Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — البقرة 2:102 – البقرة 2:197

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. البقرة 2:102
  2. البقرة 2:103
  3. البقرة 2:104
  4. البقرة 2:105
  5. البقرة 2:106
  6. البقرة 2:107
  7. البقرة 2:108
  8. البقرة 2:109
  9. البقرة 2:110
  10. البقرة 2:111
  11. البقرة 2:112
  12. البقرة 2:113
  13. البقرة 2:114
  14. البقرة 2:115
  15. البقرة 2:116
  16. البقرة 2:117
  17. البقرة 2:118
  18. البقرة 2:119
  19. البقرة 2:120
  20. البقرة 2:121
  21. البقرة 2:122
  22. البقرة 2:123
  23. البقرة 2:124
  24. البقرة 2:125
  25. البقرة 2:126
  26. البقرة 2:127
  27. البقرة 2:128
  28. البقرة 2:129
  29. البقرة 2:130
  30. البقرة 2:131
  31. البقرة 2:132
  32. البقرة 2:133
  33. البقرة 2:134
  34. البقرة 2:135
  35. البقرة 2:136
  36. البقرة 2:137
  37. البقرة 2:138
  38. البقرة 2:139
  39. البقرة 2:140
  40. البقرة 2:141
  41. البقرة 2:142
  42. البقرة 2:143
  43. البقرة 2:144
  44. البقرة 2:145
  45. البقرة 2:146
  46. البقرة 2:147
  47. البقرة 2:148
  48. البقرة 2:149
  49. البقرة 2:150
  50. البقرة 2:151
  51. البقرة 2:152
  52. البقرة 2:153
  53. البقرة 2:154
  54. البقرة 2:155
  55. البقرة 2:156
  56. البقرة 2:157
  57. البقرة 2:158
  58. البقرة 2:159
  59. البقرة 2:160
  60. البقرة 2:161
  61. البقرة 2:162
  62. البقرة 2:163
  63. البقرة 2:164
  64. البقرة 2:165
  65. البقرة 2:166
  66. البقرة 2:167
  67. البقرة 2:168
  68. البقرة 2:169
  69. البقرة 2:170
  70. البقرة 2:171
  71. البقرة 2:172
  72. البقرة 2:173
  73. البقرة 2:174
  74. البقرة 2:175
  75. البقرة 2:176
  76. البقرة 2:177
  77. البقرة 2:178
  78. البقرة 2:179
  79. البقرة 2:180
  80. البقرة 2:181
  81. البقرة 2:182
  82. البقرة 2:183
  83. البقرة 2:184
  84. البقرة 2:185
  85. البقرة 2:186
  86. البقرة 2:187
  87. البقرة 2:188
  88. البقرة 2:189
  89. البقرة 2:190
  90. البقرة 2:191
  91. البقرة 2:192
  92. البقرة 2:193
  93. البقرة 2:194
  94. البقرة 2:195
  95. البقرة 2:196
  96. البقرة 2:197

البقرة 2:102

انہوں نے اللہ کی اس کتاب کو تو چھوڑ دیا جو خود اس ہدایت کی تصدیق بھی کررہی تھی ۔ جو ان کے پاس تھی اور ان باتوں کی پیروی شروع کردی ۔ جو شیاطین حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دور کی طرف منسوب کرتے تھے ۔ یہ شیاطین حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف غلط باتیں منسوب کیا کرتے تھے ۔ یعنی یہ کہ وہ ایک عظیم جادوگر تھے اور انہوں نے جن جن چیزوں کو مسخر کررکھا تھا وہ انہوں نے اس کالے علم کے ذریعے مسخر کررکھی تھیں ۔ قرآن کریم ان کے اس زعم باطل کی تردید کرتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ حضرت سلیمان جادوگر نہ تھے ۔ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ ” سلیمان نے کفر نہیں کیا “ قرآن کریم گویا جادوگری کو کفر سمجھتا ہے ۔ اس لئے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے اس کی نفی کرکے اور یہ بتارہا ہے کہ جادوگری کا کام حضرت سلیمان (علیہ السلام) نہیں بلکہ شیاطین کیا کرتے تھے ۔ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ ” کفر کے مرتکب تو وہ شیاطین تھے جو لوگوں کو جادوگری کی تعلیم دیتے تھے ۔ “ اس کے بعد قرآن کریم اس خیال کی تردید کرتا ہے کہ جادوگری کی تعلیم خود اللہ تعالیٰ نے بابل کے دوفرشتوں ہاروت وماروت پر نازل کی تھی ۔ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ” نہ ہی یہ بات درست ہے کہ جادوگری بابل میں ہاروت وماروت نامی دوفرشتوں پر نازل کی گئی تھی۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کے ہاں ان دوفرشتوں کے بارے میں کوئی خاصا قصہ مشہور تھا اور یہودی اور شیطان یہ کہتے تھے کہ دو فرشتے جادو کا علم رکھتے تھے ۔ اور یہ علم وہ لوگوں کو بھی سکھاتے پھرتے تھے ۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ وہ جادو کی یہ تعلیم ان پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کی گئی تھی ۔ قرآن کریم نے اسی افتراء کی بھی تردید کردی کہ سحر کی تعلیم بابل میں ان دوفرشتوں پر اللہ کی طرف سے نازل ہوئی تھی ۔ البتہ یہاں قرآن کریم اس قصہ کی حقیقت کو واضح کردیتا ہے کہ یہ دوفرشتے اللہ تعالیٰ کے حکیمانہ رازوں میں سے ایک راز تھے اور عوالناس کے لئے انہیں بطور فتنہ اور آزمائش بھیجا گیا تھا ۔ اور وہ ہر شخص جو ان کے پاس تعلیم سحر کے حصول کے لئے جاتا تھا وہ اسے کہہ دیتے تھے وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلا تَكْفُرْ ” وہ فرشتے جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے تو پہلے صاف طور پر متنبہ کردیا کرتے تھے دیکھ ہم محض ایک آزمائش ہیں تو کفر میں مبتلا نہ ہو۔ “ یہاں قرآن کریم دوبارہ سحر کی تعلیم اور جادوگری کو کفر سے تعبیر کرتا ہے اور اس کے کفر ہونے کا اعلان دو فرشتوں ہاروت وماروت کے ذریعہ کرایا جاتا ہے ۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ بعض لوگ ایسے تھے جو ان فرشتوں کے واضح تنبیہ کے باوجود اس بات پر مصر تھے کہ وہ ان کی سحر سے تعلیم حاصل کریں ۔ جب انہیں اصرار تھا کہ وہ اس فتنے کا شکار ہوں تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے لئے یہ دروازہ کھول دیا فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ” پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیزسیکھتے تھے جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ “ حالانکہ یہی شر تھا ، اس سیاہ علم میں جس سے فرشتوں نے آگایہ کیا تھا لیکن قرآن کریم موقع ومحل کی مناسبت سے یہاں اسلامی نظریہ حیات کے ایک بنیادی اصول کی طرف مبذول کردیتا ہے یہ کہ اس کائنات میں اللہ کی مشئیت اور اذن کے بغیر ایک پتا بھی حرکت نہیں کرسکتا وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلا بِإِذْنِ اللَّهِ ” یہ بات ظاہر تھی کہ اذن الٰہی کے بغیر وہ اس کے ذریعے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچاسکتے تھے ۔ “ یہ اللہ کی مشیئت اور اس کا اذن ہی ہے جس کی وجہ سے اسباب سے مسببات اور نتائج پیدا ہوتے ہیں ۔ اسلامی نظریہ حیات کا یہ نہایت ہی بنیادی اور اہم اصول اور عقیدہ ہے ۔ اور ایک مومن کے دل و دماغ میں سے اچھی طرح واضح اور جاگزین ہونا چاہئے ۔ اس عقیدے کو پیش کرنے کا بہترین مقام بھی ایسا ہی ساحرانہ ماحول ہوتا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ آپ اگر اپنا ہاتھ آگ میں ڈالیں تو وہ لازماً جل جائے گا ، لیکن یہ جلنا اللہ کے حکم اور مشیئت کے بغیر ممکن نہیں ۔ اللہ ہی نے آگ میں جلانے اور آپ کے ہاتھ میں جلنے کی قابلیت رکھی ہے اور جب وہ چاہے آگ اور بندوں دونوں سے یہ قابلیت سلب کرسکتا ہے ۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں ایسا عملاً ہوا بھی۔ یہی حال اس جادو کا بھی ہے جس کے ذریعے جادوگر میاں بیوی میں تفرقہ ڈالتے ہیں ، اگر اللہ کی مشیئت نہ ہو تو وہ کوئی اثر نہیں کرسکتا ۔ اگر اس کی حکمت اور مشیئت متقاضی نہ ہو ، تو وہ جادوگر کی اس خاصیت کو کسی وقت بھی معطل کرسکتا ہے۔ یہی حال ہے ان تمام مؤثرات اور اسباب کا جو آج تک ہمارے علم میں آچکے ہیں ۔ ان میں سے ہر سبب میں اللہ تعالیٰ نے ایک مخصوص خاصیت ودیعت کی ہے اور یہ خاصیت اللہ تعالیٰ کے اذن اور مشیئت سے کام کررہی ہے ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کو یہ خصوصیات عطا کی ہیں ، بعینہ اسی طرح وہ ان سے خاصیات کو سلب بھی کرسکتا ہے۔ اس کے بعد قرآن کریم اس چیز کی حقیقت کو بھی کھول کر بیان کردیتا ہے ، جس کی تعلیم وہ حاصل کرتے تھے ۔ یعنی وہ جادو جس کے ذریعے وہ میاں اور بیوی کے درمیان تفرقہ دالتے تھے ۔ قرآن حکیم بتاتا ہے کہ یہ کالا علم خود ان کے لئے بھی کوئی مفید چیز نہ تھی ، وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلا يَنْفَعُهُمْ ” مگر اس کے باوجود وہ اسی چیز کو سیکھتے تھے ، جو خود ان کے لئے بھی نفع بخش نہیں بلکہ نقصان دہ تھی۔ “ جس فتنے میں وہ مبتلا ہورہے تھے اس کا کفرہونا اس بات کے لئے کافی ثبوت تھا کہ وہ شر ہی شر ہے اور اس میں کوئی منفعت نہیں ہے۔ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاقٍ ” اور انہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ “ اور جب آپ کو یہ معلوم ہے کہ جو کچھ وہ کررہا ہے ، اسی کے نتیجے میں وہ آخرت کی تمام بھلائیوں سے محروم ہوجائے گا اور پھر بھی وہ اس روش کو اختیار کرتا ہے ، تو گویا وہ بالقصد اپنی آخرت کو خراب کررہا ہے اور اپنے آپ کو آنے والے جہاں کی جملہ بھلائیوں سے محروم کررہا ہے۔ یہ کیوں ؟ تاکہ وہ اس چند روزہ زندگی میں مزے لوٹ لے۔ کیا ہی براسودا ہے جو یہ لوگ کررہے ہیں ۔ حالانکہ وہ اس حقیقت سے اچھی طرح باخبر ہیں۔ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ” کتنی ہی بری متاع تھی جس کے بدلے میں انہوں نے جان کو بیچ ڈالا ! کاش انہیں معلوم ہوتا ! “

البقرة 2:103

وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ خَيْرٌ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ (103) ” اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کے ہاں اس کا جو بدلہ ملتا ، وہ ان کے لئے زیادہ بہتر تھا ، کاش انہیں خبر ہوتی ! “ یہ بات تو ان لوگوں پر بھی صادق آتی ہے جو بابل میں ہاروت وماروت سے جادو سیکھتے تھے ، ان پر بھی صادق آتی ہے جو ان باتوں کی پیروی کرتے تھے جنہیں شیاطین حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت کا نام لے کر پیش کرتے تھے اور یہ لوگ یہودی تھے جنہوں نے اللہ کی کتاب کو تو پس پشت ڈال دیا اور ان خرافات اور مذمومات کی پابندی اپنے اوپر لازم کردی۔ یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس جادو کی حقیقت پر بھی قدرے روشنی ڈال دی جائے جس کے پیچھے یہ یہودی پڑگئے تھے اور جس کے ذریعے یہ لوگ میاں اور بیوی میں ناچاقی پیدا کرتے تھے اور اس کی وجہ سے انہوں نے کتاب الٰہی تک کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ یہ بات ہمارے دور میں بھی بارہا مشاہدے میں آتی رہتی ہے کہ بعض لوگ اپنے اندر ایسی معجزانہ خصائص رکھتے ہیں کہ سائنس آج تک ان کی کوئی علمی توجیہ نہیں کرسکتی ۔ ایسے عجائبات کے لئے لوگوں نے ، مختلف نام تو تجویز کر رکھے ہیں ، تاہم ان کی حقیقت کا تعین ابھی تک نہیں کیا جاسکا۔ اور ابھی تک وہ عجوبہ ہی ہیں ۔ مثلاً ٹیلی پیتھی یعنی دور سے خیالات کا اخذ کرنا ، اس کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک آدمی ایک ایسے فاصلے سے ، جہاں تک نہ اس کی نظر پہنچتی ہے اور نہ آواز ، ایک آدمی کو بلاتا ہے اور اس سے خیالات اخذ کرتا ہے اور ان دونوں کے درمیان طویل فاصلے حائل نہیں ہوتے ۔ پھر مقناطیسی تنویم کا عمل بھی قابل غور ہے ۔ یہ کیوں کر ممکن ہوجاتا ہے۔ ایک ارادہ دوسرے پر ناقابل ادراک طریقے سے استیلاء حاصل کرلیتا ہے اور ایک فکردوسری فکر کے ساتھ کس طرح مطابقت اختیار کرلیتی ہے کہ ایک دوسرے کی طرف خیالات منتقل کرتی چلی جاتی ہے اور دوسری اس سے اخذ کرتی چلی جاتی ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا متاثرہ شخص ایک کھلی کتاب پڑھ رہا ہے۔ آج تک سائنس اس سلسلے میں جو کچھ کرسکی ہے وہ صرف یہ ہے کہ اس نے ان حقائق کا اعتراف کرکے ان کے لئے کچھ نام تجویز کرلئے ہیں لیکن سائنس آج تک اس بات کا جواب نہیں سے سکی کہ ان کی حقیقت کیا ہے ؟ نیز سائنس کے پاس اس کا جواب نہیں ہے کہ یہ عمل کیسے مکمل ہوتا ہے ؟ ان حقائق کے علاوہ بھی بعض ایسی چیزیں ہیں جن کے تسلیم کرنے میں سائنس کو ابھی تامل ہے ۔ یا تو اس لئے کہ ابھی تک ان کے بارے میں اس قدر مشاہدات جمع نہیں ہوئے جن کے ذریعے وہ اس میدان میں کوئی تجربہ کرسکے ۔ خود سچے خوابوں کو معاملہ بھی بڑا عجیب ہے ۔ فرائڈ جو ہر روحانی قوت کا بڑی شدت سے انکار کرتا ہے ، وہ بھی ان کا انکار نہیں کرسکا ۔ خواب کے ذریعے ہمیں مستقبل کی تاریکیوں میں ہونے والے واقعات کا اشارہ کیسے مل جاتا ہے ؟ اور پھر طویل عرصہ نہیں گزرتا کہ وہ اشارہ واقعات کی صورت اختیار کرلیتا ہے ۔ یہی معاملہ انسان کے ان خفیہ احساسات کا ہے ، جن کا ابھی تک وہ کوئی نام بھی تجویز نہیں کرسکا ۔ بعض اوقات انسان یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے ؟ کوئی آنے والا ہے ؟ اور اس کے بعد یہ متوقع امر کسی نہ کسی صورت میں وقوع پذیر ہوجاتا ہے۔ لہٰذا یہ محض ہٹ دھرمی ہے کہ انسان محض بےتکلفی میں ان نامعلوم حقائق کا انکار کردے ، صرف اس لئے کہ سائنس کی رسائی ابھی ایسے وسائل تک نہیں ہوسکی جن کے ذریعے وہ اس میدان میں کوئی تجربہ کرسکے ۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان دنیا کے تمام خرافات کو بےچون وچرامانتا چلاجائے ، ہر فسانے پر ایمان لاتا چلا جائے ، بلکہ صحیح اور معتدل روش یہ ہے کہ ایسے نامعلوم حقائق کے بارے میں انسان ایک لچک دار اور معتدل موقف اختیار کرے ۔ نہ سو فیصدی ان کا انکار کرنا درست ہے اور نہ ہی بےچون وچرا تسلیم کرلینا معقول ہے ۔ اس درمیانی روش کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان کے علم ، ادراک کے جو ابتدائی ذرائع اس وقت حاصل ہیں جب ان میں انسان مزید ترقی کرے گا تو اس کے لئے ایسے حقائق کا معلوم کرلینا ممکن ہوجائے گا ۔ لہٰذا انسان کو یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ اس کا علم محدود ہے ۔ اور بعض حقائق ایسے بھی ہیں جو اس کے حیطہ ادراک سے باہر ہیں ، اسے اپنی حدود کو پہچاننا چاہئے اور نامعلوم حقائق کا بھی کچھ لحاظ رکھنا چاہئے۔ جادوگری کی نوعیت بھی کچھ ایسی ہی ہے ۔ شیاطین کی جانب سے جو القاء بدکردار لوگوں کو ہوتا ہے ، وہ بھی فوق الادراک امور میں سے ہے۔ اس کی متعدد شکلوں میں سے ایک یہ ہے کہ جادوگر انسانوں کے حواس اور خیالات پر اثر انداز ہونے کی قدرت رکھتا ہے ۔ کبھی اس کا اثر ٹھوس چیزوں اور اجسام پر بھی ہوتا ہے ۔ البتہ قرآن کریم میں فرعون کے جادوگروں کی جس سحرکاری کا ذکر ہے ، وہ محض نظربندی اور نظر فریبی ہی تھی ، دراصل اس سے کسی چیز کی حقیقت میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوتی تھی۔ یُخَیَّلُ اِلَیہِ مِن سَحرِھِم اِنَّھَا تَسعٰی ” ان کی جادوگری کی وجہ سے ، اس کو ایسامعلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ چل رہی ہیں ۔ “ ہوسکتا ہے کہ وہ لوگ اپنی جادوگری کے ایسے اثرات استعمال کرکے میاں بیوی اور دوست اور دوست کے تفریق ڈالتے ہوں ، کیونکہ جب انسان کسی چیز سے متاثر ہوتا ہے ، اس انفعال کی مطابقت میں اس سے بعض حرکات سرزد ہوجاتی ہیں ، لیکن جیسا کہ کہا گیا وسائل واسباب اور ان کے تنائج اور مسببات کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے سوا کام نہیں کرسکتا ۔ قدرتی طور پر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ دوفرشتے ہاروت وماروت کون تھے ؟ اور تاریخ کے کس دور میں وہ بابل میں گزرے ہیں ؟ اس سوال کی تشریح قرآن نے اس ضروری نہیں سمجھی کہ ان فرشتوں کا قصہ یہودیوں کے درمیان عام طور پر معروف تھا ، اور جب قرآن کریم نے انہیں یہ قصہ سنایا تو انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ کئی ایسے واقعات جو اس وقت قرآن کریم کے مخاطبین کے ہاں مشہور ومعروف تھے ۔ انہیں قرآن کریم نے اجمال کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ کیونکہ قرآن کریم کا مقصد صرف اشارے ہی سے پورا ہوجاتا تھا اور قصہ گوئی قرآن کے پیش نظر تھی ہی نہیں ۔ فی ظلال القرآن میں ، ہم وہ تمام تفصیلات اور رطب ویابس روایات درج نہیں کرنا چاہتے جو ان فرشتوں کے بارے میں مشہور ہیں ۔ کیونکہ تفاسیر میں ان کے بارے میں مواد پایا جاتا ہے ، یا جو روایات معقول ہیں ان میں کوئی روایت ثقہ نہیں ہے۔ انسانیت اپنی طویل ترین تاریخ میں متعدد آزمائشوں اور ابتلاؤں سے دوچارہوتی رہی ہے۔ یہ آزمائشیں اور ابتلائیں ، مختلف ادوار میں انسانیت کی ذہنی سطح اور اس وقت کے ماحول کی مناسبت سے مختلف نوعیت اختیار کرتی رہی ہیں ۔ اب یہ آزمائش اگر کسی وقت دو فرشتوں کی صورت میں یا دو فرشتہ سیرت انسانوں کی صورت میں آئی ہے تو یہ کوئی تعجب انگیز اور انوکھی بات نہیں ہے۔ کیونکہ انسانیت پر جو آزمائشیں آتی رہی ہیں وہ کئی قسم کی عجیب و غریب اور خارق العادۃ بھی ہوتی رہی ہیں ، بالخصوص اس دور میں جبکہ انسانیت فکر وادراک کی دنیا میں ترقی کی ابتدائی منازل طے کررہی تھی اور وہم وجہالت کی تاریک رات میں سماوی روشنی کے پیچھے چل رہی تھی۔ نیز ان آیات میں جو محکم اور واضح ہدایات دی گئی ہیں ہمارے لئے وہی کافی ہیں ۔ اور اگر کوئی چیز متشابہ اور ناقابل فہم ہے تو اس کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بالخصوص اب جبکہ ہم اس ماحول سے بہت دور جانکلے ہیں ۔ جہاں ایسے واقعات پیش آئے تھے ۔ بس ہمارے لئے یہی جان لینا کافی ہے کہ بنی اسرائیل جادوگری اور دوسری موہوم اور لایعنی باتوں کے پیچھے پڑ کر گمراہ ہوگئے تھے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی سچی اور یقینی ہدایات کو پس پشت ڈال دیا تھا اور یہ کہ عمل سحر ایک کفریہ عمل ہے ۔ اور جو لوگ ایسے اعمال کریں ان کے لئے دار آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا ۔ اور وہ ان تمام بھلائیوں اور خیرات سے محروم ہوجائیں گے جو ان کے لئے وہاں اللہ تعالیٰ کی جانب سے تیار کی گئی ہیں۔ درس 6 ایک نظر میں اس سبق میں یہودی سازشوں اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان ریشہ دوانیوں کو مزید کھولا جاتا ہے ۔ اسلامی جماعت کو ان کی چالوں اور حیلوں سے خبردار کیا جاتا ہے جو یہودی اسلام کے خلاف استعمال کرتے تھے ۔ نیز بتایا جاتا ہے کہ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف کس قدر بغض وحسد پایا جاتا ہے اور وہ امت مسلمہ کو نقصان پہنچانے اور ان کے خلاف سازشیں تیار کرنے میں کس طرح رات دن مصروف عمل ہیں ۔ اس لئے مسلمانوں کو اپنی بول چال اور اپنے طرز عمل میں ان دشمنان اسلام ، کفار اہل کتاب کے ساتھ ہر قسم کا تشبہ کرنے سے روکا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کو یہودیوں کے اقوال اور افعال اور پالیسیوں کے حقیقی اسباب بتائے جاتے ہیں ۔ مسلمانوں کے اتحاد ویکجہتی کے خلاف وہ جو سازشیں ، جو فتنہ انگیزیاں اور جو فریب کاریاں کررہے تھے ، انہیں واضح طور پر بیان کیا جاتا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں نے اسلامی معاشرے کی تشکیل جدید اور نئے حالات اور تقاضوں کے مطابق بعض شرعی احکامات اور تکالیف میں رد وبدل اور نسخ جیسے مسائل کی آڑ لے کر مکروہ پروپیگنڈے کا طوفان برپا کیا تھا ۔ انہوں نے جو گہری سازشیں مرتب کی تھی اس کے ذریعے وہ ان احکامات اور تکالیف کے منبع یعنی ذات باری تعالیٰ اور اس کی جانب سے وحی الٰہی کے نزول کی بابت مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے چاہتے تھے ۔ وہ مسلمانوں سے کہتے تھے ” اگر یہ وحی منجانب اللہ ہوتی تو سابقہ احکامات میں ردوبدل اور انہیں منسوخ کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ “ یہودی پہلے بھی ایسے پروپیگنڈے کرتے رہتے تھے لیکن جب ہجرت نبوی ﷺ کے 16 مہینے بعد تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو ان لوگوں نے اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کا ایک عظیم طوفان برپا کردیا ۔ ہجرت کے بعد ایک عرصے تک نبی ﷺ ، یہودیوں کے قبلہ ” بیت المقدس “ ہی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اور اس امر سے یہودی یہ استدلال کرتے تھے کہ بس قبلہ حق اور دین حق تو انہی کا دین اور قبلہ ہیں لہٰذا نبی کریم ﷺ کی دلی خواہش یہ تھی کہ مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس سے تبدیل ہوکر ، بیت الحرام ہوجائے ۔ البتہ نبی ﷺ نے کبھی اس کا اظہار نہ کیا تھا لیکن اس پورے عرصے میں یہ خواہش بدستور آپ کے دل میں موجود رہی اور اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی اس خواہش کے مطابق آپ ﷺ کے پسندیدہ قبلہ ہی کو مسلمانوں کا قبلہ بنادیا جیسا کہ آئندہ صفحات میں تفصیلات مذکور ہیں ۔ بنی اسرائیل چونکہ اس بات کو اچھی طرح محسوس کررہے تھے کہ تحویل قبلہ کے نتیجہ میں اسلام کے مقابلے میں ان کے دین کی ایک ظاہری برتری بھی ختم ہوجائے گی ۔ اور آئندہ اسے اپنے دین کی برتری کے لئے دلیل کے طور پر استعمال نہ کرسکیں گے لہٰذا اس مرحلے پر انہوں نے اسلامی صفوں انتشار پھیلانے اور وحی الٰہی کے من جانب اللہ کے نزول کے بارے میں اہل ایمان کے عقائد کے اندرشکوک و شبہات پیدا کرنے کی خاطر زبردست پروپیگنڈہ شروع کردیا ۔ ان کی یہ سازش اس قدر گہری تھی کہ اس میں انہوں نے مسلمانوں کے بنیادی عقیدے اور قرآن کے من جانب اللہ ہونے پر کلہاڑا چلانے کی کوشش کی تھی۔ وہ مسلمانوں سے جو کچھ کہتے تھے اس کا خلاصہ یہ تھا ” اگر بیت المقدس کی طرف چہرہ کرکے نماز پڑھنا باطل اور خلاف حق تھا تو 16 ماہ تک تمہاری تمام نمازیں ضائع ہوگئیں۔ اور اگر یہ فعل برحق تھا تو پھر تبدیلی کیوں ہوئی ؟ مقصد یہ تھا کہ اب تک انہوں نے جو نمازیں ادا کیں اس کا انہیں کوئی ثواب نہ ملے گا اور یہ کہ حضرت نبی کریم ﷺ کی قیادت کوئی حکیمانہ قیادت نہیں ہے ۔ (نعوذ باللہ) “ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض مسلمانوں پر اس پروپیگنڈے کے برے اثرات پڑنے لگے تھے ۔ اس لئے وہ نہایت قلق اور بےچینی سے اس کے متعلق نبی کریم ﷺ سے سوالات بھی کرنے لگے تھے ۔ کیونکہ یہ واقعہ اس غیر معمولی تھا اور دلوں میں اس قدر خلش پیدا ہوگئی کہ اس کے ہوتے ہوئے اسلامی قیادت پر اطمینان کی فضاقائم نہیں رہ سکتی تھی ۔ نہ اسلامی عقائد کے منبع و ماخذ پر مکمل اعتماد رہ سکتا تھا۔ اس لئے مسلمان بھی اس کی حکمت اور اس کے بارے میں اطمینان بخش دلائل پوچھنے لگے تھے ۔ یہ تھی وہ فضا جس میں قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں ۔ ان میں بتایا گیا کہ احکامات میں نسخ ایک گہری حکمت پر مبنی ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے زیادہ بہتر احکامات نازل فرماتے ہیں ۔ ایسے احکامات جو نئے حالات میں مسلمانوں کے لئے زیاہ مفید ہیں ۔ کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کن حالات میں کیا حکم بہتر ہے ۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو اس امر سے بھی خبردار کردیا جاتا ہے کہ یہودیوں کا اصل مقصد اور کوشش صرف یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بناکر چھوڑدیں کیونکہ ان کو یہ حسد کھائے جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وحی الٰہی جیسا فضل وکرم اور اعزازِ عظیم مسلمانوں کو کیوں بخشا ؟ کیونکہ اللہ نے اپنی آخری کتاب مسلمانوں پر نازل کردی ہے اور ان کے مقابلے میں یہ عظیم ذمہ داری کیوں ان کے سپرد کردی ہے ۔ قرآن کریم یہاں اس بات کو کھول کر بیان کرتا ہے کہ یہودیوں کی ان تما فتنہ سامانیوں کے پیچھے کون سا خفیہ مقصد کام کررہا ہے ۔ اس موقع پر قرآن کریم ان کے اس جھوٹے دعویٰ کا بھی مضحکہ اڑاتا ہے کہ جنت تو صرف ان کے لئے مخصوص ہے ۔ قرآن کریم ان کی آپس کی الزام تراشیوں کو بھی نقل کردیتا ہے کہ یہودی کہتے ہیں ” نصرانیوں کے دین کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ “ اور نصرانی کہتے ہیں ” یہودیوں کے دین کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ “ اور مشرکین آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کرتے ہیں ” دونوں باطل پر ہیں۔ “ قرآن کریم تحویل قبلہ کے معاملے میں ان کی بدنیتی اور خفیہ سازشوں کے راز کو یوں کھولتا ہے کہ بیت اللہ توروئے زمین پر اللہ کی پہلی عبادت گاہ ہے اور اس کی طرف چہرہ کرکے نماز پڑھنے سے لوگوں کو روک کر یہودی اللہ کی مساجد اور عبادت گاہوں کو خراب کرنے کے لئے ایسے جرم کے مرتکب ہورہے ہیں جو خود ان کے نزدیک بھی بہت بڑا جرم ہے ۔ غرض اس پورے سبق میں یہی مضمون آکر تک بیان کیا گیا ہے اور آخر میں مسلمانوں کے سامنے یہودیوں اور نصرانیوں کے اس مقصد کو واضح طور پر رکھ دیا گیا ہے ۔ جوان تمام کاروائیوں سے ان کے پیش نظر ہوتا ہے ۔ یعنی مسلمانوں کو اپنے اس دین حق سے پھیر کر اپنے دین پر لے آنا ۔ قرآن کہتا ہے کہ اہل کتاب نبی ﷺ سے اس وقت تک راضی نہیں ہوسکتے جب تک آپ ان کی ملت کے پیرو نہ بن جائیں ۔ جب تک آپ ان کی یہ آرزو پوری نہ کریں گے ، مکر و فریب اور جھوٹے پروپیگنڈے کی اس جنگ کو آخری وقت تک جاری رکھیں گے ۔ ان کی تمام فتنہ انگیزیوں ، فریب کاریوں اور ان کی جانب سے پیش کئے جانے والے تمام کھوکھلے دلائل کے پس پشت بس یہی ایک مقصد کارفرما ہے۔

البقرة 2:104

درس 6 تشریح آیات (104 تا 123) اس سبق کے شروع میں روئے سخن ” ان لوگوں کی طرف ہے جو ایمان لاچکے ہیں۔ “ مقصد یہ کہ دوسرے لوگوں سے ان مابہ الامتیاز کی صفت ایمان ہے ۔ یہی صفت ہے جس کی وجہ سے ایک طرف تو وہ اپنے نبی سے مربوط ہیں اور دوسری طرف اپنے پروردگار سے منسلک ہیں ۔ اور یہی صفت ہے کہ جس کے ساتھ اگر انہیں پکاراجائے تو اس کی وجہ سے ان کے دل متوجہ ہوجاتے ہیں ۔ اور وہ ہر پکار پر لبیک کہنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں ۔ اس صفت سے انہیں پکار کر اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دیتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ سے مخاطب ہوتے وقت ” راعنا “ کا لفظ استعمال نہ کریں۔ بلکہ ” انظرنا “ (ہماری طرف رعایت کیجئے) کے بھی وہی معنی ہیں ۔ صفت ایمان کے ساتھ اپیل کرتے ہوئے قرآن کریم انہیں سمع اور طاعت اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے اور کافروں کے برے ٹھکانے اور برے انجام یعنی عذاب الیم سے انہیں ڈراتا ہے۔ لفظ ” راعنا “ کے استعمال سے ممانعت کا سبب مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ بعض احمق یہودی اس لفظ کو یوں ادا کرتے تھے کہ یہ مصدر ” رعایت “ کے بجائے ” رعونت “ کا مشتق معلوم ہوتا تھا۔ یہ لوگ یوں نبی کریم ﷺ کی توہین کرکے اور آپ کی شان میں گستاخی کرکے دل کی بھڑاس نکالنے کی کوشش کرتے تھے ۔ ان میں یہ جراءت تو تھی نہیں کہ اعلانیہ کھل کر نبی کریم ﷺ کو کچھ کہہ سکیں ۔ اس لئے یہودیوں کے بعض کمینے اور ذلیل لوگ یوں لفظی ہیر پھیر سے آپ کے حق میں بدزبانی کرنے کی سعی کرتے تھے ۔ اس لئے مؤمنین کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ سرے سے وہ الفاظ استعمال نہ کریں ، جسے یہودی اس ذلیل مقصد کے لئے استعمال کررہے تھے تاکہ ان کی کمینگی کا دروازہ ہی بند ہوجائے۔ نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کے لئے یہودیوں کی جانب سے ایسے ذلیلانہ ہتھکنڈوں کا استعمال اس امر کو اچھی طرح ظاہر کردیتا ہے کہ ان بدبختوں کو نبی کریم ﷺ اور آپ کی تحریک سے کس قدر بغض تھا ۔ اور کس طرح وہ آپ کے خلاف ہر گھٹیا حربہ استعمال کررہے کرنے کے لئے تیار رہتے تھے ۔ اور اس سلسلے میں کسی موقع کو بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے ۔ نیز ایسے موقع پر وحی الٰہی کے ذریعے ایسے الفاظ کے استعمال کی ممانعت کردینے سے یہ بات بھی ظاہر ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اپنے نبی اور تحریک اسلامی کے نگہبان تھے اور ان کے مکار دشمنوں کی سازشوں اور مکاریوں کا دفیعہ فرمادیتے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ ان لوگوں کے دلوں مسلمانوں کے خلاف کس قدر بغض وکینہ بھرا ہوا ہے ۔ کیونکر یہ ہر وقت مسلمانوں کی عداوت اور ایذا رسانی پر کمر بستہ ہیں ۔ یہ سب کچھ وہ محض اس لئے کررہے ہیں کہ کیوں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے اس مخصوص فضل وکرم سے نوازا۔ یہ تفصیلات اللہ تعالیٰ نے اس لئے بیان کیں کہ مسلمان اپنے دشمنوں سے محتاط ہوجائیں اور جس ایمان کی وجہ سے ان کے دشمنوں کے دل جل اٹھے ہیں ، اس پر اور جم جائیں ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر جو خصوصی فضل فرمایا ہے اس کا شکریہ ادا کریں۔ اس کی حفاظت کریں۔

البقرة 2:105

اللہ تعالیٰ یہاں اہل کتاب اور مشرکین دونوں کو کافروں کے زمرے میں داخل فرماتے ہیں ۔ کیونکہ یہ دونوں طبقے نبی آخرالزمان کی رسالت کے منکر تھے ، لہٰذا اس پہلو سے وہ دونوں ایک حیثیت رکھتے ہیں اور دونوں کے دل مسلمانوں کے حسد اور بغض سے بھرے ہوتے ہیں ، یہ دونوں نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کو کوئی بھلائی نصیب ہو ۔ وہ مسلمانوں کی جس چیز سے بہت جل بھن گئے ہیں وہ ان کا دین ہے ۔ ان کو یہ بات کھلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں چھوڑ کر اس بھلائی کے لئے مسلمانوں کو کیوں منتخب فرمایا۔ ان پر قرآن کی صورت میں وحی الٰہی کیوں نازل ہوئی ، انہیں اس انعام واکرام سے کیوں نوازا گیا ۔ اور کائنات کی عظیم ترین امانت ، یعنی اسلامی نظریہ حیات کا محافظ مسلمانوں کو کیوں قرار دیا گیا ۔ اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یہ لوگ اس بات کے ہرگز روادار نہیں تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے کسی اور بندے کو بھی نواز دے ۔ اس سلسلے میں ان کی تنگ دلی اس حد کو جاپہنچی ہے کہ نبی ﷺ پر پیغام وحی لے کر آنے کی وجہ سے یہ لوگ حضرت جبریل (علیہ السلام) کے بھی دشمن ہوگئے ہیں ۔ حالانکہ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ ” اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے چن لیتا ہے ۔ “ نیز صرف اللہ ہی اس بات کو جانتا ہے کہ اس کی اس امانت و رسالت کا بہترین مہبط کہاں ہے ؟ اب اگر اللہ تعالیٰ نے یہ پیغام حضرت محمد ﷺ پر اتارا ہے اور مسلمان اس پر ایمان لاتے ہیں تو اللہ کے علم میں یہ بات موجود تھی کہ رسول اکرم ﷺ اور مؤمنین اس بار امانت کو اٹھانے کے اہل ہیں وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (105) ” اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ “ نبوت اور رسالت کی نعمت سے کوئی بڑی نعمت نہیں ہے ، اور دولت ایمان سے بڑی کوئی دولت نہیں ہے اور دعوت اسلامی کے اعزاز سے کوئی بڑا اعزاز نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہاں یہ احساس دلانا چاہتا ہے اور ان کے اندر یہ شعور اجاگر کرنا چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک عظیم احسان اور فضل وکرم کیا ہے ۔ اس سے پہلے مسلمانوں کو یہ تصور دلایا گیا تھا کہ مسلمانوں پر اللہ کے ان احسانات کی وجہ سے کفار کے دل کینہ اور حسد سے جل بھن گئے ہیں ۔ لہٰذا انہیں ان سے چوکنا رہنا چاہئے ۔ اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ مسلمان ان سے محتاط رہیں اور یہودی سازشیوں کے مقابلے میں ان کا شعور تیز رہے ۔ یہودیوں کی وسوسہ اندازی اور تشکیک کے مقابلے میں مسلمانوں کے اندر اس قسم کے احساس و شعور کو بیدار کرنا ضروری تھا ، کیونکہ یہ لوگ اس وقت بھی اور اس کے بعد آج تک مسلمانوں کے دل و دماغ میں سے اس نظریہ حیات پر ایمان کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ یہ دولت ایمان ہی تھی جس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے ساتھ حسد کرتے تھے ۔ کیونکہ اس کی وجہ سے مسلمان ان سے ممتاز اور برتر ہوگئے تھے ۔ جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ۔ یہودیوں کے اس حملے کا آغاز قرآن کریم کی بعض آیات اور احکامات کی تنسیخ سے ہوا تھا۔ بالخصوص جب بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی قبلے کی تحویل کا حکم نازل ہوا۔ یہ واقعہ ایسا تھا جس کی وجہ سے یہودی اپنے دعوائے برتری کے اہم ثبوت سے محروم ہوگئے تھے اور انہوں نے یہ مذموم پروپیگنڈا تیز تر کردیا تھا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ! مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ(106) یہ آیات تحویل قبلہ کے موقعہ پر نازل ہوئی ہیں ، جیسا کہ ان آیات کے بعد سیاق کلام سے بھی معلوم ہوتا ہے ۔ یا اس سے مراد وہ جزوی تبدیلیاں ہوں جو جماعت مسلمہ کی ہدایت کے لئے مختلف حالات میں احکامات قرآنی اور ہدایات الٰہی میں کی جارہی تھیں یا اس سے مراد قرآن کریم کی وہ مجموعی تبدیلیاں ہوں جو تورات وانجیل کے مقابلے میں قرآن نے کیں حالانکہ مجموعی لحاظ سے قرآن نے ان کتابوں کو کتب برحق کہا تھا۔ ان میں سے کوئی ایک مراد ہو یا تینوں مراد ہوں جنہیں یہودیوں نے اس وقت تحریک اسلامی کے خلاف پروپیگنڈے اور مسلمانوں کے اندر شبہات پھیلانے کی خاطر استعمال کیا تھا اور اسلام کے مرکزی عقائد پر حملے شروع کردئیے تھے ۔ بہرحال مراد جو بھی ہو قرآن کریم اس اس موقع پر احکامات میں تبدیلی اور نسخ کے بارے میں واضح یدایات دے دیتا ہے ۔ اور یہودیوں کی ان تمام وسوسہ اندازیوں اور نکتہ چینیوں کا خاتمہ کردیتا ہے جو وہ حسب عادت مختلف طریقوں سے ، اسلامی نظریہ حیات کے خلاف کرتے رہتے تھے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ زمانہ ٔ رسالت کے دوران ہدایات واحکامات میں جزوی تبدیلی خود انسانوں کی بھلائی کے لئے کی جاتی ہے ۔ اور ہر تبدیلی بدلے ہوئے حالات میں انسانیت کی بہتری ہی کے لئے کی جاتی ہے کیونکہ اللہ ہی انسانوں کا خالق ہے ۔ اسی نے رسول بھیجے ہیں ۔ وہی ان احکامات کا نازل کرنے والا ہے ۔ اور یہ سب کچھ اس کے مقررہ پروگرام کے مطابق ہوتا ہے۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کسی آیت کو منسوخ کردیتا ہے یا بھلا دیتا ہے ۔ آیت سے مراد پڑھی جانے والی آیات قرآن ہو جو احکامات پر مشتمل ہوتی ہے۔ یا اس سے مراد وہ علامت یا طبعی معجزات اور خارق عادات وقعات ہوں جن کا صدور مختلف حالات میں پیغمبروں کے ہاتھوں ہوا کرتا تھا۔ اور بعد میں یہ آیات ومعجزات لپیٹ دیئے جاتے تھے ۔ جو بھی مراد ہو ، اللہ تعالیٰ وہ کسی چیز کے معاملے میں بےبس نہیں ہے ۔ زمین و آسمان کے تمام امور اس کے دست قدرت میں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

البقرة 2:106

اللہ تعالیٰ یہاں اہل کتاب اور مشرکین دونوں کو کافروں کے زمرے میں داخل فرماتے ہیں ۔ کیونکہ یہ دونوں طبقے نبی آخرالزمان کی رسالت کے منکر تھے ، لہٰذا اس پہلو سے وہ دونوں ایک حیثیت رکھتے ہیں اور دونوں کے دل مسلمانوں کے حسد اور بغض سے بھرے ہوتے ہیں ، یہ دونوں نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کو کوئی بھلائی نصیب ہو ۔ وہ مسلمانوں کی جس چیز سے بہت جل بھن گئے ہیں وہ ان کا دین ہے ۔ ان کو یہ بات کھلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں چھوڑ کر اس بھلائی کے لئے مسلمانوں کو کیوں منتخب فرمایا۔ ان پر قرآن کی صورت میں وحی الٰہی کیوں نازل ہوئی ، انہیں اس انعام واکرام سے کیوں نوازا گیا ۔ اور کائنات کی عظیم ترین امانت ، یعنی اسلامی نظریہ حیات کا محافظ مسلمانوں کو کیوں قرار دیا گیا ۔ اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یہ لوگ اس بات کے ہرگز روادار نہیں تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے کسی اور بندے کو بھی نواز دے ۔ اس سلسلے میں ان کی تنگ دلی اس حد کو جاپہنچی ہے کہ نبی ﷺ پر پیغام وحی لے کر آنے کی وجہ سے یہ لوگ حضرت جبریل (علیہ السلام) کے بھی دشمن ہوگئے ہیں ۔ حالانکہ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ ” اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے چن لیتا ہے ۔ “ نیز صرف اللہ ہی اس بات کو جانتا ہے کہ اس کی اس امانت و رسالت کا بہترین مہبط کہاں ہے ؟ اب اگر اللہ تعالیٰ نے یہ پیغام حضرت محمد ﷺ پر اتارا ہے اور مسلمان اس پر ایمان لاتے ہیں تو اللہ کے علم میں یہ بات موجود تھی کہ رسول اکرم ﷺ اور مؤمنین اس بار امانت کو اٹھانے کے اہل ہیں وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (105) ” اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ “ نبوت اور رسالت کی نعمت سے کوئی بڑی نعمت نہیں ہے ، اور دولت ایمان سے بڑی کوئی دولت نہیں ہے اور دعوت اسلامی کے اعزاز سے کوئی بڑا اعزاز نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہاں یہ احساس دلانا چاہتا ہے اور ان کے اندر یہ شعور اجاگر کرنا چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک عظیم احسان اور فضل وکرم کیا ہے ۔ اس سے پہلے مسلمانوں کو یہ تصور دلایا گیا تھا کہ مسلمانوں پر اللہ کے ان احسانات کی وجہ سے کفار کے دل کینہ اور حسد سے جل بھن گئے ہیں ۔ لہٰذا انہیں ان سے چوکنا رہنا چاہئے ۔ اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ مسلمان ان سے محتاط رہیں اور یہودی سازشیوں کے مقابلے میں ان کا شعور تیز رہے ۔ یہودیوں کی وسوسہ اندازی اور تشکیک کے مقابلے میں مسلمانوں کے اندر اس قسم کے احساس و شعور کو بیدار کرنا ضروری تھا ، کیونکہ یہ لوگ اس وقت بھی اور اس کے بعد آج تک مسلمانوں کے دل و دماغ میں سے اس نظریہ حیات پر ایمان کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ یہ دولت ایمان ہی تھی جس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے ساتھ حسد کرتے تھے ۔ کیونکہ اس کی وجہ سے مسلمان ان سے ممتاز اور برتر ہوگئے تھے ۔ جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ۔ یہودیوں کے اس حملے کا آغاز قرآن کریم کی بعض آیات اور احکامات کی تنسیخ سے ہوا تھا۔ بالخصوص جب بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی قبلے کی تحویل کا حکم نازل ہوا۔ یہ واقعہ ایسا تھا جس کی وجہ سے یہودی اپنے دعوائے برتری کے اہم ثبوت سے محروم ہوگئے تھے اور انہوں نے یہ مذموم پروپیگنڈا تیز تر کردیا تھا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ! مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ(106) یہ آیات تحویل قبلہ کے موقعہ پر نازل ہوئی ہیں ، جیسا کہ ان آیات کے بعد سیاق کلام سے بھی معلوم ہوتا ہے ۔ یا اس سے مراد وہ جزوی تبدیلیاں ہوں جو جماعت مسلمہ کی ہدایت کے لئے مختلف حالات میں احکامات قرآنی اور ہدایات الٰہی میں کی جارہی تھیں یا اس سے مراد قرآن کریم کی وہ مجموعی تبدیلیاں ہوں جو تورات وانجیل کے مقابلے میں قرآن نے کیں حالانکہ مجموعی لحاظ سے قرآن نے ان کتابوں کو کتب برحق کہا تھا۔ ان میں سے کوئی ایک مراد ہو یا تینوں مراد ہوں جنہیں یہودیوں نے اس وقت تحریک اسلامی کے خلاف پروپیگنڈے اور مسلمانوں کے اندر شبہات پھیلانے کی خاطر استعمال کیا تھا اور اسلام کے مرکزی عقائد پر حملے شروع کردئیے تھے ۔ بہرحال مراد جو بھی ہو قرآن کریم اس اس موقع پر احکامات میں تبدیلی اور نسخ کے بارے میں واضح یدایات دے دیتا ہے ۔ اور یہودیوں کی ان تمام وسوسہ اندازیوں اور نکتہ چینیوں کا خاتمہ کردیتا ہے جو وہ حسب عادت مختلف طریقوں سے ، اسلامی نظریہ حیات کے خلاف کرتے رہتے تھے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ زمانہ ٔ رسالت کے دوران ہدایات واحکامات میں جزوی تبدیلی خود انسانوں کی بھلائی کے لئے کی جاتی ہے ۔ اور ہر تبدیلی بدلے ہوئے حالات میں انسانیت کی بہتری ہی کے لئے کی جاتی ہے کیونکہ اللہ ہی انسانوں کا خالق ہے ۔ اسی نے رسول بھیجے ہیں ۔ وہی ان احکامات کا نازل کرنے والا ہے ۔ اور یہ سب کچھ اس کے مقررہ پروگرام کے مطابق ہوتا ہے۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کسی آیت کو منسوخ کردیتا ہے یا بھلا دیتا ہے ۔ آیت سے مراد پڑھی جانے والی آیات قرآن ہو جو احکامات پر مشتمل ہوتی ہے۔ یا اس سے مراد وہ علامت یا طبعی معجزات اور خارق عادات وقعات ہوں جن کا صدور مختلف حالات میں پیغمبروں کے ہاتھوں ہوا کرتا تھا۔ اور بعد میں یہ آیات ومعجزات لپیٹ دیئے جاتے تھے ۔ جو بھی مراد ہو ، اللہ تعالیٰ وہ کسی چیز کے معاملے میں بےبس نہیں ہے ۔ زمین و آسمان کے تمام امور اس کے دست قدرت میں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

البقرة 2:107

جن الفاظ میں مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا ہے کہ ” تمہاری خبر گیری کرنے والا اور تمہاری مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ “ ان سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ان سے بیک وقت تنبیہ اور تذکیر مطلوب ہے۔ غائبانہ تنبیہ کا انداز اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ بعض لوگ یہودیوں کے اس گمراہ کن پروپیگنڈے سے متاثر ہوگئے تھے ۔ اور ان کی جانب سے پیدا کردہ شر انگیزی سے مرعوب ہوکر وہ نبی ﷺ سے ایسے سوالات کرنے لگے تھے ، جو مکمل اعتماد اور پختہ یقین سے میل نہ کھاتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے ایسے سوالات کو ناپسند کیا اور واضح طور پر انہیں تنبیہ کی ۔

البقرة 2:108

اللہ مؤمنین کو متنبہ کرتا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی طرح کج بحثی میں نہ پڑیں اور اپنے پیغمبر سے خوامخواہ دلائل نہ پوچھیں اور نہ ہی خارق عادت باتوں کا مطالبہ کریں ۔ جس طرح بنی اسرائیل نے یہ حرکت اپنے نبی کو تنگ کرنے کے لئے کی تھی ۔ ان کی یہ عادت تھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) انہیں کوئی حکم دیتے یا ان تک اللہ تعالیٰ کا کوئی پیغام پہنچاتے تو کج بحثیوں میں پڑجاتے جیسا کہ اس سے قبل اسی سورت میں کئی واقعات گذر چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس روش کے قدرتی انجام سے ڈراتے ہیں ۔ کیونکہ اس روش کا قدرتی انجام گمراہی اور ایمان کے بعد کفر کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا ۔ اسی انجام تک اس سے پہلے بنی اسرائیل پہنچ چکے ہیں اور اب ان لوگوں کی دلی خواہش یہ ہے کہ مسلمان بھی اسی انجام تک پہنچ جائیں۔

البقرة 2:109

حسد ، جو ایک نہایت ہی بری خصلت اور اخلاقی بیماری ہے ۔ نفس انسانی کے اندر یہ خواہش پیدا کردیتی ہے کہ تمام دوسرے لوگ ہر قسم کی بھلائی سے محروم ہوجائیں اور راہ ہدایت نہ پائیں ۔ اس لئے نہیں کہ ایسے حاسد شرپسند لوگ حقیقت حال سے واقف نہیں ہوتے ۔ وہ حقیقت حال سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں مگر محض حسد کی بناپر یہ خواہش رکھتے ہیں ۔ حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ” اگرچہ حق ان پر ظاہر ہوچکا ہے مگر نفس کے حسد کی بناپر وہ ایسا کرتے ہیں ۔ “ یہود کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف حسد کے سیاہ اور گھٹیا جذبات موجزن تھے وہ جذبات آج بھی جوں کے توں موجد ہیں ۔ اسلام کے خلاف ان کی تمام سازشیں اور تمام تدابیر انہی جذبات پر مبنی تھیں ۔ اور آج تک ان کا طرز عمل جوں کا توں ہے ۔ اسی حقیقت کو قرآن کریم تفصیل کے ساتھ مسلمانوں کے سامنے کھول کر بیان کررہا ہے تاکہ وہ معاملے کی حقیقت تک پہنچ جائیں ۔ اور یہ معلوم کرلیں کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہودیوں کی اس مسلسل جدوجہد کے پس منظر میں صرف وہ جذبہ کارفرما ہے کہ وہ مسلمانوں کے عقائد کو متزلزل کردیں اور انہیں دوبارہ اسی حالت کفر کی طرف لوٹا کرلے جائیں جس میں وہ پہلے مبتلا تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے نجات دی اور وہ ایمان لے آئے اور انہیں فضل عظیم اور نعمت جلیلہ سے نوازا گیا۔ جب یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے اور یہودیوں کا مکروہ بغض وحسد عیاں ہوجاتا ہے تو قرآن کریم مسلمانوں کو یہ تلقین کرتا ہے کہ وہ یہودیوں کی پست سطح سے بالا ہوکر سوچیں ۔ حسد کا جواب حسد اور شر سے نہ دیں بلکہ عفو اور درگذر سے کام لیں اور اس وقت کا انتظار کریں جب اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ لے آئے ۔

البقرة 2:110

غرض اس پورے پیراگراف میں اسلامی جماعت کو یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے اور مسلمانوں کی فکر کو اس پر مرکوز کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان کے خطرے کی اصل جگہ کون سی ہے ۔ کہاں ان کے خلاف سازشیں تیارہوتی ہیں ۔ یوں اسلامی شعور کو یہودیوں کے برے ارادوں ، گھٹیا سازشوں اور مذموم حاسدانہ جذبات کے مقابلے میں تیار کیا جاتا ہے لیکن اس کی تیاری کے بعد اس اسلامی شعور کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کردیا جاتا ہے تاکہ مسلمان اس کے احکام کے منتظر ہوں اور اپنی ہر حرکت اور اپنے ہر فعل کو اللہ کے تصرف میں دے دیں ۔ یہاں تک کہ فیصلے کی گھڑی آجائے ۔ اس وقت مسلمانوں کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ وہ عفو و درگذر سے کام لیں اور اپنے دلوں کو بغض وحسد اور کینہ ودشمنی سے پاک رکھیں اور صاحب امر اور صاحب مشیئت کے احکامات اور فیصلے کا انتظار کریں۔ اس کے بعد قرآن کریم ان دعوؤں کا جائزہ لیتا ہے جو یہود ونصاریٰ بالعموم کیا کرتے تھے ۔ مثلاً یہ کہ وہ کہتے تھے کہ صرف وہی ہدایت پر ہیں ۔ یہ کہ جنت صرف ان کے لئے ہے اور ان کے علاوہ اس میں کوئی بھی داخل نہ ہوگا ۔ اور یہ دعویٰ بیک وقت یہودی اور عیسائی کرتے تھے ۔ ان میں سے ہر ایک شخص کہتا تھا کہ دوسرے کے پاس سچائی کا ایک ذرہ بھی نہیں ہے ۔ ان کے ان دعوؤں کے تذکرے کے ضمن میں قرآن کریم عمل اور مکافات کے بارے میں اپنے حقیقی تصور کی وضاحت بھی کردیتا ہے۔

البقرة 2:111

مدینہ طیبہ میں جو لوگ مسلمانوں کے مقابلے میں اترے ہوئے تھے وہ یہودی تھے کیونکہ وہاں نصرانیوں کا کوئی ایسا منظم گروہ موجود نہ تھا جو یہودیوں کی طرح اسلام دشمنی میں مبتلا ہوتا لیکن آیت میں انداز بیان کو عام رکھا گیا ہے ۔ یہاں آیات الٰہی دونوں گروہوں کے اقوال کی تردید کرتی ہے ۔ اور ایک دوسرے کے بارے میں یہو و ونصاریٰ دونوں کے اقوال نقل کرکے آخرت میں ان دونوں کے بارے میں مشرکین عرب کے خیالات نقل کردیئے جاتے ہیں وَقَالُوا لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلا مَنْ كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَى” ان کا کہنا ہے کہ کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا جب تک وہ یہودی نہ ہو یا عیسائی نہ ہو۔ “ یہاں ان دونوں فرقوں کے دعوؤں کو یکجا کرکے بیان کیا گیا ورنہ ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ مدعی تھا ۔ یہودی کہتے تھے کہ جنت میں صرف وہ شخص داخل ہوگا جو یہودی ہو اور نصرانی کہتے تھے کہ جنت میں صرف وہ شخص داخل ہوگا جو نصرانی ہو ۔ ان دونوں کے یہ لمبے چوڑے دعوے محض ادعائی تھے ۔ ان کی پشت پر کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہ تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ تلقین کرتے ہیں کہ وہ انہیں ان کے دعوؤں کی دلیل پیش کرنے کا چیلنج کریں۔ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ” ان سے کہو اپنی دلیل پیش کرو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ “ یہاں اللہ تعالیٰ موقع کی مناسبت سے مکافات عمل کے بارے میں اسلامی نظریہ حیات کا ایک اہم اصول بیان کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس معاملے میں کسی امت کسی گروہ یا کسی فرد کی کوئی رورعایت نہ کی جائے گی ۔ اللہ کے ہاں جس چیز کی قدر ہے وہ نیکی اور مکمل بندگی اور تسلیم ورضا ہے ۔ یہاں محض نام اور عنوان کو دیکھ کر فیصلے نہیں ہوتے ۔

البقرة 2:112

بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ ” حق یہ ہے کہ جو بھی اپنی ہستی کو اللہ کی اطاعت میں سونپ دے اور عملاًنیک روش پر چلے ، اس کے لئے اس کے رب کے پاس اجر ہے اور ایسے لوگوں کے لئے کسی خوف یا رنج کا موقع نہیں ہے۔ “ اس سے قبل ایک جگہ یہودیوں کے اس دعوے پر کہ ” انہیں آگ نہیں چھوئے گی مگر چند دن “ کی تردید کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں سزا کا یہ عام اصول بیان کیا تھا۔” ہاں جو بھی برائی کمائے گا اور اس کی برائیاں اسے گھیر لیں گی وہ لوگ جہنمی ہوں گے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے ۔ “ یعنی خطیئات کے مرتکب لوگوں کو سزا محض اس لئے ہوگی کہ انہوں نے خطیئات کا ارتکاب کیا ۔ اس کے علاوہ کوئی نقطہ نظر یا کوئی پہلو اس کا باعث نہ ہوگا کہ انہیں سزا دی جائے ۔ غرض نیکی اور بدی میں اللہ کے ہاں جزاوسزا کا یہی ایک اصول ہے ۔ بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ جو اپنی ہستی کو اللہ کی اطاعت میں سونپ دے اور عملاً نیک روش پر چلے ” یعنی اپنی پوری ذات کو اللہ کے مختص کردے ۔ اپنے پورے شعور کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوجائے اور جس طرح پہلا شخص خالصتاً برائی میں گرفتار ہوگیا تھا ۔۔ یہ ہمہ تن اللہ کے لئے ہوجائے ۔ “ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ ” جو اپنی ذات کو پوری طرح اللہ کی اطاعت میں سونپ دے۔ “ اس فقرے میں اسلام کی اہم ترین خصوصیت اور واضح علامت کو بیان کیا گیا ہے ۔ یعنی ایک انسان پوری طرح اللہ کی طرف منہ کرلے ۔ یعنی ہمہ تن متوجہ ہوجائے اور مکمل انقیاد اور اطاعت اختیار کرلے یعنی معنوی طور پر اللہ کے آگے جھک جائے اور عملاً بھی اس کا مطیع فرمان ہوجائے اور چونکہ معنوی رضاوتسلیم کے لئے ظاہری دلیل عملاً اطاعت حکم ہوا کرتی ہے ، اس لئے کہا گیا اور عملاً نیک روش اختیار کرے ۔ اسلام کی اہم ترین خصوصیات اور نشانیوں میں سے ایک یہ امر ہے کہ انسان کا شعور اور روش اس کا عقیدہ اور عمل ، اس کا قلبی ایمان اور عملی روش کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور تب ایک بندہ مومن اس عطاء الٰہی کا مستحق قرار پاتا ہے۔ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ ” ان کے لئے ان کے رب کے پاس اجر ہے اور ایسے لوگوں کے لئے کسی خوف یا رنج کا کوئی موقع نہیں۔ “ ان کا اجر محفوظ اور ان کے رب کے پاس ہے ۔ امن و طمانیت کی ایک عظیم دنیا جس میں رنج والم کا شائبہ تک نہیں ، ان کے لئے منتظر ہے ۔ فرحت و سرور کا ایک عالم ہے جس میں حزن وملال کا کوئی لمحہ نہیں ۔ ان کے لئے تیار ہے ۔ جزا کا یہ اصول عامہ ہے اور تمام لوگ اس میں برابر ہیں ۔ اللہ کے ہاں کسی کی رو رعایت یا کسی کی کوئی شان محبوبیت نہیں ہے ۔

البقرة 2:113

یہود ونصاریٰ دونوں لمبے چوڑے دعوے کرتے رہتے تھے اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کے بارے میں کہتا تھا کہ وہ تو کچھ نہیں ۔ نیز مشرکین تو ان سے بھی ایک قدم آگے بڑھے ہوئے تھے اور کہتے تھے کہ ان دونوں گروہوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَى عَلَى شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصَارَى لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ كَذَلِكَ قَالَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ (113) ” یہودی کہتے ہیں کہ عیسائیوں کے پاس کچھ نہیں ، عیسائی کہتے ہیں یہودیوں کے پاس کچھ نہیں ۔ حالانکہ دونوں ہی کتاب پڑھتے ہیں اور اسی قسم کے دعوے ایسے لوگوں کے پاس بھی ہیں جن کے پاس کتاب کا علم نہیں ۔ یہ اختلافات جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں ان کا فیصلہ اللہ قیامت کے روز کرے گا۔ “ جن لوگوں کے پاس کتاب کا علم نہیں یعنی انپڑھ عرب جن کے پاس کوئی کتاب نہ تھی ۔ یہ لوگ جب بھی دیکھتے تھے کہ یہود ونصاریٰ جس تفرق اور اختلافات کا شکار ہیں ایک دوسرے کو جس طرح گالیاں دے رہے ہیں اور جس طرح الزام تراشیاں کررہے ہیں یا جن خرافات اور بےحقیقت باتوں پر وہ ایمان لائے ہوئے ہیں ۔ وہ اہل شرک اور عربوں کے مشرکانہ خیالات ، فرشتوں کے اولاد الٰہی ہونے کے تصورات سے کسی بھی طرح اونچے عقائد یا نظریات نہیں ۔ اس لئے وہ بھی ان عقائد کو حقیر سمجھتے ہوئے یہود ونصاریٰ کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ ان کے ارکان کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جنت کی ملکیت کے بارے میں یہود ونصاریٰ کے ان دعوؤں کے بعد قرآن کریم ان لوگوں کی باہم الزام تراشیاں نقل کرکے ان کے فیصلے کو اللہ پر چھوڑدیتا ہے اور کہتا ہے فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ” پس اللہ ہی قیامت کے دن ان کے مختلف فیہ مسائل کا فیصلہ کرے گا۔ کیونکہ وہی عادل جج ہے ۔ اور آخر کار تمام امور اسی کے سامنے جانے ہیں ۔ “ جو لوگ دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہی جنتی ہیں اور اہل ہدایت ہیں لیکن وہ کسی منطق کے قائل نہیں ہوتے ، نہ ان کے دعاوی کسی دلیل پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کا معاملہ اللہ ہی پر چھوڑ دینا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ ایسے لوگوں سے جان چھڑانے کی بس یہی صورت ہے ۔ یہودی ، مسلمانوں کے دلوں میں پیغمبر ﷺ کے اوامر اور آپ کی تعلیمات کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی مشاعی کرتے تھے ، خصوصاً تحویل قبلہ کے معاملے میں ، ان کا پروپیگنڈی تو اپنی انتہاء کو پہنچ گیا تھا۔ اب روئے سخن ان کی ان مذموم مساعی کی تردید کی طرف پھرجاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کی یہ جدوجہد درحقیقت مساجد اللہ کی تخریب ہے اور ان کا مقصد مساجد اللہ میں اللہ کے ذکر وفکر سے لوگوں کو منع کرنا ہے۔

البقرة 2:114

اقرب الی الذہن یہ ہے کہ ان دوآیات کا تعلق مسئلہ تحویل قبلہ سے ہے ۔ کیونکہ اس مرحلے پر یہودی اس کوشش میں لگے ہوئے تھے کہ مسلمانوں کو نئے قبلہ کی جانب منہ کرکے نماز پڑھنے سے باز رکھیں ، حالانکہ کعبہ وہ پہلا عبادت خانہ تھا جو عوام کے لئے بنایا گیا اور وہی اسبق قبلہ تھا۔ اگرچہ اس آیت کے اسباب ونزول کے سلسلے میں اس کے علاوہ بھی متعدد روایات ہیں۔ بہرحال آیت کی عمومیت اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ یہ ایک عام حکم ہے اور اس میں ہر کسی کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی مساجد میں اس کے ذکر دفکر اور عبادت سے روکیں۔ یا ان مساجد کی تخریب کے درپے ہوں ۔ یہاں ایسے لوگوں کا حکم اور وہ جزا بھی بتادی جاتی ہے جس کے مستحق وہ تمام لوگ ہیں جو ایسے کام کرتے ہیں ۔ “ اور وہ جزا یہ ہے أُولَئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلا خَائِفِينَ ” ایسے لوگ تو اس قابل ہیں کہ ان عبادت گاہوں میں قدم نہ رکھیں اور اگر وہاں جائیں بھی تو ڈرتے ہوئے جائیں۔ “ یعنی وہ ہمیشہ دھکیلے جانے ، بھگائے جانے اور امن و سکون سے محروم ہونے کے مستحق ہیں الا یہ کہ وہ اس خوف اور بےچینی سے پناہ گاہ کی تلاش میں ڈرتے ڈرتے مسجدوں میں جاگھسیں ۔ اور مسجد کے احترام کا دامن تھام لیں ۔ (یہی صورت حال فتح مکہ کے موقع پر پیش آئی ) جب رسول اللہ ﷺ کے منادی نے پکارا کہ ” جو شخص مسجد حرام میں پناہ لے گا اسے پناہ مل جائے گی۔ “ چناچہ قریش کے تمام سرکش افراد بھی مسجد میں جاگھ سے حالانکہ یہی وہ لوگ تھے جو ایک عرصہ تک رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو مسجد حرام میں عبادت کرنے سے بھی روک رہے تھے ۔ ) ایسے لوگوں کا انجام بتاتے ہوئے قرآن کریم مزید وضاحت کرتا ہے کہ ایسے لوگ دنیا میں بھی ذلیل ہوں گے اور آخرت میں تو ان کے لئے عذاب عظیم تیار کیا گیا ہے ۔ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ” ان کے لئے تو دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں عذاب عظیم ہے ۔ “ بعض مفسرین نے آیت مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلا خَائِفِينَکی تفسیر یہ کی ہے کہ ایسے لوگوں کا فرض یہ ہے کہ وہ آداب مسجد کا لحاظ کرتے ہوئے مساجد میں ڈرتے ڈرتے اور خضوع اور خشوع کے ساتھ داخل ہوں ، کیونکہ اللہ کی مساجد کا احترام اور اللہ ذوالجلال کی ہیبت اور دبدبے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے گھر میں بصد احترام قدم رکھاجائے ۔ بہرحال یہ بھی ایک تفسیر ہے اور آیت اس کی بھی متحمل ہے۔

البقرة 2:115

لیکن ان آیات میں سے دوسری یعنی وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُچونکہ تحویل قبلہ کے موقع پر نازل ہوئی اس لئے ہم نے پہلی آیت ومن اظلم کو بھی تحویل قبلہ پر محمول کیا ہے۔ وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ” مشرق اور مگر ب سب اللہ کے ہیں ۔ جس طرف بھی تم رخ کروگے اسی طرح اللہ کا رخ ہے ۔ اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔ “ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے اس پروپیگنڈے کے ردّمیں نازل ہوئی ہے جو وہ تحویل قبلہ کے خلاف کر رہے تھے کہ اگر قبلہ یہ ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ مسلمانوں نے جو نمازیں بیت المقدس کی طرف رخ کرکے ادا کیں وہ سب باطل تھیں ۔ سب ضائع گئیں اور اللہ کے ہاں ان کا کوئی حساب نہ ہوگا۔ آیت میں یہودیوں کے اس خیال باطل کی تردید کی جاتی ہے کہ جس طرف بھی رخ کیا جائے وہی قبلہ ہے ۔ ایک عبادت گذار جس طرف بھی رخ کرے ، اللہ کا رخ اسی طرف ہے ۔ رہا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک معین سمت کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا جو حکم دیا ہے وہ محض امتثال امر ہے اور عبادت و اطاعت ہے۔ یہ حکم اس لئے نہیں دیا گیا کہ نعوذباللہ کہیں اس طرف اللہ کا رخ ہے اور دوسری طرف نہیں ہے۔ رہا اللہ تو وہ اپنے بندوں پر کسی معاملے میں ضیق اور تنگی نہیں کرتا ، نہ ان کے ثواب میں کمی کرتا ہے ، کیونکہ وہ ان کے دلوں کے بھید جانتا ہے اور ان کے میلانات اور رجحانات کو بھی جانتا ہے جو ایک خاص سمت کی طرف رخ کرنے کے لئے لوگوں میں پائے جاتے ہیں ۔ اللہ کے ہاں بڑی وسعت ہے ۔ وہ نیتوں کا مالک ہے إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ” اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔ “ اس کے بعد قرآن کریم اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ان لوگوں کے تصور الٰہ میں ہی فتور آگیا ہے اور یہ لوگ اساس دین یعنی عقیدہ ٔ توحید ہی سے منحرف ہوگئے ہیں ۔ جو تمام رسالتوں اور نبوتوں کا بنیادی اور صحیح تصور تھا۔ اور ان کے تصور الٰہ کے ڈانڈے ، اللہ کی ذات وصفات کے بارے میں دوسری جاہلی تصورات سے جاملے ہیں ۔ چناچہ قرآن کریم یہاں اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ مشرکین عرب اور مشرکین اہل کتاب کے تصور الٰہ میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے ۔ اس دونوں کے دل باہم ملے ہوئے ہیں ۔ اور اس موقع پر دونوں فرقوں کے سامنے اسلام کی صحیح ایمانی عقیدے کی وضاحت کردی جاتی ہے۔

البقرة 2:116

یہ قول کہ ” اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے ۔ “ یہ صرف عیسائیوں کا ہی عقیدہ نہیں جو وہ حضرت مسیح کے بارے میں رکھتے تھے بلکہ خود یہودی بھی حضرت عزیر کی ابنیت کے قائل تھے ۔ اور یہی عقیدہ مشرکین مکہ اللہ کے فرشتوں کے بارے میں رکھتے تھے ۔ قرآن کریم نے یہاں ان فرقوں کے عقیدے کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔ کیونکہ یہاں اجمالی بحث مطلوب تھی ۔ یہاں اجمالاً ان تین فرقوں کی طرف اشارہ مطلوب تھا جو اس وقت جزیرہ عرب میں تحریک اسلامی کا راستہ روکے کھڑے تھے ۔ تعجب ہے کہ آج بھی عالم اسلام میں اسلام کی راہ یہی تین فرقے روکے کھڑے ہیں ۔ یہودی بین الاقوامی صہیونیت کے روپ میں ، عیسائی بین الاقوامی صلیبیت کی شکل میں اور عرب عالمی کمیونزم کی شکل میں ہیں ۔ یہ آخری یعنی کمیونزم اس وقت کے ” عربی شرک “ سے زیادہ شدید کفر ہے ۔ اس مشترکہ خصوصیت کے بیان سے یہودیوں اور عیسائیوں کا یہ دعویٰ خود بخود رد ہوجاتا ہے کہ صرف وہی اہل ہدایت ہیں کیونکہ ہدایت کے اصل عقیدے میں وہ مشرکین کے ہم مشرب ہیں۔ ان کے تصور الٰہ کے دوسرے سقیم وفاسد پہلو کے بیان سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں ان کے مذکورہ بالاسقیم تصور سے اپنی پاکی اور براءت کا اعلان کرتا ہے اور یہ بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوقات کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟ سُبْحَانَهُ بَلْ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ كُلٌّ لَهُ قَانِتُونَ (116) بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ” اللہ پاک ہے ان باتوں سے اصل حقیقت یہ ہے کہ زمین و آسمان کی تمام موجودات اس کی ملک ہیں ، سب کے سب ان کے مطیع فرمان ہیں ، وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے ، اور جس بات کا وہ فیصلہ کرتا ہے ، اس کے لئے بس یہ حکم دیتا ہے کہ ” ہوجا “ اور وہ ” ہوجاتی ہے ۔ “ اس آیت میں ، اسلامی نقطہ نظر سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا خالد تجریدی تصور بیان کیا گیا ہے ۔ یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ اور اس کی مخلوق کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟ نیز اللہ کی ذات سے اس کا ئنات کا صدور کیونکر ہوا ؟ ان تمام امور کے بارے میں جو تصور پیش کیا گیا ہے وہ ان کے بارے میں تمام دوسرے تصورات کے نسبت اعلیٰ وارفع ہے ۔ یہ کائنات اللہ کی ذات والاصفات سے کیونکر صادر ہوئی ؟ بس اللہ نے ارادہ کیا اور وہ وجود میں آگئی ” کُن “ کہنے کی دیر تھی کہ ” فَیَکُونُ “ (وہ ہوگئی) ۔ یعنی کسی ہونے والی چیز کی طرف ارادہ الٰہی کی توجہ ہی امر کے لئے کافی ہے کہ وہ فی الفور وجود میں آجائے ۔ اسی صورت اور شکل میں جو اس کے لئے مقرر اور متعین ہے ۔ اس عمل میں کسی واسطے اور کسی مادی قوت کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی ۔ اب سوال یہ ہے کہ ارادہ الٰہی کسی مخلوق کے ساتھ کیونکر وابستہ ہوجاتا ہے ؟ اور اس کے نتیجے میں مخلوق کس طرح وجود میں آجاتی ہے ؟ تو اس کی حقیقت سے ہم واقف نہیں ہوسکتے ۔ کیونکہ یہ ایک ایسا راز ہے جو انسانی ادراک کے سربستہ ہے ۔ اس لئے کہ انسان کی ادراکی قوت ابھی تک اس راز کی متحمل نہیں ہے۔ ازروئے خلقت انسان کی ادراکی قوت کو اس راز کے معلوم کرنے کا اس لئے متحمل نہیں بنایا گیا کہ انسان کی تخلیق ، جس مقصد کے لئے ہوئی ہے ، اس کی ادائیگی کے سلسلے میں اسے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ تخلیق انسان کا کیا مقصد ہے ؟ زمین میں فریضہ خلافت کی ادائیگی اور زمین کے اندر تعمیر و ترقی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے قوانین قدرت کے اتنے ہی راز بتائے ہیں جن کی اسے ضرورت تھی اور جن کے بغیر وہ اپنے فرائض منصبی ادا نہیں کرسکتا تھا۔ اور جن کے ذریعے انسان کے لئے خزائن الارض سے انتفاع ممکن ہوا۔ دوسری طرف اسے ایسے رازوں سے بیخبر رکھا گیا جن کا مقصد تخلیق انسانیت یعنی خلافت کبریٰ کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔ اس سلسلے میں دوسرے فلسفے اس بھٹکے کہ انہیں کہیں بھی روشنی کی کرن نظر نہ آئی ۔ وہ بےسود ان اسرا و رموز کے حل کے پیچھے پڑے رہے ۔ انہوں نے ایسے مفروضے قائم کئے جو محض انسانی ادراک کی پیداوار تھے ۔ حالانکہ انسانی ادراک اپنی خلقت ہی کے اعتبار سے اس قابل نہیں کہ وہ ان فوق الطبیعاتی مفروضات پر غور کرسکے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی ادراک کو سرے سے وہ ذرائع ہی نہیں دئیے جن کے ذریعے وہ ان بھیدوں تک پہنچ سکے ۔ چناچہ اگر غور کیا جائے تو تمام فلسفیانہ افکار میں سے اعلیٰ ترین افکار بھی ایسے مضحکہ انگیز ہیں کہ انہیں دیکھ کر ایک عام انسان بھی حیران رہ جاتا ہے اور سوچنے لگتا ہے کہ ایک فلسفی اور ذہین شخص ان نتائج تک کیونکر پہنچا ۔ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ ان فلسفوں کے پیش کرنے والوں نے انسانی ادراک کو اس کی فطری حدود سے آگے بڑھایا اور اسے ان فوق الطبیعاتی مسائل میں استعمال کیا جن میں اس کی کوئی مجال نہ تھی ۔ اس لئے وہ کسی قابل اطمینان نتیجے تک نہ پہنچ سکے ۔ بلکہ ان کے نتائج کی فکر اس شخص کی نظر میں کوئی وقعت نہیں رکھتے جو اسلامی نظریہ حیات پر ایمان رکھتا ہو اور اس کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کررہا ہو ۔ اسلام نے اپنے معتقدین کو بغیر واضح حجت کے ان اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے سے محفوظ کردیا ہے۔ اس لئے وہ بنیادی طور پر غلط طریق فکر کی راہ سے مابعد الطبیعاتی مسائل کے حل کی ناکام کوشش ہی نہیں کرتے ۔ مابعد ادوار میں مسلمانوں میں سے جن متفلسفوں نے ، یونانی فلسفے سے متاثر ہوکر فلسفیانہ مفروضات کے مطابق سوچنا شروع کیا ، وہ بےحد الجھن اور غلط مبحث کا شکار ہوئے ۔ جیسا کہ ان سے پہلے ان کے اساتذہ یونانی فلسفی شکار ہوئے تھے ۔ ان مسلم فلسفیوں نے اسلامی نظام فکر میں وہ مسائل داخل کردئیے جو اس کے مزاج ہی کے خلاف تھے ۔ اور انہیں اسلامی نظریہ حیات کی حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا ۔ غرض جب بھی انسان نے اپنی عقل وفکر کو اپنی حدود سے آگے بڑھایا اور اپنے مزاج اور خلقت کے خلاف استعمال کیا اس کا انجام یہی رہا ۔ بَلْ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ كُلٌّ لَهُ قَانِتُونَ ” اصل حقیقت یہ ہے کہ زمین و آسمان کی تمام موجودات اس کی ملک ہیں ۔ سب کے سب اس کے مطیع فرمان ہیں ۔ “

البقرة 2:117

آسمانوں اور زمینوں کے درمیان جو چیزیں ہیں ان میں سے اسے کسی کو بیٹا بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ لہٰذا تمام لوگ اس کی مخلوق ہے اور ایک درجے میں ہے ، اور ایک ہی حیثیت رکھتی ہے۔ بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (117) ” وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور جس بات کا فیصلہ کرتا ہے اس کے لئے بس صرف یہ حکم دیتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتی ہے۔ “ اللہ کا یہ ارادہ جس طرح اس ہونے والی مخلوق کے ساتھ متعلق ہوجاتا ہے ، اس کی تفصیل کی کیفیت انسانی ادراک اور فہم سے بالا ہے ۔ کیونکر یہ انسانی ادراک کے حیطہ قدرت ہی سے وراء ہے ۔ لہٰذا انسانی ادراک کی قوتوں کو ایسی ناقابل تصور کیفیات کے ادراک میں صرف کردینا ایک عبث کام ہوگا۔ اور بلا دلیل وبرہان اس وادی پرپیچ میں سرگرداں ہونے کے مترادف ہوگا۔

البقرة 2:118

یہاں آکر اہل کتاب کے قول ابنیت پر تبصرہ ہوجاتا ہے ۔ ان کے عقائد باطلہ کی تصحیح کے بعد ، اب مشرکین کے ان اقوال کو لیا جاتا ہے جو مقام الوہیت کے خلاف ہیں اور جو اہل کتاب کے عقائد واقوال سے ملتے جلتے ہیں ۔ وَقَالَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ لَوْلا يُكَلِّمُنَا اللَّهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ كَذَلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ” نادان کہتے ہیں کہ اللہ خود ہم سے بات کیوں نہیں کرتا یا کوئی نشانی ہمارے پس کیوں نہیں آتی ؟ ایسی ہی باتیں ان سے پہلے لوگ بھی کیا کرتے تھے ۔ “ ” جو لوگ نہیں جانتے “ ان سے مراد ان پڑھ لوگ ہیں جو کتاب کے علم سے بےبہرہ ہیں اور وہ بالعموم مشرک تھے ۔ ان کے پاس کتاب الٰہی کا کوئی علم نہ تھا ۔ ان لوگوں نے بارہا نبی ﷺ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ آپ انہیں اللہ تعالیٰ سے ہمکلام کرائیں ۔ یا ان کے سامنے کوئی معجزہ پیش کریں ۔ یہاں ان لوگوں کے اس نامعقول مطالبے کا تذکرہ اس لئے ہوا تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ ان سے پہلے کی اقوام یہود ونصاریٰ نے بھی اپنے انبیاء سے ایسے ہی مطا بےکئے تھے ۔ قوم موسیٰ (علیہ السلام) نے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو کھلا دیکھنا چاہتے ہیں ۔ نیز انہوں نے مادی خوارق عادات اور معجزات کے مطالبے میں بھی بےحد غلو کیا تھا۔ مقصود یہ ہے کہ یہ مشرکین اور یہودی ایک ہی مزاج اور ایک ہی طرز فکر کے مالک ہیں ، اور یہ ایک ہی قسم کی کجروی میں مبتلا ہیں تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ ” ان سب کی ذہنیتیں ایک ہی جیسی ہیں ۔ “ لہٰذا یہودیوں کو مشرکین پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے ۔ یہ سب طرز فکر ، ہٹ دھرمی اور کجروی میں بالکل ہم مشرب ہیں قَدْ بَيَّنَّا الآيَاتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ ” یقین لانے والوں کے لئے تو ہم نشانیاں صاف صاف نمایاں کرچکے ہیں ۔ “ جن کے دل میں ذوق ایمان ہے ، وہ جب آیات الٰہی کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے اپنے ایمان کا مصداق ان آیات میں نظر آتا ہے ۔ اور ان آیات میں اس کے ضمیر کے اطمینان کا سامان ہوتا ہے۔ غرض یہ آیات اور نشانیاں کسی کے اندر ایمان نہیں پیدا کرسکتیں بلکہ یہ ایمان ہے جس کی روشنی میں اللہ کی آیات اور نشانیوں کو سمجھا جاسکتا ہے ، اور اطمینان حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ اور اس طرح انسان کا دل و دماغ پیہم ہدایت حاصل کرسکتے ہیں ۔ ان کے اقوال کے اختتام ، ان کے افکار باطلہ کی تردید ، اور ان کے گمراہ کن پروپیگنڈے کے پس پردہ کارفرما مقاصد کی پردہ دری کے بعد اب روئے سخن حضرت نبی کریم ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کے فرائض بیان فرماتے ہیں ، آپ کے لئے مقاصد متعین کردئیے جاتے ہیں اور آپ کو یہ بتایا جاتا ہے کہ یہود ونصاریٰ اور آپ کے درمیان جو معرکہ بپا ہے ، اس کی نوعیت کیا ہے ؟ آپ اور ان لوگوں کے درمیان کتناگہرا اختلاف ہے اور یہ کہ ایک بھاری قیمت ادا کرکے ہی دور کیا جاسکتا ہے جبکہ آپ نہ تو وہ قیمت رکھتے ہیں اور نہ اسے ادا کرسکتے ہیں ۔ اور اگر (نعوذ باللہ ) ان لوگوں سے اتحاد کرنے کے لئے آپ یہ بھاری قیمت ادا کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں تو آپ اپنے آپ کو غضب الٰہی کا مورد ٹھہرائیں گے ۔

البقرة 2:119

إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ ” ہم نے تم کو علم حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ “ ان کلمات میں اس قدر زور ہے کہ وہ گمراہی پھیلانے والوں کے گمراہ کن شبہات کو ختم کردیتے ہیں ۔ سازشیوں کی سازشوں کی جڑ کاٹ دیتے ہیں اور منافقین کی تلبیس اور تلقین کو ختم کردیتے ہیں ، نیز ان کلمات کا صوتی زیروبم بھی حزم ویقین کا مظہر ہے۔ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ” خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا۔ “ یعنی پیغام حق پہنچانا اور تبلیغ کرنا آپ کا بنیادی فریضہ ہے ، آپ اطاعت کرنے والوں کو خوشخبری دیں گے اور نافرمانوں کو ڈرائیں گے ۔ اس پر آپ کا فریضہ ادا ہوجائے گا ۔ وَلا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ (119) ” جو جہنم سے رشتہ جوڑ چکے ہیں ان کی طرف سے تم ذمہ دار اور جواب دہ نہیں ہو۔ “ یہ لوگ ایسے ہیں جو اپنی مصیبت اور اس کے نتائج کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوں گے۔

البقرة 2:120

اے پیغمبر ! یہود ونصاریٰ آپ کے خلاف برسرپیکار ہیں گے ، آپ کے خلاف سازشیں کرتے رہیں گے ۔ کبھی آپ سے مصالحت نہ کریں گے اور نہ ہی کبھی آپ سے راضی ہوں گے ۔ الا یہ کہ آپ اپنے مشن کو چھوڑ دیں ، حق کو ترک کردیں ، جو یقین آپ کو حاصل ہے ، اسے خیرباد کہہ دیں اور یہ لوگ جس کجروی ، شرک اور جاہلی تصورات میں مبتلا ہیں اسے اختیار کرلیں ۔ جیسا کہ اس سے پہلے قریب ہی بیان ہوچکا ہے ۔ وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ” یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ “ یہ ہے وہ اصل سبب ان کے انکار حق کا ۔ یہ نہیں کہ شاید ان کے سامنے دلیل وبرہان پیش کرنے کے معاملے میں کچھ کمی کی گئی ہے ۔ نہ اس بات کی کمی ہے کہ وہ آپ کے راہ حق پر ہونے کے سلسلے میں مطمئن نہیں ہیں یا یہ کہ آپ کے پاس جو ہدایات آرہی ہیں وہ اللہ کی جانب سے نہیں آرہی ہیں ۔ آپ ان کی طرف جس قدر بھی آگے بڑھیں اور جس قدر بھی آپ ان سے محبت کریں ، ان میں سے کوئی چیز بھی آپ سے انہیں راضی نہیں کرسکتی ۔ یہ آپ سے صرف اسی صورت میں راضی ہوسکتے ہیں کہ آپ ان کی ملت اور ان کے دین کو اپنا لیں اور جو حق اور صداقت آپ کے پاس ہے اسے چھوڑدیں۔ یہ نظریہ حیات ہی ہے جس کے مظاہر ، ہر زمان ومکان میں نظر آتے ہیں ۔ یہود ونصاریٰ ہر دور اور ہر زمانے میں جو اسلام اور جماعت مسلمہ کے خلاف برسرپیکار نظر آتے ہیں ، وہ دراصل اسلام کے خلاف ایک نظریاتی جنگ لڑ رہے ہیں ، اور یہ نظریاتی جنگ اسلامی بلاک اور ان دومغربی بلاکوں کے درمیان جاری ہے ۔ اگرچہ یہ مغربی بلاک کبھی کبھار ایک دوسرے کے خلاف بھی برسرپیکار ہوجاتے ہیں ، لیکن یہ تخاصم ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ ایک ملت کے دوفرقوں کے درمیان ہوتا ہے جبکہ اسلام اور مسلمانوں کے مقابلے میں یہ دونوں فرقے (یہود ونصاریٰ ) ہمیشہ متحد رہے ہیں ۔ اپنی حقیقت اور اصلیت کے اعتبار سے یہ ایک نظریاتی جنگ ہے ، لیکن یہودی اور عیسائی دنیا جو اسلام اور مسلم دشمنی میں غرق ہے ، اسے مختلف رنگ دیتی رہتی ہے ۔ اور اس کے اوپرمختلف قسم کے جھنڈے لہراتی رہتی ہے ۔ اور یہ کام وہ نہایت ہی بدباطنی ، مکاری اور فریب دہی کے ساتھ کرتی ہے ۔ اس سے قبل مسلمانوں کے خلاف نظریاتی جنگ لڑ کر یہ لوگ مسلمانوں کے اس والہانہ عشق کا تجربہ کرچکے ہیں جو انہیں اپنے دین اور نظریہ حیات کے ساتھ ہے ۔ چناچہ اسلام کے ان دشمنوں نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ پلٹا کھاکر ، اپنی جدوجہد کا عنوان اور جھنڈا تبدیل کردیا ۔ اب انہوں نے نطریاتی جنگ کا اعلان کئے بغیر ہی اسلام کے خلاف لڑائی شروع کی ہے۔ کیونکہ نظریاتی جنگ میں وہ مسلمانوں کے جذبات اور جوش و خروش سے خائف تھے ۔ نیز اب یہ لوگ وطن ، اقتصادیات ، سیاسیات اور جنگی مراکز کے حصول اور ایسے ہی دوسرے مقاصد کے عنوان سے آگے بڑھے اور بعض غافل اور فریب خوردہ مسلمانوں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ عقائد اور نظریات کی جنگ اب قصہ پارینہ بن چکی ہے ، جس کا کوئی مفہوم نہیں ہے۔ اب دین وعقیدے کی بناپر علم جہاد بلند کرنا اور معرکہ آرائی کرنا جائز نہیں ہے ۔ یہ حقیقت ان متعصب اور بطاہر شکست خوردہ دشمنان اسلام کی خصوصیت ۔ اور یہ روش انہوں نے محض اس لئے اختیار کی ہے کہ وہ مسلمانوں کے نظریاتی جوش اور غیظ وغضب سے محفوظ رہیں جبکہ اپنی نیت اور مقاصد کے اعتبار سے کٹر قسم کے صہیونی اور بین الاقوامی صلیبی (چاہے وہ عالمی کمیونسٹ ہی کیوں نہ ہوں) دراصل یہ سب لوگ اپنی راہ سے اس سنگ گراں (نظریہ اسلامی) کے ہٹانے میں مصروف ہیں ۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس سے پہلے وہ ایک طویل عرصے تک اس سے ٹکر لیتے رہے مگر اسلام نے ان سب کو شکست دی۔ غرض یہ ایک نظریاتی جنگ ہے ، یہ نہ تو کسی قطعہ ارضی کا جھگڑا ہے ، نہ مفادات کا تنازع ہے اور نہ جنگی اہمیت کے مقامات پر نزاع ہے ۔ زر و زمین کے ان بوگس نعروں اور جھنڈوں کی کوئی اہمیت حاصل نہیں ہے ، یہ سب تدابیر دشمنان اسلام نے محض اس لئے اختیار کی ہیں تاکہ سادہ لوح مسلمانوں کو اس معرکے کی اصلیت اور اس کے حقیقی اغراض ومقاصد سے بیخبر رکھیں ۔ اور ہم ہیں کہ ان کے اس فریب کا شکار ہوگئے ہیں ۔ لہٰذا ان دشمنوں کو ملامت کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، بلکہ ہمیں چاہئے کہ خود اپنے آپ کو ملامت کریں کیونکہ ہم نے نبی ﷺ کی سنت اور اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو ترک کردیا ہے جو اس نے نبی کو امت مسلمہ کی راہنمائی کے لئے دی تھیں جبکہ اللہ تعالیٰ سب سے سچا ہے اور ان کا فرمان صاف صاف یہ ہے۔ وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ” اور یہود ونصاریٰ آپ سے اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک آپ ان کے طریقے پر نہ چلنے لگیں ۔ “ وہ مسلمانوں سے صرف ایک یہی قیمت مانگتے ہیں ۔ اس کے سوا جو کچھ بھی ہو وہ انہیں قبول نہیں ہے۔۔ لیکن سچی ہدایت اور اٹل فیصلہ یہی ہے قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى” کہہ دیجئے کہ ہدایت بس وہی ہے جس کی طرف اللہ نے راہنمائی فرمائی۔ “ ہدایت وہی ہے ، ہدایت اس میں محصور و محدود ہے اور اس کے سوا سرے سے کوئی ہدایت ہی نہیں ہے ، لہٰذا الہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے صراط مستقیم کے علاوہ کسی راہ پر چل کر کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی ۔ لہٰذا اسے اختیار کرنا بےحد ضروری ہے ۔ اس سے کوئی چھٹکارا نہیں ہے ۔ ہم اس کے اندر کوئی ترمیم نہیں کرسکتے اور اس میں سے کسی چھوٹی یا بڑی چیز کے بارے میں کوئی سودے بازی کرسکتے ہیں ۔ یہ ہدایت پوری کی پوری قبول کرنی ہوگی جو چاہے قبول کرے اور جو چاہے انکار کردے لیکن خبردار کہ ایمان وہدایت کی خواہش یا ان کی محبت اور دوستی کہیں تمہیں اس راہ حق سے اور صراط مستقیم سے ہٹانہ دے ۔ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ ” اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آچکا ہے تم نے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مددگار تمہارے لئے نہیں کے بعد جو تمہارے پاس آچکا ہے تم نے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مددگار تمہارے لئے نہیں ہے۔ “ کیسی خوفناک تہدید ہے ؟ کیا اٹل فیصلہ ہے اور کتنی سخت وعید ہے ؟ اور ہے کس کے حق میں ؟ سرتاج انبیاء اور محبوب کبریا حضرت نبی ﷺ کے حق میں ! مقصود یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت جس کے سوا کوئی ہدایت نہیں ہے ، اس سے صرف تم اس وجہ سے ہٹ سکتے ہو کہ تم ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی شروع کرو ورنہ اس کے سوا اسے ترک کرنے کی کوئی وجہ ، یعنی دلیل وبرہان کی کمی یا کمزوری ، نہیں ہے۔ اہل کتاب میں سے جو لوگ خواہشات نفسانیہ سے پاک ہوجاتے ہیں ، وہ بھی اپنی کتاب کو اس طرح پڑھتے ہیں جس طرح اس کے پڑھنے کا حق ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سچائی پر بھی ایمان لاتے ہیں جو آپ کے پاس ہے اور جو لوگ اس سچائی کا انکار کریں گے وہی گھاٹے میں رہیں گے نہ آپ خسارے میں ہیں اور نہ مؤمنین۔

البقرة 2:121

الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلاوَتِهِ أُولَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ ” جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہوتا ہے ۔ وہ اس پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور جو اس کے ساتھ کفر کرتے کا رویہ اختیار کریں وہی اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں ۔ “ کیونکہ وہ ایمان سے محروم ہوگئے ہیں اور ایمان اس پوری کائنات میں اللہ کی جملہ نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے ۔ لہٰذا ایمان کے خسارے سے بڑا خسارہ اور کیا ہوسکتا ہے ؟ اس فیصلہ کن اور زور دار تقریر کے بعد روئے سخن بنی اسرائیل کی طرف پھرجاتا ہے ۔ گویا اس طویل مقابلے اور مجادلے کے بعد اور اللہ اور اس کے نبیوں کے ساتھ ان کے طرز عمل کی طویل تاریخ کے دہرانے کے بعد انہیں آخری بار متوجہ کیا جاتا ہے۔ انہیں چھوڑ کر حضرت نبی ﷺ اور مومنین کو خطاب کرنے کے بعد اب یہاں دوبارہ انہیں آخری بار دعوت دی جاتی ہے ۔ دراں حالیکہ وہ امانت الٰہی یعنی اسلامی نظریہ حیات کی حفاظت کے شرف سے حد درجہ غافل اور بےپر وہ ہوچکے ہیں ۔ حالانکہ یہ شرف اور ذمہ داری انہیں ازمنہ قدیم سے حاصل چلی آرہی تھی ۔ غرض اس تقریر کے آخری حصے میں بھی لوگوں کو وہی دعوت دی جاتی ہے جو اس کے آغاز میں انہیں دی گئی تھی ۔

البقرة 2:122

درس 7 ایک نظر میں ان یہاں سے وہ حالات بیان کئے جارہے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کے دور سے متعلق ہیں یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کو جس طرح بیان کیا جارہا ہے اس سیاق کلام میں اس کی اہمیت بھی واضح ہوجاتی ہے ۔ مدینہ طیبہ میں اسلامی جماعت اور یہودیوں کے درمیان جو مختلف النوع اختلافات پائے جاتے تھے ، ان پر روشنی ڈالنے کے لئے یہ قصہ بےحد اہم تھا۔ کیونکہ اہل کتاب حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے واسطے سے اپنی نسبت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف کرتے تھے اور اپنی اس نسبت اور اللہ تعالیٰ کی جاب سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے بعد اولاد ابراہیم کے ساتھ ترقی اور برکت کا وعدہ کرنے پر فخر کرتے تھے۔ اس لئے وہ سمجھتے تھے کہ ہدایت اور صحیح دین پر قائم رہنا گویا ان کی اجارہ داری ہے ۔ جیسا کہ وہ اپنے آپ کو جنت کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں چاہے ان کا عمل جیسا بھی ہو۔ اہل قریش بھی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے واسطے سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد تھے ۔ اور اپنی اس نسبت پر فخر کرتے تھے اور انہوں نے بیت اللہ کی نگرانی اور مسجد حرام کی تعمیر کے مناصب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی ورثے میں پائے تھے اور پورے عرب پر دینی سیادت اور فضل وشرف کے رتبے بھی انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی سے ورثے میں پائے تھے ۔ اس سے قبل جنت کے بارے میں یہود ونصاریٰ کے دعاوی پر کلام کرتے ہوئے یہاں تک کہا گیا تھا۔ ” وہ کہتے ہیں کہ جنت میں صرف وہی شخص داخ ہوگا ، جو یہودی ہو یا عیسائی ہو۔ “ اور دوسری جگہ ان کا یہ قول نقل کیا گیا تھا کہ مسلمانوں کو یہودی یا عیسائی بنانے کی سعی کرتے ہوئے کہتے ہیں ! ” تم یہوی بن جاؤ یا عیسائی تاکہ ہدایت پاؤ۔ “ نیز یہ بھی بتایا گیا کہ ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو لوگوں کو اللہ کی مساجد میں ذکر الٰہی سے روکتے ہیں اور مساجد کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہاں ہم نے یہ کہا تھا کہ یہ باتیں واقعہ تحویل سے متعلق ہوسکتی ہیں ۔ کیونکہ اس موقع پر یہودیوں نے اسلامی جماعت کے خلاف مسموم پروپیگنڈہ شروع کردیا تھا۔ اب یہاں حضرت ابراہیم حضرت اسحاق وحضرت اسماعیل (علیہم السلام) اور بیت اللہ ، اس کی تعمیر اور اس سے متعلق اسلامی شعائر کی بابت بات کی جارہی ہے کیونکہ یہی مناسب موقع ہے ۔ تاکہ انبیاء کرام کے شجر ونسب اور باہمی تعلق کے بارے میں یہودیوں ، عیسائیوں اور مشرکین کے بےبنیاد دعوؤں کے بارے میں صحیح حقائق لوگوں کے ذہن نشین ہوجائیں اور مسلمانوں کو جسے قبلے کی طرف مڑنا ہے اس کے مسئلے کا بھی فیصلہ ہوجائے۔ نیز اس موقع پر دین ابراہیم (علیہ السلام) یعنی خالص توحید کی وضاحت بھی کردی جاتی ہے ۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین نے جو من گھڑت عقائد اور بےراہ روی اختیار کی ہوئی ہے ، اس کا اسلام کے عقیدہ ٔ توحید کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ۔ اس کے برعکس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) حضرت یعقوب (علیہ السلام) (اسرائیل جس کی طرف سے یہ لوگ نسبت کرتے ہیں) اور مسلمانوں کے عقائد اور اخری دین میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ نیز یہ بھی بتایا گیا کہ اللہ کا دین ہمیشہ ایک ہی رہا ہے اور وہی تمام انبیاء اور رسل کا مشن رہا ہے اور وہ کسی قوم یا کسی نسل کے ساتھ مخصوص نہیں ہے نہ اس پر کسی کی اجارہ داری ہے۔ یہ تو ایک عقیدہ ہے جو دل مومن کی دولت ہے ۔ اندھی عصبیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی میراث ہے جو خون اور نسل کے رشتوں پر تقسیم نہیں ہوتی بلکہ ایمان اور عقائد کے رشتے پر ختم ہوتی ہے ۔ لہٰذا جو شخص بھی اس دین کو قبول کرے اور اس کی نگہبانی کرے ، وہ جس نسل سے متعلق ہے اور جس قوم کا فرد ہو ، وہ اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے ۔ یعنی اپنے حقیقی بھائیوں اور صلبی اولاد سے بھی زیادہ۔ کیونکہ یہ اللہ کا دین ہے اور اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان کوئی نسبی یا کوئی اور رشتے کا تعلق نہیں ہے۔ یہ حقائق جو اسلامی تصور حیات کے اساسی خطوط کا ایک اہم حصہ ہیں ۔ قرآن کریم یہاں انہیں بڑے عجیب طرز ادا میں نہایت واضح کرکے بیان کرتا ہے ۔ فصیح وبلیغ انداز بیان کے علاوہ سیاق کلام یہاں غایت درجہ مربوط ہے ۔ پہلے بیان کیا جاتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آزمایا اور وہ اس آزمائش میں پورے اترے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا اور امت مسلمہ کو برپا کیا گیا۔ اس لئے امت مسلمہ اس ورثے کی جائز وارث بن گئی اور اولاد ابراہیم (علیہ السلام) سے یہ اعزار چھین لیا گیا ۔ کیونکہ نظریاتی ورثے کے مستحق صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جو رسالت پر پختہ ایمان رکھتے ہیں اور اچھی طرح سے اسے روبہ عمل لاتے ہیں اور رسالت کا صحیح تصور قائم رکھتے ہیں ۔ یہی ہے علت نظریاتی میراث کی۔ ان تاریخی حقائق کے بیان کے درمیان ، طرز ادا سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اپنے مفہوم کے اعتبار سے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کردیا جائے ، سلسلہ رسل کی ابتداء میں بھی پیغام اول تھا ، اور اس سلسلے کے اختتام پر بھی یہی اسلام رسولوں کا مشن تھا۔ یہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نظریہ تھا ، اور آپ کے بعد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور دوسری رسالتوں اور تحریکات حقہ کا عقیدہ تھا۔ ان حضرات نے اس امانت کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سپرد کیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ وراثت آخرکارامت مسلمہ تک آپہنچی ۔ اس عقیدے اور اس نظریئے پر جو بھی ثابت قدم ہوگا وہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا روحانی وارث ہوگا ۔ اور وہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کا حق دار اور ان کی دی ہوئی بشارتوں کا مصداق ہوگا۔ اور جس شخص نے اسلام سے روگردانی کی اور اپنے نفس کو ملت ابراہیمی سے دور رکھا ، تو گویا وہ اللہ کے عہد کا مستحق نہ رہا اور اس نے اپنے آپ کو اس حق وفا سے محروم کردیا اور ان بشارتوں کا مصداق نہ رہا۔ یہاں آکر یہود ونصاریٰ کے وہ تمام دعوے اپنی اساس کھودیتے ہیں کہ وہ چیدہ اور برگزیدہ قوم ہیں ۔ محض اس لئے کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پڑ پوتے ہیں ، اور ان کے خلیفہ ہیں ، اس لئے کہ جب سے انہوں نے عقیدہ توحید کو خیرباد کیا ، تب سے وہ وراثت ابراہیمی سے محروم ٹھہرے ۔ اور اس مقام پر قبیلہ قریش کے یہ دعوے بھی منہدم ہوجاتے ہیں کہ وہ بیت اللہ کی تولیت اور دیکھ بھال اور تعمیر کے حق دار ہیں ۔ کیونکہ انہوں نے اس مقام مقدس کے بانی اول کی روحانی میراث سے انحراف اختیار کرلیا ۔ اسی طرح یہودیوں کو یہ دعویٰ بھی منہدم ہوجاتا ہے کہ وہ بیت المقدس کے اصحاب قبلہ ہیں اور مسلمانوں کے لئے بھی مناسب یہی ہے کہ وہ بدستور بیت المقدس کو قبلہ بنائے رکھیں۔ اس لئے خانہ کعبہ ان کا بھی قبلہ ہے اور ان کے والد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بھی قبلہ تھا۔ ان تمام امور کو ایک حسین و جمیل پیرائے میں ادا کیا گیا جس کے اندر بیشمار واضح اشارات موجود ہیں اور جس کے اندر ایسے مواقف اور مقامات غور وفکر بھی ہیں جن کے اندر نہایت ہی دقیق مفاہم پوشیدہ ہیں اور ایسی توضیحات ہیں جو نہایت پر اثر ہیں ۔ اب ہم اس فصیح وبلیغ انداز کلام پر ، درج بالااشارات کی روشنی میں تفصیلی بات کریں گے۔

البقرة 2:123

درس 7 ایک نظر میں ان یہاں سے وہ حالات بیان کئے جارہے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کے دور سے متعلق ہیں یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کو جس طرح بیان کیا جارہا ہے اس سیاق کلام میں اس کی اہمیت بھی واضح ہوجاتی ہے ۔ مدینہ طیبہ میں اسلامی جماعت اور یہودیوں کے درمیان جو مختلف النوع اختلافات پائے جاتے تھے ، ان پر روشنی ڈالنے کے لئے یہ قصہ بےحد اہم تھا۔ کیونکہ اہل کتاب حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے واسطے سے اپنی نسبت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف کرتے تھے اور اپنی اس نسبت اور اللہ تعالیٰ کی جاب سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے بعد اولاد ابراہیم کے ساتھ ترقی اور برکت کا وعدہ کرنے پر فخر کرتے تھے۔ اس لئے وہ سمجھتے تھے کہ ہدایت اور صحیح دین پر قائم رہنا گویا ان کی اجارہ داری ہے ۔ جیسا کہ وہ اپنے آپ کو جنت کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں چاہے ان کا عمل جیسا بھی ہو۔ اہل قریش بھی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے واسطے سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد تھے ۔ اور اپنی اس نسبت پر فخر کرتے تھے اور انہوں نے بیت اللہ کی نگرانی اور مسجد حرام کی تعمیر کے مناصب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی ورثے میں پائے تھے اور پورے عرب پر دینی سیادت اور فضل وشرف کے رتبے بھی انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی سے ورثے میں پائے تھے ۔ اس سے قبل جنت کے بارے میں یہود ونصاریٰ کے دعاوی پر کلام کرتے ہوئے یہاں تک کہا گیا تھا۔ ” وہ کہتے ہیں کہ جنت میں صرف وہی شخص داخ ہوگا ، جو یہودی ہو یا عیسائی ہو۔ “ اور دوسری جگہ ان کا یہ قول نقل کیا گیا تھا کہ مسلمانوں کو یہودی یا عیسائی بنانے کی سعی کرتے ہوئے کہتے ہیں ! ” تم یہوی بن جاؤ یا عیسائی تاکہ ہدایت پاؤ۔ “ نیز یہ بھی بتایا گیا کہ ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو لوگوں کو اللہ کی مساجد میں ذکر الٰہی سے روکتے ہیں اور مساجد کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہاں ہم نے یہ کہا تھا کہ یہ باتیں واقعہ تحویل سے متعلق ہوسکتی ہیں ۔ کیونکہ اس موقع پر یہودیوں نے اسلامی جماعت کے خلاف مسموم پروپیگنڈہ شروع کردیا تھا۔ اب یہاں حضرت ابراہیم حضرت اسحاق وحضرت اسماعیل (علیہم السلام) اور بیت اللہ ، اس کی تعمیر اور اس سے متعلق اسلامی شعائر کی بابت بات کی جارہی ہے کیونکہ یہی مناسب موقع ہے ۔ تاکہ انبیاء کرام کے شجر ونسب اور باہمی تعلق کے بارے میں یہودیوں ، عیسائیوں اور مشرکین کے بےبنیاد دعوؤں کے بارے میں صحیح حقائق لوگوں کے ذہن نشین ہوجائیں اور مسلمانوں کو جسے قبلے کی طرف مڑنا ہے اس کے مسئلے کا بھی فیصلہ ہوجائے۔ نیز اس موقع پر دین ابراہیم (علیہ السلام) یعنی خالص توحید کی وضاحت بھی کردی جاتی ہے ۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین نے جو من گھڑت عقائد اور بےراہ روی اختیار کی ہوئی ہے ، اس کا اسلام کے عقیدہ ٔ توحید کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ۔ اس کے برعکس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) حضرت یعقوب (علیہ السلام) (اسرائیل جس کی طرف سے یہ لوگ نسبت کرتے ہیں) اور مسلمانوں کے عقائد اور اخری دین میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ نیز یہ بھی بتایا گیا کہ اللہ کا دین ہمیشہ ایک ہی رہا ہے اور وہی تمام انبیاء اور رسل کا مشن رہا ہے اور وہ کسی قوم یا کسی نسل کے ساتھ مخصوص نہیں ہے نہ اس پر کسی کی اجارہ داری ہے۔ یہ تو ایک عقیدہ ہے جو دل مومن کی دولت ہے ۔ اندھی عصبیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی میراث ہے جو خون اور نسل کے رشتوں پر تقسیم نہیں ہوتی بلکہ ایمان اور عقائد کے رشتے پر ختم ہوتی ہے ۔ لہٰذا جو شخص بھی اس دین کو قبول کرے اور اس کی نگہبانی کرے ، وہ جس نسل سے متعلق ہے اور جس قوم کا فرد ہو ، وہ اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے ۔ یعنی اپنے حقیقی بھائیوں اور صلبی اولاد سے بھی زیادہ۔ کیونکہ یہ اللہ کا دین ہے اور اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان کوئی نسبی یا کوئی اور رشتے کا تعلق نہیں ہے۔ یہ حقائق جو اسلامی تصور حیات کے اساسی خطوط کا ایک اہم حصہ ہیں ۔ قرآن کریم یہاں انہیں بڑے عجیب طرز ادا میں نہایت واضح کرکے بیان کرتا ہے ۔ فصیح وبلیغ انداز بیان کے علاوہ سیاق کلام یہاں غایت درجہ مربوط ہے ۔ پہلے بیان کیا جاتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آزمایا اور وہ اس آزمائش میں پورے اترے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا اور امت مسلمہ کو برپا کیا گیا۔ اس لئے امت مسلمہ اس ورثے کی جائز وارث بن گئی اور اولاد ابراہیم (علیہ السلام) سے یہ اعزار چھین لیا گیا ۔ کیونکہ نظریاتی ورثے کے مستحق صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جو رسالت پر پختہ ایمان رکھتے ہیں اور اچھی طرح سے اسے روبہ عمل لاتے ہیں اور رسالت کا صحیح تصور قائم رکھتے ہیں ۔ یہی ہے علت نظریاتی میراث کی۔ ان تاریخی حقائق کے بیان کے درمیان ، طرز ادا سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اپنے مفہوم کے اعتبار سے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کردیا جائے ، سلسلہ رسل کی ابتداء میں بھی پیغام اول تھا ، اور اس سلسلے کے اختتام پر بھی یہی اسلام رسولوں کا مشن تھا۔ یہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نظریہ تھا ، اور آپ کے بعد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور دوسری رسالتوں اور تحریکات حقہ کا عقیدہ تھا۔ ان حضرات نے اس امانت کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سپرد کیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ وراثت آخرکارامت مسلمہ تک آپہنچی ۔ اس عقیدے اور اس نظریئے پر جو بھی ثابت قدم ہوگا وہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا روحانی وارث ہوگا ۔ اور وہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کا حق دار اور ان کی دی ہوئی بشارتوں کا مصداق ہوگا۔ اور جس شخص نے اسلام سے روگردانی کی اور اپنے نفس کو ملت ابراہیمی سے دور رکھا ، تو گویا وہ اللہ کے عہد کا مستحق نہ رہا اور اس نے اپنے آپ کو اس حق وفا سے محروم کردیا اور ان بشارتوں کا مصداق نہ رہا۔ یہاں آکر یہود ونصاریٰ کے وہ تمام دعوے اپنی اساس کھودیتے ہیں کہ وہ چیدہ اور برگزیدہ قوم ہیں ۔ محض اس لئے کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پڑ پوتے ہیں ، اور ان کے خلیفہ ہیں ، اس لئے کہ جب سے انہوں نے عقیدہ توحید کو خیرباد کیا ، تب سے وہ وراثت ابراہیمی سے محروم ٹھہرے ۔ اور اس مقام پر قبیلہ قریش کے یہ دعوے بھی منہدم ہوجاتے ہیں کہ وہ بیت اللہ کی تولیت اور دیکھ بھال اور تعمیر کے حق دار ہیں ۔ کیونکہ انہوں نے اس مقام مقدس کے بانی اول کی روحانی میراث سے انحراف اختیار کرلیا ۔ اسی طرح یہودیوں کو یہ دعویٰ بھی منہدم ہوجاتا ہے کہ وہ بیت المقدس کے اصحاب قبلہ ہیں اور مسلمانوں کے لئے بھی مناسب یہی ہے کہ وہ بدستور بیت المقدس کو قبلہ بنائے رکھیں۔ اس لئے خانہ کعبہ ان کا بھی قبلہ ہے اور ان کے والد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بھی قبلہ تھا۔ ان تمام امور کو ایک حسین و جمیل پیرائے میں ادا کیا گیا جس کے اندر بیشمار واضح اشارات موجود ہیں اور جس کے اندر ایسے مواقف اور مقامات غور وفکر بھی ہیں جن کے اندر نہایت ہی دقیق مفاہم پوشیدہ ہیں اور ایسی توضیحات ہیں جو نہایت پر اثر ہیں ۔ اب ہم اس فصیح وبلیغ انداز کلام پر ، درج بالااشارات کی روشنی میں تفصیلی بات کریں گے۔

البقرة 2:124

خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے ۔ ذرا روئیداد ابتلائے ابراہیم (علیہ السلام) کو یاد کرو ۔ آپ کو کچھ احکام دئیے گئے ۔ آپ پر کچھ بندشیں عائد کی گئیں اور آپ نے پوری وفاکیشی سے ان اوامر نواہی پر عمل کیا ۔ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وفا کیشی کو سراہتے ہوئے فرمایا وَاِبرَاھِیمَ الَّذِی وَفّٰی ” اور ابراہیم جنہوں نے احکام پورے کئے۔ “ یہ وہ بلند وبالامقام ہے جس تک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پہنچے ۔ اس مقام تک جہاں اللہ تعالیٰ خود بندے کی وفاداری اور اطاعت شعاری کی شہادت دیتا ہے جبکہ بحیثیت انسان ای ضعیف اور پر تقصیر مخلوق ہے اور اس کے لئے وفا یعنی پوری اطاعت ممکن نہیں ہے ۔ اور اس مقام تک رسائی حاصل کرنے ہی کی وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس سعادت اور اس اعتماد کے مستحق ہوئے ۔ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ” میں تمہیں لوگوں کا پیشوابنانے والا ہوں ۔ “ ایسا پیشوا جو لوگوں کا قبلہ وکعبہ ہو ۔ جو انہیں اللہ تک پہنچانے والا ہو ، جو بھلائی کے کام میں سب سے پہلے ہو ، اور لوگ ان سے پیچھے ہوں اور وہ ان کا محبوب قائد ہو۔ یہاں اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذات سے انسانی فطرت نمودار ہوتی ہے ۔ انسان کے اندر یہ فطرت داعیہ موجود ہوتا ہے کہ اس کا تسلسل بذریعہ اولاد جارہ رہے ۔ یہ ایک گہر افطری اور نفسیاتی شعور ہوتا ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کی گہرائیوں میں قودیعت کیا ہوا ہے ۔ اور اس کی حکمت یہ ہے کہ زندگی کی ترقی جاری رہے اور انسانی زندگی ان خطوط پر آگے بڑھتی رہے جو خالق نے اس کے لئے وضع کئے ہیں ۔ اور جن ترقیات کا آغاز اگلوں نے کیا ہوتا ہے ، آنے والے مزید اسے آگے بڑھائیں اور تمام نسلوں کے اندر یہ ہم آہنگی قائم رہے ۔ یہ شعور بعض لوگ توڑنا چاہتے ہیں اور ختم کرنا چاہتے ہیں ، حالانکہ وہ انسان کی عین فطرت کے اندر مرکوز ہے ۔ اور اس کی حکمت یہ ہے کہ انسان بعض دورس مقاصد پورے کرسکے ۔ اسی جذبے اور شعور کے تحت اسلام نے قانون میراث کے لئے تفصیلی قواعد وضع کئے ہیں تاکہ اولاد واحفاد کی بھلائی کے لئے انسان اپنی سعی جاری رکھے اور تیز تر کردے ۔ آج اس فطری شعور کو منہدم کرنے کے لئے دنیا میں جو سعی نامشکور ہورہی ہے دراصل انسانی فطرت کی تباہی کا سامان ہے ۔ انسان کی اجتماعی زندگی میں بیشک بعض مفاسد پائے جاتے ہیں لیکن ان مفاسد کو ختم کرنے کے لئے خودفطرت انسانی اور انسان کی شخصیت ہی تباہ کردینا ایک نہایت ہی بھونڈا ، کوتاہ اندیشانہ اور غیر فطری طریق علاج ہے اور ان اجتماعی مفاسد کا ہر وہ علاج جو خلاف فطرت طریقے سے کیا گیا ہو ، کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا ، کبھی بھی مفید نہیں ہوگا اور قطعاً دیرپا نہیں ہوسکتا۔ ایسے علاج موجود ہیں جو ان مفاسد کو ختم تو کردیں گے لیکن وہ فطرت انسانی سے بھی متصادم نہ ہوں گے ۔ لیکن ایسے طریقے پانے کے لئے ایمان وہدایت کی ضرورت اور اس بات کی ضرورت ہے معالج کو فطرت انسانی کا مکمل اور گہرا شعور ہو ۔ اور اس کی فکر انسان کی طبعی تخلیق سے بھی آگے گہرائیوں تک پہنچی ہوئی ہو اور یہ فکر اور یہ جذبہ اصلاح طبقاتی بغض وعداوت سے پاک ہو ، اس لئے کہ ان طبقاتی جذبات کی وجہ سے بجائے اس کے کہ انسان کی کوئی ہمہ گیر اصلاح ہو ، انسان ہمہ گیر تباہی سے دوچار ہوجاتا ہے ، تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ” اور کہا کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے ؟ “ اس سوال کا جواب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پروردگار کی طرف سے آتا ہے جس نے انہیں آزمایا اور پھر چن لیا۔ یہ جواب اس اہم اصول کی بنیاد رکھ دیتا ہے جس کا تذکرہ ہم کر آئے ہیں ۔ یہ کہ امامت و قیادت ان لوگوں کا حق ہے جو اپنے شعور اور طرزعمل اور اپنی صلاحیت اور ایمان سے اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کردیں ۔ یہ کوئی نسلی اور موروثی منصب نہیں ہے کہ باپ سے بیٹے کی طرف منتقل ہوتاچلاجائے ۔ یہاں رشتہ وتعلق ، خون ، نسل اور قومیت پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ یہاں دین و ایمان کے رشتے مدار تعلق ہوتے ہیں اور منصب و قیادت کے معاملے میں خونی ، نسلی اور قومی نعرے دعوائے جاہلیت کے زمرے میں آتے ہیں ، جو حیات انسانی کے بارے میں صحیح انسانی نقطہ نظر کے ساتھ صریحاً متصادم ہوتے ہیں ۔ قَالَ لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ ” کہا میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے۔ “ ظلم کی بھی کئی قسمیں اور کئی رنگ ہیں ۔ نفس انسانی کا شرک کرنا بھی ایک طرح کا ظلم ہے ۔ لوگوں کی جانب سے اللہ کی نافرمانی بھی ایک ظلم ہے ۔ ظالموں پر یہاں جس امانت کو ممنوع قرار دیا گیا ہے ، اس سے عمومی امامت مراد ہے ، جو امامت کی تمام اقسام پر مشتمل ہے ۔ امامت و رسالت ، امامت خلافت ، امامت صلوٰۃ اور ان کے علاوہ بھی امامت و قیادت کے تمام مناصب شامل ہیں ۔ لہٰذا عدل و انصاف ، اپنے وسیع معنوں میں ، ہر قسم کی امامت کے استحقاق کے لئے پہلی شرط ہے ۔ اور کوئی شخص کسی قسم کے ظلم کا ارتکاب بھی کرے ، وہ اپنے آپ کو امامت و قیادت کے استحقاق سے محروم کردیتا ہے ، چاہے وہ قیادت جیسی بھی ہو۔ یہ جو کچھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا گیا اور یہ عہد جس کے الفاظ میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے اس بات کا قطعی فیصلہ کردیتا ہے کہ یہودی ہمیشہ منصب قیادت سے دور اور محروم رہیں گے ۔ کیونکہ انہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا ، فسق وفجور میں مبتلا ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ، اور انہوں نے اپنے جد امجد کے عقائد ونظریات کو ترک کردیا۔ نیز جو کچھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا اور یہ عہد جس کے الفاظ میں کوئی کجی اور کوئی غموض نہیں ہے ، ان لوگوں کو بھی قطعی طور پر منصب امامت سے محروم کردیتا ہے جو اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ہیں ، انہوں نے بھی ظلم کا ارتکاب کیا ہے ، فسق وفجور میں مبتلا ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے دور بھٹک گئے ہیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی شریعت کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔ وہ دعویٰ تو اسلام کا کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی سے اللہ تعالیٰ کی شریعت اور ان کے نظام حیات کو باہر نکال دیا ہے ۔ ان لوگوں کا دعوائے اسلام محض جھوٹا دعویٰ ہے ، جو دراصل اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کی اساس محکم پر استوار نہیں ہے۔ اسلامی تصور حیات ان تمام رشتوں اور تعلقات کی جڑکاٹ دیتا ہے جو کسی فکر ونظر یا وحدت عمل کی اساس پر قائم نہیں ہوتے ۔ وہ صرف ایسے رشتوں اور تعلقات کو تسلیم کرتا ہے جو وحدت نظریہ اور عمل کی اساس پر قائم ہوں ۔ اس کے علاوہ جو رابط بھی ہوں اسلام کی نظر میں ان کی کوئی وقعت نہیں ہے بلکہ اسلام ایک ہی امت کی ان دونسلوں میں بھی تفریق کردیتا ہے جب کہ ایک نسل اپنے عقیدے اور نظریہ میں دوسری کی مخالفت ہوجائے ۔ بلکہ اگر عقیدے کا تعلق ٹوٹ جائے تو اسلام باپ بیٹے اور میاں بیوی کے درمیان بھی جدائی کردیتا ہے ۔ غرض حالت شرک کی عرب دنیا اور حالت اسلام کی عرب دنیا میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ان دونوں کے درمیان اسلامی نقطہ نظر سے کوئی تعلق نہیں ، کوئی ربط اور کوئی رشتہ نہیں ہے ۔ اہل کتاب میں سے جو لوگ ایمان لائے وہ ایک امت ہیں اور جن لوگوں نے حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کے دین کو ترک کیا اور ایک دوسری امت ہیں ۔ ان دونوں کے درمیان بھی کوئی تعلق ، کوئی ربط اور کوئی رشتہ نہیں ہے۔ یہاں خاندان کی تشکیل باپ داداپوتوں کے تعلق سے نہیں ہوتی بلکہ یہاں سے وہ لوگ افراد خاندان ہوتے ہیں جو ایک عقیدے اور نظرئیے پر جمع ہوجائیں ۔ اسلامی نقطہ نظر سے کسی امت کی تشکیل بھی نسلی بنیادوں پر نہیں ہوتی بلکہ امت کی تشکیل اہل ایمان سے ہوتی ہے ۔ خواہ ان کے رنگ ، ان کی نسل اور ان کے وطن مختلف ہی کیوں نہ ہوں ۔ غرض یہ ہے اسلامی تصور حیات جس کے چشمے کتاب الٰہی کے اس ربانی انداز سے پھوٹتے ہیں ۔

البقرة 2:125

یہی گھر ہے اللہ کا آج جس کا مجاور اہل قریش ، اہل ایمان کو خوفرزدہ کررہے ہیں ، انہیں طرح طرح کی اذیتیں دے رہے ہیں ، انہوں نے محض دین و ایمان کے جرم میں ان پر طرح طرح کے مصائب ڈھائے ، یہاں تک کہ وہ اس گھر کے پڑوس اور اس کی برکات کو چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ، حالانکہ اس گھر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ تھا کہ یہ مرکز عوام ہوگا اور تمام لوگ ہر طرف سے اس کا رخ کریں گے ۔ یہاں انہیں کوئی خوفزدہ کرنے والا نہ ہوگا۔ یہاں انہیں روحانی اور جسمانی امن و طمانیت حاصل ہوگی ۔ کیونکہ یہ گھر بذات خود مجسمہ امن منبع طمانیت اور جائے سلامت ہے۔ لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مقام عبادت یعنی خانہ کعبہ کو (مقام ابراہیم (علیہ السلام) سے میری رائے اور ترجیح کے مطابق پورا خانہ کعبہ مراد ہے) جائے نماز اور مقام عبادت قرار دیں ۔۔ اس لئے یہ بات اب بالکل منطقی ہے کہ یہی گھر اہل اسلام کا بھی قبلہ ہو ۔ اور اس پر کسی کا کوئی اعتراض جائز نہیں ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہی مناسب قبلہ ہے کیونکہ ایمان اور توحید کی نسبت سے صرف مسلمان ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ہیں اور اس کے وارث ہیں ۔ اور خانہ کعبہ صرف اللہ کا گھر ہے ۔ کسی انسان کا گھر نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ جو اس کا مالک ہے ، اس نے اپنے نیک بندوں میں سے دو حضرات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو یہ فریضہ سپرد کیا تھا ، کہ وہ اسے ان لوگوں کے لئے پاک وصاف اور تیار رکھیں جو یہاں رکوع و سجود کی غرض سے آئیں گے یا جو لوگ مقام امن کی تلاش میں یہاں پناہ لیں گے ، یا حج وزیارت کی غرض سے یہاں آئیں گے ۔ یا وہ لوگ جو یہاں مقیم ہیں اور اس گھر میں اعتکاف کرتے ہیں یا جو باہر سے بغرض عبادت پہنچتے ہیں ، یہاں تک کہ یہ گھرخود حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کی ملکیت بھی نہ تھا۔ تاکہ موروثی طور پر یہ حقوق قریش کو حاصل ہوجاتے ۔ قریش تو محض اللہ تعالیٰ کے اذن اور حکم سے اس کے مجاور اور خادم مقرر ہوئے تھے کہ وہ اسے یہاں آنے والے اہل ایمان کے لئے تیاررکھیں۔

البقرة 2:126

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا ایک بار پھر اس بات کی تائید کرتی ہے کہ اللہ کا یہ گھر بیت الامن ہے ۔ اور ایک بار پھر یہاں اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ اسلام میں وراثت ونیابت کا مداراخلاقی فضیلت اور نیکی پر ہے ۔ اس سے پہلی آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جو ہدایت دی گئی تھی کہ لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ ” میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے۔ “ تو اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خوب سمجھ گئے کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے دعائے رزق میں مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ ، جو اللہ اور آخرت کو مانیں ، کہہ کر از خود غلط لوگوں کو مستثنیٰ کردیا تھا۔ اس لئے کہ وہ سنت الٰہی اور منشائے الٰہی کو خوب سمجھ گئے تھے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہایت ہی حلیم الطبع اور خدا ترس پیغمبر تھے ۔ وہ نہایت ہی یکسو اور راہ مستقیم پر گامزن رہنے والے تھے ۔ وہ فوراً وہ طرز عمل اختیار کرلیتے تھے جس کا انہیں حکم دیا جاتا تھا۔ اور آپ دعا و درخواست میں بھی منشائے الٰہی کو ملحوظ رکھتے تھے ۔ تو اس مقام پر اللہ تعالیٰ ان کی دعا کا جواب یوں دیتے ہیں کہ جن لوگوں کے بارے میں آپ خاموش ہوگئے تھے ۔ یعنی اہل کفر اور اہل جہنم ان کے بارے میں بھی کہہ دیا جاتا ہے قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلا ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَى عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ” اور جس نے کفر اختیار کیا تو دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تو میں اسے بھی دوں گا مگر آخرکار اسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا اور وہ بدترین ٹھکانہ ہے۔ “

البقرة 2:127

ذرا انداز کلام ملاحظہ ہو ! کلام کا آغاز حکایتی ہے ۔ ایک قصے کا آغاز یوں ہوتا ہے ۔ وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ ” اور یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔ “ اب قاری انتظار میں ہے کہ یہ حکایت آگے بڑھے گی ، لیکن اچانک ہمارے تصور کے اسکرین پر ایسا منظر آتا ہے کہ گویا حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل اس پر سامنے آتے ہیں ۔ محسوس ہوتا ہے کہ گویا تصور نہیں بلکہ ہم اپنی آنکھوں سے ان حضرات کو دیکھ رہے ہیں ۔ وہ ہمارے سامنے حاضر ہیں اور قریب ہے کہ ہم ان حضرات کی یہ رقت آمیز دعا اپنے کانوں سے سن لیں۔ زمزمہ دعا ، نغمہ التجا اور طلب مدعا کی یہ عجیب فضا بالکل آنکھوں کے سامنے ہے ، گویا یہ سب کچھ اسی وقت ہورہا ہے ۔ ایک زندہ اور متحرک منظر سامنے ہے جس کے کردار مشخص کھڑے ہیں ۔ حسین و جمیل تعبیر اور انداز گفتگو قرآن مجید کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت ہے ۔ قرآن مجید ازمنہ سابقہ کے کسی بھی منظر کو اسی طرح بیان کرتا ہے کہ وہ بالکل اسکرین پر چلتا ہوا نظر آتا ہے ۔ زندگی سے بھرپور ، متحرک اور شخصی تصویر کشی اور منظر نگاری کی یہ ایسی خصوصیت ہے جو اللہ کی اس دائمی کتاب ہی کو زیب دیتی ہے اور ہے بھی معجزانہ ۔ اور اس دعا کے اندر کیا ہے ؟ نبوت کی نیاز مندانہ ادا ، نبوت کا پختہ یقین اور اس کائنات میں نظریہ اور عقیدے کا پیغمبرانہ شعور ۔ یہی ادا اور یقین اور یہی شعور اللہ تعالیٰ وارثان انبیاء کو سکھانا چاہتے ہیں ۔ قرآن مجید کی یہ کوشش ہے کہ اس القاء کے ذریعہ یہ شعور وارثان انبیاء کے دل و دماغ میں عمیق تر ہوجائے ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (127) ” اے ہمارے رب ، قبول فرما ، بیشک آپ ہی سننے والے ہیں اور جاننے والے ہیں ۔ “ یہ دعائے اجابت ہے ۔ اور یہی منتہائے مراد ہے ۔ اس لئے کہ یہ عمل خالص اللہ کے لئے ہے ۔ خشوع اور خضوع کے ساتھ ۔ اس کے ذریعہ وہ دونوں اللہ کی جانب متوجہ ہوں ۔ اور اس سب کاروائی اور عمل کے پیچھے صرف رضائے الٰہی اور مقبولیت دعا کا جذبہ کار فرما ہے ۔ اور امید کی کرن یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر پکارنے والے کی پکار سنتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس پکار کے پیچھے جو جذبہ کارفرماہوتا ہے اور پکارنے والے کا جو شعور ہوتا ہے وہ اس کے علم میں ہوتا ہے ۔

البقرة 2:128

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ” اے ہمارے رب ہم دونوں کو اپنا مطیع فرمان بنا ، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مطیع ہو ۔ ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا ، اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما ، بیشک تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “ یہ اس معاونت کی امید ہے جو یہ دونوں اسلام کی طرف ہدایت پانے کے سلسلے میں اللہ سے رکھتے ہیں ۔ ان کے دلوں میں یہ پختہ شعور تھا کہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں ہیں ، یہ کہ ہدایت صرف اس کی ہدایت ہے ، اس کی معاونت وتوفیق کے بغیر کوئی نہیں جو ہدایت پاسکے ۔ اس لئے وہ دونوں ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ اور اس کی طرف راغب اور مائل ہیں اور اللہ تو بہترین مددگار ہے۔ امت مسلمہ کا یہ مزاج کہ وہ باہم معاون و مددگار ہوتی ہے ۔ اس کے افراد نسلاً بعد نسل نظریاتی طور پر باہم پیوست ہوتے ہیں ، اس لئے دعا کی جاتی ہے وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ ” اور ہماری نسل سے بھی تیری مسلم امت پیدا ہو۔ “ یہ ایک ایسی دعا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دل مومن کی پہلی تمنا کیا ہوتی ہے۔ عقیدہ اور نظریہ ہی ایک مومن کا محبوب ، مشغلہ ہوتا ہے ۔ وہ اس کی پہلی ترجیح ہوتی ہے ۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کے سامنے اس دولت کی اہمیت واضح تھی جو انہیں دی گئی تھی یعنی دولت ایمان اور ثروت عقیدہ ۔ یہ اہمیت اور خواہش انہیں مجبور کرتی ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی اس دولت کے بارے میں التجا کریں ۔ اس لئے وہ اپنے رب سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان کی اولاد کو بھی اس دولت ثروت سے محروم نہ رکھیں جس کی قدر و قیمت کے برابر کوئی چیز موجود نہیں ہے ۔ اس سے قبل انہوں نے دعا کی تھی کہ وہ ان کی اولاد کو وسائل رزق فراوانی سے دیں۔ اس لئے انہوں نے یہ بھی ضروری سمجھا کہ ان کی اولاد دولت ایمان سے محروم نہ ہو ۔ انہوں نے یہ بھی دعا کی کہ وہ ان کی اولاد کو تعلیم مناسک بھی دے ۔ ان کو طریقہ عبادت بھی سکھائے ، ان کی مغفرت کرنے والا غفور الرحیم ہے ۔

البقرة 2:129

اس کے بعد وہ مزید التجا کرتے ہیں کہ ازمنہ بعیدہ میں بھی وہ ان کی ہدایت کے لئے مستقل بندوبست فرمائیں۔ وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (129) ” اے اللہ ! ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک رسول مبعوث فرما جو تیری آیات تلاوت کرے ، ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیوں کو پاک کردے ۔ بیشک تو غالب و حکیم ہے ۔ “ حضرت ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) کی اس دعا کی قبولیت کے نتیجے میں اب اس رسول کریم کی بعثت ہوئی اور کئی صدیاں گزرنے کے بعد ، اور آپ کی بعثت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہوئی جواب انہیں آیات سناتے ہیں ۔ انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور انہیں ہر قسم کی گندگیوں اور آلودگیوں سے پاک کرتے ہیں ۔ اللہ کے ہاں مخلصانہ دعا ہمیشہ قبول ہوتی ہے لیکن وہ اپنے اس وقت میں ظاہر ہوتی ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی حکمت نے اس کے لئے مقرر کردیا ہوتا ہے ۔ عام لوگوں کی عادت یہ ہے کہ وہ جلد بازی کرتے ہیں اور جو لوگ منزل مراد نہیں پاتے وہ مایوس وپریشان ہوتے ہیں۔ سورة بقرہ کی اس دعا کے نزول کے وقت مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ایک ہمہ گیر کشمکش جاری تھی ، ان حالات میں اس دعا کے اندر بعض اشارات بھی پنہاں ہیں اور اس کی خاص اہمیت ہے ۔ یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جن کو اس گھر کی تعمیر وتطہیر اور عبادت گزاروں ، زیارت کنندگان اور وہاں ٹھہرنے والوں کے سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ وہ دونوں موجودہ مجاورین یعنی قریش کے آباء اجداد جن کے ہاتھ میں آج خانہ کعبہ کا انتظام ہے ۔ اور ان کا واضح فرمان ہے ۔” ہمیں اپنا مطیع فرمان بنا “ اور ” ہماری اولاد سے بھی ایک امت مسلمہ اٹھا “ جس طرح انہوں نے یہ بھی کہا ” اے ہمارے رب ان میں خود ان سے ایک رسول مبعوث فرما ، جو انہیں آیات پڑھ کر سنائے ، انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیوں کو پاکیزہ بنادے ۔ “ گویا حضرت ابراہیم واسماعیل (علیہما السلام) کی اپنی اس دعا سے اس بات کا تقرر کرتے ہیں کہ امت مسلمہ حضرت ابراہیم واسماعیل (علیہما السلام) کی جانشین وخلیفہ ہے ۔ اور اس بات کی حق دار ہے کہ اب خانہ کعبہ کا انتظام اس کے ہاتھ میں ہو۔ گویا خانہ کعبہ امت مسلمہ کا مرکز ہے ۔ اور مشرکین کے مقابلہ میں یہ امت اس خانہ خدا کے انتظام وانصرام کی زیادہ حق دار ہے اور یہ کہ یہود ونصاریٰ کے مقابلے میں اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ امت مسلمہ کا اپنا قبلہ ہو۔ جو لوگ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں اور اپنے دین کا جوڑ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ملت ابراہیمی کے وارثو جانشین ہیں اور قریش کے جو لوگ اپنا نسب نامہ حضرت اسماعیل سے ملاتے ہیں انہیں کان کھول کر سن لینا چاہئے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنی اولاد کی نسبت اس جانشینی اور امامت وسلطنت کا سوال کیا تھا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب یہ تھا۔ لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ ” میرا وعدہ ظالموں کی بابت نہیں ہے ۔ “ اور اس کے بعد جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اہل مکہ کے لئے برکت وفراوانی رزق کی استدعا کی تو آپ نے فرمایا مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ” جو اللہ اور آخرت پر ایمان لے آئے ۔ “ اور یہ کہ جب یہ حضرات تعمیر کعبہ کے لئے اٹھے تو انہوں نے یہ دعا کی کہ اے رب ! ہمیں اپنا مطیع فرمان بنا اور یہ کہ ہماری اولاد میں سے ایک امت مسلمہ اٹھاتے رہیو ! اور یہ کہ ہماری اولاد میں سے نبی آخرالزمان کو مبعوث فرمائیے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی دعاؤں کو قبول فرمایا اور حضرت محمد بن عبداللہ کو مبعوث فرمایا اور ان کے ذریعہ امت مسلمہ کو ازسر نو قائم فرمایا اور اس نظریاتی وراثت کو یوں جاری فرمادیا۔ قصہ ابراہیم (علیہ السلام) کے اختتام پر اب روئے سخن ان لوگوں کی طرف مڑجاتا ہے جو لوگ امت مسلمہ کے حق امامت و برتری کو چیلنج کررہے تھے ، جو رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور رسالت سے برسرپیکار تھے اور رسول اللہ ﷺ سے اس موضوع پر بحث وجدال میں مبتلا تھے کہ دین اسلام کی حقیقت کیا ہے اور یہ کہ اصل دین کیا ہے اور ان کے مزعومات کیا ہیں اس لئے قرآن مجید ان لوگوں کے بارے میں یہ تاثر دیتا ہے ۔

البقرة 2:130

یہ ہے ملت ابراہیم (علیہ السلام) ، یعنی خالص اور واضح اسلام اور فرمان برداری ۔ اور اس سے کنارہ کش صرف وہی ہوگا جو اپنے اوپر ظلم کرے گا ۔ اس سے دور وہی ہوگا جو دراصل احمق ہوگا ۔ اور اپنے آپ کو برباد کرنے والا ہوگا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جسے رب ذوالجلال نے دنیا کی امت کے لئے چنا اور جن کے بارے میں اللہ نے گواہی دی کہ وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے ۔ انہوں نے اس دین کو پسند کیا ہے ۔ جب ان سے ان کے رب نے کہا ” مسلم ہوجا “ تو انہوں نے بغیر ہچکچاہٹ کے اور بغیر کسی تردد اور انحراف کے فوراً سر تسلیم خم کردیا اور فوراً کہا قَالَ اَسلَمتُ لِرَبِّ العَالَمِینَ ” میں رب العالمین کا فرماں بردار ہوگیا ہوں۔ “ یہ ہے ملت ابراہیمی ، خالص اسلام اور واضح دین۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے صرف اپنی ذات تک محدود نہیں چھوڑا بلکہ اسے اپنی اولاد کے لئے بھی پسند کیا ۔ اپنی اولاد کو وصیت کی کہ وہ اسے اپنائے رکھیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو اس کی وصیت کی ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بھی اپنی اولاد کو اس کی وصیت کی اور یاد رہے کہ حضرت یعقوب ہی وہ اسرائیل ہیں جن کی طرف یہ لوگ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ۔ لیکن اس کی وصیت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اپنے جد امجد کی وصیت کی تسلیم نہیں کرتے ۔ حالانکہ حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب (علیہما السلام) دونوں نے اپنی اولاد کو یہ یاد دہانی کرائی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اس دین کو پسند کیا ہے ۔ یٰبَنَیَّ اِنَّ اللہَ اصطَفٰی لَکُمُ الدِّینَ ” میرے بچو ! اللہ نے تمہارے لئے یہی دین پسند کیا ہے ۔ “ یہ اللہ کی پسند ہے لہٰذا اللہ کی پسند کے بعد اب ان کے لئے اس کے سوا کوئی راہ نہیں ہے کہ وہ اسے پسند کریں اور اللہ کے اس فضل وکرم اور خصوصی عنایت کا کم ازکم تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس پسند اور اس کی عطا پر اس کا بےحد شکر ادا کریں اور ہر وقت یہ سعی کرتے رہیں کہ کسی دور اور کسی زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہ سرزمین امت مسلمہ سے خالی نہ ہو اور اس زمین پر اللہ پرستی کی یہ تحریک ہر وقت جاری وساری رہے فَلَا تَمُوتُنَّ اِلَّا وَاَنتُم مُسلِمُونَ ” تم صرف اس حال میں مرو کہ تم مسلم ہو۔ “ یہ تھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وصیت جو انہوں نے اپنی اولاد کو کی تھی اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو کی تھی ۔ اور یہ وصیت حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے آخری لمحات اور سکرات الموت میں بھی وہ اسے بھلانہ سکے ۔ بنی اسرائیل کو چاہئے کہ وہ اس پر خوب غور کریں۔

البقرة 2:131

یہ ہے ملت ابراہیم (علیہ السلام) ، یعنی خالص اور واضح اسلام اور فرمان برداری ۔ اور اس سے کنارہ کش صرف وہی ہوگا جو اپنے اوپر ظلم کرے گا ۔ اس سے دور وہی ہوگا جو دراصل احمق ہوگا ۔ اور اپنے آپ کو برباد کرنے والا ہوگا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جسے رب ذوالجلال نے دنیا کی امت کے لئے چنا اور جن کے بارے میں اللہ نے گواہی دی کہ وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے ۔ انہوں نے اس دین کو پسند کیا ہے ۔ جب ان سے ان کے رب نے کہا ” مسلم ہوجا “ تو انہوں نے بغیر ہچکچاہٹ کے اور بغیر کسی تردد اور انحراف کے فوراً سر تسلیم خم کردیا اور فوراً کہا قَالَ اَسلَمتُ لِرَبِّ العَالَمِینَ ” میں رب العالمین کا فرماں بردار ہوگیا ہوں۔ “ یہ ہے ملت ابراہیمی ، خالص اسلام اور واضح دین۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے صرف اپنی ذات تک محدود نہیں چھوڑا بلکہ اسے اپنی اولاد کے لئے بھی پسند کیا ۔ اپنی اولاد کو وصیت کی کہ وہ اسے اپنائے رکھیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو اس کی وصیت کی ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بھی اپنی اولاد کو اس کی وصیت کی اور یاد رہے کہ حضرت یعقوب ہی وہ اسرائیل ہیں جن کی طرف یہ لوگ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ۔ لیکن اس کی وصیت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اپنے جد امجد کی وصیت کی تسلیم نہیں کرتے ۔ حالانکہ حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب (علیہما السلام) دونوں نے اپنی اولاد کو یہ یاد دہانی کرائی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اس دین کو پسند کیا ہے ۔ یٰبَنَیَّ اِنَّ اللہَ اصطَفٰی لَکُمُ الدِّینَ ” میرے بچو ! اللہ نے تمہارے لئے یہی دین پسند کیا ہے ۔ “ یہ اللہ کی پسند ہے لہٰذا اللہ کی پسند کے بعد اب ان کے لئے اس کے سوا کوئی راہ نہیں ہے کہ وہ اسے پسند کریں اور اللہ کے اس فضل وکرم اور خصوصی عنایت کا کم ازکم تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس پسند اور اس کی عطا پر اس کا بےحد شکر ادا کریں اور ہر وقت یہ سعی کرتے رہیں کہ کسی دور اور کسی زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہ سرزمین امت مسلمہ سے خالی نہ ہو اور اس زمین پر اللہ پرستی کی یہ تحریک ہر وقت جاری وساری رہے فَلَا تَمُوتُنَّ اِلَّا وَاَنتُم مُسلِمُونَ ” تم صرف اس حال میں مرو کہ تم مسلم ہو۔ “ یہ تھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وصیت جو انہوں نے اپنی اولاد کو کی تھی اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو کی تھی ۔ اور یہ وصیت حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے آخری لمحات اور سکرات الموت میں بھی وہ اسے بھلانہ سکے ۔ بنی اسرائیل کو چاہئے کہ وہ اس پر خوب غور کریں۔

البقرة 2:132

یہ ہے ملت ابراہیم (علیہ السلام) ، یعنی خالص اور واضح اسلام اور فرمان برداری ۔ اور اس سے کنارہ کش صرف وہی ہوگا جو اپنے اوپر ظلم کرے گا ۔ اس سے دور وہی ہوگا جو دراصل احمق ہوگا ۔ اور اپنے آپ کو برباد کرنے والا ہوگا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جسے رب ذوالجلال نے دنیا کی امت کے لئے چنا اور جن کے بارے میں اللہ نے گواہی دی کہ وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے ۔ انہوں نے اس دین کو پسند کیا ہے ۔ جب ان سے ان کے رب نے کہا ” مسلم ہوجا “ تو انہوں نے بغیر ہچکچاہٹ کے اور بغیر کسی تردد اور انحراف کے فوراً سر تسلیم خم کردیا اور فوراً کہا قَالَ اَسلَمتُ لِرَبِّ العَالَمِینَ ” میں رب العالمین کا فرماں بردار ہوگیا ہوں۔ “ یہ ہے ملت ابراہیمی ، خالص اسلام اور واضح دین۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے صرف اپنی ذات تک محدود نہیں چھوڑا بلکہ اسے اپنی اولاد کے لئے بھی پسند کیا ۔ اپنی اولاد کو وصیت کی کہ وہ اسے اپنائے رکھیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو اس کی وصیت کی ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بھی اپنی اولاد کو اس کی وصیت کی اور یاد رہے کہ حضرت یعقوب ہی وہ اسرائیل ہیں جن کی طرف یہ لوگ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ۔ لیکن اس کی وصیت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اپنے جد امجد کی وصیت کی تسلیم نہیں کرتے ۔ حالانکہ حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب (علیہما السلام) دونوں نے اپنی اولاد کو یہ یاد دہانی کرائی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اس دین کو پسند کیا ہے ۔ یٰبَنَیَّ اِنَّ اللہَ اصطَفٰی لَکُمُ الدِّینَ ” میرے بچو ! اللہ نے تمہارے لئے یہی دین پسند کیا ہے ۔ “ یہ اللہ کی پسند ہے لہٰذا اللہ کی پسند کے بعد اب ان کے لئے اس کے سوا کوئی راہ نہیں ہے کہ وہ اسے پسند کریں اور اللہ کے اس فضل وکرم اور خصوصی عنایت کا کم ازکم تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس پسند اور اس کی عطا پر اس کا بےحد شکر ادا کریں اور ہر وقت یہ سعی کرتے رہیں کہ کسی دور اور کسی زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہ سرزمین امت مسلمہ سے خالی نہ ہو اور اس زمین پر اللہ پرستی کی یہ تحریک ہر وقت جاری وساری رہے فَلَا تَمُوتُنَّ اِلَّا وَاَنتُم مُسلِمُونَ ” تم صرف اس حال میں مرو کہ تم مسلم ہو۔ “ یہ تھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وصیت جو انہوں نے اپنی اولاد کو کی تھی اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو کی تھی ۔ اور یہ وصیت حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے آخری لمحات اور سکرات الموت میں بھی وہ اسے بھلانہ سکے ۔ بنی اسرائیل کو چاہئے کہ وہ اس پر خوب غور کریں۔

البقرة 2:133

سکرات الموت کے وقت حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور آپ کے بیٹوں کا یہ منظر ایک عظیم منظر ہے ۔ یہ منظر ایک نہایت ہی نصیحت آموز ، سبق آموز اور پر تاثیر منظر ہے ایک شخص موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے اور ان لمحات میں اس کے دل و دماغ پر کیا چھایا ہوا ہے ؟ وہ کیا دلچسپی ہے جس میں اس کا دل و دماغ مشغول ہے حالانکہ وہ زندگی کے آخری لمحات میں ہے۔ اس وقت وہ کس عظیم الشان معاملے میں بات کرکے اس کے بارے میں اطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ اپنی اولاد کے لئے کیا ترکہ چھوڑ رہے ہیں اور تاکید کرتے ہیں کہ وہ اس ترکہ کی آخردم تک حفاظت کریں اور وہ آخری ہچکیوں میں اسے اولاد کے حوالے کررہے ہیں اور اس پر بڑی تفصیل سے بات کرتے ہیں ۔ یہ ترکہ نظریہ حیات اور عقیدے کا ترکہ ہے ۔ یہی وہ دولت ہے جسے وہ بیٹوں کے حوالے کرتے ہیں اور یہی وہ اہم مسئلہ ہے جس میں وہ بےحد دلچسپی لے رہے ہیں ۔ یہ ہے وہ عظیم الشان مسئلہ جس میں وہ بےحد دلچسپی لے رہے ہیں ۔ یہ ہے وہ عظیم الشان معاملہ جو آخری لمحات میں بھی انہیں یاد ہے مَا تَعبُدُونَ مِن بِعدِی تم میرے بعد کس کی بندگی کروگے ۔ “ یہ ہے وہ عظیم معاملہ جس کے لئے تمہیں بلایا ہے ۔ اور اس اہم معاملے میں ، میں چاہتا ہوں کہ تم اسے اطمینان حاصل کرلوں ۔ یہ میری دولت ہے ، میرا ترکہ ہے اور وہ اہم امانت ہے جو میں تمہارے سپرد کررہا ہوں قَالُوا نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ” ان سب نے کہا ! ہم اس ایک اللہ کی بندگی کریں گے جسے آپ نے ، آپ کے بزرگوں ابراہیم اور اسماعیل (علیہم السلام) نے اللہ مانا۔ اور ہم اس کے مسلم ہیں۔ “ یوں وہ اپنے دین کو دین کو پہچان لیتے ہیں ۔ اسے یاد کرلیتے ہیں ۔ اس ورثے کو وہ قبول کرتے ہیں ۔ اور اس کی حفاظت کا مصمم ارادہ کرلیتے ہیں اور یوں وہ اپنے والد محترم کو مطمئن کردیتے ہیں جو اپنی زندگی کے آخری لمحات میں ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد نے آخر تم تک ہمیشہ اس وصیت کا خیال رکھا اور وہ ہمیشہ اس بات کے معترف رہے کہ وہ مسلم ہیں ۔ اس موقع پر قرآن مجید بنی اسرائیل سے یہ سوال کرتا ہے۔ أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ ” کیا تم موجود تھے جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے سامنے موت آگئی۔ “ ہاں یہ واقعہ ہوا تھا ، قرآن مجید اس کی گواہی دیتا ہے ، اس کی تائید کرتا ہے۔ یوں قرآن مجید ان لوگوں کے مکر و فریب کا پردہ چاک کردیتا ہے اور یہ فیصلہ کردیتا ہے کہ بنی اسرائیل کا اب اپنے جد امجد اسرائیل کے ساتھ کوئی نظریاتی یا روحانی تعلق نہیں ہے ۔ ” اس بیان کی روشنی میں وہ فرق و امتیاز کھل کر سامنے آجاتا ہے جو دور رفتہ کی امت مسلمہ اور تحریک اسلامی کے مزاحم بنی اسرائیل کے درمیان پایا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ دور رفتہ کی اس امت مسلمہ اور اب کے نام نہاد جانشینوں کے درمیان کوئی تعلق کوئی وراثت اور کوئی روحانی وراثت کا تعلق نہیں ہے۔ “

البقرة 2:134

ہر شخص اپنا حساب خود دے گا ۔ ہر ایک کا اپنا راستہ ہے ، ہر ایک کا ایک عنوان ہے اور ہر کسی کی اپنی خصوصیات ہیں ۔ وہ ایک مومن جماعت تھی جس کا بعد میں آنے والے اس کے فاسق جانشینوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ بعد میں آنے والے ناخلف اور نالائقوں کا ان پاک بازوں سے کیا واسطہ ؟ وہ ایک علیحدہ جماعت تھے اور یہ ایک علیحدہ جماعت ہیں ۔ ان کا جھنڈا علیحدہ تھا اور ان کا جھنڈا جدا ہے ۔ ان کا تصور حیات ایک ایمانی تصور حیات تھا اور ان نالائقوں کا تصور حیات بالکل جاہل تصور ہے ۔ جاہلی تصور حیات میں ایک جماعت اور دوسری جماعت اور ایک دور ایک دوسرے دور میں فرق نہیں کیا جاتا کیونکہ اس کے تصور کے مطابق اگر دو معاشروں کے درمیان اگر خون اور نسب کا اتحاد ہے تو گویا دونوں معاشرے ایک ہی ہیں لیکن ایمانی تصورحیات میں ایک مومن معاشرے اور ایک فاسق معاشرے کے درمیان امتیاز ہوتا ہے۔ ان کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہوتی ۔ کوئی تعلق نہیں ہوتا اور نہ یہ دونوں معاشرے ایک امت بن سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ دونوں علیحدہ امتیں ہیں ۔ اس لئے مومنین کی اقدار حیات کے مطابق بھی یہ دونوں مختلف اور متضاد ہیں ۔ اسلامی تصور حیات کے مطابق ایک امت صرف وہ ہوتی ہے ، جو صرف ایک نظریہ حیات اور عقیدہ پر ایمان رکھتی ہو ، چاہے جسمانی تعلق کے لحاظ اور رنگ نسل کے اعتبار سے اس کا تعلق مختلف علاقوں سے ہو۔ اسلامی جماعت کا تعلق کسی زمین کسی علاقے یا کسی رنگ ونسل سے نہیں ہوتا ، یہ وہ تصور حیات ہے جو شرف انسایت کے زیادہ مناسب ہے ۔ جس کی اساس بلند اور عالم بالا کی روحانیت پر ہے اور اس کی بنیاد خاکی اور سفلی تعلقات پر نہیں ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دور کے تاریخی واقعات کے اس تفصیلی بیان کے ضمن میں مسلمانوں کے بیت الحرام اور کعبہ کی تاریخ کے بیان کے ضمن میں اور اسلامی نظام زندگی کی حقیقت اور موروثی تصورات کی حقیقت کے بیان کے ضمن میں ، اب قرآن کریم معاصر اہل کتاب کے بوگس دعوؤں کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔ اور ان کے غلط۔ خیالات ، بےبنیاد دلائل اور غیر معقول مباحث کی تردید کرتا ہے ، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سب تصورات دلائل کے اعتبار سے اور بحث وجدال کے میدان میں پائے چوبین ہیں ۔ اور محض ضد ، عناد پر مبنی ہیں اور ان کے ان مزعومات کے حق میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے ۔ یوں قرآن مجید یہ ثابت کرتا ہے کہ اسلامی نظریات و عقائد دراصل معقول اور فطری عقائد ہیں ۔ اور ان سے انحراف صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو صرف ضدی اور معاند ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔

البقرة 2:135

یہودیوں کا کہنا یہ تھا کہ تم یہودیت اختیار کرلو تو راہ ہدایت پالوگے اور عیسائیوں کا کہنا یہ تھا کہ عیسائی بن جاؤ تو ہدایت پالوگے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان دونوں دعوؤں کو جمع کرکے رسول اکرم ﷺ کو بتایا کہ وہ ان الفاظ میں ان کے باطل دعوؤں کی تردید فرمادیں قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ” کہو ملت ابراہیم (علیہ السلام) راہ ہدایت ہے جو مشرکین میں سے نہ تھے ۔ “ رسول اکرم ﷺ کو سمجھایا گیا کہ آپ ان سے کہہ دیں ، آئیے ہم اور آپ سب اپنے اصل کی طرف واپس لوٹتے ہیں ۔ یعنی ملت ابراہیمی کی طرف جو ہمارے بھی باپ ہیں اور آپ کے بھی جد امجد ہیں اور اسلام کا منبع اور سرچشمہ ہیں اور ان کے رب نے ان کے ساتھ جو عہد کیا ہوا تھا وہ مشرک نہ تھے ، جبکہ آپ لوگ شرک میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عظیم دینی وحدت اور دینی اتحاد کے اعلان کا حکم دیتے ہیں ، جو دین ابوالانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک جاری رہا اور جس کی آخری کڑی اب اسلام ہے ۔ اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس متحدہ اور مسلمہ دین پر ایمان لائیں قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (136) ” کہو ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، یعقوب (علیہ السلام) اور اولاد یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی ۔ ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں ۔ “ یہ سب ملتوں کا اتحاد ہے ۔ سب رسولوں کے درمیان وحدت ہے اور یہ اسلامی تصور حیات کی اساس ہے ۔ اور یہی وہ فکر ہے جو امت مسلمہ کو ایک ایسی ملت بنادیتی ہے جو اس زمین پر اس نظریہ کی واحد حامل اور وارث ہے جو نظریہ اللہ کے دین پر مبنی ہے ۔ اور جس کی جڑ اصل ابراہیمی سے مربوط ہے اور جس کی وجہ سے ........ یہ امت انسانی تاریخ میں ہدایت اور روشنی کی علمبردار ہے ۔ اور یہی تصور حیات ہے جو اسلامی نظام ِ زندگی کو ایک حقیقی عالمی نظام بنا دیتا ہے جس میں کوئی تعصب نہیں ہے۔ اور کوئی ظلم واستحصال نہیں ہے اور جس کے نتیجے میں اسلامی معاشرہ Open Society معاشرہ قرار پاتا ہے جس کے دروازے تمام انسانوں کے لئے وا ہیں ۔ اور ان افراد معاشرہ کے درمیان باہم مکمل انس و محبت پائی جاتی ہے۔ اس لئے یہاں دوران کلام ایک فیصلہ کن بات بتادی جاتی ہے اور مسلمانوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس بات پر ڈٹ جائیں ۔ وہ یہ کہ یہی عقیدہ اور یہی تصور حیات راہ ہدایت ہے ۔ جس نے اس تصور حیات اور اس راہ کو اپنالیا تو گویا اس نے منزل مراد کو پالیا ۔ اور جو شخص اس حقیقت سے منہ موڑ لے گا تو وہ کبھی بھی ثابت قدمی سے کسی مقام پر ٹک نہ سکے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم تمام ایسے فرقوں سے اختلاف کرتا ہے جو ثابت قدمی سے کسی اصولی موقف پر قائم نہ ہوں۔ قرآن کہتا ہے فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ پھر اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں جیسے تم لائے ہو ، تو ہدایت پر ہیں اور اگر اس سے منہ پھیریں تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑگئے ہیں۔ یہ کلمات الٰہی ہیں اور یہ خود اللہ تعالیٰ کی جانب سے شہادت ہے ۔ یوں قلب مومن کو ایک گونہ احساس عزت دلایا جارہا ہے کہ وہ جس موقف کو اختیار کئے ہوئے ہیں وہ قابل فخر بات ہے ۔ کیونکہ ان کو لوگوں کے لئے ایک معیار اور ایک ماڈل قرار دیا جارہا ہے ۔ اور یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کا ایمان ایسا ہونا چاہئے جس طرح کا ایمان تمہارا ہے ورنہ وہ منکر حق ، دشمنان دین اور ہٹ دھرم قرار پائیں گے اور کوئی مومن گمراہوں اور کافروں کا دوست نہیں ہوسکتا ۔ نہ اسے ایسے لوگوں کے ساتھ کسی مناقشہ کی ضرورت ہے ۔ نہ اسے ان کے خلاف کسی سازش یا چالبازی کی ضرورت ہے نہ ان کے ساتھ جنگ وجدال اور مقابلہ ومعارضہ کی ضرورت ہے ۔ اللہ تعالیٰ اہل اسلام کی جانب سے از خود ان کے مقابلے کے لئے کافی ہے ۔ وہ خود ان سے نمٹ لے گا۔ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ” ان کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لئے کافی ہے وہ سننے اور جاننے والا ہے۔ “ ایک مومن کی ڈیوٹی صرف یہ ہے کہ وہ اپنی راہ پر سیدھا چلتا رہے ۔ اور وہ اس حق کو مضبوطی سے تھام لے جو اس نے براہ راست اللہ تعالیٰ سے پایا ہے ۔ وہ اس رنگ میں رنگا ہے جو اللہ کے دوستوں کا رنگ ہوتا ہے اور وہ دنیا میں اپنے اس مخصوص رنگ سے پہچانے جاتے ہیں صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ ” اللہ کا رنگ اختیار کرو ، اس کے رنگ سے اچھا کوئی رنگ نہیں ہے اور ہم اسی کی بندگی کرنے والے ہیں ۔ “ اور اللہ کا یہ رنگ اللہ تعالیٰ کا وہ آخری پیغام ہے جو اس نے عالم بشریت کو دیا ہے۔ تاکہ اس رنگ میں انسانیت کا ایک وسیع تر حصہ رنگ جائے اور انسانیت ایسے وسعت پذیر اصولوں پر مجتمع ہوجائے جن میں نہ کوئی تعصب ہو ، نہ کوئی بغض وکینہ ہو ، نہ ان میں محدود قومیت ہو اور نہ محدود رنگ ہو۔ یہاں قرآن مجید کے اسلوب ادا کے ایک خاص رنگ کی طرف اشارہ ضروری ہے ۔ اور اس طرز ادا میں ایک گہرا مفہوم پوشیدہ ہے ۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اس آیت کا پہلا حصہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے بیانیہ ہے ۔ صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً ” اللہ کا رنگ اختیار کرو ، اس سے زیادہ اچھا کس کا رنگ ہوگا۔ “ اور اس آیت کا باقی حصہ بطور کلام مومنین ہے اور سیاق کلام میں دونوں کلاموں کے درمیان کو حد فاصل نہیں ہے ۔ اگرچہ آیت کے دونوں حصے کلام الٰہی ہیں ۔ لیکن ایک متکلم اللہ تعالیٰ اور دوسرے میں مؤمنین ہیں ۔ مؤمنین صادقین کہ یہ ایک عظیم عزت افزائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے تکلم کو اپنے کام کا جز بنادیا جو ایک ہی فقرہ ہے ۔ اس سے اس حقیقت کا اظہار مطلوب ہے کہ مومنین کا اپنے رب کے ساتھ ایک گہرا رابطہ ہے ۔ اس قسم کے بیان کی کئی مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں اور ان کی بہت بڑی اہمیت ہے ۔

البقرة 2:136

یہودیوں کا کہنا یہ تھا کہ تم یہودیت اختیار کرلو تو راہ ہدایت پالوگے اور عیسائیوں کا کہنا یہ تھا کہ عیسائی بن جاؤ تو ہدایت پالوگے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان دونوں دعوؤں کو جمع کرکے رسول اکرم ﷺ کو بتایا کہ وہ ان الفاظ میں ان کے باطل دعوؤں کی تردید فرمادیں قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ” کہو ملت ابراہیم (علیہ السلام) راہ ہدایت ہے جو مشرکین میں سے نہ تھے ۔ “ رسول اکرم ﷺ کو سمجھایا گیا کہ آپ ان سے کہہ دیں ، آئیے ہم اور آپ سب اپنے اصل کی طرف واپس لوٹتے ہیں ۔ یعنی ملت ابراہیمی کی طرف جو ہمارے بھی باپ ہیں اور آپ کے بھی جد امجد ہیں اور اسلام کا منبع اور سرچشمہ ہیں اور ان کے رب نے ان کے ساتھ جو عہد کیا ہوا تھا وہ مشرک نہ تھے ، جبکہ آپ لوگ شرک میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عظیم دینی وحدت اور دینی اتحاد کے اعلان کا حکم دیتے ہیں ، جو دین ابوالانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک جاری رہا اور جس کی آخری کڑی اب اسلام ہے ۔ اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس متحدہ اور مسلمہ دین پر ایمان لائیں قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (136) ” کہو ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، یعقوب (علیہ السلام) اور اولاد یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی ۔ ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں ۔ “ یہ سب ملتوں کا اتحاد ہے ۔ سب رسولوں کے درمیان وحدت ہے اور یہ اسلامی تصور حیات کی اساس ہے ۔ اور یہی وہ فکر ہے جو امت مسلمہ کو ایک ایسی ملت بنادیتی ہے جو اس زمین پر اس نظریہ کی واحد حامل اور وارث ہے جو نظریہ اللہ کے دین پر مبنی ہے ۔ اور جس کی جڑ اصل ابراہیمی سے مربوط ہے اور جس کی وجہ سے ........ یہ امت انسانی تاریخ میں ہدایت اور روشنی کی علمبردار ہے ۔ اور یہی تصور حیات ہے جو اسلامی نظام ِ زندگی کو ایک حقیقی عالمی نظام بنا دیتا ہے جس میں کوئی تعصب نہیں ہے۔ اور کوئی ظلم واستحصال نہیں ہے اور جس کے نتیجے میں اسلامی معاشرہ Open Society معاشرہ قرار پاتا ہے جس کے دروازے تمام انسانوں کے لئے وا ہیں ۔ اور ان افراد معاشرہ کے درمیان باہم مکمل انس و محبت پائی جاتی ہے۔ اس لئے یہاں دوران کلام ایک فیصلہ کن بات بتادی جاتی ہے اور مسلمانوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس بات پر ڈٹ جائیں ۔ وہ یہ کہ یہی عقیدہ اور یہی تصور حیات راہ ہدایت ہے ۔ جس نے اس تصور حیات اور اس راہ کو اپنالیا تو گویا اس نے منزل مراد کو پالیا ۔ اور جو شخص اس حقیقت سے منہ موڑ لے گا تو وہ کبھی بھی ثابت قدمی سے کسی مقام پر ٹک نہ سکے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم تمام ایسے فرقوں سے اختلاف کرتا ہے جو ثابت قدمی سے کسی اصولی موقف پر قائم نہ ہوں۔ قرآن کہتا ہے فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ پھر اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں جیسے تم لائے ہو ، تو ہدایت پر ہیں اور اگر اس سے منہ پھیریں تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑگئے ہیں۔ یہ کلمات الٰہی ہیں اور یہ خود اللہ تعالیٰ کی جانب سے شہادت ہے ۔ یوں قلب مومن کو ایک گونہ احساس عزت دلایا جارہا ہے کہ وہ جس موقف کو اختیار کئے ہوئے ہیں وہ قابل فخر بات ہے ۔ کیونکہ ان کو لوگوں کے لئے ایک معیار اور ایک ماڈل قرار دیا جارہا ہے ۔ اور یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کا ایمان ایسا ہونا چاہئے جس طرح کا ایمان تمہارا ہے ورنہ وہ منکر حق ، دشمنان دین اور ہٹ دھرم قرار پائیں گے اور کوئی مومن گمراہوں اور کافروں کا دوست نہیں ہوسکتا ۔ نہ اسے ایسے لوگوں کے ساتھ کسی مناقشہ کی ضرورت ہے ۔ نہ اسے ان کے خلاف کسی سازش یا چالبازی کی ضرورت ہے نہ ان کے ساتھ جنگ وجدال اور مقابلہ ومعارضہ کی ضرورت ہے ۔ اللہ تعالیٰ اہل اسلام کی جانب سے از خود ان کے مقابلے کے لئے کافی ہے ۔ وہ خود ان سے نمٹ لے گا۔ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ” ان کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لئے کافی ہے وہ سننے اور جاننے والا ہے۔ “ ایک مومن کی ڈیوٹی صرف یہ ہے کہ وہ اپنی راہ پر سیدھا چلتا رہے ۔ اور وہ اس حق کو مضبوطی سے تھام لے جو اس نے براہ راست اللہ تعالیٰ سے پایا ہے ۔ وہ اس رنگ میں رنگا ہے جو اللہ کے دوستوں کا رنگ ہوتا ہے اور وہ دنیا میں اپنے اس مخصوص رنگ سے پہچانے جاتے ہیں صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ ” اللہ کا رنگ اختیار کرو ، اس کے رنگ سے اچھا کوئی رنگ نہیں ہے اور ہم اسی کی بندگی کرنے والے ہیں ۔ “ اور اللہ کا یہ رنگ اللہ تعالیٰ کا وہ آخری پیغام ہے جو اس نے عالم بشریت کو دیا ہے۔ تاکہ اس رنگ میں انسانیت کا ایک وسیع تر حصہ رنگ جائے اور انسانیت ایسے وسعت پذیر اصولوں پر مجتمع ہوجائے جن میں نہ کوئی تعصب ہو ، نہ کوئی بغض وکینہ ہو ، نہ ان میں محدود قومیت ہو اور نہ محدود رنگ ہو۔ یہاں قرآن مجید کے اسلوب ادا کے ایک خاص رنگ کی طرف اشارہ ضروری ہے ۔ اور اس طرز ادا میں ایک گہرا مفہوم پوشیدہ ہے ۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اس آیت کا پہلا حصہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے بیانیہ ہے ۔ صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً ” اللہ کا رنگ اختیار کرو ، اس سے زیادہ اچھا کس کا رنگ ہوگا۔ “ اور اس آیت کا باقی حصہ بطور کلام مومنین ہے اور سیاق کلام میں دونوں کلاموں کے درمیان کو حد فاصل نہیں ہے ۔ اگرچہ آیت کے دونوں حصے کلام الٰہی ہیں ۔ لیکن ایک متکلم اللہ تعالیٰ اور دوسرے میں مؤمنین ہیں ۔ مؤمنین صادقین کہ یہ ایک عظیم عزت افزائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے تکلم کو اپنے کام کا جز بنادیا جو ایک ہی فقرہ ہے ۔ اس سے اس حقیقت کا اظہار مطلوب ہے کہ مومنین کا اپنے رب کے ساتھ ایک گہرا رابطہ ہے ۔ اس قسم کے بیان کی کئی مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں اور ان کی بہت بڑی اہمیت ہے ۔

البقرة 2:137

یہودیوں کا کہنا یہ تھا کہ تم یہودیت اختیار کرلو تو راہ ہدایت پالوگے اور عیسائیوں کا کہنا یہ تھا کہ عیسائی بن جاؤ تو ہدایت پالوگے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان دونوں دعوؤں کو جمع کرکے رسول اکرم ﷺ کو بتایا کہ وہ ان الفاظ میں ان کے باطل دعوؤں کی تردید فرمادیں قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ” کہو ملت ابراہیم (علیہ السلام) راہ ہدایت ہے جو مشرکین میں سے نہ تھے ۔ “ رسول اکرم ﷺ کو سمجھایا گیا کہ آپ ان سے کہہ دیں ، آئیے ہم اور آپ سب اپنے اصل کی طرف واپس لوٹتے ہیں ۔ یعنی ملت ابراہیمی کی طرف جو ہمارے بھی باپ ہیں اور آپ کے بھی جد امجد ہیں اور اسلام کا منبع اور سرچشمہ ہیں اور ان کے رب نے ان کے ساتھ جو عہد کیا ہوا تھا وہ مشرک نہ تھے ، جبکہ آپ لوگ شرک میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عظیم دینی وحدت اور دینی اتحاد کے اعلان کا حکم دیتے ہیں ، جو دین ابوالانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک جاری رہا اور جس کی آخری کڑی اب اسلام ہے ۔ اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس متحدہ اور مسلمہ دین پر ایمان لائیں قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (136) ” کہو ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، یعقوب (علیہ السلام) اور اولاد یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی ۔ ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں ۔ “ یہ سب ملتوں کا اتحاد ہے ۔ سب رسولوں کے درمیان وحدت ہے اور یہ اسلامی تصور حیات کی اساس ہے ۔ اور یہی وہ فکر ہے جو امت مسلمہ کو ایک ایسی ملت بنادیتی ہے جو اس زمین پر اس نظریہ کی واحد حامل اور وارث ہے جو نظریہ اللہ کے دین پر مبنی ہے ۔ اور جس کی جڑ اصل ابراہیمی سے مربوط ہے اور جس کی وجہ سے ........ یہ امت انسانی تاریخ میں ہدایت اور روشنی کی علمبردار ہے ۔ اور یہی تصور حیات ہے جو اسلامی نظام ِ زندگی کو ایک حقیقی عالمی نظام بنا دیتا ہے جس میں کوئی تعصب نہیں ہے۔ اور کوئی ظلم واستحصال نہیں ہے اور جس کے نتیجے میں اسلامی معاشرہ Open Society معاشرہ قرار پاتا ہے جس کے دروازے تمام انسانوں کے لئے وا ہیں ۔ اور ان افراد معاشرہ کے درمیان باہم مکمل انس و محبت پائی جاتی ہے۔ اس لئے یہاں دوران کلام ایک فیصلہ کن بات بتادی جاتی ہے اور مسلمانوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس بات پر ڈٹ جائیں ۔ وہ یہ کہ یہی عقیدہ اور یہی تصور حیات راہ ہدایت ہے ۔ جس نے اس تصور حیات اور اس راہ کو اپنالیا تو گویا اس نے منزل مراد کو پالیا ۔ اور جو شخص اس حقیقت سے منہ موڑ لے گا تو وہ کبھی بھی ثابت قدمی سے کسی مقام پر ٹک نہ سکے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم تمام ایسے فرقوں سے اختلاف کرتا ہے جو ثابت قدمی سے کسی اصولی موقف پر قائم نہ ہوں۔ قرآن کہتا ہے فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ پھر اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں جیسے تم لائے ہو ، تو ہدایت پر ہیں اور اگر اس سے منہ پھیریں تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑگئے ہیں۔ یہ کلمات الٰہی ہیں اور یہ خود اللہ تعالیٰ کی جانب سے شہادت ہے ۔ یوں قلب مومن کو ایک گونہ احساس عزت دلایا جارہا ہے کہ وہ جس موقف کو اختیار کئے ہوئے ہیں وہ قابل فخر بات ہے ۔ کیونکہ ان کو لوگوں کے لئے ایک معیار اور ایک ماڈل قرار دیا جارہا ہے ۔ اور یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کا ایمان ایسا ہونا چاہئے جس طرح کا ایمان تمہارا ہے ورنہ وہ منکر حق ، دشمنان دین اور ہٹ دھرم قرار پائیں گے اور کوئی مومن گمراہوں اور کافروں کا دوست نہیں ہوسکتا ۔ نہ اسے ایسے لوگوں کے ساتھ کسی مناقشہ کی ضرورت ہے ۔ نہ اسے ان کے خلاف کسی سازش یا چالبازی کی ضرورت ہے نہ ان کے ساتھ جنگ وجدال اور مقابلہ ومعارضہ کی ضرورت ہے ۔ اللہ تعالیٰ اہل اسلام کی جانب سے از خود ان کے مقابلے کے لئے کافی ہے ۔ وہ خود ان سے نمٹ لے گا۔ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ” ان کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لئے کافی ہے وہ سننے اور جاننے والا ہے۔ “ ایک مومن کی ڈیوٹی صرف یہ ہے کہ وہ اپنی راہ پر سیدھا چلتا رہے ۔ اور وہ اس حق کو مضبوطی سے تھام لے جو اس نے براہ راست اللہ تعالیٰ سے پایا ہے ۔ وہ اس رنگ میں رنگا ہے جو اللہ کے دوستوں کا رنگ ہوتا ہے اور وہ دنیا میں اپنے اس مخصوص رنگ سے پہچانے جاتے ہیں صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ ” اللہ کا رنگ اختیار کرو ، اس کے رنگ سے اچھا کوئی رنگ نہیں ہے اور ہم اسی کی بندگی کرنے والے ہیں ۔ “ اور اللہ کا یہ رنگ اللہ تعالیٰ کا وہ آخری پیغام ہے جو اس نے عالم بشریت کو دیا ہے۔ تاکہ اس رنگ میں انسانیت کا ایک وسیع تر حصہ رنگ جائے اور انسانیت ایسے وسعت پذیر اصولوں پر مجتمع ہوجائے جن میں نہ کوئی تعصب ہو ، نہ کوئی بغض وکینہ ہو ، نہ ان میں محدود قومیت ہو اور نہ محدود رنگ ہو۔ یہاں قرآن مجید کے اسلوب ادا کے ایک خاص رنگ کی طرف اشارہ ضروری ہے ۔ اور اس طرز ادا میں ایک گہرا مفہوم پوشیدہ ہے ۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اس آیت کا پہلا حصہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے بیانیہ ہے ۔ صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً ” اللہ کا رنگ اختیار کرو ، اس سے زیادہ اچھا کس کا رنگ ہوگا۔ “ اور اس آیت کا باقی حصہ بطور کلام مومنین ہے اور سیاق کلام میں دونوں کلاموں کے درمیان کو حد فاصل نہیں ہے ۔ اگرچہ آیت کے دونوں حصے کلام الٰہی ہیں ۔ لیکن ایک متکلم اللہ تعالیٰ اور دوسرے میں مؤمنین ہیں ۔ مؤمنین صادقین کہ یہ ایک عظیم عزت افزائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے تکلم کو اپنے کام کا جز بنادیا جو ایک ہی فقرہ ہے ۔ اس سے اس حقیقت کا اظہار مطلوب ہے کہ مومنین کا اپنے رب کے ساتھ ایک گہرا رابطہ ہے ۔ اس قسم کے بیان کی کئی مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں اور ان کی بہت بڑی اہمیت ہے ۔

البقرة 2:138

یہودیوں کا کہنا یہ تھا کہ تم یہودیت اختیار کرلو تو راہ ہدایت پالوگے اور عیسائیوں کا کہنا یہ تھا کہ عیسائی بن جاؤ تو ہدایت پالوگے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان دونوں دعوؤں کو جمع کرکے رسول اکرم ﷺ کو بتایا کہ وہ ان الفاظ میں ان کے باطل دعوؤں کی تردید فرمادیں قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ” کہو ملت ابراہیم (علیہ السلام) راہ ہدایت ہے جو مشرکین میں سے نہ تھے ۔ “ رسول اکرم ﷺ کو سمجھایا گیا کہ آپ ان سے کہہ دیں ، آئیے ہم اور آپ سب اپنے اصل کی طرف واپس لوٹتے ہیں ۔ یعنی ملت ابراہیمی کی طرف جو ہمارے بھی باپ ہیں اور آپ کے بھی جد امجد ہیں اور اسلام کا منبع اور سرچشمہ ہیں اور ان کے رب نے ان کے ساتھ جو عہد کیا ہوا تھا وہ مشرک نہ تھے ، جبکہ آپ لوگ شرک میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عظیم دینی وحدت اور دینی اتحاد کے اعلان کا حکم دیتے ہیں ، جو دین ابوالانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک جاری رہا اور جس کی آخری کڑی اب اسلام ہے ۔ اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس متحدہ اور مسلمہ دین پر ایمان لائیں قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (136) ” کہو ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، یعقوب (علیہ السلام) اور اولاد یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی ۔ ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں ۔ “ یہ سب ملتوں کا اتحاد ہے ۔ سب رسولوں کے درمیان وحدت ہے اور یہ اسلامی تصور حیات کی اساس ہے ۔ اور یہی وہ فکر ہے جو امت مسلمہ کو ایک ایسی ملت بنادیتی ہے جو اس زمین پر اس نظریہ کی واحد حامل اور وارث ہے جو نظریہ اللہ کے دین پر مبنی ہے ۔ اور جس کی جڑ اصل ابراہیمی سے مربوط ہے اور جس کی وجہ سے ........ یہ امت انسانی تاریخ میں ہدایت اور روشنی کی علمبردار ہے ۔ اور یہی تصور حیات ہے جو اسلامی نظام ِ زندگی کو ایک حقیقی عالمی نظام بنا دیتا ہے جس میں کوئی تعصب نہیں ہے۔ اور کوئی ظلم واستحصال نہیں ہے اور جس کے نتیجے میں اسلامی معاشرہ Open Society معاشرہ قرار پاتا ہے جس کے دروازے تمام انسانوں کے لئے وا ہیں ۔ اور ان افراد معاشرہ کے درمیان باہم مکمل انس و محبت پائی جاتی ہے۔ اس لئے یہاں دوران کلام ایک فیصلہ کن بات بتادی جاتی ہے اور مسلمانوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس بات پر ڈٹ جائیں ۔ وہ یہ کہ یہی عقیدہ اور یہی تصور حیات راہ ہدایت ہے ۔ جس نے اس تصور حیات اور اس راہ کو اپنالیا تو گویا اس نے منزل مراد کو پالیا ۔ اور جو شخص اس حقیقت سے منہ موڑ لے گا تو وہ کبھی بھی ثابت قدمی سے کسی مقام پر ٹک نہ سکے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم تمام ایسے فرقوں سے اختلاف کرتا ہے جو ثابت قدمی سے کسی اصولی موقف پر قائم نہ ہوں۔ قرآن کہتا ہے فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ پھر اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں جیسے تم لائے ہو ، تو ہدایت پر ہیں اور اگر اس سے منہ پھیریں تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑگئے ہیں۔ یہ کلمات الٰہی ہیں اور یہ خود اللہ تعالیٰ کی جانب سے شہادت ہے ۔ یوں قلب مومن کو ایک گونہ احساس عزت دلایا جارہا ہے کہ وہ جس موقف کو اختیار کئے ہوئے ہیں وہ قابل فخر بات ہے ۔ کیونکہ ان کو لوگوں کے لئے ایک معیار اور ایک ماڈل قرار دیا جارہا ہے ۔ اور یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کا ایمان ایسا ہونا چاہئے جس طرح کا ایمان تمہارا ہے ورنہ وہ منکر حق ، دشمنان دین اور ہٹ دھرم قرار پائیں گے اور کوئی مومن گمراہوں اور کافروں کا دوست نہیں ہوسکتا ۔ نہ اسے ایسے لوگوں کے ساتھ کسی مناقشہ کی ضرورت ہے ۔ نہ اسے ان کے خلاف کسی سازش یا چالبازی کی ضرورت ہے نہ ان کے ساتھ جنگ وجدال اور مقابلہ ومعارضہ کی ضرورت ہے ۔ اللہ تعالیٰ اہل اسلام کی جانب سے از خود ان کے مقابلے کے لئے کافی ہے ۔ وہ خود ان سے نمٹ لے گا۔ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ” ان کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لئے کافی ہے وہ سننے اور جاننے والا ہے۔ “ ایک مومن کی ڈیوٹی صرف یہ ہے کہ وہ اپنی راہ پر سیدھا چلتا رہے ۔ اور وہ اس حق کو مضبوطی سے تھام لے جو اس نے براہ راست اللہ تعالیٰ سے پایا ہے ۔ وہ اس رنگ میں رنگا ہے جو اللہ کے دوستوں کا رنگ ہوتا ہے اور وہ دنیا میں اپنے اس مخصوص رنگ سے پہچانے جاتے ہیں صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ ” اللہ کا رنگ اختیار کرو ، اس کے رنگ سے اچھا کوئی رنگ نہیں ہے اور ہم اسی کی بندگی کرنے والے ہیں ۔ “ اور اللہ کا یہ رنگ اللہ تعالیٰ کا وہ آخری پیغام ہے جو اس نے عالم بشریت کو دیا ہے۔ تاکہ اس رنگ میں انسانیت کا ایک وسیع تر حصہ رنگ جائے اور انسانیت ایسے وسعت پذیر اصولوں پر مجتمع ہوجائے جن میں نہ کوئی تعصب ہو ، نہ کوئی بغض وکینہ ہو ، نہ ان میں محدود قومیت ہو اور نہ محدود رنگ ہو۔ یہاں قرآن مجید کے اسلوب ادا کے ایک خاص رنگ کی طرف اشارہ ضروری ہے ۔ اور اس طرز ادا میں ایک گہرا مفہوم پوشیدہ ہے ۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اس آیت کا پہلا حصہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے بیانیہ ہے ۔ صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً ” اللہ کا رنگ اختیار کرو ، اس سے زیادہ اچھا کس کا رنگ ہوگا۔ “ اور اس آیت کا باقی حصہ بطور کلام مومنین ہے اور سیاق کلام میں دونوں کلاموں کے درمیان کو حد فاصل نہیں ہے ۔ اگرچہ آیت کے دونوں حصے کلام الٰہی ہیں ۔ لیکن ایک متکلم اللہ تعالیٰ اور دوسرے میں مؤمنین ہیں ۔ مؤمنین صادقین کہ یہ ایک عظیم عزت افزائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے تکلم کو اپنے کام کا جز بنادیا جو ایک ہی فقرہ ہے ۔ اس سے اس حقیقت کا اظہار مطلوب ہے کہ مومنین کا اپنے رب کے ساتھ ایک گہرا رابطہ ہے ۔ اس قسم کے بیان کی کئی مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں اور ان کی بہت بڑی اہمیت ہے ۔

البقرة 2:139

اب قرآن مجید کی یہ دندان شکن محبت اور دلیل اپنے فیصلہ کن انجام تک یوں پہنچتی ہے۔ قُلْ أَتُحَاجُّونَنَا فِي اللَّهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ (139) ” اے نبی ان سے کہو ! کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو ۔ حالانکہ وہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ۔ ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے ، تمہارے لئے ۔ اور ہم اللہ ہی کے لئے اپنی بندگی خالص کرچکے ہیں۔ “ اللہ کی وحدانیت اور اللہ کی صفت ربوبیت میں کسی کو مجال اختلاف نہیں۔ وہ ہمارا بھی رب اور تمہارا بھی رب ہے ۔ ہم اپنے اعمال کا حساب دیں گے اور تم اپنے اعمال کے جوابدہ ہوگے ۔ لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ ہم صرف اس کے ہوگئے ہیں ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اور اس کے ساتھ کسی اور سے امیدیں وابستہ نہیں کرتے ۔ یو اللہ تعالیٰ اہل اسلام کی زبانی ان کے نظریاتی موقف کی وضاحت فرماتے ہیں اور یہ موقف ایسا ہے کہ جس میں بحث و مباحثہ اور نزاع واختلاف کی کوئی گنجائش بھی نہیں ہے ۔

البقرة 2:140

اب اس ناقابل نزاع موقف سے روئے سخن ایک دوسرے موضوع کی طرف پھرجاتا ہے ، جس میں اختلاف موجود تھا ، لیکن بتایا جاتا ہے کہ اس میں جو بھی اختلاف کیا گیا وہ بھی غیر ضروری اور غیر معقول اختلاف ہے ۔ فرماتے ہیں أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالأسْبَاطَ كَانُوا هُودًا أَوْ نَصَارَى یا پھر تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق ، یعقوب اور اولاد یعقوب سب کے سب یہودی یا نصرانی تھے ؟ “ یہ لوگ تو حضرت موسیٰ سے بھی پہلے گزرے ہیں اور یہودیت اور نصرانیت کے وجود میں آنے سے بھی پہلے گزرے ہیں ۔ اور ان کے دین کی حقیقت اللہ نے بیان بھی کردی ہے ۔ اور اس کی گواہی دے دی ہے کہ ان کا دین اسلام تھا۔ جس طرح اوپر تفصیل سے بیان ہوا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ قُلْ أَأَنْتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللَّهُ ” کہو تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ “ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے موقف پر صرف ایک سوال کردیا ہے ۔ اس لئے کہ ان کا موقف بادی النظر میں غلط تھا ۔ جواب دینے کی ضرورت ہی نہ تھی ۔ صرف سوالیہ نظروں سے تنبیہہ کردی گئی ۔ اس کے بعد بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے کہا جاتا ہے کہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ حضرات یہودیت اور نصرانیت کے وجود میں آنے سے بھی پہلے گزرے ہیں ۔ اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ وہ اس ابتدائی دین کے حامل تھے جسے حنیفیت سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ کہ تمہاری کتابوں میں ، تمہارے پاس یہ شہادت موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب نبی آخرالزمان کو الٰہی دین حنیف کے ساتھ بھیجنے والے ہیں ۔ جو دین ابراہیم (علیہ السلام) بھی ہے لیکن تم اس شہادت کو چھپا رہے ہو ۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ ” اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جس کے ذمے اللہ کی طرف سے گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے۔ “ اور اللہ کو اس بات کی اچھی طرح خبر ہے کہ جس شہادت کو تمہارے پاس بطور امامت ودیعت کیا گیا تھا ، اسے تم چھپا رہے ہو ۔ اور اس کے برعکس تم اسے چھپانے کے لئے بحث وجدال اور تلبیس بھی کررہے ہو ۔ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ” اور اللہ اس بات سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔ “

البقرة 2:141

اب بات اپنی انتہائی بلندی تک جاپہنچتی ہے ۔ اس مسئلے کا خاطر خواہ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور یہ بتایا دیا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور اولاد یعقوب (علیہم السلام) کے مابین اور ان کے موجود نام نہاد پیروکاروں کے درمیان مکمل تضاد پایا جاتا ہے ۔ وہ کچھ اور تھے اور یہ کچھ اور ۔ اس لئے یہاں خاتمہ کلام اس فقرے پر کیا جاتا ہے جو پہلے گزرچکا ہے تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (141) ” یہ کچھ لوگ تھے جو گزرچکے ۔ ان کی کمائی ان کے لئے تھی اور تمہاری کمائی تمہارے لئے ۔ تم سے ان کے اعمال کے متعلق سوال نہ ہوگا۔ “ یہ ایک فیصلہ کن بات اب گویا نزاع ختم کردیا گیا ہے اور ان لوگوں کے فضول دعوؤں کے متعلق آخری بات کہہ دی گئی۔ واخر دعوانا ان الحمد ﷲرب العالمین

البقرة 2:142

پارہ دوم ایک نظر میں سورة بقرہ کے اس حصے میں ، یعنی پارہ دوئم کے شروع ہی سے اس امر پر زور دیا جارہا ہے کہ تحریک اسلامی کو امانت کبریٰ کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے تیار ہوجانا چاہئے ۔ اسلامی نظریہ حیات کی ذمہ داریاں ۔ پھر اس نظریہ حیات کی اساس پر دنیا میں نظام خلافت کے قیام کی ذمہ داریاں ۔ اگرچہ جابجا تحریک اسلامی کے مخالفین کے ساتھ بحث و تکرار کے مضامین بھی پائے جاتے ہیں ۔ اس وقت مخالفین کے سرخیل بنی اسرائیل ، یعنی یہودی تھے ۔ اس لئے یہاں ان کی سازشوں ، مکاریوں اور اسلامی نظریہ حیات کے خلاف ان کی نظریاتی جنگ اور تحریکِ اسلامی کے وجود کے خلاف ان کی جدوجہد کا مقابلہ کیا جاتا ہے ۔ جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے تحریک اسلامی کو ہدایات دی گئیں ہیں اور انہیں دشمنان تحریک اسلامی کی اس چومکھی لڑائی سے خبردار کیا گیا ہے جو انہوں نے تحریک کے خلاف شروع کررکھی ہے ۔ مسلمانوں کو ان کی کوتاہیوں سے آگاہ کیا گیا ہے ، جن میں بنی اسرائیل مبتلا ہوگئے تھے ۔ اس پارے اور سورت کے بقیہ حصے کا بنیادی مضمون امت مسلمہ کو ایک مستقل تشخص اور ایک علیحدہ قبلہ عطا کرتا ہے ، تاکہ وہ ایک ایسی امت قرار پائے جو منصب خلافت الٰہی کی حامل بن سکے ۔ اور اسے ایک الگ ایسا نظام قانون اور الگ شریعت دی جائے جو پہلے آئے ہوئے قوانین وشرائع کی تصدیق کرتی ہو اور ان کی حامل ہو ۔ اور امت ایک جامع نظام اور عمومی منہاج کی حامل ہو۔ سب سے اہم یہ کہ یہ امت انسانی حیات وممات کے بارے میں ایک خاص نظریہ کی حامل ہو ۔ اسے امر کا شعور ہو کہ اسے اس نظریہ حیات کی راہ میں مال وزر ، شعور و خیال ، طور واطوار اور جان وآبرو کی کیا کیا قربانیاں دینی ہوں گی ۔ اسے اپنے آپ کو قرآن وسنت کے مطابق قادر مطلق کے اقتدار اعلیٰ کے ماننے اور اس کی اطاعت کے لئے تیار کرنا ہے ۔ غرض تسلیم ورضا اور نہایت فرمانبرداری کے ساتھ اسے یہ سب کچھ کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتداء ہی سے تحویل قبلہ کے متعلق بات شروع کی جاتی ہے ۔ تحویل قبلہ کے حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس امت کو امت وسط قرار دیا جارہا ہے ۔ یہ لوگوں پر گواہ ہے اور رسول امت پر گواہ ہیں ۔ یہ امت پورے کرہ ارض کی قائد ہے ، رہبر و راہنما ہے ، لہٰذا اسے نصیحت کی گئی ہے کہ اس منصب کی وجہ سے اسے جو جو مشکلات پیش آئیں ان پر صبر کرے ۔ راضی برضا رہنا ہوگا۔ مالی وجانی قربانیاں پیش کرنی ہوں گی اور ہر حال میں اپنے تمام امور اللہ کے سپرد کردینے ہوں گے ۔ ذرا آگے چلیں تو ہمارے سامنے ایمانی تصور حیات کے کچھ اصول رکھے جاتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ” نیکی “ تقویٰ اور عمل صالح کا دوسرانام ہے ۔ شرق وغرب کی سمتیں اور عبادت کرتے وقت ان کی طرف رخ کرنا بذات خود کوئی ٹھوس نیکی نہیں ہے ۔ دراصل یہ یہودیوں کی اس غوغا آرائی کا جواب ہے جو وہ تحویل قبلہ کے وقت بپاکئے ہوئے تھے ۔ وہ حقائق کو مسخ کررہے تھے یا چھپا رہے تھے اور یہ تمام بحث و تکرار ایک نمائش تھی ۔ وہ یہ سب کچھ سوچ سمجھ کر کررہے تھے ، چناچہ ان آیات میں زیادہ تربحث تحویل قبلہ اور اس سے متعلق دوسرے مباحث پر مشتمل ہے۔ اب سیاق کلام تحریک کی عملی تنظیم کی طرف پھرجاتا ہے اور ساتھ ساتھ بنیادی عبادات سے متعلق بھی کچھ احکام دیئے جاتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اجتماعی نظم اور عبادت ہی دراصل وہ بنیادی اصول ہیں جن پر امت مسلمہ کی اجتماعی زندگی کا قیام ہے ۔ معاشرہ کی تنظیم اس لئے بھی ضروری ہے کہ تحریک اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی ادا کرسکے جو اس پر ڈالی گئی ہے ۔ چناچہ اس حصے میں قانون قصاص ، قانون وصیت ، احکام صیام ، مسجد حرام اور اشہر حرام میں قانونی جنگ فریضہ حج ، شراب اور جوئے کے تعزیزی قوانین اور عائلی قوانین کا ذکر ہے ۔ یہ سب احکام اسلامی نظریہ حیات اور تعلق باللہ کے اصولوں پر قائم ہیں ۔ اس پارے کے آخری حصہ میں جہاد بالنفس اور جہاد بالمال کی مناسبت سے بطور عبرت و مثال موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کی نشاۃ ثانیہ کا ذکر بھی کیا گیا ہے ۔ جب انہوں نے اپنے وقت کے نبی سے کہا :” ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔ “ (1) یہ بھی تحریک اسلامی کے لئے عبرت ہے ۔ اس میں اس کے لئے اہم تجربات وہدایات موجود ہیں کیونکہ تحریک اسلامی ہی ان امم کے نظریات اور تجربات کی اصل وارث ہے ۔ پارہ اول کے عمیق مطالعے سے اس کشمکش کی حقیقت عیاں ہوجاتی ہے جو قرآن مجید نے برپا کی تھی ۔ امت مسلمہ کی تعمیر وتشکیل کے سلسلے میں قرآن کا نصب العین واضح ہوتا ہے۔ یہ ایک عظیم کشمکش ہے ۔ جو بیرونی سازشوں ، نفرتوں ، دھوکہ بازیوں ، جھوٹے پروپیگنڈوں اور سفید جھوٹ کے پلندوں کے خلاف شروع کی گئی ہے ۔ اور نفس انسانی کی اصلاح کے لئے اس کی اندرونی وبشری کمزوریوں ، اخلاقی فتنوں اور گمراہیوں کے خلاف برپا ہے ۔ یہ دراصل تعمیر ہدایت اور صحیح تصور حیات قائم کرنے کا معرکہ ہے جس پر ایک ایسی امت کی اساس رکھنی ہے جو خلیفۃ اللہ فی الارض کا منصب سنبھال سکے اور پوری دنیا کو ایک صالح قیادت دے سکے ۔ قرآن کا اعجاز تو دیکھئے ! تنظیم جماعت کے وہ اصول و مبادی اور ہدایات واشارات جو اس نے سب سے پہلی اسلامی جماعت کے لئے تجویز کئے وہ آج بھی اور کل بھی ہر اس جماعت کے لئے ضروری ہیں جو اسلامی خطوط پر اٹھنا چاہے ۔ اسلام نے اپنے مخالفین کے مقابلے میں جو معرکہ سر کیا آج بھی ہر مخالف اسلام کے خلاف وہی معرکہ بپا ہواہوسکتا ہے بلکہ قرآن اپنے اولین مخالفین کی جن سازشوں اور مکاریوں اور مخالفانہ تدبیروں سے برسرپیکار ہوا ۔ وہ مخالفین بعینہٖ آج بھی موجود ہیں اور ان کی مکاریاں ، سازشیں اور تدبیریں آج بھی وہی ہیں چناچہ امت مسلمہ آج اپنی جدوجہد اور اپنے بچاؤ کے لئے انہی ہدایات کی محتاج ہے جس کے لئے پہلی اسلامی تحریک محتاج تھی ۔ اسی طرح آج بھی تحریک اسلامی اپنے صحیح تصور حیات ، اس کائنات میں اپنے منصب کے تعین ، لوگوں کے ساتھ اپنے تعلقات کے انضباط میں انہی ہدایات اور نصوص قرآنی کی محتاج نظر آتی ہے ۔ اس سلسلے میں قرآن واضح سنگہائے میل پیش کرتا ہے جبکہ علم ومعرفت اور رشد وہدایت کے تمام دوسرے مصادر جدید سے جدید سلسلے بھی اس سلسلے میں خاموش ہیں ۔ قرآن آج بھی اس امت کا اس کی پوری زندگی میں راہ عمل ہے ۔ وہ اس امت کا آج بھی اس راہ حقیقت میں رہبر و راہنما ہے ۔ وہ آج بھی امت کا مکمل دستور اس کے نظام زندگی کا منبع اس کی اجتماعیت کا مرجع ہے ۔ اس کے عالمی معاملات اور اخلاقی ضوابط کا سرچشمہ ہے۔ یہ ہے اس کتاب کا اصل اعجاز ! درس 8 ایک نظر میں اس سبق میں موضوع سخن صرف تحویل قبلہ ہے ۔ تمام مباحث اس سے متعلق ہوں گے ۔ اس پورے سبق میں ان سازشوں کو بےنقاب کیا گیا ہے جو اس موقع پر یہودیوں نے ، اسلامی جماعت کی صفوں میں انتشار پھیلانے کے لئے کیں ۔ اس واقعے پر یہودنے جو اعتراضات کئے اور ان کے نتیجے میں اہل اسلام کے ذہنوں پر جو اثرات ہوئے ، انہیں دور کیا گیا ہے۔ اس واقعہ سے متعلق کوئی قطعی روایت نہیں ہے ۔ نہ ہی اس کی تاریخ کے بارے میں قرآن مجید میں کچھ ذکر ہے ۔ ان آیات کا تعلق بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف قبلے کی تحویل سے ہے ۔ یہ واقعہ مدینہ طیبہ میں ہجرت کے سولہ یا سترہ ماہ بعد پیش آیا ۔ اس سے متعلق روایات پر مجموعی نظر ڈالنے سے اجمالاً یہ معلوم ہوتا ہے کہ مکہ مکرمہ میں ، فرضیت صلوٰۃ کے بعد ، مسلمان خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے ۔ اگرچہ یہ بات منصوص نہیں ہے ، ہجرت مدینہ کے بعد ، امرربی سے مسلمان بیت المقدس کی منہ کرکے نماز پڑھنے لگے تھے ۔ اگرچہ اس سلسلے میں بھی قرآن مجید کی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی تھی صرف رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا تھا ۔ آخرکار اس معاملے میں قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی : فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ (البقرہ : 144) ” مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو ۔ اب جہاں کہیں تم ہو ، اسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرو۔ “ سابق حکم منسوخ ہوگیا ۔ حقیقت واقعہ جو بھی ہو ، لیکن مسلمان چونکہ بیت المقدس کی منہ کرکے نماز پڑھتے تھے اور بیت المقدس اہل کتاب یعنی یہود ونصاریٰ کا قبلہ تھا ، اس لئے یہود مدینہ نے اسے اسلام میں داخل نہ ہونے کا بہانہ بنالیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھی چونکہ ہمارے قبلے کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں اس لئے دین دراصل ہمارا ہی دین ہے ۔ ہمارا قبلہ ہی حقیقی قبلہ ہے ۔ ہم اصل ہیں اور مسلمان تابع ، لہٰذا محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کے لئے مناسب یہ ہے کہ خود وہ دین یہود میں داخل ہوجائیں ، نہ کہ وہ ہمیں اپنے دین کی طرف بلائیں۔ علاوہ ازیں ، بیت المقدس کو قبلہ بنانا عرب مسلمانوں کو بہت شاق تھا ۔ وہ بیت الحرام کے ادب واحترام کے خوگر تھے ۔ وہ ہمیشہ سے ان کا کعبہ اور قبلہ تھا ۔ اس پر مستزاد یہ کہ یہودیوں نے اس پر فخر کرنا شروع کردیا تھا کہ مسلمان ان کے قبلے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں ۔ وہ اسے دین اسلام کے خلاف بطور دلیل بھی استعمال کررہے تھے ۔ اندریں حالات رسول ﷺ ، بار بار آسمان کی طرف منہ اٹھاتے اور اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے تھے ، لیکن زبان سے کچھ نہ فرماتے تھے ۔ اس انتظار میں تھے کہ خداوند تعالیٰ اپنی مرضی سے راہنمائی فرمائیں گے۔ یہ حالات ہیں کہ وحی کا نزول ہوتا ہے ۔ رسول ﷺ کی خواہش پوری ہوجاتی ہے : قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ (البقرہ : 144) ” اے نبی یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں ۔ لو ، ہم اسی قبلے کی طرف تمہیں پھیر دیتے ہیں جسے تم پسند کرتے ہو ۔ مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو ۔ اب جہاں کہیں تم ہو ، اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرو۔ “ روایت میں آتا ہے کہ یہ واقعہ ہجرت کے سولہویں یا سترہویں ماہ میں پیش آیا۔ مسلمانوں نے جب تحویل قبلہ کی خبر سنی تو ان میں سے بعض نماز کی حالت میں تھے ، اور نصف نماز پڑھ چکے تھے ۔ انہوں نے دوران نماز ہی میں اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیرلیا اور قبلہ جدید کی طرف رخ پھیر کر نماز مکمل کی ۔ قبلہ بدلنا تھا کہ یہودیوں نے پورے مدینہ کو سر پر اٹھالیا ، شور مچاناشروع کردیا ۔ قبلے کا بدل دینا ، ان پر شاق گزرا ۔ اس لئے وہ قبلہ کے سلسلے میں حجت بازی کرکے ، مسلمانوں کے دلوں میں ، ان کے دین کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرتے تھے اور تحویل قبلہ سے ان کی حجت بازی ختم ہورہی تھی لیکن اب بہ انداز دگران ان کی غوغا آرائی شروع ہوگئی۔ انہوں نے بھی اس کا رخ بدل دیا اور وہ اب دوسری طرف مسلمانوں کے دلوں میں شکوک پیدا کرنے لگے ۔ مسلمانوں سے کہتے ہیں :” اگر بیت المقدس کی منہ کرکے نماز پڑھنا باطل تھا اور تم ایک عرصہ تک اسی طرف رخ کرکے نمازیں پڑھتے رہے تو تمہاری وہ تمام نمازیں ضائع ہوگئیں اور اگر بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا ٹھیک تھا تو اب تحویل قبلہ باطل ہے اور تمہاری تمام نمازیں ضائع ہورہی ہیں ۔ احکام میں یہ تغیر اور ان آیات کا یہ نسخ بہرحال اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی وحی نہیں آتی۔ “ یہودیوں کے اس مخالفانہ حملے کے اثرات اسلامی کیمپ میں بھی محسوس کئے گئے ۔ اس کا اندازہ قرآن مجید کی ان آیات سے ہوتا ہے جو اس سلسلے میں نازل ہوئیں۔ پارہ اول میں مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا ........ الخ ” جس آیت کو ہم منسوخ کرتے ہیں یابھلادیتے ہیں الخ “ پورے دواسباق وہاں نازل ہوئے اور دوسرے پارے کی آیات زیر بحث بھی اسی سے متعلق ہیں ۔ جن میں اس جدل کے بارے میں تاکیدی ہدایات دی گئی ہیں ۔ وضاحتیں کی گئی ہیں اور مسلمانوں کو ڈرایا گیا ہے ان مسائل کے بارے میں نصوص کی تشریح کے موقع پر عرض کروں گا۔ اس مناسب موقع پر معلوم ہوتا ہے کہ تحویل قبلہ اور اس کی حکمت کے متعلق کچھ کہا جائے ۔ مسلمانوں کے لئے ایک مخصوص قبلہ کے تعین کی ضرورت کیوں لاحق ہوئی ؟ یہ درحقیقت تحریک اسلامی کی تاریخ میں ایک اہم موڑ تھا ۔ تحریک کی زندگی میں اس کے عظیم آثار نمودار ہوئے ۔ مسلمانوں کا قبلہ پہلے خانہ کعبہ تھا۔ ہجرت کے بعد بعض تربیتی مقاصد کے لئے اسے تبدیل کردیا گیا اور بیت المقدس کو قبلہ مقرر کردیا گیا ۔ اس جانب اسی سبق کی اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے : ” وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ ” پہلے جس طرف تم رخ کرتے تھے ، اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لئے قبلہ مقرر کیا تھا کہ کون رسول ﷺ کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھرجاتا ہے۔ “ درحقیقت دور جاہلیت ہی سے عرب بیت الحرام کا بہت احترام کرتے تھے اسے وہ اپنے قومی وقار کی علامت تسلیم کرتے تھے ۔ اسلام چونکہ خالص للہیت قائم کرنا چاہتا تھا ، مسلمانوں کے دلوں سے خداوند قدوس کے تعلق کے سوا تمام تعلقات کو ختم کردینا چاہتا ھت اور اسلامی نظریہ حیات کے سوا ، ہر نعرہ جاہلیت اور ہر جذبہ عصبیت مٹادینا چاہتا تھا اور ایک ایسا خدائی نظام قائم کرنا چاہتا تھا جس کا تعلق صرف اللہ سے براہ راست ہو ۔ وہ تمام تاریخی اور قبائلی عصبیتوں اور رنگ ونسل کی تمام آلائشوں سے پاک ہو ، اس لئے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ نماز میں خانہ کعبہ کی منہ کرنا ترک کردیں ۔ اگرچہ یہ حکم ایک عرصہ قلیل کے لئے ہی کیوں نہ ہو ۔ حکم ہوتا ہے کہ اب وہ رخ بیت المقدس کی طرف موڑدیں ۔ تاکہ ان کے دلوں سے جاہلیت کی تمام گندگی بالکل ختم ہوجائے ۔ ان کے نفوس جاہلیت کی تمام نجاستوں سے پاک ہوجائیں ۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ کون رسول اللہ کی غیر مشروط اطاعت کرتا ہے ۔ کون ہے جو تسلیم ورضا کا پیکر ہے اور پختہ کردار کے ساتھ ، بغیر کسی تحفظ (Reservation) کے تابع فرمان ہے اور کون جاہلیت کے تصورات ، رنگ ونسل کے قومی خیالات اور تاریخ ووطن کے جاہلی نعروں سے متاثر ہوکر الٹے پاؤں پھرجاتا ہے ، نیز معلوم ہوجائے کہ کسی مسلمان کے شعور کے خفیہ ترین گوشوں میں ، کسی کارکن کے ضمیر کے پوشیدہ ترین تہوں میں براہ راست یا بالواسطہ باطل کی کوئی آمیزش تو نہیں ہے۔ اس حکم کے مطابق جب مسلمانوں نے سر تسلیم خم کردیا ، وہ اس نئے قبلے کی طرف خوشی سے پھرگئے ۔ جس کی طرف رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا تو یہود نے اس صور تحال سے فائدہ اٹھانا چاہا اور اسے تحریک اسلامی کے خلاف بطور دلیل استعمال کرنا شروع کردیا تو حکم الٰہی آپہنچا ۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اب اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرکے نماز پڑھیں ۔ نہ صرف یہ کہ یہودیوں کی دلیل ختم ہوئی بلکہ اس تبدیلی سے مومنین کے دل ایک دوسری حقیقت سے آشنا ہوگئے ۔ حقیقت اسلام سے ، اسلامی تاریخ سے ۔ اس حقیقت سے کہ بیت اللہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خالص اللہ کی بندگی کے لئے تعمیر کیا تھا تاکہ وہ اس امت کی میراث بنے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں کے نتیجے میں اٹھنے والی تھی ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی کہ رب العالمین میری نسل سے ایک رسول پیدا کر اور وہ اس دین پر ہو جو ان کا اور ان کے لڑکوں پوتوں کا دین تھا۔ جیسا کہ پہلے پارے میں ذکر ہوا : وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ (البقرہ : 124) ” یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اترا “ جہاں موضوع سخن مسجد حرام تھی اس کی بنیاد اور تعمیر سے متعلق اور ان امور کے ساتھ وابستہ دوسرے حالات ومعاملات کے متعلق۔ اہل کتاب اور مشرکین کے ساتھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، ان کے دین ، ان کی اولاد ، ان کے قبلہ ، ان کے عہد اور ان کی وصیت کے متعلق ، لیکن پارہ اول کی مذکورہ آیات دراصل ، تحویل قبلہ کے موجودہ احکام کی تمہید تھیں ، جن میں ایک تھوڑے ہی وقفے کے بعد ہی قبلہ بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف بدل دیا گیا ۔ مسجد حرام کو حضرت ابراہیم وحضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے تعمیر کیا تھا۔ اس کے پاس کھڑے ہوکر دونوں نے طویل دعا کی تھی ۔ پھر امت مسلمہ کو دین حنیف پر اٹھایا گیا اور وہی عہد ابراہیمی کی وارث قرار پائی ، ان حالات میں بیت المقدس سے بیت الحرام کی طرف قبلہ کی تحویل کا حکم حالات کا طبعی اور منطقی نتیجہ تھا۔ تاریخ نے امت مسلمہ کے دل و دماغ میں جو شعوری ربط پیدا کررکھا تھا اس حکم نے مسلمانوں کے حسی مظاہر کو ان کے تاریخی شعور کے ساتھ ہم آہنگ کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بتاکید وصیت کی تھی کہ وہ مسلمان رہیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو بتاکید وصیت کی تھی کہ وہ بھی دین اسلام پر قائم رہیں جیسا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) (اسرائیل) نے بھی ایسی ہی وصیت اپنی اولاد کو کی ۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ حقیقت بھی جان چکے تھے کہ اللہ کے اس عہد میں ظالم نہیں آتے ۔ چونکہ بیت الحرام کی تعمیر کا حکم حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کو ملا تھا ، لہٰذا یہ انہی کی میراث تھی ۔ یہ میراث ان لوگوں ہی کو ملنی تھی جو دین ابراہیم (علیہ السلام) کی میراث پانے والے تھے ۔ اور چونکہ امت مسلمہ ہی نے اس عہد اور اس فضل خداوندی کو وراثت میں پایا ، لہٰذا اس کا طبعی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ اللہ کا گھر بھی ان کو ملے اور وہ اس امت کا قبلہ ہو۔ بیشک ایک مختصر عرصہ کے لئے مسلمانوں نے مسجد اقصیٰ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ، جو یہود ونصاریٰ کا قبلہ تھی جیسا کہ سیاق وسباق سے اشارہ ملتا ہے ۔ ایک مخصوص مصلحت کے تحت ایسا ہو ، جس کا ذکر ہم تفصیل سے لے آئے ہیں ۔ اب مشیت الٰہی یہ ہے کہ یہ وراثت امت مسلمہ کے سپرد کردی جائے۔ اہل کتاب نے دین اسلام کا انکارکرکے خود اپنے آپ کو ورثہ ابراہیمی سے محروم کردیا تھا ، لہٰذا ایسے حالات میں تحویل قبلہ کا حکم عین حکمت پر مبنی اور نہایت برمحل تھا ۔ چناچہ بحکم اللہ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعمیر کردہ بیت اللہ قبلہ ہوگیا ۔ تاکہ ظاہری اور شعوری طور پر مسلمان پوری پوری وراثت پالیں ۔ دینی وراثت قبلہ کی وراثت اور اللہ کے فضل وکرم کی وراثت ۔ تحریک اسلامی کے لئے ضروری ہے کہ وہ ممتاز ہو ، مخصوص وجدا ہو ، تصورات و عقائد میں ممتاز اور قبلہ و عبادات میں ممتاز ! قبلہ اور عبادات کا امتیاز بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح تصورات ونظریات میں امتیاز ضروری ہے ۔ تصوراتی اور نظریاتی امتیاز تو بالعموم سمجھ میں آتا ہے ، لیکن قبلہ اور ظاہری شعائر دین کی امتیازی حیثیت بعض اوقات سمجھ میں نہیں آتی ، لہٰذا مناسب ہے کہ عبادات کی شکل و صورت پر بھی کچھ کہا جائے ۔ جو شخص عبادات کی ظاہری شکل و صورت کو ان کے اصل پس منظر میں نہیں دیکھ پاتا یا انسان کی نفسیات وتاثرات سے ہٹ کر عبادات میں صرف ظاہری اشکال کا مطالعہ کرتا ہے ، ایسا شخص جب دیکھتا ہے کہ لوگوں کی طرف سے عبادات کی ظاہری اشکال کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے تو یہ فعل اسے متقشفانہ شکل پرستی ، تنگ نظری اور تاریک خیالی نظر آتا ہے لیکن ایسا خیال درست نہیں۔ وسیع نقطہ نظر سے دیکھا جائے اور عمیق غور وفکر سے کام لیا جائے تو ہر اعتبار سے ایک مختلف حقیقت سامنے آتی ہے۔ مثلاً : انسان کی شخصیت کی تشکیل ظاہری جسم اور پوشیدہ روح سے کی گئی ہے ۔ اس لئے انسان روحانی شعور اور پوشیدہ جذبات کے اظہار کے لئے ظاہری شکل اختیار کرتا ہے ۔ اندرونی جذبات کی تسکین اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک وہ محسوس ظاہری شکل و صورت اختیار نہ کرلیں ۔ صرف اسی صورت میں اندرونی جذبات ومیلانات کی مکمل تعبیر ممکن ہے ، اس طرح ان میلانات کی تعبیر محسوس طور پر بھی مکمل ہوجاتی ہے جس طرح وہ نفس انسان کے اندر یہ جذبات ومیلانات مکمل صورت میں موجود ہوتے ہیں اور یوں جذبات تسکین پاتے ہیں اور انسان مطمئن ہوجاتا ہے اور انسانی شخصیت کا ظاہر و باطن ہم آہنگ ہوجاتا ہے ۔ یوں نفس انسانی بیک وقت ایک طرف کائنات کے اسرار اور نامعلوم حقائق کی طرف مائل ہوتا ہے اور دوسری طرف وہ ظاہری اشکال کی اطاعت کرتا ہے۔ ان فطری اصولوں کو مدنظر رکھ کر اسلام نے عبادات وشعائر کی ظاہری شکل و صورت متعین کی ہے ، لہٰذا محض نیت یا روحانی توجہ اور ارتکاز فکر سے اسلامی عبادات کی ادائیگی ممکن نہیں ۔ اسلامی عبادات میں نیت ، توجہ اور ارتکاز فکر کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک ظاہری شکل و صورت میں ہو ۔ مثلاً نماز میں قیام کرنا ، روب قبلہ ہونا ، تکبیر ادا کرنا ، تسبیحات پڑھنا ، جھکنا ، سجدہ ریز ہونا وغیرہ ۔ حج میں متعین ایام سے احرام باندھنا ، متعین لباس پہننا ، متعین حرکات ، سعی ، دعا ، تلبیہ ، قربانی اور بال ترشوانا۔ اور روزے میں نیت ، کھانا پینا چھوڑنا اور تعلقات زن وشوئی چھوڑنا ، اسی قبیل سے ہے ۔ دیکھئے ہر عبادت میں حرکت اور حرکت میں عبادت ہے ۔ یوں انسانی نفسیات کے ظاہر و باطن کو ہم آہنگ کردیا گیا ہے ۔ انسانی قوتوں کے درمیان ، حسن وترتیب قائم ہوگیا اور یوں فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق اسلامی نظریہ ٔ حیات کے تمام مقاصد حاصل کرلئے گئے۔ یہ بات اللہ کے علم میں تھی کہ فطری طور پر انسان اپنے اندرونی تصورات وجذبات کے اظہار کے لئے ظاہری شکل و صورت اختیار کرتا ہے ۔ اسی طبعی میلان کی وجہ سے کئی اقوام جادٔ مستقیم سے منحرف ہوگئیں ۔ بعض لوگوں نے قوت کبریائی کے اظہار کے لئے کچھ ظاہری رموز واشارات سے کام لیا ۔ پتھروں کے مجسمے گھڑ لئے گئے ۔ درختوں اور پتھروں کی پوجا کی گئی ۔ سور ، چاند اور ستاروں کے آگے جھکنے۔ حیوانات اور طیور وحوش کی پرستش کی۔ جب ان لوگوں نے اندرونی جذبات و عقائد کے اظہار کے لئے موزوں طریقہ اختیار نہ کیا جو مطابق فطرت ہوتا تو ان حالات میں منشائے الٰہی کے مطابق دعوت اسلامی اٹھی اور اس نے عقائد وجذبات کے اظہار کے لئے وہ فطری طریقہ اختیار کیا جو اسلامی عبادات کی ظاہری شکل کے تعین سے نظر آتا ہے ۔ اسلام نے عبادت الٰہی کے لئے ایسے طریقے اختیار کئے اور اس کے لئے ایسی شکلیں وضع کیں ، جس میں ذات خداوندی کے لئے جسمانیت کے تصور کا شائبہ تک نہیں ہے۔ اس میں ذات باری کے کوئی طرف ، جہت متعین نہیں ہوتی ۔ اسلامی طریقہ عبادت کے مطابق ، جب کوئی شخص جناب باری کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہوتا ہے ، توہ قبلہ رخ ہوتا ہے لیکن اس کا دل ، اس کے حواس اور اس کے اعضاء صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ اگرچہ اس کا ظاہری رخ ایک مکان کی سمت میں ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھر کسی ایک جگہ کو کیوں مخصوص کیا گیا ؟ اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ایک مسلمان دوسرے لوگوں سے امتیازی شکل اختیار کرلے اور وہ نماز اور دوسری عبادات میں ایک مخصوص قبلہ یا سمت سے متعارف ہو ، یہ تعین دراصل نفرد و امتیاز کے فکری وداعی کا تقاضا تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس تعین اور تخصیص نے مسلمانوں کو انفرادیت بخشی ورنہ اللہ تعالیٰ کو کسی سمت وجہت سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہی وہ داعیہ تھا ، جس کی بناپر مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ دوسرے مذاہب واقوام کے مخصوص شعارات اور ان کے مخصوص مظاہر کو نہ اپنائیں ۔ ایسے شعار ، جو انہوں نے اپنے اندرونی تصورات و عقائد یا خیالات وجذبات کے اظہار کے لئے وضع کئے ہیں ۔ مسلمانوں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے فکر وعمل میں غیر مسلموں کے طور وطریقے نہ اپنائیں ۔ یہ حکم محض تعصب یا تنگ نظری وتقشف کی بناپر نہیں دیا گیا بلکہ اسلام کے پیش نظر شکل و صورت سے وراء ایک عمیق اور حکیمانہ نقطہ نظر تھا۔ ظاہری شکل و صورت کے پس منظر میں کچھ اسباب اور حکمتیں بھی پوشیدہ تھیں ۔ یہ وہی وجوہات تھیں جن کی بناپر ایک قوم دوسری قوم سے جدا ہوجاتی ہے ، ایک فہم دوسری فہم سے مختلف ہوجاتی ہے ، ایک نظریہ دوسرے نظریہ سے ممتاز ہوجاتا ہے ، ایک ضمیر دوسرے ضمیر سے الگ ہوجاتا ہے ، ایک شخص کے اخلاق اور دوسرے شخص کے اخلاق میں فرق ہوجاتا ہے اور زندگی کی گزرگاہوں میں دو افراد کی راہیں مختلف سمتوں میں نکل جاتی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ! یہودی و عیسائی رنگ نہیں لگاتے تم ان کے خلاف کرو۔ “ (امام مسلم۔ بخاری۔ ابوداؤد) ایک بار نبی ﷺ کچھ لوگوں کے پاس تشریف لے گئے وہ تعظیماً اٹھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا !” عجمیوں کی طرح مت اٹھو ، ان میں سے بعض لوگ دوسروں کی تعظیم کرتے ہیں ۔ “ (ابوداؤد۔ ابن ماجہ) آپ ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا ! میری شان میں اس قدر مبالغہ نہ کرو ، جس طرح عیسائیوں نے ابن مریم کی شان میں مبالغہ کیا ۔ میں تو ایک بندہ خدا ہوں۔ غرض رسول اللہ ﷺ نے مظاہر اور لباس میں غیر مسلموں کے ساتھ تشبیہ سے منع فرمایا۔ حرکات و سکنات اور طور وطریقوں میں بھی تشبہ بالکفار سے منع کیا گیا ۔ قول وفعل میں تشبہ سے منع کیا گیا ۔ کیونکہ اس ظاہری شکل و صورت کے پس منظر میں درحقیقت وہ تصورات ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر ایک نظریہ حیات دوسرے نظریہ سے ، ایک نظام دوسرے نظام سے اور کسی قوم کا شعار دوسری اقوام کے شعار سے مختلف ہوجاتا ہے۔ امت مسلمہ اس لئے برپا ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں اسلامی نظام قائم کرے ۔ لہٰذا مسلمانوں کو سختی سے منع کیا گیا کہ وہ اللہ اور اسلامی نظام زندگی کے علاوہ کسی اور نظام سے ہدایات حاصل کریں ۔ انہیں حکم دیا گیا کہ وہ کرہ ارض پر کسی دوسری قوم کے مقابلے میں ذہنی شکست ہرگز قبول نہ کریں ۔ اگر وہ ایسا کریں تو پھر یہی شکست انہیں مجبور کرے گی کہ وہ اس قوم اور اس کی تہذیب کی تقلید کریں ۔ امت مسلمہ کو اس لئے برپا کیا گیا ہے کہ دوسری اقوام اس کی تقلید کریں اور وہ قیادت سنبھالے۔ لہٰذا اسے چاہئے کہ وہ اپنے نظریات اور طور وطریقے صرف اسی منبع اور سرچشمہ سے حاصل کرے ، جس نے اس امت کو قیادت کا درجہ عطا کیا ہے ۔ اللہ کے نزدیک مسلمان ہی اعلیٰ و برتر ہیں ۔ وہی امت وسط ہیں ۔ وہی خیر امت ہیں ، جنہیں لوگوں کی قیادت اور بھلائی کے لئے برپا کیا گیا ہے۔ تو پھر ان کے نظریہ وعمل کا سرچشمہ کیا ہونا چاہئے ؟ وہ اپنے طور طریقے اور اپنے لئے نظم وضبط کے اصول کہاں سے اخذ کریں ؟ کیا وہ اللہ کو چھوڑ دیں اور ان ذلیل ترین اقوام کو سرچشمہ رشد وہدایت تسلیم کرلیں ، جن کو قعر مذلت سے اٹھانے کے لئے اللہ نے خود مسلمانوں کو اٹھایا تھا ؟ اسلام نے پوری انسانیت کو ایک اعلیٰ تصور حیات سے روشناس کرایا ، اس نے انسانوں کو ایک اعلیٰ نظام زندگی دیا ، لہٰذا وہ تو پوری انسانیت کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس اعلیٰ تصور حیات اور اعلیٰ نظام زندگی کے حلقہ بگوش ہوجائے ۔ اگر اسلام دوسرے نظاموں اور نظریات کے مقابلے میں ، انسانیت کو اپنے پیش کردہ اعلیٰ نظام زندگی اور ارفع نظریہ حیات کی اساس پر متحد کرنا چاہتا ہے ، تو اس کی یہ خواہش کسی تعصب کی بناپر نہیں ہے ۔ بلکہ اسلام تو اللہ کی توحید کا داعی ہے ۔ وہ ایک اعلیٰ نظریہ حیات پر اتحاد قائم کرنا چاہتا ہے۔ وہ ایک اعلیٰ مقام پر پوری انسانیت کو متحد کرنا چاہتا ہے ۔ لہٰذا وہ کسی ایسے اتحاد میں شریک نہیں ہوتا جس میں اسلام کے الہامی نظریہ حیات کو ترک کیا گیا ہو ۔ وہ کسی ایسے اتحاد میں شریک نہیں ہوتا جس کی بنیاد جاہلیت پر رکھی گئی ہو اور یقیناً یہ کوئی تعصب نہیں ہے ۔ کیا یہ تعصب ہے َاگر ہے تو پھر یہ نیکی ، سچائی اور اصلاح حالات کے لئے کی گئی کوشش کا تعصب ہے اور ایسے تعصب پر میں قربان جاؤں ! تحریک اسلامی کو چاہئے کہ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کرلے کیوں وہ ایک مخصوص قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتی ہے ؟ قبلہ محض ایک مکان ہی نہیں جس کی طرف نماز کے وقت مسلمان منہ کرتے ہیں ۔ مکان اور سمت تو محض ایک اشارہ ہے ۔ دراصل یہ امتیاز وخصوصیت کا اشارہ ہے اور یہ نظریہ کا امتیاز ہے ، تشخص کا امتیاز ہے ، نصب العین کا امتیاز ہے ، ترجیحات کا امتیاز ہے اور امت کے عناصر ترکیبی کا امتیاز ہے۔ اس وقت دنیا جاہلی تصورات سے اٹی پڑی ہے اور مسلمان اس دنیا کے بیچ میں کھڑے ہیں ۔ جاہلیت پر مبنی بیشمار نصب العین ہیں جنہیں لوگوں نے اپنایا ہوا ہے ۔ بیشمار جاہلی ترجیحات ہیں جو انسانوں کے دل و دماغ پر سوار ہیں ۔ جاہلیت کے بیشمار جھنڈے ہیں جو مختلف لوگوں نے اٹھارکھے ہیں لہٰذا آج کی ضرورت یہ ہے کہ امت مسلمہ اپنا ایک علیحدہ تشخص قائم کرے جو آج کے مروجہ تشخصات کے ساتھ گڈ مڈ نہ ہو وہ اپنی زندگی کے وجود کے لئے ایک جدانظریہ اور ایک ممتاز فلسفہ متعین کرے ۔ جو جاہلی تصورات اور جاہلی فلسفوں سے مختلف ہو۔ وہ اپنے لئے ایک ایسا نصب العین وضع کرے اور اپنے لئے ایسی ترجیحات متعین کرے جو خاص اس کی شخصیت اور اس کے نظریہ حیات سے ہم آہنگ ہوں ۔ وہ ایک ایسا ممتاز جھنڈا بلند کرے جو صرف للہیت پر مبنی ہو ، اس کا طرہ امتیاز یہ ہونا چاہئے کہ وہ امت وسط ہے ، وہ امت و سط جسے اللہ نے انسانوں کی بہتری کے لئے برپا کیا ہے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ ان تک نظریاتی میراث منتقل کررہی ہے جس کی وہ امین ہے ۔ یہ عقیدہ ایک مکمل نظام زندگی ہے ۔ یہ امت اس عقیدے کی وارث اور امین ہے ۔ وہ زمین پر خلافت الٰہیہ کی منصب دار ہے اور یہی اس کا طرہ امتیاز ہے ۔ یہ امت لوگوں پر گواہ ہوگی اور اس کے فرائض میں یہ داخل ہے کہ کل عالم بشریت کی قیادت کرے ۔ کدھر ! اللہ کی طرف اور اسلامی نظام کے قیام کی طرف ۔ غرض اسلامی زندگی کا قیام ہی اس کی امتیازی خصوصیت ہے ۔ اسی سے اس کی شخصیت قائم ہوتی ہے ۔ اس کے وجود کے عناصر ترکیبی ، اس کی شخصیت کا امتیاز ، اس کے مقاصد ، اس کی ترجیحات ، اس کا علم اور اس کا شعار یہ سب کچھ اس کے نظریات کامرہون منت ہے ۔ یہ نظریہ ہی ہے جو اسے قیادت کا مقام عطا کرتا ہے ۔ یہ نظریہ ہی ہے جس کی خاطر اس کی تخلیق ہوئی ۔ اس نظریہ کے سوا وہ جو لباس پہنے ، جو تحریک بھی شروع کردے ، جو علم بھی بلند کرے ، وہ امتیاز حاصل نہ کرسکے گی ، وہ جاہلی تحریکات کے سیلاب میں بہہ جائے گی اور اس کے خدوخال ہمیشہ مبہم رہیں گے ۔ تحریک اسلامی کے فلسفہ و حکمت پر روشنی ڈالنے کے بعد اب ہم تشریح آیات کی طرف آتے ہیں۔ قرآن کریم کے سیاق وسباق اور مدینہ طیبہ میں رونما ہونے والے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ سفہاء سے مراد یہاں یہودی ہیں ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے تحویل قبلہ کے موقع پر غوغا آرائی کی تی۔ وہی تھے جنہوں نے یہ سوال اٹھایا تھا : مَا وَلاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا ” کیا وجہ تھی کہ وہ پہلے جس قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے اس سے یکایک وہ پھرگئے “ اور جس قبلہ کی طرف وہ نماز پڑھتے تھے وہ بیت المقدس تھا۔ حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں ! رسول اللہ ﷺ جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو وہ انصار میں سے اپنے ننہال کے ہاں اترے اور آپ ﷺ یہاں سولہ یا سترہ ماں تک ، مسجد اقصیٰ کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے رہے ۔ لیکن دل ہی دل میں آپ ﷺ کو یہ بات اچھی لگتی کہ کاش قبلہ بیت اللہ ہوجائے ۔ ایک دن عصر کی نماز کا وقت تھا کہ وحی الٰہی سے قبلہ تبدیل ہوگیا اور آپ نے نماز عصر بیت اللہ کی طرف منہ کرکے پڑھی ۔ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ قبلہ تبدیل کیا ۔ پھر ایک صاحب نماز پڑھ کر نکلے تو دیکھا کہ لوگ ایک دوسری مسجد میں نماز پڑھ رہے ہیں اور رکوع کی حالت میں ہیں ۔ اس شخص نے کہا !” میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے ابھی ابھی نماز پڑھی ہے اور ہم نے بیت اللہ کی طرف منہ کیا ۔ “ چناچہ یہ لوگ اسی طرح حالت رکوع میں کعبہ کی طرف پھرگئے ۔ (روایت امام مالک : مسلم ، بخاری اور ترمذی) یہودی اس پر بہت خوش تھے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے قبلہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں ، لیکن جب قبلہ تبدیل ہوگیا ، تو انہوں نے بہت ہی برامحسوس کیا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ” اے نبی ﷺ یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھتے ہیں ۔ “ اس پر احمقوں یعنی یہودیوں نے کہا ! مَا وَلاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا ” انہیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ جس قبلے کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے اس سے یکایک پھرگئے۔ “ آنے والی آیات کے دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ جس قدر قرآن مجید نے ان لوگوں کے سوالات و اعتراضات کے تفصیلی جوابات دیئے اس لئے کہ ان کے پروپیگنڈے کے اثرات بھی مسلمانوں کے دل و دماغ کو متاثر کررہے تھے ۔ اس بات کا اندازہ قرآن کے طرز تعبیر سے بخوبی ہوجاتا ہے۔ سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا ” نادان لوگ ضرور کہیں گے ! انہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے اس سے یکایک پھرگئے ۔ “ یہ آیات درحقیقت آنے والی آیات تحویل قبلہ کے لئے تمہید کا کام دے رہی ہیں ۔ بات سوال و جواب کی صورت میں کی جارہی ہے ۔ اللہ کو علم تھا کہ ناراض لوگ ایسے سوالات اٹھائیں گے ، لہٰذا بطور پیش بندی از خود جواب دے دیا گیا یا اصل واقعہ یہ تھا کہ تحویل قبلہ کا حکم آپ کا تھا ، جس طرح حدیث میں ذکر ہوا ، مخالفین نے بھی سوالات کی بوچھاڑ شروع کردی تھی ، لیکن اللہ تعالیٰ نے مستقبل کا انداز بیان اختیار کرکے اس طرف اشارہ کردیا کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ان کے پروگرام کے مطابق ہے ۔ ان کا یہ منصوبہ کوئی پوشیدہ منصوبہ نہ تھا ، لہٰذا اس کا جواب بھی پہلے سے تیار تھا ۔ تردیدی مقاصد کے لئے یہ انداز بیان بےحد پر تاثیر ہوتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ لوگ ایسا کہیں گے ! حالانکہ وہ کہہ چکے ہوتے ہیں ۔ قرآن پہلے سے مخالفین کے سوالات کے جوابات نبی ﷺ کو بتا دیتا ہے ، تاکہ جب بھی وہ سوال اٹھائیں مسلمان جواب دے دیں ، چناچہ اس سلسلے میں تحریک اسلامی کو پہلے سے ایک صحیح نقطہ نظر دے دیا جاتا ہے۔ قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ” کہو ! مشرق اور مغرب سب اللہ کے لئے ہیں ۔ اللہ جسے چاہتا ہے ، سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔ “ شرق وغرب سب اللہ کے ہیں ، جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے ۔ ذاتی طور پر کسی سمت یا کسی جگہ کو کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ ہاں اللہ کسی سمت ومکان کے بارے میں کوئی حکم دیتا ہے یا کسی جگہ کو وہ خود اختیار کرتا ہے تو یوں اس بات سے فضیلت حاصل ہوجاتی ہے ۔ یہ تو اللہ ہے کہ جسے چاہے سیدھی راہ پر لگادے ۔ اگر وہ اپنے بندوں کے لئے کوئی سمت اختیات کرے ، ان کے لئے کسی مکان کو قبلہ قرار دے دے ، تو پھر وہ جگہ ممتاز ومحترم ہوجاتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ کا حکم وابستہ ہوگیا ، لہٰذا صراط مستقیم اس سمت سے گزرتا ہے ، باقی سب سمتیں ٹیڑھی ہوجاتی ہیں۔ اس ایک فقرے ہی میں مکان وجہت کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر پیش کردیا جاتا ہے ۔ اس سرچشمے کی نشان دہی ہوجاتی ہے جو انسان کے لئے مصدر ہدایت ہے ۔ یوں ایک صحیح نقطہ نظر سامنے آجاتا ہے۔ کیا ؟ یہ کہ ہر حال میں ، زندگی کے ہر موڑ پر ، ذات باری تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجانا۔

البقرة 2:143

اب روئے سخن امت مسلمہ کی طرف ہوجاتا ہے ۔ اے بتایا جاتا ہے کہ اس کائنات میں وہ کس عظیم مرتبے کی حامل ہے اور اس کرہ ارض پر اسے کیا فرائض سر انجام دینے ہیں ؟ عالم انسانیت میں اسے کیا فضیلت و برتری حاصل ہے ؟ لوگوں کی زندگی میں اسے کیا رول ادا کرنا ہے ۔ اس مقام اور مرتبے کا تقاضا ہے کہ اس کا ایک ہی خاص قبلہ ہو ۔ وہ ایک مخصوص تشخص کا مالک ہو۔ چھوڑئیے اور باتیں اس رب عظیم کی سنئے جس نے اس امت کو عظیم مشن کے لئے منتخب کیا : وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ” اس طرح تو ہم نے تمہیں ایک امت وسط بنایا “ تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو۔ “ یہ امت وسط ہے ۔ لوگوں پر گواہ ہے ۔ اس کا فرض ہے کہ لوگوں کے درمیان عدال و انصاف قائم کرے ۔ ان کے لئے معیار حق واقدار حیات کا تعین کرے ۔ ان کو ایسی رائے دے جو رائے عامہ بن جائے ۔ اور لوگ اس پر اعتماد کریں ۔ وہ تمام دنیا کے لوگوں کی اقدار ، ان کے نظریات ، ان کے رسم و رواج اور ان کے قومی شعاروں کا بغور جائزہ لے اور اپنا فیصلہ سنادے ! یہ حق ہے اور یہ باطل !” وہ کوئی ایسی امت نہیں ہے کہ دوسری اقوام سے نظریات ، اقدار اور معیار حسن وقبح حاصل کرے ۔ وہ لوگوں پر گواہ ہے اور ایک منصف اور جج کے منصب پر فائز ہے ۔ جس طرح وہ لوگوں پر گواہ ہے ۔ خود رسول اللہ ﷺ اس پر گواہ ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ اس امت کے لئے اقدار حیات اور معیار حق تجویز کریں گے ۔ اس کے اعمال اور رسم و رواج کے بارے میں فیصلہ دیں گے ۔ اس کے افعال واقوال کے بارے میں آخری فیصلہ رسول اللہ ﷺ دیں گے ۔ اس سے اس امت کی حقیقت اور اس کے فرائض معلوم ہوجاتے ہیں ۔ اسے چاہئے کہ اپنی حقیقت سے اچھی طرح روشناس ہوجائے ۔ اپنی اہمیت اور قدر و قیمت جانے اور اس دنیا میں اپنے منصب وکردار کو ٹھیک طرح متعین کرے اور اسے ادا کرنے کے لئے اپنے آپ کو پوری طرح تیار بھی کرے ، یعنی وہ لوگوں کے لئے معیار حق ہو اور رسول اللہ ﷺ اس کے لئے معیار حق ہوں۔ یہ امت ، امت وسط ہے ۔ وسط کے ہر مفہوم کے اعتبار سے وہ وسط ہے ۔ وسط کا مفہوم اگر احسن و افضل ہو ، تو پھر بھی یہ وسط ہے ۔ وسط کا مفہوم اگر میانہ روی اور اعتدال لیا جائے تو بھی یہ وسط ہے ۔ وسط سے مراد اگر مادی اور حسی وسط مراد ہو تو بھی یہ امت ، امت وسط ہے۔ ” امت وسط “ عقائد ونطریات میں وسط ، میانہ رو ، روحانی تجرد میں ڈوبی ہوئی اور نہ مادہ پرستی میں گرفتار ۔ بلکہ اصول فطرت کو اپنائے ہوئے ہے ۔ مثلاً انسانی جسم کیا ہے ؟ ایک مادہ ہے اور روح کو جسم مادی میں پیوست کیا گیا ہے یا مادی جسم کو روح کے ساتھ ایک کردیا گیا ہے ۔ یہ امت ان مختصر عناصر کے مرکب اس انسان کو ، بلکہ اس کے عناصر ترکیبی میں سے ہر عنصر کو پورا پورا حق دیتی ہے ۔ وہ روحانی زندگی کی ترقی اور کمال کے لئے بھی کام کرتی ہے اور انسان کی مادی ضروریات پوری کرکے اس کی اس مادی زندگی کی بقا کا کام بھی کرتی ہے ۔ یہ امت انسان کی آزادی فکر ، اس کی آزادی اظہا رخیال اور اس کی ذاتی ذوق وشوق کی تسکین کے بلا افراط وتفریط ۔ میانہ روی اور ہم آہنگی اور اعتدال کے ساتھ ، ایک وسیع دائرہ مقرر کرتی ہے اور انسان کو اس دائرے میں پوری پوری آزادی دیتی ہے ۔ یہ امت وسط ہے ، فکر و شعور کے میدان میں بھی ، یہ موجودہ ذخیرہ علم پر قانع اور منجمد ہوکر نہیں بیٹھ جاتی اور نہ علم ومعرفت اور تجربہ وتحقیق کے دروازے بند کردیتی ہے ، لیکن وہ ہر سوچے سمجھے بغیر ہر نعرہ باز کے پیچھے نہیں لگ جاتی ۔ بندر کی طرح ہر کسی کی نقل بھی نہیں کرتی ۔ وہ اپنے نظریات ، اصول اور نظام فکر وعمل کی محافظ بن جاتی ہے اور انہیں مضبوطی سے تھامے ہوئے ہوتی ہے ، لیکن پوری انسانیت کے افکار وتجربات پر بھی کڑی نطر رکھے ہوئے ہوتی ہے۔ اور اس کی مستقل پالیسی یہ ہے !” سچائی مومن کا سامان گم گشتہ ہے۔ جہاں اسے مل گیا وہ اسے اٹھالے گا ۔ “ لیکن ثابت قدمی ، مستقل مزاجی اور یقین کے ساتھ۔ وہ نظم وضبط میں بھی امت وسط ہے ۔ وہ کارگاہ حیات میں انسان کو ، اس قدر آزاد بھی نہیں چھوڑتی کہ اس ضمیر و شعور کے سوا کوئی خارجی چیک نہ ہو ۔ اس طرح وہ اسے پوری خشک قانونی جکڑ بندی اور جبری اصلاح کے طریقوں کے رحم وکرم پر بھی نہیں چھوڑدیتی بلکہ وہ ایک طرف رشد واصلاح کے ذریعہ ضمیر و شعور کو اجاگر کرتی ہے اور معاشرے میں نیکی کا شعور پیدا کرتی ہے۔ لیکن دوسری طرف سے قانونی نظام اور تعزیری تادیب کے ذرائع بھی استعمال میں لاتی ہے اور معاشرے کو منظم کرتی ہے ۔ بلکہ رشد وہدایت اور قانون تعزیر کے درمیان ایک حسین امتراج کی قائل ہے ۔ نہ وہ انسان کو صرف قانون کی جبریت کے حوالہ کرتی ہے اور نہ اس قدر آزاد چھوڑتی ہے۔ یہ امت ، امت وسط ہے ۔ روابط وتعلقات میں بھی امت وسط ہے ۔ وہ فرد کے ذاتی وجود کو بھی ایک حقیقت تصور کرتی ہے ، اس لئے اسے بالکل یہ نظر انداز نہیں کرتی کہ فرد کی شخصیت کو جماعت یا ریاست کی شخصیت میں بالکل گم کردیا جائے ۔ نہ ہی اس کو اس قدر آزاد چھوڑ دیتی ہے کہ وہ یکلخت خود سر ہوجائے اور اس کے سامنے اپنی ذات کے سوا کچھ نہ رہے ۔ وہ فرد کے ان ذاتی رجحانات اور ان ذاتی قوتوں کو آزادچھوڑ دیتی ہے جن کے نتیجے میں معاشرے میں حرکت اور فعالیت پیدا ہو اور وہ ترقی کرے ۔ وہ ایسے رجحانات اور ایسی خصوصیات کو آزادی دیتی ہے ، جس سے فرد کی ذات اور اس کی شخصیت کی تشکیل ہوتی ہو۔ اس کے بعد وہ سوچ سمجھ کر ایسی پابندیاں عائد کرتی ہے جو غلو اور افراط وتفریط کو منضبط کردیں۔ عام طور پر وہ ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جس سے جذبہ خدمت خلق پیدا ہو ، لیکن اس کے بعد ایسی قانونی تدابیر بھی اختیار کرتی ہے جن کے ذریعہ فرد جماعت کا خادم ہو اور ریاست اور جماعت فرد کی کفیل ہوں اور امت وسط یہ کام بڑی ہم آہنگی سے انتہائی مناسب طریقے سے سر انجام دیتی ہے۔ جغرافیہ کے لحاظ سے بھی یہ امت وسط ہے۔ وہ زمین کے درمیان میں رہتی ہے ۔ کرہ ارض کے آباد علاقے کے مرکز میں ، روئے زمین پر جہاں یہ امت آباد ہے وہ شمال وجنوب اور شرق وغرب کے عین وسط میں واقعہ ہے ۔ انسان پر وہ گواہ اور پوری انسانیت اس پر گواہ ۔ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کو تمام باشندگان زمین کو عطا کرتی ہے اور اس امت کے واسطہ ہی سے قدرت کے مادی خزانے اور روحانی خزانے پوری انسانی آبادی تک پہنچتے ہیں ۔ اور وہ اس اہم مقام عالی پر حاکم ومختار ہے ۔ اور تمام دنیا کی ملادی اور روحانی حرکات اس کے زیر اثر نظر آتی ہیں ۔ مکان کے بعد زمانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ بھی امت ، امت وسط ہے ۔ انسان کا عہد طفولیت آتے آتے اس امت پر ختم ہوجاتا ہے ۔ اس امت سے ، عقل و دانش کا دور بلوغ شروع ہوتا ہے ۔ انسان کے عہد طفولیت سے ۔ اس کے ساتھ اوہام و خرافات کی آلودگی چلی آرہی تھی ۔ یہ امت وسط ، انسانی تاریخ کے ادوار کے وسط میں کھڑی اسے جھاڑ رہی ہے ۔ اور اس دور بلوغ میں بھی اسے فتنہ خود سری اور عقلی بےراہ روی سے بچارہی ہے ۔ اس نے پیغمبروں کے دور کی خدائی ہدایات وتعلیمات اور عقل و حکمت کے دور جدید کے علمی اکتشافات کے درمیان ایک حسین ہم آہنگی پیدا کردی ہے اور وہ عین وسط میں راہ مستقیم پر پوری انسایت کو لے کر چلتی نظر آتی ہے اور ہر وقت نقطہ اعتدال پر رہتی ہے۔ یہ تھا وہ مقام جو کبھی اللہ تعالیٰ نے اس امت کو بخشا تھا۔ کیا وہ اسے دوبارہ نہیں حاصل کرسکتی ؟ یقیناً وہ اسے دوبارہ حاصل کرسکتی ہے ۔ اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ اس امت نے اس نظام زندگی کو ترک کردیا ہے ، جسے اللہ نے اس کے لئے پسند کیا تھا ۔ اس کے بجائے اس نے دوسرے نظام ہائے زندگی کو اپنالیا ، جنہیں اللہ نے اس کے لئے پسند نہیں کیا۔ اس امت نے کچھ دوسرے رنگ ڈھگ اختیار کرلئے ہیں ۔ جن میں سے ایک بھی صبغۃ اللہ نہیں ہے ۔ حالانکہ اللہ کی مرضی یہ تھی کہ امت خالص اللہ کے رنگ میں رنگی ہوئی ہو۔ یہ ہے امت اور یہ ہے اس کا مشن اور یہ ہے اس کا رول ۔ وہ اس لائق ہے کہ یہ ذمہ داریاں اٹھائے اور اس راہ میں قربانیاں دے۔ مقام قیادت کے لئے جو کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں ۔ کچھ فرائض ہوتے ہیں ۔ مقام قیادت کے حصول سے پہلے آزمائشیں ضروری ہوتی ہیں تاکہ معلوم ہو کہ امت ، اللہ کے معاملے میں کس قدر مخلص ویکسو ہے ۔ اور وہ کس حد تک ایک صالح قیادت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے تیار ہے۔ تحویل قبلہ کا حکم صادر ہوگیا اور اس موقع پر اس کی وضاحت بھی ہوگئی کہ مسلمانوں کو کیوں حکم دیا گیا تھا کہ وہ مسجد اقصیٰ کی طرف رجوع کرکے نماز پڑھیں وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ ” پہلے جس قبلے کی طرف تم رخ کرتے تھے اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لئے قبلہ مقرر کیا ہے کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھرجاتا ہے۔ “ اس آیت سے وہ منصوبہ اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے جو اس نوخیز جماعت کی دینی تربیت کے لئے اللہ تعالیٰ نے وضع کیا تھا ، اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ تھی کہ جماعتِ اسلامی نظریہ کی وارث وامین ہوگی اور خلافت فی الارض کا منصب حاصل کرے گی ۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ تھی کہ امت خالصتًا اس نظریہ حیات کے لئے کام کرے اور وہ اپنے دل و دماغ کو تمام جاہلی تصورات کے اثر سے پاک کردے ۔ وہ تمام قدیم عادات اور قومی خصوصیات کو ترک کردے ۔ جاہلیت کی ہر سلگتی ہوئی چنگاری کو بجھادے ۔ جاہلیت کے تمام لباس کو اتار پھینکے ۔ جاہلیت کا ہر شعار ترک کردے ۔ اس کے شعور میں صرف اسلامی سند ہو ، خالص اسلامی شعار ، ہر آمیزش سے پاک شعار ۔ اس کے رشد وہدایت کا سرچشمہ ایک اور صرف ایک ہو ، کوئی دوسرا سرچشمہ اس میں شریک نہ ہو۔ بیت اللہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کے معاملہ میں نظریاتی رجحان کے علاوہ کچھ اور رجحانات بھی تھے ۔ قریش مکہ کے مورث اعلیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا خالص اسلامی نظریہ ان کے ہاں خالص نہ رہا تھا۔ اس میں مختلف اقسام کی شرک داخل ہوچکی تھی اور قومی عصبیت بھی ان کے دین کا حصہ بن چکی تھی ۔ اس وقت بیت اللہ صرف عربوں کا مقدس مقام تصور ہوتا تھا اور اللہ کی رضا اس میں تھی کہ وہ عربوں کے بجائے اللہ کا مقدس مقام ہو۔ اور اللہ کی نسبت کے سوا اس کی طرف کوئی اور نسبت نہ ہو ۔ اور یہ مقام صرف ربانی شعار ہو ، کوئی اور نسبت اس سے منسلک نہ ہو۔ چونکہ کعبہ شریف کے ساتھ عربوں کے تاریخی جذبات بھی وابستہ تھے ۔ اور قومی میلانات بھی وابسطہ تھے ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک مختصر عرصے کے لئے یہ حکم دیا کہ مسلمانوں کا قبلہ ، کعبہ شریف کے بجائے مسجد اقصیٰ ہوگا تاکہ عربوں کے دلوں سے خانہ کعبہ کے سلسلے میں تاریخی اور قومی میلانات کی جڑ کٹ جائے ، پھر یہ بھی معلوم ہوجائے کہ مسلمانوں میں سے کون جو رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرتا ہے اور کون ہے جو نہیں کرتا ۔ وہ لوگ جو رسول ﷺ کی اطاعت محض اس لئے کرتے ہیں کہ وہ رسول خدا ہیں ، ان لوگوں سے جدا ہوجائیں جو اس لئے آپ کے مطیع فرمان ہیں کہ آپ عرب ہیں اور خانہ کعبہ کو قبلہ وکعبہ سمجھتے ہیں ، اور اس وجہ سے کہ ان کے قومی شعور اور ان کے قدیم مقامات مقدسہ کے احترام کے جذبات کو اسلام میں بھی اہمیت دی جاتی ہے اور یہ کہ ان کے تاریخی میلانات کا سامان تسکین اسلام میں بھی ہے اور ضرور اسی وجہ سے وہ مسلمان ہیں ۔ یہ ایک نہایت لطیف اور دقیق نکتہ ہے ۔ اسلام کا نظریہ حیات وحدہ لاشریک ہے اور جب وہ کسی دل میں جاگزیں ہوجائے تو پھر اس دل میں وہ کسی اور شریک کو برداشت نہیں کرتا ۔ وہ اپنے شعار اور اپنی خصوصیات کے سوا تمام دوسرے شعارات و خصوصیات کو ختم کردیتا ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات تمام جاہلی طور طریقوں کی جڑ کاٹ دیتا ہے ۔ بڑے ہوں یا چھوٹے ۔ یہ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ ” پہلے جس قبلے کی طرف تم رخ کرتے تھے اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لئے قبلہ مقرر کیا ہے کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھرجاتا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ تو مستقبل میں ہونے والے واقعات سے قبل از وقوع ہی باخبر ہیں ، لیکن اراہ الٰہی یہ ہوتا ہے کہ ہونے والا واقعہ لوگوں پر ظاہر ہوجائے اور اس کے بعد محاسبہ کیا جائے اور سزا دی جائے ۔ وہ اپنے رحم وکرم کی وجہ سے محض اپنے علم مستقبل کی بناپر سزا نہیں دیتا۔ صرف ان امور پر سزا دیتا ہے جو واقع ہوجائیں اور مجرم سے ان کا صدور ہوجائے ۔ یہ بات اللہ کے علم میں تھی تمام تاریخی اور قومی شعوری رجحانات کو یکلخت ترک کردینا ، ایسی خصوصیات اور شعارات کو جو دل وجان سے اٹکی ہوئی ہوں اور جو دل و دماغ میں رچی بسی ہوں ، یکلخت ترک کردینا ایک نہایت ہی مشکل کام ہے ، نہایت ہی شاق ہوتا ہے ان کا اکھاڑ پھینکنا۔ یہ کام صرف اس وقت ہوسکتا ہے کہ جب ایمان دل و دماغ پر پوری طرح چھاجائے اور پھر اس دل کو خدائی امداد حاصل ہو اور ذات باری کا قرب حاصل ہو۔ ذات باری اسے اپنے ساتھ ملالے اور اس کی راہنمائی کرے وَإِنْ كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ” یہ معاملہ تھا بڑا سخت مگر ان لوگوں کے لئے کچھ بھی سخت ثابت نہ ہوا ، جو اللہ کی ہدایت سے فیض یاب تھے ۔ “ چونکہ وہ ہدایت الٰہی سے فیض یاب ہے ، اس لئے ان کے لئے ، اپنے دل و دماغ سے جاہلی تصورات کو نکال دینا کوئی مشکل کام نہ تھا ۔ اور انہوں نے ہدایت پاتے ہیں جاہلیت کے تمام نشانات کو پرے پھینک دیا ۔ یہ امت اللہ کی امت بن گئی سمع وطاعت اس کا شعار ہوگیا اور حالت یہ ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ جس طرف چاہیں اسے ادھر موڑ دیں ۔ رسول اللہ ﷺ جدھر چاہیں انہیں لے جائیں۔ اب مسلمانوں کو ان کے ایمان اور ان کی نماز کے بارے میں اطمینان دلایا ہے کہ وہ راہ ہدایت پر گامزن ہیں ۔ اس لئے ان کی نمازیں ضائع نہیں ہوسکتیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کبھی ظلم نہیں کرتا ۔ وہ اس کی جو عبادت بھی گزارتے ہیں ، اسے ضائع نہیں کرتا ، وہ ان پر ایسا بوجھ نہیں ڈالتا جو ان کی طاقت سے زیادہ ہو ۔ اگرچہ یہ طاقت ایمان کی وجہ سے قوی تر ہوجاتی ہے بلکہ وہ دوچند ہوجاتی ہے : وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ” اللہ تمہارے ایمان کو ہرگز ضائع نہ کرے گا ، یقین جانو کہ وہ تم لوگوں کے حق میں نہایت شفیق ورحیم ہے ۔ “ وہ انسان کی طاقت اور قوت برداشت سے اچھی طرح باخبر ہے ۔ لہٰذا وہ کوئی ایسا حکم صادر نہیں کرتا جو ان کے دائرہ طاقت سے باہر ہو ۔ وہ تو انسان کی راہنمائی کرتا ہے ۔ اور اگر ان کی نیت ٹھیک ہو ، عزم پختہ ہو تو وہ ہر امتحان میں خود ان کی امداد کرتا ہے تاکہ وہ کامیابی کے ساتھ اس آزمائش سے نکل آئیں ۔ اگر امتحان وآزمائش اس کی حکمت کا مظہر ہیں ، تو آزمائش میں پورا اترنا اس کا فضل وکرم ہے : إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ” یقین جانو کہ وہ تم لوگوں کے حق میں شفیق ورحیم ہے ۔ “ یوں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دلوں میں طمانیت قلب کا جام انڈیل دیتا ہے ۔ ان کی بےاطمینانی دور ہوجاتی ہے ۔ اور ان کے دلوں میں رضائے الٰہی کا پختہ شعور اور یقین پیدا ہوجاتا ہے ۔ اب اعلان ہوتا ہے کہ قبلہ کے معاملہ میں رسول خدا ﷺ کی خواہش پوری کردی گئی ۔ تحویل قبلہ کا اعلان ہوجاتا ہے ، لیکن ساتھ ساتھ مسلمانوں کو یہودیوں کی فتنہ انگیزی سے بھی باخبر کردیا جاتا ہے ۔ ان عوامل اور محرکات سے بھی پردہ اٹھایا جاتا ہے جو اس فتنہ انگیزی اور مسلسل سازشوں کے پس منظر میں کام کرتے ہیں ۔ یہ سب کچھ اس انداز میں کہ تحریک اسلامی کو اس عظیم جدوجہد کا صحیح علم ہوجائے ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی تنظیم وتربیت کے لئے کی جارہی ہے جو مخالفین کی فتنہ انگیزیوں اور غوغا آرائیوں سے بچانے کے لئے ، اس کی خاطر کی جارہی ہے ۔

البقرة 2:144

ہر کسی کے لئے ایک رخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے ۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو ، جہاں بھی تم ہوگے ، اللہ تمہیں پالے گا ۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے ۔ تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو ، وہیں سے اپنا رخ (نماز کے وقت) مسجد حرام کی طرف پھیر دو ، کیونکہ یہ تمہارے رب کا بالکل برحق فیصلہ ہے ۔ اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے ۔ اور جہاں سے بھی تمہارا گزر ہو ، اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیرا کرو ، اور جہاں بھی تم ہو ، اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ رہے ۔ ہاں جو ظالم ہیں ان کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی تو ان سے تم نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو ۔ اور اس لئے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کروں گا اور اس توقع پر کہ میرے حکم کی پیروی سے تم فلاح کا راستہ پاؤگے۔ “ ان آیات کے شروع میں نبی ﷺ کی حالت کی تصویر کشی ان الفاظ میں کی گئی تھی ! قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ” اے رسول ! یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ “ اس سے اس شدید خواہش کا اظہار ہوتا ہے جو آپ ﷺ تحویل قبلہ کے سلسلے میں رکھتے تھے ۔ یہودیوں اور کٹ حجتیوں اور دلیل بازیوں سے مجبور ہوکر آپ ﷺ یہ چاہنے لگے تھے کہ مسلمانوں کاموجودہ قبلہ بدل جائے ۔ چونکہ مسلمان یہودیوں کے قبلے کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے اور یہودیوں نے اس غلط پروپیگنڈے ، غوغا آرائی اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی تھی ، اس کے لئے رسول اللہ ﷺ اپنی دلی خواہش کے تحت ، بار بار منہ آسمان کی طرف اٹھاتے ، ادب واحترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی بات کا اظہار نہ کرتے ، اس خوف سے کہ جناب باری میں وہ کوئی تجویز پیش کرنے کی جراءت کیسے کریں ؟ یا از خود کوئی بات اللہ کے سامنے لائیں ۔ مبادا کہ اللہ کو پسند نہ ہو لیکن اللہ نے اس کی خواہش پوری کردی ۔ اور جن الفاظ میں یہ خواہش پوری کی گئی ہے ، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کو اپنے حبیب کی رضا منظور تھی ۔ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ” لو ہم اس قبلہ کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں ، جسے تم پسند کرتے ہو۔ “ اب اس قبلہ کا تعین ہوجاتا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتے تھے کہ آپ کی مرضی بھی اسی میں ہے : فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ” مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو ۔ “ اب یہ تمہارا قبلہ ہے تمہاری امت کا قبلہ ہے ۔ جو لوگ تمہارے ساتھ موجود ہیں ان کا اور جو آنے والے ہیں ان کا تاقیامت ، قبلہ ہے ۔ اس وقت تک جب کرہ ارض پر اور اس میں بسنے والے آخر کار اللہ کے سامنے پیش ہوں گے : وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ ” اب جہاں کہیں بھی تم ہو ، اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھاکرو۔ “ ہر سمت سے ، کرہ ارض کے تمام اطراف و جوانب سے ، اب یہ ایک ہی قبلہ ہے اور امت کا ہر فرد اسی طرف رخ کرے گا جہاں کہیں بھی وہ رہتا ہو ، چاہے وطن کوئی بھی ہو ، محل وقوع دور دراز ہی کیوں نہ ہو۔ چاہے ان افراد کے رنگ جدا ہوں ، زبانیں مختلف ہوں اور قومیتیں الگ ہوں لیکن قبلہ ایک ہوگا۔ اور امت مسلمہ چاہے شرق میں ہو یا غرب میں ، اس سمت میں قبلہ رخ ہوگی ۔ یوں اس امت میں احساس پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک جسم ہے ، ایک جان ہے ، ایک ہی نصب العین اس کے سامنے ہے ، ایک ہی نظام زندگی کے قیام کے لئے ، سرگرم عمل ہے ۔ وہ نظام جو اسے ایک ہی تصور ، ایک ہی رسول ﷺ اور ایک ہی قبلہ عطا کرتا ہے۔ یوں اللہ نے اس امت کو جوڑ دیا ۔ ایک اللہ ، ایک رسول ، ایک دین اور ایک قبلہ ۔ قومیت اوطان اور السنہ والوان کے اختلاف کے باوجود ایک امت رنگ ونسل ووطن کے تمام اصولوں کو نظر انداز کردیا گیا اور وحدت امت کی اساس اسلامی نظریہ حیات اور وحدت قبلہ پر رکھی گئی ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی اتحاد بنی آدم کے شایان شان ہے کیونکہ انسان عقیدے اور نظریہ پر متحد ہوتا ہے ۔ ایک طرز عبادت اور قبلہ عبادت پر متحد ہوتا ہے جبکہ حیوانات کا اجتماع چارے ، چراگاہ اور باڑے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اب موضوع ہے ” اہل کتاب اور قبلہ جدیدہ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ ، یہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی ، خوب جانتے ہیں کہ تحویل قبلہ کا ، یہ حکم ان کے رب ہی کی طرف سے ہے اور برحق ہے۔ “ یہ بات ٹھیک ٹھیک ان کے علم میں ہے کہ خانہ خدا یعنی مسجد حرام کی بنیادیں اٹھانے والے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے ۔ اس امت کے جد امجد جو اس مشن کے وارث بنے بلکہ تمام مسلمانوں کے جد امجد ، انہیں اس امر کا بھی ٹھیک ٹھیک طرح علم ہے کہ قبلہ جدید کا حکم بھی اللہ ہی کی جانب سے آیا اور اس میں شک نہیں ہے لیکن اپنی موروثی عادت کے مطابق وہ اپنے اس علم ویقین کے عین مخالف رویہ اختیار کریں گے ۔ محض مسلمانوں کی دشمنی اور عناد کی بناپر ، لیکن اللہ ہی ان کا محافظ ہے ۔ وہی ہے نگہبان جو ان کی ہر سازش کو برباد کرے گا وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ ” مگر اس کے باوجود جو کچھ یہ کررہے ہیں ، اللہ اس سے غافل نہیں ہے ۔ “

البقرة 2:145

وہ کسی بھی دلیل سے مطمئن نہی ہوسکتے ۔ ان کے ہاں فہم دلیل کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ اگر وہاں کسی چیز کی کمی ہے تو وہ اخلاص ہے ۔ وہ ہوائے نفس کے بندے ہیں اور باجود علم کے ان میں حق وصداقت کے تسلیم کرنے کی استعداد نہیں ہے : وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ ” تم ان اہل کتاب کے سامنے چاہے کوئی دلیل پیش کرو ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں ۔ “ ان کی نکیل ہوائے نفس کے ہاتھ میں ہے ۔ دنیاوی مصالح انہیں ہانکے لے جارہے ہیں اور ذاتی اغراض ان کے لئے حدی خواں ہیں ۔ مخلصین میں سے بیشمار لوگ اب بھی ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہود ونصاریٰ اسلام کو اس لئے قبول نہیں کرتے کہ انہیں اسلام کا صحیح علم نہیں ہے ۔ یا ان کے سامنے اطمینان بخش طریقے سے ، اسلام پیش ہی نہیں کیا گیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک وہم ہے وہ تو اسلام قبول ہی اس لئے نہیں کرتے کہ انہیں اس کا صحیح صحیح علم ہے ! اور وہ جانتے ہیں کہ اسلام ان کے مفادات کے سراسر خلاف ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ اس میں ان کے لئے قیادت وسیادت کا کوئی مقام نہیں ہے ۔ یہی سبب ہے کہ وہ اسلام کے خلاف مسلسل بلاانقطاع سازشیں کرتے چلے جاتے ہیں ، مختلف طریقوں سے ، مختلف وسائل کے ذریعہ ، براہ راست بھی اور بالواسطہ بھی وہ اسلام کے خلاف برسر پیکار ہیں ۔ دوبدو بھی اور پس پردہ بھی ۔ وہ اسلام کے خلاف خود بھی لڑتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کے خلاف لڑنے پر آمادہ اور برانگیختہ کرتے ہیں ۔ غرض ہر شکل میں وہ یہ کام کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ سے جو کہا ہے وہ ہر وقت اس کا مصداق ہیں وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ ” تم اہل کتاب کے سامنے چاہے کوئی دلیل پیش کرو ، ممکن نہیں کہ وہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں۔ “ اہل کتاب کا حال تو یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے قبلہ اور اسلامی نظام زندگی سے مسلسل اعراض کرتے چلے آتے ہیں ۔ جس کے اشارات اس قبلے میں واضح طور پر نظر آتے ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے اس موقف کے مقابلے میں نبی ﷺ اور حلقہ بگوشان اسلام کا موقف کیا ہے ؟ وَمَا أَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ ” اور نہ تمہارے لئے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو “ قدرتی طور پر یہ درست موقف ہے۔ یعنی آپ ﷺ کی شان کے خلاف ہے کہ آپ ﷺ کسی صورت میں ان کے قبلے کی پیروی کریں ، یہاں قرآن نے یہ انداز بیان اختیار کیا ” اور آپ بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہیں “ یعنی جملہ اسمیہ منفیہ اور یہ نہیں کہا کہ ” آپ ان کے قبلے کی پیروی نہیں کرتے “ کیونکہ پہلے فقرے کے ذریعے رسول ﷺ کی مستقل شان اور اس معاملے میں اپنے موقف سے ڈٹا رہنے کا اظہار اچھی طرح ہوتا ہے اور آپ ﷺ کے بعد اس امت مسلمہ کو بھی واضح اشارہ مل جاتا ہے کہ وہ اپنے رسول کے اختیار کردہ قبلے کو ہرگز ترک نہ کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ اپنے رسول کی خواہش اور دلجوئی کی خاطر تمہارے لئے پسند کیا ہے ۔ وہ اس ربانی جھنڈے کے سوا کوئی علم بلند نہ کرے ، وہ اسلامی نظام حیات کے علاوہ کسی دوسرے نظام کی پیروی نہ کرے ، جس کی طرف تحویل قبلہ میں اشارات موجود ہیں ۔ جب تک وہ امت ، امت مسلمہ ہے اسے یہی طرز عمل اختیار کرنا چاہئے ۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو پھر اس کا اسلام سے کوئی واسطہ اور تعلق نہ رہے گا ۔ اس کا اسلام محض دعوائے اسلام رہ جائے گا۔ تحویل قبلہ کی مناسبت سے بتایا جاتا ہے کہ خود اہل کتاب کے مابین بھی قبلے کے معاملے میں شدید اختلاف رائے پہلے سے موجود ہے ۔ وہ بھی باہم متفق نہیں ہیں کیونکہ ان کی خواہشات نفس بھی مختلف ہیں وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ” اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دوسرے گروہ کے قبلے کی پیروی کے لئے تیار نہیں ۔ “ یہود ونصاریٰ کے درمیان عداوت ہے ، مختلف یہودی فرقے بھی ایک دوسرے کے مخالف ہیں ۔ پھر مختلف نصرانی فرقے بھی باہم برسرپیکار ہیں ۔ جب رسول ﷺ کے ساتھ اہل کتاب کی یہ عداوت ہے اور آپ پر اللہ کی طرف سے سچائی نازل بھی ہوگئی ہے تو پھر آپ ﷺ کے لئے یہ کیونکر درست ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ ان کی خواہشات نفس کی پیروی کریں جب آپ کے پاس اللہ کی جانب سے علم آچکا ہے : وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ إِنَّكَ إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ ” اور اگر تم نے اس علم کے بعد ، جو تمہارے پاس آچکا ہے ، ان کی خواہشات کی پیروی کی تویقیناً تمہارا شمار ظالموں میں سے ہوگا۔ “ اس سے پہلے اندازِکلام نہایت نرم اور مشفقانہ تھا ، لیکن یہاں آکر نبی ﷺ کے ساتھ خطاب خداوندی یکایک کچھ سخت ہوجاتا ہے ۔ اندازکلام میں قطعی سنجیدگی پیدا ہوجاتی ہے ۔ یہ کیوں ؟ اس لئے کہ اب بات عمل و استقامت کی ہے ۔ معاملہ ہدایات پر عمل کرنے کا ہے ۔ چناچہ دوٹوک الفاظ میں متنبہ کیا جاتا ہے ۔ إِنَّكَ إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ ” تویقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا۔ “ راہ واضح ہے ۔ صراط مستقیم سامنے ہے ۔ علم وہ ہے جو اللہ کی جانب سے ہو ۔ اس کے سوا دوسرے ذرائع سے صرف ہوائے نفس ہی حاصل ہوتی ہے ۔ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ علم یقین حاصل کرے ۔ بدلنے والے اور خواہش نفسانیہ پر مبنی مشکوک ذرائع علم کے مقابلے میں علم حقیقی کو ترک نہ کرے ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ جو علم وحی پر مبنی نہ ہو وہ ہوائے نفس کے سوا کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ یہودیوں کے منظم پروپیگنڈہ اور گمراہ کن وسوسہ اندازیوں کے نتیجے میں ، مدینہ طیبہ کے اندر بعض مسلمانوں کی ذہنی کیفیت ایسی ہوگئی تھی کہ ان کے لئے اس قسم کی قطعی تعبیر کی ضرورت تھی ۔ ان کو ڈرانا مناسب تھا۔ زجر وتوبیخ کا انداز مناسب تھا ۔

البقرة 2:146

مسلمانوں سے اس مختصر خطاب کے بعد اب روئے سخن پھر اصل موضوع پر لوٹ آتا ہے ۔ بات وہی ہے کہ اہل کتاب اس بات کو یقینی طور پر جانتے ہیں کہ حق وہی ہے جس کا اظہار قرآن شریف کرتا ہے اور جس کا حکم رسول ﷺ دیتے ہیں لیکن وہ اپنے اس یقینی علم کے باوجود ، اس حق کو چھپاتے ہیں ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ اللہ پرست نہیں بلکہ نفس پرست ہیں ! الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ” جن کو ، ہم نے کتاب دی ہے۔ وہ اس مقام کو (جسے قبلہ بنایا گیا ہے ) ایسا ہی پہچانتے ہیں جیسا کہ وہ اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپارہا ہے۔ “ اپنے بچوں کو پہچاننا علم ومعرفت کی اعلیٰ ترین مثال ہے ۔ عربی زبان میں یہ مثال ایک ایسے مقام اور ایسے واقعہ کے لئے استعمال ہوتی ہے جو یقینی ہو اور اس کے علم ومعرفت میں کوئی شک وشبہ نہ ہو۔ اہل کتاب کی حالت یہ ہے کہ ان کو سچائی کا یقینی علم ہوچکا ہے ۔ تحویل قبلہ کا حکم بھی اسی عالم گیر سچائی کا ایک حصہ ہے اور پھر بھی وہ اس سچائی کو چھپاتے ہیں جو یقینی علم کے طور پر انہیں حاصل ہے ۔ تو پھر مؤمنین کے درست راہ عمل یہ ہے کہ وہ یہودیوں کے کذب وافتراء سے ہرگز متاثر نہ ہوں ۔ ان کو یہ بات ہرگز زیب نہیں دیتی کہ وہ ان یہودیوں سے کوئی چیز اخذ کریں جنہیں حقیقت کا علم ہے اور پھر بھی وہ اسے چھپاتے ہیں ۔ وہ خود اپنے دین کے اس حصے کا بھی انکار کردیتے ہیں جسے مسلمانوں کے رسول امین وحی کی صورت میں پیش کریں ۔ محض تعصب کی وجہ سے ۔

البقرة 2:147

اہل کتاب کے سلسلے میں بیان کے بعد اب روئے سخن نبی ﷺ کی ذات کی طرف ہوجاتا ہے الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ ” یہ ایک قطعی امر حق ہے ، جو تمہارے رب کی طرف سے ہے ، لہٰذا اس کے متعلق تم ہرگز کسی شک میں نہ پڑو۔ “ کیا رسول اللہ ﷺ نے کبھی شک کیا ؟ نہیں ہرگز نہیں ۔ ایک دوسری آیت میں جب کہا گیا : فَاِن کُنتَ فِی شَکٍّ مِّمَّا اَنزَلنَا اِلَیکَ فَساَلِالَّذِینَ یَقرَءُونَ الکِتَابَ مِن قَبلِکَ ” جو کلام ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ، اگر تمہیں اس کے بارے میں کوئی شک ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لو جو تم سے پہلے کتاب پڑھتے چلے آرہے ہیں ۔ “ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا !” نہ مجھے شک ہے اور نہ ہی میں ان سے پوچھتا ہوں۔ “ تو پھر رسول اللہ ﷺ کو ذاتی طور پر کیوں مخاطب کیا گیا ؟ مسلمانوں کو متوجہ کرنا تھا ۔ چاہے وہ مسلمان جو آپ کے ساتھ موجود تھے اور یہودیوں کے خرافات سے متاثر ہورہے تھے یا وہ لوگ جو بعد میں آنے والے تھے اور دینی معاملات میں یہودیوں کے اباطیل واکاذیب سے متاثر ہوسکتے تھے ۔ میں کہوں گا کہ آج مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ذرا اس تنبیہ پر کان دھریں ۔ آج ہم ایسی نادانی میں مبتلا ہیں جس کی کوئی مثال ہی نہیں ہے ۔ ہم اپنے دینی معاملات میں بھی یہودونصاریٰ اور اشتراکی ملحدین سے یہ ہدایت طلب کرتے ہیں اور فتویٰ لیتے ہیں ۔ ہم ان لوگوں سے خود اپنی تاریخ پڑھتے ہیں ۔ ہم ان پر اعتماد کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ورثہ کے بارے میں کوئی بات کریں ۔ وہ ہمارے قرآن اور ہمارے رسول ﷺ کی سنت اور آپ کی سیرت کے بارے میں جو شکوک پیدا کرتے ہیں یہ ان پر اطمینان سے کان دھرتے ہیں ۔ ہم ان کے پاس اپنے طلبہ بھیجتے ہیں تاکہ وہ ان سے اسلامی تعلیمات حاصل کریں اور ان کی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہوکر آئیں اور جب ہمارے پاس لوٹیں تو ان کی عقل ان کا ضمیر فاسد ہوچکا ہو اور وہ فاضل کہلائیں ۔ یاد رکھئے ! یہ قرآن ہمارے لئے کتاب شریعت ہے ۔ وہ پوری امت مسلمہ کی کتاب ہے ۔ یہ امت کی وہ دائمی کتاب ہے جس میں اسے راہ عمل بتایا گیا ہے اور اسے راہ بد سے ڈرایا گیا ہے ۔ اس کے بالمقابل اہل کتاب بہرحال اہل کتاب ہیں ۔ کفار ، کفار ہیں ۔ ان کا دین ان کا دین ہے ، اور ہمارا دین ہمارا دین !

البقرة 2:148

اب بات کا رخ اصل موضوع کی طرف پھرجاتا ہے ۔ مسلمانوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اہل کتاب کی باتوں پر کان ہی نہ دھریں ۔ ان کی ہدایات و رہنمائی قبول ہی نہ کریں اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے طریق زندگی اور اپنے نقطہ نظر کی طرف بڑھتے چلے جائیں ۔ ہر گروہ کا اپنا رخ رفتار ہوتا ہے ۔ مسلمانوں کا رخ نیکی اور خیر کی طرف ہے ۔ انہیں چاہئے کہ کسی چیز کی طرف بھی نظریں نہ اٹھائیں اور بڑھتے چلے جائیں ۔ آخر کار انہیں خداوند قیامت کے سامنے حاضر ہونا ہے جو اس پر اچھی طرح قدرت رکھتا ہے کہ انہیں جمع کرے ۔ وہ قادر ہے کہ وہاں سب کو جزا وسزا دے : وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ أَيْنَمَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ” ہر ایک کے لئے ایک رخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے ۔ بس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو ۔ جہاں بھی تم ہوگے ، اللہ تمہیں پالے گا ۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ “ اہل کتاب جو فتنے پھیلاتے تھے اور جو سازشیں کرتے تھے اور اللہ کے کلام کی جو تاویلات و تحریفات کرتے تھے یہاں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اہل کتاب کی ان کارستانیوں میں بالکل دلچسپی نہ لیں ۔ وہ راہ عمل پر گامزن ہوں اور نیکی کے کام میں میں ایک دوسرے کے آگے بڑھیں ۔ ساتھ ساتھ یہ یاد دہانی بھی کرائی جاتی ہے کہ آخرکار انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے آنا ہے ۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ اس کے لئے کوئی کام مشکل نہیں ہے ۔ نہ ہی کوئی چیز اس کی نظروں سے اوجھل ہوسکتی ہے ۔ یہ ہے وہ سچائی جس کے مقابلے میں تمام اقوال احوال باطل ہیں ، جن کی کچھ حقیقت ہی نہیں ہوتی۔

البقرة 2:149

پھر تحویل قبلہ کی بات دھرائی جاتی ہے ، تاکیدا حکم دیا جاتا ہے کہ جدید قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھاکرو ، جسے اللہ تعالیٰ نے منتخب کیا ہے ، اس موقع پر کچھ نئی تعریفات مرتب ہوئی ہیں اور کچھ نتائج نکالے جاتے ہیں ۔ وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ” تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو ، وہیں سے اپنا رخ (نماز کے وقت ) مسجد حرام کی طرف پھیردو ، کیونکہ یہ تمہارے رب کا بالکل برحق فیصلہ ہے اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے۔ “ اس تاکیدی حکم میں یہودیوں کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی قبلے کے سلسلے میں ان کے موقف کا ذکر ہے ۔ کہا گیا ہے کہ نبی ﷺ جہاں بھی ہوں اور ان کا گزر جس مقام سے بھی ہو ، وہ نماز کے وقت بیت اللہ کی طرف پھیردیں ۔ کیونکہ یہ ان کے رب کا برحق فیصلہ ہے ۔ اشارۃً یہ بھی کہہ دیا گیا کہ کہیں تمہیں اس سچائی سے روگردانی نہ کردو ۔ قرآن مجید کے الفاظ :” اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے “ واضح طور پر اس طرف اشارہ ہوتا ہے ۔ ان الفاظ سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ واقعی بعض مسلمانوں کے دلوں میں خلجان تھا اور ایسی صورت حال موجود تھی کہ اللہ تعالیٰ کو باربار تاکید کرنی پڑی اور شدید وعید بھی فرمائی۔

البقرة 2:150

تیسری مرتبہ پھر بالکل ایک جدید غرض کی خاطر ، قبلہ کے معاملے میں تاکید کی جاتی ہے ۔ مسلمان یہودیوں کے قبلے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے اور یہودی اور دوسرے لوگ اس پر استدلال کرتے تھے کہ ان کا دین مسلمانوں کے دین سے زیادہ افضل ہے ۔ کیونکہ ان کا قبلہ اصل ہے ، لہٰذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا نظام زندگی بھی اصل ہے ۔ اس لئے تحویل قبلہ کے حکم کی تاکید مزید کرکے اس استدلال کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیا گیا ۔ (دوسری طرف مشرکین عرب بیت الحرام کو ایک مقدس مقام سمجھتے تھے اور اس کا بےحد احترام کرتے تھے ۔ وہ بھی بیت المقدس کے قبلہ ہونے پر یوں اعتراض کرتے تھے کہ مسلمان تو یہودیوں کے تابع ہیں ۔ انہوں نے اپنے مقدس مقام کو چھوڑ دیا ہے اور بنی اسرائیل کے قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔ وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ لِئَلا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلأتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ” اور جہاں بھی تمہارا گزر ہو ، اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیرا کرو اور جہاں بھی تم ہو ، اسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے ۔ ہاں جو ظالم ہیں ان کی زبان کسی حال میں بھی بند نہ ہوگی ۔ تو ان سے تم نہ ڈرو ، بلکہ مجھ سے ڈرو ، اور اس لئے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں ۔ اس توقع پر کہ تم یہ ہدایت و فلاح کا راستہ پالو۔ “ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ تمہارا گزر جہاں سے بھی ہو ، مسجد حرام کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں ۔ اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جہاں بھی وہ ہوں اپنا منہ بیت اللہ کی طرف پھیر کر نماز پڑھاکریں۔ ارشاد ہوا ! لِئَلا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ” تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف حجت نہ ملے ۔ “ ظالم اپنی بات کرتے ہی رہیں گے ۔ وہ کسی حجت اور کسی دلیل کے آگے نہیں جھکتے ۔ ہدایت ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کو نظرانداز کردیا جائے ۔ یہ لوگ کٹ حجتی کرتے ہیں اور عناد میں مبتلا ہیں ۔ ایسے لوگوں کو کسی بھی طرح مطمئن نہیں کیا جاسکتا ۔ وہ اپنی حجت بازی جاری رکھیں گے ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي ” ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو “ ان کو تم پر کوئی اختیار حاصل نہیں ہے ۔ تمہاری زمام کار ان کے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ یہ بات تمہارے شایان شان نہیں ہے کہ تم ان سے ڈر کر ان احکام کو ترک کردو ، جو میری جانب سے تم پر نازل ہوئے ۔ ڈر اور خشیت کے لائق تو میں ہوں ۔ اس لئے کہ تمہاری دنیا وآخرت کے تمام امور میرے ہاتھ میں ہیں ۔ ظالموں کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کو اللہ کی پکڑ سے ڈرایا جاتا ہے اور مسلمانوں کو اللہ کے انعام واکرام یاد دلائے جاتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اگر تم نے اپنا رویہ درست رکھا اور احکام خداوند کی اطاعت کی تو نتیجہ یہ ہوگا کہ مزید انعامات کی بارش ہوگی : وَلأتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ” اس لئے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں اس توقع پر کہ تم راہ ہدایت پالو۔ “ غرض یہ ایک یاد دہانی ہے جس میں ایک خاص اشارہ ہے ، ایک بڑھتی ہوئی حوصلہ افزائی ہے ، اور بار بار اللہ کے فضل وکرم کی طرف اشارہ ہے ۔ وہ کیا انعام ہے ؟ وہ تو ان کے ہاتھوں میں ہے ، خود ان کے دل و دماغ گواہ ہیں کہ وہ کیا ہے ؟ ان کی پوری زندگی میں موجود ہے ۔ وہ اپنے موقف اور اپنے معاشرہ میں اسے پاتے ہیں ۔ اس کائنات میں انہوں نے جو مقام اپنے لئے متعین کیا ہے اس میں بھی وہ اس نعمت کو پاتے ہیں ۔ وہ جاہلیت کی جہالتوں اور تاریکیوں میں زندگی بسر کرچکے تھے ۔ وہ اپنی آنکھوں سے جاہلیت کی تاریکیوں کو دیکھ چکے تھے ۔ اس کے بعد انہوں نے خود نور ایمان کو اختیار کیا ۔ پاکیزگی اور طہارت کو اختیار کیا اور علم ومعرفت کو اختیار کیا ۔ اس لئے وہ اپنے دل و دماغ میں اس نعمت کا اثر ہر وقت تروتازہ ، گہرا اور واضح پاتے ہیں ۔ وہ کوتاہ اندیشانہ قبائلی زندگی بسر کرچکے تھے ، گھٹیا مقاصد کے لئے سالہا سال کشت وخون کرتے رہتے تھے ۔ پھر وہ اپنی خوشی سے ایک نظریہ حیات کے جھنڈے تلے جمع ہوگئے ، ایک قوت اور شوکت بن گئے ۔ ان کے مقاصد بلند ہوگئے اور ترجیحات وسیع ہوگئیں ۔ ان کا نقطہ نظر خاندانوں اور قبائل کے محدود دائرے سے بلند ہو کر تمام بشریت کی بنیادوں پر استوار ہوگیا ۔ اور اس نے وسعت اختیار کرلی ۔ اس لئے وہ اپنے اندر اور اپنے ماحول میں انعامات الٰہیہ کا وسیع شعور رکھتے ہیں ۔ اسلام سے پہلے وہ کس مقام پر کھڑے تھے ؟ گراپڑا غلیظ معاشرہ ، افکار پریشان اور زندگی کی اقدار مضطرب ، یعنی جاہلی معاشرہ کے مقابلے میں ۔ انہوں نے خوب سوچ سمجھ کر اسلام کا پاک اور بلند معاشرہ اپنایا ، جس کے نظریات اور عقائد شیشے کی طرح صاف تھے ، جس کی اقدار متوازن تھیں ۔ اس لئے اسلام ان کے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ تھا ۔ وہ اپنے مقام کو دیکھ کر محسوس کرتے تھے کہ سرتاپا اسلام کے انعامات وبرکات میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ اس لئے اللہ کا فرمان وَلأتِمَّ نِعْمَتِي ” اس لئے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں “ تو اللہ کی طرف سے ، اس فقرے میں دراصل ایک خفیہ اشارہ ہے ، ایک قسم کی حوصلہ افزائی تھی اور ہے ، ان انعامات واکرامات کی طرف جس کا احساس خود مسلمانوں کو تھا۔ یہاں تحویل قبلہ کے حکم میں تکرار سے کام لیا گیا ہے ۔ لیکن اس تکرار میں ہر مرتبہ ایک نیا مفہوم دیا گیا ہے ۔ پہلی مرتبہ کہا گیا کہ رسول ﷺ چونکہ تحویل قبلہ کی خواہش رکھتے تھے ۔ اس خواہش کا انداز بیان باادب خموشی تھا۔ آپ بار بار آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھتے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے تحویل قبلہ منظور فرمالیا۔ دوسری مرتبہ کہا گیا کہ اگرچہ رسول ﷺ کی طلب اور خواہش بھی تھی ، لیکن حکم اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور عین حق ہے ۔ تیسری مرتبہ جو حکم دیا گیا اس میں مسلمانوں کو بتایا گیا کہ تحویل قبلہ کی حکمت کیا ہے ؟ یہ کہ دشمنان اسلام اس سے اپنے دین کی برتری کے لئے استدلال کرتے تھے اور اس لئے حکم تحویل صادر ہوا ۔ اس لئے مقصد یہ تھا کہ جو لوگ حق کا ساتھ نہیں دیتے ، براہین و دلائل کو تسلیم نہیں کرتے ، وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی کوئی عزت نہ ہو اور وہ ہر معاملے میں ہلکے ہوں۔ ان وجوہ کے ساتھ ، اس وقت مدینہ طیبہ میں اس نوخیز اسلامی تحریک کی صفوں میں ، ایسے حالات پائے جاتے تھے ، جو اس تکرار وتاکید اور استدلال وبیان کے متقاضی تھے۔ بعض مسلمانوں کے دلوں پر مخالفین کے گمراہ کن پروپیگنڈے اور باطل استدلالات کا اثر پایا جاتا تھا ، جس کا اندازہ اس امر سے ہورہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلے میں بار بار تاکید کے ساتھ مسلمانوں کو خطاب فرماتے ہیں اور اس اثر کے ازالے کے لئے قرآن مجید نے یہ زوردار انداز بیان اختیار کیا ہے اور تحویل قبلہ کی ان وقتی ہدایات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قرآن مجید کا جزء بنادیا گیا ۔ تاکہ اس قسم کے حالات میں ، مسلمان ایسا ہی طرز عمل اختیار کریں ، کیونکہ وہ ایک ایسے معرکے میں کود پڑے ہیں جو تاقیامت جاری رہے گا ، کبھی ٹھنڈا نہ ہوگا ، کبھی نرم نہ ہوگا ، یعنی معرکہ انقلاب اسلامی۔ اس مناسبت سے قرآن مجید مسلمانوں کو پھر یاد دلاتا ہے کہ اللہ نے تمہیں اپنی نعمت سے نوازا ہے۔ اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے تمہاری طرف اپنے نبی کو بھیجا ، وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو قبلہ مسلمین بیت الحرام کے معمار اول تھے ۔ یوں قرآن مجید مسلمانوں کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا روحانی وارث قرار دیتا ہے ۔ اور مسلمانوں کا براہ راست تعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے قائم کردیا جاتا ہے ۔

البقرة 2:151

اس آیت کے مضمون پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں انہی باتوں کو دہرایا گیا ہے ، جن کی دعوت اس صورت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دی تھی ۔ اس وقت حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے ۔ جناب خلیل اللہ نے دعا فرمائی تھی کہ :” اے اللہ ، میری اولاد میں سے جو اس گھر کے جوار میں رہتی ہے ، ایک نبی مبعوث فرما ۔ جو ان کو تیری آیات پڑھ کر سنائے ۔ انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاک کردے۔ “ یوں مسلمانوں کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ ان میں رسول اللہ ﷺ کا مبعوث کیا جانا ، اور خود ان کا بطور مسلمان پایاجانا ، یہ دراصل ان کے اباجان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کی براہ راست قبولیت ہے ۔ اس میں یہ اشارہ بھی مضمر ہے کہ ان کی تحریک کوئی نئی تحریک نہیں ہے ۔ ایک قدیم تحریک ہے ۔ ان کا قبلہ کوئی نیا قبلہ نہیں ہے ، بلکہ ان کے ابا ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ ہے ۔ اور ان پر اسلام نے جو جودوکرم کیا ہے وہ وہی جودوکرم ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دوست سے کیا تھا ۔ اس نے تمہیں تمہارا پرانا قبلہ دے دیا ، تمہیں ایک مستقل شخصیت عطاکردی ۔ یہ تو اس کے انعامات کا ایک نمونہ ہے جو وہ تم پر مسلسل کرتا چالا آرہا ہے ۔ اور سب سے پہلی نعمت یہ ہے کہ اس نے تم میں اپنا رسول ﷺ تم ہی میں سے مبعوث فرمایا : كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولا مِنْكُمْ ” جس طرح میں نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا “ اس نے تمہارے اندر رسالت قائم کردی ۔ کیا یہ تمہارے لئے کوئی کم عزت افزائی ہے ؟ یہودی ایک عرصہ سے آخری رسول کا انتظار کررہے تھے اور ان کا خیال تھا کہ وہ انہیں میں سے ہوگا اور اس کی قیادت میں وہ قریش پر فتح پائیں گے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے وہ خاتم الرسل تم میں سے چن لیا : يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا ” تمہیں میری آیات سناتا ہے۔ “ وہ جو کچھ پڑھ کر تمہیں سناتا ہے وہ حق ہے ۔ اس فقرے میں ایک شاہانہ حوصلہ افزائی ہے ۔ اللہ کا کلام ، رسول اللہ ﷺ پر نازل ہورہا ہے ، لیکن خطاب اپنے بندوں سے ہورہا ہے ۔ اس انداز کلام پر غور کیا جائے تو یہ ایک عظیم عزت افزائی معلوم ہوتی ہے ۔ دل مارے خوشی کے جھوم جاتا ہے ۔ کیا شان ہے ان لوگوں کی ! وہ کون ہیں اور کیا ہیں ؟ خداوند قدوس ان سے خطاب کررہا ہے ۔ خود اپنے الفاظ میں ان سے بات ہورہی ہے ۔ کیا عظیم قدردانی ہے یہ ؟ اگر اللہ تعالیٰ ان پر اپنا فضل وکرم نہ کرتا تو یہ وہ شان کہاں سے حاصل کرتے ۔ یہ محض اللہ کی جانب سے باران رحمت کا نتیجہ ہے ۔ ابتدائے آفرینش میں اللہ تعالیٰ نے انسان کا ڈھانچہ تیار کیا اور اس میں روح پھونکی ۔ اس کی نسل چلائی تاکہ ان میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں جو اللہ کے انعامات کے مستحق ہوں۔ وہ ایسے ہوں ، جو انعامات کو خوش آمدید کہیں۔ وَيُزَكِّيكُمْ ” وہ تمہیں پاک کردے گا۔ “ اگر اللہ نہ ہوتا تو مشرکین اہل عرب اور مسلمانوں میں سے کوئی بھی پاک نہ ہوتا ۔ نہ پاک ہوتا اور نہ ہی مرتبہ بلند پاتا ۔ اللہ نے ان میں سے رسول بھیجا تاکہ وہ انہیں پاک کردے ۔ ان کے دل کو شرک کی آلائش اور جاہلیت کی آلودگی سے پاک کردے ۔ ان کی روح کو ایسے تمام تصورات سے پاک کردے جن کے بوجھ تلے انسانی روح صدیوں سے دفن ہوکر رہ گئی تھی۔ وہ انہیں شہوانی قوت کی آلودگیوں سے بھی پاک کرتا ہے ، لہٰذا ان کی روح جنسی بےراہ روی کے گڑھے میں نہیں گرتی ۔ وہ لوگ جنہیں اسلام پاک نہیں کرتا ، چاہے زمانہ قدیم کے باشندے ہوں یا زمانہ جدید کے ، وہ گویا گندے پانی کے چشمے سے جنسی پیاس بجھاتے ہیں ۔ جس سے طبیعت نفرت کرتی ہے اور جس سے انسان کی انسانیت ختم ہوجاتی ہے ۔ اور ایک حیوان جو صرف حیوانی فطرت کا پابند ہوتا ہے ۔ اس انسان سے ارفع و برتر ہوجاتا ہے ۔ وہ لوگ جو ایمان سے محروم ہیں ان سے یہ حیوان بدرجہا پاک ہوتا ہے ۔ اسی طرح اللہ ان کے معاشرے کو لوٹ کھسوٹ اور سود وساہو کاری سے بھی پاک کرتا ہے ۔ یہ سب چیزیں بھی ایک قسم کی گندگی ہیں ۔ یہ انسانی شعور اور انسانی روح کو گندہ کردیتی ہیں ۔ اور اجتماعی زندگی ان سے آلودہ ہوجاتی ہے۔ وہ ان کی زندگی کو ظلم و زیادتی سے پاک کرتا ہے اور انہیں نظام عدل و احسان عطا کرتا ہے ۔ وہ عدل و انصاف جو اسلامی نظام حیات ، اسلامی نظام حکومت سے پہلے انسانیت نے نہ دیکھا تھا اور نہ سنا تھا ۔ غرض انہیں تمام گندگیوں اور آلودگیوں سے پاک وصاف کردیتا ہے جو ان کے گرد پھیلی ہوئی جاہلیت کے چہرے کا بدنما داغ ہیں اور ہر اس معاشرے میں پائی جاتی ہیں ، جسے اسلامی روح نے پاک نہ کیا ہو ، جس میں اسلام کا پاک وصاف نظام رائج نہ ہو ۔ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ ” تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ “ اس سے پہلے جو فرمایا گیا کہ وہ رسول ہی آیات پڑھ کر تمہیں سناتا ہے ، اس سے بھی مراد یہ ہے کہ رسول تمہیں کتاب پڑھاتا ہے لیکن یہاں تعلیم کتاب کے ساتھ تعلیم حکمت کو شامل کیا گیا ہے ۔ حکمت درحقیقت تعلیم کتاب کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ حکمت اس مہارت کا نام ہے جس کے ذریعے انسان ہر چیز کو اس کا اصلی اور صحیح مقام دے دے ۔ ہر بات اور ہر مسئلے کو ایک صحیح معیار پر پرکھے اور احکام وہدایات کی صحیح غرض وغایت سمجھ سکے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جن لوگوں کو تربیت دی تھی اور جن کو آیات کتاب اللہ کے ذریعے پاک فرمایا تھا ، وہ حکمت و دانائی میں اس طرح کامل ہوگئے تھے جس طرح ایک پھل درخت کے اوپر پوری طرح پک جاتا ہے ۔ وَيُعَلِّمُكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ (151) ” اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے ۔ “ اسلامی جماعت کی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ یہ ایک عظیم سچائی ہے ۔ اسلام نے اس جماعت کو عربی معاشرے سے چنا ۔ جس کے پاس چند متفرق معلومات کے سوا کوئی ذخیرہ علم نہ تھا ۔ صرف وہ علم جو صحراء میں ایک قبیلے کی زندگی کے لئے ضروری تھا یا صحرا کے درمیان گھرے ہوئے چھوٹے چھوٹے شہروں کی ضرورت کے لئے کافی تھا۔ اسلام نے اس صحرائی جماعت کو ایک ایسی امت بنادیا جو پوری انسانیت کو حکیمانہ اور عادلانہ قیادت فراہم کرنے لگی۔ ایک مختصر عرصے میں یہ حالت ہوگئی تھی کہ اب یہ امت کڑی نگاہ رکھتی ہے ۔ امور عالم سے باخبر ہے اور زیور علم سے آراستہ ہے قرآن و حکمت قرآن پر مبنی ہدایات رسول ﷺ اس امت کے لئے لئے راہ ہدایت اور سرچشمہ علم بن گئے ہیں۔ مدینہ میں مسجد نبوی جہاں قرآن کریم اور قرآن پر مبنی ارشادات رسول پڑھے اور پڑھائے جاتے تھے ، امت کے لئے ایک عظیم یونیورسٹی بن گئی ۔ اس یونیورسٹی سے وہ لوگ فارغ ہوکر نکلے جنہوں نے پوری انسانیت کی حکیمانہ راہنمائی کی ایسی قیادت کی جس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں اس سے پہلے نہیں ملتی ہے اور نہ اس کے بعد آج تک ملتی ہے۔ اسلامی نظام حیات ، جس نے یہ قیادت فراہم کی اور انسانوں کا یہ معیاری گروہ تیار کیا ، آج بھی یہ استعداد رکھتا ہے کہ انسانیت کو ویسی ہی قیادت فراہم کرے ، بشرطیکہ یہ امت صحیح طرح اس قرآن کریم پر ایمان لے آئے ۔ اسے صحیح طرح اپنے لئے زندگی کا ماخذ قرار دے ۔ اور اسے خوش الحانی سے پڑھ کر قوت سامعہ کی تسکین کے لئے استعمال نہ کرے ، بلکہ اسے دستور حیات بنالے۔

البقرة 2:152

فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ ” تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ “ یہ وہ کرم ہے جس کا صدور صرف اللہ تعالیٰ ہی سے ہوسکتا ہے جس کے خزانوں میں کمی نہیں ، جس کے خزانوں پر کوئی چوکیدار نہیں اور جس کی دادوہش کا نہ حساب ہے ، نہ محاسب ۔ اس کے خزانوں سے طلب اور بلاسبب دادوہش ہوتی رہتی ہے ، اس لئے نہیں کہ ضرورت مند ہے ، بلکہ اس کے وہ معطی ہے ، وہ فیاض ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے :” جس نے مجھے دل میں یاد کیا میں بھی اسے دل میں یاد کروں گا ، جس نے مجھے بھری مجلس میں یاد کیا میں بھی اسے ایسے لوگوں میں یاد کروں گا ، جو اس کے لوگوں سے افضل واخیر ہوں گے۔ “ (حدیث صحیح) ایسی ہی ایک دوسری حدیث شریف کا مضمون ہے !” رسول اللہ فرماتے ہیں ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اے بنی آدم ! اگر تو نے مجھے دل میں یاد کیا میں بھی تجھے دل میں یاد کروں گا اور اگر تونے مجھے لوگوں میں یاد کیا تو میں بھی تجھے ملائکہ میں یاد کروں گا۔ “ بعض روایات میں آتا ہے ” ایسے لوگوں میں جو ان سے بہتر ہوں گے ۔ اگر تو ایک بالشت میرے قریب آئے گا میں ایک ہاتھ تیرے قریب آؤں گا ۔ اگر تم ایک ہاتھ میرے قریب آؤگے تو میں دوہاتھ تیرے قریب آؤں گا ۔ اگر تو میری طرف چل کر آئے گا تو میں تیری طرف دوڑ کر آؤں گا۔ “ یہ ہے وہ فضل وکرم جس کا بیان الفاظ میں نہیں ہوسکتا ۔ اس کا شکر ، سوائے اس کے کہ دل اپنی گہرائیوں کے ساتھ سجدہ ریز ہوجائے ، ادا نہیں ہوسکتا۔ اللہ کی یاد کیسے ہو ، الفاظ ضروری نہیں ہیں ، یہ تو دل کی توجہ ہے ۔ دل کا اللہ کی طرف متوجہ ہونا ہے ، چاہے الفاظ ساتھ ہوں یا نہ ہوں ۔ یاد تو ایک دلی شعور ہے اور انفعال ہے اور اس شعور وانفعال کے ادنیٰ اثرات یہ ہوں کہ انسان اللہ کی اطاعت پر آمادہ ہوجائے اور اعلیٰ اثرات یہ ہوں کہ انسان کو اللہ کا دیدار نصیب ہو ، جو لوگ وصول الی اللہ کی نعمت سے سرفراز ہوتے ہیں اور جو ذوق دیدار چکھ لیتے ہیں ان کے پیش نظر اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔ صرف دیداریار۔ وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ ” میرا شکر ادا کرو اور کفر نہ کرو۔ “ شکر کے بھی کئی درجے ہوتے ہیں ۔ پہلا یہ کہ انسان اللہ تعالیٰ کے انعامات کا اقرار کرے ۔ اور پھر اس کی نافرمانی سے حیا کرے ۔ اور آخری درجہ یہ ہے کہ انسان مجسمہ شکر بن جائے ۔ بدن کی ہر حرکت ، زبان کا ہر لفظ ، دل کی ہر دھڑکن اور دماغ کا ہر تصور نمونہ شکر ہو ۔ کفر سے روکا گیا ہے ۔ اشارہ اس آخری مقام کی طرف ہے ، جس تک آخرکار ایک ناشکر گزار انسان پہنچ جاتا ہے ۔ لاتکفرون سے وہ آخری نکتہ بتایا گیا ہے جہاں ناشکری کے خط کی انتہا ہوجاتی ہے ۔ العیاذ باللہ ۔ تحویل قبلہ کے موقع پر اشتباہ اور ہدایات بالکل واضح اور مناسب ہیں ۔ ذکر الٰہی وہ نقطہ ہے جہاں آکر مومن کا دل اللہ کی عبادت کے لئے تیار ہوتا ہے ۔ پھر وہ ایک خالصتاً اللہ کا ہوجاتا ہے اور اسی نسبت سے منسوب ہوتا ہے ، یعنی بندگی کی وجہ سے بندہ ہوجاتا ہے۔ یہودی سازشوں سے خبردار کرنے کے موقع پر بھی فکر وشکر کی ہدایت دینا مناسب ہے ۔ ہم کہہ آئے ہیں کہ یہودیوں کا آخری مقصد یہ تھا کہ مومنین کو دوبارہ کفر میں داخل کردیں ۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں سے یہ نعمت چھن جائے ، جو بطور خاص اللہ نے انہیں دی تھی ۔ کیا نعمت ؟ نعمت ایمان ۔ وہ بلند ترین نعمت جو کسی فرد یا کسی جماعت کو دی جاسکتی ہے ۔ خصوصاً عربوں کے لئے تو یہ ایک عظیم نعمت سے بھی عظیم تر تھی ۔ اسی سے تو عربوں کا وجود قائم ہوا۔ تاریخ آدمیت میں عربوں نے ایک عظیم رول ادا کیا ، ان کا نام اس نظریہ حیات سے منسلک ہوگیا جس کے وہ حامل تھے اور جسے انہوں نے بنی نوع آدم تک پہنچانا تھا۔ اسی نعمت کے بغیر عرب کچھ نہ تھے ۔ گمنام تھے ، اب بھی گمنام ہیں اور اگر وہ نہ ہو۔ آئندہ بھی گمنام ہوں گے اگر اسے نہ اپنائیں گے ۔ اسلامی نظریہ حیات کے سوا ان کے پاس تھا ہی کیا ؟ جس کے ذریعے وہ دنیا میں کوئی نام پیدا کرتے ، کیا کسی نظریہ حیات کے بغیر کوئی قوم دنیا میں مقام قیادت حاصل کرسکتی ہے ؟ مقام قیادت کے لئے ایسی فکر کی ضرورت ہے جو پوری زندگی کی قیادت کرتے ۔ انسانی حیات کو ترقی کی راہ دکھائے ۔ اسلامی نظریہ حیات دراصل زندگی کا پورا نظام ہے ۔ وہ صرف ایک نعرہ ہی نہیں ہے جس کے پیچھے مثبت عمل نہ ہو بلکہ ایسا عمل ہے جو اس نظریہ کی تائید کرے ۔ اسلام کے کلمہ طیبہ کے ساتھ ساتھ عمل طیب بھی ضروری ہے جو کلمہ کا مصداق ہو۔ امت کے لئے ضروری بلکہ فرض ہے کہ وہ اس حقیقت کو یاد رکھے تاکہ اللہ اسے یاد رکھے ۔ اور اللہ اسے نسیاً منسیاً نہ کردے اور جسے اللہ نے بھلادیا سمجھو وہ ڈوب گیا ۔ زمین پر اس کا ذکر خیر نہ رہے گا ۔ آسمانوں پر اس کا کوئی خیرخواہ نہ رہے گا۔ اور جو اللہ کو یاد کرے گا اللہ اسے یاد کرے گا ۔ آسمانوں پر بھی اس کا ذکر ہوگا ، اور طویل و عریض کائنات میں بھی اس کا ذکر خیر گونج اٹھے گا ۔ ایک وقت تھا کہ مسلمانوں نے اللہ کو یاد کیا ۔ پھر اللہ نے بھی انہیں یاد کیا۔ پھر کیا تھا ؟ ان کا نام پوری کائنات میں بلند ہوگیا ، دنیا کی قیادت صالح قیادت ان کے سپرد ہوگئی ۔ لیکن پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ انہوں نے رب ذوالجلال کو بھلادیا ۔ تو اس نے بھی ان کو بھلادیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ مہمل بن گئے ۔ ضائع ہوگئے ۔ وہ اقوام کی برادری میں حقیر تابع کے مقام تک جاگرے ۔ علاج اب بھی موجود ہے ۔ اللہ تعالیٰ بلاتا ہے ” تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا۔ میرا شکر ادا کرو اور کفر اختیار نہ کرو۔ “ درس 9 ایک نظر میں تحویل قبلہ کے بعد اور امت مسلمہ کو ایک مستقل اور ممتاز حیثیت دینے اور ایسا تشخص عطا کرنے کے بعد ، جو اس امت کے ممتازنظریہ حیات کے ساتھ مناسب تھا ، مسلمانوں کو پہلی ہدایت یہ دی گئی کہ وہ صبر وصلوٰۃ سے مددلیں کیونکہ انہیں ایک عظیم ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ یہ منصب بڑی بڑی قربانیاں چاہتا ہے ۔ شہداء کو خون پیش کرنا ہوگا۔ جانی نقصان ، مالی نقصان ، متاع وثمرات کا نقصان برداشت کرنا ہوگا۔ وہ بھوک کے دن دیکھیں گے اور خوفناک راتوں سے دوچار ہوں گے۔ اس کے علاوہ انہیں بیشمار قربانیاں دینی ہوں گی ۔ ان سب قربانیوں کے لئے انہیں اپنے آپ کو تیار کرنا ہوگا۔ انہیں اپنے نفس سے اور اس پوری دنیا سے اسلامی نظام کے قیام کے لئے جہاد کرنا ہوگا ۔ اس عظیم جہاد کی خوفناکیوں کا مقابلہ کرنا ہوگا اور مقابلہ اور تیاری اسی صورت میں ہوسکتی ہے کہ اہل ایمان صبر وصلوٰۃ سے امداد حاصل کریں۔ انہیں اس امت کا دل اللہ سے جوڑنا ہوگا ۔ اپنے قلوب کو اللہ کے لئے خالص کرنا ہوگا اور اپنے تمام کاموں میں اللہ اور رسول اللہ کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ یہ سب کچھ کس لئے کیا کس انعام کے لالچ میں آیا اللہ کی رضامندی کے حصول کے لئے ؟ اس کی رحمت وہدایت کی طلبگاری کی خاطر ؟ کس قدر عظیم اجر ہے یہ ؟ اس کی قدر و قیمت دل مومن ہی سے پوچھئے !

البقرة 2:153

قرآن کریم میں صبر کا تذکرہ بتکرار ہوا ہے ۔ اس لئے کہ تحریک اسلامی کو سخت ترین مخالفتوں اور دشواریوں کا سامنا کرنا تھا ۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ اس راہ میں صبر و استقامت کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ تحریک اسلامی کو مسلسل مشکلات اور لگاتار کشمکشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا لہٰذا اس بات کی ضرورت تھی کہ اہل ایمان صبر سے کام لیں اور ان کے نفوس داخلی اور خارجی معاملات میں بیدار رہیں ۔ اہل ایمان کی قوتیں منظم رہیں اور ان کے اعصاب پختہ رہیں ۔ ایسے حالات میں صبر و استقامت کے سوا چارہ کار ہی کیا ہے ؟ اس طرح عبادت میں بھی صبر کی ضرورت ، گناہوں سے بچنے میں صبر کی ضرورت ، غرض ان مختلف النوع سازشوں کے خلاف صبر ، نصرت خداوندی میں تاخیر پر صبر ، طویل ترجدوجہد پر صبر ، باطل کی قوت پر صبر ، دین کے حامیوں کی قلت پر صبر ، بغض وعداوت کے بوجھ پر اور غرض پرستی کی تلخی پر صبر۔ جب صبر طویل ہوجاتا ہے اور مشکلات بڑھ جاتی ہے تو قوت صبر کمزور پڑجاتی ہے ۔ اور بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ اگر بیرونی امداد میسر نہ ہو تو پیمانہ صبر لبریز ہوجاتا ہے ، اس لئے نماز کے ساتھ ساتھ صبر کی تلقین بھی کی جارہی ہے ۔ نماز وہ سرچشمہ ہے جو کبھی خشک نہیں ہوتا ۔ یہ وہ زاد راہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا ۔ یہ طبع تجدید قوت ہے ، یہ قوت دل کا سامان ہے ۔ اس سے صبر کی بھرپور قوت حاصل ہوجاتی ہے اور صبر کے ساتھ رضامندی وخندہ پیشانی اور یقین محکم پیدا ہوتا ہے۔ انسان فانی ہے ، ضعیف ہے اور محدود قوت کا مالک ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ قوت کبریٰ سے لو لگائے ۔ جب اس کا مقابلہ شر کی ظاہری اور باطنی قوتوں سے ہو اور معاملہ اس کی محدود قوت و برداشت سے بڑھ جائے تو اسے چاہئے کہ وہ اس ” عظیم قوت “ سے مددلے ۔ اس راہ میں ایسے مقامات آتے ہیں کہ خواہش نفس کا زور ہوجاتا ہے ، طمع و لالچ کی شدیدکشش ہوتی ہے ۔ اور راہ حق پر استقامت کی جدوجہد بھاری ہوجاتی ہے ، فسق وفجور اور ظلم وعدوان کی قوتیں زور پکڑلیتی ہیں اور مقابلہ دشوار ہوجاتا ہے ، راستہ طویل ہوجاتا ہے ، مشقت بڑھ جاتی ہے اور زندگی کے شب وروز تاریک نظر آتے ہیں۔ انسان غور کرتا ہے دیکھتا ہے کہ ابھی وہ کسی مقام تک نہیں پہنچ سکا ، لیکن موت قریب ہے ۔ اس نے کچھ پایا نہیں اور زندگی کا سورج قریب الی الغروب ہے ۔ وہ دیکھتا ہے کہ شر دھنی ہوئی روئی کی طرح پھولا ہوا ہے اور حق سکڑا ہوا ہے۔ منزل دور ہے ، افق پر سے آخری شعاع امید غائب بھی ہے اور راستے پر کوئی نشان راہ نہیں ۔ ایسے حالات میں صبر وصلوٰۃ ہی سرچشمہ قوت ہوتے ہیں۔ ایسے مقامات اور ایسی منازل ہی پر نماز کی قدر و قیمت معلوم ہوتی ہے ۔ انسان فانی اور خدائے باقی کے درمیان واحد براہ راست رابطہ نماز سے قائم ہوتا ہے ۔ یہ وہ مقام التقا ہے جس پر ایک تنہا قطرہ ابدی سرچشمہ سے آملتا ہے ۔ یہ اللہ کے ان خزانوں کی کنجی ہے جو مستغنی کردیتے ہیں ، جھولی بھردیتے ہیں اور رحمتوں کی بارش کردیتے ہیں ۔ یہ ایک جست ہے اس کے ذریعے انسان اس چھوٹی اور محدود دنیا کی حدود کو پھاڑ کر عظیم تر کائنات کی حدود میں داخل ہوجاتا ہے ۔ وہ سخت گرمی اور تپتی ہوئی دھوپ میں ۔ ٹھنڈی چھاؤں ہے ، نسیم سحر اور خوشگوار شبنم ہے ۔ وہ تھکے مارے دل کے لئے ایک خوشگوار احساس ہے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول ﷺ جب پریشان ہوتے ، سخت حالات سے دوچار ہوتے تو فرماتے تھے !” بلال ! ذرا ہمیں اس کے ذریعے تسکین دو ۔ “ جب بھی آپ ﷺ پریشانیوں کے ہجوم میں ہوتے ، نماز کثرت سے پڑھنا شروع کردیتے ۔ اسلامی نظام دراصل عبادت اور بندگی کا نظام ہے ۔ اس کی عبادت بھی حکیمانہ ہے اس کی سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ وہ زاد راہ ہے ۔ روحانی امداد کا سرچشمہ ہے ۔ اور دل کی صفائی ہے ۔ جب بھی انسان مصیبت میں مبتلاہو ، دل تنگ ہو ، یہ عبادت کشادگی کا ذریعہ بن جاتی ہے اور انسان آرام ، خندہ پیشانی اور خوشگواری سے اس مصیبت کو انگیز کرتا ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو اس عظیم شعار اور بھاری منصب کے لئے منتخب کیا تو آپ کو حکم دیا : يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (1) قُمِ اللَّيْلَ إِلا قَلِيلا (2) نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلا (3) أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلا (4)إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلا ثَقِيلا (5) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے ، رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو ، مگر کم ، آدھی رات ، یا اس سے کچھ کم کرلو ، یا اس سے کچھ زیادہ بڑھالو ، اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو ۔ ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔ “ (المزمل : 5 : 1) یہ رات کا قیام ، یہ دن کے رکوع و سجود کیا تھے ؟ یہ بھاری کلام ، اور اس عظیم ذمہ داری کے لئے تیاری اور تربیت تھی ، جس کی راہ مصائب وشدائد سے پر تھی ۔ یہ وہ عبادت تھی جس سے سکون کے سوتے پھوٹ پڑے ہیں ۔ باہمی ربط مضبوط ہوجاتا ہے ، کام آسان ہوجاتا ہے ، آنکھیں روشن ہوجاتی ہیں اور قلب مومن پر تسلی وتشفی اور آرام و اطمینان کی بارش شروع ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مسلمان ان مصائب وشدائد کی دہلیز تک جاپہنچتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں صبر وصلوٰۃ کی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔ اور اس کا نتیجہ کیا ہوگا فرماتے ہیں : اِنَّ اللہَ مَعَ الصَّابِرِینَ ” بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ “ اللہ ان کے ساتھ ہے ، ان کی مدد کرتا ہے ، انہیں قوت اور ثابت قدمی عطا کرتا ہے ، ان کے ساتھ انس و محبت رکھتا ہے ، اس کٹھن سفر میں وہ انہیں اکیلے نہیں چھوڑتا ۔ وہ انہیں اور ان کی محدود طاقت اور قوت کو چھوڑ کر ایک طرف نہیں ہوجاتا۔ جب بھی زاد راہ ختم ہو اس کی جانب سے رسد آجاتی ہے ۔ جب بھی وہ تھک کر چور چور ہوجائیں وہ انہیں از سر نو قوت عطا کرتا ہے ۔ وہ آیت کا آغاز :” اے ایمان والو “ کی پیاری آواز سے کرتا ہے اور اس کا اختتام ان حوصلہ افزا الفاظ پر کرتا ہے ۔” بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ “ صبر و تحمل کے بارے میں بیشمار احادیث وارد ہیں یہاں سیاق وسباق قرآنی کی مناسبت سے اور اس ذمہ داری کو سنبھالنے کے لئے امت مسلمہ کو تیار کرنے کی خاطر جس کے لئے اس امت کو برپا کیا گیا ہے ان میں سے چند احادیث کا ذکر مناسب ہے : ” حضرت خباب ؓ ، ابن الارت روایت بیان کرتے ہیں ! ہم نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی ۔ آپ ﷺ اس خانہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے تھے ۔ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ہمارے لئے نصرت طلب نہیں فرماتے ؟ ہمارے لئے دعا نہیں فرماتے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے پہلے ایسا ہوتا تھا کہ ایک شخص کو پکڑا جاتا ، اس کے لئے زمین میں گڑھا کھودا جاتا اور اسے اس میں رکھ دیا جاتا ، پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ کر اسے دوٹکڑے کردیا جاتا ۔ اور لوہے کی کنگھیوں سے نوچ کر اس کی ہڈیوں سے گوشت الگ کردیا جاتا لیکن باوجود ان مشکلات کے کوئی طاقت اسے اپنے دین سے نہ روک سکتی ۔ اور اللہ کی قسم اللہ اس کام کو ضرور پورا کرے گا ۔ یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک سفر کرے گا ، لیکن اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہوگا۔ بھیڑیا بھیڑیوں کی رکھوالی کرے گا لیکن افسوس کہ تم جلد بازی کرتے ہو۔ “ (بخاری ، ابوداؤد ، نسائی) ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک بار رسول اللہ ﷺ کسی نبی کا قصہ بیان کرتے تھے ، گویا کہ میں اب بھی انہیں دیکھ رہا ہوں ، اس کی قوم نے انہیں مارا اور لہولہان کردیا ۔ وہ اپنے چہرے سے خون صاف کررہے تھے اور فرما رہے تھے !” اللہ میری قوم کو معاف کردے ۔ یہ لوگ جانتے نہیں۔ “ (بخاری ومسلم) یحییٰ بن وثاب نے رسول اللہ ﷺ کے ایک بوڑھے ساتھی سے روایت کی ہے ۔ آپ نے فرمایا وہ مسلمان جو لوگوں میں رہے اور ان کی اذیتوں پر صبر کرے اس مسلمان سے بہتر ہے جو لوگوں سے الگ رہے اور ان کی اذیتوں پر صبر نہ کرے۔ (ترمذی) اور اب ، تحریک اسلامی مدینہ طیبہ میں ہے ۔ کرہ ارض پر ، اسلامی نظام کے قیام کے لئے ، وہ آگے بڑھ رہی ہے ۔ کیوں نہ بڑھے ! یہ روز اول سے اس کا مقسوم مقدر تھا ۔ اس نے حق کا علم اٹھالیا اور اس علم کو لے کر ایک طویل دشوار گزار سفر پر روانہ ہورہی ہے ۔ قرآن مجیدروحانی طور پر اسے تیار کررہا ہے اس عظیم تحریک جہاد کے دوران کھینچاتانی ہوگی ، مصائب حائل ہوں گے اور ان مجاہدین کو اپنی جانوں اور مالوں کی قربانی دینی ہوگی ، لہٰذا قرآن مجید یہاں انہیں ایک صحیح نقطہ نظر اور ایک درست نقطہ نظریہ حیات عطا کرتا ہے ۔ قرآن تحریک اسلامی کو ایک ایسا معیار ، ایسی کسوٹی ایک ایسی میزان عطا کرتا ہے ، جس پر وہ اس طویل اور کٹھن سفر میں اپنے تمام معاملات اور اپنی تمام اقدار کو پرکھ سکیں۔

البقرة 2:154

معرکہ حق و باطل میں کچھ لوگ کام آئیں گے ، راہ حق میں جان دیں گے ۔ کچھ عزیز ومحبوب مارے جائیں گے ، کچھ شرفاء اور دین دار بھی شہید ہوں گے ، تو جو لوگ اللہ کی راہ میں نکلتے ہیں اور جو لوگ معرکہ خیر وشر میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ، وہ بالعموم پاک نیت اور صاف دل اور صیقل شدہ روح کے مالک ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ اگر اللہ کی راہ میں مارے جائیں تو وہ مردہ نہیں ہیں ۔ درحقیقت وہ زندہ ہیں ۔ یہ جائز نہیں کہ انہیں مردہ کہو ، نہ تو اپنے احساس اور شعور میں انہیں مردہ سمجھو اور نہ ہی زبان سے انہیں مردہ پکارو ۔ وہ تو زندہ ہیں اور اللہ اس پر گواہ ہے ۔ وہ زندہ ہیں یقیناً وہ زندہ ! چشم ظاہر بیں ، دیکھتی ہے کہ بظاہر وہ مرچکے ہیں ۔ کیا یہ سطحی نظر موت وحیات کی حقیقت کا فیصلہ کرسکتی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ زندگی عمل ، ارتقاء اور تسلسل کا نام ہے ۔ موت بےکاری ، جمود اور انقطاع سے عبارت ہے ۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں ان کا عمل جاری رہتا ہے ، ان کی شہادت معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہتی ہے ۔ ان کا خون اس نظریہ حیات کو پہنچتا ہے اور اس سے نظریہ حیات نشوونما پاتا ہے ۔ دوسرے افراد اس شہادت سے متاثر ہوتے رہتے ہیں اور یہ تاثر لگاتار قائم رہتا ہے ۔ شہادت کے بعد بھی شہداء فعال اور موثر ہوتے ہیں ۔ ان کا خون پورے معاشرے کی زندگی میں ایک رنگ پیدا کرتا رہتا ہے ۔ اور یہ تسلسل تاقیامت رہتا ہے ۔ یہ ہے زندگی ، بلکہ حیات جاوداں ۔ اس اعتبار سے تو لوگوں کی اس دنیا میں بھی وہ زندہ ہیں ۔ لیکن وہ اپنے رب کے ہاں بھی زندہ ہیں اور وہاں بھی اس طرح زندہ ہیں جیسے یہاں زندہ ہیں۔ رب کے ہاں ان کی زندگی کی کیا کیفیت ہے ؟ اسی طرح ہے جیسے یہاں ہے یا یہ کہ ہمیں اس کیفیت کا پورا شعور نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لا تَشْعُرُونَدراصل وہ زندہ ہیں ، مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ۔ “ ہمارے علم کا دائرہ محدود ہے ۔ اور یہ ایسی زندگی ہے جسے ہم نہیں سمجھ سکتے ۔ لیکن بہرحال وہ ہیں زندہ ! وہ زندہ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ عام مردوں کی طرح انہیں غسل نہیں دیا جاتا ۔ انہیں ان کے انہی کپڑوں میں دفن کیا جاتا ہے جن میں وہ شہادت پاتے ہیں ۔ غسل سے غرض وغایت یہ ہوتی ہے کہ مردے کا جسم پاک ہوجائے لیکن شہداء پہلے سے پاک ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ ان کے بدن میں روح ہوتی ہے ۔ دنیا میں جو کپڑے انہوں نے پہنے ہوئے تھے قبر میں بھی وہی پہنیں گے کیونکہ بہرحال وہ زندہ ہیں ۔ وہ زندہ ہیں ۔ ان کے خاندان میں اس قتل پر ماتم نہیں ہے۔ ان کے یاروں دوستوں پر یہ جدائی گراں نہیں ہے۔ وہ اس طرح زندہ ہیں کہ اپنے خاندان اور عزیز و اقارب کے امور حیات میں شریک ہیں ۔ وہ زندہ ہیں ۔ اسی لئے تو پیچھے رہنے والوں پر ان کی جدائی گراں نہیں ہوتی ۔ یہ عظیم واقعہ ، یہ عظیم قربانی نہ انہیں خائف کرتی ہے ، نہ ان کے لئے بوجھ بنتی ہے ۔ وہ زندہ ہیں تو پھر ؟ وہ اپنے رب کے ہاں باعزت طور پر رہ رہے ہیں ۔ ان کو بلند ترین اعزاز دیا جاتا ہے اور ان کی اس قربانی کا پورا پورا بدلہ چکا دیا جاتا ہے ، بلکہ فضل عظیم اس پر مزید ہوتا ہے۔ صحیح مسلم میں روایت ہے ” شہداء کی روحیں سبز پرندوں کی شکل میں ، جنت میں جہاں چاہیں اڑتی پھرتی ہیں ، پھر وہ عرش کے نیچے معلق قندیلوں میں آکر بسیرا کرتی ہیں ۔ “ اس کی اطلاع تو رب ذوالجلال کو ہوتی ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” تم کیا چاہتے ہو ؟ “ وہ کہتے ہیں ! ہمارے رب ہمیں اور کیا چاہئے ۔ آپ نے ہمیں وہ کچھ دیا ہے جو آپ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیا ؟ اللہ تعالیٰ پھر وہی سوال فرماتے ہیں ۔ جب انہیں علم ہوجاتا ہے کہ جب تک وہ کچھ مانگیں گے نہیں جان نہ چھوٹے گی ۔ تب وہ کہتے ہیں ! ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں دوبارہ دنیا میں لوٹادیں ، ہم آپ کی راہ میں لڑیں ، ایک بار پھر مارے جائیں ۔ اس لئے کہ شہادت کا اجر تو وہ خود دیکھ ہی رہے ہیں ۔ اللہ جل شانہ فرماتے ہیں !” میں نے لکھ دیا ہے شہداء پھر دنیا میں نہ لوٹائے جائیں۔ “ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ” رسول ﷺ نے فرمایا ! کوئی شخص ایسا نہیں جو ایک بار جنت میں داخل ہوجائے اور پھر وہاں سے نکلنے کی تمنا کرے ۔ اگرچہ اسے تمام دنیا بخش دی جائے ۔ ہاں صرف شہید اس بات کی تمنا کرتا ہے کہ وہ دنیا کو لوٹایا جائے اور ایک مرتبہ پھر اللہ کی راہ میں قتل ہو ، کیونکہ اسے نظر آتا ہے کہ شہید کی کیا قدر ہے۔ “ (مسلم ، بخاری) یہ شہداء کون لوگ ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑیں۔ صرف اللہ کی راہ میں ۔ اس میں کوئی دوسرا نعرہ ، کوئی دوسرا مقصد اور کوئی دوسرا نظریہ شریک نہ ہو ، صرف اس سچائی کے لئے لڑ رہے ہوں ، جسے اللہ نے نازل فرمایا۔ صرف اس نظام زندگی کے لئے جو اس نے وضع فرمایا۔ صرف اس دین کی راہ میں جسے اللہ نے واجب کردیا ہے ۔ صرف اس کی راہ میں ۔ کسی اور راہ میں نہیں ۔ کسی اور جھنڈے تلے نہیں ، نہ کسی اور شعار اور کسی مقصد کی شراکت میں ۔ قرآن وسنت نے اس خلوص نیت پر بہت زور دیا ہے ، یہاں تک کہ مجاہد کے نفس میں کوئی شبہ نہ رہے ، غیر اللہ کا کوئی شائبہ نہ رہے ۔ وہ صرف اللہ ہی کا ہو۔ حضرت موسیٰ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں ! رسول ﷺ سے ، ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا ، جو نمائش شجاعت کے لئے یا اظہار حمیت کے لئے یاریا کے لئے لڑتا ہے آیا ان میں سے کون فی سبیل اللہ ہے ۔ رسول ﷺ نے فرمایا ! فی سبیل اللہ صرف وہ ہے جو محض اس لئے لڑے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو۔ “ حضرت ابوموسیٰ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں ! رسول ﷺ سے ، ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا ، جو نمائش شجاعت کے لئے یا اظہار حمیت کے لئے بار بار لڑتا ہے آیا ان میں سے کون فی سبیل اللہ ہے ۔ رسول ﷺ نے فرمایا ! فی سبیل اللہ صرف وہ ہے جو محض اس لئے لڑے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو۔ “ (مالک ، امام بخاری ، امام مسلم) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ایک شخص جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ کرتا ہے ، لیکن اس کے ساتھ اس کی دنیاوی غرض بھی وابستہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا !” اس کے لئے کوئی اجر نہیں ہے۔ “ اس شخص نے تین مرتبہ یہ سوال دہرایا۔ اور ہر مرتبہ رسول ﷺ نے فرمایا !” اس کے لئے کوئی اجر نہیں ہے ۔ “ (ابوداؤد) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں رسول ﷺ نے فرمایا ! جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلتا ہے اور اس جہاد کے لئے وہ صرف اس لئے نکلتا ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لایا ہے ، رسولوں کی تصدیق کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو ضمانت دی ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کریں گے یا وہ جس مسکن سے جہاد کے لئے نکلتا ہے اسے وہاں واپس کردے گا اور اپنے ساتھ اجر وثواب اور مال غنیمت کا ایک حظہ وافر لے جائے گا ۔ اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ۔ اللہ کی راہ میں اسے جو زخم آئے ، قیامت کے دن یہ مجاہد اسی زخمی حالت میں اٹھایا جائے گا ۔ زخم کا رنگ خون کے رنگ جیسا ہوگا اور اس کی بو ، مشک کی طرح ہوگی ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ۔ اگر مسلمانوں کے لئے یہ بات مشقت نہ بنتی تو میں کبھی اس دستے سے پیچھے نہ رہتا جو اللہ کی راہ میں لڑائی کے لئے نکلتا ہے ۔ لیکن نہ میرے پاس اس قدر گنجائش ہوتی ہے کہ میں تمام لوگوں کے لئے سواری کا بندوبست کروں اور نہ ان میں طاقت طاقت ہوتی ہے کہ وہ میرے پیچھے آسکیں ۔ اور یہ بات ان کے لئے قابل برداشت نہ ہو کہ میں چلا جاؤں اور وہ پیچھے رہیں ۔ اس ذات کی قسم ، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ میری یہ خواہش ہے کہ میں راہ اللہ میں مارا جاؤں ۔ پھر جنگ کروں اور مارا جاؤں ۔ پھر جنگ کروں اور مارا جاؤں۔ (مالک ، بخاری ، مسلم) یہ ہیں شہداء وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلتے ہیں ۔ لیکن سوائے اس کے کہ وہ اللہ پر ایمان لائے ہوئے ہیں ، سوائے اس کے کہ وہ تمام رسولوں کی تصدیق کرتے ہیں اور سوائے ، اس کے کہ وہ ایمان کے نتیجے میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہتے ہیں ، ان کے دل میں کوئی اور داعیہ نہ ہو۔ ایک موقع پر رسول ﷺ نے ایک فارسی مجاہد کو اس بات سے روکا کہ وہ جہاد کے موقع پر اپنی فارسیت کا ذکر کرے یا اپنی قومیت پر کسی قسم کا فخر کرے ۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ ابن ابوعقبہ سے روایت ہے ، وہ اپنے باپ سے روایت فرماتے ہیں (یہ اہل فارس کے آزاد کردہ غلام تھے ) فرماتے ہیں میں جنگ احد میں رسول ﷺ کے ساتھ شریک ہوا ۔ میں نے مشرکین کے ایک آدمی پر ضرب لگائی اور کہا : یہ لو ، اور میں ایک فارسی الاصل غلام ہوں ۔ “ اس پر رسول ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ! تم نے یہ کیوں نہ کہا ! اور میں انصاری غلام ہوں میں ان کی بہن کا بیٹا ہوں اور ان کا آزاد کردہ غلام ہوں۔ “ (ابوداؤد) رسول اللہ ﷺ نے اس بات کو پسند نہ فرمایا کہ وہ آپ کی نصرت کے علاوہ کسی اور صفت پر فخر کرے ، یا وہ اس دین کی حمایت ونصرت کے علاوہ کسی اور جھنڈے یا کسی اور نعرے کے لئے جنگ کرے ۔ یہ ہے اسلامی جہاد اور صرف اس جہاد کے نتیجے میں انسان مرتبہ شہادت پر فائز ہوتا ہے ۔ اور اسے وہ زندگی نصیب ہوتی ہے جس پر شہداء فائز ہوتے ہیں ۔

البقرة 2:155

اب اس سبق میں تحریک اسلامی کو نئے واقعات اور نئی صورتحال کے مقابلے کے لئے تیار کیا جاتا ہے ۔ آنے والے واقعات کے سلسلے میں اسے ایک صحیح نقطہ نظر دیا جاتا ہے : تربیت کے لئے انسان کو مصائب کی بھٹی سے گزارا جاتا ہے ۔ خوف وخطر میں مبتلا کرکے ، جان ومال کا نقصان دے کر ، مصائب اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے ، اللہ طالب صادق کے عزم صمیم کا امتحان کرتے ہیں ۔ یہ آزمائشیں اس لئے ضروری ہیں کہ مؤمنین اسلامی نظریہ حیات کی ذمہ داریاں اچھی طرح پوری کرنے کے قابل ہوسکیں اور اسلامی نظریہ حیات کی راہ میں ، جتنا مصائب سے دوچار ہوں ، اسی قدر نظریہ حیات انہیں عزیز ہوتا چلاجائے۔ وہ نظریات جن کے لئے ان مجاہدین نے کوئی تکلیف نہ اٹھائی ہو نہ کوئی مصیبت برداشت کی ہو ، پائیدار نہیں ہوتے ۔ ایسے لوگ مصیبت کے پہلے مرحلے ہی میں انہیں الوداع کہہ دیتے ہیں ۔ آزمائشیں دراصل ایک نفسیاتی امتحان ہوتی ہیں ، جو ایک کارکن اپنے نظریہ حیات کے لئے پاس کرتا ہے اور اس کی وجہ سے دوسرے لوگوں سے پہلے یہ نظریہ اس کارکن کے لئے عزیز ترازجان ہوجاتا ہے ۔ کارکن نظریہ کی خاطر جب دکھ پائیں گے اور مال خرچ کریں گے تو پھر وہ اس کی قدر کریں گے اور اس کی حفاظت بھی کریں گے ۔ دوسرے لوگ بھی اس نظریے کی قدر تب ہی کریں گے جب وہ دیکھیں گے کہ اس نظریے کو ماننے والے ان پر جان دیتے ہیں اور اس کی وجہ سے آنے والی تمام مصیبتوں کو بخوشی برداشت کرتے ہیں ۔ اپنے نظریات کے لئے مصیبت اٹھانے والوں کو دیکھ کر عام تماشائی بھی یہ کہیں گے ” وہ نظریہ حیات جس کے لئے یہ لوگ لڑتے ہیں ، کوئی بڑی ہی قیمتی چیز ہے ، اگر وہ قیمتی نہ ہوتی تو یہ لوگ اس قدر عظیم قربانیاں ہرگز نہ دیتے اور ان عظیم مصائب وشدائد پر صبر نہ کرتے۔ “ ایسے حالات میں اس نظریہ حیات کے مخالفین بھی لاجواب ہوجاتے ہیں اور اس کے بارے میں تحقیق شروع کردیتے ، قدر کرنے لگتے ہیں اور خود بخود اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں ۔ یہ وہ مقام ہے جس تک پہنچ جانے کے بعد اللہ کی امداد اور نصرت آپہنچتی ہے اور لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوتے ہیں ۔ آزمائش بہت ضروری ہے اس سے نظریاتی لوگوں کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے ان کی کمر مضبوط ہوتی ہے ۔ مصائب وشداد سے ان کی خفیہ قوتیں جاگ اٹھتی ہیں ۔ ذخیرہ شدہ طاقتوں کے لئے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں جن کے بارے میں ، ان مصائب وشدائد سے پہلے مومن کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ اسلامی اقدار اور اسلامی تصورات اس وقت پختہ اور سیدھے نہیں ہوسکتے جب تک انہیں شدائد ومصائب کی بھٹی سے نہ گزاراجائے ۔ یہ مصائب کا نتیجہ ہی ہوتا ہے کہ کارکنوں کی آنکھیں روشن ہوجاتی ہیں اور دلوں سے میل دورہوجاتا ہے ۔ اب سے اہم ، سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ مصائب وشدائد کی حالت میں تمام دنیاوی رابطے کٹ جاتے ہیں ۔ مختلف الاقسام اوہام اور تمنائیں غائب ہوجاتی ہیں ، دل اللہ کے لئے خالی ہوجاتا ہے بلکہ صرف اللہ کا سہارا باقی رہ جاتا ہے ۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے ، جہاں تمام پردے ہٹ جاتے ہیں ، بصیرت کے دروازے کھل جاتے ہیں ، مطلع دور تک صاف و شفاف ہوتا ہے ، اللہ کے سوا کوئی شئے نظر نہیں آتی ، اللہ کی قوت کے سوا کوئی قوت نظروں میں نہیں جچتی ، اللہ کے سوا کسی کا کوئی اختیار نظر نہیں آتا ، اللہ ہی کی پناہ ہوتی ہے ، اس کے سوا کسی کی پناہ نہیں ہوتی ۔ اس مقام پر پہنچ کر انسانی روح اس حقیقت کے ساتھ یکجا ہوجاتی ہے ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کریم کی یہ آیت نفس انسانی کا ایک حصہ بن جاتی ہے ۔ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (155) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ” اور خوشخبری سنائیں ان صبر کرنے والوں کو ، جن پر کبھی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ! ہم تو اللہ کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ “ بیشک ہم اللہ کے لئے ہیں سب کے سب اللہ کے لئے ہیں ۔ ہمارے جسم کے اندر جو طاقتیں ہیں ، بلکہ ہمارا تمام وجود اور ہماری پوری شخصیت اللہ اور صرف اللہ کے لئے ہے ۔ ہم کو اللہ ہی طرف لوٹنا ہے ۔ تمام باتوں کا مرجع وہی ہے ۔ سر تسلیم خم ہے ۔ ہر معاملے میں سر تسلیم خم ہے ! گویا ہم صحیح تصور اور صحیح عقیدے کے ساتھ ، کائنات کی واحد سچائی اور حقیقت یعنی رب ذوالجلال کے سامنے کھڑے ہیں اور دست بدعا ہیں ۔ یہ ہیں وہ صابرین جنہیں جلیل القدر رسول ﷺ ، انعام واکرام کی خوش خبری دیتا ہے ۔ اس مقام ومرتبے کا اعلان خود رب جلیل کرتا ہے ۔

البقرة 2:156

اب اس سبق میں تحریک اسلامی کو نئے واقعات اور نئی صورتحال کے مقابلے کے لئے تیار کیا جاتا ہے ۔ آنے والے واقعات کے سلسلے میں اسے ایک صحیح نقطہ نظر دیا جاتا ہے : تربیت کے لئے انسان کو مصائب کی بھٹی سے گزارا جاتا ہے ۔ خوف وخطر میں مبتلا کرکے ، جان ومال کا نقصان دے کر ، مصائب اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے ، اللہ طالب صادق کے عزم صمیم کا امتحان کرتے ہیں ۔ یہ آزمائشیں اس لئے ضروری ہیں کہ مؤمنین اسلامی نظریہ حیات کی ذمہ داریاں اچھی طرح پوری کرنے کے قابل ہوسکیں اور اسلامی نظریہ حیات کی راہ میں ، جتنا مصائب سے دوچار ہوں ، اسی قدر نظریہ حیات انہیں عزیز ہوتا چلاجائے۔ وہ نظریات جن کے لئے ان مجاہدین نے کوئی تکلیف نہ اٹھائی ہو نہ کوئی مصیبت برداشت کی ہو ، پائیدار نہیں ہوتے ۔ ایسے لوگ مصیبت کے پہلے مرحلے ہی میں انہیں الوداع کہہ دیتے ہیں ۔ آزمائشیں دراصل ایک نفسیاتی امتحان ہوتی ہیں ، جو ایک کارکن اپنے نظریہ حیات کے لئے پاس کرتا ہے اور اس کی وجہ سے دوسرے لوگوں سے پہلے یہ نظریہ اس کارکن کے لئے عزیز ترازجان ہوجاتا ہے ۔ کارکن نظریہ کی خاطر جب دکھ پائیں گے اور مال خرچ کریں گے تو پھر وہ اس کی قدر کریں گے اور اس کی حفاظت بھی کریں گے ۔ دوسرے لوگ بھی اس نظریے کی قدر تب ہی کریں گے جب وہ دیکھیں گے کہ اس نظریے کو ماننے والے ان پر جان دیتے ہیں اور اس کی وجہ سے آنے والی تمام مصیبتوں کو بخوشی برداشت کرتے ہیں ۔ اپنے نظریات کے لئے مصیبت اٹھانے والوں کو دیکھ کر عام تماشائی بھی یہ کہیں گے ” وہ نظریہ حیات جس کے لئے یہ لوگ لڑتے ہیں ، کوئی بڑی ہی قیمتی چیز ہے ، اگر وہ قیمتی نہ ہوتی تو یہ لوگ اس قدر عظیم قربانیاں ہرگز نہ دیتے اور ان عظیم مصائب وشدائد پر صبر نہ کرتے۔ “ ایسے حالات میں اس نظریہ حیات کے مخالفین بھی لاجواب ہوجاتے ہیں اور اس کے بارے میں تحقیق شروع کردیتے ، قدر کرنے لگتے ہیں اور خود بخود اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں ۔ یہ وہ مقام ہے جس تک پہنچ جانے کے بعد اللہ کی امداد اور نصرت آپہنچتی ہے اور لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوتے ہیں ۔ آزمائش بہت ضروری ہے اس سے نظریاتی لوگوں کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے ان کی کمر مضبوط ہوتی ہے ۔ مصائب وشداد سے ان کی خفیہ قوتیں جاگ اٹھتی ہیں ۔ ذخیرہ شدہ طاقتوں کے لئے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں جن کے بارے میں ، ان مصائب وشدائد سے پہلے مومن کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ اسلامی اقدار اور اسلامی تصورات اس وقت پختہ اور سیدھے نہیں ہوسکتے جب تک انہیں شدائد ومصائب کی بھٹی سے نہ گزاراجائے ۔ یہ مصائب کا نتیجہ ہی ہوتا ہے کہ کارکنوں کی آنکھیں روشن ہوجاتی ہیں اور دلوں سے میل دورہوجاتا ہے ۔ اب سے اہم ، سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ مصائب وشدائد کی حالت میں تمام دنیاوی رابطے کٹ جاتے ہیں ۔ مختلف الاقسام اوہام اور تمنائیں غائب ہوجاتی ہیں ، دل اللہ کے لئے خالی ہوجاتا ہے بلکہ صرف اللہ کا سہارا باقی رہ جاتا ہے ۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے ، جہاں تمام پردے ہٹ جاتے ہیں ، بصیرت کے دروازے کھل جاتے ہیں ، مطلع دور تک صاف و شفاف ہوتا ہے ، اللہ کے سوا کوئی شئے نظر نہیں آتی ، اللہ کی قوت کے سوا کوئی قوت نظروں میں نہیں جچتی ، اللہ کے سوا کسی کا کوئی اختیار نظر نہیں آتا ، اللہ ہی کی پناہ ہوتی ہے ، اس کے سوا کسی کی پناہ نہیں ہوتی ۔ اس مقام پر پہنچ کر انسانی روح اس حقیقت کے ساتھ یکجا ہوجاتی ہے ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کریم کی یہ آیت نفس انسانی کا ایک حصہ بن جاتی ہے ۔ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (155) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ” اور خوشخبری سنائیں ان صبر کرنے والوں کو ، جن پر کبھی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ! ہم تو اللہ کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ “ بیشک ہم اللہ کے لئے ہیں سب کے سب اللہ کے لئے ہیں ۔ ہمارے جسم کے اندر جو طاقتیں ہیں ، بلکہ ہمارا تمام وجود اور ہماری پوری شخصیت اللہ اور صرف اللہ کے لئے ہے ۔ ہم کو اللہ ہی طرف لوٹنا ہے ۔ تمام باتوں کا مرجع وہی ہے ۔ سر تسلیم خم ہے ۔ ہر معاملے میں سر تسلیم خم ہے ! گویا ہم صحیح تصور اور صحیح عقیدے کے ساتھ ، کائنات کی واحد سچائی اور حقیقت یعنی رب ذوالجلال کے سامنے کھڑے ہیں اور دست بدعا ہیں ۔ یہ ہیں وہ صابرین جنہیں جلیل القدر رسول ﷺ ، انعام واکرام کی خوش خبری دیتا ہے ۔ اس مقام ومرتبے کا اعلان خود رب جلیل کرتا ہے ۔

البقرة 2:157

اللہ کی طرف سے عنایات ہوں گی ۔ یہاں صابرین کے لئے لفظ صلوات استعمال کرکے گویا صابرین کو ان صلوات (عنایات) میں شریک کردیا گیا ، جو اللہ اور اس کے فرشتے نبیوں پر بھیجتے رہتے ہیں ۔ کیا ہی بلند مقام ہے ۔ کیا فیضان رحمت ہے کہ خود اللہ گواہ ہے کہ مصائب میں صبر کرنے والے ہی دراصل صحیح معرفت رکھتے ہیں اور صحیح راہ پر گامزن ہیں ۔ غرض ہر بات عظیم اور محیر العقول ہے ۔ تحریک اسلامی کی تیاری اور تربیت کے اس سبق کے آخر تک ہم پہنچ گئے ۔ ذرارک کر جائزہ لیجئے ! مصائب وشدائد ، قتل وشہادت ، جان ومال کا نقصان ، بھوک و افلاس اور خوف وخطر اور دوسری مشکلات کے لئے یہ عظیم تیاری اور تربیت ، پر آشوب اور پر خطر اور عظیم المشقت طویل ترین معرکہ حق و باطل کے لئے یہ عظیم تیاری ۔ یہ سب امور گہرے غور وفکر کے مستحق ہیں۔ ذرا دیکھئے ! اللہ ان تمام مصائب اور مشکلات کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھتے ہیں ، جبکہ دوسری طرف صرف ایک بات ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایات ، اس کی جانب سے رحمت کے مستحق ہیں اور یہ اعلان کہ دنیا میں یہی لوگ ہدایت پر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس موقع پر مؤمنین صابرین کے ساتھ کسی ظفرمندی اور کامرانی کا وعدہ نہیں فرماتے ، کسی خصوصی امداد کا بھی یہاں کوئی اعلان نہیں کیا جاتا ۔ نہ یہاں مال غنیمت کا لالچ دیا جاتا ہے ۔ کچھ بھی نہیں ! صرف اللہ کی رحمت و عنایت کا وعدہ ہوتا ہے اور یہ شہادت دی جاتی ہے کہ وہ یقیناً سچائی اور حق پر ہیں ۔۔۔ اللہ تعالیٰ صابرین کو ایک ایسے کام کے لئے تیار کررہا تھا جو ان کی ذات وحیات سے زیادہ قیمتی ہے ۔۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اس جماعت کو ہر اس خواہش ورغبت سے پاک کرنا چاہتا ہے ، جس کا تعلق دنیا سے ہو۔ یہاں تک کہ ان کو ہدایت کی گئی کہ جس نصب العین کے لئے وہ کام کررہے ہیں ، جس نظریہ حیات کے لئے وہ جدوجہد کررہے ہیں اور جان تک دینے کو تیار ہیں ، اس کے غلبہ کی خواہش تک دلوں سے نکال دیں ۔ اور صرف رضائے الٰہی اور اطاعت خداوندی کو اپنا منشور قرار دیں ۔ وہ صرف حکم الٰہی کے پابند ہوں۔ وہ آگے بڑھتے چلے جائیں اور ان کے پیش نظر اللہ کی رضامندی ، اللہ کی رحمت کے حصول اور اس اطمینان کے سوا کچھ نہ ہو ، کہ وہ حق کے لئے نکلے ہیں اور صحیح رستے پر ہیں ۔ یہ ہے صحیح نصب العین ۔ یہ ہے صحیح غرض وغایت اور یہ اور صرف یہ ہے وہ ثمر شیریں جس کے لئے وہ والہانہ دوڑ رہے ہیں ۔ رہی یہ امید کہ اس جدوجہد کے نتیجے میں انہیں فتح ونصرت حاصل ہوگی ۔ انہیں کرہ ارض پر غلبہ و اقتدار نصیب ہوگا تو یہ تصرف و غلبہ یہ اقتدار واختیار ان کے لئے تو نہیں ہے ، یہ تو اس دعوت اسلامی کا غلبہ ہوگا جس کے وہ حامل ہیں ۔ رہے اہل ایمان مجاہدین ، تو انہیں ایک عظیم اجر دے دیا گیا ، اللہ کی عنایات اور اللہ کی رحمت ہوگی اور انہیں یہ سرٹیفکیٹ دے دیا گیا کہ وہی حق پر ہیں ۔ اور انہیں یہ اجر کس کے بدلے دیا گیا ؟ جان ومال کی قربانی پر اور آمدنیوں پر دیا گیا۔ یہ اللہ کی راہ میں قتل و شہادت پر دیا گیا ہے ۔ لیکن پھر بھی اللہ کے فضل و عنایت کا پلڑا بھاری ہے ۔ یہ عنایت تمام عنایات سے بھاری ہے ۔ فتح ، نصرت اور تمکن فی الارض تمام امور سے یہ عنایت بھاری ہے ۔ نیز یہ اس مسرت سے زیادہ خوش آئند ہے جو فتح ونصرت اور اسلامی انقلاب کے بعد حسرت دل پوری ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ ہے وہ ترتیب جس سے اللہ تعالیٰ نے اسلامی محاذ کو گزارا۔ بنی نوع انسان میں سے ، جو شخص اپنے نفس ، اپنی دعوت اور اپنے دین کو پاک وصاف کرنا چاہتا ہے ، اسے چاہئے کہ وہ تربیت کے اس انداز کو اپنائے۔ درس 10 ایک نظر میں اس سبق میں بعض بنیادی اصولوں کی تصحیح مطلوب ہے ، جن پر اسلامی تصور حیات کی عمارت قائم ہے ۔ اسلام کے ان بنیادی اصولوں کے سلسلے میں مدینہ طیبہ کے یہودی تلبیس کرتے تھے اور حق کو باطل سے ملاتے تھے ، جان بوجھ کر حق چھپاتے تھے ، مسلمانوں کے دلوں میں اضطراب اور ذہنوں میں پراگندگی پیدا کرتے تھے ۔ اس لئے ضروری تھا ان اصولوں کے بارے میں واضح احکام دیئے جائیں ۔ البتہ انداز بیان عمومی ہے اور یہود اور دوسرے مخالفین کے برخلاف بات اصولی طور پر کی گئی اور مسلمانوں کو ان خطرات سے آگاہ کیا گیا ہے ، جو اس راہ میں ، بالعموم انہیں درپیش ہوسکتے ہیں ۔ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کے مسئلے کو بھی لیا گیا ہے ۔ دور جاہلیت میں اس سعی کے ساتھ چونکہ بعض غیر اسلامی اور شرکیہ تصورات وابستہ تھے ، اس لئے وضاحت کردی گئی کہ یہ شعائر اللہ میں سے ہیں لہٰذا سعی جائز ہے ۔ تحویل قبلہ سے بھی اس کی مناسب واضح ہے ۔ نیز بیت اللہ کے حج اور دوسرے شعائر کو چونکہ اسلامی نظام نے قائم رکھا ہے ، اس لئے یہ مناسب تھا کہ ان امور کے سلسلے میں اسلامی نظام اپنی پالیسی واضح کرے ۔ یہودی اللہ کی تعلیمات وہدایات کو چھپاتے تھے ۔ یہاں ان کی سخت مذمت کی جاتی ہے ۔ البتہ یہ کہا جاتا ہے کہ توبہ کا دروازہ کھلا ہے ، صدبار اگر توبہ شکستی بازآ، لیکن اگر وہ اپنی روش پر قائم رہتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں تو ان پر لعنت کی بارش ہوگی اور دردناک عذاب ان کا منتظر ہے ۔ اللہ کی وحدانیت کا بیان اور اس پر تکوینی دلائل ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے شدید وعید ہے جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ان تابعین اور مبتوعین کے تعلق کا ایک منظر بھی پیش کیا گیا ہے جو قیامت میں اس وقت سامنے آئے گا جب یہ لوگ عذاب الٰہی دیکھیں کو دیکھیں گے تو ایک دوسرے سے بریت کا اظہار کریں گے لیکن بےسود ۔ جو لوگ محض دنیاوی اغراض ومناصب کے لئے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام چھپاتے ہیں ، انہیں سخت تنبیہ کی گئی ہے ۔ ان سے کہا گیا ہے کہ آخرت میں ذلت ، حقارت اور اللہ تعالیٰ کا شدید غضب تمہارے لئے تیار ہے ۔ آخر میں نیکی اور بدی کا اسلامی معیار بتایا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ایمان اور عمل صالح ہی وہ اصول ہیں ، جن سے اسلامی تصور حیات درست ہوتا ہے ۔ نیکی سے مراد کوئی ظاہری شکل و صورت نہیں ہے نہ صرف شرق وغرب کی طرف چہرہ کرکے نماز پڑھنا اصول تقویٰ میں سے ہے ۔ نیکی تو شعور وعمل اور شعور عمل میں اللہ سے پختہ رابطے کا نام ہے ۔ یہ بیان دراصل تحویل قبلہ کے مباحث سے ملحق ہے۔ اس تمام بحث کو بغور پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بات اسی ایک مضمون یعنی معرکہ حق و باطل کے اردگرد گھومتی ہے ۔ ذہن انسانی میں حق و باطل کی کشمکش ہے ۔ اسلامی اقدار کا تعین ہورہا ہے اور تصور حیات کی وضاحت ہورہی ہے اور بیرونی سازشوں اور مکروفریب اور ذہنی پراگندی پیدا کرنے والے مخالفین کے اعتراضات اور پروپیگنڈے کا جواب دیا گیا ہے۔

البقرة 2:158

اس آیت کی شان نزول میں متعدد روایات منقول ہیں ۔ اسلام نے مہاجرین وانصار کے سابقون الاولون کے دلوں میں جس قسم کا تصور حیات پیدا کیا تھا اس کی نوعیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے سب سے زیادہ موضوع اور اس وقت نفیساتی منطق کے مطابق کتب حدیث کی وہ روایت ہے جس میں کہا گیا ہے :” بعض مسلمان حج وعمرہ کے موقع پر صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنے سے کراہت محسوس کرتے تھے ۔ کیونکہ جاہلیت کے زمانے میں ان پہاڑیوں کے درمیان وہ اس لئے سعی کرتے تھے کہ یہ مقامات دو بتوں ، اساف ونائلہ کے استھان تھے ۔ اس لئے اسلام آنے کے بعد اب مسلمان اس سعی میں کراہت محسوس کرنے لگے تھے اور اسے زمانہ جاہلیت کا ایک فعل تصور کرنے لگے تھے ۔ “ امام بخاری (رح) نے محمد ابن یوسف ، سفیان ، عاصم بن سلیمان کے سلسلے سے روایت نقل کی ہے ۔ سلیمان کہتے ہیں : میں نے حضرت انس ؓ سے صفاو مروہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا :” ہم سمجھتے تھے کہ یہ دورجاہلیت کی رسومات ہیں ۔ جب اسلام کا ظہور ہوا تو ہم نے صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنا ترک کردی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی یہ آیت نازل فرمائی ” صفا ومروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ “ امام شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ اساف بت صفا پر تھا ، اور نائلہ مروہ پر اور وہ انہیں بوسہ دیا کرتے تھے ۔ اس لئے اسلام کے بعد مسلمانوں نے ان کے درمیان سعی کرنے میں کراہت محسوس کی اور اسی پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ روایات میں اس آیت کے نزول کی تاریخ متعین نہیں ہے ، البتہ راجع صورت یہ ہے کہ تحویل قبلہ کے سلسلہ میں جو آیات نازل ہوئیں یہ ان کے بعد نازل ہوئی ہے ۔ اگرچہ اس دور میں مکہ مکرمہ دارالحرب بن گیا تھا ، لیکن اس کے باوجود بعض مسلمان انفرادی طور پر حج اور عمرہ کرسکتے تھے ۔ ایسے ہی لوگوں نے صفا ومروہ کے درمیان سعی کو جاہلیت کی ایک رسم سمجھا ہوگا۔ ان کے دلوں میں طویل تعلیم و تربیت کے نتیجے میں ایمانی تصور حیات جاگزیں ہوچکا تھا۔ اور اس کی برکت سے وہ جاہلیت کے ہر فعل اور ہر رسم و رواج کو شک اور کراہیت کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ وہ جاہلیت کے ہر کام کے بارے میں اس قدر حساس ہوگئے تھے کہ جاہلیت کے دور میں کئے جانے والے ہر فعل کو کرتے ہوئے ڈرتے تھے ، مبادا کہ اسلام نے اسے ترک کرنے کا حکم دیا ہو ۔ مسلمانوں نے مختلف مواقع پر اپنے اس احساس کا بھرپور مظاہرہ کیا ۔ اسلام کی دعوت نے ان لوگوں کے دلوں کو خوب جھنجھوڑ دیا تھا اور یہ دعوت ان کے دلوں کی گہرائیوں تک اترچکی تھی اور اس دعوت نے ان کے دلوں میں ایک عظیم نفسیاتی اور شعوری انقلاب برپا کردیا تھا ۔ وہ اپنی ہر بات کو کراہیت سے دیکھتے تھے بلکہ وہ ماضی کو ترک کرچکے تھے تھے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ دورجاہلیت ان کی زندگی کا ایک باب تھا جسے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کرچکے ہیں ۔ ان کا ماضی اب ان سے کوئی تعلق ہے ، نہ ان کا ماضی سے کوئی واسطہ ہے ۔ ان کے خیال میں ان کا ماضی ایک قسم کی ناپاکی اور گندگی تھا جسے اب چھونا بھی جائز نہ تھا۔ اس برگزیدہ قوم کی زندگی کے آخری دور کو ذرا غور سے پڑھا جائے ، تو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ان پاک نفوس پر اس اسلامی نظریہ حیات کا کیا ہی عجیب اثر ہوگیا تھا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو پکڑ کر جھنجھوڑا اور ان سے ہر قسم کی آلودگی کو جھاڑ دیا ۔ اور ان کے وجود کے ذرات کو جدید طرز پر مرتب کردیا بعینہ اس طرح جس طرح بجلی کا ایک جھٹکا دینے سے کسی مادے کے اجزاء اپنی سابقہ کیمیاوی شکل بدل دیتے ہیں اور ایک بالکل نئی شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔ یہ ہے اسلام یعنی جاہلیت سے پوری طرح باہر نکل آنا ، اور جاہلیت کے تمام امور کو پوری طرح حرام اور ناپسندیدہ سمجھنا ۔ ہر اس ناپسندیدہ حرکت سے باہر آنا جو جاہلیت ہوتی تھی ۔ ہر اس شعور کو دل و دماغ سے نکال دینا جو جاہلیت کے دور میں ذہنوں پر حاوی ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ مومن کا جام صبونئے تصور حیات اور اس کے تمام لوازمات کے لئے خالی ہوجائے ۔ تحریک اسلامی کی تاریخ شاہد ہے کہ جب مسلمانوں کے دل و دماغ میں یہ شعور اچھی طرح رچ بس گیا اور وہ اچھی طرح پختہ کار ہوگئے ، تب اسلام نے دورجاہلیت کے شعائر میں سے ، بعض مناسب شعائر کو باقی رکھنے کا اعلان فرمایا۔ اور اس سے پہلے ان شعائر کا رشتہ دورجاہلیت سے کاٹ دیا اور اس کے اسلام کے نظام میں ، اس طرح پیوست کردیا ، جس طرح نگینہ انگشتری میں پیوست ہوجاتا ہے ۔ اب ان چیدہ شعائر پر ایک مسلمان اس لئے عمل پیرا نہیں ہوتا تھا کہ دور جاہلیت میں وہ ان پر عمل کرتا تھا ، بلکہ وہ انہیں اسلام کا ایک شعار جدید تصور کرتا تھا۔ جس کا اصل اسلام میں ہوتا تھا جس کی جڑیں اسلامی نظام زندگی سے آبیاری حاصل کرتی تھیں ۔ اسلام کے ٹھوس اور عمیق نظام تربیت کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن مجید خاص اس مسئلے کے بارے میں اس طرح بات شروع کرتا ہے کہ وہ صفا ومروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ یقیناً صفا ومروہ اللہ کی نشانیوں میں ہیں ۔ “ گوبتایا جاتا ہے کہ ان کے درمیان جو شخص بھی سعی کرے گا وہ اللہ کے شعائر میں سے ایک فریضہ ادا کرے گا۔ وہ ان کے درمیان جو سعی کرے گا اس سے غرض اطاعت حکم خداوندی ہے ۔ اس سعی اور دور جاہلیت کی سعی کے درمیان اب کوئی تعلق باقی نہیں رہا ۔ اب اس کا آساف ونائلہ اور جاہلیت کے دوسرے بتوں سے کوئی ربط وعقیدت نہیں ہے ، بلکہ تعلق صرف اللہ اور رسول سے ہے ۔ لہٰذا اب اس طواف وسعی میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ کوئی گناہ کی بات نہیں ہے ، بات وہ پرانی بات نہیں رہی ، نقطہ نظر وہ پرانا نقطہ نظر نہیں رہا ہے فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا ” لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج وعمرہ کرے ، اس کے لئے کوئی گناہ کی بات نہیں ہے کہ وہ ان دونوں پہاڑوں کے درمیان سعی کرے ۔ “ حج میں عرب جن مناسک پر عمل کیا کرتے تھے ان میں سے اکثر کو اسلام نے علی حالہ برقرار رکھا ہے ۔ صرف ان چیزوں کو ترک کروایا جن کی نسبت سے بتوں کی طرف تھی یا جو جاہلیت کے اوہام پر مبنی تھیں اور ان کی کوئی حقیقت نہ تھی ۔ جن شعائر کو بحال رکھا گیا ان کا ربط بھی اسلام کے جدید تصور حیات نے قائم کردیا اور یہ کہا کہ یہ وہ شعائر ہیں جن پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عمل کیا (تفصیلات آئندہ بیان حج میں ملاحظہ ہوں) حج اور عمرہ کے مناسک ایک ہی ہیں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ عمرہ میں عرفہ پر وقوف فرض نہیں ہے ، نیز حج کے لئے جو میقات (وہ مقامات جن سے آگے بغیر نیت نہیں جاسکتا) مقرر ہیں وہ عمرہ کے لئے نہیں ہیں ، لیکن حج اور عمرہ دونوں میں سعی بین الصفا والمروۃ ضروری ہے ۔ اور شعائر اللہ میں سے ہے۔ آیت کا اختتام اس فقرے پر ہوتا ہے کہ جو شخص بھی برضا ورغبت مطلقاً نیکی کا کوئی بھی کام کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے : وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ” اور جو شخص بھی برضا ورغبت کوئی بھلائی کا کام کرے گا ، اللہ کو اس کا علم ہے اور وہ اس کی قدر کرنے والا ہے ۔ “ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ سعی بھی دراصل بھلائی ہے ۔ اس اشارے سے دلی کراہیت دور ہوجاتی ہے ، دل ان کی ادائیگی پر آمادہ ہوجاتا ہے ، اس امر پر مطمئن ہوجاتا ہے کہ اللہ تو اس سعی کا شمار نیکی میں کرے گا۔ پھر اس نیکی پر جزائے خیر بھی دیتا ہے اور وہ نیتوں کا مالک ہے اور قلب کی ہر شعوری حرکت سے باخبر ہے ۔ اب ذرا رکیے ! اور اس حکیمانہ انداز بیان پر دوبارہ ایک نگاہ ڈالئے فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ ” اللہ قدر کرنے والا ہے۔ “ مقصد یہ ہے کہ اللہ بھلائی سے راضی ہوتا ہے ۔ اس کا اجر دیتا ہے ، ثواب دیتا ہے ۔ لفظ ” شاکر “ سے صرف ایک خاص مفہوم ہی نہیں نکلتا بلکہ وہ ایک خاص سایہ عاطفت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے ۔ یہ لفظ رضائے کامل کا پرتو ہے ۔ گویا ذات باری بندے کے نیک اعمال کی قدر کرتی ہے ، تو پھر اب بندے کا فرض کیا ہے کہ وہ بارگاہ خداوند میں شکربجالائے ؟ اس کا فرض ہے کہ وہ اللہ کی مہربانی کے جواب میں مزید شکر ادا کرے ۔ اس کی بےحد تعریف کرے ، قرآن کے طرز تعبیر کا یہ ایک خاص اسلوب ہے ، جو انسانی شعور واحساس کو شبنم کے تازہ قطروں کی طرح تازگی ، حسن اور ملائمت عطا کرتا ہے۔ صفا ومروہ کے درمیان سعی کی فرضیت کے بعد اب ان لوگوں کی مذمت ہے جو اللہ کی نازل کردہ تعلیمات وہدایات کو چھپاتے ہیں ۔ یہ وہ یہودی ہیں جن کے بارے میں اس سورت میں طویل بحث ، اس سے پہلے ہوچکی ہے ۔ یہاں دوبارہ اس بحث کے چھیڑنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تحویل قبلہ اور فرضیت حج کے سلسلے میں انہوں نے بحث و تکرار شروع کررکھی تھی ۔ ابھی تک وہ ختم نہیں ہوئی ۔

البقرة 2:159

اہل کتاب ، خود اپنی کتاب کے ذریعہ سے یہ جانتے تھے کہ رسول ﷺ کی رسالت برحق ہے ۔ اور یہ بھی جانتے تھے کہ آپ ﷺ جن احکامات کی تبلیغ کرتے ہیں وہ برحق ہیں اور من جانب اللہ ہیں ۔ اس کے باوجود وہ ان احکامات کو چھپاتے تھے جو اللہ نے ان کے لئے ان کی کتاب میں نازل کئے تھے ۔ بس ان لوگوں اور ہر دور میں ان جیسے لوگوں کا کردار یہ رہا ہے کہ یہ اللہ کی نازل کردہ حق اور سچائی کو چھپاتے ہیں ، خواہ اس حق پوشی کی کوئی معقول وجہ بھی نہ ہو ۔ ایسے لوگ مختلف ادوار میں مختلف مقامات پر پائے جاتے ہیں ، جو حق و صداقت کا علم رکھتے ہیں مگر پھر بھی اظہار حق کے وقت خاموش رہتے ہیں ۔ انہیں وہ اقوال وآیات یقین کے ساتھ معلوم ہوتی ہیں جن میں اس سچائی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ہے ، اللہ کی کتاب میں سے کئی آیات سے وہ ایک طرف ہوجاتے ہیں ، ان کا اظہار نہیں کرتے ، ان کے بارے میں خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ، انہیں چھپاکر اس حقیقت سے پہلو تہی کرجاتے ہیں جس کی وہ آیات حامل ہوتی ہیں ۔ وہ ان آیات کو لوگوں کے سمع واحساس سے دور رکھتے ہیں ، چاہے کسی وجہ سے بھی وہ ایسا کرتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس سے ہم زندگی کے مختلف مراحل میں دوچار ہوتے ہیں رہتے ہیں اور حقائق دین میں سے مختلف اور بیشمار حقائق میں یہ صورتحال پیش آتی رہتی ہے۔ ” یقین کرو اللہ بھی ایسے لوگوں پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت کرتے ہیں ۔ أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللاعِنُونَ (159) “ گویا وہ لعنت کے مقام پر کھڑے ہوں گے اور ان پر ہر طرف سے لعنت کی بارش ہورہی ہوگی اور اللہ کے بعد ہر لعنت کرنے والا ان پر لعنت برسا رہا ہوگا۔

البقرة 2:160

لعنت کا مفہوم ہے قہر وغضب سے دھتکارنا ۔ اللہ کی لعنت یہ ہوگی کہ وہ انہیں اپنی رحمت سے باہر نکال دے اور پھر ہر طرف سے لعنت کرنے والے ان کا پیچھا کررہے ہوں گے ۔ یو وہ درگاہ الٰہی سے بھی راندہ ہوں گے اور مسلمانوں کی طرف سے بھی دھتکارے جائیں گے ۔ إِلا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ” البتہ جو اس روش سے باز آجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور جو کچھ چھپاتے تھے ، اسے بیان کرنے لگیں ، ان کو میں معاف کروں گا۔ میں بڑا درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔ “ اس تنبیہ وتہدید کے باوجود قرآن کریم توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ اس سے وہ روشنی پاتے ہیں اور رشتہ امل ٹوٹنے نہیں پاتا ۔ اس طرح دل نور کے سرچشمے کی طرف کھنچتے ہیں اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے ۔ اللہ کی عفو و درگزر کی امید باقی رہتی ہے ۔ اس لئے جو چاہے ، جس وقت بھی چاہے صدق نیت سے ، اس دارالامن میں داخل ہوجائے۔ سچی توبہ کی نشانی کیا ہوگی ؟ عمل میں تبدیلی اور اصلاح ، صاف صاف بات کرنا ، حق کا اعتراف کرنا ، اور حق کے تقاضے پورے کرنا ۔ اور جو لوگ توبہ کرلیں وہ یقیناً اللہ کی رحمت سے بہرہ ور ہوں گے ، ان کی توبہ قبول ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ” اور میں بڑا درگز کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔ “ یقیناً ایسا ہوگا کیونکہ ، بات کرنے والوں میں اللہ تعالیٰ سب سے صادق القول ہے ۔

البقرة 2:161

اور جو لوگ اپنی غلط روش پر مصر ہوتے ہیں اور مہلت اور فرصت کو غنیمت نہیں سمجھتے تو وہ یقیناً اپنے اس انجام کو پہنچیں گے جس کی وعید اللہ نے اس سے قبل ان سے فرمائی ہے ۔ اور اب زیادہ تفصیل وتاکید سے کہا جاتا ہے إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (161) خَالِدِينَ فِيهَا لا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلا هُمْ يُنْظَرُونَ (162) ” اور جن لوگوں نے کفر کارویہ اختیار کیا اور کفر کی حالت میں جان دی ، ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے ۔ اسی لعنت زدگی کی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، نہ ان کی سزا میں تخفیف ہوگی اور انہیں پھر کوئی دوسری مہلت دی جائے گی۔ “ کیوں ؟ اس لئے کہ انہوں نے اس کھلے دروازے کو ، خود اپنے اوپر بند کردیا ، انہوں نے فرصت کو غنیمت نہ جانا اور موقع ہاتھ سے چلا گیا اور کتمان حق ، اور کفر وضلالت پر اصرار کیا : أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ” ان پر اللہ ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت۔ “ یہ ہمہ جہت لعنت ہوگی ، کسی صورت میں بھی وہ اس سے چھٹکارا نہ پاسکیں گے ۔ نہ کسی سینے میں ان کے لئے رحم ہوگا ۔ قرآن کریم نے ہمہ جہت لعنت کے سوا ان کے لئے کسی عذاب کا تذکرہ نہیں کیا ، بلکہ کہا ہے کہ اس عذاب میں کوئی تخفیف نہ ہوگی۔ نہ کوئی تاخیر ہوگی اور انہیں کسی قسم کی کوئی مہلت نہ دی جائے گی یہ ایک ایسا عذاب ہے جس سے تمام دوسرے عذاب کم ہوں گے ، دھتکارنے ، پرے پھینک دینے اور اظہار لاتعلقی کا عذاب۔ کوئی ان پر رحم کرنے والا نہ ہوگا۔ کوئی آنکھ انہیں قبول نہ کرے گی ، کسی زبان پر ان کے لئے سلام تک نہ ہوگا۔ ہر طرف سے لعنت ، دھتکار اور قطع تعلق ، انسانوں کی طرف سے بھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ، زمین پر بھی اور آسمانوں پر بھی ، ہر جگہ اور ہر طرف سے ۔ یہ ہے وہ دردناک اور توہین آمیز عذاب۔ اس کے بعد سیاق کلام توحید کی طرف پھرجاتا ہے ، ایمانی تصور حیات کی بنیاد عقیدہ توحید پر رکھی جاتی ہے ۔ کائنات سے ایسے مشاہد پیش کئے جاتے ہیں ، جو عقیدہ توحید پر ناقابل تردید دلائل پیش کرتے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بناتے ہیں ۔ ان پر تنقید ہے اور بتایا جاتا ہے کہ قیامت کے دن یہ لوگ کس قدر ذلیل و خوار ہوں گے ، جب عذاب الٰہی سامنے ہوگا ، تابع متبوع سے ۔ متبوع تابع سے تبرّیٰ کررہا ہوگا ، لیکن کوئی معذرت بھی انہیں کچھ فائدہ نہ دے سکے گی ۔ ان کی پشیمانی ان کے لئے مفید نہ ہوگی نہ انہیں اس کی وجہ سے نار جہنم سے چھٹکارا حاصل ہوگا۔

البقرة 2:162

اور جو لوگ اپنی غلط روش پر مصر ہوتے ہیں اور مہلت اور فرصت کو غنیمت نہیں سمجھتے تو وہ یقیناً اپنے اس انجام کو پہنچیں گے جس کی وعید اللہ نے اس سے قبل ان سے فرمائی ہے ۔ اور اب زیادہ تفصیل وتاکید سے کہا جاتا ہے إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (161) خَالِدِينَ فِيهَا لا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلا هُمْ يُنْظَرُونَ (162) ” اور جن لوگوں نے کفر کارویہ اختیار کیا اور کفر کی حالت میں جان دی ، ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے ۔ اسی لعنت زدگی کی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، نہ ان کی سزا میں تخفیف ہوگی اور انہیں پھر کوئی دوسری مہلت دی جائے گی۔ “ کیوں ؟ اس لئے کہ انہوں نے اس کھلے دروازے کو ، خود اپنے اوپر بند کردیا ، انہوں نے فرصت کو غنیمت نہ جانا اور موقع ہاتھ سے چلا گیا اور کتمان حق ، اور کفر وضلالت پر اصرار کیا : أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ” ان پر اللہ ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت۔ “ یہ ہمہ جہت لعنت ہوگی ، کسی صورت میں بھی وہ اس سے چھٹکارا نہ پاسکیں گے ۔ نہ کسی سینے میں ان کے لئے رحم ہوگا ۔ قرآن کریم نے ہمہ جہت لعنت کے سوا ان کے لئے کسی عذاب کا تذکرہ نہیں کیا ، بلکہ کہا ہے کہ اس عذاب میں کوئی تخفیف نہ ہوگی۔ نہ کوئی تاخیر ہوگی اور انہیں کسی قسم کی کوئی مہلت نہ دی جائے گی یہ ایک ایسا عذاب ہے جس سے تمام دوسرے عذاب کم ہوں گے ، دھتکارنے ، پرے پھینک دینے اور اظہار لاتعلقی کا عذاب۔ کوئی ان پر رحم کرنے والا نہ ہوگا۔ کوئی آنکھ انہیں قبول نہ کرے گی ، کسی زبان پر ان کے لئے سلام تک نہ ہوگا۔ ہر طرف سے لعنت ، دھتکار اور قطع تعلق ، انسانوں کی طرف سے بھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ، زمین پر بھی اور آسمانوں پر بھی ، ہر جگہ اور ہر طرف سے ۔ یہ ہے وہ دردناک اور توہین آمیز عذاب۔ اس کے بعد سیاق کلام توحید کی طرف پھرجاتا ہے ، ایمانی تصور حیات کی بنیاد عقیدہ توحید پر رکھی جاتی ہے ۔ کائنات سے ایسے مشاہد پیش کئے جاتے ہیں ، جو عقیدہ توحید پر ناقابل تردید دلائل پیش کرتے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بناتے ہیں ۔ ان پر تنقید ہے اور بتایا جاتا ہے کہ قیامت کے دن یہ لوگ کس قدر ذلیل و خوار ہوں گے ، جب عذاب الٰہی سامنے ہوگا ، تابع متبوع سے ۔ متبوع تابع سے تبرّیٰ کررہا ہوگا ، لیکن کوئی معذرت بھی انہیں کچھ فائدہ نہ دے سکے گی ۔ ان کی پشیمانی ان کے لئے مفید نہ ہوگی نہ انہیں اس کی وجہ سے نار جہنم سے چھٹکارا حاصل ہوگا۔

البقرة 2:163

(اور اس حقیقت کو پہچاننے کے لئے کوئی نشانی اور علامت درکار ہے تو) جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں ان کے لئے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں ، رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں ، ان کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لئے ہوئے ہیں دریاؤں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں ۔ بارش کے اس پانی میں جسے اللہ اوپر سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعے زمین کو زندگی بخشتا ہے اور اپنے اسی انتظام کی بدولت زمین میں ہر قسم کی جان دار مخلوق کو پھیلاتا ہے ۔ ہواؤن کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بناکر کر کھے گئے ہیں بیشمار نشانیاں ہیں مگر (وحدت خداوندی پر دلالت کرنے والے ان کھلے کھلے آثار کے ہوتے ہوئے بھی ) کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مدمقابل بناتے ہیں اور ان کے ایسے گرویدہ ہیں جیسے اللہ کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہئے ۔ حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں ۔ کاش جو کچھ عذاب کو سامنے دیکھ کر انہیں سوجھنے والا ہے وہ آج ان ظالموں کو سوجھ جائے گا ساری طاقتیں اور سارے اختیارات اللہ ہی کے قبضے میں ہیں اور یہ کہ اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے ۔ جب وہ سزا دے گا اس کیفیت یہ ہوگی کہ وہی پیشوا اور راہ نما ، جن کی دنیا میں پیروی کی گئی تھی ، اپنے اپنے پیروؤں سے بےتعلقی ظاہر کریں گے مگر سزا پاکر رہیں گے ۔ اور ان کے سارے اسباب ووسائل کا سلسلہ کٹ جائے گا اور وہ لوگ جو دنیا میں ان کی پیروی کرتے تھے ، کہیں گے کاش ہم کو پھر ایک موقع دیا جاتا تو جس طرح آج یہ ہم سے بیزاری کا اظہارکر رہے ہیں ، ہم ان سے بیزار ہوکر دکھا دیتے ۔ یوں اللہ ان لوگوں کے وہ اعمال ، جو یہ دنیا میں کررہے ہیں ، ان کے سامنے اس طرح لائے گا کہ یہ حسرتوں اور پشیمانیوں کے ساتھ ہاتھ ملتے رہیں گے ، مگر آگ سے نکلنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے ۔ ایمانی تصورحیات وحدت الوہیت کے اصول پر قائم ہے ۔ رسول ﷺ کے وقت اللہ تعالیٰ کے وجود کے بارے میں کوئی تنازع نہ تھا ۔ البتہ ذات باری ، صفات باری اور مخلوق و خالق کے باہمی تعلق کے بارے میں اختلاف رائے ضرور تھا ۔ کوئی بھی اللہ کے وجود کے بارے میں اختلاف نہ کرتا تھا۔ ایسا کبھی نہ ہوا کہ انسانی فطرت نے کبھی وجود باری کو بھلادیا ہو۔ یا انسان کسی خدا کا قائل نہ رہا ہو۔ یہ تو اس دورجدید کی بیماری ہے جب اذہان میں ایسے افکار اگ آئے ، جن کا تعلق زندگی کے شجرہ طیبہ سے نہیں ہے ، جو فطرت کے عین خلاف ہیں ، جن کے نتیجے میں انسان نے سرے سے وجود باری کا بھی انکار کردیا ۔ یقیناً یہ اوپرے افکار ہیں اور موجودات وکائنات میں ان کی کوئی جڑ موجود نہیں ہے ۔ ایک وقت ضرور آئے گا جب یہ افکار سرے سے ناپید ہوجائیں گے اور ان کا کوئی نام ونشان بھی نہیں رہے گا ۔ کائنات کی تشکیل وتکوین اور اس کی ساخت ان افکار کی متحمل نہیں ہے ۔ ایسے لوگوں کو فطرت کائنات مسترد کرتی ہے اور یہ لوگ اس لئے ناقابل برداشت ہیں کہ ان کے افکار کی جڑیں فطرت کائنات میں نہیں ہیں ۔ عقیدہ توحید انسان کے نظریہ حیات میں ایک ضروری تصحیح ہے ، اسلامی نظام حیات کے لئے تو خشت اول ہے ۔ اس لئے قرآن حکیم بار بار عقیدہ توحید کا بیان مختلف پیرایوں میں کرتا ہے ۔ یہی وہ بنیاد اور اساس ہے جس پر اسلام کا اخلاقی نظام اور اس کی اجتماعی تنظیم استوار ہوئی ۔ یعنی اس کائنات میں وحدت ربوبیت کا تصور وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌتمہارا اللہ ایک ہی ہے لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ ” اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے ۔ رحمان ہے رحیم ہے ۔ “ تاکید اور بار بار تاکید ، یعنی وحدانیت الٰہ کی اس تاکید کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ معبود ایک ہوجاتا ہے جس کی تمام مخلوق بندگی کرتی ہے اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتی ہے ۔ وہ سمت ایک متعین ہوجاتی ہے جس سے پوری مخلوق اپنے اخلاق اور اپنے طرز عمل کے اصول اور طریقے اخذ کرتی ہے اور وہ ماخذ اور منبع بھی متعین ہوجاتا ہے ۔ جس سے انسان شریعت و قانون کے اصول اخذ کرتا ہے۔ اور وہ واحد نظام حیات بھی متعین ہوجاتا ہے جو انسان کے تمام اصول حیات میں متصرف ہوتا ہے۔ جیسا کہ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے ۔ یہاں امت مسلم کو کو اس عظیم رول کے لئے تیار کیا جاتا ہے جو اسے کرہ ارض پر ادا کرنا ہے ۔ اس مناسبت سے یہاں اس حقیقت کا پھر ذکر کردیا جاتا ہے ۔ جس کا ذکر قرآن مجید میں باربار کیا جاتا ہے ۔ جو قرآن مجید کا وہ سایہ دار درخت ہے جس کی جڑیں دورتک زمین میں گئی ہوئی ہیں اور اس کی شاخیں عقل و شعور کے آسمان پر دور تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ بلکہ وہ اس پوری کائنات کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہیں ۔ اس حقیقت کا ذکر یہاں مقرر کردیا جاتا ہے کہ اسلامی معاشرے کی تمام قانون سازی اور ضابطہ بندی میں سے پیش نظر رکھا جائے ۔ کیا ہے وہ حقیقت ؟ وہ ہے توحید الٰہی۔ پھر یہاں اللہ تعالیٰ کی صفات رحمٰن رحیم کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ تما تشریعات وضابطہ بندیوں کا ماخذ اور سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی یہ گہری اور عمومی صفت ، صفت رحمت ہے ۔

البقرة 2:164

اسی طرح پوری کائنات اور اس کی ہرگز رگاہ اللہ کی رحمت اور اس کی وحدانیت پر شاہد عادل ہے ۔ احساس و شعور کو بیدار کرنے کے لئے یہ بالکل ایک نیا انداز ہے ۔ اس کے ذریعے عجائبات دنیا کے نظاروں اور کائنات کے گہرے مطالعہ سے قلب ونظر کے دروازے کھل جاتے ہیں ۔ اس کائنات کے عجائب سے چونکہ ہم مانوس ہوچکے ہیں ، رات دن انہیں دیکھتے رہتے ہیں ۔ اس لئے ان کی جدت وندرت ، احساس و شعور پر اثر انداز نہیں ہوتی ۔ کائنات انسان کے لئے ایک معمولی چیز بن گئی ہے ۔ اس لئے انسان سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک دفعہ لوٹ کر ، کھلی آنکھوں کے ساتھ ، تیز احساس کے ساتھ اور زندہ دل کے ساتھ ، اس کائنات پر یوں نظر ڈالے جیسے وہ اسے پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہو اور پھر وہ بار بار مشاہدہ کرے ۔ یوں وہ اس کائنات میں عجیب و غریب مشاہدات کرسکے گا ۔ یہاں بیشمار مناظر ایسے ہیں کہ جب ان پر انسان نے پہلی نظر ڈالی تو آنکھیں خیرہ ہوگئیں اور دل متحیر ہوگئے لیکن پھر کیا ہوا ؟ قلب ونظر کے لئے وہ مناظر معمول بن گئے ۔ دنیا کے اس عجیب میلے کو ہر روز دیکھتے رہے ۔ ہم اس سے مانوس ہوگئے ۔ گردش ایام کوئی اچھنبے کی بات نہ رہی ۔ اس کا انوکھا پن یک لخت ختم ہوگیا اور یہ رونگٹے کھڑے کردینے والے مناظر فطرت تو اب ہمارے لئے جاذب نظر ہی نہ رہے ۔ یہ آسمان و زمین ، یہ خوفناک فاصلے ، یہ دیوہیکل اجرام فلکی ، یہ حیران کن آفاق اور پھر یہ معلوم اور نامعلوم بیشمار جہاں اس فضا میں ان جہانوں کی گردش ، انکے مواقع ومدارات ، یہ سب ایسی چیزیں ہیں جن کے تصور ہی سے سرچکرانے لگتا ہے۔ یہ اسرار کائنات جو پردہ غیب میں نہاں ہیں ، جو کائنات کے پردوں سے نفس انسانی کو جھانکتے ہیں ۔ آسمان و زمین پر مشتمل یہ عظیم کائنات ۔ اور پھر یہ انسان ان ابعاد اور فاصلوں سے بیخبر ، ان کے حجم اور عظمت سے بیخبر اور ان کے اسرار و رموز سے عاجز ۔ ہاں جب انسانی ادراک ترقی کرجائے گا اور جدید علوم اور انکشافات اس کی ممد ومعاون ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ اسے کچھ راز ہائے دروں سے خبردار کرے گا۔ (سید قطب شہید کی پیش گوئی کے عین مطابق یہ سلسلہ بڑی تیزی سے جاری ہے۔ مترجم) شب وروز کا اختلاف ، نور وظلمت کا باہمی تعاقب ۔ صبح شام کی گردش یہ طلوع اور وہ غروب ، اور نگہ اولیں پر ابتدائے آفرینش سے چٹکیاں لینے لگتا تھا ، دل دھڑکتے تھے اور سب مناظر انسان کے لئے عجب العجائب تھے ، پھر کیا ہوا ؟ انسان بار بار مشاہدہ کرتارہا ، اور یہ سب کچھ اس کے لئے ایک معمول بن گیا ۔ انوکھا پن نہ رہا ۔ کشش ختم ہوگئی ۔ اور انسان غافل ہوگیا لیکن قلب مومن ہمیشہ بیدار رہتا ہے ۔ اس کے احساس میں یہ بات مشاہدات تازہ بتازہ ہوبہو رہتے ہیں ۔ وہ ہمیشہ ان میں اللہ کو دیکھتا ہے ، اسے یاد کرتا ہے اور وہ ان مشاہد و عجائب کو ہر باریوں دیکھتا ہے کہ ایک جہان نو ، ایک تخلیق نو ابھی ابھی اس دکھائی گئی ہو ۔ دیکھئے لوگوں کی ضروریات لئے ہوئے بحری جہاز جارہا ہے (اور اس منظر کا بقدر حصہ میں نے خود احساس کیا ہے ) کیا ہی منظر ہے ۔ ایک عظیم سمندر میں سیاہ نقطہ ہے جس پر ہم سوار ہیں جو ہمیں لے کر رواں دواں ہے ، ہر طرف سے متلاطم موجوں کے تھپیڑے ہیں اور تاحد نظر نیلگوں بحر بیکراں کی وسعت ہے ۔ یہ کشتی تیر رہی ہے ۔ ادھر کرتی ، ادھر پڑتی جارہی ہے ۔ اللہ کی قدرت اور اللہ کی نگہبانی کے سوا کوئی اور طاقت نہیں ، جس کا یہاں بس چل سکے ۔ یہاں اللہ کے بنائے ہوئے قانون کی حکمرانی ہے ۔ ایک چھوٹا سانقطہ ہے ، لہروں کے مٹتے ہوئے خطوط پر ، خوفناک بیکراں کے سینے پر ۔ بس وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کی بلندیوں سے پانی اتارا۔ باغ دراغ اجڑے ہوئے تھے ۔ خزاں کا دوردورہ تھا۔ زمین مرچکی تھی ۔ یکایک وہ پھر سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے ۔ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوجاتی ہے ۔ نوع بنوع کے جانور اس پر دوڑتے پھرتے ہیں ۔ قسم قسم کے پرندے اڑتے اور چہچہاتے ہیں ۔ ہوائیں چلتی ہیں جن میں درخت جھومتے ہیں ۔ زمین و آسمان کے درمیان بادل جھومتے ہیں مگر ہیں قید میں ۔ کیا مناظر ہیں یہ اگر انسان ، قرآنی اشارات کی سمت میں ان پر قرآنی زاویہ نگاہ سے غور وفکر کرے تو اللہ کی عظیم قدرت اور پھر اس کی وسیع شان رحیمی دیکھ کر ، اس کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں ۔ یہ زندگی جس کے ادراک سے ہم قاصر ہیں ۔ جس کا جوہر لطیف سرحدات ادراک سے ماورائی ہے ۔ جو بڑے لطف سے کرہ ارض پر نمودار ہوتی ہے ۔ پھر یک لخت کھل کر سامنے آجاتی اور طاقتور بن جاتی ۔ گٹھلی سے درخت بن جاتا ہے ۔ یہ کہاں سے آگئی ؟ اگر تخم اور گٹھلی کے اندر پوشیدہ تھی تو پھر گٹھلی اور تخم کہاں سے آئے ؟ اور ان میں یہ زندگی کیسے داخل ہوئی ؟ اس کا اصل کیا ہے ؟ اس کا پہلا مصدر کیا ہے ؟ آپ بھاگ نہیں سکیں گے ۔ ٹھہرئیے ! فطرت اصرار کرتی ہے کہ آپ اس سوال کا جواب دیں ۔ ملحدین نے اس سوال کے جواب سے ہمیشہ راہ فرار اختیار کی ہے ۔ بیشک بہت مشکل سوال ہے ۔ اس کا جواب صرف یہ ہے کہ ایک قادر مطلق ، تخلیق کنندہ موجود ہے ۔ وہی ہے جو مردے کو زندگی بخشتا ہے ۔ ملحدین مغرب ، لوگوں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ مردہ چیز کو زندگی بخشنے کی تحقیق کررہے ہیں تاکہ اللہ کو ماننے کی ضرورت ہی نہ رہے لکن سعی وپیہم کے بعد اپنے کفر والحاد کے باجود آخرکار انہیں اقرار کرنا پڑا کہ ہم اس سلسلے میں ناکام ہیں۔ زندگی کی ایجاد محال ہے آج ملحد روس میں ، حیاتیات کے ماہرین کو یہ اعلان کرنا پڑا ہے ہم اس راز کے ادراک سے عاجز ہیں ۔ اس سے قبل بھی حیاتیات کے ایک مشہور عالم ڈارون نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا تھا ۔ اور پھر یہ ہوائیں ، کبھی ادھر رواں ہیں ، کبھی ادھر چلتی ہیں ، اپنے کندھوں پر بادل لئے ہوئے ۔ بادل زمین و آسمان کے درمیان مقید ہیں ۔ کرہ ارض پر اللہ تعالیٰ نے جو قوانین مقرر کئے ہیں ان کے عین مطابق ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ صرف یہی کافی نہیں ہے کہ ہواؤں کے چلنے کے اسباب گنوادیں ۔ مادہ پرستوں کے نظریات پڑھ دیں ۔ یہ بتادیں کہ بادل یوں بنتے ہیں اور یوں برستے ہیں ۔ راز تو کچھ اور ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ان اسباب کی حقیقت کیا ہے ؟ قدرت ، اس کا منبع اس کا موجودہ توازن اور اس کے موجودہ قوانین ، جو زندگی کو یہ سہولت فراہم کرتے ہیں ۔ زندگی کے اسباب بادل ، بارش اور شبنم ان سب کا سر حلقہ کیا ہے ؟ یہ سہولتیں ، جو ہم معلوم کرسکے ہیں ہزاروں ہیں اور اگر ان سب سے صرف ایک ہی نہ تو زندگی یک لخت معدوم ہوجائے یا اس طرح خوشگواری سے نہ چلے ۔ جس طرح رواں دواں ہے ۔ عناصر فطرت کی یہ پیچیدہ ہم آہنگی بتاتی ہے کہ زندگی کوئی اتفاقی چیز نہیں ہے ۔ یقیناً اس کے پس منظر میں ایک ارادہ کارفرما ہے ۔ ایک اختیار کارگر ہے ۔ یہ ارادہ صرف ایک ہے ۔ اس میں دوئی نہیں کیوں ؟ اس لئے کہ کوئی اس میں تضاد نہیں اور نہایت مشفقانہ ہے اس لئے اس کی ہر حرکت زندگی کے لئے معاون ہے ۔ (بےشمار نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں) انسان کو دنیا کی الفت اور غفلت نے کند کردیا ہے ۔ اگر وہ الفت اور غفلت کے ان پردوں کو دماغ سے اتار پھینکے تو یقیناً ان مشاہدات فطرت کو ایک جدید احساس کے ساتھ دیکھ سکے گا ۔ بالغ نظری سے دیکھ سکے گا ۔ وہ ایک ایسے دل کے ساتھ غور کرسکے گا ، جو نور ایمان سے لبریز ہو ۔ اگر وہ اس کرہ ارض پر ایک نووارد کی طرح نگاہ ڈالے گا جو گویا کسی دوسرے جہان سے اس زمین پر پہلی مرتبہ اترا ہے ، تو وہ ہر چمک کی طرف ملتفت ہوجائے ۔ اس کے کان ہر آواز کی طرف متوجہ ہوں ۔ اس کا احساس ہر حرکت نوٹ کرے اور قلب ونظر اور حس و شعور نئی نئی واردات سے دوچار ہوں اور وہ حیرت واستعجاب سے کانپ اٹھے ۔

البقرة 2:165

یہ ہیں ایمان کی کارستانیاں اور ایمان کی برکات ! وسعت نظر حد احساس و شعور ، حسن ، ہم آہنگی اور کمال قدردانی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اس کائنات کا ادراک جدید ہے ۔ اور حسن و جمال کا ایک نیا شعور ہے ۔ ایمان دراصل ، اللہ تعالیٰ کے قوانین کے رنگین میلے میں چہل پہل کا نام ہے جس میں صبح وشام تماشائے قدرت کا نئے سے نیا نظارہ پیش ہوتا ہے ۔ لیکن کارگاہ حیات کی ان نیرنگیوں کے باوجود ، یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو عقل کے ادراک سے کورے ہیں ۔ ان کی نظر کوتاہ ہے اور وہ قوانین فطرت کی ایسی وحدت کو اور اس کائنات کے چلانے والے اس واحد اور منضبط نظام کو جو عقیدہ توحید کی طرف صاف صاف اشارہ کرتا ہے نظر انداز کردیتے ہیں اور ان سب چیزوں پر سے یونہی گزرجاتے ہیں یا ان کے لئے مختلف خدا اور مختلف اسباب تلاش کرتے ہیں وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ” اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مدمقابل بناتے ہیں ۔ اور ان کے لئے ایسے گرویدہ ہیں جیسے اللہ کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہئے ۔ “ ہاں بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اللہ کا شریک بناتے ہیں ۔ جن لوگوں سے قرآن مخاطب تھا ۔ ان کے معاشرے میں اللہ کے یہ ہمسر درخت ، پتھر ، ستارے اور ملائکہ و شیاطین تھے ۔ جاہلیت کے مختلف ادوار میں کبھی عام چیزیں ، کبھی افراد واشخاص ، کبھی اشارات واعتبارات اللہ کے ہمسر رہے ہیں۔ بعض اوقات یہ ہمسری شرک خفی کی تعریف میں آتی ہے اور کبھی شرک ظاہر وجلی کی صورت میں ۔ جب ان اشیاء کا ذکر اللہ کے ساتھ ہو اور دل میں ان کے بارے میں وہی عظمت و محبت ہو ، جو اللہ تعالیٰ سے ہونی چاہئے تو یہ خفیہ شرک ہوگا اور اگر صورت احوال یہ ہو کہ دل سے اللہ کی محبت بالکل نکل جائے اور اس کی جگہ کسی اور چیز کی محبت اور عظمت جاگزیں ہوجائے تو یہ کھلا شرک ہوگا۔ مؤمنین کی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کی محبت اور اللہ کی عظمت کی طرح کسی دوسری چیز کی عظمت نہیں کرتے اور نہ اس کی عظمت کے قائل ہوتے ہیں ۔ نہ اپنی جان سے نہ کسی اور کی جان سے نہ کسی شخصیت سے ، نہ کسی اشارہ و اعتبار سے ، نہ کسی نعرہ ونظریہ سے اور نہ ان جدید اقدار میں سے کسی ایک قدر کے ساتھ ، جن کے پیچھے آج کل مخلوق خدا بھاگ رہی ہے۔ غرض ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی وہ ربط وتعلق نہیں رکھتے وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ ” حالانکہ ایمان والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں ۔ “ ان کے دلوں میں اللہ کی شدید محبت ہوتی ہے ۔ صرف اللہ کی محبت بلاقید وبلا قدر ۔ ان تمام محبتوں پر جو دوسری چیزوں کے لئے ان کے دل میں ہوتی ہیں۔ اللہ کی محبت شدید تر ہوتی ہے ۔ سبب پر غالب ہوتی ہے ۔ بندہ اور اللہ کے مابین تعلق کی تعبیر محبت سی کی گئی ہے ۔ یہ بہت اچھی تعبیر ہے ۔ ایک سچے مومن اور حق تعالیٰ کے دور میں محبت ہی کا تعلق ہوتا ہے ۔ قلبی محبت کا تعلق ، روحانی کشش کا رابطہ ، قرب ودوستی کا تعلق اور ایک پر خلوص نورانی جذبہ محبت کا تعلق ۔ یہ افسر وماتحت کا سرکاری تعلق نہیں ہوتا۔ یہ لوگ ہیں جنہوں نے غیر اللہ کو اللہ کا ہمسر بنایا ، انہوں نے سچائی کے ساتھ ظلم کیا ۔ انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ۔ کاش وہ آنکھیں کھول کر دیکھتے ۔ اس منظر کے بارے میں کچھ سوچتے کہ ان کو ایک دن اللہ وحدہ لاشریک کے سامنے کھڑا ہونا ہے ۔ کاش وہ چشم بصیرت سے اس عذاب کو دیکھ سکتے جو ظالموں کا انتظار کررہا ہے ۔ ہاں اگر وہ آنکھیں کھولتے تو یقیناً دیکھ لیتے کہ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا ” تمام طاقتیں اور اختیارات گو اللہ ہی کے ہیں ۔ “ لہٰذا وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے ۔ نہ کسی کو اس کا ہمسربنائے اور ان کو معلوم ہوجاتا وَأَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ ” یہ کہ اللہ بہت ہی سخت عذاب دینے والا ہے۔ “

البقرة 2:166

یہ ہیں ایمان کی کارستانیاں اور ایمان کی برکات ! وسعت نظر حد احساس و شعور ، حسن ، ہم آہنگی اور کمال قدردانی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اس کائنات کا ادراک جدید ہے ۔ اور حسن و جمال کا ایک نیا شعور ہے ۔ ایمان دراصل ، اللہ تعالیٰ کے قوانین کے رنگین میلے میں چہل پہل کا نام ہے جس میں صبح وشام تماشائے قدرت کا نئے سے نیا نظارہ پیش ہوتا ہے ۔ لیکن کارگاہ حیات کی ان نیرنگیوں کے باوجود ، یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو عقل کے ادراک سے کورے ہیں ۔ ان کی نظر کوتاہ ہے اور وہ قوانین فطرت کی ایسی وحدت کو اور اس کائنات کے چلانے والے اس واحد اور منضبط نظام کو جو عقیدہ توحید کی طرف صاف صاف اشارہ کرتا ہے نظر انداز کردیتے ہیں اور ان سب چیزوں پر سے یونہی گزرجاتے ہیں یا ان کے لئے مختلف خدا اور مختلف اسباب تلاش کرتے ہیں وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ” اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مدمقابل بناتے ہیں ۔ اور ان کے لئے ایسے گرویدہ ہیں جیسے اللہ کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہئے ۔ “ ہاں بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اللہ کا شریک بناتے ہیں ۔ جن لوگوں سے قرآن مخاطب تھا ۔ ان کے معاشرے میں اللہ کے یہ ہمسر درخت ، پتھر ، ستارے اور ملائکہ و شیاطین تھے ۔ جاہلیت کے مختلف ادوار میں کبھی عام چیزیں ، کبھی افراد واشخاص ، کبھی اشارات واعتبارات اللہ کے ہمسر رہے ہیں۔ بعض اوقات یہ ہمسری شرک خفی کی تعریف میں آتی ہے اور کبھی شرک ظاہر وجلی کی صورت میں ۔ جب ان اشیاء کا ذکر اللہ کے ساتھ ہو اور دل میں ان کے بارے میں وہی عظمت و محبت ہو ، جو اللہ تعالیٰ سے ہونی چاہئے تو یہ خفیہ شرک ہوگا اور اگر صورت احوال یہ ہو کہ دل سے اللہ کی محبت بالکل نکل جائے اور اس کی جگہ کسی اور چیز کی محبت اور عظمت جاگزیں ہوجائے تو یہ کھلا شرک ہوگا۔ مؤمنین کی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کی محبت اور اللہ کی عظمت کی طرح کسی دوسری چیز کی عظمت نہیں کرتے اور نہ اس کی عظمت کے قائل ہوتے ہیں ۔ نہ اپنی جان سے نہ کسی اور کی جان سے نہ کسی شخصیت سے ، نہ کسی اشارہ و اعتبار سے ، نہ کسی نعرہ ونظریہ سے اور نہ ان جدید اقدار میں سے کسی ایک قدر کے ساتھ ، جن کے پیچھے آج کل مخلوق خدا بھاگ رہی ہے۔ غرض ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی وہ ربط وتعلق نہیں رکھتے وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ ” حالانکہ ایمان والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں ۔ “ ان کے دلوں میں اللہ کی شدید محبت ہوتی ہے ۔ صرف اللہ کی محبت بلاقید وبلا قدر ۔ ان تمام محبتوں پر جو دوسری چیزوں کے لئے ان کے دل میں ہوتی ہیں۔ اللہ کی محبت شدید تر ہوتی ہے ۔ سبب پر غالب ہوتی ہے ۔ بندہ اور اللہ کے مابین تعلق کی تعبیر محبت سی کی گئی ہے ۔ یہ بہت اچھی تعبیر ہے ۔ ایک سچے مومن اور حق تعالیٰ کے دور میں محبت ہی کا تعلق ہوتا ہے ۔ قلبی محبت کا تعلق ، روحانی کشش کا رابطہ ، قرب ودوستی کا تعلق اور ایک پر خلوص نورانی جذبہ محبت کا تعلق ۔ یہ افسر وماتحت کا سرکاری تعلق نہیں ہوتا۔ یہ لوگ ہیں جنہوں نے غیر اللہ کو اللہ کا ہمسر بنایا ، انہوں نے سچائی کے ساتھ ظلم کیا ۔ انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ۔ کاش وہ آنکھیں کھول کر دیکھتے ۔ اس منظر کے بارے میں کچھ سوچتے کہ ان کو ایک دن اللہ وحدہ لاشریک کے سامنے کھڑا ہونا ہے ۔ کاش وہ چشم بصیرت سے اس عذاب کو دیکھ سکتے جو ظالموں کا انتظار کررہا ہے ۔ ہاں اگر وہ آنکھیں کھولتے تو یقیناً دیکھ لیتے کہ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا ” تمام طاقتیں اور اختیارات گو اللہ ہی کے ہیں ۔ “ لہٰذا وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے ۔ نہ کسی کو اس کا ہمسربنائے اور ان کو معلوم ہوجاتا وَأَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ ” یہ کہ اللہ بہت ہی سخت عذاب دینے والا ہے۔ “

البقرة 2:167

کاش وہ اس منظر کو دیکھ سکتے کہ پیشوا اپنے مریدوں سے بےتعلقی کا اظہار کررہے ہیں ۔ انہوں نے عذاب خود دیکھ لیا ہے ۔ ان کے درمیان تعلقات اور دوستیاں ختم ہوچکی ہیں ۔ پیشوا ہے کہ مرید دونوں نفسا نفسی کی حالت میں ہیں ۔ وہ قیادت اور ریاست ڈھیر ہوگئی جس کی وجہ سے پیروکار ان کے پیچھے بھاگتے تھے ۔ قائدین کو خود اپنی پڑی ہے ۔ وہ پیروؤں کی عزت پر کیا توجہ کریں ، ان کو کس طرح بچائیں ۔ اب تو الٰہ واحد کی حقیقت اور طاقت ظاہر ہوچکی ہے ۔ اب تو ان کے سامنے صرف ایک ہی قدرت ہے ۔ گمراہ قیادتوں کا جھوٹ ، ان کی کمزوری اور اللہ کے سامنے ان کا عجز اور عذاب الٰہی کے سامنے ان کی سراسیمگی اور بےبسی سب پر ظاہر ہوچکی ہے ۔ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا ” اور وہ لوگ جو دنیا میں ان کی پیروی کرتے تھے ، کہیں گے کاش کہ ہم کو پھر ایک موقع دیا جاتا تو جس طرح آج یہ ہم سے بیزار ظاہر کررہے ہیں ، ہم ان سے بیزار ہوکر دکھادیتے ۔ “ وہاں یہ فریب خوردہ پیروکار اپنی گمراہ قیادت پر سخت غیض وغضب کا اظہار کریں گے ۔ وہ یہ تمنا کریں گے کہ کاش ایک موقع ہمیں اور مل جاتا اور ہم زمین پر دوبارہ لوٹادیئے جاتے تاکہ اپنی کمزور اور ناکارہ دھوکہ باز قیادت سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ۔ کیا وہ ہولناک منظر ہے یہ ، قائد اور پیروکار ایک دوسرے پر تبرّا بھیج رہے ہیں ۔ ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے ہیں ۔ کل کے دوست آج سخت دشمن ہیں ۔ ان کے اس حسرتناک انجام پر یہ نتیجہ بیان کیا جاتا ہے۔ كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ ” یوں اللہ ان لوگوں کے اعمال ، جو یہ دنیا میں کررہے ہیں ، ان کے سامنے اس طرح لائے گا کہ یہ حسرتوں اور پشیمانیوں کے ساتھ ہاتھ ملتے رہیں گے ۔ مگر آگ سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے ۔ “ اب بتادیا جاتا ہے کہ زندگی کی پاک چیزوں سے فائدہ اٹھاؤ، ناپاک اور خبیث چیزوں سے دور رہو ، خبردار ! شیطان کی اطاعت نہ کرو ، وہ تو ہر وقت ناپاک چیزوں کی طرف پکارتا ہے ۔ شیطان بعض چیزوں کو اللہ کی طرف سے حلال قرار دیتا ہے اور بعض کو حرام قرار دیتا ہے ۔ حالانکہ اللہ نے اسے تحلیل وتحریم اور قانون سازی کا اختیار ہرگز نہیں دیا ۔ (مسلمانوں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ اپنے عقائد ونظریات کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور ذریعے سے راہ نمائی حاصل نہ کریں۔ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر ، ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو نہ سنتی ہیں نہ سمجھتی ہیں ۔ ان کے اس احمقانہ فعل پر تنبیہ کی جاتی ہے ۔ یوں ان آیات کا فصل سابق کی آیات کے ساتھ معنوی ربط بھی واضح ہوجاتا ہے ۔

البقرة 2:168

سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ وہی ایک معبود اور اللہ ہے ۔ وہی ایک خالق ہے اور جو لوگ دوسروں کو اللہ ہمسر بناتے ہیں ۔ ایک شدید ان کا منتظر ہے ۔ اب یہاں بیان کیا جاتا ہے کہ اپنے بندوں کا رازق بھی وہی ہے۔ حلال و حرام کے بارے میں قانون سازی کا اختیار بھی اسی کو ہے اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ وحدت الوہیت کا یہ قدرتی ثمرہ ہے ۔ جس ذات نے پیدا کیا ہے اور پھر پرورش کی ، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ حلال و حرام کے معاملے میں قانون سازی کرے اور قانون سازی اور نظریات عقائد سے ہم آہنگ ہو۔ اس فقرے میں اللہ تعالیٰ اعلان فرماتے ہیں کہ زمین میں جو حلال اور پاک چیزیں ہیں انہیں کھاؤ، سوائے ان کے جنہیں حرام قرار دیا گیا ہے ۔ حرام و حلال کے تعین میں صرف اللہ تعالیٰ سے راہ نمائی حاصل کرو اور ان معاملات میں سے کسی ایک میں بھی شیطان کی پیروی نہ کرو ۔ وہ تو تمہارا دشمن ہے ۔ وہ ہرگز تمہیں نیکی کا حکم نہیں دے سکتا۔ وہ تو تمہیں غلط تصورات دیتا ہے۔ غلط افعال کی ترغیب دیتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ انسان خود اپنی مرضی سے بعض چیزوں کو حلال قرار دے اور بعض کو حرام ۔ حالانکہ اس پر اللہ کی جانب سے کوئی دلیل وسند نہ ہو اور اس پر مستزاد یہ کہ ایسے انسان کو یہ زعم بھی ہو کہ جو کچھ وہ کررہا ہے وہ عین شریعت کے مطابق ہے ۔ جیسا کہ یہود مدینہ اور مشرکین مکہ اپنے عقائد ونظریات اور افعال و اعمال کے بارے میں کرتے تھے۔ (یہ حکم کہ زمین کی تمام چیزیں تمہارے لئے جائز ومباح ہیں ۔ الا یہ کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو ، ظاہر کرتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات ایک سادہ اور وسیع نظریہ ہے ۔ وہ اس کائنات کے مزاج اور پھر اس میں بسنے والوں کے مزاج سے پوری طرح ہم آہنگ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو پیدا انسان کے لئے پیدا کیا ہے ۔ اس کے لئے ان کا استعمال جائز قرار دیا ہے اور یہ کہ کسی چیز کے بارے میں ممانعت کا کوئی حکم آیاہو ، یا یہ کہ کوئی حکم نہ بھی ہو تو بھی یہ عام حکم موجود ہے کہ کسی چیز کا استعمال حد اعتدال سے زیادہ نہ ہو ۔ لیکن اصل پالیسی یہ ہے کہ دنیا کی تمام پاک چیزوں سے فائدہ اٹھانا جائز ہے ، تقاضائے فطرت کے عین مطابق ، تنگی ، سخت گیری اور ناجائز پابندیوں کے بغیر ۔ صرف ایک شرط ضرور ہے وہ یہ لوگوں کے لئے کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے ؟ اس کا فیصلہ صرف اللہ کے پاس ہو ، کیونکہ اللہ ہی نے ان طیبات کو پیدا کیا ہے ، لہٰذا حلال و حرام کے احکامات وہ اس شیطان سے اخذ نہ کریں جو ان کا بین دشمن ہے ۔ وہ تو انہیں صرف برائی اور فحش کا حکم دیتا ہے ۔ اور بغیر کسی ثبوت ویقین کے یہ شیطان اللہ پر افتراء باندھتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف کفر کی نسبت کرکے اس کی توہین کرتا ہے۔

البقرة 2:169

سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ وہی ایک معبود اور اللہ ہے ۔ وہی ایک خالق ہے اور جو لوگ دوسروں کو اللہ ہمسر بناتے ہیں ۔ ایک شدید ان کا منتظر ہے ۔ اب یہاں بیان کیا جاتا ہے کہ اپنے بندوں کا رازق بھی وہی ہے۔ حلال و حرام کے بارے میں قانون سازی کا اختیار بھی اسی کو ہے اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ وحدت الوہیت کا یہ قدرتی ثمرہ ہے ۔ جس ذات نے پیدا کیا ہے اور پھر پرورش کی ، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ حلال و حرام کے معاملے میں قانون سازی کرے اور قانون سازی اور نظریات عقائد سے ہم آہنگ ہو۔ اس فقرے میں اللہ تعالیٰ اعلان فرماتے ہیں کہ زمین میں جو حلال اور پاک چیزیں ہیں انہیں کھاؤ، سوائے ان کے جنہیں حرام قرار دیا گیا ہے ۔ حرام و حلال کے تعین میں صرف اللہ تعالیٰ سے راہ نمائی حاصل کرو اور ان معاملات میں سے کسی ایک میں بھی شیطان کی پیروی نہ کرو ۔ وہ تو تمہارا دشمن ہے ۔ وہ ہرگز تمہیں نیکی کا حکم نہیں دے سکتا۔ وہ تو تمہیں غلط تصورات دیتا ہے۔ غلط افعال کی ترغیب دیتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ انسان خود اپنی مرضی سے بعض چیزوں کو حلال قرار دے اور بعض کو حرام ۔ حالانکہ اس پر اللہ کی جانب سے کوئی دلیل وسند نہ ہو اور اس پر مستزاد یہ کہ ایسے انسان کو یہ زعم بھی ہو کہ جو کچھ وہ کررہا ہے وہ عین شریعت کے مطابق ہے ۔ جیسا کہ یہود مدینہ اور مشرکین مکہ اپنے عقائد ونظریات اور افعال و اعمال کے بارے میں کرتے تھے۔ (یہ حکم کہ زمین کی تمام چیزیں تمہارے لئے جائز ومباح ہیں ۔ الا یہ کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو ، ظاہر کرتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات ایک سادہ اور وسیع نظریہ ہے ۔ وہ اس کائنات کے مزاج اور پھر اس میں بسنے والوں کے مزاج سے پوری طرح ہم آہنگ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو پیدا انسان کے لئے پیدا کیا ہے ۔ اس کے لئے ان کا استعمال جائز قرار دیا ہے اور یہ کہ کسی چیز کے بارے میں ممانعت کا کوئی حکم آیاہو ، یا یہ کہ کوئی حکم نہ بھی ہو تو بھی یہ عام حکم موجود ہے کہ کسی چیز کا استعمال حد اعتدال سے زیادہ نہ ہو ۔ لیکن اصل پالیسی یہ ہے کہ دنیا کی تمام پاک چیزوں سے فائدہ اٹھانا جائز ہے ، تقاضائے فطرت کے عین مطابق ، تنگی ، سخت گیری اور ناجائز پابندیوں کے بغیر ۔ صرف ایک شرط ضرور ہے وہ یہ لوگوں کے لئے کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے ؟ اس کا فیصلہ صرف اللہ کے پاس ہو ، کیونکہ اللہ ہی نے ان طیبات کو پیدا کیا ہے ، لہٰذا حلال و حرام کے احکامات وہ اس شیطان سے اخذ نہ کریں جو ان کا بین دشمن ہے ۔ وہ تو انہیں صرف برائی اور فحش کا حکم دیتا ہے ۔ اور بغیر کسی ثبوت ویقین کے یہ شیطان اللہ پر افتراء باندھتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف کفر کی نسبت کرکے اس کی توہین کرتا ہے۔

البقرة 2:170

یہ کون لوگ تھے ، مشرکین بھی ہوسکتے ہیں جو باربار یہ ورد کرتے تھے کہ جب بھی انہیں اسلام کی طرف دعوت دی جاتی اور کہا جاتا کہ وہ اپنی اقدار اور اپنے قانون کا ماخذ اسلام کو تسلیم کرلیں اور جاہلیت کی ان تمام باتوں کو ترک کردیں جنہیں اسلام نے بحال نہیں رکھا ، تو وہ یہی دلیل دیتے ۔ یہودی بھی مراد ہوسکتے ہیں جنہوں نے اپنی روایات کو سختی سے پکڑا ہوا تھا ، اور وہ دین اسلام کی کسی بات کو ماننے کے لئے تیار نہ تھے ۔ بہرحال مراد مشرکین ہوں یا یہود ، اسلام اپنے پیروکاروں کو بڑی شدت سے منع کرتا ہے کہ وہ نظریہ وعمل میں کوئی چیز ان لوگوں سے اخذ کریں ۔ مسلمان ان لوگوں کی تقلید کریں ۔ اور نہ ہی ان سے کوئی چیز سوچے سمجھے بغیر درآمد کریں۔ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلا يَهْتَدُونَ ” اگر ان کے آباء اجداد نے کسی چیز کو سمجھانہ ہو کوئی راہ نہ پائی ہو تو پھر بھی “ اگر ان کے آباء اجداد کی فہم و فراست یہ ہو تو کیا پھر بھی یہ لوگ ان کے اتباع پر اصرار کریں گے ؟ تقلید وجمود کی یہ کیا گھناؤنی مثال ہے ۔ اس تقلید وجمود کی وجہ سے ہی قرآن مجید ان کے لئے نفرت آمیز خاکہ تجویز کرتا ہے ۔ انہیں ایک ایسے حیوان سے تشبیہ دی جاتی ہے جو کچھ نہیں سمجھتا ۔ اگر چرواہا ہے تو وہ صرف آواز سنتا ہے ۔ کچھ نہیں سمجھتا کہ اس نے کہا کیا۔ بلکہ ان کی حالت اس حیوان سے بھی بدتر ہے ۔ حیوان بہرحال دیکھتا ہے سنتا ہے ، آواز نکالتا ہے اور یہ لوگ نپٹ اندھے ، گونگے اور بہرے ہیں ۔

البقرة 2:171

گونگے ، بہرے اور اندھے ہیں ۔ اگرچہ وہ کانوں ، آنکھوں اور زبانوں والے ہیں ۔ وہ کیوں ایسے نہ ہوں کہ ان چیزوں کے باوجود وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے ۔ راہِ ہدایت نہیں پاتے ۔ جو آنکھیں ہوتے ہوئے نہیں دیکھتا تو اندھا ہے ، کان ہوتے نہیں سنتاتو بہرہ ہے ، زبان ہوتے حق بات نہیں کرتا تو ، گونگا ہے۔ جو شخص غور وفکر چھوڑ دے ۔ علم ومعرفت اور رشد وہدایت کے دروازے اپنے اپر بند کردے اور نظریہ حیات اور راہ عمل کا مآخذ ومصدر اس ذریعے کو قرار دے جو دراصل ماخذ ومصدر نہ ہو اور نہ اس کا مستحق ہو تو ایسے شخص کی اس سے زیادہ گھناؤنی تصویر کھینچنا ممکن نہیں ہے ۔ اب یہاں روئے سخن مومنین کی طرف پھرجاتا ہے ۔ ان کے لئے کھانے پینے کی پاک چیزوں کو حلال قرار دیا جاتا ہے ۔ حکم دیا جاتا ہے لپ وہ اپنے منعم کا شکریہ ادا کریں ۔ غیر پاکیزہ چیزوں میں بعض کو بصراحت حرام قرا ردیا جاتا ہے ۔ یہودی ، مسلمانوں کے ساتھ ان طیبات اور محرمات کے معاملے میں خوامخواہ الجھتے تھے ۔ ان پر تنقید کی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ حلال و حرام کے یہ احکامات اور یہ اصول تو خود ان کے ہاں بھی بصراحت موجود تھے۔

البقرة 2:172

یہاں مسلمانوں کو ” اے ایمان والو “ کے الفاظ سے پکارا گیا ہے ۔ اس لئے کہ ایمان ہی اہل اسلام کے درمیان مضبوط رابطہ ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ میں ہی ماخذ قانون ہوں اس لئے قانون مجھ سے اخذ کرو ۔ مجھ سے ہی حلال و حرام کے احکام اخذ کرو ۔ بتایا جاتا ہے کہ میں نے تم پر جو انعامات کئے ہیں انہیں یاد رکھو ۔ میں ہی تمہارا رازق ہوں اور میں نے ہی تمہارے لئے کھانے پینے کی چیزوں کو حلال قرار دیا ہے ۔ پاکیزہ چیزوں میں سے کسی ایک کو بھی حرام نہیں قرار دیا گیا۔ جو چیزیں حرام قرار دی گئی ہیں وہ اس لئے حرام نہیں کہ اللہ تم پر تنگی کرنا چاہتا ہے بلکہ اس لئے کہ اپنی اصلیت کے اعتبار سے وہ پاک اور طیب نہیں ہیں ۔ وہی تو ہے جو ابتدائے آفرینش سے تمہیں رزق دے رہا ہے ۔ پھر تلقین ہوتی ہے کہ اگر وہ صرف اللہ وحدہ لاشریک کی بندگی چاہتے ہیں تو پھر اس کا شکر ادا کریں ۔ چکر بھی عبادت اور بندگی کی ایک قسم ہے ۔ اور اللہ شکر ادا کرنے سے بہت راضی ہوتا ہے ۔ یہ تمام ہدایات اس آیت میں دے دی گئی ، جو چند کلمات پر مشتمل ہے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ” ایمان لانے والوں اگر تم حقیقت میں اللہ ہی کی بندگی کرنے والے ہو تو جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں انہیں بےتکلف کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ “

البقرة 2:173

اس کے بعد مخصوص طور پر بعض ان چیزوں کو جو حرام قرار دی گئی ہیں بیان کردیا جاتا ہے ۔ اور لفظ قصر ” انما “ استعمال کرکے دائرہ محرمات کو محدود کردیا إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ ” اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے کہ تم حرام نہ کھاؤ۔ خون سے اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو اور کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ “ ہر سلیم الفطرت انسان ، ازروئے طبع مردار کو ناپسند کرتا ہے ۔ یہی حال خون کا ہے لیکن فطرت کی کراہت کے علاوہ قرآن اور اس سے پہلے تورات کی بیان کردہ حرمت کے طویل عرصہ بعد ، طب جدید نے بھی اس سلسلے میں کچھ قیمتی انکشافات کئے ہیں ۔ مثلاً یہ کہ خون اور مردار میں کئی قسم کے مضر صحت اجزاء اور جراثیم (Microses) جمع ہوجاتے ہیں ۔ لیکن ہمیں کوئی یقینی علم نہیں ہے کہ طب جدید نے وہ تمام مضرات اور نجاستیں معلوم کرلی ہیں اور کوئی اور سبب تحریم اب باقی نہیں ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ ان اشیاء کی تحریم کے لئے کچھ اور اسباب بھی ہوں جن کا علم تک ہمیں نہ ہوسکا ہو۔ رہا خنزیر تو اس کے متعلق ابھی تک بعض لوگ اچھی رائے رکھتے ہیں ۔ لیکن فطرت سلیمہ اس سے بھی شدید متنفر ہے ۔ ایک طویل عرصہ سے شرائع سماویہ نے اسے حرام قرار دیا ہوا ہے ۔ اب جاکر یہ معلوم ہوا کہ اس کے خون ، گوشت اور انٹریوں میں ایک خطرناک کیڑا موجود ہے ۔ یہ کیڑا لمبے دھاگے (TapWrom) کی شکل میں ہوتا ہے ۔ اور اس کے انڈے ملفوف ہوتے ہیں ۔ اس کے بارے میں بعض سور خور کہتے ہیں ۔ صحت وصفائی کے وسائل بہت ترقی کرچکے ہیں ۔ لہٰذا یہ کیڑے اور ان کے انڈے مضر صحت نہیں رہے ۔ کیوں کہ زیادہ حرارت سے یہ انڈے اور کیڑے یکسر ختم ہوجاتے ہیں ۔ اور صحت وصفائی کے جدید وسائل کے تحت یہ سہولتیں ہر جگہ میسر ہیں لیکن یہ لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ قرون طویلہ کے بعد ان کی علمی جدوجہد نے صرف ایک مضر کیڑا دریافت کیا ۔ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ خنزیر کے گوشت میں کوئی اور ایسا مضر صحت جز نہیں ہے ۔ جس کا انکشاف نہ ہوا ہو۔ شریعت الٰہیہ جس نے ہزاروں سے سال پہلے ، انسانی علم و آگہی سے بہت پہلے اس مضر صحت کو ممنوع قرار دیا ، کیا اس بات کی مستحق نہیں ہے کہ اس پر کلی اعتماد کیا جائے ۔ اس کے فیصلے کو قول فیصل سمجھاجائے اور اس کے حلال کردہ کو حلال اور اس کے حرام کردہ کو حرام قرار دیا جائے ۔ اس لئے کہ یہ شریعت حکیم وخبیر اللہ کی جانب سے نازل شدہ ہے ۔ وہ چیزیں جن پر اللہ کے سوا دوسروں کا نام لیا گیا ہو۔ ان چیزوں کے مالکان نے انہیں غیر اللہ کی طرف موڑ دیا ہو۔ یہ چیزیں بھی حرام ہیں ۔ اس لئے کہ ان چیزوں کی ذات میں حرمت کی کوئی وجہ ہے ، محض اس لئے کہ ان چیزوں کا رخ غیر اللہ کی طرف کردیا گیا ہے ۔ مرکز توجہ بدل گیا ، ضمیر خالص نہ رہا ۔ روح پاک نہ رہی ، دل اللہ کے لئے سالم نہ رہا اور عقیدہ ونظریہ پاک نہ رہا۔ یہ ہے وہ روحانی سبب جس کی وجہ سے ان چیزوں کا استعمال حرام قرار دیا گیا اور یہ بھی اسی طرح ناپاک ہوا ، جس طرح مادی نجاست ناپاک ہوتی ہے ۔ لہٰذا یہ بھی غیر طیب اور وہ بھی غیر طیب ۔ چونکہ اسلام اس امر کی تاکید کرتا ہے کہ مسلمان تعظیم و تکریم کے ساتھ صرف بارگاہ الٰہی کی طرف متوجہ ہوں اور اس میں کسی اور کو شریک نہ کریں ، اس لئے ان چیزوں کو بھی اسی طرح نجس قرار دے کر نجس العین اشیاء کے ساتھ رکھا ۔ کیونکہ یہ اشیاء نظریاتی طور پر ناپاک ہیں پاکی قلب ونظر اور جسم وجگر ان تمام حرام کردہ چیزوں کے اسباب میں قدر مشترک ہے ۔ چونکہ سابقہ آیات میں عقیدہ توحید بیان ہوا تھا۔ مطلب یہ تھا کہ تمہارا خالق و رازق ایک ہے ۔ یہاں کہا گیا کہ شارع اور مقنن بھی وہی ہے ۔ رزق وخلق کا مصدر اور قانون و شریعت کا مآخذ ایک ہے ۔ ان آیات میں یہ تصور ایک گہرا ربط پیدا کردیتا ہے ۔ اس حرمت کے باوجود اسلام بعض حالات و ضرورت کا خیال بھی رکھتا ہے ۔ ایسے حالات میں محدود طور پر ، ضرورت کی کم سے کم حد تک ، ان محرمات کو جائز قرار دے دیتا ہے۔ لیکن ہدایت کرتا ہے کہ ضرورت کی حد سے ہرگز آگے نہ بڑھاجائے ۔ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلا عَادٍ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ” ہاں جو شخص مجبوری کی حالت میں ہو اور وہ ان میں سے کوئی چیز کھالے بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو۔ یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے ، تو اس پر کچھ گناہ نہیں اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ “ استثناء کا یہ اصول بذاتہ تو عام ہے ، لیکن یہاں یہ مذکورہ بالا محرمات پر متفرع ہے ۔ لیکن ان محرمات کے علاوہ اس کا اطلاق دوسرے محرمات پر بھی ہوسکتا ہے ۔ جہاں ایسی ضرورت ہو ، جہاں زندگی خطرے میں ہو اور ان محرمات کے علاوہ کوئی اور چیز سامنے نہ ہو تو وہاں بھی ممنوعہ چیز کو کم ازکم ضرورت پورا کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ ضرورت کے مقامات کے بارے میں فقہاء کے درمیان فقہی اختلافات پائے جاتے ہیں ، مثلاً کیا ضرورت کے مسئلے میں قیاس چلے گا یا محض منصوص ضرورت تک استفادہ محدود ہوگا ؟ پھر ضرورت پوری کرنے کی مقدار کیا ہے ؟ کم ازکم استعمال ہے یا سیر ہو کر کھالینا ہے ؟ میں یہاں ان اختلافات کی تفصیل میں جانا نہیں چاہتا ۔ جو کچھ کہا گیا وہ فی ظلال القرآن کے لئے کافی ہے۔ جن چیزوں کو حرام یا حلال قراردیا گیا تھا ، ان کے بارے میں یہودیوں نے غوغا آرائی شروع کردی تھی ۔ جیسا کہ قرآن مجید نے دوسری جگہ صراحت کی ہے ۔ بعض چیزیں ایسی بھی تھیں جو صرف یہودیوں پر حرام کی گئی تھیں۔ وَعَلَی الَّذِینَ ھَادُواحَرَّمنَا کُلَّ ذِی ظُفُرٍ وَمِنَ البَقَرِ وَالغَنَمِ حَرَّمنَا عَلَیھِم شُحُومَھُمَا اِلَّا مَا حَمَلَت ظُھُورُھُمَا اَوِالحَوَایَا اَو مَا اختَلَطَ بِعَظمٍ ” اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے ، اور گائے اور بکری کی چربی بھی بجز اس کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی آنتوں میں لگی ہوئی ہو یا ہڈی سے لگی رہ جائے ۔ “ یہ چیزیں مسلمانوں کے لئے جائز تھیں۔ غالباً اس جواز پر وہ سخت معترض تھے ۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ ان چیزوں کی حرمت پر بھی اعتراض تھا جو یہاں حرام کردی گئی ہیں حالانکہ یہ چیزیں تورات میں خود ان کے لئے بھی حرام بیان ہوئی تھیں ۔ مطلب ان کا صرف یہ تھا کہ کسی نہ کسی طرح قرآنی احکامات کو مشکوک کیا جائے اور مسلمانوں کے دل میں یہ شبہ ڈال دیا جائے کہ رسول ﷺ پر وحی منجانب اللہ آتی ہے یا نہیں ۔

البقرة 2:174

جو لوگ آسمانی کتابوں میں اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات چھپاتے ہیں ان پر ان آیات میں شدید ترین تنقید کی گئی ہے۔ کون لوگ تھے وہ جو اللہ کے نازل کردہ احکام کو چھپاتے تھے ؟ سب سے پہلے ان سے مراد اہل کتاب ہیں ۔ لیکن قرآن مجید کی اس آیت کے مفہوم میں ہر مذہب وملت کے وہ لوگ شامل ہیں جو سوچنے سمجھنے کے باوجود حق کو چھپاتے ہیں ۔ کیوں چند ٹکوں کی خاطر ان مفادات کی خاطر جو وہ کتمان حق کے نتیجے میں حاصل کرتے ہیں یا اس لئے کہ انہوں نے کچھ مفادات پیش نظر رکھے ہوتے ہیں اور اگر وہ حق بیان کریں تو یہ مفادات خطرے میں پڑ سکتے ہیں ۔ یا ثمن قلیل سے مراد پوری دنیا ہے ۔ کتمان حق سے یہ لوگ ثواب آخرت اور رضائے الٰہی سے محروم ہوجاتے ہیں اور یہ ایک عظیم خسارہ ہے ۔ اس کے مقابلے میں بیشک پوری دنیا ثمن قلیل ہے۔ کھانے پینے کے حلال و حرام اشیاء کے بیان کے سلسلے میں اعلان ہوتا ہے ۔ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلا النَّار ” وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں ۔ “ حلال و حرام کے بیان کی مناسبت سے ان کے لئے یہ فقرہ استعمال کیا گیا ۔ یعنی حق چھپا کر وہ جو قلیل اجرت لیتے ہیں اور اسے کھاتے ہیں ، یہ دراصل ان کے پیٹ میں آگ ہوگی اور ان کا کھانا بھی آگ ہی ہوگی۔ انہوں نے حق کو چھپایا ۔ اس کے تحت سزا ملے گی انہیں ۔ انہیں قیامت کے دن ذلت اور اہانت کی حالت میں چھوڑدیاجائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی توجہ اور نظر کرم سے وہ محروم رہیں گے اور اس حالت زار ، بےقدری اور ذلت کی تعبیر اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں کرتے ہیں ۔ وَلا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلا يُزَكِّيهِمْ ” قیامت کے روز اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا اور نہ ہی انہیں پاکیزہ ٹھہرائے گا۔ “ ان کے ساتھ کوئی بات نہ ہوگی ، ان کا کوئی اہتمام نہ ہوگا ، انہیں پاک نہ کیا جائے گا اور ان کی مغفرت بھی نہ ہوگی ۔ اور انہیں مکمل طور پر نطر انداز کردیا جائے گا۔ یہ اس لئے کہ اہل ایمان کی نظر میں ان کی سزا خوفناک ہوجائے اور صورت حال عام لوگوں کے حس و شعور کے قریب ہوجائے وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ” اور ان کے لئے دردناک سزا ہے۔ “

البقرة 2:175

اور ایک دوسری زندہ تعبیر أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلالَةَ بِالْهُدَى وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ ” وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب مول لیا ۔ “ گویا یہ ایک خرید وفروخت ہے ۔ جس میں یہ لوگ ہدایت سے روگردانی کرتے ہیں اور ضلالت خریدتے ہیں ۔ مغفرت سے محروم ہوتے ہیں اور عذاب دائمی خریدتے ہیں ۔ کس قدر ناسمجھ ہیں یہ لوگ جو اس قدر عظیم خسارے کا سودا کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے ایک عظیم الشان برائی خریدلی ہے ۔ ہدایت ان کے لئے عام تھی مگر انہوں نے اسے ترک کرکے ضلالت کو اختیار کرلیا۔ مغفرت کے مواقع انہیں فراہم تھے ۔ مگر انہوں نے انہیں گنوادیا اور عذاب کو اپنالیا۔ فَمَا أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ ” کیا عجیب ہے ان کا حوصلہ کہ جہنم کا عذاب برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ “ اس کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں ۔ ان کے اس احمقانہ کام پر قدرت خندہ زن ہے ۔

البقرة 2:176

انہوں نے سخت گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اور یہ اس کی پوری سزا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تو کتاب اس لئے بھیجی تھی کہ اسے لوگوں تک پہنچایا جائے ، اسے زمین پر نافذ کیا جائے ۔ اور وہ ان کا قانون ہو ، ان کا نظام زندگی ہو ، لیکن ان ظالموں نے اس کو چھپالیا ۔ اسے چھپا کر میدان عمل سے خارج کردیا ۔ حالانکہ وہ ایک ایسی سچائی تھی جس پر عمل کرنے کی غرض سے بھیجا گیا تھا۔ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ نَزَّلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ ” یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ نے تو ٹھیک حق کے مطابق کتاب نازل کی تھی ۔ “ اور جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئے وہ ہدایت پر آگئے ، حق کے ساتھی بن گئے ، ان لوگوں کے ٹولے میں آگئے جو حق کے راہ یاب تھے ۔ انہوں نے فطرت کائنات کا ساتھ دیا اور فطرت کے حقیقی اصولوں پر آگئے ۔ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتَابِ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ ” مگر جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف نکالے وہ اپنے جھگڑوں میں حق سے بہت دور نکل گئے۔ “ ایسے لوگ حق سے دور جاچکے ہیں ۔ وہ اصول فطرت سے بھی ٹکراتے ہیں ۔ وہ خود ایک دوسرے سے بلکہ خود اپنے نفس سے بھی ٹکراتے ہیں ۔ وہ اس طرح تھے اور اسی طرح رہیں گے ۔ یہی حال ہوگا ہر اس امت کا جو کتاب اللہ میں جھگڑے ڈالتی ہے ۔ کتاب الٰہی کو پورے طور قبول نہیں کرتی ۔ بلکہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتی ہے ۔ ہر دور اور ہر زمانے میں ، ہر امت اور ہر قوم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہی سلوک ہے ۔ جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں ، اس آیت کا مصداق ہمیں اچھی طرح نظر آرہا ہے ۔ سب سے آخر میں ایک اور صرف ایک آیت میں ایمانی تصور زندگی کے تمام اصول رکھ دیئے جاتے ہیں ۔ ایمانی طرز عمل کا معیار بیان کردیا جاتا ہے اور بتادیا جاتا ہے کہ قرآن کی رو سے نیک لوگوں کی صفات کیا ہیں ؟

البقرة 2:177

سچ بات یہ ہے کہ یہ آیت بھی تحویل قبلہ کے احکام اور ان پر یہودیوں کے طویل اعتراضات وجوابات کے ساتھ مربوط ہیں ۔ تحویل قبلہ کی حکمت کے بارے میں تو ہم اس سے پہلے بیان کر آئے ہیں ۔ یہاں اللہ تعالیٰ ۔ عبادات اور شعائر دین کی ظاہری شکل و صورت کے بارے میں یہودیوں کی ظاہر بینی اور تقشف پرستی کو بےنقاب کرتے ہوئے ، حسن وقبح کا ایک عظیم معیار اور نیکی اور بدی کی اصلی حقیقت بیان کررہے ہیں۔ کیونکہ یہودی ان ظاہری امور کے بارے میں بےحد حساس تھے اور جھگڑتے تھے ۔ تحویل قبلہ یا تمام عبادات میں غرض وغایت یہ نہیں کہ لوگ مشرق کی طرف رخ کریں یا مغرب کی طرف چہرہ کرکے عبادت سر انجام دیں۔ بیت المقدس کی طرف رخ کریں یا مسجد حرام کی طرف ۔ یا یہ کہ عبادات کی موجودہ شکل و صورت ہی عین خیر وبھلائی نہیں ہے ۔ بلکہ ان کے لئے بہت ضروری ہے کہ دل کے اندر محسوس کیا جانے والاتصور اور اسلامی نظریہ حیات کا زندہ شعور ضروری ہے ۔ ان ذہنی امور کے ساتھ ساتھ مخصوص طرز عمل اپنانا بھی ضروری ہے ۔ ورنہ نیکی وبھلائی کے حصول اور حسن وخیر کو بروئے کار لانے کا اصل مقصد پورا نہ ہوسکے گا۔ نیکی دراصل ایک تصور ہے ، ایک شعور ہے ، کچھ اعمال ہیں ، ایک طرز عمل ہے ۔ یہ ایک تصور حیات ہے ۔ جو ایک فرد اور ایک جماعت کے ضمیر پر اثر انداز ہو ، وہ ایک عمل ہے جو فرد وجماعت کی زندگیوں میں پسندیدہ اثرات پیدا کرے ۔ صرف مشرق ومغرب کی طرف سے رخ پھیر دینے سے زندگی میں یہ انقلاب کیونکر آسکتا ہے ۔ منہ کوئی ادھر کرے یا ادھر کرے ، فرق کیا پڑتا ہے ، اصل مقصد تو رجوع قلب ہے ۔ جو اللہ کے احکام مانتا ہے ، منزل پالیتا ہے ۔ یہی معاملہ ہے تمام دینی شعائر کی ظاہری شکل و صورت کا ، جنہیں یہ ادا کرتے ہیں ۔ جو اللہ کے احکام مانتا ہے ، منزل پالیتا ہے ۔ یہی معاملہ ہے تمام دینی شعائر کی ظاہری شکل و صورت کا ، جنہیں یہ ادا کرتے ہیں۔ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَالْمَلائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ ” بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے ۔ “ یہ ہے بھلائی کا وہ معیار جو تمام بھلائیوں کا مجموعہ ہے ۔ اس معیار میں نیکی کی جو اقدار مقرر کی گئی ہیں وہ بہت ہی وزنی ہیں ۔ اللہ ایمان ، یو آخر پر ایمان اور ملائکہ وکتب اور انبیاء پر ایمان کی قدر و قیمت اسلامی نقطہ نظر سے کیا ہے ؟ اللہ پر ایمان لانا انسانی زندگی میں ایک نقطہ انقلاب ہے ۔ اس کے ذریعے انسان مختلف قوتوں ، مختلف چیزوں اور مختلف پسندیدہ تصورات کی بندگی اور غلامی سے آزاد ہوجاتا ہے ۔ اور صرف ایک بندگی اور غلامی قبول کرلیتا ہے ۔ یوں انسان تمام دوسرے انسانوں کے ساتھ ، ایک ہی صف میں کھڑا ہوکر ، ایک ہی معبود کے سامنے جھک کر ، اخوت و مساوات کا بلند مقام حاصل کرلیتا ہے ۔ ایمان وہ مقام ہے جہاں طوائف الملوکی کی بجائے ایک نظام قائم ہوتا ہے ۔ انتشار کی جگہ یکسوئی اور اختلاف کی جگہ اتحاد قائم ہوجاتا ہے نیز گمراہی کے بجائے ایک اونچا نصب العین سامنے آجاتا ہے ۔ اگر انسان کے دل میں ایک واحد لاشریک خدا پر ایمان نہ ہو تو ، اس دنیا میں اس کا کوئی نصب العین نہیں ہوتا ، جس پر دلجمعی کے ساتھ اپنی قوتوں کو مرتکز کرسکے اور جس پر مساوات کے ساتھ وہ مجتمع ہوسکے ۔ بعینہ اس طرح جس طرح وجود کائنات ایک نقطہ کے اردگرد مرتکز ہے ۔ اس کے اجزا کا باہمی ربط ہے ۔ اور ان کے مابین واضح نسبت موجود ہے ۔ اور جس کے مختلف اجزاء کے باہمی علائق اور مقاصد بالکل واضح اور معلوم اور مربوط ہیں ۔ آخرت پر ایمان کا مقصد یہ ہے کہ انسان جزا وسزا میں اللہ تعالیٰ کی عدالت کو یقین کے ساتھ تسلیم کرے ۔ یہ جانے کہ اس کرہ ارض پر انسان کو یونہی بےمقصد نہیں پیدا کیا گیا ۔ وہ غیر ذمہ دار نہیں ہے بلکہ اسے حساب دینا ہوگا اگر کوئی بھلائی کرے تو وہ ختم نہیں ہوسکتی اگرچہ اس کی جزا اس دنیا میں نہ ملے ۔ ملائکہ پر ایمان بھی غیب پر ایمان کا ایک حصہ ہے ۔ انسانی فہم وادراک اور ایک حیوان کے فہم وادراک میں یہی فرق ہے ۔ انسانی تصور حیات اور حیوانی تصور حیات میں یہی فرق ہے کہ انسان محسوسات سے آگے کی بھی بعض چیزوں پر ایمان لاتا ہے اور ان کا ادراک کرسکتا ہے ۔ جبکہ حیوان کا احساس صرف محسوسات کے دائرے میں محدود ہوتا ہے کتاب اور نبیوں پر ایمان کا مقصدیہ ہے کہ انسان تمام رسولوں پر ایمان لائے بلاتفریق ۔ یعنی انسانیت بھی ایک ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے ۔ اس کا خدا بھی ایک ہے ۔ اس کے لئے دین اور نظام زندگی بھی ایک ہے ۔ اس طرح مومن انبیاء ورسل کے اعلیٰ خیالات کا وارث ہوجاتا ہے ۔ لہٰذ اکتب ورسل پر ایمان ایک مومن کو بہت قیمتی شعور عطا کرتا ہے۔ مال کے ساتھ انسان کو بڑی محبت ہے لیکن مال قربان کرنے کی بھی بڑی اہمیت ہے ۔ غریب رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، مسافروں اور گردن چھڑانے اور غلامی سے نجات دلانے کے لئے مال خرچ کرنا یہ سبھی کام انسان کو بلند مرتبہ بناتے ہیں ۔ انفاق فی سبیل اللہ کا یہ اثر ہوتا ہے کہ انسان لالچ ، خود غرضی اور بخل کے بندھنوں سے آزاد ہوجاتا ہے ۔ مال کی محبت ہاتھوں کو انفاق سے کھینچ لیتی ہے ۔ انسان بلند ہمتی ، اولوالعزمی ، جودوسخا اور دادوہش کے مقام بلند سے گرجاتا ہے اور روح انسانی میں کشادگی نہیں رہتی ۔ اسلامی نظام میں انفاق کا ایک روحانی مقام ہے ۔ اس لئے یہ ان مسلمانوں کو بھی حکم دیا جاتا ہے کہ مال کی محبت کے باوجود اپنا محبوب ترین اور پسندیدہ ترین مال کو دل وجان کی آمادگی اور کشادگی کے ساتھ خرچ کریں ۔ اس کی بڑی روحانی اہمیت ہے اور اس طریقہ سے مومن اپنے آپ کو دولت کی پوجا اور دولت کی غلامی سے چھڑالے گا ۔ دولت کی پوجا سے انسان بالیقین ذلیل ہوجاتا ہے۔ سرفرازی کی بجائے سرنگوں ہوتا ہے اور انفاق سے وہ لالچ اور حرص کی غلامی سے آزاد ہوجائے گا ۔ اسلامی نقطہ نظر سے سرنگوں ہونے کے بجائے وہ گردن فراز ہوجائے گا لیکن اگر وہ انفاق نہ کرے توذلیل ہوگا ۔ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی بہت بڑی قدر و قیمت ہے ۔ کیونکہ اسلامی نظام کی غایت یہ ہے کہ انسان کو سب سے پہلے نفسیاتی پریشانیوں ، اخلاقی کمزوریوں اور طمع و لالچ سے نجات دلائے ۔ یہ کام انسان کے لئے معاشرتی آزادی سے بھی پہلے کیا جاتا ہے ۔ شخصی وسیاسی آزادی سے بھی پہلے کیوں ؟ اس لئے کہ جو شخص اپنے نفس کا غلام ہو وہ بسہولت طاغوت کی غلامی کے لئے بھی تیار ہوتا ہے۔ لیکن جو شخص خواہشات نفسانیہ کے قید وبند سے آزاد ہوجاتا ہے وہ اپنے معاشرے اور سوسائٹی میں بھی آزاد ہوتا ہے ۔ کسی کی غلامی کے لئے تیار نہیں ہوتا ۔ انسانی معاشرے میں انفاق فی سبیل اللہ کی ایک معاشرتی قدر و قیمت بھی ہے ۔ اقربا سے صلہ رحمی کی وجہ سے نفس انسانی میں مروت پیدا ہوتی ہے ، خاندان میں شرافت کا چلن فروغ پاتا ہے اور اقرباء کے درمیان تعلقات زیادہ قوی ہوجاتے ہیں ۔ اسلامی معاشرے کی اساس خاندان پر ہے اس لئے یہاں انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعہ خاندانی نظام کو مضبوط کرنے کی سعی کی گئی ہے ۔ پھر یتیموں کی مالی امداد کا حکم ہے ۔ اس کا مقصد اصل معاشرہ میں امیر و غریب ، طاقتور اور کمزور کے درمیان نظام کفالت کا قیام ہے ۔ یتامی مادری اور پدری شفقت سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ ان کے لئے ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ ان کے احساس محرومیت کی تلافی کی جائے ۔ پھر اس تکافل کے نتیجے میں پوری سوسائٹی کو ان خودرو شتر بےمہار اور غیر تربیت یافتہ افراد کی کثرت سے بھی بچایا گیا ہے۔ جو معاشرے کے لئے مسائل پیدا کرتے ہیں ۔ اس کے لئے وبال جان بن جاتے ہیں اور فتنہ سامانیوں کا موجب بنتے ہیں ۔ ایسے لوگ آگے جاکر معاشرے کی لاپرواہی اور بےمروتی کا خوب انتقام لیتے ہیں ۔ مساکین پر انفاق جن کے پاس وسائل زندگی نہیں ہیں ۔ پھر بھی وہ خاموش بیٹھے ہیں ۔ عزت نفس رکھتے ہیں اور سوال نہیں کرتے ۔ یہ انفاق ان کی عزت نفس کے لئے محافظ ہے ۔ انہیں تباہی سے بچاتا ہے ۔ نظام انفاق سے اسلامی معاشرے میں ، ایسے حضرات کے دلوں میں اجتماعی کفالت اور ضمانت کا شعور پیدا ہوتا ہے ۔ اسلامی معاشرہ تو ہوتا ہی وہ ہے جس میں کسی فرد کو بےیارومددگار نہ چھوڑاجائے اور اس کے کسی عضو کو ضائع ہونے نہ دیا جائے ۔ ابن سبیل (مسافر) جو اپنے خاندان سے دور ہو ، جن کے پاس وسائل موجود نہ ہوں ، اچانک مصیبت میں گرفتار ہوجائے ۔ خاندان کے افراد اس سے دور ہوں ، ایسے حالات میں یہ مسافر بھی مصیبت زدہ ہے ۔ یہ انفاق اس کے لئے ایک قسم کی ہنگامی امداد ہے ۔ اس امداد سے اسے یہ شعور دیا جاتا ہے کہ پوری انسانیت اس کا خاندان ہے ۔ ہر ملک اس کا ملک ہے ، ہر جگہ اس کا خاندان موجود ہے ، مسلمان اس کے اہل خاندان ہیں ۔ ہر جگہ اس کے اپنے مال کے بدلے اس کے لئے مال موجود ہے ۔ اس کے لئے صلہ رحمی موجود ہے ۔ اور اس کے لئے آرام کا سامان فراہم ہوسکتا ہے ۔ سائلین پر انفاق ضروری ہے تاکہ ان کی ضرورت پوری ہو ، وہ آئندہ سوال کرنا چھوڑدیں ۔ اسلام بھیک مانگنے کو ناپسند کرتا ہے ۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جس کے پاس بقدر کفالت موجود ہو اس کے لئے سوال کرنا جائز نہیں ہے ۔ جو کام کاج کرسکتا ہے ، اس کے لئے بھی سوال جائز نہیں ہے ۔ ایسے شخص کے لئے خدا کا حکم یہ ہے کہ وہ مزدوری کرے ، بھیک نہ مانگے یا قناعت کرے ، دست سوال دراز نہ کرے ، بھیک مانگنا تب جائز ہے جب کام نہ ہو ، مال نہ ہو ، اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو ۔ غلامی سے چھڑانے میں انفاق بھی ایک مد ہے ۔ جو بدقسمت اپنی بدعملی کی وجہ سے غلام ہوگیا ، اس نے اسلام کے خلاف تلوار اٹھائی ۔ جنگ کے نتیجے میں اس کی آزادی ختم ہوگئی ۔ اسے عارضی طور پر معاشرے میں مقام شرافت سے محروم کردیا گیا۔ اس پر انفاق یوں ہوگا کہ اس کو خرید کر آزاد کردیا جائے یا غلام اپنے آقا سے معاہدہ آزادی کرے اور اسے رقم معاہدہ ادا کرنے کا پابند ہو ۔ اسلام نے غلاموں کے لئے یہ قانون بنایا تھا کہ غلام جس وقت چاہتا مالک کے ساتھ ایک معاہدہ آزادی کرتا اور آزاد ہوجاتا۔ اس معاہدے کے مطابق اسے وہ رقم ادا کرنی ہوتی ہے جو طے پاجائے ۔ (ایسے معاہدہ کے بعد غلام ) اپنے کام کی اجرت وصول کرنے کا مستحق ہوجاتا ہے جو معاہدے کی رقم میں کٹتی رہتی ہے ۔ علاوہ ازیں وہ مستحق زکوٰۃ ہوجاتا ۔ اسی طرح وہ انفاق فی سبیل اللہ کی تمام مدات میں سے اس کی امداد کی جاسکتی تھی تاکہ وہ جلد از جلد رقم معاہدہ ادا کرکے آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوجائے۔ اقامت صلوٰۃ نیکی کے اس معیار میں نماز کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔ اور اقامت صلوٰۃ صرف مشرق ومغرب کی طرف چہرہ کرکے کھڑے ہوجانے سے اقامت کا مفہوم ادا نہیں ہوجاتا۔ یہ نقطہ وسیع تر مفہوم رکھتا ہے۔ جو یہ ہے کہ انسان کا ظاہر و باطن اور اس کی عقل وروح سب پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجائیں ۔ نماز نہ تو محض جسمانی ورزش کا نام ہے اور نہ ہی صرف صوفیانہ درودوظائف کا نام ہے۔ نماز دراصل اسلام کی بنیادی فکر ونظر کی عکاس ہے۔ اسلام اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے کہ انسان اس ایک وجود میں جسم ، روح اور عقل تین چیزوں کا اجتماع ہے ۔ اسلام اس بات کا بھی قائل نہیں ہے کہ ان تین طاقتوں کی سرگرمیوں اور دائرہ عمل میں باہمی کوئی تضاد پایا جاتا ہے ۔ وہ جسم کو فناکرکے روح کو آزاد کرنا جائز نہیں سمجھتا ۔ کیونکہ روحانی آزادی کے لئے جسمانی فنا یا جسم کو مارنا لازمی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ، اپنی سب سے اہم اور بڑی عبادت یعنی نماز میں ان تین طاقتوں کی سرگرمی کو ہم آہنگ کردیا ہے ۔ نماز میں تینوں قوتیں مکمل نظم کے ساتھ اپنے خالق کی طرف متوجہ ہوجاتی ہیں ۔ قیام ، رکوع اور سجدہ وجسمانی حرکات ہیں جو روح کو رجوع الی اللہ کی طرف راغب کرتی ہیں ۔ قرآن کی تلاوت ، اس میں غوروفکر اور مفہوم کو سمجھنا عقل کا کام ہے اور اس پورے عرصے میں عقل انسانی اس کام میں مصروف ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی عزت توجہ اور مکمل تسلیم ورضا اور عجز و انکسار روح کا کام ہے اور اس طرح یہ تینوں قوتیں ایک ہی وقت میں مصروف کار ہوتی ہیں ۔ غرض اس معنی میں اقامت صلوٰۃ پوری اسلامی طرز فکر کی نمائندہ ہے ۔ اور وہ چشم بینا کو یہ سبق یاد دلاتی ہے کہ پوری زندگی کے متعلق اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے ؟ ہر نماز اور ہر نماز کی حرکت میں ہم یہ سبق دہراتے ہیں ۔ زکوٰۃ کی ادائیگی یہ اسلامی نظام میں غرباء و مساکین کے لئے اغنیاء اور اہل ثروت کی دولت پر عائد کردہ ، ایک اسلامی ٹیکس ہے ۔ یہ ٹیکس اللہ تعالیٰ نے عائد کیا ہے ۔ دراصل اللہ تعالیٰ ہی دولت کا حقیقی مالک ہے ۔ بندے کو اس کا مجازاً مالک بنایا گیا ہے ۔ اور اس لئے اسلامی نقطہ نظر سے اس پر کچھ شرائط عائد کی گئی ہیں اور ان میں سے اہم اور لازمی شرط ادائیگی زکوٰۃ ہے ۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کا ذکر عام انفاق فی سبیل اللہ کے عام حکم کے بعد کیا گیا ہے جس کا ذکر اوپر ہوگیا ہے کہ دولت محبت کے باوجود اقرباء وغیرہ پر صرف کی جائے گی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ مذکورہ بالا تمام صرف مال اور انفاق فی سبیل اللہ سے علیحدہ ایک مستقل مد ہے ۔ یہ لازمی ٹیکس اور منصوص فرض ہے ۔ جب کہ عام انفاق فی سبیل اللہ صرف ترغیب ہے ۔ لیکن نیکی کا یہ مجموعی معیار جس کا اس آیت میں ذکر ہوا ہے ، اس وقت تک مکمل نہ ہوگا جبب تک ان دونوں مدات پر حسب حساب وحسب توفیق عمل نہ کیا جائے ۔ یہ دونوں مدیں اسلام کی بنیادی عناصر ترکیبی ہیں ۔ لیکن ہر انسان کی زندگی میں دونوں کا پایا جانا ضروری ہے ۔ ایک پر عمل کرنے سے دوسرا ہرگز ساقط نہیں ہوسکتا۔ وفائے عہد یہ اسلام کی وہ علامت ہے جس کی حفاظت میں اسلام بےحد کوشش کرتا ہے ۔ قرآن کریم میں بار بار اس کا تذکرہ ہوتا ہے ۔ اسے ایمان کی نشانی گردانا گیا ہے ۔ اسے احسان اور آدمیت کی نشانی قرار دیا گیا ہے اور یوں اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔ ایک انسان اور انسان کے تعلقات میں ایک فرد اور جماعت کے تعلقات میں ، ایک قوم اور دوسری قوم کے تعلقات میں اعتماد اور اطمینان پیدا کرنے کے لئے وفائے عہدنہایت ہی ضروری ہے ۔ وفائے عہد کی خشیت اول خود ذات باری تعالیٰ سے اپنے عہد کی وفا ہے۔ اگر ایک مستحق اپنے مالک کا وفادار نہ ہو تو ہمیشہ پریشان اور غیر مطمئن رہے گا اور کوئی عہد پورانہ کرسکے گا ۔ وہ کسی میثاق پر جم نہ سکے گا ۔ کسی انسان پر اعتماد نہ کرے گا ۔ دوستوں اور دشمنوں کے ساتھ ، وفائے عہد میں اسلام اس مقام بلند تک پہنچا ہے کہ جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں اور کہیں نہیں ملتی ۔ کوئی قوم ، کوئی امت بھی اس مقام بلند تک نہیں پہنچ سکی ۔ یہ مقام انسانیت کو اسلام کے سایہ اور اسلامی نظریہ حیات کی روشنی ہی میں معلوم ہوا۔ حق اور باطل کی کشمکش میں صبر صبر وہ وصف ہے جو انسان کو مصائب برداشت کرنے کے قابل بناتا ہے ۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ کوئی مشکل مرحلہ آئے تو انسان بہت ہمت سے اس کا مقابلہ کرے ۔ مصیبت کے وقت آہیں بھرناشروع نہ کردے۔ سختیوں میں جزع وفزع شروع نہ کردے ۔ صبر اور مصابرت اور تحمل وثبات اسی کا نام ہے ۔ صبر مضبوطی سے حق کو پکڑلینے کا نام ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مصائب کے بادل چھٹ جاتے ہیں ۔ مصیبت دور ہوجاتی ہے اور مشکلات کے بعد آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں ۔ یہ اللہ کی مرضی کو قبول کرنا ہے ، اس سے پر امید ہونا ، اس پر اعتماد کرنا ہے ۔ وہ امت جسے پوری انسانیت کی امامت اور نگرانی کا مقام دیا گیا ہو ، جسے دنیا میں عدل قائم کرنا ہے اور پوری انسانیت کی اصلاح کا فرض ادا کرنا ہے ، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ دولت صبر سے مالا مال ہو۔ مشکلات درپیش ہوں ، اس کی راہ میں بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی ہوں۔ اسے تنگیوں ، مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے ۔ باطل کے ساتھ کشمکش برپا ہو اور شدید سے شدید ترحالات پیش آئیں تو صبر و استقامت ہی اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہو۔ مصیبت اور غربت میں صبر ، جسمانی ضعف اور بیماری میں صبر افراد کی قلت اور کمزوری پر صبر ، محاصرے اور مجاہدے میں صبر ، غرض ہر حال میں صبر اور ہر آن میں صبر ۔ صرف یہی ایک صورت ہے جس میں یہ امت اپنا عظیم فرض منصبی ادا کرسکتی ہے ۔ وہ اپنے منصوبے کو پورا کرسکتی ہے ۔ بصورت دیگر اسے کامیابی حاصل نہ ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تنگی ومصیبت کے اور حق و باطل کی کشمکش میں صبر کرنے والوں کو لفظ الصابرین (حالت نصبی) سے مخاطب کیا ہے ۔ جس سے لفظ ” خاص کر “ کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس سے پہلے جن صفات کا ذکر ہوا ہے وہ حالت رفعی (مستقل جملوں) میں ہیں لیکن اس صفت کو حالت منصبی (مفعول ہے اور فعل محذوف ہے) میں ذکر کیا ہے۔ مطلب ہے (میں صابرین کو مخصوص طور پر بیان کرتا ہوں ، نیکی اور بھلائی کی صفات کے ذکر کے ضمن میں یہ ایک خاص اشارہ ہے اور اس کا اپنا ایک مخصوص وزن اور ایک خاص اہمیت ہے ، یعنی اللہ پر ایمان فرشتوں پر ایمان ، کتابوں پر ایمان ، نبیوں پر ایمان ، مال کا خرچ کرنا ، نماز کا قائم کرنا ، زکوٰۃ کا ادا کرنا ۔ اور وفائے عہد کی تمام صفات میں سے صفت صبر اور اس کے حاملین الصابرین کو زیادہ اہمیت حاصل ہے ، اللہ کے ہاں ان کی سب سے زیادہ قدر ہے ۔ صابرین کا مقام سب سے زیادہ برتر وبلند ہے ۔ صابرین کے اس مقام بلند کو دیکھ کر تمام لوگوں کی نگاہیں اس طرف اٹھ جاتی ہیں ۔ ذرا دیکھئے ایک ہی آیت میں نظریہ و عقیدہ کے اصول ، جسمانی فرائض اور مالی ذمہ داریاں اور دولت کے واجبات کو بیان کردیا گیا ہے ۔ نظریہ و حقیقت کو ایک کردیا گیا ہے ۔ ایسی اکائی کی صورت میں جس کو ٹکڑے نہ کیا جاسکتا ہو ، جس کے اجزاء ایک دوسرے سے کبھی جدا نہ ہوسکیں اور زندگی کے ان مختلف شعبوں کا عنوان صرف ایک ہے (نیکی) بعض احادیث میں نیکی کو عین ایمان کہا گیا ہے ۔ غرض یہ آیت اسلامی تصور حیات کا مکمل خلاصہ ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کے اصول اس میں یکجا ہوگئے ہیں ۔ یہ سب ضروری اصول ہیں ایک دوسرے کے مقابل ہیں ۔ اور ان کے بغیر اسلامی نظام کا قیام ہرگز نہیں ہوسکتا۔ جن لوگوں کی صفات یہ ہوں ، ان کا مقام بھی یہاں آخر میں بطور نتیجہ بیان کردیا جاتا ہے۔ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (177) ” یہ ہیں راست باز لوگ اور یہ ہیں متقی۔ “ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اسلام میں ، اپنے رب کے ساتھ بالکل سچ کہا ۔ وہ ایمان و اعتقاد میں بھی سچے ہیں اور اپنے ایمان و اعتقاد کو اپنی زندگی میں عملی شکل دینے میں بھی بالکل وہ سچے ہیں ۔ یہی لوگ دراصل متقی ہیں جو اپنے رب کے ساتھ جڑ جاتے ہیں ، اس سے ڈرتے ہیں ۔ وہ احساس ذمہ داری اور شعور کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ ان آیات کے درمیان سے ذرا جھانک کر دیکھیں ، ہمیں ایک بلند افق نظر آئے گا ۔ ایک بلند مقام عزت نظر آئے گا ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تک اللہ تعالیٰ ، انسانیت کو اپنے تجویز کردہ اعلیٰ ترین نظام حیات کے ذریعے سرفراز کرنا چاہتا ہے ۔ اور پھر ہم ذرا لوگوں کی حالت زار پر نظر ڈالیں ، تو وہ اس نظام سے دور بھاگتے ہیں ۔ اس سے پہلو تہی کرتے ہیں ۔ اس کا مقابلہ کرتے ہیں ، بلکہ اس کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں ۔ اور اس کے ماننے والوں کے جانی دشمن ہوجاتے ہیں ۔ جب ہم یہ سب کچھ دیکھتے ہیں تو ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا اسی طرح کہنا پڑتا ہے ۔ یا حسرۃ علی العباد اور پھر ہم نصب العین کے اس افق بلند پر دوبارہ نظر ڈالتے ہیں ۔ یاس و حسرت کی یہ کیفیت فوراً رفو ہوجاتی ہے ۔ امید کی کرن نظر آتی ہے ۔ اللہ پر یقین پختہ ہوجاتا ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کی قوت اور برتری پر غیر متزلزل یقین پیدا ہوجاتا ہے اور جب اپنے مستقبل پر نظر ڈالتے ہیں تو افق پر امید کی کرن موجود پاتے ہیں ۔ وہ روشن تر اور واضح تر ہے ۔ ضروری ہے کہ اس طویل تھکاوٹ اور مصائب نے ایک بار پھر اسلامی نظام زندگی پر ان کا یقین پختہ کردیا ہو۔ امید ہے اس اعلیٰ وارفع نظام کی طرف انسانیت ایک بار پھر بڑھے گی اور یہ مان لے گی کہ اللہ ہی مستعان ہے وہی معین و مددگار ہے ۔

البقرة 2:178

درس 11 ایک نظر میں اس سبق میں مدینہ طیبہ کے نوزائیدہ اسلامی معاشرہ کے بعض اجتماعی معاملات کی شیرازہ بندی کی گئی ہے ۔ ساتھ ساتھ بعض عبادات جیسے فرض عبادات کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ یہاں یہ دونوں چیزیں اس سورت میں ایک ہی ٹکڑے میں باہم ضم کردی گئی ہیں ۔ دونوں قسم کی تعلیمات کے درمیان رابطہ تقویٰ اور خوف خدا کو بنایا گیا ہے ، جہان اجتماعی معاملات کی شیرازہ بندی کے آخر میں بار بار تقویٰ اور خوف خدا کا ذکر ہے وہاں عبادات مفروضہ کے آخر میں بھی تقویٰ ، شکر اور خشیت اللہ پر زور دیا گیا ہے ، اور پھر اس سبق کو آیات بر کے بعد لایا گیا ہے ، جو ایمانی تصورات زندگی ، ایمانی طرز عمل اور اسلامی طریق کار پر مشتمل ہے ۔ اور جس میں نیکی اور تقویٰ کا اعلیٰ معیار بیان ہوا ہے ۔ اس سبق میں ، مقتولین کے قصاص کے احکام بیان کئے گئے ہیں اور اس سلسلے میں ضروری قانون سازی کی گئی ہے ۔ موت کے وقت وصیت کے احکام ، روزے کی فرضیت کے احکام اور دعا واعتکاف کے احکام بیان ہوئے ہیں اور آخر میں مالی واجبات کی ادائیگی کے احکام بیان کئے گئے ہیں ۔ احکام قصاص کے بیان کے بعد خاتمہ کلام تقویٰ پر کہا گیا : وَلَکُم فِی القِصَاصِ حَیٰوةٌ یَّاُولی الالبَابِ لَعَلَّکُم تَتَّقُونَ ” عقل وخرد رکھنے والو ! تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے ۔ “ اسی طرح جب وصیت کے احکام بیان ہوئے تو یہ بات پھر تقویٰ ہی پر ختم ہوتی ہے۔ کُتِبَ عَلَیکُم اِذَ حَضَرَ اَحَدَکُمُ المَوتَ اِن تَرَکَ خَیرًا الوَصِیَّة لِلوَالِدَینِ وَالاَقرَبِینَ بِالمَعرُوفِ حَقًّا عَلَی المُتَّقِینَ ” تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو ، تو والدین اور رشتہ داروں کے لئے معروف طریقے سے وصیت کرے ۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔ “ اب روزے کی فرضیت کے حکم کا مطالعہ کریں ۔ اس کے آخر میں بھی بتایا گیا ہے کہ یہ فرض ہی اس لئے ہوا ہے کہ تم متقی بن جاؤ۔ اے لوگوجو ایمان لائے ہو ، تم پر روزے فرض کردیئے گئے ہیں ، جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروؤں پر فرض کئے گئے تھے ۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوجائے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ احکام روزہ کے آخر میں اعتکاف کے احکام ہیں اور ان کے بعد بھی آخری نتیجہ تقویٰ ہی ہے ۔ یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں ۔ ان کے قریب نہ پھٹکنا ۔ اس طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لئے بصراحت بیان کرتا ہے۔ توقع ہے کہ وہ غلط رویے سے بچیں گے تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلا تَقْرَبُوهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ اس کے علاوہ اس سبق میں اختتام مضمون پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ان میں سے کوئی بھی تقویٰ اور دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور جلالت شان کا شعور پیدا کرنے کے مضامین سے خالی نہیں ۔ مثلاً ایک جگہ کہا گیا اور جس ہدایت پر اللہ تعالیٰ نے تمہیں سرفراز کیا ہے ، اس اللہ کی کبریائی کا اظہارواعتراف کرو اور شکر گزار بنوولِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ دوسری جگہ ہے فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ لہٰذا انہیں چاہئے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں شاید کہ وہ راہ راست پالیں۔ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیعٌ عَلِیمٌ” بیشک وہ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔ “ اِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌرَّحِیمٌ” بیشک بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “ غرض اس پورے متن میں تسلسل کے ساتھ تقویٰ کا ذکر ہے جس سے ایک نظر میں دین کی حقیقت تک رسائی ہوجاتی ہے اور اندازہ ہوجاتا ہے کہ دین ایک ایسی اکائی ہے جس کے اجزا ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوسکتے ۔ اس کا اجتماعی نظام ، اس کے قانونی اصول ، اس کی رسوم عبادت ، سب کی سب صرف ایک ہی عقیدہ اور ایک ہی نظریہ کے سرچشمے سے پھوٹتے ہیں ۔ یہ سب شعبے صرف ایک ہی تصور حیات سے نکلتے ہیں اور یہ تصور حیات نظریہ اسلام سے ابھرتا ہے ۔ یہ سب شعبے ایک ہی رسی میں بندھے ہوئے ہیں اور ان کا آخری نقطہ ارتکاز اللہ ہے ۔ سب کی غرض وغایت ایک ہی ہے ، یعنی بندگی ۔ صرف خدائے واحد کی ، جس نے پیدا کیا ، جس نے رزق دیا ، جس نے انسان کو اس زمین میں اپنا جانشین مقرر کیا ۔ مگر یہ جانشین اس شرط کے ساتھ کہ وہ صرف خدائے واحد پر ایمان لائے ، وہ صرف خدائے واحد کی بندگی کرے اور وہ اپنا تصور حیات اپنے اجتماعی نظم کو اپنے قوانین کا ماخذ صرف اللہ ہی کو قرار دے ، صرف اللہ کو ! غرض یہ پورا سبق اور اس کے مضامین اور پھر مضامین کے آخر میں بیان کردہ تبصروں اور نتائج کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دین کے تمام اجزاء باہمی مربوط ہیں اور ربط کیا ہے ؟ تقویٰ ، بندگی اور ایمان باللہ ! یہ پکار صرف اہل ایمان کے لئے ہے ۔ صفت ایمان کو خطاب میں کیا گیا ، اس صفت کا تقاضا یہ ہے کہ قصاص کے معاملے میں ہدایت صرف اللہ ہی سے حاصل کی جائے ، جس پر تم ایمان لائے ہو۔ اللہ پکار کر اطلاع دیتا ہے کہ تم پر مقتولین کے معاملے میں قصاص فرض کردیا گیا ۔ پہلی آیت قانون سازی کے ضمن میں ہے اور دوسرے میں اس قانون کی حکمت بیان کی گئی ہے ۔ اہل ایمان کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ سمجھنے کی کوشش کریں ، اس طرح مسلمانوں کے دلوں میں خدا خوفی کا احساس پیدا کیا گیا ہے ۔ غرض قتل اور سزا قتل کے معاملے میں اسلام کا نظام قصاص سیفٹی وال (Safty Valve) کی حیثیت رکھتا ہے ۔ منقولہ بالا آیت میں جو قانون بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ قتل کے معاملے میں قصاص یوں ہوگا کہ آزاد آدمی نے قتل کیا ہو تو اس آزاد ہی سے بدلہ لیاجائے ، غلام نے قتل کیا ہو تو غلام ہی سے بدلہ لیاجائے گا لیکن اس کے ساتھ ایک ایسی رعایت کا ذکر کردیا گیا جو انسانی تمدن کی استواری کے لئے ضروری ہے۔ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ” ہاں اگر قاتل کے ساتھ اس کا بھائی (مقتول کا وارث) نرمی کے لئے تیار ہو ، تو معروف طریقے کے مطابق خون بہا کا تصفیہ ہونا چاہئے اور قاتل کو لازم ہے کہ راستی کے ساتھ خون بہا ادا کرے ۔ “ نرمی اور معافی کی صورت یہ ہے کہ مجرم کو قصاص میں قتل کرنے کے عوض مقتول کے ورثا دیت قبول کرنے پر راضی ہوجائیں ۔ جب وہ دیت لینے پر راضی ہوں تو انہیں چاہئے کہ وہ باہمی رضامندی اور معروف اصولوں کے مطابق دیت کی رقم طے کرلیں ۔ اور قاتل اور اس کے اولیاء کا فرض ہے کہ وہ راستی اور حسن و خوبی کے ساتھ دیت ادا کریں ، تاکہ ان کے دلوں میں کدورت دور ہوجائے ۔ تلخی ختم ہوجائے اور مقتول کے خاندان کے جو لوگ زندہ رہ گئے ہیں ، ان کے پھر سے برادرانہ تعلقات قائم ہوسکیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس اہم ترین معاملے میں دیت کی گنجائش رکھ کر مسلمانوں پر تخفیف اور رحمت کی ہے ۔ اسی لئے انہیں توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ اسے اللہ کا ایک عظیم احسان سمجھیں ۔ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ” یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے ۔ “ یہ گنجائش تورات کے قانون قصاص میں نہ تھی ۔ یہ امت مسلمہ کے ساتھ ایک رعایت ہے ۔ جو محض اس لئے کی گئی کہ اگر فریقین کے درمیان راضی نامہ ہوجائے اور دل ایک دوسرے کے لئے صاف ہوجائیں تو اس صورت میں نہ صرف رنجشیں مٹ جائیں بلکہ ایک شخص کی زندگی بھی بچ جائے۔ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ” اس کے بعد بھی اگر کوئی زیادتی کرے تو اس کے لئے دردناک سزا ہے۔ “ آخرت میں جو سزا ہوگی وہ تو ہوگی ، اس دنیا میں سزا یہ ہوگی کہ اگر قتل ثابت ہوجائے تو اس کا قتل لازمی ہوگا۔ اور اس سے دیت قبول نہ کی جائے گی ، کیونکہ باہمی رضامندی اور مصالحت کو بےکار بنانا ہے ۔ دلوں کی صفائی کے بعد دشمنی پیدا کرنا ہے ۔ اسی طرح اگر وارث نے دیت قبول کرلی ہے تو پھر اس کے لئے دوبارہ انتقام لینے کا کوئی جواز نہیں ہے ، ہ ناروا زیادتی ہے ۔ قصاص اور دیت کے نظام سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کس قدر وسیع نقطہ نظرکاحامل ہے اور قانون سازی کے وقت نفس انسانی کے محرکات پر اس کی پوری نظر ہے۔ خدائے برتر نے انسان کی فطرت میں جو رجحانات ودیعت کئے ہیں ان کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے ۔ خون دیکھ کر خون فطرتاً کھول اٹھتا ہے ۔ اسلام نے اس کا تقاضا قانون قصاص کے ذریعہ پورا کردیا ۔ صحیح انصاف یہ ہے کہ دلوں کو ٹھنڈا کردے ۔ دلوں کے اندر انتقام کی جو گھٹن پائی جاتی ہے اسے دور کردے ۔ یہاں تک کہ مجرم کے خیالات بھی درست کردے ۔ ان سب تدابیر کے باوجود اسلام اس بات کو پسند کرتا ہے کہ غلطی معاف کردی جائے ۔ اس لئے وہ عفو و درگزر کی راہ ہموار کرتا ہے ۔ قانون قصاص کی فرضیت کے بعد عفو و درگزر کی دعوت دینے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی اس معافی سے یہ بلند مرتبہ حاصل کرنا چاہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے ۔ لیکن یہ عفو و درگزر فرض نہیں ہے ۔ یہ اس لئے کہ انسان کے فطری تقاضے دب نہ جائیں ۔ اور اس پر اس قدر بوجھ نہ ڈالا جائے کہ وہ اسے سہار نہ سکے ۔ بعض روایات میں یہ ذکر ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اور اس کو سورت مائدہ کی اس آیت نے منسوخ کردیا ہے جو اس کے بعد نازل ہوئی ہے ۔ وَکَتَبنَا عَلَیہِم فِیھَا اَنَّ النَّفسَ بِالنّفسِ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں :” ان آیت کے شان نزول کے سلسلے میں ابن ابی حاتم کی روایت بیان کی جاتی ہے ۔ ابوزرعہ ، یحییٰ بند عبداللہ بکیر ، عبداللہ بن لہیعۃ ، عطاء ابن دنیار ، سعید بن جبیر کے واسطہ سے نقل کیا ہے ۔ اس آیت کے بارے میں يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى یعنی اگر قتل عمد ہو ، تو اس میں آزاد کو آزاد ہی کے بدلے میں قتل کیا جائے گا ۔ اس کی شان نزول یہ ہے کہ اسلام سے کچھ پہلے ہی ، دور جاہلیت میں قبائل آپس میں لڑپڑے۔ بہت لوگ قتل ہوئے بیشمار زخمی ہوئے ۔ یہاں تک کہ غلام اور عورتیں بھی ماری گئیں ۔ ان لوگوں نے ایک دوسرے سے ابھی کچھ نہ لیا تھا کہ اسلامی نظام آگیا ۔ اور وہ مسلمان ہوگئے ۔ ایک قبیلہ دوسرے پر مال وتعداد میں بےانصافی کرنے لگا ۔ انہوں نے قسم اٹھالی کہ وہ اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک ہمارے غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔ “ لیکن یہ آیت منسوخ ہے اور اس آیت النفس بالنفس نے منسوخ کردیا ہے اس طرح ابومالک سے روایت ہے کہ اس آیت کو آیت النفس بالنفس نے منسوخ کردیا ہے۔ “ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس آیت کا مقام ومحل اور مائدہ کی آیات النفس بالنفس کا موقع ومحل ہی الگ ہے ۔ النفس بالنفس کا اطلاق انفرادی قتل پر ہے یعنی کوئی متعین شخص کسی متعین شخص یا اشخاص کو قتل کرے ۔ اگر قتل عمد ہو تو مجرم سزا یاب ہوگا ۔ لیکن زیر بحث آیت کا محل ہی الگ ہے ۔ اس میں اجتماعی قتل کی صورت کا حکم بیان کیا ہے۔ جہاں خاندان دوسرے خاندان پر ہاتھ اٹھائے ، قبیلہ قبیلے کے خلاف لڑے اور ایک گروہ دوسرے گروہ پر حملہ آور ہو ، جیسا کہ مذکورہ بالا قبائل کا معاملہ تھا ۔ جس سے آزاد ، غلام اور عورتیں ماری گئی تھیں۔ ایسے مواقع پر جب قصاص طے ہوگا تو آزاد کے بدلے آزاد ، ایک قبیلے کے غلام کے بدلے دوسرے قبیلے کا غلام اور ایک عورت کے بدلے دوسرے کی عورت قتل ہوگی۔ اگر یہ محل نہ ہوگا تو پھر بتایا جائے کہ جب کسی تنازعے میں دونوں طرف سے بڑے بڑے گروہ باہم برسرپیکار ہوں تو اس صورت میں قصاص کی کیا صورت ہوگی ؟ اگر اس نقطہ نظر کو تسلیم کرلیاجائے تو پھر یہ آیت منسوخ تصور نہ ہوگی اور قصاص کی آیات میں کوئی تعارض نہ ہوگا۔

البقرة 2:179

اب قصاص کے قانون کی گہری حکمت اور اس کے دور رس مقاصد بتاکر بات ختم کی جاتی ہے وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الألْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ” عقل وخرد رکھنے والو ! تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے ۔ “ امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کروگے۔ “ ضرور انتقام ہی لیاجائے بلکہ یہ اس سے کہیں بلندو برتر مقاصد کا حامل ہے ۔ یہ زندگی کے لئے ، زندگی کے قیام کی راہ میں انسان کا قتل ہے ، بلکہ قیام قصاص بذات خود زندگی ہے ۔ یہ اس لئے ہے کہ اس فریضہ حقیقت کو سمجھا جائے ۔ اس کی حکمت میں غور و تدبر کیا جائے۔ دل زندہ ہوں اور ان میں خدا خوفی موجزن ہو۔ ایک مجرم جرم کی ابتدا کرتا ہے اسے سوچنا چاہئے کہ یہ بات معمولی نہیں بلکہ ایسی ہے کہ مجھے تو اس کے بدلے میں اپنی جان کی قیمت دینی پڑے گی ۔ یوں نظام قصاص سے دوزندگیاں بچ جاتی ہیں ۔ ارتکاب قتل کی صورت میں قاتل کو سزا ہوجاتی ہے ۔ وہ قصاص میں مارا جاتا ہے ۔ مقتول کے ورثاء مطمئن ہوجاتے ہیں ان کے دلوں سے کینہ دورہوجاتا ہے اور انتقام کے جذبات سرد پڑجاتے ہیں اور پھر وہ انتقام جو عرب قبائل میں تو کسی حدپر ، کسی مقام پر رکتا ہی نہ تھا۔ چالیس چالیس سال تک قتل کے بدلے میں قتل کا سلسلہ چلتارہتا تھا۔ مثلاً حرب البسوس میں یہی ہوا۔ عرب کیا آج بھی اس گواہ ہیں ، جہاں زندگی خاندانی دشمنیوں اور کینوں کی بھینٹ چڑھتی رہتی ہے اور نسلاً بعد نسل یہ معاملہ چلتا ہی رہتا ہے اور یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ ” قصاص میں زندگی ہے ۔ “ اپنے عمومی مفہوم میں ۔ ایک فرد کی زندگی پر حملہ دراصل جنس زندگی پر حملہ ہے ۔ پوری زندگی پر حملہ ہے ہر انسان پر حملہ ہے ۔ ہر اس انسان پر حملہ جو مقتول کی طرح زندہ ہے ۔ اگر قانون قصاص کی وجہ سے ایک مجرم ، صرف ایک زندگی کو ختم کرنے سے رک جائے تو اس نے پوری انسانیت کو بچالیا ۔ یوں اس ارتکاب جرم سے رک جانا عین حیات ہے اور یہ عام زندگی ، کسی ایک فرد کی زندگی نہیں ہے ، کسی خاندان کی نہیں ، کسی جماعت کی نہیں بلکہ مطلقاً زندگی ہے۔ اب آخر میں قانون الٰہی کی حکمت میں غور وفکر کے شعور کے موجزن کیا جاتا ہے اور خدا خوفی کی تلقین کی جاتی ہے ۔ (یہی وہ اہم فیکٹر اور موثر ذریعہ ہے جس کی وجہ سے انسانی زندگی قائم رہ سکتی ہے ) تَتّقُونَ ” امید ہے کہ تم قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کروگے۔ “ یہ ہے وہ اصل بندھن ، جو انسان کو ظلم و زیادتی سے باز رکھتا ہے ، ابتداء میں قتل ناحق کی زیادتی سے روکتا ہے ، اور آخر میں انتقام کی زیادتی سے ۔ یہ کیا ہے ؟ خدا خوفی ، تقویٰ ، دل میں خدا خوفی کا شعور اور شدید احساس ۔ اللہ کے قہر وغضب سے ڈرنے کا احساس اور اس کی رضاجوئی کی کشش۔ اس پابندی کے بغیر کوئی قانون کامیاب نہیں ہوسکتا ، کوئی شریعت کامیاب نہیں ہوتی ۔ کوئی شخص ارتکاب جرم سے باز نہیں رہتا ۔ انسانی طاقت سے اعلیٰ اور برتر طاقت کے تصور کے بغیر اخروی خوف اور طمع کے روحانی احساس کے بغیر کوئی ظاہری شیرازہ بندی اور قانونی انتقام کامیاب نہیں ہوسکتا۔ حضرت محمد ﷺ کے دور اور خلافت کے زمانہ میں جرائم کا وقوع شاذ ونادر ہی رہا ہے ۔ جو جرائم وقوع پذیر ہوئے بھی تو مجرم نے خود اعتراف کیا ۔ اس کا رازیہی ہے کہ وہاں تقویٰ کا زور تھا۔ لوگوں کے دل و دماغ میں ، ایک زندہ ضمیر کی صورت میں تقویٰ ، چوکیدار کی طرح بیٹھا ہوا تھا ۔ جو ہر وقت بیدار رہتا تھا ۔ وہ انہیں حدود جرم سے بھی دور رکھتا ۔ ساتھ ساتھ انسانی فطرت اور انسانی جذبات و میلانات وانصرام تھا۔ دوسری طرف اسلامی عبادات کے نتیجے میں تقویٰ اور خدا خوفی کا سیل رواں تھا۔ دونوں کے باہم تعاون اور ہم آہنگی کے نتیجے میں ہم آہنگ اور پاک وصاف قانون اور شریعت موجود تھی ۔ ایک طرف شریعت و قانون اور ظاہری انتقام میں ایک پاک صالح تصور زندگی اور نظام زندگی نے جنم لیا ، جس میں لوگوں کا طرز عمل پاک طرز فکر صالح تھی ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اس نظم نے ملک سے پہلے ہر شخص کے دل میں ایک منصف بٹھادیا تھا اور ایک عدالت قائم کردی تھی ۔ حالت یہ تھی کہ اگر کسی وقت کسی پر حیوانیت غالب ہی آگئی اور غلطی کا صدور ہوگیا اور یہ شخص قانون کی گرفت سے بچ بھی گیا تو بھی اس کا ایمان اس کے لئے نفس لوامہ بن گیا۔ اس نے اپنے ضمیر میں خلش اور چبھن محسوس کی ۔ دل میں ہر وقت خوفاک خیالات کا ہجوم برپا ہوگیا۔ اور گناہ کرنے والے کو تب آرام نصیب ہوا کہ جب اس نے قانون کے سامنے رضاکارانہ اعتراف جرم کرلیا اور اپنے آپ کو سخت سزا کے لئے پیش کردیا اور خوشی اور اطمینان کے ساتھ اس سزا کو برداشت کیا ، محض اللہ کے غضب سے بچنے کی خاطر۔ یہ ہے تقویٰ ، یہ ہے خدا خوفی۔ اب موت کے وقت وصیت کے مسائل کا بیان ہوتا ہے ۔ آیات قصاص کی فضا اور ان آیات کی فضا (یعنی موت اور زندگی کا اختتام ) کے درمیان مناسبت بالکل ظاہر ہے۔

البقرة 2:180

وصیت بھی فرائض میں سے ایک فرض ہے ۔ والدین اور اقرباء کے لئے بشرطیکہ مرنے والا اپنے پیچھے دولت چھوڑ رہا ہو۔ خیر سے مراد دولت ہے ۔ کتنی مقدار پر وصیت فرض ہے ؟ اس میں اختلاف رائے ہے ۔ راحج بات یہ ہے کہ مقدار کا رعین مختلف مواقع کے لئے ، عرف کے مطابق ، مختلف ہوسکتا ہے۔ بعض وفقہاء نے کہا کہ 60 درہم سے کم تر ہو تو سمجھا جائے کہ کوئی ترکہ نہیں ہے ۔ بعض لوگوں نے اس حد کو 80 دینار اور بعض نے 400 دنیار اور بعض نے 1000 تک بڑھادیا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مختلف ادوار میں ، اور مختلف خاندانوں کے لئے ظوف واحوال کے مطابق مقدار میں کمی بیشی ہوسکتی ہے۔ وصیت کی ان آیات کے بعد میراث کی آیات نازل ہوئیں جن میں ورثاء کے لئے حصص متعین ہوگئے ۔ اور وراثت کی ہر صورت میں والدین کو حق دار قرا ردیا گیا ، لہٰذا اب والدین کے لئے وصیت نہ ہوگی کیونکہ وارث بہرحال وصیت سے محروم ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے :” اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق عطا کردیا ہے ، لہٰذا اب وارث کے لئے کوئی وصیت مؤثر نہ ہوگی۔ “ رہے اقرباء تو ان کے لئے یہ حکم اب بھی اپنے عموم پر باقی ہے ۔ لہٰذا اب جو شخص قانون میراث کے مطابق حصہ پالے ، وہ وصیت سے فائدہ نہ اٹھاسکے گا اور جو قانون میراث میں حق دار نہیں ہے آیت وصیت اس لئے موجود ہے (Operative) ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں ، بعض صحابہ اور تابعین میں سے بعض حضرات اس طرف گئے ہیں ۔ ہم بھی اسی کو ترجیح دیتے ہیں ۔ قانون میراث کی دفعات کی رو سے بعض اوقات قریبی رشتہ دار محروم ہوجاتے ہیں ۔ صلہ رحمی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کو بھی کچھ نہ کچھ ضروردیا جائے ، ایسے حالات میں وصیت کے ان احکام کی حکمت خود بخود سمجھ میں آجاتی ہے ۔ قانون وصیت درحقیقت قانون کے وراثت کے دائرے سے باہر خاندان کے باہمی تکافل اور معاشی ذمہ داریوں کا ایک رنگ ہے ۔ اس لئے حکم ہوا کہ حق وصیت کا استعمال معروف اصولوں کے مطابق ہونا چاہئے اور اس سلسلے میں خدا خوفی کے اصل الاصول کو پیش نظر ہونا چاہئے۔ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ ” معروف طریقے سے ، یہ متعین پر حق ہے۔ “ اس حق کے استعمال سے ورثا پر ظلم نہ ہو ، غیر وارث محروم رہیں ، اعتدال و انصاف کے ساتھ ، خدا خوفی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ، احسان اور نیکی کی خاطر اس حق کو استعمال کرنا چاہئے ۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث شریف میں اس حق پر پابندی لگائی گئی اور 1/3 حصہ حدمقرر کردی گئی اور افضل یہ ہے کہ اس حق کو 1/4 حصہ تک محدود رکھا جائے ۔ تاکہ اس غیر وارث کی وجہ سے اصل وارث کو زیادہ نقصان نہ ہو۔ اس معاملے کا فیصلہ ، بیک وقت قانون اور تقویٰ دونوں کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے اور یہی روح ہے اس اجتماعی نظام کی جسے قرآن مجید قائم کرنا چاہتا ہے۔

البقرة 2:181

جو شخص بھی وصیت سنے اس کا فرض ہے کہ وہ بےکم وکاست فریقین تک پہنچادے ۔ اگر وہ اس میں تبدیلی کرے گا ، تو اسے سخت گناہ ہوگا اور اگر سننے والے اپنی طرف سے تبدیلی کریں گے تو متوفیٰ بری الذمہ ہوگا۔ فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَمَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ” پھر جنہوں نے وصیت سنی اور بعد میں اسے بدل ڈالا ، تو اس کا گناہ ان بدلنے والوں پر ہوگا۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ “ اس شخص نے جو سنا اور جس کا اسے علم ہے اس خود اللہ گواہ ہے ۔ وصیت کنندہ کے لئے بھی اللہ گواہ ہے ۔ لہٰذا میت پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا اور چونکہ تبدیل کنندہ کے خلاف بھی اللہ گواہ ہے ، لہٰذا ناجائز تغیر وتبدل پر اس سے مواخذہ ہوگا۔

البقرة 2:182

ایک حالت ایسی ہے جو وصی کو اختیا رہے کہ وہ وصیت کرنے والے کی وصیت میں کچھ ردوبدل کرے ، لیکن یہ اس وقت ہوگا جب اس بات کا علم ہوجائے کہ وصیت کرنے والے نے کسی کی ناحق طرفداری کی ہے یا ناجائز طور پر وارث کی حق تلفی کی ہے ۔ اس صورت میں جو شخص وصیت نافذ کرنے کا اختیاررکھتا ہے اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اس حد تک اس میں تبدیلی کرے کہ ناجائز حق تلفی نہ رہے نہ ہی کسی کی طرف داری رہے ۔ معاملہ عدل و انصاف کے مطابق ہوجائے فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ” البتہ جس کو اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے اور پھر معاملہ سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان ، وہ اصلاح کرے ، اس پر کچھ گناہ نہیں ہے ۔ اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “ تمام معاملات میں ، معاملہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رحمت خصوصی کے سپرد ہے ۔ ہر حال میں اللہ کا کرم اور اس کی نگہبانی ہمارے حالات کی شیرازہ بند ہے ۔ اور یہی عدل و انصاف کے حصول کی آخری ضمانت ہے ۔ قانون قصاص اور قانون وصیت دونوں کو ایک ہی رسی میں باندھ دیا گیا ہے ۔ یعنی خدا خوفی بلکہ اسلامی نظام زندگی کے تمام شعبے اور اسلامی معاشرے کا ہر مسئلہ اس میں باندھا ہواہوتا ہے ۔ یہ امت پوری انسانیت پر گواہ ٹھہرائی گئی ہے وہ انسانیت کی نگران اعلیٰ ہے ۔ اور اسے کرہ ارض پر اسلامی نظام زندگی قائم کرنا ہے اور اس سلسلے میں اس جہاد فی سبیل اللہ فرض ہوچکا ہے ۔ لہٰذا اب یہ قدرتی امر ہے کہ اس پر روزہ بھی فرض کردیا جائے ۔ روزہ سے ارادہ قوی اور عزم صمیم ہوجاتا ہے ۔ اس کے ذریعے انسان اطاعت وانقیاد کے ساتھ اپنے رب سے ملتا ہے۔ اور اس کے ذریعے سے انسان جسم کی تمام ضروریات پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان کے دباؤ اور ان کے بوجھ کو برداشت کرتا ہے۔ محض رضائے الٰہی کے حصول اور اجر اخروی کے طمع میں ۔ یہ سب تدابیر اس لئے ہیں کہ تحریک اسلامی کے کارکنوں کی راہ میں جو دشواریاں اور جو مشکلات ہیں ، اس راہ میں جو رکاوٹیں ہیں اور جو کانٹے بچھے ہیں ، ان کو برداشت کے لئے نفس انسانی تیار ہوجائے ۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے کہ اس کی دشواریوں کے علاوہ اس کے دونوں طرف مرغوب اور پسندیدہ چیزیں بکھری پڑی ہیں ۔ ہزاروں ایسی چیزیں اس راستے میں پڑی ہیں ، جو قدم قدم پر اسے فریب دینے کے لئے تیار ہیں ۔ اب دور حاضر کے انکشافات سامنے آتے ہیں ۔ حکما کہتے ہیں کہ روزہ انسان کے جسم پر بھی اچھے اثرات پڑتے ہیں ۔ اگرچہ میں اس بات کے حق میں نہیں ہوں کہ روزے یا دوسری عبادات کے ایسے دنیاوی فوائد بیان کئے جائیں جو طبعی زندگی سے متعلق ہوں اور حس ونظر تک محدود ہوں ۔ اس لئے کہ عبادات کی اصل غرض وغایت یہ ہے کہ انسان کو اس فرض کی ادائیگی کے لئے تیار کیا جائے جو اسے کرہ ارض پر ادا کرنا ہے۔ دوسری طرف اسے اس کامیابی اور اس کمال کے لئے جدوجہد کرنی ہے ، جو اسے دارآخرت میں حاصل ہوگا لیکن اس کے باوجود میں اس کے خلاف بھی نہیں کہ سائنس اور تجربہ سے عبادات کے سلسلے میں جو فوائد ثابت ہوتے ہیں ان کا بالکل انکار کردیا جائے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے وجود انسانی کے لئے فرائض و عبادات کے تعین میں جو عمومی تدابیر اختیار کی ہیں ۔ ان سے جو حکمت واضح طور ملحوظ ومفہوم نظر آتی ہے ، اس پر اعتماد ضروری ہے ۔ البتہ یہ بات پیش نظر رہے کہ سائنس اور تجربات سے ظاہر ہونے والی ان حکمتوں اور فوائد کو احکام و تکالیف شرعیہ کا اصل سبب اصل علت نہیں قرار دینا چاہئے ۔ اس لئے کہ سائنس کا دائرہ بہت ہی محدود ہے ۔ اللہ تعالیٰ انسان کی حیوانیت کو توڑ کر جس طرح اس کی تربیت کرنا چاہتا ہے اور اس میں جو حکمتیں ہیں وہاں تک انسانی علم ترقی کر ہی نہیں سکتا ۔ خود اس پوری کائنات کی بےقابو قوتوں کو اللہ تعالیٰ جس طرح سدھانا چاہتا ہے ، سائنس کی وہاں تک رسائی کب ہے۔

البقرة 2:183

اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ فرائض اور تکلیفات پر عمل کرنے کے لئے انسان کے نفس کو بڑی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں انسان اللہ کی خصوصی امداد کا محتاج ہے ۔ اس بات کی ضرورت تھی کہ ان احکامات پر عمل کرنے کے لئے ان میں اسپرٹ پیدا کی جائے ۔ ان کی روح ان احکامات کی طرف مائل ہوجائے تاکہ وہ مطمئن ہوجائے اور عمل پر راضی ہوجائے ۔ حالانکہ ان احکام پر عمل کرنے میں خود اس کا مفاد مضمر ہے ۔ چناچہ اسی خاطر بہت ہی پیاری آواز میں پکارا گیا ۔” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو “ غور کیجئے ، یہ آواز انہیں ان کی اصل حقیقت یاد دلاتی ہے ۔ پھر روزہ فرض ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے اور یہ تو پہلی امتوں پر بھی فرض ہوتا رہا ہے ۔ کوئی نئی بات تو نہیں ہے ۔ اس کا مقصداہل ایمان کے دلوں کو صاف کرنا ہے۔ انہیں خوف خدا کے لئے تیار کرنا ہے اور ان میں اللہ کی مشیت کا احساس و شعور بیدار کرنا ہے ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، تم پر روزے فرض کردیئے گئے ہیں ، جس طرح تم سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کے پیروؤں پر فرض کئے گئے تھے ، اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔ “ اس آیت میں روزے کی اصلی غرض وغایت ظاہر ہوجاتی ہے ، یعنی تقویٰ جب ایک مومن اللہ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اللہ کی رضا کی خاطر روزہ رکھتا ہے تو اس کے دل میں تقویٰ کا شعور اجاگر ہوجاتا ہے۔ یہ تقویٰ ہی ہے جو دلوں کا نگہبان ہے اور جو انسان کو روزے کے احکام کی خلاف ورزی سے بچاتا ہے ۔ اگرچہ وہ ایسی معصیت سے بھی انسان کو بچاتا ہے ، جو کسی حد تک محض وسوسہ ہو ۔ قرآن کریم کے اول مخاطب صحابہ کرام اس کے معنی سے اچھی طرح واقف تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ اللہ کے ہاں تقویٰ کس قدر وزنی ہے ۔ اس لئے تقویٰ ہی ان کا نصب العین تھا ۔ وہ برابر اس کی طرف بڑھتے جاتے تھے اور روزہ ذرائع حصول تقویٰ میں سے چونکہ ایک ذریعہ ہے اس لئے یہ فرض کیا گیا ۔ دراصل روزہ وہ راہ ہے جس کی آخری منزل تقویٰ ہے ۔ یوں لگتا ہے کہ یہاں قرآن مجید ، ایک بلندمقام پر ، بالکل سامنے تقویٰ کا ایک روشن نشان رکھ دیتا ہے اور اہل ایمان کی آنکھیں اس نشانہ پر جم جاتی ہیں اور وہ روزہ کے واسطے اور روزے کی امداد سے وہاں تک پہنچنے کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں ۔ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ” تاکہ تم ڈرو۔ “

البقرة 2:184

بات کا دوسرا رخ دیکھئے ، کہا جاتا ہے ! یہ تو چند دن ہیں پوری عمر کے روزے تو فرض نہیں کئے گئے ۔ تمام زمانے کے لئے تو فرض نہیں ہیں ۔ ساتھ ساتھ یہ کہ بیمار اس وقت تک مستثنیٰ جب تک وہ صحت یاب نہ ہوجائیں ۔ مسافروں پر اس وقت تک لازم نہیں جب تک گھر نہ لوٹ آئیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور سہولت اور تخفیف خاص رعایت دی گئی ہے ۔ أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ” چند مقرر دنوں کے روزے ہیں ، اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو ، یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرے ۔ “ سفر اور مرض کے اعتبار سے آیت کا مفہوم عمومیت کا حامل ہے ۔ اسے محدود نہ کیا جائے ۔ بیماری کی نوعیت کیسی بھی ہو ، جس قسم کا سفر درپیش ہو روزہ قضا کرنا جائز ہے ۔ لیکن سفر ختم ہونے کے بعد اور بیماری دور ہونے کے بعد چھوڑے ہوئے روزے رکھنے ضروری ہیں۔ آیت میں بیماری کی شدت اور سفر کی مشکلات کو اس رخصت کا سبب نہیں بنایا گیا ۔ صرف ” مرض “ اور ” سفر “ کا علی العموم ذکر کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کے لئے مشکلات پیدا نہ ہوں اور سہولت رہے ۔ اب اس میں کیا حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف مرض اور صرف سفر کا ذکر کیا ہے۔ ساتھ کوئی قید نہیں لگائی ؟ یہ صرف اللہ جانتا ہے ، ہوسکتا ہے کہ بیماری اور سفر میں کچھ ایسی باتیں اللہ تعالیٰ کے پیش نظر ہوں جنہیں ہم نہیں جانتے ۔ ہوسکتا ہے کہ سفر اور بیماری میں کچھ ایسی مشکلات ہوں جن کا احساس ہمیں نہ ہو۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس حکم کی اصل علامت کو ظاہری نہیں سمجھا تو ہمیں اس بارے میں تاویلات کی کیا ضرورت ہے ۔ بہرحال ہمیں ان کی حکمت معلوم ہو یا نہ ہو ۔ یہ عقیدہ ضرور رکھتے ہیں کہ ان کے پیچھے کوئی حکمت ومصلحت ضرور ہے ۔ کہا جاسکتا ہے کہ رخصت مرض وسفر کی اس تعبیر سے ان لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوگی جو ہر وقت دین میں رخصت و سہولت کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ کیا کسی ادنیٰ سبب بلاوجہ ہم فرض عبادات کو ترک کردیں ؟ یہی تو وجہ ہے کہ ہمارے فقہاء نے سختی کرکے اس رخصت سے استفادہ پر قیود وشروط عائد کی ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ استدلال ایک ضعیف استدلال ہے ۔ محض اس کی وجہ سے اور صرف اس استدلال کی بناپر ایک مطلق آیت کو مقید کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ لوگوں کو زنجیروں میں باندھ کر ان کو عبادات پر مجبور کرنا اسلام کی مستقل پالیسی نہیں ۔ اسلام تقویٰ کے ذریعہ عبادات میں کشش پیدا کرنا مناسب سمجھتا ہے۔ روزہ تو ہے ہی وہ عبادت جس کا مقصد صرف تقویٰ ہے ۔ جس شخص کی حالت یہ ہے کہ وہ رخصتیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر عبادات سے پیچھا چھڑاتا ہے ، وہ تو پہلے ہی بھلائی سے محروم ہے ۔ وہ اگر روزہ رکھ بھی لے تو وہ مقصد پورا نہ ہوگا جو فرضیت صیام کا اصل مطالبہ ہے۔ پھر سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ دین لوگوں کا ہے یا اللہ تعالیٰ کا ؟ دین اللہ کا ہے اور وہ رخصت اور نرمی اور عزیمت وتشدد کے مقامات کو خوب جانتا ہے ۔ بعض اوقات رخصت سے ایسے مقاصد کا حصول پیش نظر ہوتا ہے جو رخصت کے بغیر کسی طرح حاصل نہیں ہوتے ۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو رعایتیں دی ہیں ، انہیں چاہئے کہ وہ ان سے استفادہ کریں ۔ خصوصاً ایسے دور میں جب مسلمانوں کی اخلاقی اور دینی حالت تباہ وبرباد ہوچکی ہو تو ایسے حالات میں احکام میں تشدد ، اصلاح احوال کے لئے مفید نہیں ہوتا ، ضرورت اس بات کی ہے کہ نرمی اور آسانی سے لوگوں کو اخلاقی تربیت دی جائے ، اور ان کے دلوں اور ان کی روح میں خوف خدا کو نئے سرے سے زندہ کیا جائے ۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر میں کہوں گا کہ امت کے عمومی فساد کے وقت احکام میں تشدد کرنا غیر موثر علاج ہے ۔ اس سے ذرائع اصلاح بند ہوجاتے ہیں ۔ یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ عبادات کے فرائض اور معاملات کے احکام میں بہت بڑا فرق ہے ۔ عبادات میں معاملہ صرف بندے اور اس کے رب کا ہوتا ہے۔ اس میں عوام الناس کا براہ راست فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا ۔ جبکہ معاملات میں شریعت معاملے کے ظاہری پہلو پر نظر رکھتی ہے ۔ رہی عبادات تو ان کی ظاہری صورت اس وقت تک مفید نہیں ہوتی جب تک ان کی تہہ میں تقویٰ نہ ہو ۔ اگر دل میں تقویٰ ہو تو کوئی شخص ادھر ادھر نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھے گا۔ اور ایک متقی شخص صرف اس رخصت سے فائدہ اٹھائے گا جس پر اس کا دل مطمئن ہوگا کہ رخصت سے فائدہ اٹھانے ہی میں اللہ کی رضا اور اطاعت ہے ۔ عبادات کے احکام میں سختی کرنا یا تنگی پیدا کرنے کی سعی کرنا ، یعنی اللہ تعالیٰ نے جن احکام کو عام چھوڑا ہے ، ان پر قیود کا اضافہ کرنا ، بعض اوقات عوام کے لئے سخت مشکلات تو پیدا کردیتا ہے لیکن اس سختی کے نتیجے میں کج رو افراد میں کوئی کمی نہیں ہوتی ۔ اس لئے ہر حال میں بہتر رویہ یہ ہے کہ ہم معاملات کو اس طرح لیں جس طرح اس دین میں اللہ تعالیٰ نے طے کردیئے ہیں ۔ رخصتوں اور عزائم میں جو حکمتیں ہیں ان کے متعلق ہم سے اللہ تعالیٰ زیادہ جاننے والا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں اس نکتے پر جو کچھ کہہ دیا گیا وہ کافی وشافی ہے ۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ حالات سفر کے بارے میں جو متعدد احادیث مروی ہیں ، وہ سب یہاں نقل کردیں۔ ان میں سے بعض ایسی ہیں جن میں افطار کی طرف میلان جاتا ہے ۔ بعض ایسی ہیں جن میں روزہ توڑنے سے منع نہیں کیا گیا۔ ان سب روایات پر غور کرنے سے وہ نقشہ ذہن نشین ہوجاتا ہے ، جس پر صحابہ کرام کا تعامل تھا ۔ متاثرین فقہاء نے جو سختیاں کی ہیں ان سے پہلے اس معاملے میں سلف صالحین اور صحابہ کرام ؓ کا طرز عمل بمقابلہ متاخرین فقہاء اور ان کے فقہی بحوث کے ، دین اسلام کی روح اور اس کے مزاج کے زیادہ قریب تھا ۔ صحابہ کرام ؓ کی زندگیوں اور ان کے طرز عمل کے مطالعہ سے اسلامی نظریہ حیات اور اس کی خصوصیات کا ایک ذوق پیدا ہوجاتا ہے۔ ۔ 1 حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال ، ماہ رمضان میں ، جانب مکہ نکلے ۔ آپ ﷺ نے روزہ رکھا ۔ جب آپ ﷺ ” کراع الغمیم تک پہنچے تو لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا ۔ اس پر آپ ﷺ نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے اتنا اٹھا یا کہ لوگ دیکھ لیں ۔ اس کے بعد اسے نوش فرمایا۔ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ ” بعض لوگ تو روزے سے ہیں۔ “ آپ نے فرمایا !” یہ لوگ نافرمان ہیں ، یہ لوگ نافرمان ہیں۔ “ (مسلم۔ ترمذی) ۔ 2 حضرت انس ؓ سے روایت ہے :” ہم نبی ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے ۔ ہم میں سے بعض روزے سے تھے اور بعض نے افطار کیا تھا۔ سخت گرم دن تھا۔ ہم ایک جگہ ڈیرہ ڈالا۔ سب سے زیادہ سایہ اس کا تھا جس کے پاس چادر تھی ۔ ہم میں سے بعض ایسے تھے کہ وہ ہاتھ کا سایہ کرکے اپنے آپ کو سورج کی تپش سے بچاتے تھے ۔ روزہ دار تو گرپڑے اور جن کا روزہ نہ تھا وہ اٹھ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے خیمے لگائے ، جانوروں کو پانی پلایا ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آج تو افطار کرنے والوں نے ثواب لوٹ لیا۔ “ (بخاری ۔ مسلم۔ نسائی) ۔ 3 حضرت جابر ؓ سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں : رسول ﷺ سفر میں تھے ۔ آپ ﷺ نے دیکھا کہ ایک شخص کے پاس لوگ جمع ہیں اور اس پر سایہ کیا گیا ہے ۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا ” اسے کیا ہوگیا ہے ؟ “ لوگوں نے بتایا ” یہ ایک روزہ دار ہے ۔ “ اس پر رسول ﷺ نے فرمایا ” سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔ “ (امام مالک ، امام بخاری۔ مسلم۔ ابوداؤد۔ نسائی) ۔ 4 عمرو بن امیہ ضمری رضی عنہ سے روایت ہے ۔ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” ابو امیہ کھانے کا انتظار کرو ۔ “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول میں تو روزے سے ہوں ۔ “ آپ نے فرمایا تو پھر سنئے مسافر سے متعلق :” اللہ تعالیٰ نے اس کا روزہ معاف فرمایا ہے اور نصف نماز معاف فرمادی ہے۔ “ (نسائی) ۔ 5 انس بن مالک ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے نماز کا ایک حصہ مسافر کے لئے معاف فرمادیا ہے ۔ سفر میں اس کے لئے افطار کی رخصت ہے۔ دودھ پلانے والی اور حاملہ کے لئے بھی یہی رخصت ہے ، اگر بچے کو نقصان پہنچنے کا خوف ہو ۔ “ (روایت سنن) ۔ 6 ضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں :” حمزہ بن عمر اسلمی رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا ۔ یہ صاحب بہت روزے رکھتے تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا !” چاہو تو روزہ رکھو چاہو تو افطار کرو۔ “ ۔ 7 حضرت انس ؓ سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں :” ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ہم میں سے بعض روزے سے تھے اور بعض نے افطار کیا تھا۔ نہ روزہ دار افطار کرنے والے پر نکتہ چینی کرتا اور نہ افطار کرنے والا رواہ رکھنے والے کے طرز عمل کو معیوب سمجھتا۔ “ (روایت مالک ، مسلم ، بخاری ، ابوداؤد) ۔ 8 حضرت ابوالدرداء سے روایت ہے فرماتے ہیں :” ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ماہ رمضان میں شدید گرمی میں نکلے ۔ گرمی کی شدت کا یہ عالم تھا کہ ہم تپش سے بچنے کے لئے سر پر ہاتھ رکھ دیتے ۔ ہم سب میں صرف رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابن رواحہ ؓ روزے سے تھے ۔ “ (بخاری۔ مسلم۔ ابوداؤد) ۔ 9 حضرت محمد بن کعب سے روایت ہے فرماتے ہیں :” میں رمضان میں انس بن مالک ؓ کے پاس آیا۔ آپ سفر پر نکلنے والے تھے ۔ سواری تیار تھی ۔ آپ نے سفر کا لباس پہن رکھا تھا ۔ آپ نے کھانا منگوایا اور کھایا۔ سب نے کہا : کیا یہ سنت ہے ؟ “ آپ نے فرمایا ” ہاں ! “ اس کے بعد سوار ہوگئے۔ “ (ترمذی) ۔ 10 عبید ؓ بن حبیرہ سے روایت ہے فرماتے ہیں :” میں رسول اکرم ﷺ کے ایک صحابی ابوبصرہ غفاری ؓ کے ساتھ کشتی میں تھا ، ماہ رمضان میں کشتی کو پانی میں ڈال دیا گیا اور کھانا ان کے قریب لایا گیا ۔ انہوں نے فرمایا :” قریب ہوجایئے ۔ “ میں نے عرض کیا :” آپ نہیں دیکھ رہے کہ مکانات ابھی نظر آتے ہیں ؟ “ انہوں نے کہا ” کیا تم رسول اللہ ﷺ کی سنت سے منہ پھیرتے ہو ؟ “ چناچہ انہوں نے بھی کھانا کھایا اور میں نے بھی کھایا۔ “ (ابوداؤد) ۔ 11 منصور مکی سے روایت ہے کہ حضرت دحیہ ابن خلیفہ ؓ اپنے نواح دمشق کے ایک گاؤں سے ماہ رمضان میں سفر پر نکلے ۔ سفر اس قدر تھا جس طرح فساط گاؤں سے عقبہ گاؤں ہے اور یہ فاصلہ بقدر تین میل ہے ۔ آپ نے افطار کیا ۔ آپ کے ساتھ بیشمار لوگوں نے افطار کرلیا ، لیکن بعض دوسرے لوگوں نے روزہ افطار کرنے میں کراہت محسوس کی ۔ جب وہ اپنے گاؤں لوٹے تو فرمایا :” اللہ کی قسم میں نے آج وہ بات دیکھی ہے جو کبھی دیکھنے میں نہ آئی تھی ۔ لوگوں کے ایک گروہ نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی سنت سے منہ پھیرلیا ہے۔ اے اللہ مجھے اپنی طرف اٹھالے ۔ “ (روایت ابوداؤد) ان تمام احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوشگوار اور آرام دہ سفر میں بھی رخصت افطار کو قبلیت حاصل ہوئی ہے بلکہ افطار کو ترجیح دی گئی ہے ۔ اور رخصت پر عمل کرنے کے لئے سفر کی مشقت یا دشواری کو ضروری شرط نہیں قرار دیا گیا جیسا کہ آخری دو احادیث میں سے خاص طور پر معلوم ہوتا ہے۔ آٹھویں حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ اور عبیداللہ بن رواحہ ؓ کے سوا کسی اور کا روزہ نہ تھا ۔ لیکن احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادات میں آپ ﷺ کی لئے بعض خصوصیات ایسی تھیں جو امت کے لئے نہ تھیں ۔ مثلاً ” لگاتار روزہ “ رکھنے سے آپ ﷺ نے منع فرمایا حالانکہ آپ کبھی کبھی ” لگاتار “ روزے رکھتے تھے ۔ (” لگاتار “ کا مطلب یہ ہے ایک دن کا روزہ دوسرے دن سے بلاافطار مل جائے) صحابہ کرام نے اس سلسلے میں آپ ﷺ سے بات کی تو آپ ﷺ نے فرمایا !” میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ مجھے میرا رب ہر وقت کھلاتا پلاتا رہتا ہے۔ “ (بخاری ۔ مسلم) پھر پہلی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خود آپ ﷺ نے افطار فرمایا اور جنہوں نے افطار نہ کیا تھا ان کے بارے میں فرمایا !” یہ لوگ نافرمان ہیں ، یہ لوگ نافرمان ہیں۔ “ پھر یہ حدیث بھی سب احادیث سے متاخر کیونکہ یہ فتح مکہ کے سال کا واقعہ ہے ، چناچہ اس میں جو حکم ہے وہ سب سے آخر میں ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پسندیدہ عمل طرز عمل کیا ہے۔ ان حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے پردہ احساس جو تصویر ابھرتی ہے ، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول ﷺ کے وقت کچھ مخصوص واقعات تھے ، جن میں ایک متعین حکم دینا ضروری تھا ۔ رسول ﷺ ملت اسلامیہ کی تربیت فرما رہے تھے ۔ آپ کو ایک زندہ اور متحرک صورت حال سے واسطہ تھا ۔ محض جامد اور غیر متحرک بتوں سے واسطہ نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ایک عام موضوع کے متعلق جو احادیث وارد ہوتی ہیں ان میں احکام وہدایات میں تنوع ہوتا ہے۔ اس لئے کہ احکام موقع ومحل کے مطابق دیئے جاتے ہیں ۔ تمام حالات و احادیث کو پیش نظر رکھ کر جو تاثر قائم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ سفر میں روزے کے مقابلے میں افطار زیادہ افضل ہے اور اس میں کوئی قید نہیں ہے کہ عملاً مشقت موجود ہے یا نہیں ۔ رہی بیماری ، تو اس کے بارے میں قوال فقہاء کے علاوہ مجھے کچھ نہیں ملا۔ بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ اس سے مراد ہر وہ حالت ہے جس پر مرض اور بیماری کا اطلاق ہوسکتا ہو۔ اس کی نوعیت ، اس کی مقدار اور اس کی شدت وغیرہ کی کوئی قید نہیں ہے ۔ صرف ایک شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ بیماری اور سفر میں دن کے بدلے قضا کرنی ہوگی اور قضا لوٹانے میں بھی راحج مذہب یہ ہے کہ دنوں کی تعداد پوری کرنی ہے ۔ ضروری نہیں کہ روزے مسلسل ہوں۔ ان تفصیلات کا ذکر میں نے اس غرض سے نہیں کیا کہ میں فقہی اختلافات میں کوئی خاص دلچسپی رکھتا ہوں ۔ میر مقصد صرف اس بنیادی اصول کی وضاحت ہے جس کے مطابق اسلامی عبادات کو دیکھنا چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ ان کا اصل مقصد کیا ہے ؟ کیا یہ کہ انسان کے ذہن میں ایک ایسی شعوری حالت پیدا ہوجائے ، جو انسان کے طرز عمل پر اثر انداز ہو ۔ یہی وہ حالت ہے جس کا اثر انسان کے طرز عمل پر ہوتا ہے اور اسی سے انسان کی روحانی تربیت ہوتی ہے ۔ عبادات میں خشوع کا مطلب ہے دل کا اللہ کی طرف پوری طرح متوجہ اور گداختہ ہوجانا اور پوری زندگی میں حسن و سلوک اور بہتر طرز عمل صرف اسی شعوری حالت کے نتیجے میں پیدا ہوسکتے ہیں ۔ یہ تو ایک پہلو ہے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم اس دین کو اسی طرح قبول کریں جس طرح وہ ہے ۔ پورے فرائض و تکالیف کے ساتھ ۔ اطاعت و خشیت کے ساتھ ۔ اس کی عزیمتوں پر عمل کریں اور رخصتوں سے فائدہ اٹھائیں ۔ پوری ہم آہنگی سے ، اطمینان قلب کے ساتھ ، اس کی حکمتوں پر یقین رکھتے ہوئے اور اللہ خوفی کا پورا پورا احساس کرتے ہوئے ۔ اس بحث کے بعد اب پھر سیاق کلام کو لیجیئے ! وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ” اور جو لوگ مشکل سے روزہرکھ سکتے ہوں تو وہ فدیہ دیں ۔ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کا کھانا ہے اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے تو یہ اسی کے لئے بہتر ہے۔ لیکن تم اگر سمجھو ۔ تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ روزہ رکھو۔ “ روزہ سنہ 2 ہجری میں جہاد کی فرضیت سے کچھ پہلے فرض ہوا۔ پہلے پہل روزہ کی تکلیف مسلمانوں کے لئے بہت ہی شاق تھیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لئے کھلی چھوٹ دے دی ، جو مشکل سے روزہ رکھ سکتے تھے ، (یطیقونہ کے معنی ہیں جو مشکل سے روزہ رکھ سکتے ہوں ۔ الاطاقہ کے معنی عربی میں مشکل اٹھانے کے ہوتے ہیں ۔ رخصت یہ دے دی کہ ایسے لوگ افطار کرلیں مگر انہیں ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہوگا۔ اس کے بعد انہیں ترغیب دی کہ وہ مساکین کے ساتھ مزید بھلائی کریں مثلاً یہ کہ بغیر فدی کی مقرر حد سے زیادہ مساکین کو کھانا کھلائیں ۔ مثلاً رمضان شریف کے ایک روزے کے بدلے اگر تین ، چار یا اس سے بھی زیادہ افراد کو کھانا دیں فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ ” اور جو اپنی خوشی سے زیادہ بھلائی کرے تو یہ اس کے حق میں اچھا ہے۔ “ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ” لیکن اگر تم سمجھو تو تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ روزہ رکھو۔ “ کیونکہ ایسے حالات میں روزہ رکھنا بہت بڑی بھلائی ہے۔ ایسے حالات میں روزہ رکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزہ دار پختہ ارادے کا مالک ہے ۔ اس کے اندر قوت برداشت موجود ہے اور وہ اپنے آرام کو اللہ کی بندگی کے لئے قربان کرسکتا ہے ۔ اور یہ تمام امور جو اسلام کی نظام تربیت کے مقاصد اولیہ ہیں ۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مریض کے علاوہ دوسرے لوگ اگر جبر ومشقت کے ساتھ روزے رکھیں تو اس میں ان کے لئے جسمانی فائدہ بھی ہے۔

البقرة 2:185

بہرحال یہ آیت ایک تمہید تھی ۔ اور جیسا کہ دوسری آیت میں ذکر ہوا ، اصل مقصد یہ تھا کہ تندرست اور مقیم پر بتدریج روزے کو علی الاطلاق فرض کردیاجائے ۔ ہاں البتہ یہ حکم ایسے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کے لئے اب بھی باقی ہے جن کے لئے روزہ رکھنا مشکل ہو اور امید بھی نہ ہو کہ وہ پھر سے تندرست ہوکر روزہ رکھنے کے قابل ہوسکیں گے ۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ ان تک یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرت انس بن مالک ؓ کافی بوڑھے ہوگئے تھے اور ان میں روزہ رکھنے کی قدرت ہی نہ تھی ۔ اس لئے ان کی جانب سے فدیہ دیا جاتا تھا ۔ (حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے ۔ یہ اس بوڑے مرد اور اس بوڑھی عورت کے لئے ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔ ان پر فرض ہوگا کہ وہ ایک روزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں ۔ ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں : میں رمضان شریف میں عطاء کے پاس گیا۔ دیکھتا ہوں کہ کھانا کھا رہے ہیں ۔ اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے فرمایا ! ابن عباس فرماتے ہیں (شھر رمضان) یہ آیت نازل ہوئی ۔ سابقہ منسوخ ہوگی ۔ البتہ نہایت بوڑھے شخص کے لئے اب بھی یہ رخصت ہے کہ وہ اگر چاہے تو ایک روزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھاناکھلا کر افطار کرے ۔ غرض اگلی آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ تندرست اور گھر میں مقیم شخص سے یہ رخصت اٹھالی گئی ہے ۔ اور آنے والی آیت فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ ” تم میں سے جو بھی اس مہینے کو پائے اس کے پورے روزے رکھے۔ “ نے اس آیت کو منسوخ کردیا ہے ۔ تندرست اور مقیم شخص کو اب دوبارہ ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ ضرور روزے رکھے ۔ یہ رمضان شریف کے روزے ہیں ۔ یہ وہ مہینہ ہے ۔ جس میں قرآن عظیم نازل ہوا ہے۔ رمضان میں قرآن کا آغاز ہوا یا یہ کہ اس کا زیادہ حصہ رمضان شریف میں نازل ہوا۔ قرآن اس امت کے لئے دائمی کتاب ہے ۔ قرآن ہی نے تو اس امت کو گھٹاٹوپ اندھیروں سے نکال کر روشنی بخشی اور اسے اس عظیم الشان عروج تک پہنچایا ۔ خوف کے بدلے اسے چین نصیب ہوا ۔ اسے اس کرہ ارض پر تمکنت بخشی ۔ اسے ایسے مقومات اور ایسے عناصر دیئے جن کی بنیاد پر وہ ایک امت قرار پائی ۔ حالانکہ قرآن سے پہلے وہ کیا تھی ؟ کچھ نہ تھی اور اب بھی اس قرآن کے بغیر اس کرہ ارض پر ، اس امت کا مقام ہی کیا رہتا ہے ؟ اس کے بغیر تو وہ امت ہی نہیں رہتی ۔ نہ زمین پر اس کا کوئی مقام ہوگا نہ آسمان میں اس کا کوئی ذکر ہوگا ۔ لہٰذا انعامات کا کم ازکم شکریہ ہے کہ مسلمان شہر رمضان میں رو سے سے ہوں ، جس میں یہ قرآن نازل ہوا۔ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ” رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں ، لہٰذا تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے اس کو لازم ہے کہ وہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔ “ یہ آیت روزے کو مطلقاً فرض کردیتی ہے اور تندرست اور مقیم سے افطار کی رخصت واپس لے لی جاتی ہے ۔ اب وہ فدیہ دے کر افطار نہیں کرسکتے ۔ ماسوائے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کے ، جس طرح کہ ہم پہلے کہہ آئے ہیں ۔ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ” لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے اس کو لازم ہے کہ وہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے ۔ “ یعنی جو اس مہینے کو پائے اور مسافر نہ ہو ۔۔ جو شخص ماہ رمضان کا چاند دیکھ لے ۔ اگر کسی کو چاند ہونے کا یقین ہوجائے چاہے جس ذریعہ سے بھی ، تو اسپر بھی روزہ اس طرح فرض ہے جو طرح چاند دیکھنے والے پر فرض ہے ۔ چونکہ یہ آیت بھی عمومیت کی حامل ہے ، اس لئے یہاں مریض اور مسافر کے لئے دوبارہ استثنائی دفعہ تجویز کی گئی ۔ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ” اور جو مریض ہو یا سفر پر وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ “ اب تیسری مرتبہ پھر اس اہم فریضہ کی ادائیگی کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ روزے کی فرضیت بھی ایک رحمت ہے اور افطار کے لئے رخصت بھی ایک رحمت يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ ” اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے ، سختی نہیں کرنا چاہتا۔ “ غرض اسلامی نظریہ حیات میں تمام عبادات وفرائض کا اصل الاصول یہ ہے کہ معاملات میں نرمی ہو اور ضرورت سے زیادہ سختی نہ ہو ۔ یہ عبادات ایسی ہیں کہ جس دل میں صحیح ذوق پیدا ہوجائے ، اسے یہ شعور ملتا ہے کہ وہ پوری زندگی کے معاملات میں نرم رویہ اختیار کرے سختی نہ کرے ۔ ان کے نتیجے میں ایک مسلمان میں سادگی پیدا ہوجاتی ہے اور اس کی زندگی پاک ہوجاتی ہے ۔ اس میں کوئی تکلف نہیں ہوتا ، اس میں کوئی پیچیدگی نہیں ہوتی ۔ یوں نظر آتا ہے کہ ایک مسلمان کی پوری زندگی فرائض وواجبات کی ادائیگی ، عملی زندگی کے پورے معاملات میں ، ایک سیل رواں کی طرح جاری وساری ہیں ۔ اس کی زندگی اس طرح غیر محسوس طور پر ، اطمینان ، یقین اور تسلیم ورضا کے ساتھ ترقی کررہی ہوتی ہے جس طرح ایک درخت بڑھتا رہتا ہے اور یہ شعور ہر جگہ مومن کے ساتھ ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت کے لئے اجر عبادت سے محروم ہی نہ ہوجائے وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ” اور جس ہدایت سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں سرفراز کیا ہے ، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہارواعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔ “ اس فریضہ کے مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کے دلوں میں اس ہدایت و راہنمائی کی قدر و قیمت کا صحیح شعور پیدا ہوجائے ، جو اللہ تعالیٰ نے انتہائی سہولت اور فراوانی سے انہیں فراہم کردی ہے اور ان کی حالت یہ ہوجائے کہ دوسرے ایام کے مقابلے میں ماہ صیام میں ، ان کے دلوں میں دین کا شعور زیادہ پختہ ہو ۔ ان کے دل معصیت اور گناہ کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیں ۔ ان کے اعضاء معصیت کے ارتکاب کے لئے تیار ہی نہ ہوں۔ وہ اس طرح لگیں کہ اللہ کی ہدایت کو محسوس کررہے ہیں ، بلکہ اسے چھو رہے ہیں ۔ ان کے دل اس اطاعت و بندگی کے ساتھ اللہ کی طرف مائل ہوں جیسا کہ رمضان شریف کی بحث کے آغاز میں کہا گیا ۔ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ” اس امید پر کہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔ “ روزہ جو بادی النظر میں جسم وبدن کے لئے شاق و دشوار نظر آتا ہے دراصل اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے ۔ نیز یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے تربیتی مقاصد کیا ہیں ۔ اور یہ کہ اس تربیت کے ذریعے ایک مومن کو اس عظیم کردار کے لئے تیار کیا جارہا ہے جس کے لئے اس امت کو برپا کیا گیا ہے تاکہ وہ نہایت ہی خدا خوفی سے ، اللہ کی نگرانی اور ایک زندہ ضمیر کے ساتھ اس فرض کو ادا کرے۔ اس سے پہلے کہ روزے کے تفصیلی احکام بیان ہوں ، یعنی کس وقت سے کس وقت تک روزہ ہو اور اس میں کیا جائز ہے اور کیا منع ہے ، ہم روزے کی برکات کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ روزے کی مشقتوں کے عوض اللہ ہمیں پوراپورا معاوضہ عطا کرتا ہے ۔ یہ معاوضہ اور صلہ کیا ہے ؟ اللہ کا قرب اور دعاؤں کی قبولیت ۔ ذرا قرآن کے الفاظ کو دیکھئے۔

البقرة 2:186

” میں قریب ہوں۔ “ پکارنے والا جب بھی مجھے پکارے میں اس کی پکار سنتا ہوں۔ کیا نرمی ہے ؟ ذرا نظرکرم ملاحظہ ہو ؟ الفاظ و معانی کی صفائی دیکھو ! انس و محبت دیکھو ! روزے کی تکالیف کیا ۔ بلکہ تمام عبادات کی تکالیف مشقتیں اس قریب و محبت کے مقابلے میں کہاں رہتی ہیں ؟ اس انس اور محبت کے ٹھنڈے سایے میں احساس مشقت کہاں باقی رہتا ہے ؟ اس آیت کے لفظ لفظ پر انس و محبت کی تازہ شبنم ہے ۔” میرے بندے ! اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں بتادیجئے کہ میں تو ان سے قریب ہوں پکارنے والا جب پکارتا ہے تو میں اس کی پکارسنتا ہوں اور جواب دیتا ہوں ۔ “ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ عجیب آیت ہے یہ ! دل مومن کو میٹھی تازگی ، خوشگوار محبت ، پرسکوں ورضامندی اور یقین محکم سے بھردیتی ہے ۔ مومن تسلیم ورضا کی جنت میں پہنچ جاتا ہے ۔ اسے پر شفقت وصال نصیب ہوتا ہے ۔ وہ پرامن پناہ گاہ اور پرسکون آرام گاہ میں پہنچ جاتا ہے انس و محبت کی اس فضا میں پرجوش باریابی کے اس ماحول میں اور الہامی قبولیت کے اس پس وپیش میں ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہدایت فرماتے ہیں کہ وہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ایمان اور یہ اطاعت انہیں راہ ہدایت اور راہ مستقیم پر پہنچادے ۔ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ” لہٰذا انہیں چاہئے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لے آئیں شاید وہ راست پالیں ۔ “ تسلیم ورضا اور ایمان باللہ کا آخری فائدہ بھی بندوں کا ہے یعنی ہدایت و راہنمائی اور اصلاح حال ۔ خود اللہ کو ایمان اور بندگی سے کیا فائدہ ۔ وہ تو دونوں جہانوں سے مستغنی ہے ۔ غرض ہدایت وہی ہے جو اللہ پر ایمان اور اللہ کی اطاعت پر مبنی ہو۔ صرف اسلامی نظام ہی انسان کو راہ ہدایت دے سکتا ہے اور اسلامی نظام ہی صحیح راہ ہے ۔ اس کے علاوہ تمام نظام عین جاہلیت ہیں۔ عین حماقت ہیں ۔ کوئی حق پسند ان پر راضی نہیں ہوسکتا ۔ نہ ان نظاموں کے ذریعے انسان راہ ہدایت پاسکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمان برداری بھی تب ہی ممکن ہے کہ جب لبیک کہنے والا راہ ہدایت پر ہو ۔ متلاشیان راہ حق کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو پکاریں ، لیکن قبولیت دعا میں جلدی نہ کریں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی حکیمانہ مصلحتوں کے مطابق اور ہر پکار کا جواب اپنے وقت اور مناسب انداز میں دیتے ہیں ۔ ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ نے ابن میمون کی حدیث اپنی سند کے ساتھ حضرت سلمان فارسی ؓ سے روایت کی ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ کے سامنے اگر کوئی ہاتھ پھیلائے اور اللہ سے خیر کا طلب گار ہو تو اللہ تعالیٰ ان ہاتھوں کو نامراد لوٹانے سے بہت حیاء کرتے ہیں ۔ “ ترمذی نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن کے ذریعہ سے ابن ثوبان کی حدیث اپنی سند سے اور اسی حدیث کو عبداللہ بن امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبادہ ابن الصامت سے روایت کیا ہے ۔ دونوں نے کہا کہ رسول ﷺ نے فرمایا :” اس روئے زمین پر جو شخص بھی اللہ کو پکارے اور کوئی خیر طلب کرے ، اللہ تعالیٰ یا تو اس کو وہ چیز عطا کردیتا ہے یا اس مطلوب کے مطابق اس سے کوئی درپیش آنے والی مصیبت کو دور کردیتا ہے بشرطیکہ وہ کسی بری چیز یا قطع صلہ رحمی کا طالب نہ ہو۔ “ بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہاری دعا قبول نہ ہوگی بشرطیکہ تم نے جلد بازی نہ کی ۔ مثلاً کوئی کہے :” میں نے تو اللہ کو بہت پکارا مگر میری دعا قبول نہ کی گئی۔ “ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” بندے کی دعا ضرور قبول ہوگی بشرطیکہ وہ گناہ قطع رحمی کا طلب گار نہ ہو اور جلد بازی نہ کرے ۔ صحابہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ! جلد بازی کیسے ہوتی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :” یہ کہے کہ میں نے بار بار اللہ کو پکارا ، مجھے یقین نہیں ہے کہ میری دعاق قبول ہوگی ۔ یوں وہ دعاچھوڑ کر خسارے میں پڑجائے۔ “ روزہ دار تو ہوتا ہی مستجاب الدعوات ہے ۔ امام ابوداؤد (رح) اپنی مسند میں ، اپنی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں ۔ فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے سنا ہے کہ ” افطار کے وقت ہر روزہ دار ایک دعا کی قبولیت کا حق دار ہوتا ہے۔ “ چناچہ عبداللہ بن عمر ؓ جب بھی افطار کرتے تو اہل خاندان کو بلاتے اور دعا کرتے۔ ابن ماجہ نے اپنے سنن میں اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن عمررضی اللہ سے روایت کی ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” ہر روزہ دار کے لئے افطار کے وقت ایک دعا کی قبولیت کا حق ہے۔ “ مسند احمد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت فرمائی ہے ۔ فرماتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” تین افراد ایسے ہیں جن کی دعا مسترد نہیں ہوتی ۔ امام عادل ، روزہ دار یہاں تک کہ افطار کرے اور مظلوم کی پکار ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے بادلوں کے اوپر اٹھائے گا اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا :” میری عزت کی قسم میں ضرور تمہاری امداد کروں گا اگرچہ قدرے دیر سے ۔ “ یہی وجہ ہے کہ ذکر صیام میں دعا کا ذکر خصوصیت سے کیا گیا ہے۔ اب اہل ایمان کے لئے رواے کے ضروری احکام بیان کردیئے جاتے ہیں ۔ روزہ دار کو اس بات کی اجازت مل جاتی ہے کہ ماہ رمضان میں مغرب سے لے کر طلوع فجر تک اپنی بیویوں کے پاس جاسکتے ہیں ، اسی طرح اس عرصہ میں کھانا بھی کھاسکتے ہیں ۔ روزے کا وقت بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک ہے ۔ اسی طرح مدت اعتکاف کے دوران بیویوں کے پاس جانے کا حکم بھی دے دیا جاتا ہے ۔

البقرة 2:187

ابتدأً یہ حکم تھا کہ اگر روزہ دار افطار کے بعد سوجائے تو اس پر کھانا پینا اور بیویوں کے پاس جانا حرام ہے ۔ اگر کسی کی آنکھ لگ جاتی اور پھر وہ اٹھتا تو اگرچہ طلوع فجر سے پہلے اٹھتا ۔ اس کے لئے بیوی کے پاس جانا اور کھانا پیناحرام ہوتا ۔ بارہا ایسا ہوتا کہ ایک صحابی پر افطار کے وقت نیند کا غلبہ ہوگیا اور آنکھ لگ گئی ۔ اب اس کے سوا کوئی اور چارہ نہ تھا کہ وہ مسلسل دوسرے دن روزہ رکھے ۔ ایک صاحب کے ساتھ ایسا ہی ہوا ۔ دوسرے دن اس نے بڑی مشکل سے روزہ پورا کیا ۔ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچی ۔ اس طرح ایسے واقعات بھی ہوئے کہ افطار کے بعد ایک صاحب سوگئے ، بیوی بھی سو گئی ۔ جب جاگے تو ہم بستری کی اور رسول ﷺ تک بات پہنچ گئی ۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں پر یہ حکم بھاری ہورہا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس مشکل حکم کو منسوخ کردیا اور معاملہ آسان ہوگیا ۔ چونکہ روزے کے ان احکام میں مشکلات کا سامنا وہ کرچکے تھے ۔ تجربہ ان کے ذہن میں تھا ، اس لئے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کو انہوں نے خوب محسوس کیا ۔ آیت نازل ہوئی اور ان کے لئے مغرب اور طلوع فجر کے درمیان کھنا پینا اور بیوی کے پاس جانا جائز قرار دیا گیا۔ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ ” تمہارے لئے روزوں کے مہینے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے جانا جائز قرار دیا گیا ہے۔” الرفث “ کا مفہوم مباشرت کا آغاز ہے یا عین مباشرت ۔ یہاں دونوں کا جواز مقصود ہے ۔ دونوں جائز ہیں لیکن دوران بیان ، قرآن مجید پر ایک نظر پھیرتا ہوا خوشگوار تاثر چھوڑے بغیر نہیں رہتا ۔ میاں بیوی کے اس تعلق کے اندر ابریشم کی ملائمت ، تازگی اور شیشے کی سی صفائی پیدا کی جاتی ہے ۔ نیز اس کو حیوانی درشتگی اور حیوانی نقائص سے پاک کردیا جاتا ہے۔ “ هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ ” وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ “ لباس پردہ پوشی کرتا ہے ۔ گرمی سردی سے بچاتا ہے ، اسی میاں بیوی کا باہمی تعلق دونوں کا پردہ پوش ہے ۔ ان کا محافظ ہے۔ اسلام مخلوق انسانی کو اس کی حقیقت واقعیہ کے لحاظ سے دیکھتا ہے ۔ اور حقیقت واقعیہ کے لحاظ سے اس کے فطری تقاضوں کو بھی پورا کرتا ہے اور اس طرح یہ نظام انسان کا ہاتھ پکڑ کر اسے بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ ہے اسلام اور یہ ہے اس کا نظریہ حیات ۔ وہ گوشت و پوست کے فطری تقاضے پورے کرتا ہے اور پورے بھی کرتا ہے خوشگوار اور لطیف فضا میں ، پاکیزگی کے لطیف پردوں میں۔ اللہ علیم وخبیر ہے ۔ وہ بتا دیتا ہے کہ تمہارے خفیہ جذبات کیا ہیں ؟ اور پھر دکھاتا ہے کہ وہ تمہارے فطری دواعی پورنے کرنے کے لئے تمہاری حاجات کو پوری کرتا ہے۔ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ ” اللہ کو معلوم ہوگیا کہ تم لوگ چپکے چپکے اپنے آپ سے خیانت کررہے تھے ، مگر اس نے تمہارا قصور معاف کردیا اور تم سے درگزر فرمایا۔ “ یہ خیانت کیا تھی ؟ ان کے دلوں میں دبی ہوئی خواہشات تھیں ۔ خفیہ جذبات تھے جو ارتکاب جرم کا تقاضا کررہے تھے ۔ یا مراد یہ ہے کہ تم چوری چھپے اس حکم کو توڑ رہے تھے ۔ جیسا کہ بعض روایات میں آتا ہے کہ بعض حضرات سے اس کی خلاف ورزی کا ارتکاب ہوا لیکن دونوں قسم کے حضرات کو اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا۔ چونکہ ان کی کمزوری اور ناتوانی ظاہر ہوگئی تھی ، اللہ تعالیٰ جانتے تھے چناچہ ان کی حاجت روائی کردی گئی فَالآنَ بَاشِرُوهُنَّ ” اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ شب باشی کرو۔ “ لیکن اس کا جواز بھی رضائے باری سے جوڑ دیا گیا۔ حکم دیا گیا کہ اس میں بھی تم اللہ کی طرف متوجہ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ ” اور جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے اسے حاصل کرو۔ “ یعنی عورتوں سے جو لطف اندوزی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جائز کردی ہے ، اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اس کے نتیجے میں آنے والی اولاد سے بھی بہرمند بنو۔ دونوں چیزیں حکم خداوندی میں شامل ہیں ۔ دونوں وہ سامان ہیں جن کا حاصل کرنا اور جن سے لطف اندوزہونا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جائز قرار دے دیا ہے لیکن اس لطف اندوزی کے پس منظر میں گہری حکمت پوشیدہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ ایک بامقصد فریضہ ہے ۔ یہن جسمانی طلب اور مجرد حیوانی تلذذ ہی نہیں ہے جس کا تعلق محض جس سے ہو ۔ اس طرح میاں بیوی کے درمیان تعلق ایک بلند مقصد سے مربوط ہوکر فریضہ فطرت قرار پاتا ہے ۔ وہ لطف ولذت کے مختصر لمحے کے بجائے انسانیت کے افق پر ایک بامقصد قرار پاتا ہے ۔ اسلامی نظام حیات اور اسلام کی طرز زندگی کے اندر اس قسم کے اشارات و ارشادات دیکھ کر معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلام انسانی زندگی کے اندر کیا انقلاب لانا چاہتا ہے اور اسے کن خطوط پر ترقی دینا ہے یہ تمام کام وہ انسان کے حدود میں ، اس کی قوت برداشت کے اندر اور اس کی پیدائشی مزاج کے مطابق سر انجام دیتا ہے ۔ یہ ہے تربیت ، سربلندی اور ترقی کا اسلامی نظام ۔ جس کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہے ، جو اسے مخلوقات کے حالات سے خوب خبردار ہے ۔ جو باریک بین اور لطیف وخبیر ہے۔ ان اوقات میں جس طرح بیوی کے پاس جانے کی اجازت دی گئی اسی طرح ان اوقات میں کھانے پینے کی اجازت بھی مل گئی۔ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ” راتوں کو کھاؤ یہاں تک کہ تم کو سیاہی شب کی دھاری سے سپیدہ صبح کی دھاری نظر آجائے ۔ “ یعنی اس وقت تک افق اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر روشنی پھیل جائے ۔ اس سے مراد افق پر سفید دھاری کا محض ” ظہور “ نہیں ہے۔ اس کو فجر کاذب کہتے ہیں ۔ روزہ بند کرنے کے سلسلے میں جو روایات وارد ہیں ان کا مطالعہ کرنے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ وقت طلوع الشمس سے تھوڑا پہلے ہے ۔ آج کل ہمارے علاقے میں عام طور پر جو اوقات مقرر ہیں ہم انہی کے مطابق روزہ رکھتے ہیں ۔ یہ اوقات شرعی وقت سے قدرے پہلے ہی ہیں اور مزید احتیاط کے لئے مقرر کئے گئے ہیں ۔ ابن جریر (رح) نے اپنی سند سے ، سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کی ہے ۔ فرماتے ہیں رسول ﷺ نے فرمایا :” ت میں بلال کی اذان اور ” مستطیل صبح “ کہیں تمہیں سحری سے نہ روک دے ۔ اس سے مراد وہ صبح ہے جو افق میں پھیل جائے (المستطیر) اور طلوع آفتاب سے قدرے پہلے صبح پھیلتی ہے ۔ ہوتا یہ تھا کہ حضرت بلال سوئے ہوئے لوگوں کو سحری سے آگاہ کرنے کے لئے بہت سویرے اذان دیتے تھے اور ابن مکتوم آخر میں روزہ بند کرنے کے لئے اذان دیتے تھے ۔ اس لئے کہا گیا کہ تم اذان بلال سے دھوکہ نہ کھاجاؤ۔ اس کے بعد مساجد میں اعتکاف کے دوران مباشرت کے حکم کا بیان ہوتا ہے۔ اعتکاف کے معنی ہیں مسجد میں علیحدہ ہوکر اللہ کی طرف متوجہ ہونا اور سوائے حاجات ضروریہ کے مسجد سے نہ نکلنا ۔ مثلاً کھانا پینا قضائے حاجت وغیرہ۔ یہ مستحب ہے اور رمضان شریف کے آخری عشرے میں کیا جاتا ہے ۔ رمضان شریف کے آخری عشرے میں رسول اللہ ﷺ اس پر عمل پیرا ہوتے تھے ، اعتکاف کا عرصہ عام معمولات زندگی سے الگ ہوکر صرف اللہ کی طرف متوجہ ہونے کا عرصہ ہوتا ہے ۔ اس لئے تجرد اور علیحدگی کو مکمل کرنے کے لئے حکم دیا گیا کہ اس عرصے میں بیویوں کے پاس جانے سے بھی اجتناب ہونا چاہئے ۔ تاکہ نفس انسانی تمام آلائشوں سے علیحدہ ہوجائے اور دل تمام مشغولیات سے پاک ہوجائے۔ وَلا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ ” اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہو تو بیویوں سے مباشرت نہ کرو۔ “ چاہے روزہ کا وقت ہو یعنی دن یا افطار کا وقت ہو یعنی رات۔ سب سے آخر میں تمام معاملے کو ذات باری کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ ہر انضباطی حکم اور ہدایت کے معاملے میں قرآن مجید کا مستقل انداز بیان ہے ۔ یعنی ہر امر میں ، ہر نہی میں ہر حرکت میں اور ہر سکون میں۔ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلا تَقْرَبُوهَا ” یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں ، ان کے قریب نہ پھٹکنا۔ “ یہاں اس شدت سے روکا گیا ہے کہ قریب ہی مت جاؤ، تاکہ انسان اور ممنوعات کے درمیان امن کا ایک لازمی علاقہ موجود ہو۔ جو چرندہ چراگاہ کے اردگرد گھومتا ہے آخر کار اس میں داخل ہوجاتا ہے اور ہر وقت انسان بھی اپنے نفس کی نگرانی نہیں کرسکتا۔ اس لئے اس کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ ایسی ممنوعات کے قریب گھومتا رہے جو مرغوب ہوں اور پھر اس اعتماد پر کہ وہ جب چاہے گا اپنے نفس پر قابو پالے گا ۔ کسی شخص کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ایسے خطرناک امتحان میں ڈالے ، چناچہ یہ امت ایسے ہی معاملے سے وابستہ ہے جو پر لطف ہے اور مرغوبات میں سے ہے ۔ اس لئے حکم دیا گیا ہے کہ قریب ہی مت جاؤ۔ حالانکہ مقصد صرف یہ ہے کہ ان ممنوعات کے اندر مبتلاہونے سے بچو کہ قریب جانے کی ممانعت نہیں ہے۔ مطلب صرف یہ ہے کہ احتیاط اور خدا خوفی سے کام لینا چاہئے كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَاس طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لئے بصراحت بیان کرتا ہے ۔ توقع ہے کہ وہ غلط رویے سے بچیں گے ۔ “ بتایا جاتا ہے کہ نزول قرآن اور تبلیغ آیات کا آخری مقصد خدا خوفی کا حصول ہے۔ یہ وہ قیمتی اور عظیم مقصد ہے جس کی اہمیت اور قدر و قیمت صرف ان لوگوں کے ہاں ہے جو ایمان لانے والے ہیں اور جو ہر دور میں قرآن کے طالب ہیں ۔ روزہ کے بیان کی مناسبت سے ، کھانے کی ایک اور قسم کی بھی ممانعت کی گئی ہے ۔ اور وہ ہے لوگوں کا مال ناجائز طور پر کھانا ، انہیں مقدمات میں ملوث کرنا ۔ چالاکی سے انہیں پھنسانا اور ان کے خلاف حکام کے سامنے شواہد اور قرائن فراہم کرنا اور چالاکی اور چرب زبانی سے ان کے خلاف ڈگری حاصل کرلینا ۔ یہ سخت ممنوع ہے ۔ کیونکہ حاکم تو مقدمہ کے ظاہری حالات اور شہادت و دلائل کے مطابق ہی فیصلہ کرے گا۔ اور اگر جھوئی شہادتیں پیش کردی جائیں تو یہ فیصلہ خلاف موقع ہوگا اس لئے یہ ممانعت اللہ کے مدد کے ذکر کے بعد خدا خوفی اور خدا ترسی کی مسلسل دعوت کے بعد کی گئی ہے تاکہ نہی کا یہ اہم حکم خدا خوفی کے ایسے ماحول میں وارد ہو جو انسان کو ارتکاب ممنوعات باز رکھے ۔

البقرة 2:188

ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے َعلی ابن ابوطلحہ ، حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں :” یہ اس شخص کے بارے میں ہے کہ اس پر دوسرے کا قرضہ ہو ۔ اور اس کے خلاف کوئی ثبوت نہ ہو۔ وہ انکار کردے اور مقدمہ حکام کے پاس جائے ۔ وہ جانتا ہو کہ اس پر حق موجود ہے اور اسے خوب علم ہو کہ وہ گناہ گار اور حرام خور ہے ۔ “ مجاہد (رح) ، سعیدبن جبیر (رح) ، عکرمہ (رح) ، حسن ، قتادہ (رح) ، سدی (رح) ، مقاتل (رح) بن حیان اور عبدالرحمن بن زید بن اسلم سے روایت ہے ۔ ان سب نے کہا !” اگر تمہیں معلوم ہو کہ تم ظلم کررہے ہو تو ہرگز مقدمہ دائر نہ کرو۔ “ بخاری ومسلم میں حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ! بہرحال میں ایک انسان ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ تم ایک مقدمہ میرے پاس لاؤ اور میں تم میں سے ایک شخص دوسرے کی نسبت زیادہ چرب زبان ہو اور میں اس کے حق میں فیصلہ کروں ۔ یادرکھو کہ جس کے حق میں ، میں کسی دوسرے کی کسی چیز کا فیصلہ کردوں تو وہ اس کے حق میں دوزخ کا ایک ٹکڑا ہوگا۔ اب یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ اسے اٹھاتا ہے یا اسے چھوڑ دیتا ہے یوں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا معاملہ خود ان کے سپرد کردیتا ہے جو اپنے دعویٰ کی حقیقت سے باخبر ہوں ۔ جج کے فیصلے سے حرام حلال نہیں ہوجاتا ، نہ حلال حرام ہوجاتا ہے ۔ اس کی حیثیت صرف یہ ہوتی ہے کہ بظاہروہ فیصلہ نافذ ہوجاتا ہے ۔ اور گناہ دھوکہ باز کے ذمہ ہوتا ہے ۔ حکم قصاص ، حکم وصیت اور احکام صیام کی طرح مقدمہ بازی Letigation اور مالی معاملات میں بھی معاملہ خدا خوفی اور تقویٰ کے سپرد کردیا جاتا ہے ۔ یہ سب احکام دراصل اسلامی نظام کے جسم اجتماعی کے مختلف اجزاء ہیں اور سب کی روح تقویٰ ہے۔ یہ تمام اجزاء تقویٰ کی مضبوط رسی میں بندھے ہوئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام حیات ایک وحدت ہے ۔ یہ جزلایتجزی ہے ۔ ایک ایسی اکائی ہے جس کے اجزء علیحدہ نہیں ہوسکتے ۔ اگر ہم اس کے بعض اجزا پر عمل کریں اور بعض کو ترک کردیں تو یہ بعض کتاب پر عمل ہوگا اور ایک حصے کا انکار ہوگا جو آخر کار کفر پر منتج ہوگا۔ نعوذ باللہ

البقرة 2:189

درس 12 ایک نظر میں سابقہ اسباق کی طرح اس سبق میں امت کو بعض فرائض کی تعلیم دی گئی ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کے بعض قومی اور بعض بین الاقوامی معاملات پر قانون سازی کی گئی ہے ۔ اس سبق میں چاند کی بڑھتی گھٹتی صورتوں کا بیان ہے ۔ گھروں میں پیچھے کی طرف سے داخل ہونے کا بیان ہے ، جاہلیت میں بعض اوقات لوگ اس رسم کی پابندی کرتے تھے ۔ احکام قتال ، حرام مہینوں میں مسجد حرام کے پاس جنگ اور حج وعمرہ کے اصلاح شدہ احکام ہیں ۔ ترتیب کے ساتھ اور مناسب ترامیم کے ساتھ ۔ ان تمام معاملات سے وہ اجزاء نکال دیئے گئے ہیں جن کا ربط دور جاہلیت سے تھا۔ سابقہ درس کی طرح اس میں بھی بعض احکام ، عقائد ونظریات سے متعلق ہیں اور بعض کا تعلق رسومات و عبادات سے ہے جبکہ بعض احکام کا تعلق جنگ سے ہے ۔ ان سب کو ایک ہی نظم میں پرودیا گیا ہے ۔ یعنی اللہ کا ذکر اور اس کا ڈر یعنی تقویٰ ۔ جہاں حکم دیا جاتا ہے کہ تم گھروں میں پیچھے کی طرف سے نہ داخل ہو ، سیدھے آؤ۔ اس کے ساتھ ہی نیکی کے مفہوم اور تصور کو درست کردیا جاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حرکات و سکنات کی ظاہری اشکال کا نام نیکی نہیں ہے ۔ بلکہ بر خدا خوفی کا نام ہے۔ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (189) ” یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں میں پیچھے سے داخل ہوتے ہو۔ نیکی تو اصل یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضی سے بچے ۔ لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازے سے آیا کرو ۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہوجائے۔ “ حکم دیا جاتا ہے کہ دوران جنگ ظلم اور زیادتی سے بچو۔ لیکن اس سے بچنے کا محرک بھی اللہ سے لگاؤ اور اس کا خوف ہونا چاہئے ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَاللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ مسجد حرام کے قریب جنگ کے حکم میں بھی کہا جاتا ہے۔ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ ” اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ انہی لوگوں کے ساتھ ہے جو اس کی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں ۔ “ اب مواقیت حج کا بیان شروع ہوتا ہے ۔ اس کے دوران میں شہوانی افعال ، بدفعلی اور لڑائی جھگڑے کی ممانعت ہوتی ہے اور نتیجہ وہی تقویٰ ہے ۔ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الألْبَابِ ” سفر حج کے لئے زاد راہ ساتھ لے جاؤ اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیز گاری ہے ۔ پس اے ہوشمندو ! میری نافرمانی سے پرہیز کرو ۔ “ انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا جاتا ہے اور اس میں آخری نتیجہ تقویٰ اور احسان ہے ۔ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ” اللہ کے احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ “ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ” اللہ کے احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے ۔ “ حج کے بعد لوگوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اللہ کی یاد میں مشغول ہوجاؤ ۔ لیکن آخری نصیحت پھر تقویٰوَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ” اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے۔ “ صاف نظر آجاتا ہے کہ یہ تمام اور مختلف النوع احکام ایک مضبوط رسی میں نہایت مضبوطی سے باندھے ہوئے ہیں ۔ یہ رسی اور یہ رابطہ اس دین کے مجموعی مزاج سے وجود میں آتا ہے۔ اس دین کا مزاج یہ ہے کہ اس میں عبادات شعور سے جدا نہیں ہوتیں اور عبادات سے قوانین عامہ اور دنیاوی قواعد و ضوابط جدا نہیں ہوتے ۔ یہ دین اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک دنیاوی امور اور آخرت کے امور کو ساتھ نہ بٹھایا جائے ۔ نظریہ حیات اور قلب ونظر کی دنیا کے ساتھ قومی اور بین الاقوامی معاملات کو وابستہ نہ کردیا جائے اور جب تک اس دین کو انسان کی پوری زندگی میں جاری وساری اور غالب نہ کردیا جائے اور حالت یہ نہ ہوجائے کہ پوری زندگی مکمل طور پر تصور وحدت کے مطابق چل رہی ہے ، ایک ہی ہم آہنگ نظام اس پر حاوی ہے ایک ہی اور کامل نظام ہے جو اس میں نافذ ہے اور یہ ایسا نظام ہے جو اللہ کی شریعت پر قائم ہے ۔ ایک اکائی ہے اور زندگی کے پورے معاملات کو اپنی حدود میں لئے ہوئے ہے ۔ سورت کے اس حصے کے آغاز ہی میں ہمارے سامنے ایک منظر آتا ہے ۔ اس منظر میں مسلمان زندگی کے مختلف شکلوں کے بارے میں اپنے پیارے نبی کے اسوہ حسنہ کی طرف نظر کرتے ہیں ۔ ایسے حالات کے بارے میں پوچھتے ہیں جو آئے دن زندگی میں انہیں پیش آتے رہتے ہیں ۔ وہ یہ جاننے کے لئے بےتاب نظر آتے ہیں کہ وہ ان معاملات میں ، اپنے جدید تصور حیات کے مطابق کیا طرزعمل اختیار کریں ۔ جوان کے جدید نظام زندگی کے مطابق ہو۔ وہ سب سے پہلے جس چیز کی طرف توجہ مبذول کرتے ہیں وہ مظاہر فطرت ہیں وہ چاند کے بارے میں غور کرتے ہیں کہ اس کی کیا حقیقت ہے ؟ وہ ہلال نظر آتا ہے ۔ پھر وہ بتدریج مکمل ہوجاتا ہے اور پھر گھٹنے لگتا ہے ۔ پھر ہلال ہوجاتا ہے یہاں تک کہ غائب ہوجاتا ہے اور پھر نئے سرے سے ہلال ہوکر نکلتا ہے۔ پھر وہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ مال کی کون سی قسم خرچ کریں ؟ وہ کس قدر خرچ کریں ؟ خرچ کس نسبت سے ہو ؟ پھر وہ سوچتے ہیں کہ مسجد حرام کے نزدیک جنگ کرنا کیسا ہے ؟ پھر حرام مہینوں میں جنگ کرنے کا کیا حکم ہے ؟ پھر وہ جوئے اور قمار بازی کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ نئے نظام میں کیا حکم ہے ؟ کچھ ہی عرصہ تو پہلے وہ تو سب شراب خور تھے اور جوئے بازی کے سوا ان کا اور کوئی کام ہی نہ تھا۔ پھر اچانک عورتوں کے ایام کے سلسلے میں پوچھتے ہیں کیا ان ایام میں تعلقات زن وشوئی جائز ہیں ؟ پھر وہ اپنی بیویوں کے خصوصی تعلقات کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور بعض اوقات تو ایسے سوالات خود بیویوں نے بھی کئے ۔ غرض پورے نظام زندگی کے بارے میں نہ صرف ان کی سوچ بدل جاتی ہے بلکہ طرز عمل بھی بدل جاتا ہے ۔ وہ طہارت اور پاکیزگی میں معراج کمال پر نظر آتے ہیں ۔ یہ سوالات نہایت اہمیت کے حامل ہیں اور ان سے بیشمار حقائق کا اظہار ہوتا ہے مثلاً : اولاً یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس وقت اجتماعی زندگی کی جو اشکال تھیں اور ان کے درمیان جو ربط ضبط تھا وہ زندہ ، ترقی پذیر اور وسعت پذیر تھا ۔ اسلامی معاشرے کی تشکیل جدید ہورہی تھی ، تشخص قائم ہورہا تھا اور نئی نئی صورتیں پیش کی جارہی تھیں ۔ افراد معاشرہ اپنی اجتماعی زندگی پر پختہ یقین رکھتے تھے ۔ وہ اب بکھرے ہوئے افراد اور متفرق قبائل نہ تھے ۔ اب وہ ایک امت بن چکے تھے ، جس کا الگ وجود تھا ۔ اپنا نظام تھا ۔ اس کی اپنی وضع قطع تھی اور سب افراد اس نظام کے ساتھ پختہ طور پر وابستہ تھے ۔ ہر فرد کے لئے یہ بات اہم تھی کہ وہ زندگی کے پاکیزہ خطوط سے پوری طرح باخبر ہو ، باہمی تعلقات ورابطہ کی نوعیت کے بارے میں خبردار ہو۔ یہ نئی صورت حال دراصل نئے نظریہ حیات ، نئے نظام زندگی اور نئی قیادت کے نتیجے میں پیداہوئی تھی ۔ اور ان کی انسانیت ، ان کا شعور اور ان کی فکر غرض پوری سوسائٹی ہمہ جہت ترقی کررہی تھی۔ اس ہمہ جہت تجسس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی دینی حس کس قدر تیز تھی ۔ اسلامی نظریہ حیات ان کے دلوں میں کس قدر اتر چکا تھا۔ یہ نظریہ ان کی زندگیوں پر یوں چھا گیا تھا کہ وہ روز مرہ کا کوئی کام بھی اس وقت تک نہ کرتے جب تک اس جدید نظریہ حیات کی روشنی میں یہ یقین نہ کرلیتے کہ وہ درست ہے ۔ اس لئے کہ ان سابقہ زندگی کی کوئی بات برقرار نہ تھی ۔ انہوں نے دور جاہلیت کی تمام رسموں اور عادتوں کا جوأ گردن سے اتار پھینکا تھا ۔ اب انہیں قدیم رسومات پر کوئی اعتماد نہ تھا اور زندگی کے ہر کام اور ہر موڑ پر ایک جدید تعلیم کے منتظر تھے ۔ وہ ہر وقت بیدار اور باشعور رہتے تھے اور ان کی یہ شعوری ھالت سچائی پر پختہ عقیدے کی وجہ سے تھی ۔ ان کے نفوس تمام جاہلی عادات اور طور طریقوں سے پاک ہوگئے تھے ۔ وہ جاہلیت کی ہر بات کا بڑی احتیاط سے جائزہ لیتے تھے اور اسے ترک کردیتے تھے ۔ جدید نظریہ حیات سے ہدایات لینے کے لئے وہ ہر وقت تیار رہتے تھے ۔ وہ اپنی نئی زندگی کو خالصتاً اس نئے نظریہ حیات کے مطابق جلد ازجلد استوار کرنے کا عزم کرچکے تھے۔ یہ جدید نظریہ حیات ان کی زندگی کو نئے سانچوں میں ڈھال رہا تھا ۔ قدیم عہد کی جن باتوں کو بدرجہ مجبوری باقی رکھا گیا تھا انہیں بھی وہ جدید رنگ اور تربیت کے ساتھ لیتے تھے ۔ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر آنے والا نظام قدیم نظام کی جزئیات تک کو ترک کردے ۔ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ جدید نظام کی بعض مصالح جزئیات کو منتخب کرکے انہیں جدید نظام میں سمو دیتا ہے ۔ وہ اس جدید نظام کا جزو ہوجاتی ہیں ۔ مثلاً حج کے اکثرمناسک ایسے ہیں جنہیں اسلام نے باقی رکھا ہے ۔ اور وہ یوں ہوگئے کہ گویا وہ اسلامی نظام زندگی کے سرچشمے سے پھوٹے ہیں۔ تیسری بات اس دور کی تاریخ سے سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اس دور میں مشرکین مکہ اور یہود مدینہ بار بار ، اسلامی اقدار کے سلسلے میں ، مسلمانوں کے دلوں میں شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ اسلام نے جاہلیت کے رسوم عبادت میں جو ترمیمات کی تھیں یا اس دور میں جو واقعات پیش آئے تھے ان کی وجہ سے یہ عناصر کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے اور اسلام کے خلاف ہر وقت گمراہ کن پروپیگنڈے میں لگے رہتے تھے ۔ مثلاً مشرکین عبداللہ بن حجش کے سریہ کے سلسلے میں سخت اعتراض کرتے تھے ۔ انہوں نے حرام مہینوں میں مشرکین پر حملہ کردیا تھا ۔ اور اس کی وجہ سے بیشمار سوالات پیدا ہوگئے تھے جن کا جواب ضروری تھا۔ اندرونی طور پر قرآن کریم جاہلی تصورات ، جاہلی رسومات اور جاہلی نظام کا ابطال کررہا تھا تو ظاہری طور پر اسلام اور مسلمانوں کے ان دشمنوں کے خلاف اس نے اعلان جنگ کردیا تھا۔ یہ اندرونی اور بیرونی جنگ مسلمانوں کے لئے اب بھی بپا ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ انسانی نفس اور انسانی ذہن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ، اسلام کے وہی دشمن آج بھی تیغ بکف ہیں اور قرآن کریم اس وقت جو جواب دے رہا تھا آج بھی وہی جواب دے رہا ہے اور یہ امت آج بھی ، اس وقت تک کامیابی حاصل نہیں کرسکتی جب تک حق و باطل کی اس جنگ میں قرآن عظیم کو اپنا رہنما نہیں بناتی ۔ یقیناً قرآن کریم آج بھی وہ کارہائے نمایاں دکھائے گا جو اس نے سینکڑوں سال پہلے دکھائے تھے ۔ جب تک مسلمان اس حقیقت کا یقین اور تسلیم نہ کریں گے اور اس پر عمل نہ کریں گے ، ان کے لئے کوئی نجات نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس دنیا میں کامیابی سے ہمکنار ہوسکتے ہیں۔ اس حقیقت پر غور کرنے کا ادنیٰ نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ انسان اس تصور اور ادراک کے ساتھ ، اس کتاب کو قبول کرے۔ وہ اس کی طرف اس طرح متوجہ ہو کہ اس کی تعلیمات متحرک صورت میں نظر آئیں ، وہ میدان عمل میں ہو اور ذہن کو ایک جدید تصور حیات دے رہا ہو ۔ جاہلیت کے تصورات کا مقابلہ کررہا ہو ، اس امت کو لغزشوں سے بچارہا ہو اور اس کی مدافعت کررہاہو ، اس حال میں متوجہ نہ ہو ، جس طرح آج ہم اس کی طرف رخ کرتے ہیں ۔ میٹھے نغمے کی طرح ایک اچھے کلام کی صورت میں جو ترتیل سے پڑھا جارہا ہے اور بس ........ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے تو قرآن مجید کو ذہنی آسودگی حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ ایک عظیمم مقصد کے لئے اتارا تھا ۔ اسے اس لئے اتارا تھا کہ وہ اس کرہ ارض پر ایک پاکیزہ اور مکمل زندگی تخلیق کرے ۔ اسے حرکت دے ۔ راستے کی مصیبتوں ، لغزشوں اور کانتوں کے درمیان سے انسان کی راہنمائی کرکے اسے پرامن منزل تک پہنچائے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیا گیا تھا ، جیسا کہ ہم پہلے کہہ آئے ہیں ، یعنی چاند کا ظہور اس کا گھٹنا بڑھنا کیونکر ہوتا ہے ؟ بعض روایات میں آتا ہے کہ سوال اس طرح تھا کہ رسول ﷺ چاند کیوں پیدا کیا گیا ہے ؟ سوال کا یہ انداز جواب سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے ۔ اس لئے رسول ﷺ سے کہا گیا کہ اے نبی تم یہ جواب دو : قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ ” یہ لوگوں کے لئے تاریخوں کے تعین اور حج کی علامتیں ہیں ۔ “ یعنی حج کا احرام باندھنے کا وقت ، حج سے باہر آنے کا وقت ، روزہ بند کرنے کا وقت ، روزہ کھولنے کا وقت۔ نکاح ، طلاق اور عدت کا وقت ۔ معاملات تجارت اور قرضوں کی ادائیگی کے اوقات وغیرہ ۔ تمام دینی امور میں اور تمام دنیاوی امور میں وقت کا حساب ضروری ہے اور اس لئے چاند کا حساب رکھنا تمام امور میں لابدی ٹھہرا۔ چاہے یہ پہلے سوال کا جواب ہو یا دوسرے کا ، تعلق اس کا بہرحال مسلمانوں کی عملی زندگی کے ایک حقیقی مسئلے سے ہے ۔ محض سائنسی اور علمی مسئلے کا حل یہاں مقصود نہیں ہے۔ قرآن کریم نے بھی انہیں چاند کے دوفائدے گنوادئیے جو ان کی عملی زندگی میں رات دن انہیں نظر بھی آتے تھے لیکن قرآن نے انہیں زمین کی گردش یا چاند کی گردش کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ، حالانکہ سوال کے مفہوم میں یہ بات بھی شامل تھی کہ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ سوال یہ تھا : چاند ہلال بند جاتا ہے کیسے ؟ پھر اسی طرح قرآن کریم نے انہیں یہ بھی نہیں بتایا کہ نظام شمسی میں چاندکاکام (Function) کیا ہے یا اجرام سماوی کی گردش میں چاند کا مدار کیا ہے ؟ یہ بات بھی یقینا ً سائل کے سوال میں شامل تھی ۔ سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو عملی جواب دیا تھا اس کا راز کیا ہے ۔ قرآن کریم نے سائنسی معلومات کے بجائے محض عملی فوائد کیوں گنوائے ؟ دراصل قرآن کریم کا مقصد نزول یہ تھا کہ انسان کو ایک خاص نظریہ حیات دے ۔ ایک خاص مقام زندگی عطا کرے ۔ اس کے نتیجے میں ایک مخصوص معاشرہ وجود میں آئے۔ قرآن کریم کے پیش نظر اس کرہ ارض پر ایک امت کی تشکیل تھا ، جس نے زمین پر پوری انسانیت کی قیادت کا اہم فریضہ ادا کرنا تھا۔ اس کو تاریخ انسانیت کے اندر ایک ایسے معاشرے کی تخلیق کرنی تھی جو تمام گزشتہ انسانی معاشروں میں سبب سے زیادہ بلند ہو ۔ اس کو انسانی زندگی کا ایک ایسا نمونہ پیش کرنا تھا جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہ ہو۔ اس کو طرز زندگی کے بنیادی اصول وضع کرنا تھے اور لوگوں کو ان کی طرف دعوت دینی تھی ۔ قرآن کی زبان میں کیا اللہ تعالیٰ اس سوال کا علمی جواب دیتے ہیں ۔ ظاہر ہے قرآن ان احکام کا مجموعہ ہے جو انسانی زندگی کو پاکیزہ بنانے اور اللہ پرستی تک لے جانے والے ہیں ۔ یہ علم فلکیات کی کتاب نہیں ہے ۔ اس لئے کوئی علمی جواب تلاش کرنا قرآن کے مزاج اور موضوع سے بیخبر ی کی دلیل ہوگا۔ یو بھی یہ علوم ایک نہج پر نہیں ۔ نظریات بدلتے رہتے ہیں ۔ ان نظریات کو انسانی فہم وادراک تک لانے کے لئے بیشمار معلومات ونظریات کی ضرورت ہوتی رہی ہے ۔ اور اس وقت پوری انسانیت کو جو منبع علم تھا اس کے مطابق یہ علمی جواب ایک معمہ ہی نظرآتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے علمی جواب کو چھوڑدیا ۔ قرآن کریم اپنے مقصد نزول کو اولیت دیتا ہے اور اس فہم میں علم فلکیات کے انداز میں جواب موزوں ہی نہ ہوتا اور اگر یہ علمی جواب ضروری بھی ہوتا تو بھی قرآن کریم جیسی کتاب اس کے لئے موزوں نہ تھی جس کا موضوع سائنس نہیں ہے کیونکہ قرآن بلند تر مقاصد کے لئے نازل ہوا ہے ۔ قرآن مجید کے بعض نادان دوست اس میں علوم جدیدہ تلاش کرتے ہیں جو قرآن کا موضوع ہی نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں کینہ پرور دشمنوں کا خیال یہ ہے کہ قرآن مجید طبیعی علوم کا مخالف ہے ۔ یہ بھی خام خیالی ہے ۔ گوقرآن موضوع مادی علوم نہیں ، لیکن اس کا اعجاز یہ بھی ہے کہ ان علوم کے سرچشمے اس میں تلاش کئے جاسکتے ہیں ۔ یہ دونوں طرف کے خیالات اس لئے پیدا ہوئے ہیں کہ ان کے حامل حضرات نے اس کتاب مقدس کے مزاج کو نہیں سمجھا ۔ اس کے مقاصد اور اس کے دائرہ کار ہی کو یہ حضرات متعین نہیں کرسکے ۔ قرآن کا دائرہ کار بالیقین نفس انسانی اور حیات انسانی کا تزکیہ ہے ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس کائنات اور ان موجودات کے سلسلے میں انسان کو ایک ایسا تصور دیا جائے جس کے ذریعے یہ اپنے خالق سے پیوستہ ہوجائیں اور پھر اس تصور کی اساس پر زندگی کا ایک پورانظام تعمیر کیا جائے جس میں انسان آزادی کے ساتھ اپنی پوری قوتوں کو کام میں لائے ۔ ظاہر ہے کہ انسانی قوتوں میں ، ایک قوت ، قوت عقل وادراک بھی ہے اور یہ قوت صحیح طرح کام تب ہی کرسکتی ہے جب اس کرہ ارض پر ایک صالح نظام قائم ہوجائے اور وقت عقلی کو آزادانہ طور پر تحقیقات علمیہ کا موقع دیا جائے اور علمی وسائنسی نتائج اخذ کرنے میں آزادانہ طور ترقی و کمال کے جس مقام تک پہنچنا چاہے پہنچ جائے ۔ لیکن انسان اپنی اس محدود قوت ادراک کے ذریعے میں جس مقام پر بھی پہنچے وہ آخری مقام نہ ہوگا جیسا کہ تجربات سے ظاہر ہے۔ قرآن کا موضوع ” انسان “ ہے۔ انسان کا تصور ونظریہ ، اس کا فہم اور شعور ، اس کا طرز عمل اور کردار ، اس کے تعلقات وباہمی روابط ہے ۔ رہے طبیعی علوم ، انواع و اقسام کی مادی ایجادات ، تو وہ قرآن کے موضوع بحث نہیں ۔ بلکہ یہ عقل انسانی کے لئے موضوع بحث اور مرکز عمل ہیں ۔ یہ عقل انسانی کا کام ہے کہ وہ اس میدان میں نظریات قائم کرے اور نئے نئے انکشافات کرے ۔ کیونکہ عقل انسانی کا فہم و ادراک ہی وہ امتیاز ہے جس کی وجہ سے خلیفۃ اللہ فی الارض کا مقام حاصل ہوا ہے ۔ اور یہ خصوصیت انسان کو اس کی تخلیق کے وقت سے دی گئی ہے ۔ رہا قرآن مجید تو وہ صرف فطرت انسانی کا رہنما ونگہبان ہے ۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ انسان کی فطرت میں فساد واقعہ نہ ہو ، اس نظم میں خلل نہ پڑے جس کے مطابق زندگی بسر کرکے یہ اپنی فطری طاقتوں کو کام میں لائے گا۔ قرآن کریم انسان کو اس کائنات کے بارے میں ایک جامع علم دیتا ہے ۔ یہ بتاتا ہے کہ اس کائنات کا تعلق اس کے خالق کے ساتھ کیا ہے ؟ اس کے مختلف اجزاء کا (جن میں سے ایک خود انسان بھی ہے ) باہمی تعلق کیا ہے ؟ اس کے بعد قرآن نے انسان کو آزاد چھوڑدیا ہے کہ وہ جزئیات کا ادراک خود کرے اور اپنے منصب خلافت کی کارکردگی میں ان صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے جو اللہ تعالیٰ نے اسے دی ہیں ۔ قرآن کریم ان جزئیات کی تفصیل مہیا نہیں کرتا تو یہ انسان کے فرائض منصبی میں شامل ہے ۔ مجھے تو قرآن مجید میں ان نام نہاد حامیوں کی سادہ لوحی پر بےاختیار ہنسی آتی ہے ، جو قرآن مجید کی طرف ایسی چیزوں کی نسبت کرتے ہیں جو اس کا حصہ نہیں اور نہ وہ اس کے مقاصد میں شامل ہیں ۔ یہ لوگ قرآن مجید سے علم طب ، علم کیمیا اور علم فلکیات کی جزئیات ثابت کرتے ہیں ۔ کیا ان لوگوں کے نزدیک قرآن مجید کی عظمت ثابت کرنے کے لئے یہی بات رہ گئی ہے ؟ اپنے موضوع کے اعتبار سے بالیقین قرآن کریم ایک عظیم وکامل کتاب ہے اور ان تمام علوم کے مقابلے میں قرآن کا موضوع ایک عظیم الشان موضوع ہے ۔ کیونکہ اس کا موضوع خود انسان ہے ۔ ادراک (جس سے یہ علوم عبارت ہیں ) کا سرچشمہ انسان کی قوت مدرکہ ہے جو انکشافات کرتی ہے اور دنیا میں انسان ان سے جو فائدہ اٹھاتا ہے ۔ تحقیقات وتجربات اور ان سے نتائج کا اخذ کرنا عقل کے خواص ہیں اور عقل خود انسان کا ایک جزء ہے اس کے مقابلے میں قرآن مجید کا موضوع خود انسان کی تشکیل وتکوین ہے ۔ اس کی شخصیت کی تعمیر ، اس کے ضمیر ، اس کی عقل اور اس کی فکر کی تعمیر ہے۔ اس کے بعد قرآن مجید ایک صالح انسانی معاشرہ کی تعمیر سے بحث کرتا ہے جس میں انسان ان قوتوں کو کام میں لائے جو اللہ تعالیٰ نے نفس انسان میں ودیعت کی ہیں ۔ جب ایک سلیم الطبع انسان صحیح تصور حیات ، صحیح فکر ، پختہ شعور پالیتا ہے اور ایک ایسا اسلامی معاشرہ اسے مل جاتا ہے جس میں وہ آزادی سے کام کرتا ہے تو پھر قرآن مجید اسے آزاد چھوڑ دیتا ہے تاکہ سائنس اور دوسرے علوم کے میدان میں وہ تحقیقات اور تجربے کرے ۔ قرآن صرف صحیح فکر ، صحیح شعور اور صحیح تصور حیات کے معیار مقرر کردیتا ہے اور بس۔ قرآن کریم بعض اوقات اس کا ئنات کے وجود کے بارے میں اور اس کے اجرام کے باہمی ربط اور پھر کائنات اور اس کے خالق کے درمیان ربط کے بارے میں صحیح فکر دینے کے لئے کچھ آخری حقائق بیان کرتا ہے ۔ یہ وہ حقائق ہوتے ہیں جن پر علم طبیعات جاکر ختم ہوجاتا ہے ، لہٰذا ان حقائق کے ساتھ ہمیں عقل انسانی کے ان مفروضات کو نہیں ملانا چاہئے جو انسانی نظریات ہیں اور جنہیں عوام سائنسی حقائق کہتے ہیں ۔ اور جن تک انسان ان تجربات کے نتیجے میں پہنچا ہے اور جنہیں وہ قطعی اور آخری حقائق سمجھتا ہے ، اس لئے قرآن کریم جن حقائق کا ذکر کرتا ہے وہ قطعی اور انتہائی ہیں ۔ لیکن وہ حقائق جن تک انسان بذریعہ عقل و تجربہ پہنچتا ہے ۔ وہ آخری اور قطعی ہرگز نہیں ہوتے ۔ وہ انسان کے تجربات ، میسر آلات کے ذریعہ سے حاصل ہوتے ہیں اور آلات کی قوت کی بھی ایک حد ہوتی ہے ، لہٰذا یہ حقائق فہم انسانی اور اس کو میسر آلات کی قوت کی حد تک ہی ہوسکتے ہیں ۔ خود انسانی تحقیقات اور تجربات کے جو مسلم اصول ہیں ان کے مطابق بھی ہم یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کے انسان کی دریافت کردہ حقائق ، قرآن کریم کے بیان کردہ حقائق کے مقابلے میں معیار صحت ہوسکتے ہیں ، کیونکہ یہ حقائق علم بشری کے حدود تک ہیں ۔ (اور قرآنی حقائق علم بشری سے ماوریٰ ہیں) یہ تو تھی بات سائنسی تجربات کی ۔ رہے وہ نظریات یا مفروضات جنہیں سائنسی اور علمی کہا جاتا ہے ۔ مثلاً فلکیات کے بارے میں نظریات ، انسان کی تخلیق اور ترقی کے بارے میں نظریات ، انسان کی نفسیات اور اس کے طرز عمل کے بارے میں نظریات ، انسانی معاشرے اور اس کی ترقی کے بارے میں نظریات ، یہ سب نظریات معروضی ہیں اور انسانی قیاس اور گمان پر مبنی ہیں ۔ انہیں کسی مفہوم میں بھی سائنسی حقائق نہیں کہا جاسکتا ۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ نظریات ، اس کائنات کے مظاہر ، انسانی زندگی ، انسانی نفسیات اور انسانی معاشرے کی تفسیر وتشریح ہیں اور ان کی اصلیت یہ ہے کہ ایک نظریے کی جگہ دوسرا نظریہ لیتا چلا آرہا ہے ۔ ان کا اعتبار اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک دوسرا نظریہ اس کی جگہ نہیں لے لیتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مفروضات اور یہ نظریات ہمیشہ تغیر اور تبدل کے قابل ہوتے ہیں اور ان میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے ۔ بعض اوقات تو وہ یکلخت الٹ ہوجاتے ہیں ، اس لئے کہ بعض اوقات انسان تجربات اور ملاحظہ کا کوئی جدید اور زیادہ طاقتور آلہ دریافت کرلیتا ہے ۔ یا بعض اوقات جب انسان ان تمام مشاہدات کو اکٹھا کرتا ہے اور ان پر مجموعی حیثیت سے غور کرتا ہے تو وہ ایک جدید نظریہ اور مفروضہ قائم کرلیتا ہے ۔ وہ کوشش اور تفسیر ، جو ان عام قرآنی اشارات کو سائنس کے متغیر ومعتبدل نظریات سے وابستہ کرتی ہے ، یا ان سائنسی حقائق سے وابستہ کرتی ہے جو بذات خود آخری اور قطعی نہیں ہیں تو ایسا نتیجہ مرتب نہیں ہوتا جسے قطعی کہا جاسکے ۔ یہ کوشش ایک تو خود سائنس کے منہاج بحث وتحقیق کے خلاف ہے ۔ دوسرے یہ کہ ایسی کسی کوشش کے فوائد ومقاصد صرف تین ہوسکتے ہیں اور تینوں ایسے ہیں جو قرآن مجید کے شان جلالت اور علو مرتبت کے منافی ہیں ۔ 1۔ یہ ایک قسم کی اندرونی اور ذہنی شکست خوردگی ہے جو لوگ اس ذہنی مرعوبیت کا شکار ہوتے ہیں وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید سائنس قرآن مجید پر غالب ہے اور اس سے برتر درجہ رکھتی ہے ۔ یہ قرآن مجید کی تفسیر وتشریح میں سائنس کے اکتشافات بیان کرتے ہیں ۔ حالانکہ قرآن مجید خود اپنے موضوع پر ایک مکمل کتاب ہے ۔ اور اس نے جو حقائق بیان کئے ہیں وہ آخری حقائق ہیں ، جبکہ سائنس کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے موضوع کے ہر دائرے میں ناقص ہے ۔ وہ آج جس حقیقت کو ثابت کررہی ہے ، کل خود اس کی تردید کردیتی ہے ۔ سائنس کی رسائی جہاں تک بھی ہو ، وہ آخری اور مطلق نہیں کہلاسکتی ۔ سائنس کی ہر دریافت ، انسانی قوات ، اس کے عقلی ادراکات اور اس کے آلات معاونہ کے حدود وقیود کے ساتھ مقید ہوتی ہے اور یہ سب ادوات وآلات ایسے ہیں جو اپنے مزاج وساخت کے اعتبار سے کوئی ایک آخری اور مطلق حقیقت کو گرفت میں نہیں لاسکتے ۔ 2۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ ایسے حضرات نے سرے سے قرآن مجید کے مزاج اور اس کے مقاصد ہی کو نہیں سمجھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید آخری اور مطلق حقائق کا مجموعہ ہے اور وہ انسان کی تعمیر وتربیت بعینہ ایسے انداز میں کرنا چاہتا ہے جو نوامیس فطرت اور اس کائنات کے مزاج کے خلاف نہ ہو اور جہاں تک انسانی مزاج اس کا متحمل ہو۔ یہ اس لئے کہ انسان اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے درمیان کوئی تصادم نہ ہو ، بلکہ انسان اس کائنات کے راز معلوم کرے ، قوانین فطرت دریافت کرے اور انہیں اپنے منصب خلافت فی الارض کے فرائض سر انجام دینے میں استعمال کرے ۔ ان قوانین فطرت کو جو مکمل فکر ونظر ، تحقیق وتطبیق اور عمل و تجربہ کے نتیجے میں خود اس نے حاصل کئے ہوں ۔ یہ نہ ہو کہ اسے کوئی تیار علوم دے دے اور وہ انہیں من وعن تسلیم کرلے۔ 3۔ تیسری قباحت یہ ہے کہ ان حضرات کو بڑے ہی تکلف اور چالاکی کے ساتھ ، آیات قرآنی میں مسلسل تاویل کرنی پڑتی ہے۔ اور یہ حضرات ان آیات کو اٹھائے ہوئے ، بےآبروئی کے ساتھ ان سائنسی نظریات اور مفروضات کے پیچھے بھاگتے پھرتے ہیں ، جنہیں کوئی ثبات وقرار حاصل نہیں ہے ۔ ان نظریات کے شب وروز میں تو ہر شب تاریک تر ہوتی جارہی ہے اور ہر دن ایک نیا نظریہ لے کر آتا ہے جو سابق نظریہ کو باطل کردیتا ہے ۔ کیا ہم بھی سابق تفاسیر کو باطل کرتے چلے جائیں ؟ جیسا کہ ہم اوپر کہہ آئے ہیں ، یہ انداز فکر ، نہ صرف یہ ہے کہ قرآن عظیم کی شان و عظمت و جلالت کے خلاف ہے ، بلکہ خود سائنس کے منہاج تحقیق و تجربہ کے بھی خلاف ہے ۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ سائنس نے اس کائنات ، نسل انسانی اور زندگی کے بارے میں جو حقائق ونطریات پیش کئے ہیں یا مسلسل دریافت ہورہے ہیں ، ہم قرآن مجید کے فہم وادراک میں ان سے کام نہ لیں اور انہیں بالکل نظر انداز کردیں ۔ ہرگز نہیں ۔ ہماری مراد یہ نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں خود فرماتے ہیں : سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ(53) ” عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی ، یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے۔ “ اس آیت کا مقتضا یہ ہے کہ ہم نفس انسانی اور آفاق کے متعلق سائنس کی فراہم کردہ تازہ بتازہ معلومات پر مسلسل غور وفکر کرتے رہیں اور اپنی اس محدود قوت مدرکہ اور دائرہ تصور میں ، قرآنی مدلولات ومفاہیم کا دائرہ وسیع کرتے چلے جائیں۔ یہ کیسے ؟ اور پھر بغء یر اس قباحت کے قرآن مجید کے مطلق اور آخری مطالب کو ان سائنسی اکتشافات سے وابستہ بھی نہ کریں جو آخری نہیں ہیں جو مطلق نہیں ہیں ، اضافی ہیں ۔ یہاں ایک مثال مفید طلب ہے : قرآن کریم میں ہے وَخَلَقَ کُلَّ شَئٍ فَقَدَّرَہُ تَقدِیرًا ” اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ، پورے پورے اندازے سے ۔ “ جب سائنس نے ترقی کی تو معلوم ہوا کہ اس کرہ ارض پر بعض نہایت ہی پنہاں سہولتیں ہیں ، بعض نہایت ہی دقیق ہم آہنگیاں ہیں ۔ یہ کرہ ارض ، اپنی اس مخصوص ہیئت کے ساتھ ، سورج سے اس مخصوص فاصلے پر ، چاند سے ایک متعین بعد پر ، سورج اور چاند کے مقابلے میں ایک حساس حجم لئے ہوئے ، اس قدر تیزی سے رواں دواں ، اپنے محور کے گرد ایک خاص انداز میں جھکا ہوا ، اس موجودہ پانی اور سطح کے ساتھ اور ان کے علاوہ اپنی ہزاروں دوسری خصوصیات کے ساتھ ، صرف یہ کرہ ارض ہی اس قابل ہے کہ یہاں زندگی اور زندگی کے دوسرے ملحقات قائم رہ سکتے ہیں ۔ ان حقائق میں سے کوئی بھی عارضی انتظام نہیں ہے ۔ نہ ہی یہ کام بغیر کسی منصوبے کے یوں اتفاقاً ہورہا ہے ۔ ان حقائق کا سائنٹیفک مطالعہ قرآن مجید کی اس آیت میں کس قدر وسعت پیدا کردیتا ہے : وَخَلَقَ کُلَّ شَئٍ فَقَدَّرَہُ تَقدِیرًا ذرا سوچئے اکتشافات جدیدہ نے اس آیت کے مفہوم کو کیا وسعت دے دی ہے ۔ پوری سائنس آیت کی تفسیر ہوگئی ، لہٰذا قدرت کی مزید کاریگری معلوم کیجئے اور یوں آیت کے مفہوم کو وسیع سے وسیع تر کرتے چلے جائیے۔ قرآن کریم میں ہے خَلَقَ الاِنسَانَ مِن سُلٰلَةٍ مِّن طِینٍ ” اس نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا ۔ “ صدیوں بعد والاس اور ڈارون نظریہ ارتقا پیش کرتے ہیں ۔ وہ فرض کرتے ہیں کہ زندگی کا آغاز ایک خلیہ سے ہوا ۔ اس خلیہ نے پانی میں نشوونما پائی ۔ وہ خلیہ ارتقا کی منزلیں طے کرتے کرتے موجودہ انسان پر منتج ہوا۔ ضرورت تھی کہ اس نظریئے کو علمی معیار پر پرکھا جاتا ، لیکن ہم دوڑے قرآن مجید کو اٹھاتے ہوئے ، نہایت بےآبروئی کے ساتھ اس نظریہ کو ہاتھوں ہاتھ لیا بلکہ اسے قرآن کی تفسیر بنادیا۔ اول تو یہ نظریہ کوئی آخری نظریہ نہیں ہے ۔ ابھی ایک صدی بھی نہیں گزری کہ اس میں بیشمار رتبدیلیاں رونما ہوگئیں ۔ قریب ہے کہ سرے سے پورا نظریہ ہی ختم ہوجائے ۔ کیونکہ یہ ناقص معلومات پر مبنی تھا اور اس کی کمزوریاں ظاہر بھی ہوچکی ہیں ۔ مثلاً حیوانات کے ہر نوع کے کچھ موروثی خصائص ہوتے ہیں اور ہر نوع کی مروثی اکائیان ان کا تحفظ کرتی ہیں ۔ یہ ایک نوع کو دوسرے نوع کی طرف منتقل ہونے ہی نہیں دیتیں ۔ یہ ایک ایسا نقص ہے جس کے ذریعہ سرے سے یہ نظریہ ہی ختم ہوسکتا ہے اور آج نہیں تو کل یہ نظریہ ختم ہوگا۔ جبکہ قرآن مجید آخری حقائق پر مشتمل ہے ۔ یہ ضروری نہیں کہ قرآن مجید کا مفہوم یہی ہو جو نظریہ ارتقاء نے پیش کیا ۔ قرآن نے تو صرف انسانی کی اصلی تخلیق کا تذکرہ کیا ہے ، انسان کی نشوونما کی تفصیلات کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اصل تحقیق ایک آخری حقیقت ہے ۔ وہ آخری نقطہ جہاں سے وجود انسان کا آغاز ہوا بس یہی آیت کا مفہوم ہے ۔ اس کی مزید تفصیلات کیا تھیں ان کا ذکر یہاں نہیں ہے ۔ قرآن مجید نے کہا وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا (یٰس : 38) ” اور سورج ، وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جارہا ہے ۔ “ اس آیت میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ سورج چلتا ہے ۔ سائنس کی دریافت ہے کہ سورج اپنے اردگرد کے تاروں کی نسبت سے تو 12 میل کی سیکنڈ کی رفتار سے چلتا ہے ۔ لیکن وہ اپنی کہکشاں کو لئے ہوئے ، جس کا وہ خود بھی ایک ستارہ ہے ، 170 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلا جارہا ہے ، لیکن سائنس کی یہ معلومات بھی قرآن مجید کی اس کا آیت عین مدلول نہیں ہیں ۔ کیونکہ سائنس نے ابھی تک جو کچھ دریافت کیا ہے وہ نسبتی ہے ۔ آخری علم یا حقیقت نہیں ۔ اس میں تبدیلی ہوسکتی ہے ۔ رہی آیت تو اس میں اس آخری حقیقت کا اظہار ہوا ہے کہ سورج چلا جارہا ہے۔ بس ہم اس رفتار کو کسی سائنسی رفتار سے وابستہ نہیں کرسکتے جو بذات خود متبدل ہے ۔ ایک دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے : اَوَلَم یَرَ الَّذِینَ کَفَرُوا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالاَرضِ کَانَتَا رَتقًا فَفَتَقنَاھُمَا ” کیا وہ لوگ جنہوں نے (نبی کی بات ماننے سے ) انکار کردیا غور نہیں کرتے کہ یہ سب آسمان و زمین باہم ملے ہوئے تھے ، پھر ہم نے انہیں جدا کیا۔ “ سائنس ایک نظریہ پیش کرتی ہے ۔” یہ کہ کرہ ٔ ارض سورج کا ایک حصہ تھا ، جو اس سے جدا ہو “ اور ہم بھاگے ، سانس پھولا ہوا ، زبان نکلی ہوئی ۔ ہم نے کوشش کی کہ اس نظریہ کو اٹھالیں اور قرآن مجید کی آیت کو لے جاکر اس سے ملادیا ۔ اور کہنے لگے بس یہی تو ہے جس کا قرآن مجید نے ذکر کیا ہے ۔ ہرگز نہیں ، یہ ہمارا مقصد کبھی نہیں ہونا چاہئے کیونکہ سائنس کا یہ تو کوئی آخری نظریہ نہیں ہے ۔ زمین کی طبیعاتی تشکیل کے لئے کئی سائنسی نظریات موجود ہیں ۔ کئی ہوسکتے ہیں رہا قرآن مجید تو اس نے فقط یہ کہا ہے اور جو آخری حقیقت ہے کہ زمین آسمان سے جدا ہوئی ہے اور بس ۔ وہ کیسے جدا ہوئی ؟ آسمانوں کے کس حصے سے جدا ہوئی ؟ ان تفصیلات کا ذکر آیت نے نہیں کیا ہے ، لہٰذا اس موضوع پر سائنس جو نظریہ پیش کرے ، جس مفروضے پر چاہے بحث کرے ، ہم یہ نہیں کرسکتے کہ آیت کا مفہوم سائنس کے موجودہ نظریئے کے مطابق ہے اور یہی آخری ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس آیت کی مناسبت سے یہاں یہ تفصیل کافی ہے ۔ یہاں ہمارا مقصد صرف یہ تھا کہ سائنس کے انکشافات کو آیت کے فہم اور آیات کے مفہوم میں وسعت اور عمق پیدا کرنے کے لئے کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے ؟ بغیر اس قباحت کے کہ ہم کس آیت کو سائنس کے کسی نظریہ کے ساتھ وابستہ کردیں اور وہ بھی اس طرح کہ دونوں کو ایک سمجھ لیا جائے ، دونوں کو ایک دوسرے کا مصداق گردانا جائے ۔ ہمارا مقصد صرف یہ تھا کہ ان دونوں صورتوں میں فرق کرلیا جائے۔ اب ہم قرآن کی اصل عبارت کی طرف لوٹتے ہیں : وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ” نیز ان سے کہو ! یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف سے داخل ہو۔ نیکی تو دراصل یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضگی سے بچے ۔ لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازے ہی سے آیا کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہوجائے۔ “ آیت کے دونوں حصوں کے درمیان ربط یہ ہے کہ پہلے حصے میں بیان کیا گیا کہ چاند کی بڑھتی گھٹتی شکلیں اوقات مناسک حج کے تعین کی خاطر ہیں اور دوسرے حصے میں دو رجاہلیت کی اس رسم کی اصلاح کردی گئی جو ایام حج سے وابستہ تھی ۔ (بخاری ومسلم میں حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں : انصار کا رواج یہ تھا کہ جب وہ حج کرنے جاتے تو واپسی کے وقت گھروں میں دروازوں کی جانب سے داخل نہ ہوتے ۔ ایک بار ان کا ایک آدمی آیا وہ سیدھا دروازے کی طرف سے داخل ہوگیا ۔ لوگوں نے اسے ملامت کی ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ،” یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف سے داخل ہو ، نیکی تو دراصل یہ ہے کہ آدمی ، اللہ کی ناراضی سے بچے لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازے میں سے آیا کرو۔ “ ابوداؤد نے شعبہ بن اسحاق ؓ اور براء بن عازب ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ :” انصار جب کسی بھی سفر سے لوٹتے تو دروازے کی جانب سے داخل نہ ہوتے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ “ یہ رسم چاہے ہر سفر کے موقع پر ہو یا صرف حج میں ہو (سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حج میں تھی) بہرحال ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ نیکی کا کوئی کام ہے ۔ ایمان کا جزء ہے ۔ قرآن کریم نے اس باطل تصور کو ختم کردیا کیونکہ یہ ایک فضول حرکت تھی ۔ اس کی کوئی شرعی حیثیت نہ تھی ۔ نہ اس میں کوئی دنیاوی فائدہ تھا ۔ قرآن کریم نے نیکی کا صحیح تصور دے دیا کہ نیکی خدا خوفی کا نام ہے ۔ ظاہر و باطن میں اللہ کی نگرانی اور اس کے وجود کا پختہ شعور ہی نیکی ہے ۔ وہ کسی ایسی ظاہری شکل کا نام نہیں ہے ، جس کے پس منظر میں کوئی ایمانی شعور کارفرما نہ ہو ، بلکہ محض ایک رسم جاہلیت ہی ہو۔ حکم دیا گیا کہ دور جہالت کی رسم و رواج ترک کرکے گھروں میں دروازے سے داخل ہوا کرو اور پھر اشارہ کیا کہ تقویٰ ہی راہ نجات ہے ۔ وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ” لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازے ہی سے آیا کرو ۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہوجائے۔ “ یوں دلوں کو اصلی ایمانی حقیقت سے مربوط کردیا گیا ۔ یعنی تقویٰ کو ، دنیا وآخرت کی فلاح و بہبود سے جوڑا گیا۔ اور جاہلیت کی اس رسم کو جڑ سے اکھاڑ دیا گیا جس کے پس منظر میں کوئی ایمانی جذبہ نہ تھا اور مومنین کو متوجہ کردیا گیا کہ اللہ کی اس نعمت کو سمجھنے کی کوشش کریں جو اللہ نے چاند کی شکل میں ، ان کے اوقات اور مناسک حج کے تعین کے لئے فراہم کی گئی ہے ۔ یوں اللہ تعالیٰ نے صرف ایک آیت میں ایسے اہم مضامین بیان فرمادیئے۔ اب جنگ کی عمومی بحث شروع ہوجاتی ہے ۔ پھر مخصوص طور پر مسجد حرام کے ساتھ ، ، حرم اور ممنوعہ مہینوں میں جنگ کے بارے میں احکام آتے ہیں ۔ انفاق فی سبیل اللہ کی دعوت بھی دی جاتی ہے جو جہاد و قتال کے ساتھ گہرا ربط رکھتا ہے ۔ فرمایا :

البقرة 2:190

بعض روایات میں آتا ہے کہ قانون جنگ کے سلسلے میں قرآن کریم کا یہ پہلا حکم ہے ۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ان مومنین کو جن کے ساتھ کفار برسر پیکار تھے صرف جنگ کی اجازت دی تھی ۔ اس لئے کہ وہ مظلوم ہیں ۔ مسلمانوں نے محسوس کرلیا تھا کہ یہ اذن فرضیت جہاد کے لئے ایک تمہید ہے اور اللہ تعالیٰ اب اس زمین پر مسلمانوں کو تمکنت عطا کرنے والا ہے ، چناچہ سورة حج میں فرمایا : أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (39) الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (40) الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الأرْضِ أَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الأمُورِ (41) ” اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور اللہ یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے ۔ صرف اس قصور پر کہ وہ کہتے تھے ” ہمارا رب اللہ ہے “ اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور مندر اور مسجدیں ، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے ، سب مسمار کر ڈالی جائیں ۔ اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے ۔ اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے ، زکوٰۃ دیں گے ، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے ۔ اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ “ وہ اس اذن کے معنی خود سمجھ گئے کیونکہ ان پر ظلم ہورہا ہے ، لہٰذا وہ ظلم کا بدلہ لے سکتے ہیں ۔ مکہ مکرمہ میں ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور وہ ظلم کی مدافعت بھی نہ کرسکتے تھے ۔ وہاں انہیں حکم دیا گیا تھا : کُفُّوا اَیدِیکُم وَاَقِیمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوالزَّکٰوۃَ ” ہاتھ روکے رکھو ، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو ۔ “ مکہ میں ہاتھ اٹھانے کی ممانعت بھی ایک خاص حکمت پر مبنی تھی ۔ اس حکمت کے بعض اہم پہلو ہم یہاں بیان کرتے ہیں : 1۔ جنگ اور مدافعت سے روکنے کا پہلا سبب یہ تھا کہ عرب مسلمانوں کے اندر ڈسپلن پیدا کرنے کی ضرورت تھی تاکہ وہ اطاعت امیر کے عادی ہوجائیں ، اپنی قیادت کے مطیع وفرماں ہو اور مدافعت اور قتال کے حکم کا انتظار کریں ۔ جاہلیت میں تو وہ سخت جنگجو تھے ۔ پہلی آواز پر آپے سے باہر ہوجاتے تھے اور کسی خوشگوار بات کو دیکھ کر ان میں صبر کرنے کا مادہ تو تھا ہی نہیں ۔ انسانی تاریخ میں امت مسلمہ نے جو کردار ادا کرنا تھا اس کا تقاضا یہ تھا کہ اس امت کی ایسی تربیت ہو اور اس کی سیرت کی تعمیر ایسی ہو کہ اس کی یہ تمام کمزوریاں ضبط ونظم میں ڈھل جائیں ، وہ ایک مقتدر ومدبر قیادت کے تابع فرمان بن جائیں ۔ اس حد تک تابع کہ وہ دور جاہلیت کی تمام عصبیتوں اور ناجائز عصبیتوں اور ناجائز طرفداروں کو چھوڑدیں ، جن کی حمایت میں وہ جنگ وجدل کے لئے کسی پکارنے والے کی پہلی پکار پر اٹھ کھڑے ہوجاتے تھے ۔ یہی تعمیر سیرت تھی جس کی وجہ سے حضرت عمر بن الخطاب ؓ جیسے پرجوش شخص اور حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ؓ اور ان جیسے نڈر اشخاص امت مسلمہ کو سخت مصائب و شدائد میں دیکھتے اور اف تک نہ کرتے ۔ اس لئے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ رسول ﷺ کی ہدایت کے مطابق اپنے آپ کو پوری طرح کنٹرول میں رکھیں ۔ اپنی ہائی کمان کی پوری اطاعت کریں اور قیادت عالیہ کا حکم تھا ۔ کُفُّوا اَیدِیکُم وَاَقِیمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوالزَّکٰوۃَ ” ہاتھ روکے رکھو ، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو ۔ “ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اندر پائی جانے والی تیزی سے کود پڑنے اور سوچنے سمجھنے ، جلد بازی اور تدبر اور حمیت اور اطاعت امر جیسی متضاد صفات کے درمیان توازن قائم ہوگیا اور پھر عرب جیسی بےحد ، پرجوش اور جنگجو قوم میں ۔ حقیقت یہ ہے کہ عربوں میں اس قسم کی تربیت کا کامیاب ہونا اور ان کے اندر ڈسپلن کا پیدا ہونا ہی ایک معجزہ معلوم ہوتا ہے۔ 2۔ دوسرا اہم سبب جس کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کو قتال سے روکا گیا تھا وہ یہ تھی کہ عرب معاشرہ ایک بہادر اور شریف معاشرہ تھا۔ لوگ خود دار اور عزت نفس کے مالک تھے ۔ مسلمانوں میں بعض ایسے لوگ بھی تھے جو اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتے تھے لیکن اس کے باوجود جب وہ مظالم پر صبر کرتے ، کئی شرفاء کی عزت نفس اور شرافت میں جوش آجاتا اور ان کے دل اسلام کی طرف مائل ہوجاتے ۔ اس کا اظہار عملاً اس وقت ہوا جب قریش نے بنی ہاشم کے ساتھ بائیکاٹ کیا اور وہ شعب ابی طالب میں محصور ہوگئے ۔ قریش کا مطالبہ یہ تھا کہ بنی ہاشم حمایت رسول سے دستبردار ہوجائیں ۔ جب بنی ہاشم پر مصائب ناقابل برداشت ہوگئے تو بعض غیور اور شرفاء کی بہادری اور غیرت جوش میں آگئی ۔ انہوں نے اس دستاویز کو پھاڑ ڈالا ، جس کے مطابق انہوں نے بائیکاٹ کا معاہدہ کیا تھا۔ اور محض اس جذبہ شرافت کی وجہ سے یہ محاصرہ ختم ہوگیا ۔ جنگ اور مدافعت سے ہاتھ روکنے کی مکی پالیسی میں رسول برحق ﷺ نے عربوں کے ان جذبات کو پیش نظر رکھا تھا۔ اگر رسول ﷺ کی سیرت کا مطالعہ بحیثیت قائد تحریک کیا جائے تب ان حکمتوں کا اظہار ہر جگہ ہوتا ہے۔ داعی اسلام ﷺ کا یہ منشاء ہی نہ تھا کہ اسلام کی وجہ سے گھر گھر میں خونریزی شروع ہوجائے کیونکہ ہر خاندان میں سے کوئی نہ کوئی مسلمان تھا اور مسلمانوں کو ایذا رسانی میں ، اور انہیں دین اسلام سے روکنے میں ، خود مسلمانوں کے اپنے خاندان پیش پیش تھے ۔ وہاں کوئی منظم حکومت نہ تھی جو مسلمانوں پر تشدد کررہی تھی ۔ اگر اس مرحلے میں مسلمانوں کو یہ اجازت دے دی جاتی کہ وہ اپنی مدافعت میں جنگ کریں تو نتیجہ یہ ہوتا کہ گھر گھر میں فساد رونما ہوتا اور خاندان سے خاندان ٹکراتا اور خانہ جنگی شروع ہوجاتی ۔ ایسی صورت رونما ہوتی تو لازمی طور پر یہ تاثر قائم ہوجاتا کہ اسلام نے گھر گھر اور خاندان میں فتنہ و فساد کے شعلے بھڑکادئیے ہیں۔ ہجرت کے بعد صورتحال بالکل جدا ہوگئی ، اب جماعت اسلامی مدینہ طیبہ میں ایک مستقل اور منظم وحدت تھی اور اس کا مقابلہ مکہ مکرمہ کی ایک منظم برادری سے تھا جس میں افواج کی تنظیم ہورہی تھی اور وہ فوج تحریک اسلامی کے خلاف حملہ آور ہورہی تھی ۔ یہ صورتحال مکہ مکرمہ کی صورتحال سے بالکل مختلف تھی ۔ گویا واضح طور پر اپنی حفاظت کا مسئلہ سامنے تھا اور یہ حفاظت افراد کے بجائے پوری ملت تھی ۔ یہ ہیں وہ اسباب جو ایک انسان اپنے محدود ذہن کے ساتھ ، اس بارے میں سوچ سکتا ہے کہ مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کو تشدد وبربریت کا جواب دینے سے کیوں روکا گیا تھا۔ ان اسباب کے علاوہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت مسلمان تعداد کے اعتبار سے بہت ہی کم تھے ، پھر وہ مکہ مکرمہ میں محصور تھے ، اگر وہ مقابلہ شروع کردیتے تو ان کے خلاف فوراً مقاتلہ شروع ہوجاتا اور ان کا مقاتلہ ایسے لوگوں سے ہوتا جو ہر لحاظ سے ان کے مقابلے میں طاقتور اور بارسوخ تھے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیئت یہ تھی کہ مسلمانوں کی تعداد میں اجافہ ہوجائے اور وہ اپنے مستقل دارالحکومت میں علیحدہ ہوکر مجتمع ہوجائیں ۔ جب یہ کام ہوگئے تو انہیں جہاد و قتال کی اجازت دے دی گئی۔ بہرحال اس کے بعد ، تدریج کے ساتھ ، جزیرۃ العرب اور عرب سے باہر کے علاقوں میں ، حسب ضرورت مسلمانوں کو جنگ کے احکام دئیے جاتے رہے ۔ زیر بحث آیات اس سلسلے کی ابتدائی آیات ہیں اور ان میں قتال کے بعض ایسے احکام دئیے گئے ہیں جو اس وقت کے بنیادی متحارب کیمپوں میں ، اسلامی کیمپ اور مشرکین کے کیمپ کے درمیان محاذ آرائی کے لئے مناسب اور ضروری تھے ۔ جبکہ بعض احکام ایسے بھی ہیں جو اصولی حیثیت رکھتے ہیں اور ہر جنگ میں عموماً ایسے حالات پیش آسکتے ہیں ۔ ان احکام میں معمولی رد وبدل سورت براءت کے احکام کے ذریعہ ہوا ہے۔ یہاں ، تفسیر آیات قتال سے پہلے ، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کے موضوع پر ایک مختصر نوٹ دے دیا جائے تاکہ آیات قتال اور دوسری آیات کی تفسیر کے لئے اساس کا کام دے ۔ اسلامی نظریہ ٔ حیات اپنی آخری شکل و صورت میں یعنی دین اسلام کی صورت میں رونما ہوا ۔ مقصد یہ تھا کہ اب سے یہ تمام انسانیت کی زندگی کا اصول بن جائے ۔ تمام انسانیت کا نظام زندگی قرار پائے اس نظام اور اس منہاج کو لے کر امت مسلمہ اٹھے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے پوری انسانیت کی قیادت کرے۔ یہ نظام زندگی ایک ایسا نظام ہے کہ یہ اس کائنات کے وسیع تر تصور پر مبنی ہے ۔ وجود انسانی کے اصل اور حقیقی مقاصد کی اساس پر تعمیر شدہ ہے اور اس کی توضیح وتشریح ایک کتاب میں کردی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ خالق کائنات کی جانب سے اتاری گئی ہے۔ نیز اس امت نے راہنمائی بھی ایک خالص بھلائی اور خیر محض کی طرف کرنی ہے ، جو کسی دوسرے جاہلی نظام میں نہیں ہے اور انسانیت کو ایک ایسے مقام بلند تک پہنچایا جہاں تک وہ اسلامی نظام زندگی کے سوا ، کسی اور نظام کے ذریعے نہیں سکتی ۔ اسے ایسی نعمت سے سرفراز کرنا ہے جس کے مقابلے میں کوئی نعمت نہیں ہے ۔ اسلام یقیناً وہ نظام زندگی ہے کہ اگر اس سے انسانیت محروم ہوجائے تو پھر اس کے لئے نجات و فلاح نہیں ہے۔ اگر انسانیت کو اس نیکی سے محروم کردیا جائے اور اللہ تعالیٰ اسے جس بلندی ، جس پاکیزگی اور جس سعادت و کمال تک پہنچانا چاہتا ہے ، اسے اس سے روک دیا جائے تو انسانیت کے ساتھ اس سے بڑا ظلم اور اس سے بری زیادتی کا تصور بھی ممکن نہیں ہے ۔ یوں انسانیت کا یہ حق ہوجاتا ہے کہ اسلام کے اس مکمل نظام زندگی کی دعوت پوری انسانیت تک آزادی کے ساتھ پہنچ سکے ۔ اور اس کی راہ میں یعنی دعوت اسلامی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ، اور کوئی حکومت بھی کسی صورت میں سدراہ نہ بن سکے ۔ ادھر انسانیت پر یہ لازم تھا کہ جب لوگوں تک دعوت اسلامی پہنچے تو وہ اس کے رد و قبول میں بالکل آزاد ہوں ۔ دین قبول کرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ۔ کوئی حکومت سد راہ بنی ہوئی نہ ہو ۔ اگر کوئی شخص اسلامی نظام کو قبول کرتا ہے تو حکومت رکاوٹ نہ ڈالے ، نیز اسے اختیار نہ ہو کہ دعوت اسلامی کو اپنی منزل تک بڑھنے سے روکے ۔ علاوہ ازیں انسانیت کا یہ بھی فرض تھا کہ اسلام قبول کرنے والوں کو اطمینان اور آزادی کی ضمانت دے اور تبلیغ دین کے سلسلے میں تحریک اسلامی کی راہ میں جو مشکلات درپیش آرہی ہیں وہ انہیں دور کردے ۔ اس سلسلے میں کارکنان دعوت اسلامی پر کوئی زیادتی نہ ہونے پائے ۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو ہدایت نصیب فرمائے اور وہ دعوت اسلامی کو قبول کرلیں تو ان کا یہ بنیادی حق ہے کہ ان پر کسی قسم کا ظلم اور زیادتی نہ ہو ۔ ان پر تشدد نہ ہو اور ان کے خلاف اشتعال نہ ہو ۔ ان کی راہ میں اس قسم کی رکاوٹیں نہ کھڑی کی جائیں جن کا مقصد لوگوں کو اسلامی نظام سے روکنے کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ تحریک اسلامی کے کارکنان کے فرائض میں یہ بات داخل تھی کہ وہ قوت کے ساتھ تشدد اور اشتعال کا مقابلہ کریں تاکہ دنیا میں آزادی رائے جیسے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جاسکے اور وہ لوگ امن وامان کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں جنہوں نے اس دین کو اپنانا ہے تاکہ زندگی میں اسلامی نظام رائج ہو اور انسانیت اس بھلائی اور نیکی سے محروم نہ ہو۔ ان بنیادی حقوق کے قیام کے نتیجے میں جماعت مسلمہ پر ایک اور ذمہ داری یہ عائد ہوجاتی ہے کہ وہ ہر اس قوت کو پاش پاش کردے جو دعوت اسلامی اور اس کی تبلیغ کے آڑے آئے ۔ یا وہ حق آزادی رائے کو چیلنج کرے یا وہ ایسے لوگوں پر تشدد کرے جنہوں نے دین ونظریہ کے معاملے میں آزادی سے کوئی نظریہ قبول کرلیا ہے ۔ امت مسلمہ کا یہ فرض اس وقت تک ہے جب تک اسلامی نظام قبول کرنے والوں کے لئے کوئی تشدد باقی رہتا ہے اور نظام زندگی صرف اللہ ہی کا رائج نہیں ہوجاتا۔ اس کے معنی یہ نہیں کہ جہاد اس وقت تک جاری رہے گا جب تک لوگوں کو اسلامی نظام زندگی اختیار کرنے پر مجبور نہیں کردیا جاتا۔ مقصد صرف یہ ہے کہ اس کرہ ارض پر اسلامی نظام غالب ہونا چاہئے یوں کہ جو شخص بھی دین اسلام میں داخل ہونا چاہے اس کے لئے کوئی رکاوٹ نہ ہو ، دنیا میں کوئی ایسی قوت نہ ہو جو کسی کو دین اسلام قبول کرنے سے روکے ، یا اس کی تبلیغ کرنے سے روکے ، یا اس دین پر قائم رہنے سے روکے ۔ دنیا میں کوئی ایسانظام نہ ہو جو اللہ کی ہدایت اور اس روشنی کو چھپا رہا ہو اور اس کے تحت رہنے والوں تک یہ ہدایت و روشنی پہنچنے میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہو ، یا عوام کو اللہ کے اس راہ سے گمراہ کیا جارہا ہو ، چاہے اس رکاوٹ کی نوعیت جو بھی ہو ۔ یہ تھے وہ بنیادی مقاصد جن کے لئے اسلام نے جہاد فی سبیل اللہ کو فرض کیا ہے ۔ یہ جہاد صرف انہی مقاصد عالیہ کے لئے تھا ، ان کے علاوہ اسلام کے پیش نظر اور کچھ نہ تھا ۔ نہ کوئی اور مقصد نہ کوئی اور رنگ ۔ یہ جہاد اسلامی نظریہ حیات کے لئے تھا ، کافرانہ نطریاتی پھیلاؤ کا محاصرہ توڑنے کے لئے تھا ، نظریہ ٔ تشدد کے خلاف تھا ، اور زندگی میں اسلامی نظام کے بچاؤ اور اسلامی شریعت کے قیام کے لئے تھا ۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ کرہ ارض پر اسلامی جھنڈے بلند کردئیے جائیں ، اس طرح کہ اسلامی نطریہ حیات کے مخالفین دشہت زدہ ہوجائیں اور ہر وہ شخص جو اسلامی نظام زندگی میں دلچسپی رکھتا ہے ، وہ اس میں داخل ہوجائے اور اسے دنیا کی کسی قوت کی جانب سے یہ خوف نہ ہو کہ اسے روکا جائے گا ۔ اس پر تشدد ہوگا۔ یہ ہے اور صرف یہی ہے وہ جہاد جس کا اسلام نے حکم دیا تھا اور یہ ابھی تک برقرار ہے اور اسلامی نظام اس پر قائم ہے جو لوگ اس میں کام آئیں اسلام کی نظر میں شہید ہوتے ہیں اور جو لوگ جہاد کے مصائب برداشت کرتے ہیں وہ غازی اور اولیاء اللہ کہلاتے ہیں ۔ یہ تھی وہ صورتحال جس سے مدینہ طیبہ میں جماعت مسلمہ دوچار تھی اور جس کے بارے میں سورة بقرہ کے اس سبق کی یہ آیات نازل ہوئیں ، مشرکین قریش نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے ناحق نکال دیا تھا ۔ انہیں محض اس لئے تشدد کا نشانہ بنایا جارہا تھا کہ وہ حلقہ بگوش اسلام ہوچکے ہیں ۔ ان کو صرف یہ اعتراض تھا کہ انہوں نے آزادانہ طور پر کیوں ایک نظریہ حیات قبول کرلیا ہے ۔ ان حالات میں خصوصی ہدایت کے ساتھ ساتھ یہ آیات اسلام کے نظریہ کے لئے قاعدہ کلیہ بھی بیان کردیتی ہیں جو یوں ہے کہ مسلمانو ! تم ان لوگوں سے جنگ کرو جنہوں نے تم سے ناحق جنگ کی اور ابھی تک برسر جنگ ہیں اور آئندہ بھی تمہارے لئے یہی ہدایت ہے کہ جو تم سے لڑے اس سے لڑو ۔ مگر زیادتی نہ کرو۔ ارشاد ہوا ! وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ” اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں ، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ “ آیات قتال میں سے یہ پہلی آیت ہے اور پہلی آیت ہی میں قتال کے مقاصد کے بارے میں قطعی فیصلہ کردیا گیا اور واضح طور پر بتادیا گیا کہ وہ کون سا علم ہے جس کے تحت مسلمانوں کو معرکہ جہاد سر کرنا ہے۔ وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ ” اور اللہ کی راہ میں ، ان لوگوں سے لڑو ، جو تم سے لڑتے ہیں۔ “ یہ جہاد ، یہ قتال صرف اللہ کے لئے ہے اور انسان نے طویل انسانی تاریخ میں ، جن معروف مقاصد کے لئے زبردست جنگیں لڑیں ان میں سے کوئی مقصد بھی اسلامی جہاد کو مطلوب نہیں ہے۔ نہ خاندانی شرف کے لئے ، نہ علو فی الارض اور برتری کے لئے ، نہ دولت وغنیمت کے لئے ، منڈیوں اور خام اشیاء پر قبضے کے لئے ، نہ کسی طبقے پر دوسرے کی سیادت کے قیام کے لئے اور نہ کسی نسل پر کسی نسل کی حکومت کے لئے ۔ اسلامی جہاد صرف ان مقاصد کے لئے ہے جن کی تحدید اسلام نے کردی ہے ۔ دنیا میں اسلام کا کلمہ بلند کرنے کے لئے ، اسلامی نظام زندگی کے نفاذ کے لئے ، مسلمانوں کو ظلم وتشدد سے بچانے کے لئے ، مسلمانوں کو گمراہی اور ضلالت سے بچانے کے لئے ۔ غرض یہ ہیں اسلامی مقاصد ، ان کے علاوہ دوسرے مقاصد کے لئے جو جنگیں لڑی جائیں وہ اسلامی جہاد کہلانے کی مستحق نہیں ہیں اور جو شخص بھی ایسی جنگوں میں حصہ لے گا اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ کسی اجر کا مستحق نہیں ہے ۔ نہ ہی اللہ کے ہاں اس کا کوئی مقام ہے ۔ جنگ کے مقاصد کے تعین کے ساتھ ساتھ ، اس کی مقدار اور حد بھی مقرر کردی گئی : وَلا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ” مگر زیادتی نہ کرو ، اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ “ زیادتی یوں ہوگی کہ جنگ لڑنے والے سپاہیوں کے علاوہ پرامن شہریوں کو بھی تکلیف دی جائے ، جو دعوت اسلامی کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہیں ، نہ ہی ان سے اسلامی جماعت کو کوئی خطرہ ہے ۔ مثلاً عورتیں ، بچے ، بوڑھے اور جو لوگ اللہ کی عبادت کے لئے الگ ہوگئے ہیں خواہ وہ کسی بھی مذہب وملت سے متعلق ہوں حکم دیا گیا کہ جنگ میں ان حدود وقیود کو پامال نہ کیا جائے ، جو اسلام نے جنگ کے لئے مقرر کئے ہیں ۔۔ اسلام نے سب سے پہلے ، ان قباحتوں پر پابندی عائد کی جو جاہلیت میں عام طور پر معروف تھیں ۔ خواہ یہ جاہلیت قدیم ہو یا جدید ۔ یہ قباحتیں ہیں جن سے اسلامی نظام متصادم ہے ۔ جن سے اسلام کی روح ابا کرتی ہے ۔ اس سلسلے میں رسول ﷺ کی چند احادیث کا مطالعہ کیجئے ۔ آپ ﷺ کے ساتھیوں کی ہدایات پڑھیے ، ان سے ان آداب کا مزاج آپ پالیں گے۔ یہ وہ آداب جنگ ہیں ، جن سے انسانیت کا تعارف سب سے پہلے اسلام کے نظام جنگ کے مطالعہ کے بعد ہوا : 1۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں :” رسول ﷺ کے مغازی میں سے ایک موقعہ پر ایک عورت پائی گئی جسے قتل کردیا گیا تھا ، اس پر رسول ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل سے منع فرمایا۔ “ (مالک ، شیخین ، ابوداؤد اور ترمذی) 2۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا !” جب تم جنگ کررہے ہو ، تو اس وقت چہرے پر مارنے سے اجتناب کرو۔ “ 3۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں !” ہمیں رسول اللہ ﷺ نے جنگ کے لئے بھیجا ۔ اس موقع پر فرمایا :” اگر تم فلاں فلاں (قریش کے دو افراد) کو پاؤ تو انہیں آگ میں جلاؤ۔ “ جب ہم تیار ہوکر نکلنے لگے تو آپ نے فرمایا !” میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں کو آگ میں ڈالو ! لیکن آگ کے ساتھ اذیت دینا ، صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے ، لہٰذا حکم یہ ہے کہ اگر تم انہیں پاؤ تو دونوں کو قتل کردو۔ “ (بخاری ، ابوداؤد اور ترمذی) 4۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا !” جنگ میں سب سے زیادہ عفو و درگزر کرنے والے صرف اہل ایمان ہیں۔ “ (ابوداؤد) 5۔ عبدبن یزید انصاری سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت میں چوری اور قتل میں مثلہ کرنے سے منع فرمایا۔ 6۔ حضرت ابویعلیٰ ؓ سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں ہم عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کی قیادت میں شریک جنگ ہوئے۔ دشمن کے چار آدمی لائے گئے ۔ حکم دیا گیا کہ انہیں نیزے کے چپٹے حصے کی طرف سے قتل کیا جائے اور انہیں اس طرح قتل کیا گیا ۔ اس کی اطلاع حضرت ابویوب انصاری ؓ کو ہوئی تو انہوں نے فرمایا : میں نے رسول ﷺ کو اذیت دے کر قتل کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ۔ اللہ کی قسم اگر مرغی ہوتی تو بھی میں اسے اذیت دے کر قتل نہ کرتا۔ جب اس کا علم عبدالرحمٰن ؓ کو ہوا تو انہوں نے چار غلام آزاد کئے ۔ (ابوداؤد) 7۔ حارث نے مسلم ابن حارث ؓ سے روایت کی ہے۔ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا ۔ جب ہم حملہ کی جگہ پہنچے تو میں نے گھوڑی کو ایڑ دی ۔ وہ میرے ساتھیوں سے آگے جانکلی ۔ میں نے دیکھا کہ آبادی کے لوگ (خوف کے مارے) چیخ و پکار کررہے تھے ۔ میں نے ان سے کہا جلدی سے کلمہ طیبہ لاالٰہ الا اللہ کا اقرار کرلو اور اپنے آپ کو بچالو ، انہوں نے کلمہ پڑھ لیا ۔ میرے ساتھیوں نے مجھے سخت ملامت کی اور کہنے لگے ، تم نے ہمیں مال غنیمت سے محروم کردیا ۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے واپس آئے ۔ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو میری حرکت سے آگاہ کیا ۔ آپ نے میری تعریف کی ۔ اس کے بعد مجھ سے کہا :” اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ہر آدمی کے بدلے تمہارے لئے یہ یہ اجر لکھ دیا ہے۔ “ (ابوداؤد) 8۔ حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ جب بھی کسی کو مجاہدوں کے دستے کا سردار مقرر کرتے یا کوئی سریہ بھیجتے تو انہیں سب سے پہلے خدا خوفی کی وصیت فرماتے ۔ پھر فرماتے کہ اپنے ساتھیوں سے حسن سلوک رکھو اور پھر فرماتے ” اللہ کے نام کے ساتھ لڑو ، اللہ کی راہ میں ، ان لوگوں سے لڑو جنہوں نے کفر اختیار کیا ۔ لڑو لیکن غداری نہ کرو۔ مقتول کا مثلہ نہ کرو اور بچے کو نہ قتل کرو۔ “ (مسلم ، ابوداؤد اور ترمذی) 9۔ مالک نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اپنی فوج کو وصیت کرتے ہوئے منجملہ اور باتوں کے یہ فرمایا ” تمہیں ایسے لوگ بھی ملیں گے جنہوں نے بزعم خود اپنے آپ کو اللہ کا کردیا انہیں ان کی حالت عزلت ہی میں چھوڑ دو ۔ عورت کو قتل نہ کرنا۔ بچے اور بہت زیادہ بوڑھے کو بھی قتل نہ کرنا۔ “ یہ ہے وہ جنگ جو اسلام فرض کرتا ہے اور یہ ہیں اسلام کے آداب جنگ ۔ وہ مقاصد جن کے لئے اسلام معرکہ جنگ برپا کرنے کی ترغیب دیتا ہے ۔ اور ان سب کا منبع قرآن مجید کا یہ حکم ہے ” اور اللہ کے راستے میں ان لوگوں سے لڑو ، جو تمہارے ساتھ لڑیں اور زیادتی نہ کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ “ قرون اول کے مسلمان اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ محض اپنی تعداد کے بل بوتے پر فتح حاصل نہیں کرسکتے ۔ ان کی تعداد تو بہت قلیل ہے ۔ وہ اپنی تعداد اور سازوسامان کی بدولت فتح مند نہیں ہوسکتے ۔ کیونکہ ان کا سازوسامان دشمن کے مقابلے میں بہت ہی قلیل ہے ۔ وہ جانتے تھے کہ فتح صرف ایمان ، بندگی اور اللہ کی نصرت کے نتیجے میں حاصل ہوسکتی ہے ۔ اگر انہوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی ہدایات کو ترک کیا تو وہ فتح ونصرت سے محروم ہوجائیں گے جو ان کا اصل سہارا ہے ۔ اس لئے وہ اپنی جنگوں میں ان آداب جنگ کو سختی سے ملحوظ رکھتے تھے ۔۔ یہاں تک کہ یہ آداب انہوں نے اپنے ان ازلی دشمنوں کے ساتھ بھی ملحوظ رکھے جنہوں نے انہیں سخت سے سخت اذیتیں دی تھیں ۔ اور ان کے شہداء کی لاشوں کا مثلہ کیا تھا۔ ایک موقعہ پر رسول اللہ ﷺ کا غضب جوش میں تھا ، آپ نے بعض لوگوں کے جلادینے کے احکامات صادر فرمادیئے ، لیکن تھوڑی دیر بعد ہی آپ نے اپنے احکامات واپس لے لئے اور جلانے سے منع فرمایا۔ اس لئے کہ آگ کے ساتھ سزا صرف خاصہ خدا ہے۔

البقرة 2:191

مسلمانوں کو صرف ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی تاکید کی جاتی ہے ، جنہوں نے ان کے ساتھ جنگ کی ۔ محض دینی نظریات کی وجہ سے ان پر تشدد کیا ۔ انہیں ان کے گھروں سے نکالا۔ حکم دیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ وہ جس حال میں بھی ہوں ، مارے جائیں ، جہاں بھی ہوں مارے جائیں ۔ ماسوائے مسجد حرام کے ، ہاں اگر مسجد حرام میں بھی کفار جنگ کا آغاز کردیں تو پھر مسلمانوں کے لئے بھی جائز ہوگا ، سوائے اس کے کہ وہ حلقہ بگوش اسلام ہوجائیں ۔ اس صورت میں چاہے انہوں نے مسلمانوں کو قتل کیا ہو۔ چاہے ان پر ظلم کیا اور تشدد کا ارتکاب کیا ہو ، مسلمانوں کو یہ حکم ہے وہ ہاتھ روک لیں : وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُمْ مِنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلا تُقَاتِلُوهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ فَإِنْ قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ كَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ (191) فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ” اور ان سے لڑو جہاں بھی ان سے تمہارا مقابلہ پیش آئے اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے ، اس لئے کہ قتل اگرچہ برا ہے مگر فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں ، تم بھی نہ لڑو۔ مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ چوکیں ، تو تم بھی بےتکلف انہیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے ۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “ محض دین ، مذہب یا نظریہ کے اختلاف کی وجہ سے تشدد کرنا دراصل ، حیات انسانی کی مقدس قدر (Value) پر دست درازی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اسے قتل سے بھی زیادہ برا قرار دیا ہے ۔ اسے جان لینے اور زندگی ختم کردینے سے بھی زیادہ گھناؤنا جرم قرار دیا ہے ۔ یہ فتنہ جو قتل سے بھی شدید تر ہے کیا ہے ؟ محض ہراساں کرنا بھی اس میں آتا ہے ۔ عملاً تشدد بھی اس میں شامل ہے ۔ ایسے حالات پیدا کردینا بھی فتنہ ہے ، جن میں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہو ، انہیں اللہ کے مقرر کردہ نظام زندگی سے دور کرنا بھی فتنہ ہے ۔ مسلمانوں کے لئے کفر کو مرغوب بنانا اور اسلام سے انہیں دور کرنا ، ان کے اخلاق کو خراب کرنا یہ سب فتنے کی تعریف میں داخل ہیں ۔ اس فتنے کی واضح ترین مثال اشتراکی نظام ہے ۔ جہاں دینی تعلیم ممنوع اور الحاد کی تعلیم لازمی ہوتی ہے ۔ ایسے قوانین بنائے جاتے ہیں جو زنا ، شراب جیسے محرمات کو جائز قرار دیتے ہیں اور نشر و اشاعت کے مختلف ذرائع سے ان چیزوں کو انسانوں کے لئے مرغوب بناتے ہیں ۔ جب کہ اسلامی نظام زندگی کی ہر بات میں کیڑے نکالتے ہیں ۔ اسے مسخ کرتے ہیں اور جو اجتماعی حالات میں یہ نظام پیدا کردیتا ہے ان کا اتباع وہاں کے عوام الناس کے لئے ایک حتمی فریضہ قرار پاتا ہے۔ آزادی رائے کے بارے میں یہ نقطہ نظر انسانی زندگی میں آزادی رائے کا یہ مقام بلند اسی نظام کے عین مطابق ہے ۔ وجود کائنات کی جو غرض وغایت اسلام نے پیش کی ہے ۔ نہ نقطہ نظر اس کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ اسلام کے مطابق تخلیق کائنات کی غرض وغایت بندگی ہے ۔ بندگی ہر اس اچھے کا کو کہا جاتا ہے جس میں کرنے والے کے پیش نظر اللہ کی رضامندی ہو ، اور اللہ کی بندگی تب ہی ممکن ہے جب انسان تمام دوسری بندگیوں سے آزاد ہو ، یہی وجہ ہے کہ انسان کی بلند ترین قدر (Value) اس کی آزادی ہے ۔ بالخصوص آزادی رائے ۔ اب جو شخص کسی کی آزادی چھین لیتا ہے ، محض نظریہ کی وجہ سے تشدد کرتا ہے ، براہ راست یا بالواسطہ ، وہ شخص اس شخص کے قتل سے بھی اس پر زیادہ ظلم کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے افراد کے مقابلہ میں مدافعت ہر طرح جائز ہے ، اگرچہ اس کے لئے جنگ کرنی پڑے ۔ قرآن کریم نے (فاقتلوھم) جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ (واقتلوھم) انہیں قتل کردینے کا حکم دیا ہے۔ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ ” اور جہاں بھی ایسے لوگ پائے جائیں انہیں قتل کردینے کا حکم دیا ہے۔ جہاں بھی پائے جائیں ۔ جس حال میں بھی وہ ہوں ۔ جس ذریعے سے بھی تم نے ایسے لوگوں کو مار سکو ، ہاں اس سلسلے میں تم صرف اسلامی آداب جنگ کا لحاظ رکھنا ہوگا ، کسی کو مثلہ نہ کرنا کسی کو آگ میں جلانا ۔ مسجد حرام دارالامن ہے ۔ اس لئے اس کے قریب نہ لڑو ۔ اس کے بارے میں اللہ نے اپنے دوست ابراہیم کی دعا قبول کی تھی ۔ اسے مرکز عوام قرار دیا گیا تھا۔ اسے دارالامان گردانا گیا تھا ۔ لہٰذا حکم ہوا مسجد حرام کے قریب کسی کے ساتھ نہ لڑو ، الا یہ کہ کفار کا کوئی گروہ یہاں تمہارے ساتھ لڑنے لگے ، لیکن جنگ کا آغاز تم نہ کرو۔ اگر وہ آغاز کردیں اور مسجد حرام کا پاس نہ رکھیں تو پھر تمہارے ہاتھ بھی بندھے ہوئے نہیں ہیں ۔ یہ لوگ عوام کو ان کے دین کی وجہ سے ستاتے ہیں ۔ مسجد حرام کا احترام نہیں ، لہٰذا یہی ان کے لئے مناسب سزا ہے ۔ ارشاد ہوا ! فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ” پھر اگر وہ باز آجائیں تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ “ صرف باز آنا ہی کافی نہیں ۔ مسلمانوں پر تشدد سے باز آجائیں ۔ جنگ سے باز آجائیں ، کفر سے بھی باز آجائیں تب وہ معافی اور مہربانی کے مستحق ہوں گے ۔ صرف جنگ سے باز آنے کے لئے تو یہ کیا جاسکتا ہے کہ مسلمان حالت امن کا اعلان کردیں۔ مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ کفار اللہ کی مغفرت اور رحمت کے بھی مستحق ہوجائیں ۔ ہاں یہاں مغفرت اور رحمت کی طرف اشارے سے مراد یہ ہے کہ کفار کو ایمان کی ترغیب دی جائے تاکہ کفر اور تشدد کے چھوڑ دینے کے بعد وہ اللہ کی مغفرت اور اس کی رحمت کے مستحق بھی ہوجائیں۔ اسلام کی شان عظمت اور شان کریمی تو دیکھئے ۔ کفار اور ظالموں کو بھی اشارہ کیا جاتا ہے ، کہ آؤ مغفرت و رحمت کی بارش ہورہی ہے ۔ آؤ تمہارے سابقہ گناہ معاف ، تشدد اور ظلم کا قصاص معاف ، دیت معاف ، اسلامی صفوں میں مؤمنانہ شان سے داخل ہوجاؤ ، تو سب کچھ معاف۔ تم نے قتل کیا تم نے تشدد کیا ، تم نے کیا کچھ نہ کیا ، مگر سب معاف اور مغفرت و رحمت کی بارش ۔

البقرة 2:192

مسلمانوں کو صرف ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی تاکید کی جاتی ہے ، جنہوں نے ان کے ساتھ جنگ کی ۔ محض دینی نظریات کی وجہ سے ان پر تشدد کیا ۔ انہیں ان کے گھروں سے نکالا۔ حکم دیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ وہ جس حال میں بھی ہوں ، مارے جائیں ، جہاں بھی ہوں مارے جائیں ۔ ماسوائے مسجد حرام کے ، ہاں اگر مسجد حرام میں بھی کفار جنگ کا آغاز کردیں تو پھر مسلمانوں کے لئے بھی جائز ہوگا ، سوائے اس کے کہ وہ حلقہ بگوش اسلام ہوجائیں ۔ اس صورت میں چاہے انہوں نے مسلمانوں کو قتل کیا ہو۔ چاہے ان پر ظلم کیا اور تشدد کا ارتکاب کیا ہو ، مسلمانوں کو یہ حکم ہے وہ ہاتھ روک لیں : وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُمْ مِنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلا تُقَاتِلُوهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ فَإِنْ قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ كَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ (191) فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ” اور ان سے لڑو جہاں بھی ان سے تمہارا مقابلہ پیش آئے اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے ، اس لئے کہ قتل اگرچہ برا ہے مگر فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں ، تم بھی نہ لڑو۔ مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ چوکیں ، تو تم بھی بےتکلف انہیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے ۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “ محض دین ، مذہب یا نظریہ کے اختلاف کی وجہ سے تشدد کرنا دراصل ، حیات انسانی کی مقدس قدر (Value) پر دست درازی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اسے قتل سے بھی زیادہ برا قرار دیا ہے ۔ اسے جان لینے اور زندگی ختم کردینے سے بھی زیادہ گھناؤنا جرم قرار دیا ہے ۔ یہ فتنہ جو قتل سے بھی شدید تر ہے کیا ہے ؟ محض ہراساں کرنا بھی اس میں آتا ہے ۔ عملاً تشدد بھی اس میں شامل ہے ۔ ایسے حالات پیدا کردینا بھی فتنہ ہے ، جن میں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہو ، انہیں اللہ کے مقرر کردہ نظام زندگی سے دور کرنا بھی فتنہ ہے ۔ مسلمانوں کے لئے کفر کو مرغوب بنانا اور اسلام سے انہیں دور کرنا ، ان کے اخلاق کو خراب کرنا یہ سب فتنے کی تعریف میں داخل ہیں ۔ اس فتنے کی واضح ترین مثال اشتراکی نظام ہے ۔ جہاں دینی تعلیم ممنوع اور الحاد کی تعلیم لازمی ہوتی ہے ۔ ایسے قوانین بنائے جاتے ہیں جو زنا ، شراب جیسے محرمات کو جائز قرار دیتے ہیں اور نشر و اشاعت کے مختلف ذرائع سے ان چیزوں کو انسانوں کے لئے مرغوب بناتے ہیں ۔ جب کہ اسلامی نظام زندگی کی ہر بات میں کیڑے نکالتے ہیں ۔ اسے مسخ کرتے ہیں اور جو اجتماعی حالات میں یہ نظام پیدا کردیتا ہے ان کا اتباع وہاں کے عوام الناس کے لئے ایک حتمی فریضہ قرار پاتا ہے۔ آزادی رائے کے بارے میں یہ نقطہ نظر انسانی زندگی میں آزادی رائے کا یہ مقام بلند اسی نظام کے عین مطابق ہے ۔ وجود کائنات کی جو غرض وغایت اسلام نے پیش کی ہے ۔ نہ نقطہ نظر اس کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ اسلام کے مطابق تخلیق کائنات کی غرض وغایت بندگی ہے ۔ بندگی ہر اس اچھے کا کو کہا جاتا ہے جس میں کرنے والے کے پیش نظر اللہ کی رضامندی ہو ، اور اللہ کی بندگی تب ہی ممکن ہے جب انسان تمام دوسری بندگیوں سے آزاد ہو ، یہی وجہ ہے کہ انسان کی بلند ترین قدر (Value) اس کی آزادی ہے ۔ بالخصوص آزادی رائے ۔ اب جو شخص کسی کی آزادی چھین لیتا ہے ، محض نظریہ کی وجہ سے تشدد کرتا ہے ، براہ راست یا بالواسطہ ، وہ شخص اس شخص کے قتل سے بھی اس پر زیادہ ظلم کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے افراد کے مقابلہ میں مدافعت ہر طرح جائز ہے ، اگرچہ اس کے لئے جنگ کرنی پڑے ۔ قرآن کریم نے (فاقتلوھم) جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ (واقتلوھم) انہیں قتل کردینے کا حکم دیا ہے۔ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ ” اور جہاں بھی ایسے لوگ پائے جائیں انہیں قتل کردینے کا حکم دیا ہے۔ جہاں بھی پائے جائیں ۔ جس حال میں بھی وہ ہوں ۔ جس ذریعے سے بھی تم نے ایسے لوگوں کو مار سکو ، ہاں اس سلسلے میں تم صرف اسلامی آداب جنگ کا لحاظ رکھنا ہوگا ، کسی کو مثلہ نہ کرنا کسی کو آگ میں جلانا ۔ مسجد حرام دارالامن ہے ۔ اس لئے اس کے قریب نہ لڑو ۔ اس کے بارے میں اللہ نے اپنے دوست ابراہیم کی دعا قبول کی تھی ۔ اسے مرکز عوام قرار دیا گیا تھا۔ اسے دارالامان گردانا گیا تھا ۔ لہٰذا حکم ہوا مسجد حرام کے قریب کسی کے ساتھ نہ لڑو ، الا یہ کہ کفار کا کوئی گروہ یہاں تمہارے ساتھ لڑنے لگے ، لیکن جنگ کا آغاز تم نہ کرو۔ اگر وہ آغاز کردیں اور مسجد حرام کا پاس نہ رکھیں تو پھر تمہارے ہاتھ بھی بندھے ہوئے نہیں ہیں ۔ یہ لوگ عوام کو ان کے دین کی وجہ سے ستاتے ہیں ۔ مسجد حرام کا احترام نہیں ، لہٰذا یہی ان کے لئے مناسب سزا ہے ۔ ارشاد ہوا ! فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ” پھر اگر وہ باز آجائیں تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ “ صرف باز آنا ہی کافی نہیں ۔ مسلمانوں پر تشدد سے باز آجائیں ۔ جنگ سے باز آجائیں ، کفر سے بھی باز آجائیں تب وہ معافی اور مہربانی کے مستحق ہوں گے ۔ صرف جنگ سے باز آنے کے لئے تو یہ کیا جاسکتا ہے کہ مسلمان حالت امن کا اعلان کردیں۔ مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ کفار اللہ کی مغفرت اور رحمت کے بھی مستحق ہوجائیں ۔ ہاں یہاں مغفرت اور رحمت کی طرف اشارے سے مراد یہ ہے کہ کفار کو ایمان کی ترغیب دی جائے تاکہ کفر اور تشدد کے چھوڑ دینے کے بعد وہ اللہ کی مغفرت اور اس کی رحمت کے مستحق بھی ہوجائیں۔ اسلام کی شان عظمت اور شان کریمی تو دیکھئے ۔ کفار اور ظالموں کو بھی اشارہ کیا جاتا ہے ، کہ آؤ مغفرت و رحمت کی بارش ہورہی ہے ۔ آؤ تمہارے سابقہ گناہ معاف ، تشدد اور ظلم کا قصاص معاف ، دیت معاف ، اسلامی صفوں میں مؤمنانہ شان سے داخل ہوجاؤ ، تو سب کچھ معاف۔ تم نے قتل کیا تم نے تشدد کیا ، تم نے کیا کچھ نہ کیا ، مگر سب معاف اور مغفرت و رحمت کی بارش ۔

البقرة 2:193

اسلام میں جنگ کی غرض وغایت ہی یہ ہے کہ لوگوں کے تشدد کے ذریعے ، دین اسلام سے نہ روکا جائے ۔ قوت کے ذریعے ، یا قوت سے بھی زیادہ مؤثر ہتھیار یعنی معاشرتی حالات کے ذریعے عوام کو اسلام سے نہ پھیرا جائے ۔ ان کے اخلاق کو خراب کرنے والے ، انہیں گمراہ کرنے والے اور انہیں فریب دینے والے ذرائع استعمال نہ کئے جائیں ۔ نیز یہ کہ اسلامی نظام کو وقعت حاصل ہوا اور اس کا پلڑا بھاری ہو ، اس کے دشمن ہیبت زدہ ہوں ۔ ان کو یہ جراءت نہ ہو کہ وہ اہل ایمان پر تشدد کریں یا انہیں اذیت دیں ۔ نیز عام لوگوں کے لئے اب کوئی خوف محسوس نہ ہو کہ اگر انہوں نے اسلام قبول کیا تو ان پر تشدد ہوگا یا انہیں کوئی اذیت دی جائے گی ۔ ایک اسلامی جماعت کا یہ مستقل فریضہ ہے کہ وہ اس وقت تک برسرپیکار ہے جب تک ظالمانہ اور جابرانہ قوتیں ختم نہیں ہوجاتیں ۔ اور جب تک وقار اور غلبہ صرف اسلام کو حاصل نہیں ہوجاتا۔ اور کوئی فتنہ باقی نہ رہے ۔ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلا عُدْوَانَ إِلا عَلَى الظَّالِمِينَ ” تم ان سے لڑتے رہو ، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لئے ہوجائے ۔ پھر اگر وہ باز آجائیں ، تو پھر سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی جائز نہیں ہے۔ “ ایک وقت تھا ، جب یہ آیت نازل ہوئی تھی تو روئے سخن جزیرۃ العرب میں مشرکین مکہ کی طرف تھا ، کیونکہ اس وقت مشرکین مکہ ہی تشدد پر اترے ہوئے تھے ۔ جو یہ نہ مانتے تھے کہ نظام زندگی کا سرچشمہ صرف اللہ ہی ہے ۔ آیت کا مفہوم عام ہے ۔ ہر وقت نافذ ہے اور ہامرے لئے بھی راہ ہدایت ہے ، اس لئے کہ جہاد امت مسلمہ کے لئے قیامت تک ایک فریضہ رہے گا ، کیونکہ ہر دور میں ایسی قوتیں موجود رہتی ہیں جو لوگوں کو دین سے روکتی ہیں ۔ وہ ان کے کانوں تک دعوت اسلامی کی پہنچنے کے تمام ذرائع مسدود کرتی ہیں اور پھر بھی اگر کوئی کسی طرح دعوت اسلامی پر مطمئن ہوجائے تو یہ قوتیں عوام کو روکتی ہیں کہ وہ اسلام کو قبول کریں اور اسلام پر امن وامان کی حالت میں عمل پیرا ہوں چناچہ ہر وقت اسلامی جماعت کا یہ مستقل فریضہ ہے کہ وہ ایسی طاقتوں کو پاش پاش کردے اور لوگوں کو ان کے جبروتشدد سے آزاد کرائے ۔ وہ آزادی سے سنیں چاہے قبول کریں یا نہ کریں ۔ تشدد اور فتنے کو قتل سے بھی برا قرار دینے کے بعد ، بار بار اس کا تکرار بھی خالی از حکمت نہیں ہے۔ یہ تکرار اس لئے جاری ہے کہ اس معاملے کو اسلام میں بہت بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ یہاں اسلام ایک عظیم اصول کی بنیاد رکھ رہا ہے ، انسان بدل رہا ہے۔ یہ انسان کے لئے درحقیقت ایک نیاجنم ہے ۔ یہ نئی زندگی انسان کو اسلامی نظام سے مل رہی ہے ۔ اب انسان کی قدر و قیمت اس کی حیوانیت اور اس کی جسمانی زندگی سے نہیں ۔ بلکہ اس کی قدروقیمت کا تعین اس کے عقیدے اور نظریہ سے ہورہا ہے ۔ ایک طرف انسان کی زندگی ہے ، دوسری طرف انسان کا نظریہ اور اس کا عقیدہ ہے ۔ عقیدے کا پلڑا بھاری قرار دیا جارہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ انسانیت کے دشمن صرف وہ لوگ ہیں جو دوسرے انسانوں پر محض اختلاف عقیدہ ، اختلاف نظریہ کی وجہ سے ظلم و تشدد کریں ۔ وہ لوگ جو ایک مسلمان پر محض اس لئے ظلم کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہے ۔ وہ اسے تشدد کے ذریعہ اسلام سے ، پھیرنا چاہتے ہیں ۔ یہ لوگ انسانیت کو ایک ایسے تصور سے محروم کرتے ہیں جو خیر ہی خیر ہے ۔ وہ لوگوں کو اللہ کے عطاکردہ نظام زندگی کی طرف آنے نہیں دیتے ۔ اس لئے ان کے ساتھ جنگ کرتے رہنا اسلامی جماعت کا فرض اولین ہے ۔ اس کا فرض ہے کہ ایسے لوگ جہان بھی ملیں انہیں ختم کردے تاکہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لئے ہوجائے۔ یہ عظیم اصول ، جسے اسلام نے اپنے ابتدائی ایام میں وضع کیا تھا۔ اب بھی اپنی جگہ پر قائم ہے ۔ اب اسلامی نظریہ حیات اور اس کے حاملین پر قسم قسم کے تشدد ہورہے ہیں ۔ حاملین اسلام کو ، فرداً فرداً بھی اور بحیثیت جماعت بھی ظلم اور تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ اور جو لوگ بھی ظلم وتشدد کا محض اس لئے شکار بنائے جارہے ہیں کہ انہوں نے ایک نظریہ حیات کو اپنالیا ہے یا انہوں نے ایک پسندیدہ نظام زندگی کو اپنا رکاے ہے ، چاہے جس قسم کا تشدد بھی ہو ، ان لوگوں کا فرض ہے کہ وہ ایسے ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں ، ان کے ساتھ لڑیں ۔ ماریں یا مارے جائیں اور ہر حال میں اس علم کو بلند رکھیں ۔ آزادی رائے کے علم کو جسے سب سے پہلے اسلام نے بلند کیا جس کے ذریعے بالکل ایک نیا اور آزاد انسان وجود میں آیا۔ جب بھی ظالم اپنے ظلم سے باز آجائیں ۔ وہ انسان اور اس کے خدا کے درمیان مداخلت چھوڑ دیں تو ان پر کوئی زیادتی یعنی ان کے خلاف کوئی مدافعت نہ ہوگی ۔ کیونکہ جہاد ہمیشہ صرف ظلم اور ظالم کے خلاف ہوتا ہے ۔ ارشاد ہوا پھر اگر وہ باز آجائیں تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا کسی اور کے خلاف کوئی مدافعت نہ ہوگی۔ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلا عُدْوَانَ إِلا عَلَى الظَّالِمِينَ یہاں ظالموں کے خلاف مدافعت اور ان کے مقابلے کی تعبیر لفظ عدوان سے کی گئی ہے ۔ محض لفظی مشکلات کی بناپر ورنہ ظالموں کے خلاف جو کاروائی ہے ، وہ عدل ہے ۔ انصاف ہے اور مظلوموں کو ظلم سے بچانا ہے ، ظلم کو روکنا ہے ، کوئی زیادتی نہیں ہے ۔

البقرة 2:194

مسجد حرام کے قریب لنے کے احکام بیان کرنے کے بعد اب حرام مہینوں میں جنگ کے احکام بیان کئے جاتے ہیں ۔ الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ ” ماہ حرام کا بدلہ حرام ہی ہے ۔ اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا ، لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے ، تم بھی اسی طرح اس دست درازی کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان رکھو کہ اللہ انہی لوگوں کے ساتھ جو اس کی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں ۔ “ جو شخص محرم کے مہینے کی حرمت کا کوئی پاس نہیں رکھتا اسے یہ حق نہیں ہے کہ وہ پابندیوں سے اٹھائے جو ان حرام مہینوں کے اندر عائد ہوتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تمام معاملات میں صرف ایک مقام مسجد حرام کو دارلامن قرار دیا ہے اور زمانوں میں سے حرام مہینوں کو زمانہ امن قرار دیا ہے ۔ اس مکان اور اس زمان میں کسی کا خون بہایا نہیں جاسکتا ۔ ہر کسی کی جان ومال محفوظ ہوں گے ۔ کسی بھی زندہ چیز کو دکھ نہ دیا جائے گا ۔ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ خود تو امن کے اس شاداب باغیچے میں عیش کرے اور مسلمانوں کو اس سے محروم کردے ۔ اس کا علاج صرف یہ ہے کہ خود اسے بھی اس سے محروم کردیاجائے ۔ جو دوسروں کی آبروریزی کرتا ہے ۔ خود اس کی آبروہ محفوظ نہ ہوگی کیونکہ الحرمات قصاص تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کا ہوگا لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کو تنبیہ کردی گئی کہ ظلم کا مقابلہ کرنے اور ظلمن کا بدلہ لینے میں ، وہ اپنے حدود سے آگے نہ بڑھیں ۔ کیونکہ ان کے مقدس مقامات اور ان مقدس و محرم مہینوں کے اندر محض ضرورت کے تحت تمہیں جنگ کی اجازت دی جارہی ہے ۔ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ ” لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے تم بھی اسی طرح اس پر دست درازی کرو۔ “ لیکن اس معاملہ میں غلو اور زیادتی سے کام نہ لو ۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے قدر انتقام مقرر نہیں کی ۔ مقدار ان کی خدا خوفی پر چھوڑ دی گئی ہے ۔ جب کہ اوپر ہم کہہ آئے ہیں کہ مسلمان اس بات سے خوب واقف تھے کہ ان کی نصرت اور امداد صرف اللہ تعالیٰ کررہا ہے۔ اس لئے انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اللہ سے ڈریں ۔ یہی وہ حد ہے جس پر انہیں رکنا چاہئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا خوفی ہی امن کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ جہاد میں افراد کی طرح مال کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ جہاد سے پہلے ایک مجاہد کو سامان جنگ کی ضرورت ہوگی ، مثلاً سواری ، اور دوسرا سامان جنگ ، رسول ﷺ کے دور میں فوجیوں اور افسروں کی تنخواہیں مقرر نہیں تھیں ۔ وہ لوگ اسلام کے لئے جس طرح جان قربان کرتے تھے ، اس طرح اپنی دولت بھی راہ اللہ میں خرچ کرتے تھے ۔ اگر اجتماعی نظم ، نظریہ حیات پر استوار کیا جائے تو یہی صورت ہوتی ہے ۔ اگر حکومت کی بنیاد نظریہ پر ہو تو پھر اپنے بچاؤ یا اپنے عوام کے بچاؤ کے لئے ، یا دشمنوں کے مقابلے میں کسی جنگ کے لئے اسے دولت خرچ کرکے تنخواہ دار ملازمین رکھنے کی ضرورت سرے سے پیش ہی نہیں آتی ، فوج خود آگے بڑھتی ہے ، لیڈر خود آگے بڑھتے ہیں ، جان بھی دیتے ہیں اور مال بھی ۔ ضرورت اس بات پر غور کرنے کی تھی کہ بیشمار غریب مسلمان ایسے تھے ، جو جذبہ جہاد سے تو سرشار تھے ، وہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی زندگی کے لئے لڑنے مرنے کے لئے تیار تھے لیکن صور تحال یہ تھی کہ ان کے پاس سامان جنگ تھا نہ کوئی زاد راہ تھا ۔ میدان جنگ تک جانے کے لئے کوئی سواری نہ تھی ، ایسے لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے اور التجائیں کرتے کہ آپ انہیں دور دراز میدان جنگ تک لے جائیں ۔ کیونکہ میدان جنگ بعض اوقات اتنا دور ہوتا تھا کہ وہاں تک پیدل جانا ممکن نہ تھا اور جب رسول ﷺ معذرت کا اظہار فرماتے تو وہ مایوس لوٹتے ۔ ان کے بارے میں قرآن مجید میں ہے ۔

البقرة 2:195

تَوَلَّوا وَّاَعیُنُھُم تَفِیضُ مِنِ الدَّمعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوا یُنفِقُونَ (وہ لوٹتے ، مگر اس حال میں کہ ان کی آنکھیں اشک بار ہوتیں ، اس دکھ کی وجہ سے کہ ان کے پاس وہ کچھ نہیں ہے جسے وہ اس موقعہ پر خرچ کریں) قرآن مجید کی بیشمار آیات اور رسول ﷺ کی بیشمار احادیث میں انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دی گئی ہے ۔ خصوصاً غازیوں کے سازوسامان کے لئے ۔ قرآن مجید میں بیشمار مقامات ایسے ہیں جہاں دعوت و جہاد کے ساتھ ساتھ دعوت انفاق بھی دی گئی ہے اور یہاں تو انفاق فی سبیل اللہ سے پہلو تہی کرنے کو ہلاکت اور بربادی سے تعبیر کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ اس سے بچووَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (195) ” اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ احسان کا طریقہ اختیار کرو کہ اللہ محسنوں کو پسند کرتا ہے۔ “ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے وہ بخیل ہوتے ہیں اور بخل کی وجہ سے نفس انسانی مردہ ہوجاتا ہے ۔ بخیل جس جماعت کا فرد ہے وہ اپنی ضعیفی کی وجہ سے مرگ مفاجات میں مبتلا ہوجاتی ہے ۔ بالخصوص ایسے نظام زندگی میں جو قائم ہی رضاکاری پر ہو ، جیسے کہ اسلام کے ابتدائی ایام میں نظر آتا ہے۔ بطور تاکید مزید کہا جاتا ہے کہ انفاق سے بھی آگے بڑھو ۔ درجہ احسان تک جاپہنچو وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ” احسان کا معاملہ اختیار کرو ، بیشک اللہ تعالیٰ محسنوں کو پسند کرتا ہے۔ “ اسلام میں جو مراتب ہیں ، احسان ان میں بلند ترین مرتبہ ہے ۔ احسان کی تعریف خود رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ہے۔” تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اور جو انسان اس مقام بلند تک جا پہنچے ، اس کے لئے تمام دوسری عبادات ادا کرنا آسان ہوجاتا ہے ۔ تمام معاصی خود بخود چھوٹ جاتے ہیں اور ایسا شخص چھوٹے بڑے گناہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی ذات سے ڈرتا ہے ۔ تنہائی میں اور محفل میں ہر جگہ اللہ کا خوف اس کے پیش نظر رہتا ہے۔ یہ وہ آخری نتیجہ ہے جس پر آیات جہاد کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور جہاد کے معاملہ میں نفس انسانی کو احسان کے سپرد کردیا جاتا ہے ، جو ایمان کا بلند ترین درجہ ہے ۔ اب یہاں سے حج ، عمرہ اور ان کے مناسک کا بیان شروع ہوتا ہے ۔ سلسلہ کلام میں خود بخود ربط قائم ہوجاتا ہے ۔ پہلے بات چاند کے سول سے چلی تھی جواب دیا گیا کہ وہ لوگوں کے لئے اور حج کے دوران اوقات کے تعین کے لئے ہے ۔ پھر حج کے حرام مہینوں میں جنگ ، مسجد حرام کے قریب جنگ کی بات چلی اور اس کے بعد اب حج اور عمرہ کے احکام بیان ہوتے ہیں جو مسجد حرام میں میں سرانجام پاتے ہیں ۔

البقرة 2:196

ہمارے پاس آیات حج کی تاریخ نزول کا کوئی صحیح علم نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں ایک روایت ہے جس میں آیا ہے کہ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ” اور اگر کہیں گھر جاؤ تو جو قربانی میسر ہو ۔ “ 6 ھ میں صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی ، لہٰذا اسلام میں حج کب فرض ہوا اس کی صحیح تاریخ بھی ہمیں معلوم نہیں ، اس میں اختلاف رائے ہے کہ حج فرض کس آیت سے ہوا ، اس آیت سے یعنی وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ ” اللہ کی خوشنودی کے لئے جب حج اور عمرہ کی نیت کرو تو اسے پورا کرو یا وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ البَیتِ مَنِ استَطَاعَ اِلَیہِ سَبِیلًا ” جن لوگوں کے پاس زاد راہ کی استطاعت ہو ان پر اللہ کی جانب سے حج بیت اللہ فرض ہے ۔ بہرحال ان دونوں آیات کے نزول کے بارے میں تاریخ کا تعین کرنے والی کوئی روایت ، منقول نہیں ہے۔ امام ابن قیم جوزی اپنی کتاب زادالمعاد میں لکھتے ہیں کہ حج 9 ھ یا 10 ھ میں فرض ہوا ہے ۔ انہوں نے یہ سن اس قیاس میں متعین کیا ہے کہ رسول ﷺ نے دس ہجری کو حج فرمایا ۔ ظاہر ہے کہ لازماً آپ ﷺ نے یہ فریضہ فرض ہونے کے بعد ادا کیا ہوگا جو 9 ھ یا 10 ھ میں ہوسکتا ہے ، لیکن صرف یہ بات صحیح دلیل نہیں بن سکتی کیونکہ ہوسکتا ہے کہ حج پہلے سے فرض ہو۔ مگر بعض مجبوریوں اور رکاوٹوں کی وجہ سے رسول ﷺ نے اسے 10 ھ تک مؤخر فرمادیاہو ۔ جبکہ 9 ھ میں رسول ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو امیر حج مقرر فرماکر بھیجا ۔ روایات میں یہ بات آچکی ہے کہ رسول ﷺ جب غزوہ تبوک سے واپس ہوئے تو آپ نے حج کا ارادہ فرمایا تھا۔ اس کے بعد جب آپ ﷺ نے یہ خیال کیا کہ مشرکین حسب عادت حج کے موسم میں مکہ مکرمہ آتے ہیں اور ان میں سے بعض لوگ بالکل ننگے ہوکر طواف کرتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے ان لوگوں میں خلط ہونے کو پسند نہ فرمایا۔ اس کے بعد سورت برأت نازل ہوئی ۔ رسول ﷺ نے حضرت علی ؓ کو ارسال فرمایا تاکہ وہ سورت برأت کا ابتدائی حصہ لوگوں کو سنائیں ، جن مشرکین کے ساتھ جو معاہدے تھے انہیں ختم کردیں اور جب لوگ منیٰ میں قربانی کے وقت جمع ہوں تو اعلان کردیں یادرکھو ! کوئی کافر جنت میں داخل نہ ہوگا ، اس سال کے بعد کو ئی مشرک طواف نہ کرسکے گا ۔ کوئی ننگا شخص طواف نہ کرسکے گا ۔ جن لوگوں نے رسول ﷺ کے ساتھ کوئی معاہدہ کررکھا ہے ، تو وہ اپنی معیاد تک ہی رہے گا ۔ یہی وجہ تھی کہ خود رسول ﷺ نے حج نہ فرمایا اور انتظار کیا کہ بیت اللہ پاک ہوجائے ۔ مشرکین اور برہنہ ہوکر طواف کرنے والوں سے۔ یہاں یہ بات دل کو لگتی ہے کہ اسلام نے فریضہ حج اور مناسک حج اکثر وبیشتر برقرار رکھے تھے ۔ اور ان تاریخوں سے بہت پہلے ایسی روایات موجود ہیں کہ ہجرت سے پہلے ہی مکہ مکرمہ میں حج فرض ہوچکا تھا لیکن ان روایات کی سند قوی نہیں ہے ۔ سورت حج ، جو ارحج قول کے مطابق سورت ہے ۔ اس میں حج کے اکثر وبیشتر مناسک کا ذکر ہوا ہے۔ یوں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان مناسک کا حکم دیا تھا۔ سورت حج کی یہ آیات ملاحظہ فرمائیں : (یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے اس (خانہ کعبہ) کی جگہ تجویز کی تھی (جو اس ہدایت کے ساتھ ) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو ، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھو اور لوگوں کو حج کے لئے اذن عام دے دو کہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں تاکہ وہ فائدے دیکھیں ، جو یہاں ان کے لئے رکھے گئے ہیں ۔ اور چند مقررہ دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں ۔ خود بھی کھائیں اور تنگ دست اور محتاج کو بھی دیں۔ پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کرلیں اور اس قدیم گھر کا طواف ۔ یہ ہے اصل معاملہ (اے سمجھ والو) اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے ۔ تمہیں ایک مقرر وقت تک ان (ہدی کے جانوروں) سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے ، پھر ان کے قربان کرنے کی جگہ اسی قدیم گھر کے پاس ہے ۔ اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لئے ایک شعائر اللہ میں شامل کیا ہے ۔ تمہارے لئے ان میں بھلائی ہے ، پس انہیں کھڑا کرکے ان پر اللہ کا نام لو اور جب (قربانی کے بعد) ان کی پیٹھیں زمین پر ٹک جائیں تو ان میں سے خود بھی کھاؤ اور ان کو بھی کھلاؤ جو قناعت کئے بیٹھے ہیں اور ان کو جو اپنی حاجت پیش کریں ان جانوروں کو ہم نے اس طرح تمہارے لئے مسخر کیا ہے تاکہ تم شکریہ ادا کرو ۔ ان کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خوں ، مگر اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے ۔ اس نے ان کو تمہارے لئے اس طرح مسخر کیا ہے تاکہ اس کی بخشی ہوئی ہدایت سے تم اس کی تکبیر کرو اور اے نبی بشارت دے نیکو کاروں کو۔ “ ان آیات میں اکثر مناسک کا ذکر ہوا ہے یا اشارہ ملتا ہے ، مثلاً ہدی ، نحر ، طواف ، احلال ، احرام اور تسمیہ ، یہی مناسک حج کے اساسی شعائر ہیں ۔ خطاب ابراہیم (علیہ السلام) کے تاریخی واقعہ کی شکل میں ، مسلمانوں سے ہورہا ہے ، ان آیات میں واضح طور پر یہ اشارہ کیا جاتا ہے کہ حج کافی ابتدائی دور میں فرض ہوگیا تھا۔ کیونکہ حج حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا شعار تھا ، جن سے مسلمانوں کی نسبت تھی ۔ چونکہ مشرکین مکہ خانہ کعبہ کے مجاور تھے ، کلید بردار تھے ، اور ایک عرصہ تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان سخت کشمکش برپا تھی ، ہوسکتا ہے کہ فریضہ حج کی ادائیگی کو مناسب وقت تک مؤخر کردیا گیا ہو ۔ لیکن یہ تاخیر تو الگ بات ہے ۔ تو اس پارے کی ابتدائی آیات میں ہم اس رائے کو ترجیح دے چکے ہیں کہ بعض مسلمان ، بہت پہلے سے فریضہ حج ادا کرتے تھے ۔ یعنی دوہجری میں تحویل قبلہ کے بعد۔ بہرحال حج کی تاریخ کے سلسلے میں بحث کافی ہے ، اب ہم تشریح آیات ، شعائر حج کے بیان اور ان ہدایات کی تشریح کریں گے جو ان کے اثناء میں دی گئی ہیں۔ وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ” اللہ کی خوشنودی کے لئے جب حج اور عمرے کی نیت کرو تو اسے پورا کرو ، اور کہیں گھر جاؤ جو قربانی میسر آئے ، اللہ کی جناب میں پیش کرو اور اپنے سرنہ مونڈو جب تک قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے ۔ مگر جو شخص یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور اس بناپر اپنا سرمنڈوالے تو اسے چاہئے کہ فدیے کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے ۔ پھر اگر تمہیں امن نصیب ہوجائے (اور تم حج سے پہلے مکہ پہنچ جاؤ) تو جو شخص تم میں سے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھائے ، وہ حب مقدور قربانی دے اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر ، اس طرح پورے دس روزے رکھ لے ۔ یہ رعایت ان لوگوں کے لئے ہے جن کے گھر مسجد حرام کے قریب نہ ہوں ۔ اللہ کے ان احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ “ ان آیات میں ، سب سے پہلے وہ حسن الفاظ اور حسن تعبیر قابل دید ہے جسے اس قانون سازی کے لئے اختیار کیا گیا ہے ، فقروں کی تقسیم ، بامقصد اور بہترین طرز ادا ، ہر فقرے میں الگ بیان اور الفاظ وفقرات مختصر ، جن میں کوئی لفظ بھی زیادہ نہیں ۔ ہر حکم کے ساتھ شرائط تحدید اور سب احکام کو خوف اللہ اور تقویٰ کے ساتھ مربوط کرتے چلے جانا ۔ پہلے فقرے میں کہا گیا ہے کہ حج اور عمرے کو شروع کرچکنے کے بعد ، مطلقاً تکمیل لازمی ہے ۔ جب حاجی حج کا آغاز کردے ، عمرہ کرنے والا عمرے کا آغاز کردے ، نیت باندھ لے خواہ علیحدہ علیحدہ یا دونوں کے ساتھ اور اس کی توجہ کا مرکز خالص اللہ کی رضاجوئی ہو ، تو انہیں حکم ہے وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ ” اللہ کی خوشنودی کے لئے جب حج اور عمرے کی نیت کرو ، تو اسے پورا کرو۔ “ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ لفظ ” پورا کرو “ کے ذریعہ ہی سب سے پہلے حج فرض ہوا ہے ۔ لیکن بعض نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ مراد یہ ہے کہ جب تم شروع کرو تو پھر پورا کرو۔ مکمل کرو۔ یہ مفہوم زیادہ ظاہر ہے ۔ اس لئے کہ یہاں یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ حج بھی فرض ہوگیا اور عمرہ بھی فرض ہوگیا ۔ کیونکہ بعض علماء عمرے کو فرض نہیں سمجھتے ، لہٰذا یہاں مقصد یہی ہوگا کہ حج وعمرہ شروع کرنے کے بعد واجب ہوجاتے ہیں ۔ اتمام لازمی ہے ابتداً عمرہ واجب نہیں ہوتا لیکن جبب اس کی نیت کرکے احرام باندھ لیا جائے تو پھر پورا کرو۔ اب اتمام واجب ہوگا اور عمرہ تمام مناسک میں حج ہی کی طرح ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ عمرے میں ، میدان عرفات میں وقوف نہیں ہوتا ۔ نیز عمرے کے لئے مقررہ اقات بھی نہیں ۔ پورے سال میں کسی وقت بھی ادا کیا جاسکتا ہے ۔ حج کی طرح معلوم مہینوں کے اندر ہی اس کی ادائیگی لازمی نہیں ہے۔ اتمام حج وعمرہ کے اس عام حکم سے حالت احصار کو مستثنیٰ قرار دیا جاتا ہے ۔ احصار کسی جانی دشمن کی وجہ سے ہو (اس پر سب مذاہب کا اتفاق ہے ) یا بیماری یا بیماری کی طرح کوئی اور رکاوٹ ہو۔ جس کی وجہ سے حج اور عمرے کی تکمیل ممکن ہو ، فقہاء کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے کہ بیماری کی وجہ سے احصار جائز ہے یا نہیں ۔ راحج بات یہ ہے کہ بیماری کی وجہ سے احصار معتبر ہے ۔ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ” اور اگر کہیں گھر جاؤ، تو ہدی جو بھی میسر ہو ، جناب باری میں پیش کرو۔ “ اس حالت میں حاجی یا عمرے کی نیت کرنے والا وسعت و سہولت کے مطابق جو قربانی کرسکے کرے اور احرام توڑ دے ۔ وہیں جہان حالت احصار پیش آئی ۔ اگرچہ وہ مسجد حرام تک نہ پہنچ سکے ۔ میقات سے احرام باندھنے کے سوا ، مناسک حج ادا نہ کرسکے ۔ مناسک عمرہ ادا نہ کرسکے (میقات وہ مقام ہے جہاں حاجی اور عمرہ کرنے والا احرام باندھتا ہے ، پھر اس کے سلے ہوئے کپڑے پہننا حرام ہوجاتا ہے ، بال چھوٹے کرنا ، منڈوانا ، ناخن چھوٹے کرنا منع ہوجاتا ہے۔ نیز اس پر خشکی کا شکار کھیلنا اور اس کا کھانا منع ہوجاتا ہے۔ 6 ھ ہجری میں بھی یہی پیش آیا ، جب رسول ﷺ اور آپ کے ساتھی حدیبیہ پہنچے تو مشرکین نے آپ کو مسجد حرام آنے سے روک دیا ۔ اس مذاکرات ہوئے اور معاہدہ صلح حدیبیہ طے ہوا ۔ اس کے مطابق طے ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اگلے سال عمرہ ادا کریں ۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی اور رسول ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ جہاں تک پہنچے ہیں وہیں رک جائیں ، قربانی کریں اور عمرہ کی نیت ختم کرکے احرام سے باہر آجائیں ۔ مسلمان تعمیل امر سے ہچکچانے لگے ۔ ان پر یہ بات گراں گزر رہی تھی کہ وہ کیونکر ہر ہدی کو اس کے مقام نحر سے پہلے ہی قربانی کردیں ، حالانکہ عادہً وہ منیٰ میں ایسا کرتے ہیں ۔ ان کی ہچکچاہٹ دیکھ کر رسول ﷺ آگے بڑھے اور اپنی قربانی ذبح کرکے احرام سے باہر نکل آئے ۔ اس پر سب نے تعمیل کی ۔ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِسے مراد وہ ہے جو میسر آجائے ۔ ہدی میں جن مویشیوں سے ہوگی وہ یہ ہیں ، اونٹ ، گائے ، بھینس اور بھیڑ بکری ۔ صرف اونٹ ، بھینس اور گائے میں سات افراد تک شریک ہوسکتے ہیں ۔ جیسا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر سات افراد ایک اونٹنی میں شریک ہوئے تھے ۔ یہ ہے تیسیر۔ ہاں بھیڑ بکری صرف ایک آدمی کے لئے ہدی ہوگی ۔ حالت احصار ، جیسا کہ حدیبیہ میں پیش آیا ، یابیماری کی وجہ سے گھر جانے کے حالات کو اصل حکم سے اس لئے مستثنیٰ کیا گیا کہ مسلمانوں پر تنگی نہ ہو ، اس کی حکمت صرف مسلمانوں کے لئے سہولت کی گنجائش رکھنا ہے ۔ مناسک حج کی غرض وغایت یہی ہے کہ انسان اللہ کے نزدیک ہوجائے اور اس کے دل میں اللہ کا خوف پیدا ہوجائے ۔ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فرائض سرانجام دینے کے لئے تیار ہوجائے ۔ جب اس نے نیت کرلی ، احرام باندھ لیا اور دشمن اس کی راہ میں حائل ہوگیا یا بیماری اور یا اسی طرح کا کوئی اور عذر لاحق ہوگیا تو حاجی یا عمرہ کی نیت کرنے والا حج یا عمرے کے ثواب سے کیوں محروم ہو۔ اس حالت کا حکم ایسا ہی ہوگا جیسے حج مکمل ہوگیا ، عمرہ ادا ہوگیا ، چناچہ ایسا شخص وہیں قربانی کرکے احرام سے نکل آئے گا ۔ یہ سہولت ایسی ہے جو اسلام کی روح ، اسلامی عبادات کے مقاصد اور شعائر حج وعمرہ کی اصل غرض وغایت کے عین مطابق ہے ۔ پہلے حکم کی اس استثناء کے بعد ، اب روئے سخن ایک دوسرے حکم ، عام حکم ، حج کے لئے بھی عمرے کے لئے بھی اس کی طرف پھرتا ہے۔ وَلا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ ” اور اپنے سر نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔ “ یہ حکم اس حالت کے لئے ہے کہ جہاں حج وعمرہ مکمل ہورہے ہیں اور احصار نہ ہو ، حج ، عمرے یا دونوں کی نیت کی صورت میں آدمی اس وقت تک حالت احرام میں رہتا ہے اور اسے سرمونڈوانے کی اجازت نہیں ہوتی جب تک قرباقنی اپنی جگہ پہنچ کر ذبح نہ ہوجائے ۔ یعنی میدان عرفات میں وقوف کرکے ، مزدلفہ آنے کے بعد بمقام منیٰ ، ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو ۔ اس قربانی کے بعد حاجی احرام سے نکلتا ہے ۔ اس سے پہلے اس کے لئے سرمونڈوانا ، بال چھوٹے کرنا یا دوسرے کام جو محرم کے لئے جائز نہیں ان کا ارتکاب کرنا منع ہے ۔ اب اس عام حکم میں بھی استثنا (Proviso) ہے۔ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍمگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور اس بناپر اپنا سر منڈوالے تو اسے چاہئے کہ فدیے کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے ! اگر ایسی بیماری لاحق ہوجائے جس میں سرمنڈوانا ضروری ہو یا سر میں جوئیں وغیرہ پڑجائیں اور دیر تک ان میں کنگھی نہ کی گئی اور جوئیں وغیرہ پڑگئیں تو اس وقت تک ہدی کے محل تک پہنچنے سے پہلے بھی سرمنڈوانا جائز ہے ۔ کیونکہ اسلام سہولت کا دین ہے ، لہٰذا تکمیل حج سے پہلے بھی سرمنڈواسکتا ہے ۔ البتہ اس صورت میں ایسے شخص کو فدیہ دینا پڑے گا یا تین دن کے روزے یا چھ مساکین کو کھانا یا ایک بکری ذبح کرکے صدقہ کرنا ، فدیہ کی یہ تحدید رسول ﷺ کی احادیث میں کی گئی ہے ۔ امام بخاری (رح) نے اپنی سند کے ساتھ کعب بن عجرہ سے روایت کی ہے ، فرماتے ہیں : مجھے رسول ﷺ کے پاس لے جایا گیا ، میری حالت یہ تھی کہ میرے بالوں سے میری چہرے پر جوئیں گر رہی تھیں ۔ آپ نے فرمایا میرا یہ خیال نہ تھا کہ تم اس قدر مصیبت میں پڑگئے ہو ۔ کہا تمہارے پاس بکری ہے ؟ میں نے کہا نہیں ۔ آپ نے فرمایا : تین روزے رکھو یا چھ مساکین کو کھانا کھلاؤ اور کھانے کی مقدار یہ ہو کہ مساکین کو نصف صاع غلہ ملے ، اور اپنے سر کو منڈوالو۔ اب حج کا ایک دوسرا ، عام حکم سنیں فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ” پھر اگر تمہیں امن نصیب ہوجائے تو جو شخص تم سے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھائے ۔ وہ حسب مقدور قربانی دے۔ “ مطلب یہ ہے کہ جب احصار کی صورت درپیش ہو اور تم فریضہ حج ادا کررہے ہو ، پس جو شخص ایام حج آنے سے پہلے عمرہ کرنا چاہتا ہو تو وہ حسب مقدور قربانی دے۔ اس حکم کی تعمیل یہ ہے کہ ایک شخص عمرہ کے لئے نکلے ، میقات پر احرام باندھے ، عمرہ ادا کرلے ، یعنی طواف اور سعی بین صفا مروہ سے فارغ ہوجائے ، پھر وہ حج کی نیت کرلے اور ایام حج کا انتظار کرے ۔ یہ اس صورت میں ہے کہ ایک شخص یہ عمرہ حج کے مہینوں میں کررہا ہو ، حج کے مہینے شوال ، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے دس دن ہیں ، حج سے عمرہ کرنے کی یہ ایک صورت ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ میقات سے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھے اور عمرہ ادا کرنے کے بعد حج کے ایام کا انتظار کرے ۔ یہ تمتع کی دوسری صورت ہے ۔ ان دونوں صورتوں میں تمتع کرنے والے پر قربانی واجب ہے ۔ یہ قربانی عمرہ کے بعد ہوگی تاکہ وہ احرام سے نکل آئے ۔ یہ شخص ادائے عمرہ اور آغاز حج کے درمیانی عرصہ میں حلال رہے گا ۔ حسب مقدور قربانی اونٹ ، گائے ، بھیڑ بکری کی ہوگی۔ اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ” اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے زمانے میں اور ساتھ گھر پہنچ کر اس طرح پورے دس روزے رکھ لے ۔ “ اس سلسلے میں اولیٰ یہ ہے کہ حج کے تین روزے ذوالحجہ کو عرفات پر وقوف سے پہلے ہی رکھ لے اور باقی سات دن گھر لوٹ کر رکھ لے۔ اس طرح پورے دس روزے رکھ لے ، مزیدتاکید کے لئے کہا گیا ہے ہدی اور روزے کی حکمت صرف یہ ہے کہ حاجی کا تعلق اللہ کے ساتھ مسلسل قائم رہے ، یعنی عمرہ اور حج کے درمیانی عرصے میں جب وہ احرام سے باہر آجاتے تو اس کا یہ شعور ختم نہ ہوجائے کہ وہ ایام حج کی فضا میں ہے ۔ اسے برائیوں سے خاص طور پر بچنا چاہئے اور یہ کہ اللہ مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے ۔ یہ شعور اور جذبہ بالعموم ایام حج میں زندہ ہوتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو مسجد الحرام کے رہنے والے ہیں تو ان کے لئے ایام حج میں عمرہ جائز نہیں ہے ۔ وہ صرف حج کریں گے ۔ وہ عمرے اور حج کے درمیان قربانی کرکے احرام سے نہیں نکل سکتے ۔ اس لئے ان پر فدیہ ، قربانی یا روزہ لازم نہیں ہے ۔ ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ” یہ رعایت ان لوگوں کے لئے ہے ، جن کے گھر مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔ “ جو احکام یہاں تک بیان ہوچکے ہیں ان کے آخر میں اب قرآن مجید ایک زوردار تعقیب اور نتیجہ پیش کرتا ہے اور حجاج کے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی جانب موڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ” اللہ کے احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ خوب سزا دینے والا ہے ۔ “ تقویٰ ہی امتثال امر کی گارنٹی ہے ۔ اللہ کا خوف اور اللہ کی سزا کا خوف ہی تعمیل احکام کا ضامن ہے ۔ احرام میں تو ایک وقت کے لئے پابندی عائد ہوجاتی ہے ۔

البقرة 2:197

قانونی پابندی لیکن اگر احرام کی حالت ختم ہوجائے تو پھر تقویٰ اور اللہ خوفی وہ واحد نگرانی ہے جو انسان پر اچھا اثر ڈال سکتی ہے اور ایک مومن کی نگہبان ہوسکتی ہے ۔ اب حج کے خصوصی احکام بیان ہوتے ہیں ۔ مثلاً یہ کہ حج کے آداب کیا ہیں ؟ اوقات کیا ہیں ؟ سابق پیراگرافوں کی طرح اس مقطع کا اختتام بھی اسی تلقین اللہ خوفی اور اتقاء پر ہوتا ہے ۔ الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الألْبَابِ ” حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں ۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیت کرے ، اسے خبردار رہنا چاہئے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل ، کوئی بدعملی ، کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو ، اور جو نیک کام تم کرو گے ، وہ اللہ کے علم میں ہوگا۔ سفر حج کے لئے زاد راہ ساتھ لے جاؤ اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے ۔ پس اے ہوشمندو ، میری نافرمانی سے پرہیز کرو۔ “ اس آیت کی ظاہری عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں ۔ اوقات معلوم ہیں ۔ وہ شوال ، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں ۔ لہٰذا صرف ان اوقات کے اندر ہی حج کی نیت درست ہوگی ۔ اس سے پہلے کہ اگر کوئی نیت کرے تو صحیح نہ ہوگی۔ اگرچہ بعض مذاہب نے سنت رسول ﷺ کی بنیاد پر اسے جائز قرار دیا ہے اور وہ اس آیت کا مفہوم بیان کرتے ہیں کہ حج کے جو معلوم اوقات ہیں وہ مناسک حج کی ادائیگی کے لئے ہیں ۔ نہت پہلے بھی درست ہے ۔ یہ رائے امام مالک (رح) ، امام ابوحنیفہ (رح) ، امام احمد بن حنبل (رح) نے اختیار کی ہے ۔ ابراہیم نخعی (رح) ، ثوری (رح) اور لیث بن سعد بھی اسی طرف گئے ہیں ۔ جبکہ امام شافعی (رح) نے پہلی رائے اختیار کی ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، جابر ؓ ، عطاء (رح) ، طاؤس (رح) مجاہد (رح) وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے ۔ چانچہ یہی رائے زیادہ واضح معلوم ہوتی ہے۔ اب ان معلوم ایام میں اگر کوئی اپنے اوپر حج فرض کرلے یعنی وہ یہ پختہ ارادہ کرلے کہ وہ حج ادا کرے گا اور احرام باندھ لے تو اسے خبردار رہنا چاہئے کہ حج کے دوران میں کوئی رفث کوئی بدفعلی کوئی جھگڑے لڑائی کی بات نہ سرزد ہو ۔ رفث سے مراد یہاں جماع اور دواعی جماع کا تذکرہ ہے ۔ عورتوں کے سامنے یا عام محفلوں میں جدال سے مراد لڑائی جھگڑا جس سے فریق دوم غصہ ہوجائے اور فسوق سے مراد تمام بدفعلیاں ہیں چھوٹی ہوں یا بڑی ۔ ان افعال کے ذکر سے مراد یہ ہے کہ ان تمام کاموں سے دوران حج بچنا چاہئے جو تحرج و احتیاط اور اللہ کی جانب تنہائی اور یکسوئی کی فضا کے خلاف ہوں ، کیونکہ حج کے دوران انسان تمام دنیاوی معاملات ترک کردیتا ہے ، اور یہ پورا عرصہ تعلق باللہ کے قیام کی روحانی مشقوں کا عرصہ ہوتا ہے ۔ ایام حج وہ پیریڈ ہے جس میں انسان اپنے داعی لباس سے بھی علیحدہ ہوکر اللہ کے گھر میں چلا جاتا ہے ۔ لہٰذا یہاں اسے چاہئے کہ اس گھر کے شایان شان احترام اور ادب کو ملحوظ رکھے ۔ برے افعال روکنے کے بعد اب کہا جاتا ہے کہ تم اچھے کام کثرت سے کرو وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ ” اور جو نیک کام تم کروگے ، وہ اللہ کے علم میں ہوگا۔ “ کیا مومن کے لئے یہی کافی نہیں ہے کہ اس کا آقا اس کے ہر اچھے کام کو ہر وقت دیکھتا رہتا ہے ۔ اللہ دیکھ رہا ہے یہ احساس جگالو ، تمہارا آقا دیکھتا ہے ۔ بڑھتے چلے جاؤ، زیادہ سے زیادہ بھلائی جمع کرلو ۔ یہ ہوتا ہے مومن کا احساس ۔ یقیناً اخروی جزاء سے پہلے ہی ایک عظیم انعام ہے ۔ اس کے بعد یہ ترغیب دی جاتی ہے کہ سفر حج کے دوران مقدور زادراہ کا انتظام کرو ۔ ہر قسم کا زاد راہ ۔ روح کے لئے بھی اور جسم کے لئے بھی ۔ احادیث میں آتا ہے کہ یمنیوں میں کچھ لوگ حج کے لئے ایسے حال میں چل پڑتے تھے کہ پاس کچھ بھی نہیں ۔ وہ کہتے ہم تو اللہ کے گھر کی زیارت کو جائیں گے اور وہ ہمیں روٹی بھی نہ دے ۔ اسلام کا مزاج یہ ہے کہ انسان جو بھی کام کرے وہ مکمل تیاری سے کرے ۔ پوری تیاری کے ساتھ دل کو اللہ کی طرف متوجہ کرے اور پھر اعتماد اور بھروسہ مکمل اسی پر ہو ۔ ان لوگوں کی یہ بات نہ صرف اسلام کے مزاج کے خلاف تھی بلکہ اس سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بات چیت میں ایک قسم کی بےباکی کا اظہار بھی ہوتا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ حج کرنے کو ذات باری پر ایک قسم کا احسان سمجھتے تھے ۔ چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حج کرتے ہیں لہٰذا وہ زاد راہ کا ذمہ دار ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زاد راہ کی دونوں اقسام ، جسمانی زاد راہ اور اللہ خوفی اور تقویٰ کا زاد راہ کا انتظام کرنے کا حکم دیا ۔ اور کہا کہ اللہ کے جناب میں بےباکی اختیار نہ کرو۔ تعبیر ایسی ہے کہ ہر وقت ہر لمحہ تقویٰ ہی تمہارا زاد راہ ہو ، زاد حیات ہو وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الألْبَابِ ” سفر حج کے دوران زاد راہ ساتھ لے جاؤ ۔ بہترین زادراہ پرہیزگاری اور اللہ خوفی ہے۔ “ تقویٰ روح اور قلب کی خوراک ہے ۔ اس سے روح کو قوت حاصل ہوتی ہے ۔ تقویٰ اور اللہ خوفی سے روح طاقتور ہوتی ہے ۔ پھڑپھڑاتی لہلہاتی ہے ۔ روح اس سے جلاپاتی ہے اور روشن ہوجاتی ہے ۔ تقویٰ ہی مدار نجات ہے ۔ وہی لوگ ہوشمند ہیں جو تقویٰ اور اللہ خوفی کی راہ لیں اور ہر کام میں اسے کام میں لاکر خیر و برکت حاصل کریں۔