Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — الفاتحة 1:1 – البقرة 2:101

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. الفاتحة 1:1
  2. الفاتحة 1:2
  3. الفاتحة 1:3
  4. الفاتحة 1:4
  5. الفاتحة 1:5
  6. الفاتحة 1:6
  7. الفاتحة 1:7
  8. البقرة 2:1
  9. البقرة 2:2
  10. البقرة 2:3
  11. البقرة 2:4
  12. البقرة 2:5
  13. البقرة 2:6
  14. البقرة 2:7
  15. البقرة 2:8
  16. البقرة 2:9
  17. البقرة 2:10
  18. البقرة 2:11
  19. البقرة 2:12
  20. البقرة 2:13
  21. البقرة 2:14
  22. البقرة 2:15
  23. البقرة 2:16
  24. البقرة 2:17
  25. البقرة 2:18
  26. البقرة 2:19
  27. البقرة 2:20
  28. البقرة 2:21
  29. البقرة 2:22
  30. البقرة 2:23
  31. البقرة 2:24
  32. البقرة 2:25
  33. البقرة 2:26
  34. البقرة 2:27
  35. البقرة 2:28
  36. البقرة 2:29
  37. البقرة 2:30
  38. البقرة 2:31
  39. البقرة 2:32
  40. البقرة 2:33
  41. البقرة 2:34
  42. البقرة 2:35
  43. البقرة 2:36
  44. البقرة 2:37
  45. البقرة 2:38
  46. البقرة 2:39
  47. البقرة 2:40
  48. البقرة 2:41
  49. البقرة 2:42
  50. البقرة 2:43
  51. البقرة 2:44
  52. البقرة 2:45
  53. البقرة 2:46
  54. البقرة 2:47
  55. البقرة 2:48
  56. البقرة 2:49
  57. البقرة 2:50
  58. البقرة 2:51
  59. البقرة 2:52
  60. البقرة 2:53
  61. البقرة 2:54
  62. البقرة 2:55
  63. البقرة 2:56
  64. البقرة 2:57
  65. البقرة 2:58
  66. البقرة 2:59
  67. البقرة 2:60
  68. البقرة 2:61
  69. البقرة 2:62
  70. البقرة 2:63
  71. البقرة 2:64
  72. البقرة 2:65
  73. البقرة 2:66
  74. البقرة 2:67
  75. البقرة 2:68
  76. البقرة 2:69
  77. البقرة 2:70
  78. البقرة 2:71
  79. البقرة 2:72
  80. البقرة 2:73
  81. البقرة 2:74
  82. البقرة 2:75
  83. البقرة 2:76
  84. البقرة 2:77
  85. البقرة 2:78
  86. البقرة 2:79
  87. البقرة 2:80
  88. البقرة 2:81
  89. البقرة 2:82
  90. البقرة 2:83
  91. البقرة 2:84
  92. البقرة 2:85
  93. البقرة 2:86
  94. البقرة 2:87
  95. البقرة 2:88
  96. البقرة 2:89
  97. البقرة 2:90
  98. البقرة 2:91
  99. البقرة 2:92
  100. البقرة 2:93
  101. البقرة 2:94
  102. البقرة 2:95
  103. البقرة 2:96
  104. البقرة 2:97
  105. البقرة 2:98
  106. البقرة 2:99
  107. البقرة 2:100
  108. البقرة 2:101

الفاتحة 1:1

سورة فاتحہ ایک نظر میں اس مختصر اور سات آیتوں پر مشتمل چھوٹی سی صورت کو ایک مسلمان ‘ رات دن میں کم از کم سترہ مرتبہ دہراتا ہے اور جب وہ سنتیں پڑھتا ہے تو یہ تعداد اس سے بھی دوچند ہوجاتی ہے اور اگر کوئی فرائض وسنن کے علاوہ نوافل بھی پڑھتا ہے تو وہ اسے بیشمار مرتبہ دہراتا ہے ۔ اس سورت کی تلاوت کے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔ صحیح حدیث میں حضرت عبادہ بن صامت ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ” اس کی نماز نہیں ہوتی جس نے فاتحہ نہ پڑھی “ اس سورت میں اسلامی عقائد کے بلند اصول ‘ اسلامی تصور حیات کے کلیات و مبادی اور انسانی شعور اور انسانی دلچسپیوں کے لئے نہایت ہی اہم اصولی ہدایات بیان کی گئی ہیں ‘ اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کی ہر رکعت میں اس سورت کا پڑھنا ضروری قرار دیا ہے ‘ اور جس نماز میں اس سورت کی تلاوت نہ ہو اسے فاسد قرار دیا گیا ہے۔ اس سورت کا آغاز ”﷽“ سے ہوا ہے ۔ اس کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کہ یہ ہر سورت کی ایک آیت ہے یا پورے قرآن مجید کی ایک آیت ہے ‘ اور صرف پڑھتے وقت ہر سورت کا آغاز اس سے کیا جاتا ہے ‘ لیکن راسخ بات یہی ہے کہ بسم اللہ سورة فاتحہ کی ایک آیت ہے اور اس کو ملاکر ہی سورة فاتحہ کی آیتوں کی تعداد سات ہوتی ہے ۔ قرآن کریم میں آتا ہے : وَ لَقَد اٰتَینَکَ سَبعًا مِّنَ المَثَانِی وَ القُراٰنَ العَظِیمَ (حجر :87) ” ہم نے تم کو سات ایسی آیتیں دے رکھی ہیں جو بار بار دہرائے جانے کے لائق ہیں ‘ اور تمہیں قرآن کریم عطا کیا ۔ “ اس آیت کے مفہوم کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد سورة فاتحہ ہے ‘ کیونکہ اس کی سات آیتیں ہیں اور اسے مثانی اس لئے کہا گیا ہے کہ اسے نماز میں باربار دہرایا جاتا ہے ۔ بسم اللہ سے آغاز کرنا ان اداب میں سے ہے جو اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو آغاز وحی کے وقت بتادیئے تھے ۔ اِقرَا بِاسمِ رَبِّکَ ” پڑھئے اپنے رب کے نام سے ۔ “ اور یہ ان آداب میں سے ہے ‘ جو اسلامی تصور حیات کے اساسی عقیدے سے مطابقت رکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ھُوَ الاَوَّلُ وَ الاٰخِرُ وَ الظَّاھِرُ وَ البَاطِنُ (حدید :3) ” وہی پہلے ہے ‘ وہی پیچھے ہے ‘ وہی ظاہر ہے ‘ وہی مخفی ہے۔ “ صرف اللہ موجود برحق اور حقیقی وجود رکھتا ہے اور تمام دوسرے موجودات اپنا وجود اس سے لیتے ہیں ۔ ہر چیز کا آغاز اس سے ہوتا ہے لہٰذا ایک مسلمان ہر آغاز اور ہر حرکت اسی کے نام سے کرتا ہے۔ اللہ کی صفات رحمان ورحیم ‘ جنہیں شروع میں لایا گیا ہے ۔ رحمت کے تمام حالات اپنے اندر لئے ہوئے ہیں ۔ ان دونوں کو یکجا طور پر اللہ ہی کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ الرحمن اکیلا بھی صرف اللہ ہی کے لئے استعمال ہوسکتا ہے ۔ یہ تو جائز ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی انسان کو بھی رحیم کہہ دیں لیکن اسلامی عقائد کی رو سے یہ جائز نہیں کہ ہم بندے کو رحمان کہیں ۔ افضل یہ ہے کہ اللہ کے لئے ان دونوں صفات کو بیک وقت استعمال کیا جائے یعنی ” رحمان ورحیم “ اگرچہ اس بارے میں اختلاف ہے کہ ان دونوں میں سے کس لفظ کے معنی وسیع تر ہیں لیکن قرآن کے اس سائے میں ہمیں ایسی بحثوں سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے ‘ ہاں ان کا خاصہ یہ ہے کہ یہ دونوں صفات ملکہ رحمت کے تمام معانی ‘ تمام وسعتوں کو اپنے اندر لئے ہوئے ہیں ۔ ﷽سے آغاز کلام ‘ اللہ کی عظمت اور وحدانیت کے معانی پر مشتمل ہوتے ہوئے اگر اسلامی تصور حیات کا پہلا اصول ہے رحمان رحیم کی دوصفتوں میں رحمت کے تمام مفاہیم تمام حالات اور تمام وسعتوں کا سمو دینا ‘ اسلامی تصور حیات کا دوسرا زریں اصول ہے ۔ جس سے ایک بندے اور اس کے اللہ کے درمیان تعلق کی صحیح نوعیت کا اظہار ہوتا ہے۔

الفاتحة 1:2

بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ آغاز کرنے کے بعد ‘ اب انسان اپنے اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔ اس کی تعریف کرتا ہے اور پوری کائنات کے لئے اس کی عالمگیر ربوبیت کا اعلان کرتا ہے ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے “۔ اللہ کی تعریف وہ شعور ہے جو اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتے ہی قلب مومن میں موجزن ہوتا ہے اور مومن کا دل اس سے سرشار ہوجاتا ہے کیونکہ وجود انسانی اپنے آغاز ہی میں بےپایاں نعمتوں اور فیوض میں سے ایک فیض ہے ‘ جو قلب مومن میں اللہ کی حمد وثناکے جذبات کے مہمیز کا کام کرتا ہے۔ اللہ کی نعمتیں قدم قدم پر ‘ لمحہ لمحہ ‘ مسلسل اور جوق درجوق آتی ہیں اور اللہ کی تمام مخلوقات اور بالخصوص اس ” انسان “ کو فیض یاب کررہی ہے۔ لہٰذا اللہ کی حمد سے ہر کام کا آغاز اور اسی کی تعریف وثنا پر ہر کام کا انجام اسلامی تصور حیات کے اصولوں میں سے ایک اہم اصول ہے وَ ھُوَ اللہ ُ لَآ اِٰلہَ اِلَّا ھُوَ لَہُ الحَمدُ فِی الاُولٰی وَ الاٰخِرَةِ ’ وہی اللہ جس کے سوا کوئی عبادت کے مستحق نہیں اس کے لئے حمد ہے ۔ اول میں بھی اور آخر میں بھی ۔ “ ایسے بندے پر ذرا اللہ کے فضل وکرم کو تو دیکھئے ! جب وہ اپنی زبان سے ” الحمدﷲ“ ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں وہ بھلائی لکھ دیتا ہے جو سب نیکیوں پر بھاری ہوتی ہے ۔ ابن ماجہ میں حضرت ابن عمر ؓ کی روایت کردہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ” کسی بندے نے اللہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا یَارَبِّ لَکَ الحَمدُ کَمَا یَنبَغِی لِجَلَالِ وَجھِکَ وَعَظِیمِ سُلطَانِکَ ” اے اللہ تیرے لئے ایسی حمد ہے جو تیرے چہرے کی بزرگی اور تیری سلطنت کی عظمت کے لائق ہو۔ “ ” فرشتے اس معاملے میں متحیر ہوئے اور فیصلہ نہ کرسکے کہ اسے کس طرح لکھیں چناچہ وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی ” یا خدایا ! تیرے بندے نے ایک ایسی بات کہی ہے کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اسے کس طرح لکھیں ۔ “ یہ جانتے ہوئے بھی کہ بندے نے کیا کہا تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے سوال کیا ” تو میرے بندے نے کیا کہا ؟ “ فرشتوں نے عرض کی ‘ اس نے کہا ” اے اللہ تیرے لئے ایسی تعریف ہے جو تیرے چہرے کی عظمت و جلال اور تیری سلطنت کی عظمت کے لائق ہے۔ “ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ اسی طرح لکھو کہ جس طرح میرے بندے نے کہا ۔ قیامت کے دن وہ مجھ سے ملے گا اور میں خود اس کی جزا دوں گا۔ “ غرض اللہ کی تعریف کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہونا ایک مومن کا وہ شعور ہے جو اللہ کا نام زبان پر آتے ہی ‘ قلب مومن میں موجزن ہوتا ہے ۔ اس آیت کا دوسرا حصہ رب العالمین بھی لفظ اسلامی تصور حیات کا ایک بنیادی اصول ہے ۔ اللہ کی عالمگیر اور مطلق ربوبیت اسلامی عقائد کا اصل الاصول ہے ۔ رب اس ذات کو کہتے ہیں جو مالک اور متصرف ہو اور عربی لغت میں یہ لفظ اس سربراہ کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو اصلاح وتربیت کی خاطر کسی چیز میں تصرف کرتا ہے ۔ اصلاح تربیت کے لئے تصرف اور ربوبیت تمام جہانوں اور تمام مخلوقات کو شامل ہے ‘ اللہ نے مخلوقات کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ اسے یونہی مسلسل چھوڑدیا جائے ‘ بلکہ اللہ ہی اس کائنات میں متصرف اور اس کا مصلح ہے ‘ وہ اس کی نگرانی کرتا ہے اور اسے مسلسل پال رہا ہے ‘ تمام جہانوں اور تمام مخلوقات کی دیکھ بھال رب العالمین کی نگرانی میں کی جارہی ہے ‘ خالق اور مخلوق کے درمیان ربط وصلہ ہر لمحہ اور ہر حال میں قائم ہے اور ہر وقت رواں دواں ہے۔ اس مکمل اور ہمہ گیر عقیدہ توحید کی تشریح و توضیح اور اس ژولیدہ فکری کے درمیان قطعی امتیاز کرکے رکھ دیتی ہے ۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے اور اب بھی ہورہا ہے کہ لوگ خدائے واحد اور صانع کائنات کا اعتراف بھی کرتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود وہ متعدد الٰہوں اور ارباب کے بھی قائل ہیں اور وہ ان الٰہوں اور ارباب کو اپنی زندگی میں حاکم تسلیم کرتے ہیں ۔ اگرچہ بادی النظر ہی میں یہ عقیدہ نہایت ہی مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت واقعہ یہی ہے کہ بعض لوگوں کا یہ عقیدہ تھا اور اب بھی ہے۔ قرآن کریم نے ‘ بعض مشرکین کا یہ عقیدہ بیان کیا ہے ۔ جو وہ اپنے الٰہوں اور ارباب کے بارے میں رکھتے تھے۔ مَا نَعبُدُہُم اِلَّا لِیُقَرِّبُونَآ اِلَی اللہ ِ زُلفٰی (زمر : 3) ” ہم تو ان کی عبادت اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرادیں “۔ جیسا کہ اہل کتاب کے بارے میں کہا گیا ۔ اِتَّخَذُوآ اَحبَارَھُم وَ رُہبَانَہُم اَربَابًا مِّن دُونِ اللہ ِ (توبة : 13) ” انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا ہے ۔ “ نزول قرآن کے وقت مشرکین عرب کی حالت یہ تھی کہ وہ بڑے الٰہوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے ارباب کے بھی قائل تھے ‘ اور یہ چھوٹے ارباب ان کے خیالات کے مطابق وہ تھے جو بڑے خداؤں کے ساتھ ساتھ خدائی کا کام کررہے تھے ۔ غرض اس صورت میں عالمگیر ربوبیت کا بیان کرنا اور اسے تمام جہانوں کے لئے عام و شامل کرنے سے غرض یہ ہے کہ جاہلیت کے فکری انتشار اور اسلام کی نظریاتی ہم آہنگی کے درمیان واضح طور پر خط فاضل کھینچ دیا جائے تاکہ یہ پوری کائنات اور تمام لوگ صرف ایک اللہ کی طرف متوجہ ہوں اور اس کی حاکمیت مطلقہ (Boundless Sovereignty) کا اقرار کریں اور اپنی گردنوں سے ارباب متفرقوں کی غلامی کا جو اتار پھینکیں اور بیشمار خداؤں کو ماننے سے وہ جس فکری انتشار و پریشانی میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں اس سے نجات پائیں ۔ اور اس طرح اللہ کی مخلوق کا ضمیر اللہ تعالیٰ کی دائمی نگرانی اور قائم ربوبیت کے سائے میں مطمئن ہوجائے ‘ وہ ربوبیت جو کسی وقت بھی منقطع نہیں ہوتی ‘ جس کا سلسلہ ابد الآباد تک قائم دائم اور جاری وساری ہے ۔ یاد رہے یہ کوئی ایسی ربوبیت نہیں جس کا تصور ارسطو نے پیش کیا کہ اللہ نے اس کائنات کی تخلیق کی اور پھر اسے یونہی چھوڑدیا ۔ وہ کہتا ہے کہ اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ اپنے سے فرو تر چیزوں کے بارے میں فکر کرے ‘ وہ صرف اپنی ذات کے بارے میں فکر کرتا ہے ۔ “ یہ خیال اس شخص کا ہے جو ایک عظیم فلسفی سمجھا جاتا ہے ‘ اس کا فلسفہ ایک ٹھوس مانا جاتا ہے اور اس کی عقل کو عقل رسا اور اسے عبقری تسلیم کیا جاتا ہے۔ جب اسلامی تعلیمات کا آغاز ہوا تو اس دنیا میں عقائد و تصورات ‘ افکار وتوہمات اور فلسفوں اور روایات کا ایک عظیم ذخیرہ موجود تھا جس میں حق و باطل کا کوئی امتیاز نہ تھا ۔ کھرے اور کھوٹے میں کوئی جدائی نہ تھی ۔ خرافات دین کا جزو تھے ۔ فلسفے اور عقائد اوہام و خرافات کا پلندہ تھے ‘ اور انسانی ضمیر ان اوہام وروایات کے تہہ بہ تہہ ذخیرے کے نیچے دب گیا تھا اور یقین سے محروم وہم و گمان کے ان گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں ماررہا تھا ۔ یہ حیرانی و پریشانی کیا تھی ‘ جس میں اسے نہ سکون ملتا اور نہ نور ہدایت کی کرن نظر آتی ؟ یہ فقط اس وقت کا تصور الٰہ تھا ۔ الٰہ العالمین اس کی صفات ‘ مخلوق سے اس کا تعلق ایسے مسائل ‘ بالخصوص اللہ تعالیٰ اور انسان کے باہم تعلق کی صحیح نوعیت ‘ اس وقت کے تمام عقائد اس ضلالت اور گمراہی کا شکار تھے ۔ اور اس سے قبل کے انسان اپنے اللہ اور اس کی صفات کے بارے میں کوئی تصور قائم کرتا اور اس وقت کی موجود سرگرمی ‘ سرگردانی اور اوہام و تخیلات کے بھاری بھرکم ذخیرے سے نجات پاتا ‘ انسان کے لئے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ اس کا ضمیر اس کائنات کے بارے میں یا خود اپنے نفس کے بارے میں اور اپنے لئے کسی نظام زندگی کے بارے میں مطمئن ہوجائے اور اسے قرار و سکون حاصل ہوسکے (لہٰذا سب سے پہلے تصور الٰہ کی درستگی اور ان باطل نظریات سے نجات ضروری تھی) اس سکون اور تطہیر عقائد کی ضرورت اور اہمیت کا احساس ‘ انسان کو اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک وہ اس فکری ضلالت کے طول وعرض سے خوب واقفیت نہ رکھتا ہو ‘ اور اسے اس بارے میں پوراعلم نہ ہو کہ جب اسلام آیا تو انسان کے دل و دماغ پر غلط عقائد و تصورات ‘ باطل فلسفوں اور غلط روایات کی کس قدر تہیں جمی ہوئی تھیں ۔ ہم نے یہاں تو ان کی طرف اجمالی اشارہ کیا ہے۔ تفصیلی بحث ان مقامات میں ہوگی جہاں قرآن کریم نے تفصیلاً ان تصورات سے بحث کی ہے ۔ ان وجوہات کی بناپر اسلام نے سب سے پہلے اسلامی عقائد اور اسلام کے اساسی تصورات سے تفصیلی بحث کی اور اللہ کی ذات وصفات ‘ مخلوقات سے اس کے تعلق اور مخلوق کے اپنے خالق کے ساتھ ربط کی نوعیت کے بارے میں اسلامی تصور کو قطعی اور یقینی طور پر واضح اور متعین کردیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تصور حیات کی بنیاد ‘ وہ کامل ‘ خالص اور ہمہ گیر توحید بنی جس میں شرک کا شائبہ تک نہ تھا۔ اسلامی تعلیمات میں مسلسل اس کی وضاحت کی گئی ہے ۔ اس کے بارے میں اٹھنے والے تمام شکوک و شبہات کا قلع قمع کیا گیا ۔ اس کے متعلق ہر قسم کے خلجان اور اجمال کو دور کیا گیا اور اسے پاک وصاف کرکے خالص اور واضح شکل میں دل مومن میں جاگزیں کیا گیا تاکہ وہ اس معاملے میں کسی طرح وہم و گمان کا شکار نہ ہو ‘ اسلام نے اللہ کی صفات اور صفت ربوبیت مطلقہ کے بارے میں بھی دوٹوک اور واضح تعلیمات دیں ۔ کیونکہ غلط فلسفوں اور بےاصل نظریات کا ایک بڑا حصہ انہی شرکیہ اوہام واساطیر پر مشتمل تھا جو اللہ کی صفات کے بارے میں ‘ ان غلط فلسفوں نے لوگوں کے دل و دماغ میں جاگزیں کردی تھیں اور انسانی ضمیر پر ان کا بڑا اثر تھا اور پھر انسانی طرزعمل پر بھی یہ تصورات اثر انداز ہورہے تھے ۔ جن لوگوں نے ان کوششوں کا سرسری مطالعہ کیا ہے جو اسلام نے اللہ کی ذات وصفات اور مخلوق کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت کو لوگوں کے ذہن نشین کرنے کے لئے اور جن کے بیان میں قرآن کی لاتعداد آیات نازل ہوئیں اور اس نے ان باطل فلسفوں اور شرکیہ نظریات کا مطالعہ نہیں کیا جن کے بھاری بھرکم بوجھ تلے انسانی ضمیر دبا ہوا تھا ۔ اور پوری انسانیت ان نظریات میں گم گشتہ تھی ‘ تو وہ قرآن مجید کی ان کوششوں ‘ عقائد کے بارے میں بےحد تاکید و تکرار اور تفصیل و توضیح کی حقیقی وجہ کو ہرگز نہ پاسکے گا۔ لیکن اس کے برعکس جو شخص ان باطل نظریات و عقائد کا گہرا مطالعہ کرے گا جو نزول قرآن کے وقت رائج تھے ‘ اس پر ان کوششوں کی حقیقت واہمیت اور ضرورت اچھی طرح واضح ہوجائے گی ۔ وہ سمجھ سکے گا کہ عقیدہ توحید نے انسانی ضمیر کی آزادی میں کیا پارٹ ادا کیا ۔ کیونکہ اس سے انسان کو اوہام و اساطیر اور متعدد خداؤں کی دیومالائی تصورات سے نجات دی۔ غرض عقیدہ توحید کا حسن ‘ اس کا کمال ‘ اس کی ہم آہنگی اور جس حقیقت کا اس میں اظہار کیا گیا ہے ‘ اس کی سادگی اور واقعیت پسندی ‘ اس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتی جب تک انسان ان باطل تصورات و عقائد اور اساطیر وروایات کا اچھی طرح جائزہ نہ لے جو اس وقت دنیا میں رائج تھے ۔ بالخصوص ذات باری کی حقیقت ‘ اس دنیا کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت وغیرہ ‘ غرض ان باطل افکار کے گہرے مطالعے کے بعد ہی یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات دراصل ایک نعمت ہے ۔ یہ قلب ونظر دونوں کے لئے رحمت ہے ‘ اس کا حسن اور سادگی انعام الٰہی ہے ‘ انسانی فطرت سے اس کی ہم آہنگی اور معقولیت ‘ ذہن انسانی سے قرب اور مانوسیت اور اس کا توازن اور اعتدال یہ سب کچھ اللہ کی رحمت خاص ہے جو اس نے اپنی مخلوق پر کی ۔

الفاتحة 1:3

الرحمن الرحیم کی صفت کو یہاں وسط سورت میں بطور ایک مستقل آیت پھر دہرایا جارہا ہے ۔ یہ رحمت و شفقت کے تمام معانی ‘ تمام حالات اور تمام وسعتوں کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے ۔ اور یہاں دوبارہ لانے کی غرض وغایت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عالمگیر ربوبیت کی ان صفات کے ایک نہایت ہی ممتاز پہلو کو نمایاں کیا جائے اور خالق و مخلوق اور اللہ اور اس کے پروردہ بندوں کے درمیان ربط وتعلق کو حمد وثناپر ابھارتا ہے اور یہ وہ تعلق ہے جو اطمینان قلب کی اساس پر قائم ہے اور اس کی تاریں محبت کے ساتھ بھرے ہوئے دل میں جڑی ہوئی ہیں ۔ لہٰذا الحمد للہ درحقیقت انسانی فطرت کی وہ آواز ہے جو وہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت کے جواب میں بلند کرتی ہے ۔ اسلام نے اللہ اور رب کا جو تصور پیش کیا ہے وہ اس تصور سے سراسر مختلف ہے جو اولمپک (Olympic) خداؤں کے متعلق یونانی افکار نے پیش کیا ۔ اس تصور کے مطابق یہ قسی القلب خدا زمانہ امن اور حالت جنگ دونوں میں یکساں طور پر اپنے بندوں کے پیچھے پڑے رہتے تھے ۔ اور ایک دشمن کی طرح اپنے بندوں کے تعاقب میں لگے رہتے تھے ۔ لیکن اسلام کا الٰہ العالمین اپنے بندوں کے لئے وہ انتظامی تدابیر اختیار نہیں کرتا جن کا ذکر عہد نامہ قدیم کی منحرف روایات میں ہوا ہے ۔ مثلاً سفر تکوین کے باب 11 میں بابل کے متعلق جو داستان بیان کی گئی ہے وہ اس کی واضح ترین مثال ہے (” اور تمام زمین پر ایک ہی زبان اور ایک ہی بولی تھی اور ایسا ہوا کہ مشرق کی طرف سفر کرتے ان کو ملک سنمار میں ایک میدان ملا اور وہاں بس گئے اور انہوں نے آپس میں کہا آؤ ہم اینٹیں بنائیں اور ان کو آگ میں خوب پکائیں ۔ سو انہوں نے پتھر کی جگہ اینٹ سے اور چونے کی جگہ گارے سے کام لیا ۔ پھر وہ کہنے لگے آؤہم اپنے واسطے ایک شہر اور ایک برج جس کی چوٹی آسمان تک پہنچے ‘ بنائیں اور یہاں اپنانام کریں ۔ ایسا نہ ہو کہ ہم تمام روئے زمین پر پراگندہ ہوجائیں اور خداوند اس شہر اور برج کو جس کو بنی آدم بنانے لگے ‘ دیکھنے کو اترا اور خداوند نے کہا دیکھو ! یہ لوگ سب ایک ہیں اور ان سبھوں کی ایک ہی زبان ہے ۔ وہ جو یہ کرنے لگے ہیں تو اب کچھ بھی جس کا وہ ارادہ کریں ان سے باقی نہ چھوٹے گا۔ سو آؤ ہم وہاں جا کر ان کی زبان میں اختلاف ڈالیں تاکہ وہ ایک دوسرے کی زبان نہ سمجھ سکیں ۔ پس خداوند نے ان کو وہاں سے تمام روئے زمین میں پراگندہ کیا ۔ سو وہ اس شہر کے بنانے سے باز آئے ۔ اس لئے اس کا نام بابل ہوا کیونکہ خدا نے وہاں ساری زمین کی زبان میں اختلاف ڈالا اور وہاں سے خداوند نے ان کو تمام روئے زمین پر پراگندہ کیا۔ “ )

الفاتحة 1:4

مٰلِکِ یَومِ الدِّینِ ” روز جزاء کا مالک ہے۔ “ اس آیت میں اسلام کا وہ اصولی اور بنیادی عقیدہ بیان کیا گیا ہے ‘ جس کے اثرات پوری انسانی زندگی پر نہایت گہرے ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے روزجزاء کے بارے میں ملکیت کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ جو قبضہ واستیلاء اور تصرف واختیار کے نہایت اعلیٰ درجے کو ظاہر کررہا ہے ۔ یوم الدین سے مراد قیامت کا روز جزاء ہے ۔ یاد رہے کہ نزول قرآن کے وقت بعض ایسے لوگ بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کو الٰہ مانتے تھے ۔ اور اللہ کی صفت تخلیق پر بھی یقین رکھتے تھے ۔ اور کہتے تھے کہ اللہ ہی اس دنیا کو عدم سے وجود میں لایا ‘ اس کے باوجود وہ یوم جزاء اور حساب کتاب کے قائل نہ تھے ۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں قرآن مجید کہتا ہے : وَلَئِن سَاَلتَھُم مَن خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرضِ لَیَقُولُنَّ اللّٰہ ” اگر آپ نے ان سے پوچھیں کہ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو کہیں گے اللہ نے ۔ “ اور دوسری جگہ میں ہے : بَل عَجِبُوآ اَن جَآئَہُم مُّنذِرٌ مِّنہُم فَقَالَ الکٰفِرُونَ ھٰذَا شَیئٌ عَجِیبٌ، أَ اِذَا مِتنَا وَ کُنَّا تُرَابًا ذٰلِکَ رَجعٌ م بَعِیدٌ(ق : 3۔ 2) ” انہیں یہ بات عجیب لگی کہ ان کے پاس خود ان میں سے ڈرانے ولا آیا ۔ کافروں نے کہا یہ اچھنبے کی بات ہے ۔ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے تو پھر آنا عقل سے بعید کی بات ہے ۔ “ یوم آخرت پر ایمان اسلام کے اساسی عقائد میں سے ایک اہم عقیدہ ہے اور لوگوں کے دل اور دماغ میں ‘ اس جہاں سے آگے ‘ دارآخرت میں اللہ کے سامنے جوابدہی کا احساس پیدا کرنے میں اس کی اہمیت حددرجہ مسلمہ ہے ۔ اس عقیدے پہ ایمان لانے والے اس دنیائے دنی کی ضروریات کے حصول ہی میں منہمک نہیں ہوجاتے بلکہ اس عقیدے پر ایمان لانے کے بعد وہ دنیاوی حوائج و ضروریات سے بلند ہوکر سوچتے ہیں ۔ انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہوتی کہ اس محدود مختصر عمر اور دنیا کے اس تنگ دائرہ مکافات میں انہیں اپنے اعمال حسنہ کی پوری جزاء ملتی ہے یا نہیں ۔ بلکہ ان کی تمام نیکی اور اللہ کی راہ میں تمام جدوجہد سے مقصود صرف اللہ کی رضاجوئی ہوتی ہے ۔ وہ اعمال کا بدلہ صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مانگتے ہیں ۔ خواہ وہ اس دنیا میں ملے یا آخرت میں ملے ۔ وہ مطمئن رہتے ہیں ۔ انہیں حق وصداقت پر بھروسہ ہوتا ہے ۔ وہ حق پر جم جاتے ہیں اور وہ دولت یقین ‘ وسعت قلب ونظر اور حسن خلق کے مالک ہوجاتے ہیں .... غرض یہ اصولی عقیدہ اس بات کے لئے معیاروکسوٹی ہے کہ کوئی انسان محض اپنی خواہشات ومرغوبات کا بندہ و غلام ہے یا اسے انسان کی انسانیت کے لائق آزادی وحریت بھی حاصل ہے ۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس جہاں میں دنیاوی اقدار ‘ مادی تصورات اور جاہلیت کو برتری حاصل ہے یا ربانی اقدار ‘ روحانی تصورات اور اسلامی نظریہ حیات کو جاہلیت کی منطق پہ غلبہ حاصل ہے ۔ نیز اس اصولی عقیدے کے ذریعے وہ بلند مقام نکھر کر سامنے آتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے پسند فرمایا ہے اور ناقص ‘ ناخالص اور منحرف تصورات حیات اور انسانیت کے اس بلند مقام کے درمیان فرق و امتیاز بھی واضح ہوجاتا ہے۔ جب تک انسانوں کے دل و دماغ میں یہ اصولی عقیدہ جاگزیں نہیں ہوجاتا ‘ اور لوگوں کے دلوں میں یہ اطمینان پیدا نہیں ہوجاتا کہ دنیاوی فوائد اور مادی مرغوبات انسان کا پورا مقدر نہیں ہے اور جب تک محدود عمر رکھنے والا یہ انسان ‘ یہ یقین نہیں کرلیتا کہ ایک آنے والی زندگی بھی ہے اور اس کا یہ فرض ہے کہ وہ اگلے جہاں اور اس زندگی کے لئے بھی محنت کرے ‘ اس کے لئے قربانی دے ‘ حق کی نصرت کرے ‘ بھلائی میں تعاون کرے اور یہ کہ ان سب باتوں کا اجر اسے آخرت میں ملے گا ‘ اس وقت تک انسانی زندگی اسلامی نظام حیات کے مطابق استوار نہیں ہوسکتی ۔ عقیدہ آخرت پر یقین رکھنے والا اور اس کا انکار کرنے والا اخلاق و شعور اور فکر وعمل میں ہرگز برابر نہیں ہوسکتے ۔ لہٰذا یہ دونوں گروہ اللہ کی مخلوقات کے علیحدہ علیحدہ انواع ہیں ۔ یہ دونوں مختلف طبائع رکھتے ہیں اور اس دنیا میں ان دونوں کا طرز عمل ہرگز ایک نہیں ہوسکتا اور نہ آخرت میں یہ دونوں ایک ہی طرح کے جزاء کے مستحق ٹھہر سکتے ہیں ۔ لہٰذا یہ عقیدہ ان دونوں کے درمیان ایک واضح فرق و امتیاز کا باعث بن جاتا ہے۔

الفاتحة 1:5

اِیَّاکَ نَعبُدُ وَ اِیَّاکَ نَستَعِینُ ” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں ۔ “ یہ بھی ایک اصولی عقیدہ ہے اور اس سے پہلے جن عقائد کا ذکر ہوا ہے انہی کا منطقی نتیجہ ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی بندگی اور عبادت کے قابل نہیں ہے ‘ اور نہ کوئی اس قابل ہے کہ اس سے مدد مانگی جائے ۔ یہ عقیدہ بھی اس میدان میں حق و باطل کے درمیان فرق کرکے رکھ دیتا ہے ۔ اس سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ ہر قسم کی غلامیوں سے مکمل آزادی کیا ہوتی ہے ‘ اور انسان کی جانب سے دوسرے انسانوں کی غلامی کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ اصول دراصل اس بات کا اہم اعلان عام ہے کہ انسان کو مکمل اور بھرپور آزادی ملنی چاہئے ۔ اوہام و خرافات کی پیروی سے آزادی ‘ غلط اوضاع واطوار کی پابندی سے آزادی اور باطل نظام زندگی کی اطاعت سے آزادی صرف ایک اللہ کی بندگی رہے اور صرف ایک اللہ سے نصرت طلب ہو تو انسانی ضمیر کو دوسرے انسانوں ، جاہلی نظامہائے حیات اور رسم و رواج کی جکڑبندیوں سے آزادی نصیب ہوتی ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اوہام و خرافات اور مذہبی دیومالائی تصورات (Mythology) اور کائناتی قوتوں (Physical Power) کے بارے میں ایک مسلمان کے نقطہ نظر کو واضح کردیاجائے ۔ ایک مسلمان کے نقطہ نظر سے انسانی قوت واقتدار کی دوقسمیں ہیں ۔ ایک وہ قوت ہے جو ہدایت اور صراط مستقیم پر قائم ہوتی ہے اور اسلامی نظام زندگی کی مطیع ہوتی ہے ۔ اس کے بارے میں ایک مسلم کی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ وہ بھلائی ، سچائی اور اصلاحی کاموں میں اس کا معاون و مددگار ہوتا ہے اور اسے اپنا فرض منصبی سمجھتا ہے ۔ دوسری جاہلی قوت ہوتی ہے جو صراط مستقیم سے بھٹکی ہوئی ہوتی ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کی مطیع نہیں ہوتی ۔ اس کے بارے میں ایک مسلمان کی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کا مقابلہ کرتا ہے ، اس سے لڑتا ہے اور اسے ختم کرکے اس کی جگہ صحیح قوت واقتدار قائم کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ یادرکھیئے ! مسلم کو جاہلی قوت کی ظاہری جسامت اور شان و شوکت کو دیکھ کر مضطرب نہ ہونا چاہیے ۔ کیونکہ ایک مسلمان کے لئے قوت کا اصل سرچشمہ ذات باری ہے ۔ اور جاہلیت اپنی طاقت کے اس اصل سرچشمے کو کھوچ کی ہوتی ہے ، جو مسلسل اور دائمی طور پر انسان کو قوت فراہم کررہا ہوتا ہے ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ اجرام فلکی میں سے کوئی عظیم جسم جب کسی جلتے ہوئے ستارے سے جدا ہوتا ہے تو بہت دیر نہیں گزرتی کہ وہ بجھ کر رہ جاتا ہے ۔ اس کی روشنی مدہم اور تپش ختم ہوجاتی ہے ، اگرچہ اس کا ظاہری جسم عظیم الشان ہو۔ لیکن اس کے برعکس اگر ایک حقیر ذرہ بھی اپنی قوت اور روشنی کے اصل منبع سے جڑا ہوتا ہے تو وہ اس سے مسلسل حرارت و روشنی حاصل کرتا رہتا ہے اور حالت یہ ہوتی ہے : کَم مِّن فِئَةٍ قَلِیلَةٍ غَلَبَت فِئَةً کَثِیرَةً م بِاِذنِ اللہ ِ ” بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل جماعت نے اللہ کے حکم سے ایک کثیر جماعت پر غلبہ پایا “ (البقرہ : 249) ۔ رہی طبیعاتی قوت تو اس کے ساتھ ایک مومن کا تعلق علم ومعرفت اور دوستی وہم آہنگی کا تعلق ہوتا ہے ۔ خوف اور دشمنی کا تعلق نہیں ہوتا ۔ کیونکہ انسانی اور طبعی دونوں قوتیں ایک مصدر اور ایک مشیت کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ یعنی ارادہ ربی کے تابع ہوتی ہیں اور دونوں خالق کائنات کے ارادوں کے سامنے محکوم ومقہور ہیں ۔ ان کے درمیان مکمل آہنگی اور پوراتعاون ہے۔ وہ یکساں طور پر متحرک ہوتی ہیں اور ان کی حرکت کی سمت بھی ایک ہوتی ہے ۔ ایک مسلمان کا عقیدہ اور نظریہ حیات ہی اسے یہ سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو بنایاہی اس لئے ہے کہ مومن اس کا دوست ، معاون اور پشتیبان ہو اور اس دوستی کا تحقق اس طرح ہوسکتا ہے کہ ایک مومن کائنات میں غور وفکر کرے ، اس سے متعارف ہو ۔ اس کے ساتھ تعاون کرے اور اس کائنات کے ساتھ مل کر اپنے رب کی طرف منہ موڑے۔ اگرچہ بظاہر بعض اوقات طبعی قوتیں انسان کے لئے باعث مضرت ہوتی ہیں لیکن اس کی وجہ یہ ہوتی ہے انسان ان کے سمجھنے میں غلطی کرتا ہے ۔ وہ ان کے بارے میں گہری سوچ وبچار نہیں کرتا اور وہ اس اصلی طاقت کو بھول جاتا ہے جو اس پوری کائنات کو چلارہی ہے۔ رومی جاہلیت کے وارث مغرب کے ہاں یہ فیشن سا ہوگیا ہے کہ وہ طبعی طاقتوں کے استعمال کو ” تسخیر طبیعت “ کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں ۔ یہ تعبیر صاف صاف بتارہی ہے کہ اس جاہلیت کا رشتہ رب کائنات سے ٹوٹ چکا ہے اور اسے کائنات کی اس روح سے کوئی تعلق نہیں ہے جو اللہ کو لبیک کہہ رہی ہے ۔ رہا وہ مسلمان جس کا دل رحمان ورحیم سے متعلق ہے اور وہ اس کائنات سے بھی پیوستہ ہے جو اللہ رب العالمین کی تسبیح وتہلیل میں ہر قوت محو ہوتی ہے ، وہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ قہر وجفا کے علاوہ کائنات کے ساتھ تعلق کی ایک دوسری نوعیت بھی ہے ۔ اس کا یہ ایمان ہوتا ہے کہ اللہ ہی اس کائنات کا پیدا کرنے والا ہے ۔ اسی نے اس پوری کائنات اور اس کی تمام قوتوں کو پیدا کیا ہے ۔ اور اس کے لئے قانون قدرت کا ضابطہ کار مقرر کیا تاکہ یہ تمام قوتیں ، اس کے دائرے کے اندر اندر ، وہ مقاصد پورے کریں جو اللہ کو مطلوب ہیں ۔ اللہ نے اس کائنات کو صرف انسان کے لئے پیدا کیا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ سہولت دی کہ وہ اس کے قوانین و ضوابط کو سمجھ سکے اور اس کے بھیدوں کو پاسکے ۔ جب بھی وہ ان رازوں میں سے کسی نئے راز کو پالے تو اس کا یہ فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے کیونکہ اللہ ہی ہے جس نے اس کیلئے اس کائنات کو مسخر کیا ہے ۔ ازخود انسان کے بس میں یہ فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرے کیونکہ اللہ ہی ہے جس نے اس کے لئے اس کائنات کو مسخر کیا ہے۔ ازخود انسان کے بس میں یہ بات نہ تھی کہ وہ اس کائنات کو مسخر ومغلوب کرسکتا۔ سَخَّرَ لَکُم مَّا فِی الاَرضِ ۔” مسخر کیا اس نے تمہارے لئے ان سب چیزوں کو جو زمین میں ہیں۔ “ اس تصور کے نتیجے میں ، ان کائناتی قوتوں کے بارے میں ایک مومن کا احساس و شعور ، ہر قسم کے اوہام و خرافات سے پاک ہوتا ہے ۔ اس کے اور ان کائناتی قوتوں کے درمیان خوف وہراس کے پردے حائل نہیں ہوتے ۔ وہ صرف خدائے واحد پر ایمان لاتا ہے ، صرف خدائے واحد کی بندگی کرتا ہے اور صرف رب یکتا سے نصرت کا طلب گار ہوتا ہے ۔ رہیں یہ طبعی قوتیں تو اس کے تصور کائنات کی رو سے، یہ بھی اللہ کی مخلوقات کا ایک حصہ ہوتی ہیں۔ وہ ان میں غور وفکر کرتا ہے ، ان میں دلچسپی لیتا ہے ، اور ان کے بھیدوں کو پانے کی کوشش کرتا ہے ، اس کے جواب میں یہ تکوینی قوتیں اس کی مددگارہوتی ہیں اور اس کے سامنے اپنے رازکھول کر رکھ دیتی ہیں اور وہ ان قوتوں کے ساتھ پرامن ” شفیقانہ “ ایک صدیق صمیم اور یار مانوس کی سی زندگی بسر کرتا ہے ۔ جبل احد کی طرف نظر اٹھاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے کیا خوب کہا ” یہ پہاڑ ہے اسے ہم سے محبت ہے اور ہمیں اس سے محبت ہے ۔ “ یہ کلمات اس حقیت کا اظہار کررہے ہیں کہ مسلم اول حضرت نبی ﷺ کے دل میں اس کائنات کی ٹھوس ترین شکل ایک پہاڑ کی بھی کس قدر وقعت اور محبت تھی اور ان کو اس کے ساتھ کس قدر لگاؤ تھا۔ اسلامی تصور حیات کی ان اصولی باتوں کے بعد اور اس بات کی وضاحت کے بعد کے عبادت واستعانت میں ایک مسلم کو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا ہوتا ہے ۔ اب ان باتوں کی عملی تطبیق شروع ہوتی ہے ۔ دعا اور تضرع کے ذریعے اب بندہ مومن اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور یہ دعا بھی ایک اصولی دعا ہے جو اس صورت کی اصولی فضاء اور اس کے مجوعی مزاج سے مکمل ہم آہنگی اور مطابقت رکھتی ہے۔

الفاتحة 1:6

ہمیں سیدھا راستہ دکھا ۔ ” ہمیں سیدھا راستہ دکھا ۔ یعنی ہمیں سیدھے اور منزل مقصود تک پہنچانے والے راستے کو سمجھنے کی توفیق دے۔ اور اس کو سمجھنے کے بعد اس پر چلنے کی استقامت دے ۔ کیونکہ معرفت حق اور پھر اس پر استقامت دراصل اللہ کی رحمت شفقت اور رہنمائی کا ثمرہ ہوتی ہے اور اسی بارے میں اللہ کی طرف رجوع کرنا دراصل عقیدہ توحید کا ثمرہ ہے۔ لہٰذا ایک مومن جن معاملات میں اپنے رب سے مدد اور نصرت طلب کرتا ہے ان میں سے صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق کی دعا ایک نہایت ہی اہم اور عظیم مطلوب ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا وعقبیٰ کی سعادت اس پر موقوف ہے کہ انسان جادہ مستقیم کی طرف راہنمائی پائے ۔ اور جادہ مستقیم تک رسائی دراصل اس الٰہی ناموس تک رسائی ہوتی ہے جو اس پوری کائنات کی حرکت اور اس کے اندر اس چھوٹے سے انسان کی حرکت کے درمیان توازن وتناسق پیدا کررہا ہے اور ان دونوں کو اللہ رب العالمین کی طرف متوجہ کررہا ہے۔ اس کے بعد باری تعالیٰ اس راستے کی حقیقت کو بیان فرماتے ہیں ” وہ ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تو نے انعام فرمایا ، جو معتوب نہیں ہوئے اور جو بھٹکے ہوئے نہیں۔ “ یعنی ان لوگوں کا راستہ جن کی قسمت میں اللہ کا انعام لکھا ہوا ہے اور ان لوگوں کا راستہ نہیں جنہوں نے حق کو جانا اور پھر اس سے روگردانی اختیار کی ۔ یا جو سرے سے راہ حق کی معرفت ہی سے محروم رکھے گئے ۔ اور ہدایت ہی نہ پاسکے ۔ بلکہ ان لوگوں کی راہ سعادت مند اور واصلین حق ہیں ۔ غرض یہ ایک مختصر اور بکثرت نماز میں دہرائے جانے والی سورت ہے ، جس کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور مختصر ہونے کے باوجود اسلامی نظریہ حیات کے نہایت ہی اہم اور اصولی عقائد پر مشتمل ہے ۔ نیز اس میں وہ شعوری ہدایات دی گئی ہیں جن کے سرچشمے اسلامی تصور حیات سے پھوٹتے ہیں ۔

الفاتحة 1:7

ان لوگوں کا راستہ جن پر تونے انعام فرمایا ، جو معتوب نہیں ہوئے اور جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں۔ “ صحیح مسلم میں حضرت علاء رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں :” اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے نماز کو اپنے اور بندے کے درمیان پورا پورا تقسیم کردیا ہے ۔ نصف اپنے لئے اور نصف بندے کے لئے اور میرے بندے کے لئے وہ سب کچھ ہے جو وہ طلب کرے ۔ جب بندہ کہتا ہے الحمد للہ رب العالمین تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” میرے بندے نے میری حمد اور تعریف کی “ اور جب بندہ الرحمن الرحیم ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” میرے بندے نے میری ثناء کی “ جب وہ مالک یوم الدین پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” میرے بندے نے میری بڑائی بیان کی ۔ اور جب وہ کہتا ہے ” إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ “ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان مشترک ہے اور میرے بندے کے لئے وہ کچھ ہے جو اس نے طلب کیا اور جب وہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ…….. وَلا الضَّالِّينَ ” تک پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ میرے بندے کے لئے ہے اور اس کے لئے وہ کچھ ہے جو اس نے مانگا۔ “ اس بیان اور تفسیر کی روشنی میں وہ حکمت کھل کر سامنے آجاتی ہے جس کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے اس سورت کو کم ازکم سترہ مرتبہ نماز کے دوران پڑھنا فرض قرار دیا ہے ‘ اور اگر کوئی اس سے زیادہ پڑھتا ہے تو یہ اس سے بھی زیادہ مرتبہ دہرائی جاتی ہے۔

البقرة 2:1

تفسیر آیت 1 تا 5 مومنین کی یہ صفات بیان کرنے کے بعد سیاق کلام میں متصلاً کفار کی صفات کا بیان آجاتا ہے ۔ اگرچہ علی العموم ان صفات کا تعلق بھی تمام کفار سے ہے لیکن ان کا سب سے پہلامصداق وہ کفار بنے جو اس وقت دعوت اسلامی کی راہ روکے کھڑے تھے ۔ خواہ وہ مکی کفار ہوں یا ان کا تعلق مدینہ اور اس کے ماحول سے ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :•إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ (6) خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (7) ” جن لوگوں نے ان باتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ، ان کے لئے یکساں ہے ، خواہ تم انہیں خبردارکرو یا نہ کرو ، بہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں ۔ اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے ۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ ان دوگروہوں کے علاوہ منافقین کا ایک تیسرا گروہ بھی موجود تھا جیسا کہ ہم نے بالتفصیل بتایا ، جن حالات میں نبیeمدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی تھی ، ان کا قدرتی نتیجہ یہ تھا کہ ہجرت کی تکمیل کے فوراً بعد ہی وہ گروہ پیدا ہوگیا ۔ مکہ میں اس گروہ کا وجود نہ تھا۔ کیونکہ وہاں اسلام کی پشت پر کوئی قوت اور حکومت نہ تھی اور نہ کوئی ایسی قومی جماعت تھی جس سے ڈر کر قریش اسلام کے بارے میں کوئی منافقانہ رویہ اختیار کرتے بلکہ اس کے برعکس مکہ میں اسلام کمزور تھا۔ دعوت ہر قسم کے خطرات میں گھری ہوئی تھی ۔ صرف مخلصین ہی تھے جو اس دور میں دعوت اسلامی کی صفوں میں شامل ہونے کی جراءت کرسکتے تھے ، جو اس کی راہ میں ہر قسم کے مصائب جھیلنے کے لئے تیار تھے اور اس کے لئے سب کچھ لٹانے پر تلے ہوتے تھے لیکن یثرب ....(جو پہلے ہی دن سے مدینہ الرسول کے نام سے مشہور ہوگیا) میں حالات کا رخ یکلخت بدل گیا تھا۔ اسلام ایک ایسی قوت بن گیا تھا جسے ہر شخص محسوس کرنے لگا تھا اور ہر کوئی مجبور تھا کہ وہ اس قوت سے تھوڑا بہت بنائے رکھے ۔ بالخصوص جنگ بدر کی عظیم کامیابی کے بعد تو بڑوں بڑوں کی گردنیں جھک گئی تھیں ۔ جو لوگ روش نفاق پر مجبور تھے ان میں بعض کبرائے یثرب بھی تھے ۔ ان کے خاندان اور قبیلے کے لوگ اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ اس لئے یہ کبراء بھی اپنی سابقہ پوزیشن کو بحال رکھنے کے لئے اور اپنے مخصوص مصالح کی خاطر بظاہر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ ایسے لوگوں میں عبداللہ بن ابی ابن سلول کا نام سرفہرست تھا۔ کیونکہ مسلمانوں کی ہجرت سے کچھ قبل ہی اس کی قوم نے یہ پروگرام بنایا تھا کہ اسے بادشاہ بنادیں ۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اس کی قوم اس کے لئے ہار اور تاج تیار کررہی تھی ۔ سورة بقرہ کی ابتداء میں بالتفصیل ان منافقین کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں ۔ بعض فقروں سے یہ معلوم ہوتا ہے اکثر وبیشتر فقروں کا مصداق یہی بڑے لوگ ہیں جنہوں نے حالات سے مجبور ہوکر اپنے آپ کو دائرہ اسلام میں داخل کردیا تھا۔ لیکن وہ اب بھی عوام الناس پر اپنی لیڈر شپ قائم رکھنے کے خواب دیکھ رہے تھے ۔ اور عام طور پر ایسے متکبرین اکابرین جس طرح ، عوام کے بارے میں رائے رکھتے ہیں اسی طرح یہ لوگ اسلام قبول کرنے والوں کو ” بیوقوف “ لوگ کہہ کر پکارتے تھے چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں ، حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں ۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں ۔ مگر دراصل وہ اپنے آپ کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھادیا اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں اس کی پاداش میں ان کے لئے دردناک سزا ہے ۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپانہ کرو ” تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔ خبردار ! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں ، اسی طرح تم بھی ایمان لے آؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم بیوقوں کی طرح ایمان لائیں ؟ ، اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں ، تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں .... اللہ ان سے مذاق کررہا ہے ، وہ ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے ، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکے چکے جاتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے ، مگر یہ سودا ان کے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب سارا ماحول چمک اٹھا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کرلیا اور انہیں اس حال پرچھوڑدیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا ۔ یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں ۔ یہ اب نہ پلٹیں گے یاپھران کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے۔ اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک چمک بھی ہے ۔ یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لئے ہوئے ہے ۔ چمک سے ان کی یہ حالت ہورہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی ان کی بصارت اچک لے جائے گی ۔ جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دور چل لیتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کرلیتا یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ مریض دل منافقین پر اس بھرپور وار کے دوران ، ان کے شیاطین کی طرف اشارے ملتے ہیں ۔ اس سورت کے سیاق وسباق اور نبی ﷺ کی سیرت طیبہ کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد یہود ہیں ۔ کیونکہ اس سورت میں ان کے کردارپر بھرپور تنقید کی گئی ہے ۔ دعوت اسلامی کے بارے میں یہودیوں نے جو طرزعمل اختیار کیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں یہود وہ پہلا طبقہ تھا جس نے تحریک اسلامی سے ٹکر لی اور اس ٹکراؤ اور تصادم کے متعدداسباب تھے ۔ وہ اوس خزرج جیسی امی اقوام کے مقابلے میں ، اہل کتاب ہونے کی وجہ سے ایک ممتاز مقام رکھتے تھے ۔ مشرکین عرب میں اگرچہ یہود کی طرف میلان کم پایا جاتا تھا لیکن وہ آسمانی کتاب وہدایت رکھنے کی وجہ سے یہودیوں کے لئے مفید طلب تھیں ۔ فتنہ و فساد اور تشتت وافتراق وہ میدان ہے جس میں یہودی زیادہ چابکدستی سے کام کرتے ہیں ، لیکن جب اسلام آیاتو یہودیوں کے ان تمام مفادات پر زد پڑی ۔ وہ ایک ایسی کتاب لے کر آیاجو سابقہ کتب کی تصدیق کرتی تھی اور ان کی تعلیمات کی محافظ تھی ۔ پھر اسلام نے اوس اور خزرج کے اختلافات کو بھی ختم کردیا ، جن کے ذریعے یہودی اپنے مکروفریب کا جال بچھاتے تھے اور مالی مفادات حاصل کرتے تھے ۔ اوس اور خزرج کے باہم دست گریبان لوگ اسلامی صفوں میں آکر ایک دوسرے سے گلے مل گئے اور اوس اور خزرج کے بجائے وہ دونوں مہاجرین کی نصرت کی وجہ سے انصار کہلانے لگے ۔ اور ان سب عناصر کو ملاکر اسلام نے وہ بےنظیر اور نیا اسلامی معاشرہ تیار کیا جس کے تمام افراد متحد اور متفق تھے ، یوں کہ گویا وہ تمام ایک ہی جسم کے مختلف اعضاء ہیں اور جس کی مثال نہ اس سے پہلے کبھی تاریخ میں پائی گئی اور نہ اس کے بعد آج تک وجود میں آسکی ۔ یہودی اپنے آپ کو اللہ کی مختار اور برگزیدہ قوم سمجھتے تھے ۔ ان میں بیشمار رسول اور نبی مبعوث ہوئے تھے اور وہ متعدد کتابوں کے حامل تھے ۔ وہ ہمیشہ اس کی توقع رکھتے تھے اور شدت سے منتظر بھی تھے کہ نبی آخرالزماں خود ان کے ہاں مبعوث ہوگا لیکن جب وہ عربوں میں مبعوث ہوا تو پھر انہوں نے یہ توقعات باندھ لیں کہ شاید نیا نبی ان کو اپنے دائر دعوت سے باہر رکھے گا اور اپنی دعوت کو ان پڑھ عربوں تک ہی محدودرکھے گا ۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ وہ سب سے پہلے اہل کتاب کو اللہ کی اس آخری کتاب کی دعوت دے رہا ہے اور اس بات پر وہ دلیل یہ پیش کرتا ہے کہ وہ عربوں کی نسبت زیادہ ذی علم ہیں اور ان کا یہ فرض ہے کہ وہ مشرکین سے بھی پہلے اس دعوت حق پر لبیک کہیں تو ان کے غرورنفس نے انہیں نافرمانی پر آمادہ کرلیا اور انہوں نے اسے اپنے لئے اہانت سمجھا اور اپنے مذہب کے خلاف اس نئی دعوت کو دست درازی تصور کرنے لگے ۔ اب یہودی نبی ﷺ کے خلاف شدید حسد وبغض میں مبتلا ہوگئے ۔ ایک تو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزماں کے منصب کے لئے آپ کو منتخب فرمایا اور آپ کو کتاب دی جس کی صداقت میں یہودیوں کو ذرہ بھر بھی شبہ نہ تھا۔ دوسرے اس لئے کہ ظہور نبوت کے ساتھ ساتھ آپ کو اس نئے ماحول میں برق رفتار کامیابی حاصل ہوگئی ، ان اسباب کے علاوہ اس حسد وبغض ، تحریک اسلامی سے عداوت اور اس کے خلاف ہر قسم کے اوچھے ہتھیار استعمال کرنے کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ یہودی اس بات کا پختہ شعور رکھتے تھے کہ نئے حالات میں یا تو انہیں اس نئے معاشرے سے پوری طرح کٹ جانا ہوگا اور اس صورت میں ان کی فکری قیادت ، تجارت اور سودی کاروبار کے تمام مفادات ختم ہوجائیں گے اور یا پھر انہیں پوری طرح اس نئے معاشرے میں ضم ہوکر گم ہوجانا ہوگا اور یہ دونوں گولیاں ایسی ہیں کہ جو کسی قیمت پر بھی ، ایک یہودی کے حلق سے نیچے نہیں اترسکتیں ۔ یہ تھے وہ وجوہات جن کی بناپر یہود ان مدینہ نے تحریک اسلامی کے مقابلے میں وہ سخت رویہ اختیار کیا ، جس کی تفصیل سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں بیان کی گئی ہے ۔ ہم یہاں ایسی چند آیات نقل کررہے ہیں جن میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ” اے بنی اسرائیل ! ذرا خیال کرو اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی ، میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا ، اسے پورا کرو ، تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ ہے اسے میں پورا کروں گا ، اور مجھ ہی سے ڈرو ، اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے ، اس پر ایمان لاؤ ۔ یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی، لہٰذاسب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاؤ۔ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو۔ اور مرے غضب سے بچو ! باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو ، نماز قائم کرو زکوٰة دو ، اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے ہیں ان کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ، تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہو مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ، حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو ؟ کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے ؟ “ ایک دوسری جگہ تفصیل سے وہ رویہ اور طرز عمل بیان کیا گیا ہے جو بنی اسرائیل نے اپنے رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اختیار کیا تھا کہ کس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کا کفران کیا ۔ کس طرح انہوں نے کتاب اللہ اور شریعت کے بارے میں بےعملی کا مظاہرہ کیا اور باربار اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کو توڑا۔ یہ کچھ بالتفصیل بیان کرکے قرآن مجید مسلمانوں کو متنبہ کرتا ہے ۔ اے مسلمانو ! اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے ؟ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی ۔ محمد رسول اللہ کو ماننے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی انہیں مانتے ہیں اور جب آپس ایک دوسرے سے تخلئے کی بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ بیوقوف ہوگئے ہو ؟ ان لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو ، جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے مقابلے میں انہیں حجت میں پیش کریں ۔ “ (البقرہ :72:2) ” وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز چھونے والی نہیں ہے ۔ الا یہ کہ چند روز کی سزا مل جائے ، تو مل جائے ان سے پوچھو ، کیا تم نے اللہ کے سے کوئی عہد لے لیا ہے ، جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کرسکتا ؟ یا یہ بات ہے کہ تم اللہ کے ذمے ڈال کر ایسی بات کہہ دیتے ہو ، جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ اس نے ان کا ذمہ لیا ہے۔ “ (البقرہ :80:2) ” اور اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے ۔ اس کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے ؟ باوجودیکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی ، باوجودیکہ اس کی آمد سے قبل وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح ونصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے ، مگر جب وہ چیز آگئی ، جسے وہ پہچان بھی گئے ، تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا ۔ اللہ کی لعنت ان منکرین پر۔ “ (89:2) ” جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے ، اس پر ایمان لاؤ تو کہتے ہیں ” ہم تو صرف اس چیز پر ایمان لاتے ہیں جو ہمارے ہاں یعنی نسل بنی اسرائیل میں اتری ہے۔ اس دائرے کے باہر جو کچھ آیا ہے اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں ، حالانکہ وہ حق ہے اور اس تعلیم کی تصدیق وتائید کررہا ہے ، جو ان کے پاس پہلے سے موجود ہے۔ “ (91:2) ” اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسول اس کتاب کی تائید وتصدیق کرتا ہوا آیا ، جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی ، تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو ، اس طرح پس پشت ڈالا ، گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں ۔ “ (101:2) ” یہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرک ہوں ، ہرگز یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی نازل ہو۔ “ (15:2) ” اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر کفر کی طرف پلٹالے جائیں ۔ اگرچہ حق ان پر ظاہر ہوچکا مگر اپنے نفس کی حسد کی بناپر تمہارے لئے ان کی یہ خواہش ہے ۔ “ (109:2) ” ان کا کہنا ہے کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا جب تک وہ یہودی نہ ہو یا (عیسائیوں کے خیال کے مطابق) عیسائی نہ ہو۔ یہ ان کی تمنائیں ہیں ۔ “ (111:2) ” یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے ، جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ “ (120:2) یہ قرآن مجید کا زندہ جاوید معجزہ ہے کہ قرآن نے ان یہودیوں کو جس صفت سے موصوف کیا وہ صفت آج تک ان کے ساتھ چپکی ہوئی ہے اور یہ صفت ہے جو ان کی ہرنسل میں ان کے ساتھ لازم رہی ہے ۔ خواہ وہ نسل قبل اسلام گزری ہو یا اسلام کے بعد آج تک کسی دور میں رہی ہو ۔ قرآن کریم ان کو یوں خطاب کرتا ہے گویا یہود ان یثرب بذات خود حضرت موسیٰ اور آپ کے بعد آنے والے انبیاء (علیہم السلام) کے ادوار میں موجود تھے۔ کیونکہ اول روز سے بنی اسرائیل کی یہی فطرت رہی ہے ۔ ان کے اوصاف وہی ہیں ۔ ان کا طرزعمل وہی ہے اور حق وصداقت کے ساتھ وہ ہر دور اور ہر زمانے میں ایک ہی برتاؤ کرتے چلے آئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دوران کلام قوم موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آنے والی اسرائیلی نسلوں کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں ۔ اور قرآن مجید کے یہ زندہ کلمات آج بھی امت مسلمہ اور یہودیوں کے باہم تعلق اور موقف کو ظاہر کررہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ یہودی دعوت اسلامی اور امت مسلمہ کے مقابلے میں آج بھی وہی طرز عمل اختیار کررہے ہیں جو انہوں نے آج سے صدیوں قبل اختیار کیا اور یہی ان کا طرزعمل مستقبل میں بھی ہوگا۔ یہ قرآنی آیات اس وقت امت مسلمہ کے لئے ایک دائمی ہدایت اور تنبیہ کی حیثیت رکھتی تھیں اور آج بھی وہ یہی بتارہی ہیں کہ اعداء اسلام نے ہمارے اسلاف کے ساتھ جو رویہ روا رکھا تھا وہی پالیسی وہ آج بھی اختیار کریں گے ۔ آج بھی ان کی ریشہ دوانیاں اور مکر و فریب ویسے ہی ہیں جیسے یثرب میں تھے ۔ وہ ہر دور میں اسلام کے خلاف مختلف اور متنوع طریقوں سے برسرپیکار ہے ۔ لیکن اس جنگ کی حقیقت صرف ایک رہی یعنی اسلام دشمنی ۔ غرض اس صورت میں جہاں یہودیوں کے یہ اوصاف بیان ہوئے ہیں اور مسلمانوں کو ان کی سازشوں سے متنبہ کیا گیا ، وہاں اسلامی جماعت کی تشکیل اور اس دنیا میں اسلامی نظریہ حیات کی امانت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے ، اسے تیار کرنے اور اس کی تربیت کرنے کے طریقے بھی بتائے گئے ہیں ، جبکہ بنی اسرائیل ایک زمانے سے اس امانت کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوچکے تھے اور آخر میں انہوں نے اس نظریہ حیات کے بارے میں یہ معاندانہ رویہ اختیار کرلیا تھا۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ آئے ہیں سورت کا آغاز ان طبقات کے ذکر سے ہوتا ہے جنہوں نے ہجرت کے متصلاً بعد تحریک اسلامی کے بارے میں مختلف طرز ہائے عمل اختیار کر رکھے تھے ۔ ان طبقات میں شیاطین بنی اسرائیل کی طرف مخصوص اشارے بھی تھے ۔ جن کا ذکر بعد میں مفصل ہوا۔ اس سورت کے آغاز میں جن طبقات کا ذکر ہوا ہے ان کی نوعیت ایسی ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں دعوت اسلامی کے مقابلے میں لوگوں نے ایسے ہی طرز عمل اختیار کئے ۔ اس کے بعد پوری سورت کے مباحث اپنے انہی متوازی خطوط پر چل رہے ہیں جن میں اس وحدت ویگانت کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ جس سے اس سورت کی خاص شخصیت کا ظہور ہورہا ہے ، حالانکہ اس کے موضوعات سخن میں کافی تنوع پایا جاتا ہے۔ کافرین اور منافقین کے تین طبقات کے ذکر اور شیاطین یہود کی طرف اشارات کے بعد اب تمام انساں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور اللہ نے اپنے بندے پر جو کتاب نازل کی ہے ، اس پر ایمان لے آئیں ۔ کافروں کو چیلنج دیا جاتا ہے کہ اگر وہ کتاب کی صداقت میں شک کرتے ہیں تو پھر اس جیسی کوئی ایک سورت لے آئیں ، کافروں کو آگ سے ڈرایا جاتا ہے اور مومنین کو جنتوں کی خوشخبری دی جاتی ہے ۔ اس کے بعد کافروں کو غور وفکر کی دعوت دی جاتی ہے اور متعجبانہ انداز میں ان کے کفر کی تردید کی جاتی ہے ۔ ” تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویہ کیسے اختیار کرتے ہو ؟ حالانکہ تم بےجان تھے ، اس نے تمہیں زندگی عطا کی ، پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے ۔ وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں ۔ پھر اوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کئے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے ۔ “ (29:2) اس حقیقت کی طرف اشارے کے بعد ، کہ زمین کی تمام مخلوقات کو انسان کے لئے پیدا کیا گیا ہے ، حضرت آدم (علیہ السلام) کی خلافت فی الارض کا بیان شروع ہوجاتا ہے۔ ” پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو ، جب اس کے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔ “ اس کے بعد قصے کی تفصیلات بیان ہوتی ہیں ۔ آدم وابلیس کا معرکہ پیش آتا ہے اور آخرکار آدم (علیہ السلام) کا نزول ہوتا ہے اور زمین کے اندر ” عہد خلافت آدم “ کا آغاز ہوتا ہے ۔ جو دراصل دور ایمان ہے۔ ہم نے کہا ” تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو یہ لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ، ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے ، وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں ، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ (39:2) اس کے بعد بنی اسرائیل کی تاریخ پر طویل ترین تبصرہ شروع ہوتا ہے جس کے چند فقرے ہم اسے پہلے نقل کر آئے ہیں ۔ اس تبصرے اور تنقید کے درمیان جگہ جگہ انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اسلامی نظام حیات کو اپنالیں اور اس کتاب پر ایمان لے آئیں جو ان کتابوں کی تصدیق کررہی ہے جن کے حامل وہ خود ہیں ۔ ساتھ ساتھ انہیں یہ تنبیہ کی جارہی ہے کہ انہوں نے کیا کیا کو تاہیاں کیں۔ کس طرح وہ راہ راست سے بھٹکتے رہے اور حق و باطل کی آمیزش کرتے رہے ۔ بنی اسرائیل کے ساتھ بحث وتمحیص قرآن مجید کے پہلے پارے کے آخر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس پوری بحث سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ بنی اسرائیل نے دین اسلام ، نبی ﷺ اور قرآن مجید کا استقبال کس طرح کیا ۔ سب سے پہلے انہوں نے کفر کارویہ اختیار کیا ۔ انہوں حق و باطل کی تلبیس کی ، وہ دوسرے لوگوں کو تو یہ مشورہ دیتے کہ وہ ایمان لے آئیں لیکن خود اپنے آپ کو بھول جاتے ۔ وہ کلام اللہ سنتے ، اچھی طرح سمجھتے لیکن اس کے بعد اس کو غلط معانی پہنا کر جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ۔ وہ پہلے ایمان کا اظہار کرتے اور پھر کفر کا اعلان کرکے مومنین صادقین کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے اور جب آپس میں اکھٹے ہوتے تو ایک دوسرے کو بتاکید یہ کہتے کہ ” خبردار ! وہ راز کی باتیں مسلمانوں کو نہ بتانا ، جو حضرت نبی ﷺ کے بارے میں کتب سابقہ میں وارد ہیں اور جنہیں انہوں نے چھپا رکھا تھا۔ انہوں نے کوششیں کیں کہ کسی طرح مومنین کو دوبارہ کفر کی روش پر مجبور کردیں ۔ وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ صحیح اہل ہدایت ہیں ہی یہود ۔ جیسا کہ نصرانیوں کا خیال تھا کے روئے زمین پر اہل ہدایت صرف وہ ہیں وہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے محض اس لئے دشمن ہوگئے تھے کہ بقول ان کے انہوں نے ان کو چھوڑ کر پیغام خداوندی حضرت محمد ﷺ کے پاس پہنچادیا ۔ وہ مسلمانوں کی ہر کامیابی پر متغیض ہوجاتے اور ان کی بربادی کے منتظر رہتے ، وہ ہر لحظہ یہ کوشش کرتے کہ وحی الٰہی اور نبی ﷺ کے احکام واوامر میں شک پیدا کیا جائے ۔ اور تحویل قبلہ کے موقع پر تو ان کے پروپیگنڈے کی تو کوئی انتہانہ رہی ۔ منافقین کے ساتھ ربط وضبط رکھتے تھے اور ہر وقت ان کی راہنمائی کرتے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کھل کر کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت میں ان کے کردار پر سخت ترین تنقید پائی جاتی ہے اور سورت انہیں یاددلاتی ہے کہ انہوں نے یہی طرز عمل خود اپنے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں اختیار کیا تھا اور آپ کے بعد بھی انبیاء ورسل کے ساتھ یہ لوگ ایسا سلوک کرتے رہے ۔ نسلوں تک ان کا رویہ یہی رہا ۔ قرآن کریم انہیں اس طرح مخاطب کرتا ہے کہ بنی اسرائیل جہاں اور جس دور میں بھی ہوں گویا وہ ایک ہی گروہ ہے کیونکہ وہ ایک ہی فطرت اور جبلت رکھتے ہیں جس میں کبھی بھی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ اس طویل ترین تنقید کے آخر میں مسلمانوں کو بنی اسرائیل کے ایمان سے مایوس کردیا جاتا ہے کیونکہ ان کی یہ خود غرضانہ ذہنیت اور مطلب پرستی اور سڑی ہوئی اور خبیث طبعیت ان کے ایمان کی راہ میں رکاوٹ ہے اور بالآخر یہ تقریر ان کے اس دعوے کی تردید پر ختم ہوتی ہے کہ ” صرف وہی ہدایت پر ہیں کیونکہ وہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث ہیں “ اور بتایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیح وارث وہی لوگ ہیں جو سنت ابراہیمی پر چلتے ہیں اور اس عہد کی پابندی کرتے ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کے ساتھ باندھا تھا لہٰذا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وراثت اور جانشینی گویا اب حضرت محمد ﷺ اور مومنین کو حاصل ہوگئی ہے ، کیونکہ یہودی راہ راست سے بھٹک گئے ، اپنے دین کو تبدیل کردیا اور اب وہ اسلامی نظریہ حیات کی امانت کی حفاظت کے اہل اور اس زمین پر منصب خلافت الٰہی کے قابل نہیں رہے لہٰذا یہ ذمہ داری اب حضرت محمد ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والوں نے اپنے کاندھوں پر لے لی ۔ خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے جو دعا کی تھی امت مسلمہ کا برپا ہونا گویا اس دعا کی قبولیت کا مجسم ظہور تھا ، انہوں نے کہا تھا : ” اے رب ہم دونوں کو اپنا مطیع بنا ، ہماری نسل سے ایک ایسی امت اٹھا ، جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزرفرما ، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے اور اے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو جو انہیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنواردے ۔ تو بڑامقتدر اور حکیم ہے۔ “ (129:2) اب یہاں سے قرآن مجید کا خطاب اور روئے سخن نبی ﷺ اور آپ کے گرد جمع ہونے جماعت مسلمہ کی طرف پھرجاتا ہے اور وہ اصول وقواعد بیان کئے جاتے ہیں جن پر اس نئی جماعت کی تشکیل ہوئی ہے جو دعوت دین کا کام لے کر اٹھی ہے اور یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس جماعت کا ایک خاص مزاج ہے اور نظریہ وعمل میں وہ ایک مخصوص زاویہ نگاہ رکھتی ہے۔ امت مسلمہ کی خصوصیات کا بیان تحویل قبلہ سے شروع ہوجاتا ہے ۔ وہ سمت متعین ہوجاتی ہے جس کی امت مسلمہ کو متوجہ ہونا ہے ۔ یہ نیا قبلہ بیت الحرام ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے اللہ کے خاص احکامات کے تحت تعمیر کیا تھا۔ اللہ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اسے تعمیر کریں اور پاک وصاف کریں تاکہ وہاں صرف ایک اللہ تعالیٰ کی پرستش کی جائے ۔ خود نبی ﷺ کی خواہش یہی تھی کہ قبلہ بدل دیا جائے لیکن آپ نے کبھی اس کا اظہار نہ کیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” یہ تمہارے منہ کا باربار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں ۔ لو ہم اس قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں ، جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو اب جہاں کہیں تم ہو ، اس طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرو۔ “ (142:2) اس کے بعد اسلامی نظام حیات کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں ، جس پر اس جماعت نے عمل پیرا ہونا ہے ۔ نظریہ حیات اور طریق عبادت اور سلوک ومعاملات کا بیان شروع ہوجاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ راہ حق میں جو لوگ جانیں دیتے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو وہ تو زندہ جاوید ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خوف ، بھوک ، مالی نقصانات ، فصلوں اور پھلوں کی تباہی جیسی ابتلائیں محض اذیتیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ آزمائشیں ہوتی ہیں ۔ اور یہ ہمیشہ ان لوگوں کی راہ میں آتی ہیں جو دعوت حق کو لے کر اٹھتے ہیں ۔ تنبیہ کی جاتی ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں شیطان تمہیں فقر ومسکنت سے ڈراتا ہے اور فحاشی اور بےحیائی پر آمادہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ تم سے یہ ہوتا ہے کہ وہ تمہیں بخش دے گا۔ اور تمہیں اپنے فضل سے نوازے گا ۔ یہ کہ اللہ تعالیٰ مومنین کا والی اور مددگار ہے اور وہ انہیں ان اندھیروں میں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے اور کافروں کے والی طاغوت ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں پھینک دیتے ہیں ۔ اس کے بعد کھانے پینے کی چیزوں میں حلال و حرام احکامات بیان کئے جاتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ نیکی کی حقیقت کیا ہے ۔ صرف ظاہری شکل و صورت ہی کو دیکھ کر نیک و بد کا فیصلہ نہ کرنا چاہئے ۔ پھر قتل میں قصاص کے احکام ، وصیت کے احکام روزے کے احکام ، جہاد کے احکام ، حج کے احکام اور نکاح و طلاق کے احکام بیان کئے جاتے ہیں ۔ اسلام کے عائلی نظام کی دقیق شیرازہ بندی کی جاتی ہے ۔ اور نظام معیشت میں زکوٰة ، ربا کی حرمت ، لین دین اور تجارت کے احکامات بیان ہوتے ہیں ۔ ان تمام موضوعات پر بحث کرتے ہوئے دوران گفتگو ، موقع ومحل کی مناسبت سے ، موسیٰ (علیہما السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے حالات کی طرف اشارہ بھی کیا جاتا ہے ۔ اور حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کی زندگی کے کچھ پہلو بھی بیان ہوتے ہیں ۔ لیکن پہلے پارے کے بعد پوری سورت میں روئے سخن مستقلاً اسلامی جماعت کی طرف پھرجاتا ہے ۔ اسے اسلامی نظام حیات کی ذمہ داریوں کو اٹھانے اور اللہ کی شریعت کے مطابق ، زمین میں نظام خلافت کے قیام کی ذمہ داریوں کے لئے تیار کیا جاتا ہے اور اس طرح امت مسلمہ کو تمام دوسری امتوں سے ممتاز کردیا جاتا ہے ۔ کیونکہ یہ امت خود اس کائنات اور رب کائنات (جس نے اس امت کو اس عظیم منصب کے لئے چنا ) کے درمیان ربط وتعلق کی نوعیت کے بارے میں ایک مخصوص نقطہ نظر رکھتی ہے۔ سورت کے آخر میں پہنچ کر ہم دیکھتے ہیں کہ کلام کے خاتمے میں سورت کے ابتدائیہ کو دہرایا جاتا ہے۔ ایمانی نظریہ حیات کی حقیقت کی وضاحت ہوتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ امت مسلمہ تمام انبیاء پر ایمان رکھتی ہے ۔ نیز تمام کتب سماوی پر اس کا ایمان ہے اور وہ انبیاء کے بیان کردہ امور غیبیہ پر بھی یقین رکھتی ہے اور انبیاء کی تعلیمات کو مانتی ہے اور دل وجان سے مطیع فرمان ہے۔ فرمایا جاتا ہے : ” رسول اس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب سے اس پر نازل ہوئی ہے اور جو لوگ اس رسول اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں ۔ اور ان کا قول یہ ہے کہ ” ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے ، ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی ۔ مالک ! تجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے ۔ اللہ کسی متنفس پر ، اس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا ، ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے ، اس کا پھل اس کے لئے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے اس کا وبال اسی پر ہے ۔ (ایمان لانے والو ! تم یوں دعا کیا کرو) اے ہمارے رب ! ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہوجائیں ، ان پر گرفت نہ کر ۔ مالک ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے ۔ پروردگار ! جس بار کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے ، وہ ہم پر نہ رکھ ۔ ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگذر فرما ، ہم پر رحم کر ، تو ہمارا مولیٰ ہے ، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ “ اسی طرح آغاز و انجام کے درمیان پوری پوری یک رنگی پائی جاتی ہے اور سورت کے تمام موضوعات سخن مومنین صادقین کی صفات اور خصوصیات کے ان دوبیانوں کے درمیان سمٹ جاتے ہیں ۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

البقرة 2:2

تفسیر آیت 1 تا 5 مومنین کی یہ صفات بیان کرنے کے بعد سیاق کلام میں متصلاً کفار کی صفات کا بیان آجاتا ہے ۔ اگرچہ علی العموم ان صفات کا تعلق بھی تمام کفار سے ہے لیکن ان کا سب سے پہلامصداق وہ کفار بنے جو اس وقت دعوت اسلامی کی راہ روکے کھڑے تھے ۔ خواہ وہ مکی کفار ہوں یا ان کا تعلق مدینہ اور اس کے ماحول سے ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :•إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ (6) خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (7) ” جن لوگوں نے ان باتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ، ان کے لئے یکساں ہے ، خواہ تم انہیں خبردارکرو یا نہ کرو ، بہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں ۔ اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے ۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ ان دوگروہوں کے علاوہ منافقین کا ایک تیسرا گروہ بھی موجود تھا جیسا کہ ہم نے بالتفصیل بتایا ، جن حالات میں نبیeمدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی تھی ، ان کا قدرتی نتیجہ یہ تھا کہ ہجرت کی تکمیل کے فوراً بعد ہی وہ گروہ پیدا ہوگیا ۔ مکہ میں اس گروہ کا وجود نہ تھا۔ کیونکہ وہاں اسلام کی پشت پر کوئی قوت اور حکومت نہ تھی اور نہ کوئی ایسی قومی جماعت تھی جس سے ڈر کر قریش اسلام کے بارے میں کوئی منافقانہ رویہ اختیار کرتے بلکہ اس کے برعکس مکہ میں اسلام کمزور تھا۔ دعوت ہر قسم کے خطرات میں گھری ہوئی تھی ۔ صرف مخلصین ہی تھے جو اس دور میں دعوت اسلامی کی صفوں میں شامل ہونے کی جراءت کرسکتے تھے ، جو اس کی راہ میں ہر قسم کے مصائب جھیلنے کے لئے تیار تھے اور اس کے لئے سب کچھ لٹانے پر تلے ہوتے تھے لیکن یثرب ....(جو پہلے ہی دن سے مدینہ الرسول کے نام سے مشہور ہوگیا) میں حالات کا رخ یکلخت بدل گیا تھا۔ اسلام ایک ایسی قوت بن گیا تھا جسے ہر شخص محسوس کرنے لگا تھا اور ہر کوئی مجبور تھا کہ وہ اس قوت سے تھوڑا بہت بنائے رکھے ۔ بالخصوص جنگ بدر کی عظیم کامیابی کے بعد تو بڑوں بڑوں کی گردنیں جھک گئی تھیں ۔ جو لوگ روش نفاق پر مجبور تھے ان میں بعض کبرائے یثرب بھی تھے ۔ ان کے خاندان اور قبیلے کے لوگ اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ اس لئے یہ کبراء بھی اپنی سابقہ پوزیشن کو بحال رکھنے کے لئے اور اپنے مخصوص مصالح کی خاطر بظاہر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ ایسے لوگوں میں عبداللہ بن ابی ابن سلول کا نام سرفہرست تھا۔ کیونکہ مسلمانوں کی ہجرت سے کچھ قبل ہی اس کی قوم نے یہ پروگرام بنایا تھا کہ اسے بادشاہ بنادیں ۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اس کی قوم اس کے لئے ہار اور تاج تیار کررہی تھی ۔ سورة بقرہ کی ابتداء میں بالتفصیل ان منافقین کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں ۔ بعض فقروں سے یہ معلوم ہوتا ہے اکثر وبیشتر فقروں کا مصداق یہی بڑے لوگ ہیں جنہوں نے حالات سے مجبور ہوکر اپنے آپ کو دائرہ اسلام میں داخل کردیا تھا۔ لیکن وہ اب بھی عوام الناس پر اپنی لیڈر شپ قائم رکھنے کے خواب دیکھ رہے تھے ۔ اور عام طور پر ایسے متکبرین اکابرین جس طرح ، عوام کے بارے میں رائے رکھتے ہیں اسی طرح یہ لوگ اسلام قبول کرنے والوں کو ” بیوقوف “ لوگ کہہ کر پکارتے تھے چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں ، حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں ۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں ۔ مگر دراصل وہ اپنے آپ کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھادیا اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں اس کی پاداش میں ان کے لئے دردناک سزا ہے ۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپانہ کرو ” تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔ خبردار ! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں ، اسی طرح تم بھی ایمان لے آؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم بیوقوں کی طرح ایمان لائیں ؟ ، اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں ، تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں .... اللہ ان سے مذاق کررہا ہے ، وہ ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے ، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکے چکے جاتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے ، مگر یہ سودا ان کے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب سارا ماحول چمک اٹھا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کرلیا اور انہیں اس حال پرچھوڑدیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا ۔ یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں ۔ یہ اب نہ پلٹیں گے یاپھران کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے۔ اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک چمک بھی ہے ۔ یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لئے ہوئے ہے ۔ چمک سے ان کی یہ حالت ہورہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی ان کی بصارت اچک لے جائے گی ۔ جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دور چل لیتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کرلیتا یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ مریض دل منافقین پر اس بھرپور وار کے دوران ، ان کے شیاطین کی طرف اشارے ملتے ہیں ۔ اس سورت کے سیاق وسباق اور نبی ﷺ کی سیرت طیبہ کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد یہود ہیں ۔ کیونکہ اس سورت میں ان کے کردارپر بھرپور تنقید کی گئی ہے ۔ دعوت اسلامی کے بارے میں یہودیوں نے جو طرزعمل اختیار کیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں یہود وہ پہلا طبقہ تھا جس نے تحریک اسلامی سے ٹکر لی اور اس ٹکراؤ اور تصادم کے متعدداسباب تھے ۔ وہ اوس خزرج جیسی امی اقوام کے مقابلے میں ، اہل کتاب ہونے کی وجہ سے ایک ممتاز مقام رکھتے تھے ۔ مشرکین عرب میں اگرچہ یہود کی طرف میلان کم پایا جاتا تھا لیکن وہ آسمانی کتاب وہدایت رکھنے کی وجہ سے یہودیوں کے لئے مفید طلب تھیں ۔ فتنہ و فساد اور تشتت وافتراق وہ میدان ہے جس میں یہودی زیادہ چابکدستی سے کام کرتے ہیں ، لیکن جب اسلام آیاتو یہودیوں کے ان تمام مفادات پر زد پڑی ۔ وہ ایک ایسی کتاب لے کر آیاجو سابقہ کتب کی تصدیق کرتی تھی اور ان کی تعلیمات کی محافظ تھی ۔ پھر اسلام نے اوس اور خزرج کے اختلافات کو بھی ختم کردیا ، جن کے ذریعے یہودی اپنے مکروفریب کا جال بچھاتے تھے اور مالی مفادات حاصل کرتے تھے ۔ اوس اور خزرج کے باہم دست گریبان لوگ اسلامی صفوں میں آکر ایک دوسرے سے گلے مل گئے اور اوس اور خزرج کے بجائے وہ دونوں مہاجرین کی نصرت کی وجہ سے انصار کہلانے لگے ۔ اور ان سب عناصر کو ملاکر اسلام نے وہ بےنظیر اور نیا اسلامی معاشرہ تیار کیا جس کے تمام افراد متحد اور متفق تھے ، یوں کہ گویا وہ تمام ایک ہی جسم کے مختلف اعضاء ہیں اور جس کی مثال نہ اس سے پہلے کبھی تاریخ میں پائی گئی اور نہ اس کے بعد آج تک وجود میں آسکی ۔ یہودی اپنے آپ کو اللہ کی مختار اور برگزیدہ قوم سمجھتے تھے ۔ ان میں بیشمار رسول اور نبی مبعوث ہوئے تھے اور وہ متعدد کتابوں کے حامل تھے ۔ وہ ہمیشہ اس کی توقع رکھتے تھے اور شدت سے منتظر بھی تھے کہ نبی آخرالزماں خود ان کے ہاں مبعوث ہوگا لیکن جب وہ عربوں میں مبعوث ہوا تو پھر انہوں نے یہ توقعات باندھ لیں کہ شاید نیا نبی ان کو اپنے دائر دعوت سے باہر رکھے گا اور اپنی دعوت کو ان پڑھ عربوں تک ہی محدودرکھے گا ۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ وہ سب سے پہلے اہل کتاب کو اللہ کی اس آخری کتاب کی دعوت دے رہا ہے اور اس بات پر وہ دلیل یہ پیش کرتا ہے کہ وہ عربوں کی نسبت زیادہ ذی علم ہیں اور ان کا یہ فرض ہے کہ وہ مشرکین سے بھی پہلے اس دعوت حق پر لبیک کہیں تو ان کے غرورنفس نے انہیں نافرمانی پر آمادہ کرلیا اور انہوں نے اسے اپنے لئے اہانت سمجھا اور اپنے مذہب کے خلاف اس نئی دعوت کو دست درازی تصور کرنے لگے ۔ اب یہودی نبی ﷺ کے خلاف شدید حسد وبغض میں مبتلا ہوگئے ۔ ایک تو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزماں کے منصب کے لئے آپ کو منتخب فرمایا اور آپ کو کتاب دی جس کی صداقت میں یہودیوں کو ذرہ بھر بھی شبہ نہ تھا۔ دوسرے اس لئے کہ ظہور نبوت کے ساتھ ساتھ آپ کو اس نئے ماحول میں برق رفتار کامیابی حاصل ہوگئی ، ان اسباب کے علاوہ اس حسد وبغض ، تحریک اسلامی سے عداوت اور اس کے خلاف ہر قسم کے اوچھے ہتھیار استعمال کرنے کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ یہودی اس بات کا پختہ شعور رکھتے تھے کہ نئے حالات میں یا تو انہیں اس نئے معاشرے سے پوری طرح کٹ جانا ہوگا اور اس صورت میں ان کی فکری قیادت ، تجارت اور سودی کاروبار کے تمام مفادات ختم ہوجائیں گے اور یا پھر انہیں پوری طرح اس نئے معاشرے میں ضم ہوکر گم ہوجانا ہوگا اور یہ دونوں گولیاں ایسی ہیں کہ جو کسی قیمت پر بھی ، ایک یہودی کے حلق سے نیچے نہیں اترسکتیں ۔ یہ تھے وہ وجوہات جن کی بناپر یہود ان مدینہ نے تحریک اسلامی کے مقابلے میں وہ سخت رویہ اختیار کیا ، جس کی تفصیل سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں بیان کی گئی ہے ۔ ہم یہاں ایسی چند آیات نقل کررہے ہیں جن میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ” اے بنی اسرائیل ! ذرا خیال کرو اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی ، میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا ، اسے پورا کرو ، تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ ہے اسے میں پورا کروں گا ، اور مجھ ہی سے ڈرو ، اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے ، اس پر ایمان لاؤ ۔ یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی، لہٰذاسب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاؤ۔ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو۔ اور مرے غضب سے بچو ! باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو ، نماز قائم کرو زکوٰة دو ، اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے ہیں ان کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ، تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہو مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ، حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو ؟ کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے ؟ “ ایک دوسری جگہ تفصیل سے وہ رویہ اور طرز عمل بیان کیا گیا ہے جو بنی اسرائیل نے اپنے رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اختیار کیا تھا کہ کس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کا کفران کیا ۔ کس طرح انہوں نے کتاب اللہ اور شریعت کے بارے میں بےعملی کا مظاہرہ کیا اور باربار اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کو توڑا۔ یہ کچھ بالتفصیل بیان کرکے قرآن مجید مسلمانوں کو متنبہ کرتا ہے ۔ اے مسلمانو ! اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے ؟ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی ۔ محمد رسول اللہ کو ماننے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی انہیں مانتے ہیں اور جب آپس ایک دوسرے سے تخلئے کی بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ بیوقوف ہوگئے ہو ؟ ان لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو ، جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے مقابلے میں انہیں حجت میں پیش کریں ۔ “ (البقرہ :72:2) ” وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز چھونے والی نہیں ہے ۔ الا یہ کہ چند روز کی سزا مل جائے ، تو مل جائے ان سے پوچھو ، کیا تم نے اللہ کے سے کوئی عہد لے لیا ہے ، جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کرسکتا ؟ یا یہ بات ہے کہ تم اللہ کے ذمے ڈال کر ایسی بات کہہ دیتے ہو ، جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ اس نے ان کا ذمہ لیا ہے۔ “ (البقرہ :80:2) ” اور اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے ۔ اس کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے ؟ باوجودیکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی ، باوجودیکہ اس کی آمد سے قبل وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح ونصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے ، مگر جب وہ چیز آگئی ، جسے وہ پہچان بھی گئے ، تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا ۔ اللہ کی لعنت ان منکرین پر۔ “ (89:2) ” جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے ، اس پر ایمان لاؤ تو کہتے ہیں ” ہم تو صرف اس چیز پر ایمان لاتے ہیں جو ہمارے ہاں یعنی نسل بنی اسرائیل میں اتری ہے۔ اس دائرے کے باہر جو کچھ آیا ہے اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں ، حالانکہ وہ حق ہے اور اس تعلیم کی تصدیق وتائید کررہا ہے ، جو ان کے پاس پہلے سے موجود ہے۔ “ (91:2) ” اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسول اس کتاب کی تائید وتصدیق کرتا ہوا آیا ، جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی ، تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو ، اس طرح پس پشت ڈالا ، گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں ۔ “ (101:2) ” یہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرک ہوں ، ہرگز یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی نازل ہو۔ “ (15:2) ” اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر کفر کی طرف پلٹالے جائیں ۔ اگرچہ حق ان پر ظاہر ہوچکا مگر اپنے نفس کی حسد کی بناپر تمہارے لئے ان کی یہ خواہش ہے ۔ “ (109:2) ” ان کا کہنا ہے کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا جب تک وہ یہودی نہ ہو یا (عیسائیوں کے خیال کے مطابق) عیسائی نہ ہو۔ یہ ان کی تمنائیں ہیں ۔ “ (111:2) ” یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے ، جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ “ (120:2) یہ قرآن مجید کا زندہ جاوید معجزہ ہے کہ قرآن نے ان یہودیوں کو جس صفت سے موصوف کیا وہ صفت آج تک ان کے ساتھ چپکی ہوئی ہے اور یہ صفت ہے جو ان کی ہرنسل میں ان کے ساتھ لازم رہی ہے ۔ خواہ وہ نسل قبل اسلام گزری ہو یا اسلام کے بعد آج تک کسی دور میں رہی ہو ۔ قرآن کریم ان کو یوں خطاب کرتا ہے گویا یہود ان یثرب بذات خود حضرت موسیٰ اور آپ کے بعد آنے والے انبیاء (علیہم السلام) کے ادوار میں موجود تھے۔ کیونکہ اول روز سے بنی اسرائیل کی یہی فطرت رہی ہے ۔ ان کے اوصاف وہی ہیں ۔ ان کا طرزعمل وہی ہے اور حق وصداقت کے ساتھ وہ ہر دور اور ہر زمانے میں ایک ہی برتاؤ کرتے چلے آئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دوران کلام قوم موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آنے والی اسرائیلی نسلوں کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں ۔ اور قرآن مجید کے یہ زندہ کلمات آج بھی امت مسلمہ اور یہودیوں کے باہم تعلق اور موقف کو ظاہر کررہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ یہودی دعوت اسلامی اور امت مسلمہ کے مقابلے میں آج بھی وہی طرز عمل اختیار کررہے ہیں جو انہوں نے آج سے صدیوں قبل اختیار کیا اور یہی ان کا طرزعمل مستقبل میں بھی ہوگا۔ یہ قرآنی آیات اس وقت امت مسلمہ کے لئے ایک دائمی ہدایت اور تنبیہ کی حیثیت رکھتی تھیں اور آج بھی وہ یہی بتارہی ہیں کہ اعداء اسلام نے ہمارے اسلاف کے ساتھ جو رویہ روا رکھا تھا وہی پالیسی وہ آج بھی اختیار کریں گے ۔ آج بھی ان کی ریشہ دوانیاں اور مکر و فریب ویسے ہی ہیں جیسے یثرب میں تھے ۔ وہ ہر دور میں اسلام کے خلاف مختلف اور متنوع طریقوں سے برسرپیکار ہے ۔ لیکن اس جنگ کی حقیقت صرف ایک رہی یعنی اسلام دشمنی ۔ غرض اس صورت میں جہاں یہودیوں کے یہ اوصاف بیان ہوئے ہیں اور مسلمانوں کو ان کی سازشوں سے متنبہ کیا گیا ، وہاں اسلامی جماعت کی تشکیل اور اس دنیا میں اسلامی نظریہ حیات کی امانت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے ، اسے تیار کرنے اور اس کی تربیت کرنے کے طریقے بھی بتائے گئے ہیں ، جبکہ بنی اسرائیل ایک زمانے سے اس امانت کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوچکے تھے اور آخر میں انہوں نے اس نظریہ حیات کے بارے میں یہ معاندانہ رویہ اختیار کرلیا تھا۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ آئے ہیں سورت کا آغاز ان طبقات کے ذکر سے ہوتا ہے جنہوں نے ہجرت کے متصلاً بعد تحریک اسلامی کے بارے میں مختلف طرز ہائے عمل اختیار کر رکھے تھے ۔ ان طبقات میں شیاطین بنی اسرائیل کی طرف مخصوص اشارے بھی تھے ۔ جن کا ذکر بعد میں مفصل ہوا۔ اس سورت کے آغاز میں جن طبقات کا ذکر ہوا ہے ان کی نوعیت ایسی ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں دعوت اسلامی کے مقابلے میں لوگوں نے ایسے ہی طرز عمل اختیار کئے ۔ اس کے بعد پوری سورت کے مباحث اپنے انہی متوازی خطوط پر چل رہے ہیں جن میں اس وحدت ویگانت کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ جس سے اس سورت کی خاص شخصیت کا ظہور ہورہا ہے ، حالانکہ اس کے موضوعات سخن میں کافی تنوع پایا جاتا ہے۔ کافرین اور منافقین کے تین طبقات کے ذکر اور شیاطین یہود کی طرف اشارات کے بعد اب تمام انساں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور اللہ نے اپنے بندے پر جو کتاب نازل کی ہے ، اس پر ایمان لے آئیں ۔ کافروں کو چیلنج دیا جاتا ہے کہ اگر وہ کتاب کی صداقت میں شک کرتے ہیں تو پھر اس جیسی کوئی ایک سورت لے آئیں ، کافروں کو آگ سے ڈرایا جاتا ہے اور مومنین کو جنتوں کی خوشخبری دی جاتی ہے ۔ اس کے بعد کافروں کو غور وفکر کی دعوت دی جاتی ہے اور متعجبانہ انداز میں ان کے کفر کی تردید کی جاتی ہے ۔ ” تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویہ کیسے اختیار کرتے ہو ؟ حالانکہ تم بےجان تھے ، اس نے تمہیں زندگی عطا کی ، پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے ۔ وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں ۔ پھر اوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کئے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے ۔ “ (29:2) اس حقیقت کی طرف اشارے کے بعد ، کہ زمین کی تمام مخلوقات کو انسان کے لئے پیدا کیا گیا ہے ، حضرت آدم (علیہ السلام) کی خلافت فی الارض کا بیان شروع ہوجاتا ہے۔ ” پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو ، جب اس کے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔ “ اس کے بعد قصے کی تفصیلات بیان ہوتی ہیں ۔ آدم وابلیس کا معرکہ پیش آتا ہے اور آخرکار آدم (علیہ السلام) کا نزول ہوتا ہے اور زمین کے اندر ” عہد خلافت آدم “ کا آغاز ہوتا ہے ۔ جو دراصل دور ایمان ہے۔ ہم نے کہا ” تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو یہ لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ، ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے ، وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں ، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ (39:2) اس کے بعد بنی اسرائیل کی تاریخ پر طویل ترین تبصرہ شروع ہوتا ہے جس کے چند فقرے ہم اسے پہلے نقل کر آئے ہیں ۔ اس تبصرے اور تنقید کے درمیان جگہ جگہ انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اسلامی نظام حیات کو اپنالیں اور اس کتاب پر ایمان لے آئیں جو ان کتابوں کی تصدیق کررہی ہے جن کے حامل وہ خود ہیں ۔ ساتھ ساتھ انہیں یہ تنبیہ کی جارہی ہے کہ انہوں نے کیا کیا کو تاہیاں کیں۔ کس طرح وہ راہ راست سے بھٹکتے رہے اور حق و باطل کی آمیزش کرتے رہے ۔ بنی اسرائیل کے ساتھ بحث وتمحیص قرآن مجید کے پہلے پارے کے آخر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس پوری بحث سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ بنی اسرائیل نے دین اسلام ، نبی ﷺ اور قرآن مجید کا استقبال کس طرح کیا ۔ سب سے پہلے انہوں نے کفر کارویہ اختیار کیا ۔ انہوں حق و باطل کی تلبیس کی ، وہ دوسرے لوگوں کو تو یہ مشورہ دیتے کہ وہ ایمان لے آئیں لیکن خود اپنے آپ کو بھول جاتے ۔ وہ کلام اللہ سنتے ، اچھی طرح سمجھتے لیکن اس کے بعد اس کو غلط معانی پہنا کر جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ۔ وہ پہلے ایمان کا اظہار کرتے اور پھر کفر کا اعلان کرکے مومنین صادقین کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے اور جب آپس میں اکھٹے ہوتے تو ایک دوسرے کو بتاکید یہ کہتے کہ ” خبردار ! وہ راز کی باتیں مسلمانوں کو نہ بتانا ، جو حضرت نبی ﷺ کے بارے میں کتب سابقہ میں وارد ہیں اور جنہیں انہوں نے چھپا رکھا تھا۔ انہوں نے کوششیں کیں کہ کسی طرح مومنین کو دوبارہ کفر کی روش پر مجبور کردیں ۔ وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ صحیح اہل ہدایت ہیں ہی یہود ۔ جیسا کہ نصرانیوں کا خیال تھا کے روئے زمین پر اہل ہدایت صرف وہ ہیں وہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے محض اس لئے دشمن ہوگئے تھے کہ بقول ان کے انہوں نے ان کو چھوڑ کر پیغام خداوندی حضرت محمد ﷺ کے پاس پہنچادیا ۔ وہ مسلمانوں کی ہر کامیابی پر متغیض ہوجاتے اور ان کی بربادی کے منتظر رہتے ، وہ ہر لحظہ یہ کوشش کرتے کہ وحی الٰہی اور نبی ﷺ کے احکام واوامر میں شک پیدا کیا جائے ۔ اور تحویل قبلہ کے موقع پر تو ان کے پروپیگنڈے کی تو کوئی انتہانہ رہی ۔ منافقین کے ساتھ ربط وضبط رکھتے تھے اور ہر وقت ان کی راہنمائی کرتے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کھل کر کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت میں ان کے کردار پر سخت ترین تنقید پائی جاتی ہے اور سورت انہیں یاددلاتی ہے کہ انہوں نے یہی طرز عمل خود اپنے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں اختیار کیا تھا اور آپ کے بعد بھی انبیاء ورسل کے ساتھ یہ لوگ ایسا سلوک کرتے رہے ۔ نسلوں تک ان کا رویہ یہی رہا ۔ قرآن کریم انہیں اس طرح مخاطب کرتا ہے کہ بنی اسرائیل جہاں اور جس دور میں بھی ہوں گویا وہ ایک ہی گروہ ہے کیونکہ وہ ایک ہی فطرت اور جبلت رکھتے ہیں جس میں کبھی بھی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ اس طویل ترین تنقید کے آخر میں مسلمانوں کو بنی اسرائیل کے ایمان سے مایوس کردیا جاتا ہے کیونکہ ان کی یہ خود غرضانہ ذہنیت اور مطلب پرستی اور سڑی ہوئی اور خبیث طبعیت ان کے ایمان کی راہ میں رکاوٹ ہے اور بالآخر یہ تقریر ان کے اس دعوے کی تردید پر ختم ہوتی ہے کہ ” صرف وہی ہدایت پر ہیں کیونکہ وہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث ہیں “ اور بتایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیح وارث وہی لوگ ہیں جو سنت ابراہیمی پر چلتے ہیں اور اس عہد کی پابندی کرتے ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کے ساتھ باندھا تھا لہٰذا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وراثت اور جانشینی گویا اب حضرت محمد ﷺ اور مومنین کو حاصل ہوگئی ہے ، کیونکہ یہودی راہ راست سے بھٹک گئے ، اپنے دین کو تبدیل کردیا اور اب وہ اسلامی نظریہ حیات کی امانت کی حفاظت کے اہل اور اس زمین پر منصب خلافت الٰہی کے قابل نہیں رہے لہٰذا یہ ذمہ داری اب حضرت محمد ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والوں نے اپنے کاندھوں پر لے لی ۔ خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے جو دعا کی تھی امت مسلمہ کا برپا ہونا گویا اس دعا کی قبولیت کا مجسم ظہور تھا ، انہوں نے کہا تھا : ” اے رب ہم دونوں کو اپنا مطیع بنا ، ہماری نسل سے ایک ایسی امت اٹھا ، جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزرفرما ، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے اور اے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو جو انہیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنواردے ۔ تو بڑامقتدر اور حکیم ہے۔ “ (129:2) اب یہاں سے قرآن مجید کا خطاب اور روئے سخن نبی ﷺ اور آپ کے گرد جمع ہونے جماعت مسلمہ کی طرف پھرجاتا ہے اور وہ اصول وقواعد بیان کئے جاتے ہیں جن پر اس نئی جماعت کی تشکیل ہوئی ہے جو دعوت دین کا کام لے کر اٹھی ہے اور یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس جماعت کا ایک خاص مزاج ہے اور نظریہ وعمل میں وہ ایک مخصوص زاویہ نگاہ رکھتی ہے۔ امت مسلمہ کی خصوصیات کا بیان تحویل قبلہ سے شروع ہوجاتا ہے ۔ وہ سمت متعین ہوجاتی ہے جس کی امت مسلمہ کو متوجہ ہونا ہے ۔ یہ نیا قبلہ بیت الحرام ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے اللہ کے خاص احکامات کے تحت تعمیر کیا تھا۔ اللہ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اسے تعمیر کریں اور پاک وصاف کریں تاکہ وہاں صرف ایک اللہ تعالیٰ کی پرستش کی جائے ۔ خود نبی ﷺ کی خواہش یہی تھی کہ قبلہ بدل دیا جائے لیکن آپ نے کبھی اس کا اظہار نہ کیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” یہ تمہارے منہ کا باربار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں ۔ لو ہم اس قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں ، جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو اب جہاں کہیں تم ہو ، اس طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرو۔ “ (142:2) اس کے بعد اسلامی نظام حیات کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں ، جس پر اس جماعت نے عمل پیرا ہونا ہے ۔ نظریہ حیات اور طریق عبادت اور سلوک ومعاملات کا بیان شروع ہوجاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ راہ حق میں جو لوگ جانیں دیتے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو وہ تو زندہ جاوید ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خوف ، بھوک ، مالی نقصانات ، فصلوں اور پھلوں کی تباہی جیسی ابتلائیں محض اذیتیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ آزمائشیں ہوتی ہیں ۔ اور یہ ہمیشہ ان لوگوں کی راہ میں آتی ہیں جو دعوت حق کو لے کر اٹھتے ہیں ۔ تنبیہ کی جاتی ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں شیطان تمہیں فقر ومسکنت سے ڈراتا ہے اور فحاشی اور بےحیائی پر آمادہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ تم سے یہ ہوتا ہے کہ وہ تمہیں بخش دے گا۔ اور تمہیں اپنے فضل سے نوازے گا ۔ یہ کہ اللہ تعالیٰ مومنین کا والی اور مددگار ہے اور وہ انہیں ان اندھیروں میں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے اور کافروں کے والی طاغوت ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں پھینک دیتے ہیں ۔ اس کے بعد کھانے پینے کی چیزوں میں حلال و حرام احکامات بیان کئے جاتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ نیکی کی حقیقت کیا ہے ۔ صرف ظاہری شکل و صورت ہی کو دیکھ کر نیک و بد کا فیصلہ نہ کرنا چاہئے ۔ پھر قتل میں قصاص کے احکام ، وصیت کے احکام روزے کے احکام ، جہاد کے احکام ، حج کے احکام اور نکاح و طلاق کے احکام بیان کئے جاتے ہیں ۔ اسلام کے عائلی نظام کی دقیق شیرازہ بندی کی جاتی ہے ۔ اور نظام معیشت میں زکوٰة ، ربا کی حرمت ، لین دین اور تجارت کے احکامات بیان ہوتے ہیں ۔ ان تمام موضوعات پر بحث کرتے ہوئے دوران گفتگو ، موقع ومحل کی مناسبت سے ، موسیٰ (علیہما السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے حالات کی طرف اشارہ بھی کیا جاتا ہے ۔ اور حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کی زندگی کے کچھ پہلو بھی بیان ہوتے ہیں ۔ لیکن پہلے پارے کے بعد پوری سورت میں روئے سخن مستقلاً اسلامی جماعت کی طرف پھرجاتا ہے ۔ اسے اسلامی نظام حیات کی ذمہ داریوں کو اٹھانے اور اللہ کی شریعت کے مطابق ، زمین میں نظام خلافت کے قیام کی ذمہ داریوں کے لئے تیار کیا جاتا ہے اور اس طرح امت مسلمہ کو تمام دوسری امتوں سے ممتاز کردیا جاتا ہے ۔ کیونکہ یہ امت خود اس کائنات اور رب کائنات (جس نے اس امت کو اس عظیم منصب کے لئے چنا ) کے درمیان ربط وتعلق کی نوعیت کے بارے میں ایک مخصوص نقطہ نظر رکھتی ہے۔ سورت کے آخر میں پہنچ کر ہم دیکھتے ہیں کہ کلام کے خاتمے میں سورت کے ابتدائیہ کو دہرایا جاتا ہے۔ ایمانی نظریہ حیات کی حقیقت کی وضاحت ہوتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ امت مسلمہ تمام انبیاء پر ایمان رکھتی ہے ۔ نیز تمام کتب سماوی پر اس کا ایمان ہے اور وہ انبیاء کے بیان کردہ امور غیبیہ پر بھی یقین رکھتی ہے اور انبیاء کی تعلیمات کو مانتی ہے اور دل وجان سے مطیع فرمان ہے۔ فرمایا جاتا ہے : ” رسول اس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب سے اس پر نازل ہوئی ہے اور جو لوگ اس رسول اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں ۔ اور ان کا قول یہ ہے کہ ” ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے ، ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی ۔ مالک ! تجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے ۔ اللہ کسی متنفس پر ، اس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا ، ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے ، اس کا پھل اس کے لئے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے اس کا وبال اسی پر ہے ۔ (ایمان لانے والو ! تم یوں دعا کیا کرو) اے ہمارے رب ! ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہوجائیں ، ان پر گرفت نہ کر ۔ مالک ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے ۔ پروردگار ! جس بار کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے ، وہ ہم پر نہ رکھ ۔ ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگذر فرما ، ہم پر رحم کر ، تو ہمارا مولیٰ ہے ، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ “ اسی طرح آغاز و انجام کے درمیان پوری پوری یک رنگی پائی جاتی ہے اور سورت کے تمام موضوعات سخن مومنین صادقین کی صفات اور خصوصیات کے ان دوبیانوں کے درمیان سمٹ جاتے ہیں ۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

البقرة 2:3

تفسیر آیت 1 تا 5 مومنین کی یہ صفات بیان کرنے کے بعد سیاق کلام میں متصلاً کفار کی صفات کا بیان آجاتا ہے ۔ اگرچہ علی العموم ان صفات کا تعلق بھی تمام کفار سے ہے لیکن ان کا سب سے پہلامصداق وہ کفار بنے جو اس وقت دعوت اسلامی کی راہ روکے کھڑے تھے ۔ خواہ وہ مکی کفار ہوں یا ان کا تعلق مدینہ اور اس کے ماحول سے ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :•إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ (6) خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (7) ” جن لوگوں نے ان باتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ، ان کے لئے یکساں ہے ، خواہ تم انہیں خبردارکرو یا نہ کرو ، بہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں ۔ اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے ۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ ان دوگروہوں کے علاوہ منافقین کا ایک تیسرا گروہ بھی موجود تھا جیسا کہ ہم نے بالتفصیل بتایا ، جن حالات میں نبیeمدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی تھی ، ان کا قدرتی نتیجہ یہ تھا کہ ہجرت کی تکمیل کے فوراً بعد ہی وہ گروہ پیدا ہوگیا ۔ مکہ میں اس گروہ کا وجود نہ تھا۔ کیونکہ وہاں اسلام کی پشت پر کوئی قوت اور حکومت نہ تھی اور نہ کوئی ایسی قومی جماعت تھی جس سے ڈر کر قریش اسلام کے بارے میں کوئی منافقانہ رویہ اختیار کرتے بلکہ اس کے برعکس مکہ میں اسلام کمزور تھا۔ دعوت ہر قسم کے خطرات میں گھری ہوئی تھی ۔ صرف مخلصین ہی تھے جو اس دور میں دعوت اسلامی کی صفوں میں شامل ہونے کی جراءت کرسکتے تھے ، جو اس کی راہ میں ہر قسم کے مصائب جھیلنے کے لئے تیار تھے اور اس کے لئے سب کچھ لٹانے پر تلے ہوتے تھے لیکن یثرب ....(جو پہلے ہی دن سے مدینہ الرسول کے نام سے مشہور ہوگیا) میں حالات کا رخ یکلخت بدل گیا تھا۔ اسلام ایک ایسی قوت بن گیا تھا جسے ہر شخص محسوس کرنے لگا تھا اور ہر کوئی مجبور تھا کہ وہ اس قوت سے تھوڑا بہت بنائے رکھے ۔ بالخصوص جنگ بدر کی عظیم کامیابی کے بعد تو بڑوں بڑوں کی گردنیں جھک گئی تھیں ۔ جو لوگ روش نفاق پر مجبور تھے ان میں بعض کبرائے یثرب بھی تھے ۔ ان کے خاندان اور قبیلے کے لوگ اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ اس لئے یہ کبراء بھی اپنی سابقہ پوزیشن کو بحال رکھنے کے لئے اور اپنے مخصوص مصالح کی خاطر بظاہر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ ایسے لوگوں میں عبداللہ بن ابی ابن سلول کا نام سرفہرست تھا۔ کیونکہ مسلمانوں کی ہجرت سے کچھ قبل ہی اس کی قوم نے یہ پروگرام بنایا تھا کہ اسے بادشاہ بنادیں ۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اس کی قوم اس کے لئے ہار اور تاج تیار کررہی تھی ۔ سورة بقرہ کی ابتداء میں بالتفصیل ان منافقین کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں ۔ بعض فقروں سے یہ معلوم ہوتا ہے اکثر وبیشتر فقروں کا مصداق یہی بڑے لوگ ہیں جنہوں نے حالات سے مجبور ہوکر اپنے آپ کو دائرہ اسلام میں داخل کردیا تھا۔ لیکن وہ اب بھی عوام الناس پر اپنی لیڈر شپ قائم رکھنے کے خواب دیکھ رہے تھے ۔ اور عام طور پر ایسے متکبرین اکابرین جس طرح ، عوام کے بارے میں رائے رکھتے ہیں اسی طرح یہ لوگ اسلام قبول کرنے والوں کو ” بیوقوف “ لوگ کہہ کر پکارتے تھے چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں ، حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں ۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں ۔ مگر دراصل وہ اپنے آپ کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھادیا اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں اس کی پاداش میں ان کے لئے دردناک سزا ہے ۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپانہ کرو ” تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔ خبردار ! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں ، اسی طرح تم بھی ایمان لے آؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم بیوقوں کی طرح ایمان لائیں ؟ ، اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں ، تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں .... اللہ ان سے مذاق کررہا ہے ، وہ ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے ، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکے چکے جاتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے ، مگر یہ سودا ان کے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب سارا ماحول چمک اٹھا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کرلیا اور انہیں اس حال پرچھوڑدیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا ۔ یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں ۔ یہ اب نہ پلٹیں گے یاپھران کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے۔ اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک چمک بھی ہے ۔ یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لئے ہوئے ہے ۔ چمک سے ان کی یہ حالت ہورہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی ان کی بصارت اچک لے جائے گی ۔ جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دور چل لیتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کرلیتا یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ مریض دل منافقین پر اس بھرپور وار کے دوران ، ان کے شیاطین کی طرف اشارے ملتے ہیں ۔ اس سورت کے سیاق وسباق اور نبی ﷺ کی سیرت طیبہ کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد یہود ہیں ۔ کیونکہ اس سورت میں ان کے کردارپر بھرپور تنقید کی گئی ہے ۔ دعوت اسلامی کے بارے میں یہودیوں نے جو طرزعمل اختیار کیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں یہود وہ پہلا طبقہ تھا جس نے تحریک اسلامی سے ٹکر لی اور اس ٹکراؤ اور تصادم کے متعدداسباب تھے ۔ وہ اوس خزرج جیسی امی اقوام کے مقابلے میں ، اہل کتاب ہونے کی وجہ سے ایک ممتاز مقام رکھتے تھے ۔ مشرکین عرب میں اگرچہ یہود کی طرف میلان کم پایا جاتا تھا لیکن وہ آسمانی کتاب وہدایت رکھنے کی وجہ سے یہودیوں کے لئے مفید طلب تھیں ۔ فتنہ و فساد اور تشتت وافتراق وہ میدان ہے جس میں یہودی زیادہ چابکدستی سے کام کرتے ہیں ، لیکن جب اسلام آیاتو یہودیوں کے ان تمام مفادات پر زد پڑی ۔ وہ ایک ایسی کتاب لے کر آیاجو سابقہ کتب کی تصدیق کرتی تھی اور ان کی تعلیمات کی محافظ تھی ۔ پھر اسلام نے اوس اور خزرج کے اختلافات کو بھی ختم کردیا ، جن کے ذریعے یہودی اپنے مکروفریب کا جال بچھاتے تھے اور مالی مفادات حاصل کرتے تھے ۔ اوس اور خزرج کے باہم دست گریبان لوگ اسلامی صفوں میں آکر ایک دوسرے سے گلے مل گئے اور اوس اور خزرج کے بجائے وہ دونوں مہاجرین کی نصرت کی وجہ سے انصار کہلانے لگے ۔ اور ان سب عناصر کو ملاکر اسلام نے وہ بےنظیر اور نیا اسلامی معاشرہ تیار کیا جس کے تمام افراد متحد اور متفق تھے ، یوں کہ گویا وہ تمام ایک ہی جسم کے مختلف اعضاء ہیں اور جس کی مثال نہ اس سے پہلے کبھی تاریخ میں پائی گئی اور نہ اس کے بعد آج تک وجود میں آسکی ۔ یہودی اپنے آپ کو اللہ کی مختار اور برگزیدہ قوم سمجھتے تھے ۔ ان میں بیشمار رسول اور نبی مبعوث ہوئے تھے اور وہ متعدد کتابوں کے حامل تھے ۔ وہ ہمیشہ اس کی توقع رکھتے تھے اور شدت سے منتظر بھی تھے کہ نبی آخرالزماں خود ان کے ہاں مبعوث ہوگا لیکن جب وہ عربوں میں مبعوث ہوا تو پھر انہوں نے یہ توقعات باندھ لیں کہ شاید نیا نبی ان کو اپنے دائر دعوت سے باہر رکھے گا اور اپنی دعوت کو ان پڑھ عربوں تک ہی محدودرکھے گا ۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ وہ سب سے پہلے اہل کتاب کو اللہ کی اس آخری کتاب کی دعوت دے رہا ہے اور اس بات پر وہ دلیل یہ پیش کرتا ہے کہ وہ عربوں کی نسبت زیادہ ذی علم ہیں اور ان کا یہ فرض ہے کہ وہ مشرکین سے بھی پہلے اس دعوت حق پر لبیک کہیں تو ان کے غرورنفس نے انہیں نافرمانی پر آمادہ کرلیا اور انہوں نے اسے اپنے لئے اہانت سمجھا اور اپنے مذہب کے خلاف اس نئی دعوت کو دست درازی تصور کرنے لگے ۔ اب یہودی نبی ﷺ کے خلاف شدید حسد وبغض میں مبتلا ہوگئے ۔ ایک تو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزماں کے منصب کے لئے آپ کو منتخب فرمایا اور آپ کو کتاب دی جس کی صداقت میں یہودیوں کو ذرہ بھر بھی شبہ نہ تھا۔ دوسرے اس لئے کہ ظہور نبوت کے ساتھ ساتھ آپ کو اس نئے ماحول میں برق رفتار کامیابی حاصل ہوگئی ، ان اسباب کے علاوہ اس حسد وبغض ، تحریک اسلامی سے عداوت اور اس کے خلاف ہر قسم کے اوچھے ہتھیار استعمال کرنے کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ یہودی اس بات کا پختہ شعور رکھتے تھے کہ نئے حالات میں یا تو انہیں اس نئے معاشرے سے پوری طرح کٹ جانا ہوگا اور اس صورت میں ان کی فکری قیادت ، تجارت اور سودی کاروبار کے تمام مفادات ختم ہوجائیں گے اور یا پھر انہیں پوری طرح اس نئے معاشرے میں ضم ہوکر گم ہوجانا ہوگا اور یہ دونوں گولیاں ایسی ہیں کہ جو کسی قیمت پر بھی ، ایک یہودی کے حلق سے نیچے نہیں اترسکتیں ۔ یہ تھے وہ وجوہات جن کی بناپر یہود ان مدینہ نے تحریک اسلامی کے مقابلے میں وہ سخت رویہ اختیار کیا ، جس کی تفصیل سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں بیان کی گئی ہے ۔ ہم یہاں ایسی چند آیات نقل کررہے ہیں جن میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ” اے بنی اسرائیل ! ذرا خیال کرو اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی ، میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا ، اسے پورا کرو ، تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ ہے اسے میں پورا کروں گا ، اور مجھ ہی سے ڈرو ، اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے ، اس پر ایمان لاؤ ۔ یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی، لہٰذاسب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاؤ۔ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو۔ اور مرے غضب سے بچو ! باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو ، نماز قائم کرو زکوٰة دو ، اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے ہیں ان کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ، تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہو مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ، حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو ؟ کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے ؟ “ ایک دوسری جگہ تفصیل سے وہ رویہ اور طرز عمل بیان کیا گیا ہے جو بنی اسرائیل نے اپنے رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اختیار کیا تھا کہ کس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کا کفران کیا ۔ کس طرح انہوں نے کتاب اللہ اور شریعت کے بارے میں بےعملی کا مظاہرہ کیا اور باربار اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کو توڑا۔ یہ کچھ بالتفصیل بیان کرکے قرآن مجید مسلمانوں کو متنبہ کرتا ہے ۔ اے مسلمانو ! اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے ؟ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی ۔ محمد رسول اللہ کو ماننے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی انہیں مانتے ہیں اور جب آپس ایک دوسرے سے تخلئے کی بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ بیوقوف ہوگئے ہو ؟ ان لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو ، جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے مقابلے میں انہیں حجت میں پیش کریں ۔ “ (البقرہ :72:2) ” وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز چھونے والی نہیں ہے ۔ الا یہ کہ چند روز کی سزا مل جائے ، تو مل جائے ان سے پوچھو ، کیا تم نے اللہ کے سے کوئی عہد لے لیا ہے ، جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کرسکتا ؟ یا یہ بات ہے کہ تم اللہ کے ذمے ڈال کر ایسی بات کہہ دیتے ہو ، جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ اس نے ان کا ذمہ لیا ہے۔ “ (البقرہ :80:2) ” اور اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے ۔ اس کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے ؟ باوجودیکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی ، باوجودیکہ اس کی آمد سے قبل وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح ونصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے ، مگر جب وہ چیز آگئی ، جسے وہ پہچان بھی گئے ، تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا ۔ اللہ کی لعنت ان منکرین پر۔ “ (89:2) ” جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے ، اس پر ایمان لاؤ تو کہتے ہیں ” ہم تو صرف اس چیز پر ایمان لاتے ہیں جو ہمارے ہاں یعنی نسل بنی اسرائیل میں اتری ہے۔ اس دائرے کے باہر جو کچھ آیا ہے اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں ، حالانکہ وہ حق ہے اور اس تعلیم کی تصدیق وتائید کررہا ہے ، جو ان کے پاس پہلے سے موجود ہے۔ “ (91:2) ” اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسول اس کتاب کی تائید وتصدیق کرتا ہوا آیا ، جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی ، تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو ، اس طرح پس پشت ڈالا ، گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں ۔ “ (101:2) ” یہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرک ہوں ، ہرگز یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی نازل ہو۔ “ (15:2) ” اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر کفر کی طرف پلٹالے جائیں ۔ اگرچہ حق ان پر ظاہر ہوچکا مگر اپنے نفس کی حسد کی بناپر تمہارے لئے ان کی یہ خواہش ہے ۔ “ (109:2) ” ان کا کہنا ہے کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا جب تک وہ یہودی نہ ہو یا (عیسائیوں کے خیال کے مطابق) عیسائی نہ ہو۔ یہ ان کی تمنائیں ہیں ۔ “ (111:2) ” یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے ، جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ “ (120:2) یہ قرآن مجید کا زندہ جاوید معجزہ ہے کہ قرآن نے ان یہودیوں کو جس صفت سے موصوف کیا وہ صفت آج تک ان کے ساتھ چپکی ہوئی ہے اور یہ صفت ہے جو ان کی ہرنسل میں ان کے ساتھ لازم رہی ہے ۔ خواہ وہ نسل قبل اسلام گزری ہو یا اسلام کے بعد آج تک کسی دور میں رہی ہو ۔ قرآن کریم ان کو یوں خطاب کرتا ہے گویا یہود ان یثرب بذات خود حضرت موسیٰ اور آپ کے بعد آنے والے انبیاء (علیہم السلام) کے ادوار میں موجود تھے۔ کیونکہ اول روز سے بنی اسرائیل کی یہی فطرت رہی ہے ۔ ان کے اوصاف وہی ہیں ۔ ان کا طرزعمل وہی ہے اور حق وصداقت کے ساتھ وہ ہر دور اور ہر زمانے میں ایک ہی برتاؤ کرتے چلے آئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دوران کلام قوم موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آنے والی اسرائیلی نسلوں کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں ۔ اور قرآن مجید کے یہ زندہ کلمات آج بھی امت مسلمہ اور یہودیوں کے باہم تعلق اور موقف کو ظاہر کررہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ یہودی دعوت اسلامی اور امت مسلمہ کے مقابلے میں آج بھی وہی طرز عمل اختیار کررہے ہیں جو انہوں نے آج سے صدیوں قبل اختیار کیا اور یہی ان کا طرزعمل مستقبل میں بھی ہوگا۔ یہ قرآنی آیات اس وقت امت مسلمہ کے لئے ایک دائمی ہدایت اور تنبیہ کی حیثیت رکھتی تھیں اور آج بھی وہ یہی بتارہی ہیں کہ اعداء اسلام نے ہمارے اسلاف کے ساتھ جو رویہ روا رکھا تھا وہی پالیسی وہ آج بھی اختیار کریں گے ۔ آج بھی ان کی ریشہ دوانیاں اور مکر و فریب ویسے ہی ہیں جیسے یثرب میں تھے ۔ وہ ہر دور میں اسلام کے خلاف مختلف اور متنوع طریقوں سے برسرپیکار ہے ۔ لیکن اس جنگ کی حقیقت صرف ایک رہی یعنی اسلام دشمنی ۔ غرض اس صورت میں جہاں یہودیوں کے یہ اوصاف بیان ہوئے ہیں اور مسلمانوں کو ان کی سازشوں سے متنبہ کیا گیا ، وہاں اسلامی جماعت کی تشکیل اور اس دنیا میں اسلامی نظریہ حیات کی امانت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے ، اسے تیار کرنے اور اس کی تربیت کرنے کے طریقے بھی بتائے گئے ہیں ، جبکہ بنی اسرائیل ایک زمانے سے اس امانت کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوچکے تھے اور آخر میں انہوں نے اس نظریہ حیات کے بارے میں یہ معاندانہ رویہ اختیار کرلیا تھا۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ آئے ہیں سورت کا آغاز ان طبقات کے ذکر سے ہوتا ہے جنہوں نے ہجرت کے متصلاً بعد تحریک اسلامی کے بارے میں مختلف طرز ہائے عمل اختیار کر رکھے تھے ۔ ان طبقات میں شیاطین بنی اسرائیل کی طرف مخصوص اشارے بھی تھے ۔ جن کا ذکر بعد میں مفصل ہوا۔ اس سورت کے آغاز میں جن طبقات کا ذکر ہوا ہے ان کی نوعیت ایسی ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں دعوت اسلامی کے مقابلے میں لوگوں نے ایسے ہی طرز عمل اختیار کئے ۔ اس کے بعد پوری سورت کے مباحث اپنے انہی متوازی خطوط پر چل رہے ہیں جن میں اس وحدت ویگانت کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ جس سے اس سورت کی خاص شخصیت کا ظہور ہورہا ہے ، حالانکہ اس کے موضوعات سخن میں کافی تنوع پایا جاتا ہے۔ کافرین اور منافقین کے تین طبقات کے ذکر اور شیاطین یہود کی طرف اشارات کے بعد اب تمام انساں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور اللہ نے اپنے بندے پر جو کتاب نازل کی ہے ، اس پر ایمان لے آئیں ۔ کافروں کو چیلنج دیا جاتا ہے کہ اگر وہ کتاب کی صداقت میں شک کرتے ہیں تو پھر اس جیسی کوئی ایک سورت لے آئیں ، کافروں کو آگ سے ڈرایا جاتا ہے اور مومنین کو جنتوں کی خوشخبری دی جاتی ہے ۔ اس کے بعد کافروں کو غور وفکر کی دعوت دی جاتی ہے اور متعجبانہ انداز میں ان کے کفر کی تردید کی جاتی ہے ۔ ” تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویہ کیسے اختیار کرتے ہو ؟ حالانکہ تم بےجان تھے ، اس نے تمہیں زندگی عطا کی ، پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے ۔ وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں ۔ پھر اوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کئے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے ۔ “ (29:2) اس حقیقت کی طرف اشارے کے بعد ، کہ زمین کی تمام مخلوقات کو انسان کے لئے پیدا کیا گیا ہے ، حضرت آدم (علیہ السلام) کی خلافت فی الارض کا بیان شروع ہوجاتا ہے۔ ” پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو ، جب اس کے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔ “ اس کے بعد قصے کی تفصیلات بیان ہوتی ہیں ۔ آدم وابلیس کا معرکہ پیش آتا ہے اور آخرکار آدم (علیہ السلام) کا نزول ہوتا ہے اور زمین کے اندر ” عہد خلافت آدم “ کا آغاز ہوتا ہے ۔ جو دراصل دور ایمان ہے۔ ہم نے کہا ” تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو یہ لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ، ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے ، وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں ، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ (39:2) اس کے بعد بنی اسرائیل کی تاریخ پر طویل ترین تبصرہ شروع ہوتا ہے جس کے چند فقرے ہم اسے پہلے نقل کر آئے ہیں ۔ اس تبصرے اور تنقید کے درمیان جگہ جگہ انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اسلامی نظام حیات کو اپنالیں اور اس کتاب پر ایمان لے آئیں جو ان کتابوں کی تصدیق کررہی ہے جن کے حامل وہ خود ہیں ۔ ساتھ ساتھ انہیں یہ تنبیہ کی جارہی ہے کہ انہوں نے کیا کیا کو تاہیاں کیں۔ کس طرح وہ راہ راست سے بھٹکتے رہے اور حق و باطل کی آمیزش کرتے رہے ۔ بنی اسرائیل کے ساتھ بحث وتمحیص قرآن مجید کے پہلے پارے کے آخر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس پوری بحث سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ بنی اسرائیل نے دین اسلام ، نبی ﷺ اور قرآن مجید کا استقبال کس طرح کیا ۔ سب سے پہلے انہوں نے کفر کارویہ اختیار کیا ۔ انہوں حق و باطل کی تلبیس کی ، وہ دوسرے لوگوں کو تو یہ مشورہ دیتے کہ وہ ایمان لے آئیں لیکن خود اپنے آپ کو بھول جاتے ۔ وہ کلام اللہ سنتے ، اچھی طرح سمجھتے لیکن اس کے بعد اس کو غلط معانی پہنا کر جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ۔ وہ پہلے ایمان کا اظہار کرتے اور پھر کفر کا اعلان کرکے مومنین صادقین کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے اور جب آپس میں اکھٹے ہوتے تو ایک دوسرے کو بتاکید یہ کہتے کہ ” خبردار ! وہ راز کی باتیں مسلمانوں کو نہ بتانا ، جو حضرت نبی ﷺ کے بارے میں کتب سابقہ میں وارد ہیں اور جنہیں انہوں نے چھپا رکھا تھا۔ انہوں نے کوششیں کیں کہ کسی طرح مومنین کو دوبارہ کفر کی روش پر مجبور کردیں ۔ وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ صحیح اہل ہدایت ہیں ہی یہود ۔ جیسا کہ نصرانیوں کا خیال تھا کے روئے زمین پر اہل ہدایت صرف وہ ہیں وہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے محض اس لئے دشمن ہوگئے تھے کہ بقول ان کے انہوں نے ان کو چھوڑ کر پیغام خداوندی حضرت محمد ﷺ کے پاس پہنچادیا ۔ وہ مسلمانوں کی ہر کامیابی پر متغیض ہوجاتے اور ان کی بربادی کے منتظر رہتے ، وہ ہر لحظہ یہ کوشش کرتے کہ وحی الٰہی اور نبی ﷺ کے احکام واوامر میں شک پیدا کیا جائے ۔ اور تحویل قبلہ کے موقع پر تو ان کے پروپیگنڈے کی تو کوئی انتہانہ رہی ۔ منافقین کے ساتھ ربط وضبط رکھتے تھے اور ہر وقت ان کی راہنمائی کرتے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کھل کر کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت میں ان کے کردار پر سخت ترین تنقید پائی جاتی ہے اور سورت انہیں یاددلاتی ہے کہ انہوں نے یہی طرز عمل خود اپنے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں اختیار کیا تھا اور آپ کے بعد بھی انبیاء ورسل کے ساتھ یہ لوگ ایسا سلوک کرتے رہے ۔ نسلوں تک ان کا رویہ یہی رہا ۔ قرآن کریم انہیں اس طرح مخاطب کرتا ہے کہ بنی اسرائیل جہاں اور جس دور میں بھی ہوں گویا وہ ایک ہی گروہ ہے کیونکہ وہ ایک ہی فطرت اور جبلت رکھتے ہیں جس میں کبھی بھی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ اس طویل ترین تنقید کے آخر میں مسلمانوں کو بنی اسرائیل کے ایمان سے مایوس کردیا جاتا ہے کیونکہ ان کی یہ خود غرضانہ ذہنیت اور مطلب پرستی اور سڑی ہوئی اور خبیث طبعیت ان کے ایمان کی راہ میں رکاوٹ ہے اور بالآخر یہ تقریر ان کے اس دعوے کی تردید پر ختم ہوتی ہے کہ ” صرف وہی ہدایت پر ہیں کیونکہ وہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث ہیں “ اور بتایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیح وارث وہی لوگ ہیں جو سنت ابراہیمی پر چلتے ہیں اور اس عہد کی پابندی کرتے ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کے ساتھ باندھا تھا لہٰذا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وراثت اور جانشینی گویا اب حضرت محمد ﷺ اور مومنین کو حاصل ہوگئی ہے ، کیونکہ یہودی راہ راست سے بھٹک گئے ، اپنے دین کو تبدیل کردیا اور اب وہ اسلامی نظریہ حیات کی امانت کی حفاظت کے اہل اور اس زمین پر منصب خلافت الٰہی کے قابل نہیں رہے لہٰذا یہ ذمہ داری اب حضرت محمد ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والوں نے اپنے کاندھوں پر لے لی ۔ خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے جو دعا کی تھی امت مسلمہ کا برپا ہونا گویا اس دعا کی قبولیت کا مجسم ظہور تھا ، انہوں نے کہا تھا : ” اے رب ہم دونوں کو اپنا مطیع بنا ، ہماری نسل سے ایک ایسی امت اٹھا ، جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزرفرما ، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے اور اے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو جو انہیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنواردے ۔ تو بڑامقتدر اور حکیم ہے۔ “ (129:2) اب یہاں سے قرآن مجید کا خطاب اور روئے سخن نبی ﷺ اور آپ کے گرد جمع ہونے جماعت مسلمہ کی طرف پھرجاتا ہے اور وہ اصول وقواعد بیان کئے جاتے ہیں جن پر اس نئی جماعت کی تشکیل ہوئی ہے جو دعوت دین کا کام لے کر اٹھی ہے اور یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس جماعت کا ایک خاص مزاج ہے اور نظریہ وعمل میں وہ ایک مخصوص زاویہ نگاہ رکھتی ہے۔ امت مسلمہ کی خصوصیات کا بیان تحویل قبلہ سے شروع ہوجاتا ہے ۔ وہ سمت متعین ہوجاتی ہے جس کی امت مسلمہ کو متوجہ ہونا ہے ۔ یہ نیا قبلہ بیت الحرام ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے اللہ کے خاص احکامات کے تحت تعمیر کیا تھا۔ اللہ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اسے تعمیر کریں اور پاک وصاف کریں تاکہ وہاں صرف ایک اللہ تعالیٰ کی پرستش کی جائے ۔ خود نبی ﷺ کی خواہش یہی تھی کہ قبلہ بدل دیا جائے لیکن آپ نے کبھی اس کا اظہار نہ کیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” یہ تمہارے منہ کا باربار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں ۔ لو ہم اس قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں ، جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو اب جہاں کہیں تم ہو ، اس طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرو۔ “ (142:2) اس کے بعد اسلامی نظام حیات کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں ، جس پر اس جماعت نے عمل پیرا ہونا ہے ۔ نظریہ حیات اور طریق عبادت اور سلوک ومعاملات کا بیان شروع ہوجاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ راہ حق میں جو لوگ جانیں دیتے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو وہ تو زندہ جاوید ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خوف ، بھوک ، مالی نقصانات ، فصلوں اور پھلوں کی تباہی جیسی ابتلائیں محض اذیتیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ آزمائشیں ہوتی ہیں ۔ اور یہ ہمیشہ ان لوگوں کی راہ میں آتی ہیں جو دعوت حق کو لے کر اٹھتے ہیں ۔ تنبیہ کی جاتی ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں شیطان تمہیں فقر ومسکنت سے ڈراتا ہے اور فحاشی اور بےحیائی پر آمادہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ تم سے یہ ہوتا ہے کہ وہ تمہیں بخش دے گا۔ اور تمہیں اپنے فضل سے نوازے گا ۔ یہ کہ اللہ تعالیٰ مومنین کا والی اور مددگار ہے اور وہ انہیں ان اندھیروں میں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے اور کافروں کے والی طاغوت ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں پھینک دیتے ہیں ۔ اس کے بعد کھانے پینے کی چیزوں میں حلال و حرام احکامات بیان کئے جاتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ نیکی کی حقیقت کیا ہے ۔ صرف ظاہری شکل و صورت ہی کو دیکھ کر نیک و بد کا فیصلہ نہ کرنا چاہئے ۔ پھر قتل میں قصاص کے احکام ، وصیت کے احکام روزے کے احکام ، جہاد کے احکام ، حج کے احکام اور نکاح و طلاق کے احکام بیان کئے جاتے ہیں ۔ اسلام کے عائلی نظام کی دقیق شیرازہ بندی کی جاتی ہے ۔ اور نظام معیشت میں زکوٰة ، ربا کی حرمت ، لین دین اور تجارت کے احکامات بیان ہوتے ہیں ۔ ان تمام موضوعات پر بحث کرتے ہوئے دوران گفتگو ، موقع ومحل کی مناسبت سے ، موسیٰ (علیہما السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے حالات کی طرف اشارہ بھی کیا جاتا ہے ۔ اور حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کی زندگی کے کچھ پہلو بھی بیان ہوتے ہیں ۔ لیکن پہلے پارے کے بعد پوری سورت میں روئے سخن مستقلاً اسلامی جماعت کی طرف پھرجاتا ہے ۔ اسے اسلامی نظام حیات کی ذمہ داریوں کو اٹھانے اور اللہ کی شریعت کے مطابق ، زمین میں نظام خلافت کے قیام کی ذمہ داریوں کے لئے تیار کیا جاتا ہے اور اس طرح امت مسلمہ کو تمام دوسری امتوں سے ممتاز کردیا جاتا ہے ۔ کیونکہ یہ امت خود اس کائنات اور رب کائنات (جس نے اس امت کو اس عظیم منصب کے لئے چنا ) کے درمیان ربط وتعلق کی نوعیت کے بارے میں ایک مخصوص نقطہ نظر رکھتی ہے۔ سورت کے آخر میں پہنچ کر ہم دیکھتے ہیں کہ کلام کے خاتمے میں سورت کے ابتدائیہ کو دہرایا جاتا ہے۔ ایمانی نظریہ حیات کی حقیقت کی وضاحت ہوتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ امت مسلمہ تمام انبیاء پر ایمان رکھتی ہے ۔ نیز تمام کتب سماوی پر اس کا ایمان ہے اور وہ انبیاء کے بیان کردہ امور غیبیہ پر بھی یقین رکھتی ہے اور انبیاء کی تعلیمات کو مانتی ہے اور دل وجان سے مطیع فرمان ہے۔ فرمایا جاتا ہے : ” رسول اس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب سے اس پر نازل ہوئی ہے اور جو لوگ اس رسول اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں ۔ اور ان کا قول یہ ہے کہ ” ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے ، ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی ۔ مالک ! تجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے ۔ اللہ کسی متنفس پر ، اس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا ، ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے ، اس کا پھل اس کے لئے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے اس کا وبال اسی پر ہے ۔ (ایمان لانے والو ! تم یوں دعا کیا کرو) اے ہمارے رب ! ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہوجائیں ، ان پر گرفت نہ کر ۔ مالک ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے ۔ پروردگار ! جس بار کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے ، وہ ہم پر نہ رکھ ۔ ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگذر فرما ، ہم پر رحم کر ، تو ہمارا مولیٰ ہے ، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ “ اسی طرح آغاز و انجام کے درمیان پوری پوری یک رنگی پائی جاتی ہے اور سورت کے تمام موضوعات سخن مومنین صادقین کی صفات اور خصوصیات کے ان دوبیانوں کے درمیان سمٹ جاتے ہیں ۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

البقرة 2:4

تفسیر آیت 1 تا 5 مومنین کی یہ صفات بیان کرنے کے بعد سیاق کلام میں متصلاً کفار کی صفات کا بیان آجاتا ہے ۔ اگرچہ علی العموم ان صفات کا تعلق بھی تمام کفار سے ہے لیکن ان کا سب سے پہلامصداق وہ کفار بنے جو اس وقت دعوت اسلامی کی راہ روکے کھڑے تھے ۔ خواہ وہ مکی کفار ہوں یا ان کا تعلق مدینہ اور اس کے ماحول سے ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :•إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ (6) خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (7) ” جن لوگوں نے ان باتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ، ان کے لئے یکساں ہے ، خواہ تم انہیں خبردارکرو یا نہ کرو ، بہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں ۔ اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے ۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ ان دوگروہوں کے علاوہ منافقین کا ایک تیسرا گروہ بھی موجود تھا جیسا کہ ہم نے بالتفصیل بتایا ، جن حالات میں نبیeمدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی تھی ، ان کا قدرتی نتیجہ یہ تھا کہ ہجرت کی تکمیل کے فوراً بعد ہی وہ گروہ پیدا ہوگیا ۔ مکہ میں اس گروہ کا وجود نہ تھا۔ کیونکہ وہاں اسلام کی پشت پر کوئی قوت اور حکومت نہ تھی اور نہ کوئی ایسی قومی جماعت تھی جس سے ڈر کر قریش اسلام کے بارے میں کوئی منافقانہ رویہ اختیار کرتے بلکہ اس کے برعکس مکہ میں اسلام کمزور تھا۔ دعوت ہر قسم کے خطرات میں گھری ہوئی تھی ۔ صرف مخلصین ہی تھے جو اس دور میں دعوت اسلامی کی صفوں میں شامل ہونے کی جراءت کرسکتے تھے ، جو اس کی راہ میں ہر قسم کے مصائب جھیلنے کے لئے تیار تھے اور اس کے لئے سب کچھ لٹانے پر تلے ہوتے تھے لیکن یثرب ....(جو پہلے ہی دن سے مدینہ الرسول کے نام سے مشہور ہوگیا) میں حالات کا رخ یکلخت بدل گیا تھا۔ اسلام ایک ایسی قوت بن گیا تھا جسے ہر شخص محسوس کرنے لگا تھا اور ہر کوئی مجبور تھا کہ وہ اس قوت سے تھوڑا بہت بنائے رکھے ۔ بالخصوص جنگ بدر کی عظیم کامیابی کے بعد تو بڑوں بڑوں کی گردنیں جھک گئی تھیں ۔ جو لوگ روش نفاق پر مجبور تھے ان میں بعض کبرائے یثرب بھی تھے ۔ ان کے خاندان اور قبیلے کے لوگ اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ اس لئے یہ کبراء بھی اپنی سابقہ پوزیشن کو بحال رکھنے کے لئے اور اپنے مخصوص مصالح کی خاطر بظاہر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ ایسے لوگوں میں عبداللہ بن ابی ابن سلول کا نام سرفہرست تھا۔ کیونکہ مسلمانوں کی ہجرت سے کچھ قبل ہی اس کی قوم نے یہ پروگرام بنایا تھا کہ اسے بادشاہ بنادیں ۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اس کی قوم اس کے لئے ہار اور تاج تیار کررہی تھی ۔ سورة بقرہ کی ابتداء میں بالتفصیل ان منافقین کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں ۔ بعض فقروں سے یہ معلوم ہوتا ہے اکثر وبیشتر فقروں کا مصداق یہی بڑے لوگ ہیں جنہوں نے حالات سے مجبور ہوکر اپنے آپ کو دائرہ اسلام میں داخل کردیا تھا۔ لیکن وہ اب بھی عوام الناس پر اپنی لیڈر شپ قائم رکھنے کے خواب دیکھ رہے تھے ۔ اور عام طور پر ایسے متکبرین اکابرین جس طرح ، عوام کے بارے میں رائے رکھتے ہیں اسی طرح یہ لوگ اسلام قبول کرنے والوں کو ” بیوقوف “ لوگ کہہ کر پکارتے تھے چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں ، حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں ۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں ۔ مگر دراصل وہ اپنے آپ کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھادیا اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں اس کی پاداش میں ان کے لئے دردناک سزا ہے ۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپانہ کرو ” تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔ خبردار ! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں ، اسی طرح تم بھی ایمان لے آؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم بیوقوں کی طرح ایمان لائیں ؟ ، اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں ، تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں .... اللہ ان سے مذاق کررہا ہے ، وہ ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے ، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکے چکے جاتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے ، مگر یہ سودا ان کے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب سارا ماحول چمک اٹھا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کرلیا اور انہیں اس حال پرچھوڑدیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا ۔ یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں ۔ یہ اب نہ پلٹیں گے یاپھران کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے۔ اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک چمک بھی ہے ۔ یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لئے ہوئے ہے ۔ چمک سے ان کی یہ حالت ہورہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی ان کی بصارت اچک لے جائے گی ۔ جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دور چل لیتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کرلیتا یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ مریض دل منافقین پر اس بھرپور وار کے دوران ، ان کے شیاطین کی طرف اشارے ملتے ہیں ۔ اس سورت کے سیاق وسباق اور نبی ﷺ کی سیرت طیبہ کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد یہود ہیں ۔ کیونکہ اس سورت میں ان کے کردارپر بھرپور تنقید کی گئی ہے ۔ دعوت اسلامی کے بارے میں یہودیوں نے جو طرزعمل اختیار کیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں یہود وہ پہلا طبقہ تھا جس نے تحریک اسلامی سے ٹکر لی اور اس ٹکراؤ اور تصادم کے متعدداسباب تھے ۔ وہ اوس خزرج جیسی امی اقوام کے مقابلے میں ، اہل کتاب ہونے کی وجہ سے ایک ممتاز مقام رکھتے تھے ۔ مشرکین عرب میں اگرچہ یہود کی طرف میلان کم پایا جاتا تھا لیکن وہ آسمانی کتاب وہدایت رکھنے کی وجہ سے یہودیوں کے لئے مفید طلب تھیں ۔ فتنہ و فساد اور تشتت وافتراق وہ میدان ہے جس میں یہودی زیادہ چابکدستی سے کام کرتے ہیں ، لیکن جب اسلام آیاتو یہودیوں کے ان تمام مفادات پر زد پڑی ۔ وہ ایک ایسی کتاب لے کر آیاجو سابقہ کتب کی تصدیق کرتی تھی اور ان کی تعلیمات کی محافظ تھی ۔ پھر اسلام نے اوس اور خزرج کے اختلافات کو بھی ختم کردیا ، جن کے ذریعے یہودی اپنے مکروفریب کا جال بچھاتے تھے اور مالی مفادات حاصل کرتے تھے ۔ اوس اور خزرج کے باہم دست گریبان لوگ اسلامی صفوں میں آکر ایک دوسرے سے گلے مل گئے اور اوس اور خزرج کے بجائے وہ دونوں مہاجرین کی نصرت کی وجہ سے انصار کہلانے لگے ۔ اور ان سب عناصر کو ملاکر اسلام نے وہ بےنظیر اور نیا اسلامی معاشرہ تیار کیا جس کے تمام افراد متحد اور متفق تھے ، یوں کہ گویا وہ تمام ایک ہی جسم کے مختلف اعضاء ہیں اور جس کی مثال نہ اس سے پہلے کبھی تاریخ میں پائی گئی اور نہ اس کے بعد آج تک وجود میں آسکی ۔ یہودی اپنے آپ کو اللہ کی مختار اور برگزیدہ قوم سمجھتے تھے ۔ ان میں بیشمار رسول اور نبی مبعوث ہوئے تھے اور وہ متعدد کتابوں کے حامل تھے ۔ وہ ہمیشہ اس کی توقع رکھتے تھے اور شدت سے منتظر بھی تھے کہ نبی آخرالزماں خود ان کے ہاں مبعوث ہوگا لیکن جب وہ عربوں میں مبعوث ہوا تو پھر انہوں نے یہ توقعات باندھ لیں کہ شاید نیا نبی ان کو اپنے دائر دعوت سے باہر رکھے گا اور اپنی دعوت کو ان پڑھ عربوں تک ہی محدودرکھے گا ۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ وہ سب سے پہلے اہل کتاب کو اللہ کی اس آخری کتاب کی دعوت دے رہا ہے اور اس بات پر وہ دلیل یہ پیش کرتا ہے کہ وہ عربوں کی نسبت زیادہ ذی علم ہیں اور ان کا یہ فرض ہے کہ وہ مشرکین سے بھی پہلے اس دعوت حق پر لبیک کہیں تو ان کے غرورنفس نے انہیں نافرمانی پر آمادہ کرلیا اور انہوں نے اسے اپنے لئے اہانت سمجھا اور اپنے مذہب کے خلاف اس نئی دعوت کو دست درازی تصور کرنے لگے ۔ اب یہودی نبی ﷺ کے خلاف شدید حسد وبغض میں مبتلا ہوگئے ۔ ایک تو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزماں کے منصب کے لئے آپ کو منتخب فرمایا اور آپ کو کتاب دی جس کی صداقت میں یہودیوں کو ذرہ بھر بھی شبہ نہ تھا۔ دوسرے اس لئے کہ ظہور نبوت کے ساتھ ساتھ آپ کو اس نئے ماحول میں برق رفتار کامیابی حاصل ہوگئی ، ان اسباب کے علاوہ اس حسد وبغض ، تحریک اسلامی سے عداوت اور اس کے خلاف ہر قسم کے اوچھے ہتھیار استعمال کرنے کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ یہودی اس بات کا پختہ شعور رکھتے تھے کہ نئے حالات میں یا تو انہیں اس نئے معاشرے سے پوری طرح کٹ جانا ہوگا اور اس صورت میں ان کی فکری قیادت ، تجارت اور سودی کاروبار کے تمام مفادات ختم ہوجائیں گے اور یا پھر انہیں پوری طرح اس نئے معاشرے میں ضم ہوکر گم ہوجانا ہوگا اور یہ دونوں گولیاں ایسی ہیں کہ جو کسی قیمت پر بھی ، ایک یہودی کے حلق سے نیچے نہیں اترسکتیں ۔ یہ تھے وہ وجوہات جن کی بناپر یہود ان مدینہ نے تحریک اسلامی کے مقابلے میں وہ سخت رویہ اختیار کیا ، جس کی تفصیل سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں بیان کی گئی ہے ۔ ہم یہاں ایسی چند آیات نقل کررہے ہیں جن میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ” اے بنی اسرائیل ! ذرا خیال کرو اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی ، میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا ، اسے پورا کرو ، تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ ہے اسے میں پورا کروں گا ، اور مجھ ہی سے ڈرو ، اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے ، اس پر ایمان لاؤ ۔ یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی، لہٰذاسب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاؤ۔ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو۔ اور مرے غضب سے بچو ! باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو ، نماز قائم کرو زکوٰة دو ، اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے ہیں ان کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ، تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہو مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ، حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو ؟ کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے ؟ “ ایک دوسری جگہ تفصیل سے وہ رویہ اور طرز عمل بیان کیا گیا ہے جو بنی اسرائیل نے اپنے رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اختیار کیا تھا کہ کس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کا کفران کیا ۔ کس طرح انہوں نے کتاب اللہ اور شریعت کے بارے میں بےعملی کا مظاہرہ کیا اور باربار اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کو توڑا۔ یہ کچھ بالتفصیل بیان کرکے قرآن مجید مسلمانوں کو متنبہ کرتا ہے ۔ اے مسلمانو ! اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے ؟ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی ۔ محمد رسول اللہ کو ماننے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی انہیں مانتے ہیں اور جب آپس ایک دوسرے سے تخلئے کی بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ بیوقوف ہوگئے ہو ؟ ان لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو ، جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے مقابلے میں انہیں حجت میں پیش کریں ۔ “ (البقرہ :72:2) ” وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز چھونے والی نہیں ہے ۔ الا یہ کہ چند روز کی سزا مل جائے ، تو مل جائے ان سے پوچھو ، کیا تم نے اللہ کے سے کوئی عہد لے لیا ہے ، جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کرسکتا ؟ یا یہ بات ہے کہ تم اللہ کے ذمے ڈال کر ایسی بات کہہ دیتے ہو ، جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ اس نے ان کا ذمہ لیا ہے۔ “ (البقرہ :80:2) ” اور اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے ۔ اس کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے ؟ باوجودیکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی ، باوجودیکہ اس کی آمد سے قبل وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح ونصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے ، مگر جب وہ چیز آگئی ، جسے وہ پہچان بھی گئے ، تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا ۔ اللہ کی لعنت ان منکرین پر۔ “ (89:2) ” جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے ، اس پر ایمان لاؤ تو کہتے ہیں ” ہم تو صرف اس چیز پر ایمان لاتے ہیں جو ہمارے ہاں یعنی نسل بنی اسرائیل میں اتری ہے۔ اس دائرے کے باہر جو کچھ آیا ہے اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں ، حالانکہ وہ حق ہے اور اس تعلیم کی تصدیق وتائید کررہا ہے ، جو ان کے پاس پہلے سے موجود ہے۔ “ (91:2) ” اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسول اس کتاب کی تائید وتصدیق کرتا ہوا آیا ، جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی ، تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو ، اس طرح پس پشت ڈالا ، گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں ۔ “ (101:2) ” یہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرک ہوں ، ہرگز یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی نازل ہو۔ “ (15:2) ” اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر کفر کی طرف پلٹالے جائیں ۔ اگرچہ حق ان پر ظاہر ہوچکا مگر اپنے نفس کی حسد کی بناپر تمہارے لئے ان کی یہ خواہش ہے ۔ “ (109:2) ” ان کا کہنا ہے کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا جب تک وہ یہودی نہ ہو یا (عیسائیوں کے خیال کے مطابق) عیسائی نہ ہو۔ یہ ان کی تمنائیں ہیں ۔ “ (111:2) ” یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے ، جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ “ (120:2) یہ قرآن مجید کا زندہ جاوید معجزہ ہے کہ قرآن نے ان یہودیوں کو جس صفت سے موصوف کیا وہ صفت آج تک ان کے ساتھ چپکی ہوئی ہے اور یہ صفت ہے جو ان کی ہرنسل میں ان کے ساتھ لازم رہی ہے ۔ خواہ وہ نسل قبل اسلام گزری ہو یا اسلام کے بعد آج تک کسی دور میں رہی ہو ۔ قرآن کریم ان کو یوں خطاب کرتا ہے گویا یہود ان یثرب بذات خود حضرت موسیٰ اور آپ کے بعد آنے والے انبیاء (علیہم السلام) کے ادوار میں موجود تھے۔ کیونکہ اول روز سے بنی اسرائیل کی یہی فطرت رہی ہے ۔ ان کے اوصاف وہی ہیں ۔ ان کا طرزعمل وہی ہے اور حق وصداقت کے ساتھ وہ ہر دور اور ہر زمانے میں ایک ہی برتاؤ کرتے چلے آئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دوران کلام قوم موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آنے والی اسرائیلی نسلوں کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں ۔ اور قرآن مجید کے یہ زندہ کلمات آج بھی امت مسلمہ اور یہودیوں کے باہم تعلق اور موقف کو ظاہر کررہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ یہودی دعوت اسلامی اور امت مسلمہ کے مقابلے میں آج بھی وہی طرز عمل اختیار کررہے ہیں جو انہوں نے آج سے صدیوں قبل اختیار کیا اور یہی ان کا طرزعمل مستقبل میں بھی ہوگا۔ یہ قرآنی آیات اس وقت امت مسلمہ کے لئے ایک دائمی ہدایت اور تنبیہ کی حیثیت رکھتی تھیں اور آج بھی وہ یہی بتارہی ہیں کہ اعداء اسلام نے ہمارے اسلاف کے ساتھ جو رویہ روا رکھا تھا وہی پالیسی وہ آج بھی اختیار کریں گے ۔ آج بھی ان کی ریشہ دوانیاں اور مکر و فریب ویسے ہی ہیں جیسے یثرب میں تھے ۔ وہ ہر دور میں اسلام کے خلاف مختلف اور متنوع طریقوں سے برسرپیکار ہے ۔ لیکن اس جنگ کی حقیقت صرف ایک رہی یعنی اسلام دشمنی ۔ غرض اس صورت میں جہاں یہودیوں کے یہ اوصاف بیان ہوئے ہیں اور مسلمانوں کو ان کی سازشوں سے متنبہ کیا گیا ، وہاں اسلامی جماعت کی تشکیل اور اس دنیا میں اسلامی نظریہ حیات کی امانت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے ، اسے تیار کرنے اور اس کی تربیت کرنے کے طریقے بھی بتائے گئے ہیں ، جبکہ بنی اسرائیل ایک زمانے سے اس امانت کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوچکے تھے اور آخر میں انہوں نے اس نظریہ حیات کے بارے میں یہ معاندانہ رویہ اختیار کرلیا تھا۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ آئے ہیں سورت کا آغاز ان طبقات کے ذکر سے ہوتا ہے جنہوں نے ہجرت کے متصلاً بعد تحریک اسلامی کے بارے میں مختلف طرز ہائے عمل اختیار کر رکھے تھے ۔ ان طبقات میں شیاطین بنی اسرائیل کی طرف مخصوص اشارے بھی تھے ۔ جن کا ذکر بعد میں مفصل ہوا۔ اس سورت کے آغاز میں جن طبقات کا ذکر ہوا ہے ان کی نوعیت ایسی ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں دعوت اسلامی کے مقابلے میں لوگوں نے ایسے ہی طرز عمل اختیار کئے ۔ اس کے بعد پوری سورت کے مباحث اپنے انہی متوازی خطوط پر چل رہے ہیں جن میں اس وحدت ویگانت کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ جس سے اس سورت کی خاص شخصیت کا ظہور ہورہا ہے ، حالانکہ اس کے موضوعات سخن میں کافی تنوع پایا جاتا ہے۔ کافرین اور منافقین کے تین طبقات کے ذکر اور شیاطین یہود کی طرف اشارات کے بعد اب تمام انساں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور اللہ نے اپنے بندے پر جو کتاب نازل کی ہے ، اس پر ایمان لے آئیں ۔ کافروں کو چیلنج دیا جاتا ہے کہ اگر وہ کتاب کی صداقت میں شک کرتے ہیں تو پھر اس جیسی کوئی ایک سورت لے آئیں ، کافروں کو آگ سے ڈرایا جاتا ہے اور مومنین کو جنتوں کی خوشخبری دی جاتی ہے ۔ اس کے بعد کافروں کو غور وفکر کی دعوت دی جاتی ہے اور متعجبانہ انداز میں ان کے کفر کی تردید کی جاتی ہے ۔ ” تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویہ کیسے اختیار کرتے ہو ؟ حالانکہ تم بےجان تھے ، اس نے تمہیں زندگی عطا کی ، پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے ۔ وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں ۔ پھر اوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کئے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے ۔ “ (29:2) اس حقیقت کی طرف اشارے کے بعد ، کہ زمین کی تمام مخلوقات کو انسان کے لئے پیدا کیا گیا ہے ، حضرت آدم (علیہ السلام) کی خلافت فی الارض کا بیان شروع ہوجاتا ہے۔ ” پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو ، جب اس کے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔ “ اس کے بعد قصے کی تفصیلات بیان ہوتی ہیں ۔ آدم وابلیس کا معرکہ پیش آتا ہے اور آخرکار آدم (علیہ السلام) کا نزول ہوتا ہے اور زمین کے اندر ” عہد خلافت آدم “ کا آغاز ہوتا ہے ۔ جو دراصل دور ایمان ہے۔ ہم نے کہا ” تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو یہ لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ، ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے ، وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں ، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ (39:2) اس کے بعد بنی اسرائیل کی تاریخ پر طویل ترین تبصرہ شروع ہوتا ہے جس کے چند فقرے ہم اسے پہلے نقل کر آئے ہیں ۔ اس تبصرے اور تنقید کے درمیان جگہ جگہ انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اسلامی نظام حیات کو اپنالیں اور اس کتاب پر ایمان لے آئیں جو ان کتابوں کی تصدیق کررہی ہے جن کے حامل وہ خود ہیں ۔ ساتھ ساتھ انہیں یہ تنبیہ کی جارہی ہے کہ انہوں نے کیا کیا کو تاہیاں کیں۔ کس طرح وہ راہ راست سے بھٹکتے رہے اور حق و باطل کی آمیزش کرتے رہے ۔ بنی اسرائیل کے ساتھ بحث وتمحیص قرآن مجید کے پہلے پارے کے آخر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس پوری بحث سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ بنی اسرائیل نے دین اسلام ، نبی ﷺ اور قرآن مجید کا استقبال کس طرح کیا ۔ سب سے پہلے انہوں نے کفر کارویہ اختیار کیا ۔ انہوں حق و باطل کی تلبیس کی ، وہ دوسرے لوگوں کو تو یہ مشورہ دیتے کہ وہ ایمان لے آئیں لیکن خود اپنے آپ کو بھول جاتے ۔ وہ کلام اللہ سنتے ، اچھی طرح سمجھتے لیکن اس کے بعد اس کو غلط معانی پہنا کر جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ۔ وہ پہلے ایمان کا اظہار کرتے اور پھر کفر کا اعلان کرکے مومنین صادقین کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے اور جب آپس میں اکھٹے ہوتے تو ایک دوسرے کو بتاکید یہ کہتے کہ ” خبردار ! وہ راز کی باتیں مسلمانوں کو نہ بتانا ، جو حضرت نبی ﷺ کے بارے میں کتب سابقہ میں وارد ہیں اور جنہیں انہوں نے چھپا رکھا تھا۔ انہوں نے کوششیں کیں کہ کسی طرح مومنین کو دوبارہ کفر کی روش پر مجبور کردیں ۔ وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ صحیح اہل ہدایت ہیں ہی یہود ۔ جیسا کہ نصرانیوں کا خیال تھا کے روئے زمین پر اہل ہدایت صرف وہ ہیں وہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے محض اس لئے دشمن ہوگئے تھے کہ بقول ان کے انہوں نے ان کو چھوڑ کر پیغام خداوندی حضرت محمد ﷺ کے پاس پہنچادیا ۔ وہ مسلمانوں کی ہر کامیابی پر متغیض ہوجاتے اور ان کی بربادی کے منتظر رہتے ، وہ ہر لحظہ یہ کوشش کرتے کہ وحی الٰہی اور نبی ﷺ کے احکام واوامر میں شک پیدا کیا جائے ۔ اور تحویل قبلہ کے موقع پر تو ان کے پروپیگنڈے کی تو کوئی انتہانہ رہی ۔ منافقین کے ساتھ ربط وضبط رکھتے تھے اور ہر وقت ان کی راہنمائی کرتے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کھل کر کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت میں ان کے کردار پر سخت ترین تنقید پائی جاتی ہے اور سورت انہیں یاددلاتی ہے کہ انہوں نے یہی طرز عمل خود اپنے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں اختیار کیا تھا اور آپ کے بعد بھی انبیاء ورسل کے ساتھ یہ لوگ ایسا سلوک کرتے رہے ۔ نسلوں تک ان کا رویہ یہی رہا ۔ قرآن کریم انہیں اس طرح مخاطب کرتا ہے کہ بنی اسرائیل جہاں اور جس دور میں بھی ہوں گویا وہ ایک ہی گروہ ہے کیونکہ وہ ایک ہی فطرت اور جبلت رکھتے ہیں جس میں کبھی بھی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ اس طویل ترین تنقید کے آخر میں مسلمانوں کو بنی اسرائیل کے ایمان سے مایوس کردیا جاتا ہے کیونکہ ان کی یہ خود غرضانہ ذہنیت اور مطلب پرستی اور سڑی ہوئی اور خبیث طبعیت ان کے ایمان کی راہ میں رکاوٹ ہے اور بالآخر یہ تقریر ان کے اس دعوے کی تردید پر ختم ہوتی ہے کہ ” صرف وہی ہدایت پر ہیں کیونکہ وہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث ہیں “ اور بتایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیح وارث وہی لوگ ہیں جو سنت ابراہیمی پر چلتے ہیں اور اس عہد کی پابندی کرتے ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کے ساتھ باندھا تھا لہٰذا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وراثت اور جانشینی گویا اب حضرت محمد ﷺ اور مومنین کو حاصل ہوگئی ہے ، کیونکہ یہودی راہ راست سے بھٹک گئے ، اپنے دین کو تبدیل کردیا اور اب وہ اسلامی نظریہ حیات کی امانت کی حفاظت کے اہل اور اس زمین پر منصب خلافت الٰہی کے قابل نہیں رہے لہٰذا یہ ذمہ داری اب حضرت محمد ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والوں نے اپنے کاندھوں پر لے لی ۔ خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے جو دعا کی تھی امت مسلمہ کا برپا ہونا گویا اس دعا کی قبولیت کا مجسم ظہور تھا ، انہوں نے کہا تھا : ” اے رب ہم دونوں کو اپنا مطیع بنا ، ہماری نسل سے ایک ایسی امت اٹھا ، جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزرفرما ، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے اور اے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو جو انہیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنواردے ۔ تو بڑامقتدر اور حکیم ہے۔ “ (129:2) اب یہاں سے قرآن مجید کا خطاب اور روئے سخن نبی ﷺ اور آپ کے گرد جمع ہونے جماعت مسلمہ کی طرف پھرجاتا ہے اور وہ اصول وقواعد بیان کئے جاتے ہیں جن پر اس نئی جماعت کی تشکیل ہوئی ہے جو دعوت دین کا کام لے کر اٹھی ہے اور یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس جماعت کا ایک خاص مزاج ہے اور نظریہ وعمل میں وہ ایک مخصوص زاویہ نگاہ رکھتی ہے۔ امت مسلمہ کی خصوصیات کا بیان تحویل قبلہ سے شروع ہوجاتا ہے ۔ وہ سمت متعین ہوجاتی ہے جس کی امت مسلمہ کو متوجہ ہونا ہے ۔ یہ نیا قبلہ بیت الحرام ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے اللہ کے خاص احکامات کے تحت تعمیر کیا تھا۔ اللہ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اسے تعمیر کریں اور پاک وصاف کریں تاکہ وہاں صرف ایک اللہ تعالیٰ کی پرستش کی جائے ۔ خود نبی ﷺ کی خواہش یہی تھی کہ قبلہ بدل دیا جائے لیکن آپ نے کبھی اس کا اظہار نہ کیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” یہ تمہارے منہ کا باربار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں ۔ لو ہم اس قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں ، جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو اب جہاں کہیں تم ہو ، اس طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرو۔ “ (142:2) اس کے بعد اسلامی نظام حیات کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں ، جس پر اس جماعت نے عمل پیرا ہونا ہے ۔ نظریہ حیات اور طریق عبادت اور سلوک ومعاملات کا بیان شروع ہوجاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ راہ حق میں جو لوگ جانیں دیتے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو وہ تو زندہ جاوید ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خوف ، بھوک ، مالی نقصانات ، فصلوں اور پھلوں کی تباہی جیسی ابتلائیں محض اذیتیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ آزمائشیں ہوتی ہیں ۔ اور یہ ہمیشہ ان لوگوں کی راہ میں آتی ہیں جو دعوت حق کو لے کر اٹھتے ہیں ۔ تنبیہ کی جاتی ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں شیطان تمہیں فقر ومسکنت سے ڈراتا ہے اور فحاشی اور بےحیائی پر آمادہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ تم سے یہ ہوتا ہے کہ وہ تمہیں بخش دے گا۔ اور تمہیں اپنے فضل سے نوازے گا ۔ یہ کہ اللہ تعالیٰ مومنین کا والی اور مددگار ہے اور وہ انہیں ان اندھیروں میں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے اور کافروں کے والی طاغوت ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں پھینک دیتے ہیں ۔ اس کے بعد کھانے پینے کی چیزوں میں حلال و حرام احکامات بیان کئے جاتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ نیکی کی حقیقت کیا ہے ۔ صرف ظاہری شکل و صورت ہی کو دیکھ کر نیک و بد کا فیصلہ نہ کرنا چاہئے ۔ پھر قتل میں قصاص کے احکام ، وصیت کے احکام روزے کے احکام ، جہاد کے احکام ، حج کے احکام اور نکاح و طلاق کے احکام بیان کئے جاتے ہیں ۔ اسلام کے عائلی نظام کی دقیق شیرازہ بندی کی جاتی ہے ۔ اور نظام معیشت میں زکوٰة ، ربا کی حرمت ، لین دین اور تجارت کے احکامات بیان ہوتے ہیں ۔ ان تمام موضوعات پر بحث کرتے ہوئے دوران گفتگو ، موقع ومحل کی مناسبت سے ، موسیٰ (علیہما السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے حالات کی طرف اشارہ بھی کیا جاتا ہے ۔ اور حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کی زندگی کے کچھ پہلو بھی بیان ہوتے ہیں ۔ لیکن پہلے پارے کے بعد پوری سورت میں روئے سخن مستقلاً اسلامی جماعت کی طرف پھرجاتا ہے ۔ اسے اسلامی نظام حیات کی ذمہ داریوں کو اٹھانے اور اللہ کی شریعت کے مطابق ، زمین میں نظام خلافت کے قیام کی ذمہ داریوں کے لئے تیار کیا جاتا ہے اور اس طرح امت مسلمہ کو تمام دوسری امتوں سے ممتاز کردیا جاتا ہے ۔ کیونکہ یہ امت خود اس کائنات اور رب کائنات (جس نے اس امت کو اس عظیم منصب کے لئے چنا ) کے درمیان ربط وتعلق کی نوعیت کے بارے میں ایک مخصوص نقطہ نظر رکھتی ہے۔ سورت کے آخر میں پہنچ کر ہم دیکھتے ہیں کہ کلام کے خاتمے میں سورت کے ابتدائیہ کو دہرایا جاتا ہے۔ ایمانی نظریہ حیات کی حقیقت کی وضاحت ہوتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ امت مسلمہ تمام انبیاء پر ایمان رکھتی ہے ۔ نیز تمام کتب سماوی پر اس کا ایمان ہے اور وہ انبیاء کے بیان کردہ امور غیبیہ پر بھی یقین رکھتی ہے اور انبیاء کی تعلیمات کو مانتی ہے اور دل وجان سے مطیع فرمان ہے۔ فرمایا جاتا ہے : ” رسول اس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب سے اس پر نازل ہوئی ہے اور جو لوگ اس رسول اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں ۔ اور ان کا قول یہ ہے کہ ” ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے ، ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی ۔ مالک ! تجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے ۔ اللہ کسی متنفس پر ، اس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا ، ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے ، اس کا پھل اس کے لئے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے اس کا وبال اسی پر ہے ۔ (ایمان لانے والو ! تم یوں دعا کیا کرو) اے ہمارے رب ! ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہوجائیں ، ان پر گرفت نہ کر ۔ مالک ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے ۔ پروردگار ! جس بار کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے ، وہ ہم پر نہ رکھ ۔ ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگذر فرما ، ہم پر رحم کر ، تو ہمارا مولیٰ ہے ، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ “ اسی طرح آغاز و انجام کے درمیان پوری پوری یک رنگی پائی جاتی ہے اور سورت کے تمام موضوعات سخن مومنین صادقین کی صفات اور خصوصیات کے ان دوبیانوں کے درمیان سمٹ جاتے ہیں ۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

البقرة 2:5

تفسیر آیت 1 تا 5 مومنین کی یہ صفات بیان کرنے کے بعد سیاق کلام میں متصلاً کفار کی صفات کا بیان آجاتا ہے ۔ اگرچہ علی العموم ان صفات کا تعلق بھی تمام کفار سے ہے لیکن ان کا سب سے پہلامصداق وہ کفار بنے جو اس وقت دعوت اسلامی کی راہ روکے کھڑے تھے ۔ خواہ وہ مکی کفار ہوں یا ان کا تعلق مدینہ اور اس کے ماحول سے ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :•إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ (6) خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (7) ” جن لوگوں نے ان باتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ، ان کے لئے یکساں ہے ، خواہ تم انہیں خبردارکرو یا نہ کرو ، بہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں ۔ اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے ۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ ان دوگروہوں کے علاوہ منافقین کا ایک تیسرا گروہ بھی موجود تھا جیسا کہ ہم نے بالتفصیل بتایا ، جن حالات میں نبیeمدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی تھی ، ان کا قدرتی نتیجہ یہ تھا کہ ہجرت کی تکمیل کے فوراً بعد ہی وہ گروہ پیدا ہوگیا ۔ مکہ میں اس گروہ کا وجود نہ تھا۔ کیونکہ وہاں اسلام کی پشت پر کوئی قوت اور حکومت نہ تھی اور نہ کوئی ایسی قومی جماعت تھی جس سے ڈر کر قریش اسلام کے بارے میں کوئی منافقانہ رویہ اختیار کرتے بلکہ اس کے برعکس مکہ میں اسلام کمزور تھا۔ دعوت ہر قسم کے خطرات میں گھری ہوئی تھی ۔ صرف مخلصین ہی تھے جو اس دور میں دعوت اسلامی کی صفوں میں شامل ہونے کی جراءت کرسکتے تھے ، جو اس کی راہ میں ہر قسم کے مصائب جھیلنے کے لئے تیار تھے اور اس کے لئے سب کچھ لٹانے پر تلے ہوتے تھے لیکن یثرب ....(جو پہلے ہی دن سے مدینہ الرسول کے نام سے مشہور ہوگیا) میں حالات کا رخ یکلخت بدل گیا تھا۔ اسلام ایک ایسی قوت بن گیا تھا جسے ہر شخص محسوس کرنے لگا تھا اور ہر کوئی مجبور تھا کہ وہ اس قوت سے تھوڑا بہت بنائے رکھے ۔ بالخصوص جنگ بدر کی عظیم کامیابی کے بعد تو بڑوں بڑوں کی گردنیں جھک گئی تھیں ۔ جو لوگ روش نفاق پر مجبور تھے ان میں بعض کبرائے یثرب بھی تھے ۔ ان کے خاندان اور قبیلے کے لوگ اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ اس لئے یہ کبراء بھی اپنی سابقہ پوزیشن کو بحال رکھنے کے لئے اور اپنے مخصوص مصالح کی خاطر بظاہر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ ایسے لوگوں میں عبداللہ بن ابی ابن سلول کا نام سرفہرست تھا۔ کیونکہ مسلمانوں کی ہجرت سے کچھ قبل ہی اس کی قوم نے یہ پروگرام بنایا تھا کہ اسے بادشاہ بنادیں ۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اس کی قوم اس کے لئے ہار اور تاج تیار کررہی تھی ۔ سورة بقرہ کی ابتداء میں بالتفصیل ان منافقین کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں ۔ بعض فقروں سے یہ معلوم ہوتا ہے اکثر وبیشتر فقروں کا مصداق یہی بڑے لوگ ہیں جنہوں نے حالات سے مجبور ہوکر اپنے آپ کو دائرہ اسلام میں داخل کردیا تھا۔ لیکن وہ اب بھی عوام الناس پر اپنی لیڈر شپ قائم رکھنے کے خواب دیکھ رہے تھے ۔ اور عام طور پر ایسے متکبرین اکابرین جس طرح ، عوام کے بارے میں رائے رکھتے ہیں اسی طرح یہ لوگ اسلام قبول کرنے والوں کو ” بیوقوف “ لوگ کہہ کر پکارتے تھے چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں ، حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں ۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں ۔ مگر دراصل وہ اپنے آپ کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھادیا اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں اس کی پاداش میں ان کے لئے دردناک سزا ہے ۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپانہ کرو ” تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔ خبردار ! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں ، اسی طرح تم بھی ایمان لے آؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم بیوقوں کی طرح ایمان لائیں ؟ ، اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں ، تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں .... اللہ ان سے مذاق کررہا ہے ، وہ ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے ، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکے چکے جاتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے ، مگر یہ سودا ان کے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب سارا ماحول چمک اٹھا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کرلیا اور انہیں اس حال پرچھوڑدیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا ۔ یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں ۔ یہ اب نہ پلٹیں گے یاپھران کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے۔ اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک چمک بھی ہے ۔ یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لئے ہوئے ہے ۔ چمک سے ان کی یہ حالت ہورہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی ان کی بصارت اچک لے جائے گی ۔ جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دور چل لیتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کرلیتا یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ مریض دل منافقین پر اس بھرپور وار کے دوران ، ان کے شیاطین کی طرف اشارے ملتے ہیں ۔ اس سورت کے سیاق وسباق اور نبی ﷺ کی سیرت طیبہ کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد یہود ہیں ۔ کیونکہ اس سورت میں ان کے کردارپر بھرپور تنقید کی گئی ہے ۔ دعوت اسلامی کے بارے میں یہودیوں نے جو طرزعمل اختیار کیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں یہود وہ پہلا طبقہ تھا جس نے تحریک اسلامی سے ٹکر لی اور اس ٹکراؤ اور تصادم کے متعدداسباب تھے ۔ وہ اوس خزرج جیسی امی اقوام کے مقابلے میں ، اہل کتاب ہونے کی وجہ سے ایک ممتاز مقام رکھتے تھے ۔ مشرکین عرب میں اگرچہ یہود کی طرف میلان کم پایا جاتا تھا لیکن وہ آسمانی کتاب وہدایت رکھنے کی وجہ سے یہودیوں کے لئے مفید طلب تھیں ۔ فتنہ و فساد اور تشتت وافتراق وہ میدان ہے جس میں یہودی زیادہ چابکدستی سے کام کرتے ہیں ، لیکن جب اسلام آیاتو یہودیوں کے ان تمام مفادات پر زد پڑی ۔ وہ ایک ایسی کتاب لے کر آیاجو سابقہ کتب کی تصدیق کرتی تھی اور ان کی تعلیمات کی محافظ تھی ۔ پھر اسلام نے اوس اور خزرج کے اختلافات کو بھی ختم کردیا ، جن کے ذریعے یہودی اپنے مکروفریب کا جال بچھاتے تھے اور مالی مفادات حاصل کرتے تھے ۔ اوس اور خزرج کے باہم دست گریبان لوگ اسلامی صفوں میں آکر ایک دوسرے سے گلے مل گئے اور اوس اور خزرج کے بجائے وہ دونوں مہاجرین کی نصرت کی وجہ سے انصار کہلانے لگے ۔ اور ان سب عناصر کو ملاکر اسلام نے وہ بےنظیر اور نیا اسلامی معاشرہ تیار کیا جس کے تمام افراد متحد اور متفق تھے ، یوں کہ گویا وہ تمام ایک ہی جسم کے مختلف اعضاء ہیں اور جس کی مثال نہ اس سے پہلے کبھی تاریخ میں پائی گئی اور نہ اس کے بعد آج تک وجود میں آسکی ۔ یہودی اپنے آپ کو اللہ کی مختار اور برگزیدہ قوم سمجھتے تھے ۔ ان میں بیشمار رسول اور نبی مبعوث ہوئے تھے اور وہ متعدد کتابوں کے حامل تھے ۔ وہ ہمیشہ اس کی توقع رکھتے تھے اور شدت سے منتظر بھی تھے کہ نبی آخرالزماں خود ان کے ہاں مبعوث ہوگا لیکن جب وہ عربوں میں مبعوث ہوا تو پھر انہوں نے یہ توقعات باندھ لیں کہ شاید نیا نبی ان کو اپنے دائر دعوت سے باہر رکھے گا اور اپنی دعوت کو ان پڑھ عربوں تک ہی محدودرکھے گا ۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ وہ سب سے پہلے اہل کتاب کو اللہ کی اس آخری کتاب کی دعوت دے رہا ہے اور اس بات پر وہ دلیل یہ پیش کرتا ہے کہ وہ عربوں کی نسبت زیادہ ذی علم ہیں اور ان کا یہ فرض ہے کہ وہ مشرکین سے بھی پہلے اس دعوت حق پر لبیک کہیں تو ان کے غرورنفس نے انہیں نافرمانی پر آمادہ کرلیا اور انہوں نے اسے اپنے لئے اہانت سمجھا اور اپنے مذہب کے خلاف اس نئی دعوت کو دست درازی تصور کرنے لگے ۔ اب یہودی نبی ﷺ کے خلاف شدید حسد وبغض میں مبتلا ہوگئے ۔ ایک تو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزماں کے منصب کے لئے آپ کو منتخب فرمایا اور آپ کو کتاب دی جس کی صداقت میں یہودیوں کو ذرہ بھر بھی شبہ نہ تھا۔ دوسرے اس لئے کہ ظہور نبوت کے ساتھ ساتھ آپ کو اس نئے ماحول میں برق رفتار کامیابی حاصل ہوگئی ، ان اسباب کے علاوہ اس حسد وبغض ، تحریک اسلامی سے عداوت اور اس کے خلاف ہر قسم کے اوچھے ہتھیار استعمال کرنے کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ یہودی اس بات کا پختہ شعور رکھتے تھے کہ نئے حالات میں یا تو انہیں اس نئے معاشرے سے پوری طرح کٹ جانا ہوگا اور اس صورت میں ان کی فکری قیادت ، تجارت اور سودی کاروبار کے تمام مفادات ختم ہوجائیں گے اور یا پھر انہیں پوری طرح اس نئے معاشرے میں ضم ہوکر گم ہوجانا ہوگا اور یہ دونوں گولیاں ایسی ہیں کہ جو کسی قیمت پر بھی ، ایک یہودی کے حلق سے نیچے نہیں اترسکتیں ۔ یہ تھے وہ وجوہات جن کی بناپر یہود ان مدینہ نے تحریک اسلامی کے مقابلے میں وہ سخت رویہ اختیار کیا ، جس کی تفصیل سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں بیان کی گئی ہے ۔ ہم یہاں ایسی چند آیات نقل کررہے ہیں جن میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ” اے بنی اسرائیل ! ذرا خیال کرو اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی ، میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا ، اسے پورا کرو ، تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ ہے اسے میں پورا کروں گا ، اور مجھ ہی سے ڈرو ، اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے ، اس پر ایمان لاؤ ۔ یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی، لہٰذاسب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاؤ۔ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو۔ اور مرے غضب سے بچو ! باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو ، نماز قائم کرو زکوٰة دو ، اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے ہیں ان کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ، تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہو مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ، حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو ؟ کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے ؟ “ ایک دوسری جگہ تفصیل سے وہ رویہ اور طرز عمل بیان کیا گیا ہے جو بنی اسرائیل نے اپنے رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اختیار کیا تھا کہ کس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کا کفران کیا ۔ کس طرح انہوں نے کتاب اللہ اور شریعت کے بارے میں بےعملی کا مظاہرہ کیا اور باربار اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کو توڑا۔ یہ کچھ بالتفصیل بیان کرکے قرآن مجید مسلمانوں کو متنبہ کرتا ہے ۔ اے مسلمانو ! اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے ؟ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی ۔ محمد رسول اللہ کو ماننے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی انہیں مانتے ہیں اور جب آپس ایک دوسرے سے تخلئے کی بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ بیوقوف ہوگئے ہو ؟ ان لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو ، جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے مقابلے میں انہیں حجت میں پیش کریں ۔ “ (البقرہ :72:2) ” وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز چھونے والی نہیں ہے ۔ الا یہ کہ چند روز کی سزا مل جائے ، تو مل جائے ان سے پوچھو ، کیا تم نے اللہ کے سے کوئی عہد لے لیا ہے ، جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کرسکتا ؟ یا یہ بات ہے کہ تم اللہ کے ذمے ڈال کر ایسی بات کہہ دیتے ہو ، جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ اس نے ان کا ذمہ لیا ہے۔ “ (البقرہ :80:2) ” اور اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے ۔ اس کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے ؟ باوجودیکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی ، باوجودیکہ اس کی آمد سے قبل وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح ونصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے ، مگر جب وہ چیز آگئی ، جسے وہ پہچان بھی گئے ، تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا ۔ اللہ کی لعنت ان منکرین پر۔ “ (89:2) ” جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے ، اس پر ایمان لاؤ تو کہتے ہیں ” ہم تو صرف اس چیز پر ایمان لاتے ہیں جو ہمارے ہاں یعنی نسل بنی اسرائیل میں اتری ہے۔ اس دائرے کے باہر جو کچھ آیا ہے اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں ، حالانکہ وہ حق ہے اور اس تعلیم کی تصدیق وتائید کررہا ہے ، جو ان کے پاس پہلے سے موجود ہے۔ “ (91:2) ” اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسول اس کتاب کی تائید وتصدیق کرتا ہوا آیا ، جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی ، تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو ، اس طرح پس پشت ڈالا ، گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں ۔ “ (101:2) ” یہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرک ہوں ، ہرگز یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی نازل ہو۔ “ (15:2) ” اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر کفر کی طرف پلٹالے جائیں ۔ اگرچہ حق ان پر ظاہر ہوچکا مگر اپنے نفس کی حسد کی بناپر تمہارے لئے ان کی یہ خواہش ہے ۔ “ (109:2) ” ان کا کہنا ہے کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا جب تک وہ یہودی نہ ہو یا (عیسائیوں کے خیال کے مطابق) عیسائی نہ ہو۔ یہ ان کی تمنائیں ہیں ۔ “ (111:2) ” یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے ، جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ “ (120:2) یہ قرآن مجید کا زندہ جاوید معجزہ ہے کہ قرآن نے ان یہودیوں کو جس صفت سے موصوف کیا وہ صفت آج تک ان کے ساتھ چپکی ہوئی ہے اور یہ صفت ہے جو ان کی ہرنسل میں ان کے ساتھ لازم رہی ہے ۔ خواہ وہ نسل قبل اسلام گزری ہو یا اسلام کے بعد آج تک کسی دور میں رہی ہو ۔ قرآن کریم ان کو یوں خطاب کرتا ہے گویا یہود ان یثرب بذات خود حضرت موسیٰ اور آپ کے بعد آنے والے انبیاء (علیہم السلام) کے ادوار میں موجود تھے۔ کیونکہ اول روز سے بنی اسرائیل کی یہی فطرت رہی ہے ۔ ان کے اوصاف وہی ہیں ۔ ان کا طرزعمل وہی ہے اور حق وصداقت کے ساتھ وہ ہر دور اور ہر زمانے میں ایک ہی برتاؤ کرتے چلے آئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دوران کلام قوم موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آنے والی اسرائیلی نسلوں کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں ۔ اور قرآن مجید کے یہ زندہ کلمات آج بھی امت مسلمہ اور یہودیوں کے باہم تعلق اور موقف کو ظاہر کررہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ یہودی دعوت اسلامی اور امت مسلمہ کے مقابلے میں آج بھی وہی طرز عمل اختیار کررہے ہیں جو انہوں نے آج سے صدیوں قبل اختیار کیا اور یہی ان کا طرزعمل مستقبل میں بھی ہوگا۔ یہ قرآنی آیات اس وقت امت مسلمہ کے لئے ایک دائمی ہدایت اور تنبیہ کی حیثیت رکھتی تھیں اور آج بھی وہ یہی بتارہی ہیں کہ اعداء اسلام نے ہمارے اسلاف کے ساتھ جو رویہ روا رکھا تھا وہی پالیسی وہ آج بھی اختیار کریں گے ۔ آج بھی ان کی ریشہ دوانیاں اور مکر و فریب ویسے ہی ہیں جیسے یثرب میں تھے ۔ وہ ہر دور میں اسلام کے خلاف مختلف اور متنوع طریقوں سے برسرپیکار ہے ۔ لیکن اس جنگ کی حقیقت صرف ایک رہی یعنی اسلام دشمنی ۔ غرض اس صورت میں جہاں یہودیوں کے یہ اوصاف بیان ہوئے ہیں اور مسلمانوں کو ان کی سازشوں سے متنبہ کیا گیا ، وہاں اسلامی جماعت کی تشکیل اور اس دنیا میں اسلامی نظریہ حیات کی امانت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے ، اسے تیار کرنے اور اس کی تربیت کرنے کے طریقے بھی بتائے گئے ہیں ، جبکہ بنی اسرائیل ایک زمانے سے اس امانت کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوچکے تھے اور آخر میں انہوں نے اس نظریہ حیات کے بارے میں یہ معاندانہ رویہ اختیار کرلیا تھا۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ آئے ہیں سورت کا آغاز ان طبقات کے ذکر سے ہوتا ہے جنہوں نے ہجرت کے متصلاً بعد تحریک اسلامی کے بارے میں مختلف طرز ہائے عمل اختیار کر رکھے تھے ۔ ان طبقات میں شیاطین بنی اسرائیل کی طرف مخصوص اشارے بھی تھے ۔ جن کا ذکر بعد میں مفصل ہوا۔ اس سورت کے آغاز میں جن طبقات کا ذکر ہوا ہے ان کی نوعیت ایسی ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں دعوت اسلامی کے مقابلے میں لوگوں نے ایسے ہی طرز عمل اختیار کئے ۔ اس کے بعد پوری سورت کے مباحث اپنے انہی متوازی خطوط پر چل رہے ہیں جن میں اس وحدت ویگانت کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ جس سے اس سورت کی خاص شخصیت کا ظہور ہورہا ہے ، حالانکہ اس کے موضوعات سخن میں کافی تنوع پایا جاتا ہے۔ کافرین اور منافقین کے تین طبقات کے ذکر اور شیاطین یہود کی طرف اشارات کے بعد اب تمام انساں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور اللہ نے اپنے بندے پر جو کتاب نازل کی ہے ، اس پر ایمان لے آئیں ۔ کافروں کو چیلنج دیا جاتا ہے کہ اگر وہ کتاب کی صداقت میں شک کرتے ہیں تو پھر اس جیسی کوئی ایک سورت لے آئیں ، کافروں کو آگ سے ڈرایا جاتا ہے اور مومنین کو جنتوں کی خوشخبری دی جاتی ہے ۔ اس کے بعد کافروں کو غور وفکر کی دعوت دی جاتی ہے اور متعجبانہ انداز میں ان کے کفر کی تردید کی جاتی ہے ۔ ” تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویہ کیسے اختیار کرتے ہو ؟ حالانکہ تم بےجان تھے ، اس نے تمہیں زندگی عطا کی ، پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے ۔ وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں ۔ پھر اوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کئے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے ۔ “ (29:2) اس حقیقت کی طرف اشارے کے بعد ، کہ زمین کی تمام مخلوقات کو انسان کے لئے پیدا کیا گیا ہے ، حضرت آدم (علیہ السلام) کی خلافت فی الارض کا بیان شروع ہوجاتا ہے۔ ” پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو ، جب اس کے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔ “ اس کے بعد قصے کی تفصیلات بیان ہوتی ہیں ۔ آدم وابلیس کا معرکہ پیش آتا ہے اور آخرکار آدم (علیہ السلام) کا نزول ہوتا ہے اور زمین کے اندر ” عہد خلافت آدم “ کا آغاز ہوتا ہے ۔ جو دراصل دور ایمان ہے۔ ہم نے کہا ” تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو یہ لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ، ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے ، وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں ، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ (39:2) اس کے بعد بنی اسرائیل کی تاریخ پر طویل ترین تبصرہ شروع ہوتا ہے جس کے چند فقرے ہم اسے پہلے نقل کر آئے ہیں ۔ اس تبصرے اور تنقید کے درمیان جگہ جگہ انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اسلامی نظام حیات کو اپنالیں اور اس کتاب پر ایمان لے آئیں جو ان کتابوں کی تصدیق کررہی ہے جن کے حامل وہ خود ہیں ۔ ساتھ ساتھ انہیں یہ تنبیہ کی جارہی ہے کہ انہوں نے کیا کیا کو تاہیاں کیں۔ کس طرح وہ راہ راست سے بھٹکتے رہے اور حق و باطل کی آمیزش کرتے رہے ۔ بنی اسرائیل کے ساتھ بحث وتمحیص قرآن مجید کے پہلے پارے کے آخر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس پوری بحث سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ بنی اسرائیل نے دین اسلام ، نبی ﷺ اور قرآن مجید کا استقبال کس طرح کیا ۔ سب سے پہلے انہوں نے کفر کارویہ اختیار کیا ۔ انہوں حق و باطل کی تلبیس کی ، وہ دوسرے لوگوں کو تو یہ مشورہ دیتے کہ وہ ایمان لے آئیں لیکن خود اپنے آپ کو بھول جاتے ۔ وہ کلام اللہ سنتے ، اچھی طرح سمجھتے لیکن اس کے بعد اس کو غلط معانی پہنا کر جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ۔ وہ پہلے ایمان کا اظہار کرتے اور پھر کفر کا اعلان کرکے مومنین صادقین کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے اور جب آپس میں اکھٹے ہوتے تو ایک دوسرے کو بتاکید یہ کہتے کہ ” خبردار ! وہ راز کی باتیں مسلمانوں کو نہ بتانا ، جو حضرت نبی ﷺ کے بارے میں کتب سابقہ میں وارد ہیں اور جنہیں انہوں نے چھپا رکھا تھا۔ انہوں نے کوششیں کیں کہ کسی طرح مومنین کو دوبارہ کفر کی روش پر مجبور کردیں ۔ وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ صحیح اہل ہدایت ہیں ہی یہود ۔ جیسا کہ نصرانیوں کا خیال تھا کے روئے زمین پر اہل ہدایت صرف وہ ہیں وہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے محض اس لئے دشمن ہوگئے تھے کہ بقول ان کے انہوں نے ان کو چھوڑ کر پیغام خداوندی حضرت محمد ﷺ کے پاس پہنچادیا ۔ وہ مسلمانوں کی ہر کامیابی پر متغیض ہوجاتے اور ان کی بربادی کے منتظر رہتے ، وہ ہر لحظہ یہ کوشش کرتے کہ وحی الٰہی اور نبی ﷺ کے احکام واوامر میں شک پیدا کیا جائے ۔ اور تحویل قبلہ کے موقع پر تو ان کے پروپیگنڈے کی تو کوئی انتہانہ رہی ۔ منافقین کے ساتھ ربط وضبط رکھتے تھے اور ہر وقت ان کی راہنمائی کرتے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کھل کر کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت میں ان کے کردار پر سخت ترین تنقید پائی جاتی ہے اور سورت انہیں یاددلاتی ہے کہ انہوں نے یہی طرز عمل خود اپنے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں اختیار کیا تھا اور آپ کے بعد بھی انبیاء ورسل کے ساتھ یہ لوگ ایسا سلوک کرتے رہے ۔ نسلوں تک ان کا رویہ یہی رہا ۔ قرآن کریم انہیں اس طرح مخاطب کرتا ہے کہ بنی اسرائیل جہاں اور جس دور میں بھی ہوں گویا وہ ایک ہی گروہ ہے کیونکہ وہ ایک ہی فطرت اور جبلت رکھتے ہیں جس میں کبھی بھی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ اس طویل ترین تنقید کے آخر میں مسلمانوں کو بنی اسرائیل کے ایمان سے مایوس کردیا جاتا ہے کیونکہ ان کی یہ خود غرضانہ ذہنیت اور مطلب پرستی اور سڑی ہوئی اور خبیث طبعیت ان کے ایمان کی راہ میں رکاوٹ ہے اور بالآخر یہ تقریر ان کے اس دعوے کی تردید پر ختم ہوتی ہے کہ ” صرف وہی ہدایت پر ہیں کیونکہ وہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث ہیں “ اور بتایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیح وارث وہی لوگ ہیں جو سنت ابراہیمی پر چلتے ہیں اور اس عہد کی پابندی کرتے ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کے ساتھ باندھا تھا لہٰذا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وراثت اور جانشینی گویا اب حضرت محمد ﷺ اور مومنین کو حاصل ہوگئی ہے ، کیونکہ یہودی راہ راست سے بھٹک گئے ، اپنے دین کو تبدیل کردیا اور اب وہ اسلامی نظریہ حیات کی امانت کی حفاظت کے اہل اور اس زمین پر منصب خلافت الٰہی کے قابل نہیں رہے لہٰذا یہ ذمہ داری اب حضرت محمد ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والوں نے اپنے کاندھوں پر لے لی ۔ خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے جو دعا کی تھی امت مسلمہ کا برپا ہونا گویا اس دعا کی قبولیت کا مجسم ظہور تھا ، انہوں نے کہا تھا : ” اے رب ہم دونوں کو اپنا مطیع بنا ، ہماری نسل سے ایک ایسی امت اٹھا ، جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزرفرما ، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے اور اے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو جو انہیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنواردے ۔ تو بڑامقتدر اور حکیم ہے۔ “ (129:2) اب یہاں سے قرآن مجید کا خطاب اور روئے سخن نبی ﷺ اور آپ کے گرد جمع ہونے جماعت مسلمہ کی طرف پھرجاتا ہے اور وہ اصول وقواعد بیان کئے جاتے ہیں جن پر اس نئی جماعت کی تشکیل ہوئی ہے جو دعوت دین کا کام لے کر اٹھی ہے اور یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس جماعت کا ایک خاص مزاج ہے اور نظریہ وعمل میں وہ ایک مخصوص زاویہ نگاہ رکھتی ہے۔ امت مسلمہ کی خصوصیات کا بیان تحویل قبلہ سے شروع ہوجاتا ہے ۔ وہ سمت متعین ہوجاتی ہے جس کی امت مسلمہ کو متوجہ ہونا ہے ۔ یہ نیا قبلہ بیت الحرام ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے اللہ کے خاص احکامات کے تحت تعمیر کیا تھا۔ اللہ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اسے تعمیر کریں اور پاک وصاف کریں تاکہ وہاں صرف ایک اللہ تعالیٰ کی پرستش کی جائے ۔ خود نبی ﷺ کی خواہش یہی تھی کہ قبلہ بدل دیا جائے لیکن آپ نے کبھی اس کا اظہار نہ کیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” یہ تمہارے منہ کا باربار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں ۔ لو ہم اس قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں ، جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو اب جہاں کہیں تم ہو ، اس طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرو۔ “ (142:2) اس کے بعد اسلامی نظام حیات کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں ، جس پر اس جماعت نے عمل پیرا ہونا ہے ۔ نظریہ حیات اور طریق عبادت اور سلوک ومعاملات کا بیان شروع ہوجاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ راہ حق میں جو لوگ جانیں دیتے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو وہ تو زندہ جاوید ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خوف ، بھوک ، مالی نقصانات ، فصلوں اور پھلوں کی تباہی جیسی ابتلائیں محض اذیتیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ آزمائشیں ہوتی ہیں ۔ اور یہ ہمیشہ ان لوگوں کی راہ میں آتی ہیں جو دعوت حق کو لے کر اٹھتے ہیں ۔ تنبیہ کی جاتی ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں شیطان تمہیں فقر ومسکنت سے ڈراتا ہے اور فحاشی اور بےحیائی پر آمادہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ تم سے یہ ہوتا ہے کہ وہ تمہیں بخش دے گا۔ اور تمہیں اپنے فضل سے نوازے گا ۔ یہ کہ اللہ تعالیٰ مومنین کا والی اور مددگار ہے اور وہ انہیں ان اندھیروں میں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے اور کافروں کے والی طاغوت ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں پھینک دیتے ہیں ۔ اس کے بعد کھانے پینے کی چیزوں میں حلال و حرام احکامات بیان کئے جاتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ نیکی کی حقیقت کیا ہے ۔ صرف ظاہری شکل و صورت ہی کو دیکھ کر نیک و بد کا فیصلہ نہ کرنا چاہئے ۔ پھر قتل میں قصاص کے احکام ، وصیت کے احکام روزے کے احکام ، جہاد کے احکام ، حج کے احکام اور نکاح و طلاق کے احکام بیان کئے جاتے ہیں ۔ اسلام کے عائلی نظام کی دقیق شیرازہ بندی کی جاتی ہے ۔ اور نظام معیشت میں زکوٰة ، ربا کی حرمت ، لین دین اور تجارت کے احکامات بیان ہوتے ہیں ۔ ان تمام موضوعات پر بحث کرتے ہوئے دوران گفتگو ، موقع ومحل کی مناسبت سے ، موسیٰ (علیہما السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے حالات کی طرف اشارہ بھی کیا جاتا ہے ۔ اور حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کی زندگی کے کچھ پہلو بھی بیان ہوتے ہیں ۔ لیکن پہلے پارے کے بعد پوری سورت میں روئے سخن مستقلاً اسلامی جماعت کی طرف پھرجاتا ہے ۔ اسے اسلامی نظام حیات کی ذمہ داریوں کو اٹھانے اور اللہ کی شریعت کے مطابق ، زمین میں نظام خلافت کے قیام کی ذمہ داریوں کے لئے تیار کیا جاتا ہے اور اس طرح امت مسلمہ کو تمام دوسری امتوں سے ممتاز کردیا جاتا ہے ۔ کیونکہ یہ امت خود اس کائنات اور رب کائنات (جس نے اس امت کو اس عظیم منصب کے لئے چنا ) کے درمیان ربط وتعلق کی نوعیت کے بارے میں ایک مخصوص نقطہ نظر رکھتی ہے۔ سورت کے آخر میں پہنچ کر ہم دیکھتے ہیں کہ کلام کے خاتمے میں سورت کے ابتدائیہ کو دہرایا جاتا ہے۔ ایمانی نظریہ حیات کی حقیقت کی وضاحت ہوتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ امت مسلمہ تمام انبیاء پر ایمان رکھتی ہے ۔ نیز تمام کتب سماوی پر اس کا ایمان ہے اور وہ انبیاء کے بیان کردہ امور غیبیہ پر بھی یقین رکھتی ہے اور انبیاء کی تعلیمات کو مانتی ہے اور دل وجان سے مطیع فرمان ہے۔ فرمایا جاتا ہے : ” رسول اس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب سے اس پر نازل ہوئی ہے اور جو لوگ اس رسول اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں ۔ اور ان کا قول یہ ہے کہ ” ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے ، ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی ۔ مالک ! تجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے ۔ اللہ کسی متنفس پر ، اس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا ، ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے ، اس کا پھل اس کے لئے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے اس کا وبال اسی پر ہے ۔ (ایمان لانے والو ! تم یوں دعا کیا کرو) اے ہمارے رب ! ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہوجائیں ، ان پر گرفت نہ کر ۔ مالک ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے ۔ پروردگار ! جس بار کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے ، وہ ہم پر نہ رکھ ۔ ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگذر فرما ، ہم پر رحم کر ، تو ہمارا مولیٰ ہے ، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ “ اسی طرح آغاز و انجام کے درمیان پوری پوری یک رنگی پائی جاتی ہے اور سورت کے تمام موضوعات سخن مومنین صادقین کی صفات اور خصوصیات کے ان دوبیانوں کے درمیان سمٹ جاتے ہیں ۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

البقرة 2:6

درس 2 ایک نظر میں 1۔ آیات کا یہ حصہ ، اس عظیم سورت کا افتتاحیہ ہے ، اس میں یہودیوں کے سوا ان تمام عناصر (Pressure Groups) سے ہم متعارف ہوجاتے ہیں جن کا مقابلہ مدینہ طیبہ میں تحریک اسلامی کو کرنا پڑا ۔ اس میں یہودیوں کی طرف ایک مختصرسا اشارہ پایا جاتا ہے۔ قرآن انہیں منافقین کو ” شیاطین “ کا لقب دیتا ہے ، یہ لفظ ہی ان کی بیشتر صفات کو ظاہر کردیتا ہے ۔ اور بتا دیتا ہے کہ تحریک اسلامی کی مخالفت میں ان کا کردار کیا رہا ۔ اگرچہ یہ اشارہ مختصر ہے لیکن ابتداء میں ان کی حقیقت کے اظہار کے لئے کافی ہے بعد میں ان کے کردار پر تفصیلی تبصرہ ہوتا ہے۔ 2۔ ان خصوصیات کی نقشہ کشی کے دوران ہم قرآن مجید کی تعبیری خصوصیات (Style of expression) سے بھی متعارف ہوتے ہیں منظرکشی کے لے خطوط والو ان کی جگہ یہاں حسین الفاظ کا انتخاب پایا جاتا ہے ۔ ان الفاظ کو پڑھتے ہی اصل مناظرآنکھوں کے سامنے جلوہ گر ہوجاتے ہیں ۔ یہ مناظر اور یہ تصورات بڑی تیزی سے حرکت پذیر ہوتے ہیں اور زندگی کی تگ وتاز سے بھرپور نظر آتے ہیں ۔ 3۔ سورت کے آغازہی میں ہلکے پھلکے ، عام فہم اور مختصر الفاظ میں تین قسم کے انسانوں کی عجیب تصویر کشی کی گئی ہے ۔ ان میں سے ہر نوع ایسی ہے کہ انسانی افراد اور مجموعوں کی ایک عظیم الشان تعداد کا زندہ جاوید نمونہ ہے ۔ یہ مجموعے حد درجہ حقیقی اور گہرے ہیں اور ہر زمان ومکان میں باربار وجود میں آتے ہیں اور قرآن کریم کے اعجاز کا یہ ایک خاص پہلو ہے کہ انسانیت کی طویل ترین تاریخ میں روز اول سے لے کر آج تک پوری انسانیت انہی تین گروہوں میں منقسم نظر آتی ہے ۔ 4۔ ان مختصر کلمات اور معدودے چند جملوں کے ذریعہ ، ان طبقوں کے حقیقی خدوخال اس طرح واضح اور مکمل صورت میں لوح دماغ پر منقش ہوجاتے ہیں کہ یہ طبقے زندہ ومتحرک ، ممتاز ومشخص اور اپنے حقیقی خدوخال کے ساتھ صاف صاف آنکھوں کے سامنے چلتے پھرتے نظر آتے ہیں ۔ یہ بےساختہ جملے اس قدر موزوں اور متناسب اور اپنے اندر اس قدر مترنم صوتی ہم آہنگی رکھتے ہیں کہ کوئی طویل ترین کلام اور کوئی مفصل ترین بیان بھی اس کی گرد تک نہیں پہنچ سکتا ۔ 5۔ جب ان طبقوں کی منظرکشی ختم ہوجاتی ہے تو پھر قرآن کریم تمام بنی نوع انسان کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ پہلے طبقے میں شامل ہوں ۔ وہ انہیں پکارتا ہے کہ ایک اللہ ایک خالق اور ایک رازق کی بندگی اور غلامی کی طرف لوٹ آئیں ، جس کے ساتھ کوئی شریک نہیں اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ۔ اس کے بعدنبی ﷺ کی صداقت اور رسالت اور آپ پر نزول قرآن کے بارے میں جو لوگ متشکک ہیں انہیں چیلنج دیا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسی سورت توبنالائیں ۔ اگر وہ اس چیلنج کو قبول نہیں کرسکتے تو پھر دردناک اور خوفناک عذاب کے لئے تیار ہوجائیں ۔ اس کے برعکس مومنین اور منیبین کو خوشخبری دی جاتی ہے کہ ان کے لئے نہ ختم ہونے والاانعام واکرام ہے ۔ اور الفاظ کے آئینے کی جھلک بھی دکھادی جاتی ہے ۔ 6۔ اس کے بعد پھر یہود ومنافقین کی فتنہ پردازی کا جائزہ لیا جاتا ہے جو یہ کہتے تھے کہ قرآن کریم میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کو تمثیلات دی گئی ہیں ۔ لہٰذا یہ منزل کتاب نہیں ہے ۔ انہوں نے اس مسئلے کو آڑ بناکر شکوک و شبہات پھیلانے کا ایک وسیع کاروبار شروع کردیا تھا ۔ ان کو بتایا گیا کہ یہ مثالیں گہری حکمت پر مبنی ہیں اور یہ کہ انہیں پڑھ کر ایک شخص گمراہ بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ وہ ہوئے اور دوسری طرف ان سے مومنین کا گروہ ایمان میں اور پختہ ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد ان پر نکیر کی جاتی ہے کہ وہ اس خالق ومدبر ، علیم وبصیر اور جلانے والے اور مارنے والے کا انکار کیوں کر کرتے ہیں ؟ حالانکہ وہی تو ہے جس نے انسان کے لئے پوری کائنات کو پیدا کیا ، انہیں یہاں یہ طویل و عریض مملکت دے کر اپنا خلیفہ وخود مختار بنایا اور انہیں بیشمار انعامات و اکرامات سے نوازا۔ ” جن لوگوں نے (ان باتوں کو تسلیم کرنے سے ) انکار کردیا ، ان کے لئے یکساں ہے ، خواہ تم انہیں خبردار کرو یا نہ کروبہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں ۔ اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے ۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں ۔ “ یہاں متقین اور کافرین بالکل ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے نظر آتے ہیں ۔ یہ کتاب متقین کے لئے تو ہدایت اور نور بصیرت ہے لیکن کفار کا حال یہ ہے کہ خواہ انہیں خبردار کیا جائے یا نہ کیا جائے ، وہ ہر حال میں روش کفر پر جمے ہوئے ہیں ۔ مومنین کے دلوں میں ہدایت ربانی کے جو دریچے سداوا ہوتے ہیں اور وہ روابط جن کی وجہ سے وہ ہر وقت اس پوری کائنات ، اس کے خالق ، اس کے ظاہروباطن اور اس کے عالم غیب وشہادت سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں ، رشد وہدایت کے یہ سب دریچے کفار کے لئے بند نظر آتے ہیں ، اسی منظر میں انسان اور خالق کائنات کے درمیان وہ تمام رابطے بالکل کٹے ہوئے ہیں ، جو مومنین اور خالق کائنات کے درمیان قائم ودوائم ہوتے ہیں ۔

البقرة 2:7

خَتَمَ اللہ ُ عَلٰی قُلُوبِہِم وَ عَلٰٓی سَمعِہِم ” اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے ۔ “ جس کی وجہ سے وہ حقیقت رشد وہدایت پانے اور حق کی آواز سننے کے قابل نہیں رہے ۔ وَ عَلٰٓی اَبصَارِھِم غِشَاوَةٌ ز ” اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے ۔ لہٰذا وہ نور ہدایت دیکھنے سے محروم ہیں ۔ چونکہ انہوں نے اپنی غلط روش سے مسلسل انذار وتبشیر کو ٹھکرادیا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی اس روش پر انہیں دنیا ہی میں سخت سزادی کہ ان کے دلوں پر مہر لگادی ، آنکھوں پر پردے پڑگئے اور ان کے کان صدائے صداقت کے لئے بہرے ہوگئے ہیں ۔ یوں ان کے لئے وعظ وتبلیغ اور انہیں خبردار کرنا نہ کرنا برابر ہوگیا۔ یہ نہایت کرخت ، جامد اور تاریک تصویر ہے ، جو ان لوگوں کے دل و دماغ کی گہری تاریکی وسیاہی اور مسلسل اندھے پن اور بہرے پن کی روش اختیار کرنے کی وجہ سے منقش ہوکر ہمارے سامنے جلوہ گر ہوتی ہے ۔ وَّلَہُم عَذَابٌ عَظِیمٌ” اور وہ سخت عذاب کے مستحق ہیں ۔ “ کیونکہ یہی ان کی معاندانہ اور کافرانہ روش کا قدرتی انجام ہے ، جو لوگ ڈرانے والے کی بات کو مان کر نہیں دیتے اور جن کو ڈرانا یا نہ ڈرانا یکساں ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں بھی یہ بات ہوتی ہے کہ یہ لوگ آخر تک اپنی اس روش پر قائم رہیں گے ۔ وہ اسی انجام کے مستحق ہیں ۔

البقرة 2:8

اب سیاق کلام تیسری تصویر اور تیسرے منظر کی طرف منتقل ہوجاتا ہے ۔ اس تیسرے نمونے کی تصویر کشی ان الفاظ میں کی جاتی ہے ۔” بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت پر ایمان لائے ہیں ، حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں ۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں ۔ مگر دراصل وہ اپنے آپ ہی کو دھوکہ میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھادیا ۔ اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں ۔ اس کی پاداش میں ان کے لئے دردناک سزا ہے۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپانہ کرو ، تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ´خبردار حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ۔ اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں ؟ خبردار اس حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں ، مگر یہ جانتے نہیں ۔ جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں اور جب علیحدگی میں ، اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں ۔ اللہ ان سے مذاق کررہا ہے ، وہ ان کی رسی دراز کئے جارہا ہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی مگر یہ سودا ان کے لئے نفع بخش نہیں ہے ، اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں ۔ ان الفاظ میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ مدینہ طیبہ کی واقعی صورتحال کی صحیح تصویر کشی ہے لیکن زمان ومکان کی حد بندیوں سے قطع نظر کرکے بھی جب ہم دیکھتے ہیں تو اس قسم کے لوگ ہمیں انسانوں کی ہر نسل میں موجودنظر آتے ہیں ۔ ہر نسل میں ایسے ذی حیثیت منافق لوگ پائے جاتے ہیں جو نہ تو اپنے اندر یہ جراءت پاتے ہیں کہ حق وصداقت کو پوری طرح تسلیم کرلیں اور ایمان لے آئیں اور نہ ان میں یہ سکت ہوتی ہے کہ حق وصداقت کا صاف صاف انکار کردیں ۔ اس صورتحال کے ساتھ ساتھ ایسے لوگ عوام کے مقابلے میں اپنے لئے ایک اونچی حیثیت اور رتبہ بلند بھی پسند کرتے ہیں ۔ وہ اپنے آپ کو جمہور عوام سے زیادہ علیم وفہیم سمجھتے ہیں ۔ لہٰذا ہم ان آیات کو ہر قسم کی تاریخی مثالوں سے آزاد اور اصولی آیات سمجھتے ہیں جو ہر دور کے ان تمام لوگوں پر صادق ہیں جو منافقانہ روش اختیار کرتے ہیں ۔ غرض ان آیات میں جس نفسیاتی صورتحال کی تصویر کھینچی گئی ہے وہ ایسی صورتحال ہے کہ ہر دور میں نفس انسانی کی گہرائیوں میں موجود رہی ہے اور اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی ۔

البقرة 2:9

ٍاس قسم کے لوگ ہمیشہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان (اور خادم اسلام ہونے ) کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ لیکن درحقیقت ان کے دل دولت ایمان سے خالی ہوتے ہیں ، یہ صریح طور پر منافقت میں مبتلا ہوتے ہیں ، یہ بزدل ہوتے ہیں اور مومنین کے بارے میں ان کی جو حقیقی رائے ہوتی اس کا اظہار کرنے کی جراءت ان کے اندر نہیں ہوتی ۔ ایسے لوگ ہمیشہ اس زعم میں مبتلا رہتے ہیں کہ وہ غایت درجے کے ذہین ، معاملہ فہم اور پالیسی باز ہیں اور وہ ہر حال میں ان سادہ لوح مومنین کو طرح دے سکتے ہیں ۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ ایسے لوگ صرف مومنین ہی کو نہیں بلکہ اللہ کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یُخٰدِعُونَ اللہ وَ الَّذِینَٰامَنُوا ” وہ اللہ اور ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے ہیں ، دھوکہ بازی کررہے ہیں۔ “ اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات میں ایک عظیم حقیقت کھل کر ہمارے سامنے آتی ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان فضل وکرم ہے کہ قرآن کریم میں باربار بتاکید و تکرار اس کا اظہار ہوا ہے اور اسی میں دراصل بندہ مومن اور اللہ تعالیٰ کے درمیان قائم ربط وتعلق کا راز پنہاں ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ مومنین کے محاذ کو خود اپنامحاذ قرار دیتا ہے ۔ ان کے معاملات اور حالات کو خود اپنے معاملات اور حالات قرار دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے ساتھ ملاتا ہے اور انہیں اپنے دامن شفقت ورافت میں لیتا ہے ۔ ان کے دشمن کو خود اپنا دشمن قرار دیتا ہے ، ان کے خلاف کی جانے والی سازشوں کو اپنے خلاف سازش قرار دیتا ہے ۔ یہ اس کی انتہائی شاہانہ کرم نوازی اور عزت افزائی ہے جس سے مومنین کی قدرومنزلت اپنے انتہائی عروج تک جاپہنچتی ہے اور جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اس کائنات میں ایمان باللہ ایک عظیم ترین حقیقت ہے جس سے دل مومن میں ثبات و طمانیت کے سرچشمے پھوٹ نکلتے ہیں ۔ وہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک مومن کے مسائل اور مشکلات کو اپنے دست قدرت میں لے لیتا ہے ، اس کا معرکہ اللہ کا معرکہ قرارپاتا ہے ، اس کا دشمن اللہ کا دشمن بن جاتا ہے۔ اللہ اسے اپنے محاذ میں لے لیتا ہے اور اپنے عمل عاطفت میں داخل کرلیتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں پھر انسانوں اور حقیر بندوں کی سازشوں ، دھوکہ بازیوں اور ایذا رسانیوں کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے ؟ اس حقیقت کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اس میں ان لوگوں کے لئے ایک خوفناک تہدید ہے جو مومنین کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور ان کی ایذارسانی کے درپے ہوتے ہیں ۔ انہیں کہا جارہا ہے کہ ان کی یہ جنگ صرف مومنین کے خلاف ہی نہیں بلکہ وہن درحقیقت اس ذات اقدس کے خلاف صف آراء ہیں جو قوی و متین ہے اور قہاروجبار ہے ۔ اللہ کے دوستوں سے برسرپیکار ہوکر وہ دراصل اللہ کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اپنی ان ذلیلانہ سرگرمیوں کی وجہ سے اللہ کے قہر وغضب کے مستحق بن رہے ہیں ۔ مومنین کا یہ فرض ہے کہ وہ اس حقیقت عظمیٰ کے ان دونوں پہلوؤں پر اچھی طرح غور وفکر کریں تاکہ انہیں اطمینان وثبات حاصل ہو اور وہ ٹھیک ٹھیک اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہیں اور دھوکہ بازوں کے دھوکوں ، سازشیوں کی سازشوں اور اشرار کی ایذا رسانیوں کی کوئی پرواہ نہ کریں ۔ مومنین کے دشمنوں کو بھی ایک لمحہ کے لئے اس حقیقت پر غور کرلینا چاہئے ۔ انہیں چاہئے کہ وہ سوچ لیں کہ وہ کس کے ساتھ برسر پیکار ہیں اور کس ذات کے قہر وغضب کا مستحق بن رہے ہیں ۔ انہیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ مومنین کے درپے آزاد ہوکر وہ کیا خطرہ مول لے رہے ہیں ؟ اب ہم دوبارہ ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو بزعم خود مومنین کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں اور اپنے آپ کو غایت درجہ کا ذہین اور معاملہ فہم تصور کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ہیں ۔ لیکن ملاحظہ کیجئے کہ آیت کے اختتام سے پہلے ہی وہ کس عظیم مذاق کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ وَ مَا یَخدَعُونَ اِلَّاآ اَنفُسَہُم وَ مَا یَشعُرُونَ ” مگر دراصل وہ اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں یعنی وہ اس قدر غافل ہیں کہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور تک نہیں اور اللہ ان کی سب حرکات سے باخبر ہے ۔ رہے مومنین تو وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہیں اور ان کے ذلیلانہ مکر و فریب سے وہ خود انہیں بچارہا ہے ۔ لیکن یہ نادان خواہ مخواہ دھوکہ کھا رہے ہیں ۔ اور اپنے آپ کو برائی اور گناہوں سے ملوث کررہے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ روش نفاق اختیار کرکے انہوں نے بہت نفع بشہ سودا کیا ہے ۔ اور اس سے انہیں کافی فائدہ پہنچا لیکن اس طرح وہ مومنین کی سوسائٹی میں اعلان کفر جیسے مشکل کام سے بھی بچ گئے اور مومنین کے ساتھ نئے معاشرے کے مفادات بھی انہوں نے سمیٹ لئے ۔ حالانکہ جس کفر کو وہ اپنے دل میں چھپا رہے ہیں وہ انہیں ہلاکت کے گھڑے کی طرف لے جارہا ہے ۔ ان کا نفاق ان کے لئے تباہی کا سامان ہے اور اس کی وجہ سے وہ ایک نہایت نامسعود انجام تک پہنچنے والے ہیں ۔

البقرة 2:10

لیکن سوال یہ ہے کہ منافقین یہ حرکت کیوں کرتے ہیں ۔ روش نفاق اختیار کرکے وہ مومنین کو یہ دھوکہ کیوں دینا چاہتے ہیں ؟ اس لئے کہ فِی قُلُوبِھِم مَّرَضٌ” ان کے دلوں میں بیماری ہے۔ “ ان کے دلوں کو یہ روگ لگ گیا ہے ۔ دماغوں پر یہ آفت آن پڑی ہے اور یہ انہیں حق کی راہ مستقیم پر چلنے نہیں دیتی ۔ اس کی وجہ سے وہ پھر اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قانون قدرت ان کے اس روگ کو اور زیادہ کردے فَزَادَھُمُ اللہ ُ مَرَضًا ” ان کی اس بیماری کو اللہ نے اور بڑھادیا۔ “ ظاہر ہے کہ ایک بیماری دوسری کو جنم دیتی ہے ۔ گمراہی ابتداء میں نہایت معمولی ہوتی ہے اور جونہی اس کے خطوط وحدود آگے بڑھتے ہیں اس کا زاویہ وسیع تر ہوتا جاتا ہے ۔ یہ اللہ کا قانون قدر ہے ، جو ہر جگہ جاری وساری ہے ۔ یہ قانون فطرت انسانی سوچ اور طرز عمل تمام چیزوں اور تمام حالات میں جاری ہے ۔ وہ خود ایک معلوم ومعروف انجام کی طرف چلے جارہے ہیں ۔ وہ انجام جو ان سب لوگوں کے لئے مقدور ہے جو اللہ اور مومنین کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں ۔ وَ لَہُم عَذَابٌ اَلِیمٌم بِمَا کَانُوا یَکذِبُون ” یہ جھوٹ بولتے ہیں اور اس کی پاداش میں ان کے لئئے دردناک عذاب ہے ۔ “ ان کی اہم صفات میں سے یہ دوسری صفت ہے ، بالخصوص ان لوگوں کی جو ان میں سرکردہ تھے اور ہجرت رسول ﷺ سے قبل اپنی قوم اور قبیلے میں سرداری کے مناسب پر فائز تھے مثلاً عبداللہ ابن ابی ابن سلول ۔ ان کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ مومنین کے خلاف دل میں گہراکینہ رکھتے تھے اور جو فتنہ و فساد برپا کرتے تھے اس کے لئے تاویلیں پیش کرتے اور اپنے ان کارناموں پر ہر قسم کی سزا ومواخذہ سے بچ کر پھولے نہ سماتے ۔

البقرة 2:11

گویا یہ لوگ جھوٹ اور فریب پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ وہ مومنین کو بیوقوف سمجھتے ہوئے الٹا یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ہم تو مصلح ہیں وہ اس نصیحت کا کہ ” زمین میں فساد نہ کرو۔ “ یہ سادہ جواب نہیں دیتے کہ ” بھائی ہم کب فساد برپاکر رہے ہیں ؟ بلکہ وہ اکڑ کر یہ ادعا کرتے ہیں کہ ” مصلح تو ہیں ہی ہم۔ “ ہر دور اور ہر زمانے میں لوگوں کی یہ قسم دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ عملاً فساد کی بدترین شکلیں برپاکررہی ہوتی ہیں اور اس کا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ ہم تو بس اصلاح معاشرہ چاہتے ہیں جب معاشرہ میں بلند اقدار تباہ ہوتی ہیں تو ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں ۔ وہ اخلاص اور پاکیزگی نفس سے محروم ہوتے ہیں اور جب اخلاص جاتا رہے اور نفس انسانی میں فساد پیدا ہوجائے تو تمام اعلیٰ قدریں اور حسن وقبح کے پیمانے از خود ختم ہوجاتے ہیں اور جن لوگوں کے دلوں میں خلوص اور ایمان نہ رہے ۔ وہ کبھی بھی فساد فکر وعمل کا شعور نہیں پاسکتے اور ان کے دل و دماغ میں خیر وشر اور اصلاح و فساد کا جو پیمانہ ہوتا ہے ، وہ ان کی خواہشات نفسانی کی طرف ، جھکتا رہتا ہے اور ربانی نظام حیات کی طرف مائل نہیں ہوتا ۔ اسی لئے ان کے اس دعوے کا یہ سخت لیکن حقیقت پسندانہ جواب دیا جاتا ہے۔

البقرة 2:12

اَلآَ اِنَّہُم ھُمُ المُفسِدُونَ وَ ٰلکِن لَّا یَشعُرُونَ ” خبردار ! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے ۔ “ ان لوگوں کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ کبر و غرور میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو عوام الناس سے اونچے درجے (Upper Class) کے لوگ سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کے دلوں میں اپنا جھوٹاوقار قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وَ اِذَا قِیلَ لَہُم اٰمِنُوا کَمَآ ٰامَنَ النَّاسُ قَالُوآ اَنُؤمِنُ کَمَآ ٰامَنَ السُّفَہَاءُ ، اَلآَ اِنَّہُم ھُمُ السُّفَہَآءُ وَلَکِن لَّا یَعلَمُون ” اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں ؟ خبردار حقیقت میں یہ تو خود بیوقوف ہیں ، مگر جانتے نہیں ۔ “ حقیقت یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں منافقین کو جس چیز کی طرف بلایا جارہا تھا وہ یہ تھی کہ وہ مخلصانہ طور پر ایمان لے آئیں اور اپنے ایمان کی ذاتی خواہشات سے پاک کردیں ۔ جس طرح دوسرے مخلصین اپنی انفرادیت ختم کرکے پوری طرح اسلام کے اندر جذب ہوگئے تھے ۔ اور انہوں نے اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیا تھا اور انہوں نے نبی ﷺ کے لئے اپنے دلوں کے تمام دریچے کھول دیئے تھے ۔ آپ ﷺ انہیں جو ہدایت بھی دیتے وہ اخلاص اور بےنفسی سے لبیک کہتے تھے ۔ چناچہ منافقین کو دعوت دی جارہی تھی کہ وہ بھی ان لوگوں کی طرح اخلاص ۔ استقامت اور واضح اور صاف دل و دماغ کے ساتھ ایمان لائیں ۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ منافقین ان معنوں میں نبی کریم ﷺ کے سامنے پوری طرح جھکنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ وہ اپنے آپ کو اعلیٰ طبقے (Upper Class) کے لوگ سمجھتے تھے ۔ اور کہتے تھے کہ ان کے لئے تسلیم ورضا کی یہ کیفیت ضروری نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مومنین کے بارے میں کہتے تھے کہ کیا ہم ان بیوقوفوں کی طرح اندھی اطاعت کرتے پھریں اور قرآن نے بھی اس سختی ، تاکید اور جزم کے ساتھ ان کے اس زعم باطل کی تردید کی ۔” خبردار ! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں مگر جانتے نہیں ۔ “

البقرة 2:13

اَلآَ اِنَّہُم ھُمُ المُفسِدُونَ وَ ٰلکِن لَّا یَشعُرُونَ ” خبردار ! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے ۔ “ ان لوگوں کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ کبر و غرور میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو عوام الناس سے اونچے درجے (Upper Class) کے لوگ سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کے دلوں میں اپنا جھوٹاوقار قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وَ اِذَا قِیلَ لَہُم اٰمِنُوا کَمَآ ٰامَنَ النَّاسُ قَالُوآ اَنُؤمِنُ کَمَآ ٰامَنَ السُّفَہَاءُ ، اَلآَ اِنَّہُم ھُمُ السُّفَہَآءُ وَلَکِن لَّا یَعلَمُون ” اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں ؟ خبردار حقیقت میں یہ تو خود بیوقوف ہیں ، مگر جانتے نہیں ۔ “ حقیقت یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں منافقین کو جس چیز کی طرف بلایا جارہا تھا وہ یہ تھی کہ وہ مخلصانہ طور پر ایمان لے آئیں اور اپنے ایمان کی ذاتی خواہشات سے پاک کردیں ۔ جس طرح دوسرے مخلصین اپنی انفرادیت ختم کرکے پوری طرح اسلام کے اندر جذب ہوگئے تھے ۔ اور انہوں نے اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیا تھا اور انہوں نے نبی ﷺ کے لئے اپنے دلوں کے تمام دریچے کھول دیئے تھے ۔ آپ ﷺ انہیں جو ہدایت بھی دیتے وہ اخلاص اور بےنفسی سے لبیک کہتے تھے ۔ چناچہ منافقین کو دعوت دی جارہی تھی کہ وہ بھی ان لوگوں کی طرح اخلاص ۔ استقامت اور واضح اور صاف دل و دماغ کے ساتھ ایمان لائیں ۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ منافقین ان معنوں میں نبی کریم ﷺ کے سامنے پوری طرح جھکنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ وہ اپنے آپ کو اعلیٰ طبقے (Upper Class) کے لوگ سمجھتے تھے ۔ اور کہتے تھے کہ ان کے لئے تسلیم ورضا کی یہ کیفیت ضروری نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مومنین کے بارے میں کہتے تھے کہ کیا ہم ان بیوقوفوں کی طرح اندھی اطاعت کرتے پھریں اور قرآن نے بھی اس سختی ، تاکید اور جزم کے ساتھ ان کے اس زعم باطل کی تردید کی ۔” خبردار ! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں مگر جانتے نہیں ۔ “

البقرة 2:14

سوال یہ ہے کہ کوئی بیوقوف کبھی یہ سمجھا ہے کہ وہ بیوقوف ہے ، یا کوئی گمراہ کبھی یہ شعور رکھتا ہے کہ وہ جادہ مستقیم سے ہٹ چکا ہے ۔ اس کے اب منافقین کی آخری صفت کو بیان کیا جاتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ صرف جھوٹ ، فریب کاری ، تحقیر مسلمین اور ادعاء وتعلی ہی میں مبتلا نہیں بلکہ ان مذموم صفات کے ساتھ وہ پست ہمت ، لئیم ، سازشی اور مکار بھی ہیں ۔ ان کی حالت یہ ہے کہ وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ ” جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں ۔ “ بعض لوگ اس ذلت اور کمینگی کو قوت اور حکمت سمجھتے ہیں ، مکروفریب ان کے پر خیال میں غایت درجے کی فراست وسیاست ہوتی ہے۔ حالانکہ یہ چیز درحقیقت بےچارگی اور خسیس پنے کی آخری حد ہوتی ہے ۔ ایک پرشوکت اور قوی انسان کبھی کمینہ اور خبیث النفس نہیں ہوسکتا۔ نہ اسے مکر و فریب کی ضرورت پڑتی ہے ۔ نہ اسے اس بات کی ضرورت پڑتی ہے کہ وہ تنہائی میں چغل خوریاں کرے اور طعنے اور طنز سے دل کا غبار نکالے ۔ ان منافقین کا یہ حال تھا کہ وہ کھلم کھلا مسلمانوں کا سامنا کرنے سے کترا رہے تھے اور مومنین سے مل کر اپنی طرف سے بھی اس بات کا اظہار کررہے تھے کہ ہم مومن ہیں تاکہ اس طرح وہ مومنین کی جانب سے ہر قسم کی اذیت سے محفوظ رہیں اور اس طرح محفوظ ومامون ہو کر مومنین کے خلاف نیش زنی کرتے رہیں ۔ یہ لوگ جب اپنے شیاطین کے پاس جاتے ، جو غالباً (یہود ہوا کرتے تھے ، اور جنہیں ایسے لوگوں میں سے ایسے کئی افراد مل جاتے تھے جو اسلامی صفوں میں انتشار واختلاف پھیلانے کے لئے استعمال ہوں ۔ دوسری طرف یہودی بھی ایسے لوگوں کے لئے ایک سہارے اور ملجاوماویٰ کا کام کرتے تھے ۔ چناچہ یہ منافقین ” جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے تو کہتے کہ اصل میں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں ۔ “ مومنین سے ان کا مذاق یہ تھا کہ وہ ایمان اور تصدیق قلبی کا اقرار کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ بس مومنین کیا جانتے ہیں کہ ہم کیا ہیں ۔ ان کی اس عیارانہ گفتگو اور مکارانہ طر زعمل کی وضاحت کے فوراً بعد قرآن کریم انہیں ایسی سخت ڈانٹ پلاتا ہے کہ اگر احساس ہو تو پہاڑ بھی مارے خوف کے کانپ اٹھیں۔

البقرة 2:15

اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ” اللہ ان سے مذاق کررہا ہے ، وہ ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے اور یہ اپنی رو میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں ۔ “ کس قدر بدبخت ہے وہ شخص کہ آسمان و زمین کا قہار وجبار جس کے ساتھ مذاق کررہا ہے ؟ اس سے بڑی شقاوت کوئی اور نہیں ” اللہ ان کی رسی دراز کئے جارہا ہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے ہیں ۔ “ جب ایک حساس انسان ان الفاظ پر غور کرتا ہے اور مرکب خیال جو لانی دکھاتا ہے تویہاں آکر وہ نہایت ہی خوفناک اور کپکپا دینے والے منظر کے سامنے بےحس و حرکت کھڑا ہوجاتا ہے ۔ یہ اس قدر خوفناک انجام ہے جس سے دل دہل جاتے ہیں اور بدن پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ چناچہ ان مکاریوں کو یوں اپنے حال پر چھوڑدیا جاتا ہے ۔ نہ ان کا کوئی مرشد ۔ نہ کوئی راہ سجھائی دیتی ہے ۔ نہ ان کے سامنے کوئی مقصد ہے ۔ یہ لوگ اسی سرگردانی کی حالت میں ہوتے ہیں کہ اللہ دست قدرت انہیں اپنی شدید گرفت میں لے لیتا ہے اور یہ چوہوں کی طرح غفلت و لاپرواہی کے عالم میں جال میں کو دجاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ ایک خوفناک انجام ہے اور اس کے مقابلے میں اس مذاق کی کوئی حیثیت نہیں ہے جو یہ اپنے خیال کے مطابق کررہے ہیں ۔ یہاں اس حقیقت کا اظہارہورہا ہے جس کی طرف ہم پہلے بھی اشارہ کر آئے ہیں کہ کفر واسلام کے معرکہ میں خود اللہ تعالیٰ مومنین کا والی اور مددگار ہوتا ہے ۔ اللہ کے دوستوں اور بندوں کے لئے اس کی سرپرستی میں اگر طمانیت قلب کا ایک عظیم سرمایہ ہے تو اللہ تعالیٰ کے مخبوط الحواس ، غافل اور راندہ درگاہ دشمنوں کے لئے انجام بد اور ایک خوفناک پایان کار کی نشان دہی ہے ، جو اس کے لئے دھوکہ کھائے ہوئے ہیں کہ اللہ ان کے لئے رسی دراز کئے جارہا ہے اور وہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں سرگرداں ہیں ۔ یہ اندھے ہورہے ہیں ، غفلت میں ڈوبے جارہے ہیں ، حالانکہ ایک خوفناک انجام ان کا منتظر ہے۔

البقرة 2:16

اب قرآن کریم چند آخری کلمات میں ان کی حقیقت حال اور ان کے اس خسارے کو بیان کرتا ہے جو ان کی اس روش کی وجہ سے انہیں پہنچ رہا ہے ۔ أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلالَةَ بِالْهُدَى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ” یہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے مگر یہ سودا ان کے لئے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں ۔ “ اگر وہ چاہتے تو ہدایت کی راہ ان کے پاس تھی ۔ ان پر ہدایت کے دریا بہادیئے گئے تھے ۔ یہ ان کے ہاتھ میں تھی لیکن انہوں نے اپنی مرضی سے ہدایت دے کر اس کے بدلے ضلالت خرید لی ۔ جیسا کہ ایک غافل تاجر کا انجام ہوتا ہے ۔ ویسا ہی انجام ان کا بھی ہوا۔ اس سودے میں انہیں کوئی نفع نہ ہوا اور ہدایت بھی ہاتھ سے جاتی رہی ۔ آپ نے دیکھا کہ قرآن نے ان آیات میں تین قسم کے لوگوں کی تصویر کشی کی ہے ۔ ان میں سے اس تیسرے فریق نے لوح قرطاس میں نسبتاً زیادہ وسیع جگہ لی ۔ اس کے وسیع خاکے میں ہمیں مختلف رنگ بھرے ہوئے نظر آتے ہیں ، جو پہلی اور دوسری تصویر میں نہیں ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی اور دوسری تصویر میں جو لوگ دکھائے گئے ہیں ان کی راہ ورسم کسی نہ کسی شکل میں متعین ہے۔ وہ سیدھی طرح ایک مخصوص روش پر قائم ہیں ۔ پہلی تصویر میں ایک ایسا کردار نظر آتا ہے جو فکر مستقیم کا مالک ہے ۔ ایک سیدھی راہ ہے جس پر وہ بالکل سیدھا جارہا ہے ۔ دوسری تصویر میں ایک نابینا شخص دکھایا گیا ہے جو حیران وسرگردان ہے اور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں ماررہا ہے ۔ لیکن تیسرے شخص کی نفسیاتی حالت اس قدر پیچیدہ اس کا دل اس قدر بیمار ہے اور فکر اس قدر پریشان ہے کہ اس پر مزید آخری ، ایک آخری تبصرے کی ضرورت ہے ۔ اس تصویر میں کچھ مزید خاکے ہیں اور ان میں رنگ بھرے گئے ہیں تاکہ اس گروہ کی مکروہ اور متلون شخصیت کے خدوخال اچھی طرح واضح ہوسکیں ۔ اس تفصیلی بحث سے ایک طرف تو وہ کردار بھی اچھی طرح ہمارے سامنے آجاتا ہے جو منافقین مدینہ ، فدائیان اسلام کی ایذارسانی ، ان کے اندرانتشار اور بےچینی پھیلانے کے سلسلے میں ادا کررہے تھے ۔ دوسری طرف اسلامی جماعت کو متنبہ کردیا جاتا ہے کہ ہر دور میں ایک منافق ، نظم جماعت کے لئے کس قدر خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔ اور اسلامی جماعت میں ان منافقین کی پردہ وری اور ان کی سازشوں کو بےنقاب کرنے کی کتنی اہمیت و ضرورت ہے ۔

البقرة 2:17

چناچہ مزید وضاحت کی خاطر قرآن کریم مثالیں دے کر اس گروہ کی نفسیات ، اس کے مزاج کے تلون ، اس کی بےثباتی اور قلابازیوں کی مزید نشان دہی کرتا ہے کہ ایسے افراد کے خدوخال نکھر کر ہمارے سامنے آجائیں ۔ مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لا يُبْصِرُونَ ” ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب سارا ماحول چمک اٹھا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کرلیا اور انہیں اس حال میں چھوڑ دیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا ۔ یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں ، اسی لئے یہ اب نہ پلٹیں گے ۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء میں ان کا رویہ ایسا نہ تھا کہ انہوں نے ہدایت سے اعراض کیا ہو ، یا اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی ہوں ، آنکھیں بند کرلی ہوں اور نہ یہ صورت تھی کہ انہوں نے اس تحریک کے مطالعے سے انکار کیا ہو ، جیسا کہ کفار نے کیا لیکن بعد میں انہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کو پسند کرلیا اور یہ فیصلہ انہوں نے سوچ سمجھ کر غور وخوض کے بعد کیا ۔ انہوں نے آگ جلائی ۔ اس نے ان کے ماحول کو روشن بھی کیا لیکن انہوں نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا حالانکہ وہ روشنی کے متلاشی تھے۔ جب ان لوگوں نے اپنی مطلوب روشنی کو پاکر بھی اس منہ موڑا تو اللہ نے ان کے اس رویے کی وجہ سے ان کا نور بصارت ہی سلب کرلیا اور انہیں اس حال میں چھوڑدیا کہ تاریکی میں بھٹکتے پھریں کیونکہ انہوں نے عین اس چیز سے منہ موڑا جس کے وہ طالب تھے ۔

البقرة 2:18

اللہ نے انسان کو آنکھ ، کان اور زبان دی ہی اس لئے ہے کہ انسان بات سن سکے ۔ روشنی کو دیکھ سکے اور نور ہدایت سے فائدہ اٹھائے ۔ لیکن انہوں نے اپنے کانوں سے کام نہ لیا ۔ بہرے قرار پائے ۔ انہوں نے اپنی زبان سے بھی کام نہ لیا ۔ پس گونگے قرار دیے گئے ، انہوں نے آنکھ سے دیکھنا ہی بند کردیا لہٰذا اندھے بن گئے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں ان کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ حق کی طرف لوٹ سکیں ، راہ ہدایت کی طرف مڑسکیں اور صداقت کی روشنی کو دیکھ سکیں ۔

البقرة 2:19

اب ایک دوسری تمثیل کے ذریعے ان کی نفسیاتی صورتحال کا تجزیہ کیا جاتا ہے ۔ جس سے ان کے اندرونی اضطراب ، حیرت اور خوف وبے چینی کا اظہار ہوتا ہے ۔ أَوْ كَصَيِّبٍ مِنَ السَّمَاءِ........ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ” یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے ، اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک بھی ہے ۔ یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونسے لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لئے ہوئے ہے ۔ چمک سے ان کی حالت یہ ہورہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی ان کی بصارت لے جائے ۔ جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دور چل لیتے ہیں ۔ جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کرلیتا یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ “ عجیب منظر ہے یہ بھی ، جس دوڑ بھاگ ، قلق و اضطراب ، گمراہی وضلالت ، خوف ورعب ، جزع وفزع ، حیرانی و پریشانی ، چمک دمک اور چیخ و پکار کی مختلف تصویریں رواں اور دواں نظر آتی ہیں ۔ آسمان سے موسلا دھار بارش ہورہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹائیں اور نیز چمک اور بجلی کے کڑاکے کی سخت آوازیں ہیں ۔ کچھ لوگ ہیں جو اس تیز چمک کی روشنی میں آگے بڑھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اچانک اندھیرا ہوجاتا ہے ۔ بےچارے کھڑے ہوجاتے ہیں ، حیران وپریشان ہیں ، نہیں جانتے کہ کدھر جائیں ، مارے خوف کے کانپ رہے ہیں اور بجلی کے کڑاکے سن کر جان نکلی جارہی ہے اور اس کی وجہ سے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں ۔ پورامنظر اس تگ وتاز سے بھرا ہوا ہے ، موسلا دھار بارش ، تاریکیاں ، کڑک اور چمک ، خوفزدہ اور پریشان مسافر جو ڈرتے ڈرتے کچھ قدم آگے بڑھاتے ہیں اور اندھیرا آتے ہی رک جاتے ہیں ۔ اس پورے منظر سے قرآن کریم یہ مثبت تاثر دینا چاہتا ہے کہ منافقین کسی طرح قلق و اضطراب ، حیرانی و پریشانی ، گمراہی وسرگردانی کا شکار ہیں ۔ ادھر مومنین سے ملتے ہیں ۔ ادھر اپنے شیاطین سے بھی ان کی ملاقات ہے ۔ ادھر اقرار حق ہے تو ایک لحظہ بعد انکار اور سرکشی ہے ۔ وہ نور اور ہدایت کے متلاشی ہیں ۔ لیکن وہ عملاً اندھیروں اور گمراہیوں میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ یہ ایک انتہائی محسوس تمثیل اور منظر ہے لیکن منافقین کی خفیہ ترین نفسیاتی صورتحال کو آئینہ دکھارہا ہے۔ شعوری صورتحال کو مجسم شکل میں ظاہر کررہا ہے ۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص اور عجیب اسلوب بیان ہے ۔ قرآن کرین نفسیاتی اور الجھی ہوئیی ذہنی کیفیات کو اس طرح مخصوص انداز میں بیان کرتا ہے کہ وہ مجسم شکل میں آنکھوں کے سامنے کھڑی ہوئی نظر آتی ہیں ۔

البقرة 2:20

اب ایک دوسری تمثیل کے ذریعے ان کی نفسیاتی صورتحال کا تجزیہ کیا جاتا ہے ۔ جس سے ان کے اندرونی اضطراب ، حیرت اور خوف وبے چینی کا اظہار ہوتا ہے ۔ أَوْ كَصَيِّبٍ مِنَ السَّمَاءِ........ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ” یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے ، اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک بھی ہے ۔ یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونسے لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لئے ہوئے ہے ۔ چمک سے ان کی حالت یہ ہورہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی ان کی بصارت لے جائے ۔ جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دور چل لیتے ہیں ۔ جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کرلیتا یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ “ عجیب منظر ہے یہ بھی ، جس دوڑ بھاگ ، قلق و اضطراب ، گمراہی وضلالت ، خوف ورعب ، جزع وفزع ، حیرانی و پریشانی ، چمک دمک اور چیخ و پکار کی مختلف تصویریں رواں اور دواں نظر آتی ہیں ۔ آسمان سے موسلا دھار بارش ہورہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹائیں اور نیز چمک اور بجلی کے کڑاکے کی سخت آوازیں ہیں ۔ کچھ لوگ ہیں جو اس تیز چمک کی روشنی میں آگے بڑھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اچانک اندھیرا ہوجاتا ہے ۔ بےچارے کھڑے ہوجاتے ہیں ، حیران وپریشان ہیں ، نہیں جانتے کہ کدھر جائیں ، مارے خوف کے کانپ رہے ہیں اور بجلی کے کڑاکے سن کر جان نکلی جارہی ہے اور اس کی وجہ سے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں ۔ پورامنظر اس تگ وتاز سے بھرا ہوا ہے ، موسلا دھار بارش ، تاریکیاں ، کڑک اور چمک ، خوفزدہ اور پریشان مسافر جو ڈرتے ڈرتے کچھ قدم آگے بڑھاتے ہیں اور اندھیرا آتے ہی رک جاتے ہیں ۔ اس پورے منظر سے قرآن کریم یہ مثبت تاثر دینا چاہتا ہے کہ منافقین کسی طرح قلق و اضطراب ، حیرانی و پریشانی ، گمراہی وسرگردانی کا شکار ہیں ۔ ادھر مومنین سے ملتے ہیں ۔ ادھر اپنے شیاطین سے بھی ان کی ملاقات ہے ۔ ادھر اقرار حق ہے تو ایک لحظہ بعد انکار اور سرکشی ہے ۔ وہ نور اور ہدایت کے متلاشی ہیں ۔ لیکن وہ عملاً اندھیروں اور گمراہیوں میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ یہ ایک انتہائی محسوس تمثیل اور منظر ہے لیکن منافقین کی خفیہ ترین نفسیاتی صورتحال کو آئینہ دکھارہا ہے۔ شعوری صورتحال کو مجسم شکل میں ظاہر کررہا ہے ۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص اور عجیب اسلوب بیان ہے ۔ قرآن کرین نفسیاتی اور الجھی ہوئیی ذہنی کیفیات کو اس طرح مخصوص انداز میں بیان کرتا ہے کہ وہ مجسم شکل میں آنکھوں کے سامنے کھڑی ہوئی نظر آتی ہیں ۔

البقرة 2:21

مذکورہ بالا تین قسم کے لوگوں کی تصویر کشی کے بعد سیاق کلام اب پوری انسانیت کو دعوت دینے کی طرف مڑجاتا ہے ۔ پوری انسانیت سے کہا جاتا ہے کہ وہ ان تین تصاویر میں سے سیدھی اور شریفانہ ، پاک وخالص ، سرگرم عمل اور نفع بخش اور ہدایت یافتہ اور کامیاب تصویر یعنی متقین کی تصویر کو اختیار کرے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے : يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (21) الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الأرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (22) ” اے لوگو ! بندگی اختیارکرو اپنے اس رب کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں ، ان سب کا خالق ہے ، تمہارے بچنے کی توقع اسی صورت میں ہوسکتی ہے ۔ وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا ، آسمان کی چھت بنائی ۔ اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لئے رزق بہم پہنچایا ۔ پس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مدمقابل نہ ٹھہراؤ۔ “ اب گویا یہ تمام لوگوں کو دعوت ہے کہ وہ اس رب واحد کی بندگی میں داخل ہوجائیں جس نے انہیں پیدا کیا ہے ۔ اور اسی نے ان کے آباء واجداد کو بھی پیدا کیا ہے ۔ وہ ایسا رب ہے جو اکیلا اس کائنات کا خالق ہے لہٰذا صرف وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی بندگی کی جائے ۔ اور اس کی بندگی کا ایک خاص مقصد ہے اور توقع ہے کہ اللہ کی بندگی کرکے تمام لوگ اس مقصد تک جاپہنچیں اور اسے حاصل کرلیں ۔ اور وہ مقصد یہ ہے لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ” تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔ “ تم انسانی زندگی کا وہ نقشہ اختیار کرلو جو پسندیدہ ہے اور جو اللہ کو پسند ہے ۔ یعنی اللہ کی بندگی کرنے والوں اور اس سے ڈرنے والوں کا نقش حیات ، جنہوں نے اللہ کی خالقیت اور ربوبیت کا حق صحیح طرح ادا کردیا ، صرف ایک خالق کی بندگی کی ، جو تم حاضر اور گذشتہ لوگوں کا خالق ہے ، اور جس نے آسمان و زمین کے وسائل کے ذریعہ ان کے رزق کا بندوبست کیا اور اس کام میں اس کا نہ کوئی مساوی ہے اور نہ شریک ۔ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الأرْضَ فِرَاشًا ” جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا۔ “ اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر انسانی حیات کو بےحد سہل بنایا ہے ۔ زمین کو اس طرح بنایا کہ وہ انسانوں کے لئے خوشگوار رہائش گاہوں اور فرش کی طرح محفوظ جائے قیام ہو۔ لیکن انسان چونکہ ایک طویل عرصہ تک یہاں رہتے ہیں ۔ اس لئے ان کے شعور سے زمین و آسمان کی یہ خوشگواری محو ہوجاتی ہے ۔ وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے وسائل حیات فراہم کرنے کے واسطے اس زمین کے موسم کو ان کے لئے کیسا موافق اور خوشگوار بنایا ہے ، اور ان کے لئے اس جہاں میں آرام اور آسائش کے کیا کیا ذرائع بہم پہنچائے ہیں ۔ اگر یہ وسائل نہ ہوتے تو اس کرہ ارض پر ان کی زندگی اس قدر خوشگوار ، سہل اور پرسکون نہ ہوتی ۔ اس کائنات کے عناصرترکیبی میں سے اگر کوئی ایک عنصر بھی غائب ہوجائے تویہاں کا ماحول اس قدر تبدیل ہوجائے کہ اس میں اس پوری انسانیت کی نشوونما محال ہوجائے۔ صرف ہوا ہی کی مثال لیجئے کہ جن مقررہ عناصر پر یہ مشتمل ہے ، اگر ان میں ذرہ بھر کمی ہوجائے تو لوگوں کے لئے زمین پرسانس لینا دشوار ہوجائے ۔ اگرچہ انہوں نے ابھی زندہ رہنا ہے۔ وَالسَّمَاءَ بِنَاءً ” اور آسمان کو چھت بنایا “ یعنی آسمان ایک چھت کی طرح موزوں اور پختہ ہے ۔ اسی زمین میں انسان کی زندگی اور اس زندگی کی آسائشوں کے ساتھ آسمان کو گہرا ربط ہے۔ آسمان کی حرارت اجرام فلکی کی جاذبیت اور توازن وغیرہ غرض زمین و آسمان کے تمام طبعی روابط ممد حیات ہیں اور اس زمین میں قیام حیات کے لئے تمہید اور خشت اول ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جب بھی اس جہان کے خالق کی قدرت کا بیان ہوتا ہے ، انسان کے رازق کی کبریائی بیان ہوتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ تمام مخلوق اور تمام انسانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں ۔ چناچہ تمام ایسے مواقع پر اللہ کے احسانات کا ذکر ہوتا ہے ۔ وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ ” اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لئے رزق بہم پہنچایا۔ “ اللہ جل شانہ کی قدرت اور اس کے انعامات کے تذکرے کے ضمن میں ، آسمان سے پانی برسانے اور اس کے ذریعے مختلف قسم کی پیداوار نکالنے کا ذکر قرآن مجید کے متعدد مقامات میں کیا گیا ہے ۔ چناچہ آسمان سے اترنے والا پانی ، طبعی نقطہ نظر سے بھی اس زمین پر قیام حیات کا بنیادی عنصر ہے ۔ زمین پر زندگی اپنی مختلف شکلوں اور درجوں میں ، اسی پانی کی رہین منت ہے ۔ قرآن مجید میں وَجَعَلنَا مِنَ المَآءِ کُلَّ شَیئٍ حَیٍّ ” اور ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندہ بنایا۔ “ کبھی تو پانی بارش کی صورت میں کھیتوں کو سیراب کرتا ہے ، کبھی وہ میٹھی ندیوں اور نہروں کی صورت میں بہتا ہے ۔ اور کبھی وہ زمین کی رگوں میں سرایت کرجاتا ہے اور چشموں اور کنووں کی صورت میں نمودار ہوتا ہے اور آلات کے ذریعے زراعت اور کھیتی باڑی کے کام میں استعمال ہوتا ہے ۔ زمین میں پانی کی اہمیت ، یہاں بقائے حیات میں اس کا کردار اور مختلف چیزوں کی زندگی کا اس پر موقوف ہونا ، ایک ایسی بدیہی اور مسلم بات ہے جس کی طرف اشارہ اور یاد دہانی ہی کافی ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ جو ہمارا خالق اور رازق ہے اور جس نے یہ تمام نعمتیں ہمیں بخشیں ہیں وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہم صرف اسی کی بندگی کریں ۔ اس طریقہ دعوت سے ، اسلامی تصور حیات کے دو اہم اصول خود بخود واضح ہوجاتے ہیں ، ایک یہ کہ اس پوری کائنات کا خالق ایک ہے ۔ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ ” جس نے تمہیں اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں ، ان سب کو پیدا کیا۔ “ یعنی یہ کائنات ایک ہے ، اس کی اکائیوں اور اجزا کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے اور وہ انسان اور زندگی کے لے معین و مددگار ہے ۔

البقرة 2:22

الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الأرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا ، آسمان کی چھت بنائی ، اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لئے رزق بہم پہنچایا۔ “ زمین ایک تخت کی طرح بچھی ہوئی ہے ۔ اس کی فضاؤں کا نظام قانون قدرت میں بندھا ہوا ہے اس کے ذریعہ آبپاشی کا ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ روئے زمین پر لوگوں کی ضروریات کی فراہمی کے لئے ہر قسم کی پیداوار کا بندوبست کردیا گیا ہے ۔ یہ سب کچھ کس کے لئے ؟ حضرت انسان کے لئے ۔ اور یہ سب اس کائنات کے خالق وحدہ لاشریک کا کمال ہے۔ فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ” پس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مدمقابل نہ ٹھہراؤ۔ “ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ اس نے تمہیں پیدا کیا ۔ تم سے قبل جو لوگ ہو گزرے ہیں ان سب کو پیدا کیا ۔ تم جانتے ہو کہ اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا اور آسمان کو چھت بنایا ۔ آسمان سے پانی اتارا اور اس پورے کام میں اس کا کوئی مددگار نہ تھا جو اس کام میں اس کا ہاتھ بٹاتا۔ نہ کوئی مدمقابل تھا جو اس کی کسی بات کی مخالفت کرتا ۔ لہٰذا اس علم کے بعد بھی اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنا نہایت ہی نامناسب طرز عمل ہے ۔ عقیدہ توحید کو صاف و شفاف طریقے سے ذہنوں میں بٹھانے کے لئے قرآن کریم ، اللہ تعالیٰ کے جن شریکوں کی بار بار نفی اور تردید کرتا ہے ، وہ ہمیشہ صرف اسی معروف صورت میں نہیں ہوتے کہ کچھ بت یا اشخاص ہوں جنہیں اللہ کا شریک بناکر ان کی پوجا کی جائے بلکہ کبھی وہ اس کے علاوہ دوسری خفی صورتوں میں بھی ہوتے ہیں ۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے کسی قسم کی امید رکھنا اللہ کے سوا کسی سے کسی قسم کا خوف اپنے دل میں رکھنا بھی شرک ہوتا ہے۔ نیز یہ اعتقاد رکھنا بھی شرک ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور بھی نفع ونقصان پہنچاسکتا ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں انداد شرک ہے اور یہ اس قدر خفی ہوتی ہے جس طرح اندھیری رات میں سیاہ پتھر پر چیونٹی کا آہستہ آہستہ چلنا پوشیدہ ہوتا ہے اور اس کی کئی صورتیں ہیں مثلاً کوئی کہے کہ ” اے فلاں خدا کی قسم ، میری جان کی قسم ، تیری جان کی قسم ۔ “ یا کوئی کہے ” اگر گئی رات کتیا نہ ہوتی تو چور ہمیں لوٹ لیتے ، “ یا کوئی کہے ” اگر گھر میں بطخ نہ ہوتی تو چور آجاتے ۔ “ یا کوئی اپنے دوست سے کہے جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں ۔ یا کسی کا یہ کہنا کہ ” اگر اللہ اور فلاں نہ ہوتے تو “ غرض یہ سب اقوال شرک ہیں ۔ نیز حدیث شریف میں آتا ہے کہ کسی شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا ” جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں ۔ “ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” کیا تم مجھے اللہ کا شریک بنانا چاہتے ہو۔ “ یہ تھا سلف صالحین کا نقطہ نظر شرک خفی اور اللہ کے شریکوں کے بارے میں ہمیں چاہئے کہ ہم ذرا گریبان میں سر ڈال کر اپنے حال پر غور کریں ۔ کہاں سلف کا شرک کے بارے میں یہ شدیداحساس اور کہاں ہم ؟ کس قدر دور ہوگئے ہیں ہم عقیدہ توحید کی اس عظیم الشان سچائی سے ؟

البقرة 2:23

یہودیوں کو نبی ﷺ کی رسالت میں شک تھا ۔ منافقین بھی اس میں شک کرتے تھے اور مشرکین کی بھی یہی حالت تھی ۔ قرآن کریم یہاں سب کو چیلنج دیتا ہے ۔ اور ان کے سامنے ایک فیصلہ کن عملی تجربہ رکھ کر ان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس قرآن جیسی کتاب بنالائیں۔ وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (23) ” اگر تمہیں اس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے ، یہ ہماری ہے یا نہیں ، تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنالاؤ، اپنے سارے ہم نواؤں کو بلالو ، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس کی چاہو مدد لے لو ، اگر تم سچے ہو۔ “ یہ چیلنج ایک خاص انداز سے شروع ہوتا ہے ، جو اس مقام میں اہمیت رکھتا ہے ۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی صفت عبودیت کا ذکر فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے بندے پر کتاب اتاری ہے اگر تمہیں اس بارے میں شک ہے کہ وہ ، ہماری جانب سے ہے یا نہیں تو تم اس جیسی کوئی کتاب بنالاؤ۔ یہاں نبی ﷺ کو ” اپنا بندہ “ کہا گیا ہے ، اس سے متعدد اور باہم مربوط باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ مثلاً یہ کہ آپ ﷺ کو ” ہمارا بندہ “ کہہ کر آپ کی عظمت شان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ مقصد یہ کہ اللہ کی بندگی اور غلامی ، وہ بلند ترین اعزاز ہے جو کسی انسان کو یہاں دیا جاسکتا ہے اور جس پر کوئی فخر کرسکتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ نبی ﷺ کو اپنا بندہ اور غلام کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ذات باری کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے ۔ بلکہ سب لوگ اسی کے بندے اور غلام ہیں اور تو اور حضرت نبی ﷺ پیغمبر اور مورد وحی ہونے کے باوجود اللہ کے غلام اور بندے ہیں اور انہیں اپنے اس اعزاز پر فخر ہے ۔ اس چیلنج میں اس بات کو پیش نظر رکھا گیا ہے کہ سورة کے آغاز میں حروف تہجی کا ذکر تھا۔ اور یہ کتاب انہی حروف کلمات سے مرکب ہے جو ان کی دسترس میں ہیں ۔ اگر انہیں اس کتاب کے منزل من اللہ ہونے میں کوئی شبہ ہے تو یہ حروف ان کے پاس موجود ہیں ۔ انہیں چاہئے کہ وہ اس جیسی کوئی ایک سورت مرتب کرکے لے آئیں ۔ اور اس کام میں اپنے تمام ہمنواؤں اور مددگاروں سے بھی کام لیں تاکہ وہ اس سلسلے میں ان کے حق میں کوئی بات کریں۔ جہاں تک باری تعالیٰ کا تعلق ہے اس نے تو اپنے بندے کے حق میں گواہی دے دی ہے کہ وہ سچا ہے۔ یہ چیلنج جو متشککین قرآن کو دیا گیا ، رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی میں اور آپ ﷺ کے بعد قائم رہا۔ اور آج بھی ہمارے دور تک اسی طرح قائم ہے ۔ یہ ایک ایسی دلیل ہے جس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے ۔ آج تک قرآن کریم اور تمام انسانی تحریروں اور ادبی شہ پاروں کے درمیان واضح فرق قائم ہے اور قیامت تک یونہی رہے گا اور یہ فرق قیامت تک اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تصدیق کرتا رہے گا۔

البقرة 2:24

فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ (24) ” لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ، اور یقینا کبھی نہیں کرسکتے ، تو ڈرو اس آگ سے ، جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر جو مہیا کی گئی ہے منکرین حق کے لئے ۔ “ یہ چیلنج اگر عجیب ہے تو یہ جزم کہ اسے قیامت تک کوئی قبول ہی نہیں کرسکتا ، اس سے عجیب تر ہے ، اگر کفار کے بس میں یہ بات ہوتی کہ وہ اس جیسی کتاب بنالائیں تو وہ ایک لحظہ کے لئے بھی توقف نہ کرتے ۔ قرآن کا یہ کہہ دینا کہ ” وہ یقینا اس جیسی کتاب نہیں لاسکتے ۔ “ اور اس کے بعد صدیوں تک فی الواقعہ مخالفین کا عاجز وہ جانا ہی اپنی جگہ ایک ایسا کھلا معجزہ ہے ، جس میں کسی قسم کے شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ۔ یہ مخالفین کے لئے ایک عام چیلنج تھا ۔ ان کے لئے میدان کھلا تھا ۔ اگر وہ اس جیسی کوئی کتاب لے ہی آتے تو قرآن کا اعجاز ہمیشہ کے لئے ختم ہوسکتا تھا مگر وہ ایسا نہ کرسکے اور نہ ایسا کر ہی سکیں گے ۔ اگر ابتداً خطاب ایک نسل کو تھا لیکن دراصل یہ پوری انسانیت کو چیلنج دیا گیا تھا اور اعجاز قرآن اور حجیت قرآن کا تاریخی فیصلہ تھا۔ جو لوگ انسانی اسالیب کلام کا کسی قدر ذوق رکھتے ہیں ۔ جنہیں ، اس کائنات اور موجودات کے بارے میں انسانی تصورات سے کچھ بھی واقفیت ہے اور جو لوگ انسان کے بنائے ہوئے طریقوں اور نظاموں کے بارے میں کچھ بھی جانتے ہیں اور اس کے قائم کئے ہوئے نفسیاتی اور اجتماعی تصورات میں کسی قدر بھی درک رکھتے ہیں ۔ وہ یقینا اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اس سلسلے میں قرآن جو کچھ کہتا ہے وہ بالکل ایک دوسری ہی چیز ہے اور اسے ان گھروندوں سے کوئی نسبت ہی نہیں ہے ، جو یہ بےچارہ انسان بناتا رہتا ہے۔ اس بارے میں اگر کوئی شک وشبہ میں مبتلا ہے تو وہ جاہل ہے ، اسے کھرے کھوٹے کی کوئی تمیز نہیں ہے یا وہ اپنے کسی مفاد کی خاطر حق و باطل کو گڈمڈ کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اس چیلنج کے مقابلے میں عاجز آگئے اور پھر بھی انہوں نے اس کھلی سچائی کو تسلیم نہ کیا ان کے بارے میں یہ وعید شدید آتی ہے ۔ فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ ” توڈرو اس آگ سے ، جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر جو مہیا کی گئی ہے منکرین حق کے لئے ۔ “ اس میں انسان پتھروں کے ساتھ کیوں جمع کئے گئے۔ اور پھر اس خوفناک اور ڈراؤنی صورت میں ؟ اس لئے کہ وہ آگ منکرین حق کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ وہ منکرین جن کا ذکر اس سورت کے آغاز میں ان الفاظ میں کیا گیا تھا کہ ” اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ “ یہ وہی لوگ ہیں قرآن کریم یہ چیلنج دیتا ہے کہ وہ اس کے قبول کرنے سے (صدیوں تک ) عاجز آجاتے ہیں لیکن پھر بھی دعوت حق کو قبول نہیں کرتے ۔ اس لئے یہ لوگ بھی گویا اور پتھروں کی طرح پتھر ہیں ، اگرچہ ظاہری صورت کے لحاظ سے یہ آدمی نظر آتے ہیں ۔ بس اب انتظار اس بات کا ہے قیامت میں یہ پتھر کی قسم کے پتھر اور انسانوں کے پتھر جہنم میں باہم جمع ہوجائیں ۔ یہاں پتھروں کے ذکر سے ایک خاص مفہوم کو ذہن نشین کرنا مطلوب ہے۔ یعنی آگ کی خوفناکی ۔ ملاحظہ ہو پتھروں کو کھائے جارہی ہے اور اس آگ کے اندر ان بدبخت آدمیوں کی حالت ملاحظہ ہو جو پتھروں کے اندر دبے پڑے ہوں گے ۔

البقرة 2:25

اس خوفناک اور وحشتناک منظر کے بالمقابل ذرا دوسرا رخ بھی دیکھئے کہ انعامات واکرامات کی کیا فروانی ہے جو مومنین کا انتظار کررہی ہے ؟ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (25) ” اور اے پیغمبر جو لوگ کتاب پر ایمان لے آئیں ، اور اس کے مطابق اپنے عمل درست کرلیں ، انہیں خوشخبری دے دو کہ ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔ ان باغوں کے پھل صورت میں دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے ہوں گے ۔ جب کوئی پھل انہیں کھانے کو دیاجائے گا تو وہ کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اس سے پہلے ہم کو دیئے جاچکے ہیں ۔ ان کے لئے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ “ یہ رنگا رنگ انعامات واکرامات ، نگاہ جاکر ان میں سے پاکیزہ بیویوں پر جاٹکتی ہے ۔ یہ پھل اس سے پہلے کے پھلوں سے ملتے جلتے ہوں گے اور جن کے بارے میں اہل جنت یہ خیال کریں گے کہ اس سے پ ہے بھی جنت میں ان کی تواضع ایسے ہی پھلوں سے کی گئی ہے ۔ یا وہ ان پھلوں کے ہم شکل پھل دیئے جائیں گے لیکن جب وہ انہیں چکھیں گے تو ان کی حیرانی کی انتہا نہ رہے گی کہ مزا ہر دفعہ علیحدہ اور پرکیف ہوگا۔ قدم قدم پر انہیں ایسے نئے تجربے ہوں گے ، جن سے ظاہر ہوگا کہ وہ رضائے الٰہی کے اطمینان بخش ماحول میں رہ رہے ہیں ۔ کیا خوب تفکہہ ہے کہ ہر دفعہ بظاہر ہم شکل پھلوں کی صورت میں انہیں ایک نہی نعمت دی جاتی ہے۔ شکل و صورت کی یہ ہم رنگی اور ذائقہ و حقیقت کا یہ تنوع ، تخلیق کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ایک ممتاز کاریگری ہے ، جس سے یہ کائنات بظاہر ایک عظیم حقیقت نظر آتی ہے ۔ اس عظیم نکتے کی وضاحت کے لئے مناسب ہے کہ ہم خود اس کا مطالعہ کریں ۔ دیکھئے تمام انسان تخلیقی اعتبار سے ایک ہیں ۔ سر ، جسم اور دوسرے اعضاء سب ایک جیسے ہیں۔ سب گوشت پوست اور ہڈیوں اور اعصاب سے بنے ہوئے ہیں ۔ سب کو دوآنکھیں ، دوکان ، ایک ناک اور ایک زبان دی گئی ہے ، اور سب اسی ایک زندہ (Cell) خلیے سے پیدا کئے گئے ہیں ۔ مادہ اور صورت کے لحاظ سے سب ایک جیسے ہیں لیکن اخلاق و قابلیت میں ایک دوسرے کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے اور اس ظاہری مشابہت کے باوجود یہ فرق کبھی آسمان و زمین سے بھی زیادہ ہوتا ہے ۔ جب انسان صنعت باری کی ان باریکیوں پر غور کرتا ہے تو سر چکرا جاتا ہے ۔ ذرا غور کیجئے ! مخلوقات کی مختلف اقسام اور اجناس میں کیا تنوع ہے ۔ مختلف شکلیں اور رنگارنگ خصوصیات ، قابلیتوں اور خصوصیتوں میں امتیاز ، لیکن ان تمام چیزوں کا آغاز صرف ایک جیسے خلیے سے ہوا ہے جو اپنی ترکیب اور ساخت کے لحاظ سے بالکل یک گونہ ہوتا ہے۔ پس کون سیاہ دل ہے جو اللہ کی قدرت کے ان کھلے آثار اور شواہد کو دیکھ کر بھی صرف اسی کی بندگی اور غلامی اختیار نہیں کرتا ؟ اور کون ہے جو ان معجزہ دلائل اور واضح براہین کے ہوتے ہوئے بھی اللہ کی ذات وصفات میں کسی کو اس کا ہمسر بناتا ہے ! حالانکہ یہ بیشمار آثار اور یہ بکثرت دلائل اس کی آنکھوں کے سامنے ہیں اور وہ برابر ان کا مشاہدہ کررہا ہے ۔ کئی ایسے دلائل بھی ہیں جو اس کی نظروں اور مشاہدے سے اوجھل ہیں ۔

البقرة 2:26

اس سے قبل سورت کی ابتداء میں قرآن مجید یہود ومشرکین سے تعلق رکھنے والے منافقین کو اس شخص سے تشبیہ دی تھی جو آگ جلاتا ہے یا اس شخص کے ساتھ جو آسمانی بادلوں کی تاریکی اور گرج وچمک میں گھرا ہوا ہے ، نیز اس سے پہلے مکی دور کے نازل شدہ قرآن کریم میں بھی کئی تمثیلیں بیان کی گئی ہیں اور جو مدینہ میں عام طور پر پڑھی جاتی تھیں ۔ مثلاً جو لوگ رب العالمین کا انکار کرتے ہیں انہیں مکڑی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا ” ان کی مثال اس مکڑی کی طرح ہے کو اپنا گھر بناتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا جالاہوتا ہے ۔ کاش کے یہ لوگ جانتے ۔ “ ایک جگہ کہا گیا تھا جن کو یہ پکارتے ہیں ، ان کے عجز وماندگی کا حال یہ ہے ” وہ لوگ جو اللہ کے سوا پکارے جاتے ہیں ان کا حال یہ ہے کہ اگر وہ سب بھی جمع ہوجائیں تو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکیں گے ۔ بلکہ اگر ان سے مکھی کوئی چیز لے بھاگے تو وہ اس سے چھڑا نہیں سکتے ۔ کیا براحال ہے طالب اور مطلوب دونوں کا ؟ “ یہ آیات بتارہی ہیں کہ منافقین جن میں یہود ومشرکین دونوں شریک تھے ، ایسی تشبیہات پر اعتراض کرتے تھے کہ ان تشبیہات میں منافقین کا مذاق اڑایا گیا ہے ۔ ان میں مکھیوں اور مکڑیوں جیسی حقیر چیزوں کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ جل شانہ کی مقدس ذات اس سے برتر وبالا ہے ۔ یہ اعتراض مشرکین مکہ اور منافقین مدینہ کے پھیلائے ہوئے شبہات اور انتشار کے مختلف پہلوؤں اور تدبیروں میں سے ایک ہے۔ چناچہ ان آیات میں ان شبہات کی تردید کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ تمثیلوں کے بیان سے اللہ کا مقصد کیا ہے کفار کو اس بات سے ڈرایا جاتا ہے کہ وہ اس فریب کاری سے باز آجائیں اور مومنین کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ ان مثالوں سے ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہوگا۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ” اللہ اس بات سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی کسی حقیر ترچیز کی تمثیلیں دے ۔ “ کیونکہ اللہ جس طرح چھوٹی چیز کا رب ہے اسی طرح بڑی چیزوں کا بھی رب ہے۔ مچھر کا بھی خالق ہے اور ہاتھی کا بھی خالق ہے ۔ جس طرح ہاتھی کی تخلیق ایک اعجاز ہے اسی طرح مچھر کی تخلیق بھی ایک اعجاز ہے اور ان دونوں کی زندگی ایک ایسا راز سربستہ ہے ، جس کا علم اللہ کے سوا آج تک کسی کو نہیں ہے ۔ پھر تمثیل تو ایک پیرایہ اظہار ہوتا ہے اور اس کی غرض وغایت صرف یہ ہوتی ہے کہ اس کی مدد سے مدعا کو اچھی طرح کھول کر ذہن نشین کرایا جائے ، نہ یہ کہ جس چیز سے تشبیہ دی جارہی ہے وہ کوئی عظیم الشان چیز ہی ہو ۔ ضرب الامثال میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا تذکرہ معیوب ہو۔ بلکہ ان تمثیلات کے بیان کے ذریعہ تو اللہ تعالیٰ دلوں کو آزماتا اور نفوس کو پرکھنا چاہتا ہے۔ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ ” جو لوگ حق بات کو قبول کرنے والے ہیں وہ انہی تمثیلوں کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے ۔ “ اپنے ایمان کی بدولت وہ اللہ جل شانہ سے اس طرح ہدایت لیتے ہیں جس طرح ان کی شان ہے ۔ نیز وہ جانتے ہیں کہ ان تمثیلوں میں کیا حکمت پوشیدہ ہے ۔ ان کا نور سے لبریز ہے ۔ ان کی روح حساس ہے ، ان کا دل و دماغ اس ہدایت کے لئے کھلا ہے ۔ ان کے پاس اللہ جو حکم آتا ہے ، اللہ کی جو بات ان تک پہنچتی ہے ، وہ اس کی حکمت اور اس کے پس منظر کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَذَا مَثَلا ” اور جو ماننے والے نہیں ہیں ، وہ انہیں سن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللہ کو کیا سروکار ؟ “ یہ اس شخص کا سوال ہے جس کی نظروں سے اللہ کا نور اور اس کی حکمت اوجھل ہے ۔ وہ سنت الٰہی اور تدبیر الٰہی کو نہیں جانتا ۔ ایسا سوال وہ لوگ کرتے ہیں جن کے دلوں میں اللہ کا کوئی احترام نہیں ہوتا اور وہ اللہ تعالیٰ کے تصرفات کو ان نظروں سے نہیں دیکھتے جن سے انہیں اللہ کا ایک بندہ اور فرمانبردار غلام دیکھتا ہے ۔ ایسے لوگ کبھی تو بطور اعتراض اور ناپسندیدگی ایسی باتیں کرتے ہیں ، یا وہ ایسی باتیں اس لئے کرتے ہیں کہ انہیں اس بات کا یقین نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ بھی ایسی باتیں کرسکتا ہے۔ ان کی اس روش پر تہدید اور تنبیہ کی صورت میں انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ان تمثیلوں کے پیچھے اللہ کی ایک خاص تدبیر کام کررہی ہے ۔ یہ تمثیلیں لوگوں کی تقدیرکا فیصلہ کررہی ہیں ۔ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلا الْفَاسِقِينَ ” اس طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کردیتا ہے اور بہتوں کو راہ راست دکھا دیتا ہے اور گمراہی میں ان ہی کو مبتلا کردیتا ہے جو فاسق ہیں ۔ “ یہ اللہ تعالیٰ کا قانون قدرت ہے کہ وہ انسانوں کو امتحان اور ابتلا میں ڈالتا ہے ان آزمائشوں اور ابتلاؤں میں ہر انسان متقضائے طبیعت و استعداد کے مطابق طرز عمل اختیار کرتا ہے ۔ ہر شخص کی روش اس طریق حیات کے مطابق ہوتی ہے جو اس نے اپنے لئے پسند کیا ہوتا ہے۔ آزمائش ایک ہی ہوتی ہے لیکن مختلف نظام ہائے زندگی اختیار کرنے والے لوگوں پر اس کے اثرات مختلف ہوتے ہیں ۔ مثلاً مصیبت اور تکلیف ہی کو لے لیجئے ۔ سب لوگ مصائب میں مبتلاہوتے ہیں ۔ مومن بھی اور فاسق بھی ۔ ایک صالح جو اللہ کی رحمتوں اور حکمتوں پر پختہ یقین رکھتا ہے وہ جب مصیبت میں مبتلاہوتا ہے تو وہ زیادہ خشیت زیادہ عاجزی اور تضرع سے اللہ کے سامنے ملتجی ہوتا ہے ۔ لیکن اگر ایک فاسق تکلیف میں مبتلا ہو تو اس کے قدم اکھڑجاتے ہیں ، وہ اللہ سے اور بعید ہوجاتا ہے ۔ وہ مومنین کی صفوں سے نکل جاتا ہے ۔ اسی طرح خوشحالی اور تکاثر کو لے لیجئے کہ .... بعض لوگ اس آزمائش میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ لیکن ایک مومن جب زیادہ انعامات اور اکرامات پاتا ہے تو وہ زیادہ بیدار ہوجاتا ہے ۔ وہ شکر الٰہی میں پہلے سے بھی زیادہ حساس ہوجاتا ہے ۔ لیکن جب ایک فاس کو سہولتیں ملتی ہیں تو وہ اسے برباد کردیتی ہیں۔ وہ غرور میں مبتلا ہوجاتا ہے اور گمراہی کی روش اختیار کرتا ہے ۔ اسی طرح اللہ نے لوگوں کے لئے جو تمثیلیں بیان کیں ان کا نتیجہ یہ نکلا کہ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا ” ان سے بھی وہ بہتوں کو گمراہ کرتا ہے “ اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اللہ کی طرف سے آنے والی ہدایت کو اچھی طرح قبول نہیں کرتے ۔ وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ” اور بہتوں کو راہ ہدایت دکھا دیتا ہے ۔ “ اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو حکمت باری کو جانتے ہوتے ہیں۔ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلا الْفَاسِقِينَ ” اور گمراہی میں انہی کو مبتلا کرتا ہے جو فاسق ہیں ۔ “ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے دل پہلے سے فاسق ہوجاتے ہیں ۔ چناچہ یہ لوگ ہدایت اور اصلاح کی روش سے نکل جاتے ہیں لہٰذا ان کا صلہ یہی ہے کہ ان کی اس ضلالت میں اور اضافہ کردیاجائے۔

البقرة 2:27

جس طرح اس سورت کے آغاز میں متقین کی صفات کو تفصیل سے بیان کیا گیا تھا اسی طرح یہاں فاسقین کی خصوصیات کو بھی قدرے تفصیل سے لیا جاتا ہے ۔ کیونکہ اس پوری سورت میں روئے سخن ایسے ہی لوگوں کی طرف رہے گا ۔ نیز انسان ہر زمانے میں انہی ہر طبقات میں منقسم رہتے ہیں اور وہ یہ ہیں ۔ الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الأرْضِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (27) ” جو اللہ کے عہد کو مضبوطی سے باندھنے کے بعد توڑ دیتے ہیں ، اللہ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ، حقیقت میں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔ “ وہ کون سا عہد ہے جسے یہ توڑتے ہیں ؟ وہ کون ساتعلق ہے کہ اللہ نے اس کے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور اسے یہ کاٹتے ہیں ؟ اور جو فساد یہ کرتے ہیں اس کی نوعیت کیا ہے ؟ ان سب امور کو سیاق کلام میں مجمل چھوڑدیا گیا ہے ۔ کیونکہ یہاں اصولی طور پر ایسے لوگوں کا مزاج بتایا جارہا ہے ۔ ان کی نوعیت کو متعین ومشخص کیا جارہا ہے ۔ کسی حادثے یا کسی مخصوص واقعہ کا بیان مقصود نہیں ہے بلکہ ایک عمومی صورتحال کی وضاحت مطلوب ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور ایسے لوگوں کے درمیان جو عہد بھی ہے وہ توڑدیا گیا ہے اور اللہ نے جن جن انسانی رابطوں کے قیام کا حکم دیا ہے ، وہ سب کے سب ان لوگوں نے توڑدیئے ہیں اور جو فساد بھی ممکن ہے اس کا ارتکاب یہ کرتے رہتے ہیں ۔ ان کی فطرت میں بگاڑ پیدا ہوگیا ہے ۔ لہٰذا یہ کسی عہد اور کسی رابطے کے پابند نہیں ہیں ۔ اور کسی فساد سے بھی باز نہیں رہتے ۔ ان کی مثال کچے پھل کی سی ہے ، جو شجر حیات سے جدا ہوگیا ہو ، گل اور سڑ گیا ہو اور زندگی نے اسے پرے پھینک دیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جن تمثیلوں سے مومنین ہدایت پاتے ہیں ، ان سے ایسے لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں ، جو چیزیں متقین کے لئے سبب ہدایت ہوتی ہیں وہ ان فاسقین کے لئے باعث ضلالت ہورہی ہیں ۔ ایسے لوگ جو کبھی یہود ومشرکین کے منافقین کی صورت میں مدینہ میں پائے جاتے تھے اور جو دعوت اسلامی کے مقابلے میں ایک بڑی رکاوٹ تھے اور جو آج بھی نام اور عنوان کی مختصر تبدیلی اور بالکل معمولی اختلاف کے ساتھ تحریک کی راہ میں سنگ گراں بنے ہوئے ہیں ، ان کی فتنہ انگیزیوں کے نشانات تودیکھئے ۔ الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ ” جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں۔ “ انسانوں اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جو پیمان بندھا ہوا ہے اس کی کئی شکلیں اور صورتیں ہیں ۔ ایک تو وہ جبلی عہد ہے جو ہر ذی حیات کی جبلت میں ودیعت کیا گیا ہے ۔ اس کی رو سے ہر ذی حیات کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے خالق کی معرفت حاصل کرے اور اس کی بندگی کرے ۔ انسانی فطرت میں ہمیشہ عقیدہ خداوندی کے لئے پیاس رہتی ہے ۔ لیکن کبھی اس کی فطرت سلیمہ میں فساد رونما ہوجاتا ہے اور اس کے نتیجے میں انسان راہ راست سے بھٹک جاتا ہے ، اور دوسروں کو اللہ کا ہمسر اور شریک بنانے لگتا ہے۔ نیز اس کی ایک صورت عہد خلافت کی ہے ، جو اللہ تعالیٰ اور آدم (علیہ السلام) کے درمیان طے پایا۔ جس کا تذکرہ عنقریب ہوگا۔ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ (38) وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (39) ” پھر میری طرف سے جو ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقعہ نہ ہوگا اور جو لوگ اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے ، وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں ، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ نیز اس عہد کی ایک شکل وہ ہے جو مختلف پیغمبروں کے ذریعے مختلف اقوام سے باندھی گئی کہ وہ صرف ایک اللہ جل شانہ کی بندگی کریں اور اپنی زندگی میں صرف اسی کی تجویز کردہ نظام حیات اور نظام قانون کو اپنائیں گے ۔ یہ سب عہد ایسے ہیں جنہیں فاسق لوگ توڑتے ہیں ۔ اور جب کوئی اللہ تعالیٰ سے پختہ پیمان باندھنے کے بعد توڑتا ہے تو پھر وہ کسی دوسرے عہد کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ۔ جس کے اندر اللہ تعالیٰ کے ساتھ عہد شکنی کا حوصلہ ہوتا ہے ، وہ اس کے بعد کسی عہدوپیمان کا کوئی احترام نہیں کرتا۔ وَ یَقطَعُونَ مَآ اَمَرَ اللہ ُ بِہٖٓ اَن یُّوصَلَ ” اللہ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹتے ہیں ۔ “ اللہ تعالیٰ نے کسی قسم کے روابط وتعلقات کو قائم رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ اس نے یہ حکم دیا ہے کہ عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کی جائے ، اس نے یہ حکم دیا ہے کہ پوری انسانیت کی عظیم برادری قائم کی جائے اور ہر انسان دوسرے کا بھائی ہو۔ اور ان سب سے مقدم درجے میں اس نے حکم دیا ہے کہ ایک نظریاتی اخوت اور ایمانی برادری قائم کی جائے کیونکہ کوئی ربط اور تعلق ایمان ونظریہ کے سوا مضبوط نہیں ہوسکتا۔ جب وہ تعلقات و روابط ٹوٹ جائیں جن کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے تو پھر تمام رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور تمام روابط ختم ہوجاتے ہیں ۔ زمین پر افراتفری عام ہوجاتی ہے اور شر و فساد پھیل جاتا ہے۔ وَيُفْسِدُونَ فِي الأرْضِ ” اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں۔ “ زمین پر فساد پھیلانے کی بھی کئی شکلیں ہیں ۔ سب کی سب اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑنے اللہ تعالیٰ نے جن تعلقات کو جوڑنے کا حکم دیا ہے ، ان کے کاٹنے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا نتیجہ ہوتی ہیں اور ان تمام فسادات کا سرچشمہ یہ ہے کہ انسان اس نظام حیات کو ترک کردے جو اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی اور اس کے تصرفات کے لئے تجویز کیا ہے ۔ اسلامی نظام حیات ہی وہ راہ ہے جو ان تمام راہوں سے علیحدہ ہوجاتی ہے اور جو شر و فساد پر منتہی ہوتی ہیں ۔ اگر صورت یہ ہو کہ اسلامی نظام زندگی کے تصرف واقتدار سے اس دنیا کے امور آزاد کردیئے گئے ہوں ، اس زندگی کو اللہ کی شریعت کے دائرے سے نکال دیا گیا ہو تو ممکن نہیں ہے کہ اس دنیا کی اصلاح ہوسکے ۔ جب بھی ایسا ہوا ہے کہ انسانوں اور ان کے رب کے درمیان یہ مضبوط تعلق نہیں رہا ۔ تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا شر و فساد کے عظیم سیلاب کی لپیٹ میں آگئی ہے ، انسانی اخلاق خراب ہوگئے ہیں ، لوگوں کی زندگی اور احوال تباہ ہوگئے ۔ ان کی معیشت برباد ہوگئی ۔ غرض ایسے حالات میں یہ زمین اور اس کے اوپر رہنے والی تمام جاندار مخلوق اور تمام چیزوں میں فساد رونما ہوجاتا ہے اور یہی وہ تباہ کاری اور شر و فساد ہے جو اللہ کی نافرمانی کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے ایسے فساد میں مبتلالوگ اسی کے مستحق ہوتے ہیں کہ جن امور سے مومنین کو راہ ہدایت نصیب ہوتی ہے وہ ان کے لئے باعث گمراہی ہوتے ہیں۔

البقرة 2:28

ان قوی دلائل کے ہوتے ہوئے اللہ کا انکار کرنا ، کفر و انکار کی وہ قبیح اور ناپسندیدہ روش ہے جس کی پشت پر کوئی سند و دلیل نہیں ہے ۔ قرآن کریم یہاں ایک ایسی حقیقت پیش کرتا ہے جس سے ان کے لئے کوئی راہ فرار نہیں ہے۔ وہ اس بات پر مجبور ہیں کہ اس حقیقت اور اس کے لازمی نتائج کو تسلیم کرلیں ۔ قرآن ان کے سامنے قافلہ حیات اور اس کے مختلف حالات و کیفیات لاکر رکھ دیتا ہے تاکہ وہ اس پر غور کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان مردہ حالت میں تھے ، اللہ نے انہیں زندگی سے نوازا ، اللہ ہی انہیں حالت موت سے حالت حیات کی طرف لایا ، یہ ایک ایسی روشن حقیقت ہے کہ سوائے قدرت الٰہی اور تخلیق الٰہی کے اس کی کوئی اور توجیہ وہ نہیں کرسکتے ۔ وہ زندہ ہیں ان کے قلب جسدی میں حیات موجود ہے ؟ اس حیات کا خالق کون ہے ؟ وہ کون ہے جس نے جمادات میں یہ زائد صفت ، صفت حیات پیدا کی ؟ کیونکہ جمادات جن پر موت وجمود کی حالت طاری ہے ، وہ حیات کی حقیقت ومزاج سے بالکل مختلف ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اس حیات کا مصدر کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سوال ایسا ہے کہ عقل ونفس ہر وقت کوئی حقیقی اور تشفی بخش جواب چاہتا ہے اور کسی کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اس سوال کو نظر انداز کرسکے ۔ پھر اس سوال کے جواب میں کوئی ایسی بات انسان کو مطمئن نہیں کرسکتی جس میں اس مادی دنیا سے آگے کسی خالق ذات کو تسلیم نہ کیا گیا ہو۔ غرض یہ زندگی جو اس زمین پر رواں دواں ہے اور جس کی روش جمادات سے بالکل مختلف ہے کہاں سے آئی ؟ اس کا واحد تشفی بخش جواب یہ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آئی اور اسی کی قدرت کا کرشمہ ہے ، یہی جواب ایسا ہے جو سمجھ میں آسکتا ہے ۔ اگر کسی کو یہ جواب تسلیم نہیں ہے تو ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ لائے وہ کوئی تشفی بخش جواب ؟ یہ ہے وہ حقیقت جسے قرآن کریم اس موقع پر لوگوں کے سامنے رکھتا ہے ۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ” تم اللہ کے ساتھ کفر کارویہ اختیار کرتے ہو حالانکہ تم بےجان تھے ، اس نے تم کو زندگی عطاکی ۔ “ یعنی تم اس طرح بےجان تھے جس طرح تمہارے اردگرد پھیلی ہوئی یہ کائنات بےجان ہے ۔ اس نے تمہارے اندر جان پیدا کی اور تمہیں زندہ کیا ۔ کوئی اپنے خالق سے انکار کیوں کرسکتا ہے ۔ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ” پھر تمہاری جان سلب کرلے گا۔ “ یہ بھی ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ کیونکہ زندہ وذی روح مخلوقات کا مرنا روزمرہ کا معمول ومشاہدہ ہے ۔ لہٰذا زندگی کے بعد مرنا ایک ایسی حقیقت ہے جو ازخود ہی ذہنوں پر حاوی ہوتی ہے اور اس میں کسی قسم کی بحث وجدال کی کوئی گنجائش نہیں ہے ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ” پھر وہ تمہیں دوبارہ زندگی عطاکرے گا۔ “ یہ تھی وہ حقیقت جس میں ان کو شک تھا ، لہٰذا وہ اس کے بارے میں بحث وجدال کرتے تھے اور آج بھی اس میں بعض کج فطرت لوگ شک کرتے ہیں ، جو آج پھر صدیوں قبل کی جاہلیت کی طرف لوٹ چکے ہیں ۔ لیکن انسان اگر اس بات پر غور کرے کہ وہ پہلے بھی کچھ نہ تھا۔ اسے پیدا کیا گیا ، لہٰذا یہ بات عقل سے بعید نہیں ہے کہ موت کے بعد دوبارہ اسے زندہ کیا جاسکتا ہے ۔ پس یہ عقیدہ کوئی ایسا عجوبہ نہیں ہے کہ لازماً اس کی تکذیب ہی کی جائے ۔ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ” پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کرجانا ہے۔ “ جیسا کہ اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا اسی طرح تم اس کی طرف لوٹوگے ، جس طرح اس نے تمہیں زمین میں پھیلایا۔ اسی طرح تم اٹھائے جاؤگے ۔ جس طرح تم مردہ حالت سے نکال کر اس زندہ حالت میں لائے گئے ۔ اسی طرح تم اسی کی طرف پلٹ کر جاؤگے تاکہ وہ تمہارے درمیان اپنا حکم نافذ کرے اور تمہارے قضیوں کا فیصلہ کرے۔ یہ ایک مختصر سی آیت ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر پل بھر میں زندگی کا پورا دفتر پھیلا بھی دیا ۔ اور لپیٹ بھی لیا ۔ ایک چمک اٹھی اور دیکھا گیا کہ پوری انسانیت اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ اللہ نے پہلے اسے زندہ کرکے زمین میں پھیلایا ، پھر اسے اچانک موت نے آلیا ، پھر روز محشر کا منظر ہے جس میں پوری انسانیت اٹھ رہی ہے اور اللہ کی طرف لوٹ رہی ہے بعینہ اسی طرح جس طرح پہلے اللہ نے اسے زندہ کیا تھا ۔ اس برق رفتارپیرایہ بیان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ صاف صاف نظر آتی ہے اور انسانی احساس و شعور پر اس کے گہرے اثرات پڑتے ہیں ۔

البقرة 2:29

اس پہلی چمک کے متصلاً بعد روشنی کی ایک دوسری کرن آتی ہے جو پہلی کے لئے تکمیل کا درجہ رکھتی ہے ۔ هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الأرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی ساری چیزیں پیدا کی ہیں ، پھر اوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کئے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے ۔ “ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے بارے میں مفسرین اور متکلمین نے طویل بحثیں کی ہیں ، قبلیت ، وبعدیت اور استوا اور تسویہ اور دوسری کلامی بحثیں یہاں کی جاتی ہیں ۔ لیکن یہ حضرات اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ قبل وبعد ، محض انسانی اصطلاحات ہیں ، اللہ تعالیٰ کے لئے ان کا کوئی مفہوم نہیں ہے ۔ یہ حضرات اس بات کو بھی سامنے نہیں رکھتے کہ استوا اور تسویہ انسانی لغی اصطلاحات ہیں جو لامحدود ذات کو انسان کے محدود تصور کے قریب لے آتی ہیں ۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں ۔ قرآن کی ایسی تعبیروں پر علمائے اسلام نے جو طویل بحثیں کیں ، وہ اس مصیبت اور آفت کا نتیجہ تھیں جو یونانی فلسفہ اور یہود ونصاریٰ کی لاہوتی بحثوں کی صورت میں امت مسلمہ پر نازل ہوئی۔ یہ بحثیں تب پیداہوئیں جب اس فلسفہ اور ان لاہوتی بحثوں نے عربوں کی سادہ ذہنیت اور مسلمانوں کے پاکیزہ خیالات کو گدلا کردیا تھا۔ اب ہمارے لئے یہ ہرگز مناسب نہیں ہے کہ ہم بھی اس مصیبت میں خواہ مخواہ گرفتار ہوجائیں اور منطقی اور کلامی جدلیات میں قرآن کریم کے حسن و جمال کو گم کردیں ۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ ان مصنوعی تعبیرات واصطلاحات سے آزاد ہوکر یہ دیکھیں کہ پوری کائنات کو انسان کے لئے پیدا کرنے کی حقیقت کیا ہے ؟ اس حقیقت سے کس چیز کا اظہارہورہا ہے ۔ اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے وجود انسانی کا کیا مقصد قرار پاتا ہے ۔ اس زمین پر انسان کے کیا فرائض ہیں ۔ اللہ کے ہاں انسان کی قدر و قیمت کیا ہے ۔ نیز اسلامی تصورحیات اور تصور کائنات میں انسان کی کیا قدر و قیمت ہے اور اسلامی نظام زندگی میں انسان کا مقام کیا ہے ؟ هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الأرْضِ جَمِيعًا ” اللہ تو وہی ہے جس نے تمہاری زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں۔ “ یہاں لفظ لکم یعنی ” تمہارے لئے “ اپنے گہری معنویت لئے ہوئے ہے ۔ یہ اس گہری حقیقت کا اظہار کررہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس انسان کو ایک عظیم مقصد کے لئے پیدا کیا ہے ۔ اس کی پیدائش کا مقصد یہ ہے کہ وہ زمین پر اللہ کانائب اور خلیفہ ہو ۔ زمین کے اندر جو کچھ ہو وہ اس کی ملکیت ہو اور وہ اس میں مؤثر اور متصرف ہو ۔ کیونکہ اللہ کی اس طویل و عریض کائنات میں وہی اعلیٰ مخلوق ہے ۔ وہ اس وسیع میراث کا پہلا وارث ہے ۔ لہٰذا اس زمین کے حالات اور اس کے انقلابات کے اندر اس کا کردار بھی اول درجے کا ہے ۔ وہ جس طرح اس زمین کا سردار ہے اسی طرح اس کے آلات کا بھی سردار ہے۔ وہ آلات پیداوار کے ہاتھ میں مقید اور بےبس نہیں ہے ، جس طرح آج کی مادی دنیا میں انسان ان آلات کے ہاتھوں بےبس ہوچکا ہے ۔ نیز وہ ان تبدیلیوں اور تغیرات کا بھی تابع نہیں ہے جو انسان اور انسان کے باہم روابط میں ان آلات کی پیدا کردہ ہیں جیسا کہ آج کل کے مادہ پرستانہ تصور حیات میں انسان اور اس کے کردار کو حقیر تر سمجھا جاتا ہے اور اسے بےجان اور بےشعور آلات کا غلام بنادیا جاتا ہے ۔ حالانکہ وہ ان سے برتر اور ان کا سردار ہے ۔ قرآن کی رو سے ساری اقدار میں سے کوئی بھی ایسی نہیں ہے کہ اسے انسانیت کی قدر و قیمت سے برتری حاصل ہو۔ انسان تو اس کے سامنے ذلیل و خوار ہو اور وہ اس کے مقابلے میں بلند وبالا ہو۔ وہ تمام مقاصد جن کے نتیجے میں انسان کی انسانیت کی تذلیل ہو ۔ وہ انسان کے مقصد وجود ہی کے خلاف ہیں اور اس لئے معیوب ہیں ، چاہے ان کے نتیجے میں بیشمار مادی فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ چناچہ اسلامی تصور حیات کے مطابق انسان کی شرافت اور انسان کی برتری وہ پہلی قدر ہے جو سب اقدار سے اولیت رکھتی ہے ۔ تمام مادی قدریں اس کے تابع ہیں اور ان کا درجہ بعد میں آتا ہے ۔ یہاں اللہ تعالیٰ اپنی جس نعمت کا ذکر فرما رہے ہیں اور اس کے کفران پر نکیر ہورہی ہے وہ صرف یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین کی تمام نعمتوں سے نوازا بلکہ یہ بھی ہے کہ انسان ان تمام چیزوں کا مالک اور متصرف بھی ہے اور یہ کہ انسان کی قدر و قیمت ان تمام مادی اقدار سے برتر ہے جن پر یہ زمین حاوی ہے ۔ جس انعام کا یہاں ذکر ہے ملکیت کائنات اور زمین کے ذخائر سے انتفاع سے بھی آگے ، وہ انسانی شرافت اور انسان کی برتری کی نعمت ہے۔ ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ” پھر اوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کئے۔ “ یہاں اس بات کی ضرورت نہیں کہ استواء الی السماء کی حقیقت وماہیت کیا ہے ؟ ہمارے لئے یہ جاننا کافی ہے کہ آسمان کی طرف متوجہ ہونے سے مراد کیا ہے ؟ استوا الی السماء قدرت الٰہی کے اظہار کا ایک پیرایہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے تخلیق وتکوین کا ارادہ فرمایا۔ اسی طرح سات آسمانوں کی حقیقت اور ان کی شکل اور حدود اربعہ کے تعین کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ آیت کے اس اصولی اور عام مفہوم کا سمجھ لینا ہی کافی ہے۔ کفار چونکہ کائنات کے خالق ونگہبان کے منکر تھے ، اس لئے یہاں یہ بیان کیا گیا کہ اللہ ہی زمین و آسمان کا خالق ہے ۔ اس نے انسانوں کے لئے زمین کی تمام مخلوق کو مسخر کرلیا ہے اور آسمانوں کے اندر اس طرح نظم اور ربط پیدا کیا ہے جس کی وجہ سے اس کرہ ارض پر زندگی کا باقی رہنا آسان اور سہل ہوگیا ہے ۔ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ” اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ “ وہی سب کا خالق اور سب کا مدبر ہے ، لہٰذا ظاہر ہے کہ وہ ہر چیز کا علم بھی رکھتا ہے ۔ پوری کائنات کی تدبیر کے ساتھ ساتھ پوری کائنات کا علم بھی رکھنا ایک ایسی حقیقت ہے جو اس کائنات کے خالق وحدہ لاشریک پر ایمان لانے کے مہمیز کا کام دیتی ہے ۔ اس سے انسان اس وحدہ لاشریک مدبر کی بندگی کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔ اور بطور شکر نعمت اپنے رازق اور منعم کی بندگی بجالاتا ہے ۔ یہاں آکر سورت کی ابتدائی بحثیں ختم ہوجاتی ہیں ۔ اس پوری بحث میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ لوگ ایمان لے آئیں اور مومنین ومتقین کے اختیار کردہ راستے کو اپنالیں ۔ درس 3 ایک نظر میں قرآن کریم میں مختلف مواقع پر قصص کا بیان ہوتا ہے۔ موقع ومحل خود بتا دیتا ہے کہ یہاں اس قصے کے بیان سے غرض وغایت کیا ہے ‘ سلسلہ کلام کی کون سی کڑی سے تعرض کیا جارہا ہے ؟ کس شکل و صورت میں قصہ پیش ہورہا ہے اور وہ طرز ادا کیا ہے جس میں وہ قصہ بیان ہورہا ہے ........ اس اسلوب کلام سے روحانی ‘ فکری اور فنی فضا میں ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے ۔ ایک تو موضوع کلام کا حق ادا ہوجاتا ہے دوسری طرف بیان قصہ کی نفسیاتی اغراض بھی پوری ہوجاتی ہیں اور قصہ کو لانے سے جو اثرات پیدا کرنے مطلوب ہوتے ہیں وہ ہوجاتے ہین۔ بعض لوگوں یہ وہم ہوا ہے کہ قرآنی قصص میں تکرار ہے کیونکہ ایک ہی قصہ مختلف شکلوں میں کئی جگہ دہرایا گیا ہے ۔ لیکن گہری نظر سے مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوجاتا ہے کہ جن قصوں کا کوئی ایک حصہ یا پورے قصے کو کسی جگہ دہرایا گیا ہے تو وہاں وہ اپنی سابقہ شکل و صورت میں ہی نہیں بیان ہوا بلکہ دونوں مقامات پر قصے کی مقدار اور سیاق کلام اور طرز ادا بالکل مختلف ہوتی ہے ۔ جہاں بھی قصے کا کوئی حصہ دہرایا جاتا ہے وہاں ایک نئی بات کہنی مطلوب ہوتی ہے لہٰذا فی الحقیقت قرآن کریم میں بیان قصص میں کوئی تکرار نہیں ہے ۔ بعض کج فہم لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن کریم کے بیان کردہ بعض واقعات تخلیقی ہیں یا ان کے بیان میں تصرف کیا گیا ہے یعنی محض مقاصد اور تحسین کلام کے لئے یہ قصے لائے گئے ہیں ۔ لیکن جو شخص بھی فطرت سلیم رکھتا ہو اور کھلی آنکھوں سے قرآن کا مطالعہ کرتا ہو وہ اس حقیقت کو بسہولت پالیتا ہے کہ ہر جگہ موضوع بحث کی مناسبت سے کوئی قصہ یا اس کا حصہ لایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انداز بیان اور طرز ادا بھی موقع ومحل کی مناسبت سے بالکل جدا ہوتی ہے ۔ قرآن کریم ایک دعوتی کتاب ہے ۔ ایک نظام زندگی ہے اور ایک نظام زندگی کا دستور بھی ہے ۔ وہ تسکین ذوق کی حکایت یا تاریخ کی کتاب نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دعوت دین کے دوران منتخب قصے بھی بیان کئے جاتے ہیں ۔ قصوں کے اسلوب بیان اور ان کے مقدار کا فیصلہ سیاق کلام اور مناسبت حال کے لحاظ سے کیا جاتا ہے ۔ بیان قصص میں صرف حسن ادا کی بہترین خوبیوں ہی کا لحاظ رکھا جاتا ہے ۔ زور کلام کی خاطر کہیں بھی واقعات میں اضافہ نہیں کیا گیا ہاں ہر جگہ واقعات کو بالکل ایک انوکھے انداز میں پیش کیا گیا ہے اور اثر انگیزی کے لئے صرف سچائی کی قوت اور حسن ادا پر ہی اعتماد کیا گیا ہے۔ قرآنی قصے درحقیقت قافلہ ایمان کے طویل اور مسلسل سفر کی داستان اور روئیداد ہوتے ہیں اور قرآن میں دعوت دین کی طویل کہانی کو سمودیا گیا ہے جو نسلاً بعد نسل لوگوں کے سامنے پیش کی جاتی رہی اور لوگ اسے قبول کرتے رہے ۔ یہ قصے ایک طرف تو انسانوں کی ان برگزیدہ ہستیوں کی کیفیت ایمان کو پیش کرتے ہیں جنہیں اس کام کے لئے منتخب کیا گیا اور دوسری طرف یہ بتاتے ہیں کہ ان برگزیدہ ہستیوں اور رب العالمین کے درمیان تعلق کی نواعیت کیا تھی ؟ ان قصوں کے ذریعہ ہم دیکھتے ہیں کہ یوں یہ قافلہ اہل کرم اس طویل شاہراہ پر چلاآتا ہے ۔ دل کی روشنی نور اور طہارت سے بھرتے ہوئے وہ دل کے اندر اس قیمتی متاع ‘ ایمان اور اس کائنات میں اس کی اہمیت کا شعور بیدار کرتے ہوئے آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ وہ ایمانی تصور حیات کو تمام دوسرے عارضی تصورات زندگی سے ممیز کرتے ہوئے اسے انسان کے حس و شعور میں بٹھاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید جو کتاب دعوت ہے اس کا ایک بڑاحصہ ایسے ہی قصص پر مشتمل ہے۔ اب ہمیں چاہئے کہ ان تصریحات کی روشنی میں قصہ آدم کا مطالعہ کریں جیسا کہ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے ۔ اس سے پہلے قافلہ حیات انسانی کی زندگی سے بحث کی گئی ہے بلکہ اس پوری کائنات کے وجود سے بحث کی گئی ۔ اس کے بعد انسان پر اپنی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے اس کرہ ارض کا ذکر ہوا اور بتایا گیا کہ اس زمین میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ نے انسانوں کے لئے پیدا کیا ہے ۔ اس ضمن میں اس زمین پر حضرت آدم (علیہ السلام) کو منصب خلافت عطاکئے جانے کا قصہ شروع ہوجاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ زمین کے اختیارات حضرت آدم (علیہ السلام) کے سپرد کردیتے ہیں لیکن اختیارات کی یہ سپردگی مشروط ہے اور حضرت آدم کے ساتھ ایک معاہدہ ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) کو علم ومعرفت کی وہ ضروری مقدار بھی عطا کرتے ہیں جو بار خلافت اٹھانے کے لئے ضروری تھی نیز بعد میں چونکہ اللہ تعالیٰ نے منصب خلافت کا معاہدہ بنی اسرائیل سے کیا۔ اس لئے قصہ آدم اس کے لئے تمہید کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد بنی اسرائیل کو اس خلافت سے معزول کردیا اور قلمدان خلافت اس امت مسلمہ کے حوالے کردی جاتی ہے جو اللہ کے عہد کو اچھی طرح پورا کرنے والی ہے ۔ اس طرح یہ قصہ سیاق وسباق سے پوری طرح ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔ اب ہمیں چاہئے کہ لمحی بھر آغاز انسانیت کے احوال پڑھیں اور دیکھیں کہ ان کے پس منظر میں کس قدر قیمتی ہدایات پوشیدہ ہیں ۔ پردہ اٹھتا ہے اور سب سے پہلے ہم عالم بالا کے اسٹیج پر پہنچ جاتے ہیں ۔ بلندیوں کی چمک اور روشنیوں کے نور بصیرت کے ذریعہ ہم انسانیت کے آغاز کی کہانی کو یوں اسٹیج ہوتے دیکھ رہے ہیں۔

البقرة 2:30

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الأرْضِ خَلِيفَةً ” پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو ، جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ “ تو معلوم ہوا کہ یہ عالم بالا کی خاص مشیئت ہے کہ اس کائنات میں پیدا کئے جانے والے اس نئے موجود (انسان ) کو اس زمین کے تمام اختیارات دے دیئے جائیں ۔ اسے اس دنیا میں آزاد چھوڑ دیا جائے اور اس کائنات کے مقصد تخلیق اور اسے عدم سے وجود میں لانے کی غرض وغایت کا اظہار اور اس کے بروئے کار لانے کا کام اس انسان کے سپرد کردیا جائے اور اس انسان کو اس زمین کی تحلیل و ترکیب ، اس کی تبدیلی اور ترقی ، اس کے اندر پوشیدہ خزانوں کا کھوج لگانے اور اس خام ذخائر کا پتہ لگانے اور انہیں مسخر کرنے کے کام میں لگادیاجائے۔ یہ سب کام اللہ کے حکم سے ہو اور انسان کی اس عظیم مہم کا ایک حصہ ہو جو اللہ تعالیٰ نے اس انسان کے سپرد کی ۔ نیز استخلاف آدم سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ نے اس جدید مخلوق (انسان) کے اندر ایسی پوشیدہ قوتیں ودیعت کی ہیں اور اسے ایسی استعداددی ہے جس کے ذریعے وہ اس زمین کے اندر پوشیدہ تمام قوتوں ، تمام مفید ذخیروں اور خام مواد کو کام میں لاسکتا ہے ۔ اسے اللہ تعالیٰ نے ایسی اندرونی اور خفیہ طاقتیں دی ہیں جن کے ذریعے وہ اس منشاء خداوندی کو بروئے کار لاسکتا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کائنات پر حاوی ہونے والے قوانین قدرت اور نوامیس فطرت اور اس انسان اور اس کی قوتوں پر نافذ ہونے والے قوانین شریعت کے درمیان مکمل توافق اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے تاکہ ان دونوں قوانین کے درمیان تصادم اور تضاد نہ ہو اور انسانی طاقت اور قوتیں اس عظیم کائنات کے قوانین قدرت اور نوامیس فطرت سے ٹکرا کر پاش پاش نہ ہوجائے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک اعزاز ہے جو اس کائنات کے اندر اور اس پورے کرہ ارض پر حضرت انسان کو دیا گیا ۔ یہ وہ شرف ہے جو انسان کے خالق رحیم اور خداوند کریم نے اس کے لئے پسند فرمایا اور کیا ہی بلند ہے یہ مقام ! اور تمام باتیں عالم بالا کے اس جلیل القدر اشارے سے معلوم ہوتی ہیں کہ ” میں زمین پر اپناخلیفہ بنانے والا ہوں۔ “ بالخصوص جبکہ آج ہم چشم سر اور بصیرت دونوں سے عیاں دیکھ رہے ہیں کہ انسان نے اس کائنات میں یہ کام کیا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی اس زمین میں یہتکوینی مقصد پورا کیا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا تھا اور اس وسیع مملکت میں اسے اپنا خلیفہ بنایا گیا تھا۔ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ” انہوں نے عرض کیا ، کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے نظام کو بگاڑ دے اور خونریزیاں کرے گا ؟ آپ کی حمد وثناکے ساتھ ساتھ تسبیح اور آپ کے لئے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں ۔ “ ملائکہ کی اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے یا تو اس وقت موجودہ صورتحال سے آنے والی مخلوق کے بارے میں اندازہ کرلیا تھا یا اس سے پہلے زمین میں جو مخلوق بسائی گئی تھی اس کے تجربات کی روشنی میں انہوں نے یہ بات کہی ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے اپنی خداد بصیرت کے ذریعے معلوم کرلیا ہو کہ آنے والی مخلوق کسی ہوگی ؟ نیز یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زمین میں انسانی زندگی کے لئے جو ضروری تقاضے تھے اس سے انہوں نے اس مخلوق کی فطرت کا اندازہ لگالیاہو۔ اس لئے وہ جانتے تھے یا کم ازکم انہیں یہ توقع تھی کہ آنے والی یہ نئی مخلوق زمین میں فساد برپاکرے گی اور یہاں خونریزیاں ہوں گی ۔ انہوں نے یہ سوال اس لئے بھی اٹھایا کہ اپنی پاک فطرت اور معصومیت کی وجہ سے وہ خیر مطلق اور ہمہ جہت امن وامان کا ہی تصور کرسکتے تھے ۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اس کائنات کا مقصد وجود اور سبب تخلیق صرف یہ ہے کہ اللہ کی حمد وثنا کے ساتھ اس کی تقدیس کی جائے اور یہ بات ان کی موجودگی سے پوری طرح سرانجام دی جارہی تھی ۔ کیونکہ یہ فرشتے ہر وقت اللہ کی حمد وثناکے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے رہتے تھے اور کسی وقت بھی اس کی بندگی اور اطاعت سے منہ نہ موڑتے تھے ۔ لیکن اس زمین کی ساخت وپرداخت اور اس کی اندر زندگی کی بوقلمونیوں کے بروئے کار لانے میں جو گہری اور دوررس مصلحت کارفرماتھی وہ ان کی نظر سے اوجھل تھی ۔ مشیت الٰہی یہ تھی کہ اللہ کا یہ خلیفہ جو اگرچہ کبھی کبھار فساد پھیلائے گا ، خونزریزیاں بھی کرے گا ، اس زمین کو مسخر کرے ، اسے ترقی دے ، اس کی ساخت کو بدلے تاکہ اللہ کا منشاپورا ہو اور اس معمولی اور جزوی شر و فساد کے ہوئے وہ عظیم بھلائیاں پروان چڑھیں جو عمومی اور سب کائنات کو شامل ہیں ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی اس وسیع کائنات میں دائمی نشوونما ، مسلسل تہذیب کی ترقی ، تخریب وتعمیر کا دائمی عمل ، پیہم جدوجہد ، نہ رکنے والی جستجو ، مسلسل تغیر وتبدیلی کے ذریعہ یہ عظیم تربھلائی اور بہبود بروئے کارلائی جائے ۔ چناچہ ان کے اس سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عالم الغیب اور علیم وخبیر ہے یہ فیصلہ صادر ہوتا ہے۔ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لا تَعْلَمُونَ ” میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔ “

البقرة 2:31

دیکھئے ! اب ہم چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی ایک جمعیت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کا منصب خلافت سپرد کیا جارہا ہے اور یوں ہیں اس عظیم راز سے آگاہ کردیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہار کے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار مافی الضمیر کرتے ہیں ۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں انسان دیکھتا ہے ۔ اس زمین پر حیات انسانی کو آسان بنانے کے لئے یہ ایک اہم صلاحیت ہے جو اللہ نے انسان کو دی ہے ۔ اس کی افادیت کا صحیح تصور اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کرلیں کہ انسان .... کے اندر اشیاء کے نام رکھنے اور استعمال کرنے کی قدرت نہیں ہے ۔ اب دیکھئے ایک دوسرے کو سمجھنے میں اور باہم معاملات طے کرنے میں کیا مشکلات ہیں ؟ جن سے اچانک یہ دوچار ہوگئے ۔ اگر کوئی کسی کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو خود اس چیز کا حاضر کرنا ضروری ہوجاتا ہے تاکہ وہ اس کے بارے میں کوئی مفاہمت کرسکیں ۔ اگر کسی درخت کا معاملہ درپیش ہے تو ضروری ہے کہ درخت سامنے ہو۔ اگر کسی پہاڑ اور قطعہ زمین کے بارے میں جو کچھ طے کرنا ہے تو ضروری ہے کہ سب لوگ وہاں جائیں ۔ اگر کسی فرد بشرکا معاملہ ہے تو ضروری ہے کہ اسے سامنے لایاجائے ۔ ذرا سوچئے مشکلات کا ایک طوفان برپا ہوگیا ہے اور جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ غرض اگر اللہ تعالیٰ حضرت انسان کو یہ راز نہ بتاتے کہ ہر معنی ومفہوم کا اظہار ان ناموں کے ذریعے ہوسکتا ہے تو ہماری زندگی دوقدم بھی آگے نہ بڑھ سکتی۔ رہے فرشتے تو انہیں اس قابلیت کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ ان کے کام اور ان کی ڈیوٹی کی جو نوعیت تھی اس کے لئے اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ وہ ہر چیز کے نام کو جانیں ۔ اس لئے اللہ نے اس وقت فرشتوں کو یہ رازنہ بتایا تھا۔ جب اللہ نے آدم کو یہ راز بتایا اور فرشتوں کے سامنے جب یہ چیزیں پیش کی گئیں تو وہ ان کے نام نہ بتاسکے ۔ وہ یہ نہ جانتے تھے کہہ مختلف چیزوں اور اشخاص کا نام رکھ کر الفاظ کے ذریعے انہیں بسہولت سمجھا جاسکتا ہے ۔ چناچہ انہوں نے اپنی اس ناکامی کو دیکھ کر اللہ کی حمد وثنابیان کی اور اپنے عجز ودرماندگی کا اقرار کیا اور کہہ دیا ان کا علم تو صرف انہی چیزوں تک محدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دی ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا تعارف کرایا اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر یوں انہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور وسعت علم کی راہنمائی کی ۔” میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ آسمانوں اور زمینوں کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں ۔ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے بھی میں جانتا ہوں۔ “ دیکھئے ! اب چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی کسی جمعیت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کو منصب خلافت سپرد کیا جارہا ہے اور یوں ہمیں اس عظیم راز سے آگاہ کردیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہار کے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی ہے اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار مافی الضمیر کرتے ہیں۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو انسان اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں انسان دیکھتا ہے ۔ اس زمین پر حیات انسانی کو آسان بنانے کے لئے یہ ایک اہم صلاحیت ہے جو اللہ نے انسان کو دی ہے ۔ اس کی افادیت کا صحیح تصور اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کرلیں کہ انسان۔۔۔۔۔ کہ اندر اشیاء کے نام رکھنے اور استعمال کرنے کی قدرت نہیں ہے۔ ایک دیکھئے ایک دوسرے کو سمجھنے میں اور باہم معاملات طے کرنے میں کرنے میں کیا مشکلات ہیں ؟ جن سے اچانک یہ دوچار ہوگئے۔ اگر کسی کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو خود اس چیز کا حاضر کرنا ضروری ہوجاتا ہے تاکہ وہ اس کے بارے میں کوئی مفاہمت کرسکیں ۔ اگر کسی درخت کا معاملہ درپیش ہے تو ضروری ہے درخت سامنے ہو ۔ اگر کسی پہاڑ اور قطعہ زمین کے بارے میں کچھ طے کرنا ہے تو ضروری ہے کہ سب لوگ وہاں جائیں ۔ اگر کسی فرد بشر کا معاملہ ہے تو ضروری ہے کہ اسے سامنے لایاجائے ۔ ذرا سوچئے مشکلات کا ایک طوفان برپا ہوگیا ہے اور جینا دوبھر ہوگیا ہے ۔ غرض اگر اللہ تعالیٰ حضرت انسان کو یہ راز نہ بتاتے کہ ہر معنی ومفہوم کا اظہار ناموں کے ذریعے ہوسکتا ہے تو ہماری زندگی دوقدم بھی آگے نہ بڑھ سکتی ۔ رہے فرشتے تو انہیں اس قابلیت کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ ان کے کام اور ان کی ڈیوٹی کی جو نوعیت تھی اس کے لئے اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ وہ ہر چیز کے نام کو جانیں ۔ اس لئے اللہ نے اس وقت فرشتوں کو یہ راز نہ بتایا تھا ۔ جب اللہ نے آدم کو یہ راز بتایا اور فرشتوں کے سامنے جب چیزیں پیش کی گئیں تو وہ ان کے نام نہ بتاسکے ۔ وہ یہ نہ جانتے تھے کہ مختلف چیزوں اور اشخاص کا نام رکھ کر الفاظ کے ذریعے انہیں بہ سہولت سمجھایا جاسکتا ہے ۔ چناچہ انہوں نے اپنی اس ناکامی کو دیکھ کر اللہ کی حمد وثناء بیان کی اور اپنے عجز اور درماندگی کا اقرار کیا اور کہہ دیا ان کا علم تو صرف انہی چیزوں تک محدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دی ہیں ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) تعارف کرایا اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر یوں انہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور وسعت علم کی طرف راہنمائی کی ۔” میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں ۔ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے میں جانتا ہوں۔ “

البقرة 2:32

دیکھئے ! اب ہم چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی ایک جمعیت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کا منصب خلافت سپرد کیا جارہا ہے اور یوں ہیں اس عظیم راز سے آگاہ کردیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہار کے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار مافی الضمیر کرتے ہیں ۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں انسان دیکھتا ہے ۔ اس زمین پر حیات انسانی کو آسان بنانے کے لئے یہ ایک اہم صلاحیت ہے جو اللہ نے انسان کو دی ہے ۔ اس کی افادیت کا صحیح تصور اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کرلیں کہ انسان .... کے اندر اشیاء کے نام رکھنے اور استعمال کرنے کی قدرت نہیں ہے ۔ اب دیکھئے ایک دوسرے کو سمجھنے میں اور باہم معاملات طے کرنے میں کیا مشکلات ہیں ؟ جن سے اچانک یہ دوچار ہوگئے ۔ اگر کوئی کسی کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو خود اس چیز کا حاضر کرنا ضروری ہوجاتا ہے تاکہ وہ اس کے بارے میں کوئی مفاہمت کرسکیں ۔ اگر کسی درخت کا معاملہ درپیش ہے تو ضروری ہے کہ درخت سامنے ہو۔ اگر کسی پہاڑ اور قطعہ زمین کے بارے میں جو کچھ طے کرنا ہے تو ضروری ہے کہ سب لوگ وہاں جائیں ۔ اگر کسی فرد بشرکا معاملہ ہے تو ضروری ہے کہ اسے سامنے لایاجائے ۔ ذرا سوچئے مشکلات کا ایک طوفان برپا ہوگیا ہے اور جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ غرض اگر اللہ تعالیٰ حضرت انسان کو یہ راز نہ بتاتے کہ ہر معنی ومفہوم کا اظہار ان ناموں کے ذریعے ہوسکتا ہے تو ہماری زندگی دوقدم بھی آگے نہ بڑھ سکتی۔ رہے فرشتے تو انہیں اس قابلیت کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ ان کے کام اور ان کی ڈیوٹی کی جو نوعیت تھی اس کے لئے اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ وہ ہر چیز کے نام کو جانیں ۔ اس لئے اللہ نے اس وقت فرشتوں کو یہ رازنہ بتایا تھا۔ جب اللہ نے آدم کو یہ راز بتایا اور فرشتوں کے سامنے جب یہ چیزیں پیش کی گئیں تو وہ ان کے نام نہ بتاسکے ۔ وہ یہ نہ جانتے تھے کہہ مختلف چیزوں اور اشخاص کا نام رکھ کر الفاظ کے ذریعے انہیں بسہولت سمجھا جاسکتا ہے ۔ چناچہ انہوں نے اپنی اس ناکامی کو دیکھ کر اللہ کی حمد وثنابیان کی اور اپنے عجز ودرماندگی کا اقرار کیا اور کہہ دیا ان کا علم تو صرف انہی چیزوں تک محدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دی ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا تعارف کرایا اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر یوں انہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور وسعت علم کی راہنمائی کی ۔” میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ آسمانوں اور زمینوں کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں ۔ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے بھی میں جانتا ہوں۔ “ دیکھئے ! اب چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی کسی جمعیت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کو منصب خلافت سپرد کیا جارہا ہے اور یوں ہمیں اس عظیم راز سے آگاہ کردیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہار کے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی ہے اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار مافی الضمیر کرتے ہیں۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو انسان اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں انسان دیکھتا ہے ۔ اس زمین پر حیات انسانی کو آسان بنانے کے لئے یہ ایک اہم صلاحیت ہے جو اللہ نے انسان کو دی ہے ۔ اس کی افادیت کا صحیح تصور اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کرلیں کہ انسان۔۔۔۔۔ کہ اندر اشیاء کے نام رکھنے اور استعمال کرنے کی قدرت نہیں ہے۔ ایک دیکھئے ایک دوسرے کو سمجھنے میں اور باہم معاملات طے کرنے میں کرنے میں کیا مشکلات ہیں ؟ جن سے اچانک یہ دوچار ہوگئے۔ اگر کسی کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو خود اس چیز کا حاضر کرنا ضروری ہوجاتا ہے تاکہ وہ اس کے بارے میں کوئی مفاہمت کرسکیں ۔ اگر کسی درخت کا معاملہ درپیش ہے تو ضروری ہے درخت سامنے ہو ۔ اگر کسی پہاڑ اور قطعہ زمین کے بارے میں کچھ طے کرنا ہے تو ضروری ہے کہ سب لوگ وہاں جائیں ۔ اگر کسی فرد بشر کا معاملہ ہے تو ضروری ہے کہ اسے سامنے لایاجائے ۔ ذرا سوچئے مشکلات کا ایک طوفان برپا ہوگیا ہے اور جینا دوبھر ہوگیا ہے ۔ غرض اگر اللہ تعالیٰ حضرت انسان کو یہ راز نہ بتاتے کہ ہر معنی ومفہوم کا اظہار ناموں کے ذریعے ہوسکتا ہے تو ہماری زندگی دوقدم بھی آگے نہ بڑھ سکتی ۔ رہے فرشتے تو انہیں اس قابلیت کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ ان کے کام اور ان کی ڈیوٹی کی جو نوعیت تھی اس کے لئے اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ وہ ہر چیز کے نام کو جانیں ۔ اس لئے اللہ نے اس وقت فرشتوں کو یہ راز نہ بتایا تھا ۔ جب اللہ نے آدم کو یہ راز بتایا اور فرشتوں کے سامنے جب چیزیں پیش کی گئیں تو وہ ان کے نام نہ بتاسکے ۔ وہ یہ نہ جانتے تھے کہ مختلف چیزوں اور اشخاص کا نام رکھ کر الفاظ کے ذریعے انہیں بہ سہولت سمجھایا جاسکتا ہے ۔ چناچہ انہوں نے اپنی اس ناکامی کو دیکھ کر اللہ کی حمد وثناء بیان کی اور اپنے عجز اور درماندگی کا اقرار کیا اور کہہ دیا ان کا علم تو صرف انہی چیزوں تک محدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دی ہیں ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) تعارف کرایا اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر یوں انہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور وسعت علم کی طرف راہنمائی کی ۔” میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں ۔ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے میں جانتا ہوں۔ “

البقرة 2:33

دیکھئے ! اب ہم چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی ایک جمعیت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کا منصب خلافت سپرد کیا جارہا ہے اور یوں ہیں اس عظیم راز سے آگاہ کردیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہار کے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار مافی الضمیر کرتے ہیں ۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں انسان دیکھتا ہے ۔ اس زمین پر حیات انسانی کو آسان بنانے کے لئے یہ ایک اہم صلاحیت ہے جو اللہ نے انسان کو دی ہے ۔ اس کی افادیت کا صحیح تصور اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کرلیں کہ انسان .... کے اندر اشیاء کے نام رکھنے اور استعمال کرنے کی قدرت نہیں ہے ۔ اب دیکھئے ایک دوسرے کو سمجھنے میں اور باہم معاملات طے کرنے میں کیا مشکلات ہیں ؟ جن سے اچانک یہ دوچار ہوگئے ۔ اگر کوئی کسی کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو خود اس چیز کا حاضر کرنا ضروری ہوجاتا ہے تاکہ وہ اس کے بارے میں کوئی مفاہمت کرسکیں ۔ اگر کسی درخت کا معاملہ درپیش ہے تو ضروری ہے کہ درخت سامنے ہو۔ اگر کسی پہاڑ اور قطعہ زمین کے بارے میں جو کچھ طے کرنا ہے تو ضروری ہے کہ سب لوگ وہاں جائیں ۔ اگر کسی فرد بشرکا معاملہ ہے تو ضروری ہے کہ اسے سامنے لایاجائے ۔ ذرا سوچئے مشکلات کا ایک طوفان برپا ہوگیا ہے اور جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ غرض اگر اللہ تعالیٰ حضرت انسان کو یہ راز نہ بتاتے کہ ہر معنی ومفہوم کا اظہار ان ناموں کے ذریعے ہوسکتا ہے تو ہماری زندگی دوقدم بھی آگے نہ بڑھ سکتی۔ رہے فرشتے تو انہیں اس قابلیت کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ ان کے کام اور ان کی ڈیوٹی کی جو نوعیت تھی اس کے لئے اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ وہ ہر چیز کے نام کو جانیں ۔ اس لئے اللہ نے اس وقت فرشتوں کو یہ رازنہ بتایا تھا۔ جب اللہ نے آدم کو یہ راز بتایا اور فرشتوں کے سامنے جب یہ چیزیں پیش کی گئیں تو وہ ان کے نام نہ بتاسکے ۔ وہ یہ نہ جانتے تھے کہہ مختلف چیزوں اور اشخاص کا نام رکھ کر الفاظ کے ذریعے انہیں بسہولت سمجھا جاسکتا ہے ۔ چناچہ انہوں نے اپنی اس ناکامی کو دیکھ کر اللہ کی حمد وثنابیان کی اور اپنے عجز ودرماندگی کا اقرار کیا اور کہہ دیا ان کا علم تو صرف انہی چیزوں تک محدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دی ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا تعارف کرایا اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر یوں انہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور وسعت علم کی راہنمائی کی ۔” میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ آسمانوں اور زمینوں کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں ۔ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے بھی میں جانتا ہوں۔ “ دیکھئے ! اب چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی کسی جمعیت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کو منصب خلافت سپرد کیا جارہا ہے اور یوں ہمیں اس عظیم راز سے آگاہ کردیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہار کے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی ہے اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار مافی الضمیر کرتے ہیں۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو انسان اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں انسان دیکھتا ہے ۔ اس زمین پر حیات انسانی کو آسان بنانے کے لئے یہ ایک اہم صلاحیت ہے جو اللہ نے انسان کو دی ہے ۔ اس کی افادیت کا صحیح تصور اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کرلیں کہ انسان۔۔۔۔۔ کہ اندر اشیاء کے نام رکھنے اور استعمال کرنے کی قدرت نہیں ہے۔ ایک دیکھئے ایک دوسرے کو سمجھنے میں اور باہم معاملات طے کرنے میں کرنے میں کیا مشکلات ہیں ؟ جن سے اچانک یہ دوچار ہوگئے۔ اگر کسی کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو خود اس چیز کا حاضر کرنا ضروری ہوجاتا ہے تاکہ وہ اس کے بارے میں کوئی مفاہمت کرسکیں ۔ اگر کسی درخت کا معاملہ درپیش ہے تو ضروری ہے درخت سامنے ہو ۔ اگر کسی پہاڑ اور قطعہ زمین کے بارے میں کچھ طے کرنا ہے تو ضروری ہے کہ سب لوگ وہاں جائیں ۔ اگر کسی فرد بشر کا معاملہ ہے تو ضروری ہے کہ اسے سامنے لایاجائے ۔ ذرا سوچئے مشکلات کا ایک طوفان برپا ہوگیا ہے اور جینا دوبھر ہوگیا ہے ۔ غرض اگر اللہ تعالیٰ حضرت انسان کو یہ راز نہ بتاتے کہ ہر معنی ومفہوم کا اظہار ناموں کے ذریعے ہوسکتا ہے تو ہماری زندگی دوقدم بھی آگے نہ بڑھ سکتی ۔ رہے فرشتے تو انہیں اس قابلیت کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ ان کے کام اور ان کی ڈیوٹی کی جو نوعیت تھی اس کے لئے اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ وہ ہر چیز کے نام کو جانیں ۔ اس لئے اللہ نے اس وقت فرشتوں کو یہ راز نہ بتایا تھا ۔ جب اللہ نے آدم کو یہ راز بتایا اور فرشتوں کے سامنے جب چیزیں پیش کی گئیں تو وہ ان کے نام نہ بتاسکے ۔ وہ یہ نہ جانتے تھے کہ مختلف چیزوں اور اشخاص کا نام رکھ کر الفاظ کے ذریعے انہیں بہ سہولت سمجھایا جاسکتا ہے ۔ چناچہ انہوں نے اپنی اس ناکامی کو دیکھ کر اللہ کی حمد وثناء بیان کی اور اپنے عجز اور درماندگی کا اقرار کیا اور کہہ دیا ان کا علم تو صرف انہی چیزوں تک محدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دی ہیں ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) تعارف کرایا اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر یوں انہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور وسعت علم کی طرف راہنمائی کی ۔” میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں ۔ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے میں جانتا ہوں۔ “

البقرة 2:34

آخرکار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹادیا اور انہیں اس حالت سے نکلواکر چھوڑا جس میں وہ تھے ۔ ہم نے حکم دیا کہ ” اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ ‘ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے ۔ “ اس وقت آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی جس کو اس کے رب نے قبول کرلیا کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “ وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلائِكَةِ اسْجُدُوا لآدَمَ فَسَجَدُوا ” پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جھک جاؤ تو سب جھک گئے ۔ اب ذرا اس مفسد اور خوں آشام مخلوق کی عزت افزائی دیکھئے کہ وہ کروبیوں کی مسجود ہورہی ہے ۔ فرشتوں سے بھی بلند ہوجاتی ہے ۔ کیوں ؟ اس لئے ایک تو اسے معرفت الٰہی کا راز بخشا گیا دوسرے یہ کہ اسے ایک صاحب ارادہ مخلوق بنایا گیا ہے ۔ انسان جس راہ کو اختیار کرنا چاہے آزادانہ اختیار کرسکتا ہے ۔ غرض فطرت انسانی کی یہ دورنگی اپنے ارادے پر اس کا اختیار اور اس کے ذریعے اپنے لئے راہ حیات کے تعین کی آزادی اور اپنی خاص کوششوں اور جدوجہد سے ہداقیت انسانیت کی ذمہ داری اور اس فریضے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی قدرت وغیرہ ہی وہ چیزیں ہیں جن میں اس کے اس عظیم اعزاز کا راز پوشیدہ ہے ۔ چناچہ اس تقریب میں باری تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سب فرشتے آدم خاکی کے سامنے سربسجود ہوجاتے ہیں إِلا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ ” مگر ابلیس نے انکار کیا وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑگیا اور نافرمانوں میں شامل ہوگیا “ اس تقریب میں شریر مخلوق مجسم ہوکر سامنے آجاتی ہے خود ذات اقدس کی بارگاہ میں باری تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہے اور صاحب فضیلت کے فضل اور اعزاز کا انکار کیا جاتا ہے ۔ یہ شریر مخلوق گناہ پر مصر ہے اور فہم و فراست کے تمام دروازے اس کے لئے بند ہوجاتے ہیں ۔ سیاق کلام سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ابلیس اگرچہ فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا لیکن وہ ملائکہ میں سے نہ تھا کیونکہ اگر وہ فرشتوں میں سے ہوتا تو اسے سرتابی کی مجال نہ ہوتی کیونکہ فرشتوں کی صفت اور خاصیت یہ ہے کہ لَا یَعۡصُوۡنَ مَا اَمَرَھُمۡ وَیَفۡعَلُوۡنَ مَا یُوۡمَرُوۡنَ ” اللہ جو انہیں حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ انہیں جو حکم دیا جاتا ہے وہ اسے کر گزرتے ہیں ۔ “ اگرچہ یہ استثنائی جملہ کہ ” سب فرشتوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے “ بظاہر یہ بتاتا ہے کہ ابلیس فرشتوں میں سے تھا لیکن وہ چونکہ فرشتوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا اسی لئے سلسلہ کلام میں ایسی استثناء لائی گئی ۔ عرب کہتے ہیں جَاءَ بَنُوا فُلَانٍ اِلَّا اَحۡمَدٌ فلاں قوم کے سب لوگ آگئے مگر احمد حالانکہ احمد ان میں سے نہیں ہوتا بلکہ وہ ان کے جوار میں رہتا ہے ۔ دوسری جگہ قرآن مجید اس کی تصریح کرتا ہے کہ ابلیس جنوں میں سے تھا اور جنوں کو اللہ تعالیٰ نے آگ کے شعلے سے پیدا کیا ہے۔ اس سے یہ بات قطعیت کے ساتھ معلوم ہوجاتی ہے کہ وہ فرشتوں میں سے نہ تھا۔

البقرة 2:35

اس تقریب کے بعد اب ہمارے سامنے میدان کارزار ہے جس میں خلیفہ شر ‘ ابلیس ‘ اور خلیفہ خدا انسان ہے اور دونوں کے درمیان مسلسل جنگ ہورہی ہے ۔ یہ جنگ درحقیقت انسانی ضمیر اور اس کے دل و دماغ کے میدانوں میں لڑی جارہی ہے اور اس میں وہی انسان کامیاب ہوتے ہیں جو پختہ ارادے کے مالک ہوتے ہیں ۔ وہی سرخرو ہوتے ہیں جو اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو مضبوطی سے تھام لیتے ہیں ۔ جوں جوں انسان اپنی خواہشات نفس کا بندہ بنتا چلا جاتا ہے اللہ تعالیٰ سے دورہوتا جاتا ہے۔ شر کی قوتوں کو پیش قدمی حاصل ہوتی جاتی ہے۔ وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ ” پھر ہم نے آدم سے کہا تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاؤ مگر اس درخت کا رخ نہ کرنا ورنہ ظالموں میں شمار ہوں گے ........ “۔ آدم وحوا کے لئے جنت کے تمام پھل جائز قرار دیئے گئے ‘ صرف ایک درخت کو مستثنیٰ رکھا گیا۔ صرف ایک درخت ........ شاید اس میں یہ اشارہ تھا کہ زمین میں نسل انسانی حلال و حرام کے قیود کی پابند ہوگی ‘ کیونکہ حدودوقیود کے بغیرآزاد اور خود مختار ارادہ کیونکر پیدا ہوسکتا ہے اور ایک متحرک بالارادہ انسان اور ایک مجبور حیوان کے درمیان فرق کیونکر ہوسکتا ہے ۔ اس کے سوا تو اس بات کا امکان ہی نہیں رہتا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے عائد شدہ حدود وقیود کی پابندی کے سلسلے میں انسان کو آزمایا جائے ۔ یہ قوت ارادہ ہی ہے جو ایک حقیقی انسان اور ایک انسان نماحیوان کے درمیان فرق کردیتی ہے جو مویشیوں کی طرح دنیا میں چرتا پھرتا ہے اور بس۔

البقرة 2:36

فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ ” آخرکار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹادیا اور انہیں اس حالت سے نکلوا کر چھوڑا جس میں وہ تھے ۔ “ ........ ذرا تعبیر کا شاہ کار دیکھئے ۔ شیطان نے انہیں پھسلایا ۔ “ پھسلانے کا لفظ ہی پوری صور تحال کی تصویر کھینچ دیتا ہے ۔ گویا ہم بچشم سر دیکھ رہے ہیں کہ شیطان انہیں دھکیل دھکیل کر جنت سے نکالنے کی کوشش کررہا ہے ۔ گویا وہ اچانک ان کی ثابت قدمی کو دھکا دیتا ہے اور وہ گرجاتے ہیں اور نیچے آرہتے ہیں ۔ یہاں آدم اور ابلیس کشمکش کا پہلاتجربہ مکمل ہوجاتا ہے ۔ آدم (علیہ السلام) اپنے عہد کو بھول جاتے ہیں ‘ وہ اس کے بھٹکانے کے سامنے کمزور پڑجاتے ہیں ۔ اللہ کا حکم سچائی بن کر سامنے آتا ہے اور قضائے الٰہی کا اعلان یوں ہوتا ہے ۔ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الأرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ ” ہم نے حکم دیا کہ اب تم یہاں سے اتر جاؤ ‘ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے ۔ “ یہ اعلان تھا کہ اب آدم وابلیس کا معرکہ اپنی مقرر جگہ یعنی اس زمین پر شروع ہوجانا ہے۔ اور اب یہ معرکہ قیامت تک یوں ہی برپا رہے گا ۔ آدم (علیہ السلام) گرنے کے بعد اب سنبھلتے ہیں اور اٹھتے ہیں ‘ کیونکہ گرنا اور اٹھنا فطرت انسانی ہے ۔ اب اللہ کی رحمت انہیں اپنے سایہ رحمت وعاطفت میں لے لیتی ہے اور جو بھی اللہ کی رحمت کے دامن میں پناہ لے اور اس کی چوکھٹ پر آگرے یہ رحمت بےپایاں ہمیشہ اسے ڈھانپ لیا کرتی ہے ۔

البقرة 2:37

فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ” اس وقت آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی ‘ جس کو اس کے رب نے قبول کرلیا ۔ کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ “ آدم اور نسل آدم کے ساتھ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک دآئمی معاہدہ ہے ۔ بات مکمل ہوگئی ۔ آدم اس زمین پر اللہ کا ایک بااختیار اور ذی ارادہ خلیفہ قرار پایا ۔ اس کا کام ہے کہ وہ فلاح کی راہ اختیار کرتا ہے یا ہلاکت و بربادی کی ۔

البقرة 2:38

یہاں آکر یہ معرکہ اپنے اصلی میدان ‘ زمین کی طرف منتقل ہوجاتا ہے اور اس وقت سے شروع ہے ۔ لمحہ بھر کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا ۔ اور یوں انسان ‘ آغاز انسانیت سے یہ راز پالیتا ہے کہ اگر وہ اس دنیا میں سرخروئی اور کامرانی چاہتا ہے تو اس کے حصول کا طریقہ کیا ہے ؟ اور اگر وہ ذلت و خواری چاہتا ہے تو اس کی راہ کون سی ہے ؟ ٭ ........ ٭ ........ ٭ لمحہ بھر کے لئے ذرا پیچھے کی طرف لوٹئے اور ابتدائی انسانیت کی اس کی دلچسپ کہانی کے بعض پہلوؤں کا جائزہ لیجئے ! اللہ تعالیٰ خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔” میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔ معلوم ہوا کہ آدم پہلے ہی اس زمین کے لئے پیدا کئے گئے تھے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے کیوں اسے جنت دکھائی گئی ہے ؟ کیوں ایک درخت کو حرام قرار دیا گیا ؟ اسے ابتلا ‘ میں ڈالا گیا ‘ یوں اسے زمین کی طرف اتارا گیا حالانکہ وہ طے شدہ پروگرام کے مطابق پیداہی اس لئے کیا گیا تھا کہ زمین پر فریضہ خلافت سر انجام دے ؟ میں سمجھتا ہوں کہ کشمکش آدم وابلیس کا یہ پہلا تجربہ کرایا ہی اس لئے گیا تھا کہ اس کے ذریعے سے آدم (علیہ السلام) کو کاربار خلافت کے چلانے کے لئے تیار کیا جائے ۔ اس طرح آدم (علیہ السلام) کی پوشیدہ قوتوں کو جگادیا گیا ۔ اسے لغزش کا تجربہ کرایا گیا اور اس کے نتائج سے دوچار کیا گیا۔ اس کے بعد ندامت و شرمندگی ‘ توبہ ‘ دشمن کی پہچان اور اللہ کی مامون پناہ گاہ میں آنے کا طریقہ سکھایا گیا۔ شجر ممنوعہ کی کہانی ‘ اس کے چکھنے کے لئے شیطان کی وسوسہ اندازی ‘ انسان اول کا نسیان عہد ‘ نسیان کے بعد ہوش میں آنا ‘ پشیمانی اور استغفار ۔ یہ سب کیفیات دو اروات ایسی ہیں جن کا تجربہ ہر انسان کو ہر لحظہ ہوتا رہتا ہے۔ اس انسان پر اللہ کی رحمت اور شفقت کا یہ تقاضا تھا کہ وہ اپنے دارالخلافہ میں تمام ایسے تجربات سے آراستہ ہو کر اترے جس کا پیش آنا اس کی زندگی کا ایک اہم حصہ تھا ۔ تاکہ وہ اس وہ اس طویل اور نہ ختم ہونے والی کشمکش (کشمکش آدم وابلیس) کے لئے تیار ہو اور یہ تجربہ اس کے لئے نصیحت آموز اور سامان عبرت ہو۔ آپ دوبارہ یہ سوال کرسکتے ہیں کہ پھر یہ تجربہ کہاں ہوا ؟ وہ جنت کون سی ہے جس میں آدم وحوا کچھ عرصے کے لئے قیام پذیر ہوئے ؟ فرشتے کیا ہیں ؟ ابلیس کی حقیقت کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں کیونکر خطاب کیا ؟ اور انہوں نے کیونکرجواب دیا ؟ بھائی ! یہ اور ایسی تمام دوسری باتیں جو قرآن کریم میں مذکور ہیں دراصل اللہ کے ان بھیدوں اور اسرار میں ہیں ۔ جن کی حقیقت کا علم صرف اللہ ہی کو ہے ‘ اللہ تعالیٰ جو علیم و حکیم ہے ‘ وہ جانتا ہے تھا کہ ان چیزوں کی حقیقی معرفت اور ان کی ماہیت معلوم کرنے سے انسان کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ “ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ان چیزوں کی حقیقت معلوم کرنے اور ان کی اصلیت کا ادراک کرنے کی صلاحیت ہی نہیں دی ۔ وہ ان کی ماہیت کا احاطہ کر ہی نہیں سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مدرکات دیئے ہیں وہ صرف اس لئے دیئے ہیں کہ ان کے ذریعے انسان اس زمین میں کاروبار خلافت سرانجام دے ۔ یہ مدرکات حقیقت مغیبات کا علم حاصل کرنے کے لئے استعمال ہی نہیں ہوسکتے ۔ نیز فریضہ ٔ خلافت کے یہ ضروری بھی نہیں ہے کہ ہم ان مغیبات کی حقیقت کو بھی جانتے ہوں ۔ اللہ کے قوانین قدرت کو کس قدر انسان نے مسخر کیا ہے ۔ انسان کو کائنات کے و رموز کا کتنا علم دیا گیا ہے ؟ کتنے اسرار غیبیہ ہیں ‘ جو اس کی نظروں سے اوجھل ہیں ؟ یہ ایسی باتیں ہیں جن کے علم وادراک کی حضرت انسان کو قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انسان کی حالت یہ ہے کہ اس کائنات کے بیشمار اسرار کان پردہ فاش کرنے کے باوجود ‘ وہ اب بھی ان تمام واقعات و حوادث سے مطلقاً بیخبر ہے جو اگلے لمحہ نمودار ہونے والے ہیں ۔ تمام مہیا او میسرہ آلات ........ اور ذرائع کے علم کے باوجودجو اسے میسر ہیں ‘ وہ کچھ نہیں جانتا کہ اگلے لمحہ میں کیا ہونے والا ہے ۔ اسے معلوم نہیں کہ وہ جو سانس لے رہا ہے وہ آخری سانس لے رہا ہے یا اس کے بعد وہ دوسرا سانس بھی لے سکے گا ۔ پردہ غیب میں جو حقائق پوشیدہ ہیں یہ ان میں سے ایک ادنیٰ مثال ہے۔ غرض فریضہ خلافت کی ادائیگی کے لئے اسے ان مغیبات میں سے کسی چیزکا جاننا بھی ضروری نہیں ہے ‘ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اگر انسان پر بعض اسرار کھول دیئے جائیں تو وہ اس کی کارکردگی پر الٹا اثر ڈالیں گے ۔ چناچہ ایسے پوشیدہ اسرار و رموز کی کئی قسمیں جو پردہ غیب میں مستور ہیں اور اللہ کے سوا ان کا علم کسی کو بھی نہیں ہے ۔ اس لئے عقل انسان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اس میدان میں سعی لاحاصل کرے ۔ کیونکہ اس کے پاس وہ ذرائع اور آلات ہی نہیں جو اس میدان میں کام آتے ہیں ۔ جو شخص بھی اس میدان میں جدوجہد کرے گا ‘ اور اپنی قوتیں کھپائے گا ‘ اس کی جدوجہد اکارت جائے گی ۔ بالکل ضائع اور لاحاصل۔ جب عقل انسانی وہ ذرائع ہی حاصل نہیں جن کے ذریعے وہ عالم مغیبات کے بارے میں کسی چیز کا ادراک کرسکے تو پھر اسے کوئی حق نہیں کہ وہ محض ہٹ دھرمی کرکے غیبی حقائق کا انکار کرے ۔ کیونکہ کسی چیز کا انکار کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اس کے وجود کا علم حاصل ہو۔ اور مغیبات کا علم وادراک عقل کا کام ہی نہیں ہے ۔ نہ اس کے حیطہ قدرت اور دائرہ کار میں یہ چیزیں آتی ہیں ۔ اس کے پاس ان کے ادراک کے نہ وسائل ہیں اور نہ ہی عقل کو ان کے ادراک کی ضرورت ہے ۔ اور نہ ہی عقل انسانی کا یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ ان کا ادراک کرے۔ ہمیں یہ تسلیم ہے کہ وہمیات و خرافات کو تسلیم کرنا نہایت ہی خطرناک اور مضربات ہے ‘ لیکن یہ بات اس سے بھی بدرجہا زیادہ مضر اور خطرناک ہے کہ انسان ایک ایسی چیز کا انکار کرے جو اس کے علم کے دائرہ رسائی ہی سے باہر ہے ۔ یا کسی حقیقت کو محض اس لئے مستعبد سمجھاجائے کہ وہ انسان کے حدادراک اور حدود قدرت سے باہر ہے ۔ اگر ہم علم ویقین کا یہ معیار مقرر کرلیں تو یہ ایک حیوانی معیار ہوگا۔ گویا انسانیت پیچھے لوٹ کر دوبارہ حیوانیت کے مقام تک پہنچے گی ۔ جہاں عالم محسوسات سے آگے کوئی چیز نہیں ہوتی اور جس کے لئے محسوسات کی چار دیواری سے نکل کر وجود مطلق تک پہنچنے کا امکان ہی نہیں ہوتا۔ لہٰذا ہمارے لئے بہتر یہی ہے کہ ہم اس عالم غیب کو اس ذات ہی کے حوالے کردیں جو اس دنیا کا مالک ہے ‘ اور ہمارے لئے وہی کافی ہے جس کی اطلاع وہ ہمیں دے دے ۔ صرف اسی قدر کی ہمیں اس دنیا میں ضرورت ہے جس سے ہماری روحانی اور مادی اصلاح ہوجائے اور بس ! اب ہم اس قصے کے ان پہلوؤں کو لیتے ہیں جو بعض انسانی اور تکوینی حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ عالم موجودات کا تصور ‘ اس کا باہم ربط ‘ انسانی مزاج اور اس کا معیار حسن قبیح وغیرہ۔ کیونکہ انہی پہلوؤں میں بشریت کی ہدایت اور منفعت کا سامان ہے ۔ یہاں ظلال القرآن کی مناسبت سے ‘ اختصار کے ساتھ ہم ان اشارات ‘ تصورات اور حقائق پر ایک اچٹتی نظر ڈالنا چاہتے ہیں۔ 1۔ اس قصے سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ مقام اور حیثیت ہے جو اسلامی تصور حیات ‘ خود انسان کو عطا کرتا ہے یعنی اس کائنات میں اس کی اہمیت ‘ ان اقدار کی اہمیت جن سے اسے پرکھا جاتا ہے اور زمین پر اس کے کردار کی اہمیت وغیرہ ۔ پھر یہ کہ اسلامی تصور حیات انسان اور عہد ربانی کے درمیان تعلق کی کیفیت کیا ہے ؟ اور اس عہد کی حقیقت کیا ہے جس کی بنیاد پر انسان خلیفۃ اللہ فی الارض ہے ۔ چناچہ ملاء اعلیٰ میں تکریم انسانیت کی جو تقریب منعقد ہوتی ہے اور اس کے بعد جو عظیم الشان اعلان ہوتا ہے اس سے صاف صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلامی تصور حیات کے مطابق حضرت انسان کی قدر و قیمت کیا ہے ؟ یعنی وہ ایک ایسی مخلوق ہے جسے زمین میں خلیفۃ اللہ ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ اس کا نہایت ہی واضح اظہار اس منظر سے ہوتا ہے جس میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ کا حکم ہوتے ہی سب کروبی اس بندہ خاکی کے آگے سربسجود ہوجاتے ہیں ۔ اس تقریب میں ابلیس استکبار کرتا ہے اور راندہ درگاہ ہوجاتا ہے ۔ اور یہ سب آغاز سے انجام تک خاص ذات کبریائی کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ انسان کے بارے میں جب یہ نقطہ نظر اختیار کیا جاتا ہے تو نظریاتی دنیا اور عملی دنیا میں انسان کے اس تصور کے عظیم الشان اور گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ سب سے پہلا تصور یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان اس زمین کا مالک ہے ۔ یہ اسی کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ اس کائنات کی تمام چیزیں بھی اس انسان کے لئے پیدا کی گئی ہیں ۔ اس لئے وہ ہر مادی چیز سے زیادہ معزز زیادہ قیمتی اور زیادہ عزیز ہے ۔ وہ دنیا کی تمام مادی اقدار سے بلند تر ہے ۔ لہٰذا یہاں اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ کسی بڑے سے بڑے مادی مفاد ‘ یا عظیم سے عظیم مادی ترقیات کے لئے انسان کو ذلیل و خوار ہونے دیاجائے۔ لہٰذا کسی قسم کی مادی تحقیقات وفتوحات ‘ کسی قسم کی مادی پیداوار یا مادی عناصر میں سے کسی عنصر کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ کیونکہ تمام مادیات اور تمام مصنوعات ‘ صرف انسان کی خاطر پیدا کی گئی ہیں ۔ اس لئے کہ اس کی انسانیت پروان چڑھے اور بحیثیت انسان یہاں اس کی زندگی قائم رہ سکے ۔ لہٰذا اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ محض انسانی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے اس کی اعلیٰ اقدار اور اس کی کرامت اور شرافت کے عناصر ترکیبی ہی کو خیرباد کہہ دیں اور انہیں ضائع کردیں۔ 2۔ اس کہانی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس زمین پر انسان ہی اول درجے کی موثر طاقت ہے۔ وہی ہے جو اس زمین کے رنگ ڈھنگ بدلتا ہے اور انسان کی معاشرتی زندگی میں وہی باہمی ربط وتعلق کی نوعیت متعین کرتا ہے ۔ وہی ہے جو قافلہ حیات کا قائد وسالار ہے اور سمت سفر کا تعین کرتا ہے ذرائع پیداوار یا پیداوار کی تقسیم کے کسی نظام کو اس انسان کی قیادت کا مقام حاصل نہیں ہے ۔ یوں کہ انسان کی نکیل ان کے ہاتھ میں ہو اور وہ ذلیل و خوار ایک حیوان کی طرح ان کے پیچھے پیچھے عالم بےبسی میں چلتا ہو جیسا کہ آج کل کے بعض مادی فلسفے اس کی ایسی ہی تصویر کھینچتے ہیں ۔ اور جن کا نظریہ انسانیت یہ ہے کہ اس کی زندگی میں ........ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ ان نظاموں میں جوں جوں مشین کی قدروقیمت میں اضافہ ہوتا ہے ‘ انسان کی انسانیت پامال ہوتی جاتی ہے ۔ یہ بات شک وشبہ سے بالا ہے کہ انسان کے لئے جو نظام زندگی تجویز کرتا ہے یا تو وہ اس اسلامی نظریہ کے مطابق تجویز ہوتا ہے یا پھر اس مادی نقطہ نظر کے مطابق تشکیل پاتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں بلند انسانی اقدار کو یا تو عروج نصیب ہوتا ہے یا تو وہ پامال ہوتی ہیں ۔ انسان اشرف المخلوقات بن جاتا ہے یا ایک حقیر مشین اور آلہ ۔ آج کی اس مادی دنیا میں محض مادی ترقی اور کثرت پیداوار کی خاطر ہر قسم کی انسانی آزادیوں ‘ انسانی شرافتوں اور انسان کی انسانیت کو جو پامال اور برباد کیا جارہا ہے ‘ وہ صرف اسی نقطہ نظر کا فطری نتیجہ ہے جو مادی نظامہائے حیات اس انسان کی حقیقیت اور دنیا میں اس کی اہمیت کے بارے میں رکھتے ہیں۔ لیکن اس مادی دنیا کے برعکس انسان کی حقیقت اور اس کے مقصد تخلیق کے بارے میں اسلام جو تصور دیتا ہے ‘ اس کے ترازو اور معیار میں آداب انسانیت کی قدریں بلند ہوجاتی ہیں ‘ اخلاقی فضائل و محاسن اہمیت اختیار کرلیتے ہیں ‘ انسان کی زندگی میں ایمان ‘ نیکی اور اخلاص جیسی صفات اہمیت اختیار کرلیتی ہیں کیونکہ اسلامی تصور حیات کے مطابق یہی وہ اعلیٰ اقدار ہیں جن پر خلافت فی الارض کی ذمہ داری موقوف ہے۔ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ ” پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے ‘ تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ‘ ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا۔ “ غرض یہ اقدار تمام مادی اقدار سے زیادہ قیمتی اور برتر ہیں ۔ لیکن یہ بات بھی ہمارے ذہن میں رہنی چاہئے کہ ان مادی اقدار کا حصول بھی مقاصد خلافت فی الارض میں داخل ہے ۔ اس حد تک یہ مادی اقدار اعلیٰ اخلاقی اور روحانی اقدار کے تابع ہوں اور بذات خود اصل مقاصد نہ بننے پائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام انسانی ضمیر کو پاک وصاف اور ایک اعلیٰ زندگی بسر کرنے پر آمادہ کرتا ہے ‘ جبکہ تمام دوسرے مادی نظریات تمام روحانی اقدار کو حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ اور مادیت کے لئے آداب انسانیت تک کو قربان کردیتے ہیں ۔ اور یہ سب قربانی کس لئے دی جاتی ہے ؟ محض ضروریات زندگی سامان تعیش کی فراوانی اور حیوانوں کی طرح شکم پروری کی خاطر) تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو سید محمد قطب کی کتاب انسان اسلام اور مادیت) اسلام کا تصور انسان کس قدر بلند ہے ؟ ذرا اس کے اس پہلو پر غور کیجئے کہ اس کی رو سے انسان ایک بااختیار اور صاحب عزم واراہ مخلوق ہے ۔ کیونکہ اگر ہو بااختیار اور ذی عزم نہیں تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے معاہدے کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ۔ کیونکہ اختیار ہی کی اساس پر انسان مکلف ہے اور جزاء وسزا کا مستحق ہے ۔ اگر وہ اپنے ارادے کا پکا اور خواہشات نفسانیہ پر قابوپالیتا ہے تو اس طرح وہ فرشتوں سے بھی ارفع مقام حاصل کرسکتا ہے ۔ اور ہر اس کجروی سے بچ سکتا ہے جس سے اسے سابقہ درپیش ہو ۔ لیکن اگر اس عزم پر خواہشات نفسانیہ غلبہ پالیں ‘ اس کی زندگی میں ہدایت پر ظلمت غالب آجائے اور وہ اپنے اس عہد الست کو بھول جائے جو اس نے اپنے خالق سے باندھا تھا تو وہ اس بلند مقام سے گر بھی سکتا ہے اور اپنے لئے شقاوت ونکبت کے تمام سامان بھی فراہم کرسکتا ہے ۔ اسلامی نظام زندگی نے ‘ اس کائنات میں انسان کو برتری اور شرافت کے جو اصول دیئے ہیں اس قصے میں ان کی صرف ایک جھلک دکھائی گئی ہے ۔ انسان کو یاددلایا گیا ہے کہ سعادت وشقاوت ‘ بلندی و پستی ‘ ایک بااختیار بلند مرتبت انسان اور مقید ومجبور حیوان جو قعر مذلت میں گرپڑا ہو ‘ ان دونوں کی راہیں کہاں سے جدا ہوتی ہیں ۔ اس قصے میں بیان کردہ ‘ واقعات کی تصویر کشی کے دوران یہ یاد دلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ معرکہ آدم وابلیس کی نوعیت کیا ہے ؟ ایک طرف بندے اور خدا کا پیمان ہے اور دوسری طرف شیطان کی فتنہ انگیزی ہے۔ ایک طرف ایمان ہے اور دوسری جاب کفر ہے ‘ ایک محاذ پر حق ہے اور دوسرے پر باطل ہے ۔ “ ایک صفت اہل ہدایت کی ہے اور دوسری اہل ضلال کی ۔ لیکن میدان جنگ کہاں ہے ؟ انسان اور اس کی زندگی ۔ فاتح بھی انسان اور مفتوح بھی انسان ۔ سود و زیاں کا یہ بازار خود اس کے ضمیر میں ہے ۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اسے متنبہ کرتے ہیں کہ وہ ہر وقت چوکنا رہے کیونکہ وہ ہر وقت میدان کارزار میں ہے ۔ صورتیں دو ہی ہیں یا تو وہ لٹ جائے اور یا مال غنیمت لے کر ظفریاب ہوگا۔ اس قصے میں اسلام کے تصور خطا اور توبہ کی وضاحت بھی کردی جاتی ہے ۔ گناہ چونکہ ایک فرد سے سرزد ہوتا ہے ۔ لہٰذا توبہ بھی ایک انفرادی عمل ہے ۔ یہ ایک ایسا واضح اور صاف نظریہ ہے جس میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ اہل کنیسا کی طرح یہاں کسی ایسے تصور کی گنجائش نہیں ہے کہ انسان پیدا ہونے سے پہلے خطاکا مرتکب بن جاتا ہو۔ اسلام میں کسی لاہوتی کفارہ معاصی کا کوئی تصور نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انسان کو آدم (علیہ السلام) کے گناہ سے پاک کرنے کے لئے مصلوب ہوئے ۔ یہ ایک غلط تصور ہے ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی ایک لغزش ایک انفرادی عمل تھا۔ اور اس سے چھٹکارا پانے کا طریقہ بھی انفرادی عمل ندامت اور توبہ تھا جو بالکل واضح اور صاف اور قابل فہم ہے ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہر ایک خود اپنے کئے کا ذمہ دار ہے ۔ اور سب کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا ہے ۔ صاف اور سادہ اور آسان صدبار اگر توبہ شکستی بازآ ذرا غو رکیجئے کہ کس قدر واضح اور دل لگتا تصور ہے یہ ۔ ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اپنا بوجھ اٹھائے ۔ یہ تصور ہر انسان کو بھلائی کے حصول کی جدوجہد پر آمادہ کرتا ہے اور وہ یاس وقنوط کا شکار نہیں ہوتاکیون کہ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُوہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “ اشارات قصہ آدم کا یہ صرف ایک پہلو ہے فی ظلال القرآن کے اس مقام پر ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ صرف اس ایک پہلو ہی میں بےبہا حقائق اور صحت مند تصورات کا ایک عظیم خزانہ موجود ہے ۔ اس قصے میں قیمتی اشارات وہدایات کا ایک وافر ذخیرہ ہے ۔ اس میں اسلام کے تصور اجتماع اور طرز معاشرت کی بنیادیں متعین کردی گئیں ہیں ۔ اور جنہیں بھلائی ‘ اخلاق اور دوسرے فضائل کے ذریعے استحکام بخشا گیا ہے ۔ جب ہم اس پہلو پر غور وفکر کرتے ہیں تو ہمیں قرآنی قصوں کی اہمیت اور مقصدیت کا احساس ہوتا ہے کہ یہ قصے کس طرح اسلامی تصور حیات کی بنیادوں کو مضبوط کرتے ہیں ۔ اور ان اعلیٰ اقدار کی وضاحت کرتے ہیں جو ان بنیادوں پر قائم ہوتی ہیں جس کائنات کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور جو اللہ ہی کی طرف متوجہ ہے ‘ اور جسے آخر کار اللہ ہی کی طرف جانا ہے ‘ وہ اس بات کی مستحق ہے کہ اس میں وہی اقدار بلند ہوں جو اللہ کے ہاں بلند ہیں ۔ معاہدہ خلافت انسانی دراصل ربانی ہدایت پہ قائم ہے ۔ اس کی اہم شرط یہ ہے کہ انسان اسلامی نظام حیات کے مطابق زندگی بسر کرے گا۔ اس معاہدے کے بعد پوزیشن یہ ہوجاتی ہے کہ انسان ایک ذی ارادہ مخلوق کی حیثیت سے ایک دورا ہے پر کھڑا ہے ۔ ایک طرف اسے خدا پکاررہا ہے ‘ اور وہ سن رہا ہے ۔ اگر وہ فیصلہ کرتا ہے تو صراط مستقیم پر چل پڑتا ہے ۔ دوسری جانب اسے شیطان پکار رہا ہے ۔ وہ ضلالت ........ یا حق ہے اور یا باطل ........ اور یا فلاح ہے اور یا خسران ........ یہ ہے حقیقت اور اسے قرآن کریم ہمیشہ بطور حقیقت اولیہ پیش کرتا ہے ۔ عالم انسان کے سارے نظریات و تصورات اور طرز ہائے زندگی بس صرف اس ایک حقیقت پر قائم ہیں ۔ درس 4 ایک نظر میں یہاں آکر گفتگو کا رخ بنی اسرائیل کی طرف مڑجاتا ہے ۔ مدینہ طیبہ میں صرف انہوں نے دعوت اسلامی کا سختی سے مقابلہ کیا تھا۔ انہوں نے ظاہری اور خفیہ دونوں قسم کی تدبیروں کے ذریعے دعوت اسلامی کو ختم کرنے کوشش کی اور اس کا مقابلہ کیا ۔ وہ تحریک اسلامی کے خلاف پے درپے سازشیں کرتے رہے اور ظہور اسلام سے لے کر دعوت کے اس مرحلے تک ایک لمحہ بھر ان کی ریشہ دوانیوں میں کوئی کمی نہ آئی ۔ انہیں اس بات کا یقین ہوچلا تھا کہ اقتدار کی کنجیاں ایک ایک کرکے مسلمانوں کے ہاتھوں میں منتقل ہورہی ہیں ۔ جب سے اوس و خزرج کی لڑائیاں بند ہوئیں اور وہ راستے بند ہوئے جن کے ذریعے یہود مشرکین مدینہ کے اندر اثر ورسوخ پیدا کرتے اور ان پر اثر انداز ہوتے تھے ‘ پھر جب مسلمانوں کے لئے ‘ اس نئی کتاب کی بنیاد پر ایک نئے نظام زندگی کی تشکیل شروع ہوئی تو یہودیوں کو یہ احساس شدت سے ہورہا تھا کہ اس نئی تحریک نے انہیں ادب و ثقافت اور معیشت واقتصاد دونوں کے اہم شعبوں سے باہر نکال پھینکا ہے ۔ غرض یہ ہے وہ معرکہ جو یہودیوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اول روز سے شروع کیا اور آج تک وہ جوں کا توں قائم ہے ۔ آج بھی وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وہی اوچھے ہتھیار استعمال کررہے ہیں جو اس وقت کررہے تھے ۔ ہتھیاروں کی شکل اگرچہ مختلف ہے ‘ رنگ ڈھنگ نیا ہے ۔ لیکن ان کی حقیقت اور مزاج بالکل وہی ہے ........ یاد رہے کہ یہودی اسلام و مسلمانوں کے خلاف اس حقیقت کے باوجود یہ معاندانہ روش اختیار کئے ہوئے ہیں کہ انسانی تاریخ میں پوری دنیا اس قوم کو ہمیشہ دھتکارتی رہی ۔ کبھی ادھر سے ادھر اور کبھی ادھر سے ادھر بھگایا جاتارہا ۔ اور یہ لوگ خاک چھانتے پھرے ۔ صدیاں یونہی گزرگئیں لیکن بالآخر انہیں آرام اور چین کی زندگی عالم اسلام ہی میں نصیب ہوئی ‘ جو سب کے لئے کھلا ہے اور جس میں عقیدہ و مذہب کی اساس پر کسی کے خلاف کوئی نفرت نہیں ہوا کرتی ہے ۔ جہاں فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات کو ہمیشہ بری نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور جہاں ہر اس شخص کو آنے کی کھلی اجازت رہی ہے جو اسلام کو اذیت نہ دے اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں نہ کرتا ہو اور مسالم ہوکر رہے۔ توقع تو یہ تھی کہ یہود مدینہ ‘ اس نئے رسول اور اس نئی دعوت کو سب سے پہلے قبول کرتے اور ایمان لاتے ۔ جبکہ قرآن کریم اپنی عمومی حیثیت میں ان تمام تعلیمات کی تصدیق کررہا تھا جو تورات میں بیان کی گئی تھیں ۔ پھر ان کو ایک نئے رسول کی آمد کا انتظار بھی تھا ۔ ان کو اس کے اوصاف بھی معلوم تھے اور ان کے پاس کتب سماوی میں اس کے بارے میں بشارتیں موجود تھیں ۔ اور وہ ہمیشہ اللہ سے دست بدعا ہوا کرتے تھے کہ وہ نبی منتظر کے طفیل انہیں مشرکین عرب پر ظفریاب کرے۔ یہ سبق ‘ بنی اسرائیل کے ساتھ قرآن کی وسیع گفتگو کا پہلا حصہ ہے ۔ بنی اسرائیل کے ساتھ یہ گفتگو درحقیقت ان کے موقف کی تردید اور ان کی سازشوں کو طشت ازبام کرنے کے لئے ان پر ایک گہری تنقیدی حملہ ہے اور یہ بطور مجبوری اور ضرورت اس وقت شروع کیا گیا ہے ۔ جب دعوت اسلامی نے ‘ مدینہ میں آکر ‘ انہیں اسلام کی طرف بلانے میں اپنی پوری قوت صرف کردی ‘ ان پر حجت تمام کردی اور انہیں اس جدید تحریک کی طرف راغب کرنے کے لئے تمام ذرائع استعمال کرلئے گئے۔ اس سبق کا آغاز باری تعالیٰ کی اس جلیل القدر پکار سے ہوتا ہے جس میں باری تعالیٰ انہیں اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے ‘ انہیں پکارا جاتا ہے کہ وہ اپنے عہد کو پورا کریں تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے اس عہد کو پورا کرے ‘ جو اس نے ان کے ساتھ کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں بطور تمہید ‘ پہلے خوف خدا اور تقویٰ و طہارت کی طرف بلاتا ہے اور اس کے بعد انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس کتاب اور ہدایت کو قبول کرلیں جو ان تمام کتابوں اور ہدایات کی تصدیق کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی طرف اتاریں ۔ انہوں نے قرآن کریم کے بارے میں جو رویہ اختیار کیا اللہ تعالیٰ اس کی مذمت کرتا ہے ‘ اور انہیں اس بات کی نصیحت کرتا ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو سب سے پہلے اس کتاب کے منکر بنے ۔ اس کی اس روش کی بھی مذمت کی جاتی ہے کہ وہ حق کو چھپاتے ہیں اور حق و باطل کو باہم مشتبہ بناتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہ راست سے بھٹکائیں ۔ بالخصوص مسلمانوں کو ۔ اور اسلامی جماعت کی صفوں میں فتنہ کھڑاکریں اور انتشار پھیلائیں ۔ نیز جو لوگ نئے نئے حلقہ بگوش اسلام ہورہے تھے ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پھیلائیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ وہ ان فتنہ انگیزیوں کو چھوڑ کر اسلامی جماعت میں شریک ہوجائیں ۔ مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھیں ‘ زکوٰۃ ادا کریں اور نظام جماعت قائم کریں اور اپنے آپ کو اس نئے دین میں ضم کردینے کے مشکل کام میں صبر اور نماز سے مددلیں ۔ اللہ ان کی اس روش پر سخت تنقید کرتا ہے کہ وہ مشرکین کو تو یہ کہتے ہیں کہ وہ ایمان لے آئیں لیکن خود ایمان نہیں لاتے اور نہ اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ اس کے بعدبنی اسرائیل کو وہ نعمتیں یاددلائی جاتی ہیں جن سے انہیں ‘ ان کی پوری تاریخ میں نوازا جاتا رہا تھا۔ دوران گفتگو حاضرین بنی اسرائیل کو یوں مخاطب کیا جاتا ہے کہ گویا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں خود یہ لوگ وہاں موجود تھے ۔ جو آج مدینہ میں موجود ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل ایک ہی امت ہیں اور صدیوں سے وہ ایک ہی قومیت اور اسی جبلت پر جمے ہوئے ہیں ۔ جیسا کہ اس کے بعد بھی وہ ہر دور میں ویسے ہی رہے اور انہیں خصوصیات کے حامل رہے ۔ اس کے بعد انہیں اس دن یعنی یوم قیامت سے ڈرایا جاتا ہے جہاں کوئی نفس کسی دوسرے کا بدلہ نہ دے سکے گا ۔ کسی کی کوئی سفارش نہ چلے گی نہ کسی سے کسی قسم کا فدیہ اور معاوضہ قبول ہوگا اور اس دن تمام لوگ بےیارو مددگار ہوں گے ‘ اور انہیں قیامت کے عذاب سے بچانے والانہ ہوگا۔ اب ان کے سامنے وہ منظر پیش کیا جاتا ہے کہ جب اللہ نے انہیں فرعون سے نجات دی ۔ یہ منظر کشی ایسی ہی کہ گویا نظارہ آنکھوں کے سامنے ہے ۔ پھر ان انعامات کا ذکر ہوتا ہے جو پے درپے ان پر ہوتے رہے ۔ ان کے سروں پر بادلوں کے سائے کئے جاتے ہیں ۔ من وسلویٰ سے ان کی تواضح کی جاتی ہے اور پتھروں کا دل چیر کر ان کے لئے پانی فراہم کیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد انہیں شرم دلائی جاتی ہے کہ ان انعامات کے بدلے میں وہ پے درپے کیا کیا سرکشیاں اور کیا کیا خرمستیاں کرتے رہے ۔ جب اللہ تعالیٰ ان کی ایک غلطی معاف کرتے تو وہ دوسری میں جاپڑتے ‘ ایک مصیبت سے نجات دیتے تو وہ اپنے لئے دوسری کا سامان کردیتے ۔ لیکن بنی اسرائیل بھی تو بنی اسرائیل تھے ۔ وہی فساد اور کینہ پروری ‘ وہی کجروی اور گمراہی اور اس پر اصرار ۔ ہمیشہ انہوں نے اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کی ۔ امانت میں خیانت کی ۔ عہد کو پختہ باندھنے کے بعد توڑا ۔ اللہ تعالیٰ اور پیغمبروں کے ساتھ کئے ہوئے ہر میثاق کو انہوں نے بالائے طاق رکھا ۔ وہ یہاں تک آگے بڑھے کہ بغیر کسی جواز کے پیغمبروں کو قتل کرنے لگے ۔ رب کی آیات کو جھٹلانے لگے ۔ بچھڑے کو پوجنے لگے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی گستاخی اس حد تک پہنچ گئی کہ انہوں نے اس وقت تک ایمان لانے سے انکار کردیا جب تک وہ اپنی آنکھوں سے اللہ کو نہ دیکھ لیں ۔ ذرا غور کیجئے ! اس کے بعد یہ لوگ اللہ کے حکم کی صریح خلاف ورزی کرتے ہیں اور گاؤں میں داخل ہوتے وقت وہ الفاظ نہیں ادا کرتے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں بتائے تھے ‘ اور جس کے ادا کرنے کا حکم دیا تھا ۔ احکام سبت کی خلاف ورزی کرتے رہے ۔ عہد طور کو تو صاف بھول گئے ۔ جس گائے کا ذبح کرنے کا اللہ نے حکم دیا تھا ‘ اس میں ٹال مٹول کرنے لگے اور مجادلہ اور مباحثہ شروع کردیا۔ غرض یہ سب کام یہ لوگ اس ادعاء کے ساتھ کرتے رہے کہ بس ہدایت یافتہ امت اگر کوئی ہے تو بس وہ صرف یہودی اور بنی اسرائیل ہی ہیں ۔ قیامت میں اللہ میاں تو صرف بنی اسرائیل سے راضی ہوں گے ۔ تمام دین باطل ہیں ۔ تمام دوسری امتیں گمراہ ہیں ۔ چناچہ قرآن کریم اس پہلی تنقیدی گفتگو ہی میں اس کی تردید کردیتا ہے اور کہتا ہے کہ دوسری امتوں میں سے جو لوگ بھی اللہ تعالیٰ یوم آخرت پر ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے تو ان کے رب کے نزدیک ان کے لئے اجر ہے ۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ انہیں کسی چیز کا حزن وملال ہوگا۔ بنی اسرائیل پر یہ بھرپور وار یا بعد میں سورت کے مباحثے کے ضمن میں آنے والی تنقیدیں ‘ وقت کی اہم ضرورت تھی ۔ اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ بنی اسرائیل کے تمام کھوکھلے دعوؤں کی قلعی کھول دی جائے اور ان کی تمام سازشوں سے پردہ اٹھایا جائے اور مسلمانوں کو ان تمام سازشوں اور مکاریوں سے آگاہ کردیا جائے ‘ جو ان کی جدید سوسائٹی کے خلاف کی جارہی تھیں۔ ان کے دل و دماغ میں وہ اصول بٹھادئیے گئے جن کی بناپر بنی اسرائیل یہ سازشیں کرتے پھرتے ۔ نیز مسلمانوں کو اس خلفشار اور فتنہ انگیزی کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہوجانے کی ترغیب دی گئی۔ تاریخ بنی اسرائیل پر یہ تنقید اس لئے بھی ضروری تھی کہ خود مسلمان متنبہ ہوجائیں ۔ انہیں معلوم ہوجائے کہ خلافت ِ ارضی کے اس نئے منصب میں ان کے سامنے کیا کیا دشواریاں ہیں ؟ کہاں کہاں پھسلنے کا خطرہ ہے ؟ اس سلسلے میں سابقہ مقتدرامتوں سے کیا کیا لغزشیں ہوئیں اور جس کی وجہ سے وہ منصب خلافت سے محروم ہوئیں اور اس زمین میں اللہ کی امانت کے قیام ونگہبانی کا جو شرف انہیں حاصل تھا وہ کس طرح انہوں نے گنوایا ۔ اور انسانی قیادت کا نظام کس طرح اور کن اسباب کی بناء پر ان کے ہاتھوں سے نکل گیا ۔ غرض اس پوری تنقیدی بحث میں کہیں تو کھل کر اور کہیں اشاروں اشاروں میں مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اس راہ اور اس منصب میں ان کے سامنے کیسے کیسے مشکل مقامات آئیں گے ؟ جہاں لغزشوں اور پھسلنے کا سخت اندیشہ ہوگا۔ جیسا کہ اس بحث کے دوسرے حصے میں بھی ایسی ہی تنبی ہیں ہوں گی۔ مدینہ طیبہ میں امت مسلمہ کو ان تنیہات اور ہدایات کی اشد ضرورت تھی ‘ جیسا کہ ہمیشہ اور ہر وقت اور ہر زمانے میں امت مسلمہ کو ان ہدایات کی ضرورت ہے ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ آنکھیں کھول کر گہرے اور بصیرت افروز احساس کے ساتھ قرآن کریم کا مطالعہ کریں اور بزرگ و برتر قیادت کی ان ہدایات اور تعلیمات کو اپنائیں ۔ جو اس نے اپنے پرانے دشمنوں کے خلاف جنگ کرتے ہوئے مسلمانوں کو دیں ۔ مسلمانوں کو ہمیشہ اچھی طرح یہ معلوم ہونا چاہئے کہ انہوں نے ان جدی دشمنوں کی ان سازشوں اور مکاریوں کا مقابلہ کس طرح کرنا ہے ‘ جو یہ دشمن نہایت ہی خفیہ ذرائع اور گہرے فریب کارانہ طریقوں سے اسلامی معاشرہ کے خلاف کرتے ہیں ۔ جس شخص کا دل نور ایمان سے منور نہ ہو اور جو ظاہر و باطن اور خفیہ و اعلانیہ غرض اپنی پوری زندگی میں اس بزرگ و برتر قیادت خداوندی سے ہدایات نہیں لیتا ‘ وہ کبھی بھی ان خفیہ راستوں اور ناپاک راستوں اور زیر زمین ذرائع کا پتہ نہیں لگاسکتا جن کے ذریعے یہ خطرناک اور ناپاک سازشیں اسلامی معاشرے میں گھس آتی ہیں۔ اس بحث میں قرآن کریم کی طرز ادا کی فنی اور نفسیاتی ہم آہنگی کا ایک خاص پہلو قابل لحاظ ہے ۔ تاریخ بنی اسرائیل کی یہ بحث قصہ خلافت آدم کے اختتام کے متصلاً شروع ہوجاتی ہے ۔ یہ بحث اس ذہنی پس منظر میں شروع ہوتی ہے جس کی طرف ہم نے قصہ آدم وابلیس میں اشارے کئے ہیں ۔ چناچہ قرآن مجید کے اسلوب ادا میں اس بات کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ پیش کئے جانے والے قصے اور اس ماحول کے درمیان مکمل مطابقت اور ہم آہنگی ہو جس میں قصہ پیش ہورہا ہوتا ہے۔ ذرا پیچھے لوٹئے ‘ دوران بحث کہا گیا تھا کہ ” اللہ تعالیٰ نے اس زمین کی تمام مخلوقات کو تم انسانوں کے لئے پیدا کیا ہے۔ “ اس کے بعد زمین میں خلافت آدم کا قصہ شروع ہوتا ہے اور آدم اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک اعلانیہ معاہدہ ہوتا ہے ۔ آدم کو فرشتوں پر فضیلت دی جاتی ہے اس کے بعد ‘ آدم کو وصیت کرنا ‘ بھول چوک ‘ توبہ وندامت ‘ ہدایت الٰہی اور مغفرت الٰہی کے مضامین آتے ہیں اور آدم (علیہ السلام) کو جنت ہی میں شر کی قوتوں اور خیر کی قوتوں کی اس طویل اور نہ ختم ہونے والی کشمکش کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ‘ جو اس دنیا میں تا قیامت جاری رہنی تھی ۔ خیر ‘ اصلاح اور تعمیر کی قوتیں ایک ایسے انسان کی شکل میں پیش ہوتی ہیں جو مومن ہے اور اللہ کی رسی کو تھامے ہوئے ہے اور شر ‘ فساد اور تخریب کی قوتیں ابلیس کی صورت میں مجسم کھڑی ہیں۔ یہ تمام باتیں کرنے کے بعد ‘ اب بنی اسرائیل پر تنقید شروع ہوجاتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کس طرح اللہ سے پختہ عہد باندھا اور پھر اسے توڑا ۔ ان پر کن کن نعمتوں کی بارشیں ہوئیں اور انہوں نے ان کی ناشکری کی ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین میں منصب خلافت سے محروم کردیا اور ذلت ومسکنت کو ان پر مسلط کردیا۔ مومنین کو ان کی مکاریوں سے آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ اپنی تاریخ میں ان سے کیا کیا لغزشیں سرزد ہوئیں ؟ یہاں آکر زمین میں خلیفہ بنانے اور اس کے بعد بنی اسرائیل کو خلیفہ بنانے کے درمیان ایک واضح معنوی ربط پیدا ہوجاتا ہے اور سیاق کلام واضح طور پر باہم مربوط ہوجاتا ہے۔ قرآن کریم کے پیش نظر یہاں یہ مقصد نہیں ہے کہ بنی اسرائیل کی قومی تاریخ پیش کرے بلکہ وہ اس تاریخ کے بعض واقعات کی طرف اشارہ کرتا ہے اور مناسب اختصار یا مناسب بسط سے۔ اس طویل تاریخ کے بعض مناظر پیش کرتا ہے ۔ سورة بقرہ سے پہلے قرآن مجید کی تمام مکی سورتوں میں بھی یہ قصہ باربار آتا ہے۔ لیکن وہاں اس قصے کے بیان سے مطلوب یہ تھا کہ مکی زندگی کے پر آشوب دور میں مسلمانوں کی قلیل جماعت کی ڈھارس بندھائی جائے ۔ اس وقت مطلوب یہ تھا کہ آغاز کائنات سے آج تک قافلہ اہل ایمان کے دعوتی تجربات ‘ مسلمانوں کی اس قلیل جماعت کے سامنے پیش کئے جائیں اور مکہ مکرمہ میں سے جو مرحلہ درپیش تھا ‘ اس کے تقاضوں کے مطابق اسے ہدایات دی جائیں لیکن یہاں (مدینہ میں ) مقصد یہ تھا کہ یہودیوں کی ریشہ دوانیوں اور برے ارادوں سے مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے اور اسلامی جماعت کو متنبہ کیا جائے کہ یہودیوں کے ارادے کیا ہیں ؟ اور انہیں بروئے کار لانے کے لئے ان کے پاس وسائل کیا ہیں ؟ نیز امت مسلمہ کو متوجہ کیا جارہا ہے کہ خود وہ بھی انہی کوتاہیوں اور کمزوریوں میں مبتلا نہ ہوجائیں جن میں اس سے قبل یہودی مبتلا ہوچکے تھے ۔ چونکہ مکہ مکرمہ میں اور مدینہ طیبہ میں مقاصد بالکل مختلف تھے ‘ اس لئے قرآن کریم نے یہاں قصہ بنی اسرائیل کو مختلف اسلوب میں اور مختلف پہلوؤں سے پیش کیا ۔ اگرچہ جو حقائق پیش کئے گئے وہ یہاں اور وہاں بالکل ایک ہی تھے ۔ یعنی بنی اسرائیل کی گمراہی اور جادہ مستقیم سے انحراف (جب مکی سورتوں پر بحث ہوگی جو ترتیب نزول کے اعتبار سے بقرہ سے پہلے نازل ہوئیں تو وہاں ہم اس نکتے کی مزید وضاحت کریں گے۔ ) بنی اسرائیل کا قصہ قرآن کریم میں جہاں بھی آیا ہے ‘ اس کا بغور مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس سیاق وسباق میں اسے پیش کیا گیا ہے وہ اس سے ہم آہنگ ہے ۔ اور اس مقام کے مقاصد ومطالب اور فکری ہدایات وتوجہات کا تکملہ ہے ۔ یہاں بھی یہ قصہ سیاق وسباق سے پوری طرح ہم آہنگ ہے ۔ یہاں پہلے انسان کے شرف اور اس کی کرامت کا مضمون بیان ہوا ۔ اس کے بعد انسان اور اللہ کے درمیان عہد اور انسان کی جانب سے بھول چوک کے مضامین آئے ‘ جن میں بطور اشارہ یہ بتایا گیا ہے کہ انسانیت ایک اکائی ہے ۔ اس کی جانب آنے والے رسول اور ان کا پیش کردہ دین بھی ایک ہی سرچشمے سے نکلے ہیں ۔ دوران کلام نفس انسانی اور اس کے عناصر ترکیبی کی طرف بھی جابجا اشارہ کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان عناصرترکیبی کو نظر انداز کرنے اور ان سے انحراف کرنے کے عواقب ونتائج کیا ہوں گے ؟ جن پر انسان کے خلیفہ اللہ فی الارض ہونے کا دارومدار ہے اور جن کی اہمیت یہ ہے کہ جو شخص ان کا انکار کرے گا ‘ وہ اپنی انسانیت کا منکر بن جائے گا ‘ وہ ان اسباب کو گم کردے گا جن کی بناپر اسے خلافت فی الارض کا منصب ملا ‘ نتیجتاً انسان دوبارہ حیوانیت کے ارذل مقام میں جاگرے گا۔ قرآن کریم میں بنی اسرائیل کا قصہ سب سے زیادہ آیا ہے۔ اس قصے کے مختلف مقامات اور نصیحت آموز پہلو بڑی اہمیت رکھتے ہیں ۔ ان سے اللہ تعالیٰ کا وہ حکیمانہ اسلوب تربیت معلوم ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو خلافت کبریٰ کے منصب کے لئے تیار کرنے اور اس کی تعلیم وتربیت کے مقصد کے لئے اختیار فرمایا۔ اس اجمالی بحث کے بعد ابب ہم چاہتے ہیں کہ قرآنی آیات پر تفصیلی نظر ڈالیں۔

البقرة 2:39

یہاں آکر یہ معرکہ اپنے اصلی میدان ‘ زمین کی طرف منتقل ہوجاتا ہے اور اس وقت سے شروع ہے ۔ لمحہ بھر کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا ۔ اور یوں انسان ‘ آغاز انسانیت سے یہ راز پالیتا ہے کہ اگر وہ اس دنیا میں سرخروئی اور کامرانی چاہتا ہے تو اس کے حصول کا طریقہ کیا ہے ؟ اور اگر وہ ذلت و خواری چاہتا ہے تو اس کی راہ کون سی ہے ؟ ٭ ........ ٭ ........ ٭ لمحہ بھر کے لئے ذرا پیچھے کی طرف لوٹئے اور ابتدائی انسانیت کی اس کی دلچسپ کہانی کے بعض پہلوؤں کا جائزہ لیجئے ! اللہ تعالیٰ خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔” میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔ معلوم ہوا کہ آدم پہلے ہی اس زمین کے لئے پیدا کئے گئے تھے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے کیوں اسے جنت دکھائی گئی ہے ؟ کیوں ایک درخت کو حرام قرار دیا گیا ؟ اسے ابتلا ‘ میں ڈالا گیا ‘ یوں اسے زمین کی طرف اتارا گیا حالانکہ وہ طے شدہ پروگرام کے مطابق پیداہی اس لئے کیا گیا تھا کہ زمین پر فریضہ خلافت سر انجام دے ؟ میں سمجھتا ہوں کہ کشمکش آدم وابلیس کا یہ پہلا تجربہ کرایا ہی اس لئے گیا تھا کہ اس کے ذریعے سے آدم (علیہ السلام) کو کاربار خلافت کے چلانے کے لئے تیار کیا جائے ۔ اس طرح آدم (علیہ السلام) کی پوشیدہ قوتوں کو جگادیا گیا ۔ اسے لغزش کا تجربہ کرایا گیا اور اس کے نتائج سے دوچار کیا گیا۔ اس کے بعد ندامت و شرمندگی ‘ توبہ ‘ دشمن کی پہچان اور اللہ کی مامون پناہ گاہ میں آنے کا طریقہ سکھایا گیا۔ شجر ممنوعہ کی کہانی ‘ اس کے چکھنے کے لئے شیطان کی وسوسہ اندازی ‘ انسان اول کا نسیان عہد ‘ نسیان کے بعد ہوش میں آنا ‘ پشیمانی اور استغفار ۔ یہ سب کیفیات دو اروات ایسی ہیں جن کا تجربہ ہر انسان کو ہر لحظہ ہوتا رہتا ہے۔ اس انسان پر اللہ کی رحمت اور شفقت کا یہ تقاضا تھا کہ وہ اپنے دارالخلافہ میں تمام ایسے تجربات سے آراستہ ہو کر اترے جس کا پیش آنا اس کی زندگی کا ایک اہم حصہ تھا ۔ تاکہ وہ اس وہ اس طویل اور نہ ختم ہونے والی کشمکش (کشمکش آدم وابلیس) کے لئے تیار ہو اور یہ تجربہ اس کے لئے نصیحت آموز اور سامان عبرت ہو۔ آپ دوبارہ یہ سوال کرسکتے ہیں کہ پھر یہ تجربہ کہاں ہوا ؟ وہ جنت کون سی ہے جس میں آدم وحوا کچھ عرصے کے لئے قیام پذیر ہوئے ؟ فرشتے کیا ہیں ؟ ابلیس کی حقیقت کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں کیونکر خطاب کیا ؟ اور انہوں نے کیونکرجواب دیا ؟ بھائی ! یہ اور ایسی تمام دوسری باتیں جو قرآن کریم میں مذکور ہیں دراصل اللہ کے ان بھیدوں اور اسرار میں ہیں ۔ جن کی حقیقت کا علم صرف اللہ ہی کو ہے ‘ اللہ تعالیٰ جو علیم و حکیم ہے ‘ وہ جانتا ہے تھا کہ ان چیزوں کی حقیقی معرفت اور ان کی ماہیت معلوم کرنے سے انسان کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ “ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ان چیزوں کی حقیقت معلوم کرنے اور ان کی اصلیت کا ادراک کرنے کی صلاحیت ہی نہیں دی ۔ وہ ان کی ماہیت کا احاطہ کر ہی نہیں سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مدرکات دیئے ہیں وہ صرف اس لئے دیئے ہیں کہ ان کے ذریعے انسان اس زمین میں کاروبار خلافت سرانجام دے ۔ یہ مدرکات حقیقت مغیبات کا علم حاصل کرنے کے لئے استعمال ہی نہیں ہوسکتے ۔ نیز فریضہ ٔ خلافت کے یہ ضروری بھی نہیں ہے کہ ہم ان مغیبات کی حقیقت کو بھی جانتے ہوں ۔ اللہ کے قوانین قدرت کو کس قدر انسان نے مسخر کیا ہے ۔ انسان کو کائنات کے و رموز کا کتنا علم دیا گیا ہے ؟ کتنے اسرار غیبیہ ہیں ‘ جو اس کی نظروں سے اوجھل ہیں ؟ یہ ایسی باتیں ہیں جن کے علم وادراک کی حضرت انسان کو قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انسان کی حالت یہ ہے کہ اس کائنات کے بیشمار اسرار کان پردہ فاش کرنے کے باوجود ‘ وہ اب بھی ان تمام واقعات و حوادث سے مطلقاً بیخبر ہے جو اگلے لمحہ نمودار ہونے والے ہیں ۔ تمام مہیا او میسرہ آلات ........ اور ذرائع کے علم کے باوجودجو اسے میسر ہیں ‘ وہ کچھ نہیں جانتا کہ اگلے لمحہ میں کیا ہونے والا ہے ۔ اسے معلوم نہیں کہ وہ جو سانس لے رہا ہے وہ آخری سانس لے رہا ہے یا اس کے بعد وہ دوسرا سانس بھی لے سکے گا ۔ پردہ غیب میں جو حقائق پوشیدہ ہیں یہ ان میں سے ایک ادنیٰ مثال ہے۔ غرض فریضہ خلافت کی ادائیگی کے لئے اسے ان مغیبات میں سے کسی چیزکا جاننا بھی ضروری نہیں ہے ‘ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اگر انسان پر بعض اسرار کھول دیئے جائیں تو وہ اس کی کارکردگی پر الٹا اثر ڈالیں گے ۔ چناچہ ایسے پوشیدہ اسرار و رموز کی کئی قسمیں جو پردہ غیب میں مستور ہیں اور اللہ کے سوا ان کا علم کسی کو بھی نہیں ہے ۔ اس لئے عقل انسان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اس میدان میں سعی لاحاصل کرے ۔ کیونکہ اس کے پاس وہ ذرائع اور آلات ہی نہیں جو اس میدان میں کام آتے ہیں ۔ جو شخص بھی اس میدان میں جدوجہد کرے گا ‘ اور اپنی قوتیں کھپائے گا ‘ اس کی جدوجہد اکارت جائے گی ۔ بالکل ضائع اور لاحاصل۔ جب عقل انسانی وہ ذرائع ہی حاصل نہیں جن کے ذریعے وہ عالم مغیبات کے بارے میں کسی چیز کا ادراک کرسکے تو پھر اسے کوئی حق نہیں کہ وہ محض ہٹ دھرمی کرکے غیبی حقائق کا انکار کرے ۔ کیونکہ کسی چیز کا انکار کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اس کے وجود کا علم حاصل ہو۔ اور مغیبات کا علم وادراک عقل کا کام ہی نہیں ہے ۔ نہ اس کے حیطہ قدرت اور دائرہ کار میں یہ چیزیں آتی ہیں ۔ اس کے پاس ان کے ادراک کے نہ وسائل ہیں اور نہ ہی عقل کو ان کے ادراک کی ضرورت ہے ۔ اور نہ ہی عقل انسانی کا یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ ان کا ادراک کرے۔ ہمیں یہ تسلیم ہے کہ وہمیات و خرافات کو تسلیم کرنا نہایت ہی خطرناک اور مضربات ہے ‘ لیکن یہ بات اس سے بھی بدرجہا زیادہ مضر اور خطرناک ہے کہ انسان ایک ایسی چیز کا انکار کرے جو اس کے علم کے دائرہ رسائی ہی سے باہر ہے ۔ یا کسی حقیقت کو محض اس لئے مستعبد سمجھاجائے کہ وہ انسان کے حدادراک اور حدود قدرت سے باہر ہے ۔ اگر ہم علم ویقین کا یہ معیار مقرر کرلیں تو یہ ایک حیوانی معیار ہوگا۔ گویا انسانیت پیچھے لوٹ کر دوبارہ حیوانیت کے مقام تک پہنچے گی ۔ جہاں عالم محسوسات سے آگے کوئی چیز نہیں ہوتی اور جس کے لئے محسوسات کی چار دیواری سے نکل کر وجود مطلق تک پہنچنے کا امکان ہی نہیں ہوتا۔ لہٰذا ہمارے لئے بہتر یہی ہے کہ ہم اس عالم غیب کو اس ذات ہی کے حوالے کردیں جو اس دنیا کا مالک ہے ‘ اور ہمارے لئے وہی کافی ہے جس کی اطلاع وہ ہمیں دے دے ۔ صرف اسی قدر کی ہمیں اس دنیا میں ضرورت ہے جس سے ہماری روحانی اور مادی اصلاح ہوجائے اور بس ! اب ہم اس قصے کے ان پہلوؤں کو لیتے ہیں جو بعض انسانی اور تکوینی حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ عالم موجودات کا تصور ‘ اس کا باہم ربط ‘ انسانی مزاج اور اس کا معیار حسن قبیح وغیرہ۔ کیونکہ انہی پہلوؤں میں بشریت کی ہدایت اور منفعت کا سامان ہے ۔ یہاں ظلال القرآن کی مناسبت سے ‘ اختصار کے ساتھ ہم ان اشارات ‘ تصورات اور حقائق پر ایک اچٹتی نظر ڈالنا چاہتے ہیں۔ 1۔ اس قصے سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ مقام اور حیثیت ہے جو اسلامی تصور حیات ‘ خود انسان کو عطا کرتا ہے یعنی اس کائنات میں اس کی اہمیت ‘ ان اقدار کی اہمیت جن سے اسے پرکھا جاتا ہے اور زمین پر اس کے کردار کی اہمیت وغیرہ ۔ پھر یہ کہ اسلامی تصور حیات انسان اور عہد ربانی کے درمیان تعلق کی کیفیت کیا ہے ؟ اور اس عہد کی حقیقت کیا ہے جس کی بنیاد پر انسان خلیفۃ اللہ فی الارض ہے ۔ چناچہ ملاء اعلیٰ میں تکریم انسانیت کی جو تقریب منعقد ہوتی ہے اور اس کے بعد جو عظیم الشان اعلان ہوتا ہے اس سے صاف صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلامی تصور حیات کے مطابق حضرت انسان کی قدر و قیمت کیا ہے ؟ یعنی وہ ایک ایسی مخلوق ہے جسے زمین میں خلیفۃ اللہ ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ اس کا نہایت ہی واضح اظہار اس منظر سے ہوتا ہے جس میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ کا حکم ہوتے ہی سب کروبی اس بندہ خاکی کے آگے سربسجود ہوجاتے ہیں ۔ اس تقریب میں ابلیس استکبار کرتا ہے اور راندہ درگاہ ہوجاتا ہے ۔ اور یہ سب آغاز سے انجام تک خاص ذات کبریائی کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ انسان کے بارے میں جب یہ نقطہ نظر اختیار کیا جاتا ہے تو نظریاتی دنیا اور عملی دنیا میں انسان کے اس تصور کے عظیم الشان اور گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ سب سے پہلا تصور یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان اس زمین کا مالک ہے ۔ یہ اسی کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ اس کائنات کی تمام چیزیں بھی اس انسان کے لئے پیدا کی گئی ہیں ۔ اس لئے وہ ہر مادی چیز سے زیادہ معزز زیادہ قیمتی اور زیادہ عزیز ہے ۔ وہ دنیا کی تمام مادی اقدار سے بلند تر ہے ۔ لہٰذا یہاں اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ کسی بڑے سے بڑے مادی مفاد ‘ یا عظیم سے عظیم مادی ترقیات کے لئے انسان کو ذلیل و خوار ہونے دیاجائے۔ لہٰذا کسی قسم کی مادی تحقیقات وفتوحات ‘ کسی قسم کی مادی پیداوار یا مادی عناصر میں سے کسی عنصر کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ کیونکہ تمام مادیات اور تمام مصنوعات ‘ صرف انسان کی خاطر پیدا کی گئی ہیں ۔ اس لئے کہ اس کی انسانیت پروان چڑھے اور بحیثیت انسان یہاں اس کی زندگی قائم رہ سکے ۔ لہٰذا اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ محض انسانی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے اس کی اعلیٰ اقدار اور اس کی کرامت اور شرافت کے عناصر ترکیبی ہی کو خیرباد کہہ دیں اور انہیں ضائع کردیں۔ 2۔ اس کہانی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس زمین پر انسان ہی اول درجے کی موثر طاقت ہے۔ وہی ہے جو اس زمین کے رنگ ڈھنگ بدلتا ہے اور انسان کی معاشرتی زندگی میں وہی باہمی ربط وتعلق کی نوعیت متعین کرتا ہے ۔ وہی ہے جو قافلہ حیات کا قائد وسالار ہے اور سمت سفر کا تعین کرتا ہے ذرائع پیداوار یا پیداوار کی تقسیم کے کسی نظام کو اس انسان کی قیادت کا مقام حاصل نہیں ہے ۔ یوں کہ انسان کی نکیل ان کے ہاتھ میں ہو اور وہ ذلیل و خوار ایک حیوان کی طرح ان کے پیچھے پیچھے عالم بےبسی میں چلتا ہو جیسا کہ آج کل کے بعض مادی فلسفے اس کی ایسی ہی تصویر کھینچتے ہیں ۔ اور جن کا نظریہ انسانیت یہ ہے کہ اس کی زندگی میں ........ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ ان نظاموں میں جوں جوں مشین کی قدروقیمت میں اضافہ ہوتا ہے ‘ انسان کی انسانیت پامال ہوتی جاتی ہے ۔ یہ بات شک وشبہ سے بالا ہے کہ انسان کے لئے جو نظام زندگی تجویز کرتا ہے یا تو وہ اس اسلامی نظریہ کے مطابق تجویز ہوتا ہے یا پھر اس مادی نقطہ نظر کے مطابق تشکیل پاتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں بلند انسانی اقدار کو یا تو عروج نصیب ہوتا ہے یا تو وہ پامال ہوتی ہیں ۔ انسان اشرف المخلوقات بن جاتا ہے یا ایک حقیر مشین اور آلہ ۔ آج کی اس مادی دنیا میں محض مادی ترقی اور کثرت پیداوار کی خاطر ہر قسم کی انسانی آزادیوں ‘ انسانی شرافتوں اور انسان کی انسانیت کو جو پامال اور برباد کیا جارہا ہے ‘ وہ صرف اسی نقطہ نظر کا فطری نتیجہ ہے جو مادی نظامہائے حیات اس انسان کی حقیقیت اور دنیا میں اس کی اہمیت کے بارے میں رکھتے ہیں۔ لیکن اس مادی دنیا کے برعکس انسان کی حقیقت اور اس کے مقصد تخلیق کے بارے میں اسلام جو تصور دیتا ہے ‘ اس کے ترازو اور معیار میں آداب انسانیت کی قدریں بلند ہوجاتی ہیں ‘ اخلاقی فضائل و محاسن اہمیت اختیار کرلیتے ہیں ‘ انسان کی زندگی میں ایمان ‘ نیکی اور اخلاص جیسی صفات اہمیت اختیار کرلیتی ہیں کیونکہ اسلامی تصور حیات کے مطابق یہی وہ اعلیٰ اقدار ہیں جن پر خلافت فی الارض کی ذمہ داری موقوف ہے۔ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ ” پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے ‘ تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ‘ ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا۔ “ غرض یہ اقدار تمام مادی اقدار سے زیادہ قیمتی اور برتر ہیں ۔ لیکن یہ بات بھی ہمارے ذہن میں رہنی چاہئے کہ ان مادی اقدار کا حصول بھی مقاصد خلافت فی الارض میں داخل ہے ۔ اس حد تک یہ مادی اقدار اعلیٰ اخلاقی اور روحانی اقدار کے تابع ہوں اور بذات خود اصل مقاصد نہ بننے پائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام انسانی ضمیر کو پاک وصاف اور ایک اعلیٰ زندگی بسر کرنے پر آمادہ کرتا ہے ‘ جبکہ تمام دوسرے مادی نظریات تمام روحانی اقدار کو حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ اور مادیت کے لئے آداب انسانیت تک کو قربان کردیتے ہیں ۔ اور یہ سب قربانی کس لئے دی جاتی ہے ؟ محض ضروریات زندگی سامان تعیش کی فراوانی اور حیوانوں کی طرح شکم پروری کی خاطر) تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو سید محمد قطب کی کتاب انسان اسلام اور مادیت) اسلام کا تصور انسان کس قدر بلند ہے ؟ ذرا اس کے اس پہلو پر غور کیجئے کہ اس کی رو سے انسان ایک بااختیار اور صاحب عزم واراہ مخلوق ہے ۔ کیونکہ اگر ہو بااختیار اور ذی عزم نہیں تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے معاہدے کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ۔ کیونکہ اختیار ہی کی اساس پر انسان مکلف ہے اور جزاء وسزا کا مستحق ہے ۔ اگر وہ اپنے ارادے کا پکا اور خواہشات نفسانیہ پر قابوپالیتا ہے تو اس طرح وہ فرشتوں سے بھی ارفع مقام حاصل کرسکتا ہے ۔ اور ہر اس کجروی سے بچ سکتا ہے جس سے اسے سابقہ درپیش ہو ۔ لیکن اگر اس عزم پر خواہشات نفسانیہ غلبہ پالیں ‘ اس کی زندگی میں ہدایت پر ظلمت غالب آجائے اور وہ اپنے اس عہد الست کو بھول جائے جو اس نے اپنے خالق سے باندھا تھا تو وہ اس بلند مقام سے گر بھی سکتا ہے اور اپنے لئے شقاوت ونکبت کے تمام سامان بھی فراہم کرسکتا ہے ۔ اسلامی نظام زندگی نے ‘ اس کائنات میں انسان کو برتری اور شرافت کے جو اصول دیئے ہیں اس قصے میں ان کی صرف ایک جھلک دکھائی گئی ہے ۔ انسان کو یاددلایا گیا ہے کہ سعادت وشقاوت ‘ بلندی و پستی ‘ ایک بااختیار بلند مرتبت انسان اور مقید ومجبور حیوان جو قعر مذلت میں گرپڑا ہو ‘ ان دونوں کی راہیں کہاں سے جدا ہوتی ہیں ۔ اس قصے میں بیان کردہ ‘ واقعات کی تصویر کشی کے دوران یہ یاد دلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ معرکہ آدم وابلیس کی نوعیت کیا ہے ؟ ایک طرف بندے اور خدا کا پیمان ہے اور دوسری طرف شیطان کی فتنہ انگیزی ہے۔ ایک طرف ایمان ہے اور دوسری جاب کفر ہے ‘ ایک محاذ پر حق ہے اور دوسرے پر باطل ہے ۔ “ ایک صفت اہل ہدایت کی ہے اور دوسری اہل ضلال کی ۔ لیکن میدان جنگ کہاں ہے ؟ انسان اور اس کی زندگی ۔ فاتح بھی انسان اور مفتوح بھی انسان ۔ سود و زیاں کا یہ بازار خود اس کے ضمیر میں ہے ۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اسے متنبہ کرتے ہیں کہ وہ ہر وقت چوکنا رہے کیونکہ وہ ہر وقت میدان کارزار میں ہے ۔ صورتیں دو ہی ہیں یا تو وہ لٹ جائے اور یا مال غنیمت لے کر ظفریاب ہوگا۔ اس قصے میں اسلام کے تصور خطا اور توبہ کی وضاحت بھی کردی جاتی ہے ۔ گناہ چونکہ ایک فرد سے سرزد ہوتا ہے ۔ لہٰذا توبہ بھی ایک انفرادی عمل ہے ۔ یہ ایک ایسا واضح اور صاف نظریہ ہے جس میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ اہل کنیسا کی طرح یہاں کسی ایسے تصور کی گنجائش نہیں ہے کہ انسان پیدا ہونے سے پہلے خطاکا مرتکب بن جاتا ہو۔ اسلام میں کسی لاہوتی کفارہ معاصی کا کوئی تصور نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انسان کو آدم (علیہ السلام) کے گناہ سے پاک کرنے کے لئے مصلوب ہوئے ۔ یہ ایک غلط تصور ہے ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی ایک لغزش ایک انفرادی عمل تھا۔ اور اس سے چھٹکارا پانے کا طریقہ بھی انفرادی عمل ندامت اور توبہ تھا جو بالکل واضح اور صاف اور قابل فہم ہے ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہر ایک خود اپنے کئے کا ذمہ دار ہے ۔ اور سب کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا ہے ۔ صاف اور سادہ اور آسان صدبار اگر توبہ شکستی بازآ ذرا غو رکیجئے کہ کس قدر واضح اور دل لگتا تصور ہے یہ ۔ ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اپنا بوجھ اٹھائے ۔ یہ تصور ہر انسان کو بھلائی کے حصول کی جدوجہد پر آمادہ کرتا ہے اور وہ یاس وقنوط کا شکار نہیں ہوتاکیون کہ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُوہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “ اشارات قصہ آدم کا یہ صرف ایک پہلو ہے فی ظلال القرآن کے اس مقام پر ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ صرف اس ایک پہلو ہی میں بےبہا حقائق اور صحت مند تصورات کا ایک عظیم خزانہ موجود ہے ۔ اس قصے میں قیمتی اشارات وہدایات کا ایک وافر ذخیرہ ہے ۔ اس میں اسلام کے تصور اجتماع اور طرز معاشرت کی بنیادیں متعین کردی گئیں ہیں ۔ اور جنہیں بھلائی ‘ اخلاق اور دوسرے فضائل کے ذریعے استحکام بخشا گیا ہے ۔ جب ہم اس پہلو پر غور وفکر کرتے ہیں تو ہمیں قرآنی قصوں کی اہمیت اور مقصدیت کا احساس ہوتا ہے کہ یہ قصے کس طرح اسلامی تصور حیات کی بنیادوں کو مضبوط کرتے ہیں ۔ اور ان اعلیٰ اقدار کی وضاحت کرتے ہیں جو ان بنیادوں پر قائم ہوتی ہیں جس کائنات کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور جو اللہ ہی کی طرف متوجہ ہے ‘ اور جسے آخر کار اللہ ہی کی طرف جانا ہے ‘ وہ اس بات کی مستحق ہے کہ اس میں وہی اقدار بلند ہوں جو اللہ کے ہاں بلند ہیں ۔ معاہدہ خلافت انسانی دراصل ربانی ہدایت پہ قائم ہے ۔ اس کی اہم شرط یہ ہے کہ انسان اسلامی نظام حیات کے مطابق زندگی بسر کرے گا۔ اس معاہدے کے بعد پوزیشن یہ ہوجاتی ہے کہ انسان ایک ذی ارادہ مخلوق کی حیثیت سے ایک دورا ہے پر کھڑا ہے ۔ ایک طرف اسے خدا پکاررہا ہے ‘ اور وہ سن رہا ہے ۔ اگر وہ فیصلہ کرتا ہے تو صراط مستقیم پر چل پڑتا ہے ۔ دوسری جانب اسے شیطان پکار رہا ہے ۔ وہ ضلالت ........ یا حق ہے اور یا باطل ........ اور یا فلاح ہے اور یا خسران ........ یہ ہے حقیقت اور اسے قرآن کریم ہمیشہ بطور حقیقت اولیہ پیش کرتا ہے ۔ عالم انسان کے سارے نظریات و تصورات اور طرز ہائے زندگی بس صرف اس ایک حقیقت پر قائم ہیں ۔ درس 4 ایک نظر میں یہاں آکر گفتگو کا رخ بنی اسرائیل کی طرف مڑجاتا ہے ۔ مدینہ طیبہ میں صرف انہوں نے دعوت اسلامی کا سختی سے مقابلہ کیا تھا۔ انہوں نے ظاہری اور خفیہ دونوں قسم کی تدبیروں کے ذریعے دعوت اسلامی کو ختم کرنے کوشش کی اور اس کا مقابلہ کیا ۔ وہ تحریک اسلامی کے خلاف پے درپے سازشیں کرتے رہے اور ظہور اسلام سے لے کر دعوت کے اس مرحلے تک ایک لمحہ بھر ان کی ریشہ دوانیوں میں کوئی کمی نہ آئی ۔ انہیں اس بات کا یقین ہوچلا تھا کہ اقتدار کی کنجیاں ایک ایک کرکے مسلمانوں کے ہاتھوں میں منتقل ہورہی ہیں ۔ جب سے اوس و خزرج کی لڑائیاں بند ہوئیں اور وہ راستے بند ہوئے جن کے ذریعے یہود مشرکین مدینہ کے اندر اثر ورسوخ پیدا کرتے اور ان پر اثر انداز ہوتے تھے ‘ پھر جب مسلمانوں کے لئے ‘ اس نئی کتاب کی بنیاد پر ایک نئے نظام زندگی کی تشکیل شروع ہوئی تو یہودیوں کو یہ احساس شدت سے ہورہا تھا کہ اس نئی تحریک نے انہیں ادب و ثقافت اور معیشت واقتصاد دونوں کے اہم شعبوں سے باہر نکال پھینکا ہے ۔ غرض یہ ہے وہ معرکہ جو یہودیوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اول روز سے شروع کیا اور آج تک وہ جوں کا توں قائم ہے ۔ آج بھی وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وہی اوچھے ہتھیار استعمال کررہے ہیں جو اس وقت کررہے تھے ۔ ہتھیاروں کی شکل اگرچہ مختلف ہے ‘ رنگ ڈھنگ نیا ہے ۔ لیکن ان کی حقیقت اور مزاج بالکل وہی ہے ........ یاد رہے کہ یہودی اسلام و مسلمانوں کے خلاف اس حقیقت کے باوجود یہ معاندانہ روش اختیار کئے ہوئے ہیں کہ انسانی تاریخ میں پوری دنیا اس قوم کو ہمیشہ دھتکارتی رہی ۔ کبھی ادھر سے ادھر اور کبھی ادھر سے ادھر بھگایا جاتارہا ۔ اور یہ لوگ خاک چھانتے پھرے ۔ صدیاں یونہی گزرگئیں لیکن بالآخر انہیں آرام اور چین کی زندگی عالم اسلام ہی میں نصیب ہوئی ‘ جو سب کے لئے کھلا ہے اور جس میں عقیدہ و مذہب کی اساس پر کسی کے خلاف کوئی نفرت نہیں ہوا کرتی ہے ۔ جہاں فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات کو ہمیشہ بری نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور جہاں ہر اس شخص کو آنے کی کھلی اجازت رہی ہے جو اسلام کو اذیت نہ دے اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں نہ کرتا ہو اور مسالم ہوکر رہے۔ توقع تو یہ تھی کہ یہود مدینہ ‘ اس نئے رسول اور اس نئی دعوت کو سب سے پہلے قبول کرتے اور ایمان لاتے ۔ جبکہ قرآن کریم اپنی عمومی حیثیت میں ان تمام تعلیمات کی تصدیق کررہا تھا جو تورات میں بیان کی گئی تھیں ۔ پھر ان کو ایک نئے رسول کی آمد کا انتظار بھی تھا ۔ ان کو اس کے اوصاف بھی معلوم تھے اور ان کے پاس کتب سماوی میں اس کے بارے میں بشارتیں موجود تھیں ۔ اور وہ ہمیشہ اللہ سے دست بدعا ہوا کرتے تھے کہ وہ نبی منتظر کے طفیل انہیں مشرکین عرب پر ظفریاب کرے۔ یہ سبق ‘ بنی اسرائیل کے ساتھ قرآن کی وسیع گفتگو کا پہلا حصہ ہے ۔ بنی اسرائیل کے ساتھ یہ گفتگو درحقیقت ان کے موقف کی تردید اور ان کی سازشوں کو طشت ازبام کرنے کے لئے ان پر ایک گہری تنقیدی حملہ ہے اور یہ بطور مجبوری اور ضرورت اس وقت شروع کیا گیا ہے ۔ جب دعوت اسلامی نے ‘ مدینہ میں آکر ‘ انہیں اسلام کی طرف بلانے میں اپنی پوری قوت صرف کردی ‘ ان پر حجت تمام کردی اور انہیں اس جدید تحریک کی طرف راغب کرنے کے لئے تمام ذرائع استعمال کرلئے گئے۔ اس سبق کا آغاز باری تعالیٰ کی اس جلیل القدر پکار سے ہوتا ہے جس میں باری تعالیٰ انہیں اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے ‘ انہیں پکارا جاتا ہے کہ وہ اپنے عہد کو پورا کریں تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے اس عہد کو پورا کرے ‘ جو اس نے ان کے ساتھ کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں بطور تمہید ‘ پہلے خوف خدا اور تقویٰ و طہارت کی طرف بلاتا ہے اور اس کے بعد انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس کتاب اور ہدایت کو قبول کرلیں جو ان تمام کتابوں اور ہدایات کی تصدیق کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی طرف اتاریں ۔ انہوں نے قرآن کریم کے بارے میں جو رویہ اختیار کیا اللہ تعالیٰ اس کی مذمت کرتا ہے ‘ اور انہیں اس بات کی نصیحت کرتا ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو سب سے پہلے اس کتاب کے منکر بنے ۔ اس کی اس روش کی بھی مذمت کی جاتی ہے کہ وہ حق کو چھپاتے ہیں اور حق و باطل کو باہم مشتبہ بناتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہ راست سے بھٹکائیں ۔ بالخصوص مسلمانوں کو ۔ اور اسلامی جماعت کی صفوں میں فتنہ کھڑاکریں اور انتشار پھیلائیں ۔ نیز جو لوگ نئے نئے حلقہ بگوش اسلام ہورہے تھے ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پھیلائیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ وہ ان فتنہ انگیزیوں کو چھوڑ کر اسلامی جماعت میں شریک ہوجائیں ۔ مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھیں ‘ زکوٰۃ ادا کریں اور نظام جماعت قائم کریں اور اپنے آپ کو اس نئے دین میں ضم کردینے کے مشکل کام میں صبر اور نماز سے مددلیں ۔ اللہ ان کی اس روش پر سخت تنقید کرتا ہے کہ وہ مشرکین کو تو یہ کہتے ہیں کہ وہ ایمان لے آئیں لیکن خود ایمان نہیں لاتے اور نہ اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ اس کے بعدبنی اسرائیل کو وہ نعمتیں یاددلائی جاتی ہیں جن سے انہیں ‘ ان کی پوری تاریخ میں نوازا جاتا رہا تھا۔ دوران گفتگو حاضرین بنی اسرائیل کو یوں مخاطب کیا جاتا ہے کہ گویا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں خود یہ لوگ وہاں موجود تھے ۔ جو آج مدینہ میں موجود ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل ایک ہی امت ہیں اور صدیوں سے وہ ایک ہی قومیت اور اسی جبلت پر جمے ہوئے ہیں ۔ جیسا کہ اس کے بعد بھی وہ ہر دور میں ویسے ہی رہے اور انہیں خصوصیات کے حامل رہے ۔ اس کے بعد انہیں اس دن یعنی یوم قیامت سے ڈرایا جاتا ہے جہاں کوئی نفس کسی دوسرے کا بدلہ نہ دے سکے گا ۔ کسی کی کوئی سفارش نہ چلے گی نہ کسی سے کسی قسم کا فدیہ اور معاوضہ قبول ہوگا اور اس دن تمام لوگ بےیارو مددگار ہوں گے ‘ اور انہیں قیامت کے عذاب سے بچانے والانہ ہوگا۔ اب ان کے سامنے وہ منظر پیش کیا جاتا ہے کہ جب اللہ نے انہیں فرعون سے نجات دی ۔ یہ منظر کشی ایسی ہی کہ گویا نظارہ آنکھوں کے سامنے ہے ۔ پھر ان انعامات کا ذکر ہوتا ہے جو پے درپے ان پر ہوتے رہے ۔ ان کے سروں پر بادلوں کے سائے کئے جاتے ہیں ۔ من وسلویٰ سے ان کی تواضح کی جاتی ہے اور پتھروں کا دل چیر کر ان کے لئے پانی فراہم کیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد انہیں شرم دلائی جاتی ہے کہ ان انعامات کے بدلے میں وہ پے درپے کیا کیا سرکشیاں اور کیا کیا خرمستیاں کرتے رہے ۔ جب اللہ تعالیٰ ان کی ایک غلطی معاف کرتے تو وہ دوسری میں جاپڑتے ‘ ایک مصیبت سے نجات دیتے تو وہ اپنے لئے دوسری کا سامان کردیتے ۔ لیکن بنی اسرائیل بھی تو بنی اسرائیل تھے ۔ وہی فساد اور کینہ پروری ‘ وہی کجروی اور گمراہی اور اس پر اصرار ۔ ہمیشہ انہوں نے اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کی ۔ امانت میں خیانت کی ۔ عہد کو پختہ باندھنے کے بعد توڑا ۔ اللہ تعالیٰ اور پیغمبروں کے ساتھ کئے ہوئے ہر میثاق کو انہوں نے بالائے طاق رکھا ۔ وہ یہاں تک آگے بڑھے کہ بغیر کسی جواز کے پیغمبروں کو قتل کرنے لگے ۔ رب کی آیات کو جھٹلانے لگے ۔ بچھڑے کو پوجنے لگے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی گستاخی اس حد تک پہنچ گئی کہ انہوں نے اس وقت تک ایمان لانے سے انکار کردیا جب تک وہ اپنی آنکھوں سے اللہ کو نہ دیکھ لیں ۔ ذرا غور کیجئے ! اس کے بعد یہ لوگ اللہ کے حکم کی صریح خلاف ورزی کرتے ہیں اور گاؤں میں داخل ہوتے وقت وہ الفاظ نہیں ادا کرتے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں بتائے تھے ‘ اور جس کے ادا کرنے کا حکم دیا تھا ۔ احکام سبت کی خلاف ورزی کرتے رہے ۔ عہد طور کو تو صاف بھول گئے ۔ جس گائے کا ذبح کرنے کا اللہ نے حکم دیا تھا ‘ اس میں ٹال مٹول کرنے لگے اور مجادلہ اور مباحثہ شروع کردیا۔ غرض یہ سب کام یہ لوگ اس ادعاء کے ساتھ کرتے رہے کہ بس ہدایت یافتہ امت اگر کوئی ہے تو بس وہ صرف یہودی اور بنی اسرائیل ہی ہیں ۔ قیامت میں اللہ میاں تو صرف بنی اسرائیل سے راضی ہوں گے ۔ تمام دین باطل ہیں ۔ تمام دوسری امتیں گمراہ ہیں ۔ چناچہ قرآن کریم اس پہلی تنقیدی گفتگو ہی میں اس کی تردید کردیتا ہے اور کہتا ہے کہ دوسری امتوں میں سے جو لوگ بھی اللہ تعالیٰ یوم آخرت پر ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے تو ان کے رب کے نزدیک ان کے لئے اجر ہے ۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ انہیں کسی چیز کا حزن وملال ہوگا۔ بنی اسرائیل پر یہ بھرپور وار یا بعد میں سورت کے مباحثے کے ضمن میں آنے والی تنقیدیں ‘ وقت کی اہم ضرورت تھی ۔ اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ بنی اسرائیل کے تمام کھوکھلے دعوؤں کی قلعی کھول دی جائے اور ان کی تمام سازشوں سے پردہ اٹھایا جائے اور مسلمانوں کو ان تمام سازشوں اور مکاریوں سے آگاہ کردیا جائے ‘ جو ان کی جدید سوسائٹی کے خلاف کی جارہی تھیں۔ ان کے دل و دماغ میں وہ اصول بٹھادئیے گئے جن کی بناپر بنی اسرائیل یہ سازشیں کرتے پھرتے ۔ نیز مسلمانوں کو اس خلفشار اور فتنہ انگیزی کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہوجانے کی ترغیب دی گئی۔ تاریخ بنی اسرائیل پر یہ تنقید اس لئے بھی ضروری تھی کہ خود مسلمان متنبہ ہوجائیں ۔ انہیں معلوم ہوجائے کہ خلافت ِ ارضی کے اس نئے منصب میں ان کے سامنے کیا کیا دشواریاں ہیں ؟ کہاں کہاں پھسلنے کا خطرہ ہے ؟ اس سلسلے میں سابقہ مقتدرامتوں سے کیا کیا لغزشیں ہوئیں اور جس کی وجہ سے وہ منصب خلافت سے محروم ہوئیں اور اس زمین میں اللہ کی امانت کے قیام ونگہبانی کا جو شرف انہیں حاصل تھا وہ کس طرح انہوں نے گنوایا ۔ اور انسانی قیادت کا نظام کس طرح اور کن اسباب کی بناء پر ان کے ہاتھوں سے نکل گیا ۔ غرض اس پوری تنقیدی بحث میں کہیں تو کھل کر اور کہیں اشاروں اشاروں میں مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اس راہ اور اس منصب میں ان کے سامنے کیسے کیسے مشکل مقامات آئیں گے ؟ جہاں لغزشوں اور پھسلنے کا سخت اندیشہ ہوگا۔ جیسا کہ اس بحث کے دوسرے حصے میں بھی ایسی ہی تنبی ہیں ہوں گی۔ مدینہ طیبہ میں امت مسلمہ کو ان تنیہات اور ہدایات کی اشد ضرورت تھی ‘ جیسا کہ ہمیشہ اور ہر وقت اور ہر زمانے میں امت مسلمہ کو ان ہدایات کی ضرورت ہے ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ آنکھیں کھول کر گہرے اور بصیرت افروز احساس کے ساتھ قرآن کریم کا مطالعہ کریں اور بزرگ و برتر قیادت کی ان ہدایات اور تعلیمات کو اپنائیں ۔ جو اس نے اپنے پرانے دشمنوں کے خلاف جنگ کرتے ہوئے مسلمانوں کو دیں ۔ مسلمانوں کو ہمیشہ اچھی طرح یہ معلوم ہونا چاہئے کہ انہوں نے ان جدی دشمنوں کی ان سازشوں اور مکاریوں کا مقابلہ کس طرح کرنا ہے ‘ جو یہ دشمن نہایت ہی خفیہ ذرائع اور گہرے فریب کارانہ طریقوں سے اسلامی معاشرہ کے خلاف کرتے ہیں ۔ جس شخص کا دل نور ایمان سے منور نہ ہو اور جو ظاہر و باطن اور خفیہ و اعلانیہ غرض اپنی پوری زندگی میں اس بزرگ و برتر قیادت خداوندی سے ہدایات نہیں لیتا ‘ وہ کبھی بھی ان خفیہ راستوں اور ناپاک راستوں اور زیر زمین ذرائع کا پتہ نہیں لگاسکتا جن کے ذریعے یہ خطرناک اور ناپاک سازشیں اسلامی معاشرے میں گھس آتی ہیں۔ اس بحث میں قرآن کریم کی طرز ادا کی فنی اور نفسیاتی ہم آہنگی کا ایک خاص پہلو قابل لحاظ ہے ۔ تاریخ بنی اسرائیل کی یہ بحث قصہ خلافت آدم کے اختتام کے متصلاً شروع ہوجاتی ہے ۔ یہ بحث اس ذہنی پس منظر میں شروع ہوتی ہے جس کی طرف ہم نے قصہ آدم وابلیس میں اشارے کئے ہیں ۔ چناچہ قرآن مجید کے اسلوب ادا میں اس بات کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ پیش کئے جانے والے قصے اور اس ماحول کے درمیان مکمل مطابقت اور ہم آہنگی ہو جس میں قصہ پیش ہورہا ہوتا ہے۔ ذرا پیچھے لوٹئے ‘ دوران بحث کہا گیا تھا کہ ” اللہ تعالیٰ نے اس زمین کی تمام مخلوقات کو تم انسانوں کے لئے پیدا کیا ہے۔ “ اس کے بعد زمین میں خلافت آدم کا قصہ شروع ہوتا ہے اور آدم اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک اعلانیہ معاہدہ ہوتا ہے ۔ آدم کو فرشتوں پر فضیلت دی جاتی ہے اس کے بعد ‘ آدم کو وصیت کرنا ‘ بھول چوک ‘ توبہ وندامت ‘ ہدایت الٰہی اور مغفرت الٰہی کے مضامین آتے ہیں اور آدم (علیہ السلام) کو جنت ہی میں شر کی قوتوں اور خیر کی قوتوں کی اس طویل اور نہ ختم ہونے والی کشمکش کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ‘ جو اس دنیا میں تا قیامت جاری رہنی تھی ۔ خیر ‘ اصلاح اور تعمیر کی قوتیں ایک ایسے انسان کی شکل میں پیش ہوتی ہیں جو مومن ہے اور اللہ کی رسی کو تھامے ہوئے ہے اور شر ‘ فساد اور تخریب کی قوتیں ابلیس کی صورت میں مجسم کھڑی ہیں۔ یہ تمام باتیں کرنے کے بعد ‘ اب بنی اسرائیل پر تنقید شروع ہوجاتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کس طرح اللہ سے پختہ عہد باندھا اور پھر اسے توڑا ۔ ان پر کن کن نعمتوں کی بارشیں ہوئیں اور انہوں نے ان کی ناشکری کی ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین میں منصب خلافت سے محروم کردیا اور ذلت ومسکنت کو ان پر مسلط کردیا۔ مومنین کو ان کی مکاریوں سے آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ اپنی تاریخ میں ان سے کیا کیا لغزشیں سرزد ہوئیں ؟ یہاں آکر زمین میں خلیفہ بنانے اور اس کے بعد بنی اسرائیل کو خلیفہ بنانے کے درمیان ایک واضح معنوی ربط پیدا ہوجاتا ہے اور سیاق کلام واضح طور پر باہم مربوط ہوجاتا ہے۔ قرآن کریم کے پیش نظر یہاں یہ مقصد نہیں ہے کہ بنی اسرائیل کی قومی تاریخ پیش کرے بلکہ وہ اس تاریخ کے بعض واقعات کی طرف اشارہ کرتا ہے اور مناسب اختصار یا مناسب بسط سے۔ اس طویل تاریخ کے بعض مناظر پیش کرتا ہے ۔ سورة بقرہ سے پہلے قرآن مجید کی تمام مکی سورتوں میں بھی یہ قصہ باربار آتا ہے۔ لیکن وہاں اس قصے کے بیان سے مطلوب یہ تھا کہ مکی زندگی کے پر آشوب دور میں مسلمانوں کی قلیل جماعت کی ڈھارس بندھائی جائے ۔ اس وقت مطلوب یہ تھا کہ آغاز کائنات سے آج تک قافلہ اہل ایمان کے دعوتی تجربات ‘ مسلمانوں کی اس قلیل جماعت کے سامنے پیش کئے جائیں اور مکہ مکرمہ میں سے جو مرحلہ درپیش تھا ‘ اس کے تقاضوں کے مطابق اسے ہدایات دی جائیں لیکن یہاں (مدینہ میں ) مقصد یہ تھا کہ یہودیوں کی ریشہ دوانیوں اور برے ارادوں سے مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے اور اسلامی جماعت کو متنبہ کیا جائے کہ یہودیوں کے ارادے کیا ہیں ؟ اور انہیں بروئے کار لانے کے لئے ان کے پاس وسائل کیا ہیں ؟ نیز امت مسلمہ کو متوجہ کیا جارہا ہے کہ خود وہ بھی انہی کوتاہیوں اور کمزوریوں میں مبتلا نہ ہوجائیں جن میں اس سے قبل یہودی مبتلا ہوچکے تھے ۔ چونکہ مکہ مکرمہ میں اور مدینہ طیبہ میں مقاصد بالکل مختلف تھے ‘ اس لئے قرآن کریم نے یہاں قصہ بنی اسرائیل کو مختلف اسلوب میں اور مختلف پہلوؤں سے پیش کیا ۔ اگرچہ جو حقائق پیش کئے گئے وہ یہاں اور وہاں بالکل ایک ہی تھے ۔ یعنی بنی اسرائیل کی گمراہی اور جادہ مستقیم سے انحراف (جب مکی سورتوں پر بحث ہوگی جو ترتیب نزول کے اعتبار سے بقرہ سے پہلے نازل ہوئیں تو وہاں ہم اس نکتے کی مزید وضاحت کریں گے۔ ) بنی اسرائیل کا قصہ قرآن کریم میں جہاں بھی آیا ہے ‘ اس کا بغور مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس سیاق وسباق میں اسے پیش کیا گیا ہے وہ اس سے ہم آہنگ ہے ۔ اور اس مقام کے مقاصد ومطالب اور فکری ہدایات وتوجہات کا تکملہ ہے ۔ یہاں بھی یہ قصہ سیاق وسباق سے پوری طرح ہم آہنگ ہے ۔ یہاں پہلے انسان کے شرف اور اس کی کرامت کا مضمون بیان ہوا ۔ اس کے بعد انسان اور اللہ کے درمیان عہد اور انسان کی جانب سے بھول چوک کے مضامین آئے ‘ جن میں بطور اشارہ یہ بتایا گیا ہے کہ انسانیت ایک اکائی ہے ۔ اس کی جانب آنے والے رسول اور ان کا پیش کردہ دین بھی ایک ہی سرچشمے سے نکلے ہیں ۔ دوران کلام نفس انسانی اور اس کے عناصر ترکیبی کی طرف بھی جابجا اشارہ کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان عناصرترکیبی کو نظر انداز کرنے اور ان سے انحراف کرنے کے عواقب ونتائج کیا ہوں گے ؟ جن پر انسان کے خلیفہ اللہ فی الارض ہونے کا دارومدار ہے اور جن کی اہمیت یہ ہے کہ جو شخص ان کا انکار کرے گا ‘ وہ اپنی انسانیت کا منکر بن جائے گا ‘ وہ ان اسباب کو گم کردے گا جن کی بناپر اسے خلافت فی الارض کا منصب ملا ‘ نتیجتاً انسان دوبارہ حیوانیت کے ارذل مقام میں جاگرے گا۔ قرآن کریم میں بنی اسرائیل کا قصہ سب سے زیادہ آیا ہے۔ اس قصے کے مختلف مقامات اور نصیحت آموز پہلو بڑی اہمیت رکھتے ہیں ۔ ان سے اللہ تعالیٰ کا وہ حکیمانہ اسلوب تربیت معلوم ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو خلافت کبریٰ کے منصب کے لئے تیار کرنے اور اس کی تعلیم وتربیت کے مقصد کے لئے اختیار فرمایا۔ اس اجمالی بحث کے بعد ابب ہم چاہتے ہیں کہ قرآنی آیات پر تفصیلی نظر ڈالیں۔

البقرة 2:40

جو لوگ بنی اسرائیل کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں ‘ وہ حیران رہ جاتے ہیں کہ باری تعالیٰ نے اس قوم کو کن کن نعمتوں سے نوازا۔ اور یہ کہ نعمتوں کی اس مسلسل بارش کے مقابلے میں وہ کس مکروہ انداز میں بار بار حق کا انکار کرتے رہے ۔ یہاں ابتداء میں اللہ تعالیٰ اجمالاً ان نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو اس نے ان پر کیں۔ اس کے بعد آنے والے پیرا گرافوں میں بالتفصیل ان کا ذکر آتا ہے ۔ یہ انعامات انہیں اس لئے یاد دلائے جاتے ہیں ‎تاکہ انہیں اس بات کی دعوت دی جائے کہ جو عہد تم نے اللہ سے باندھا تھا اسے پورا کرو تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے انعامات کا سلسلہ جاری رکھے اور اپنی نعمتوں سے انہیں نوازدے ۔ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا بِعَهْدِي أُوفِ بِعَهْدِكُمْ ” اے بنی اسرائیل ! ذرا خیال کرو میری اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی ‘ میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا ‘ اسے پورا کرو ‘ تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ تھا اسے میں پورا کروں۔ “ یہاں جس عہد کا ذکر ہورہا ہے ‘ وہ کون سا عہد ہے ؟ کیا اس سے ” عہد اول “ مراد ہے یعنی جو اللہ تعالیٰ اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے درمیان طے پایا تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ (38) وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ” پھر میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے ‘ تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ‘ ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے ‘ وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں ‘ جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ یا یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ کئے ہوئے ‘ اس عہد الٰہی سے بھی پہلے کا وہ تکوینی عہد ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ اور فطرت انسانی کے درمیان تکمیل پایا ‘ جس میں فطرت کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ وہ اللہ کی معرفت حاصل کرے ۔ اور صرف اللہ وحدہ لاشریک کی پیروی کرے ۔ یہ فطری معاہدہ تو ایسا ہے جو بیان اور برہان کا محتاج نہیں کیونکہ انسانی فطرت اپنی حقیقت اور لدنی میلانات کی بناپر ہی خود بخود معرفت کردگار کی طرف متوجہ ہوا کرتی ہے ۔ صرف گمراہی اور فسادفطرت کی ہی کی وجہ سے انسان معرفت الٰہی سے غافل ہوجاتا ہے ۔ یا یہ وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ‘ بنی اسرائیل کے جد اعلیٰ کے ساتھ کیا اور جس کا ذکر اسی سورت میں عنقریب ہوگا۔ وَاِذبۡتَلٰیَ اِبۡرَاھِیۡمَ رَبَّہُ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّ قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَمِنً ذُرِّیَتِیۡ قَالَ لَا یَنَالُ عَھۡدِیۡ الظَّالِمِیۡنَ ” یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اتر گیا تو اس نے کہا ” میں تجھے سب لوگوں کو پیشوا بنانے والا ہوں ۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا ” اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے۔ “ اس نے جواب دیا ” میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے۔ “ (2۔ 124) یہ بنی اسرائیل کا وہ مخصوص عہد ہے جو اللہ نے ان کے ساتھ اس وقت طے کیا ، جبکہ کوہ طور ان کے سروں پر لٹک رہا تھا اور اللہ نے انہیں حکم دیا کہ جو ہدایات انہیں دی جارہی ہیں ، وہ سختی سے ان پر عمل کریں اور جس کا ذکر بنی اسرائیل پر اس طویل تنقید کے ضمن ہی میں (2۔ 93) آرہا ہے۔ یہ تمام عہد اہل بیت کے لحاظ سے ایک ہی ہیں ۔ ان سے مدعا یہ ہے کہ اللہ کے بندے دل وجان سے اس کی طرف متوجہ ہوں ، اپنی پوری زندگی کو اس کے حوالے کردیں اللہ کا دین ایک ہی ہے اور تمام انبیاء جو پیغام لے کر آئے ، وہ ایک ہی ہے یعنی دین اسلام اور آغاز کائنات سے لے کر آج تک قافلہ ایمان ، اسی دین کو شعار بناکر چلتا رہا۔ غرض اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو دعوت دیتے ہیں کہ ان معاہدوں کی پابندی کرتے ہوئے وہ اس سے ڈریں اور اپنے اندر صرف اسی کی خشیت پیدا کریں ۔ وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ ” اور مجھ ہی سے تم ڈرو۔ “

البقرة 2:41

بنی اسرائیل کو دعوت دی جاتی ہے کہ ان معاہدوں کا تقاضا پورا کرتے ہوئے وہ اللہ کے نازل کردہ کلام پر ایمان لائیں ، جو ان کی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے جو ان کے پاس ہیں ، وہ اس کلام کا انکار کرنے اور کفر کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیں ، کیونکہ ان کے لئے مناسب تو یہ تھا کہ وہ سب سے پہلے اس پر ایمان لاتے ۔ وَآمِنُوا بِمَا أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ ” اور میں جو کتاب بھیجی ہے ، اس پر ایمان لاؤ۔ یہ اسی کتاب کی تائید میں ہے ، جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی ۔ لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاؤ۔ “ اسلام ، جسے اب حضرت محمد ﷺ اپنی آخری صورت میں لے کر آئے ہیں ، وہ وہی لازوال دین ہے جو ہمیشہ اللہ کی جانب سے آتا رہا ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ مسلسل پیغام ہے اور آغاز انسانیت سے یہ اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک معاہدہ ہے ۔ اس سے پہلے بھی اس نے پوری انسانیت کو اپنے سایہ عاطفت میں لے لیا اور آئندہ بھی وہ انسانیت کا ہادی ورہبر ہوگا ۔ یہ دین عہد نامہ قدیم اور عہدنامہ جدید کو باہم ملاتا ہے ۔ اور مستقبل کی انسایت کے لئے اللہ تعالیٰ کو جو خیر اور بھلائی مطلوب تھی ، اس کا اضافہ کرتا ہے ۔ یہ دین اب پوری انسانیت کو ایک لڑی میں پروتا ہے اور انہیں باہم متعارف بھائی بھائی قرار دیتا ہے ۔ وہ انسانیت کو مختلف گروہوں ، جماعتوں ، نسلوں اور اقوام کی صورت میں تقسیم نہیں کرتا ، بلکہ وہ ان سب کو اللہ کے ایک ایسے بندوں کی صورت میں منظّم کرتا ہے جو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں جو فجر انسانیت سے آج تک ناقابل تغیر ہے ۔ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو اس بات سے رو کتے ہیں کہ وہ اس کتاب کا انکار محض دنیاوی مفادات کی خاطر نہ کریں جبکہ وہ ان تمام کتابوں کی تصدیق بھی کرتی ہے ، جو تمہارے پاس ہیں ۔ وہ زندگی کی تمام مصلحتوں اور ذاتی اغراض کی خاطر ، اس سچائی کو رد نہ کریں ، بالخصوص احبار اور مذہبی راہنما جو محض اسلام قبول کرنے سے ہچکچاتے تھے کہ انہیں معاشرے میں سیادت و قیادت کا جو مقام حاصل تھا ، وہ چلانہ جائے اور جو مالی مفادات وہ حاصل کررہے تھے ، وہ بند نہ ہوجائیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں نصیحت کرتا ہے کہ وہ اللہ کا خوف کریں ۔ ایسے برے اور گھٹیاں خیالات دل میں نہ لائیں وَلا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو اور میرے غضب سے بچو۔ “ دام و درہم ، مال و دولت اور دنیاوی مفادات کی بندگی یہود کا قدیم وصف ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ یہاں مالی مفادات سے یہودیوں کے مذہبی رہنماؤں کے وہ مفادات مراد ہوں جو وہ دینی خدمات ، جھوٹے فتو وں اور رؤسائے یہود کو شرعی سزاؤں سے بچانے کی خاطر ، آیات الٰہی میں تحریف کرنے کے عوض حاصل کرتے تھے ۔ جیسا کہ قرآن کریم کے دوسرے مقامات پر اس کی تفصیلات آئی ہیں ۔ ان تمام مفادات کی حفاظت کرنے کے لئے یہ لوگ اپنی قوم کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے تھے ، کیونکہ اس صورت میں اس بات کا خطرہ تھا کہ ان کے ہاتھ سے قیادت اور سرداری چلی جائے گی ۔ نیز جیسا کہ بعض صحابہ اور تابعین نے اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں تصریح کی ہے ، یہ دنیا پوری کی پوری ثمن قلیل ہے ۔ کیونکہ آیات الٰہی پر ایمان لے آنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت کے دن اہل ایمان کو جو بہتر انجام ہونے والا ہے ، اس کے مقابلے میں اس پوری دنیا کی بلکہ اس پوری کائنات کی حقیقت ہی کیا ہے ۔

البقرة 2:42

اگلے فقرے میں انہیں ان کی دوسری بری خصلت سے روکا جاتا ہے ، ان کی عادت تھی کہ وہ باطل کو حق کا رنگ دے کر پیش کرتے تھے اور سچائی کو چھپاتے تھے ، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ کیا کررہے ہیں ، ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اسلامی معاشرے کے اندر فکری انتشار پیدا ہو اور مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات کا ایک طوفان کھڑا ہوجائے۔ وَلا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ” باطل کا رنگ چڑھاکر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو۔ “ یہودیوں نے ہر موقع اور ہر مناسبت میں سے حق کو چھپایا ، اس میں باطل کی رنگ آمیزی کی اور جب بھی انہیں موقع ملا انہوں نے انسانیت کو دھوکہ دینے کی پوری کوشش کی ۔ اس لئے قرآن کریم نے بار بار ان کی اس صفت اور عادت کی تفاصیل کو بیان کیا۔ وہ اسلامی معاشرہ اور اسلامی جماعت میں ہمیشہ فتنے اور اضطرابات پیدا کرتے رہتے تھے۔ خلجان اور انتشار پیدا کرنے کے لئے کوشاں رہتے تھے ۔ چناچہ ان کے اس کردار کی کئی مثالیں اسی سورت میں آگے بیان کی گئی ہیں ۔

البقرة 2:43

اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں دعوت دیتے ہیں کہ بدبختو قافلہ ایمان جارہا ہے ، اس میں شامل ہوجاؤ، جماعت کا ساتھ دو ، ورنہ مٹ جاؤگے ، مذموم تعصبات کو چھوڑ دو اور اس انفرادیت کو ترک کرکے مسلمانوں کے ساتھ اجتماعی عبادات اور فرائض ادا کرو۔ اس لئے کہ علیحدگی پسندی زمانہ قدیم سے یہودیوں کی عادت مستمر چلی آرہی ہے ۔ وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ ” نماز قائم کرو ۔ زکوٰۃ دو اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے ہیں ، ان کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ۔

البقرة 2:44

“ اس کے بعد یہودیوں کو عموماً اور ان کے مذہبی پیشواؤں کو خصوصاً اس بات کی تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ مشرکین اہل عرب میں اپنے آپ کو ایمان کا داعی کہتے ہیں اور اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے وہ ایسے ہیں بھی ، اس لئے کہ وہ مشرکین کے مقابلے میں اہل توحید ہیں ، لیکن اس کے باوجود ، خود اپنی قوم کو ، اللہ کے اس دین پر ایمان لانے سے روکتے ہو ، جو تمام سابق ادیان کی تصدیق کرتا ہے۔ أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلا تَعْقِلُونَ تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہو ، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ، حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو ۔ “ اگرچہ ابتداء میں یہ آیت اس وقت بنی اسرائیل کے اندر موجود کمزوریوں کی عکاسی کررہی ہے ، تاہم یہ نفس انسانی اور بالخصوص ہر مذہب وملت کے دینی پیشواؤں کے لئے سرمہ بصیرت ہے ۔ کسی قوم اور ملک کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ نہ کسی خاص فعل اور زمانے تک محدود ہے ۔ جب کوئی دین ایک زندہ اور موجزن نظریہ حیات کے بجائے محض ایک پیشہ اور کاروبار بن جاتا ہے تو دین کے پیشواؤں کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ وہ اپنی زبانوں سے جو کچھ کہتے ہیں ، وہ ان کے دل میں نہیں ہوتا ! وہ بھلائی کا وعظ کرتے ہیں اور خود کار دیگر میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ لوگوں کو بر اور تقویٰ کی دعوت دیتے ہیں ، لیکن بر وتقویٰ جس چیز کا نام ہے ، وہ خود انہیں چھوکر بھی نہیں گزری ہوتی۔ وہ سیدھی بات کو غلط معنی پہناکر بتنگڑ بناتے ہیں ، نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے قطعی نصوص میں تاویلات کرتے ہیں ۔ وہ ایسی ایسی حسین تاویلات اور ایسے ایسے مدلل فتوے میدان میں لاڈالتے ہیں جو بظاہر آیات ونصوص کے ظاہر مفہوم سے بالکل موافق ہوتے ہیں لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے دین کی حقیقت اور اصلیت سے کوسوں دور ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ یہ لوگ اپنے مفادات اور دلی خواہشات کے لئے کرتے ہیں اور ان لوگوں کی خاطر جو یا تو مالدار ہوتے ہیں یا اہل اقتدار ۔ یہودیوں کے مذہبی پیشوا یہی کام کرتے تھے ۔ لوگوں کو بھلائی کی طرف دعوت دینا ، اور پھر اپنی عملی زندگی میں خود ، اس کے خلاف چلنا ، ایک ایسا مرض ہے اور ایک ایسی وبا ہے جو نہ صرف یہ کہ خود داعیوں کے دلوں میں شبہات وشکوک پیدا کردیتی ہے ، بلکہ دعوت بھی اس سے مشکوک ہوجاتی ہے ۔ قول وفعل کے اس تضاد کی وجہ سے لوگوں کے دلوں اور ان کے افکار میں انتشار پیدا ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ لوگ کانوں سے تو بہترین بات سنتے ہیں لیکن آنکھوں سے قبیح ترین افعال دیکھتے ہیں ۔ قول وفعل کا یہ تضاد دیکھ کر وہ بےچارے حیران رہ جاتے ہیں ۔ ان کے ایمان نے یہ دعوت ووعظ سن کر جو دیا ان کی روحانی دنیا میں روشن کیا تھا ، وہ بجھ جاتا ہے ، دلوں سے ایمان کی روشنی ختم ہوجاتی ہے اور جب انہیں مذہبی پیشواؤں میں سے کوئی عقیدت نہیں رہتی ، تو اس کے نتیجہ میں پھر خود دین سے ان کا اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ داعی بےعمل کی بات بےجان ہوتی ہے ۔ یہ ایک ایسی چنگاری ہوتی ہے جو دوسروں تک پہنچتے پہنچتے بجھ جاتی ہے ۔ ایسے داعیوں کی بات بےاثر ہوتی ہے ۔ اگرچہ وہ بات مقفع ومسجع ، چکنی چپڑی اور جوش و خروش سے پر ہو ، کیونکہ یہ بات ایسے دل سے نکلی ہی نہیں جو اس پر یقین رکھتا ہو۔ اثر تو اسی بات میں ہوتا ہے جو دل سے نکلتی ہے ۔ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے ۔ ایک داعی اپنی بات کا صحیح مومن اسیوقت ہوسکتا ہے ، جب وہ اپنے کردار کے اعتبار سے اس بات کی تفسیر اور ترجمہ ہو ، جو دعوت وہ دے رہا ہے ، وہ خود اس کی زندگی کی صورت میں عملاً مجسم ہو۔ جب کوئی انسان اس معیار تک پہنچ جاتا ہے ، تو پھر لوگ اس پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس پر یقین کرتے ہیں ۔ اگرچہ اس کی باتیں چکنی چپڑی نہ ہوں اور اس کی تقریر ، دھواں دھار نہ ہو کیونکہ اس صورت میں اس بات کے اندر اس کی چرب لسانی سے نہیں بلکہ اس کی واقعیت اور حقیقت پسندی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ۔ اس وقت کلام کی صداقت ہی اس کا حسن ہوتا ہے ۔ چرب لسانی سے زور کلام پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان سب باتوں کے باوجود قول وفعل میں تطابق ، ایمان وعمل کے درمیان ہم آہنگی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ یہ کوئی آسان طریقہ نہیں ہے جسے بسہولت اختیار کرلیا جائے ۔ اسے حاصل کرنے کے لئے سخت ریاضت اور جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ اس کے لئے تعلق باللہ ، اللہ کی اعانت وتوفیق اور اس کی ہدایت سے مدد لینے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ عملی زندگی کے مختلف احوال ، اس کی ضرورت اور اس کی مجبوریاں ، انسان کو اپنے دلی معتقدات سے یا ان باتوں سے جن کی طرف اسے دوسرے لوگ بلا رہے ہوتے ہیں ، دور پھینک دیتی ہیں یہ انسان ، خواہ کسی عظیم قوت کا مالک کیوں نہ ہو ، جب تک مالک الملک اور قادر مطلق ہستی کا دامن نہیں تھامے گا ، کمزور اور ناتواں ہی رہے گا ، کیونکہ شر ، فساد اور انسان کے لئے گمراہ کن شیطانی قوتیں ہر طرف جال بچھائے ہوئے ہیں ۔ اگرچہ انسان بسا اوقات اور بار بار ان پر غالب آسکتا ہے ۔ لیکن جوں ہی کسی لمحہ وہ کمزوری دکھاتا ہے ، تو گرجاتا ہے ، ذلیل ہوجاتا ہے ، اپنے ماضی ، حال اور مستقبل سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے ۔ لیکن جب انسان کا اعتماد اس ازلی اور ابدی طاقت پر ہوتا ہے ، تو پھر اس کی قوت کے کیا کہنے ، وہ ہر چیز پر غالب آجاتا ہے ۔ وہ اپنی کمزوریوں اور اپنی خواہشات نفس تک کو مغلوب کرلیتا ہے ۔ وہ اپنی ضروریات اور اپنی مجبوریوں پر بھی غالب آجاتا ہے ۔ وہ ان تمام قوتوں پر غالب آجاتا ہے جو اس کا سامنا کرتی ہیں۔ اس لئے قرآن کریم یہاں پہلے تو یہود کو اس طرف متوجہ کرتا ہے ، کیونکہ روئے سخن ان کی طرف ہے اور پھر ان کے بعد پوری دنیا کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ وہ اس مشکل کام اور کٹھن معرکے کو سر کرنے کے لئے صبر وثبات اور نماز ونیاز سے مددحاصل کریں ۔ یہودیوں سے مطلوب یہ تھا کہ مذہبی خدمات ، یا پوری دنیا کا مال ومتاع جو انہیں حاصل تھا ، اسے متاع قلیل سمجھیں اور اس کے مقابلے میں حق کو ترجیح دیں ۔ کیونکہ مدینہ میں اپنی مذہبی حیثیت اور مذہبی معلومات کی وجہ سے وہ اس سچائی وصد اقت کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ اس لئے ان کا فرض ہے کہ جلد قافلہ ٔ ایمان کے ہمرکاب ہوجائیں کیو ن کہ وہ پہلے سے لوگوں کو ایمان کی طرف بلا رہے ہیں ۔ چونکہ یہودیوں کی طرف سے کوئی ایسا فیصلہ کرنے کے لئے قوت و شجاعت کی ایک بڑی مقدار کی ضرورت تھی ، اس لئے انہیں حکم دیا گیا کہ وہ صبر وثبات اور نیاز و نماز سے مدد لیں ۔

البقرة 2:45

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلا عَلَى الْخَاشِعِينَ (45) الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بیشک نماز اور صبر سے مدد لو ، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے ، مگر ان فرماں بردار بندوں کے لئے مشکل نہیں ہے ، جو سمجھتے ہیں کہ آخر کار انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ “ میں سمجھا ہوں کہ انہا کی ضمیر شان ہے (یعنی کسی فرد کی طرف اشارہ نہیں بلکہ صورت حال کی طرف اشارہ ہے) یعنی صورت حال یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو اعتراف حق کی دعوت دینا ، جب کہ اس کی راہ میں ایسی رکاوٹیں کھڑی ہوں ، بڑامشکل اور جاں گسل کام ہے ، یہ صرف ان بزرگوں کے لئے آسان ہے جو اپنے دلوں میں اللہ کی خشیت رکھتے ہوں اور اس کے مطیع فرمان ہو۔ جنہیں اللہ کی خشیت اور اس کے تقویٰ کا اچھی طرح شعور ہو ، اور جنہیں پورا یقین ہو کہ انہیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر وثبات سے مددلینے کی اشد ضرورت انسان کو بار بار پیش آتی ہے ۔ یہ ہر مصیبت اور مشقت کا درماں ہے ۔ یہ ہر مشکل کا حل ہے اور انسان کے لئے مشکل ترین کام یہ ہے کہ قیادت اور سیاست کے منصب سے نیچے اترآئے ، حق وسچائی کی خاطر اپنے مفادات اور کسب وکمائی پر لات ماردے اور سب چیزوں سے بےنیاز ہوکر حق کا اعتراف کرے اور اس کے تابع ہوجائے ۔ سوال یہ ہے کہ انسان اس کام میں نماز سے کس طرح مددلے ؟ نماز درحقیقت بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک خاص ملاقات ہے ۔ اس سے دل غذا لیتا ہے اور روح ایک خاص تعلق کا احساس کرتی ہے ۔ اس کے اندر نفس انسانی کے لئے وہ سروسامان ہے ، جو دنیا کے تمام مال ومتاع سے زیادہ قیمتی ہے ۔ نبی ﷺ کی حالت یہ تھی کہ جب کوئی معاملہ انہیں پریشان کرتا تو آپ نماز کی طرف لپکتے تھے ، حالانکہ آپ ﷺ کا حال یہ تھا اپنے رب سے ، آپ ﷺ ہر وقت جڑے رہتے تھے ، آپ کی روح ہر وقت وحی اور الہام سے مربوط تھی ۔ سرچشمہ خیر و برکت اب بھی ہر مومن کی دسترس میں ہے ، جسے زاد راہ کی طلب ہو ، جو سخت گرمی میں شراب بارد کا خواہاں ہو ، جو ایسے حال میں مدد کا طلب گار ہو ، جب ہر قسم کی مدد منقطع ہوگئی ہو اسے زاد راہ کی ضرورت ایسے حال میں پیش آئے جبکہ اس کا توشہ دان خالی ہو۔ اللہ کی طرف پلٹ کر جانے کا یقین (قرآن کریم میں بارہا ظن اور اس کے مشتقات یقین کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ نیز عربی زبان میں بھی علم العموم ظن کا استعمال یقین میں ہوتا ہے) اور ہر معاملے میں پلٹ کر اس کی طرف جانے کا یقین ہی انسان کے اندر صبرواستقلال پیدا کرتا ہے ۔ تقویٰ اور بھلائی کی حس اسی پر موقوف ہے ۔ دنیاوی اقدار اور اخروی اقتدار کے درمیان صحیح توازن اسی یقین کا مرہون منت ہے ۔ ان اقدار کا توازن جب درست ہوجاتا ہے ۔ ترازو کی ڈنڈی جب سیدھی ہوجاتی ہے تو پھر انسان کو یہ تمام دنیا ، متاع قلیل اور ایک حقیر چیزنظر آتی ہے ۔ تب جاکر آخرت صحیح نظر آتی ہے اور پھر کوئی عقلمند آدمی اسے ترجیح دینے اور اختیار کرنے میں ایک لمحہ بھر تردد نہیں کرتا۔ جب انسان اس نہج پر قرآن کریم میں غوروفکر کرتا ہے تو یہ ہدایات جو ابتدا میں بنی اسرائیل کو دی گئی تھیں ، سب کے لئے دائمی ہدایات بن جاتی ہیں ۔ چناچہ بنی اسرائیل کو دوبارہ پکارتے ہوئے ، دوبارہ انہیں اپنی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے اور آنے والی تفصیلات سے پہلے ، اجمالاً انہیں آنے والی گھڑی سے ڈرتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ انہیں اس طرح خطاب کرتے ہیں ۔

البقرة 2:46

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلا عَلَى الْخَاشِعِينَ (45) الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بیشک نماز اور صبر سے مدد لو ، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے ، مگر ان فرماں بردار بندوں کے لئے مشکل نہیں ہے ، جو سمجھتے ہیں کہ آخر کار انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ “ میں سمجھا ہوں کہ انہا کی ضمیر شان ہے (یعنی کسی فرد کی طرف اشارہ نہیں بلکہ صورت حال کی طرف اشارہ ہے) یعنی صورت حال یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو اعتراف حق کی دعوت دینا ، جب کہ اس کی راہ میں ایسی رکاوٹیں کھڑی ہوں ، بڑامشکل اور جاں گسل کام ہے ، یہ صرف ان بزرگوں کے لئے آسان ہے جو اپنے دلوں میں اللہ کی خشیت رکھتے ہوں اور اس کے مطیع فرمان ہو۔ جنہیں اللہ کی خشیت اور اس کے تقویٰ کا اچھی طرح شعور ہو ، اور جنہیں پورا یقین ہو کہ انہیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر وثبات سے مددلینے کی اشد ضرورت انسان کو بار بار پیش آتی ہے ۔ یہ ہر مصیبت اور مشقت کا درماں ہے ۔ یہ ہر مشکل کا حل ہے اور انسان کے لئے مشکل ترین کام یہ ہے کہ قیادت اور سیاست کے منصب سے نیچے اترآئے ، حق وسچائی کی خاطر اپنے مفادات اور کسب وکمائی پر لات ماردے اور سب چیزوں سے بےنیاز ہوکر حق کا اعتراف کرے اور اس کے تابع ہوجائے ۔ سوال یہ ہے کہ انسان اس کام میں نماز سے کس طرح مددلے ؟ نماز درحقیقت بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک خاص ملاقات ہے ۔ اس سے دل غذا لیتا ہے اور روح ایک خاص تعلق کا احساس کرتی ہے ۔ اس کے اندر نفس انسانی کے لئے وہ سروسامان ہے ، جو دنیا کے تمام مال ومتاع سے زیادہ قیمتی ہے ۔ نبی ﷺ کی حالت یہ تھی کہ جب کوئی معاملہ انہیں پریشان کرتا تو آپ نماز کی طرف لپکتے تھے ، حالانکہ آپ ﷺ کا حال یہ تھا اپنے رب سے ، آپ ﷺ ہر وقت جڑے رہتے تھے ، آپ کی روح ہر وقت وحی اور الہام سے مربوط تھی ۔ سرچشمہ خیر و برکت اب بھی ہر مومن کی دسترس میں ہے ، جسے زاد راہ کی طلب ہو ، جو سخت گرمی میں شراب بارد کا خواہاں ہو ، جو ایسے حال میں مدد کا طلب گار ہو ، جب ہر قسم کی مدد منقطع ہوگئی ہو اسے زاد راہ کی ضرورت ایسے حال میں پیش آئے جبکہ اس کا توشہ دان خالی ہو۔ اللہ کی طرف پلٹ کر جانے کا یقین (قرآن کریم میں بارہا ظن اور اس کے مشتقات یقین کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ نیز عربی زبان میں بھی علم العموم ظن کا استعمال یقین میں ہوتا ہے) اور ہر معاملے میں پلٹ کر اس کی طرف جانے کا یقین ہی انسان کے اندر صبرواستقلال پیدا کرتا ہے ۔ تقویٰ اور بھلائی کی حس اسی پر موقوف ہے ۔ دنیاوی اقدار اور اخروی اقتدار کے درمیان صحیح توازن اسی یقین کا مرہون منت ہے ۔ ان اقدار کا توازن جب درست ہوجاتا ہے ۔ ترازو کی ڈنڈی جب سیدھی ہوجاتی ہے تو پھر انسان کو یہ تمام دنیا ، متاع قلیل اور ایک حقیر چیزنظر آتی ہے ۔ تب جاکر آخرت صحیح نظر آتی ہے اور پھر کوئی عقلمند آدمی اسے ترجیح دینے اور اختیار کرنے میں ایک لمحہ بھر تردد نہیں کرتا۔ جب انسان اس نہج پر قرآن کریم میں غوروفکر کرتا ہے تو یہ ہدایات جو ابتدا میں بنی اسرائیل کو دی گئی تھیں ، سب کے لئے دائمی ہدایات بن جاتی ہیں ۔ چناچہ بنی اسرائیل کو دوبارہ پکارتے ہوئے ، دوبارہ انہیں اپنی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے اور آنے والی تفصیلات سے پہلے ، اجمالاً انہیں آنے والی گھڑی سے ڈرتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ انہیں اس طرح خطاب کرتے ہیں ۔

البقرة 2:47

بنی اسرائیل کو تمام مخلوق پر فضیلت دنیا ، اس وقت کی بات ہے جب وہ صحیح معنوں میں ، اس زمین پر اللہ کے نائب اور خلیفہ تھے ، لیکن جب انہوں نے اپنے رب اور مالک کے احکامات سے منہ پھیرلیا ، اپنے انبیاء کی نافرمانی کرنے لگے ، اللہ نے ان پر جو انعامات کئے تھے ان کی ناشکری کی اور یہ کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کر رکھے تھے ، اور جو ذمہ داریاں لے رکھی تھیں ان کا پورا تدارک کردیا ، تو اللہ تعالیٰ نے بھی فیصلہ کیا کہ اب وہ ہمیشہ کے لئے ملعون مغضوب اور ذلیل و خوار رہیں گے ، ان کی جلاوطنی اور دربدر ہونے کا فیصلہ ہوا اور وہ اللہ کے عتاب کے مستحق ہوگئے۔ انہیں یہاں یاد دلایا جاتا ہے کہ ایک وقت وہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ان پر یہ فضل وکرم تھے اور وہ دنیا کی افضل ترین قوم تھے ۔ یہ بات انہیں بطور ترغیب سنائی جارہی ہے کہ اب پھر ان کے لئے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے مواقع ہیں ۔ یوں کہ وہ اس نئے قافلہ ایمان میں شامل ہوجائیں ۔ دعوت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ اللہ کے عہد میں دوبارہ داخل ہوجائیں اور اللہ نے ان کے آباء اجداد کو جو فضیلت دی تھی اس کا شکر وہ بھی ادا کریں اور اب مومنین کو جو مقام عنایت ہورہا ہے ، اس میں وہ بھی شریک ہوجائیں۔ لیکن اس ترغیب کے ساتھ ساتھ فضل وکرم اور نعمت عمیمہ کی یاد دہانی کے ساتھ ساتھ آنے والے دن کی ترہیب و تخویف بھی آتی ہے جس میں لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا ” کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا۔ “ کیونکہ قیامت کے دن ہر شخص فرداً اپنے اعمال کا صلہ پائے گا ۔ وہاں حساب انفرادی طور پر ہوگا ، ہر کوئی صرف اپنے کئے کا جوابدہ ہوگا ، کوئی شخص کسی کے کام نہ آسکے گا ۔ یاد رہے کہ شخصی مسؤلیت ، دنیا وآخرت میں اسلام کا ایک زریں اور عظیم اصول ہے ، شخصی مسؤلیت کا یہ اصول ، انسان کے آزاد ارادہ اور اختیار تمیزی پر قائم ہے ۔ اور اس کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی جانبب سے عالمگیر عدل و انصاف ہوگا ۔ یہی وہ اصول ہے ، جو انسان کے اندر ، اس کی ذی شرف ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے ، اور اس سے اس کے دل میں دائمی بیداری کا جذبہ موجزن رہتا ہے ۔ یہ دونوں چیزیں انسان کی تہذیب اور تربیت کے لئے بےحد مفید ہے ۔ نیز ان سے ان انسانی قدروں میں اضافہ ہوتا ہے ، جن کی بنا پر اسلام نے انسان کو اشرف المخلوقات کا مقام دیا ہے۔ وَلا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ ” نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہوگی ، نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑاجائے گا ۔ “ اس دن جو شخص ایمان اور عمل صالح کا توشہ لے کر نہ آئے اس کے حق میں کوئی سفارش نہ ہوگی ۔ کفر اور معصیت کی معافی کے لئے کوئی فدیہ نہ لیاجائے گا۔ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ ” اور نہ مجرموں کو کہیں سے مدد مل سکے گی ۔ “ اس دن عذاب الٰہی سے انہیں نجات دینے کے لئے کوئی ناصر وی اور نہ ہوگا۔ کوئی نہ ہوگا کو انہیں اس کے عذاب سے نجات دلاسکے ۔ اس آخری فقرے میں لفظ جمع سے سب کو یکجا بیان کیا گیا ہے ۔ یعنی وہ تمام لوگ جو ایک دوسرے کے کام نہ آسکیں گے ، اور جن کی سفارش ایک دوسرے کے بارے میں قبول نہ ہوگی ، اور ایک دوسرے کے بارے میں ان سے فدیہ نہ لیا جائے گا ، ابتدائے آیت میں بنی اسرائیل کو خطاب کیا گیا ، لیکن آخر میں کلام کا اسلوب خطاب سے غائبین کی طرف چلا گیا ، تاکہ یہ اصول عام ہوجائے اور وہ لوگ جن سے خطاب کیا جارہا ہے وہ اور دوسرے سب لوگ اس میں شامل ہوجائیں۔ اس کے بعد قرآن کریم ایک ایک کرکے اللہ کے ان انعامات کا تذکرہ کرتا ہے جو ان پر ہوتے رہے ہیں اور یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے ان انعامات کے مقابلے میں کیا طرز عمل اختیار کیا ؟ کس طرح انہوں نے انکار کیا ، کفر کیا اور راہ راست سے ہٹ گئے ؟ فرعون کی غلامی اور اس کے دردناک مظالم سے انہیں نجات دینا ان احسانات میں سے چونکہ عظیم ترین احسان تھا ، اس لئے یہاں سب سے پہلے اس کا ذکر کیا جاتا ہے ۔

البقرة 2:48

بنی اسرائیل کو تمام مخلوق پر فضیلت دنیا ، اس وقت کی بات ہے جب وہ صحیح معنوں میں ، اس زمین پر اللہ کے نائب اور خلیفہ تھے ، لیکن جب انہوں نے اپنے رب اور مالک کے احکامات سے منہ پھیرلیا ، اپنے انبیاء کی نافرمانی کرنے لگے ، اللہ نے ان پر جو انعامات کئے تھے ان کی ناشکری کی اور یہ کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کر رکھے تھے ، اور جو ذمہ داریاں لے رکھی تھیں ان کا پورا تدارک کردیا ، تو اللہ تعالیٰ نے بھی فیصلہ کیا کہ اب وہ ہمیشہ کے لئے ملعون مغضوب اور ذلیل و خوار رہیں گے ، ان کی جلاوطنی اور دربدر ہونے کا فیصلہ ہوا اور وہ اللہ کے عتاب کے مستحق ہوگئے۔ انہیں یہاں یاد دلایا جاتا ہے کہ ایک وقت وہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ان پر یہ فضل وکرم تھے اور وہ دنیا کی افضل ترین قوم تھے ۔ یہ بات انہیں بطور ترغیب سنائی جارہی ہے کہ اب پھر ان کے لئے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے مواقع ہیں ۔ یوں کہ وہ اس نئے قافلہ ایمان میں شامل ہوجائیں ۔ دعوت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ اللہ کے عہد میں دوبارہ داخل ہوجائیں اور اللہ نے ان کے آباء اجداد کو جو فضیلت دی تھی اس کا شکر وہ بھی ادا کریں اور اب مومنین کو جو مقام عنایت ہورہا ہے ، اس میں وہ بھی شریک ہوجائیں۔ لیکن اس ترغیب کے ساتھ ساتھ فضل وکرم اور نعمت عمیمہ کی یاد دہانی کے ساتھ ساتھ آنے والے دن کی ترہیب و تخویف بھی آتی ہے جس میں لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا ” کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا۔ “ کیونکہ قیامت کے دن ہر شخص فرداً اپنے اعمال کا صلہ پائے گا ۔ وہاں حساب انفرادی طور پر ہوگا ، ہر کوئی صرف اپنے کئے کا جوابدہ ہوگا ، کوئی شخص کسی کے کام نہ آسکے گا ۔ یاد رہے کہ شخصی مسؤلیت ، دنیا وآخرت میں اسلام کا ایک زریں اور عظیم اصول ہے ، شخصی مسؤلیت کا یہ اصول ، انسان کے آزاد ارادہ اور اختیار تمیزی پر قائم ہے ۔ اور اس کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی جانبب سے عالمگیر عدل و انصاف ہوگا ۔ یہی وہ اصول ہے ، جو انسان کے اندر ، اس کی ذی شرف ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے ، اور اس سے اس کے دل میں دائمی بیداری کا جذبہ موجزن رہتا ہے ۔ یہ دونوں چیزیں انسان کی تہذیب اور تربیت کے لئے بےحد مفید ہے ۔ نیز ان سے ان انسانی قدروں میں اضافہ ہوتا ہے ، جن کی بنا پر اسلام نے انسان کو اشرف المخلوقات کا مقام دیا ہے۔ وَلا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ ” نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہوگی ، نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑاجائے گا ۔ “ اس دن جو شخص ایمان اور عمل صالح کا توشہ لے کر نہ آئے اس کے حق میں کوئی سفارش نہ ہوگی ۔ کفر اور معصیت کی معافی کے لئے کوئی فدیہ نہ لیاجائے گا۔ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ ” اور نہ مجرموں کو کہیں سے مدد مل سکے گی ۔ “ اس دن عذاب الٰہی سے انہیں نجات دینے کے لئے کوئی ناصر وی اور نہ ہوگا۔ کوئی نہ ہوگا کو انہیں اس کے عذاب سے نجات دلاسکے ۔ اس آخری فقرے میں لفظ جمع سے سب کو یکجا بیان کیا گیا ہے ۔ یعنی وہ تمام لوگ جو ایک دوسرے کے کام نہ آسکیں گے ، اور جن کی سفارش ایک دوسرے کے بارے میں قبول نہ ہوگی ، اور ایک دوسرے کے بارے میں ان سے فدیہ نہ لیا جائے گا ، ابتدائے آیت میں بنی اسرائیل کو خطاب کیا گیا ، لیکن آخر میں کلام کا اسلوب خطاب سے غائبین کی طرف چلا گیا ، تاکہ یہ اصول عام ہوجائے اور وہ لوگ جن سے خطاب کیا جارہا ہے وہ اور دوسرے سب لوگ اس میں شامل ہوجائیں۔ اس کے بعد قرآن کریم ایک ایک کرکے اللہ کے ان انعامات کا تذکرہ کرتا ہے جو ان پر ہوتے رہے ہیں اور یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے ان انعامات کے مقابلے میں کیا طرز عمل اختیار کیا ؟ کس طرح انہوں نے انکار کیا ، کفر کیا اور راہ راست سے ہٹ گئے ؟ فرعون کی غلامی اور اس کے دردناک مظالم سے انہیں نجات دینا ان احسانات میں سے چونکہ عظیم ترین احسان تھا ، اس لئے یہاں سب سے پہلے اس کا ذکر کیا جاتا ہے ۔

البقرة 2:49

یہاں اس کربناک صورتحال کو ان کے پردہ ذہن پر دوبارہ اجاگر کیا جارہا ہے ، جس میں ان کے آباء و اجداد فرعون کے زمانے میں مبتلا تھے ۔ کیونکہ یہ لوگ ان بنی اسرائیل کی اولاد تھے جو اس عذاب میں مبتلا ہوئے ۔ تعذیب اور مظالم کی تصویر کشی کے بعد ، اللہ تعالیٰ ان کے سامنے وہ منظر بھی پیش فرماتے ہیں ، جس سے انہیں نجات دی گئی ۔ انہیں کہا جاتا ہے ذرا اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی ، جو تمہیں مسلسل عذاب میں مبتلا کئے ہوئے تھے ۔ يَسُومُونَ کے معنی ہیں ” ہمیشہ تمہیں عذاب میں رکھتے تھے۔ “ یہ لفاظ سام الماشیتہ ” اس نے مویشیوں کو ہمیشہ چرنے والا (سائمہ) بنایا۔ “ گویا فرعونیوں نے ان مظالم کو بنی اسرائیل کے لئے ایک قسم کی غذا بنادیا تھا ، جو انہیں مسلسل کھلائی جاتی تھی ۔ اس کے بعد اس عذاب کی ایک خاص قسم کا ذکر کیا جارہا ہے یعنی وہ مردوں کو ذبح کرتے تھے ۔ اور عورتوں کو زندہ رکھتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کی قوت کم ہو۔ اس سے پہلے کہ بنی اسرائیل کی نجات کے واقعے کی تفصیلات پیش ہوں انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ مصیبت بنی اسرائیل کے لئے ابتلا عظیم تھی ۔ تاکہ ان کے احساس و شعور بلکہ ہر مسلمان کے احساس و شعور میں جو کسی مصیبت میں مبتلا ہو ، یہ بات بیٹھ جائے کہ اللہ کے بندوں پر مصائب کا آنا دراصل ان کے لئے ابتلا وامتحان ہوتا ہے ۔ انہیں آزمائشوں اور فتنوں میں مبتلا کیا جاتا ہے ۔ جو شخص ابتلا کی اس حقیقت کو سمجھتا ہے وہ سختی اور مصیبت سے فائدہ حاصل کرتا ہے ، وہ اپنے اس شعور کی وجہ سے مصائب وشدائد سے کچھ حاصل ہی کرلیتا ہے ۔ رنج والم میں مبتلا شخص اگر یہ جانتا ہے کہ اس کا امتحان لیا جارہا ہے اور اس کے بعد اس سختی سے ، اسے کوئی فائدہ ہی پہنچنے والا ہے تو یہ رنج والم اس کے لئے بےفائدہ نہیں ہوتے ۔ جب آدمی اس تصور کے ساتھ مصیبت کی زندگی گزار رہا ہو تو اس کی مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں ۔ بالخصوص جبکہ ان دردناک تجربات کے دوران حاصل ہونے والے ثبات اور علم ومعرفت کو پیش نظر رکھا جارہا ہو۔ نیز جبکہ یہ احساس بھی ہو کہ اللہ کے ہاں اس مصیبت کا اجر محفوظ ہے اور اللہ کے سامنے سلسلہ عجز ونیاز بھی جاری ہو اور اس کی جانب سے نجات کی پوری امید بھی ہو اور اس کی رحمت و شفقت سے کسی قسم کی مایوسی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مصیبت بنی اسرائیل کے ذکر کے ساتھ ہی یہ فرمادیا وَفِي ذَلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ ” اور اس حالت میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔ “ اس کے بعد بنی اسرائیل کے قصہ نجات کی تمہید شروع ہوتی ہے۔

البقرة 2:50

وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنْجَيْنَاكُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ “ اس نجات کی تفصیلات سورة بقرہ سے پہلے نازل ہونے والی مکی سورتوں میں بالتفصیل آچکی تھی۔ یہاں ان لوگوں کو جو تفصیلات سے واقف تھے ، محض یاددہانی کے طور پر بتایا جارہا ہے ۔ مخاطب اس قصے کی تفصیلات کو جانتے تھے ، قرآن کریم سے یا اپنے محفوظ قصوں یا مذہبی کتابوں کی وساطت سے ، یہاں ان کے سامنے دوبارہ اس نجات کی تصویر کشی کی جارہی ہے تاکہ وہ اسے پردہ خیال پر لاکر اس سے متاثر ہوں ۔ انداز بیان تو دیکھئے کہ گویا خودمخاطب دیکھ رہے ہیں کہ دریا پھٹ رہا ہے اور ان کی آنکھوں کے سامنے بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قیادت میں دریا کو پار کررہے ہیں ۔ قرآن کریم کا یہ اسلوب بیان ، یعنی منظر کشی کے ذریعے مخاطب کو تاثر دینا ، وہ خاص معجزانہ اسلوب بیان ہے جو قرآن کے لئے مخصوص ہے ۔ اب گفتگوکا سلسلہ خروج بنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا ہے ۔ بنی اسرائیل مصر کی غلامی سے نجات پاچکے ہیں۔

البقرة 2:51

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کو خدا بنا لینا ، اور اس کی پوجا کرنا ، جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کے لئے کوہ طور پر گئے تھے ، سورة بقرہ سے پہلے نازل ہونے والی سورت ، سورت طہٰ میں بالتفصیل بیان ہوا ہے ۔ یہاں صرف انہیں اس کی یاددہانی کرائی جارہی ہے کیونکہ وہ اس کی تفصیلات سے خوب واقف ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں یاد دلا رہے ہیں کہ ان کی یہ حالت تھی کہ نبی کے اوجھل ہوتے ہی بچھڑے پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ حالانکہ نبی نے انہیں فرعونیوں کے دردناک عذاب سے محض اللہ تعالیٰ کے نام پر رہائی دلائی تھی ۔ اللہ تعالیٰ یہاں ان کے موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ، وَأَنْتُمْ ظَالِمُونَ ” اور تم ظالم تھے۔ “ اس سے بڑاظالم اور کون ہوگا ، جو اللہ کی بندگی ترک کرکے اپنے پیغمبر کی وصیت کو بھلاکر ، ایک بچھڑے جیسے جسم کی پوجا شروع کردے ، حالانکہ اللہ ہی تھا ، جس نے اسے ان لوگوں کی غلامی سے نجات دی جو گائے کے بچھڑے کو مقدس سمجھتے تھے ۔ لیکن اس کے باوجود اللہ انہیں معاف کردیتے ہیں ۔ ان کے نبی کو کتاب ہدایت ، تورات دیتے ہیں جس میں جو کچھ لکھا تھا وہ حق و باطل کے درمیان فرقان تھا ، اس امید پر کہ شاید یہ لوگ گمراہی چھوڑ کر واضح حق کو قبول کرلیں۔ لیکن پھر بھی اس بات کی ضرورت تھی کہ سنگدلی سے ان کی تطہیر کی جائے ، کیونکہ ان کی بگڑی ہوئی فطرت کو صرف ننگی تلوار اور سخت ترین عذاب کے ذریعے ہی سیدھا کیا جاسکتا تھا۔ ان کی فطرت کا تقاضا تھا کہ ان کے سزا بھی سخت ہو اور انوکھی بھی ۔ چناچہ حکم ہوا وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوا إِلَى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ ” یاد کرو ، جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ لوگو ! تم نے بچھڑے کو معبود بناکر اپنے اوپرسخت ظلم کیا ہے ، لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو ، اسی میں میں تمہارے خالق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے ۔ “ اپنے آپ کو قتل کروتا کہ اسے بھی پاک کردے اور خود اپنے آپ کو بھی پاک کردے ۔ تم میں سے فرمانبردار محترم قتل کرے ۔ اس سخت عذاب اور شدید کفارہ کے بارے میں روایات سے یہی معلوم ہوتا ہے ۔ بیشک یہ ایک جانگسل اور روح فرسا ذمہ داری تھی کہ بھائی بھائی کو قتل کرے ۔ گویا وہ اپنے آپ کو قتل کرے ۔ لیکن اس کے بگڑے ہوئے مزاج اور بزدلانہ طبیعت کی تربیت کے لئے یہ ضروری تھا ، کیونکہ ان کا مزاج ہر شر پر مائل تھا ، اور کسی ناپسندیدہ فعل کے کر گزرنے سے وہ نہ چوکتے تھے ۔ اگر وہ ناپسندیدہ امور سے رکنے کی صلاحیت رکھتے تو نبی کے غیر حاضر ہوتے ہی وہ بچھڑے کی پوجا پر نہ پل پڑتے۔ ان کا علاج یہ تھا ۔ کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے ۔ ان کے لئے مناسب یہی تھا کہ وہ اس قسم کا بھاری بھرکم تاوان ادا کریں تاکہ انہیں کچھ نفع ہو ، اور بگڑے ہوئے مزاج کی تربیت ہو۔ لیکن اس سزا کے بعد پھر اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ” اس وقت تمہارے خالق نے تمہاری توبہ قبول کرلی ۔ کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ “ لیکن بنی اسرائیل بھی تو بنی اسرائیل تھے وہ موٹا دماغ رکھنے والے دنیا پرست اور عالم غیب اور آخرت کی نظروں سے اوجھل اور مستور تھا ۔ اس لئے انہیں صرف یہی سوجھتا کہ روئیت الٰہی کا مطالبہ کردیں اور جنہوں نے یہ مطالبہ کیا وہ کوئی عام لوگ نہ تھے ، بلکہ ان میں ستر مختار اور برگزیدہ لوگ تھے جنہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے ملاقات کے موقع پر پوری قوم سے چنا تھا اور ساتھ لے گئے تھے ۔ جس کی پوری تفصیل ، اس سے پہلے کی مکی آیات میں بیان ہوچکی ہے ۔ غرض بنی اسرائیل نے علانیہ اللہ کو دیکھنے سے پہلے ، ایمان لانے سے صاف صاف انکار کردیا۔ قرآن کریم یہاں بنی اسرائیل کے آباء و اجداد کی گستاخی کو نقل کرکے یہ بتانا چاہتا ہے کہ زمانہ قدیم سے یہ قوم ضد اور ہٹ دھرمی میں مبتلا چلی آرہی ہے اور ان کی یہ قدیم ہٹ دھرمی اس ہٹ دھرمی کے بالکل مشابہ ہے جو اس وقت یہ لوگ نبی آخر الزمان ﷺ کے مقابلے میں اختیارکئے ہوئے ہیں ۔ یہ لوگ خود بھی ، اپنے آباء و اجداد کی طرح معجزات کا مطالبہ کررہے ہیں اور سادہ دل مومنین کو بھی اس پر آمادہ کرنے کی سعی کررہے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سچائی کو آزمانے کے لئے معجزات کا مطالبہ کریں۔

البقرة 2:52

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کو خدا بنا لینا ، اور اس کی پوجا کرنا ، جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کے لئے کوہ طور پر گئے تھے ، سورة بقرہ سے پہلے نازل ہونے والی سورت ، سورت طہٰ میں بالتفصیل بیان ہوا ہے ۔ یہاں صرف انہیں اس کی یاددہانی کرائی جارہی ہے کیونکہ وہ اس کی تفصیلات سے خوب واقف ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں یاد دلا رہے ہیں کہ ان کی یہ حالت تھی کہ نبی کے اوجھل ہوتے ہی بچھڑے پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ حالانکہ نبی نے انہیں فرعونیوں کے دردناک عذاب سے محض اللہ تعالیٰ کے نام پر رہائی دلائی تھی ۔ اللہ تعالیٰ یہاں ان کے موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ، وَأَنْتُمْ ظَالِمُونَ ” اور تم ظالم تھے۔ “ اس سے بڑاظالم اور کون ہوگا ، جو اللہ کی بندگی ترک کرکے اپنے پیغمبر کی وصیت کو بھلاکر ، ایک بچھڑے جیسے جسم کی پوجا شروع کردے ، حالانکہ اللہ ہی تھا ، جس نے اسے ان لوگوں کی غلامی سے نجات دی جو گائے کے بچھڑے کو مقدس سمجھتے تھے ۔ لیکن اس کے باوجود اللہ انہیں معاف کردیتے ہیں ۔ ان کے نبی کو کتاب ہدایت ، تورات دیتے ہیں جس میں جو کچھ لکھا تھا وہ حق و باطل کے درمیان فرقان تھا ، اس امید پر کہ شاید یہ لوگ گمراہی چھوڑ کر واضح حق کو قبول کرلیں۔ لیکن پھر بھی اس بات کی ضرورت تھی کہ سنگدلی سے ان کی تطہیر کی جائے ، کیونکہ ان کی بگڑی ہوئی فطرت کو صرف ننگی تلوار اور سخت ترین عذاب کے ذریعے ہی سیدھا کیا جاسکتا تھا۔ ان کی فطرت کا تقاضا تھا کہ ان کے سزا بھی سخت ہو اور انوکھی بھی ۔ چناچہ حکم ہوا وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوا إِلَى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ ” یاد کرو ، جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ لوگو ! تم نے بچھڑے کو معبود بناکر اپنے اوپرسخت ظلم کیا ہے ، لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو ، اسی میں میں تمہارے خالق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے ۔ “ اپنے آپ کو قتل کروتا کہ اسے بھی پاک کردے اور خود اپنے آپ کو بھی پاک کردے ۔ تم میں سے فرمانبردار محترم قتل کرے ۔ اس سخت عذاب اور شدید کفارہ کے بارے میں روایات سے یہی معلوم ہوتا ہے ۔ بیشک یہ ایک جانگسل اور روح فرسا ذمہ داری تھی کہ بھائی بھائی کو قتل کرے ۔ گویا وہ اپنے آپ کو قتل کرے ۔ لیکن اس کے بگڑے ہوئے مزاج اور بزدلانہ طبیعت کی تربیت کے لئے یہ ضروری تھا ، کیونکہ ان کا مزاج ہر شر پر مائل تھا ، اور کسی ناپسندیدہ فعل کے کر گزرنے سے وہ نہ چوکتے تھے ۔ اگر وہ ناپسندیدہ امور سے رکنے کی صلاحیت رکھتے تو نبی کے غیر حاضر ہوتے ہی وہ بچھڑے کی پوجا پر نہ پل پڑتے۔ ان کا علاج یہ تھا ۔ کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے ۔ ان کے لئے مناسب یہی تھا کہ وہ اس قسم کا بھاری بھرکم تاوان ادا کریں تاکہ انہیں کچھ نفع ہو ، اور بگڑے ہوئے مزاج کی تربیت ہو۔ لیکن اس سزا کے بعد پھر اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ” اس وقت تمہارے خالق نے تمہاری توبہ قبول کرلی ۔ کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ “ لیکن بنی اسرائیل بھی تو بنی اسرائیل تھے وہ موٹا دماغ رکھنے والے دنیا پرست اور عالم غیب اور آخرت کی نظروں سے اوجھل اور مستور تھا ۔ اس لئے انہیں صرف یہی سوجھتا کہ روئیت الٰہی کا مطالبہ کردیں اور جنہوں نے یہ مطالبہ کیا وہ کوئی عام لوگ نہ تھے ، بلکہ ان میں ستر مختار اور برگزیدہ لوگ تھے جنہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے ملاقات کے موقع پر پوری قوم سے چنا تھا اور ساتھ لے گئے تھے ۔ جس کی پوری تفصیل ، اس سے پہلے کی مکی آیات میں بیان ہوچکی ہے ۔ غرض بنی اسرائیل نے علانیہ اللہ کو دیکھنے سے پہلے ، ایمان لانے سے صاف صاف انکار کردیا۔ قرآن کریم یہاں بنی اسرائیل کے آباء و اجداد کی گستاخی کو نقل کرکے یہ بتانا چاہتا ہے کہ زمانہ قدیم سے یہ قوم ضد اور ہٹ دھرمی میں مبتلا چلی آرہی ہے اور ان کی یہ قدیم ہٹ دھرمی اس ہٹ دھرمی کے بالکل مشابہ ہے جو اس وقت یہ لوگ نبی آخر الزمان ﷺ کے مقابلے میں اختیارکئے ہوئے ہیں ۔ یہ لوگ خود بھی ، اپنے آباء و اجداد کی طرح معجزات کا مطالبہ کررہے ہیں اور سادہ دل مومنین کو بھی اس پر آمادہ کرنے کی سعی کررہے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سچائی کو آزمانے کے لئے معجزات کا مطالبہ کریں۔

البقرة 2:53

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کو خدا بنا لینا ، اور اس کی پوجا کرنا ، جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کے لئے کوہ طور پر گئے تھے ، سورة بقرہ سے پہلے نازل ہونے والی سورت ، سورت طہٰ میں بالتفصیل بیان ہوا ہے ۔ یہاں صرف انہیں اس کی یاددہانی کرائی جارہی ہے کیونکہ وہ اس کی تفصیلات سے خوب واقف ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں یاد دلا رہے ہیں کہ ان کی یہ حالت تھی کہ نبی کے اوجھل ہوتے ہی بچھڑے پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ حالانکہ نبی نے انہیں فرعونیوں کے دردناک عذاب سے محض اللہ تعالیٰ کے نام پر رہائی دلائی تھی ۔ اللہ تعالیٰ یہاں ان کے موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ، وَأَنْتُمْ ظَالِمُونَ ” اور تم ظالم تھے۔ “ اس سے بڑاظالم اور کون ہوگا ، جو اللہ کی بندگی ترک کرکے اپنے پیغمبر کی وصیت کو بھلاکر ، ایک بچھڑے جیسے جسم کی پوجا شروع کردے ، حالانکہ اللہ ہی تھا ، جس نے اسے ان لوگوں کی غلامی سے نجات دی جو گائے کے بچھڑے کو مقدس سمجھتے تھے ۔ لیکن اس کے باوجود اللہ انہیں معاف کردیتے ہیں ۔ ان کے نبی کو کتاب ہدایت ، تورات دیتے ہیں جس میں جو کچھ لکھا تھا وہ حق و باطل کے درمیان فرقان تھا ، اس امید پر کہ شاید یہ لوگ گمراہی چھوڑ کر واضح حق کو قبول کرلیں۔ لیکن پھر بھی اس بات کی ضرورت تھی کہ سنگدلی سے ان کی تطہیر کی جائے ، کیونکہ ان کی بگڑی ہوئی فطرت کو صرف ننگی تلوار اور سخت ترین عذاب کے ذریعے ہی سیدھا کیا جاسکتا تھا۔ ان کی فطرت کا تقاضا تھا کہ ان کے سزا بھی سخت ہو اور انوکھی بھی ۔ چناچہ حکم ہوا وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوا إِلَى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ ” یاد کرو ، جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ لوگو ! تم نے بچھڑے کو معبود بناکر اپنے اوپرسخت ظلم کیا ہے ، لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو ، اسی میں میں تمہارے خالق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے ۔ “ اپنے آپ کو قتل کروتا کہ اسے بھی پاک کردے اور خود اپنے آپ کو بھی پاک کردے ۔ تم میں سے فرمانبردار محترم قتل کرے ۔ اس سخت عذاب اور شدید کفارہ کے بارے میں روایات سے یہی معلوم ہوتا ہے ۔ بیشک یہ ایک جانگسل اور روح فرسا ذمہ داری تھی کہ بھائی بھائی کو قتل کرے ۔ گویا وہ اپنے آپ کو قتل کرے ۔ لیکن اس کے بگڑے ہوئے مزاج اور بزدلانہ طبیعت کی تربیت کے لئے یہ ضروری تھا ، کیونکہ ان کا مزاج ہر شر پر مائل تھا ، اور کسی ناپسندیدہ فعل کے کر گزرنے سے وہ نہ چوکتے تھے ۔ اگر وہ ناپسندیدہ امور سے رکنے کی صلاحیت رکھتے تو نبی کے غیر حاضر ہوتے ہی وہ بچھڑے کی پوجا پر نہ پل پڑتے۔ ان کا علاج یہ تھا ۔ کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے ۔ ان کے لئے مناسب یہی تھا کہ وہ اس قسم کا بھاری بھرکم تاوان ادا کریں تاکہ انہیں کچھ نفع ہو ، اور بگڑے ہوئے مزاج کی تربیت ہو۔ لیکن اس سزا کے بعد پھر اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ” اس وقت تمہارے خالق نے تمہاری توبہ قبول کرلی ۔ کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ “ لیکن بنی اسرائیل بھی تو بنی اسرائیل تھے وہ موٹا دماغ رکھنے والے دنیا پرست اور عالم غیب اور آخرت کی نظروں سے اوجھل اور مستور تھا ۔ اس لئے انہیں صرف یہی سوجھتا کہ روئیت الٰہی کا مطالبہ کردیں اور جنہوں نے یہ مطالبہ کیا وہ کوئی عام لوگ نہ تھے ، بلکہ ان میں ستر مختار اور برگزیدہ لوگ تھے جنہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے ملاقات کے موقع پر پوری قوم سے چنا تھا اور ساتھ لے گئے تھے ۔ جس کی پوری تفصیل ، اس سے پہلے کی مکی آیات میں بیان ہوچکی ہے ۔ غرض بنی اسرائیل نے علانیہ اللہ کو دیکھنے سے پہلے ، ایمان لانے سے صاف صاف انکار کردیا۔ قرآن کریم یہاں بنی اسرائیل کے آباء و اجداد کی گستاخی کو نقل کرکے یہ بتانا چاہتا ہے کہ زمانہ قدیم سے یہ قوم ضد اور ہٹ دھرمی میں مبتلا چلی آرہی ہے اور ان کی یہ قدیم ہٹ دھرمی اس ہٹ دھرمی کے بالکل مشابہ ہے جو اس وقت یہ لوگ نبی آخر الزمان ﷺ کے مقابلے میں اختیارکئے ہوئے ہیں ۔ یہ لوگ خود بھی ، اپنے آباء و اجداد کی طرح معجزات کا مطالبہ کررہے ہیں اور سادہ دل مومنین کو بھی اس پر آمادہ کرنے کی سعی کررہے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سچائی کو آزمانے کے لئے معجزات کا مطالبہ کریں۔

البقرة 2:54

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کو خدا بنا لینا ، اور اس کی پوجا کرنا ، جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کے لئے کوہ طور پر گئے تھے ، سورة بقرہ سے پہلے نازل ہونے والی سورت ، سورت طہٰ میں بالتفصیل بیان ہوا ہے ۔ یہاں صرف انہیں اس کی یاددہانی کرائی جارہی ہے کیونکہ وہ اس کی تفصیلات سے خوب واقف ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں یاد دلا رہے ہیں کہ ان کی یہ حالت تھی کہ نبی کے اوجھل ہوتے ہی بچھڑے پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ حالانکہ نبی نے انہیں فرعونیوں کے دردناک عذاب سے محض اللہ تعالیٰ کے نام پر رہائی دلائی تھی ۔ اللہ تعالیٰ یہاں ان کے موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ، وَأَنْتُمْ ظَالِمُونَ ” اور تم ظالم تھے۔ “ اس سے بڑاظالم اور کون ہوگا ، جو اللہ کی بندگی ترک کرکے اپنے پیغمبر کی وصیت کو بھلاکر ، ایک بچھڑے جیسے جسم کی پوجا شروع کردے ، حالانکہ اللہ ہی تھا ، جس نے اسے ان لوگوں کی غلامی سے نجات دی جو گائے کے بچھڑے کو مقدس سمجھتے تھے ۔ لیکن اس کے باوجود اللہ انہیں معاف کردیتے ہیں ۔ ان کے نبی کو کتاب ہدایت ، تورات دیتے ہیں جس میں جو کچھ لکھا تھا وہ حق و باطل کے درمیان فرقان تھا ، اس امید پر کہ شاید یہ لوگ گمراہی چھوڑ کر واضح حق کو قبول کرلیں۔ لیکن پھر بھی اس بات کی ضرورت تھی کہ سنگدلی سے ان کی تطہیر کی جائے ، کیونکہ ان کی بگڑی ہوئی فطرت کو صرف ننگی تلوار اور سخت ترین عذاب کے ذریعے ہی سیدھا کیا جاسکتا تھا۔ ان کی فطرت کا تقاضا تھا کہ ان کے سزا بھی سخت ہو اور انوکھی بھی ۔ چناچہ حکم ہوا وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوا إِلَى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ ” یاد کرو ، جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ لوگو ! تم نے بچھڑے کو معبود بناکر اپنے اوپرسخت ظلم کیا ہے ، لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو ، اسی میں میں تمہارے خالق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے ۔ “ اپنے آپ کو قتل کروتا کہ اسے بھی پاک کردے اور خود اپنے آپ کو بھی پاک کردے ۔ تم میں سے فرمانبردار محترم قتل کرے ۔ اس سخت عذاب اور شدید کفارہ کے بارے میں روایات سے یہی معلوم ہوتا ہے ۔ بیشک یہ ایک جانگسل اور روح فرسا ذمہ داری تھی کہ بھائی بھائی کو قتل کرے ۔ گویا وہ اپنے آپ کو قتل کرے ۔ لیکن اس کے بگڑے ہوئے مزاج اور بزدلانہ طبیعت کی تربیت کے لئے یہ ضروری تھا ، کیونکہ ان کا مزاج ہر شر پر مائل تھا ، اور کسی ناپسندیدہ فعل کے کر گزرنے سے وہ نہ چوکتے تھے ۔ اگر وہ ناپسندیدہ امور سے رکنے کی صلاحیت رکھتے تو نبی کے غیر حاضر ہوتے ہی وہ بچھڑے کی پوجا پر نہ پل پڑتے۔ ان کا علاج یہ تھا ۔ کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے ۔ ان کے لئے مناسب یہی تھا کہ وہ اس قسم کا بھاری بھرکم تاوان ادا کریں تاکہ انہیں کچھ نفع ہو ، اور بگڑے ہوئے مزاج کی تربیت ہو۔ لیکن اس سزا کے بعد پھر اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ” اس وقت تمہارے خالق نے تمہاری توبہ قبول کرلی ۔ کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ “ لیکن بنی اسرائیل بھی تو بنی اسرائیل تھے وہ موٹا دماغ رکھنے والے دنیا پرست اور عالم غیب اور آخرت کی نظروں سے اوجھل اور مستور تھا ۔ اس لئے انہیں صرف یہی سوجھتا کہ روئیت الٰہی کا مطالبہ کردیں اور جنہوں نے یہ مطالبہ کیا وہ کوئی عام لوگ نہ تھے ، بلکہ ان میں ستر مختار اور برگزیدہ لوگ تھے جنہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے ملاقات کے موقع پر پوری قوم سے چنا تھا اور ساتھ لے گئے تھے ۔ جس کی پوری تفصیل ، اس سے پہلے کی مکی آیات میں بیان ہوچکی ہے ۔ غرض بنی اسرائیل نے علانیہ اللہ کو دیکھنے سے پہلے ، ایمان لانے سے صاف صاف انکار کردیا۔ قرآن کریم یہاں بنی اسرائیل کے آباء و اجداد کی گستاخی کو نقل کرکے یہ بتانا چاہتا ہے کہ زمانہ قدیم سے یہ قوم ضد اور ہٹ دھرمی میں مبتلا چلی آرہی ہے اور ان کی یہ قدیم ہٹ دھرمی اس ہٹ دھرمی کے بالکل مشابہ ہے جو اس وقت یہ لوگ نبی آخر الزمان ﷺ کے مقابلے میں اختیارکئے ہوئے ہیں ۔ یہ لوگ خود بھی ، اپنے آباء و اجداد کی طرح معجزات کا مطالبہ کررہے ہیں اور سادہ دل مومنین کو بھی اس پر آمادہ کرنے کی سعی کررہے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سچائی کو آزمانے کے لئے معجزات کا مطالبہ کریں۔

البقرة 2:55

اللہ کی بیشمار نشانیاں ، اس کی نعمتیں بار بار کی عفو اور درگزر ، ان سب چیزوں کا ان کی اس مادی فطرت اور مادہ پرست طبیعت کے سامنے بالکل بےاثر تھیں ۔ ان سب نعمتوں کے باوجود یہ لوگ سخت جھگڑالو اور فریب کار تھے ، اور کسی سخت عذاب اور انتقام کے بغیر ، قبول حق کے لئے ہرگز تیار نہ تھے ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرعون کی غلامی اور اس کے ظالمانہ نظام نے ان بیچاروں کی فطرت ہی کو بری طرح مسخ کرڈالا تھا ۔ یاد رہے کہ جب کوئی ظالمانہ اور جابرانہ نظام ایک طویل عرصے تک کسی قوم پر مسلط رہے گا تو وہ قوم اس کی فطرت سلیمہ کو بالکل مسخ کردیتا ہے اور اس سے تمام انسانی فضائل اور اچھی عادات ایک ایک کرکے ختم ہوجاتی ہیں ۔ غلامی سے انسانیت کے بنیادی فضائل اور اساسی عناصر ضائع ہوجاتے ہیں اور اقوام کے اندر غلاموں کی معروف اور گھٹیا صفات اور عادات پیدا ہوجاتی ہیں ، ایسے لوگوں کی عادت یہ ہوتی ہے کہ جب ان کے سروں پر ڈنڈا مسلط ہو ، تو وہ رام ہوجاتے ہیں اور جونہی آزاد ہوتے اور آزادی کے سائے میں قوت اور آسائش پاتے تو آپے سے باہر ہوجاتے ہیں ۔ جنوں کی سی سرکشی کرنے لگتے ہیں ۔ یہی حالت تھی بنی اسرائیل کی جو آج تک اس پر قائم ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسے کفریہ کلمات کہتے ہیں اور ذلت وگمراہی کے گہرے گڑھے میں جاپڑتے ہیں ۔ وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَى لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً ” یاد کرو جب تم نے موسیٰ سے کہا تھا کہ ہم تمہارے کہنے کا ہرگز یقین نہ کریں گے ، جب تک اپنی آنکھوں سے علانیہ خدا کو (تم سے کلام کرتے ) نہ دیکھ لیں ۔ “ یہی وجہ ہے کہ ابھی وہ پہاڑ پر ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ، ان کے اس کافرانہ رویے کے بدلے یہ سزا دی ۔ فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ ” اس وقت تمہارے دیکھتے دیکھتے ، ایک زبردست صاعقہ نے تم کو آلیا ۔ “

البقرة 2:56

چناچہ اس کے بعد دوبارہ ان کو اللہ کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے ۔ انہیں دوبارہ زندگی کا موقع دیا جاتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور رب العزت کا شکر ادا کریں۔ یہاں اللہ تعالیٰ انہیں اپنی وہ نعمت یاددلاتے ہیں ثُمَّ بَعَثْنَاكُمْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ” مگر پھر ہم نے تم کو جلااٹھایا ، شاید کہ اس احسان کے بعد تم شکر گزار بن جاؤ۔ “

البقرة 2:57

اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں وہ مراعات اور احسانات یاددلاتے ہیں ، جو اس نے ان پر سینائی کے چٹیل میدان میں کئے ، ان کو کھانے کے لئے مطلوبہ خوراک دی گئی ۔ جس کے لئے انہیں کوئی خاص محنت نہ کرنی پڑتی تھی ، بےکدوکاش وہ انہیں مل جاتی تھی ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور تدبیر خاص سے انہیں صحرا کی تپش اور سورج کی جھلسادینے والی گرمی سے بچایا۔ وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ” ہم نے تم پر ابر کا سایہ کیا ، من سلویٰ کی غذا تمہارے لئے فراہم کی اور تم سے کہا کہ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں ، انہیں کھاؤ ، مگر تمہارے اسلاف نے جو کچھ کیا وہ ہم پر ظلم نہ تھا ، انہوں نے آپ اپنے ہی اوپر ظلم کیا۔ “ روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بادل کا ایک ٹکڑا ان کے سروں پر قائم رکھا تاکہ وہ گرمی سے محفوظ رہیں ۔ صحرا کا موسم ایسا ہوتا ہے کہ اگر بادل اور بارش نہ ہو تو وہ ایک کھولتی ہوئی جہنم کے مانندہوتا ہے ۔ اس سے آگ کے شعلے بلند ہورہے ہوتے ہیں ۔ لیکن اگر صحرا میں بارش ہوجائے اور مطلع ابرآلود ہو تو اس کا موسم تروتازہ اور نہایت خوشگوار ہوتا ہے ۔ جس میں جسم و روح دونوں فرحت محسوس کرتے ہیں ۔ روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے من کا انتظام فرمایا ، جو درختوں پر ہوتا تھا اور شہد کی طرح میٹھا ہوتا تھا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ان کی خوراک کے لئے سلویٰ پرندے کی وافر مقدار پیدا کردی اور ان کے گھروں کے قریب بڑی مقدار میں پائے جاتے تھے ۔ ان دوچیزوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے ایسے لذیذ کھانے کا بندوبست کیا جس کی نظیر دنیا نہ تھی ۔ رہائش کے لئے مقام کو خوشگوار بنایا اور ان پاکیزہ چیزوں کو ان کے حلال کیا ۔ لیکن اب ذرا اس قوم کی روش تو دیکھئے ! کیا اب بھی وہ شکر گزار بنتی ہے یا نہیں ؟ ہدایت پاتی ہے یا نہیں ؟ آیت کا آخری حصہ صاف صاف نشان دہی کررہا ہے کہ انہوں نے ان تمام نعمتوں کا انکار کیا اور ظلم کا ارتکاب کیا لیکن یہ ظلم خود اپنے اوپر تھا۔ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ” تمہارے اسلاف نے جو کچھ کیا وہ ہم پر ظلم نہ تھا ، انہوں نے اپنے ہی اوپر ظلم کیا۔ “ اس کے بعد بنی اسرائیل کے انحراف ، انکار حق اور معصیت پر مسلسل اصرار کی یہ طویل داستان اور آگے بڑھتی ہے۔

البقرة 2:58

بعض روایات میں اس کی تصریح آتی ہے کہ اس گاؤں سے مراد بیت المقدس ہے ۔ مصر سے خروج کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ اس شہر میں داخل ہوجائیں ۔ اس وقت اس میں عمالقہ آباد تھے ۔ بنی اسرائیل کو یہ حکم تھا کہ وہ ان لوگوں کو نکال دیں۔ لیکن بنی اسرائیل نے اس سے انکار کردیا اور کہا تھا ” اے موسیٰ ! اس شہر میں ایک جبار قوم آباد ہے ۔ ہم تو اس میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک وہ وہاں سے نکل نہیں جاتے ۔ اگر وہ نکل جاتے ہیں تو ہم داخل ہوں گے ۔ “ نیزاسی شہر کے بارے میں انہوں نے اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا ” اے موسیٰ (علیہ السلام) ہم ہرگز اس شہر میں داخل نہ ہوں گے ، جب تک کہ یہ لوگ اس شہر میں موجود ہیں ، جائیں آپ اور آپ کا رب لڑیں ان سے ، ہم توی ہیں بیٹھے ہیں ۔ “ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کی یہ سزا دی کہ وہ چالیس سال تک بھٹکتے پھرے ۔ ان کی موجودہ نسل سب مرگئی ، ایک جدید نسل تیار ہوگئی اور اس نے حضرت یوشع بن نون کی قیادت میں اس شہر کو فتح کیا اور یہ لوگ شہر میں داخل ہوئے ۔ لیکن اس طویل سز ا کے بعد بھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا کہ خشوع و خضوع اور تواضع سے جھک کر شہر میں داخل ہوں اور حطۃ حطۃ پکاریں ، انہوں نے ویسا نہ کیا ۔ شہر میں داخلے کی جو صورت اللہ تعالیٰ نے تجویز کی تھی اس کے مطابق داخل نہ ہوئے ، نیز وہ لفظ بھی ادانہ کئے جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ ، ان کی اس تاریخی نافرمانی کو نقل کرکے ان کے سامنے رکھتے ہیں ۔ نیز تاریخی لحاظ سے یہ واقعہ پیش بھی ، موضوع زیربحث میں یعنی خروج بنی اسرائیل کے متصلاً بعد آیا تھا ۔ اس لئے یہاں اس کا بھی ذکر ہوا ۔ قرآن کریم کا یہ انداز بتارہا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کی پوری تاریخ کو ایک اکائی تصور کرتا ہے جس کا آغاز ، وسط اور انتہابالکل یکساں ہے ۔ کیونکہ یہ لوگ ہمیشہ اپنی پوری تاریخ میں ، مخالف حق ، سرکش ، نافرمان اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تاریخی طور پر یہ واقعہ جو بھی ہو اس کا کوئی یقینی علم ہمیں نہیں ہے۔ البتہ قرآن کریم ان کے سامنے جو واقعہ پیش کررہا ہے ۔ اس کا انہیں علم ہے ۔ وہ اس بات کو جانتے ہیں جس کی طرف یہاں اشارہ کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کی تھی اور وہ اس خاص شہر میں داخل ہوئے تھے ۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ تھا کہ خضوع اور خشوع کی حالت میں ، اس شہر میں داخل ہوں اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ان کی ان غلطیوں کو معاف کرے ۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کی غلطیوں کو معاف کردے گا ۔ اور نیکی کرنے والوں پر اپنا مزید فضل وکرم کرے گا ۔ لیکن ان لوگوں نے اپنی عادت مستمرہ کے مطابق اس حکم کی بھی خلاف ورزی ہی کی فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ ” مگر جو بات کہی گئی تھی ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کردیا “

البقرة 2:59

یہاں اللہ تعالیٰ بالخصوص ان لوگوں کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم ونصیحت کو بدل دیا تھا۔ یعنی الَّذِينَ ظَلَمُوایا تو اس لئے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ نے یہ کام کیا تھا اور یا اس لئے کہ یہ ثابت کردیا جائے کہ بنی اسرائیل سب کے سب ظالم ہیں اور ان سب نے اس کریہہ فعل کا ارتکاب کیا۔ فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ ” آخر کار ہم نے ظلم کرنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کیا ۔ یہ سزا تھی ان نافرمانیوں کی ، جو وہ کررہے تھے ۔ “ الرجز کے معنی ہیں عذاب اور فسق کے معنی ہیں حکم کی مخالفت اور دائرہ حق سے خروج ۔ اور یہ دونوں صفات بنی اسرائیل کی منجملہ اور صفات کے ان میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ، جس طرح صحرا کی تپش میں بنی اسرائیل کے لئے سائے کا انتظام کیا اور بےآب وگیاہ چٹیل میدان میں ان کے طعام کا بندوبست کیا ، اسی طرح ان کے پینے کے لئے پانی کا بھی خاص بندوبست کیا اور بندوبست بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تمام دوسرے معجزات کی طرح معجزانہ انداز میں کیا ۔ اس واقعہ کو بھی قرآن کریم یہاں بطور احسان بیان کرتا ہے اور اس کے بعد بتاتا ہے کہ اس احسان اور انعام کا جو اب ان لوگوں نے کس شکل میں دیا ۔

البقرة 2:60

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لئے پانی طلب فرمایا۔ اور انہوں نے یہ درخواست اپنے رب سے کی اور اس نے قبول فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ وہ ایک متعین پتھر کو اپنے عصا سے ماریں ۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی اور پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے ۔ یہ بارہ چشمے بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کی تعداد کے مطابق تھے ۔ کیونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پوتوں کے بعد یہ لوگ بارہ قبیلوں میں تقسیم ہوگئے تھے ۔ حضرت یعقوب کا نام اسرائیل تھا جس کی طرف یہ لوگ نسبت کرتے ہیں ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پوتے اسباط کے نام سے مشہور ہیں ، جن کا ذکر باربار قرآن کریم میں آیا ہے ۔ یہ لوگ بنی اسرائیل کے سربراہ تھے ۔ اور قبائلی نظام کے مطابق زندگی بسر کررہے تھے۔ اور قبائلی نظام میں قبیلے کی نسبت اکثر اوقات مورث اعلیٰ کی طرف کردی جاتی ہے۔ چناچہ قرآن کریم کہتا ہے قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَشْرَبَهُمْ ” ہر قبیلے نے جان لیا کہ کون سی جگہ ہے اس کے پانی لینے کی۔ “ یعنی وہ چشمہ جو بارہ چشموں سے ان کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے۔ كُلُوا وَاشْرَبُوا مِنْ رِزْقِ اللَّهِ وَلا تَعْثَوْا فِي الأرْضِ مُفْسِدِينَ ” اس وقت انہیں ہدایت کردی گئی تھی کہ اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ پیو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھر۔ “ بنی اسرائیل کی حالت یہ تھی کہ وہ خشک صحرا کی پتھریلی زمین میں تھے ۔ آسمان اوپر سے آگ کے شعلے برسا رہا تھا ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پتھروں سے پانی نکالا ۔ آسمان سے من وسلویٰ ، شہد وپرندوں کا انتظام فرمایا ، لیکن ان کی فاسد اور گری ہوئی ذہنیت اور گری ہوئی فطرت اور عادات نے انہیں اس بلند مقام تک پہنچنے نہ دیا جس کے لئے انہیں مصر سے نکالا گیا تھا۔ اور اس بےآب وگیا صحرا میں ڈال دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے جس ذلت و خواری سے اس لئے نکالا تھا کہ ارض مقدس دوبارہ ان کے اقتدار میں آجائے اور وہ اس ذلت اور خواری کی زندگی سے باہر نکل آئیں ۔ ظاہر ہے کہ حریت وآزادی اور عزت وآبرو کے حصول کے لئے کچھ قربانیاں دینی پڑتی ہیں ۔ جو امانت کبریٰ ان کے حوالے کی جارہی تھی اس کا کسی قدر شکرانہ بھی لینا مقصود تھا۔ لیکن بنی اسرائیل تو ایسے لوگ تھے جو اس کی کوئی قیمت ادا نہ کرنا چاہتے تھے ۔ نہ وہ تکالیف اور آزمائشوں کو انگیز کرسکتے تھے ۔ اس لئے وہ اس مقام رفیع کا کوئی شکرانہ دینے کے لئے بھی تیارنہ تھے ۔ نہ وہ یہ چاہتے تھے کہ مصر میں وہ جس طرح کی پرکیف اور پر آسائش زندگی بسر کررہے تھے اسے چھوڑ دیں ۔ یہاں تک کہ وہ اس بلند مرتبے کے لئے اپنے مالوف کھانوں اور پینے کی چیزوں کو بھی ترک نہ کرسکتے تھے اور کسی طرح بھی آمادہ نہ تھے کہ عزت وشرف اور حریت وآزادی کے حصول کے لئے ، وہ اپنی زندگی کو کسی قدر نئے سانچے میں ڈھالیں ۔ وہ تو وہی کھانے چاہتے ہیں جن کے وہ مصر میں عادی تھے ۔ اور ساگ ، ترکاری ، گیہوں اور لہسن وغیرہ کے دالدادہ تھے ۔ یہاں مدینہ میں قرآن کریم انہیں ان کے پارسائی کے ان طویل و عریض دعو وں کے جواب میں یہ کہتا ہے کہ ذرا اپنی تاریخ کے اوراق توالٹیں اور دیکھیں کہ انہوں نے کیا کیا کارنامے سر انجام دیئے ہیں۔

البقرة 2:61

حضرت موسیٰ ، ان کی طفلانہ درخواست سن کر سخت رنجیدہ ہوئے ۔ ” کیا ایک بہتر چیز کے بجائے ، تم ایک ادنیٰ درجے کی چیز لینا چاہتے ہو ؟ “ اللہ تعالیٰ تو تمہارے لئے بلند یاں پسند کرتا ہے اور تم ہو کہ گرے جارہے ہو۔ ” اچھا کسی شہری آبادی (یا مصر) میں جارہو ، جو کچھ مانگتے ہو ، وہاں مل جائے گا۔ “ اس کے دومعنی ہوسکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ جو کچھ وہ طلب کررہے ہیں وہ تو بالکل ایک معمولی چیز ہے ۔ اس لئے کوئی لمبی چوڑی درخواست دینے اور دعا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، کسی شہری آبادی میں چلے جائیں وہاں یہ چیزیں بڑی مقدار میں انہیں مل سکتی ہیں ۔ دوسرے یہ کہ تم دوبارہ لوٹ کر مصر چلے جاؤ، جہاں سے تمہیں نکالا گیا تھا۔ اپنی اس مالوف ذلت آمیز اور گھٹیا درجے کی غلامانہ زندگی کو دوبارہ اختیار کرلو ۔ تمہیں کافی مقدار میں ساگ۔ ترکاریاں ، گیہوں ، اور لہسن پیاز وغیرہ سب دستیاب ہوں گے ۔ اور اس بلند نصب العین کو چھوڑ ہی دو جس کے لئے تمہیں چن لیا گیا تھا۔ اگر یہ دوسرا مفہوم لیاجائے تو یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے ایک قسم کی تادیب اور توبیخ ہوگی اور انہیں شرم دلانا مقصود ہوگا۔ اگرچہ بعض مفسرین نے اس دوسرے معنی کو مستبعد سمجھا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس کے بعد آنے والے نتیجے پر غور کیا جائے تو یہی مفہوم زیادہ مناسب ہے ۔ فرمایا جاتا ہے۔ ” آخرکار نوبت یہاں تک پہنچی کہ ذلت و خواری اور پستی و بدحالی ان پر مسلط کردی گئی اور وہ اللہ کے غضب میں گھر گئے ۔ “ ان پر ذلت اور خواری کا ہمیشہ کے لئے مسلط ہونا ، اور ان کا اللہ کے غضب میں گھرجانا ، تاریخی لحاظ سے اس مرحلے میں واقع نہیں ہوا۔ یہ لوگ ذلیل و خوار زمانہ مابعد میں ، اس وقت ہوئے جب کہ وہ بہت سی برائیوں میں مبتلا ہوگئے اور جس کا ذکر اس آیت کے آخری حصے میں ہوا۔ ” یہ نتیجہ تھا ، اس کا کہ وہ اللہ کی آیات سے کفر کرنے لگے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرنے لگے ۔ یہ نتیجہ تھا ان کی نافرمانیوں کا اور اس بات کا کہ حدود شرع سے نکل جاتے تھے۔ “ اور ان برائیوں کا صدور ، ان سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کے کئی نسلیں بعد ہوا ۔ لیکن یہاں چونکہ انہوں نے ساگ ترکاریوں ، گیہوں اور لہسن پیاز وغیرہ کا مطالبہ کردیا تھا ، اس لئے ، ان کے مکروہ موقف کی مناسبت سے یہاں ہی بتادیا کہ منجملہ اور اسباب کے ان کی ذلت کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ ان چیزوں کا مطالبہ کررہے تھے ۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قول کہ ” کسی شہر میں جاکر آباد ہوجاؤ۔ “ اس پر محمول کیا جائے گا کہ آپ انہیں مصر کی غلامانہ زندگی یاد دلا رہے ہیں اور انہیں بتلاتے ہیں کہ وہ اس زندگی سے چھٹکارا پانے پر شکر ادا کریں ۔ اور ان کی نفسانی ذلیل خواہشات کے پیچھے نہ بھاگیں ، جن کے وہ مصر کی ذلیل و خوار زندگی میں خوگر ہوگئے تھے ۔ راہ ہدایت کی طرف بلانے والے مصلحین اور پیغمبروں پر ، بنی اسرائیل نے جو مظالم ڈھائے اور ان کے ساتھ وہ مسلسل جو وحشیانہ اور سنگدلانہ برتاؤ کرتے رہے ، اس کی مثال کسی دوسری قوم کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ انہوں نے کئی انبیاء ومصلحین کو ذبح کیا ، قتل کیا بلکہ آرے سے چیر ڈالا کیا ہی بدترین اور وحشیانہ فعل ہے جو ان سے صادر ہوا ........ انہوں نے کفر اور حد سے گزرجانے کی بدترین مثالیں پیش کیں ۔ ظلم و زیادتی کی وحشیانہ مثالوں میں وہ سب سے بازی لے گئے۔ اور سرکشی اور نافرمانی کا ایک ریکارڈ قائم کردیا۔ غرض فسق وفجور کے ان سب میدانوں میں انہوں نے وہ وہ کارہائے نمایاں سر انجام دیئے جو انہی کا حصہ تھے اور ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ، پھر بھی وہ طویل و عریض اور بڑے بڑے دعوے کرتے رہے ۔ ان کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ تھا کہ صرف وہی ہیں جو ہدایت یافتہ کہلاسکتے ہیں ۔ صرف وہی اللہ کی پسندیدہ قوم ہیں ، وہی اللہ کی جانب سے اجر وثواب کے مستحق ہیں ۔ اللہ کا فضل وکرم ان کے لئے مخصوص ہے اور اس میں ان کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ قرآن کریم یہاں ان کے دعاوی کی تردید کرتے ہوئے ایک قاعدہ بیان کردیتا ہے اور یہ قاعدہ قرآن کریم کے تمام قصص کے درمیان بار بار دہرایا جاتا ہے ۔ کبھی پہلے اور کبھی ان کے آخر میں ۔ یعنی یہ کہ ایمان کی حقیقت ایک ہے۔ صحیح عقیدہ ایک ہی ہے ، بشرطیکہ اس عقیدے کے نتیجے میں انسانی اللہ کے سامنے جھک جائے اور ایمان ایسا ہو کہ اس سے عمل صالح کے چشمے پھوٹ رہے ہوں اور یہ کہ اللہ کا فضل وکرم کوئی محدود چیز نہیں ہے نہ کسی نسل سے مخصوص ہے ۔ وہ تمام مؤمنین کے لئے ہے ۔ تمام لوگ ، چاہے جس زمان ومکان سے بھی تعلق رکھتے ہوں ، اللہ کے اس ازلی ابدی دین کے مطابق اس کے فضل وکرم کے مستحق رہے ہیں اور رہیں گے اور آخر میں آخری دین (محمدی) اور آخری نبوت کے مطابق مومنین کا انجام یہ ہوگا۔

البقرة 2:62

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ........ یعنی مسلمان وَالَّذِينَ هَادُوا ............ یعنی وہ جو اللہ کی طرف راہ پاگئے وہ جو ” یہودا “ کی اولاد ہیں۔ وَالنَّصَارَى........ ........ یعنی عیسائی وَالصَّابِئِينَ میرے نزدیک راحج یہ ہے کہ صابئین سے مراد مشرکین کے وہ لوگ ہیں ، جو بعثت سے قبل مشرکین کے موروثی شرکیہ دین سے برگشتہ ہوگئے تھے۔ انہیں بتوں کی پوجا کی معقولیت میں شک لاحق ہوگیا تھا ۔ اس لئے انہوں نے خود اپنے غور وفکر سے اپنے لئے خود کوئی عقیدہ تجویز کرنے کی کوشش کی اور اس آزادنہ غور وفکر کے نتیجے میں وہ عقیدہ توحید پر پہنچ گئے تھے ۔ ان لوگوں کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ ابتدائی دین حنیف پر ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیش کیا تھا ۔ چناچہ ان لوگوں نے بتوں کی پوجا ترک کردی تھی ، اگرچہ وہ اپنی قوم کو عقیدہ ٔ توحید کی طرف دعوت نہ دیتے تھے ۔ ان لوگوں کے بارے میں مشرکین کہتے ہیں تھے کہ یہ لوگ صابی ہوگئے ہیں ۔ یعنی اپنے باپ دادا کا دین انہوں نے ترک کردیا ہے جیسا کہ بعد میں یہی طعنہ مشرکین ان مسلمانوں کو بھی دیا کرتے تھے ۔ یہ جو بعض تفاسیر میں آیا ہے کہ یہ لوگ ستارہ پرست تھے ۔ اس کے مقابلے میں یہ قول راحج معلوم ہوتا ہے۔ آیت کا مقصد یہ ہے کہ ان گروہوں میں سے جو بھی ایمان لائے ، اللہ پر اور یوم آخرت پر اور اس کے ساتھ ساتھ عمل صالح بھی کرے تو وہ اپنے رب کے نزدیک اجر کا مستحق ہوگا۔ اسے کسی قسم کا خوف اور حزن وملال نہ ہوگا کیونکہ اسلام میں دارومدار نظریہ اور عقیدے پر ہے ، کسی قوم اور نسل پر نہیں ، لیکن عمل وجزاء کا یہ اصول بعث محمدی ﷺ سے پہلے کے ادوار سے متعلق ہے ۔ آپ کی بعث کے بعد ظاہر ہے کہ ایمان باللہ کی آخری شکل (اسلام کی صورت میں ) متعین ہوگئی ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو سناتے ہوئے اور یہود مدینہ کو سامنے رکھتے ہوئے بنی اسرائیل کے کچھ کارنامے بیان کئے جاتے ہیں۔

البقرة 2:63

اس عہد کی تفصیل دوسری سورتوں اور خود اس سورة بقرہ میں بھی بعد میں مذکور ہے ۔ یہاں مقصد صرف یہ ہے کہ اس منظر کو دوبارہ ان کی نظروں کے سامنے اجاگر کردیا جائے ، اور یہ بتایا جائے کہ ان کے سروں پر کوہ طور کو معلق کرنا اور طاقت سے عہد لینا اور ان کو حکم دینا کہ وہ احکام تورات کو پوری قوت کے ساتھ تھام لیں ، ان امور کے درمیان ایک نفسیاتی اور تعبیری ہم آہنگی موجود ہے ۔ انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ وہ عقائد کے سلسلے میں عزیمت اختیار کریں ۔ کیونکہ عقائد ونظریات میں کسی قسم کی نرمی اور مداہنت نہیں برداشت کی جاسکتی ۔ نظریات کے باب میں کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اختیار نہیں کی جاسکتی ۔ نہ اس بارے میں غیر سنجیدگی اور نرمی برداشت کی جاسکتی ہے نظریہ و عقیدہ اللہ اور مومنین کے درمیان ایک عہد ہے ۔ ایک سنجیدہ اور برحق معاہدہ ۔ لہٰذا اس میں باطل اور غیر سنجیدگی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اس راہ میں بےحد قربانیاں دینی پڑتی ہیں ، کیونکہ عقائد ونظریات کا مزاج ہی یہ ہے ۔ عقیدہ ایک عظیم چیز ہے ۔ اس کائنات میں اس کی عظمت ہر چیز سے بڑھی ہوئی ہے ۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ بڑی سنجیدگی سے ، اچھی طرح سمجھتے ہوئے اور اس کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہو۔ اور پوری دلجمعی اور عزم صمیم سے نظریہ کی راہ میں آنے والی مشکلات کو انگیز کرے ۔ جو شخص بھی کسی عقیدے کو ان معنوں میں اپنائے ، اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اب اس نے آرام و آسائش اور عیش و عشرت کو الوداع کہہ دیا ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو فریضہ رسالت کی ادائیگی کے لئے پکارا تو آپ نے فرمایا ” خدیجہ ! اب آرام اور سونے کا زمانہ ختم ہوگیا۔ “ نیز اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو متنبہ فرمایا کہسَنُلقِی عَلَیکَ قَولًا ثَقِیلَا ” ہم عنقریب آپ پر ایک بھاری بات نازل کریں گے ۔ “ اور جیسا کہ بنی اسرائیل سے کہا گیا ” جو کتاب ہم تمہیں دینے والے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامنا اور جو احکام و ہدایات درج ہیں انہیں یاد رکھنا۔ “ اسی ذریعے سے توقع کی جاسکتی ہے کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ لیکن قوت ، سنجیدگی ، دلجمعی ، اور عزم صمیم کے ساتھ عہد لینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عہد کرنے والے مسلمان اس عہد کی حقیقت کو بھی سمجھیں ۔ انہیں اس عہد و پیمان کی نوعیت کا شعور اچھی طرح ہو ، وہ اپنی زندگیوں کو اس عہد و پیمان کے رنگ میں رنگ دیں۔ تاکہ معاملہ محض جذبات ، حمیت ، طاقت اور جوش و خروش تک ہی محدود نہ رہے کیونکہ اللہ کے ساتھ ہمارا عہد درحقیقت یہ ہے کہ ہم پوری زندگی ، اس پسندیدہ نظام حیات کے مطابق گزاریں گے ۔ یہ نظام زندگی قلب و دماغ میں بطور حیات اور زندہ شعور کے رائج ہوتا ہے اور عملی زندگی میں نظام حیات اور طریقہ زندگی کی شکل میں نمودار ہوتا ہے ۔ معاشرت میں حسن خلق اور حسن سلوک کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور اخروی ، زندگی میں تقویٰ اور اللہ کے سامنے جوابدہی کے شعور احساس پر منتج ہوتا ہے۔ لیکن وائے ناکامی ! بنی اسرائیل پھر بھی جوں کے توں رہتے ہیں۔ ان کی بری فطرت ان پر غالب آجاتی ہے ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ ” مگر اس کے بعد تم پھر اپنے عہد سے پھرگئے ۔ “ اس کے بعد پھر اللہ کی رحمت و شفقت ان کا ساتھ دیتی ہے ۔ اللہ کا فضل وکرم ان کے شامل حال ہوجاتا ہے اور انہیں خسران اور تباہی سے نکال لیا جاتا ہے ۔ فَلَوْلا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَكُنْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ ” اس پر بھی اللہ کے فضل وکرم اور اس کی رحمت نے تمہارا ساتھ نہ چھوڑا ورنہ تم کبھی کے تباہ ہوچکے ہوتے ۔ “

البقرة 2:64

اب دیکھئے ان کی گا داری ، عہد شکنی اور حیلہ سازی کا ایک نیا منظر ، جس میں وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ کسی عہد کی پابندی کرنے کے سرے سے اہل ہی نہیں ۔ وہ اس عہدو پیمان کی ذمہ داریاں ادا کر ہی نہیں سکتے ، خواہشات نفس اور وقتی مفادات کو دیکھ کر وہ بےبس ہوجاتے ہیں ۔

البقرة 2:65

دوسری جگہ قرآن کریم نے سبت کے احکام کی خلاف ورزی کی تفصیلات بیان کی ہیں ۔ “ اور ذرا ان سے اس بستی کا حال بھی پوچھئے ، جو سمندر کے کنارے واقع تھی ۔ انہیں یاد دلاؤ کہ وہاں کے لوگ سبت (ہفتہ) کے دن احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن ابھر ابھر کر سطح پر ان کے سامنے آتی تھیں اور سبت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں۔ “ (7۔ 213) بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تھی کہ ان کے آرام کے لئے ایک دن کو مقدس قرار دیا جائے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے سبت کے دن کو مقدس قرار دیا اور اس دن دنیاوی معاش کے لئے کوئی کام کرنا حرام قرار دیا۔ اس کے بعد انہیں اس آزمائش میں ڈالا کہ ہفتے کے دن تمام مچھلیاں بڑی کثرت سے دریا کی سطح پر نکل آتیں اور دسرے دنوں میں غائب ہوتیں۔ یہ ایسی آزمائش تھی ، جس کے مقابلے میں یہود نہ ٹھہر سکے ۔ ان کے لئے ثابت قدمی کیسے ممکن تھی ۔ ایسا بہترین شکار بالکل قریب مل رہا تھا ۔ انہیں اس کے سوا اور کیا چاہئے تھا ۔ کیا محض عہدوپیمان کی خاطر وہ اس شکارکو جانے دیتے ۔ یہودیوں سے بہرحال یہ کام نہیں ہونے کا ۔ یہ تو ان کے مزاج کے خلاف ہے ۔ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ ” ہم نے انہیں کہہ دیا کہ بندربن جاؤ اور اس حال میں رہو کہ ہر طرف سے دھتکار پھٹکار تم پر پڑے۔ “ اللہ کا عہد تور کر بہرحال وہ اس سزا کے مستحق بن چکے تھے ۔ وہ اس بات کے مستحق تھے کہ حیوان بن جائیں کیونکہ انسان تو ایک صاحب ارادہ مخلوق ہے اور وہ اس مقام سے نیچے گرگئے تھے۔ ظاہر ہے کوئی حیوان اپنے پیٹ سے بلند ہوکر سوچ نہیں سکتا ۔ چناچہ جونہی انہوں نے انسان کی خصوصیت اولیٰ یعنی ٹھوس اور بلند ارادہ اور خداوند کریم کے ساتھ کئے ہوئے عہد پر قائم رہنے کا عزم صمیم ........ کو ترک کیا تو وہ مقام انسایت سے گر کر بہمیت کے درجے میں آگئے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کے جسم بھی بندر کے جسموں میں تبدیل ہوگئے ہوں ۔ ہوسکتا ہے کہ روح ، فکر ، شعور اور مزاج کے اعتبار سے وہ بندر بن گئے ہوں اور بندروں جیسی حرکتیں کرتے ہوں کیونکہ فکر کا پر تو ہمیشہ چہرے ، شکل وہیبت اور حرکات سکنات پر پڑتا ہے ۔ انسان کی ظاہری حالت پر اس کی فکر کے گہرے اثرات پڑتے ہیں ۔

البقرة 2:66

یہ واقعہ اس دور میں اور اس کے متصلاً مابعد کے ادوار میں مخالفین حق کے لئے ایک نہایت ہی عبرت آموز واقعہ تھا اور مومنین کے لئے ہر دور میں یہ ایک بہترین نصیحت ہے فَجَعَلْنَاهَا نَكَالا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ ” اس طرح ہم نے ان کے انجام کو ، اس زمانے کے لوگوں اور بعد کی آنے والی نسلوں کے لئے عبرت اور ڈرنے والوں کے لئے نصیحت بناکر چھوڑا “ اس سبق کے آخر میں اب گائے ذبح کرنے کا مشہور قصہ بیان کیا جاتا ہے ۔ یہ قصہ ایک کہانی کی شکل میں بڑی تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے ۔ اور اس سے قبل سورت میں بنی اسرائیل کے جو تاریخی واقعات بیان ہوئے ہیں ، ان میں اجمال واختصار سے کام لیا گیا ہے ۔ کیونکہ وہ تمام واقعات سورة بقرہ سے پہلے نازل ہونے والی مکی سورتوں میں بیان ہوچکے تھے لیکن یہ واقعہ کسی دوری جگہ بیان نہیں ہوا تھا ۔ یہ قصہ بنی اسرائیل کی لجاجت ، نافرمانی اور تعمیل حکم میں لیت ولعل اور عذر سازی کی واضح تصویر کھینچ کر رکھ دیتا ہے ، جس میں مدینہ کے یہودی ممتاز تھے ۔

البقرة 2:67

اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کی جان لی تھی۔ پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے اور اللہ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو ، اسے کھول کر رکھ دے گا ، اس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگاؤ۔ دیکھو اس طرح اللہ مردوں کو زندگی بخشتا ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔ “ قرآن کریم نے یہ قصہ اس انداز میں بیان کیا ہے ، اس کے کئی پہلو غور وفکر ہیں ۔ اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے قومی مزاج اور ان کی موروثی جبلت کو اچھی طرح اجاگر کردیتا ہے ۔ نیز اس سے موت وحیات کی حقیقت ، موت کے بعد اٹھائے جانے کی کیفیت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت بےپایاں کا اظہار بھی ہوتا ہے ، پھر اس قصے میں بیان اور طرز ادا کی فنی خوبیاں بھی قابل لحاظ ہیں۔ قصے کا آگاز ، اس کی انتہا اور سیاق وسباق سے اس کی ہم آہنگی قابل غور ہیں۔ مختصراًیہ کہ بقرہ کے اس قصے میں بنی اسرائیل کے قومی خدوخال بڑی خوبی سے ظاہر کئے گئے ہیں ، معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت کہ اس صاف و شفاف سرچشمے وحی الٰہی اور ان کے دلوں کے رابطے ٹوٹ چکے ہیں۔ ایمان بالغیب ، اللہ پر توکل ، اور اصولوں پر نازل شدہ ہدایت الٰہی کی تصدیق سے محروم ہوچکے ہیں ۔ اللہ کے احکام وہدایات کے قبول کرنے میں وہ ہر وقت متأمل ہیں اور پس وپیش کرتے ہیں ۔ ہر وقت جھوٹے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں اور بارہا اپنی چرب زبانی اور دل کی بےباکی کی وجہ سے وہ شعائر دین کے ساتھ مذاق کرنے پر اترآتے ہیں ۔ ان کے پیغمبر انہیں اللہ کا صاف صاف حکم سناتے ہیں ۔” اللہ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم گائے ذبح کرو ۔ “ ظاہر ہے کہ یہ حکم اپنے الفاظ میں بالکل صاف اور واضح تھا اور اس پر عمل کیا جاسکتا تھا ۔ حکم سناننے والے نبی ان کے وہ محبوب رہنما تھے ، جن کی قیادت میں اللہ نے انہیں فرعونیوں کے دردناک عذاب سے نجات دی تھی اور نجات کا یہ کام اللہ کی خاص رحمت ، نگرانی اور ہدایات کے مطابق ایک حیرت انگیز معجزانہ انداز میں اپنے انجام کو پہنچا تھا ۔ ان کے نبی نے انہیں واضح طور پر بتادیا کہ یہ کوئی ان کی ذاتی رائے یا ذاتی حکم نہیں ہے بلکہ یہ اس رب ذوالجلال کا حکم ہے جس کی ہدایات کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر چل رہے ہیں ۔ اب ذرا غور کیجئے ! یہ لوگ اس جلیل القدر نبی کو کیا جواب دیتے ہیں ؟ نہایت گستاخی ، حماقت اور بےحیائی سے وہ اپنے نبی سے کہتے ہیں کہ کیا وہ ان کے ساتھ مذاق کررہا ہے ۔ ان کی بےحیائی تو دیکھئے کہ ان کے نزدیک گویا الہ کی معرفت رکھنے والا ایک عام آدمی بھی نہیں ، بلکہ اللہ کے جلیل القدر نبی اور کسی عام معاملے میں بھی نہیں ، بلکہ کے اللہ کے نام پر اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے معاملے میں برسرعام اور لوگوں کے سامنے مذاق کرسکتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا کیا تم ہم سے مذاق کررہے ہو۔ “ اس احمقانہ اور سفیہانہ بہتان کے جواب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نعوذبا للہ پڑھنے کے سوا اور کر ہی کیا کرسکتے تھے ، چناچہ آپ بڑی نرمی کے ساتھ اشاروں اور کنایوں میں انہیں سمجھاتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں کس قدر ادب واحترام لازم ہے ۔ آپ انہیں سمجھاتے ہیں کہ انہوں نے جو بہتان باندھا ہے اس کا ارتکاب وہی کرسکتا ہے جو بارگاہ قدس کے آداب واحترام سے واقف ہو ۔ اور اس کے دل میں اللہ کی عظمت اور قدر ومنزلت ہو ۔ چناچہ آپ نے کہا قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ موسیٰ نے کہا ، میں اس سے پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں۔ “ یہ ہے ہدایت و رہنمائی ان کے لئے کافی تھی کہ اب وہ ہوش میں آجائیں ، اپنے رب کی طرف لوٹیں اور اپنے نبی کے حکم کی تعمیل کریں لیکن بہرحال وہ بنی اسرائیل تھے ۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ حکم آئے اور وہ عمل پیرا ہوجائیں۔

البقرة 2:68

ان کے لئے یہ ممکن تھا ، جب کہ حکم بالکل آسان تھا ، کہ وہ کسی گائے کو پکڑتے اور ذبح کر ڈالتے ، اور اس طرح بسہولت وہ اللہ کے حکم پر عمل پیرا ہوجاتے اور اپنے لیڈر اور اپنے نبی کا اشارہ ملتے ہی اسے نافذ کردیتے ۔ لیکن اس وقت ان کی فطرت حیلہ ساز جاگ اٹھتی ہے ، اور اپنے موروثی مزاج سے مغلوب ہوکر وہ پوچھنے لگتے ہیں قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا هِيَ ” بولے ! اچھا ، اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہمیں اس گائے کی کچھ تفصیل بتائے ۔ “ انہوں نے اپنا سوال جن الفاظ میں بیان کیا ، وہ الفاظ ہی یہ ظاہر کررہے ہیں کہ انہیں اب بھی اس بارے میں شک ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مذاق کررہے ہیں ۔ یہ سنجیدہ ہیں وہ پہلے تو کہتے ہیں کہ اپنے رب سے درخواست کرو گویا موسیٰ (علیہ السلام) کا رب صرف اسی کا ہے اور وہ ان کا رب نہیں ہے ۔ یا گویا ، اس سوال کا تعلق صرف موسیٰ ہی سے ہے ، انہیں اس سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے ۔ یہ صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے رب کا معاملہ ہے ۔ پھر وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے معلوم کرکے بتائے کہ وہ گائے ” کیا ہے “ یہاں مقصد تو یہ تھا کہ گائے کیسی ہو ، لیکن بطور استہزا اور انکار پوچھتے ہیں کہ ” گائے ! گائے کیا چیز ہوتی ہے ؟ “ گویا وہ گائے کی ماہیت سے واقف نہیں۔ گائے کیسی ہو ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں صاف صاف بتادیا تھا کہ وہ گائے ذبح کریں تعمیل حکم کے لئے وہ کافی ہوگی ۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے سوال کو نظرانداز کرکے انہیں صحیح جواب دیتے ہیں اور انہیں راست پر لانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہ ان کے اصلی سوال کا جواب دے کر ان کے ساتھ گائے کی ماہیت پر فلسفیانہ بحث و مباحثہ نہیں شروع کرتے ، بلکہ انہیں اس طرح جواب دیتے ہیں جس طرح ایک مصلح اور مربی ، ایسے لوگوں کو دیا کرتا جبکہ اللہ تعالیٰ ایسے احمقوں اور فاسقوں کو راہ ہدایت پر لانے کے مشکل کام میں لگا کر آزماتا ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) انہیں گائے کے بارے میں کہتے ہیں قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لا فَارِضٌ وَلا بِكْرٌ عَوَانٌ بَيْنَ ذَلِكَ کہا کہ اللہ کا ارشاد ہے کہ وہ ایسی گائے ہونی چاہئے جو نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا ہو ، بلکہ اوسط عمر کی ہو ۔ “ یعنی نہ بہت بوڑھی ہو اور نہ بالکل جوان ہو بلکہ اقوسط درجے کی ہو ، لیکن اس مجمل بیان کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پھر انہیں نصیحت کرتے ہیں اور بتاکید انہیں کہتے ہیں ۔ فَافْعَلُوا مَا تُؤْمَرُونَ ” بس جو حکمدیا جارہا ہے اس کی تعمیل کرو۔ “ یہاں تک جو گفتگو ہوئی ، اگر بنی اسرائیل حکم کی تعمیل چاہتے تو یہ کافی وشافی تھی ۔ اس گفتگو سے انہیں تسلی ہوجانی چاہئے تھی ، دومرتبہ یہ جلیل القدر پیغمبر انہیں جادہ مستقیم پر لاچکے اور بارگاہ اقدس میں سوال و جواب اور وہاں سے استفادہ کرنے کے آداب بھی انہیں سمجھا چکے ، دوبارہ انہیں بتاچکے کہ بس آگے بڑھیں اور اپنی گائیوں میں سے کسی اوسط درجے کی گائے ذبح کرڈالیں ۔ نہ بوڑھی ہو اور نہ ہی بہت چھوٹی ، ادھیڑ عمر کی ہو ، اس طرح وہ اس فرض کی ادائیگی سے جلدبری الذمہ ہوجائیں اور اسے ذبح کرکے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرڈالیں اور اپنے آپ کو مزید قیود وحدود اور تنگی ومشقت میں نہ ڈالیں ........ لیکن وائے ناکام ! بنی اسرائیل بہرحال بنی اسرائیل تھے !

البقرة 2:69

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا لَوْنُهَا ” پھر کہنے لگے ، اپنے رب سے یہ اور پوچھ دو کہ اس کا رنگ کیسا ہو ؟ “ یوں سہ بارہ وہ کہتے ہیں ۔” اپنے رب سے یہ اور پوچھ دو “ اس لئے ان کے اصرار و تکرار کے نتیجے میں یہ ضروری ہوگیا کہ بالتفصیل انہیں جواب دیا جائے ۔ چناچہ جواب آیا قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَاءُ فَاقِعٌ لَوْنُهَا تَسُرُّ النَّاظِرِينَ ” موسیٰ نے کہا ” وہ فرماتے ہیں زرد رنگ کی گائے ہونی چاہئے جس کا رنگ ایسا شوخ ہو کہ دیکھنے والوں کا جی خوش ہوجائے۔ “ یوں ان بدبختوں نے اپنا وسیع دائرہ اختیار کم کردیا۔ اس سے پہلے اس حکم میں بڑی وسعت اور گنجائش تھی لیکن اب وہ صرف کوئی ایک گائے ذبح کرنے کے مکلف نہیں ، بلکہ ایک ایسی گائے انہیں ذبح کرنی ہے جو ادھیڑ عمر کی ہو ، نہ بوڑھی ہو اور نہ بچھیا ہو ، پھر اس کا رنگ بھی زرد ہو اور اس میں بھی شوخ رنگ گائے ہو ۔ پھر وہ دبلی پتلی اور بدصورت بھی نہ ہو بلکہ ایسی ہو کہ اسے دیکھ کر جی خوش ہوجائے اور ظاہر ہے کہ دیکھنے والے کا سرور تب ہی مکمل ہوسکتا ہے کہ جب مطلوبہ گائے خوب موٹی تازی ، حیات ونشاط سے بھرپور ، اچھلتی کودتی چمکدار ہو ۔ کیونکہ مویشیوں میں یہ صفات لوگوں کے نزدیک پسندیدہ صفات ہیں اور لوگ بالعموم زندگی سے بھرپور اور متوسط عمر کے اور خوبصورت جانوروں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور دبلے پتلے ، بدصورت جانوروں سے نفرت کرتے ہیں ۔ غرض اب تک بنی اسرائیل نے لیت ولعل سے کام لیا ۔ غالباً وہ کافی بلکہ ضرورت سے بھی زیادہ تھا۔ لیکن وہ اب بھی بس نہیں کرتے ۔ اپنی غلط روش میں آگے بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں ، معاملے کو اور پیچیدہ بناتے چلے جاتے ہیں ۔ اپنے اوپر اور سختی کررہے ہیں ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ بھی ان کی روش کے مطابق اپنے حکم اور سخت کرتے چلے جاتے ہیں ۔ اس قدر تفصیلات آچکنے کے بعد ، وہ اچانک دوبارہ گائے کی ماہیت اور حقیقت کو پوچھنے لگتے ہیں ۔

البقرة 2:70

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا هِيَ ” پھر بولے ، اپنے رب سے صاف صاف پوچھ کر بتاؤ ، کیسی گائے مطلوب ہے ؟........“ اس سوال اور لیت ولعل کا عذر وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ معاملہ ان کے لئے موجب اشتباہ بن گیا اور گائے کے تعین میں بڑی مشکل پیش آرہی ہے ۔إِنَّ الْبَقَرَ تَشَابَهَ عَلَيْنَا ” ہمیں اس گائے کے تعین میں اشتباہ ہوگیا ہے “ اب آکر انہیں اپنی لجاجت اور جھگڑالو پنے کا قدرے احساس ہوجاتا ہے ۔ اور بادل نخواستہ ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں۔ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمُهْتَدُونَ ” اللہ نے چاہا تو ہم اس کا پتہ پالیں گے۔ “

البقرة 2:71

غرض اس نہ ختم ہونے والی لجاجت اور مباحثے کے نتیجے میں اس کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہ تھا کہ اس حکم کو مزید پیچیدہ اور سخت کردیا جائے اور انتخاب واختیار کا وسیع دائرہ انہیں فراہم کیا گیا تھا ، اسے مزید تنگ اور محصور کردیا جائے اور مطلوبہ گائے کے اندر چند مزید اوصاف کا اضافہ کردیاجائے ، جبکہ پہلے ان اوصاف کی ضرورت نہ تھی اور حکم کی تعمیل کا دائرہ وسیع تر رکھا گیا تھا۔ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لا ذَلُولٌ تُثِيرُ الأرْضَ وَلا تَسْقِي الْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فِيهَا ” موسیٰ نے کہا ! اللہ کہتا ہے وہ ایسی گائے ہو جس سے خدمت نہیں لی جاتی ہو ، نہ زمین جوتتی ہے ، نہ پانی کھینچتی ہے صحیح سالم اور بےداغ ہے۔ “ اب وہ گائے صرف شوخ اور دل کو لبھانے والے زرد رنگ کی متوسط عمر کی گائے ہی نہ رہی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایسی گائے بن گئی جو کوئی محنت نہیں کرتی ، ہل نہیں جوتتی ، پانی نہیں کھنچتی اور ہے بھی خالص رنگ اس میں کوئی داغ نہیں ہے ۔ یہاں آکر اب ان کا دماغ درست ہوتا ہے ۔ معاملے کو مشکل تر بنانے ، زیادہ سے زیادہ شرائط عائد کرانے اور اپنے دائرہ عمل کو آخری حد تک تنگ کرانے کے بعد اب وہ پکار اٹھتے ہیں ۔ قَالُوا الآنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ ” اس پر وہ پکار اٹھے ! ہاں اب تم نے ٹھیک پتہ بتایا۔ “ ” اب “ گویا اس سے پہلے جو کچھ آپ فرما رہے تھے وہ حق نہ تھا ، گویا اس لمحہ ہی میں انہیں یہ یقین ہورہا ہے کہ حضرت موسیٰ جو کچھ پیش فرما رہے ہیں وہ حق ہے ۔ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا يَفْعَلُونَ ” پھر انہوں نے گائے کو ذبح کیا ورنہ وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔ “ جب وہ حکم الٰہی پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں اور فریضہ الٰہی کو ادا کردیتے ہیں ، تو اب یہاں پوری کہانی کے آخر میں ، اللہ تعالیٰ انہیں بتاتے ہیں کہ اس نے گائے کو ذبح کرنے کا حکم کیوں دیا تھا۔

البقرة 2:72

یہاں آکرہم قصہ بقرۃ کے ایک دوسرے پہلو تک آپہنچتے ہیں۔ یہ پہلو اللہ تعالیٰ کی قدرت بےپایاں کا اظہارکررہا ہے ۔ اس سے موت وحیات کی حقیقت اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی کیفیت معلوم ہوتی ہے اور یہاں اسلوب کلام ، کہانی کے انداز کے بجائے خطاب کی شکل اختیار کرجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے لئے گائے کو ذبح کرنے کا حکم کی حکمت کھول دیتے ہیں ۔ واقعہ یہ تھا کہ انہوں نے ایک شخص کو قتل کیا تھا ، اور ہر آدمی اپنے آپ کو اس قتل کے الزام سے بری قرار دے کر دوسرے پر الزام لگاتا تھا اور کوئی گواہ نہ تھا ۔ اللہ تعالیٰ کی مشیئت نے چاہا کہ مقتول خود صداقت کو ظاہر کردے اور اس شہادت حق سے پہلے گائے کا ذبح کیا جانا دراصل ادائیگی شہادت کا ایک ظاہری ذریعہ تھا ۔ یوں کہ بقرہ کے گوشت اسے مارتے ہی اس نے زندہ ہوجانا تھا ۔ چناچہ ایسا ہی ہوا ، انہوں نے اسے ذبح شدہ گائے کے ایک ٹکڑے سے مارا اور وہ زندہ ہوگیا ۔ تاکہ وہ خود اپنے قاتل کی نشاندہی کردے اور ان تمام شکوک و شبہات کو ختم کردے جو اس کے قتل کے مسئلے میں پھیلے ہوئے تھے ، اور یوں صداقت محکم ترین دلائل کے ساتھ سامنے آجائے ۔ حق حق ہوجائے اور باطل باطل ۔ دودھ ، دودھ اور پانی ، پانی ۔ سوال یہ ہے کہ اس ظاہری وسیلہ اور سبب کیا ضرورت تھی ؟ اللہ تعالیٰ تو اس کے بغیر بھی مردوں کو زندہ کرسکتا ہے ، بغیر کسی وسیلے اور ذریعے کے بھی ۔ سوال یہ ہے کہ ذبح شدہ گائے اور زندہ کئے جانے والے مقتول کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟

البقرة 2:73

بنی اسرائیل کی عادت کے مطابق ، ان کے ہاں بطور قربانی اور تقرب الی اللہ گائے ذبح ہوا کرتی تھی ، رہا یہ منظر کہ ایک بےجان قطعہ لحم ایک بےجان مقتول کے اندر بظاہر زندگی کے آثا رپیدا کردیتا ہے ، تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ گوشت کا ٹکڑا محض ظاہری سبب ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت ماہرہ کا اظہار کررہا ہے ، جس کی حقیقت تک پہنچنا انسان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے ۔ لوگ اس کا اثر اور نتیجہ تو اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہے ہیں ۔ لیکن مردے کو جلانے کا یہ طریق کاران کے فہم سے باہر ہے ۔ كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى ” وہ مردوں کو کیوں کر زندہ کرتا ہے ؟ یوں جیسا کہ تم بچشم سر دیکھ رہے ہو ، لیکن اسکے باوجود اس کی حقیقت سے بیخبر ہو۔ نہیں جانتے کہ وہ کیوں کر زندہ ہوا ؟ مقصد یہ ہے کہ ایسی ہی بےمشقت اور بڑی سہولت سے اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کردے گا۔ موت وحیات کی نوعیت کے درمیان کس قدر بعد ہے۔ اس فرق سے سر چکراجاتے ہیں لیکن قدرت الٰہی کے مقابلے میں موت سے حیات اور حیات سے موت ایک معمولی اور آسان عمل ہوتا ہے ، کیونکر ؟ بس یہی وہ بات ہے جو ہر انسان کے ادراک سے وراء ہے ۔ اسے کوئی نہیں پاسکتا ۔ موت وحیات کے بھید کو پانا اور اصل اسرار الٰہیہ کو پانا ہے اور اس جہان لافانی میں اللہ کے اس راز تک رسائی پانا ممکن نہیں ہے ۔ اگرچہ انسان اس بھید اور راز پر غور کرکے اس سے نصیحت اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ” اور اللہ تعالیٰ نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔ “ اب ہم حسن ادا اور سیاق وسباق سے اس کی ہم آہنگی پر آتے ہیں ۔ یہ ایک مختصر قصہ ہے ، جس کا آغاز بھی نہایت مجمل انداز میں ہوتا ہے ۔ ابتداء میں ہمیں یہ تک معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم کیوں دیتے ہیں ؟ جیسا کہ خود بنی اسرائیل کو بھی یہ معلوم نہ تھا کہ انہیں یہ حکم کیوں دیا جارہا ہے ؟ یوں بنی اسرائیل کے جذبہ اطاعت اور جذبہ تسلیم ورضا کو آزمایا جاتا ہے ۔ اس کے بعد اصل قصہ شروع ہوجاتا ہے ۔ بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ کے مابین گفتگو شروع ہوتی ہے ہے ۔ یہ بات بڑھتی جاتی ہے اور دوسری جانب اللہ تعالیٰ بھی اس گفتگو میں برابر شریک ہیں لیکن معلوم نہیں ہوسکتا کہ حضرت موسیٰ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کیا گفتگو ہوئی ؟ حالانکہ وہ ہر بار آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے پوچھ کر بتائیں اور آپ بھی پہلے اپنے رب سے پوچھتے اور پھر جواب انہیں سنادیتے ۔ اگرچہ سیاق کلام میں یہ بات نہیں ہے کہ آپ نے اللہ سے کیا پوچھا اور اللہ نے اس کا کیا جواب دیا ، یہ سکوت اور یہ خاموشی اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور برتری اور علومرتبت سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے ۔ بنی اسرائیل جس طریقہ سے گفتگو کرنے کے عادی تھے اور جس طرح گفتگو بالخصوص اس واقعہ میں وہ کررہے تھے ، ہرگز مناسب نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضرت موسیٰ کے سوال و جواب کا بھی اس میں ذکر کیا جائے۔ آخر میں اچانک ........ جیسا کہ اس وقت بنی اسرائیل کے لئے یہ بات بالکل خلاف توقع تھی ۔ بنی اسرائیل کو حکم ہوتا ہے کہ وہ مذبوحہ بقرہ کے مردہ اور بےجان ٹکڑے کو مقتول پر ماریں اور دیکھیں کہ وہ کس طرح زندہ ہوجاتا ہے اور بات کرتا ہے ۔ حالانکہ بقرہ کے گوشت میں نہ زندگی تھی اور نہ زندگی کا کوئی سامان تھا۔ غرض قرآن کریم کے دیگر مختصر بہترین قصوں کی طرح اس مختصر قصے میں حکیمانہ موضوع سخن کے عین مطابق ، نہایت ہی حکیمانہ طرزادا اختیار کی گئی ہے۔ قصے کے اس آخری منظر کے اختتام پر اور اس قصے سے پہلے کے عبرت انگیز مظاہر اور سبق آموز واقعات کے نتیجے کے طور پر اس بات کی توقع تھی کہ اب تو بنی اسرائیل کے دل پگھل جائیں گے اور ان کے دلوں میں خوف خدا اور تقویٰ کے جذبات امڈ آئیں گے ۔ لیکن ہمارے تعجب کی انتہاء نہیں رہتی جب ہم دیکھتے ہیں کہ کلام کا خاتمہ بالکل خلاف توقع ان الفاظ پر ہوتا ہے۔

البقرة 2:74

یہاں ان کے دلوں کو پتھروں سے تشبیہ دی جاتی ہے اور جب ان کا مقابلہ پتھروں کے ساتھ کیا جاتا ہے تو وہ ان سے بھی سخت اور خشک تر نکلتے ہیں ۔ جیسے پتھروں سے یہاں انہیں تشبیہ دی جارہی ہے ۔ وہ بنی اسرائیل کے علم میں ہے ۔ اس سے قبل وہ یہ منظر دیکھ چکے تھے کہ ایک پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے تھے ........ وہ یہ بھی دیکھ چکے تھے کہ جب تجلیات الٰہی کا ایک پرتو پہاڑ پر پڑا تو ہو ریزہ ریزہ ہوگیا تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بیہوش ہوکر گر پڑے تھے ۔ لیکن ان کے دل اس قدر سخت ہیں کہ ان کے اندر کسی قسم کی کوئی نرمی یا تروتازگی پیدا نہیں ہوتی ۔ ان میں خوف خدا سے دھڑکن نہیں پیدا ہوتی بلکہ وہ نہایت سخت ، خشک ، بنجر اور پتھردل ہیں ۔ اس لئے کہ انہیں ان الفاظ میں تنبیہہ کی جاتی ہے ۔ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ” اللہ تمہارے کرتوتوں سے بیخبر نہیں ہے۔ “ ان الفاظ پر بنی اسرائیل پر تنقید اور ان کی طویل تاریخ ........ کفر ، تکذیب انبیاء ، مکروفریب۔ فسق وفجور ، حکم عدولی وسرکشی ، بےخوفی و سنگدلی اور لجاجت اور چالاکی سے بھرپور تاریخ پر بحث کا پہلا حصہ یہاں ختم ہوجاتا ہے۔ درس 5 ایک نظر میں اس سے قبل ہم نے جس ٹکڑے کی تشریح کی ہے ، اس میں خاتمہ کلام بنی سرائیل کے لئے یاد دہانی اور تذکیر پر ہوا تھا اور یہ بتایا گیا تھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ان پر انعامات کی بارش کرتا رہا اور اس کے مقابلے میں یہ لوگ کس ثابت قدمی سے بار بار کفران نعمت کرتے رہے ۔ وہاں کہیں بسط کے ساتھ اور کہیں اختصار کے ساتھ ساتھ اللہ کے انعامات اور بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کے واقعات اور مشاہدات بیان کئے گئے تھے ۔ بیان کا خاتمہ اس فیصلے پر ہوا تھا کہ بنی اسرائیل کے دل قبول ہدایت کے معاملے میں اس قدر سخت ، خشک اور بنجر ہوچکے ہیں جیسے مضبوط پتھر ہوتے ہیں ، بلکہ سنگدلی اور خشکی میں ان کے دل پتھروں سے بھی کہیں زیادہ سخت ہوگئے ہیں ۔ اب ان زیر بحث آیات میں روئے سخن اسلامی جماعت کی طرف پھرجاتا ہے اور مسلمانوں کے سامنے ان کی کہانی بیان ہوتی ہے اور انہیں بتایا جاتا ہے کہ بنی اسرائیل کس قدر مکار اور فتنہ پرداز قوم ہے ۔ ان کی فطرت اور ان کی طویل تاریخ کی روشنی میں اسلامی جماعت کو ان کی مکاری اور عیاری سے خبردار کیا جاتا ہے ۔ تاکہ کہیں ان کی فتنہ پردازی اور غلط پروپیگنڈے اور جھوٹے دعوؤں سے متاثر ہوکر مسلمان دھوکہ نہ کھاجائیں ۔ بنی اسرائیل کی مکاری کا یہ طویل بیان اور پھر بار بار اور مختلف پہلوؤں سے اس کا تکرار ، اس بات کو ظاہر کررہا ہے کہ اس دور میں یہودی امت مسلمہ اور دین اسلام کے خلاف کتنے وسیع پیمانے پر سازشیں کررہے تھے اور کس طرح وہ ہر وقت اس تحریک کو نقصان پہنچانے کی تاک میں بیٹھے رہتے تھے ۔ اس لئے اس قدر تفصیلی گفتگو کی ضرورت پیش آرہی تھی۔ دوران گفتگو روئے سخن کبھی بنی اسرائیل کی طرف پھرجاتا ہے تاکہ امت مسلمہ کے سامنے ، انہیں یاد دلایاجائے کہ اللہ نے ان سے کیا کیا وعدے لئے تھے اور انہوں نے کس کس طرح ان وعدوں کو توڑا تھا ۔ کس طرح وہ گمراہ ہوئے ، عہد شکنی کرتے رہے اور پھر انبیاء کرام کی تکذیب کرتے رہے ۔ انہوں نے کئی انبیاء کو قتل بھی کیا۔ کیونکہ وہ ان کی خواہشات نفس کے مطابق نہ چل سکتے تھے ۔ نیزیہ کہ کس طرح انہوں نے اللہ کی شریعت کی خلاف ورزی کی ناجائز بحث وجدال کرتے رہے اور شریعت کے جو قوانین ان کے پاس تھے ان میں تحریف کرتے رہے ۔ مسلمانوں کے ساتھ جو بحث اور مناظرہ اور جو کٹ حجتی وہ کرتے تھے یہاں اس کے کچھ نمونے پیش کئے جاتے ہیں ۔ اور نبی ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ان دعوؤں کی حقیقت کھول دیں اور ان کے دلائل کی کمزوری واضح کردیں اور ان کی باطل سازشوں کے مقابلے میں روشن اور واضح سچائی پیش کریں۔ مثلاً ان کا خیال تھا کہ وہ صرف گنتی کے چند دن ہی جہنم میں رہیں گے ۔ کیونکہ وہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ اور محبوب لوگ ہیں ، اللہ کے ہاں ان کا بلند رتبہ ہے ۔ چناچہ اللہ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ ذرا ” ان سے پوچھیں ، کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لے لیا ہے ، جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کرسکتا ؟ یا یہ بات ہے کہ تم اللہ کے ذمے ڈال کر ایسی بات بات کہہ دیتے ہو ، جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ اس نے اس کا ذمہ لیا ہے۔ “ جب انہیں اسلام کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو وہ کہتے !” ہم تو صرف اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو ہمارے ہاں اتری ہے۔ “ اور اس دائرے باہر جو کچھ آیا ہے اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں ، حالانکہ وہ حق ہے اور اسی تعلیم کی تصدیق وتائید کررہا ہے جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی ۔ چناچہ نبی ﷺ کو یہ ہدایت کی جاتی ہے ۔” اچھا ان سے کہو ، اگر تم اس تعلیم ہی پر ایمان رکھنے والے ہو جو تمہارے ہاں آئی تھی ، تو اس سے پہلے اللہ کے پیغمبروں کو (جو بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے ) کیوں کر قتل کرتے رہے ۔ “ تمہارے پاس موسیٰ کیسی کیسی روشن نشانیوں کے ساتھ آیا ۔ پھر بھی تم ایسے ظالم رہے کہ اس کے پیٹھ موڑتے ہی بچھڑے کو معبود بنابیٹھے ۔ پھر ذرا اس میثاق کو یاد کرو جو کوہ طورکو تمہارے اوپر اٹھاکر ہم نے تم سے لیا تھا ، ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگا کر سنو تمہارے اسلاف نے کہا کہ ہم نے سن لیا مانیں گے نہیں اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں میں بچھڑا ہی بسا ہوا تھا ۔ کہو اگر تم مومن ہو ، تو عجیب ایمان ہے ، جو ایسی بری حرکات کا تمہیں حکم دیتا ہے ۔ “ (البقرہ۔ 93) ان کا دعویٰ یہ تھا کہ اگلا جہاں تو صرف انہی کے لئے ہے ۔ دوسرے لوگوں کو تو وہاں کچھ نہ ملے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو یہ تلقین کی کہ آپ ان کو دعوت مباہلہ دیں اور کسی میدان میں دونوں فریق جمع ہوجائیں اور اللہ سے بدست دعا ہوں کہ ان میں سے جو جھوٹا ہے اللہ اسے مار دے۔” ان سے کہو اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لئے مخصوص ہے ، تب تو تمہیں چاہئے کہ موت کی تمنا کرو ، اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو ۔ “ اس کے بعد اللہ تعالیٰ خود ہی بتادیتے ہیں کہ یہ لوگ ، ہرگز موت کی تمنا نہ کریں گے ۔ “ چناچہ ایسا ہی ہوا ۔ وہ مباہلہ کرنے سے پھرگئے کیونکہ جس چیز کا وہ دعویٰ کررہے تھے انہیں معلوم تھا کہ وہ اس میں جھوٹے ہیں۔ غرض دوران کلام یہودیوں پر کڑی تنقید کی جاتی ہے ۔ ان کی مکاریوں پر سے پردہ اٹھایا جاتا ہے اور مسلمانوں کو ان کے بارے میں محتاط رہنے کی ہدایت دی جاتی ہیں ۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ جماعت مسلمہ کی صفوں میں خفیہ سازشوں کے ذریعے ، انتشار پیدا کرنے کی جو کوششیں اس یہودی کررہے تھے ، ان کا زور توڑا جائے اور مسلمانوں کو چوکنا کردیا جائے ۔ آج بھی امت مسلمہ کو یہودیوں کی اسی مکاری اور فریب کاری کا سامنا ہے ۔ جس کا سامنا کبھی مدینہ طیبہ میں امت مسلمہ کے اسلاف کو تھا لیکن نہایت افسوس کے ساتھ یہ بات کہنی پڑتی ہے کہ امت مسلمہ ان قرآنی آیات سے اس طرح فائدہ نہیں اٹھارہی جس طرح امت کے اسلاف نے اس ربانی ہدایات سے فائدہ اٹھایا تھا اور جس کے نتیجے میں وہ مدینہ طیبہ میں یہودیوں کی مکاری اور عیاری پر غالب آئے تھے ۔ حالانکہ اس وقت دین اسلام نیا تھا اور جماعت مسلمہ ابھی ابھی تشکیل پائی تھی ۔ اس وقت سے لے کر آج تک یہودی اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ امت مسلمہ کو قرآن کریم سے دور ہٹادیں ۔ مسلمان اپنے دین کو چھوڑ دیں ۔ کیونکہ یہودیوں کو شدیدخطرہ ہے کہ کہیں مسلمان ان کے خلاف وہی قرآنی ہتھیار کام میں لانا شروع کردیں اور ان کی مکاری اور سازشوں سے بچنے کے لئے وہ تدابیر نہ کریں جو ان کے بچاؤ کی حقیقی تدابیر ہیں اور کارگر بھی ہیں ۔ کیونکہ یہودی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک امت مسلمہ اپنی شوکت اور برتری کے ان حقیقی سرچشموں سے محروم ہے یہودی امن وچین سے رہ سکتے ہیں ۔ لہٰذا یہ ایک حقیقت ہے اس امت کو جو شخص بھی قرآن کریم اور دین اسلام سے دور کرتا ہے وہ یہودیوں کا ایجنٹ ہے ۔ چاہے وہ یہ کام شعوری طور پر کررہا ہو یا غیر شعوری طور پر ، بالارادہ کررہاہو جو بلا ارادہ۔ کیونکہ جب تک یہ امت ایک حقیقت یعنی حقیقتاً ایمانی ، ایمانی نظام زندگی اور ایمانی شریعت اور اسلامی قانون سے دور اور غافل ہے ۔ اس وقت تک یہودیت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امت مسلمہ کا وجود ، اس کی قوت اور اس کی برتری کا حقیقی اور منفرد سرچشمہ صرف ایک ہے یعنی ایمان اور اسلام ۔ یہی ایک راہ ہے اور رہنمائی کرنے والے یہی نشانات ہیں جن پر چل کر ایک مسلمان منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے۔

البقرة 2:75

گزشتہ درس کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے قلوب کی حالت کا جو نقشہ کھینچا تھا۔ اس سے ہمیں معلوم ہوا تھا کہ وہ نہایت سنگدل ، خشک اور ناقابل تغیر دل و دماغ کے مالک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ایسے پتھروں سے تشبیہ دی تھی جو نہایت ہی ٹھوس تھے اور جن میں پانی کا کوئی قطرہ برآمد نہ ہوتا تھا ۔ اس قدر کھردرے تھے کہ انسان ان پر سہولت سے ہاتھ نہیں پھیر سکتا تھا ۔ ان کے اندر کسی چیز کا اگنا یا ان کے اندر زندگی کے آثار پیدا ہونا تو یہ سرے سے ممکن ہی نہ تھا۔ یہ ایک ایسی تصویر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اس جامد دماغ ایسی پست فطرت اور ایسی بےلچک متعصبانہ ذہنیت کی وجہ سے اس قابل ہی نہیں رہے کہ راہ ہدایت پر آجائیں ۔ چناچہ اس تصویرکشی اور ان کی طرف سے مایوس ہوجانے کے بعد اس اشارے کے بعد کلام کا رخ بعض ایسے مسلمانوں کی طرف پھرجاتا ہے جو اب بھی یہ خیال کرتے تھے کہ شاید بنی اسرائیل راہ ہدایت پر آجائیں ۔ ایسے لوگ کوشش کرتے تھے کہ بنی اسرائیل کے دلوں میں ایمان انڈیل دیں ، کسی طرح انہیں ایمان کی روشنی کی طرف لے آئیں ۔ قرآن کریم اس طرز پر سوچنے والے مومنین کو سوالیہ انداز میں مایوس کردیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ اس سلسلے میں ان کے دلوں میں امید کی جو آخری کرن ہے اسے بھی دل سے نکال دیں۔ أَفَتَطْمَعُونَ أَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلامَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ” اے مسلمانو ! اب کیا تم ان لوگوں سے یہ توقع رکھتے ہو کہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے ؟ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی ۔ “ خبردار ! ایسے لوگوں کے ایمان لانے کی کوئی امید نہیں ہے ۔ ایمان لانے والوں کا مزاج ہی دوسرا ہوتا ہے ان میں کچھ دوسری ہی صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔ ایمان لانے والی طبیعت نرم ، سادہ اور سہل ہوتی ہے ، اس کے دل و دماغ کے دریچے ہر قسم کی روشنی کے لئے کھلے ہوتے ہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ازلی وابدی سرچشمہ ہدایت سے جڑنے اور سیراب ہونے کے لئے ہر وقت وہ تیار ہوتی ہے۔ اس کے اندر احساس ، احتیاط اور خدا خوفی ہوتی ہے اور یہ خدا خوفی اس بات سے روکتی ہے کہ خدا کے کلام کو سن کر ، اسے سمجھ کر پھر اس میں تحریف کرے۔ محض ذاتی خواہش کے لئے اور محض تعصب کی خاطر کلام الٰہی میں تحریف کرے کیوں کہ ایمان لانے والی طبیعت ، بالکل سیدھی سادھی ہوتی ہے اور وہ اس قسم کی کجروی اور بات کو توڑ موڑ کر پیش کرنے سے محترز رہتی ہے۔ پھر یہاں جس طبقے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ (یہود) سب سے زیادہ تعلیم یافتہ طبقہ ہے۔ اور اس سچائی کو سب سے زیادہ جاننے والا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی کتاب میں اتاری ۔ جیسے علمائے یہود کا طبقہ ، جو ان کے نبی پر اتری ہوئی کتاب تورات کو سنتے تھے ، سمجھتے تھے لیکن اس کے باوجود اسے بدل ڈالتے تھے اور اس میں ایسی تاویلات کرتے تھے کہ بات کچھ کی کچھ بن جاتی تھی اور یہ بات وہ اس لئے نہ کرتے تھے کہ انہیں کلام کا صحیح محل معلوم نہ تھا بلکہ وہ یہ حرکت سوچ سمجھ کر بالارادہ کیا کرتے تھے اور یہ جانتے ہوئے کرتے تھے کہ وہ تحریف کررہے ہیں ۔ خواہشات نفس اور مصلحت کے ہاتھ میں ان کے فکر وعمل کی لگام تھی اور ذلیل اغراض کے نغموں کے پیچھے مست ہوکر دوڑ رہے تھے ۔ جب وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے ، جس پر ان کا ایمان بھی تھا تو قرآن کریم جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا ، اس کے ساتھ تو انہیں اس سے بھی بدتر سلوک کرنا ہی تھا کیونکہ وہ حضرت محمد ﷺ پر سرے سے ایمان ہی نہ لائے تھے ۔ لہٰذا اپنی اس خراب ذہنیت اور باطل رویے پر وہ جان بوجھ کر اصرار کرتے تھے ۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی ذہنیت خراب ہے اور یہ کہ وہ سوچ سمجھ کر باطل پر اصرار کررہے ہیں یا پھر ان کی جانب سے دعوت اسلامی کی یہ مخالفت اور تحریک اسلامی کے خلاف سازشیں اور بہتان تراشیاں کوئی خلاف توقع امر نہیں رہتا۔

البقرة 2:76

وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلا بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالُوا أَتُحَدِّثُونَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَاجُّوكُمْ بِهِ عِنْدَ رَبِّكُمْ أَفَلا تَعْقِلُونَ ” جب محمد رسول اللہ کے ماننے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی انہیں مانتے ہیں اور جب آپس میں تخلئے کی بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں ۔ بیوقوف ہو ! ان لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولیں ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے مقابلے میں انہیں حجت میں پیش کریں۔ “ کیا تم ان سے توقع رکھتے ہو کہ وہ تمہاری بات مان جائیں گے ؟ حالانکہ وہ نہایت غیر ذمہ دار ، حق کو چھپانے والے اور کلام اللہ میں تحریف کرنے والے لوگ ہیں ۔ ریاء ، فریب کاری ، منافقت اور چالبازی جیسے مفاسد ان کی جبلت میں داخل ہوگئے ہیں ۔ پھر ان میں بعض ایسے بھی تھے کہ جب مسلمانوں سے ملتے تو کہتے ہم بھی ایمان لاچکے ہیں ۔ یعنی نبی ﷺ کی رسالت پر ایمان لاچکے ہیں کیونکہ ان کے ہاں تورات میں نبی آخرالزماں کے بارے میں واضح بشارتیں موجود تھیں اور وہ نبی آخرالزماں کی بعثت کا شدت سے انتظار کررہے تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کرتے تھے کہ وہ نبی آخرالزماں کے ذریعے انہیں کفار پر فتح عطاکرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ کَانُوا مَن قَبلُ یَستَفتِحُونَ عَلَی الَّذِینَ کَفَرُوا ” وہ اس سے قبل کفار پر دعائے فتح مندی مانگا کرتے تے۔ “ لیکن جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ تنہائی میں ملتے ، تو ایک دوسرے کو اس بات پر سخت تنبیہ کرتے کہ کیوں وہ مسلمانوں کو وہ باتیں بتا رہے ہیں جو آپ کی رسالت کی صداقت کے بارے میں تورات میں مذکور ہیں ، کہتے ہیں ، بیوقوف ہوگئے ہو ! ان لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولیں ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے مقابلے میں انہیں حجت میں پیش کریں ۔ “ اس طرح تم پر حجت قائم کردیں گے ۔ یہاں ان کا مخصوص مزاج جو معرفت الٰہی سے بالکل کورا ہے ان پر غالب آجاتا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کے علم کی حقیقت اور اس کی صفات کے حقیقی تصور تک سے عاری نظر آتے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ یہ باتیں مسلمانوں کو نہ بتائیں تو اللہ تعالیٰ ان سے کچھ مواخذہ نہ کرے گا ۔ مواخدہ صرف اس صورت میں ہوگا جب یہ باتیں مسلمانوں کو بتادی جائیں۔ اس سے بھی زیادہ ان کی مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو کہتے ہیں ۔” کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ “ معلوم نہیں وہ کیسی عقل ودانشمندی ہے جس کے کام میں نہ لانے پر وہ ایک دوسرے کی سرزنش کررہے ہیں۔

البقرة 2:77

چناچہ قرآن کریم آگے بڑھنے سے پہلے ان کی اس طرز فکر اور طرز عمل پر تعجب کا اظہار کئے بغیر نہیں رہتا ۔ أَوَلا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ” اور کیا یہ جانتے نہیں ہیں کہ وہ کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ۔ اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے۔ “ اب قرآن کریم ایک دوسرے پہلو سے مسلمانوں کے سامنے بنی اسرائیل کے حالات پیش کرتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں دو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ ایک طبقہ تو ان جاہلوں اور ان پڑھ لوگوں کا ہے جو ان پر نازل ہونے والی کتاب الٰہی کا کوئی علم نہیں رکھتا۔ اس دماغ میں صرف اوہام و خرافات اور ظن وتخمین اور خوش آئند آرزوئیں ہی بسی ہوئی ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ کی پسندیدہ اور برگزیدہ قوم ہیں اور جو برے عمل بھی وہ کریں اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام گناہ معاف کردئیے ہیں ، اس لئے یہ اپنے ذہن میں بسہولت نجات پاجانے کی امید لئے بیٹھے ہیں۔ دوسرا وہ فریق ہے جو اس جہالت سے خوب ناجائز فائدہ اٹھارہا ہے ، وہ بےدھڑک اپنی جانب سے آیات ونصوص گھڑتا ہے ۔ اپنی مفید مطلب تاویلات کرکے اللہ کے مفہوم کو کچھ سے کچھ بنا دیتا ہے ۔ جس چیز کو چاہتا ہے ، چھپالیتا ہے ۔ اور جس چیز کو چاہتا ہے لوگوں کے سامنے کھول کر رکھ دیتا ہے ۔ خود اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی باتوں کے بارے میں یہ مشہور کرتا ہے کہ وہ اللہ کا کلام ہے اور یہ سب کام وہ دنیا کے ختم ہوجانے والے منافع اور ذاتی مفادات کے لئے کرتا ہے یا اس لئے کرتا ہے کہ اس کی پیشوائی اور برتری برقرار رہے ۔

البقرة 2:78

اب ان دونوں گروہوں میں سے ہم کس سے توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ مشرف بایمان ہوگا۔ حق کی آواز پر لبیک کہے گا اور ہدایت پر قائم ہوجائے گا ۔ اور اپنے آپ کو نازل شدہ کتاب کی ان نصوص کی تحریف سے بچالے گا جو ان کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں ۔ غرض ایسے لوگوں سے کوئی امید نہیں ہے کہ وہ ایمان لے آئیں گے ۔ مسلمانوں کی بات مان کردیں گے ۔ ان کی قسمت میں تو تباہی اور بربادی لکھی ہوئی ہے اور یہ تباہی اور بربادی جو ان کی نوشتہ تقدیر ہے اس لئے ان کے لئے مقرر کی ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے آیات لکھیں اور پھر انہیں اللہ کی طرف منسوب کرڈالا ۔ یہ تباہی اور بربادی خود ان کے ہاتھ کی کمائی ہے ۔ کیونکہ انہی ہاتھوں سے انہوں ان آیات کو تراشا اور اللہ کی طرف منسوب کیا۔ ان کی خواہشات اور باطل آرزوؤں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ وہ جس قدر بدکاری اور احکام کی جتنی خلاف ورزی بھی کریں بہرحال وہ نجات پانے والوں میں سے ہوں گے۔ وہ جہنم کی آگ میں چند دن رہیں گے اور اس کے بعد جنت کی طرف جانکلیں گے ، ظاہر ہے کہ ان یہ تمنا ان کے نظام عدالت ، اس کی سنت دائمہ اور جزا وسزا کے صحیح تصور کے سراسرخلاف ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان کی اس آرزو کی بنیاد کیا ہے ۔ وہ کس وثیقہ کی بنیاد پر اس وقت کا تعین کرتے ہیں ، گویا اللہ تعالیٰ اور ان کے درمیان کوئی باقاعدہ معاہدہ ہوگیا ہے ۔ اور اس کے اند ران کی تعذیب کی معیاد متعین ہوچکی ہے ۔ یہ خیال جاہل لوگوں کی بےبنیاد آرزو اور خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں ہے اور دوسری جانب سے یہ تصور ان کے فریب کار علماء کے کذب وافتراء کا پلندہ ہے ۔ یہ ایسی آرزوئیں ہیں جن کا سہارا وہ تمام لوگ لیا کرتے ہیں جو صحیح عقیدہ اور نظریہ حیات چھوڑ چکے ہیں ، اس پر ایک عرصہ گزرچکا ہوتا ہے اور اپنے حقیقی دین کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں رہا ہوتا۔ وہ اپنے دین کے صرف نام اور چند ظاہری رسومات کے سوا اور کچھ نہیں جانتے ۔ اور دین کی حقیقت اور اس کے اصل موضوع سے بیخبر ہوجاتے ہیں لیکن چونکہ وہ اپنے آپ کو اس دنیا کی طرف منسوب کرتے ہیں ، اس لئے سمجھتے ہیں کہ بس یہ زبانی نسبت ہی ان کی نجات کے لئے کافی ہوگی۔

البقرة 2:79

اب ان دونوں گروہوں میں سے ہم کس سے توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ مشرف بایمان ہوگا۔ حق کی آواز پر لبیک کہے گا اور ہدایت پر قائم ہوجائے گا ۔ اور اپنے آپ کو نازل شدہ کتاب کی ان نصوص کی تحریف سے بچالے گا جو ان کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں ۔ غرض ایسے لوگوں سے کوئی امید نہیں ہے کہ وہ ایمان لے آئیں گے ۔ مسلمانوں کی بات مان کردیں گے ۔ ان کی قسمت میں تو تباہی اور بربادی لکھی ہوئی ہے اور یہ تباہی اور بربادی جو ان کی نوشتہ تقدیر ہے اس لئے ان کے لئے مقرر کی ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے آیات لکھیں اور پھر انہیں اللہ کی طرف منسوب کرڈالا ۔ یہ تباہی اور بربادی خود ان کے ہاتھ کی کمائی ہے ۔ کیونکہ انہی ہاتھوں سے انہوں ان آیات کو تراشا اور اللہ کی طرف منسوب کیا۔ ان کی خواہشات اور باطل آرزوؤں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ وہ جس قدر بدکاری اور احکام کی جتنی خلاف ورزی بھی کریں بہرحال وہ نجات پانے والوں میں سے ہوں گے۔ وہ جہنم کی آگ میں چند دن رہیں گے اور اس کے بعد جنت کی طرف جانکلیں گے ، ظاہر ہے کہ ان یہ تمنا ان کے نظام عدالت ، اس کی سنت دائمہ اور جزا وسزا کے صحیح تصور کے سراسرخلاف ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان کی اس آرزو کی بنیاد کیا ہے ۔ وہ کس وثیقہ کی بنیاد پر اس وقت کا تعین کرتے ہیں ، گویا اللہ تعالیٰ اور ان کے درمیان کوئی باقاعدہ معاہدہ ہوگیا ہے ۔ اور اس کے اند ران کی تعذیب کی معیاد متعین ہوچکی ہے ۔ یہ خیال جاہل لوگوں کی بےبنیاد آرزو اور خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں ہے اور دوسری جانب سے یہ تصور ان کے فریب کار علماء کے کذب وافتراء کا پلندہ ہے ۔ یہ ایسی آرزوئیں ہیں جن کا سہارا وہ تمام لوگ لیا کرتے ہیں جو صحیح عقیدہ اور نظریہ حیات چھوڑ چکے ہیں ، اس پر ایک عرصہ گزرچکا ہوتا ہے اور اپنے حقیقی دین کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں رہا ہوتا۔ وہ اپنے دین کے صرف نام اور چند ظاہری رسومات کے سوا اور کچھ نہیں جانتے ۔ اور دین کی حقیقت اور اس کے اصل موضوع سے بیخبر ہوجاتے ہیں لیکن چونکہ وہ اپنے آپ کو اس دنیا کی طرف منسوب کرتے ہیں ، اس لئے سمجھتے ہیں کہ بس یہ زبانی نسبت ہی ان کی نجات کے لئے کافی ہوگی۔

البقرة 2:80

یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایک ایسی دلیل اور حجت کی تلقین کرتے ہیں جو باطل کا سر کچل دیتی ہیں۔” کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لے لیا ہے ، جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کرسکتا ؟ “ اگر کوئی ایسا عہد تم نے لے رکھا ہے تو بتاؤ وہ کہاں ہے ؟” یا بات یہ ہے کہ تم اللہ کے ذمے ڈال کر ایسی باتیں کہہ دیتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہوتا۔ “ یہ سوالیہ انداز بات کو اور مضبوط بنانے کے لئے اختیار کیا گیا ہے ۔ کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کے پاس اللہ کا کوئی عہد نہیں ہے ۔ سوالیہ انداز میں ناپسندیدگی اور زجر وتوبیخ کے معانی بھی مضمر ہوتے ہیں ۔ یہاں اب اس سلسلے میں ، انہیں ایک فیصلہ کن بات بتادی جاتی ہے کہ ان کے اس دعوے کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ بات جزاء وسزا کے متعلق اسلام کے عالمگیر تصور ہی سے ماخوذ ہے اور بطور قاعدہ کلیہ بتادیا جاتا ہے کہ جزا عمل کے مطابق ہوگی ۔ جیسا کروگے ویسا بھروگے ۔

البقرة 2:81

یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ اس مخصوص اصول جزاء وسزا اور اس ذہنی مفہوم کو قرآن نے جس معجزانہ اور فنکارانہ انداز میں بیان کیا ہے اور جس طرح اس کی تصویر کھینچ کر رکھ دی ہے ، ہم قدرے توقف کرکے اس پر غور کریں اور اللہ کے اٹل حکم اور ابدی اصول کے اسباب و اسرار معلوم کرنے کی کوشش کریں۔ ” ہاں جو بھی بدی کمائے اور خطاکاری کے چکر میں پڑا رہے گا گویا بدی ایک قسم کی کمائی ہے ۔ یہاں معنی مطلوب صرف غلطی کا ارتکاب ہے لیکن جن الفاظ سے اس کی تعبیر کی گئی ہے وہ معروف نفسیاتی حالت کی عکاسی کرتے ہیں ۔ جو لوگ مصیبت میں مبتلاہوتے ہیں ، وہ اس کے عادی ہوجاتے ہیں اور اس کے ارتکاب میں انہیں مزا آتا ہے ۔ اور وہ اس سے لذات اندوز ہوتے ہیں ۔ اور اسے اپنی کمائی سمجھنے لگتے ہیں۔ کیونکہ اگر وہ اسے مکروہ اور ناپسندیدہ سمجھتے تو اس کا ارتکاب نہ کرتے ۔ نیز اگر وہ سمجھتے کہ یہ ایک قسم کا خسارہ ہے تو وہ اس جوش و خروش سے اس کا ارتکاب نہ کرتے نیز وہ اس برائی کو اپنے اوپر اس طرح غالب نہ کرتے کہ ان کی پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آجائے اور وہ پوری طرح اس کے چکر میں پھنس جائیں کیونکہ یہ لوگ اگر اسے ناپسند کرتے اور اس کے اندر جو خسارہ تھا ، اسے محسوس کرتے تو اس کے سائے سے بھی دور بھاگتے۔ اگرچہ طبعًا وہ اس کے ارتکاب کی طرف مائل ہوتے ۔ نیز وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور اس گناہ کے دائرہ اثر سے نکل کر کسی اور کے دامن میں پناہ لیتے ، اس صورت میں یہ برائی انہیں گھیر نہ سکتی اور نہ ہی ان پر چھاسکتی تھی اور ان کے لئے توبہ اور تلافی مافات کے دروازے بند نہ ہوجاتے وَاَحَاطَت بِہٖ خَطِئَتُہُ اور اس کی خطاکاری نے اسے گھیر لیا۔ “ یہ ایک ایسی تعبیر ہے جو اس کیفیت اور معنی کو مجسم شکل میں پیش کرتی ہے ۔ قرآن کریم کی فنی خوبیوں اور خصوصیات میں سے یہ ایک اہم خصوصیت ہے نیز قرآن کریم کی مخصوص طرز تعبیر کی اہم نشانی ہے ۔ اس طرز تعبیر کا انسان کے ذہن پر ایک خاص اثر پڑتا ہے ، جو خالص مفہومات ومعانی کا نہیں پڑتا۔ وہ معنوی تعبیریں جو متحرک شکل میں نہ ہوں ایسا اثر پیدا نہیں کرسکتیں ۔ معصیت پر اصرار کی معنوی کیفیت کی اس سے اور مستحسن تعبیر کیا ممکن ہے کہ معصیت کا مرتکب خود معصیت کے دائرے میں قید ہو ، اس کے حدود کے اندر ہی زندگی بسر کررہا ہو ، وہ اس مصیبت ہی کا ہوکررہ گیا ہو ، اس کے بغیر اس کے لئے زندگی کا ایک سانس لینا بھی ممکن نہ رہا ہو۔ اور جب انسان کسی معصیت کے چکر میں اس طرح پڑجاتا ہے وہ ہر طرف سے محصور ہوجاتا ہے اور اس کے لئے توبہ کے تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں تو اس وقت اللہ تعالیٰ کا یہ عادلانہ اور اٹل فیصلہ صادر ہوتا ہے فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ” ایسے لوگ دوزخی ہیں اور وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے ۔ “

البقرة 2:82

اس فیصلے اور نتیجے کے بعد دوسرا اور مقابل صورت کا حکم بھی یہاں بیان کیا جاتا ہے ۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ” اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے وہی جنتی ہیں اور جنت میں ہمیشہ رہیں گے ۔ اور نیک عمل کریں گے۔ “ یعنی ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ دل سے عمل صالح کی شکل میں پھوٹ کر باہر نکل آئے ۔ جو لوگ ایمان کے دعوے دار ہیں ، انہیں چاہئے کہ اس حقیقت پر ذرا غور کرلیں نیز وہ تمام مسلمان بھی جو اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ہیں ، اور ہم بھی ان میں شامل ہیں ، اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اس حقیقت کے بارے میں اچھی طرح تسلی کرلیں ۔ ایمان کا وجود اس وقت تک متصور نہ ہوگا جب تک اس کے نتیجے میں عمل صالح پیدا نہ ہو ، رہے وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں ، پھر زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور نیکی اور بھلائی کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ زمین پر اسلامی نظام حیات کے قیام اور اسلامی شریعت کے نفاذ کو روکتے ہیں اور اس کا انکار کرتے ہیں ۔ اسلامی اخلاق کے خلاف برسر پیکار رہتے ہیں ۔ تو ایسے لوگوں کے لئے دولت ایمان کا ایک ذرہ بھی نہیں ہے ، ان کے لئے اللہ کے ہاں کوئی اجر نہیں ہے ۔ انہیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہے ۔ اگرچہ وہ ایسی خوش آئند امیدیں اور آرزوئیں اپنے دلوں کے اندر رکھتے ہیں جیسی یہود رکھتے تھے ، اور جن کا اوپر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا۔ پس سب کے لئے یہی حکم ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کے کچھ اور حالات مسلمانوں کے سامنے رکھے جاتے ہیں ، مختلف اوقات میں ان کے طرز عمل ، معصیت ، کجروی ، گمراہی اور عہد و پیمان کی خلاف ورزی کے مختلف واقعات بیان کئے جاتے ہیں اور یہودیوں کے یہ سیاہ کارنامے مسلمانوں کے سامنے ، ان پر کھولے جاتے ہیں ۔

البقرة 2:83

گزشتہ سبق میں جہاں بنی اسرائیل کی وعدہ خلافیوں کا ذکر کیا گیا تھا ، اس میثاق کی طرف اشارہ بھی کیا گیا تھا ۔ یہاں اس معاہدہ کی بعض شقوں کی طرف تفصیلی اشارہ کیا جاتا ہے ، پہلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ساتھ جس معاہدہ کا ذکر کیا ہے وہ وہی معاہدہ ہے جو ان کے ساتھ کوہ طور کو ان کے سروں پر لٹکانے کے بعد طے پایا تھا ۔ اور جس کے بارے میں انہیں تاکید کی گئی تھی کہ وہ اسے مضبوطی سے پکڑیں اور اس کے اندر جو ہدایات انہیں دی گئی ہیں انہیں یاد رکھیں ۔ غالبًا اس کے اندر دین کے اساسی امور کا بیان تھا اور یہ اساسی امور وہی ہیں جواب اسلام نے ان کے سامنے پیش کئے ہیں اور جنہیں وہ کوئی عجیب اور نئی چیز سمجھ کر رد کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جو عہد کیا تھا ، وہ جن امور پر مشتمل تھا ، ان میں سے ایک اہم امر یہ تھا کہ وہ صرف اللہ کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ، یعنی وہ مکمل توحید کا عقیدہ اختیار کریں ۔ اس عہد میں یہ حکم بھی تھا کہ والدین ، رشتہ داروں ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں۔ اس میں یہ بھی تھا کہ وہ لوگوں کو اچھی باتوں کی تلقین کریں اور ظاہر ہے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اچھی باتوں میں سرفہرست ہے ۔ نیز اس عہد میں نماز فرض کی گئی تھی اور زکوٰٰۃ کی ادائیگی کا حکم دیا گیا تھا ، غرض یہ سب چیزیں ایسی تھیں جو اسلام کے اندر بھی اساسی امور سمجھے جاتے ہیں اور یہ سب باتیں اسلام میں فرض قرار دی گئی ہیں۔ اس عہد کے مطالعے سے کئی باتیں ثابت ہوتی ہیں ۔ ایک یہ کہ اللہ کا دین ہمیشہ ایک ہی رہا ہے جو اسلام ہے اور یہ کہ اسلام اس دین کی آخری کڑی ہے اور اس میں سابقہ شرائط کی تمام اصولی باتوں کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ دوسری حقیقت یہ عیاں ہوتی ہے کہ یہودیوں کو دین اسلام سے بےحد بغض تھا ۔ اسلام انہیں محض انہیں باتوں کی طرف بلارہا تھا جس کا انہوں نے اپنے اللہ سے معاہدہ کررکھا تھا لیکن اس کے باوجود اس کا انکار کررہے تھے۔ ان کے اس شرمناک طرز عمل کی وجہ سے انداز گفتگو غائبانہ کلام سے تبدیل ہوکر خطاب کی شکل اختیار کرلیتا ہے حالانکہ اس سے قبل بنی اسرائیل کو چھوڑ کر مومنین کو خطاب کیا جارہا تھا اور ان کے سامنے ان کے برے کارنامے بیان کئے جارہے تھے۔ ان کے یہ سیاہ کارنامے بیان کرتے کرتے اچانک ان سے مخاطب ہونا ان کے لئے سخت شرمندگی کا باعث ہے ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلا قَلِيلا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مُعْرِضُونَ ” مگر تھوڑے آدمیوں کے سوا تم سب اس عہد سے پھرگئے ہو اور اب تک پھرے ہوئے ہو۔ “ اس سے وہ بعض راز معلوم ہوجاتے ہیں کہ اللہ کی اس عجیب کتاب میں واقعات کو بیان کرتے ہوئے ، کلام میں اچانک التفات کیوں ہوتا ہے ۔ اور اس میں کیا حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ؟

البقرة 2:84

اب اس سے آگے بھی کلام بنی اسرائیل کی طرف ہی ہے ۔ قرآن کریم ان کو مخاطب کرکے بتاتا ہے کہ ان کے موقف میں کیا کیا تضادات پائے جاتے ہیں ۔ اور کہاں کہاں وہ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ وَلا تُخْرِجُونَ أَنْفُسَكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ (84) ” پھر یاد کرو ! ہم نے تم سے مضبوط عہد لیا تھا کہ آپس میں ایک دوسرے کا خون نہ بہانا اور نہ ایک دوسرے کو بےگھر کرنا ۔ تم نے اس کا اقرار کیا تھا اور تم اس پر گواہ ہو ۔ “ پھر اس اقرار اور شہادت اور گواہی کے بعد کیا ہوا ؟

البقرة 2:85

ثُمَّ أَنْتُمْ هَؤُلاءِ تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقًا مِنْكُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ تَظَاهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالإثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُسَارَى تُفَادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ” مگر آج وہی تم ہو کہ اپنے بھائی بندوں کو قتل کرتے ہو ۔ اپنی برادری کے کچھ لوگوں کو بےخانماں کردیتے ہو۔ ظلم و زیادتی کرنے کے ساتھ ان کے خلاف جتھا بندیاں کرتے ہو ، اور جب لڑائی میں پکڑے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں تو ان کی رہائی کے لئے فدیہ کا لین دین کرتے ہو ۔ حالانکہ ان کو ان کے گھروں سے نکالنا ہی سرے سے تم پر حرام تھا تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو۔ “ یہ واقعہ جو قرآن کریم ان کے خلاف پیش کررہا ہے ، وہی تھا جو غلبہ اسلام سے کچھ زمانہ پہلے اوس اور خزرج کی جنگوں میں پیش آچکا تھا۔ اوس و خزرج مشرکین یثرب کے دوقبیلے تھے اور ان کے درمیان ایسی شدید دشمنی تھی جس کی مثال پورے عرب میں نہ تھی ۔ یثرب میں یہودیوں کے بھی تین قبائل تھے جن میں سے بعض ایک قبیلے اور بعض دوسرے قبیلے کے حلیف ہوتے تھے ۔ جب ان دوقبائل کے درمیان جنگ ہوتی تو ان کے یہودی حلیف بھی جنگ میں شریک ہوتے ۔ اس طرح بعض اوقات ایک یہودی مدمقابل کے حلیف دوسرے یہودی کو قتل کرتا اور اللہ کے ساتھ انہوں نے جو پختہ عہد باندھا تھا یہ اس کے سراسر خلاف تھا ۔ جب ایک قبیلے کا حلیف غالب آتا تو خود بنی اسرائیل ، بنی اسرائیل کو لوٹتے ۔ انہیں گھروں سے نکالتے ، ان کی عورتوں کو غلام بناتے حالانکہ میثاق کی نص کی رو سے یہ حرکت ان پر حرام تھی ۔ لیکن جب جنگ ختم ہوجاتی تو پھر یہ غالب یہودی مقابل کے مغلوب یہودیوں کا فدیہ دیتے ۔ انہیں قید اور غلامی سے رہائی دلاتے ۔ جہاں جہاں بھی وہ قید ہوتے خواہ اپنے کیمپ میں یا مخالفین کے کیمپ میں ہوتے ۔ اور یہ کام وہ تورات کے اس حکم پر عمل کرتے تھے جس میں کہا گیا تھا ” تجھے بنی اسرائیل کا جو شخص غلام ملے اسے خریدو اور رہا کرو۔ “ یہ تھا ان کی زندگی کا اہم تضاد اور اسے ان کے سامنے رکھ کر قرآن کریم ان سے پوچھتا ہے ، أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ” تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو۔ “ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ عہد کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ اس لئے انہیں اس بات کی تہدید کی جاتی ہے کہ اس وجہ سے وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں اس پر انہیں دردناک عذاب دیا جائے گا ۔ نیز انہیں تنبیہ کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ ان سے غافل ہے اور نہ ہی ایسی صریح غلطیوں کو معاف کرے گا ۔

البقرة 2:86

اس کے بعد مسلمانوں کو خصوصاً اور تمام انسانیت کو عموماً خطاب کیا جاتا ہے ۔ اور بتایا جاتا ہے کہ ان یہودیوں کی حقیقت کیا ہے اور ان کے ان اعمال کا انجام کیا ہے ؟ جو وہ کررہے ہیں ۔ أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالآخِرَةِ فَلا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ ” یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت بیچ کر دنیا خرید لی ہے ۔ لہٰذا نہ ان کی سزا میں کوئی تخفیف ہوگی اور نہ انہیں کوئی مدد پہنچ سکے گی۔ “ سوال یہ ہے کہ انہوں نے آخرت بیچ کر دنیا کس طرح خرید لی ؟ وہ یوں کہ وہ اللہ کا عہد توڑنے پر محض اس لئے آمادہ ہوئے کہ وہ اپنے دنیاوی مفادات کی خاطر مشرکین کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو نبھائیں اور یہ ایسا عہد ہے جسے نباہنے میں لازماً انہیں اپنے دین اور اللہ کی کتاب کی خلاف ورزی کرنی پڑرہی ہے ۔ یاد رہے کہ دودھڑوں میں بٹ کر دو حلیفوں سے معاہدہ کرلینا ، بنی اسرائیل کا پراناحربہ ہے ۔ یہ ہمیشہ بین بین رہتے ہیں اور احتیاطاً باہم متحارب بلاکوں میں ہر ایک کے ساتھ ہوجاتے ہیں تاکہ جو بلاک بھی کامیاب ہو ، اس کے حاصل ہونے والے مفادات میں ان کا حصہ بہرحال محفوظ ہو ، جو گروہ بھی کامیاب ہو اس کی کامیابی یہودیوں کی کامیابی ہو۔ جن لوگوں کو اللہ پر اعتماد نہیں ہوتا اور جو اللہ کی رسی کو مضبوط تھامے ہوئے نہیں ہوتے ان کا طرز عمل ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے ۔ ایسے لوگ ہمیشہ عیاری اور چالبازی سے کام لیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اللہ کے مقابلے میں انہیں انسانوں کی مدد حاصل رہے ۔ وہ اللہ کے عہد و پیمان سے زیادہ انسان کے عہد و پیمان کو اہمیت دیتے ہیں ۔ لیکن ایمان تو انسان کو ہر اس عہد ومیثاق کے اندر شامل ہونے سے روکتا ہے جو احکام شریعت کے خلاف ہو اور جس سے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کی خلاف ورزیاں لازم آتی ہیں ۔ کسی مصلحت کی خاطر یا بچاؤ کی کوئی تدبیر اختیار کرنے کی خاطر کوئی ایسا عہد نہیں کیا جاسکتا ۔ کیونکہ بچاؤ اس میں ہے کہ انسان اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کی پابندی کرے ۔ نیز سب سے بڑی مصلحت یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے احکام بجالائے اور اپنے دین کا اتباع کرے ۔ یہ تھا بنی اسرائیل کا طرز عمل ، ان کے مصلحین اور انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ! قرآن کریم کے اس طرز عمل کو بالتفصیل بیان کرتا ہے اور مسلمہ واقعات کی روشنی میں اسے ثابت کرتا ہے اور پھر اچانک ان کو آڑے ہاتھوں لیتا ہے اور نبی آخرالزماں اور اس نئی اور آخری رسالت کے بارے میں ان کے مکروہ طرز عمل پر گرفت کرتا ہے۔ قرآن کریم انہیں بتاتا ہے کہ تمہی تو ہو جنہوں نے انبیائے سابقین کے ساتھ یہ سلوک کیا ۔ ذراغور سے پڑھیئے ؟

البقرة 2:87

اس کے بعد مسلمانوں کو خصوصاً اور تمام انسانیت کو عموماً خطاب کیا جاتا ہے ۔ اور بتایا جاتا ہے کہ ان یہودیوں کی حقیقت کیا ہے اور ان کے ان اعمال کا انجام کیا ہے ؟ جو وہ کررہے ہیں ۔ أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالآخِرَةِ فَلا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ ” یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت بیچ کر دنیا خرید لی ہے ۔ لہٰذا نہ ان کی سزا میں کوئی تخفیف ہوگی اور نہ انہیں کوئی مدد پہنچ سکے گی۔ “ سوال یہ ہے کہ انہوں نے آخرت بیچ کر دنیا کس طرح خرید لی ؟ وہ یوں کہ وہ اللہ کا عہد توڑنے پر محض اس لئے آمادہ ہوئے کہ وہ اپنے دنیاوی مفادات کی خاطر مشرکین کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو نبھائیں اور یہ ایسا عہد ہے جسے نباہنے میں لازماً انہیں اپنے دین اور اللہ کی کتاب کی خلاف ورزی کرنی پڑرہی ہے ۔ یاد رہے کہ دودھڑوں میں بٹ کر دو حلیفوں سے معاہدہ کرلینا ، بنی اسرائیل کا پراناحربہ ہے ۔ یہ ہمیشہ بین بین رہتے ہیں اور احتیاطاً باہم متحارب بلاکوں میں ہر ایک کے ساتھ ہوجاتے ہیں تاکہ جو بلاک بھی کامیاب ہو ، اس کے حاصل ہونے والے مفادات میں ان کا حصہ بہرحال محفوظ ہو ، جو گروہ بھی کامیاب ہو اس کی کامیابی یہودیوں کی کامیابی ہو۔ جن لوگوں کو اللہ پر اعتماد نہیں ہوتا اور جو اللہ کی رسی کو مضبوط تھامے ہوئے نہیں ہوتے ان کا طرز عمل ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے ۔ ایسے لوگ ہمیشہ عیاری اور چالبازی سے کام لیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اللہ کے مقابلے میں انہیں انسانوں کی مدد حاصل رہے ۔ وہ اللہ کے عہد و پیمان سے زیادہ انسان کے عہد و پیمان کو اہمیت دیتے ہیں ۔ لیکن ایمان تو انسان کو ہر اس عہد ومیثاق کے اندر شامل ہونے سے روکتا ہے جو احکام شریعت کے خلاف ہو اور جس سے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کی خلاف ورزیاں لازم آتی ہیں ۔ کسی مصلحت کی خاطر یا بچاؤ کی کوئی تدبیر اختیار کرنے کی خاطر کوئی ایسا عہد نہیں کیا جاسکتا ۔ کیونکہ بچاؤ اس میں ہے کہ انسان اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کی پابندی کرے ۔ نیز سب سے بڑی مصلحت یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے احکام بجالائے اور اپنے دین کا اتباع کرے ۔ یہ تھا بنی اسرائیل کا طرز عمل ، ان کے مصلحین اور انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ! قرآن کریم کے اس طرز عمل کو بالتفصیل بیان کرتا ہے اور مسلمہ واقعات کی روشنی میں اسے ثابت کرتا ہے اور پھر اچانک ان کو آڑے ہاتھوں لیتا ہے اور نبی آخرالزماں اور اس نئی اور آخری رسالت کے بارے میں ان کے مکروہ طرز عمل پر گرفت کرتا ہے۔ قرآن کریم انہیں بتاتا ہے کہ تمہی تو ہو جنہوں نے انبیائے سابقین کے ساتھ یہ سلوک کیا ۔ ذراغور سے پڑھیئے ؟

البقرة 2:88

یہاں آکر قرآن کریم کا انداز بیان عنیف وشدید ہوجاتا ہے اور بعض مقامات پر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا بجلی گررہی ہے یا آگ برس رہی ہے ۔ قرآن کریم ، کود ان کے اقوال اور ان کے تاریخی افعال میں ان کے سامنے رکھ کر ، انہیں اس طرح آڑے ہاتھوں لیتا ہے کہ بیچارے بالکل لاجواب ہوجاتے ہیں ۔ ان کے پاس کوئی حجت نہیں رہتی ۔ نہ ہی وہ کوئی معذرت پیش کرسکتے ہیں ۔ درحقیقت تو وہ ازروئے استکبار سچائی قبول کرنے سے اعراض کرتے تھے ۔ ان کے دلوں میں اسلام کے خلاف بغض بھرا ہوا تھا ، وہ مسلمانوں کو حقیر سمجھ کر ان سے دوری اختیار کئے ہوئے تھے ، انہیں یہ بات بےحد پسند تھی کہ ان کے علاوہ کوئی بھی یہ مقام بلند پائے اور ان کے دلوں کو یہ حسد کھائے جارہا تھا کہ اللہ کا یہ فضل وکرم مسلمانوں پر کیوں ہورہا ہے ؟ لیکن لوگوں کو دکھانے کی خاطر اسلام قبول کرنے کی مذکورہ بالاوجوہات بیان کرتے تھے ۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے سختی سے ردّ کردیا کیونکہ اللہ اور رسول کے مقابلے میں ان کے منکرانہ اور متمرادانہ موقف کا یہی علاج تھا۔ وَقَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلا مَا يُؤْمِنُونَ ” اور وہ کہتے ہیں کہ ” ہمارے دل محفوظ ہیں۔ “ اصل بات یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار پڑی ہے ۔ اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔ “ وہ کہتے تھے کہ ہمارے دلوں کے اوپر غلاف چڑھے ہوئے ہیں ۔ ان تک کوئی جدید دعوت نہیں پہنچ سکتی ۔ نہ ہی کسی نئے داعی کی پکار سننے کے لئے تیار ہیں ۔ یہ بات وہ اس لئے کہتے تھے کہ نبی ﷺ اور مسلمانوں کو مایوس کردیں تاکہ وہ انہیں اس دین جدید کی طرف بلانا ہی چھوڑ دیں ، نیز وہ یہ باتیں نبی ﷺ کی دعوت قبول نہ کرنے کی علت کے طور پر کہتے تھے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ان کی ان باتوں کو رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ بَلْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ ” بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان اللہ کی پھٹکار پڑی ہے۔ “ یعنی ان کے مسلسل انکار کی وجہ سے اللہ نے انہیں بطور سزا ہدایت سے بہرہور ہونے سے محروم کردیا اور اس روشنی کے درمیان پردے حائل ہوگئے ۔ فَقَلِيلا مَا يُؤْمِنُونَ ” اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں ۔ “ یعنی چونکہ اپنے مسلسل کفر اور قدیم گمراہی کی وجہ سے وہ راہ حق سے دور جاپڑے ہیں ۔ اور اللہ نے بطور سزا انہیں محروم بھی کردیا ہے ۔ اس لئے وہ ہم ہی ایمان لاتے ہیں ۔ نیز اس آیت کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے ۔” چونکہ وہ کافرانہ روش اختیار کئے ہوئے ہیں ، اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔ “ یعنی یہ ان کی مستقل روش ہے جس پر وہ قائم ہیں ۔ دونوں مفہوم سیاق کلام سے مناسبت رکھتے ہیں ۔

البقرة 2:89

ان کی جانب سے یہ کافرانہ رویہ اختیار کرنا اس لئے زیادہ قبیح تھا کہ وہ اس کا انکار کررہے تھے ۔ جس کے انتظار میں وہ صدیوں تک بیٹھے ہوئے تھے اور وہ یہ امید لگائے ہوئے تھے کہ اس کے ذریعے وہ تمام کفار پر غلبہ پالیں گے ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اس آنے والے نبی کے ذریعے وہ فتح اور نصرت حاصل کریں گے ۔ اور جب وہ اس کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے تشریف لائے ، جو ان کے پاس تھی تو انہوں نے کفر کی راہ لی ۔ وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ ” اور اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے ۔ اس کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے ؟ باوجودیکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے ۔ جو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی ۔ باوجودیکہ اس کی آمد سے پہلے وہ کفار کے مقابلے میں فتح ونصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے ۔ مگر جب وہ چیز آگئی ، جسے وہ پہچان بھی گئے تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ “ یہ ان کی ایسی قبیح حرکت تھی کہ وہ اس پر بجاطور پر اس سزا کے مستحق تھے کہ انہیں راہ ہدایت سے دور پھینک دیا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر اللہ کی پھٹکار برستی ہے۔ اور انہیں کفر کے عیب سے متصف قرا ردیا جاتا ہے فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَافِرِينَ ” اللہ کی لعنت ان منکروں پر ۔ “ اس کے بعد اللہ تعالیٰ یہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے جو سودا کیا وہ گھاٹے کا سودا ہے ۔ نیز اللہ تعالیٰ ان کے اس مکروہ موقف اور ناپسندیدہ طرز عمل کا اصل اور پوشیدہ سبب بھی ظاہر فرمادیتے ہیں ۔

البقرة 2:90

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ أَنْ يَكْفُرُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ بَغْيًا أَنْ يُنَزِّلَ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُهِينٌ ” کیا بری ہے وہ قیمت جس سے یہ اپنے نفس فروخت کرتے ہیں کہ جو ہدایت اللہ نے نازل کی ہے ، اس کو قبول کرنے سے صرف اس ضد کی بناپر انکار کررہے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل (وحی و رسالت) سے اپنے جس بندے کو خود چاہا نواز دیا ! لہٰذا اب یہ غضب بلائے غضب کے مستحق ہوگئے ہیں اور ایسے کافروں کے لئے سخت ذلت آمیز سزا مقرر ہے۔ “ انہوں نے جان بوجھ کر اپنی جان کے بدلے جو کفر خریدا ہے ، وہ انکے لئے بہت گھاٹے کا سودا ہے ۔ گویا انہوں نے اپنی جان قیمت کفر کو قرار دیا ۔ انسان اپنے آپ کی کم وبیش کوئی نہ کوئی قیمت لگاتا ہے اور اگر وہ اپنی ذات کو کفر کے عوض فروخت کردے تو یہ اس کے لئے سخت خسارے کا سودا ہوگا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے ایسا ہی کیا اگرچہ یہ بات یہاں بطور رتمثیل اور منظر کشی کے بیان ہوئی ہے ۔ دنیا میں انہیں یہ خسارا ہوا کہ وہ اس قابل احترام قافلہ ایمان کے ممبر نہ بن سکے ۔ اور آخرت کا خسارہ یہ ہوا کہ نہایت ذلت آمیز عذاب ان کے لئے چشم براہ ہے ۔ کیونکہ ان کا آخری خاتمہ کفر پر ہوا اور اپنی پوری زندگی میں انہوں نے کفر ہی کمایا۔ انہیں اس روش پر جس چیز نے مجبور کیا وہ صرف یہ تھی کہ ان کے دل نبی ﷺ کے حسد سے بھرے ہوئے تھے ۔ ان کا خیال تھا کہ نبی آخرالزمان ان میں سے ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل میں حضرت محمد ﷺ کا انتخاب فرمایا۔ وہ اپنے دلوں میں یہ وسعت پیدا کرتے ہوئے یہ برداشت نہ کرسکے کہ اللہ اپنے فضل وکرم اور وحی و رسالت سے جسے چاہے نوازدے۔ ان کا یہ طرز عمل صریح ظلم اور حد سے تجاوز تھا ۔ اور اس ظلم وتعدی کی وجہ سے یہ لوگ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوکر لوٹے ۔ چناچہ اس استکبار ، حسد اور مذموم تعدی کی سزا کے طور پر ایک ذلت آمیز عذاب ہے جوان کے لئے چشم براہ ہے۔ یہودیوں کے اندر اس قسم کا جو ایک خاص مزاج پایا جاتا ہے ، یہ احسان فراموشی کا مزاج ہے اور جو لوگ یہ مزاج رکھتے ہیں وہ شدید ترین تعصب کے محدود دائرے میں خود غرضانہ زندگی بسر کرنے کے عادی ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ ہر وقت یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کی خیروفلاح درحقیقت ان کی محرومی ہے ۔ ایسے لوگ انسانیت کے وسیع ترین تصور اخوت کے شعور سے عاری ہوتے ہیں ۔ یہودیوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں نے سالہا سال تک اسی ذہنیت کے ساتھ پوری انسانیت سے علیحدگی کی زندگی بسر کی ۔ گویا کہ شجر انسانیت سے انہیں کوئی تعلق نہ تھا۔ بلکہ وہ ہمیشہ پوری انسانیت کے خلاف سازشیں کرتے رہے ۔ وہ ہمیشہ اپنے دلوں کے اندر پوری انسانیت کے خلاف بغض اور حسد کی آگ سلگاتے رہے اور یوں یہ بغض وحسد ان کے لئے بلائے جان بنے رہے ۔ اس بغض اور کینہ کا مزہ وہ پوری انسانیت کو چکھاتے رہے کہ انہوں نے ہمیشہ بعض اقوام کو دوسری اقوام کے خلاف بھڑکایا اور انہیں باہم لڑایا تاکہ وہ ان جنگوں کے نتیجہ میں مالی منفعت حاصل کریں ۔ اور اس طرح اپنے دلوں میں بغض وحسد کی سدا سلگنے والی آگ کو بجھاتے رہیں۔ انہوں نے ہمیشہ مختلف اقوام پر ایسی تباہیاں لانے کی سازشیں کیں ، جس کے نتیجہ میں بعض اوقات خود یہ لوگ بھی تباہ ہو اور برباد ہوتے رہے ۔ شر اور فساد کا یہ طویل سلسلہ ہمیشہ اس لئے بپا ہوا کہ یہودیوں کے دل انسانیت کے خلاف حسد وبغض سے بھرے ہوئے تھے اور یہ لوگ انتہائی خود غرضانہ ذہنیت کے مالک تھے ؟ بَغْيًا أَنْ يُنَزِّلَ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ” صرف اس ضد کی بناپر کہ اللہ نے اپنے فضل (وحی و رسالت) سے اپنے جس بندے کو خود چاہا نواز دیا ۔ “

البقرة 2:91

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاءَهُ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَهُمْ ” جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس پر ایمان لاؤ، تو وہ کہتے ہیں ” ہم تو اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو ہمارے ہاں (بنی اسرائیل میں) اتری ہے ۔ “ اس دائرے کے باہر جو کچھ آیا ہے اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ حق ہے اور اس تعلیم کی تصدیق وتائید کررہا ہے جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی ۔ یہ بات وہ اس وقت کہتے تھے ، جب انہیں قرآن پر ایمان لانے اور اسلام کو قبول کرنے کی دعوت دی جاتی تھی ۔ وہ کہتے تھے کہ ” ہم پر جو کچھ نازل ہوا ہے ، ہم اس پر ایمان لاچکے اور وہ کافی وشافی ہے۔ “ اس کے سوا وہ تمام ہدایات کا انکار کرتے تھے ۔ خواہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر اتری ہوں یا نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ پر اتری ہوں۔ قرآن کریم کے نزدیک ان کا یہ طرز عمل اور ان کی جانب سے توریت کے علاوہ تمام دوسری ہدایات کا انکار ایک عجیب حرکت ہے ۔ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَهُمْ ” کیونکہ وہ حق ہے اور اس تعلیم کی تصدیق وتائید کررہا ہے جو ان کے ہاں پہلے سے موجود ہے۔ “ یعنی بنی اسرائیل کو حق سے کیا واسطہ ؟ کیا ہوا کہ سچائی ان تعلیمات کی تصدیق کررہی ہے جو ان کے پاس موجود ہیں ، کیونکہ اس سے وہ محروم ہوگئے ہیں ۔ یہ تو خود اپنے نفس کے پجاری ہیں ، اپنی قومی عصبیت کے بندے ہیں بلکہ اس سے بھی آگے وہ تو اپنی ہوائے نفس کی پیروی کرتے ہیں ۔ کیونکہ اس سے قبل وہ ان ہدایات کو بھی ٹھکراچکے ہیں جو خود ان کے انبیاء پر اتاری گئی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو سکھاتے ہیں کہ ان کی حقیقت کھولنے کے لئے اور ان کے موقف کی کمزوری کی وضاحت کے لئے وہ ان پر اس پہلو سے حملہ آور ہوں قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنْبِيَاءَ اللَّهِ مِنْ قَبْلُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ” کہہ دیجئے کہ اگر تم اس تعلیم پر ہی ایمان رکھنے والے ہو جو تمہارے ہاں آئی تھی تو اس سے پہلے اللہ کے ان پیغمبروں کو (جو خود بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تھے ) کیوں قتل کرتے رہے ؟ تمہارا یہ دعویٰ ہے کہ انبیاء بنی اسرائیل تمہارے پاس جو تعلیم وہدایت لے کر آئے تھے ، تم ان پر ایمان لائے ہوئے تھے ، تو اگر تم سچے مومن تھے ، تو تم نے انبیاء عظام کو قتل کیوں کیا ؟ “

البقرة 2:92

بات یہ نہیں کیونکہ حضرت موسیٰ تمہارے پہلے نبی تھے اور تمہارے عظیم نجات دہندہ تھے ۔ وہ تمہارے پاس جو ہدایت لے آئے تھے تم نے اس کا بھی انکار کیا تھا وَلَقَدْ جَاءَكُمْ مُوسَى بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَنْتُمْ ظَالِمُونَ ” تمہارے پاس موسیٰ کیسی کیسی روشن نشانیوں کے ساتھ آئے ، پھر بھی تم اتنے ظالم تھے کہ ان کے پیٹھ موڑتے ہیں بچھڑے کو معبود بنایا تھا ۔ کیا یہ تمہارے ایمان اور وحی الٰہی کا مقتضاء تھا کیا اس طرز عمل کے ہوتے ہوئے تم یہ دعویٰ کرسکتے ہو کہ تم ان ہدایات اور نشانیوں پر ایمان لاچکے ہو جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس لائے تھے ؟ “

البقرة 2:93

یہی نہیں بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک چٹان اور پہاڑ کے سائے میں تم سے ایک پختہ میثاق لیا تھا ، کیا تمہیں یاد نہیں کہ تم نے اس قسم کے غیر معمولی میثاق کو بھی توڑدیا تھا اور تم سرکشی اور معصیت میں مبتلا ہوگئے تھے ۔ وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ وَاسْمَعُوا قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ ” پھر ذرا اس میثاق کو یاد کرو جو طور کو تمہارے اوپر اٹھاکر ہم نے تم سے لیا تھا۔ ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں ، ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگا کر سنو ۔ تمہارے اسلاف نے کہا کہ ہم نے سن لیا ، مگر مانیں گے نہیں ۔ اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں میں ان کے بچھڑا ہی بسا ہوا تھا۔ “ یہاں آکر خطابی انداز گفتگو ، حکامت وبیان میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ پہلے تو بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے انہیں یاد دلایا جاتا ہے کہ تم یہ یہ کرتے رہے ، اس کے بعد کلام کا رخ مومنین اور عام انسانوں کی طرف پھرجاتا ہے اور انہیں بتایا جاتا ہے کہ دیکھو یہ بنی اسرائیل یہ یہ کام کرتے رہے ، اور نبی ﷺ کو سمجھادیا جاتا ہے کہ آپ اچانک انہیں آڑے ہاتھوں لیں ۔ اور ان سے پوچھیں کہ ان کا ایمان کس قدر گھٹیا اور مکروہ ایمان ہے جو بقول ان کے انہیں ایسا صریح کافرانہ اور ناپسندیدہ رویہ اختیار کرنے کے لئے مجبور کررہا ہے ۔ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمَانُكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ” کہو اگر تم مومن ہو ، تو عجیب ایمان ہے جو ایسی بری حرکات کا تمہیں حکم دیتا ہے ۔ “ قرآن کریم کی یہ دو مصورانہ تعبیریں کس قدر گہری سوچ بچار کی مستحق ہیں ۔ یہ کہ ” انہوں نے کہا ” ہم نے سن لیا مگر مانیں گے نہیں۔ “ اور یہ کہ ؟” اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں کو بچھڑا پلادیا گیا تھا۔ “ انہوں نے کہا ” ہم نے سن لیا۔ “ اور بعد میں کہا ، ہم مانیں گے نہیں ۔ لیکن پہلے ہی سے یہ نہیں کہا ؟” ہم مانیں گے نہیں۔ “ سوال یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں وہ ایک ہی سانس میں کس طرح کہہ گئے ؟ درحقیقت یہ ایک خاموش موقف اور حقیقت واقعہ کی حکایتی تعبیر ہے ۔ انہوں نے اپنے منہ سے کہا ” ہم نے سن لیا ۔ “ لیکن اپنے عمل سے انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ ” مانیں گے نہیں ۔ “ کیونکہ عمل ہی دراصل زبانی تکلم کو معنی پہناتا ہے ۔ اور عملی اظہار قولی اظہار سے زیادہ قوی ہوتا ہے ۔ واقعاتی صورت حال کی اس تعبیر سے دراصل اسلام کے اس ہمہ گیر اصول کا اظہار ہوتا ہے کہ عمل کے بغیر محض باتوں اور زبانی جمع خرچ کی اسلام میں کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ اسلام میں اصل اعتبار عمل ہی کا ہے ۔ واقعاتی حرکات اور الفاظ کی تعبیروں کے درمیان عمل ہی اصل رابطہ ہے اور فیصلے عمل پر ہی کئے جاتے ہیں ۔ دوسری تعبیر کہ ” ان کے دلوں کو بچھڑا پلادیا گیا۔ “ بڑی ہی سخت اور اپنی نوعیت کی منفرد تعبیر ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ” وہ پلائے گئے ہیں “ یعنی کسی نے انہیں کچھ پلادیا ہے۔ کیا پلادیا ہے ؟ انہیں بچھڑا پلایا گیا ہے ۔ کہاں ؟ ن کے دلوں میں ، کس قدر سخت تعبیر ہے یہ ؟ انسانی تخیل یہ کوشش کررہا ہے کہ دلوں میں ایک بچھڑے کو داخل ہوتے ہوئے دیکھے یا تصور کرے ۔ یعنی گویا مجسم بچھڑا دلوں میں داخل ہورہا ہے اور یہ بچھڑا ان کے دلوں کی دنیا میں چھایا ہوا ہے ۔ تعبیر معانی کے لئے ایسی حسی تجویز کی گئی ہے کہ ایک لمحہ کے لئے انسان کے پردہ خیال سے اصل مفہوم و مدعا ، یعنی ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت و عبادت ، اوجھل ہوجاتا ہے ۔ اور انسان یہ سوچتا ہے کہ گویا فی الواقعہ بچھڑا انہیں گھول کر پلادیا گیا ہے۔ ایسے مقامات پر ادبیاتی نقطہ نظر سے غوروفکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے مصورانہ طرز ادا کی کیا قدر و قیمت ہے ؟ نظریاتی اور ذہنی تعبیروں کے مقابلے میں قرآن کریم کی حسی تعبیر کس قدر واضح اور مفصل ہے ۔ الفاظ میں اصل صورت واقعہ کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا جاتا ہے ۔ قرآن کریم کی حسی طرز تعبیر اور اس کی خصوصیات میں سے یہ ایک اہم تعبیر ہے ۔ یہودیوں کا یہ بڑا دعویٰ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ مخلوق ہیں ، وہی راہ ہدایت پر ہیں اور وہی ہیں جنہیں عالم آخرت میں یقیناً فلاح نصیب ہوگی ۔ اور آخرت میں ان کے سوا ، دوسری اقوام کو کچھ نہ ملے گا ، یہودیوں کے اس دعوے کا صاف صاف اشارہ اس طرف تھا کہ آخرت میں نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ کی امت بھی نجات سے محروم ہوگی ۔ اس پروپیگنڈے سے یہودیوں کا مقصد یہ تھا کہ عام مسلمانوں کے دلوں میں قرآن کریم کی تعلیمات حضرت محمد ﷺ کے ارشادات اور دین اسلام کے بارے میں بےاعتمادی کی فضا پیدا کردی جائے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو حکم دیا کہ انہیں مباہلے کی دعوت دیں ، دونوں فریق کھڑے ہوجائیں اور ان میں سے جو بھی جھوٹا ہے اس کی ہلاکت کے لئے دعا کریں ؟

البقرة 2:94

اس کے بعد قرآن کریم خود ہی اعلان کردیتا ہے کہ یہ لوگ ہرگز دعوت مباہلہ قبول نہ کریں گے ۔ اور کبھی موت کی طلب نہ کریں گے ۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جھوٹے ہیں اور انہیں یہ ڈر تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ فریقین کی دعا قبول کرلیں تو وہ اس کی پکڑ میں آجائیں گے ۔ نیز وہ یہ بھی جانتے تھے کہ انہوں نے اس دنیا میں جو برے کام کئے ہیں ان کے نتیجے میں ، دارآخرت میں خود ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ اور اگر انہوں نے مباہلہ کیا ، تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اپنے منہ مانگی موت کے نتیجے میں وہ دنیا سے بھی محروم ہوجائیں گے اور جو برے کام انہوں نے کئے ہیں اس کے نتیجے میں آخرت میں تو وہ محروم ہیں ہی ........ اس لئے قرآن کریم فیصلہ کن انداز میں کہتا ہے کہ ان سے یہ توقع ہرگز نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس تحدی کو قبول کرلیں گے کیونکہ وہ حیات دنیوی کے لئے سب سے زیادہ حریص ہیں اور یہی حال تمام دوسرے مشرکین کا بھی ہے (بلکہ یہ اس معاملے میں ان سے بھی بڑھے ہوئے ہیں ) چناچہ فرماتے ہیں ؟

البقرة 2:95

اس کے بعد قرآن کریم خود ہی اعلان کردیتا ہے کہ یہ لوگ ہرگز دعوت مباہلہ قبول نہ کریں گے ۔ اور کبھی موت کی طلب نہ کریں گے ۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جھوٹے ہیں اور انہیں یہ ڈر تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ فریقین کی دعا قبول کرلیں تو وہ اس کی پکڑ میں آجائیں گے ۔ نیز وہ یہ بھی جانتے تھے کہ انہوں نے اس دنیا میں جو برے کام کئے ہیں ان کے نتیجے میں ، دارآخرت میں خود ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ اور اگر انہوں نے مباہلہ کیا ، تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اپنے منہ مانگی موت کے نتیجے میں وہ دنیا سے بھی محروم ہوجائیں گے اور جو برے کام انہوں نے کئے ہیں اس کے نتیجے میں آخرت میں تو وہ محروم ہیں ہی ........ اس لئے قرآن کریم فیصلہ کن انداز میں کہتا ہے کہ ان سے یہ توقع ہرگز نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس تحدی کو قبول کرلیں گے کیونکہ وہ حیات دنیوی کے لئے سب سے زیادہ حریص ہیں اور یہی حال تمام دوسرے مشرکین کا بھی ہے (بلکہ یہ اس معاملے میں ان سے بھی بڑھے ہوئے ہیں ) چناچہ فرماتے ہیں ؟

البقرة 2:96

یہ موت کی تمنا اس لئے نہ کریں گے کہ انہوں نے اس دنیا میں جو کمائی کی ہے ، اس پر انہیں عالم آخرت میں کسی اجر کی توقع نہیں ہے ۔ اور نہ انہیں اس بات کی امید ہے کہ اس کے ذریعے وہ عذاب الٰہی سے بچ سکیں گے ۔ بلکہ عذاب تو وہاں ان کا منتظر ہے ۔ اللہ ظالموں کو اچھی طرح جانتا ہے اور ان کی بداعمالیاں بھی اس کی نظر میں ہیں۔ صرف یہی نہیں ، بلکہ یہودیوں کے اندر ایک دوسری خصلت بھی پائی جاتی ہے ۔ قرآن کریم اس خصلت کی ایسی تصویر کھینچتا ہے جس سے ان کی ذلت ، حقارت اور رذیل پنا ٹپکتا ہے ۔ قرآن کریم کہتا ہے وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ ” تم انہیں سب سے بڑھ کر جینے کا حریص پاؤگے ۔ “ کیسا جینا ؟ اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہے ، زندگی ہو ، چاہے جیسی ہو۔ ان کے نزدیک یہ ضروری نہیں کہ وہ زندگی باعزت بھی ہو۔ بس وہ تو صرف زندگی چاہتے ہیں ۔ چاہے وہ ذلت اور حقارت کی زندگی ہو ۔ زندگی اور عافیت ........ بس یہی یہودیوں کی حقیقت رہی ہے ۔ یہی یہودیوں کا ماضی ہے ، یہی حال ہے اور یہی مستقبل کا مطمح نظر ہے ۔ یہودی صرف اسی وقت سر اٹھاتے ہیں جب خطرہ دور ہوجاتا ہے ۔ جب تک خطرہ سروں پر قائم ہو وہ سر نہیں اٹھاتے ، ان کی گردنیں جھکی رہتی ہیں کیونکہ وہ پرلے درجے کے بزدل ہیں اور انہیں زندہ رہنے سے بےحد محبت ہے ........ وہ کیسی زندگی چاہتے ہیں ؟ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ ” جب حیات کے معاملے میں یہ مشرکوں سے بھی بڑھے ہوئے ہیں ۔ ان میں سے ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ہزار برس جیئے ۔ حالانکہ لمبی لمبی عمر بہرحال انہیں عذاب سے تو دور نہیں پھینک سکتی ۔ جیسے کچھ اعمال یہ کررہے ہیں اللہ تو انہیں دیکھ رہا ہے ۔ “ ان میں سے ہر صاحب ایک ہزار سال عمر کی تمنا رکھتے ہیں ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونے کے بارے میں کوئی پختہ یقین نہیں ہے ۔ وہ نہیں سمجھتے کہ اس زندگی کے علاوہ بھی کوئی زندگی ہے ؟ اور جب کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کی زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے تو اس پر عرصہ حیات تنگ ہوجاتا ہے ۔ اسے اپنی دنیاوی زندگی بہت ہی تنگ نظر آتی ہے ۔ کیونکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے صرف انہی معدودے چند گھنٹوں اور سانسوں کی مہلت ملی ہوئی ہے۔ ” جب اس نقطہ نظر پر غور کیا جائے تو اخروی زندگی پر ایمان ، ایک عظیم نعمت ہے جو انسان کو بخشی گئی ہے ۔ ایسی نعمت جس کا فیضان ، ایمان کے ذریعے ، انسان کے دل پر ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ یہ نعمت اس فانی انسان کو اس لئے عطا کرتا ہے کہ اسے اس دنیا میں ایک محدود وقت دیا گیا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود اس کے دل میں آرزوؤں کی ایک دنیا آباد ہوتی ہے ، لہٰذا اسے زندگی کیتنگ دامانی کا احساس نہیں رہتا جو لوگ اپنے آپ کو اس نعمت سے محروم کردیتے ہیں ، اور اپنے لئے حیات دوام کا دروازہ بند کردیتے ہیں ، ان کے ذہنوں میں ” زندگی “ کا ایک ناقص اور مسخ شدہ تصور ہوتا ہے ۔ غرض یوم آخرت پر ایمان لانا تو اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف اور آخرت میں مکافات عمل پر ایمان لانا ہے ، دوسرے یہ کہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بندہ مومن کا وجود زندگی کی فیوض سے مالامال ہے ، اور اسے ایک ایسی دائمی زندگی بخشی گئی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی اور نہ کسی سرحد پر جاکر رکتی ہے ، بلکہ یہ زندگی تمام سرحدوں سے گزر کر بقائے دوام کے حدود تک جاپہنچتی ہے ۔ اور جس کی انتہاء کا علم صرف اللہ کی ذات کو ہے ، یہ زندگی مستقلاً بلندیوں تک اٹھتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ وصال باری کی منزل تک جاپہنچتی ہے۔ “ اب اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو ایک نئے پہلو کی طرف متوجہ فرماتے ہیں ۔ یہودیوں کو کھلا چیلنج دیا جاتا ہے اور اس حقیقت کا اعلان کیا جاتا ہے کہ ؟

البقرة 2:97

اس چیلنج کے ذریعے ہمیں یہودیوں کی ایک عجیب و غریب نئی خاصیت معلوم ہوجاتی ہے ۔ یہودیوں نے محض اس لئے کہ ایک غیر یہودی پر وحی نازل ہوئی ۔ شدید بغض میں مبتلا ہوگئے ، بلکہ انہوں نے بغج وحسد کا ریکارڈ قائم کردیا ہے اور اس سلسلے میں وہ حماقت کی حد تک جاپہنچے ہیں ایسی متضاد باتیں کررہے ہیں جن کی توقع کسی عقلمند انسان سے نہیں کی جاسکتی ۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) وحی لے کر حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوتے ہیں تو یہ لوگ حسد اور بغض کی وجہ سے جل بھن گئے اور ایک واہیات قصہ گھڑلیا کہ جبرئیل (علیہ السلام) تو ان کے پرانے دشمن ہیں ، کیونکہ وہ ہمیشہ اللہ کا عذاب ان پر لاتے رہے ہیں اور ان کے ہاتھوں بنی اسرائیل ہمیشہ تباہ وبرباد ہوتے رہے ہیں چونکہ محمد ﷺ کا تعلق حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے ہے ، اس لئے وہ اس پر ایمان نہیں لاتے ، اگر حضرت میکائیل وحی لاتے تو وہ ضرور ایمان لاتے کیونکہ حضرت میکائیل اللہ کے وہ فرشتے ہیں جو بارش ، تروتازگی اور انسانوں کے لئے خوشی کے سامان فراہم کرتے ہیں ۔ کیا واہیات دلیل ہے یہ ؟ ان کی اس احمقانہ بات پر انسان کو بےاختیار ہنسی آتی ہے لیکن جب انسان بغض وحسد کا شکا رہوتا ہے تو اس کی جانب سے اس سے بھی کہیں بڑی حماقتوں کا صدور ہونا کوئی امر بعید نہیں ہوتا۔ کیونکہ جبرئیل کوئی انسان نہ تھے کہ وہ کسی سے دشمنی کرسکیں یا وہ کسی کے ساتھ ازخود کوئی دوستی گانٹھ سکیں ۔ وہ اپنی مرضی سے کوئی کام کرنے کی سرے سے قدرت ہی نہ رکھتے تھے۔ حضرت جبرئیل فرشتہ ہونے کی وجہ سے ، اللہ کے احکامات کی سرتابی نہیں کرسکتے تھے وہ وہی کرتے تھے جس کا انہیں حکم دیا جاتا تھا۔ قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ ” کہو اگر کسی کو جبرئیل سے عداوت ہے تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ جبرئیل نے اللہ ہی کے اذن سے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا ہے۔ “ جبرئیل (علیہ السلام) نہ ذاتی رجحان رکھتے تھے اور نہ انہوں نے آپ کے دل پر قرآن کریم اپنے ذاتی ارادے سے نازل کیا تھا۔ وہ تو صرف ارادہ الٰہی کو نافذ کرنے والے تھے اور آپ کے قلب پر نزول قرآن کا کام وہ اللہ کے احکامات کے تحت کررہے تھے ۔ قرآن کریم کا نزول دل پر ہورہا تھا ۔ دل ہی دراصل محل ادراک ہے اور وہی ہے جو ادراک کے بعد معانی کو سمجھتا ہے اور مدرکات کو محفوظ رکھتا ہے۔ قرآن کریم انسان کی قوت مدرکہ کی تعبیر ” قلب “ سے کرتا ہے لہٰذا قلب مدرک سے مراد خون اور گوشت کا معروف طبیعی لوتھڑا نہیں ہے بلکہ وہ ملکہ ہے جو فہم وادراک کا کام کرتا ہے ۔ جبرئیل نے آپ ﷺ کے قلب پر اس حال میں قرآن اتارا کہ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ ” جو پہلے آئی ہوئی کتابوں کی تصدیق وتائید کرتا ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت و کامیابی کی بشارت بن کر آیا ہے۔ “ قرآن کریم اصولی طور پر تمام سابقہ کتب کی تصدیق کرتا ہے کیونکہ تمام سماوی کتب اور تمام الٰہی ادیان کی اساسی تعلیمات ایک ہی تھیں اور وہ صرف مومنین کے لئے ہدایت اور پیغام مسرت ہے کیونکہ اس کی تعلیمات کے لئے صرف ایک مومن دل ہی کے دریچے کھلے ہوتے ہیں ۔ مومن ہی اس کی تعلیمات پت لبیک کہتے ہیں ۔ یہ ایک نہایت اہم حقیقت ہے جس کا کھول کر بیان کرنا نہایت ضروری ہے ۔ قرآن کریم کی آیات دل مومن کے اندر اس قدر انس پیدا کرتی ہیں ۔ اس کے اندر معرفت وادراک کی ایسی راہیں کھولتی ہیں اور اس کے اندر ایک ایسا شعور اور احساس پیدا کردیتی ہیں جن سے ہر وہ دل محروم رہتا ہے جس میں ایمان نہ ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ قلب مومن کو قرآن کریم میں ہدایت ملتی ہے اور اس کے لئے اس پیغام میں مسرت ہوتا ہے ۔ قرآن کریم نے اس حقیقت کو مختلف مقامات کے اندر بیان کیا ہے ۔” ھُدًی لِلمُتَّقِینَ ، متقین کے لئے ہدایت ہے۔ “” ھُدًی لِّقَومٍ یُّؤمِنُونَ ، وہ اس قوم کے لئے ہدایت ہے جو ایمان لاتی ہے ۔ “” ھُدًی وَّرَحمَةٌ لِّقَومٍ یُّومِنُونَ ، وہ ایسے لوگوں کے لئے ہدایت ہے جو پختہ یقین رکھتے ہیں ۔ “ گویا ایمان تقویٰ اور یقین کے نتیجے کے طور پر ملتی ہے ۔ اور بنی اسرائیل اسی لئے اس سے محروم رہے کہ نہ وہ مومن تھے نہ متقی تھے اور نہ ذوق یقین سے آشنا تھے۔ گویا ہدایت ایمان تقویٰ اور یقین کے نتیجے کے طور پر ملتی ہے اور بنی اسرائیل اسی لئے محروم رہے کہ نہ وہ مومن تھے نہ متقی تھے اور نہ ذوق یقین سے آشنا تھے ۔ ان کی یہ عادت تھی کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں اور اس کے ادیان وشرائع کے درمیان فرق کرتے تھے ۔ اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کے درمیان بھی فرق کرتے تھے جن کے ناموں اور کاموں سے وہ واقف تھے ۔ کہتے تھے کہ میکائیل سے تو ان کے تعلقات بہت اچھے ہیں ۔ البتہ جبرئیل سے ان کے مراسم اچھے نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جبرئیل میکائیل وغیرہ تمام فرشتوں اور رسولوں کو جمع کرلیا ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ سب ایک ہی ہیں جو شخص ان میں سے ایک سے عداوت رکھتا ہے وہ سب سے عداوت رکھتا ہے ۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ سے عداوت رکھتا ہے ۔ لہٰذا اللہ کو بھی ان سے عداوت ہوگی اور وہ کافر ہوجائیں گے ۔

البقرة 2:98

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِلَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلْكَافِرِينَ ” جو اللہ کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرئیل اور میکائیل کے دشمن ہیں ، اللہ ان کافروں کا دشمن ہے۔ “ اس کے بعد روئے سخن نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے ۔ آپ کو تلقین کی جاتی ہے کہ آپ پر جو سچائی اور کھلی نشانیاں نازل ہورہی ہیں ، آپ ان پر جم جائیں ۔ سوائے فساق وفجار کے اور کوئی ان کا منکر نہیں ہوسکتا ۔ اور بنی اسرائیل کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ کبھی اپنے عہد پر قائم نہیں رہتے ۔ چاہے وہ عہد انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا ہو یا انبیائے سابقین کے ساتھ کیا ہو۔ یا وہ عہد انہوں نے نبی آخرالزمان کے ساتھ کیا ہو ۔ قرآن کریم ان کی مذمت کرتا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی کتاب الٰہی کو پس پشت ڈال دیا ہے جو ان کی تمام کتابوں کی تصدیق کرتی ہے جو خود ان کے پاس موجود ہیں ۔

البقرة 2:99

یہاں اللہ تعالیٰ نے وہ اسباب کھول کر بیان کردئیے ہیں جن کی بناء پر بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی ان واضح آیات کا انکار کررہے تھے جو خود اللہ کی جانب سے نازل ہوئی تھیں ۔ یعنی وہ لوگ فسق وفجور میں مبتلا تھے ۔ ان کی فطرت بگڑی ہوئی تھی کیونکہ فطرت سلیمہ کے لئے تو اس کے سوا کوئی چارہ کا رہی نہ تھا کہ وہ ان آیات پر ایمان لے آئے اگر دل میں کجی نہ ہو تو یہ آیات از خود اپنے آپ کو منواتی ہیں اور یہودیوں نے کفر کا جو رویہ اختیار کیا ہے تو اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ قرآن کریم کی آیات میں دلائل کی کچھ کمی ہے یا وہ تشفی بخش نہیں بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ خود ان کی فطرت بگڑ چکی ہے اور وہ فسق وفجور میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ اس کے بعد روئے سخن مسلمانوں اور تمام دوسرے انسانوں کی طرف پھرجاتا ہے ۔ یہودیوں کی مذمت کی جاتی ہے اور ان کی صفات رذیلہ میں سے ایک دوسری صفت کو بیان کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ آپس میں بھی مختلف خواہشات اپنے اندر رکھتے ہیں ۔ اپنے اس مذموم تعصب کے باوجود ان کے درمیان قدر مشترک ہے ۔ وہ کسی ایک رائے پر جمتے بھی نہیں نہ ہی وہ اپنے کئے ہوئے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں ۔ وہ کسی ایک رسی کو مضبوطی سے نہیں پکڑتے ۔ اگرچہ وہ اپنے ذاتی مفاد اور اپنے قومی مفاد کے سلسلے میں پرلے درجے کے خود غرض ہیں اور اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ ان کے سوا کسی اور کو بھی اللہ کا فضل وکرم نصیب ہو۔ لیکن اس قومی تعصب کے ہوتے ہوئے بھی وہ باہم متحد نہیں ہیں۔ وہ خود ایک دوسرے کے ساتھ کئے ہوئے معاہدوں کی پابندی بھی نہیں کرتے ۔ جب بھی وہ آپس میں کوئی پختہ عہد کرتے ہیں تو ان میں سے کوئی ایک گروہ اٹھ کر اسے توڑ دیتا ہے اور ان کے اس متفقہ فیصلے کی کھلی خلاف ورزی کرتا ہے ۔

البقرة 2:100

أَوَكُلَّمَا عَاهَدُوا عَهْدًا نَبَذَهُ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لا يُؤْمِنُونَ ” کیا ہمیشہ ایسا ہی نہیں ہوتا رہا کہ جب انہوں نے کوئی عہد کیا تو ان میں سے ایک نہ ایک گروہ نے اسے ضرورہی بالائے طاق رکھ دیا بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو سچے دل سے ایمان نہیں لاتے ۔ “ انہوں نے کوہ طور کے نیچے اللہ کے ساتھ پختہ پیمان باندھا اور بعد میں اس کی خلاف ورزی کی ۔ نبی ﷺ سے قبل آنے والے پیغمبروں کے ساتھ انہوں نے جو عہد کئے ان کی خلاف ورزی کی اور نبی ﷺ نے مدینہ طیبہ تشریف لانے کے بعد یہودیوں کے ساتھ جو معاہدہ کیا اسے بھی انہوں نے پس پشت ڈال دیاحالان کہ اس معاہدے میں ان کے ساتھ شرائط طے کی گئی تھیں اور انہوں نے پہل کرکے حضور ﷺ کے دشمنوں سے معاونت کی ، نبی ﷺ کے پیش کردہ نظام زندگی پر تنقید شروع کردی اور مسلمانوں کے اندرانتشار پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ حالانکہ یہ سب باتیں میثاق مدینہ کے خلاف تھیں۔ یہ تھی بنی اسرائیل کی مذموم عادت جب کہ مسلمانوں کا رویہ اس سے بالکل مختلف تھا۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں ” مسلمانوں کے خون باہم مساوی ہیں اور وہ سب دوسروں کے مقابلے میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور ان میں ادنیٰ ترین آدمی بھی سب کی طرف سے امان دے سکتا ہے ۔ “ اور جب وہ کسی کے ساتھ کوئی معاہدہ کریں تو ان میں سے کسی کو یہ اجازت نہ ہوگی کہ وہ اسے توڑے یا اس کی خلاف ورزی کرے۔ حضرت عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں ان کمانڈر انچیف حضرت ابوعبیدہ ؓ نے لکھا کہ عراق کے ایک گاؤں والوں کو ہمارے ایک غلام نے امان دے دی ہے ۔ اب ہم ان کے ساتھ کیا معاملہ کریں ؟ حضرت عمر ؓ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے معاہدے کی پابندی کرنے کو ایک عظیم فریضہ قرار دیا ہے ۔ اور جب تک آپ لوگ اپنے اس عہد کو پورانہ کریں گے اس وقت تک آپ کو وفادار نہیں کہا جاسکتا۔ چناچہ انہوں نے اس عہد پر عمل کرتے ہوئے اس شہر کے باشندوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔

البقرة 2:101

یہ ہے صفت ایک شریف ، راستباز اور اصول پرست جماعت کی ۔ اس سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوجاتی ہے کہ بدکردار یہودیوں کے اخلاق اور راستباز مسلمانوں کے اخلاق کے درمیان کیا فرق ہوتا ہے ۔ وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ (101) ” اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسول اس کتاب کی تصدیق وتائید کرتا ہوا آیا جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو اس طرح پس پشت ڈالا کہ وہ گویا وہ کچھ جانتے ہی نہیں۔ “ یہ وعدہ خلافی کی ایک مثال ہے جس کا ارتکاب ان میں سے ایک فریق نے کیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے جو عہد لیا تھا اس کی ایک شق یہ بھی ہے کہ آئندہ جو بھی رسول بھیجے جائیں گے تم ان پر ایمان لاؤگے ۔ ان کا احترام کروگے اور ان کی مدد کروگے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزمان کے ذریعے ان کے پاس اپنی کتاب (قرآن) کو بھیجا تو ان اہل کتاب میں سے ایک فریق نے اسے پس پشت ڈال دیا ۔ اس طرح انہوں نے ایک تو ایسی کتاب الٰہی کا انکار کیا جو خود ان کے پاس تھی اور جس کے اندر حضور کے بارے میں پیشن گوئیاں موجود تھیں ۔ اور انہوں نے ان پیشن گوئیوں کو پس پشت ڈالا اور دوسرے رسول اللہ پر جو نئی کتاب اتری اسے بھی پس پشت ڈال دیا۔ اس آیت میں اہل کتاب پر ایک لطیف طنز بھی مقصود ہے۔ یعنی کتاب اللہ کو مشرکین رد کردیتے تو ان سے یہ کوئی امر مستعبد نہ تھا لیکن ان بدبختوں نے اہل کتاب ہوتے ہوئے بھی سے رد کردیا ۔ وہ رسالت اور رسولوں سے اچھی طرح واقف تھے ۔ ہمیشہ ہدایت کے سرچشموں سے وہ وابستہ رہے ۔ ہمیشہ روشنی ان کی نظروں میں رہی لیکن صاحب ہدایت اور صاحب بصیرت ہوتے ہوئے انہوں نے کیا کیا ؟ کتاب الٰہی کو پشت ڈال دیا یعنی انہوں نے کتاب کا انکار کیا اور اس پر عمل کرنا چھوڑ دیا ۔ انہوں نے کتاب اللہ کو اپنی فکر اور اپنی زندگی سے خارج کردیا۔ یہاں قرآن کریم نے ان کے انکار اور بےعملی کے ذہنی مفہوم کو ایک خالص حسی انداز میں پیش فرمایا ہے۔ ذہنی مفہوم اب ایک معنویت کے دائرے سے نکل کر محسوسات کے دائرے میں آجاتا ہے ۔ ان کے اس عمل کو ایک محسوس جسمانی حرکت سے تعبیر کیا گیا اور اس کی ایسی قبیح اور بدشکل تصویر کھینچی جاتی ہے کہ اس سے انکار جحود ٹپکے پڑتے ہیں ۔ اس تصور میں وہ نہایت ہی غلیظ القلب اور احمق نظر آتے ہیں ۔ گستاخی اور گندگی اور ذلت کا مجسمہ نظر آتے ہیں ۔ اس تصویر کشی سے انسانی تخیل ایک شدید حرکت کو دیکھتا ہے گویا کچھ ہاتھ حرکت میں آتے ہیں اور کتاب الٰہی کو پش پشت ڈال دیتے ہیں ۔ ایسی کتاب کی تکذیب کے بعد خود اس وحی کی تصدیق کررہی تھی جو ان کے پاس موجود تھی ، پھر کیا ہوا ؟ غالبًا انہوں نے اس ناقابل شکست سچائی کو قبول کرلیا ہوگا یا اس کے برعکس انہوں نے خود اس ہدایت ہی کا دامن تھام لیا ہوگا جس کی تصدیق یہ قرآن کریم بھی کررہا تھا۔ وہ خود بھی اس پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ ہرگز نہیں ! نہ صرف یہ کہ انہوں نے ان میں سے کوئی ایک معقول روش اختیار کی بلکہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈالا اور ایسی ناقابل فہم موہوم اعجوبوں اور دقیانوسی باتوں کے پیچھے پڑگئے ۔ جن کی کوئی حقیقت نہ تھی نہ وہ باتیں کسی یقینی اساس پر مبنی تھیں ۔