Lafzullah

Tafsir Ibn Kathir — العصر 103:1 – النصر 110:3

Author / source: Tafsir Ibn Kathir

Contents
  1. العصر 103:1
  2. العصر 103:2
  3. العصر 103:3
  4. الهمزة 104:1
  5. الهمزة 104:2
  6. الهمزة 104:3
  7. الهمزة 104:4
  8. الهمزة 104:5
  9. الهمزة 104:6
  10. الهمزة 104:7
  11. الهمزة 104:8
  12. الهمزة 104:9
  13. الفيل 105:1
  14. الفيل 105:2
  15. الفيل 105:3
  16. الفيل 105:4
  17. الفيل 105:5
  18. قريش 106:1
  19. قريش 106:2
  20. قريش 106:3
  21. قريش 106:4
  22. الماعون 107:1
  23. الماعون 107:2
  24. الماعون 107:3
  25. الماعون 107:4
  26. الماعون 107:5
  27. الماعون 107:6
  28. الماعون 107:7
  29. الكوثر 108:1
  30. الكوثر 108:2
  31. الكوثر 108:3
  32. الكافرون 109:1
  33. الكافرون 109:2
  34. الكافرون 109:3
  35. الكافرون 109:4
  36. الكافرون 109:5
  37. الكافرون 109:6
  38. النصر 110:1
  39. النصر 110:2
  40. النصر 110:3

العصر 103:1

عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی مسیلمہ کذاب سے ملاقات اور گفتگو: سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنے مسلمان ہونے سے پہلے ایک مرتبہ مسیلمہ کذاب سے ملے، اس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا تھا، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر پوچھنے لگا، کہو اس مدت میں تمہارے نبی پر بھی کوئی وحی نازل ہوئی ہے، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ایک مختصر سی نہایت فصاحت والی سورت اتری ہے، پوچھا: وہ کیا ہے؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے سورۃ والعصر پڑھ کر سنا دی۔ مسیلمہ ذرا دیر سوچتا رہا پھر کہنے لگا، عمرو! دیکھو مجھ پر بھی اسی جیسی سورت اتری ہے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا وہ کیا؟ کہا: یہ «يَا وَبْر يَا وَبْر إِنَّمَا أَنْتَ أُذُنَانِ وَصَدْر وَسَائِرك حَفْر نَقْر» پھر کہنے لگا، عمرو کہو تمہارا کیا خیال ہے؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال تو تو خود ہی جانتا ہے کہ مجھے تیرے جھوٹے ہونے کا علم ہے ۔ [الخرائطي في مساوئ الاخلاق:173:اسناده ضعيف‏ ] «وبر» بلی جیسا ایک جانور ہے اس کے دونوں کان ذرا بڑے ہوتے ہیں اور سینہ بھی، باقی جسم بالکل حقیر اور واہیات ہوتا ہے۔ اس کذاب نے ایسی فضول گوئی اور بکواس کے ساتھ اللہ کے کلام کا معارضہ کرنا چاہا جسے سن کر عرب کے بت پرست لوگوں نے بھی اس کا کاذب اور مفتری ہونا سمجھ لیا۔ طبرانی میں ہے کہ دو صحابیوں کا یہ دستور تھا کہ جب ملتے ایک اس سورت کو پڑھتا دوسرا سنتا پھر سلام کر کے رخصت ہو جاتے۔ [طبراني اوسط:5120:اسناده ضعيف‏ ] امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر لوگ اس سورت کو غور و تدبر سے پڑھیں اور سمجھیں تو صرف یہی ایک سورت کافی ہے۔؟ مسیلمہ کذاب اور عمرو بن عاص میں مکالمہ ٭٭ [سورة العصر کی ابتدائی تفسیر دیکھئیے] ‏۔ 10840 مختصر نقصان اور اصحاب فلاح و نجات ٭٭ «عصر» سے مراد زمانہ ہے جس میں انسان نیکی بدی کے کام کرتا ہے، زید بن اسلم رحمہ اللہ نے اس سے مراد عصر کی نماز یا عصر کی نماز کا وقت بیان کیا ہے لیکن مشہور پہلا قول ہی ہے۔ اس قسم کے بعد بیان فرماتا ہے کہ انسان نقصان میں، ٹوٹے میں اور ہلاکت میں ہے، ہاں اس نقصان سے بچنے والے وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان ہو، اعمال میں نیکیاں ہوں، حق کی وصیتیں کرنے والے ہوں یعنی نیکی کے کام کرنے کی، حرام کاموں سے رکنے کی ایک دوسرے کو تاکید کرتے ہوں، قسمت کے لکھے پر، مصیبتوں کی برداشت پر صبر کرتے ہوں اور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین کرتے ہوں۔ ساتھ ہی بھلی باتوں کا حکم کرنے اور بری باتوں سے روکنے میں لوگوں کی طرف سے جو بلائیں اور تکلیفیں پہنچیں تو ان کو بھی برداشت کرتے ہوں اور اسی کی تلقین اپنے ساتھیوں کو بھی کرتے ہوں یہ ہیں جو اس صریح نقصان سے مستثنیٰ ہیں۔ سورۃ والعصر کی تفسیر بحمدللہ ختم ہوئی۔ 10841

العصر 103:2

عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی مسیلمہ کذاب سے ملاقات اور گفتگو: سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنے مسلمان ہونے سے پہلے ایک مرتبہ مسیلمہ کذاب سے ملے، اس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا تھا، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر پوچھنے لگا، کہو اس مدت میں تمہارے نبی پر بھی کوئی وحی نازل ہوئی ہے، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ایک مختصر سی نہایت فصاحت والی سورت اتری ہے، پوچھا: وہ کیا ہے؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے سورۃ والعصر پڑھ کر سنا دی۔ مسیلمہ ذرا دیر سوچتا رہا پھر کہنے لگا، عمرو! دیکھو مجھ پر بھی اسی جیسی سورت اتری ہے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا وہ کیا؟ کہا: یہ «يَا وَبْر يَا وَبْر إِنَّمَا أَنْتَ أُذُنَانِ وَصَدْر وَسَائِرك حَفْر نَقْر» پھر کہنے لگا، عمرو کہو تمہارا کیا خیال ہے؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال تو تو خود ہی جانتا ہے کہ مجھے تیرے جھوٹے ہونے کا علم ہے ۔ [الخرائطي في مساوئ الاخلاق:173:اسناده ضعيف‏ ] «وبر» بلی جیسا ایک جانور ہے اس کے دونوں کان ذرا بڑے ہوتے ہیں اور سینہ بھی، باقی جسم بالکل حقیر اور واہیات ہوتا ہے۔ اس کذاب نے ایسی فضول گوئی اور بکواس کے ساتھ اللہ کے کلام کا معارضہ کرنا چاہا جسے سن کر عرب کے بت پرست لوگوں نے بھی اس کا کاذب اور مفتری ہونا سمجھ لیا۔ طبرانی میں ہے کہ دو صحابیوں کا یہ دستور تھا کہ جب ملتے ایک اس سورت کو پڑھتا دوسرا سنتا پھر سلام کر کے رخصت ہو جاتے۔ [طبراني اوسط:5120:اسناده ضعيف‏ ] امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر لوگ اس سورت کو غور و تدبر سے پڑھیں اور سمجھیں تو صرف یہی ایک سورت کافی ہے۔؟ مسیلمہ کذاب اور عمرو بن عاص میں مکالمہ ٭٭ [سورة العصر کی ابتدائی تفسیر دیکھئیے] ‏۔ 10840 مختصر نقصان اور اصحاب فلاح و نجات ٭٭ «عصر» سے مراد زمانہ ہے جس میں انسان نیکی بدی کے کام کرتا ہے، زید بن اسلم رحمہ اللہ نے اس سے مراد عصر کی نماز یا عصر کی نماز کا وقت بیان کیا ہے لیکن مشہور پہلا قول ہی ہے۔ اس قسم کے بعد بیان فرماتا ہے کہ انسان نقصان میں، ٹوٹے میں اور ہلاکت میں ہے، ہاں اس نقصان سے بچنے والے وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان ہو، اعمال میں نیکیاں ہوں، حق کی وصیتیں کرنے والے ہوں یعنی نیکی کے کام کرنے کی، حرام کاموں سے رکنے کی ایک دوسرے کو تاکید کرتے ہوں، قسمت کے لکھے پر، مصیبتوں کی برداشت پر صبر کرتے ہوں اور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین کرتے ہوں۔ ساتھ ہی بھلی باتوں کا حکم کرنے اور بری باتوں سے روکنے میں لوگوں کی طرف سے جو بلائیں اور تکلیفیں پہنچیں تو ان کو بھی برداشت کرتے ہوں اور اسی کی تلقین اپنے ساتھیوں کو بھی کرتے ہوں یہ ہیں جو اس صریح نقصان سے مستثنیٰ ہیں۔ سورۃ والعصر کی تفسیر بحمدللہ ختم ہوئی۔ 10841

العصر 103:3

عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی مسیلمہ کذاب سے ملاقات اور گفتگو: سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنے مسلمان ہونے سے پہلے ایک مرتبہ مسیلمہ کذاب سے ملے، اس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا تھا، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر پوچھنے لگا، کہو اس مدت میں تمہارے نبی پر بھی کوئی وحی نازل ہوئی ہے، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ایک مختصر سی نہایت فصاحت والی سورت اتری ہے، پوچھا: وہ کیا ہے؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے سورۃ والعصر پڑھ کر سنا دی۔ مسیلمہ ذرا دیر سوچتا رہا پھر کہنے لگا، عمرو! دیکھو مجھ پر بھی اسی جیسی سورت اتری ہے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا وہ کیا؟ کہا: یہ «يَا وَبْر يَا وَبْر إِنَّمَا أَنْتَ أُذُنَانِ وَصَدْر وَسَائِرك حَفْر نَقْر» پھر کہنے لگا، عمرو کہو تمہارا کیا خیال ہے؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال تو تو خود ہی جانتا ہے کہ مجھے تیرے جھوٹے ہونے کا علم ہے ۔ [الخرائطي في مساوئ الاخلاق:173:اسناده ضعيف‏ ] «وبر» بلی جیسا ایک جانور ہے اس کے دونوں کان ذرا بڑے ہوتے ہیں اور سینہ بھی، باقی جسم بالکل حقیر اور واہیات ہوتا ہے۔ اس کذاب نے ایسی فضول گوئی اور بکواس کے ساتھ اللہ کے کلام کا معارضہ کرنا چاہا جسے سن کر عرب کے بت پرست لوگوں نے بھی اس کا کاذب اور مفتری ہونا سمجھ لیا۔ طبرانی میں ہے کہ دو صحابیوں کا یہ دستور تھا کہ جب ملتے ایک اس سورت کو پڑھتا دوسرا سنتا پھر سلام کر کے رخصت ہو جاتے۔ [طبراني اوسط:5120:اسناده ضعيف‏ ] امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر لوگ اس سورت کو غور و تدبر سے پڑھیں اور سمجھیں تو صرف یہی ایک سورت کافی ہے۔؟ مسیلمہ کذاب اور عمرو بن عاص میں مکالمہ ٭٭ [سورة العصر کی ابتدائی تفسیر دیکھئیے] ‏۔ 10840 مختصر نقصان اور اصحاب فلاح و نجات ٭٭ «عصر» سے مراد زمانہ ہے جس میں انسان نیکی بدی کے کام کرتا ہے، زید بن اسلم رحمہ اللہ نے اس سے مراد عصر کی نماز یا عصر کی نماز کا وقت بیان کیا ہے لیکن مشہور پہلا قول ہی ہے۔ اس قسم کے بعد بیان فرماتا ہے کہ انسان نقصان میں، ٹوٹے میں اور ہلاکت میں ہے، ہاں اس نقصان سے بچنے والے وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان ہو، اعمال میں نیکیاں ہوں، حق کی وصیتیں کرنے والے ہوں یعنی نیکی کے کام کرنے کی، حرام کاموں سے رکنے کی ایک دوسرے کو تاکید کرتے ہوں، قسمت کے لکھے پر، مصیبتوں کی برداشت پر صبر کرتے ہوں اور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین کرتے ہوں۔ ساتھ ہی بھلی باتوں کا حکم کرنے اور بری باتوں سے روکنے میں لوگوں کی طرف سے جو بلائیں اور تکلیفیں پہنچیں تو ان کو بھی برداشت کرتے ہوں اور اسی کی تلقین اپنے ساتھیوں کو بھی کرتے ہوں یہ ہیں جو اس صریح نقصان سے مستثنیٰ ہیں۔ سورۃ والعصر کی تفسیر بحمدللہ ختم ہوئی۔ 10841

الهمزة 104:1

وزنی بیڑیاں اور قید و بند کو یاد رکھو ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زبان سے لوگوں کی عیب گیری کرنے والا، اپنے کاموں سے دوسروں کی حقارت کرنے والا، خرابی والا شخص ہے۔ «هَمَّاز مَشَّاء بِنَمِيمٍ» [68-القلم:11] ‏ کی تفسیر بیان ہو چکی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے۔ ربیع بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو «هُمَزَ» ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا «لُّمَزَ» ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستانا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیبت کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «هُمَزَ» ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور «لُّمَزَ» زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن شریق کافر ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت عام ہے۔ پھر فرمایا: جو جمع کرتا ہے اور گن گن کر رکھتا جاتا ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰ» ۔ [70-المعارج:18] ‏ 10844 سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر تو مال کمانے کی ہائے وائے میں لگا رہا اور رات کو سڑی بھسی لاش کی طرح پڑ رہا اس کا خیال یہ ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ دنیا میں رکھے گا حالانکہ واقعہ یوں نہیں بلکہ یہ بخیل اور لالچی انسان جہنم کے اس طبقے میں گرے گا جو ہر اس چیز کو جو اس میں گرے چور چور کر دیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ توڑ پھوڑ کرنے والی کیا چیز ہے؟ اس کا حال اے نبی! تمہیں معلوم نہیں یہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر چڑھ جاتی ہے جلا کر بھسم کر دیتی ہے لیکن مرتے نہیں۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ جب اس آیت کی تلاوت کر کے اس کا یہ معنی بیان کرتے تو رو دیتے اور کہتے انہیں عذاب نے بڑا ستایا۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں آگ جلاتی ہوئی حلق تک پہنچ جاتی ہے پھر لوٹتی پھر پہنچی ہے یہ آگ ان پر چاروں طرف سے بند کر دی گئی ہے جیسے کہ سورۃ البلد کی تفسیر میں گزرا۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے۔ [ابن مردودیہ:اسنادہ ضعیف] ‏ اور دوسرا طریق اس کا موقوف ہے لوہا جو مثل آگ کے ہے اس کے ستونوں میں یہ لمبے لمبے دروازے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات میں «بِعَمَدٍ» مروی ہے، ان دوزخیوں کی گردنوں میں زنجیریں ہوں گی یہ لمبے لمبے ستونوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور اوپر سے دروازے بند کر دئیے جائیں گے ان آگ کے ستونوں میں انہیں بدترین عذاب کیے جائیں گے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی وزنی بیڑیاں اور قید و بند ان کے لیے ہو گی۔ اس سورت کی تفسیر بھی اللہ کے فضل و کرم سے پوری ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10845

الهمزة 104:2

وزنی بیڑیاں اور قید و بند کو یاد رکھو ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زبان سے لوگوں کی عیب گیری کرنے والا، اپنے کاموں سے دوسروں کی حقارت کرنے والا، خرابی والا شخص ہے۔ «هَمَّاز مَشَّاء بِنَمِيمٍ» [68-القلم:11] ‏ کی تفسیر بیان ہو چکی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے۔ ربیع بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو «هُمَزَ» ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا «لُّمَزَ» ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستانا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیبت کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «هُمَزَ» ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور «لُّمَزَ» زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن شریق کافر ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت عام ہے۔ پھر فرمایا: جو جمع کرتا ہے اور گن گن کر رکھتا جاتا ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰ» ۔ [70-المعارج:18] ‏ 10844 سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر تو مال کمانے کی ہائے وائے میں لگا رہا اور رات کو سڑی بھسی لاش کی طرح پڑ رہا اس کا خیال یہ ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ دنیا میں رکھے گا حالانکہ واقعہ یوں نہیں بلکہ یہ بخیل اور لالچی انسان جہنم کے اس طبقے میں گرے گا جو ہر اس چیز کو جو اس میں گرے چور چور کر دیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ توڑ پھوڑ کرنے والی کیا چیز ہے؟ اس کا حال اے نبی! تمہیں معلوم نہیں یہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر چڑھ جاتی ہے جلا کر بھسم کر دیتی ہے لیکن مرتے نہیں۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ جب اس آیت کی تلاوت کر کے اس کا یہ معنی بیان کرتے تو رو دیتے اور کہتے انہیں عذاب نے بڑا ستایا۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں آگ جلاتی ہوئی حلق تک پہنچ جاتی ہے پھر لوٹتی پھر پہنچی ہے یہ آگ ان پر چاروں طرف سے بند کر دی گئی ہے جیسے کہ سورۃ البلد کی تفسیر میں گزرا۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے۔ [ابن مردودیہ:اسنادہ ضعیف] ‏ اور دوسرا طریق اس کا موقوف ہے لوہا جو مثل آگ کے ہے اس کے ستونوں میں یہ لمبے لمبے دروازے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات میں «بِعَمَدٍ» مروی ہے، ان دوزخیوں کی گردنوں میں زنجیریں ہوں گی یہ لمبے لمبے ستونوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور اوپر سے دروازے بند کر دئیے جائیں گے ان آگ کے ستونوں میں انہیں بدترین عذاب کیے جائیں گے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی وزنی بیڑیاں اور قید و بند ان کے لیے ہو گی۔ اس سورت کی تفسیر بھی اللہ کے فضل و کرم سے پوری ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10845

الهمزة 104:3

وزنی بیڑیاں اور قید و بند کو یاد رکھو ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زبان سے لوگوں کی عیب گیری کرنے والا، اپنے کاموں سے دوسروں کی حقارت کرنے والا، خرابی والا شخص ہے۔ «هَمَّاز مَشَّاء بِنَمِيمٍ» [68-القلم:11] ‏ کی تفسیر بیان ہو چکی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے۔ ربیع بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو «هُمَزَ» ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا «لُّمَزَ» ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستانا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیبت کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «هُمَزَ» ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور «لُّمَزَ» زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن شریق کافر ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت عام ہے۔ پھر فرمایا: جو جمع کرتا ہے اور گن گن کر رکھتا جاتا ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰ» ۔ [70-المعارج:18] ‏ 10844 سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر تو مال کمانے کی ہائے وائے میں لگا رہا اور رات کو سڑی بھسی لاش کی طرح پڑ رہا اس کا خیال یہ ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ دنیا میں رکھے گا حالانکہ واقعہ یوں نہیں بلکہ یہ بخیل اور لالچی انسان جہنم کے اس طبقے میں گرے گا جو ہر اس چیز کو جو اس میں گرے چور چور کر دیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ توڑ پھوڑ کرنے والی کیا چیز ہے؟ اس کا حال اے نبی! تمہیں معلوم نہیں یہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر چڑھ جاتی ہے جلا کر بھسم کر دیتی ہے لیکن مرتے نہیں۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ جب اس آیت کی تلاوت کر کے اس کا یہ معنی بیان کرتے تو رو دیتے اور کہتے انہیں عذاب نے بڑا ستایا۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں آگ جلاتی ہوئی حلق تک پہنچ جاتی ہے پھر لوٹتی پھر پہنچی ہے یہ آگ ان پر چاروں طرف سے بند کر دی گئی ہے جیسے کہ سورۃ البلد کی تفسیر میں گزرا۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے۔ [ابن مردودیہ:اسنادہ ضعیف] ‏ اور دوسرا طریق اس کا موقوف ہے لوہا جو مثل آگ کے ہے اس کے ستونوں میں یہ لمبے لمبے دروازے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات میں «بِعَمَدٍ» مروی ہے، ان دوزخیوں کی گردنوں میں زنجیریں ہوں گی یہ لمبے لمبے ستونوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور اوپر سے دروازے بند کر دئیے جائیں گے ان آگ کے ستونوں میں انہیں بدترین عذاب کیے جائیں گے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی وزنی بیڑیاں اور قید و بند ان کے لیے ہو گی۔ اس سورت کی تفسیر بھی اللہ کے فضل و کرم سے پوری ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10845

الهمزة 104:4

وزنی بیڑیاں اور قید و بند کو یاد رکھو ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زبان سے لوگوں کی عیب گیری کرنے والا، اپنے کاموں سے دوسروں کی حقارت کرنے والا، خرابی والا شخص ہے۔ «هَمَّاز مَشَّاء بِنَمِيمٍ» [68-القلم:11] ‏ کی تفسیر بیان ہو چکی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے۔ ربیع بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو «هُمَزَ» ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا «لُّمَزَ» ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستانا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیبت کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «هُمَزَ» ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور «لُّمَزَ» زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن شریق کافر ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت عام ہے۔ پھر فرمایا: جو جمع کرتا ہے اور گن گن کر رکھتا جاتا ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰ» ۔ [70-المعارج:18] ‏ 10844 سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر تو مال کمانے کی ہائے وائے میں لگا رہا اور رات کو سڑی بھسی لاش کی طرح پڑ رہا اس کا خیال یہ ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ دنیا میں رکھے گا حالانکہ واقعہ یوں نہیں بلکہ یہ بخیل اور لالچی انسان جہنم کے اس طبقے میں گرے گا جو ہر اس چیز کو جو اس میں گرے چور چور کر دیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ توڑ پھوڑ کرنے والی کیا چیز ہے؟ اس کا حال اے نبی! تمہیں معلوم نہیں یہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر چڑھ جاتی ہے جلا کر بھسم کر دیتی ہے لیکن مرتے نہیں۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ جب اس آیت کی تلاوت کر کے اس کا یہ معنی بیان کرتے تو رو دیتے اور کہتے انہیں عذاب نے بڑا ستایا۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں آگ جلاتی ہوئی حلق تک پہنچ جاتی ہے پھر لوٹتی پھر پہنچی ہے یہ آگ ان پر چاروں طرف سے بند کر دی گئی ہے جیسے کہ سورۃ البلد کی تفسیر میں گزرا۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے۔ [ابن مردودیہ:اسنادہ ضعیف] ‏ اور دوسرا طریق اس کا موقوف ہے لوہا جو مثل آگ کے ہے اس کے ستونوں میں یہ لمبے لمبے دروازے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات میں «بِعَمَدٍ» مروی ہے، ان دوزخیوں کی گردنوں میں زنجیریں ہوں گی یہ لمبے لمبے ستونوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور اوپر سے دروازے بند کر دئیے جائیں گے ان آگ کے ستونوں میں انہیں بدترین عذاب کیے جائیں گے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی وزنی بیڑیاں اور قید و بند ان کے لیے ہو گی۔ اس سورت کی تفسیر بھی اللہ کے فضل و کرم سے پوری ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10845

الهمزة 104:5

وزنی بیڑیاں اور قید و بند کو یاد رکھو ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زبان سے لوگوں کی عیب گیری کرنے والا، اپنے کاموں سے دوسروں کی حقارت کرنے والا، خرابی والا شخص ہے۔ «هَمَّاز مَشَّاء بِنَمِيمٍ» [68-القلم:11] ‏ کی تفسیر بیان ہو چکی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے۔ ربیع بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو «هُمَزَ» ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا «لُّمَزَ» ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستانا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیبت کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «هُمَزَ» ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور «لُّمَزَ» زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن شریق کافر ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت عام ہے۔ پھر فرمایا: جو جمع کرتا ہے اور گن گن کر رکھتا جاتا ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰ» ۔ [70-المعارج:18] ‏ 10844 سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر تو مال کمانے کی ہائے وائے میں لگا رہا اور رات کو سڑی بھسی لاش کی طرح پڑ رہا اس کا خیال یہ ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ دنیا میں رکھے گا حالانکہ واقعہ یوں نہیں بلکہ یہ بخیل اور لالچی انسان جہنم کے اس طبقے میں گرے گا جو ہر اس چیز کو جو اس میں گرے چور چور کر دیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ توڑ پھوڑ کرنے والی کیا چیز ہے؟ اس کا حال اے نبی! تمہیں معلوم نہیں یہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر چڑھ جاتی ہے جلا کر بھسم کر دیتی ہے لیکن مرتے نہیں۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ جب اس آیت کی تلاوت کر کے اس کا یہ معنی بیان کرتے تو رو دیتے اور کہتے انہیں عذاب نے بڑا ستایا۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں آگ جلاتی ہوئی حلق تک پہنچ جاتی ہے پھر لوٹتی پھر پہنچی ہے یہ آگ ان پر چاروں طرف سے بند کر دی گئی ہے جیسے کہ سورۃ البلد کی تفسیر میں گزرا۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے۔ [ابن مردودیہ:اسنادہ ضعیف] ‏ اور دوسرا طریق اس کا موقوف ہے لوہا جو مثل آگ کے ہے اس کے ستونوں میں یہ لمبے لمبے دروازے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات میں «بِعَمَدٍ» مروی ہے، ان دوزخیوں کی گردنوں میں زنجیریں ہوں گی یہ لمبے لمبے ستونوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور اوپر سے دروازے بند کر دئیے جائیں گے ان آگ کے ستونوں میں انہیں بدترین عذاب کیے جائیں گے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی وزنی بیڑیاں اور قید و بند ان کے لیے ہو گی۔ اس سورت کی تفسیر بھی اللہ کے فضل و کرم سے پوری ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10845

الهمزة 104:6

وزنی بیڑیاں اور قید و بند کو یاد رکھو ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زبان سے لوگوں کی عیب گیری کرنے والا، اپنے کاموں سے دوسروں کی حقارت کرنے والا، خرابی والا شخص ہے۔ «هَمَّاز مَشَّاء بِنَمِيمٍ» [68-القلم:11] ‏ کی تفسیر بیان ہو چکی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے۔ ربیع بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو «هُمَزَ» ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا «لُّمَزَ» ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستانا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیبت کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «هُمَزَ» ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور «لُّمَزَ» زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن شریق کافر ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت عام ہے۔ پھر فرمایا: جو جمع کرتا ہے اور گن گن کر رکھتا جاتا ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰ» ۔ [70-المعارج:18] ‏ 10844 سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر تو مال کمانے کی ہائے وائے میں لگا رہا اور رات کو سڑی بھسی لاش کی طرح پڑ رہا اس کا خیال یہ ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ دنیا میں رکھے گا حالانکہ واقعہ یوں نہیں بلکہ یہ بخیل اور لالچی انسان جہنم کے اس طبقے میں گرے گا جو ہر اس چیز کو جو اس میں گرے چور چور کر دیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ توڑ پھوڑ کرنے والی کیا چیز ہے؟ اس کا حال اے نبی! تمہیں معلوم نہیں یہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر چڑھ جاتی ہے جلا کر بھسم کر دیتی ہے لیکن مرتے نہیں۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ جب اس آیت کی تلاوت کر کے اس کا یہ معنی بیان کرتے تو رو دیتے اور کہتے انہیں عذاب نے بڑا ستایا۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں آگ جلاتی ہوئی حلق تک پہنچ جاتی ہے پھر لوٹتی پھر پہنچی ہے یہ آگ ان پر چاروں طرف سے بند کر دی گئی ہے جیسے کہ سورۃ البلد کی تفسیر میں گزرا۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے۔ [ابن مردودیہ:اسنادہ ضعیف] ‏ اور دوسرا طریق اس کا موقوف ہے لوہا جو مثل آگ کے ہے اس کے ستونوں میں یہ لمبے لمبے دروازے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات میں «بِعَمَدٍ» مروی ہے، ان دوزخیوں کی گردنوں میں زنجیریں ہوں گی یہ لمبے لمبے ستونوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور اوپر سے دروازے بند کر دئیے جائیں گے ان آگ کے ستونوں میں انہیں بدترین عذاب کیے جائیں گے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی وزنی بیڑیاں اور قید و بند ان کے لیے ہو گی۔ اس سورت کی تفسیر بھی اللہ کے فضل و کرم سے پوری ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10845

الهمزة 104:7

وزنی بیڑیاں اور قید و بند کو یاد رکھو ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زبان سے لوگوں کی عیب گیری کرنے والا، اپنے کاموں سے دوسروں کی حقارت کرنے والا، خرابی والا شخص ہے۔ «هَمَّاز مَشَّاء بِنَمِيمٍ» [68-القلم:11] ‏ کی تفسیر بیان ہو چکی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے۔ ربیع بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو «هُمَزَ» ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا «لُّمَزَ» ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستانا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیبت کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «هُمَزَ» ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور «لُّمَزَ» زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن شریق کافر ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت عام ہے۔ پھر فرمایا: جو جمع کرتا ہے اور گن گن کر رکھتا جاتا ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰ» ۔ [70-المعارج:18] ‏ 10844 سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر تو مال کمانے کی ہائے وائے میں لگا رہا اور رات کو سڑی بھسی لاش کی طرح پڑ رہا اس کا خیال یہ ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ دنیا میں رکھے گا حالانکہ واقعہ یوں نہیں بلکہ یہ بخیل اور لالچی انسان جہنم کے اس طبقے میں گرے گا جو ہر اس چیز کو جو اس میں گرے چور چور کر دیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ توڑ پھوڑ کرنے والی کیا چیز ہے؟ اس کا حال اے نبی! تمہیں معلوم نہیں یہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر چڑھ جاتی ہے جلا کر بھسم کر دیتی ہے لیکن مرتے نہیں۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ جب اس آیت کی تلاوت کر کے اس کا یہ معنی بیان کرتے تو رو دیتے اور کہتے انہیں عذاب نے بڑا ستایا۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں آگ جلاتی ہوئی حلق تک پہنچ جاتی ہے پھر لوٹتی پھر پہنچی ہے یہ آگ ان پر چاروں طرف سے بند کر دی گئی ہے جیسے کہ سورۃ البلد کی تفسیر میں گزرا۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے۔ [ابن مردودیہ:اسنادہ ضعیف] ‏ اور دوسرا طریق اس کا موقوف ہے لوہا جو مثل آگ کے ہے اس کے ستونوں میں یہ لمبے لمبے دروازے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات میں «بِعَمَدٍ» مروی ہے، ان دوزخیوں کی گردنوں میں زنجیریں ہوں گی یہ لمبے لمبے ستونوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور اوپر سے دروازے بند کر دئیے جائیں گے ان آگ کے ستونوں میں انہیں بدترین عذاب کیے جائیں گے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی وزنی بیڑیاں اور قید و بند ان کے لیے ہو گی۔ اس سورت کی تفسیر بھی اللہ کے فضل و کرم سے پوری ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10845

الهمزة 104:8

وزنی بیڑیاں اور قید و بند کو یاد رکھو ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زبان سے لوگوں کی عیب گیری کرنے والا، اپنے کاموں سے دوسروں کی حقارت کرنے والا، خرابی والا شخص ہے۔ «هَمَّاز مَشَّاء بِنَمِيمٍ» [68-القلم:11] ‏ کی تفسیر بیان ہو چکی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے۔ ربیع بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو «هُمَزَ» ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا «لُّمَزَ» ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستانا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیبت کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «هُمَزَ» ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور «لُّمَزَ» زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن شریق کافر ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت عام ہے۔ پھر فرمایا: جو جمع کرتا ہے اور گن گن کر رکھتا جاتا ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰ» ۔ [70-المعارج:18] ‏ 10844 سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر تو مال کمانے کی ہائے وائے میں لگا رہا اور رات کو سڑی بھسی لاش کی طرح پڑ رہا اس کا خیال یہ ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ دنیا میں رکھے گا حالانکہ واقعہ یوں نہیں بلکہ یہ بخیل اور لالچی انسان جہنم کے اس طبقے میں گرے گا جو ہر اس چیز کو جو اس میں گرے چور چور کر دیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ توڑ پھوڑ کرنے والی کیا چیز ہے؟ اس کا حال اے نبی! تمہیں معلوم نہیں یہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر چڑھ جاتی ہے جلا کر بھسم کر دیتی ہے لیکن مرتے نہیں۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ جب اس آیت کی تلاوت کر کے اس کا یہ معنی بیان کرتے تو رو دیتے اور کہتے انہیں عذاب نے بڑا ستایا۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں آگ جلاتی ہوئی حلق تک پہنچ جاتی ہے پھر لوٹتی پھر پہنچی ہے یہ آگ ان پر چاروں طرف سے بند کر دی گئی ہے جیسے کہ سورۃ البلد کی تفسیر میں گزرا۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے۔ [ابن مردودیہ:اسنادہ ضعیف] ‏ اور دوسرا طریق اس کا موقوف ہے لوہا جو مثل آگ کے ہے اس کے ستونوں میں یہ لمبے لمبے دروازے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات میں «بِعَمَدٍ» مروی ہے، ان دوزخیوں کی گردنوں میں زنجیریں ہوں گی یہ لمبے لمبے ستونوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور اوپر سے دروازے بند کر دئیے جائیں گے ان آگ کے ستونوں میں انہیں بدترین عذاب کیے جائیں گے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی وزنی بیڑیاں اور قید و بند ان کے لیے ہو گی۔ اس سورت کی تفسیر بھی اللہ کے فضل و کرم سے پوری ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10845

الهمزة 104:9

وزنی بیڑیاں اور قید و بند کو یاد رکھو ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زبان سے لوگوں کی عیب گیری کرنے والا، اپنے کاموں سے دوسروں کی حقارت کرنے والا، خرابی والا شخص ہے۔ «هَمَّاز مَشَّاء بِنَمِيمٍ» [68-القلم:11] ‏ کی تفسیر بیان ہو چکی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے۔ ربیع بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو «هُمَزَ» ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا «لُّمَزَ» ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستانا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیبت کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «هُمَزَ» ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور «لُّمَزَ» زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن شریق کافر ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت عام ہے۔ پھر فرمایا: جو جمع کرتا ہے اور گن گن کر رکھتا جاتا ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰ» ۔ [70-المعارج:18] ‏ 10844 سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر تو مال کمانے کی ہائے وائے میں لگا رہا اور رات کو سڑی بھسی لاش کی طرح پڑ رہا اس کا خیال یہ ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ دنیا میں رکھے گا حالانکہ واقعہ یوں نہیں بلکہ یہ بخیل اور لالچی انسان جہنم کے اس طبقے میں گرے گا جو ہر اس چیز کو جو اس میں گرے چور چور کر دیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ توڑ پھوڑ کرنے والی کیا چیز ہے؟ اس کا حال اے نبی! تمہیں معلوم نہیں یہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر چڑھ جاتی ہے جلا کر بھسم کر دیتی ہے لیکن مرتے نہیں۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ جب اس آیت کی تلاوت کر کے اس کا یہ معنی بیان کرتے تو رو دیتے اور کہتے انہیں عذاب نے بڑا ستایا۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں آگ جلاتی ہوئی حلق تک پہنچ جاتی ہے پھر لوٹتی پھر پہنچی ہے یہ آگ ان پر چاروں طرف سے بند کر دی گئی ہے جیسے کہ سورۃ البلد کی تفسیر میں گزرا۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے۔ [ابن مردودیہ:اسنادہ ضعیف] ‏ اور دوسرا طریق اس کا موقوف ہے لوہا جو مثل آگ کے ہے اس کے ستونوں میں یہ لمبے لمبے دروازے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات میں «بِعَمَدٍ» مروی ہے، ان دوزخیوں کی گردنوں میں زنجیریں ہوں گی یہ لمبے لمبے ستونوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور اوپر سے دروازے بند کر دئیے جائیں گے ان آگ کے ستونوں میں انہیں بدترین عذاب کیے جائیں گے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی وزنی بیڑیاں اور قید و بند ان کے لیے ہو گی۔ اس سورت کی تفسیر بھی اللہ کے فضل و کرم سے پوری ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10845

الفيل 105:1

ابرہہ اور اس کا حشر ٭٭ اللہ رب العزت نے قریش پر جو اپنی خاص نعمت انعام فرمائی تھی اس کا ذکر کر رہا ہے کہ جس لشکر نے ہاتھیوں کو ساتھ لے کر کعبے کو ڈھانے کے لیے چڑھائی کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کہ وہ کعبے کے وجود کو مٹائیں ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ ان کی تمام فریب کاریاں ان کی تمام قوتیں سلب کر لیں انہیں برباد و غارت کر دیا۔ یہ لوگ مذہباً نصرانی تھے لیکن دین مسیح کو مسخ کر دیا تھا قریباً بت پرست ہو گئے تھے انہیں اس طرح نامراد کرنا یہ گویا پیش خیمہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا اور اطلاع تھی آپ کی آمد آمد کی نبی علیہ السلام اسی سال تولد ہوئے تھے۔ اکثر تاریخ داں حضرات کا یہی قول ہے تو گویا رب العالمین فرما رہا ہے کہ اے قریشیو! حبشہ کے اس لشکر پر تمہیں فتح تمہاری بھلائی کی وجہ سے نہیں دی گئی تھی بلکہ اس میں ہمارے گھر کا بچاؤ تھا جسے ہم شرف بزرگی عظمت و عزت میں اپنے آخر الزمان پیغمبر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے بڑھانے والے تھے۔ 10854 غرض اصحاب فیل کا مختصر واقعہ تو یہ ہے جو بیان ہوا اور مطول واقعہ اصحاب الاخدود کے بیان میں گزر چکا ہے کہ قبیلہ حمیر کا آخری بادشاہ ذونواس جو مشرک تھا جس نے اپنے زمانے کے مسلمانوں کو کھائیوں میں قتل کیا تھا جو سچے نصرانی تھے اور تعداد میں تقریباً بیس ہزار تھے، سارے کے سارے شہید کر دئیے گئے تھے صرف دوس ذوثعلبان ایک بچا جو ملک شام جا پہنچا اور قیصر روم سے فریاد رسی چاہی۔ یہ بادشاہ نصرانی مذہب پر تھا اس نے حبشہ کے بادشاہ شاہ نجاشی کو لکھا کہ اس کے ساتھ اپنی پوری فوج کر دو اس لیے کہ یہاں سے دشمن کا ملک قریب تھا۔ اس بادشاہ نے ارباط اور ابویکسوم ابرہہ بن صباح کو امیر لشکر بنا کر بہت بڑا لشکر دے کر دونوں کو اس کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا یہ لشکر یمن پہنچا اور یمن کو اور یمنیوں کو تاخت و تاراج کر دیا۔ ذونواس بھاگ کھڑا ہوا اور دریا میں ڈوب کر مر گیا اور ان لوگوں کی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور سارے یمن پر شاہ حبشہ کا قبضہ ہو گیا اور یہ دونوں سردار یہاں رہنے سہنے لگے لیکن کچھ تھوڑی مدت کے بعد ان میں ناچاقی ہو گئی آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ دونوں نے آمنے سامنے صفیں باندھ لیں اور لڑنے کے لیے نکل آئے۔ عام حملہ ہو اس سے بیشتر ان دونوں سرداروں نے آپس میں کہا کہ فوجوں کو لڑانے اور لوگوں کو قتل کرانے کی کیا ضرورت، آؤ ہم تم دونوں میدان میں نکلیں اور ایک دوسرے سے لڑ کر فیصلہ کر لیں جو زندہ بچ جائے ملک و فوج اس کی۔ چنانچہ یہ بات طے ہو گئی اور دونوں میدان میں نکل آئے ارباط نے ابرہہ پر حملہ کیا اور تلوار کے ایک ہی وار سے چہرہ خونا خون کر دیا ناک ہونٹ اور منہ کٹ گیا، ابرہہ کے غلام عتودہ نے اس موقعہ پر ارباط پر ایک بےپناہ حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا ابرہہ زخمی ہو کر میدان سے زندہ واپس گیا، علاج معالجہ سے زخم اچھے ہو گئے اور یمن کا یہ مستقل بادشاہ بن بیٹھا۔ نجاشی شاہ حبشہ کو جب یہ واقعہ معلوم ہوا تو وہ سخت غصہ ہوا اور ایک خط ابرہہ کو لکھا اسے بڑی لعنت ملامت کی اور کہا کہ قسم اللہ کی میں تیرے شہروں کو پامال کر دوں گا۔ اور تیری چوٹی کاٹ لاؤں گا، ابرہہ نے اس کا جواب نہایت عاجزی سے لکھا اور قاصد کو بہت سارے ہدئیے دئیے اور ایک تھیلی میں یمن کی مٹی بھر دی اور اپنی پیشانی کے بال کاٹ کر اس میں رکھ دئیے۔ اور اپنے خط میں اپنے قصوروں کی معافی طلب کی اور لکھا کہ یہ یمن کی مٹی حاضر ہے اور چوٹی کے بال بھی، آپ اپنی قسم پوری کیجئے اور ناراضی معاف فرمائیے اس سے شاہ حبشہ خوش ہو گیا اور یہاں کی سرداری اسی کے نام کر دی، اب ابرہہ نے نجاشی کو لکھا کہ میں یہاں یمن میں آپ کے لیے ایک ایسا گرجا تعمیر کر رہا ہوں کہ اب تک دنیا میں ایسا نہ بنا ہو اور پھر اس نے گرجا گھر کا بنانا شروع کیا۔ 10855 بڑے اہتمام اور کروفر سے بہت اونچا بہت مضبوط بےحد خوبصورت اور منقش و مزین گرجا بنایا۔ اس قدر بلند تھا کہ چوٹی تک نظر ڈالنے والے کی ٹوپی گر پڑتی تھی اسی لیے عرب اسے «قلیس» کہتے یعنی ٹوپی پھینک دینے والا۔ اب ابرہہ اشرم کو یہ سوجھی کہ لوگ بجائے کعبۃ اللہ کے حج کے اس کا حج کریں، اپنی ساری مملکت میں اس کی منادی کرا دی، عدنانیہ اور قحطانیہ عرب کو یہ بہت برا لگا، ادھر سے قریش بھی بھڑک اٹھے، تھوڑے دن میں کوئی شخص رات کے وقت اس کے اندر گھس گیا اور وہاں پاخانہ کر کے چلا آیا چوکیداروں نے جب یہ دیکھا تو بادشاہ کو خبر پہنچائی اور کہا کہ یہ کام قریشیوں کا ہے چونکہ آپ نے ان کا کعبہ روک دیا ہے۔ لہٰذا انہوں نے جوش اور غضب میں آ کر یہ حرکت کی ہے ابرہہ نے اسی وقت قسم کھا لی کہ میں مکہ پہنچوں گا اور بیت اللہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔ اور ایک روایت میں یوں بھی ہے کہ چند ملے جلے نوجوان قریشیوں نے اس گرجا میں آ ۤگ لگا دی تھی اور اس وقت ہوا بھی بہت تیز تھی سارا گرجا جل گیا اور منہ کے بل زمین پر گر گیا اس پر ابرہہ نے بہت بڑا لشکر ساتھ لے کر مکہ پر چڑھائی کی تاکہ کوئی روک نہ سکے اور اپنے ساتھ ایک بڑا اونچا اور موٹا ہاتھی لیا جسے محمود کہا جاتا تھا۔ اس جیسا ہاتھی اور کوئی نہ تھا شاہ حبشہ نے یہ ہاتھی اس کے پاس اسی غرض سے بھیجا تھا آٹھ یا بارہ ہاتھی اور بھی ساتھ تھے یہ کعبے کے ڈھانے کی نیت سے چلا یہ سوچ کر کہ کعبہ کی دیواروں میں مضبوط زنجیریں ڈال دوں گا اور ہاتھیوں کی گردنوں میں ان زنجیروں کو باندھ دوں گا ہاتھی ایک ہی جھٹکے میں چاروں دیواریں بیت اللہ کی جڑ سے گرا دیں گے۔ جب اہل عرب کو یہ خبریں معلوم ہوئیں تو ان پر بڑا بھاری اثر ہوا انہوں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ خواہ کچھ بھی ہو ہم ضرور اس سے مقابلہ کریں گے اور اسے اس کی اس بدکرداری سے روکیں گے ایک یمنی شریف سردار جو وہاں کے بادشاہوں کی اولاد میں سے تھا جسے ”ذونفر“ کہا جاتا تھا یہ کھڑا ہو گیا اپنی قوم کو اور کل آس پاس کے عرب کو جمع کیا اور اس بدنیت بادشاہ سے مقابلہ کیا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا عربوں کو شکست ہوئی اور ذونفر اس خبیث کے ہاتھ میں قید ہو گیا اس نے اسے بھی ساتھ لیا اور مکہ شریف کی طرف بڑھا۔ 10856 خثم قبیلے کی زمین پر جب یہ پہنچا تو یہاں نفیل بن حبیب خثعمی نے اپنے لشکروں سے اس کا مقابلہ کیا لیکن ابرہہ نے انہیں بھی مغلوب کر لیا اور نفیل بھی قید ہو گیا پہلے تو اس ظالم نے اسے قتل کرنا چاہا لیکن پھر قتل نہ کیا اور قید کر کے ساتھ لے لیا تاکہ راستہ بنائے۔ جب طائف کے قریب پہنچا تو قبیلہ ثقیف نے اس سے صلح کر لی کہ ایسا نہ ہو ان کے بت خانوں کو جس میں لات نامی بت تھا یہ توڑ دے اس نے بھی ان کی بڑی آؤ بھگت کی انہوں نے ابورغال کو اس کے ساتھ کر دیا کہ یہ تمہیں وہاں کا راستہ بتائے گا۔ ابرہہ جب مکے کے بالکل قریب مغمس کے پہنچا تو اس نے یہاں پڑاؤ کیا اس کے لشکر نے آس پاس مکہ والوں کے جو جانور اونٹ وغیرہ چر چگ رہے تھے سب کو اپنے قبضہ میں کیا ان جانوروں میں دو سو اونٹ تو صرف عبدالمطلب کے تھے اسود بن مقصود جو اس کے لشکر کے ہراول کا سردار تھا اس نے ابرہہ کے حکم سے ان جانوروں کو لوٹا تھا، جس پر عرب شاعروں نے اس کی ہجو میں اشعار تصنیف کئے ہوئے ہیں جو سیرۃ ابن اسحاق میں موجود ہیں۔ اب ابرہہ نے اپنا قاصد حناطہٰ حمیری مکہ والوں کے پاس بھیجا کہ مکہ کے سب سے بڑے سردار کو میرے پاس لاؤ اور یہ بھی اعلان کر دو کہ میں مکہ والوں سے لڑنے نہیں آیا میرا ارادہ صرف بیت اللہ کو گرانے کا ہے ہاں اگر مکہ والے اس کے بچانے کے درپے ہوئے تو لامحالہ مجھے ان سے لڑائی کرنی پڑے گی، حناطہٰ جب مکہ میں آیا اور لوگوں سے ملا جلا تو معلوم ہوا کہ یہاں کا بڑا سردار عبدالمطلب بن ہاشم ہے، یہ عبدالمطلب سے ملا اور شاہی پیغام پہنچایا۔ جس کے جواب میں عبدالمطلب نے کہا: واللہ! نہ ہمارا ارادہ اس سے لڑنے کا ہے نہ ہم میں اتنی طاقت ہے یہ اللہ کا حرمت والا گھر ہے اس کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی زندہ یادگار ہے اللہ اگر چاہے گا تو اپنے گھر کی آپ حفاظت کرے گا، ورنہ ہم میں تو ہمت و قوت نہیں۔ 10857 حناطہٰ نے کہا: اچھا تو آپ میرے ساتھ بادشاہ کے پاس چلے چلئیے عبدالمطلب ساتھ ہو لئے، بادشاہ نے جب انہیں دیکھا تو ہیبت میں آ گیا عبدالمطلب گورے چٹے سڈول اور مضبوط قوی والے حسین و جمیل انسان تھے، دیکھتے ہی ابرہہ تخت سے نیچے اتر آیا اور فرش پر عبدالمطلب کے ساتھ بیٹھ گیا اور اپنے ترجمان سے کہا کہ ان سے پوچھ کہ کیا چاہتا ہے؟ عبدالمطلب نے کہا میرے دو سو اونٹ جو بادشاہ نے لے لیے ہیں انہیں واپس کر دیا جائے بادشاہ نے کہا ان سے کہہ دے کہ پہلی نظر میں تیرا رعب مجھ پر پڑا تھا اور میرے دل میں تیری وقعت بیٹھ گئی تھی لیکن پہلے ہی کلام میں تو نے سب کچھ کھو دی، اپنے دو سو اونٹ کی تو تجھے فکر ہے اور اپنے اور اپنی قوم کے دین کی تجھے فکر نہیں میں تو تم لوگوں کا عبادت خانہ توڑنے اور اسے خاک میں ملانے کے لیے آیا ہوں۔ عبدالمطلب نے جواب دیا کہ سن بادشاہ اونٹ تو میرے ہیں اس لیے انہیں بچانے کی کوشش میں میں ہوں اور خانہ کعبہ اللہ کا ہے وہ خود اسے بچا لے گا اس پر یہ سرکش کہنے لگا کہ اللہ بھی آج اسے میرے ہاتھ سے نہیں بچا سکتا، عبدالمطلب نے کہا: بہتر ہے وہ جانے اور تو جان۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37989] ‏ یہ بھی مروی ہے کہ اہل مکہ نے تمام حجاز کا تہائی مال ابرہہ کو دینا چاہا کہ وہ اپنے اس بد ارادہ سے باز آئے لیکن اس نے قبول نہ کیا خیر عبدالمطلب تو اپنے اونٹ لے کر چل دئیے اور آ کر قریش کو حکم دیا کہ مکہ بالکل خالی کر دو اور پہاڑوں میں چلے جاؤ، اب عبدالمطلب اپنے ساتھ قریش کے چیدہ چیدہ لوگوں کو لے کر بیت اللہ میں آیا اور بیت اللہ کے دروازہ کا کنڈا تھام کر رو رو کر اور گڑگڑا گڑگڑا کر دعائیں مانگنی شروع کیں کہ باری تعالیٰ ابرہہ اور اس کے خونخوار لشکر سے اپنے پاک اور ذی عزت گھر کو بچا لے۔ عبدالمطلب نے اس وقت یہ دعائیہ اشعار پڑھے۔ «لَاهُمَّ إِنَّ الْمَرْء يَمْ نَع رَحْلَهُ فَامْنَعْ رِحَالك» *** «لَا يَغْلِبَنَّ صَلِيبُهُمْ وَمِحَالُهُمْ أَبَدًا مِحَالَك» یعنی ہم بےفکر ہیں ہم جانتے ہیں کہ ہر گھر والا اپنے گھر کا بچاؤ آپ کرتا ہے۔ اے اللہ! تو بھی اپنے گھر کو اپنے دشمنوں سے بچا یہ تو ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ان کی صلیب اور ان کی ڈولیں تیری ڈولوں پر غالب آ جائیں۔ 10858 اب عبدالمطلب نے بیت اللہ کے دروازے کا کنڈا ہاتھ سے چھوڑ دیا اور اپنے تمام ساتھیوں کو لے کر آس پاس کے پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ گیا، یہ بھی مذکور ہے کہ جاتے ہوئے قربانی کے سو اونٹ بیت اللہ کے ارد گرد نشان لگا کر چھوڑ دئیے تھے اس نیت سے کہ اگر یہ بد دین آئے اور انہوں نے اللہ کے نام کی قربانی کے ان جانوروں کو چھیڑا تو عذاب الٰہی ان پر اترے گا، دوسری صبح ابرہہ کے لشکر میں مکہ جانے کی تیاریاں ہونے لگیں اپنا خاص ہاتھی جس کا نام محمود تھا اسے تیار کیا لشکر میں کمر بندی ہو چکی تھی اور مکہ شریف کی طرف منہ اٹھا کر چلنے کی تیاری کی اس وقت نفیل بن حبیب جو اس سے راستے میں لڑا تھا اور اب بطور قیدی کے اس کے ساتھ تھا وہ آگے بڑھا اور شاہی ہاتھی کا کان پکڑ لیا اور کہا محمود بیٹھ جا اور جہاں سے آیا ہے وہیں خیریت کے ساتھ چلا جا تو اللہ تعالیٰ کے محترم شہر میں ہے یہ کہہ کر کان چھوڑ دیا اور بھاگ کر قریب کی پہاڑی میں جا چھپا۔ محمود ہاتھی یہ سنتے ہی بیٹھ گیا، اب ہزار جتن فیل بان کر رہے ہیں لشکری بھی کوششیں کرتے کرتے تھک گئے لیکن ہاتھی اپنی جگہ سے ہلتا ہی نہیں، سر پر آنکس مار رہے ہیں ادھر ادھر سے بھالے اور برچھے مار رہے ہیں آنکھوں میں آنکس ڈال رہے ہیں غرض تمام جتن کر لیے لیکن ہاتھی جنبش بھی نہیں کرتا پھر بطور امتحان کے اس کا منہ یمن کی طرف کر کے چلانا چاہا تو جھٹ سے کھڑا ہو کر دوڑتا ہوا چل دیا شام کی طرف چلانا چاہا تو بھی پوری طاقت سے آگے بڑھ گیا، مشرق کی طرف لے جانا چاہا تو بھی بھاگا بھاگا گیا پھر مکہ شریف کی طرف منہ کر کے آگے بڑھانا چاہا وہیں بیٹھ گیا - انہوں نے پھر اسے مارنا شروع کیا دیکھا کہ ایک گھٹا ٹوپ پرندوں کا جھرمٹ بادل کی طرح سمندر کے کنارے کی طرف سے امڈا چلا آ رہا ہے ابھی پوری طرح دیکھ بھی نہیں پائے تھے کہ وہ جانور سر پر آ گئے چاروں طرف سے سارے لشکر کو گھیر لیا اور ان میں ہر ایک کی چونچ میں ایک مسور یا ماش کے دانے برابر کنکری تھی، اور دونوں پنجوں میں دو دو کنکریاں تھیں یہ ان پر پھینکنے لگے جس پر یہ کنکری آن پڑی وہ وہیں ہلاک ہو گیا۔ اب تو اس لشکر میں بھاگڑ پڑ گئی ہر ایک نفیل نفیل کرنے لگا کیونکہ اسے ان لوگوں نے اپنا راہبر اور راستے بتانے والا سمجھ رکھا تھا، نفیل تو ہاتھی کو کہہ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور دیگر اہل مکہ ان لوگوں کی یہ درگت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور نفیل وہیں کھڑا یہ اشعار پڑھ رہا تھا۔ «این المفر والا لہ الطالب» *** «والاشرم المغلوب لیس الغالب» اب جائے پناہ کہاں ہے؟ جبکہ اللہ خود تاک میں لگ گیا ہے سنو اشرم بدبخت مغلوب ہو گیا اب یہ پنپنے کا نہیں۔ 10859 اور بھی نفیل نے اس واقعہ کے متعلق بہت سے اشعار کہے ہیں جن میں اس واقعہ کو بیان کیا ہے اور کہا ہے کاش کہ تو اس وقت موجود ہوتا جبکہ ان ہاتھی والوں کی شامت آئی ہے اور وادی محصب میں ان پر عذاب کے سنگریزے برسے ہیں تو اس وقت تو اس اللہ کے لشکر یعنی پرندوں کو دیکھ کر قطعاً سجدے میں گر پڑتا ہم تو وہاں کھڑے حمد رب کی راگنیاں الاپ رہے تھے گو کلیجے ہمارے بھی اونچے ہو گئے تھے کہ کہیں کوئی کنکری ہمارا کام بھی تمام نہ کر دے نصرانی منہ موڑے بھاگ رہے تھے اور نفیل نفیل پکار رہے تھے۔ گویا کہ نفیل پر ان کے باپ دادوں کا کوئی قرض تھا۔ واقدی فرماتے ہیں یہ پرندے زرد رنگ کے تھے کبوتر سے کچھ چھوٹے تھے ان کے پاؤں سرخ تھے اور روایت میں ہے کہ جب محمود ہاتھی بیٹھ گیا اور پوری کوشش کے باوجود بھی نہ اٹھا تو انہوں نے دوسرے ہاتھی کو آگے کیا اس نے قدم بڑھایا ہی تھا کہ اس کی پیشانی پر کنکری پڑی اور بلبلا کر پیچھے ہٹا اور پھرا اور ہاتھی بھی بھاگ کھڑے ہوئے ادھر برابر کنکریاں آنے لگیں اکثر تو وہیں ڈھیر ہو گئے۔ اور بعض جو ادھر ادھر بھاگ نکلے گا ان میں سے کوئی جانبر نہ ہوا بھاگتے بھاگتے ان کے اعضاء کٹ کٹ کر گرتے جاتے تھے اور بالآخر جان سے جاتے تھے۔ ابرہہ بادشاہ بھی بھاگا لیکن ایک ایک عضو بدن جھڑنا شروع ہوا یہاں تک کہ خثعم کے شہروں میں سے صنعاء میں جب وہ پہنچا تو بالکل گوشت کا لوتھڑا بنا ہوا تھا وہیں بلک بلک کر دم توڑا اور کتے کی موت مرا، دل تک پھٹ گیا قریشیوں کو بڑا مال ہاتھ لگا۔ عبدالمطلب نے تو سونے سے ایک کنواں پر کر لیا تھا، زمین عرب میں آبلہ اور چیچک اسی سال پیدا ہوتے ہوئے دیکھے گئے اور اسی سال سپند اور حنظل وغیرہ کے کڑوے درخت بھی اسی سال زمین عرب میں دیکھے گئے ہیں پس اللہ تعالیٰ بزبان رسول معصوم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی یہ نعمت یاد دلاتا ہے اور گویا فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم میرے گھر کی اسی طرح عزت و حرمت کرتے رہتے اور میرے رسول کو مانتے تو میں بھی اسی طرح تمہاری حفاظت کرتا اور تمہیں دشمنوں سے نجات دیتا۔ 10860 «أَبَابِيلَ» جمع کا صیغہ ہے اس کا واحد لغت عرب میں پایا نہیں گیا، «سجیل» کے معنی ہیں بہت ہی سخت اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دو فارسی لفظوں سے مرکب ہے یعنی «سنگ» اور «گل» سے یعنی مٹی اور پتھر۔ غرض «سِجِّيلٍ» وہ ہے جس میں پتھر معہ مٹی کے ہو۔ «عَصْفٍ» جمع ہے «عَصْفَةٌ» کی کھیتی کے ان پتوں کو کہتے ہیں جو پک نہ گئے ہوں۔ «أَبَابِيلَ» کے معنی ہیں گروہ گروہ جھنڈ بہت سارے پے در پے جمع شدہ ادھر ادھر سے آنے والے، بعض نحوی کہتے ہیں اس کا واحد «ابیل» ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان پرندوں کی چونچ تھی پرندوں جیسی اور پنجے کتوں جیسے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سبز رنگ کے پرند تھے جو سمندر سے نکلے تھے ان کے سر درندوں جیسے تھے اور اقوال بھی ہیں یہ پرند باقاعدہ ان لشکریوں کے سروں پر، پر باندھ کر کھڑے ہو گئے اور پھر چیخنے لگے پھر پتھراؤ کیا، جس کے سر میں لگا اس کے نیچے سے نکل گیا اور دو ٹکڑے ہو کر زمین پر گرا جس کے جس عضو پر گرا وہ عضو ساقط ہو گیا ساتھ ہی تیز آندھی آئی جس سے اور آس پاس کے کنکر بھی ان کی آنکھوں میں گھس گئے اور سب تہہ و بالا ہو گئے۔ «عَصْفٍ» کہتے ہیں چارے کو اور کٹی کھیتی کو اور گیہوں کے درخت کے پتوں کو اور «مَّأْكُولٍ» سے مراد ٹکڑے ٹکڑے کیا ہوا ہے۔ 10861 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «عصف» کہتے ہیں بھوسی کو جو اناج کے دانوں کے اوپر ہوتی ہے۔ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد کھیتوں کے وہ پتے ہیں جنہیں جانور چر چکے ہوں مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان کو تہس نہس کر دیا اور عام خاص کو ہلاک کر دیا اس کی ساری تدبیریں الٹ ہو گئیں کوئی بھلائی انہیں نصیب نہ ہوئی ایسا بھی کوئی ان میں صحیح سالم نہ رہا جو کہ ان کی خبر پہنچائے، جو بھی بچا وہ زخمی ہو کر اور اس زخم سے پھر جاں بر نہ ہو سکا، خود بادشاہ بھی گو وہ ایک گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہو گیا تھا جوں توں صنعاء میں پہنچا لیکن وہاں جاتے ہی اس کا کلیجہ پھٹ گیا اور واقعہ بیان کر ہی چکا تھا کہ مر گیا۔ اس کے بعد اس کا لڑکا یکسوم یمن کا بادشاہ بنا پھر اس کے دوسرے بھائی مسروق بن ابرہہ کو سلطنت ملی اب سیف بن ذی یذن حمیری کسریٰ کے دربار میں پہنچا اور اس سے مدد طلب کی تاکہ وہ اہل حبشہ سے لڑے اور یمن ان سے خالی کرا لے کسریٰ نے اس کے ساتھ ایک لشکر جرار کر دیا اس لشکر نے اہل حبشہ کو شکست دی اور ابرہہ کے خاندان سے سلطنت نکل گئی اور پھر قبیلہ حمیر یہاں کا بادشاہ بن گیا عربوں نے اس پر بڑی خوشی منائی اور چاروں طرف سے مبارکبادیاں وصول ہوئیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ابرہہ کے لشکر کے فیل بان اور چرکٹے کو میں نے مکہ شریف میں دیکھا دونوں اندھے ہو گئے تھے چل پھر نہیں سکتے تھے اور بھیک مانگا کرتے تھے۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اساف اور نائلہ بتوں کے پاس یہ بیٹھے رہتے تھے جہاں مشرکین اپنی قربانیاں کرتے تھے اور لوگوں سے بھیک مانگتے پھرتے تھے اس فیل بان کا نام انیسا تھا۔ بعض تاریخوں میں یہ بھی ہے کہ ابرہہ خود اس چڑھائی میں نہ تھا بلکہ اس نے اپنے لشکر کو بہ ماتختی شمس بن مقصود کے بھیجا تھا یہ لشکر بیس ہزار کا تھا اور یہ پرند ان کے اوپر رات کے وقت آئے تھے اور صبح تک ان سب کا ستیاناس ہو چکا تھا لیکن یہ روایت بہت غریب ہے اور صحیح بات یہ ہے کہ خود ابرہہ اشرم حبشی ہی اپنے ساتھ لشکر لے کر آیا تھا یہ ممکن ہے کہ اس کے ہراول کے دستہ پر یہ شخص سردار ہو، اس واقعہ کو بہت سے عرب شاعروں نے اپنے شعروں میں بھی بسط کے ساتھ بیان کیا ہے۔ سورۃ الفتح کی تفسیر میں ہم اس واقعہ کو مفصل بیان کر آئے ہیں جس میں ہے کہ جب حدیبیہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ٹیلے پر چڑھے جہاں سے آپ قریشیوں پر جانے والے تھے تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی لوگوں نے اسے ڈانٹا ڈپٹا لیکن وہ نہ اٹھی لوگ کہنے لگے قصواء تھک گئی آپ نے فرمایا: ”نہ یہ تھکی نہ اس میں اڑنے کی عادت ہے اسے اس اللہ نے روک لیا ہے جس نے ہاتھیوں کو روک لیا تھا“، پھر فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مکے والے جن شرائط پر مجھ سے صلح چاہیں گے میں سب مان لوں گا بشرطیکہ اللہ کی حرمتوں کی ہتک اس میں نہ ہو“ پھر آپ نے اسے ڈانٹا تو وہ فوراً اٹھ کھڑی ہو گئی ۔ [صحیح بخاری:2781] ‏ یہ حدیث صحیح بخاری میں ہے۔ 10862 اور ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ پر سے ہاتھیوں کو روک لیا اور اپنے نبی کو وہاں کا قبضہ دیا اور اپنے ایماندار بندوں کو، سنو آج اس کی حرمت ویسی ہی لوٹ کر آ گئی ہے جیسے کل تھی، خبردار ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔ [صحیح بخاری:112] ‏ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ الفیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ 10863

الفيل 105:2

ابرہہ اور اس کا حشر ٭٭ اللہ رب العزت نے قریش پر جو اپنی خاص نعمت انعام فرمائی تھی اس کا ذکر کر رہا ہے کہ جس لشکر نے ہاتھیوں کو ساتھ لے کر کعبے کو ڈھانے کے لیے چڑھائی کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کہ وہ کعبے کے وجود کو مٹائیں ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ ان کی تمام فریب کاریاں ان کی تمام قوتیں سلب کر لیں انہیں برباد و غارت کر دیا۔ یہ لوگ مذہباً نصرانی تھے لیکن دین مسیح کو مسخ کر دیا تھا قریباً بت پرست ہو گئے تھے انہیں اس طرح نامراد کرنا یہ گویا پیش خیمہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا اور اطلاع تھی آپ کی آمد آمد کی نبی علیہ السلام اسی سال تولد ہوئے تھے۔ اکثر تاریخ داں حضرات کا یہی قول ہے تو گویا رب العالمین فرما رہا ہے کہ اے قریشیو! حبشہ کے اس لشکر پر تمہیں فتح تمہاری بھلائی کی وجہ سے نہیں دی گئی تھی بلکہ اس میں ہمارے گھر کا بچاؤ تھا جسے ہم شرف بزرگی عظمت و عزت میں اپنے آخر الزمان پیغمبر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے بڑھانے والے تھے۔ 10854 غرض اصحاب فیل کا مختصر واقعہ تو یہ ہے جو بیان ہوا اور مطول واقعہ اصحاب الاخدود کے بیان میں گزر چکا ہے کہ قبیلہ حمیر کا آخری بادشاہ ذونواس جو مشرک تھا جس نے اپنے زمانے کے مسلمانوں کو کھائیوں میں قتل کیا تھا جو سچے نصرانی تھے اور تعداد میں تقریباً بیس ہزار تھے، سارے کے سارے شہید کر دئیے گئے تھے صرف دوس ذوثعلبان ایک بچا جو ملک شام جا پہنچا اور قیصر روم سے فریاد رسی چاہی۔ یہ بادشاہ نصرانی مذہب پر تھا اس نے حبشہ کے بادشاہ شاہ نجاشی کو لکھا کہ اس کے ساتھ اپنی پوری فوج کر دو اس لیے کہ یہاں سے دشمن کا ملک قریب تھا۔ اس بادشاہ نے ارباط اور ابویکسوم ابرہہ بن صباح کو امیر لشکر بنا کر بہت بڑا لشکر دے کر دونوں کو اس کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا یہ لشکر یمن پہنچا اور یمن کو اور یمنیوں کو تاخت و تاراج کر دیا۔ ذونواس بھاگ کھڑا ہوا اور دریا میں ڈوب کر مر گیا اور ان لوگوں کی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور سارے یمن پر شاہ حبشہ کا قبضہ ہو گیا اور یہ دونوں سردار یہاں رہنے سہنے لگے لیکن کچھ تھوڑی مدت کے بعد ان میں ناچاقی ہو گئی آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ دونوں نے آمنے سامنے صفیں باندھ لیں اور لڑنے کے لیے نکل آئے۔ عام حملہ ہو اس سے بیشتر ان دونوں سرداروں نے آپس میں کہا کہ فوجوں کو لڑانے اور لوگوں کو قتل کرانے کی کیا ضرورت، آؤ ہم تم دونوں میدان میں نکلیں اور ایک دوسرے سے لڑ کر فیصلہ کر لیں جو زندہ بچ جائے ملک و فوج اس کی۔ چنانچہ یہ بات طے ہو گئی اور دونوں میدان میں نکل آئے ارباط نے ابرہہ پر حملہ کیا اور تلوار کے ایک ہی وار سے چہرہ خونا خون کر دیا ناک ہونٹ اور منہ کٹ گیا، ابرہہ کے غلام عتودہ نے اس موقعہ پر ارباط پر ایک بےپناہ حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا ابرہہ زخمی ہو کر میدان سے زندہ واپس گیا، علاج معالجہ سے زخم اچھے ہو گئے اور یمن کا یہ مستقل بادشاہ بن بیٹھا۔ نجاشی شاہ حبشہ کو جب یہ واقعہ معلوم ہوا تو وہ سخت غصہ ہوا اور ایک خط ابرہہ کو لکھا اسے بڑی لعنت ملامت کی اور کہا کہ قسم اللہ کی میں تیرے شہروں کو پامال کر دوں گا۔ اور تیری چوٹی کاٹ لاؤں گا، ابرہہ نے اس کا جواب نہایت عاجزی سے لکھا اور قاصد کو بہت سارے ہدئیے دئیے اور ایک تھیلی میں یمن کی مٹی بھر دی اور اپنی پیشانی کے بال کاٹ کر اس میں رکھ دئیے۔ اور اپنے خط میں اپنے قصوروں کی معافی طلب کی اور لکھا کہ یہ یمن کی مٹی حاضر ہے اور چوٹی کے بال بھی، آپ اپنی قسم پوری کیجئے اور ناراضی معاف فرمائیے اس سے شاہ حبشہ خوش ہو گیا اور یہاں کی سرداری اسی کے نام کر دی، اب ابرہہ نے نجاشی کو لکھا کہ میں یہاں یمن میں آپ کے لیے ایک ایسا گرجا تعمیر کر رہا ہوں کہ اب تک دنیا میں ایسا نہ بنا ہو اور پھر اس نے گرجا گھر کا بنانا شروع کیا۔ 10855 بڑے اہتمام اور کروفر سے بہت اونچا بہت مضبوط بےحد خوبصورت اور منقش و مزین گرجا بنایا۔ اس قدر بلند تھا کہ چوٹی تک نظر ڈالنے والے کی ٹوپی گر پڑتی تھی اسی لیے عرب اسے «قلیس» کہتے یعنی ٹوپی پھینک دینے والا۔ اب ابرہہ اشرم کو یہ سوجھی کہ لوگ بجائے کعبۃ اللہ کے حج کے اس کا حج کریں، اپنی ساری مملکت میں اس کی منادی کرا دی، عدنانیہ اور قحطانیہ عرب کو یہ بہت برا لگا، ادھر سے قریش بھی بھڑک اٹھے، تھوڑے دن میں کوئی شخص رات کے وقت اس کے اندر گھس گیا اور وہاں پاخانہ کر کے چلا آیا چوکیداروں نے جب یہ دیکھا تو بادشاہ کو خبر پہنچائی اور کہا کہ یہ کام قریشیوں کا ہے چونکہ آپ نے ان کا کعبہ روک دیا ہے۔ لہٰذا انہوں نے جوش اور غضب میں آ کر یہ حرکت کی ہے ابرہہ نے اسی وقت قسم کھا لی کہ میں مکہ پہنچوں گا اور بیت اللہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔ اور ایک روایت میں یوں بھی ہے کہ چند ملے جلے نوجوان قریشیوں نے اس گرجا میں آ ۤگ لگا دی تھی اور اس وقت ہوا بھی بہت تیز تھی سارا گرجا جل گیا اور منہ کے بل زمین پر گر گیا اس پر ابرہہ نے بہت بڑا لشکر ساتھ لے کر مکہ پر چڑھائی کی تاکہ کوئی روک نہ سکے اور اپنے ساتھ ایک بڑا اونچا اور موٹا ہاتھی لیا جسے محمود کہا جاتا تھا۔ اس جیسا ہاتھی اور کوئی نہ تھا شاہ حبشہ نے یہ ہاتھی اس کے پاس اسی غرض سے بھیجا تھا آٹھ یا بارہ ہاتھی اور بھی ساتھ تھے یہ کعبے کے ڈھانے کی نیت سے چلا یہ سوچ کر کہ کعبہ کی دیواروں میں مضبوط زنجیریں ڈال دوں گا اور ہاتھیوں کی گردنوں میں ان زنجیروں کو باندھ دوں گا ہاتھی ایک ہی جھٹکے میں چاروں دیواریں بیت اللہ کی جڑ سے گرا دیں گے۔ جب اہل عرب کو یہ خبریں معلوم ہوئیں تو ان پر بڑا بھاری اثر ہوا انہوں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ خواہ کچھ بھی ہو ہم ضرور اس سے مقابلہ کریں گے اور اسے اس کی اس بدکرداری سے روکیں گے ایک یمنی شریف سردار جو وہاں کے بادشاہوں کی اولاد میں سے تھا جسے ”ذونفر“ کہا جاتا تھا یہ کھڑا ہو گیا اپنی قوم کو اور کل آس پاس کے عرب کو جمع کیا اور اس بدنیت بادشاہ سے مقابلہ کیا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا عربوں کو شکست ہوئی اور ذونفر اس خبیث کے ہاتھ میں قید ہو گیا اس نے اسے بھی ساتھ لیا اور مکہ شریف کی طرف بڑھا۔ 10856 خثم قبیلے کی زمین پر جب یہ پہنچا تو یہاں نفیل بن حبیب خثعمی نے اپنے لشکروں سے اس کا مقابلہ کیا لیکن ابرہہ نے انہیں بھی مغلوب کر لیا اور نفیل بھی قید ہو گیا پہلے تو اس ظالم نے اسے قتل کرنا چاہا لیکن پھر قتل نہ کیا اور قید کر کے ساتھ لے لیا تاکہ راستہ بنائے۔ جب طائف کے قریب پہنچا تو قبیلہ ثقیف نے اس سے صلح کر لی کہ ایسا نہ ہو ان کے بت خانوں کو جس میں لات نامی بت تھا یہ توڑ دے اس نے بھی ان کی بڑی آؤ بھگت کی انہوں نے ابورغال کو اس کے ساتھ کر دیا کہ یہ تمہیں وہاں کا راستہ بتائے گا۔ ابرہہ جب مکے کے بالکل قریب مغمس کے پہنچا تو اس نے یہاں پڑاؤ کیا اس کے لشکر نے آس پاس مکہ والوں کے جو جانور اونٹ وغیرہ چر چگ رہے تھے سب کو اپنے قبضہ میں کیا ان جانوروں میں دو سو اونٹ تو صرف عبدالمطلب کے تھے اسود بن مقصود جو اس کے لشکر کے ہراول کا سردار تھا اس نے ابرہہ کے حکم سے ان جانوروں کو لوٹا تھا، جس پر عرب شاعروں نے اس کی ہجو میں اشعار تصنیف کئے ہوئے ہیں جو سیرۃ ابن اسحاق میں موجود ہیں۔ اب ابرہہ نے اپنا قاصد حناطہٰ حمیری مکہ والوں کے پاس بھیجا کہ مکہ کے سب سے بڑے سردار کو میرے پاس لاؤ اور یہ بھی اعلان کر دو کہ میں مکہ والوں سے لڑنے نہیں آیا میرا ارادہ صرف بیت اللہ کو گرانے کا ہے ہاں اگر مکہ والے اس کے بچانے کے درپے ہوئے تو لامحالہ مجھے ان سے لڑائی کرنی پڑے گی، حناطہٰ جب مکہ میں آیا اور لوگوں سے ملا جلا تو معلوم ہوا کہ یہاں کا بڑا سردار عبدالمطلب بن ہاشم ہے، یہ عبدالمطلب سے ملا اور شاہی پیغام پہنچایا۔ جس کے جواب میں عبدالمطلب نے کہا: واللہ! نہ ہمارا ارادہ اس سے لڑنے کا ہے نہ ہم میں اتنی طاقت ہے یہ اللہ کا حرمت والا گھر ہے اس کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی زندہ یادگار ہے اللہ اگر چاہے گا تو اپنے گھر کی آپ حفاظت کرے گا، ورنہ ہم میں تو ہمت و قوت نہیں۔ 10857 حناطہٰ نے کہا: اچھا تو آپ میرے ساتھ بادشاہ کے پاس چلے چلئیے عبدالمطلب ساتھ ہو لئے، بادشاہ نے جب انہیں دیکھا تو ہیبت میں آ گیا عبدالمطلب گورے چٹے سڈول اور مضبوط قوی والے حسین و جمیل انسان تھے، دیکھتے ہی ابرہہ تخت سے نیچے اتر آیا اور فرش پر عبدالمطلب کے ساتھ بیٹھ گیا اور اپنے ترجمان سے کہا کہ ان سے پوچھ کہ کیا چاہتا ہے؟ عبدالمطلب نے کہا میرے دو سو اونٹ جو بادشاہ نے لے لیے ہیں انہیں واپس کر دیا جائے بادشاہ نے کہا ان سے کہہ دے کہ پہلی نظر میں تیرا رعب مجھ پر پڑا تھا اور میرے دل میں تیری وقعت بیٹھ گئی تھی لیکن پہلے ہی کلام میں تو نے سب کچھ کھو دی، اپنے دو سو اونٹ کی تو تجھے فکر ہے اور اپنے اور اپنی قوم کے دین کی تجھے فکر نہیں میں تو تم لوگوں کا عبادت خانہ توڑنے اور اسے خاک میں ملانے کے لیے آیا ہوں۔ عبدالمطلب نے جواب دیا کہ سن بادشاہ اونٹ تو میرے ہیں اس لیے انہیں بچانے کی کوشش میں میں ہوں اور خانہ کعبہ اللہ کا ہے وہ خود اسے بچا لے گا اس پر یہ سرکش کہنے لگا کہ اللہ بھی آج اسے میرے ہاتھ سے نہیں بچا سکتا، عبدالمطلب نے کہا: بہتر ہے وہ جانے اور تو جان۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37989] ‏ یہ بھی مروی ہے کہ اہل مکہ نے تمام حجاز کا تہائی مال ابرہہ کو دینا چاہا کہ وہ اپنے اس بد ارادہ سے باز آئے لیکن اس نے قبول نہ کیا خیر عبدالمطلب تو اپنے اونٹ لے کر چل دئیے اور آ کر قریش کو حکم دیا کہ مکہ بالکل خالی کر دو اور پہاڑوں میں چلے جاؤ، اب عبدالمطلب اپنے ساتھ قریش کے چیدہ چیدہ لوگوں کو لے کر بیت اللہ میں آیا اور بیت اللہ کے دروازہ کا کنڈا تھام کر رو رو کر اور گڑگڑا گڑگڑا کر دعائیں مانگنی شروع کیں کہ باری تعالیٰ ابرہہ اور اس کے خونخوار لشکر سے اپنے پاک اور ذی عزت گھر کو بچا لے۔ عبدالمطلب نے اس وقت یہ دعائیہ اشعار پڑھے۔ «لَاهُمَّ إِنَّ الْمَرْء يَمْ نَع رَحْلَهُ فَامْنَعْ رِحَالك» *** «لَا يَغْلِبَنَّ صَلِيبُهُمْ وَمِحَالُهُمْ أَبَدًا مِحَالَك» یعنی ہم بےفکر ہیں ہم جانتے ہیں کہ ہر گھر والا اپنے گھر کا بچاؤ آپ کرتا ہے۔ اے اللہ! تو بھی اپنے گھر کو اپنے دشمنوں سے بچا یہ تو ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ان کی صلیب اور ان کی ڈولیں تیری ڈولوں پر غالب آ جائیں۔ 10858 اب عبدالمطلب نے بیت اللہ کے دروازے کا کنڈا ہاتھ سے چھوڑ دیا اور اپنے تمام ساتھیوں کو لے کر آس پاس کے پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ گیا، یہ بھی مذکور ہے کہ جاتے ہوئے قربانی کے سو اونٹ بیت اللہ کے ارد گرد نشان لگا کر چھوڑ دئیے تھے اس نیت سے کہ اگر یہ بد دین آئے اور انہوں نے اللہ کے نام کی قربانی کے ان جانوروں کو چھیڑا تو عذاب الٰہی ان پر اترے گا، دوسری صبح ابرہہ کے لشکر میں مکہ جانے کی تیاریاں ہونے لگیں اپنا خاص ہاتھی جس کا نام محمود تھا اسے تیار کیا لشکر میں کمر بندی ہو چکی تھی اور مکہ شریف کی طرف منہ اٹھا کر چلنے کی تیاری کی اس وقت نفیل بن حبیب جو اس سے راستے میں لڑا تھا اور اب بطور قیدی کے اس کے ساتھ تھا وہ آگے بڑھا اور شاہی ہاتھی کا کان پکڑ لیا اور کہا محمود بیٹھ جا اور جہاں سے آیا ہے وہیں خیریت کے ساتھ چلا جا تو اللہ تعالیٰ کے محترم شہر میں ہے یہ کہہ کر کان چھوڑ دیا اور بھاگ کر قریب کی پہاڑی میں جا چھپا۔ محمود ہاتھی یہ سنتے ہی بیٹھ گیا، اب ہزار جتن فیل بان کر رہے ہیں لشکری بھی کوششیں کرتے کرتے تھک گئے لیکن ہاتھی اپنی جگہ سے ہلتا ہی نہیں، سر پر آنکس مار رہے ہیں ادھر ادھر سے بھالے اور برچھے مار رہے ہیں آنکھوں میں آنکس ڈال رہے ہیں غرض تمام جتن کر لیے لیکن ہاتھی جنبش بھی نہیں کرتا پھر بطور امتحان کے اس کا منہ یمن کی طرف کر کے چلانا چاہا تو جھٹ سے کھڑا ہو کر دوڑتا ہوا چل دیا شام کی طرف چلانا چاہا تو بھی پوری طاقت سے آگے بڑھ گیا، مشرق کی طرف لے جانا چاہا تو بھی بھاگا بھاگا گیا پھر مکہ شریف کی طرف منہ کر کے آگے بڑھانا چاہا وہیں بیٹھ گیا - انہوں نے پھر اسے مارنا شروع کیا دیکھا کہ ایک گھٹا ٹوپ پرندوں کا جھرمٹ بادل کی طرح سمندر کے کنارے کی طرف سے امڈا چلا آ رہا ہے ابھی پوری طرح دیکھ بھی نہیں پائے تھے کہ وہ جانور سر پر آ گئے چاروں طرف سے سارے لشکر کو گھیر لیا اور ان میں ہر ایک کی چونچ میں ایک مسور یا ماش کے دانے برابر کنکری تھی، اور دونوں پنجوں میں دو دو کنکریاں تھیں یہ ان پر پھینکنے لگے جس پر یہ کنکری آن پڑی وہ وہیں ہلاک ہو گیا۔ اب تو اس لشکر میں بھاگڑ پڑ گئی ہر ایک نفیل نفیل کرنے لگا کیونکہ اسے ان لوگوں نے اپنا راہبر اور راستے بتانے والا سمجھ رکھا تھا، نفیل تو ہاتھی کو کہہ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور دیگر اہل مکہ ان لوگوں کی یہ درگت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور نفیل وہیں کھڑا یہ اشعار پڑھ رہا تھا۔ «این المفر والا لہ الطالب» *** «والاشرم المغلوب لیس الغالب» اب جائے پناہ کہاں ہے؟ جبکہ اللہ خود تاک میں لگ گیا ہے سنو اشرم بدبخت مغلوب ہو گیا اب یہ پنپنے کا نہیں۔ 10859 اور بھی نفیل نے اس واقعہ کے متعلق بہت سے اشعار کہے ہیں جن میں اس واقعہ کو بیان کیا ہے اور کہا ہے کاش کہ تو اس وقت موجود ہوتا جبکہ ان ہاتھی والوں کی شامت آئی ہے اور وادی محصب میں ان پر عذاب کے سنگریزے برسے ہیں تو اس وقت تو اس اللہ کے لشکر یعنی پرندوں کو دیکھ کر قطعاً سجدے میں گر پڑتا ہم تو وہاں کھڑے حمد رب کی راگنیاں الاپ رہے تھے گو کلیجے ہمارے بھی اونچے ہو گئے تھے کہ کہیں کوئی کنکری ہمارا کام بھی تمام نہ کر دے نصرانی منہ موڑے بھاگ رہے تھے اور نفیل نفیل پکار رہے تھے۔ گویا کہ نفیل پر ان کے باپ دادوں کا کوئی قرض تھا۔ واقدی فرماتے ہیں یہ پرندے زرد رنگ کے تھے کبوتر سے کچھ چھوٹے تھے ان کے پاؤں سرخ تھے اور روایت میں ہے کہ جب محمود ہاتھی بیٹھ گیا اور پوری کوشش کے باوجود بھی نہ اٹھا تو انہوں نے دوسرے ہاتھی کو آگے کیا اس نے قدم بڑھایا ہی تھا کہ اس کی پیشانی پر کنکری پڑی اور بلبلا کر پیچھے ہٹا اور پھرا اور ہاتھی بھی بھاگ کھڑے ہوئے ادھر برابر کنکریاں آنے لگیں اکثر تو وہیں ڈھیر ہو گئے۔ اور بعض جو ادھر ادھر بھاگ نکلے گا ان میں سے کوئی جانبر نہ ہوا بھاگتے بھاگتے ان کے اعضاء کٹ کٹ کر گرتے جاتے تھے اور بالآخر جان سے جاتے تھے۔ ابرہہ بادشاہ بھی بھاگا لیکن ایک ایک عضو بدن جھڑنا شروع ہوا یہاں تک کہ خثعم کے شہروں میں سے صنعاء میں جب وہ پہنچا تو بالکل گوشت کا لوتھڑا بنا ہوا تھا وہیں بلک بلک کر دم توڑا اور کتے کی موت مرا، دل تک پھٹ گیا قریشیوں کو بڑا مال ہاتھ لگا۔ عبدالمطلب نے تو سونے سے ایک کنواں پر کر لیا تھا، زمین عرب میں آبلہ اور چیچک اسی سال پیدا ہوتے ہوئے دیکھے گئے اور اسی سال سپند اور حنظل وغیرہ کے کڑوے درخت بھی اسی سال زمین عرب میں دیکھے گئے ہیں پس اللہ تعالیٰ بزبان رسول معصوم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی یہ نعمت یاد دلاتا ہے اور گویا فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم میرے گھر کی اسی طرح عزت و حرمت کرتے رہتے اور میرے رسول کو مانتے تو میں بھی اسی طرح تمہاری حفاظت کرتا اور تمہیں دشمنوں سے نجات دیتا۔ 10860 «أَبَابِيلَ» جمع کا صیغہ ہے اس کا واحد لغت عرب میں پایا نہیں گیا، «سجیل» کے معنی ہیں بہت ہی سخت اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دو فارسی لفظوں سے مرکب ہے یعنی «سنگ» اور «گل» سے یعنی مٹی اور پتھر۔ غرض «سِجِّيلٍ» وہ ہے جس میں پتھر معہ مٹی کے ہو۔ «عَصْفٍ» جمع ہے «عَصْفَةٌ» کی کھیتی کے ان پتوں کو کہتے ہیں جو پک نہ گئے ہوں۔ «أَبَابِيلَ» کے معنی ہیں گروہ گروہ جھنڈ بہت سارے پے در پے جمع شدہ ادھر ادھر سے آنے والے، بعض نحوی کہتے ہیں اس کا واحد «ابیل» ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان پرندوں کی چونچ تھی پرندوں جیسی اور پنجے کتوں جیسے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سبز رنگ کے پرند تھے جو سمندر سے نکلے تھے ان کے سر درندوں جیسے تھے اور اقوال بھی ہیں یہ پرند باقاعدہ ان لشکریوں کے سروں پر، پر باندھ کر کھڑے ہو گئے اور پھر چیخنے لگے پھر پتھراؤ کیا، جس کے سر میں لگا اس کے نیچے سے نکل گیا اور دو ٹکڑے ہو کر زمین پر گرا جس کے جس عضو پر گرا وہ عضو ساقط ہو گیا ساتھ ہی تیز آندھی آئی جس سے اور آس پاس کے کنکر بھی ان کی آنکھوں میں گھس گئے اور سب تہہ و بالا ہو گئے۔ «عَصْفٍ» کہتے ہیں چارے کو اور کٹی کھیتی کو اور گیہوں کے درخت کے پتوں کو اور «مَّأْكُولٍ» سے مراد ٹکڑے ٹکڑے کیا ہوا ہے۔ 10861 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «عصف» کہتے ہیں بھوسی کو جو اناج کے دانوں کے اوپر ہوتی ہے۔ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد کھیتوں کے وہ پتے ہیں جنہیں جانور چر چکے ہوں مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان کو تہس نہس کر دیا اور عام خاص کو ہلاک کر دیا اس کی ساری تدبیریں الٹ ہو گئیں کوئی بھلائی انہیں نصیب نہ ہوئی ایسا بھی کوئی ان میں صحیح سالم نہ رہا جو کہ ان کی خبر پہنچائے، جو بھی بچا وہ زخمی ہو کر اور اس زخم سے پھر جاں بر نہ ہو سکا، خود بادشاہ بھی گو وہ ایک گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہو گیا تھا جوں توں صنعاء میں پہنچا لیکن وہاں جاتے ہی اس کا کلیجہ پھٹ گیا اور واقعہ بیان کر ہی چکا تھا کہ مر گیا۔ اس کے بعد اس کا لڑکا یکسوم یمن کا بادشاہ بنا پھر اس کے دوسرے بھائی مسروق بن ابرہہ کو سلطنت ملی اب سیف بن ذی یذن حمیری کسریٰ کے دربار میں پہنچا اور اس سے مدد طلب کی تاکہ وہ اہل حبشہ سے لڑے اور یمن ان سے خالی کرا لے کسریٰ نے اس کے ساتھ ایک لشکر جرار کر دیا اس لشکر نے اہل حبشہ کو شکست دی اور ابرہہ کے خاندان سے سلطنت نکل گئی اور پھر قبیلہ حمیر یہاں کا بادشاہ بن گیا عربوں نے اس پر بڑی خوشی منائی اور چاروں طرف سے مبارکبادیاں وصول ہوئیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ابرہہ کے لشکر کے فیل بان اور چرکٹے کو میں نے مکہ شریف میں دیکھا دونوں اندھے ہو گئے تھے چل پھر نہیں سکتے تھے اور بھیک مانگا کرتے تھے۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اساف اور نائلہ بتوں کے پاس یہ بیٹھے رہتے تھے جہاں مشرکین اپنی قربانیاں کرتے تھے اور لوگوں سے بھیک مانگتے پھرتے تھے اس فیل بان کا نام انیسا تھا۔ بعض تاریخوں میں یہ بھی ہے کہ ابرہہ خود اس چڑھائی میں نہ تھا بلکہ اس نے اپنے لشکر کو بہ ماتختی شمس بن مقصود کے بھیجا تھا یہ لشکر بیس ہزار کا تھا اور یہ پرند ان کے اوپر رات کے وقت آئے تھے اور صبح تک ان سب کا ستیاناس ہو چکا تھا لیکن یہ روایت بہت غریب ہے اور صحیح بات یہ ہے کہ خود ابرہہ اشرم حبشی ہی اپنے ساتھ لشکر لے کر آیا تھا یہ ممکن ہے کہ اس کے ہراول کے دستہ پر یہ شخص سردار ہو، اس واقعہ کو بہت سے عرب شاعروں نے اپنے شعروں میں بھی بسط کے ساتھ بیان کیا ہے۔ سورۃ الفتح کی تفسیر میں ہم اس واقعہ کو مفصل بیان کر آئے ہیں جس میں ہے کہ جب حدیبیہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ٹیلے پر چڑھے جہاں سے آپ قریشیوں پر جانے والے تھے تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی لوگوں نے اسے ڈانٹا ڈپٹا لیکن وہ نہ اٹھی لوگ کہنے لگے قصواء تھک گئی آپ نے فرمایا: ”نہ یہ تھکی نہ اس میں اڑنے کی عادت ہے اسے اس اللہ نے روک لیا ہے جس نے ہاتھیوں کو روک لیا تھا“، پھر فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مکے والے جن شرائط پر مجھ سے صلح چاہیں گے میں سب مان لوں گا بشرطیکہ اللہ کی حرمتوں کی ہتک اس میں نہ ہو“ پھر آپ نے اسے ڈانٹا تو وہ فوراً اٹھ کھڑی ہو گئی ۔ [صحیح بخاری:2781] ‏ یہ حدیث صحیح بخاری میں ہے۔ 10862 اور ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ پر سے ہاتھیوں کو روک لیا اور اپنے نبی کو وہاں کا قبضہ دیا اور اپنے ایماندار بندوں کو، سنو آج اس کی حرمت ویسی ہی لوٹ کر آ گئی ہے جیسے کل تھی، خبردار ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔ [صحیح بخاری:112] ‏ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ الفیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ 10863

الفيل 105:3

ابرہہ اور اس کا حشر ٭٭ اللہ رب العزت نے قریش پر جو اپنی خاص نعمت انعام فرمائی تھی اس کا ذکر کر رہا ہے کہ جس لشکر نے ہاتھیوں کو ساتھ لے کر کعبے کو ڈھانے کے لیے چڑھائی کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کہ وہ کعبے کے وجود کو مٹائیں ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ ان کی تمام فریب کاریاں ان کی تمام قوتیں سلب کر لیں انہیں برباد و غارت کر دیا۔ یہ لوگ مذہباً نصرانی تھے لیکن دین مسیح کو مسخ کر دیا تھا قریباً بت پرست ہو گئے تھے انہیں اس طرح نامراد کرنا یہ گویا پیش خیمہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا اور اطلاع تھی آپ کی آمد آمد کی نبی علیہ السلام اسی سال تولد ہوئے تھے۔ اکثر تاریخ داں حضرات کا یہی قول ہے تو گویا رب العالمین فرما رہا ہے کہ اے قریشیو! حبشہ کے اس لشکر پر تمہیں فتح تمہاری بھلائی کی وجہ سے نہیں دی گئی تھی بلکہ اس میں ہمارے گھر کا بچاؤ تھا جسے ہم شرف بزرگی عظمت و عزت میں اپنے آخر الزمان پیغمبر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے بڑھانے والے تھے۔ 10854 غرض اصحاب فیل کا مختصر واقعہ تو یہ ہے جو بیان ہوا اور مطول واقعہ اصحاب الاخدود کے بیان میں گزر چکا ہے کہ قبیلہ حمیر کا آخری بادشاہ ذونواس جو مشرک تھا جس نے اپنے زمانے کے مسلمانوں کو کھائیوں میں قتل کیا تھا جو سچے نصرانی تھے اور تعداد میں تقریباً بیس ہزار تھے، سارے کے سارے شہید کر دئیے گئے تھے صرف دوس ذوثعلبان ایک بچا جو ملک شام جا پہنچا اور قیصر روم سے فریاد رسی چاہی۔ یہ بادشاہ نصرانی مذہب پر تھا اس نے حبشہ کے بادشاہ شاہ نجاشی کو لکھا کہ اس کے ساتھ اپنی پوری فوج کر دو اس لیے کہ یہاں سے دشمن کا ملک قریب تھا۔ اس بادشاہ نے ارباط اور ابویکسوم ابرہہ بن صباح کو امیر لشکر بنا کر بہت بڑا لشکر دے کر دونوں کو اس کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا یہ لشکر یمن پہنچا اور یمن کو اور یمنیوں کو تاخت و تاراج کر دیا۔ ذونواس بھاگ کھڑا ہوا اور دریا میں ڈوب کر مر گیا اور ان لوگوں کی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور سارے یمن پر شاہ حبشہ کا قبضہ ہو گیا اور یہ دونوں سردار یہاں رہنے سہنے لگے لیکن کچھ تھوڑی مدت کے بعد ان میں ناچاقی ہو گئی آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ دونوں نے آمنے سامنے صفیں باندھ لیں اور لڑنے کے لیے نکل آئے۔ عام حملہ ہو اس سے بیشتر ان دونوں سرداروں نے آپس میں کہا کہ فوجوں کو لڑانے اور لوگوں کو قتل کرانے کی کیا ضرورت، آؤ ہم تم دونوں میدان میں نکلیں اور ایک دوسرے سے لڑ کر فیصلہ کر لیں جو زندہ بچ جائے ملک و فوج اس کی۔ چنانچہ یہ بات طے ہو گئی اور دونوں میدان میں نکل آئے ارباط نے ابرہہ پر حملہ کیا اور تلوار کے ایک ہی وار سے چہرہ خونا خون کر دیا ناک ہونٹ اور منہ کٹ گیا، ابرہہ کے غلام عتودہ نے اس موقعہ پر ارباط پر ایک بےپناہ حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا ابرہہ زخمی ہو کر میدان سے زندہ واپس گیا، علاج معالجہ سے زخم اچھے ہو گئے اور یمن کا یہ مستقل بادشاہ بن بیٹھا۔ نجاشی شاہ حبشہ کو جب یہ واقعہ معلوم ہوا تو وہ سخت غصہ ہوا اور ایک خط ابرہہ کو لکھا اسے بڑی لعنت ملامت کی اور کہا کہ قسم اللہ کی میں تیرے شہروں کو پامال کر دوں گا۔ اور تیری چوٹی کاٹ لاؤں گا، ابرہہ نے اس کا جواب نہایت عاجزی سے لکھا اور قاصد کو بہت سارے ہدئیے دئیے اور ایک تھیلی میں یمن کی مٹی بھر دی اور اپنی پیشانی کے بال کاٹ کر اس میں رکھ دئیے۔ اور اپنے خط میں اپنے قصوروں کی معافی طلب کی اور لکھا کہ یہ یمن کی مٹی حاضر ہے اور چوٹی کے بال بھی، آپ اپنی قسم پوری کیجئے اور ناراضی معاف فرمائیے اس سے شاہ حبشہ خوش ہو گیا اور یہاں کی سرداری اسی کے نام کر دی، اب ابرہہ نے نجاشی کو لکھا کہ میں یہاں یمن میں آپ کے لیے ایک ایسا گرجا تعمیر کر رہا ہوں کہ اب تک دنیا میں ایسا نہ بنا ہو اور پھر اس نے گرجا گھر کا بنانا شروع کیا۔ 10855 بڑے اہتمام اور کروفر سے بہت اونچا بہت مضبوط بےحد خوبصورت اور منقش و مزین گرجا بنایا۔ اس قدر بلند تھا کہ چوٹی تک نظر ڈالنے والے کی ٹوپی گر پڑتی تھی اسی لیے عرب اسے «قلیس» کہتے یعنی ٹوپی پھینک دینے والا۔ اب ابرہہ اشرم کو یہ سوجھی کہ لوگ بجائے کعبۃ اللہ کے حج کے اس کا حج کریں، اپنی ساری مملکت میں اس کی منادی کرا دی، عدنانیہ اور قحطانیہ عرب کو یہ بہت برا لگا، ادھر سے قریش بھی بھڑک اٹھے، تھوڑے دن میں کوئی شخص رات کے وقت اس کے اندر گھس گیا اور وہاں پاخانہ کر کے چلا آیا چوکیداروں نے جب یہ دیکھا تو بادشاہ کو خبر پہنچائی اور کہا کہ یہ کام قریشیوں کا ہے چونکہ آپ نے ان کا کعبہ روک دیا ہے۔ لہٰذا انہوں نے جوش اور غضب میں آ کر یہ حرکت کی ہے ابرہہ نے اسی وقت قسم کھا لی کہ میں مکہ پہنچوں گا اور بیت اللہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔ اور ایک روایت میں یوں بھی ہے کہ چند ملے جلے نوجوان قریشیوں نے اس گرجا میں آ ۤگ لگا دی تھی اور اس وقت ہوا بھی بہت تیز تھی سارا گرجا جل گیا اور منہ کے بل زمین پر گر گیا اس پر ابرہہ نے بہت بڑا لشکر ساتھ لے کر مکہ پر چڑھائی کی تاکہ کوئی روک نہ سکے اور اپنے ساتھ ایک بڑا اونچا اور موٹا ہاتھی لیا جسے محمود کہا جاتا تھا۔ اس جیسا ہاتھی اور کوئی نہ تھا شاہ حبشہ نے یہ ہاتھی اس کے پاس اسی غرض سے بھیجا تھا آٹھ یا بارہ ہاتھی اور بھی ساتھ تھے یہ کعبے کے ڈھانے کی نیت سے چلا یہ سوچ کر کہ کعبہ کی دیواروں میں مضبوط زنجیریں ڈال دوں گا اور ہاتھیوں کی گردنوں میں ان زنجیروں کو باندھ دوں گا ہاتھی ایک ہی جھٹکے میں چاروں دیواریں بیت اللہ کی جڑ سے گرا دیں گے۔ جب اہل عرب کو یہ خبریں معلوم ہوئیں تو ان پر بڑا بھاری اثر ہوا انہوں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ خواہ کچھ بھی ہو ہم ضرور اس سے مقابلہ کریں گے اور اسے اس کی اس بدکرداری سے روکیں گے ایک یمنی شریف سردار جو وہاں کے بادشاہوں کی اولاد میں سے تھا جسے ”ذونفر“ کہا جاتا تھا یہ کھڑا ہو گیا اپنی قوم کو اور کل آس پاس کے عرب کو جمع کیا اور اس بدنیت بادشاہ سے مقابلہ کیا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا عربوں کو شکست ہوئی اور ذونفر اس خبیث کے ہاتھ میں قید ہو گیا اس نے اسے بھی ساتھ لیا اور مکہ شریف کی طرف بڑھا۔ 10856 خثم قبیلے کی زمین پر جب یہ پہنچا تو یہاں نفیل بن حبیب خثعمی نے اپنے لشکروں سے اس کا مقابلہ کیا لیکن ابرہہ نے انہیں بھی مغلوب کر لیا اور نفیل بھی قید ہو گیا پہلے تو اس ظالم نے اسے قتل کرنا چاہا لیکن پھر قتل نہ کیا اور قید کر کے ساتھ لے لیا تاکہ راستہ بنائے۔ جب طائف کے قریب پہنچا تو قبیلہ ثقیف نے اس سے صلح کر لی کہ ایسا نہ ہو ان کے بت خانوں کو جس میں لات نامی بت تھا یہ توڑ دے اس نے بھی ان کی بڑی آؤ بھگت کی انہوں نے ابورغال کو اس کے ساتھ کر دیا کہ یہ تمہیں وہاں کا راستہ بتائے گا۔ ابرہہ جب مکے کے بالکل قریب مغمس کے پہنچا تو اس نے یہاں پڑاؤ کیا اس کے لشکر نے آس پاس مکہ والوں کے جو جانور اونٹ وغیرہ چر چگ رہے تھے سب کو اپنے قبضہ میں کیا ان جانوروں میں دو سو اونٹ تو صرف عبدالمطلب کے تھے اسود بن مقصود جو اس کے لشکر کے ہراول کا سردار تھا اس نے ابرہہ کے حکم سے ان جانوروں کو لوٹا تھا، جس پر عرب شاعروں نے اس کی ہجو میں اشعار تصنیف کئے ہوئے ہیں جو سیرۃ ابن اسحاق میں موجود ہیں۔ اب ابرہہ نے اپنا قاصد حناطہٰ حمیری مکہ والوں کے پاس بھیجا کہ مکہ کے سب سے بڑے سردار کو میرے پاس لاؤ اور یہ بھی اعلان کر دو کہ میں مکہ والوں سے لڑنے نہیں آیا میرا ارادہ صرف بیت اللہ کو گرانے کا ہے ہاں اگر مکہ والے اس کے بچانے کے درپے ہوئے تو لامحالہ مجھے ان سے لڑائی کرنی پڑے گی، حناطہٰ جب مکہ میں آیا اور لوگوں سے ملا جلا تو معلوم ہوا کہ یہاں کا بڑا سردار عبدالمطلب بن ہاشم ہے، یہ عبدالمطلب سے ملا اور شاہی پیغام پہنچایا۔ جس کے جواب میں عبدالمطلب نے کہا: واللہ! نہ ہمارا ارادہ اس سے لڑنے کا ہے نہ ہم میں اتنی طاقت ہے یہ اللہ کا حرمت والا گھر ہے اس کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی زندہ یادگار ہے اللہ اگر چاہے گا تو اپنے گھر کی آپ حفاظت کرے گا، ورنہ ہم میں تو ہمت و قوت نہیں۔ 10857 حناطہٰ نے کہا: اچھا تو آپ میرے ساتھ بادشاہ کے پاس چلے چلئیے عبدالمطلب ساتھ ہو لئے، بادشاہ نے جب انہیں دیکھا تو ہیبت میں آ گیا عبدالمطلب گورے چٹے سڈول اور مضبوط قوی والے حسین و جمیل انسان تھے، دیکھتے ہی ابرہہ تخت سے نیچے اتر آیا اور فرش پر عبدالمطلب کے ساتھ بیٹھ گیا اور اپنے ترجمان سے کہا کہ ان سے پوچھ کہ کیا چاہتا ہے؟ عبدالمطلب نے کہا میرے دو سو اونٹ جو بادشاہ نے لے لیے ہیں انہیں واپس کر دیا جائے بادشاہ نے کہا ان سے کہہ دے کہ پہلی نظر میں تیرا رعب مجھ پر پڑا تھا اور میرے دل میں تیری وقعت بیٹھ گئی تھی لیکن پہلے ہی کلام میں تو نے سب کچھ کھو دی، اپنے دو سو اونٹ کی تو تجھے فکر ہے اور اپنے اور اپنی قوم کے دین کی تجھے فکر نہیں میں تو تم لوگوں کا عبادت خانہ توڑنے اور اسے خاک میں ملانے کے لیے آیا ہوں۔ عبدالمطلب نے جواب دیا کہ سن بادشاہ اونٹ تو میرے ہیں اس لیے انہیں بچانے کی کوشش میں میں ہوں اور خانہ کعبہ اللہ کا ہے وہ خود اسے بچا لے گا اس پر یہ سرکش کہنے لگا کہ اللہ بھی آج اسے میرے ہاتھ سے نہیں بچا سکتا، عبدالمطلب نے کہا: بہتر ہے وہ جانے اور تو جان۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37989] ‏ یہ بھی مروی ہے کہ اہل مکہ نے تمام حجاز کا تہائی مال ابرہہ کو دینا چاہا کہ وہ اپنے اس بد ارادہ سے باز آئے لیکن اس نے قبول نہ کیا خیر عبدالمطلب تو اپنے اونٹ لے کر چل دئیے اور آ کر قریش کو حکم دیا کہ مکہ بالکل خالی کر دو اور پہاڑوں میں چلے جاؤ، اب عبدالمطلب اپنے ساتھ قریش کے چیدہ چیدہ لوگوں کو لے کر بیت اللہ میں آیا اور بیت اللہ کے دروازہ کا کنڈا تھام کر رو رو کر اور گڑگڑا گڑگڑا کر دعائیں مانگنی شروع کیں کہ باری تعالیٰ ابرہہ اور اس کے خونخوار لشکر سے اپنے پاک اور ذی عزت گھر کو بچا لے۔ عبدالمطلب نے اس وقت یہ دعائیہ اشعار پڑھے۔ «لَاهُمَّ إِنَّ الْمَرْء يَمْ نَع رَحْلَهُ فَامْنَعْ رِحَالك» *** «لَا يَغْلِبَنَّ صَلِيبُهُمْ وَمِحَالُهُمْ أَبَدًا مِحَالَك» یعنی ہم بےفکر ہیں ہم جانتے ہیں کہ ہر گھر والا اپنے گھر کا بچاؤ آپ کرتا ہے۔ اے اللہ! تو بھی اپنے گھر کو اپنے دشمنوں سے بچا یہ تو ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ان کی صلیب اور ان کی ڈولیں تیری ڈولوں پر غالب آ جائیں۔ 10858 اب عبدالمطلب نے بیت اللہ کے دروازے کا کنڈا ہاتھ سے چھوڑ دیا اور اپنے تمام ساتھیوں کو لے کر آس پاس کے پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ گیا، یہ بھی مذکور ہے کہ جاتے ہوئے قربانی کے سو اونٹ بیت اللہ کے ارد گرد نشان لگا کر چھوڑ دئیے تھے اس نیت سے کہ اگر یہ بد دین آئے اور انہوں نے اللہ کے نام کی قربانی کے ان جانوروں کو چھیڑا تو عذاب الٰہی ان پر اترے گا، دوسری صبح ابرہہ کے لشکر میں مکہ جانے کی تیاریاں ہونے لگیں اپنا خاص ہاتھی جس کا نام محمود تھا اسے تیار کیا لشکر میں کمر بندی ہو چکی تھی اور مکہ شریف کی طرف منہ اٹھا کر چلنے کی تیاری کی اس وقت نفیل بن حبیب جو اس سے راستے میں لڑا تھا اور اب بطور قیدی کے اس کے ساتھ تھا وہ آگے بڑھا اور شاہی ہاتھی کا کان پکڑ لیا اور کہا محمود بیٹھ جا اور جہاں سے آیا ہے وہیں خیریت کے ساتھ چلا جا تو اللہ تعالیٰ کے محترم شہر میں ہے یہ کہہ کر کان چھوڑ دیا اور بھاگ کر قریب کی پہاڑی میں جا چھپا۔ محمود ہاتھی یہ سنتے ہی بیٹھ گیا، اب ہزار جتن فیل بان کر رہے ہیں لشکری بھی کوششیں کرتے کرتے تھک گئے لیکن ہاتھی اپنی جگہ سے ہلتا ہی نہیں، سر پر آنکس مار رہے ہیں ادھر ادھر سے بھالے اور برچھے مار رہے ہیں آنکھوں میں آنکس ڈال رہے ہیں غرض تمام جتن کر لیے لیکن ہاتھی جنبش بھی نہیں کرتا پھر بطور امتحان کے اس کا منہ یمن کی طرف کر کے چلانا چاہا تو جھٹ سے کھڑا ہو کر دوڑتا ہوا چل دیا شام کی طرف چلانا چاہا تو بھی پوری طاقت سے آگے بڑھ گیا، مشرق کی طرف لے جانا چاہا تو بھی بھاگا بھاگا گیا پھر مکہ شریف کی طرف منہ کر کے آگے بڑھانا چاہا وہیں بیٹھ گیا - انہوں نے پھر اسے مارنا شروع کیا دیکھا کہ ایک گھٹا ٹوپ پرندوں کا جھرمٹ بادل کی طرح سمندر کے کنارے کی طرف سے امڈا چلا آ رہا ہے ابھی پوری طرح دیکھ بھی نہیں پائے تھے کہ وہ جانور سر پر آ گئے چاروں طرف سے سارے لشکر کو گھیر لیا اور ان میں ہر ایک کی چونچ میں ایک مسور یا ماش کے دانے برابر کنکری تھی، اور دونوں پنجوں میں دو دو کنکریاں تھیں یہ ان پر پھینکنے لگے جس پر یہ کنکری آن پڑی وہ وہیں ہلاک ہو گیا۔ اب تو اس لشکر میں بھاگڑ پڑ گئی ہر ایک نفیل نفیل کرنے لگا کیونکہ اسے ان لوگوں نے اپنا راہبر اور راستے بتانے والا سمجھ رکھا تھا، نفیل تو ہاتھی کو کہہ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور دیگر اہل مکہ ان لوگوں کی یہ درگت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور نفیل وہیں کھڑا یہ اشعار پڑھ رہا تھا۔ «این المفر والا لہ الطالب» *** «والاشرم المغلوب لیس الغالب» اب جائے پناہ کہاں ہے؟ جبکہ اللہ خود تاک میں لگ گیا ہے سنو اشرم بدبخت مغلوب ہو گیا اب یہ پنپنے کا نہیں۔ 10859 اور بھی نفیل نے اس واقعہ کے متعلق بہت سے اشعار کہے ہیں جن میں اس واقعہ کو بیان کیا ہے اور کہا ہے کاش کہ تو اس وقت موجود ہوتا جبکہ ان ہاتھی والوں کی شامت آئی ہے اور وادی محصب میں ان پر عذاب کے سنگریزے برسے ہیں تو اس وقت تو اس اللہ کے لشکر یعنی پرندوں کو دیکھ کر قطعاً سجدے میں گر پڑتا ہم تو وہاں کھڑے حمد رب کی راگنیاں الاپ رہے تھے گو کلیجے ہمارے بھی اونچے ہو گئے تھے کہ کہیں کوئی کنکری ہمارا کام بھی تمام نہ کر دے نصرانی منہ موڑے بھاگ رہے تھے اور نفیل نفیل پکار رہے تھے۔ گویا کہ نفیل پر ان کے باپ دادوں کا کوئی قرض تھا۔ واقدی فرماتے ہیں یہ پرندے زرد رنگ کے تھے کبوتر سے کچھ چھوٹے تھے ان کے پاؤں سرخ تھے اور روایت میں ہے کہ جب محمود ہاتھی بیٹھ گیا اور پوری کوشش کے باوجود بھی نہ اٹھا تو انہوں نے دوسرے ہاتھی کو آگے کیا اس نے قدم بڑھایا ہی تھا کہ اس کی پیشانی پر کنکری پڑی اور بلبلا کر پیچھے ہٹا اور پھرا اور ہاتھی بھی بھاگ کھڑے ہوئے ادھر برابر کنکریاں آنے لگیں اکثر تو وہیں ڈھیر ہو گئے۔ اور بعض جو ادھر ادھر بھاگ نکلے گا ان میں سے کوئی جانبر نہ ہوا بھاگتے بھاگتے ان کے اعضاء کٹ کٹ کر گرتے جاتے تھے اور بالآخر جان سے جاتے تھے۔ ابرہہ بادشاہ بھی بھاگا لیکن ایک ایک عضو بدن جھڑنا شروع ہوا یہاں تک کہ خثعم کے شہروں میں سے صنعاء میں جب وہ پہنچا تو بالکل گوشت کا لوتھڑا بنا ہوا تھا وہیں بلک بلک کر دم توڑا اور کتے کی موت مرا، دل تک پھٹ گیا قریشیوں کو بڑا مال ہاتھ لگا۔ عبدالمطلب نے تو سونے سے ایک کنواں پر کر لیا تھا، زمین عرب میں آبلہ اور چیچک اسی سال پیدا ہوتے ہوئے دیکھے گئے اور اسی سال سپند اور حنظل وغیرہ کے کڑوے درخت بھی اسی سال زمین عرب میں دیکھے گئے ہیں پس اللہ تعالیٰ بزبان رسول معصوم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی یہ نعمت یاد دلاتا ہے اور گویا فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم میرے گھر کی اسی طرح عزت و حرمت کرتے رہتے اور میرے رسول کو مانتے تو میں بھی اسی طرح تمہاری حفاظت کرتا اور تمہیں دشمنوں سے نجات دیتا۔ 10860 «أَبَابِيلَ» جمع کا صیغہ ہے اس کا واحد لغت عرب میں پایا نہیں گیا، «سجیل» کے معنی ہیں بہت ہی سخت اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دو فارسی لفظوں سے مرکب ہے یعنی «سنگ» اور «گل» سے یعنی مٹی اور پتھر۔ غرض «سِجِّيلٍ» وہ ہے جس میں پتھر معہ مٹی کے ہو۔ «عَصْفٍ» جمع ہے «عَصْفَةٌ» کی کھیتی کے ان پتوں کو کہتے ہیں جو پک نہ گئے ہوں۔ «أَبَابِيلَ» کے معنی ہیں گروہ گروہ جھنڈ بہت سارے پے در پے جمع شدہ ادھر ادھر سے آنے والے، بعض نحوی کہتے ہیں اس کا واحد «ابیل» ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان پرندوں کی چونچ تھی پرندوں جیسی اور پنجے کتوں جیسے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سبز رنگ کے پرند تھے جو سمندر سے نکلے تھے ان کے سر درندوں جیسے تھے اور اقوال بھی ہیں یہ پرند باقاعدہ ان لشکریوں کے سروں پر، پر باندھ کر کھڑے ہو گئے اور پھر چیخنے لگے پھر پتھراؤ کیا، جس کے سر میں لگا اس کے نیچے سے نکل گیا اور دو ٹکڑے ہو کر زمین پر گرا جس کے جس عضو پر گرا وہ عضو ساقط ہو گیا ساتھ ہی تیز آندھی آئی جس سے اور آس پاس کے کنکر بھی ان کی آنکھوں میں گھس گئے اور سب تہہ و بالا ہو گئے۔ «عَصْفٍ» کہتے ہیں چارے کو اور کٹی کھیتی کو اور گیہوں کے درخت کے پتوں کو اور «مَّأْكُولٍ» سے مراد ٹکڑے ٹکڑے کیا ہوا ہے۔ 10861 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «عصف» کہتے ہیں بھوسی کو جو اناج کے دانوں کے اوپر ہوتی ہے۔ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد کھیتوں کے وہ پتے ہیں جنہیں جانور چر چکے ہوں مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان کو تہس نہس کر دیا اور عام خاص کو ہلاک کر دیا اس کی ساری تدبیریں الٹ ہو گئیں کوئی بھلائی انہیں نصیب نہ ہوئی ایسا بھی کوئی ان میں صحیح سالم نہ رہا جو کہ ان کی خبر پہنچائے، جو بھی بچا وہ زخمی ہو کر اور اس زخم سے پھر جاں بر نہ ہو سکا، خود بادشاہ بھی گو وہ ایک گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہو گیا تھا جوں توں صنعاء میں پہنچا لیکن وہاں جاتے ہی اس کا کلیجہ پھٹ گیا اور واقعہ بیان کر ہی چکا تھا کہ مر گیا۔ اس کے بعد اس کا لڑکا یکسوم یمن کا بادشاہ بنا پھر اس کے دوسرے بھائی مسروق بن ابرہہ کو سلطنت ملی اب سیف بن ذی یذن حمیری کسریٰ کے دربار میں پہنچا اور اس سے مدد طلب کی تاکہ وہ اہل حبشہ سے لڑے اور یمن ان سے خالی کرا لے کسریٰ نے اس کے ساتھ ایک لشکر جرار کر دیا اس لشکر نے اہل حبشہ کو شکست دی اور ابرہہ کے خاندان سے سلطنت نکل گئی اور پھر قبیلہ حمیر یہاں کا بادشاہ بن گیا عربوں نے اس پر بڑی خوشی منائی اور چاروں طرف سے مبارکبادیاں وصول ہوئیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ابرہہ کے لشکر کے فیل بان اور چرکٹے کو میں نے مکہ شریف میں دیکھا دونوں اندھے ہو گئے تھے چل پھر نہیں سکتے تھے اور بھیک مانگا کرتے تھے۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اساف اور نائلہ بتوں کے پاس یہ بیٹھے رہتے تھے جہاں مشرکین اپنی قربانیاں کرتے تھے اور لوگوں سے بھیک مانگتے پھرتے تھے اس فیل بان کا نام انیسا تھا۔ بعض تاریخوں میں یہ بھی ہے کہ ابرہہ خود اس چڑھائی میں نہ تھا بلکہ اس نے اپنے لشکر کو بہ ماتختی شمس بن مقصود کے بھیجا تھا یہ لشکر بیس ہزار کا تھا اور یہ پرند ان کے اوپر رات کے وقت آئے تھے اور صبح تک ان سب کا ستیاناس ہو چکا تھا لیکن یہ روایت بہت غریب ہے اور صحیح بات یہ ہے کہ خود ابرہہ اشرم حبشی ہی اپنے ساتھ لشکر لے کر آیا تھا یہ ممکن ہے کہ اس کے ہراول کے دستہ پر یہ شخص سردار ہو، اس واقعہ کو بہت سے عرب شاعروں نے اپنے شعروں میں بھی بسط کے ساتھ بیان کیا ہے۔ سورۃ الفتح کی تفسیر میں ہم اس واقعہ کو مفصل بیان کر آئے ہیں جس میں ہے کہ جب حدیبیہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ٹیلے پر چڑھے جہاں سے آپ قریشیوں پر جانے والے تھے تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی لوگوں نے اسے ڈانٹا ڈپٹا لیکن وہ نہ اٹھی لوگ کہنے لگے قصواء تھک گئی آپ نے فرمایا: ”نہ یہ تھکی نہ اس میں اڑنے کی عادت ہے اسے اس اللہ نے روک لیا ہے جس نے ہاتھیوں کو روک لیا تھا“، پھر فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مکے والے جن شرائط پر مجھ سے صلح چاہیں گے میں سب مان لوں گا بشرطیکہ اللہ کی حرمتوں کی ہتک اس میں نہ ہو“ پھر آپ نے اسے ڈانٹا تو وہ فوراً اٹھ کھڑی ہو گئی ۔ [صحیح بخاری:2781] ‏ یہ حدیث صحیح بخاری میں ہے۔ 10862 اور ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ پر سے ہاتھیوں کو روک لیا اور اپنے نبی کو وہاں کا قبضہ دیا اور اپنے ایماندار بندوں کو، سنو آج اس کی حرمت ویسی ہی لوٹ کر آ گئی ہے جیسے کل تھی، خبردار ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔ [صحیح بخاری:112] ‏ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ الفیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ 10863

الفيل 105:4

ابرہہ اور اس کا حشر ٭٭ اللہ رب العزت نے قریش پر جو اپنی خاص نعمت انعام فرمائی تھی اس کا ذکر کر رہا ہے کہ جس لشکر نے ہاتھیوں کو ساتھ لے کر کعبے کو ڈھانے کے لیے چڑھائی کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کہ وہ کعبے کے وجود کو مٹائیں ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ ان کی تمام فریب کاریاں ان کی تمام قوتیں سلب کر لیں انہیں برباد و غارت کر دیا۔ یہ لوگ مذہباً نصرانی تھے لیکن دین مسیح کو مسخ کر دیا تھا قریباً بت پرست ہو گئے تھے انہیں اس طرح نامراد کرنا یہ گویا پیش خیمہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا اور اطلاع تھی آپ کی آمد آمد کی نبی علیہ السلام اسی سال تولد ہوئے تھے۔ اکثر تاریخ داں حضرات کا یہی قول ہے تو گویا رب العالمین فرما رہا ہے کہ اے قریشیو! حبشہ کے اس لشکر پر تمہیں فتح تمہاری بھلائی کی وجہ سے نہیں دی گئی تھی بلکہ اس میں ہمارے گھر کا بچاؤ تھا جسے ہم شرف بزرگی عظمت و عزت میں اپنے آخر الزمان پیغمبر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے بڑھانے والے تھے۔ 10854 غرض اصحاب فیل کا مختصر واقعہ تو یہ ہے جو بیان ہوا اور مطول واقعہ اصحاب الاخدود کے بیان میں گزر چکا ہے کہ قبیلہ حمیر کا آخری بادشاہ ذونواس جو مشرک تھا جس نے اپنے زمانے کے مسلمانوں کو کھائیوں میں قتل کیا تھا جو سچے نصرانی تھے اور تعداد میں تقریباً بیس ہزار تھے، سارے کے سارے شہید کر دئیے گئے تھے صرف دوس ذوثعلبان ایک بچا جو ملک شام جا پہنچا اور قیصر روم سے فریاد رسی چاہی۔ یہ بادشاہ نصرانی مذہب پر تھا اس نے حبشہ کے بادشاہ شاہ نجاشی کو لکھا کہ اس کے ساتھ اپنی پوری فوج کر دو اس لیے کہ یہاں سے دشمن کا ملک قریب تھا۔ اس بادشاہ نے ارباط اور ابویکسوم ابرہہ بن صباح کو امیر لشکر بنا کر بہت بڑا لشکر دے کر دونوں کو اس کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا یہ لشکر یمن پہنچا اور یمن کو اور یمنیوں کو تاخت و تاراج کر دیا۔ ذونواس بھاگ کھڑا ہوا اور دریا میں ڈوب کر مر گیا اور ان لوگوں کی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور سارے یمن پر شاہ حبشہ کا قبضہ ہو گیا اور یہ دونوں سردار یہاں رہنے سہنے لگے لیکن کچھ تھوڑی مدت کے بعد ان میں ناچاقی ہو گئی آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ دونوں نے آمنے سامنے صفیں باندھ لیں اور لڑنے کے لیے نکل آئے۔ عام حملہ ہو اس سے بیشتر ان دونوں سرداروں نے آپس میں کہا کہ فوجوں کو لڑانے اور لوگوں کو قتل کرانے کی کیا ضرورت، آؤ ہم تم دونوں میدان میں نکلیں اور ایک دوسرے سے لڑ کر فیصلہ کر لیں جو زندہ بچ جائے ملک و فوج اس کی۔ چنانچہ یہ بات طے ہو گئی اور دونوں میدان میں نکل آئے ارباط نے ابرہہ پر حملہ کیا اور تلوار کے ایک ہی وار سے چہرہ خونا خون کر دیا ناک ہونٹ اور منہ کٹ گیا، ابرہہ کے غلام عتودہ نے اس موقعہ پر ارباط پر ایک بےپناہ حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا ابرہہ زخمی ہو کر میدان سے زندہ واپس گیا، علاج معالجہ سے زخم اچھے ہو گئے اور یمن کا یہ مستقل بادشاہ بن بیٹھا۔ نجاشی شاہ حبشہ کو جب یہ واقعہ معلوم ہوا تو وہ سخت غصہ ہوا اور ایک خط ابرہہ کو لکھا اسے بڑی لعنت ملامت کی اور کہا کہ قسم اللہ کی میں تیرے شہروں کو پامال کر دوں گا۔ اور تیری چوٹی کاٹ لاؤں گا، ابرہہ نے اس کا جواب نہایت عاجزی سے لکھا اور قاصد کو بہت سارے ہدئیے دئیے اور ایک تھیلی میں یمن کی مٹی بھر دی اور اپنی پیشانی کے بال کاٹ کر اس میں رکھ دئیے۔ اور اپنے خط میں اپنے قصوروں کی معافی طلب کی اور لکھا کہ یہ یمن کی مٹی حاضر ہے اور چوٹی کے بال بھی، آپ اپنی قسم پوری کیجئے اور ناراضی معاف فرمائیے اس سے شاہ حبشہ خوش ہو گیا اور یہاں کی سرداری اسی کے نام کر دی، اب ابرہہ نے نجاشی کو لکھا کہ میں یہاں یمن میں آپ کے لیے ایک ایسا گرجا تعمیر کر رہا ہوں کہ اب تک دنیا میں ایسا نہ بنا ہو اور پھر اس نے گرجا گھر کا بنانا شروع کیا۔ 10855 بڑے اہتمام اور کروفر سے بہت اونچا بہت مضبوط بےحد خوبصورت اور منقش و مزین گرجا بنایا۔ اس قدر بلند تھا کہ چوٹی تک نظر ڈالنے والے کی ٹوپی گر پڑتی تھی اسی لیے عرب اسے «قلیس» کہتے یعنی ٹوپی پھینک دینے والا۔ اب ابرہہ اشرم کو یہ سوجھی کہ لوگ بجائے کعبۃ اللہ کے حج کے اس کا حج کریں، اپنی ساری مملکت میں اس کی منادی کرا دی، عدنانیہ اور قحطانیہ عرب کو یہ بہت برا لگا، ادھر سے قریش بھی بھڑک اٹھے، تھوڑے دن میں کوئی شخص رات کے وقت اس کے اندر گھس گیا اور وہاں پاخانہ کر کے چلا آیا چوکیداروں نے جب یہ دیکھا تو بادشاہ کو خبر پہنچائی اور کہا کہ یہ کام قریشیوں کا ہے چونکہ آپ نے ان کا کعبہ روک دیا ہے۔ لہٰذا انہوں نے جوش اور غضب میں آ کر یہ حرکت کی ہے ابرہہ نے اسی وقت قسم کھا لی کہ میں مکہ پہنچوں گا اور بیت اللہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔ اور ایک روایت میں یوں بھی ہے کہ چند ملے جلے نوجوان قریشیوں نے اس گرجا میں آ ۤگ لگا دی تھی اور اس وقت ہوا بھی بہت تیز تھی سارا گرجا جل گیا اور منہ کے بل زمین پر گر گیا اس پر ابرہہ نے بہت بڑا لشکر ساتھ لے کر مکہ پر چڑھائی کی تاکہ کوئی روک نہ سکے اور اپنے ساتھ ایک بڑا اونچا اور موٹا ہاتھی لیا جسے محمود کہا جاتا تھا۔ اس جیسا ہاتھی اور کوئی نہ تھا شاہ حبشہ نے یہ ہاتھی اس کے پاس اسی غرض سے بھیجا تھا آٹھ یا بارہ ہاتھی اور بھی ساتھ تھے یہ کعبے کے ڈھانے کی نیت سے چلا یہ سوچ کر کہ کعبہ کی دیواروں میں مضبوط زنجیریں ڈال دوں گا اور ہاتھیوں کی گردنوں میں ان زنجیروں کو باندھ دوں گا ہاتھی ایک ہی جھٹکے میں چاروں دیواریں بیت اللہ کی جڑ سے گرا دیں گے۔ جب اہل عرب کو یہ خبریں معلوم ہوئیں تو ان پر بڑا بھاری اثر ہوا انہوں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ خواہ کچھ بھی ہو ہم ضرور اس سے مقابلہ کریں گے اور اسے اس کی اس بدکرداری سے روکیں گے ایک یمنی شریف سردار جو وہاں کے بادشاہوں کی اولاد میں سے تھا جسے ”ذونفر“ کہا جاتا تھا یہ کھڑا ہو گیا اپنی قوم کو اور کل آس پاس کے عرب کو جمع کیا اور اس بدنیت بادشاہ سے مقابلہ کیا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا عربوں کو شکست ہوئی اور ذونفر اس خبیث کے ہاتھ میں قید ہو گیا اس نے اسے بھی ساتھ لیا اور مکہ شریف کی طرف بڑھا۔ 10856 خثم قبیلے کی زمین پر جب یہ پہنچا تو یہاں نفیل بن حبیب خثعمی نے اپنے لشکروں سے اس کا مقابلہ کیا لیکن ابرہہ نے انہیں بھی مغلوب کر لیا اور نفیل بھی قید ہو گیا پہلے تو اس ظالم نے اسے قتل کرنا چاہا لیکن پھر قتل نہ کیا اور قید کر کے ساتھ لے لیا تاکہ راستہ بنائے۔ جب طائف کے قریب پہنچا تو قبیلہ ثقیف نے اس سے صلح کر لی کہ ایسا نہ ہو ان کے بت خانوں کو جس میں لات نامی بت تھا یہ توڑ دے اس نے بھی ان کی بڑی آؤ بھگت کی انہوں نے ابورغال کو اس کے ساتھ کر دیا کہ یہ تمہیں وہاں کا راستہ بتائے گا۔ ابرہہ جب مکے کے بالکل قریب مغمس کے پہنچا تو اس نے یہاں پڑاؤ کیا اس کے لشکر نے آس پاس مکہ والوں کے جو جانور اونٹ وغیرہ چر چگ رہے تھے سب کو اپنے قبضہ میں کیا ان جانوروں میں دو سو اونٹ تو صرف عبدالمطلب کے تھے اسود بن مقصود جو اس کے لشکر کے ہراول کا سردار تھا اس نے ابرہہ کے حکم سے ان جانوروں کو لوٹا تھا، جس پر عرب شاعروں نے اس کی ہجو میں اشعار تصنیف کئے ہوئے ہیں جو سیرۃ ابن اسحاق میں موجود ہیں۔ اب ابرہہ نے اپنا قاصد حناطہٰ حمیری مکہ والوں کے پاس بھیجا کہ مکہ کے سب سے بڑے سردار کو میرے پاس لاؤ اور یہ بھی اعلان کر دو کہ میں مکہ والوں سے لڑنے نہیں آیا میرا ارادہ صرف بیت اللہ کو گرانے کا ہے ہاں اگر مکہ والے اس کے بچانے کے درپے ہوئے تو لامحالہ مجھے ان سے لڑائی کرنی پڑے گی، حناطہٰ جب مکہ میں آیا اور لوگوں سے ملا جلا تو معلوم ہوا کہ یہاں کا بڑا سردار عبدالمطلب بن ہاشم ہے، یہ عبدالمطلب سے ملا اور شاہی پیغام پہنچایا۔ جس کے جواب میں عبدالمطلب نے کہا: واللہ! نہ ہمارا ارادہ اس سے لڑنے کا ہے نہ ہم میں اتنی طاقت ہے یہ اللہ کا حرمت والا گھر ہے اس کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی زندہ یادگار ہے اللہ اگر چاہے گا تو اپنے گھر کی آپ حفاظت کرے گا، ورنہ ہم میں تو ہمت و قوت نہیں۔ 10857 حناطہٰ نے کہا: اچھا تو آپ میرے ساتھ بادشاہ کے پاس چلے چلئیے عبدالمطلب ساتھ ہو لئے، بادشاہ نے جب انہیں دیکھا تو ہیبت میں آ گیا عبدالمطلب گورے چٹے سڈول اور مضبوط قوی والے حسین و جمیل انسان تھے، دیکھتے ہی ابرہہ تخت سے نیچے اتر آیا اور فرش پر عبدالمطلب کے ساتھ بیٹھ گیا اور اپنے ترجمان سے کہا کہ ان سے پوچھ کہ کیا چاہتا ہے؟ عبدالمطلب نے کہا میرے دو سو اونٹ جو بادشاہ نے لے لیے ہیں انہیں واپس کر دیا جائے بادشاہ نے کہا ان سے کہہ دے کہ پہلی نظر میں تیرا رعب مجھ پر پڑا تھا اور میرے دل میں تیری وقعت بیٹھ گئی تھی لیکن پہلے ہی کلام میں تو نے سب کچھ کھو دی، اپنے دو سو اونٹ کی تو تجھے فکر ہے اور اپنے اور اپنی قوم کے دین کی تجھے فکر نہیں میں تو تم لوگوں کا عبادت خانہ توڑنے اور اسے خاک میں ملانے کے لیے آیا ہوں۔ عبدالمطلب نے جواب دیا کہ سن بادشاہ اونٹ تو میرے ہیں اس لیے انہیں بچانے کی کوشش میں میں ہوں اور خانہ کعبہ اللہ کا ہے وہ خود اسے بچا لے گا اس پر یہ سرکش کہنے لگا کہ اللہ بھی آج اسے میرے ہاتھ سے نہیں بچا سکتا، عبدالمطلب نے کہا: بہتر ہے وہ جانے اور تو جان۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37989] ‏ یہ بھی مروی ہے کہ اہل مکہ نے تمام حجاز کا تہائی مال ابرہہ کو دینا چاہا کہ وہ اپنے اس بد ارادہ سے باز آئے لیکن اس نے قبول نہ کیا خیر عبدالمطلب تو اپنے اونٹ لے کر چل دئیے اور آ کر قریش کو حکم دیا کہ مکہ بالکل خالی کر دو اور پہاڑوں میں چلے جاؤ، اب عبدالمطلب اپنے ساتھ قریش کے چیدہ چیدہ لوگوں کو لے کر بیت اللہ میں آیا اور بیت اللہ کے دروازہ کا کنڈا تھام کر رو رو کر اور گڑگڑا گڑگڑا کر دعائیں مانگنی شروع کیں کہ باری تعالیٰ ابرہہ اور اس کے خونخوار لشکر سے اپنے پاک اور ذی عزت گھر کو بچا لے۔ عبدالمطلب نے اس وقت یہ دعائیہ اشعار پڑھے۔ «لَاهُمَّ إِنَّ الْمَرْء يَمْ نَع رَحْلَهُ فَامْنَعْ رِحَالك» *** «لَا يَغْلِبَنَّ صَلِيبُهُمْ وَمِحَالُهُمْ أَبَدًا مِحَالَك» یعنی ہم بےفکر ہیں ہم جانتے ہیں کہ ہر گھر والا اپنے گھر کا بچاؤ آپ کرتا ہے۔ اے اللہ! تو بھی اپنے گھر کو اپنے دشمنوں سے بچا یہ تو ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ان کی صلیب اور ان کی ڈولیں تیری ڈولوں پر غالب آ جائیں۔ 10858 اب عبدالمطلب نے بیت اللہ کے دروازے کا کنڈا ہاتھ سے چھوڑ دیا اور اپنے تمام ساتھیوں کو لے کر آس پاس کے پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ گیا، یہ بھی مذکور ہے کہ جاتے ہوئے قربانی کے سو اونٹ بیت اللہ کے ارد گرد نشان لگا کر چھوڑ دئیے تھے اس نیت سے کہ اگر یہ بد دین آئے اور انہوں نے اللہ کے نام کی قربانی کے ان جانوروں کو چھیڑا تو عذاب الٰہی ان پر اترے گا، دوسری صبح ابرہہ کے لشکر میں مکہ جانے کی تیاریاں ہونے لگیں اپنا خاص ہاتھی جس کا نام محمود تھا اسے تیار کیا لشکر میں کمر بندی ہو چکی تھی اور مکہ شریف کی طرف منہ اٹھا کر چلنے کی تیاری کی اس وقت نفیل بن حبیب جو اس سے راستے میں لڑا تھا اور اب بطور قیدی کے اس کے ساتھ تھا وہ آگے بڑھا اور شاہی ہاتھی کا کان پکڑ لیا اور کہا محمود بیٹھ جا اور جہاں سے آیا ہے وہیں خیریت کے ساتھ چلا جا تو اللہ تعالیٰ کے محترم شہر میں ہے یہ کہہ کر کان چھوڑ دیا اور بھاگ کر قریب کی پہاڑی میں جا چھپا۔ محمود ہاتھی یہ سنتے ہی بیٹھ گیا، اب ہزار جتن فیل بان کر رہے ہیں لشکری بھی کوششیں کرتے کرتے تھک گئے لیکن ہاتھی اپنی جگہ سے ہلتا ہی نہیں، سر پر آنکس مار رہے ہیں ادھر ادھر سے بھالے اور برچھے مار رہے ہیں آنکھوں میں آنکس ڈال رہے ہیں غرض تمام جتن کر لیے لیکن ہاتھی جنبش بھی نہیں کرتا پھر بطور امتحان کے اس کا منہ یمن کی طرف کر کے چلانا چاہا تو جھٹ سے کھڑا ہو کر دوڑتا ہوا چل دیا شام کی طرف چلانا چاہا تو بھی پوری طاقت سے آگے بڑھ گیا، مشرق کی طرف لے جانا چاہا تو بھی بھاگا بھاگا گیا پھر مکہ شریف کی طرف منہ کر کے آگے بڑھانا چاہا وہیں بیٹھ گیا - انہوں نے پھر اسے مارنا شروع کیا دیکھا کہ ایک گھٹا ٹوپ پرندوں کا جھرمٹ بادل کی طرح سمندر کے کنارے کی طرف سے امڈا چلا آ رہا ہے ابھی پوری طرح دیکھ بھی نہیں پائے تھے کہ وہ جانور سر پر آ گئے چاروں طرف سے سارے لشکر کو گھیر لیا اور ان میں ہر ایک کی چونچ میں ایک مسور یا ماش کے دانے برابر کنکری تھی، اور دونوں پنجوں میں دو دو کنکریاں تھیں یہ ان پر پھینکنے لگے جس پر یہ کنکری آن پڑی وہ وہیں ہلاک ہو گیا۔ اب تو اس لشکر میں بھاگڑ پڑ گئی ہر ایک نفیل نفیل کرنے لگا کیونکہ اسے ان لوگوں نے اپنا راہبر اور راستے بتانے والا سمجھ رکھا تھا، نفیل تو ہاتھی کو کہہ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور دیگر اہل مکہ ان لوگوں کی یہ درگت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور نفیل وہیں کھڑا یہ اشعار پڑھ رہا تھا۔ «این المفر والا لہ الطالب» *** «والاشرم المغلوب لیس الغالب» اب جائے پناہ کہاں ہے؟ جبکہ اللہ خود تاک میں لگ گیا ہے سنو اشرم بدبخت مغلوب ہو گیا اب یہ پنپنے کا نہیں۔ 10859 اور بھی نفیل نے اس واقعہ کے متعلق بہت سے اشعار کہے ہیں جن میں اس واقعہ کو بیان کیا ہے اور کہا ہے کاش کہ تو اس وقت موجود ہوتا جبکہ ان ہاتھی والوں کی شامت آئی ہے اور وادی محصب میں ان پر عذاب کے سنگریزے برسے ہیں تو اس وقت تو اس اللہ کے لشکر یعنی پرندوں کو دیکھ کر قطعاً سجدے میں گر پڑتا ہم تو وہاں کھڑے حمد رب کی راگنیاں الاپ رہے تھے گو کلیجے ہمارے بھی اونچے ہو گئے تھے کہ کہیں کوئی کنکری ہمارا کام بھی تمام نہ کر دے نصرانی منہ موڑے بھاگ رہے تھے اور نفیل نفیل پکار رہے تھے۔ گویا کہ نفیل پر ان کے باپ دادوں کا کوئی قرض تھا۔ واقدی فرماتے ہیں یہ پرندے زرد رنگ کے تھے کبوتر سے کچھ چھوٹے تھے ان کے پاؤں سرخ تھے اور روایت میں ہے کہ جب محمود ہاتھی بیٹھ گیا اور پوری کوشش کے باوجود بھی نہ اٹھا تو انہوں نے دوسرے ہاتھی کو آگے کیا اس نے قدم بڑھایا ہی تھا کہ اس کی پیشانی پر کنکری پڑی اور بلبلا کر پیچھے ہٹا اور پھرا اور ہاتھی بھی بھاگ کھڑے ہوئے ادھر برابر کنکریاں آنے لگیں اکثر تو وہیں ڈھیر ہو گئے۔ اور بعض جو ادھر ادھر بھاگ نکلے گا ان میں سے کوئی جانبر نہ ہوا بھاگتے بھاگتے ان کے اعضاء کٹ کٹ کر گرتے جاتے تھے اور بالآخر جان سے جاتے تھے۔ ابرہہ بادشاہ بھی بھاگا لیکن ایک ایک عضو بدن جھڑنا شروع ہوا یہاں تک کہ خثعم کے شہروں میں سے صنعاء میں جب وہ پہنچا تو بالکل گوشت کا لوتھڑا بنا ہوا تھا وہیں بلک بلک کر دم توڑا اور کتے کی موت مرا، دل تک پھٹ گیا قریشیوں کو بڑا مال ہاتھ لگا۔ عبدالمطلب نے تو سونے سے ایک کنواں پر کر لیا تھا، زمین عرب میں آبلہ اور چیچک اسی سال پیدا ہوتے ہوئے دیکھے گئے اور اسی سال سپند اور حنظل وغیرہ کے کڑوے درخت بھی اسی سال زمین عرب میں دیکھے گئے ہیں پس اللہ تعالیٰ بزبان رسول معصوم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی یہ نعمت یاد دلاتا ہے اور گویا فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم میرے گھر کی اسی طرح عزت و حرمت کرتے رہتے اور میرے رسول کو مانتے تو میں بھی اسی طرح تمہاری حفاظت کرتا اور تمہیں دشمنوں سے نجات دیتا۔ 10860 «أَبَابِيلَ» جمع کا صیغہ ہے اس کا واحد لغت عرب میں پایا نہیں گیا، «سجیل» کے معنی ہیں بہت ہی سخت اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دو فارسی لفظوں سے مرکب ہے یعنی «سنگ» اور «گل» سے یعنی مٹی اور پتھر۔ غرض «سِجِّيلٍ» وہ ہے جس میں پتھر معہ مٹی کے ہو۔ «عَصْفٍ» جمع ہے «عَصْفَةٌ» کی کھیتی کے ان پتوں کو کہتے ہیں جو پک نہ گئے ہوں۔ «أَبَابِيلَ» کے معنی ہیں گروہ گروہ جھنڈ بہت سارے پے در پے جمع شدہ ادھر ادھر سے آنے والے، بعض نحوی کہتے ہیں اس کا واحد «ابیل» ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان پرندوں کی چونچ تھی پرندوں جیسی اور پنجے کتوں جیسے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سبز رنگ کے پرند تھے جو سمندر سے نکلے تھے ان کے سر درندوں جیسے تھے اور اقوال بھی ہیں یہ پرند باقاعدہ ان لشکریوں کے سروں پر، پر باندھ کر کھڑے ہو گئے اور پھر چیخنے لگے پھر پتھراؤ کیا، جس کے سر میں لگا اس کے نیچے سے نکل گیا اور دو ٹکڑے ہو کر زمین پر گرا جس کے جس عضو پر گرا وہ عضو ساقط ہو گیا ساتھ ہی تیز آندھی آئی جس سے اور آس پاس کے کنکر بھی ان کی آنکھوں میں گھس گئے اور سب تہہ و بالا ہو گئے۔ «عَصْفٍ» کہتے ہیں چارے کو اور کٹی کھیتی کو اور گیہوں کے درخت کے پتوں کو اور «مَّأْكُولٍ» سے مراد ٹکڑے ٹکڑے کیا ہوا ہے۔ 10861 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «عصف» کہتے ہیں بھوسی کو جو اناج کے دانوں کے اوپر ہوتی ہے۔ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد کھیتوں کے وہ پتے ہیں جنہیں جانور چر چکے ہوں مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان کو تہس نہس کر دیا اور عام خاص کو ہلاک کر دیا اس کی ساری تدبیریں الٹ ہو گئیں کوئی بھلائی انہیں نصیب نہ ہوئی ایسا بھی کوئی ان میں صحیح سالم نہ رہا جو کہ ان کی خبر پہنچائے، جو بھی بچا وہ زخمی ہو کر اور اس زخم سے پھر جاں بر نہ ہو سکا، خود بادشاہ بھی گو وہ ایک گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہو گیا تھا جوں توں صنعاء میں پہنچا لیکن وہاں جاتے ہی اس کا کلیجہ پھٹ گیا اور واقعہ بیان کر ہی چکا تھا کہ مر گیا۔ اس کے بعد اس کا لڑکا یکسوم یمن کا بادشاہ بنا پھر اس کے دوسرے بھائی مسروق بن ابرہہ کو سلطنت ملی اب سیف بن ذی یذن حمیری کسریٰ کے دربار میں پہنچا اور اس سے مدد طلب کی تاکہ وہ اہل حبشہ سے لڑے اور یمن ان سے خالی کرا لے کسریٰ نے اس کے ساتھ ایک لشکر جرار کر دیا اس لشکر نے اہل حبشہ کو شکست دی اور ابرہہ کے خاندان سے سلطنت نکل گئی اور پھر قبیلہ حمیر یہاں کا بادشاہ بن گیا عربوں نے اس پر بڑی خوشی منائی اور چاروں طرف سے مبارکبادیاں وصول ہوئیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ابرہہ کے لشکر کے فیل بان اور چرکٹے کو میں نے مکہ شریف میں دیکھا دونوں اندھے ہو گئے تھے چل پھر نہیں سکتے تھے اور بھیک مانگا کرتے تھے۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اساف اور نائلہ بتوں کے پاس یہ بیٹھے رہتے تھے جہاں مشرکین اپنی قربانیاں کرتے تھے اور لوگوں سے بھیک مانگتے پھرتے تھے اس فیل بان کا نام انیسا تھا۔ بعض تاریخوں میں یہ بھی ہے کہ ابرہہ خود اس چڑھائی میں نہ تھا بلکہ اس نے اپنے لشکر کو بہ ماتختی شمس بن مقصود کے بھیجا تھا یہ لشکر بیس ہزار کا تھا اور یہ پرند ان کے اوپر رات کے وقت آئے تھے اور صبح تک ان سب کا ستیاناس ہو چکا تھا لیکن یہ روایت بہت غریب ہے اور صحیح بات یہ ہے کہ خود ابرہہ اشرم حبشی ہی اپنے ساتھ لشکر لے کر آیا تھا یہ ممکن ہے کہ اس کے ہراول کے دستہ پر یہ شخص سردار ہو، اس واقعہ کو بہت سے عرب شاعروں نے اپنے شعروں میں بھی بسط کے ساتھ بیان کیا ہے۔ سورۃ الفتح کی تفسیر میں ہم اس واقعہ کو مفصل بیان کر آئے ہیں جس میں ہے کہ جب حدیبیہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ٹیلے پر چڑھے جہاں سے آپ قریشیوں پر جانے والے تھے تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی لوگوں نے اسے ڈانٹا ڈپٹا لیکن وہ نہ اٹھی لوگ کہنے لگے قصواء تھک گئی آپ نے فرمایا: ”نہ یہ تھکی نہ اس میں اڑنے کی عادت ہے اسے اس اللہ نے روک لیا ہے جس نے ہاتھیوں کو روک لیا تھا“، پھر فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مکے والے جن شرائط پر مجھ سے صلح چاہیں گے میں سب مان لوں گا بشرطیکہ اللہ کی حرمتوں کی ہتک اس میں نہ ہو“ پھر آپ نے اسے ڈانٹا تو وہ فوراً اٹھ کھڑی ہو گئی ۔ [صحیح بخاری:2781] ‏ یہ حدیث صحیح بخاری میں ہے۔ 10862 اور ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ پر سے ہاتھیوں کو روک لیا اور اپنے نبی کو وہاں کا قبضہ دیا اور اپنے ایماندار بندوں کو، سنو آج اس کی حرمت ویسی ہی لوٹ کر آ گئی ہے جیسے کل تھی، خبردار ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔ [صحیح بخاری:112] ‏ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ الفیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ 10863

الفيل 105:5

ابرہہ اور اس کا حشر ٭٭ اللہ رب العزت نے قریش پر جو اپنی خاص نعمت انعام فرمائی تھی اس کا ذکر کر رہا ہے کہ جس لشکر نے ہاتھیوں کو ساتھ لے کر کعبے کو ڈھانے کے لیے چڑھائی کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کہ وہ کعبے کے وجود کو مٹائیں ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ ان کی تمام فریب کاریاں ان کی تمام قوتیں سلب کر لیں انہیں برباد و غارت کر دیا۔ یہ لوگ مذہباً نصرانی تھے لیکن دین مسیح کو مسخ کر دیا تھا قریباً بت پرست ہو گئے تھے انہیں اس طرح نامراد کرنا یہ گویا پیش خیمہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا اور اطلاع تھی آپ کی آمد آمد کی نبی علیہ السلام اسی سال تولد ہوئے تھے۔ اکثر تاریخ داں حضرات کا یہی قول ہے تو گویا رب العالمین فرما رہا ہے کہ اے قریشیو! حبشہ کے اس لشکر پر تمہیں فتح تمہاری بھلائی کی وجہ سے نہیں دی گئی تھی بلکہ اس میں ہمارے گھر کا بچاؤ تھا جسے ہم شرف بزرگی عظمت و عزت میں اپنے آخر الزمان پیغمبر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے بڑھانے والے تھے۔ 10854 غرض اصحاب فیل کا مختصر واقعہ تو یہ ہے جو بیان ہوا اور مطول واقعہ اصحاب الاخدود کے بیان میں گزر چکا ہے کہ قبیلہ حمیر کا آخری بادشاہ ذونواس جو مشرک تھا جس نے اپنے زمانے کے مسلمانوں کو کھائیوں میں قتل کیا تھا جو سچے نصرانی تھے اور تعداد میں تقریباً بیس ہزار تھے، سارے کے سارے شہید کر دئیے گئے تھے صرف دوس ذوثعلبان ایک بچا جو ملک شام جا پہنچا اور قیصر روم سے فریاد رسی چاہی۔ یہ بادشاہ نصرانی مذہب پر تھا اس نے حبشہ کے بادشاہ شاہ نجاشی کو لکھا کہ اس کے ساتھ اپنی پوری فوج کر دو اس لیے کہ یہاں سے دشمن کا ملک قریب تھا۔ اس بادشاہ نے ارباط اور ابویکسوم ابرہہ بن صباح کو امیر لشکر بنا کر بہت بڑا لشکر دے کر دونوں کو اس کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا یہ لشکر یمن پہنچا اور یمن کو اور یمنیوں کو تاخت و تاراج کر دیا۔ ذونواس بھاگ کھڑا ہوا اور دریا میں ڈوب کر مر گیا اور ان لوگوں کی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور سارے یمن پر شاہ حبشہ کا قبضہ ہو گیا اور یہ دونوں سردار یہاں رہنے سہنے لگے لیکن کچھ تھوڑی مدت کے بعد ان میں ناچاقی ہو گئی آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ دونوں نے آمنے سامنے صفیں باندھ لیں اور لڑنے کے لیے نکل آئے۔ عام حملہ ہو اس سے بیشتر ان دونوں سرداروں نے آپس میں کہا کہ فوجوں کو لڑانے اور لوگوں کو قتل کرانے کی کیا ضرورت، آؤ ہم تم دونوں میدان میں نکلیں اور ایک دوسرے سے لڑ کر فیصلہ کر لیں جو زندہ بچ جائے ملک و فوج اس کی۔ چنانچہ یہ بات طے ہو گئی اور دونوں میدان میں نکل آئے ارباط نے ابرہہ پر حملہ کیا اور تلوار کے ایک ہی وار سے چہرہ خونا خون کر دیا ناک ہونٹ اور منہ کٹ گیا، ابرہہ کے غلام عتودہ نے اس موقعہ پر ارباط پر ایک بےپناہ حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا ابرہہ زخمی ہو کر میدان سے زندہ واپس گیا، علاج معالجہ سے زخم اچھے ہو گئے اور یمن کا یہ مستقل بادشاہ بن بیٹھا۔ نجاشی شاہ حبشہ کو جب یہ واقعہ معلوم ہوا تو وہ سخت غصہ ہوا اور ایک خط ابرہہ کو لکھا اسے بڑی لعنت ملامت کی اور کہا کہ قسم اللہ کی میں تیرے شہروں کو پامال کر دوں گا۔ اور تیری چوٹی کاٹ لاؤں گا، ابرہہ نے اس کا جواب نہایت عاجزی سے لکھا اور قاصد کو بہت سارے ہدئیے دئیے اور ایک تھیلی میں یمن کی مٹی بھر دی اور اپنی پیشانی کے بال کاٹ کر اس میں رکھ دئیے۔ اور اپنے خط میں اپنے قصوروں کی معافی طلب کی اور لکھا کہ یہ یمن کی مٹی حاضر ہے اور چوٹی کے بال بھی، آپ اپنی قسم پوری کیجئے اور ناراضی معاف فرمائیے اس سے شاہ حبشہ خوش ہو گیا اور یہاں کی سرداری اسی کے نام کر دی، اب ابرہہ نے نجاشی کو لکھا کہ میں یہاں یمن میں آپ کے لیے ایک ایسا گرجا تعمیر کر رہا ہوں کہ اب تک دنیا میں ایسا نہ بنا ہو اور پھر اس نے گرجا گھر کا بنانا شروع کیا۔ 10855 بڑے اہتمام اور کروفر سے بہت اونچا بہت مضبوط بےحد خوبصورت اور منقش و مزین گرجا بنایا۔ اس قدر بلند تھا کہ چوٹی تک نظر ڈالنے والے کی ٹوپی گر پڑتی تھی اسی لیے عرب اسے «قلیس» کہتے یعنی ٹوپی پھینک دینے والا۔ اب ابرہہ اشرم کو یہ سوجھی کہ لوگ بجائے کعبۃ اللہ کے حج کے اس کا حج کریں، اپنی ساری مملکت میں اس کی منادی کرا دی، عدنانیہ اور قحطانیہ عرب کو یہ بہت برا لگا، ادھر سے قریش بھی بھڑک اٹھے، تھوڑے دن میں کوئی شخص رات کے وقت اس کے اندر گھس گیا اور وہاں پاخانہ کر کے چلا آیا چوکیداروں نے جب یہ دیکھا تو بادشاہ کو خبر پہنچائی اور کہا کہ یہ کام قریشیوں کا ہے چونکہ آپ نے ان کا کعبہ روک دیا ہے۔ لہٰذا انہوں نے جوش اور غضب میں آ کر یہ حرکت کی ہے ابرہہ نے اسی وقت قسم کھا لی کہ میں مکہ پہنچوں گا اور بیت اللہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔ اور ایک روایت میں یوں بھی ہے کہ چند ملے جلے نوجوان قریشیوں نے اس گرجا میں آ ۤگ لگا دی تھی اور اس وقت ہوا بھی بہت تیز تھی سارا گرجا جل گیا اور منہ کے بل زمین پر گر گیا اس پر ابرہہ نے بہت بڑا لشکر ساتھ لے کر مکہ پر چڑھائی کی تاکہ کوئی روک نہ سکے اور اپنے ساتھ ایک بڑا اونچا اور موٹا ہاتھی لیا جسے محمود کہا جاتا تھا۔ اس جیسا ہاتھی اور کوئی نہ تھا شاہ حبشہ نے یہ ہاتھی اس کے پاس اسی غرض سے بھیجا تھا آٹھ یا بارہ ہاتھی اور بھی ساتھ تھے یہ کعبے کے ڈھانے کی نیت سے چلا یہ سوچ کر کہ کعبہ کی دیواروں میں مضبوط زنجیریں ڈال دوں گا اور ہاتھیوں کی گردنوں میں ان زنجیروں کو باندھ دوں گا ہاتھی ایک ہی جھٹکے میں چاروں دیواریں بیت اللہ کی جڑ سے گرا دیں گے۔ جب اہل عرب کو یہ خبریں معلوم ہوئیں تو ان پر بڑا بھاری اثر ہوا انہوں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ خواہ کچھ بھی ہو ہم ضرور اس سے مقابلہ کریں گے اور اسے اس کی اس بدکرداری سے روکیں گے ایک یمنی شریف سردار جو وہاں کے بادشاہوں کی اولاد میں سے تھا جسے ”ذونفر“ کہا جاتا تھا یہ کھڑا ہو گیا اپنی قوم کو اور کل آس پاس کے عرب کو جمع کیا اور اس بدنیت بادشاہ سے مقابلہ کیا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا عربوں کو شکست ہوئی اور ذونفر اس خبیث کے ہاتھ میں قید ہو گیا اس نے اسے بھی ساتھ لیا اور مکہ شریف کی طرف بڑھا۔ 10856 خثم قبیلے کی زمین پر جب یہ پہنچا تو یہاں نفیل بن حبیب خثعمی نے اپنے لشکروں سے اس کا مقابلہ کیا لیکن ابرہہ نے انہیں بھی مغلوب کر لیا اور نفیل بھی قید ہو گیا پہلے تو اس ظالم نے اسے قتل کرنا چاہا لیکن پھر قتل نہ کیا اور قید کر کے ساتھ لے لیا تاکہ راستہ بنائے۔ جب طائف کے قریب پہنچا تو قبیلہ ثقیف نے اس سے صلح کر لی کہ ایسا نہ ہو ان کے بت خانوں کو جس میں لات نامی بت تھا یہ توڑ دے اس نے بھی ان کی بڑی آؤ بھگت کی انہوں نے ابورغال کو اس کے ساتھ کر دیا کہ یہ تمہیں وہاں کا راستہ بتائے گا۔ ابرہہ جب مکے کے بالکل قریب مغمس کے پہنچا تو اس نے یہاں پڑاؤ کیا اس کے لشکر نے آس پاس مکہ والوں کے جو جانور اونٹ وغیرہ چر چگ رہے تھے سب کو اپنے قبضہ میں کیا ان جانوروں میں دو سو اونٹ تو صرف عبدالمطلب کے تھے اسود بن مقصود جو اس کے لشکر کے ہراول کا سردار تھا اس نے ابرہہ کے حکم سے ان جانوروں کو لوٹا تھا، جس پر عرب شاعروں نے اس کی ہجو میں اشعار تصنیف کئے ہوئے ہیں جو سیرۃ ابن اسحاق میں موجود ہیں۔ اب ابرہہ نے اپنا قاصد حناطہٰ حمیری مکہ والوں کے پاس بھیجا کہ مکہ کے سب سے بڑے سردار کو میرے پاس لاؤ اور یہ بھی اعلان کر دو کہ میں مکہ والوں سے لڑنے نہیں آیا میرا ارادہ صرف بیت اللہ کو گرانے کا ہے ہاں اگر مکہ والے اس کے بچانے کے درپے ہوئے تو لامحالہ مجھے ان سے لڑائی کرنی پڑے گی، حناطہٰ جب مکہ میں آیا اور لوگوں سے ملا جلا تو معلوم ہوا کہ یہاں کا بڑا سردار عبدالمطلب بن ہاشم ہے، یہ عبدالمطلب سے ملا اور شاہی پیغام پہنچایا۔ جس کے جواب میں عبدالمطلب نے کہا: واللہ! نہ ہمارا ارادہ اس سے لڑنے کا ہے نہ ہم میں اتنی طاقت ہے یہ اللہ کا حرمت والا گھر ہے اس کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی زندہ یادگار ہے اللہ اگر چاہے گا تو اپنے گھر کی آپ حفاظت کرے گا، ورنہ ہم میں تو ہمت و قوت نہیں۔ 10857 حناطہٰ نے کہا: اچھا تو آپ میرے ساتھ بادشاہ کے پاس چلے چلئیے عبدالمطلب ساتھ ہو لئے، بادشاہ نے جب انہیں دیکھا تو ہیبت میں آ گیا عبدالمطلب گورے چٹے سڈول اور مضبوط قوی والے حسین و جمیل انسان تھے، دیکھتے ہی ابرہہ تخت سے نیچے اتر آیا اور فرش پر عبدالمطلب کے ساتھ بیٹھ گیا اور اپنے ترجمان سے کہا کہ ان سے پوچھ کہ کیا چاہتا ہے؟ عبدالمطلب نے کہا میرے دو سو اونٹ جو بادشاہ نے لے لیے ہیں انہیں واپس کر دیا جائے بادشاہ نے کہا ان سے کہہ دے کہ پہلی نظر میں تیرا رعب مجھ پر پڑا تھا اور میرے دل میں تیری وقعت بیٹھ گئی تھی لیکن پہلے ہی کلام میں تو نے سب کچھ کھو دی، اپنے دو سو اونٹ کی تو تجھے فکر ہے اور اپنے اور اپنی قوم کے دین کی تجھے فکر نہیں میں تو تم لوگوں کا عبادت خانہ توڑنے اور اسے خاک میں ملانے کے لیے آیا ہوں۔ عبدالمطلب نے جواب دیا کہ سن بادشاہ اونٹ تو میرے ہیں اس لیے انہیں بچانے کی کوشش میں میں ہوں اور خانہ کعبہ اللہ کا ہے وہ خود اسے بچا لے گا اس پر یہ سرکش کہنے لگا کہ اللہ بھی آج اسے میرے ہاتھ سے نہیں بچا سکتا، عبدالمطلب نے کہا: بہتر ہے وہ جانے اور تو جان۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37989] ‏ یہ بھی مروی ہے کہ اہل مکہ نے تمام حجاز کا تہائی مال ابرہہ کو دینا چاہا کہ وہ اپنے اس بد ارادہ سے باز آئے لیکن اس نے قبول نہ کیا خیر عبدالمطلب تو اپنے اونٹ لے کر چل دئیے اور آ کر قریش کو حکم دیا کہ مکہ بالکل خالی کر دو اور پہاڑوں میں چلے جاؤ، اب عبدالمطلب اپنے ساتھ قریش کے چیدہ چیدہ لوگوں کو لے کر بیت اللہ میں آیا اور بیت اللہ کے دروازہ کا کنڈا تھام کر رو رو کر اور گڑگڑا گڑگڑا کر دعائیں مانگنی شروع کیں کہ باری تعالیٰ ابرہہ اور اس کے خونخوار لشکر سے اپنے پاک اور ذی عزت گھر کو بچا لے۔ عبدالمطلب نے اس وقت یہ دعائیہ اشعار پڑھے۔ «لَاهُمَّ إِنَّ الْمَرْء يَمْ نَع رَحْلَهُ فَامْنَعْ رِحَالك» *** «لَا يَغْلِبَنَّ صَلِيبُهُمْ وَمِحَالُهُمْ أَبَدًا مِحَالَك» یعنی ہم بےفکر ہیں ہم جانتے ہیں کہ ہر گھر والا اپنے گھر کا بچاؤ آپ کرتا ہے۔ اے اللہ! تو بھی اپنے گھر کو اپنے دشمنوں سے بچا یہ تو ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ان کی صلیب اور ان کی ڈولیں تیری ڈولوں پر غالب آ جائیں۔ 10858 اب عبدالمطلب نے بیت اللہ کے دروازے کا کنڈا ہاتھ سے چھوڑ دیا اور اپنے تمام ساتھیوں کو لے کر آس پاس کے پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ گیا، یہ بھی مذکور ہے کہ جاتے ہوئے قربانی کے سو اونٹ بیت اللہ کے ارد گرد نشان لگا کر چھوڑ دئیے تھے اس نیت سے کہ اگر یہ بد دین آئے اور انہوں نے اللہ کے نام کی قربانی کے ان جانوروں کو چھیڑا تو عذاب الٰہی ان پر اترے گا، دوسری صبح ابرہہ کے لشکر میں مکہ جانے کی تیاریاں ہونے لگیں اپنا خاص ہاتھی جس کا نام محمود تھا اسے تیار کیا لشکر میں کمر بندی ہو چکی تھی اور مکہ شریف کی طرف منہ اٹھا کر چلنے کی تیاری کی اس وقت نفیل بن حبیب جو اس سے راستے میں لڑا تھا اور اب بطور قیدی کے اس کے ساتھ تھا وہ آگے بڑھا اور شاہی ہاتھی کا کان پکڑ لیا اور کہا محمود بیٹھ جا اور جہاں سے آیا ہے وہیں خیریت کے ساتھ چلا جا تو اللہ تعالیٰ کے محترم شہر میں ہے یہ کہہ کر کان چھوڑ دیا اور بھاگ کر قریب کی پہاڑی میں جا چھپا۔ محمود ہاتھی یہ سنتے ہی بیٹھ گیا، اب ہزار جتن فیل بان کر رہے ہیں لشکری بھی کوششیں کرتے کرتے تھک گئے لیکن ہاتھی اپنی جگہ سے ہلتا ہی نہیں، سر پر آنکس مار رہے ہیں ادھر ادھر سے بھالے اور برچھے مار رہے ہیں آنکھوں میں آنکس ڈال رہے ہیں غرض تمام جتن کر لیے لیکن ہاتھی جنبش بھی نہیں کرتا پھر بطور امتحان کے اس کا منہ یمن کی طرف کر کے چلانا چاہا تو جھٹ سے کھڑا ہو کر دوڑتا ہوا چل دیا شام کی طرف چلانا چاہا تو بھی پوری طاقت سے آگے بڑھ گیا، مشرق کی طرف لے جانا چاہا تو بھی بھاگا بھاگا گیا پھر مکہ شریف کی طرف منہ کر کے آگے بڑھانا چاہا وہیں بیٹھ گیا - انہوں نے پھر اسے مارنا شروع کیا دیکھا کہ ایک گھٹا ٹوپ پرندوں کا جھرمٹ بادل کی طرح سمندر کے کنارے کی طرف سے امڈا چلا آ رہا ہے ابھی پوری طرح دیکھ بھی نہیں پائے تھے کہ وہ جانور سر پر آ گئے چاروں طرف سے سارے لشکر کو گھیر لیا اور ان میں ہر ایک کی چونچ میں ایک مسور یا ماش کے دانے برابر کنکری تھی، اور دونوں پنجوں میں دو دو کنکریاں تھیں یہ ان پر پھینکنے لگے جس پر یہ کنکری آن پڑی وہ وہیں ہلاک ہو گیا۔ اب تو اس لشکر میں بھاگڑ پڑ گئی ہر ایک نفیل نفیل کرنے لگا کیونکہ اسے ان لوگوں نے اپنا راہبر اور راستے بتانے والا سمجھ رکھا تھا، نفیل تو ہاتھی کو کہہ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور دیگر اہل مکہ ان لوگوں کی یہ درگت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور نفیل وہیں کھڑا یہ اشعار پڑھ رہا تھا۔ «این المفر والا لہ الطالب» *** «والاشرم المغلوب لیس الغالب» اب جائے پناہ کہاں ہے؟ جبکہ اللہ خود تاک میں لگ گیا ہے سنو اشرم بدبخت مغلوب ہو گیا اب یہ پنپنے کا نہیں۔ 10859 اور بھی نفیل نے اس واقعہ کے متعلق بہت سے اشعار کہے ہیں جن میں اس واقعہ کو بیان کیا ہے اور کہا ہے کاش کہ تو اس وقت موجود ہوتا جبکہ ان ہاتھی والوں کی شامت آئی ہے اور وادی محصب میں ان پر عذاب کے سنگریزے برسے ہیں تو اس وقت تو اس اللہ کے لشکر یعنی پرندوں کو دیکھ کر قطعاً سجدے میں گر پڑتا ہم تو وہاں کھڑے حمد رب کی راگنیاں الاپ رہے تھے گو کلیجے ہمارے بھی اونچے ہو گئے تھے کہ کہیں کوئی کنکری ہمارا کام بھی تمام نہ کر دے نصرانی منہ موڑے بھاگ رہے تھے اور نفیل نفیل پکار رہے تھے۔ گویا کہ نفیل پر ان کے باپ دادوں کا کوئی قرض تھا۔ واقدی فرماتے ہیں یہ پرندے زرد رنگ کے تھے کبوتر سے کچھ چھوٹے تھے ان کے پاؤں سرخ تھے اور روایت میں ہے کہ جب محمود ہاتھی بیٹھ گیا اور پوری کوشش کے باوجود بھی نہ اٹھا تو انہوں نے دوسرے ہاتھی کو آگے کیا اس نے قدم بڑھایا ہی تھا کہ اس کی پیشانی پر کنکری پڑی اور بلبلا کر پیچھے ہٹا اور پھرا اور ہاتھی بھی بھاگ کھڑے ہوئے ادھر برابر کنکریاں آنے لگیں اکثر تو وہیں ڈھیر ہو گئے۔ اور بعض جو ادھر ادھر بھاگ نکلے گا ان میں سے کوئی جانبر نہ ہوا بھاگتے بھاگتے ان کے اعضاء کٹ کٹ کر گرتے جاتے تھے اور بالآخر جان سے جاتے تھے۔ ابرہہ بادشاہ بھی بھاگا لیکن ایک ایک عضو بدن جھڑنا شروع ہوا یہاں تک کہ خثعم کے شہروں میں سے صنعاء میں جب وہ پہنچا تو بالکل گوشت کا لوتھڑا بنا ہوا تھا وہیں بلک بلک کر دم توڑا اور کتے کی موت مرا، دل تک پھٹ گیا قریشیوں کو بڑا مال ہاتھ لگا۔ عبدالمطلب نے تو سونے سے ایک کنواں پر کر لیا تھا، زمین عرب میں آبلہ اور چیچک اسی سال پیدا ہوتے ہوئے دیکھے گئے اور اسی سال سپند اور حنظل وغیرہ کے کڑوے درخت بھی اسی سال زمین عرب میں دیکھے گئے ہیں پس اللہ تعالیٰ بزبان رسول معصوم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی یہ نعمت یاد دلاتا ہے اور گویا فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم میرے گھر کی اسی طرح عزت و حرمت کرتے رہتے اور میرے رسول کو مانتے تو میں بھی اسی طرح تمہاری حفاظت کرتا اور تمہیں دشمنوں سے نجات دیتا۔ 10860 «أَبَابِيلَ» جمع کا صیغہ ہے اس کا واحد لغت عرب میں پایا نہیں گیا، «سجیل» کے معنی ہیں بہت ہی سخت اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دو فارسی لفظوں سے مرکب ہے یعنی «سنگ» اور «گل» سے یعنی مٹی اور پتھر۔ غرض «سِجِّيلٍ» وہ ہے جس میں پتھر معہ مٹی کے ہو۔ «عَصْفٍ» جمع ہے «عَصْفَةٌ» کی کھیتی کے ان پتوں کو کہتے ہیں جو پک نہ گئے ہوں۔ «أَبَابِيلَ» کے معنی ہیں گروہ گروہ جھنڈ بہت سارے پے در پے جمع شدہ ادھر ادھر سے آنے والے، بعض نحوی کہتے ہیں اس کا واحد «ابیل» ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان پرندوں کی چونچ تھی پرندوں جیسی اور پنجے کتوں جیسے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سبز رنگ کے پرند تھے جو سمندر سے نکلے تھے ان کے سر درندوں جیسے تھے اور اقوال بھی ہیں یہ پرند باقاعدہ ان لشکریوں کے سروں پر، پر باندھ کر کھڑے ہو گئے اور پھر چیخنے لگے پھر پتھراؤ کیا، جس کے سر میں لگا اس کے نیچے سے نکل گیا اور دو ٹکڑے ہو کر زمین پر گرا جس کے جس عضو پر گرا وہ عضو ساقط ہو گیا ساتھ ہی تیز آندھی آئی جس سے اور آس پاس کے کنکر بھی ان کی آنکھوں میں گھس گئے اور سب تہہ و بالا ہو گئے۔ «عَصْفٍ» کہتے ہیں چارے کو اور کٹی کھیتی کو اور گیہوں کے درخت کے پتوں کو اور «مَّأْكُولٍ» سے مراد ٹکڑے ٹکڑے کیا ہوا ہے۔ 10861 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «عصف» کہتے ہیں بھوسی کو جو اناج کے دانوں کے اوپر ہوتی ہے۔ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد کھیتوں کے وہ پتے ہیں جنہیں جانور چر چکے ہوں مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان کو تہس نہس کر دیا اور عام خاص کو ہلاک کر دیا اس کی ساری تدبیریں الٹ ہو گئیں کوئی بھلائی انہیں نصیب نہ ہوئی ایسا بھی کوئی ان میں صحیح سالم نہ رہا جو کہ ان کی خبر پہنچائے، جو بھی بچا وہ زخمی ہو کر اور اس زخم سے پھر جاں بر نہ ہو سکا، خود بادشاہ بھی گو وہ ایک گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہو گیا تھا جوں توں صنعاء میں پہنچا لیکن وہاں جاتے ہی اس کا کلیجہ پھٹ گیا اور واقعہ بیان کر ہی چکا تھا کہ مر گیا۔ اس کے بعد اس کا لڑکا یکسوم یمن کا بادشاہ بنا پھر اس کے دوسرے بھائی مسروق بن ابرہہ کو سلطنت ملی اب سیف بن ذی یذن حمیری کسریٰ کے دربار میں پہنچا اور اس سے مدد طلب کی تاکہ وہ اہل حبشہ سے لڑے اور یمن ان سے خالی کرا لے کسریٰ نے اس کے ساتھ ایک لشکر جرار کر دیا اس لشکر نے اہل حبشہ کو شکست دی اور ابرہہ کے خاندان سے سلطنت نکل گئی اور پھر قبیلہ حمیر یہاں کا بادشاہ بن گیا عربوں نے اس پر بڑی خوشی منائی اور چاروں طرف سے مبارکبادیاں وصول ہوئیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ابرہہ کے لشکر کے فیل بان اور چرکٹے کو میں نے مکہ شریف میں دیکھا دونوں اندھے ہو گئے تھے چل پھر نہیں سکتے تھے اور بھیک مانگا کرتے تھے۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اساف اور نائلہ بتوں کے پاس یہ بیٹھے رہتے تھے جہاں مشرکین اپنی قربانیاں کرتے تھے اور لوگوں سے بھیک مانگتے پھرتے تھے اس فیل بان کا نام انیسا تھا۔ بعض تاریخوں میں یہ بھی ہے کہ ابرہہ خود اس چڑھائی میں نہ تھا بلکہ اس نے اپنے لشکر کو بہ ماتختی شمس بن مقصود کے بھیجا تھا یہ لشکر بیس ہزار کا تھا اور یہ پرند ان کے اوپر رات کے وقت آئے تھے اور صبح تک ان سب کا ستیاناس ہو چکا تھا لیکن یہ روایت بہت غریب ہے اور صحیح بات یہ ہے کہ خود ابرہہ اشرم حبشی ہی اپنے ساتھ لشکر لے کر آیا تھا یہ ممکن ہے کہ اس کے ہراول کے دستہ پر یہ شخص سردار ہو، اس واقعہ کو بہت سے عرب شاعروں نے اپنے شعروں میں بھی بسط کے ساتھ بیان کیا ہے۔ سورۃ الفتح کی تفسیر میں ہم اس واقعہ کو مفصل بیان کر آئے ہیں جس میں ہے کہ جب حدیبیہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ٹیلے پر چڑھے جہاں سے آپ قریشیوں پر جانے والے تھے تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی لوگوں نے اسے ڈانٹا ڈپٹا لیکن وہ نہ اٹھی لوگ کہنے لگے قصواء تھک گئی آپ نے فرمایا: ”نہ یہ تھکی نہ اس میں اڑنے کی عادت ہے اسے اس اللہ نے روک لیا ہے جس نے ہاتھیوں کو روک لیا تھا“، پھر فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مکے والے جن شرائط پر مجھ سے صلح چاہیں گے میں سب مان لوں گا بشرطیکہ اللہ کی حرمتوں کی ہتک اس میں نہ ہو“ پھر آپ نے اسے ڈانٹا تو وہ فوراً اٹھ کھڑی ہو گئی ۔ [صحیح بخاری:2781] ‏ یہ حدیث صحیح بخاری میں ہے۔ 10862 اور ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ پر سے ہاتھیوں کو روک لیا اور اپنے نبی کو وہاں کا قبضہ دیا اور اپنے ایماندار بندوں کو، سنو آج اس کی حرمت ویسی ہی لوٹ کر آ گئی ہے جیسے کل تھی، خبردار ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔ [صحیح بخاری:112] ‏ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ الفیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ 10863

قريش 106:1

قریشیوں کے سات فضائل: اس کی فضیلت میں ایک غریب حدیث بیہقی کی کتاب خلافیات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے قریشیوں کو سات فضیلتیں دی ہیں ایک تو یہ کہ میں ان میں سے ہوں، دوسرے یہ کہ نبوت ان میں ہے، تیسرے یہ کہ بیت اللہ کے پاسبان یہ ہیں، چوتھے یہ کہ چاہ زمزم کے ساقی یہ ہیں، پانچویں یہ کہ اللہ نے انہیں ہاتھی والوں پر غالب کیا، چھٹے یہ کہ دس سال تک انہوں نے اللہ کی عبادت کی جبکہ اور کوئی عبادت اللہ کی نہ کرتا تھا، ساتویں یہ کہ ان کے بارے میں قرآن کریم کی یہ سورت نازل ہوئی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بسم الله»، الخ پڑھ کر یہ سورت تلاوت کی۔ [مستدرك حاكم:536/2،إسناده ضعيف‏] امن و امان کی ضمانت ٭٭ موجودہ عثمانی قرآن کی ترتیب میں یہ سورت سورۃ الفیل سے علیحدہ ہے اور دونوں کے درمیان «بسم الله» کی آیت کا فاصلہ ہے، مضمون کے اعتبار سے یہ سورت پہلی سے ہی متعلق ہے جیسے کہ محمد بن اسحاق عبدالرحمن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ وغیرہ نے تصریح کی ہے اس بنا پر معنی یہ ہوں گے کہ ہم نے مکہ سے ہاتھیوں کو روکا اور ہاتھی والوں کو ہلاک کیا۔ یہ قریشیوں کو الفت دلانے اور انہیں اجتماع کے ساتھ باامن اس شہر میں رہنے سہنے کے لیے تھا۔ اور یہ مراد بھی کی گئی ہے کہ یہ قریشی جاڑوں اور گرمیوں میں کیا دور دراز کے سفر امن و امان سے طے کر سکتے تھے کیونکہ مکہ جیسے محترم شہر میں رہنے کی وجہ سے ہر جگہ ان کی عزت ہوتی تھی بلکہ ان کے ساتھ بھی جو ہوتا تھا امن و امان سے سفر طے کر لیتا تھا اسی طرح وطن میں ہر طرح کا امن انہیں حاصل ہوتا تھا۔ جیسے اور جگہ قرآن کریم میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ» [29-العنكبوت:67] ‏ الخ یعنی ” کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والی جگہ بنا دیا ہے اس کے آس پاس تو لوگ اچک لیے جاتے ہیں “، لیکن یہاں کے رہنے والے نڈر ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «لِإِيلَافِ»، میں پہلا «لام» تعجب کا «لام» ہے اور دونوں سورتیں بالکل جداگانہ ہیں جیسا کہ مسلمانوں کا اجماع ہے۔ تو گویا یوں فرمایا جا رہا ہے کہ تم قریشیوں کے اس اجتماع اور الفت پر تعجب کرو کہ میں نے انہیں کیسی بھاری نعمت عطا فرما رکھی ہے انہیں چاہیئے کہ میری اس نعمت کا شکر اس طرح ادا کریں کہ صرف میری ہی عبادت کرتے رہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَـٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» [27-النمل:91] ‏، یعنی ” اے نبی تم کہہ دو کہ مجھے تو صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرم بنایا جو ہر چیز کا مالک ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کا مطیع اور فرمانبردار رہوں “۔ 10868 پھر فرماتا ہے وہ رب بیت جس نے انہیں بھوک میں کھلایا اور خوف میں نڈر رکھا انہیں چاہیئے کہ اس کی عبادت میں کسی چھوٹے بڑے کو شریک نہ ٹھہرائیں جو اللہ کے اس حکم کی بجا آوری کرے گا وہ تو دنیا کے اس امن کے ساتھ آخرت کے دن بھی امن و امان سے رہے گا، اور اس کی نافرمانی کرنے سے یہ امن بھی بےامنی ہے اور آخرت کا امن بھی ڈر خوف اور انتہائی مایوسی سے بدل جائے گا۔ جیسے اور جگہ فرمایا: «وَضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّـهِ فَأَذَاقَهَا اللَّـهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ» * «وَلَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِنْهُمْ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظَالِمُونَ» [16-النحل:112-113] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ ان بستی والوں کی مثال بیان فرماتا ہے جو امن و اطمینان کے ساتھ تھے ہر جگہ سے بافراغت روزیاں کھچی چلی آتی تھیں لیکن انہیں اللہ کی ناشکری کرنے کی سوجھی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں بھوک اور خوف کا لباس چکھا دیا یہی ان کے کرتوت کا بدلہ تھا ان کے پاس ان ہی میں سے اللہ کے بھیجے ہوئے آئے لیکن انہوں نے انہیں جھٹلایا اس ظلم پر اللہ کے عذابوں نے انہیں گرفتار کر لیا “۔ ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریشیو! تمہیں تو اللہ یوں راحت و آرام پہنچائے گھر بیٹھے کھلائے پلائے چاروں طرف بدامنی کی آگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں اور تمہیں امن و امان سے میٹھی نیند سلائے پھر تم پر کیا مصیبت ہے جو تم اپنے اس پروردگار کی توحید سے جی چراؤ اور اس کی عبادت میں دل نہ لگاؤ بلکہ اس کے سوا دو سروں کے آگے سر جھکاؤ“ ۔ [مسند احمد:460/6:اسناد ضعیف] ‏ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ قريش کی تفسیر ختم ہوئی۔ 10869

قريش 106:2

قریشیوں کے سات فضائل: اس کی فضیلت میں ایک غریب حدیث بیہقی کی کتاب خلافیات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے قریشیوں کو سات فضیلتیں دی ہیں ایک تو یہ کہ میں ان میں سے ہوں، دوسرے یہ کہ نبوت ان میں ہے، تیسرے یہ کہ بیت اللہ کے پاسبان یہ ہیں، چوتھے یہ کہ چاہ زمزم کے ساقی یہ ہیں، پانچویں یہ کہ اللہ نے انہیں ہاتھی والوں پر غالب کیا، چھٹے یہ کہ دس سال تک انہوں نے اللہ کی عبادت کی جبکہ اور کوئی عبادت اللہ کی نہ کرتا تھا، ساتویں یہ کہ ان کے بارے میں قرآن کریم کی یہ سورت نازل ہوئی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بسم الله»، الخ پڑھ کر یہ سورت تلاوت کی۔ [مستدرك حاكم:536/2،إسناده ضعيف‏] امن و امان کی ضمانت ٭٭ موجودہ عثمانی قرآن کی ترتیب میں یہ سورت سورۃ الفیل سے علیحدہ ہے اور دونوں کے درمیان «بسم الله» کی آیت کا فاصلہ ہے، مضمون کے اعتبار سے یہ سورت پہلی سے ہی متعلق ہے جیسے کہ محمد بن اسحاق عبدالرحمن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ وغیرہ نے تصریح کی ہے اس بنا پر معنی یہ ہوں گے کہ ہم نے مکہ سے ہاتھیوں کو روکا اور ہاتھی والوں کو ہلاک کیا۔ یہ قریشیوں کو الفت دلانے اور انہیں اجتماع کے ساتھ باامن اس شہر میں رہنے سہنے کے لیے تھا۔ اور یہ مراد بھی کی گئی ہے کہ یہ قریشی جاڑوں اور گرمیوں میں کیا دور دراز کے سفر امن و امان سے طے کر سکتے تھے کیونکہ مکہ جیسے محترم شہر میں رہنے کی وجہ سے ہر جگہ ان کی عزت ہوتی تھی بلکہ ان کے ساتھ بھی جو ہوتا تھا امن و امان سے سفر طے کر لیتا تھا اسی طرح وطن میں ہر طرح کا امن انہیں حاصل ہوتا تھا۔ جیسے اور جگہ قرآن کریم میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ» [29-العنكبوت:67] ‏ الخ یعنی ” کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والی جگہ بنا دیا ہے اس کے آس پاس تو لوگ اچک لیے جاتے ہیں “، لیکن یہاں کے رہنے والے نڈر ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «لِإِيلَافِ»، میں پہلا «لام» تعجب کا «لام» ہے اور دونوں سورتیں بالکل جداگانہ ہیں جیسا کہ مسلمانوں کا اجماع ہے۔ تو گویا یوں فرمایا جا رہا ہے کہ تم قریشیوں کے اس اجتماع اور الفت پر تعجب کرو کہ میں نے انہیں کیسی بھاری نعمت عطا فرما رکھی ہے انہیں چاہیئے کہ میری اس نعمت کا شکر اس طرح ادا کریں کہ صرف میری ہی عبادت کرتے رہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَـٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» [27-النمل:91] ‏، یعنی ” اے نبی تم کہہ دو کہ مجھے تو صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرم بنایا جو ہر چیز کا مالک ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کا مطیع اور فرمانبردار رہوں “۔ 10868 پھر فرماتا ہے وہ رب بیت جس نے انہیں بھوک میں کھلایا اور خوف میں نڈر رکھا انہیں چاہیئے کہ اس کی عبادت میں کسی چھوٹے بڑے کو شریک نہ ٹھہرائیں جو اللہ کے اس حکم کی بجا آوری کرے گا وہ تو دنیا کے اس امن کے ساتھ آخرت کے دن بھی امن و امان سے رہے گا، اور اس کی نافرمانی کرنے سے یہ امن بھی بےامنی ہے اور آخرت کا امن بھی ڈر خوف اور انتہائی مایوسی سے بدل جائے گا۔ جیسے اور جگہ فرمایا: «وَضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّـهِ فَأَذَاقَهَا اللَّـهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ» * «وَلَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِنْهُمْ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظَالِمُونَ» [16-النحل:112-113] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ ان بستی والوں کی مثال بیان فرماتا ہے جو امن و اطمینان کے ساتھ تھے ہر جگہ سے بافراغت روزیاں کھچی چلی آتی تھیں لیکن انہیں اللہ کی ناشکری کرنے کی سوجھی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں بھوک اور خوف کا لباس چکھا دیا یہی ان کے کرتوت کا بدلہ تھا ان کے پاس ان ہی میں سے اللہ کے بھیجے ہوئے آئے لیکن انہوں نے انہیں جھٹلایا اس ظلم پر اللہ کے عذابوں نے انہیں گرفتار کر لیا “۔ ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریشیو! تمہیں تو اللہ یوں راحت و آرام پہنچائے گھر بیٹھے کھلائے پلائے چاروں طرف بدامنی کی آگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں اور تمہیں امن و امان سے میٹھی نیند سلائے پھر تم پر کیا مصیبت ہے جو تم اپنے اس پروردگار کی توحید سے جی چراؤ اور اس کی عبادت میں دل نہ لگاؤ بلکہ اس کے سوا دو سروں کے آگے سر جھکاؤ“ ۔ [مسند احمد:460/6:اسناد ضعیف] ‏ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ قريش کی تفسیر ختم ہوئی۔ 10869

قريش 106:3

قریشیوں کے سات فضائل: اس کی فضیلت میں ایک غریب حدیث بیہقی کی کتاب خلافیات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے قریشیوں کو سات فضیلتیں دی ہیں ایک تو یہ کہ میں ان میں سے ہوں، دوسرے یہ کہ نبوت ان میں ہے، تیسرے یہ کہ بیت اللہ کے پاسبان یہ ہیں، چوتھے یہ کہ چاہ زمزم کے ساقی یہ ہیں، پانچویں یہ کہ اللہ نے انہیں ہاتھی والوں پر غالب کیا، چھٹے یہ کہ دس سال تک انہوں نے اللہ کی عبادت کی جبکہ اور کوئی عبادت اللہ کی نہ کرتا تھا، ساتویں یہ کہ ان کے بارے میں قرآن کریم کی یہ سورت نازل ہوئی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بسم الله»، الخ پڑھ کر یہ سورت تلاوت کی۔ [مستدرك حاكم:536/2،إسناده ضعيف‏] امن و امان کی ضمانت ٭٭ موجودہ عثمانی قرآن کی ترتیب میں یہ سورت سورۃ الفیل سے علیحدہ ہے اور دونوں کے درمیان «بسم الله» کی آیت کا فاصلہ ہے، مضمون کے اعتبار سے یہ سورت پہلی سے ہی متعلق ہے جیسے کہ محمد بن اسحاق عبدالرحمن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ وغیرہ نے تصریح کی ہے اس بنا پر معنی یہ ہوں گے کہ ہم نے مکہ سے ہاتھیوں کو روکا اور ہاتھی والوں کو ہلاک کیا۔ یہ قریشیوں کو الفت دلانے اور انہیں اجتماع کے ساتھ باامن اس شہر میں رہنے سہنے کے لیے تھا۔ اور یہ مراد بھی کی گئی ہے کہ یہ قریشی جاڑوں اور گرمیوں میں کیا دور دراز کے سفر امن و امان سے طے کر سکتے تھے کیونکہ مکہ جیسے محترم شہر میں رہنے کی وجہ سے ہر جگہ ان کی عزت ہوتی تھی بلکہ ان کے ساتھ بھی جو ہوتا تھا امن و امان سے سفر طے کر لیتا تھا اسی طرح وطن میں ہر طرح کا امن انہیں حاصل ہوتا تھا۔ جیسے اور جگہ قرآن کریم میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ» [29-العنكبوت:67] ‏ الخ یعنی ” کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والی جگہ بنا دیا ہے اس کے آس پاس تو لوگ اچک لیے جاتے ہیں “، لیکن یہاں کے رہنے والے نڈر ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «لِإِيلَافِ»، میں پہلا «لام» تعجب کا «لام» ہے اور دونوں سورتیں بالکل جداگانہ ہیں جیسا کہ مسلمانوں کا اجماع ہے۔ تو گویا یوں فرمایا جا رہا ہے کہ تم قریشیوں کے اس اجتماع اور الفت پر تعجب کرو کہ میں نے انہیں کیسی بھاری نعمت عطا فرما رکھی ہے انہیں چاہیئے کہ میری اس نعمت کا شکر اس طرح ادا کریں کہ صرف میری ہی عبادت کرتے رہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَـٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» [27-النمل:91] ‏، یعنی ” اے نبی تم کہہ دو کہ مجھے تو صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرم بنایا جو ہر چیز کا مالک ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کا مطیع اور فرمانبردار رہوں “۔ 10868 پھر فرماتا ہے وہ رب بیت جس نے انہیں بھوک میں کھلایا اور خوف میں نڈر رکھا انہیں چاہیئے کہ اس کی عبادت میں کسی چھوٹے بڑے کو شریک نہ ٹھہرائیں جو اللہ کے اس حکم کی بجا آوری کرے گا وہ تو دنیا کے اس امن کے ساتھ آخرت کے دن بھی امن و امان سے رہے گا، اور اس کی نافرمانی کرنے سے یہ امن بھی بےامنی ہے اور آخرت کا امن بھی ڈر خوف اور انتہائی مایوسی سے بدل جائے گا۔ جیسے اور جگہ فرمایا: «وَضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّـهِ فَأَذَاقَهَا اللَّـهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ» * «وَلَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِنْهُمْ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظَالِمُونَ» [16-النحل:112-113] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ ان بستی والوں کی مثال بیان فرماتا ہے جو امن و اطمینان کے ساتھ تھے ہر جگہ سے بافراغت روزیاں کھچی چلی آتی تھیں لیکن انہیں اللہ کی ناشکری کرنے کی سوجھی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں بھوک اور خوف کا لباس چکھا دیا یہی ان کے کرتوت کا بدلہ تھا ان کے پاس ان ہی میں سے اللہ کے بھیجے ہوئے آئے لیکن انہوں نے انہیں جھٹلایا اس ظلم پر اللہ کے عذابوں نے انہیں گرفتار کر لیا “۔ ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریشیو! تمہیں تو اللہ یوں راحت و آرام پہنچائے گھر بیٹھے کھلائے پلائے چاروں طرف بدامنی کی آگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں اور تمہیں امن و امان سے میٹھی نیند سلائے پھر تم پر کیا مصیبت ہے جو تم اپنے اس پروردگار کی توحید سے جی چراؤ اور اس کی عبادت میں دل نہ لگاؤ بلکہ اس کے سوا دو سروں کے آگے سر جھکاؤ“ ۔ [مسند احمد:460/6:اسناد ضعیف] ‏ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ قريش کی تفسیر ختم ہوئی۔ 10869

قريش 106:4

قریشیوں کے سات فضائل: اس کی فضیلت میں ایک غریب حدیث بیہقی کی کتاب خلافیات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے قریشیوں کو سات فضیلتیں دی ہیں ایک تو یہ کہ میں ان میں سے ہوں، دوسرے یہ کہ نبوت ان میں ہے، تیسرے یہ کہ بیت اللہ کے پاسبان یہ ہیں، چوتھے یہ کہ چاہ زمزم کے ساقی یہ ہیں، پانچویں یہ کہ اللہ نے انہیں ہاتھی والوں پر غالب کیا، چھٹے یہ کہ دس سال تک انہوں نے اللہ کی عبادت کی جبکہ اور کوئی عبادت اللہ کی نہ کرتا تھا، ساتویں یہ کہ ان کے بارے میں قرآن کریم کی یہ سورت نازل ہوئی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بسم الله»، الخ پڑھ کر یہ سورت تلاوت کی۔ [مستدرك حاكم:536/2،إسناده ضعيف‏] امن و امان کی ضمانت ٭٭ موجودہ عثمانی قرآن کی ترتیب میں یہ سورت سورۃ الفیل سے علیحدہ ہے اور دونوں کے درمیان «بسم الله» کی آیت کا فاصلہ ہے، مضمون کے اعتبار سے یہ سورت پہلی سے ہی متعلق ہے جیسے کہ محمد بن اسحاق عبدالرحمن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ وغیرہ نے تصریح کی ہے اس بنا پر معنی یہ ہوں گے کہ ہم نے مکہ سے ہاتھیوں کو روکا اور ہاتھی والوں کو ہلاک کیا۔ یہ قریشیوں کو الفت دلانے اور انہیں اجتماع کے ساتھ باامن اس شہر میں رہنے سہنے کے لیے تھا۔ اور یہ مراد بھی کی گئی ہے کہ یہ قریشی جاڑوں اور گرمیوں میں کیا دور دراز کے سفر امن و امان سے طے کر سکتے تھے کیونکہ مکہ جیسے محترم شہر میں رہنے کی وجہ سے ہر جگہ ان کی عزت ہوتی تھی بلکہ ان کے ساتھ بھی جو ہوتا تھا امن و امان سے سفر طے کر لیتا تھا اسی طرح وطن میں ہر طرح کا امن انہیں حاصل ہوتا تھا۔ جیسے اور جگہ قرآن کریم میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ» [29-العنكبوت:67] ‏ الخ یعنی ” کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والی جگہ بنا دیا ہے اس کے آس پاس تو لوگ اچک لیے جاتے ہیں “، لیکن یہاں کے رہنے والے نڈر ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «لِإِيلَافِ»، میں پہلا «لام» تعجب کا «لام» ہے اور دونوں سورتیں بالکل جداگانہ ہیں جیسا کہ مسلمانوں کا اجماع ہے۔ تو گویا یوں فرمایا جا رہا ہے کہ تم قریشیوں کے اس اجتماع اور الفت پر تعجب کرو کہ میں نے انہیں کیسی بھاری نعمت عطا فرما رکھی ہے انہیں چاہیئے کہ میری اس نعمت کا شکر اس طرح ادا کریں کہ صرف میری ہی عبادت کرتے رہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَـٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» [27-النمل:91] ‏، یعنی ” اے نبی تم کہہ دو کہ مجھے تو صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرم بنایا جو ہر چیز کا مالک ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کا مطیع اور فرمانبردار رہوں “۔ 10868 پھر فرماتا ہے وہ رب بیت جس نے انہیں بھوک میں کھلایا اور خوف میں نڈر رکھا انہیں چاہیئے کہ اس کی عبادت میں کسی چھوٹے بڑے کو شریک نہ ٹھہرائیں جو اللہ کے اس حکم کی بجا آوری کرے گا وہ تو دنیا کے اس امن کے ساتھ آخرت کے دن بھی امن و امان سے رہے گا، اور اس کی نافرمانی کرنے سے یہ امن بھی بےامنی ہے اور آخرت کا امن بھی ڈر خوف اور انتہائی مایوسی سے بدل جائے گا۔ جیسے اور جگہ فرمایا: «وَضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّـهِ فَأَذَاقَهَا اللَّـهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ» * «وَلَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِنْهُمْ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظَالِمُونَ» [16-النحل:112-113] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ ان بستی والوں کی مثال بیان فرماتا ہے جو امن و اطمینان کے ساتھ تھے ہر جگہ سے بافراغت روزیاں کھچی چلی آتی تھیں لیکن انہیں اللہ کی ناشکری کرنے کی سوجھی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں بھوک اور خوف کا لباس چکھا دیا یہی ان کے کرتوت کا بدلہ تھا ان کے پاس ان ہی میں سے اللہ کے بھیجے ہوئے آئے لیکن انہوں نے انہیں جھٹلایا اس ظلم پر اللہ کے عذابوں نے انہیں گرفتار کر لیا “۔ ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریشیو! تمہیں تو اللہ یوں راحت و آرام پہنچائے گھر بیٹھے کھلائے پلائے چاروں طرف بدامنی کی آگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں اور تمہیں امن و امان سے میٹھی نیند سلائے پھر تم پر کیا مصیبت ہے جو تم اپنے اس پروردگار کی توحید سے جی چراؤ اور اس کی عبادت میں دل نہ لگاؤ بلکہ اس کے سوا دو سروں کے آگے سر جھکاؤ“ ۔ [مسند احمد:460/6:اسناد ضعیف] ‏ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ قريش کی تفسیر ختم ہوئی۔ 10869

الماعون 107:1

نماز میں غفلت اور یتیموں سے نفرت ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد! تم نے اس شخص کو دیکھا جو قیامت کے دن کو جو جزا سزا کا دن ہے جھٹلاتا ہے، یتیم پر ظلم و ستم کرتا ہے، اس کا حق مارتا ہے، اس کے ساتھ سلوک و احسان نہیں کرتا، مسکینوں کو خود تو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس کار خیر پر آمادہ نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ ہے «كَلَّا بَلْ لَا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ» * «وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ» [89-الفجر:17-18] ‏ یعنی ” جو برائی تمہیں پہنچتی ہے وہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے کہ نہ تم یتیموں کی عزت کرتے ہو نہ مسکینوں کو کھانا دینے کی رغبت دلاتے ہو“ یعنی اس فقیر کو جو اتنا نہیں پاتا کہ اسے کافی ہو۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ غفلت برتنے والے نمازیوں کے لیے «ویل» ہے یعنی ان منافقوں کے لیے جو لوگوں کے سامنے نماز ادا کریں ورنہ ہضم کر جائیں یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کیے ہیں اور یہ بھی معنی ہیں کہ مقرر کردہ وقت ٹال دیتے ہیں جیسے کہ مسروق اور ابوالضحی کہتے ہیں۔ 10873 عطاء بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کا شکر ہے کہ فرمان باری میں «عَن صَلَاتِهِمْ» ہے «فِیْ صَلاَتِهِمْ» نہیں، یعنی نمازوں سے غفلت کرتے ہیں فرمایا، نمازوں میں غفلت برتتے ہیں نہیں فرمایا، اسی طرح یہ لفظ شامل ہے، ایسے نمازی کو بھی جو ہمیشہ نماز کو آخری وقت ادا کرے یا عموماً آخری وقت پڑھے یا ارکان و شروط کی پوری رعایت نہ کرے یا خشوع و خضوع اور تدبر و غور وفکر نہ کرے، لفظ قرآن ان میں سے ہر ایک کو شامل ہے یہ سب باتیں جس میں ہوں وہ تو پورا پورا بدنصیب ہے اور جس میں جتنی ہوں اتنا ہی وہ «ویل» والا ہے اور نفاق عملی کا حقدار ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ نماز منافق کی ہے، یہ نماز منافق کی ہے، یہ نماز منافق کی ہے کہ بیٹھا ہوا سورج کا انتظار کرتا رہے جب وہ غروب ہونے کے قریب پہنچے اور شیطان اپنے سینگ اس میں ملا لے، تو کھڑا ہو اور مرغ کی طرح چار ٹھونگیں مار لے جس میں اللہ کا ذکر بہت ہی کم کرے“ ۔ [صحیح مسلم:622] ‏ یہاں مراد عصر کی نماز ہے جو «صلوة وسطيٰ» ہے جیسے کہ حدیث کے لفظوں سے ثابت ہے یہ شخص مکروہ وقت میں کھڑا ہوتا اور کوے کی طرح چونچیں مار لیتا ہے جس میں اطمینان ارکان بھی نہیں ہوتا نہ خشوع و خضوع ہوتا ہے بلکہ ذکر اللہ بھی بہت ہی کم ہوتا ہے اور کیا عجب کہ یہ نماز محض دکھاوے کی نماز ہو تو پڑھی نہ پڑھی یکساں ہے۔ انہی منافقین کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا» [4-النساء:142] ‏ یعنی ” منافق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ انہیں یہ جب بھی نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو تھکے ہارے بادل ناخواستہ صرف لوگوں کے دکھاو کے لیے نماز پڑھتے ہیں اللہ کی یاد بہت ہی کم کرتے ہیں“۔ یہاں بھی فرمایا یہ ریا کاری کرتے ہیں لوگوں میں نمازی بنتے ہیں۔ 10874 طبرانی کی حدیث میں ہے «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس کی آگ اس قدر تیز ہے اور آگ جہنم کی ہر دن اس سے چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے یہ «ویل» اس امت کے ریاکار علماء کے لیے ہے اور ریاکاری کے طور پر صدقہ خیرات کرنے والوں کے لیے ہے اور ریا کاری کے طور پر حج کرنے والوں کے لیے ہے اور ریا کاری کے طور پر جہاد کرنے والوں کے لیے ہے ۔ [طبرانی کبیر:12803:ضعیف و منقطع] ‏ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص دوسروں کو سنانے کے لیے کوئی نیک کام کرے اللہ تعالیٰ بھی لوگوں کو سنا کر عذاب کرے گا اور اسے ذلیل و حقیر کرے گا“ ۔ [مسند احمد:212/2:صحیح] ‏ ہاں اس موقعہ پر یہ یاد رہے کہ اگر کسی شخص نے بالکل نیک نیتی سے کوئی اچھا کام کیا اور لوگوں کو اس کی خبر ہو گئی اس پر سے بھی خوشی ہوئی تو یہ ریا کاری نہیں اس کی دلیل مسند ابو یعلیٰ موصلی کی یہ حدیث ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سرکار نبوی میں ذکر کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں تو تنہا نوافل پڑھتا ہوں لیکن اچانک کوئی آ جاتا ہے تو ذرا مجھ بھی یہ اچھا معلوم ہونے لگتا ہے، آپ نے فرمایا: ”تجھے دو اجر ملیں گے ایک اجر پوشیدگی کا اور دوسرا ظاہر کرنے کا“ [سنن ابن ماجہ:4226،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏ ابن مبارک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے یہ حدیث ریا کاروں کے لیے بھی اچھی چیز ہے یہ حدیث بروئے اسناد غریب ہے لیکن اسی معنی کی حدیث اور سند سے بھی مروی ہے۔ ابن جریر کی ایک بہت ہی ضعیف سند والی حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اکبر یہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے کہ تم میں سے ہر شخص کو مثل تمام دنیا کے دیا جائے اس سے مراد وہ شخص ہے کہ نماز پڑھے تو اس کی بھلائی سے اسے کچھ سروکار نہ ہو اور نہ پڑھے تو اللہ کا خوف اسے نہ ہو“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38055:ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرتے ہیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38034:ضعیف مرفوعا] ‏ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ سرے سے پڑھتے ہی نہیں، دوسرے معنی یہ ہیں کہ شرعی وقت نکال دیتے ہیں پھر پڑھتے ہیں یہ معنی بھی ہیں کہ اول وقت میں ادا نہیں کرتے۔ 10875 ایک موقوف روایت میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تنگ وقت کر ڈالتے ہیں زیادہ صحیح موقوف روایت ہی ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ مرفوع تو ضعیف ہے ہاں موقوف صحیح ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے پس جس طرح یہ لوگ عبادت رب میں سست ہیں اسی طرح لوگوں کے حقوق بھی ادا نہیں کرتے یہاں تک کہ برتنے کی کم قیمت چیزیں لوگوں کو اس لیے بھی نہیں دتے کہ وہ اپنا کام نکال لیں اور پھر وہ چیز جوں کی توں واپس کر دیں۔ پس ان خسیس لوگوں سے یہ کہاں بن آئے کہ وہ زکوٰۃ ادا کریں یا اور نیکی کے کام کریں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے «مَاعُونَ» کا مطلب ادائیگی زکوٰۃ بھی مروی ہے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی، اور دیگر حضرات مفسرین معتبرین سے بھی، امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی نماز میں ریا کاری ہے اور مال کے صدقہ میں ہاتھ روکنا ہے، زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ منافق لوگ ہیں نماز تو چونکہ ظاہر ہے پڑھنی پڑتی ہے اور زکوٰۃ چونکہ پوشیدہ ہے اس لیے اسے ادا نہیں کرتے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ماعون» ہر وہ چیز ہے جو لوگ آپس میں ایک دوسرے سے مانگ لیا کرتے ہیں جیسے کدال، پھاوڑا دیگچی ڈول وغیرہ۔ دوسری روایت میں ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کا یہی مطلب بیان کرتے ہیں اور روایت میں ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم اس کی تفسیر یہی کرتے تھے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38130] ‏ نسائی کی حدیث میں ہے ہر نیک چیز صدقہ ہے ڈول اور ہنڈیا یا پتیلی مانگے پر دینے کو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں «ماعون» سے تعبیر کرتے تھے ۔ [سنن ابوداود:1657،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ غرض اس کے معنی زکوٰۃ نہ دینے کے اطاعت نہ کرنے کے مانگی چیز نہ دینے کے ہیں، چھوٹی چھوٹی بےجان چیزیں کوئی دو گھڑی کے لیے مانگنے آئے اس سے ان کا انکار کر دینا مثلا چھلنی ڈول سوئی سل بٹا کدال، پھاؤڑا، پتیلی، دیگچی وغیرہ۔ 10876 ایک غریب حدیث میں ہے کہ قبیلہ نمیر کے وفد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمیں خاص حکم کیا ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” «ماعون» سے منع کرنا“ انہوں نے پوچھا: «ماعون» کیا؟ فرمایا: ”پتھر، لوہا، پانی“ انہوں نے پوچھا: لوہے سے مراد کون سا لوہا ہے؟ فرمایا: ”یہی تمہاری تانبے کی پتیلیاں اور کدال وغیرہ“ پوچھا: پتھر سے کیا مراد؟ فرمایا: ”یہی دیگچی“ وغیرہ ۔ [الدرالمنشور للسیوطی:684/6:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے بلکہ مرفوع ہونا منکر ہے اور اس کی اسناد میں وہ راوی ہیں جو مشہور نہیں۔ علی نمیری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے آپ نے فرمایا: ”مسلمان کا مسلمان بھائی ہے جب ملے سلام کرے جب سلام کرے تو بہتر جواب دے اور «ماعون» کا انکار نہ کرے“، میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! «ماعون» کیا؟ فرمایا: ”پتھر، لوہا اور اسی جیسی اور چیزیں“ ۔ [اسدالغابۃ:127/4:ضعیف] ‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «الحمداللہ» تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کے احسان اور رحم سے اس سورت کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ 10877

الماعون 107:2

نماز میں غفلت اور یتیموں سے نفرت ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد! تم نے اس شخص کو دیکھا جو قیامت کے دن کو جو جزا سزا کا دن ہے جھٹلاتا ہے، یتیم پر ظلم و ستم کرتا ہے، اس کا حق مارتا ہے، اس کے ساتھ سلوک و احسان نہیں کرتا، مسکینوں کو خود تو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس کار خیر پر آمادہ نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ ہے «كَلَّا بَلْ لَا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ» * «وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ» [89-الفجر:17-18] ‏ یعنی ” جو برائی تمہیں پہنچتی ہے وہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے کہ نہ تم یتیموں کی عزت کرتے ہو نہ مسکینوں کو کھانا دینے کی رغبت دلاتے ہو“ یعنی اس فقیر کو جو اتنا نہیں پاتا کہ اسے کافی ہو۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ غفلت برتنے والے نمازیوں کے لیے «ویل» ہے یعنی ان منافقوں کے لیے جو لوگوں کے سامنے نماز ادا کریں ورنہ ہضم کر جائیں یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کیے ہیں اور یہ بھی معنی ہیں کہ مقرر کردہ وقت ٹال دیتے ہیں جیسے کہ مسروق اور ابوالضحی کہتے ہیں۔ 10873 عطاء بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کا شکر ہے کہ فرمان باری میں «عَن صَلَاتِهِمْ» ہے «فِیْ صَلاَتِهِمْ» نہیں، یعنی نمازوں سے غفلت کرتے ہیں فرمایا، نمازوں میں غفلت برتتے ہیں نہیں فرمایا، اسی طرح یہ لفظ شامل ہے، ایسے نمازی کو بھی جو ہمیشہ نماز کو آخری وقت ادا کرے یا عموماً آخری وقت پڑھے یا ارکان و شروط کی پوری رعایت نہ کرے یا خشوع و خضوع اور تدبر و غور وفکر نہ کرے، لفظ قرآن ان میں سے ہر ایک کو شامل ہے یہ سب باتیں جس میں ہوں وہ تو پورا پورا بدنصیب ہے اور جس میں جتنی ہوں اتنا ہی وہ «ویل» والا ہے اور نفاق عملی کا حقدار ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ نماز منافق کی ہے، یہ نماز منافق کی ہے، یہ نماز منافق کی ہے کہ بیٹھا ہوا سورج کا انتظار کرتا رہے جب وہ غروب ہونے کے قریب پہنچے اور شیطان اپنے سینگ اس میں ملا لے، تو کھڑا ہو اور مرغ کی طرح چار ٹھونگیں مار لے جس میں اللہ کا ذکر بہت ہی کم کرے“ ۔ [صحیح مسلم:622] ‏ یہاں مراد عصر کی نماز ہے جو «صلوة وسطيٰ» ہے جیسے کہ حدیث کے لفظوں سے ثابت ہے یہ شخص مکروہ وقت میں کھڑا ہوتا اور کوے کی طرح چونچیں مار لیتا ہے جس میں اطمینان ارکان بھی نہیں ہوتا نہ خشوع و خضوع ہوتا ہے بلکہ ذکر اللہ بھی بہت ہی کم ہوتا ہے اور کیا عجب کہ یہ نماز محض دکھاوے کی نماز ہو تو پڑھی نہ پڑھی یکساں ہے۔ انہی منافقین کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا» [4-النساء:142] ‏ یعنی ” منافق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ انہیں یہ جب بھی نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو تھکے ہارے بادل ناخواستہ صرف لوگوں کے دکھاو کے لیے نماز پڑھتے ہیں اللہ کی یاد بہت ہی کم کرتے ہیں“۔ یہاں بھی فرمایا یہ ریا کاری کرتے ہیں لوگوں میں نمازی بنتے ہیں۔ 10874 طبرانی کی حدیث میں ہے «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس کی آگ اس قدر تیز ہے اور آگ جہنم کی ہر دن اس سے چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے یہ «ویل» اس امت کے ریاکار علماء کے لیے ہے اور ریاکاری کے طور پر صدقہ خیرات کرنے والوں کے لیے ہے اور ریا کاری کے طور پر حج کرنے والوں کے لیے ہے اور ریا کاری کے طور پر جہاد کرنے والوں کے لیے ہے ۔ [طبرانی کبیر:12803:ضعیف و منقطع] ‏ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص دوسروں کو سنانے کے لیے کوئی نیک کام کرے اللہ تعالیٰ بھی لوگوں کو سنا کر عذاب کرے گا اور اسے ذلیل و حقیر کرے گا“ ۔ [مسند احمد:212/2:صحیح] ‏ ہاں اس موقعہ پر یہ یاد رہے کہ اگر کسی شخص نے بالکل نیک نیتی سے کوئی اچھا کام کیا اور لوگوں کو اس کی خبر ہو گئی اس پر سے بھی خوشی ہوئی تو یہ ریا کاری نہیں اس کی دلیل مسند ابو یعلیٰ موصلی کی یہ حدیث ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سرکار نبوی میں ذکر کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں تو تنہا نوافل پڑھتا ہوں لیکن اچانک کوئی آ جاتا ہے تو ذرا مجھ بھی یہ اچھا معلوم ہونے لگتا ہے، آپ نے فرمایا: ”تجھے دو اجر ملیں گے ایک اجر پوشیدگی کا اور دوسرا ظاہر کرنے کا“ [سنن ابن ماجہ:4226،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏ ابن مبارک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے یہ حدیث ریا کاروں کے لیے بھی اچھی چیز ہے یہ حدیث بروئے اسناد غریب ہے لیکن اسی معنی کی حدیث اور سند سے بھی مروی ہے۔ ابن جریر کی ایک بہت ہی ضعیف سند والی حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اکبر یہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے کہ تم میں سے ہر شخص کو مثل تمام دنیا کے دیا جائے اس سے مراد وہ شخص ہے کہ نماز پڑھے تو اس کی بھلائی سے اسے کچھ سروکار نہ ہو اور نہ پڑھے تو اللہ کا خوف اسے نہ ہو“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38055:ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرتے ہیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38034:ضعیف مرفوعا] ‏ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ سرے سے پڑھتے ہی نہیں، دوسرے معنی یہ ہیں کہ شرعی وقت نکال دیتے ہیں پھر پڑھتے ہیں یہ معنی بھی ہیں کہ اول وقت میں ادا نہیں کرتے۔ 10875 ایک موقوف روایت میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تنگ وقت کر ڈالتے ہیں زیادہ صحیح موقوف روایت ہی ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ مرفوع تو ضعیف ہے ہاں موقوف صحیح ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے پس جس طرح یہ لوگ عبادت رب میں سست ہیں اسی طرح لوگوں کے حقوق بھی ادا نہیں کرتے یہاں تک کہ برتنے کی کم قیمت چیزیں لوگوں کو اس لیے بھی نہیں دتے کہ وہ اپنا کام نکال لیں اور پھر وہ چیز جوں کی توں واپس کر دیں۔ پس ان خسیس لوگوں سے یہ کہاں بن آئے کہ وہ زکوٰۃ ادا کریں یا اور نیکی کے کام کریں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے «مَاعُونَ» کا مطلب ادائیگی زکوٰۃ بھی مروی ہے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی، اور دیگر حضرات مفسرین معتبرین سے بھی، امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی نماز میں ریا کاری ہے اور مال کے صدقہ میں ہاتھ روکنا ہے، زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ منافق لوگ ہیں نماز تو چونکہ ظاہر ہے پڑھنی پڑتی ہے اور زکوٰۃ چونکہ پوشیدہ ہے اس لیے اسے ادا نہیں کرتے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ماعون» ہر وہ چیز ہے جو لوگ آپس میں ایک دوسرے سے مانگ لیا کرتے ہیں جیسے کدال، پھاوڑا دیگچی ڈول وغیرہ۔ دوسری روایت میں ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کا یہی مطلب بیان کرتے ہیں اور روایت میں ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم اس کی تفسیر یہی کرتے تھے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38130] ‏ نسائی کی حدیث میں ہے ہر نیک چیز صدقہ ہے ڈول اور ہنڈیا یا پتیلی مانگے پر دینے کو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں «ماعون» سے تعبیر کرتے تھے ۔ [سنن ابوداود:1657،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ غرض اس کے معنی زکوٰۃ نہ دینے کے اطاعت نہ کرنے کے مانگی چیز نہ دینے کے ہیں، چھوٹی چھوٹی بےجان چیزیں کوئی دو گھڑی کے لیے مانگنے آئے اس سے ان کا انکار کر دینا مثلا چھلنی ڈول سوئی سل بٹا کدال، پھاؤڑا، پتیلی، دیگچی وغیرہ۔ 10876 ایک غریب حدیث میں ہے کہ قبیلہ نمیر کے وفد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمیں خاص حکم کیا ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” «ماعون» سے منع کرنا“ انہوں نے پوچھا: «ماعون» کیا؟ فرمایا: ”پتھر، لوہا، پانی“ انہوں نے پوچھا: لوہے سے مراد کون سا لوہا ہے؟ فرمایا: ”یہی تمہاری تانبے کی پتیلیاں اور کدال وغیرہ“ پوچھا: پتھر سے کیا مراد؟ فرمایا: ”یہی دیگچی“ وغیرہ ۔ [الدرالمنشور للسیوطی:684/6:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے بلکہ مرفوع ہونا منکر ہے اور اس کی اسناد میں وہ راوی ہیں جو مشہور نہیں۔ علی نمیری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے آپ نے فرمایا: ”مسلمان کا مسلمان بھائی ہے جب ملے سلام کرے جب سلام کرے تو بہتر جواب دے اور «ماعون» کا انکار نہ کرے“، میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! «ماعون» کیا؟ فرمایا: ”پتھر، لوہا اور اسی جیسی اور چیزیں“ ۔ [اسدالغابۃ:127/4:ضعیف] ‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «الحمداللہ» تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کے احسان اور رحم سے اس سورت کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ 10877

الماعون 107:3

نماز میں غفلت اور یتیموں سے نفرت ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد! تم نے اس شخص کو دیکھا جو قیامت کے دن کو جو جزا سزا کا دن ہے جھٹلاتا ہے، یتیم پر ظلم و ستم کرتا ہے، اس کا حق مارتا ہے، اس کے ساتھ سلوک و احسان نہیں کرتا، مسکینوں کو خود تو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس کار خیر پر آمادہ نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ ہے «كَلَّا بَلْ لَا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ» * «وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ» [89-الفجر:17-18] ‏ یعنی ” جو برائی تمہیں پہنچتی ہے وہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے کہ نہ تم یتیموں کی عزت کرتے ہو نہ مسکینوں کو کھانا دینے کی رغبت دلاتے ہو“ یعنی اس فقیر کو جو اتنا نہیں پاتا کہ اسے کافی ہو۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ غفلت برتنے والے نمازیوں کے لیے «ویل» ہے یعنی ان منافقوں کے لیے جو لوگوں کے سامنے نماز ادا کریں ورنہ ہضم کر جائیں یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کیے ہیں اور یہ بھی معنی ہیں کہ مقرر کردہ وقت ٹال دیتے ہیں جیسے کہ مسروق اور ابوالضحی کہتے ہیں۔ 10873 عطاء بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کا شکر ہے کہ فرمان باری میں «عَن صَلَاتِهِمْ» ہے «فِیْ صَلاَتِهِمْ» نہیں، یعنی نمازوں سے غفلت کرتے ہیں فرمایا، نمازوں میں غفلت برتتے ہیں نہیں فرمایا، اسی طرح یہ لفظ شامل ہے، ایسے نمازی کو بھی جو ہمیشہ نماز کو آخری وقت ادا کرے یا عموماً آخری وقت پڑھے یا ارکان و شروط کی پوری رعایت نہ کرے یا خشوع و خضوع اور تدبر و غور وفکر نہ کرے، لفظ قرآن ان میں سے ہر ایک کو شامل ہے یہ سب باتیں جس میں ہوں وہ تو پورا پورا بدنصیب ہے اور جس میں جتنی ہوں اتنا ہی وہ «ویل» والا ہے اور نفاق عملی کا حقدار ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ نماز منافق کی ہے، یہ نماز منافق کی ہے، یہ نماز منافق کی ہے کہ بیٹھا ہوا سورج کا انتظار کرتا رہے جب وہ غروب ہونے کے قریب پہنچے اور شیطان اپنے سینگ اس میں ملا لے، تو کھڑا ہو اور مرغ کی طرح چار ٹھونگیں مار لے جس میں اللہ کا ذکر بہت ہی کم کرے“ ۔ [صحیح مسلم:622] ‏ یہاں مراد عصر کی نماز ہے جو «صلوة وسطيٰ» ہے جیسے کہ حدیث کے لفظوں سے ثابت ہے یہ شخص مکروہ وقت میں کھڑا ہوتا اور کوے کی طرح چونچیں مار لیتا ہے جس میں اطمینان ارکان بھی نہیں ہوتا نہ خشوع و خضوع ہوتا ہے بلکہ ذکر اللہ بھی بہت ہی کم ہوتا ہے اور کیا عجب کہ یہ نماز محض دکھاوے کی نماز ہو تو پڑھی نہ پڑھی یکساں ہے۔ انہی منافقین کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا» [4-النساء:142] ‏ یعنی ” منافق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ انہیں یہ جب بھی نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو تھکے ہارے بادل ناخواستہ صرف لوگوں کے دکھاو کے لیے نماز پڑھتے ہیں اللہ کی یاد بہت ہی کم کرتے ہیں“۔ یہاں بھی فرمایا یہ ریا کاری کرتے ہیں لوگوں میں نمازی بنتے ہیں۔ 10874 طبرانی کی حدیث میں ہے «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس کی آگ اس قدر تیز ہے اور آگ جہنم کی ہر دن اس سے چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے یہ «ویل» اس امت کے ریاکار علماء کے لیے ہے اور ریاکاری کے طور پر صدقہ خیرات کرنے والوں کے لیے ہے اور ریا کاری کے طور پر حج کرنے والوں کے لیے ہے اور ریا کاری کے طور پر جہاد کرنے والوں کے لیے ہے ۔ [طبرانی کبیر:12803:ضعیف و منقطع] ‏ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص دوسروں کو سنانے کے لیے کوئی نیک کام کرے اللہ تعالیٰ بھی لوگوں کو سنا کر عذاب کرے گا اور اسے ذلیل و حقیر کرے گا“ ۔ [مسند احمد:212/2:صحیح] ‏ ہاں اس موقعہ پر یہ یاد رہے کہ اگر کسی شخص نے بالکل نیک نیتی سے کوئی اچھا کام کیا اور لوگوں کو اس کی خبر ہو گئی اس پر سے بھی خوشی ہوئی تو یہ ریا کاری نہیں اس کی دلیل مسند ابو یعلیٰ موصلی کی یہ حدیث ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سرکار نبوی میں ذکر کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں تو تنہا نوافل پڑھتا ہوں لیکن اچانک کوئی آ جاتا ہے تو ذرا مجھ بھی یہ اچھا معلوم ہونے لگتا ہے، آپ نے فرمایا: ”تجھے دو اجر ملیں گے ایک اجر پوشیدگی کا اور دوسرا ظاہر کرنے کا“ [سنن ابن ماجہ:4226،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏ ابن مبارک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے یہ حدیث ریا کاروں کے لیے بھی اچھی چیز ہے یہ حدیث بروئے اسناد غریب ہے لیکن اسی معنی کی حدیث اور سند سے بھی مروی ہے۔ ابن جریر کی ایک بہت ہی ضعیف سند والی حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اکبر یہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے کہ تم میں سے ہر شخص کو مثل تمام دنیا کے دیا جائے اس سے مراد وہ شخص ہے کہ نماز پڑھے تو اس کی بھلائی سے اسے کچھ سروکار نہ ہو اور نہ پڑھے تو اللہ کا خوف اسے نہ ہو“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38055:ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرتے ہیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38034:ضعیف مرفوعا] ‏ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ سرے سے پڑھتے ہی نہیں، دوسرے معنی یہ ہیں کہ شرعی وقت نکال دیتے ہیں پھر پڑھتے ہیں یہ معنی بھی ہیں کہ اول وقت میں ادا نہیں کرتے۔ 10875 ایک موقوف روایت میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تنگ وقت کر ڈالتے ہیں زیادہ صحیح موقوف روایت ہی ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ مرفوع تو ضعیف ہے ہاں موقوف صحیح ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے پس جس طرح یہ لوگ عبادت رب میں سست ہیں اسی طرح لوگوں کے حقوق بھی ادا نہیں کرتے یہاں تک کہ برتنے کی کم قیمت چیزیں لوگوں کو اس لیے بھی نہیں دتے کہ وہ اپنا کام نکال لیں اور پھر وہ چیز جوں کی توں واپس کر دیں۔ پس ان خسیس لوگوں سے یہ کہاں بن آئے کہ وہ زکوٰۃ ادا کریں یا اور نیکی کے کام کریں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے «مَاعُونَ» کا مطلب ادائیگی زکوٰۃ بھی مروی ہے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی، اور دیگر حضرات مفسرین معتبرین سے بھی، امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی نماز میں ریا کاری ہے اور مال کے صدقہ میں ہاتھ روکنا ہے، زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ منافق لوگ ہیں نماز تو چونکہ ظاہر ہے پڑھنی پڑتی ہے اور زکوٰۃ چونکہ پوشیدہ ہے اس لیے اسے ادا نہیں کرتے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ماعون» ہر وہ چیز ہے جو لوگ آپس میں ایک دوسرے سے مانگ لیا کرتے ہیں جیسے کدال، پھاوڑا دیگچی ڈول وغیرہ۔ دوسری روایت میں ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کا یہی مطلب بیان کرتے ہیں اور روایت میں ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم اس کی تفسیر یہی کرتے تھے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38130] ‏ نسائی کی حدیث میں ہے ہر نیک چیز صدقہ ہے ڈول اور ہنڈیا یا پتیلی مانگے پر دینے کو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں «ماعون» سے تعبیر کرتے تھے ۔ [سنن ابوداود:1657،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ غرض اس کے معنی زکوٰۃ نہ دینے کے اطاعت نہ کرنے کے مانگی چیز نہ دینے کے ہیں، چھوٹی چھوٹی بےجان چیزیں کوئی دو گھڑی کے لیے مانگنے آئے اس سے ان کا انکار کر دینا مثلا چھلنی ڈول سوئی سل بٹا کدال، پھاؤڑا، پتیلی، دیگچی وغیرہ۔ 10876 ایک غریب حدیث میں ہے کہ قبیلہ نمیر کے وفد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمیں خاص حکم کیا ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” «ماعون» سے منع کرنا“ انہوں نے پوچھا: «ماعون» کیا؟ فرمایا: ”پتھر، لوہا، پانی“ انہوں نے پوچھا: لوہے سے مراد کون سا لوہا ہے؟ فرمایا: ”یہی تمہاری تانبے کی پتیلیاں اور کدال وغیرہ“ پوچھا: پتھر سے کیا مراد؟ فرمایا: ”یہی دیگچی“ وغیرہ ۔ [الدرالمنشور للسیوطی:684/6:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے بلکہ مرفوع ہونا منکر ہے اور اس کی اسناد میں وہ راوی ہیں جو مشہور نہیں۔ علی نمیری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے آپ نے فرمایا: ”مسلمان کا مسلمان بھائی ہے جب ملے سلام کرے جب سلام کرے تو بہتر جواب دے اور «ماعون» کا انکار نہ کرے“، میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! «ماعون» کیا؟ فرمایا: ”پتھر، لوہا اور اسی جیسی اور چیزیں“ ۔ [اسدالغابۃ:127/4:ضعیف] ‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «الحمداللہ» تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کے احسان اور رحم سے اس سورت کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ 10877

الماعون 107:4

نماز میں غفلت اور یتیموں سے نفرت ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد! تم نے اس شخص کو دیکھا جو قیامت کے دن کو جو جزا سزا کا دن ہے جھٹلاتا ہے، یتیم پر ظلم و ستم کرتا ہے، اس کا حق مارتا ہے، اس کے ساتھ سلوک و احسان نہیں کرتا، مسکینوں کو خود تو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس کار خیر پر آمادہ نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ ہے «كَلَّا بَلْ لَا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ» * «وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ» [89-الفجر:17-18] ‏ یعنی ” جو برائی تمہیں پہنچتی ہے وہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے کہ نہ تم یتیموں کی عزت کرتے ہو نہ مسکینوں کو کھانا دینے کی رغبت دلاتے ہو“ یعنی اس فقیر کو جو اتنا نہیں پاتا کہ اسے کافی ہو۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ غفلت برتنے والے نمازیوں کے لیے «ویل» ہے یعنی ان منافقوں کے لیے جو لوگوں کے سامنے نماز ادا کریں ورنہ ہضم کر جائیں یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کیے ہیں اور یہ بھی معنی ہیں کہ مقرر کردہ وقت ٹال دیتے ہیں جیسے کہ مسروق اور ابوالضحی کہتے ہیں۔ 10873 عطاء بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کا شکر ہے کہ فرمان باری میں «عَن صَلَاتِهِمْ» ہے «فِیْ صَلاَتِهِمْ» نہیں، یعنی نمازوں سے غفلت کرتے ہیں فرمایا، نمازوں میں غفلت برتتے ہیں نہیں فرمایا، اسی طرح یہ لفظ شامل ہے، ایسے نمازی کو بھی جو ہمیشہ نماز کو آخری وقت ادا کرے یا عموماً آخری وقت پڑھے یا ارکان و شروط کی پوری رعایت نہ کرے یا خشوع و خضوع اور تدبر و غور وفکر نہ کرے، لفظ قرآن ان میں سے ہر ایک کو شامل ہے یہ سب باتیں جس میں ہوں وہ تو پورا پورا بدنصیب ہے اور جس میں جتنی ہوں اتنا ہی وہ «ویل» والا ہے اور نفاق عملی کا حقدار ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ نماز منافق کی ہے، یہ نماز منافق کی ہے، یہ نماز منافق کی ہے کہ بیٹھا ہوا سورج کا انتظار کرتا رہے جب وہ غروب ہونے کے قریب پہنچے اور شیطان اپنے سینگ اس میں ملا لے، تو کھڑا ہو اور مرغ کی طرح چار ٹھونگیں مار لے جس میں اللہ کا ذکر بہت ہی کم کرے“ ۔ [صحیح مسلم:622] ‏ یہاں مراد عصر کی نماز ہے جو «صلوة وسطيٰ» ہے جیسے کہ حدیث کے لفظوں سے ثابت ہے یہ شخص مکروہ وقت میں کھڑا ہوتا اور کوے کی طرح چونچیں مار لیتا ہے جس میں اطمینان ارکان بھی نہیں ہوتا نہ خشوع و خضوع ہوتا ہے بلکہ ذکر اللہ بھی بہت ہی کم ہوتا ہے اور کیا عجب کہ یہ نماز محض دکھاوے کی نماز ہو تو پڑھی نہ پڑھی یکساں ہے۔ انہی منافقین کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا» [4-النساء:142] ‏ یعنی ” منافق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ انہیں یہ جب بھی نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو تھکے ہارے بادل ناخواستہ صرف لوگوں کے دکھاو کے لیے نماز پڑھتے ہیں اللہ کی یاد بہت ہی کم کرتے ہیں“۔ یہاں بھی فرمایا یہ ریا کاری کرتے ہیں لوگوں میں نمازی بنتے ہیں۔ 10874 طبرانی کی حدیث میں ہے «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس کی آگ اس قدر تیز ہے اور آگ جہنم کی ہر دن اس سے چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے یہ «ویل» اس امت کے ریاکار علماء کے لیے ہے اور ریاکاری کے طور پر صدقہ خیرات کرنے والوں کے لیے ہے اور ریا کاری کے طور پر حج کرنے والوں کے لیے ہے اور ریا کاری کے طور پر جہاد کرنے والوں کے لیے ہے ۔ [طبرانی کبیر:12803:ضعیف و منقطع] ‏ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص دوسروں کو سنانے کے لیے کوئی نیک کام کرے اللہ تعالیٰ بھی لوگوں کو سنا کر عذاب کرے گا اور اسے ذلیل و حقیر کرے گا“ ۔ [مسند احمد:212/2:صحیح] ‏ ہاں اس موقعہ پر یہ یاد رہے کہ اگر کسی شخص نے بالکل نیک نیتی سے کوئی اچھا کام کیا اور لوگوں کو اس کی خبر ہو گئی اس پر سے بھی خوشی ہوئی تو یہ ریا کاری نہیں اس کی دلیل مسند ابو یعلیٰ موصلی کی یہ حدیث ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سرکار نبوی میں ذکر کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں تو تنہا نوافل پڑھتا ہوں لیکن اچانک کوئی آ جاتا ہے تو ذرا مجھ بھی یہ اچھا معلوم ہونے لگتا ہے، آپ نے فرمایا: ”تجھے دو اجر ملیں گے ایک اجر پوشیدگی کا اور دوسرا ظاہر کرنے کا“ [سنن ابن ماجہ:4226،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏ ابن مبارک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے یہ حدیث ریا کاروں کے لیے بھی اچھی چیز ہے یہ حدیث بروئے اسناد غریب ہے لیکن اسی معنی کی حدیث اور سند سے بھی مروی ہے۔ ابن جریر کی ایک بہت ہی ضعیف سند والی حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اکبر یہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے کہ تم میں سے ہر شخص کو مثل تمام دنیا کے دیا جائے اس سے مراد وہ شخص ہے کہ نماز پڑھے تو اس کی بھلائی سے اسے کچھ سروکار نہ ہو اور نہ پڑھے تو اللہ کا خوف اسے نہ ہو“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38055:ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرتے ہیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38034:ضعیف مرفوعا] ‏ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ سرے سے پڑھتے ہی نہیں، دوسرے معنی یہ ہیں کہ شرعی وقت نکال دیتے ہیں پھر پڑھتے ہیں یہ معنی بھی ہیں کہ اول وقت میں ادا نہیں کرتے۔ 10875 ایک موقوف روایت میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تنگ وقت کر ڈالتے ہیں زیادہ صحیح موقوف روایت ہی ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ مرفوع تو ضعیف ہے ہاں موقوف صحیح ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے پس جس طرح یہ لوگ عبادت رب میں سست ہیں اسی طرح لوگوں کے حقوق بھی ادا نہیں کرتے یہاں تک کہ برتنے کی کم قیمت چیزیں لوگوں کو اس لیے بھی نہیں دتے کہ وہ اپنا کام نکال لیں اور پھر وہ چیز جوں کی توں واپس کر دیں۔ پس ان خسیس لوگوں سے یہ کہاں بن آئے کہ وہ زکوٰۃ ادا کریں یا اور نیکی کے کام کریں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے «مَاعُونَ» کا مطلب ادائیگی زکوٰۃ بھی مروی ہے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی، اور دیگر حضرات مفسرین معتبرین سے بھی، امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی نماز میں ریا کاری ہے اور مال کے صدقہ میں ہاتھ روکنا ہے، زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ منافق لوگ ہیں نماز تو چونکہ ظاہر ہے پڑھنی پڑتی ہے اور زکوٰۃ چونکہ پوشیدہ ہے اس لیے اسے ادا نہیں کرتے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ماعون» ہر وہ چیز ہے جو لوگ آپس میں ایک دوسرے سے مانگ لیا کرتے ہیں جیسے کدال، پھاوڑا دیگچی ڈول وغیرہ۔ دوسری روایت میں ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کا یہی مطلب بیان کرتے ہیں اور روایت میں ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم اس کی تفسیر یہی کرتے تھے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38130] ‏ نسائی کی حدیث میں ہے ہر نیک چیز صدقہ ہے ڈول اور ہنڈیا یا پتیلی مانگے پر دینے کو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں «ماعون» سے تعبیر کرتے تھے ۔ [سنن ابوداود:1657،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ غرض اس کے معنی زکوٰۃ نہ دینے کے اطاعت نہ کرنے کے مانگی چیز نہ دینے کے ہیں، چھوٹی چھوٹی بےجان چیزیں کوئی دو گھڑی کے لیے مانگنے آئے اس سے ان کا انکار کر دینا مثلا چھلنی ڈول سوئی سل بٹا کدال، پھاؤڑا، پتیلی، دیگچی وغیرہ۔ 10876 ایک غریب حدیث میں ہے کہ قبیلہ نمیر کے وفد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمیں خاص حکم کیا ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” «ماعون» سے منع کرنا“ انہوں نے پوچھا: «ماعون» کیا؟ فرمایا: ”پتھر، لوہا، پانی“ انہوں نے پوچھا: لوہے سے مراد کون سا لوہا ہے؟ فرمایا: ”یہی تمہاری تانبے کی پتیلیاں اور کدال وغیرہ“ پوچھا: پتھر سے کیا مراد؟ فرمایا: ”یہی دیگچی“ وغیرہ ۔ [الدرالمنشور للسیوطی:684/6:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے بلکہ مرفوع ہونا منکر ہے اور اس کی اسناد میں وہ راوی ہیں جو مشہور نہیں۔ علی نمیری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے آپ نے فرمایا: ”مسلمان کا مسلمان بھائی ہے جب ملے سلام کرے جب سلام کرے تو بہتر جواب دے اور «ماعون» کا انکار نہ کرے“، میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! «ماعون» کیا؟ فرمایا: ”پتھر، لوہا اور اسی جیسی اور چیزیں“ ۔ [اسدالغابۃ:127/4:ضعیف] ‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «الحمداللہ» تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کے احسان اور رحم سے اس سورت کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ 10877

الماعون 107:5

نماز میں غفلت اور یتیموں سے نفرت ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد! تم نے اس شخص کو دیکھا جو قیامت کے دن کو جو جزا سزا کا دن ہے جھٹلاتا ہے، یتیم پر ظلم و ستم کرتا ہے، اس کا حق مارتا ہے، اس کے ساتھ سلوک و احسان نہیں کرتا، مسکینوں کو خود تو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس کار خیر پر آمادہ نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ ہے «كَلَّا بَلْ لَا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ» * «وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ» [89-الفجر:17-18] ‏ یعنی ” جو برائی تمہیں پہنچتی ہے وہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے کہ نہ تم یتیموں کی عزت کرتے ہو نہ مسکینوں کو کھانا دینے کی رغبت دلاتے ہو“ یعنی اس فقیر کو جو اتنا نہیں پاتا کہ اسے کافی ہو۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ غفلت برتنے والے نمازیوں کے لیے «ویل» ہے یعنی ان منافقوں کے لیے جو لوگوں کے سامنے نماز ادا کریں ورنہ ہضم کر جائیں یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کیے ہیں اور یہ بھی معنی ہیں کہ مقرر کردہ وقت ٹال دیتے ہیں جیسے کہ مسروق اور ابوالضحی کہتے ہیں۔ 10873 عطاء بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کا شکر ہے کہ فرمان باری میں «عَن صَلَاتِهِمْ» ہے «فِیْ صَلاَتِهِمْ» نہیں، یعنی نمازوں سے غفلت کرتے ہیں فرمایا، نمازوں میں غفلت برتتے ہیں نہیں فرمایا، اسی طرح یہ لفظ شامل ہے، ایسے نمازی کو بھی جو ہمیشہ نماز کو آخری وقت ادا کرے یا عموماً آخری وقت پڑھے یا ارکان و شروط کی پوری رعایت نہ کرے یا خشوع و خضوع اور تدبر و غور وفکر نہ کرے، لفظ قرآن ان میں سے ہر ایک کو شامل ہے یہ سب باتیں جس میں ہوں وہ تو پورا پورا بدنصیب ہے اور جس میں جتنی ہوں اتنا ہی وہ «ویل» والا ہے اور نفاق عملی کا حقدار ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ نماز منافق کی ہے، یہ نماز منافق کی ہے، یہ نماز منافق کی ہے کہ بیٹھا ہوا سورج کا انتظار کرتا رہے جب وہ غروب ہونے کے قریب پہنچے اور شیطان اپنے سینگ اس میں ملا لے، تو کھڑا ہو اور مرغ کی طرح چار ٹھونگیں مار لے جس میں اللہ کا ذکر بہت ہی کم کرے“ ۔ [صحیح مسلم:622] ‏ یہاں مراد عصر کی نماز ہے جو «صلوة وسطيٰ» ہے جیسے کہ حدیث کے لفظوں سے ثابت ہے یہ شخص مکروہ وقت میں کھڑا ہوتا اور کوے کی طرح چونچیں مار لیتا ہے جس میں اطمینان ارکان بھی نہیں ہوتا نہ خشوع و خضوع ہوتا ہے بلکہ ذکر اللہ بھی بہت ہی کم ہوتا ہے اور کیا عجب کہ یہ نماز محض دکھاوے کی نماز ہو تو پڑھی نہ پڑھی یکساں ہے۔ انہی منافقین کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا» [4-النساء:142] ‏ یعنی ” منافق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ انہیں یہ جب بھی نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو تھکے ہارے بادل ناخواستہ صرف لوگوں کے دکھاو کے لیے نماز پڑھتے ہیں اللہ کی یاد بہت ہی کم کرتے ہیں“۔ یہاں بھی فرمایا یہ ریا کاری کرتے ہیں لوگوں میں نمازی بنتے ہیں۔ 10874 طبرانی کی حدیث میں ہے «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس کی آگ اس قدر تیز ہے اور آگ جہنم کی ہر دن اس سے چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے یہ «ویل» اس امت کے ریاکار علماء کے لیے ہے اور ریاکاری کے طور پر صدقہ خیرات کرنے والوں کے لیے ہے اور ریا کاری کے طور پر حج کرنے والوں کے لیے ہے اور ریا کاری کے طور پر جہاد کرنے والوں کے لیے ہے ۔ [طبرانی کبیر:12803:ضعیف و منقطع] ‏ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص دوسروں کو سنانے کے لیے کوئی نیک کام کرے اللہ تعالیٰ بھی لوگوں کو سنا کر عذاب کرے گا اور اسے ذلیل و حقیر کرے گا“ ۔ [مسند احمد:212/2:صحیح] ‏ ہاں اس موقعہ پر یہ یاد رہے کہ اگر کسی شخص نے بالکل نیک نیتی سے کوئی اچھا کام کیا اور لوگوں کو اس کی خبر ہو گئی اس پر سے بھی خوشی ہوئی تو یہ ریا کاری نہیں اس کی دلیل مسند ابو یعلیٰ موصلی کی یہ حدیث ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سرکار نبوی میں ذکر کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں تو تنہا نوافل پڑھتا ہوں لیکن اچانک کوئی آ جاتا ہے تو ذرا مجھ بھی یہ اچھا معلوم ہونے لگتا ہے، آپ نے فرمایا: ”تجھے دو اجر ملیں گے ایک اجر پوشیدگی کا اور دوسرا ظاہر کرنے کا“ [سنن ابن ماجہ:4226،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏ ابن مبارک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے یہ حدیث ریا کاروں کے لیے بھی اچھی چیز ہے یہ حدیث بروئے اسناد غریب ہے لیکن اسی معنی کی حدیث اور سند سے بھی مروی ہے۔ ابن جریر کی ایک بہت ہی ضعیف سند والی حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اکبر یہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے کہ تم میں سے ہر شخص کو مثل تمام دنیا کے دیا جائے اس سے مراد وہ شخص ہے کہ نماز پڑھے تو اس کی بھلائی سے اسے کچھ سروکار نہ ہو اور نہ پڑھے تو اللہ کا خوف اسے نہ ہو“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38055:ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرتے ہیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38034:ضعیف مرفوعا] ‏ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ سرے سے پڑھتے ہی نہیں، دوسرے معنی یہ ہیں کہ شرعی وقت نکال دیتے ہیں پھر پڑھتے ہیں یہ معنی بھی ہیں کہ اول وقت میں ادا نہیں کرتے۔ 10875 ایک موقوف روایت میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تنگ وقت کر ڈالتے ہیں زیادہ صحیح موقوف روایت ہی ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ مرفوع تو ضعیف ہے ہاں موقوف صحیح ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے پس جس طرح یہ لوگ عبادت رب میں سست ہیں اسی طرح لوگوں کے حقوق بھی ادا نہیں کرتے یہاں تک کہ برتنے کی کم قیمت چیزیں لوگوں کو اس لیے بھی نہیں دتے کہ وہ اپنا کام نکال لیں اور پھر وہ چیز جوں کی توں واپس کر دیں۔ پس ان خسیس لوگوں سے یہ کہاں بن آئے کہ وہ زکوٰۃ ادا کریں یا اور نیکی کے کام کریں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے «مَاعُونَ» کا مطلب ادائیگی زکوٰۃ بھی مروی ہے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی، اور دیگر حضرات مفسرین معتبرین سے بھی، امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی نماز میں ریا کاری ہے اور مال کے صدقہ میں ہاتھ روکنا ہے، زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ منافق لوگ ہیں نماز تو چونکہ ظاہر ہے پڑھنی پڑتی ہے اور زکوٰۃ چونکہ پوشیدہ ہے اس لیے اسے ادا نہیں کرتے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ماعون» ہر وہ چیز ہے جو لوگ آپس میں ایک دوسرے سے مانگ لیا کرتے ہیں جیسے کدال، پھاوڑا دیگچی ڈول وغیرہ۔ دوسری روایت میں ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کا یہی مطلب بیان کرتے ہیں اور روایت میں ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم اس کی تفسیر یہی کرتے تھے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38130] ‏ نسائی کی حدیث میں ہے ہر نیک چیز صدقہ ہے ڈول اور ہنڈیا یا پتیلی مانگے پر دینے کو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں «ماعون» سے تعبیر کرتے تھے ۔ [سنن ابوداود:1657،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ غرض اس کے معنی زکوٰۃ نہ دینے کے اطاعت نہ کرنے کے مانگی چیز نہ دینے کے ہیں، چھوٹی چھوٹی بےجان چیزیں کوئی دو گھڑی کے لیے مانگنے آئے اس سے ان کا انکار کر دینا مثلا چھلنی ڈول سوئی سل بٹا کدال، پھاؤڑا، پتیلی، دیگچی وغیرہ۔ 10876 ایک غریب حدیث میں ہے کہ قبیلہ نمیر کے وفد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمیں خاص حکم کیا ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” «ماعون» سے منع کرنا“ انہوں نے پوچھا: «ماعون» کیا؟ فرمایا: ”پتھر، لوہا، پانی“ انہوں نے پوچھا: لوہے سے مراد کون سا لوہا ہے؟ فرمایا: ”یہی تمہاری تانبے کی پتیلیاں اور کدال وغیرہ“ پوچھا: پتھر سے کیا مراد؟ فرمایا: ”یہی دیگچی“ وغیرہ ۔ [الدرالمنشور للسیوطی:684/6:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے بلکہ مرفوع ہونا منکر ہے اور اس کی اسناد میں وہ راوی ہیں جو مشہور نہیں۔ علی نمیری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے آپ نے فرمایا: ”مسلمان کا مسلمان بھائی ہے جب ملے سلام کرے جب سلام کرے تو بہتر جواب دے اور «ماعون» کا انکار نہ کرے“، میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! «ماعون» کیا؟ فرمایا: ”پتھر، لوہا اور اسی جیسی اور چیزیں“ ۔ [اسدالغابۃ:127/4:ضعیف] ‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «الحمداللہ» تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کے احسان اور رحم سے اس سورت کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ 10877

الماعون 107:6

نماز میں غفلت اور یتیموں سے نفرت ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد! تم نے اس شخص کو دیکھا جو قیامت کے دن کو جو جزا سزا کا دن ہے جھٹلاتا ہے، یتیم پر ظلم و ستم کرتا ہے، اس کا حق مارتا ہے، اس کے ساتھ سلوک و احسان نہیں کرتا، مسکینوں کو خود تو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس کار خیر پر آمادہ نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ ہے «كَلَّا بَلْ لَا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ» * «وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ» [89-الفجر:17-18] ‏ یعنی ” جو برائی تمہیں پہنچتی ہے وہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے کہ نہ تم یتیموں کی عزت کرتے ہو نہ مسکینوں کو کھانا دینے کی رغبت دلاتے ہو“ یعنی اس فقیر کو جو اتنا نہیں پاتا کہ اسے کافی ہو۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ غفلت برتنے والے نمازیوں کے لیے «ویل» ہے یعنی ان منافقوں کے لیے جو لوگوں کے سامنے نماز ادا کریں ورنہ ہضم کر جائیں یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کیے ہیں اور یہ بھی معنی ہیں کہ مقرر کردہ وقت ٹال دیتے ہیں جیسے کہ مسروق اور ابوالضحی کہتے ہیں۔ 10873 عطاء بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کا شکر ہے کہ فرمان باری میں «عَن صَلَاتِهِمْ» ہے «فِیْ صَلاَتِهِمْ» نہیں، یعنی نمازوں سے غفلت کرتے ہیں فرمایا، نمازوں میں غفلت برتتے ہیں نہیں فرمایا، اسی طرح یہ لفظ شامل ہے، ایسے نمازی کو بھی جو ہمیشہ نماز کو آخری وقت ادا کرے یا عموماً آخری وقت پڑھے یا ارکان و شروط کی پوری رعایت نہ کرے یا خشوع و خضوع اور تدبر و غور وفکر نہ کرے، لفظ قرآن ان میں سے ہر ایک کو شامل ہے یہ سب باتیں جس میں ہوں وہ تو پورا پورا بدنصیب ہے اور جس میں جتنی ہوں اتنا ہی وہ «ویل» والا ہے اور نفاق عملی کا حقدار ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ نماز منافق کی ہے، یہ نماز منافق کی ہے، یہ نماز منافق کی ہے کہ بیٹھا ہوا سورج کا انتظار کرتا رہے جب وہ غروب ہونے کے قریب پہنچے اور شیطان اپنے سینگ اس میں ملا لے، تو کھڑا ہو اور مرغ کی طرح چار ٹھونگیں مار لے جس میں اللہ کا ذکر بہت ہی کم کرے“ ۔ [صحیح مسلم:622] ‏ یہاں مراد عصر کی نماز ہے جو «صلوة وسطيٰ» ہے جیسے کہ حدیث کے لفظوں سے ثابت ہے یہ شخص مکروہ وقت میں کھڑا ہوتا اور کوے کی طرح چونچیں مار لیتا ہے جس میں اطمینان ارکان بھی نہیں ہوتا نہ خشوع و خضوع ہوتا ہے بلکہ ذکر اللہ بھی بہت ہی کم ہوتا ہے اور کیا عجب کہ یہ نماز محض دکھاوے کی نماز ہو تو پڑھی نہ پڑھی یکساں ہے۔ انہی منافقین کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا» [4-النساء:142] ‏ یعنی ” منافق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ انہیں یہ جب بھی نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو تھکے ہارے بادل ناخواستہ صرف لوگوں کے دکھاو کے لیے نماز پڑھتے ہیں اللہ کی یاد بہت ہی کم کرتے ہیں“۔ یہاں بھی فرمایا یہ ریا کاری کرتے ہیں لوگوں میں نمازی بنتے ہیں۔ 10874 طبرانی کی حدیث میں ہے «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس کی آگ اس قدر تیز ہے اور آگ جہنم کی ہر دن اس سے چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے یہ «ویل» اس امت کے ریاکار علماء کے لیے ہے اور ریاکاری کے طور پر صدقہ خیرات کرنے والوں کے لیے ہے اور ریا کاری کے طور پر حج کرنے والوں کے لیے ہے اور ریا کاری کے طور پر جہاد کرنے والوں کے لیے ہے ۔ [طبرانی کبیر:12803:ضعیف و منقطع] ‏ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص دوسروں کو سنانے کے لیے کوئی نیک کام کرے اللہ تعالیٰ بھی لوگوں کو سنا کر عذاب کرے گا اور اسے ذلیل و حقیر کرے گا“ ۔ [مسند احمد:212/2:صحیح] ‏ ہاں اس موقعہ پر یہ یاد رہے کہ اگر کسی شخص نے بالکل نیک نیتی سے کوئی اچھا کام کیا اور لوگوں کو اس کی خبر ہو گئی اس پر سے بھی خوشی ہوئی تو یہ ریا کاری نہیں اس کی دلیل مسند ابو یعلیٰ موصلی کی یہ حدیث ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سرکار نبوی میں ذکر کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں تو تنہا نوافل پڑھتا ہوں لیکن اچانک کوئی آ جاتا ہے تو ذرا مجھ بھی یہ اچھا معلوم ہونے لگتا ہے، آپ نے فرمایا: ”تجھے دو اجر ملیں گے ایک اجر پوشیدگی کا اور دوسرا ظاہر کرنے کا“ [سنن ابن ماجہ:4226،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏ ابن مبارک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے یہ حدیث ریا کاروں کے لیے بھی اچھی چیز ہے یہ حدیث بروئے اسناد غریب ہے لیکن اسی معنی کی حدیث اور سند سے بھی مروی ہے۔ ابن جریر کی ایک بہت ہی ضعیف سند والی حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اکبر یہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے کہ تم میں سے ہر شخص کو مثل تمام دنیا کے دیا جائے اس سے مراد وہ شخص ہے کہ نماز پڑھے تو اس کی بھلائی سے اسے کچھ سروکار نہ ہو اور نہ پڑھے تو اللہ کا خوف اسے نہ ہو“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38055:ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرتے ہیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38034:ضعیف مرفوعا] ‏ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ سرے سے پڑھتے ہی نہیں، دوسرے معنی یہ ہیں کہ شرعی وقت نکال دیتے ہیں پھر پڑھتے ہیں یہ معنی بھی ہیں کہ اول وقت میں ادا نہیں کرتے۔ 10875 ایک موقوف روایت میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تنگ وقت کر ڈالتے ہیں زیادہ صحیح موقوف روایت ہی ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ مرفوع تو ضعیف ہے ہاں موقوف صحیح ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے پس جس طرح یہ لوگ عبادت رب میں سست ہیں اسی طرح لوگوں کے حقوق بھی ادا نہیں کرتے یہاں تک کہ برتنے کی کم قیمت چیزیں لوگوں کو اس لیے بھی نہیں دتے کہ وہ اپنا کام نکال لیں اور پھر وہ چیز جوں کی توں واپس کر دیں۔ پس ان خسیس لوگوں سے یہ کہاں بن آئے کہ وہ زکوٰۃ ادا کریں یا اور نیکی کے کام کریں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے «مَاعُونَ» کا مطلب ادائیگی زکوٰۃ بھی مروی ہے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی، اور دیگر حضرات مفسرین معتبرین سے بھی، امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی نماز میں ریا کاری ہے اور مال کے صدقہ میں ہاتھ روکنا ہے، زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ منافق لوگ ہیں نماز تو چونکہ ظاہر ہے پڑھنی پڑتی ہے اور زکوٰۃ چونکہ پوشیدہ ہے اس لیے اسے ادا نہیں کرتے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ماعون» ہر وہ چیز ہے جو لوگ آپس میں ایک دوسرے سے مانگ لیا کرتے ہیں جیسے کدال، پھاوڑا دیگچی ڈول وغیرہ۔ دوسری روایت میں ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کا یہی مطلب بیان کرتے ہیں اور روایت میں ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم اس کی تفسیر یہی کرتے تھے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38130] ‏ نسائی کی حدیث میں ہے ہر نیک چیز صدقہ ہے ڈول اور ہنڈیا یا پتیلی مانگے پر دینے کو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں «ماعون» سے تعبیر کرتے تھے ۔ [سنن ابوداود:1657،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ غرض اس کے معنی زکوٰۃ نہ دینے کے اطاعت نہ کرنے کے مانگی چیز نہ دینے کے ہیں، چھوٹی چھوٹی بےجان چیزیں کوئی دو گھڑی کے لیے مانگنے آئے اس سے ان کا انکار کر دینا مثلا چھلنی ڈول سوئی سل بٹا کدال، پھاؤڑا، پتیلی، دیگچی وغیرہ۔ 10876 ایک غریب حدیث میں ہے کہ قبیلہ نمیر کے وفد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمیں خاص حکم کیا ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” «ماعون» سے منع کرنا“ انہوں نے پوچھا: «ماعون» کیا؟ فرمایا: ”پتھر، لوہا، پانی“ انہوں نے پوچھا: لوہے سے مراد کون سا لوہا ہے؟ فرمایا: ”یہی تمہاری تانبے کی پتیلیاں اور کدال وغیرہ“ پوچھا: پتھر سے کیا مراد؟ فرمایا: ”یہی دیگچی“ وغیرہ ۔ [الدرالمنشور للسیوطی:684/6:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے بلکہ مرفوع ہونا منکر ہے اور اس کی اسناد میں وہ راوی ہیں جو مشہور نہیں۔ علی نمیری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے آپ نے فرمایا: ”مسلمان کا مسلمان بھائی ہے جب ملے سلام کرے جب سلام کرے تو بہتر جواب دے اور «ماعون» کا انکار نہ کرے“، میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! «ماعون» کیا؟ فرمایا: ”پتھر، لوہا اور اسی جیسی اور چیزیں“ ۔ [اسدالغابۃ:127/4:ضعیف] ‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «الحمداللہ» تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کے احسان اور رحم سے اس سورت کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ 10877

الماعون 107:7

نماز میں غفلت اور یتیموں سے نفرت ٭٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد! تم نے اس شخص کو دیکھا جو قیامت کے دن کو جو جزا سزا کا دن ہے جھٹلاتا ہے، یتیم پر ظلم و ستم کرتا ہے، اس کا حق مارتا ہے، اس کے ساتھ سلوک و احسان نہیں کرتا، مسکینوں کو خود تو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس کار خیر پر آمادہ نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ ہے «كَلَّا بَلْ لَا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ» * «وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ» [89-الفجر:17-18] ‏ یعنی ” جو برائی تمہیں پہنچتی ہے وہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے کہ نہ تم یتیموں کی عزت کرتے ہو نہ مسکینوں کو کھانا دینے کی رغبت دلاتے ہو“ یعنی اس فقیر کو جو اتنا نہیں پاتا کہ اسے کافی ہو۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ غفلت برتنے والے نمازیوں کے لیے «ویل» ہے یعنی ان منافقوں کے لیے جو لوگوں کے سامنے نماز ادا کریں ورنہ ہضم کر جائیں یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کیے ہیں اور یہ بھی معنی ہیں کہ مقرر کردہ وقت ٹال دیتے ہیں جیسے کہ مسروق اور ابوالضحی کہتے ہیں۔ 10873 عطاء بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کا شکر ہے کہ فرمان باری میں «عَن صَلَاتِهِمْ» ہے «فِیْ صَلاَتِهِمْ» نہیں، یعنی نمازوں سے غفلت کرتے ہیں فرمایا، نمازوں میں غفلت برتتے ہیں نہیں فرمایا، اسی طرح یہ لفظ شامل ہے، ایسے نمازی کو بھی جو ہمیشہ نماز کو آخری وقت ادا کرے یا عموماً آخری وقت پڑھے یا ارکان و شروط کی پوری رعایت نہ کرے یا خشوع و خضوع اور تدبر و غور وفکر نہ کرے، لفظ قرآن ان میں سے ہر ایک کو شامل ہے یہ سب باتیں جس میں ہوں وہ تو پورا پورا بدنصیب ہے اور جس میں جتنی ہوں اتنا ہی وہ «ویل» والا ہے اور نفاق عملی کا حقدار ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ نماز منافق کی ہے، یہ نماز منافق کی ہے، یہ نماز منافق کی ہے کہ بیٹھا ہوا سورج کا انتظار کرتا رہے جب وہ غروب ہونے کے قریب پہنچے اور شیطان اپنے سینگ اس میں ملا لے، تو کھڑا ہو اور مرغ کی طرح چار ٹھونگیں مار لے جس میں اللہ کا ذکر بہت ہی کم کرے“ ۔ [صحیح مسلم:622] ‏ یہاں مراد عصر کی نماز ہے جو «صلوة وسطيٰ» ہے جیسے کہ حدیث کے لفظوں سے ثابت ہے یہ شخص مکروہ وقت میں کھڑا ہوتا اور کوے کی طرح چونچیں مار لیتا ہے جس میں اطمینان ارکان بھی نہیں ہوتا نہ خشوع و خضوع ہوتا ہے بلکہ ذکر اللہ بھی بہت ہی کم ہوتا ہے اور کیا عجب کہ یہ نماز محض دکھاوے کی نماز ہو تو پڑھی نہ پڑھی یکساں ہے۔ انہی منافقین کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا» [4-النساء:142] ‏ یعنی ” منافق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ انہیں یہ جب بھی نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو تھکے ہارے بادل ناخواستہ صرف لوگوں کے دکھاو کے لیے نماز پڑھتے ہیں اللہ کی یاد بہت ہی کم کرتے ہیں“۔ یہاں بھی فرمایا یہ ریا کاری کرتے ہیں لوگوں میں نمازی بنتے ہیں۔ 10874 طبرانی کی حدیث میں ہے «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس کی آگ اس قدر تیز ہے اور آگ جہنم کی ہر دن اس سے چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے یہ «ویل» اس امت کے ریاکار علماء کے لیے ہے اور ریاکاری کے طور پر صدقہ خیرات کرنے والوں کے لیے ہے اور ریا کاری کے طور پر حج کرنے والوں کے لیے ہے اور ریا کاری کے طور پر جہاد کرنے والوں کے لیے ہے ۔ [طبرانی کبیر:12803:ضعیف و منقطع] ‏ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص دوسروں کو سنانے کے لیے کوئی نیک کام کرے اللہ تعالیٰ بھی لوگوں کو سنا کر عذاب کرے گا اور اسے ذلیل و حقیر کرے گا“ ۔ [مسند احمد:212/2:صحیح] ‏ ہاں اس موقعہ پر یہ یاد رہے کہ اگر کسی شخص نے بالکل نیک نیتی سے کوئی اچھا کام کیا اور لوگوں کو اس کی خبر ہو گئی اس پر سے بھی خوشی ہوئی تو یہ ریا کاری نہیں اس کی دلیل مسند ابو یعلیٰ موصلی کی یہ حدیث ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سرکار نبوی میں ذکر کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں تو تنہا نوافل پڑھتا ہوں لیکن اچانک کوئی آ جاتا ہے تو ذرا مجھ بھی یہ اچھا معلوم ہونے لگتا ہے، آپ نے فرمایا: ”تجھے دو اجر ملیں گے ایک اجر پوشیدگی کا اور دوسرا ظاہر کرنے کا“ [سنن ابن ماجہ:4226،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏ ابن مبارک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے یہ حدیث ریا کاروں کے لیے بھی اچھی چیز ہے یہ حدیث بروئے اسناد غریب ہے لیکن اسی معنی کی حدیث اور سند سے بھی مروی ہے۔ ابن جریر کی ایک بہت ہی ضعیف سند والی حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اکبر یہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے کہ تم میں سے ہر شخص کو مثل تمام دنیا کے دیا جائے اس سے مراد وہ شخص ہے کہ نماز پڑھے تو اس کی بھلائی سے اسے کچھ سروکار نہ ہو اور نہ پڑھے تو اللہ کا خوف اسے نہ ہو“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38055:ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرتے ہیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38034:ضعیف مرفوعا] ‏ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ سرے سے پڑھتے ہی نہیں، دوسرے معنی یہ ہیں کہ شرعی وقت نکال دیتے ہیں پھر پڑھتے ہیں یہ معنی بھی ہیں کہ اول وقت میں ادا نہیں کرتے۔ 10875 ایک موقوف روایت میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تنگ وقت کر ڈالتے ہیں زیادہ صحیح موقوف روایت ہی ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ مرفوع تو ضعیف ہے ہاں موقوف صحیح ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے پس جس طرح یہ لوگ عبادت رب میں سست ہیں اسی طرح لوگوں کے حقوق بھی ادا نہیں کرتے یہاں تک کہ برتنے کی کم قیمت چیزیں لوگوں کو اس لیے بھی نہیں دتے کہ وہ اپنا کام نکال لیں اور پھر وہ چیز جوں کی توں واپس کر دیں۔ پس ان خسیس لوگوں سے یہ کہاں بن آئے کہ وہ زکوٰۃ ادا کریں یا اور نیکی کے کام کریں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے «مَاعُونَ» کا مطلب ادائیگی زکوٰۃ بھی مروی ہے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی، اور دیگر حضرات مفسرین معتبرین سے بھی، امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی نماز میں ریا کاری ہے اور مال کے صدقہ میں ہاتھ روکنا ہے، زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ منافق لوگ ہیں نماز تو چونکہ ظاہر ہے پڑھنی پڑتی ہے اور زکوٰۃ چونکہ پوشیدہ ہے اس لیے اسے ادا نہیں کرتے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ماعون» ہر وہ چیز ہے جو لوگ آپس میں ایک دوسرے سے مانگ لیا کرتے ہیں جیسے کدال، پھاوڑا دیگچی ڈول وغیرہ۔ دوسری روایت میں ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کا یہی مطلب بیان کرتے ہیں اور روایت میں ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم اس کی تفسیر یہی کرتے تھے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38130] ‏ نسائی کی حدیث میں ہے ہر نیک چیز صدقہ ہے ڈول اور ہنڈیا یا پتیلی مانگے پر دینے کو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں «ماعون» سے تعبیر کرتے تھے ۔ [سنن ابوداود:1657،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ غرض اس کے معنی زکوٰۃ نہ دینے کے اطاعت نہ کرنے کے مانگی چیز نہ دینے کے ہیں، چھوٹی چھوٹی بےجان چیزیں کوئی دو گھڑی کے لیے مانگنے آئے اس سے ان کا انکار کر دینا مثلا چھلنی ڈول سوئی سل بٹا کدال، پھاؤڑا، پتیلی، دیگچی وغیرہ۔ 10876 ایک غریب حدیث میں ہے کہ قبیلہ نمیر کے وفد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمیں خاص حکم کیا ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” «ماعون» سے منع کرنا“ انہوں نے پوچھا: «ماعون» کیا؟ فرمایا: ”پتھر، لوہا، پانی“ انہوں نے پوچھا: لوہے سے مراد کون سا لوہا ہے؟ فرمایا: ”یہی تمہاری تانبے کی پتیلیاں اور کدال وغیرہ“ پوچھا: پتھر سے کیا مراد؟ فرمایا: ”یہی دیگچی“ وغیرہ ۔ [الدرالمنشور للسیوطی:684/6:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے بلکہ مرفوع ہونا منکر ہے اور اس کی اسناد میں وہ راوی ہیں جو مشہور نہیں۔ علی نمیری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے آپ نے فرمایا: ”مسلمان کا مسلمان بھائی ہے جب ملے سلام کرے جب سلام کرے تو بہتر جواب دے اور «ماعون» کا انکار نہ کرے“، میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! «ماعون» کیا؟ فرمایا: ”پتھر، لوہا اور اسی جیسی اور چیزیں“ ۔ [اسدالغابۃ:127/4:ضعیف] ‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «الحمداللہ» تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کے احسان اور رحم سے اس سورت کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ 10877

الكوثر 108:1

تفسیر سورۃ الکوثر: بعض کے نزدیک مکی ہے اور بعض کے نزدیک مدنی ہے۔ شہد سے زیادہ میٹھی اور دودھ سے زیادہ سفید نہر ٭٭ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غنودگی سی طاری ہو گئی اور دفعتہ سر اٹھا کر مسکرائے پھر یا تو خود آپ نے فرمایا، یا لوگوں کے اس سوال پر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس لیے مسکرائے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر اس وقت ایک سورت اتری“ پھر آپ نے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر اس پوری سورت «إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ» * «فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ» * «إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ» [108-الکوثر:1-2-3] ‏ کی تلاوت کی اور فرمایا: ”جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایا: ”وہ ایک جنت کی نہر ہے جس پر بہت بھلائی ہے جو میرے رب نے مجھے عطا فرمائی ہے جس پر میری امت قیامت والے دن آئے گی اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی گنتی کے برابر ہیں بعض لوگ اس سے ہٹائے جائیں گے تو میں کہوں گا، اے میرے رب یہ بھی میرے امتی ہیں تو کہا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالی تھیں“ ۔ [صحیح مسلم:400] ‏ اور حدیث میں وارد ہوا ہے کہ اس میں دو پرنالے آسمان سے گرتے ہوں گے ۔ [صحیح مسلم:2301] ‏ نسائی کی حدیث میں ہے یہ واقعہ مسجد میں گزرا ۔ [سنن نسائی:905،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏ اسی سے اکثر قاریوں کا استدلال ہے کہ یہ سورت مدنی ہے اور اکثر فقہاء نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ» ہر سورت میں اس کے ساتھ ہی نازل ہوئی تھی اور ہر سورت کی ایک مستقل آیت ہے۔ مسند کی اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”مجھے کوثر عنایت کی گئی ہے جو ایک جاری نہر ہے لیکن گڑھا نہیں ہے اس کے دونوں جانب موتی کے خیمے ہیں اس کی مٹی خالص مشک ہے اس کے کنکر بھی سچے موتی ہیں“ ۔ [مسند احمد:152/3:صحیح] ‏ اور روایت میں ہے کہ معراج والی رات آپ نے آسمان پر جنت میں اس نہر کو دیکھا اور جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کون سی نہر ہے تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ کوثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دے رکھی ہے ۔ [صحیح بخاری:4964] ‏ اور اس قسم کی بہت سی حدیثیں ہیں اور بہت سی ہم نے سورۃ اسراء کی تفسیر میں بیان بھی کر دی ہیں۔ 10884 ایک اور حدیث میں ہے کہ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے جس کے کنارے دراز گردن والے پرندے بیٹھے ہوئے ہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سن کر فرمایا: وہ پرندے تو بہت ہی خوبصورت ہوں گے، آپ نے فرمایا: ”کھانے میں بھی وہ بہت ہی لذیذ ہیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38174:اسناد قوی] ‏ اور روایت میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کوثر کیا ہے؟ اس پر آپ نے یہ حدیث بیان کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان پرندوں کی نسبت یہ فرمایا ۔ [مسند احمد:221/3:صحیح] ‏ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں یہ نہر جنت کے درمیان میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:321/30] ‏ ایک منقطع سند سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کوثر کے پانی کے گرنے کی آواز جو سننا چاہے وہ اپنے دونوں کانوں میں اپنی دونوں انگلیاں ڈال لے اولاً تو اس کی سند ٹھیک نہیں دوسرے اس کے معنی یہ ہیں کہ اس جیسی آواز آتی ہے نہ کہ خاص اسی کی آواز ہو ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:321/30:ضعیف و منقطع] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10885 صحیح بخاری میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوثر سے مراد وہ بھلائی اور خیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔ ابوبشر کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے یہ سن کر کہا کہ لوگ تو کہتے ہیں کہ یہ جنت کی ایک نہر ہے تو سعید نے فرمایا: وہ بھی ان بھلائیوں اور خیر میں سے ہے جو آپ کو اللہ کی طرف سے عنایت ہوئی ہیں۔ اور بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس سے مراد بہت سی خیر ہے تو یہ تفسیر شامل ہے حوض کوثر وغیرہ سب کو۔ «کوثر» ماخوذ ہے کثرت سے جس سے مراد خیر کثیر ہے اور اسی خیر کثیر میں حوض جنت بھی ہے جیسے کہ بہت سے مفسرین سے مروی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا اور آخرت کی بہت بہت بھلائیاں مراد ہے۔ عکرمہ فرماتے ہیں نبوت، قرآن، ثواب، آخرت کوثر ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کوثر کی تفسیر نہر کوثر سے بھی مروی ہے جیسے کہ ابن جریر میں سنداً مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: کوثر جنت کی ایک نہر ہے جس کے دونوں کنارے سونا چاندی ہے جو یاقوت اور موتیوں پر بہہ رہی ہے جس کا پانی برف سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے ۔ 10886 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی یہ تفسیر مروی ہے ابن جریر ترمذی اور ابن ماجہ وغیرہ میں یہ روایت مرفوع بھی آئی ہے ۔ [مسند احمد:87/2:صحیح] ‏ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے آپ اس وقت گھر پر نہ تھے آپ کی بیوی صاحبہ جو قبیلہ بنو نجار سے تھیں انہوں نے کہا کہ یا نبی اللہ! وہ تو ابھی ابھی آپ ہی کی طرف گئے ہیں شاید بنو نجار میں رک گئے ہوں آپ تشریف لائیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں گئے تو مائی صاحبہ نے آپ کے سامنے مالیدہ رکھا جو آپ نے تناول فرمایا مائی صاحبہ خوش ہو کر فرمانے لگیں اللہ تعالیٰ اسے جزو جسم بنائے، اچھا ہوا خود تشریف لے آئے میں تو حاضر دربار ہونے کا ارادہ کر چکی تھی کہ آپ کو حوض کوثر ملنے کی مبارک باد دوں مجھ سے ابھی ابھی ابوعمارہ نے کہا تھا، آپ نے فرمایا: ”ہاں اس حوض کی زمین یاقوت مرجان زبرجد اور موتیوں کی ہے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38183] ‏ اس کے ایک راوی حرام بن عثمان ضعیف ہیں لیکن واقعہ حسن ہے اور اصل تو تواتر سے ثابت ہو چکی ہے، بہت سے صحابہ اور تابعین وغیرہ سے ثابت ہے کہ کوثر نہر کا نام ہے۔ پھر ارشاد ہے کہ جیسے ہم نے تمہیں خیر کثیر عنایت فرمائی اور ایسی پرشوکت نہر دی تو تم بھی صرف میری ہی عبادت کرو خصوصاً نفل فرض نماز اور قربانی اسی «وحدہ لا شریک لہ» کے نام کی کرتے رہو۔ جیسے فرمایا «قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» * «لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» [6-الأنعام:162-163] ‏ مراد قربانی سے اونٹوں کا نحر کرنا وغیرہ ہے۔ مشرکین سجدے اور قربانیاں اللہ کے سوا اوروں کے نام کی کرتے تھے تو یہاں حکم ہوا کہ تم صرف اللہ ہی کے نام کی مخلصانہ عبادتیں کیا کرو۔ اور جگہ ہے «وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّـهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ» [6-الأنعام:121] ‏ الخ یعنی ” جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے نہ کھاؤ یہ تو «فسق» ہے “ اور کہا گیا ہے کہ مراد «وانحر» سے دائیں ہاتھ کا بائیں ہاتھ پر نماز میں سینے پر رکھنا ہے یہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے غیر صحیح سند کے ساتھ مروی ہے، شعبی رحمہ اللہ اس لفظ کی یہی تفسیر کرتے ہیں۔ ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد نماز کے شروع کے وقت رفع یدین کرنا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ اپنے سینے سے قبلہ کی طرف متوجہ ہو یہ تینوں قول ابن جریر میں منقول ہیں۔ 10887 ابن ابی حاتم میں اس جگہ ایک بہت منکر حدیث مروی ہے جس میں ہے کہ جب یہ سورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری تو آپ نے فرمایا: ”اے جبرائیل «وانحر» سے مراد کیا ہے؟ جو مجھے میرے پروردگار کا حکم ہو رہا ہے“، تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اس سے مراد قربانی نہیں بلکہ اللہ کا آپ کو حکم ہو رہا ہے کہ نماز کی تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرو اور رکوع کے وقت بھی اور جب رکوع سے سر اٹھاؤ تب اور جب سجدہ کرو یہی ہماری نماز ہے اور ان فرشتوں کی نماز ہے جو ساتوں آسمانوں میں ہیں ہر چیز کی زینت ہوتی ہے اور نماز کی زینت ہر تکبیر کے وقت رفع یدین کرنا ہے ۔ [مستدرک حاکم:538/2:اسناد ضعیف جدا والمتن باطل] ‏ یہ حدیث اسی طرح مستدرک حاکم میں بھی ہے۔ عطاء خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں «وانحر» سے مراد یہ ہے کہ اپنی پیٹھ رکوع سے اٹھاؤ تو اعتدال کرو اور سینے کو ظاہر کرو یعنی اطمینان حاصل کرو۔ (‏ابن ابی حاتم)‏ یہ سب اقوال غریب ہیں اور صحیح پہلا قول ہے کہ مراد «نحر» سے قربانیوں کا ذبح کرنا ہے اسی لیے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید سے فارغ ہو کر اپنی قربانی ذبخ کرتے تھے اور فرماتے تھے ”جو شخص ہماری نماز پڑھے اور ہم جیسی قربانی کرے اس نے شرعی قربانی کی اور جس نے نماز سے پہلے ہی جانور ذبح کر لیا اس کی قربانی نہیں ہوئی“، ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے نماز عید سے پہلے ہی قربانی کر لی یہ سمجھ کر کہ آج کے دن گوشت کی چاہت ہو گی، آپ نے فرمایا: ”بس وہ تو کھانے کا گوشت ہو گیا“ صحابی نے کہا: اچھا، یا رسول اللہ! اب میرے پاس ایک بکری کا بچہ ہے جو مجھے دو بکریوں سے بھی زیادہ محبوب ہے کیا یہ کافی ہو گا آپ نے فرمایا: ”ہاں تجھے تو کافی ہے لیکن تیرے بعد چھ مہینے کا بکری کا بچہ کوئی اور قربانی نہیں دے سکتا“۔ [صحیح بخاری:955] ‏ امام ابو جعفر بن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول اس کا ہے جو کہتا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اپنی تمام نمازیں خالص اللہ ہی کے لیے ادا کر، اس کے سوا کسی اور کے لیے نہ کر، اسی طرح اسی کی راہ میں خون بہا کسی اور کے نام پر قربانی نہ کر، اس کا شکر بجا لا جس نے تجھے یہ بزرگی دی اور وہ نعمت دی جس جیسی کوئی اور نعمت نہیں تجھی کو اس کے ساتھ خاص کیا یہی قول بہت اچھا ہے۔ محمد بن کعب قرظی اور عطا کا بھی یہی فرمان ہے۔ 10888 پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! تجھ سے اور تیری طرف اتری ہوئی وحی سے دشمنی رکھنے والا ہی قلت و ذلت والا بے برکتا اور دم بریدہ ہے یہ آیت عاص بن وائل کے بارے میں اتری ہے یہ پاجی جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سنتا تو کہتا اسے چھوڑو وہ دم کٹا ہے، اس کے پیچھے اس کی نرینہ اولاد نہیں اس کے انتقال کرتے ہی اس کا نام دنیا سے اٹھ جائے گا۔ اس پر یہ مبارک سورت نازل ہوئی ہے شمر بن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عقبہ بن ابومعیط کے حق میں یہ آیت اتری ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں کعب بن اشرف اور جماعت قریش کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ بزار میں ہے کہ جب کعب بن اشرف مکے میں آیا تو قریشیوں نے اس سے کہا کہ آپ تو ان کے سردار ہیں آپ اس بچہ کی طرف نہیں دیکھتے جو اپنی ساری قوم سے الگ تھلک ہے اور خیال کرتا ہے کہ وہ افضل ہے حالانکہ ہم حاجیوں کے اہل میں سے ہیں بیت اللہ ہمارے ہاتھوں میں ہے زمزم پر ہمارا قبضہ ہے، تو یہ خبیث کہنے لگا بیشک تم اس سے بہتر ہو اس پر یہ آیت اتری اس کی سند صحیح ہے۔ عطا فرماتے ہیں ابولہب کے بارے میں یہ آیت اتری ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے انتقال ہوا تو یہ بدنصیب مشرکین سے کہنے لگا کہ آج کی رات محمد کی نسل کٹ گئی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہ منقول ہے آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر دشمن ہے جن جن کے نام لیے گئے وہ بھی اور جن کا ذکر نہیں ہوا وہ بھی «ابتر» کے معنی ہیں، تنہا عرب کا یہ بھی محاورہ ہے کہ جب کسی کی نرینہ اولاد مر جاتے تو کہتے ہیں «ابتر» نبی علیہ السلام کے صاحبزادہ کے انتقال پر بھی انہوں نے دشمنی کی وجہ سے یہی کہا جس پر یہ آیت اتری تو مطلب یہ ہوا کہ «ابتر» وہ ہے جس کے مرنے کے بعد اس کا نام مٹ جائے ان مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بھی یہی خیال کیا تھا کہ ان کے لڑکے تو انتقال کر گئے وہ نہ رہے جن کی وجہ سے ان کے انتقال کے بعد بھی ان کا نام رہتا «حاشا و کلا» اللہ تعالیٰ آپ کا نام رہتی دنیا تک رکھے گا آپ کی شریعت ابدالآباد تک باقی رہے گی آپ کی اطاعت ہر ایک پر فرض کر دی گئی ہے، آپ کا پیارا اور پاک نام ہر ایک مسلم کے دل و زبان پر ہے اور قیام تک فضائے آسمانی میں عروج و اقبال کے ساتھ گونجتا رہے گا، بحر و بر میں ہر وقت اس کی منادی ہوتی رہے گی، اللہ تعالیٰ آپ پر اور آپ کی آل و اولاد پر اور ازواج و اصحاب پر قیامت تک درود سلام بےحد و بکثرت بھیجتا رہے۔ «آمین» «الحمداللہ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کے احسان و رحم سے سورۃ الکوثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «وللہ الحمد والمنہ» 10889

الكوثر 108:2

تفسیر سورۃ الکوثر: بعض کے نزدیک مکی ہے اور بعض کے نزدیک مدنی ہے۔ شہد سے زیادہ میٹھی اور دودھ سے زیادہ سفید نہر ٭٭ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غنودگی سی طاری ہو گئی اور دفعتہ سر اٹھا کر مسکرائے پھر یا تو خود آپ نے فرمایا، یا لوگوں کے اس سوال پر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس لیے مسکرائے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر اس وقت ایک سورت اتری“ پھر آپ نے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر اس پوری سورت «إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ» * «فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ» * «إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ» [108-الکوثر:1-2-3] ‏ کی تلاوت کی اور فرمایا: ”جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایا: ”وہ ایک جنت کی نہر ہے جس پر بہت بھلائی ہے جو میرے رب نے مجھے عطا فرمائی ہے جس پر میری امت قیامت والے دن آئے گی اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی گنتی کے برابر ہیں بعض لوگ اس سے ہٹائے جائیں گے تو میں کہوں گا، اے میرے رب یہ بھی میرے امتی ہیں تو کہا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالی تھیں“ ۔ [صحیح مسلم:400] ‏ اور حدیث میں وارد ہوا ہے کہ اس میں دو پرنالے آسمان سے گرتے ہوں گے ۔ [صحیح مسلم:2301] ‏ نسائی کی حدیث میں ہے یہ واقعہ مسجد میں گزرا ۔ [سنن نسائی:905،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏ اسی سے اکثر قاریوں کا استدلال ہے کہ یہ سورت مدنی ہے اور اکثر فقہاء نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ» ہر سورت میں اس کے ساتھ ہی نازل ہوئی تھی اور ہر سورت کی ایک مستقل آیت ہے۔ مسند کی اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”مجھے کوثر عنایت کی گئی ہے جو ایک جاری نہر ہے لیکن گڑھا نہیں ہے اس کے دونوں جانب موتی کے خیمے ہیں اس کی مٹی خالص مشک ہے اس کے کنکر بھی سچے موتی ہیں“ ۔ [مسند احمد:152/3:صحیح] ‏ اور روایت میں ہے کہ معراج والی رات آپ نے آسمان پر جنت میں اس نہر کو دیکھا اور جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کون سی نہر ہے تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ کوثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دے رکھی ہے ۔ [صحیح بخاری:4964] ‏ اور اس قسم کی بہت سی حدیثیں ہیں اور بہت سی ہم نے سورۃ اسراء کی تفسیر میں بیان بھی کر دی ہیں۔ 10884 ایک اور حدیث میں ہے کہ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے جس کے کنارے دراز گردن والے پرندے بیٹھے ہوئے ہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سن کر فرمایا: وہ پرندے تو بہت ہی خوبصورت ہوں گے، آپ نے فرمایا: ”کھانے میں بھی وہ بہت ہی لذیذ ہیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38174:اسناد قوی] ‏ اور روایت میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کوثر کیا ہے؟ اس پر آپ نے یہ حدیث بیان کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان پرندوں کی نسبت یہ فرمایا ۔ [مسند احمد:221/3:صحیح] ‏ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں یہ نہر جنت کے درمیان میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:321/30] ‏ ایک منقطع سند سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کوثر کے پانی کے گرنے کی آواز جو سننا چاہے وہ اپنے دونوں کانوں میں اپنی دونوں انگلیاں ڈال لے اولاً تو اس کی سند ٹھیک نہیں دوسرے اس کے معنی یہ ہیں کہ اس جیسی آواز آتی ہے نہ کہ خاص اسی کی آواز ہو ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:321/30:ضعیف و منقطع] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10885 صحیح بخاری میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوثر سے مراد وہ بھلائی اور خیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔ ابوبشر کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے یہ سن کر کہا کہ لوگ تو کہتے ہیں کہ یہ جنت کی ایک نہر ہے تو سعید نے فرمایا: وہ بھی ان بھلائیوں اور خیر میں سے ہے جو آپ کو اللہ کی طرف سے عنایت ہوئی ہیں۔ اور بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس سے مراد بہت سی خیر ہے تو یہ تفسیر شامل ہے حوض کوثر وغیرہ سب کو۔ «کوثر» ماخوذ ہے کثرت سے جس سے مراد خیر کثیر ہے اور اسی خیر کثیر میں حوض جنت بھی ہے جیسے کہ بہت سے مفسرین سے مروی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا اور آخرت کی بہت بہت بھلائیاں مراد ہے۔ عکرمہ فرماتے ہیں نبوت، قرآن، ثواب، آخرت کوثر ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کوثر کی تفسیر نہر کوثر سے بھی مروی ہے جیسے کہ ابن جریر میں سنداً مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: کوثر جنت کی ایک نہر ہے جس کے دونوں کنارے سونا چاندی ہے جو یاقوت اور موتیوں پر بہہ رہی ہے جس کا پانی برف سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے ۔ 10886 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی یہ تفسیر مروی ہے ابن جریر ترمذی اور ابن ماجہ وغیرہ میں یہ روایت مرفوع بھی آئی ہے ۔ [مسند احمد:87/2:صحیح] ‏ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے آپ اس وقت گھر پر نہ تھے آپ کی بیوی صاحبہ جو قبیلہ بنو نجار سے تھیں انہوں نے کہا کہ یا نبی اللہ! وہ تو ابھی ابھی آپ ہی کی طرف گئے ہیں شاید بنو نجار میں رک گئے ہوں آپ تشریف لائیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں گئے تو مائی صاحبہ نے آپ کے سامنے مالیدہ رکھا جو آپ نے تناول فرمایا مائی صاحبہ خوش ہو کر فرمانے لگیں اللہ تعالیٰ اسے جزو جسم بنائے، اچھا ہوا خود تشریف لے آئے میں تو حاضر دربار ہونے کا ارادہ کر چکی تھی کہ آپ کو حوض کوثر ملنے کی مبارک باد دوں مجھ سے ابھی ابھی ابوعمارہ نے کہا تھا، آپ نے فرمایا: ”ہاں اس حوض کی زمین یاقوت مرجان زبرجد اور موتیوں کی ہے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38183] ‏ اس کے ایک راوی حرام بن عثمان ضعیف ہیں لیکن واقعہ حسن ہے اور اصل تو تواتر سے ثابت ہو چکی ہے، بہت سے صحابہ اور تابعین وغیرہ سے ثابت ہے کہ کوثر نہر کا نام ہے۔ پھر ارشاد ہے کہ جیسے ہم نے تمہیں خیر کثیر عنایت فرمائی اور ایسی پرشوکت نہر دی تو تم بھی صرف میری ہی عبادت کرو خصوصاً نفل فرض نماز اور قربانی اسی «وحدہ لا شریک لہ» کے نام کی کرتے رہو۔ جیسے فرمایا «قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» * «لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» [6-الأنعام:162-163] ‏ مراد قربانی سے اونٹوں کا نحر کرنا وغیرہ ہے۔ مشرکین سجدے اور قربانیاں اللہ کے سوا اوروں کے نام کی کرتے تھے تو یہاں حکم ہوا کہ تم صرف اللہ ہی کے نام کی مخلصانہ عبادتیں کیا کرو۔ اور جگہ ہے «وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّـهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ» [6-الأنعام:121] ‏ الخ یعنی ” جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے نہ کھاؤ یہ تو «فسق» ہے “ اور کہا گیا ہے کہ مراد «وانحر» سے دائیں ہاتھ کا بائیں ہاتھ پر نماز میں سینے پر رکھنا ہے یہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے غیر صحیح سند کے ساتھ مروی ہے، شعبی رحمہ اللہ اس لفظ کی یہی تفسیر کرتے ہیں۔ ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد نماز کے شروع کے وقت رفع یدین کرنا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ اپنے سینے سے قبلہ کی طرف متوجہ ہو یہ تینوں قول ابن جریر میں منقول ہیں۔ 10887 ابن ابی حاتم میں اس جگہ ایک بہت منکر حدیث مروی ہے جس میں ہے کہ جب یہ سورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری تو آپ نے فرمایا: ”اے جبرائیل «وانحر» سے مراد کیا ہے؟ جو مجھے میرے پروردگار کا حکم ہو رہا ہے“، تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اس سے مراد قربانی نہیں بلکہ اللہ کا آپ کو حکم ہو رہا ہے کہ نماز کی تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرو اور رکوع کے وقت بھی اور جب رکوع سے سر اٹھاؤ تب اور جب سجدہ کرو یہی ہماری نماز ہے اور ان فرشتوں کی نماز ہے جو ساتوں آسمانوں میں ہیں ہر چیز کی زینت ہوتی ہے اور نماز کی زینت ہر تکبیر کے وقت رفع یدین کرنا ہے ۔ [مستدرک حاکم:538/2:اسناد ضعیف جدا والمتن باطل] ‏ یہ حدیث اسی طرح مستدرک حاکم میں بھی ہے۔ عطاء خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں «وانحر» سے مراد یہ ہے کہ اپنی پیٹھ رکوع سے اٹھاؤ تو اعتدال کرو اور سینے کو ظاہر کرو یعنی اطمینان حاصل کرو۔ (‏ابن ابی حاتم)‏ یہ سب اقوال غریب ہیں اور صحیح پہلا قول ہے کہ مراد «نحر» سے قربانیوں کا ذبح کرنا ہے اسی لیے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید سے فارغ ہو کر اپنی قربانی ذبخ کرتے تھے اور فرماتے تھے ”جو شخص ہماری نماز پڑھے اور ہم جیسی قربانی کرے اس نے شرعی قربانی کی اور جس نے نماز سے پہلے ہی جانور ذبح کر لیا اس کی قربانی نہیں ہوئی“، ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے نماز عید سے پہلے ہی قربانی کر لی یہ سمجھ کر کہ آج کے دن گوشت کی چاہت ہو گی، آپ نے فرمایا: ”بس وہ تو کھانے کا گوشت ہو گیا“ صحابی نے کہا: اچھا، یا رسول اللہ! اب میرے پاس ایک بکری کا بچہ ہے جو مجھے دو بکریوں سے بھی زیادہ محبوب ہے کیا یہ کافی ہو گا آپ نے فرمایا: ”ہاں تجھے تو کافی ہے لیکن تیرے بعد چھ مہینے کا بکری کا بچہ کوئی اور قربانی نہیں دے سکتا“۔ [صحیح بخاری:955] ‏ امام ابو جعفر بن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول اس کا ہے جو کہتا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اپنی تمام نمازیں خالص اللہ ہی کے لیے ادا کر، اس کے سوا کسی اور کے لیے نہ کر، اسی طرح اسی کی راہ میں خون بہا کسی اور کے نام پر قربانی نہ کر، اس کا شکر بجا لا جس نے تجھے یہ بزرگی دی اور وہ نعمت دی جس جیسی کوئی اور نعمت نہیں تجھی کو اس کے ساتھ خاص کیا یہی قول بہت اچھا ہے۔ محمد بن کعب قرظی اور عطا کا بھی یہی فرمان ہے۔ 10888 پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! تجھ سے اور تیری طرف اتری ہوئی وحی سے دشمنی رکھنے والا ہی قلت و ذلت والا بے برکتا اور دم بریدہ ہے یہ آیت عاص بن وائل کے بارے میں اتری ہے یہ پاجی جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سنتا تو کہتا اسے چھوڑو وہ دم کٹا ہے، اس کے پیچھے اس کی نرینہ اولاد نہیں اس کے انتقال کرتے ہی اس کا نام دنیا سے اٹھ جائے گا۔ اس پر یہ مبارک سورت نازل ہوئی ہے شمر بن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عقبہ بن ابومعیط کے حق میں یہ آیت اتری ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں کعب بن اشرف اور جماعت قریش کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ بزار میں ہے کہ جب کعب بن اشرف مکے میں آیا تو قریشیوں نے اس سے کہا کہ آپ تو ان کے سردار ہیں آپ اس بچہ کی طرف نہیں دیکھتے جو اپنی ساری قوم سے الگ تھلک ہے اور خیال کرتا ہے کہ وہ افضل ہے حالانکہ ہم حاجیوں کے اہل میں سے ہیں بیت اللہ ہمارے ہاتھوں میں ہے زمزم پر ہمارا قبضہ ہے، تو یہ خبیث کہنے لگا بیشک تم اس سے بہتر ہو اس پر یہ آیت اتری اس کی سند صحیح ہے۔ عطا فرماتے ہیں ابولہب کے بارے میں یہ آیت اتری ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے انتقال ہوا تو یہ بدنصیب مشرکین سے کہنے لگا کہ آج کی رات محمد کی نسل کٹ گئی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہ منقول ہے آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر دشمن ہے جن جن کے نام لیے گئے وہ بھی اور جن کا ذکر نہیں ہوا وہ بھی «ابتر» کے معنی ہیں، تنہا عرب کا یہ بھی محاورہ ہے کہ جب کسی کی نرینہ اولاد مر جاتے تو کہتے ہیں «ابتر» نبی علیہ السلام کے صاحبزادہ کے انتقال پر بھی انہوں نے دشمنی کی وجہ سے یہی کہا جس پر یہ آیت اتری تو مطلب یہ ہوا کہ «ابتر» وہ ہے جس کے مرنے کے بعد اس کا نام مٹ جائے ان مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بھی یہی خیال کیا تھا کہ ان کے لڑکے تو انتقال کر گئے وہ نہ رہے جن کی وجہ سے ان کے انتقال کے بعد بھی ان کا نام رہتا «حاشا و کلا» اللہ تعالیٰ آپ کا نام رہتی دنیا تک رکھے گا آپ کی شریعت ابدالآباد تک باقی رہے گی آپ کی اطاعت ہر ایک پر فرض کر دی گئی ہے، آپ کا پیارا اور پاک نام ہر ایک مسلم کے دل و زبان پر ہے اور قیام تک فضائے آسمانی میں عروج و اقبال کے ساتھ گونجتا رہے گا، بحر و بر میں ہر وقت اس کی منادی ہوتی رہے گی، اللہ تعالیٰ آپ پر اور آپ کی آل و اولاد پر اور ازواج و اصحاب پر قیامت تک درود سلام بےحد و بکثرت بھیجتا رہے۔ «آمین» «الحمداللہ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کے احسان و رحم سے سورۃ الکوثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «وللہ الحمد والمنہ» 10889

الكوثر 108:3

تفسیر سورۃ الکوثر: بعض کے نزدیک مکی ہے اور بعض کے نزدیک مدنی ہے۔ شہد سے زیادہ میٹھی اور دودھ سے زیادہ سفید نہر ٭٭ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غنودگی سی طاری ہو گئی اور دفعتہ سر اٹھا کر مسکرائے پھر یا تو خود آپ نے فرمایا، یا لوگوں کے اس سوال پر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس لیے مسکرائے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر اس وقت ایک سورت اتری“ پھر آپ نے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر اس پوری سورت «إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ» * «فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ» * «إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ» [108-الکوثر:1-2-3] ‏ کی تلاوت کی اور فرمایا: ”جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایا: ”وہ ایک جنت کی نہر ہے جس پر بہت بھلائی ہے جو میرے رب نے مجھے عطا فرمائی ہے جس پر میری امت قیامت والے دن آئے گی اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی گنتی کے برابر ہیں بعض لوگ اس سے ہٹائے جائیں گے تو میں کہوں گا، اے میرے رب یہ بھی میرے امتی ہیں تو کہا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالی تھیں“ ۔ [صحیح مسلم:400] ‏ اور حدیث میں وارد ہوا ہے کہ اس میں دو پرنالے آسمان سے گرتے ہوں گے ۔ [صحیح مسلم:2301] ‏ نسائی کی حدیث میں ہے یہ واقعہ مسجد میں گزرا ۔ [سنن نسائی:905،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏ اسی سے اکثر قاریوں کا استدلال ہے کہ یہ سورت مدنی ہے اور اکثر فقہاء نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ» ہر سورت میں اس کے ساتھ ہی نازل ہوئی تھی اور ہر سورت کی ایک مستقل آیت ہے۔ مسند کی اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”مجھے کوثر عنایت کی گئی ہے جو ایک جاری نہر ہے لیکن گڑھا نہیں ہے اس کے دونوں جانب موتی کے خیمے ہیں اس کی مٹی خالص مشک ہے اس کے کنکر بھی سچے موتی ہیں“ ۔ [مسند احمد:152/3:صحیح] ‏ اور روایت میں ہے کہ معراج والی رات آپ نے آسمان پر جنت میں اس نہر کو دیکھا اور جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کون سی نہر ہے تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ کوثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دے رکھی ہے ۔ [صحیح بخاری:4964] ‏ اور اس قسم کی بہت سی حدیثیں ہیں اور بہت سی ہم نے سورۃ اسراء کی تفسیر میں بیان بھی کر دی ہیں۔ 10884 ایک اور حدیث میں ہے کہ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے جس کے کنارے دراز گردن والے پرندے بیٹھے ہوئے ہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سن کر فرمایا: وہ پرندے تو بہت ہی خوبصورت ہوں گے، آپ نے فرمایا: ”کھانے میں بھی وہ بہت ہی لذیذ ہیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38174:اسناد قوی] ‏ اور روایت میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کوثر کیا ہے؟ اس پر آپ نے یہ حدیث بیان کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان پرندوں کی نسبت یہ فرمایا ۔ [مسند احمد:221/3:صحیح] ‏ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں یہ نہر جنت کے درمیان میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:321/30] ‏ ایک منقطع سند سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کوثر کے پانی کے گرنے کی آواز جو سننا چاہے وہ اپنے دونوں کانوں میں اپنی دونوں انگلیاں ڈال لے اولاً تو اس کی سند ٹھیک نہیں دوسرے اس کے معنی یہ ہیں کہ اس جیسی آواز آتی ہے نہ کہ خاص اسی کی آواز ہو ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:321/30:ضعیف و منقطع] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10885 صحیح بخاری میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوثر سے مراد وہ بھلائی اور خیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔ ابوبشر کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے یہ سن کر کہا کہ لوگ تو کہتے ہیں کہ یہ جنت کی ایک نہر ہے تو سعید نے فرمایا: وہ بھی ان بھلائیوں اور خیر میں سے ہے جو آپ کو اللہ کی طرف سے عنایت ہوئی ہیں۔ اور بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس سے مراد بہت سی خیر ہے تو یہ تفسیر شامل ہے حوض کوثر وغیرہ سب کو۔ «کوثر» ماخوذ ہے کثرت سے جس سے مراد خیر کثیر ہے اور اسی خیر کثیر میں حوض جنت بھی ہے جیسے کہ بہت سے مفسرین سے مروی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا اور آخرت کی بہت بہت بھلائیاں مراد ہے۔ عکرمہ فرماتے ہیں نبوت، قرآن، ثواب، آخرت کوثر ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کوثر کی تفسیر نہر کوثر سے بھی مروی ہے جیسے کہ ابن جریر میں سنداً مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: کوثر جنت کی ایک نہر ہے جس کے دونوں کنارے سونا چاندی ہے جو یاقوت اور موتیوں پر بہہ رہی ہے جس کا پانی برف سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے ۔ 10886 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی یہ تفسیر مروی ہے ابن جریر ترمذی اور ابن ماجہ وغیرہ میں یہ روایت مرفوع بھی آئی ہے ۔ [مسند احمد:87/2:صحیح] ‏ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے آپ اس وقت گھر پر نہ تھے آپ کی بیوی صاحبہ جو قبیلہ بنو نجار سے تھیں انہوں نے کہا کہ یا نبی اللہ! وہ تو ابھی ابھی آپ ہی کی طرف گئے ہیں شاید بنو نجار میں رک گئے ہوں آپ تشریف لائیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں گئے تو مائی صاحبہ نے آپ کے سامنے مالیدہ رکھا جو آپ نے تناول فرمایا مائی صاحبہ خوش ہو کر فرمانے لگیں اللہ تعالیٰ اسے جزو جسم بنائے، اچھا ہوا خود تشریف لے آئے میں تو حاضر دربار ہونے کا ارادہ کر چکی تھی کہ آپ کو حوض کوثر ملنے کی مبارک باد دوں مجھ سے ابھی ابھی ابوعمارہ نے کہا تھا، آپ نے فرمایا: ”ہاں اس حوض کی زمین یاقوت مرجان زبرجد اور موتیوں کی ہے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38183] ‏ اس کے ایک راوی حرام بن عثمان ضعیف ہیں لیکن واقعہ حسن ہے اور اصل تو تواتر سے ثابت ہو چکی ہے، بہت سے صحابہ اور تابعین وغیرہ سے ثابت ہے کہ کوثر نہر کا نام ہے۔ پھر ارشاد ہے کہ جیسے ہم نے تمہیں خیر کثیر عنایت فرمائی اور ایسی پرشوکت نہر دی تو تم بھی صرف میری ہی عبادت کرو خصوصاً نفل فرض نماز اور قربانی اسی «وحدہ لا شریک لہ» کے نام کی کرتے رہو۔ جیسے فرمایا «قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» * «لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» [6-الأنعام:162-163] ‏ مراد قربانی سے اونٹوں کا نحر کرنا وغیرہ ہے۔ مشرکین سجدے اور قربانیاں اللہ کے سوا اوروں کے نام کی کرتے تھے تو یہاں حکم ہوا کہ تم صرف اللہ ہی کے نام کی مخلصانہ عبادتیں کیا کرو۔ اور جگہ ہے «وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّـهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ» [6-الأنعام:121] ‏ الخ یعنی ” جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے نہ کھاؤ یہ تو «فسق» ہے “ اور کہا گیا ہے کہ مراد «وانحر» سے دائیں ہاتھ کا بائیں ہاتھ پر نماز میں سینے پر رکھنا ہے یہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے غیر صحیح سند کے ساتھ مروی ہے، شعبی رحمہ اللہ اس لفظ کی یہی تفسیر کرتے ہیں۔ ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد نماز کے شروع کے وقت رفع یدین کرنا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ اپنے سینے سے قبلہ کی طرف متوجہ ہو یہ تینوں قول ابن جریر میں منقول ہیں۔ 10887 ابن ابی حاتم میں اس جگہ ایک بہت منکر حدیث مروی ہے جس میں ہے کہ جب یہ سورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری تو آپ نے فرمایا: ”اے جبرائیل «وانحر» سے مراد کیا ہے؟ جو مجھے میرے پروردگار کا حکم ہو رہا ہے“، تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اس سے مراد قربانی نہیں بلکہ اللہ کا آپ کو حکم ہو رہا ہے کہ نماز کی تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرو اور رکوع کے وقت بھی اور جب رکوع سے سر اٹھاؤ تب اور جب سجدہ کرو یہی ہماری نماز ہے اور ان فرشتوں کی نماز ہے جو ساتوں آسمانوں میں ہیں ہر چیز کی زینت ہوتی ہے اور نماز کی زینت ہر تکبیر کے وقت رفع یدین کرنا ہے ۔ [مستدرک حاکم:538/2:اسناد ضعیف جدا والمتن باطل] ‏ یہ حدیث اسی طرح مستدرک حاکم میں بھی ہے۔ عطاء خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں «وانحر» سے مراد یہ ہے کہ اپنی پیٹھ رکوع سے اٹھاؤ تو اعتدال کرو اور سینے کو ظاہر کرو یعنی اطمینان حاصل کرو۔ (‏ابن ابی حاتم)‏ یہ سب اقوال غریب ہیں اور صحیح پہلا قول ہے کہ مراد «نحر» سے قربانیوں کا ذبح کرنا ہے اسی لیے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید سے فارغ ہو کر اپنی قربانی ذبخ کرتے تھے اور فرماتے تھے ”جو شخص ہماری نماز پڑھے اور ہم جیسی قربانی کرے اس نے شرعی قربانی کی اور جس نے نماز سے پہلے ہی جانور ذبح کر لیا اس کی قربانی نہیں ہوئی“، ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے نماز عید سے پہلے ہی قربانی کر لی یہ سمجھ کر کہ آج کے دن گوشت کی چاہت ہو گی، آپ نے فرمایا: ”بس وہ تو کھانے کا گوشت ہو گیا“ صحابی نے کہا: اچھا، یا رسول اللہ! اب میرے پاس ایک بکری کا بچہ ہے جو مجھے دو بکریوں سے بھی زیادہ محبوب ہے کیا یہ کافی ہو گا آپ نے فرمایا: ”ہاں تجھے تو کافی ہے لیکن تیرے بعد چھ مہینے کا بکری کا بچہ کوئی اور قربانی نہیں دے سکتا“۔ [صحیح بخاری:955] ‏ امام ابو جعفر بن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول اس کا ہے جو کہتا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اپنی تمام نمازیں خالص اللہ ہی کے لیے ادا کر، اس کے سوا کسی اور کے لیے نہ کر، اسی طرح اسی کی راہ میں خون بہا کسی اور کے نام پر قربانی نہ کر، اس کا شکر بجا لا جس نے تجھے یہ بزرگی دی اور وہ نعمت دی جس جیسی کوئی اور نعمت نہیں تجھی کو اس کے ساتھ خاص کیا یہی قول بہت اچھا ہے۔ محمد بن کعب قرظی اور عطا کا بھی یہی فرمان ہے۔ 10888 پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! تجھ سے اور تیری طرف اتری ہوئی وحی سے دشمنی رکھنے والا ہی قلت و ذلت والا بے برکتا اور دم بریدہ ہے یہ آیت عاص بن وائل کے بارے میں اتری ہے یہ پاجی جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سنتا تو کہتا اسے چھوڑو وہ دم کٹا ہے، اس کے پیچھے اس کی نرینہ اولاد نہیں اس کے انتقال کرتے ہی اس کا نام دنیا سے اٹھ جائے گا۔ اس پر یہ مبارک سورت نازل ہوئی ہے شمر بن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عقبہ بن ابومعیط کے حق میں یہ آیت اتری ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں کعب بن اشرف اور جماعت قریش کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ بزار میں ہے کہ جب کعب بن اشرف مکے میں آیا تو قریشیوں نے اس سے کہا کہ آپ تو ان کے سردار ہیں آپ اس بچہ کی طرف نہیں دیکھتے جو اپنی ساری قوم سے الگ تھلک ہے اور خیال کرتا ہے کہ وہ افضل ہے حالانکہ ہم حاجیوں کے اہل میں سے ہیں بیت اللہ ہمارے ہاتھوں میں ہے زمزم پر ہمارا قبضہ ہے، تو یہ خبیث کہنے لگا بیشک تم اس سے بہتر ہو اس پر یہ آیت اتری اس کی سند صحیح ہے۔ عطا فرماتے ہیں ابولہب کے بارے میں یہ آیت اتری ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے انتقال ہوا تو یہ بدنصیب مشرکین سے کہنے لگا کہ آج کی رات محمد کی نسل کٹ گئی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہ منقول ہے آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر دشمن ہے جن جن کے نام لیے گئے وہ بھی اور جن کا ذکر نہیں ہوا وہ بھی «ابتر» کے معنی ہیں، تنہا عرب کا یہ بھی محاورہ ہے کہ جب کسی کی نرینہ اولاد مر جاتے تو کہتے ہیں «ابتر» نبی علیہ السلام کے صاحبزادہ کے انتقال پر بھی انہوں نے دشمنی کی وجہ سے یہی کہا جس پر یہ آیت اتری تو مطلب یہ ہوا کہ «ابتر» وہ ہے جس کے مرنے کے بعد اس کا نام مٹ جائے ان مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بھی یہی خیال کیا تھا کہ ان کے لڑکے تو انتقال کر گئے وہ نہ رہے جن کی وجہ سے ان کے انتقال کے بعد بھی ان کا نام رہتا «حاشا و کلا» اللہ تعالیٰ آپ کا نام رہتی دنیا تک رکھے گا آپ کی شریعت ابدالآباد تک باقی رہے گی آپ کی اطاعت ہر ایک پر فرض کر دی گئی ہے، آپ کا پیارا اور پاک نام ہر ایک مسلم کے دل و زبان پر ہے اور قیام تک فضائے آسمانی میں عروج و اقبال کے ساتھ گونجتا رہے گا، بحر و بر میں ہر وقت اس کی منادی ہوتی رہے گی، اللہ تعالیٰ آپ پر اور آپ کی آل و اولاد پر اور ازواج و اصحاب پر قیامت تک درود سلام بےحد و بکثرت بھیجتا رہے۔ «آمین» «الحمداللہ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کے احسان و رحم سے سورۃ الکوثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «وللہ الحمد والمنہ» 10889

الكافرون 109:1

سورہ کافرون کا تعارف: صحیح مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت کو اور سورۃ اخلاص کو طواف کے بعد کی دو رکعت نماز میں تلاوت فرمایا۔ [صحيح مسلم:1218‏ ] صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صبح کی دو سنتوں میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہی دونوں سورتوں کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم:726‏ ] مسند احمد میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے فرضوں سے پہلے کی دو رکعتوں میں اور مغرب کے بعد کی دو رکعتوں میں بیس اوپر کچھ دفعہ یا دس دفعہ اوپر کچھ مرتبہ سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» اور سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» پڑھی۔ [مسند احمد:24/2،صحيح] ‏ (‏یعنی اتنی مرتبہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سورتیں ان نمازوں میں پڑھتے ہوئے سنا)‏۔ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے چوبیس یا پچیس مرتبہ صبح کی دو سنتوں میں ان دونوں سورتوں کو پڑھتے ہوئے بخوبی دیکھا۔ [مسند احمد:95/2،صحيح‏ ] مسند ہی کی دوسری روایت میں آپ سے مروی ہے کہ مہینہ بھر تک میں نے آپ کو ان دونوں رکعتوں میں یہ دونوں سورتیں پڑھتے ہوئے پایا۔ یہ روایت ترمذی، ابن ماجہ اور نسائی میں بھی ہے۔ [سنن ابن ماجه:1149،صحيح‏] امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہتے ہیں، وہ روایت پہلے بیان ہو چکی ہے کہ یہ سورت چوتھائی قرآن کے برابر ہے اور سورۃ «إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا» بھی مسند احمد میں روایت ہے۔ [سنن ترمذي:2894،قال صحيح دون فضل زلزلت] ‏ سیدنا نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ہماری ربیبہ زینب کی پرورش تم اپنے ہاں کرو“، میرے خیال سے یہ سیدہ زینب تھیں۔ یہ ایک مرتبہ پھر نبي صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو بچی کیا کر رہی ہے؟“ کہا میں اسے اس کی ماں کے پاس چھوڑ آیا ہوں۔ فرمایا:”اچھا کیوں آئے ہو؟“ عرض کیا: اس لیے کہ آپ سے کوئی وظیفہ سیکھ جاؤں جو سوتے وقت پڑھ لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» پڑھ کر سو جایا کرو اس میں شرک سے براءت اور بیزاری ہے۔ [سنن ترمذي:3404،صحيح‏ ] طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ جبلہ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تھا۔ [طبراني اوسط:1989،صحيح بالشواهد‏ ] طبرانی کی اور روایت میں ہے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے بسترے پر لیٹ کر اس سورت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ حارث بن جبلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے کہ میں سونے کے وقت اسے کہہ لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم رات کو اپنے بستر پر جاؤ تو «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» پڑھ لیا کرو یہ شرک سے بیزاری ہے۔“ «والله اعلم» مشرک سے براۃ اور بیزاری ٭٭ اس سورۃ مبارکہ میں مشرکین کے عمل سے بیزاری کا اعلان ہے اور اللہ کی عبادت کے اخلاص کا حکم ہے گو یہاں خطاب مکہ کے کفار قریش سے ہے لیکن دراصل روئے زمین کے تمام کافر مراد ہیں اس کی شان نزول یہ ہے کہ ان کافروں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں تو اگلے سال ہم بھی اللہ کی عبادت کریں گے اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان کے دین سے اپنی پوری بیزاری کا اعلان فرما دیں کہ میں تمہارے ان بتوں کو اور جن جن کو تم اللہ کا شریک مان رہے ہو ہرگز نہ پوجوں گا گو تم بھی میرے معبود برحق اللہ «وحدہ لا شریک لہ» کو نہ پوجو۔ پس «مَا» یہاں پر معنی میں «من» کے ہے پھر دوبارہ یہی فرمایا کہ میں تم جیسی عبادت نہ کروں گا تمہارے مذہب پر میں کاربند نہیں ہو سکتا نہ میں تمہارے پیچھے لگ سکتا ہوں بلکہ میں تو صرف اپنے رب کی عبادت کروں گا اور وہ بھی اس طریقے پر جو اسے پسند ہو اور جیسے وہ چاہے اسی لیے فرمایا کہ نہ تم میرے رب کے احکام کے آگے سر جھکاؤ گے نہ اس کی عبادت اس کے فرمان کے مطابق بجا لاؤ گے بلکہ تم نے تو اپنی طرف سے طریقے مقرر کر لیے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنْفُسُ وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنْ رَبِّهِمُ الْهُدَىٰ» [53-النجم:23] ‏ الخ یعنی ”یہ لوگ صرف وہم و گمان اور خواہش نفسانی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت پہنچ چکی ہے“۔ پس نبی اللہ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر طرح اپنا دامن ان سے چھڑا لیا اور صاف طور پر ان کے معبودوں سے اور ان کی عبادت کے طریقوں سے علیحدگی اور ناپسندیدگی کا اعلان فرما دیا ظاہر ہے کہ ہر عابد کا معبود ہو گا اور طریقہ عبادت ہو گا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت صرف اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور طریقہ عبادت ان کا وہ ہے جو سرور رسل صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمایا ہے۔ 10892 اسی لیے کلمہ اخلاص «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» ہے یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا راستہ وہی ہے جس کے بتانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو اللہ کے پیغمبر ہیں اور مشرکین کے معبود بھی اللہ کے سوا غیر ہیں اور طریقہ عبادت بھی اللہ کا بتلایا ہوا نہیں اسی لیے فرمایا کہ تمہارا دین تمہارے لیے، میرا میرے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنْتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ» [10-یونس:41] ‏ یعنی ”اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے، تم میرے اعمال سے الگ ہو اور میں تمہارے کاموں سے بیزار ہوں“۔ اور جگہ فرمایا: «لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ» [28-القصص:55] ‏ الخ یعنی ”ہمارے عمل ہمارے ساتھ اور تمہارے تمہارے ساتھ“۔ صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر میں ہے تمہارے لیے تمہارا دین ہے یعنی کفر اور میرے لیے میرا دین ہے یعنی اسلام یہ لفظ اصل میں «دِينِي» تھا لیکن چونکہ اور آیتوں کا وقف «نون» پر ہے اس لیے اس میں بھی «يَاءُ» کو حذف کر دیا جیسے «فَهُوَ يَهْدِينِ» [26-الشعراء:78] ‏ میں اور «يَشْفِينِ» [26-الشعراء:80] ‏ میں بعض مفسرین نے کہا ہے مطلب یہ ہے کہ میں اب تو تمہارے معبودوں کی پرستش کرتا نہیں اور آگے کے لیے بھی تمہیں ناامید کر دیتا ہوں کہ عمر بھر میں کبھی بھی یہ کفر مجھ سے نہ ہو سکے گا اسی طرح نہ تم اب میرے اللہ کو پوجتے ہو نہ آئندہ اس کی عبادت کرو گے اس سے مراد وہ کفار ہیں جن کا ایمان نہ لانا اللہ کو معلوم تھا جیسے قرآن میں اور جگہ ہے «وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا» [5-المائدة:64] ‏ الخ یعنی ”تیری طرف جو اترتا ہے اس سے ان میں سے اکثر تو سرکشی اور کفر میں بڑھ جاتے ہیں“۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے بعض عربی دان حضرات سے نقل کیا ہے کہ دو مرتبہ اس جملے کا لانا صرف تاکید کے لیے ہے جیسے «فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» * «إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» [94-الشرح:5-6] ‏ میں اور جیسے «لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ» * «ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ» [102-التكاثر:6-7] ‏ پس ان دونوں جملوں کو دو مرتبہ لانے کی حکمت میں یہ تین قول ہوئے ایک تو یہ کہ پہلے جملے سے مراد معبود دوسرے سے مراد طریق عبادت دوسرے یہ کہ پہلے جملے سے مراد حال دوسرے سے مراد استقبال یعنی آئندہ تیسرے یہ کہ پہلے جملے کی تاکید دوسرے جملے سے ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہاں ایک چوتھی توجیہ بھی ہے جسے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی بعض تصنیفات میں قوت دیتے ہیں وہ یہ کہ پہلے تو جملہ فعلیہ ہے اور دوبارہ جملہ اسمیہ ہے تو مراد یہ ہوئی کہ نہ تو میں غیر اللہ کی عبادت کرتا ہوں نہ مجھ سے کبھی بھی کوئی امید رکھ سکتا ہے یعنی واقعہ کی بھی نفی ہے اور شرعی طور پر ممکن ہونے کا بھی انکار ہے یہ قول بھی بہت اچھا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10893 امام ابوعبداللہ شافعی رحمہ اللہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ کفر ایک ہی ملت ہے اس لیے یہود نصرانی کا اور نصرانی یہود کا وارث ہو سکتا ہے جبکہ ان دونوں میں نسب یا سبب ورثے کا پایا جائے اس لیے کہ اسلام کے سوا کفر کی جتنی راہیں ہیں وہ سب باطل ہونے میں ایک ہی ہیں [سنن ابوداود:2911،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح] ‏ امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے موافقین کا مذہب اس کے برخلاف ہے کہ نہ یہودی نصرانی کا وارث ہو سکتا ہے نہ نصرانی یہود کا کیونکہ حدیث ہے دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے سورۃ الکافرون کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ احسانہ» 10894

الكافرون 109:2

سورہ کافرون کا تعارف: صحیح مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت کو اور سورۃ اخلاص کو طواف کے بعد کی دو رکعت نماز میں تلاوت فرمایا۔ [صحيح مسلم:1218‏ ] صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صبح کی دو سنتوں میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہی دونوں سورتوں کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم:726‏ ] مسند احمد میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے فرضوں سے پہلے کی دو رکعتوں میں اور مغرب کے بعد کی دو رکعتوں میں بیس اوپر کچھ دفعہ یا دس دفعہ اوپر کچھ مرتبہ سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» اور سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» پڑھی۔ [مسند احمد:24/2،صحيح] ‏ (‏یعنی اتنی مرتبہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سورتیں ان نمازوں میں پڑھتے ہوئے سنا)‏۔ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے چوبیس یا پچیس مرتبہ صبح کی دو سنتوں میں ان دونوں سورتوں کو پڑھتے ہوئے بخوبی دیکھا۔ [مسند احمد:95/2،صحيح‏ ] مسند ہی کی دوسری روایت میں آپ سے مروی ہے کہ مہینہ بھر تک میں نے آپ کو ان دونوں رکعتوں میں یہ دونوں سورتیں پڑھتے ہوئے پایا۔ یہ روایت ترمذی، ابن ماجہ اور نسائی میں بھی ہے۔ [سنن ابن ماجه:1149،صحيح‏] امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہتے ہیں، وہ روایت پہلے بیان ہو چکی ہے کہ یہ سورت چوتھائی قرآن کے برابر ہے اور سورۃ «إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا» بھی مسند احمد میں روایت ہے۔ [سنن ترمذي:2894،قال صحيح دون فضل زلزلت] ‏ سیدنا نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ہماری ربیبہ زینب کی پرورش تم اپنے ہاں کرو“، میرے خیال سے یہ سیدہ زینب تھیں۔ یہ ایک مرتبہ پھر نبي صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو بچی کیا کر رہی ہے؟“ کہا میں اسے اس کی ماں کے پاس چھوڑ آیا ہوں۔ فرمایا:”اچھا کیوں آئے ہو؟“ عرض کیا: اس لیے کہ آپ سے کوئی وظیفہ سیکھ جاؤں جو سوتے وقت پڑھ لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» پڑھ کر سو جایا کرو اس میں شرک سے براءت اور بیزاری ہے۔ [سنن ترمذي:3404،صحيح‏ ] طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ جبلہ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تھا۔ [طبراني اوسط:1989،صحيح بالشواهد‏ ] طبرانی کی اور روایت میں ہے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے بسترے پر لیٹ کر اس سورت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ حارث بن جبلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے کہ میں سونے کے وقت اسے کہہ لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم رات کو اپنے بستر پر جاؤ تو «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» پڑھ لیا کرو یہ شرک سے بیزاری ہے۔“ «والله اعلم» مشرک سے براۃ اور بیزاری ٭٭ اس سورۃ مبارکہ میں مشرکین کے عمل سے بیزاری کا اعلان ہے اور اللہ کی عبادت کے اخلاص کا حکم ہے گو یہاں خطاب مکہ کے کفار قریش سے ہے لیکن دراصل روئے زمین کے تمام کافر مراد ہیں اس کی شان نزول یہ ہے کہ ان کافروں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں تو اگلے سال ہم بھی اللہ کی عبادت کریں گے اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان کے دین سے اپنی پوری بیزاری کا اعلان فرما دیں کہ میں تمہارے ان بتوں کو اور جن جن کو تم اللہ کا شریک مان رہے ہو ہرگز نہ پوجوں گا گو تم بھی میرے معبود برحق اللہ «وحدہ لا شریک لہ» کو نہ پوجو۔ پس «مَا» یہاں پر معنی میں «من» کے ہے پھر دوبارہ یہی فرمایا کہ میں تم جیسی عبادت نہ کروں گا تمہارے مذہب پر میں کاربند نہیں ہو سکتا نہ میں تمہارے پیچھے لگ سکتا ہوں بلکہ میں تو صرف اپنے رب کی عبادت کروں گا اور وہ بھی اس طریقے پر جو اسے پسند ہو اور جیسے وہ چاہے اسی لیے فرمایا کہ نہ تم میرے رب کے احکام کے آگے سر جھکاؤ گے نہ اس کی عبادت اس کے فرمان کے مطابق بجا لاؤ گے بلکہ تم نے تو اپنی طرف سے طریقے مقرر کر لیے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنْفُسُ وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنْ رَبِّهِمُ الْهُدَىٰ» [53-النجم:23] ‏ الخ یعنی ”یہ لوگ صرف وہم و گمان اور خواہش نفسانی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت پہنچ چکی ہے“۔ پس نبی اللہ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر طرح اپنا دامن ان سے چھڑا لیا اور صاف طور پر ان کے معبودوں سے اور ان کی عبادت کے طریقوں سے علیحدگی اور ناپسندیدگی کا اعلان فرما دیا ظاہر ہے کہ ہر عابد کا معبود ہو گا اور طریقہ عبادت ہو گا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت صرف اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور طریقہ عبادت ان کا وہ ہے جو سرور رسل صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمایا ہے۔ 10892 اسی لیے کلمہ اخلاص «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» ہے یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا راستہ وہی ہے جس کے بتانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو اللہ کے پیغمبر ہیں اور مشرکین کے معبود بھی اللہ کے سوا غیر ہیں اور طریقہ عبادت بھی اللہ کا بتلایا ہوا نہیں اسی لیے فرمایا کہ تمہارا دین تمہارے لیے، میرا میرے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنْتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ» [10-یونس:41] ‏ یعنی ”اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے، تم میرے اعمال سے الگ ہو اور میں تمہارے کاموں سے بیزار ہوں“۔ اور جگہ فرمایا: «لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ» [28-القصص:55] ‏ الخ یعنی ”ہمارے عمل ہمارے ساتھ اور تمہارے تمہارے ساتھ“۔ صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر میں ہے تمہارے لیے تمہارا دین ہے یعنی کفر اور میرے لیے میرا دین ہے یعنی اسلام یہ لفظ اصل میں «دِينِي» تھا لیکن چونکہ اور آیتوں کا وقف «نون» پر ہے اس لیے اس میں بھی «يَاءُ» کو حذف کر دیا جیسے «فَهُوَ يَهْدِينِ» [26-الشعراء:78] ‏ میں اور «يَشْفِينِ» [26-الشعراء:80] ‏ میں بعض مفسرین نے کہا ہے مطلب یہ ہے کہ میں اب تو تمہارے معبودوں کی پرستش کرتا نہیں اور آگے کے لیے بھی تمہیں ناامید کر دیتا ہوں کہ عمر بھر میں کبھی بھی یہ کفر مجھ سے نہ ہو سکے گا اسی طرح نہ تم اب میرے اللہ کو پوجتے ہو نہ آئندہ اس کی عبادت کرو گے اس سے مراد وہ کفار ہیں جن کا ایمان نہ لانا اللہ کو معلوم تھا جیسے قرآن میں اور جگہ ہے «وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا» [5-المائدة:64] ‏ الخ یعنی ”تیری طرف جو اترتا ہے اس سے ان میں سے اکثر تو سرکشی اور کفر میں بڑھ جاتے ہیں“۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے بعض عربی دان حضرات سے نقل کیا ہے کہ دو مرتبہ اس جملے کا لانا صرف تاکید کے لیے ہے جیسے «فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» * «إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» [94-الشرح:5-6] ‏ میں اور جیسے «لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ» * «ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ» [102-التكاثر:6-7] ‏ پس ان دونوں جملوں کو دو مرتبہ لانے کی حکمت میں یہ تین قول ہوئے ایک تو یہ کہ پہلے جملے سے مراد معبود دوسرے سے مراد طریق عبادت دوسرے یہ کہ پہلے جملے سے مراد حال دوسرے سے مراد استقبال یعنی آئندہ تیسرے یہ کہ پہلے جملے کی تاکید دوسرے جملے سے ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہاں ایک چوتھی توجیہ بھی ہے جسے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی بعض تصنیفات میں قوت دیتے ہیں وہ یہ کہ پہلے تو جملہ فعلیہ ہے اور دوبارہ جملہ اسمیہ ہے تو مراد یہ ہوئی کہ نہ تو میں غیر اللہ کی عبادت کرتا ہوں نہ مجھ سے کبھی بھی کوئی امید رکھ سکتا ہے یعنی واقعہ کی بھی نفی ہے اور شرعی طور پر ممکن ہونے کا بھی انکار ہے یہ قول بھی بہت اچھا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10893 امام ابوعبداللہ شافعی رحمہ اللہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ کفر ایک ہی ملت ہے اس لیے یہود نصرانی کا اور نصرانی یہود کا وارث ہو سکتا ہے جبکہ ان دونوں میں نسب یا سبب ورثے کا پایا جائے اس لیے کہ اسلام کے سوا کفر کی جتنی راہیں ہیں وہ سب باطل ہونے میں ایک ہی ہیں [سنن ابوداود:2911،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح] ‏ امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے موافقین کا مذہب اس کے برخلاف ہے کہ نہ یہودی نصرانی کا وارث ہو سکتا ہے نہ نصرانی یہود کا کیونکہ حدیث ہے دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے سورۃ الکافرون کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ احسانہ» 10894

الكافرون 109:3

سورہ کافرون کا تعارف: صحیح مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت کو اور سورۃ اخلاص کو طواف کے بعد کی دو رکعت نماز میں تلاوت فرمایا۔ [صحيح مسلم:1218‏ ] صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صبح کی دو سنتوں میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہی دونوں سورتوں کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم:726‏ ] مسند احمد میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے فرضوں سے پہلے کی دو رکعتوں میں اور مغرب کے بعد کی دو رکعتوں میں بیس اوپر کچھ دفعہ یا دس دفعہ اوپر کچھ مرتبہ سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» اور سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» پڑھی۔ [مسند احمد:24/2،صحيح] ‏ (‏یعنی اتنی مرتبہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سورتیں ان نمازوں میں پڑھتے ہوئے سنا)‏۔ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے چوبیس یا پچیس مرتبہ صبح کی دو سنتوں میں ان دونوں سورتوں کو پڑھتے ہوئے بخوبی دیکھا۔ [مسند احمد:95/2،صحيح‏ ] مسند ہی کی دوسری روایت میں آپ سے مروی ہے کہ مہینہ بھر تک میں نے آپ کو ان دونوں رکعتوں میں یہ دونوں سورتیں پڑھتے ہوئے پایا۔ یہ روایت ترمذی، ابن ماجہ اور نسائی میں بھی ہے۔ [سنن ابن ماجه:1149،صحيح‏] امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہتے ہیں، وہ روایت پہلے بیان ہو چکی ہے کہ یہ سورت چوتھائی قرآن کے برابر ہے اور سورۃ «إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا» بھی مسند احمد میں روایت ہے۔ [سنن ترمذي:2894،قال صحيح دون فضل زلزلت] ‏ سیدنا نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ہماری ربیبہ زینب کی پرورش تم اپنے ہاں کرو“، میرے خیال سے یہ سیدہ زینب تھیں۔ یہ ایک مرتبہ پھر نبي صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو بچی کیا کر رہی ہے؟“ کہا میں اسے اس کی ماں کے پاس چھوڑ آیا ہوں۔ فرمایا:”اچھا کیوں آئے ہو؟“ عرض کیا: اس لیے کہ آپ سے کوئی وظیفہ سیکھ جاؤں جو سوتے وقت پڑھ لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» پڑھ کر سو جایا کرو اس میں شرک سے براءت اور بیزاری ہے۔ [سنن ترمذي:3404،صحيح‏ ] طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ جبلہ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تھا۔ [طبراني اوسط:1989،صحيح بالشواهد‏ ] طبرانی کی اور روایت میں ہے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے بسترے پر لیٹ کر اس سورت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ حارث بن جبلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے کہ میں سونے کے وقت اسے کہہ لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم رات کو اپنے بستر پر جاؤ تو «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» پڑھ لیا کرو یہ شرک سے بیزاری ہے۔“ «والله اعلم» مشرک سے براۃ اور بیزاری ٭٭ اس سورۃ مبارکہ میں مشرکین کے عمل سے بیزاری کا اعلان ہے اور اللہ کی عبادت کے اخلاص کا حکم ہے گو یہاں خطاب مکہ کے کفار قریش سے ہے لیکن دراصل روئے زمین کے تمام کافر مراد ہیں اس کی شان نزول یہ ہے کہ ان کافروں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں تو اگلے سال ہم بھی اللہ کی عبادت کریں گے اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان کے دین سے اپنی پوری بیزاری کا اعلان فرما دیں کہ میں تمہارے ان بتوں کو اور جن جن کو تم اللہ کا شریک مان رہے ہو ہرگز نہ پوجوں گا گو تم بھی میرے معبود برحق اللہ «وحدہ لا شریک لہ» کو نہ پوجو۔ پس «مَا» یہاں پر معنی میں «من» کے ہے پھر دوبارہ یہی فرمایا کہ میں تم جیسی عبادت نہ کروں گا تمہارے مذہب پر میں کاربند نہیں ہو سکتا نہ میں تمہارے پیچھے لگ سکتا ہوں بلکہ میں تو صرف اپنے رب کی عبادت کروں گا اور وہ بھی اس طریقے پر جو اسے پسند ہو اور جیسے وہ چاہے اسی لیے فرمایا کہ نہ تم میرے رب کے احکام کے آگے سر جھکاؤ گے نہ اس کی عبادت اس کے فرمان کے مطابق بجا لاؤ گے بلکہ تم نے تو اپنی طرف سے طریقے مقرر کر لیے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنْفُسُ وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنْ رَبِّهِمُ الْهُدَىٰ» [53-النجم:23] ‏ الخ یعنی ”یہ لوگ صرف وہم و گمان اور خواہش نفسانی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت پہنچ چکی ہے“۔ پس نبی اللہ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر طرح اپنا دامن ان سے چھڑا لیا اور صاف طور پر ان کے معبودوں سے اور ان کی عبادت کے طریقوں سے علیحدگی اور ناپسندیدگی کا اعلان فرما دیا ظاہر ہے کہ ہر عابد کا معبود ہو گا اور طریقہ عبادت ہو گا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت صرف اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور طریقہ عبادت ان کا وہ ہے جو سرور رسل صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمایا ہے۔ 10892 اسی لیے کلمہ اخلاص «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» ہے یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا راستہ وہی ہے جس کے بتانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو اللہ کے پیغمبر ہیں اور مشرکین کے معبود بھی اللہ کے سوا غیر ہیں اور طریقہ عبادت بھی اللہ کا بتلایا ہوا نہیں اسی لیے فرمایا کہ تمہارا دین تمہارے لیے، میرا میرے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنْتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ» [10-یونس:41] ‏ یعنی ”اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے، تم میرے اعمال سے الگ ہو اور میں تمہارے کاموں سے بیزار ہوں“۔ اور جگہ فرمایا: «لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ» [28-القصص:55] ‏ الخ یعنی ”ہمارے عمل ہمارے ساتھ اور تمہارے تمہارے ساتھ“۔ صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر میں ہے تمہارے لیے تمہارا دین ہے یعنی کفر اور میرے لیے میرا دین ہے یعنی اسلام یہ لفظ اصل میں «دِينِي» تھا لیکن چونکہ اور آیتوں کا وقف «نون» پر ہے اس لیے اس میں بھی «يَاءُ» کو حذف کر دیا جیسے «فَهُوَ يَهْدِينِ» [26-الشعراء:78] ‏ میں اور «يَشْفِينِ» [26-الشعراء:80] ‏ میں بعض مفسرین نے کہا ہے مطلب یہ ہے کہ میں اب تو تمہارے معبودوں کی پرستش کرتا نہیں اور آگے کے لیے بھی تمہیں ناامید کر دیتا ہوں کہ عمر بھر میں کبھی بھی یہ کفر مجھ سے نہ ہو سکے گا اسی طرح نہ تم اب میرے اللہ کو پوجتے ہو نہ آئندہ اس کی عبادت کرو گے اس سے مراد وہ کفار ہیں جن کا ایمان نہ لانا اللہ کو معلوم تھا جیسے قرآن میں اور جگہ ہے «وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا» [5-المائدة:64] ‏ الخ یعنی ”تیری طرف جو اترتا ہے اس سے ان میں سے اکثر تو سرکشی اور کفر میں بڑھ جاتے ہیں“۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے بعض عربی دان حضرات سے نقل کیا ہے کہ دو مرتبہ اس جملے کا لانا صرف تاکید کے لیے ہے جیسے «فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» * «إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» [94-الشرح:5-6] ‏ میں اور جیسے «لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ» * «ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ» [102-التكاثر:6-7] ‏ پس ان دونوں جملوں کو دو مرتبہ لانے کی حکمت میں یہ تین قول ہوئے ایک تو یہ کہ پہلے جملے سے مراد معبود دوسرے سے مراد طریق عبادت دوسرے یہ کہ پہلے جملے سے مراد حال دوسرے سے مراد استقبال یعنی آئندہ تیسرے یہ کہ پہلے جملے کی تاکید دوسرے جملے سے ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہاں ایک چوتھی توجیہ بھی ہے جسے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی بعض تصنیفات میں قوت دیتے ہیں وہ یہ کہ پہلے تو جملہ فعلیہ ہے اور دوبارہ جملہ اسمیہ ہے تو مراد یہ ہوئی کہ نہ تو میں غیر اللہ کی عبادت کرتا ہوں نہ مجھ سے کبھی بھی کوئی امید رکھ سکتا ہے یعنی واقعہ کی بھی نفی ہے اور شرعی طور پر ممکن ہونے کا بھی انکار ہے یہ قول بھی بہت اچھا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10893 امام ابوعبداللہ شافعی رحمہ اللہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ کفر ایک ہی ملت ہے اس لیے یہود نصرانی کا اور نصرانی یہود کا وارث ہو سکتا ہے جبکہ ان دونوں میں نسب یا سبب ورثے کا پایا جائے اس لیے کہ اسلام کے سوا کفر کی جتنی راہیں ہیں وہ سب باطل ہونے میں ایک ہی ہیں [سنن ابوداود:2911،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح] ‏ امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے موافقین کا مذہب اس کے برخلاف ہے کہ نہ یہودی نصرانی کا وارث ہو سکتا ہے نہ نصرانی یہود کا کیونکہ حدیث ہے دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے سورۃ الکافرون کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ احسانہ» 10894

الكافرون 109:4

سورہ کافرون کا تعارف: صحیح مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت کو اور سورۃ اخلاص کو طواف کے بعد کی دو رکعت نماز میں تلاوت فرمایا۔ [صحيح مسلم:1218‏ ] صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صبح کی دو سنتوں میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہی دونوں سورتوں کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم:726‏ ] مسند احمد میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے فرضوں سے پہلے کی دو رکعتوں میں اور مغرب کے بعد کی دو رکعتوں میں بیس اوپر کچھ دفعہ یا دس دفعہ اوپر کچھ مرتبہ سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» اور سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» پڑھی۔ [مسند احمد:24/2،صحيح] ‏ (‏یعنی اتنی مرتبہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سورتیں ان نمازوں میں پڑھتے ہوئے سنا)‏۔ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے چوبیس یا پچیس مرتبہ صبح کی دو سنتوں میں ان دونوں سورتوں کو پڑھتے ہوئے بخوبی دیکھا۔ [مسند احمد:95/2،صحيح‏ ] مسند ہی کی دوسری روایت میں آپ سے مروی ہے کہ مہینہ بھر تک میں نے آپ کو ان دونوں رکعتوں میں یہ دونوں سورتیں پڑھتے ہوئے پایا۔ یہ روایت ترمذی، ابن ماجہ اور نسائی میں بھی ہے۔ [سنن ابن ماجه:1149،صحيح‏] امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہتے ہیں، وہ روایت پہلے بیان ہو چکی ہے کہ یہ سورت چوتھائی قرآن کے برابر ہے اور سورۃ «إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا» بھی مسند احمد میں روایت ہے۔ [سنن ترمذي:2894،قال صحيح دون فضل زلزلت] ‏ سیدنا نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ہماری ربیبہ زینب کی پرورش تم اپنے ہاں کرو“، میرے خیال سے یہ سیدہ زینب تھیں۔ یہ ایک مرتبہ پھر نبي صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو بچی کیا کر رہی ہے؟“ کہا میں اسے اس کی ماں کے پاس چھوڑ آیا ہوں۔ فرمایا:”اچھا کیوں آئے ہو؟“ عرض کیا: اس لیے کہ آپ سے کوئی وظیفہ سیکھ جاؤں جو سوتے وقت پڑھ لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» پڑھ کر سو جایا کرو اس میں شرک سے براءت اور بیزاری ہے۔ [سنن ترمذي:3404،صحيح‏ ] طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ جبلہ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تھا۔ [طبراني اوسط:1989،صحيح بالشواهد‏ ] طبرانی کی اور روایت میں ہے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے بسترے پر لیٹ کر اس سورت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ حارث بن جبلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے کہ میں سونے کے وقت اسے کہہ لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم رات کو اپنے بستر پر جاؤ تو «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» پڑھ لیا کرو یہ شرک سے بیزاری ہے۔“ «والله اعلم» مشرک سے براۃ اور بیزاری ٭٭ اس سورۃ مبارکہ میں مشرکین کے عمل سے بیزاری کا اعلان ہے اور اللہ کی عبادت کے اخلاص کا حکم ہے گو یہاں خطاب مکہ کے کفار قریش سے ہے لیکن دراصل روئے زمین کے تمام کافر مراد ہیں اس کی شان نزول یہ ہے کہ ان کافروں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں تو اگلے سال ہم بھی اللہ کی عبادت کریں گے اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان کے دین سے اپنی پوری بیزاری کا اعلان فرما دیں کہ میں تمہارے ان بتوں کو اور جن جن کو تم اللہ کا شریک مان رہے ہو ہرگز نہ پوجوں گا گو تم بھی میرے معبود برحق اللہ «وحدہ لا شریک لہ» کو نہ پوجو۔ پس «مَا» یہاں پر معنی میں «من» کے ہے پھر دوبارہ یہی فرمایا کہ میں تم جیسی عبادت نہ کروں گا تمہارے مذہب پر میں کاربند نہیں ہو سکتا نہ میں تمہارے پیچھے لگ سکتا ہوں بلکہ میں تو صرف اپنے رب کی عبادت کروں گا اور وہ بھی اس طریقے پر جو اسے پسند ہو اور جیسے وہ چاہے اسی لیے فرمایا کہ نہ تم میرے رب کے احکام کے آگے سر جھکاؤ گے نہ اس کی عبادت اس کے فرمان کے مطابق بجا لاؤ گے بلکہ تم نے تو اپنی طرف سے طریقے مقرر کر لیے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنْفُسُ وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنْ رَبِّهِمُ الْهُدَىٰ» [53-النجم:23] ‏ الخ یعنی ”یہ لوگ صرف وہم و گمان اور خواہش نفسانی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت پہنچ چکی ہے“۔ پس نبی اللہ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر طرح اپنا دامن ان سے چھڑا لیا اور صاف طور پر ان کے معبودوں سے اور ان کی عبادت کے طریقوں سے علیحدگی اور ناپسندیدگی کا اعلان فرما دیا ظاہر ہے کہ ہر عابد کا معبود ہو گا اور طریقہ عبادت ہو گا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت صرف اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور طریقہ عبادت ان کا وہ ہے جو سرور رسل صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمایا ہے۔ 10892 اسی لیے کلمہ اخلاص «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» ہے یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا راستہ وہی ہے جس کے بتانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو اللہ کے پیغمبر ہیں اور مشرکین کے معبود بھی اللہ کے سوا غیر ہیں اور طریقہ عبادت بھی اللہ کا بتلایا ہوا نہیں اسی لیے فرمایا کہ تمہارا دین تمہارے لیے، میرا میرے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنْتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ» [10-یونس:41] ‏ یعنی ”اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے، تم میرے اعمال سے الگ ہو اور میں تمہارے کاموں سے بیزار ہوں“۔ اور جگہ فرمایا: «لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ» [28-القصص:55] ‏ الخ یعنی ”ہمارے عمل ہمارے ساتھ اور تمہارے تمہارے ساتھ“۔ صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر میں ہے تمہارے لیے تمہارا دین ہے یعنی کفر اور میرے لیے میرا دین ہے یعنی اسلام یہ لفظ اصل میں «دِينِي» تھا لیکن چونکہ اور آیتوں کا وقف «نون» پر ہے اس لیے اس میں بھی «يَاءُ» کو حذف کر دیا جیسے «فَهُوَ يَهْدِينِ» [26-الشعراء:78] ‏ میں اور «يَشْفِينِ» [26-الشعراء:80] ‏ میں بعض مفسرین نے کہا ہے مطلب یہ ہے کہ میں اب تو تمہارے معبودوں کی پرستش کرتا نہیں اور آگے کے لیے بھی تمہیں ناامید کر دیتا ہوں کہ عمر بھر میں کبھی بھی یہ کفر مجھ سے نہ ہو سکے گا اسی طرح نہ تم اب میرے اللہ کو پوجتے ہو نہ آئندہ اس کی عبادت کرو گے اس سے مراد وہ کفار ہیں جن کا ایمان نہ لانا اللہ کو معلوم تھا جیسے قرآن میں اور جگہ ہے «وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا» [5-المائدة:64] ‏ الخ یعنی ”تیری طرف جو اترتا ہے اس سے ان میں سے اکثر تو سرکشی اور کفر میں بڑھ جاتے ہیں“۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے بعض عربی دان حضرات سے نقل کیا ہے کہ دو مرتبہ اس جملے کا لانا صرف تاکید کے لیے ہے جیسے «فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» * «إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» [94-الشرح:5-6] ‏ میں اور جیسے «لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ» * «ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ» [102-التكاثر:6-7] ‏ پس ان دونوں جملوں کو دو مرتبہ لانے کی حکمت میں یہ تین قول ہوئے ایک تو یہ کہ پہلے جملے سے مراد معبود دوسرے سے مراد طریق عبادت دوسرے یہ کہ پہلے جملے سے مراد حال دوسرے سے مراد استقبال یعنی آئندہ تیسرے یہ کہ پہلے جملے کی تاکید دوسرے جملے سے ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہاں ایک چوتھی توجیہ بھی ہے جسے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی بعض تصنیفات میں قوت دیتے ہیں وہ یہ کہ پہلے تو جملہ فعلیہ ہے اور دوبارہ جملہ اسمیہ ہے تو مراد یہ ہوئی کہ نہ تو میں غیر اللہ کی عبادت کرتا ہوں نہ مجھ سے کبھی بھی کوئی امید رکھ سکتا ہے یعنی واقعہ کی بھی نفی ہے اور شرعی طور پر ممکن ہونے کا بھی انکار ہے یہ قول بھی بہت اچھا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10893 امام ابوعبداللہ شافعی رحمہ اللہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ کفر ایک ہی ملت ہے اس لیے یہود نصرانی کا اور نصرانی یہود کا وارث ہو سکتا ہے جبکہ ان دونوں میں نسب یا سبب ورثے کا پایا جائے اس لیے کہ اسلام کے سوا کفر کی جتنی راہیں ہیں وہ سب باطل ہونے میں ایک ہی ہیں [سنن ابوداود:2911،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح] ‏ امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے موافقین کا مذہب اس کے برخلاف ہے کہ نہ یہودی نصرانی کا وارث ہو سکتا ہے نہ نصرانی یہود کا کیونکہ حدیث ہے دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے سورۃ الکافرون کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ احسانہ» 10894

الكافرون 109:5

سورہ کافرون کا تعارف: صحیح مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت کو اور سورۃ اخلاص کو طواف کے بعد کی دو رکعت نماز میں تلاوت فرمایا۔ [صحيح مسلم:1218‏ ] صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صبح کی دو سنتوں میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہی دونوں سورتوں کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم:726‏ ] مسند احمد میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے فرضوں سے پہلے کی دو رکعتوں میں اور مغرب کے بعد کی دو رکعتوں میں بیس اوپر کچھ دفعہ یا دس دفعہ اوپر کچھ مرتبہ سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» اور سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» پڑھی۔ [مسند احمد:24/2،صحيح] ‏ (‏یعنی اتنی مرتبہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سورتیں ان نمازوں میں پڑھتے ہوئے سنا)‏۔ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے چوبیس یا پچیس مرتبہ صبح کی دو سنتوں میں ان دونوں سورتوں کو پڑھتے ہوئے بخوبی دیکھا۔ [مسند احمد:95/2،صحيح‏ ] مسند ہی کی دوسری روایت میں آپ سے مروی ہے کہ مہینہ بھر تک میں نے آپ کو ان دونوں رکعتوں میں یہ دونوں سورتیں پڑھتے ہوئے پایا۔ یہ روایت ترمذی، ابن ماجہ اور نسائی میں بھی ہے۔ [سنن ابن ماجه:1149،صحيح‏] امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہتے ہیں، وہ روایت پہلے بیان ہو چکی ہے کہ یہ سورت چوتھائی قرآن کے برابر ہے اور سورۃ «إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا» بھی مسند احمد میں روایت ہے۔ [سنن ترمذي:2894،قال صحيح دون فضل زلزلت] ‏ سیدنا نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ہماری ربیبہ زینب کی پرورش تم اپنے ہاں کرو“، میرے خیال سے یہ سیدہ زینب تھیں۔ یہ ایک مرتبہ پھر نبي صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو بچی کیا کر رہی ہے؟“ کہا میں اسے اس کی ماں کے پاس چھوڑ آیا ہوں۔ فرمایا:”اچھا کیوں آئے ہو؟“ عرض کیا: اس لیے کہ آپ سے کوئی وظیفہ سیکھ جاؤں جو سوتے وقت پڑھ لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» پڑھ کر سو جایا کرو اس میں شرک سے براءت اور بیزاری ہے۔ [سنن ترمذي:3404،صحيح‏ ] طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ جبلہ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تھا۔ [طبراني اوسط:1989،صحيح بالشواهد‏ ] طبرانی کی اور روایت میں ہے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے بسترے پر لیٹ کر اس سورت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ حارث بن جبلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے کہ میں سونے کے وقت اسے کہہ لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم رات کو اپنے بستر پر جاؤ تو «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» پڑھ لیا کرو یہ شرک سے بیزاری ہے۔“ «والله اعلم» مشرک سے براۃ اور بیزاری ٭٭ اس سورۃ مبارکہ میں مشرکین کے عمل سے بیزاری کا اعلان ہے اور اللہ کی عبادت کے اخلاص کا حکم ہے گو یہاں خطاب مکہ کے کفار قریش سے ہے لیکن دراصل روئے زمین کے تمام کافر مراد ہیں اس کی شان نزول یہ ہے کہ ان کافروں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں تو اگلے سال ہم بھی اللہ کی عبادت کریں گے اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان کے دین سے اپنی پوری بیزاری کا اعلان فرما دیں کہ میں تمہارے ان بتوں کو اور جن جن کو تم اللہ کا شریک مان رہے ہو ہرگز نہ پوجوں گا گو تم بھی میرے معبود برحق اللہ «وحدہ لا شریک لہ» کو نہ پوجو۔ پس «مَا» یہاں پر معنی میں «من» کے ہے پھر دوبارہ یہی فرمایا کہ میں تم جیسی عبادت نہ کروں گا تمہارے مذہب پر میں کاربند نہیں ہو سکتا نہ میں تمہارے پیچھے لگ سکتا ہوں بلکہ میں تو صرف اپنے رب کی عبادت کروں گا اور وہ بھی اس طریقے پر جو اسے پسند ہو اور جیسے وہ چاہے اسی لیے فرمایا کہ نہ تم میرے رب کے احکام کے آگے سر جھکاؤ گے نہ اس کی عبادت اس کے فرمان کے مطابق بجا لاؤ گے بلکہ تم نے تو اپنی طرف سے طریقے مقرر کر لیے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنْفُسُ وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنْ رَبِّهِمُ الْهُدَىٰ» [53-النجم:23] ‏ الخ یعنی ”یہ لوگ صرف وہم و گمان اور خواہش نفسانی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت پہنچ چکی ہے“۔ پس نبی اللہ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر طرح اپنا دامن ان سے چھڑا لیا اور صاف طور پر ان کے معبودوں سے اور ان کی عبادت کے طریقوں سے علیحدگی اور ناپسندیدگی کا اعلان فرما دیا ظاہر ہے کہ ہر عابد کا معبود ہو گا اور طریقہ عبادت ہو گا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت صرف اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور طریقہ عبادت ان کا وہ ہے جو سرور رسل صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمایا ہے۔ 10892 اسی لیے کلمہ اخلاص «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» ہے یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا راستہ وہی ہے جس کے بتانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو اللہ کے پیغمبر ہیں اور مشرکین کے معبود بھی اللہ کے سوا غیر ہیں اور طریقہ عبادت بھی اللہ کا بتلایا ہوا نہیں اسی لیے فرمایا کہ تمہارا دین تمہارے لیے، میرا میرے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنْتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ» [10-یونس:41] ‏ یعنی ”اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے، تم میرے اعمال سے الگ ہو اور میں تمہارے کاموں سے بیزار ہوں“۔ اور جگہ فرمایا: «لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ» [28-القصص:55] ‏ الخ یعنی ”ہمارے عمل ہمارے ساتھ اور تمہارے تمہارے ساتھ“۔ صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر میں ہے تمہارے لیے تمہارا دین ہے یعنی کفر اور میرے لیے میرا دین ہے یعنی اسلام یہ لفظ اصل میں «دِينِي» تھا لیکن چونکہ اور آیتوں کا وقف «نون» پر ہے اس لیے اس میں بھی «يَاءُ» کو حذف کر دیا جیسے «فَهُوَ يَهْدِينِ» [26-الشعراء:78] ‏ میں اور «يَشْفِينِ» [26-الشعراء:80] ‏ میں بعض مفسرین نے کہا ہے مطلب یہ ہے کہ میں اب تو تمہارے معبودوں کی پرستش کرتا نہیں اور آگے کے لیے بھی تمہیں ناامید کر دیتا ہوں کہ عمر بھر میں کبھی بھی یہ کفر مجھ سے نہ ہو سکے گا اسی طرح نہ تم اب میرے اللہ کو پوجتے ہو نہ آئندہ اس کی عبادت کرو گے اس سے مراد وہ کفار ہیں جن کا ایمان نہ لانا اللہ کو معلوم تھا جیسے قرآن میں اور جگہ ہے «وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا» [5-المائدة:64] ‏ الخ یعنی ”تیری طرف جو اترتا ہے اس سے ان میں سے اکثر تو سرکشی اور کفر میں بڑھ جاتے ہیں“۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے بعض عربی دان حضرات سے نقل کیا ہے کہ دو مرتبہ اس جملے کا لانا صرف تاکید کے لیے ہے جیسے «فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» * «إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» [94-الشرح:5-6] ‏ میں اور جیسے «لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ» * «ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ» [102-التكاثر:6-7] ‏ پس ان دونوں جملوں کو دو مرتبہ لانے کی حکمت میں یہ تین قول ہوئے ایک تو یہ کہ پہلے جملے سے مراد معبود دوسرے سے مراد طریق عبادت دوسرے یہ کہ پہلے جملے سے مراد حال دوسرے سے مراد استقبال یعنی آئندہ تیسرے یہ کہ پہلے جملے کی تاکید دوسرے جملے سے ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہاں ایک چوتھی توجیہ بھی ہے جسے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی بعض تصنیفات میں قوت دیتے ہیں وہ یہ کہ پہلے تو جملہ فعلیہ ہے اور دوبارہ جملہ اسمیہ ہے تو مراد یہ ہوئی کہ نہ تو میں غیر اللہ کی عبادت کرتا ہوں نہ مجھ سے کبھی بھی کوئی امید رکھ سکتا ہے یعنی واقعہ کی بھی نفی ہے اور شرعی طور پر ممکن ہونے کا بھی انکار ہے یہ قول بھی بہت اچھا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10893 امام ابوعبداللہ شافعی رحمہ اللہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ کفر ایک ہی ملت ہے اس لیے یہود نصرانی کا اور نصرانی یہود کا وارث ہو سکتا ہے جبکہ ان دونوں میں نسب یا سبب ورثے کا پایا جائے اس لیے کہ اسلام کے سوا کفر کی جتنی راہیں ہیں وہ سب باطل ہونے میں ایک ہی ہیں [سنن ابوداود:2911،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح] ‏ امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے موافقین کا مذہب اس کے برخلاف ہے کہ نہ یہودی نصرانی کا وارث ہو سکتا ہے نہ نصرانی یہود کا کیونکہ حدیث ہے دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے سورۃ الکافرون کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ احسانہ» 10894

الكافرون 109:6

سورہ کافرون کا تعارف: صحیح مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت کو اور سورۃ اخلاص کو طواف کے بعد کی دو رکعت نماز میں تلاوت فرمایا۔ [صحيح مسلم:1218‏ ] صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صبح کی دو سنتوں میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہی دونوں سورتوں کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم:726‏ ] مسند احمد میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے فرضوں سے پہلے کی دو رکعتوں میں اور مغرب کے بعد کی دو رکعتوں میں بیس اوپر کچھ دفعہ یا دس دفعہ اوپر کچھ مرتبہ سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» اور سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» پڑھی۔ [مسند احمد:24/2،صحيح] ‏ (‏یعنی اتنی مرتبہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سورتیں ان نمازوں میں پڑھتے ہوئے سنا)‏۔ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے چوبیس یا پچیس مرتبہ صبح کی دو سنتوں میں ان دونوں سورتوں کو پڑھتے ہوئے بخوبی دیکھا۔ [مسند احمد:95/2،صحيح‏ ] مسند ہی کی دوسری روایت میں آپ سے مروی ہے کہ مہینہ بھر تک میں نے آپ کو ان دونوں رکعتوں میں یہ دونوں سورتیں پڑھتے ہوئے پایا۔ یہ روایت ترمذی، ابن ماجہ اور نسائی میں بھی ہے۔ [سنن ابن ماجه:1149،صحيح‏] امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہتے ہیں، وہ روایت پہلے بیان ہو چکی ہے کہ یہ سورت چوتھائی قرآن کے برابر ہے اور سورۃ «إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا» بھی مسند احمد میں روایت ہے۔ [سنن ترمذي:2894،قال صحيح دون فضل زلزلت] ‏ سیدنا نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ہماری ربیبہ زینب کی پرورش تم اپنے ہاں کرو“، میرے خیال سے یہ سیدہ زینب تھیں۔ یہ ایک مرتبہ پھر نبي صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو بچی کیا کر رہی ہے؟“ کہا میں اسے اس کی ماں کے پاس چھوڑ آیا ہوں۔ فرمایا:”اچھا کیوں آئے ہو؟“ عرض کیا: اس لیے کہ آپ سے کوئی وظیفہ سیکھ جاؤں جو سوتے وقت پڑھ لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» پڑھ کر سو جایا کرو اس میں شرک سے براءت اور بیزاری ہے۔ [سنن ترمذي:3404،صحيح‏ ] طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ جبلہ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تھا۔ [طبراني اوسط:1989،صحيح بالشواهد‏ ] طبرانی کی اور روایت میں ہے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے بسترے پر لیٹ کر اس سورت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ حارث بن جبلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے کہ میں سونے کے وقت اسے کہہ لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم رات کو اپنے بستر پر جاؤ تو «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» پڑھ لیا کرو یہ شرک سے بیزاری ہے۔“ «والله اعلم» مشرک سے براۃ اور بیزاری ٭٭ اس سورۃ مبارکہ میں مشرکین کے عمل سے بیزاری کا اعلان ہے اور اللہ کی عبادت کے اخلاص کا حکم ہے گو یہاں خطاب مکہ کے کفار قریش سے ہے لیکن دراصل روئے زمین کے تمام کافر مراد ہیں اس کی شان نزول یہ ہے کہ ان کافروں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں تو اگلے سال ہم بھی اللہ کی عبادت کریں گے اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان کے دین سے اپنی پوری بیزاری کا اعلان فرما دیں کہ میں تمہارے ان بتوں کو اور جن جن کو تم اللہ کا شریک مان رہے ہو ہرگز نہ پوجوں گا گو تم بھی میرے معبود برحق اللہ «وحدہ لا شریک لہ» کو نہ پوجو۔ پس «مَا» یہاں پر معنی میں «من» کے ہے پھر دوبارہ یہی فرمایا کہ میں تم جیسی عبادت نہ کروں گا تمہارے مذہب پر میں کاربند نہیں ہو سکتا نہ میں تمہارے پیچھے لگ سکتا ہوں بلکہ میں تو صرف اپنے رب کی عبادت کروں گا اور وہ بھی اس طریقے پر جو اسے پسند ہو اور جیسے وہ چاہے اسی لیے فرمایا کہ نہ تم میرے رب کے احکام کے آگے سر جھکاؤ گے نہ اس کی عبادت اس کے فرمان کے مطابق بجا لاؤ گے بلکہ تم نے تو اپنی طرف سے طریقے مقرر کر لیے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنْفُسُ وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنْ رَبِّهِمُ الْهُدَىٰ» [53-النجم:23] ‏ الخ یعنی ”یہ لوگ صرف وہم و گمان اور خواہش نفسانی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت پہنچ چکی ہے“۔ پس نبی اللہ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر طرح اپنا دامن ان سے چھڑا لیا اور صاف طور پر ان کے معبودوں سے اور ان کی عبادت کے طریقوں سے علیحدگی اور ناپسندیدگی کا اعلان فرما دیا ظاہر ہے کہ ہر عابد کا معبود ہو گا اور طریقہ عبادت ہو گا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت صرف اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور طریقہ عبادت ان کا وہ ہے جو سرور رسل صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمایا ہے۔ 10892 اسی لیے کلمہ اخلاص «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» ہے یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا راستہ وہی ہے جس کے بتانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو اللہ کے پیغمبر ہیں اور مشرکین کے معبود بھی اللہ کے سوا غیر ہیں اور طریقہ عبادت بھی اللہ کا بتلایا ہوا نہیں اسی لیے فرمایا کہ تمہارا دین تمہارے لیے، میرا میرے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنْتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ» [10-یونس:41] ‏ یعنی ”اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے، تم میرے اعمال سے الگ ہو اور میں تمہارے کاموں سے بیزار ہوں“۔ اور جگہ فرمایا: «لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ» [28-القصص:55] ‏ الخ یعنی ”ہمارے عمل ہمارے ساتھ اور تمہارے تمہارے ساتھ“۔ صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر میں ہے تمہارے لیے تمہارا دین ہے یعنی کفر اور میرے لیے میرا دین ہے یعنی اسلام یہ لفظ اصل میں «دِينِي» تھا لیکن چونکہ اور آیتوں کا وقف «نون» پر ہے اس لیے اس میں بھی «يَاءُ» کو حذف کر دیا جیسے «فَهُوَ يَهْدِينِ» [26-الشعراء:78] ‏ میں اور «يَشْفِينِ» [26-الشعراء:80] ‏ میں بعض مفسرین نے کہا ہے مطلب یہ ہے کہ میں اب تو تمہارے معبودوں کی پرستش کرتا نہیں اور آگے کے لیے بھی تمہیں ناامید کر دیتا ہوں کہ عمر بھر میں کبھی بھی یہ کفر مجھ سے نہ ہو سکے گا اسی طرح نہ تم اب میرے اللہ کو پوجتے ہو نہ آئندہ اس کی عبادت کرو گے اس سے مراد وہ کفار ہیں جن کا ایمان نہ لانا اللہ کو معلوم تھا جیسے قرآن میں اور جگہ ہے «وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا» [5-المائدة:64] ‏ الخ یعنی ”تیری طرف جو اترتا ہے اس سے ان میں سے اکثر تو سرکشی اور کفر میں بڑھ جاتے ہیں“۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے بعض عربی دان حضرات سے نقل کیا ہے کہ دو مرتبہ اس جملے کا لانا صرف تاکید کے لیے ہے جیسے «فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» * «إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» [94-الشرح:5-6] ‏ میں اور جیسے «لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ» * «ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ» [102-التكاثر:6-7] ‏ پس ان دونوں جملوں کو دو مرتبہ لانے کی حکمت میں یہ تین قول ہوئے ایک تو یہ کہ پہلے جملے سے مراد معبود دوسرے سے مراد طریق عبادت دوسرے یہ کہ پہلے جملے سے مراد حال دوسرے سے مراد استقبال یعنی آئندہ تیسرے یہ کہ پہلے جملے کی تاکید دوسرے جملے سے ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہاں ایک چوتھی توجیہ بھی ہے جسے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی بعض تصنیفات میں قوت دیتے ہیں وہ یہ کہ پہلے تو جملہ فعلیہ ہے اور دوبارہ جملہ اسمیہ ہے تو مراد یہ ہوئی کہ نہ تو میں غیر اللہ کی عبادت کرتا ہوں نہ مجھ سے کبھی بھی کوئی امید رکھ سکتا ہے یعنی واقعہ کی بھی نفی ہے اور شرعی طور پر ممکن ہونے کا بھی انکار ہے یہ قول بھی بہت اچھا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» 10893 امام ابوعبداللہ شافعی رحمہ اللہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ کفر ایک ہی ملت ہے اس لیے یہود نصرانی کا اور نصرانی یہود کا وارث ہو سکتا ہے جبکہ ان دونوں میں نسب یا سبب ورثے کا پایا جائے اس لیے کہ اسلام کے سوا کفر کی جتنی راہیں ہیں وہ سب باطل ہونے میں ایک ہی ہیں [سنن ابوداود:2911،قال الشيخ الألباني:حسن صحيح] ‏ امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے موافقین کا مذہب اس کے برخلاف ہے کہ نہ یہودی نصرانی کا وارث ہو سکتا ہے نہ نصرانی یہود کا کیونکہ حدیث ہے دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے سورۃ الکافرون کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ احسانہ» 10894

النصر 110:1

قرآن کا چوتھائی حصہ: پہلے وہ حدیث بیان ہو چکی ہے کہ یہ سورت چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔ [سنن ترمذي:2895،قال الشيخ الألباني:ضعيف‏ ] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عبید اللہ بن عبداللہ سے پوچھا: جانتے ہو سب سے آخر کون سی سورت اتری؟ جواب دیا کہ ہاں یہی سورت «اذا جآء» تو آپ نے فرمایا: تم سچے ہو۔ [نسائي] ، ‏ [صحيح مسلم:3024‏ ] حافظ ابوبکر بزار اور حافظ بیہقی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ روایت وارد کی ہے کہ یہ سورت ایام تشریق کے درمیان اتری تو آپ سمجھ گئے کہ یہ رخصت کی سورۃ ہے اسی وقت حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصویٰ کسی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور اپنا وہ پرزور خطبہ پڑھا جو مشہور ہے۔ [بيهقي:152/5:ضعيف‏ ] بیہقی میں ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی تو نبی علیہ السلام نے اپنی لخت جگر سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بلایا اور فرمایا: ”مجھے میرے انتقال کی خبر آ گئی ہے“، سیدہ زہرا رضی اللہ عنہا رونے لگیں پھر یکایک ہنس دیں جب اور لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا: خبر انتقال نے تو رلا دیا لیکن روتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلی دی اور فرمایا: ”بیٹی صبر کرو، میری اہل میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے ملو گی“، تو مجھے بےساختہ ہنسی آ گئی۔ [طبراني كبير:11907:ضعيف‏] گناہوں کی بخشش مانگو اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرو ٭٭ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بڑی عمر والے بدری مجاہدین کے ساتھ ساتھ عمر فاروق رضی اللہ عنہ مجھے بھی شامل کر لیا کرتے تھے تو شاید کسی کے دل میں اس کی کچھ ناراضگی پیدا ہوئی ہو گی اس نے کہا کہ یہ ہمارے ساتھ نہ آیا کریں، ان جتنے تو ہمارے بچے ہیں خلیقۃ المسلمین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم انہیں خوب جانتے ہو ایک دن سب کو بلایا اور مجھے بھی یاد فرمایا میں سمجھ گیا کہ آج انہیں کچھ دکھانا چاہتے ہیں جب ہم سب جا پہنچے تو امیرالمومنین رضی اللہ عنہ نے ہم سے پوچھا کہ سورۃ «إِذَا جَاءَ» کی نسبت تمہیں کیا علم ہے؟ بعض نے کہا اس میں ہمیں اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے اور گناہوں کی بخشش چاہنے کا حکم کیا گیا ہے کہ جب مدد اللہ آ جائے اور ہماری فتح ہو تو ہم یہ کریں اور بعض بالکل خاموش رہے تو آپ نے میری طرف توجہ فرمائی اور کہا کیا تم بھی یہی کہتے ہو؟ میں نے کہا نہیں، فرمایا: پھر اور کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کا پیغام ہے آپ کو معلوم کرایا جا رہا ہے کہ اب آپ کی دنیوی زندگی ختم ہونے کو ہے آپ تسبیح، حمد اور استفغار میں مشغول ہو جائیے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہی میں بھی جانتا ہوں ۔ [صحیح بخاری:4970] ‏ جب یہ سورت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اب اسی سال میرا انتقال ہو جائے گا مجھے میرے انتقال کی خبر دی گئی ہے ۔ [مسند احمد:217/1] ‏ 10900 مجاہد، ابوالعالیہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تھے فرمانے لگے: ”اللہ اکبر، اللہ اکبر اللہ کی مدد آ گئی اور فتح بھی یمن والے آ گئے“، پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! یمن والے کیسے ہیں؟ فرمایا: ”وہ نرم دل لوگ ہیں سلجھی ہوئی طبیعت والے ہیں ایمان تو اہل یمن کا ہے اور سمجھ بھی اہل یمن کی ہے اور حکمت بھی اہل یمن والوں کی ہے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38230:ضعیف] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جب یہ سوت اتری چونکہ اس میں آپ کے انتقال کی خبر تھی تو آپ نے اپنے کاموں میں اور کمر کس لی اور تقریباً وہی فرمایا جو اوپر گزرا۔ [طبرانی کبیر:11903] ‏ 10901 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سورتوں میں پوری سورت نازل ہونے کے اعتبار سے سب سے آخری سورت یہی ہے ۔ [طبرانی کبیر:10736] ‏ اور حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت اتری آپ نے اس کی تلاوت کی اور فرمایا: ”لوگ ایک کنارہ ہوں، میں اور میرے اصحاب ایک کنارہ میں ہیں، سنو فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں البتہ جہاد اور نیت ہے“۔ مروان کو جب یہ حدیث سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے سنائی تو یہ کہنے لگا، جھوٹ کہتا ہے اس وقت مروان کے ساتھ اس کے تخت پر سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما بھی بیٹھے تھے، تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے ان دونوں کو بھی اس حدیث کی خبر ہے یہ بھی اس حدیث کو بیان کر سکتے ہیں لیکن ایک کو تو اپنی سرداری چھن جانے کا خوف ہے اور دوسرے کو زکوٰۃ کی وصولی کے عہدے سے سبکدوش ہو جانے کا ڈر ہے مروان نے یہ سن کر کوڑا اٹھا کر سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کو مارنا چاہا ان دونوں بزرگوں نے جب یہ دیکھا تو کہنے لگے مروان سن ابوسعید نے سچ بیان فرمایا [مسند احمد:22/3:صحيح لغيره دون الجملة] ‏ یہ حدیث ثابت ہے۔ 10902 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”ہجرت نہیں رہی ہاں جہاد اور نیت ہے جب تمہیں چلنے کو کہا جائے اٹھ کھڑے ہو جایا کرو“۔ [صحیح بخاری:1834] ‏ صحیح بخاری اور صحیح مسلم شریف میں یہ حدیث موجود ہے ہاں یہ بھی یاد رہے کہ جن بعض صحابہ نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سامنے اس سورت کا یہ مطلب بیان کیا کہ جب ہم پر اللہ تعالیٰ شہر اور قلعے فتح کر دے اور ہماری مدد فرمائے تو ہمیں حکم مل رہا ہے کہ ہم اس کی تعریفیں بیان کریں اس کا شکر کریں اور اس کی پاکیزگی بیان کریں، نماز ادا کریں اور اپنے گناہوں کی بخشش طلب کریں یہ مطلب بھی بالکل صحیح ہے۔ اور یہ تفسیر بھی نہایت پیاری ہے دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت آٹھ رکعت نماز ادا کی [صحیح بخاری:1103] ‏ گو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ ضحیٰ کی نماز تھی لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ ضحیٰ کی نماز آپ ہمیشہ نہیں پڑھتے تھے پھر اس دن جبکہ شغل اور کام بہت زیادہ تھا مسافرت تھی یہ کیسے پڑھی؟ آپ کی اقامت فتح کے موقعہ پر مکہ شریف میں رمضان شریف کے آخر تک انیس دن رہی آپ فرض نماز کو بھی قصر کرتے رہے روزہ بھی نہیں رکھا اور تمام لشکر جو تقریباً دس ہزار تھا اسی طرح کرتا رہا ان حقائق سے یہ بات صاف ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ نماز فتح کے شکریہ کی نماز تھی اسی لیے سردار لشکر امام وقت پر مستحب ہے کہ جب کوئی شہر فتح ہو تو داخل ہوتے ہی دو رکعت نماز ادا کرے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فتح مدائن والے دن ایسا ہی کیا تھا ان آٹھ رکعت کو دو دو رکعت کر کے ادا کرے گو بعض کا یہ قول بھی ہے کہ آٹھوں ایک ہی سلام سے پڑھ لے لیکن ابوداؤد کی حدیث میں صراحتاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز میں ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا ہے ۔ [سنن ابوداود:1290،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏ دوسری تفسیر بھی صحیح ہے جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے کی ہے کہ اس میں آپ کو آپ کے وصال کی خبر دی گئی کہ جب آپ اپنی بستی مکہ فتح کر لیں جہاں سے ان کفار نے آپ کو نکل جانے پر مجبور کیا تھا اور آپ اپنی آنکھوں اپنی محنت کا پھل دیکھ لیں کہ فوجوں کی فوجیں آپ کے جھنڈے تلے آ جائیں جوق در جوق لوگ حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں تو ہماری طرف آنے کی اور ہم سے ملاقات کی تیاریوں میں لگ جاؤ سمجھ لو کہ جو کام ہمیں تم سے لینا تھا پورا ہو چکا اب آخرت کی طرف نگاہیں ڈالو جہاں آپ کے لیے بہت بہتری ہے اور اس دنیا سے بہت زیادہ بھلائی آپ کے لیے وہاں ہے وہیں آپ کی مہمانی تیار ہے اور مجھ جیسا میزبان ہے تم ان نشانات کو دیکھ کر بکثرت میری حمد و ثناء کرو اور توبہ استغفار میں لگ جاؤ۔ 10903 صحیح بخاری کی حدیث میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع، سجدے میں بکثرت «سُبْحَانك اللَّهُمَّ رَبّنَا وَبِحَمْدِك اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي» پڑھا کرتے تھے آپ قرآن کی اس آیت «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا» [110-النصر:3] ‏ پر عمل کرتے تھے [صحیح بخاری:794] ‏ اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں ان کلمات کا اکثر ورد کرتے تھے «سُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِر اللَّه وَأَتُوب إِلَيْهِ» اللہ کی ذات پاک ہے اسی کے لیے سب تعریفیں مختص ہیں میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف جھکتا ہوں اور فرمایا کرتے تھے کہ ”میرے رب نے مجھے حکم دے رکھا ہے کہ جب میں یہ علامت دیکھ لوں کہ مکہ فتح ہو گیا اور دین اسلام میں فوجیں کی فوجیں داخل ہونے لگیں تو میں ان کلمات کو بکثرت کہوں چنانچہ بحمد اللہ میں اسے دیکھ چکا لہٰذا اب اس وظیفے میں مشغول ہوں“ ۔ [صحیح مسلم:484] ‏ (‏مسند احمد)‏ ابن جریر میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں بیٹھتے اٹھتے چلتے پھرتے آتے جاتے «سُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ» پڑھا کرتے میں نے ایک مرتبہ پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے تو آپ نے اس سورت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”مجھے حکم الٰہی یہی ہے“ ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:38248:ضعیف] ‏ کسی مجلس میں بیٹھیں پھر وہ مجلس برخاست ہو تو کیا پڑھنا چاہیئے اسے ہم اپنی ایک مستقل تصنیف میں لکھ چکے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ جب یہ سورت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اکثر اپنی نماز میں تلاوت کرتے اور رکوع میں تین مرتبہ یہ پڑھتے «سُبْحَانك اللَّهُمَّ رَبّنَا وَبِحَمْدِك اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي إِنَّك أَنْتَ التَّوَّاب الرَّحِيم» ۔ [مسند احمد:410/1:حسن لغیرہ] ‏ فتح سے مراد یہاں فتح مکہ ہے اس پر اتفاق ہے عموماً عرب قبائل اسی کے منتظر تھے کہ اگر یہ اپنی قوم پر غالب آ جائیں اور مکہ ان کے زیر نگیں آ جائے تو پھر ان کے نبی ہونے میں ذرا سا بھی شک شبہ نہیں اب جبکہ اللہ نے اپنے حبیب کے ہاتھوں مکہ فتح کرا دیا تو یہ سب اسلام میں آ گئے اس کے بعد دو سال بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ سارا عرب مسلمان ہو گیا اور ہر ایک قبیلے میں اسلام اپنا راج کرنے لگا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10904 صحیح بخاری میں بھی سیدنا عمرو بن سلمہ کا یہ مقولہ موجود ہے کہ مکہ فتح ہوتے ہی ہر قبیلے نے اسلام کی طرف سبقت کی ان سب کو اسی بات کا انتظار تھا اور کہتے تھے کہ انہیں اور ان کی قوم کو چھوڑو دیکھو اگر یہ نبی برحق ہیں تو اپنی قوم پر غالب آ جائیں گے اور مکہ پر ان کا جھنڈا نصب ہو جائے گا ۔ [صحیح بخاری:4302] ‏ ہم نے غزوہ فتح مکہ کا پورا واقعہ تفصیل کے ساتھ اپنی سیرۃ کی کتاب میں لکھا ہے جو صاحب تفصیلات دیکھنا چاہیں وہ اس کتاب کو دیکھ لیں۔‏“ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» مسند احمد میں ہے کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پڑوسی جب اپنے کسی سفر سے واپس آئے تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ان سے ملاقات کرنے کے لیے گئے انہوں نے لوگوں کی پھوٹ اور ان کے اختلاف کا حال بیان کیا اور ان کی نو ایجاد بدعتوں کا تذکرہ کیا تو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور روتے ہوئے فرمانے لگے کہ میں نے اللہ کے حبیب شافع روز جزاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ لوگوں کی فوجوں کی فوجیں اللہ کے دین میں داخل ہوئیں لیکن عنقریب جماعتوں کی جماعتیں ان میں سے نکلنے بھی لگ جائیں گی ۔ [مسند احمد:343/3:ضعیف] ‏ اس سورت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمدلله على احسانه» 10905

النصر 110:2

قرآن کا چوتھائی حصہ: پہلے وہ حدیث بیان ہو چکی ہے کہ یہ سورت چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔ [سنن ترمذي:2895،قال الشيخ الألباني:ضعيف‏ ] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عبید اللہ بن عبداللہ سے پوچھا: جانتے ہو سب سے آخر کون سی سورت اتری؟ جواب دیا کہ ہاں یہی سورت «اذا جآء» تو آپ نے فرمایا: تم سچے ہو۔ [نسائي] ، ‏ [صحيح مسلم:3024‏ ] حافظ ابوبکر بزار اور حافظ بیہقی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ روایت وارد کی ہے کہ یہ سورت ایام تشریق کے درمیان اتری تو آپ سمجھ گئے کہ یہ رخصت کی سورۃ ہے اسی وقت حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصویٰ کسی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور اپنا وہ پرزور خطبہ پڑھا جو مشہور ہے۔ [بيهقي:152/5:ضعيف‏ ] بیہقی میں ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی تو نبی علیہ السلام نے اپنی لخت جگر سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بلایا اور فرمایا: ”مجھے میرے انتقال کی خبر آ گئی ہے“، سیدہ زہرا رضی اللہ عنہا رونے لگیں پھر یکایک ہنس دیں جب اور لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا: خبر انتقال نے تو رلا دیا لیکن روتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلی دی اور فرمایا: ”بیٹی صبر کرو، میری اہل میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے ملو گی“، تو مجھے بےساختہ ہنسی آ گئی۔ [طبراني كبير:11907:ضعيف‏] گناہوں کی بخشش مانگو اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرو ٭٭ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بڑی عمر والے بدری مجاہدین کے ساتھ ساتھ عمر فاروق رضی اللہ عنہ مجھے بھی شامل کر لیا کرتے تھے تو شاید کسی کے دل میں اس کی کچھ ناراضگی پیدا ہوئی ہو گی اس نے کہا کہ یہ ہمارے ساتھ نہ آیا کریں، ان جتنے تو ہمارے بچے ہیں خلیقۃ المسلمین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم انہیں خوب جانتے ہو ایک دن سب کو بلایا اور مجھے بھی یاد فرمایا میں سمجھ گیا کہ آج انہیں کچھ دکھانا چاہتے ہیں جب ہم سب جا پہنچے تو امیرالمومنین رضی اللہ عنہ نے ہم سے پوچھا کہ سورۃ «إِذَا جَاءَ» کی نسبت تمہیں کیا علم ہے؟ بعض نے کہا اس میں ہمیں اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے اور گناہوں کی بخشش چاہنے کا حکم کیا گیا ہے کہ جب مدد اللہ آ جائے اور ہماری فتح ہو تو ہم یہ کریں اور بعض بالکل خاموش رہے تو آپ نے میری طرف توجہ فرمائی اور کہا کیا تم بھی یہی کہتے ہو؟ میں نے کہا نہیں، فرمایا: پھر اور کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کا پیغام ہے آپ کو معلوم کرایا جا رہا ہے کہ اب آپ کی دنیوی زندگی ختم ہونے کو ہے آپ تسبیح، حمد اور استفغار میں مشغول ہو جائیے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہی میں بھی جانتا ہوں ۔ [صحیح بخاری:4970] ‏ جب یہ سورت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اب اسی سال میرا انتقال ہو جائے گا مجھے میرے انتقال کی خبر دی گئی ہے ۔ [مسند احمد:217/1] ‏ 10900 مجاہد، ابوالعالیہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تھے فرمانے لگے: ”اللہ اکبر، اللہ اکبر اللہ کی مدد آ گئی اور فتح بھی یمن والے آ گئے“، پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! یمن والے کیسے ہیں؟ فرمایا: ”وہ نرم دل لوگ ہیں سلجھی ہوئی طبیعت والے ہیں ایمان تو اہل یمن کا ہے اور سمجھ بھی اہل یمن کی ہے اور حکمت بھی اہل یمن والوں کی ہے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38230:ضعیف] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جب یہ سوت اتری چونکہ اس میں آپ کے انتقال کی خبر تھی تو آپ نے اپنے کاموں میں اور کمر کس لی اور تقریباً وہی فرمایا جو اوپر گزرا۔ [طبرانی کبیر:11903] ‏ 10901 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سورتوں میں پوری سورت نازل ہونے کے اعتبار سے سب سے آخری سورت یہی ہے ۔ [طبرانی کبیر:10736] ‏ اور حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت اتری آپ نے اس کی تلاوت کی اور فرمایا: ”لوگ ایک کنارہ ہوں، میں اور میرے اصحاب ایک کنارہ میں ہیں، سنو فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں البتہ جہاد اور نیت ہے“۔ مروان کو جب یہ حدیث سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے سنائی تو یہ کہنے لگا، جھوٹ کہتا ہے اس وقت مروان کے ساتھ اس کے تخت پر سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما بھی بیٹھے تھے، تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے ان دونوں کو بھی اس حدیث کی خبر ہے یہ بھی اس حدیث کو بیان کر سکتے ہیں لیکن ایک کو تو اپنی سرداری چھن جانے کا خوف ہے اور دوسرے کو زکوٰۃ کی وصولی کے عہدے سے سبکدوش ہو جانے کا ڈر ہے مروان نے یہ سن کر کوڑا اٹھا کر سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کو مارنا چاہا ان دونوں بزرگوں نے جب یہ دیکھا تو کہنے لگے مروان سن ابوسعید نے سچ بیان فرمایا [مسند احمد:22/3:صحيح لغيره دون الجملة] ‏ یہ حدیث ثابت ہے۔ 10902 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”ہجرت نہیں رہی ہاں جہاد اور نیت ہے جب تمہیں چلنے کو کہا جائے اٹھ کھڑے ہو جایا کرو“۔ [صحیح بخاری:1834] ‏ صحیح بخاری اور صحیح مسلم شریف میں یہ حدیث موجود ہے ہاں یہ بھی یاد رہے کہ جن بعض صحابہ نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سامنے اس سورت کا یہ مطلب بیان کیا کہ جب ہم پر اللہ تعالیٰ شہر اور قلعے فتح کر دے اور ہماری مدد فرمائے تو ہمیں حکم مل رہا ہے کہ ہم اس کی تعریفیں بیان کریں اس کا شکر کریں اور اس کی پاکیزگی بیان کریں، نماز ادا کریں اور اپنے گناہوں کی بخشش طلب کریں یہ مطلب بھی بالکل صحیح ہے۔ اور یہ تفسیر بھی نہایت پیاری ہے دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت آٹھ رکعت نماز ادا کی [صحیح بخاری:1103] ‏ گو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ ضحیٰ کی نماز تھی لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ ضحیٰ کی نماز آپ ہمیشہ نہیں پڑھتے تھے پھر اس دن جبکہ شغل اور کام بہت زیادہ تھا مسافرت تھی یہ کیسے پڑھی؟ آپ کی اقامت فتح کے موقعہ پر مکہ شریف میں رمضان شریف کے آخر تک انیس دن رہی آپ فرض نماز کو بھی قصر کرتے رہے روزہ بھی نہیں رکھا اور تمام لشکر جو تقریباً دس ہزار تھا اسی طرح کرتا رہا ان حقائق سے یہ بات صاف ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ نماز فتح کے شکریہ کی نماز تھی اسی لیے سردار لشکر امام وقت پر مستحب ہے کہ جب کوئی شہر فتح ہو تو داخل ہوتے ہی دو رکعت نماز ادا کرے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فتح مدائن والے دن ایسا ہی کیا تھا ان آٹھ رکعت کو دو دو رکعت کر کے ادا کرے گو بعض کا یہ قول بھی ہے کہ آٹھوں ایک ہی سلام سے پڑھ لے لیکن ابوداؤد کی حدیث میں صراحتاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز میں ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا ہے ۔ [سنن ابوداود:1290،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏ دوسری تفسیر بھی صحیح ہے جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے کی ہے کہ اس میں آپ کو آپ کے وصال کی خبر دی گئی کہ جب آپ اپنی بستی مکہ فتح کر لیں جہاں سے ان کفار نے آپ کو نکل جانے پر مجبور کیا تھا اور آپ اپنی آنکھوں اپنی محنت کا پھل دیکھ لیں کہ فوجوں کی فوجیں آپ کے جھنڈے تلے آ جائیں جوق در جوق لوگ حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں تو ہماری طرف آنے کی اور ہم سے ملاقات کی تیاریوں میں لگ جاؤ سمجھ لو کہ جو کام ہمیں تم سے لینا تھا پورا ہو چکا اب آخرت کی طرف نگاہیں ڈالو جہاں آپ کے لیے بہت بہتری ہے اور اس دنیا سے بہت زیادہ بھلائی آپ کے لیے وہاں ہے وہیں آپ کی مہمانی تیار ہے اور مجھ جیسا میزبان ہے تم ان نشانات کو دیکھ کر بکثرت میری حمد و ثناء کرو اور توبہ استغفار میں لگ جاؤ۔ 10903 صحیح بخاری کی حدیث میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع، سجدے میں بکثرت «سُبْحَانك اللَّهُمَّ رَبّنَا وَبِحَمْدِك اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي» پڑھا کرتے تھے آپ قرآن کی اس آیت «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا» [110-النصر:3] ‏ پر عمل کرتے تھے [صحیح بخاری:794] ‏ اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں ان کلمات کا اکثر ورد کرتے تھے «سُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِر اللَّه وَأَتُوب إِلَيْهِ» اللہ کی ذات پاک ہے اسی کے لیے سب تعریفیں مختص ہیں میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف جھکتا ہوں اور فرمایا کرتے تھے کہ ”میرے رب نے مجھے حکم دے رکھا ہے کہ جب میں یہ علامت دیکھ لوں کہ مکہ فتح ہو گیا اور دین اسلام میں فوجیں کی فوجیں داخل ہونے لگیں تو میں ان کلمات کو بکثرت کہوں چنانچہ بحمد اللہ میں اسے دیکھ چکا لہٰذا اب اس وظیفے میں مشغول ہوں“ ۔ [صحیح مسلم:484] ‏ (‏مسند احمد)‏ ابن جریر میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں بیٹھتے اٹھتے چلتے پھرتے آتے جاتے «سُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ» پڑھا کرتے میں نے ایک مرتبہ پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے تو آپ نے اس سورت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”مجھے حکم الٰہی یہی ہے“ ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:38248:ضعیف] ‏ کسی مجلس میں بیٹھیں پھر وہ مجلس برخاست ہو تو کیا پڑھنا چاہیئے اسے ہم اپنی ایک مستقل تصنیف میں لکھ چکے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ جب یہ سورت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اکثر اپنی نماز میں تلاوت کرتے اور رکوع میں تین مرتبہ یہ پڑھتے «سُبْحَانك اللَّهُمَّ رَبّنَا وَبِحَمْدِك اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي إِنَّك أَنْتَ التَّوَّاب الرَّحِيم» ۔ [مسند احمد:410/1:حسن لغیرہ] ‏ فتح سے مراد یہاں فتح مکہ ہے اس پر اتفاق ہے عموماً عرب قبائل اسی کے منتظر تھے کہ اگر یہ اپنی قوم پر غالب آ جائیں اور مکہ ان کے زیر نگیں آ جائے تو پھر ان کے نبی ہونے میں ذرا سا بھی شک شبہ نہیں اب جبکہ اللہ نے اپنے حبیب کے ہاتھوں مکہ فتح کرا دیا تو یہ سب اسلام میں آ گئے اس کے بعد دو سال بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ سارا عرب مسلمان ہو گیا اور ہر ایک قبیلے میں اسلام اپنا راج کرنے لگا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10904 صحیح بخاری میں بھی سیدنا عمرو بن سلمہ کا یہ مقولہ موجود ہے کہ مکہ فتح ہوتے ہی ہر قبیلے نے اسلام کی طرف سبقت کی ان سب کو اسی بات کا انتظار تھا اور کہتے تھے کہ انہیں اور ان کی قوم کو چھوڑو دیکھو اگر یہ نبی برحق ہیں تو اپنی قوم پر غالب آ جائیں گے اور مکہ پر ان کا جھنڈا نصب ہو جائے گا ۔ [صحیح بخاری:4302] ‏ ہم نے غزوہ فتح مکہ کا پورا واقعہ تفصیل کے ساتھ اپنی سیرۃ کی کتاب میں لکھا ہے جو صاحب تفصیلات دیکھنا چاہیں وہ اس کتاب کو دیکھ لیں۔‏“ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» مسند احمد میں ہے کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پڑوسی جب اپنے کسی سفر سے واپس آئے تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ان سے ملاقات کرنے کے لیے گئے انہوں نے لوگوں کی پھوٹ اور ان کے اختلاف کا حال بیان کیا اور ان کی نو ایجاد بدعتوں کا تذکرہ کیا تو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور روتے ہوئے فرمانے لگے کہ میں نے اللہ کے حبیب شافع روز جزاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ لوگوں کی فوجوں کی فوجیں اللہ کے دین میں داخل ہوئیں لیکن عنقریب جماعتوں کی جماعتیں ان میں سے نکلنے بھی لگ جائیں گی ۔ [مسند احمد:343/3:ضعیف] ‏ اس سورت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمدلله على احسانه» 10905

النصر 110:3

قرآن کا چوتھائی حصہ: پہلے وہ حدیث بیان ہو چکی ہے کہ یہ سورت چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔ [سنن ترمذي:2895،قال الشيخ الألباني:ضعيف‏ ] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عبید اللہ بن عبداللہ سے پوچھا: جانتے ہو سب سے آخر کون سی سورت اتری؟ جواب دیا کہ ہاں یہی سورت «اذا جآء» تو آپ نے فرمایا: تم سچے ہو۔ [نسائي] ، ‏ [صحيح مسلم:3024‏ ] حافظ ابوبکر بزار اور حافظ بیہقی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ روایت وارد کی ہے کہ یہ سورت ایام تشریق کے درمیان اتری تو آپ سمجھ گئے کہ یہ رخصت کی سورۃ ہے اسی وقت حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصویٰ کسی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور اپنا وہ پرزور خطبہ پڑھا جو مشہور ہے۔ [بيهقي:152/5:ضعيف‏ ] بیہقی میں ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی تو نبی علیہ السلام نے اپنی لخت جگر سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بلایا اور فرمایا: ”مجھے میرے انتقال کی خبر آ گئی ہے“، سیدہ زہرا رضی اللہ عنہا رونے لگیں پھر یکایک ہنس دیں جب اور لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا: خبر انتقال نے تو رلا دیا لیکن روتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلی دی اور فرمایا: ”بیٹی صبر کرو، میری اہل میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے ملو گی“، تو مجھے بےساختہ ہنسی آ گئی۔ [طبراني كبير:11907:ضعيف‏] گناہوں کی بخشش مانگو اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرو ٭٭ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بڑی عمر والے بدری مجاہدین کے ساتھ ساتھ عمر فاروق رضی اللہ عنہ مجھے بھی شامل کر لیا کرتے تھے تو شاید کسی کے دل میں اس کی کچھ ناراضگی پیدا ہوئی ہو گی اس نے کہا کہ یہ ہمارے ساتھ نہ آیا کریں، ان جتنے تو ہمارے بچے ہیں خلیقۃ المسلمین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم انہیں خوب جانتے ہو ایک دن سب کو بلایا اور مجھے بھی یاد فرمایا میں سمجھ گیا کہ آج انہیں کچھ دکھانا چاہتے ہیں جب ہم سب جا پہنچے تو امیرالمومنین رضی اللہ عنہ نے ہم سے پوچھا کہ سورۃ «إِذَا جَاءَ» کی نسبت تمہیں کیا علم ہے؟ بعض نے کہا اس میں ہمیں اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے اور گناہوں کی بخشش چاہنے کا حکم کیا گیا ہے کہ جب مدد اللہ آ جائے اور ہماری فتح ہو تو ہم یہ کریں اور بعض بالکل خاموش رہے تو آپ نے میری طرف توجہ فرمائی اور کہا کیا تم بھی یہی کہتے ہو؟ میں نے کہا نہیں، فرمایا: پھر اور کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کا پیغام ہے آپ کو معلوم کرایا جا رہا ہے کہ اب آپ کی دنیوی زندگی ختم ہونے کو ہے آپ تسبیح، حمد اور استفغار میں مشغول ہو جائیے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہی میں بھی جانتا ہوں ۔ [صحیح بخاری:4970] ‏ جب یہ سورت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اب اسی سال میرا انتقال ہو جائے گا مجھے میرے انتقال کی خبر دی گئی ہے ۔ [مسند احمد:217/1] ‏ 10900 مجاہد، ابوالعالیہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تھے فرمانے لگے: ”اللہ اکبر، اللہ اکبر اللہ کی مدد آ گئی اور فتح بھی یمن والے آ گئے“، پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! یمن والے کیسے ہیں؟ فرمایا: ”وہ نرم دل لوگ ہیں سلجھی ہوئی طبیعت والے ہیں ایمان تو اہل یمن کا ہے اور سمجھ بھی اہل یمن کی ہے اور حکمت بھی اہل یمن والوں کی ہے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:38230:ضعیف] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جب یہ سوت اتری چونکہ اس میں آپ کے انتقال کی خبر تھی تو آپ نے اپنے کاموں میں اور کمر کس لی اور تقریباً وہی فرمایا جو اوپر گزرا۔ [طبرانی کبیر:11903] ‏ 10901 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سورتوں میں پوری سورت نازل ہونے کے اعتبار سے سب سے آخری سورت یہی ہے ۔ [طبرانی کبیر:10736] ‏ اور حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت اتری آپ نے اس کی تلاوت کی اور فرمایا: ”لوگ ایک کنارہ ہوں، میں اور میرے اصحاب ایک کنارہ میں ہیں، سنو فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں البتہ جہاد اور نیت ہے“۔ مروان کو جب یہ حدیث سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے سنائی تو یہ کہنے لگا، جھوٹ کہتا ہے اس وقت مروان کے ساتھ اس کے تخت پر سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما بھی بیٹھے تھے، تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے ان دونوں کو بھی اس حدیث کی خبر ہے یہ بھی اس حدیث کو بیان کر سکتے ہیں لیکن ایک کو تو اپنی سرداری چھن جانے کا خوف ہے اور دوسرے کو زکوٰۃ کی وصولی کے عہدے سے سبکدوش ہو جانے کا ڈر ہے مروان نے یہ سن کر کوڑا اٹھا کر سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کو مارنا چاہا ان دونوں بزرگوں نے جب یہ دیکھا تو کہنے لگے مروان سن ابوسعید نے سچ بیان فرمایا [مسند احمد:22/3:صحيح لغيره دون الجملة] ‏ یہ حدیث ثابت ہے۔ 10902 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”ہجرت نہیں رہی ہاں جہاد اور نیت ہے جب تمہیں چلنے کو کہا جائے اٹھ کھڑے ہو جایا کرو“۔ [صحیح بخاری:1834] ‏ صحیح بخاری اور صحیح مسلم شریف میں یہ حدیث موجود ہے ہاں یہ بھی یاد رہے کہ جن بعض صحابہ نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سامنے اس سورت کا یہ مطلب بیان کیا کہ جب ہم پر اللہ تعالیٰ شہر اور قلعے فتح کر دے اور ہماری مدد فرمائے تو ہمیں حکم مل رہا ہے کہ ہم اس کی تعریفیں بیان کریں اس کا شکر کریں اور اس کی پاکیزگی بیان کریں، نماز ادا کریں اور اپنے گناہوں کی بخشش طلب کریں یہ مطلب بھی بالکل صحیح ہے۔ اور یہ تفسیر بھی نہایت پیاری ہے دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت آٹھ رکعت نماز ادا کی [صحیح بخاری:1103] ‏ گو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ ضحیٰ کی نماز تھی لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ ضحیٰ کی نماز آپ ہمیشہ نہیں پڑھتے تھے پھر اس دن جبکہ شغل اور کام بہت زیادہ تھا مسافرت تھی یہ کیسے پڑھی؟ آپ کی اقامت فتح کے موقعہ پر مکہ شریف میں رمضان شریف کے آخر تک انیس دن رہی آپ فرض نماز کو بھی قصر کرتے رہے روزہ بھی نہیں رکھا اور تمام لشکر جو تقریباً دس ہزار تھا اسی طرح کرتا رہا ان حقائق سے یہ بات صاف ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ نماز فتح کے شکریہ کی نماز تھی اسی لیے سردار لشکر امام وقت پر مستحب ہے کہ جب کوئی شہر فتح ہو تو داخل ہوتے ہی دو رکعت نماز ادا کرے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فتح مدائن والے دن ایسا ہی کیا تھا ان آٹھ رکعت کو دو دو رکعت کر کے ادا کرے گو بعض کا یہ قول بھی ہے کہ آٹھوں ایک ہی سلام سے پڑھ لے لیکن ابوداؤد کی حدیث میں صراحتاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز میں ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا ہے ۔ [سنن ابوداود:1290،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏ دوسری تفسیر بھی صحیح ہے جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے کی ہے کہ اس میں آپ کو آپ کے وصال کی خبر دی گئی کہ جب آپ اپنی بستی مکہ فتح کر لیں جہاں سے ان کفار نے آپ کو نکل جانے پر مجبور کیا تھا اور آپ اپنی آنکھوں اپنی محنت کا پھل دیکھ لیں کہ فوجوں کی فوجیں آپ کے جھنڈے تلے آ جائیں جوق در جوق لوگ حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں تو ہماری طرف آنے کی اور ہم سے ملاقات کی تیاریوں میں لگ جاؤ سمجھ لو کہ جو کام ہمیں تم سے لینا تھا پورا ہو چکا اب آخرت کی طرف نگاہیں ڈالو جہاں آپ کے لیے بہت بہتری ہے اور اس دنیا سے بہت زیادہ بھلائی آپ کے لیے وہاں ہے وہیں آپ کی مہمانی تیار ہے اور مجھ جیسا میزبان ہے تم ان نشانات کو دیکھ کر بکثرت میری حمد و ثناء کرو اور توبہ استغفار میں لگ جاؤ۔ 10903 صحیح بخاری کی حدیث میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع، سجدے میں بکثرت «سُبْحَانك اللَّهُمَّ رَبّنَا وَبِحَمْدِك اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي» پڑھا کرتے تھے آپ قرآن کی اس آیت «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا» [110-النصر:3] ‏ پر عمل کرتے تھے [صحیح بخاری:794] ‏ اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں ان کلمات کا اکثر ورد کرتے تھے «سُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِر اللَّه وَأَتُوب إِلَيْهِ» اللہ کی ذات پاک ہے اسی کے لیے سب تعریفیں مختص ہیں میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف جھکتا ہوں اور فرمایا کرتے تھے کہ ”میرے رب نے مجھے حکم دے رکھا ہے کہ جب میں یہ علامت دیکھ لوں کہ مکہ فتح ہو گیا اور دین اسلام میں فوجیں کی فوجیں داخل ہونے لگیں تو میں ان کلمات کو بکثرت کہوں چنانچہ بحمد اللہ میں اسے دیکھ چکا لہٰذا اب اس وظیفے میں مشغول ہوں“ ۔ [صحیح مسلم:484] ‏ (‏مسند احمد)‏ ابن جریر میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں بیٹھتے اٹھتے چلتے پھرتے آتے جاتے «سُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ» پڑھا کرتے میں نے ایک مرتبہ پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے تو آپ نے اس سورت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”مجھے حکم الٰہی یہی ہے“ ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:38248:ضعیف] ‏ کسی مجلس میں بیٹھیں پھر وہ مجلس برخاست ہو تو کیا پڑھنا چاہیئے اسے ہم اپنی ایک مستقل تصنیف میں لکھ چکے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ جب یہ سورت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اکثر اپنی نماز میں تلاوت کرتے اور رکوع میں تین مرتبہ یہ پڑھتے «سُبْحَانك اللَّهُمَّ رَبّنَا وَبِحَمْدِك اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي إِنَّك أَنْتَ التَّوَّاب الرَّحِيم» ۔ [مسند احمد:410/1:حسن لغیرہ] ‏ فتح سے مراد یہاں فتح مکہ ہے اس پر اتفاق ہے عموماً عرب قبائل اسی کے منتظر تھے کہ اگر یہ اپنی قوم پر غالب آ جائیں اور مکہ ان کے زیر نگیں آ جائے تو پھر ان کے نبی ہونے میں ذرا سا بھی شک شبہ نہیں اب جبکہ اللہ نے اپنے حبیب کے ہاتھوں مکہ فتح کرا دیا تو یہ سب اسلام میں آ گئے اس کے بعد دو سال بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ سارا عرب مسلمان ہو گیا اور ہر ایک قبیلے میں اسلام اپنا راج کرنے لگا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10904 صحیح بخاری میں بھی سیدنا عمرو بن سلمہ کا یہ مقولہ موجود ہے کہ مکہ فتح ہوتے ہی ہر قبیلے نے اسلام کی طرف سبقت کی ان سب کو اسی بات کا انتظار تھا اور کہتے تھے کہ انہیں اور ان کی قوم کو چھوڑو دیکھو اگر یہ نبی برحق ہیں تو اپنی قوم پر غالب آ جائیں گے اور مکہ پر ان کا جھنڈا نصب ہو جائے گا ۔ [صحیح بخاری:4302] ‏ ہم نے غزوہ فتح مکہ کا پورا واقعہ تفصیل کے ساتھ اپنی سیرۃ کی کتاب میں لکھا ہے جو صاحب تفصیلات دیکھنا چاہیں وہ اس کتاب کو دیکھ لیں۔‏“ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» مسند احمد میں ہے کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پڑوسی جب اپنے کسی سفر سے واپس آئے تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ان سے ملاقات کرنے کے لیے گئے انہوں نے لوگوں کی پھوٹ اور ان کے اختلاف کا حال بیان کیا اور ان کی نو ایجاد بدعتوں کا تذکرہ کیا تو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور روتے ہوئے فرمانے لگے کہ میں نے اللہ کے حبیب شافع روز جزاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ لوگوں کی فوجوں کی فوجیں اللہ کے دین میں داخل ہوئیں لیکن عنقریب جماعتوں کی جماعتیں ان میں سے نکلنے بھی لگ جائیں گی ۔ [مسند احمد:343/3:ضعیف] ‏ اس سورت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمدلله على احسانه» 10905