Fi Zilal al-Quran — الفرقان 25:35 – الشعراء 26:46
Contents
- الفرقان 25:35
- الفرقان 25:36
- الفرقان 25:37
- الفرقان 25:38
- الفرقان 25:39
- الفرقان 25:40
- الفرقان 25:41
- الفرقان 25:42
- الفرقان 25:43
- الفرقان 25:44
- الفرقان 25:45
- الفرقان 25:46
- الفرقان 25:47
- الفرقان 25:48
- الفرقان 25:49
- الفرقان 25:50
- الفرقان 25:51
- الفرقان 25:52
- الفرقان 25:53
- الفرقان 25:54
- الفرقان 25:55
- الفرقان 25:56
- الفرقان 25:57
- الفرقان 25:58
- الفرقان 25:59
- الفرقان 25:60
- الفرقان 25:61
- الفرقان 25:62
- الفرقان 25:63
- الفرقان 25:64
- الفرقان 25:65
- الفرقان 25:66
- الفرقان 25:67
- الفرقان 25:68
- الفرقان 25:69
- الفرقان 25:70
- الفرقان 25:71
- الفرقان 25:72
- الفرقان 25:73
- الفرقان 25:74
- الفرقان 25:75
- الفرقان 25:76
- الفرقان 25:77
- الشعراء 26:1
- الشعراء 26:2
- الشعراء 26:3
- الشعراء 26:4
- الشعراء 26:5
- الشعراء 26:6
- الشعراء 26:7
- الشعراء 26:8
- الشعراء 26:9
- الشعراء 26:10
- الشعراء 26:11
- الشعراء 26:12
- الشعراء 26:13
- الشعراء 26:14
- الشعراء 26:15
- الشعراء 26:16
- الشعراء 26:17
- الشعراء 26:18
- الشعراء 26:19
- الشعراء 26:20
- الشعراء 26:21
- الشعراء 26:22
- الشعراء 26:23
- الشعراء 26:24
- الشعراء 26:25
- الشعراء 26:26
- الشعراء 26:27
- الشعراء 26:28
- الشعراء 26:29
- الشعراء 26:30
- الشعراء 26:31
- الشعراء 26:32
- الشعراء 26:33
- الشعراء 26:34
- الشعراء 26:35
- الشعراء 26:36
- الشعراء 26:37
- الشعراء 26:38
- الشعراء 26:39
- الشعراء 26:40
- الشعراء 26:41
- الشعراء 26:42
- الشعراء 26:43
- الشعراء 26:44
- الشعراء 26:45
- الشعراء 26:46
الفرقان 25:35
(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (35 تا 40) ”
یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔
القوم الذین کذبوا بایتنا (25 : 36) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘ رسولوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ابھی دوسری آیت ختم نہیں ہوئی کہ بڑی سختی سے انجام بتادیا جاتا ہے۔
فدمرنھم تد میرا (25 : 36) ” آخر کار ان لوگوں کو ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے “۔
اس کے بعد قوم نوح کا حال
کذبوا الرسل اغرقنھم (25 : 37) ” انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو غرق کردیا “
قوم نوح نے تو صرف ایک رسول حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت نوح نے جو عقیدہ ان کے سامنے پیش کیا تھا وہ تمام نبیوں کا عقیدہ تھا۔ جب انہوں نے حضرت نوح کو جھٹلایا تو گویا تمام رسولوں کو جھٹلادیا۔
وجعلنھم للناس ایۃ (25 : 37) ” اور ان کو دنیا بھر کے لوگوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا “۔ کیونکہ طوفان کا معجزہ کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ جو شخص بھی طوفان کے اس واقعہ پر غور کرے گا اسے عبرت حاصل ہوگی۔
واعتدنا للظلمین عذابا الیما (25 : 37) ” اور ان ظالموں کے لیے ایک درد ناک عذاب ہم نے تیار کر رکھا ہے “۔ یہ عذاب حاضر و موجود ہے۔ کسی تیاری کی ضرورت نہ ہوگی۔ ظالمین کا لفظ ضمیر کی جگہ استعمال کیا گیا تاکہ یہ ان کا دائمی لقب ہو اور یہ بھی بتا دیا جائے کہ یہ عذاب ان کو ان کے ظلم کی وجہ سے دیا جائے گا۔ پھر عاد ‘ ثمود اور اصحاب الرس (وہ لوگ جن کے کنویں کی دیواریں نہ اٹھائی گئی تھیں ‘ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ یمامہ کے ایک گائوں میں رہتے تھے اور انہوں نے اپنے نبی کو قتل کردیا تھا۔ ان جریر نے تو کہا ہے کہ یہ اصحاب الا خدود ہیں جنہوں نے مومنین کو جلا دیا تھا۔ جس کا ذکر سورة بروج میں آیا ہے) ۔ اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ جو بعد کے ادوار میں آتے رہے سب کو اللہ نیہلاک کر کے نشان عبرت بنایا۔ انہوں نے پیغمبروں کی دعوت پر غور نہ کیا اور ہلاکت سے نہ بچ سکے۔
یہ تمام مثالیں ‘ قوم موسیٰ ‘ نوح ‘ عاد ‘ ثمود ‘ اصحاب الرس ‘ درمیان زمانوں کی اقوام اور وہ قوم (لوط) جس پر بری بارش کی گئی۔ یہ سب اقوام ایک ہی راہ اور ایک ہی انجام تک پہنچیں۔ اور سب کو اللہ نے نشانہ عبرت بنایا۔
وکلا تبرنا تتبیرا (25 : 40) ” سب کو ہم نے ہلاک کردیا بےدردی سے “۔ کیونکہ انہوں نے نبیوں کی تکذیب کی اور جو اقوام نبیوں کی تکذیب کرتی ہیں وہ ٹوٹ پھوٹ اور ہلاکت کے انجام سے دو چار ہوتی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان ساری اقوام کے المناک انجام پر نہایت ہی سر سری نظر ڈالتا ہے اور یہ سریع الحرکت بیان آکر حضرت لوط کی قوم کے بیان پر ختم ہوتا ہے جو ان کے اسفار سٹاء و صیف میں شاہراہ عام پر ان کو خوب نظر آتا ہے۔ اللہ نے اس قوم کو آتش نشانی کے عمل کے ذریعہ ہلاک کیا۔ ان پر پتھروں کی بارش کردی گئی۔ اور اس طرح ان کو پوری طرح ہلاک کردیا گیا۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی تکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور مذاق کا رویہ اختیار کیا ہے اور قرآن پر یہ طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔
اقوام مکذبہ پر اس سرسری نظر کے بعد روئے سخن اب ان لوگوں کے مزاحیہ انداز کی طرف پھرجاتا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اللہ کی شان میں بھی ایسی ہی گستاخی کی تھی۔ اور کہا تھا کہ یہ قرآن موجودہ انداز سے کیوں نازل ہورہا ہے۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی مکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور
(واذا راوک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (41 تا 44) ” یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ اس نے تو ہمیں گمراہ کر کے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا۔ اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ اچھا ‘ وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا تھا۔ کبھی تم نے اس شخص کے ال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو۔ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔
حضرت محمد ﷺ اپنی قوم میں دیکھے سنے ہوئے تھے۔ قبل بعثت آپ ﷺ ان کے ہاں اک نہایت معتبر شخص تھے۔ آپ بنی ہاشم کے ایک چوٹی کے فرد تھے جو قریش کے چوٹی کے لوگ تھے۔ اپنے اخلاق کی وجہ سے بھی آپ بڑے مرتبے اور مقام کی شخصیت تھے اور بعثت سے قبل صادق اور امین مشہور تھے۔ جب تعمیر خانہ کعبہ کے وقت حجر اسود رکھنے کے مسئلے پر قریش کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے تو تمام لوگ اس بات پر تیار ہوگئے کہ آپ اس پتھر کو نصب کردیں اور جب آپ نے ان کو صفا پر بلایا اور ان سے پوچھا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے اس طرف ایک فوج آپ لوگوں پر حملہ آور ہو رہی ہے تو کیا آپ میری بات کو تسلیم کریں گے تو سب نے کہا ‘ ہاں آپ ﷺ ہمارے ہاں۔۔ نہیں ہیں۔
لیکن بعثت کے بعد قرآنی دعوت پیش کرنے کے بعد وہی تھے جو حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔
اھذا الذی بعث اللہ (25 : 41) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے “ ۔ یہ فقرہ وہ بطور مذاق کہتے تھے۔ کیا یہ بات تھی کہ نبی ﷺ کی ذات سے وہ مذاق کرنا چاہتے تھے یا قرآن کریم میں کوئی ایسی بات تھی جس کے ساتھ مذاق کیا جاسکتا تھا۔ نہیں ‘ یہ دونوں باتیں نہ تھیں بلکہ یہ بات وہ کبرائے قریش کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہتے تھے۔ اس طرح وہ نبی ﷺ کی عظیم شخصیت کی کردار کشی کرنا چاہتے تھے۔ اور اس طرح وہ قرآن کریم کے بےپناہ اثرات کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے۔ یہ انہوں نے اس جدید دعوت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک تدبیر اختیار کی تھی کیونکہ سابقہ معاشرے میں ان کو جو مقام اور مرتبہ حاصل تھا ‘ اس کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ نیز ان کے بعض اقتصادی مفادات سابقہ نظام جاہلیت سے وابستہ تھے۔ یہ منصبی اور اقتصادی حیثیت ان کو ان نظریاتی خرافات کی وجہ سے حاصل تھی جو عربی معاشرے پر چھائے ہوئے تھے اور قرآن ان خرافات لایعنی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہا تھا۔
یہ لوگ جدید دعوت کا مقابلہ کرے کے لیے بڑی بڑی مجلسیں کرتے تھے۔ ان مجالس میں یہ لوگ اس قسم کے غلط پروپینڈے اور جھوٹے کردار کشی کے فیصلے کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ یہ سب کچھ جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ ابن اسحاق نے روایت کی ہے کہ ایک بار ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ بڑا معمو اور دانشور شخص تھا۔ موسم حج قریب تھا۔ اس نے ان قریشیوں سے کہا کہ موسم حج آنے والا ہے۔ تمام عالم عرب سے وفود مکہ آئیں گے۔ انہوں نے تمہارے اس آدمی کے بارے میں تو سن رکھا ہے۔ لہذا مناسب ہے کہ اس کے بارے میں تم اپنی رائے ایک کرلو۔ یہ نہ ہو کہ تم مختلف باتیں کرو۔ اور ایک دوسرے کی تکذیب کرتے پھرو۔ انہوں نے کہا عبدالشمس کے باپ بس تم ہی بتا دو تم ایک رائے قائم کرکے ہمیں کہو ہم سب وہی بات کریں گے ‘ یہ سنکر اس نے کہا کہ پہلے تم بتائو کہ تم کیا کہو گے۔ میں دیکھوں کہ تم کیا کہتے ہو۔ انہوں نے کہا ہم اس کے بارے میں کہیں گے کہ یہ ایک کاہن ہے۔ اس نے کہا ‘ خدا کی قسم یہ بات غلط ہے۔ یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ یہ نہ ان کی طرح گنگناتا ہے اور نہ ان کی طرح سجع بندی کے ذریعے بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا : تو پھر ہم کہیں گے کہ یہ مجنوں ہے۔ تو اس نے کہا کہ یہ مجنوں بھی نہیں ہے۔ ہم مجنونوں کو اچھی طرح دیکھتے اور جانتے ہیں۔ نہ مجنوں کی طرح اس کا گلا گھٹتا ہے نہ اسے کوئی خلجان ہے اور نہ کوئی وسوسہ ہے۔ تو انہوں نے کہا تو پھر ہم کہیں گے یہ ایک شاعر ہے۔ تو اس نے کہا وہ تو شاعر نہیں ہے۔ شعر کی اقسام اور اوزان ‘ رجز ‘ ہزج ‘ قریض ‘ مقبوض اور مبسوط کو ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا تو ہم پھر کہیں گے کہ یہ جادو گر ہے تو اس نے کہا وہ تو جادو گر نہیں ہے۔ ہم نے جادو گروں کے جادو کو دیکھا ہے۔ نہ وہ ان کی طرح پھونکتا ہے ‘ نہ گرہیں ڈالتا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ عبدالشمس کے باپ تم ہی بتائو کہ پھر ہم کیا کہیں ؟ اس نے کہا خاد کی قسم اس کا کلام بہت میٹھا ہے۔ اس کی اساس ایک موٹے تنے پر ہے اور اس کی شاخیں تازہ پھول کی طرح ہیں۔ ان باتوں میں سے تم جو بات بھی کہو گے لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ غلط بات کہی جارہی ہے۔ بہر حال سب سے مناسب بات جو تم کہہ سکتے ہو وہ یہ ہے کہ وہ ساحر ہے اور اس کا کلام اس قدر جادو بھرا ہے کہ ایک شخص اور اس کے باپ ‘ اس کے بھائی ‘ اس کی بیوی اور اس کے خاندان کے درمیان جدائی ڈال دیتا ہے۔ چناچہ یہ بات لے کر وہ اس کے پاس سے چلے گئے۔ جب حج کا موسم آتا تو یہ لوگ راستوں میں بیٹھ جاتے ‘ جو شخص بھی ان پر سے گزرتا اسے ڈراتے اور حضرت محمد ﷺ کے بارے میں بتاتے رہتے۔
یہ ہے مثال ان کی گہری سازش اور تدبیر کی وجو وہ حضور ﷺ کے خلاف کرتے تھے اور یہ سازش وہ جانتے ہوئے کرتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ سچے ہیں۔ اس لیے یہ جو وہ کہتے تھے :” کیا اس شخص کو اللہ کا رسول بنا کر بھیجا ہے “ یہ بطور تمسخر نہ کہتے تھے ‘ بلکہ یہ وہ گہری سازش کے تحت محض کردار کشی کے لیے کہتے تھے حالانکہ ان کا شعور گواہ تھا کہ وہ حضور ﷺ کو حق پر سمجھتے تھے۔ یہ باتیں کہہ کر وہ عوام کی نظروں میں حضور ﷺ کی شان گراتے تھے تاکہ سابقہ نظام میں ان کو جو عزت اور مرتبہ کا مقام حاصل تھا وہ باقی رہے اور جو مالی مفادات ان کو حاصل ہوتے تھے وہ ان کو حاصل ہوتے رہیں۔ قریش نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف جو رویہ اختیار کیا ‘ ہر زمان و مکان میں دعوت حق کے ساتھ مفاد پرست لوگ یہی سلوک کرتے ہیں۔
زبانی طور پر تو وہ مذاق کے انداز میں پروپیگنڈے کرتے تھے اور آپ کی کردار کشی کرتے تھے لیکن خود ان کی باتوں سے یہ بات ظاہر ہوجاتی تھی کہ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کی دعوت سے کس قدر گھبرائے ہوئے تھے۔ وہ قرآن کریم کے اٹل دلائل کے بارے میں یہ تبصرہ بھی کرتے تھے۔
(ان کاد۔۔۔۔۔۔۔۔ علیھا) (25 : 42) ” اس نے ہمیں گمراہ کرکے اپنے معبودوں سے برگشتہ کر ہی دیا ہوتا اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی ذہنی دنیا میں ایک قسم کا بھونچال آگیا تھا۔ قریب تھا کہ وہ اپنے الہوں کو چھوڑ کر بھاگ جائیں لیکن وہ بڑی استقامت سے اپنے الہوں پر جم گئے۔ اپنے دین اور اس کے ساتھ وابستہ مناسب ومفادات کو بچاتے رہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے یعنی مقابلہ کر کے صبر اور مصابرت سے کام نہ لیتے تو وہ بھی اپنے الہوں کو ترک کرچکے ہوتے۔ تعجب یہ ہے کہ اپنی ہٹ دھرمی اور مفادات کی وجہ سے یہ لوگ ہدایت کو ضلالت کہتے۔ یہی تو ان کی ضلالت تھی کہ خرد کا نام جنوں رکھ رہے تھے لیکن حضرت محمد ﷺ کی دعوت نے ان کے ایوانوں میں جو زلزلہ برپا کردیا تھا اس کو وہ چھپا نہ سکے۔ اگر چہ غایت درجہ ہٹ دھرمی اور اصرار کی وجہ سے وہ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت اور قرآن پر حرف گیری کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ بھی انہیں خبردار فرماتا ہے کہ بہت جلد وہ اپنے انجام تک پہنچ جائیں گے۔
(وسوف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (25 : 42) ” وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا ہے “۔ ان کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ حضرت محمد ﷺ جو دعوت لے کر آئے تھے وہ تو ہدایت تھی اور جس پر وہ قائم تھے وہ ضلالت تھی۔ لیکن جب وقت چلا جاتا ہے تو پھر علم کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ اس وقت تو وہ عذاب دیکھ لیں گے۔ خواہ یہ عذاب دنیا کا ہو ‘ جس طرح بدر کے دن انہوں نے خوب چکھا ‘ یا آخرت کا ہو جسے وہ یوم الحساب میں دیکھیں گے ‘ جانیں گے اور چکھیں گے۔
اب روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو ان کے عناد ہٹ دھرمی اور استہزاء پر تسلی دی جاتی ہے کہ آپ نے تو دعوت پہنچا نے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ آپ نے پورے پورے دلائل سنا دیئے اور مناسب نہ تھا کہ ان کا ردعمل وہ ہوتا جو ہوا ہے۔ قصور صرف ان کا ہے۔ انہوں نے دراصل اپنی خواہشات نفسانیہ کو اپنا الہٰ بنارکھا ہے۔ اور وہ کسی محبت اور برہان کی طرف توجہ کرنے والے نہیں ہیں۔ اگر لوگ نہیں مانتے تو رسول ﷺ کیا کرسکتا ہے۔
(ارءیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکیلا) ( ُ 25 : 43) ” کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ‘ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لے آنے کا ذمہ لے سکتے ہو “۔ یہ عجیب انداز بیان ہے۔ اس سے ان کی عجیب نفسیاتی حالت کا اظہار ہوتا ہے کہ کسی شخص کا نفس تمام طے شدہ معیار ‘ تمام مسلمہ استدلال ‘ تمام طے شدہ اقدار کو چھوڑ کر صرف اپنی خواہش نفس ‘ اپنی پسند اور اپنی ضد کی بندگی شروع کردے۔ کسی استدلال ‘ کسی برہان ‘ کسی منطق اور کسی سنجیدہ بات پر کان نہ دھرے۔ بس صرف اپنی خواہش کو الہٰ بنا کر پوجے۔
اللہ جل شانہ اپنے بندے کو نہایت ہی نرمی ‘ محبت ‘ انس اور گہرے تعلق کے انداز میں پکارتا ہے۔ ارئیت کیا کبھی تم نے غور کیا ہے ‘ کیا تمہیں علوم ہے۔ ایسے شخص کی تصویر کشی کی جارہی ہے جس کے سامنے کوئی معقول بات پیش کرنا فضول ہے۔ وہ حجت ‘ حقیقت اور غور وفکر کو جانتا ہی نہیں ہے۔ ان چیزوں کی اس کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کو تسلی کے طور پر کہا جاتا ہے کہ ایسا شخص ہدایت کے قابل ہی نہیں ہے۔ لہذا آپ کے ذمہ ایسے شخص کی ہدایت نہیں لگائی جاسکتی اور نہ آپ ایسے شخص کے وکیل ہو سکتے ہیں۔ اور نہ ایسے لوگ ہدایت تک پہنچ سکتے ہیں۔
افانت تکون علیہ وکیلا (25 : 43) ” کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ “ یہ لوگ جنہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود اور الہٰ بنا رکھا ہے ‘ ان کی اصل حیثیت اور ان کا اصل مقام بھی یہاں بتا دیا جاتا ہے کہ یہ بہت ہی حقیر لوگ ہیں۔ یہ محض اپنی خواہشات اور مفادات کے بندے ہیں۔ یہ حجت اور حقیقت کے آگے جھکنے والے نہیں ہیں۔ بلکہ یہ خواہشات اور مفادات کے آگے سجدہ ریز ہونے والے ہیں۔ بلکہ ان کو اس سے بھی زیادہ گرا ہوا مقام دیا جاتا ہے کہ مقام انسانیت سے گر کر مقام حیوانیت خالصہ میں داخل ہوگئے ہیں بلکہ اس سے بھی نیچے۔
(ام تحسب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی محتاط انداز کلام اختیار فرمایا ہے۔ یہ کہا ہے اکثرھم سب نہیں بلکہ ان کی اکثریت ایسی ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کی ایک قلیل لعداد تو ابتداء ہی میں حلقہ بگوش اسلام ہوگئی تھی۔ یا انمیں سے اکثر اس پر غور کرتے تھے۔ البتہ اکثریت ایسی تھی جو محض خواہش نفسی اور مفادات کی خاطر نہ مانتی تھی۔ ان کے کانوں پر دلائل پڑتے تھے۔ ان کی عقل اسے مانتی تھی لیکن پھر بھی ضد کرتے تھے۔ یہ گویا جانور محض تھے۔ انسان اور انور میں فرق ہی یہ ہیکہانسان غور وفکر کرتا ہے اور پھر انسان اپنے غور وفکر کے مطابق اچھا طرز عمل بھی اختیار کرتا ہے۔ بصیرت اور قصد و ارادے سے حقائق کو اپناتا ہے۔ حجت اور دلیل سے بات کرتا ہے اور سنتا ہے۔ اور اگر انسان اپنے ان خصائص کو چھوڑ دے تو وہ بہائم سے بھی بد تر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ بہائم کو اللہ نے جو شعور دیا ہے وہ تو اس سے استفادہ کرتے ہیں اور انسان کو جو عقل و دانش دی گئی ہے وہ اس سے اسفادہ نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے فرائض منصبی صحیح طرح ادا کرتے ہیں لیکن انسان ادا نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے شعور سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ اپنے تدبر سے کام نہیں لیتا۔
(ان ھم الا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” “۔ یہ ہے جواب ان کے استہزاء کا ۔ یعنی تم انسان ہی نہیں ہو ‘ حیوانوں سے بد تر ہو۔ اس لیے تم سرور کو نین حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے ہو۔ یوں اس سبق کا خاتمہ ‘ جواب آل غزل پر ہوتا ہے۔
الفرقان 25:36
(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (35 تا 40) ”
یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔
القوم الذین کذبوا بایتنا (25 : 36) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘ رسولوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ابھی دوسری آیت ختم نہیں ہوئی کہ بڑی سختی سے انجام بتادیا جاتا ہے۔
فدمرنھم تد میرا (25 : 36) ” آخر کار ان لوگوں کو ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے “۔
اس کے بعد قوم نوح کا حال
کذبوا الرسل اغرقنھم (25 : 37) ” انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو غرق کردیا “
قوم نوح نے تو صرف ایک رسول حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت نوح نے جو عقیدہ ان کے سامنے پیش کیا تھا وہ تمام نبیوں کا عقیدہ تھا۔ جب انہوں نے حضرت نوح کو جھٹلایا تو گویا تمام رسولوں کو جھٹلادیا۔
وجعلنھم للناس ایۃ (25 : 37) ” اور ان کو دنیا بھر کے لوگوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا “۔ کیونکہ طوفان کا معجزہ کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ جو شخص بھی طوفان کے اس واقعہ پر غور کرے گا اسے عبرت حاصل ہوگی۔
واعتدنا للظلمین عذابا الیما (25 : 37) ” اور ان ظالموں کے لیے ایک درد ناک عذاب ہم نے تیار کر رکھا ہے “۔ یہ عذاب حاضر و موجود ہے۔ کسی تیاری کی ضرورت نہ ہوگی۔ ظالمین کا لفظ ضمیر کی جگہ استعمال کیا گیا تاکہ یہ ان کا دائمی لقب ہو اور یہ بھی بتا دیا جائے کہ یہ عذاب ان کو ان کے ظلم کی وجہ سے دیا جائے گا۔ پھر عاد ‘ ثمود اور اصحاب الرس (وہ لوگ جن کے کنویں کی دیواریں نہ اٹھائی گئی تھیں ‘ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ یمامہ کے ایک گائوں میں رہتے تھے اور انہوں نے اپنے نبی کو قتل کردیا تھا۔ ان جریر نے تو کہا ہے کہ یہ اصحاب الا خدود ہیں جنہوں نے مومنین کو جلا دیا تھا۔ جس کا ذکر سورة بروج میں آیا ہے) ۔ اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ جو بعد کے ادوار میں آتے رہے سب کو اللہ نیہلاک کر کے نشان عبرت بنایا۔ انہوں نے پیغمبروں کی دعوت پر غور نہ کیا اور ہلاکت سے نہ بچ سکے۔
یہ تمام مثالیں ‘ قوم موسیٰ ‘ نوح ‘ عاد ‘ ثمود ‘ اصحاب الرس ‘ درمیان زمانوں کی اقوام اور وہ قوم (لوط) جس پر بری بارش کی گئی۔ یہ سب اقوام ایک ہی راہ اور ایک ہی انجام تک پہنچیں۔ اور سب کو اللہ نے نشانہ عبرت بنایا۔
وکلا تبرنا تتبیرا (25 : 40) ” سب کو ہم نے ہلاک کردیا بےدردی سے “۔ کیونکہ انہوں نے نبیوں کی تکذیب کی اور جو اقوام نبیوں کی تکذیب کرتی ہیں وہ ٹوٹ پھوٹ اور ہلاکت کے انجام سے دو چار ہوتی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان ساری اقوام کے المناک انجام پر نہایت ہی سر سری نظر ڈالتا ہے اور یہ سریع الحرکت بیان آکر حضرت لوط کی قوم کے بیان پر ختم ہوتا ہے جو ان کے اسفار سٹاء و صیف میں شاہراہ عام پر ان کو خوب نظر آتا ہے۔ اللہ نے اس قوم کو آتش نشانی کے عمل کے ذریعہ ہلاک کیا۔ ان پر پتھروں کی بارش کردی گئی۔ اور اس طرح ان کو پوری طرح ہلاک کردیا گیا۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی تکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور مذاق کا رویہ اختیار کیا ہے اور قرآن پر یہ طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔
اقوام مکذبہ پر اس سرسری نظر کے بعد روئے سخن اب ان لوگوں کے مزاحیہ انداز کی طرف پھرجاتا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اللہ کی شان میں بھی ایسی ہی گستاخی کی تھی۔ اور کہا تھا کہ یہ قرآن موجودہ انداز سے کیوں نازل ہورہا ہے۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی مکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور
(واذا راوک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (41 تا 44) ” یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ اس نے تو ہمیں گمراہ کر کے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا۔ اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ اچھا ‘ وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا تھا۔ کبھی تم نے اس شخص کے ال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو۔ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔
حضرت محمد ﷺ اپنی قوم میں دیکھے سنے ہوئے تھے۔ قبل بعثت آپ ﷺ ان کے ہاں اک نہایت معتبر شخص تھے۔ آپ بنی ہاشم کے ایک چوٹی کے فرد تھے جو قریش کے چوٹی کے لوگ تھے۔ اپنے اخلاق کی وجہ سے بھی آپ بڑے مرتبے اور مقام کی شخصیت تھے اور بعثت سے قبل صادق اور امین مشہور تھے۔ جب تعمیر خانہ کعبہ کے وقت حجر اسود رکھنے کے مسئلے پر قریش کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے تو تمام لوگ اس بات پر تیار ہوگئے کہ آپ اس پتھر کو نصب کردیں اور جب آپ نے ان کو صفا پر بلایا اور ان سے پوچھا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے اس طرف ایک فوج آپ لوگوں پر حملہ آور ہو رہی ہے تو کیا آپ میری بات کو تسلیم کریں گے تو سب نے کہا ‘ ہاں آپ ﷺ ہمارے ہاں۔۔ نہیں ہیں۔
لیکن بعثت کے بعد قرآنی دعوت پیش کرنے کے بعد وہی تھے جو حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔
اھذا الذی بعث اللہ (25 : 41) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے “ ۔ یہ فقرہ وہ بطور مذاق کہتے تھے۔ کیا یہ بات تھی کہ نبی ﷺ کی ذات سے وہ مذاق کرنا چاہتے تھے یا قرآن کریم میں کوئی ایسی بات تھی جس کے ساتھ مذاق کیا جاسکتا تھا۔ نہیں ‘ یہ دونوں باتیں نہ تھیں بلکہ یہ بات وہ کبرائے قریش کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہتے تھے۔ اس طرح وہ نبی ﷺ کی عظیم شخصیت کی کردار کشی کرنا چاہتے تھے۔ اور اس طرح وہ قرآن کریم کے بےپناہ اثرات کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے۔ یہ انہوں نے اس جدید دعوت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک تدبیر اختیار کی تھی کیونکہ سابقہ معاشرے میں ان کو جو مقام اور مرتبہ حاصل تھا ‘ اس کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ نیز ان کے بعض اقتصادی مفادات سابقہ نظام جاہلیت سے وابستہ تھے۔ یہ منصبی اور اقتصادی حیثیت ان کو ان نظریاتی خرافات کی وجہ سے حاصل تھی جو عربی معاشرے پر چھائے ہوئے تھے اور قرآن ان خرافات لایعنی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہا تھا۔
یہ لوگ جدید دعوت کا مقابلہ کرے کے لیے بڑی بڑی مجلسیں کرتے تھے۔ ان مجالس میں یہ لوگ اس قسم کے غلط پروپینڈے اور جھوٹے کردار کشی کے فیصلے کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ یہ سب کچھ جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ ابن اسحاق نے روایت کی ہے کہ ایک بار ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ بڑا معمو اور دانشور شخص تھا۔ موسم حج قریب تھا۔ اس نے ان قریشیوں سے کہا کہ موسم حج آنے والا ہے۔ تمام عالم عرب سے وفود مکہ آئیں گے۔ انہوں نے تمہارے اس آدمی کے بارے میں تو سن رکھا ہے۔ لہذا مناسب ہے کہ اس کے بارے میں تم اپنی رائے ایک کرلو۔ یہ نہ ہو کہ تم مختلف باتیں کرو۔ اور ایک دوسرے کی تکذیب کرتے پھرو۔ انہوں نے کہا عبدالشمس کے باپ بس تم ہی بتا دو تم ایک رائے قائم کرکے ہمیں کہو ہم سب وہی بات کریں گے ‘ یہ سنکر اس نے کہا کہ پہلے تم بتائو کہ تم کیا کہو گے۔ میں دیکھوں کہ تم کیا کہتے ہو۔ انہوں نے کہا ہم اس کے بارے میں کہیں گے کہ یہ ایک کاہن ہے۔ اس نے کہا ‘ خدا کی قسم یہ بات غلط ہے۔ یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ یہ نہ ان کی طرح گنگناتا ہے اور نہ ان کی طرح سجع بندی کے ذریعے بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا : تو پھر ہم کہیں گے کہ یہ مجنوں ہے۔ تو اس نے کہا کہ یہ مجنوں بھی نہیں ہے۔ ہم مجنونوں کو اچھی طرح دیکھتے اور جانتے ہیں۔ نہ مجنوں کی طرح اس کا گلا گھٹتا ہے نہ اسے کوئی خلجان ہے اور نہ کوئی وسوسہ ہے۔ تو انہوں نے کہا تو پھر ہم کہیں گے یہ ایک شاعر ہے۔ تو اس نے کہا وہ تو شاعر نہیں ہے۔ شعر کی اقسام اور اوزان ‘ رجز ‘ ہزج ‘ قریض ‘ مقبوض اور مبسوط کو ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا تو ہم پھر کہیں گے کہ یہ جادو گر ہے تو اس نے کہا وہ تو جادو گر نہیں ہے۔ ہم نے جادو گروں کے جادو کو دیکھا ہے۔ نہ وہ ان کی طرح پھونکتا ہے ‘ نہ گرہیں ڈالتا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ عبدالشمس کے باپ تم ہی بتائو کہ پھر ہم کیا کہیں ؟ اس نے کہا خاد کی قسم اس کا کلام بہت میٹھا ہے۔ اس کی اساس ایک موٹے تنے پر ہے اور اس کی شاخیں تازہ پھول کی طرح ہیں۔ ان باتوں میں سے تم جو بات بھی کہو گے لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ غلط بات کہی جارہی ہے۔ بہر حال سب سے مناسب بات جو تم کہہ سکتے ہو وہ یہ ہے کہ وہ ساحر ہے اور اس کا کلام اس قدر جادو بھرا ہے کہ ایک شخص اور اس کے باپ ‘ اس کے بھائی ‘ اس کی بیوی اور اس کے خاندان کے درمیان جدائی ڈال دیتا ہے۔ چناچہ یہ بات لے کر وہ اس کے پاس سے چلے گئے۔ جب حج کا موسم آتا تو یہ لوگ راستوں میں بیٹھ جاتے ‘ جو شخص بھی ان پر سے گزرتا اسے ڈراتے اور حضرت محمد ﷺ کے بارے میں بتاتے رہتے۔
یہ ہے مثال ان کی گہری سازش اور تدبیر کی وجو وہ حضور ﷺ کے خلاف کرتے تھے اور یہ سازش وہ جانتے ہوئے کرتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ سچے ہیں۔ اس لیے یہ جو وہ کہتے تھے :” کیا اس شخص کو اللہ کا رسول بنا کر بھیجا ہے “ یہ بطور تمسخر نہ کہتے تھے ‘ بلکہ یہ وہ گہری سازش کے تحت محض کردار کشی کے لیے کہتے تھے حالانکہ ان کا شعور گواہ تھا کہ وہ حضور ﷺ کو حق پر سمجھتے تھے۔ یہ باتیں کہہ کر وہ عوام کی نظروں میں حضور ﷺ کی شان گراتے تھے تاکہ سابقہ نظام میں ان کو جو عزت اور مرتبہ کا مقام حاصل تھا وہ باقی رہے اور جو مالی مفادات ان کو حاصل ہوتے تھے وہ ان کو حاصل ہوتے رہیں۔ قریش نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف جو رویہ اختیار کیا ‘ ہر زمان و مکان میں دعوت حق کے ساتھ مفاد پرست لوگ یہی سلوک کرتے ہیں۔
زبانی طور پر تو وہ مذاق کے انداز میں پروپیگنڈے کرتے تھے اور آپ کی کردار کشی کرتے تھے لیکن خود ان کی باتوں سے یہ بات ظاہر ہوجاتی تھی کہ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کی دعوت سے کس قدر گھبرائے ہوئے تھے۔ وہ قرآن کریم کے اٹل دلائل کے بارے میں یہ تبصرہ بھی کرتے تھے۔
(ان کاد۔۔۔۔۔۔۔۔ علیھا) (25 : 42) ” اس نے ہمیں گمراہ کرکے اپنے معبودوں سے برگشتہ کر ہی دیا ہوتا اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی ذہنی دنیا میں ایک قسم کا بھونچال آگیا تھا۔ قریب تھا کہ وہ اپنے الہوں کو چھوڑ کر بھاگ جائیں لیکن وہ بڑی استقامت سے اپنے الہوں پر جم گئے۔ اپنے دین اور اس کے ساتھ وابستہ مناسب ومفادات کو بچاتے رہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے یعنی مقابلہ کر کے صبر اور مصابرت سے کام نہ لیتے تو وہ بھی اپنے الہوں کو ترک کرچکے ہوتے۔ تعجب یہ ہے کہ اپنی ہٹ دھرمی اور مفادات کی وجہ سے یہ لوگ ہدایت کو ضلالت کہتے۔ یہی تو ان کی ضلالت تھی کہ خرد کا نام جنوں رکھ رہے تھے لیکن حضرت محمد ﷺ کی دعوت نے ان کے ایوانوں میں جو زلزلہ برپا کردیا تھا اس کو وہ چھپا نہ سکے۔ اگر چہ غایت درجہ ہٹ دھرمی اور اصرار کی وجہ سے وہ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت اور قرآن پر حرف گیری کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ بھی انہیں خبردار فرماتا ہے کہ بہت جلد وہ اپنے انجام تک پہنچ جائیں گے۔
(وسوف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (25 : 42) ” وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا ہے “۔ ان کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ حضرت محمد ﷺ جو دعوت لے کر آئے تھے وہ تو ہدایت تھی اور جس پر وہ قائم تھے وہ ضلالت تھی۔ لیکن جب وقت چلا جاتا ہے تو پھر علم کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ اس وقت تو وہ عذاب دیکھ لیں گے۔ خواہ یہ عذاب دنیا کا ہو ‘ جس طرح بدر کے دن انہوں نے خوب چکھا ‘ یا آخرت کا ہو جسے وہ یوم الحساب میں دیکھیں گے ‘ جانیں گے اور چکھیں گے۔
اب روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو ان کے عناد ہٹ دھرمی اور استہزاء پر تسلی دی جاتی ہے کہ آپ نے تو دعوت پہنچا نے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ آپ نے پورے پورے دلائل سنا دیئے اور مناسب نہ تھا کہ ان کا ردعمل وہ ہوتا جو ہوا ہے۔ قصور صرف ان کا ہے۔ انہوں نے دراصل اپنی خواہشات نفسانیہ کو اپنا الہٰ بنارکھا ہے۔ اور وہ کسی محبت اور برہان کی طرف توجہ کرنے والے نہیں ہیں۔ اگر لوگ نہیں مانتے تو رسول ﷺ کیا کرسکتا ہے۔
(ارءیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکیلا) ( ُ 25 : 43) ” کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ‘ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لے آنے کا ذمہ لے سکتے ہو “۔ یہ عجیب انداز بیان ہے۔ اس سے ان کی عجیب نفسیاتی حالت کا اظہار ہوتا ہے کہ کسی شخص کا نفس تمام طے شدہ معیار ‘ تمام مسلمہ استدلال ‘ تمام طے شدہ اقدار کو چھوڑ کر صرف اپنی خواہش نفس ‘ اپنی پسند اور اپنی ضد کی بندگی شروع کردے۔ کسی استدلال ‘ کسی برہان ‘ کسی منطق اور کسی سنجیدہ بات پر کان نہ دھرے۔ بس صرف اپنی خواہش کو الہٰ بنا کر پوجے۔
اللہ جل شانہ اپنے بندے کو نہایت ہی نرمی ‘ محبت ‘ انس اور گہرے تعلق کے انداز میں پکارتا ہے۔ ارئیت کیا کبھی تم نے غور کیا ہے ‘ کیا تمہیں علوم ہے۔ ایسے شخص کی تصویر کشی کی جارہی ہے جس کے سامنے کوئی معقول بات پیش کرنا فضول ہے۔ وہ حجت ‘ حقیقت اور غور وفکر کو جانتا ہی نہیں ہے۔ ان چیزوں کی اس کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کو تسلی کے طور پر کہا جاتا ہے کہ ایسا شخص ہدایت کے قابل ہی نہیں ہے۔ لہذا آپ کے ذمہ ایسے شخص کی ہدایت نہیں لگائی جاسکتی اور نہ آپ ایسے شخص کے وکیل ہو سکتے ہیں۔ اور نہ ایسے لوگ ہدایت تک پہنچ سکتے ہیں۔
افانت تکون علیہ وکیلا (25 : 43) ” کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ “ یہ لوگ جنہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود اور الہٰ بنا رکھا ہے ‘ ان کی اصل حیثیت اور ان کا اصل مقام بھی یہاں بتا دیا جاتا ہے کہ یہ بہت ہی حقیر لوگ ہیں۔ یہ محض اپنی خواہشات اور مفادات کے بندے ہیں۔ یہ حجت اور حقیقت کے آگے جھکنے والے نہیں ہیں۔ بلکہ یہ خواہشات اور مفادات کے آگے سجدہ ریز ہونے والے ہیں۔ بلکہ ان کو اس سے بھی زیادہ گرا ہوا مقام دیا جاتا ہے کہ مقام انسانیت سے گر کر مقام حیوانیت خالصہ میں داخل ہوگئے ہیں بلکہ اس سے بھی نیچے۔
(ام تحسب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی محتاط انداز کلام اختیار فرمایا ہے۔ یہ کہا ہے اکثرھم سب نہیں بلکہ ان کی اکثریت ایسی ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کی ایک قلیل لعداد تو ابتداء ہی میں حلقہ بگوش اسلام ہوگئی تھی۔ یا انمیں سے اکثر اس پر غور کرتے تھے۔ البتہ اکثریت ایسی تھی جو محض خواہش نفسی اور مفادات کی خاطر نہ مانتی تھی۔ ان کے کانوں پر دلائل پڑتے تھے۔ ان کی عقل اسے مانتی تھی لیکن پھر بھی ضد کرتے تھے۔ یہ گویا جانور محض تھے۔ انسان اور انور میں فرق ہی یہ ہیکہانسان غور وفکر کرتا ہے اور پھر انسان اپنے غور وفکر کے مطابق اچھا طرز عمل بھی اختیار کرتا ہے۔ بصیرت اور قصد و ارادے سے حقائق کو اپناتا ہے۔ حجت اور دلیل سے بات کرتا ہے اور سنتا ہے۔ اور اگر انسان اپنے ان خصائص کو چھوڑ دے تو وہ بہائم سے بھی بد تر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ بہائم کو اللہ نے جو شعور دیا ہے وہ تو اس سے استفادہ کرتے ہیں اور انسان کو جو عقل و دانش دی گئی ہے وہ اس سے اسفادہ نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے فرائض منصبی صحیح طرح ادا کرتے ہیں لیکن انسان ادا نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے شعور سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ اپنے تدبر سے کام نہیں لیتا۔
(ان ھم الا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” “۔ یہ ہے جواب ان کے استہزاء کا ۔ یعنی تم انسان ہی نہیں ہو ‘ حیوانوں سے بد تر ہو۔ اس لیے تم سرور کو نین حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے ہو۔ یوں اس سبق کا خاتمہ ‘ جواب آل غزل پر ہوتا ہے۔
الفرقان 25:37
(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (35 تا 40) ”
یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔
القوم الذین کذبوا بایتنا (25 : 36) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘ رسولوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ابھی دوسری آیت ختم نہیں ہوئی کہ بڑی سختی سے انجام بتادیا جاتا ہے۔
فدمرنھم تد میرا (25 : 36) ” آخر کار ان لوگوں کو ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے “۔
اس کے بعد قوم نوح کا حال
کذبوا الرسل اغرقنھم (25 : 37) ” انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو غرق کردیا “
قوم نوح نے تو صرف ایک رسول حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت نوح نے جو عقیدہ ان کے سامنے پیش کیا تھا وہ تمام نبیوں کا عقیدہ تھا۔ جب انہوں نے حضرت نوح کو جھٹلایا تو گویا تمام رسولوں کو جھٹلادیا۔
وجعلنھم للناس ایۃ (25 : 37) ” اور ان کو دنیا بھر کے لوگوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا “۔ کیونکہ طوفان کا معجزہ کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ جو شخص بھی طوفان کے اس واقعہ پر غور کرے گا اسے عبرت حاصل ہوگی۔
واعتدنا للظلمین عذابا الیما (25 : 37) ” اور ان ظالموں کے لیے ایک درد ناک عذاب ہم نے تیار کر رکھا ہے “۔ یہ عذاب حاضر و موجود ہے۔ کسی تیاری کی ضرورت نہ ہوگی۔ ظالمین کا لفظ ضمیر کی جگہ استعمال کیا گیا تاکہ یہ ان کا دائمی لقب ہو اور یہ بھی بتا دیا جائے کہ یہ عذاب ان کو ان کے ظلم کی وجہ سے دیا جائے گا۔ پھر عاد ‘ ثمود اور اصحاب الرس (وہ لوگ جن کے کنویں کی دیواریں نہ اٹھائی گئی تھیں ‘ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ یمامہ کے ایک گائوں میں رہتے تھے اور انہوں نے اپنے نبی کو قتل کردیا تھا۔ ان جریر نے تو کہا ہے کہ یہ اصحاب الا خدود ہیں جنہوں نے مومنین کو جلا دیا تھا۔ جس کا ذکر سورة بروج میں آیا ہے) ۔ اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ جو بعد کے ادوار میں آتے رہے سب کو اللہ نیہلاک کر کے نشان عبرت بنایا۔ انہوں نے پیغمبروں کی دعوت پر غور نہ کیا اور ہلاکت سے نہ بچ سکے۔
یہ تمام مثالیں ‘ قوم موسیٰ ‘ نوح ‘ عاد ‘ ثمود ‘ اصحاب الرس ‘ درمیان زمانوں کی اقوام اور وہ قوم (لوط) جس پر بری بارش کی گئی۔ یہ سب اقوام ایک ہی راہ اور ایک ہی انجام تک پہنچیں۔ اور سب کو اللہ نے نشانہ عبرت بنایا۔
وکلا تبرنا تتبیرا (25 : 40) ” سب کو ہم نے ہلاک کردیا بےدردی سے “۔ کیونکہ انہوں نے نبیوں کی تکذیب کی اور جو اقوام نبیوں کی تکذیب کرتی ہیں وہ ٹوٹ پھوٹ اور ہلاکت کے انجام سے دو چار ہوتی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان ساری اقوام کے المناک انجام پر نہایت ہی سر سری نظر ڈالتا ہے اور یہ سریع الحرکت بیان آکر حضرت لوط کی قوم کے بیان پر ختم ہوتا ہے جو ان کے اسفار سٹاء و صیف میں شاہراہ عام پر ان کو خوب نظر آتا ہے۔ اللہ نے اس قوم کو آتش نشانی کے عمل کے ذریعہ ہلاک کیا۔ ان پر پتھروں کی بارش کردی گئی۔ اور اس طرح ان کو پوری طرح ہلاک کردیا گیا۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی تکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور مذاق کا رویہ اختیار کیا ہے اور قرآن پر یہ طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔
اقوام مکذبہ پر اس سرسری نظر کے بعد روئے سخن اب ان لوگوں کے مزاحیہ انداز کی طرف پھرجاتا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اللہ کی شان میں بھی ایسی ہی گستاخی کی تھی۔ اور کہا تھا کہ یہ قرآن موجودہ انداز سے کیوں نازل ہورہا ہے۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی مکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور
(واذا راوک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (41 تا 44) ” یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ اس نے تو ہمیں گمراہ کر کے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا۔ اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ اچھا ‘ وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا تھا۔ کبھی تم نے اس شخص کے ال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو۔ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔
حضرت محمد ﷺ اپنی قوم میں دیکھے سنے ہوئے تھے۔ قبل بعثت آپ ﷺ ان کے ہاں اک نہایت معتبر شخص تھے۔ آپ بنی ہاشم کے ایک چوٹی کے فرد تھے جو قریش کے چوٹی کے لوگ تھے۔ اپنے اخلاق کی وجہ سے بھی آپ بڑے مرتبے اور مقام کی شخصیت تھے اور بعثت سے قبل صادق اور امین مشہور تھے۔ جب تعمیر خانہ کعبہ کے وقت حجر اسود رکھنے کے مسئلے پر قریش کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے تو تمام لوگ اس بات پر تیار ہوگئے کہ آپ اس پتھر کو نصب کردیں اور جب آپ نے ان کو صفا پر بلایا اور ان سے پوچھا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے اس طرف ایک فوج آپ لوگوں پر حملہ آور ہو رہی ہے تو کیا آپ میری بات کو تسلیم کریں گے تو سب نے کہا ‘ ہاں آپ ﷺ ہمارے ہاں۔۔ نہیں ہیں۔
لیکن بعثت کے بعد قرآنی دعوت پیش کرنے کے بعد وہی تھے جو حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔
اھذا الذی بعث اللہ (25 : 41) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے “ ۔ یہ فقرہ وہ بطور مذاق کہتے تھے۔ کیا یہ بات تھی کہ نبی ﷺ کی ذات سے وہ مذاق کرنا چاہتے تھے یا قرآن کریم میں کوئی ایسی بات تھی جس کے ساتھ مذاق کیا جاسکتا تھا۔ نہیں ‘ یہ دونوں باتیں نہ تھیں بلکہ یہ بات وہ کبرائے قریش کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہتے تھے۔ اس طرح وہ نبی ﷺ کی عظیم شخصیت کی کردار کشی کرنا چاہتے تھے۔ اور اس طرح وہ قرآن کریم کے بےپناہ اثرات کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے۔ یہ انہوں نے اس جدید دعوت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک تدبیر اختیار کی تھی کیونکہ سابقہ معاشرے میں ان کو جو مقام اور مرتبہ حاصل تھا ‘ اس کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ نیز ان کے بعض اقتصادی مفادات سابقہ نظام جاہلیت سے وابستہ تھے۔ یہ منصبی اور اقتصادی حیثیت ان کو ان نظریاتی خرافات کی وجہ سے حاصل تھی جو عربی معاشرے پر چھائے ہوئے تھے اور قرآن ان خرافات لایعنی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہا تھا۔
یہ لوگ جدید دعوت کا مقابلہ کرے کے لیے بڑی بڑی مجلسیں کرتے تھے۔ ان مجالس میں یہ لوگ اس قسم کے غلط پروپینڈے اور جھوٹے کردار کشی کے فیصلے کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ یہ سب کچھ جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ ابن اسحاق نے روایت کی ہے کہ ایک بار ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ بڑا معمو اور دانشور شخص تھا۔ موسم حج قریب تھا۔ اس نے ان قریشیوں سے کہا کہ موسم حج آنے والا ہے۔ تمام عالم عرب سے وفود مکہ آئیں گے۔ انہوں نے تمہارے اس آدمی کے بارے میں تو سن رکھا ہے۔ لہذا مناسب ہے کہ اس کے بارے میں تم اپنی رائے ایک کرلو۔ یہ نہ ہو کہ تم مختلف باتیں کرو۔ اور ایک دوسرے کی تکذیب کرتے پھرو۔ انہوں نے کہا عبدالشمس کے باپ بس تم ہی بتا دو تم ایک رائے قائم کرکے ہمیں کہو ہم سب وہی بات کریں گے ‘ یہ سنکر اس نے کہا کہ پہلے تم بتائو کہ تم کیا کہو گے۔ میں دیکھوں کہ تم کیا کہتے ہو۔ انہوں نے کہا ہم اس کے بارے میں کہیں گے کہ یہ ایک کاہن ہے۔ اس نے کہا ‘ خدا کی قسم یہ بات غلط ہے۔ یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ یہ نہ ان کی طرح گنگناتا ہے اور نہ ان کی طرح سجع بندی کے ذریعے بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا : تو پھر ہم کہیں گے کہ یہ مجنوں ہے۔ تو اس نے کہا کہ یہ مجنوں بھی نہیں ہے۔ ہم مجنونوں کو اچھی طرح دیکھتے اور جانتے ہیں۔ نہ مجنوں کی طرح اس کا گلا گھٹتا ہے نہ اسے کوئی خلجان ہے اور نہ کوئی وسوسہ ہے۔ تو انہوں نے کہا تو پھر ہم کہیں گے یہ ایک شاعر ہے۔ تو اس نے کہا وہ تو شاعر نہیں ہے۔ شعر کی اقسام اور اوزان ‘ رجز ‘ ہزج ‘ قریض ‘ مقبوض اور مبسوط کو ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا تو ہم پھر کہیں گے کہ یہ جادو گر ہے تو اس نے کہا وہ تو جادو گر نہیں ہے۔ ہم نے جادو گروں کے جادو کو دیکھا ہے۔ نہ وہ ان کی طرح پھونکتا ہے ‘ نہ گرہیں ڈالتا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ عبدالشمس کے باپ تم ہی بتائو کہ پھر ہم کیا کہیں ؟ اس نے کہا خاد کی قسم اس کا کلام بہت میٹھا ہے۔ اس کی اساس ایک موٹے تنے پر ہے اور اس کی شاخیں تازہ پھول کی طرح ہیں۔ ان باتوں میں سے تم جو بات بھی کہو گے لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ غلط بات کہی جارہی ہے۔ بہر حال سب سے مناسب بات جو تم کہہ سکتے ہو وہ یہ ہے کہ وہ ساحر ہے اور اس کا کلام اس قدر جادو بھرا ہے کہ ایک شخص اور اس کے باپ ‘ اس کے بھائی ‘ اس کی بیوی اور اس کے خاندان کے درمیان جدائی ڈال دیتا ہے۔ چناچہ یہ بات لے کر وہ اس کے پاس سے چلے گئے۔ جب حج کا موسم آتا تو یہ لوگ راستوں میں بیٹھ جاتے ‘ جو شخص بھی ان پر سے گزرتا اسے ڈراتے اور حضرت محمد ﷺ کے بارے میں بتاتے رہتے۔
یہ ہے مثال ان کی گہری سازش اور تدبیر کی وجو وہ حضور ﷺ کے خلاف کرتے تھے اور یہ سازش وہ جانتے ہوئے کرتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ سچے ہیں۔ اس لیے یہ جو وہ کہتے تھے :” کیا اس شخص کو اللہ کا رسول بنا کر بھیجا ہے “ یہ بطور تمسخر نہ کہتے تھے ‘ بلکہ یہ وہ گہری سازش کے تحت محض کردار کشی کے لیے کہتے تھے حالانکہ ان کا شعور گواہ تھا کہ وہ حضور ﷺ کو حق پر سمجھتے تھے۔ یہ باتیں کہہ کر وہ عوام کی نظروں میں حضور ﷺ کی شان گراتے تھے تاکہ سابقہ نظام میں ان کو جو عزت اور مرتبہ کا مقام حاصل تھا وہ باقی رہے اور جو مالی مفادات ان کو حاصل ہوتے تھے وہ ان کو حاصل ہوتے رہیں۔ قریش نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف جو رویہ اختیار کیا ‘ ہر زمان و مکان میں دعوت حق کے ساتھ مفاد پرست لوگ یہی سلوک کرتے ہیں۔
زبانی طور پر تو وہ مذاق کے انداز میں پروپیگنڈے کرتے تھے اور آپ کی کردار کشی کرتے تھے لیکن خود ان کی باتوں سے یہ بات ظاہر ہوجاتی تھی کہ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کی دعوت سے کس قدر گھبرائے ہوئے تھے۔ وہ قرآن کریم کے اٹل دلائل کے بارے میں یہ تبصرہ بھی کرتے تھے۔
(ان کاد۔۔۔۔۔۔۔۔ علیھا) (25 : 42) ” اس نے ہمیں گمراہ کرکے اپنے معبودوں سے برگشتہ کر ہی دیا ہوتا اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی ذہنی دنیا میں ایک قسم کا بھونچال آگیا تھا۔ قریب تھا کہ وہ اپنے الہوں کو چھوڑ کر بھاگ جائیں لیکن وہ بڑی استقامت سے اپنے الہوں پر جم گئے۔ اپنے دین اور اس کے ساتھ وابستہ مناسب ومفادات کو بچاتے رہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے یعنی مقابلہ کر کے صبر اور مصابرت سے کام نہ لیتے تو وہ بھی اپنے الہوں کو ترک کرچکے ہوتے۔ تعجب یہ ہے کہ اپنی ہٹ دھرمی اور مفادات کی وجہ سے یہ لوگ ہدایت کو ضلالت کہتے۔ یہی تو ان کی ضلالت تھی کہ خرد کا نام جنوں رکھ رہے تھے لیکن حضرت محمد ﷺ کی دعوت نے ان کے ایوانوں میں جو زلزلہ برپا کردیا تھا اس کو وہ چھپا نہ سکے۔ اگر چہ غایت درجہ ہٹ دھرمی اور اصرار کی وجہ سے وہ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت اور قرآن پر حرف گیری کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ بھی انہیں خبردار فرماتا ہے کہ بہت جلد وہ اپنے انجام تک پہنچ جائیں گے۔
(وسوف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (25 : 42) ” وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا ہے “۔ ان کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ حضرت محمد ﷺ جو دعوت لے کر آئے تھے وہ تو ہدایت تھی اور جس پر وہ قائم تھے وہ ضلالت تھی۔ لیکن جب وقت چلا جاتا ہے تو پھر علم کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ اس وقت تو وہ عذاب دیکھ لیں گے۔ خواہ یہ عذاب دنیا کا ہو ‘ جس طرح بدر کے دن انہوں نے خوب چکھا ‘ یا آخرت کا ہو جسے وہ یوم الحساب میں دیکھیں گے ‘ جانیں گے اور چکھیں گے۔
اب روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو ان کے عناد ہٹ دھرمی اور استہزاء پر تسلی دی جاتی ہے کہ آپ نے تو دعوت پہنچا نے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ آپ نے پورے پورے دلائل سنا دیئے اور مناسب نہ تھا کہ ان کا ردعمل وہ ہوتا جو ہوا ہے۔ قصور صرف ان کا ہے۔ انہوں نے دراصل اپنی خواہشات نفسانیہ کو اپنا الہٰ بنارکھا ہے۔ اور وہ کسی محبت اور برہان کی طرف توجہ کرنے والے نہیں ہیں۔ اگر لوگ نہیں مانتے تو رسول ﷺ کیا کرسکتا ہے۔
(ارءیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکیلا) ( ُ 25 : 43) ” کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ‘ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لے آنے کا ذمہ لے سکتے ہو “۔ یہ عجیب انداز بیان ہے۔ اس سے ان کی عجیب نفسیاتی حالت کا اظہار ہوتا ہے کہ کسی شخص کا نفس تمام طے شدہ معیار ‘ تمام مسلمہ استدلال ‘ تمام طے شدہ اقدار کو چھوڑ کر صرف اپنی خواہش نفس ‘ اپنی پسند اور اپنی ضد کی بندگی شروع کردے۔ کسی استدلال ‘ کسی برہان ‘ کسی منطق اور کسی سنجیدہ بات پر کان نہ دھرے۔ بس صرف اپنی خواہش کو الہٰ بنا کر پوجے۔
اللہ جل شانہ اپنے بندے کو نہایت ہی نرمی ‘ محبت ‘ انس اور گہرے تعلق کے انداز میں پکارتا ہے۔ ارئیت کیا کبھی تم نے غور کیا ہے ‘ کیا تمہیں علوم ہے۔ ایسے شخص کی تصویر کشی کی جارہی ہے جس کے سامنے کوئی معقول بات پیش کرنا فضول ہے۔ وہ حجت ‘ حقیقت اور غور وفکر کو جانتا ہی نہیں ہے۔ ان چیزوں کی اس کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کو تسلی کے طور پر کہا جاتا ہے کہ ایسا شخص ہدایت کے قابل ہی نہیں ہے۔ لہذا آپ کے ذمہ ایسے شخص کی ہدایت نہیں لگائی جاسکتی اور نہ آپ ایسے شخص کے وکیل ہو سکتے ہیں۔ اور نہ ایسے لوگ ہدایت تک پہنچ سکتے ہیں۔
افانت تکون علیہ وکیلا (25 : 43) ” کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ “ یہ لوگ جنہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود اور الہٰ بنا رکھا ہے ‘ ان کی اصل حیثیت اور ان کا اصل مقام بھی یہاں بتا دیا جاتا ہے کہ یہ بہت ہی حقیر لوگ ہیں۔ یہ محض اپنی خواہشات اور مفادات کے بندے ہیں۔ یہ حجت اور حقیقت کے آگے جھکنے والے نہیں ہیں۔ بلکہ یہ خواہشات اور مفادات کے آگے سجدہ ریز ہونے والے ہیں۔ بلکہ ان کو اس سے بھی زیادہ گرا ہوا مقام دیا جاتا ہے کہ مقام انسانیت سے گر کر مقام حیوانیت خالصہ میں داخل ہوگئے ہیں بلکہ اس سے بھی نیچے۔
(ام تحسب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی محتاط انداز کلام اختیار فرمایا ہے۔ یہ کہا ہے اکثرھم سب نہیں بلکہ ان کی اکثریت ایسی ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کی ایک قلیل لعداد تو ابتداء ہی میں حلقہ بگوش اسلام ہوگئی تھی۔ یا انمیں سے اکثر اس پر غور کرتے تھے۔ البتہ اکثریت ایسی تھی جو محض خواہش نفسی اور مفادات کی خاطر نہ مانتی تھی۔ ان کے کانوں پر دلائل پڑتے تھے۔ ان کی عقل اسے مانتی تھی لیکن پھر بھی ضد کرتے تھے۔ یہ گویا جانور محض تھے۔ انسان اور انور میں فرق ہی یہ ہیکہانسان غور وفکر کرتا ہے اور پھر انسان اپنے غور وفکر کے مطابق اچھا طرز عمل بھی اختیار کرتا ہے۔ بصیرت اور قصد و ارادے سے حقائق کو اپناتا ہے۔ حجت اور دلیل سے بات کرتا ہے اور سنتا ہے۔ اور اگر انسان اپنے ان خصائص کو چھوڑ دے تو وہ بہائم سے بھی بد تر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ بہائم کو اللہ نے جو شعور دیا ہے وہ تو اس سے استفادہ کرتے ہیں اور انسان کو جو عقل و دانش دی گئی ہے وہ اس سے اسفادہ نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے فرائض منصبی صحیح طرح ادا کرتے ہیں لیکن انسان ادا نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے شعور سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ اپنے تدبر سے کام نہیں لیتا۔
(ان ھم الا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” “۔ یہ ہے جواب ان کے استہزاء کا ۔ یعنی تم انسان ہی نہیں ہو ‘ حیوانوں سے بد تر ہو۔ اس لیے تم سرور کو نین حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے ہو۔ یوں اس سبق کا خاتمہ ‘ جواب آل غزل پر ہوتا ہے۔
الفرقان 25:38
(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (35 تا 40) ”
یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔
القوم الذین کذبوا بایتنا (25 : 36) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘ رسولوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ابھی دوسری آیت ختم نہیں ہوئی کہ بڑی سختی سے انجام بتادیا جاتا ہے۔
فدمرنھم تد میرا (25 : 36) ” آخر کار ان لوگوں کو ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے “۔
اس کے بعد قوم نوح کا حال
کذبوا الرسل اغرقنھم (25 : 37) ” انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو غرق کردیا “
قوم نوح نے تو صرف ایک رسول حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت نوح نے جو عقیدہ ان کے سامنے پیش کیا تھا وہ تمام نبیوں کا عقیدہ تھا۔ جب انہوں نے حضرت نوح کو جھٹلایا تو گویا تمام رسولوں کو جھٹلادیا۔
وجعلنھم للناس ایۃ (25 : 37) ” اور ان کو دنیا بھر کے لوگوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا “۔ کیونکہ طوفان کا معجزہ کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ جو شخص بھی طوفان کے اس واقعہ پر غور کرے گا اسے عبرت حاصل ہوگی۔
واعتدنا للظلمین عذابا الیما (25 : 37) ” اور ان ظالموں کے لیے ایک درد ناک عذاب ہم نے تیار کر رکھا ہے “۔ یہ عذاب حاضر و موجود ہے۔ کسی تیاری کی ضرورت نہ ہوگی۔ ظالمین کا لفظ ضمیر کی جگہ استعمال کیا گیا تاکہ یہ ان کا دائمی لقب ہو اور یہ بھی بتا دیا جائے کہ یہ عذاب ان کو ان کے ظلم کی وجہ سے دیا جائے گا۔ پھر عاد ‘ ثمود اور اصحاب الرس (وہ لوگ جن کے کنویں کی دیواریں نہ اٹھائی گئی تھیں ‘ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ یمامہ کے ایک گائوں میں رہتے تھے اور انہوں نے اپنے نبی کو قتل کردیا تھا۔ ان جریر نے تو کہا ہے کہ یہ اصحاب الا خدود ہیں جنہوں نے مومنین کو جلا دیا تھا۔ جس کا ذکر سورة بروج میں آیا ہے) ۔ اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ جو بعد کے ادوار میں آتے رہے سب کو اللہ نیہلاک کر کے نشان عبرت بنایا۔ انہوں نے پیغمبروں کی دعوت پر غور نہ کیا اور ہلاکت سے نہ بچ سکے۔
یہ تمام مثالیں ‘ قوم موسیٰ ‘ نوح ‘ عاد ‘ ثمود ‘ اصحاب الرس ‘ درمیان زمانوں کی اقوام اور وہ قوم (لوط) جس پر بری بارش کی گئی۔ یہ سب اقوام ایک ہی راہ اور ایک ہی انجام تک پہنچیں۔ اور سب کو اللہ نے نشانہ عبرت بنایا۔
وکلا تبرنا تتبیرا (25 : 40) ” سب کو ہم نے ہلاک کردیا بےدردی سے “۔ کیونکہ انہوں نے نبیوں کی تکذیب کی اور جو اقوام نبیوں کی تکذیب کرتی ہیں وہ ٹوٹ پھوٹ اور ہلاکت کے انجام سے دو چار ہوتی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان ساری اقوام کے المناک انجام پر نہایت ہی سر سری نظر ڈالتا ہے اور یہ سریع الحرکت بیان آکر حضرت لوط کی قوم کے بیان پر ختم ہوتا ہے جو ان کے اسفار سٹاء و صیف میں شاہراہ عام پر ان کو خوب نظر آتا ہے۔ اللہ نے اس قوم کو آتش نشانی کے عمل کے ذریعہ ہلاک کیا۔ ان پر پتھروں کی بارش کردی گئی۔ اور اس طرح ان کو پوری طرح ہلاک کردیا گیا۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی تکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور مذاق کا رویہ اختیار کیا ہے اور قرآن پر یہ طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔
اقوام مکذبہ پر اس سرسری نظر کے بعد روئے سخن اب ان لوگوں کے مزاحیہ انداز کی طرف پھرجاتا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اللہ کی شان میں بھی ایسی ہی گستاخی کی تھی۔ اور کہا تھا کہ یہ قرآن موجودہ انداز سے کیوں نازل ہورہا ہے۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی مکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور
(واذا راوک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (41 تا 44) ” یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ اس نے تو ہمیں گمراہ کر کے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا۔ اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ اچھا ‘ وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا تھا۔ کبھی تم نے اس شخص کے ال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو۔ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔
حضرت محمد ﷺ اپنی قوم میں دیکھے سنے ہوئے تھے۔ قبل بعثت آپ ﷺ ان کے ہاں اک نہایت معتبر شخص تھے۔ آپ بنی ہاشم کے ایک چوٹی کے فرد تھے جو قریش کے چوٹی کے لوگ تھے۔ اپنے اخلاق کی وجہ سے بھی آپ بڑے مرتبے اور مقام کی شخصیت تھے اور بعثت سے قبل صادق اور امین مشہور تھے۔ جب تعمیر خانہ کعبہ کے وقت حجر اسود رکھنے کے مسئلے پر قریش کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے تو تمام لوگ اس بات پر تیار ہوگئے کہ آپ اس پتھر کو نصب کردیں اور جب آپ نے ان کو صفا پر بلایا اور ان سے پوچھا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے اس طرف ایک فوج آپ لوگوں پر حملہ آور ہو رہی ہے تو کیا آپ میری بات کو تسلیم کریں گے تو سب نے کہا ‘ ہاں آپ ﷺ ہمارے ہاں۔۔ نہیں ہیں۔
لیکن بعثت کے بعد قرآنی دعوت پیش کرنے کے بعد وہی تھے جو حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔
اھذا الذی بعث اللہ (25 : 41) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے “ ۔ یہ فقرہ وہ بطور مذاق کہتے تھے۔ کیا یہ بات تھی کہ نبی ﷺ کی ذات سے وہ مذاق کرنا چاہتے تھے یا قرآن کریم میں کوئی ایسی بات تھی جس کے ساتھ مذاق کیا جاسکتا تھا۔ نہیں ‘ یہ دونوں باتیں نہ تھیں بلکہ یہ بات وہ کبرائے قریش کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہتے تھے۔ اس طرح وہ نبی ﷺ کی عظیم شخصیت کی کردار کشی کرنا چاہتے تھے۔ اور اس طرح وہ قرآن کریم کے بےپناہ اثرات کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے۔ یہ انہوں نے اس جدید دعوت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک تدبیر اختیار کی تھی کیونکہ سابقہ معاشرے میں ان کو جو مقام اور مرتبہ حاصل تھا ‘ اس کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ نیز ان کے بعض اقتصادی مفادات سابقہ نظام جاہلیت سے وابستہ تھے۔ یہ منصبی اور اقتصادی حیثیت ان کو ان نظریاتی خرافات کی وجہ سے حاصل تھی جو عربی معاشرے پر چھائے ہوئے تھے اور قرآن ان خرافات لایعنی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہا تھا۔
یہ لوگ جدید دعوت کا مقابلہ کرے کے لیے بڑی بڑی مجلسیں کرتے تھے۔ ان مجالس میں یہ لوگ اس قسم کے غلط پروپینڈے اور جھوٹے کردار کشی کے فیصلے کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ یہ سب کچھ جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ ابن اسحاق نے روایت کی ہے کہ ایک بار ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ بڑا معمو اور دانشور شخص تھا۔ موسم حج قریب تھا۔ اس نے ان قریشیوں سے کہا کہ موسم حج آنے والا ہے۔ تمام عالم عرب سے وفود مکہ آئیں گے۔ انہوں نے تمہارے اس آدمی کے بارے میں تو سن رکھا ہے۔ لہذا مناسب ہے کہ اس کے بارے میں تم اپنی رائے ایک کرلو۔ یہ نہ ہو کہ تم مختلف باتیں کرو۔ اور ایک دوسرے کی تکذیب کرتے پھرو۔ انہوں نے کہا عبدالشمس کے باپ بس تم ہی بتا دو تم ایک رائے قائم کرکے ہمیں کہو ہم سب وہی بات کریں گے ‘ یہ سنکر اس نے کہا کہ پہلے تم بتائو کہ تم کیا کہو گے۔ میں دیکھوں کہ تم کیا کہتے ہو۔ انہوں نے کہا ہم اس کے بارے میں کہیں گے کہ یہ ایک کاہن ہے۔ اس نے کہا ‘ خدا کی قسم یہ بات غلط ہے۔ یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ یہ نہ ان کی طرح گنگناتا ہے اور نہ ان کی طرح سجع بندی کے ذریعے بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا : تو پھر ہم کہیں گے کہ یہ مجنوں ہے۔ تو اس نے کہا کہ یہ مجنوں بھی نہیں ہے۔ ہم مجنونوں کو اچھی طرح دیکھتے اور جانتے ہیں۔ نہ مجنوں کی طرح اس کا گلا گھٹتا ہے نہ اسے کوئی خلجان ہے اور نہ کوئی وسوسہ ہے۔ تو انہوں نے کہا تو پھر ہم کہیں گے یہ ایک شاعر ہے۔ تو اس نے کہا وہ تو شاعر نہیں ہے۔ شعر کی اقسام اور اوزان ‘ رجز ‘ ہزج ‘ قریض ‘ مقبوض اور مبسوط کو ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا تو ہم پھر کہیں گے کہ یہ جادو گر ہے تو اس نے کہا وہ تو جادو گر نہیں ہے۔ ہم نے جادو گروں کے جادو کو دیکھا ہے۔ نہ وہ ان کی طرح پھونکتا ہے ‘ نہ گرہیں ڈالتا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ عبدالشمس کے باپ تم ہی بتائو کہ پھر ہم کیا کہیں ؟ اس نے کہا خاد کی قسم اس کا کلام بہت میٹھا ہے۔ اس کی اساس ایک موٹے تنے پر ہے اور اس کی شاخیں تازہ پھول کی طرح ہیں۔ ان باتوں میں سے تم جو بات بھی کہو گے لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ غلط بات کہی جارہی ہے۔ بہر حال سب سے مناسب بات جو تم کہہ سکتے ہو وہ یہ ہے کہ وہ ساحر ہے اور اس کا کلام اس قدر جادو بھرا ہے کہ ایک شخص اور اس کے باپ ‘ اس کے بھائی ‘ اس کی بیوی اور اس کے خاندان کے درمیان جدائی ڈال دیتا ہے۔ چناچہ یہ بات لے کر وہ اس کے پاس سے چلے گئے۔ جب حج کا موسم آتا تو یہ لوگ راستوں میں بیٹھ جاتے ‘ جو شخص بھی ان پر سے گزرتا اسے ڈراتے اور حضرت محمد ﷺ کے بارے میں بتاتے رہتے۔
یہ ہے مثال ان کی گہری سازش اور تدبیر کی وجو وہ حضور ﷺ کے خلاف کرتے تھے اور یہ سازش وہ جانتے ہوئے کرتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ سچے ہیں۔ اس لیے یہ جو وہ کہتے تھے :” کیا اس شخص کو اللہ کا رسول بنا کر بھیجا ہے “ یہ بطور تمسخر نہ کہتے تھے ‘ بلکہ یہ وہ گہری سازش کے تحت محض کردار کشی کے لیے کہتے تھے حالانکہ ان کا شعور گواہ تھا کہ وہ حضور ﷺ کو حق پر سمجھتے تھے۔ یہ باتیں کہہ کر وہ عوام کی نظروں میں حضور ﷺ کی شان گراتے تھے تاکہ سابقہ نظام میں ان کو جو عزت اور مرتبہ کا مقام حاصل تھا وہ باقی رہے اور جو مالی مفادات ان کو حاصل ہوتے تھے وہ ان کو حاصل ہوتے رہیں۔ قریش نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف جو رویہ اختیار کیا ‘ ہر زمان و مکان میں دعوت حق کے ساتھ مفاد پرست لوگ یہی سلوک کرتے ہیں۔
زبانی طور پر تو وہ مذاق کے انداز میں پروپیگنڈے کرتے تھے اور آپ کی کردار کشی کرتے تھے لیکن خود ان کی باتوں سے یہ بات ظاہر ہوجاتی تھی کہ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کی دعوت سے کس قدر گھبرائے ہوئے تھے۔ وہ قرآن کریم کے اٹل دلائل کے بارے میں یہ تبصرہ بھی کرتے تھے۔
(ان کاد۔۔۔۔۔۔۔۔ علیھا) (25 : 42) ” اس نے ہمیں گمراہ کرکے اپنے معبودوں سے برگشتہ کر ہی دیا ہوتا اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی ذہنی دنیا میں ایک قسم کا بھونچال آگیا تھا۔ قریب تھا کہ وہ اپنے الہوں کو چھوڑ کر بھاگ جائیں لیکن وہ بڑی استقامت سے اپنے الہوں پر جم گئے۔ اپنے دین اور اس کے ساتھ وابستہ مناسب ومفادات کو بچاتے رہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے یعنی مقابلہ کر کے صبر اور مصابرت سے کام نہ لیتے تو وہ بھی اپنے الہوں کو ترک کرچکے ہوتے۔ تعجب یہ ہے کہ اپنی ہٹ دھرمی اور مفادات کی وجہ سے یہ لوگ ہدایت کو ضلالت کہتے۔ یہی تو ان کی ضلالت تھی کہ خرد کا نام جنوں رکھ رہے تھے لیکن حضرت محمد ﷺ کی دعوت نے ان کے ایوانوں میں جو زلزلہ برپا کردیا تھا اس کو وہ چھپا نہ سکے۔ اگر چہ غایت درجہ ہٹ دھرمی اور اصرار کی وجہ سے وہ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت اور قرآن پر حرف گیری کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ بھی انہیں خبردار فرماتا ہے کہ بہت جلد وہ اپنے انجام تک پہنچ جائیں گے۔
(وسوف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (25 : 42) ” وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا ہے “۔ ان کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ حضرت محمد ﷺ جو دعوت لے کر آئے تھے وہ تو ہدایت تھی اور جس پر وہ قائم تھے وہ ضلالت تھی۔ لیکن جب وقت چلا جاتا ہے تو پھر علم کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ اس وقت تو وہ عذاب دیکھ لیں گے۔ خواہ یہ عذاب دنیا کا ہو ‘ جس طرح بدر کے دن انہوں نے خوب چکھا ‘ یا آخرت کا ہو جسے وہ یوم الحساب میں دیکھیں گے ‘ جانیں گے اور چکھیں گے۔
اب روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو ان کے عناد ہٹ دھرمی اور استہزاء پر تسلی دی جاتی ہے کہ آپ نے تو دعوت پہنچا نے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ آپ نے پورے پورے دلائل سنا دیئے اور مناسب نہ تھا کہ ان کا ردعمل وہ ہوتا جو ہوا ہے۔ قصور صرف ان کا ہے۔ انہوں نے دراصل اپنی خواہشات نفسانیہ کو اپنا الہٰ بنارکھا ہے۔ اور وہ کسی محبت اور برہان کی طرف توجہ کرنے والے نہیں ہیں۔ اگر لوگ نہیں مانتے تو رسول ﷺ کیا کرسکتا ہے۔
(ارءیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکیلا) ( ُ 25 : 43) ” کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ‘ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لے آنے کا ذمہ لے سکتے ہو “۔ یہ عجیب انداز بیان ہے۔ اس سے ان کی عجیب نفسیاتی حالت کا اظہار ہوتا ہے کہ کسی شخص کا نفس تمام طے شدہ معیار ‘ تمام مسلمہ استدلال ‘ تمام طے شدہ اقدار کو چھوڑ کر صرف اپنی خواہش نفس ‘ اپنی پسند اور اپنی ضد کی بندگی شروع کردے۔ کسی استدلال ‘ کسی برہان ‘ کسی منطق اور کسی سنجیدہ بات پر کان نہ دھرے۔ بس صرف اپنی خواہش کو الہٰ بنا کر پوجے۔
اللہ جل شانہ اپنے بندے کو نہایت ہی نرمی ‘ محبت ‘ انس اور گہرے تعلق کے انداز میں پکارتا ہے۔ ارئیت کیا کبھی تم نے غور کیا ہے ‘ کیا تمہیں علوم ہے۔ ایسے شخص کی تصویر کشی کی جارہی ہے جس کے سامنے کوئی معقول بات پیش کرنا فضول ہے۔ وہ حجت ‘ حقیقت اور غور وفکر کو جانتا ہی نہیں ہے۔ ان چیزوں کی اس کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کو تسلی کے طور پر کہا جاتا ہے کہ ایسا شخص ہدایت کے قابل ہی نہیں ہے۔ لہذا آپ کے ذمہ ایسے شخص کی ہدایت نہیں لگائی جاسکتی اور نہ آپ ایسے شخص کے وکیل ہو سکتے ہیں۔ اور نہ ایسے لوگ ہدایت تک پہنچ سکتے ہیں۔
افانت تکون علیہ وکیلا (25 : 43) ” کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ “ یہ لوگ جنہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود اور الہٰ بنا رکھا ہے ‘ ان کی اصل حیثیت اور ان کا اصل مقام بھی یہاں بتا دیا جاتا ہے کہ یہ بہت ہی حقیر لوگ ہیں۔ یہ محض اپنی خواہشات اور مفادات کے بندے ہیں۔ یہ حجت اور حقیقت کے آگے جھکنے والے نہیں ہیں۔ بلکہ یہ خواہشات اور مفادات کے آگے سجدہ ریز ہونے والے ہیں۔ بلکہ ان کو اس سے بھی زیادہ گرا ہوا مقام دیا جاتا ہے کہ مقام انسانیت سے گر کر مقام حیوانیت خالصہ میں داخل ہوگئے ہیں بلکہ اس سے بھی نیچے۔
(ام تحسب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی محتاط انداز کلام اختیار فرمایا ہے۔ یہ کہا ہے اکثرھم سب نہیں بلکہ ان کی اکثریت ایسی ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کی ایک قلیل لعداد تو ابتداء ہی میں حلقہ بگوش اسلام ہوگئی تھی۔ یا انمیں سے اکثر اس پر غور کرتے تھے۔ البتہ اکثریت ایسی تھی جو محض خواہش نفسی اور مفادات کی خاطر نہ مانتی تھی۔ ان کے کانوں پر دلائل پڑتے تھے۔ ان کی عقل اسے مانتی تھی لیکن پھر بھی ضد کرتے تھے۔ یہ گویا جانور محض تھے۔ انسان اور انور میں فرق ہی یہ ہیکہانسان غور وفکر کرتا ہے اور پھر انسان اپنے غور وفکر کے مطابق اچھا طرز عمل بھی اختیار کرتا ہے۔ بصیرت اور قصد و ارادے سے حقائق کو اپناتا ہے۔ حجت اور دلیل سے بات کرتا ہے اور سنتا ہے۔ اور اگر انسان اپنے ان خصائص کو چھوڑ دے تو وہ بہائم سے بھی بد تر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ بہائم کو اللہ نے جو شعور دیا ہے وہ تو اس سے استفادہ کرتے ہیں اور انسان کو جو عقل و دانش دی گئی ہے وہ اس سے اسفادہ نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے فرائض منصبی صحیح طرح ادا کرتے ہیں لیکن انسان ادا نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے شعور سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ اپنے تدبر سے کام نہیں لیتا۔
(ان ھم الا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” “۔ یہ ہے جواب ان کے استہزاء کا ۔ یعنی تم انسان ہی نہیں ہو ‘ حیوانوں سے بد تر ہو۔ اس لیے تم سرور کو نین حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے ہو۔ یوں اس سبق کا خاتمہ ‘ جواب آل غزل پر ہوتا ہے۔
الفرقان 25:39
(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (35 تا 40) ”
یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔
القوم الذین کذبوا بایتنا (25 : 36) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘ رسولوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ابھی دوسری آیت ختم نہیں ہوئی کہ بڑی سختی سے انجام بتادیا جاتا ہے۔
فدمرنھم تد میرا (25 : 36) ” آخر کار ان لوگوں کو ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے “۔
اس کے بعد قوم نوح کا حال
کذبوا الرسل اغرقنھم (25 : 37) ” انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو غرق کردیا “
قوم نوح نے تو صرف ایک رسول حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت نوح نے جو عقیدہ ان کے سامنے پیش کیا تھا وہ تمام نبیوں کا عقیدہ تھا۔ جب انہوں نے حضرت نوح کو جھٹلایا تو گویا تمام رسولوں کو جھٹلادیا۔
وجعلنھم للناس ایۃ (25 : 37) ” اور ان کو دنیا بھر کے لوگوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا “۔ کیونکہ طوفان کا معجزہ کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ جو شخص بھی طوفان کے اس واقعہ پر غور کرے گا اسے عبرت حاصل ہوگی۔
واعتدنا للظلمین عذابا الیما (25 : 37) ” اور ان ظالموں کے لیے ایک درد ناک عذاب ہم نے تیار کر رکھا ہے “۔ یہ عذاب حاضر و موجود ہے۔ کسی تیاری کی ضرورت نہ ہوگی۔ ظالمین کا لفظ ضمیر کی جگہ استعمال کیا گیا تاکہ یہ ان کا دائمی لقب ہو اور یہ بھی بتا دیا جائے کہ یہ عذاب ان کو ان کے ظلم کی وجہ سے دیا جائے گا۔ پھر عاد ‘ ثمود اور اصحاب الرس (وہ لوگ جن کے کنویں کی دیواریں نہ اٹھائی گئی تھیں ‘ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ یمامہ کے ایک گائوں میں رہتے تھے اور انہوں نے اپنے نبی کو قتل کردیا تھا۔ ان جریر نے تو کہا ہے کہ یہ اصحاب الا خدود ہیں جنہوں نے مومنین کو جلا دیا تھا۔ جس کا ذکر سورة بروج میں آیا ہے) ۔ اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ جو بعد کے ادوار میں آتے رہے سب کو اللہ نیہلاک کر کے نشان عبرت بنایا۔ انہوں نے پیغمبروں کی دعوت پر غور نہ کیا اور ہلاکت سے نہ بچ سکے۔
یہ تمام مثالیں ‘ قوم موسیٰ ‘ نوح ‘ عاد ‘ ثمود ‘ اصحاب الرس ‘ درمیان زمانوں کی اقوام اور وہ قوم (لوط) جس پر بری بارش کی گئی۔ یہ سب اقوام ایک ہی راہ اور ایک ہی انجام تک پہنچیں۔ اور سب کو اللہ نے نشانہ عبرت بنایا۔
وکلا تبرنا تتبیرا (25 : 40) ” سب کو ہم نے ہلاک کردیا بےدردی سے “۔ کیونکہ انہوں نے نبیوں کی تکذیب کی اور جو اقوام نبیوں کی تکذیب کرتی ہیں وہ ٹوٹ پھوٹ اور ہلاکت کے انجام سے دو چار ہوتی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان ساری اقوام کے المناک انجام پر نہایت ہی سر سری نظر ڈالتا ہے اور یہ سریع الحرکت بیان آکر حضرت لوط کی قوم کے بیان پر ختم ہوتا ہے جو ان کے اسفار سٹاء و صیف میں شاہراہ عام پر ان کو خوب نظر آتا ہے۔ اللہ نے اس قوم کو آتش نشانی کے عمل کے ذریعہ ہلاک کیا۔ ان پر پتھروں کی بارش کردی گئی۔ اور اس طرح ان کو پوری طرح ہلاک کردیا گیا۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی تکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور مذاق کا رویہ اختیار کیا ہے اور قرآن پر یہ طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔
اقوام مکذبہ پر اس سرسری نظر کے بعد روئے سخن اب ان لوگوں کے مزاحیہ انداز کی طرف پھرجاتا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اللہ کی شان میں بھی ایسی ہی گستاخی کی تھی۔ اور کہا تھا کہ یہ قرآن موجودہ انداز سے کیوں نازل ہورہا ہے۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی مکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور
(واذا راوک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (41 تا 44) ” یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ اس نے تو ہمیں گمراہ کر کے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا۔ اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ اچھا ‘ وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا تھا۔ کبھی تم نے اس شخص کے ال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو۔ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔
حضرت محمد ﷺ اپنی قوم میں دیکھے سنے ہوئے تھے۔ قبل بعثت آپ ﷺ ان کے ہاں اک نہایت معتبر شخص تھے۔ آپ بنی ہاشم کے ایک چوٹی کے فرد تھے جو قریش کے چوٹی کے لوگ تھے۔ اپنے اخلاق کی وجہ سے بھی آپ بڑے مرتبے اور مقام کی شخصیت تھے اور بعثت سے قبل صادق اور امین مشہور تھے۔ جب تعمیر خانہ کعبہ کے وقت حجر اسود رکھنے کے مسئلے پر قریش کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے تو تمام لوگ اس بات پر تیار ہوگئے کہ آپ اس پتھر کو نصب کردیں اور جب آپ نے ان کو صفا پر بلایا اور ان سے پوچھا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے اس طرف ایک فوج آپ لوگوں پر حملہ آور ہو رہی ہے تو کیا آپ میری بات کو تسلیم کریں گے تو سب نے کہا ‘ ہاں آپ ﷺ ہمارے ہاں۔۔ نہیں ہیں۔
لیکن بعثت کے بعد قرآنی دعوت پیش کرنے کے بعد وہی تھے جو حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔
اھذا الذی بعث اللہ (25 : 41) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے “ ۔ یہ فقرہ وہ بطور مذاق کہتے تھے۔ کیا یہ بات تھی کہ نبی ﷺ کی ذات سے وہ مذاق کرنا چاہتے تھے یا قرآن کریم میں کوئی ایسی بات تھی جس کے ساتھ مذاق کیا جاسکتا تھا۔ نہیں ‘ یہ دونوں باتیں نہ تھیں بلکہ یہ بات وہ کبرائے قریش کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہتے تھے۔ اس طرح وہ نبی ﷺ کی عظیم شخصیت کی کردار کشی کرنا چاہتے تھے۔ اور اس طرح وہ قرآن کریم کے بےپناہ اثرات کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے۔ یہ انہوں نے اس جدید دعوت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک تدبیر اختیار کی تھی کیونکہ سابقہ معاشرے میں ان کو جو مقام اور مرتبہ حاصل تھا ‘ اس کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ نیز ان کے بعض اقتصادی مفادات سابقہ نظام جاہلیت سے وابستہ تھے۔ یہ منصبی اور اقتصادی حیثیت ان کو ان نظریاتی خرافات کی وجہ سے حاصل تھی جو عربی معاشرے پر چھائے ہوئے تھے اور قرآن ان خرافات لایعنی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہا تھا۔
یہ لوگ جدید دعوت کا مقابلہ کرے کے لیے بڑی بڑی مجلسیں کرتے تھے۔ ان مجالس میں یہ لوگ اس قسم کے غلط پروپینڈے اور جھوٹے کردار کشی کے فیصلے کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ یہ سب کچھ جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ ابن اسحاق نے روایت کی ہے کہ ایک بار ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ بڑا معمو اور دانشور شخص تھا۔ موسم حج قریب تھا۔ اس نے ان قریشیوں سے کہا کہ موسم حج آنے والا ہے۔ تمام عالم عرب سے وفود مکہ آئیں گے۔ انہوں نے تمہارے اس آدمی کے بارے میں تو سن رکھا ہے۔ لہذا مناسب ہے کہ اس کے بارے میں تم اپنی رائے ایک کرلو۔ یہ نہ ہو کہ تم مختلف باتیں کرو۔ اور ایک دوسرے کی تکذیب کرتے پھرو۔ انہوں نے کہا عبدالشمس کے باپ بس تم ہی بتا دو تم ایک رائے قائم کرکے ہمیں کہو ہم سب وہی بات کریں گے ‘ یہ سنکر اس نے کہا کہ پہلے تم بتائو کہ تم کیا کہو گے۔ میں دیکھوں کہ تم کیا کہتے ہو۔ انہوں نے کہا ہم اس کے بارے میں کہیں گے کہ یہ ایک کاہن ہے۔ اس نے کہا ‘ خدا کی قسم یہ بات غلط ہے۔ یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ یہ نہ ان کی طرح گنگناتا ہے اور نہ ان کی طرح سجع بندی کے ذریعے بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا : تو پھر ہم کہیں گے کہ یہ مجنوں ہے۔ تو اس نے کہا کہ یہ مجنوں بھی نہیں ہے۔ ہم مجنونوں کو اچھی طرح دیکھتے اور جانتے ہیں۔ نہ مجنوں کی طرح اس کا گلا گھٹتا ہے نہ اسے کوئی خلجان ہے اور نہ کوئی وسوسہ ہے۔ تو انہوں نے کہا تو پھر ہم کہیں گے یہ ایک شاعر ہے۔ تو اس نے کہا وہ تو شاعر نہیں ہے۔ شعر کی اقسام اور اوزان ‘ رجز ‘ ہزج ‘ قریض ‘ مقبوض اور مبسوط کو ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا تو ہم پھر کہیں گے کہ یہ جادو گر ہے تو اس نے کہا وہ تو جادو گر نہیں ہے۔ ہم نے جادو گروں کے جادو کو دیکھا ہے۔ نہ وہ ان کی طرح پھونکتا ہے ‘ نہ گرہیں ڈالتا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ عبدالشمس کے باپ تم ہی بتائو کہ پھر ہم کیا کہیں ؟ اس نے کہا خاد کی قسم اس کا کلام بہت میٹھا ہے۔ اس کی اساس ایک موٹے تنے پر ہے اور اس کی شاخیں تازہ پھول کی طرح ہیں۔ ان باتوں میں سے تم جو بات بھی کہو گے لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ غلط بات کہی جارہی ہے۔ بہر حال سب سے مناسب بات جو تم کہہ سکتے ہو وہ یہ ہے کہ وہ ساحر ہے اور اس کا کلام اس قدر جادو بھرا ہے کہ ایک شخص اور اس کے باپ ‘ اس کے بھائی ‘ اس کی بیوی اور اس کے خاندان کے درمیان جدائی ڈال دیتا ہے۔ چناچہ یہ بات لے کر وہ اس کے پاس سے چلے گئے۔ جب حج کا موسم آتا تو یہ لوگ راستوں میں بیٹھ جاتے ‘ جو شخص بھی ان پر سے گزرتا اسے ڈراتے اور حضرت محمد ﷺ کے بارے میں بتاتے رہتے۔
یہ ہے مثال ان کی گہری سازش اور تدبیر کی وجو وہ حضور ﷺ کے خلاف کرتے تھے اور یہ سازش وہ جانتے ہوئے کرتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ سچے ہیں۔ اس لیے یہ جو وہ کہتے تھے :” کیا اس شخص کو اللہ کا رسول بنا کر بھیجا ہے “ یہ بطور تمسخر نہ کہتے تھے ‘ بلکہ یہ وہ گہری سازش کے تحت محض کردار کشی کے لیے کہتے تھے حالانکہ ان کا شعور گواہ تھا کہ وہ حضور ﷺ کو حق پر سمجھتے تھے۔ یہ باتیں کہہ کر وہ عوام کی نظروں میں حضور ﷺ کی شان گراتے تھے تاکہ سابقہ نظام میں ان کو جو عزت اور مرتبہ کا مقام حاصل تھا وہ باقی رہے اور جو مالی مفادات ان کو حاصل ہوتے تھے وہ ان کو حاصل ہوتے رہیں۔ قریش نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف جو رویہ اختیار کیا ‘ ہر زمان و مکان میں دعوت حق کے ساتھ مفاد پرست لوگ یہی سلوک کرتے ہیں۔
زبانی طور پر تو وہ مذاق کے انداز میں پروپیگنڈے کرتے تھے اور آپ کی کردار کشی کرتے تھے لیکن خود ان کی باتوں سے یہ بات ظاہر ہوجاتی تھی کہ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کی دعوت سے کس قدر گھبرائے ہوئے تھے۔ وہ قرآن کریم کے اٹل دلائل کے بارے میں یہ تبصرہ بھی کرتے تھے۔
(ان کاد۔۔۔۔۔۔۔۔ علیھا) (25 : 42) ” اس نے ہمیں گمراہ کرکے اپنے معبودوں سے برگشتہ کر ہی دیا ہوتا اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی ذہنی دنیا میں ایک قسم کا بھونچال آگیا تھا۔ قریب تھا کہ وہ اپنے الہوں کو چھوڑ کر بھاگ جائیں لیکن وہ بڑی استقامت سے اپنے الہوں پر جم گئے۔ اپنے دین اور اس کے ساتھ وابستہ مناسب ومفادات کو بچاتے رہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے یعنی مقابلہ کر کے صبر اور مصابرت سے کام نہ لیتے تو وہ بھی اپنے الہوں کو ترک کرچکے ہوتے۔ تعجب یہ ہے کہ اپنی ہٹ دھرمی اور مفادات کی وجہ سے یہ لوگ ہدایت کو ضلالت کہتے۔ یہی تو ان کی ضلالت تھی کہ خرد کا نام جنوں رکھ رہے تھے لیکن حضرت محمد ﷺ کی دعوت نے ان کے ایوانوں میں جو زلزلہ برپا کردیا تھا اس کو وہ چھپا نہ سکے۔ اگر چہ غایت درجہ ہٹ دھرمی اور اصرار کی وجہ سے وہ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت اور قرآن پر حرف گیری کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ بھی انہیں خبردار فرماتا ہے کہ بہت جلد وہ اپنے انجام تک پہنچ جائیں گے۔
(وسوف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (25 : 42) ” وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا ہے “۔ ان کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ حضرت محمد ﷺ جو دعوت لے کر آئے تھے وہ تو ہدایت تھی اور جس پر وہ قائم تھے وہ ضلالت تھی۔ لیکن جب وقت چلا جاتا ہے تو پھر علم کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ اس وقت تو وہ عذاب دیکھ لیں گے۔ خواہ یہ عذاب دنیا کا ہو ‘ جس طرح بدر کے دن انہوں نے خوب چکھا ‘ یا آخرت کا ہو جسے وہ یوم الحساب میں دیکھیں گے ‘ جانیں گے اور چکھیں گے۔
اب روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو ان کے عناد ہٹ دھرمی اور استہزاء پر تسلی دی جاتی ہے کہ آپ نے تو دعوت پہنچا نے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ آپ نے پورے پورے دلائل سنا دیئے اور مناسب نہ تھا کہ ان کا ردعمل وہ ہوتا جو ہوا ہے۔ قصور صرف ان کا ہے۔ انہوں نے دراصل اپنی خواہشات نفسانیہ کو اپنا الہٰ بنارکھا ہے۔ اور وہ کسی محبت اور برہان کی طرف توجہ کرنے والے نہیں ہیں۔ اگر لوگ نہیں مانتے تو رسول ﷺ کیا کرسکتا ہے۔
(ارءیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکیلا) ( ُ 25 : 43) ” کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ‘ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لے آنے کا ذمہ لے سکتے ہو “۔ یہ عجیب انداز بیان ہے۔ اس سے ان کی عجیب نفسیاتی حالت کا اظہار ہوتا ہے کہ کسی شخص کا نفس تمام طے شدہ معیار ‘ تمام مسلمہ استدلال ‘ تمام طے شدہ اقدار کو چھوڑ کر صرف اپنی خواہش نفس ‘ اپنی پسند اور اپنی ضد کی بندگی شروع کردے۔ کسی استدلال ‘ کسی برہان ‘ کسی منطق اور کسی سنجیدہ بات پر کان نہ دھرے۔ بس صرف اپنی خواہش کو الہٰ بنا کر پوجے۔
اللہ جل شانہ اپنے بندے کو نہایت ہی نرمی ‘ محبت ‘ انس اور گہرے تعلق کے انداز میں پکارتا ہے۔ ارئیت کیا کبھی تم نے غور کیا ہے ‘ کیا تمہیں علوم ہے۔ ایسے شخص کی تصویر کشی کی جارہی ہے جس کے سامنے کوئی معقول بات پیش کرنا فضول ہے۔ وہ حجت ‘ حقیقت اور غور وفکر کو جانتا ہی نہیں ہے۔ ان چیزوں کی اس کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کو تسلی کے طور پر کہا جاتا ہے کہ ایسا شخص ہدایت کے قابل ہی نہیں ہے۔ لہذا آپ کے ذمہ ایسے شخص کی ہدایت نہیں لگائی جاسکتی اور نہ آپ ایسے شخص کے وکیل ہو سکتے ہیں۔ اور نہ ایسے لوگ ہدایت تک پہنچ سکتے ہیں۔
افانت تکون علیہ وکیلا (25 : 43) ” کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ “ یہ لوگ جنہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود اور الہٰ بنا رکھا ہے ‘ ان کی اصل حیثیت اور ان کا اصل مقام بھی یہاں بتا دیا جاتا ہے کہ یہ بہت ہی حقیر لوگ ہیں۔ یہ محض اپنی خواہشات اور مفادات کے بندے ہیں۔ یہ حجت اور حقیقت کے آگے جھکنے والے نہیں ہیں۔ بلکہ یہ خواہشات اور مفادات کے آگے سجدہ ریز ہونے والے ہیں۔ بلکہ ان کو اس سے بھی زیادہ گرا ہوا مقام دیا جاتا ہے کہ مقام انسانیت سے گر کر مقام حیوانیت خالصہ میں داخل ہوگئے ہیں بلکہ اس سے بھی نیچے۔
(ام تحسب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی محتاط انداز کلام اختیار فرمایا ہے۔ یہ کہا ہے اکثرھم سب نہیں بلکہ ان کی اکثریت ایسی ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کی ایک قلیل لعداد تو ابتداء ہی میں حلقہ بگوش اسلام ہوگئی تھی۔ یا انمیں سے اکثر اس پر غور کرتے تھے۔ البتہ اکثریت ایسی تھی جو محض خواہش نفسی اور مفادات کی خاطر نہ مانتی تھی۔ ان کے کانوں پر دلائل پڑتے تھے۔ ان کی عقل اسے مانتی تھی لیکن پھر بھی ضد کرتے تھے۔ یہ گویا جانور محض تھے۔ انسان اور انور میں فرق ہی یہ ہیکہانسان غور وفکر کرتا ہے اور پھر انسان اپنے غور وفکر کے مطابق اچھا طرز عمل بھی اختیار کرتا ہے۔ بصیرت اور قصد و ارادے سے حقائق کو اپناتا ہے۔ حجت اور دلیل سے بات کرتا ہے اور سنتا ہے۔ اور اگر انسان اپنے ان خصائص کو چھوڑ دے تو وہ بہائم سے بھی بد تر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ بہائم کو اللہ نے جو شعور دیا ہے وہ تو اس سے استفادہ کرتے ہیں اور انسان کو جو عقل و دانش دی گئی ہے وہ اس سے اسفادہ نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے فرائض منصبی صحیح طرح ادا کرتے ہیں لیکن انسان ادا نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے شعور سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ اپنے تدبر سے کام نہیں لیتا۔
(ان ھم الا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” “۔ یہ ہے جواب ان کے استہزاء کا ۔ یعنی تم انسان ہی نہیں ہو ‘ حیوانوں سے بد تر ہو۔ اس لیے تم سرور کو نین حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے ہو۔ یوں اس سبق کا خاتمہ ‘ جواب آل غزل پر ہوتا ہے۔
الفرقان 25:40
(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (35 تا 40) ”
یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔
القوم الذین کذبوا بایتنا (25 : 36) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘ رسولوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ابھی دوسری آیت ختم نہیں ہوئی کہ بڑی سختی سے انجام بتادیا جاتا ہے۔
فدمرنھم تد میرا (25 : 36) ” آخر کار ان لوگوں کو ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے “۔
اس کے بعد قوم نوح کا حال
کذبوا الرسل اغرقنھم (25 : 37) ” انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو غرق کردیا “
قوم نوح نے تو صرف ایک رسول حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت نوح نے جو عقیدہ ان کے سامنے پیش کیا تھا وہ تمام نبیوں کا عقیدہ تھا۔ جب انہوں نے حضرت نوح کو جھٹلایا تو گویا تمام رسولوں کو جھٹلادیا۔
وجعلنھم للناس ایۃ (25 : 37) ” اور ان کو دنیا بھر کے لوگوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا “۔ کیونکہ طوفان کا معجزہ کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ جو شخص بھی طوفان کے اس واقعہ پر غور کرے گا اسے عبرت حاصل ہوگی۔
واعتدنا للظلمین عذابا الیما (25 : 37) ” اور ان ظالموں کے لیے ایک درد ناک عذاب ہم نے تیار کر رکھا ہے “۔ یہ عذاب حاضر و موجود ہے۔ کسی تیاری کی ضرورت نہ ہوگی۔ ظالمین کا لفظ ضمیر کی جگہ استعمال کیا گیا تاکہ یہ ان کا دائمی لقب ہو اور یہ بھی بتا دیا جائے کہ یہ عذاب ان کو ان کے ظلم کی وجہ سے دیا جائے گا۔ پھر عاد ‘ ثمود اور اصحاب الرس (وہ لوگ جن کے کنویں کی دیواریں نہ اٹھائی گئی تھیں ‘ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ یمامہ کے ایک گائوں میں رہتے تھے اور انہوں نے اپنے نبی کو قتل کردیا تھا۔ ان جریر نے تو کہا ہے کہ یہ اصحاب الا خدود ہیں جنہوں نے مومنین کو جلا دیا تھا۔ جس کا ذکر سورة بروج میں آیا ہے) ۔ اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ جو بعد کے ادوار میں آتے رہے سب کو اللہ نیہلاک کر کے نشان عبرت بنایا۔ انہوں نے پیغمبروں کی دعوت پر غور نہ کیا اور ہلاکت سے نہ بچ سکے۔
یہ تمام مثالیں ‘ قوم موسیٰ ‘ نوح ‘ عاد ‘ ثمود ‘ اصحاب الرس ‘ درمیان زمانوں کی اقوام اور وہ قوم (لوط) جس پر بری بارش کی گئی۔ یہ سب اقوام ایک ہی راہ اور ایک ہی انجام تک پہنچیں۔ اور سب کو اللہ نے نشانہ عبرت بنایا۔
وکلا تبرنا تتبیرا (25 : 40) ” سب کو ہم نے ہلاک کردیا بےدردی سے “۔ کیونکہ انہوں نے نبیوں کی تکذیب کی اور جو اقوام نبیوں کی تکذیب کرتی ہیں وہ ٹوٹ پھوٹ اور ہلاکت کے انجام سے دو چار ہوتی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان ساری اقوام کے المناک انجام پر نہایت ہی سر سری نظر ڈالتا ہے اور یہ سریع الحرکت بیان آکر حضرت لوط کی قوم کے بیان پر ختم ہوتا ہے جو ان کے اسفار سٹاء و صیف میں شاہراہ عام پر ان کو خوب نظر آتا ہے۔ اللہ نے اس قوم کو آتش نشانی کے عمل کے ذریعہ ہلاک کیا۔ ان پر پتھروں کی بارش کردی گئی۔ اور اس طرح ان کو پوری طرح ہلاک کردیا گیا۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی تکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور مذاق کا رویہ اختیار کیا ہے اور قرآن پر یہ طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔
اقوام مکذبہ پر اس سرسری نظر کے بعد روئے سخن اب ان لوگوں کے مزاحیہ انداز کی طرف پھرجاتا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اللہ کی شان میں بھی ایسی ہی گستاخی کی تھی۔ اور کہا تھا کہ یہ قرآن موجودہ انداز سے کیوں نازل ہورہا ہے۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی مکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور
(واذا راوک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (41 تا 44) ” یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ اس نے تو ہمیں گمراہ کر کے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا۔ اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ اچھا ‘ وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا تھا۔ کبھی تم نے اس شخص کے ال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو۔ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔
حضرت محمد ﷺ اپنی قوم میں دیکھے سنے ہوئے تھے۔ قبل بعثت آپ ﷺ ان کے ہاں اک نہایت معتبر شخص تھے۔ آپ بنی ہاشم کے ایک چوٹی کے فرد تھے جو قریش کے چوٹی کے لوگ تھے۔ اپنے اخلاق کی وجہ سے بھی آپ بڑے مرتبے اور مقام کی شخصیت تھے اور بعثت سے قبل صادق اور امین مشہور تھے۔ جب تعمیر خانہ کعبہ کے وقت حجر اسود رکھنے کے مسئلے پر قریش کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے تو تمام لوگ اس بات پر تیار ہوگئے کہ آپ اس پتھر کو نصب کردیں اور جب آپ نے ان کو صفا پر بلایا اور ان سے پوچھا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے اس طرف ایک فوج آپ لوگوں پر حملہ آور ہو رہی ہے تو کیا آپ میری بات کو تسلیم کریں گے تو سب نے کہا ‘ ہاں آپ ﷺ ہمارے ہاں۔۔ نہیں ہیں۔
لیکن بعثت کے بعد قرآنی دعوت پیش کرنے کے بعد وہی تھے جو حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔
اھذا الذی بعث اللہ (25 : 41) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے “ ۔ یہ فقرہ وہ بطور مذاق کہتے تھے۔ کیا یہ بات تھی کہ نبی ﷺ کی ذات سے وہ مذاق کرنا چاہتے تھے یا قرآن کریم میں کوئی ایسی بات تھی جس کے ساتھ مذاق کیا جاسکتا تھا۔ نہیں ‘ یہ دونوں باتیں نہ تھیں بلکہ یہ بات وہ کبرائے قریش کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہتے تھے۔ اس طرح وہ نبی ﷺ کی عظیم شخصیت کی کردار کشی کرنا چاہتے تھے۔ اور اس طرح وہ قرآن کریم کے بےپناہ اثرات کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے۔ یہ انہوں نے اس جدید دعوت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک تدبیر اختیار کی تھی کیونکہ سابقہ معاشرے میں ان کو جو مقام اور مرتبہ حاصل تھا ‘ اس کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ نیز ان کے بعض اقتصادی مفادات سابقہ نظام جاہلیت سے وابستہ تھے۔ یہ منصبی اور اقتصادی حیثیت ان کو ان نظریاتی خرافات کی وجہ سے حاصل تھی جو عربی معاشرے پر چھائے ہوئے تھے اور قرآن ان خرافات لایعنی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہا تھا۔
یہ لوگ جدید دعوت کا مقابلہ کرے کے لیے بڑی بڑی مجلسیں کرتے تھے۔ ان مجالس میں یہ لوگ اس قسم کے غلط پروپینڈے اور جھوٹے کردار کشی کے فیصلے کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ یہ سب کچھ جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ ابن اسحاق نے روایت کی ہے کہ ایک بار ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ بڑا معمو اور دانشور شخص تھا۔ موسم حج قریب تھا۔ اس نے ان قریشیوں سے کہا کہ موسم حج آنے والا ہے۔ تمام عالم عرب سے وفود مکہ آئیں گے۔ انہوں نے تمہارے اس آدمی کے بارے میں تو سن رکھا ہے۔ لہذا مناسب ہے کہ اس کے بارے میں تم اپنی رائے ایک کرلو۔ یہ نہ ہو کہ تم مختلف باتیں کرو۔ اور ایک دوسرے کی تکذیب کرتے پھرو۔ انہوں نے کہا عبدالشمس کے باپ بس تم ہی بتا دو تم ایک رائے قائم کرکے ہمیں کہو ہم سب وہی بات کریں گے ‘ یہ سنکر اس نے کہا کہ پہلے تم بتائو کہ تم کیا کہو گے۔ میں دیکھوں کہ تم کیا کہتے ہو۔ انہوں نے کہا ہم اس کے بارے میں کہیں گے کہ یہ ایک کاہن ہے۔ اس نے کہا ‘ خدا کی قسم یہ بات غلط ہے۔ یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ یہ نہ ان کی طرح گنگناتا ہے اور نہ ان کی طرح سجع بندی کے ذریعے بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا : تو پھر ہم کہیں گے کہ یہ مجنوں ہے۔ تو اس نے کہا کہ یہ مجنوں بھی نہیں ہے۔ ہم مجنونوں کو اچھی طرح دیکھتے اور جانتے ہیں۔ نہ مجنوں کی طرح اس کا گلا گھٹتا ہے نہ اسے کوئی خلجان ہے اور نہ کوئی وسوسہ ہے۔ تو انہوں نے کہا تو پھر ہم کہیں گے یہ ایک شاعر ہے۔ تو اس نے کہا وہ تو شاعر نہیں ہے۔ شعر کی اقسام اور اوزان ‘ رجز ‘ ہزج ‘ قریض ‘ مقبوض اور مبسوط کو ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا تو ہم پھر کہیں گے کہ یہ جادو گر ہے تو اس نے کہا وہ تو جادو گر نہیں ہے۔ ہم نے جادو گروں کے جادو کو دیکھا ہے۔ نہ وہ ان کی طرح پھونکتا ہے ‘ نہ گرہیں ڈالتا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ عبدالشمس کے باپ تم ہی بتائو کہ پھر ہم کیا کہیں ؟ اس نے کہا خاد کی قسم اس کا کلام بہت میٹھا ہے۔ اس کی اساس ایک موٹے تنے پر ہے اور اس کی شاخیں تازہ پھول کی طرح ہیں۔ ان باتوں میں سے تم جو بات بھی کہو گے لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ غلط بات کہی جارہی ہے۔ بہر حال سب سے مناسب بات جو تم کہہ سکتے ہو وہ یہ ہے کہ وہ ساحر ہے اور اس کا کلام اس قدر جادو بھرا ہے کہ ایک شخص اور اس کے باپ ‘ اس کے بھائی ‘ اس کی بیوی اور اس کے خاندان کے درمیان جدائی ڈال دیتا ہے۔ چناچہ یہ بات لے کر وہ اس کے پاس سے چلے گئے۔ جب حج کا موسم آتا تو یہ لوگ راستوں میں بیٹھ جاتے ‘ جو شخص بھی ان پر سے گزرتا اسے ڈراتے اور حضرت محمد ﷺ کے بارے میں بتاتے رہتے۔
یہ ہے مثال ان کی گہری سازش اور تدبیر کی وجو وہ حضور ﷺ کے خلاف کرتے تھے اور یہ سازش وہ جانتے ہوئے کرتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ سچے ہیں۔ اس لیے یہ جو وہ کہتے تھے :” کیا اس شخص کو اللہ کا رسول بنا کر بھیجا ہے “ یہ بطور تمسخر نہ کہتے تھے ‘ بلکہ یہ وہ گہری سازش کے تحت محض کردار کشی کے لیے کہتے تھے حالانکہ ان کا شعور گواہ تھا کہ وہ حضور ﷺ کو حق پر سمجھتے تھے۔ یہ باتیں کہہ کر وہ عوام کی نظروں میں حضور ﷺ کی شان گراتے تھے تاکہ سابقہ نظام میں ان کو جو عزت اور مرتبہ کا مقام حاصل تھا وہ باقی رہے اور جو مالی مفادات ان کو حاصل ہوتے تھے وہ ان کو حاصل ہوتے رہیں۔ قریش نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف جو رویہ اختیار کیا ‘ ہر زمان و مکان میں دعوت حق کے ساتھ مفاد پرست لوگ یہی سلوک کرتے ہیں۔
زبانی طور پر تو وہ مذاق کے انداز میں پروپیگنڈے کرتے تھے اور آپ کی کردار کشی کرتے تھے لیکن خود ان کی باتوں سے یہ بات ظاہر ہوجاتی تھی کہ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کی دعوت سے کس قدر گھبرائے ہوئے تھے۔ وہ قرآن کریم کے اٹل دلائل کے بارے میں یہ تبصرہ بھی کرتے تھے۔
(ان کاد۔۔۔۔۔۔۔۔ علیھا) (25 : 42) ” اس نے ہمیں گمراہ کرکے اپنے معبودوں سے برگشتہ کر ہی دیا ہوتا اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی ذہنی دنیا میں ایک قسم کا بھونچال آگیا تھا۔ قریب تھا کہ وہ اپنے الہوں کو چھوڑ کر بھاگ جائیں لیکن وہ بڑی استقامت سے اپنے الہوں پر جم گئے۔ اپنے دین اور اس کے ساتھ وابستہ مناسب ومفادات کو بچاتے رہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے یعنی مقابلہ کر کے صبر اور مصابرت سے کام نہ لیتے تو وہ بھی اپنے الہوں کو ترک کرچکے ہوتے۔ تعجب یہ ہے کہ اپنی ہٹ دھرمی اور مفادات کی وجہ سے یہ لوگ ہدایت کو ضلالت کہتے۔ یہی تو ان کی ضلالت تھی کہ خرد کا نام جنوں رکھ رہے تھے لیکن حضرت محمد ﷺ کی دعوت نے ان کے ایوانوں میں جو زلزلہ برپا کردیا تھا اس کو وہ چھپا نہ سکے۔ اگر چہ غایت درجہ ہٹ دھرمی اور اصرار کی وجہ سے وہ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت اور قرآن پر حرف گیری کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ بھی انہیں خبردار فرماتا ہے کہ بہت جلد وہ اپنے انجام تک پہنچ جائیں گے۔
(وسوف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (25 : 42) ” وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا ہے “۔ ان کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ حضرت محمد ﷺ جو دعوت لے کر آئے تھے وہ تو ہدایت تھی اور جس پر وہ قائم تھے وہ ضلالت تھی۔ لیکن جب وقت چلا جاتا ہے تو پھر علم کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ اس وقت تو وہ عذاب دیکھ لیں گے۔ خواہ یہ عذاب دنیا کا ہو ‘ جس طرح بدر کے دن انہوں نے خوب چکھا ‘ یا آخرت کا ہو جسے وہ یوم الحساب میں دیکھیں گے ‘ جانیں گے اور چکھیں گے۔
اب روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو ان کے عناد ہٹ دھرمی اور استہزاء پر تسلی دی جاتی ہے کہ آپ نے تو دعوت پہنچا نے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ آپ نے پورے پورے دلائل سنا دیئے اور مناسب نہ تھا کہ ان کا ردعمل وہ ہوتا جو ہوا ہے۔ قصور صرف ان کا ہے۔ انہوں نے دراصل اپنی خواہشات نفسانیہ کو اپنا الہٰ بنارکھا ہے۔ اور وہ کسی محبت اور برہان کی طرف توجہ کرنے والے نہیں ہیں۔ اگر لوگ نہیں مانتے تو رسول ﷺ کیا کرسکتا ہے۔
(ارءیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکیلا) ( ُ 25 : 43) ” کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ‘ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لے آنے کا ذمہ لے سکتے ہو “۔ یہ عجیب انداز بیان ہے۔ اس سے ان کی عجیب نفسیاتی حالت کا اظہار ہوتا ہے کہ کسی شخص کا نفس تمام طے شدہ معیار ‘ تمام مسلمہ استدلال ‘ تمام طے شدہ اقدار کو چھوڑ کر صرف اپنی خواہش نفس ‘ اپنی پسند اور اپنی ضد کی بندگی شروع کردے۔ کسی استدلال ‘ کسی برہان ‘ کسی منطق اور کسی سنجیدہ بات پر کان نہ دھرے۔ بس صرف اپنی خواہش کو الہٰ بنا کر پوجے۔
اللہ جل شانہ اپنے بندے کو نہایت ہی نرمی ‘ محبت ‘ انس اور گہرے تعلق کے انداز میں پکارتا ہے۔ ارئیت کیا کبھی تم نے غور کیا ہے ‘ کیا تمہیں علوم ہے۔ ایسے شخص کی تصویر کشی کی جارہی ہے جس کے سامنے کوئی معقول بات پیش کرنا فضول ہے۔ وہ حجت ‘ حقیقت اور غور وفکر کو جانتا ہی نہیں ہے۔ ان چیزوں کی اس کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کو تسلی کے طور پر کہا جاتا ہے کہ ایسا شخص ہدایت کے قابل ہی نہیں ہے۔ لہذا آپ کے ذمہ ایسے شخص کی ہدایت نہیں لگائی جاسکتی اور نہ آپ ایسے شخص کے وکیل ہو سکتے ہیں۔ اور نہ ایسے لوگ ہدایت تک پہنچ سکتے ہیں۔
افانت تکون علیہ وکیلا (25 : 43) ” کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ “ یہ لوگ جنہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود اور الہٰ بنا رکھا ہے ‘ ان کی اصل حیثیت اور ان کا اصل مقام بھی یہاں بتا دیا جاتا ہے کہ یہ بہت ہی حقیر لوگ ہیں۔ یہ محض اپنی خواہشات اور مفادات کے بندے ہیں۔ یہ حجت اور حقیقت کے آگے جھکنے والے نہیں ہیں۔ بلکہ یہ خواہشات اور مفادات کے آگے سجدہ ریز ہونے والے ہیں۔ بلکہ ان کو اس سے بھی زیادہ گرا ہوا مقام دیا جاتا ہے کہ مقام انسانیت سے گر کر مقام حیوانیت خالصہ میں داخل ہوگئے ہیں بلکہ اس سے بھی نیچے۔
(ام تحسب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی محتاط انداز کلام اختیار فرمایا ہے۔ یہ کہا ہے اکثرھم سب نہیں بلکہ ان کی اکثریت ایسی ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کی ایک قلیل لعداد تو ابتداء ہی میں حلقہ بگوش اسلام ہوگئی تھی۔ یا انمیں سے اکثر اس پر غور کرتے تھے۔ البتہ اکثریت ایسی تھی جو محض خواہش نفسی اور مفادات کی خاطر نہ مانتی تھی۔ ان کے کانوں پر دلائل پڑتے تھے۔ ان کی عقل اسے مانتی تھی لیکن پھر بھی ضد کرتے تھے۔ یہ گویا جانور محض تھے۔ انسان اور انور میں فرق ہی یہ ہیکہانسان غور وفکر کرتا ہے اور پھر انسان اپنے غور وفکر کے مطابق اچھا طرز عمل بھی اختیار کرتا ہے۔ بصیرت اور قصد و ارادے سے حقائق کو اپناتا ہے۔ حجت اور دلیل سے بات کرتا ہے اور سنتا ہے۔ اور اگر انسان اپنے ان خصائص کو چھوڑ دے تو وہ بہائم سے بھی بد تر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ بہائم کو اللہ نے جو شعور دیا ہے وہ تو اس سے استفادہ کرتے ہیں اور انسان کو جو عقل و دانش دی گئی ہے وہ اس سے اسفادہ نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے فرائض منصبی صحیح طرح ادا کرتے ہیں لیکن انسان ادا نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے شعور سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ اپنے تدبر سے کام نہیں لیتا۔
(ان ھم الا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” “۔ یہ ہے جواب ان کے استہزاء کا ۔ یعنی تم انسان ہی نہیں ہو ‘ حیوانوں سے بد تر ہو۔ اس لیے تم سرور کو نین حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے ہو۔ یوں اس سبق کا خاتمہ ‘ جواب آل غزل پر ہوتا ہے۔
الفرقان 25:41
(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (35 تا 40) ”
یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔
القوم الذین کذبوا بایتنا (25 : 36) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘ رسولوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ابھی دوسری آیت ختم نہیں ہوئی کہ بڑی سختی سے انجام بتادیا جاتا ہے۔
فدمرنھم تد میرا (25 : 36) ” آخر کار ان لوگوں کو ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے “۔
اس کے بعد قوم نوح کا حال
کذبوا الرسل اغرقنھم (25 : 37) ” انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو غرق کردیا “
قوم نوح نے تو صرف ایک رسول حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت نوح نے جو عقیدہ ان کے سامنے پیش کیا تھا وہ تمام نبیوں کا عقیدہ تھا۔ جب انہوں نے حضرت نوح کو جھٹلایا تو گویا تمام رسولوں کو جھٹلادیا۔
وجعلنھم للناس ایۃ (25 : 37) ” اور ان کو دنیا بھر کے لوگوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا “۔ کیونکہ طوفان کا معجزہ کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ جو شخص بھی طوفان کے اس واقعہ پر غور کرے گا اسے عبرت حاصل ہوگی۔
واعتدنا للظلمین عذابا الیما (25 : 37) ” اور ان ظالموں کے لیے ایک درد ناک عذاب ہم نے تیار کر رکھا ہے “۔ یہ عذاب حاضر و موجود ہے۔ کسی تیاری کی ضرورت نہ ہوگی۔ ظالمین کا لفظ ضمیر کی جگہ استعمال کیا گیا تاکہ یہ ان کا دائمی لقب ہو اور یہ بھی بتا دیا جائے کہ یہ عذاب ان کو ان کے ظلم کی وجہ سے دیا جائے گا۔ پھر عاد ‘ ثمود اور اصحاب الرس (وہ لوگ جن کے کنویں کی دیواریں نہ اٹھائی گئی تھیں ‘ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ یمامہ کے ایک گائوں میں رہتے تھے اور انہوں نے اپنے نبی کو قتل کردیا تھا۔ ان جریر نے تو کہا ہے کہ یہ اصحاب الا خدود ہیں جنہوں نے مومنین کو جلا دیا تھا۔ جس کا ذکر سورة بروج میں آیا ہے) ۔ اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ جو بعد کے ادوار میں آتے رہے سب کو اللہ نیہلاک کر کے نشان عبرت بنایا۔ انہوں نے پیغمبروں کی دعوت پر غور نہ کیا اور ہلاکت سے نہ بچ سکے۔
یہ تمام مثالیں ‘ قوم موسیٰ ‘ نوح ‘ عاد ‘ ثمود ‘ اصحاب الرس ‘ درمیان زمانوں کی اقوام اور وہ قوم (لوط) جس پر بری بارش کی گئی۔ یہ سب اقوام ایک ہی راہ اور ایک ہی انجام تک پہنچیں۔ اور سب کو اللہ نے نشانہ عبرت بنایا۔
وکلا تبرنا تتبیرا (25 : 40) ” سب کو ہم نے ہلاک کردیا بےدردی سے “۔ کیونکہ انہوں نے نبیوں کی تکذیب کی اور جو اقوام نبیوں کی تکذیب کرتی ہیں وہ ٹوٹ پھوٹ اور ہلاکت کے انجام سے دو چار ہوتی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان ساری اقوام کے المناک انجام پر نہایت ہی سر سری نظر ڈالتا ہے اور یہ سریع الحرکت بیان آکر حضرت لوط کی قوم کے بیان پر ختم ہوتا ہے جو ان کے اسفار سٹاء و صیف میں شاہراہ عام پر ان کو خوب نظر آتا ہے۔ اللہ نے اس قوم کو آتش نشانی کے عمل کے ذریعہ ہلاک کیا۔ ان پر پتھروں کی بارش کردی گئی۔ اور اس طرح ان کو پوری طرح ہلاک کردیا گیا۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی تکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور مذاق کا رویہ اختیار کیا ہے اور قرآن پر یہ طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔
اقوام مکذبہ پر اس سرسری نظر کے بعد روئے سخن اب ان لوگوں کے مزاحیہ انداز کی طرف پھرجاتا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اللہ کی شان میں بھی ایسی ہی گستاخی کی تھی۔ اور کہا تھا کہ یہ قرآن موجودہ انداز سے کیوں نازل ہورہا ہے۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی مکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور
(واذا راوک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (41 تا 44) ” یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ اس نے تو ہمیں گمراہ کر کے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا۔ اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ اچھا ‘ وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا تھا۔ کبھی تم نے اس شخص کے ال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو۔ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔
حضرت محمد ﷺ اپنی قوم میں دیکھے سنے ہوئے تھے۔ قبل بعثت آپ ﷺ ان کے ہاں اک نہایت معتبر شخص تھے۔ آپ بنی ہاشم کے ایک چوٹی کے فرد تھے جو قریش کے چوٹی کے لوگ تھے۔ اپنے اخلاق کی وجہ سے بھی آپ بڑے مرتبے اور مقام کی شخصیت تھے اور بعثت سے قبل صادق اور امین مشہور تھے۔ جب تعمیر خانہ کعبہ کے وقت حجر اسود رکھنے کے مسئلے پر قریش کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے تو تمام لوگ اس بات پر تیار ہوگئے کہ آپ اس پتھر کو نصب کردیں اور جب آپ نے ان کو صفا پر بلایا اور ان سے پوچھا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے اس طرف ایک فوج آپ لوگوں پر حملہ آور ہو رہی ہے تو کیا آپ میری بات کو تسلیم کریں گے تو سب نے کہا ‘ ہاں آپ ﷺ ہمارے ہاں۔۔ نہیں ہیں۔
لیکن بعثت کے بعد قرآنی دعوت پیش کرنے کے بعد وہی تھے جو حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔
اھذا الذی بعث اللہ (25 : 41) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے “ ۔ یہ فقرہ وہ بطور مذاق کہتے تھے۔ کیا یہ بات تھی کہ نبی ﷺ کی ذات سے وہ مذاق کرنا چاہتے تھے یا قرآن کریم میں کوئی ایسی بات تھی جس کے ساتھ مذاق کیا جاسکتا تھا۔ نہیں ‘ یہ دونوں باتیں نہ تھیں بلکہ یہ بات وہ کبرائے قریش کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہتے تھے۔ اس طرح وہ نبی ﷺ کی عظیم شخصیت کی کردار کشی کرنا چاہتے تھے۔ اور اس طرح وہ قرآن کریم کے بےپناہ اثرات کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے۔ یہ انہوں نے اس جدید دعوت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک تدبیر اختیار کی تھی کیونکہ سابقہ معاشرے میں ان کو جو مقام اور مرتبہ حاصل تھا ‘ اس کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ نیز ان کے بعض اقتصادی مفادات سابقہ نظام جاہلیت سے وابستہ تھے۔ یہ منصبی اور اقتصادی حیثیت ان کو ان نظریاتی خرافات کی وجہ سے حاصل تھی جو عربی معاشرے پر چھائے ہوئے تھے اور قرآن ان خرافات لایعنی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہا تھا۔
یہ لوگ جدید دعوت کا مقابلہ کرے کے لیے بڑی بڑی مجلسیں کرتے تھے۔ ان مجالس میں یہ لوگ اس قسم کے غلط پروپینڈے اور جھوٹے کردار کشی کے فیصلے کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ یہ سب کچھ جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ ابن اسحاق نے روایت کی ہے کہ ایک بار ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ بڑا معمو اور دانشور شخص تھا۔ موسم حج قریب تھا۔ اس نے ان قریشیوں سے کہا کہ موسم حج آنے والا ہے۔ تمام عالم عرب سے وفود مکہ آئیں گے۔ انہوں نے تمہارے اس آدمی کے بارے میں تو سن رکھا ہے۔ لہذا مناسب ہے کہ اس کے بارے میں تم اپنی رائے ایک کرلو۔ یہ نہ ہو کہ تم مختلف باتیں کرو۔ اور ایک دوسرے کی تکذیب کرتے پھرو۔ انہوں نے کہا عبدالشمس کے باپ بس تم ہی بتا دو تم ایک رائے قائم کرکے ہمیں کہو ہم سب وہی بات کریں گے ‘ یہ سنکر اس نے کہا کہ پہلے تم بتائو کہ تم کیا کہو گے۔ میں دیکھوں کہ تم کیا کہتے ہو۔ انہوں نے کہا ہم اس کے بارے میں کہیں گے کہ یہ ایک کاہن ہے۔ اس نے کہا ‘ خدا کی قسم یہ بات غلط ہے۔ یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ یہ نہ ان کی طرح گنگناتا ہے اور نہ ان کی طرح سجع بندی کے ذریعے بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا : تو پھر ہم کہیں گے کہ یہ مجنوں ہے۔ تو اس نے کہا کہ یہ مجنوں بھی نہیں ہے۔ ہم مجنونوں کو اچھی طرح دیکھتے اور جانتے ہیں۔ نہ مجنوں کی طرح اس کا گلا گھٹتا ہے نہ اسے کوئی خلجان ہے اور نہ کوئی وسوسہ ہے۔ تو انہوں نے کہا تو پھر ہم کہیں گے یہ ایک شاعر ہے۔ تو اس نے کہا وہ تو شاعر نہیں ہے۔ شعر کی اقسام اور اوزان ‘ رجز ‘ ہزج ‘ قریض ‘ مقبوض اور مبسوط کو ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا تو ہم پھر کہیں گے کہ یہ جادو گر ہے تو اس نے کہا وہ تو جادو گر نہیں ہے۔ ہم نے جادو گروں کے جادو کو دیکھا ہے۔ نہ وہ ان کی طرح پھونکتا ہے ‘ نہ گرہیں ڈالتا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ عبدالشمس کے باپ تم ہی بتائو کہ پھر ہم کیا کہیں ؟ اس نے کہا خاد کی قسم اس کا کلام بہت میٹھا ہے۔ اس کی اساس ایک موٹے تنے پر ہے اور اس کی شاخیں تازہ پھول کی طرح ہیں۔ ان باتوں میں سے تم جو بات بھی کہو گے لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ غلط بات کہی جارہی ہے۔ بہر حال سب سے مناسب بات جو تم کہہ سکتے ہو وہ یہ ہے کہ وہ ساحر ہے اور اس کا کلام اس قدر جادو بھرا ہے کہ ایک شخص اور اس کے باپ ‘ اس کے بھائی ‘ اس کی بیوی اور اس کے خاندان کے درمیان جدائی ڈال دیتا ہے۔ چناچہ یہ بات لے کر وہ اس کے پاس سے چلے گئے۔ جب حج کا موسم آتا تو یہ لوگ راستوں میں بیٹھ جاتے ‘ جو شخص بھی ان پر سے گزرتا اسے ڈراتے اور حضرت محمد ﷺ کے بارے میں بتاتے رہتے۔
یہ ہے مثال ان کی گہری سازش اور تدبیر کی وجو وہ حضور ﷺ کے خلاف کرتے تھے اور یہ سازش وہ جانتے ہوئے کرتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ سچے ہیں۔ اس لیے یہ جو وہ کہتے تھے :” کیا اس شخص کو اللہ کا رسول بنا کر بھیجا ہے “ یہ بطور تمسخر نہ کہتے تھے ‘ بلکہ یہ وہ گہری سازش کے تحت محض کردار کشی کے لیے کہتے تھے حالانکہ ان کا شعور گواہ تھا کہ وہ حضور ﷺ کو حق پر سمجھتے تھے۔ یہ باتیں کہہ کر وہ عوام کی نظروں میں حضور ﷺ کی شان گراتے تھے تاکہ سابقہ نظام میں ان کو جو عزت اور مرتبہ کا مقام حاصل تھا وہ باقی رہے اور جو مالی مفادات ان کو حاصل ہوتے تھے وہ ان کو حاصل ہوتے رہیں۔ قریش نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف جو رویہ اختیار کیا ‘ ہر زمان و مکان میں دعوت حق کے ساتھ مفاد پرست لوگ یہی سلوک کرتے ہیں۔
زبانی طور پر تو وہ مذاق کے انداز میں پروپیگنڈے کرتے تھے اور آپ کی کردار کشی کرتے تھے لیکن خود ان کی باتوں سے یہ بات ظاہر ہوجاتی تھی کہ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کی دعوت سے کس قدر گھبرائے ہوئے تھے۔ وہ قرآن کریم کے اٹل دلائل کے بارے میں یہ تبصرہ بھی کرتے تھے۔
(ان کاد۔۔۔۔۔۔۔۔ علیھا) (25 : 42) ” اس نے ہمیں گمراہ کرکے اپنے معبودوں سے برگشتہ کر ہی دیا ہوتا اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی ذہنی دنیا میں ایک قسم کا بھونچال آگیا تھا۔ قریب تھا کہ وہ اپنے الہوں کو چھوڑ کر بھاگ جائیں لیکن وہ بڑی استقامت سے اپنے الہوں پر جم گئے۔ اپنے دین اور اس کے ساتھ وابستہ مناسب ومفادات کو بچاتے رہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے یعنی مقابلہ کر کے صبر اور مصابرت سے کام نہ لیتے تو وہ بھی اپنے الہوں کو ترک کرچکے ہوتے۔ تعجب یہ ہے کہ اپنی ہٹ دھرمی اور مفادات کی وجہ سے یہ لوگ ہدایت کو ضلالت کہتے۔ یہی تو ان کی ضلالت تھی کہ خرد کا نام جنوں رکھ رہے تھے لیکن حضرت محمد ﷺ کی دعوت نے ان کے ایوانوں میں جو زلزلہ برپا کردیا تھا اس کو وہ چھپا نہ سکے۔ اگر چہ غایت درجہ ہٹ دھرمی اور اصرار کی وجہ سے وہ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت اور قرآن پر حرف گیری کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ بھی انہیں خبردار فرماتا ہے کہ بہت جلد وہ اپنے انجام تک پہنچ جائیں گے۔
(وسوف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (25 : 42) ” وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا ہے “۔ ان کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ حضرت محمد ﷺ جو دعوت لے کر آئے تھے وہ تو ہدایت تھی اور جس پر وہ قائم تھے وہ ضلالت تھی۔ لیکن جب وقت چلا جاتا ہے تو پھر علم کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ اس وقت تو وہ عذاب دیکھ لیں گے۔ خواہ یہ عذاب دنیا کا ہو ‘ جس طرح بدر کے دن انہوں نے خوب چکھا ‘ یا آخرت کا ہو جسے وہ یوم الحساب میں دیکھیں گے ‘ جانیں گے اور چکھیں گے۔
اب روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو ان کے عناد ہٹ دھرمی اور استہزاء پر تسلی دی جاتی ہے کہ آپ نے تو دعوت پہنچا نے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ آپ نے پورے پورے دلائل سنا دیئے اور مناسب نہ تھا کہ ان کا ردعمل وہ ہوتا جو ہوا ہے۔ قصور صرف ان کا ہے۔ انہوں نے دراصل اپنی خواہشات نفسانیہ کو اپنا الہٰ بنارکھا ہے۔ اور وہ کسی محبت اور برہان کی طرف توجہ کرنے والے نہیں ہیں۔ اگر لوگ نہیں مانتے تو رسول ﷺ کیا کرسکتا ہے۔
(ارءیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکیلا) ( ُ 25 : 43) ” کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ‘ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لے آنے کا ذمہ لے سکتے ہو “۔ یہ عجیب انداز بیان ہے۔ اس سے ان کی عجیب نفسیاتی حالت کا اظہار ہوتا ہے کہ کسی شخص کا نفس تمام طے شدہ معیار ‘ تمام مسلمہ استدلال ‘ تمام طے شدہ اقدار کو چھوڑ کر صرف اپنی خواہش نفس ‘ اپنی پسند اور اپنی ضد کی بندگی شروع کردے۔ کسی استدلال ‘ کسی برہان ‘ کسی منطق اور کسی سنجیدہ بات پر کان نہ دھرے۔ بس صرف اپنی خواہش کو الہٰ بنا کر پوجے۔
اللہ جل شانہ اپنے بندے کو نہایت ہی نرمی ‘ محبت ‘ انس اور گہرے تعلق کے انداز میں پکارتا ہے۔ ارئیت کیا کبھی تم نے غور کیا ہے ‘ کیا تمہیں علوم ہے۔ ایسے شخص کی تصویر کشی کی جارہی ہے جس کے سامنے کوئی معقول بات پیش کرنا فضول ہے۔ وہ حجت ‘ حقیقت اور غور وفکر کو جانتا ہی نہیں ہے۔ ان چیزوں کی اس کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کو تسلی کے طور پر کہا جاتا ہے کہ ایسا شخص ہدایت کے قابل ہی نہیں ہے۔ لہذا آپ کے ذمہ ایسے شخص کی ہدایت نہیں لگائی جاسکتی اور نہ آپ ایسے شخص کے وکیل ہو سکتے ہیں۔ اور نہ ایسے لوگ ہدایت تک پہنچ سکتے ہیں۔
افانت تکون علیہ وکیلا (25 : 43) ” کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ “ یہ لوگ جنہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود اور الہٰ بنا رکھا ہے ‘ ان کی اصل حیثیت اور ان کا اصل مقام بھی یہاں بتا دیا جاتا ہے کہ یہ بہت ہی حقیر لوگ ہیں۔ یہ محض اپنی خواہشات اور مفادات کے بندے ہیں۔ یہ حجت اور حقیقت کے آگے جھکنے والے نہیں ہیں۔ بلکہ یہ خواہشات اور مفادات کے آگے سجدہ ریز ہونے والے ہیں۔ بلکہ ان کو اس سے بھی زیادہ گرا ہوا مقام دیا جاتا ہے کہ مقام انسانیت سے گر کر مقام حیوانیت خالصہ میں داخل ہوگئے ہیں بلکہ اس سے بھی نیچے۔
(ام تحسب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی محتاط انداز کلام اختیار فرمایا ہے۔ یہ کہا ہے اکثرھم سب نہیں بلکہ ان کی اکثریت ایسی ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کی ایک قلیل لعداد تو ابتداء ہی میں حلقہ بگوش اسلام ہوگئی تھی۔ یا انمیں سے اکثر اس پر غور کرتے تھے۔ البتہ اکثریت ایسی تھی جو محض خواہش نفسی اور مفادات کی خاطر نہ مانتی تھی۔ ان کے کانوں پر دلائل پڑتے تھے۔ ان کی عقل اسے مانتی تھی لیکن پھر بھی ضد کرتے تھے۔ یہ گویا جانور محض تھے۔ انسان اور انور میں فرق ہی یہ ہیکہانسان غور وفکر کرتا ہے اور پھر انسان اپنے غور وفکر کے مطابق اچھا طرز عمل بھی اختیار کرتا ہے۔ بصیرت اور قصد و ارادے سے حقائق کو اپناتا ہے۔ حجت اور دلیل سے بات کرتا ہے اور سنتا ہے۔ اور اگر انسان اپنے ان خصائص کو چھوڑ دے تو وہ بہائم سے بھی بد تر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ بہائم کو اللہ نے جو شعور دیا ہے وہ تو اس سے استفادہ کرتے ہیں اور انسان کو جو عقل و دانش دی گئی ہے وہ اس سے اسفادہ نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے فرائض منصبی صحیح طرح ادا کرتے ہیں لیکن انسان ادا نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے شعور سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ اپنے تدبر سے کام نہیں لیتا۔
(ان ھم الا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” “۔ یہ ہے جواب ان کے استہزاء کا ۔ یعنی تم انسان ہی نہیں ہو ‘ حیوانوں سے بد تر ہو۔ اس لیے تم سرور کو نین حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے ہو۔ یوں اس سبق کا خاتمہ ‘ جواب آل غزل پر ہوتا ہے۔
الفرقان 25:42
(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (35 تا 40) ”
یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔
القوم الذین کذبوا بایتنا (25 : 36) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘ رسولوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ابھی دوسری آیت ختم نہیں ہوئی کہ بڑی سختی سے انجام بتادیا جاتا ہے۔
فدمرنھم تد میرا (25 : 36) ” آخر کار ان لوگوں کو ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے “۔
اس کے بعد قوم نوح کا حال
کذبوا الرسل اغرقنھم (25 : 37) ” انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو غرق کردیا “
قوم نوح نے تو صرف ایک رسول حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت نوح نے جو عقیدہ ان کے سامنے پیش کیا تھا وہ تمام نبیوں کا عقیدہ تھا۔ جب انہوں نے حضرت نوح کو جھٹلایا تو گویا تمام رسولوں کو جھٹلادیا۔
وجعلنھم للناس ایۃ (25 : 37) ” اور ان کو دنیا بھر کے لوگوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا “۔ کیونکہ طوفان کا معجزہ کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ جو شخص بھی طوفان کے اس واقعہ پر غور کرے گا اسے عبرت حاصل ہوگی۔
واعتدنا للظلمین عذابا الیما (25 : 37) ” اور ان ظالموں کے لیے ایک درد ناک عذاب ہم نے تیار کر رکھا ہے “۔ یہ عذاب حاضر و موجود ہے۔ کسی تیاری کی ضرورت نہ ہوگی۔ ظالمین کا لفظ ضمیر کی جگہ استعمال کیا گیا تاکہ یہ ان کا دائمی لقب ہو اور یہ بھی بتا دیا جائے کہ یہ عذاب ان کو ان کے ظلم کی وجہ سے دیا جائے گا۔ پھر عاد ‘ ثمود اور اصحاب الرس (وہ لوگ جن کے کنویں کی دیواریں نہ اٹھائی گئی تھیں ‘ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ یمامہ کے ایک گائوں میں رہتے تھے اور انہوں نے اپنے نبی کو قتل کردیا تھا۔ ان جریر نے تو کہا ہے کہ یہ اصحاب الا خدود ہیں جنہوں نے مومنین کو جلا دیا تھا۔ جس کا ذکر سورة بروج میں آیا ہے) ۔ اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ جو بعد کے ادوار میں آتے رہے سب کو اللہ نیہلاک کر کے نشان عبرت بنایا۔ انہوں نے پیغمبروں کی دعوت پر غور نہ کیا اور ہلاکت سے نہ بچ سکے۔
یہ تمام مثالیں ‘ قوم موسیٰ ‘ نوح ‘ عاد ‘ ثمود ‘ اصحاب الرس ‘ درمیان زمانوں کی اقوام اور وہ قوم (لوط) جس پر بری بارش کی گئی۔ یہ سب اقوام ایک ہی راہ اور ایک ہی انجام تک پہنچیں۔ اور سب کو اللہ نے نشانہ عبرت بنایا۔
وکلا تبرنا تتبیرا (25 : 40) ” سب کو ہم نے ہلاک کردیا بےدردی سے “۔ کیونکہ انہوں نے نبیوں کی تکذیب کی اور جو اقوام نبیوں کی تکذیب کرتی ہیں وہ ٹوٹ پھوٹ اور ہلاکت کے انجام سے دو چار ہوتی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان ساری اقوام کے المناک انجام پر نہایت ہی سر سری نظر ڈالتا ہے اور یہ سریع الحرکت بیان آکر حضرت لوط کی قوم کے بیان پر ختم ہوتا ہے جو ان کے اسفار سٹاء و صیف میں شاہراہ عام پر ان کو خوب نظر آتا ہے۔ اللہ نے اس قوم کو آتش نشانی کے عمل کے ذریعہ ہلاک کیا۔ ان پر پتھروں کی بارش کردی گئی۔ اور اس طرح ان کو پوری طرح ہلاک کردیا گیا۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی تکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور مذاق کا رویہ اختیار کیا ہے اور قرآن پر یہ طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔
اقوام مکذبہ پر اس سرسری نظر کے بعد روئے سخن اب ان لوگوں کے مزاحیہ انداز کی طرف پھرجاتا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اللہ کی شان میں بھی ایسی ہی گستاخی کی تھی۔ اور کہا تھا کہ یہ قرآن موجودہ انداز سے کیوں نازل ہورہا ہے۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی مکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور
(واذا راوک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (41 تا 44) ” یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ اس نے تو ہمیں گمراہ کر کے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا۔ اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ اچھا ‘ وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا تھا۔ کبھی تم نے اس شخص کے ال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو۔ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔
حضرت محمد ﷺ اپنی قوم میں دیکھے سنے ہوئے تھے۔ قبل بعثت آپ ﷺ ان کے ہاں اک نہایت معتبر شخص تھے۔ آپ بنی ہاشم کے ایک چوٹی کے فرد تھے جو قریش کے چوٹی کے لوگ تھے۔ اپنے اخلاق کی وجہ سے بھی آپ بڑے مرتبے اور مقام کی شخصیت تھے اور بعثت سے قبل صادق اور امین مشہور تھے۔ جب تعمیر خانہ کعبہ کے وقت حجر اسود رکھنے کے مسئلے پر قریش کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے تو تمام لوگ اس بات پر تیار ہوگئے کہ آپ اس پتھر کو نصب کردیں اور جب آپ نے ان کو صفا پر بلایا اور ان سے پوچھا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے اس طرف ایک فوج آپ لوگوں پر حملہ آور ہو رہی ہے تو کیا آپ میری بات کو تسلیم کریں گے تو سب نے کہا ‘ ہاں آپ ﷺ ہمارے ہاں۔۔ نہیں ہیں۔
لیکن بعثت کے بعد قرآنی دعوت پیش کرنے کے بعد وہی تھے جو حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔
اھذا الذی بعث اللہ (25 : 41) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے “ ۔ یہ فقرہ وہ بطور مذاق کہتے تھے۔ کیا یہ بات تھی کہ نبی ﷺ کی ذات سے وہ مذاق کرنا چاہتے تھے یا قرآن کریم میں کوئی ایسی بات تھی جس کے ساتھ مذاق کیا جاسکتا تھا۔ نہیں ‘ یہ دونوں باتیں نہ تھیں بلکہ یہ بات وہ کبرائے قریش کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہتے تھے۔ اس طرح وہ نبی ﷺ کی عظیم شخصیت کی کردار کشی کرنا چاہتے تھے۔ اور اس طرح وہ قرآن کریم کے بےپناہ اثرات کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے۔ یہ انہوں نے اس جدید دعوت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک تدبیر اختیار کی تھی کیونکہ سابقہ معاشرے میں ان کو جو مقام اور مرتبہ حاصل تھا ‘ اس کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ نیز ان کے بعض اقتصادی مفادات سابقہ نظام جاہلیت سے وابستہ تھے۔ یہ منصبی اور اقتصادی حیثیت ان کو ان نظریاتی خرافات کی وجہ سے حاصل تھی جو عربی معاشرے پر چھائے ہوئے تھے اور قرآن ان خرافات لایعنی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہا تھا۔
یہ لوگ جدید دعوت کا مقابلہ کرے کے لیے بڑی بڑی مجلسیں کرتے تھے۔ ان مجالس میں یہ لوگ اس قسم کے غلط پروپینڈے اور جھوٹے کردار کشی کے فیصلے کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ یہ سب کچھ جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ ابن اسحاق نے روایت کی ہے کہ ایک بار ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ بڑا معمو اور دانشور شخص تھا۔ موسم حج قریب تھا۔ اس نے ان قریشیوں سے کہا کہ موسم حج آنے والا ہے۔ تمام عالم عرب سے وفود مکہ آئیں گے۔ انہوں نے تمہارے اس آدمی کے بارے میں تو سن رکھا ہے۔ لہذا مناسب ہے کہ اس کے بارے میں تم اپنی رائے ایک کرلو۔ یہ نہ ہو کہ تم مختلف باتیں کرو۔ اور ایک دوسرے کی تکذیب کرتے پھرو۔ انہوں نے کہا عبدالشمس کے باپ بس تم ہی بتا دو تم ایک رائے قائم کرکے ہمیں کہو ہم سب وہی بات کریں گے ‘ یہ سنکر اس نے کہا کہ پہلے تم بتائو کہ تم کیا کہو گے۔ میں دیکھوں کہ تم کیا کہتے ہو۔ انہوں نے کہا ہم اس کے بارے میں کہیں گے کہ یہ ایک کاہن ہے۔ اس نے کہا ‘ خدا کی قسم یہ بات غلط ہے۔ یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ یہ نہ ان کی طرح گنگناتا ہے اور نہ ان کی طرح سجع بندی کے ذریعے بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا : تو پھر ہم کہیں گے کہ یہ مجنوں ہے۔ تو اس نے کہا کہ یہ مجنوں بھی نہیں ہے۔ ہم مجنونوں کو اچھی طرح دیکھتے اور جانتے ہیں۔ نہ مجنوں کی طرح اس کا گلا گھٹتا ہے نہ اسے کوئی خلجان ہے اور نہ کوئی وسوسہ ہے۔ تو انہوں نے کہا تو پھر ہم کہیں گے یہ ایک شاعر ہے۔ تو اس نے کہا وہ تو شاعر نہیں ہے۔ شعر کی اقسام اور اوزان ‘ رجز ‘ ہزج ‘ قریض ‘ مقبوض اور مبسوط کو ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا تو ہم پھر کہیں گے کہ یہ جادو گر ہے تو اس نے کہا وہ تو جادو گر نہیں ہے۔ ہم نے جادو گروں کے جادو کو دیکھا ہے۔ نہ وہ ان کی طرح پھونکتا ہے ‘ نہ گرہیں ڈالتا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ عبدالشمس کے باپ تم ہی بتائو کہ پھر ہم کیا کہیں ؟ اس نے کہا خاد کی قسم اس کا کلام بہت میٹھا ہے۔ اس کی اساس ایک موٹے تنے پر ہے اور اس کی شاخیں تازہ پھول کی طرح ہیں۔ ان باتوں میں سے تم جو بات بھی کہو گے لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ غلط بات کہی جارہی ہے۔ بہر حال سب سے مناسب بات جو تم کہہ سکتے ہو وہ یہ ہے کہ وہ ساحر ہے اور اس کا کلام اس قدر جادو بھرا ہے کہ ایک شخص اور اس کے باپ ‘ اس کے بھائی ‘ اس کی بیوی اور اس کے خاندان کے درمیان جدائی ڈال دیتا ہے۔ چناچہ یہ بات لے کر وہ اس کے پاس سے چلے گئے۔ جب حج کا موسم آتا تو یہ لوگ راستوں میں بیٹھ جاتے ‘ جو شخص بھی ان پر سے گزرتا اسے ڈراتے اور حضرت محمد ﷺ کے بارے میں بتاتے رہتے۔
یہ ہے مثال ان کی گہری سازش اور تدبیر کی وجو وہ حضور ﷺ کے خلاف کرتے تھے اور یہ سازش وہ جانتے ہوئے کرتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ سچے ہیں۔ اس لیے یہ جو وہ کہتے تھے :” کیا اس شخص کو اللہ کا رسول بنا کر بھیجا ہے “ یہ بطور تمسخر نہ کہتے تھے ‘ بلکہ یہ وہ گہری سازش کے تحت محض کردار کشی کے لیے کہتے تھے حالانکہ ان کا شعور گواہ تھا کہ وہ حضور ﷺ کو حق پر سمجھتے تھے۔ یہ باتیں کہہ کر وہ عوام کی نظروں میں حضور ﷺ کی شان گراتے تھے تاکہ سابقہ نظام میں ان کو جو عزت اور مرتبہ کا مقام حاصل تھا وہ باقی رہے اور جو مالی مفادات ان کو حاصل ہوتے تھے وہ ان کو حاصل ہوتے رہیں۔ قریش نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف جو رویہ اختیار کیا ‘ ہر زمان و مکان میں دعوت حق کے ساتھ مفاد پرست لوگ یہی سلوک کرتے ہیں۔
زبانی طور پر تو وہ مذاق کے انداز میں پروپیگنڈے کرتے تھے اور آپ کی کردار کشی کرتے تھے لیکن خود ان کی باتوں سے یہ بات ظاہر ہوجاتی تھی کہ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کی دعوت سے کس قدر گھبرائے ہوئے تھے۔ وہ قرآن کریم کے اٹل دلائل کے بارے میں یہ تبصرہ بھی کرتے تھے۔
(ان کاد۔۔۔۔۔۔۔۔ علیھا) (25 : 42) ” اس نے ہمیں گمراہ کرکے اپنے معبودوں سے برگشتہ کر ہی دیا ہوتا اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی ذہنی دنیا میں ایک قسم کا بھونچال آگیا تھا۔ قریب تھا کہ وہ اپنے الہوں کو چھوڑ کر بھاگ جائیں لیکن وہ بڑی استقامت سے اپنے الہوں پر جم گئے۔ اپنے دین اور اس کے ساتھ وابستہ مناسب ومفادات کو بچاتے رہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے یعنی مقابلہ کر کے صبر اور مصابرت سے کام نہ لیتے تو وہ بھی اپنے الہوں کو ترک کرچکے ہوتے۔ تعجب یہ ہے کہ اپنی ہٹ دھرمی اور مفادات کی وجہ سے یہ لوگ ہدایت کو ضلالت کہتے۔ یہی تو ان کی ضلالت تھی کہ خرد کا نام جنوں رکھ رہے تھے لیکن حضرت محمد ﷺ کی دعوت نے ان کے ایوانوں میں جو زلزلہ برپا کردیا تھا اس کو وہ چھپا نہ سکے۔ اگر چہ غایت درجہ ہٹ دھرمی اور اصرار کی وجہ سے وہ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت اور قرآن پر حرف گیری کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ بھی انہیں خبردار فرماتا ہے کہ بہت جلد وہ اپنے انجام تک پہنچ جائیں گے۔
(وسوف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (25 : 42) ” وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا ہے “۔ ان کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ حضرت محمد ﷺ جو دعوت لے کر آئے تھے وہ تو ہدایت تھی اور جس پر وہ قائم تھے وہ ضلالت تھی۔ لیکن جب وقت چلا جاتا ہے تو پھر علم کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ اس وقت تو وہ عذاب دیکھ لیں گے۔ خواہ یہ عذاب دنیا کا ہو ‘ جس طرح بدر کے دن انہوں نے خوب چکھا ‘ یا آخرت کا ہو جسے وہ یوم الحساب میں دیکھیں گے ‘ جانیں گے اور چکھیں گے۔
اب روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو ان کے عناد ہٹ دھرمی اور استہزاء پر تسلی دی جاتی ہے کہ آپ نے تو دعوت پہنچا نے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ آپ نے پورے پورے دلائل سنا دیئے اور مناسب نہ تھا کہ ان کا ردعمل وہ ہوتا جو ہوا ہے۔ قصور صرف ان کا ہے۔ انہوں نے دراصل اپنی خواہشات نفسانیہ کو اپنا الہٰ بنارکھا ہے۔ اور وہ کسی محبت اور برہان کی طرف توجہ کرنے والے نہیں ہیں۔ اگر لوگ نہیں مانتے تو رسول ﷺ کیا کرسکتا ہے۔
(ارءیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکیلا) ( ُ 25 : 43) ” کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ‘ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لے آنے کا ذمہ لے سکتے ہو “۔ یہ عجیب انداز بیان ہے۔ اس سے ان کی عجیب نفسیاتی حالت کا اظہار ہوتا ہے کہ کسی شخص کا نفس تمام طے شدہ معیار ‘ تمام مسلمہ استدلال ‘ تمام طے شدہ اقدار کو چھوڑ کر صرف اپنی خواہش نفس ‘ اپنی پسند اور اپنی ضد کی بندگی شروع کردے۔ کسی استدلال ‘ کسی برہان ‘ کسی منطق اور کسی سنجیدہ بات پر کان نہ دھرے۔ بس صرف اپنی خواہش کو الہٰ بنا کر پوجے۔
اللہ جل شانہ اپنے بندے کو نہایت ہی نرمی ‘ محبت ‘ انس اور گہرے تعلق کے انداز میں پکارتا ہے۔ ارئیت کیا کبھی تم نے غور کیا ہے ‘ کیا تمہیں علوم ہے۔ ایسے شخص کی تصویر کشی کی جارہی ہے جس کے سامنے کوئی معقول بات پیش کرنا فضول ہے۔ وہ حجت ‘ حقیقت اور غور وفکر کو جانتا ہی نہیں ہے۔ ان چیزوں کی اس کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کو تسلی کے طور پر کہا جاتا ہے کہ ایسا شخص ہدایت کے قابل ہی نہیں ہے۔ لہذا آپ کے ذمہ ایسے شخص کی ہدایت نہیں لگائی جاسکتی اور نہ آپ ایسے شخص کے وکیل ہو سکتے ہیں۔ اور نہ ایسے لوگ ہدایت تک پہنچ سکتے ہیں۔
افانت تکون علیہ وکیلا (25 : 43) ” کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ “ یہ لوگ جنہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود اور الہٰ بنا رکھا ہے ‘ ان کی اصل حیثیت اور ان کا اصل مقام بھی یہاں بتا دیا جاتا ہے کہ یہ بہت ہی حقیر لوگ ہیں۔ یہ محض اپنی خواہشات اور مفادات کے بندے ہیں۔ یہ حجت اور حقیقت کے آگے جھکنے والے نہیں ہیں۔ بلکہ یہ خواہشات اور مفادات کے آگے سجدہ ریز ہونے والے ہیں۔ بلکہ ان کو اس سے بھی زیادہ گرا ہوا مقام دیا جاتا ہے کہ مقام انسانیت سے گر کر مقام حیوانیت خالصہ میں داخل ہوگئے ہیں بلکہ اس سے بھی نیچے۔
(ام تحسب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی محتاط انداز کلام اختیار فرمایا ہے۔ یہ کہا ہے اکثرھم سب نہیں بلکہ ان کی اکثریت ایسی ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کی ایک قلیل لعداد تو ابتداء ہی میں حلقہ بگوش اسلام ہوگئی تھی۔ یا انمیں سے اکثر اس پر غور کرتے تھے۔ البتہ اکثریت ایسی تھی جو محض خواہش نفسی اور مفادات کی خاطر نہ مانتی تھی۔ ان کے کانوں پر دلائل پڑتے تھے۔ ان کی عقل اسے مانتی تھی لیکن پھر بھی ضد کرتے تھے۔ یہ گویا جانور محض تھے۔ انسان اور انور میں فرق ہی یہ ہیکہانسان غور وفکر کرتا ہے اور پھر انسان اپنے غور وفکر کے مطابق اچھا طرز عمل بھی اختیار کرتا ہے۔ بصیرت اور قصد و ارادے سے حقائق کو اپناتا ہے۔ حجت اور دلیل سے بات کرتا ہے اور سنتا ہے۔ اور اگر انسان اپنے ان خصائص کو چھوڑ دے تو وہ بہائم سے بھی بد تر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ بہائم کو اللہ نے جو شعور دیا ہے وہ تو اس سے استفادہ کرتے ہیں اور انسان کو جو عقل و دانش دی گئی ہے وہ اس سے اسفادہ نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے فرائض منصبی صحیح طرح ادا کرتے ہیں لیکن انسان ادا نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے شعور سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ اپنے تدبر سے کام نہیں لیتا۔
(ان ھم الا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” “۔ یہ ہے جواب ان کے استہزاء کا ۔ یعنی تم انسان ہی نہیں ہو ‘ حیوانوں سے بد تر ہو۔ اس لیے تم سرور کو نین حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے ہو۔ یوں اس سبق کا خاتمہ ‘ جواب آل غزل پر ہوتا ہے۔
الفرقان 25:43
(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (35 تا 40) ”
یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔
القوم الذین کذبوا بایتنا (25 : 36) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘ رسولوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ابھی دوسری آیت ختم نہیں ہوئی کہ بڑی سختی سے انجام بتادیا جاتا ہے۔
فدمرنھم تد میرا (25 : 36) ” آخر کار ان لوگوں کو ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے “۔
اس کے بعد قوم نوح کا حال
کذبوا الرسل اغرقنھم (25 : 37) ” انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو غرق کردیا “
قوم نوح نے تو صرف ایک رسول حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت نوح نے جو عقیدہ ان کے سامنے پیش کیا تھا وہ تمام نبیوں کا عقیدہ تھا۔ جب انہوں نے حضرت نوح کو جھٹلایا تو گویا تمام رسولوں کو جھٹلادیا۔
وجعلنھم للناس ایۃ (25 : 37) ” اور ان کو دنیا بھر کے لوگوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا “۔ کیونکہ طوفان کا معجزہ کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ جو شخص بھی طوفان کے اس واقعہ پر غور کرے گا اسے عبرت حاصل ہوگی۔
واعتدنا للظلمین عذابا الیما (25 : 37) ” اور ان ظالموں کے لیے ایک درد ناک عذاب ہم نے تیار کر رکھا ہے “۔ یہ عذاب حاضر و موجود ہے۔ کسی تیاری کی ضرورت نہ ہوگی۔ ظالمین کا لفظ ضمیر کی جگہ استعمال کیا گیا تاکہ یہ ان کا دائمی لقب ہو اور یہ بھی بتا دیا جائے کہ یہ عذاب ان کو ان کے ظلم کی وجہ سے دیا جائے گا۔ پھر عاد ‘ ثمود اور اصحاب الرس (وہ لوگ جن کے کنویں کی دیواریں نہ اٹھائی گئی تھیں ‘ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ یمامہ کے ایک گائوں میں رہتے تھے اور انہوں نے اپنے نبی کو قتل کردیا تھا۔ ان جریر نے تو کہا ہے کہ یہ اصحاب الا خدود ہیں جنہوں نے مومنین کو جلا دیا تھا۔ جس کا ذکر سورة بروج میں آیا ہے) ۔ اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ جو بعد کے ادوار میں آتے رہے سب کو اللہ نیہلاک کر کے نشان عبرت بنایا۔ انہوں نے پیغمبروں کی دعوت پر غور نہ کیا اور ہلاکت سے نہ بچ سکے۔
یہ تمام مثالیں ‘ قوم موسیٰ ‘ نوح ‘ عاد ‘ ثمود ‘ اصحاب الرس ‘ درمیان زمانوں کی اقوام اور وہ قوم (لوط) جس پر بری بارش کی گئی۔ یہ سب اقوام ایک ہی راہ اور ایک ہی انجام تک پہنچیں۔ اور سب کو اللہ نے نشانہ عبرت بنایا۔
وکلا تبرنا تتبیرا (25 : 40) ” سب کو ہم نے ہلاک کردیا بےدردی سے “۔ کیونکہ انہوں نے نبیوں کی تکذیب کی اور جو اقوام نبیوں کی تکذیب کرتی ہیں وہ ٹوٹ پھوٹ اور ہلاکت کے انجام سے دو چار ہوتی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان ساری اقوام کے المناک انجام پر نہایت ہی سر سری نظر ڈالتا ہے اور یہ سریع الحرکت بیان آکر حضرت لوط کی قوم کے بیان پر ختم ہوتا ہے جو ان کے اسفار سٹاء و صیف میں شاہراہ عام پر ان کو خوب نظر آتا ہے۔ اللہ نے اس قوم کو آتش نشانی کے عمل کے ذریعہ ہلاک کیا۔ ان پر پتھروں کی بارش کردی گئی۔ اور اس طرح ان کو پوری طرح ہلاک کردیا گیا۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی تکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور مذاق کا رویہ اختیار کیا ہے اور قرآن پر یہ طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔
اقوام مکذبہ پر اس سرسری نظر کے بعد روئے سخن اب ان لوگوں کے مزاحیہ انداز کی طرف پھرجاتا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اللہ کی شان میں بھی ایسی ہی گستاخی کی تھی۔ اور کہا تھا کہ یہ قرآن موجودہ انداز سے کیوں نازل ہورہا ہے۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی مکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور
(واذا راوک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (41 تا 44) ” یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ اس نے تو ہمیں گمراہ کر کے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا۔ اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ اچھا ‘ وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا تھا۔ کبھی تم نے اس شخص کے ال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو۔ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔
حضرت محمد ﷺ اپنی قوم میں دیکھے سنے ہوئے تھے۔ قبل بعثت آپ ﷺ ان کے ہاں اک نہایت معتبر شخص تھے۔ آپ بنی ہاشم کے ایک چوٹی کے فرد تھے جو قریش کے چوٹی کے لوگ تھے۔ اپنے اخلاق کی وجہ سے بھی آپ بڑے مرتبے اور مقام کی شخصیت تھے اور بعثت سے قبل صادق اور امین مشہور تھے۔ جب تعمیر خانہ کعبہ کے وقت حجر اسود رکھنے کے مسئلے پر قریش کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے تو تمام لوگ اس بات پر تیار ہوگئے کہ آپ اس پتھر کو نصب کردیں اور جب آپ نے ان کو صفا پر بلایا اور ان سے پوچھا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے اس طرف ایک فوج آپ لوگوں پر حملہ آور ہو رہی ہے تو کیا آپ میری بات کو تسلیم کریں گے تو سب نے کہا ‘ ہاں آپ ﷺ ہمارے ہاں۔۔ نہیں ہیں۔
لیکن بعثت کے بعد قرآنی دعوت پیش کرنے کے بعد وہی تھے جو حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔
اھذا الذی بعث اللہ (25 : 41) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے “ ۔ یہ فقرہ وہ بطور مذاق کہتے تھے۔ کیا یہ بات تھی کہ نبی ﷺ کی ذات سے وہ مذاق کرنا چاہتے تھے یا قرآن کریم میں کوئی ایسی بات تھی جس کے ساتھ مذاق کیا جاسکتا تھا۔ نہیں ‘ یہ دونوں باتیں نہ تھیں بلکہ یہ بات وہ کبرائے قریش کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہتے تھے۔ اس طرح وہ نبی ﷺ کی عظیم شخصیت کی کردار کشی کرنا چاہتے تھے۔ اور اس طرح وہ قرآن کریم کے بےپناہ اثرات کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے۔ یہ انہوں نے اس جدید دعوت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک تدبیر اختیار کی تھی کیونکہ سابقہ معاشرے میں ان کو جو مقام اور مرتبہ حاصل تھا ‘ اس کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ نیز ان کے بعض اقتصادی مفادات سابقہ نظام جاہلیت سے وابستہ تھے۔ یہ منصبی اور اقتصادی حیثیت ان کو ان نظریاتی خرافات کی وجہ سے حاصل تھی جو عربی معاشرے پر چھائے ہوئے تھے اور قرآن ان خرافات لایعنی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہا تھا۔
یہ لوگ جدید دعوت کا مقابلہ کرے کے لیے بڑی بڑی مجلسیں کرتے تھے۔ ان مجالس میں یہ لوگ اس قسم کے غلط پروپینڈے اور جھوٹے کردار کشی کے فیصلے کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ یہ سب کچھ جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ ابن اسحاق نے روایت کی ہے کہ ایک بار ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ بڑا معمو اور دانشور شخص تھا۔ موسم حج قریب تھا۔ اس نے ان قریشیوں سے کہا کہ موسم حج آنے والا ہے۔ تمام عالم عرب سے وفود مکہ آئیں گے۔ انہوں نے تمہارے اس آدمی کے بارے میں تو سن رکھا ہے۔ لہذا مناسب ہے کہ اس کے بارے میں تم اپنی رائے ایک کرلو۔ یہ نہ ہو کہ تم مختلف باتیں کرو۔ اور ایک دوسرے کی تکذیب کرتے پھرو۔ انہوں نے کہا عبدالشمس کے باپ بس تم ہی بتا دو تم ایک رائے قائم کرکے ہمیں کہو ہم سب وہی بات کریں گے ‘ یہ سنکر اس نے کہا کہ پہلے تم بتائو کہ تم کیا کہو گے۔ میں دیکھوں کہ تم کیا کہتے ہو۔ انہوں نے کہا ہم اس کے بارے میں کہیں گے کہ یہ ایک کاہن ہے۔ اس نے کہا ‘ خدا کی قسم یہ بات غلط ہے۔ یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ یہ نہ ان کی طرح گنگناتا ہے اور نہ ان کی طرح سجع بندی کے ذریعے بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا : تو پھر ہم کہیں گے کہ یہ مجنوں ہے۔ تو اس نے کہا کہ یہ مجنوں بھی نہیں ہے۔ ہم مجنونوں کو اچھی طرح دیکھتے اور جانتے ہیں۔ نہ مجنوں کی طرح اس کا گلا گھٹتا ہے نہ اسے کوئی خلجان ہے اور نہ کوئی وسوسہ ہے۔ تو انہوں نے کہا تو پھر ہم کہیں گے یہ ایک شاعر ہے۔ تو اس نے کہا وہ تو شاعر نہیں ہے۔ شعر کی اقسام اور اوزان ‘ رجز ‘ ہزج ‘ قریض ‘ مقبوض اور مبسوط کو ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا تو ہم پھر کہیں گے کہ یہ جادو گر ہے تو اس نے کہا وہ تو جادو گر نہیں ہے۔ ہم نے جادو گروں کے جادو کو دیکھا ہے۔ نہ وہ ان کی طرح پھونکتا ہے ‘ نہ گرہیں ڈالتا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ عبدالشمس کے باپ تم ہی بتائو کہ پھر ہم کیا کہیں ؟ اس نے کہا خاد کی قسم اس کا کلام بہت میٹھا ہے۔ اس کی اساس ایک موٹے تنے پر ہے اور اس کی شاخیں تازہ پھول کی طرح ہیں۔ ان باتوں میں سے تم جو بات بھی کہو گے لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ غلط بات کہی جارہی ہے۔ بہر حال سب سے مناسب بات جو تم کہہ سکتے ہو وہ یہ ہے کہ وہ ساحر ہے اور اس کا کلام اس قدر جادو بھرا ہے کہ ایک شخص اور اس کے باپ ‘ اس کے بھائی ‘ اس کی بیوی اور اس کے خاندان کے درمیان جدائی ڈال دیتا ہے۔ چناچہ یہ بات لے کر وہ اس کے پاس سے چلے گئے۔ جب حج کا موسم آتا تو یہ لوگ راستوں میں بیٹھ جاتے ‘ جو شخص بھی ان پر سے گزرتا اسے ڈراتے اور حضرت محمد ﷺ کے بارے میں بتاتے رہتے۔
یہ ہے مثال ان کی گہری سازش اور تدبیر کی وجو وہ حضور ﷺ کے خلاف کرتے تھے اور یہ سازش وہ جانتے ہوئے کرتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ سچے ہیں۔ اس لیے یہ جو وہ کہتے تھے :” کیا اس شخص کو اللہ کا رسول بنا کر بھیجا ہے “ یہ بطور تمسخر نہ کہتے تھے ‘ بلکہ یہ وہ گہری سازش کے تحت محض کردار کشی کے لیے کہتے تھے حالانکہ ان کا شعور گواہ تھا کہ وہ حضور ﷺ کو حق پر سمجھتے تھے۔ یہ باتیں کہہ کر وہ عوام کی نظروں میں حضور ﷺ کی شان گراتے تھے تاکہ سابقہ نظام میں ان کو جو عزت اور مرتبہ کا مقام حاصل تھا وہ باقی رہے اور جو مالی مفادات ان کو حاصل ہوتے تھے وہ ان کو حاصل ہوتے رہیں۔ قریش نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف جو رویہ اختیار کیا ‘ ہر زمان و مکان میں دعوت حق کے ساتھ مفاد پرست لوگ یہی سلوک کرتے ہیں۔
زبانی طور پر تو وہ مذاق کے انداز میں پروپیگنڈے کرتے تھے اور آپ کی کردار کشی کرتے تھے لیکن خود ان کی باتوں سے یہ بات ظاہر ہوجاتی تھی کہ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کی دعوت سے کس قدر گھبرائے ہوئے تھے۔ وہ قرآن کریم کے اٹل دلائل کے بارے میں یہ تبصرہ بھی کرتے تھے۔
(ان کاد۔۔۔۔۔۔۔۔ علیھا) (25 : 42) ” اس نے ہمیں گمراہ کرکے اپنے معبودوں سے برگشتہ کر ہی دیا ہوتا اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی ذہنی دنیا میں ایک قسم کا بھونچال آگیا تھا۔ قریب تھا کہ وہ اپنے الہوں کو چھوڑ کر بھاگ جائیں لیکن وہ بڑی استقامت سے اپنے الہوں پر جم گئے۔ اپنے دین اور اس کے ساتھ وابستہ مناسب ومفادات کو بچاتے رہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے یعنی مقابلہ کر کے صبر اور مصابرت سے کام نہ لیتے تو وہ بھی اپنے الہوں کو ترک کرچکے ہوتے۔ تعجب یہ ہے کہ اپنی ہٹ دھرمی اور مفادات کی وجہ سے یہ لوگ ہدایت کو ضلالت کہتے۔ یہی تو ان کی ضلالت تھی کہ خرد کا نام جنوں رکھ رہے تھے لیکن حضرت محمد ﷺ کی دعوت نے ان کے ایوانوں میں جو زلزلہ برپا کردیا تھا اس کو وہ چھپا نہ سکے۔ اگر چہ غایت درجہ ہٹ دھرمی اور اصرار کی وجہ سے وہ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت اور قرآن پر حرف گیری کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ بھی انہیں خبردار فرماتا ہے کہ بہت جلد وہ اپنے انجام تک پہنچ جائیں گے۔
(وسوف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (25 : 42) ” وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا ہے “۔ ان کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ حضرت محمد ﷺ جو دعوت لے کر آئے تھے وہ تو ہدایت تھی اور جس پر وہ قائم تھے وہ ضلالت تھی۔ لیکن جب وقت چلا جاتا ہے تو پھر علم کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ اس وقت تو وہ عذاب دیکھ لیں گے۔ خواہ یہ عذاب دنیا کا ہو ‘ جس طرح بدر کے دن انہوں نے خوب چکھا ‘ یا آخرت کا ہو جسے وہ یوم الحساب میں دیکھیں گے ‘ جانیں گے اور چکھیں گے۔
اب روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو ان کے عناد ہٹ دھرمی اور استہزاء پر تسلی دی جاتی ہے کہ آپ نے تو دعوت پہنچا نے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ آپ نے پورے پورے دلائل سنا دیئے اور مناسب نہ تھا کہ ان کا ردعمل وہ ہوتا جو ہوا ہے۔ قصور صرف ان کا ہے۔ انہوں نے دراصل اپنی خواہشات نفسانیہ کو اپنا الہٰ بنارکھا ہے۔ اور وہ کسی محبت اور برہان کی طرف توجہ کرنے والے نہیں ہیں۔ اگر لوگ نہیں مانتے تو رسول ﷺ کیا کرسکتا ہے۔
(ارءیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکیلا) ( ُ 25 : 43) ” کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ‘ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لے آنے کا ذمہ لے سکتے ہو “۔ یہ عجیب انداز بیان ہے۔ اس سے ان کی عجیب نفسیاتی حالت کا اظہار ہوتا ہے کہ کسی شخص کا نفس تمام طے شدہ معیار ‘ تمام مسلمہ استدلال ‘ تمام طے شدہ اقدار کو چھوڑ کر صرف اپنی خواہش نفس ‘ اپنی پسند اور اپنی ضد کی بندگی شروع کردے۔ کسی استدلال ‘ کسی برہان ‘ کسی منطق اور کسی سنجیدہ بات پر کان نہ دھرے۔ بس صرف اپنی خواہش کو الہٰ بنا کر پوجے۔
اللہ جل شانہ اپنے بندے کو نہایت ہی نرمی ‘ محبت ‘ انس اور گہرے تعلق کے انداز میں پکارتا ہے۔ ارئیت کیا کبھی تم نے غور کیا ہے ‘ کیا تمہیں علوم ہے۔ ایسے شخص کی تصویر کشی کی جارہی ہے جس کے سامنے کوئی معقول بات پیش کرنا فضول ہے۔ وہ حجت ‘ حقیقت اور غور وفکر کو جانتا ہی نہیں ہے۔ ان چیزوں کی اس کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کو تسلی کے طور پر کہا جاتا ہے کہ ایسا شخص ہدایت کے قابل ہی نہیں ہے۔ لہذا آپ کے ذمہ ایسے شخص کی ہدایت نہیں لگائی جاسکتی اور نہ آپ ایسے شخص کے وکیل ہو سکتے ہیں۔ اور نہ ایسے لوگ ہدایت تک پہنچ سکتے ہیں۔
افانت تکون علیہ وکیلا (25 : 43) ” کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ “ یہ لوگ جنہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود اور الہٰ بنا رکھا ہے ‘ ان کی اصل حیثیت اور ان کا اصل مقام بھی یہاں بتا دیا جاتا ہے کہ یہ بہت ہی حقیر لوگ ہیں۔ یہ محض اپنی خواہشات اور مفادات کے بندے ہیں۔ یہ حجت اور حقیقت کے آگے جھکنے والے نہیں ہیں۔ بلکہ یہ خواہشات اور مفادات کے آگے سجدہ ریز ہونے والے ہیں۔ بلکہ ان کو اس سے بھی زیادہ گرا ہوا مقام دیا جاتا ہے کہ مقام انسانیت سے گر کر مقام حیوانیت خالصہ میں داخل ہوگئے ہیں بلکہ اس سے بھی نیچے۔
(ام تحسب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی محتاط انداز کلام اختیار فرمایا ہے۔ یہ کہا ہے اکثرھم سب نہیں بلکہ ان کی اکثریت ایسی ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کی ایک قلیل لعداد تو ابتداء ہی میں حلقہ بگوش اسلام ہوگئی تھی۔ یا انمیں سے اکثر اس پر غور کرتے تھے۔ البتہ اکثریت ایسی تھی جو محض خواہش نفسی اور مفادات کی خاطر نہ مانتی تھی۔ ان کے کانوں پر دلائل پڑتے تھے۔ ان کی عقل اسے مانتی تھی لیکن پھر بھی ضد کرتے تھے۔ یہ گویا جانور محض تھے۔ انسان اور انور میں فرق ہی یہ ہیکہانسان غور وفکر کرتا ہے اور پھر انسان اپنے غور وفکر کے مطابق اچھا طرز عمل بھی اختیار کرتا ہے۔ بصیرت اور قصد و ارادے سے حقائق کو اپناتا ہے۔ حجت اور دلیل سے بات کرتا ہے اور سنتا ہے۔ اور اگر انسان اپنے ان خصائص کو چھوڑ دے تو وہ بہائم سے بھی بد تر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ بہائم کو اللہ نے جو شعور دیا ہے وہ تو اس سے استفادہ کرتے ہیں اور انسان کو جو عقل و دانش دی گئی ہے وہ اس سے اسفادہ نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے فرائض منصبی صحیح طرح ادا کرتے ہیں لیکن انسان ادا نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے شعور سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ اپنے تدبر سے کام نہیں لیتا۔
(ان ھم الا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” “۔ یہ ہے جواب ان کے استہزاء کا ۔ یعنی تم انسان ہی نہیں ہو ‘ حیوانوں سے بد تر ہو۔ اس لیے تم سرور کو نین حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے ہو۔ یوں اس سبق کا خاتمہ ‘ جواب آل غزل پر ہوتا ہے۔
الفرقان 25:44
(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (35 تا 40) ”
یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔
القوم الذین کذبوا بایتنا (25 : 36) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘ رسولوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ابھی دوسری آیت ختم نہیں ہوئی کہ بڑی سختی سے انجام بتادیا جاتا ہے۔
فدمرنھم تد میرا (25 : 36) ” آخر کار ان لوگوں کو ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے “۔
اس کے بعد قوم نوح کا حال
کذبوا الرسل اغرقنھم (25 : 37) ” انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو غرق کردیا “
قوم نوح نے تو صرف ایک رسول حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت نوح نے جو عقیدہ ان کے سامنے پیش کیا تھا وہ تمام نبیوں کا عقیدہ تھا۔ جب انہوں نے حضرت نوح کو جھٹلایا تو گویا تمام رسولوں کو جھٹلادیا۔
وجعلنھم للناس ایۃ (25 : 37) ” اور ان کو دنیا بھر کے لوگوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا “۔ کیونکہ طوفان کا معجزہ کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ جو شخص بھی طوفان کے اس واقعہ پر غور کرے گا اسے عبرت حاصل ہوگی۔
واعتدنا للظلمین عذابا الیما (25 : 37) ” اور ان ظالموں کے لیے ایک درد ناک عذاب ہم نے تیار کر رکھا ہے “۔ یہ عذاب حاضر و موجود ہے۔ کسی تیاری کی ضرورت نہ ہوگی۔ ظالمین کا لفظ ضمیر کی جگہ استعمال کیا گیا تاکہ یہ ان کا دائمی لقب ہو اور یہ بھی بتا دیا جائے کہ یہ عذاب ان کو ان کے ظلم کی وجہ سے دیا جائے گا۔ پھر عاد ‘ ثمود اور اصحاب الرس (وہ لوگ جن کے کنویں کی دیواریں نہ اٹھائی گئی تھیں ‘ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ یمامہ کے ایک گائوں میں رہتے تھے اور انہوں نے اپنے نبی کو قتل کردیا تھا۔ ان جریر نے تو کہا ہے کہ یہ اصحاب الا خدود ہیں جنہوں نے مومنین کو جلا دیا تھا۔ جس کا ذکر سورة بروج میں آیا ہے) ۔ اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ جو بعد کے ادوار میں آتے رہے سب کو اللہ نیہلاک کر کے نشان عبرت بنایا۔ انہوں نے پیغمبروں کی دعوت پر غور نہ کیا اور ہلاکت سے نہ بچ سکے۔
یہ تمام مثالیں ‘ قوم موسیٰ ‘ نوح ‘ عاد ‘ ثمود ‘ اصحاب الرس ‘ درمیان زمانوں کی اقوام اور وہ قوم (لوط) جس پر بری بارش کی گئی۔ یہ سب اقوام ایک ہی راہ اور ایک ہی انجام تک پہنچیں۔ اور سب کو اللہ نے نشانہ عبرت بنایا۔
وکلا تبرنا تتبیرا (25 : 40) ” سب کو ہم نے ہلاک کردیا بےدردی سے “۔ کیونکہ انہوں نے نبیوں کی تکذیب کی اور جو اقوام نبیوں کی تکذیب کرتی ہیں وہ ٹوٹ پھوٹ اور ہلاکت کے انجام سے دو چار ہوتی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان ساری اقوام کے المناک انجام پر نہایت ہی سر سری نظر ڈالتا ہے اور یہ سریع الحرکت بیان آکر حضرت لوط کی قوم کے بیان پر ختم ہوتا ہے جو ان کے اسفار سٹاء و صیف میں شاہراہ عام پر ان کو خوب نظر آتا ہے۔ اللہ نے اس قوم کو آتش نشانی کے عمل کے ذریعہ ہلاک کیا۔ ان پر پتھروں کی بارش کردی گئی۔ اور اس طرح ان کو پوری طرح ہلاک کردیا گیا۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی تکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور مذاق کا رویہ اختیار کیا ہے اور قرآن پر یہ طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔
اقوام مکذبہ پر اس سرسری نظر کے بعد روئے سخن اب ان لوگوں کے مزاحیہ انداز کی طرف پھرجاتا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اللہ کی شان میں بھی ایسی ہی گستاخی کی تھی۔ اور کہا تھا کہ یہ قرآن موجودہ انداز سے کیوں نازل ہورہا ہے۔ تعجب ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ لوگ پھر بھی مکذبین کے انجام سے کوئی عبرت نہیں لیتے۔ یہ قیامت کا خوف اپنے دل میں نہیں رکھتے۔ اللہ کے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پتھر بن گئے ہیں ‘ مسخ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے کینہ ‘ عناد ‘ استکبار اور
(واذا راوک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (41 تا 44) ” یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ اس نے تو ہمیں گمراہ کر کے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا۔ اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ اچھا ‘ وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا تھا۔ کبھی تم نے اس شخص کے ال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو۔ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔
حضرت محمد ﷺ اپنی قوم میں دیکھے سنے ہوئے تھے۔ قبل بعثت آپ ﷺ ان کے ہاں اک نہایت معتبر شخص تھے۔ آپ بنی ہاشم کے ایک چوٹی کے فرد تھے جو قریش کے چوٹی کے لوگ تھے۔ اپنے اخلاق کی وجہ سے بھی آپ بڑے مرتبے اور مقام کی شخصیت تھے اور بعثت سے قبل صادق اور امین مشہور تھے۔ جب تعمیر خانہ کعبہ کے وقت حجر اسود رکھنے کے مسئلے پر قریش کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے تو تمام لوگ اس بات پر تیار ہوگئے کہ آپ اس پتھر کو نصب کردیں اور جب آپ نے ان کو صفا پر بلایا اور ان سے پوچھا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے اس طرف ایک فوج آپ لوگوں پر حملہ آور ہو رہی ہے تو کیا آپ میری بات کو تسلیم کریں گے تو سب نے کہا ‘ ہاں آپ ﷺ ہمارے ہاں۔۔ نہیں ہیں۔
لیکن بعثت کے بعد قرآنی دعوت پیش کرنے کے بعد وہی تھے جو حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔
اھذا الذی بعث اللہ (25 : 41) ” کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے “ ۔ یہ فقرہ وہ بطور مذاق کہتے تھے۔ کیا یہ بات تھی کہ نبی ﷺ کی ذات سے وہ مذاق کرنا چاہتے تھے یا قرآن کریم میں کوئی ایسی بات تھی جس کے ساتھ مذاق کیا جاسکتا تھا۔ نہیں ‘ یہ دونوں باتیں نہ تھیں بلکہ یہ بات وہ کبرائے قریش کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہتے تھے۔ اس طرح وہ نبی ﷺ کی عظیم شخصیت کی کردار کشی کرنا چاہتے تھے۔ اور اس طرح وہ قرآن کریم کے بےپناہ اثرات کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے۔ یہ انہوں نے اس جدید دعوت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک تدبیر اختیار کی تھی کیونکہ سابقہ معاشرے میں ان کو جو مقام اور مرتبہ حاصل تھا ‘ اس کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ نیز ان کے بعض اقتصادی مفادات سابقہ نظام جاہلیت سے وابستہ تھے۔ یہ منصبی اور اقتصادی حیثیت ان کو ان نظریاتی خرافات کی وجہ سے حاصل تھی جو عربی معاشرے پر چھائے ہوئے تھے اور قرآن ان خرافات لایعنی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہا تھا۔
یہ لوگ جدید دعوت کا مقابلہ کرے کے لیے بڑی بڑی مجلسیں کرتے تھے۔ ان مجالس میں یہ لوگ اس قسم کے غلط پروپینڈے اور جھوٹے کردار کشی کے فیصلے کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ یہ سب کچھ جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ ابن اسحاق نے روایت کی ہے کہ ایک بار ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ بڑا معمو اور دانشور شخص تھا۔ موسم حج قریب تھا۔ اس نے ان قریشیوں سے کہا کہ موسم حج آنے والا ہے۔ تمام عالم عرب سے وفود مکہ آئیں گے۔ انہوں نے تمہارے اس آدمی کے بارے میں تو سن رکھا ہے۔ لہذا مناسب ہے کہ اس کے بارے میں تم اپنی رائے ایک کرلو۔ یہ نہ ہو کہ تم مختلف باتیں کرو۔ اور ایک دوسرے کی تکذیب کرتے پھرو۔ انہوں نے کہا عبدالشمس کے باپ بس تم ہی بتا دو تم ایک رائے قائم کرکے ہمیں کہو ہم سب وہی بات کریں گے ‘ یہ سنکر اس نے کہا کہ پہلے تم بتائو کہ تم کیا کہو گے۔ میں دیکھوں کہ تم کیا کہتے ہو۔ انہوں نے کہا ہم اس کے بارے میں کہیں گے کہ یہ ایک کاہن ہے۔ اس نے کہا ‘ خدا کی قسم یہ بات غلط ہے۔ یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ یہ نہ ان کی طرح گنگناتا ہے اور نہ ان کی طرح سجع بندی کے ذریعے بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا : تو پھر ہم کہیں گے کہ یہ مجنوں ہے۔ تو اس نے کہا کہ یہ مجنوں بھی نہیں ہے۔ ہم مجنونوں کو اچھی طرح دیکھتے اور جانتے ہیں۔ نہ مجنوں کی طرح اس کا گلا گھٹتا ہے نہ اسے کوئی خلجان ہے اور نہ کوئی وسوسہ ہے۔ تو انہوں نے کہا تو پھر ہم کہیں گے یہ ایک شاعر ہے۔ تو اس نے کہا وہ تو شاعر نہیں ہے۔ شعر کی اقسام اور اوزان ‘ رجز ‘ ہزج ‘ قریض ‘ مقبوض اور مبسوط کو ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا تو ہم پھر کہیں گے کہ یہ جادو گر ہے تو اس نے کہا وہ تو جادو گر نہیں ہے۔ ہم نے جادو گروں کے جادو کو دیکھا ہے۔ نہ وہ ان کی طرح پھونکتا ہے ‘ نہ گرہیں ڈالتا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ عبدالشمس کے باپ تم ہی بتائو کہ پھر ہم کیا کہیں ؟ اس نے کہا خاد کی قسم اس کا کلام بہت میٹھا ہے۔ اس کی اساس ایک موٹے تنے پر ہے اور اس کی شاخیں تازہ پھول کی طرح ہیں۔ ان باتوں میں سے تم جو بات بھی کہو گے لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ غلط بات کہی جارہی ہے۔ بہر حال سب سے مناسب بات جو تم کہہ سکتے ہو وہ یہ ہے کہ وہ ساحر ہے اور اس کا کلام اس قدر جادو بھرا ہے کہ ایک شخص اور اس کے باپ ‘ اس کے بھائی ‘ اس کی بیوی اور اس کے خاندان کے درمیان جدائی ڈال دیتا ہے۔ چناچہ یہ بات لے کر وہ اس کے پاس سے چلے گئے۔ جب حج کا موسم آتا تو یہ لوگ راستوں میں بیٹھ جاتے ‘ جو شخص بھی ان پر سے گزرتا اسے ڈراتے اور حضرت محمد ﷺ کے بارے میں بتاتے رہتے۔
یہ ہے مثال ان کی گہری سازش اور تدبیر کی وجو وہ حضور ﷺ کے خلاف کرتے تھے اور یہ سازش وہ جانتے ہوئے کرتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ سچے ہیں۔ اس لیے یہ جو وہ کہتے تھے :” کیا اس شخص کو اللہ کا رسول بنا کر بھیجا ہے “ یہ بطور تمسخر نہ کہتے تھے ‘ بلکہ یہ وہ گہری سازش کے تحت محض کردار کشی کے لیے کہتے تھے حالانکہ ان کا شعور گواہ تھا کہ وہ حضور ﷺ کو حق پر سمجھتے تھے۔ یہ باتیں کہہ کر وہ عوام کی نظروں میں حضور ﷺ کی شان گراتے تھے تاکہ سابقہ نظام میں ان کو جو عزت اور مرتبہ کا مقام حاصل تھا وہ باقی رہے اور جو مالی مفادات ان کو حاصل ہوتے تھے وہ ان کو حاصل ہوتے رہیں۔ قریش نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف جو رویہ اختیار کیا ‘ ہر زمان و مکان میں دعوت حق کے ساتھ مفاد پرست لوگ یہی سلوک کرتے ہیں۔
زبانی طور پر تو وہ مذاق کے انداز میں پروپیگنڈے کرتے تھے اور آپ کی کردار کشی کرتے تھے لیکن خود ان کی باتوں سے یہ بات ظاہر ہوجاتی تھی کہ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کی دعوت سے کس قدر گھبرائے ہوئے تھے۔ وہ قرآن کریم کے اٹل دلائل کے بارے میں یہ تبصرہ بھی کرتے تھے۔
(ان کاد۔۔۔۔۔۔۔۔ علیھا) (25 : 42) ” اس نے ہمیں گمراہ کرکے اپنے معبودوں سے برگشتہ کر ہی دیا ہوتا اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے “۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی ذہنی دنیا میں ایک قسم کا بھونچال آگیا تھا۔ قریب تھا کہ وہ اپنے الہوں کو چھوڑ کر بھاگ جائیں لیکن وہ بڑی استقامت سے اپنے الہوں پر جم گئے۔ اپنے دین اور اس کے ساتھ وابستہ مناسب ومفادات کو بچاتے رہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے یعنی مقابلہ کر کے صبر اور مصابرت سے کام نہ لیتے تو وہ بھی اپنے الہوں کو ترک کرچکے ہوتے۔ تعجب یہ ہے کہ اپنی ہٹ دھرمی اور مفادات کی وجہ سے یہ لوگ ہدایت کو ضلالت کہتے۔ یہی تو ان کی ضلالت تھی کہ خرد کا نام جنوں رکھ رہے تھے لیکن حضرت محمد ﷺ کی دعوت نے ان کے ایوانوں میں جو زلزلہ برپا کردیا تھا اس کو وہ چھپا نہ سکے۔ اگر چہ غایت درجہ ہٹ دھرمی اور اصرار کی وجہ سے وہ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت اور قرآن پر حرف گیری کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ بھی انہیں خبردار فرماتا ہے کہ بہت جلد وہ اپنے انجام تک پہنچ جائیں گے۔
(وسوف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (25 : 42) ” وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا ہے “۔ ان کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ حضرت محمد ﷺ جو دعوت لے کر آئے تھے وہ تو ہدایت تھی اور جس پر وہ قائم تھے وہ ضلالت تھی۔ لیکن جب وقت چلا جاتا ہے تو پھر علم کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ اس وقت تو وہ عذاب دیکھ لیں گے۔ خواہ یہ عذاب دنیا کا ہو ‘ جس طرح بدر کے دن انہوں نے خوب چکھا ‘ یا آخرت کا ہو جسے وہ یوم الحساب میں دیکھیں گے ‘ جانیں گے اور چکھیں گے۔
اب روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو ان کے عناد ہٹ دھرمی اور استہزاء پر تسلی دی جاتی ہے کہ آپ نے تو دعوت پہنچا نے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ آپ نے پورے پورے دلائل سنا دیئے اور مناسب نہ تھا کہ ان کا ردعمل وہ ہوتا جو ہوا ہے۔ قصور صرف ان کا ہے۔ انہوں نے دراصل اپنی خواہشات نفسانیہ کو اپنا الہٰ بنارکھا ہے۔ اور وہ کسی محبت اور برہان کی طرف توجہ کرنے والے نہیں ہیں۔ اگر لوگ نہیں مانتے تو رسول ﷺ کیا کرسکتا ہے۔
(ارءیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکیلا) ( ُ 25 : 43) ” کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ‘ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لے آنے کا ذمہ لے سکتے ہو “۔ یہ عجیب انداز بیان ہے۔ اس سے ان کی عجیب نفسیاتی حالت کا اظہار ہوتا ہے کہ کسی شخص کا نفس تمام طے شدہ معیار ‘ تمام مسلمہ استدلال ‘ تمام طے شدہ اقدار کو چھوڑ کر صرف اپنی خواہش نفس ‘ اپنی پسند اور اپنی ضد کی بندگی شروع کردے۔ کسی استدلال ‘ کسی برہان ‘ کسی منطق اور کسی سنجیدہ بات پر کان نہ دھرے۔ بس صرف اپنی خواہش کو الہٰ بنا کر پوجے۔
اللہ جل شانہ اپنے بندے کو نہایت ہی نرمی ‘ محبت ‘ انس اور گہرے تعلق کے انداز میں پکارتا ہے۔ ارئیت کیا کبھی تم نے غور کیا ہے ‘ کیا تمہیں علوم ہے۔ ایسے شخص کی تصویر کشی کی جارہی ہے جس کے سامنے کوئی معقول بات پیش کرنا فضول ہے۔ وہ حجت ‘ حقیقت اور غور وفکر کو جانتا ہی نہیں ہے۔ ان چیزوں کی اس کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کو تسلی کے طور پر کہا جاتا ہے کہ ایسا شخص ہدایت کے قابل ہی نہیں ہے۔ لہذا آپ کے ذمہ ایسے شخص کی ہدایت نہیں لگائی جاسکتی اور نہ آپ ایسے شخص کے وکیل ہو سکتے ہیں۔ اور نہ ایسے لوگ ہدایت تک پہنچ سکتے ہیں۔
افانت تکون علیہ وکیلا (25 : 43) ” کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ “ یہ لوگ جنہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود اور الہٰ بنا رکھا ہے ‘ ان کی اصل حیثیت اور ان کا اصل مقام بھی یہاں بتا دیا جاتا ہے کہ یہ بہت ہی حقیر لوگ ہیں۔ یہ محض اپنی خواہشات اور مفادات کے بندے ہیں۔ یہ حجت اور حقیقت کے آگے جھکنے والے نہیں ہیں۔ بلکہ یہ خواہشات اور مفادات کے آگے سجدہ ریز ہونے والے ہیں۔ بلکہ ان کو اس سے بھی زیادہ گرا ہوا مقام دیا جاتا ہے کہ مقام انسانیت سے گر کر مقام حیوانیت خالصہ میں داخل ہوگئے ہیں بلکہ اس سے بھی نیچے۔
(ام تحسب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے “۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی محتاط انداز کلام اختیار فرمایا ہے۔ یہ کہا ہے اکثرھم سب نہیں بلکہ ان کی اکثریت ایسی ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کی ایک قلیل لعداد تو ابتداء ہی میں حلقہ بگوش اسلام ہوگئی تھی۔ یا انمیں سے اکثر اس پر غور کرتے تھے۔ البتہ اکثریت ایسی تھی جو محض خواہش نفسی اور مفادات کی خاطر نہ مانتی تھی۔ ان کے کانوں پر دلائل پڑتے تھے۔ ان کی عقل اسے مانتی تھی لیکن پھر بھی ضد کرتے تھے۔ یہ گویا جانور محض تھے۔ انسان اور انور میں فرق ہی یہ ہیکہانسان غور وفکر کرتا ہے اور پھر انسان اپنے غور وفکر کے مطابق اچھا طرز عمل بھی اختیار کرتا ہے۔ بصیرت اور قصد و ارادے سے حقائق کو اپناتا ہے۔ حجت اور دلیل سے بات کرتا ہے اور سنتا ہے۔ اور اگر انسان اپنے ان خصائص کو چھوڑ دے تو وہ بہائم سے بھی بد تر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ بہائم کو اللہ نے جو شعور دیا ہے وہ تو اس سے استفادہ کرتے ہیں اور انسان کو جو عقل و دانش دی گئی ہے وہ اس سے اسفادہ نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے فرائض منصبی صحیح طرح ادا کرتے ہیں لیکن انسان ادا نہیں کرتا۔ حیوانات اپنے شعور سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ اپنے تدبر سے کام نہیں لیتا۔
(ان ھم الا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اضل سبیلا) (25 : 44) ” “۔ یہ ہے جواب ان کے استہزاء کا ۔ یعنی تم انسان ہی نہیں ہو ‘ حیوانوں سے بد تر ہو۔ اس لیے تم سرور کو نین حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے ہو۔ یوں اس سبق کا خاتمہ ‘ جواب آل غزل پر ہوتا ہے۔
الفرقان 25:45
درس نمبر 159 ایک نظر میں
اس سبق میں مشرکین کے اعتراضات اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے بحث و جدل کے موضوع کو چھوڑ کر اس کائنات کے مشاہد و مناظر کی سیر کرائی جاتی ہے۔ نبی ﷺ کے دل اور آپ کے احساسات کو اس کائنات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔ مشرکین کے لایعنی اعتراضات کی وجہ سے پیدا ہونے والے غبار خاطر کو دور کرنے کے لیے ‘ مناظر کائنات کے ساتھ یہ اتصال اور ان کی طرف یہ توجہ کافی ہے۔ کائنات کی وسعتوں کی یہ سیر آپ کے دل کے سکون اور شرح صدر کے لیے ایک وسیع میدان ہے جس کے مقابلے میں سازشیں کرنے والوں کی چھوٹی چھوٹ سازشیں اور دشمنی کرنے والوں کی بےمقصد دشمنیاں نہایت ہی حقیر نظر آتی ہیں۔
قرآن کریم انسانوں کے دل و دماغ کو ہمیشہ اس کائنات کے مشاہد و حقائق پر غور کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ انسانی سوچ اور انسانی تدبر اور مشاہدات قدرت کے درمیان ربط پیدا کیا جاتا ہے۔ اور انسان کے ذرائع شعور و ادراک کو جگا کر اس بات کے لیے تیار کرتا ہے کہ وہ ان کے مشاہد اور مناظر کو بالکل ایک جدید احساس کے ساتھ دیکھیں۔ اور مشاہد قدرت اور فطرت کے عجوبوں کی پکار کو سنیں اور ان کی پکار پر لبیک کہیں۔ قرآن انسان کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کائنات کی سیر کرے اور اس کے اندر بکھرے ہوئے دلائل قدرت اور آیات فطرت کو اخذکر لے۔ کیونکہ یہ کائنات دراصل ایک کھلی کتاب ہے اور اس کے صفحات میں صائع کائنات کی کاریگریاں اور صنعت کاریاں ہمارے تدبر کے لیے چشم براہ ہیں۔ قرآن کریم انسان کو حکمدیتا ہے کہ وہ دست قدرت کے ان آثار کو پانے کی کوشش کرے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنی آنکھ کو بینا ‘ احساس کو تیز اور کانوں کو کھلا رکھے اور اپنے ان ذرائع ادراک کے ذریعے غور و تدبر کے موضوعات تلاش کرے۔ اس طرح وہ اتصال با للہ حاصل کرے یعنی اللہ کی صنعت کاریوں کے ذریعے اللہ کی ذات کی معرفت حاصل کرے۔
جب انسان اس کائنات میں کھلے دل اور کھلی آنکھوں سے زندگی بسر کرے ‘ اس کی روح اور اس کا احساس جاگ رہا ہو۔ اس کی فکر اور اس کی سوچ مربوط ہو ‘ تو اس پر دنیا کی معمولی و ابستگیوں سے ذرا بلند ہوجاتی ہے۔ اور اس کا تصور حیات بلند ہوجاتا ہے اور اس کا احساس بہت تیز ہوجاتا ہے۔ پھر وہ سوچنے لگتا ہے کہ اس محدود دنیا کے مقابلے میں کائنات کے آفاق بہت ہی وسیع ہیں۔ پھر اس کائنات میں جو کچھ بھی موجود ہے ‘ یہ فقط ایک ہی ارادے کے نتیجے میں موجود ہے۔ یہ تمام چیزیں ایک ہی ناموس حیات کے اندر بندھی ہوئی ہیں۔ پھر اپنی حرکت میں یہ تمام چیزیں ایک ہی خالق کی طرف متوجہ ہیں۔ اور خود انسان بھی اس کائنات کی مخلوقات میں سے ایک ہے اور یہ بھی دست قدرت کے ساتھ وابستہ ہے۔ اور اس کا پورا ماحول دست قدرت جکڑا ہوا ہے۔ وہ جو کچھ دیکھ رہا ہے اور جو کچھ چھو رہا ہے وہ قدرت کی صنعت کاریاں ہیں۔
اس تصور سے انسان کے پردہ احساس پر شعور تقویٰ ‘ شعور محبت اور شعور اعتماد کی ایک امتزاجی کیفیت نمودارہوتی ہے۔ جس سے انسان کی روح سرشارہوتی ہے اور اس کی دنیا معنویت سے بھر جاتی ہے اور انسان کو ایک خاص اندرونی تطہیر ‘ اطمینان اور انس و محبت حاصل ہوتی ہے۔ چناچہ اس روح ‘ اس مفہوم اور اس تصور کے ساتھ انسان اس کرئہ ارض پر چلتا پھرتا ہے اور آخر کار وہ اللہ کے ساتھ مل جاتا ہے۔ اس طرح انسان کی یہ زندگی نہایت ہی خوشگوار تفریحی سفر بن جاتی ہے۔ وہ اللہ کی صنعت کاریوں کی ایک نمائش اور ایک میلے میں گم ہوتا ہی اور وہ ہر وقت اللہ کی اس خوبصورت کائنات کے ایسے دسترخوان پر ہوتا ہے جسطرح طرح کی نعمتیں چنی ہوئی ہیں۔
اس سبق کا آغاز سایہ کی تصویرکشی سے ہوتا ہے۔ دست قدرت اس سائے کو طویل تر کردیتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اسے سیکڑا جاتا ہے۔ فیض و ہاط کا یہ عمل نہایت ہی نرمی اور لطف اور غیر محسوس طریقے سے ہوتا ہے۔ پھر ہم رات کے اندھیرے میں اپنی اپنی آرام گاہ کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ پوری کائنات پر سکون اور خاموشی طاری ہوجاتی ہے ۔ پھر ہم دن میں داخل ہوتے ہیں اور نہایت ہی ترتیب سے زندگی کی تگ و دو شروع ہوجاتی ہے۔ پھر رحمت کی ہوائیں چلتی ہیں ‘ بادل لاتی ہیں اور بارش برساتی ہیں۔ پھر ہم سمندر میں ہیں ‘ ساتھ ساتھ میٹھے پانی اور کھارے پانی باہم ملے ہوئے ہیں اور ان دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جو دست قدرت کی صنعت کاری ہے۔ یہ دونوں سمندر اور دونوں پانی آپس میں مل نہیں پاتے۔ پھر عام پانیوں سے ہم مرد کے ساغر حیات کی طرف آجاتے ہیں۔ یہ نطفے کی ایک بوند ہوتی ہے۔ اچانک یہ ایک زندہ انسان کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ پھر ایک منظر پر ہم دیکھتے ہیں کہ پوری زمین و آسمان کی تخلیق چھ دنوں میں ہے۔ زمین و آسمان کے اندر بروج ہیں۔ سراج منیر اور قمر منیر ہیں۔ پھر رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے آرہے ہیں اور زمانے گزرجاتے ہیں۔
کائنات کی اس سیر کے اندر ہمارا دل زندہ ہوجاتا ہے اور ہماری سوچ مدبر کائنات کی صنعت کاریوں میں گم ہوجاتی ہے ۔ اور انسان کے دل میں اللہ کی قدرت اور تدبیر کے نظارے میں تازہ ہوجاتے ہیں۔ پھر انسان سوچتا ہے کہ مشرکین کس قدر احمق ہیں کہ وہ اس رب کیساتھ کسی کو شریک کرتے ہیں اور ایسے چیزوں کی بندگی کرتے جو ان کو نہ نفع پہنچاسکتی ہیں اور نہ ضرر دے سکتی ہیں۔ انسان سوچتا ہے کہ رب تعالیٰ کے بارے میں یہ لوگ کس قدر جاہل ہیں اور اللہ کی ذات پر کس قدر جرات کرتے ہیں اور کفر و انکار کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس کائنات کے اندر موجود دلائل اور آیات اور شواہد و نشانات کے ان عجوبوں کے ہوتے ہوئے مشرکین کا رویہ نہایت ہی عجیب لگتا ہے۔ اس کائنات کے یہ مناظر اور اللہ کی تخلیق کے یہ نمونے انسانی ہدایت کے لیے کافی و شافی ہیں۔
آیئے ذرا دست قدرت کی ان صنعت کارویں کی سیر کریں جس کا ہر پہلو ہمیں واصل باللہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ اور جس کی صرف ایک وادی کی سیر ہی ہماری پوری زندگی کے لیے کافی ہے۔
(الم تر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قبضا یسیرا) (45 : 46)
کشادہ اور لطیف سائے کا تصور ہی ایک کبیدہ خاطر اور تھکے ہوئے انسان کے لیے فرحت بخش ہوتا ہے۔ ایسے سائے میں انسان اپنے آپ کو نہایت ہی پر سکون تصور کرتا ہے۔ انسان کو یوں لگتا ہے کہ ایک نہایت ہی رحیم و کریم دست شفقت انسان کی روح اور جسم کو چھورہا ہے اور زندگی کے آرام اور زخموں پر نہایت ہی آڑام دہ مرہم پٹی ہورہی ہے۔ تھکے ہارے دلوں کو قدرت کا یہ ماحول دست شفقت فراہم کرتا ہے۔ کیا اللہ یہی چاہتا کہ اس کے بندے پر طرح طرح کے الزام لگا کر ‘ اس کے ساتھ مذاق کر کے ‘ اس کے دل کو دکھایا گیا ہے ‘ لہذا اسے قدرتی شفقت کا یہ ماحول فراہم کیا جائے۔ اسے تھوڑی دیر کے لیے اس جاں گسل کشمکش کے ماحول سے نکال کر قدرتی سکون کا ماحول فراہم کیا جائے اور اس زبردست معرکہ آرائی میں آپ ﷺ کے دکھے ہوئے دل کو سکون فراہم کیا جائے۔ یاد رہے کہ یہ مکی دور ہے اور آپ کو مشرکین مکہ کے جودو انکار ‘ کبروعناد اور مکرو قریب کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک طویل زمانہ گزر گیا ہے۔ آپ کے ساتھی کم ہیں ‘ مشرکین ہر طرف سے پھیلے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ اور اہل ایمان کو اس اذیت استہزاء اور دست درازیوں کا جواب دینے کی اجازت نہیں ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ ایسے مشکل حالات میں آپ کے دل پر قرآن کریم کا جو ٹکڑا نازل ہوتا تھا وہ بہت ہی آرام دہ مرہم کا کام دیتا تھا۔ یہ دراصل تھکے ماندے مسافر کے لیے وسیع اور گہرا سایہ ہوتا تھا۔ اور کفر و حجود اور عناد اور عصبیت کی گرم لو میں ٹھنڈی اور خوشگوار چھائوں ہوتی تھی۔ سایہ خصوصاً ایک تپتے ہوئے صحراء میں ‘ اس سورت کی روح ‘ موضوع ‘ مضمون اور جدل وجدال کے گرم ماحول میں امن و سکون اور ملجاو ماویٰ فراہم کرتا ہے۔
قرآن کریم اس سایہ کی تصویر اس طرح کھینچتا ہے کہ دست قدرت اسے لمبا کرتا جاتا ہے۔ یہ آہستہ آہستہ غیرمحسوس طور پر لمبا ہوتا جاتا ہے۔ پھر نہایت ہی نرمی اور غیر محسوس طور پر اسے لپیٹا جاتا ہے۔
الم تر الی ربک کیف مد الظل (25 : 35) ” تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارا رب کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے۔ “
ثم قبضنہ الینا قبضاً یسیرا (25 : 36) ” پھر ہم اس سائے کو رفتہ رفتہ اپنی طرف لپیٹتے چلے جاتے ہیں۔ “ سایہ کیا چیز ہے۔ کوئی جسم جب سورج کی شعاعوں کے سامنے حائل ہوتا ہے تو وہ ایک خفیف قسم کا اندھیرا پیدا کرتا ہے۔ جوں جوں زمین سورج کے سامنے حرکت کرتی ہے۔ یہ سایہ بھی حرکت کرتا رہتا ہے۔ اس کی وضع اور اس کی شکل بدلتی رہتی ہے۔ اس کی شکل و صورت کو سورج کی شعاعیں روشنی اور حرارت سے متعین کرتی ہیں۔ جن کی وجہ سے یہ سکڑتا اور پھیلتا ہے۔ اس وجہ سے انسان کو خوشی اور تازگی حاصل ہوتی ہے۔ اس کی روح کے اندر لطیف و شفاف بیداری پیدا ہوتی ہے اور نفس انسانی دست قدرت کی لطیف صنعت کاری کو اچھی طرح دیکھ سکتا ہے۔ سورج اور سائے کا یہ منظر جب غائب ہونے پر آتا ہے تو یہ سایہ طویل سے طویل تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ جب یہ طوالت کی آخری حد تک پہنچتا ہے تو یہ سایہ سورج کے غروب کے ساتھ ہی غائب ہوجاتا ہے۔ یہ کہاں چلا گیا کیا ایک یہ دست قدرت ہے جس نے اسے لپیٹ اور سمیٹ لیا۔ ایک ہمہ گیر سایہ چھا گیا اور اس کے اندر آہستہ آہستہ اب رات کی تاریکی نمودار ہونا شروع ہوگئی۔ یہ ہے صنعت دست قدرت کی ۔ انسان ہے کہ قدرت کے ان آثار و علامات کے اندر ڈوبا ہوا ہے۔ اس کے اردگرد قدرت کے شواہد پھیلے ہوئے ہیں لیکن اس کی کند عقل ان آثار کو نہیں پا رہی ہے۔
ولو شاء لجعلہ ساکنا (25 : 35) ” اگر اللہ چاہتا تو اسے دائمی بنا دیتا۔ “ لیکن اللہ نے ایسا نہ چاہا۔ کیونکہ اس کائنات کی تنظیم ہی اس طرح کی گئی ہے۔ اس نظم و نسق کا تقاضا ہے کہ ہم روز اس سائے کو یوں دیکھتے رہیں کہ اس کا مدو جزر یوں ہی جاری رہے۔ اگر اس کے اندر ذرا بھی تدبیلی کردی جائے اور اس سایہ کو ساکن بنا دیاج ائے تو اس پوری کائنات کے آثار ہی بدل جائیں۔ اگر زمین ایک جگہ رکی ہوئی ہوتی تو یہ سایہ بھی رکا ہوتا ہے۔ اس کا مدو جزر تو ختم ہوجاتا ۔ اگر زمین کی یہ حرکت نرم ہوتی تو اس سائے کے آثار بھی سست رفتار ہوتے اور اگر زمین کی حرکت تیز ہوتی تو سایوں کا مدو جزر بھی تیز ہوجاتا۔ یہ زمین کی ایک متعین حرکت ہے جو سایوں کو یہ مظاہر عطا کرتی ہے جو ہم دیکھتے ہیں اور وہ آثار پیدا کرتی ہے جو ہمارے لئے مفید ہیں اور جن کے خواص کو ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
یہ گردش زمین اور گردش ظلال اور ان کا مدو جزر تو ہم رات دن دیکھتے ہیں اور غفلت میں گزر جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں از سر نو اس طرف متوجہ فرماتا ہے۔ یہ قرآن کریم کے انداز بیان کا ایک مخصوص طریقہ ہے کہ وہ انسانی ضمیر کے اندر ایک مردہ تاثر کو زندہ کردیتا ہے۔ ہمارے اندر انفعالیت جگاتا ہے اور ہمیں اپنے ماحول کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ ہمارے احساسات کو جگاتا ہے ، ہمارے شعور کو تیز کرتا ہے تاکہ ہم ان مشاہد اور آیات بینات کی تہہ پر غور کریں۔ یوں ہمارے دل اس کائنات میں تدبر کے عادی ہوجائیں کیونکہ یہ کائنات بہت ہی عظیم اور عجیب ہے۔
سائے کا یہ منظر رات پر آ کر ختم ہوتا ہے۔ جب سائے طویل ہوتے ہیں تو رات چھا جاتی ہے۔ رات کے پس پردہ انسانیت آرام و سکون حاصل کرتی ہے اور پھر دن جس میں لوگ زندگی کی تگ و دو میں داخل ہوتے ہیں۔
الفرقان 25:46
درس نمبر 159 ایک نظر میں
اس سبق میں مشرکین کے اعتراضات اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے بحث و جدل کے موضوع کو چھوڑ کر اس کائنات کے مشاہد و مناظر کی سیر کرائی جاتی ہے۔ نبی ﷺ کے دل اور آپ کے احساسات کو اس کائنات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔ مشرکین کے لایعنی اعتراضات کی وجہ سے پیدا ہونے والے غبار خاطر کو دور کرنے کے لیے ‘ مناظر کائنات کے ساتھ یہ اتصال اور ان کی طرف یہ توجہ کافی ہے۔ کائنات کی وسعتوں کی یہ سیر آپ کے دل کے سکون اور شرح صدر کے لیے ایک وسیع میدان ہے جس کے مقابلے میں سازشیں کرنے والوں کی چھوٹی چھوٹ سازشیں اور دشمنی کرنے والوں کی بےمقصد دشمنیاں نہایت ہی حقیر نظر آتی ہیں۔
قرآن کریم انسانوں کے دل و دماغ کو ہمیشہ اس کائنات کے مشاہد و حقائق پر غور کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ انسانی سوچ اور انسانی تدبر اور مشاہدات قدرت کے درمیان ربط پیدا کیا جاتا ہے۔ اور انسان کے ذرائع شعور و ادراک کو جگا کر اس بات کے لیے تیار کرتا ہے کہ وہ ان کے مشاہد اور مناظر کو بالکل ایک جدید احساس کے ساتھ دیکھیں۔ اور مشاہد قدرت اور فطرت کے عجوبوں کی پکار کو سنیں اور ان کی پکار پر لبیک کہیں۔ قرآن انسان کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کائنات کی سیر کرے اور اس کے اندر بکھرے ہوئے دلائل قدرت اور آیات فطرت کو اخذکر لے۔ کیونکہ یہ کائنات دراصل ایک کھلی کتاب ہے اور اس کے صفحات میں صائع کائنات کی کاریگریاں اور صنعت کاریاں ہمارے تدبر کے لیے چشم براہ ہیں۔ قرآن کریم انسان کو حکمدیتا ہے کہ وہ دست قدرت کے ان آثار کو پانے کی کوشش کرے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنی آنکھ کو بینا ‘ احساس کو تیز اور کانوں کو کھلا رکھے اور اپنے ان ذرائع ادراک کے ذریعے غور و تدبر کے موضوعات تلاش کرے۔ اس طرح وہ اتصال با للہ حاصل کرے یعنی اللہ کی صنعت کاریوں کے ذریعے اللہ کی ذات کی معرفت حاصل کرے۔
جب انسان اس کائنات میں کھلے دل اور کھلی آنکھوں سے زندگی بسر کرے ‘ اس کی روح اور اس کا احساس جاگ رہا ہو۔ اس کی فکر اور اس کی سوچ مربوط ہو ‘ تو اس پر دنیا کی معمولی و ابستگیوں سے ذرا بلند ہوجاتی ہے۔ اور اس کا تصور حیات بلند ہوجاتا ہے اور اس کا احساس بہت تیز ہوجاتا ہے۔ پھر وہ سوچنے لگتا ہے کہ اس محدود دنیا کے مقابلے میں کائنات کے آفاق بہت ہی وسیع ہیں۔ پھر اس کائنات میں جو کچھ بھی موجود ہے ‘ یہ فقط ایک ہی ارادے کے نتیجے میں موجود ہے۔ یہ تمام چیزیں ایک ہی ناموس حیات کے اندر بندھی ہوئی ہیں۔ پھر اپنی حرکت میں یہ تمام چیزیں ایک ہی خالق کی طرف متوجہ ہیں۔ اور خود انسان بھی اس کائنات کی مخلوقات میں سے ایک ہے اور یہ بھی دست قدرت کے ساتھ وابستہ ہے۔ اور اس کا پورا ماحول دست قدرت جکڑا ہوا ہے۔ وہ جو کچھ دیکھ رہا ہے اور جو کچھ چھو رہا ہے وہ قدرت کی صنعت کاریاں ہیں۔
اس تصور سے انسان کے پردہ احساس پر شعور تقویٰ ‘ شعور محبت اور شعور اعتماد کی ایک امتزاجی کیفیت نمودارہوتی ہے۔ جس سے انسان کی روح سرشارہوتی ہے اور اس کی دنیا معنویت سے بھر جاتی ہے اور انسان کو ایک خاص اندرونی تطہیر ‘ اطمینان اور انس و محبت حاصل ہوتی ہے۔ چناچہ اس روح ‘ اس مفہوم اور اس تصور کے ساتھ انسان اس کرئہ ارض پر چلتا پھرتا ہے اور آخر کار وہ اللہ کے ساتھ مل جاتا ہے۔ اس طرح انسان کی یہ زندگی نہایت ہی خوشگوار تفریحی سفر بن جاتی ہے۔ وہ اللہ کی صنعت کاریوں کی ایک نمائش اور ایک میلے میں گم ہوتا ہی اور وہ ہر وقت اللہ کی اس خوبصورت کائنات کے ایسے دسترخوان پر ہوتا ہے جسطرح طرح کی نعمتیں چنی ہوئی ہیں۔
اس سبق کا آغاز سایہ کی تصویرکشی سے ہوتا ہے۔ دست قدرت اس سائے کو طویل تر کردیتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اسے سیکڑا جاتا ہے۔ فیض و ہاط کا یہ عمل نہایت ہی نرمی اور لطف اور غیر محسوس طریقے سے ہوتا ہے۔ پھر ہم رات کے اندھیرے میں اپنی اپنی آرام گاہ کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ پوری کائنات پر سکون اور خاموشی طاری ہوجاتی ہے ۔ پھر ہم دن میں داخل ہوتے ہیں اور نہایت ہی ترتیب سے زندگی کی تگ و دو شروع ہوجاتی ہے۔ پھر رحمت کی ہوائیں چلتی ہیں ‘ بادل لاتی ہیں اور بارش برساتی ہیں۔ پھر ہم سمندر میں ہیں ‘ ساتھ ساتھ میٹھے پانی اور کھارے پانی باہم ملے ہوئے ہیں اور ان دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جو دست قدرت کی صنعت کاری ہے۔ یہ دونوں سمندر اور دونوں پانی آپس میں مل نہیں پاتے۔ پھر عام پانیوں سے ہم مرد کے ساغر حیات کی طرف آجاتے ہیں۔ یہ نطفے کی ایک بوند ہوتی ہے۔ اچانک یہ ایک زندہ انسان کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ پھر ایک منظر پر ہم دیکھتے ہیں کہ پوری زمین و آسمان کی تخلیق چھ دنوں میں ہے۔ زمین و آسمان کے اندر بروج ہیں۔ سراج منیر اور قمر منیر ہیں۔ پھر رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے آرہے ہیں اور زمانے گزرجاتے ہیں۔
کائنات کی اس سیر کے اندر ہمارا دل زندہ ہوجاتا ہے اور ہماری سوچ مدبر کائنات کی صنعت کاریوں میں گم ہوجاتی ہے ۔ اور انسان کے دل میں اللہ کی قدرت اور تدبیر کے نظارے میں تازہ ہوجاتے ہیں۔ پھر انسان سوچتا ہے کہ مشرکین کس قدر احمق ہیں کہ وہ اس رب کیساتھ کسی کو شریک کرتے ہیں اور ایسے چیزوں کی بندگی کرتے جو ان کو نہ نفع پہنچاسکتی ہیں اور نہ ضرر دے سکتی ہیں۔ انسان سوچتا ہے کہ رب تعالیٰ کے بارے میں یہ لوگ کس قدر جاہل ہیں اور اللہ کی ذات پر کس قدر جرات کرتے ہیں اور کفر و انکار کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس کائنات کے اندر موجود دلائل اور آیات اور شواہد و نشانات کے ان عجوبوں کے ہوتے ہوئے مشرکین کا رویہ نہایت ہی عجیب لگتا ہے۔ اس کائنات کے یہ مناظر اور اللہ کی تخلیق کے یہ نمونے انسانی ہدایت کے لیے کافی و شافی ہیں۔
آیئے ذرا دست قدرت کی ان صنعت کارویں کی سیر کریں جس کا ہر پہلو ہمیں واصل باللہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ اور جس کی صرف ایک وادی کی سیر ہی ہماری پوری زندگی کے لیے کافی ہے۔
(الم تر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قبضا یسیرا) (45 : 46)
کشادہ اور لطیف سائے کا تصور ہی ایک کبیدہ خاطر اور تھکے ہوئے انسان کے لیے فرحت بخش ہوتا ہے۔ ایسے سائے میں انسان اپنے آپ کو نہایت ہی پر سکون تصور کرتا ہے۔ انسان کو یوں لگتا ہے کہ ایک نہایت ہی رحیم و کریم دست شفقت انسان کی روح اور جسم کو چھورہا ہے اور زندگی کے آرام اور زخموں پر نہایت ہی آڑام دہ مرہم پٹی ہورہی ہے۔ تھکے ہارے دلوں کو قدرت کا یہ ماحول دست شفقت فراہم کرتا ہے۔ کیا اللہ یہی چاہتا کہ اس کے بندے پر طرح طرح کے الزام لگا کر ‘ اس کے ساتھ مذاق کر کے ‘ اس کے دل کو دکھایا گیا ہے ‘ لہذا اسے قدرتی شفقت کا یہ ماحول فراہم کیا جائے۔ اسے تھوڑی دیر کے لیے اس جاں گسل کشمکش کے ماحول سے نکال کر قدرتی سکون کا ماحول فراہم کیا جائے اور اس زبردست معرکہ آرائی میں آپ ﷺ کے دکھے ہوئے دل کو سکون فراہم کیا جائے۔ یاد رہے کہ یہ مکی دور ہے اور آپ کو مشرکین مکہ کے جودو انکار ‘ کبروعناد اور مکرو قریب کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک طویل زمانہ گزر گیا ہے۔ آپ کے ساتھی کم ہیں ‘ مشرکین ہر طرف سے پھیلے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ اور اہل ایمان کو اس اذیت استہزاء اور دست درازیوں کا جواب دینے کی اجازت نہیں ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ ایسے مشکل حالات میں آپ کے دل پر قرآن کریم کا جو ٹکڑا نازل ہوتا تھا وہ بہت ہی آرام دہ مرہم کا کام دیتا تھا۔ یہ دراصل تھکے ماندے مسافر کے لیے وسیع اور گہرا سایہ ہوتا تھا۔ اور کفر و حجود اور عناد اور عصبیت کی گرم لو میں ٹھنڈی اور خوشگوار چھائوں ہوتی تھی۔ سایہ خصوصاً ایک تپتے ہوئے صحراء میں ‘ اس سورت کی روح ‘ موضوع ‘ مضمون اور جدل وجدال کے گرم ماحول میں امن و سکون اور ملجاو ماویٰ فراہم کرتا ہے۔
قرآن کریم اس سایہ کی تصویر اس طرح کھینچتا ہے کہ دست قدرت اسے لمبا کرتا جاتا ہے۔ یہ آہستہ آہستہ غیرمحسوس طور پر لمبا ہوتا جاتا ہے۔ پھر نہایت ہی نرمی اور غیر محسوس طور پر اسے لپیٹا جاتا ہے۔
الم تر الی ربک کیف مد الظل (25 : 35) ” تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارا رب کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے۔ “
ثم قبضنہ الینا قبضاً یسیرا (25 : 36) ” پھر ہم اس سائے کو رفتہ رفتہ اپنی طرف لپیٹتے چلے جاتے ہیں۔ “ سایہ کیا چیز ہے۔ کوئی جسم جب سورج کی شعاعوں کے سامنے حائل ہوتا ہے تو وہ ایک خفیف قسم کا اندھیرا پیدا کرتا ہے۔ جوں جوں زمین سورج کے سامنے حرکت کرتی ہے۔ یہ سایہ بھی حرکت کرتا رہتا ہے۔ اس کی وضع اور اس کی شکل بدلتی رہتی ہے۔ اس کی شکل و صورت کو سورج کی شعاعیں روشنی اور حرارت سے متعین کرتی ہیں۔ جن کی وجہ سے یہ سکڑتا اور پھیلتا ہے۔ اس وجہ سے انسان کو خوشی اور تازگی حاصل ہوتی ہے۔ اس کی روح کے اندر لطیف و شفاف بیداری پیدا ہوتی ہے اور نفس انسانی دست قدرت کی لطیف صنعت کاری کو اچھی طرح دیکھ سکتا ہے۔ سورج اور سائے کا یہ منظر جب غائب ہونے پر آتا ہے تو یہ سایہ طویل سے طویل تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ جب یہ طوالت کی آخری حد تک پہنچتا ہے تو یہ سایہ سورج کے غروب کے ساتھ ہی غائب ہوجاتا ہے۔ یہ کہاں چلا گیا کیا ایک یہ دست قدرت ہے جس نے اسے لپیٹ اور سمیٹ لیا۔ ایک ہمہ گیر سایہ چھا گیا اور اس کے اندر آہستہ آہستہ اب رات کی تاریکی نمودار ہونا شروع ہوگئی۔ یہ ہے صنعت دست قدرت کی ۔ انسان ہے کہ قدرت کے ان آثار و علامات کے اندر ڈوبا ہوا ہے۔ اس کے اردگرد قدرت کے شواہد پھیلے ہوئے ہیں لیکن اس کی کند عقل ان آثار کو نہیں پا رہی ہے۔
ولو شاء لجعلہ ساکنا (25 : 35) ” اگر اللہ چاہتا تو اسے دائمی بنا دیتا۔ “ لیکن اللہ نے ایسا نہ چاہا۔ کیونکہ اس کائنات کی تنظیم ہی اس طرح کی گئی ہے۔ اس نظم و نسق کا تقاضا ہے کہ ہم روز اس سائے کو یوں دیکھتے رہیں کہ اس کا مدو جزر یوں ہی جاری رہے۔ اگر اس کے اندر ذرا بھی تدبیلی کردی جائے اور اس سایہ کو ساکن بنا دیاج ائے تو اس پوری کائنات کے آثار ہی بدل جائیں۔ اگر زمین ایک جگہ رکی ہوئی ہوتی تو یہ سایہ بھی رکا ہوتا ہے۔ اس کا مدو جزر تو ختم ہوجاتا ۔ اگر زمین کی یہ حرکت نرم ہوتی تو اس سائے کے آثار بھی سست رفتار ہوتے اور اگر زمین کی حرکت تیز ہوتی تو سایوں کا مدو جزر بھی تیز ہوجاتا۔ یہ زمین کی ایک متعین حرکت ہے جو سایوں کو یہ مظاہر عطا کرتی ہے جو ہم دیکھتے ہیں اور وہ آثار پیدا کرتی ہے جو ہمارے لئے مفید ہیں اور جن کے خواص کو ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
یہ گردش زمین اور گردش ظلال اور ان کا مدو جزر تو ہم رات دن دیکھتے ہیں اور غفلت میں گزر جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں از سر نو اس طرف متوجہ فرماتا ہے۔ یہ قرآن کریم کے انداز بیان کا ایک مخصوص طریقہ ہے کہ وہ انسانی ضمیر کے اندر ایک مردہ تاثر کو زندہ کردیتا ہے۔ ہمارے اندر انفعالیت جگاتا ہے اور ہمیں اپنے ماحول کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ ہمارے احساسات کو جگاتا ہے ، ہمارے شعور کو تیز کرتا ہے تاکہ ہم ان مشاہد اور آیات بینات کی تہہ پر غور کریں۔ یوں ہمارے دل اس کائنات میں تدبر کے عادی ہوجائیں کیونکہ یہ کائنات بہت ہی عظیم اور عجیب ہے۔
سائے کا یہ منظر رات پر آ کر ختم ہوتا ہے۔ جب سائے طویل ہوتے ہیں تو رات چھا جاتی ہے۔ رات کے پس پردہ انسانیت آرام و سکون حاصل کرتی ہے اور پھر دن جس میں لوگ زندگی کی تگ و دو میں داخل ہوتے ہیں۔
الفرقان 25:47
وھو الذی ……نشوراً (47)
رات تمام چیزوں اور تمام زندہ مخلوق کو ڈھانپ لیتی ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ ہر چیز نے رات کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ لوگ رات کے پردے میں چھپ جاتے ہیں۔ یوں رات اس کے لئے لباس ہوجاتی ہے۔ رات میں مکمل سکون ہوتا ہے۔ ہر چیز کی حرکت رک جاتی ہے۔ انسان حیوانات اور پرندے تک سو جاتے ہیں۔ پھر مزید یہ کہ سونے کے بعد اس دنیا کے ساتھ انسان کا وہ احساس قائم نہیں رہتا جو جاگتے میں ہوتا ہے۔ اس لئے یہ اسے سبات یعنی موت جیسے سکون سے تعبیر کیا۔ اس کے بعد صبح نمودار ہوتی ہے اور زمین کے اوپر پھر حرکت شروع ہوتی ہے۔ اس طرح گویا مرنے کے بعد ہر چیز دوبارہ جی اٹھتی ہے۔ اس لئے اسے نشور اسے تعبیر کیا گیا۔ گویا چوبیس گھنٹے کے اس زمینی دورے میں انسان موت وحیات کا ایکم ختصر نمونہ پیش کرتا ہے اور جب سے اللہ نے زمین ، آسمان کو پیدا کیا ہے ، زمین کا یہ دور اپنے محور کے گرد جاری ہے۔ اس میں ایک سیکنڈ کا فرق بھی نہیں آیا۔ یہ زمین انسانوں کو لے کر چلتی ہی رہتی ہے ، لیکن انسان ہیں کہ غافل ہیں اور وہ زمین کی اس حرکت کے بارے میں سوچنے ہی نہیں جبکہ اللہ کی جو شان اس زمین کو چلاتی ہے وہ ایک لحظہ کے لئے غافل نہیں ہو سکتی اور نہ اللہ کو نیند آتی ہے۔
اب ذرا دوسرا منظر یہ ہوائیں جو بارش کی خوشخبری لے کر آتی ہیں۔
الفرقان 25:48
وھو الذی ارسل ……اناسی کثیراً (49)
اس دنیا کی ہر زندگی پانی پر قائم ہے یا بارش کا پانی ہے اور یا دریائوں اور ندی نالوں پر نہریں قائم کر کے سطح زمین کو پانی دیا جاتا ہے۔ پھر ان پانیوں میں سے جو زمین کے پیٹ میں چلا جاتا ہے۔ وہ چشموں کی صورت میں نکلتا ہے یا کنوئوں کی صورت میں نکالا جاتا ہے۔ لیکن ہے یہ بھی بارش کا پانی۔ لیکن جن لوگوں کی سیرابی کا تعلق صرف بارش ہی پر ہے۔ وہ اللہ کی اس رحمت کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جو بارش کی شکل میں برستی ہے۔ وہ تو رات اور دن بارش پر آس لگائے ہوتے ہیں کیونکہ ان کی زندی بارش پر قائم ہوتی ہے۔ وہ ان ہوائوں کے انتظار میں ہوتے ہیں جو رحمت بھرے بادل چلا کر لاتی ہیں۔ جب یہ ہوائیں آتی ہیں تو ان کے لئے یہ بشارت ہوتی ہیں۔ ان کو احساس ہوتا ہے کہ یہ بارشیں اللہ کی رحمت ہیں۔ ایسے لوگوں کا دل اگر اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہوتا ہے تو وہ اللہ کی اس رحمت کا بہت زیادہ احساس کرتے ہیں۔
یہاں پانی کے ساتھ طہارت اور طہور کے مفہوم کو نمایاں کیا گیا ہے۔
وانزلنا من السمآء ماء طھوراً (25 : 38) ” پھر ہم نے آسمانوں سے پاک پانی نازل کیا۔ “ اور اس کا مقصد یہ تھا کہ اس کے اندر راز حیات ہے۔
لنحی بہ بلدۃ میتا و نسقیہ مما خلقنا انعاماً و انا سی کثیراً (25 : 39) ” تاکہ ایک مردہ علاقے کو اس کے ذریعہ زندگی بخشے اور اپنی مخلوق میں سے بہت سے جانوروں اور انسانوں کو سیراب کرے۔ “ یہاں زندگی پر طہارت کا ایک پر تو پڑتا ہے۔ کیونکہ اللہ کی منشا ہی یہ ہے کہ انسانی زندگی پاک و صاف ہو ، اور پھر یہ بارش زمین کے چہرے کو بھی دھلا کر صاف کردیتی ہے اور اسی ماء طہور سے زندگی پیدا ہوتی ہے اور انسانوں ، حیوانوں اور تمام زندہ چیزوں کی حیات قائم ہے۔
نزول ماء کے ساتھ نزول قرآن پر بھی ایک تبصرہ۔ پانی کے نزول سے زمین کے چہرہ کی صفائی مطلوب ہے اور قرآن کے نزول سے انسانی روح کی صفائی اور کمال مطوب ہے۔ تعجب تو یہ ہے کہ جسم و جان کے تعلق کو مضبوط کرنے کے لئے تو یہ لوگ نزول بارش کا انتظار کرتے ہیں لیکن رحانی تطہیر کے لئے نزول قرآن کو یہ برداشت نہیں کرتے اور اس کے لئے وہ ایک دوسرے کو بشارت نہیں دیتے۔
الفرقان 25:49
وھو الذی ارسل ……اناسی کثیراً (49)
اس دنیا کی ہر زندگی پانی پر قائم ہے یا بارش کا پانی ہے اور یا دریائوں اور ندی نالوں پر نہریں قائم کر کے سطح زمین کو پانی دیا جاتا ہے۔ پھر ان پانیوں میں سے جو زمین کے پیٹ میں چلا جاتا ہے۔ وہ چشموں کی صورت میں نکلتا ہے یا کنوئوں کی صورت میں نکالا جاتا ہے۔ لیکن ہے یہ بھی بارش کا پانی۔ لیکن جن لوگوں کی سیرابی کا تعلق صرف بارش ہی پر ہے۔ وہ اللہ کی اس رحمت کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جو بارش کی شکل میں برستی ہے۔ وہ تو رات اور دن بارش پر آس لگائے ہوتے ہیں کیونکہ ان کی زندی بارش پر قائم ہوتی ہے۔ وہ ان ہوائوں کے انتظار میں ہوتے ہیں جو رحمت بھرے بادل چلا کر لاتی ہیں۔ جب یہ ہوائیں آتی ہیں تو ان کے لئے یہ بشارت ہوتی ہیں۔ ان کو احساس ہوتا ہے کہ یہ بارشیں اللہ کی رحمت ہیں۔ ایسے لوگوں کا دل اگر اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہوتا ہے تو وہ اللہ کی اس رحمت کا بہت زیادہ احساس کرتے ہیں۔
یہاں پانی کے ساتھ طہارت اور طہور کے مفہوم کو نمایاں کیا گیا ہے۔
وانزلنا من السمآء ماء طھوراً (25 : 38) ” پھر ہم نے آسمانوں سے پاک پانی نازل کیا۔ “ اور اس کا مقصد یہ تھا کہ اس کے اندر راز حیات ہے۔
لنحی بہ بلدۃ میتا و نسقیہ مما خلقنا انعاماً و انا سی کثیراً (25 : 39) ” تاکہ ایک مردہ علاقے کو اس کے ذریعہ زندگی بخشے اور اپنی مخلوق میں سے بہت سے جانوروں اور انسانوں کو سیراب کرے۔ “ یہاں زندگی پر طہارت کا ایک پر تو پڑتا ہے۔ کیونکہ اللہ کی منشا ہی یہ ہے کہ انسانی زندگی پاک و صاف ہو ، اور پھر یہ بارش زمین کے چہرے کو بھی دھلا کر صاف کردیتی ہے اور اسی ماء طہور سے زندگی پیدا ہوتی ہے اور انسانوں ، حیوانوں اور تمام زندہ چیزوں کی حیات قائم ہے۔
نزول ماء کے ساتھ نزول قرآن پر بھی ایک تبصرہ۔ پانی کے نزول سے زمین کے چہرہ کی صفائی مطلوب ہے اور قرآن کے نزول سے انسانی روح کی صفائی اور کمال مطوب ہے۔ تعجب تو یہ ہے کہ جسم و جان کے تعلق کو مضبوط کرنے کے لئے تو یہ لوگ نزول بارش کا انتظار کرتے ہیں لیکن رحانی تطہیر کے لئے نزول قرآن کو یہ برداشت نہیں کرتے اور اس کے لئے وہ ایک دوسرے کو بشارت نہیں دیتے۔
الفرقان 25:50
ولقد صرفنہ ……کبیراً (52)
ولقد صرفنہ بینھم لیذکروا (25 : 50) ” اس قرآن کو ہم پھیر پھیر کر ان کے سامنے لاتے ہیں تاکہ وہ سبق لیں۔ “ مختلف سورتوں کی شکل میں۔ متعدد اور متنوع اسالیب بیان میں۔ متعدد قطعات کی شکل میں اور اسی کے ذریعہ ہم نے ان کے شعور اور ان کی قوت مدرکہ کو مخاطب کیا۔ ان کی روح اور ان کے اذہان کو مخاطب کیا اور ان کے نفوس کے اندر اسے ہر طرح داخل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے لئے ابلاغ کا ہر حربہ استعمال کیا تاکہ یہ لوگ نصیحت قبول کرلیں۔ یہاں تو صرف یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ وہ حقیقت اور سچائی کا شعور تو خود ان کے نفوس اور ان کی فطرت کے اندر موجود ہے اور انہوں نے حقیقت کے اس شعو رکو اس لئے دبا دیا ہے کہ خواہشات نفسانیہ کو انہوں نے الہ بنا دیا ہے۔ اس لئے اب ان کا رویہ یہ ہوگیا ہے۔
فابی اکثر الناس الاکفوراً (25 : 50) ” مگر اکثر لوگ کفر اور ناشکری کے سوا کوئی دوسرا رویہ اختیار کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ “ حضور اکرم کی ذمہ داری تو ایک بھاری ذمہ داری ہے آپ نے پوری انسانیت کو درست کرنا ہے جبکہ انسانوں کی اکثریت ذاتی خواہشات کی بندہ بن گئی ہے اور باوجود اس کے کہ دلائل ایمان ہر طرف بکھرے پڑے ہیں۔ اس نے کفر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ولو شئلا لبعثنا فی کل قریۃ نذیراً (25 : 51) ” اگر ہم چاہتے تو ایک ایک بستی میں ایک ایک خبردار کرنے والا اٹھا کھڑا کرتے۔ “ اس طرح مشقت بٹ جاتی۔ ذمہ داریاں کم ہوجائیں لیکن اللہ نے تمام کائنات کی ہدایت کے لئے ایک ہی بندے کو بھیجا۔ آپ خاتم الرسل ہیں اور آپ کے ذمہ یہ کام لگایا گیا ہے کہ آپ تمام لوگوں اور تمام بستیوں کو خبردار کریں اور ان کو اللہ کی آخری رسالت کی طرف متوجہ ریں اور یوں اللہ نے یہ چاہا کہ تمام انسانیت اس آخری رسالت پر جمع ہوجائے اور لوگ مختلف رسولوں کی باتیں سن کر اختلاف کا شکار نہ ہوجائیں اور اس کے بعد نبی آخر الزمان کو قرآن دیا تاکہ وہ لوگوں کی ہدایت کے لئے جدوجہد کریں۔
فلا تطع الکفرین و جاھدھم بہ جہاد کبیراً (25 : 52) ” پس اے نبی تم کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ زبردست جہاد کرو۔ “ اس قرآن کے اندر بڑی قوت اور گرفت ہے۔ گہری تاثیر ہے اس قدر جاذبیت ہے کہ جس کا کوئی سننے والا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس کی یہ کشش دلوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ انسانی روح اور شعور کے اندر زلزلہ برپا ہوجاتا ہ۔ لوگ قرآن کریم کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے تمام تدابیر اختیار کرتے ہیں مگر کامیاب نہیں ہوتے۔
قریش کے سردار عوام الناس کو کہتے تھے۔
لاتسمعوا الھذا القرآن و الغوافیہ لعلکم لغلبون ” اس قرآن کو نہ سنو اور جہاں یہ پڑھا جا رہا ہو وہاں شور مچائو شاید کہ اس طرح تم غالب ہو جائو۔ “ ان کے اس قول سے قریش اور ان کے متبین کی بوکھلاہٹ کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ قرآن کریم کی اثر آفربینیوں نے بہت پریشان تھے۔ وہ دیکھتے تھے کہ ان کے متبعین صبح و شام قرآن کریم سے سحر زدہ ہوجاتے تھے۔ ایک ایک آیت ، دو دو آیات یا دو دو سورتیں جو حضرت محمد ﷺ پڑھتے ۔ لوگوں کے دل ان کی طرف کھچ جاتے تھے اور ان کا دماغ مسحور ہوجاتا تھا۔
رئوساء قریش جو اپنے متبعین کو یہ حکم دیتے تھے ، کیا وہ خود قرآن کی تاثیر سے محفوظ تھے۔ اگر خود انہوں نے قرآن مجید کی بےپناہ تاثیر کو محسوس نہ کیا ہوتا تو وہ ایسا ہرگز نہ کہتے اور نہ وہ اپنی صفوں میں اس قدر خوف پھیلاتے۔ ان کی اس ہدایت سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی تاثیر کا کیا عالم تھا۔
ابن اسحاق ، حمد ابن مسلم ابن شہاب زہری سے روایت کرتے ہیں کہ ان تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ابوسیان ابن ابو جہل ابن ہشام اور احسن ابن شریق ، ابن عمر ابن وھب ثقفی بنی زہرہ کے حلیف ایک رات نکلے کہ رسول اللہ ﷺ کا کلام سنیں۔ حضور اکرم رات کے وقت اپنے گھر پر نماز پڑھا کرتے تھ۔ ان میں سے ہر شخص اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ گیا اور قرآن کریم سنتا رہا۔ ہر شخص دوسرے کے بارے میں نہ جانتا تھا۔ وہ رات گئے تک قرآن کریم سنتے رہے ۔ جب صبح طلوع ہوئی تو یہ لوگ لوٹنے لگے۔ راستے میں ایک دوسرے سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے ایک دور سے کو ملامت کیا اور ایک دوسرے سے کہا۔ یہ حرکت دوبارہ نہ کرو۔ اگر تمہیں تمہارے نادانوں نے دیکھ لیا تو تم خود ان کے دلوں میں بات ڈال دو گے۔ پھر یہ لوگ چلے گئے جب دوسری رات آئی تو ان میں سے ہر شخص پھر اپنی جگہ آ کر بیٹھ گیا۔ پھر یہ لوگ رات کو کلام الٰہی سنتے رہے۔ صبح فجر نمودار ہوئی تو پھر بکھر گئے۔ راستے میں پھر انہوں نے ایک دور سے کو دیکھ لیا۔ پھر انہوں نے ایک دور سے کو وہی کہا جو اگلی رات انہوں نے کہا تھا۔ اس کے بعد اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ جب تیسری رات ہوئی تو پھر تینوں اپنی اپنی جگہ پہنچ گئے۔ ساری رات سنتے رہے۔ جب فجر نمودار ہوئی تو پھر یہ لوگ بکھر گئے لیکن راستے میں پھر ان کی ملاقات ہوگئی۔ اب انہوں نے ایک دوسرے سے کہا اب تو پختہ عہد کرنا ہوگا کہ پھر ہم یہ حرکت نہ کریں گے۔ چناچہ عہد کے بعد یہ لوگ جدا ہوئے۔ دوسرے دن صبح احنس ابن شریق نے اپنی عصالی۔ وہ سب سے پہلے ابوسفیان کو اس کے گھر میں ملا۔ اس نے اسے کہا ابو حنظلہ بتائو۔ تم نے محمد ﷺ سے جو کلام سنا اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔ اس نے کہا ابو ثعلبہ ! خدا کی قسم میں نے بھی ان سے بعض ایسی چیزیں سنیں ہیں جن کو میں جانتا ہوں اور ان کا مطلب بھی سمجھتا ہوں۔ بعض ایسی باتیں بھی سنی ہیں جن کا مفہوم میں نہیں سمجھتا اور نہ میں یہ سمجھا ہوں کہ ان کا مقصد کیا ہے۔ احنس نے کہا میری رائے بھی وہی ہے جس پر تم نے حلف اٹھایا ہے۔ وہاں سے نکل کر یہ شخص ابوجہل کے پاس آیا۔ اس کے گھر میں داخل ہوا اور کہا ابو الحکم بتائو محمد ﷺ سے تم نے جو کچھ سنا ، اس کے بارے میں تمہاری رائے کیا ہے۔ ابوجہل نے کہا میں نے کیا سنا ہے ؟ بات یہ ہے کہ ہمارا اور بنی عبد مناف کے درمیان عزت اور شرف پر جھگڑا رہا۔ انہوں نے لوگوں کو کھانا کھلایا تو ہم نے بھی مقابلے میں دستر خوان بچھائے۔ انہوں نے لوگوں کو تحفے دیئے اور ہم نے بار شتر تحفے دیئے۔ انہوں نے داد و دہش کی تو ہم نے بھی داد و دہش کی ۔ یہاں تک ہم ایک دوسرے کے ساتھ کاندھے ملا کر یوں چلے کہ جس طرح دو مقابل کے گھوڑے ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔ اب انہوں نے یہ کہہ دیا ہے کہ ہم سے نبی آگیا ہے۔ اس پر آسمان سے وحی آتی ہے ، ان کے مقابلے میں ہم نبی کہاں سے لائیں۔ خدا کی قسم ، ہم اس پر کبھی بھی ایمان نہ لائیں گے اور ہرگز ہم اس کی تصدیق نہ کریں گے۔ اس پر احنس ابن شریق اسے چھوڑ کر چلے گئے۔
یہ تھا عالم قرآن کریم کے اثرات کا۔ یہ لوگ ان اثرات کا مقابلہ کر رہے تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ پختہ عہد کرتے تھے کہ آئندہ مت سنو ورنہ لیڈر شپ کو خطرہ ہے۔ اگر عوام کو پتہ چل گیا کہ ہم لوگ کلام الٰہی سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو لوگ ٹوٹ پڑیں گے ان پر تو جادر جیسا اثر ہوتا ہے۔
قرآن کریم درحقیقت نہایت ہی سادہ فطری حقائق بیان کر رہا تھا۔ یہ سچائی تیر کی طرح دل میں اترتی تھی۔ جب انسانی دل و دماغ اس اصلی جانے تک پہنچ جاتے تھے تو اس سرچشمے کا جوش پھر تمتمانہ تھا۔ اثرات کے فوارے چھوٹ جاتے تھے اس میں قیامت کے مناظر عبرت اموز قصص اس کائنات کے مشاہد ، ہلاک شدہ اقوام کی عبرت آموز داستانیں اور انکے کھنڈرات کے مناظر ، قرآن کے تشخص مفہومات اور تمثیل واقعات اور دلال و آیات تھے ، ان سے دل دہل جاتے تھے۔ بعض اوقات صرف ایک سورت پڑھنے سے انسانی شخصیت کے اندر تزلزل پیدا ہوجاتا اور ایسے انسانی نفوس اس سے مفتوح ہوتے چلے جاتے تھے جو چٹان کی طرح مضبوط ہوتے تھے۔ اگر قرآن کے سوا لشکر جرار بھی ایسے نفوس کو فتح کرنا چاہتا تو نہ کرسکتا۔
اس لئے یہ بات کوئی تعجب انگیز نہیں ہے کہ اللہ نبی ﷺ حکم دے کہ آپ کافروں کی اطاعت نہ کریں اور دعوت اسلامی کے حوالے سے آپ کے قدم نہ ڈگمگائیں اور اس قرآن کو لے کر کفار کے مقابلے میں عظیم جدوجہد کریں۔ کیونکہ آپ کے پاس قرآن کریم کی وہ قوت ہے جس کے مقابلے میں طاقتور سے طاقتور انسان نہیں ٹھہر سکتا۔ جس کے خلاف کوئی مجادلہ کارگر نہیں ہو سکتا اور نہ اس کے خلاف کوئی قوت کارگر ہو سکتی ہے۔
الفرقان 25:51
ولقد صرفنہ ……کبیراً (52)
ولقد صرفنہ بینھم لیذکروا (25 : 50) ” اس قرآن کو ہم پھیر پھیر کر ان کے سامنے لاتے ہیں تاکہ وہ سبق لیں۔ “ مختلف سورتوں کی شکل میں۔ متعدد اور متنوع اسالیب بیان میں۔ متعدد قطعات کی شکل میں اور اسی کے ذریعہ ہم نے ان کے شعور اور ان کی قوت مدرکہ کو مخاطب کیا۔ ان کی روح اور ان کے اذہان کو مخاطب کیا اور ان کے نفوس کے اندر اسے ہر طرح داخل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے لئے ابلاغ کا ہر حربہ استعمال کیا تاکہ یہ لوگ نصیحت قبول کرلیں۔ یہاں تو صرف یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ وہ حقیقت اور سچائی کا شعور تو خود ان کے نفوس اور ان کی فطرت کے اندر موجود ہے اور انہوں نے حقیقت کے اس شعو رکو اس لئے دبا دیا ہے کہ خواہشات نفسانیہ کو انہوں نے الہ بنا دیا ہے۔ اس لئے اب ان کا رویہ یہ ہوگیا ہے۔
فابی اکثر الناس الاکفوراً (25 : 50) ” مگر اکثر لوگ کفر اور ناشکری کے سوا کوئی دوسرا رویہ اختیار کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ “ حضور اکرم کی ذمہ داری تو ایک بھاری ذمہ داری ہے آپ نے پوری انسانیت کو درست کرنا ہے جبکہ انسانوں کی اکثریت ذاتی خواہشات کی بندہ بن گئی ہے اور باوجود اس کے کہ دلائل ایمان ہر طرف بکھرے پڑے ہیں۔ اس نے کفر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ولو شئلا لبعثنا فی کل قریۃ نذیراً (25 : 51) ” اگر ہم چاہتے تو ایک ایک بستی میں ایک ایک خبردار کرنے والا اٹھا کھڑا کرتے۔ “ اس طرح مشقت بٹ جاتی۔ ذمہ داریاں کم ہوجائیں لیکن اللہ نے تمام کائنات کی ہدایت کے لئے ایک ہی بندے کو بھیجا۔ آپ خاتم الرسل ہیں اور آپ کے ذمہ یہ کام لگایا گیا ہے کہ آپ تمام لوگوں اور تمام بستیوں کو خبردار کریں اور ان کو اللہ کی آخری رسالت کی طرف متوجہ ریں اور یوں اللہ نے یہ چاہا کہ تمام انسانیت اس آخری رسالت پر جمع ہوجائے اور لوگ مختلف رسولوں کی باتیں سن کر اختلاف کا شکار نہ ہوجائیں اور اس کے بعد نبی آخر الزمان کو قرآن دیا تاکہ وہ لوگوں کی ہدایت کے لئے جدوجہد کریں۔
فلا تطع الکفرین و جاھدھم بہ جہاد کبیراً (25 : 52) ” پس اے نبی تم کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ زبردست جہاد کرو۔ “ اس قرآن کے اندر بڑی قوت اور گرفت ہے۔ گہری تاثیر ہے اس قدر جاذبیت ہے کہ جس کا کوئی سننے والا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس کی یہ کشش دلوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ انسانی روح اور شعور کے اندر زلزلہ برپا ہوجاتا ہ۔ لوگ قرآن کریم کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے تمام تدابیر اختیار کرتے ہیں مگر کامیاب نہیں ہوتے۔
قریش کے سردار عوام الناس کو کہتے تھے۔
لاتسمعوا الھذا القرآن و الغوافیہ لعلکم لغلبون ” اس قرآن کو نہ سنو اور جہاں یہ پڑھا جا رہا ہو وہاں شور مچائو شاید کہ اس طرح تم غالب ہو جائو۔ “ ان کے اس قول سے قریش اور ان کے متبین کی بوکھلاہٹ کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ قرآن کریم کی اثر آفربینیوں نے بہت پریشان تھے۔ وہ دیکھتے تھے کہ ان کے متبعین صبح و شام قرآن کریم سے سحر زدہ ہوجاتے تھے۔ ایک ایک آیت ، دو دو آیات یا دو دو سورتیں جو حضرت محمد ﷺ پڑھتے ۔ لوگوں کے دل ان کی طرف کھچ جاتے تھے اور ان کا دماغ مسحور ہوجاتا تھا۔
رئوساء قریش جو اپنے متبعین کو یہ حکم دیتے تھے ، کیا وہ خود قرآن کی تاثیر سے محفوظ تھے۔ اگر خود انہوں نے قرآن مجید کی بےپناہ تاثیر کو محسوس نہ کیا ہوتا تو وہ ایسا ہرگز نہ کہتے اور نہ وہ اپنی صفوں میں اس قدر خوف پھیلاتے۔ ان کی اس ہدایت سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی تاثیر کا کیا عالم تھا۔
ابن اسحاق ، حمد ابن مسلم ابن شہاب زہری سے روایت کرتے ہیں کہ ان تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ابوسیان ابن ابو جہل ابن ہشام اور احسن ابن شریق ، ابن عمر ابن وھب ثقفی بنی زہرہ کے حلیف ایک رات نکلے کہ رسول اللہ ﷺ کا کلام سنیں۔ حضور اکرم رات کے وقت اپنے گھر پر نماز پڑھا کرتے تھ۔ ان میں سے ہر شخص اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ گیا اور قرآن کریم سنتا رہا۔ ہر شخص دوسرے کے بارے میں نہ جانتا تھا۔ وہ رات گئے تک قرآن کریم سنتے رہے ۔ جب صبح طلوع ہوئی تو یہ لوگ لوٹنے لگے۔ راستے میں ایک دوسرے سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے ایک دور سے کو ملامت کیا اور ایک دوسرے سے کہا۔ یہ حرکت دوبارہ نہ کرو۔ اگر تمہیں تمہارے نادانوں نے دیکھ لیا تو تم خود ان کے دلوں میں بات ڈال دو گے۔ پھر یہ لوگ چلے گئے جب دوسری رات آئی تو ان میں سے ہر شخص پھر اپنی جگہ آ کر بیٹھ گیا۔ پھر یہ لوگ رات کو کلام الٰہی سنتے رہے۔ صبح فجر نمودار ہوئی تو پھر بکھر گئے۔ راستے میں پھر انہوں نے ایک دور سے کو دیکھ لیا۔ پھر انہوں نے ایک دور سے کو وہی کہا جو اگلی رات انہوں نے کہا تھا۔ اس کے بعد اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ جب تیسری رات ہوئی تو پھر تینوں اپنی اپنی جگہ پہنچ گئے۔ ساری رات سنتے رہے۔ جب فجر نمودار ہوئی تو پھر یہ لوگ بکھر گئے لیکن راستے میں پھر ان کی ملاقات ہوگئی۔ اب انہوں نے ایک دوسرے سے کہا اب تو پختہ عہد کرنا ہوگا کہ پھر ہم یہ حرکت نہ کریں گے۔ چناچہ عہد کے بعد یہ لوگ جدا ہوئے۔ دوسرے دن صبح احنس ابن شریق نے اپنی عصالی۔ وہ سب سے پہلے ابوسفیان کو اس کے گھر میں ملا۔ اس نے اسے کہا ابو حنظلہ بتائو۔ تم نے محمد ﷺ سے جو کلام سنا اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔ اس نے کہا ابو ثعلبہ ! خدا کی قسم میں نے بھی ان سے بعض ایسی چیزیں سنیں ہیں جن کو میں جانتا ہوں اور ان کا مطلب بھی سمجھتا ہوں۔ بعض ایسی باتیں بھی سنی ہیں جن کا مفہوم میں نہیں سمجھتا اور نہ میں یہ سمجھا ہوں کہ ان کا مقصد کیا ہے۔ احنس نے کہا میری رائے بھی وہی ہے جس پر تم نے حلف اٹھایا ہے۔ وہاں سے نکل کر یہ شخص ابوجہل کے پاس آیا۔ اس کے گھر میں داخل ہوا اور کہا ابو الحکم بتائو محمد ﷺ سے تم نے جو کچھ سنا ، اس کے بارے میں تمہاری رائے کیا ہے۔ ابوجہل نے کہا میں نے کیا سنا ہے ؟ بات یہ ہے کہ ہمارا اور بنی عبد مناف کے درمیان عزت اور شرف پر جھگڑا رہا۔ انہوں نے لوگوں کو کھانا کھلایا تو ہم نے بھی مقابلے میں دستر خوان بچھائے۔ انہوں نے لوگوں کو تحفے دیئے اور ہم نے بار شتر تحفے دیئے۔ انہوں نے داد و دہش کی تو ہم نے بھی داد و دہش کی ۔ یہاں تک ہم ایک دوسرے کے ساتھ کاندھے ملا کر یوں چلے کہ جس طرح دو مقابل کے گھوڑے ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔ اب انہوں نے یہ کہہ دیا ہے کہ ہم سے نبی آگیا ہے۔ اس پر آسمان سے وحی آتی ہے ، ان کے مقابلے میں ہم نبی کہاں سے لائیں۔ خدا کی قسم ، ہم اس پر کبھی بھی ایمان نہ لائیں گے اور ہرگز ہم اس کی تصدیق نہ کریں گے۔ اس پر احنس ابن شریق اسے چھوڑ کر چلے گئے۔
یہ تھا عالم قرآن کریم کے اثرات کا۔ یہ لوگ ان اثرات کا مقابلہ کر رہے تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ پختہ عہد کرتے تھے کہ آئندہ مت سنو ورنہ لیڈر شپ کو خطرہ ہے۔ اگر عوام کو پتہ چل گیا کہ ہم لوگ کلام الٰہی سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو لوگ ٹوٹ پڑیں گے ان پر تو جادر جیسا اثر ہوتا ہے۔
قرآن کریم درحقیقت نہایت ہی سادہ فطری حقائق بیان کر رہا تھا۔ یہ سچائی تیر کی طرح دل میں اترتی تھی۔ جب انسانی دل و دماغ اس اصلی جانے تک پہنچ جاتے تھے تو اس سرچشمے کا جوش پھر تمتمانہ تھا۔ اثرات کے فوارے چھوٹ جاتے تھے اس میں قیامت کے مناظر عبرت اموز قصص اس کائنات کے مشاہد ، ہلاک شدہ اقوام کی عبرت آموز داستانیں اور انکے کھنڈرات کے مناظر ، قرآن کے تشخص مفہومات اور تمثیل واقعات اور دلال و آیات تھے ، ان سے دل دہل جاتے تھے۔ بعض اوقات صرف ایک سورت پڑھنے سے انسانی شخصیت کے اندر تزلزل پیدا ہوجاتا اور ایسے انسانی نفوس اس سے مفتوح ہوتے چلے جاتے تھے جو چٹان کی طرح مضبوط ہوتے تھے۔ اگر قرآن کے سوا لشکر جرار بھی ایسے نفوس کو فتح کرنا چاہتا تو نہ کرسکتا۔
اس لئے یہ بات کوئی تعجب انگیز نہیں ہے کہ اللہ نبی ﷺ حکم دے کہ آپ کافروں کی اطاعت نہ کریں اور دعوت اسلامی کے حوالے سے آپ کے قدم نہ ڈگمگائیں اور اس قرآن کو لے کر کفار کے مقابلے میں عظیم جدوجہد کریں۔ کیونکہ آپ کے پاس قرآن کریم کی وہ قوت ہے جس کے مقابلے میں طاقتور سے طاقتور انسان نہیں ٹھہر سکتا۔ جس کے خلاف کوئی مجادلہ کارگر نہیں ہو سکتا اور نہ اس کے خلاف کوئی قوت کارگر ہو سکتی ہے۔
الفرقان 25:52
ولقد صرفنہ ……کبیراً (52)
ولقد صرفنہ بینھم لیذکروا (25 : 50) ” اس قرآن کو ہم پھیر پھیر کر ان کے سامنے لاتے ہیں تاکہ وہ سبق لیں۔ “ مختلف سورتوں کی شکل میں۔ متعدد اور متنوع اسالیب بیان میں۔ متعدد قطعات کی شکل میں اور اسی کے ذریعہ ہم نے ان کے شعور اور ان کی قوت مدرکہ کو مخاطب کیا۔ ان کی روح اور ان کے اذہان کو مخاطب کیا اور ان کے نفوس کے اندر اسے ہر طرح داخل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے لئے ابلاغ کا ہر حربہ استعمال کیا تاکہ یہ لوگ نصیحت قبول کرلیں۔ یہاں تو صرف یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ وہ حقیقت اور سچائی کا شعور تو خود ان کے نفوس اور ان کی فطرت کے اندر موجود ہے اور انہوں نے حقیقت کے اس شعو رکو اس لئے دبا دیا ہے کہ خواہشات نفسانیہ کو انہوں نے الہ بنا دیا ہے۔ اس لئے اب ان کا رویہ یہ ہوگیا ہے۔
فابی اکثر الناس الاکفوراً (25 : 50) ” مگر اکثر لوگ کفر اور ناشکری کے سوا کوئی دوسرا رویہ اختیار کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ “ حضور اکرم کی ذمہ داری تو ایک بھاری ذمہ داری ہے آپ نے پوری انسانیت کو درست کرنا ہے جبکہ انسانوں کی اکثریت ذاتی خواہشات کی بندہ بن گئی ہے اور باوجود اس کے کہ دلائل ایمان ہر طرف بکھرے پڑے ہیں۔ اس نے کفر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ولو شئلا لبعثنا فی کل قریۃ نذیراً (25 : 51) ” اگر ہم چاہتے تو ایک ایک بستی میں ایک ایک خبردار کرنے والا اٹھا کھڑا کرتے۔ “ اس طرح مشقت بٹ جاتی۔ ذمہ داریاں کم ہوجائیں لیکن اللہ نے تمام کائنات کی ہدایت کے لئے ایک ہی بندے کو بھیجا۔ آپ خاتم الرسل ہیں اور آپ کے ذمہ یہ کام لگایا گیا ہے کہ آپ تمام لوگوں اور تمام بستیوں کو خبردار کریں اور ان کو اللہ کی آخری رسالت کی طرف متوجہ ریں اور یوں اللہ نے یہ چاہا کہ تمام انسانیت اس آخری رسالت پر جمع ہوجائے اور لوگ مختلف رسولوں کی باتیں سن کر اختلاف کا شکار نہ ہوجائیں اور اس کے بعد نبی آخر الزمان کو قرآن دیا تاکہ وہ لوگوں کی ہدایت کے لئے جدوجہد کریں۔
فلا تطع الکفرین و جاھدھم بہ جہاد کبیراً (25 : 52) ” پس اے نبی تم کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ زبردست جہاد کرو۔ “ اس قرآن کے اندر بڑی قوت اور گرفت ہے۔ گہری تاثیر ہے اس قدر جاذبیت ہے کہ جس کا کوئی سننے والا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس کی یہ کشش دلوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ انسانی روح اور شعور کے اندر زلزلہ برپا ہوجاتا ہ۔ لوگ قرآن کریم کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے تمام تدابیر اختیار کرتے ہیں مگر کامیاب نہیں ہوتے۔
قریش کے سردار عوام الناس کو کہتے تھے۔
لاتسمعوا الھذا القرآن و الغوافیہ لعلکم لغلبون ” اس قرآن کو نہ سنو اور جہاں یہ پڑھا جا رہا ہو وہاں شور مچائو شاید کہ اس طرح تم غالب ہو جائو۔ “ ان کے اس قول سے قریش اور ان کے متبین کی بوکھلاہٹ کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ قرآن کریم کی اثر آفربینیوں نے بہت پریشان تھے۔ وہ دیکھتے تھے کہ ان کے متبعین صبح و شام قرآن کریم سے سحر زدہ ہوجاتے تھے۔ ایک ایک آیت ، دو دو آیات یا دو دو سورتیں جو حضرت محمد ﷺ پڑھتے ۔ لوگوں کے دل ان کی طرف کھچ جاتے تھے اور ان کا دماغ مسحور ہوجاتا تھا۔
رئوساء قریش جو اپنے متبعین کو یہ حکم دیتے تھے ، کیا وہ خود قرآن کی تاثیر سے محفوظ تھے۔ اگر خود انہوں نے قرآن مجید کی بےپناہ تاثیر کو محسوس نہ کیا ہوتا تو وہ ایسا ہرگز نہ کہتے اور نہ وہ اپنی صفوں میں اس قدر خوف پھیلاتے۔ ان کی اس ہدایت سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی تاثیر کا کیا عالم تھا۔
ابن اسحاق ، حمد ابن مسلم ابن شہاب زہری سے روایت کرتے ہیں کہ ان تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ابوسیان ابن ابو جہل ابن ہشام اور احسن ابن شریق ، ابن عمر ابن وھب ثقفی بنی زہرہ کے حلیف ایک رات نکلے کہ رسول اللہ ﷺ کا کلام سنیں۔ حضور اکرم رات کے وقت اپنے گھر پر نماز پڑھا کرتے تھ۔ ان میں سے ہر شخص اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ گیا اور قرآن کریم سنتا رہا۔ ہر شخص دوسرے کے بارے میں نہ جانتا تھا۔ وہ رات گئے تک قرآن کریم سنتے رہے ۔ جب صبح طلوع ہوئی تو یہ لوگ لوٹنے لگے۔ راستے میں ایک دوسرے سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے ایک دور سے کو ملامت کیا اور ایک دوسرے سے کہا۔ یہ حرکت دوبارہ نہ کرو۔ اگر تمہیں تمہارے نادانوں نے دیکھ لیا تو تم خود ان کے دلوں میں بات ڈال دو گے۔ پھر یہ لوگ چلے گئے جب دوسری رات آئی تو ان میں سے ہر شخص پھر اپنی جگہ آ کر بیٹھ گیا۔ پھر یہ لوگ رات کو کلام الٰہی سنتے رہے۔ صبح فجر نمودار ہوئی تو پھر بکھر گئے۔ راستے میں پھر انہوں نے ایک دور سے کو دیکھ لیا۔ پھر انہوں نے ایک دور سے کو وہی کہا جو اگلی رات انہوں نے کہا تھا۔ اس کے بعد اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ جب تیسری رات ہوئی تو پھر تینوں اپنی اپنی جگہ پہنچ گئے۔ ساری رات سنتے رہے۔ جب فجر نمودار ہوئی تو پھر یہ لوگ بکھر گئے لیکن راستے میں پھر ان کی ملاقات ہوگئی۔ اب انہوں نے ایک دوسرے سے کہا اب تو پختہ عہد کرنا ہوگا کہ پھر ہم یہ حرکت نہ کریں گے۔ چناچہ عہد کے بعد یہ لوگ جدا ہوئے۔ دوسرے دن صبح احنس ابن شریق نے اپنی عصالی۔ وہ سب سے پہلے ابوسفیان کو اس کے گھر میں ملا۔ اس نے اسے کہا ابو حنظلہ بتائو۔ تم نے محمد ﷺ سے جو کلام سنا اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔ اس نے کہا ابو ثعلبہ ! خدا کی قسم میں نے بھی ان سے بعض ایسی چیزیں سنیں ہیں جن کو میں جانتا ہوں اور ان کا مطلب بھی سمجھتا ہوں۔ بعض ایسی باتیں بھی سنی ہیں جن کا مفہوم میں نہیں سمجھتا اور نہ میں یہ سمجھا ہوں کہ ان کا مقصد کیا ہے۔ احنس نے کہا میری رائے بھی وہی ہے جس پر تم نے حلف اٹھایا ہے۔ وہاں سے نکل کر یہ شخص ابوجہل کے پاس آیا۔ اس کے گھر میں داخل ہوا اور کہا ابو الحکم بتائو محمد ﷺ سے تم نے جو کچھ سنا ، اس کے بارے میں تمہاری رائے کیا ہے۔ ابوجہل نے کہا میں نے کیا سنا ہے ؟ بات یہ ہے کہ ہمارا اور بنی عبد مناف کے درمیان عزت اور شرف پر جھگڑا رہا۔ انہوں نے لوگوں کو کھانا کھلایا تو ہم نے بھی مقابلے میں دستر خوان بچھائے۔ انہوں نے لوگوں کو تحفے دیئے اور ہم نے بار شتر تحفے دیئے۔ انہوں نے داد و دہش کی تو ہم نے بھی داد و دہش کی ۔ یہاں تک ہم ایک دوسرے کے ساتھ کاندھے ملا کر یوں چلے کہ جس طرح دو مقابل کے گھوڑے ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔ اب انہوں نے یہ کہہ دیا ہے کہ ہم سے نبی آگیا ہے۔ اس پر آسمان سے وحی آتی ہے ، ان کے مقابلے میں ہم نبی کہاں سے لائیں۔ خدا کی قسم ، ہم اس پر کبھی بھی ایمان نہ لائیں گے اور ہرگز ہم اس کی تصدیق نہ کریں گے۔ اس پر احنس ابن شریق اسے چھوڑ کر چلے گئے۔
یہ تھا عالم قرآن کریم کے اثرات کا۔ یہ لوگ ان اثرات کا مقابلہ کر رہے تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ پختہ عہد کرتے تھے کہ آئندہ مت سنو ورنہ لیڈر شپ کو خطرہ ہے۔ اگر عوام کو پتہ چل گیا کہ ہم لوگ کلام الٰہی سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو لوگ ٹوٹ پڑیں گے ان پر تو جادر جیسا اثر ہوتا ہے۔
قرآن کریم درحقیقت نہایت ہی سادہ فطری حقائق بیان کر رہا تھا۔ یہ سچائی تیر کی طرح دل میں اترتی تھی۔ جب انسانی دل و دماغ اس اصلی جانے تک پہنچ جاتے تھے تو اس سرچشمے کا جوش پھر تمتمانہ تھا۔ اثرات کے فوارے چھوٹ جاتے تھے اس میں قیامت کے مناظر عبرت اموز قصص اس کائنات کے مشاہد ، ہلاک شدہ اقوام کی عبرت آموز داستانیں اور انکے کھنڈرات کے مناظر ، قرآن کے تشخص مفہومات اور تمثیل واقعات اور دلال و آیات تھے ، ان سے دل دہل جاتے تھے۔ بعض اوقات صرف ایک سورت پڑھنے سے انسانی شخصیت کے اندر تزلزل پیدا ہوجاتا اور ایسے انسانی نفوس اس سے مفتوح ہوتے چلے جاتے تھے جو چٹان کی طرح مضبوط ہوتے تھے۔ اگر قرآن کے سوا لشکر جرار بھی ایسے نفوس کو فتح کرنا چاہتا تو نہ کرسکتا۔
اس لئے یہ بات کوئی تعجب انگیز نہیں ہے کہ اللہ نبی ﷺ حکم دے کہ آپ کافروں کی اطاعت نہ کریں اور دعوت اسلامی کے حوالے سے آپ کے قدم نہ ڈگمگائیں اور اس قرآن کو لے کر کفار کے مقابلے میں عظیم جدوجہد کریں۔ کیونکہ آپ کے پاس قرآن کریم کی وہ قوت ہے جس کے مقابلے میں طاقتور سے طاقتور انسان نہیں ٹھہر سکتا۔ جس کے خلاف کوئی مجادلہ کارگر نہیں ہو سکتا اور نہ اس کے خلاف کوئی قوت کارگر ہو سکتی ہے۔
الفرقان 25:53
اس کے بعد روئے سخن اس کائنات کے مناظر کی طرف پھرجاتا ہے۔ چناچہ ہوائوں کے منظر ، پاک و صاف پانی کے منظر ، سمندروں میں میٹھے اور کھارے پانی اور ان کے درمیان پائے جانے والے قدرتی پردے کے مناظر بیان کئے جاتے ہیں۔
وھو الذی ……محجوراً (54)
یعنی وہ ذات جس نے وہ سمندروں کو چلا رکھا ہے ، ایک میٹھا ہے اور دوسرا نمکین اور کھارا ہے ، دونوں ایک جگہ باہم ملے ہئے ہیں لیکن وہ باہم مخلوط نہیں ہوتے۔ ان کے درمیان قدرت نے ایک پردہ قائل کردیا ہے۔ دونوں کی فطرت ایسی بنا دی ہے کہ وہ باہم مل ہی نہیں سکتے۔ کڑوے سمندروں کے اوپر میٹھے پانی کی نہریں ہیں۔ میٹھے پانی کی ایک نہر سطح سمندر کے اوپر چلتی ہے۔ اس کے برعکس کم ہی ہوتا ہے۔ یعنی میٹھے سمندر پر کڑوے پانی کی نہر نہیں بہتی۔ اس دقیق انتظام کی وجہ سے سمندر کا کڑوا پانی صاف اور میٹھے پانی کے اوپر نہیں آتا۔ حالانکہ کڑوا سمندر بہت بڑا اور گہرا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں میٹھی نہر چھوٹی ہوتی ہے لیکن اس میٹھی نہر سے انسانوں ، جانوروں اور نباتات کی زندگی قائم ہوتی ہے۔ میٹھے اور کڑوے پانیوں کی یہ جولائی محض اتفاق سے نہیں ہوتی بلکہ خلاق کائنات نے بوقت تخلیق ان کو اس طرح پیدا کیا اور اس سے خلاق کے پیش نظر کچھ مقاصد تھے۔ اللہ نے قوانین قدرت میں یہ بات رکھ دی ہے کہ کڑوے پانی ، ان نہروں کی راہ نہ روکیں اور نہ یہ سمندر خشکی پر چڑھ آئیں۔ یہاں تک کہ سمندر کے حالات مدو جزو میں بھی یہ میٹھا پانی اور کڑوے سمندر ایک دو سے جدا رہتے ہیں حالانکہ مدو جزر میں سمندر کا پانی بہت ہی اونچا ہوجاتا ہے۔
کتاب ” سائنس دعوت ایمان دیتی ہے “ کے مصنف کہتے ہیں :” چاند ہم سے دو صد چالیس ہزار میل دور ہے۔ مد جو دو مرتبہ پیدا ہوتا ہے ہمیں چاند کے وجود کا لطیف احساس دلاتا ہے۔ مد کی وجہ سے بعض مقامات پر سطح سمندر ساٹھ قدم بلند ہوجاتی ہے بلکہ زمین کی بالائی سطح بھی دو متربہ باہر کی طرف چاند کی اس کشش کی وجہ سے کئی انچ باہر نکلتی ہے لیکن ہمیں تمام چیزیں ایسی منظم نظر آتی ہیں کہ ہمیں اس قوت کا ادراک ہی نہیں ہوتا۔ جس نے اس عظیم سمندر کو کئی قدم بلند کردیا ہے اور زمین کی سطح جو ہمیں بہت مضبوط نظر آئی تو اسے بھی کئی انچ دہرا کردیا ہے۔ “
” سیارہ مریخ کا ایک اپنا چاند ہے۔ یہ چھوٹا چاند ہے۔ یہ مریخ سیچھ ہزار میل دور ہے۔ اگر ہمارا یہ چاند ہم سے پچاس ہزار میل دور ہوتا بمقابلہ اس بعید دوری کے جو اس وقت ہم سے ہے ، تو مدو جزر کا عمل اس قدر شدید ہوتا کہ سمندر کے نیچے جو زمین ہے وہ دن میں دو مرتبہ اس مدو جزر کے عمل سے دوچار ہو کر اپنے تمام پہاڑوں کو اپنی جگہ سے زائل کردیتی۔ یہ عمل اسی طرح جاری رہنے سے دنیا میں سے تمام خشکی ختم ہوجاتی اور زمین پر ایک عظیم اضطراب ہمیشہ رہتا۔ نیز ہوا کے اندر مدو جزر کے عمل کے نتیجے میں سخت آندھیاں آتی رہتیں اور اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ اپنی کا یہ مدو جزر خشکی کو دھو لے گیا ہے تو پھر ہمیں یہ فرض کرنا ہوگا کہ اب پوری زمین کے اوپر پانی ڈیڑھ میل تک چڑھ گیا ہے۔ اس صورت میں زندگی کا اگر کوئی مکان ہوتا تو وہ سمندر کی گہرائیوں میں ہوتا اور یہ بھی محض وجود حیات کا احتمال ہے۔ “
لیکن اس کائنات کو ایک مدبر کائنات نے اس طرح بنایا ہے کہ سمندر کے اندر بھی میٹھا اور کھارا پانی ایک دوسرے پر دست درازی نہیں کرسکتے۔ اور ان کے طبیعی مزاج اور ان کی ساخت کے اندر یہ بات رکھ دی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ نہ ملیں ۔ یہ ہے کام صانع حکیم کا جس نے اس کائنات کو منظم کیا ہے ، ایک خاص قانون قدرت کے مطابق چلایا ہے۔
الفرقان 25:54
اب سمندر اور نہروں کے پانیوں سے روئے سخن ماء حیات کی طرف۔ ذرا اس نطفے کا مطالعہ کرو جس سے انسان پیدا ہوتا ہے۔
وھو الذی ……قدیراً (54)
اس پانی ہی سے جنین پیدا ہوتے ہیں۔ اگر جنین مرد ہوں تو وہ نسب ہوں گے اور اگر مادہ ہوں تو سسرال ہوں گے۔ مادہ کو صر اس لئے کہا گیا کہ قرابت کی جگہ عورت ہوتی ہے (یعنی عورت کے ذریعہ قرابت داری پیدا ہوتی ہے) آسمان کے پانی سے جو مخلوقات پیدا ہوتی ہے اس کے مقابلے میں یہ انسانی مخلوق بہت ہی عجیب ہے۔ کیونکہ مرد کے پانی کے ایک قطرے کے اندر جو ہزار باخلیے ہوتے ہیں ان میں سے ایک کے ساتھ رحم مادر کے اندر پایا جانے والا چھوٹا سا انڈا متحد ہوجاتا ہے اور اس سے پھر یہ پیچیدہ مخلوق پیدا ہوتی ہے جس کا نام انسان ہے۔ جس قدر زندہ کائنات اور مخلوقات ہے ان میں سے یہ مخلوق عجیب ترین مخلوق ہے۔
یہ انڈے اور یہ خلیے ایک ہی جیسے ہوتے ہیں لکین پھر عجیب طریقے سے یہ نر اور مادہ بن جاتے ہیں۔ اس کا راز بھی انسان ابھی تک معلوم نہیں کرسکا۔ نہ آج تک ہمارا علم اس کو پا سکا ہے کہ نر اور مادہ بننے کے اسباب کیا ہیں کیونکہ ہزار باخلیوں کے درمیان کسی ایسے خلیے کا مشاہدہ نہیں کیا جاسکا اور نہ اس میں ایسی خصوصیات دریافت کی جاسکی ہیں کہ وہ مرد ہوگا یا عورت ہوگی۔ اور نہ عورت کے انڈے کے اندر کوئی ایسی خصوصیات دریافت کی جاسکی ہیں کہ فلاں خصوصیات ہوں تو مرد ہوگا اور فلاں خصوصیات ہوں تو عورت پیدا ہوگی۔
وکان ربک قدیرا (25 : 53) ” اور تیرا رب بڑا ہی قدرت والا ہے۔ “ یہ ہے اللہ کی قدرت جس کے بعض پہلوئوں کا انکشاف دور جدید میں ہوچکا ہے جس سے مزید عجائبات آشکار ہوتے ہیں۔
اگر انسان اس پانی کے بارے میں تحقیقات کرتا چلا گیا جس سے انسان کی تخلیق ہوئی تو اس کا سر چکرا جائے گا۔ جب وہ دیکھے گا کہ اس پانی کے اندر پائے جانے والے یہ جرثومے جو نہایت درجہ چھوٹے اور باریک ہیں۔ یہ ہر جنس کی مکمل ترین خصوصیت اپنے اندر لئے ہوئے ہوتے ہیں۔ بلکہ ان کے اندر والدین اور ان کے خاندان کے قریبی لوگوں کے خواص بھی پوری طرح موجود ہوتے ہیں اور یہ خصوصیات مذکر جنین اور مونث جنین کی طرف اس طرح خود بخود منتقل ہوتے چلے جاتے ہیں جس طرح دست قدرت نے ان کے لئیمنصوبہ بندی کرلی ہوتی ہی۔ تخلیق اعتبارت بھی اپنے رجحان کے اعتبار سے بھی اور اپنی طرز زندگی کے اعتبار سے بھی۔ کتاب ” یہ انسان اکیلا نہیں کھڑا ہے “ کا تھوڑی دیر کے لئے مطالعہ کیجیے۔ مصنف ان نہایت ہی چھوٹے ذروں کے اندر پائے جانے والے موروثی جینز کے بارے میں لکھتے ہیں :
” ہر خلیہ خوادہ مذکر ہو یا مونث ، وہ کرو موزومز اور جینز پر مشتمل ہوتا ہے۔ کروموزوم عضوی مادے کا ابتدائی یونٹ ہوتا ہے اور یہ جینز کو منتقل کرنے کا کام کرتا ہے جبکہ جینز موروثی خصوصیات ہوتی ہیں۔ یہ کرو موزم ایک گٹھلی ہوت یہیں ، جس کے اندر تمام جینز موجود ہوتے ہیں ۔ جینز ہی وہ فیکٹر ہیں جو وجود میں آنے والے اس انسان کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ سیٹو پلازم وہ عجیب کیمیاوی مرکب ہے جو ان دونوں پر چڑھا ہوا ہوتا ہے۔ یہ سیٹو پلازم پروٹو پلازم مادہ ہوتا ہے جو خلئے کی گٹھلی کے اوپر چڑھا ہوا ہوتا ہے۔ یہ جینز اس قدر باریک اور اس قدر جامع ہوتے ہیں کہ ان کے اندر تمام انسانوں کے انفردای خصائص نفسیاتی حالات ان کے رنگ اور ان کی جنس کی خصوصیات ہوتی ہیں۔ یہ اس قدر باریک ہوتی ہیں کہ اگر تمام دنیا کے انسانوں یک جینز کو ایک جگہ جمع کردیا جائے اور اسے ایک جگہ رکھ دیا جائے تو حجم میں ایک ” انگشانہ “ کے برابر ہوگا۔ “
” مائیکرو سکوپ میں نظر آنے والے یہ نہایت ہی باریک جینز ہی دراصل تمام انسانوں ، حیوانوں اور نباتات کی کنجی ہیں اور ان کو کنٹرول کرتے ہیں۔ انگشانہ جس کے اندر کئی بلین افراد کے جینز سماتے ہیں یقینا ایک مختصر جگہ ہے لیکن یہ طے شدہ حقیقت ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ “
ایک جنین ، اپنے تغیر و تبدل کی مختلف صورتوں میں سے گزر کر جب نطفے سے کسی ایک جنس کی مشابہ شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے اندر ایک طویل تاریخ کی کہانی پنہاں ہوتی ہے۔ یہ کہانی جینز ، سیٹو پلازم کے ذرات کے ملاحظہ سے قلم بند ہوچکی ہے۔
” سائنس دانوں کے ہاں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ جینز وہ چھوٹے سے چھوٹے ذرات ہیں جو مائیکرو سکوپ کے ذریعے دیکھے جاسکتے ہیں اور یہ تمام زندہ مخلوقات کے خلیوں کے اندر موجود ہوتے ہیں ، ان کے اندر اس مخلوق کی تصویر ، اس کا ڈھانچہ اور سب خصوصیات درج ہوتی ہیں۔ مثلاً کسی پودے کے خلئے کے اندر اس کی جڑیں ، اس کاتنا ، اس کے پتے ، اس کے تمام پھول ، اس کے تمام پھل سب کے سب موجود ہوتے ہیں۔ ہر حیوان کی شکل ، کھال ، بال اور پر سب شامل ہوتے ہیں اور اس میں انسان بھی شامل ہے۔ “
میں سمجھتا ہوں کہ زندگی کے عجائبات کے بارے میں اسی قدر جاننا بھی کافی ہے کہ خالق کائنات نے کس قدر خصوصیت ودیعت فرماتی ہیں۔
وکان ربک قدیراً (25 : 53) ” اور تیرا رب بڑی قدرت والا ہے۔ “
الفرقان 25:55
اس فضائے تخلیق اور تخلیق کے اندر پھر تقدیر اور اس منظر کے سامنے کہ آسمانوں سے پانی برسنا ہے اور اس سے اور پھر انسانی نطفے کے پانی سے کیا کچھ پیدا ہوتا ہے اور کیا کیا خصوصیات کن کن جینز میں رکھی گئی ہیں کہ ایک خلیے سے ایک مرد تشکیل پاتا ہے اپنے تمام موروثی خصائص کے ساتھ ، اور پھر ایسے ہی ایک خلیے سے ایک عورت پیدا ہوتی ہے اپنے تمام خصائص کے ساتھ۔ ایسے قادر مطلق کی قدرت کی بوقلمونیوں کو دیکھتے ہوئے بھی جو لوگ غیر اللہ کی بندگی کرتے ہیں وہ نہایت ہی عجیب و غریب ہیں۔ فطرت سلیمہ اس بات سے اباء کرتی ہے کہ ایسا فعل کوئی معقول انسان کرسکتا ہے ۔ چناچہ اس مسئلے کو یہاں لیا جاتا ہے۔
ویعبدون ……ظھیراً (55)
” یہ کہ کافر اپنے رب کے مقابلے میں ، ہر باغی کا مددگار بنا ہوا ہے۔ “ یعنی تمام کافر جن میں مشرکین مکہ بھی شامل ہیں ، وہ اپنے اس رب کے خلاف محاذ میں شامل ہو کر برسر پیکار ہیں جبکہ اللہ نے ان کو اور تمام دوسرے کافروں کو پیدا کیا ہے۔ یہ کس طرح اللہ کے خلاف ، محاذ میں شامل ہو کر اللہ کے ساتھ جنگ کرسکتے ہیں ؟ انسان ، یہ کمزور مخلوق خالق کائنات کے خلاف کس طرح جنگ کرسکتا ہے ؟ یا اللہ کے خلاف محاذ آرائیکس طرح کرسکتا ہے ؟ مقصد یہ ہے کہ یہ کافر اللہ کے دین کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ اللہ نے جو منہاج حیات دیا ہے وہ اس کے خلاف برسر جنگ ہیں۔ البتہ انداز بیاں یوں اختیار کیا ہے کہ ان کافروں کی یہ جنگ اور محاذ آرائی نہایت ہی مکروہ نظر آئے۔ یوں کہ دیکھوں فلاں اپنے مالک آقا اور خالق کے خلاف لڑ رہا ہے۔
اور وہ جب اللہ کے رسول ، آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں تو وہ گویا اللہ کا انکار کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کی جنگ بھی اللہ کے خلاف ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو مطمئن فرماتا ہے اور ان کے بار خاطر کو کم کرتا ہے ، غبار خاطر کو دور کرتا ہے اور حضور اکرم کو یہ احساس اور شعور دلاتا ہے کہ آپ فقط تبلیغ رسالت کے سلسلے میں اپنا فریضہ ادا کردیں اور اس سلسلے میں کافر جو دشمنی اور جو عناد کرتے ہیں ، اس کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ اللہ پر توکل کریں ، اللہ خود ان کفار سے نمٹ لے گا۔ یہ دراصل اللہ کے دشمن ہیں اور اللہ اپنے بندوں کے جرائم سے اچھی طرح واقف ہے۔
الفرقان 25:56
وما ارسلنک ……بہ خبیراً (59)
یوں رسول اللہ ﷺ کیفریضہ کی حدود کا تعین کردیا جاتا ہے۔ یہ کہ آپ خوشخبری سنانے والے اور انجام بد سے ڈرانے والے ہیں فقط اور مکہ میں آپ کو یہ حکم نہ دیا گیا تھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ جنگ کریں ، کیونکہ مکہ میں تبلیغ دین کی پوری آزادی تھی لیکن بعد میں جب مسلمان مدینہ کو منتقل ہوئے تو اللہ نے قتال کا حکم دے دیا۔ مکہ میں اللہ نے حکم نہ دیا اور مدینہ میں قتال کا حکم دیا۔ اس کی حقیقی حکمت اللہ ہی جانتا ہے۔ جو کچھ ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں ان لوگوں کو تربیت دی جا رہی تھی ، جن پر اس نظریہ حیات کا دار و مدار تھا ، جن کے دلوں میں یہ عقیدہ اچھی طرح بیٹھ گیا تھا اور جن کی زندگی اس عقیدے کی ترجمان تھی۔ یہ عقیدہ ان کے طرز عمل اور ان کی طرز زندگی کے اندر بیٹھ گیا تھا تاکہ اس تربیت کے بعد آئندہ جس معاشرے پر اسلامی حکومت قائم ہو یہ لوگ اس معاشرے کے لئے ریڑھ کی ہڈی بن جائیں اور دوسرا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر مکہ میں جنگ شروع کردی جاتی تو ان خونی دشمنیوں کی وجہ سے قریش ہمیشہ کے لئے اس عقیدے سے محروم ہوجاتے اور ان کے اور اسلام کے درمیان ایک مستقل خلیج واقع ہوجاتی۔ جبکہ حکمت الٰہی اور تقدیر الٰہی میں مقدر یہ تھا کہ ہجرت کے بعد اور پھر فتح مکہ کے بعد سب کے سب قریش کو اسلام میں داخل ہونا تھا اور پھر ان میں سے جو لوگ نکلنے تھے ، انہیں بعد کے ادوار میں پورے عالم میں اسلام کے پھیلائو کے لئے بنیاد کا کام سر انجام دیتا تھا۔
لیکن مدینہ میں آغاز جہاد کے باوجود رسالت کی اصل ماہیت اور اس کا خلاصہ یہی تھا کہ رسول نے ” انداز وتبشیر “ کا کام کرنا تھا۔ جہاں تک قتال کا تعلق ہے وہ تو اس لئے جائز رکھا گیا ہے کہ دعوت اسلامی اور انداز اور تبشیر کی راہ میں اگر دنیا کے کسی خطے میں کوئی رکاوٹ کھڑی کردی گئی ہے تو اسے دور کردیا جائے۔ اسلام میں جنگ محض اس لئے کی جاتی ہے کہ دعوت و تبلیغ کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو اسے دور کردیا جائے۔ لہٰذا یہ آیت کہ
وما ارسلنک الا مبشراً و نذیراً (25 : 56) ” اور ہم نے نہیں بھیجا آپ کو مگر صرف مبشر اور نذیر کے طور پر۔ “ جس طرح مکہ میں درست ہے اسی طرح مدینہ کے حالات پر بھی منطبق ہے۔
قل ما اسئلکم علیہ من اجر الامن شآء ان یتخذالی ربہ سبیلاً (25 : 58)
” ان سے کہہ دو کہ ” میں اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا ، میری اجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کرلے۔ “ اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کو اس امر سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہے کہ لوگ اسلام قبول کرلیں۔ نہ وہ کس سے فیس کے طلبگار ہیں ، نہ نذر و نیاز اور قربانیوں کی آمدن کے رسول طلبگار ہوتے ہیں۔ اسلام میں داخلہ کی رسول اللہ ﷺ نے کوئی فیس مقرر نہ کر رکھی تھی۔ بس چند کلمات ایک شخص ادا کرتا اور دل سے ان پر یقین کرتا۔ یہی اسلام تھا کیونکہ اسلام میں کوئی کاہن نہیں ہوتا کہ وہ لوگوں کو مقدس کرنے کی کوئی فیس لیتا ہو۔ نہ وہ اللہ اور لوگوں کے درمیان کوئی دلالل ہوتا ہے جو اپنی دلالی کا کمیشن لیتا ہو۔ اسلام میں دخول کے لئے کوئی رسم ہے ، نہ کوئی راز ہے اور نہ دخول کے وقت کسی کو کوئی خاص رسم ادا کرنی ہوتی ہے۔ اسی سے معلوم ہوا کہ دین اسلام کس قدر سادہ ، قدرتی اور فطری دین ہے۔ بس ایک عقیدہ ہے جو دل میں داخل ہوجائے۔ انسانی دل اور عقیدہ اسلام کے درمیان کوئی رسمی واسطہ نہیں ہے۔ نہ کوئی کاہن ، نہ کوئی پیرو فقیر۔ رسول کا اجر بس یہی ہے کہ دین حق کسی کے دل میں داخل ہوجائے اور کوئی بندہ اپنے حقیقی رب کے قریب ہوجائے۔
الا من شآء ان یتخذ الی ربہ سبیلاً (25 : 58) ” بس یہی اجر ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے۔ “ صرف یہی اجر ہی رسول کا۔ رسول کا پاک دل اور رسول کا پاک شعور صرف اسی اجر پر رضای ہوتا ہے کہ ایک بندہ گم کردہ راہ ، اپنے رب کی طرف راہ پا لے۔ رب راضی ہوجائے اور وہ رب کے طریقے پر چل پڑے اور پوری زندگی میں اپنے مولیٰ کی طرف متوجہ ہوجائے۔
و توکل علی ……بحمدہ (25 : 58) ” اور اے نبی اس خدا پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں ، اس کے حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔ “ اللہ کے سوا جتنی بھی مخلوق ہے وہ مرنے والی ہے کیونکہ یہ تمام مخلوق رات دن موت کی طرف رواں ہے۔ باقی رہنے والا صرف اللہ ہے وہ ایسا زندہ ہے جو کبھی مرنے والا نہیں ہے۔ اور کسی ایسے زندہ شخص پر بھروسہ کرنا جس نے ایک دن مرنا ہے طویل عمر کے بعد یا قصیر کے بعد ، ایک ایسی ذات پر بھروسہ کرنا ہے جس نے ایک دن گرنا ہے۔ ایک ایسے سایہ کے نیچے آتا ہے جس نے کسی وقت زوال پاتا ہے۔ توکل تو اسی حسی اور زندہ پر کرنا چاہئے جس نے کبھی نہیں مرنا۔ اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح اور پاکی بیان کرو۔ حمد اور تعریف بھی صرف اللہ کی کرنا چاہئے جو منعم حقیقی اور وہاب حقیقی ہے اور اے پیغمبر آپ ان کفار کی پرواہ نہ کریں جن پر انذار اور تبشیر کا اثر نہیں ہوتا۔ ان لوگوں کے بارے میں وہ اچھی طرح جانتا ہے۔
وکفی بہ بذنوب عبادہ خبیراً (25 : 58) ” اپنے بندوں کے گناہوں سے بس اسی کا باخبر ہونا کافی ہے۔ “ وہ اللہ اپنے بندوں کے حالات سے خوب باخبر ہے اس لئے جزاء و سزا دے سکتا ہے اور وہ اس کی طاقت بھی رکھتا ہے کہ اس نے زمین آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہ مسلسل بادشاہت کی کرسی عرش پر متمکن ہ۔
الذی خلق ……خبیراً (25 : 59) ” وہ جس نے چھ دنوں میں زمین اور آسمانوں کو اور ان ساری چیزوں کو بنا کر رکھ دیا جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہیں ، پھر آپ ہی ” عرش “ پر جلوہ فرما ہوا۔ رحمٰن ہے وہ۔ اس سے پوچھو کہ وہ جاننے والا ہے۔ “ وہ ایام جن میں اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ، وہ ہمارے زمینی دنوں سے مختلف تھے کیونکہ یہ دن تو نظام شمسی کی تشکیل کے بعد شروع ہوئے۔ ینی زمین و آسمانوں کی پیدائش کے بعد جب اللہ نے زمین کا سورج کے اردگرد چکر مقرر کیا اور خود زمین کا اپنے محور کے اردگرد چکر شروع ہوا تو اس کے نتیجے میں ہمارے ایام شروع ہوئے۔ اللہ کی تخلیق تو صرف لفظ کن سے ہوتی ہے یعنی اللہ کا حکم ہوجائے تو ہر چیز ہوجاتی ہے۔ رہے یہ چھ دن تو ان کی حقیقت اور مقدار صرف اللہ جانتا ہے۔ یہ بہت ہی طویل دن ہوں گے اور ان دنوں میں زمین و آسمان مختلف ادوار اور بطوار سے گزر کر موجودہ شکل میں آ کر ن کے ہوں گے۔ رہی یہ بات کہ اللہ رش پر کیسے متمکن ہوا تو اس سے مراد صرف یہ ہے کہ اس کائنات پر اللہ کی حکومت اور اقتدار ہے۔ یہاں لفظ (ثم) سے مراد زمانی ترتیب نہیں ہے۔ ینی یہ کہ پہلے تخلیقہوئی اور بعد میں تمکین علی العرش ہوئی۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ ثم یہاں علوشان اور مرتبہ بلند کے معنی میں ہے۔
اللہ کی اس علوشان اور اقتدار عظیم الشان کے بعد پھر اللہ الرحمٰن بھی ہے اور تم نے جو کچھ پوچھنا ہے اس سے پوچھو ، جب تم اس سے پوچھو گے تو ایک نہایت ہی خبردار سے پوچھو گے کہ وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے۔
الفرقان 25:57
وما ارسلنک ……بہ خبیراً (59)
یوں رسول اللہ ﷺ کیفریضہ کی حدود کا تعین کردیا جاتا ہے۔ یہ کہ آپ خوشخبری سنانے والے اور انجام بد سے ڈرانے والے ہیں فقط اور مکہ میں آپ کو یہ حکم نہ دیا گیا تھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ جنگ کریں ، کیونکہ مکہ میں تبلیغ دین کی پوری آزادی تھی لیکن بعد میں جب مسلمان مدینہ کو منتقل ہوئے تو اللہ نے قتال کا حکم دے دیا۔ مکہ میں اللہ نے حکم نہ دیا اور مدینہ میں قتال کا حکم دیا۔ اس کی حقیقی حکمت اللہ ہی جانتا ہے۔ جو کچھ ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں ان لوگوں کو تربیت دی جا رہی تھی ، جن پر اس نظریہ حیات کا دار و مدار تھا ، جن کے دلوں میں یہ عقیدہ اچھی طرح بیٹھ گیا تھا اور جن کی زندگی اس عقیدے کی ترجمان تھی۔ یہ عقیدہ ان کے طرز عمل اور ان کی طرز زندگی کے اندر بیٹھ گیا تھا تاکہ اس تربیت کے بعد آئندہ جس معاشرے پر اسلامی حکومت قائم ہو یہ لوگ اس معاشرے کے لئے ریڑھ کی ہڈی بن جائیں اور دوسرا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر مکہ میں جنگ شروع کردی جاتی تو ان خونی دشمنیوں کی وجہ سے قریش ہمیشہ کے لئے اس عقیدے سے محروم ہوجاتے اور ان کے اور اسلام کے درمیان ایک مستقل خلیج واقع ہوجاتی۔ جبکہ حکمت الٰہی اور تقدیر الٰہی میں مقدر یہ تھا کہ ہجرت کے بعد اور پھر فتح مکہ کے بعد سب کے سب قریش کو اسلام میں داخل ہونا تھا اور پھر ان میں سے جو لوگ نکلنے تھے ، انہیں بعد کے ادوار میں پورے عالم میں اسلام کے پھیلائو کے لئے بنیاد کا کام سر انجام دیتا تھا۔
لیکن مدینہ میں آغاز جہاد کے باوجود رسالت کی اصل ماہیت اور اس کا خلاصہ یہی تھا کہ رسول نے ” انداز وتبشیر “ کا کام کرنا تھا۔ جہاں تک قتال کا تعلق ہے وہ تو اس لئے جائز رکھا گیا ہے کہ دعوت اسلامی اور انداز اور تبشیر کی راہ میں اگر دنیا کے کسی خطے میں کوئی رکاوٹ کھڑی کردی گئی ہے تو اسے دور کردیا جائے۔ اسلام میں جنگ محض اس لئے کی جاتی ہے کہ دعوت و تبلیغ کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو اسے دور کردیا جائے۔ لہٰذا یہ آیت کہ
وما ارسلنک الا مبشراً و نذیراً (25 : 56) ” اور ہم نے نہیں بھیجا آپ کو مگر صرف مبشر اور نذیر کے طور پر۔ “ جس طرح مکہ میں درست ہے اسی طرح مدینہ کے حالات پر بھی منطبق ہے۔
قل ما اسئلکم علیہ من اجر الامن شآء ان یتخذالی ربہ سبیلاً (25 : 58)
” ان سے کہہ دو کہ ” میں اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا ، میری اجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کرلے۔ “ اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کو اس امر سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہے کہ لوگ اسلام قبول کرلیں۔ نہ وہ کس سے فیس کے طلبگار ہیں ، نہ نذر و نیاز اور قربانیوں کی آمدن کے رسول طلبگار ہوتے ہیں۔ اسلام میں داخلہ کی رسول اللہ ﷺ نے کوئی فیس مقرر نہ کر رکھی تھی۔ بس چند کلمات ایک شخص ادا کرتا اور دل سے ان پر یقین کرتا۔ یہی اسلام تھا کیونکہ اسلام میں کوئی کاہن نہیں ہوتا کہ وہ لوگوں کو مقدس کرنے کی کوئی فیس لیتا ہو۔ نہ وہ اللہ اور لوگوں کے درمیان کوئی دلالل ہوتا ہے جو اپنی دلالی کا کمیشن لیتا ہو۔ اسلام میں دخول کے لئے کوئی رسم ہے ، نہ کوئی راز ہے اور نہ دخول کے وقت کسی کو کوئی خاص رسم ادا کرنی ہوتی ہے۔ اسی سے معلوم ہوا کہ دین اسلام کس قدر سادہ ، قدرتی اور فطری دین ہے۔ بس ایک عقیدہ ہے جو دل میں داخل ہوجائے۔ انسانی دل اور عقیدہ اسلام کے درمیان کوئی رسمی واسطہ نہیں ہے۔ نہ کوئی کاہن ، نہ کوئی پیرو فقیر۔ رسول کا اجر بس یہی ہے کہ دین حق کسی کے دل میں داخل ہوجائے اور کوئی بندہ اپنے حقیقی رب کے قریب ہوجائے۔
الا من شآء ان یتخذ الی ربہ سبیلاً (25 : 58) ” بس یہی اجر ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے۔ “ صرف یہی اجر ہی رسول کا۔ رسول کا پاک دل اور رسول کا پاک شعور صرف اسی اجر پر رضای ہوتا ہے کہ ایک بندہ گم کردہ راہ ، اپنے رب کی طرف راہ پا لے۔ رب راضی ہوجائے اور وہ رب کے طریقے پر چل پڑے اور پوری زندگی میں اپنے مولیٰ کی طرف متوجہ ہوجائے۔
و توکل علی ……بحمدہ (25 : 58) ” اور اے نبی اس خدا پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں ، اس کے حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔ “ اللہ کے سوا جتنی بھی مخلوق ہے وہ مرنے والی ہے کیونکہ یہ تمام مخلوق رات دن موت کی طرف رواں ہے۔ باقی رہنے والا صرف اللہ ہے وہ ایسا زندہ ہے جو کبھی مرنے والا نہیں ہے۔ اور کسی ایسے زندہ شخص پر بھروسہ کرنا جس نے ایک دن مرنا ہے طویل عمر کے بعد یا قصیر کے بعد ، ایک ایسی ذات پر بھروسہ کرنا ہے جس نے ایک دن گرنا ہے۔ ایک ایسے سایہ کے نیچے آتا ہے جس نے کسی وقت زوال پاتا ہے۔ توکل تو اسی حسی اور زندہ پر کرنا چاہئے جس نے کبھی نہیں مرنا۔ اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح اور پاکی بیان کرو۔ حمد اور تعریف بھی صرف اللہ کی کرنا چاہئے جو منعم حقیقی اور وہاب حقیقی ہے اور اے پیغمبر آپ ان کفار کی پرواہ نہ کریں جن پر انذار اور تبشیر کا اثر نہیں ہوتا۔ ان لوگوں کے بارے میں وہ اچھی طرح جانتا ہے۔
وکفی بہ بذنوب عبادہ خبیراً (25 : 58) ” اپنے بندوں کے گناہوں سے بس اسی کا باخبر ہونا کافی ہے۔ “ وہ اللہ اپنے بندوں کے حالات سے خوب باخبر ہے اس لئے جزاء و سزا دے سکتا ہے اور وہ اس کی طاقت بھی رکھتا ہے کہ اس نے زمین آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہ مسلسل بادشاہت کی کرسی عرش پر متمکن ہ۔
الذی خلق ……خبیراً (25 : 59) ” وہ جس نے چھ دنوں میں زمین اور آسمانوں کو اور ان ساری چیزوں کو بنا کر رکھ دیا جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہیں ، پھر آپ ہی ” عرش “ پر جلوہ فرما ہوا۔ رحمٰن ہے وہ۔ اس سے پوچھو کہ وہ جاننے والا ہے۔ “ وہ ایام جن میں اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ، وہ ہمارے زمینی دنوں سے مختلف تھے کیونکہ یہ دن تو نظام شمسی کی تشکیل کے بعد شروع ہوئے۔ ینی زمین و آسمانوں کی پیدائش کے بعد جب اللہ نے زمین کا سورج کے اردگرد چکر مقرر کیا اور خود زمین کا اپنے محور کے اردگرد چکر شروع ہوا تو اس کے نتیجے میں ہمارے ایام شروع ہوئے۔ اللہ کی تخلیق تو صرف لفظ کن سے ہوتی ہے یعنی اللہ کا حکم ہوجائے تو ہر چیز ہوجاتی ہے۔ رہے یہ چھ دن تو ان کی حقیقت اور مقدار صرف اللہ جانتا ہے۔ یہ بہت ہی طویل دن ہوں گے اور ان دنوں میں زمین و آسمان مختلف ادوار اور بطوار سے گزر کر موجودہ شکل میں آ کر ن کے ہوں گے۔ رہی یہ بات کہ اللہ رش پر کیسے متمکن ہوا تو اس سے مراد صرف یہ ہے کہ اس کائنات پر اللہ کی حکومت اور اقتدار ہے۔ یہاں لفظ (ثم) سے مراد زمانی ترتیب نہیں ہے۔ ینی یہ کہ پہلے تخلیقہوئی اور بعد میں تمکین علی العرش ہوئی۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ ثم یہاں علوشان اور مرتبہ بلند کے معنی میں ہے۔
اللہ کی اس علوشان اور اقتدار عظیم الشان کے بعد پھر اللہ الرحمٰن بھی ہے اور تم نے جو کچھ پوچھنا ہے اس سے پوچھو ، جب تم اس سے پوچھو گے تو ایک نہایت ہی خبردار سے پوچھو گے کہ وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے۔
الفرقان 25:58
وما ارسلنک ……بہ خبیراً (59)
یوں رسول اللہ ﷺ کیفریضہ کی حدود کا تعین کردیا جاتا ہے۔ یہ کہ آپ خوشخبری سنانے والے اور انجام بد سے ڈرانے والے ہیں فقط اور مکہ میں آپ کو یہ حکم نہ دیا گیا تھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ جنگ کریں ، کیونکہ مکہ میں تبلیغ دین کی پوری آزادی تھی لیکن بعد میں جب مسلمان مدینہ کو منتقل ہوئے تو اللہ نے قتال کا حکم دے دیا۔ مکہ میں اللہ نے حکم نہ دیا اور مدینہ میں قتال کا حکم دیا۔ اس کی حقیقی حکمت اللہ ہی جانتا ہے۔ جو کچھ ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں ان لوگوں کو تربیت دی جا رہی تھی ، جن پر اس نظریہ حیات کا دار و مدار تھا ، جن کے دلوں میں یہ عقیدہ اچھی طرح بیٹھ گیا تھا اور جن کی زندگی اس عقیدے کی ترجمان تھی۔ یہ عقیدہ ان کے طرز عمل اور ان کی طرز زندگی کے اندر بیٹھ گیا تھا تاکہ اس تربیت کے بعد آئندہ جس معاشرے پر اسلامی حکومت قائم ہو یہ لوگ اس معاشرے کے لئے ریڑھ کی ہڈی بن جائیں اور دوسرا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر مکہ میں جنگ شروع کردی جاتی تو ان خونی دشمنیوں کی وجہ سے قریش ہمیشہ کے لئے اس عقیدے سے محروم ہوجاتے اور ان کے اور اسلام کے درمیان ایک مستقل خلیج واقع ہوجاتی۔ جبکہ حکمت الٰہی اور تقدیر الٰہی میں مقدر یہ تھا کہ ہجرت کے بعد اور پھر فتح مکہ کے بعد سب کے سب قریش کو اسلام میں داخل ہونا تھا اور پھر ان میں سے جو لوگ نکلنے تھے ، انہیں بعد کے ادوار میں پورے عالم میں اسلام کے پھیلائو کے لئے بنیاد کا کام سر انجام دیتا تھا۔
لیکن مدینہ میں آغاز جہاد کے باوجود رسالت کی اصل ماہیت اور اس کا خلاصہ یہی تھا کہ رسول نے ” انداز وتبشیر “ کا کام کرنا تھا۔ جہاں تک قتال کا تعلق ہے وہ تو اس لئے جائز رکھا گیا ہے کہ دعوت اسلامی اور انداز اور تبشیر کی راہ میں اگر دنیا کے کسی خطے میں کوئی رکاوٹ کھڑی کردی گئی ہے تو اسے دور کردیا جائے۔ اسلام میں جنگ محض اس لئے کی جاتی ہے کہ دعوت و تبلیغ کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو اسے دور کردیا جائے۔ لہٰذا یہ آیت کہ
وما ارسلنک الا مبشراً و نذیراً (25 : 56) ” اور ہم نے نہیں بھیجا آپ کو مگر صرف مبشر اور نذیر کے طور پر۔ “ جس طرح مکہ میں درست ہے اسی طرح مدینہ کے حالات پر بھی منطبق ہے۔
قل ما اسئلکم علیہ من اجر الامن شآء ان یتخذالی ربہ سبیلاً (25 : 58)
” ان سے کہہ دو کہ ” میں اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا ، میری اجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کرلے۔ “ اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کو اس امر سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہے کہ لوگ اسلام قبول کرلیں۔ نہ وہ کس سے فیس کے طلبگار ہیں ، نہ نذر و نیاز اور قربانیوں کی آمدن کے رسول طلبگار ہوتے ہیں۔ اسلام میں داخلہ کی رسول اللہ ﷺ نے کوئی فیس مقرر نہ کر رکھی تھی۔ بس چند کلمات ایک شخص ادا کرتا اور دل سے ان پر یقین کرتا۔ یہی اسلام تھا کیونکہ اسلام میں کوئی کاہن نہیں ہوتا کہ وہ لوگوں کو مقدس کرنے کی کوئی فیس لیتا ہو۔ نہ وہ اللہ اور لوگوں کے درمیان کوئی دلالل ہوتا ہے جو اپنی دلالی کا کمیشن لیتا ہو۔ اسلام میں دخول کے لئے کوئی رسم ہے ، نہ کوئی راز ہے اور نہ دخول کے وقت کسی کو کوئی خاص رسم ادا کرنی ہوتی ہے۔ اسی سے معلوم ہوا کہ دین اسلام کس قدر سادہ ، قدرتی اور فطری دین ہے۔ بس ایک عقیدہ ہے جو دل میں داخل ہوجائے۔ انسانی دل اور عقیدہ اسلام کے درمیان کوئی رسمی واسطہ نہیں ہے۔ نہ کوئی کاہن ، نہ کوئی پیرو فقیر۔ رسول کا اجر بس یہی ہے کہ دین حق کسی کے دل میں داخل ہوجائے اور کوئی بندہ اپنے حقیقی رب کے قریب ہوجائے۔
الا من شآء ان یتخذ الی ربہ سبیلاً (25 : 58) ” بس یہی اجر ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے۔ “ صرف یہی اجر ہی رسول کا۔ رسول کا پاک دل اور رسول کا پاک شعور صرف اسی اجر پر رضای ہوتا ہے کہ ایک بندہ گم کردہ راہ ، اپنے رب کی طرف راہ پا لے۔ رب راضی ہوجائے اور وہ رب کے طریقے پر چل پڑے اور پوری زندگی میں اپنے مولیٰ کی طرف متوجہ ہوجائے۔
و توکل علی ……بحمدہ (25 : 58) ” اور اے نبی اس خدا پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں ، اس کے حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔ “ اللہ کے سوا جتنی بھی مخلوق ہے وہ مرنے والی ہے کیونکہ یہ تمام مخلوق رات دن موت کی طرف رواں ہے۔ باقی رہنے والا صرف اللہ ہے وہ ایسا زندہ ہے جو کبھی مرنے والا نہیں ہے۔ اور کسی ایسے زندہ شخص پر بھروسہ کرنا جس نے ایک دن مرنا ہے طویل عمر کے بعد یا قصیر کے بعد ، ایک ایسی ذات پر بھروسہ کرنا ہے جس نے ایک دن گرنا ہے۔ ایک ایسے سایہ کے نیچے آتا ہے جس نے کسی وقت زوال پاتا ہے۔ توکل تو اسی حسی اور زندہ پر کرنا چاہئے جس نے کبھی نہیں مرنا۔ اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح اور پاکی بیان کرو۔ حمد اور تعریف بھی صرف اللہ کی کرنا چاہئے جو منعم حقیقی اور وہاب حقیقی ہے اور اے پیغمبر آپ ان کفار کی پرواہ نہ کریں جن پر انذار اور تبشیر کا اثر نہیں ہوتا۔ ان لوگوں کے بارے میں وہ اچھی طرح جانتا ہے۔
وکفی بہ بذنوب عبادہ خبیراً (25 : 58) ” اپنے بندوں کے گناہوں سے بس اسی کا باخبر ہونا کافی ہے۔ “ وہ اللہ اپنے بندوں کے حالات سے خوب باخبر ہے اس لئے جزاء و سزا دے سکتا ہے اور وہ اس کی طاقت بھی رکھتا ہے کہ اس نے زمین آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہ مسلسل بادشاہت کی کرسی عرش پر متمکن ہ۔
الذی خلق ……خبیراً (25 : 59) ” وہ جس نے چھ دنوں میں زمین اور آسمانوں کو اور ان ساری چیزوں کو بنا کر رکھ دیا جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہیں ، پھر آپ ہی ” عرش “ پر جلوہ فرما ہوا۔ رحمٰن ہے وہ۔ اس سے پوچھو کہ وہ جاننے والا ہے۔ “ وہ ایام جن میں اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ، وہ ہمارے زمینی دنوں سے مختلف تھے کیونکہ یہ دن تو نظام شمسی کی تشکیل کے بعد شروع ہوئے۔ ینی زمین و آسمانوں کی پیدائش کے بعد جب اللہ نے زمین کا سورج کے اردگرد چکر مقرر کیا اور خود زمین کا اپنے محور کے اردگرد چکر شروع ہوا تو اس کے نتیجے میں ہمارے ایام شروع ہوئے۔ اللہ کی تخلیق تو صرف لفظ کن سے ہوتی ہے یعنی اللہ کا حکم ہوجائے تو ہر چیز ہوجاتی ہے۔ رہے یہ چھ دن تو ان کی حقیقت اور مقدار صرف اللہ جانتا ہے۔ یہ بہت ہی طویل دن ہوں گے اور ان دنوں میں زمین و آسمان مختلف ادوار اور بطوار سے گزر کر موجودہ شکل میں آ کر ن کے ہوں گے۔ رہی یہ بات کہ اللہ رش پر کیسے متمکن ہوا تو اس سے مراد صرف یہ ہے کہ اس کائنات پر اللہ کی حکومت اور اقتدار ہے۔ یہاں لفظ (ثم) سے مراد زمانی ترتیب نہیں ہے۔ ینی یہ کہ پہلے تخلیقہوئی اور بعد میں تمکین علی العرش ہوئی۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ ثم یہاں علوشان اور مرتبہ بلند کے معنی میں ہے۔
اللہ کی اس علوشان اور اقتدار عظیم الشان کے بعد پھر اللہ الرحمٰن بھی ہے اور تم نے جو کچھ پوچھنا ہے اس سے پوچھو ، جب تم اس سے پوچھو گے تو ایک نہایت ہی خبردار سے پوچھو گے کہ وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے۔
الفرقان 25:59
وما ارسلنک ……بہ خبیراً (59)
یوں رسول اللہ ﷺ کیفریضہ کی حدود کا تعین کردیا جاتا ہے۔ یہ کہ آپ خوشخبری سنانے والے اور انجام بد سے ڈرانے والے ہیں فقط اور مکہ میں آپ کو یہ حکم نہ دیا گیا تھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ جنگ کریں ، کیونکہ مکہ میں تبلیغ دین کی پوری آزادی تھی لیکن بعد میں جب مسلمان مدینہ کو منتقل ہوئے تو اللہ نے قتال کا حکم دے دیا۔ مکہ میں اللہ نے حکم نہ دیا اور مدینہ میں قتال کا حکم دیا۔ اس کی حقیقی حکمت اللہ ہی جانتا ہے۔ جو کچھ ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں ان لوگوں کو تربیت دی جا رہی تھی ، جن پر اس نظریہ حیات کا دار و مدار تھا ، جن کے دلوں میں یہ عقیدہ اچھی طرح بیٹھ گیا تھا اور جن کی زندگی اس عقیدے کی ترجمان تھی۔ یہ عقیدہ ان کے طرز عمل اور ان کی طرز زندگی کے اندر بیٹھ گیا تھا تاکہ اس تربیت کے بعد آئندہ جس معاشرے پر اسلامی حکومت قائم ہو یہ لوگ اس معاشرے کے لئے ریڑھ کی ہڈی بن جائیں اور دوسرا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر مکہ میں جنگ شروع کردی جاتی تو ان خونی دشمنیوں کی وجہ سے قریش ہمیشہ کے لئے اس عقیدے سے محروم ہوجاتے اور ان کے اور اسلام کے درمیان ایک مستقل خلیج واقع ہوجاتی۔ جبکہ حکمت الٰہی اور تقدیر الٰہی میں مقدر یہ تھا کہ ہجرت کے بعد اور پھر فتح مکہ کے بعد سب کے سب قریش کو اسلام میں داخل ہونا تھا اور پھر ان میں سے جو لوگ نکلنے تھے ، انہیں بعد کے ادوار میں پورے عالم میں اسلام کے پھیلائو کے لئے بنیاد کا کام سر انجام دیتا تھا۔
لیکن مدینہ میں آغاز جہاد کے باوجود رسالت کی اصل ماہیت اور اس کا خلاصہ یہی تھا کہ رسول نے ” انداز وتبشیر “ کا کام کرنا تھا۔ جہاں تک قتال کا تعلق ہے وہ تو اس لئے جائز رکھا گیا ہے کہ دعوت اسلامی اور انداز اور تبشیر کی راہ میں اگر دنیا کے کسی خطے میں کوئی رکاوٹ کھڑی کردی گئی ہے تو اسے دور کردیا جائے۔ اسلام میں جنگ محض اس لئے کی جاتی ہے کہ دعوت و تبلیغ کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو اسے دور کردیا جائے۔ لہٰذا یہ آیت کہ
وما ارسلنک الا مبشراً و نذیراً (25 : 56) ” اور ہم نے نہیں بھیجا آپ کو مگر صرف مبشر اور نذیر کے طور پر۔ “ جس طرح مکہ میں درست ہے اسی طرح مدینہ کے حالات پر بھی منطبق ہے۔
قل ما اسئلکم علیہ من اجر الامن شآء ان یتخذالی ربہ سبیلاً (25 : 58)
” ان سے کہہ دو کہ ” میں اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا ، میری اجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کرلے۔ “ اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کو اس امر سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہے کہ لوگ اسلام قبول کرلیں۔ نہ وہ کس سے فیس کے طلبگار ہیں ، نہ نذر و نیاز اور قربانیوں کی آمدن کے رسول طلبگار ہوتے ہیں۔ اسلام میں داخلہ کی رسول اللہ ﷺ نے کوئی فیس مقرر نہ کر رکھی تھی۔ بس چند کلمات ایک شخص ادا کرتا اور دل سے ان پر یقین کرتا۔ یہی اسلام تھا کیونکہ اسلام میں کوئی کاہن نہیں ہوتا کہ وہ لوگوں کو مقدس کرنے کی کوئی فیس لیتا ہو۔ نہ وہ اللہ اور لوگوں کے درمیان کوئی دلالل ہوتا ہے جو اپنی دلالی کا کمیشن لیتا ہو۔ اسلام میں دخول کے لئے کوئی رسم ہے ، نہ کوئی راز ہے اور نہ دخول کے وقت کسی کو کوئی خاص رسم ادا کرنی ہوتی ہے۔ اسی سے معلوم ہوا کہ دین اسلام کس قدر سادہ ، قدرتی اور فطری دین ہے۔ بس ایک عقیدہ ہے جو دل میں داخل ہوجائے۔ انسانی دل اور عقیدہ اسلام کے درمیان کوئی رسمی واسطہ نہیں ہے۔ نہ کوئی کاہن ، نہ کوئی پیرو فقیر۔ رسول کا اجر بس یہی ہے کہ دین حق کسی کے دل میں داخل ہوجائے اور کوئی بندہ اپنے حقیقی رب کے قریب ہوجائے۔
الا من شآء ان یتخذ الی ربہ سبیلاً (25 : 58) ” بس یہی اجر ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے۔ “ صرف یہی اجر ہی رسول کا۔ رسول کا پاک دل اور رسول کا پاک شعور صرف اسی اجر پر رضای ہوتا ہے کہ ایک بندہ گم کردہ راہ ، اپنے رب کی طرف راہ پا لے۔ رب راضی ہوجائے اور وہ رب کے طریقے پر چل پڑے اور پوری زندگی میں اپنے مولیٰ کی طرف متوجہ ہوجائے۔
و توکل علی ……بحمدہ (25 : 58) ” اور اے نبی اس خدا پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں ، اس کے حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔ “ اللہ کے سوا جتنی بھی مخلوق ہے وہ مرنے والی ہے کیونکہ یہ تمام مخلوق رات دن موت کی طرف رواں ہے۔ باقی رہنے والا صرف اللہ ہے وہ ایسا زندہ ہے جو کبھی مرنے والا نہیں ہے۔ اور کسی ایسے زندہ شخص پر بھروسہ کرنا جس نے ایک دن مرنا ہے طویل عمر کے بعد یا قصیر کے بعد ، ایک ایسی ذات پر بھروسہ کرنا ہے جس نے ایک دن گرنا ہے۔ ایک ایسے سایہ کے نیچے آتا ہے جس نے کسی وقت زوال پاتا ہے۔ توکل تو اسی حسی اور زندہ پر کرنا چاہئے جس نے کبھی نہیں مرنا۔ اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح اور پاکی بیان کرو۔ حمد اور تعریف بھی صرف اللہ کی کرنا چاہئے جو منعم حقیقی اور وہاب حقیقی ہے اور اے پیغمبر آپ ان کفار کی پرواہ نہ کریں جن پر انذار اور تبشیر کا اثر نہیں ہوتا۔ ان لوگوں کے بارے میں وہ اچھی طرح جانتا ہے۔
وکفی بہ بذنوب عبادہ خبیراً (25 : 58) ” اپنے بندوں کے گناہوں سے بس اسی کا باخبر ہونا کافی ہے۔ “ وہ اللہ اپنے بندوں کے حالات سے خوب باخبر ہے اس لئے جزاء و سزا دے سکتا ہے اور وہ اس کی طاقت بھی رکھتا ہے کہ اس نے زمین آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہ مسلسل بادشاہت کی کرسی عرش پر متمکن ہ۔
الذی خلق ……خبیراً (25 : 59) ” وہ جس نے چھ دنوں میں زمین اور آسمانوں کو اور ان ساری چیزوں کو بنا کر رکھ دیا جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہیں ، پھر آپ ہی ” عرش “ پر جلوہ فرما ہوا۔ رحمٰن ہے وہ۔ اس سے پوچھو کہ وہ جاننے والا ہے۔ “ وہ ایام جن میں اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ، وہ ہمارے زمینی دنوں سے مختلف تھے کیونکہ یہ دن تو نظام شمسی کی تشکیل کے بعد شروع ہوئے۔ ینی زمین و آسمانوں کی پیدائش کے بعد جب اللہ نے زمین کا سورج کے اردگرد چکر مقرر کیا اور خود زمین کا اپنے محور کے اردگرد چکر شروع ہوا تو اس کے نتیجے میں ہمارے ایام شروع ہوئے۔ اللہ کی تخلیق تو صرف لفظ کن سے ہوتی ہے یعنی اللہ کا حکم ہوجائے تو ہر چیز ہوجاتی ہے۔ رہے یہ چھ دن تو ان کی حقیقت اور مقدار صرف اللہ جانتا ہے۔ یہ بہت ہی طویل دن ہوں گے اور ان دنوں میں زمین و آسمان مختلف ادوار اور بطوار سے گزر کر موجودہ شکل میں آ کر ن کے ہوں گے۔ رہی یہ بات کہ اللہ رش پر کیسے متمکن ہوا تو اس سے مراد صرف یہ ہے کہ اس کائنات پر اللہ کی حکومت اور اقتدار ہے۔ یہاں لفظ (ثم) سے مراد زمانی ترتیب نہیں ہے۔ ینی یہ کہ پہلے تخلیقہوئی اور بعد میں تمکین علی العرش ہوئی۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ ثم یہاں علوشان اور مرتبہ بلند کے معنی میں ہے۔
اللہ کی اس علوشان اور اقتدار عظیم الشان کے بعد پھر اللہ الرحمٰن بھی ہے اور تم نے جو کچھ پوچھنا ہے اس سے پوچھو ، جب تم اس سے پوچھو گے تو ایک نہایت ہی خبردار سے پوچھو گے کہ وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے۔
الفرقان 25:60
واذا قیل ……نفوراً (60)
یہ برخود غلط لوگوں کو جب رحمٰن کی بندگی کی طرف بلایا جاتا ہے تو یہ لوگ نہایت ہی حقارت ، جھنجھلاہٹ کے ساتھ پوچھتے ہیں کہ رحمٰن کیا ہے ؟
یہ کفر و سرکشی کی بدترین اور مکروہ ترین تصویر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں کس قدر جری اور گستاخ ہوگئے تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی ضد میں اپنے رب کی توہین کے لئے بھی تیار تھے۔ اللہ کے بارے میں بھی وہ یہ انداز گفتگو اختیار کرتے تھے۔ لہٰذا یہ لوگ اگر رسول اللہ ﷺ کے بارے میں برے الفاظ استعمال کرتے تھے تو ان سے کوئی بعید نہ تھا۔ وہ اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم کا یوں انکار کرتے تھے۔ یوں ظاہر کرتے تھے کہ وہ تو رحمٰن کو نہیں جانتے۔ وہ کون ہوتا ہے۔
وما الرحمٰن (25 : 60) ” رحمٰن کیا ہوتا ہے۔ “ وہ نہایت بےباکی سے کہتے کہ رحمن کو ہم اس کے سوا نہیں جانتے جو یمامہ میں ہے۔ وہ مسلیمہ کذاب کی طرف اشارہ کرتے تھے۔
ان کی اس بےباکی کا جواب اس انداز میں دیا جاتا ہے کہ اللہ وہ بابرکت ذات ہے کہ اس کی بڑائی ، اس کی برکات اور اس کی عظمتوں پر تو یہ کائنات گواہ ہے۔ اس عظیم کائنات کے ایک ہی مظہر پر ذرا غور کرو۔
الفرقان 25:61
تبرک الذی ……شکوراً (64)
بروج کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ اس سے سیاروں کے مدار مراد ہیں۔ وہ عظیم فلکیاتی مدار جو بہت ہی دور رس اثرات اور دور رس اعمال کا مظہر ہیں۔ کائنات کا یہ عظیم ترین مظہر اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس فقرے کے جواب میں پیش فرمایا ہے کہ (رحمٰن کیا ہوتا ہے) ان کو بتایا جاتا ہے کہ تم رحمٰن کو کیا سمجھتے ہو۔ ذرا رحمٰن کی اس مخلوق کو سمجھنے کی کوشش کرو تو تمہارا سر چکرا جائے۔ جو فی الحقیقت عظیم ہے۔ انہی بروج کے اندر شمس بھی سرگرداں ہے جو ایک چراغ ہے کیونکہ اسی کی روشنی سے زمین منور ہے اور اسی کی روشنی سے قمر بھی منیر ہے۔ جس کی روشنی لطیف اور خوشگوار ہے۔
یہاں گردش لیل و نہار کے تسلسل کو انسانی مشاہدے کے لئے پیش کیا جاتا ہے کیونکہ یہ دو ایسے مظہر اور معجزات ہیں جو مسلسل ہمارے سامنے دہرائے جا رہے ہیں اور صرف انہی پر اگر انسان غور کرے تو اس کی ہدایت کے لئے یہ کافی و شافی ہیں۔
لمن اراد ان یذکر او ارادشکورا (25 : 62) ” اس شخص کے لئے جو سبق لینا چاہے یا شکر گزار ہونا چاہئے۔ “ اگر گردش لیل و نہار کا یہ نظام اس طرح آگے پیچھے نہ ہوتا تو اس کرہ ارض پر حیات انسانی کی بقا ممکن ہی نہ ہوتی۔ نہ انسان ہوتے ، نہ حیوانات ہوتے اور نہ نباتات ہوتے۔ اگر رات اور دن کی موجودہ چوبیس گھنٹے کی مدت میں بھی طوالت کردی جائے تو پھر بھی زندگی گزارنا مشکل ہوجائے۔
کتاب ” سائنس دعوت ایمان دے رہا ہے “ میں ہے :
” یہ کرہ ارض یعنی زمین اپنے محور کے اردگرد چوبیس گھنٹوں میں گھومتی ہے۔ اس کی رفتار ایک ہزار میل فی گھنٹہ ہے۔ اگر فرض کرلیا جائے کہ یہ صرف سو میل فی گھنٹہ کے حساب سے گردش کرے گی تو ہمارے دن اور رات کا وقت دس گنا زیادہ ہوجائے گا۔ اس حالت میں جس حصے پر سورج چمک رہا ہوگا۔ سورج سب کچھ جلا کر رکھ دے گا اور رات کے وقت زمین پر جو کچھ ہوگا وہ جم کر رہ جائے گا۔ “
لہٰذا بڑی برکت والی ہے وہ ذات جس نے ہر چیز کو صحیح اندازے کے مطابق بنایا۔ اور بڑی برکت والی ہے وہ ذات جس نے آسمانوں میں بروج بنائے اور ایک چراغ اور قمر منیر بنایا اور جس نے رات اور دن کو ایک دور سے کا جانشین بنایا۔ اس میں عبرت ہے اس شخص کے لئے جو نصیحت پکڑنا یا شکر ادا کرنا چاہئے۔
الفرقان 25:62
تبرک الذی ……شکوراً (64)
بروج کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ اس سے سیاروں کے مدار مراد ہیں۔ وہ عظیم فلکیاتی مدار جو بہت ہی دور رس اثرات اور دور رس اعمال کا مظہر ہیں۔ کائنات کا یہ عظیم ترین مظہر اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس فقرے کے جواب میں پیش فرمایا ہے کہ (رحمٰن کیا ہوتا ہے) ان کو بتایا جاتا ہے کہ تم رحمٰن کو کیا سمجھتے ہو۔ ذرا رحمٰن کی اس مخلوق کو سمجھنے کی کوشش کرو تو تمہارا سر چکرا جائے۔ جو فی الحقیقت عظیم ہے۔ انہی بروج کے اندر شمس بھی سرگرداں ہے جو ایک چراغ ہے کیونکہ اسی کی روشنی سے زمین منور ہے اور اسی کی روشنی سے قمر بھی منیر ہے۔ جس کی روشنی لطیف اور خوشگوار ہے۔
یہاں گردش لیل و نہار کے تسلسل کو انسانی مشاہدے کے لئے پیش کیا جاتا ہے کیونکہ یہ دو ایسے مظہر اور معجزات ہیں جو مسلسل ہمارے سامنے دہرائے جا رہے ہیں اور صرف انہی پر اگر انسان غور کرے تو اس کی ہدایت کے لئے یہ کافی و شافی ہیں۔
لمن اراد ان یذکر او ارادشکورا (25 : 62) ” اس شخص کے لئے جو سبق لینا چاہے یا شکر گزار ہونا چاہئے۔ “ اگر گردش لیل و نہار کا یہ نظام اس طرح آگے پیچھے نہ ہوتا تو اس کرہ ارض پر حیات انسانی کی بقا ممکن ہی نہ ہوتی۔ نہ انسان ہوتے ، نہ حیوانات ہوتے اور نہ نباتات ہوتے۔ اگر رات اور دن کی موجودہ چوبیس گھنٹے کی مدت میں بھی طوالت کردی جائے تو پھر بھی زندگی گزارنا مشکل ہوجائے۔
کتاب ” سائنس دعوت ایمان دے رہا ہے “ میں ہے :
” یہ کرہ ارض یعنی زمین اپنے محور کے اردگرد چوبیس گھنٹوں میں گھومتی ہے۔ اس کی رفتار ایک ہزار میل فی گھنٹہ ہے۔ اگر فرض کرلیا جائے کہ یہ صرف سو میل فی گھنٹہ کے حساب سے گردش کرے گی تو ہمارے دن اور رات کا وقت دس گنا زیادہ ہوجائے گا۔ اس حالت میں جس حصے پر سورج چمک رہا ہوگا۔ سورج سب کچھ جلا کر رکھ دے گا اور رات کے وقت زمین پر جو کچھ ہوگا وہ جم کر رہ جائے گا۔ “
لہٰذا بڑی برکت والی ہے وہ ذات جس نے ہر چیز کو صحیح اندازے کے مطابق بنایا۔ اور بڑی برکت والی ہے وہ ذات جس نے آسمانوں میں بروج بنائے اور ایک چراغ اور قمر منیر بنایا اور جس نے رات اور دن کو ایک دور سے کا جانشین بنایا۔ اس میں عبرت ہے اس شخص کے لئے جو نصیحت پکڑنا یا شکر ادا کرنا چاہئے۔
الفرقان 25:63
درس نمبر 160 ایک نظر میں
اس سورت کے اس درس چہارم میں عباد الرحمٰن کو ان کے امتیازی اوصاف کے ساتھ دکھایا گیا ہے کہ ان کے کردار کے بنیادی فیچر کیا ہوتے ہیں۔ گو وہ انسانیت کا خلاصہ ہیں اور زمین کا نمک ہیں اور تمام قافلہ رسل کی کشمکش حق و باطل اور انسانی تاریخ کا منتہائے مقصود ہیں۔ گویا وہ باغ انسانیت کا پکا ہوا پھل ہیں۔ کفر ، ناشکری اور اعراض و نافرمانی کے خلاف اہل ہدایت کے طویل جدوجہد کا وہ حاصل ہیں۔
درس سابق کے آخر میں اہل کفر نے رحمٰن کو پہچاننے سے انکار کیا تھا۔ تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کیا تھا تو یہاں بتایا جاتا ہے کہ تم تو رحمٰن کو نہیں مانتے مگر رحمٰن کے بندوں کو مت دیکھ رہے ہو۔ یہ ہیں وہ لوگ جو رحمٰن کو پہچانتے ہیں۔ یہ ہیں اس ٹائٹل کے مستحق کہ ان کو رحمٰن کا بندہ کہا جاسکے۔ ملاحظہ کرو ذرا ان کی فات ، دیکھو ان کا کردار ، ان کی زندگی ایک کھلی کتاب ہے ، اسے پھڑو۔ یہ زندہ مثال کی شکل میں عملاً تمہارے سامنے موجود ہیں۔ ایسی جماعت اور ایسی ہی سوسائٹی ، اسلام وجود میں لانا چاہتا ہے۔ ایسے ہی نفوس اسلام اپنے منہاج تربیت کے ذریعے پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اس کرہ ارض پر اللہ تعالیٰ اہمیت دیتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں پر اللہ کی عنایات ہوتی ہیں۔ اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو اللہ کو تمام انسانوں کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ یہ تو ایسے ہی لوگوں کی دعائوں کی برکت ہے جس سے یہ کائنات قائم ہے۔
وعباد الرحمن ……سلماً (63)
۔ جن کی چال میں کوئی تکلف اور تصنع نہیں ہوتا۔ نہ کوئی تکبر ، نہ کوئی غرور ہوتا ہے اور نہ ہی سستی اور ڈھیلا پن ہوتا ہے۔ یعنی ان کے چال پروقار ہوتی ہے۔ یہاں چال سے مراد ان کی مجموعی شخصیت ہے ، جس میں انسان کا شعور اور اس کی شخصیت معتدل کا اعتدال شامل ہے ، جس کی وجہ سے انسان کی تمام صفات اور اس کے تمام افعال کے اندر ، اعتدال پیدا ہوجاتا ہے اور ان کے معتدل صفات کی وجہ سے پھر اس شخص کی روش میں بھی ایک اعتدال اور وقار آجاتا ہے۔ یہ شخص مطمئن اور پروقار ہوتا ہے اور ہر قسم کے حلات میں اس کے اندر ایک ٹھہرائو وتا ہے۔
یمشون علی الارض ہونا (25 : 63) کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ وہ زمین پر مردوں کی طرح سر جھکائے ہوئے چلتے ہیں۔ اعضائے جسم کو لٹکائے ہوئے اس طرح چلتے ہیں کہ بس ابھی یہ صاحب زمین پر گرنے والے ہیں۔ بعض لوگ اظہار تقویٰ کی خاطر زمین پر اس طرح چلتے ہیں۔ احادیث میں للہ ﷺ کی چال کے بارے میں تفصیلات موجود ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب چلتے تو لڑکھڑا کر چلتے تھے۔ آپ تمام لوگوں سے تیز چلتے تھے۔ آپ کی چال بہت خوبصورت اور سکون کے ساتھ ہوتی ہوتی تھی۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز نہیں دیکھی۔ گویا سورج آپ کے چہرہ مبارک پر چلتا ہے اور میں نے کوئی شخص للہ سے تیز رفتار نہیں دیکھا۔ گویا آپ کے لئے زمین کو لپیٹ دیا جاتا تا۔ ہم تو ہر معاملے میں پریشان ہوتے تھے لیکن آپ کوئی پرواہ نہ کرتے تھے۔ حضرت عمر ابن الخطاب فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ لڑکھڑا کر چلتے تھے۔ یوں نظر آتا تھا کہ شاید آپ کسی نشیبی جگہ پر اتر رہے ہیں۔ ایک بار انہوں نے کہا کہ آپ اس طرح چلتے تھے جس طرح کوئی شخص اترتا ہے اور چڑھنے والے کی چال بھی اسی رطح ہوتی ہے جس طرح اترنے والے کی چال ہوتی ہے اور اس قسم کی چال وہ لوگ چلتے ہیں جو اولوالعزم ، عالی ہمت اور بہادر ہوتے ہیں (زاد المعاد ، ابن القیم)
یہ لوگ چونکہ سنجیدہ ، پروقار اور راست رد ہوتے ہیں اور ان کے پیش نظر چونکہ ہمیشہ بلند مقاصد ہوتے ہیں۔ اس لیء وہ احمقوں ، نادانوں او بیوقوفوں کی حماقتوں اور نادانیوں میں اپنے آپ کو نہیں الجھاتے۔ اس لئے وہ ایسے لوگوں کے ساتھ بحث و مباحثے اور بد کلامی میں حصہ نہیں لیتے۔ اگر کوئی ایسا موقعہ پیش آجائے تو و نہایت ہی خوبصورتی سے اپنے آپ کو چھڑاتے ہیں۔
واذا خاطبھم ……سلماً (25 : 63) ” اور جاہل ان کو منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام۔ “ یہ بات وہ نہ کسی کمزوری کی وجہ سے اور نہ تکبر کی وجہ سے کرتے ہیں۔ نہ اس وجہ سے کہ وہ عاجز ہیں۔ بلکہ ایسی چیزوں سے اپنے آپ کو بلند رکھتے ہیں۔ وہ اپنے قیمتی اوقات کو ایسے کاموں میں صرف نہیں کرتے۔ جو شرفاء کے لائق نہیں ہیں۔ وہ فحش گوئی اور بدکلامی سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ایسا کرتے ہیں اور اپنے اوقات کو اچھے کاموں میں صرف کرتے ہیں۔
یہ تو تھا ان کا دن لوگوں کے ساتھ وہ اس طرح زندگی بسر کرتے تھے۔ رہی ان کی رات تو اس میں وہ خدا کا خوف کرتے اور اللہ سے ڈرتے رہتے تھے۔ اللہ کی بڑائی کا شعور ان کو ہوتا تھا اور اللہ کے عذاب سے وہ ڈرتے تھے۔
الفرقان 25:64
درس نمبر 160 ایک نظر میں
اس سورت کے اس درس چہارم میں عباد الرحمٰن کو ان کے امتیازی اوصاف کے ساتھ دکھایا گیا ہے کہ ان کے کردار کے بنیادی فیچر کیا ہوتے ہیں۔ گو وہ انسانیت کا خلاصہ ہیں اور زمین کا نمک ہیں اور تمام قافلہ رسل کی کشمکش حق و باطل اور انسانی تاریخ کا منتہائے مقصود ہیں۔ گویا وہ باغ انسانیت کا پکا ہوا پھل ہیں۔ کفر ، ناشکری اور اعراض و نافرمانی کے خلاف اہل ہدایت کے طویل جدوجہد کا وہ حاصل ہیں۔
درس سابق کے آخر میں اہل کفر نے رحمٰن کو پہچاننے سے انکار کیا تھا۔ تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کیا تھا تو یہاں بتایا جاتا ہے کہ تم تو رحمٰن کو نہیں مانتے مگر رحمٰن کے بندوں کو مت دیکھ رہے ہو۔ یہ ہیں وہ لوگ جو رحمٰن کو پہچانتے ہیں۔ یہ ہیں اس ٹائٹل کے مستحق کہ ان کو رحمٰن کا بندہ کہا جاسکے۔ ملاحظہ کرو ذرا ان کی فات ، دیکھو ان کا کردار ، ان کی زندگی ایک کھلی کتاب ہے ، اسے پھڑو۔ یہ زندہ مثال کی شکل میں عملاً تمہارے سامنے موجود ہیں۔ ایسی جماعت اور ایسی ہی سوسائٹی ، اسلام وجود میں لانا چاہتا ہے۔ ایسے ہی نفوس اسلام اپنے منہاج تربیت کے ذریعے پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اس کرہ ارض پر اللہ تعالیٰ اہمیت دیتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں پر اللہ کی عنایات ہوتی ہیں۔ اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو اللہ کو تمام انسانوں کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ یہ تو ایسے ہی لوگوں کی دعائوں کی برکت ہے جس سے یہ کائنات قائم ہے۔
وعباد الرحمن ……سلماً (63)
۔ جن کی چال میں کوئی تکلف اور تصنع نہیں ہوتا۔ نہ کوئی تکبر ، نہ کوئی غرور ہوتا ہے اور نہ ہی سستی اور ڈھیلا پن ہوتا ہے۔ یعنی ان کے چال پروقار ہوتی ہے۔ یہاں چال سے مراد ان کی مجموعی شخصیت ہے ، جس میں انسان کا شعور اور اس کی شخصیت معتدل کا اعتدال شامل ہے ، جس کی وجہ سے انسان کی تمام صفات اور اس کے تمام افعال کے اندر ، اعتدال پیدا ہوجاتا ہے اور ان کے معتدل صفات کی وجہ سے پھر اس شخص کی روش میں بھی ایک اعتدال اور وقار آجاتا ہے۔ یہ شخص مطمئن اور پروقار ہوتا ہے اور ہر قسم کے حلات میں اس کے اندر ایک ٹھہرائو وتا ہے۔
یمشون علی الارض ہونا (25 : 63) کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ وہ زمین پر مردوں کی طرح سر جھکائے ہوئے چلتے ہیں۔ اعضائے جسم کو لٹکائے ہوئے اس طرح چلتے ہیں کہ بس ابھی یہ صاحب زمین پر گرنے والے ہیں۔ بعض لوگ اظہار تقویٰ کی خاطر زمین پر اس طرح چلتے ہیں۔ احادیث میں للہ ﷺ کی چال کے بارے میں تفصیلات موجود ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب چلتے تو لڑکھڑا کر چلتے تھے۔ آپ تمام لوگوں سے تیز چلتے تھے۔ آپ کی چال بہت خوبصورت اور سکون کے ساتھ ہوتی ہوتی تھی۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز نہیں دیکھی۔ گویا سورج آپ کے چہرہ مبارک پر چلتا ہے اور میں نے کوئی شخص للہ سے تیز رفتار نہیں دیکھا۔ گویا آپ کے لئے زمین کو لپیٹ دیا جاتا تا۔ ہم تو ہر معاملے میں پریشان ہوتے تھے لیکن آپ کوئی پرواہ نہ کرتے تھے۔ حضرت عمر ابن الخطاب فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ لڑکھڑا کر چلتے تھے۔ یوں نظر آتا تھا کہ شاید آپ کسی نشیبی جگہ پر اتر رہے ہیں۔ ایک بار انہوں نے کہا کہ آپ اس طرح چلتے تھے جس طرح کوئی شخص اترتا ہے اور چڑھنے والے کی چال بھی اسی رطح ہوتی ہے جس طرح اترنے والے کی چال ہوتی ہے اور اس قسم کی چال وہ لوگ چلتے ہیں جو اولوالعزم ، عالی ہمت اور بہادر ہوتے ہیں (زاد المعاد ، ابن القیم)
یہ لوگ چونکہ سنجیدہ ، پروقار اور راست رد ہوتے ہیں اور ان کے پیش نظر چونکہ ہمیشہ بلند مقاصد ہوتے ہیں۔ اس لیء وہ احمقوں ، نادانوں او بیوقوفوں کی حماقتوں اور نادانیوں میں اپنے آپ کو نہیں الجھاتے۔ اس لئے وہ ایسے لوگوں کے ساتھ بحث و مباحثے اور بد کلامی میں حصہ نہیں لیتے۔ اگر کوئی ایسا موقعہ پیش آجائے تو و نہایت ہی خوبصورتی سے اپنے آپ کو چھڑاتے ہیں۔
واذا خاطبھم ……سلماً (25 : 63) ” اور جاہل ان کو منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام۔ “ یہ بات وہ نہ کسی کمزوری کی وجہ سے اور نہ تکبر کی وجہ سے کرتے ہیں۔ نہ اس وجہ سے کہ وہ عاجز ہیں۔ بلکہ ایسی چیزوں سے اپنے آپ کو بلند رکھتے ہیں۔ وہ اپنے قیمتی اوقات کو ایسے کاموں میں صرف نہیں کرتے۔ جو شرفاء کے لائق نہیں ہیں۔ وہ فحش گوئی اور بدکلامی سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ایسا کرتے ہیں اور اپنے اوقات کو اچھے کاموں میں صرف کرتے ہیں۔
یہ تو تھا ان کا دن لوگوں کے ساتھ وہ اس طرح زندگی بسر کرتے تھے۔ رہی ان کی رات تو اس میں وہ خدا کا خوف کرتے اور اللہ سے ڈرتے رہتے تھے۔ اللہ کی بڑائی کا شعور ان کو ہوتا تھا اور اللہ کے عذاب سے وہ ڈرتے تھے۔
الفرقان 25:65
والذین ……ومقاماً (66)
اللہ کے بندوں کی نمازوں کی تعبیر یہاں ارکان نماز سجود و قیام سے کی گئی تاکہ یہ معلوم ہو کہ ان کی سرگرمیاں کیا تھیں۔ راتوں کو جب تمام مخلوق سوتی ہے تو وہ جاگ رہے ہوتے ہیں۔ رب کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ وہ صرف اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور صرف اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ صرف اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور راتوں کو وہ فرحت بخش اور لذیذ نیند ترک کرتے ہیں کیونکہ ان کو اس میٹھی اور لذیذ نیند سے اللہ کے سامنے قیام و سجود میں زیادہ لذدت آتی ہے۔ ان کا جسم ان کی روح اور ان کی سوچ اللہ سے وابستہ ہوتی ہے۔ اس لئے لوگ غفلت کی نیند سوتے ہیں اور وہ رکوع و سجود میں مشغول ہیں۔ لوگ زمین پر لیٹے ہیں اور وہ آسمان اور بلندیوں کے ساتھ وابستہ ہیں اور ذوالجلال والا اکرام کے ساتھ لو لگائے ہوئے ہیں۔
لیکن انہوں نے قیام و سجود کی محض صورت اور شکل ہی نہیں بنائی ہوئی ہوتی ، اس قیام اور سجود اور عالم بالا کی طرف اپنی سوچ متوجہ کرنے ساتھ ساتھ ان کے دل میں خدا کا خوف اور تقویٰ بھی پایا جاتا ہے۔ ان کو یہ خوف دامن گیر ہے کہ کسی طرح وہ عذاب جہنم سے نجات پا لیں۔ وہ ہر وقت دعا کرتے ہیں۔
ربنا ……ومقاماً (25 : 66) ” اے ہمارے رب ، جہنم کے عذاب سے ہم کو بچا لے ، اس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے ، وہ تو بڑا ہی برا مستقر اور مقام ہے۔ “ انہوں نے جہنم کی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن جہنم کے وجود پر ایمان لائے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم نے جہنم کی جو تصویر کھینچی ہے انہیں اس پر پورا پورا یقین ہے۔ اس لئے ان کو جو خوف لاحق ہے اور جو یہ کہتے ہیں کہ جہنم بہت بڑا ٹھکانا ہے ، یہ ان کے پختہ یقین کا ثبوت ہے اور ان کے گہرے تصدیق کی وجہ سے ہے۔
وہ اپنے رب کی طرف نہایت ہی خضوع او خشوع کے ساتھ متوجہ ہوتے ہیں تاکہ رب کریم مہربانی کر کے جہنم کے عذاب کو ان سے پھیر دے۔ صرف عبادت اور قیام و سجود ہی سے وہ مطمئن نہیں ہوجاتے۔ وہ اس قدر حساس متقی ہیں کہ اپنی عبادت پر تکیہ نہیں کرتے۔ وہ عبادت کو قلیل سمجھتے ہیں۔ اس لئے نجات کے لئے اسے پورا ضامن نہیں سمجھتے۔ چناچہ وہ اس عبارت کے ساتھ ساتھ اللہ کے فضل و کرم کے بھی طلبگار ہیں کہ اللہ کے فضل و کرم ہی سے عذاب الٰہی ٹل سکتا ہے۔
انداز کلام سے جہنم کی نقشہ کشی یوں ہوتی ہے کہ وہ ایک زندہ بلا ہے۔ ہر شخص اس کے منہ میں ہے۔ ہر شخص کو و پکار رہی ہے ، ہر شخص کو ہڑپ کرنا چاہتی ہے ، ہاتھ آگے بڑھا چڑھا کر لوگوں کو اپنے قبضے میں لیتی جاتی ہے ۔ دور اور قریب سب اس کی پہنچ میں ہیں اور اس کے خوف کے مارے اللہ کے یہ بندے رات دن اللہ کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس سے ڈر ڈر کر اللہ سے پناہ مانگتے ہیں عاجزی کرتے ہیں اور درخواستیں اور فریادیں کرتے ہیں کہ ای اللہ بچائیو ، یہ تو کھائے جا رہی ہے۔
جب وہ اللہ کے سامنے ہاتھ باندھ کر ، نہایت ہی خوف سے اور نہایت ہی گھبراہٹ سے دعا کرتے ہیں تو انداز کلام ماحول کے اندر ارتعاش پیدا کردیتا ہے۔
ان عذابھا کان غراماً (25 : 65) ” بیشک اس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے۔ “ یعنی ایسا عذاب ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔ پھر کبھی چھوڑتا نہیں۔ نہ کم ہوتا ہے اور نہ ختم ہنے کا نام لیتا ہے۔ یہی وصف ہے جہنم اک جو ان بندوں کو خائف کر رہا ہے اور وہ ہر وقت اس سے ڈرے سہمے رہتے ہیں۔
الفرقان 25:66
والذین ……ومقاماً (66)
اللہ کے بندوں کی نمازوں کی تعبیر یہاں ارکان نماز سجود و قیام سے کی گئی تاکہ یہ معلوم ہو کہ ان کی سرگرمیاں کیا تھیں۔ راتوں کو جب تمام مخلوق سوتی ہے تو وہ جاگ رہے ہوتے ہیں۔ رب کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ وہ صرف اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور صرف اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ صرف اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور راتوں کو وہ فرحت بخش اور لذیذ نیند ترک کرتے ہیں کیونکہ ان کو اس میٹھی اور لذیذ نیند سے اللہ کے سامنے قیام و سجود میں زیادہ لذدت آتی ہے۔ ان کا جسم ان کی روح اور ان کی سوچ اللہ سے وابستہ ہوتی ہے۔ اس لئے لوگ غفلت کی نیند سوتے ہیں اور وہ رکوع و سجود میں مشغول ہیں۔ لوگ زمین پر لیٹے ہیں اور وہ آسمان اور بلندیوں کے ساتھ وابستہ ہیں اور ذوالجلال والا اکرام کے ساتھ لو لگائے ہوئے ہیں۔
لیکن انہوں نے قیام و سجود کی محض صورت اور شکل ہی نہیں بنائی ہوئی ہوتی ، اس قیام اور سجود اور عالم بالا کی طرف اپنی سوچ متوجہ کرنے ساتھ ساتھ ان کے دل میں خدا کا خوف اور تقویٰ بھی پایا جاتا ہے۔ ان کو یہ خوف دامن گیر ہے کہ کسی طرح وہ عذاب جہنم سے نجات پا لیں۔ وہ ہر وقت دعا کرتے ہیں۔
ربنا ……ومقاماً (25 : 66) ” اے ہمارے رب ، جہنم کے عذاب سے ہم کو بچا لے ، اس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے ، وہ تو بڑا ہی برا مستقر اور مقام ہے۔ “ انہوں نے جہنم کی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن جہنم کے وجود پر ایمان لائے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم نے جہنم کی جو تصویر کھینچی ہے انہیں اس پر پورا پورا یقین ہے۔ اس لئے ان کو جو خوف لاحق ہے اور جو یہ کہتے ہیں کہ جہنم بہت بڑا ٹھکانا ہے ، یہ ان کے پختہ یقین کا ثبوت ہے اور ان کے گہرے تصدیق کی وجہ سے ہے۔
وہ اپنے رب کی طرف نہایت ہی خضوع او خشوع کے ساتھ متوجہ ہوتے ہیں تاکہ رب کریم مہربانی کر کے جہنم کے عذاب کو ان سے پھیر دے۔ صرف عبادت اور قیام و سجود ہی سے وہ مطمئن نہیں ہوجاتے۔ وہ اس قدر حساس متقی ہیں کہ اپنی عبادت پر تکیہ نہیں کرتے۔ وہ عبادت کو قلیل سمجھتے ہیں۔ اس لئے نجات کے لئے اسے پورا ضامن نہیں سمجھتے۔ چناچہ وہ اس عبارت کے ساتھ ساتھ اللہ کے فضل و کرم کے بھی طلبگار ہیں کہ اللہ کے فضل و کرم ہی سے عذاب الٰہی ٹل سکتا ہے۔
انداز کلام سے جہنم کی نقشہ کشی یوں ہوتی ہے کہ وہ ایک زندہ بلا ہے۔ ہر شخص اس کے منہ میں ہے۔ ہر شخص کو و پکار رہی ہے ، ہر شخص کو ہڑپ کرنا چاہتی ہے ، ہاتھ آگے بڑھا چڑھا کر لوگوں کو اپنے قبضے میں لیتی جاتی ہے ۔ دور اور قریب سب اس کی پہنچ میں ہیں اور اس کے خوف کے مارے اللہ کے یہ بندے رات دن اللہ کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس سے ڈر ڈر کر اللہ سے پناہ مانگتے ہیں عاجزی کرتے ہیں اور درخواستیں اور فریادیں کرتے ہیں کہ ای اللہ بچائیو ، یہ تو کھائے جا رہی ہے۔
جب وہ اللہ کے سامنے ہاتھ باندھ کر ، نہایت ہی خوف سے اور نہایت ہی گھبراہٹ سے دعا کرتے ہیں تو انداز کلام ماحول کے اندر ارتعاش پیدا کردیتا ہے۔
ان عذابھا کان غراماً (25 : 65) ” بیشک اس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے۔ “ یعنی ایسا عذاب ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔ پھر کبھی چھوڑتا نہیں۔ نہ کم ہوتا ہے اور نہ ختم ہنے کا نام لیتا ہے۔ یہی وصف ہے جہنم اک جو ان بندوں کو خائف کر رہا ہے اور وہ ہر وقت اس سے ڈرے سہمے رہتے ہیں۔
الفرقان 25:67
پھر یہ بندے اعتدال و میانہ روی کا نمونہ ہیں۔ ان کی زندگی نہایت ہی متوازن ہے۔
والذین ……قواماً (67)
یہ اسلام کی بنیادی خصوصیت ہے ، جسے وہ ایک مسلم فرد اور ایک مسلم جماعت کی زندگی کے اندر ایک حقیقت کی شکل میں پیدا کرت ا ہے۔ اسلام اس خصوصیت کو اپنے نظام تربیت و اخلاق اور نظام معیشت و قانون دانوں میں پیش نظر رکھتا ہے۔ چناچہ اسلامی نظام کے ہر جز کو مدار توازن اور اعتدال پر ہے۔
باوجود اس کے کہ اسلام ایک فرد کو انفرادی مخصوص ملکیت رکھنے کی اجازت دیتا ہے لیکن اسلام ایک مسلم فرد کو کھلی چھٹی نہیں دیتا کہ وہ ” اپنی “ دولت کو جس طرح چاہے خرچ کرے۔ جبکہ مغربی سرمایہ دارانہ نظام میں ایک فرد کو مکمل آزادی ہے کہ وہ اپنی انفرادی دولت کو جس طرح چاہے خرچ کر دے۔ اسی طرح تمام غیر مسلم اقوام کے ہاں بھی یہی اصول ہے کہ ایک شخص اپنی انفرادی ملکیت کو جس طرح چاہے ، خرچ کر دے۔ اس پر کوئی قدغن نہیں ہے۔ لیکن ایک مسلمان انفرادی دولت خرچ کرنے میں بھی اس بات کا پابند ہے کہ اسراف اور کنجوسی کے درمیان جد اعتدال پر قائم رہے۔ اسراف کی وجہ سے جان ، مال اور معاشرے سب کی تباہی ہے اور کنجوسی بھی اسی طرح جان ، مال اور معاشرے کا نقصان ہے کہ ایک شخص اپنے مال سے فائدہ نہیں اٹھاتا ۔ کیونکہ اگر کوئی مال سے نفع اٹھاتا ہے اور خرچ کرتا ہے تو اس سے دوسرے کی آمدن ہوتی ہے اس لئے کہ مال تو ایک اجتماعی ذریعہ ہے جس سے پوری سوسائٹی کو فائدہ ملتا ہے اور اسراف اور کنجوسی دونوں سے معاشرے اور اجتماعی اقتصادیات کو نقصان پہنچتا ہے۔ اگر مال کو روک دیا جائے تو کساد بازاری پیدا ہوتی ہے اور اگر ضرورت سے زیادہ خرچ کیا جائے تو دوسروں کی قوت خرید متاثر ہوتی ہے اور پھر اس سے اخلاقی فساد بھی پیدا ہوتا ہے۔
چناچہ اسلام سوسائٹی کے اس پہلو کی بھی اصلاح کرتا ہے اور اعتدال اور توازن کو ایک مسلم شخصیت کا حصہ بنا دیتا ہے اور اس کا تعلق ایمان سے جوڑ دیتا ہے۔
وکان بین ذلک قواماً (25 : 68) ” بلکہ اس کا خرچ دونوں انتہائوں کے درمیان اعتدال قائم رہتا ہے۔ “
……
وکان بین ذلک قواماً (25 : 68) ” بلکہ اس کا خرچ دونوں انتہائوں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے۔ “
اور پھر عباد الرحمٰن کی بڑی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتے اور کسی زندہ جان کو قتل نہیں کرتے۔ وہ زنا نہیں کرتے۔ شرک ، قتل اور زنا اسلام میں اکبر الکبائر گناہ اور جرائم ہیں۔ جو شخص یہ گناہ کرے گا وہ ضرور سزا کا مستوجب ہوگا۔
الفرقان 25:68
والذین ……الی اللہ متاباً (71)
خدا کو وحدہ لاشریک جاننا اسلامی نظریہ حیات کی اساس ہے۔ عقیدہ توحید نہایت واضح ، سیدھا اور سادہ عقیدہ ہے۔ اور اس کے مقابلے میں جس قدر عقائد ہیں وہ پیچیدہ ، ٹیڑھے اور ناقابل فہم عقید ہیں۔ اسلامی نظریہ حیات پر جس طرح ایک صحیح نظام زندگی قائم ہوتا ہے اسی طرح دوسرے عقائد پر کوئی سیدھا اور صالح نظام زندگی قائم ہی نہیں ہو سکتا۔
کسی جاندار کو ناحق نہ قتل کرنا اور سوسائٹی کی اجتماعی زندگی کو پرسکون ، پرامن اور مطمئنبنانا اسلامی اور انسانی زندگی کا طرہامتیاز ہوتا ہے ، جبکہ قتل و غارت اور لوٹ مار جنگل کی زندگی کا خاصہ ہوتا ہے اور کوئی ایسی سوسائٹی جس میں ہر طرف قتل و غارت کا بازار گرم ہو اور لوٹ مار عام ہو ، اسے نہ انسانی سوسائٹی کہا جاسکتا ہے اور نہ ایسی سوسائٹی میں کوئی ترقیاتی کام ہو سکات ہے۔ اس لئے اسلام قتل نفس کو بہت بڑا جرم قرار دیتا ہے۔
اسی طرح اسلام زنا کو گھنائونا جرم قرار دیات ہے اور اسے جرم قرار دے کر ہی دو قسم کی زندگیوں کے راستے جدا کئے جاسکتے ہیں۔ ایک ایسی زندگی ہے جس میں ایک شخص اپنے آپ کو ایک حیوان جیسی غلیظ جنسی خواہش سے ذرا بلند کردیتا ہے اور وہ یہ یقین کرلیتا ہے کہ جنس آخر سے اس کے ماپ کا ایک اعلیٰ وارفع مقصد مقرر کیا گیا ہے۔ یہ محض لذت کوشی اور گری ہوئی غلیظ حیوانی زندگی کا ملاپ نہیں ہے ، جو ایک نر اور مادے کے درمیان ہوتا ہے اور جس کے اندر محض جسمانی تقاضے پورے ہوتے ہیں۔
غرض یہ تین صفات وہ صفات ہیں جو ایک انسانی اور شریفانہ زندگی اور ایک عام حیوانی اور گری ہوئی وحشیانہ زندگی کے درمیان حدود و امتیاز پیدا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے عباد الرحمٰن کی صفات و نشانات کے اندر ان تینوں صفات کو داخل کیا ہے ۔ کیونکہ عباد الرحمٰن اللہ کے نزدیک اعلیٰ وارفع مخلوق ہے اور ان کے نزدیک یہ نہایت ہی اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان صفات کے بعد یہ تہدید آتی ہے۔
ومن یفعل ذلک یلق اثاما (25 : 68) ” یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہوں کا بدلہ پائے گا۔ “
اثام کا مفہوم یہاں عذاب ہے۔ اس عذاب کی تشریح پھر یوں کی گئی ہے۔
الفرقان 25:69
یضعف لہ العذاب یوم القیمۃ ویخلدفیہ مھانا (25 : 69) ” قیامت کے روز اس کا عذاب دگنا کردیا جائے گا اور اس میں وہ ہمیشہ ذلت کے ساتھ رہے گا۔ “ یعنی نہ صرف یہ ہوگا کہ اس کا عذاب دگنا کردیا جائے گا بلکہ وہ توہین آمیز بھی ہوگا اور اس طرح یہ عذاب زیادہ شدید اور زیادہ تکلیف دہ بن جائے گا۔
ہاں یہ نہیں ہے کہ جس نے ان گناہوں کا ارتکاب ایک بار کرایا تو اس کی معافی کی کوئی صورت نہیں ہے۔ وہ توبہ اور عمل صالح کے ذریعے اس عذاب سے بچ سکتا ہے۔
الفرقان 25:70
الامن تاب وامن و عمل عملاً صالحاً (25 : 80) ” الایہ کہ کوئی ان گناہوں کے بعد توبہ کرچکا ہو اور ایمن لا کر عمل صالح کرنے لگا ہو۔ ‘ ان کے ساتھ وعدہ یہ ہے کہ انہوں نے ایمان ، توبہ اور عمل صالح سے قبل جو برے کام کئے ان کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔
فائولئک یبدل اللہ سیاتھم حسنت (25 : 80) ” ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا۔ “ یہ تو اللہ کا فیضان رحمت ہے۔ اور محض اللہ کا جود و کرم ہے جس کے بدلے میں انسان کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔ بس یہ انعام ہے اس شخص کے لئے جو راہ بد چھوڑ کر راہ ہدایت پر چل نکلتا ہے۔ اللہ کی پناہ میں آجاتا ہے اور بدعملی اور سرکشی کو ترک کر دیات ہے۔
وکان اللہ غفوراً رحیماً (25 : 80) ” اور اللہ بڑا غفور ورحیم ہے۔ “ توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے جس کا ضمیر جس وقت بھی جاگ اٹھے اور جس مقام سے بھی کوئی واپس ہونا چاہے ، واپس آسکتا ہے ۔ اسلام اس کی راہ نہیں روکتا۔ اور اسلام کا دروازہ اس کے لئے کھلا ہے۔ جو بھی ہو ، جس قدر گناہ گار بھی ہو ، صد بار اگر توبہ شکستی باز آ۔ “
طبرانی نے ابوالمغیرہ ، صفوان ابن عمر ، عبدالرحمٰن ابن جبیر “ ابوفردہ سے روایت کی ہے۔ یہ صاحب نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا : حضور ایک شخص نے تمام گناہ کئے۔ اس نے نہ کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا اور نہ کوئی بڑا گناہ۔ کیا اس کے لئے بھی توبہ ہے ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ تو ایمان لایا ہے اس نے کہا ہاں میں اسلام لایا ہوں۔ حضور نے فرمایا نیکیاں کرتے جائو اور برائیاں چھوڑتے جائو۔ ان برائیوں کو بھی اللہ تمہارے لئے نیکیاں کر دے گا اس نے پھر کہا ” اور میرا فسق و فجور بھی۔ “ حضور نے فرمایا ” ہاں “ یہ شخص اللہ اکبر ، اللہ اکبر کہتے ہوئے لوٹا یہاں تک کہ غائب ہوگیا۔
لیکن توبہ کا قاعدہ بھی وضع کردیا جاتا ہے۔
الفرقان 25:71
ومن تاب و عمل صالحاً فانہ یتوب الی اللہ متابا (25 : 81) ” جو شخص توبہ کر کے نیک عمل اختیار کرتا ہے وہ تو اللہ کیطرف پلٹآتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے۔ “ توبہ کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ کسی گناہ گا رکو ندامت آجائے اور پھر وہ معصیت کو چھوڑ دے اور اس کے بعد وہ نیکیوں پر عمل پیرا ہوجائے تو ثابت ہوگا کہ اس شخص کی توبہ صحیح ہے اور یہ شخص سچا ہے۔ یعنی اس نے برائیوں کو ترک کر کے مثبت پیش رفت شروع کردیا ہے۔ کیونکہ معصیت دراصل زندگی کا ایک عمل اور تحریک ہوتی ہے جو شخص ان معاصی کو ترک کرے گا بیشک اس کی زندگی معاصی سے خالی ہوگی لیکن اس کی زندگی کے اس خلا کو مثبت اعمال سے بھرنا بھی ضروری ہے۔ یہ ہے اسلامی نظام تربیت کا وہ خاص یونٹ جس پر آ کر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے اور وہ انسان کے حالات نفس سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اس لئے اس نے ہدایت فرمائی کہ اس نفسیاتی خلا کو اعمال صالحہ کے ساتھ بھر دو ورنہ ……
……
اس جملہ معترفہ کے بعد پھر روئے سخن صفات عبادالرحمن کی طرف پھرجاتا ہے۔
الفرقان 25:72
والذین ……کراماً (72)
” جھوٹی شہادت نہ دینے کا قریبی اور اصطلاحی مفہوم بھی لیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی عدالت میں جھوٹی شہادت نہیں دیتے۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں لوگوں کے حقوق ضائع ہوتے ہیں اور ظلم پر اعانت کا جرم واقع ہوتا ہے اور اس سے حقیقی شہادت بھی مراد ہو سکتی ہے یعنی کسی مجلس ، کسی سوسائٹی یا کسی جگہ میں جھوٹ اور برائی کا ارتکاب ہو رہ اہو تو یہ لوگوہاں حاضر نہیں ہوتے یعنی ایسی سوسائٹی سے دو ررہتے ہیں ، جس میں برائی کا ارتکاب ہوتا ہے اور یہ زیادہ بلیغ اور دل لگتی تفسیر ہے۔ اسی طرحوہ لغو اور بیہودہ محافل یا ماقمات سے بھی اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔
واذا مروا باللغو مروا کراماً (25 : 82) ” اور کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہوجائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔ “ وہ اپنے آپ کو اس میں مغشول نہیں کرتے ، نہ وہ ان برائیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ نہ دیکھتے ہیں اور سنتے ہیں بلکہ وہ ایک مکرم اور معزز شخص کی طرح وہاں سے گزر جاتے ہیں۔ اس لئے کہ کسی مومن کے کاسہ حیات میں کوئی خالی جگہ ہی نہیں ہوتی کہ اس میں لغو اور بیہودگی بھی سما سکے۔ وہ اپنے عقیدہ و ایمان اور دعوت اسلامی اور اس کے تقاضوں سے فارغ کب ہوتا ہے۔ وہ تو ہر وقت اپنی اور معاشرے کی اصلاح میں لگا ہوا ہوتا ہے۔
……
اور ایک صفت عباد الرحمن کی یہ بھی ہے کہ جب ان کو یاد دہانی اور نصیحت کی جائے تو وہ سبق اور نصیحت کو قبول کرلیتے ہیں۔ وہ بات یقین کرتے ہیں ، ان کے دل قبول حق کے لئے ہوتے ہیں۔ وہ ذہن رسا رکھتے ہیں اور قلب منیب کے مالک ہوتے ہیں۔
الفرقان 25:73
والذین ……وعمیاناً (73)
اس آیت میں مشرکین مکہ پر ایک لطیف طنز بھی ہے کہ وہ اندھے اور بہرے ہو کر اپنے بوتوں کی عبادت میں لگے ہوئے تھے اور احمقانہ اور باطل عقائد کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے۔ نہ وہ کوئی عقل کی بات سننا چاہتے تھے اور نہ کھلے حقائق کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ نہ وہ کھلی روشنی کو دیکھتے تھے اور نہ سیدھی راہ کو دیکھتے ہوئے اس پر چلتے تھے۔ اوندھے منہ اندھا اور بہرا ہو کر چلنا ، بغیر سوچے سمجھے اور عقل و تدبر کرتے ہوئے چلنا۔ یہ محاورہ ایک ایسی حالت کی تصویر کشی کرتا ہے جس سے غفلت اور کم عقلی کی انتہائی حالت کا اظہار ہوتا ہے ، جس میں کوئی غور و تدبر نہ ہو۔ رہے اللہ کے بندے اور رحمن کے بندے تو وہ ہر معاملے کو نہایت سوچ اور سجھ کے ساتھ طے کرتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ان عقائد میں سچائی کیا ہے۔ وہ اس بات کو پاتے ہیں کہ فلاں فلاں دلائل و شواہد سچائی کو ثابت کرتے ہیں۔ ان کا ایمان علی وجہ البصیرت ہوتا ہے۔ اس لئے وہ جاہلوں کی طرح کسی بات پر اونددھے ہو کر نہیں کرتے۔ ان کا ایمان علی وجہ البصیرت ہوتا ہے۔ اس لئے وہ جاہلوں کی طرح کسی بات پر اوندھے ہو کر نہیں گرتے۔ ان کے اندر اگر اپنے عقائد کے بارے میں جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ تو وہ علی وجہ البصیرت پایا جاتا ہے۔ علی وجہ الجہالت نہیں پایا جاتا ۔ وہ عارف ذی بصیرت ہوتے ہیں۔
الفرقان 25:74
آخر میں یہ کہ وہ صرف رب کے سامنے سجدے اور قیام پر ہی اکتفاء نہیں کرتے ، اور ان دوسرے عظیم صفات کو اپنے اندر جمع کرنے پر ہی اکتفاء نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے بعد ایسی اولاد کی بھی امید کرتے ہیں جو ان کے طریقے پر چلنے والی ہو۔ ان کی بیویاں بھی ان ہی جیسی ہوں۔ ان کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ ان کے دل ان کے بارے میں مطمئن ہوں۔ اور اس طرح ان کی بیویوں اور بچوں کیذریعے عبادالرحمٰن کی تعداد میں اضافہ ہو اور وہ یہ امید بھی کرتے ہیں کہ وہ دور سے نیک بندوں کے لئے بھی اچھا نمونہ ہوں۔
والذین ……اماماً (74)
یہ گہرا فطری اور ایمانی شعور ہے ، یہ کہ ہر مومن صادق یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کے ساتھی زیادہ ہوں اور سب لوگ اللہ کی طرف چل پڑیں اور دوسروں سے پہلے انسان اپنی بیویوں اور اولاد کے بارے میں یہ سوچتا ہے کہ وہ اس کی لائن پر آجائیں۔ کیونکہ سب سے زیادہ کسی کی اولاد اسکی اطاعت پر آمادہ ہو سکتی ہے اور سب سے زیادہ کوئی شخص اپنی اولاد اور اہل و عیال کے بارے میں مسئول ہوسکتا ہے۔ پھر سکی بھی مومن میں یہ فطری خواشہ ہوتی ہے اور ہونا چاہئے کہ ہو بھلائی کا نمونہ اور قائد ہو۔ اللہ کی طرفرجوع کرنے والے اس کی زنگدی سے سبق سیکھیں۔ اہل ایمان کے لئے نمونہ اور اہل ایمان کا سرخیل ہونے کی تمنا کوئی بڑائی اور برتری کا جذب نہیں بلکہ بھلائی میں آگے بڑھنے کا جذبہ ہے ورنہ تو سب مومن ایک ہی راہ کے مسافر ہوتے ہیں۔
……
اب یہاں یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ ایسے بندگان رحمن کا انجام و انعام کیا ہوگا ؟
الفرقان 25:75
اولئک یجزون ……ومقاماً (76)
غرفہ کا مفہوم منزل بلند ہے ، جس سے جنت مراد ہے۔ یا یہ جنت کا کوئی خاص مقام ہوگا۔ جیسا کہ بالا خانہ عام افتادہ مکان کے مقابلے میں زیادہ پسندیدہ ہوتا ہے۔ ہر شخص مسلمانوں کو بالا خانوں میں بٹھاتا ہے اور یہ لوگ بھی چونکہ اللہ کے معزز اور مکرم بندے ہیں اور ان کے لئے عباد الرحمٰن کا ٹائیٹل استعمال ہوا ہے اور ان کی صفات بھی گنوائی گئی ہیں لہٰذا ان کا اس خاص مقام میں تحیہ اور مبارک و سلامت سے استقبال ہوگا۔ اس لئے کہ انہوں نے دنیا میں صبر کیا۔ اور ان صفات پر رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عباد الرحمٰن کی ان صفات و علامات پر چلنا کارے دارد۔ بڑے صبر اور مصابرت کی ضرورت ہے۔ زندگی کی راہ پر دھوکہ دینے والی مرغوبات ہر طرف سے دامن کش رہتی ہیں۔ اس راہ پر گرنے اور پھسلنے کے مقامات جگہ جگہ موجود ہیں۔ زندگی کی اس طویل شاہراہ پر سیدھا چلنے کے لئے عزم و مصابرت کی ضرورت ہے۔ اس لئے اللہ نے یہاں بما صبروا (25 : 85) کا ذکر فرمایا۔
اور اس جہنم کے بالمقابل جس سے وہ بچنے کی دعا ہر وقت کرتے رہتے ہیں اور جو بہت ہی برا مقام ہے ، ان کے لئے ایک ایسا مقام ہوگا۔ یعنی جنت جو نہایت اچھا مقام ہوگا اور جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے۔
خلدین فیھا حسنت مستقرا و مقاماً (25 : 89) ” یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور مستقرد مقام کے طور پر وہ بہترین جگہ ہوگی۔ “ یہاں سے انہیں نکلنے کی کوئی ضرورت نہ ہوگی وہ نہایت سکون وقرار سے وہاں رہیں گے۔
……
عباد الرحمٰن کی تصویر کشی تو ہوچکی۔ بشریت کے نمک اور خلاصہ کی صفات کی تفصیلات تو دے دی گئیں۔ اب یہاں ان لوگوں کو یہ اعزاز دیا جاتا ہے کہ اگر اللہ کے یہ بندے نہ ہوں تو اللہ کے نزدیک پوری انسانیت پر کا ہ کے اہمیت بھی نہیں رکھتی۔ رہے مکذبین تو ان کے لئے تو عذاب جہنم کا حتمی فیصلہ ہوچکا ہے۔
الفرقان 25:76
اولئک یجزون ……ومقاماً (76)
غرفہ کا مفہوم منزل بلند ہے ، جس سے جنت مراد ہے۔ یا یہ جنت کا کوئی خاص مقام ہوگا۔ جیسا کہ بالا خانہ عام افتادہ مکان کے مقابلے میں زیادہ پسندیدہ ہوتا ہے۔ ہر شخص مسلمانوں کو بالا خانوں میں بٹھاتا ہے اور یہ لوگ بھی چونکہ اللہ کے معزز اور مکرم بندے ہیں اور ان کے لئے عباد الرحمٰن کا ٹائیٹل استعمال ہوا ہے اور ان کی صفات بھی گنوائی گئی ہیں لہٰذا ان کا اس خاص مقام میں تحیہ اور مبارک و سلامت سے استقبال ہوگا۔ اس لئے کہ انہوں نے دنیا میں صبر کیا۔ اور ان صفات پر رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عباد الرحمٰن کی ان صفات و علامات پر چلنا کارے دارد۔ بڑے صبر اور مصابرت کی ضرورت ہے۔ زندگی کی راہ پر دھوکہ دینے والی مرغوبات ہر طرف سے دامن کش رہتی ہیں۔ اس راہ پر گرنے اور پھسلنے کے مقامات جگہ جگہ موجود ہیں۔ زندگی کی اس طویل شاہراہ پر سیدھا چلنے کے لئے عزم و مصابرت کی ضرورت ہے۔ اس لئے اللہ نے یہاں بما صبروا (25 : 85) کا ذکر فرمایا۔
اور اس جہنم کے بالمقابل جس سے وہ بچنے کی دعا ہر وقت کرتے رہتے ہیں اور جو بہت ہی برا مقام ہے ، ان کے لئے ایک ایسا مقام ہوگا۔ یعنی جنت جو نہایت اچھا مقام ہوگا اور جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے۔
خلدین فیھا حسنت مستقرا و مقاماً (25 : 89) ” یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور مستقرد مقام کے طور پر وہ بہترین جگہ ہوگی۔ “ یہاں سے انہیں نکلنے کی کوئی ضرورت نہ ہوگی وہ نہایت سکون وقرار سے وہاں رہیں گے۔
……
عباد الرحمٰن کی تصویر کشی تو ہوچکی۔ بشریت کے نمک اور خلاصہ کی صفات کی تفصیلات تو دے دی گئیں۔ اب یہاں ان لوگوں کو یہ اعزاز دیا جاتا ہے کہ اگر اللہ کے یہ بندے نہ ہوں تو اللہ کے نزدیک پوری انسانیت پر کا ہ کے اہمیت بھی نہیں رکھتی۔ رہے مکذبین تو ان کے لئے تو عذاب جہنم کا حتمی فیصلہ ہوچکا ہے۔
الفرقان 25:77
قل ما یعبواء بکم ……الزماً (77) الربع
یہ ایک خاتمہ کلام ہے جو پوری سورت کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اس پوری سورت کا عمود یہ ہے کہ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے ۔ لوگوں کے انکار اور منہ موڑنے کی وجہ سے آپ کے دل پر جو غبار تھا ، اسے دور کرنا اس سورت کا ہدف ہے کیونکہ وہ لوگ مقام محمدی کو جانتے ہوئے انکار پر تل گئے تھے اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ جو زیادہ تکلیف دہ بات تھی۔ اس لئے یہاں بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی حیثیت کیا ہے ؟ یہ پوری انسانیت اللہ کے نزدیک پر کا ہ کے برابر نہیں ہے۔ اللہ کے ہاں انسانیت کا احترام اور رعایت تو اللہ کے ایسے بندوں کی وجہ سی ہے جن کی صفائی گنوائی گئیں۔ جو ہر وقت اللہ کو پکارتے ہیں اور عاجزی کرتے ہیں۔
ان لوگوں کی کیا حیثت ہے ؟ پوری انسانی آبادی کی کیا حیثیت ہے ؟ اور پھر اس پوری زمین کی کیا حیثیت ہے ؟ اللہ کی کائنات میں تو یہ ایک ذرے کے برابر ہے اور انسانیت ایسی ہی ہے جس طرح اس دنیا میں کوئی زندہ مخلوق (مثلاً مچھر) رہی اس زین کی اقوام میں سے کوئی ایک قوم تو اس کی گزشتہ رفتہ نسلیں اور آنے والی سب نسکین کیا ہیں ؟ بس اللہ کی کتاب کائنات کے چند صفحات اور اس کتاب کائنات کے باقی صفحات تو ان کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔
اور انسان ، اپنی اس بےبضاعتی اور اپنی اس بےقدری کے باوجود پھولات ہے اور پھولتا رہتا ہے اور اپنے آپ کو بڑی شے سمجھتا ہے۔ پھر یہ سرکش ہوجاتا ہے۔ پھر اس قدر سرکش کہ یہ اپنے خالق کی جناب میں گستاخی کرنے لگتا ہے۔ حالانکہ یہ کوئی چیز ہی نہیں ہے ، اللہ کیمقابلے میں ضعیف تر اور پر تقصیرات۔ ہاں اس کی قوت کا سرچشمہ صرف اللہ ہے۔ اللہ سیجڑ کر انسان کچھ چیز بن سکتا ہے اور شمار میں آسکتا ہے۔ راہ ہدایت بھی پا سکتا ہے۔ یہ راہ ہدایت پالے اور اللہ سے جڑ جائے تو پھر اللہ کے ترازو میں اس کا وزنہو جاتا ہے۔ بلکہ اللہ کے ترازوں میں فرشتوں سے بھی بھاری ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اللہ نے انسان کو جو خصلت دی ، فرشتوں کو جو حکم دیا کہ اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائو ، یہ اس لئے کہ انسان اللہ کو پہچان لے ، اس تک رسائی حاصل کرے ، اس کا بندہ بن جائے ، صرف اسی طرح وہ اپنے خصائص وصفات اور علامات و نشانات کو قائم رکھ سکتا ہے جن کی وجہ سے اسے فرشتوں پر فضیلت دی گئی تھی اور جس کی وجہ سے فرشتوں نے اس کے سامنے سجدہ کیا تھا ورنہ وہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کے بغیر اگر پوری انسانیت کو اللہ کے ترازو میں رکھ دیا جائے تو وہ ایک مچھر کے برابر بھی نہ ہوگی۔ اللہ کے ترازو اور میزان میں ، یہ زمین تو ایک ذرہ ہے۔
قل ما یعبوء بکم ربی لو لا دعآئو کم (25 : 88) ” اے نبی لوگوں سے کہو ، میرے رب کو تمہاری کیا حاجت پڑی ہے اگر تم اس کو نہ پکارو۔ “ یہ انداز کلام ، حضور اکرم ﷺ کے لئے بہت بڑا سہارا ہے۔ کہا جاتا ہے لوگو ، اگر تم نہیں مانتے ہو تو تمہاری کیا حیثیت رہ جاتی ہے اور اگر تم اللہ کے بندوں میں شامل نہیں ہوتے تو تم کچھ بھی نہیں ہو۔ تم تو جہنم کا ایندھن بنو گے۔
فقد کذبتم فسوف یکون لزاماً (25 : 88) ” اب جبکہ تم نے جھٹلا دیا ہے تو عنقریب وہ سزا پائو گے کہ جان چھڑانی محال ہوگی۔ “
الشعراء 26:1
طسم ……المبین (2)
حروف تہجی سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ کتاب مبین اور یہ سورت انہی حروف سے بنائی گئی ہے اور جو لوگ تکذیب پر اصرار کرتے ہیں یہ حروف ان کے علم میں ہیں اور ان سے مرکب کلمات وہ بولتے ہیں لیکن وہ ایسی کتاب مبین پیش نہیں کرسکتے۔ اس کتاب کے بارے میں اس سورت میں بہت سی باتوں پر بحث کی گئی ہے۔ مقدمے میں بھی اور آخری نتائج میں بھی۔ اور یہ اندازان تمام سورتوں کا ہوتا ہے جن کے آغاز میں حروف مقطعات لائے گئے ہوتے ہیں۔
اس تنبیہ کے بعد حضور کو براہ راست مخاطب کیا جاتا ہے کیونکہ حضور مشرزکین کے مقابلے میں ایک انتھک جدوجہد کر رہے تھے اور ان کی مسسل تکذیب سے آپ کو دکھ پہنچ رہا تھا۔ تو حضور اکرم ﷺ کو یہاں تسلی دی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ آپ اس کام کے لئے زیادہ پریشان نہ ہوں۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹھیک ہے کہ آپ بہت کچھ برداشت کر رہے ہیں اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ اگر ہم چاہیں تو چشم زون میں ان کی گردنیں جھکادیں لیکن اللہ کی ایک اسکیم ہے۔ ذرا انتظار کریں۔
الشعراء 26:2
طسم ……المبین (2)
حروف تہجی سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ کتاب مبین اور یہ سورت انہی حروف سے بنائی گئی ہے اور جو لوگ تکذیب پر اصرار کرتے ہیں یہ حروف ان کے علم میں ہیں اور ان سے مرکب کلمات وہ بولتے ہیں لیکن وہ ایسی کتاب مبین پیش نہیں کرسکتے۔ اس کتاب کے بارے میں اس سورت میں بہت سی باتوں پر بحث کی گئی ہے۔ مقدمے میں بھی اور آخری نتائج میں بھی۔ اور یہ اندازان تمام سورتوں کا ہوتا ہے جن کے آغاز میں حروف مقطعات لائے گئے ہوتے ہیں۔
اس تنبیہ کے بعد حضور کو براہ راست مخاطب کیا جاتا ہے کیونکہ حضور مشرزکین کے مقابلے میں ایک انتھک جدوجہد کر رہے تھے اور ان کی مسسل تکذیب سے آپ کو دکھ پہنچ رہا تھا۔ تو حضور اکرم ﷺ کو یہاں تسلی دی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ آپ اس کام کے لئے زیادہ پریشان نہ ہوں۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹھیک ہے کہ آپ بہت کچھ برداشت کر رہے ہیں اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ اگر ہم چاہیں تو چشم زون میں ان کی گردنیں جھکادیں لیکن اللہ کی ایک اسکیم ہے۔ ذرا انتظار کریں۔
الشعراء 26:3
لعلک باخع ……خضعین (4)
انداز کلام ایسا ہے کہ گویا خود نبی ﷺ کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ اپنی جان کو اس وجہ سے خطرے میں ڈال رہے ہیں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔
لعلک باخع نفسک (26 : 3) ” اے نبی شاید آپ اس غم میں اپنی جان کھو دو گے۔ “ مع النفس کے معنی قتل النفس ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکرم کفار قریش کے عدم ایمان پر کس قدر دل گیر تھے۔ کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ اگر یہ ایمان نہ لائے تو دوسری اقوام کی طرح کہیں یہ بھی نیست و نابود نہ کردیئے جائیں۔ یوں آپ اپنے آپ کو اس غم میں گھول رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ آپ کے رشتہ دار ، اہل خاندان اور اہل قوم تھے۔ اس کی وجہ سے آپ زیادہ پریشان تھے۔ لیکن رب تعالیٰ کو سے زیادہ ہمدردی تھی۔ اللہ نے آپ کو اس تباہ کن دل کر فتگی سے منع کردیا۔ فرمایا کہ آپ ذرا آرام اور سکون سے کام جاری رکھیں۔ آپ کا یہ فریضہ نہیں ہے کہ لوگ ایمان لائیں ، اگر محض لوگوں کا ایمان ہی مطلوب ہوتا تو ہم ایک ہی حکم سے ان کی گردنیں جھکا سکتے تھے۔ آسمان سے ہم ایسا معجزہ نازل کرتے کہ یہ لوگ سرجھکا دیتے اور نہ ماننے کی کوئی صورت نہرہتی اور نہ یہ لوگ ایمان سے منہ نہ موڑ سکتے اور یکدم دبک کر رہ جاتے۔
فظلت اعنا قھم لھا خضعین (26 : 3) ” ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ “ یہ لوگ گردنیں جھکا کر اس طرح کھڑے ہوجاتے کہ گویا باندھے ہوئے ہیں اور اپنی جگہ سے یہ حرکت ہی نہیں کرسکتے۔ دست بستہ کھڑے ہوجاتے۔
لیکن اللہ کی مشیت یہ نہ تھی کہ اپنی اس آخری رسالت کو ان لوگوں سے زبردستی منوایا جائے۔ اس رسالت کو صرف ایک ہی معجزہ دیا گیا اور وہ معجزہ قرآن تھا۔ یہ قرآن زندگی کا ایک مکمل نظام دیتا ہے اور یہ ہر پہلو کے اعتبار سے معجزہ ہے۔ بس اس کو آگے بڑھ کر قبول کریں۔
یہ قرآن انداز تعبیر اور فنی نظم و نسق کے اعتبار سے بھی معجز ہے۔ پورے قرآن میں یہ کلام اپنے اعلیٰ معیار اور بلند سطح کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ فنی اور فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے اس میں کوئی نشیب وقرار نہیں ہے۔ یعنی کسی جگہ کلام اپنے معیار سے گرا ہوا نہیں ہے۔ کسی جگہ اس نے اپنی خصوصیات کو نہیں چھوڑا۔ ایسا نہیں ہے جس طرح انسانی کلام ہوتا ہے۔ جس میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ کسی جگہ اونچا کسی جگہ درمیانہ اور کسی جگہ صاف ہی گرا ہوا۔ کسی جگہ پر شوکت اور کسی جگہ جھولدار۔ مثلاً ایک ہی مصنف ایک جگہ ایک طرح کی بات کرتا ہے اور دوسری جگہ انداز بدل جاتا ہے۔ لیکن قرآن ہے کہ آغاز سے انجام تک جوئے رواں ہے۔ ایک ہی سطح پر ایک ہی رفتار سے اور ایک معیار پر جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سرچشمہ بھی ایک ہے۔
پھر اپنے افکار و نظریات کے اعتبار سے بھی یہ معجزہ ہے۔ اس کے فکری اجزاء باہم مربوط ہیں۔ اس میں کوئی ایک بات نہیں ہے جو اس کے مجموعی فیصل ی سے لگا نہ کھاتی ہو۔ نہ کوئی اتفاقیبات ہے۔ تمام ہدایات ، اور تمام ضابطہ بندیاں ایک ہی ضابطے کے مطابق متکامل اور متناسق ہیں۔ یہ تعلیمات انسان کی پوری زندگی کو گھیرے ہوئے ہیں۔ زندگی کے مسائل کا پورا استیاب ہے اور پوری انسانی زندگی کے مسائل کا جواب شافی اسی میں موجود ہے۔ اس کا ایک جزئیہ بھی ایسا نہیں ہے جو قرآن کریم کے تمام دوسرے جزئیات کے مخلاف اور متضاد ہو۔ پھر یہ پورا فکری نظام ، نظام فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ تمام اجزاء فکر ایک ہی محور کے اردگرد گھوم رہے ہیں۔ ایک ہی رسی میں سب کچھ بندھا ہا ہے۔ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ۔ انسان اپنی محدود مہارت کے ساتھ کوئی ایسامربوط نظام فکر و عمل پیش کرنے کے قابل ہی نہیں ہے۔ لہٰذا یہ ماہر مطلق کا ارسال کرد نظام ہے اور یہ زمان و مکان کی حدود قیود سے ماوراء ہے۔ غرض قرآن کا یہ نظام اس قدر جامعیت لئے ہوئے ہے۔ اس کی فکری اور عملی تنظیم حیرت انگیز ہے۔
پھر اس کے اندر ایک اور اعجاز بھی ہے ، اس کی آواز سننے ہی دلوں میں اتر جاتی ہے ، یہ دلوں کی کنجیاں رکھتا ہے۔
اس کو سنتے ہی دل کھل جاتے ہیں اور انسان کے اندر تاثر قبول کرنے والی پنہاں قوتیں جاگ اٹھتی ہیں اور اس کی آواز پر لبیک کہتی ہیں۔ یہ الجھے ہوئے دینی مسائل کو اس قادر سادگی اور آسانی کے ساتھ حل کردیتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ بغیر کسی مشکل اور پیچیدگی اور زیادہ محنت کے۔ محض ایک نچ کے ساتھ دلوں کی دنیا کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ قرآن کریم کو اپنی اس آخری رسالت کے لئے ایک معجزہ قرار دے اور اللہ نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ کوئی مادی اور طبیعی معجزہ نازل کرے ، جس کو دیکھ کر لوگوں کی گردنیں جھک جائیں اور وہ بامر مجبوری اسے تسیم کرلیں۔ یہ اس لئے کہ یہ آخری نبوت تمام انسانوں کے لئے ایک عام اور کھلی رسالت تھی۔ اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے قیامت تک یہی ہدایت تھی اور یہ کسی ایک قوم تک محدود اور کسی محدود وقت کے ساتھ مقید اور موقف رسالت نہ تھی ۔ اس لئے اللہ نے اس رسالت کو ایک ایسا معجزہ دیا جو اقوام قریب و بعید دونوں کے لئے عام ہو۔ ہر قوم اور ہر نسل کے لئے ہو۔ جہاں تک مادی معجزات کا تعلق ہے ان کے سامنے تو صرف وہ لوگجھکتے ہیں جو اسے دیکھتے ہیں۔ اور ان اقوام کے بعد تو وہ واقعات قصص و روایات بن جانے ہیں۔ وہ آنے والی نسلوں کے لئے مشاہد نہیں ہوتے۔
رہا قرآن مجید تو وہ چودہ سو سال سے ایک معجزہ ہے۔ یہ ایک کھلی کتاب ہے ، ایک زبردست نظام زندگی ہے۔ اگر اس کو کسی بھی زمانے کے لوگ اپنا راہنما اور امام بنا لیں۔ تو وہ اس سے فائد اٹھا سکتے ہیں اور وہ ان کی زندگی کے پورے مسائل حل کرسکتا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کر سکات ہے بلکہ وہ ان کو ایک نہایت ہی اعلیٰ افیق پر افضل زندگی اور بہترین نتائج تک پہنچا سکتا ہے۔ یہ وہ خزانہ ہے کہ آجہم نے اپنے دور میں اس سے جو کچھ معلوم نہیں کیا ، آنے والے نسلیں اس سے معلوم کرلیں گی۔ یہ ہر سائل کو اس کے سوال کے مطابق دیتا ہے اور جھلوی بھر کے دیتا ہے اور اس کے خزانے ختم نہیں ہونے بلکہ از سر نو نئے نئے ذخیرے ملتے ہیں ۔ لیکن لوگ ہیں کہ اس قرآن کے عظیم خزانوں اور حکمتوں کو پا نہیں رہے اور اعراض کرتے ہیں۔ جوں جوں قرآن کی کوئی نئی آیت نازل ہوتی تو وہ کہتے :
الشعراء 26:4
لعلک باخع ……خضعین (4)
انداز کلام ایسا ہے کہ گویا خود نبی ﷺ کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ اپنی جان کو اس وجہ سے خطرے میں ڈال رہے ہیں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔
لعلک باخع نفسک (26 : 3) ” اے نبی شاید آپ اس غم میں اپنی جان کھو دو گے۔ “ مع النفس کے معنی قتل النفس ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکرم کفار قریش کے عدم ایمان پر کس قدر دل گیر تھے۔ کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ اگر یہ ایمان نہ لائے تو دوسری اقوام کی طرح کہیں یہ بھی نیست و نابود نہ کردیئے جائیں۔ یوں آپ اپنے آپ کو اس غم میں گھول رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ آپ کے رشتہ دار ، اہل خاندان اور اہل قوم تھے۔ اس کی وجہ سے آپ زیادہ پریشان تھے۔ لیکن رب تعالیٰ کو سے زیادہ ہمدردی تھی۔ اللہ نے آپ کو اس تباہ کن دل کر فتگی سے منع کردیا۔ فرمایا کہ آپ ذرا آرام اور سکون سے کام جاری رکھیں۔ آپ کا یہ فریضہ نہیں ہے کہ لوگ ایمان لائیں ، اگر محض لوگوں کا ایمان ہی مطلوب ہوتا تو ہم ایک ہی حکم سے ان کی گردنیں جھکا سکتے تھے۔ آسمان سے ہم ایسا معجزہ نازل کرتے کہ یہ لوگ سرجھکا دیتے اور نہ ماننے کی کوئی صورت نہرہتی اور نہ یہ لوگ ایمان سے منہ نہ موڑ سکتے اور یکدم دبک کر رہ جاتے۔
فظلت اعنا قھم لھا خضعین (26 : 3) ” ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ “ یہ لوگ گردنیں جھکا کر اس طرح کھڑے ہوجاتے کہ گویا باندھے ہوئے ہیں اور اپنی جگہ سے یہ حرکت ہی نہیں کرسکتے۔ دست بستہ کھڑے ہوجاتے۔
لیکن اللہ کی مشیت یہ نہ تھی کہ اپنی اس آخری رسالت کو ان لوگوں سے زبردستی منوایا جائے۔ اس رسالت کو صرف ایک ہی معجزہ دیا گیا اور وہ معجزہ قرآن تھا۔ یہ قرآن زندگی کا ایک مکمل نظام دیتا ہے اور یہ ہر پہلو کے اعتبار سے معجزہ ہے۔ بس اس کو آگے بڑھ کر قبول کریں۔
یہ قرآن انداز تعبیر اور فنی نظم و نسق کے اعتبار سے بھی معجز ہے۔ پورے قرآن میں یہ کلام اپنے اعلیٰ معیار اور بلند سطح کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ فنی اور فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے اس میں کوئی نشیب وقرار نہیں ہے۔ یعنی کسی جگہ کلام اپنے معیار سے گرا ہوا نہیں ہے۔ کسی جگہ اس نے اپنی خصوصیات کو نہیں چھوڑا۔ ایسا نہیں ہے جس طرح انسانی کلام ہوتا ہے۔ جس میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ کسی جگہ اونچا کسی جگہ درمیانہ اور کسی جگہ صاف ہی گرا ہوا۔ کسی جگہ پر شوکت اور کسی جگہ جھولدار۔ مثلاً ایک ہی مصنف ایک جگہ ایک طرح کی بات کرتا ہے اور دوسری جگہ انداز بدل جاتا ہے۔ لیکن قرآن ہے کہ آغاز سے انجام تک جوئے رواں ہے۔ ایک ہی سطح پر ایک ہی رفتار سے اور ایک معیار پر جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سرچشمہ بھی ایک ہے۔
پھر اپنے افکار و نظریات کے اعتبار سے بھی یہ معجزہ ہے۔ اس کے فکری اجزاء باہم مربوط ہیں۔ اس میں کوئی ایک بات نہیں ہے جو اس کے مجموعی فیصل ی سے لگا نہ کھاتی ہو۔ نہ کوئی اتفاقیبات ہے۔ تمام ہدایات ، اور تمام ضابطہ بندیاں ایک ہی ضابطے کے مطابق متکامل اور متناسق ہیں۔ یہ تعلیمات انسان کی پوری زندگی کو گھیرے ہوئے ہیں۔ زندگی کے مسائل کا پورا استیاب ہے اور پوری انسانی زندگی کے مسائل کا جواب شافی اسی میں موجود ہے۔ اس کا ایک جزئیہ بھی ایسا نہیں ہے جو قرآن کریم کے تمام دوسرے جزئیات کے مخلاف اور متضاد ہو۔ پھر یہ پورا فکری نظام ، نظام فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ تمام اجزاء فکر ایک ہی محور کے اردگرد گھوم رہے ہیں۔ ایک ہی رسی میں سب کچھ بندھا ہا ہے۔ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ۔ انسان اپنی محدود مہارت کے ساتھ کوئی ایسامربوط نظام فکر و عمل پیش کرنے کے قابل ہی نہیں ہے۔ لہٰذا یہ ماہر مطلق کا ارسال کرد نظام ہے اور یہ زمان و مکان کی حدود قیود سے ماوراء ہے۔ غرض قرآن کا یہ نظام اس قدر جامعیت لئے ہوئے ہے۔ اس کی فکری اور عملی تنظیم حیرت انگیز ہے۔
پھر اس کے اندر ایک اور اعجاز بھی ہے ، اس کی آواز سننے ہی دلوں میں اتر جاتی ہے ، یہ دلوں کی کنجیاں رکھتا ہے۔
اس کو سنتے ہی دل کھل جاتے ہیں اور انسان کے اندر تاثر قبول کرنے والی پنہاں قوتیں جاگ اٹھتی ہیں اور اس کی آواز پر لبیک کہتی ہیں۔ یہ الجھے ہوئے دینی مسائل کو اس قادر سادگی اور آسانی کے ساتھ حل کردیتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ بغیر کسی مشکل اور پیچیدگی اور زیادہ محنت کے۔ محض ایک نچ کے ساتھ دلوں کی دنیا کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ قرآن کریم کو اپنی اس آخری رسالت کے لئے ایک معجزہ قرار دے اور اللہ نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ کوئی مادی اور طبیعی معجزہ نازل کرے ، جس کو دیکھ کر لوگوں کی گردنیں جھک جائیں اور وہ بامر مجبوری اسے تسیم کرلیں۔ یہ اس لئے کہ یہ آخری نبوت تمام انسانوں کے لئے ایک عام اور کھلی رسالت تھی۔ اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے قیامت تک یہی ہدایت تھی اور یہ کسی ایک قوم تک محدود اور کسی محدود وقت کے ساتھ مقید اور موقف رسالت نہ تھی ۔ اس لئے اللہ نے اس رسالت کو ایک ایسا معجزہ دیا جو اقوام قریب و بعید دونوں کے لئے عام ہو۔ ہر قوم اور ہر نسل کے لئے ہو۔ جہاں تک مادی معجزات کا تعلق ہے ان کے سامنے تو صرف وہ لوگجھکتے ہیں جو اسے دیکھتے ہیں۔ اور ان اقوام کے بعد تو وہ واقعات قصص و روایات بن جانے ہیں۔ وہ آنے والی نسلوں کے لئے مشاہد نہیں ہوتے۔
رہا قرآن مجید تو وہ چودہ سو سال سے ایک معجزہ ہے۔ یہ ایک کھلی کتاب ہے ، ایک زبردست نظام زندگی ہے۔ اگر اس کو کسی بھی زمانے کے لوگ اپنا راہنما اور امام بنا لیں۔ تو وہ اس سے فائد اٹھا سکتے ہیں اور وہ ان کی زندگی کے پورے مسائل حل کرسکتا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کر سکات ہے بلکہ وہ ان کو ایک نہایت ہی اعلیٰ افیق پر افضل زندگی اور بہترین نتائج تک پہنچا سکتا ہے۔ یہ وہ خزانہ ہے کہ آجہم نے اپنے دور میں اس سے جو کچھ معلوم نہیں کیا ، آنے والے نسلیں اس سے معلوم کرلیں گی۔ یہ ہر سائل کو اس کے سوال کے مطابق دیتا ہے اور جھلوی بھر کے دیتا ہے اور اس کے خزانے ختم نہیں ہونے بلکہ از سر نو نئے نئے ذخیرے ملتے ہیں ۔ لیکن لوگ ہیں کہ اس قرآن کے عظیم خزانوں اور حکمتوں کو پا نہیں رہے اور اعراض کرتے ہیں۔ جوں جوں قرآن کی کوئی نئی آیت نازل ہوتی تو وہ کہتے :
الشعراء 26:5
یہاں اللہ کے ناموں میں سے رحمٰن کو لایا گیا ہے ، اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کتاب اور یہ نصیحت نازل کر کے اللہ نے مخلوق پر بہت بڑی رحمت کی ہے اور اس رحمت سے وہ منہ موڑ رہے ہیں۔ تو ظاہر ہے کہ ان کا یہ فعل بہت ہی قبیح اور شفیع ہے۔ آسمانوں سے ان پر رحمت کا نزول ہو رہا ہے اور وہ اس سے بھاگ رہے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اللہ کی چیز سے محروم کر رہے ہیں جس کے وہ فی الحقیقت بہت ہی محتاج ہیں۔
اس لئے ان کے اس اعراض پر اللہ کی طرف سے بہت ہی سخت تہدید نازل ہوتی ہے کہ اللہ کا عذاب ان کے لئے منتظر ہے۔ بہت جلد یہ لوگ اس سے دوچار ہوں گے۔
الشعراء 26:6
فقد ……یستھزء ون (6)
اور یہ تہدید نہایت خفیہ اور مجمل ہے اور عذاب مجہول ہے۔ یہ لوگ چونکہ ان دھمکیوں کو ایک مذاق سمجھنے تھے ، اس لئے اللہ نے دھمکی کا انداز بیان بھی استہزائیہ کردیا۔
فسیاتیھم انبواما کانوا بہ یستھزون (26 : 6) ” عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں۔ “ یعنی اس عذاب کی خبریں ان تک پہنچ جائیں گی۔ جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ ان لوگوں تک اس عذاب کی صرف خبریں ہی نہ پہنچیں گی بلکہ یہ لوگ عذاب چکھیں گے بھی اور یہ بذات خود خبر بن جائیں گے۔ اور ان پر جو مصیبت آئے گی لوگ گلی کوچوں میں اس کی داستانیں ایک دوسرے کو سناتے رہیں گے۔ یہ چونکہ مذاق اڑاتے تھے ، اس لئے اس تہدید میں بھی مذاقیہ جواب دیا گیا۔ لیکن یہ مذاق تہدید سے بھرا ہوا ہے۔
یہ لوگ ایک خارق عادت طبیعی معجزے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اللہ کی ان روشن اور روشن اور چمک دار آیات و معجزات کا نوٹس نہیں لیتے جو ان کے اردگرد پھیلی ہوئی ہیں اور ان آیات و نشانات کے ہوتے ہوئے کسی قلب مفتوح اور کسی حساس بصیرت کو تو مزید کسی دلیل اور برہان کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس کائنات کا صفحہ اس قدر عجیب ہے کہ انسانی دل و دماغ اس کو دیکھ کر مطمئن ہوجاتا ہے۔
الشعراء 26:7
اولم ……مئومنین (8)
1033
اس مردہ زمین سے ایک گونہ زندہ نباتات کا نکالنا کیا کم معجزہ ہے۔ پھر ان نباتات سے نر اور مادہ بنانا۔ بعض انواع میں نر اور مادہ علیحدہ علیحدہ پودوں میں ہوتے ہیں اور یا پھر ایک ہی پودے میں نر اور مادہ پھول ہوتے ہیں جیسا کہ اکثر نباتات میں ہوتا ہے یعنی ایک ہی شاخ میں نر اور مادہ اجزا ہوتے ہیں اور یہ معجزہ ان کے ماحول میں رات دن رونما ہوتا رہتا ہے۔
اولم یروا (26 : 8) ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا ہے۔ یہ ایسے معجزات ہیں کہ جن کے صرف ایک ہی مشاہدے کی ضرورت ہے۔ قرآن کے نظام تربیت کا یہ خاص انداز ہے کہ قرآن انسانی دل و دماغ کو اس کائنات کے مشاہد پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن بجھے ہوئے احساس کو جگاتا ہے کند ذہن کو تیز کرتا ہے اور بند قوائے مدرکہ کو آزاد کرتا ہے اور ان کو اس کائنات میں پائے جانے والے ان معجزات کی متوجہ کرتا ہے جو قدم قدم پر بکھرے ہوئے ہیں تاکہ انسان ایک زندہ دل دماغ کے ساتھ اس کائنات کو دیکھے۔ اللہ کی عجیب و غریب مصنوعات کو دیکھے اور اسے اللہ کا شعور حاصل ہو اور وہ اللہ کی معرفت اللہ کے عجائب مخلوقات کے ذریعے حاصل کرے اور وہ اللہ سے ہر وقت ڈرا رہے اور اسے یہ شعور ہو کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ پھر ہر انسان کو یہ شعور ہو کہ اللہ کی مخلوقات میں سے صرف وہی ہے جو یہ شعور رکھتا ہے ۔ اور اللہ کی مخلوقات سے بھی وابستہ ہے اور اللہ کے اس ناموس فطرت کیساتھ بھی پیوستہ ہے۔ جس کو اللہ نے اس کائنات کے اندر جاری وساری کر رکھا ہے۔ پھر اسے یہ بھی شعور ہو کہ اس کائنات میں اس نے ایک خاص کردار ادا کرتا ہے۔ خصوصاً کے اندر جاری وساری کر رکھا ہے ۔ پھر اسے یہ بھی شعور ہو کہ اس کائنات میں اس نے ایک خاص کردار ادا کرتا ہے۔ خصوصاً اس کرہ ارض کے حوالے سے تو اس کے کاندھوں پر ایک خاص ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔
اولم یروا الی الارض کم انبتنا فیھا من کل زوج کریم (62 : 8) ” کیا انہوں نے کبھی زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں پیدا کی ہیں۔ “ یہ نہایت ہی عمدہ ہیں ، اس لئے کہ ان کے اندر زندگی ہے اور یہ زندگی رب کریم نے ان کے اندر پیدا کی ہے۔ لفظ کریم سے اللہ یہ تاثر دیتا ہے کہ اللہ کی صنعت کاریوں کو نہایت ہی توجہ ، اہمیت اور تکریم کی نگاہوں سے دیکھنا چاہئے۔ یہ کوئی معمولی حقائق نہیں ہیں کہ ان پر سے محض ایک نادان اور غافل کی طرح گزرا جائے۔
ان فی ذلک لایۃ (26 : 8) ” ان میں تو یقینا ایک نشانی ہے۔ “ ان کے علاوہ مزید نشانیاں طلب کرنے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے۔ حالانکہ یہ لوگ ان پیش پا افتادہ نشانیوں پر ایمان نہیں لاتے۔
وما کان اکثرھم مئومنین (26 : 8) ” مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔ “ سورت کا یہ دیباچہ ایک ایسے سبق آموز فقرے پر ختم ہوتا ہے۔ جو اس سورت میں بار بار دہرایا گیا ہے۔
الشعراء 26:8
اولم ……مئومنین (8)
1033
اس مردہ زمین سے ایک گونہ زندہ نباتات کا نکالنا کیا کم معجزہ ہے۔ پھر ان نباتات سے نر اور مادہ بنانا۔ بعض انواع میں نر اور مادہ علیحدہ علیحدہ پودوں میں ہوتے ہیں اور یا پھر ایک ہی پودے میں نر اور مادہ پھول ہوتے ہیں جیسا کہ اکثر نباتات میں ہوتا ہے یعنی ایک ہی شاخ میں نر اور مادہ اجزا ہوتے ہیں اور یہ معجزہ ان کے ماحول میں رات دن رونما ہوتا رہتا ہے۔
اولم یروا (26 : 8) ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا ہے۔ یہ ایسے معجزات ہیں کہ جن کے صرف ایک ہی مشاہدے کی ضرورت ہے۔ قرآن کے نظام تربیت کا یہ خاص انداز ہے کہ قرآن انسانی دل و دماغ کو اس کائنات کے مشاہد پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن بجھے ہوئے احساس کو جگاتا ہے کند ذہن کو تیز کرتا ہے اور بند قوائے مدرکہ کو آزاد کرتا ہے اور ان کو اس کائنات میں پائے جانے والے ان معجزات کی متوجہ کرتا ہے جو قدم قدم پر بکھرے ہوئے ہیں تاکہ انسان ایک زندہ دل دماغ کے ساتھ اس کائنات کو دیکھے۔ اللہ کی عجیب و غریب مصنوعات کو دیکھے اور اسے اللہ کا شعور حاصل ہو اور وہ اللہ کی معرفت اللہ کے عجائب مخلوقات کے ذریعے حاصل کرے اور وہ اللہ سے ہر وقت ڈرا رہے اور اسے یہ شعور ہو کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ پھر ہر انسان کو یہ شعور ہو کہ اللہ کی مخلوقات میں سے صرف وہی ہے جو یہ شعور رکھتا ہے ۔ اور اللہ کی مخلوقات سے بھی وابستہ ہے اور اللہ کے اس ناموس فطرت کیساتھ بھی پیوستہ ہے۔ جس کو اللہ نے اس کائنات کے اندر جاری وساری کر رکھا ہے۔ پھر اسے یہ بھی شعور ہو کہ اس کائنات میں اس نے ایک خاص کردار ادا کرتا ہے۔ خصوصاً کے اندر جاری وساری کر رکھا ہے ۔ پھر اسے یہ بھی شعور ہو کہ اس کائنات میں اس نے ایک خاص کردار ادا کرتا ہے۔ خصوصاً اس کرہ ارض کے حوالے سے تو اس کے کاندھوں پر ایک خاص ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔
اولم یروا الی الارض کم انبتنا فیھا من کل زوج کریم (62 : 8) ” کیا انہوں نے کبھی زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں پیدا کی ہیں۔ “ یہ نہایت ہی عمدہ ہیں ، اس لئے کہ ان کے اندر زندگی ہے اور یہ زندگی رب کریم نے ان کے اندر پیدا کی ہے۔ لفظ کریم سے اللہ یہ تاثر دیتا ہے کہ اللہ کی صنعت کاریوں کو نہایت ہی توجہ ، اہمیت اور تکریم کی نگاہوں سے دیکھنا چاہئے۔ یہ کوئی معمولی حقائق نہیں ہیں کہ ان پر سے محض ایک نادان اور غافل کی طرح گزرا جائے۔
ان فی ذلک لایۃ (26 : 8) ” ان میں تو یقینا ایک نشانی ہے۔ “ ان کے علاوہ مزید نشانیاں طلب کرنے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے۔ حالانکہ یہ لوگ ان پیش پا افتادہ نشانیوں پر ایمان نہیں لاتے۔
وما کان اکثرھم مئومنین (26 : 8) ” مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔ “ سورت کا یہ دیباچہ ایک ایسے سبق آموز فقرے پر ختم ہوتا ہے۔ جو اس سورت میں بار بار دہرایا گیا ہے۔
الشعراء 26:9
و……الرحیم (9)
۔ “ یعنی وہ زبردست ہے اور قسم قسم کی معجزانہ مخلوق کی پیدائش ، قسم قسم کے معجزات دکھانے اور مکذبین اور منکرین کو سزا دینے پر قدرت رکھتا ہے اور وہ الرحیم بھی ہے کہ وہ اپنی کتاب میں اپنی مخلوقات میں سے۔ ان عجائب وغرائب کی کو پیش کرتا ہے اور دلائل و معجزات کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ اس طرح جن کا دل مائل بہدایت ہوتا ہے وہ ایمان لے آتے ہیں اور پھر وہ مکذبین کو بھی مہلت دیتا ہے اور جب تک ان کے پاس کوئی واضح پیغام دینے والا نہیں بھیجتا۔ اس وقت تک سزا بھی نہیں دیتا۔ حالانکہ اس کائنات کے نشانات میں بہت ہی وافر مقدار میں چیزیں موجود ہیں۔ مزید کسی دلیل وبرہان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن یہ اللہ کی رحمت ہے کہ وہ لوگوں کے ضمیر کو روشن کرنے کے لئے ، ان کو بصیرت فراہم کرنے کے لئے اور ان کو اچھے انجام کی بشارت دینے کے لئے اور برے انجام سے خبردار کے لئے رسول بھی بھیجتا ہے اس لئے وہ رحیم ہے کریم ہے۔
الشعراء 26:10
درس نمبر 162 ایک نظر میں
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا یہ حصہ ، اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ بہت ہی ہم آہنگ ہے۔ اس سورت میں مدار کلام زیادہ تر اس پر ہے کہ مکذبین کا انجام کیسا ہوا کرتا ہے۔ پھر اس سورت میں بھی حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور مشرکین کی جانب سے روگردانی اور تکذیب کے نتیجے میں آپ کو جو مشکلات درپیش تھیں۔ ان پر آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی اس سورت کا موضوع سخن ہے۔ پھر اس سورت میں اس بات کی یقین دہانی بھی ہے کہ اس دعوت اور اس کی حامل تحریک کا حامی و مددگار اور محافظ اللہ ہے۔ اگرچہ یہ لوگ کمزور ہیں اور ان کے مخالفین زاد و عتاد یعنی ساز و سامان سے لیس ہیں۔ اہل قوت اور جبار ہیں اور ان پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔ کیونکہ اس سورت کے نزول کے وقت مکہ میں تحریک اسلامی کچھ ایسے ہی حالات سے گزر رہی تھی۔ انبیائے سابقین کے قصص قرآن کے منہاج تربیت میں ایک اہم مواد اور وسائل تربیت ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی بعض کڑیاں سورت بقرہ ، سورت مائدہ ، سورت اعراف ، سورت یونس ، سورت اسرائ، سورت کہف اور سور طہ میں گزر چکی ہیں۔ جبکہ بعض دوسری سورتوں میں بھی حیات موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف مجمل سے اشارات موجود ہیں۔
جہاں جہاں بھی اس قصے کی کڑی کی طرف کوئی اشارہ آیا ہے یا کوئی کڑی تفصیل کے ساتھ دی گئی ہے وہاں موضوع سخن کے ساتھ وہ کڑی اور وہ حصہ نہایت ہی موزوں رہا ہے ہر جگہ سیاق کلام کے ساتھ مناسب حصہ لایا گیا ہے۔ جس طرح اس قصے میں جو کڑیاں ہیں وہ اس سورت کے موضوع کے ساتھ متناسب ہیں اور اسی مقصد کو واضح کرتی ہیں۔ (تفصیلات کے لئے دیکھیے فی ظلال پارہ ششم)
یہاں جو حلقہ دیا گیا ہے وہ رسالت او اس کی تکذیب کے ساتھ متعلق ہے اور تکذیب نیز حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سازش کی وجہ سے فرعون اور اس کی قوم کی غرقابی کے واقعات دیئے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھی ظالموں کے چنگل سے ربانی پا گئے ۔ چناچہ یہ پوری کڑی اس آیت کی تصدیق ہے۔
وسیعلم الذین طلموا ای منقلب ینقلبون (26 : 228) ” اور عنقریب جان لیں گے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا کہ وہ کس انجام تک پہنچتے ہیں۔ “ اور اللہ کے اس قول کی بھی تصدیق ہے۔
فقد کذبوا فسیاتیھم انبوا ماکانوا بہ یستھزء ون (26 : 6) ” اب جبکہ انہوں نے جھٹلا دیا تو عنقریب پہنچ جائیں گی ان تک خبریں اس چیز کی جس کے ساتھ وہ مذاق کرتے تھے۔ “ حضرت موسیٰ کے قصے کا یہ حصہ چند مناظر پر مشتمل ہے جن کو دکھانا ضروری تھا۔ ان مناظر کے درمیان گیپ اور وقفے ہیں جن کے اندر منظر پر پردہ گر جاتا ہے او اس کے بعد جب پردہ اٹھتا ہے تو دوسرا منظر نظروں کے سامنے ہوتا ہے۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو پورے قرآن کریم میں قصص کے پیش کرتے وقت محلوظ رہی ہے۔
اس کڑی میں سات مشاہد ہیں۔ پہلے منظر میں اللہ کی جانب سے ندا آتی ہے۔ حضرت موسیٰ رب سے ہمکلام ہوتے ہیں اور ان کو منصب نبوت سے سرفراز کیا جاتا ہے اور ان پر وحی آتی ہے۔ دوسرے منظر میں کلیم اور فرعون کو آمنا سامنا ہوتا ہے۔ اس میں فرعون کے درباری بھی موجود ہیں۔ حضرت موسیٰ رسالت پیش فرماتے ہیں اور عصا اور ید بیضا کے معجزے بھی دکھائے جاتے ہیں۔ تیسرے منظر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جادوگروں کو لایا جاتا ہے۔ ایک وسیع میدان میں لوگ جمع ہو کر مقابل ی کی تدابیر پر بحث ہوتی ہے۔ چوتھے منظر میں جادو گر فرعون کے دربار میں جمع ہیں اور انعام و اکرام کے پکے وعدے لے رہے ہیں۔ اگر وہ میدان مار لیں۔ پانچواں منظر مقابلے کا منظر ہے ، مقابلہ ہوتا ہے ، جادوگر ایمان لاتے ہیں۔ فرعون ان کو دھمکیاں دیتا ہے۔ چھٹے منظر میں دونوں کیمپوں کی جھلکیاں ہیں ایک طرف وحی الٰہی کا منظر ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے کہ تم تیاری کرو اور میرے بندوں کو لے کر رات کے وقت نکل جائو اور دوسری طرف فرعون تمام علاقوں میں اپنے کارندے بھیجتا ہے اور فوجیں جمع ہوتی ہیں۔ ساتویں منظر میں یہ تعاقب کرنے والی افواج اور بھاگنے والوں مسلمان ایک سمندر کے سامنے ہیں۔ سمندر پھٹ جاتا ہے او ان آبی راستوں سے یہ مظلوم پار ہوجاتے ہیں اور ظالم غرق ہوجاتے ہیں۔
یہی مناظر سورت اعراف ، سورت یونس اور سورت طہ میں بھی پیش کئے گئے ہیں۔ لیکن ہر جگہ انداز اور قصے کا رنگ مختلف ہے اور بات جس رخ پر جا رہی ہوتی ہے ، قصے کو بھی اسی انداز پر لایا جاتا ہے۔ چناچہ قصے کا وہ پہلو اجاگر کیا جاتا ہے جو زیر بحث موضوع کے ساتھ متعلق ہو۔
اعراف میں قصے کا آغاز ہی کلیم اور فرعون کے مختصر مکالمے سے ہوا ہے۔ پھر جادوگروں کے ساتھ مقابلے کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے جبکہ فرعون او اس کے سرداروں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو اچھی طرح تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا ہے اور جادوگروں کے مقابلے اور لشکر فرعون کی غرقابی کے درمیان مصر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر میں معجزات دکھاتے ہوئے منظر پر لایا گیا ہے۔ پھر جب یہ لشکر کامیابی کے ساتھ سمندر سے گزر جاتا ہے تو پھر ہجرت کی زندگی کے کئی حلقے پیش کئے گئے ہیں ، جبکہ یہاں اس سورت میں یہ کڑیاں حذف کردی گئی ہیں اور حضرت موسیٰ اور فرعون کے درمیان توحید کے موضوع پر مکالمہ طوالت کے ساتھ دیا گیا ہے کیونکہ یہ اس سورت کا موضوع ہے اور مشرکین مکہ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان یہی مکالمہ زوروں پر ہے اور سورت یونس میں مختصر مکالمہ کلیم و فرعون سے آغاز ہوتا ہے اور عصا اور ید بیضا کے معجزات بھی نہیں دکھائے جاتے اور جادوگروں کے ساتھ مکالمے کی تفصیلات بھی حذف کردی گئی ہیں جبکہ یہاں ان دونوں کو مفصل لایا گیا ہے اور طہ میں حضرت موسیٰ اور رب تعالیٰ کے درمیان مناجات کو مفصل لایا گیا ہے۔ پھر موسیٰ اور فرعون کا سامنا ، جادوگروں کا مقابلہ سرسری طور پر اور بنی اسرائیل کا سفر ہجرت مفصل ہے۔ یہاں فرعون کی غرقابی پر قصہ کے مناظر ختم کردیئے جاتے ہیں۔
اس طرح جب ہم اس قصے کو قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں بار بار پاتے ہیں تو قرآن کے اسلوب بیان کا یہ کمال ہمارے سامنے آتا ہے کہ کسی جگہ بھی ہمیں یہ نظر نہیں آتا کہ یہ وہی قصہ ہے جو دہرایا جا رہا ہے کیونکہ ہر جگہ مختلف کڑیاں دکھائی گئی ہیں۔ مختلف مناظر ہیں۔ قصے کا ایک مخصوص پہلو کھول کر بیان کیا جاتا ہے اور انداز بیان تو ہر جگہ نیا ہوتا ہے۔ یہ تمام خصوصیات قصے کو ہر جگہ نیا بنا دیتی ہیں اور ہر جگہ قصہ اپنے موضوع کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہوتا ہے۔
درس نمبر 162 تشریح آیات
10……تا……68
واذ نادی ……اسرائیل (17)
اس سورت میں جو قصے لائے گئے ان کے ذریعے حضور اکرم ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے۔ ذرا سورت کے آغاز کو ایک بار پھر ملاحظہ فرمائیں۔
لعلک باخع ……یستھزء ون (6) (26 : 3 تا 6) ” اے نبی شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں ، اب جبکہ یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ “ اب جبکہ یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ ‘ ‘ اس تمہید کے بعد یہ تمام قصص لائے گئے ہیں اور ان میں بیان شدہ حصوں کا بنیادی مقصد مکذبین اور مستھزئین کا انجام بتانا ہے۔
واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین (26 : 10) قوم فرعون الا یتقون (26 : 11) ” انہیں اس وقت کا قصہ سنائو جب کہ تمہارے رب نے موسیٰ کو پکارا ” ظالم قوم کے پاس جا…فرعون کی قوم کے پاس …کیا وہ نہیں ڈرتے ؟ “ یہ ہے یہاں اس قصے کا پہلا منظر ، اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو منصب رسالت عطا کر کے ایک مشن دے دیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تم نے ایک ظالم قوم کے پاس جانا ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنی ذات پر ظلم کیا ہے کہ کفر و گمراہی میں مبتلا ہیں۔ پھر انہوں نے بنی اسرائیل پر ظلم کیا ہے کہ وہ ان کی عورتوں کو زندہ رکھتے ہیں اور مردوں کو ذبح کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جگہ جگہ مذاق کرتے ہیں اور طرح طرح کی سزائیں دیتے ہیں۔ اس قوم کی صفات پہلے بیان کرنے کے بعد اب ان کا نام لیا جاتا ہے۔ قوم فرعون کے پاس جائو۔ حضرت موسیٰ اور تمام انسان تعجب کرتے ہیں کہ کیا یہ ظالم قوم اپنے برے انجام سے نہیں ڈرتی۔ کیا ان کو خدا کا خوف نہیں ہے۔ کیا اپنے ان مظالم کا انجام انہیں معلوم نہیں ہے۔ کیا یہ لوگ اس قدر گھنائونے جرائم کے بعد بھی باز نہیں آتے۔ ان کا معاملہ تو عجیب ہے اور تعجب انگیز ہے اور اسی طرح تمام ایسی اقوام کا معاملہ ہے جو حدت گزر جاتی ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے فرعون اور اس کی قوم کا معاملہ کوئی نیا نہیں تھا وہ تو ان کو اچھی طرح جانتے تھے وہ فرعون کے ظلم ، اس کے جبر اور اس کی سرکشی سے اچھی طرح باخبر تھے اور اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ تو ایک عظیم اور مشکل مشن ہے جو ان کے حوالے کردیا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوریاں رکھ دیتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ وہ اس دعوت سے پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں اور مستقلاً معذرت کرنا چاہتے ہیں بلکہ اس مشن کے لئے مزید ضروری امداد اور معاونت کے طلبگار ہیں۔
قال رب انی اخاف ان یکذبون (26 : 12) ویضیق صدری ولاینطلق لسانی فارسل الی ھرون (26 : 31) ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون (26 : 13) اس نے عرض کیا ، ” اے میرے رب ، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھ کو جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ گھٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ آپ ہارون کی طرف رسالت بھیجیں اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے ، اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ “
یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جو بات نقل کی گئی ہے اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے وہ محض تکذیب کے خوف سے یہ فرماتے ہیں بلکہ ان کو رسالت ایسے حالات میں دی جا رہی ہے کہ ان کے دل کے اندر تنگی پائی جاتی ہے اور ان کو طلاقت لسانی کا ملکہ حاصل نہیں ہے۔ رسالت کے سلسلے میں ان کو ہر کسی سے مباحثہ اور گفتگو کرنی ہوگی اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان کی زبان میں لکنت ہے اور اس کے بارے میں سورت طہ میں انہوں نے تصریح فرمائی ہے۔
واحلل عقدہ من لسانی یفقھوا قولی ” اور میری زبان میں جو گرہ ہے اسے کھول دے تاکہ وہ میری بات کو سمجھیں۔ “ جب انسان کی زبان میں لکنت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے سینہ میں تنگی پیدا جاتی ہے۔ یہ تنگی اس وقت سخت تکلیف دہ ہوتی ہے کہ انسان بات کرنا چاہتا ہے اور جذبات کے ساتھ دلائل کا اظہار چاہتا ہے اور زبان اس وقت ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ جوں جوں خیالات اور جذبات کا سیلاب رواں ہوتا ہے ، زبان بند ہوتی ہے اور دل تنگ ہوجاتا ہے اور انسان کی حالت قابل دید ہوتی ہے۔ یہ صورت حال ہر کسی کی دیکھی ہوتی ہے۔ اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یشان ہیں کہ اگر ایسے حالات میں ان کی زبان کو گرہ لگ جائے تو بڑی عجیب پوزیشن ہوگی۔ خصوصاً جبکہ مقابلہ فرعون جیسے قہار و جبار کے ساتھ ہو۔ چناچہ حضرت نے اپنی کمزور یاپنے رب کے سامنے رکھی اور ساتھ ہی یہ درخواست بھی کی کہ حضرت ہارون کو بھی مقام رسالت عطا کردیا جائے۔ ان کو بھی اس منصب میں شریک کردیا جائے تاکہ وہ دونوں مل کر اس عظیم فریضے کو ادا کریں۔ مقصد یہ نہ تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس منصب کو قبول کرنے سے ہچکچا رہے ہیں یا پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں اور حضرت ہارون چونکہ حضرت موسیٰ سے زیادہ فصیح اللسان تھے اور جذباتی اعتبار سے وہ ٹھنڈے دل دماغ کے مالک تھے ۔ جب دوران کلام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان کو اگر گرہ لگ گئی تو حضرت ہارون ساتھ موجود ہوں گے وہ استدلال اور مکالمے کو آگے بڑھائیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی اس لکنت کو دور کرنے کے لئے خصوصی دعا بھی فرمائی جس طرح سورت طہ میں ہے اور ہو سکتا ہے کہ اللہ نے اسے دور بھی کردیا ہو لیکن آپ نے پھر بھی حضرت ہارون کو شریک منصب کرنے کے لئے دعا فرمائی اور فرمایا کہ انہیں ان کے لئے وزیر مقرر فرمایا جائے۔
اسی طرح حضرت نے فرمایا۔
ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون (26 : 13) ” اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ “ لہٰذا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے مقابلہ کرنے سے نہیں ڈرتے تھے اور نہ وہ ادائیگی فرض سے پہلوتہی چاہتے تھے بلکہ آپ حضرت ہارون کو وزیر اور شریک کار مقرر کروانا چاہتے تھے کہ اگر یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جرم قتل میں سزائے موت دے دیں تو ان کے بعد رسالت کا کام حضرت ہارون جاری رکھیں اور اس طرح فریضہ رسالت ادا ہوتا رہے جس طرح اللہ کا حکم تھا۔
چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ احتیاطی تدابیر دعوت اسلامی اور رسالت کی خاطر اختیار کیں۔ داعی کی ذات کے لئے کچھ زیادہ فکر نہ تھی۔ یعنی اگر حضرت موسیٰ کی زبان کو گروہ لگ جائے او آپ تقریر نہ کرسکیں تو حضرت ہارون تیار ہوں ، یہ نہ ہو کہ نیا آنے والا نبی لوگوں کے سامنے تقریر کر رہا ہے اور اچانک اس کی بات ہی رک جائے اور اس طرح دعوت اسلامی کو ایک کمزوری کا سامنا کرنا پڑے۔ اسی طرح اگر ان کو قتل ہی کردیا جائے تو دعوت کا کام ہی رک جائے۔ حالانکہ دعوت کا کام جاری رہنا ضروری ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ سوچ بالکل فطری تھی۔ اس لئے کہ اللہ نے ان کو منتخب ہی اسی کام کے لئے کیا تھا اور اللہ نے اپنی نگرانی میں ان کی تربیت ہی اسی مقصد کے لئے فرمانی تھی اور ان کو اللہ نے اپنے کام کے لئے ہی بنایا تھا۔
جب حضرت موسیٰ نے اپنی اس دلچسپی کا اظہار کیا ، دعوت کے بارے میں اپنے خدشات اور احتیاطی تدابیر کا اظہار کیا تو اللہ نے ان کی درخواست قبول کرلی۔ اور آپ کو تسلی دے دی کہ آپ ڈریں نہیں ، یہاں قبولیت دعا کا مرحلہ نہایت ہی مختصر ہے۔ ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنانا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مصر میں پہنچنا ، ہارون (علیہ السلام) سے ملنا ، تمام واقعاتک و حذف کر کے صرف یہ دکھایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون دونوں اپنے رب کے احکام لے کر فرعون کے ساتھ ہمکلام ہونے کی تیاری کر رہے ہیں لیکن حضرت موسیٰ کے خدشات کو صرف ایک ہی سخت لفظ سے روکا جاتا ہے جو غنی کے معنی میں آتا ہے اور جو تنبیہ کے لئے ہے کلا ” ہرگز نہیں۔ “
قال کلا ……اسرائیل (18) (26 : 15 تا 18) ” فرمایا ” ہرگز نہیں ، تم دونوں جائو ہماری نشانیاں لے کر ، ہم تمہار یساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے۔ فرعون کے پاس جائو او اس سے کہو ہم کو رب العالمین نے اس لئے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔ ہرگز نہیں نہ تمہارا دل تنگ ہوگا اور نہ تمہاری زبان میں لکنت ہوگی اور وہ ہرگز تمہیں قتل نہ کرسکیں گے۔ یہ سب خدشات آپ اپنے دل سے نکال دیں تم اور تمہارا بھائی دونوں جائو۔
فاذھبا بایتنا (26 : 15) ” جائو ہماری نشانیاں لے کر “ ان نشانیوں میں سے عصا اور ید بیضا کی نشانی تو حضرت موسیٰ نے دیکھی ہوئی تھی۔ یہاں ان سب باتوں کو مختصر کردیا جاتا ہے کیونکہ اس سورت میں پیش نظر فرعون کے سامنے رسالت کا پیش کرنا ، جادوگروں کے کرتب دکھانا اور فرعون کی غرقابی کی منظر کشی کرنا ہے۔ جائو انا معکم مستمعون (26 : 15) ” ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے “ نہایت ہی زور دار اور تاکیدی الفاظ میں کہا جاتا ہے ، جائو تمہیں اللہ کی حمایت یا رعایت اور تحفظ حاصل ہے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے جس طرح وہ ہر وقت ، ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے لیکن یہاں اللہ کی موجودگی کا مقصد یہ ہے کہ ہم تمہاری مدد اور تائید کے لئے حاضر ہیں۔
یہاں نصرت و تائید کا یقین یوں دلایا گیا ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں ، سن رہے ہیں یعنی حضوری اور توجہ انسانوں کے نزدیک اپنے عروج پر ہوتی ہے جب انسان سنتا ہے اس لئے ان کو یہ یقین دلایا جا رہا ہے کہ میری امداد اور نصرت ہر وقت حاضر ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز کہ وہ ہر چیز کو ایک شخص اور مجسم صورت میں پیش کرتا ہے۔ اذھبا ” جائو “
فاتبا فرعون ” فرعون کے پاس جائو “ اور اس کو اپن یمہم سے آگاہ کردیا اور بغیر کسی خوف کے اس کے سامنے اپنا مطلب صاف صاف بیان کر دو ۔
فقولا انا رسول رب العلمین (26 : 16) ” کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں۔ ‘ یہ تو دو ہیں لیکن چونکہ ہم ایک ہیں ، رسالت ایک ہے ، اس لئے دونوں ایک رسول ہیں۔ یہ اس فرعون کے سامنے کھڑے ہیں جو الوہیت کا دعویٰ کرتا تھا اور اپنی قوم کو یوں باور کراتا تھا۔
ماعلمت لکم من الہ غیری ” میں تمہارے لئے ، اپنے سوا کسی دوسرے الہ کو نہیں جانتا۔ “ یوں اس فرعون کے سامنے سب سے پہلے اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں یعنی وہ عالمین کا رب ہے اور وہ عالمین کا رب ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور اس میں کوئی مداہنت اور لیپا پوتی نہیں ہو سکتی۔
انا رسول رب العلمین (26 : 16) ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (26 : 18) ” ہم کو رب العالمین نے اس لئے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ “ قصہ موسیٰ کے ان اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو فرعون کے پاس اس لئے رسول بنا کر نہ بھیجا تھا کہ حضرت موسیٰ فرعون اور اس کی قوم کو دین اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دیں اور اسلام کے دین کو قبول کریں بلکہ ان کے پاس صرف اس لئے بھیجا گیا تھا کہ فرعون اور اس کی قوم سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کردیں۔ وہ اس کی غلامی سے آزاد ہوجائیں اور پھر جس طرح چاہیں اپنے رب کی بندگی کریں۔ وہ تو پہلے سے دین اسلام کے پیروکار تھے۔ حضرت یعقوب ، حضرت یوسف کے دین کو مانتے تھے البتہ ان کے نظریات اور ان کے ذہن میں انحراف ہوگیا تھا ان کے عقائد میں بگاڑ پیدا وہ گیا تھا اس لئے اللہ نے ان کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو دوبارہ ارسال کیا کہ وہ ان کے عقائد بھی درست کردیں اور ان کو فرعون کی غلامی سے بھی نجات دلائیں اور ان کو اچھی تربیت دے کر دوبارہ عقیدہ توحید پر قائم کردیں۔
……
یہاں تک تو ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو نبوت عطا ہوئی ، ان پر وحی آئی اور ان کو دعوت اسلامی کا مشن عطا ہوا۔ اب پردہ گرتا ہے اور دوسرے منظر میں پھر ہم فرعون کے دربار میں کھڑے ہیں۔ ان دونوں مناظر کے درمیان جو غیر ضروری افعال و حرکات ہیں ان کو کاٹ دیا جاتا ہے اور یہ قرآن کریم کا ایک مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ مناظر و مشاہد کے درمیان سے غیر ضروری حصے کاٹ دیتا ہے یا مختصر کردیتا ہے۔
الشعراء 26:11
درس نمبر 162 ایک نظر میں
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا یہ حصہ ، اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ بہت ہی ہم آہنگ ہے۔ اس سورت میں مدار کلام زیادہ تر اس پر ہے کہ مکذبین کا انجام کیسا ہوا کرتا ہے۔ پھر اس سورت میں بھی حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور مشرکین کی جانب سے روگردانی اور تکذیب کے نتیجے میں آپ کو جو مشکلات درپیش تھیں۔ ان پر آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی اس سورت کا موضوع سخن ہے۔ پھر اس سورت میں اس بات کی یقین دہانی بھی ہے کہ اس دعوت اور اس کی حامل تحریک کا حامی و مددگار اور محافظ اللہ ہے۔ اگرچہ یہ لوگ کمزور ہیں اور ان کے مخالفین زاد و عتاد یعنی ساز و سامان سے لیس ہیں۔ اہل قوت اور جبار ہیں اور ان پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔ کیونکہ اس سورت کے نزول کے وقت مکہ میں تحریک اسلامی کچھ ایسے ہی حالات سے گزر رہی تھی۔ انبیائے سابقین کے قصص قرآن کے منہاج تربیت میں ایک اہم مواد اور وسائل تربیت ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی بعض کڑیاں سورت بقرہ ، سورت مائدہ ، سورت اعراف ، سورت یونس ، سورت اسرائ، سورت کہف اور سور طہ میں گزر چکی ہیں۔ جبکہ بعض دوسری سورتوں میں بھی حیات موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف مجمل سے اشارات موجود ہیں۔
جہاں جہاں بھی اس قصے کی کڑی کی طرف کوئی اشارہ آیا ہے یا کوئی کڑی تفصیل کے ساتھ دی گئی ہے وہاں موضوع سخن کے ساتھ وہ کڑی اور وہ حصہ نہایت ہی موزوں رہا ہے ہر جگہ سیاق کلام کے ساتھ مناسب حصہ لایا گیا ہے۔ جس طرح اس قصے میں جو کڑیاں ہیں وہ اس سورت کے موضوع کے ساتھ متناسب ہیں اور اسی مقصد کو واضح کرتی ہیں۔ (تفصیلات کے لئے دیکھیے فی ظلال پارہ ششم)
یہاں جو حلقہ دیا گیا ہے وہ رسالت او اس کی تکذیب کے ساتھ متعلق ہے اور تکذیب نیز حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سازش کی وجہ سے فرعون اور اس کی قوم کی غرقابی کے واقعات دیئے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھی ظالموں کے چنگل سے ربانی پا گئے ۔ چناچہ یہ پوری کڑی اس آیت کی تصدیق ہے۔
وسیعلم الذین طلموا ای منقلب ینقلبون (26 : 228) ” اور عنقریب جان لیں گے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا کہ وہ کس انجام تک پہنچتے ہیں۔ “ اور اللہ کے اس قول کی بھی تصدیق ہے۔
فقد کذبوا فسیاتیھم انبوا ماکانوا بہ یستھزء ون (26 : 6) ” اب جبکہ انہوں نے جھٹلا دیا تو عنقریب پہنچ جائیں گی ان تک خبریں اس چیز کی جس کے ساتھ وہ مذاق کرتے تھے۔ “ حضرت موسیٰ کے قصے کا یہ حصہ چند مناظر پر مشتمل ہے جن کو دکھانا ضروری تھا۔ ان مناظر کے درمیان گیپ اور وقفے ہیں جن کے اندر منظر پر پردہ گر جاتا ہے او اس کے بعد جب پردہ اٹھتا ہے تو دوسرا منظر نظروں کے سامنے ہوتا ہے۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو پورے قرآن کریم میں قصص کے پیش کرتے وقت محلوظ رہی ہے۔
اس کڑی میں سات مشاہد ہیں۔ پہلے منظر میں اللہ کی جانب سے ندا آتی ہے۔ حضرت موسیٰ رب سے ہمکلام ہوتے ہیں اور ان کو منصب نبوت سے سرفراز کیا جاتا ہے اور ان پر وحی آتی ہے۔ دوسرے منظر میں کلیم اور فرعون کو آمنا سامنا ہوتا ہے۔ اس میں فرعون کے درباری بھی موجود ہیں۔ حضرت موسیٰ رسالت پیش فرماتے ہیں اور عصا اور ید بیضا کے معجزے بھی دکھائے جاتے ہیں۔ تیسرے منظر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جادوگروں کو لایا جاتا ہے۔ ایک وسیع میدان میں لوگ جمع ہو کر مقابل ی کی تدابیر پر بحث ہوتی ہے۔ چوتھے منظر میں جادو گر فرعون کے دربار میں جمع ہیں اور انعام و اکرام کے پکے وعدے لے رہے ہیں۔ اگر وہ میدان مار لیں۔ پانچواں منظر مقابلے کا منظر ہے ، مقابلہ ہوتا ہے ، جادوگر ایمان لاتے ہیں۔ فرعون ان کو دھمکیاں دیتا ہے۔ چھٹے منظر میں دونوں کیمپوں کی جھلکیاں ہیں ایک طرف وحی الٰہی کا منظر ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے کہ تم تیاری کرو اور میرے بندوں کو لے کر رات کے وقت نکل جائو اور دوسری طرف فرعون تمام علاقوں میں اپنے کارندے بھیجتا ہے اور فوجیں جمع ہوتی ہیں۔ ساتویں منظر میں یہ تعاقب کرنے والی افواج اور بھاگنے والوں مسلمان ایک سمندر کے سامنے ہیں۔ سمندر پھٹ جاتا ہے او ان آبی راستوں سے یہ مظلوم پار ہوجاتے ہیں اور ظالم غرق ہوجاتے ہیں۔
یہی مناظر سورت اعراف ، سورت یونس اور سورت طہ میں بھی پیش کئے گئے ہیں۔ لیکن ہر جگہ انداز اور قصے کا رنگ مختلف ہے اور بات جس رخ پر جا رہی ہوتی ہے ، قصے کو بھی اسی انداز پر لایا جاتا ہے۔ چناچہ قصے کا وہ پہلو اجاگر کیا جاتا ہے جو زیر بحث موضوع کے ساتھ متعلق ہو۔
اعراف میں قصے کا آغاز ہی کلیم اور فرعون کے مختصر مکالمے سے ہوا ہے۔ پھر جادوگروں کے ساتھ مقابلے کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے جبکہ فرعون او اس کے سرداروں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو اچھی طرح تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا ہے اور جادوگروں کے مقابلے اور لشکر فرعون کی غرقابی کے درمیان مصر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر میں معجزات دکھاتے ہوئے منظر پر لایا گیا ہے۔ پھر جب یہ لشکر کامیابی کے ساتھ سمندر سے گزر جاتا ہے تو پھر ہجرت کی زندگی کے کئی حلقے پیش کئے گئے ہیں ، جبکہ یہاں اس سورت میں یہ کڑیاں حذف کردی گئی ہیں اور حضرت موسیٰ اور فرعون کے درمیان توحید کے موضوع پر مکالمہ طوالت کے ساتھ دیا گیا ہے کیونکہ یہ اس سورت کا موضوع ہے اور مشرکین مکہ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان یہی مکالمہ زوروں پر ہے اور سورت یونس میں مختصر مکالمہ کلیم و فرعون سے آغاز ہوتا ہے اور عصا اور ید بیضا کے معجزات بھی نہیں دکھائے جاتے اور جادوگروں کے ساتھ مکالمے کی تفصیلات بھی حذف کردی گئی ہیں جبکہ یہاں ان دونوں کو مفصل لایا گیا ہے اور طہ میں حضرت موسیٰ اور رب تعالیٰ کے درمیان مناجات کو مفصل لایا گیا ہے۔ پھر موسیٰ اور فرعون کا سامنا ، جادوگروں کا مقابلہ سرسری طور پر اور بنی اسرائیل کا سفر ہجرت مفصل ہے۔ یہاں فرعون کی غرقابی پر قصہ کے مناظر ختم کردیئے جاتے ہیں۔
اس طرح جب ہم اس قصے کو قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں بار بار پاتے ہیں تو قرآن کے اسلوب بیان کا یہ کمال ہمارے سامنے آتا ہے کہ کسی جگہ بھی ہمیں یہ نظر نہیں آتا کہ یہ وہی قصہ ہے جو دہرایا جا رہا ہے کیونکہ ہر جگہ مختلف کڑیاں دکھائی گئی ہیں۔ مختلف مناظر ہیں۔ قصے کا ایک مخصوص پہلو کھول کر بیان کیا جاتا ہے اور انداز بیان تو ہر جگہ نیا ہوتا ہے۔ یہ تمام خصوصیات قصے کو ہر جگہ نیا بنا دیتی ہیں اور ہر جگہ قصہ اپنے موضوع کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہوتا ہے۔
درس نمبر 162 تشریح آیات
10……تا……68
واذ نادی ……اسرائیل (17)
اس سورت میں جو قصے لائے گئے ان کے ذریعے حضور اکرم ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے۔ ذرا سورت کے آغاز کو ایک بار پھر ملاحظہ فرمائیں۔
لعلک باخع ……یستھزء ون (6) (26 : 3 تا 6) ” اے نبی شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں ، اب جبکہ یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ “ اب جبکہ یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ ‘ ‘ اس تمہید کے بعد یہ تمام قصص لائے گئے ہیں اور ان میں بیان شدہ حصوں کا بنیادی مقصد مکذبین اور مستھزئین کا انجام بتانا ہے۔
واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین (26 : 10) قوم فرعون الا یتقون (26 : 11) ” انہیں اس وقت کا قصہ سنائو جب کہ تمہارے رب نے موسیٰ کو پکارا ” ظالم قوم کے پاس جا…فرعون کی قوم کے پاس …کیا وہ نہیں ڈرتے ؟ “ یہ ہے یہاں اس قصے کا پہلا منظر ، اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو منصب رسالت عطا کر کے ایک مشن دے دیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تم نے ایک ظالم قوم کے پاس جانا ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنی ذات پر ظلم کیا ہے کہ کفر و گمراہی میں مبتلا ہیں۔ پھر انہوں نے بنی اسرائیل پر ظلم کیا ہے کہ وہ ان کی عورتوں کو زندہ رکھتے ہیں اور مردوں کو ذبح کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جگہ جگہ مذاق کرتے ہیں اور طرح طرح کی سزائیں دیتے ہیں۔ اس قوم کی صفات پہلے بیان کرنے کے بعد اب ان کا نام لیا جاتا ہے۔ قوم فرعون کے پاس جائو۔ حضرت موسیٰ اور تمام انسان تعجب کرتے ہیں کہ کیا یہ ظالم قوم اپنے برے انجام سے نہیں ڈرتی۔ کیا ان کو خدا کا خوف نہیں ہے۔ کیا اپنے ان مظالم کا انجام انہیں معلوم نہیں ہے۔ کیا یہ لوگ اس قدر گھنائونے جرائم کے بعد بھی باز نہیں آتے۔ ان کا معاملہ تو عجیب ہے اور تعجب انگیز ہے اور اسی طرح تمام ایسی اقوام کا معاملہ ہے جو حدت گزر جاتی ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے فرعون اور اس کی قوم کا معاملہ کوئی نیا نہیں تھا وہ تو ان کو اچھی طرح جانتے تھے وہ فرعون کے ظلم ، اس کے جبر اور اس کی سرکشی سے اچھی طرح باخبر تھے اور اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ تو ایک عظیم اور مشکل مشن ہے جو ان کے حوالے کردیا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوریاں رکھ دیتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ وہ اس دعوت سے پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں اور مستقلاً معذرت کرنا چاہتے ہیں بلکہ اس مشن کے لئے مزید ضروری امداد اور معاونت کے طلبگار ہیں۔
قال رب انی اخاف ان یکذبون (26 : 12) ویضیق صدری ولاینطلق لسانی فارسل الی ھرون (26 : 31) ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون (26 : 13) اس نے عرض کیا ، ” اے میرے رب ، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھ کو جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ گھٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ آپ ہارون کی طرف رسالت بھیجیں اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے ، اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ “
یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جو بات نقل کی گئی ہے اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے وہ محض تکذیب کے خوف سے یہ فرماتے ہیں بلکہ ان کو رسالت ایسے حالات میں دی جا رہی ہے کہ ان کے دل کے اندر تنگی پائی جاتی ہے اور ان کو طلاقت لسانی کا ملکہ حاصل نہیں ہے۔ رسالت کے سلسلے میں ان کو ہر کسی سے مباحثہ اور گفتگو کرنی ہوگی اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان کی زبان میں لکنت ہے اور اس کے بارے میں سورت طہ میں انہوں نے تصریح فرمائی ہے۔
واحلل عقدہ من لسانی یفقھوا قولی ” اور میری زبان میں جو گرہ ہے اسے کھول دے تاکہ وہ میری بات کو سمجھیں۔ “ جب انسان کی زبان میں لکنت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے سینہ میں تنگی پیدا جاتی ہے۔ یہ تنگی اس وقت سخت تکلیف دہ ہوتی ہے کہ انسان بات کرنا چاہتا ہے اور جذبات کے ساتھ دلائل کا اظہار چاہتا ہے اور زبان اس وقت ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ جوں جوں خیالات اور جذبات کا سیلاب رواں ہوتا ہے ، زبان بند ہوتی ہے اور دل تنگ ہوجاتا ہے اور انسان کی حالت قابل دید ہوتی ہے۔ یہ صورت حال ہر کسی کی دیکھی ہوتی ہے۔ اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یشان ہیں کہ اگر ایسے حالات میں ان کی زبان کو گرہ لگ جائے تو بڑی عجیب پوزیشن ہوگی۔ خصوصاً جبکہ مقابلہ فرعون جیسے قہار و جبار کے ساتھ ہو۔ چناچہ حضرت نے اپنی کمزور یاپنے رب کے سامنے رکھی اور ساتھ ہی یہ درخواست بھی کی کہ حضرت ہارون کو بھی مقام رسالت عطا کردیا جائے۔ ان کو بھی اس منصب میں شریک کردیا جائے تاکہ وہ دونوں مل کر اس عظیم فریضے کو ادا کریں۔ مقصد یہ نہ تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس منصب کو قبول کرنے سے ہچکچا رہے ہیں یا پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں اور حضرت ہارون چونکہ حضرت موسیٰ سے زیادہ فصیح اللسان تھے اور جذباتی اعتبار سے وہ ٹھنڈے دل دماغ کے مالک تھے ۔ جب دوران کلام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان کو اگر گرہ لگ گئی تو حضرت ہارون ساتھ موجود ہوں گے وہ استدلال اور مکالمے کو آگے بڑھائیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی اس لکنت کو دور کرنے کے لئے خصوصی دعا بھی فرمائی جس طرح سورت طہ میں ہے اور ہو سکتا ہے کہ اللہ نے اسے دور بھی کردیا ہو لیکن آپ نے پھر بھی حضرت ہارون کو شریک منصب کرنے کے لئے دعا فرمائی اور فرمایا کہ انہیں ان کے لئے وزیر مقرر فرمایا جائے۔
اسی طرح حضرت نے فرمایا۔
ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون (26 : 13) ” اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ “ لہٰذا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے مقابلہ کرنے سے نہیں ڈرتے تھے اور نہ وہ ادائیگی فرض سے پہلوتہی چاہتے تھے بلکہ آپ حضرت ہارون کو وزیر اور شریک کار مقرر کروانا چاہتے تھے کہ اگر یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جرم قتل میں سزائے موت دے دیں تو ان کے بعد رسالت کا کام حضرت ہارون جاری رکھیں اور اس طرح فریضہ رسالت ادا ہوتا رہے جس طرح اللہ کا حکم تھا۔
چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ احتیاطی تدابیر دعوت اسلامی اور رسالت کی خاطر اختیار کیں۔ داعی کی ذات کے لئے کچھ زیادہ فکر نہ تھی۔ یعنی اگر حضرت موسیٰ کی زبان کو گروہ لگ جائے او آپ تقریر نہ کرسکیں تو حضرت ہارون تیار ہوں ، یہ نہ ہو کہ نیا آنے والا نبی لوگوں کے سامنے تقریر کر رہا ہے اور اچانک اس کی بات ہی رک جائے اور اس طرح دعوت اسلامی کو ایک کمزوری کا سامنا کرنا پڑے۔ اسی طرح اگر ان کو قتل ہی کردیا جائے تو دعوت کا کام ہی رک جائے۔ حالانکہ دعوت کا کام جاری رہنا ضروری ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ سوچ بالکل فطری تھی۔ اس لئے کہ اللہ نے ان کو منتخب ہی اسی کام کے لئے کیا تھا اور اللہ نے اپنی نگرانی میں ان کی تربیت ہی اسی مقصد کے لئے فرمانی تھی اور ان کو اللہ نے اپنے کام کے لئے ہی بنایا تھا۔
جب حضرت موسیٰ نے اپنی اس دلچسپی کا اظہار کیا ، دعوت کے بارے میں اپنے خدشات اور احتیاطی تدابیر کا اظہار کیا تو اللہ نے ان کی درخواست قبول کرلی۔ اور آپ کو تسلی دے دی کہ آپ ڈریں نہیں ، یہاں قبولیت دعا کا مرحلہ نہایت ہی مختصر ہے۔ ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنانا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مصر میں پہنچنا ، ہارون (علیہ السلام) سے ملنا ، تمام واقعاتک و حذف کر کے صرف یہ دکھایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون دونوں اپنے رب کے احکام لے کر فرعون کے ساتھ ہمکلام ہونے کی تیاری کر رہے ہیں لیکن حضرت موسیٰ کے خدشات کو صرف ایک ہی سخت لفظ سے روکا جاتا ہے جو غنی کے معنی میں آتا ہے اور جو تنبیہ کے لئے ہے کلا ” ہرگز نہیں۔ “
قال کلا ……اسرائیل (18) (26 : 15 تا 18) ” فرمایا ” ہرگز نہیں ، تم دونوں جائو ہماری نشانیاں لے کر ، ہم تمہار یساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے۔ فرعون کے پاس جائو او اس سے کہو ہم کو رب العالمین نے اس لئے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔ ہرگز نہیں نہ تمہارا دل تنگ ہوگا اور نہ تمہاری زبان میں لکنت ہوگی اور وہ ہرگز تمہیں قتل نہ کرسکیں گے۔ یہ سب خدشات آپ اپنے دل سے نکال دیں تم اور تمہارا بھائی دونوں جائو۔
فاذھبا بایتنا (26 : 15) ” جائو ہماری نشانیاں لے کر “ ان نشانیوں میں سے عصا اور ید بیضا کی نشانی تو حضرت موسیٰ نے دیکھی ہوئی تھی۔ یہاں ان سب باتوں کو مختصر کردیا جاتا ہے کیونکہ اس سورت میں پیش نظر فرعون کے سامنے رسالت کا پیش کرنا ، جادوگروں کے کرتب دکھانا اور فرعون کی غرقابی کی منظر کشی کرنا ہے۔ جائو انا معکم مستمعون (26 : 15) ” ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے “ نہایت ہی زور دار اور تاکیدی الفاظ میں کہا جاتا ہے ، جائو تمہیں اللہ کی حمایت یا رعایت اور تحفظ حاصل ہے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے جس طرح وہ ہر وقت ، ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے لیکن یہاں اللہ کی موجودگی کا مقصد یہ ہے کہ ہم تمہاری مدد اور تائید کے لئے حاضر ہیں۔
یہاں نصرت و تائید کا یقین یوں دلایا گیا ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں ، سن رہے ہیں یعنی حضوری اور توجہ انسانوں کے نزدیک اپنے عروج پر ہوتی ہے جب انسان سنتا ہے اس لئے ان کو یہ یقین دلایا جا رہا ہے کہ میری امداد اور نصرت ہر وقت حاضر ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز کہ وہ ہر چیز کو ایک شخص اور مجسم صورت میں پیش کرتا ہے۔ اذھبا ” جائو “
فاتبا فرعون ” فرعون کے پاس جائو “ اور اس کو اپن یمہم سے آگاہ کردیا اور بغیر کسی خوف کے اس کے سامنے اپنا مطلب صاف صاف بیان کر دو ۔
فقولا انا رسول رب العلمین (26 : 16) ” کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں۔ ‘ یہ تو دو ہیں لیکن چونکہ ہم ایک ہیں ، رسالت ایک ہے ، اس لئے دونوں ایک رسول ہیں۔ یہ اس فرعون کے سامنے کھڑے ہیں جو الوہیت کا دعویٰ کرتا تھا اور اپنی قوم کو یوں باور کراتا تھا۔
ماعلمت لکم من الہ غیری ” میں تمہارے لئے ، اپنے سوا کسی دوسرے الہ کو نہیں جانتا۔ “ یوں اس فرعون کے سامنے سب سے پہلے اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں یعنی وہ عالمین کا رب ہے اور وہ عالمین کا رب ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور اس میں کوئی مداہنت اور لیپا پوتی نہیں ہو سکتی۔
انا رسول رب العلمین (26 : 16) ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (26 : 18) ” ہم کو رب العالمین نے اس لئے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ “ قصہ موسیٰ کے ان اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو فرعون کے پاس اس لئے رسول بنا کر نہ بھیجا تھا کہ حضرت موسیٰ فرعون اور اس کی قوم کو دین اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دیں اور اسلام کے دین کو قبول کریں بلکہ ان کے پاس صرف اس لئے بھیجا گیا تھا کہ فرعون اور اس کی قوم سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کردیں۔ وہ اس کی غلامی سے آزاد ہوجائیں اور پھر جس طرح چاہیں اپنے رب کی بندگی کریں۔ وہ تو پہلے سے دین اسلام کے پیروکار تھے۔ حضرت یعقوب ، حضرت یوسف کے دین کو مانتے تھے البتہ ان کے نظریات اور ان کے ذہن میں انحراف ہوگیا تھا ان کے عقائد میں بگاڑ پیدا وہ گیا تھا اس لئے اللہ نے ان کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو دوبارہ ارسال کیا کہ وہ ان کے عقائد بھی درست کردیں اور ان کو فرعون کی غلامی سے بھی نجات دلائیں اور ان کو اچھی تربیت دے کر دوبارہ عقیدہ توحید پر قائم کردیں۔
……
یہاں تک تو ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو نبوت عطا ہوئی ، ان پر وحی آئی اور ان کو دعوت اسلامی کا مشن عطا ہوا۔ اب پردہ گرتا ہے اور دوسرے منظر میں پھر ہم فرعون کے دربار میں کھڑے ہیں۔ ان دونوں مناظر کے درمیان جو غیر ضروری افعال و حرکات ہیں ان کو کاٹ دیا جاتا ہے اور یہ قرآن کریم کا ایک مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ مناظر و مشاہد کے درمیان سے غیر ضروری حصے کاٹ دیتا ہے یا مختصر کردیتا ہے۔
الشعراء 26:12
درس نمبر 162 ایک نظر میں
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا یہ حصہ ، اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ بہت ہی ہم آہنگ ہے۔ اس سورت میں مدار کلام زیادہ تر اس پر ہے کہ مکذبین کا انجام کیسا ہوا کرتا ہے۔ پھر اس سورت میں بھی حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور مشرکین کی جانب سے روگردانی اور تکذیب کے نتیجے میں آپ کو جو مشکلات درپیش تھیں۔ ان پر آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی اس سورت کا موضوع سخن ہے۔ پھر اس سورت میں اس بات کی یقین دہانی بھی ہے کہ اس دعوت اور اس کی حامل تحریک کا حامی و مددگار اور محافظ اللہ ہے۔ اگرچہ یہ لوگ کمزور ہیں اور ان کے مخالفین زاد و عتاد یعنی ساز و سامان سے لیس ہیں۔ اہل قوت اور جبار ہیں اور ان پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔ کیونکہ اس سورت کے نزول کے وقت مکہ میں تحریک اسلامی کچھ ایسے ہی حالات سے گزر رہی تھی۔ انبیائے سابقین کے قصص قرآن کے منہاج تربیت میں ایک اہم مواد اور وسائل تربیت ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی بعض کڑیاں سورت بقرہ ، سورت مائدہ ، سورت اعراف ، سورت یونس ، سورت اسرائ، سورت کہف اور سور طہ میں گزر چکی ہیں۔ جبکہ بعض دوسری سورتوں میں بھی حیات موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف مجمل سے اشارات موجود ہیں۔
جہاں جہاں بھی اس قصے کی کڑی کی طرف کوئی اشارہ آیا ہے یا کوئی کڑی تفصیل کے ساتھ دی گئی ہے وہاں موضوع سخن کے ساتھ وہ کڑی اور وہ حصہ نہایت ہی موزوں رہا ہے ہر جگہ سیاق کلام کے ساتھ مناسب حصہ لایا گیا ہے۔ جس طرح اس قصے میں جو کڑیاں ہیں وہ اس سورت کے موضوع کے ساتھ متناسب ہیں اور اسی مقصد کو واضح کرتی ہیں۔ (تفصیلات کے لئے دیکھیے فی ظلال پارہ ششم)
یہاں جو حلقہ دیا گیا ہے وہ رسالت او اس کی تکذیب کے ساتھ متعلق ہے اور تکذیب نیز حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سازش کی وجہ سے فرعون اور اس کی قوم کی غرقابی کے واقعات دیئے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھی ظالموں کے چنگل سے ربانی پا گئے ۔ چناچہ یہ پوری کڑی اس آیت کی تصدیق ہے۔
وسیعلم الذین طلموا ای منقلب ینقلبون (26 : 228) ” اور عنقریب جان لیں گے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا کہ وہ کس انجام تک پہنچتے ہیں۔ “ اور اللہ کے اس قول کی بھی تصدیق ہے۔
فقد کذبوا فسیاتیھم انبوا ماکانوا بہ یستھزء ون (26 : 6) ” اب جبکہ انہوں نے جھٹلا دیا تو عنقریب پہنچ جائیں گی ان تک خبریں اس چیز کی جس کے ساتھ وہ مذاق کرتے تھے۔ “ حضرت موسیٰ کے قصے کا یہ حصہ چند مناظر پر مشتمل ہے جن کو دکھانا ضروری تھا۔ ان مناظر کے درمیان گیپ اور وقفے ہیں جن کے اندر منظر پر پردہ گر جاتا ہے او اس کے بعد جب پردہ اٹھتا ہے تو دوسرا منظر نظروں کے سامنے ہوتا ہے۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو پورے قرآن کریم میں قصص کے پیش کرتے وقت محلوظ رہی ہے۔
اس کڑی میں سات مشاہد ہیں۔ پہلے منظر میں اللہ کی جانب سے ندا آتی ہے۔ حضرت موسیٰ رب سے ہمکلام ہوتے ہیں اور ان کو منصب نبوت سے سرفراز کیا جاتا ہے اور ان پر وحی آتی ہے۔ دوسرے منظر میں کلیم اور فرعون کو آمنا سامنا ہوتا ہے۔ اس میں فرعون کے درباری بھی موجود ہیں۔ حضرت موسیٰ رسالت پیش فرماتے ہیں اور عصا اور ید بیضا کے معجزے بھی دکھائے جاتے ہیں۔ تیسرے منظر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جادوگروں کو لایا جاتا ہے۔ ایک وسیع میدان میں لوگ جمع ہو کر مقابل ی کی تدابیر پر بحث ہوتی ہے۔ چوتھے منظر میں جادو گر فرعون کے دربار میں جمع ہیں اور انعام و اکرام کے پکے وعدے لے رہے ہیں۔ اگر وہ میدان مار لیں۔ پانچواں منظر مقابلے کا منظر ہے ، مقابلہ ہوتا ہے ، جادوگر ایمان لاتے ہیں۔ فرعون ان کو دھمکیاں دیتا ہے۔ چھٹے منظر میں دونوں کیمپوں کی جھلکیاں ہیں ایک طرف وحی الٰہی کا منظر ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے کہ تم تیاری کرو اور میرے بندوں کو لے کر رات کے وقت نکل جائو اور دوسری طرف فرعون تمام علاقوں میں اپنے کارندے بھیجتا ہے اور فوجیں جمع ہوتی ہیں۔ ساتویں منظر میں یہ تعاقب کرنے والی افواج اور بھاگنے والوں مسلمان ایک سمندر کے سامنے ہیں۔ سمندر پھٹ جاتا ہے او ان آبی راستوں سے یہ مظلوم پار ہوجاتے ہیں اور ظالم غرق ہوجاتے ہیں۔
یہی مناظر سورت اعراف ، سورت یونس اور سورت طہ میں بھی پیش کئے گئے ہیں۔ لیکن ہر جگہ انداز اور قصے کا رنگ مختلف ہے اور بات جس رخ پر جا رہی ہوتی ہے ، قصے کو بھی اسی انداز پر لایا جاتا ہے۔ چناچہ قصے کا وہ پہلو اجاگر کیا جاتا ہے جو زیر بحث موضوع کے ساتھ متعلق ہو۔
اعراف میں قصے کا آغاز ہی کلیم اور فرعون کے مختصر مکالمے سے ہوا ہے۔ پھر جادوگروں کے ساتھ مقابلے کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے جبکہ فرعون او اس کے سرداروں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو اچھی طرح تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا ہے اور جادوگروں کے مقابلے اور لشکر فرعون کی غرقابی کے درمیان مصر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر میں معجزات دکھاتے ہوئے منظر پر لایا گیا ہے۔ پھر جب یہ لشکر کامیابی کے ساتھ سمندر سے گزر جاتا ہے تو پھر ہجرت کی زندگی کے کئی حلقے پیش کئے گئے ہیں ، جبکہ یہاں اس سورت میں یہ کڑیاں حذف کردی گئی ہیں اور حضرت موسیٰ اور فرعون کے درمیان توحید کے موضوع پر مکالمہ طوالت کے ساتھ دیا گیا ہے کیونکہ یہ اس سورت کا موضوع ہے اور مشرکین مکہ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان یہی مکالمہ زوروں پر ہے اور سورت یونس میں مختصر مکالمہ کلیم و فرعون سے آغاز ہوتا ہے اور عصا اور ید بیضا کے معجزات بھی نہیں دکھائے جاتے اور جادوگروں کے ساتھ مکالمے کی تفصیلات بھی حذف کردی گئی ہیں جبکہ یہاں ان دونوں کو مفصل لایا گیا ہے اور طہ میں حضرت موسیٰ اور رب تعالیٰ کے درمیان مناجات کو مفصل لایا گیا ہے۔ پھر موسیٰ اور فرعون کا سامنا ، جادوگروں کا مقابلہ سرسری طور پر اور بنی اسرائیل کا سفر ہجرت مفصل ہے۔ یہاں فرعون کی غرقابی پر قصہ کے مناظر ختم کردیئے جاتے ہیں۔
اس طرح جب ہم اس قصے کو قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں بار بار پاتے ہیں تو قرآن کے اسلوب بیان کا یہ کمال ہمارے سامنے آتا ہے کہ کسی جگہ بھی ہمیں یہ نظر نہیں آتا کہ یہ وہی قصہ ہے جو دہرایا جا رہا ہے کیونکہ ہر جگہ مختلف کڑیاں دکھائی گئی ہیں۔ مختلف مناظر ہیں۔ قصے کا ایک مخصوص پہلو کھول کر بیان کیا جاتا ہے اور انداز بیان تو ہر جگہ نیا ہوتا ہے۔ یہ تمام خصوصیات قصے کو ہر جگہ نیا بنا دیتی ہیں اور ہر جگہ قصہ اپنے موضوع کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہوتا ہے۔
درس نمبر 162 تشریح آیات
10……تا……68
واذ نادی ……اسرائیل (17)
اس سورت میں جو قصے لائے گئے ان کے ذریعے حضور اکرم ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے۔ ذرا سورت کے آغاز کو ایک بار پھر ملاحظہ فرمائیں۔
لعلک باخع ……یستھزء ون (6) (26 : 3 تا 6) ” اے نبی شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں ، اب جبکہ یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ “ اب جبکہ یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ ‘ ‘ اس تمہید کے بعد یہ تمام قصص لائے گئے ہیں اور ان میں بیان شدہ حصوں کا بنیادی مقصد مکذبین اور مستھزئین کا انجام بتانا ہے۔
واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین (26 : 10) قوم فرعون الا یتقون (26 : 11) ” انہیں اس وقت کا قصہ سنائو جب کہ تمہارے رب نے موسیٰ کو پکارا ” ظالم قوم کے پاس جا…فرعون کی قوم کے پاس …کیا وہ نہیں ڈرتے ؟ “ یہ ہے یہاں اس قصے کا پہلا منظر ، اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو منصب رسالت عطا کر کے ایک مشن دے دیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تم نے ایک ظالم قوم کے پاس جانا ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنی ذات پر ظلم کیا ہے کہ کفر و گمراہی میں مبتلا ہیں۔ پھر انہوں نے بنی اسرائیل پر ظلم کیا ہے کہ وہ ان کی عورتوں کو زندہ رکھتے ہیں اور مردوں کو ذبح کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جگہ جگہ مذاق کرتے ہیں اور طرح طرح کی سزائیں دیتے ہیں۔ اس قوم کی صفات پہلے بیان کرنے کے بعد اب ان کا نام لیا جاتا ہے۔ قوم فرعون کے پاس جائو۔ حضرت موسیٰ اور تمام انسان تعجب کرتے ہیں کہ کیا یہ ظالم قوم اپنے برے انجام سے نہیں ڈرتی۔ کیا ان کو خدا کا خوف نہیں ہے۔ کیا اپنے ان مظالم کا انجام انہیں معلوم نہیں ہے۔ کیا یہ لوگ اس قدر گھنائونے جرائم کے بعد بھی باز نہیں آتے۔ ان کا معاملہ تو عجیب ہے اور تعجب انگیز ہے اور اسی طرح تمام ایسی اقوام کا معاملہ ہے جو حدت گزر جاتی ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے فرعون اور اس کی قوم کا معاملہ کوئی نیا نہیں تھا وہ تو ان کو اچھی طرح جانتے تھے وہ فرعون کے ظلم ، اس کے جبر اور اس کی سرکشی سے اچھی طرح باخبر تھے اور اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ تو ایک عظیم اور مشکل مشن ہے جو ان کے حوالے کردیا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوریاں رکھ دیتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ وہ اس دعوت سے پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں اور مستقلاً معذرت کرنا چاہتے ہیں بلکہ اس مشن کے لئے مزید ضروری امداد اور معاونت کے طلبگار ہیں۔
قال رب انی اخاف ان یکذبون (26 : 12) ویضیق صدری ولاینطلق لسانی فارسل الی ھرون (26 : 31) ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون (26 : 13) اس نے عرض کیا ، ” اے میرے رب ، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھ کو جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ گھٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ آپ ہارون کی طرف رسالت بھیجیں اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے ، اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ “
یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جو بات نقل کی گئی ہے اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے وہ محض تکذیب کے خوف سے یہ فرماتے ہیں بلکہ ان کو رسالت ایسے حالات میں دی جا رہی ہے کہ ان کے دل کے اندر تنگی پائی جاتی ہے اور ان کو طلاقت لسانی کا ملکہ حاصل نہیں ہے۔ رسالت کے سلسلے میں ان کو ہر کسی سے مباحثہ اور گفتگو کرنی ہوگی اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان کی زبان میں لکنت ہے اور اس کے بارے میں سورت طہ میں انہوں نے تصریح فرمائی ہے۔
واحلل عقدہ من لسانی یفقھوا قولی ” اور میری زبان میں جو گرہ ہے اسے کھول دے تاکہ وہ میری بات کو سمجھیں۔ “ جب انسان کی زبان میں لکنت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے سینہ میں تنگی پیدا جاتی ہے۔ یہ تنگی اس وقت سخت تکلیف دہ ہوتی ہے کہ انسان بات کرنا چاہتا ہے اور جذبات کے ساتھ دلائل کا اظہار چاہتا ہے اور زبان اس وقت ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ جوں جوں خیالات اور جذبات کا سیلاب رواں ہوتا ہے ، زبان بند ہوتی ہے اور دل تنگ ہوجاتا ہے اور انسان کی حالت قابل دید ہوتی ہے۔ یہ صورت حال ہر کسی کی دیکھی ہوتی ہے۔ اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یشان ہیں کہ اگر ایسے حالات میں ان کی زبان کو گرہ لگ جائے تو بڑی عجیب پوزیشن ہوگی۔ خصوصاً جبکہ مقابلہ فرعون جیسے قہار و جبار کے ساتھ ہو۔ چناچہ حضرت نے اپنی کمزور یاپنے رب کے سامنے رکھی اور ساتھ ہی یہ درخواست بھی کی کہ حضرت ہارون کو بھی مقام رسالت عطا کردیا جائے۔ ان کو بھی اس منصب میں شریک کردیا جائے تاکہ وہ دونوں مل کر اس عظیم فریضے کو ادا کریں۔ مقصد یہ نہ تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس منصب کو قبول کرنے سے ہچکچا رہے ہیں یا پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں اور حضرت ہارون چونکہ حضرت موسیٰ سے زیادہ فصیح اللسان تھے اور جذباتی اعتبار سے وہ ٹھنڈے دل دماغ کے مالک تھے ۔ جب دوران کلام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان کو اگر گرہ لگ گئی تو حضرت ہارون ساتھ موجود ہوں گے وہ استدلال اور مکالمے کو آگے بڑھائیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی اس لکنت کو دور کرنے کے لئے خصوصی دعا بھی فرمائی جس طرح سورت طہ میں ہے اور ہو سکتا ہے کہ اللہ نے اسے دور بھی کردیا ہو لیکن آپ نے پھر بھی حضرت ہارون کو شریک منصب کرنے کے لئے دعا فرمائی اور فرمایا کہ انہیں ان کے لئے وزیر مقرر فرمایا جائے۔
اسی طرح حضرت نے فرمایا۔
ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون (26 : 13) ” اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ “ لہٰذا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے مقابلہ کرنے سے نہیں ڈرتے تھے اور نہ وہ ادائیگی فرض سے پہلوتہی چاہتے تھے بلکہ آپ حضرت ہارون کو وزیر اور شریک کار مقرر کروانا چاہتے تھے کہ اگر یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جرم قتل میں سزائے موت دے دیں تو ان کے بعد رسالت کا کام حضرت ہارون جاری رکھیں اور اس طرح فریضہ رسالت ادا ہوتا رہے جس طرح اللہ کا حکم تھا۔
چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ احتیاطی تدابیر دعوت اسلامی اور رسالت کی خاطر اختیار کیں۔ داعی کی ذات کے لئے کچھ زیادہ فکر نہ تھی۔ یعنی اگر حضرت موسیٰ کی زبان کو گروہ لگ جائے او آپ تقریر نہ کرسکیں تو حضرت ہارون تیار ہوں ، یہ نہ ہو کہ نیا آنے والا نبی لوگوں کے سامنے تقریر کر رہا ہے اور اچانک اس کی بات ہی رک جائے اور اس طرح دعوت اسلامی کو ایک کمزوری کا سامنا کرنا پڑے۔ اسی طرح اگر ان کو قتل ہی کردیا جائے تو دعوت کا کام ہی رک جائے۔ حالانکہ دعوت کا کام جاری رہنا ضروری ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ سوچ بالکل فطری تھی۔ اس لئے کہ اللہ نے ان کو منتخب ہی اسی کام کے لئے کیا تھا اور اللہ نے اپنی نگرانی میں ان کی تربیت ہی اسی مقصد کے لئے فرمانی تھی اور ان کو اللہ نے اپنے کام کے لئے ہی بنایا تھا۔
جب حضرت موسیٰ نے اپنی اس دلچسپی کا اظہار کیا ، دعوت کے بارے میں اپنے خدشات اور احتیاطی تدابیر کا اظہار کیا تو اللہ نے ان کی درخواست قبول کرلی۔ اور آپ کو تسلی دے دی کہ آپ ڈریں نہیں ، یہاں قبولیت دعا کا مرحلہ نہایت ہی مختصر ہے۔ ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنانا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مصر میں پہنچنا ، ہارون (علیہ السلام) سے ملنا ، تمام واقعاتک و حذف کر کے صرف یہ دکھایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون دونوں اپنے رب کے احکام لے کر فرعون کے ساتھ ہمکلام ہونے کی تیاری کر رہے ہیں لیکن حضرت موسیٰ کے خدشات کو صرف ایک ہی سخت لفظ سے روکا جاتا ہے جو غنی کے معنی میں آتا ہے اور جو تنبیہ کے لئے ہے کلا ” ہرگز نہیں۔ “
قال کلا ……اسرائیل (18) (26 : 15 تا 18) ” فرمایا ” ہرگز نہیں ، تم دونوں جائو ہماری نشانیاں لے کر ، ہم تمہار یساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے۔ فرعون کے پاس جائو او اس سے کہو ہم کو رب العالمین نے اس لئے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔ ہرگز نہیں نہ تمہارا دل تنگ ہوگا اور نہ تمہاری زبان میں لکنت ہوگی اور وہ ہرگز تمہیں قتل نہ کرسکیں گے۔ یہ سب خدشات آپ اپنے دل سے نکال دیں تم اور تمہارا بھائی دونوں جائو۔
فاذھبا بایتنا (26 : 15) ” جائو ہماری نشانیاں لے کر “ ان نشانیوں میں سے عصا اور ید بیضا کی نشانی تو حضرت موسیٰ نے دیکھی ہوئی تھی۔ یہاں ان سب باتوں کو مختصر کردیا جاتا ہے کیونکہ اس سورت میں پیش نظر فرعون کے سامنے رسالت کا پیش کرنا ، جادوگروں کے کرتب دکھانا اور فرعون کی غرقابی کی منظر کشی کرنا ہے۔ جائو انا معکم مستمعون (26 : 15) ” ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے “ نہایت ہی زور دار اور تاکیدی الفاظ میں کہا جاتا ہے ، جائو تمہیں اللہ کی حمایت یا رعایت اور تحفظ حاصل ہے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے جس طرح وہ ہر وقت ، ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے لیکن یہاں اللہ کی موجودگی کا مقصد یہ ہے کہ ہم تمہاری مدد اور تائید کے لئے حاضر ہیں۔
یہاں نصرت و تائید کا یقین یوں دلایا گیا ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں ، سن رہے ہیں یعنی حضوری اور توجہ انسانوں کے نزدیک اپنے عروج پر ہوتی ہے جب انسان سنتا ہے اس لئے ان کو یہ یقین دلایا جا رہا ہے کہ میری امداد اور نصرت ہر وقت حاضر ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز کہ وہ ہر چیز کو ایک شخص اور مجسم صورت میں پیش کرتا ہے۔ اذھبا ” جائو “
فاتبا فرعون ” فرعون کے پاس جائو “ اور اس کو اپن یمہم سے آگاہ کردیا اور بغیر کسی خوف کے اس کے سامنے اپنا مطلب صاف صاف بیان کر دو ۔
فقولا انا رسول رب العلمین (26 : 16) ” کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں۔ ‘ یہ تو دو ہیں لیکن چونکہ ہم ایک ہیں ، رسالت ایک ہے ، اس لئے دونوں ایک رسول ہیں۔ یہ اس فرعون کے سامنے کھڑے ہیں جو الوہیت کا دعویٰ کرتا تھا اور اپنی قوم کو یوں باور کراتا تھا۔
ماعلمت لکم من الہ غیری ” میں تمہارے لئے ، اپنے سوا کسی دوسرے الہ کو نہیں جانتا۔ “ یوں اس فرعون کے سامنے سب سے پہلے اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں یعنی وہ عالمین کا رب ہے اور وہ عالمین کا رب ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور اس میں کوئی مداہنت اور لیپا پوتی نہیں ہو سکتی۔
انا رسول رب العلمین (26 : 16) ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (26 : 18) ” ہم کو رب العالمین نے اس لئے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ “ قصہ موسیٰ کے ان اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو فرعون کے پاس اس لئے رسول بنا کر نہ بھیجا تھا کہ حضرت موسیٰ فرعون اور اس کی قوم کو دین اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دیں اور اسلام کے دین کو قبول کریں بلکہ ان کے پاس صرف اس لئے بھیجا گیا تھا کہ فرعون اور اس کی قوم سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کردیں۔ وہ اس کی غلامی سے آزاد ہوجائیں اور پھر جس طرح چاہیں اپنے رب کی بندگی کریں۔ وہ تو پہلے سے دین اسلام کے پیروکار تھے۔ حضرت یعقوب ، حضرت یوسف کے دین کو مانتے تھے البتہ ان کے نظریات اور ان کے ذہن میں انحراف ہوگیا تھا ان کے عقائد میں بگاڑ پیدا وہ گیا تھا اس لئے اللہ نے ان کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو دوبارہ ارسال کیا کہ وہ ان کے عقائد بھی درست کردیں اور ان کو فرعون کی غلامی سے بھی نجات دلائیں اور ان کو اچھی تربیت دے کر دوبارہ عقیدہ توحید پر قائم کردیں۔
……
یہاں تک تو ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو نبوت عطا ہوئی ، ان پر وحی آئی اور ان کو دعوت اسلامی کا مشن عطا ہوا۔ اب پردہ گرتا ہے اور دوسرے منظر میں پھر ہم فرعون کے دربار میں کھڑے ہیں۔ ان دونوں مناظر کے درمیان جو غیر ضروری افعال و حرکات ہیں ان کو کاٹ دیا جاتا ہے اور یہ قرآن کریم کا ایک مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ مناظر و مشاہد کے درمیان سے غیر ضروری حصے کاٹ دیتا ہے یا مختصر کردیتا ہے۔
الشعراء 26:13
درس نمبر 162 ایک نظر میں
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا یہ حصہ ، اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ بہت ہی ہم آہنگ ہے۔ اس سورت میں مدار کلام زیادہ تر اس پر ہے کہ مکذبین کا انجام کیسا ہوا کرتا ہے۔ پھر اس سورت میں بھی حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور مشرکین کی جانب سے روگردانی اور تکذیب کے نتیجے میں آپ کو جو مشکلات درپیش تھیں۔ ان پر آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی اس سورت کا موضوع سخن ہے۔ پھر اس سورت میں اس بات کی یقین دہانی بھی ہے کہ اس دعوت اور اس کی حامل تحریک کا حامی و مددگار اور محافظ اللہ ہے۔ اگرچہ یہ لوگ کمزور ہیں اور ان کے مخالفین زاد و عتاد یعنی ساز و سامان سے لیس ہیں۔ اہل قوت اور جبار ہیں اور ان پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔ کیونکہ اس سورت کے نزول کے وقت مکہ میں تحریک اسلامی کچھ ایسے ہی حالات سے گزر رہی تھی۔ انبیائے سابقین کے قصص قرآن کے منہاج تربیت میں ایک اہم مواد اور وسائل تربیت ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی بعض کڑیاں سورت بقرہ ، سورت مائدہ ، سورت اعراف ، سورت یونس ، سورت اسرائ، سورت کہف اور سور طہ میں گزر چکی ہیں۔ جبکہ بعض دوسری سورتوں میں بھی حیات موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف مجمل سے اشارات موجود ہیں۔
جہاں جہاں بھی اس قصے کی کڑی کی طرف کوئی اشارہ آیا ہے یا کوئی کڑی تفصیل کے ساتھ دی گئی ہے وہاں موضوع سخن کے ساتھ وہ کڑی اور وہ حصہ نہایت ہی موزوں رہا ہے ہر جگہ سیاق کلام کے ساتھ مناسب حصہ لایا گیا ہے۔ جس طرح اس قصے میں جو کڑیاں ہیں وہ اس سورت کے موضوع کے ساتھ متناسب ہیں اور اسی مقصد کو واضح کرتی ہیں۔ (تفصیلات کے لئے دیکھیے فی ظلال پارہ ششم)
یہاں جو حلقہ دیا گیا ہے وہ رسالت او اس کی تکذیب کے ساتھ متعلق ہے اور تکذیب نیز حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سازش کی وجہ سے فرعون اور اس کی قوم کی غرقابی کے واقعات دیئے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھی ظالموں کے چنگل سے ربانی پا گئے ۔ چناچہ یہ پوری کڑی اس آیت کی تصدیق ہے۔
وسیعلم الذین طلموا ای منقلب ینقلبون (26 : 228) ” اور عنقریب جان لیں گے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا کہ وہ کس انجام تک پہنچتے ہیں۔ “ اور اللہ کے اس قول کی بھی تصدیق ہے۔
فقد کذبوا فسیاتیھم انبوا ماکانوا بہ یستھزء ون (26 : 6) ” اب جبکہ انہوں نے جھٹلا دیا تو عنقریب پہنچ جائیں گی ان تک خبریں اس چیز کی جس کے ساتھ وہ مذاق کرتے تھے۔ “ حضرت موسیٰ کے قصے کا یہ حصہ چند مناظر پر مشتمل ہے جن کو دکھانا ضروری تھا۔ ان مناظر کے درمیان گیپ اور وقفے ہیں جن کے اندر منظر پر پردہ گر جاتا ہے او اس کے بعد جب پردہ اٹھتا ہے تو دوسرا منظر نظروں کے سامنے ہوتا ہے۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو پورے قرآن کریم میں قصص کے پیش کرتے وقت محلوظ رہی ہے۔
اس کڑی میں سات مشاہد ہیں۔ پہلے منظر میں اللہ کی جانب سے ندا آتی ہے۔ حضرت موسیٰ رب سے ہمکلام ہوتے ہیں اور ان کو منصب نبوت سے سرفراز کیا جاتا ہے اور ان پر وحی آتی ہے۔ دوسرے منظر میں کلیم اور فرعون کو آمنا سامنا ہوتا ہے۔ اس میں فرعون کے درباری بھی موجود ہیں۔ حضرت موسیٰ رسالت پیش فرماتے ہیں اور عصا اور ید بیضا کے معجزے بھی دکھائے جاتے ہیں۔ تیسرے منظر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جادوگروں کو لایا جاتا ہے۔ ایک وسیع میدان میں لوگ جمع ہو کر مقابل ی کی تدابیر پر بحث ہوتی ہے۔ چوتھے منظر میں جادو گر فرعون کے دربار میں جمع ہیں اور انعام و اکرام کے پکے وعدے لے رہے ہیں۔ اگر وہ میدان مار لیں۔ پانچواں منظر مقابلے کا منظر ہے ، مقابلہ ہوتا ہے ، جادوگر ایمان لاتے ہیں۔ فرعون ان کو دھمکیاں دیتا ہے۔ چھٹے منظر میں دونوں کیمپوں کی جھلکیاں ہیں ایک طرف وحی الٰہی کا منظر ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے کہ تم تیاری کرو اور میرے بندوں کو لے کر رات کے وقت نکل جائو اور دوسری طرف فرعون تمام علاقوں میں اپنے کارندے بھیجتا ہے اور فوجیں جمع ہوتی ہیں۔ ساتویں منظر میں یہ تعاقب کرنے والی افواج اور بھاگنے والوں مسلمان ایک سمندر کے سامنے ہیں۔ سمندر پھٹ جاتا ہے او ان آبی راستوں سے یہ مظلوم پار ہوجاتے ہیں اور ظالم غرق ہوجاتے ہیں۔
یہی مناظر سورت اعراف ، سورت یونس اور سورت طہ میں بھی پیش کئے گئے ہیں۔ لیکن ہر جگہ انداز اور قصے کا رنگ مختلف ہے اور بات جس رخ پر جا رہی ہوتی ہے ، قصے کو بھی اسی انداز پر لایا جاتا ہے۔ چناچہ قصے کا وہ پہلو اجاگر کیا جاتا ہے جو زیر بحث موضوع کے ساتھ متعلق ہو۔
اعراف میں قصے کا آغاز ہی کلیم اور فرعون کے مختصر مکالمے سے ہوا ہے۔ پھر جادوگروں کے ساتھ مقابلے کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے جبکہ فرعون او اس کے سرداروں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو اچھی طرح تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا ہے اور جادوگروں کے مقابلے اور لشکر فرعون کی غرقابی کے درمیان مصر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر میں معجزات دکھاتے ہوئے منظر پر لایا گیا ہے۔ پھر جب یہ لشکر کامیابی کے ساتھ سمندر سے گزر جاتا ہے تو پھر ہجرت کی زندگی کے کئی حلقے پیش کئے گئے ہیں ، جبکہ یہاں اس سورت میں یہ کڑیاں حذف کردی گئی ہیں اور حضرت موسیٰ اور فرعون کے درمیان توحید کے موضوع پر مکالمہ طوالت کے ساتھ دیا گیا ہے کیونکہ یہ اس سورت کا موضوع ہے اور مشرکین مکہ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان یہی مکالمہ زوروں پر ہے اور سورت یونس میں مختصر مکالمہ کلیم و فرعون سے آغاز ہوتا ہے اور عصا اور ید بیضا کے معجزات بھی نہیں دکھائے جاتے اور جادوگروں کے ساتھ مکالمے کی تفصیلات بھی حذف کردی گئی ہیں جبکہ یہاں ان دونوں کو مفصل لایا گیا ہے اور طہ میں حضرت موسیٰ اور رب تعالیٰ کے درمیان مناجات کو مفصل لایا گیا ہے۔ پھر موسیٰ اور فرعون کا سامنا ، جادوگروں کا مقابلہ سرسری طور پر اور بنی اسرائیل کا سفر ہجرت مفصل ہے۔ یہاں فرعون کی غرقابی پر قصہ کے مناظر ختم کردیئے جاتے ہیں۔
اس طرح جب ہم اس قصے کو قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں بار بار پاتے ہیں تو قرآن کے اسلوب بیان کا یہ کمال ہمارے سامنے آتا ہے کہ کسی جگہ بھی ہمیں یہ نظر نہیں آتا کہ یہ وہی قصہ ہے جو دہرایا جا رہا ہے کیونکہ ہر جگہ مختلف کڑیاں دکھائی گئی ہیں۔ مختلف مناظر ہیں۔ قصے کا ایک مخصوص پہلو کھول کر بیان کیا جاتا ہے اور انداز بیان تو ہر جگہ نیا ہوتا ہے۔ یہ تمام خصوصیات قصے کو ہر جگہ نیا بنا دیتی ہیں اور ہر جگہ قصہ اپنے موضوع کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہوتا ہے۔
درس نمبر 162 تشریح آیات
10……تا……68
واذ نادی ……اسرائیل (17)
اس سورت میں جو قصے لائے گئے ان کے ذریعے حضور اکرم ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے۔ ذرا سورت کے آغاز کو ایک بار پھر ملاحظہ فرمائیں۔
لعلک باخع ……یستھزء ون (6) (26 : 3 تا 6) ” اے نبی شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں ، اب جبکہ یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ “ اب جبکہ یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ ‘ ‘ اس تمہید کے بعد یہ تمام قصص لائے گئے ہیں اور ان میں بیان شدہ حصوں کا بنیادی مقصد مکذبین اور مستھزئین کا انجام بتانا ہے۔
واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین (26 : 10) قوم فرعون الا یتقون (26 : 11) ” انہیں اس وقت کا قصہ سنائو جب کہ تمہارے رب نے موسیٰ کو پکارا ” ظالم قوم کے پاس جا…فرعون کی قوم کے پاس …کیا وہ نہیں ڈرتے ؟ “ یہ ہے یہاں اس قصے کا پہلا منظر ، اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو منصب رسالت عطا کر کے ایک مشن دے دیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تم نے ایک ظالم قوم کے پاس جانا ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنی ذات پر ظلم کیا ہے کہ کفر و گمراہی میں مبتلا ہیں۔ پھر انہوں نے بنی اسرائیل پر ظلم کیا ہے کہ وہ ان کی عورتوں کو زندہ رکھتے ہیں اور مردوں کو ذبح کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جگہ جگہ مذاق کرتے ہیں اور طرح طرح کی سزائیں دیتے ہیں۔ اس قوم کی صفات پہلے بیان کرنے کے بعد اب ان کا نام لیا جاتا ہے۔ قوم فرعون کے پاس جائو۔ حضرت موسیٰ اور تمام انسان تعجب کرتے ہیں کہ کیا یہ ظالم قوم اپنے برے انجام سے نہیں ڈرتی۔ کیا ان کو خدا کا خوف نہیں ہے۔ کیا اپنے ان مظالم کا انجام انہیں معلوم نہیں ہے۔ کیا یہ لوگ اس قدر گھنائونے جرائم کے بعد بھی باز نہیں آتے۔ ان کا معاملہ تو عجیب ہے اور تعجب انگیز ہے اور اسی طرح تمام ایسی اقوام کا معاملہ ہے جو حدت گزر جاتی ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے فرعون اور اس کی قوم کا معاملہ کوئی نیا نہیں تھا وہ تو ان کو اچھی طرح جانتے تھے وہ فرعون کے ظلم ، اس کے جبر اور اس کی سرکشی سے اچھی طرح باخبر تھے اور اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ تو ایک عظیم اور مشکل مشن ہے جو ان کے حوالے کردیا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوریاں رکھ دیتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ وہ اس دعوت سے پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں اور مستقلاً معذرت کرنا چاہتے ہیں بلکہ اس مشن کے لئے مزید ضروری امداد اور معاونت کے طلبگار ہیں۔
قال رب انی اخاف ان یکذبون (26 : 12) ویضیق صدری ولاینطلق لسانی فارسل الی ھرون (26 : 31) ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون (26 : 13) اس نے عرض کیا ، ” اے میرے رب ، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھ کو جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ گھٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ آپ ہارون کی طرف رسالت بھیجیں اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے ، اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ “
یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جو بات نقل کی گئی ہے اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے وہ محض تکذیب کے خوف سے یہ فرماتے ہیں بلکہ ان کو رسالت ایسے حالات میں دی جا رہی ہے کہ ان کے دل کے اندر تنگی پائی جاتی ہے اور ان کو طلاقت لسانی کا ملکہ حاصل نہیں ہے۔ رسالت کے سلسلے میں ان کو ہر کسی سے مباحثہ اور گفتگو کرنی ہوگی اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان کی زبان میں لکنت ہے اور اس کے بارے میں سورت طہ میں انہوں نے تصریح فرمائی ہے۔
واحلل عقدہ من لسانی یفقھوا قولی ” اور میری زبان میں جو گرہ ہے اسے کھول دے تاکہ وہ میری بات کو سمجھیں۔ “ جب انسان کی زبان میں لکنت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے سینہ میں تنگی پیدا جاتی ہے۔ یہ تنگی اس وقت سخت تکلیف دہ ہوتی ہے کہ انسان بات کرنا چاہتا ہے اور جذبات کے ساتھ دلائل کا اظہار چاہتا ہے اور زبان اس وقت ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ جوں جوں خیالات اور جذبات کا سیلاب رواں ہوتا ہے ، زبان بند ہوتی ہے اور دل تنگ ہوجاتا ہے اور انسان کی حالت قابل دید ہوتی ہے۔ یہ صورت حال ہر کسی کی دیکھی ہوتی ہے۔ اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یشان ہیں کہ اگر ایسے حالات میں ان کی زبان کو گرہ لگ جائے تو بڑی عجیب پوزیشن ہوگی۔ خصوصاً جبکہ مقابلہ فرعون جیسے قہار و جبار کے ساتھ ہو۔ چناچہ حضرت نے اپنی کمزور یاپنے رب کے سامنے رکھی اور ساتھ ہی یہ درخواست بھی کی کہ حضرت ہارون کو بھی مقام رسالت عطا کردیا جائے۔ ان کو بھی اس منصب میں شریک کردیا جائے تاکہ وہ دونوں مل کر اس عظیم فریضے کو ادا کریں۔ مقصد یہ نہ تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس منصب کو قبول کرنے سے ہچکچا رہے ہیں یا پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں اور حضرت ہارون چونکہ حضرت موسیٰ سے زیادہ فصیح اللسان تھے اور جذباتی اعتبار سے وہ ٹھنڈے دل دماغ کے مالک تھے ۔ جب دوران کلام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان کو اگر گرہ لگ گئی تو حضرت ہارون ساتھ موجود ہوں گے وہ استدلال اور مکالمے کو آگے بڑھائیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی اس لکنت کو دور کرنے کے لئے خصوصی دعا بھی فرمائی جس طرح سورت طہ میں ہے اور ہو سکتا ہے کہ اللہ نے اسے دور بھی کردیا ہو لیکن آپ نے پھر بھی حضرت ہارون کو شریک منصب کرنے کے لئے دعا فرمائی اور فرمایا کہ انہیں ان کے لئے وزیر مقرر فرمایا جائے۔
اسی طرح حضرت نے فرمایا۔
ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون (26 : 13) ” اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ “ لہٰذا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے مقابلہ کرنے سے نہیں ڈرتے تھے اور نہ وہ ادائیگی فرض سے پہلوتہی چاہتے تھے بلکہ آپ حضرت ہارون کو وزیر اور شریک کار مقرر کروانا چاہتے تھے کہ اگر یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جرم قتل میں سزائے موت دے دیں تو ان کے بعد رسالت کا کام حضرت ہارون جاری رکھیں اور اس طرح فریضہ رسالت ادا ہوتا رہے جس طرح اللہ کا حکم تھا۔
چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ احتیاطی تدابیر دعوت اسلامی اور رسالت کی خاطر اختیار کیں۔ داعی کی ذات کے لئے کچھ زیادہ فکر نہ تھی۔ یعنی اگر حضرت موسیٰ کی زبان کو گروہ لگ جائے او آپ تقریر نہ کرسکیں تو حضرت ہارون تیار ہوں ، یہ نہ ہو کہ نیا آنے والا نبی لوگوں کے سامنے تقریر کر رہا ہے اور اچانک اس کی بات ہی رک جائے اور اس طرح دعوت اسلامی کو ایک کمزوری کا سامنا کرنا پڑے۔ اسی طرح اگر ان کو قتل ہی کردیا جائے تو دعوت کا کام ہی رک جائے۔ حالانکہ دعوت کا کام جاری رہنا ضروری ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ سوچ بالکل فطری تھی۔ اس لئے کہ اللہ نے ان کو منتخب ہی اسی کام کے لئے کیا تھا اور اللہ نے اپنی نگرانی میں ان کی تربیت ہی اسی مقصد کے لئے فرمانی تھی اور ان کو اللہ نے اپنے کام کے لئے ہی بنایا تھا۔
جب حضرت موسیٰ نے اپنی اس دلچسپی کا اظہار کیا ، دعوت کے بارے میں اپنے خدشات اور احتیاطی تدابیر کا اظہار کیا تو اللہ نے ان کی درخواست قبول کرلی۔ اور آپ کو تسلی دے دی کہ آپ ڈریں نہیں ، یہاں قبولیت دعا کا مرحلہ نہایت ہی مختصر ہے۔ ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنانا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مصر میں پہنچنا ، ہارون (علیہ السلام) سے ملنا ، تمام واقعاتک و حذف کر کے صرف یہ دکھایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون دونوں اپنے رب کے احکام لے کر فرعون کے ساتھ ہمکلام ہونے کی تیاری کر رہے ہیں لیکن حضرت موسیٰ کے خدشات کو صرف ایک ہی سخت لفظ سے روکا جاتا ہے جو غنی کے معنی میں آتا ہے اور جو تنبیہ کے لئے ہے کلا ” ہرگز نہیں۔ “
قال کلا ……اسرائیل (18) (26 : 15 تا 18) ” فرمایا ” ہرگز نہیں ، تم دونوں جائو ہماری نشانیاں لے کر ، ہم تمہار یساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے۔ فرعون کے پاس جائو او اس سے کہو ہم کو رب العالمین نے اس لئے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔ ہرگز نہیں نہ تمہارا دل تنگ ہوگا اور نہ تمہاری زبان میں لکنت ہوگی اور وہ ہرگز تمہیں قتل نہ کرسکیں گے۔ یہ سب خدشات آپ اپنے دل سے نکال دیں تم اور تمہارا بھائی دونوں جائو۔
فاذھبا بایتنا (26 : 15) ” جائو ہماری نشانیاں لے کر “ ان نشانیوں میں سے عصا اور ید بیضا کی نشانی تو حضرت موسیٰ نے دیکھی ہوئی تھی۔ یہاں ان سب باتوں کو مختصر کردیا جاتا ہے کیونکہ اس سورت میں پیش نظر فرعون کے سامنے رسالت کا پیش کرنا ، جادوگروں کے کرتب دکھانا اور فرعون کی غرقابی کی منظر کشی کرنا ہے۔ جائو انا معکم مستمعون (26 : 15) ” ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے “ نہایت ہی زور دار اور تاکیدی الفاظ میں کہا جاتا ہے ، جائو تمہیں اللہ کی حمایت یا رعایت اور تحفظ حاصل ہے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے جس طرح وہ ہر وقت ، ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے لیکن یہاں اللہ کی موجودگی کا مقصد یہ ہے کہ ہم تمہاری مدد اور تائید کے لئے حاضر ہیں۔
یہاں نصرت و تائید کا یقین یوں دلایا گیا ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں ، سن رہے ہیں یعنی حضوری اور توجہ انسانوں کے نزدیک اپنے عروج پر ہوتی ہے جب انسان سنتا ہے اس لئے ان کو یہ یقین دلایا جا رہا ہے کہ میری امداد اور نصرت ہر وقت حاضر ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز کہ وہ ہر چیز کو ایک شخص اور مجسم صورت میں پیش کرتا ہے۔ اذھبا ” جائو “
فاتبا فرعون ” فرعون کے پاس جائو “ اور اس کو اپن یمہم سے آگاہ کردیا اور بغیر کسی خوف کے اس کے سامنے اپنا مطلب صاف صاف بیان کر دو ۔
فقولا انا رسول رب العلمین (26 : 16) ” کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں۔ ‘ یہ تو دو ہیں لیکن چونکہ ہم ایک ہیں ، رسالت ایک ہے ، اس لئے دونوں ایک رسول ہیں۔ یہ اس فرعون کے سامنے کھڑے ہیں جو الوہیت کا دعویٰ کرتا تھا اور اپنی قوم کو یوں باور کراتا تھا۔
ماعلمت لکم من الہ غیری ” میں تمہارے لئے ، اپنے سوا کسی دوسرے الہ کو نہیں جانتا۔ “ یوں اس فرعون کے سامنے سب سے پہلے اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں یعنی وہ عالمین کا رب ہے اور وہ عالمین کا رب ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور اس میں کوئی مداہنت اور لیپا پوتی نہیں ہو سکتی۔
انا رسول رب العلمین (26 : 16) ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (26 : 18) ” ہم کو رب العالمین نے اس لئے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ “ قصہ موسیٰ کے ان اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو فرعون کے پاس اس لئے رسول بنا کر نہ بھیجا تھا کہ حضرت موسیٰ فرعون اور اس کی قوم کو دین اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دیں اور اسلام کے دین کو قبول کریں بلکہ ان کے پاس صرف اس لئے بھیجا گیا تھا کہ فرعون اور اس کی قوم سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کردیں۔ وہ اس کی غلامی سے آزاد ہوجائیں اور پھر جس طرح چاہیں اپنے رب کی بندگی کریں۔ وہ تو پہلے سے دین اسلام کے پیروکار تھے۔ حضرت یعقوب ، حضرت یوسف کے دین کو مانتے تھے البتہ ان کے نظریات اور ان کے ذہن میں انحراف ہوگیا تھا ان کے عقائد میں بگاڑ پیدا وہ گیا تھا اس لئے اللہ نے ان کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو دوبارہ ارسال کیا کہ وہ ان کے عقائد بھی درست کردیں اور ان کو فرعون کی غلامی سے بھی نجات دلائیں اور ان کو اچھی تربیت دے کر دوبارہ عقیدہ توحید پر قائم کردیں۔
……
یہاں تک تو ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو نبوت عطا ہوئی ، ان پر وحی آئی اور ان کو دعوت اسلامی کا مشن عطا ہوا۔ اب پردہ گرتا ہے اور دوسرے منظر میں پھر ہم فرعون کے دربار میں کھڑے ہیں۔ ان دونوں مناظر کے درمیان جو غیر ضروری افعال و حرکات ہیں ان کو کاٹ دیا جاتا ہے اور یہ قرآن کریم کا ایک مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ مناظر و مشاہد کے درمیان سے غیر ضروری حصے کاٹ دیتا ہے یا مختصر کردیتا ہے۔
الشعراء 26:14
درس نمبر 162 ایک نظر میں
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا یہ حصہ ، اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ بہت ہی ہم آہنگ ہے۔ اس سورت میں مدار کلام زیادہ تر اس پر ہے کہ مکذبین کا انجام کیسا ہوا کرتا ہے۔ پھر اس سورت میں بھی حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور مشرکین کی جانب سے روگردانی اور تکذیب کے نتیجے میں آپ کو جو مشکلات درپیش تھیں۔ ان پر آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی اس سورت کا موضوع سخن ہے۔ پھر اس سورت میں اس بات کی یقین دہانی بھی ہے کہ اس دعوت اور اس کی حامل تحریک کا حامی و مددگار اور محافظ اللہ ہے۔ اگرچہ یہ لوگ کمزور ہیں اور ان کے مخالفین زاد و عتاد یعنی ساز و سامان سے لیس ہیں۔ اہل قوت اور جبار ہیں اور ان پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔ کیونکہ اس سورت کے نزول کے وقت مکہ میں تحریک اسلامی کچھ ایسے ہی حالات سے گزر رہی تھی۔ انبیائے سابقین کے قصص قرآن کے منہاج تربیت میں ایک اہم مواد اور وسائل تربیت ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی بعض کڑیاں سورت بقرہ ، سورت مائدہ ، سورت اعراف ، سورت یونس ، سورت اسرائ، سورت کہف اور سور طہ میں گزر چکی ہیں۔ جبکہ بعض دوسری سورتوں میں بھی حیات موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف مجمل سے اشارات موجود ہیں۔
جہاں جہاں بھی اس قصے کی کڑی کی طرف کوئی اشارہ آیا ہے یا کوئی کڑی تفصیل کے ساتھ دی گئی ہے وہاں موضوع سخن کے ساتھ وہ کڑی اور وہ حصہ نہایت ہی موزوں رہا ہے ہر جگہ سیاق کلام کے ساتھ مناسب حصہ لایا گیا ہے۔ جس طرح اس قصے میں جو کڑیاں ہیں وہ اس سورت کے موضوع کے ساتھ متناسب ہیں اور اسی مقصد کو واضح کرتی ہیں۔ (تفصیلات کے لئے دیکھیے فی ظلال پارہ ششم)
یہاں جو حلقہ دیا گیا ہے وہ رسالت او اس کی تکذیب کے ساتھ متعلق ہے اور تکذیب نیز حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سازش کی وجہ سے فرعون اور اس کی قوم کی غرقابی کے واقعات دیئے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھی ظالموں کے چنگل سے ربانی پا گئے ۔ چناچہ یہ پوری کڑی اس آیت کی تصدیق ہے۔
وسیعلم الذین طلموا ای منقلب ینقلبون (26 : 228) ” اور عنقریب جان لیں گے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا کہ وہ کس انجام تک پہنچتے ہیں۔ “ اور اللہ کے اس قول کی بھی تصدیق ہے۔
فقد کذبوا فسیاتیھم انبوا ماکانوا بہ یستھزء ون (26 : 6) ” اب جبکہ انہوں نے جھٹلا دیا تو عنقریب پہنچ جائیں گی ان تک خبریں اس چیز کی جس کے ساتھ وہ مذاق کرتے تھے۔ “ حضرت موسیٰ کے قصے کا یہ حصہ چند مناظر پر مشتمل ہے جن کو دکھانا ضروری تھا۔ ان مناظر کے درمیان گیپ اور وقفے ہیں جن کے اندر منظر پر پردہ گر جاتا ہے او اس کے بعد جب پردہ اٹھتا ہے تو دوسرا منظر نظروں کے سامنے ہوتا ہے۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو پورے قرآن کریم میں قصص کے پیش کرتے وقت محلوظ رہی ہے۔
اس کڑی میں سات مشاہد ہیں۔ پہلے منظر میں اللہ کی جانب سے ندا آتی ہے۔ حضرت موسیٰ رب سے ہمکلام ہوتے ہیں اور ان کو منصب نبوت سے سرفراز کیا جاتا ہے اور ان پر وحی آتی ہے۔ دوسرے منظر میں کلیم اور فرعون کو آمنا سامنا ہوتا ہے۔ اس میں فرعون کے درباری بھی موجود ہیں۔ حضرت موسیٰ رسالت پیش فرماتے ہیں اور عصا اور ید بیضا کے معجزے بھی دکھائے جاتے ہیں۔ تیسرے منظر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جادوگروں کو لایا جاتا ہے۔ ایک وسیع میدان میں لوگ جمع ہو کر مقابل ی کی تدابیر پر بحث ہوتی ہے۔ چوتھے منظر میں جادو گر فرعون کے دربار میں جمع ہیں اور انعام و اکرام کے پکے وعدے لے رہے ہیں۔ اگر وہ میدان مار لیں۔ پانچواں منظر مقابلے کا منظر ہے ، مقابلہ ہوتا ہے ، جادوگر ایمان لاتے ہیں۔ فرعون ان کو دھمکیاں دیتا ہے۔ چھٹے منظر میں دونوں کیمپوں کی جھلکیاں ہیں ایک طرف وحی الٰہی کا منظر ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے کہ تم تیاری کرو اور میرے بندوں کو لے کر رات کے وقت نکل جائو اور دوسری طرف فرعون تمام علاقوں میں اپنے کارندے بھیجتا ہے اور فوجیں جمع ہوتی ہیں۔ ساتویں منظر میں یہ تعاقب کرنے والی افواج اور بھاگنے والوں مسلمان ایک سمندر کے سامنے ہیں۔ سمندر پھٹ جاتا ہے او ان آبی راستوں سے یہ مظلوم پار ہوجاتے ہیں اور ظالم غرق ہوجاتے ہیں۔
یہی مناظر سورت اعراف ، سورت یونس اور سورت طہ میں بھی پیش کئے گئے ہیں۔ لیکن ہر جگہ انداز اور قصے کا رنگ مختلف ہے اور بات جس رخ پر جا رہی ہوتی ہے ، قصے کو بھی اسی انداز پر لایا جاتا ہے۔ چناچہ قصے کا وہ پہلو اجاگر کیا جاتا ہے جو زیر بحث موضوع کے ساتھ متعلق ہو۔
اعراف میں قصے کا آغاز ہی کلیم اور فرعون کے مختصر مکالمے سے ہوا ہے۔ پھر جادوگروں کے ساتھ مقابلے کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے جبکہ فرعون او اس کے سرداروں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو اچھی طرح تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا ہے اور جادوگروں کے مقابلے اور لشکر فرعون کی غرقابی کے درمیان مصر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر میں معجزات دکھاتے ہوئے منظر پر لایا گیا ہے۔ پھر جب یہ لشکر کامیابی کے ساتھ سمندر سے گزر جاتا ہے تو پھر ہجرت کی زندگی کے کئی حلقے پیش کئے گئے ہیں ، جبکہ یہاں اس سورت میں یہ کڑیاں حذف کردی گئی ہیں اور حضرت موسیٰ اور فرعون کے درمیان توحید کے موضوع پر مکالمہ طوالت کے ساتھ دیا گیا ہے کیونکہ یہ اس سورت کا موضوع ہے اور مشرکین مکہ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان یہی مکالمہ زوروں پر ہے اور سورت یونس میں مختصر مکالمہ کلیم و فرعون سے آغاز ہوتا ہے اور عصا اور ید بیضا کے معجزات بھی نہیں دکھائے جاتے اور جادوگروں کے ساتھ مکالمے کی تفصیلات بھی حذف کردی گئی ہیں جبکہ یہاں ان دونوں کو مفصل لایا گیا ہے اور طہ میں حضرت موسیٰ اور رب تعالیٰ کے درمیان مناجات کو مفصل لایا گیا ہے۔ پھر موسیٰ اور فرعون کا سامنا ، جادوگروں کا مقابلہ سرسری طور پر اور بنی اسرائیل کا سفر ہجرت مفصل ہے۔ یہاں فرعون کی غرقابی پر قصہ کے مناظر ختم کردیئے جاتے ہیں۔
اس طرح جب ہم اس قصے کو قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں بار بار پاتے ہیں تو قرآن کے اسلوب بیان کا یہ کمال ہمارے سامنے آتا ہے کہ کسی جگہ بھی ہمیں یہ نظر نہیں آتا کہ یہ وہی قصہ ہے جو دہرایا جا رہا ہے کیونکہ ہر جگہ مختلف کڑیاں دکھائی گئی ہیں۔ مختلف مناظر ہیں۔ قصے کا ایک مخصوص پہلو کھول کر بیان کیا جاتا ہے اور انداز بیان تو ہر جگہ نیا ہوتا ہے۔ یہ تمام خصوصیات قصے کو ہر جگہ نیا بنا دیتی ہیں اور ہر جگہ قصہ اپنے موضوع کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہوتا ہے۔
درس نمبر 162 تشریح آیات
10……تا……68
واذ نادی ……اسرائیل (17)
اس سورت میں جو قصے لائے گئے ان کے ذریعے حضور اکرم ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے۔ ذرا سورت کے آغاز کو ایک بار پھر ملاحظہ فرمائیں۔
لعلک باخع ……یستھزء ون (6) (26 : 3 تا 6) ” اے نبی شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں ، اب جبکہ یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ “ اب جبکہ یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ ‘ ‘ اس تمہید کے بعد یہ تمام قصص لائے گئے ہیں اور ان میں بیان شدہ حصوں کا بنیادی مقصد مکذبین اور مستھزئین کا انجام بتانا ہے۔
واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین (26 : 10) قوم فرعون الا یتقون (26 : 11) ” انہیں اس وقت کا قصہ سنائو جب کہ تمہارے رب نے موسیٰ کو پکارا ” ظالم قوم کے پاس جا…فرعون کی قوم کے پاس …کیا وہ نہیں ڈرتے ؟ “ یہ ہے یہاں اس قصے کا پہلا منظر ، اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو منصب رسالت عطا کر کے ایک مشن دے دیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تم نے ایک ظالم قوم کے پاس جانا ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنی ذات پر ظلم کیا ہے کہ کفر و گمراہی میں مبتلا ہیں۔ پھر انہوں نے بنی اسرائیل پر ظلم کیا ہے کہ وہ ان کی عورتوں کو زندہ رکھتے ہیں اور مردوں کو ذبح کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جگہ جگہ مذاق کرتے ہیں اور طرح طرح کی سزائیں دیتے ہیں۔ اس قوم کی صفات پہلے بیان کرنے کے بعد اب ان کا نام لیا جاتا ہے۔ قوم فرعون کے پاس جائو۔ حضرت موسیٰ اور تمام انسان تعجب کرتے ہیں کہ کیا یہ ظالم قوم اپنے برے انجام سے نہیں ڈرتی۔ کیا ان کو خدا کا خوف نہیں ہے۔ کیا اپنے ان مظالم کا انجام انہیں معلوم نہیں ہے۔ کیا یہ لوگ اس قدر گھنائونے جرائم کے بعد بھی باز نہیں آتے۔ ان کا معاملہ تو عجیب ہے اور تعجب انگیز ہے اور اسی طرح تمام ایسی اقوام کا معاملہ ہے جو حدت گزر جاتی ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے فرعون اور اس کی قوم کا معاملہ کوئی نیا نہیں تھا وہ تو ان کو اچھی طرح جانتے تھے وہ فرعون کے ظلم ، اس کے جبر اور اس کی سرکشی سے اچھی طرح باخبر تھے اور اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ تو ایک عظیم اور مشکل مشن ہے جو ان کے حوالے کردیا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوریاں رکھ دیتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ وہ اس دعوت سے پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں اور مستقلاً معذرت کرنا چاہتے ہیں بلکہ اس مشن کے لئے مزید ضروری امداد اور معاونت کے طلبگار ہیں۔
قال رب انی اخاف ان یکذبون (26 : 12) ویضیق صدری ولاینطلق لسانی فارسل الی ھرون (26 : 31) ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون (26 : 13) اس نے عرض کیا ، ” اے میرے رب ، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھ کو جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ گھٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ آپ ہارون کی طرف رسالت بھیجیں اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے ، اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ “
یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جو بات نقل کی گئی ہے اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے وہ محض تکذیب کے خوف سے یہ فرماتے ہیں بلکہ ان کو رسالت ایسے حالات میں دی جا رہی ہے کہ ان کے دل کے اندر تنگی پائی جاتی ہے اور ان کو طلاقت لسانی کا ملکہ حاصل نہیں ہے۔ رسالت کے سلسلے میں ان کو ہر کسی سے مباحثہ اور گفتگو کرنی ہوگی اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان کی زبان میں لکنت ہے اور اس کے بارے میں سورت طہ میں انہوں نے تصریح فرمائی ہے۔
واحلل عقدہ من لسانی یفقھوا قولی ” اور میری زبان میں جو گرہ ہے اسے کھول دے تاکہ وہ میری بات کو سمجھیں۔ “ جب انسان کی زبان میں لکنت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے سینہ میں تنگی پیدا جاتی ہے۔ یہ تنگی اس وقت سخت تکلیف دہ ہوتی ہے کہ انسان بات کرنا چاہتا ہے اور جذبات کے ساتھ دلائل کا اظہار چاہتا ہے اور زبان اس وقت ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ جوں جوں خیالات اور جذبات کا سیلاب رواں ہوتا ہے ، زبان بند ہوتی ہے اور دل تنگ ہوجاتا ہے اور انسان کی حالت قابل دید ہوتی ہے۔ یہ صورت حال ہر کسی کی دیکھی ہوتی ہے۔ اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یشان ہیں کہ اگر ایسے حالات میں ان کی زبان کو گرہ لگ جائے تو بڑی عجیب پوزیشن ہوگی۔ خصوصاً جبکہ مقابلہ فرعون جیسے قہار و جبار کے ساتھ ہو۔ چناچہ حضرت نے اپنی کمزور یاپنے رب کے سامنے رکھی اور ساتھ ہی یہ درخواست بھی کی کہ حضرت ہارون کو بھی مقام رسالت عطا کردیا جائے۔ ان کو بھی اس منصب میں شریک کردیا جائے تاکہ وہ دونوں مل کر اس عظیم فریضے کو ادا کریں۔ مقصد یہ نہ تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس منصب کو قبول کرنے سے ہچکچا رہے ہیں یا پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں اور حضرت ہارون چونکہ حضرت موسیٰ سے زیادہ فصیح اللسان تھے اور جذباتی اعتبار سے وہ ٹھنڈے دل دماغ کے مالک تھے ۔ جب دوران کلام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان کو اگر گرہ لگ گئی تو حضرت ہارون ساتھ موجود ہوں گے وہ استدلال اور مکالمے کو آگے بڑھائیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی اس لکنت کو دور کرنے کے لئے خصوصی دعا بھی فرمائی جس طرح سورت طہ میں ہے اور ہو سکتا ہے کہ اللہ نے اسے دور بھی کردیا ہو لیکن آپ نے پھر بھی حضرت ہارون کو شریک منصب کرنے کے لئے دعا فرمائی اور فرمایا کہ انہیں ان کے لئے وزیر مقرر فرمایا جائے۔
اسی طرح حضرت نے فرمایا۔
ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون (26 : 13) ” اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ “ لہٰذا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے مقابلہ کرنے سے نہیں ڈرتے تھے اور نہ وہ ادائیگی فرض سے پہلوتہی چاہتے تھے بلکہ آپ حضرت ہارون کو وزیر اور شریک کار مقرر کروانا چاہتے تھے کہ اگر یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جرم قتل میں سزائے موت دے دیں تو ان کے بعد رسالت کا کام حضرت ہارون جاری رکھیں اور اس طرح فریضہ رسالت ادا ہوتا رہے جس طرح اللہ کا حکم تھا۔
چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ احتیاطی تدابیر دعوت اسلامی اور رسالت کی خاطر اختیار کیں۔ داعی کی ذات کے لئے کچھ زیادہ فکر نہ تھی۔ یعنی اگر حضرت موسیٰ کی زبان کو گروہ لگ جائے او آپ تقریر نہ کرسکیں تو حضرت ہارون تیار ہوں ، یہ نہ ہو کہ نیا آنے والا نبی لوگوں کے سامنے تقریر کر رہا ہے اور اچانک اس کی بات ہی رک جائے اور اس طرح دعوت اسلامی کو ایک کمزوری کا سامنا کرنا پڑے۔ اسی طرح اگر ان کو قتل ہی کردیا جائے تو دعوت کا کام ہی رک جائے۔ حالانکہ دعوت کا کام جاری رہنا ضروری ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ سوچ بالکل فطری تھی۔ اس لئے کہ اللہ نے ان کو منتخب ہی اسی کام کے لئے کیا تھا اور اللہ نے اپنی نگرانی میں ان کی تربیت ہی اسی مقصد کے لئے فرمانی تھی اور ان کو اللہ نے اپنے کام کے لئے ہی بنایا تھا۔
جب حضرت موسیٰ نے اپنی اس دلچسپی کا اظہار کیا ، دعوت کے بارے میں اپنے خدشات اور احتیاطی تدابیر کا اظہار کیا تو اللہ نے ان کی درخواست قبول کرلی۔ اور آپ کو تسلی دے دی کہ آپ ڈریں نہیں ، یہاں قبولیت دعا کا مرحلہ نہایت ہی مختصر ہے۔ ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنانا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مصر میں پہنچنا ، ہارون (علیہ السلام) سے ملنا ، تمام واقعاتک و حذف کر کے صرف یہ دکھایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون دونوں اپنے رب کے احکام لے کر فرعون کے ساتھ ہمکلام ہونے کی تیاری کر رہے ہیں لیکن حضرت موسیٰ کے خدشات کو صرف ایک ہی سخت لفظ سے روکا جاتا ہے جو غنی کے معنی میں آتا ہے اور جو تنبیہ کے لئے ہے کلا ” ہرگز نہیں۔ “
قال کلا ……اسرائیل (18) (26 : 15 تا 18) ” فرمایا ” ہرگز نہیں ، تم دونوں جائو ہماری نشانیاں لے کر ، ہم تمہار یساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے۔ فرعون کے پاس جائو او اس سے کہو ہم کو رب العالمین نے اس لئے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔ ہرگز نہیں نہ تمہارا دل تنگ ہوگا اور نہ تمہاری زبان میں لکنت ہوگی اور وہ ہرگز تمہیں قتل نہ کرسکیں گے۔ یہ سب خدشات آپ اپنے دل سے نکال دیں تم اور تمہارا بھائی دونوں جائو۔
فاذھبا بایتنا (26 : 15) ” جائو ہماری نشانیاں لے کر “ ان نشانیوں میں سے عصا اور ید بیضا کی نشانی تو حضرت موسیٰ نے دیکھی ہوئی تھی۔ یہاں ان سب باتوں کو مختصر کردیا جاتا ہے کیونکہ اس سورت میں پیش نظر فرعون کے سامنے رسالت کا پیش کرنا ، جادوگروں کے کرتب دکھانا اور فرعون کی غرقابی کی منظر کشی کرنا ہے۔ جائو انا معکم مستمعون (26 : 15) ” ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے “ نہایت ہی زور دار اور تاکیدی الفاظ میں کہا جاتا ہے ، جائو تمہیں اللہ کی حمایت یا رعایت اور تحفظ حاصل ہے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے جس طرح وہ ہر وقت ، ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے لیکن یہاں اللہ کی موجودگی کا مقصد یہ ہے کہ ہم تمہاری مدد اور تائید کے لئے حاضر ہیں۔
یہاں نصرت و تائید کا یقین یوں دلایا گیا ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں ، سن رہے ہیں یعنی حضوری اور توجہ انسانوں کے نزدیک اپنے عروج پر ہوتی ہے جب انسان سنتا ہے اس لئے ان کو یہ یقین دلایا جا رہا ہے کہ میری امداد اور نصرت ہر وقت حاضر ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز کہ وہ ہر چیز کو ایک شخص اور مجسم صورت میں پیش کرتا ہے۔ اذھبا ” جائو “
فاتبا فرعون ” فرعون کے پاس جائو “ اور اس کو اپن یمہم سے آگاہ کردیا اور بغیر کسی خوف کے اس کے سامنے اپنا مطلب صاف صاف بیان کر دو ۔
فقولا انا رسول رب العلمین (26 : 16) ” کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں۔ ‘ یہ تو دو ہیں لیکن چونکہ ہم ایک ہیں ، رسالت ایک ہے ، اس لئے دونوں ایک رسول ہیں۔ یہ اس فرعون کے سامنے کھڑے ہیں جو الوہیت کا دعویٰ کرتا تھا اور اپنی قوم کو یوں باور کراتا تھا۔
ماعلمت لکم من الہ غیری ” میں تمہارے لئے ، اپنے سوا کسی دوسرے الہ کو نہیں جانتا۔ “ یوں اس فرعون کے سامنے سب سے پہلے اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں یعنی وہ عالمین کا رب ہے اور وہ عالمین کا رب ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور اس میں کوئی مداہنت اور لیپا پوتی نہیں ہو سکتی۔
انا رسول رب العلمین (26 : 16) ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (26 : 18) ” ہم کو رب العالمین نے اس لئے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ “ قصہ موسیٰ کے ان اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو فرعون کے پاس اس لئے رسول بنا کر نہ بھیجا تھا کہ حضرت موسیٰ فرعون اور اس کی قوم کو دین اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دیں اور اسلام کے دین کو قبول کریں بلکہ ان کے پاس صرف اس لئے بھیجا گیا تھا کہ فرعون اور اس کی قوم سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کردیں۔ وہ اس کی غلامی سے آزاد ہوجائیں اور پھر جس طرح چاہیں اپنے رب کی بندگی کریں۔ وہ تو پہلے سے دین اسلام کے پیروکار تھے۔ حضرت یعقوب ، حضرت یوسف کے دین کو مانتے تھے البتہ ان کے نظریات اور ان کے ذہن میں انحراف ہوگیا تھا ان کے عقائد میں بگاڑ پیدا وہ گیا تھا اس لئے اللہ نے ان کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو دوبارہ ارسال کیا کہ وہ ان کے عقائد بھی درست کردیں اور ان کو فرعون کی غلامی سے بھی نجات دلائیں اور ان کو اچھی تربیت دے کر دوبارہ عقیدہ توحید پر قائم کردیں۔
……
یہاں تک تو ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو نبوت عطا ہوئی ، ان پر وحی آئی اور ان کو دعوت اسلامی کا مشن عطا ہوا۔ اب پردہ گرتا ہے اور دوسرے منظر میں پھر ہم فرعون کے دربار میں کھڑے ہیں۔ ان دونوں مناظر کے درمیان جو غیر ضروری افعال و حرکات ہیں ان کو کاٹ دیا جاتا ہے اور یہ قرآن کریم کا ایک مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ مناظر و مشاہد کے درمیان سے غیر ضروری حصے کاٹ دیتا ہے یا مختصر کردیتا ہے۔
الشعراء 26:15
درس نمبر 162 ایک نظر میں
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا یہ حصہ ، اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ بہت ہی ہم آہنگ ہے۔ اس سورت میں مدار کلام زیادہ تر اس پر ہے کہ مکذبین کا انجام کیسا ہوا کرتا ہے۔ پھر اس سورت میں بھی حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور مشرکین کی جانب سے روگردانی اور تکذیب کے نتیجے میں آپ کو جو مشکلات درپیش تھیں۔ ان پر آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی اس سورت کا موضوع سخن ہے۔ پھر اس سورت میں اس بات کی یقین دہانی بھی ہے کہ اس دعوت اور اس کی حامل تحریک کا حامی و مددگار اور محافظ اللہ ہے۔ اگرچہ یہ لوگ کمزور ہیں اور ان کے مخالفین زاد و عتاد یعنی ساز و سامان سے لیس ہیں۔ اہل قوت اور جبار ہیں اور ان پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔ کیونکہ اس سورت کے نزول کے وقت مکہ میں تحریک اسلامی کچھ ایسے ہی حالات سے گزر رہی تھی۔ انبیائے سابقین کے قصص قرآن کے منہاج تربیت میں ایک اہم مواد اور وسائل تربیت ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی بعض کڑیاں سورت بقرہ ، سورت مائدہ ، سورت اعراف ، سورت یونس ، سورت اسرائ، سورت کہف اور سور طہ میں گزر چکی ہیں۔ جبکہ بعض دوسری سورتوں میں بھی حیات موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف مجمل سے اشارات موجود ہیں۔
جہاں جہاں بھی اس قصے کی کڑی کی طرف کوئی اشارہ آیا ہے یا کوئی کڑی تفصیل کے ساتھ دی گئی ہے وہاں موضوع سخن کے ساتھ وہ کڑی اور وہ حصہ نہایت ہی موزوں رہا ہے ہر جگہ سیاق کلام کے ساتھ مناسب حصہ لایا گیا ہے۔ جس طرح اس قصے میں جو کڑیاں ہیں وہ اس سورت کے موضوع کے ساتھ متناسب ہیں اور اسی مقصد کو واضح کرتی ہیں۔ (تفصیلات کے لئے دیکھیے فی ظلال پارہ ششم)
یہاں جو حلقہ دیا گیا ہے وہ رسالت او اس کی تکذیب کے ساتھ متعلق ہے اور تکذیب نیز حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سازش کی وجہ سے فرعون اور اس کی قوم کی غرقابی کے واقعات دیئے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھی ظالموں کے چنگل سے ربانی پا گئے ۔ چناچہ یہ پوری کڑی اس آیت کی تصدیق ہے۔
وسیعلم الذین طلموا ای منقلب ینقلبون (26 : 228) ” اور عنقریب جان لیں گے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا کہ وہ کس انجام تک پہنچتے ہیں۔ “ اور اللہ کے اس قول کی بھی تصدیق ہے۔
فقد کذبوا فسیاتیھم انبوا ماکانوا بہ یستھزء ون (26 : 6) ” اب جبکہ انہوں نے جھٹلا دیا تو عنقریب پہنچ جائیں گی ان تک خبریں اس چیز کی جس کے ساتھ وہ مذاق کرتے تھے۔ “ حضرت موسیٰ کے قصے کا یہ حصہ چند مناظر پر مشتمل ہے جن کو دکھانا ضروری تھا۔ ان مناظر کے درمیان گیپ اور وقفے ہیں جن کے اندر منظر پر پردہ گر جاتا ہے او اس کے بعد جب پردہ اٹھتا ہے تو دوسرا منظر نظروں کے سامنے ہوتا ہے۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو پورے قرآن کریم میں قصص کے پیش کرتے وقت محلوظ رہی ہے۔
اس کڑی میں سات مشاہد ہیں۔ پہلے منظر میں اللہ کی جانب سے ندا آتی ہے۔ حضرت موسیٰ رب سے ہمکلام ہوتے ہیں اور ان کو منصب نبوت سے سرفراز کیا جاتا ہے اور ان پر وحی آتی ہے۔ دوسرے منظر میں کلیم اور فرعون کو آمنا سامنا ہوتا ہے۔ اس میں فرعون کے درباری بھی موجود ہیں۔ حضرت موسیٰ رسالت پیش فرماتے ہیں اور عصا اور ید بیضا کے معجزے بھی دکھائے جاتے ہیں۔ تیسرے منظر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جادوگروں کو لایا جاتا ہے۔ ایک وسیع میدان میں لوگ جمع ہو کر مقابل ی کی تدابیر پر بحث ہوتی ہے۔ چوتھے منظر میں جادو گر فرعون کے دربار میں جمع ہیں اور انعام و اکرام کے پکے وعدے لے رہے ہیں۔ اگر وہ میدان مار لیں۔ پانچواں منظر مقابلے کا منظر ہے ، مقابلہ ہوتا ہے ، جادوگر ایمان لاتے ہیں۔ فرعون ان کو دھمکیاں دیتا ہے۔ چھٹے منظر میں دونوں کیمپوں کی جھلکیاں ہیں ایک طرف وحی الٰہی کا منظر ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے کہ تم تیاری کرو اور میرے بندوں کو لے کر رات کے وقت نکل جائو اور دوسری طرف فرعون تمام علاقوں میں اپنے کارندے بھیجتا ہے اور فوجیں جمع ہوتی ہیں۔ ساتویں منظر میں یہ تعاقب کرنے والی افواج اور بھاگنے والوں مسلمان ایک سمندر کے سامنے ہیں۔ سمندر پھٹ جاتا ہے او ان آبی راستوں سے یہ مظلوم پار ہوجاتے ہیں اور ظالم غرق ہوجاتے ہیں۔
یہی مناظر سورت اعراف ، سورت یونس اور سورت طہ میں بھی پیش کئے گئے ہیں۔ لیکن ہر جگہ انداز اور قصے کا رنگ مختلف ہے اور بات جس رخ پر جا رہی ہوتی ہے ، قصے کو بھی اسی انداز پر لایا جاتا ہے۔ چناچہ قصے کا وہ پہلو اجاگر کیا جاتا ہے جو زیر بحث موضوع کے ساتھ متعلق ہو۔
اعراف میں قصے کا آغاز ہی کلیم اور فرعون کے مختصر مکالمے سے ہوا ہے۔ پھر جادوگروں کے ساتھ مقابلے کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے جبکہ فرعون او اس کے سرداروں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو اچھی طرح تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا ہے اور جادوگروں کے مقابلے اور لشکر فرعون کی غرقابی کے درمیان مصر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر میں معجزات دکھاتے ہوئے منظر پر لایا گیا ہے۔ پھر جب یہ لشکر کامیابی کے ساتھ سمندر سے گزر جاتا ہے تو پھر ہجرت کی زندگی کے کئی حلقے پیش کئے گئے ہیں ، جبکہ یہاں اس سورت میں یہ کڑیاں حذف کردی گئی ہیں اور حضرت موسیٰ اور فرعون کے درمیان توحید کے موضوع پر مکالمہ طوالت کے ساتھ دیا گیا ہے کیونکہ یہ اس سورت کا موضوع ہے اور مشرکین مکہ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان یہی مکالمہ زوروں پر ہے اور سورت یونس میں مختصر مکالمہ کلیم و فرعون سے آغاز ہوتا ہے اور عصا اور ید بیضا کے معجزات بھی نہیں دکھائے جاتے اور جادوگروں کے ساتھ مکالمے کی تفصیلات بھی حذف کردی گئی ہیں جبکہ یہاں ان دونوں کو مفصل لایا گیا ہے اور طہ میں حضرت موسیٰ اور رب تعالیٰ کے درمیان مناجات کو مفصل لایا گیا ہے۔ پھر موسیٰ اور فرعون کا سامنا ، جادوگروں کا مقابلہ سرسری طور پر اور بنی اسرائیل کا سفر ہجرت مفصل ہے۔ یہاں فرعون کی غرقابی پر قصہ کے مناظر ختم کردیئے جاتے ہیں۔
اس طرح جب ہم اس قصے کو قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں بار بار پاتے ہیں تو قرآن کے اسلوب بیان کا یہ کمال ہمارے سامنے آتا ہے کہ کسی جگہ بھی ہمیں یہ نظر نہیں آتا کہ یہ وہی قصہ ہے جو دہرایا جا رہا ہے کیونکہ ہر جگہ مختلف کڑیاں دکھائی گئی ہیں۔ مختلف مناظر ہیں۔ قصے کا ایک مخصوص پہلو کھول کر بیان کیا جاتا ہے اور انداز بیان تو ہر جگہ نیا ہوتا ہے۔ یہ تمام خصوصیات قصے کو ہر جگہ نیا بنا دیتی ہیں اور ہر جگہ قصہ اپنے موضوع کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہوتا ہے۔
درس نمبر 162 تشریح آیات
10……تا……68
واذ نادی ……اسرائیل (17)
اس سورت میں جو قصے لائے گئے ان کے ذریعے حضور اکرم ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے۔ ذرا سورت کے آغاز کو ایک بار پھر ملاحظہ فرمائیں۔
لعلک باخع ……یستھزء ون (6) (26 : 3 تا 6) ” اے نبی شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں ، اب جبکہ یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ “ اب جبکہ یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ ‘ ‘ اس تمہید کے بعد یہ تمام قصص لائے گئے ہیں اور ان میں بیان شدہ حصوں کا بنیادی مقصد مکذبین اور مستھزئین کا انجام بتانا ہے۔
واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین (26 : 10) قوم فرعون الا یتقون (26 : 11) ” انہیں اس وقت کا قصہ سنائو جب کہ تمہارے رب نے موسیٰ کو پکارا ” ظالم قوم کے پاس جا…فرعون کی قوم کے پاس …کیا وہ نہیں ڈرتے ؟ “ یہ ہے یہاں اس قصے کا پہلا منظر ، اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو منصب رسالت عطا کر کے ایک مشن دے دیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تم نے ایک ظالم قوم کے پاس جانا ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنی ذات پر ظلم کیا ہے کہ کفر و گمراہی میں مبتلا ہیں۔ پھر انہوں نے بنی اسرائیل پر ظلم کیا ہے کہ وہ ان کی عورتوں کو زندہ رکھتے ہیں اور مردوں کو ذبح کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جگہ جگہ مذاق کرتے ہیں اور طرح طرح کی سزائیں دیتے ہیں۔ اس قوم کی صفات پہلے بیان کرنے کے بعد اب ان کا نام لیا جاتا ہے۔ قوم فرعون کے پاس جائو۔ حضرت موسیٰ اور تمام انسان تعجب کرتے ہیں کہ کیا یہ ظالم قوم اپنے برے انجام سے نہیں ڈرتی۔ کیا ان کو خدا کا خوف نہیں ہے۔ کیا اپنے ان مظالم کا انجام انہیں معلوم نہیں ہے۔ کیا یہ لوگ اس قدر گھنائونے جرائم کے بعد بھی باز نہیں آتے۔ ان کا معاملہ تو عجیب ہے اور تعجب انگیز ہے اور اسی طرح تمام ایسی اقوام کا معاملہ ہے جو حدت گزر جاتی ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے فرعون اور اس کی قوم کا معاملہ کوئی نیا نہیں تھا وہ تو ان کو اچھی طرح جانتے تھے وہ فرعون کے ظلم ، اس کے جبر اور اس کی سرکشی سے اچھی طرح باخبر تھے اور اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ تو ایک عظیم اور مشکل مشن ہے جو ان کے حوالے کردیا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوریاں رکھ دیتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ وہ اس دعوت سے پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں اور مستقلاً معذرت کرنا چاہتے ہیں بلکہ اس مشن کے لئے مزید ضروری امداد اور معاونت کے طلبگار ہیں۔
قال رب انی اخاف ان یکذبون (26 : 12) ویضیق صدری ولاینطلق لسانی فارسل الی ھرون (26 : 31) ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون (26 : 13) اس نے عرض کیا ، ” اے میرے رب ، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھ کو جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ گھٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ آپ ہارون کی طرف رسالت بھیجیں اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے ، اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ “
یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جو بات نقل کی گئی ہے اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے وہ محض تکذیب کے خوف سے یہ فرماتے ہیں بلکہ ان کو رسالت ایسے حالات میں دی جا رہی ہے کہ ان کے دل کے اندر تنگی پائی جاتی ہے اور ان کو طلاقت لسانی کا ملکہ حاصل نہیں ہے۔ رسالت کے سلسلے میں ان کو ہر کسی سے مباحثہ اور گفتگو کرنی ہوگی اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان کی زبان میں لکنت ہے اور اس کے بارے میں سورت طہ میں انہوں نے تصریح فرمائی ہے۔
واحلل عقدہ من لسانی یفقھوا قولی ” اور میری زبان میں جو گرہ ہے اسے کھول دے تاکہ وہ میری بات کو سمجھیں۔ “ جب انسان کی زبان میں لکنت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے سینہ میں تنگی پیدا جاتی ہے۔ یہ تنگی اس وقت سخت تکلیف دہ ہوتی ہے کہ انسان بات کرنا چاہتا ہے اور جذبات کے ساتھ دلائل کا اظہار چاہتا ہے اور زبان اس وقت ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ جوں جوں خیالات اور جذبات کا سیلاب رواں ہوتا ہے ، زبان بند ہوتی ہے اور دل تنگ ہوجاتا ہے اور انسان کی حالت قابل دید ہوتی ہے۔ یہ صورت حال ہر کسی کی دیکھی ہوتی ہے۔ اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یشان ہیں کہ اگر ایسے حالات میں ان کی زبان کو گرہ لگ جائے تو بڑی عجیب پوزیشن ہوگی۔ خصوصاً جبکہ مقابلہ فرعون جیسے قہار و جبار کے ساتھ ہو۔ چناچہ حضرت نے اپنی کمزور یاپنے رب کے سامنے رکھی اور ساتھ ہی یہ درخواست بھی کی کہ حضرت ہارون کو بھی مقام رسالت عطا کردیا جائے۔ ان کو بھی اس منصب میں شریک کردیا جائے تاکہ وہ دونوں مل کر اس عظیم فریضے کو ادا کریں۔ مقصد یہ نہ تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس منصب کو قبول کرنے سے ہچکچا رہے ہیں یا پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں اور حضرت ہارون چونکہ حضرت موسیٰ سے زیادہ فصیح اللسان تھے اور جذباتی اعتبار سے وہ ٹھنڈے دل دماغ کے مالک تھے ۔ جب دوران کلام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان کو اگر گرہ لگ گئی تو حضرت ہارون ساتھ موجود ہوں گے وہ استدلال اور مکالمے کو آگے بڑھائیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی اس لکنت کو دور کرنے کے لئے خصوصی دعا بھی فرمائی جس طرح سورت طہ میں ہے اور ہو سکتا ہے کہ اللہ نے اسے دور بھی کردیا ہو لیکن آپ نے پھر بھی حضرت ہارون کو شریک منصب کرنے کے لئے دعا فرمائی اور فرمایا کہ انہیں ان کے لئے وزیر مقرر فرمایا جائے۔
اسی طرح حضرت نے فرمایا۔
ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون (26 : 13) ” اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ “ لہٰذا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے مقابلہ کرنے سے نہیں ڈرتے تھے اور نہ وہ ادائیگی فرض سے پہلوتہی چاہتے تھے بلکہ آپ حضرت ہارون کو وزیر اور شریک کار مقرر کروانا چاہتے تھے کہ اگر یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جرم قتل میں سزائے موت دے دیں تو ان کے بعد رسالت کا کام حضرت ہارون جاری رکھیں اور اس طرح فریضہ رسالت ادا ہوتا رہے جس طرح اللہ کا حکم تھا۔
چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ احتیاطی تدابیر دعوت اسلامی اور رسالت کی خاطر اختیار کیں۔ داعی کی ذات کے لئے کچھ زیادہ فکر نہ تھی۔ یعنی اگر حضرت موسیٰ کی زبان کو گروہ لگ جائے او آپ تقریر نہ کرسکیں تو حضرت ہارون تیار ہوں ، یہ نہ ہو کہ نیا آنے والا نبی لوگوں کے سامنے تقریر کر رہا ہے اور اچانک اس کی بات ہی رک جائے اور اس طرح دعوت اسلامی کو ایک کمزوری کا سامنا کرنا پڑے۔ اسی طرح اگر ان کو قتل ہی کردیا جائے تو دعوت کا کام ہی رک جائے۔ حالانکہ دعوت کا کام جاری رہنا ضروری ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ سوچ بالکل فطری تھی۔ اس لئے کہ اللہ نے ان کو منتخب ہی اسی کام کے لئے کیا تھا اور اللہ نے اپنی نگرانی میں ان کی تربیت ہی اسی مقصد کے لئے فرمانی تھی اور ان کو اللہ نے اپنے کام کے لئے ہی بنایا تھا۔
جب حضرت موسیٰ نے اپنی اس دلچسپی کا اظہار کیا ، دعوت کے بارے میں اپنے خدشات اور احتیاطی تدابیر کا اظہار کیا تو اللہ نے ان کی درخواست قبول کرلی۔ اور آپ کو تسلی دے دی کہ آپ ڈریں نہیں ، یہاں قبولیت دعا کا مرحلہ نہایت ہی مختصر ہے۔ ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنانا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مصر میں پہنچنا ، ہارون (علیہ السلام) سے ملنا ، تمام واقعاتک و حذف کر کے صرف یہ دکھایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون دونوں اپنے رب کے احکام لے کر فرعون کے ساتھ ہمکلام ہونے کی تیاری کر رہے ہیں لیکن حضرت موسیٰ کے خدشات کو صرف ایک ہی سخت لفظ سے روکا جاتا ہے جو غنی کے معنی میں آتا ہے اور جو تنبیہ کے لئے ہے کلا ” ہرگز نہیں۔ “
قال کلا ……اسرائیل (18) (26 : 15 تا 18) ” فرمایا ” ہرگز نہیں ، تم دونوں جائو ہماری نشانیاں لے کر ، ہم تمہار یساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے۔ فرعون کے پاس جائو او اس سے کہو ہم کو رب العالمین نے اس لئے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔ ہرگز نہیں نہ تمہارا دل تنگ ہوگا اور نہ تمہاری زبان میں لکنت ہوگی اور وہ ہرگز تمہیں قتل نہ کرسکیں گے۔ یہ سب خدشات آپ اپنے دل سے نکال دیں تم اور تمہارا بھائی دونوں جائو۔
فاذھبا بایتنا (26 : 15) ” جائو ہماری نشانیاں لے کر “ ان نشانیوں میں سے عصا اور ید بیضا کی نشانی تو حضرت موسیٰ نے دیکھی ہوئی تھی۔ یہاں ان سب باتوں کو مختصر کردیا جاتا ہے کیونکہ اس سورت میں پیش نظر فرعون کے سامنے رسالت کا پیش کرنا ، جادوگروں کے کرتب دکھانا اور فرعون کی غرقابی کی منظر کشی کرنا ہے۔ جائو انا معکم مستمعون (26 : 15) ” ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے “ نہایت ہی زور دار اور تاکیدی الفاظ میں کہا جاتا ہے ، جائو تمہیں اللہ کی حمایت یا رعایت اور تحفظ حاصل ہے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے جس طرح وہ ہر وقت ، ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے لیکن یہاں اللہ کی موجودگی کا مقصد یہ ہے کہ ہم تمہاری مدد اور تائید کے لئے حاضر ہیں۔
یہاں نصرت و تائید کا یقین یوں دلایا گیا ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں ، سن رہے ہیں یعنی حضوری اور توجہ انسانوں کے نزدیک اپنے عروج پر ہوتی ہے جب انسان سنتا ہے اس لئے ان کو یہ یقین دلایا جا رہا ہے کہ میری امداد اور نصرت ہر وقت حاضر ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز کہ وہ ہر چیز کو ایک شخص اور مجسم صورت میں پیش کرتا ہے۔ اذھبا ” جائو “
فاتبا فرعون ” فرعون کے پاس جائو “ اور اس کو اپن یمہم سے آگاہ کردیا اور بغیر کسی خوف کے اس کے سامنے اپنا مطلب صاف صاف بیان کر دو ۔
فقولا انا رسول رب العلمین (26 : 16) ” کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں۔ ‘ یہ تو دو ہیں لیکن چونکہ ہم ایک ہیں ، رسالت ایک ہے ، اس لئے دونوں ایک رسول ہیں۔ یہ اس فرعون کے سامنے کھڑے ہیں جو الوہیت کا دعویٰ کرتا تھا اور اپنی قوم کو یوں باور کراتا تھا۔
ماعلمت لکم من الہ غیری ” میں تمہارے لئے ، اپنے سوا کسی دوسرے الہ کو نہیں جانتا۔ “ یوں اس فرعون کے سامنے سب سے پہلے اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں یعنی وہ عالمین کا رب ہے اور وہ عالمین کا رب ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور اس میں کوئی مداہنت اور لیپا پوتی نہیں ہو سکتی۔
انا رسول رب العلمین (26 : 16) ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (26 : 18) ” ہم کو رب العالمین نے اس لئے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ “ قصہ موسیٰ کے ان اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو فرعون کے پاس اس لئے رسول بنا کر نہ بھیجا تھا کہ حضرت موسیٰ فرعون اور اس کی قوم کو دین اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دیں اور اسلام کے دین کو قبول کریں بلکہ ان کے پاس صرف اس لئے بھیجا گیا تھا کہ فرعون اور اس کی قوم سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کردیں۔ وہ اس کی غلامی سے آزاد ہوجائیں اور پھر جس طرح چاہیں اپنے رب کی بندگی کریں۔ وہ تو پہلے سے دین اسلام کے پیروکار تھے۔ حضرت یعقوب ، حضرت یوسف کے دین کو مانتے تھے البتہ ان کے نظریات اور ان کے ذہن میں انحراف ہوگیا تھا ان کے عقائد میں بگاڑ پیدا وہ گیا تھا اس لئے اللہ نے ان کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو دوبارہ ارسال کیا کہ وہ ان کے عقائد بھی درست کردیں اور ان کو فرعون کی غلامی سے بھی نجات دلائیں اور ان کو اچھی تربیت دے کر دوبارہ عقیدہ توحید پر قائم کردیں۔
……
یہاں تک تو ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو نبوت عطا ہوئی ، ان پر وحی آئی اور ان کو دعوت اسلامی کا مشن عطا ہوا۔ اب پردہ گرتا ہے اور دوسرے منظر میں پھر ہم فرعون کے دربار میں کھڑے ہیں۔ ان دونوں مناظر کے درمیان جو غیر ضروری افعال و حرکات ہیں ان کو کاٹ دیا جاتا ہے اور یہ قرآن کریم کا ایک مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ مناظر و مشاہد کے درمیان سے غیر ضروری حصے کاٹ دیتا ہے یا مختصر کردیتا ہے۔
الشعراء 26:16
درس نمبر 162 ایک نظر میں
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا یہ حصہ ، اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ بہت ہی ہم آہنگ ہے۔ اس سورت میں مدار کلام زیادہ تر اس پر ہے کہ مکذبین کا انجام کیسا ہوا کرتا ہے۔ پھر اس سورت میں بھی حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور مشرکین کی جانب سے روگردانی اور تکذیب کے نتیجے میں آپ کو جو مشکلات درپیش تھیں۔ ان پر آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی اس سورت کا موضوع سخن ہے۔ پھر اس سورت میں اس بات کی یقین دہانی بھی ہے کہ اس دعوت اور اس کی حامل تحریک کا حامی و مددگار اور محافظ اللہ ہے۔ اگرچہ یہ لوگ کمزور ہیں اور ان کے مخالفین زاد و عتاد یعنی ساز و سامان سے لیس ہیں۔ اہل قوت اور جبار ہیں اور ان پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔ کیونکہ اس سورت کے نزول کے وقت مکہ میں تحریک اسلامی کچھ ایسے ہی حالات سے گزر رہی تھی۔ انبیائے سابقین کے قصص قرآن کے منہاج تربیت میں ایک اہم مواد اور وسائل تربیت ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی بعض کڑیاں سورت بقرہ ، سورت مائدہ ، سورت اعراف ، سورت یونس ، سورت اسرائ، سورت کہف اور سور طہ میں گزر چکی ہیں۔ جبکہ بعض دوسری سورتوں میں بھی حیات موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف مجمل سے اشارات موجود ہیں۔
جہاں جہاں بھی اس قصے کی کڑی کی طرف کوئی اشارہ آیا ہے یا کوئی کڑی تفصیل کے ساتھ دی گئی ہے وہاں موضوع سخن کے ساتھ وہ کڑی اور وہ حصہ نہایت ہی موزوں رہا ہے ہر جگہ سیاق کلام کے ساتھ مناسب حصہ لایا گیا ہے۔ جس طرح اس قصے میں جو کڑیاں ہیں وہ اس سورت کے موضوع کے ساتھ متناسب ہیں اور اسی مقصد کو واضح کرتی ہیں۔ (تفصیلات کے لئے دیکھیے فی ظلال پارہ ششم)
یہاں جو حلقہ دیا گیا ہے وہ رسالت او اس کی تکذیب کے ساتھ متعلق ہے اور تکذیب نیز حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سازش کی وجہ سے فرعون اور اس کی قوم کی غرقابی کے واقعات دیئے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھی ظالموں کے چنگل سے ربانی پا گئے ۔ چناچہ یہ پوری کڑی اس آیت کی تصدیق ہے۔
وسیعلم الذین طلموا ای منقلب ینقلبون (26 : 228) ” اور عنقریب جان لیں گے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا کہ وہ کس انجام تک پہنچتے ہیں۔ “ اور اللہ کے اس قول کی بھی تصدیق ہے۔
فقد کذبوا فسیاتیھم انبوا ماکانوا بہ یستھزء ون (26 : 6) ” اب جبکہ انہوں نے جھٹلا دیا تو عنقریب پہنچ جائیں گی ان تک خبریں اس چیز کی جس کے ساتھ وہ مذاق کرتے تھے۔ “ حضرت موسیٰ کے قصے کا یہ حصہ چند مناظر پر مشتمل ہے جن کو دکھانا ضروری تھا۔ ان مناظر کے درمیان گیپ اور وقفے ہیں جن کے اندر منظر پر پردہ گر جاتا ہے او اس کے بعد جب پردہ اٹھتا ہے تو دوسرا منظر نظروں کے سامنے ہوتا ہے۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو پورے قرآن کریم میں قصص کے پیش کرتے وقت محلوظ رہی ہے۔
اس کڑی میں سات مشاہد ہیں۔ پہلے منظر میں اللہ کی جانب سے ندا آتی ہے۔ حضرت موسیٰ رب سے ہمکلام ہوتے ہیں اور ان کو منصب نبوت سے سرفراز کیا جاتا ہے اور ان پر وحی آتی ہے۔ دوسرے منظر میں کلیم اور فرعون کو آمنا سامنا ہوتا ہے۔ اس میں فرعون کے درباری بھی موجود ہیں۔ حضرت موسیٰ رسالت پیش فرماتے ہیں اور عصا اور ید بیضا کے معجزے بھی دکھائے جاتے ہیں۔ تیسرے منظر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جادوگروں کو لایا جاتا ہے۔ ایک وسیع میدان میں لوگ جمع ہو کر مقابل ی کی تدابیر پر بحث ہوتی ہے۔ چوتھے منظر میں جادو گر فرعون کے دربار میں جمع ہیں اور انعام و اکرام کے پکے وعدے لے رہے ہیں۔ اگر وہ میدان مار لیں۔ پانچواں منظر مقابلے کا منظر ہے ، مقابلہ ہوتا ہے ، جادوگر ایمان لاتے ہیں۔ فرعون ان کو دھمکیاں دیتا ہے۔ چھٹے منظر میں دونوں کیمپوں کی جھلکیاں ہیں ایک طرف وحی الٰہی کا منظر ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے کہ تم تیاری کرو اور میرے بندوں کو لے کر رات کے وقت نکل جائو اور دوسری طرف فرعون تمام علاقوں میں اپنے کارندے بھیجتا ہے اور فوجیں جمع ہوتی ہیں۔ ساتویں منظر میں یہ تعاقب کرنے والی افواج اور بھاگنے والوں مسلمان ایک سمندر کے سامنے ہیں۔ سمندر پھٹ جاتا ہے او ان آبی راستوں سے یہ مظلوم پار ہوجاتے ہیں اور ظالم غرق ہوجاتے ہیں۔
یہی مناظر سورت اعراف ، سورت یونس اور سورت طہ میں بھی پیش کئے گئے ہیں۔ لیکن ہر جگہ انداز اور قصے کا رنگ مختلف ہے اور بات جس رخ پر جا رہی ہوتی ہے ، قصے کو بھی اسی انداز پر لایا جاتا ہے۔ چناچہ قصے کا وہ پہلو اجاگر کیا جاتا ہے جو زیر بحث موضوع کے ساتھ متعلق ہو۔
اعراف میں قصے کا آغاز ہی کلیم اور فرعون کے مختصر مکالمے سے ہوا ہے۔ پھر جادوگروں کے ساتھ مقابلے کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے جبکہ فرعون او اس کے سرداروں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو اچھی طرح تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا ہے اور جادوگروں کے مقابلے اور لشکر فرعون کی غرقابی کے درمیان مصر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر میں معجزات دکھاتے ہوئے منظر پر لایا گیا ہے۔ پھر جب یہ لشکر کامیابی کے ساتھ سمندر سے گزر جاتا ہے تو پھر ہجرت کی زندگی کے کئی حلقے پیش کئے گئے ہیں ، جبکہ یہاں اس سورت میں یہ کڑیاں حذف کردی گئی ہیں اور حضرت موسیٰ اور فرعون کے درمیان توحید کے موضوع پر مکالمہ طوالت کے ساتھ دیا گیا ہے کیونکہ یہ اس سورت کا موضوع ہے اور مشرکین مکہ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان یہی مکالمہ زوروں پر ہے اور سورت یونس میں مختصر مکالمہ کلیم و فرعون سے آغاز ہوتا ہے اور عصا اور ید بیضا کے معجزات بھی نہیں دکھائے جاتے اور جادوگروں کے ساتھ مکالمے کی تفصیلات بھی حذف کردی گئی ہیں جبکہ یہاں ان دونوں کو مفصل لایا گیا ہے اور طہ میں حضرت موسیٰ اور رب تعالیٰ کے درمیان مناجات کو مفصل لایا گیا ہے۔ پھر موسیٰ اور فرعون کا سامنا ، جادوگروں کا مقابلہ سرسری طور پر اور بنی اسرائیل کا سفر ہجرت مفصل ہے۔ یہاں فرعون کی غرقابی پر قصہ کے مناظر ختم کردیئے جاتے ہیں۔
اس طرح جب ہم اس قصے کو قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں بار بار پاتے ہیں تو قرآن کے اسلوب بیان کا یہ کمال ہمارے سامنے آتا ہے کہ کسی جگہ بھی ہمیں یہ نظر نہیں آتا کہ یہ وہی قصہ ہے جو دہرایا جا رہا ہے کیونکہ ہر جگہ مختلف کڑیاں دکھائی گئی ہیں۔ مختلف مناظر ہیں۔ قصے کا ایک مخصوص پہلو کھول کر بیان کیا جاتا ہے اور انداز بیان تو ہر جگہ نیا ہوتا ہے۔ یہ تمام خصوصیات قصے کو ہر جگہ نیا بنا دیتی ہیں اور ہر جگہ قصہ اپنے موضوع کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہوتا ہے۔
درس نمبر 162 تشریح آیات
10……تا……68
واذ نادی ……اسرائیل (17)
اس سورت میں جو قصے لائے گئے ان کے ذریعے حضور اکرم ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے۔ ذرا سورت کے آغاز کو ایک بار پھر ملاحظہ فرمائیں۔
لعلک باخع ……یستھزء ون (6) (26 : 3 تا 6) ” اے نبی شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں ، اب جبکہ یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ “ اب جبکہ یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ ‘ ‘ اس تمہید کے بعد یہ تمام قصص لائے گئے ہیں اور ان میں بیان شدہ حصوں کا بنیادی مقصد مکذبین اور مستھزئین کا انجام بتانا ہے۔
واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین (26 : 10) قوم فرعون الا یتقون (26 : 11) ” انہیں اس وقت کا قصہ سنائو جب کہ تمہارے رب نے موسیٰ کو پکارا ” ظالم قوم کے پاس جا…فرعون کی قوم کے پاس …کیا وہ نہیں ڈرتے ؟ “ یہ ہے یہاں اس قصے کا پہلا منظر ، اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو منصب رسالت عطا کر کے ایک مشن دے دیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تم نے ایک ظالم قوم کے پاس جانا ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنی ذات پر ظلم کیا ہے کہ کفر و گمراہی میں مبتلا ہیں۔ پھر انہوں نے بنی اسرائیل پر ظلم کیا ہے کہ وہ ان کی عورتوں کو زندہ رکھتے ہیں اور مردوں کو ذبح کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جگہ جگہ مذاق کرتے ہیں اور طرح طرح کی سزائیں دیتے ہیں۔ اس قوم کی صفات پہلے بیان کرنے کے بعد اب ان کا نام لیا جاتا ہے۔ قوم فرعون کے پاس جائو۔ حضرت موسیٰ اور تمام انسان تعجب کرتے ہیں کہ کیا یہ ظالم قوم اپنے برے انجام سے نہیں ڈرتی۔ کیا ان کو خدا کا خوف نہیں ہے۔ کیا اپنے ان مظالم کا انجام انہیں معلوم نہیں ہے۔ کیا یہ لوگ اس قدر گھنائونے جرائم کے بعد بھی باز نہیں آتے۔ ان کا معاملہ تو عجیب ہے اور تعجب انگیز ہے اور اسی طرح تمام ایسی اقوام کا معاملہ ہے جو حدت گزر جاتی ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے فرعون اور اس کی قوم کا معاملہ کوئی نیا نہیں تھا وہ تو ان کو اچھی طرح جانتے تھے وہ فرعون کے ظلم ، اس کے جبر اور اس کی سرکشی سے اچھی طرح باخبر تھے اور اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ تو ایک عظیم اور مشکل مشن ہے جو ان کے حوالے کردیا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوریاں رکھ دیتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ وہ اس دعوت سے پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں اور مستقلاً معذرت کرنا چاہتے ہیں بلکہ اس مشن کے لئے مزید ضروری امداد اور معاونت کے طلبگار ہیں۔
قال رب انی اخاف ان یکذبون (26 : 12) ویضیق صدری ولاینطلق لسانی فارسل الی ھرون (26 : 31) ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون (26 : 13) اس نے عرض کیا ، ” اے میرے رب ، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھ کو جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ گھٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ آپ ہارون کی طرف رسالت بھیجیں اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے ، اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ “
یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جو بات نقل کی گئی ہے اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے وہ محض تکذیب کے خوف سے یہ فرماتے ہیں بلکہ ان کو رسالت ایسے حالات میں دی جا رہی ہے کہ ان کے دل کے اندر تنگی پائی جاتی ہے اور ان کو طلاقت لسانی کا ملکہ حاصل نہیں ہے۔ رسالت کے سلسلے میں ان کو ہر کسی سے مباحثہ اور گفتگو کرنی ہوگی اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان کی زبان میں لکنت ہے اور اس کے بارے میں سورت طہ میں انہوں نے تصریح فرمائی ہے۔
واحلل عقدہ من لسانی یفقھوا قولی ” اور میری زبان میں جو گرہ ہے اسے کھول دے تاکہ وہ میری بات کو سمجھیں۔ “ جب انسان کی زبان میں لکنت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے سینہ میں تنگی پیدا جاتی ہے۔ یہ تنگی اس وقت سخت تکلیف دہ ہوتی ہے کہ انسان بات کرنا چاہتا ہے اور جذبات کے ساتھ دلائل کا اظہار چاہتا ہے اور زبان اس وقت ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ جوں جوں خیالات اور جذبات کا سیلاب رواں ہوتا ہے ، زبان بند ہوتی ہے اور دل تنگ ہوجاتا ہے اور انسان کی حالت قابل دید ہوتی ہے۔ یہ صورت حال ہر کسی کی دیکھی ہوتی ہے۔ اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یشان ہیں کہ اگر ایسے حالات میں ان کی زبان کو گرہ لگ جائے تو بڑی عجیب پوزیشن ہوگی۔ خصوصاً جبکہ مقابلہ فرعون جیسے قہار و جبار کے ساتھ ہو۔ چناچہ حضرت نے اپنی کمزور یاپنے رب کے سامنے رکھی اور ساتھ ہی یہ درخواست بھی کی کہ حضرت ہارون کو بھی مقام رسالت عطا کردیا جائے۔ ان کو بھی اس منصب میں شریک کردیا جائے تاکہ وہ دونوں مل کر اس عظیم فریضے کو ادا کریں۔ مقصد یہ نہ تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس منصب کو قبول کرنے سے ہچکچا رہے ہیں یا پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں اور حضرت ہارون چونکہ حضرت موسیٰ سے زیادہ فصیح اللسان تھے اور جذباتی اعتبار سے وہ ٹھنڈے دل دماغ کے مالک تھے ۔ جب دوران کلام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان کو اگر گرہ لگ گئی تو حضرت ہارون ساتھ موجود ہوں گے وہ استدلال اور مکالمے کو آگے بڑھائیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی اس لکنت کو دور کرنے کے لئے خصوصی دعا بھی فرمائی جس طرح سورت طہ میں ہے اور ہو سکتا ہے کہ اللہ نے اسے دور بھی کردیا ہو لیکن آپ نے پھر بھی حضرت ہارون کو شریک منصب کرنے کے لئے دعا فرمائی اور فرمایا کہ انہیں ان کے لئے وزیر مقرر فرمایا جائے۔
اسی طرح حضرت نے فرمایا۔
ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون (26 : 13) ” اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ “ لہٰذا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے مقابلہ کرنے سے نہیں ڈرتے تھے اور نہ وہ ادائیگی فرض سے پہلوتہی چاہتے تھے بلکہ آپ حضرت ہارون کو وزیر اور شریک کار مقرر کروانا چاہتے تھے کہ اگر یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جرم قتل میں سزائے موت دے دیں تو ان کے بعد رسالت کا کام حضرت ہارون جاری رکھیں اور اس طرح فریضہ رسالت ادا ہوتا رہے جس طرح اللہ کا حکم تھا۔
چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ احتیاطی تدابیر دعوت اسلامی اور رسالت کی خاطر اختیار کیں۔ داعی کی ذات کے لئے کچھ زیادہ فکر نہ تھی۔ یعنی اگر حضرت موسیٰ کی زبان کو گروہ لگ جائے او آپ تقریر نہ کرسکیں تو حضرت ہارون تیار ہوں ، یہ نہ ہو کہ نیا آنے والا نبی لوگوں کے سامنے تقریر کر رہا ہے اور اچانک اس کی بات ہی رک جائے اور اس طرح دعوت اسلامی کو ایک کمزوری کا سامنا کرنا پڑے۔ اسی طرح اگر ان کو قتل ہی کردیا جائے تو دعوت کا کام ہی رک جائے۔ حالانکہ دعوت کا کام جاری رہنا ضروری ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ سوچ بالکل فطری تھی۔ اس لئے کہ اللہ نے ان کو منتخب ہی اسی کام کے لئے کیا تھا اور اللہ نے اپنی نگرانی میں ان کی تربیت ہی اسی مقصد کے لئے فرمانی تھی اور ان کو اللہ نے اپنے کام کے لئے ہی بنایا تھا۔
جب حضرت موسیٰ نے اپنی اس دلچسپی کا اظہار کیا ، دعوت کے بارے میں اپنے خدشات اور احتیاطی تدابیر کا اظہار کیا تو اللہ نے ان کی درخواست قبول کرلی۔ اور آپ کو تسلی دے دی کہ آپ ڈریں نہیں ، یہاں قبولیت دعا کا مرحلہ نہایت ہی مختصر ہے۔ ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنانا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مصر میں پہنچنا ، ہارون (علیہ السلام) سے ملنا ، تمام واقعاتک و حذف کر کے صرف یہ دکھایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون دونوں اپنے رب کے احکام لے کر فرعون کے ساتھ ہمکلام ہونے کی تیاری کر رہے ہیں لیکن حضرت موسیٰ کے خدشات کو صرف ایک ہی سخت لفظ سے روکا جاتا ہے جو غنی کے معنی میں آتا ہے اور جو تنبیہ کے لئے ہے کلا ” ہرگز نہیں۔ “
قال کلا ……اسرائیل (18) (26 : 15 تا 18) ” فرمایا ” ہرگز نہیں ، تم دونوں جائو ہماری نشانیاں لے کر ، ہم تمہار یساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے۔ فرعون کے پاس جائو او اس سے کہو ہم کو رب العالمین نے اس لئے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔ ہرگز نہیں نہ تمہارا دل تنگ ہوگا اور نہ تمہاری زبان میں لکنت ہوگی اور وہ ہرگز تمہیں قتل نہ کرسکیں گے۔ یہ سب خدشات آپ اپنے دل سے نکال دیں تم اور تمہارا بھائی دونوں جائو۔
فاذھبا بایتنا (26 : 15) ” جائو ہماری نشانیاں لے کر “ ان نشانیوں میں سے عصا اور ید بیضا کی نشانی تو حضرت موسیٰ نے دیکھی ہوئی تھی۔ یہاں ان سب باتوں کو مختصر کردیا جاتا ہے کیونکہ اس سورت میں پیش نظر فرعون کے سامنے رسالت کا پیش کرنا ، جادوگروں کے کرتب دکھانا اور فرعون کی غرقابی کی منظر کشی کرنا ہے۔ جائو انا معکم مستمعون (26 : 15) ” ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے “ نہایت ہی زور دار اور تاکیدی الفاظ میں کہا جاتا ہے ، جائو تمہیں اللہ کی حمایت یا رعایت اور تحفظ حاصل ہے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے جس طرح وہ ہر وقت ، ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے لیکن یہاں اللہ کی موجودگی کا مقصد یہ ہے کہ ہم تمہاری مدد اور تائید کے لئے حاضر ہیں۔
یہاں نصرت و تائید کا یقین یوں دلایا گیا ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں ، سن رہے ہیں یعنی حضوری اور توجہ انسانوں کے نزدیک اپنے عروج پر ہوتی ہے جب انسان سنتا ہے اس لئے ان کو یہ یقین دلایا جا رہا ہے کہ میری امداد اور نصرت ہر وقت حاضر ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز کہ وہ ہر چیز کو ایک شخص اور مجسم صورت میں پیش کرتا ہے۔ اذھبا ” جائو “
فاتبا فرعون ” فرعون کے پاس جائو “ اور اس کو اپن یمہم سے آگاہ کردیا اور بغیر کسی خوف کے اس کے سامنے اپنا مطلب صاف صاف بیان کر دو ۔
فقولا انا رسول رب العلمین (26 : 16) ” کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں۔ ‘ یہ تو دو ہیں لیکن چونکہ ہم ایک ہیں ، رسالت ایک ہے ، اس لئے دونوں ایک رسول ہیں۔ یہ اس فرعون کے سامنے کھڑے ہیں جو الوہیت کا دعویٰ کرتا تھا اور اپنی قوم کو یوں باور کراتا تھا۔
ماعلمت لکم من الہ غیری ” میں تمہارے لئے ، اپنے سوا کسی دوسرے الہ کو نہیں جانتا۔ “ یوں اس فرعون کے سامنے سب سے پہلے اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں یعنی وہ عالمین کا رب ہے اور وہ عالمین کا رب ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور اس میں کوئی مداہنت اور لیپا پوتی نہیں ہو سکتی۔
انا رسول رب العلمین (26 : 16) ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (26 : 18) ” ہم کو رب العالمین نے اس لئے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ “ قصہ موسیٰ کے ان اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو فرعون کے پاس اس لئے رسول بنا کر نہ بھیجا تھا کہ حضرت موسیٰ فرعون اور اس کی قوم کو دین اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دیں اور اسلام کے دین کو قبول کریں بلکہ ان کے پاس صرف اس لئے بھیجا گیا تھا کہ فرعون اور اس کی قوم سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کردیں۔ وہ اس کی غلامی سے آزاد ہوجائیں اور پھر جس طرح چاہیں اپنے رب کی بندگی کریں۔ وہ تو پہلے سے دین اسلام کے پیروکار تھے۔ حضرت یعقوب ، حضرت یوسف کے دین کو مانتے تھے البتہ ان کے نظریات اور ان کے ذہن میں انحراف ہوگیا تھا ان کے عقائد میں بگاڑ پیدا وہ گیا تھا اس لئے اللہ نے ان کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو دوبارہ ارسال کیا کہ وہ ان کے عقائد بھی درست کردیں اور ان کو فرعون کی غلامی سے بھی نجات دلائیں اور ان کو اچھی تربیت دے کر دوبارہ عقیدہ توحید پر قائم کردیں۔
……
یہاں تک تو ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو نبوت عطا ہوئی ، ان پر وحی آئی اور ان کو دعوت اسلامی کا مشن عطا ہوا۔ اب پردہ گرتا ہے اور دوسرے منظر میں پھر ہم فرعون کے دربار میں کھڑے ہیں۔ ان دونوں مناظر کے درمیان جو غیر ضروری افعال و حرکات ہیں ان کو کاٹ دیا جاتا ہے اور یہ قرآن کریم کا ایک مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ مناظر و مشاہد کے درمیان سے غیر ضروری حصے کاٹ دیتا ہے یا مختصر کردیتا ہے۔
الشعراء 26:17
درس نمبر 162 ایک نظر میں
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا یہ حصہ ، اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ بہت ہی ہم آہنگ ہے۔ اس سورت میں مدار کلام زیادہ تر اس پر ہے کہ مکذبین کا انجام کیسا ہوا کرتا ہے۔ پھر اس سورت میں بھی حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور مشرکین کی جانب سے روگردانی اور تکذیب کے نتیجے میں آپ کو جو مشکلات درپیش تھیں۔ ان پر آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی اس سورت کا موضوع سخن ہے۔ پھر اس سورت میں اس بات کی یقین دہانی بھی ہے کہ اس دعوت اور اس کی حامل تحریک کا حامی و مددگار اور محافظ اللہ ہے۔ اگرچہ یہ لوگ کمزور ہیں اور ان کے مخالفین زاد و عتاد یعنی ساز و سامان سے لیس ہیں۔ اہل قوت اور جبار ہیں اور ان پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔ کیونکہ اس سورت کے نزول کے وقت مکہ میں تحریک اسلامی کچھ ایسے ہی حالات سے گزر رہی تھی۔ انبیائے سابقین کے قصص قرآن کے منہاج تربیت میں ایک اہم مواد اور وسائل تربیت ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی بعض کڑیاں سورت بقرہ ، سورت مائدہ ، سورت اعراف ، سورت یونس ، سورت اسرائ، سورت کہف اور سور طہ میں گزر چکی ہیں۔ جبکہ بعض دوسری سورتوں میں بھی حیات موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف مجمل سے اشارات موجود ہیں۔
جہاں جہاں بھی اس قصے کی کڑی کی طرف کوئی اشارہ آیا ہے یا کوئی کڑی تفصیل کے ساتھ دی گئی ہے وہاں موضوع سخن کے ساتھ وہ کڑی اور وہ حصہ نہایت ہی موزوں رہا ہے ہر جگہ سیاق کلام کے ساتھ مناسب حصہ لایا گیا ہے۔ جس طرح اس قصے میں جو کڑیاں ہیں وہ اس سورت کے موضوع کے ساتھ متناسب ہیں اور اسی مقصد کو واضح کرتی ہیں۔ (تفصیلات کے لئے دیکھیے فی ظلال پارہ ششم)
یہاں جو حلقہ دیا گیا ہے وہ رسالت او اس کی تکذیب کے ساتھ متعلق ہے اور تکذیب نیز حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سازش کی وجہ سے فرعون اور اس کی قوم کی غرقابی کے واقعات دیئے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھی ظالموں کے چنگل سے ربانی پا گئے ۔ چناچہ یہ پوری کڑی اس آیت کی تصدیق ہے۔
وسیعلم الذین طلموا ای منقلب ینقلبون (26 : 228) ” اور عنقریب جان لیں گے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا کہ وہ کس انجام تک پہنچتے ہیں۔ “ اور اللہ کے اس قول کی بھی تصدیق ہے۔
فقد کذبوا فسیاتیھم انبوا ماکانوا بہ یستھزء ون (26 : 6) ” اب جبکہ انہوں نے جھٹلا دیا تو عنقریب پہنچ جائیں گی ان تک خبریں اس چیز کی جس کے ساتھ وہ مذاق کرتے تھے۔ “ حضرت موسیٰ کے قصے کا یہ حصہ چند مناظر پر مشتمل ہے جن کو دکھانا ضروری تھا۔ ان مناظر کے درمیان گیپ اور وقفے ہیں جن کے اندر منظر پر پردہ گر جاتا ہے او اس کے بعد جب پردہ اٹھتا ہے تو دوسرا منظر نظروں کے سامنے ہوتا ہے۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو پورے قرآن کریم میں قصص کے پیش کرتے وقت محلوظ رہی ہے۔
اس کڑی میں سات مشاہد ہیں۔ پہلے منظر میں اللہ کی جانب سے ندا آتی ہے۔ حضرت موسیٰ رب سے ہمکلام ہوتے ہیں اور ان کو منصب نبوت سے سرفراز کیا جاتا ہے اور ان پر وحی آتی ہے۔ دوسرے منظر میں کلیم اور فرعون کو آمنا سامنا ہوتا ہے۔ اس میں فرعون کے درباری بھی موجود ہیں۔ حضرت موسیٰ رسالت پیش فرماتے ہیں اور عصا اور ید بیضا کے معجزے بھی دکھائے جاتے ہیں۔ تیسرے منظر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جادوگروں کو لایا جاتا ہے۔ ایک وسیع میدان میں لوگ جمع ہو کر مقابل ی کی تدابیر پر بحث ہوتی ہے۔ چوتھے منظر میں جادو گر فرعون کے دربار میں جمع ہیں اور انعام و اکرام کے پکے وعدے لے رہے ہیں۔ اگر وہ میدان مار لیں۔ پانچواں منظر مقابلے کا منظر ہے ، مقابلہ ہوتا ہے ، جادوگر ایمان لاتے ہیں۔ فرعون ان کو دھمکیاں دیتا ہے۔ چھٹے منظر میں دونوں کیمپوں کی جھلکیاں ہیں ایک طرف وحی الٰہی کا منظر ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے کہ تم تیاری کرو اور میرے بندوں کو لے کر رات کے وقت نکل جائو اور دوسری طرف فرعون تمام علاقوں میں اپنے کارندے بھیجتا ہے اور فوجیں جمع ہوتی ہیں۔ ساتویں منظر میں یہ تعاقب کرنے والی افواج اور بھاگنے والوں مسلمان ایک سمندر کے سامنے ہیں۔ سمندر پھٹ جاتا ہے او ان آبی راستوں سے یہ مظلوم پار ہوجاتے ہیں اور ظالم غرق ہوجاتے ہیں۔
یہی مناظر سورت اعراف ، سورت یونس اور سورت طہ میں بھی پیش کئے گئے ہیں۔ لیکن ہر جگہ انداز اور قصے کا رنگ مختلف ہے اور بات جس رخ پر جا رہی ہوتی ہے ، قصے کو بھی اسی انداز پر لایا جاتا ہے۔ چناچہ قصے کا وہ پہلو اجاگر کیا جاتا ہے جو زیر بحث موضوع کے ساتھ متعلق ہو۔
اعراف میں قصے کا آغاز ہی کلیم اور فرعون کے مختصر مکالمے سے ہوا ہے۔ پھر جادوگروں کے ساتھ مقابلے کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے جبکہ فرعون او اس کے سرداروں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو اچھی طرح تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا ہے اور جادوگروں کے مقابلے اور لشکر فرعون کی غرقابی کے درمیان مصر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر میں معجزات دکھاتے ہوئے منظر پر لایا گیا ہے۔ پھر جب یہ لشکر کامیابی کے ساتھ سمندر سے گزر جاتا ہے تو پھر ہجرت کی زندگی کے کئی حلقے پیش کئے گئے ہیں ، جبکہ یہاں اس سورت میں یہ کڑیاں حذف کردی گئی ہیں اور حضرت موسیٰ اور فرعون کے درمیان توحید کے موضوع پر مکالمہ طوالت کے ساتھ دیا گیا ہے کیونکہ یہ اس سورت کا موضوع ہے اور مشرکین مکہ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان یہی مکالمہ زوروں پر ہے اور سورت یونس میں مختصر مکالمہ کلیم و فرعون سے آغاز ہوتا ہے اور عصا اور ید بیضا کے معجزات بھی نہیں دکھائے جاتے اور جادوگروں کے ساتھ مکالمے کی تفصیلات بھی حذف کردی گئی ہیں جبکہ یہاں ان دونوں کو مفصل لایا گیا ہے اور طہ میں حضرت موسیٰ اور رب تعالیٰ کے درمیان مناجات کو مفصل لایا گیا ہے۔ پھر موسیٰ اور فرعون کا سامنا ، جادوگروں کا مقابلہ سرسری طور پر اور بنی اسرائیل کا سفر ہجرت مفصل ہے۔ یہاں فرعون کی غرقابی پر قصہ کے مناظر ختم کردیئے جاتے ہیں۔
اس طرح جب ہم اس قصے کو قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں بار بار پاتے ہیں تو قرآن کے اسلوب بیان کا یہ کمال ہمارے سامنے آتا ہے کہ کسی جگہ بھی ہمیں یہ نظر نہیں آتا کہ یہ وہی قصہ ہے جو دہرایا جا رہا ہے کیونکہ ہر جگہ مختلف کڑیاں دکھائی گئی ہیں۔ مختلف مناظر ہیں۔ قصے کا ایک مخصوص پہلو کھول کر بیان کیا جاتا ہے اور انداز بیان تو ہر جگہ نیا ہوتا ہے۔ یہ تمام خصوصیات قصے کو ہر جگہ نیا بنا دیتی ہیں اور ہر جگہ قصہ اپنے موضوع کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہوتا ہے۔
درس نمبر 162 تشریح آیات
10……تا……68
واذ نادی ……اسرائیل (17)
اس سورت میں جو قصے لائے گئے ان کے ذریعے حضور اکرم ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے۔ ذرا سورت کے آغاز کو ایک بار پھر ملاحظہ فرمائیں۔
لعلک باخع ……یستھزء ون (6) (26 : 3 تا 6) ” اے نبی شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں ، اب جبکہ یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ “ اب جبکہ یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ ‘ ‘ اس تمہید کے بعد یہ تمام قصص لائے گئے ہیں اور ان میں بیان شدہ حصوں کا بنیادی مقصد مکذبین اور مستھزئین کا انجام بتانا ہے۔
واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین (26 : 10) قوم فرعون الا یتقون (26 : 11) ” انہیں اس وقت کا قصہ سنائو جب کہ تمہارے رب نے موسیٰ کو پکارا ” ظالم قوم کے پاس جا…فرعون کی قوم کے پاس …کیا وہ نہیں ڈرتے ؟ “ یہ ہے یہاں اس قصے کا پہلا منظر ، اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو منصب رسالت عطا کر کے ایک مشن دے دیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تم نے ایک ظالم قوم کے پاس جانا ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنی ذات پر ظلم کیا ہے کہ کفر و گمراہی میں مبتلا ہیں۔ پھر انہوں نے بنی اسرائیل پر ظلم کیا ہے کہ وہ ان کی عورتوں کو زندہ رکھتے ہیں اور مردوں کو ذبح کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جگہ جگہ مذاق کرتے ہیں اور طرح طرح کی سزائیں دیتے ہیں۔ اس قوم کی صفات پہلے بیان کرنے کے بعد اب ان کا نام لیا جاتا ہے۔ قوم فرعون کے پاس جائو۔ حضرت موسیٰ اور تمام انسان تعجب کرتے ہیں کہ کیا یہ ظالم قوم اپنے برے انجام سے نہیں ڈرتی۔ کیا ان کو خدا کا خوف نہیں ہے۔ کیا اپنے ان مظالم کا انجام انہیں معلوم نہیں ہے۔ کیا یہ لوگ اس قدر گھنائونے جرائم کے بعد بھی باز نہیں آتے۔ ان کا معاملہ تو عجیب ہے اور تعجب انگیز ہے اور اسی طرح تمام ایسی اقوام کا معاملہ ہے جو حدت گزر جاتی ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے فرعون اور اس کی قوم کا معاملہ کوئی نیا نہیں تھا وہ تو ان کو اچھی طرح جانتے تھے وہ فرعون کے ظلم ، اس کے جبر اور اس کی سرکشی سے اچھی طرح باخبر تھے اور اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ تو ایک عظیم اور مشکل مشن ہے جو ان کے حوالے کردیا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوریاں رکھ دیتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ وہ اس دعوت سے پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں اور مستقلاً معذرت کرنا چاہتے ہیں بلکہ اس مشن کے لئے مزید ضروری امداد اور معاونت کے طلبگار ہیں۔
قال رب انی اخاف ان یکذبون (26 : 12) ویضیق صدری ولاینطلق لسانی فارسل الی ھرون (26 : 31) ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون (26 : 13) اس نے عرض کیا ، ” اے میرے رب ، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھ کو جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ گھٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ آپ ہارون کی طرف رسالت بھیجیں اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے ، اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ “
یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جو بات نقل کی گئی ہے اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے وہ محض تکذیب کے خوف سے یہ فرماتے ہیں بلکہ ان کو رسالت ایسے حالات میں دی جا رہی ہے کہ ان کے دل کے اندر تنگی پائی جاتی ہے اور ان کو طلاقت لسانی کا ملکہ حاصل نہیں ہے۔ رسالت کے سلسلے میں ان کو ہر کسی سے مباحثہ اور گفتگو کرنی ہوگی اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان کی زبان میں لکنت ہے اور اس کے بارے میں سورت طہ میں انہوں نے تصریح فرمائی ہے۔
واحلل عقدہ من لسانی یفقھوا قولی ” اور میری زبان میں جو گرہ ہے اسے کھول دے تاکہ وہ میری بات کو سمجھیں۔ “ جب انسان کی زبان میں لکنت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے سینہ میں تنگی پیدا جاتی ہے۔ یہ تنگی اس وقت سخت تکلیف دہ ہوتی ہے کہ انسان بات کرنا چاہتا ہے اور جذبات کے ساتھ دلائل کا اظہار چاہتا ہے اور زبان اس وقت ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ جوں جوں خیالات اور جذبات کا سیلاب رواں ہوتا ہے ، زبان بند ہوتی ہے اور دل تنگ ہوجاتا ہے اور انسان کی حالت قابل دید ہوتی ہے۔ یہ صورت حال ہر کسی کی دیکھی ہوتی ہے۔ اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یشان ہیں کہ اگر ایسے حالات میں ان کی زبان کو گرہ لگ جائے تو بڑی عجیب پوزیشن ہوگی۔ خصوصاً جبکہ مقابلہ فرعون جیسے قہار و جبار کے ساتھ ہو۔ چناچہ حضرت نے اپنی کمزور یاپنے رب کے سامنے رکھی اور ساتھ ہی یہ درخواست بھی کی کہ حضرت ہارون کو بھی مقام رسالت عطا کردیا جائے۔ ان کو بھی اس منصب میں شریک کردیا جائے تاکہ وہ دونوں مل کر اس عظیم فریضے کو ادا کریں۔ مقصد یہ نہ تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس منصب کو قبول کرنے سے ہچکچا رہے ہیں یا پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں اور حضرت ہارون چونکہ حضرت موسیٰ سے زیادہ فصیح اللسان تھے اور جذباتی اعتبار سے وہ ٹھنڈے دل دماغ کے مالک تھے ۔ جب دوران کلام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان کو اگر گرہ لگ گئی تو حضرت ہارون ساتھ موجود ہوں گے وہ استدلال اور مکالمے کو آگے بڑھائیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی اس لکنت کو دور کرنے کے لئے خصوصی دعا بھی فرمائی جس طرح سورت طہ میں ہے اور ہو سکتا ہے کہ اللہ نے اسے دور بھی کردیا ہو لیکن آپ نے پھر بھی حضرت ہارون کو شریک منصب کرنے کے لئے دعا فرمائی اور فرمایا کہ انہیں ان کے لئے وزیر مقرر فرمایا جائے۔
اسی طرح حضرت نے فرمایا۔
ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون (26 : 13) ” اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ “ لہٰذا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے مقابلہ کرنے سے نہیں ڈرتے تھے اور نہ وہ ادائیگی فرض سے پہلوتہی چاہتے تھے بلکہ آپ حضرت ہارون کو وزیر اور شریک کار مقرر کروانا چاہتے تھے کہ اگر یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جرم قتل میں سزائے موت دے دیں تو ان کے بعد رسالت کا کام حضرت ہارون جاری رکھیں اور اس طرح فریضہ رسالت ادا ہوتا رہے جس طرح اللہ کا حکم تھا۔
چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ احتیاطی تدابیر دعوت اسلامی اور رسالت کی خاطر اختیار کیں۔ داعی کی ذات کے لئے کچھ زیادہ فکر نہ تھی۔ یعنی اگر حضرت موسیٰ کی زبان کو گروہ لگ جائے او آپ تقریر نہ کرسکیں تو حضرت ہارون تیار ہوں ، یہ نہ ہو کہ نیا آنے والا نبی لوگوں کے سامنے تقریر کر رہا ہے اور اچانک اس کی بات ہی رک جائے اور اس طرح دعوت اسلامی کو ایک کمزوری کا سامنا کرنا پڑے۔ اسی طرح اگر ان کو قتل ہی کردیا جائے تو دعوت کا کام ہی رک جائے۔ حالانکہ دعوت کا کام جاری رہنا ضروری ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ سوچ بالکل فطری تھی۔ اس لئے کہ اللہ نے ان کو منتخب ہی اسی کام کے لئے کیا تھا اور اللہ نے اپنی نگرانی میں ان کی تربیت ہی اسی مقصد کے لئے فرمانی تھی اور ان کو اللہ نے اپنے کام کے لئے ہی بنایا تھا۔
جب حضرت موسیٰ نے اپنی اس دلچسپی کا اظہار کیا ، دعوت کے بارے میں اپنے خدشات اور احتیاطی تدابیر کا اظہار کیا تو اللہ نے ان کی درخواست قبول کرلی۔ اور آپ کو تسلی دے دی کہ آپ ڈریں نہیں ، یہاں قبولیت دعا کا مرحلہ نہایت ہی مختصر ہے۔ ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنانا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مصر میں پہنچنا ، ہارون (علیہ السلام) سے ملنا ، تمام واقعاتک و حذف کر کے صرف یہ دکھایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون دونوں اپنے رب کے احکام لے کر فرعون کے ساتھ ہمکلام ہونے کی تیاری کر رہے ہیں لیکن حضرت موسیٰ کے خدشات کو صرف ایک ہی سخت لفظ سے روکا جاتا ہے جو غنی کے معنی میں آتا ہے اور جو تنبیہ کے لئے ہے کلا ” ہرگز نہیں۔ “
قال کلا ……اسرائیل (18) (26 : 15 تا 18) ” فرمایا ” ہرگز نہیں ، تم دونوں جائو ہماری نشانیاں لے کر ، ہم تمہار یساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے۔ فرعون کے پاس جائو او اس سے کہو ہم کو رب العالمین نے اس لئے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔ ہرگز نہیں نہ تمہارا دل تنگ ہوگا اور نہ تمہاری زبان میں لکنت ہوگی اور وہ ہرگز تمہیں قتل نہ کرسکیں گے۔ یہ سب خدشات آپ اپنے دل سے نکال دیں تم اور تمہارا بھائی دونوں جائو۔
فاذھبا بایتنا (26 : 15) ” جائو ہماری نشانیاں لے کر “ ان نشانیوں میں سے عصا اور ید بیضا کی نشانی تو حضرت موسیٰ نے دیکھی ہوئی تھی۔ یہاں ان سب باتوں کو مختصر کردیا جاتا ہے کیونکہ اس سورت میں پیش نظر فرعون کے سامنے رسالت کا پیش کرنا ، جادوگروں کے کرتب دکھانا اور فرعون کی غرقابی کی منظر کشی کرنا ہے۔ جائو انا معکم مستمعون (26 : 15) ” ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے “ نہایت ہی زور دار اور تاکیدی الفاظ میں کہا جاتا ہے ، جائو تمہیں اللہ کی حمایت یا رعایت اور تحفظ حاصل ہے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے جس طرح وہ ہر وقت ، ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے لیکن یہاں اللہ کی موجودگی کا مقصد یہ ہے کہ ہم تمہاری مدد اور تائید کے لئے حاضر ہیں۔
یہاں نصرت و تائید کا یقین یوں دلایا گیا ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں ، سن رہے ہیں یعنی حضوری اور توجہ انسانوں کے نزدیک اپنے عروج پر ہوتی ہے جب انسان سنتا ہے اس لئے ان کو یہ یقین دلایا جا رہا ہے کہ میری امداد اور نصرت ہر وقت حاضر ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز کہ وہ ہر چیز کو ایک شخص اور مجسم صورت میں پیش کرتا ہے۔ اذھبا ” جائو “
فاتبا فرعون ” فرعون کے پاس جائو “ اور اس کو اپن یمہم سے آگاہ کردیا اور بغیر کسی خوف کے اس کے سامنے اپنا مطلب صاف صاف بیان کر دو ۔
فقولا انا رسول رب العلمین (26 : 16) ” کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں۔ ‘ یہ تو دو ہیں لیکن چونکہ ہم ایک ہیں ، رسالت ایک ہے ، اس لئے دونوں ایک رسول ہیں۔ یہ اس فرعون کے سامنے کھڑے ہیں جو الوہیت کا دعویٰ کرتا تھا اور اپنی قوم کو یوں باور کراتا تھا۔
ماعلمت لکم من الہ غیری ” میں تمہارے لئے ، اپنے سوا کسی دوسرے الہ کو نہیں جانتا۔ “ یوں اس فرعون کے سامنے سب سے پہلے اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں یعنی وہ عالمین کا رب ہے اور وہ عالمین کا رب ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور اس میں کوئی مداہنت اور لیپا پوتی نہیں ہو سکتی۔
انا رسول رب العلمین (26 : 16) ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (26 : 18) ” ہم کو رب العالمین نے اس لئے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ “ قصہ موسیٰ کے ان اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو فرعون کے پاس اس لئے رسول بنا کر نہ بھیجا تھا کہ حضرت موسیٰ فرعون اور اس کی قوم کو دین اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دیں اور اسلام کے دین کو قبول کریں بلکہ ان کے پاس صرف اس لئے بھیجا گیا تھا کہ فرعون اور اس کی قوم سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کردیں۔ وہ اس کی غلامی سے آزاد ہوجائیں اور پھر جس طرح چاہیں اپنے رب کی بندگی کریں۔ وہ تو پہلے سے دین اسلام کے پیروکار تھے۔ حضرت یعقوب ، حضرت یوسف کے دین کو مانتے تھے البتہ ان کے نظریات اور ان کے ذہن میں انحراف ہوگیا تھا ان کے عقائد میں بگاڑ پیدا وہ گیا تھا اس لئے اللہ نے ان کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو دوبارہ ارسال کیا کہ وہ ان کے عقائد بھی درست کردیں اور ان کو فرعون کی غلامی سے بھی نجات دلائیں اور ان کو اچھی تربیت دے کر دوبارہ عقیدہ توحید پر قائم کردیں۔
……
یہاں تک تو ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو نبوت عطا ہوئی ، ان پر وحی آئی اور ان کو دعوت اسلامی کا مشن عطا ہوا۔ اب پردہ گرتا ہے اور دوسرے منظر میں پھر ہم فرعون کے دربار میں کھڑے ہیں۔ ان دونوں مناظر کے درمیان جو غیر ضروری افعال و حرکات ہیں ان کو کاٹ دیا جاتا ہے اور یہ قرآن کریم کا ایک مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ مناظر و مشاہد کے درمیان سے غیر ضروری حصے کاٹ دیتا ہے یا مختصر کردیتا ہے۔
الشعراء 26:18
قال الم نربک ……بنی اسرآئیل (22)
فرعون کو سخت تعجب ہوتا ہے۔ وہ یقین نہیں کرسکتا کہ موسیٰ اس قدر عظیم دعویٰ بھی کرسکتے ہیں کہ میں (رسول رب العالمین) ہوں اور پھر وہ فرعون سے اس قدر عظیم مطالبہ کرتے ہیں۔
ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (26 : 18) ” کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ “ کیونکہ انہوں نے جب موسیٰ کو آخری بار دیکھا تھا تو وہ ان کے گھر میں ان کا پروردہ تھا ، جس کے صندوق کو انہوں نے دریا سے اٹھا لیا تھا اور پھر ایک قبطی کے قتل کے بعد بھاگ گیا تھا۔ وہ قطبی جو ایک اسرائیل کے ساتھ ناحق الجھ رہا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ قبطی فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) دس سال تک غائب رہے اور اب آئے تو اس عظیم اور ناقابل تصور مطالبے کے ساتھ یہی وجہ ہے کہ فرعون بات کا آغاز نہایت تعجب ، حقارت اور مزاحیہ انداز سے کرتا ہے کہ تم وہی تو ہو جس نے یہ یہ کام کئے اور اب :
قال الم …الکفرین (26 : 19) ” فرعون نے کہا ” کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا ؟ تو نے اپنی عمر کے کء سال مہارے ہاں گزارے اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کر گیا تو بڑا احسان فراموش آدمی ہے۔ “ کیا اس پرورش اور عزت کا یہ صلہ ہے جو تو ہمیں دے رہا ہے ؟ اب تو آیا ہے اور ہم جس نظام زندگی کے مطابق اپنا نظام چلا رہے ہیں تو اس کی مخالفت کر رہا ہے۔ تاکہ تو اس بادشاہ کے خلاف بغاوت کر دے جس کے گھر میں پلا ہے اور میرے سوا تو کسی اور الہ اور رب اور حاکم کی بات کرتا ہے۔ تو ایک عرصہ تک ہمارے اندر رہ چکا ہے ، اس وقت تو تو نے کبھی ایسا کوئی پروگرام نہیں بنایا۔ نہ ایسے دعوے کئے جو اب کر رہا ہے۔ اس عظیم پروگرام سے تو ، تو نے ہمیں خبردار نہیں کیا۔
اور فرعون قبطی کے قتل کے واقعہ کو نہایت مبالغے کے ساتھ پیش کرتا ہے اور دھمکی آمیز انداز میں یاد دلاتا ہے۔
وفعلت فعلتک التی فعلت (62 : 19) ” اور تو نے وہ اپنا کام کیا جو تو نے کیا۔ “ یعنی بہت ہی برا کام ، اس قدر برا کہ اس کو صراحت کے ساتھ منہ پر لانا ہی اچھا نہیں ہے۔ تو نے اس قدر عظیم جرم کا ارتکاب کیا۔
وانت من الکفرین (26 : 19) ” اس طرح تو رب العالمین کا منکر بن گیا۔ “ اور اب تو اسی رب العالمین کی باتیں کرتا ہے۔ اس وقت تو تو رب العالمین کی بات نہ کرتا تھا۔
یوں فرعون نے حضرت موسیٰ کی تردید میں تمام مسکت دلائل گنوا دیئے اور اس نے یہ خیال کیا کہ شاید موسیٰ (علیہ السلام) ان دلائل کے بعد لاجواب ہوجائیں گے۔ کوئی مقابلہ نہ کرسکیں گے ، خصوصاً اس نے ایک سابق مقدمہ قتل کی
طرف بھی اشارہ کردیا اور بالواسطہ دھمکی دے دی ہے کہ تمہارے خلاف اس مقدمہ کی کارروائی بھی ہو سکتی ہے اور سزائے قصاص تم پر نافذ ہو سکتی ہے۔
لیکن حضرت موسیٰ کی تو دعا قبول ہوچکی تھی۔ اب ان کی زبان میں کوئی گرہ نہ تھی۔ وہ بڑی روانی سے کہہ رہے تھے۔
قال فعلتھا ……المرسلین (26 : 21) وتلک نعمۃ تمنھا علی ان عبدت بنی اسرائیل (26 : 22) ” موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا ” اس وقت وہ کام میں نے نادانستگی میں کردیا تھا۔ پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا۔ اس کے بعد میرے رب نے مجھ کو حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں شامل فرما لیا۔ رہا تیرا احسان ، جو تو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا۔ “ میں نے جو مستحق کا ارتکاب کیا تو اس وقت میں نادان تھا۔ اس وقت میں نے اپنی مظلوم قوم کی حمایت کی بنا پر یہ فعل کیا تھا۔ یہ کام میں اپنے اس نظریہ حیات کی حمایت میں نہ کیا تھا جو اللہ نے اب مجھے بطور حکمت عطا کیا ہے۔
فقرت منکم لما خفتکم (26 : 21) ” پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا “۔ کیونکہ مجھے جان کا ڈر تھا۔ اللہ کو میری خیریت مطلوب تھی۔ اس نے مجھے یہ حکمت عطا کرنی تھی۔
وجعلنی من المرسلین (26 : 21) ” اور مجھے رسولوں میں شامل کرلیا۔ “ میں کوئی نیا رسول نہیں ہوں۔ میں جماعت رسل میں سے ایک ہوں۔
اب حضرت موسیٰ اس شخص کی طنز کا جواب طنزیہ انداز میں دیتے ہیں۔
وتلک نعمۃ تمنھا علی ان عبدت بنی اسرائیل (26 : 22) ” یہ احسان جو تو نے مجھ پر جتایا ہے ، اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل غلام بنا لیا تھا۔ “ میں تمہارے گھر میں باہر مجبوری پلا ، کیونکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا۔ تو ان کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا ، اس وجہ سے میری ماں مجبور ہوئی کہ مجھے صندوق میں بند کر کے موجوں کے حوالے کر دے ۔ اس طرح تم لوگوں نے صندوق کو پکڑ لیا اور اس طرح میں تمہارے گھر میں پلا اور والدین کے گھر میں پلنے سے محروم رہا تو کیا یہ ہے وہ احسان جو تم جتلاتے ہو اور کیا یہ تمہاری مہربانیاں ہیں ؟
اب فرعون اپنی بات بدل دیتا ہے۔ اس موضوع کو چھوڑ کر اب وہ اصل بات پر آجاتا ہے لیکن یہاں بھی وہ مستکبرین کی طرح تجاہل عارفانہ کے انداز میں بات کرتا ہے۔ مزاحیہ اور گستاخانہ انداز اور گستاخی بھی رب العالمین کے نجاب میں۔
الشعراء 26:19
قال الم نربک ……بنی اسرآئیل (22)
فرعون کو سخت تعجب ہوتا ہے۔ وہ یقین نہیں کرسکتا کہ موسیٰ اس قدر عظیم دعویٰ بھی کرسکتے ہیں کہ میں (رسول رب العالمین) ہوں اور پھر وہ فرعون سے اس قدر عظیم مطالبہ کرتے ہیں۔
ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (26 : 18) ” کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ “ کیونکہ انہوں نے جب موسیٰ کو آخری بار دیکھا تھا تو وہ ان کے گھر میں ان کا پروردہ تھا ، جس کے صندوق کو انہوں نے دریا سے اٹھا لیا تھا اور پھر ایک قبطی کے قتل کے بعد بھاگ گیا تھا۔ وہ قطبی جو ایک اسرائیل کے ساتھ ناحق الجھ رہا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ قبطی فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) دس سال تک غائب رہے اور اب آئے تو اس عظیم اور ناقابل تصور مطالبے کے ساتھ یہی وجہ ہے کہ فرعون بات کا آغاز نہایت تعجب ، حقارت اور مزاحیہ انداز سے کرتا ہے کہ تم وہی تو ہو جس نے یہ یہ کام کئے اور اب :
قال الم …الکفرین (26 : 19) ” فرعون نے کہا ” کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا ؟ تو نے اپنی عمر کے کء سال مہارے ہاں گزارے اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کر گیا تو بڑا احسان فراموش آدمی ہے۔ “ کیا اس پرورش اور عزت کا یہ صلہ ہے جو تو ہمیں دے رہا ہے ؟ اب تو آیا ہے اور ہم جس نظام زندگی کے مطابق اپنا نظام چلا رہے ہیں تو اس کی مخالفت کر رہا ہے۔ تاکہ تو اس بادشاہ کے خلاف بغاوت کر دے جس کے گھر میں پلا ہے اور میرے سوا تو کسی اور الہ اور رب اور حاکم کی بات کرتا ہے۔ تو ایک عرصہ تک ہمارے اندر رہ چکا ہے ، اس وقت تو تو نے کبھی ایسا کوئی پروگرام نہیں بنایا۔ نہ ایسے دعوے کئے جو اب کر رہا ہے۔ اس عظیم پروگرام سے تو ، تو نے ہمیں خبردار نہیں کیا۔
اور فرعون قبطی کے قتل کے واقعہ کو نہایت مبالغے کے ساتھ پیش کرتا ہے اور دھمکی آمیز انداز میں یاد دلاتا ہے۔
وفعلت فعلتک التی فعلت (62 : 19) ” اور تو نے وہ اپنا کام کیا جو تو نے کیا۔ “ یعنی بہت ہی برا کام ، اس قدر برا کہ اس کو صراحت کے ساتھ منہ پر لانا ہی اچھا نہیں ہے۔ تو نے اس قدر عظیم جرم کا ارتکاب کیا۔
وانت من الکفرین (26 : 19) ” اس طرح تو رب العالمین کا منکر بن گیا۔ “ اور اب تو اسی رب العالمین کی باتیں کرتا ہے۔ اس وقت تو تو رب العالمین کی بات نہ کرتا تھا۔
یوں فرعون نے حضرت موسیٰ کی تردید میں تمام مسکت دلائل گنوا دیئے اور اس نے یہ خیال کیا کہ شاید موسیٰ (علیہ السلام) ان دلائل کے بعد لاجواب ہوجائیں گے۔ کوئی مقابلہ نہ کرسکیں گے ، خصوصاً اس نے ایک سابق مقدمہ قتل کی
طرف بھی اشارہ کردیا اور بالواسطہ دھمکی دے دی ہے کہ تمہارے خلاف اس مقدمہ کی کارروائی بھی ہو سکتی ہے اور سزائے قصاص تم پر نافذ ہو سکتی ہے۔
لیکن حضرت موسیٰ کی تو دعا قبول ہوچکی تھی۔ اب ان کی زبان میں کوئی گرہ نہ تھی۔ وہ بڑی روانی سے کہہ رہے تھے۔
قال فعلتھا ……المرسلین (26 : 21) وتلک نعمۃ تمنھا علی ان عبدت بنی اسرائیل (26 : 22) ” موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا ” اس وقت وہ کام میں نے نادانستگی میں کردیا تھا۔ پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا۔ اس کے بعد میرے رب نے مجھ کو حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں شامل فرما لیا۔ رہا تیرا احسان ، جو تو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا۔ “ میں نے جو مستحق کا ارتکاب کیا تو اس وقت میں نادان تھا۔ اس وقت میں نے اپنی مظلوم قوم کی حمایت کی بنا پر یہ فعل کیا تھا۔ یہ کام میں اپنے اس نظریہ حیات کی حمایت میں نہ کیا تھا جو اللہ نے اب مجھے بطور حکمت عطا کیا ہے۔
فقرت منکم لما خفتکم (26 : 21) ” پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا “۔ کیونکہ مجھے جان کا ڈر تھا۔ اللہ کو میری خیریت مطلوب تھی۔ اس نے مجھے یہ حکمت عطا کرنی تھی۔
وجعلنی من المرسلین (26 : 21) ” اور مجھے رسولوں میں شامل کرلیا۔ “ میں کوئی نیا رسول نہیں ہوں۔ میں جماعت رسل میں سے ایک ہوں۔
اب حضرت موسیٰ اس شخص کی طنز کا جواب طنزیہ انداز میں دیتے ہیں۔
وتلک نعمۃ تمنھا علی ان عبدت بنی اسرائیل (26 : 22) ” یہ احسان جو تو نے مجھ پر جتایا ہے ، اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل غلام بنا لیا تھا۔ “ میں تمہارے گھر میں باہر مجبوری پلا ، کیونکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا۔ تو ان کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا ، اس وجہ سے میری ماں مجبور ہوئی کہ مجھے صندوق میں بند کر کے موجوں کے حوالے کر دے ۔ اس طرح تم لوگوں نے صندوق کو پکڑ لیا اور اس طرح میں تمہارے گھر میں پلا اور والدین کے گھر میں پلنے سے محروم رہا تو کیا یہ ہے وہ احسان جو تم جتلاتے ہو اور کیا یہ تمہاری مہربانیاں ہیں ؟
اب فرعون اپنی بات بدل دیتا ہے۔ اس موضوع کو چھوڑ کر اب وہ اصل بات پر آجاتا ہے لیکن یہاں بھی وہ مستکبرین کی طرح تجاہل عارفانہ کے انداز میں بات کرتا ہے۔ مزاحیہ اور گستاخانہ انداز اور گستاخی بھی رب العالمین کے نجاب میں۔
الشعراء 26:20
قال الم نربک ……بنی اسرآئیل (22)
فرعون کو سخت تعجب ہوتا ہے۔ وہ یقین نہیں کرسکتا کہ موسیٰ اس قدر عظیم دعویٰ بھی کرسکتے ہیں کہ میں (رسول رب العالمین) ہوں اور پھر وہ فرعون سے اس قدر عظیم مطالبہ کرتے ہیں۔
ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (26 : 18) ” کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ “ کیونکہ انہوں نے جب موسیٰ کو آخری بار دیکھا تھا تو وہ ان کے گھر میں ان کا پروردہ تھا ، جس کے صندوق کو انہوں نے دریا سے اٹھا لیا تھا اور پھر ایک قبطی کے قتل کے بعد بھاگ گیا تھا۔ وہ قطبی جو ایک اسرائیل کے ساتھ ناحق الجھ رہا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ قبطی فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) دس سال تک غائب رہے اور اب آئے تو اس عظیم اور ناقابل تصور مطالبے کے ساتھ یہی وجہ ہے کہ فرعون بات کا آغاز نہایت تعجب ، حقارت اور مزاحیہ انداز سے کرتا ہے کہ تم وہی تو ہو جس نے یہ یہ کام کئے اور اب :
قال الم …الکفرین (26 : 19) ” فرعون نے کہا ” کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا ؟ تو نے اپنی عمر کے کء سال مہارے ہاں گزارے اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کر گیا تو بڑا احسان فراموش آدمی ہے۔ “ کیا اس پرورش اور عزت کا یہ صلہ ہے جو تو ہمیں دے رہا ہے ؟ اب تو آیا ہے اور ہم جس نظام زندگی کے مطابق اپنا نظام چلا رہے ہیں تو اس کی مخالفت کر رہا ہے۔ تاکہ تو اس بادشاہ کے خلاف بغاوت کر دے جس کے گھر میں پلا ہے اور میرے سوا تو کسی اور الہ اور رب اور حاکم کی بات کرتا ہے۔ تو ایک عرصہ تک ہمارے اندر رہ چکا ہے ، اس وقت تو تو نے کبھی ایسا کوئی پروگرام نہیں بنایا۔ نہ ایسے دعوے کئے جو اب کر رہا ہے۔ اس عظیم پروگرام سے تو ، تو نے ہمیں خبردار نہیں کیا۔
اور فرعون قبطی کے قتل کے واقعہ کو نہایت مبالغے کے ساتھ پیش کرتا ہے اور دھمکی آمیز انداز میں یاد دلاتا ہے۔
وفعلت فعلتک التی فعلت (62 : 19) ” اور تو نے وہ اپنا کام کیا جو تو نے کیا۔ “ یعنی بہت ہی برا کام ، اس قدر برا کہ اس کو صراحت کے ساتھ منہ پر لانا ہی اچھا نہیں ہے۔ تو نے اس قدر عظیم جرم کا ارتکاب کیا۔
وانت من الکفرین (26 : 19) ” اس طرح تو رب العالمین کا منکر بن گیا۔ “ اور اب تو اسی رب العالمین کی باتیں کرتا ہے۔ اس وقت تو تو رب العالمین کی بات نہ کرتا تھا۔
یوں فرعون نے حضرت موسیٰ کی تردید میں تمام مسکت دلائل گنوا دیئے اور اس نے یہ خیال کیا کہ شاید موسیٰ (علیہ السلام) ان دلائل کے بعد لاجواب ہوجائیں گے۔ کوئی مقابلہ نہ کرسکیں گے ، خصوصاً اس نے ایک سابق مقدمہ قتل کی
طرف بھی اشارہ کردیا اور بالواسطہ دھمکی دے دی ہے کہ تمہارے خلاف اس مقدمہ کی کارروائی بھی ہو سکتی ہے اور سزائے قصاص تم پر نافذ ہو سکتی ہے۔
لیکن حضرت موسیٰ کی تو دعا قبول ہوچکی تھی۔ اب ان کی زبان میں کوئی گرہ نہ تھی۔ وہ بڑی روانی سے کہہ رہے تھے۔
قال فعلتھا ……المرسلین (26 : 21) وتلک نعمۃ تمنھا علی ان عبدت بنی اسرائیل (26 : 22) ” موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا ” اس وقت وہ کام میں نے نادانستگی میں کردیا تھا۔ پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا۔ اس کے بعد میرے رب نے مجھ کو حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں شامل فرما لیا۔ رہا تیرا احسان ، جو تو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا۔ “ میں نے جو مستحق کا ارتکاب کیا تو اس وقت میں نادان تھا۔ اس وقت میں نے اپنی مظلوم قوم کی حمایت کی بنا پر یہ فعل کیا تھا۔ یہ کام میں اپنے اس نظریہ حیات کی حمایت میں نہ کیا تھا جو اللہ نے اب مجھے بطور حکمت عطا کیا ہے۔
فقرت منکم لما خفتکم (26 : 21) ” پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا “۔ کیونکہ مجھے جان کا ڈر تھا۔ اللہ کو میری خیریت مطلوب تھی۔ اس نے مجھے یہ حکمت عطا کرنی تھی۔
وجعلنی من المرسلین (26 : 21) ” اور مجھے رسولوں میں شامل کرلیا۔ “ میں کوئی نیا رسول نہیں ہوں۔ میں جماعت رسل میں سے ایک ہوں۔
اب حضرت موسیٰ اس شخص کی طنز کا جواب طنزیہ انداز میں دیتے ہیں۔
وتلک نعمۃ تمنھا علی ان عبدت بنی اسرائیل (26 : 22) ” یہ احسان جو تو نے مجھ پر جتایا ہے ، اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل غلام بنا لیا تھا۔ “ میں تمہارے گھر میں باہر مجبوری پلا ، کیونکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا۔ تو ان کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا ، اس وجہ سے میری ماں مجبور ہوئی کہ مجھے صندوق میں بند کر کے موجوں کے حوالے کر دے ۔ اس طرح تم لوگوں نے صندوق کو پکڑ لیا اور اس طرح میں تمہارے گھر میں پلا اور والدین کے گھر میں پلنے سے محروم رہا تو کیا یہ ہے وہ احسان جو تم جتلاتے ہو اور کیا یہ تمہاری مہربانیاں ہیں ؟
اب فرعون اپنی بات بدل دیتا ہے۔ اس موضوع کو چھوڑ کر اب وہ اصل بات پر آجاتا ہے لیکن یہاں بھی وہ مستکبرین کی طرح تجاہل عارفانہ کے انداز میں بات کرتا ہے۔ مزاحیہ اور گستاخانہ انداز اور گستاخی بھی رب العالمین کے نجاب میں۔
الشعراء 26:21
قال الم نربک ……بنی اسرآئیل (22)
فرعون کو سخت تعجب ہوتا ہے۔ وہ یقین نہیں کرسکتا کہ موسیٰ اس قدر عظیم دعویٰ بھی کرسکتے ہیں کہ میں (رسول رب العالمین) ہوں اور پھر وہ فرعون سے اس قدر عظیم مطالبہ کرتے ہیں۔
ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (26 : 18) ” کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ “ کیونکہ انہوں نے جب موسیٰ کو آخری بار دیکھا تھا تو وہ ان کے گھر میں ان کا پروردہ تھا ، جس کے صندوق کو انہوں نے دریا سے اٹھا لیا تھا اور پھر ایک قبطی کے قتل کے بعد بھاگ گیا تھا۔ وہ قطبی جو ایک اسرائیل کے ساتھ ناحق الجھ رہا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ قبطی فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) دس سال تک غائب رہے اور اب آئے تو اس عظیم اور ناقابل تصور مطالبے کے ساتھ یہی وجہ ہے کہ فرعون بات کا آغاز نہایت تعجب ، حقارت اور مزاحیہ انداز سے کرتا ہے کہ تم وہی تو ہو جس نے یہ یہ کام کئے اور اب :
قال الم …الکفرین (26 : 19) ” فرعون نے کہا ” کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا ؟ تو نے اپنی عمر کے کء سال مہارے ہاں گزارے اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کر گیا تو بڑا احسان فراموش آدمی ہے۔ “ کیا اس پرورش اور عزت کا یہ صلہ ہے جو تو ہمیں دے رہا ہے ؟ اب تو آیا ہے اور ہم جس نظام زندگی کے مطابق اپنا نظام چلا رہے ہیں تو اس کی مخالفت کر رہا ہے۔ تاکہ تو اس بادشاہ کے خلاف بغاوت کر دے جس کے گھر میں پلا ہے اور میرے سوا تو کسی اور الہ اور رب اور حاکم کی بات کرتا ہے۔ تو ایک عرصہ تک ہمارے اندر رہ چکا ہے ، اس وقت تو تو نے کبھی ایسا کوئی پروگرام نہیں بنایا۔ نہ ایسے دعوے کئے جو اب کر رہا ہے۔ اس عظیم پروگرام سے تو ، تو نے ہمیں خبردار نہیں کیا۔
اور فرعون قبطی کے قتل کے واقعہ کو نہایت مبالغے کے ساتھ پیش کرتا ہے اور دھمکی آمیز انداز میں یاد دلاتا ہے۔
وفعلت فعلتک التی فعلت (62 : 19) ” اور تو نے وہ اپنا کام کیا جو تو نے کیا۔ “ یعنی بہت ہی برا کام ، اس قدر برا کہ اس کو صراحت کے ساتھ منہ پر لانا ہی اچھا نہیں ہے۔ تو نے اس قدر عظیم جرم کا ارتکاب کیا۔
وانت من الکفرین (26 : 19) ” اس طرح تو رب العالمین کا منکر بن گیا۔ “ اور اب تو اسی رب العالمین کی باتیں کرتا ہے۔ اس وقت تو تو رب العالمین کی بات نہ کرتا تھا۔
یوں فرعون نے حضرت موسیٰ کی تردید میں تمام مسکت دلائل گنوا دیئے اور اس نے یہ خیال کیا کہ شاید موسیٰ (علیہ السلام) ان دلائل کے بعد لاجواب ہوجائیں گے۔ کوئی مقابلہ نہ کرسکیں گے ، خصوصاً اس نے ایک سابق مقدمہ قتل کی
طرف بھی اشارہ کردیا اور بالواسطہ دھمکی دے دی ہے کہ تمہارے خلاف اس مقدمہ کی کارروائی بھی ہو سکتی ہے اور سزائے قصاص تم پر نافذ ہو سکتی ہے۔
لیکن حضرت موسیٰ کی تو دعا قبول ہوچکی تھی۔ اب ان کی زبان میں کوئی گرہ نہ تھی۔ وہ بڑی روانی سے کہہ رہے تھے۔
قال فعلتھا ……المرسلین (26 : 21) وتلک نعمۃ تمنھا علی ان عبدت بنی اسرائیل (26 : 22) ” موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا ” اس وقت وہ کام میں نے نادانستگی میں کردیا تھا۔ پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا۔ اس کے بعد میرے رب نے مجھ کو حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں شامل فرما لیا۔ رہا تیرا احسان ، جو تو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا۔ “ میں نے جو مستحق کا ارتکاب کیا تو اس وقت میں نادان تھا۔ اس وقت میں نے اپنی مظلوم قوم کی حمایت کی بنا پر یہ فعل کیا تھا۔ یہ کام میں اپنے اس نظریہ حیات کی حمایت میں نہ کیا تھا جو اللہ نے اب مجھے بطور حکمت عطا کیا ہے۔
فقرت منکم لما خفتکم (26 : 21) ” پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا “۔ کیونکہ مجھے جان کا ڈر تھا۔ اللہ کو میری خیریت مطلوب تھی۔ اس نے مجھے یہ حکمت عطا کرنی تھی۔
وجعلنی من المرسلین (26 : 21) ” اور مجھے رسولوں میں شامل کرلیا۔ “ میں کوئی نیا رسول نہیں ہوں۔ میں جماعت رسل میں سے ایک ہوں۔
اب حضرت موسیٰ اس شخص کی طنز کا جواب طنزیہ انداز میں دیتے ہیں۔
وتلک نعمۃ تمنھا علی ان عبدت بنی اسرائیل (26 : 22) ” یہ احسان جو تو نے مجھ پر جتایا ہے ، اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل غلام بنا لیا تھا۔ “ میں تمہارے گھر میں باہر مجبوری پلا ، کیونکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا۔ تو ان کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا ، اس وجہ سے میری ماں مجبور ہوئی کہ مجھے صندوق میں بند کر کے موجوں کے حوالے کر دے ۔ اس طرح تم لوگوں نے صندوق کو پکڑ لیا اور اس طرح میں تمہارے گھر میں پلا اور والدین کے گھر میں پلنے سے محروم رہا تو کیا یہ ہے وہ احسان جو تم جتلاتے ہو اور کیا یہ تمہاری مہربانیاں ہیں ؟
اب فرعون اپنی بات بدل دیتا ہے۔ اس موضوع کو چھوڑ کر اب وہ اصل بات پر آجاتا ہے لیکن یہاں بھی وہ مستکبرین کی طرح تجاہل عارفانہ کے انداز میں بات کرتا ہے۔ مزاحیہ اور گستاخانہ انداز اور گستاخی بھی رب العالمین کے نجاب میں۔
الشعراء 26:22
قال الم نربک ……بنی اسرآئیل (22)
فرعون کو سخت تعجب ہوتا ہے۔ وہ یقین نہیں کرسکتا کہ موسیٰ اس قدر عظیم دعویٰ بھی کرسکتے ہیں کہ میں (رسول رب العالمین) ہوں اور پھر وہ فرعون سے اس قدر عظیم مطالبہ کرتے ہیں۔
ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (26 : 18) ” کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ “ کیونکہ انہوں نے جب موسیٰ کو آخری بار دیکھا تھا تو وہ ان کے گھر میں ان کا پروردہ تھا ، جس کے صندوق کو انہوں نے دریا سے اٹھا لیا تھا اور پھر ایک قبطی کے قتل کے بعد بھاگ گیا تھا۔ وہ قطبی جو ایک اسرائیل کے ساتھ ناحق الجھ رہا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ قبطی فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) دس سال تک غائب رہے اور اب آئے تو اس عظیم اور ناقابل تصور مطالبے کے ساتھ یہی وجہ ہے کہ فرعون بات کا آغاز نہایت تعجب ، حقارت اور مزاحیہ انداز سے کرتا ہے کہ تم وہی تو ہو جس نے یہ یہ کام کئے اور اب :
قال الم …الکفرین (26 : 19) ” فرعون نے کہا ” کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا ؟ تو نے اپنی عمر کے کء سال مہارے ہاں گزارے اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کر گیا تو بڑا احسان فراموش آدمی ہے۔ “ کیا اس پرورش اور عزت کا یہ صلہ ہے جو تو ہمیں دے رہا ہے ؟ اب تو آیا ہے اور ہم جس نظام زندگی کے مطابق اپنا نظام چلا رہے ہیں تو اس کی مخالفت کر رہا ہے۔ تاکہ تو اس بادشاہ کے خلاف بغاوت کر دے جس کے گھر میں پلا ہے اور میرے سوا تو کسی اور الہ اور رب اور حاکم کی بات کرتا ہے۔ تو ایک عرصہ تک ہمارے اندر رہ چکا ہے ، اس وقت تو تو نے کبھی ایسا کوئی پروگرام نہیں بنایا۔ نہ ایسے دعوے کئے جو اب کر رہا ہے۔ اس عظیم پروگرام سے تو ، تو نے ہمیں خبردار نہیں کیا۔
اور فرعون قبطی کے قتل کے واقعہ کو نہایت مبالغے کے ساتھ پیش کرتا ہے اور دھمکی آمیز انداز میں یاد دلاتا ہے۔
وفعلت فعلتک التی فعلت (62 : 19) ” اور تو نے وہ اپنا کام کیا جو تو نے کیا۔ “ یعنی بہت ہی برا کام ، اس قدر برا کہ اس کو صراحت کے ساتھ منہ پر لانا ہی اچھا نہیں ہے۔ تو نے اس قدر عظیم جرم کا ارتکاب کیا۔
وانت من الکفرین (26 : 19) ” اس طرح تو رب العالمین کا منکر بن گیا۔ “ اور اب تو اسی رب العالمین کی باتیں کرتا ہے۔ اس وقت تو تو رب العالمین کی بات نہ کرتا تھا۔
یوں فرعون نے حضرت موسیٰ کی تردید میں تمام مسکت دلائل گنوا دیئے اور اس نے یہ خیال کیا کہ شاید موسیٰ (علیہ السلام) ان دلائل کے بعد لاجواب ہوجائیں گے۔ کوئی مقابلہ نہ کرسکیں گے ، خصوصاً اس نے ایک سابق مقدمہ قتل کی
طرف بھی اشارہ کردیا اور بالواسطہ دھمکی دے دی ہے کہ تمہارے خلاف اس مقدمہ کی کارروائی بھی ہو سکتی ہے اور سزائے قصاص تم پر نافذ ہو سکتی ہے۔
لیکن حضرت موسیٰ کی تو دعا قبول ہوچکی تھی۔ اب ان کی زبان میں کوئی گرہ نہ تھی۔ وہ بڑی روانی سے کہہ رہے تھے۔
قال فعلتھا ……المرسلین (26 : 21) وتلک نعمۃ تمنھا علی ان عبدت بنی اسرائیل (26 : 22) ” موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا ” اس وقت وہ کام میں نے نادانستگی میں کردیا تھا۔ پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا۔ اس کے بعد میرے رب نے مجھ کو حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں شامل فرما لیا۔ رہا تیرا احسان ، جو تو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا۔ “ میں نے جو مستحق کا ارتکاب کیا تو اس وقت میں نادان تھا۔ اس وقت میں نے اپنی مظلوم قوم کی حمایت کی بنا پر یہ فعل کیا تھا۔ یہ کام میں اپنے اس نظریہ حیات کی حمایت میں نہ کیا تھا جو اللہ نے اب مجھے بطور حکمت عطا کیا ہے۔
فقرت منکم لما خفتکم (26 : 21) ” پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا “۔ کیونکہ مجھے جان کا ڈر تھا۔ اللہ کو میری خیریت مطلوب تھی۔ اس نے مجھے یہ حکمت عطا کرنی تھی۔
وجعلنی من المرسلین (26 : 21) ” اور مجھے رسولوں میں شامل کرلیا۔ “ میں کوئی نیا رسول نہیں ہوں۔ میں جماعت رسل میں سے ایک ہوں۔
اب حضرت موسیٰ اس شخص کی طنز کا جواب طنزیہ انداز میں دیتے ہیں۔
وتلک نعمۃ تمنھا علی ان عبدت بنی اسرائیل (26 : 22) ” یہ احسان جو تو نے مجھ پر جتایا ہے ، اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل غلام بنا لیا تھا۔ “ میں تمہارے گھر میں باہر مجبوری پلا ، کیونکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا۔ تو ان کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا ، اس وجہ سے میری ماں مجبور ہوئی کہ مجھے صندوق میں بند کر کے موجوں کے حوالے کر دے ۔ اس طرح تم لوگوں نے صندوق کو پکڑ لیا اور اس طرح میں تمہارے گھر میں پلا اور والدین کے گھر میں پلنے سے محروم رہا تو کیا یہ ہے وہ احسان جو تم جتلاتے ہو اور کیا یہ تمہاری مہربانیاں ہیں ؟
اب فرعون اپنی بات بدل دیتا ہے۔ اس موضوع کو چھوڑ کر اب وہ اصل بات پر آجاتا ہے لیکن یہاں بھی وہ مستکبرین کی طرح تجاہل عارفانہ کے انداز میں بات کرتا ہے۔ مزاحیہ اور گستاخانہ انداز اور گستاخی بھی رب العالمین کے نجاب میں۔
الشعراء 26:23
قال فرعون و ما رب العلمین (23)
اس کا خانہ خراب ہو وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہتا ہے کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے۔ جس کی طرف سے تم کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ یہ اس انداز کا سوال ہے کہ گویا وہ رب العالمین کے بارے میں کچھ جانتا ہی نہیں لیکن یہ غرور کا ایک انداز ہے۔ وہ گویا حضرت موسیٰ کے دعویٰ کو ایک عجیب و غریب دعویٰ تصور کر کے اسے ناممکن الوقوع تصور کرتا ہے اور یہ تاثر قائم کرتا ہے کہ ایسے دعویٰ پر تو بات کرنا بھی فضول ہے۔
موسیٰ (علیہ السلام) اس طرح جواب دیتے ہیں کہ رب العالمین وہ ہے جس کی الوہیت تمام دکھائی دینے والی کائنات پر مشتمل ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب۔
الشعراء 26:24
قال رب السموت والارض وما بینھما ان کنتم موقنین (24)
یہ جواب اس کے تجاہل عارفانہ کے انداز کے سوال کا شافی جواب ہے یعنی اے فرعون رب العالمین اس پوری کائنات مشہود و غیر مشہود کا رب ہے ۔ اور اس کی بادشاہت اور اقتدار تک تمہاری بادشاہت نہیں پہنچ سکتی۔ نہ اللہ کے علم تک تمہارا علم پہنچ سکتا ع ہے۔ فرعون کا دعویٰ تو صرف یہ تھا کہ وہ مصری قوم کا الہ اور حاکم ہے ، صرف وادی نیل کا فرمان روا ہے۔ رب العالمین کے مقابلے میں یہ کیا ربوبیت ہے۔ اس قدر حقیر جس طرح اس عظیم کائنات کے اندر ایک ذرہ ہوتا ہے۔
اس جواب کے ذریعے موسیٰ (علیہ السلام) اس کی توجہ اس عظیم کائنات کی طرف مبذول کراتے ہیں اور وہ خود جس ربوبیت کا دعویدار تھا اس کو حقیر اور باطل قرار دیتے ہیں اور اسے دعوت دیتے ہیں کہ اس کائنات میں تدبر کر کے ذرا اپنے ذہن کو کھول دیں اور رب العالمین کی حاکمت کے وسیع دائرے کو دیکھیں اور اس کے بعد مختصر تبصرہ بھی فرما دیتے ہیں کہ تدبر تم تب کرسکتے ہو جب
ان کنتم مومنین (26 : 23) ” اگر تم یقین کرنا چاہتے ہو۔ “ اگر تم یقین کرنا چاہو تو پھر رب العالمین ہی یقین کرنے کے لائق ہے۔
اب فرعون اپنے درباریوں کی طرف متوجہ ہو کر ان سے پوچھتا ہے کہ تم دیکھتے نہیں ہو کہ یہ صاحب کیا کہہ رہے ہیں۔
الشعراء 26:25
قال لمن حولہ الا تستمعون (35)
’ ۔ “ کیا تم اس شخص کی عجیب باتیں نہیں سنتے ؟ یہ باتیں تو ہمارے سامنے کسی نے نہیں کیں اور نہ ہم نے کبھی سنی ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بغیر توقف کے ایک دوسرا دار کیا۔ اور رب العالمین کا مزید تعارف کرایا۔
الشعراء 26:26
قال ربکم و رب ابآئکم الاولین (26)
یہ بات فرعون نے بہت زیادہ محسوس کی کیونکہ اس کی زد فرعون کے دعوئوں اور اس کے طرز عمل پر پڑتی تھی۔ اس لئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا مطلب یہ تھا کہ وہ رب العالمین تو تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے آباء کا بھی رب ہے اور اے فرعون تم بھی تو بندگان رب العالمین میں سے ایک حقیر بندے ہو اور یہ کہ تم کسی کے رب نہیں ہو۔ جیسا کہ تم رب مصر ہونے کے مدعی ہو ، لہٰذا تمہارا دعوائے الوہیت و ربوبیت اور حاکمیت ہی سرے سے غلط ہے۔ اللہ ہی رب العالمین ہے ، تھا اور رہے گا۔
یہ فرعونی نظریات پر سخت تباہ کن بمباری تھی اور اس سے خود اس کے حاشیہ نشینوں کے متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ اس لئے وہ صبر نہ کرسکا لہٰذا اس نے حضرت موسیٰ کے بارے میں وہی الزام دہرایا جو ہمیشہ مستکبرین دہراتے ہیں۔
الشعراء 26:27
قال ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون (27)
یہ رسول جو بزعم خود تمہارے پاس بھیجا گیا ہے اس کا دماغ خراب معلوم ہوتا ہے۔ یہ شخص رسول خدا کے بارے میں یہ توہین آمیز ریمارکس اس لئے پاس کر رہا ہے کہ لوگوں پر اثر نہ ہوجائے اور یقین نہ کرلیں۔ مقصد یہ نہیں ہے کہ حضرت فی اوالقعہ رسول بھیجے گئے۔ یہ بات وہ بطور مذاق کہتا ہے کہ یہ شخص جو باتیں کرتا ہے وہ تو ہمارے مستحکم نظام سے متصادم ہیں اور ہمارا نظام تو صدیوں سے چل رہا ہے جس کے مطابق ہم رب ہیں اور یہ کسی دوسرے رب العالمین کی طرف بلا رہا ہے اور پھر یہ بھی کہتا ہے کہ وہ ہمارے آباء کا بھی رب العالمین ہے۔
لیکن اس مذاق اور استہزاء کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر کیا اثر ہوگا۔ وہ تو اس پیغمبرانہ اعتماد سے بات کرتے ہیں۔ جس کے مقابلے میں بڑے بڑے جباروں کی ذہنی دنیا میں زلزلہ آجاتا ہے۔ چناچہ آپ فرماتے ہیں :
الشعراء 26:28
قال رب المشرق والمغرب وما بینھما ان کنتم تعقلون (28)
مشرق و مغرب تو ہر دن انسانوں کو نظر آتے ہیں اور اس دنیا میں ایک خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں۔ یہ منظر تو بڑا عبرت آموز ہے لیکن چونکہ یہ 24 گھنٹوں میں مسلسل دھرایا جاتا ہے اس لئے لوگوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ لوگ اس کے عادی ہوگئے ہیں ان الفاظ سے جس طرح طلوع و غروب کا مفہوم ذہن میں آتا ہے ، اسی طرح طلوع و غروب کے مقام کا مفہوم بھی ان میں ہے۔ یہ دو مناظر حضرت نے اس لئے پیش کئے کہ طلوع و غروب کے مظاہر کو اور مقامات و طلوع اور مقامات غروب کو کوئی جابر بدل نہیں سکتا۔ نہ ان دونوں مناظر کی اس خصوصیت کا کوئی انکار کرسکتا ہے کہ آغاز تخلیق سے آج تک اس نظام کے اندر کوئی تبدیلی کوئی تقدیم و تاخیر نہیں ہے۔ کند ذہن سے کند ذہن شخص بھی اگر ان حقائق پر غور کرے تو وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ غافل سے غافل دل جاگ اٹھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس مکالمے میں ان کے ضمیروں کو جاگنے کی بےحد کوشش کر رہے ہیں ، دعوت دے رہے ہیں کہ غور و فکر کرو۔
ان کنتم تعقلون (26 : 28) ” اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں۔ “ سرکش حکمران دنیا میں کسی چیز سے نہیں ڈرتے جس قدر وہ قوم کی بیداری سے ڈرتے ہیں۔ ان کو دل و دماغ کی بیداری سے بہت ڈر لگتا ہے۔ یہ سرکش حکمران ہمیشہ ان لوگوں کو سخت حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں جو لوگوں میں بیداری کرتے ہیں۔ اس لئے ایسے حکمران ہمیشہ ایسے لوگوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون کو حضرت موسیٰ پر بہت غصہ آجاتا ہے۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی دعوت دل و دماغ کی پرسکون تاروں کو چھیڑ رہی ہے ، اس لئے وہ اب جوش میں آجاتا ہے۔ دھمکی دیتا ہے اور کھلے تشدد کی بات کرتا ہے اور جس وقت کسی شخص کے پاس دلائل کے ہتھیار ختم ہوجاتے ہیں تو وہ تشدد پر اتر آتا ہے۔
الشعراء 26:29
قال لئن اتخذت الھا غیری لاجعلنک من المسجونین (29)
یہ ہے سرکشوں کی دل یل اور حجت۔ یہ کہ تمہیں جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ جیل تو تیار ہے اور دور بھی نہیں ہے اور نہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب سرکش عاجز آجاتے ہیں اور جب ان کو احساس ہوجاتا ہے کہ ان کا موقف تو سچائی کے مقابلے میں کمزور پڑ رہا ہے کیونکہ سچائی ہمیشہ جارح ہوتی ہے تو پھر لاجواب سرکشوں کا قدیم زمانے سے یہ آخری ہتھیار ہوتا ہے ۔ اور آج تک یہ آخری ہتھیار استعمال ہوتا ہے۔
لیکن حضرت موسیٰ حوصلہ نہیں ہارتے۔ آخر وہ رسول برحق ہیں۔ ان کے اور ان کے بھائی کے ساتھ ، اللہ بھی کھڑا ہے اور دیکھ رہا ہے چناچہ فرعون جس بحث کا سلسلہ ختم کرنا چاہتا تھا حضرت موسیٰ اس کا دوسرا باب کھول دیتے ہیں۔ آپ ایک نئے موضوع پر سوال کردیتے ہیں۔ ایک نیا استدلال
الشعراء 26:30
قال اولوجئتک بشیء مبین (30)
” موسیٰ نے کہا ” اگرچہ میں لے آئوں تیرے سامنے ایک صریح چیز بھی۔ “ یعنی اگر میں اپنی رسالت پر ایک صریح اور واضح دلیل بھی پیش کر دوں تو بھی میری یہی سزا ہے کہ جیل جائوں۔ حضرت موسیٰ اس طرح فرعون کو ، اس کے سرداروں کے سامنے جو یہ تمام گفتگو سنا رہے تھے ، سخت مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔ اگر وہ حضرت موسیٰ کی بات نہیں سنتا تو ثابت ہوجاتا ہے کہ فرعون لاجواب ہوگیا حالانکہ وہ کہہ چکا ہے کہ یہ شخص تو مجنون ہے۔ چناچہ مجبور ہو کر اس نے ہا اچھا لائو دلیل۔
الشعراء 26:31
قال فات بہ ان کنت من الصدقین (31)
’ ۔ “ لائو اگر تمہارا دعویٰ سچا ہے۔ یا یہ کہ تم دعویٰ کرتے ہو کہ تمہارے پاس کوئی معجزانہ دلیل ہے ، اس دعویٰ میں اگر تم سچے ہو ، یہ شخص ابھی تک موسیٰ (علیہ السلام) کی حقانیت کے بارے میں شک کا اظہار کرتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس کے اردگرد جو لوگ بیٹھے ہیں ، کہیں وہ متاثر نہ ہوجائیں۔
اب حضرت موسیٰ اپنے معجزات پیش فرماتے ہیں۔ فرعون کے ساتھ چیلنج اور جوابی چیلنج چونکہ انتہا تک پہنچ گئے ہیں۔ اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ فرعون پر آخری وار کیا جائے۔
الشعراء 26:32
فالقی عصاہ ……للنظرین (32)
انداز بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عصا فی الحقیقت سانپ بن گیا تھا۔ زندہ ہوگیا اور زمین پر رینگنے لگا اور جب انہوں نے اپنا ہاتھ بغل سے نکالا تو وہ فی الواقعہ سفید تھا اور یہ مفہوم (فاذا ھی ) کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ محض نظر بندی یا تخیل نہ تھا جس طرح جادو گر کرتے ہیں اور چیزیں اپنی حقیقت پر ہی رہتی ہیں۔ محض لوگوں کے جو اس کے اندر خلل آجاتا ہے۔ اشیاء کی حقیقت نہیں بدلتی۔
زندگی کا عظیم معجزہ ، جو اس کرہ ارض پر رواں ہے اور یہ معجزہ وقت ہوتا رہتا ہے۔ لوگ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ وہ اس کے ساتھ مانوس ہوگ ئے ہیں اور یہ معجزہ بار بار اس زمین پر دہرایا جاتا ہے یا لوگ زندگی کے ذریعہ رونما ہونے والی اس تبدیلی کا مشاہدہ نہیں کرتے لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے یہ دونوں معجزے رکھے تو یہ ایک ایسا امر تھا کہ پہلی نظر میں اس نے لوگوں کو ہلاک کر رکھ دیا۔
فرعون نے اب محسوس کیا کہ یہ معجزہ تو بہرحال بہت بڑا ہے اور اپنے اندر بڑی قوت رکھتا ہے۔ چناچہ اس نے فوراً اس معجزے کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ اپنے دل میں تو وہ خود جانتا تھا کہ اس کا موقف غلط ہے۔ یہ بھی ممکن تھا اس کے حاشیہ نشین چاپلوسی کرتے ہوئے حقیقی صورتحال نہ بتائیں۔ اس لئے یہ شخص حضرت موسیٰ اور قوم موسیٰ کی طرف سے سامنے آنے والے خطرے کو خود حاشیہ نشینوں کے سامنے رکھتا ہے تاکہ وہ ان معجزات کے اثرات کو کم کرسکے۔
الشعراء 26:33
فالقی عصاہ ……للنظرین (32)
انداز بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عصا فی الحقیقت سانپ بن گیا تھا۔ زندہ ہوگیا اور زمین پر رینگنے لگا اور جب انہوں نے اپنا ہاتھ بغل سے نکالا تو وہ فی الواقعہ سفید تھا اور یہ مفہوم (فاذا ھی ) کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ محض نظر بندی یا تخیل نہ تھا جس طرح جادو گر کرتے ہیں اور چیزیں اپنی حقیقت پر ہی رہتی ہیں۔ محض لوگوں کے جو اس کے اندر خلل آجاتا ہے۔ اشیاء کی حقیقت نہیں بدلتی۔
زندگی کا عظیم معجزہ ، جو اس کرہ ارض پر رواں ہے اور یہ معجزہ وقت ہوتا رہتا ہے۔ لوگ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ وہ اس کے ساتھ مانوس ہوگ ئے ہیں اور یہ معجزہ بار بار اس زمین پر دہرایا جاتا ہے یا لوگ زندگی کے ذریعہ رونما ہونے والی اس تبدیلی کا مشاہدہ نہیں کرتے لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے یہ دونوں معجزے رکھے تو یہ ایک ایسا امر تھا کہ پہلی نظر میں اس نے لوگوں کو ہلاک کر رکھ دیا۔
فرعون نے اب محسوس کیا کہ یہ معجزہ تو بہرحال بہت بڑا ہے اور اپنے اندر بڑی قوت رکھتا ہے۔ چناچہ اس نے فوراً اس معجزے کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ اپنے دل میں تو وہ خود جانتا تھا کہ اس کا موقف غلط ہے۔ یہ بھی ممکن تھا اس کے حاشیہ نشین چاپلوسی کرتے ہوئے حقیقی صورتحال نہ بتائیں۔ اس لئے یہ شخص حضرت موسیٰ اور قوم موسیٰ کی طرف سے سامنے آنے والے خطرے کو خود حاشیہ نشینوں کے سامنے رکھتا ہے تاکہ وہ ان معجزات کے اثرات کو کم کرسکے۔
الشعراء 26:34
قال للملا ……تامرون (35)
فرعون کے اس تبصرے ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی مانتا ہے کہ یہ معجزہ غیر معملوی معجزہ ہے۔ اگرچہ وہ اسے سحر ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بتاتا ہے کہ وہ ساحر علیم ہے۔ اس کی بوکھلاہٹ کا اظہار اسی سے ہوتا ہے کہ قوم بھی معجزے سے متاثر ہوگئی ہے۔
یرید ان یخرجکم من ارضکم بسحرہ (26 : 25) ” وہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون اندر سے شکست کھا گیا ہے۔ اب یہ اپنی قوم کے ساتھ نہایت مہذب انداز میں گفتگو کرتا ہے حالانکہ ان لوگوں کو وہ کہتا ہے کہ میں تمہارا الہہ ہوں اور وہ اس کے سامنے سجدے کرتے تھے۔ اب یہ الہہ صاحب خود ان سے مشورہ کرتے ہیں کہ بتائو اس مسئلے کو کس طرح حل کیا جائے۔
اس دنیا میں تمام ڈکٹیٹروں کا یہی انداز ہوتا ہے کہ یہ بہت کروفر میں ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی دیکھتے ہیں کہ زمین ان کے قدموں کے نیچے سے نکل رہی ہے تو مجبور ہو کر یہ برخورداروں کی طرح بات کرتے ہیں۔ پھر یہ عوام کے ہاں پناہ لیتے ہیں۔ حالانکہ جب خطرے سے باہر تھے تو یہ ان عوام کو کچلتے تھے۔ بظاہر تو وہ یوں دکھاتے تھے کہ وہ شوریٰ ، مشورہ طلب کرتے ہیں لیکن دراصل ان کی حقیقت ایک بڑے ڈکٹیٹر کی ہوتی ہے اور یہ نرمی بھی وہ صرف اس حد تک کرتے ہیں کہ خطرہ دور ہوجائے لیکن جونہی خطرہ دور ہوتا ہے یہ لوگ ایسے ہی جبار ہوتے ہیں اور ویسے ہی ظالم ہوتے ہیں۔
فرعون کے درباریوں نے مشورہ دیا کہ انہیں روک لو ، کیونکہ فرعون کی سازش سے وہ غلط فہمی میں مبتلا تھے اور فرعون اور اس کے نظام باطل میں وہ برابر کے شریک بھی تھے اور فرعونی نظام کے علی حالہ رہنے میں ان کا مفاد بھی تھا کیونکہ اس نظام ہی کی وجہ سے یہ لوگ مقربین فرعون تھے۔ ان کو خوف یہ تھا کہ اگر عوام بھی بنی اسرائیل کے ساتھ حضرت موسیٰ کی اطاعت شروع کردیں تو یہ لوگ ان پر غالب آسکتے ہیں۔ اگر عوام نے حضرت موسیٰ کے صرف یہ دو معجزے ہی دیکھے اور پھر حضرت موسیٰ کی باتیں سننے لگ گئے تو انہوں نے مشورہ دیا کہ ان کو روک لیں اور ان کے جادو کے مقابلے میں ایسے ہی جادو کا بندوبست کریں۔ تیاری کے بعد مقابلہ ہو۔
الشعراء 26:35
قال للملا ……تامرون (35)
فرعون کے اس تبصرے ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی مانتا ہے کہ یہ معجزہ غیر معملوی معجزہ ہے۔ اگرچہ وہ اسے سحر ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بتاتا ہے کہ وہ ساحر علیم ہے۔ اس کی بوکھلاہٹ کا اظہار اسی سے ہوتا ہے کہ قوم بھی معجزے سے متاثر ہوگئی ہے۔
یرید ان یخرجکم من ارضکم بسحرہ (26 : 25) ” وہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون اندر سے شکست کھا گیا ہے۔ اب یہ اپنی قوم کے ساتھ نہایت مہذب انداز میں گفتگو کرتا ہے حالانکہ ان لوگوں کو وہ کہتا ہے کہ میں تمہارا الہہ ہوں اور وہ اس کے سامنے سجدے کرتے تھے۔ اب یہ الہہ صاحب خود ان سے مشورہ کرتے ہیں کہ بتائو اس مسئلے کو کس طرح حل کیا جائے۔
اس دنیا میں تمام ڈکٹیٹروں کا یہی انداز ہوتا ہے کہ یہ بہت کروفر میں ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی دیکھتے ہیں کہ زمین ان کے قدموں کے نیچے سے نکل رہی ہے تو مجبور ہو کر یہ برخورداروں کی طرح بات کرتے ہیں۔ پھر یہ عوام کے ہاں پناہ لیتے ہیں۔ حالانکہ جب خطرے سے باہر تھے تو یہ ان عوام کو کچلتے تھے۔ بظاہر تو وہ یوں دکھاتے تھے کہ وہ شوریٰ ، مشورہ طلب کرتے ہیں لیکن دراصل ان کی حقیقت ایک بڑے ڈکٹیٹر کی ہوتی ہے اور یہ نرمی بھی وہ صرف اس حد تک کرتے ہیں کہ خطرہ دور ہوجائے لیکن جونہی خطرہ دور ہوتا ہے یہ لوگ ایسے ہی جبار ہوتے ہیں اور ویسے ہی ظالم ہوتے ہیں۔
فرعون کے درباریوں نے مشورہ دیا کہ انہیں روک لو ، کیونکہ فرعون کی سازش سے وہ غلط فہمی میں مبتلا تھے اور فرعون اور اس کے نظام باطل میں وہ برابر کے شریک بھی تھے اور فرعونی نظام کے علی حالہ رہنے میں ان کا مفاد بھی تھا کیونکہ اس نظام ہی کی وجہ سے یہ لوگ مقربین فرعون تھے۔ ان کو خوف یہ تھا کہ اگر عوام بھی بنی اسرائیل کے ساتھ حضرت موسیٰ کی اطاعت شروع کردیں تو یہ لوگ ان پر غالب آسکتے ہیں۔ اگر عوام نے حضرت موسیٰ کے صرف یہ دو معجزے ہی دیکھے اور پھر حضرت موسیٰ کی باتیں سننے لگ گئے تو انہوں نے مشورہ دیا کہ ان کو روک لیں اور ان کے جادو کے مقابلے میں ایسے ہی جادو کا بندوبست کریں۔ تیاری کے بعد مقابلہ ہو۔
الشعراء 26:36
قالوآ ارجہ واخاہ وابعث فی المدآئن حشیرین (36) یاتوک بکل سحار علیم (7) 3
یعنی ان کو اور ان کے بھائی کو روک لیں اور مصر کے بڑے بڑے شہروں میں ہر کارے بھیج دیں۔ ماہر ترین جادوگروں کو جمع کرلیں اور حضرت موسیٰ اور جادوگروں کے درمیان کھلا مقابلہ ہو۔
یہاں وہ گرتا ہے اور پھر جادوگروں کے گروہ نمودار ہوتے ہیں اور عوام الناس مقابلے کے لئے دوڑے آ رہے ہیں ۔ بادشاہ اور بادشاہ کے حامی عوام جادوگروں کے حق میں نعرے لگاتے آ رہے ہیں۔ اب حق و باطل کے درمیان کھلا مقابلہ ہے۔ ایمان اور کفر کے درمیان رسہ کشی شروع ہوتی ہے۔
الشعراء 26:37
قالوآ ارجہ واخاہ وابعث فی المدآئن حشیرین (36) یاتوک بکل سحار علیم (7) 3
یعنی ان کو اور ان کے بھائی کو روک لیں اور مصر کے بڑے بڑے شہروں میں ہر کارے بھیج دیں۔ ماہر ترین جادوگروں کو جمع کرلیں اور حضرت موسیٰ اور جادوگروں کے درمیان کھلا مقابلہ ہو۔
یہاں وہ گرتا ہے اور پھر جادوگروں کے گروہ نمودار ہوتے ہیں اور عوام الناس مقابلے کے لئے دوڑے آ رہے ہیں ۔ بادشاہ اور بادشاہ کے حامی عوام جادوگروں کے حق میں نعرے لگاتے آ رہے ہیں۔ اب حق و باطل کے درمیان کھلا مقابلہ ہے۔ ایمان اور کفر کے درمیان رسہ کشی شروع ہوتی ہے۔
الشعراء 26:38
فجمع السحرۃ لمیاقت ……الغلبین (40)
فرعون کی ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جادوگروں کی حمایت میں لوگوں کے اندر زبردست جوش و خروش پیدا کر رہا ہے۔
ھل انتم مجتمعون (39) لعلنا نتبع السحرۃ (30) ” تم اجتماع میں چلو گے شاید کہ ہم جادوگروں کے دین پر ہی رہ جائیں اگر وہ غالب رہے۔ “ یعنی کیا تم مقابلے کے دن ضرور آئو گے اور ہرگز پیچھے نہیں رہو گے۔ تاکہ ہم دیکھیں کہ جادوگر یہ میدان کس طرح مارتے ہیں اور موسیٰ اسرائیل کے مقابلے میں مصری کس طرح غالب ہوتے ہیں اور عوام الناس ہمیشہ ایسے معاملات میں جمع ہوا کرتے ہیں لیکن ان کو اصل حقیقت کا پتہ نہیں ہوتا ہے کہ حکمرانوں عوام الناس کو کس طرح استعمال کرتے ہیں اور ان جماعتوں اور جلسوں اور جلوسوں میں ان کو کس طرح کھلونا بناتے ہیں اور یہ کام وہ اس لئے کرتے ہیں تاکہ عوام پر وہ جو مظالم ڈھا رہے ہیں اور جس طرح ان کی پسماندگی کے وہ ذمہ دار ہیں ، ان کو ان باتوں پر غور کرنے کا موقعہ میں نہ ملے۔ وہ موسیٰ اور جادوگروں کے مقابلے میں شغل میلا کریں۔
مقابلے سے قبل جادوگر فرعون کے دربار میں حاضر ہیں۔ وہ یقین دہانی حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ہمیں کامیابی حاصل ہوگئی تو ہمیں معقول معاوضہ دیا جائے گا۔ یہ فرعون کی جانب سے ایک پختہ وعدہ حاصل کرلیتے ہیں کہ اگر کامیاب ہوئے تو ان کو معقول اجرت کے ساتھ ساتھ شاہی تخت و تاج کا قرب بھی حاصل ہوگا اور تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔
الشعراء 26:39
فجمع السحرۃ لمیاقت ……الغلبین (40)
فرعون کی ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جادوگروں کی حمایت میں لوگوں کے اندر زبردست جوش و خروش پیدا کر رہا ہے۔
ھل انتم مجتمعون (39) لعلنا نتبع السحرۃ (30) ” تم اجتماع میں چلو گے شاید کہ ہم جادوگروں کے دین پر ہی رہ جائیں اگر وہ غالب رہے۔ “ یعنی کیا تم مقابلے کے دن ضرور آئو گے اور ہرگز پیچھے نہیں رہو گے۔ تاکہ ہم دیکھیں کہ جادوگر یہ میدان کس طرح مارتے ہیں اور موسیٰ اسرائیل کے مقابلے میں مصری کس طرح غالب ہوتے ہیں اور عوام الناس ہمیشہ ایسے معاملات میں جمع ہوا کرتے ہیں لیکن ان کو اصل حقیقت کا پتہ نہیں ہوتا ہے کہ حکمرانوں عوام الناس کو کس طرح استعمال کرتے ہیں اور ان جماعتوں اور جلسوں اور جلوسوں میں ان کو کس طرح کھلونا بناتے ہیں اور یہ کام وہ اس لئے کرتے ہیں تاکہ عوام پر وہ جو مظالم ڈھا رہے ہیں اور جس طرح ان کی پسماندگی کے وہ ذمہ دار ہیں ، ان کو ان باتوں پر غور کرنے کا موقعہ میں نہ ملے۔ وہ موسیٰ اور جادوگروں کے مقابلے میں شغل میلا کریں۔
مقابلے سے قبل جادوگر فرعون کے دربار میں حاضر ہیں۔ وہ یقین دہانی حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ہمیں کامیابی حاصل ہوگئی تو ہمیں معقول معاوضہ دیا جائے گا۔ یہ فرعون کی جانب سے ایک پختہ وعدہ حاصل کرلیتے ہیں کہ اگر کامیاب ہوئے تو ان کو معقول اجرت کے ساتھ ساتھ شاہی تخت و تاج کا قرب بھی حاصل ہوگا اور تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔
الشعراء 26:40
فجمع السحرۃ لمیاقت ……الغلبین (40)
فرعون کی ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جادوگروں کی حمایت میں لوگوں کے اندر زبردست جوش و خروش پیدا کر رہا ہے۔
ھل انتم مجتمعون (39) لعلنا نتبع السحرۃ (30) ” تم اجتماع میں چلو گے شاید کہ ہم جادوگروں کے دین پر ہی رہ جائیں اگر وہ غالب رہے۔ “ یعنی کیا تم مقابلے کے دن ضرور آئو گے اور ہرگز پیچھے نہیں رہو گے۔ تاکہ ہم دیکھیں کہ جادوگر یہ میدان کس طرح مارتے ہیں اور موسیٰ اسرائیل کے مقابلے میں مصری کس طرح غالب ہوتے ہیں اور عوام الناس ہمیشہ ایسے معاملات میں جمع ہوا کرتے ہیں لیکن ان کو اصل حقیقت کا پتہ نہیں ہوتا ہے کہ حکمرانوں عوام الناس کو کس طرح استعمال کرتے ہیں اور ان جماعتوں اور جلسوں اور جلوسوں میں ان کو کس طرح کھلونا بناتے ہیں اور یہ کام وہ اس لئے کرتے ہیں تاکہ عوام پر وہ جو مظالم ڈھا رہے ہیں اور جس طرح ان کی پسماندگی کے وہ ذمہ دار ہیں ، ان کو ان باتوں پر غور کرنے کا موقعہ میں نہ ملے۔ وہ موسیٰ اور جادوگروں کے مقابلے میں شغل میلا کریں۔
مقابلے سے قبل جادوگر فرعون کے دربار میں حاضر ہیں۔ وہ یقین دہانی حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ہمیں کامیابی حاصل ہوگئی تو ہمیں معقول معاوضہ دیا جائے گا۔ یہ فرعون کی جانب سے ایک پختہ وعدہ حاصل کرلیتے ہیں کہ اگر کامیاب ہوئے تو ان کو معقول اجرت کے ساتھ ساتھ شاہی تخت و تاج کا قرب بھی حاصل ہوگا اور تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔
الشعراء 26:41
فلما جآء ……المقربین (42)
یہ ہے پوزیشن کرایہ کے ان معاونین کی جو فرعون پورے ملک سے پیغمبر خدا کے مقابلے کے لئے جمع کر کے لایا ہے۔ اس نے ان کی خدمات چند ٹکوں کے عوض خریدی ہیں۔ ان کے سامنے نہ کوئی قومی مسئلہ ہے اور نہ کوئی مقصد اور کوئی نظریہ ہے۔ وہ تو صرف اجر اور مفادات کے بندے ہیں اور ہر زمان و مکان اور ہر دور میں ہمیشہ سرکش ، حکمران کرایہ کے ایسے لوگوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔
اور یہ لوگ بھی اپنی چالاکی ، شعبدہ بازی اور مہارت اور محنت کی قیمت چکاتے ہیں اور فرعون بھی اس مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ اجر اور انعامات کا وعدہ کرتا ہے۔ وہ وعدہ کرتا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ میرے مقرب ہوں گے اور اپنے آپ کو وہ بادشاہ اور الہہ اور حاکم سمجھتا ہے۔
الشعراء 26:42
فلما جآء ……المقربین (42)
یہ ہے پوزیشن کرایہ کے ان معاونین کی جو فرعون پورے ملک سے پیغمبر خدا کے مقابلے کے لئے جمع کر کے لایا ہے۔ اس نے ان کی خدمات چند ٹکوں کے عوض خریدی ہیں۔ ان کے سامنے نہ کوئی قومی مسئلہ ہے اور نہ کوئی مقصد اور کوئی نظریہ ہے۔ وہ تو صرف اجر اور مفادات کے بندے ہیں اور ہر زمان و مکان اور ہر دور میں ہمیشہ سرکش ، حکمران کرایہ کے ایسے لوگوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔
اور یہ لوگ بھی اپنی چالاکی ، شعبدہ بازی اور مہارت اور محنت کی قیمت چکاتے ہیں اور فرعون بھی اس مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ اجر اور انعامات کا وعدہ کرتا ہے۔ وہ وعدہ کرتا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ میرے مقرب ہوں گے اور اپنے آپ کو وہ بادشاہ اور الہہ اور حاکم سمجھتا ہے۔
الشعراء 26:43
اب ایٓئے میدان مقابلہ کی طرف فریقین تیار ہیں اور عوام جمع ہیں۔
قال لھم ……اول المئومنین (51)
پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جا رہا تھا۔ اس پر سارے جادوگر بےاختیار سجدے میں گر پڑے اور بول اٹھے کہ ” مان گئے ہم رب العالمین کو … موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کے رب کو۔ “ فرعون نے کہا ” تم موسیٰ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دینا ! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ اچھا ؟ ابھی تمہیں معلوم ہوتا جاتا ہے ، میں تمہارے ہاتھ پائوں مخلاف سمتوں سے کنوائوں گا اور تم سب کو سولی چڑھا دوں گا۔ ‘ انہوں نے جواب دیا ” کچھ پروا نہیں ، ہم اپنے رب کے حضور پہنچ جائیں گے اور ہمیں توقع ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہ معاف کر دے گا ، کیونکہ سب سے پہلے ہم ایمان لائے ہیں۔ “
یہ منظر بڑی سنجیدگی کے ساتھ اور پروقار انداز سے شروع ہوتا ہے۔ البتہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ چونکہ سچائی اور خدائی ہے اس لئے وہ بالکل گھبرائے ہوئے نہیں ہیں۔ فرعون نے پورے ملک کے ماہرین فن مکار جادوگروں ککو بلایا ہوا ہے اور ان کے ساتھ گمراہ اور سادہ لوح عوام الناس کا ایک جم غقیر بھی جمع کر رکھا ہے ، لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان سرکاری تیاریوں کی کوئی پرواہ ہی نہیں کر رہے۔ حضرت موسیٰ کے اطمینان کا اظہار اس امرت ہوتا ہے کہ وہ ان جادوگروں کو موقعہ دیتے ہیں کہ وہ پہلے اپنے کرتب دکھائیں۔
قال لھم مسویٰ القواما انتم ملقون (26 : 33) ” موسیٰ نے ان سے کہا پھینکو جو تمہیں پھینکا ہے۔ “ حضرت موسیٰ کا انداز تعبیر ہی ایسا ہے کہ وہ ان کے کرتب کو اہمیت نہیں دے رہے۔ پھینکو جو پھینکنا ہے۔
القواما انتم ملقون (26 : 23) آپ یہ بات لاپرواہی اور بغیر کسی اہتمام کہتے ہیں۔ چناچہ جادوگروں نے اپنی پوری مہلت ، اپنی پوری استادی اور اپنی پوری مکاری کو اکم میں لا کر اور فرعون کے نام کا ورد کر کے اپنی باری کا آغاز کیا۔
فالقوا جبالھم و عصیھم وقالوا بعزۃ فرعون انا لنحن الغلبون (26 : 33)
” انہوں نے فوراً اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے ، فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے۔ “ یہاں سیاق کلام میں ان کی رسیوں اور لاٹھیوں کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ سورة اعراف اور طہ میں تفصیلات بھی دی گئی ہیں۔ اس لئے کہ یہاں سیاق کلام حضرت موسیٰ کے گہرے اطمینان کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔ یہاں فوراً حضرت موسیٰ کی پوری کارروائی دکھا دی جاتی ہے کیونکہ غلبہ حق اس سورت کا محور اور مضمون ہے۔
فالقی موسیٰ عصاہ فاذا ھی تلقف مایافکون (26 : 35) ” پھر مسویٰ نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جا رہا تھا۔ “ ایک ایسا واقعہ ہوگیا جس کا تصور بھی نہ کرسکتے تھے۔ انہوں نے اپنے فن کاری کی آخری صلاحیتیں صرف کی تھیں۔ انہوں نے ساری عمر اس شعبدہ بازی میں گزاری تھی اور اس میں پوری مہارت حاصل کی تھی۔ انہوں نے وہ تمام کرتب پیش کردیئے تھے جو ایک جادو گر کرسکتا ہے۔ وہ تھے بھی بڑی تعداد میں ہر طرف سے گروہ درگروہ جمع ہو کر آئے تھے۔ مسویٰ (علیہ السلام) یکہ و تنہا تھے۔ ان کے پاس صرف اپنا عصا تھا۔ یہ عصا ان کی تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر گیا۔ (الف) کا لغوی مفہوم ہے ہڑپ کرل ینا یعنی بڑی تیزی سے کسی چیز کو کھا لیتا۔ جادوگروں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ جادو کے ذریعے کوئی عصا کسی چیز کو نگل نہیں سکتا۔ اس میں تو صرف تخیل اور تنویم ہوتی ہے لیکن عصا نے تو درحقیقت تمام پھینکی ہوئی اشیاء کو کھالیا۔ کسی چیز کا نام و نشان میدان میں نہ تھا۔ اگر جادو ہوتا تو جادو کے اثر کے بعد تخیل کے عوام کے اختتام پر اشیاء کو موجود ہونا چاہئے تھا ۔ انہوں نے جب دیکھا کہ میدان میں عملاً کچھ نہیں ہے …… ان کو یقین ہوگیا کہ حضرت موسیٰ تو ہرگز جادوگر نہیں ہیں۔ وہ پیغمبر برحق ہیں اور اس سچائی کو اس دنیا میں بہترین طور پر جاننے والے یہی جادوگر تھے۔
الشعراء 26:44
اب ایٓئے میدان مقابلہ کی طرف فریقین تیار ہیں اور عوام جمع ہیں۔
قال لھم ……اول المئومنین (51)
پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جا رہا تھا۔ اس پر سارے جادوگر بےاختیار سجدے میں گر پڑے اور بول اٹھے کہ ” مان گئے ہم رب العالمین کو … موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کے رب کو۔ “ فرعون نے کہا ” تم موسیٰ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دینا ! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ اچھا ؟ ابھی تمہیں معلوم ہوتا جاتا ہے ، میں تمہارے ہاتھ پائوں مخلاف سمتوں سے کنوائوں گا اور تم سب کو سولی چڑھا دوں گا۔ ‘ انہوں نے جواب دیا ” کچھ پروا نہیں ، ہم اپنے رب کے حضور پہنچ جائیں گے اور ہمیں توقع ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہ معاف کر دے گا ، کیونکہ سب سے پہلے ہم ایمان لائے ہیں۔ “
یہ منظر بڑی سنجیدگی کے ساتھ اور پروقار انداز سے شروع ہوتا ہے۔ البتہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ چونکہ سچائی اور خدائی ہے اس لئے وہ بالکل گھبرائے ہوئے نہیں ہیں۔ فرعون نے پورے ملک کے ماہرین فن مکار جادوگروں ککو بلایا ہوا ہے اور ان کے ساتھ گمراہ اور سادہ لوح عوام الناس کا ایک جم غقیر بھی جمع کر رکھا ہے ، لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان سرکاری تیاریوں کی کوئی پرواہ ہی نہیں کر رہے۔ حضرت موسیٰ کے اطمینان کا اظہار اس امرت ہوتا ہے کہ وہ ان جادوگروں کو موقعہ دیتے ہیں کہ وہ پہلے اپنے کرتب دکھائیں۔
قال لھم مسویٰ القواما انتم ملقون (26 : 33) ” موسیٰ نے ان سے کہا پھینکو جو تمہیں پھینکا ہے۔ “ حضرت موسیٰ کا انداز تعبیر ہی ایسا ہے کہ وہ ان کے کرتب کو اہمیت نہیں دے رہے۔ پھینکو جو پھینکنا ہے۔
القواما انتم ملقون (26 : 23) آپ یہ بات لاپرواہی اور بغیر کسی اہتمام کہتے ہیں۔ چناچہ جادوگروں نے اپنی پوری مہلت ، اپنی پوری استادی اور اپنی پوری مکاری کو اکم میں لا کر اور فرعون کے نام کا ورد کر کے اپنی باری کا آغاز کیا۔
فالقوا جبالھم و عصیھم وقالوا بعزۃ فرعون انا لنحن الغلبون (26 : 33)
” انہوں نے فوراً اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے ، فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے۔ “ یہاں سیاق کلام میں ان کی رسیوں اور لاٹھیوں کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ سورة اعراف اور طہ میں تفصیلات بھی دی گئی ہیں۔ اس لئے کہ یہاں سیاق کلام حضرت موسیٰ کے گہرے اطمینان کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔ یہاں فوراً حضرت موسیٰ کی پوری کارروائی دکھا دی جاتی ہے کیونکہ غلبہ حق اس سورت کا محور اور مضمون ہے۔
فالقی موسیٰ عصاہ فاذا ھی تلقف مایافکون (26 : 35) ” پھر مسویٰ نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جا رہا تھا۔ “ ایک ایسا واقعہ ہوگیا جس کا تصور بھی نہ کرسکتے تھے۔ انہوں نے اپنے فن کاری کی آخری صلاحیتیں صرف کی تھیں۔ انہوں نے ساری عمر اس شعبدہ بازی میں گزاری تھی اور اس میں پوری مہارت حاصل کی تھی۔ انہوں نے وہ تمام کرتب پیش کردیئے تھے جو ایک جادو گر کرسکتا ہے۔ وہ تھے بھی بڑی تعداد میں ہر طرف سے گروہ درگروہ جمع ہو کر آئے تھے۔ مسویٰ (علیہ السلام) یکہ و تنہا تھے۔ ان کے پاس صرف اپنا عصا تھا۔ یہ عصا ان کی تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر گیا۔ (الف) کا لغوی مفہوم ہے ہڑپ کرل ینا یعنی بڑی تیزی سے کسی چیز کو کھا لیتا۔ جادوگروں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ جادو کے ذریعے کوئی عصا کسی چیز کو نگل نہیں سکتا۔ اس میں تو صرف تخیل اور تنویم ہوتی ہے لیکن عصا نے تو درحقیقت تمام پھینکی ہوئی اشیاء کو کھالیا۔ کسی چیز کا نام و نشان میدان میں نہ تھا۔ اگر جادو ہوتا تو جادو کے اثر کے بعد تخیل کے عوام کے اختتام پر اشیاء کو موجود ہونا چاہئے تھا ۔ انہوں نے جب دیکھا کہ میدان میں عملاً کچھ نہیں ہے …… ان کو یقین ہوگیا کہ حضرت موسیٰ تو ہرگز جادوگر نہیں ہیں۔ وہ پیغمبر برحق ہیں اور اس سچائی کو اس دنیا میں بہترین طور پر جاننے والے یہی جادوگر تھے۔
الشعراء 26:45
اب ایٓئے میدان مقابلہ کی طرف فریقین تیار ہیں اور عوام جمع ہیں۔
قال لھم ……اول المئومنین (51)
پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جا رہا تھا۔ اس پر سارے جادوگر بےاختیار سجدے میں گر پڑے اور بول اٹھے کہ ” مان گئے ہم رب العالمین کو … موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کے رب کو۔ “ فرعون نے کہا ” تم موسیٰ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دینا ! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ اچھا ؟ ابھی تمہیں معلوم ہوتا جاتا ہے ، میں تمہارے ہاتھ پائوں مخلاف سمتوں سے کنوائوں گا اور تم سب کو سولی چڑھا دوں گا۔ ‘ انہوں نے جواب دیا ” کچھ پروا نہیں ، ہم اپنے رب کے حضور پہنچ جائیں گے اور ہمیں توقع ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہ معاف کر دے گا ، کیونکہ سب سے پہلے ہم ایمان لائے ہیں۔ “
یہ منظر بڑی سنجیدگی کے ساتھ اور پروقار انداز سے شروع ہوتا ہے۔ البتہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ چونکہ سچائی اور خدائی ہے اس لئے وہ بالکل گھبرائے ہوئے نہیں ہیں۔ فرعون نے پورے ملک کے ماہرین فن مکار جادوگروں ککو بلایا ہوا ہے اور ان کے ساتھ گمراہ اور سادہ لوح عوام الناس کا ایک جم غقیر بھی جمع کر رکھا ہے ، لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان سرکاری تیاریوں کی کوئی پرواہ ہی نہیں کر رہے۔ حضرت موسیٰ کے اطمینان کا اظہار اس امرت ہوتا ہے کہ وہ ان جادوگروں کو موقعہ دیتے ہیں کہ وہ پہلے اپنے کرتب دکھائیں۔
قال لھم مسویٰ القواما انتم ملقون (26 : 33) ” موسیٰ نے ان سے کہا پھینکو جو تمہیں پھینکا ہے۔ “ حضرت موسیٰ کا انداز تعبیر ہی ایسا ہے کہ وہ ان کے کرتب کو اہمیت نہیں دے رہے۔ پھینکو جو پھینکنا ہے۔
القواما انتم ملقون (26 : 23) آپ یہ بات لاپرواہی اور بغیر کسی اہتمام کہتے ہیں۔ چناچہ جادوگروں نے اپنی پوری مہلت ، اپنی پوری استادی اور اپنی پوری مکاری کو اکم میں لا کر اور فرعون کے نام کا ورد کر کے اپنی باری کا آغاز کیا۔
فالقوا جبالھم و عصیھم وقالوا بعزۃ فرعون انا لنحن الغلبون (26 : 33)
” انہوں نے فوراً اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے ، فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے۔ “ یہاں سیاق کلام میں ان کی رسیوں اور لاٹھیوں کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ سورة اعراف اور طہ میں تفصیلات بھی دی گئی ہیں۔ اس لئے کہ یہاں سیاق کلام حضرت موسیٰ کے گہرے اطمینان کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔ یہاں فوراً حضرت موسیٰ کی پوری کارروائی دکھا دی جاتی ہے کیونکہ غلبہ حق اس سورت کا محور اور مضمون ہے۔
فالقی موسیٰ عصاہ فاذا ھی تلقف مایافکون (26 : 35) ” پھر مسویٰ نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جا رہا تھا۔ “ ایک ایسا واقعہ ہوگیا جس کا تصور بھی نہ کرسکتے تھے۔ انہوں نے اپنے فن کاری کی آخری صلاحیتیں صرف کی تھیں۔ انہوں نے ساری عمر اس شعبدہ بازی میں گزاری تھی اور اس میں پوری مہارت حاصل کی تھی۔ انہوں نے وہ تمام کرتب پیش کردیئے تھے جو ایک جادو گر کرسکتا ہے۔ وہ تھے بھی بڑی تعداد میں ہر طرف سے گروہ درگروہ جمع ہو کر آئے تھے۔ مسویٰ (علیہ السلام) یکہ و تنہا تھے۔ ان کے پاس صرف اپنا عصا تھا۔ یہ عصا ان کی تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر گیا۔ (الف) کا لغوی مفہوم ہے ہڑپ کرل ینا یعنی بڑی تیزی سے کسی چیز کو کھا لیتا۔ جادوگروں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ جادو کے ذریعے کوئی عصا کسی چیز کو نگل نہیں سکتا۔ اس میں تو صرف تخیل اور تنویم ہوتی ہے لیکن عصا نے تو درحقیقت تمام پھینکی ہوئی اشیاء کو کھالیا۔ کسی چیز کا نام و نشان میدان میں نہ تھا۔ اگر جادو ہوتا تو جادو کے اثر کے بعد تخیل کے عوام کے اختتام پر اشیاء کو موجود ہونا چاہئے تھا ۔ انہوں نے جب دیکھا کہ میدان میں عملاً کچھ نہیں ہے …… ان کو یقین ہوگیا کہ حضرت موسیٰ تو ہرگز جادوگر نہیں ہیں۔ وہ پیغمبر برحق ہیں اور اس سچائی کو اس دنیا میں بہترین طور پر جاننے والے یہی جادوگر تھے۔
الشعراء 26:46
فالقی السحرۃ سجدین (26 : 36) ” قالوا امنا برب العلمین (26 : 38) رب موسیٰ وھرون (26 : 38) ” ، ۔ “ ایک ہی لمحہ قبل وہ کرایہ کے لوگ تھے اور فرعون کے ساتھ وہ اپنی مہارت اور اجرت کا مول تول کر رہے تھے۔ نہ وہ کوئی نظریہ رکھتے تھے اور نہ ان کے پیش نظر کوئی نصب العین تھا۔ لیکن اب ان کے دلوں تک جو سچئای پہنچ گئی اس نے ان کو پوری طرح بدل دیا۔ اس واقعہ نے انہیں ہلا کر رکھ دیا۔ ان کی دینی دنیا میں ایک زلزلہ پیدا ہوگیا اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے جو سچائی دیکھی وہ ان کے دلوں کے تہہ تک پہنچ گئی۔ اس نے ان کے دل پر تمام پردے زائل کردیئے اور گمراہی کی جو تہیں ان کے دلوں پر جمی ہوئی تھیں ، وہ صاف ہوگئیں۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر مسویٰ صرف جادوگر ہوتے تو ان کی رسیاں اور انڈے کہیں بھی نہ جاتے ان چیزوں کے اندر ان کے جادو سے ہلچل تو پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ غائب نہیں ہو سکتیں۔
چناچہ ان کا دل صاف ہوگیا اور ان کے سامنے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ بغیر ارادہ کے سجدے میں گر جائیں۔ ایمان کا اظہار کردیں اور صاف صاف اختیار کردیں۔
امنا برب العلمین (26 : 38) رب موسیٰ وھرون (26 : 38) ” مان گئے ہم رب العالمین کو جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔ “ انسانی دل کو دنیا بھی عجیب ہے۔ ایک لمحے میں اس کی دنیا بدل سکتی ہے ۔ ایک نظر میں اس میں انقلاب آ جات ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بہت ہی سچ فرمایا۔ ” جو دل بھی ہے وہ رحمٰن کی دو انگلیوں کے درمیان ہے ، اگر اللہ چاہے تو اسے سیدھا رکھے اور اگر چاہے تو گمراہ کر دے (ٹیڑھا) کر دے۔ “ یوں جادوگر جو اجر کے طلبگار اور کرایہ کے لوگ تھے وہ برگزیدہ مومن بن گئے اور یہ فرعون اور اس کے جبار وقہار کے ساتھیوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوگئے اور فرعون کے جمع کردہ عوام الناس کے جم کا بھی انہوں نے کوئی لحاظ نہ رکھا۔ وہ ان نتائج کی رپواہ کئے بغیر ہی مسلمان ہوگئے جن کی توقع ان کو جابر و ظالم فرعون سے تھی۔ وہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ فرعون کے مقابلے میں حضرت موسیٰ پر ایمان لانا اور اس طرح علی الاعلان لانا کیا معنی رکھتا ہے۔ اب ان کے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ کون کیا کہتا ہے۔
حالات نے اچھا جو پلٹا کھایا ، ظاہر ہے کہ فرعون اور اس کے سرداروں پر تو بجلی گر گئی۔ کیونکہ لوگ سب جمع تھے۔ ان کو خود فرعون اور اس کے اہلکاروں نے جمع کیا تھا کہ تا کہ وہ موسیٰ اور جادوگروں کا بھی مقابلہ دیکھ لیں۔ انہوں نے عوام کے اندر یہ پروپیگنڈا کیا تھا کہ موسیٰ اسرائیلی ایک بہت بڑا جادو لے کر آیا ہے اور وہ جادو کے زور پر ہماری حکومت کو ختم کر کے اپنی قوم کی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہ کہ حکومت نے بڑے بڑے جادوگروں کو جمع کر کے اس کے مقابلے کا انتظام کیا ہے۔ ہمارے جادوگر اس پر غالب ہوں گے اور اس کا قلع قمع کردیں گے۔ یہ لوگ جمع ہوتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ موسیٰ اللہ کا نام لے کر آتا ہیں۔ وہ فوراً حضرت موسیٰ کی رسالت کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے سچے نبی ہیں۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے رب کو مانتے ہیں۔ یہ فرعون کی بندگی کا جوا اپنی گردنوں سے اتار پھینکتے ہیں جبکہ ایک لمحہ قبل وہ فرعون کے سپاہی اور خدمت گار تھے اور اس کی جانب سے انعام کے طلبگار تھے اور اپنا کام انہوں نے عزت فرعون کے عنوان سے شروع کیا تھا۔
حالات کے اندر یہ اچانک انقلاب فرعون کے اقتدار کے لئے خطرہ تھا کیونکہ اب وہ افسانہ ہی ختم ہوگیا جس کی اساس پر فرعون کا اقتدار قائم تھا یہ کہ فرعون الہہ ہے بایں معنی کہ وہ خدا کی اولاد میں سے ہے اور یہ جادوگر دین فرعون کے مذہبی راہنما تھے کیونکہ اس دور میں تمام کاہن جادوگر ہوتے تھے اور یہ تمام جادوگر اسی رب العالمین پر ایمان لے آئے ہیں جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے ، جہاں تک جمہور عوام کا تعلق ہے وہ ہمیشہ مذبہی راہنمائوں کی اطاعت کرتے ہیں۔ وہ عقائد انہی مذہبی راہنمائوں سے لیتے ہیں۔ اب فرعون کے اقتدار کے لئے وجہ جواز اور سہارا صرف قوت رہ گئی اور یہ دنیا کا قاعدہ ہے کہ محض قوت کے بل بوتے پر سکی اقتدار کو قائم نہیں رکھا جاسکتا۔
ہمیں چاہئے کہ ہم ذرا اچھی طرح اندازہ کرلیں کہ اس صورتحال سے فرعون کس قدر بوکھلایا ہوگا اور اس کے اردگرد بیٹھے ہوئے حاشیہ نشینوں کی حالت کیا ہوگی کہ جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ جادوگر ایمان لے آئے اور ایسا ایمان کہ ایمان لاتے ہی وہ رب العالمین کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور اعتراف حق کر کے اللہ کی طرف یکسو ہوجاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اس صورتحال کو دیکھ کر فرعون پاگل ہوجاتا ہے۔ وہ بوکھلاہٹ میں اعلان کردیتا ہے کہ تم سازشی ہو ، تمہیں سخت ترین سزا دی جائے گی۔ پہلے تو اس نے یہ پروپیگنڈا کیا تھا کہ حضرت موسیٰ اپنی قوم کے لئے حصول اقتدار کی سازش کر رہے ہیں۔