی، اس کی اولاد اس کے کام نہ آئی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا تو ابولہب کہنے لگا اگر میرے بھتیجے کی باتیں حق ہیں تو میں قیامت کے دن اپنا مال و اولاد اللہ کو فدیہ میں دے کر اس عذاب سے چھوٹ جاؤں گا اس پر آیتیں «مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ» [111-المسد:2] ، اتری۔
پھر فرمایا: کہ یہ شعلے مارنے والی آگ میں جو سخت جلانے والی اور بہت تیز ہے داخل ہو گا، اور اس کی بیوی بھی جو قریش عورتوں کی سردار تھی اس کی کنیت ام جمیل تھی نام ارویٰ تھا، حرب بن امیہ کی لڑکی تھی ابوسفیان کی بہن تھی اور اپنے خاوند کے کفر و عناد اور سرکشی و دشمنی میں یہ بھی اس کے ساتھ تھی اس لیے قیامت کے دن عذابوں میں بھی اسی کے ساتھ ہو گی، لکڑیاں اٹھا اٹھا کر لائے گی اور جس آگ میں اس کا خاوند جل رہا ہو گا ڈالتی جائے گی اس کے گلے میں آگ کی رسی ہو گی۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ «حَمَّالَةَ الْحَطَبِ» سے مراد اس کا غیب گو ہونا ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند کرتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ یہ جنگل سے خار دار لکڑیاں چن لاتی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں بچھا دیا کرتی تھی، یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فقیری کا طعنہ دیا کرتی تھی تو اسے اس کا لکڑیاں چننا یاد دلایا گیا، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10910
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے پاس ایک نفیس ہار تھا کہتی تھی کہ اسے میں فروخت کر کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں خرچ کروں گی تو یہاں فرمایا گیا کہ اس کے بدلے اس کے گلے میں آگ کا طوق ڈالا جائے گا۔
«مسد» کے معنی کھجور کی رسی کے ہیں۔ عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ جہنم کی زنجیر ہے جس کی ایک ایک کڑی ستر ستر گز کی ہے۔ ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جہنم کا طوق ہے جس کی لمبائی ستر ہاتھ ہے۔ جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اونٹ کی کھال کی اور اونٹ کے بالوں کی بنائی جاتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی لوہے کا طوق۔
10911
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب یہ سورت اتری تو یہ بھینگی عورت ام جمیل بنت کرب اپنے ہاتھ میں نوکدار پتھر لیے یوں کہتی ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ «مُذَمَّمَا اَبَيْنَا ... وَدِيْنَه قَلَيْنَا ... وَاَمْرَه عَصَيْنَا» یعنی ہم مذمم کے منکر ہیں ... اور اس کے دین کے دشمن ہیں ... اور اس کے نافرمان ہیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبۃ اللہ میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ کے ساتھ میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی تھے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اسے اس حالت میں دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ آ رہی ہے ایسا نہ ہو آپ کو دیکھ لے، آپ نے فرمایا: ”صدیق بےغم رہو یہ مجھے نہیں دیکھ سکتی“، پھر آپ نے قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دی تاکہ اس سے بچ جائیں، خود قرآن فرماتا ہے «وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا» [17-الإسراء:45] یعنی ”جب تو قرآن پڑھتا ہے تو ہم تیرے اور ایمان نہ لانے والوں کے درمیان پوشیدہ پردہ ڈال دیتے ہیں“۔ یہ ڈائن آ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑی ہو گئی گو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ہی بالکل ظاہر بیٹھے ہوئے تھے لیکن حجابوں نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگی مجھے معلوم ہوا ہے کہ تیرے ساتھی نے میری ہجو کی ہے یعنی شعروں میں میری مذمت کی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، نہیں، رب البیت کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیری کوئی ہجو نہیں کی تو یہ کہتی ہوئی لوٹ گئی کہ قریش تو جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی بیٹی ہوں ۔ [مستدرک حاکم:361/2:صحیح] (ابن ابی حاتم)
10912
ایک مرتبہ یہ اپنی چادر اوڑھے طواف کر رہی تھی پیر چادر میں الجھ گیا اور پھسل پڑی تو کہنے لگی مذمم غارت ہو۔ ام حکیم بنت عبدالطلب نے کہا میں تو پاک دامن عورت ہوں اپنی زبان نہیں بگاڑوں گی اور دوست پسند ہوں پس داغ نہ لگاؤں گی اور ہم سب ایک ہی دادا کی اولاد میں سے ہیں اور قریش ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔
بزار میں ہے کہ اس نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تیرے ساتھی نے میری ہجو کی ہے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر جواب دیا کہ نہ تو آپ شعر گوئی جانتے ہیں نہ کبھی آپ نے شعر کہے، اس کے جانے کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اس نے آپ کو دیکھا نہیں؟ آپ نے فرمایا: ”فرشتہ آڑ بن کر کھڑا ہوا تھا جب تک وہ واپس چلی نہ گئی“ ۔ [مسند ابویعلی:23585:حسن]
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اس کے گلے میں جہنم کی آگ کی رسی ہو گی جس سے اسے کھینچ کر جہنم کے اوپر لایا جائے گا پھر ڈھیلی چھوڑ کر جہنم کی تہہ میں ڈال دیا جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا، ڈول کی رسی کو عرب «مسد» کہہ دیا کرتے ہیں۔ عربی شعروں میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں لایا گیا ہے۔
ہاں یہ یاد رہے کہ یہ بابرکت سورت ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک اعلیٰ دلیل ہے کیونکہ جس طرح ان کی بدبختی کی خبر اس سورت میں دی گئی تھی اسی طرح واقعہ بھی ہوا ان دونوں کو ایمان لانا آخر تک نصیب ہی نہ ہوا نہ تو وہ ظاہر میں مسلمان ہوئے، نہ باطن میں، نہ چھپے، نہ کھلے، پس یہ سورت زبردست بہت صاف اور روشن دلیل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی۔
اس سورت کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں ہیں اور اسی کے فضل و کرم اور اسی کے احسان و انعام کی یہ برکت ہے۔
10913
المسد 111:4
بدترین اور بدنصیب میاں بیوی ٭٭
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء میں جا کر ایک پہاڑی پر چڑھ گئے اور اونچی آواز سے «يَا صَبَاحَاهُ، يَا صَبَاحَاهُ» کہنے لگے قریش سب جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں تم سے کہوں کہ صبح یا شام دشمن تم پر چھاپہ مارنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟“ سب نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! میں تمہیں اللہ کے سخت عذاب کے آنے کی خبر دے رہا ہوں“، تو ابولہب نے کہا: تجھے ہلاکت ہو، کیا اسی لیے تو نے ہمیں جمع کیا تھا؟ اس پر یہ سورت اتری [صحیح بخاری:4972]
دوسری روایت میں ہے کہ یہ ہاتھ جھاڑتا ہوا یوں کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ «تَبَّتْ» بد دعا ہے اور «تَبَّ» خبر ہے، یہ ابولہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا اس کا نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب تھا۔ اس کی کنیت ابوعتبہ تھی اس کے چہرے کی خوبصورتی اور چمک دمک کی وجہ سے اسے ابولہب یعنی شعلے والا کہا جاتا تھا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بدترین دشمن تھا ہر وقت ایذا دہی تکلیف رسانی اور نقصان پہنچانے کے درپے رہا کرتا تھا۔
سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے کے بعد اپنا جاہلیت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں: ”لوگو! «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه» کہو تو فلاح پاؤ گے“، لوگوں کا مجمع آپ کے آس پاس لگا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ آپ کے پیچھے ہی ایک گورے چٹے چمکتے چہرے والا بھینگی آنکھ والا جس کے سر کے بڑے بالوں کے دو مینڈھیاں تھیں۔ آیا اور کہنے لگا: لوگو! یہ بےدین ہے، جھوٹا ہے۔ غرض آپ لوگوں کے مجمع میں جا کر اللہ کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور یہ دشمن پیچھے پیچھے یہ کہتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ آپ کا چچا ابولہب ہے۔ «لعنہ اللہ» (مسند احمد) ابو الزیاد نے راوی حدیث ربیعہ سے کہا کہ آپ تو اس وقت بچہ ہوں گے؟ فرمایا: نہیں میں اس وقت خاصی عمر کا تھا مشک لاد کر پانی بھر لایا کرتا تھا ۔ [مسند احمد:341/4:صحیح لغیرہ]
10908
دوسری روایت میں ہے میں اپنے باپ کے ساتھ تھا میری جوان عمر تھی اور میں نے دیکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک قبیلے کے پاس جاتے اور فرماتے: لوگو! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں میں تم سے کہتا ہوں کہ ایک اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، مجھے سچا جانو مجھے میرے دشمنوں سے بچاؤ تاکہ میں اس کا کام بجا لاؤں جس کا حکم مجھے دے کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، آپ یہ پیغام پہنچا کر فارغ ہوتے تو آپ کا چچا ابولہب پیچھے سے پہنچتا اور کہتا، اے فلاں قبیلے کے لوگو! یہ شخص تمہیں لات و عزیٰ سے ہٹانا چاہتا ہے اور بنو مالک بن اقیش کے تمہارے حلیف جنوں سے تمہیں دور کر رہا ہے اور اپنی نئی لائی ہوئی گمراہی کی طرف تمہیں گھسیٹ رہا ہے، خبردار نہ اس کی سننا نہ ماننا۔ [مسند احمد:492/3:ضعیف]
10909
اللہ تعالیٰ اس سورت میں فرماتا ہے کہ ابولہب برباد ہوا اس کی کوشش غارت ہوئی اس کے اعمال ہلاک ہوئے بالیقین اس کی بربادی ہو چکی، اس کی اولاد اس کے کام نہ آئی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا تو ابولہب کہنے لگا اگر میرے بھتیجے کی باتیں حق ہیں تو میں قیامت کے دن اپنا مال و اولاد اللہ کو فدیہ میں دے کر اس عذاب سے چھوٹ جاؤں گا اس پر آیتیں «مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ» [111-المسد:2] ، اتری۔
پھر فرمایا: کہ یہ شعلے مارنے والی آگ میں جو سخت جلانے والی اور بہت تیز ہے داخل ہو گا، اور اس کی بیوی بھی جو قریش عورتوں کی سردار تھی اس کی کنیت ام جمیل تھی نام ارویٰ تھا، حرب بن امیہ کی لڑکی تھی ابوسفیان کی بہن تھی اور اپنے خاوند کے کفر و عناد اور سرکشی و دشمنی میں یہ بھی اس کے ساتھ تھی اس لیے قیامت کے دن عذابوں میں بھی اسی کے ساتھ ہو گی، لکڑیاں اٹھا اٹھا کر لائے گی اور جس آگ میں اس کا خاوند جل رہا ہو گا ڈالتی جائے گی اس کے گلے میں آگ کی رسی ہو گی۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ «حَمَّالَةَ الْحَطَبِ» سے مراد اس کا غیب گو ہونا ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند کرتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ یہ جنگل سے خار دار لکڑیاں چن لاتی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں بچھا دیا کرتی تھی، یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فقیری کا طعنہ دیا کرتی تھی تو اسے اس کا لکڑیاں چننا یاد دلایا گیا، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10910
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے پاس ایک نفیس ہار تھا کہتی تھی کہ اسے میں فروخت کر کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں خرچ کروں گی تو یہاں فرمایا گیا کہ اس کے بدلے اس کے گلے میں آگ کا طوق ڈالا جائے گا۔
«مسد» کے معنی کھجور کی رسی کے ہیں۔ عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ جہنم کی زنجیر ہے جس کی ایک ایک کڑی ستر ستر گز کی ہے۔ ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جہنم کا طوق ہے جس کی لمبائی ستر ہاتھ ہے۔ جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اونٹ کی کھال کی اور اونٹ کے بالوں کی بنائی جاتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی لوہے کا طوق۔
10911
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب یہ سورت اتری تو یہ بھینگی عورت ام جمیل بنت کرب اپنے ہاتھ میں نوکدار پتھر لیے یوں کہتی ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ «مُذَمَّمَا اَبَيْنَا ... وَدِيْنَه قَلَيْنَا ... وَاَمْرَه عَصَيْنَا» یعنی ہم مذمم کے منکر ہیں ... اور اس کے دین کے دشمن ہیں ... اور اس کے نافرمان ہیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبۃ اللہ میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ کے ساتھ میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی تھے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اسے اس حالت میں دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ آ رہی ہے ایسا نہ ہو آپ کو دیکھ لے، آپ نے فرمایا: ”صدیق بےغم رہو یہ مجھے نہیں دیکھ سکتی“، پھر آپ نے قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دی تاکہ اس سے بچ جائیں، خود قرآن فرماتا ہے «وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا» [17-الإسراء:45] یعنی ”جب تو قرآن پڑھتا ہے تو ہم تیرے اور ایمان نہ لانے والوں کے درمیان پوشیدہ پردہ ڈال دیتے ہیں“۔ یہ ڈائن آ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑی ہو گئی گو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ہی بالکل ظاہر بیٹھے ہوئے تھے لیکن حجابوں نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگی مجھے معلوم ہوا ہے کہ تیرے ساتھی نے میری ہجو کی ہے یعنی شعروں میں میری مذمت کی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، نہیں، رب البیت کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیری کوئی ہجو نہیں کی تو یہ کہتی ہوئی لوٹ گئی کہ قریش تو جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی بیٹی ہوں ۔ [مستدرک حاکم:361/2:صحیح] (ابن ابی حاتم)
10912
ایک مرتبہ یہ اپنی چادر اوڑھے طواف کر رہی تھی پیر چادر میں الجھ گیا اور پھسل پڑی تو کہنے لگی مذمم غارت ہو۔ ام حکیم بنت عبدالطلب نے کہا میں تو پاک دامن عورت ہوں اپنی زبان نہیں بگاڑوں گی اور دوست پسند ہوں پس داغ نہ لگاؤں گی اور ہم سب ایک ہی دادا کی اولاد میں سے ہیں اور قریش ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔
بزار میں ہے کہ اس نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تیرے ساتھی نے میری ہجو کی ہے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر جواب دیا کہ نہ تو آپ شعر گوئی جانتے ہیں نہ کبھی آپ نے شعر کہے، اس کے جانے کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اس نے آپ کو دیکھا نہیں؟ آپ نے فرمایا: ”فرشتہ آڑ بن کر کھڑا ہوا تھا جب تک وہ واپس چلی نہ گئی“ ۔ [مسند ابویعلی:23585:حسن]
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اس کے گلے میں جہنم کی آگ کی رسی ہو گی جس سے اسے کھینچ کر جہنم کے اوپر لایا جائے گا پھر ڈھیلی چھوڑ کر جہنم کی تہہ میں ڈال دیا جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا، ڈول کی رسی کو عرب «مسد» کہہ دیا کرتے ہیں۔ عربی شعروں میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں لایا گیا ہے۔
ہاں یہ یاد رہے کہ یہ بابرکت سورت ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک اعلیٰ دلیل ہے کیونکہ جس طرح ان کی بدبختی کی خبر اس سورت میں دی گئی تھی اسی طرح واقعہ بھی ہوا ان دونوں کو ایمان لانا آخر تک نصیب ہی نہ ہوا نہ تو وہ ظاہر میں مسلمان ہوئے، نہ باطن میں، نہ چھپے، نہ کھلے، پس یہ سورت زبردست بہت صاف اور روشن دلیل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی۔
اس سورت کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں ہیں اور اسی کے فضل و کرم اور اسی کے احسان و انعام کی یہ برکت ہے۔
10913
المسد 111:5
بدترین اور بدنصیب میاں بیوی ٭٭
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء میں جا کر ایک پہاڑی پر چڑھ گئے اور اونچی آواز سے «يَا صَبَاحَاهُ، يَا صَبَاحَاهُ» کہنے لگے قریش سب جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں تم سے کہوں کہ صبح یا شام دشمن تم پر چھاپہ مارنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟“ سب نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! میں تمہیں اللہ کے سخت عذاب کے آنے کی خبر دے رہا ہوں“، تو ابولہب نے کہا: تجھے ہلاکت ہو، کیا اسی لیے تو نے ہمیں جمع کیا تھا؟ اس پر یہ سورت اتری [صحیح بخاری:4972]
دوسری روایت میں ہے کہ یہ ہاتھ جھاڑتا ہوا یوں کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ «تَبَّتْ» بد دعا ہے اور «تَبَّ» خبر ہے، یہ ابولہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا اس کا نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب تھا۔ اس کی کنیت ابوعتبہ تھی اس کے چہرے کی خوبصورتی اور چمک دمک کی وجہ سے اسے ابولہب یعنی شعلے والا کہا جاتا تھا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بدترین دشمن تھا ہر وقت ایذا دہی تکلیف رسانی اور نقصان پہنچانے کے درپے رہا کرتا تھا۔
سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے کے بعد اپنا جاہلیت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں: ”لوگو! «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه» کہو تو فلاح پاؤ گے“، لوگوں کا مجمع آپ کے آس پاس لگا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ آپ کے پیچھے ہی ایک گورے چٹے چمکتے چہرے والا بھینگی آنکھ والا جس کے سر کے بڑے بالوں کے دو مینڈھیاں تھیں۔ آیا اور کہنے لگا: لوگو! یہ بےدین ہے، جھوٹا ہے۔ غرض آپ لوگوں کے مجمع میں جا کر اللہ کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور یہ دشمن پیچھے پیچھے یہ کہتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ آپ کا چچا ابولہب ہے۔ «لعنہ اللہ» (مسند احمد) ابو الزیاد نے راوی حدیث ربیعہ سے کہا کہ آپ تو اس وقت بچہ ہوں گے؟ فرمایا: نہیں میں اس وقت خاصی عمر کا تھا مشک لاد کر پانی بھر لایا کرتا تھا ۔ [مسند احمد:341/4:صحیح لغیرہ]
10908
دوسری روایت میں ہے میں اپنے باپ کے ساتھ تھا میری جوان عمر تھی اور میں نے دیکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک قبیلے کے پاس جاتے اور فرماتے: لوگو! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں میں تم سے کہتا ہوں کہ ایک اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، مجھے سچا جانو مجھے میرے دشمنوں سے بچاؤ تاکہ میں اس کا کام بجا لاؤں جس کا حکم مجھے دے کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، آپ یہ پیغام پہنچا کر فارغ ہوتے تو آپ کا چچا ابولہب پیچھے سے پہنچتا اور کہتا، اے فلاں قبیلے کے لوگو! یہ شخص تمہیں لات و عزیٰ سے ہٹانا چاہتا ہے اور بنو مالک بن اقیش کے تمہارے حلیف جنوں سے تمہیں دور کر رہا ہے اور اپنی نئی لائی ہوئی گمراہی کی طرف تمہیں گھسیٹ رہا ہے، خبردار نہ اس کی سننا نہ ماننا۔ [مسند احمد:492/3:ضعیف]
10909
اللہ تعالیٰ اس سورت میں فرماتا ہے کہ ابولہب برباد ہوا اس کی کوشش غارت ہوئی اس کے اعمال ہلاک ہوئے بالیقین اس کی بربادی ہو چکی، اس کی اولاد اس کے کام نہ آئی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا تو ابولہب کہنے لگا اگر میرے بھتیجے کی باتیں حق ہیں تو میں قیامت کے دن اپنا مال و اولاد اللہ کو فدیہ میں دے کر اس عذاب سے چھوٹ جاؤں گا اس پر آیتیں «مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ» [111-المسد:2] ، اتری۔
پھر فرمایا: کہ یہ شعلے مارنے والی آگ میں جو سخت جلانے والی اور بہت تیز ہے داخل ہو گا، اور اس کی بیوی بھی جو قریش عورتوں کی سردار تھی اس کی کنیت ام جمیل تھی نام ارویٰ تھا، حرب بن امیہ کی لڑکی تھی ابوسفیان کی بہن تھی اور اپنے خاوند کے کفر و عناد اور سرکشی و دشمنی میں یہ بھی اس کے ساتھ تھی اس لیے قیامت کے دن عذابوں میں بھی اسی کے ساتھ ہو گی، لکڑیاں اٹھا اٹھا کر لائے گی اور جس آگ میں اس کا خاوند جل رہا ہو گا ڈالتی جائے گی اس کے گلے میں آگ کی رسی ہو گی۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ «حَمَّالَةَ الْحَطَبِ» سے مراد اس کا غیب گو ہونا ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند کرتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ یہ جنگل سے خار دار لکڑیاں چن لاتی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں بچھا دیا کرتی تھی، یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فقیری کا طعنہ دیا کرتی تھی تو اسے اس کا لکڑیاں چننا یاد دلایا گیا، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10910
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے پاس ایک نفیس ہار تھا کہتی تھی کہ اسے میں فروخت کر کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں خرچ کروں گی تو یہاں فرمایا گیا کہ اس کے بدلے اس کے گلے میں آگ کا طوق ڈالا جائے گا۔
«مسد» کے معنی کھجور کی رسی کے ہیں۔ عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ جہنم کی زنجیر ہے جس کی ایک ایک کڑی ستر ستر گز کی ہے۔ ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جہنم کا طوق ہے جس کی لمبائی ستر ہاتھ ہے۔ جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اونٹ کی کھال کی اور اونٹ کے بالوں کی بنائی جاتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی لوہے کا طوق۔
10911
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب یہ سورت اتری تو یہ بھینگی عورت ام جمیل بنت کرب اپنے ہاتھ میں نوکدار پتھر لیے یوں کہتی ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ «مُذَمَّمَا اَبَيْنَا ... وَدِيْنَه قَلَيْنَا ... وَاَمْرَه عَصَيْنَا» یعنی ہم مذمم کے منکر ہیں ... اور اس کے دین کے دشمن ہیں ... اور اس کے نافرمان ہیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبۃ اللہ میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ کے ساتھ میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی تھے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اسے اس حالت میں دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ آ رہی ہے ایسا نہ ہو آپ کو دیکھ لے، آپ نے فرمایا: ”صدیق بےغم رہو یہ مجھے نہیں دیکھ سکتی“، پھر آپ نے قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دی تاکہ اس سے بچ جائیں، خود قرآن فرماتا ہے «وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا» [17-الإسراء:45] یعنی ”جب تو قرآن پڑھتا ہے تو ہم تیرے اور ایمان نہ لانے والوں کے درمیان پوشیدہ پردہ ڈال دیتے ہیں“۔ یہ ڈائن آ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑی ہو گئی گو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ہی بالکل ظاہر بیٹھے ہوئے تھے لیکن حجابوں نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگی مجھے معلوم ہوا ہے کہ تیرے ساتھی نے میری ہجو کی ہے یعنی شعروں میں میری مذمت کی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، نہیں، رب البیت کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیری کوئی ہجو نہیں کی تو یہ کہتی ہوئی لوٹ گئی کہ قریش تو جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی بیٹی ہوں ۔ [مستدرک حاکم:361/2:صحیح] (ابن ابی حاتم)
10912
ایک مرتبہ یہ اپنی چادر اوڑھے طواف کر رہی تھی پیر چادر میں الجھ گیا اور پھسل پڑی تو کہنے لگی مذمم غارت ہو۔ ام حکیم بنت عبدالطلب نے کہا میں تو پاک دامن عورت ہوں اپنی زبان نہیں بگاڑوں گی اور دوست پسند ہوں پس داغ نہ لگاؤں گی اور ہم سب ایک ہی دادا کی اولاد میں سے ہیں اور قریش ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔
بزار میں ہے کہ اس نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تیرے ساتھی نے میری ہجو کی ہے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر جواب دیا کہ نہ تو آپ شعر گوئی جانتے ہیں نہ کبھی آپ نے شعر کہے، اس کے جانے کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اس نے آپ کو دیکھا نہیں؟ آپ نے فرمایا: ”فرشتہ آڑ بن کر کھڑا ہوا تھا جب تک وہ واپس چلی نہ گئی“ ۔ [مسند ابویعلی:23585:حسن]
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اس کے گلے میں جہنم کی آگ کی رسی ہو گی جس سے اسے کھینچ کر جہنم کے اوپر لایا جائے گا پھر ڈھیلی چھوڑ کر جہنم کی تہہ میں ڈال دیا جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا، ڈول کی رسی کو عرب «مسد» کہہ دیا کرتے ہیں۔ عربی شعروں میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں لایا گیا ہے۔
ہاں یہ یاد رہے کہ یہ بابرکت سورت ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک اعلیٰ دلیل ہے کیونکہ جس طرح ان کی بدبختی کی خبر اس سورت میں دی گئی تھی اسی طرح واقعہ بھی ہوا ان دونوں کو ایمان لانا آخر تک نصیب ہی نہ ہوا نہ تو وہ ظاہر میں مسلمان ہوئے، نہ باطن میں، نہ چھپے، نہ کھلے، پس یہ سورت زبردست بہت صاف اور روشن دلیل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی۔
اس سورت کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں ہیں اور اسی کے فضل و کرم اور اسی کے احسان و انعام کی یہ برکت ہے۔
10913
الإخلاص 112:1
سورۃ اخلاص کی فضیلت:
مسند احمد میں ہے کہ مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اپنے رب کے اوصاف بیان کریں اس پر یہ سورت نازل ہوئی، «صمد» کے معنی ہیں جو نہ تو پیدا ہوا ہو، نہ اس کی اولاد ہو، اس لئے کہ جو پیدا ہوا ہے وہ ایک وقت مرے گا بھی اور دوسرے اس کے وارث ہوں گے، اللہ عزوجل نہ مرے، نہ اس کا کوئی وارث ہو اس جیسا اور اس کی جنس کا کوئی نہیں، نہ اس کے مثل کوئی چیز ہے۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے۔ [سنن ترمذي:3364،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة:والصمد الذي ]
ابویعلی موصلی میں بھی ہے کہ ایک اعرابی نے یہ سوال کیا تھا، [مسند ابو يعلي:2044:قال الشيخ زبير علي زئي:ضعيف ]
اور روایت میں ہے کہ مشرکین کے اس سوال کے جواب میں یہ سورت اتری، [ابو الشيخ في العظمة:91:حسن بالشواهد ]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر چیز کی نسبت ہے اور اللہ کی نسبت یہ سورت ہے۔“ [طبراني اوسط:736:ضعيف ]
«صمد» اسے کہتے ہیں جو کھوکھلا نہ ہو، بخاری شریف کتاب التوحید میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کہیں بھیجا جس وقت وہ پلٹے تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر جسے سردار بنایا تھا وہ ہر نماز کی قرأت کے خاتمہ پر سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، پڑھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتے تھے“، پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ یہ سورت رحمان کی صفت ہے مجھے اس کا پڑھنا بہت ہی پسند ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں خبر دو کہ اللہ بھی اس سے محبت رکھتا ہے۔“ [صحيح بخاري:7375 ]
بخاری شریف کتاب الصلوۃ میں ہے کہ ایک انصاری مسجد قبا کے امام تھے ان کی عادت تھی کہ الحمد ختم کر کے پھر اس سورت کو پڑھتے پھر جونسی سورت پڑھنی ہوتی یا جہاں سے چاہتے قرآن پڑھتے، ایک دن مقتدیوں نے کہا کہ آپ اس سورت کو پڑھتے ہیں پھر دوسری سورت ملاتے ہیں یا تو آپ صرف اسی کو پڑھئیے یا چھوڑ دیجئے دوسری سورت ہی پڑھا کیجئے، انہوں نے جواب دیا کہ میں تو جس طرح کرتا ہوں کرتا رہوں گا، تم چاہو تو مجھے امام رکھو، کہو تو میں تمہاری امامت چھوڑ دوں، اب انہیں یہ بات بھاری پڑی، جانتے تھے کہ ان سب میں یہ زیادہ افضل ہیں ان کی موجودگی میں دوسرے کا نماز پڑھانا بھی انہیں گوارا نہ ہو سکا، ایک دن جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو ان لوگوں نے آپ سے یہ واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام صاحب سے کہا: ”تم کیوں اپنے ساتھیوں کی بات نہیں مانتے اور ہر رکعت میں اس سورت کو کیوں پڑھتے ہو؟“ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! مجھے اس سورت سے بڑی محبت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی محبت نے تجھے جنت میں پہنچا دیا۔“ [صحيح بخاري:774 ]
ترمذی اور مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آپ سے کہا: میں اس سورت سے بہت محبت رکھتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی محبت نے تجھے جنت میں پہنچا دیا۔“ [سنن ترمذي:2901،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح ]
ایک شخص نے کسی کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے رات کے وقت سنا کہ وہ بار بار اسی کو دوہرا رہا ہے۔ صبح کے وقت آ کر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گویا کہ وہ اسے ہلکے ثواب کا کام جانتا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ سورت مثل تہائی قرآن کے ہے۔“ [صحيح بخاري:5013]
صحیح بخاری کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کیا تم سے یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ لو، تو یہ صحابہ بھاری پڑا اور کہنے لگے، بھلا اتنی طاقت تو ہر ایک میں نہیں، آپ نے فرمایا: ”سنو سورۃ «قل ھو الله» تہائی قرآن ہے۔ [صحیح بخاری:5015]
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ساری رات اسی سورت کو پڑھتے رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ذکر کیا گیا تو آپ نے قسم کھا کر فرمایا کہ یہ آدھے قرآن یا تہائی قرآن کے برابر ہے۔ [مسند احمد:15/3:ضعیف]
ایک دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم میں سے کسی کو اس کی طاقت ہے کہ وہ ہر رات تیسرا حصہ قرآن کا پڑھ لیا کرے، صحابہ کہنے لگے یہ کس سے ہو سکے گا؟ آپ نے فرمایا: سنو «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، تہائی قرآن کے برابر ہے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی آ گئے آپ نے سن لیا اور فرمایا: ”ابوایوب سچ کہتے ہیں۔“ [مسند احمد:173/2:ضعیف]
ترمذی میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ”جمع ہو جاؤ میں تمہیں آج تہائی قرآن سناؤں گا“، لوگ جمع ہو کر بیٹھ گئے۔ آپ گھر سے آئے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، پڑھی اور پھر گھر چلے گئے اب صحابہ میں باتیں ہونے لگیں کہ وعدہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ تہائی قرآن سنائیں گے شاید آسمان سے کوئی وحی آ گئی ہو۔ اتنے میں آپ پھر واپس آئے اور فرمایا: ”میں نے تم سے تہائی قرآن سنانے کا وعدہ کیا تھا، سنو یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔“ [صحیح مسلم:812]
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس سے عاجز ہو کہ ہر دن تہائی قرآن شریف پڑھ لیا کرو“، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہم اس سے بہت عاجز اور بہت ضعیف ہیں، آپ نے فرمایا: ”سنو! اللہ تعالیٰ نے قرآن کے تین حصے کئے ہیں «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، تیسرا حصہ ہے [صحیح مسلم:811]
ایسی ہی روایتیں صحابہ کرام کی ایک بہت بڑی جماعت سے مروی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ کہیں سے آ رہے تھے آپ کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تھے تو آپ نے ایک شخص کو اس سورت کی تلاوت کرتے ہوئے سن کر فرمایا: ”واجب ہو گئی“، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا واجب ہو گئی؟ فرمایا: ”“ جنت۔“ [سنن ترمذي:2897،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابویعلی کی ایک ضعیف حدیث میں ہے کیا تم میں سے کوئی یہ طاقت نہیں رکھتا کہ سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ کو رات میں تین مرتبہ لے؟ یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔ [مسند ابو یعلی:4118:اسنادہ ضعیف]
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن حبیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم پیاسے تھے رات اندھیری تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار تھا کہ آپ تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں۔ آپ آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر فرمانے لگے پڑھ۔ میں چپکا رہا، آپ نے پھر فرمایا پڑھ۔ میں نے کہا کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا ہر صبح شام تین تین مرتبہ سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ»، «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» پڑھ لیا کہ یہ کافی ہو جائے گا۔ [سنن ابوداود:5082،قال الشيخ الألباني:حسن]
نسائی کی ایک روایت میں ہے ہر چیز سے تجھے یہ کفایت کرے گی۔ مسند کی ایک اور ضعیف حدیث میں ہے جس نے ان کلمات کو دس مرتبہ پڑھ لیا اسے چالیس لاکھ نیکیاں ملتی ہیں وہ کلمات یہ ہیں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا لَمْ يَتَّخِذ صَاحِبَة وَلَا وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَد» ان کے راوی خلیل بن مرہ ہیں جنہیں امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ بہت ضعیف بتلاتے ہیں۔ [مسند احمد:103/4:ضعیف]
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو شخص اس پوری سورت کو دس مرتبہ پڑھ لے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک محل تعمیر کرے گا۔“ سیدنا عمر نے کہا: یا رسول اللہ ! پھر تو ہم بہت سے محل بنوا لیں گے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ اس سے بھی زیادہ اور اس سے بھی اچھے دینے والا ہے۔“ [مسند احمد:437/3:قال الشيخ الألباني:ضعیف]
دارمی میں ہے کہ دس مرتبہ پر ایک محل، بیس پر دو، تیس پر تین، یہ حدیث مرسل ہے۔ [سنن دارمي:459/2:ضعیف]
ابویعلی موصلی کی ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ جو شخص اس سورت کو پچاس مرتبہ پڑھ لے اس کے پچاس سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ [سنن دارمي:461/2:ضعیف]
اسی کی ایک اور ضعیف سند والی حدیث میں ہے کہ جو شخص اس سورت کو ایک دن میں دو سو مرتبہ پڑھ لے اس کے لئے ایک ہزار پانچ سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں بشرطیکہ اس پر قرض نہ ہو۔ [مسند ابو یعلی:3365:ضعیف]
ترمذی کی اس حدیث میں ہے کہ اس کے پچاس سال کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں مگر یہ کہ اس پر قرض ہو۔ [سنن ترمذي:2898،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے جو شخص سونے کے لئے اپنے بستر پر جائے پھر داہنی کروٹ لیٹ کر سو دفعہ اس سورت کو پڑھ لے تو قیامت کے دن رب عزوجل فرمائے گا۔ اے میرے بندے اپنی داہنی طرف سے جنت میں چلا جا۔ [ضعیف ترمذي:552:ضعیف]
بزار کی ایک ضعیف سند والی حدیث میں ہے جو شخص اس سورت کو دو سو مرتبہ پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے دو سو سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ [مسند بزار:84/3:ضعیف]
نسائی شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آئے تو دیکھا کہ ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے دعا مانگ رہا ہے اپنی دعا میں کہتا ہے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك بِأَنِّي أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا أَنْتَ الْأَحَد الصَّمَد الَّذِي لَمْ يَلِد وَلَمْ يُولَد وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَد» یعنی اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس بات کی گواہی دے کر کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے بےنیاز ہے نہ اس کے ماں باپ نہ اولاد نہ ہمسر اور ساتھی کوئی اور۔ آپ یہ سن کر فرمانے لگے ”اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس نے اسم اعظم کے ساتھ دعا مانگی ہے اللہ کے اس بڑے نام کے ساتھ کہ جب کبھی اس نام کے ساتھ سوال کیا جائے تو عطا ہو اور جب کبھی اس نام کے ساتھ دعا کی جائے تو قبول ہو۔“ [سنن ابوداود:1493،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابویعلی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تین کام ہیں جو انہیں ایمان کے ساتھ کر لے وہ جنت کے تمام دروازوں میں سے جس سے چاہے جنت میں چلا جائے اور جس کسی حور جنت سے چاہے نکاح کرا دیا جائے۔ جو اپنے قاتل کو معاف کر دے اور پوشیدہ قرض ادا کر دے اور ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، کو پڑھ لے۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! جو ان تینوں کاموں میں سے ایک کر لے، آپ نے فرمایا کہ پر بھی یہی درجہ ہے۔ [مسند ابو یعلی:1794:ضعیف]
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو شخص اس سورت کو گھر میں جاتے وقت پڑھ لے اللہ تعالیٰ اس گھر والوں سے اور اس کے پڑوسیوں سے فقیری دور کر دے گا“، اس کی اسناد ضعیف ہے۔ [طبرانی:2419:ضعیف]
مسند ابویعلی میں ہے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان تبوک میں تھے سورج ایسی روشنی نور اور شعاعوں کے ساتھ نکلا کہ ہم نے اس سے پہلے ایسا صاف شفاف اور روشن و منور نہیں دیکھا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ آج سورج کی اس تیز روشنی اور زیادہ نور اور چمکیلی شعاعوں کی کیا وجہ ہے؟ تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا آج مدینہ میں معاویہ بن معاویہ لیثی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے جن کے جنازے کی نماز کے لئے اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار فرشتے آسمان سے بھیجے ہیں، پوچھا: ”ان کے کس عمل کے باعث؟“، فرمایا: وہ سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» کو دن رات، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے پڑھا کرتے تھے اگر آپ کا ارادہ ہو تو زمین سمیٹ لوں اور آپ ان کے جنازے کی نماز ادا کر لیں؟، آپ نے فرمایا: ”بہت اچھا“، پس آپ نے ان کے جنازے کی نماز ادا کی۔ [مسند ابو یعلی:4267:ضعیف] اس حدیث کو حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ بھی اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں یزید بن ہارون کی روایت سے لائے ہیں وہ علاء بن محمد سے روایت کرتے ہیں۔ ان پر موضوع حدیثیں بیان کرنے کی تہمت ہے۔ «واللہ اعلم»
مسند ابویعلی میں اس کی دوسری سند بھی ہے جس میں یہ راوی نہیں۔ اس میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ معاویہ بن معاویہ لیثی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے کہ کیا آپ ان کے جنازے کی نماز پڑھنا چاہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، جبرائیل علیہ السلام نے اپنا پر زمین پر مارا تمام درخت اور سب ٹیلے وغیرہ پست ہو گئے ان کا جنازہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آنے لگا، آپ نے نماز شروع کی اور آپ کے پیچھے فرشتوں کی دو صفیں تھیں، ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے، آپ نے دریافت کیا کہ آخر اس مرتبہ کی کیا وجہ ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: ان کی سورت سے محبت اور ہر وقت آتے جاتے بیٹھتے اٹھتے اس کی تلاوت۔ [مسند ابو یعلی:4267:ضعیف] اسے بیہقی نے بھی روایت کیا ہے، اور بیہقی کی سند میں محبوب بن بلال ہیں۔ ابوحاتم رازی فرماتے ہیں یہ مشہور نہیں، ابویعلی میں یہ راوی نہیں وہاں ان کی جگہ ابوعبداللہ محمود ہیں، لیکن ٹھیک بات محبوب کا ہونا ہے، اس روایت کی اور بھی بہت سی سندیں ہیں اور سب ضعیف ہیں، ہم نے اختصار کے لئے انہیں یہاں نقل نہیں کیا۔
مسند احمد میں ہے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی میں نے جلدی سے آپ کا ہاتھ تھام لیا اور کہا:یا رسول اللہ ! مومن کی نجات کس عمل پر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اے عقبہ زبان تھامے رکھ، اپنے گھر میں ہی بیٹھا رہا کر اور اپنی خطاؤں پر روتا رہ“، پھر دوبارہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے خود میرا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: ”عقبہ! کیا میں تمہیں توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن میں اتری ہوئی تمام سورتوں سے بہترین سورتیں بتاؤں؟“ میں نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول ! ضرور ارشاد فرمایئے، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے، پس آپ نے مجھے سورۃ «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» پڑھائیں، پھر فرمایا: ”دیکھو عقبہ! انہیں نہ بھولنا اور ہر رات انہیں پڑھ لیا کرنا۔“ فرماتے ہیں، پھر نہ میں انہیں بھولا اور نہ کوئی رات ان کے پڑھے بغیر گزاری، میں نے پھر آپ سے ملاقات کی اور جلدی کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو اپنے ہاتھ میں لے کر عرض کی کہ یا رسول اللہ ! مجھے بہترین اعمال کا ارشاد فرمایئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سن جو تجھ سے توڑے تو اس سے جوڑ، جو تجھے محروم رکھے تو اسے دے، جو تجھ پر ظلم کرے تو اس سے درگزر کر اور معاف کر دے۔“ [مسند احمد:148/4:حسن]
اس کا بعض حصہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی زہد کے باب میں وارد کیا ہے اور فرمایا ہے یہ حدیث حسن ہے۔ [مسند احمد:158/4:حسن] مسند احمد میں بھی اس کی ایک اور سند ہے۔
صحیح بخاری میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب بستر پر جاتے تو ہر رات تینوں سورتوں کو پڑھ کر اپنی دونوں ہتھیلیاں ملا کر ان پر دم کر کے اپنے جسم مبارک پر پھیر لیا کرتے جہاں تک ہاتھ پہنچتے پہنچاتے، پہلے سر پر، پھر منہ پر، پھر اپنے سامنے کے جسم پر تین مرتبہ اسی طرح کرتے، یہ حدیث سنن میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:5017]
اپنی حکمت و تدبر میں وحدہ لا شریک ٭٭
اس کے نازل ہونے کی وجہ پہلے بیان ہو چکی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے ہم عزیز (علیہ السلام) کو پوجتے ہیں جو اللہ کے بیٹے ہیں اور نصرانی کہتے تھے ہم مسیح (علیہ السلام) کو پوجتے ہیں جو اللہ کے بیٹے ہیں اور مجوسی کہتے تھے ہم سورج چاند کی پرستش کرتے ہیں اور مشرک کہتے تھے ہم بت پرست ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتاری کہ اے نبی! تم کہہ دو کہ ہمارا معبود تو اللہ تعالیٰ ہے جو واحد اور احد ہے جس جیسا کوئی نہیں، جس کا کوئی وزیر نہیں، جس کا کوئی شریک نہیں، جس کا کوئی ہمسر نہیں، جس کا کوئی ہم جنس نہیں، جس کا برابر اور کوئی نہیں، جس کے سوا کسی میں الوہیت نہیں۔ اس لفظ کا اطلاق صرف اسی کی ذات پاک پر ہوتا ہے وہ اپنی صفتوں میں اور اپنے حکمت بھرے کاموں میں یکتا اور بےنظیر ہوتا ہے۔ وہ «صمد» ہے یعنی ساری مخلوق اس کی محتاج ہے اور وہ سب سے بے نیاز ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «صمد» وہ ہے جو اپنی سرداری میں، اپنی شرافت میں، اپنی بندگی اور عظمت میں، اپنے علم و علم میں، اپنی حکمت و تدبر میں سب سے بڑھا ہوا ہے۔ یہ صفتیں صرف اللہ تعالیٰ جل شانہ میں ہی پائی جاتی ہیں۔ اس کا ہمسر اور اس جیسا کوئی اور نہیں وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سب پر غالب ہے اور اپنی ذات و صفات میں یکتا اور بینظیر ہے، «صمد» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جو تمام مخلوق کے فنا ہو جانے کے بعد بھی باقی رہے، جو ہمیشہ کی بقا والا، سب کی حفاظت کرنے والا ہو جس کی ذات لازول اور غیر فانونی ہو۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «صمد» وہ ہے جو نہ کچھ کھائے نہ اس میں سے کچھ نکلے۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ «صمد» کی تفسیر اس کے بعد ہے یعنی نہ اس میں سے کچھ نکلے نہ وہ کسی میں سے نکلے یعنی نہ اس کی اولاد ہو نہ ماں باپ، یہ تفسیر بہت اچھی اور عمدہ ہے اور ابن جریر رحمہ اللہ کی روایت سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے صراحتاً یہ مروی ہے جیسے کہ پہلے گزرا،
اور بہت سے صحابہ اور تابعین سے مروی ہے کہ «صمد» کہتے ہیں ٹھوس چیز کو جو کھوکھلی نہ ہو جس کا پیٹ نہ ہو۔ شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں جو نہ کھاتا ہو نہ پیتا ہو، عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «صمد» وہ نور ہے جو روشن ہو اور چمک دمک والا ہو، ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ «صمد» میں ہے جس کا پیٹ نہ ہو، [طبرانی:1162:ضعیف] لیکن اس کا مرفوع ہونا ٹھیک نہیں، صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔
10918
حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمہ اللہ اپنی کتاب «السنہ» میں لفظ «صمد» کی تفسیر میں ان تمام اقوال وغیرہ کو وارد کر کے لکھتے ہیں کہ دراصل یہ سب سچے ہیں اور صحیح ہیں۔ کل صفتیں ہمارے رب عزوجل میں ہیں اس کی طرف سب محتاج بھی ہیں وہ سب سے بڑھ کر سردار اور سب سے بڑا ہے اسے نہ پیٹ ہے، نہ وہ کھوکھلا ہے، نہ وہ کھائے، نہ پئے، سب فانی ہیں اور وہ باقی ہے۔ وغیرہ
پھر فرمایا: اس کی اولاد نہیں نہ اس کے ماں باپ ہیں نہ بیوی۔ جیسے اور جگہ ہے: «بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ» [6-الأنعام:101] الخ یعنی ”وہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے اسے اولاد کیسے ہو گی؟ اس کی بیوی نہیں ہر چیز کو اسی نے پیدا کیا ہے“، یعنی وہ ہر چیز کا خالق مالک ہے، پھر اس کی مخلوق اور ملکیت میں سے اس کی برابری اور ہمسری کرنے والا کون ہو گا؟ وہ ان تمام عیوب اور نقصان سے پاک ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا: «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا» * «لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا» * «تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا» * «أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا» * «وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا» * «إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا» * «لَقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا» * «وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [19-مريم:88-95] یعنی ”یہ کفار کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے تم تو ایک بڑی بری چیز لائے قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو کر گر پڑیں، اس بنا پر کہ انہوں نے کہا کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ اللہ کو یہ لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو تمام زمین و آسمان میں کے کل کے کل اللہ کے غلام ہی بن کر آنے والے ہیں اللہ کے پاس تمام کا شمار ہے اور انہیں ایک ایک کر کے گن رکھا ہے اور یہ سب کے سب تنہا تنہا اس کے پاس قیامت کے دن حاضر ہونے والے ہیں“۔
اور جگہ ہے: «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ» * «لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ» [21-الأنبياء:26] یعنی ”ان کافروں نے کہا کہ رحمان کی اولاد ہے اللہ اس سے پاک ہے بلکہ وہ تو اللہ کے باعزت بندے ہیں بات میں بھی اس سے سبقت نہیں کرتے اسی کے فرمان پر عامل ہیں“۔
اور جگہ ہے: «وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ» * «سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ» [37-الصافات:158-159] یعنی ”انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اور جنات کے درمیان نسب قائم کر رکھا ہے حالانکہ جنات تو خود اس کی فرمانبرداری میں حاضر ہیں اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ عیوب سے پاک و برتر ہے“۔
10919
صحیح بخاری میں ہے کہ ایذاء دینے والی باتوں کو سنتے ہوئے صبر کرنے میں اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں لوگ اس کی اولاد بتاتے ہیں اور پھر بھی وہ انہیں روزیاں دیتا ہے اور عافیت و تنگ دستی عطا فرماتا ہے ۔ [صحیح بخاری:7378]
بخاری کی اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم مجھے جھٹلاتا ہے حالانکہ اسے ایسا نہ چاہیئے مجھے گالیاں دیتا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہ تھا اس کا مجھے جھٹلاتا تو یہ ہے کہ وہ کہتا ہے جس طرح اولاً اللہ نے مجھے پیدا کیا ایسے ہی پھر نہیں لوٹائے گا حالانکہ پہلی مرتبہ کی پیدائش دوسری مرتبہ کی پیدائش سے کچھ آسان تو نہ تھی جب میں اس پر قادر ہوں تو اس پر کیوں نہیں؟ اور اس کا مجھے گالیاں دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے اللہ کی اولاد ہے حالانکہ میں تنہا ہوں میں ایک ہی ہوں میں صمد ہوں نہ میری اولاد نہ میرے ماں باپ نے مجھ جیسا کوئی اور [صحیح بخاری:4974]
«الحمداللہ» سورۃ الاخلاص کی تفسیر اللہ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے ختم ہوئی۔
10920
الإخلاص 112:2
سورۃ اخلاص کی فضیلت:
مسند احمد میں ہے کہ مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اپنے رب کے اوصاف بیان کریں اس پر یہ سورت نازل ہوئی، «صمد» کے معنی ہیں جو نہ تو پیدا ہوا ہو، نہ اس کی اولاد ہو، اس لئے کہ جو پیدا ہوا ہے وہ ایک وقت مرے گا بھی اور دوسرے اس کے وارث ہوں گے، اللہ عزوجل نہ مرے، نہ اس کا کوئی وارث ہو اس جیسا اور اس کی جنس کا کوئی نہیں، نہ اس کے مثل کوئی چیز ہے۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے۔ [سنن ترمذي:3364،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة:والصمد الذي ]
ابویعلی موصلی میں بھی ہے کہ ایک اعرابی نے یہ سوال کیا تھا، [مسند ابو يعلي:2044:قال الشيخ زبير علي زئي:ضعيف ]
اور روایت میں ہے کہ مشرکین کے اس سوال کے جواب میں یہ سورت اتری، [ابو الشيخ في العظمة:91:حسن بالشواهد ]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر چیز کی نسبت ہے اور اللہ کی نسبت یہ سورت ہے۔“ [طبراني اوسط:736:ضعيف ]
«صمد» اسے کہتے ہیں جو کھوکھلا نہ ہو، بخاری شریف کتاب التوحید میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کہیں بھیجا جس وقت وہ پلٹے تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر جسے سردار بنایا تھا وہ ہر نماز کی قرأت کے خاتمہ پر سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، پڑھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتے تھے“، پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ یہ سورت رحمان کی صفت ہے مجھے اس کا پڑھنا بہت ہی پسند ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں خبر دو کہ اللہ بھی اس سے محبت رکھتا ہے۔“ [صحيح بخاري:7375 ]
بخاری شریف کتاب الصلوۃ میں ہے کہ ایک انصاری مسجد قبا کے امام تھے ان کی عادت تھی کہ الحمد ختم کر کے پھر اس سورت کو پڑھتے پھر جونسی سورت پڑھنی ہوتی یا جہاں سے چاہتے قرآن پڑھتے، ایک دن مقتدیوں نے کہا کہ آپ اس سورت کو پڑھتے ہیں پھر دوسری سورت ملاتے ہیں یا تو آپ صرف اسی کو پڑھئیے یا چھوڑ دیجئے دوسری سورت ہی پڑھا کیجئے، انہوں نے جواب دیا کہ میں تو جس طرح کرتا ہوں کرتا رہوں گا، تم چاہو تو مجھے امام رکھو، کہو تو میں تمہاری امامت چھوڑ دوں، اب انہیں یہ بات بھاری پڑی، جانتے تھے کہ ان سب میں یہ زیادہ افضل ہیں ان کی موجودگی میں دوسرے کا نماز پڑھانا بھی انہیں گوارا نہ ہو سکا، ایک دن جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو ان لوگوں نے آپ سے یہ واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام صاحب سے کہا: ”تم کیوں اپنے ساتھیوں کی بات نہیں مانتے اور ہر رکعت میں اس سورت کو کیوں پڑھتے ہو؟“ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! مجھے اس سورت سے بڑی محبت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی محبت نے تجھے جنت میں پہنچا دیا۔“ [صحيح بخاري:774 ]
ترمذی اور مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آپ سے کہا: میں اس سورت سے بہت محبت رکھتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی محبت نے تجھے جنت میں پہنچا دیا۔“ [سنن ترمذي:2901،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح ]
ایک شخص نے کسی کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے رات کے وقت سنا کہ وہ بار بار اسی کو دوہرا رہا ہے۔ صبح کے وقت آ کر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گویا کہ وہ اسے ہلکے ثواب کا کام جانتا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ سورت مثل تہائی قرآن کے ہے۔“ [صحيح بخاري:5013]
صحیح بخاری کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کیا تم سے یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ لو، تو یہ صحابہ بھاری پڑا اور کہنے لگے، بھلا اتنی طاقت تو ہر ایک میں نہیں، آپ نے فرمایا: ”سنو سورۃ «قل ھو الله» تہائی قرآن ہے۔ [صحیح بخاری:5015]
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ساری رات اسی سورت کو پڑھتے رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ذکر کیا گیا تو آپ نے قسم کھا کر فرمایا کہ یہ آدھے قرآن یا تہائی قرآن کے برابر ہے۔ [مسند احمد:15/3:ضعیف]
ایک دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم میں سے کسی کو اس کی طاقت ہے کہ وہ ہر رات تیسرا حصہ قرآن کا پڑھ لیا کرے، صحابہ کہنے لگے یہ کس سے ہو سکے گا؟ آپ نے فرمایا: سنو «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، تہائی قرآن کے برابر ہے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی آ گئے آپ نے سن لیا اور فرمایا: ”ابوایوب سچ کہتے ہیں۔“ [مسند احمد:173/2:ضعیف]
ترمذی میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ”جمع ہو جاؤ میں تمہیں آج تہائی قرآن سناؤں گا“، لوگ جمع ہو کر بیٹھ گئے۔ آپ گھر سے آئے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، پڑھی اور پھر گھر چلے گئے اب صحابہ میں باتیں ہونے لگیں کہ وعدہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ تہائی قرآن سنائیں گے شاید آسمان سے کوئی وحی آ گئی ہو۔ اتنے میں آپ پھر واپس آئے اور فرمایا: ”میں نے تم سے تہائی قرآن سنانے کا وعدہ کیا تھا، سنو یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔“ [صحیح مسلم:812]
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس سے عاجز ہو کہ ہر دن تہائی قرآن شریف پڑھ لیا کرو“، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہم اس سے بہت عاجز اور بہت ضعیف ہیں، آپ نے فرمایا: ”سنو! اللہ تعالیٰ نے قرآن کے تین حصے کئے ہیں «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، تیسرا حصہ ہے [صحیح مسلم:811]
ایسی ہی روایتیں صحابہ کرام کی ایک بہت بڑی جماعت سے مروی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ کہیں سے آ رہے تھے آپ کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تھے تو آپ نے ایک شخص کو اس سورت کی تلاوت کرتے ہوئے سن کر فرمایا: ”واجب ہو گئی“، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا واجب ہو گئی؟ فرمایا: ”“ جنت۔“ [سنن ترمذي:2897،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابویعلی کی ایک ضعیف حدیث میں ہے کیا تم میں سے کوئی یہ طاقت نہیں رکھتا کہ سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ کو رات میں تین مرتبہ لے؟ یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔ [مسند ابو یعلی:4118:اسنادہ ضعیف]
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن حبیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم پیاسے تھے رات اندھیری تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار تھا کہ آپ تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں۔ آپ آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر فرمانے لگے پڑھ۔ میں چپکا رہا، آپ نے پھر فرمایا پڑھ۔ میں نے کہا کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا ہر صبح شام تین تین مرتبہ سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ»، «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» پڑھ لیا کہ یہ کافی ہو جائے گا۔ [سنن ابوداود:5082،قال الشيخ الألباني:حسن]
نسائی کی ایک روایت میں ہے ہر چیز سے تجھے یہ کفایت کرے گی۔ مسند کی ایک اور ضعیف حدیث میں ہے جس نے ان کلمات کو دس مرتبہ پڑھ لیا اسے چالیس لاکھ نیکیاں ملتی ہیں وہ کلمات یہ ہیں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا لَمْ يَتَّخِذ صَاحِبَة وَلَا وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَد» ان کے راوی خلیل بن مرہ ہیں جنہیں امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ بہت ضعیف بتلاتے ہیں۔ [مسند احمد:103/4:ضعیف]
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو شخص اس پوری سورت کو دس مرتبہ پڑھ لے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک محل تعمیر کرے گا۔“ سیدنا عمر نے کہا: یا رسول اللہ ! پھر تو ہم بہت سے محل بنوا لیں گے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ اس سے بھی زیادہ اور اس سے بھی اچھے دینے والا ہے۔“ [مسند احمد:437/3:قال الشيخ الألباني:ضعیف]
دارمی میں ہے کہ دس مرتبہ پر ایک محل، بیس پر دو، تیس پر تین، یہ حدیث مرسل ہے۔ [سنن دارمي:459/2:ضعیف]
ابویعلی موصلی کی ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ جو شخص اس سورت کو پچاس مرتبہ پڑھ لے اس کے پچاس سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ [سنن دارمي:461/2:ضعیف]
اسی کی ایک اور ضعیف سند والی حدیث میں ہے کہ جو شخص اس سورت کو ایک دن میں دو سو مرتبہ پڑھ لے اس کے لئے ایک ہزار پانچ سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں بشرطیکہ اس پر قرض نہ ہو۔ [مسند ابو یعلی:3365:ضعیف]
ترمذی کی اس حدیث میں ہے کہ اس کے پچاس سال کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں مگر یہ کہ اس پر قرض ہو۔ [سنن ترمذي:2898،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے جو شخص سونے کے لئے اپنے بستر پر جائے پھر داہنی کروٹ لیٹ کر سو دفعہ اس سورت کو پڑھ لے تو قیامت کے دن رب عزوجل فرمائے گا۔ اے میرے بندے اپنی داہنی طرف سے جنت میں چلا جا۔ [ضعیف ترمذي:552:ضعیف]
بزار کی ایک ضعیف سند والی حدیث میں ہے جو شخص اس سورت کو دو سو مرتبہ پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے دو سو سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ [مسند بزار:84/3:ضعیف]
نسائی شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آئے تو دیکھا کہ ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے دعا مانگ رہا ہے اپنی دعا میں کہتا ہے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك بِأَنِّي أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا أَنْتَ الْأَحَد الصَّمَد الَّذِي لَمْ يَلِد وَلَمْ يُولَد وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَد» یعنی اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس بات کی گواہی دے کر کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے بےنیاز ہے نہ اس کے ماں باپ نہ اولاد نہ ہمسر اور ساتھی کوئی اور۔ آپ یہ سن کر فرمانے لگے ”اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس نے اسم اعظم کے ساتھ دعا مانگی ہے اللہ کے اس بڑے نام کے ساتھ کہ جب کبھی اس نام کے ساتھ سوال کیا جائے تو عطا ہو اور جب کبھی اس نام کے ساتھ دعا کی جائے تو قبول ہو۔“ [سنن ابوداود:1493،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابویعلی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تین کام ہیں جو انہیں ایمان کے ساتھ کر لے وہ جنت کے تمام دروازوں میں سے جس سے چاہے جنت میں چلا جائے اور جس کسی حور جنت سے چاہے نکاح کرا دیا جائے۔ جو اپنے قاتل کو معاف کر دے اور پوشیدہ قرض ادا کر دے اور ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، کو پڑھ لے۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! جو ان تینوں کاموں میں سے ایک کر لے، آپ نے فرمایا کہ پر بھی یہی درجہ ہے۔ [مسند ابو یعلی:1794:ضعیف]
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو شخص اس سورت کو گھر میں جاتے وقت پڑھ لے اللہ تعالیٰ اس گھر والوں سے اور اس کے پڑوسیوں سے فقیری دور کر دے گا“، اس کی اسناد ضعیف ہے۔ [طبرانی:2419:ضعیف]
مسند ابویعلی میں ہے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان تبوک میں تھے سورج ایسی روشنی نور اور شعاعوں کے ساتھ نکلا کہ ہم نے اس سے پہلے ایسا صاف شفاف اور روشن و منور نہیں دیکھا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ آج سورج کی اس تیز روشنی اور زیادہ نور اور چمکیلی شعاعوں کی کیا وجہ ہے؟ تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا آج مدینہ میں معاویہ بن معاویہ لیثی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے جن کے جنازے کی نماز کے لئے اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار فرشتے آسمان سے بھیجے ہیں، پوچھا: ”ان کے کس عمل کے باعث؟“، فرمایا: وہ سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» کو دن رات، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے پڑھا کرتے تھے اگر آپ کا ارادہ ہو تو زمین سمیٹ لوں اور آپ ان کے جنازے کی نماز ادا کر لیں؟، آپ نے فرمایا: ”بہت اچھا“، پس آپ نے ان کے جنازے کی نماز ادا کی۔ [مسند ابو یعلی:4267:ضعیف] اس حدیث کو حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ بھی اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں یزید بن ہارون کی روایت سے لائے ہیں وہ علاء بن محمد سے روایت کرتے ہیں۔ ان پر موضوع حدیثیں بیان کرنے کی تہمت ہے۔ «واللہ اعلم»
مسند ابویعلی میں اس کی دوسری سند بھی ہے جس میں یہ راوی نہیں۔ اس میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ معاویہ بن معاویہ لیثی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے کہ کیا آپ ان کے جنازے کی نماز پڑھنا چاہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، جبرائیل علیہ السلام نے اپنا پر زمین پر مارا تمام درخت اور سب ٹیلے وغیرہ پست ہو گئے ان کا جنازہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آنے لگا، آپ نے نماز شروع کی اور آپ کے پیچھے فرشتوں کی دو صفیں تھیں، ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے، آپ نے دریافت کیا کہ آخر اس مرتبہ کی کیا وجہ ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: ان کی سورت سے محبت اور ہر وقت آتے جاتے بیٹھتے اٹھتے اس کی تلاوت۔ [مسند ابو یعلی:4267:ضعیف] اسے بیہقی نے بھی روایت کیا ہے، اور بیہقی کی سند میں محبوب بن بلال ہیں۔ ابوحاتم رازی فرماتے ہیں یہ مشہور نہیں، ابویعلی میں یہ راوی نہیں وہاں ان کی جگہ ابوعبداللہ محمود ہیں، لیکن ٹھیک بات محبوب کا ہونا ہے، اس روایت کی اور بھی بہت سی سندیں ہیں اور سب ضعیف ہیں، ہم نے اختصار کے لئے انہیں یہاں نقل نہیں کیا۔
مسند احمد میں ہے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی میں نے جلدی سے آپ کا ہاتھ تھام لیا اور کہا:یا رسول اللہ ! مومن کی نجات کس عمل پر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اے عقبہ زبان تھامے رکھ، اپنے گھر میں ہی بیٹھا رہا کر اور اپنی خطاؤں پر روتا رہ“، پھر دوبارہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے خود میرا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: ”عقبہ! کیا میں تمہیں توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن میں اتری ہوئی تمام سورتوں سے بہترین سورتیں بتاؤں؟“ میں نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول ! ضرور ارشاد فرمایئے، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے، پس آپ نے مجھے سورۃ «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» پڑھائیں، پھر فرمایا: ”دیکھو عقبہ! انہیں نہ بھولنا اور ہر رات انہیں پڑھ لیا کرنا۔“ فرماتے ہیں، پھر نہ میں انہیں بھولا اور نہ کوئی رات ان کے پڑھے بغیر گزاری، میں نے پھر آپ سے ملاقات کی اور جلدی کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو اپنے ہاتھ میں لے کر عرض کی کہ یا رسول اللہ ! مجھے بہترین اعمال کا ارشاد فرمایئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سن جو تجھ سے توڑے تو اس سے جوڑ، جو تجھے محروم رکھے تو اسے دے، جو تجھ پر ظلم کرے تو اس سے درگزر کر اور معاف کر دے۔“ [مسند احمد:148/4:حسن]
اس کا بعض حصہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی زہد کے باب میں وارد کیا ہے اور فرمایا ہے یہ حدیث حسن ہے۔ [مسند احمد:158/4:حسن] مسند احمد میں بھی اس کی ایک اور سند ہے۔
صحیح بخاری میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب بستر پر جاتے تو ہر رات تینوں سورتوں کو پڑھ کر اپنی دونوں ہتھیلیاں ملا کر ان پر دم کر کے اپنے جسم مبارک پر پھیر لیا کرتے جہاں تک ہاتھ پہنچتے پہنچاتے، پہلے سر پر، پھر منہ پر، پھر اپنے سامنے کے جسم پر تین مرتبہ اسی طرح کرتے، یہ حدیث سنن میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:5017]
اپنی حکمت و تدبر میں وحدہ لا شریک ٭٭
اس کے نازل ہونے کی وجہ پہلے بیان ہو چکی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے ہم عزیز (علیہ السلام) کو پوجتے ہیں جو اللہ کے بیٹے ہیں اور نصرانی کہتے تھے ہم مسیح (علیہ السلام) کو پوجتے ہیں جو اللہ کے بیٹے ہیں اور مجوسی کہتے تھے ہم سورج چاند کی پرستش کرتے ہیں اور مشرک کہتے تھے ہم بت پرست ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتاری کہ اے نبی! تم کہہ دو کہ ہمارا معبود تو اللہ تعالیٰ ہے جو واحد اور احد ہے جس جیسا کوئی نہیں، جس کا کوئی وزیر نہیں، جس کا کوئی شریک نہیں، جس کا کوئی ہمسر نہیں، جس کا کوئی ہم جنس نہیں، جس کا برابر اور کوئی نہیں، جس کے سوا کسی میں الوہیت نہیں۔ اس لفظ کا اطلاق صرف اسی کی ذات پاک پر ہوتا ہے وہ اپنی صفتوں میں اور اپنے حکمت بھرے کاموں میں یکتا اور بےنظیر ہوتا ہے۔ وہ «صمد» ہے یعنی ساری مخلوق اس کی محتاج ہے اور وہ سب سے بے نیاز ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «صمد» وہ ہے جو اپنی سرداری میں، اپنی شرافت میں، اپنی بندگی اور عظمت میں، اپنے علم و علم میں، اپنی حکمت و تدبر میں سب سے بڑھا ہوا ہے۔ یہ صفتیں صرف اللہ تعالیٰ جل شانہ میں ہی پائی جاتی ہیں۔ اس کا ہمسر اور اس جیسا کوئی اور نہیں وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سب پر غالب ہے اور اپنی ذات و صفات میں یکتا اور بینظیر ہے، «صمد» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جو تمام مخلوق کے فنا ہو جانے کے بعد بھی باقی رہے، جو ہمیشہ کی بقا والا، سب کی حفاظت کرنے والا ہو جس کی ذات لازول اور غیر فانونی ہو۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «صمد» وہ ہے جو نہ کچھ کھائے نہ اس میں سے کچھ نکلے۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ «صمد» کی تفسیر اس کے بعد ہے یعنی نہ اس میں سے کچھ نکلے نہ وہ کسی میں سے نکلے یعنی نہ اس کی اولاد ہو نہ ماں باپ، یہ تفسیر بہت اچھی اور عمدہ ہے اور ابن جریر رحمہ اللہ کی روایت سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے صراحتاً یہ مروی ہے جیسے کہ پہلے گزرا،
اور بہت سے صحابہ اور تابعین سے مروی ہے کہ «صمد» کہتے ہیں ٹھوس چیز کو جو کھوکھلی نہ ہو جس کا پیٹ نہ ہو۔ شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں جو نہ کھاتا ہو نہ پیتا ہو، عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «صمد» وہ نور ہے جو روشن ہو اور چمک دمک والا ہو، ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ «صمد» میں ہے جس کا پیٹ نہ ہو، [طبرانی:1162:ضعیف] لیکن اس کا مرفوع ہونا ٹھیک نہیں، صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔
10918
حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمہ اللہ اپنی کتاب «السنہ» میں لفظ «صمد» کی تفسیر میں ان تمام اقوال وغیرہ کو وارد کر کے لکھتے ہیں کہ دراصل یہ سب سچے ہیں اور صحیح ہیں۔ کل صفتیں ہمارے رب عزوجل میں ہیں اس کی طرف سب محتاج بھی ہیں وہ سب سے بڑھ کر سردار اور سب سے بڑا ہے اسے نہ پیٹ ہے، نہ وہ کھوکھلا ہے، نہ وہ کھائے، نہ پئے، سب فانی ہیں اور وہ باقی ہے۔ وغیرہ
پھر فرمایا: اس کی اولاد نہیں نہ اس کے ماں باپ ہیں نہ بیوی۔ جیسے اور جگہ ہے: «بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ» [6-الأنعام:101] الخ یعنی ”وہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے اسے اولاد کیسے ہو گی؟ اس کی بیوی نہیں ہر چیز کو اسی نے پیدا کیا ہے“، یعنی وہ ہر چیز کا خالق مالک ہے، پھر اس کی مخلوق اور ملکیت میں سے اس کی برابری اور ہمسری کرنے والا کون ہو گا؟ وہ ان تمام عیوب اور نقصان سے پاک ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا: «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا» * «لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا» * «تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا» * «أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا» * «وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا» * «إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا» * «لَقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا» * «وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [19-مريم:88-95] یعنی ”یہ کفار کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے تم تو ایک بڑی بری چیز لائے قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو کر گر پڑیں، اس بنا پر کہ انہوں نے کہا کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ اللہ کو یہ لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو تمام زمین و آسمان میں کے کل کے کل اللہ کے غلام ہی بن کر آنے والے ہیں اللہ کے پاس تمام کا شمار ہے اور انہیں ایک ایک کر کے گن رکھا ہے اور یہ سب کے سب تنہا تنہا اس کے پاس قیامت کے دن حاضر ہونے والے ہیں“۔
اور جگہ ہے: «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ» * «لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ» [21-الأنبياء:26] یعنی ”ان کافروں نے کہا کہ رحمان کی اولاد ہے اللہ اس سے پاک ہے بلکہ وہ تو اللہ کے باعزت بندے ہیں بات میں بھی اس سے سبقت نہیں کرتے اسی کے فرمان پر عامل ہیں“۔
اور جگہ ہے: «وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ» * «سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ» [37-الصافات:158-159] یعنی ”انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اور جنات کے درمیان نسب قائم کر رکھا ہے حالانکہ جنات تو خود اس کی فرمانبرداری میں حاضر ہیں اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ عیوب سے پاک و برتر ہے“۔
10919
صحیح بخاری میں ہے کہ ایذاء دینے والی باتوں کو سنتے ہوئے صبر کرنے میں اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں لوگ اس کی اولاد بتاتے ہیں اور پھر بھی وہ انہیں روزیاں دیتا ہے اور عافیت و تنگ دستی عطا فرماتا ہے ۔ [صحیح بخاری:7378]
بخاری کی اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم مجھے جھٹلاتا ہے حالانکہ اسے ایسا نہ چاہیئے مجھے گالیاں دیتا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہ تھا اس کا مجھے جھٹلاتا تو یہ ہے کہ وہ کہتا ہے جس طرح اولاً اللہ نے مجھے پیدا کیا ایسے ہی پھر نہیں لوٹائے گا حالانکہ پہلی مرتبہ کی پیدائش دوسری مرتبہ کی پیدائش سے کچھ آسان تو نہ تھی جب میں اس پر قادر ہوں تو اس پر کیوں نہیں؟ اور اس کا مجھے گالیاں دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے اللہ کی اولاد ہے حالانکہ میں تنہا ہوں میں ایک ہی ہوں میں صمد ہوں نہ میری اولاد نہ میرے ماں باپ نے مجھ جیسا کوئی اور [صحیح بخاری:4974]
«الحمداللہ» سورۃ الاخلاص کی تفسیر اللہ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے ختم ہوئی۔
10920
الإخلاص 112:3
سورۃ اخلاص کی فضیلت:
مسند احمد میں ہے کہ مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اپنے رب کے اوصاف بیان کریں اس پر یہ سورت نازل ہوئی، «صمد» کے معنی ہیں جو نہ تو پیدا ہوا ہو، نہ اس کی اولاد ہو، اس لئے کہ جو پیدا ہوا ہے وہ ایک وقت مرے گا بھی اور دوسرے اس کے وارث ہوں گے، اللہ عزوجل نہ مرے، نہ اس کا کوئی وارث ہو اس جیسا اور اس کی جنس کا کوئی نہیں، نہ اس کے مثل کوئی چیز ہے۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے۔ [سنن ترمذي:3364،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة:والصمد الذي ]
ابویعلی موصلی میں بھی ہے کہ ایک اعرابی نے یہ سوال کیا تھا، [مسند ابو يعلي:2044:قال الشيخ زبير علي زئي:ضعيف ]
اور روایت میں ہے کہ مشرکین کے اس سوال کے جواب میں یہ سورت اتری، [ابو الشيخ في العظمة:91:حسن بالشواهد ]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر چیز کی نسبت ہے اور اللہ کی نسبت یہ سورت ہے۔“ [طبراني اوسط:736:ضعيف ]
«صمد» اسے کہتے ہیں جو کھوکھلا نہ ہو، بخاری شریف کتاب التوحید میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کہیں بھیجا جس وقت وہ پلٹے تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر جسے سردار بنایا تھا وہ ہر نماز کی قرأت کے خاتمہ پر سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، پڑھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتے تھے“، پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ یہ سورت رحمان کی صفت ہے مجھے اس کا پڑھنا بہت ہی پسند ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں خبر دو کہ اللہ بھی اس سے محبت رکھتا ہے۔“ [صحيح بخاري:7375 ]
بخاری شریف کتاب الصلوۃ میں ہے کہ ایک انصاری مسجد قبا کے امام تھے ان کی عادت تھی کہ الحمد ختم کر کے پھر اس سورت کو پڑھتے پھر جونسی سورت پڑھنی ہوتی یا جہاں سے چاہتے قرآن پڑھتے، ایک دن مقتدیوں نے کہا کہ آپ اس سورت کو پڑھتے ہیں پھر دوسری سورت ملاتے ہیں یا تو آپ صرف اسی کو پڑھئیے یا چھوڑ دیجئے دوسری سورت ہی پڑھا کیجئے، انہوں نے جواب دیا کہ میں تو جس طرح کرتا ہوں کرتا رہوں گا، تم چاہو تو مجھے امام رکھو، کہو تو میں تمہاری امامت چھوڑ دوں، اب انہیں یہ بات بھاری پڑی، جانتے تھے کہ ان سب میں یہ زیادہ افضل ہیں ان کی موجودگی میں دوسرے کا نماز پڑھانا بھی انہیں گوارا نہ ہو سکا، ایک دن جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو ان لوگوں نے آپ سے یہ واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام صاحب سے کہا: ”تم کیوں اپنے ساتھیوں کی بات نہیں مانتے اور ہر رکعت میں اس سورت کو کیوں پڑھتے ہو؟“ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! مجھے اس سورت سے بڑی محبت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی محبت نے تجھے جنت میں پہنچا دیا۔“ [صحيح بخاري:774 ]
ترمذی اور مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آپ سے کہا: میں اس سورت سے بہت محبت رکھتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی محبت نے تجھے جنت میں پہنچا دیا۔“ [سنن ترمذي:2901،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح ]
ایک شخص نے کسی کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے رات کے وقت سنا کہ وہ بار بار اسی کو دوہرا رہا ہے۔ صبح کے وقت آ کر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گویا کہ وہ اسے ہلکے ثواب کا کام جانتا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ سورت مثل تہائی قرآن کے ہے۔“ [صحيح بخاري:5013]
صحیح بخاری کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کیا تم سے یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ لو، تو یہ صحابہ بھاری پڑا اور کہنے لگے، بھلا اتنی طاقت تو ہر ایک میں نہیں، آپ نے فرمایا: ”سنو سورۃ «قل ھو الله» تہائی قرآن ہے۔ [صحیح بخاری:5015]
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ساری رات اسی سورت کو پڑھتے رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ذکر کیا گیا تو آپ نے قسم کھا کر فرمایا کہ یہ آدھے قرآن یا تہائی قرآن کے برابر ہے۔ [مسند احمد:15/3:ضعیف]
ایک دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم میں سے کسی کو اس کی طاقت ہے کہ وہ ہر رات تیسرا حصہ قرآن کا پڑھ لیا کرے، صحابہ کہنے لگے یہ کس سے ہو سکے گا؟ آپ نے فرمایا: سنو «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، تہائی قرآن کے برابر ہے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی آ گئے آپ نے سن لیا اور فرمایا: ”ابوایوب سچ کہتے ہیں۔“ [مسند احمد:173/2:ضعیف]
ترمذی میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ”جمع ہو جاؤ میں تمہیں آج تہائی قرآن سناؤں گا“، لوگ جمع ہو کر بیٹھ گئے۔ آپ گھر سے آئے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، پڑھی اور پھر گھر چلے گئے اب صحابہ میں باتیں ہونے لگیں کہ وعدہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ تہائی قرآن سنائیں گے شاید آسمان سے کوئی وحی آ گئی ہو۔ اتنے میں آپ پھر واپس آئے اور فرمایا: ”میں نے تم سے تہائی قرآن سنانے کا وعدہ کیا تھا، سنو یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔“ [صحیح مسلم:812]
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس سے عاجز ہو کہ ہر دن تہائی قرآن شریف پڑھ لیا کرو“، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہم اس سے بہت عاجز اور بہت ضعیف ہیں، آپ نے فرمایا: ”سنو! اللہ تعالیٰ نے قرآن کے تین حصے کئے ہیں «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، تیسرا حصہ ہے [صحیح مسلم:811]
ایسی ہی روایتیں صحابہ کرام کی ایک بہت بڑی جماعت سے مروی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ کہیں سے آ رہے تھے آپ کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تھے تو آپ نے ایک شخص کو اس سورت کی تلاوت کرتے ہوئے سن کر فرمایا: ”واجب ہو گئی“، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا واجب ہو گئی؟ فرمایا: ”“ جنت۔“ [سنن ترمذي:2897،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابویعلی کی ایک ضعیف حدیث میں ہے کیا تم میں سے کوئی یہ طاقت نہیں رکھتا کہ سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ کو رات میں تین مرتبہ لے؟ یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔ [مسند ابو یعلی:4118:اسنادہ ضعیف]
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن حبیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم پیاسے تھے رات اندھیری تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار تھا کہ آپ تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں۔ آپ آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر فرمانے لگے پڑھ۔ میں چپکا رہا، آپ نے پھر فرمایا پڑھ۔ میں نے کہا کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا ہر صبح شام تین تین مرتبہ سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ»، «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» پڑھ لیا کہ یہ کافی ہو جائے گا۔ [سنن ابوداود:5082،قال الشيخ الألباني:حسن]
نسائی کی ایک روایت میں ہے ہر چیز سے تجھے یہ کفایت کرے گی۔ مسند کی ایک اور ضعیف حدیث میں ہے جس نے ان کلمات کو دس مرتبہ پڑھ لیا اسے چالیس لاکھ نیکیاں ملتی ہیں وہ کلمات یہ ہیں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا لَمْ يَتَّخِذ صَاحِبَة وَلَا وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَد» ان کے راوی خلیل بن مرہ ہیں جنہیں امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ بہت ضعیف بتلاتے ہیں۔ [مسند احمد:103/4:ضعیف]
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو شخص اس پوری سورت کو دس مرتبہ پڑھ لے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک محل تعمیر کرے گا۔“ سیدنا عمر نے کہا: یا رسول اللہ ! پھر تو ہم بہت سے محل بنوا لیں گے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ اس سے بھی زیادہ اور اس سے بھی اچھے دینے والا ہے۔“ [مسند احمد:437/3:قال الشيخ الألباني:ضعیف]
دارمی میں ہے کہ دس مرتبہ پر ایک محل، بیس پر دو، تیس پر تین، یہ حدیث مرسل ہے۔ [سنن دارمي:459/2:ضعیف]
ابویعلی موصلی کی ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ جو شخص اس سورت کو پچاس مرتبہ پڑھ لے اس کے پچاس سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ [سنن دارمي:461/2:ضعیف]
اسی کی ایک اور ضعیف سند والی حدیث میں ہے کہ جو شخص اس سورت کو ایک دن میں دو سو مرتبہ پڑھ لے اس کے لئے ایک ہزار پانچ سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں بشرطیکہ اس پر قرض نہ ہو۔ [مسند ابو یعلی:3365:ضعیف]
ترمذی کی اس حدیث میں ہے کہ اس کے پچاس سال کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں مگر یہ کہ اس پر قرض ہو۔ [سنن ترمذي:2898،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے جو شخص سونے کے لئے اپنے بستر پر جائے پھر داہنی کروٹ لیٹ کر سو دفعہ اس سورت کو پڑھ لے تو قیامت کے دن رب عزوجل فرمائے گا۔ اے میرے بندے اپنی داہنی طرف سے جنت میں چلا جا۔ [ضعیف ترمذي:552:ضعیف]
بزار کی ایک ضعیف سند والی حدیث میں ہے جو شخص اس سورت کو دو سو مرتبہ پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے دو سو سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ [مسند بزار:84/3:ضعیف]
نسائی شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آئے تو دیکھا کہ ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے دعا مانگ رہا ہے اپنی دعا میں کہتا ہے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك بِأَنِّي أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا أَنْتَ الْأَحَد الصَّمَد الَّذِي لَمْ يَلِد وَلَمْ يُولَد وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَد» یعنی اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس بات کی گواہی دے کر کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے بےنیاز ہے نہ اس کے ماں باپ نہ اولاد نہ ہمسر اور ساتھی کوئی اور۔ آپ یہ سن کر فرمانے لگے ”اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس نے اسم اعظم کے ساتھ دعا مانگی ہے اللہ کے اس بڑے نام کے ساتھ کہ جب کبھی اس نام کے ساتھ سوال کیا جائے تو عطا ہو اور جب کبھی اس نام کے ساتھ دعا کی جائے تو قبول ہو۔“ [سنن ابوداود:1493،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابویعلی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تین کام ہیں جو انہیں ایمان کے ساتھ کر لے وہ جنت کے تمام دروازوں میں سے جس سے چاہے جنت میں چلا جائے اور جس کسی حور جنت سے چاہے نکاح کرا دیا جائے۔ جو اپنے قاتل کو معاف کر دے اور پوشیدہ قرض ادا کر دے اور ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، کو پڑھ لے۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! جو ان تینوں کاموں میں سے ایک کر لے، آپ نے فرمایا کہ پر بھی یہی درجہ ہے۔ [مسند ابو یعلی:1794:ضعیف]
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو شخص اس سورت کو گھر میں جاتے وقت پڑھ لے اللہ تعالیٰ اس گھر والوں سے اور اس کے پڑوسیوں سے فقیری دور کر دے گا“، اس کی اسناد ضعیف ہے۔ [طبرانی:2419:ضعیف]
مسند ابویعلی میں ہے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان تبوک میں تھے سورج ایسی روشنی نور اور شعاعوں کے ساتھ نکلا کہ ہم نے اس سے پہلے ایسا صاف شفاف اور روشن و منور نہیں دیکھا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ آج سورج کی اس تیز روشنی اور زیادہ نور اور چمکیلی شعاعوں کی کیا وجہ ہے؟ تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا آج مدینہ میں معاویہ بن معاویہ لیثی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے جن کے جنازے کی نماز کے لئے اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار فرشتے آسمان سے بھیجے ہیں، پوچھا: ”ان کے کس عمل کے باعث؟“، فرمایا: وہ سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» کو دن رات، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے پڑھا کرتے تھے اگر آپ کا ارادہ ہو تو زمین سمیٹ لوں اور آپ ان کے جنازے کی نماز ادا کر لیں؟، آپ نے فرمایا: ”بہت اچھا“، پس آپ نے ان کے جنازے کی نماز ادا کی۔ [مسند ابو یعلی:4267:ضعیف] اس حدیث کو حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ بھی اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں یزید بن ہارون کی روایت سے لائے ہیں وہ علاء بن محمد سے روایت کرتے ہیں۔ ان پر موضوع حدیثیں بیان کرنے کی تہمت ہے۔ «واللہ اعلم»
مسند ابویعلی میں اس کی دوسری سند بھی ہے جس میں یہ راوی نہیں۔ اس میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ معاویہ بن معاویہ لیثی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے کہ کیا آپ ان کے جنازے کی نماز پڑھنا چاہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، جبرائیل علیہ السلام نے اپنا پر زمین پر مارا تمام درخت اور سب ٹیلے وغیرہ پست ہو گئے ان کا جنازہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آنے لگا، آپ نے نماز شروع کی اور آپ کے پیچھے فرشتوں کی دو صفیں تھیں، ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے، آپ نے دریافت کیا کہ آخر اس مرتبہ کی کیا وجہ ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: ان کی سورت سے محبت اور ہر وقت آتے جاتے بیٹھتے اٹھتے اس کی تلاوت۔ [مسند ابو یعلی:4267:ضعیف] اسے بیہقی نے بھی روایت کیا ہے، اور بیہقی کی سند میں محبوب بن بلال ہیں۔ ابوحاتم رازی فرماتے ہیں یہ مشہور نہیں، ابویعلی میں یہ راوی نہیں وہاں ان کی جگہ ابوعبداللہ محمود ہیں، لیکن ٹھیک بات محبوب کا ہونا ہے، اس روایت کی اور بھی بہت سی سندیں ہیں اور سب ضعیف ہیں، ہم نے اختصار کے لئے انہیں یہاں نقل نہیں کیا۔
مسند احمد میں ہے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی میں نے جلدی سے آپ کا ہاتھ تھام لیا اور کہا:یا رسول اللہ ! مومن کی نجات کس عمل پر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اے عقبہ زبان تھامے رکھ، اپنے گھر میں ہی بیٹھا رہا کر اور اپنی خطاؤں پر روتا رہ“، پھر دوبارہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے خود میرا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: ”عقبہ! کیا میں تمہیں توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن میں اتری ہوئی تمام سورتوں سے بہترین سورتیں بتاؤں؟“ میں نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول ! ضرور ارشاد فرمایئے، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے، پس آپ نے مجھے سورۃ «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» پڑھائیں، پھر فرمایا: ”دیکھو عقبہ! انہیں نہ بھولنا اور ہر رات انہیں پڑھ لیا کرنا۔“ فرماتے ہیں، پھر نہ میں انہیں بھولا اور نہ کوئی رات ان کے پڑھے بغیر گزاری، میں نے پھر آپ سے ملاقات کی اور جلدی کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو اپنے ہاتھ میں لے کر عرض کی کہ یا رسول اللہ ! مجھے بہترین اعمال کا ارشاد فرمایئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سن جو تجھ سے توڑے تو اس سے جوڑ، جو تجھے محروم رکھے تو اسے دے، جو تجھ پر ظلم کرے تو اس سے درگزر کر اور معاف کر دے۔“ [مسند احمد:148/4:حسن]
اس کا بعض حصہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی زہد کے باب میں وارد کیا ہے اور فرمایا ہے یہ حدیث حسن ہے۔ [مسند احمد:158/4:حسن] مسند احمد میں بھی اس کی ایک اور سند ہے۔
صحیح بخاری میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب بستر پر جاتے تو ہر رات تینوں سورتوں کو پڑھ کر اپنی دونوں ہتھیلیاں ملا کر ان پر دم کر کے اپنے جسم مبارک پر پھیر لیا کرتے جہاں تک ہاتھ پہنچتے پہنچاتے، پہلے سر پر، پھر منہ پر، پھر اپنے سامنے کے جسم پر تین مرتبہ اسی طرح کرتے، یہ حدیث سنن میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:5017]
اپنی حکمت و تدبر میں وحدہ لا شریک ٭٭
اس کے نازل ہونے کی وجہ پہلے بیان ہو چکی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے ہم عزیز (علیہ السلام) کو پوجتے ہیں جو اللہ کے بیٹے ہیں اور نصرانی کہتے تھے ہم مسیح (علیہ السلام) کو پوجتے ہیں جو اللہ کے بیٹے ہیں اور مجوسی کہتے تھے ہم سورج چاند کی پرستش کرتے ہیں اور مشرک کہتے تھے ہم بت پرست ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتاری کہ اے نبی! تم کہہ دو کہ ہمارا معبود تو اللہ تعالیٰ ہے جو واحد اور احد ہے جس جیسا کوئی نہیں، جس کا کوئی وزیر نہیں، جس کا کوئی شریک نہیں، جس کا کوئی ہمسر نہیں، جس کا کوئی ہم جنس نہیں، جس کا برابر اور کوئی نہیں، جس کے سوا کسی میں الوہیت نہیں۔ اس لفظ کا اطلاق صرف اسی کی ذات پاک پر ہوتا ہے وہ اپنی صفتوں میں اور اپنے حکمت بھرے کاموں میں یکتا اور بےنظیر ہوتا ہے۔ وہ «صمد» ہے یعنی ساری مخلوق اس کی محتاج ہے اور وہ سب سے بے نیاز ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «صمد» وہ ہے جو اپنی سرداری میں، اپنی شرافت میں، اپنی بندگی اور عظمت میں، اپنے علم و علم میں، اپنی حکمت و تدبر میں سب سے بڑھا ہوا ہے۔ یہ صفتیں صرف اللہ تعالیٰ جل شانہ میں ہی پائی جاتی ہیں۔ اس کا ہمسر اور اس جیسا کوئی اور نہیں وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سب پر غالب ہے اور اپنی ذات و صفات میں یکتا اور بینظیر ہے، «صمد» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جو تمام مخلوق کے فنا ہو جانے کے بعد بھی باقی رہے، جو ہمیشہ کی بقا والا، سب کی حفاظت کرنے والا ہو جس کی ذات لازول اور غیر فانونی ہو۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «صمد» وہ ہے جو نہ کچھ کھائے نہ اس میں سے کچھ نکلے۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ «صمد» کی تفسیر اس کے بعد ہے یعنی نہ اس میں سے کچھ نکلے نہ وہ کسی میں سے نکلے یعنی نہ اس کی اولاد ہو نہ ماں باپ، یہ تفسیر بہت اچھی اور عمدہ ہے اور ابن جریر رحمہ اللہ کی روایت سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے صراحتاً یہ مروی ہے جیسے کہ پہلے گزرا،
اور بہت سے صحابہ اور تابعین سے مروی ہے کہ «صمد» کہتے ہیں ٹھوس چیز کو جو کھوکھلی نہ ہو جس کا پیٹ نہ ہو۔ شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں جو نہ کھاتا ہو نہ پیتا ہو، عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «صمد» وہ نور ہے جو روشن ہو اور چمک دمک والا ہو، ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ «صمد» میں ہے جس کا پیٹ نہ ہو، [طبرانی:1162:ضعیف] لیکن اس کا مرفوع ہونا ٹھیک نہیں، صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔
10918
حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمہ اللہ اپنی کتاب «السنہ» میں لفظ «صمد» کی تفسیر میں ان تمام اقوال وغیرہ کو وارد کر کے لکھتے ہیں کہ دراصل یہ سب سچے ہیں اور صحیح ہیں۔ کل صفتیں ہمارے رب عزوجل میں ہیں اس کی طرف سب محتاج بھی ہیں وہ سب سے بڑھ کر سردار اور سب سے بڑا ہے اسے نہ پیٹ ہے، نہ وہ کھوکھلا ہے، نہ وہ کھائے، نہ پئے، سب فانی ہیں اور وہ باقی ہے۔ وغیرہ
پھر فرمایا: اس کی اولاد نہیں نہ اس کے ماں باپ ہیں نہ بیوی۔ جیسے اور جگہ ہے: «بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ» [6-الأنعام:101] الخ یعنی ”وہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے اسے اولاد کیسے ہو گی؟ اس کی بیوی نہیں ہر چیز کو اسی نے پیدا کیا ہے“، یعنی وہ ہر چیز کا خالق مالک ہے، پھر اس کی مخلوق اور ملکیت میں سے اس کی برابری اور ہمسری کرنے والا کون ہو گا؟ وہ ان تمام عیوب اور نقصان سے پاک ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا: «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا» * «لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا» * «تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا» * «أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا» * «وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا» * «إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا» * «لَقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا» * «وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [19-مريم:88-95] یعنی ”یہ کفار کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے تم تو ایک بڑی بری چیز لائے قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو کر گر پڑیں، اس بنا پر کہ انہوں نے کہا کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ اللہ کو یہ لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو تمام زمین و آسمان میں کے کل کے کل اللہ کے غلام ہی بن کر آنے والے ہیں اللہ کے پاس تمام کا شمار ہے اور انہیں ایک ایک کر کے گن رکھا ہے اور یہ سب کے سب تنہا تنہا اس کے پاس قیامت کے دن حاضر ہونے والے ہیں“۔
اور جگہ ہے: «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ» * «لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ» [21-الأنبياء:26] یعنی ”ان کافروں نے کہا کہ رحمان کی اولاد ہے اللہ اس سے پاک ہے بلکہ وہ تو اللہ کے باعزت بندے ہیں بات میں بھی اس سے سبقت نہیں کرتے اسی کے فرمان پر عامل ہیں“۔
اور جگہ ہے: «وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ» * «سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ» [37-الصافات:158-159] یعنی ”انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اور جنات کے درمیان نسب قائم کر رکھا ہے حالانکہ جنات تو خود اس کی فرمانبرداری میں حاضر ہیں اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ عیوب سے پاک و برتر ہے“۔
10919
صحیح بخاری میں ہے کہ ایذاء دینے والی باتوں کو سنتے ہوئے صبر کرنے میں اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں لوگ اس کی اولاد بتاتے ہیں اور پھر بھی وہ انہیں روزیاں دیتا ہے اور عافیت و تنگ دستی عطا فرماتا ہے ۔ [صحیح بخاری:7378]
بخاری کی اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم مجھے جھٹلاتا ہے حالانکہ اسے ایسا نہ چاہیئے مجھے گالیاں دیتا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہ تھا اس کا مجھے جھٹلاتا تو یہ ہے کہ وہ کہتا ہے جس طرح اولاً اللہ نے مجھے پیدا کیا ایسے ہی پھر نہیں لوٹائے گا حالانکہ پہلی مرتبہ کی پیدائش دوسری مرتبہ کی پیدائش سے کچھ آسان تو نہ تھی جب میں اس پر قادر ہوں تو اس پر کیوں نہیں؟ اور اس کا مجھے گالیاں دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے اللہ کی اولاد ہے حالانکہ میں تنہا ہوں میں ایک ہی ہوں میں صمد ہوں نہ میری اولاد نہ میرے ماں باپ نے مجھ جیسا کوئی اور [صحیح بخاری:4974]
«الحمداللہ» سورۃ الاخلاص کی تفسیر اللہ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے ختم ہوئی۔
10920
الإخلاص 112:4
سورۃ اخلاص کی فضیلت:
مسند احمد میں ہے کہ مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اپنے رب کے اوصاف بیان کریں اس پر یہ سورت نازل ہوئی، «صمد» کے معنی ہیں جو نہ تو پیدا ہوا ہو، نہ اس کی اولاد ہو، اس لئے کہ جو پیدا ہوا ہے وہ ایک وقت مرے گا بھی اور دوسرے اس کے وارث ہوں گے، اللہ عزوجل نہ مرے، نہ اس کا کوئی وارث ہو اس جیسا اور اس کی جنس کا کوئی نہیں، نہ اس کے مثل کوئی چیز ہے۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے۔ [سنن ترمذي:3364،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة:والصمد الذي ]
ابویعلی موصلی میں بھی ہے کہ ایک اعرابی نے یہ سوال کیا تھا، [مسند ابو يعلي:2044:قال الشيخ زبير علي زئي:ضعيف ]
اور روایت میں ہے کہ مشرکین کے اس سوال کے جواب میں یہ سورت اتری، [ابو الشيخ في العظمة:91:حسن بالشواهد ]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر چیز کی نسبت ہے اور اللہ کی نسبت یہ سورت ہے۔“ [طبراني اوسط:736:ضعيف ]
«صمد» اسے کہتے ہیں جو کھوکھلا نہ ہو، بخاری شریف کتاب التوحید میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کہیں بھیجا جس وقت وہ پلٹے تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر جسے سردار بنایا تھا وہ ہر نماز کی قرأت کے خاتمہ پر سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، پڑھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتے تھے“، پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ یہ سورت رحمان کی صفت ہے مجھے اس کا پڑھنا بہت ہی پسند ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں خبر دو کہ اللہ بھی اس سے محبت رکھتا ہے۔“ [صحيح بخاري:7375 ]
بخاری شریف کتاب الصلوۃ میں ہے کہ ایک انصاری مسجد قبا کے امام تھے ان کی عادت تھی کہ الحمد ختم کر کے پھر اس سورت کو پڑھتے پھر جونسی سورت پڑھنی ہوتی یا جہاں سے چاہتے قرآن پڑھتے، ایک دن مقتدیوں نے کہا کہ آپ اس سورت کو پڑھتے ہیں پھر دوسری سورت ملاتے ہیں یا تو آپ صرف اسی کو پڑھئیے یا چھوڑ دیجئے دوسری سورت ہی پڑھا کیجئے، انہوں نے جواب دیا کہ میں تو جس طرح کرتا ہوں کرتا رہوں گا، تم چاہو تو مجھے امام رکھو، کہو تو میں تمہاری امامت چھوڑ دوں، اب انہیں یہ بات بھاری پڑی، جانتے تھے کہ ان سب میں یہ زیادہ افضل ہیں ان کی موجودگی میں دوسرے کا نماز پڑھانا بھی انہیں گوارا نہ ہو سکا، ایک دن جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو ان لوگوں نے آپ سے یہ واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام صاحب سے کہا: ”تم کیوں اپنے ساتھیوں کی بات نہیں مانتے اور ہر رکعت میں اس سورت کو کیوں پڑھتے ہو؟“ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! مجھے اس سورت سے بڑی محبت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی محبت نے تجھے جنت میں پہنچا دیا۔“ [صحيح بخاري:774 ]
ترمذی اور مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آپ سے کہا: میں اس سورت سے بہت محبت رکھتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی محبت نے تجھے جنت میں پہنچا دیا۔“ [سنن ترمذي:2901،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح ]
ایک شخص نے کسی کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے رات کے وقت سنا کہ وہ بار بار اسی کو دوہرا رہا ہے۔ صبح کے وقت آ کر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گویا کہ وہ اسے ہلکے ثواب کا کام جانتا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ سورت مثل تہائی قرآن کے ہے۔“ [صحيح بخاري:5013]
صحیح بخاری کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کیا تم سے یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ لو، تو یہ صحابہ بھاری پڑا اور کہنے لگے، بھلا اتنی طاقت تو ہر ایک میں نہیں، آپ نے فرمایا: ”سنو سورۃ «قل ھو الله» تہائی قرآن ہے۔ [صحیح بخاری:5015]
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ساری رات اسی سورت کو پڑھتے رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ذکر کیا گیا تو آپ نے قسم کھا کر فرمایا کہ یہ آدھے قرآن یا تہائی قرآن کے برابر ہے۔ [مسند احمد:15/3:ضعیف]
ایک دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم میں سے کسی کو اس کی طاقت ہے کہ وہ ہر رات تیسرا حصہ قرآن کا پڑھ لیا کرے، صحابہ کہنے لگے یہ کس سے ہو سکے گا؟ آپ نے فرمایا: سنو «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، تہائی قرآن کے برابر ہے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی آ گئے آپ نے سن لیا اور فرمایا: ”ابوایوب سچ کہتے ہیں۔“ [مسند احمد:173/2:ضعیف]
ترمذی میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ”جمع ہو جاؤ میں تمہیں آج تہائی قرآن سناؤں گا“، لوگ جمع ہو کر بیٹھ گئے۔ آپ گھر سے آئے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، پڑھی اور پھر گھر چلے گئے اب صحابہ میں باتیں ہونے لگیں کہ وعدہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ تہائی قرآن سنائیں گے شاید آسمان سے کوئی وحی آ گئی ہو۔ اتنے میں آپ پھر واپس آئے اور فرمایا: ”میں نے تم سے تہائی قرآن سنانے کا وعدہ کیا تھا، سنو یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔“ [صحیح مسلم:812]
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس سے عاجز ہو کہ ہر دن تہائی قرآن شریف پڑھ لیا کرو“، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہم اس سے بہت عاجز اور بہت ضعیف ہیں، آپ نے فرمایا: ”سنو! اللہ تعالیٰ نے قرآن کے تین حصے کئے ہیں «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، تیسرا حصہ ہے [صحیح مسلم:811]
ایسی ہی روایتیں صحابہ کرام کی ایک بہت بڑی جماعت سے مروی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ کہیں سے آ رہے تھے آپ کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تھے تو آپ نے ایک شخص کو اس سورت کی تلاوت کرتے ہوئے سن کر فرمایا: ”واجب ہو گئی“، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا واجب ہو گئی؟ فرمایا: ”“ جنت۔“ [سنن ترمذي:2897،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابویعلی کی ایک ضعیف حدیث میں ہے کیا تم میں سے کوئی یہ طاقت نہیں رکھتا کہ سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ کو رات میں تین مرتبہ لے؟ یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔ [مسند ابو یعلی:4118:اسنادہ ضعیف]
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن حبیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم پیاسے تھے رات اندھیری تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار تھا کہ آپ تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں۔ آپ آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر فرمانے لگے پڑھ۔ میں چپکا رہا، آپ نے پھر فرمایا پڑھ۔ میں نے کہا کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا ہر صبح شام تین تین مرتبہ سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ»، «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» پڑھ لیا کہ یہ کافی ہو جائے گا۔ [سنن ابوداود:5082،قال الشيخ الألباني:حسن]
نسائی کی ایک روایت میں ہے ہر چیز سے تجھے یہ کفایت کرے گی۔ مسند کی ایک اور ضعیف حدیث میں ہے جس نے ان کلمات کو دس مرتبہ پڑھ لیا اسے چالیس لاکھ نیکیاں ملتی ہیں وہ کلمات یہ ہیں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا لَمْ يَتَّخِذ صَاحِبَة وَلَا وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَد» ان کے راوی خلیل بن مرہ ہیں جنہیں امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ بہت ضعیف بتلاتے ہیں۔ [مسند احمد:103/4:ضعیف]
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو شخص اس پوری سورت کو دس مرتبہ پڑھ لے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک محل تعمیر کرے گا۔“ سیدنا عمر نے کہا: یا رسول اللہ ! پھر تو ہم بہت سے محل بنوا لیں گے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ اس سے بھی زیادہ اور اس سے بھی اچھے دینے والا ہے۔“ [مسند احمد:437/3:قال الشيخ الألباني:ضعیف]
دارمی میں ہے کہ دس مرتبہ پر ایک محل، بیس پر دو، تیس پر تین، یہ حدیث مرسل ہے۔ [سنن دارمي:459/2:ضعیف]
ابویعلی موصلی کی ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ جو شخص اس سورت کو پچاس مرتبہ پڑھ لے اس کے پچاس سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ [سنن دارمي:461/2:ضعیف]
اسی کی ایک اور ضعیف سند والی حدیث میں ہے کہ جو شخص اس سورت کو ایک دن میں دو سو مرتبہ پڑھ لے اس کے لئے ایک ہزار پانچ سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں بشرطیکہ اس پر قرض نہ ہو۔ [مسند ابو یعلی:3365:ضعیف]
ترمذی کی اس حدیث میں ہے کہ اس کے پچاس سال کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں مگر یہ کہ اس پر قرض ہو۔ [سنن ترمذي:2898،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے جو شخص سونے کے لئے اپنے بستر پر جائے پھر داہنی کروٹ لیٹ کر سو دفعہ اس سورت کو پڑھ لے تو قیامت کے دن رب عزوجل فرمائے گا۔ اے میرے بندے اپنی داہنی طرف سے جنت میں چلا جا۔ [ضعیف ترمذي:552:ضعیف]
بزار کی ایک ضعیف سند والی حدیث میں ہے جو شخص اس سورت کو دو سو مرتبہ پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے دو سو سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ [مسند بزار:84/3:ضعیف]
نسائی شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آئے تو دیکھا کہ ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے دعا مانگ رہا ہے اپنی دعا میں کہتا ہے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك بِأَنِّي أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا أَنْتَ الْأَحَد الصَّمَد الَّذِي لَمْ يَلِد وَلَمْ يُولَد وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَد» یعنی اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس بات کی گواہی دے کر کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے بےنیاز ہے نہ اس کے ماں باپ نہ اولاد نہ ہمسر اور ساتھی کوئی اور۔ آپ یہ سن کر فرمانے لگے ”اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس نے اسم اعظم کے ساتھ دعا مانگی ہے اللہ کے اس بڑے نام کے ساتھ کہ جب کبھی اس نام کے ساتھ سوال کیا جائے تو عطا ہو اور جب کبھی اس نام کے ساتھ دعا کی جائے تو قبول ہو۔“ [سنن ابوداود:1493،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابویعلی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تین کام ہیں جو انہیں ایمان کے ساتھ کر لے وہ جنت کے تمام دروازوں میں سے جس سے چاہے جنت میں چلا جائے اور جس کسی حور جنت سے چاہے نکاح کرا دیا جائے۔ جو اپنے قاتل کو معاف کر دے اور پوشیدہ قرض ادا کر دے اور ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» الخ، کو پڑھ لے۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! جو ان تینوں کاموں میں سے ایک کر لے، آپ نے فرمایا کہ پر بھی یہی درجہ ہے۔ [مسند ابو یعلی:1794:ضعیف]
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو شخص اس سورت کو گھر میں جاتے وقت پڑھ لے اللہ تعالیٰ اس گھر والوں سے اور اس کے پڑوسیوں سے فقیری دور کر دے گا“، اس کی اسناد ضعیف ہے۔ [طبرانی:2419:ضعیف]
مسند ابویعلی میں ہے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان تبوک میں تھے سورج ایسی روشنی نور اور شعاعوں کے ساتھ نکلا کہ ہم نے اس سے پہلے ایسا صاف شفاف اور روشن و منور نہیں دیکھا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ آج سورج کی اس تیز روشنی اور زیادہ نور اور چمکیلی شعاعوں کی کیا وجہ ہے؟ تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا آج مدینہ میں معاویہ بن معاویہ لیثی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے جن کے جنازے کی نماز کے لئے اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار فرشتے آسمان سے بھیجے ہیں، پوچھا: ”ان کے کس عمل کے باعث؟“، فرمایا: وہ سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» کو دن رات، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے پڑھا کرتے تھے اگر آپ کا ارادہ ہو تو زمین سمیٹ لوں اور آپ ان کے جنازے کی نماز ادا کر لیں؟، آپ نے فرمایا: ”بہت اچھا“، پس آپ نے ان کے جنازے کی نماز ادا کی۔ [مسند ابو یعلی:4267:ضعیف] اس حدیث کو حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ بھی اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں یزید بن ہارون کی روایت سے لائے ہیں وہ علاء بن محمد سے روایت کرتے ہیں۔ ان پر موضوع حدیثیں بیان کرنے کی تہمت ہے۔ «واللہ اعلم»
مسند ابویعلی میں اس کی دوسری سند بھی ہے جس میں یہ راوی نہیں۔ اس میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ معاویہ بن معاویہ لیثی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے کہ کیا آپ ان کے جنازے کی نماز پڑھنا چاہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، جبرائیل علیہ السلام نے اپنا پر زمین پر مارا تمام درخت اور سب ٹیلے وغیرہ پست ہو گئے ان کا جنازہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آنے لگا، آپ نے نماز شروع کی اور آپ کے پیچھے فرشتوں کی دو صفیں تھیں، ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے، آپ نے دریافت کیا کہ آخر اس مرتبہ کی کیا وجہ ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: ان کی سورت سے محبت اور ہر وقت آتے جاتے بیٹھتے اٹھتے اس کی تلاوت۔ [مسند ابو یعلی:4267:ضعیف] اسے بیہقی نے بھی روایت کیا ہے، اور بیہقی کی سند میں محبوب بن بلال ہیں۔ ابوحاتم رازی فرماتے ہیں یہ مشہور نہیں، ابویعلی میں یہ راوی نہیں وہاں ان کی جگہ ابوعبداللہ محمود ہیں، لیکن ٹھیک بات محبوب کا ہونا ہے، اس روایت کی اور بھی بہت سی سندیں ہیں اور سب ضعیف ہیں، ہم نے اختصار کے لئے انہیں یہاں نقل نہیں کیا۔
مسند احمد میں ہے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی میں نے جلدی سے آپ کا ہاتھ تھام لیا اور کہا:یا رسول اللہ ! مومن کی نجات کس عمل پر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اے عقبہ زبان تھامے رکھ، اپنے گھر میں ہی بیٹھا رہا کر اور اپنی خطاؤں پر روتا رہ“، پھر دوبارہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے خود میرا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: ”عقبہ! کیا میں تمہیں توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن میں اتری ہوئی تمام سورتوں سے بہترین سورتیں بتاؤں؟“ میں نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول ! ضرور ارشاد فرمایئے، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے، پس آپ نے مجھے سورۃ «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» پڑھائیں، پھر فرمایا: ”دیکھو عقبہ! انہیں نہ بھولنا اور ہر رات انہیں پڑھ لیا کرنا۔“ فرماتے ہیں، پھر نہ میں انہیں بھولا اور نہ کوئی رات ان کے پڑھے بغیر گزاری، میں نے پھر آپ سے ملاقات کی اور جلدی کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو اپنے ہاتھ میں لے کر عرض کی کہ یا رسول اللہ ! مجھے بہترین اعمال کا ارشاد فرمایئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سن جو تجھ سے توڑے تو اس سے جوڑ، جو تجھے محروم رکھے تو اسے دے، جو تجھ پر ظلم کرے تو اس سے درگزر کر اور معاف کر دے۔“ [مسند احمد:148/4:حسن]
اس کا بعض حصہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی زہد کے باب میں وارد کیا ہے اور فرمایا ہے یہ حدیث حسن ہے۔ [مسند احمد:158/4:حسن] مسند احمد میں بھی اس کی ایک اور سند ہے۔
صحیح بخاری میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب بستر پر جاتے تو ہر رات تینوں سورتوں کو پڑھ کر اپنی دونوں ہتھیلیاں ملا کر ان پر دم کر کے اپنے جسم مبارک پر پھیر لیا کرتے جہاں تک ہاتھ پہنچتے پہنچاتے، پہلے سر پر، پھر منہ پر، پھر اپنے سامنے کے جسم پر تین مرتبہ اسی طرح کرتے، یہ حدیث سنن میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:5017]
اپنی حکمت و تدبر میں وحدہ لا شریک ٭٭
اس کے نازل ہونے کی وجہ پہلے بیان ہو چکی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے ہم عزیز (علیہ السلام) کو پوجتے ہیں جو اللہ کے بیٹے ہیں اور نصرانی کہتے تھے ہم مسیح (علیہ السلام) کو پوجتے ہیں جو اللہ کے بیٹے ہیں اور مجوسی کہتے تھے ہم سورج چاند کی پرستش کرتے ہیں اور مشرک کہتے تھے ہم بت پرست ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتاری کہ اے نبی! تم کہہ دو کہ ہمارا معبود تو اللہ تعالیٰ ہے جو واحد اور احد ہے جس جیسا کوئی نہیں، جس کا کوئی وزیر نہیں، جس کا کوئی شریک نہیں، جس کا کوئی ہمسر نہیں، جس کا کوئی ہم جنس نہیں، جس کا برابر اور کوئی نہیں، جس کے سوا کسی میں الوہیت نہیں۔ اس لفظ کا اطلاق صرف اسی کی ذات پاک پر ہوتا ہے وہ اپنی صفتوں میں اور اپنے حکمت بھرے کاموں میں یکتا اور بےنظیر ہوتا ہے۔ وہ «صمد» ہے یعنی ساری مخلوق اس کی محتاج ہے اور وہ سب سے بے نیاز ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «صمد» وہ ہے جو اپنی سرداری میں، اپنی شرافت میں، اپنی بندگی اور عظمت میں، اپنے علم و علم میں، اپنی حکمت و تدبر میں سب سے بڑھا ہوا ہے۔ یہ صفتیں صرف اللہ تعالیٰ جل شانہ میں ہی پائی جاتی ہیں۔ اس کا ہمسر اور اس جیسا کوئی اور نہیں وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سب پر غالب ہے اور اپنی ذات و صفات میں یکتا اور بینظیر ہے، «صمد» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جو تمام مخلوق کے فنا ہو جانے کے بعد بھی باقی رہے، جو ہمیشہ کی بقا والا، سب کی حفاظت کرنے والا ہو جس کی ذات لازول اور غیر فانونی ہو۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «صمد» وہ ہے جو نہ کچھ کھائے نہ اس میں سے کچھ نکلے۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ «صمد» کی تفسیر اس کے بعد ہے یعنی نہ اس میں سے کچھ نکلے نہ وہ کسی میں سے نکلے یعنی نہ اس کی اولاد ہو نہ ماں باپ، یہ تفسیر بہت اچھی اور عمدہ ہے اور ابن جریر رحمہ اللہ کی روایت سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے صراحتاً یہ مروی ہے جیسے کہ پہلے گزرا،
اور بہت سے صحابہ اور تابعین سے مروی ہے کہ «صمد» کہتے ہیں ٹھوس چیز کو جو کھوکھلی نہ ہو جس کا پیٹ نہ ہو۔ شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں جو نہ کھاتا ہو نہ پیتا ہو، عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «صمد» وہ نور ہے جو روشن ہو اور چمک دمک والا ہو، ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ «صمد» میں ہے جس کا پیٹ نہ ہو، [طبرانی:1162:ضعیف] لیکن اس کا مرفوع ہونا ٹھیک نہیں، صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔
10918
حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمہ اللہ اپنی کتاب «السنہ» میں لفظ «صمد» کی تفسیر میں ان تمام اقوال وغیرہ کو وارد کر کے لکھتے ہیں کہ دراصل یہ سب سچے ہیں اور صحیح ہیں۔ کل صفتیں ہمارے رب عزوجل میں ہیں اس کی طرف سب محتاج بھی ہیں وہ سب سے بڑھ کر سردار اور سب سے بڑا ہے اسے نہ پیٹ ہے، نہ وہ کھوکھلا ہے، نہ وہ کھائے، نہ پئے، سب فانی ہیں اور وہ باقی ہے۔ وغیرہ
پھر فرمایا: اس کی اولاد نہیں نہ اس کے ماں باپ ہیں نہ بیوی۔ جیسے اور جگہ ہے: «بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ» [6-الأنعام:101] الخ یعنی ”وہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے اسے اولاد کیسے ہو گی؟ اس کی بیوی نہیں ہر چیز کو اسی نے پیدا کیا ہے“، یعنی وہ ہر چیز کا خالق مالک ہے، پھر اس کی مخلوق اور ملکیت میں سے اس کی برابری اور ہمسری کرنے والا کون ہو گا؟ وہ ان تمام عیوب اور نقصان سے پاک ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا: «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا» * «لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا» * «تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا» * «أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا» * «وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا» * «إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا» * «لَقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا» * «وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [19-مريم:88-95] یعنی ”یہ کفار کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے تم تو ایک بڑی بری چیز لائے قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو کر گر پڑیں، اس بنا پر کہ انہوں نے کہا کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ اللہ کو یہ لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو تمام زمین و آسمان میں کے کل کے کل اللہ کے غلام ہی بن کر آنے والے ہیں اللہ کے پاس تمام کا شمار ہے اور انہیں ایک ایک کر کے گن رکھا ہے اور یہ سب کے سب تنہا تنہا اس کے پاس قیامت کے دن حاضر ہونے والے ہیں“۔
اور جگہ ہے: «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ» * «لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ» [21-الأنبياء:26] یعنی ”ان کافروں نے کہا کہ رحمان کی اولاد ہے اللہ اس سے پاک ہے بلکہ وہ تو اللہ کے باعزت بندے ہیں بات میں بھی اس سے سبقت نہیں کرتے اسی کے فرمان پر عامل ہیں“۔
اور جگہ ہے: «وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ» * «سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ» [37-الصافات:158-159] یعنی ”انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اور جنات کے درمیان نسب قائم کر رکھا ہے حالانکہ جنات تو خود اس کی فرمانبرداری میں حاضر ہیں اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ عیوب سے پاک و برتر ہے“۔
10919
صحیح بخاری میں ہے کہ ایذاء دینے والی باتوں کو سنتے ہوئے صبر کرنے میں اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں لوگ اس کی اولاد بتاتے ہیں اور پھر بھی وہ انہیں روزیاں دیتا ہے اور عافیت و تنگ دستی عطا فرماتا ہے ۔ [صحیح بخاری:7378]
بخاری کی اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم مجھے جھٹلاتا ہے حالانکہ اسے ایسا نہ چاہیئے مجھے گالیاں دیتا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہ تھا اس کا مجھے جھٹلاتا تو یہ ہے کہ وہ کہتا ہے جس طرح اولاً اللہ نے مجھے پیدا کیا ایسے ہی پھر نہیں لوٹائے گا حالانکہ پہلی مرتبہ کی پیدائش دوسری مرتبہ کی پیدائش سے کچھ آسان تو نہ تھی جب میں اس پر قادر ہوں تو اس پر کیوں نہیں؟ اور اس کا مجھے گالیاں دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے اللہ کی اولاد ہے حالانکہ میں تنہا ہوں میں ایک ہی ہوں میں صمد ہوں نہ میری اولاد نہ میرے ماں باپ نے مجھ جیسا کوئی اور [صحیح بخاری:4974]
«الحمداللہ» سورۃ الاخلاص کی تفسیر اللہ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے ختم ہوئی۔
10920
الفلق 113:1
مضبوط پناہ گاہیں ناقابل تسخیر مدافعت اور شافی علاج:
مسند احمد میں ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس سورت کو اور اس کے بعد کی سورت کو قرآن شریف میں نہیں لکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میری گواہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی کہ جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» الخ، تو میں نے بھی یہی کہا۔ پھر کہا «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» الخ، تو میں نے یہی کہا پس ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ]
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ان دونوں سورتوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ کے بھائی ابن مسعود رضی اللہ عنہ تو ان دونوں کو قرآن شریف میں سے کاٹ دیا کرتے تھے تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے کہا گیا کہو میں نے کہا“ پس ہم بھی کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند حميدي:374:قال الشيخ زبير علي زئي:صحيح ]
مسند میں بھی یہ روایت الفاظ کے تغیر و تبدل کے ساتھ مروی ہے۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ]
اور بخاری شریف میں بھی ہے۔ [صحيح بخاري:4977 ]
مسند ابویعلی وغیرہ میں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے اور نہ قرآن میں انہیں شمار کرتے تھے، [طبراني كبير:9152] بلکہ قاریوں اور فقہیوں کے نزدیک مشہور بات یہی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے، شاید انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہو اور تواتر کے ساتھ ان تک نہ پہنچا ہو، پھر یہ اپنے اس قول سے رجوع کر کے جماعت کے قول کی طرف پلٹ آتے ہیں۔ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان سورتوں کو قرآن میں داخل کیا جس کے نسخے چاروں طرف پھیلے، «ولله الحمد والمنه»
صحیح مسلم میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے نہیں دیکھا چند آیتیں مجھ پر اس رات ایسی نازل ہوئی ہیں جن جیسی کبھی دیکھی نہیں گئیں،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کی تلاوت فرمائی، یہ حدیث مسند احمد، ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم:814 ]
مسند احمد میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی گلیوں میں آپ کی سواری کی نکیل تھامے چلا جا رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اب آؤ تم سوار ہو جاؤ“، میں نے اس خیال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانوں گا تو نافرمانی ہو گی سوار ہونا منظور کر لیا، تھوڑی دیر کے بعد میں اتر گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقبہ میں تجھے دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟“ میں نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! ضرور سکھایئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورۃ «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ان ہی دونوں سورتوں کی تلاوت کی پھر مجھ سے فرمایا: ”تو نے دیکھ لیا؟ سن جب تو سوئے اور جب کھڑا ہوا نہیں پڑھ لیا کر“، ترمذی ابوداؤد اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے۔ [سنن ابوداود:1462،قال الشيخ الألباني:صحيح]
مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے بعد ان سورتوں کی تلاوت کا حکم دیا۔ [سنن ابوداود:1523،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث بھی ابوداؤد، ترمذی اور نسائی میں ہے امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ ان جیسی سورتیں تو نے پڑھی ہی نہیں۔ [مسند احمد:146/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد ضعیف]
عقبہ والی حدیث جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ آپ کا ہونا مذکور ہے اس کے بعض طرق میں یہ بھی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ سورتیں بتائیں، تو مجھے کچھ زیادہ خوش ہوتے نہ دیکھ کر فرمایا کہ شاید تو انہیں چھوٹی سی سورتیں سمجھتا ہے، سن نماز کے قیام میں ان جیسی سورتوں کی قرأت اور ہے ہی نہیں۔ [مسند احمد:151/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد حسن]
نسائی شریف کی حدیث میں ہے کہ ان جیسی سورتیں کسی پناہ پکڑنے والے کے لئے اور نہیں [نسائی فی السنن الکبری:5433:حسن]
۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عقبہ سے یہ سورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائیں پھر فرمایا: ”نہ تو دعا کی ان جیسی اور سورتیں ہیں، نہ تعویذ کی“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7838:حسن]
ایک روایت میں ہے صبح کی فرض نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی دونوں سورتوں سے پڑھائی ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7850:حسن]
اور حدیث میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے جاتے ہیں اور آپ کے قدم پر ہاتھ رکھ کر عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ ! مجھے سورۃ ہود یا سورۃ یوسف پڑھائے، آپ نے فرمایا: ”اللہ کے پاس نفع دینے والی کوئی سورت «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» سے زیادہ نہیں ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7839:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ آپ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”میں تمہیں بتاؤں کہ پناہ حاصل کرنے والوں کے لئے ان دونوں سورتوں سے افضل سورت اور کوئی نہیں“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7841:حسن]
پس بہت سی حدیثیں اپنے تواتر کی وجہ سے اکثر علماء کے نزدیک قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی کہ آپ نے ان دونوں سورتوں اور سورۃ اخلاص کی نسبت فرمایا کہ چاروں کتابوں میں ان جیسی سورتیں نہیں اتریں، نسائی وغیرہ میں ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے سواریاں کم تھیں باری باری سوار ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے مونڈھوں پر ہاتھ رکھ کر یہ دونوں سورتیں پڑھائیں اور فرمایا: ”جب نماز پڑھو، تو انہیں پڑھا کرو۔ [مسند احمد:479/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:اسنادہ صحیح] بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہوں گے۔ «واللہ اعلم» عبداللہ بن سلام کے سینے پر ہاتھ رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں سمجھے؟ وہ نہ سمجھے کہ کیا کہیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح پناہ مانگا کر، اس جیسی پناہ مانگنے کی اور سورت نہیں“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7845:حسن]
نسائی کی اور حدیث میں ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ سے یہ دونوں سورتیں آپ نے پڑھوائیں پھر فرمایا: ”انہیں پڑھتا رہ ان جیسی سورتیں تو اور پڑھے گا“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7854:حسن]
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا والی وہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونک کر اپنے سر چہرے اور سامنے کے جسم پر پھیر لیتے تھے ۔ [موطا امام مالك:10:صحیح]
موطا امام مالک میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑتے تو ان دونوں سورتوں کو پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیا کرتے تھے، جب آپ کی بیماری سخت ہوئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا معوذات پڑھ کر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو آپ کے جسم مبارک پر پھیرتی تھیں، اس عمل کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کی برکت کا ہوتا تھا ۔ [صحیح بخاری:5016]
سورۃ ن کی تفسیر کے آخر میں یہ حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی اور انسانوں کی آنکھوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب یہ دونوں سورتیں اتریں تو آپ نے انہیں لے لیا اور باقی سب چھوڑ دیں ، امام ترمذی اسے حسن صحیح فرماتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2057،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے بچاؤ کی دعا ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ» [6-الأنعام:96] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے «فَلَقِ» سے مراد مخلوق ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے، لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔
10924
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جس میں جہنم بھی داخل ہے اور ابلیس اور اولاد ابلیس بھی۔
«غَاسِقٍ» سے مراد رات ہے۔ «إِذَا وَقَبَ» سے مراد سورج کا غروب ہو جانا ہے، یعنی رات جب اندھیرا لیے ہوئے آ جائے، ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرب ثریا ستارے کے غروب ہونے کو «غَاسِقٍ» کہتے ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38375:ضعیف] بیماریاں اور وبائیں اس کے واقع ہونے کے وقت بڑھ جاتی تھیں اور اس کے طلوع ہونے کے وقت اٹھ جاتی تھیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ستارہ «غَاسِقٍ» ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں، بعض مفسرین کہتے ہیں مراد اس سے چاند ہے۔
10925
ان کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ تھامے ہوئے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: «تَعَوَّذِي بِاَللَّهِ مِنْ شَرّ هَذَا الْغَاسِق إِذَا وَقَبَ» ”اللہ تعالیٰ سے اس غاسق کی برائی سے پناہ مانگ“ [سنن ترمذي:3366،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح]
اور روایت میں ہے کہ «غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ» سے یہی مراد ہے، دونوں قولوں میں باآسانی یہ تطبیق ہو سکتی ہے کہ چاند کا چڑھنا اور ستاروں کا ظاہر ہونا وغیرہ، یہ سب رات ہی کے وقت ہوتا ہے جب رات آ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
گرہ لگا کر پھونکنے والیوں سے مراد جادوگر عورتیں ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں شرک کے بالکل قریب وہ منتر ہیں جنہیں پڑھ کر سانپ کے کاٹے پر دم کیا جاتا ہے اور آسیب زدہ پر۔ دوسری حدیث میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو جبرائیل علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ دَاء يُؤْذِيك وَمِنْ شَرّ كُلّ حَاسِد وَعَيْن اللَّه يَشْفِيك» یعنی ”اللہ تعالیٰ کے نام سے میں دم کرتا ہوں ہر اس بیماری سے جو تجھے دکھ پہنچائے اور ہر حاسد کی برائی اور بدی سے اللہ تجھے شفاء دے“ ۔ [سنن ترمذي:972،قال الشيخ الألباني:صحيح]
اس بیماری سے مراد شاید وہ بیماری ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عافیت اور شفاء بخشی اور حاسد یہودیوں کے جادوگر کے مکر کو رد کر دیا اور ان کی تدبیروں کو بےاثر کر دیا اور انہیں رسوا اور فضیحت کیا، لیکن باوجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے اوپر جادو کرنے والے کو ڈانٹا ڈپٹا تک نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کی اور آپ کو عافیت اور شفاء عطا فرمائی۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک یہودی نے جادو کیا جس سے کئی دن تک آپ بیمار رہے پھر جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ فلاں یہودی نے آپ جادو کیا ہے اور فلاں فلاں کنوئیں میں گرہیں لگا کر کر رکھا ہے آپ کسی کو بھیج کر اسے نکلوا لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیجا اور اس کنوئیں سے وہ جادو نکلوا کر گرہیں کھول دیں سارا اثر جاتا رہا پھر نہ تو آپ نے اس یہودی سے کبھی اس کا ذکر کیا اور نہ کبھی اس کے سامنے غصہ کا اظہار کیا ۔ [مسند احمد:367/4:صحیح بغیر ھذا سیاق]
10926
صحیح بخاری کتاب الطب میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا آپ سمجھتے تھے کہ آپ ازواج مطہرات کے پاس آئے حالانکہ نہ آئے تھے۔ سفیان فرماتے ہیں یہی سب سے بڑا جادو کا اثر ہے، جب یہ حالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئی ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”عائشہ میں نے اپنے رب سے پوچھا اور میرے پروردگار نے بتا دیا، دو شخص آئے ایک میرے سرہانے بیٹھا ایک پائینتی کی طرف، سرہانے والے نے اس دوسرے سے پوچھا: ان کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے پوچھا: کس نے جادو کیا ہے؟ کہا لبید بن اعصم نے جو بنو رزیق کے قبیلے کا ہے جو یہود کا حلیف ہے اور منافق شخص ہے، کہا کس چیز میں؟ کہا سر کے بالوں اور کنگھی میں، پوچھا: دکھا کہاں ہے؟ کہا تر کھجور کے درخت کی چھال میں پتھر کی چٹان تلے ذروان کے کنوئیں میں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنوئیں کے پاس آئے اور اس میں سے وہ نکلوایا اس کا پانی ایسا تھا گویا مہندی کا گدلا پانی اس کے پاس کے کھجوروں کے درخت شیطانوں کے سر جیسے تھے، میں نے کہا بھی کہ اے اللہ کے رسول! ان سے بدلہ لینا چاہیئے، آپ نے فرمایا: ”الحمداللہ، اللہ تعالیٰ نے مجھے تو شفاء دے دی اور میں لوگوں میں برائی پھیلانا پسند نہیں کرتا“ ۔ [صحیح بخاری:5765]
10927
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ ایک کام کرتے نہ تھے اور اس کے اثر سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کر چکا ہوں اور یہ بھی ہے کہ اس کنوئیں کو آپ کے حکم سے بند کر دیا گیا، [صحیح بخاری:6064]
یہ بھی مروی ہے کہ چھ مہینے تک آپ کی یہی حالت رہی، تفسیر ثعلبی میں سیدنا ابن عباس اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہود کا ایک بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اسے یہودیوں نے بہلا سکھا کر آپ کے چند بال اور آپ کی کنگھی کے چند دندانے منگوا لیے اور ان میں جادو کیا اس کام میں زیادہ تر کوشش کرنے والا لبید بن اعصم تھا پھر ذروان نامی کنوئیں میں جو بنوزریق کا تھا اسے ڈال دیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے سر کے بال جھڑنے لگے، خیال آتا تھا کہ میں عورتوں کے پاس ہو آیا حالانکہ آتے نہ تھے، گو آپ اسے دور کرنے کی کوشش میں تھے لیکن وجہ معلوم نہ ہوتی تھی چھ ماہ تک یہی حال رہا پھر وہ واقعہ ہوا جو اوپر بیان کیا کہ فرشتوں کے ذریعے آپ کو اس کا تمام حال علم ہو گیا اور آپ نے سیدنا علی، سیدنا زبیر اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو بھیج کر کنوئیں میں سے وہ سب چیزیں نکلوائیں ان میں ایک تانت تھی جس میں میں بارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں اور ہر گرہ پر ایک سوئی چبھی ہوئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں سورتیں اتاریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت ان کی پڑھتے جاتے تھے اور ایک ایک گرہ اس کی خودبخود کھلتی جاتی تھی، جب یہ دونوں سورتیں پوری ہوئیں وہ سب گرہیں کھل گئیں اور آپ بالکل شفایاب ہو گئے۔
10928
ادھر جبرائیل علیہ السلام نے وہ دعا پڑھی جو اوپر گزر چکی ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہمیں اجازت دیجئیے کہ ہم اس خبیث کو پکڑ کر قتل کر دیں آپ نے فرمایا: ”نہیں، اللہ نے مجھے تو تندرستی دے دی اور میں لوگوں میں شر و فساد پھیلانا نہیں چاہتا۔“ یہ روایت تفسیر ثعلبی میں بلا سند مروی ہے اس میں غربات بھی ہے اور اس کے بعض حصے میں سخت نکارت ہے اور بعض کے شواہد بھی ہیں جو پہلے بیان ہو چکے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10929
الفلق 113:2
مضبوط پناہ گاہیں ناقابل تسخیر مدافعت اور شافی علاج:
مسند احمد میں ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس سورت کو اور اس کے بعد کی سورت کو قرآن شریف میں نہیں لکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میری گواہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی کہ جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» الخ، تو میں نے بھی یہی کہا۔ پھر کہا «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» الخ، تو میں نے یہی کہا پس ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ]
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ان دونوں سورتوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ کے بھائی ابن مسعود رضی اللہ عنہ تو ان دونوں کو قرآن شریف میں سے کاٹ دیا کرتے تھے تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے کہا گیا کہو میں نے کہا“ پس ہم بھی کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند حميدي:374:قال الشيخ زبير علي زئي:صحيح ]
مسند میں بھی یہ روایت الفاظ کے تغیر و تبدل کے ساتھ مروی ہے۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ]
اور بخاری شریف میں بھی ہے۔ [صحيح بخاري:4977 ]
مسند ابویعلی وغیرہ میں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے اور نہ قرآن میں انہیں شمار کرتے تھے، [طبراني كبير:9152] بلکہ قاریوں اور فقہیوں کے نزدیک مشہور بات یہی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے، شاید انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہو اور تواتر کے ساتھ ان تک نہ پہنچا ہو، پھر یہ اپنے اس قول سے رجوع کر کے جماعت کے قول کی طرف پلٹ آتے ہیں۔ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان سورتوں کو قرآن میں داخل کیا جس کے نسخے چاروں طرف پھیلے، «ولله الحمد والمنه»
صحیح مسلم میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے نہیں دیکھا چند آیتیں مجھ پر اس رات ایسی نازل ہوئی ہیں جن جیسی کبھی دیکھی نہیں گئیں،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کی تلاوت فرمائی، یہ حدیث مسند احمد، ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم:814 ]
مسند احمد میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی گلیوں میں آپ کی سواری کی نکیل تھامے چلا جا رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اب آؤ تم سوار ہو جاؤ“، میں نے اس خیال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانوں گا تو نافرمانی ہو گی سوار ہونا منظور کر لیا، تھوڑی دیر کے بعد میں اتر گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقبہ میں تجھے دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟“ میں نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! ضرور سکھایئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورۃ «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ان ہی دونوں سورتوں کی تلاوت کی پھر مجھ سے فرمایا: ”تو نے دیکھ لیا؟ سن جب تو سوئے اور جب کھڑا ہوا نہیں پڑھ لیا کر“، ترمذی ابوداؤد اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے۔ [سنن ابوداود:1462،قال الشيخ الألباني:صحيح]
مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے بعد ان سورتوں کی تلاوت کا حکم دیا۔ [سنن ابوداود:1523،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث بھی ابوداؤد، ترمذی اور نسائی میں ہے امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ ان جیسی سورتیں تو نے پڑھی ہی نہیں۔ [مسند احمد:146/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد ضعیف]
عقبہ والی حدیث جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ آپ کا ہونا مذکور ہے اس کے بعض طرق میں یہ بھی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ سورتیں بتائیں، تو مجھے کچھ زیادہ خوش ہوتے نہ دیکھ کر فرمایا کہ شاید تو انہیں چھوٹی سی سورتیں سمجھتا ہے، سن نماز کے قیام میں ان جیسی سورتوں کی قرأت اور ہے ہی نہیں۔ [مسند احمد:151/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد حسن]
نسائی شریف کی حدیث میں ہے کہ ان جیسی سورتیں کسی پناہ پکڑنے والے کے لئے اور نہیں [نسائی فی السنن الکبری:5433:حسن]
۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عقبہ سے یہ سورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائیں پھر فرمایا: ”نہ تو دعا کی ان جیسی اور سورتیں ہیں، نہ تعویذ کی“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7838:حسن]
ایک روایت میں ہے صبح کی فرض نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی دونوں سورتوں سے پڑھائی ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7850:حسن]
اور حدیث میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے جاتے ہیں اور آپ کے قدم پر ہاتھ رکھ کر عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ ! مجھے سورۃ ہود یا سورۃ یوسف پڑھائے، آپ نے فرمایا: ”اللہ کے پاس نفع دینے والی کوئی سورت «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» سے زیادہ نہیں ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7839:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ آپ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”میں تمہیں بتاؤں کہ پناہ حاصل کرنے والوں کے لئے ان دونوں سورتوں سے افضل سورت اور کوئی نہیں“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7841:حسن]
پس بہت سی حدیثیں اپنے تواتر کی وجہ سے اکثر علماء کے نزدیک قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی کہ آپ نے ان دونوں سورتوں اور سورۃ اخلاص کی نسبت فرمایا کہ چاروں کتابوں میں ان جیسی سورتیں نہیں اتریں، نسائی وغیرہ میں ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے سواریاں کم تھیں باری باری سوار ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے مونڈھوں پر ہاتھ رکھ کر یہ دونوں سورتیں پڑھائیں اور فرمایا: ”جب نماز پڑھو، تو انہیں پڑھا کرو۔ [مسند احمد:479/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:اسنادہ صحیح] بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہوں گے۔ «واللہ اعلم» عبداللہ بن سلام کے سینے پر ہاتھ رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں سمجھے؟ وہ نہ سمجھے کہ کیا کہیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح پناہ مانگا کر، اس جیسی پناہ مانگنے کی اور سورت نہیں“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7845:حسن]
نسائی کی اور حدیث میں ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ سے یہ دونوں سورتیں آپ نے پڑھوائیں پھر فرمایا: ”انہیں پڑھتا رہ ان جیسی سورتیں تو اور پڑھے گا“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7854:حسن]
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا والی وہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونک کر اپنے سر چہرے اور سامنے کے جسم پر پھیر لیتے تھے ۔ [موطا امام مالك:10:صحیح]
موطا امام مالک میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑتے تو ان دونوں سورتوں کو پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیا کرتے تھے، جب آپ کی بیماری سخت ہوئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا معوذات پڑھ کر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو آپ کے جسم مبارک پر پھیرتی تھیں، اس عمل کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کی برکت کا ہوتا تھا ۔ [صحیح بخاری:5016]
سورۃ ن کی تفسیر کے آخر میں یہ حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی اور انسانوں کی آنکھوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب یہ دونوں سورتیں اتریں تو آپ نے انہیں لے لیا اور باقی سب چھوڑ دیں ، امام ترمذی اسے حسن صحیح فرماتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2057،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے بچاؤ کی دعا ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ» [6-الأنعام:96] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے «فَلَقِ» سے مراد مخلوق ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے، لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔
10924
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جس میں جہنم بھی داخل ہے اور ابلیس اور اولاد ابلیس بھی۔
«غَاسِقٍ» سے مراد رات ہے۔ «إِذَا وَقَبَ» سے مراد سورج کا غروب ہو جانا ہے، یعنی رات جب اندھیرا لیے ہوئے آ جائے، ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرب ثریا ستارے کے غروب ہونے کو «غَاسِقٍ» کہتے ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38375:ضعیف] بیماریاں اور وبائیں اس کے واقع ہونے کے وقت بڑھ جاتی تھیں اور اس کے طلوع ہونے کے وقت اٹھ جاتی تھیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ستارہ «غَاسِقٍ» ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں، بعض مفسرین کہتے ہیں مراد اس سے چاند ہے۔
10925
ان کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ تھامے ہوئے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: «تَعَوَّذِي بِاَللَّهِ مِنْ شَرّ هَذَا الْغَاسِق إِذَا وَقَبَ» ”اللہ تعالیٰ سے اس غاسق کی برائی سے پناہ مانگ“ [سنن ترمذي:3366،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح]
اور روایت میں ہے کہ «غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ» سے یہی مراد ہے، دونوں قولوں میں باآسانی یہ تطبیق ہو سکتی ہے کہ چاند کا چڑھنا اور ستاروں کا ظاہر ہونا وغیرہ، یہ سب رات ہی کے وقت ہوتا ہے جب رات آ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
گرہ لگا کر پھونکنے والیوں سے مراد جادوگر عورتیں ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں شرک کے بالکل قریب وہ منتر ہیں جنہیں پڑھ کر سانپ کے کاٹے پر دم کیا جاتا ہے اور آسیب زدہ پر۔ دوسری حدیث میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو جبرائیل علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ دَاء يُؤْذِيك وَمِنْ شَرّ كُلّ حَاسِد وَعَيْن اللَّه يَشْفِيك» یعنی ”اللہ تعالیٰ کے نام سے میں دم کرتا ہوں ہر اس بیماری سے جو تجھے دکھ پہنچائے اور ہر حاسد کی برائی اور بدی سے اللہ تجھے شفاء دے“ ۔ [سنن ترمذي:972،قال الشيخ الألباني:صحيح]
اس بیماری سے مراد شاید وہ بیماری ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عافیت اور شفاء بخشی اور حاسد یہودیوں کے جادوگر کے مکر کو رد کر دیا اور ان کی تدبیروں کو بےاثر کر دیا اور انہیں رسوا اور فضیحت کیا، لیکن باوجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے اوپر جادو کرنے والے کو ڈانٹا ڈپٹا تک نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کی اور آپ کو عافیت اور شفاء عطا فرمائی۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک یہودی نے جادو کیا جس سے کئی دن تک آپ بیمار رہے پھر جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ فلاں یہودی نے آپ جادو کیا ہے اور فلاں فلاں کنوئیں میں گرہیں لگا کر کر رکھا ہے آپ کسی کو بھیج کر اسے نکلوا لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیجا اور اس کنوئیں سے وہ جادو نکلوا کر گرہیں کھول دیں سارا اثر جاتا رہا پھر نہ تو آپ نے اس یہودی سے کبھی اس کا ذکر کیا اور نہ کبھی اس کے سامنے غصہ کا اظہار کیا ۔ [مسند احمد:367/4:صحیح بغیر ھذا سیاق]
10926
صحیح بخاری کتاب الطب میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا آپ سمجھتے تھے کہ آپ ازواج مطہرات کے پاس آئے حالانکہ نہ آئے تھے۔ سفیان فرماتے ہیں یہی سب سے بڑا جادو کا اثر ہے، جب یہ حالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئی ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”عائشہ میں نے اپنے رب سے پوچھا اور میرے پروردگار نے بتا دیا، دو شخص آئے ایک میرے سرہانے بیٹھا ایک پائینتی کی طرف، سرہانے والے نے اس دوسرے سے پوچھا: ان کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے پوچھا: کس نے جادو کیا ہے؟ کہا لبید بن اعصم نے جو بنو رزیق کے قبیلے کا ہے جو یہود کا حلیف ہے اور منافق شخص ہے، کہا کس چیز میں؟ کہا سر کے بالوں اور کنگھی میں، پوچھا: دکھا کہاں ہے؟ کہا تر کھجور کے درخت کی چھال میں پتھر کی چٹان تلے ذروان کے کنوئیں میں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنوئیں کے پاس آئے اور اس میں سے وہ نکلوایا اس کا پانی ایسا تھا گویا مہندی کا گدلا پانی اس کے پاس کے کھجوروں کے درخت شیطانوں کے سر جیسے تھے، میں نے کہا بھی کہ اے اللہ کے رسول! ان سے بدلہ لینا چاہیئے، آپ نے فرمایا: ”الحمداللہ، اللہ تعالیٰ نے مجھے تو شفاء دے دی اور میں لوگوں میں برائی پھیلانا پسند نہیں کرتا“ ۔ [صحیح بخاری:5765]
10927
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ ایک کام کرتے نہ تھے اور اس کے اثر سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کر چکا ہوں اور یہ بھی ہے کہ اس کنوئیں کو آپ کے حکم سے بند کر دیا گیا، [صحیح بخاری:6064]
یہ بھی مروی ہے کہ چھ مہینے تک آپ کی یہی حالت رہی، تفسیر ثعلبی میں سیدنا ابن عباس اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہود کا ایک بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اسے یہودیوں نے بہلا سکھا کر آپ کے چند بال اور آپ کی کنگھی کے چند دندانے منگوا لیے اور ان میں جادو کیا اس کام میں زیادہ تر کوشش کرنے والا لبید بن اعصم تھا پھر ذروان نامی کنوئیں میں جو بنوزریق کا تھا اسے ڈال دیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے سر کے بال جھڑنے لگے، خیال آتا تھا کہ میں عورتوں کے پاس ہو آیا حالانکہ آتے نہ تھے، گو آپ اسے دور کرنے کی کوشش میں تھے لیکن وجہ معلوم نہ ہوتی تھی چھ ماہ تک یہی حال رہا پھر وہ واقعہ ہوا جو اوپر بیان کیا کہ فرشتوں کے ذریعے آپ کو اس کا تمام حال علم ہو گیا اور آپ نے سیدنا علی، سیدنا زبیر اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو بھیج کر کنوئیں میں سے وہ سب چیزیں نکلوائیں ان میں ایک تانت تھی جس میں میں بارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں اور ہر گرہ پر ایک سوئی چبھی ہوئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں سورتیں اتاریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت ان کی پڑھتے جاتے تھے اور ایک ایک گرہ اس کی خودبخود کھلتی جاتی تھی، جب یہ دونوں سورتیں پوری ہوئیں وہ سب گرہیں کھل گئیں اور آپ بالکل شفایاب ہو گئے۔
10928
ادھر جبرائیل علیہ السلام نے وہ دعا پڑھی جو اوپر گزر چکی ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہمیں اجازت دیجئیے کہ ہم اس خبیث کو پکڑ کر قتل کر دیں آپ نے فرمایا: ”نہیں، اللہ نے مجھے تو تندرستی دے دی اور میں لوگوں میں شر و فساد پھیلانا نہیں چاہتا۔“ یہ روایت تفسیر ثعلبی میں بلا سند مروی ہے اس میں غربات بھی ہے اور اس کے بعض حصے میں سخت نکارت ہے اور بعض کے شواہد بھی ہیں جو پہلے بیان ہو چکے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10929
الفلق 113:3
مضبوط پناہ گاہیں ناقابل تسخیر مدافعت اور شافی علاج:
مسند احمد میں ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس سورت کو اور اس کے بعد کی سورت کو قرآن شریف میں نہیں لکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میری گواہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی کہ جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» الخ، تو میں نے بھی یہی کہا۔ پھر کہا «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» الخ، تو میں نے یہی کہا پس ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ]
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ان دونوں سورتوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ کے بھائی ابن مسعود رضی اللہ عنہ تو ان دونوں کو قرآن شریف میں سے کاٹ دیا کرتے تھے تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے کہا گیا کہو میں نے کہا“ پس ہم بھی کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند حميدي:374:قال الشيخ زبير علي زئي:صحيح ]
مسند میں بھی یہ روایت الفاظ کے تغیر و تبدل کے ساتھ مروی ہے۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ]
اور بخاری شریف میں بھی ہے۔ [صحيح بخاري:4977 ]
مسند ابویعلی وغیرہ میں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے اور نہ قرآن میں انہیں شمار کرتے تھے، [طبراني كبير:9152] بلکہ قاریوں اور فقہیوں کے نزدیک مشہور بات یہی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے، شاید انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہو اور تواتر کے ساتھ ان تک نہ پہنچا ہو، پھر یہ اپنے اس قول سے رجوع کر کے جماعت کے قول کی طرف پلٹ آتے ہیں۔ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان سورتوں کو قرآن میں داخل کیا جس کے نسخے چاروں طرف پھیلے، «ولله الحمد والمنه»
صحیح مسلم میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے نہیں دیکھا چند آیتیں مجھ پر اس رات ایسی نازل ہوئی ہیں جن جیسی کبھی دیکھی نہیں گئیں،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کی تلاوت فرمائی، یہ حدیث مسند احمد، ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم:814 ]
مسند احمد میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی گلیوں میں آپ کی سواری کی نکیل تھامے چلا جا رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اب آؤ تم سوار ہو جاؤ“، میں نے اس خیال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانوں گا تو نافرمانی ہو گی سوار ہونا منظور کر لیا، تھوڑی دیر کے بعد میں اتر گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقبہ میں تجھے دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟“ میں نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! ضرور سکھایئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورۃ «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ان ہی دونوں سورتوں کی تلاوت کی پھر مجھ سے فرمایا: ”تو نے دیکھ لیا؟ سن جب تو سوئے اور جب کھڑا ہوا نہیں پڑھ لیا کر“، ترمذی ابوداؤد اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے۔ [سنن ابوداود:1462،قال الشيخ الألباني:صحيح]
مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے بعد ان سورتوں کی تلاوت کا حکم دیا۔ [سنن ابوداود:1523،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث بھی ابوداؤد، ترمذی اور نسائی میں ہے امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ ان جیسی سورتیں تو نے پڑھی ہی نہیں۔ [مسند احمد:146/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد ضعیف]
عقبہ والی حدیث جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ آپ کا ہونا مذکور ہے اس کے بعض طرق میں یہ بھی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ سورتیں بتائیں، تو مجھے کچھ زیادہ خوش ہوتے نہ دیکھ کر فرمایا کہ شاید تو انہیں چھوٹی سی سورتیں سمجھتا ہے، سن نماز کے قیام میں ان جیسی سورتوں کی قرأت اور ہے ہی نہیں۔ [مسند احمد:151/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد حسن]
نسائی شریف کی حدیث میں ہے کہ ان جیسی سورتیں کسی پناہ پکڑنے والے کے لئے اور نہیں [نسائی فی السنن الکبری:5433:حسن]
۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عقبہ سے یہ سورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائیں پھر فرمایا: ”نہ تو دعا کی ان جیسی اور سورتیں ہیں، نہ تعویذ کی“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7838:حسن]
ایک روایت میں ہے صبح کی فرض نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی دونوں سورتوں سے پڑھائی ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7850:حسن]
اور حدیث میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے جاتے ہیں اور آپ کے قدم پر ہاتھ رکھ کر عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ ! مجھے سورۃ ہود یا سورۃ یوسف پڑھائے، آپ نے فرمایا: ”اللہ کے پاس نفع دینے والی کوئی سورت «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» سے زیادہ نہیں ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7839:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ آپ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”میں تمہیں بتاؤں کہ پناہ حاصل کرنے والوں کے لئے ان دونوں سورتوں سے افضل سورت اور کوئی نہیں“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7841:حسن]
پس بہت سی حدیثیں اپنے تواتر کی وجہ سے اکثر علماء کے نزدیک قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی کہ آپ نے ان دونوں سورتوں اور سورۃ اخلاص کی نسبت فرمایا کہ چاروں کتابوں میں ان جیسی سورتیں نہیں اتریں، نسائی وغیرہ میں ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے سواریاں کم تھیں باری باری سوار ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے مونڈھوں پر ہاتھ رکھ کر یہ دونوں سورتیں پڑھائیں اور فرمایا: ”جب نماز پڑھو، تو انہیں پڑھا کرو۔ [مسند احمد:479/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:اسنادہ صحیح] بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہوں گے۔ «واللہ اعلم» عبداللہ بن سلام کے سینے پر ہاتھ رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں سمجھے؟ وہ نہ سمجھے کہ کیا کہیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح پناہ مانگا کر، اس جیسی پناہ مانگنے کی اور سورت نہیں“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7845:حسن]
نسائی کی اور حدیث میں ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ سے یہ دونوں سورتیں آپ نے پڑھوائیں پھر فرمایا: ”انہیں پڑھتا رہ ان جیسی سورتیں تو اور پڑھے گا“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7854:حسن]
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا والی وہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونک کر اپنے سر چہرے اور سامنے کے جسم پر پھیر لیتے تھے ۔ [موطا امام مالك:10:صحیح]
موطا امام مالک میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑتے تو ان دونوں سورتوں کو پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیا کرتے تھے، جب آپ کی بیماری سخت ہوئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا معوذات پڑھ کر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو آپ کے جسم مبارک پر پھیرتی تھیں، اس عمل کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کی برکت کا ہوتا تھا ۔ [صحیح بخاری:5016]
سورۃ ن کی تفسیر کے آخر میں یہ حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی اور انسانوں کی آنکھوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب یہ دونوں سورتیں اتریں تو آپ نے انہیں لے لیا اور باقی سب چھوڑ دیں ، امام ترمذی اسے حسن صحیح فرماتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2057،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے بچاؤ کی دعا ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ» [6-الأنعام:96] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے «فَلَقِ» سے مراد مخلوق ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے، لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔
10924
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جس میں جہنم بھی داخل ہے اور ابلیس اور اولاد ابلیس بھی۔
«غَاسِقٍ» سے مراد رات ہے۔ «إِذَا وَقَبَ» سے مراد سورج کا غروب ہو جانا ہے، یعنی رات جب اندھیرا لیے ہوئے آ جائے، ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرب ثریا ستارے کے غروب ہونے کو «غَاسِقٍ» کہتے ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38375:ضعیف] بیماریاں اور وبائیں اس کے واقع ہونے کے وقت بڑھ جاتی تھیں اور اس کے طلوع ہونے کے وقت اٹھ جاتی تھیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ستارہ «غَاسِقٍ» ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں، بعض مفسرین کہتے ہیں مراد اس سے چاند ہے۔
10925
ان کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ تھامے ہوئے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: «تَعَوَّذِي بِاَللَّهِ مِنْ شَرّ هَذَا الْغَاسِق إِذَا وَقَبَ» ”اللہ تعالیٰ سے اس غاسق کی برائی سے پناہ مانگ“ [سنن ترمذي:3366،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح]
اور روایت میں ہے کہ «غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ» سے یہی مراد ہے، دونوں قولوں میں باآسانی یہ تطبیق ہو سکتی ہے کہ چاند کا چڑھنا اور ستاروں کا ظاہر ہونا وغیرہ، یہ سب رات ہی کے وقت ہوتا ہے جب رات آ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
گرہ لگا کر پھونکنے والیوں سے مراد جادوگر عورتیں ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں شرک کے بالکل قریب وہ منتر ہیں جنہیں پڑھ کر سانپ کے کاٹے پر دم کیا جاتا ہے اور آسیب زدہ پر۔ دوسری حدیث میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو جبرائیل علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ دَاء يُؤْذِيك وَمِنْ شَرّ كُلّ حَاسِد وَعَيْن اللَّه يَشْفِيك» یعنی ”اللہ تعالیٰ کے نام سے میں دم کرتا ہوں ہر اس بیماری سے جو تجھے دکھ پہنچائے اور ہر حاسد کی برائی اور بدی سے اللہ تجھے شفاء دے“ ۔ [سنن ترمذي:972،قال الشيخ الألباني:صحيح]
اس بیماری سے مراد شاید وہ بیماری ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عافیت اور شفاء بخشی اور حاسد یہودیوں کے جادوگر کے مکر کو رد کر دیا اور ان کی تدبیروں کو بےاثر کر دیا اور انہیں رسوا اور فضیحت کیا، لیکن باوجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے اوپر جادو کرنے والے کو ڈانٹا ڈپٹا تک نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کی اور آپ کو عافیت اور شفاء عطا فرمائی۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک یہودی نے جادو کیا جس سے کئی دن تک آپ بیمار رہے پھر جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ فلاں یہودی نے آپ جادو کیا ہے اور فلاں فلاں کنوئیں میں گرہیں لگا کر کر رکھا ہے آپ کسی کو بھیج کر اسے نکلوا لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیجا اور اس کنوئیں سے وہ جادو نکلوا کر گرہیں کھول دیں سارا اثر جاتا رہا پھر نہ تو آپ نے اس یہودی سے کبھی اس کا ذکر کیا اور نہ کبھی اس کے سامنے غصہ کا اظہار کیا ۔ [مسند احمد:367/4:صحیح بغیر ھذا سیاق]
10926
صحیح بخاری کتاب الطب میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا آپ سمجھتے تھے کہ آپ ازواج مطہرات کے پاس آئے حالانکہ نہ آئے تھے۔ سفیان فرماتے ہیں یہی سب سے بڑا جادو کا اثر ہے، جب یہ حالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئی ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”عائشہ میں نے اپنے رب سے پوچھا اور میرے پروردگار نے بتا دیا، دو شخص آئے ایک میرے سرہانے بیٹھا ایک پائینتی کی طرف، سرہانے والے نے اس دوسرے سے پوچھا: ان کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے پوچھا: کس نے جادو کیا ہے؟ کہا لبید بن اعصم نے جو بنو رزیق کے قبیلے کا ہے جو یہود کا حلیف ہے اور منافق شخص ہے، کہا کس چیز میں؟ کہا سر کے بالوں اور کنگھی میں، پوچھا: دکھا کہاں ہے؟ کہا تر کھجور کے درخت کی چھال میں پتھر کی چٹان تلے ذروان کے کنوئیں میں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنوئیں کے پاس آئے اور اس میں سے وہ نکلوایا اس کا پانی ایسا تھا گویا مہندی کا گدلا پانی اس کے پاس کے کھجوروں کے درخت شیطانوں کے سر جیسے تھے، میں نے کہا بھی کہ اے اللہ کے رسول! ان سے بدلہ لینا چاہیئے، آپ نے فرمایا: ”الحمداللہ، اللہ تعالیٰ نے مجھے تو شفاء دے دی اور میں لوگوں میں برائی پھیلانا پسند نہیں کرتا“ ۔ [صحیح بخاری:5765]
10927
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ ایک کام کرتے نہ تھے اور اس کے اثر سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کر چکا ہوں اور یہ بھی ہے کہ اس کنوئیں کو آپ کے حکم سے بند کر دیا گیا، [صحیح بخاری:6064]
یہ بھی مروی ہے کہ چھ مہینے تک آپ کی یہی حالت رہی، تفسیر ثعلبی میں سیدنا ابن عباس اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہود کا ایک بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اسے یہودیوں نے بہلا سکھا کر آپ کے چند بال اور آپ کی کنگھی کے چند دندانے منگوا لیے اور ان میں جادو کیا اس کام میں زیادہ تر کوشش کرنے والا لبید بن اعصم تھا پھر ذروان نامی کنوئیں میں جو بنوزریق کا تھا اسے ڈال دیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے سر کے بال جھڑنے لگے، خیال آتا تھا کہ میں عورتوں کے پاس ہو آیا حالانکہ آتے نہ تھے، گو آپ اسے دور کرنے کی کوشش میں تھے لیکن وجہ معلوم نہ ہوتی تھی چھ ماہ تک یہی حال رہا پھر وہ واقعہ ہوا جو اوپر بیان کیا کہ فرشتوں کے ذریعے آپ کو اس کا تمام حال علم ہو گیا اور آپ نے سیدنا علی، سیدنا زبیر اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو بھیج کر کنوئیں میں سے وہ سب چیزیں نکلوائیں ان میں ایک تانت تھی جس میں میں بارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں اور ہر گرہ پر ایک سوئی چبھی ہوئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں سورتیں اتاریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت ان کی پڑھتے جاتے تھے اور ایک ایک گرہ اس کی خودبخود کھلتی جاتی تھی، جب یہ دونوں سورتیں پوری ہوئیں وہ سب گرہیں کھل گئیں اور آپ بالکل شفایاب ہو گئے۔
10928
ادھر جبرائیل علیہ السلام نے وہ دعا پڑھی جو اوپر گزر چکی ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہمیں اجازت دیجئیے کہ ہم اس خبیث کو پکڑ کر قتل کر دیں آپ نے فرمایا: ”نہیں، اللہ نے مجھے تو تندرستی دے دی اور میں لوگوں میں شر و فساد پھیلانا نہیں چاہتا۔“ یہ روایت تفسیر ثعلبی میں بلا سند مروی ہے اس میں غربات بھی ہے اور اس کے بعض حصے میں سخت نکارت ہے اور بعض کے شواہد بھی ہیں جو پہلے بیان ہو چکے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10929
الفلق 113:4
مضبوط پناہ گاہیں ناقابل تسخیر مدافعت اور شافی علاج:
مسند احمد میں ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس سورت کو اور اس کے بعد کی سورت کو قرآن شریف میں نہیں لکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میری گواہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی کہ جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» الخ، تو میں نے بھی یہی کہا۔ پھر کہا «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» الخ، تو میں نے یہی کہا پس ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ]
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ان دونوں سورتوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ کے بھائی ابن مسعود رضی اللہ عنہ تو ان دونوں کو قرآن شریف میں سے کاٹ دیا کرتے تھے تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے کہا گیا کہو میں نے کہا“ پس ہم بھی کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند حميدي:374:قال الشيخ زبير علي زئي:صحيح ]
مسند میں بھی یہ روایت الفاظ کے تغیر و تبدل کے ساتھ مروی ہے۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ]
اور بخاری شریف میں بھی ہے۔ [صحيح بخاري:4977 ]
مسند ابویعلی وغیرہ میں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے اور نہ قرآن میں انہیں شمار کرتے تھے، [طبراني كبير:9152] بلکہ قاریوں اور فقہیوں کے نزدیک مشہور بات یہی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے، شاید انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہو اور تواتر کے ساتھ ان تک نہ پہنچا ہو، پھر یہ اپنے اس قول سے رجوع کر کے جماعت کے قول کی طرف پلٹ آتے ہیں۔ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان سورتوں کو قرآن میں داخل کیا جس کے نسخے چاروں طرف پھیلے، «ولله الحمد والمنه»
صحیح مسلم میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے نہیں دیکھا چند آیتیں مجھ پر اس رات ایسی نازل ہوئی ہیں جن جیسی کبھی دیکھی نہیں گئیں،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کی تلاوت فرمائی، یہ حدیث مسند احمد، ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم:814 ]
مسند احمد میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی گلیوں میں آپ کی سواری کی نکیل تھامے چلا جا رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اب آؤ تم سوار ہو جاؤ“، میں نے اس خیال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانوں گا تو نافرمانی ہو گی سوار ہونا منظور کر لیا، تھوڑی دیر کے بعد میں اتر گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقبہ میں تجھے دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟“ میں نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! ضرور سکھایئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورۃ «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ان ہی دونوں سورتوں کی تلاوت کی پھر مجھ سے فرمایا: ”تو نے دیکھ لیا؟ سن جب تو سوئے اور جب کھڑا ہوا نہیں پڑھ لیا کر“، ترمذی ابوداؤد اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے۔ [سنن ابوداود:1462،قال الشيخ الألباني:صحيح]
مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے بعد ان سورتوں کی تلاوت کا حکم دیا۔ [سنن ابوداود:1523،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث بھی ابوداؤد، ترمذی اور نسائی میں ہے امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ ان جیسی سورتیں تو نے پڑھی ہی نہیں۔ [مسند احمد:146/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد ضعیف]
عقبہ والی حدیث جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ آپ کا ہونا مذکور ہے اس کے بعض طرق میں یہ بھی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ سورتیں بتائیں، تو مجھے کچھ زیادہ خوش ہوتے نہ دیکھ کر فرمایا کہ شاید تو انہیں چھوٹی سی سورتیں سمجھتا ہے، سن نماز کے قیام میں ان جیسی سورتوں کی قرأت اور ہے ہی نہیں۔ [مسند احمد:151/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد حسن]
نسائی شریف کی حدیث میں ہے کہ ان جیسی سورتیں کسی پناہ پکڑنے والے کے لئے اور نہیں [نسائی فی السنن الکبری:5433:حسن]
۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عقبہ سے یہ سورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائیں پھر فرمایا: ”نہ تو دعا کی ان جیسی اور سورتیں ہیں، نہ تعویذ کی“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7838:حسن]
ایک روایت میں ہے صبح کی فرض نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی دونوں سورتوں سے پڑھائی ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7850:حسن]
اور حدیث میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے جاتے ہیں اور آپ کے قدم پر ہاتھ رکھ کر عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ ! مجھے سورۃ ہود یا سورۃ یوسف پڑھائے، آپ نے فرمایا: ”اللہ کے پاس نفع دینے والی کوئی سورت «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» سے زیادہ نہیں ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7839:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ آپ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”میں تمہیں بتاؤں کہ پناہ حاصل کرنے والوں کے لئے ان دونوں سورتوں سے افضل سورت اور کوئی نہیں“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7841:حسن]
پس بہت سی حدیثیں اپنے تواتر کی وجہ سے اکثر علماء کے نزدیک قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی کہ آپ نے ان دونوں سورتوں اور سورۃ اخلاص کی نسبت فرمایا کہ چاروں کتابوں میں ان جیسی سورتیں نہیں اتریں، نسائی وغیرہ میں ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے سواریاں کم تھیں باری باری سوار ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے مونڈھوں پر ہاتھ رکھ کر یہ دونوں سورتیں پڑھائیں اور فرمایا: ”جب نماز پڑھو، تو انہیں پڑھا کرو۔ [مسند احمد:479/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:اسنادہ صحیح] بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہوں گے۔ «واللہ اعلم» عبداللہ بن سلام کے سینے پر ہاتھ رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں سمجھے؟ وہ نہ سمجھے کہ کیا کہیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح پناہ مانگا کر، اس جیسی پناہ مانگنے کی اور سورت نہیں“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7845:حسن]
نسائی کی اور حدیث میں ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ سے یہ دونوں سورتیں آپ نے پڑھوائیں پھر فرمایا: ”انہیں پڑھتا رہ ان جیسی سورتیں تو اور پڑھے گا“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7854:حسن]
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا والی وہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونک کر اپنے سر چہرے اور سامنے کے جسم پر پھیر لیتے تھے ۔ [موطا امام مالك:10:صحیح]
موطا امام مالک میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑتے تو ان دونوں سورتوں کو پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیا کرتے تھے، جب آپ کی بیماری سخت ہوئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا معوذات پڑھ کر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو آپ کے جسم مبارک پر پھیرتی تھیں، اس عمل کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کی برکت کا ہوتا تھا ۔ [صحیح بخاری:5016]
سورۃ ن کی تفسیر کے آخر میں یہ حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی اور انسانوں کی آنکھوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب یہ دونوں سورتیں اتریں تو آپ نے انہیں لے لیا اور باقی سب چھوڑ دیں ، امام ترمذی اسے حسن صحیح فرماتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2057،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے بچاؤ کی دعا ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ» [6-الأنعام:96] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے «فَلَقِ» سے مراد مخلوق ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے، لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔
10924
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جس میں جہنم بھی داخل ہے اور ابلیس اور اولاد ابلیس بھی۔
«غَاسِقٍ» سے مراد رات ہے۔ «إِذَا وَقَبَ» سے مراد سورج کا غروب ہو جانا ہے، یعنی رات جب اندھیرا لیے ہوئے آ جائے، ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرب ثریا ستارے کے غروب ہونے کو «غَاسِقٍ» کہتے ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38375:ضعیف] بیماریاں اور وبائیں اس کے واقع ہونے کے وقت بڑھ جاتی تھیں اور اس کے طلوع ہونے کے وقت اٹھ جاتی تھیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ستارہ «غَاسِقٍ» ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں، بعض مفسرین کہتے ہیں مراد اس سے چاند ہے۔
10925
ان کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ تھامے ہوئے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: «تَعَوَّذِي بِاَللَّهِ مِنْ شَرّ هَذَا الْغَاسِق إِذَا وَقَبَ» ”اللہ تعالیٰ سے اس غاسق کی برائی سے پناہ مانگ“ [سنن ترمذي:3366،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح]
اور روایت میں ہے کہ «غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ» سے یہی مراد ہے، دونوں قولوں میں باآسانی یہ تطبیق ہو سکتی ہے کہ چاند کا چڑھنا اور ستاروں کا ظاہر ہونا وغیرہ، یہ سب رات ہی کے وقت ہوتا ہے جب رات آ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
گرہ لگا کر پھونکنے والیوں سے مراد جادوگر عورتیں ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں شرک کے بالکل قریب وہ منتر ہیں جنہیں پڑھ کر سانپ کے کاٹے پر دم کیا جاتا ہے اور آسیب زدہ پر۔ دوسری حدیث میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو جبرائیل علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ دَاء يُؤْذِيك وَمِنْ شَرّ كُلّ حَاسِد وَعَيْن اللَّه يَشْفِيك» یعنی ”اللہ تعالیٰ کے نام سے میں دم کرتا ہوں ہر اس بیماری سے جو تجھے دکھ پہنچائے اور ہر حاسد کی برائی اور بدی سے اللہ تجھے شفاء دے“ ۔ [سنن ترمذي:972،قال الشيخ الألباني:صحيح]
اس بیماری سے مراد شاید وہ بیماری ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عافیت اور شفاء بخشی اور حاسد یہودیوں کے جادوگر کے مکر کو رد کر دیا اور ان کی تدبیروں کو بےاثر کر دیا اور انہیں رسوا اور فضیحت کیا، لیکن باوجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے اوپر جادو کرنے والے کو ڈانٹا ڈپٹا تک نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کی اور آپ کو عافیت اور شفاء عطا فرمائی۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک یہودی نے جادو کیا جس سے کئی دن تک آپ بیمار رہے پھر جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ فلاں یہودی نے آپ جادو کیا ہے اور فلاں فلاں کنوئیں میں گرہیں لگا کر کر رکھا ہے آپ کسی کو بھیج کر اسے نکلوا لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیجا اور اس کنوئیں سے وہ جادو نکلوا کر گرہیں کھول دیں سارا اثر جاتا رہا پھر نہ تو آپ نے اس یہودی سے کبھی اس کا ذکر کیا اور نہ کبھی اس کے سامنے غصہ کا اظہار کیا ۔ [مسند احمد:367/4:صحیح بغیر ھذا سیاق]
10926
صحیح بخاری کتاب الطب میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا آپ سمجھتے تھے کہ آپ ازواج مطہرات کے پاس آئے حالانکہ نہ آئے تھے۔ سفیان فرماتے ہیں یہی سب سے بڑا جادو کا اثر ہے، جب یہ حالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئی ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”عائشہ میں نے اپنے رب سے پوچھا اور میرے پروردگار نے بتا دیا، دو شخص آئے ایک میرے سرہانے بیٹھا ایک پائینتی کی طرف، سرہانے والے نے اس دوسرے سے پوچھا: ان کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے پوچھا: کس نے جادو کیا ہے؟ کہا لبید بن اعصم نے جو بنو رزیق کے قبیلے کا ہے جو یہود کا حلیف ہے اور منافق شخص ہے، کہا کس چیز میں؟ کہا سر کے بالوں اور کنگھی میں، پوچھا: دکھا کہاں ہے؟ کہا تر کھجور کے درخت کی چھال میں پتھر کی چٹان تلے ذروان کے کنوئیں میں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنوئیں کے پاس آئے اور اس میں سے وہ نکلوایا اس کا پانی ایسا تھا گویا مہندی کا گدلا پانی اس کے پاس کے کھجوروں کے درخت شیطانوں کے سر جیسے تھے، میں نے کہا بھی کہ اے اللہ کے رسول! ان سے بدلہ لینا چاہیئے، آپ نے فرمایا: ”الحمداللہ، اللہ تعالیٰ نے مجھے تو شفاء دے دی اور میں لوگوں میں برائی پھیلانا پسند نہیں کرتا“ ۔ [صحیح بخاری:5765]
10927
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ ایک کام کرتے نہ تھے اور اس کے اثر سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کر چکا ہوں اور یہ بھی ہے کہ اس کنوئیں کو آپ کے حکم سے بند کر دیا گیا، [صحیح بخاری:6064]
یہ بھی مروی ہے کہ چھ مہینے تک آپ کی یہی حالت رہی، تفسیر ثعلبی میں سیدنا ابن عباس اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہود کا ایک بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اسے یہودیوں نے بہلا سکھا کر آپ کے چند بال اور آپ کی کنگھی کے چند دندانے منگوا لیے اور ان میں جادو کیا اس کام میں زیادہ تر کوشش کرنے والا لبید بن اعصم تھا پھر ذروان نامی کنوئیں میں جو بنوزریق کا تھا اسے ڈال دیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے سر کے بال جھڑنے لگے، خیال آتا تھا کہ میں عورتوں کے پاس ہو آیا حالانکہ آتے نہ تھے، گو آپ اسے دور کرنے کی کوشش میں تھے لیکن وجہ معلوم نہ ہوتی تھی چھ ماہ تک یہی حال رہا پھر وہ واقعہ ہوا جو اوپر بیان کیا کہ فرشتوں کے ذریعے آپ کو اس کا تمام حال علم ہو گیا اور آپ نے سیدنا علی، سیدنا زبیر اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو بھیج کر کنوئیں میں سے وہ سب چیزیں نکلوائیں ان میں ایک تانت تھی جس میں میں بارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں اور ہر گرہ پر ایک سوئی چبھی ہوئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں سورتیں اتاریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت ان کی پڑھتے جاتے تھے اور ایک ایک گرہ اس کی خودبخود کھلتی جاتی تھی، جب یہ دونوں سورتیں پوری ہوئیں وہ سب گرہیں کھل گئیں اور آپ بالکل شفایاب ہو گئے۔
10928
ادھر جبرائیل علیہ السلام نے وہ دعا پڑھی جو اوپر گزر چکی ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہمیں اجازت دیجئیے کہ ہم اس خبیث کو پکڑ کر قتل کر دیں آپ نے فرمایا: ”نہیں، اللہ نے مجھے تو تندرستی دے دی اور میں لوگوں میں شر و فساد پھیلانا نہیں چاہتا۔“ یہ روایت تفسیر ثعلبی میں بلا سند مروی ہے اس میں غربات بھی ہے اور اس کے بعض حصے میں سخت نکارت ہے اور بعض کے شواہد بھی ہیں جو پہلے بیان ہو چکے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10929
الفلق 113:5
مضبوط پناہ گاہیں ناقابل تسخیر مدافعت اور شافی علاج:
مسند احمد میں ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس سورت کو اور اس کے بعد کی سورت کو قرآن شریف میں نہیں لکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میری گواہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی کہ جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» الخ، تو میں نے بھی یہی کہا۔ پھر کہا «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» الخ، تو میں نے یہی کہا پس ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ]
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ان دونوں سورتوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ کے بھائی ابن مسعود رضی اللہ عنہ تو ان دونوں کو قرآن شریف میں سے کاٹ دیا کرتے تھے تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے کہا گیا کہو میں نے کہا“ پس ہم بھی کہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ [مسند حميدي:374:قال الشيخ زبير علي زئي:صحيح ]
مسند میں بھی یہ روایت الفاظ کے تغیر و تبدل کے ساتھ مروی ہے۔ [مسند احمد:129/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحيح وهذا اسناد حسن ]
اور بخاری شریف میں بھی ہے۔ [صحيح بخاري:4977 ]
مسند ابویعلی وغیرہ میں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے اور نہ قرآن میں انہیں شمار کرتے تھے، [طبراني كبير:9152] بلکہ قاریوں اور فقہیوں کے نزدیک مشہور بات یہی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے، شاید انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہو اور تواتر کے ساتھ ان تک نہ پہنچا ہو، پھر یہ اپنے اس قول سے رجوع کر کے جماعت کے قول کی طرف پلٹ آتے ہیں۔ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان سورتوں کو قرآن میں داخل کیا جس کے نسخے چاروں طرف پھیلے، «ولله الحمد والمنه»
صحیح مسلم میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے نہیں دیکھا چند آیتیں مجھ پر اس رات ایسی نازل ہوئی ہیں جن جیسی کبھی دیکھی نہیں گئیں،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کی تلاوت فرمائی، یہ حدیث مسند احمد، ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم:814 ]
مسند احمد میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی گلیوں میں آپ کی سواری کی نکیل تھامے چلا جا رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اب آؤ تم سوار ہو جاؤ“، میں نے اس خیال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانوں گا تو نافرمانی ہو گی سوار ہونا منظور کر لیا، تھوڑی دیر کے بعد میں اتر گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقبہ میں تجھے دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟“ میں نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! ضرور سکھایئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورۃ «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ان ہی دونوں سورتوں کی تلاوت کی پھر مجھ سے فرمایا: ”تو نے دیکھ لیا؟ سن جب تو سوئے اور جب کھڑا ہوا نہیں پڑھ لیا کر“، ترمذی ابوداؤد اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے۔ [سنن ابوداود:1462،قال الشيخ الألباني:صحيح]
مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے بعد ان سورتوں کی تلاوت کا حکم دیا۔ [سنن ابوداود:1523،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث بھی ابوداؤد، ترمذی اور نسائی میں ہے امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ ان جیسی سورتیں تو نے پڑھی ہی نہیں۔ [مسند احمد:146/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد ضعیف]
عقبہ والی حدیث جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ آپ کا ہونا مذکور ہے اس کے بعض طرق میں یہ بھی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ سورتیں بتائیں، تو مجھے کچھ زیادہ خوش ہوتے نہ دیکھ کر فرمایا کہ شاید تو انہیں چھوٹی سی سورتیں سمجھتا ہے، سن نماز کے قیام میں ان جیسی سورتوں کی قرأت اور ہے ہی نہیں۔ [مسند احمد:151/4:قال الشيخ شعيب ارناؤط:صحیح وهذا اسناد حسن]
نسائی شریف کی حدیث میں ہے کہ ان جیسی سورتیں کسی پناہ پکڑنے والے کے لئے اور نہیں [نسائی فی السنن الکبری:5433:حسن]
۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عقبہ سے یہ سورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائیں پھر فرمایا: ”نہ تو دعا کی ان جیسی اور سورتیں ہیں، نہ تعویذ کی“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7838:حسن]
ایک روایت میں ہے صبح کی فرض نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی دونوں سورتوں سے پڑھائی ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7850:حسن]
اور حدیث میں ہے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے جاتے ہیں اور آپ کے قدم پر ہاتھ رکھ کر عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ ! مجھے سورۃ ہود یا سورۃ یوسف پڑھائے، آپ نے فرمایا: ”اللہ کے پاس نفع دینے والی کوئی سورت «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» سے زیادہ نہیں ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7839:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ آپ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”میں تمہیں بتاؤں کہ پناہ حاصل کرنے والوں کے لئے ان دونوں سورتوں سے افضل سورت اور کوئی نہیں“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7841:حسن]
پس بہت سی حدیثیں اپنے تواتر کی وجہ سے اکثر علماء کے نزدیک قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی کہ آپ نے ان دونوں سورتوں اور سورۃ اخلاص کی نسبت فرمایا کہ چاروں کتابوں میں ان جیسی سورتیں نہیں اتریں، نسائی وغیرہ میں ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے سواریاں کم تھیں باری باری سوار ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے مونڈھوں پر ہاتھ رکھ کر یہ دونوں سورتیں پڑھائیں اور فرمایا: ”جب نماز پڑھو، تو انہیں پڑھا کرو۔ [مسند احمد:479/5:قال الشيخ شعيب ارناؤط:اسنادہ صحیح] بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہوں گے۔ «واللہ اعلم» عبداللہ بن سلام کے سینے پر ہاتھ رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں سمجھے؟ وہ نہ سمجھے کہ کیا کہیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح پناہ مانگا کر، اس جیسی پناہ مانگنے کی اور سورت نہیں“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7845:حسن]
نسائی کی اور حدیث میں ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ سے یہ دونوں سورتیں آپ نے پڑھوائیں پھر فرمایا: ”انہیں پڑھتا رہ ان جیسی سورتیں تو اور پڑھے گا“ ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7854:حسن]
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا والی وہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونک کر اپنے سر چہرے اور سامنے کے جسم پر پھیر لیتے تھے ۔ [موطا امام مالك:10:صحیح]
موطا امام مالک میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑتے تو ان دونوں سورتوں کو پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیا کرتے تھے، جب آپ کی بیماری سخت ہوئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا معوذات پڑھ کر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو آپ کے جسم مبارک پر پھیرتی تھیں، اس عمل کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کی برکت کا ہوتا تھا ۔ [صحیح بخاری:5016]
سورۃ ن کی تفسیر کے آخر میں یہ حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی اور انسانوں کی آنکھوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب یہ دونوں سورتیں اتریں تو آپ نے انہیں لے لیا اور باقی سب چھوڑ دیں ، امام ترمذی اسے حسن صحیح فرماتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2057،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے بچاؤ کی دعا ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ» [6-الأنعام:96] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے «فَلَقِ» سے مراد مخلوق ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «فَلَقِ» جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے، لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔
10924
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جس میں جہنم بھی داخل ہے اور ابلیس اور اولاد ابلیس بھی۔
«غَاسِقٍ» سے مراد رات ہے۔ «إِذَا وَقَبَ» سے مراد سورج کا غروب ہو جانا ہے، یعنی رات جب اندھیرا لیے ہوئے آ جائے، ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرب ثریا ستارے کے غروب ہونے کو «غَاسِقٍ» کہتے ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38375:ضعیف] بیماریاں اور وبائیں اس کے واقع ہونے کے وقت بڑھ جاتی تھیں اور اس کے طلوع ہونے کے وقت اٹھ جاتی تھیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ستارہ «غَاسِقٍ» ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں، بعض مفسرین کہتے ہیں مراد اس سے چاند ہے۔
10925
ان کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ تھامے ہوئے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: «تَعَوَّذِي بِاَللَّهِ مِنْ شَرّ هَذَا الْغَاسِق إِذَا وَقَبَ» ”اللہ تعالیٰ سے اس غاسق کی برائی سے پناہ مانگ“ [سنن ترمذي:3366،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح]
اور روایت میں ہے کہ «غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ» سے یہی مراد ہے، دونوں قولوں میں باآسانی یہ تطبیق ہو سکتی ہے کہ چاند کا چڑھنا اور ستاروں کا ظاہر ہونا وغیرہ، یہ سب رات ہی کے وقت ہوتا ہے جب رات آ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
گرہ لگا کر پھونکنے والیوں سے مراد جادوگر عورتیں ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں شرک کے بالکل قریب وہ منتر ہیں جنہیں پڑھ کر سانپ کے کاٹے پر دم کیا جاتا ہے اور آسیب زدہ پر۔ دوسری حدیث میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو جبرائیل علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ دَاء يُؤْذِيك وَمِنْ شَرّ كُلّ حَاسِد وَعَيْن اللَّه يَشْفِيك» یعنی ”اللہ تعالیٰ کے نام سے میں دم کرتا ہوں ہر اس بیماری سے جو تجھے دکھ پہنچائے اور ہر حاسد کی برائی اور بدی سے اللہ تجھے شفاء دے“ ۔ [سنن ترمذي:972،قال الشيخ الألباني:صحيح]
اس بیماری سے مراد شاید وہ بیماری ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عافیت اور شفاء بخشی اور حاسد یہودیوں کے جادوگر کے مکر کو رد کر دیا اور ان کی تدبیروں کو بےاثر کر دیا اور انہیں رسوا اور فضیحت کیا، لیکن باوجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے اوپر جادو کرنے والے کو ڈانٹا ڈپٹا تک نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کی اور آپ کو عافیت اور شفاء عطا فرمائی۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک یہودی نے جادو کیا جس سے کئی دن تک آپ بیمار رہے پھر جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ فلاں یہودی نے آپ جادو کیا ہے اور فلاں فلاں کنوئیں میں گرہیں لگا کر کر رکھا ہے آپ کسی کو بھیج کر اسے نکلوا لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیجا اور اس کنوئیں سے وہ جادو نکلوا کر گرہیں کھول دیں سارا اثر جاتا رہا پھر نہ تو آپ نے اس یہودی سے کبھی اس کا ذکر کیا اور نہ کبھی اس کے سامنے غصہ کا اظہار کیا ۔ [مسند احمد:367/4:صحیح بغیر ھذا سیاق]
10926
صحیح بخاری کتاب الطب میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا آپ سمجھتے تھے کہ آپ ازواج مطہرات کے پاس آئے حالانکہ نہ آئے تھے۔ سفیان فرماتے ہیں یہی سب سے بڑا جادو کا اثر ہے، جب یہ حالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئی ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”عائشہ میں نے اپنے رب سے پوچھا اور میرے پروردگار نے بتا دیا، دو شخص آئے ایک میرے سرہانے بیٹھا ایک پائینتی کی طرف، سرہانے والے نے اس دوسرے سے پوچھا: ان کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے پوچھا: کس نے جادو کیا ہے؟ کہا لبید بن اعصم نے جو بنو رزیق کے قبیلے کا ہے جو یہود کا حلیف ہے اور منافق شخص ہے، کہا کس چیز میں؟ کہا سر کے بالوں اور کنگھی میں، پوچھا: دکھا کہاں ہے؟ کہا تر کھجور کے درخت کی چھال میں پتھر کی چٹان تلے ذروان کے کنوئیں میں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنوئیں کے پاس آئے اور اس میں سے وہ نکلوایا اس کا پانی ایسا تھا گویا مہندی کا گدلا پانی اس کے پاس کے کھجوروں کے درخت شیطانوں کے سر جیسے تھے، میں نے کہا بھی کہ اے اللہ کے رسول! ان سے بدلہ لینا چاہیئے، آپ نے فرمایا: ”الحمداللہ، اللہ تعالیٰ نے مجھے تو شفاء دے دی اور میں لوگوں میں برائی پھیلانا پسند نہیں کرتا“ ۔ [صحیح بخاری:5765]
10927
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ ایک کام کرتے نہ تھے اور اس کے اثر سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کر چکا ہوں اور یہ بھی ہے کہ اس کنوئیں کو آپ کے حکم سے بند کر دیا گیا، [صحیح بخاری:6064]
یہ بھی مروی ہے کہ چھ مہینے تک آپ کی یہی حالت رہی، تفسیر ثعلبی میں سیدنا ابن عباس اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہود کا ایک بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اسے یہودیوں نے بہلا سکھا کر آپ کے چند بال اور آپ کی کنگھی کے چند دندانے منگوا لیے اور ان میں جادو کیا اس کام میں زیادہ تر کوشش کرنے والا لبید بن اعصم تھا پھر ذروان نامی کنوئیں میں جو بنوزریق کا تھا اسے ڈال دیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے سر کے بال جھڑنے لگے، خیال آتا تھا کہ میں عورتوں کے پاس ہو آیا حالانکہ آتے نہ تھے، گو آپ اسے دور کرنے کی کوشش میں تھے لیکن وجہ معلوم نہ ہوتی تھی چھ ماہ تک یہی حال رہا پھر وہ واقعہ ہوا جو اوپر بیان کیا کہ فرشتوں کے ذریعے آپ کو اس کا تمام حال علم ہو گیا اور آپ نے سیدنا علی، سیدنا زبیر اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو بھیج کر کنوئیں میں سے وہ سب چیزیں نکلوائیں ان میں ایک تانت تھی جس میں میں بارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں اور ہر گرہ پر ایک سوئی چبھی ہوئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں سورتیں اتاریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت ان کی پڑھتے جاتے تھے اور ایک ایک گرہ اس کی خودبخود کھلتی جاتی تھی، جب یہ دونوں سورتیں پوری ہوئیں وہ سب گرہیں کھل گئیں اور آپ بالکل شفایاب ہو گئے۔
10928
ادھر جبرائیل علیہ السلام نے وہ دعا پڑھی جو اوپر گزر چکی ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہمیں اجازت دیجئیے کہ ہم اس خبیث کو پکڑ کر قتل کر دیں آپ نے فرمایا: ”نہیں، اللہ نے مجھے تو تندرستی دے دی اور میں لوگوں میں شر و فساد پھیلانا نہیں چاہتا۔“ یہ روایت تفسیر ثعلبی میں بلا سند مروی ہے اس میں غربات بھی ہے اور اس کے بعض حصے میں سخت نکارت ہے اور بعض کے شواہد بھی ہیں جو پہلے بیان ہو چکے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10929
الناس 114:1
خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ ٭٭
اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہوئی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برتر صفات والے اللہ کی پناہ میں آ جائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو خوب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ اس کے شر سے وہی محفوظ رہ سکتا ہے جسے اللہ بچا لے۔
صحیح حدیث میں ہے تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان ہے لوگوں نے کہا کیا آپ کے ساتھ بھی آپ نے فرمایا: ”ہاں! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے پس میں سلامت رہتا ہوں وہ مجھے صرف نیکی اور اچھائی کی بات ہی کہتا ہے“ ۔ [صحیح مسلم:2814]
10934
بخاری و مسلم کی اور حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی زبانی ایک واقعہ منقول ہے جس میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں تھے تو ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس رات کے وقت آئیں جب واپس جانے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہنچانے کے لیے ساتھ چلے راستے میں دو انصاری صحابی مل گئے جو آپ کو بیوی صاحبہ کے ساتھ دیکھ کر جلدی چل دیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دے کر ٹھہرایا اور فرمایا: ”سنو! میرے ساتھ میری بیوی صفیہ بنت حی ہیں“، انہوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ! اس فرمان کی ضرورت ہی کیا تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے خون کے جاری ہونے کی جگہ شیطان گھومتا پھرتا رہتا ہے، مجھے خیال ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے“ [صحیح بخاری:2035]
حافظ ابو یعلیٰ موصلی رحمہ اللہ نے ایک حدیث وارد کی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شیطان اپنا ہاتھ انسان کے دل پر رکھے ہوئے ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تب اس کا ہاتھ ہٹ جاتا ہے اور اگر یہ ذکر اللہ بھول جاتا ہے تو وہ اس کے دل پر پورا قبضہ کر لیتا ہے، یہی «وَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ» ہے۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:1367] ، یہ حدیث غریب ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے ایک صحابی آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے گدھے نے ٹھوکر کھائی تو ان کے منہ سے نکلا شیطان برباد ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں نہ کہو اس سے شیطان پھول کر بڑا ہو جاتا ہے، [مسند احمد:71/5:صحیح] اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی قوت سے گرا دیا اور جب تم «بسم الله» کہو تو وہ گھٹ جاتا ہے یہاں تک مکھی کہ برابر ہو جاتا ہے“، اس سے ثابت ہوا کہ ذکر اللہ سے شیطان پست اور مغلوب ہو جاتا ہے اور اس کے چھوڑ دینے سے وہ بڑا ہو جاتا ہے اور غالب آ جاتا ہے۔
10935
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے تھپکتا اور بہلاتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے جانور کو بہلاتا ہو پھر اگر وہ خاموش رہا تو وہ ناک میں نکیل یا منہ میں لگام چڑھا دیتا ہے“ ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرما کر فرمایا: تم خود اسے دیکھتے ہو نکیل والا تو وہ ہے جو ایک طرف جھکا کھڑا ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو [مسند احمد:330/2:اسنادہ قوی] اور لگام والا وہ ہے جو منہ کھولے ہوئے ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: شیطان ابن آدم کے دل پر چٹکی مارے ہوئے ہے جہاں یہ بھولا اور غفلت کی کہ اس نے وسوسے ڈالنے شروع کئے اور جہاں اس نے ذکر اللہ کیا اور یہ پیچھے ہٹا۔ سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ شیطان راحت و رنج کے وقت انسان کے دل میں سوراخ کرنا چاہتا ہے یعنی اسے بہکانا چاہتا ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرے تو یہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شیطان برائی سکھاتا ہے جہاں انسان نے اس کی مان لی پھر ہٹ جاتا ہے۔ پھر فرمایا: جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے سینے میں، لفظ «ناس» جو انسان کے معنی میں ہے اس کا اطلاق جنوں پر بھی بطور غلبہ کے آ جاتا ہے۔
قرآن میں اور جگہ ہے «بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ» [72-الجن:6] کہا گیا ہے تو جنات کو لفظ «ناس» میں داخل کر لینے میں کوئی قباحت نہیں، غرض یہ ہے کہ شیطان جنات کے اور انسان کے سینے میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔
10936
اس کے بعد کے جملے میں «مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ» کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن کے سینوں میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے وہ جن بھی ہیں اور انسان بھی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ وسواس ڈالنے والا خواہ کوئی جن ہو خواہ کوئی انسان۔
جیسے اور جگہ ہے «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ» [6-الأنعام:112] یعنی ”اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن انسانی اور جناتی شیطان بنائے ہیں ایک دوسرے کے کان میں دھوکے کی باتیں بنا سنوار کر ڈالتے رہتے ہیں“۔
10937
مسند احمد میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”نماز پڑھی؟“ میں نے کہا نہیں، فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعت ادا کر لو“، میں اٹھا اور دو رکعت پڑھ کر بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”اے ابوذر! اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو انسان شیطانوں اور جن شیطانوں سے“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا انسانی شیطان بھی ہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، [سنن نسائی:5509،قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] میں نے کہا: یا رسول اللہ! نماز کیسی چیز ہے، آپ نے ارشاد فرمایا: ”بہترین چیز ہے، جو چاہے کم کرے جو چاہے اس عمل کو زیادہ کرے“، میں نے پوچھا: روزہ؟ فرمایا: ”کافی ہونے والا فرض ہے اور اللہ کے پاس اجر و ثواب لا انتہا ہے“، میں نے پھر پوچھا: صدقہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت ہی بڑھا چڑھا کر کئی گنا کر کے بدلہ دیا جائے گا“، میں نے پھر عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: ”باوجود مال کی کمی کے صدقہ کرنا یا چپکے سے چھپا کر کسی مسکین فقیر کے ساتھ سلوک کرنا“، میں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ آپ نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام“، میں نے پوچھا کیا وہ نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں وہ نبی تھے اور وہ بھی وہ جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! رسول کتنے ہوئے؟ فرمایا: ”تین سو کچھ اوپر دس بہت بڑی جماعت“ اور کبھی فرمایا: ”تین سو پندرہ“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ان سب سے بڑی عظمت والی آیت کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آیت الکرسی «اللَّـهُ لَا إِلَـهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» [2-البقرة:255] [مسند احمد:178/5:ضعیف] یہ حدیث نسائی میں بھی ہے اور ابوحاتم بن حبان کی صحیح ابن حبان میں تو دوسری سند سے دوسرے الفاظ کے ساتھ یہ حدیث بہت بڑی ہے۔ «فَاللهُ اَعْلَمُ»
10938
مسند احمد کی ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے دل میں تو ایسے ایسے خیالات آتے ہیں کہ ان کا زبان سے نکالنا مجھ پر آسمان سے گر پڑنے سے بھی زیادہ برا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللهُ اكبر اللهُ اكبر» اللہ ہی کے لیے حمد و ثناء ہے جس نے شیطان کے مکر و فریب کو وسوسے میں ہی لوٹا دیا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی ہے ۔ [سنن ابوداود:5112،قال الشيخ الألباني:صحيح]
«الْحَمْدُ لِلَّه» اللہ تعالیٰ کے احسان سے یہ تفسیر ختم ہوئی۔ «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ»
10939
اللہ کے فضل و کرم سے تیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی اور تفسیر ابن کثیر کا ترجمہ تفسیر محمدی بالکل کامل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل نصیب فرمائے اور پھر قبول کرے۔ «آمین»
«وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ . وَرَضِيَ اللَّهُ عَنِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ»
10940
الناس 114:2
خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ ٭٭
اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہوئی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برتر صفات والے اللہ کی پناہ میں آ جائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو خوب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ اس کے شر سے وہی محفوظ رہ سکتا ہے جسے اللہ بچا لے۔
صحیح حدیث میں ہے تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان ہے لوگوں نے کہا کیا آپ کے ساتھ بھی آپ نے فرمایا: ”ہاں! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے پس میں سلامت رہتا ہوں وہ مجھے صرف نیکی اور اچھائی کی بات ہی کہتا ہے“ ۔ [صحیح مسلم:2814]
10934
بخاری و مسلم کی اور حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی زبانی ایک واقعہ منقول ہے جس میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں تھے تو ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس رات کے وقت آئیں جب واپس جانے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہنچانے کے لیے ساتھ چلے راستے میں دو انصاری صحابی مل گئے جو آپ کو بیوی صاحبہ کے ساتھ دیکھ کر جلدی چل دیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دے کر ٹھہرایا اور فرمایا: ”سنو! میرے ساتھ میری بیوی صفیہ بنت حی ہیں“، انہوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ! اس فرمان کی ضرورت ہی کیا تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے خون کے جاری ہونے کی جگہ شیطان گھومتا پھرتا رہتا ہے، مجھے خیال ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے“ [صحیح بخاری:2035]
حافظ ابو یعلیٰ موصلی رحمہ اللہ نے ایک حدیث وارد کی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شیطان اپنا ہاتھ انسان کے دل پر رکھے ہوئے ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تب اس کا ہاتھ ہٹ جاتا ہے اور اگر یہ ذکر اللہ بھول جاتا ہے تو وہ اس کے دل پر پورا قبضہ کر لیتا ہے، یہی «وَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ» ہے۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:1367] ، یہ حدیث غریب ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے ایک صحابی آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے گدھے نے ٹھوکر کھائی تو ان کے منہ سے نکلا شیطان برباد ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں نہ کہو اس سے شیطان پھول کر بڑا ہو جاتا ہے، [مسند احمد:71/5:صحیح] اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی قوت سے گرا دیا اور جب تم «بسم الله» کہو تو وہ گھٹ جاتا ہے یہاں تک مکھی کہ برابر ہو جاتا ہے“، اس سے ثابت ہوا کہ ذکر اللہ سے شیطان پست اور مغلوب ہو جاتا ہے اور اس کے چھوڑ دینے سے وہ بڑا ہو جاتا ہے اور غالب آ جاتا ہے۔
10935
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے تھپکتا اور بہلاتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے جانور کو بہلاتا ہو پھر اگر وہ خاموش رہا تو وہ ناک میں نکیل یا منہ میں لگام چڑھا دیتا ہے“ ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرما کر فرمایا: تم خود اسے دیکھتے ہو نکیل والا تو وہ ہے جو ایک طرف جھکا کھڑا ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو [مسند احمد:330/2:اسنادہ قوی] اور لگام والا وہ ہے جو منہ کھولے ہوئے ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: شیطان ابن آدم کے دل پر چٹکی مارے ہوئے ہے جہاں یہ بھولا اور غفلت کی کہ اس نے وسوسے ڈالنے شروع کئے اور جہاں اس نے ذکر اللہ کیا اور یہ پیچھے ہٹا۔ سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ شیطان راحت و رنج کے وقت انسان کے دل میں سوراخ کرنا چاہتا ہے یعنی اسے بہکانا چاہتا ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرے تو یہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شیطان برائی سکھاتا ہے جہاں انسان نے اس کی مان لی پھر ہٹ جاتا ہے۔ پھر فرمایا: جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے سینے میں، لفظ «ناس» جو انسان کے معنی میں ہے اس کا اطلاق جنوں پر بھی بطور غلبہ کے آ جاتا ہے۔
قرآن میں اور جگہ ہے «بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ» [72-الجن:6] کہا گیا ہے تو جنات کو لفظ «ناس» میں داخل کر لینے میں کوئی قباحت نہیں، غرض یہ ہے کہ شیطان جنات کے اور انسان کے سینے میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔
10936
اس کے بعد کے جملے میں «مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ» کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن کے سینوں میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے وہ جن بھی ہیں اور انسان بھی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ وسواس ڈالنے والا خواہ کوئی جن ہو خواہ کوئی انسان۔
جیسے اور جگہ ہے «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ» [6-الأنعام:112] یعنی ”اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن انسانی اور جناتی شیطان بنائے ہیں ایک دوسرے کے کان میں دھوکے کی باتیں بنا سنوار کر ڈالتے رہتے ہیں“۔
10937
مسند احمد میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”نماز پڑھی؟“ میں نے کہا نہیں، فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعت ادا کر لو“، میں اٹھا اور دو رکعت پڑھ کر بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”اے ابوذر! اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو انسان شیطانوں اور جن شیطانوں سے“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا انسانی شیطان بھی ہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، [سنن نسائی:5509،قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] میں نے کہا: یا رسول اللہ! نماز کیسی چیز ہے، آپ نے ارشاد فرمایا: ”بہترین چیز ہے، جو چاہے کم کرے جو چاہے اس عمل کو زیادہ کرے“، میں نے پوچھا: روزہ؟ فرمایا: ”کافی ہونے والا فرض ہے اور اللہ کے پاس اجر و ثواب لا انتہا ہے“، میں نے پھر پوچھا: صدقہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت ہی بڑھا چڑھا کر کئی گنا کر کے بدلہ دیا جائے گا“، میں نے پھر عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: ”باوجود مال کی کمی کے صدقہ کرنا یا چپکے سے چھپا کر کسی مسکین فقیر کے ساتھ سلوک کرنا“، میں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ آپ نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام“، میں نے پوچھا کیا وہ نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں وہ نبی تھے اور وہ بھی وہ جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! رسول کتنے ہوئے؟ فرمایا: ”تین سو کچھ اوپر دس بہت بڑی جماعت“ اور کبھی فرمایا: ”تین سو پندرہ“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ان سب سے بڑی عظمت والی آیت کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آیت الکرسی «اللَّـهُ لَا إِلَـهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» [2-البقرة:255] [مسند احمد:178/5:ضعیف] یہ حدیث نسائی میں بھی ہے اور ابوحاتم بن حبان کی صحیح ابن حبان میں تو دوسری سند سے دوسرے الفاظ کے ساتھ یہ حدیث بہت بڑی ہے۔ «فَاللهُ اَعْلَمُ»
10938
مسند احمد کی ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے دل میں تو ایسے ایسے خیالات آتے ہیں کہ ان کا زبان سے نکالنا مجھ پر آسمان سے گر پڑنے سے بھی زیادہ برا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللهُ اكبر اللهُ اكبر» اللہ ہی کے لیے حمد و ثناء ہے جس نے شیطان کے مکر و فریب کو وسوسے میں ہی لوٹا دیا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی ہے ۔ [سنن ابوداود:5112،قال الشيخ الألباني:صحيح]
«الْحَمْدُ لِلَّه» اللہ تعالیٰ کے احسان سے یہ تفسیر ختم ہوئی۔ «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ»
10939
اللہ کے فضل و کرم سے تیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی اور تفسیر ابن کثیر کا ترجمہ تفسیر محمدی بالکل کامل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل نصیب فرمائے اور پھر قبول کرے۔ «آمین»
«وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ . وَرَضِيَ اللَّهُ عَنِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ»
10940
الناس 114:3
خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ ٭٭
اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہوئی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برتر صفات والے اللہ کی پناہ میں آ جائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو خوب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ اس کے شر سے وہی محفوظ رہ سکتا ہے جسے اللہ بچا لے۔
صحیح حدیث میں ہے تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان ہے لوگوں نے کہا کیا آپ کے ساتھ بھی آپ نے فرمایا: ”ہاں! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے پس میں سلامت رہتا ہوں وہ مجھے صرف نیکی اور اچھائی کی بات ہی کہتا ہے“ ۔ [صحیح مسلم:2814]
10934
بخاری و مسلم کی اور حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی زبانی ایک واقعہ منقول ہے جس میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں تھے تو ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس رات کے وقت آئیں جب واپس جانے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہنچانے کے لیے ساتھ چلے راستے میں دو انصاری صحابی مل گئے جو آپ کو بیوی صاحبہ کے ساتھ دیکھ کر جلدی چل دیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دے کر ٹھہرایا اور فرمایا: ”سنو! میرے ساتھ میری بیوی صفیہ بنت حی ہیں“، انہوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ! اس فرمان کی ضرورت ہی کیا تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے خون کے جاری ہونے کی جگہ شیطان گھومتا پھرتا رہتا ہے، مجھے خیال ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے“ [صحیح بخاری:2035]
حافظ ابو یعلیٰ موصلی رحمہ اللہ نے ایک حدیث وارد کی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شیطان اپنا ہاتھ انسان کے دل پر رکھے ہوئے ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تب اس کا ہاتھ ہٹ جاتا ہے اور اگر یہ ذکر اللہ بھول جاتا ہے تو وہ اس کے دل پر پورا قبضہ کر لیتا ہے، یہی «وَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ» ہے۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:1367] ، یہ حدیث غریب ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے ایک صحابی آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے گدھے نے ٹھوکر کھائی تو ان کے منہ سے نکلا شیطان برباد ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں نہ کہو اس سے شیطان پھول کر بڑا ہو جاتا ہے، [مسند احمد:71/5:صحیح] اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی قوت سے گرا دیا اور جب تم «بسم الله» کہو تو وہ گھٹ جاتا ہے یہاں تک مکھی کہ برابر ہو جاتا ہے“، اس سے ثابت ہوا کہ ذکر اللہ سے شیطان پست اور مغلوب ہو جاتا ہے اور اس کے چھوڑ دینے سے وہ بڑا ہو جاتا ہے اور غالب آ جاتا ہے۔
10935
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے تھپکتا اور بہلاتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے جانور کو بہلاتا ہو پھر اگر وہ خاموش رہا تو وہ ناک میں نکیل یا منہ میں لگام چڑھا دیتا ہے“ ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرما کر فرمایا: تم خود اسے دیکھتے ہو نکیل والا تو وہ ہے جو ایک طرف جھکا کھڑا ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو [مسند احمد:330/2:اسنادہ قوی] اور لگام والا وہ ہے جو منہ کھولے ہوئے ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: شیطان ابن آدم کے دل پر چٹکی مارے ہوئے ہے جہاں یہ بھولا اور غفلت کی کہ اس نے وسوسے ڈالنے شروع کئے اور جہاں اس نے ذکر اللہ کیا اور یہ پیچھے ہٹا۔ سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ شیطان راحت و رنج کے وقت انسان کے دل میں سوراخ کرنا چاہتا ہے یعنی اسے بہکانا چاہتا ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرے تو یہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شیطان برائی سکھاتا ہے جہاں انسان نے اس کی مان لی پھر ہٹ جاتا ہے۔ پھر فرمایا: جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے سینے میں، لفظ «ناس» جو انسان کے معنی میں ہے اس کا اطلاق جنوں پر بھی بطور غلبہ کے آ جاتا ہے۔
قرآن میں اور جگہ ہے «بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ» [72-الجن:6] کہا گیا ہے تو جنات کو لفظ «ناس» میں داخل کر لینے میں کوئی قباحت نہیں، غرض یہ ہے کہ شیطان جنات کے اور انسان کے سینے میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔
10936
اس کے بعد کے جملے میں «مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ» کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن کے سینوں میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے وہ جن بھی ہیں اور انسان بھی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ وسواس ڈالنے والا خواہ کوئی جن ہو خواہ کوئی انسان۔
جیسے اور جگہ ہے «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ» [6-الأنعام:112] یعنی ”اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن انسانی اور جناتی شیطان بنائے ہیں ایک دوسرے کے کان میں دھوکے کی باتیں بنا سنوار کر ڈالتے رہتے ہیں“۔
10937
مسند احمد میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”نماز پڑھی؟“ میں نے کہا نہیں، فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعت ادا کر لو“، میں اٹھا اور دو رکعت پڑھ کر بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”اے ابوذر! اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو انسان شیطانوں اور جن شیطانوں سے“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا انسانی شیطان بھی ہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، [سنن نسائی:5509،قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] میں نے کہا: یا رسول اللہ! نماز کیسی چیز ہے، آپ نے ارشاد فرمایا: ”بہترین چیز ہے، جو چاہے کم کرے جو چاہے اس عمل کو زیادہ کرے“، میں نے پوچھا: روزہ؟ فرمایا: ”کافی ہونے والا فرض ہے اور اللہ کے پاس اجر و ثواب لا انتہا ہے“، میں نے پھر پوچھا: صدقہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت ہی بڑھا چڑھا کر کئی گنا کر کے بدلہ دیا جائے گا“، میں نے پھر عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: ”باوجود مال کی کمی کے صدقہ کرنا یا چپکے سے چھپا کر کسی مسکین فقیر کے ساتھ سلوک کرنا“، میں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ آپ نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام“، میں نے پوچھا کیا وہ نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں وہ نبی تھے اور وہ بھی وہ جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! رسول کتنے ہوئے؟ فرمایا: ”تین سو کچھ اوپر دس بہت بڑی جماعت“ اور کبھی فرمایا: ”تین سو پندرہ“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ان سب سے بڑی عظمت والی آیت کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آیت الکرسی «اللَّـهُ لَا إِلَـهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» [2-البقرة:255] [مسند احمد:178/5:ضعیف] یہ حدیث نسائی میں بھی ہے اور ابوحاتم بن حبان کی صحیح ابن حبان میں تو دوسری سند سے دوسرے الفاظ کے ساتھ یہ حدیث بہت بڑی ہے۔ «فَاللهُ اَعْلَمُ»
10938
مسند احمد کی ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے دل میں تو ایسے ایسے خیالات آتے ہیں کہ ان کا زبان سے نکالنا مجھ پر آسمان سے گر پڑنے سے بھی زیادہ برا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللهُ اكبر اللهُ اكبر» اللہ ہی کے لیے حمد و ثناء ہے جس نے شیطان کے مکر و فریب کو وسوسے میں ہی لوٹا دیا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی ہے ۔ [سنن ابوداود:5112،قال الشيخ الألباني:صحيح]
«الْحَمْدُ لِلَّه» اللہ تعالیٰ کے احسان سے یہ تفسیر ختم ہوئی۔ «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ»
10939
اللہ کے فضل و کرم سے تیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی اور تفسیر ابن کثیر کا ترجمہ تفسیر محمدی بالکل کامل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل نصیب فرمائے اور پھر قبول کرے۔ «آمین»
«وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ . وَرَضِيَ اللَّهُ عَنِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ»
10940
الناس 114:4
خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ ٭٭
اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہوئی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برتر صفات والے اللہ کی پناہ میں آ جائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو خوب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ اس کے شر سے وہی محفوظ رہ سکتا ہے جسے اللہ بچا لے۔
صحیح حدیث میں ہے تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان ہے لوگوں نے کہا کیا آپ کے ساتھ بھی آپ نے فرمایا: ”ہاں! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے پس میں سلامت رہتا ہوں وہ مجھے صرف نیکی اور اچھائی کی بات ہی کہتا ہے“ ۔ [صحیح مسلم:2814]
10934
بخاری و مسلم کی اور حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی زبانی ایک واقعہ منقول ہے جس میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں تھے تو ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس رات کے وقت آئیں جب واپس جانے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہنچانے کے لیے ساتھ چلے راستے میں دو انصاری صحابی مل گئے جو آپ کو بیوی صاحبہ کے ساتھ دیکھ کر جلدی چل دیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دے کر ٹھہرایا اور فرمایا: ”سنو! میرے ساتھ میری بیوی صفیہ بنت حی ہیں“، انہوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ! اس فرمان کی ضرورت ہی کیا تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے خون کے جاری ہونے کی جگہ شیطان گھومتا پھرتا رہتا ہے، مجھے خیال ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے“ [صحیح بخاری:2035]
حافظ ابو یعلیٰ موصلی رحمہ اللہ نے ایک حدیث وارد کی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شیطان اپنا ہاتھ انسان کے دل پر رکھے ہوئے ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تب اس کا ہاتھ ہٹ جاتا ہے اور اگر یہ ذکر اللہ بھول جاتا ہے تو وہ اس کے دل پر پورا قبضہ کر لیتا ہے، یہی «وَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ» ہے۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:1367] ، یہ حدیث غریب ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے ایک صحابی آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے گدھے نے ٹھوکر کھائی تو ان کے منہ سے نکلا شیطان برباد ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں نہ کہو اس سے شیطان پھول کر بڑا ہو جاتا ہے، [مسند احمد:71/5:صحیح] اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی قوت سے گرا دیا اور جب تم «بسم الله» کہو تو وہ گھٹ جاتا ہے یہاں تک مکھی کہ برابر ہو جاتا ہے“، اس سے ثابت ہوا کہ ذکر اللہ سے شیطان پست اور مغلوب ہو جاتا ہے اور اس کے چھوڑ دینے سے وہ بڑا ہو جاتا ہے اور غالب آ جاتا ہے۔
10935
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے تھپکتا اور بہلاتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے جانور کو بہلاتا ہو پھر اگر وہ خاموش رہا تو وہ ناک میں نکیل یا منہ میں لگام چڑھا دیتا ہے“ ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرما کر فرمایا: تم خود اسے دیکھتے ہو نکیل والا تو وہ ہے جو ایک طرف جھکا کھڑا ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو [مسند احمد:330/2:اسنادہ قوی] اور لگام والا وہ ہے جو منہ کھولے ہوئے ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: شیطان ابن آدم کے دل پر چٹکی مارے ہوئے ہے جہاں یہ بھولا اور غفلت کی کہ اس نے وسوسے ڈالنے شروع کئے اور جہاں اس نے ذکر اللہ کیا اور یہ پیچھے ہٹا۔ سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ شیطان راحت و رنج کے وقت انسان کے دل میں سوراخ کرنا چاہتا ہے یعنی اسے بہکانا چاہتا ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرے تو یہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شیطان برائی سکھاتا ہے جہاں انسان نے اس کی مان لی پھر ہٹ جاتا ہے۔ پھر فرمایا: جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے سینے میں، لفظ «ناس» جو انسان کے معنی میں ہے اس کا اطلاق جنوں پر بھی بطور غلبہ کے آ جاتا ہے۔
قرآن میں اور جگہ ہے «بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ» [72-الجن:6] کہا گیا ہے تو جنات کو لفظ «ناس» میں داخل کر لینے میں کوئی قباحت نہیں، غرض یہ ہے کہ شیطان جنات کے اور انسان کے سینے میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔
10936
اس کے بعد کے جملے میں «مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ» کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن کے سینوں میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے وہ جن بھی ہیں اور انسان بھی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ وسواس ڈالنے والا خواہ کوئی جن ہو خواہ کوئی انسان۔
جیسے اور جگہ ہے «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ» [6-الأنعام:112] یعنی ”اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن انسانی اور جناتی شیطان بنائے ہیں ایک دوسرے کے کان میں دھوکے کی باتیں بنا سنوار کر ڈالتے رہتے ہیں“۔
10937
مسند احمد میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”نماز پڑھی؟“ میں نے کہا نہیں، فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعت ادا کر لو“، میں اٹھا اور دو رکعت پڑھ کر بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”اے ابوذر! اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو انسان شیطانوں اور جن شیطانوں سے“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا انسانی شیطان بھی ہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، [سنن نسائی:5509،قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] میں نے کہا: یا رسول اللہ! نماز کیسی چیز ہے، آپ نے ارشاد فرمایا: ”بہترین چیز ہے، جو چاہے کم کرے جو چاہے اس عمل کو زیادہ کرے“، میں نے پوچھا: روزہ؟ فرمایا: ”کافی ہونے والا فرض ہے اور اللہ کے پاس اجر و ثواب لا انتہا ہے“، میں نے پھر پوچھا: صدقہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت ہی بڑھا چڑھا کر کئی گنا کر کے بدلہ دیا جائے گا“، میں نے پھر عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: ”باوجود مال کی کمی کے صدقہ کرنا یا چپکے سے چھپا کر کسی مسکین فقیر کے ساتھ سلوک کرنا“، میں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ آپ نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام“، میں نے پوچھا کیا وہ نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں وہ نبی تھے اور وہ بھی وہ جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! رسول کتنے ہوئے؟ فرمایا: ”تین سو کچھ اوپر دس بہت بڑی جماعت“ اور کبھی فرمایا: ”تین سو پندرہ“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ان سب سے بڑی عظمت والی آیت کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آیت الکرسی «اللَّـهُ لَا إِلَـهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» [2-البقرة:255] [مسند احمد:178/5:ضعیف] یہ حدیث نسائی میں بھی ہے اور ابوحاتم بن حبان کی صحیح ابن حبان میں تو دوسری سند سے دوسرے الفاظ کے ساتھ یہ حدیث بہت بڑی ہے۔ «فَاللهُ اَعْلَمُ»
10938
مسند احمد کی ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے دل میں تو ایسے ایسے خیالات آتے ہیں کہ ان کا زبان سے نکالنا مجھ پر آسمان سے گر پڑنے سے بھی زیادہ برا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللهُ اكبر اللهُ اكبر» اللہ ہی کے لیے حمد و ثناء ہے جس نے شیطان کے مکر و فریب کو وسوسے میں ہی لوٹا دیا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی ہے ۔ [سنن ابوداود:5112،قال الشيخ الألباني:صحيح]
«الْحَمْدُ لِلَّه» اللہ تعالیٰ کے احسان سے یہ تفسیر ختم ہوئی۔ «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ»
10939
اللہ کے فضل و کرم سے تیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی اور تفسیر ابن کثیر کا ترجمہ تفسیر محمدی بالکل کامل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل نصیب فرمائے اور پھر قبول کرے۔ «آمین»
«وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ . وَرَضِيَ اللَّهُ عَنِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ»
10940
الناس 114:5
خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ ٭٭
اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہوئی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برتر صفات والے اللہ کی پناہ میں آ جائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو خوب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ اس کے شر سے وہی محفوظ رہ سکتا ہے جسے اللہ بچا لے۔
صحیح حدیث میں ہے تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان ہے لوگوں نے کہا کیا آپ کے ساتھ بھی آپ نے فرمایا: ”ہاں! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے پس میں سلامت رہتا ہوں وہ مجھے صرف نیکی اور اچھائی کی بات ہی کہتا ہے“ ۔ [صحیح مسلم:2814]
10934
بخاری و مسلم کی اور حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی زبانی ایک واقعہ منقول ہے جس میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں تھے تو ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس رات کے وقت آئیں جب واپس جانے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہنچانے کے لیے ساتھ چلے راستے میں دو انصاری صحابی مل گئے جو آپ کو بیوی صاحبہ کے ساتھ دیکھ کر جلدی چل دیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دے کر ٹھہرایا اور فرمایا: ”سنو! میرے ساتھ میری بیوی صفیہ بنت حی ہیں“، انہوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ! اس فرمان کی ضرورت ہی کیا تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے خون کے جاری ہونے کی جگہ شیطان گھومتا پھرتا رہتا ہے، مجھے خیال ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے“ [صحیح بخاری:2035]
حافظ ابو یعلیٰ موصلی رحمہ اللہ نے ایک حدیث وارد کی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شیطان اپنا ہاتھ انسان کے دل پر رکھے ہوئے ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تب اس کا ہاتھ ہٹ جاتا ہے اور اگر یہ ذکر اللہ بھول جاتا ہے تو وہ اس کے دل پر پورا قبضہ کر لیتا ہے، یہی «وَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ» ہے۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:1367] ، یہ حدیث غریب ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے ایک صحابی آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے گدھے نے ٹھوکر کھائی تو ان کے منہ سے نکلا شیطان برباد ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں نہ کہو اس سے شیطان پھول کر بڑا ہو جاتا ہے، [مسند احمد:71/5:صحیح] اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی قوت سے گرا دیا اور جب تم «بسم الله» کہو تو وہ گھٹ جاتا ہے یہاں تک مکھی کہ برابر ہو جاتا ہے“، اس سے ثابت ہوا کہ ذکر اللہ سے شیطان پست اور مغلوب ہو جاتا ہے اور اس کے چھوڑ دینے سے وہ بڑا ہو جاتا ہے اور غالب آ جاتا ہے۔
10935
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے تھپکتا اور بہلاتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے جانور کو بہلاتا ہو پھر اگر وہ خاموش رہا تو وہ ناک میں نکیل یا منہ میں لگام چڑھا دیتا ہے“ ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرما کر فرمایا: تم خود اسے دیکھتے ہو نکیل والا تو وہ ہے جو ایک طرف جھکا کھڑا ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو [مسند احمد:330/2:اسنادہ قوی] اور لگام والا وہ ہے جو منہ کھولے ہوئے ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: شیطان ابن آدم کے دل پر چٹکی مارے ہوئے ہے جہاں یہ بھولا اور غفلت کی کہ اس نے وسوسے ڈالنے شروع کئے اور جہاں اس نے ذکر اللہ کیا اور یہ پیچھے ہٹا۔ سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ شیطان راحت و رنج کے وقت انسان کے دل میں سوراخ کرنا چاہتا ہے یعنی اسے بہکانا چاہتا ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرے تو یہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شیطان برائی سکھاتا ہے جہاں انسان نے اس کی مان لی پھر ہٹ جاتا ہے۔ پھر فرمایا: جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے سینے میں، لفظ «ناس» جو انسان کے معنی میں ہے اس کا اطلاق جنوں پر بھی بطور غلبہ کے آ جاتا ہے۔
قرآن میں اور جگہ ہے «بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ» [72-الجن:6] کہا گیا ہے تو جنات کو لفظ «ناس» میں داخل کر لینے میں کوئی قباحت نہیں، غرض یہ ہے کہ شیطان جنات کے اور انسان کے سینے میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔
10936
اس کے بعد کے جملے میں «مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ» کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن کے سینوں میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے وہ جن بھی ہیں اور انسان بھی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ وسواس ڈالنے والا خواہ کوئی جن ہو خواہ کوئی انسان۔
جیسے اور جگہ ہے «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ» [6-الأنعام:112] یعنی ”اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن انسانی اور جناتی شیطان بنائے ہیں ایک دوسرے کے کان میں دھوکے کی باتیں بنا سنوار کر ڈالتے رہتے ہیں“۔
10937
مسند احمد میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”نماز پڑھی؟“ میں نے کہا نہیں، فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعت ادا کر لو“، میں اٹھا اور دو رکعت پڑھ کر بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”اے ابوذر! اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو انسان شیطانوں اور جن شیطانوں سے“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا انسانی شیطان بھی ہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، [سنن نسائی:5509،قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] میں نے کہا: یا رسول اللہ! نماز کیسی چیز ہے، آپ نے ارشاد فرمایا: ”بہترین چیز ہے، جو چاہے کم کرے جو چاہے اس عمل کو زیادہ کرے“، میں نے پوچھا: روزہ؟ فرمایا: ”کافی ہونے والا فرض ہے اور اللہ کے پاس اجر و ثواب لا انتہا ہے“، میں نے پھر پوچھا: صدقہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت ہی بڑھا چڑھا کر کئی گنا کر کے بدلہ دیا جائے گا“، میں نے پھر عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: ”باوجود مال کی کمی کے صدقہ کرنا یا چپکے سے چھپا کر کسی مسکین فقیر کے ساتھ سلوک کرنا“، میں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ آپ نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام“، میں نے پوچھا کیا وہ نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں وہ نبی تھے اور وہ بھی وہ جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! رسول کتنے ہوئے؟ فرمایا: ”تین سو کچھ اوپر دس بہت بڑی جماعت“ اور کبھی فرمایا: ”تین سو پندرہ“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ان سب سے بڑی عظمت والی آیت کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آیت الکرسی «اللَّـهُ لَا إِلَـهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» [2-البقرة:255] [مسند احمد:178/5:ضعیف] یہ حدیث نسائی میں بھی ہے اور ابوحاتم بن حبان کی صحیح ابن حبان میں تو دوسری سند سے دوسرے الفاظ کے ساتھ یہ حدیث بہت بڑی ہے۔ «فَاللهُ اَعْلَمُ»
10938
مسند احمد کی ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے دل میں تو ایسے ایسے خیالات آتے ہیں کہ ان کا زبان سے نکالنا مجھ پر آسمان سے گر پڑنے سے بھی زیادہ برا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللهُ اكبر اللهُ اكبر» اللہ ہی کے لیے حمد و ثناء ہے جس نے شیطان کے مکر و فریب کو وسوسے میں ہی لوٹا دیا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی ہے ۔ [سنن ابوداود:5112،قال الشيخ الألباني:صحيح]
«الْحَمْدُ لِلَّه» اللہ تعالیٰ کے احسان سے یہ تفسیر ختم ہوئی۔ «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ»
10939
اللہ کے فضل و کرم سے تیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی اور تفسیر ابن کثیر کا ترجمہ تفسیر محمدی بالکل کامل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل نصیب فرمائے اور پھر قبول کرے۔ «آمین»
«وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ . وَرَضِيَ اللَّهُ عَنِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ»
10940
الناس 114:6
خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ ٭٭
اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہوئی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برتر صفات والے اللہ کی پناہ میں آ جائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو خوب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ اس کے شر سے وہی محفوظ رہ سکتا ہے جسے اللہ بچا لے۔
صحیح حدیث میں ہے تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان ہے لوگوں نے کہا کیا آپ کے ساتھ بھی آپ نے فرمایا: ”ہاں! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے پس میں سلامت رہتا ہوں وہ مجھے صرف نیکی اور اچھائی کی بات ہی کہتا ہے“ ۔ [صحیح مسلم:2814]
10934
بخاری و مسلم کی اور حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی زبانی ایک واقعہ منقول ہے جس میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں تھے تو ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس رات کے وقت آئیں جب واپس جانے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہنچانے کے لیے ساتھ چلے راستے میں دو انصاری صحابی مل گئے جو آپ کو بیوی صاحبہ کے ساتھ دیکھ کر جلدی چل دیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دے کر ٹھہرایا اور فرمایا: ”سنو! میرے ساتھ میری بیوی صفیہ بنت حی ہیں“، انہوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ! اس فرمان کی ضرورت ہی کیا تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے خون کے جاری ہونے کی جگہ شیطان گھومتا پھرتا رہتا ہے، مجھے خیال ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے“ [صحیح بخاری:2035]
حافظ ابو یعلیٰ موصلی رحمہ اللہ نے ایک حدیث وارد کی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شیطان اپنا ہاتھ انسان کے دل پر رکھے ہوئے ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تب اس کا ہاتھ ہٹ جاتا ہے اور اگر یہ ذکر اللہ بھول جاتا ہے تو وہ اس کے دل پر پورا قبضہ کر لیتا ہے، یہی «وَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ» ہے۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:1367] ، یہ حدیث غریب ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے ایک صحابی آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے گدھے نے ٹھوکر کھائی تو ان کے منہ سے نکلا شیطان برباد ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں نہ کہو اس سے شیطان پھول کر بڑا ہو جاتا ہے، [مسند احمد:71/5:صحیح] اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی قوت سے گرا دیا اور جب تم «بسم الله» کہو تو وہ گھٹ جاتا ہے یہاں تک مکھی کہ برابر ہو جاتا ہے“، اس سے ثابت ہوا کہ ذکر اللہ سے شیطان پست اور مغلوب ہو جاتا ہے اور اس کے چھوڑ دینے سے وہ بڑا ہو جاتا ہے اور غالب آ جاتا ہے۔
10935
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے تھپکتا اور بہلاتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے جانور کو بہلاتا ہو پھر اگر وہ خاموش رہا تو وہ ناک میں نکیل یا منہ میں لگام چڑھا دیتا ہے“ ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرما کر فرمایا: تم خود اسے دیکھتے ہو نکیل والا تو وہ ہے جو ایک طرف جھکا کھڑا ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو [مسند احمد:330/2:اسنادہ قوی] اور لگام والا وہ ہے جو منہ کھولے ہوئے ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: شیطان ابن آدم کے دل پر چٹکی مارے ہوئے ہے جہاں یہ بھولا اور غفلت کی کہ اس نے وسوسے ڈالنے شروع کئے اور جہاں اس نے ذکر اللہ کیا اور یہ پیچھے ہٹا۔ سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ شیطان راحت و رنج کے وقت انسان کے دل میں سوراخ کرنا چاہتا ہے یعنی اسے بہکانا چاہتا ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرے تو یہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شیطان برائی سکھاتا ہے جہاں انسان نے اس کی مان لی پھر ہٹ جاتا ہے۔ پھر فرمایا: جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے سینے میں، لفظ «ناس» جو انسان کے معنی میں ہے اس کا اطلاق جنوں پر بھی بطور غلبہ کے آ جاتا ہے۔
قرآن میں اور جگہ ہے «بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ» [72-الجن:6] کہا گیا ہے تو جنات کو لفظ «ناس» میں داخل کر لینے میں کوئی قباحت نہیں، غرض یہ ہے کہ شیطان جنات کے اور انسان کے سینے میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔
10936
اس کے بعد کے جملے میں «مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ» کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن کے سینوں میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے وہ جن بھی ہیں اور انسان بھی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ وسواس ڈالنے والا خواہ کوئی جن ہو خواہ کوئی انسان۔
جیسے اور جگہ ہے «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ» [6-الأنعام:112] یعنی ”اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن انسانی اور جناتی شیطان بنائے ہیں ایک دوسرے کے کان میں دھوکے کی باتیں بنا سنوار کر ڈالتے رہتے ہیں“۔
10937
مسند احمد میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”نماز پڑھی؟“ میں نے کہا نہیں، فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعت ادا کر لو“، میں اٹھا اور دو رکعت پڑھ کر بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”اے ابوذر! اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو انسان شیطانوں اور جن شیطانوں سے“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا انسانی شیطان بھی ہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، [سنن نسائی:5509،قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] میں نے کہا: یا رسول اللہ! نماز کیسی چیز ہے، آپ نے ارشاد فرمایا: ”بہترین چیز ہے، جو چاہے کم کرے جو چاہے اس عمل کو زیادہ کرے“، میں نے پوچھا: روزہ؟ فرمایا: ”کافی ہونے والا فرض ہے اور اللہ کے پاس اجر و ثواب لا انتہا ہے“، میں نے پھر پوچھا: صدقہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت ہی بڑھا چڑھا کر کئی گنا کر کے بدلہ دیا جائے گا“، میں نے پھر عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: ”باوجود مال کی کمی کے صدقہ کرنا یا چپکے سے چھپا کر کسی مسکین فقیر کے ساتھ سلوک کرنا“، میں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ آپ نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام“، میں نے پوچھا کیا وہ نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں وہ نبی تھے اور وہ بھی وہ جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! رسول کتنے ہوئے؟ فرمایا: ”تین سو کچھ اوپر دس بہت بڑی جماعت“ اور کبھی فرمایا: ”تین سو پندرہ“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ان سب سے بڑی عظمت والی آیت کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آیت الکرسی «اللَّـهُ لَا إِلَـهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» [2-البقرة:255] [مسند احمد:178/5:ضعیف] یہ حدیث نسائی میں بھی ہے اور ابوحاتم بن حبان کی صحیح ابن حبان میں تو دوسری سند سے دوسرے الفاظ کے ساتھ یہ حدیث بہت بڑی ہے۔ «فَاللهُ اَعْلَمُ»
10938
مسند احمد کی ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے دل میں تو ایسے ایسے خیالات آتے ہیں کہ ان کا زبان سے نکالنا مجھ پر آسمان سے گر پڑنے سے بھی زیادہ برا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللهُ اكبر اللهُ اكبر» اللہ ہی کے لیے حمد و ثناء ہے جس نے شیطان کے مکر و فریب کو وسوسے میں ہی لوٹا دیا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی ہے ۔ [سنن ابوداود:5112،قال الشيخ الألباني:صحيح]
«الْحَمْدُ لِلَّه» اللہ تعالیٰ کے احسان سے یہ تفسیر ختم ہوئی۔ «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ»
10939
اللہ کے فضل و کرم سے تیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی اور تفسیر ابن کثیر کا ترجمہ تفسیر محمدی بالکل کامل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل نصیب فرمائے اور پھر قبول کرے۔ «آمین»
«وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ . وَرَضِيَ اللَّهُ عَنِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ»
10940