Fi Zilal al-Quran — النور 24:38 – الفرقان 25:34
Contents
- النور 24:38
- النور 24:39
- النور 24:40
- النور 24:41
- النور 24:42
- النور 24:43
- النور 24:44
- النور 24:45
- النور 24:46
- النور 24:47
- النور 24:48
- النور 24:49
- النور 24:50
- النور 24:51
- النور 24:52
- النور 24:53
- النور 24:54
- النور 24:55
- النور 24:56
- النور 24:57
- النور 24:58
- النور 24:59
- النور 24:60
- النور 24:61
- النور 24:62
- النور 24:63
- النور 24:64
- الفرقان 25:1
- الفرقان 25:2
- الفرقان 25:3
- الفرقان 25:4
- الفرقان 25:5
- الفرقان 25:6
- الفرقان 25:7
- الفرقان 25:8
- الفرقان 25:9
- الفرقان 25:10
- الفرقان 25:11
- الفرقان 25:12
- الفرقان 25:13
- الفرقان 25:14
- الفرقان 25:15
- الفرقان 25:16
- الفرقان 25:17
- الفرقان 25:18
- الفرقان 25:19
- الفرقان 25:20
- الفرقان 25:21
- الفرقان 25:22
- الفرقان 25:23
- الفرقان 25:24
- الفرقان 25:25
- الفرقان 25:26
- الفرقان 25:27
- الفرقان 25:28
- الفرقان 25:29
- الفرقان 25:30
- الفرقان 25:31
- الفرقان 25:32
- الفرقان 25:33
- الفرقان 25:34
النور 24:38
(فی بیوت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والاصال رجال ۔۔۔۔۔۔۔ والابصار لیجز یھم اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ بغیر حساب ) (36 تا 83)
یہاں اللہ کے نور کی تمثیل اور ان گھروں کی تمثیل میں ایک خاص تعلق ہے اور یہ قرآن کریم کے انداز بیان کافی کمال ہے۔ طاق کے اندر چراغ روشن ہے اور گھروں کے اندر دل مومن روشن ہے۔ اس طرح دونوں کے درمیان مشاکلت ہے۔
یہ گھر ایسے ہیں کہ اللہ نے حکم دینا ہے کہ ان کی دیواروں کو بلند کیا جائے اور ان کی تعمیر کی جائے۔ ان کو بلند کرنے کے اذن سے مراد ان کو تعمیر کرنے کا حکم دینا ہے کہ وہ اس حکم پر عمل کریں۔ چناچہ یہ گھر قائم کردیئے گئے ہیں ‘ بلند ہیں اور پاک اور ستھرے ہیں۔ ان کا منظر اس کائنات کے منظر لے مشابہ ہے جہاں نور ربی پھیلا ہوا ہے۔ ان گھروں کی بلندی اس لیے ہے کہ یہاں اللہ کا نام لیا جائے۔
ویذکر فیھا اسمہ (24 : 36) ” اس میں اللہ کا نام یاد کیا جائے “۔ اور یہ پاک دل اللہ کے ساتھ وابستہ ہوں ‘ اللہ کی تسبیح کرتے ہوں۔ اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔ نماز بھی پڑھنے والے ہوں۔ اللہ کی راہ میں دینے والے بھی ہوں۔
(رجال لا تلھیھم۔۔۔۔۔۔۔۔ وایتآء الزکوۃ) (24 : 37) ” ان میں ایسے لوگ صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں جنہیں تجارت اور خریدو فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت صلوۃ سے اور زکوۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کردیتی “۔ تجارت اور خریدو فروخت کمانے اور دولت جمع کرنے کے ذرائع ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کاموں میں مشغول رہنے کے باوجود اللہ کے حقوق یعنی نماز اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی یعنی زکوۃ سے غافل نہیں ہوتے۔
(یخافون۔۔۔۔۔ والابصار) (24 : 37) ” وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹنے اور دیدے پتھرانے کی نوبت آجائے گی “۔ دل الٹے ہوں گے یعنی ان کے اندر خوف و ہر اس کی وجہ سے کوئی قرار نہ ہوگا ‘ اور یہ دل چونکہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں اس لیے تجارت اور خیرد و فروخت انہیں اللہ کے ذکر سے روک نہیں سکتے۔
لیکن اس خوف کے ساتھ امید بھی وابستہ ہے۔ وہ مایوس نہیں ہوتے۔ وہ اللہ سے امیدیں باندھے ہوئے ہوتے ہیں۔
(لیجز یھم اللہ۔۔۔۔ من فضلہ) (24 : 38) ” تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بہترین اعمال کی جزا ان کو دے اور مزید فضل سے نوازے “۔ ان کی امید ناکام بھی نہیں رہتی ۔ اس لیے کہ واللہ یرزق من یشآء بغیر حساب (24 : 38) ” اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے “ کیونکہ اللہ کے فضل کے کوئی حدود وقیود نہیں ہیں۔
آسمانوں اور زمین کے اندر روشن ہونے والے اس نور کے بالمقابل ‘ اللہ کے ان گھروں میں پائے جانے والے اس نور کے بالمقابل اہل ایمان کے دلوں میں روشن نور کے بالمقابل ‘ یہاں قرآن مجید ظلمات اور تاریکیوں کے ایک جہان کو بھی پیش کرتا ہے۔ اس جہان میں کوئی روشنی نہیں ہے۔ اس جہان میں کوئی امن و سکون نہیں ہے۔ ہر طرف خوف کے سائے چھائے ہوئے ہیں۔ اس میں ہر طرف بر بادی ہی بربادی ہے۔ کوئی خیر نہیں ہے۔ یہ اہل کفر کا جہان ہے اور ایک کافر کی دنیا ہے۔ اس کے خدوخال اور نگ ڈھنگ کچھ یوں ہیں۔
(والذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ سریع الحساب اوکظلمت۔۔۔۔۔۔۔۔ من نور (39 : 40) ”(اس کے برعکس) جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بےآب میں سراب کہ پیاسا اس کو پانی سمجھے ہوئے تھا ‘ مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا ‘ بلکہ وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا ‘ جس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا ‘ اور اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی۔ یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا ‘ کہ اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے ‘ اس پر ایک اور موج ‘ اور اس کے اوپر بادل ‘ تاریکی پر تاریکی مسلط ہے ‘ آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے جسے اللہ نور نہ بخشے اس کے لیے پھر کوئی نور نہیں “۔
یہاں قرآن کریم نے اہل کفر کی زندگی اور ان کے نظریات اور سرگرمیوں کی تصویر کشی دو طرح کی ہے۔ یہ دو مشاہد ہیں جو بطور تمثیل دیئے گئے ہیں۔
پہلی تمثیل ہے ان کے اعمال کی۔ یہ اعمال ایسے نظر آتے ہیں جس طرح چٹیل وسعی ریگستان میں سراب نظر آتا ہے۔ یہ سراب ٹیلے پانی کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ پیاسا اس کے پیچھے بھگتا ہے۔ وہ توقع تو یہ کرتا ہے کہ سراب تک پہنچ کر پانی پئے گا لیکن وہ اس بات سے غافل ہوتا ہے کہ وہاں تک پہنچ کر وہ وہاں کیا پانے والاہوتا ہے۔ یہاں منظر میں اچانک تبدیلی آجاتی ہے۔ یہ شخص جو سراب کے پیچھے بھاگ رہا ہے پیاسا ہے ‘ پانی کی تلاش میں ہے۔ اور غافل ہے اس معاملے سے جو اسے پیش آنے والا ہے۔ یہ جب منزل تک پہنچتا ہے تو وہاں اسے پانی نہیں ملتا۔ وہاں اسے وہ چیز ملتی ہے جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ اب یہ اس نئی حقیقت سے دو چار ہو کر خوفزدہ ہوجاتا ہے۔ امیدیں کٹ جاتی ہیں۔
وجد اللہ عندہ (24 : 39) ” وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا “۔ وہ اللہ موجود ہے جس کا وہ منکر تھا اور یہ شخص اللہ وحدہ کا دشمن تھا۔ اس سراب میں اس کا منتظر اللہ تھا۔ اگر اس سراب میں یہ شخص اپنے کسی دنیاوی دشمن کو پائے تو پھر یہ سخت خوفزدہ ہوجائے لیکن یہ وہاں خالق کائنات کو پارہا ہے جو جبار ہے۔ بڑی قوت والا ہے اور سخت انتقام لینے والا بھی ہے۔ وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ پانی کے بجائے اس کا وہاں حساب و کتاب شروع ہوجاتا ہے۔
فوقہ حسابہ واللہ سریع الحساب (24 : 39) ” جس نے اس کا پورا پورا حساب چکادیا اور اللہ کو حساب لینے میں دیر نہیں لگتی “۔ یہ منظر سرعت اور ستابی کے ساتھ اچانک سرپرائز کو پیش کرتا ہے اور سرعت اور سراب کے ساتھ ‘ جلدی سے حساب چکا نا اور اچانک خوف میں مبتلا ہونا ‘ فنی ہم آہنگی ہے۔
دوسرا منظر یہ ہے کہ اس میں جھوٹی روشنی کے بعد اندھیرے چھا جاتے ہیں ‘ یوں کہ ایک انسان سمندری جہاز میں ہے ‘ یہ جہاز سمندر کی ظالم لہروں میں گھرا ہوا ہے ‘ خوفناک موج کے اوپر موج اٹھ رہی ہے ‘ ان کے اوپر سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ایسا خوفناک اندھیرا ہوگیا ہے کہ کوئی شخص اگر اپنے ہاتھ کو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ دیکھ نہیں سکتا ‘ شدت خوف اور شدت تاریکی کی وجہ سے ۔
کفر کیا ہے ‘ یہ دراصل امواج زندگی میں ایک گھمبیر اندھیرا ہے۔ یہ اندھیرا اللہ کے نور کو نظروں سے اوجھل کردیتا ہے۔ یہ اس قدر گہری گمراہی ہے کہ اس میں انسان کو ہاتھ کی طرح قریبی دلائل بھی نظر نہیں آتے۔ کفر اس قدر خوفناک صورت حال کا نام ہے کہ اس میں انسان کے لیے سکون وقرار نہیں ہوتا۔
ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور (24 : 40) ” جسے اللہ نور نہ بخشے اس کے لیے کوئی نور نہیں ہے “۔ اللہ کا نور کیا ہے ‘ وہ ہدایت جو اللہ دل مومن میں ڈال دیتا ہے وہ اللہ کا نور ہے۔ یہ ہدایت انسان کے دل کو کھول دیتی ہے اور انسان کی فطرت نو اس میں قدرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتی ہے۔ یوں انسانی قلب میں موجود نور الہی اس کائنات میں موجود نور الہی کے ساتھ یکجا ہوجاتا ہے اور جس شخص کا اتصال اس نور کائنات سے نہ ہوسکا تو وہ اندھیروں میں ہے اسے کچھ نظر نہ آئے گا۔ یہ ہمیشہ خوفناک حالات میں ہوگا جن میں کوئی امن نہ ہوگا۔ یہ شخص ایسی گمراہی میں پڑجائے گا جس سے اس کا نکلنا مشکل ہوگا اور اس کے اعمال کا انجام سراب ہوگا اور سراب کے پیچھے بھاگنے والا ظاہر ہے کہ ہلاک ہوجائے گا۔ کیونکہ کفار کے اعمال کے پیچھے کوئی نظر یہ اور کوئی نور نہیں ہوتا۔ نور ایمان کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا اس لیے کوئی اصلاحی کام بغیر ایمان کے نہیں ہو سکتا۔ اللہ کی ہدایت ہی نور ہے اور اللہ کا ڈر ہی نور ہے۔
یہ تھے مناظر کفر و ضلالت اور مناظر تاریکی۔ اس کے بعد پھر اس کائنات میں ایمان اور نور کے مناظر آتے ہیں۔ یہاں پوری کائنات میں نور ہی کا عالم ہے۔ تمام موجودات اس نور میں تسبیح پڑھ رہی ہیں اور عالم نماز میں ہیں۔ انس ہوں ‘ جن ہوں ‘ زمین ہو یا افلاک ہوں۔ زندہ ہوں یا جمادات ہوں ‘ تمام کائنات تسبیح پڑھ رہی ہے اور تمام موجودات اس زمرے میں ہمقدم ہیں ‘ یوں کہ ایک دانا کا وجدان اس سے ارتعاش میں آجاتا ہے اور دل معرفت سے بھر جاتا ہے۔
النور 24:39
(فی بیوت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والاصال رجال ۔۔۔۔۔۔۔ والابصار لیجز یھم اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ بغیر حساب ) (36 تا 83)
یہاں اللہ کے نور کی تمثیل اور ان گھروں کی تمثیل میں ایک خاص تعلق ہے اور یہ قرآن کریم کے انداز بیان کافی کمال ہے۔ طاق کے اندر چراغ روشن ہے اور گھروں کے اندر دل مومن روشن ہے۔ اس طرح دونوں کے درمیان مشاکلت ہے۔
یہ گھر ایسے ہیں کہ اللہ نے حکم دینا ہے کہ ان کی دیواروں کو بلند کیا جائے اور ان کی تعمیر کی جائے۔ ان کو بلند کرنے کے اذن سے مراد ان کو تعمیر کرنے کا حکم دینا ہے کہ وہ اس حکم پر عمل کریں۔ چناچہ یہ گھر قائم کردیئے گئے ہیں ‘ بلند ہیں اور پاک اور ستھرے ہیں۔ ان کا منظر اس کائنات کے منظر لے مشابہ ہے جہاں نور ربی پھیلا ہوا ہے۔ ان گھروں کی بلندی اس لیے ہے کہ یہاں اللہ کا نام لیا جائے۔
ویذکر فیھا اسمہ (24 : 36) ” اس میں اللہ کا نام یاد کیا جائے “۔ اور یہ پاک دل اللہ کے ساتھ وابستہ ہوں ‘ اللہ کی تسبیح کرتے ہوں۔ اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔ نماز بھی پڑھنے والے ہوں۔ اللہ کی راہ میں دینے والے بھی ہوں۔
(رجال لا تلھیھم۔۔۔۔۔۔۔۔ وایتآء الزکوۃ) (24 : 37) ” ان میں ایسے لوگ صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں جنہیں تجارت اور خریدو فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت صلوۃ سے اور زکوۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کردیتی “۔ تجارت اور خریدو فروخت کمانے اور دولت جمع کرنے کے ذرائع ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کاموں میں مشغول رہنے کے باوجود اللہ کے حقوق یعنی نماز اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی یعنی زکوۃ سے غافل نہیں ہوتے۔
(یخافون۔۔۔۔۔ والابصار) (24 : 37) ” وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹنے اور دیدے پتھرانے کی نوبت آجائے گی “۔ دل الٹے ہوں گے یعنی ان کے اندر خوف و ہر اس کی وجہ سے کوئی قرار نہ ہوگا ‘ اور یہ دل چونکہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں اس لیے تجارت اور خیرد و فروخت انہیں اللہ کے ذکر سے روک نہیں سکتے۔
لیکن اس خوف کے ساتھ امید بھی وابستہ ہے۔ وہ مایوس نہیں ہوتے۔ وہ اللہ سے امیدیں باندھے ہوئے ہوتے ہیں۔
(لیجز یھم اللہ۔۔۔۔ من فضلہ) (24 : 38) ” تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بہترین اعمال کی جزا ان کو دے اور مزید فضل سے نوازے “۔ ان کی امید ناکام بھی نہیں رہتی ۔ اس لیے کہ واللہ یرزق من یشآء بغیر حساب (24 : 38) ” اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے “ کیونکہ اللہ کے فضل کے کوئی حدود وقیود نہیں ہیں۔
آسمانوں اور زمین کے اندر روشن ہونے والے اس نور کے بالمقابل ‘ اللہ کے ان گھروں میں پائے جانے والے اس نور کے بالمقابل اہل ایمان کے دلوں میں روشن نور کے بالمقابل ‘ یہاں قرآن مجید ظلمات اور تاریکیوں کے ایک جہان کو بھی پیش کرتا ہے۔ اس جہان میں کوئی روشنی نہیں ہے۔ اس جہان میں کوئی امن و سکون نہیں ہے۔ ہر طرف خوف کے سائے چھائے ہوئے ہیں۔ اس میں ہر طرف بر بادی ہی بربادی ہے۔ کوئی خیر نہیں ہے۔ یہ اہل کفر کا جہان ہے اور ایک کافر کی دنیا ہے۔ اس کے خدوخال اور نگ ڈھنگ کچھ یوں ہیں۔
(والذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ سریع الحساب اوکظلمت۔۔۔۔۔۔۔۔ من نور (39 : 40) ”(اس کے برعکس) جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بےآب میں سراب کہ پیاسا اس کو پانی سمجھے ہوئے تھا ‘ مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا ‘ بلکہ وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا ‘ جس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا ‘ اور اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی۔ یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا ‘ کہ اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے ‘ اس پر ایک اور موج ‘ اور اس کے اوپر بادل ‘ تاریکی پر تاریکی مسلط ہے ‘ آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے جسے اللہ نور نہ بخشے اس کے لیے پھر کوئی نور نہیں “۔
یہاں قرآن کریم نے اہل کفر کی زندگی اور ان کے نظریات اور سرگرمیوں کی تصویر کشی دو طرح کی ہے۔ یہ دو مشاہد ہیں جو بطور تمثیل دیئے گئے ہیں۔
پہلی تمثیل ہے ان کے اعمال کی۔ یہ اعمال ایسے نظر آتے ہیں جس طرح چٹیل وسعی ریگستان میں سراب نظر آتا ہے۔ یہ سراب ٹیلے پانی کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ پیاسا اس کے پیچھے بھگتا ہے۔ وہ توقع تو یہ کرتا ہے کہ سراب تک پہنچ کر پانی پئے گا لیکن وہ اس بات سے غافل ہوتا ہے کہ وہاں تک پہنچ کر وہ وہاں کیا پانے والاہوتا ہے۔ یہاں منظر میں اچانک تبدیلی آجاتی ہے۔ یہ شخص جو سراب کے پیچھے بھاگ رہا ہے پیاسا ہے ‘ پانی کی تلاش میں ہے۔ اور غافل ہے اس معاملے سے جو اسے پیش آنے والا ہے۔ یہ جب منزل تک پہنچتا ہے تو وہاں اسے پانی نہیں ملتا۔ وہاں اسے وہ چیز ملتی ہے جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ اب یہ اس نئی حقیقت سے دو چار ہو کر خوفزدہ ہوجاتا ہے۔ امیدیں کٹ جاتی ہیں۔
وجد اللہ عندہ (24 : 39) ” وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا “۔ وہ اللہ موجود ہے جس کا وہ منکر تھا اور یہ شخص اللہ وحدہ کا دشمن تھا۔ اس سراب میں اس کا منتظر اللہ تھا۔ اگر اس سراب میں یہ شخص اپنے کسی دنیاوی دشمن کو پائے تو پھر یہ سخت خوفزدہ ہوجائے لیکن یہ وہاں خالق کائنات کو پارہا ہے جو جبار ہے۔ بڑی قوت والا ہے اور سخت انتقام لینے والا بھی ہے۔ وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ پانی کے بجائے اس کا وہاں حساب و کتاب شروع ہوجاتا ہے۔
فوقہ حسابہ واللہ سریع الحساب (24 : 39) ” جس نے اس کا پورا پورا حساب چکادیا اور اللہ کو حساب لینے میں دیر نہیں لگتی “۔ یہ منظر سرعت اور ستابی کے ساتھ اچانک سرپرائز کو پیش کرتا ہے اور سرعت اور سراب کے ساتھ ‘ جلدی سے حساب چکا نا اور اچانک خوف میں مبتلا ہونا ‘ فنی ہم آہنگی ہے۔
دوسرا منظر یہ ہے کہ اس میں جھوٹی روشنی کے بعد اندھیرے چھا جاتے ہیں ‘ یوں کہ ایک انسان سمندری جہاز میں ہے ‘ یہ جہاز سمندر کی ظالم لہروں میں گھرا ہوا ہے ‘ خوفناک موج کے اوپر موج اٹھ رہی ہے ‘ ان کے اوپر سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ایسا خوفناک اندھیرا ہوگیا ہے کہ کوئی شخص اگر اپنے ہاتھ کو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ دیکھ نہیں سکتا ‘ شدت خوف اور شدت تاریکی کی وجہ سے ۔
کفر کیا ہے ‘ یہ دراصل امواج زندگی میں ایک گھمبیر اندھیرا ہے۔ یہ اندھیرا اللہ کے نور کو نظروں سے اوجھل کردیتا ہے۔ یہ اس قدر گہری گمراہی ہے کہ اس میں انسان کو ہاتھ کی طرح قریبی دلائل بھی نظر نہیں آتے۔ کفر اس قدر خوفناک صورت حال کا نام ہے کہ اس میں انسان کے لیے سکون وقرار نہیں ہوتا۔
ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور (24 : 40) ” جسے اللہ نور نہ بخشے اس کے لیے کوئی نور نہیں ہے “۔ اللہ کا نور کیا ہے ‘ وہ ہدایت جو اللہ دل مومن میں ڈال دیتا ہے وہ اللہ کا نور ہے۔ یہ ہدایت انسان کے دل کو کھول دیتی ہے اور انسان کی فطرت نو اس میں قدرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتی ہے۔ یوں انسانی قلب میں موجود نور الہی اس کائنات میں موجود نور الہی کے ساتھ یکجا ہوجاتا ہے اور جس شخص کا اتصال اس نور کائنات سے نہ ہوسکا تو وہ اندھیروں میں ہے اسے کچھ نظر نہ آئے گا۔ یہ ہمیشہ خوفناک حالات میں ہوگا جن میں کوئی امن نہ ہوگا۔ یہ شخص ایسی گمراہی میں پڑجائے گا جس سے اس کا نکلنا مشکل ہوگا اور اس کے اعمال کا انجام سراب ہوگا اور سراب کے پیچھے بھاگنے والا ظاہر ہے کہ ہلاک ہوجائے گا۔ کیونکہ کفار کے اعمال کے پیچھے کوئی نظر یہ اور کوئی نور نہیں ہوتا۔ نور ایمان کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا اس لیے کوئی اصلاحی کام بغیر ایمان کے نہیں ہو سکتا۔ اللہ کی ہدایت ہی نور ہے اور اللہ کا ڈر ہی نور ہے۔
یہ تھے مناظر کفر و ضلالت اور مناظر تاریکی۔ اس کے بعد پھر اس کائنات میں ایمان اور نور کے مناظر آتے ہیں۔ یہاں پوری کائنات میں نور ہی کا عالم ہے۔ تمام موجودات اس نور میں تسبیح پڑھ رہی ہیں اور عالم نماز میں ہیں۔ انس ہوں ‘ جن ہوں ‘ زمین ہو یا افلاک ہوں۔ زندہ ہوں یا جمادات ہوں ‘ تمام کائنات تسبیح پڑھ رہی ہے اور تمام موجودات اس زمرے میں ہمقدم ہیں ‘ یوں کہ ایک دانا کا وجدان اس سے ارتعاش میں آجاتا ہے اور دل معرفت سے بھر جاتا ہے۔
النور 24:40
یہاں قرآن کریم نے اہل کفر کی زندگی اور ان کے نظریات اور سرگرمیوں کی تصویر کشی دو طرح کی ہے۔ یہ دو مشاہد ہیں جو بطور تمثیل دیئے گئے ہیں۔
پہلی تمثیل ہے ان کے اعمال کی۔ یہ اعمال ایسے نظر آتے ہیں جس طرح چٹیل وسعی ریگستان میں سراب نظر آتا ہے۔ یہ سراب ٹیلے پانی کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ پیاسا اس کے پیچھے بھگتا ہے۔ وہ توقع تو یہ کرتا ہے کہ سراب تک پہنچ کر پانی پئے گا لیکن وہ اس بات سے غافل ہوتا ہے کہ وہاں تک پہنچ کر وہ وہاں کیا پانے والاہوتا ہے۔ یہاں منظر میں اچانک تبدیلی آجاتی ہے۔ یہ شخص جو سراب کے پیچھے بھاگ رہا ہے پیاسا ہے ‘ پانی کی تلاش میں ہے۔ اور غافل ہے اس معاملے سے جو اسے پیش آنے والا ہے۔ یہ جب منزل تک پہنچتا ہے تو وہاں اسے پانی نہیں ملتا۔ وہاں اسے وہ چیز ملتی ہے جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ اب یہ اس نئی حقیقت سے دو چار ہو کر خوفزدہ ہوجاتا ہے۔ امیدیں کٹ جاتی ہیں۔
وجد اللہ عندہ (24 : 39) ” وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا “۔ وہ اللہ موجود ہے جس کا وہ منکر تھا اور یہ شخص اللہ وحدہ کا دشمن تھا۔ اس سراب میں اس کا منتظر اللہ تھا۔ اگر اس سراب میں یہ شخص اپنے کسی دنیاوی دشمن کو پائے تو پھر یہ سخت خوفزدہ ہوجائے لیکن یہ وہاں خالق کائنات کو پارہا ہے جو جبار ہے۔ بڑی قوت والا ہے اور سخت انتقام لینے والا بھی ہے۔ وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ پانی کے بجائے اس کا وہاں حساب و کتاب شروع ہوجاتا ہے۔
فوقہ حسابہ واللہ سریع الحساب (24 : 39) ” جس نے اس کا پورا پورا حساب چکادیا اور اللہ کو حساب لینے میں دیر نہیں لگتی “۔ یہ منظر سرعت اور ستابی کے ساتھ اچانک سرپرائز کو پیش کرتا ہے اور سرعت اور سراب کے ساتھ ‘ جلدی سے حساب چکا نا اور اچانک خوف میں مبتلا ہونا ‘ فنی ہم آہنگی ہے۔
دوسرا منظر یہ ہے کہ اس میں جھوٹی روشنی کے بعد اندھیرے چھا جاتے ہیں ‘ یوں کہ ایک انسان سمندری جہاز میں ہے ‘ یہ جہاز سمندر کی ظالم لہروں میں گھرا ہوا ہے ‘ خوفناک موج کے اوپر موج اٹھ رہی ہے ‘ ان کے اوپر سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ایسا خوفناک اندھیرا ہوگیا ہے کہ کوئی شخص اگر اپنے ہاتھ کو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ دیکھ نہیں سکتا ‘ شدت خوف اور شدت تاریکی کی وجہ سے ۔
کفر کیا ہے ‘ یہ دراصل امواج زندگی میں ایک گھمبیر اندھیرا ہے۔ یہ اندھیرا اللہ کے نور کو نظروں سے اوجھل کردیتا ہے۔ یہ اس قدر گہری گمراہی ہے کہ اس میں انسان کو ہاتھ کی طرح قریبی دلائل بھی نظر نہیں آتے۔ کفر اس قدر خوفناک صورت حال کا نام ہے کہ اس میں انسان کے لیے سکون وقرار نہیں ہوتا۔
ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور (24 : 40) ” جسے اللہ نور نہ بخشے اس کے لیے کوئی نور نہیں ہے “۔ اللہ کا نور کیا ہے ‘ وہ ہدایت جو اللہ دل مومن میں ڈال دیتا ہے وہ اللہ کا نور ہے۔ یہ ہدایت انسان کے دل کو کھول دیتی ہے اور انسان کی فطرت نو اس میں قدرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتی ہے۔ یوں انسانی قلب میں موجود نور الہی اس کائنات میں موجود نور الہی کے ساتھ یکجا ہوجاتا ہے اور جس شخص کا اتصال اس نور کائنات سے نہ ہوسکا تو وہ اندھیروں میں ہے اسے کچھ نظر نہ آئے گا۔ یہ ہمیشہ خوفناک حالات میں ہوگا جن میں کوئی امن نہ ہوگا۔ یہ شخص ایسی گمراہی میں پڑجائے گا جس سے اس کا نکلنا مشکل ہوگا اور اس کے اعمال کا انجام سراب ہوگا اور سراب کے پیچھے بھاگنے والا ظاہر ہے کہ ہلاک ہوجائے گا۔ کیونکہ کفار کے اعمال کے پیچھے کوئی نظر یہ اور کوئی نور نہیں ہوتا۔ نور ایمان کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا اس لیے کوئی اصلاحی کام بغیر ایمان کے نہیں ہو سکتا۔ اللہ کی ہدایت ہی نور ہے اور اللہ کا ڈر ہی نور ہے۔
یہ تھے مناظر کفر و ضلالت اور مناظر تاریکی۔ اس کے بعد پھر اس کائنات میں ایمان اور نور کے مناظر آتے ہیں۔ یہاں پوری کائنات میں نور ہی کا عالم ہے۔ تمام موجودات اس نور میں تسبیح پڑھ رہی ہیں اور عالم نماز میں ہیں۔ انس ہوں ‘ جن ہوں ‘ زمین ہو یا افلاک ہوں۔ زندہ ہوں یا جمادات ہوں ‘ تمام کائنات تسبیح پڑھ رہی ہے اور تمام موجودات اس زمرے میں ہمقدم ہیں ‘ یوں کہ ایک دانا کا وجدان اس سے ارتعاش میں آجاتا ہے اور دل معرفت سے بھر جاتا ہے۔
النور 24:41
(الم تر۔۔۔۔۔۔۔ یفعلون ) (41) ” اس وسیع کائنات میں انسان صرف منفرد نہیں ہے۔ اس کا ایک ماحول ہے جس میں وہ رہتا ہے۔ بڑا ہی وسیع ماحول ہے۔ اس کے دائیں اور بائیں ہر طرف اللہ کی بندگی ہورہی ہے۔ اس کے آگے اور پیچھے اور اوپر اور نیچے جہاں جہاں تک نظر جاسکتی ہے۔ پھر نظر کی حدود سے آگے جہاں جہاں تک خیال جاسکتا ہے ‘ اس وسیع کائنات میں انسان کے بھائی بند موجود ہیں۔ یہ مختلف شکلیں اور مختلف طبیعیتیں رکھتے ہیں۔ لیکن ایک بات میں سب ایک ہیں۔ یہ کہ یہ سب اللہ کی مخلوقات ہیں۔ یہ سب اللہ کے مطیع فرمان ہیں اور اللہ کی حمد اور تسبیح میں رطب اللسان ہیں۔
واللہ علیم بما یفعلون (24 : 41) ” اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے “۔ قرآن کریم کا یہ مخصوص انداز استدلال ہے کہ وہ انسان کو اپنے ماحول کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ انسان کے ماحول میں ان سماوات میں جو اللہ کی تخلیق ہے یہ سب کی سب اللہ کی ثنا خواں ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس کائنات کے مشاہد میں غور کرے کیونکہ انسان اپنے ماحول کو روز دیکھتا ہے۔ اور طول الفت کی وجہ سے اس کا دل و دماغ اس ماحول سے متاثر نہیں ہوتے۔ ڈرا دیکھو کہ بعض پرندے اس ہوا میں اڑتے ہیں اور ان کی اڑان صفوں کی شکل میں ہوتی ہے۔ یہ اپنی اس صف بندی اور منظم پرواز میں دراصل اللہ کی حمد بیان کررہے ہوتے ہیں اور نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔
کل قد علم صلاتہ و تسبیحہ (24 : 41) ” ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے “۔ لیکن انسان ہے کہ اس عقل و بینش کے ساتھ بھی اللہ کی تسبیح سے غافل ہے۔ حالانکہ وہ تمام مخلوقات سے زیادہ اس بات کا مکلف ہے کہ ہر وقت تسبیح اور نماز میں مصروف ہو۔
اس منظر میں وپری کائنات نہایت ہی خشوع سے سجدہ ریز نظر آتی ہے اپنے خالق کے آگے۔ تسبیح اور نماز میں کھڑی ہے۔ یہ بات تو فطرت کائنات ہے کہ وہ ایسا کرے اور اللہ کے نوامیس فطرت کی اطاعت کرتے ہوئے چلے۔ انسانی وجدان جب صاف اور شفاف ہوجاتا ہے اور جیسے وہ صبح و شام چڑیوں کو چہچہاتے سنتا ہے تو وہ یہ منظم دیکھ سکتا ہے کہ یہ کائنات پوری کی پوری حدی خواں ہے اور انسان اپنے کانوں سے اس کائنات کی آواز اور تسبیح سن سکتا ہے۔ اگر انسان کو معرفت کرو گار حاصل ہوجائے تو وہ پھر اس پوری کائنات کے ساتھ اس محفل اور مجلس صلوۃ و تسبیح میں ہم رنگ اور ہم آہنگ اور نغمہ سرا ہوجاتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنے پائوں کے نیچے جب کنکریوں کی تسبیح سنی ‘ اور حضرت دائود جب زبور کے ساتھ رمزمہ سرا ہوتے تھے تو یہ پوری کائنات ان کے ساتھ روحانی نغمے گاتی تھی۔ وہ سنتے تھے اور ان کے ساتھ و حوش و طیور سب گاتے تھے۔
النور 24:42
(الم تر۔۔۔۔۔۔۔ یفعلون ) (41) ” اس وسیع کائنات میں انسان صرف منفرد نہیں ہے۔ اس کا ایک ماحول ہے جس میں وہ رہتا ہے۔ بڑا ہی وسیع ماحول ہے۔ اس کے دائیں اور بائیں ہر طرف اللہ کی بندگی ہورہی ہے۔ اس کے آگے اور پیچھے اور اوپر اور نیچے جہاں جہاں تک نظر جاسکتی ہے۔ پھر نظر کی حدود سے آگے جہاں جہاں تک خیال جاسکتا ہے ‘ اس وسیع کائنات میں انسان کے بھائی بند موجود ہیں۔ یہ مختلف شکلیں اور مختلف طبیعیتیں رکھتے ہیں۔ لیکن ایک بات میں سب ایک ہیں۔ یہ کہ یہ سب اللہ کی مخلوقات ہیں۔ یہ سب اللہ کے مطیع فرمان ہیں اور اللہ کی حمد اور تسبیح میں رطب اللسان ہیں۔
واللہ علیم بما یفعلون (24 : 41) ” اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے “۔ قرآن کریم کا یہ مخصوص انداز استدلال ہے کہ وہ انسان کو اپنے ماحول کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ انسان کے ماحول میں ان سماوات میں جو اللہ کی تخلیق ہے یہ سب کی سب اللہ کی ثنا خواں ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس کائنات کے مشاہد میں غور کرے کیونکہ انسان اپنے ماحول کو روز دیکھتا ہے۔ اور طول الفت کی وجہ سے اس کا دل و دماغ اس ماحول سے متاثر نہیں ہوتے۔ ڈرا دیکھو کہ بعض پرندے اس ہوا میں اڑتے ہیں اور ان کی اڑان صفوں کی شکل میں ہوتی ہے۔ یہ اپنی اس صف بندی اور منظم پرواز میں دراصل اللہ کی حمد بیان کررہے ہوتے ہیں اور نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔
کل قد علم صلاتہ و تسبیحہ (24 : 41) ” ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے “۔ لیکن انسان ہے کہ اس عقل و بینش کے ساتھ بھی اللہ کی تسبیح سے غافل ہے۔ حالانکہ وہ تمام مخلوقات سے زیادہ اس بات کا مکلف ہے کہ ہر وقت تسبیح اور نماز میں مصروف ہو۔
اس منظر میں وپری کائنات نہایت ہی خشوع سے سجدہ ریز نظر آتی ہے اپنے خالق کے آگے۔ تسبیح اور نماز میں کھڑی ہے۔ یہ بات تو فطرت کائنات ہے کہ وہ ایسا کرے اور اللہ کے نوامیس فطرت کی اطاعت کرتے ہوئے چلے۔ انسانی وجدان جب صاف اور شفاف ہوجاتا ہے اور جیسے وہ صبح و شام چڑیوں کو چہچہاتے سنتا ہے تو وہ یہ منظم دیکھ سکتا ہے کہ یہ کائنات پوری کی پوری حدی خواں ہے اور انسان اپنے کانوں سے اس کائنات کی آواز اور تسبیح سن سکتا ہے۔ اگر انسان کو معرفت کرو گار حاصل ہوجائے تو وہ پھر اس پوری کائنات کے ساتھ اس محفل اور مجلس صلوۃ و تسبیح میں ہم رنگ اور ہم آہنگ اور نغمہ سرا ہوجاتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنے پائوں کے نیچے جب کنکریوں کی تسبیح سنی ‘ اور حضرت دائود جب زبور کے ساتھ رمزمہ سرا ہوتے تھے تو یہ پوری کائنات ان کے ساتھ روحانی نغمے گاتی تھی۔ وہ سنتے تھے اور ان کے ساتھ و حوش و طیور سب گاتے تھے۔
النور 24:43
(الم تر۔۔۔۔۔۔۔ یفعلون ) (41) ” اس وسیع کائنات میں انسان صرف منفرد نہیں ہے۔ اس کا ایک ماحول ہے جس میں وہ رہتا ہے۔ بڑا ہی وسیع ماحول ہے۔ اس کے دائیں اور بائیں ہر طرف اللہ کی بندگی ہورہی ہے۔ اس کے آگے اور پیچھے اور اوپر اور نیچے جہاں جہاں تک نظر جاسکتی ہے۔ پھر نظر کی حدود سے آگے جہاں جہاں تک خیال جاسکتا ہے ‘ اس وسیع کائنات میں انسان کے بھائی بند موجود ہیں۔ یہ مختلف شکلیں اور مختلف طبیعیتیں رکھتے ہیں۔ لیکن ایک بات میں سب ایک ہیں۔ یہ کہ یہ سب اللہ کی مخلوقات ہیں۔ یہ سب اللہ کے مطیع فرمان ہیں اور اللہ کی حمد اور تسبیح میں رطب اللسان ہیں۔
واللہ علیم بما یفعلون (24 : 41) ” اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے “۔ قرآن کریم کا یہ مخصوص انداز استدلال ہے کہ وہ انسان کو اپنے ماحول کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ انسان کے ماحول میں ان سماوات میں جو اللہ کی تخلیق ہے یہ سب کی سب اللہ کی ثنا خواں ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس کائنات کے مشاہد میں غور کرے کیونکہ انسان اپنے ماحول کو روز دیکھتا ہے۔ اور طول الفت کی وجہ سے اس کا دل و دماغ اس ماحول سے متاثر نہیں ہوتے۔ ڈرا دیکھو کہ بعض پرندے اس ہوا میں اڑتے ہیں اور ان کی اڑان صفوں کی شکل میں ہوتی ہے۔ یہ اپنی اس صف بندی اور منظم پرواز میں دراصل اللہ کی حمد بیان کررہے ہوتے ہیں اور نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔
کل قد علم صلاتہ و تسبیحہ (24 : 41) ” ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے “۔ لیکن انسان ہے کہ اس عقل و بینش کے ساتھ بھی اللہ کی تسبیح سے غافل ہے۔ حالانکہ وہ تمام مخلوقات سے زیادہ اس بات کا مکلف ہے کہ ہر وقت تسبیح اور نماز میں مصروف ہو۔
اس منظر میں وپری کائنات نہایت ہی خشوع سے سجدہ ریز نظر آتی ہے اپنے خالق کے آگے۔ تسبیح اور نماز میں کھڑی ہے۔ یہ بات تو فطرت کائنات ہے کہ وہ ایسا کرے اور اللہ کے نوامیس فطرت کی اطاعت کرتے ہوئے چلے۔ انسانی وجدان جب صاف اور شفاف ہوجاتا ہے اور جیسے وہ صبح و شام چڑیوں کو چہچہاتے سنتا ہے تو وہ یہ منظم دیکھ سکتا ہے کہ یہ کائنات پوری کی پوری حدی خواں ہے اور انسان اپنے کانوں سے اس کائنات کی آواز اور تسبیح سن سکتا ہے۔ اگر انسان کو معرفت کرو گار حاصل ہوجائے تو وہ پھر اس پوری کائنات کے ساتھ اس محفل اور مجلس صلوۃ و تسبیح میں ہم رنگ اور ہم آہنگ اور نغمہ سرا ہوجاتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنے پائوں کے نیچے جب کنکریوں کی تسبیح سنی ‘ اور حضرت دائود جب زبور کے ساتھ رمزمہ سرا ہوتے تھے تو یہ پوری کائنات ان کے ساتھ روحانی نغمے گاتی تھی۔ وہ سنتے تھے اور ان کے ساتھ و حوش و طیور سب گاتے تھے۔
النور 24:44
یہ منظر نہایت ہی آرام سے اور طوالت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ دعوت دی جاتی ہے کہ اس منظر کے ہر جزء پر غور کرو۔ اس منظر کے اجزاء پھر جمع ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس پر گہرے مشاہدے اور غورو فکر کی وجہ سے انسانی احساس کو جگایا جائے اور اس گہری صنعت کاری کے اندر جو گہری بصیرت ہے اس کے بارے میں انسانی احساس کو تیز کیا جاتا ہے تاکہ انسان عبرت آموز نگاہوں سے اس منظر کو دیکھے۔
اللہ بادلوں کو چلاتے ہیں ‘ ایک علاقے سے دوسرے علاقے کیطرف۔ یہ بادل آسمان میں ٹکڑیوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔ پھر یہ جمع ہوتے ہیں۔ اچانک ہم دیکھتے ہیں کہ تہوں کے اوپر تہیں جم جاتی ہیں۔ جب یہ اچھی طرح بوجھل ہوجاتے ہیں تو ان میں سے پانی نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔ بارش کے موٹے موٹے قطرے تم گرتے دیکھتے ہو۔ یہ بادل بڑے بڑے پہاڑروں کی شکل میں آسمانوں میں نظر آتے ہیں۔ جب یہ بہت اوپر چلے جاتے ہیں تو ان میں برف جم جاتی ہے۔ یہ بادل پہاڑوں کی طرح خوب نظر آتے ہیں۔ جب طیارہ ان سے اوپر چلا جاتا ہے اس واقت فی الواقعہ یہ بادل پہاڑ نظر آتے ہیں۔ بڑے بڑے پہاڑ اور ان کے اندر بڑے بڑے نشیب و فراز ہوتے ہیں۔ یہ انداز تعبیر ایسا ہے کہ انسان نے اس کو اچھی طرح اس وقت سمجھا جب وہ طیارے پر سوار ہو کر بادلوں سے اوپر چلا گیا۔
بادلوں کے یہ پہاڑ ‘ اللہ کے احکام میں ‘ اللہ کے نظام میں بندھے ہوئے ہیں۔ یہ اس کے کائناتی ناموس کے مطابق کام کرتے ہیں۔ اللہ جس کو چاہتا ہے ان کے ذریعے پانی دے دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ‘ اس سے ان کا رخ پھیر دیتا ہے۔ اس منظر کا تکملہ یوں آتا ہے۔
یکاد سنا برقہ یذھب بالابصار (24 : 43) ” اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کیے دیتی ہے “۔ یہ منظر اس لیے لایا گیا ہے کہ کائنات کے نور اعظم کے ساتھ بجلی کا نور ایک ہوجائے۔ یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ ہم جنس معانی کو ایک جگہ لاتا ہے کیونکہ یہ سورة ‘ سورة نور ہے۔
اب تیسرا کائناتی منظر گردش لیل و نہار کا منظر ہمارے سامنے ہے۔
یقلب اللہ الیل والنھار ان فی ذلک لعبرۃ لاولی الابصار ” رات اور دن کا الٹ پھیر وہی کررہا ہے۔ اس میں ایک سبق ہے آنکھوں والوں کے لیے “۔
گردش لیل و نہار کے نظام پر غور و فکر قرآن مجید کا ایک اہم موضوع ہے۔ رات اور دن کے بدلنے کا یہ نظام مسلسل چل رہا ہے اور اس کے اندر ایک لمحے کا تغیر و تبدل نہیں ہے۔ اس سے وہ ناموس ‘ کائنات اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے جو اس کائنات میں متصرف ہے۔ اس ناموس پر غورفکر سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ نے کس باریکی کے ساتھ اس نظام کو چلارہا ہے۔ قرآن کریم اپنے مئوثر انداز بیان کے ساتھ ان مناظر کے ان اثرات کو تازہ کردیتا ہے جو بالعموم مانوس ہونے کی وجہ سے مٹ گئے ہوتے ہیں۔ انسان پھر ان مناظر کو ایک نئے احساس کیساتھ دیکھتا ہے اور ہر بار اس سے بالکل نیا تاثر لیتا ہے۔ یہ سوچنا یوں ہے کہ اگر انسان گردش لیل و نہار کے اس نظام کو پہلی مرتبہ دیکھے تو اس کا تاثر کیا ہو۔ اس نظام میں صدیاں گزر جانے کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ تبدیلی اگر ہے تو صرف انسان کی نگاہ میں ہے۔ انسانی احساس اور ادراک گرش لیل و نہار کے مناظر کو دیکھتے بجھ سا گیا ہے جبکہ رات اور دن کے اس نظام نے اپنی خوبصورتی اور انوکھے پن میں سے کسی چیز میں کمی نہیں کی ہے۔ جب انسان اس کائنات پر سے غافلوں کی طرح گزر جاتا ہے تو وہ زندگی کی ایک بڑی مسرت کو گنوا دیتا ہے بلکہ اس کائنات کی حقیقی خوبصورتی اس کی نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ وہ مناظر جو انسان کے سامنے اگر از سر نو پیش ہوں تو بہت ہی اثر انگیز ہوں اور حسین نظر آئیں۔
قرآن کریم کا کمال یہ ہے کہ وہہماری بجھی ہوئی حس کو تازہ کردیتا ہے اور ہمارے چھپے ہوئے شعور اور خوابیدہ احساسات کو تجدید بخشتا ہے۔ ہمارا ٹھنڈا دل گرم ہوجاتا ہے اور ہمارا کندوجدان تیز ہوجاتا ہے۔ پھر ہم اس کائنات کو یوں دیکھنے لگتے ہیں کہ گویا ہم نے اس کائنات کو پہلی مرتبہ دیکھا ہو۔ ہم پھر اس کائنات کے مظاہر پر غور کرتے ہیں اور اس کے سربستہ اور پوشیدہ کمالات کو معلوم کرنا شروع کردیتے ہیں۔ پھر ہمیں نظر آتا ہے کہ دست قدرت ہر جگہ کام کررہا ہے۔ ہمارے ماحول کی ہر چیز میں اس کی صنعت کاری ہے اور اس کائنات کی ہر چیز میں اس کے نشانات ہیں اور ہمارے لیے عبرتیں ہی عبرتیں ہیں۔
اللہ ہم پر احسان کرتا رہتا ہے کہ جب بھی ہم اس کائنات کے مناظر میں سے کسی منظر پر غور کرتے ہیں تو ہمیں ایک حیات تازہ مل جاتی ہے۔ ہمیں اس کائنات کی ہر چیز کے بارے میں ایک نیا احساس ملتا ہے اور یوں مسرت ملتی ہے کہ گویا ہم اس منظر کو پہلی بار دیکھ رہے ہیں۔ گویا اس احساس کے ساتھ ہم اس کائنات کو کئی مرتبہ اور بیشمار مرتبہ دریافت کرتے ہیں اور خوشی پاتے ہیں۔ اگر حساس نگاہوں سے دیکھا جائے تو یہ کائنات بہت ہی خوبصورت ہے اور ہماری فطرت ‘ فطرت کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ ہماری فطرت اس سر چشمے سے پھوٹی ہوئی ہے جس سے اس کائنات نے وجود اور فطرت اور ناموس فطرت اخذ کیا ہے۔ جب ہم اس کائنات کی روح کے ساتھ پیوستہ ہوجاتے ہیں تو ہمیں ایک عجیب اطمینان و سکون مل جاتا ہے ‘ نہایت ہی گہرا رابطہ اور خوشی ملتی ہے۔ انس اور طمانیت ملتی ہے۔ یوں جس طرح ایک شخص اپنے محبوب کو بلا واسطہ مل جاتا ہے۔
اس کائنات کی گہری معرفت کے نتیجے میں اس میں ہمیں اللہ کا نور نظر آتا ہے اور یہ ہے مفہوم اللہ کے نور سماوات والارض کا ۔ جب ہم اپنے وجود ‘ اپنے نفس اور اس کائنات کا گہرا مشاہدہ کرتے ہیں تو اس میں اللہ کا نور نظر آتا ہے اور ہم اس وقت اصل حقیقت سے مل چکے ہوتے ہیں اور ہمیں نظر آتا ہے کہ تدبیر کائنات کی حقیقت کیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم بار بار ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ ہم اس کائنات کے روز مرہ کے مناظر کو ذرا گہرے غور و فکر کے ساتھ دیکھیں۔ ہمارے احساس اور ہمارے تدبر کے لیے قرآن کریم بار بار اور مختلف قسم کے مناظر و مظاہر پیش کرتا ہے جو نہایت ہی خوبصورت ہوتے ہیں۔ قرآن دعوت دیتا ہے کہ ان مظاہرو مناظر پر سے غافل لوگوں کی طرح نہ گزر جائو ‘ آنکھیں بند کر کے کیونکہ اس دنیا میں تمہارا یہ سفر نہایت ہی با مقصد ہے۔ یہاں سے کچھ لے کر جائو لیکن انسان ہیں کہ خالی ہاتھ جارہے ہیں۔
مزید مشاہد قدرت پیش کئے جاتے ہیں اور ہمارے احساس کو مزید تیز کیا جاتا ہے کہ یہاں ایک ہی اصول پر یہ زندگی قائم ہے۔ اس کا ایک ہی مزاج ہے۔ اس کی ایک جیسی تخلیق کے بعد پھر زندگی کے بھی کئی مشاہد اور مظاہر ہیں اور اس میں تنوع ہے۔
النور 24:45
(واللہ خلق۔۔۔۔۔۔۔۔ قدیر) (45) ” “۔
یہ ایک عظیم حقیقت ہے جس کو قرآن کریم نہایت ہی سادے الفاظ میں بیان کررہا ہے۔ یہ حقیقت کہ ہر زندہ مخلوق کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ حیات کے بنیادی عناصر ایک ہی ہیں اور یہ کہ زندگی کے قیام کا بنیادی عنصر پانی ہے۔ جدید سائنس بھی اس بات کی طرف جارہی ہے کہ زندگی کی اصل تخلیق پانی میں ہوئی۔ یعنی سمندر میں۔ یعنی ابتدائی حالت میں زندگی پانی میں تھی۔ اس کے بعد زندگی کے اندر رنگارنگی پیدا ہوئی۔ یہ تو ہے سائنس دانوں کی سوچ۔
ہماری سوچ مختلف ہے۔ ہم قرآنی حقائق کو سائنس کی خراوپر نہیں چڑھاتے۔ کیونکہ سائنس کے اصول اور معیار بدل جاتے ہیں جبکہ قرآن ناقابل تغیر اور آخری حقائق بتاتا ہے۔ ہم بس یہی کہتے ہیں کہ حیات کا اصل پانی ہے۔ اس لیے کہ قرآن یہ کہتا ہے۔ اگر چہ حیات کی شکلیں مختلف نظر آتی ہیں لیکن اس کا اصلی مادہ پانی ہی ہے۔ پانی ہی سے حیوان زمین پر چلنے لگا ہے۔
یخلق اللہ مایشآ ئ (24 : 45) ” اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے “۔ مختلف ہیئت اور مختلف شکل کے جانور پیدا کرتا ہے اور یہ اللہ کی مشیت ہے کہ وہ کیا پیدا کرتا ہے اور کس شکل میں پیدا کرتا ہے۔
ان اللہ علی کل شیء قدیر (24 : 45) ” بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ اگر ہم تمام زندہ چیزوں پر غور کریں تو دیکھیں گے کہ حیات کی اصل تو ایک ہے لیکن اس ایک ہی مادے سے اللہ نے کیا کیا چیزیں ‘ کس کس شکل پر بنائی ہیں۔ مختلف حجم والی مختلف رنگوں والی ‘ مختلف شکل و صورت والی۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک خالق اور مدبر ہے جو یہ رنگارنگی پیدا کررہا ہے اور جو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
اس گہرے مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کی کوئی چیز محض اتفاق سے بلا ارادہ اس طرح پیدا نہیں ہوگئی ہے بلکہ ایک تدبیر اور ارادے سے ایسا ہوا ہے۔ اگر تدبیر اور ارادہ خالق کو تسلیم نہ کیا جائے تو وہ کیا اتفاق ہے جس نے اسے پیدا کیا۔ پھر یہ عجیب اتفاق ہے کہ ہر چیز کے اندر خود بخود ایک تدبیر اور تقدیر پیدا ہوگئی۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ پوری کائنات اللہ کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو اس کی تخلیق بخشی اور ہر چیز کو ہدایت ‘ وجدان اور شعور بخشا ہے کہ اس کا فرض منصبی کیا ہے۔
النور 24:46
درس نمبر 155 ایک نظر میں
سابق عظیم دور اور طویل سبق نور کے موضوع پر تھا اور یہ نور اس کائنات کے مظاہر میں سے بھی تھا۔ اب کلام کا رخ پھر اپنے اصل موضوع کی طرف آجاتا ہے ‘ یعنی وہ آداب جن پر قرآن کریم اسلامی سوسائٹی کی تعمیر چاہتا ہے۔ اور جن کے مطابق مسلمانوں کے ظاہرو باطن کو پاک کرنا مطلوب ہے۔ اور اسلامی سوسائٹی کو اس نور سے منور کرنا مطلوب ہے جس نور سے یہ پوری کائنات منور ہے ( گویا اسلامی نظام بھی ایک نور ہے کیونکہ اس کا نازل کرنے والا بھی ایک نور ہے) ۔
جو لوگ اللہ کے نور سے منور ہوں وہ کیسے ہوتے ہیں ‘ درس سابق میں اس کی ایک جھلک دکھائی گئی کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو تجارت اور خریدو فروخت اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرسکتے اور وہ دنیاوی کاموں کی وجہ سے اقامت صلوۃ اور ادائے زکوۃ سے غافل نہیں ہوتے اور جو لوگ اس نور کائنات سے محروم تھے وہاں ان کی بھی ایک جھلک دکھائی گئی تھی کہ وہ جن دنیاوی مقاصد کے پیچھے رات اور دن بھاگ رہے ہیں وہ تو سراب ہے۔ حقیقت کچھ بھی نہیں۔ اور ان کی زندگی اس طرح ہے جس طرح موجوں میں گھری ہوئی کشتی جس کے اوپر گہرے بادل ہوں اور کچھ نظر نہ آرہا ہو۔
اب یہاں ان منافقین کا ذکر ہے جو اللہ کی روشن نشانیوں سے کوئی سبق لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ اسلام کو ظاہر کرتے ہیں لیکنوہ آداب مومنین کو نہیں اپناتے۔ مومنین تو وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے لیے ہر وقت تیار ہوں ‘ اور نہایت ہی اطمینان ‘ سنجیدگی اور رضا مندی سے مطیع فرمان ہوں۔ یہاں ان کے اور مومنین صادقین کے ایمان کے درمیان موازانہ کیا جاتا ہے۔ اہل ایمان کے ساتھ اللہ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں زمین کی خلافت دی جائے گی اور ان کا اقتدار اس زمین پر مستحکم کردیا جائے گا۔ یہ انعام ان کو اس لیے دیا جائے گا کہ وہ اللہ اور سول اللہ ﷺ کے ساتھ نہایت ہی ادب اور اطاعت کا تعلق رکھتے ہیں اور اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا احترام کرتے ہیں۔ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کا یہ تعلق اس حقیقت کے باوجود ہے کہ کافر اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے دشمن ہیں اور یہ کہ اہل کفر اللہ اور رسول اللہ ﷺ کو اس کرئہ ارض پر عاجز نہیں کرسکتے۔ کفار کا تو خود اپنا انجام برا ہونے والا ہے۔
درس نمبر 155 تشریح آیات
46۔۔ تا۔۔۔۔ 57
(لقد انزلنآ۔۔۔۔۔۔۔ مستقیم ) (46)
اللہ کی بات صاف صاف حقیقت بتلانے والی ہے۔ ان سے اللہ کا نور معلوم ہوتا ہے۔ یہ ہدایت کے شر چشمے بتانے والی ہیں۔ ان آیات میں بتلایا گیا ہے کہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے۔ طیب کیا ہے اور خبیث کیا ہے۔ یہ آیات اسلامی نظام زندگی کو نہایت ہی مفصل طریقے سے کھول کھول کر بتاتی ہیں۔ یہ آیات زمین پر رائج کیے جانے والے احکام و قوانین کو بالکل ظاہر کر کے بتاتی ہیں کہ جب بھی لوگ اپنے فیصلے کرنا چاہیں تو احکام اور قوانین واضح ہوں۔ ان قوانین میں کسی فریق کی کوئی حق تلفی نہیں ہے۔ نہ ان میں حق و باطل کے درمیان کوئی التباس ہے ۔ نہ حلال و حرام کا التباس ہے ۔ ہر چیز واضح اور مفصل ہے۔
(واللہ۔۔۔۔۔۔۔ مستقیم) (24 : 46) ” اور اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی طرف ہدایت دے دیتا ہے “۔ اللہ کی مشیت بےقید ہے ‘ اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ہاں اللہ نے ہدایت کے لیے ایک ضابطہ مقرر کیا ہوا ہے جو شخص اپنے نفس کو اس طریق ہدایت کی طرف متوجہ کردے وہ راہ ہدایت کو پالیتا ہے لیکن ہدایت کی راہوں پر چل نکلتا ہے۔ تو وہ اللہ کی مشیت کے مطابق ہدایت پا لیتا ہے اور جو شخص منہ موڑ لیتا ہے اور اس روشنی میں راہ نہیں ڈھونڈتا جو اس کائنات میں اللہ نے بکھیر رکھی ہے وہ ضلالت کے طریق پر چل نکلتا ہے۔ یہ ضلالت بھی اللہ کی مثیت کے مطابق ہی ہوتی ہے۔
اگلی آیات میں ایک ایسے فریق کا ذکر ہے جو مدینہ میں بہت ہی متحرک تھا۔ یہ فریق منافقین تھے جو بظاہر مسلمان تھے اور اسلامی طریقوں کے مطابق زندگی بسر کرتے تھے لیکن اندر تاریک تر تھا۔
النور 24:47
(ویقولون۔۔۔۔۔۔۔ بالمئو منین واذا۔۔۔۔۔۔۔ معرضون وان۔۔۔۔۔۔ مذعنین افی ۔۔۔۔۔۔ اولئک ھم الظلمون ) (5047) ” ۔ “۔
جب صحیح ایمان دل میں بیٹھ جاتا ہے تو اس کے آثار عمل کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اسلام تو ایک متحرک نظریہ ہے اس کا کوئی منفی پہلو نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا نظریہ ہے کہ جب کسی انسان کے شعور میں یہ بیٹھ جائے تو یہ خود بخود حرکت پذیر ہوتا ہے اور خارج میں اس کے آثار نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اسلام خود بخود اپنی ترجمانی اسلامی اعمال کے ذریعے کرنا شروع کردیتا ہے۔ خود اسلامی نظام زندگی کا طریق کار بھی یہی ہے کہ وہ ایک عملی نظام ہے ‘ وہ عمل اور تحریک کے ذریعے وجود میں آتا ہے یعنی اسلام ایک شعور ہے جو اپنے آپ کو عمل اور سلوک کے ذریعے ظاہر کرتا ہے۔ اور پھر درس پر مستقل دستور اور قانون کی شکل اختیار کر کے تہذیب کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اس کی زندگی اس کے شعور اول پر موقوف ہے۔ اس شعور اور ایمان کو زندہ اور متحرک رکھنا ضروری ہے۔
لیکن جس مخلوق کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے وہ کیسی مخلوق تھی وہ کہتے تو تھے
امنا باللہ و بالرسول واطعنا (24 : 47) ” یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسول ﷺ پر اور ہمنے اطاعت قبول کی “۔ یہ بات وہ اپنے منہ سے کہتے تھے لیکن ان کے طرز عمل میں اس کے اثار نظر نہ آتے تھے۔ چناچہ وہ الٹے پائوں پھرجاتے تھے جو بات وہ زبان سے کہتے تھے ان کے اعمال اس کی تکذیب کرتے تھے۔
ومآ اولئک بالمئومنین (24 : 47) ” ایسے لوگ ہر گز مومن نہیں ہیں “۔ مومن تو وہ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے اقوال کی تصدیق کرتے ہیں۔ ایمان کوئی کھیل تو نہیں ہے کہ ایک شخص بس ایمان کا اقرار کرلے اور اس کے بعد اس کی کوئی ذمہ داری نہ ہو۔ ایمان کے بعد اس کا نفس بھی ایمانی کیفیات میں رنگ جانا چاہیے۔ اس کا دل دماغ اور سوچ بھی ایمانی بن جائے ۔ اور اس کے بعد پھر لازم ہے کہ اس شخص کے اعمال بھی ایمانی ہوں اور جب ایمان کسی کیضمیر میں بیٹھ جائے تو پھر اس کے لیے ایمانی راہ سے پلٹنا ممکن ہی نہیں رہتا۔
یہ لوگ ایمان کا دعویٰ تو کرتے تھے لیکن عملاً یہ لوگ ایمان کے مفہوم اور مدلول کے خلاف ہوتے تھے جب ان سے کہا جاتا تھا کہ آئو اپنا فیصلہ اللہ اور رسول ﷺ کے قانون کے مطابق کریں اور اس شریعت کے مطابق جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی تو وہ منہ موڑ لیتے ہیں۔
(واذا دعوآ۔۔۔۔۔۔۔ معرضون) (24 : 49) ” جب ان لوگوں کو بلایا جائے اللہ اور رسول کی طرف تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے۔ البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسول ﷺ کے پاس بڑے اطاعت کیش بن کر آتے ہیں “۔ کیونکہ ان کو معلوم ہوتا تھا کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا حکم حق سے دورنہ تھا اور ہوائے نفس کے لیے رسول ﷺ کے ہاں کوئی دخل نہ ہوتا تھا اور اگر دشمنی بھی ہوتی تو رسول اللہ حق پر فیصلہ کرتے۔ اس لیے یہ لوگ جب جانتے تھے کہ ان کا موقف حق کے خلاف ہے تو یہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے سے دور بھاگتے تھے اور آپ کے سامنے آنے سے انکار کرتے تھے اور اگر وہ حقدار ہوتے تو بھاگ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس بڑے برخوردار بن کر آتے تھے۔ خوشی خوشی سے کیونکہ ان کو یقین تھا کہ حضور ﷺ حق سے ادھر ادھر نہیں جاتے۔ اور شریعت کی عدالت میں کسی کی حق تلف نہیں ہوتی۔
یہ لوگ جو ایمان کا دعویٰ کرتے تھے اور پھر بھی یہ دو رخی اختیار کرتے تھے ‘ ہر دور میں اہل نفاق کو معلوم کرنے کے لی ایک اعلیٰ نمونہ اور معیار ہیں۔ یہ لوگ اس قدر جرأت نہیں رکھتے کہ جہراً اپن کفر کا اعلان کرسکیں بظاہر یہ لوگ مسلمان ہوتے ہیں ‘ لیکن وہ یہ بات پسند نہیں کرتے کہ معاشرے کے اندر اسلامی رنگ پیدا ہو اور اسلامی قوانین کے مطابق عدالتی نظام قائم ہو۔ جب ایسے لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ شریعت کے مطابق فیصلے کے لیے آجائیں تو وہ اس سے اعراض کرتے ہیں اور عذرات پیش کرتے ہیں۔
ومآ اولئک بالمئو منین (24 : 47) ” یہ لوگ مومن نہیں ہیں “۔ اس لیے کہ ایمان اور اسلامی شریعت پر فیصلے کرنے سے انکار ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے الا یہ کہ اسلامی شریعت پر فیصلہ کرانا ان منافقین کے مفاد میں ہو ‘ تو یہ دوڑ کر آتے ہیں۔
اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں کے مطابق زندگی گزارنا ایمان کی علامت ہے۔ یہی وہ علامت ہے جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ایمان کی حقیقت دلوں میں بیٹھ گئی ہے اور اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے مسلمانوں کے لیے یہ رویہ اختیار کرنا لازمی ہے۔ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کو وہی شخص رد کرسکتا ہے جو بےحد گستاخ اور نافرمان ہو۔ جن کی کوئی اسلامی تربیت نہ ہوئی ہو اور جس کا دل نور ایمان سے منور نہ ہو۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے اس فعل کے نتیجے میں ایسے سوالات کیے جاتے ہیں جن سے ان کے دلوں کی یہ بیماری ظاہر ہوجاتی ہے۔ ان سوالات میں تعجب کیا جاتا ہے کہ وہ کیوں شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کا طرز عمل کیوں غلط اور قابل نفرت ہے۔
(افی قلوبھبم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورسولہ) (24 : 50) ” کیا ان کے دلوں کو (منافقت کا ) روگ لگا ہوا ہے ؟ یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں ؟ یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ ان پر ظلم کرے گا ؟ “ پہلا سوال و اثبات کے لیے ہے یعنی درحقیقت یہ منافق ہیں اور یہ نفاق ہی کا اثر ہے۔ کوئی سلیم الفطرت شخص یہ نفاق نہیں کرسکتا کیونکہ یہ فطری فرائض ہیں اور ان کی فطرت صحت مند نہیں رہی ہے۔ درحقیقت انہوں نے ایمان کی حقیقت کو نہیں دیکھا اور یہ لوگ ابہام کی شاہ راہ پر گامزن ہیں۔
دوسرا سوال تعجب کے لیے ہے۔ تعجب یہ ہے کہ دعوائے ایمان کرتے ہوئے بھی ان کو اللہ کے فیصلوں میں شک ہے۔ کیا ان کو اس امر میں شک ہے کہ یہ احکام اللہ کی طرف سے آتے ہیں۔ یا ان کو اس معاملے میں شک ہے کہ اسلام عدل کا نظام قائم کرسکتا ہے یا نہیں۔ یہ دونوں باتیں مومنین کے طریقوں کے خلاف ہیں۔
تیسرا سوال اظہار نفرت اور اظہار تعجب دونوں کے لیے ہے۔ تعجب اور نفرت اس بات پر ہے کہ یہ لوگ شک کرتے ہیں کہ شاید اللہ اور رسول اللہ ﷺ ان پر ظلم کریں گے۔ یہ عجیب بات ہے کہ کوئی انسان اس بارے میں شک کرے یا یہ خوف کرے کہ اللہ انصاف نہ کرے گا۔ اللہ ہی تو ہے جو سب کا خالق اور سب کا رب ہے۔ لہٰذا وہ اپنی مخلوق کے درمیان فرق و امتیاز کس طرح کرسکتا ہے۔
اللہ کا حکم ایک ہوتا ہے اس کی ثہ میں کسی ظلم و زیادتی کا شائبہ تک نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تو وہ منصف ہے جو کسی پر کسی طرح ظلم نہیں کرتا۔ اس کی تمام مخلوق اس کے سامنے برابر ہے لہٰذا وہ کسی ایک بندے کی مصلحت کے لیے کسی دوسرے بندے پر ظلم نہیں کرتا۔ اللہ کے سوا تمام دوسرے افراد اور اداروں کے احکام کے بارے میں یہ شک ہو سکتا ہے کہ وہ ظالمانہ ہوں کیونکہ اگر انسان خود اپنے لیے قانون سازی کررہا ہو تو اس سے یہ شک ہو سکتا ہے کہ قانون سازی کرنے والا انسان خود اپنے مفادات کا خیال رکھے۔ قانون سازی کرنے والا انسان ایک فرد ہو یا ایک ادارہ ہو ‘ یہ بدگمانی ہو سکتی ہے۔
جب ایک انسان اور فرد واحد حکمران ہو تو اس کے بارے میں یہ بات واضح ہے کہ وہ اپنے حق میں اور اپنی مصلحت کے لیے قانون سازی کرے گا۔ نیز اگر ایک حکومت دوسروں کے لیے قانون سازی کرے یا ایک طبقہ دوسروں کے لیے قانون سازی کرے یا ایک بلاک دوسرے بلاکوں کے لیے قانون سازی کرے تو قانون سازی کرنے والا اپنے مفادات کا خیال کرسکتا ہے۔ لیکن جب اللہ قانون سازی کرے تو اس میں کسی فرد ‘ کسی گروہ ‘ کسی طبقے۔۔۔۔۔ یا کسی بلاک کی حمایت کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ یہ مطلق انصاف ہوتا ہے اور یہ خصوصیت یعنی بےقید عدل کی خصوصیت صرف اللہ کی قانون سازی میں ممکن ہے۔ اللہ کے فیصلے کے سوا کوئی دوسرا فیصلہ اس خصوصیت کا حامل نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حکم پر راضی نہیں ہوتے ‘ وہی ظالم ہیں۔ یہ لوگ زمین پر عدل مطلق کو جمنے نہیں دینا چاہتے۔ یہ لوگ سچائی کا اقتدار نہیں چاہتے۔ یہ لوگ اس بات میں یہ شک کرتے ہوئے نہیں ڈرتے کہ اللہ کے حکم میں کوئی ظلم ہوگا یہ کہ نہ ان کو اللہ کی عدالت میں شک ہے۔
بل اولئک ھم الظلمون (24 : 0 5) ” بلکہ یہ لوگ دراصل ظالم ہیں “۔ اس لیے عدل نہیں چاہتے۔
رہے وہ لوگ جو حقیقی مسلمان ہیں تو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے ان کا رویہ بالکل مختلف ہے۔ جب ان کو بلایا جائے کہ آئو اللہ اور رسول اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے کرائیں تو وہ بالکل مختلف بات کرتے ہیں۔ یہ قول مومنین کے لائق ہے اور یہ قول بتاتا ہے کہ ان کے دل ایمان سے روشن ہیں اور وہ چمک رہے ہیں۔
النور 24:48
(ویقولون۔۔۔۔۔۔۔ بالمئو منین واذا۔۔۔۔۔۔۔ معرضون وان۔۔۔۔۔۔ مذعنین افی ۔۔۔۔۔۔ اولئک ھم الظلمون ) (5047) ” ۔ “۔
جب صحیح ایمان دل میں بیٹھ جاتا ہے تو اس کے آثار عمل کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اسلام تو ایک متحرک نظریہ ہے اس کا کوئی منفی پہلو نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا نظریہ ہے کہ جب کسی انسان کے شعور میں یہ بیٹھ جائے تو یہ خود بخود حرکت پذیر ہوتا ہے اور خارج میں اس کے آثار نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اسلام خود بخود اپنی ترجمانی اسلامی اعمال کے ذریعے کرنا شروع کردیتا ہے۔ خود اسلامی نظام زندگی کا طریق کار بھی یہی ہے کہ وہ ایک عملی نظام ہے ‘ وہ عمل اور تحریک کے ذریعے وجود میں آتا ہے یعنی اسلام ایک شعور ہے جو اپنے آپ کو عمل اور سلوک کے ذریعے ظاہر کرتا ہے۔ اور پھر درس پر مستقل دستور اور قانون کی شکل اختیار کر کے تہذیب کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اس کی زندگی اس کے شعور اول پر موقوف ہے۔ اس شعور اور ایمان کو زندہ اور متحرک رکھنا ضروری ہے۔
لیکن جس مخلوق کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے وہ کیسی مخلوق تھی وہ کہتے تو تھے
امنا باللہ و بالرسول واطعنا (24 : 47) ” یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسول ﷺ پر اور ہمنے اطاعت قبول کی “۔ یہ بات وہ اپنے منہ سے کہتے تھے لیکن ان کے طرز عمل میں اس کے اثار نظر نہ آتے تھے۔ چناچہ وہ الٹے پائوں پھرجاتے تھے جو بات وہ زبان سے کہتے تھے ان کے اعمال اس کی تکذیب کرتے تھے۔
ومآ اولئک بالمئومنین (24 : 47) ” ایسے لوگ ہر گز مومن نہیں ہیں “۔ مومن تو وہ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے اقوال کی تصدیق کرتے ہیں۔ ایمان کوئی کھیل تو نہیں ہے کہ ایک شخص بس ایمان کا اقرار کرلے اور اس کے بعد اس کی کوئی ذمہ داری نہ ہو۔ ایمان کے بعد اس کا نفس بھی ایمانی کیفیات میں رنگ جانا چاہیے۔ اس کا دل دماغ اور سوچ بھی ایمانی بن جائے ۔ اور اس کے بعد پھر لازم ہے کہ اس شخص کے اعمال بھی ایمانی ہوں اور جب ایمان کسی کیضمیر میں بیٹھ جائے تو پھر اس کے لیے ایمانی راہ سے پلٹنا ممکن ہی نہیں رہتا۔
یہ لوگ ایمان کا دعویٰ تو کرتے تھے لیکن عملاً یہ لوگ ایمان کے مفہوم اور مدلول کے خلاف ہوتے تھے جب ان سے کہا جاتا تھا کہ آئو اپنا فیصلہ اللہ اور رسول ﷺ کے قانون کے مطابق کریں اور اس شریعت کے مطابق جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی تو وہ منہ موڑ لیتے ہیں۔
(واذا دعوآ۔۔۔۔۔۔۔ معرضون) (24 : 49) ” جب ان لوگوں کو بلایا جائے اللہ اور رسول کی طرف تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے۔ البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسول ﷺ کے پاس بڑے اطاعت کیش بن کر آتے ہیں “۔ کیونکہ ان کو معلوم ہوتا تھا کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا حکم حق سے دورنہ تھا اور ہوائے نفس کے لیے رسول ﷺ کے ہاں کوئی دخل نہ ہوتا تھا اور اگر دشمنی بھی ہوتی تو رسول اللہ حق پر فیصلہ کرتے۔ اس لیے یہ لوگ جب جانتے تھے کہ ان کا موقف حق کے خلاف ہے تو یہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے سے دور بھاگتے تھے اور آپ کے سامنے آنے سے انکار کرتے تھے اور اگر وہ حقدار ہوتے تو بھاگ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس بڑے برخوردار بن کر آتے تھے۔ خوشی خوشی سے کیونکہ ان کو یقین تھا کہ حضور ﷺ حق سے ادھر ادھر نہیں جاتے۔ اور شریعت کی عدالت میں کسی کی حق تلف نہیں ہوتی۔
یہ لوگ جو ایمان کا دعویٰ کرتے تھے اور پھر بھی یہ دو رخی اختیار کرتے تھے ‘ ہر دور میں اہل نفاق کو معلوم کرنے کے لی ایک اعلیٰ نمونہ اور معیار ہیں۔ یہ لوگ اس قدر جرأت نہیں رکھتے کہ جہراً اپن کفر کا اعلان کرسکیں بظاہر یہ لوگ مسلمان ہوتے ہیں ‘ لیکن وہ یہ بات پسند نہیں کرتے کہ معاشرے کے اندر اسلامی رنگ پیدا ہو اور اسلامی قوانین کے مطابق عدالتی نظام قائم ہو۔ جب ایسے لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ شریعت کے مطابق فیصلے کے لیے آجائیں تو وہ اس سے اعراض کرتے ہیں اور عذرات پیش کرتے ہیں۔
ومآ اولئک بالمئو منین (24 : 47) ” یہ لوگ مومن نہیں ہیں “۔ اس لیے کہ ایمان اور اسلامی شریعت پر فیصلے کرنے سے انکار ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے الا یہ کہ اسلامی شریعت پر فیصلہ کرانا ان منافقین کے مفاد میں ہو ‘ تو یہ دوڑ کر آتے ہیں۔
اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں کے مطابق زندگی گزارنا ایمان کی علامت ہے۔ یہی وہ علامت ہے جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ایمان کی حقیقت دلوں میں بیٹھ گئی ہے اور اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے مسلمانوں کے لیے یہ رویہ اختیار کرنا لازمی ہے۔ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کو وہی شخص رد کرسکتا ہے جو بےحد گستاخ اور نافرمان ہو۔ جن کی کوئی اسلامی تربیت نہ ہوئی ہو اور جس کا دل نور ایمان سے منور نہ ہو۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے اس فعل کے نتیجے میں ایسے سوالات کیے جاتے ہیں جن سے ان کے دلوں کی یہ بیماری ظاہر ہوجاتی ہے۔ ان سوالات میں تعجب کیا جاتا ہے کہ وہ کیوں شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کا طرز عمل کیوں غلط اور قابل نفرت ہے۔
(افی قلوبھبم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورسولہ) (24 : 50) ” کیا ان کے دلوں کو (منافقت کا ) روگ لگا ہوا ہے ؟ یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں ؟ یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ ان پر ظلم کرے گا ؟ “ پہلا سوال و اثبات کے لیے ہے یعنی درحقیقت یہ منافق ہیں اور یہ نفاق ہی کا اثر ہے۔ کوئی سلیم الفطرت شخص یہ نفاق نہیں کرسکتا کیونکہ یہ فطری فرائض ہیں اور ان کی فطرت صحت مند نہیں رہی ہے۔ درحقیقت انہوں نے ایمان کی حقیقت کو نہیں دیکھا اور یہ لوگ ابہام کی شاہ راہ پر گامزن ہیں۔
دوسرا سوال تعجب کے لیے ہے۔ تعجب یہ ہے کہ دعوائے ایمان کرتے ہوئے بھی ان کو اللہ کے فیصلوں میں شک ہے۔ کیا ان کو اس امر میں شک ہے کہ یہ احکام اللہ کی طرف سے آتے ہیں۔ یا ان کو اس معاملے میں شک ہے کہ اسلام عدل کا نظام قائم کرسکتا ہے یا نہیں۔ یہ دونوں باتیں مومنین کے طریقوں کے خلاف ہیں۔
تیسرا سوال اظہار نفرت اور اظہار تعجب دونوں کے لیے ہے۔ تعجب اور نفرت اس بات پر ہے کہ یہ لوگ شک کرتے ہیں کہ شاید اللہ اور رسول اللہ ﷺ ان پر ظلم کریں گے۔ یہ عجیب بات ہے کہ کوئی انسان اس بارے میں شک کرے یا یہ خوف کرے کہ اللہ انصاف نہ کرے گا۔ اللہ ہی تو ہے جو سب کا خالق اور سب کا رب ہے۔ لہٰذا وہ اپنی مخلوق کے درمیان فرق و امتیاز کس طرح کرسکتا ہے۔
اللہ کا حکم ایک ہوتا ہے اس کی ثہ میں کسی ظلم و زیادتی کا شائبہ تک نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تو وہ منصف ہے جو کسی پر کسی طرح ظلم نہیں کرتا۔ اس کی تمام مخلوق اس کے سامنے برابر ہے لہٰذا وہ کسی ایک بندے کی مصلحت کے لیے کسی دوسرے بندے پر ظلم نہیں کرتا۔ اللہ کے سوا تمام دوسرے افراد اور اداروں کے احکام کے بارے میں یہ شک ہو سکتا ہے کہ وہ ظالمانہ ہوں کیونکہ اگر انسان خود اپنے لیے قانون سازی کررہا ہو تو اس سے یہ شک ہو سکتا ہے کہ قانون سازی کرنے والا انسان خود اپنے مفادات کا خیال رکھے۔ قانون سازی کرنے والا انسان ایک فرد ہو یا ایک ادارہ ہو ‘ یہ بدگمانی ہو سکتی ہے۔
جب ایک انسان اور فرد واحد حکمران ہو تو اس کے بارے میں یہ بات واضح ہے کہ وہ اپنے حق میں اور اپنی مصلحت کے لیے قانون سازی کرے گا۔ نیز اگر ایک حکومت دوسروں کے لیے قانون سازی کرے یا ایک طبقہ دوسروں کے لیے قانون سازی کرے یا ایک بلاک دوسرے بلاکوں کے لیے قانون سازی کرے تو قانون سازی کرنے والا اپنے مفادات کا خیال کرسکتا ہے۔ لیکن جب اللہ قانون سازی کرے تو اس میں کسی فرد ‘ کسی گروہ ‘ کسی طبقے۔۔۔۔۔ یا کسی بلاک کی حمایت کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ یہ مطلق انصاف ہوتا ہے اور یہ خصوصیت یعنی بےقید عدل کی خصوصیت صرف اللہ کی قانون سازی میں ممکن ہے۔ اللہ کے فیصلے کے سوا کوئی دوسرا فیصلہ اس خصوصیت کا حامل نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حکم پر راضی نہیں ہوتے ‘ وہی ظالم ہیں۔ یہ لوگ زمین پر عدل مطلق کو جمنے نہیں دینا چاہتے۔ یہ لوگ سچائی کا اقتدار نہیں چاہتے۔ یہ لوگ اس بات میں یہ شک کرتے ہوئے نہیں ڈرتے کہ اللہ کے حکم میں کوئی ظلم ہوگا یہ کہ نہ ان کو اللہ کی عدالت میں شک ہے۔
بل اولئک ھم الظلمون (24 : 0 5) ” بلکہ یہ لوگ دراصل ظالم ہیں “۔ اس لیے عدل نہیں چاہتے۔
رہے وہ لوگ جو حقیقی مسلمان ہیں تو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے ان کا رویہ بالکل مختلف ہے۔ جب ان کو بلایا جائے کہ آئو اللہ اور رسول اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے کرائیں تو وہ بالکل مختلف بات کرتے ہیں۔ یہ قول مومنین کے لائق ہے اور یہ قول بتاتا ہے کہ ان کے دل ایمان سے روشن ہیں اور وہ چمک رہے ہیں۔
النور 24:49
(ویقولون۔۔۔۔۔۔۔ بالمئو منین واذا۔۔۔۔۔۔۔ معرضون وان۔۔۔۔۔۔ مذعنین افی ۔۔۔۔۔۔ اولئک ھم الظلمون ) (5047) ” ۔ “۔
جب صحیح ایمان دل میں بیٹھ جاتا ہے تو اس کے آثار عمل کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اسلام تو ایک متحرک نظریہ ہے اس کا کوئی منفی پہلو نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا نظریہ ہے کہ جب کسی انسان کے شعور میں یہ بیٹھ جائے تو یہ خود بخود حرکت پذیر ہوتا ہے اور خارج میں اس کے آثار نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اسلام خود بخود اپنی ترجمانی اسلامی اعمال کے ذریعے کرنا شروع کردیتا ہے۔ خود اسلامی نظام زندگی کا طریق کار بھی یہی ہے کہ وہ ایک عملی نظام ہے ‘ وہ عمل اور تحریک کے ذریعے وجود میں آتا ہے یعنی اسلام ایک شعور ہے جو اپنے آپ کو عمل اور سلوک کے ذریعے ظاہر کرتا ہے۔ اور پھر درس پر مستقل دستور اور قانون کی شکل اختیار کر کے تہذیب کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اس کی زندگی اس کے شعور اول پر موقوف ہے۔ اس شعور اور ایمان کو زندہ اور متحرک رکھنا ضروری ہے۔
لیکن جس مخلوق کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے وہ کیسی مخلوق تھی وہ کہتے تو تھے
امنا باللہ و بالرسول واطعنا (24 : 47) ” یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسول ﷺ پر اور ہمنے اطاعت قبول کی “۔ یہ بات وہ اپنے منہ سے کہتے تھے لیکن ان کے طرز عمل میں اس کے اثار نظر نہ آتے تھے۔ چناچہ وہ الٹے پائوں پھرجاتے تھے جو بات وہ زبان سے کہتے تھے ان کے اعمال اس کی تکذیب کرتے تھے۔
ومآ اولئک بالمئومنین (24 : 47) ” ایسے لوگ ہر گز مومن نہیں ہیں “۔ مومن تو وہ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے اقوال کی تصدیق کرتے ہیں۔ ایمان کوئی کھیل تو نہیں ہے کہ ایک شخص بس ایمان کا اقرار کرلے اور اس کے بعد اس کی کوئی ذمہ داری نہ ہو۔ ایمان کے بعد اس کا نفس بھی ایمانی کیفیات میں رنگ جانا چاہیے۔ اس کا دل دماغ اور سوچ بھی ایمانی بن جائے ۔ اور اس کے بعد پھر لازم ہے کہ اس شخص کے اعمال بھی ایمانی ہوں اور جب ایمان کسی کیضمیر میں بیٹھ جائے تو پھر اس کے لیے ایمانی راہ سے پلٹنا ممکن ہی نہیں رہتا۔
یہ لوگ ایمان کا دعویٰ تو کرتے تھے لیکن عملاً یہ لوگ ایمان کے مفہوم اور مدلول کے خلاف ہوتے تھے جب ان سے کہا جاتا تھا کہ آئو اپنا فیصلہ اللہ اور رسول ﷺ کے قانون کے مطابق کریں اور اس شریعت کے مطابق جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی تو وہ منہ موڑ لیتے ہیں۔
(واذا دعوآ۔۔۔۔۔۔۔ معرضون) (24 : 49) ” جب ان لوگوں کو بلایا جائے اللہ اور رسول کی طرف تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے۔ البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسول ﷺ کے پاس بڑے اطاعت کیش بن کر آتے ہیں “۔ کیونکہ ان کو معلوم ہوتا تھا کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا حکم حق سے دورنہ تھا اور ہوائے نفس کے لیے رسول ﷺ کے ہاں کوئی دخل نہ ہوتا تھا اور اگر دشمنی بھی ہوتی تو رسول اللہ حق پر فیصلہ کرتے۔ اس لیے یہ لوگ جب جانتے تھے کہ ان کا موقف حق کے خلاف ہے تو یہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے سے دور بھاگتے تھے اور آپ کے سامنے آنے سے انکار کرتے تھے اور اگر وہ حقدار ہوتے تو بھاگ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس بڑے برخوردار بن کر آتے تھے۔ خوشی خوشی سے کیونکہ ان کو یقین تھا کہ حضور ﷺ حق سے ادھر ادھر نہیں جاتے۔ اور شریعت کی عدالت میں کسی کی حق تلف نہیں ہوتی۔
یہ لوگ جو ایمان کا دعویٰ کرتے تھے اور پھر بھی یہ دو رخی اختیار کرتے تھے ‘ ہر دور میں اہل نفاق کو معلوم کرنے کے لی ایک اعلیٰ نمونہ اور معیار ہیں۔ یہ لوگ اس قدر جرأت نہیں رکھتے کہ جہراً اپن کفر کا اعلان کرسکیں بظاہر یہ لوگ مسلمان ہوتے ہیں ‘ لیکن وہ یہ بات پسند نہیں کرتے کہ معاشرے کے اندر اسلامی رنگ پیدا ہو اور اسلامی قوانین کے مطابق عدالتی نظام قائم ہو۔ جب ایسے لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ شریعت کے مطابق فیصلے کے لیے آجائیں تو وہ اس سے اعراض کرتے ہیں اور عذرات پیش کرتے ہیں۔
ومآ اولئک بالمئو منین (24 : 47) ” یہ لوگ مومن نہیں ہیں “۔ اس لیے کہ ایمان اور اسلامی شریعت پر فیصلے کرنے سے انکار ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے الا یہ کہ اسلامی شریعت پر فیصلہ کرانا ان منافقین کے مفاد میں ہو ‘ تو یہ دوڑ کر آتے ہیں۔
اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں کے مطابق زندگی گزارنا ایمان کی علامت ہے۔ یہی وہ علامت ہے جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ایمان کی حقیقت دلوں میں بیٹھ گئی ہے اور اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے مسلمانوں کے لیے یہ رویہ اختیار کرنا لازمی ہے۔ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کو وہی شخص رد کرسکتا ہے جو بےحد گستاخ اور نافرمان ہو۔ جن کی کوئی اسلامی تربیت نہ ہوئی ہو اور جس کا دل نور ایمان سے منور نہ ہو۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے اس فعل کے نتیجے میں ایسے سوالات کیے جاتے ہیں جن سے ان کے دلوں کی یہ بیماری ظاہر ہوجاتی ہے۔ ان سوالات میں تعجب کیا جاتا ہے کہ وہ کیوں شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کا طرز عمل کیوں غلط اور قابل نفرت ہے۔
(افی قلوبھبم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورسولہ) (24 : 50) ” کیا ان کے دلوں کو (منافقت کا ) روگ لگا ہوا ہے ؟ یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں ؟ یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ ان پر ظلم کرے گا ؟ “ پہلا سوال و اثبات کے لیے ہے یعنی درحقیقت یہ منافق ہیں اور یہ نفاق ہی کا اثر ہے۔ کوئی سلیم الفطرت شخص یہ نفاق نہیں کرسکتا کیونکہ یہ فطری فرائض ہیں اور ان کی فطرت صحت مند نہیں رہی ہے۔ درحقیقت انہوں نے ایمان کی حقیقت کو نہیں دیکھا اور یہ لوگ ابہام کی شاہ راہ پر گامزن ہیں۔
دوسرا سوال تعجب کے لیے ہے۔ تعجب یہ ہے کہ دعوائے ایمان کرتے ہوئے بھی ان کو اللہ کے فیصلوں میں شک ہے۔ کیا ان کو اس امر میں شک ہے کہ یہ احکام اللہ کی طرف سے آتے ہیں۔ یا ان کو اس معاملے میں شک ہے کہ اسلام عدل کا نظام قائم کرسکتا ہے یا نہیں۔ یہ دونوں باتیں مومنین کے طریقوں کے خلاف ہیں۔
تیسرا سوال اظہار نفرت اور اظہار تعجب دونوں کے لیے ہے۔ تعجب اور نفرت اس بات پر ہے کہ یہ لوگ شک کرتے ہیں کہ شاید اللہ اور رسول اللہ ﷺ ان پر ظلم کریں گے۔ یہ عجیب بات ہے کہ کوئی انسان اس بارے میں شک کرے یا یہ خوف کرے کہ اللہ انصاف نہ کرے گا۔ اللہ ہی تو ہے جو سب کا خالق اور سب کا رب ہے۔ لہٰذا وہ اپنی مخلوق کے درمیان فرق و امتیاز کس طرح کرسکتا ہے۔
اللہ کا حکم ایک ہوتا ہے اس کی ثہ میں کسی ظلم و زیادتی کا شائبہ تک نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تو وہ منصف ہے جو کسی پر کسی طرح ظلم نہیں کرتا۔ اس کی تمام مخلوق اس کے سامنے برابر ہے لہٰذا وہ کسی ایک بندے کی مصلحت کے لیے کسی دوسرے بندے پر ظلم نہیں کرتا۔ اللہ کے سوا تمام دوسرے افراد اور اداروں کے احکام کے بارے میں یہ شک ہو سکتا ہے کہ وہ ظالمانہ ہوں کیونکہ اگر انسان خود اپنے لیے قانون سازی کررہا ہو تو اس سے یہ شک ہو سکتا ہے کہ قانون سازی کرنے والا انسان خود اپنے مفادات کا خیال رکھے۔ قانون سازی کرنے والا انسان ایک فرد ہو یا ایک ادارہ ہو ‘ یہ بدگمانی ہو سکتی ہے۔
جب ایک انسان اور فرد واحد حکمران ہو تو اس کے بارے میں یہ بات واضح ہے کہ وہ اپنے حق میں اور اپنی مصلحت کے لیے قانون سازی کرے گا۔ نیز اگر ایک حکومت دوسروں کے لیے قانون سازی کرے یا ایک طبقہ دوسروں کے لیے قانون سازی کرے یا ایک بلاک دوسرے بلاکوں کے لیے قانون سازی کرے تو قانون سازی کرنے والا اپنے مفادات کا خیال کرسکتا ہے۔ لیکن جب اللہ قانون سازی کرے تو اس میں کسی فرد ‘ کسی گروہ ‘ کسی طبقے۔۔۔۔۔ یا کسی بلاک کی حمایت کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ یہ مطلق انصاف ہوتا ہے اور یہ خصوصیت یعنی بےقید عدل کی خصوصیت صرف اللہ کی قانون سازی میں ممکن ہے۔ اللہ کے فیصلے کے سوا کوئی دوسرا فیصلہ اس خصوصیت کا حامل نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حکم پر راضی نہیں ہوتے ‘ وہی ظالم ہیں۔ یہ لوگ زمین پر عدل مطلق کو جمنے نہیں دینا چاہتے۔ یہ لوگ سچائی کا اقتدار نہیں چاہتے۔ یہ لوگ اس بات میں یہ شک کرتے ہوئے نہیں ڈرتے کہ اللہ کے حکم میں کوئی ظلم ہوگا یہ کہ نہ ان کو اللہ کی عدالت میں شک ہے۔
بل اولئک ھم الظلمون (24 : 0 5) ” بلکہ یہ لوگ دراصل ظالم ہیں “۔ اس لیے عدل نہیں چاہتے۔
رہے وہ لوگ جو حقیقی مسلمان ہیں تو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے ان کا رویہ بالکل مختلف ہے۔ جب ان کو بلایا جائے کہ آئو اللہ اور رسول اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے کرائیں تو وہ بالکل مختلف بات کرتے ہیں۔ یہ قول مومنین کے لائق ہے اور یہ قول بتاتا ہے کہ ان کے دل ایمان سے روشن ہیں اور وہ چمک رہے ہیں۔
النور 24:50
(ویقولون۔۔۔۔۔۔۔ بالمئو منین واذا۔۔۔۔۔۔۔ معرضون وان۔۔۔۔۔۔ مذعنین افی ۔۔۔۔۔۔ اولئک ھم الظلمون ) (5047) ” ۔ “۔
جب صحیح ایمان دل میں بیٹھ جاتا ہے تو اس کے آثار عمل کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اسلام تو ایک متحرک نظریہ ہے اس کا کوئی منفی پہلو نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا نظریہ ہے کہ جب کسی انسان کے شعور میں یہ بیٹھ جائے تو یہ خود بخود حرکت پذیر ہوتا ہے اور خارج میں اس کے آثار نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اسلام خود بخود اپنی ترجمانی اسلامی اعمال کے ذریعے کرنا شروع کردیتا ہے۔ خود اسلامی نظام زندگی کا طریق کار بھی یہی ہے کہ وہ ایک عملی نظام ہے ‘ وہ عمل اور تحریک کے ذریعے وجود میں آتا ہے یعنی اسلام ایک شعور ہے جو اپنے آپ کو عمل اور سلوک کے ذریعے ظاہر کرتا ہے۔ اور پھر درس پر مستقل دستور اور قانون کی شکل اختیار کر کے تہذیب کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اس کی زندگی اس کے شعور اول پر موقوف ہے۔ اس شعور اور ایمان کو زندہ اور متحرک رکھنا ضروری ہے۔
لیکن جس مخلوق کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے وہ کیسی مخلوق تھی وہ کہتے تو تھے
امنا باللہ و بالرسول واطعنا (24 : 47) ” یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسول ﷺ پر اور ہمنے اطاعت قبول کی “۔ یہ بات وہ اپنے منہ سے کہتے تھے لیکن ان کے طرز عمل میں اس کے اثار نظر نہ آتے تھے۔ چناچہ وہ الٹے پائوں پھرجاتے تھے جو بات وہ زبان سے کہتے تھے ان کے اعمال اس کی تکذیب کرتے تھے۔
ومآ اولئک بالمئومنین (24 : 47) ” ایسے لوگ ہر گز مومن نہیں ہیں “۔ مومن تو وہ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے اقوال کی تصدیق کرتے ہیں۔ ایمان کوئی کھیل تو نہیں ہے کہ ایک شخص بس ایمان کا اقرار کرلے اور اس کے بعد اس کی کوئی ذمہ داری نہ ہو۔ ایمان کے بعد اس کا نفس بھی ایمانی کیفیات میں رنگ جانا چاہیے۔ اس کا دل دماغ اور سوچ بھی ایمانی بن جائے ۔ اور اس کے بعد پھر لازم ہے کہ اس شخص کے اعمال بھی ایمانی ہوں اور جب ایمان کسی کیضمیر میں بیٹھ جائے تو پھر اس کے لیے ایمانی راہ سے پلٹنا ممکن ہی نہیں رہتا۔
یہ لوگ ایمان کا دعویٰ تو کرتے تھے لیکن عملاً یہ لوگ ایمان کے مفہوم اور مدلول کے خلاف ہوتے تھے جب ان سے کہا جاتا تھا کہ آئو اپنا فیصلہ اللہ اور رسول ﷺ کے قانون کے مطابق کریں اور اس شریعت کے مطابق جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی تو وہ منہ موڑ لیتے ہیں۔
(واذا دعوآ۔۔۔۔۔۔۔ معرضون) (24 : 49) ” جب ان لوگوں کو بلایا جائے اللہ اور رسول کی طرف تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے۔ البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسول ﷺ کے پاس بڑے اطاعت کیش بن کر آتے ہیں “۔ کیونکہ ان کو معلوم ہوتا تھا کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا حکم حق سے دورنہ تھا اور ہوائے نفس کے لیے رسول ﷺ کے ہاں کوئی دخل نہ ہوتا تھا اور اگر دشمنی بھی ہوتی تو رسول اللہ حق پر فیصلہ کرتے۔ اس لیے یہ لوگ جب جانتے تھے کہ ان کا موقف حق کے خلاف ہے تو یہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے سے دور بھاگتے تھے اور آپ کے سامنے آنے سے انکار کرتے تھے اور اگر وہ حقدار ہوتے تو بھاگ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس بڑے برخوردار بن کر آتے تھے۔ خوشی خوشی سے کیونکہ ان کو یقین تھا کہ حضور ﷺ حق سے ادھر ادھر نہیں جاتے۔ اور شریعت کی عدالت میں کسی کی حق تلف نہیں ہوتی۔
یہ لوگ جو ایمان کا دعویٰ کرتے تھے اور پھر بھی یہ دو رخی اختیار کرتے تھے ‘ ہر دور میں اہل نفاق کو معلوم کرنے کے لی ایک اعلیٰ نمونہ اور معیار ہیں۔ یہ لوگ اس قدر جرأت نہیں رکھتے کہ جہراً اپن کفر کا اعلان کرسکیں بظاہر یہ لوگ مسلمان ہوتے ہیں ‘ لیکن وہ یہ بات پسند نہیں کرتے کہ معاشرے کے اندر اسلامی رنگ پیدا ہو اور اسلامی قوانین کے مطابق عدالتی نظام قائم ہو۔ جب ایسے لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ شریعت کے مطابق فیصلے کے لیے آجائیں تو وہ اس سے اعراض کرتے ہیں اور عذرات پیش کرتے ہیں۔
ومآ اولئک بالمئو منین (24 : 47) ” یہ لوگ مومن نہیں ہیں “۔ اس لیے کہ ایمان اور اسلامی شریعت پر فیصلے کرنے سے انکار ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے الا یہ کہ اسلامی شریعت پر فیصلہ کرانا ان منافقین کے مفاد میں ہو ‘ تو یہ دوڑ کر آتے ہیں۔
اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں کے مطابق زندگی گزارنا ایمان کی علامت ہے۔ یہی وہ علامت ہے جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ایمان کی حقیقت دلوں میں بیٹھ گئی ہے اور اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے مسلمانوں کے لیے یہ رویہ اختیار کرنا لازمی ہے۔ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کو وہی شخص رد کرسکتا ہے جو بےحد گستاخ اور نافرمان ہو۔ جن کی کوئی اسلامی تربیت نہ ہوئی ہو اور جس کا دل نور ایمان سے منور نہ ہو۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے اس فعل کے نتیجے میں ایسے سوالات کیے جاتے ہیں جن سے ان کے دلوں کی یہ بیماری ظاہر ہوجاتی ہے۔ ان سوالات میں تعجب کیا جاتا ہے کہ وہ کیوں شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کا طرز عمل کیوں غلط اور قابل نفرت ہے۔
(افی قلوبھبم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورسولہ) (24 : 50) ” کیا ان کے دلوں کو (منافقت کا ) روگ لگا ہوا ہے ؟ یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں ؟ یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ ان پر ظلم کرے گا ؟ “ پہلا سوال و اثبات کے لیے ہے یعنی درحقیقت یہ منافق ہیں اور یہ نفاق ہی کا اثر ہے۔ کوئی سلیم الفطرت شخص یہ نفاق نہیں کرسکتا کیونکہ یہ فطری فرائض ہیں اور ان کی فطرت صحت مند نہیں رہی ہے۔ درحقیقت انہوں نے ایمان کی حقیقت کو نہیں دیکھا اور یہ لوگ ابہام کی شاہ راہ پر گامزن ہیں۔
دوسرا سوال تعجب کے لیے ہے۔ تعجب یہ ہے کہ دعوائے ایمان کرتے ہوئے بھی ان کو اللہ کے فیصلوں میں شک ہے۔ کیا ان کو اس امر میں شک ہے کہ یہ احکام اللہ کی طرف سے آتے ہیں۔ یا ان کو اس معاملے میں شک ہے کہ اسلام عدل کا نظام قائم کرسکتا ہے یا نہیں۔ یہ دونوں باتیں مومنین کے طریقوں کے خلاف ہیں۔
تیسرا سوال اظہار نفرت اور اظہار تعجب دونوں کے لیے ہے۔ تعجب اور نفرت اس بات پر ہے کہ یہ لوگ شک کرتے ہیں کہ شاید اللہ اور رسول اللہ ﷺ ان پر ظلم کریں گے۔ یہ عجیب بات ہے کہ کوئی انسان اس بارے میں شک کرے یا یہ خوف کرے کہ اللہ انصاف نہ کرے گا۔ اللہ ہی تو ہے جو سب کا خالق اور سب کا رب ہے۔ لہٰذا وہ اپنی مخلوق کے درمیان فرق و امتیاز کس طرح کرسکتا ہے۔
اللہ کا حکم ایک ہوتا ہے اس کی ثہ میں کسی ظلم و زیادتی کا شائبہ تک نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تو وہ منصف ہے جو کسی پر کسی طرح ظلم نہیں کرتا۔ اس کی تمام مخلوق اس کے سامنے برابر ہے لہٰذا وہ کسی ایک بندے کی مصلحت کے لیے کسی دوسرے بندے پر ظلم نہیں کرتا۔ اللہ کے سوا تمام دوسرے افراد اور اداروں کے احکام کے بارے میں یہ شک ہو سکتا ہے کہ وہ ظالمانہ ہوں کیونکہ اگر انسان خود اپنے لیے قانون سازی کررہا ہو تو اس سے یہ شک ہو سکتا ہے کہ قانون سازی کرنے والا انسان خود اپنے مفادات کا خیال رکھے۔ قانون سازی کرنے والا انسان ایک فرد ہو یا ایک ادارہ ہو ‘ یہ بدگمانی ہو سکتی ہے۔
جب ایک انسان اور فرد واحد حکمران ہو تو اس کے بارے میں یہ بات واضح ہے کہ وہ اپنے حق میں اور اپنی مصلحت کے لیے قانون سازی کرے گا۔ نیز اگر ایک حکومت دوسروں کے لیے قانون سازی کرے یا ایک طبقہ دوسروں کے لیے قانون سازی کرے یا ایک بلاک دوسرے بلاکوں کے لیے قانون سازی کرے تو قانون سازی کرنے والا اپنے مفادات کا خیال کرسکتا ہے۔ لیکن جب اللہ قانون سازی کرے تو اس میں کسی فرد ‘ کسی گروہ ‘ کسی طبقے۔۔۔۔۔ یا کسی بلاک کی حمایت کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ یہ مطلق انصاف ہوتا ہے اور یہ خصوصیت یعنی بےقید عدل کی خصوصیت صرف اللہ کی قانون سازی میں ممکن ہے۔ اللہ کے فیصلے کے سوا کوئی دوسرا فیصلہ اس خصوصیت کا حامل نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حکم پر راضی نہیں ہوتے ‘ وہی ظالم ہیں۔ یہ لوگ زمین پر عدل مطلق کو جمنے نہیں دینا چاہتے۔ یہ لوگ سچائی کا اقتدار نہیں چاہتے۔ یہ لوگ اس بات میں یہ شک کرتے ہوئے نہیں ڈرتے کہ اللہ کے حکم میں کوئی ظلم ہوگا یہ کہ نہ ان کو اللہ کی عدالت میں شک ہے۔
بل اولئک ھم الظلمون (24 : 0 5) ” بلکہ یہ لوگ دراصل ظالم ہیں “۔ اس لیے عدل نہیں چاہتے۔
رہے وہ لوگ جو حقیقی مسلمان ہیں تو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے ان کا رویہ بالکل مختلف ہے۔ جب ان کو بلایا جائے کہ آئو اللہ اور رسول اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے کرائیں تو وہ بالکل مختلف بات کرتے ہیں۔ یہ قول مومنین کے لائق ہے اور یہ قول بتاتا ہے کہ ان کے دل ایمان سے روشن ہیں اور وہ چمک رہے ہیں۔
النور 24:51
(انما کان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھم المفلحون) (51) ” ان لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ بلاچون و چرا اور بغیر کسی ذرہ بھر انحراف کے وہ سمع و اطاعت کرتے ہیں۔ یہ سمع و اطاعت وہ اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں پورا اعتماد وپرا یقین ہے کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ ہی حقیقی فیصلہ ہے اور اس میں مطلق عدل و انصاف ہے۔ اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ خواہشات نفسانیہ پر مبنی ہے۔ یہ سمع و اطاعت وہ اس لیے کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے سامنے جھکا دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہی اللہ زندگی بخشنے والا ہے ‘ یہی اللہ اس کائنات میں متصرف ہے اور ان کو اس بات پر اطمینان حاصل ہے کہ اللہ لوگوں کے لیے جو چاہتے ہیں وہی بہتر ہے بہ نسبت اس کے ‘ جو لوگ خود اپنے لیے چاہتے ہیں کیونکہ وہ ذات جس نے پیدا کیا وہ اپنی مخلوق کے بارے میں بہتر جانتی ہے۔
واولئک ھم المفلحون (24 : 51) ” ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں “۔ یہ فلاح پانے والے اس لیے ہیں کہ ان کے امور کی تدبیر خالق کائنات ہی کرتا ہے اور ان کے باہم تعلق کو وہی منظم کرتا ہے۔ اپنے علم اور عدل کے ساتھ وہ ان کے درمیان وہی فیصلے کرتا ہے۔ اس لیے ان کو ان لوگوں سے بہتر ہونا چاہیے جو اپنے امور کے فیصلے خود کرتے ہیں یا ان جیسے افراد کرتے ہیں۔ یہ لوگ اور خود ان کے بھائی دوسرے بشر وہ علم و حکمت نہیں رکھتے جو اللہ رکھتا ہے۔ پھر وہ اس لیے بھی کامیاب ہوں گے کہ وہ ایک ہی منہاج پر چل رہے ہیں جس میں کوئی ٹیڑھ اور مقم نہیں ہے۔ وہ اپنے اس منہاج پر مطمئن ہیں۔ وہ اس منہاج پر چل رہے ہیں۔ ادھر ادھر نہیں بھٹکتے۔ لہٰذا ان کی قوتیں منتشر نہیں ہوتیں ‘ ان کی خواہشات کے اندر کوئی تضاد نہیں ہے۔ خواہشات اور مفادات کے ہاتھ میں ان کی نکیل نہیں ہوتی بلکہ ان کی نکیل اسلامی منہاج کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور وہ ان کے آگے ہوتا ہے اور یہ اس کے پیچھے چلتے ہیں۔
النور 24:52
(ومن یطع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الفآئزون) (52)
آیت سابقہ میں موضوع سخن یہ تھا کہ اہل ایمان اللہ اور رسول ﷺ کے فیصلوں میں مطیع فرمان ہوتے ہیں۔ اب یہاں کہا جاتا ہے کہ اہل ایمان کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قانونی فیصلوں کے علاوہ بھی اللہ کے احکام ونواہی کی پابندی کرتے ہیں اور یہ اطاعت وہ قانونی گرفت کے خوف سے نہیں کرتے بلکہ اللہ کی گرفت کے خوف سے وہ یہ اطاعت کرتے ہیں۔ تقویٰ خشیت سے ذرا عام لفظ ہے کیونکہ خشیت اور خوف سے ڈر ! آگے بڑھ کر تقویٰ میں چھوٹے اور بڑے معاملات میں احتیاط کا شعور انسان کے اندر پیدا ہوجاتا ہے جبکہ خشیت میں خوف اور ڈر کا پہلو ہوتا ہے۔ جو شخص اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے ڈرتا ہے اور اطاعت کرتا ہے تو وہی کامیات ہوتا ہے۔ یہ شخص دنیا اور آخرت میں نجات پالیتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کی مخالفت نہیں کرتا۔ اور ایسے لوگ یقیناً کامیابی کے زیل بھی قرار پاتے ہیں اور ایسے لوگوں کی زندگی کے اندر ایسے اسباب ہوتے ہیں جو ان کی کامیابی کا سبب بنتے ہیں کیونکہ جو شخص اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرتا ہے وہ دراصل اللہ کے طے کردہ سیدھے منہاج پر چل رہا ہوتا ہے۔ یہ منہاج اس لیے کامیاب ہوتا ہے کہ یہ خود اللہ نے علم و حکمت کی بنیاد طے کیا ہوتا ہے۔ اس منہاج کا مزاج اور اس کی فطرت کے اندر یہ کامیابی مضمر ہوتی ہے۔ دنیا کی کامیابی بھی اور آخرت کی بھی۔ پھر اس نظام میں اللہ کا خوف اور تقویٰ وہ چوکیدار ہوتے ہیں جو اس نظام پر انسانوں کو چلاتے ہیں اور یہ نظام درست رہتا ہے۔ یہ جس جاوئہ مستقیم پر چل رہے ہوتے ہیں اس پر ہر جگہ دھوکہ دینے والی چیزیں ان کے لیے دامن گیر ہوتی رہتی ہیں لیکن یہ لوگ اپنی راہ سے انحراف نہیں کرتے۔
یہ آداب کہ انسان اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ‘ خدا خوفی تقویٰ اور خشیت کے ساتھ کرے نہایت ہی بلند آداب زندگی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے انسانوں کے دل نور ربانی سے روشن ہیں۔ یہ دل اللہ سے ملے ہوئے ہیں اور ان کے شعور میں خوف خدا بسا ہوا ہے اور ان آداب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دل نہایت ہی معزز اور سربلند ہیں۔ کیونکہ کوئی شریف آدمی یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ اپنے جیسے انسانوں کے سامنے ذلیل و خوار ہو اس لیے ایک مومن کا ضمیر اس سے ابا کرتا ہے۔ حقیقی اطاعت تو ہے ہی وہی جس میں اطاعت کرنے والا اس نظر سے اطاعت کرے کہ وہ ذات کبریا کی اطاعت کررہا ہے کیونکہ ایک سچا مومن صرف اللہ کے سامنے اپنے سر کو جھکا سکتا ہے۔
اہل ایمان کے ان اچھے آداب اور اہل نفاق کے ان برے آداب کے درمیان اس تقابل کے بعد کہ مومنین وہ ہوتے ہیں جو صرف اللہ کے سامنے جھکتے ہیں اور منافقین وہ ہوتے ہیں جو دعوائے ایمان تو کرتے ہیں لیکن مومن نہیں ہوتے ‘ اب منافقین کے بارے میں بقیہ بات مکمل کی جاتی ہے۔
النور 24:53
(ومن یطع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الفآئزون) (52)
آیت سابقہ میں موضوع سخن یہ تھا کہ اہل ایمان اللہ اور رسول ﷺ کے فیصلوں میں مطیع فرمان ہوتے ہیں۔ اب یہاں کہا جاتا ہے کہ اہل ایمان کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قانونی فیصلوں کے علاوہ بھی اللہ کے احکام ونواہی کی پابندی کرتے ہیں اور یہ اطاعت وہ قانونی گرفت کے خوف سے نہیں کرتے بلکہ اللہ کی گرفت کے خوف سے وہ یہ اطاعت کرتے ہیں۔ تقویٰ خشیت سے ذرا عام لفظ ہے کیونکہ خشیت اور خوف سے ڈر ! آگے بڑھ کر تقویٰ میں چھوٹے اور بڑے معاملات میں احتیاط کا شعور انسان کے اندر پیدا ہوجاتا ہے جبکہ خشیت میں خوف اور ڈر کا پہلو ہوتا ہے۔ جو شخص اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے ڈرتا ہے اور اطاعت کرتا ہے تو وہی کامیات ہوتا ہے۔ یہ شخص دنیا اور آخرت میں نجات پالیتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کی مخالفت نہیں کرتا۔ اور ایسے لوگ یقیناً کامیابی کے زیل بھی قرار پاتے ہیں اور ایسے لوگوں کی زندگی کے اندر ایسے اسباب ہوتے ہیں جو ان کی کامیابی کا سبب بنتے ہیں کیونکہ جو شخص اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرتا ہے وہ دراصل اللہ کے طے کردہ سیدھے منہاج پر چل رہا ہوتا ہے۔ یہ منہاج اس لیے کامیاب ہوتا ہے کہ یہ خود اللہ نے علم و حکمت کی بنیاد طے کیا ہوتا ہے۔ اس منہاج کا مزاج اور اس کی فطرت کے اندر یہ کامیابی مضمر ہوتی ہے۔ دنیا کی کامیابی بھی اور آخرت کی بھی۔ پھر اس نظام میں اللہ کا خوف اور تقویٰ وہ چوکیدار ہوتے ہیں جو اس نظام پر انسانوں کو چلاتے ہیں اور یہ نظام درست رہتا ہے۔ یہ جس جاوئہ مستقیم پر چل رہے ہوتے ہیں اس پر ہر جگہ دھوکہ دینے والی چیزیں ان کے لیے دامن گیر ہوتی رہتی ہیں لیکن یہ لوگ اپنی راہ سے انحراف نہیں کرتے۔
یہ آداب کہ انسان اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ‘ خدا خوفی تقویٰ اور خشیت کے ساتھ کرے نہایت ہی بلند آداب زندگی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے انسانوں کے دل نور ربانی سے روشن ہیں۔ یہ دل اللہ سے ملے ہوئے ہیں اور ان کے شعور میں خوف خدا بسا ہوا ہے اور ان آداب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دل نہایت ہی معزز اور سربلند ہیں۔ کیونکہ کوئی شریف آدمی یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ اپنے جیسے انسانوں کے سامنے ذلیل و خوار ہو اس لیے ایک مومن کا ضمیر اس سے ابا کرتا ہے۔ حقیقی اطاعت تو ہے ہی وہی جس میں اطاعت کرنے والا اس نظر سے اطاعت کرے کہ وہ ذات کبریا کی اطاعت کررہا ہے کیونکہ ایک سچا مومن صرف اللہ کے سامنے اپنے سر کو جھکا سکتا ہے۔
اہل ایمان کے ان اچھے آداب اور اہل نفاق کے ان برے آداب کے درمیان اس تقابل کے بعد کہ مومنین وہ ہوتے ہیں جو صرف اللہ کے سامنے جھکتے ہیں اور منافقین وہ ہوتے ہیں جو دعوائے ایمان تو کرتے ہیں لیکن مومن نہیں ہوتے ‘ اب منافقین کے بارے میں بقیہ بات مکمل کی جاتی ہے۔
النور 24:54
(واقسموا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الاالبلغ المبین) (52 : 53)
منافقین رسول اللہ ﷺ کے سامنے آکر قسمیں کھاتے تھے کہ اگر آپ ہمیں لڑنے کے لیے حکم دیں تو ہم ضرور نکلیں گے۔ حالانکہ اللہ خوب جانتا ہے کہ جھوٹے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس یقین دہانی کو نہایت ہی حقارت رد فرماتا ہے۔
قل لا تقسموا طاعۃ معروفۃ (24 : 53) ” ان سے کہو ‘ قسمیں نہ کھائو ‘ تمہاری اطاعت کا حال معلوم ہے “ ۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ تم کیسی اطاعت کرتے ہو۔ اور اس اطاعت پر قسمیں اٹھانے کی اب ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات ایسے شخص سے کہی جاتی ہے کہ جس کا جھوٹ معلوم ہو اور وہ مشہور جھوٹاہو۔ کہا جاتا ہے جی بس قسم نہ اٹھائو تم تو معروف و مشہور سچے ہو۔ قسم کی ضرورت ہی کیا ہے۔
اس مذاقیہ انداز کے بعد یہ بھی کہا جاتا ہے۔
ان اللہ خبیر بما تعملون (24 : 53) ” اللہ تمہارے تمام اعمال سے خبردار ہے “۔ لہٰذا تمہیں قسموں اور تاکیدات کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ کو تو علم ہے کہ اگر حکم دیا گیا تو نہ تم نکلو گے اور نہ لڑو گے “۔
چناچہ دوبارہ ان کو اطاعت کا حکم سنجیدگی سے دیا جاتا ہے۔ یعنی کہا جاتا ہے کہ حقیقی اطاعت کرو۔ وہ اطاعت نہ کرو جو تمہارے بارے میں معروف ہے۔
قل اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول (24 : 54) ” ان سے کہو اللہ کے مطیع بنو اور رسول ﷺ کے تابع فرمان ہو کر رہو “۔ اگر تم منہ موڑتے ہو اور اللہ و رسول ﷺ کے احکام کی مخالفت کرتے ہو اور ان کو نافذ نہیں کرتے تو فان تولوا فانما علیہ ماحمل (24 : 54) ” تو رسول پر جو فرض عائد ہے وہ اس کا ذمہ دار ہے “۔ یعنی اس کے ذمہ پیغام رسالت کی تبلیغ کرنا ہے اور یہ فرض اس نے بحسن و خوبی ادا کردیا ہے۔
وعلیکم ما حملتم (24 : 54) ” اور تم پر جو فرض عائد کیا گیا ہے اس کے ذمہ دار تم ہو “۔ اور تمہاری ذمہ داری یہ ہے کہ تم اطاعت کرو اور خلوص کے ساتھ ایمان لائو۔ تم نے اس سے منہ موڑ لیا ہے اور تم نے یہ ذمہ داری پوری پوری ادا نہیں کی ہے۔
وان تطیعوہ تھتدوا (24 : 54) ” اس کی اطاعت کرو گے تو خود ہی ہدایت پائوگے “ ۔ راہ راست پر آجائو گے اور ایک صحیح نظام کے تحت زندگی بسر کر کے دنیا و آخرت میں فلاح پائو گے۔
وما علی الرسول الا البلغ المبین (24 : 54) ” رسول کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ وہ صاف صاف حکم پہنچا دے “۔ رسول ﷺ سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم ایمان لائے تھے یا ‘ اگر تم منہ پھیر لو تو اس فعل کی وجہ سے رسول کو مجرم نہ گردانا جائے گا۔ تم مجرم ہو گے اور تمہیں ہی اس پر سزادی جائے گی۔ تم پر یہ فرد جرم عائد ہوگی کہ تم نے اللہ اور رسول اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کی ہے۔
منافقین کے معاملے کی تشریح کے بعد ‘ اب سیاق کلام ان کو ایک طرف چھوڑ دیتا ہے۔ اور اب کلام کا رخ اطاعت کیش مومنین کی طرف پھرجاتا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ان کی اس اطاعت کی جزاء کیا ہوگی یعنی قیامت کے انعامات و اکرامات سے ادھر اس جہان میں ان کا صلہ کیا ہوگا۔
النور 24:55
(وعد اللہ الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھم الفسقون) (55) ” “۔
یہ وعدہ ہے امت محمدیہ کے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیا۔ وعدہ یہ ہے کہ ان کو اس زمین پر اقتدار اعلیٰ دیا جائے گا اور جس دین اسلام کو اللہ نے ان کے لیے پسند کیا ہے اس کو غلبہ نصیب ہوگا۔ ان کی حالت خوف کو حالات امن و سکون سے بدل دے گا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ ہمیشہ سچ ہوتا ہے اللہ کا وعدہ ہمیشہ واقع ہوتا ہے اور اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کس قسم کے مومن ہیں جن کے ساتھ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ ان کو زمین پر اقتدار دیا جائے گا۔
اس ایمان کی حقیقت جس کے نتیجے میں اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ مومنین کو زمین کا اقتدار اعلیٰ عطا کیا جائے گا ‘ ایک عظیم حقیقت ہے اور وہ حقیقت پوری انسانی زندگی کو اپنے گھیرے میں لے ہوئے ہے۔ یہ حقیقت جب کسی انسان کے دل میں بیٹھ جاتی ہے تو اس کا ظہور اور اعلان عملی شکل میں ہوتا ہے۔ اس شخص کی تمام سرگرمیاں اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتی ہیں۔ یہ مرد مومن رضائے الہی کے لیے کام شروع کردیتا ہے۔ اللہ کی اطاعت اور اس کے احکام و قوانین کے سامنے چھوٹے اور بڑے معاملات میں سر تسلیم خم کردیتا ہے۔ پھر کسی معاملے میں اس کے نفس کی کوئی خواہش باقی نہیں رہتی۔ نہ اس کے دل میں کوئی شہوت ہوتی ہے نہ اس کی فطرت میں کوئی کجی رہتی ہے اور یہ مومن ان تمام باتوں میں اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت شروع کردیتا ہے۔
یہ ایمان ایسا ہوتا ہے کہ جس کے اندر انسان پوری طرح غرق ہوجاتا ہے۔ اس کے خیالات اس ایمان میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں ‘ اس کے دل کی دھڑکن ایمان ہوتی ہے۔ اس کی روح کی دلچسپیاں ایمانی معاملات میں ہوتی ہیں۔ اس کی فطرت کے میلانات اور اس کے جسم کی حرکات اور اس کے اعضا کی گردشیں ‘ اس کا اپنے رب کے ساتھ سلوک اور اس کا عوام الناس کے ساتھ برتائو سب کے سب اللہ کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں اور یہ باتیں سب کی سب آیت استخلاف میں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ خود بیان کرتے ہیں کہ اس اقتدار اعلیٰ کی اعطاء کب ہوگی۔
یعبدوننی لا یشرکون بی شیئا (24 : 55) ” وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں “۔ شرک کی کئی اقسام ہیں۔ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف عقائد میں ‘ عمل میں ‘ شعور میں متوجہ ہونا بھی شرک ہے۔
معلوم ہوا کہ ایمان ایک مکمل نظام زندگی کا نام ہے۔ اس میں اللہ کے تمام احکام وا وا مرشامل ہیں۔ اور جب یہ تمام احکام انسانی زندگی میں عملاً قائم ہوں تو اقتدار اعلیٰ کے تمام اسباب فراہم ہوجاتے ہیں۔ تیاری مکمل ہوجاتی ہے ‘ وسائل فراہم ہوجاتے ہیں اور انسان پھر امانت کبریٰ اور اقتدار اعلیٰ کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہوجاتا ہے یعنی زمین پر اللہ کے خلیفہ ہونے کی امانت اس کے سپرد ہوجاتی ہے۔
استخلاف فی الارض یا زمین کے اقتدار اعلیٰ کا مفہوم کیا ہے ؟ اس سیمراد صرف یہ نہیں ہے کہ کسی قوم کو حکومت ‘ اقتدار اور آرڈر نافذ کرنے کے اختیارات مل جائیں بلکہ اللہ کا خلیفہ ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ ان قوتوں کو کوئی اصلاح ‘ تعمیر اور ترقی کے لیے استعمال کرے۔ اس کے ذریعے اس نظام زندگی کی راہ ہموار کرے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے لیے بھیجا ہے تاکہ تمام انسانیت اس راہ پر چل نکلے اور انسان اس کرئہ ارض پر وہ کمال حاصل کرے جو اللہ نے اس کے لیے مقدر کیا ہے اور جس کی وجہ سے انسان مکرم ہوا ہے۔
اللہ کا خلیفہ وہ نہیں ہے جو دنیا میں فساد اور تخریب کا کام کرے بلکہ وہ ہوتا ہے جو اس دنیا کی اصلاح ‘ تعمیر اور ترقی میں حصہ لے اور دنیا کو انصاف اور عدل دے یہ نہ ہو کہ وہ انسانوں پر ظلم کرے اور انسانیت کے معیار کو بلند کرنے کے بجائے گرائے۔ وہ انسانوں کے اندر پائے جانے والے نظام کی اصلاح کرنے کے بجائے ظلم کرے۔ وہ یہ نہ کرے کہ اچھے انسانوں کو مقام حیوانیت تک گرائے بلکہ جو انسان حیوانیت تک گر گئے ہیں ان کو اٹھائے۔
یہ اقتدار ‘ اقتدار اعلیٰ ہے جس کا وعدہ اللہ اہل ایمان سے کرتے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں اس قسم کا اقتدار دیتا رہا ہے تاکہ اس کرئہ ارض پر اللہ کی منشا کو پوراکریں اور اللہ کی منشا کیا ہے ؟ یہ کہ وہ یہاں انسانیت کو کمال انسانیت تک پہنچائیں ‘ جس کمال تک پہنچنا اللہ نے یوم تخلیق ہی سے اس کے لیے مقدر کردیا تھا ۔ مگر وہ لوگ جو زمین میں اقتدار پر آتے ہیں اور اس کی وجہ سے فساد پھیلاتے ہیں ‘ زمین میں سرکشی اور ظلم کو رائج کرتے ہیں اور انسانیت کو حیوانیت کے درجے تک گراتے ہیں تو یہ لوگ اللہ کی طرف سے اس زمین پر خلفاء نہیں بلکہ وہ شیطان کے پیروکار ہیں۔ ان کو یہ مقام بطور آزمائش دیا گیا ہے اور لوگوں پر ان کو بطور سزا مسلط کیا گیا ہے۔
ہم نے اس استخلاف کا جو مفہوم سمجھا ہے اس کی طرف خود اس آیت کے اندر اشارہ موجود ہے۔ کہا گیا ہے۔
ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضی لھم (24 : 55) ” ان کے لیے اس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کردے گا جو اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے “۔ اور دین تب متمکن ہو سکتا ہے کہ جب یہ مومنین کے دلوں کے اندر بیٹھ جائے۔ جب ان کی زندگی کے ہر عمل میں وہ مضبوطی سے نافذ ہوجائے۔ جب ان کی زندگیوں میں اور ان کے قلوب میں ایمان اچھی طرح بیٹھ جائے گا تو انہیں استخلاف فی الارض نصیب ہوگا۔ اللہ نے ان کے لیے جو دین پسند کیا ہے وہ زمین پر غالب ہوجائے اور ان کا دین جن باتوں کا حکم دیتا ہے ان میں اصلاح ‘ عدل اور انسانی خواہشات پر کنٹرول شامل ہیں۔ نیز زمین کے اندر جس قدر نعمتیں رکھی ہیں اس سے استفادہ اور ان کی تلاش بھی اس میں شامل ہے بشرطیکہ ان تمام سرگرمیوں میں انسان کی سمت اور قبلہ اللہ ہی ہو۔
ولیبدلنھم من بعد خوفھم امنا (24 : 55) ” اور ان کی موجودہ حالت خوف کو امن سے بدل دے گا “۔ مسلمان مکہ میں خائف تھے۔ امن وامان کی حالت نہایت مشکوک تھی۔ وہ ہر وقت مسلح رہتے تھے اور کسی وقت بھی ان کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہ تھی۔ یہاں تک کہ حضرت نبی ﷺ اور مسلمانوں کی ہجرت کے بعد بھی وہ اسلحہ بند رہتے تھے۔ ربیع ابن انس نے اس آیت کے بارے میں ابو العالیہ سے نقل کیا ہے کہ حضور اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی مکہ میں دس سال سے زیادہ عرصہ صرف ایک خدا کی طرف دعوت دیتے رہے ‘ صرف اللہ وحدہ کی عبادت کی طرف بلاتے رہے اور ہر قسم کے شرک سے ممانعت کرتے رہے۔ یہ دعوت وہ چھپ کردیتے تھے ان کو ہر وقت خوف لاحق رہتا تھا۔ مسلمانوں کو جنگ کرنے کی ممانعت تھی۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں ان کو لڑنے کی اجازت دی گئی تو مدینہ میں بھی وہ اکثر حالت خوف میں رہتے تھے۔ وہ صبح و شام اسلحہ بندرہتے تھے۔ اس قسم کی زندگی پر انہوں نے طویل عرصہ تک صبر کیا۔ صحابہ کرام میں سے ایک شخص نے کہا ‘ اے رسول اللہ ﷺ ‘ کیا ہم ہمیشہ اسی طرح خائف رہیں گے ؟ کیا ایسا دورنہ آئے گا کہ ہم اس میں اپنے اسلحہ کو رکھ دیں اور امن وامان سے رہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ذرا تھوڑا سا اور صبر کرو ‘ تم میں سے ایک شخص ایک عظیم مجمع میں ہوگا اور کسی کے پاس ایک چھوٹا سا لوہا بھی نہ ہوگا “۔ اس موقعہ پر اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ نبی ﷺ کو جزیرۃ العرب پر غلبہ نصیب ہوا تو وہ ایمان لائے اور اسلحہ رکھ دیا۔ اس کے بعد اللہ نے نبی ﷺ کو اٹھا لیا تو مسلمان حضرت ابوبکر ؓ ‘ حضرت عمر ؓ اور حضرت عثمان ؓ کی امارت میں امن سے رہے۔ اس کے بعد وہ ان واقعات میں پڑگئے جن میں پڑگئے تو اللہ نے پھر ان کو خوف میں مبتلا کردیا تو انہوں نے دے ‘ شرطے وغیرہ اپنالیے۔ وہ بدل گئے تو اللہ نے بھی ان کو بدل دیا۔
ومن کفر بعد ذلک فائولئک ھم الفسقون (24 : 55) ” اور اس کے بعد جو کفر کرے تو ایسے لوگ ہی فاسق ہیں “۔ یہ لوگ اللہ کی شرائط کے ترک کرنے والے ہیں اور اسللہ سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو توڑنے والے ہیں۔ اللہ کا وعدہ ایک بار پورا ہوگیا اور یہ قائم رہا اس وقت تک جب مسلمان اللہ کی شرائط کو پورا کرتے رہے یعنی
یعبدوننی لا یشرکون بی شیئا (24 : 55) ” وہ میری بندگی کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے “۔ نہ ان کی خواہشات نفسانیہ ان کے لیے الہ ہوں گی۔ وہ شرک نہ کریں گے اور اللہ کی بندگی پر قائم رہیں گے۔ اللہ کا یہ وعدہ اب بھی ہر گروہ مومن کے لیے قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گا۔ کسی بھی وقت جب گروہ مومن اللہ کا خلیفہ نہیں ہوتا ‘ متمکن فی الارض نہیں ہوتا اور امن سے نہیں ہوتا تو وہ اس لیے کہ وہ اس وعدے اور اس پیمان کی وسیع تر شرائط کو پورا نہیں کررہا ہوتا۔ ایمان اور عہد الہی کے تقاضے وہ پورے نہیں کررہا ہوتا۔ لیکن جب امت آزمائش میں کامیاب ہوجاتی ہے اور امتحان پاس کرلیتی ہے یا خوف میں مبتلا ہوتی ہے تو اللہ سے امن طلب کرتی ہے۔ وہ ذلیل ہوتی ہے تو اللہ سے عزت طلب کرتی ہے۔ وہ پسماندہ رہ جاتی ہے تو خلافت فی الارض کی طلبگار ہوتی ہے ۔ یہ کام وہ ان وسائل کے ساتھ کرتی ہے جو اللہ نے تجویز کیے ہیں اور ان شرائط کے ساتھ کرتی ہے جو اللہ نے مقرر کی ہیں تو پھر اس وقت اللہ کا وہ وعدہ متحقق ہوتا ہے جو اٹل ہوتا ہے۔ پھر امت مسلمہ کی راہ میں دنیا کی کوئی قوت نہیں ٹھہر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس وعدے کے بعد حکم دیا جاتا ہے۔ نماز قائم کرو ‘ زکوۃ دو اور اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرو۔ اور مومن اور رسول اللہ ﷺ ان کفار سے ہر گز مرعوب نہ ہوں جو اللہ ‘ رسول اللہ اور دین اسلام کے خلاف جنگ کررہے ہیں۔
النور 24:56
(واقیمو الصلوۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ ولبئس المصیر) (56 : 57)
اللہ کی جانب تیاری کی یہ ہیں نہایت ہی مختصر شرائط۔ اتصال باللہ ‘ تعلق باللہ اور نماز کے ذریعہ دل کو درست کرنا اور اپنائے زکوۃ کے ذریعہ بخل اور دولت پرستی کے جذبات پر قابو پانا ‘ رسو اللہ ﷺ کی اطاعت کرنا ‘ نہایت ہی خوشدلی کے ساتھ۔ چھوٹے اور بڑے معاملات میں اللہ کے احکام کو نافذ کرنا اور زندگی کا وہ منبع اختیار کرنا جو اللہ نے زندگی گزارنے کے لیے تجویز کیا ہے۔
لعلکم ترحمون (24 : 56) ” امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا “۔ یعنی زمین میں تمہیں فساد خوف ‘ بےچینی اور گمراہی سے بچائے گا۔ اور آخرت میں غضب الہی ‘ عذاب الہی اور اللہ کے انتقام سے تمہیں بچائے گا۔
جب تم اپنے آپ کو اس طریقہ کار پر درست کرلو ‘ تو پھر تمہارے لیے کفار کی قوت سے ڈرنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ وہ اللہ کی زمین پر اللہ اور اللہ والوں کو عاجز نہیں کرسکتے۔ ان کی ظاہری قوت تمہاری راہ نہیں روک سکتی کیونکہ تمہارا ایمان قوی ہوگا۔ تمہارے ساتھ روحانی قوت بھی ہوگی۔ جب تم ایک مومن کی طرح کفر سے ٹکرائو گے تو تم عجیب و غریب خارق عادت معجزات صادر کرو گے۔
ان آیات میں اللہ نے جو وعدہ کیا ہے جو لوگ اس سے فائد اٹھانا چاہتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ وہ عظیم ایمانی حقیقت اپنے اندر پیدا کرلیں۔ تاریخ انسانی میں اس وعدے کی ایک تعبیر تو ضروری ہے بشرطیکہ جو شخص اس کی تعبیر چاہتا ہے وہ اس وعدے کی شرائط پر عمل پیرا ہو۔ جب بھی ان شرائط کو مکمل کیا جائے گا بغیر کسی شک ‘ بغیر کسی دیر کے ‘ یہ وعدہ پورا ہوجائے گا۔
جب بھی امت مسلمہ نے اللہ کی راہ اور اللہ کے منہاج پر چلنا شروع کیا ہے یا کرے گی ‘ اور جب بھی اس نے اسلام نظام حیات کو اپنی زندگی کا حکمران تصور کیا ہے اور کرے گی اور جب بھی امت اس دین پر راضی ہوئی ہے اور ہوگی ‘ کہ اس کے تمام معاملات اسلامی نظام کے مطابق ہوں تو اللہ کا وعدہ متحقق ہوگیا ہے اور ہوگا۔ اس کو اقتدار اعلیٰ نصیب ہوا ہے اور ہوگا۔ جب بھی امت نے ان شرائط کی مخالفت کی ہے اور کرے گی تو وہ ذلیل ہوئی ہے اور ہوگی۔ وہ دوسری اقوام کی دم چھلابنی ہے اور بنی رہے گی۔ ذلیل ہوئی اور ہوگی۔ دنیا کی اقوام کے مقام قیادت سے اسے گرایا گیا ہے اور گرائی جائے گی۔ اس پر خوف طاری ہوا ہے اور ہوگا۔ دشمنوں نے اسے اچک لیا ہے اور اچک لیا جائے گا۔
خبردار ! یارکھو اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اس کی شرائط معروف و معلوم ہیں۔ جو بھی چاہے شرائط پوری کر کے آزمالے اور جو اللہ کے ساتھ کیے ہوئے وعدوں کو پورا کرے گا تو اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا اور کوئی نہیں ہے۔
النور 24:57
(واقیمو الصلوۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ ولبئس المصیر) (56 : 57)
اللہ کی جانب تیاری کی یہ ہیں نہایت ہی مختصر شرائط۔ اتصال باللہ ‘ تعلق باللہ اور نماز کے ذریعہ دل کو درست کرنا اور اپنائے زکوۃ کے ذریعہ بخل اور دولت پرستی کے جذبات پر قابو پانا ‘ رسو اللہ ﷺ کی اطاعت کرنا ‘ نہایت ہی خوشدلی کے ساتھ۔ چھوٹے اور بڑے معاملات میں اللہ کے احکام کو نافذ کرنا اور زندگی کا وہ منبع اختیار کرنا جو اللہ نے زندگی گزارنے کے لیے تجویز کیا ہے۔
لعلکم ترحمون (24 : 56) ” امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا “۔ یعنی زمین میں تمہیں فساد خوف ‘ بےچینی اور گمراہی سے بچائے گا۔ اور آخرت میں غضب الہی ‘ عذاب الہی اور اللہ کے انتقام سے تمہیں بچائے گا۔
جب تم اپنے آپ کو اس طریقہ کار پر درست کرلو ‘ تو پھر تمہارے لیے کفار کی قوت سے ڈرنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ وہ اللہ کی زمین پر اللہ اور اللہ والوں کو عاجز نہیں کرسکتے۔ ان کی ظاہری قوت تمہاری راہ نہیں روک سکتی کیونکہ تمہارا ایمان قوی ہوگا۔ تمہارے ساتھ روحانی قوت بھی ہوگی۔ جب تم ایک مومن کی طرح کفر سے ٹکرائو گے تو تم عجیب و غریب خارق عادت معجزات صادر کرو گے۔
ان آیات میں اللہ نے جو وعدہ کیا ہے جو لوگ اس سے فائد اٹھانا چاہتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ وہ عظیم ایمانی حقیقت اپنے اندر پیدا کرلیں۔ تاریخ انسانی میں اس وعدے کی ایک تعبیر تو ضروری ہے بشرطیکہ جو شخص اس کی تعبیر چاہتا ہے وہ اس وعدے کی شرائط پر عمل پیرا ہو۔ جب بھی ان شرائط کو مکمل کیا جائے گا بغیر کسی شک ‘ بغیر کسی دیر کے ‘ یہ وعدہ پورا ہوجائے گا۔
جب بھی امت مسلمہ نے اللہ کی راہ اور اللہ کے منہاج پر چلنا شروع کیا ہے یا کرے گی ‘ اور جب بھی اس نے اسلام نظام حیات کو اپنی زندگی کا حکمران تصور کیا ہے اور کرے گی اور جب بھی امت اس دین پر راضی ہوئی ہے اور ہوگی ‘ کہ اس کے تمام معاملات اسلامی نظام کے مطابق ہوں تو اللہ کا وعدہ متحقق ہوگیا ہے اور ہوگا۔ اس کو اقتدار اعلیٰ نصیب ہوا ہے اور ہوگا۔ جب بھی امت نے ان شرائط کی مخالفت کی ہے اور کرے گی تو وہ ذلیل ہوئی ہے اور ہوگی۔ وہ دوسری اقوام کی دم چھلابنی ہے اور بنی رہے گی۔ ذلیل ہوئی اور ہوگی۔ دنیا کی اقوام کے مقام قیادت سے اسے گرایا گیا ہے اور گرائی جائے گی۔ اس پر خوف طاری ہوا ہے اور ہوگا۔ دشمنوں نے اسے اچک لیا ہے اور اچک لیا جائے گا۔
خبردار ! یارکھو اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اس کی شرائط معروف و معلوم ہیں۔ جو بھی چاہے شرائط پوری کر کے آزمالے اور جو اللہ کے ساتھ کیے ہوئے وعدوں کو پورا کرے گا تو اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا اور کوئی نہیں ہے۔
النور 24:58
درس نمبر 156 ایک نظر میں
اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ وہ انسانی زندگی کے مختلف طور طریقوں کو منظم کرتا ہے۔ تمام تعلقات ‘ تمام رابطوں ‘ تمام حرکات و سکنات ‘ اور تمام مسائل میں انسانی زندگی کی تنظیم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام روز مرہ کے انسانی آداب بھی سکھاتا ہے جس طرح وہ عمومی فرائض اور بڑے بڑے معاملات کی تعلیم دیتا ہے وہ ان تمام امور کے اندر نظم اور یکجہتی پیدا کرتا ہے اور زندگی کے تمام امور کو اللہ کی سمت موڑ دیتا ہے۔
یہ سورة اس امر کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ اس سورة میں ایک طرف تو اسلام کے قوانین وحد ود بتائے گئے ہیں اور دوسری طرف ایک جگہ بسنے والے انسانوں کے باہم ملاقات کے آداب سکھائے گئے ہیں یعنی قانون اسپذان۔ اس کے ساتھ ساتھ اس پوری کائناپ پر غور و فکر کے خالص فلسفیانہ اور سائنسی مضامین بھی لائے گئے ہیں۔ پھر اس میں اسلامی انقلاب کو روبعمل لانے کا دائمی منہاج بھی دیا گیا ہے کہ جب بھی تم اس پر عمل کرو گے زمین کا اقتدار اعلیٰ تمہیں مل جائے گا۔ اس سبق میں یہ آداب بھی سکھائے جاتے ہیں کہ جب تم کسی کے گھر ملنے کے لیے جائو تو اجازت طلب کرنے کے آداب یہ ہیں۔ پھر مجلس رسول ﷺ کے آداب یہ ہیں۔ پھر یہ کہ ملاقات اور کھانے پینے اور ضیافت کرنے اور اس سے استفادہ کرنے کے آداب یہ ہیں۔ پھر باہم خطاب اور ہم کلام ہونے اور رسول اللہ ﷺ سے ہمکلام ہونے کے آداب یہ ہیں۔ یہ تمام آداب یہ اور ہدایات ایسی ہیں جن کا تعلق اسلامی سوسائٹی کی تنظیم اور تربیت سے ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم اسلامی سوسائٹی کو چھوٹے بڑے تمام معاملات میں ترتیب دیتا ہے۔
درس نمبر 156 تشریح آیات
58۔۔ تا۔۔۔۔۔۔۔۔ 64
(یآیھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ علیم حکیم واذا بلغ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ علیم حکیم ” اس سورة میں گھروں میں داخلہ کے طریق کار پر اس سے قبل بحث ہوچکی ہے یعنی گھر میں داخلہ سے قبل طلب اجازت یہاں اب گھروں میں اندر آنے یا ان لوگوں کا ذکر ہے جن سے گھروں کے اندر پر دہ لازمی نہیں ہے جبکہ داخل ہونے کے احکام استیذان ان پر بھی لازمی ہیں۔
مثلا خدام ‘ غلام ‘ وہ لڑکے جو عورتوں کے معاملات سے ابھی تک اچھی طرح واقف نہیں ہیں وہ بلا روک ٹوک گھروں میں داخل ہوسکتے ہیں۔ الا یہ کہ تین اوقات میں یہ بھی نہیں آسکتے جن میں لوگ کپڑے اتار کر آرام کرتے ہیں۔ ان مخصوص اوقات میں ان لوگوں کو بھی اجازت سے اندر آنا چاہیے۔ وہ اوقات یہ ہیں ‘ یعنی نماز فجر سے پہلے جب لوگ عموماً سونے کے کپڑوں میں ہوتے ہیں یا انہوں نے یہ کپژے تبدیل نہیں کیے ہوتے اور باہر نکلنے کے کپژے نہیں پہنے ہوتے اور دوپہر کے وقت جب لوگ قیلولہ کرتے ہیں اور عادی لباس اتار کر آرام کرتے ہیں اور نماز عشاء کے بعد کے وقت جب سب لوگ آرام کرتے ہیں اور گھروں کے لباس میں ہوتے ہیں۔
یہ اوقات ” اوقات عورات “ ہیں یعنی ان اوقات میں لوگ کپڑے تار دیتے ہیں۔ ان اوقات میں خانگی نوکروں کے لیے لازم ہے کہ وہ گھر کے اندر اجازت لے کر جائیں اور ان نو عمر لڑکوں کے لیے بھی اجازت ضروری ہے جو اگر چہ بالغ نہ ہوئے ہوں لیکن سیانے ہوگئے ہوں۔ یہ اس لیے کہ ان کی نظریں اہل خانہ کے ننگے اجسام پر نہ پڑجائیں۔ یہ وہ آداب ہیں جن کے سلسلے میں آج کے دور جدید میں بھی خانگی زندگی میں عمل نہیں کیا جاتا اور یہ پابندیاں نہ کرنے کے نفسیاتی ‘ اعصابی اور اخلاقی اثرات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ نوکروں کی نظریں مالکان خانہ پر نہیں پرتیں اور یہ کہ قبل از بلوغ مراھق لڑکے ایسی باتوں سے بیخبر ہوتے ہیں حالانکہ ماہرین نفسیات یہ کہتے ہیں کہ بچپن میں بچوں کی نظریں جن مناظر پر پڑتی ہیں بعد کے زمانے میں ان کا اثر بھی بچے کی زندگی پر پڑتا ہے اور ان کی وجہ سے وہ ایسی نفسیاتی اور اعصابی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں جن کا علاج ہی نہیں ہوتا۔ یاد رہے کہ ہمارے دور میں علم النفس نے خوب ترقی کرلی ہے۔ اللہ علیم وخبیر ہے۔ اس نے اہل ایمان کو اس قسم کے بلند آداب سکھائے کیونکہ وہ ایک ایسی امت پیدا کرنا چاہتا تھا جس کے اعصاب صحیح و سلامت ہوں ‘ جس کا سینہ صحیح ہو ‘ جس کا شعور پاکیزہ ہو ‘ جس کے دل پاک ہوں اور جس کے تصورات صاف اور ستھرے ہوں۔
ان تین اوقات کو اس لیے مخصوص کیا گیا ہے کہ ان میں بالعموم لوگ لاپرواہی کی حالت میں ہوتے ہیں اور اس گمان پر کہ ان اوقات میں باہر کا کوئی آدمی اندر نہیں آتا ‘ لوگ تن ڈھاپننے کی پرواہ نہیں کرتے۔ اگر تمام اوقات میں ملازمین خانہ اور چھوٹے لڑکوں کے لیے اجازت لینے کو لازم کردیا جاتا تو اس پر عمل کرنے میں بڑی دقت ہوتی کیونکہ ملازم اور چھوٹے بچے ہر وقت آتے جاتے رہتے ہیں۔
طوفون علیکم بعضکم علی بعض (24 : 58) ” تمہیں ایک دوسرے کے پاس آنا جانا رہتا ہے “۔ یوں اللہ تعالیٰ نے پردہ داری کا بھی انتظام کردیا ‘ مشکل کو بھی دور کردیا اور مشقت اور حرج کو بھی دور کردیا۔ اگر دوسرے اجنبی بالغوں کی طرح ہر وقت ان کے لیے بھی اجازت لینا لازم کردیا گیا ہوتا تو اس میں تمہارے لیے مشکلات ہوتیں۔
چھوٹے لڑکے جب سن بلوغ کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اجنبی لوگوں کے حکم میں آجائیں گے اور وہ اسی حکم میں آجائیں گے جو عام حالت استیذان میں لوگوں کے لیے مقرر ہے۔ آخر میں کہا جاتا ہے۔
واللہ علیم حکیم (24 : 58) ” اور اللہ علیم و حکیم ہے “۔ کیونکہ قانون سازی اور اخلاقی رویہ کے اثرات کے بارے میں انسانوں کے مزاج کو اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کے لیے کیا مفید ہے اور کیا مفید نہیں ہے۔
اس سے پہلے یہ حکم آیا تھا کہ عورتیں اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں تاکہ اسلامی معاشرے کے اندر کوئی جنسی فتنہ نہ آئے۔ یہاں ایسی بوڑھی عورتوں کو اس سے مستثنیٰ کیا جاتا ہے جن کے اندر مردوں کے ساتھ معاشرت کی کوئی رغبت باقی نہیں رہی ہے اور ان کے اجسام کے اندر بھی ایسی کوئی فتنہ سامانی نہیں ہے۔
النور 24:59
درس نمبر 156 ایک نظر میں
اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ وہ انسانی زندگی کے مختلف طور طریقوں کو منظم کرتا ہے۔ تمام تعلقات ‘ تمام رابطوں ‘ تمام حرکات و سکنات ‘ اور تمام مسائل میں انسانی زندگی کی تنظیم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام روز مرہ کے انسانی آداب بھی سکھاتا ہے جس طرح وہ عمومی فرائض اور بڑے بڑے معاملات کی تعلیم دیتا ہے وہ ان تمام امور کے اندر نظم اور یکجہتی پیدا کرتا ہے اور زندگی کے تمام امور کو اللہ کی سمت موڑ دیتا ہے۔
یہ سورة اس امر کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ اس سورة میں ایک طرف تو اسلام کے قوانین وحد ود بتائے گئے ہیں اور دوسری طرف ایک جگہ بسنے والے انسانوں کے باہم ملاقات کے آداب سکھائے گئے ہیں یعنی قانون اسپذان۔ اس کے ساتھ ساتھ اس پوری کائناپ پر غور و فکر کے خالص فلسفیانہ اور سائنسی مضامین بھی لائے گئے ہیں۔ پھر اس میں اسلامی انقلاب کو روبعمل لانے کا دائمی منہاج بھی دیا گیا ہے کہ جب بھی تم اس پر عمل کرو گے زمین کا اقتدار اعلیٰ تمہیں مل جائے گا۔ اس سبق میں یہ آداب بھی سکھائے جاتے ہیں کہ جب تم کسی کے گھر ملنے کے لیے جائو تو اجازت طلب کرنے کے آداب یہ ہیں۔ پھر مجلس رسول ﷺ کے آداب یہ ہیں۔ پھر یہ کہ ملاقات اور کھانے پینے اور ضیافت کرنے اور اس سے استفادہ کرنے کے آداب یہ ہیں۔ پھر باہم خطاب اور ہم کلام ہونے اور رسول اللہ ﷺ سے ہمکلام ہونے کے آداب یہ ہیں۔ یہ تمام آداب یہ اور ہدایات ایسی ہیں جن کا تعلق اسلامی سوسائٹی کی تنظیم اور تربیت سے ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم اسلامی سوسائٹی کو چھوٹے بڑے تمام معاملات میں ترتیب دیتا ہے۔
درس نمبر 156 تشریح آیات
58۔۔ تا۔۔۔۔۔۔۔۔ 64
(یآیھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ علیم حکیم واذا بلغ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ علیم حکیم ” اس سورة میں گھروں میں داخلہ کے طریق کار پر اس سے قبل بحث ہوچکی ہے یعنی گھر میں داخلہ سے قبل طلب اجازت یہاں اب گھروں میں اندر آنے یا ان لوگوں کا ذکر ہے جن سے گھروں کے اندر پر دہ لازمی نہیں ہے جبکہ داخل ہونے کے احکام استیذان ان پر بھی لازمی ہیں۔
مثلا خدام ‘ غلام ‘ وہ لڑکے جو عورتوں کے معاملات سے ابھی تک اچھی طرح واقف نہیں ہیں وہ بلا روک ٹوک گھروں میں داخل ہوسکتے ہیں۔ الا یہ کہ تین اوقات میں یہ بھی نہیں آسکتے جن میں لوگ کپڑے اتار کر آرام کرتے ہیں۔ ان مخصوص اوقات میں ان لوگوں کو بھی اجازت سے اندر آنا چاہیے۔ وہ اوقات یہ ہیں ‘ یعنی نماز فجر سے پہلے جب لوگ عموماً سونے کے کپڑوں میں ہوتے ہیں یا انہوں نے یہ کپژے تبدیل نہیں کیے ہوتے اور باہر نکلنے کے کپژے نہیں پہنے ہوتے اور دوپہر کے وقت جب لوگ قیلولہ کرتے ہیں اور عادی لباس اتار کر آرام کرتے ہیں اور نماز عشاء کے بعد کے وقت جب سب لوگ آرام کرتے ہیں اور گھروں کے لباس میں ہوتے ہیں۔
یہ اوقات ” اوقات عورات “ ہیں یعنی ان اوقات میں لوگ کپڑے تار دیتے ہیں۔ ان اوقات میں خانگی نوکروں کے لیے لازم ہے کہ وہ گھر کے اندر اجازت لے کر جائیں اور ان نو عمر لڑکوں کے لیے بھی اجازت ضروری ہے جو اگر چہ بالغ نہ ہوئے ہوں لیکن سیانے ہوگئے ہوں۔ یہ اس لیے کہ ان کی نظریں اہل خانہ کے ننگے اجسام پر نہ پڑجائیں۔ یہ وہ آداب ہیں جن کے سلسلے میں آج کے دور جدید میں بھی خانگی زندگی میں عمل نہیں کیا جاتا اور یہ پابندیاں نہ کرنے کے نفسیاتی ‘ اعصابی اور اخلاقی اثرات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ نوکروں کی نظریں مالکان خانہ پر نہیں پرتیں اور یہ کہ قبل از بلوغ مراھق لڑکے ایسی باتوں سے بیخبر ہوتے ہیں حالانکہ ماہرین نفسیات یہ کہتے ہیں کہ بچپن میں بچوں کی نظریں جن مناظر پر پڑتی ہیں بعد کے زمانے میں ان کا اثر بھی بچے کی زندگی پر پڑتا ہے اور ان کی وجہ سے وہ ایسی نفسیاتی اور اعصابی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں جن کا علاج ہی نہیں ہوتا۔ یاد رہے کہ ہمارے دور میں علم النفس نے خوب ترقی کرلی ہے۔ اللہ علیم وخبیر ہے۔ اس نے اہل ایمان کو اس قسم کے بلند آداب سکھائے کیونکہ وہ ایک ایسی امت پیدا کرنا چاہتا تھا جس کے اعصاب صحیح و سلامت ہوں ‘ جس کا سینہ صحیح ہو ‘ جس کا شعور پاکیزہ ہو ‘ جس کے دل پاک ہوں اور جس کے تصورات صاف اور ستھرے ہوں۔
ان تین اوقات کو اس لیے مخصوص کیا گیا ہے کہ ان میں بالعموم لوگ لاپرواہی کی حالت میں ہوتے ہیں اور اس گمان پر کہ ان اوقات میں باہر کا کوئی آدمی اندر نہیں آتا ‘ لوگ تن ڈھاپننے کی پرواہ نہیں کرتے۔ اگر تمام اوقات میں ملازمین خانہ اور چھوٹے لڑکوں کے لیے اجازت لینے کو لازم کردیا جاتا تو اس پر عمل کرنے میں بڑی دقت ہوتی کیونکہ ملازم اور چھوٹے بچے ہر وقت آتے جاتے رہتے ہیں۔
طوفون علیکم بعضکم علی بعض (24 : 58) ” تمہیں ایک دوسرے کے پاس آنا جانا رہتا ہے “۔ یوں اللہ تعالیٰ نے پردہ داری کا بھی انتظام کردیا ‘ مشکل کو بھی دور کردیا اور مشقت اور حرج کو بھی دور کردیا۔ اگر دوسرے اجنبی بالغوں کی طرح ہر وقت ان کے لیے بھی اجازت لینا لازم کردیا گیا ہوتا تو اس میں تمہارے لیے مشکلات ہوتیں۔
چھوٹے لڑکے جب سن بلوغ کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اجنبی لوگوں کے حکم میں آجائیں گے اور وہ اسی حکم میں آجائیں گے جو عام حالت استیذان میں لوگوں کے لیے مقرر ہے۔ آخر میں کہا جاتا ہے۔
واللہ علیم حکیم (24 : 58) ” اور اللہ علیم و حکیم ہے “۔ کیونکہ قانون سازی اور اخلاقی رویہ کے اثرات کے بارے میں انسانوں کے مزاج کو اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کے لیے کیا مفید ہے اور کیا مفید نہیں ہے۔
اس سے پہلے یہ حکم آیا تھا کہ عورتیں اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں تاکہ اسلامی معاشرے کے اندر کوئی جنسی فتنہ نہ آئے۔ یہاں ایسی بوڑھی عورتوں کو اس سے مستثنیٰ کیا جاتا ہے جن کے اندر مردوں کے ساتھ معاشرت کی کوئی رغبت باقی نہیں رہی ہے اور ان کے اجسام کے اندر بھی ایسی کوئی فتنہ سامانی نہیں ہے۔
النور 24:60
(والقواعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سمیع علیم ) (60)
یہ عورتیں جو جوانی گزار بیٹھی ہیں ‘ یہ اگر اپنے خارجی کپڑے اتار دیں تو ان کے لیے کوئی حرج نہیں ہے۔ ہاں ان پر بھی لازمی ہے کہ وہ اپنی عورات کو ظاہر نہ کریں اور نہ اپنی زینت کو ظاہر کریں۔ تاہم ان کے لیے بھی بہتر یہی ہے کہ وہ ڈھکی چھپی رہیں اور اپنے کشادہ کپڑے اوڑھے رہیں۔ اس کو زیادہ عفت مآبی سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی عفت اور پاکیزگی کے لیے زیادہ قابل ترجیح امر ہے۔ کیونکہ تبرج اور اظہار زینت اور جنسی فتنے کے درمیان گہرا تعلق ہے اور حجاب اور پردے اور عفت و پاکیزگی کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ یہ ہے اسلامی نظریہ پاکیزگی اور عفت۔ خلاصہ یہ کہ اسلام ان امور کو پردے میں رکھتا ہے جو دیکھنے والے کے لیے شہوت انگیز ہوں۔
واللہ سمیع علیم (24 : 60) ” اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے “۔ وہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے۔ اسے وہ باتیں بھی معلوم ہیں جو زبان سے ادا ہوتی ہیں اور وہ بھی معلوم جو دلوں میں گزرتی ہیں۔ اسلامی احکام کا دار و مدار نیت اور ضمیر کے احساس پر ہوتا ہے۔
النور 24:61
اب قریبی رشتہ داوں اور دوستوں کے احکام
(لیس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تعقلون ) (61) ” روایات میں آتا ہے کہ لوگ ان مذکورہ گھروں سے کھانا کھایا کرتے تھے۔ اس مقصد کے لیے وہ اجازت نہ لیا کرتے تھے۔ اپنے ساتھ وہ فقراء اندھوں ‘ لنگڑوں اور مریضوں کو بھی کھانا کھلاتے تھے۔ اب لوگوں نے یہ خیال کیا کہ مذکورہ بالا گھروں کے مالکوں سے بھی اجازت لینا ضروری ہے۔ یہ خیال مسلمانوں کے دلوں میں اس وقت پیدا ہوا جب یہ آیت نازل ہوئی۔
(ولاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل) ” اور آپس میں اپنے مال باطل طریقوں سے نہ کھائو “ اہل ایمان اس قدر حساس تھے کہ وہ ہر وقت سوچتے رہتے تھے کہ کہیں ان سے قرآن کی خلاف ورزی نہ ہوجائے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کو اجازت دے دی کہ ان گھروں سے وہ کھانا کھا سکتے ہیں۔ اس طرح اندھے ‘ لنگڑے اور مریض فقراء کو بھی مالکان سے کھانے کی حد تک اجازت لینے سے مستثنیٰ کردیا گیا اور قریبی رشتہ داروں کو اجازت دے دی گئی کہ وہ اکیلے یا ان غرباء کے ساتھ اپنے رشتہ دار کے ہاں کھانا کھالیں۔ یہ ایسے حالات ہیں کہ اہل خانہ بالعموم ایسے لوگوں کو کھانا کھتاے ہیں اور لوگوں کا عام رویہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ وہ اس طرح کے گھروں سے کھانا کھاتے اور کھلاتے ہیں لیکن اس میں اسلامی معاشرے کے عمومی قواعد کا لحاظ رکھا جائے گا۔ یعنی
لاضرر و لاضرار ” نہ نقصان دیتا ہے اور نہ نقصان اٹھاتا ہے “۔ اور لایحل ما امرء مسلم الا بطیب نفس ” حلال نہیں کسی مسلمان کا مال مگر اس کے دل کی خوشی کے ساتھ “۔ یہ آیت چونکہ ایک قانونی آیت ہے۔ اس لیے ہم اس کے طرز ادا پر قدرے بحث کریں گے۔ فقروں کی ترتیب اور تشکیل دینی ہے کہ مفہوم شیشہ کی طرف صاف صاف ذہن میں آجاتا ہے۔ نیز رشتہ داریوں کی ترتیب کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ آغاز میں بیٹوں اور خاوند اور بیوی کے گھروں کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن ان سے مضمون کا آغاز کیا گیا اور ان کو ” بیوتکم “” تمہارے گھروں “ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ بیٹوں کے گھر اپنے گھر ہوتے ہیں اور بیوی کے لیے خاوند کا گھر اور خاوند کے لیے بیو کا گھر اپنا گھر ہوتا ہے۔ اس کے بعد آباء و اجداد کے گھر کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ماں اور نانی کے گھروں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد بھائیوں کے گھروں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد بہنوں کے گھروں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد چچائوں کے گھروں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد پھوپھیوں کے گھروں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ماموں کے گھروں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد خلائوں کے گھروں کا ذکر ہے اور اس کے عبد اس شخص کے حق کا ذکر ہے جو اموال پر خازن اور نگران ہے۔ اس کے لیے جائز ہے کہ وہ بقدر ضرورت مال زیر نگرانی سے کھائے۔ اس کے ساتھ دوستوں کے گھر کا بھی ذکر ہے کہ ایک دوست ‘ دوست کے گھر سے کھانا کھا سکتا ہے بشرطیکہ وہ دوست کے لیے اذیت اور ضرر کا باعث نہ بنے کیونکہ بسا اوقات دوست ‘ دوست کے گھر بغیر اجازت کے کھا پی سکتے ہیں۔
اب ان گھروں کے بیان کے بعد جن میں کھانا جائز ہے ‘ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کھانا کس حال میں کھایا جائے۔
(لیس۔۔۔۔۔۔۔ اواشتاتا) (24 : 61) ” اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھائو یا الگ الگ “۔ عربوں میں سے بعض لوگوں کا ایام جاہلیت میں رواج تھا کہ ان میں سے کوئی شخص بھی کسی ساتھی کے بغیر کھانا نہ کھاتا تھا۔ اگر کوئی مہمان یا ساتھی نہ ملتا تو وہ کھانا ہی نہ کھاتے تھے۔ اس رسم کو اللہ نے ختم کردیا کیونکہ بعض اوقات اس سے مشکلات پیدا ہوتی تھیں۔ معاملے کو آسان کردیا کہ کوئی اکیلے کھاتا ہے یا دوسروں کے ساتھ کھاتا ہے دونوں صورتیں مناسب ہیں۔
گھروں اور حالت طعام کے بیان کے بعد اب یہاں ان گھروں میں داخل ہونے کا طریقہ بتایا جاتا ہے جن میں کھانا کھانے کی اجازت دی گئی ہے۔
(فاذا۔۔۔۔۔۔۔ طیبۃ) (24 : 61) ” البتہ جب تم گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو ‘ دعائے خیر اللہ کی طرف سے مقرر فرمائی ہوئی ‘ بڑی بابرکت اور پاکیزہ “۔ یہ ایک نہایت ہی لطیف تعبیر ہے اس قوی رابطے کی جو مذکورو بالا رشتوں کے اندر پایا جاتا ہے۔ یعنی اپنے نفسوں پر سلام کرو ‘ کیونکہ جو شخص اپنے رشتہ داروں یا دوستوں پر سلام کرتا ہے وہ دراصل اپنے اوپر سلامتی بھیجتا ہے اور جو سلام وہ کرتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ سلام کے اندر اللہ کی طرف سے ایک روحانی پھونک ہے اور دونوں فریقوں کے دریمان دین کا مضبوط رشتہ ہے ‘ دینی رشتہ جو سلام کی وجہ سے قائم ہوتا ہے۔ یہ نہایت ہی اٹوٹ رشتہ ہے۔
(کذلک۔۔۔۔۔۔ تعقلون) (24 : 61) ” اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے آیات بیان کرتا ہے توقع ہے کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لوگے “۔ تمہیں یہ بات معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کے طے کردہ نظام زندگی میں کس قدر حکمت پیش نظر رکھی گئی ہے اور کس قدر موزوں اور مقدمی نظام ہے۔
النور 24:62
(انما المئو منون الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم لاتجعلوا دعآ ئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ بکل شیء علیم ) (62 : 64
ابن اسحاق نے اس آیت کی شان نزول میں یہ روایت نقل کی ہے کہ جنگ احزاب کے موقع پر جب قریش تمام اقوام کو جمع کر کے مدینہ پر چڑھا لائے تو حضور اکرم ﷺ نے اس کے دفاع میں مدینہ کے گرد خندق کھودنے کا حکم دیا۔ خندق کھودنے میں خود رسول اللہ ﷺ نے بھی کام شروع کیا تاکہ اہل ایمان جوش و خروش سے کام کریں۔ خندق کھودنے کے کام میں مسلمانوں نے خوب جوش و خروش سے کام کیا۔ آپ نے بھی ایک نمونہ اور مثال قائم کی اور انہوں نے بھی مثال قائم کردی۔ بعض منافقین نے اس کام میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے پیچھے رہنے اور سست روی اختیار کرنے کا مظاہرہ کیا۔ وہ چھوٹے بڑے کاموں کا بہانہ بنا کر نکل جاتے اور بعض رسول اللہ ﷺ سے اجازت لیے بغیر کھسک جاتے تھے جبکہ مسلمانوں کا عمل یہ تھا کہ جب ان کو کوئی ضروری کام پیش آتا تو وہ رسول اللہ ﷺ سے ذکر کرتے۔ آپ ﷺ اجازت دیتے اور وہ شخص کام کر کے جلدی واپس کام پر آجاتا۔ اور یہ رویہ مسلمان زیادہ ثواب کمانے کی غرض سے اختیار کرتے۔ اس موقع پر اللہ نے یہ آیات نازل کیں۔
انما الئو منون سے آخر تک سبب نزول جو بھی ہو ‘ بہر حال ان آیات کے اندر جماعت مسلمہ کے تنظیمی قواعد و آداب کا ذکر کیا گیا ہے اور مسلمانوں کے قائد کے احکام کے سلسلے میں آداب بتائے گئے ہیں۔ اور جب تک کوئی جماعت اپنے امیر کے ساتھ ایسے ہی اصولوں کی گہرے جذبات اور ضمیر کی گہرائیوں سے پابندی نہ کرے گی اس وقت تک جماعت کا نظم و نسق درست نہیں ہو سکتا۔ ان آداب کو جماعت مسلمہ کے اندر ایک پختہ روایت ‘ ایک معمول بہا عادت اور سخت قانون کی طرح جاری ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوگا تو وہ جماعت نہ ہوگی بلکہ منتشر افراد کا ایک انبوہ ہوگا۔
(واذا۔۔۔۔۔۔۔۔ یستأ ذنوہ) (24 : 62) ” اور جب کسی اجتماعی کام کے موقع پر رسول ﷺ کے ساتھ ہوں تو اس کی اجازت کے بغیر نہ جائیں “۔ امر جامع سے مراد وہ امر ہے ‘ جس میں تمام جماعت مسلمہ کا اشتراک ضروری ہو۔ کسی مشاورت کا موقع ہو یا جنگ کا موقع ہو۔ یا عام اجتماعی کاموں کا موقع ہو۔ ایسے مواقع پر اہل ایمان کا فرض ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے کر جائیں۔ آپ کے بعد اپنے امام اور اپنے انچارج سے اجازت لے کر جائیں تاکہ مسلمانوں کی زندگی اور ان کے ادارے منظم طریقے سے چل سکیں اور ان میں طوائف الملوکی نہہو اور کوئی بھی کام پورے نظم اور وقار کے ساتھ ہو۔
یہ لوگ جو اس قسم کا ایمان لاتے ہیں ‘ پھر اس قسم کے آداب پر عمل کرتے ہیں اور تحریک کی ڈیوتی سے صرف اس وقت رخصت مانگتے ہیں جب وہ مجبور ہوں۔ اپنے ایمان اور اپنی تربیت کی وجہ سے وہ ڈیوٹی چھوڑ کر نہیں بھاگتے جبکہ امت اور جماعت کو اجتماعی جدوجہد کی سخت ضرورت ہو لیکن قرآن مجید اجازت دینے اور نہ دینے کے فیصلے کا اختیار نبی ﷺ کو دیتا ہے۔ آپ ﷺ کے بعد یہ اختیار اب جماعت کے سربراہ کو حاصل ہے کہ وہ اجتماعی کاموں سے کسی کو مستثنیٰ کرتا ہے یا نہیں۔
(فاذا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منھم) (24 : 62) ” پس جب وہ اپنے کسی کام سے اجازت مانگیں تو جسے تم چاہو اجازت دے دیا کرو “۔ اس سے قبل اللہ نے نبی ﷺ کو یہ تنبیہ فرمائی تھی کہ کیوں آپ نے ان منافقین کو اجازت دی۔
عفی اللہ عنک لم اذنت لھم حتی یتبین لک الخبیث من الطیب ” اللہ نے تمہیں معاف کردیا کہ کیوں تم نے ان کو اجازت دی تاکہ تم پر یہ امر واضح ہوجاتا کہ خبیث کون ہے ‘ اور پاک کون ہے “۔ یہاں یہ بات نبی ﷺ کے اختیار تمیزی پر چھوڑ دی گئی ہے کہ آپ کسی کو اختیار دیں یا نہ دیں۔ اس طرح مسلمانوں کے لیے ایک اور آسانی پیدا کردی گئی کیونکہ بعض اوقات نہایت ہی اہم ضروریات لاحق ہوجاتی ہیں اس لیے جماعت کی قیادت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ موازنہ کرے کہ کسی کیلیے درپیش مہم میں جانا ضروری ہے یا کسی خصوصی ضرورت کے لئے پیچھے رہنا ضروری ہے۔ آخری اختیار قائد کو دے دیا گیا تاکہ وہ حالات کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کرے۔
یہاں بہر حال اس طرف اشارہ کردیا جاتا ہے کہ انفرادی ضرورتوں پر قابو پایا جائے ‘ مسائل کا حل نکالا جائے اور اجتماعی مہم کو ترجیح دی جائے۔ تاہم اگر کوئی شخص اپنی کسی جائز ضرورت کے لیے بھی پیچھے رہتا ہے تو یہ امر جائز ہونے کے باوجود بھی ایک قصور ہے اور اس پر اللہ سے مغفرت طلب کرنا ضروری ہے۔
واستغفر لھم اللہ ان اللہ غفوررحیم (24 : 62) ” اور ایسے لوگوں کے حق میں ‘ اللہ سے دعائے مغفرت کیا کرو ‘ اللہ یقیناً غفورورحیم ہے “۔ یوں ایک مومن کے ضمیر پر پابندی لگائی جاتی ہے کہ وہ اجازت طلب نہ کرے ‘ اگر کوئی بھی صورت نکلے تو وہ اپنے آپ کو عذر طلب کرنے سے بچانے کی کوشش کرے۔
نیز یہاں یہ بھی بتایدا گیا کہ جو لوگ اجازت طلب کرتے ہیں وہ درخواست استیذان نہایت ہی مئو دبانہ الفاظ میں پیش کریں اور عوام الناس کی طرح (یامحمد) یا (ابو القاسم) یا اور عوامی طریقے سے خطاب نہ کریں بلکہ مودبانہ الفاظ یارسول اللہ ‘ یانبی اللہ کے الفاظ سے مخاطب کریں۔
النور 24:63
لاتجعلوا دعآ الرسول بینکم کدعآء بعضکم بعضا (24 : 63) ” مسلمانو ‘ اپنے درمیان رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا بلانا نہ سمجھ بیٹھو “۔ چاہیے کہ تمہارے دل رسول اللہ ﷺ کی محبت سے بھرے ہوئے ہوں۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے احترام میں مناسب ترین الفاظ کا انتخاب کرو۔ یہ قیادت کے لیے ایک نہایت ہی ضروری اصول ہے اس لیے کہ کسی مربی ‘ کسی استاد ‘ کسی قائد کا مناسب احترام لازم ہے اور کارکنوں کے شعور اور سلوک میں فائدہ کے احترام اور محبت ہو۔ ایک کارکن اپنے قائد کے ساتھ ضرورت سے زیادہ بےتکلف نہ ہو۔ اس کے بعد منافقین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اجازت کے بغیر کھسک جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی اوٹ لے کر بھاگ جاتے ہیں۔ اگر وہ مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کی نظروں سے اپنے آپ کو چھپاتے ہیں تو اللہ کی نظروں سے تو وہ چھپ نہیں سکتے۔
قد یعلم اللہ الذین یتسللون منکم لواذا (24 : 63) ” اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کی آڑ لیے ہوئے چپکے سے کھسک جاتے ہیں “۔ یہ اس شخص کی عجیب تصویر کشی ہے جو مجلس کی نظروں سے چھپ چھپا کر کھسک جاتا ہے۔ اس سے یہ ظاہر کرنا مطلوب ہے کہ یہ شخص سامنے آکر اجازت لے کر نہیں جاتا بلکہ چور کی طرح چھپ کر نکلتا ہے اور اس کی یہ حرکت شعور کے اندر اس شخص کے لیے حقارت پیدا کردیتی ہے۔
(فلیحذر الذین۔۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم) (24 : 63) ” رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہوجائیں یا جو امر رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں ‘ جور سول اللہ ﷺ کے طریقوں سے مخالف طریقوں پر چلتے ہیں اور ذاتی کاموں اور ذاتی مفادات کے لیے اجتماعی ٹیموں کی صف سے چپکے سے نکل جاتے ہیں۔ ان کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ ان کے اندر اختلافات پیدا ہو کر وہ فتنہ عظیم میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ ان کی اقدار ہی نہ بدل جائیں ‘ حق و باطل میں تمیز نہ رہے اور ان کا نظام متزلزل نہ ہوجائے۔ ان کے اندر پاک لوگوں اور خبیث لوگوں کا متزاج ہوجائے ‘ جماعتی معاملات میں فتور پڑجائے اور جماعتی زندگی کی چولیں ڈھیلی ہو ئیں۔ اس طرح کہ کوئی شخص اپنے نفس کے بارے میں مطمئن نہ ہو۔ کوئی کسی حد پر نہ رکتا ہو۔ اور جماعت کے اندر سے خیر و شر کا معیار مٹ جائے۔ ایسے حالات تمام افراد جماعت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔
او یصیبھم عذاب الیم (24 : 63) ” یا ان پر درد ناک عزاب آجائے “۔ چاہے یہ عذاب دنیا میں آجائے یا آخرت میں آئے۔ یہ عذاب اس لیے آئے گا کہ ان لوگوں نے حکم الہی کی مخالفت کی اور اس نظام کو ترک کردیا جسے اللہ نے ان کے لیے پسند فرمایا تھا۔
یہ تنبیہ اور شدید ڈر اوا یہاں ختم ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ سورة نور بھی ختم ہوتی ہے اور خاتمہ کلام پر لوگوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اللہ تمہارے تمام کرتوتوں سے واقف ہے۔ جو اچھے کام کرتے ہیں ان کو بھی جانتا ہے اور جو انحراف کی راہوں پر چل نکلے ہیں ان کو بھی جانتا ہے اور ایک دن وہ تمہارے سامنے تمہارا مکمل نامہ اعمال پیش کردے گا۔
النور 24:64
(الآ ان للہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بکل شیء علیم) (24 : 63) ” “۔
یوں اس سورة کا خاتمہ اس مضمون پر ہوتا ہے کہ اہل ایمان کی نظریں اللہ سے متعلق ہوجاتی ہیں اور ان کو اللہ کے خوف اور خثیت سے ڈرایا جاتا ہے کیونکہ صرف خدا اور خشیت الٰہی اور تقویٰ انسان کو درست رکھنے کی آخری گارنٹی ہے۔ اللہ نے جو احکام اور نواہی دیئے ہیں ان پر عمل کرانے کا یہ آخری نگران ہے جو ہر مومن کے دل میں بیٹھا ہوتا ہے۔ اس سورة میں جو اخلاق ‘ جو آداب اور جو قوانین وضع کیے گیے ہیں اور سب کو اسلامی نظام کا برابر حصہ بنایا گیا ہے ان کا محافظ تقویٰ اور خدا خوفی کو قرار دیا گیا ہے۔
الفرقان 25:1
تبرک الذی نزل الفرقان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولا نشورا) (ا : 3)
یہ آغاز ہی صاف صاف ظاہر کردیتا ہے کہ اس سورت کا بڑا محور اور موضوع کیا ہے ؟ یہ کہ یہ کتاب من جانب اللہ نازل شدہ ہے اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت تمام انسانوں کے لیے ہے۔ یہ کہ اس دعوت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے ‘ اس کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ کوئی شریک ہے ‘ وہ وحدہ اس پوری کائنات کا مالک ہے ‘ وحدہ مدبر ہے اور اپنی حکمت و تدبیر کے ساتھ اسے چلارہا ہے۔ ان حقائق کے باوجود شرک کرنے والے شرک کرتے ہیں۔ افتراء پر دازی کرنے والے افتراء باندھتے ہیں اور جھگڑنے والے جھگڑتے ہیں اور حد سے بڑھنے والے حدود پار کرتے رہتے ہیں۔
(تبرک الذی۔۔۔۔۔۔۔۔ نذیرا) (25 : 1) ” نہایت متبرک ہے وہ جس نے یہ فرقان ‘ اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ سارے جہاں والوں کے لیے خبردار کردینے والا ہو “۔ تبارک ‘ برکت سے باب مفاعلہ ہے یعنی نہایت متبرک ہے۔ یعنی وہ بہت زیادہ فیوض و برکات و الا ہے۔ یہاں اللہ جل شانہ ‘ کا نام لینے کے بجائے اسم موصول سے ذات باری کو الذی نزل الفرقان (25 : 1) لایا گیا ہے ‘ کیونکہ یہاں سورت میں مباحثہ ” صداقت و رسالت “ پر ہے۔ اور اس کے ساتھ ذات باری کا گہرا تعلق ہے نیز نزول قرآن کے ساتھ بھی ذات باری کا تعلق ہے کہ یہ ذات ہی نازل کرنے والی ہے۔
یہاں قرآن مجید کو فرقان اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں جو تعلیمات دی گئی ہیں وہ حق و باطل اور ہدایت و ضلالت کے درمیان بہت ہی واضح فرق کردیتی ہیں بلکہ اس کے ذریعہ اسلامی نظام زندگی اور غیر اسلامی نظام زندگی کے درمیان اور عہد جاہلیت اور عہد اسلام کے درمیان واضح فرق و امتیاز دکھایا گیا ہے اس لیے کہ اسلام انسانی شعور اور انسانی ضمیر کے اندر ایک واضح طریق زندگی بٹھاتا ہے۔ پھر اس طریق زندگی کو انسانی زندگی کے اندر عملاً قائم کرتا ہے۔ اس طرح اس نظام کو اس کتاب و فرقان نے دنیا کے تمام نظاموں سے علیحدہ اور ممتاز کر کے رکھ دیا ہے۔ گویا قرآن فرقان بایں معنی ہے کہ یہ انسانیت کے لیے ایک اہد جدید ہے۔ تصورات و خیالات کے اعتبار سے بھی اور عملی زندگی کے اعتبار سے بھی ہی عہد جدید ‘ عہد قدیم سے جدا اور ممتاز ہے۔ قرآن کریم اس وسیع مفہوم میں بھی فرقان ہے۔ یہ ایک نکتہ افتراق ہے کہ جہاں سے آگے اب انسانیت نے بلوغ حاصل کرلیا اور اس کا زمانہ طفولیت اب ختم ہوے۔ اب وہ دور ختم ہوگیا ہے کہ لوگوں کو مادی معجزات دکھائے جاتے تھے اور حق و باطل کا فرق سمجھا یا جاتا تھا۔ اب تو قاضی عقل کے ذریعہ یہ فرق سمجھایا جائے گا۔ پھر اس سے قبل رسالتوں کا دائرہ محدود اور مقامی ہوتا تھا اور اب یہ رسالت عمومی رنگ اختیار کرگئی ہے۔ لیکون للعلمین نذیرا (25 : 1) ” تاکہ تمام جہاں والوں کے لیے ڈرانے والا ہو “۔ غرض ان تمام معنوں اور دائروں میں یہ کتاب فرقان ہے۔
نبی ﷺ کی تکریم اور تعظیم کے مقام پر ان کے لیے عہدہ ‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اس کا بندہ ‘ عبدہ کے لفظ کے ساتھ نبی ﷺ کی تعظیم اور تکریم اسراء اور معراج کے اموقعہ پر بھی کی گئی ھی۔
(سبحن الذی اسری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الی المسجد الاقصی) (17 : 1) ” پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے رات کے وقت مسجد حرام مسجد اقصیٰ تک لے گئی “۔ اور سورت جن میں جب آپ ﷺ کو رب کریم کے سامنے کھڑے ہو کر دعا اور مناجات کی حالت میں دکھایا گیا ہے وہاں بھی آپ کے لیے لفظ عبد اللہ استعمال ہوا ہے اور جس طرح یہاں آپ کے لیے تنزیل قرآن کے وقت عبدہ کا لفظ استعمالہوا ہے۔ اسی طرح سورت کہف میں بھی استعمال ہوا ہے۔
الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجا ” تعریف ہے اس ذات کے لیے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں کوئی کجی نہ چھوڑی “۔ ان مقامات پر رسول اکرم ﷺ کے لیے بندے کا لفظ استعمال کرنا رفعت شان ہے۔ اور آپ کی بہت بڑی تکریم ہے۔ انسان کے لیے اعلیٰ ترین مقام یہ ہے کہ وہ اللہ کا بندہ بن جائے۔ اس لیے یہاں آپ کے لیے بندے کا لفظ استعمال ہوا۔ اس سے آگے مقام الوہیت ہے جو اللہ وحدہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ اور اللہ کے ساتھ نہ کوئی شریک ہے اور نہ اللہ کے ساتھ مشارکت کا کوئی شبہ ہو سکتا ہے چاہے نزول قرآن کا مقام ہو ‘ چاہے انسان کو آسمانوں پر لے جایا گیا ہو ‘ چاہے ایک بشر اپنے اعلیٰ مقام معرفت و مناجات میں ہو ‘ ایسے مقامات ہی بعض متعبین انبیائے سابقہ کے لیے مغالطے کا سبب بنے ہیں۔ ایسے ہی مقامات پھسل کر عقیدت مندوں نے بعض انبیاء کو خدا کا بیٹا قرار دینے کے افسانوی عقائد گھڑے یا انہوں نے بندے اور خدا کے درمیان بندگی اور خدائی کے تعلق کے سوا کسی اور قسم کے رابطے کا تصور اپنایا۔ یہی وجہ ہے کہ جب انبیاء کی تکریم اور اعزاز کا مقام آتا ہے تو قرآن کریم میں ان کے لیے بندے کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ تصور یہ دلانا مقصود ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ اور بلند مقام ہے جس تک کوئی بشر ترقی کرسکتا ہے۔
یہاں بتایا جاتا ہے کہ اپنے اس بر گزیدہ بندے پر قرآن نازل کرنے کا مقصد لیکون للعلمین نذیرا (25 : 1) ” تاکہ وہ سارے جہاں کے لیے خبردار کردینے والا ہو “۔ یہ آیات مکی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نبی ﷺ کو ابتداء ہی سے پوری دنیا کے لیے رسول مقرر کردیا گیا تھا۔ بعض مستشرقین نے جو یہ دعویٰ کیا ہے کہ دعوت اسلامی ابتداء میں ایک مقامی دعوت تھی لیکن بعد میں جب اسے عالمی فتوحات حاصل ہوگئیں تو اس نے ایک عالمی تحریک کی شکل اختیار کرلی۔ ان لوگوں کی یہ رائے غلط تھی ‘ یہ دعوت ابتداء ہی سے عالمی تھی۔ اگر قرآن کی تعلیمات پر پوری طرح غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مزاج ہی عالمی ہے۔ اس دعوت کو پھیلانے کے لیے اسلام نے جو طریق کار اور جو وسائل اختیار کیے وہ سب کے سب عالمی تھے۔ اور ان تعلیمات کا مقصد ہی یہ تھا کہ پوری انسانیت کو ایک دور سے نکال کر دوسرے دور میں داخل کیا جائے۔ اس کے اندر سے ایک نظام کو ختم کر کے اسے ایک دوسرا نظام دیا جائے اور یہ کام اس کتاب فرقان کے ذریعے کیا جائے جو اللہ نے تمام جہاں کے لوگوں کو انجام بد سے خبردار کرنے کے لیے نازل کی ہے۔ اور اپنے بندے پر نازل کرے تاکہ وہ تمام لوگوں کے لیے خبردار کرنے والے کا کام کرے۔ یہ دعوت تو عالمی تھی لیکن رسول اللہ ﷺ چونکہ مکہ میں رہنے والے تھے اس لیے ان کا پہلا مقابلہ اہل مکہ ہی سے ہونا تھا۔ اس لیے اس دعوت کا انکار اور مقابلہ اہل مکہ نے کیا تھا۔
غرض وہ ذات بڑی متبرک ہے جس نے اپنے اس عظیم بندے پر یہ کتاب نازل کی جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہے اور جو ایک معیار حق ہے۔
(الذی لہ ملک السموات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقدیرا) (25 : 2) ” وہ جو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مالک ہے ‘ جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ‘ جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے ‘ جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ‘ پھر اس کی تقدیر مقرر کی “۔
یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے لیے اسم ذات کے استعمال کے بجائے اسم موصولہ کا استعمال ہوا یعنی الذی مقصد یہ ہے کہ جن صفات کا ذکر کیا جارہا ہے ان کے ساتھ اللہ کا دائمی اور مسلسل تعلق ہے۔
الذی لہ ملک السموت والارض (25 : 2) ” وہ جو زمین و آسمان کا مالک ہے “۔ زمینو آسمان پر اس کا مکمل کنٹرول ہے۔ یہ اس کے قبضہ میں ہیں۔ وہ ان کے اندر پوری طرح متصرف ہے اور زمین و آسمان کے اندر تمام تغیرات اس کی مرضی اور حکم سے رونما ہوتے ہیں۔
ولم یتخذ ولدا (25 : 2) ” اس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا “۔ تناسل تو وہ قدرتی قانون ہے جسے اللہ نے اپنی مخلوق کے اندر جاری کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ” زندگی “ کا تسلسل قائم رہے۔ جہاں تک ذات باری کا تعلق ہے تو وہ جب ہمیشہ باقی ہے اور لازوال ہے تو وہ سلسلہ تناسل کی محتاج ہی نہیں ہے۔
ولم یکن لہ شریک فی الملک (25 : 2) ” جس کی بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے “۔ زمین و آسمان کے اندر جس قدر مخلوق ہے اگر اس کا مشاہدہ اور تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس کا نقشہ کسی ایک ہی خالق نے تخلیق کیا ہے۔ ہر چیز کے اندر ایک ہی ناموس قدرت ہے اور تمام مخلوق کے اندر تصرف اور تغیر بھی ایک ہی ذات کا نظر آتا ہے۔
وخلق کل شیء فقدر ہ تقدیرا (25 : 2) ” جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی۔ اس کا ایک حجم اور اس کی ایک شکل مقرر کی۔ اس کے لیے ایک کام اور فرض منصبی متعین کیا۔ اس کا زمان و مکان متعین کیا۔ اور اس کو اس کائنات کے عظیم وجود کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔
اس کائنات کے وجود اور انداز کے انداز تخلیق و ترکیب پر جن علماء نے غور کیا ہے اور جو انسان بھی اس پر کبھی غور کرے گا وہ حیران رہ جائے گا۔ جوں جوں تخلیق کائنات کے راز ہائے نہفتہ واشگفتہ ہوں گے اس کو یقین ہوتا جائے گا کہ یہ کائنات از خود بطور انفاق وجود میں نہیں آگئی ہے۔ اس کی ترکیب اس قدر دقیق اور باریک ہے کہ انسان اس کے مظاہر اور اثرات ہی کو معلوم کرنے سے عاجز ہے جبکہ ہم نے ابھی تک اس کائنات کا ایک حقیر پہلو ہی مشاہدہ کیا ہے۔ لیکن جوں جوں ہماری دریافت آگے بڑھتی ہے۔ ہمیں اس کائنات کے اندر نہایت ہی حکیمانہ ضوابط کار فرما نظر آتے ہیں۔ یہ ضوابط اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ ہمارا علم جس قدر آگے بڑھتا ہے ہمیں یہ آیت اچھی طرح سمجھ آجاتی ہے۔
وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا (25 : 2) ” اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک مکمل تقدیر مقرر کی “۔ مسٹراے کریسی مورسن ‘ صدر سائنس اکیڈمی نیوریارک ‘ اپنی کتاب ” انسان ایکلا نہیں کھڑا ہے “ میں لکھتے ہیں :” اس حقیقت کو دیکھ کر انسان حیرت سے دہشت زدہ ہوجاتا جب وہ اس کائنات کی موجودہ شکل میں منظم کیے جانے پر غور کرتا ہے۔ یہ نہایت ہی حکیمانہ تنظیم ہے۔ اگر زمین کا چھلکا اپنی موجودہ مقدار کے مقابلے میں چند قدم اور زیادہ دیر ہوتا تو اور نباتات کا وجود ہی ختم ہوجاتا “۔
” اگر ہوا اپنے موجودہ مقام سے ذرا زیادہ اونچی ہوتی تو آج جو لاکھوں شاب ثاقب بالائی فضا می جل جاتے ہیں ‘ ان کی زد اس کرئہ ارضی پر پڑتی کیونکہ ان شابوں کی رفتار 46 میل فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ اس طرح یہ جہاں گرتے ‘ وہاں پر اس چیز کو جلا دیتے جو جلنے کے قابل ہوتی اور اگر ان کی رفتار کم ہو کر بندوق کی گولی کی مقدار پر آجائے تو یہ سب زمین پر آکر چپک جاتے اور اس کے خوفناک نتائج نکلتے۔ رہا انسان تو اس کے پاس سے اگر ایک چھوٹا سا شہاب ثاقب گزر جائے جس کی رفتار بندوق کی گولی سے نوے گنازیادہ ہوتی ہے تو صرف اس کے گزرنے کی رفتار کی گرمی سے وہ چھوٹے چھوٹے ڈروں میں بدل جاتے “۔
” اللہ نے اس ہوا کو ایک خاص مقدار کے مطابق کثیف بنایا ہے اور اس کی اس کثافت سے وہ شعاعیں گزرسکتی ہیں جو فصلوں پر وہی اثرات ڈالتی ہیں ‘ جو جراثیم کو قتل کرتی ہیں اور وٹامن پیدا کرتی ہیں ‘ لیکن یہ شعاعیں انسان کو نقصان نہیں پہنچاتیں الا یہ کہ انسان ان کے اندر ضرورت سے زیادہ رہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ زمین سے ہر وقت زہریلی گیس نکلتی رہتی ہیں لیکن ہوا ان گیسوں سے متاثر ہو کر اس مسلسل آلوگدگی کی وجہ سے بھی اس کی وہ نسبت نہیں بدلتی جو صحت انسانی کے لیے ضروری ہے۔ اور اس توازن کو یہ وسیع سمندر قائم رکھتے ہیں جن کی وجہ سے ہر قسم کی زندگی ‘ غذا ‘ بارش معتدل جائے رہائش اور نباتات کو زندگی حاصل ہوتی ہے اور خود انسان کی زندگی قائم ہے “۔
” اس ہوا میں اس وقت آکسیجن 21 فیصد ہے ‘ اگر یہ بڑھ کر 50 فیصد ہوجائے تو وہ تمام مواد جو اس وقت جلنے کے قابل ہے ‘ سب کا سب آگ پکڑ لے۔ ایک چنگاری جنگلات کو آگ لگا دے اور تمام جنگلات ایک دھماکے سے اڑ جائیں اور اگر ہوا کے اندر آکسیجن کی مقدار 10 فیصد ہوجائے یا اور کم ہوجائے تو انسانی زندگی شاید صدیوں بعد اپنے آپ کو اس نسبت کے ساتھ ساتھ ہم آہنگ تو کر ہی دے لیکن انسانی تمدن موجودہ بیشمار چیزوں سے محروم ہوجائے ‘ مثلاً آگ اور دیگر انرجیز ہے “۔
” ان مخلوقات کی ضابطہ بندی اور ان کے اندر قدرتی توازن بھی نہایت ہی عجیب ہے کہ کوئی حیوان ‘ مخواہ وہ جس قدر عظیم الجثہ اور ہوشیار کیوں نہ ہو ‘ اس کے لیے اس جہاں پر غلبہ حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔
ہاں انسان نے یہ کام کیا کہ اس نے نباتات اور حیوانات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرکے قدرت کے پیدا کردہ اس توازن کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ اور انسان کو اس کی اس حرکت کی سخت سزا بھی ملی اس طرح کہ اس توازن کو خراب کرنے کی وجہ سے حیوانات ‘ حشرات اور نباتات کو مختلف بیماریوں کو سامنا کرنا پڑا “۔
” وجود انسان کے حوالے سے اس توازن کی جو اہمیت ہے اس کی حقیقت درج ذیل واقعہ سے اچھی طرح معلوم ہو سکتی ہے۔ کئی سال ہوئے آسٹریلیا میں ایک قسم کے خاردار خربوزے کی کاشت کی گئی۔ یہ کاشت بطور حفاظتی باڑ کی گئی لیکن یہ فصل اس قدر پھیل گئی کہ اس نے تھوڑے ہی عرصہ میں اس قدر رقبے کو گھیر لیا جو انگلینڈ کے برابر تھا۔ اس نے شہروں کے شہر اجاڑ دیئے اور لوگوں کی فصل تباہ ہوگئی ‘ یہاں تک کہ لوگوں کے لیے فضل بونا مشکل ہوگئی۔ لوگوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح اس کے پھیلائو پر کنٹرول کیا جائے مگر ممکن ہی نہ ہوا۔ پورے آسٹریلیا کے لیے یہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ اس پر خار دار خربوزے کی یہ فضل قابض ہوجائے ‘ کوئی چیز اس کے لیے رکاوٹ نہ تھی “۔
” علماء حشرات الارض پوری دنیا میں پھیل گئے ‘ تحقیقات شروع کردی یہاں تک کہ انہوں نے ایک کیڑا دریافت کرلیا جس کی خوراک صرف یہ خربوزہ تھا۔ یہ کیڑا بھی اسی تیزی سے پھیل رہا تھا جس تیزی سے یہ خاردار خربوزہ پھیلتا تھا۔ آسٹریلیا میں اس کیڑے کے سامنے بھی کوئی طبعی رکاوٹ نہ تھی ‘ یہ کیڑا اس قدر پھیلا کہ اس نے خار دار خربوزے کو ختم کر کے رکھ دیا۔ جو نہی یہ خربوزہ ختم ہوا اس کیڑے نے بھی ختم ہونا شروع کردیا۔ اس کی نہایت ہی قلیل مقدار باقی رہ گئی۔ یہ گویا قدرت نے اس خربوزے کے پھیلائو کے خلاف باقی رکھی۔ یوں قدرت نے ضابطے اور تواز کو قائم رکھنے کا یہ انتظام کیا “۔
” سوال یہ ہے کہ ملیریا کے مچھر نے کیوں نہ اس پوری دنیا پر غلبہ پایا کہ ہمارے آباء واجدا اس سے مرجاتے۔ یا اس سے بچائو کی کوئی تدبیر وہ حاصل کرلیتے۔ اسی طرح زرد بخار کے مچھر کے بارے میں بھی یہی کہا جاسکتا ہے ‘ ایک موسم میں تو اس نے اس قدر پیش قدمی کی کہ نیویارک تک پہنچ گیا۔ بحر منجمد میں بھی کئی قسم کے مچھر پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا زیادہ پھیلائو کن اسباب کی وجہ سے نہ ہوا۔ اور یہ اپنے گرم منطقوں تک ہی محدود رہی اور اس طرح اس کی افواج کی زد سے انسان بچ سکا ورنہ کرئہ ارض پر سے انسان کا وجود ہی ختم ہوجاتا۔ انسان طاعون ‘ دوسری مہلک وبائوں ‘ مہلک جراثیم کے بارے میں یہ کہہ سکتا ہے کہ خود انسان کے پاس ان چیزوں سے بچنے کی دوائیں توکل تک نہ تھیں پھر کیسے بچا۔ پھر کل تک تو انسان حفظان صحت کے بنیادی اصولوں سے بھی نا بلد تھا۔ یکا ایسے حالات میں نوع انسان کا باقی رہنا ایک معجزہ نہیں ہے۔ “
” پھر دیکھئے کہ حشرات الارض کے اس طرح کے پھیپھڑے نہیں ہیں جس طرح کہ انسان کے ہیں۔ یہ حشرات بعض نالیوں کے ذریعے سانس لیتے ہیں جو ان کے جسم میں ہیں۔ جب یہ حشرات ایک حد تک بڑے ہوجاتے ہیں تو ان نالیوں سے اس قدر آکسیجن داخل نہیں ہو سکتی جو ان کے جسم کے لیے کافی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی کیڑا چند انچ سے زیادہ بڑا نہیں ہوتا۔ اسی طرح ان حشرات کے پر بھی زیادہ طویل نہیں ہوتے۔ ان کیڑے مکوڑوں کی تخلیق اور تشکیل کے نظام کی روہی سے وہ یاک مقدار سے زیادہ بڑے نہیں ہوسکتے۔ چناچہ قدر کے نظام نے ان کے پھیلائو کو روک دیا ہے۔ اس طرح اس دنیا کو ان کی زد سے بچا لیا گیا۔ اگر حشرات الارض کے لیے تجدید کا یہ اصول نہ رکھا گیا ہوتا تو اس کرئہ ارض پر انسان کا زندہ رہنا ہی ممکن نہ تھا۔ ذرا فطری انسان کے بارے میں سوچیں کہ اس کے مقابلے میں شیر کے جسم کے برابر سرخ مکھی یا سا کے مقابلے میں شیر کے جسم کے برابر مکڑی آجائے تو کیا انسان ایسی چیزوں کا مقابلہ کرسکتا ہے ؟ “
” حیوانات کی جسمانی طبیعی ساخت میں بعض دوسرے معجزات بھی ہیں کہ اگر حیوانات کے لیے یہ قدرتی انتظامات نہ ہوتے تو کوئی حیوان بلکہ کوئی پودا اس جہاں میں موجود ہی نہ ہوتا “۔
آئے دن انسانوں پر ایسے انکشافات ہو رہے ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کے اندر نہایت دقیق اور لطیف توازن رکھا ہوا ہے اور کائنات کی تمام مخلوقات کے لیے ایک متعین مقدار اور وزن مقرر ہے۔ جوں جوں انسانی علم آگے بڑھتا ہیانسان اس آیت کے مفہوم کو سمجھنے لگتا ہے۔
وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا (25 : 2) ” اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی “۔ لیکن یہ بےحد افسوسناک بات ہے کہ مشرکین اس حقیقت کو پا نہیں رہے۔
(واتخذوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولانشورا) (25 : 3) ” لوگوں نے اسے چھوڑ کر ایسے معبود بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں جو خود اپنے لیے کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ‘ جو نہ مارتے ہیں اور نہ جلا سکتے ہیں اور نہ مرے ہوئے کو پھر اٹھا سکتے ہیں “۔
یوں اللہ تعالیٰ ان کے خود ساختہ خدائوں کو ‘ خدائی کے تمام خصائص سے عاری کردیتا ہے۔
لایخللقون شیئا (25 : 3) ” وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے “۔ جبکہ رب تعالیٰ نے تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے۔
وھم یخلقون (25 : 3) ” وہ خود پیدا کیے ہوئے ہیں “۔ یعنی ان کو خود اللہ نے پیدا کیا ہے ‘ اور ان کو وجود بخشا ہے۔ سب کا خلاق اللہ ہے ‘ چاہے وہ ملائکہ ہوں ‘ جن ہوں ‘ بشر ہوں ‘ درخت ہوں یا پتھر ہوں۔
ولایملکون لانفسھم ضرا ولا نفعا (25 : 3) ” وہ خود اپنے لیے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے “۔ ان کی بندگی کرنے والوں کا نفع و نقصان تو دور کی بات ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ کوئی اپنے لیے نفع کا اختیار نہیں رکھتا مگر نقصان تو دے سکتا ہے مگر یہ الہہ ایسے ہیں کہ اپنے لیے کسی نقصان کا اختیار بھی نہیں رکھتے۔ اس لیے اس کو نفع سے بھی پہلے لایا گیا ہے۔ یعنی اپنے آپ کو نقصان پہنچانا تو بہت ہی آسان کام ہے لیکن یہ لوگ وہ بھی نہیں پہنچا سکتے۔ اس کے بعد ان خصائص کا ذکر کیا جاتا ہے جو صرف اللہ کی خصوصیات میں سے ہیں۔
لایملکون موتا ولا حیوۃ ولا نشورا (25 : 3) ” جو نہ مار سکتے ہیں ‘ نہ جلا سکتے ہیں اور نہ مارے ہوئوں کو پھر اٹھا سکتے ہیں “۔ نہ وہ زندہ کو مار سکتے ہیں ‘ نہ زندگی کو پیدا کرسکتے ہیں ‘ اور نہ مردے کو دوبارہ زندگی دے سکتے ہیں ۔ اگر وہ یہ کام نہیں کرسکتے تو پھر وہ کس چیز کے خدا ہیں۔ اور وہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے مشرکین نے ان کو خدا بنا رکھا ہے۔
یہ کھلی گمراہی ہے اور اس کے بعد ان سے وہ باتیں بعید ‘ نہیں جو وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف کہتے ہیں۔ کیونکہ جب وہ اللہ کے بارے میں یہ باتیں کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ کے بارے میں وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ ان سے سعبد نہیں ہے۔ کسی انسان کی کیا اس سے بھی کوئی بات قبیح ہو سکتی ہے کہ وہ اللہ پر الزام لگائے ‘ حالانکہ اللہ مالک خالق اور مدبر اور مقدر ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا گناہ سب سے گھنائو نا ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا ” یہ کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ اس نے تمہاری تخلیق کی ہے “۔ ان تجعل للہ ندا وھو خلقک (متفق علیہ)
مقام الوہیت پر ان کی گستاخی کے ذکر کے بعد اب مقام رسالت پر ان کی دست درازی کا ذکر کیا جاتا ہے اور اس پر ایسی تنقید کی جاتی ہے۔ جس سے ان کے اس اعتراض کا چھوٹا اور پوچ ہونا اچھی طرح ظاہر ہوجاتا ہے۔
الفرقان 25:2
تبرک الذی نزل الفرقان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولا نشورا) (ا : 3)
یہ آغاز ہی صاف صاف ظاہر کردیتا ہے کہ اس سورت کا بڑا محور اور موضوع کیا ہے ؟ یہ کہ یہ کتاب من جانب اللہ نازل شدہ ہے اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت تمام انسانوں کے لیے ہے۔ یہ کہ اس دعوت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے ‘ اس کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ کوئی شریک ہے ‘ وہ وحدہ اس پوری کائنات کا مالک ہے ‘ وحدہ مدبر ہے اور اپنی حکمت و تدبیر کے ساتھ اسے چلارہا ہے۔ ان حقائق کے باوجود شرک کرنے والے شرک کرتے ہیں۔ افتراء پر دازی کرنے والے افتراء باندھتے ہیں اور جھگڑنے والے جھگڑتے ہیں اور حد سے بڑھنے والے حدود پار کرتے رہتے ہیں۔
(تبرک الذی۔۔۔۔۔۔۔۔ نذیرا) (25 : 1) ” نہایت متبرک ہے وہ جس نے یہ فرقان ‘ اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ سارے جہاں والوں کے لیے خبردار کردینے والا ہو “۔ تبارک ‘ برکت سے باب مفاعلہ ہے یعنی نہایت متبرک ہے۔ یعنی وہ بہت زیادہ فیوض و برکات و الا ہے۔ یہاں اللہ جل شانہ ‘ کا نام لینے کے بجائے اسم موصول سے ذات باری کو الذی نزل الفرقان (25 : 1) لایا گیا ہے ‘ کیونکہ یہاں سورت میں مباحثہ ” صداقت و رسالت “ پر ہے۔ اور اس کے ساتھ ذات باری کا گہرا تعلق ہے نیز نزول قرآن کے ساتھ بھی ذات باری کا تعلق ہے کہ یہ ذات ہی نازل کرنے والی ہے۔
یہاں قرآن مجید کو فرقان اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں جو تعلیمات دی گئی ہیں وہ حق و باطل اور ہدایت و ضلالت کے درمیان بہت ہی واضح فرق کردیتی ہیں بلکہ اس کے ذریعہ اسلامی نظام زندگی اور غیر اسلامی نظام زندگی کے درمیان اور عہد جاہلیت اور عہد اسلام کے درمیان واضح فرق و امتیاز دکھایا گیا ہے اس لیے کہ اسلام انسانی شعور اور انسانی ضمیر کے اندر ایک واضح طریق زندگی بٹھاتا ہے۔ پھر اس طریق زندگی کو انسانی زندگی کے اندر عملاً قائم کرتا ہے۔ اس طرح اس نظام کو اس کتاب و فرقان نے دنیا کے تمام نظاموں سے علیحدہ اور ممتاز کر کے رکھ دیا ہے۔ گویا قرآن فرقان بایں معنی ہے کہ یہ انسانیت کے لیے ایک اہد جدید ہے۔ تصورات و خیالات کے اعتبار سے بھی اور عملی زندگی کے اعتبار سے بھی ہی عہد جدید ‘ عہد قدیم سے جدا اور ممتاز ہے۔ قرآن کریم اس وسیع مفہوم میں بھی فرقان ہے۔ یہ ایک نکتہ افتراق ہے کہ جہاں سے آگے اب انسانیت نے بلوغ حاصل کرلیا اور اس کا زمانہ طفولیت اب ختم ہوے۔ اب وہ دور ختم ہوگیا ہے کہ لوگوں کو مادی معجزات دکھائے جاتے تھے اور حق و باطل کا فرق سمجھا یا جاتا تھا۔ اب تو قاضی عقل کے ذریعہ یہ فرق سمجھایا جائے گا۔ پھر اس سے قبل رسالتوں کا دائرہ محدود اور مقامی ہوتا تھا اور اب یہ رسالت عمومی رنگ اختیار کرگئی ہے۔ لیکون للعلمین نذیرا (25 : 1) ” تاکہ تمام جہاں والوں کے لیے ڈرانے والا ہو “۔ غرض ان تمام معنوں اور دائروں میں یہ کتاب فرقان ہے۔
نبی ﷺ کی تکریم اور تعظیم کے مقام پر ان کے لیے عہدہ ‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اس کا بندہ ‘ عبدہ کے لفظ کے ساتھ نبی ﷺ کی تعظیم اور تکریم اسراء اور معراج کے اموقعہ پر بھی کی گئی ھی۔
(سبحن الذی اسری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الی المسجد الاقصی) (17 : 1) ” پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے رات کے وقت مسجد حرام مسجد اقصیٰ تک لے گئی “۔ اور سورت جن میں جب آپ ﷺ کو رب کریم کے سامنے کھڑے ہو کر دعا اور مناجات کی حالت میں دکھایا گیا ہے وہاں بھی آپ کے لیے لفظ عبد اللہ استعمال ہوا ہے اور جس طرح یہاں آپ کے لیے تنزیل قرآن کے وقت عبدہ کا لفظ استعمالہوا ہے۔ اسی طرح سورت کہف میں بھی استعمال ہوا ہے۔
الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجا ” تعریف ہے اس ذات کے لیے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں کوئی کجی نہ چھوڑی “۔ ان مقامات پر رسول اکرم ﷺ کے لیے بندے کا لفظ استعمال کرنا رفعت شان ہے۔ اور آپ کی بہت بڑی تکریم ہے۔ انسان کے لیے اعلیٰ ترین مقام یہ ہے کہ وہ اللہ کا بندہ بن جائے۔ اس لیے یہاں آپ کے لیے بندے کا لفظ استعمال ہوا۔ اس سے آگے مقام الوہیت ہے جو اللہ وحدہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ اور اللہ کے ساتھ نہ کوئی شریک ہے اور نہ اللہ کے ساتھ مشارکت کا کوئی شبہ ہو سکتا ہے چاہے نزول قرآن کا مقام ہو ‘ چاہے انسان کو آسمانوں پر لے جایا گیا ہو ‘ چاہے ایک بشر اپنے اعلیٰ مقام معرفت و مناجات میں ہو ‘ ایسے مقامات ہی بعض متعبین انبیائے سابقہ کے لیے مغالطے کا سبب بنے ہیں۔ ایسے ہی مقامات پھسل کر عقیدت مندوں نے بعض انبیاء کو خدا کا بیٹا قرار دینے کے افسانوی عقائد گھڑے یا انہوں نے بندے اور خدا کے درمیان بندگی اور خدائی کے تعلق کے سوا کسی اور قسم کے رابطے کا تصور اپنایا۔ یہی وجہ ہے کہ جب انبیاء کی تکریم اور اعزاز کا مقام آتا ہے تو قرآن کریم میں ان کے لیے بندے کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ تصور یہ دلانا مقصود ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ اور بلند مقام ہے جس تک کوئی بشر ترقی کرسکتا ہے۔
یہاں بتایا جاتا ہے کہ اپنے اس بر گزیدہ بندے پر قرآن نازل کرنے کا مقصد لیکون للعلمین نذیرا (25 : 1) ” تاکہ وہ سارے جہاں کے لیے خبردار کردینے والا ہو “۔ یہ آیات مکی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نبی ﷺ کو ابتداء ہی سے پوری دنیا کے لیے رسول مقرر کردیا گیا تھا۔ بعض مستشرقین نے جو یہ دعویٰ کیا ہے کہ دعوت اسلامی ابتداء میں ایک مقامی دعوت تھی لیکن بعد میں جب اسے عالمی فتوحات حاصل ہوگئیں تو اس نے ایک عالمی تحریک کی شکل اختیار کرلی۔ ان لوگوں کی یہ رائے غلط تھی ‘ یہ دعوت ابتداء ہی سے عالمی تھی۔ اگر قرآن کی تعلیمات پر پوری طرح غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مزاج ہی عالمی ہے۔ اس دعوت کو پھیلانے کے لیے اسلام نے جو طریق کار اور جو وسائل اختیار کیے وہ سب کے سب عالمی تھے۔ اور ان تعلیمات کا مقصد ہی یہ تھا کہ پوری انسانیت کو ایک دور سے نکال کر دوسرے دور میں داخل کیا جائے۔ اس کے اندر سے ایک نظام کو ختم کر کے اسے ایک دوسرا نظام دیا جائے اور یہ کام اس کتاب فرقان کے ذریعے کیا جائے جو اللہ نے تمام جہاں کے لوگوں کو انجام بد سے خبردار کرنے کے لیے نازل کی ہے۔ اور اپنے بندے پر نازل کرے تاکہ وہ تمام لوگوں کے لیے خبردار کرنے والے کا کام کرے۔ یہ دعوت تو عالمی تھی لیکن رسول اللہ ﷺ چونکہ مکہ میں رہنے والے تھے اس لیے ان کا پہلا مقابلہ اہل مکہ ہی سے ہونا تھا۔ اس لیے اس دعوت کا انکار اور مقابلہ اہل مکہ نے کیا تھا۔
غرض وہ ذات بڑی متبرک ہے جس نے اپنے اس عظیم بندے پر یہ کتاب نازل کی جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہے اور جو ایک معیار حق ہے۔
(الذی لہ ملک السموات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقدیرا) (25 : 2) ” وہ جو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مالک ہے ‘ جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ‘ جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے ‘ جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ‘ پھر اس کی تقدیر مقرر کی “۔
یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے لیے اسم ذات کے استعمال کے بجائے اسم موصولہ کا استعمال ہوا یعنی الذی مقصد یہ ہے کہ جن صفات کا ذکر کیا جارہا ہے ان کے ساتھ اللہ کا دائمی اور مسلسل تعلق ہے۔
الذی لہ ملک السموت والارض (25 : 2) ” وہ جو زمین و آسمان کا مالک ہے “۔ زمینو آسمان پر اس کا مکمل کنٹرول ہے۔ یہ اس کے قبضہ میں ہیں۔ وہ ان کے اندر پوری طرح متصرف ہے اور زمین و آسمان کے اندر تمام تغیرات اس کی مرضی اور حکم سے رونما ہوتے ہیں۔
ولم یتخذ ولدا (25 : 2) ” اس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا “۔ تناسل تو وہ قدرتی قانون ہے جسے اللہ نے اپنی مخلوق کے اندر جاری کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ” زندگی “ کا تسلسل قائم رہے۔ جہاں تک ذات باری کا تعلق ہے تو وہ جب ہمیشہ باقی ہے اور لازوال ہے تو وہ سلسلہ تناسل کی محتاج ہی نہیں ہے۔
ولم یکن لہ شریک فی الملک (25 : 2) ” جس کی بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے “۔ زمین و آسمان کے اندر جس قدر مخلوق ہے اگر اس کا مشاہدہ اور تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس کا نقشہ کسی ایک ہی خالق نے تخلیق کیا ہے۔ ہر چیز کے اندر ایک ہی ناموس قدرت ہے اور تمام مخلوق کے اندر تصرف اور تغیر بھی ایک ہی ذات کا نظر آتا ہے۔
وخلق کل شیء فقدر ہ تقدیرا (25 : 2) ” جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی۔ اس کا ایک حجم اور اس کی ایک شکل مقرر کی۔ اس کے لیے ایک کام اور فرض منصبی متعین کیا۔ اس کا زمان و مکان متعین کیا۔ اور اس کو اس کائنات کے عظیم وجود کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔
اس کائنات کے وجود اور انداز کے انداز تخلیق و ترکیب پر جن علماء نے غور کیا ہے اور جو انسان بھی اس پر کبھی غور کرے گا وہ حیران رہ جائے گا۔ جوں جوں تخلیق کائنات کے راز ہائے نہفتہ واشگفتہ ہوں گے اس کو یقین ہوتا جائے گا کہ یہ کائنات از خود بطور انفاق وجود میں نہیں آگئی ہے۔ اس کی ترکیب اس قدر دقیق اور باریک ہے کہ انسان اس کے مظاہر اور اثرات ہی کو معلوم کرنے سے عاجز ہے جبکہ ہم نے ابھی تک اس کائنات کا ایک حقیر پہلو ہی مشاہدہ کیا ہے۔ لیکن جوں جوں ہماری دریافت آگے بڑھتی ہے۔ ہمیں اس کائنات کے اندر نہایت ہی حکیمانہ ضوابط کار فرما نظر آتے ہیں۔ یہ ضوابط اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ ہمارا علم جس قدر آگے بڑھتا ہے ہمیں یہ آیت اچھی طرح سمجھ آجاتی ہے۔
وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا (25 : 2) ” اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک مکمل تقدیر مقرر کی “۔ مسٹراے کریسی مورسن ‘ صدر سائنس اکیڈمی نیوریارک ‘ اپنی کتاب ” انسان ایکلا نہیں کھڑا ہے “ میں لکھتے ہیں :” اس حقیقت کو دیکھ کر انسان حیرت سے دہشت زدہ ہوجاتا جب وہ اس کائنات کی موجودہ شکل میں منظم کیے جانے پر غور کرتا ہے۔ یہ نہایت ہی حکیمانہ تنظیم ہے۔ اگر زمین کا چھلکا اپنی موجودہ مقدار کے مقابلے میں چند قدم اور زیادہ دیر ہوتا تو اور نباتات کا وجود ہی ختم ہوجاتا “۔
” اگر ہوا اپنے موجودہ مقام سے ذرا زیادہ اونچی ہوتی تو آج جو لاکھوں شاب ثاقب بالائی فضا می جل جاتے ہیں ‘ ان کی زد اس کرئہ ارضی پر پڑتی کیونکہ ان شابوں کی رفتار 46 میل فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ اس طرح یہ جہاں گرتے ‘ وہاں پر اس چیز کو جلا دیتے جو جلنے کے قابل ہوتی اور اگر ان کی رفتار کم ہو کر بندوق کی گولی کی مقدار پر آجائے تو یہ سب زمین پر آکر چپک جاتے اور اس کے خوفناک نتائج نکلتے۔ رہا انسان تو اس کے پاس سے اگر ایک چھوٹا سا شہاب ثاقب گزر جائے جس کی رفتار بندوق کی گولی سے نوے گنازیادہ ہوتی ہے تو صرف اس کے گزرنے کی رفتار کی گرمی سے وہ چھوٹے چھوٹے ڈروں میں بدل جاتے “۔
” اللہ نے اس ہوا کو ایک خاص مقدار کے مطابق کثیف بنایا ہے اور اس کی اس کثافت سے وہ شعاعیں گزرسکتی ہیں جو فصلوں پر وہی اثرات ڈالتی ہیں ‘ جو جراثیم کو قتل کرتی ہیں اور وٹامن پیدا کرتی ہیں ‘ لیکن یہ شعاعیں انسان کو نقصان نہیں پہنچاتیں الا یہ کہ انسان ان کے اندر ضرورت سے زیادہ رہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ زمین سے ہر وقت زہریلی گیس نکلتی رہتی ہیں لیکن ہوا ان گیسوں سے متاثر ہو کر اس مسلسل آلوگدگی کی وجہ سے بھی اس کی وہ نسبت نہیں بدلتی جو صحت انسانی کے لیے ضروری ہے۔ اور اس توازن کو یہ وسیع سمندر قائم رکھتے ہیں جن کی وجہ سے ہر قسم کی زندگی ‘ غذا ‘ بارش معتدل جائے رہائش اور نباتات کو زندگی حاصل ہوتی ہے اور خود انسان کی زندگی قائم ہے “۔
” اس ہوا میں اس وقت آکسیجن 21 فیصد ہے ‘ اگر یہ بڑھ کر 50 فیصد ہوجائے تو وہ تمام مواد جو اس وقت جلنے کے قابل ہے ‘ سب کا سب آگ پکڑ لے۔ ایک چنگاری جنگلات کو آگ لگا دے اور تمام جنگلات ایک دھماکے سے اڑ جائیں اور اگر ہوا کے اندر آکسیجن کی مقدار 10 فیصد ہوجائے یا اور کم ہوجائے تو انسانی زندگی شاید صدیوں بعد اپنے آپ کو اس نسبت کے ساتھ ساتھ ہم آہنگ تو کر ہی دے لیکن انسانی تمدن موجودہ بیشمار چیزوں سے محروم ہوجائے ‘ مثلاً آگ اور دیگر انرجیز ہے “۔
” ان مخلوقات کی ضابطہ بندی اور ان کے اندر قدرتی توازن بھی نہایت ہی عجیب ہے کہ کوئی حیوان ‘ مخواہ وہ جس قدر عظیم الجثہ اور ہوشیار کیوں نہ ہو ‘ اس کے لیے اس جہاں پر غلبہ حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔
ہاں انسان نے یہ کام کیا کہ اس نے نباتات اور حیوانات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرکے قدرت کے پیدا کردہ اس توازن کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ اور انسان کو اس کی اس حرکت کی سخت سزا بھی ملی اس طرح کہ اس توازن کو خراب کرنے کی وجہ سے حیوانات ‘ حشرات اور نباتات کو مختلف بیماریوں کو سامنا کرنا پڑا “۔
” وجود انسان کے حوالے سے اس توازن کی جو اہمیت ہے اس کی حقیقت درج ذیل واقعہ سے اچھی طرح معلوم ہو سکتی ہے۔ کئی سال ہوئے آسٹریلیا میں ایک قسم کے خاردار خربوزے کی کاشت کی گئی۔ یہ کاشت بطور حفاظتی باڑ کی گئی لیکن یہ فصل اس قدر پھیل گئی کہ اس نے تھوڑے ہی عرصہ میں اس قدر رقبے کو گھیر لیا جو انگلینڈ کے برابر تھا۔ اس نے شہروں کے شہر اجاڑ دیئے اور لوگوں کی فصل تباہ ہوگئی ‘ یہاں تک کہ لوگوں کے لیے فضل بونا مشکل ہوگئی۔ لوگوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح اس کے پھیلائو پر کنٹرول کیا جائے مگر ممکن ہی نہ ہوا۔ پورے آسٹریلیا کے لیے یہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ اس پر خار دار خربوزے کی یہ فضل قابض ہوجائے ‘ کوئی چیز اس کے لیے رکاوٹ نہ تھی “۔
” علماء حشرات الارض پوری دنیا میں پھیل گئے ‘ تحقیقات شروع کردی یہاں تک کہ انہوں نے ایک کیڑا دریافت کرلیا جس کی خوراک صرف یہ خربوزہ تھا۔ یہ کیڑا بھی اسی تیزی سے پھیل رہا تھا جس تیزی سے یہ خاردار خربوزہ پھیلتا تھا۔ آسٹریلیا میں اس کیڑے کے سامنے بھی کوئی طبعی رکاوٹ نہ تھی ‘ یہ کیڑا اس قدر پھیلا کہ اس نے خار دار خربوزے کو ختم کر کے رکھ دیا۔ جو نہی یہ خربوزہ ختم ہوا اس کیڑے نے بھی ختم ہونا شروع کردیا۔ اس کی نہایت ہی قلیل مقدار باقی رہ گئی۔ یہ گویا قدرت نے اس خربوزے کے پھیلائو کے خلاف باقی رکھی۔ یوں قدرت نے ضابطے اور تواز کو قائم رکھنے کا یہ انتظام کیا “۔
” سوال یہ ہے کہ ملیریا کے مچھر نے کیوں نہ اس پوری دنیا پر غلبہ پایا کہ ہمارے آباء واجدا اس سے مرجاتے۔ یا اس سے بچائو کی کوئی تدبیر وہ حاصل کرلیتے۔ اسی طرح زرد بخار کے مچھر کے بارے میں بھی یہی کہا جاسکتا ہے ‘ ایک موسم میں تو اس نے اس قدر پیش قدمی کی کہ نیویارک تک پہنچ گیا۔ بحر منجمد میں بھی کئی قسم کے مچھر پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا زیادہ پھیلائو کن اسباب کی وجہ سے نہ ہوا۔ اور یہ اپنے گرم منطقوں تک ہی محدود رہی اور اس طرح اس کی افواج کی زد سے انسان بچ سکا ورنہ کرئہ ارض پر سے انسان کا وجود ہی ختم ہوجاتا۔ انسان طاعون ‘ دوسری مہلک وبائوں ‘ مہلک جراثیم کے بارے میں یہ کہہ سکتا ہے کہ خود انسان کے پاس ان چیزوں سے بچنے کی دوائیں توکل تک نہ تھیں پھر کیسے بچا۔ پھر کل تک تو انسان حفظان صحت کے بنیادی اصولوں سے بھی نا بلد تھا۔ یکا ایسے حالات میں نوع انسان کا باقی رہنا ایک معجزہ نہیں ہے۔ “
” پھر دیکھئے کہ حشرات الارض کے اس طرح کے پھیپھڑے نہیں ہیں جس طرح کہ انسان کے ہیں۔ یہ حشرات بعض نالیوں کے ذریعے سانس لیتے ہیں جو ان کے جسم میں ہیں۔ جب یہ حشرات ایک حد تک بڑے ہوجاتے ہیں تو ان نالیوں سے اس قدر آکسیجن داخل نہیں ہو سکتی جو ان کے جسم کے لیے کافی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی کیڑا چند انچ سے زیادہ بڑا نہیں ہوتا۔ اسی طرح ان حشرات کے پر بھی زیادہ طویل نہیں ہوتے۔ ان کیڑے مکوڑوں کی تخلیق اور تشکیل کے نظام کی روہی سے وہ یاک مقدار سے زیادہ بڑے نہیں ہوسکتے۔ چناچہ قدر کے نظام نے ان کے پھیلائو کو روک دیا ہے۔ اس طرح اس دنیا کو ان کی زد سے بچا لیا گیا۔ اگر حشرات الارض کے لیے تجدید کا یہ اصول نہ رکھا گیا ہوتا تو اس کرئہ ارض پر انسان کا زندہ رہنا ہی ممکن نہ تھا۔ ذرا فطری انسان کے بارے میں سوچیں کہ اس کے مقابلے میں شیر کے جسم کے برابر سرخ مکھی یا سا کے مقابلے میں شیر کے جسم کے برابر مکڑی آجائے تو کیا انسان ایسی چیزوں کا مقابلہ کرسکتا ہے ؟ “
” حیوانات کی جسمانی طبیعی ساخت میں بعض دوسرے معجزات بھی ہیں کہ اگر حیوانات کے لیے یہ قدرتی انتظامات نہ ہوتے تو کوئی حیوان بلکہ کوئی پودا اس جہاں میں موجود ہی نہ ہوتا “۔
آئے دن انسانوں پر ایسے انکشافات ہو رہے ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کے اندر نہایت دقیق اور لطیف توازن رکھا ہوا ہے اور کائنات کی تمام مخلوقات کے لیے ایک متعین مقدار اور وزن مقرر ہے۔ جوں جوں انسانی علم آگے بڑھتا ہیانسان اس آیت کے مفہوم کو سمجھنے لگتا ہے۔
وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا (25 : 2) ” اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی “۔ لیکن یہ بےحد افسوسناک بات ہے کہ مشرکین اس حقیقت کو پا نہیں رہے۔
(واتخذوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولانشورا) (25 : 3) ” لوگوں نے اسے چھوڑ کر ایسے معبود بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں جو خود اپنے لیے کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ‘ جو نہ مارتے ہیں اور نہ جلا سکتے ہیں اور نہ مرے ہوئے کو پھر اٹھا سکتے ہیں “۔
یوں اللہ تعالیٰ ان کے خود ساختہ خدائوں کو ‘ خدائی کے تمام خصائص سے عاری کردیتا ہے۔
لایخللقون شیئا (25 : 3) ” وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے “۔ جبکہ رب تعالیٰ نے تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے۔
وھم یخلقون (25 : 3) ” وہ خود پیدا کیے ہوئے ہیں “۔ یعنی ان کو خود اللہ نے پیدا کیا ہے ‘ اور ان کو وجود بخشا ہے۔ سب کا خلاق اللہ ہے ‘ چاہے وہ ملائکہ ہوں ‘ جن ہوں ‘ بشر ہوں ‘ درخت ہوں یا پتھر ہوں۔
ولایملکون لانفسھم ضرا ولا نفعا (25 : 3) ” وہ خود اپنے لیے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے “۔ ان کی بندگی کرنے والوں کا نفع و نقصان تو دور کی بات ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ کوئی اپنے لیے نفع کا اختیار نہیں رکھتا مگر نقصان تو دے سکتا ہے مگر یہ الہہ ایسے ہیں کہ اپنے لیے کسی نقصان کا اختیار بھی نہیں رکھتے۔ اس لیے اس کو نفع سے بھی پہلے لایا گیا ہے۔ یعنی اپنے آپ کو نقصان پہنچانا تو بہت ہی آسان کام ہے لیکن یہ لوگ وہ بھی نہیں پہنچا سکتے۔ اس کے بعد ان خصائص کا ذکر کیا جاتا ہے جو صرف اللہ کی خصوصیات میں سے ہیں۔
لایملکون موتا ولا حیوۃ ولا نشورا (25 : 3) ” جو نہ مار سکتے ہیں ‘ نہ جلا سکتے ہیں اور نہ مارے ہوئوں کو پھر اٹھا سکتے ہیں “۔ نہ وہ زندہ کو مار سکتے ہیں ‘ نہ زندگی کو پیدا کرسکتے ہیں ‘ اور نہ مردے کو دوبارہ زندگی دے سکتے ہیں ۔ اگر وہ یہ کام نہیں کرسکتے تو پھر وہ کس چیز کے خدا ہیں۔ اور وہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے مشرکین نے ان کو خدا بنا رکھا ہے۔
یہ کھلی گمراہی ہے اور اس کے بعد ان سے وہ باتیں بعید ‘ نہیں جو وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف کہتے ہیں۔ کیونکہ جب وہ اللہ کے بارے میں یہ باتیں کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ کے بارے میں وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ ان سے سعبد نہیں ہے۔ کسی انسان کی کیا اس سے بھی کوئی بات قبیح ہو سکتی ہے کہ وہ اللہ پر الزام لگائے ‘ حالانکہ اللہ مالک خالق اور مدبر اور مقدر ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا گناہ سب سے گھنائو نا ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا ” یہ کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ اس نے تمہاری تخلیق کی ہے “۔ ان تجعل للہ ندا وھو خلقک (متفق علیہ)
مقام الوہیت پر ان کی گستاخی کے ذکر کے بعد اب مقام رسالت پر ان کی دست درازی کا ذکر کیا جاتا ہے اور اس پر ایسی تنقید کی جاتی ہے۔ جس سے ان کے اس اعتراض کا چھوٹا اور پوچ ہونا اچھی طرح ظاہر ہوجاتا ہے۔
الفرقان 25:3
تبرک الذی نزل الفرقان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولا نشورا) (ا : 3)
یہ آغاز ہی صاف صاف ظاہر کردیتا ہے کہ اس سورت کا بڑا محور اور موضوع کیا ہے ؟ یہ کہ یہ کتاب من جانب اللہ نازل شدہ ہے اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت تمام انسانوں کے لیے ہے۔ یہ کہ اس دعوت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے ‘ اس کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ کوئی شریک ہے ‘ وہ وحدہ اس پوری کائنات کا مالک ہے ‘ وحدہ مدبر ہے اور اپنی حکمت و تدبیر کے ساتھ اسے چلارہا ہے۔ ان حقائق کے باوجود شرک کرنے والے شرک کرتے ہیں۔ افتراء پر دازی کرنے والے افتراء باندھتے ہیں اور جھگڑنے والے جھگڑتے ہیں اور حد سے بڑھنے والے حدود پار کرتے رہتے ہیں۔
(تبرک الذی۔۔۔۔۔۔۔۔ نذیرا) (25 : 1) ” نہایت متبرک ہے وہ جس نے یہ فرقان ‘ اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ سارے جہاں والوں کے لیے خبردار کردینے والا ہو “۔ تبارک ‘ برکت سے باب مفاعلہ ہے یعنی نہایت متبرک ہے۔ یعنی وہ بہت زیادہ فیوض و برکات و الا ہے۔ یہاں اللہ جل شانہ ‘ کا نام لینے کے بجائے اسم موصول سے ذات باری کو الذی نزل الفرقان (25 : 1) لایا گیا ہے ‘ کیونکہ یہاں سورت میں مباحثہ ” صداقت و رسالت “ پر ہے۔ اور اس کے ساتھ ذات باری کا گہرا تعلق ہے نیز نزول قرآن کے ساتھ بھی ذات باری کا تعلق ہے کہ یہ ذات ہی نازل کرنے والی ہے۔
یہاں قرآن مجید کو فرقان اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں جو تعلیمات دی گئی ہیں وہ حق و باطل اور ہدایت و ضلالت کے درمیان بہت ہی واضح فرق کردیتی ہیں بلکہ اس کے ذریعہ اسلامی نظام زندگی اور غیر اسلامی نظام زندگی کے درمیان اور عہد جاہلیت اور عہد اسلام کے درمیان واضح فرق و امتیاز دکھایا گیا ہے اس لیے کہ اسلام انسانی شعور اور انسانی ضمیر کے اندر ایک واضح طریق زندگی بٹھاتا ہے۔ پھر اس طریق زندگی کو انسانی زندگی کے اندر عملاً قائم کرتا ہے۔ اس طرح اس نظام کو اس کتاب و فرقان نے دنیا کے تمام نظاموں سے علیحدہ اور ممتاز کر کے رکھ دیا ہے۔ گویا قرآن فرقان بایں معنی ہے کہ یہ انسانیت کے لیے ایک اہد جدید ہے۔ تصورات و خیالات کے اعتبار سے بھی اور عملی زندگی کے اعتبار سے بھی ہی عہد جدید ‘ عہد قدیم سے جدا اور ممتاز ہے۔ قرآن کریم اس وسیع مفہوم میں بھی فرقان ہے۔ یہ ایک نکتہ افتراق ہے کہ جہاں سے آگے اب انسانیت نے بلوغ حاصل کرلیا اور اس کا زمانہ طفولیت اب ختم ہوے۔ اب وہ دور ختم ہوگیا ہے کہ لوگوں کو مادی معجزات دکھائے جاتے تھے اور حق و باطل کا فرق سمجھا یا جاتا تھا۔ اب تو قاضی عقل کے ذریعہ یہ فرق سمجھایا جائے گا۔ پھر اس سے قبل رسالتوں کا دائرہ محدود اور مقامی ہوتا تھا اور اب یہ رسالت عمومی رنگ اختیار کرگئی ہے۔ لیکون للعلمین نذیرا (25 : 1) ” تاکہ تمام جہاں والوں کے لیے ڈرانے والا ہو “۔ غرض ان تمام معنوں اور دائروں میں یہ کتاب فرقان ہے۔
نبی ﷺ کی تکریم اور تعظیم کے مقام پر ان کے لیے عہدہ ‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اس کا بندہ ‘ عبدہ کے لفظ کے ساتھ نبی ﷺ کی تعظیم اور تکریم اسراء اور معراج کے اموقعہ پر بھی کی گئی ھی۔
(سبحن الذی اسری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الی المسجد الاقصی) (17 : 1) ” پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے رات کے وقت مسجد حرام مسجد اقصیٰ تک لے گئی “۔ اور سورت جن میں جب آپ ﷺ کو رب کریم کے سامنے کھڑے ہو کر دعا اور مناجات کی حالت میں دکھایا گیا ہے وہاں بھی آپ کے لیے لفظ عبد اللہ استعمال ہوا ہے اور جس طرح یہاں آپ کے لیے تنزیل قرآن کے وقت عبدہ کا لفظ استعمالہوا ہے۔ اسی طرح سورت کہف میں بھی استعمال ہوا ہے۔
الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجا ” تعریف ہے اس ذات کے لیے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں کوئی کجی نہ چھوڑی “۔ ان مقامات پر رسول اکرم ﷺ کے لیے بندے کا لفظ استعمال کرنا رفعت شان ہے۔ اور آپ کی بہت بڑی تکریم ہے۔ انسان کے لیے اعلیٰ ترین مقام یہ ہے کہ وہ اللہ کا بندہ بن جائے۔ اس لیے یہاں آپ کے لیے بندے کا لفظ استعمال ہوا۔ اس سے آگے مقام الوہیت ہے جو اللہ وحدہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ اور اللہ کے ساتھ نہ کوئی شریک ہے اور نہ اللہ کے ساتھ مشارکت کا کوئی شبہ ہو سکتا ہے چاہے نزول قرآن کا مقام ہو ‘ چاہے انسان کو آسمانوں پر لے جایا گیا ہو ‘ چاہے ایک بشر اپنے اعلیٰ مقام معرفت و مناجات میں ہو ‘ ایسے مقامات ہی بعض متعبین انبیائے سابقہ کے لیے مغالطے کا سبب بنے ہیں۔ ایسے ہی مقامات پھسل کر عقیدت مندوں نے بعض انبیاء کو خدا کا بیٹا قرار دینے کے افسانوی عقائد گھڑے یا انہوں نے بندے اور خدا کے درمیان بندگی اور خدائی کے تعلق کے سوا کسی اور قسم کے رابطے کا تصور اپنایا۔ یہی وجہ ہے کہ جب انبیاء کی تکریم اور اعزاز کا مقام آتا ہے تو قرآن کریم میں ان کے لیے بندے کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ تصور یہ دلانا مقصود ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ اور بلند مقام ہے جس تک کوئی بشر ترقی کرسکتا ہے۔
یہاں بتایا جاتا ہے کہ اپنے اس بر گزیدہ بندے پر قرآن نازل کرنے کا مقصد لیکون للعلمین نذیرا (25 : 1) ” تاکہ وہ سارے جہاں کے لیے خبردار کردینے والا ہو “۔ یہ آیات مکی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نبی ﷺ کو ابتداء ہی سے پوری دنیا کے لیے رسول مقرر کردیا گیا تھا۔ بعض مستشرقین نے جو یہ دعویٰ کیا ہے کہ دعوت اسلامی ابتداء میں ایک مقامی دعوت تھی لیکن بعد میں جب اسے عالمی فتوحات حاصل ہوگئیں تو اس نے ایک عالمی تحریک کی شکل اختیار کرلی۔ ان لوگوں کی یہ رائے غلط تھی ‘ یہ دعوت ابتداء ہی سے عالمی تھی۔ اگر قرآن کی تعلیمات پر پوری طرح غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مزاج ہی عالمی ہے۔ اس دعوت کو پھیلانے کے لیے اسلام نے جو طریق کار اور جو وسائل اختیار کیے وہ سب کے سب عالمی تھے۔ اور ان تعلیمات کا مقصد ہی یہ تھا کہ پوری انسانیت کو ایک دور سے نکال کر دوسرے دور میں داخل کیا جائے۔ اس کے اندر سے ایک نظام کو ختم کر کے اسے ایک دوسرا نظام دیا جائے اور یہ کام اس کتاب فرقان کے ذریعے کیا جائے جو اللہ نے تمام جہاں کے لوگوں کو انجام بد سے خبردار کرنے کے لیے نازل کی ہے۔ اور اپنے بندے پر نازل کرے تاکہ وہ تمام لوگوں کے لیے خبردار کرنے والے کا کام کرے۔ یہ دعوت تو عالمی تھی لیکن رسول اللہ ﷺ چونکہ مکہ میں رہنے والے تھے اس لیے ان کا پہلا مقابلہ اہل مکہ ہی سے ہونا تھا۔ اس لیے اس دعوت کا انکار اور مقابلہ اہل مکہ نے کیا تھا۔
غرض وہ ذات بڑی متبرک ہے جس نے اپنے اس عظیم بندے پر یہ کتاب نازل کی جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہے اور جو ایک معیار حق ہے۔
(الذی لہ ملک السموات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقدیرا) (25 : 2) ” وہ جو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مالک ہے ‘ جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ‘ جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے ‘ جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ‘ پھر اس کی تقدیر مقرر کی “۔
یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے لیے اسم ذات کے استعمال کے بجائے اسم موصولہ کا استعمال ہوا یعنی الذی مقصد یہ ہے کہ جن صفات کا ذکر کیا جارہا ہے ان کے ساتھ اللہ کا دائمی اور مسلسل تعلق ہے۔
الذی لہ ملک السموت والارض (25 : 2) ” وہ جو زمین و آسمان کا مالک ہے “۔ زمینو آسمان پر اس کا مکمل کنٹرول ہے۔ یہ اس کے قبضہ میں ہیں۔ وہ ان کے اندر پوری طرح متصرف ہے اور زمین و آسمان کے اندر تمام تغیرات اس کی مرضی اور حکم سے رونما ہوتے ہیں۔
ولم یتخذ ولدا (25 : 2) ” اس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا “۔ تناسل تو وہ قدرتی قانون ہے جسے اللہ نے اپنی مخلوق کے اندر جاری کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ” زندگی “ کا تسلسل قائم رہے۔ جہاں تک ذات باری کا تعلق ہے تو وہ جب ہمیشہ باقی ہے اور لازوال ہے تو وہ سلسلہ تناسل کی محتاج ہی نہیں ہے۔
ولم یکن لہ شریک فی الملک (25 : 2) ” جس کی بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے “۔ زمین و آسمان کے اندر جس قدر مخلوق ہے اگر اس کا مشاہدہ اور تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس کا نقشہ کسی ایک ہی خالق نے تخلیق کیا ہے۔ ہر چیز کے اندر ایک ہی ناموس قدرت ہے اور تمام مخلوق کے اندر تصرف اور تغیر بھی ایک ہی ذات کا نظر آتا ہے۔
وخلق کل شیء فقدر ہ تقدیرا (25 : 2) ” جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی۔ اس کا ایک حجم اور اس کی ایک شکل مقرر کی۔ اس کے لیے ایک کام اور فرض منصبی متعین کیا۔ اس کا زمان و مکان متعین کیا۔ اور اس کو اس کائنات کے عظیم وجود کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔
اس کائنات کے وجود اور انداز کے انداز تخلیق و ترکیب پر جن علماء نے غور کیا ہے اور جو انسان بھی اس پر کبھی غور کرے گا وہ حیران رہ جائے گا۔ جوں جوں تخلیق کائنات کے راز ہائے نہفتہ واشگفتہ ہوں گے اس کو یقین ہوتا جائے گا کہ یہ کائنات از خود بطور انفاق وجود میں نہیں آگئی ہے۔ اس کی ترکیب اس قدر دقیق اور باریک ہے کہ انسان اس کے مظاہر اور اثرات ہی کو معلوم کرنے سے عاجز ہے جبکہ ہم نے ابھی تک اس کائنات کا ایک حقیر پہلو ہی مشاہدہ کیا ہے۔ لیکن جوں جوں ہماری دریافت آگے بڑھتی ہے۔ ہمیں اس کائنات کے اندر نہایت ہی حکیمانہ ضوابط کار فرما نظر آتے ہیں۔ یہ ضوابط اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ ہمارا علم جس قدر آگے بڑھتا ہے ہمیں یہ آیت اچھی طرح سمجھ آجاتی ہے۔
وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا (25 : 2) ” اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک مکمل تقدیر مقرر کی “۔ مسٹراے کریسی مورسن ‘ صدر سائنس اکیڈمی نیوریارک ‘ اپنی کتاب ” انسان ایکلا نہیں کھڑا ہے “ میں لکھتے ہیں :” اس حقیقت کو دیکھ کر انسان حیرت سے دہشت زدہ ہوجاتا جب وہ اس کائنات کی موجودہ شکل میں منظم کیے جانے پر غور کرتا ہے۔ یہ نہایت ہی حکیمانہ تنظیم ہے۔ اگر زمین کا چھلکا اپنی موجودہ مقدار کے مقابلے میں چند قدم اور زیادہ دیر ہوتا تو اور نباتات کا وجود ہی ختم ہوجاتا “۔
” اگر ہوا اپنے موجودہ مقام سے ذرا زیادہ اونچی ہوتی تو آج جو لاکھوں شاب ثاقب بالائی فضا می جل جاتے ہیں ‘ ان کی زد اس کرئہ ارضی پر پڑتی کیونکہ ان شابوں کی رفتار 46 میل فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ اس طرح یہ جہاں گرتے ‘ وہاں پر اس چیز کو جلا دیتے جو جلنے کے قابل ہوتی اور اگر ان کی رفتار کم ہو کر بندوق کی گولی کی مقدار پر آجائے تو یہ سب زمین پر آکر چپک جاتے اور اس کے خوفناک نتائج نکلتے۔ رہا انسان تو اس کے پاس سے اگر ایک چھوٹا سا شہاب ثاقب گزر جائے جس کی رفتار بندوق کی گولی سے نوے گنازیادہ ہوتی ہے تو صرف اس کے گزرنے کی رفتار کی گرمی سے وہ چھوٹے چھوٹے ڈروں میں بدل جاتے “۔
” اللہ نے اس ہوا کو ایک خاص مقدار کے مطابق کثیف بنایا ہے اور اس کی اس کثافت سے وہ شعاعیں گزرسکتی ہیں جو فصلوں پر وہی اثرات ڈالتی ہیں ‘ جو جراثیم کو قتل کرتی ہیں اور وٹامن پیدا کرتی ہیں ‘ لیکن یہ شعاعیں انسان کو نقصان نہیں پہنچاتیں الا یہ کہ انسان ان کے اندر ضرورت سے زیادہ رہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ زمین سے ہر وقت زہریلی گیس نکلتی رہتی ہیں لیکن ہوا ان گیسوں سے متاثر ہو کر اس مسلسل آلوگدگی کی وجہ سے بھی اس کی وہ نسبت نہیں بدلتی جو صحت انسانی کے لیے ضروری ہے۔ اور اس توازن کو یہ وسیع سمندر قائم رکھتے ہیں جن کی وجہ سے ہر قسم کی زندگی ‘ غذا ‘ بارش معتدل جائے رہائش اور نباتات کو زندگی حاصل ہوتی ہے اور خود انسان کی زندگی قائم ہے “۔
” اس ہوا میں اس وقت آکسیجن 21 فیصد ہے ‘ اگر یہ بڑھ کر 50 فیصد ہوجائے تو وہ تمام مواد جو اس وقت جلنے کے قابل ہے ‘ سب کا سب آگ پکڑ لے۔ ایک چنگاری جنگلات کو آگ لگا دے اور تمام جنگلات ایک دھماکے سے اڑ جائیں اور اگر ہوا کے اندر آکسیجن کی مقدار 10 فیصد ہوجائے یا اور کم ہوجائے تو انسانی زندگی شاید صدیوں بعد اپنے آپ کو اس نسبت کے ساتھ ساتھ ہم آہنگ تو کر ہی دے لیکن انسانی تمدن موجودہ بیشمار چیزوں سے محروم ہوجائے ‘ مثلاً آگ اور دیگر انرجیز ہے “۔
” ان مخلوقات کی ضابطہ بندی اور ان کے اندر قدرتی توازن بھی نہایت ہی عجیب ہے کہ کوئی حیوان ‘ مخواہ وہ جس قدر عظیم الجثہ اور ہوشیار کیوں نہ ہو ‘ اس کے لیے اس جہاں پر غلبہ حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔
ہاں انسان نے یہ کام کیا کہ اس نے نباتات اور حیوانات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرکے قدرت کے پیدا کردہ اس توازن کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ اور انسان کو اس کی اس حرکت کی سخت سزا بھی ملی اس طرح کہ اس توازن کو خراب کرنے کی وجہ سے حیوانات ‘ حشرات اور نباتات کو مختلف بیماریوں کو سامنا کرنا پڑا “۔
” وجود انسان کے حوالے سے اس توازن کی جو اہمیت ہے اس کی حقیقت درج ذیل واقعہ سے اچھی طرح معلوم ہو سکتی ہے۔ کئی سال ہوئے آسٹریلیا میں ایک قسم کے خاردار خربوزے کی کاشت کی گئی۔ یہ کاشت بطور حفاظتی باڑ کی گئی لیکن یہ فصل اس قدر پھیل گئی کہ اس نے تھوڑے ہی عرصہ میں اس قدر رقبے کو گھیر لیا جو انگلینڈ کے برابر تھا۔ اس نے شہروں کے شہر اجاڑ دیئے اور لوگوں کی فصل تباہ ہوگئی ‘ یہاں تک کہ لوگوں کے لیے فضل بونا مشکل ہوگئی۔ لوگوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح اس کے پھیلائو پر کنٹرول کیا جائے مگر ممکن ہی نہ ہوا۔ پورے آسٹریلیا کے لیے یہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ اس پر خار دار خربوزے کی یہ فضل قابض ہوجائے ‘ کوئی چیز اس کے لیے رکاوٹ نہ تھی “۔
” علماء حشرات الارض پوری دنیا میں پھیل گئے ‘ تحقیقات شروع کردی یہاں تک کہ انہوں نے ایک کیڑا دریافت کرلیا جس کی خوراک صرف یہ خربوزہ تھا۔ یہ کیڑا بھی اسی تیزی سے پھیل رہا تھا جس تیزی سے یہ خاردار خربوزہ پھیلتا تھا۔ آسٹریلیا میں اس کیڑے کے سامنے بھی کوئی طبعی رکاوٹ نہ تھی ‘ یہ کیڑا اس قدر پھیلا کہ اس نے خار دار خربوزے کو ختم کر کے رکھ دیا۔ جو نہی یہ خربوزہ ختم ہوا اس کیڑے نے بھی ختم ہونا شروع کردیا۔ اس کی نہایت ہی قلیل مقدار باقی رہ گئی۔ یہ گویا قدرت نے اس خربوزے کے پھیلائو کے خلاف باقی رکھی۔ یوں قدرت نے ضابطے اور تواز کو قائم رکھنے کا یہ انتظام کیا “۔
” سوال یہ ہے کہ ملیریا کے مچھر نے کیوں نہ اس پوری دنیا پر غلبہ پایا کہ ہمارے آباء واجدا اس سے مرجاتے۔ یا اس سے بچائو کی کوئی تدبیر وہ حاصل کرلیتے۔ اسی طرح زرد بخار کے مچھر کے بارے میں بھی یہی کہا جاسکتا ہے ‘ ایک موسم میں تو اس نے اس قدر پیش قدمی کی کہ نیویارک تک پہنچ گیا۔ بحر منجمد میں بھی کئی قسم کے مچھر پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا زیادہ پھیلائو کن اسباب کی وجہ سے نہ ہوا۔ اور یہ اپنے گرم منطقوں تک ہی محدود رہی اور اس طرح اس کی افواج کی زد سے انسان بچ سکا ورنہ کرئہ ارض پر سے انسان کا وجود ہی ختم ہوجاتا۔ انسان طاعون ‘ دوسری مہلک وبائوں ‘ مہلک جراثیم کے بارے میں یہ کہہ سکتا ہے کہ خود انسان کے پاس ان چیزوں سے بچنے کی دوائیں توکل تک نہ تھیں پھر کیسے بچا۔ پھر کل تک تو انسان حفظان صحت کے بنیادی اصولوں سے بھی نا بلد تھا۔ یکا ایسے حالات میں نوع انسان کا باقی رہنا ایک معجزہ نہیں ہے۔ “
” پھر دیکھئے کہ حشرات الارض کے اس طرح کے پھیپھڑے نہیں ہیں جس طرح کہ انسان کے ہیں۔ یہ حشرات بعض نالیوں کے ذریعے سانس لیتے ہیں جو ان کے جسم میں ہیں۔ جب یہ حشرات ایک حد تک بڑے ہوجاتے ہیں تو ان نالیوں سے اس قدر آکسیجن داخل نہیں ہو سکتی جو ان کے جسم کے لیے کافی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی کیڑا چند انچ سے زیادہ بڑا نہیں ہوتا۔ اسی طرح ان حشرات کے پر بھی زیادہ طویل نہیں ہوتے۔ ان کیڑے مکوڑوں کی تخلیق اور تشکیل کے نظام کی روہی سے وہ یاک مقدار سے زیادہ بڑے نہیں ہوسکتے۔ چناچہ قدر کے نظام نے ان کے پھیلائو کو روک دیا ہے۔ اس طرح اس دنیا کو ان کی زد سے بچا لیا گیا۔ اگر حشرات الارض کے لیے تجدید کا یہ اصول نہ رکھا گیا ہوتا تو اس کرئہ ارض پر انسان کا زندہ رہنا ہی ممکن نہ تھا۔ ذرا فطری انسان کے بارے میں سوچیں کہ اس کے مقابلے میں شیر کے جسم کے برابر سرخ مکھی یا سا کے مقابلے میں شیر کے جسم کے برابر مکڑی آجائے تو کیا انسان ایسی چیزوں کا مقابلہ کرسکتا ہے ؟ “
” حیوانات کی جسمانی طبیعی ساخت میں بعض دوسرے معجزات بھی ہیں کہ اگر حیوانات کے لیے یہ قدرتی انتظامات نہ ہوتے تو کوئی حیوان بلکہ کوئی پودا اس جہاں میں موجود ہی نہ ہوتا “۔
آئے دن انسانوں پر ایسے انکشافات ہو رہے ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کے اندر نہایت دقیق اور لطیف توازن رکھا ہوا ہے اور کائنات کی تمام مخلوقات کے لیے ایک متعین مقدار اور وزن مقرر ہے۔ جوں جوں انسانی علم آگے بڑھتا ہیانسان اس آیت کے مفہوم کو سمجھنے لگتا ہے۔
وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا (25 : 2) ” اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی “۔ لیکن یہ بےحد افسوسناک بات ہے کہ مشرکین اس حقیقت کو پا نہیں رہے۔
(واتخذوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولانشورا) (25 : 3) ” لوگوں نے اسے چھوڑ کر ایسے معبود بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں جو خود اپنے لیے کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ‘ جو نہ مارتے ہیں اور نہ جلا سکتے ہیں اور نہ مرے ہوئے کو پھر اٹھا سکتے ہیں “۔
یوں اللہ تعالیٰ ان کے خود ساختہ خدائوں کو ‘ خدائی کے تمام خصائص سے عاری کردیتا ہے۔
لایخللقون شیئا (25 : 3) ” وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے “۔ جبکہ رب تعالیٰ نے تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے۔
وھم یخلقون (25 : 3) ” وہ خود پیدا کیے ہوئے ہیں “۔ یعنی ان کو خود اللہ نے پیدا کیا ہے ‘ اور ان کو وجود بخشا ہے۔ سب کا خلاق اللہ ہے ‘ چاہے وہ ملائکہ ہوں ‘ جن ہوں ‘ بشر ہوں ‘ درخت ہوں یا پتھر ہوں۔
ولایملکون لانفسھم ضرا ولا نفعا (25 : 3) ” وہ خود اپنے لیے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے “۔ ان کی بندگی کرنے والوں کا نفع و نقصان تو دور کی بات ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ کوئی اپنے لیے نفع کا اختیار نہیں رکھتا مگر نقصان تو دے سکتا ہے مگر یہ الہہ ایسے ہیں کہ اپنے لیے کسی نقصان کا اختیار بھی نہیں رکھتے۔ اس لیے اس کو نفع سے بھی پہلے لایا گیا ہے۔ یعنی اپنے آپ کو نقصان پہنچانا تو بہت ہی آسان کام ہے لیکن یہ لوگ وہ بھی نہیں پہنچا سکتے۔ اس کے بعد ان خصائص کا ذکر کیا جاتا ہے جو صرف اللہ کی خصوصیات میں سے ہیں۔
لایملکون موتا ولا حیوۃ ولا نشورا (25 : 3) ” جو نہ مار سکتے ہیں ‘ نہ جلا سکتے ہیں اور نہ مارے ہوئوں کو پھر اٹھا سکتے ہیں “۔ نہ وہ زندہ کو مار سکتے ہیں ‘ نہ زندگی کو پیدا کرسکتے ہیں ‘ اور نہ مردے کو دوبارہ زندگی دے سکتے ہیں ۔ اگر وہ یہ کام نہیں کرسکتے تو پھر وہ کس چیز کے خدا ہیں۔ اور وہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے مشرکین نے ان کو خدا بنا رکھا ہے۔
یہ کھلی گمراہی ہے اور اس کے بعد ان سے وہ باتیں بعید ‘ نہیں جو وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف کہتے ہیں۔ کیونکہ جب وہ اللہ کے بارے میں یہ باتیں کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ کے بارے میں وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ ان سے سعبد نہیں ہے۔ کسی انسان کی کیا اس سے بھی کوئی بات قبیح ہو سکتی ہے کہ وہ اللہ پر الزام لگائے ‘ حالانکہ اللہ مالک خالق اور مدبر اور مقدر ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا گناہ سب سے گھنائو نا ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا ” یہ کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ اس نے تمہاری تخلیق کی ہے “۔ ان تجعل للہ ندا وھو خلقک (متفق علیہ)
مقام الوہیت پر ان کی گستاخی کے ذکر کے بعد اب مقام رسالت پر ان کی دست درازی کا ذکر کیا جاتا ہے اور اس پر ایسی تنقید کی جاتی ہے۔ جس سے ان کے اس اعتراض کا چھوٹا اور پوچ ہونا اچھی طرح ظاہر ہوجاتا ہے۔
الفرقان 25:4
(وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غفورا رحیما) (4 تا 6) ” “۔ “۔
یہ تھا وہ جھوٹ جو اہل قریش نبی ﷺ پر باندھتے تھے۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ بہت ہی بڑا افتراء ہے۔ کیونکہ قریش کے کبراء عوام کو جن باتوں کی تعلیم دیتے تھے ‘ ان سے یہ بات کس طرح مخفی رہ سکتی تھی کہ حضرت محمد ﷺ جس قرآن کی تلاوت فرما رہے ہیں وہ بشری اسالیب کلام سے بالکل ایک مختلف کلام ہے۔ وہ اس بات کو اپنے دل میں اچھی طرح محسوس کرتے تھے کیونکہ وہ انسانی اسالیب کلام سے اچھی طرح واقف تھے۔ جب وہ قرآن سنتے تھے تو وہ خود بھی اس سے بےحد متاثر ہوجاتے تھے۔ پھر بعثت سے قبل حضرت محمد ﷺ کے بارے میں ان کو پورا پورا یقین تھا کہ حضرت محمد ﷺ صادق اور امین ہیں۔ وہ نہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ نہ خیانت کرنے والے تھے۔ پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اللہ پر جھوٹ باندھیں۔ ایک بات اللہ نے نہیں کہی اور حضرت محمد ﷺ یہ کہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔
وہ ایک توعناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ الزام لگاتے تھے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کو دوسرے عرب کے مقابلے میں مکہ میں ایک قسم کی دینی سیادت حاصل تھی اور اس کی وجہ سے عربوں میں ان کا ممتاز مقام تھا ‘ اس وجہ سے وہ عام عربوں میں یہ الزام پھیلاتے تھے کیونکہ عام عرب اسالیب کلام سے واقف نہ تھے۔ اور نہ وہ قرآن اور عام کلام میں فرق کرسکتے تھے۔ اس لیے وہ کہتے۔
(ان ھذا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قوم اخرون) (25 : 4) ” یہ فرقان ایک من گھڑت چیز ہے اور اس پر اسے خود گھڑ لیا ہے اور اس پر کچھ دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے “۔ روایات میں تین یا زیادہ عجمی غلاموں کے نام لیے گئے ہیں کہ قوم اخرون (25 : 4) میں یہ لوگ اس طرف اشارہ کرتے تھے۔ یہ بات کس قدر بےتکی تھی۔ یہ اس قابل ہی نہ تھی کہ اس پر کوئی بحث کی جائے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس قسم کا کلام چند عجمی غلاموں کی امداد سے بنایا جاسکتا تھا تو آخر انہوں نے اس کے جواب میں کیوں ایسا کلام نہ بتایا۔ اس طرح تو وہ بڑی آسانی کے ساتھ حضرت محمد ﷺ کے دعوائے نبوت کو باطل کرسکتے تھے جبکہ قرآن کریم نے ان کو بار با چیلنج بھی کیا اور وہ بار بار ایسا کلام لانے میں ناکام بھی رہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے یہاں ان کی اس بات کا کوئی جواب ہی نہیں دیا بلکہ اس کی واضح تردید کردی۔
فقد جآء و اظلما وزورا (25 : 4) ” بڑا ظلم اور سخت جھوٹ ہے جس پر یہ لوگ اتر آئے ہیں “۔ یہ سچائی پر ظلم کرتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ پر ظلم کرتے ہیں ‘ اپنے نفوس پر ظلم کرتے ہیں ‘ ان کا جھوٹ واضح ہے اور بادی النظر میں باطل ہے۔ جس کی تردید کی ضرورت بھی نہیں ہے۔
مزید الزامات حضور اکرم ﷺ پر اور قرآن مجید کے متعلق
(وقالوا۔۔۔۔۔۔۔ واصیلا) (25 : 5) ” کہتے ہیں کہ یہ پرانے لوگوں کی لکھی ہوئی چیزیں ہیں جنہیں یہ شخص نقل کراتا ہے اور وہ اسے صبح و شام سنائی جاتی ہیں “ قرآن کریم نے اقوام سابقہ کے قصص نقل کیے ہیں۔ یہ عبرت ‘ نصیحت ‘ تربیت اور ہدایت کی خاطر۔ ان سچے قصوں کے بارے میں وہ کہتے ہیں۔
اساطیرالآ ولین (25 : 5) کہ یہ پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے کہا کہ یہ اس کے لیے نوٹ کرلی جائیں تاکہ اس پر صبح و شام پڑھی جائیں کیونکہ حضور ﷺ خود تو امی تھے ‘ لکھ پڑھ نہ سکتے تھے اور خود حضور اکرم ﷺ ان کہانیوں کو پھر خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ ان کے اس دعویٰ کے اندر ہی شکست پوشیدہ ہے کیونکہ ان کا دعویٰ ہی بےبنیاد ہے۔ اس قدر پوچ کہ اس پر بحث کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ قرآن کریم نے قصص کو جس انداز میں پیش کیا ہے۔ وہ جس مقصد کے لیے لائے جاتے ہیں۔ ان سے جو استدلال کیا جاتا ہے اور جس طرح نفاست کے ساتھ وہ اپنے مقصد کو پورا کرتے ہیں اور ان سے جس گہرائی کے ساتھ مقاصد عالیہ ثابت ہوتے ہیں ‘ ان میں اور پرانے قصے کہانیوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ کیونکہ پرانے قصوں میں کوئی فکر اور کوئی نظر یہ نہیں ہوتا ‘ نہ ان قصوں کے پیش نظر کچھ مقاصد ہوتے ہیں۔ یہ قصے محض تفریح کی لیے اور فارغ اوقات میں اپنے آپ کو مصروف کرنے کے لیے ‘ لکھے اور پڑھے جاتے ہیں فقط۔ (تفصیلات کے لیے دیکھئے ” التصویر الغنی فی القرآن “ کا فصل ” القصہ “۔
انہوں نے قرآن کریم کو اساطیر الاولین (25 : 5) کہا ہے ‘ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ قصے بہت ہی پرانے زمانے کے ہیں۔ لہذا محمد ﷺ پر لازماً وہ لوگ پڑھتے ہوں گے۔ ان کا علم حاصل کرنے چلے آتے ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کے اس الزام کا رد یوں کرتا ہے کہ بیشک حضرت محمد ﷺ پر ان کا نزول اس ذات کی طرف سے ہورہا ہے جو ہر علم والے سے زیادہ علیم ہے۔ وہ تمام اسرار و رموز کا جاننے والا ہے یعنی اللہ اور اللہ پر اولین اور آخرین کا کوئی علم پوشیدہ نہیں ہے۔
قل انزلہ الذی یعلم السر فی السموت والارض (25 : 6) ” اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ اسے نازل کیا ہے ‘ اس نے جو زمین و آسمان کا بھید جانتا ہے “۔ قصص گویا ن دنیا کہاں اور وہ علیم وخبیر کہاں۔ انسان کا محدود علم اور ارض و سما کے وسیع علم رکھنے والے اللہ کے علم کامل و شامل کا مقابلہ ہی کیا ہے۔ یاک حقیر قطرے اور ایک بحرنا پیدا کنار کا کیا مقابلہ ہوسکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ بڑی غلطی کررہے ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر یہ بوگس اور پوچ الزام عائد کرتے ہیں جبکہ وہ اللہ کے ساتھ شرک کے قائل ہیں حالانکہ اللہ نے ان کی تخلیق کی ہے۔ لیکن اس کے باوجود توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور اس عظیم گناہ سے وہ باز آسکتے ہیں۔ اللہ جو زمین و آسمانوں کے بھیدوں کا واقف ہے۔ وہ ان کی افتراء پر دازیوں اور ان کی سازشوں سے خوب خبردار ہے لیکن اس کے باوجود وہ غفور و رحیم ہے۔ انہ کان غفورا رحیما (25 : 6)
اسی موضوع پر بات مزید آگے بڑھتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ان کے مزید اعتراضات کہ آپ بشر کیوں ہیں اور دسرے لفو مطالبات کو یہاں بیان کیا جاتا ہے۔
الفرقان 25:5
(وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غفورا رحیما) (4 تا 6) ” “۔ “۔
یہ تھا وہ جھوٹ جو اہل قریش نبی ﷺ پر باندھتے تھے۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ بہت ہی بڑا افتراء ہے۔ کیونکہ قریش کے کبراء عوام کو جن باتوں کی تعلیم دیتے تھے ‘ ان سے یہ بات کس طرح مخفی رہ سکتی تھی کہ حضرت محمد ﷺ جس قرآن کی تلاوت فرما رہے ہیں وہ بشری اسالیب کلام سے بالکل ایک مختلف کلام ہے۔ وہ اس بات کو اپنے دل میں اچھی طرح محسوس کرتے تھے کیونکہ وہ انسانی اسالیب کلام سے اچھی طرح واقف تھے۔ جب وہ قرآن سنتے تھے تو وہ خود بھی اس سے بےحد متاثر ہوجاتے تھے۔ پھر بعثت سے قبل حضرت محمد ﷺ کے بارے میں ان کو پورا پورا یقین تھا کہ حضرت محمد ﷺ صادق اور امین ہیں۔ وہ نہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ نہ خیانت کرنے والے تھے۔ پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اللہ پر جھوٹ باندھیں۔ ایک بات اللہ نے نہیں کہی اور حضرت محمد ﷺ یہ کہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔
وہ ایک توعناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ الزام لگاتے تھے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کو دوسرے عرب کے مقابلے میں مکہ میں ایک قسم کی دینی سیادت حاصل تھی اور اس کی وجہ سے عربوں میں ان کا ممتاز مقام تھا ‘ اس وجہ سے وہ عام عربوں میں یہ الزام پھیلاتے تھے کیونکہ عام عرب اسالیب کلام سے واقف نہ تھے۔ اور نہ وہ قرآن اور عام کلام میں فرق کرسکتے تھے۔ اس لیے وہ کہتے۔
(ان ھذا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قوم اخرون) (25 : 4) ” یہ فرقان ایک من گھڑت چیز ہے اور اس پر اسے خود گھڑ لیا ہے اور اس پر کچھ دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے “۔ روایات میں تین یا زیادہ عجمی غلاموں کے نام لیے گئے ہیں کہ قوم اخرون (25 : 4) میں یہ لوگ اس طرف اشارہ کرتے تھے۔ یہ بات کس قدر بےتکی تھی۔ یہ اس قابل ہی نہ تھی کہ اس پر کوئی بحث کی جائے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس قسم کا کلام چند عجمی غلاموں کی امداد سے بنایا جاسکتا تھا تو آخر انہوں نے اس کے جواب میں کیوں ایسا کلام نہ بتایا۔ اس طرح تو وہ بڑی آسانی کے ساتھ حضرت محمد ﷺ کے دعوائے نبوت کو باطل کرسکتے تھے جبکہ قرآن کریم نے ان کو بار با چیلنج بھی کیا اور وہ بار بار ایسا کلام لانے میں ناکام بھی رہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے یہاں ان کی اس بات کا کوئی جواب ہی نہیں دیا بلکہ اس کی واضح تردید کردی۔
فقد جآء و اظلما وزورا (25 : 4) ” بڑا ظلم اور سخت جھوٹ ہے جس پر یہ لوگ اتر آئے ہیں “۔ یہ سچائی پر ظلم کرتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ پر ظلم کرتے ہیں ‘ اپنے نفوس پر ظلم کرتے ہیں ‘ ان کا جھوٹ واضح ہے اور بادی النظر میں باطل ہے۔ جس کی تردید کی ضرورت بھی نہیں ہے۔
مزید الزامات حضور اکرم ﷺ پر اور قرآن مجید کے متعلق
(وقالوا۔۔۔۔۔۔۔ واصیلا) (25 : 5) ” کہتے ہیں کہ یہ پرانے لوگوں کی لکھی ہوئی چیزیں ہیں جنہیں یہ شخص نقل کراتا ہے اور وہ اسے صبح و شام سنائی جاتی ہیں “ قرآن کریم نے اقوام سابقہ کے قصص نقل کیے ہیں۔ یہ عبرت ‘ نصیحت ‘ تربیت اور ہدایت کی خاطر۔ ان سچے قصوں کے بارے میں وہ کہتے ہیں۔
اساطیرالآ ولین (25 : 5) کہ یہ پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے کہا کہ یہ اس کے لیے نوٹ کرلی جائیں تاکہ اس پر صبح و شام پڑھی جائیں کیونکہ حضور ﷺ خود تو امی تھے ‘ لکھ پڑھ نہ سکتے تھے اور خود حضور اکرم ﷺ ان کہانیوں کو پھر خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ ان کے اس دعویٰ کے اندر ہی شکست پوشیدہ ہے کیونکہ ان کا دعویٰ ہی بےبنیاد ہے۔ اس قدر پوچ کہ اس پر بحث کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ قرآن کریم نے قصص کو جس انداز میں پیش کیا ہے۔ وہ جس مقصد کے لیے لائے جاتے ہیں۔ ان سے جو استدلال کیا جاتا ہے اور جس طرح نفاست کے ساتھ وہ اپنے مقصد کو پورا کرتے ہیں اور ان سے جس گہرائی کے ساتھ مقاصد عالیہ ثابت ہوتے ہیں ‘ ان میں اور پرانے قصے کہانیوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ کیونکہ پرانے قصوں میں کوئی فکر اور کوئی نظر یہ نہیں ہوتا ‘ نہ ان قصوں کے پیش نظر کچھ مقاصد ہوتے ہیں۔ یہ قصے محض تفریح کی لیے اور فارغ اوقات میں اپنے آپ کو مصروف کرنے کے لیے ‘ لکھے اور پڑھے جاتے ہیں فقط۔ (تفصیلات کے لیے دیکھئے ” التصویر الغنی فی القرآن “ کا فصل ” القصہ “۔
انہوں نے قرآن کریم کو اساطیر الاولین (25 : 5) کہا ہے ‘ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ قصے بہت ہی پرانے زمانے کے ہیں۔ لہذا محمد ﷺ پر لازماً وہ لوگ پڑھتے ہوں گے۔ ان کا علم حاصل کرنے چلے آتے ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کے اس الزام کا رد یوں کرتا ہے کہ بیشک حضرت محمد ﷺ پر ان کا نزول اس ذات کی طرف سے ہورہا ہے جو ہر علم والے سے زیادہ علیم ہے۔ وہ تمام اسرار و رموز کا جاننے والا ہے یعنی اللہ اور اللہ پر اولین اور آخرین کا کوئی علم پوشیدہ نہیں ہے۔
قل انزلہ الذی یعلم السر فی السموت والارض (25 : 6) ” اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ اسے نازل کیا ہے ‘ اس نے جو زمین و آسمان کا بھید جانتا ہے “۔ قصص گویا ن دنیا کہاں اور وہ علیم وخبیر کہاں۔ انسان کا محدود علم اور ارض و سما کے وسیع علم رکھنے والے اللہ کے علم کامل و شامل کا مقابلہ ہی کیا ہے۔ یاک حقیر قطرے اور ایک بحرنا پیدا کنار کا کیا مقابلہ ہوسکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ بڑی غلطی کررہے ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر یہ بوگس اور پوچ الزام عائد کرتے ہیں جبکہ وہ اللہ کے ساتھ شرک کے قائل ہیں حالانکہ اللہ نے ان کی تخلیق کی ہے۔ لیکن اس کے باوجود توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور اس عظیم گناہ سے وہ باز آسکتے ہیں۔ اللہ جو زمین و آسمانوں کے بھیدوں کا واقف ہے۔ وہ ان کی افتراء پر دازیوں اور ان کی سازشوں سے خوب خبردار ہے لیکن اس کے باوجود وہ غفور و رحیم ہے۔ انہ کان غفورا رحیما (25 : 6)
اسی موضوع پر بات مزید آگے بڑھتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ان کے مزید اعتراضات کہ آپ بشر کیوں ہیں اور دسرے لفو مطالبات کو یہاں بیان کیا جاتا ہے۔
الفرقان 25:6
(وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غفورا رحیما) (4 تا 6) ” “۔ “۔
یہ تھا وہ جھوٹ جو اہل قریش نبی ﷺ پر باندھتے تھے۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ بہت ہی بڑا افتراء ہے۔ کیونکہ قریش کے کبراء عوام کو جن باتوں کی تعلیم دیتے تھے ‘ ان سے یہ بات کس طرح مخفی رہ سکتی تھی کہ حضرت محمد ﷺ جس قرآن کی تلاوت فرما رہے ہیں وہ بشری اسالیب کلام سے بالکل ایک مختلف کلام ہے۔ وہ اس بات کو اپنے دل میں اچھی طرح محسوس کرتے تھے کیونکہ وہ انسانی اسالیب کلام سے اچھی طرح واقف تھے۔ جب وہ قرآن سنتے تھے تو وہ خود بھی اس سے بےحد متاثر ہوجاتے تھے۔ پھر بعثت سے قبل حضرت محمد ﷺ کے بارے میں ان کو پورا پورا یقین تھا کہ حضرت محمد ﷺ صادق اور امین ہیں۔ وہ نہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ نہ خیانت کرنے والے تھے۔ پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اللہ پر جھوٹ باندھیں۔ ایک بات اللہ نے نہیں کہی اور حضرت محمد ﷺ یہ کہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔
وہ ایک توعناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ الزام لگاتے تھے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کو دوسرے عرب کے مقابلے میں مکہ میں ایک قسم کی دینی سیادت حاصل تھی اور اس کی وجہ سے عربوں میں ان کا ممتاز مقام تھا ‘ اس وجہ سے وہ عام عربوں میں یہ الزام پھیلاتے تھے کیونکہ عام عرب اسالیب کلام سے واقف نہ تھے۔ اور نہ وہ قرآن اور عام کلام میں فرق کرسکتے تھے۔ اس لیے وہ کہتے۔
(ان ھذا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قوم اخرون) (25 : 4) ” یہ فرقان ایک من گھڑت چیز ہے اور اس پر اسے خود گھڑ لیا ہے اور اس پر کچھ دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے “۔ روایات میں تین یا زیادہ عجمی غلاموں کے نام لیے گئے ہیں کہ قوم اخرون (25 : 4) میں یہ لوگ اس طرف اشارہ کرتے تھے۔ یہ بات کس قدر بےتکی تھی۔ یہ اس قابل ہی نہ تھی کہ اس پر کوئی بحث کی جائے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس قسم کا کلام چند عجمی غلاموں کی امداد سے بنایا جاسکتا تھا تو آخر انہوں نے اس کے جواب میں کیوں ایسا کلام نہ بتایا۔ اس طرح تو وہ بڑی آسانی کے ساتھ حضرت محمد ﷺ کے دعوائے نبوت کو باطل کرسکتے تھے جبکہ قرآن کریم نے ان کو بار با چیلنج بھی کیا اور وہ بار بار ایسا کلام لانے میں ناکام بھی رہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے یہاں ان کی اس بات کا کوئی جواب ہی نہیں دیا بلکہ اس کی واضح تردید کردی۔
فقد جآء و اظلما وزورا (25 : 4) ” بڑا ظلم اور سخت جھوٹ ہے جس پر یہ لوگ اتر آئے ہیں “۔ یہ سچائی پر ظلم کرتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ پر ظلم کرتے ہیں ‘ اپنے نفوس پر ظلم کرتے ہیں ‘ ان کا جھوٹ واضح ہے اور بادی النظر میں باطل ہے۔ جس کی تردید کی ضرورت بھی نہیں ہے۔
مزید الزامات حضور اکرم ﷺ پر اور قرآن مجید کے متعلق
(وقالوا۔۔۔۔۔۔۔ واصیلا) (25 : 5) ” کہتے ہیں کہ یہ پرانے لوگوں کی لکھی ہوئی چیزیں ہیں جنہیں یہ شخص نقل کراتا ہے اور وہ اسے صبح و شام سنائی جاتی ہیں “ قرآن کریم نے اقوام سابقہ کے قصص نقل کیے ہیں۔ یہ عبرت ‘ نصیحت ‘ تربیت اور ہدایت کی خاطر۔ ان سچے قصوں کے بارے میں وہ کہتے ہیں۔
اساطیرالآ ولین (25 : 5) کہ یہ پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے کہا کہ یہ اس کے لیے نوٹ کرلی جائیں تاکہ اس پر صبح و شام پڑھی جائیں کیونکہ حضور ﷺ خود تو امی تھے ‘ لکھ پڑھ نہ سکتے تھے اور خود حضور اکرم ﷺ ان کہانیوں کو پھر خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ ان کے اس دعویٰ کے اندر ہی شکست پوشیدہ ہے کیونکہ ان کا دعویٰ ہی بےبنیاد ہے۔ اس قدر پوچ کہ اس پر بحث کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ قرآن کریم نے قصص کو جس انداز میں پیش کیا ہے۔ وہ جس مقصد کے لیے لائے جاتے ہیں۔ ان سے جو استدلال کیا جاتا ہے اور جس طرح نفاست کے ساتھ وہ اپنے مقصد کو پورا کرتے ہیں اور ان سے جس گہرائی کے ساتھ مقاصد عالیہ ثابت ہوتے ہیں ‘ ان میں اور پرانے قصے کہانیوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ کیونکہ پرانے قصوں میں کوئی فکر اور کوئی نظر یہ نہیں ہوتا ‘ نہ ان قصوں کے پیش نظر کچھ مقاصد ہوتے ہیں۔ یہ قصے محض تفریح کی لیے اور فارغ اوقات میں اپنے آپ کو مصروف کرنے کے لیے ‘ لکھے اور پڑھے جاتے ہیں فقط۔ (تفصیلات کے لیے دیکھئے ” التصویر الغنی فی القرآن “ کا فصل ” القصہ “۔
انہوں نے قرآن کریم کو اساطیر الاولین (25 : 5) کہا ہے ‘ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ قصے بہت ہی پرانے زمانے کے ہیں۔ لہذا محمد ﷺ پر لازماً وہ لوگ پڑھتے ہوں گے۔ ان کا علم حاصل کرنے چلے آتے ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کے اس الزام کا رد یوں کرتا ہے کہ بیشک حضرت محمد ﷺ پر ان کا نزول اس ذات کی طرف سے ہورہا ہے جو ہر علم والے سے زیادہ علیم ہے۔ وہ تمام اسرار و رموز کا جاننے والا ہے یعنی اللہ اور اللہ پر اولین اور آخرین کا کوئی علم پوشیدہ نہیں ہے۔
قل انزلہ الذی یعلم السر فی السموت والارض (25 : 6) ” اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ اسے نازل کیا ہے ‘ اس نے جو زمین و آسمان کا بھید جانتا ہے “۔ قصص گویا ن دنیا کہاں اور وہ علیم وخبیر کہاں۔ انسان کا محدود علم اور ارض و سما کے وسیع علم رکھنے والے اللہ کے علم کامل و شامل کا مقابلہ ہی کیا ہے۔ یاک حقیر قطرے اور ایک بحرنا پیدا کنار کا کیا مقابلہ ہوسکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ بڑی غلطی کررہے ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر یہ بوگس اور پوچ الزام عائد کرتے ہیں جبکہ وہ اللہ کے ساتھ شرک کے قائل ہیں حالانکہ اللہ نے ان کی تخلیق کی ہے۔ لیکن اس کے باوجود توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور اس عظیم گناہ سے وہ باز آسکتے ہیں۔ اللہ جو زمین و آسمانوں کے بھیدوں کا واقف ہے۔ وہ ان کی افتراء پر دازیوں اور ان کی سازشوں سے خوب خبردار ہے لیکن اس کے باوجود وہ غفور و رحیم ہے۔ انہ کان غفورا رحیما (25 : 6)
اسی موضوع پر بات مزید آگے بڑھتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ان کے مزید اعتراضات کہ آپ بشر کیوں ہیں اور دسرے لفو مطالبات کو یہاں بیان کیا جاتا ہے۔
الفرقان 25:7
(وقالوا مال۔۔۔۔۔۔۔ قصورا) (7 تا 10)
یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا ‘ چلتا پھرتا انسان ہے اور تمام تصرفات و حرکات انسانوں جیسے کرتا ہے۔ یہ وہی گھسا پٹا اعتراض ہے جو لوگ ہمیشہ رسولوں پر کرتے چلے آئے ہیں کہ فلاں شخص نے رسول ہونے کا دعویٰ کردیا ہے۔ دیکھو بھائی فالاں کا بیٹا بھی اب رسول بن گیا۔ یہ تو ہم جیسا انسان ہے جس طرح ہم کھاتے پیتے ہیں اور چلتے پھرتے ہیں۔ یہ بھی ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ ہو اور اللہ کی طرف سے اس پر وحی آرہی ہو۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کا اتصال اور رابطہعالم بالا سے ہوجائے۔ اور یہ عالم بالا سے ہدایات لے رہا ہو۔ جبکہ وہ ہمارے جی اس گوشت و پوست کا بنا ہوا انسان ہے۔ آخر ہماری طرف وحی کیوں نہیں آتی۔ اور وہ جس علم کا دعویٰ کرتا ہے وہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا۔ جبکہ ہمارے اور اس رسول کے درمیان کوئی بات ایسی نہیں ہے جو امتیازی ہو۔
اس لحاظ سے یہ بات واقعی انوکھی معلوم ہوتی ہے اور مسعبد نظر آتی ۔ لیکن دوسرے لحاظ سے طبعی اور معقول ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کے اندر اپنی روح پھونکی ہے اور اسی روح کی وجہ سے انسان ‘ انسان بنا ہے اور اسی وجہ سے اللہ نے اسے خلافت ارضی سپرد کی ہے حالانکہ انسان ایک محدود علم رکھتا ہے۔ اس کا تجربہ محدود ہے اور اس کے پاس بہت کم وسائل ہیں اس لیے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ انسان کو یہ عظیم فریضہ ادا کرنے کے لیے بےآسرا اور بغیر معاونت کے چھوڑ دے اور بغیر ہدایت اور راہنمائی کے یوں ہی چھوڑ دے۔ جبکہ اس کے اندر اللہ نے یہ صلاحیت بھی رکھی کہ وہ عالم بالا سے تعلق بھی قائم کرسکتا ہے۔ چناچہ یہ بات تعجب خیز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں میں سے کسی ایک انسان کو اس مقصد کے لیے چن لے کہ وہ عالم بالا کی ہدایات اخذ کرے اور لوگوں تک پہنچائے۔ اور اس شخص کو اللہ اس مقصد کے لیے خصوصی استعداد بھی دے تاکہ جب بھی ان پر کوئی مسئلہ مشتبہ ہو تو یہ شخص اللہ کی ہدایت کی روشنی میں اسے حل کر دے اور جب بھی راہ ہدایت کے اختیار کرنے میں ان کو ضرورت ہو وہ ان کی معاونت کرے۔
یہ تو انسان کے لیے ‘ اس پہلو سے ‘ اور اس شکل میں ایک بہت بڑا اعزاز ہے لیکن بعض لوگ ایسے ہیں جو اس اعزاز کو سمجھتے نہیں ہیں۔ نہ وہ انسان کے اس اعزاز اور تکریم کی قدر کرتے ہیں۔ اس لیے جن لوگوں کے ذہن میں یہ بات نہیں بیٹھتی وہ اس اعزاز کا انکار کرتے ہیں کہ انسانوں میں سے کوئی شخص کس طرح رسول ہو سکتا ہے۔ انسانوں کے مقابلے میں اس مقصد کے لیے فرشتہ زیادہ موزوں تھا۔
(لو لآ انزل۔۔۔۔۔۔۔۔ نذیرا) (25 : 7) ” کیوں نہ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجا گیا جو اس کے ساتھ ساتھ چلتا اور نہ ماننے والوں کو دھمکاتا “۔ جبکہ اللہ نے تمام فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ وہ انسان کو سجدہ کریں کیونکہ اللہ نے انسان کو اس کی بعض خصوصیات کی وجہ سے مکرم بنایا تھا اور یہ خصائص خود انسان کے اندر عالم بالا کی طرف سے پھونکی ہوئی روحانیت کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے ۔
پھر ایک انسان کو انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجنے کی ایک اور حکمت بھی ہے۔ ایک انسان انسانوں جیسے احساسات رکھتا ہے وہ انسان جیسا ذوق رکھتا ہے۔ پھر اس کے تجرباتا بھی ایسے ہوتے ہیں جو دوسرے انسانوں جیسے ہوتے ہیں۔ وہ ان کے دکھ درد اور ان کی خواہشتا کو انسان ہونے کے ناطے سمجھ سکتا ہے۔ وہ ان کے جذبات اور میلانات کو بھی سمجھ سکتا ہے۔ وہ انسانوں کی ضروریات اور ان کی ذمہ داریوں سے بھی واقف ہوتا ہے۔ چناچہ وہ ان کی کمزوریوں اور نقائص کا خیال کرتا ہے ‘ وہ ان کی قوت اور ان کی استعداد سے پر امید بھی ہوتا ہے۔ اور ان کو لے کر قدم بقدم آگے چلتا ہے ‘ وہ ان کے تاثرات اور ان کے ردعمل سے اچھی طرح باخبر ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔ اور انہی کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے مبعوث ہا ہے اور اللہ کی ہدایت اور امداد سے ان کی راہنمائی کررہا ہے۔
پھر ان لوگوں کے لیے بھی ممکن ہے کہ وہ حضرت رسول اکرم ﷺ کی پیروی کریں کیونکہ وہ انہی جیسا انسان ہے۔ وہ ان انسانوں کو لے کر آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے۔ وہ ان کے اندر رہ کر ایک اخلاقی نمونہ پیش کرتا ہے۔ اور ان کو عملاً ان اخلاق و فرائض کی تعلیم دیتا ہے جو اللہ نے ان پر فرض کیے ہیں اور جن کا اللہ ان سے مطالبہ فرماتا ہے۔ گویا وہ اس نظریہ اور عمل کا ایک نمونہ ہوتا ہے جسے وہ لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اس کی زندگی ‘ اس کے اعمال اور اس کی تمام حرکات ایک کھلی کتاب ہوتی ہے ‘ جسے وہ ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور وہ اس کتاب کی ایک ایک سطر کو نقل کرتے ہیں۔ اور اس کتاب کے ایک ایک لفظ کو حقیقت کا روپ عطا کرتے ہیں اور وہ دیکت ہیں کہ ان کا رسول ہر بات کو عملاً پیش کرتا ہے تو وہ بھی اس کی تقلید کرتے ہیں کیونکہ یہ نظریہ اور ہدایت ایک شخص کی زندگی میں عملاً نظر آتی ہے۔ اگر رسول کوئی فرشتہ ہوتا تو لوگ نہ اس کے عمل دیکھ سکتے اور نہ اس کی تقلید کے بارے میں سوچ سکتے۔ کیونکہ ان کے اندر آغاز ہی سے یہ بات آجاتی کہ وہ تو ایک فرشتہ ہے۔ اس کا مزاج ہی ایسا ہے اور ہم ضعیف انسان ہیں۔ ہم اس جیسا طرز عمل کب اختیار کرسکتے ہیں۔ یا ہم اس کی تقلید کس طرح کرسکتے ہیں یا اس جیسا نمونہ وہ کس طرح پیش کرسکتے ہیں۔
یہ تھی اللہ کی حکمت جس نے ہر چیز کی تخلیق کی اور اسے پوری پوری طرح برابر کیا۔ یہ اس کی حکمت تھی کہ اس نے انسانوں کی ہدایت کے لیے ایک انسان کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ وہ ان کی قیادت کرسکے اور رسول کے بشر ہونے پر اعتراض دراصل اس حکمت سے جہالت کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ پھر اس میں اللہ کی طرف سے انسان کی عزت افزائی بھی ہے اور جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں وہ انسان کی تکریم کی نفی کرتے ہیں۔
ان کا دوسرا اعتراض اس سے بھی زیادہ سادگی اور جہالت پر مبنی تھا کہ یہ رسول بازاروں میں پھرتا ہے اور اپنی ضرورت کی چیزیں حاصل کرتا ہے اور محنت کرتا ہے تو کیوں اللہ نے اسے اس قدر دولت نہ دی کہ وہ اپنی ضروریات کی طرف سے بےغم ہوجائے۔ اور بغیر محنت کے اسے ضروریات ملتی رہیں۔
او یلقی الیہ کنز او تکون لہ جنۃ یا کل منھا (25 : 8) ” یا اس کے لیے کوئی خزانہ ہوتا یا اس کے پاس کوئی باغ ہی ہوتا جس سے یہ روزی حاصل کرتا “۔ اللہ نے یہ نہ چاہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی خزانہ ہوتا یا آپ ﷺ کسی بڑے باغ کے مالک ہوتے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو رسول اللہ ﷺ کو اپنی امت کے لیے ایک نمونہ بنارہا تھا تاکہ آپ ﷺ رسالت کے منصب کے فرائض کو اٹھائیں اور ان فرائض کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ اپنی امت کے دوسرے انسانوں کی طرح بطور انسان اپنی ذمہ داریاں خود اٹھائیں۔ اپنے رزق کے لیے خود سعی کریں تاکہ امت میں سے کوئی شخص یہ اعتراض نہ کرسکے کہ یہ شخص کوئی کاروبار کررہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ‘ قناعت اختیار کرنے والے تھے۔ اس لیے آپ کو ضروریات زندگی کے لیے بہت زیادہ جدوجہد نہیں کرنی پڑتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ مبلغ رسالت کے فرائض کی ادائیگی کے لیے فارغ ہوگئے تھے۔ لہٰذا اس سلسلے میں آپ ﷺ کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں آئی۔ چناچہ آپ اپنی ضروریات کے لیے بھی بقدر ضرورت جدوجہد فرماتے تھے۔ اور رسالت کے فرائض بھی سرانجام دیتے تھے تاکہ آپ ﷺ کو نمونہ بنا کر آپ کی امت کا ہر فرد تبلیغ رسالت کے فرائض کا کچھ حصہ اپنے ذمہ لے اور اپنی ضروریات کے لیے بھی جدوجہد کرے۔ بعد کے ادوار میں دولت کا ایک سیلاب آپ ﷺ کے قدموں میں جاری ہوگیا۔ اور اللہ نے رسول کی زندگی کو اس پہلو سے بھی آزمایا تاکہ لوگوں کے لیے یہ پہلو بھی نمونہ ہو۔ چناچہ آپ نے کبھی دولت کے اس سیلاب کی طرف توجہ نہیں دی۔ آپ ﷺ ہوا کے طوفان کی طرح سخی تھے۔ چناچہ آپ ﷺ نے دولت مندی کے فتنے پر بھی قابو پایا۔ یوں لوگوں کے دلوں سے دولت مندی کی ہوس کو بھی نکال دیا۔ تاکہ لوگ یہ اعتراض نہ کریں کہ محمد ﷺ پیغام لے کر نکلے ‘ ایک غریب آدمی تھے ‘ آپ کی کوئی مالی سرگرمی نہ تھی ‘ نہ مالی حیثیت تھی اور اب آپ لاکھوں اربوں میں کھیل رہے ہیں۔ ہر طرف سے آپ پر مال و دولت کی بارش ہے لیکن حضور ﷺ نے دولت کے اس سیلاب کو بھی اپنے آپ سے دور رکھا اور دعوت اسلامی کے کام میں اسی طرح مشغول ہوگئے جس طرح کہ وہ زمانہ فقر میں مشغول تھے۔
مال کیا چیز ہے ‘ خزانوں کی حقیقت کیا ہے ؟ باغات کی کیا حیثیت ہے۔ جب ایک ضعیف اور فانی انسان خدا تک رسائی حاصل کرلیتا ہے تو پھر اس کے لیے اس پورے کرئہ ارض اور ما فیہا کی کوئی وقعت نہیں ہوتی بلکہ اس کے نزدیک اس پوری کائنات میں بسنے والی اس پوری مخلوقات کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ لیکن اس کی یہ حالت تب ہوتی ہے کہ جب اس نے خالق کائنات تک رسائی حاصل کرلی جو قلیل و کثیر کا بخشنے والا ہے لیکن اس وقت لوگ اس حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر تھے۔
وقال الظلمون ان تتبعون الا رجلا مسحورا (25 : 8) ” اور یہ ظالم کہتے ہیں تم تو ایک سحر زدہ آدمی کے پیچھے لگ گئے “۔ یہ وہ ظالمانہ بات ہے جو اللہ نے ان لوگوں کی زبان سے نقل کیا ہے۔ سورت اسرا میں بھی ان لوگوں کا یہ الزام لفظاً اللہ نے نقل فرمایا ہے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا۔
انظر کیف ضربوا لک الامثال فضلوا فلا یستطیعون سبیلا (25 : 9) ” دیکھئے ‘ یہ لوگ آپ کے بارے میں کیسی باتیں کرتے ہیں ‘ یہ گمراہ ہوچکے ہیں ‘ اب ان کی استطاعت ہی میں یہ بات نہیں رہی کہ یہ راہ راست پالیں “۔ اس سورت اور سورة اسرا کا مضمون و موضوع ایک ہی جیسا ہے اور یہ دونوں سورتوں کی بات ایک ہی ماحول میں ہو رہی ہے۔ دونوں جگہ ان لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے ‘ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی ذات پر حملہ کیا ہے اور ذاتی نقص نکالا ہے یعنی وہ لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ اس شخص کی عقل ماری گئی ہے ‘ کیونکہ یہ عجیب و غریب باتیں کرتا ہے ‘ ایک عام نارمل شخص ایسی باتیں نہیں کیا کرتا۔ لیکن اس اعتراض سے ان کے لا شعور سے یہ بات خود بخود باہر رہ گئی کہ رسول اللہ جو باتیں فرماتے ہیں وہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ عام طور پر بڑے سے بڑا عقلمند شخص بھی ایسی باتیں نہیں کرتا۔ یہ باتیں انسانی طاقت سے بالا باتیں ہیں۔ اس لیے ان پر رد کرتے وقت بھی اللہ نے ان کے اس رویے پر صرف تعجب کا اظہار کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
الفرقان 25:8
(وقالوا مال۔۔۔۔۔۔۔ قصورا) (7 تا 10)
یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا ‘ چلتا پھرتا انسان ہے اور تمام تصرفات و حرکات انسانوں جیسے کرتا ہے۔ یہ وہی گھسا پٹا اعتراض ہے جو لوگ ہمیشہ رسولوں پر کرتے چلے آئے ہیں کہ فلاں شخص نے رسول ہونے کا دعویٰ کردیا ہے۔ دیکھو بھائی فالاں کا بیٹا بھی اب رسول بن گیا۔ یہ تو ہم جیسا انسان ہے جس طرح ہم کھاتے پیتے ہیں اور چلتے پھرتے ہیں۔ یہ بھی ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ ہو اور اللہ کی طرف سے اس پر وحی آرہی ہو۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کا اتصال اور رابطہعالم بالا سے ہوجائے۔ اور یہ عالم بالا سے ہدایات لے رہا ہو۔ جبکہ وہ ہمارے جی اس گوشت و پوست کا بنا ہوا انسان ہے۔ آخر ہماری طرف وحی کیوں نہیں آتی۔ اور وہ جس علم کا دعویٰ کرتا ہے وہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا۔ جبکہ ہمارے اور اس رسول کے درمیان کوئی بات ایسی نہیں ہے جو امتیازی ہو۔
اس لحاظ سے یہ بات واقعی انوکھی معلوم ہوتی ہے اور مسعبد نظر آتی ۔ لیکن دوسرے لحاظ سے طبعی اور معقول ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کے اندر اپنی روح پھونکی ہے اور اسی روح کی وجہ سے انسان ‘ انسان بنا ہے اور اسی وجہ سے اللہ نے اسے خلافت ارضی سپرد کی ہے حالانکہ انسان ایک محدود علم رکھتا ہے۔ اس کا تجربہ محدود ہے اور اس کے پاس بہت کم وسائل ہیں اس لیے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ انسان کو یہ عظیم فریضہ ادا کرنے کے لیے بےآسرا اور بغیر معاونت کے چھوڑ دے اور بغیر ہدایت اور راہنمائی کے یوں ہی چھوڑ دے۔ جبکہ اس کے اندر اللہ نے یہ صلاحیت بھی رکھی کہ وہ عالم بالا سے تعلق بھی قائم کرسکتا ہے۔ چناچہ یہ بات تعجب خیز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں میں سے کسی ایک انسان کو اس مقصد کے لیے چن لے کہ وہ عالم بالا کی ہدایات اخذ کرے اور لوگوں تک پہنچائے۔ اور اس شخص کو اللہ اس مقصد کے لیے خصوصی استعداد بھی دے تاکہ جب بھی ان پر کوئی مسئلہ مشتبہ ہو تو یہ شخص اللہ کی ہدایت کی روشنی میں اسے حل کر دے اور جب بھی راہ ہدایت کے اختیار کرنے میں ان کو ضرورت ہو وہ ان کی معاونت کرے۔
یہ تو انسان کے لیے ‘ اس پہلو سے ‘ اور اس شکل میں ایک بہت بڑا اعزاز ہے لیکن بعض لوگ ایسے ہیں جو اس اعزاز کو سمجھتے نہیں ہیں۔ نہ وہ انسان کے اس اعزاز اور تکریم کی قدر کرتے ہیں۔ اس لیے جن لوگوں کے ذہن میں یہ بات نہیں بیٹھتی وہ اس اعزاز کا انکار کرتے ہیں کہ انسانوں میں سے کوئی شخص کس طرح رسول ہو سکتا ہے۔ انسانوں کے مقابلے میں اس مقصد کے لیے فرشتہ زیادہ موزوں تھا۔
(لو لآ انزل۔۔۔۔۔۔۔۔ نذیرا) (25 : 7) ” کیوں نہ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجا گیا جو اس کے ساتھ ساتھ چلتا اور نہ ماننے والوں کو دھمکاتا “۔ جبکہ اللہ نے تمام فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ وہ انسان کو سجدہ کریں کیونکہ اللہ نے انسان کو اس کی بعض خصوصیات کی وجہ سے مکرم بنایا تھا اور یہ خصائص خود انسان کے اندر عالم بالا کی طرف سے پھونکی ہوئی روحانیت کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے ۔
پھر ایک انسان کو انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجنے کی ایک اور حکمت بھی ہے۔ ایک انسان انسانوں جیسے احساسات رکھتا ہے وہ انسان جیسا ذوق رکھتا ہے۔ پھر اس کے تجرباتا بھی ایسے ہوتے ہیں جو دوسرے انسانوں جیسے ہوتے ہیں۔ وہ ان کے دکھ درد اور ان کی خواہشتا کو انسان ہونے کے ناطے سمجھ سکتا ہے۔ وہ ان کے جذبات اور میلانات کو بھی سمجھ سکتا ہے۔ وہ انسانوں کی ضروریات اور ان کی ذمہ داریوں سے بھی واقف ہوتا ہے۔ چناچہ وہ ان کی کمزوریوں اور نقائص کا خیال کرتا ہے ‘ وہ ان کی قوت اور ان کی استعداد سے پر امید بھی ہوتا ہے۔ اور ان کو لے کر قدم بقدم آگے چلتا ہے ‘ وہ ان کے تاثرات اور ان کے ردعمل سے اچھی طرح باخبر ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔ اور انہی کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے مبعوث ہا ہے اور اللہ کی ہدایت اور امداد سے ان کی راہنمائی کررہا ہے۔
پھر ان لوگوں کے لیے بھی ممکن ہے کہ وہ حضرت رسول اکرم ﷺ کی پیروی کریں کیونکہ وہ انہی جیسا انسان ہے۔ وہ ان انسانوں کو لے کر آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے۔ وہ ان کے اندر رہ کر ایک اخلاقی نمونہ پیش کرتا ہے۔ اور ان کو عملاً ان اخلاق و فرائض کی تعلیم دیتا ہے جو اللہ نے ان پر فرض کیے ہیں اور جن کا اللہ ان سے مطالبہ فرماتا ہے۔ گویا وہ اس نظریہ اور عمل کا ایک نمونہ ہوتا ہے جسے وہ لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اس کی زندگی ‘ اس کے اعمال اور اس کی تمام حرکات ایک کھلی کتاب ہوتی ہے ‘ جسے وہ ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور وہ اس کتاب کی ایک ایک سطر کو نقل کرتے ہیں۔ اور اس کتاب کے ایک ایک لفظ کو حقیقت کا روپ عطا کرتے ہیں اور وہ دیکت ہیں کہ ان کا رسول ہر بات کو عملاً پیش کرتا ہے تو وہ بھی اس کی تقلید کرتے ہیں کیونکہ یہ نظریہ اور ہدایت ایک شخص کی زندگی میں عملاً نظر آتی ہے۔ اگر رسول کوئی فرشتہ ہوتا تو لوگ نہ اس کے عمل دیکھ سکتے اور نہ اس کی تقلید کے بارے میں سوچ سکتے۔ کیونکہ ان کے اندر آغاز ہی سے یہ بات آجاتی کہ وہ تو ایک فرشتہ ہے۔ اس کا مزاج ہی ایسا ہے اور ہم ضعیف انسان ہیں۔ ہم اس جیسا طرز عمل کب اختیار کرسکتے ہیں۔ یا ہم اس کی تقلید کس طرح کرسکتے ہیں یا اس جیسا نمونہ وہ کس طرح پیش کرسکتے ہیں۔
یہ تھی اللہ کی حکمت جس نے ہر چیز کی تخلیق کی اور اسے پوری پوری طرح برابر کیا۔ یہ اس کی حکمت تھی کہ اس نے انسانوں کی ہدایت کے لیے ایک انسان کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ وہ ان کی قیادت کرسکے اور رسول کے بشر ہونے پر اعتراض دراصل اس حکمت سے جہالت کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ پھر اس میں اللہ کی طرف سے انسان کی عزت افزائی بھی ہے اور جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں وہ انسان کی تکریم کی نفی کرتے ہیں۔
ان کا دوسرا اعتراض اس سے بھی زیادہ سادگی اور جہالت پر مبنی تھا کہ یہ رسول بازاروں میں پھرتا ہے اور اپنی ضرورت کی چیزیں حاصل کرتا ہے اور محنت کرتا ہے تو کیوں اللہ نے اسے اس قدر دولت نہ دی کہ وہ اپنی ضروریات کی طرف سے بےغم ہوجائے۔ اور بغیر محنت کے اسے ضروریات ملتی رہیں۔
او یلقی الیہ کنز او تکون لہ جنۃ یا کل منھا (25 : 8) ” یا اس کے لیے کوئی خزانہ ہوتا یا اس کے پاس کوئی باغ ہی ہوتا جس سے یہ روزی حاصل کرتا “۔ اللہ نے یہ نہ چاہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی خزانہ ہوتا یا آپ ﷺ کسی بڑے باغ کے مالک ہوتے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو رسول اللہ ﷺ کو اپنی امت کے لیے ایک نمونہ بنارہا تھا تاکہ آپ ﷺ رسالت کے منصب کے فرائض کو اٹھائیں اور ان فرائض کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ اپنی امت کے دوسرے انسانوں کی طرح بطور انسان اپنی ذمہ داریاں خود اٹھائیں۔ اپنے رزق کے لیے خود سعی کریں تاکہ امت میں سے کوئی شخص یہ اعتراض نہ کرسکے کہ یہ شخص کوئی کاروبار کررہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ‘ قناعت اختیار کرنے والے تھے۔ اس لیے آپ کو ضروریات زندگی کے لیے بہت زیادہ جدوجہد نہیں کرنی پڑتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ مبلغ رسالت کے فرائض کی ادائیگی کے لیے فارغ ہوگئے تھے۔ لہٰذا اس سلسلے میں آپ ﷺ کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں آئی۔ چناچہ آپ اپنی ضروریات کے لیے بھی بقدر ضرورت جدوجہد فرماتے تھے۔ اور رسالت کے فرائض بھی سرانجام دیتے تھے تاکہ آپ ﷺ کو نمونہ بنا کر آپ کی امت کا ہر فرد تبلیغ رسالت کے فرائض کا کچھ حصہ اپنے ذمہ لے اور اپنی ضروریات کے لیے بھی جدوجہد کرے۔ بعد کے ادوار میں دولت کا ایک سیلاب آپ ﷺ کے قدموں میں جاری ہوگیا۔ اور اللہ نے رسول کی زندگی کو اس پہلو سے بھی آزمایا تاکہ لوگوں کے لیے یہ پہلو بھی نمونہ ہو۔ چناچہ آپ نے کبھی دولت کے اس سیلاب کی طرف توجہ نہیں دی۔ آپ ﷺ ہوا کے طوفان کی طرح سخی تھے۔ چناچہ آپ ﷺ نے دولت مندی کے فتنے پر بھی قابو پایا۔ یوں لوگوں کے دلوں سے دولت مندی کی ہوس کو بھی نکال دیا۔ تاکہ لوگ یہ اعتراض نہ کریں کہ محمد ﷺ پیغام لے کر نکلے ‘ ایک غریب آدمی تھے ‘ آپ کی کوئی مالی سرگرمی نہ تھی ‘ نہ مالی حیثیت تھی اور اب آپ لاکھوں اربوں میں کھیل رہے ہیں۔ ہر طرف سے آپ پر مال و دولت کی بارش ہے لیکن حضور ﷺ نے دولت کے اس سیلاب کو بھی اپنے آپ سے دور رکھا اور دعوت اسلامی کے کام میں اسی طرح مشغول ہوگئے جس طرح کہ وہ زمانہ فقر میں مشغول تھے۔
مال کیا چیز ہے ‘ خزانوں کی حقیقت کیا ہے ؟ باغات کی کیا حیثیت ہے۔ جب ایک ضعیف اور فانی انسان خدا تک رسائی حاصل کرلیتا ہے تو پھر اس کے لیے اس پورے کرئہ ارض اور ما فیہا کی کوئی وقعت نہیں ہوتی بلکہ اس کے نزدیک اس پوری کائنات میں بسنے والی اس پوری مخلوقات کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ لیکن اس کی یہ حالت تب ہوتی ہے کہ جب اس نے خالق کائنات تک رسائی حاصل کرلی جو قلیل و کثیر کا بخشنے والا ہے لیکن اس وقت لوگ اس حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر تھے۔
وقال الظلمون ان تتبعون الا رجلا مسحورا (25 : 8) ” اور یہ ظالم کہتے ہیں تم تو ایک سحر زدہ آدمی کے پیچھے لگ گئے “۔ یہ وہ ظالمانہ بات ہے جو اللہ نے ان لوگوں کی زبان سے نقل کیا ہے۔ سورت اسرا میں بھی ان لوگوں کا یہ الزام لفظاً اللہ نے نقل فرمایا ہے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا۔
انظر کیف ضربوا لک الامثال فضلوا فلا یستطیعون سبیلا (25 : 9) ” دیکھئے ‘ یہ لوگ آپ کے بارے میں کیسی باتیں کرتے ہیں ‘ یہ گمراہ ہوچکے ہیں ‘ اب ان کی استطاعت ہی میں یہ بات نہیں رہی کہ یہ راہ راست پالیں “۔ اس سورت اور سورة اسرا کا مضمون و موضوع ایک ہی جیسا ہے اور یہ دونوں سورتوں کی بات ایک ہی ماحول میں ہو رہی ہے۔ دونوں جگہ ان لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے ‘ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی ذات پر حملہ کیا ہے اور ذاتی نقص نکالا ہے یعنی وہ لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ اس شخص کی عقل ماری گئی ہے ‘ کیونکہ یہ عجیب و غریب باتیں کرتا ہے ‘ ایک عام نارمل شخص ایسی باتیں نہیں کیا کرتا۔ لیکن اس اعتراض سے ان کے لا شعور سے یہ بات خود بخود باہر رہ گئی کہ رسول اللہ جو باتیں فرماتے ہیں وہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ عام طور پر بڑے سے بڑا عقلمند شخص بھی ایسی باتیں نہیں کرتا۔ یہ باتیں انسانی طاقت سے بالا باتیں ہیں۔ اس لیے ان پر رد کرتے وقت بھی اللہ نے ان کے اس رویے پر صرف تعجب کا اظہار کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
الفرقان 25:9
انظر کیف ضربوا لک الامثال (25 : 9) ” دیکھو ‘ یہ تمہارے بارے میں کیا حجتیں کرتے ہیں “۔
آپ ﷺ کو سحرزدہ لوگوں کے ساتھ مشابہ قرار دیتے ہیں ‘ کبھی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنی طرف سے باتیں بناتے ہیں ‘ کبھی کہتے ہیں کہ پرانے زمانے کی باتیں ہیں جو آپ لکھواتے ہیں۔ یہ سب گمراہی کی باتیں ہیں۔ اور سچائی سے دور کی باتیں ہیں۔ یہ سچائی کے تمام راستوں سے بےراہ ہوگئے ہیں۔ اور اب ان کے اندر ہدایت کی راہ پانے کی استطاعت ہی نہیں رہی۔
فلایستطیعون سبیلا (25 : 9) اب یہ بحث یوں ختم کی جاتی ہے کہ یہ لوگ جو تجاویز دیتے ہیں وہ احمقانہ ہیں۔ ان کے تصورات دنیا پرستی کے محدود دائرے میں محدود ہیں۔ یہ کنوئیں کے مینڈک کی طرح اپنی دنیا ہی میں مگن ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ رسالت ﷺ کے مقابلے میں چند ٹکٹوں کی قیمت زیادہ ہے لہٰذا رسول ﷺ کے پاس ٹکے ہونے چاہیں۔ اس پر ہدایت الہٰی کے بجائے خزانہ عامرہ نازل ہونا چاہیے تھا ‘ یا اس کے مقابلے میں ایک باغ اس کے پاس ہونا چاہیے تھا جس میں وہ صبح و شام کھاتا ۔ یہ تھی ان کی سوچ ‘ لیکن اگر اللہ چاہتا اور اس کی اسکیم یہ ہوتی تو وہ اپنے رسول ﷺ کو اس سے بھی زیادہ دیتا جس کا یہ کہتے ہیں۔
(تبرک الذی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قصورا (25 : 1) ” بڑا بابرکت ہے وہ جو اگر چاہے تو ان کی تجویز کردہ چیزوں سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر تم کو دے سکتا ہے۔ بہت سے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور بڑے بڑے محل “۔ لیکن اللہ کی مشیت یہ تھی کہ آپ کو ایسے باغات و محلات سے بھی زیادہ قیمتی دولت دے۔ یعنی باغات اور محلات دینے والے کے ساتھ تعلق اور دوستی۔ یہ شعور کہ محمد اس کی نگرانی میں ہیں۔ اس کے قبضے میں ہیں اس کی ہدایت اور توفیق کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ اور آپ ﷺ اس مٹھاس کو ہر وقت چکھتے رہتے ہیں۔ یہ روحانی غذا آپ کو ہر وقت دی جاتی ہے اور اس کے مقابلے میں جسمانی غذا کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ دنیا کا ما ومنال خواہ کم ہو یا زیادہ ‘ اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اے کاش کہ وہ اس فرق کو سمجھتے کہ آپ کو جو دولت دی گئی ہے وہ کس قدر قیمتی ہے۔ اور اس کے مقابلے میں دنیا کے باغ دراغ کچھ بھی نہیں۔
یہاں تک تو قرآن نے خدا اور رسول اللہ ﷺ پر ان کے اعتراضات کو نقل فرمایا ‘ اب بات ان کے فکر و نظر کے فساد کے ایک دوسرے میدان میں داخل ہوتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ ضلال بعید میں مبتلا ہیں اور یہ تو قیام قیامت کے منکر ہیں۔ یہ چونکہ قیامت کی جوابدہی کے منکر ہیں اس لیے یہ اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ باتیں کرتے ہیں۔ ظلم کرتے ہیں افتراء باندھتے ہیں کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق انکو قیامت کی جوابدہی کا کوئی ڈر نہیں ہے۔ اگر ان کے دل میں اللہ کے سامنے حاضر ہونے اور حساب دینے کا ڈر ہوتا تو وہ یہ افتراء پر دازیاں ہر گز نہ کرتے۔ یہاں اب قیامت کے مناظر میں سے ایک ایسا منظر لایا جاتا ہے جو سخت سے سخت دل کو بھی ریزہ ریز کردیتا ہے۔ جسک و دیکھ کر پوری طرح بجھے ہوئے دلوں میں بھی آگ لگ جاتی ہے۔ اور وہ بھی اس دن کی ہولناکی سے کانپ اٹھتے ہیں۔ ان کافروں کے لیے یہ ہولناکی اور اہل ایمان کے لیے یہ حسن انجام۔
الفرقان 25:10
انظر کیف ضربوا لک الامثال (25 : 9) ” دیکھو ‘ یہ تمہارے بارے میں کیا حجتیں کرتے ہیں “۔
آپ ﷺ کو سحرزدہ لوگوں کے ساتھ مشابہ قرار دیتے ہیں ‘ کبھی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنی طرف سے باتیں بناتے ہیں ‘ کبھی کہتے ہیں کہ پرانے زمانے کی باتیں ہیں جو آپ لکھواتے ہیں۔ یہ سب گمراہی کی باتیں ہیں۔ اور سچائی سے دور کی باتیں ہیں۔ یہ سچائی کے تمام راستوں سے بےراہ ہوگئے ہیں۔ اور اب ان کے اندر ہدایت کی راہ پانے کی استطاعت ہی نہیں رہی۔
فلایستطیعون سبیلا (25 : 9) اب یہ بحث یوں ختم کی جاتی ہے کہ یہ لوگ جو تجاویز دیتے ہیں وہ احمقانہ ہیں۔ ان کے تصورات دنیا پرستی کے محدود دائرے میں محدود ہیں۔ یہ کنوئیں کے مینڈک کی طرح اپنی دنیا ہی میں مگن ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ رسالت ﷺ کے مقابلے میں چند ٹکٹوں کی قیمت زیادہ ہے لہٰذا رسول ﷺ کے پاس ٹکے ہونے چاہیں۔ اس پر ہدایت الہٰی کے بجائے خزانہ عامرہ نازل ہونا چاہیے تھا ‘ یا اس کے مقابلے میں ایک باغ اس کے پاس ہونا چاہیے تھا جس میں وہ صبح و شام کھاتا ۔ یہ تھی ان کی سوچ ‘ لیکن اگر اللہ چاہتا اور اس کی اسکیم یہ ہوتی تو وہ اپنے رسول ﷺ کو اس سے بھی زیادہ دیتا جس کا یہ کہتے ہیں۔
(تبرک الذی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قصورا (25 : 1) ” بڑا بابرکت ہے وہ جو اگر چاہے تو ان کی تجویز کردہ چیزوں سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر تم کو دے سکتا ہے۔ بہت سے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور بڑے بڑے محل “۔ لیکن اللہ کی مشیت یہ تھی کہ آپ کو ایسے باغات و محلات سے بھی زیادہ قیمتی دولت دے۔ یعنی باغات اور محلات دینے والے کے ساتھ تعلق اور دوستی۔ یہ شعور کہ محمد اس کی نگرانی میں ہیں۔ اس کے قبضے میں ہیں اس کی ہدایت اور توفیق کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ اور آپ ﷺ اس مٹھاس کو ہر وقت چکھتے رہتے ہیں۔ یہ روحانی غذا آپ کو ہر وقت دی جاتی ہے اور اس کے مقابلے میں جسمانی غذا کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ دنیا کا ما ومنال خواہ کم ہو یا زیادہ ‘ اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اے کاش کہ وہ اس فرق کو سمجھتے کہ آپ کو جو دولت دی گئی ہے وہ کس قدر قیمتی ہے۔ اور اس کے مقابلے میں دنیا کے باغ دراغ کچھ بھی نہیں۔
یہاں تک تو قرآن نے خدا اور رسول اللہ ﷺ پر ان کے اعتراضات کو نقل فرمایا ‘ اب بات ان کے فکر و نظر کے فساد کے ایک دوسرے میدان میں داخل ہوتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ ضلال بعید میں مبتلا ہیں اور یہ تو قیام قیامت کے منکر ہیں۔ یہ چونکہ قیامت کی جوابدہی کے منکر ہیں اس لیے یہ اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ باتیں کرتے ہیں۔ ظلم کرتے ہیں افتراء باندھتے ہیں کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق انکو قیامت کی جوابدہی کا کوئی ڈر نہیں ہے۔ اگر ان کے دل میں اللہ کے سامنے حاضر ہونے اور حساب دینے کا ڈر ہوتا تو وہ یہ افتراء پر دازیاں ہر گز نہ کرتے۔ یہاں اب قیامت کے مناظر میں سے ایک ایسا منظر لایا جاتا ہے جو سخت سے سخت دل کو بھی ریزہ ریز کردیتا ہے۔ جسک و دیکھ کر پوری طرح بجھے ہوئے دلوں میں بھی آگ لگ جاتی ہے۔ اور وہ بھی اس دن کی ہولناکی سے کانپ اٹھتے ہیں۔ ان کافروں کے لیے یہ ہولناکی اور اہل ایمان کے لیے یہ حسن انجام۔
الفرقان 25:11
(بل کذبوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعیرا) (11) اذاراتھم من۔۔۔۔ وعدا مسولا ـ
یعنی وہ کفر اور ضلالت کی حدوں کو پار کرکے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ قیامت کا انکار کر رہے ہیں۔ قرآن کا انداز تعبیر ” بل “ کا لفظ استعمال کر کے ان کی گمراہی یوں مجسم کرتا ہے کہ وہ اس راہ پر بہت دور چلے گئے ہیں یعنی پہلی باتوں کو چھوڑو ‘ انہوں نے تو قیامت کا انکار کردیا ہے۔ اس کے بعد یہ انکشاف کیا جاتا ہے کہ ان فتنہ پر دازون کے لیے کس قدر خوفناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ یہ آگ ہے جو حاضر ہے ‘ دہکائی ہوئی ہے۔
واعتدنا۔۔۔۔ سعیرا (25 : 11) ” اور جو اس گھڑی کو جھٹلائے ‘ اس کے لیے ہم نے بڑھکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے “۔ یہاں قرآن کریم مجسم اور مشخص انداز میں آگ کو پیش کرتا ہے۔ تجسیم اور تشخیص قرآن مجید کا وہ انداز ہے جس میں ایسی اشیاء ایسے معافی اور ایسے مفہومات کو زندہ شخص کے انداز میں پیش کرتا ہے جن کے لیے زندہ ہونا ممکن نہیں ہے۔ چناچہ قرآن مجید مفاہیم و مناظر کو زندہ اشخاص کی شکل میں اس طرح پیش کرتا ہے کہ کلام کے اند اعلیٰ درجے کا اعجاز پیدا ہوجاتا ہے۔
ذرا سوچئے۔ ہم دہکتی ہوئی آگ کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ آگ ہمارے سامنے ایک زندہ غضبناک شخص کا روپ اختیار کرتی ہے کہ یہ دور سے ان مکذبین کو دیکھتی ہے۔ دیکھتے ہی یہ آگ غیض و غضب میں مبتلا ہوجاتی ہے اور یہ لوگ دور سے اس کے اظہار غضب اور سخت کلامی کو پالیتے ہیں گویا وہ دور ہی سے ان پر حملہ آور ہونے کے لیے جوش دکھاتی ہے۔ اور جوش انتقام میں آپے سے باہر ہو رہی ہے حالانکہ یہ لوگ ابھی تک راستے میں ہوتے ہیں ‘ پہنچے نہیں ہوتے۔ غرض یہ ایک نہایت ہی جھنجھوڑنے والا منظر ہے جسے دیکھنے والوں کی ٹانگوں پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔
دیکھئے اب یہ پہنچ گئی اپنی منزل تک۔ اب یہ لوگ کھلے نہیں چھوڑے جاتے کہ ہاتھ پائوں سے یہ آگ کے ساتھ مقابلہ کریں اور آگ انہیں شکست دے دے۔ یہ اس سے بچنے کی کوشش کریں۔ اور وہ انہیں پکڑلے۔ بلکہ انہیں پکڑ کر اس میں پھینک دیا جاتا ہے ، اس حال میں کہ ان کے ہاتھ پائوں زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں اور ان کو آگ کے کھلے ہال میں بھی نہیں پھینک دیا جاتا بلکہ دوزخ کی آگ کے ایک نہایت ہی تنگ مقام پر ان کو اندر کردیا جاتا ہے۔ جس میں یہ بمشکل سماتے ہیں ‘ اس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اب یہ لوگ اس آگ سے رہائی پانے کے بارے میں بےحد مایوس ہوگئے ہیں۔ نہایت یہ کرب میں ہیں۔ اب مایوس ہو کر یہ صرف ہلاکت اور موت کی دعا کرتے ہیں۔
واذا القو۔۔۔۔۔ ھنالک ثبورا (25 : 13) ” اور جب یہ اس میں تنگ جگہ ٹھونسے جائیں گے تو اپنی موت کو پکارنے لگیں گے “۔ لیکن اب جہنم میں موت تو نہ پوری ہونے والی آرزو ہے۔ جبکہ یہ لوگ اس عذاب سے صرف موت کے ذریعہ ہی خلاصی پا سکتے ہیں کیونکہ یہ دردوکرب ناقابل برداشت ہے لیکن ان کو ان کی اس درخواست اور اس تمنا کا جواب بھی استہزاء اور مذاق کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ جس طرح وہ رسولوں کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ یہ ایک تلخ مذاق ہے۔
لاتدعوا۔۔۔۔۔ ثبورا کثیرا (25 : 14) ” آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کو پکارو “۔ کیونکہ ایک بار کی ہلاکت تو تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ نہ ایک بار کی موت تمہارے لیے کافی ہے۔ تم بار بار مرو گے اور بار بار زندہ ہو گے۔
ان کے اس حال کو پیش کرنے کے بعد اب ان کے بالمقابل متقین مومنین کے انجام کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ‘ جو اللہ سے ڈرتے تھے جو اللہ کے سامنے حاضر ہونے کی امید رکھتے تھے اور قیامت پر ان کا پختہ ایمان تھا۔ یہ انجام بھی ان کفار کو خطاب کرتے ہوئے نہایت ہی طنزیہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
قل اذلک۔۔۔۔۔۔ ومصیرا (25 : 15) لھم فیھا۔۔۔۔ مسئولا (25 : 16) ” ان سے پوچھو یہ انجام اچھا ہے یا وہ ابدی جنت جس کا وعدہ خدا ترس پرہیز گاروں سے کیا گیا ہے ‘ جو ان کے عمل کی جزا اور ان کے سفر کی آخری منزل ہوگی ‘ جس میں ان کی ہر خواہش پوری ہوگی ‘ جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ‘ جس کا عطا کرنا تمہارے رب کے ذمے ایک واجب الادا وعدہ ہے “۔ یہ شرمسار کنندہ عذاب بہتر ہے یا وہ باغات دائمی بہتر ہیں جو اللہ نے متقین کے لیے تیار کر رکھے ہیں۔ اللہ نے متقین کو یہ حق دیا ہے کہ یہ اس کا مطالبہ کریں۔ اور یہ طلب کریں کہ اے اللہ اپنا وعدہ پورا کیجئے اور اللہ وعدہ خلافی کرنے والا تو ہے نہیں۔ پھر یہ بھی ان کو اختیار دیا گیا ہے کہ جو چاہیں وہاں طلب کریں۔ کیا ان دونوں مقامات کے درمیان موازنہ کرنے کی بھی کوئی بات ہے کہ ان سے موازنے کے لیے کہا جارہا ہے۔ دراصل یہ ان کے ساتھ نہایت یہ تلخ مذاق ہے اور یہ ان کے اس مذاق کا جواب ہے جو وہ یہاں اس رسول مقبول سے کرتے تھے۔
اب آخرت کا ایک دوسرا منظر جس کی تکذیب کرنے والے تکذیب کرتے تھے۔ یہ مشرکین کا اجتماع ہے ان کے ساتھ ان کے شرکاء بھی موجود ہیں جن کو یہ لوگ الہٰ اور شفیع سمجھتے تھے۔ یہ سب اللہ کے سامنے کھڑے اپنی اپنی جوابدہی کر رہے ہیں۔ سوال ہو رہے ہیں اور وہ جواب دے رہے ہیں۔
الفرقان 25:12
(بل کذبوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعیرا) (11) اذاراتھم من۔۔۔۔ وعدا مسولا ـ
یعنی وہ کفر اور ضلالت کی حدوں کو پار کرکے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ قیامت کا انکار کر رہے ہیں۔ قرآن کا انداز تعبیر ” بل “ کا لفظ استعمال کر کے ان کی گمراہی یوں مجسم کرتا ہے کہ وہ اس راہ پر بہت دور چلے گئے ہیں یعنی پہلی باتوں کو چھوڑو ‘ انہوں نے تو قیامت کا انکار کردیا ہے۔ اس کے بعد یہ انکشاف کیا جاتا ہے کہ ان فتنہ پر دازون کے لیے کس قدر خوفناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ یہ آگ ہے جو حاضر ہے ‘ دہکائی ہوئی ہے۔
واعتدنا۔۔۔۔ سعیرا (25 : 11) ” اور جو اس گھڑی کو جھٹلائے ‘ اس کے لیے ہم نے بڑھکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے “۔ یہاں قرآن کریم مجسم اور مشخص انداز میں آگ کو پیش کرتا ہے۔ تجسیم اور تشخیص قرآن مجید کا وہ انداز ہے جس میں ایسی اشیاء ایسے معافی اور ایسے مفہومات کو زندہ شخص کے انداز میں پیش کرتا ہے جن کے لیے زندہ ہونا ممکن نہیں ہے۔ چناچہ قرآن مجید مفاہیم و مناظر کو زندہ اشخاص کی شکل میں اس طرح پیش کرتا ہے کہ کلام کے اند اعلیٰ درجے کا اعجاز پیدا ہوجاتا ہے۔
ذرا سوچئے۔ ہم دہکتی ہوئی آگ کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ آگ ہمارے سامنے ایک زندہ غضبناک شخص کا روپ اختیار کرتی ہے کہ یہ دور سے ان مکذبین کو دیکھتی ہے۔ دیکھتے ہی یہ آگ غیض و غضب میں مبتلا ہوجاتی ہے اور یہ لوگ دور سے اس کے اظہار غضب اور سخت کلامی کو پالیتے ہیں گویا وہ دور ہی سے ان پر حملہ آور ہونے کے لیے جوش دکھاتی ہے۔ اور جوش انتقام میں آپے سے باہر ہو رہی ہے حالانکہ یہ لوگ ابھی تک راستے میں ہوتے ہیں ‘ پہنچے نہیں ہوتے۔ غرض یہ ایک نہایت ہی جھنجھوڑنے والا منظر ہے جسے دیکھنے والوں کی ٹانگوں پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔
دیکھئے اب یہ پہنچ گئی اپنی منزل تک۔ اب یہ لوگ کھلے نہیں چھوڑے جاتے کہ ہاتھ پائوں سے یہ آگ کے ساتھ مقابلہ کریں اور آگ انہیں شکست دے دے۔ یہ اس سے بچنے کی کوشش کریں۔ اور وہ انہیں پکڑلے۔ بلکہ انہیں پکڑ کر اس میں پھینک دیا جاتا ہے ، اس حال میں کہ ان کے ہاتھ پائوں زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں اور ان کو آگ کے کھلے ہال میں بھی نہیں پھینک دیا جاتا بلکہ دوزخ کی آگ کے ایک نہایت ہی تنگ مقام پر ان کو اندر کردیا جاتا ہے۔ جس میں یہ بمشکل سماتے ہیں ‘ اس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اب یہ لوگ اس آگ سے رہائی پانے کے بارے میں بےحد مایوس ہوگئے ہیں۔ نہایت یہ کرب میں ہیں۔ اب مایوس ہو کر یہ صرف ہلاکت اور موت کی دعا کرتے ہیں۔
واذا القو۔۔۔۔۔ ھنالک ثبورا (25 : 13) ” اور جب یہ اس میں تنگ جگہ ٹھونسے جائیں گے تو اپنی موت کو پکارنے لگیں گے “۔ لیکن اب جہنم میں موت تو نہ پوری ہونے والی آرزو ہے۔ جبکہ یہ لوگ اس عذاب سے صرف موت کے ذریعہ ہی خلاصی پا سکتے ہیں کیونکہ یہ دردوکرب ناقابل برداشت ہے لیکن ان کو ان کی اس درخواست اور اس تمنا کا جواب بھی استہزاء اور مذاق کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ جس طرح وہ رسولوں کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ یہ ایک تلخ مذاق ہے۔
لاتدعوا۔۔۔۔۔ ثبورا کثیرا (25 : 14) ” آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کو پکارو “۔ کیونکہ ایک بار کی ہلاکت تو تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ نہ ایک بار کی موت تمہارے لیے کافی ہے۔ تم بار بار مرو گے اور بار بار زندہ ہو گے۔
ان کے اس حال کو پیش کرنے کے بعد اب ان کے بالمقابل متقین مومنین کے انجام کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ‘ جو اللہ سے ڈرتے تھے جو اللہ کے سامنے حاضر ہونے کی امید رکھتے تھے اور قیامت پر ان کا پختہ ایمان تھا۔ یہ انجام بھی ان کفار کو خطاب کرتے ہوئے نہایت ہی طنزیہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
قل اذلک۔۔۔۔۔۔ ومصیرا (25 : 15) لھم فیھا۔۔۔۔ مسئولا (25 : 16) ” ان سے پوچھو یہ انجام اچھا ہے یا وہ ابدی جنت جس کا وعدہ خدا ترس پرہیز گاروں سے کیا گیا ہے ‘ جو ان کے عمل کی جزا اور ان کے سفر کی آخری منزل ہوگی ‘ جس میں ان کی ہر خواہش پوری ہوگی ‘ جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ‘ جس کا عطا کرنا تمہارے رب کے ذمے ایک واجب الادا وعدہ ہے “۔ یہ شرمسار کنندہ عذاب بہتر ہے یا وہ باغات دائمی بہتر ہیں جو اللہ نے متقین کے لیے تیار کر رکھے ہیں۔ اللہ نے متقین کو یہ حق دیا ہے کہ یہ اس کا مطالبہ کریں۔ اور یہ طلب کریں کہ اے اللہ اپنا وعدہ پورا کیجئے اور اللہ وعدہ خلافی کرنے والا تو ہے نہیں۔ پھر یہ بھی ان کو اختیار دیا گیا ہے کہ جو چاہیں وہاں طلب کریں۔ کیا ان دونوں مقامات کے درمیان موازنہ کرنے کی بھی کوئی بات ہے کہ ان سے موازنے کے لیے کہا جارہا ہے۔ دراصل یہ ان کے ساتھ نہایت یہ تلخ مذاق ہے اور یہ ان کے اس مذاق کا جواب ہے جو وہ یہاں اس رسول مقبول سے کرتے تھے۔
اب آخرت کا ایک دوسرا منظر جس کی تکذیب کرنے والے تکذیب کرتے تھے۔ یہ مشرکین کا اجتماع ہے ان کے ساتھ ان کے شرکاء بھی موجود ہیں جن کو یہ لوگ الہٰ اور شفیع سمجھتے تھے۔ یہ سب اللہ کے سامنے کھڑے اپنی اپنی جوابدہی کر رہے ہیں۔ سوال ہو رہے ہیں اور وہ جواب دے رہے ہیں۔
الفرقان 25:13
(بل کذبوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعیرا) (11) اذاراتھم من۔۔۔۔ وعدا مسولا ـ
یعنی وہ کفر اور ضلالت کی حدوں کو پار کرکے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ قیامت کا انکار کر رہے ہیں۔ قرآن کا انداز تعبیر ” بل “ کا لفظ استعمال کر کے ان کی گمراہی یوں مجسم کرتا ہے کہ وہ اس راہ پر بہت دور چلے گئے ہیں یعنی پہلی باتوں کو چھوڑو ‘ انہوں نے تو قیامت کا انکار کردیا ہے۔ اس کے بعد یہ انکشاف کیا جاتا ہے کہ ان فتنہ پر دازون کے لیے کس قدر خوفناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ یہ آگ ہے جو حاضر ہے ‘ دہکائی ہوئی ہے۔
واعتدنا۔۔۔۔ سعیرا (25 : 11) ” اور جو اس گھڑی کو جھٹلائے ‘ اس کے لیے ہم نے بڑھکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے “۔ یہاں قرآن کریم مجسم اور مشخص انداز میں آگ کو پیش کرتا ہے۔ تجسیم اور تشخیص قرآن مجید کا وہ انداز ہے جس میں ایسی اشیاء ایسے معافی اور ایسے مفہومات کو زندہ شخص کے انداز میں پیش کرتا ہے جن کے لیے زندہ ہونا ممکن نہیں ہے۔ چناچہ قرآن مجید مفاہیم و مناظر کو زندہ اشخاص کی شکل میں اس طرح پیش کرتا ہے کہ کلام کے اند اعلیٰ درجے کا اعجاز پیدا ہوجاتا ہے۔
ذرا سوچئے۔ ہم دہکتی ہوئی آگ کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ آگ ہمارے سامنے ایک زندہ غضبناک شخص کا روپ اختیار کرتی ہے کہ یہ دور سے ان مکذبین کو دیکھتی ہے۔ دیکھتے ہی یہ آگ غیض و غضب میں مبتلا ہوجاتی ہے اور یہ لوگ دور سے اس کے اظہار غضب اور سخت کلامی کو پالیتے ہیں گویا وہ دور ہی سے ان پر حملہ آور ہونے کے لیے جوش دکھاتی ہے۔ اور جوش انتقام میں آپے سے باہر ہو رہی ہے حالانکہ یہ لوگ ابھی تک راستے میں ہوتے ہیں ‘ پہنچے نہیں ہوتے۔ غرض یہ ایک نہایت ہی جھنجھوڑنے والا منظر ہے جسے دیکھنے والوں کی ٹانگوں پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔
دیکھئے اب یہ پہنچ گئی اپنی منزل تک۔ اب یہ لوگ کھلے نہیں چھوڑے جاتے کہ ہاتھ پائوں سے یہ آگ کے ساتھ مقابلہ کریں اور آگ انہیں شکست دے دے۔ یہ اس سے بچنے کی کوشش کریں۔ اور وہ انہیں پکڑلے۔ بلکہ انہیں پکڑ کر اس میں پھینک دیا جاتا ہے ، اس حال میں کہ ان کے ہاتھ پائوں زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں اور ان کو آگ کے کھلے ہال میں بھی نہیں پھینک دیا جاتا بلکہ دوزخ کی آگ کے ایک نہایت ہی تنگ مقام پر ان کو اندر کردیا جاتا ہے۔ جس میں یہ بمشکل سماتے ہیں ‘ اس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اب یہ لوگ اس آگ سے رہائی پانے کے بارے میں بےحد مایوس ہوگئے ہیں۔ نہایت یہ کرب میں ہیں۔ اب مایوس ہو کر یہ صرف ہلاکت اور موت کی دعا کرتے ہیں۔
واذا القو۔۔۔۔۔ ھنالک ثبورا (25 : 13) ” اور جب یہ اس میں تنگ جگہ ٹھونسے جائیں گے تو اپنی موت کو پکارنے لگیں گے “۔ لیکن اب جہنم میں موت تو نہ پوری ہونے والی آرزو ہے۔ جبکہ یہ لوگ اس عذاب سے صرف موت کے ذریعہ ہی خلاصی پا سکتے ہیں کیونکہ یہ دردوکرب ناقابل برداشت ہے لیکن ان کو ان کی اس درخواست اور اس تمنا کا جواب بھی استہزاء اور مذاق کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ جس طرح وہ رسولوں کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ یہ ایک تلخ مذاق ہے۔
لاتدعوا۔۔۔۔۔ ثبورا کثیرا (25 : 14) ” آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کو پکارو “۔ کیونکہ ایک بار کی ہلاکت تو تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ نہ ایک بار کی موت تمہارے لیے کافی ہے۔ تم بار بار مرو گے اور بار بار زندہ ہو گے۔
ان کے اس حال کو پیش کرنے کے بعد اب ان کے بالمقابل متقین مومنین کے انجام کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ‘ جو اللہ سے ڈرتے تھے جو اللہ کے سامنے حاضر ہونے کی امید رکھتے تھے اور قیامت پر ان کا پختہ ایمان تھا۔ یہ انجام بھی ان کفار کو خطاب کرتے ہوئے نہایت ہی طنزیہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
قل اذلک۔۔۔۔۔۔ ومصیرا (25 : 15) لھم فیھا۔۔۔۔ مسئولا (25 : 16) ” ان سے پوچھو یہ انجام اچھا ہے یا وہ ابدی جنت جس کا وعدہ خدا ترس پرہیز گاروں سے کیا گیا ہے ‘ جو ان کے عمل کی جزا اور ان کے سفر کی آخری منزل ہوگی ‘ جس میں ان کی ہر خواہش پوری ہوگی ‘ جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ‘ جس کا عطا کرنا تمہارے رب کے ذمے ایک واجب الادا وعدہ ہے “۔ یہ شرمسار کنندہ عذاب بہتر ہے یا وہ باغات دائمی بہتر ہیں جو اللہ نے متقین کے لیے تیار کر رکھے ہیں۔ اللہ نے متقین کو یہ حق دیا ہے کہ یہ اس کا مطالبہ کریں۔ اور یہ طلب کریں کہ اے اللہ اپنا وعدہ پورا کیجئے اور اللہ وعدہ خلافی کرنے والا تو ہے نہیں۔ پھر یہ بھی ان کو اختیار دیا گیا ہے کہ جو چاہیں وہاں طلب کریں۔ کیا ان دونوں مقامات کے درمیان موازنہ کرنے کی بھی کوئی بات ہے کہ ان سے موازنے کے لیے کہا جارہا ہے۔ دراصل یہ ان کے ساتھ نہایت یہ تلخ مذاق ہے اور یہ ان کے اس مذاق کا جواب ہے جو وہ یہاں اس رسول مقبول سے کرتے تھے۔
اب آخرت کا ایک دوسرا منظر جس کی تکذیب کرنے والے تکذیب کرتے تھے۔ یہ مشرکین کا اجتماع ہے ان کے ساتھ ان کے شرکاء بھی موجود ہیں جن کو یہ لوگ الہٰ اور شفیع سمجھتے تھے۔ یہ سب اللہ کے سامنے کھڑے اپنی اپنی جوابدہی کر رہے ہیں۔ سوال ہو رہے ہیں اور وہ جواب دے رہے ہیں۔
الفرقان 25:14
(بل کذبوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعیرا) (11) اذاراتھم من۔۔۔۔ وعدا مسولا ـ
یعنی وہ کفر اور ضلالت کی حدوں کو پار کرکے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ قیامت کا انکار کر رہے ہیں۔ قرآن کا انداز تعبیر ” بل “ کا لفظ استعمال کر کے ان کی گمراہی یوں مجسم کرتا ہے کہ وہ اس راہ پر بہت دور چلے گئے ہیں یعنی پہلی باتوں کو چھوڑو ‘ انہوں نے تو قیامت کا انکار کردیا ہے۔ اس کے بعد یہ انکشاف کیا جاتا ہے کہ ان فتنہ پر دازون کے لیے کس قدر خوفناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ یہ آگ ہے جو حاضر ہے ‘ دہکائی ہوئی ہے۔
واعتدنا۔۔۔۔ سعیرا (25 : 11) ” اور جو اس گھڑی کو جھٹلائے ‘ اس کے لیے ہم نے بڑھکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے “۔ یہاں قرآن کریم مجسم اور مشخص انداز میں آگ کو پیش کرتا ہے۔ تجسیم اور تشخیص قرآن مجید کا وہ انداز ہے جس میں ایسی اشیاء ایسے معافی اور ایسے مفہومات کو زندہ شخص کے انداز میں پیش کرتا ہے جن کے لیے زندہ ہونا ممکن نہیں ہے۔ چناچہ قرآن مجید مفاہیم و مناظر کو زندہ اشخاص کی شکل میں اس طرح پیش کرتا ہے کہ کلام کے اند اعلیٰ درجے کا اعجاز پیدا ہوجاتا ہے۔
ذرا سوچئے۔ ہم دہکتی ہوئی آگ کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ آگ ہمارے سامنے ایک زندہ غضبناک شخص کا روپ اختیار کرتی ہے کہ یہ دور سے ان مکذبین کو دیکھتی ہے۔ دیکھتے ہی یہ آگ غیض و غضب میں مبتلا ہوجاتی ہے اور یہ لوگ دور سے اس کے اظہار غضب اور سخت کلامی کو پالیتے ہیں گویا وہ دور ہی سے ان پر حملہ آور ہونے کے لیے جوش دکھاتی ہے۔ اور جوش انتقام میں آپے سے باہر ہو رہی ہے حالانکہ یہ لوگ ابھی تک راستے میں ہوتے ہیں ‘ پہنچے نہیں ہوتے۔ غرض یہ ایک نہایت ہی جھنجھوڑنے والا منظر ہے جسے دیکھنے والوں کی ٹانگوں پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔
دیکھئے اب یہ پہنچ گئی اپنی منزل تک۔ اب یہ لوگ کھلے نہیں چھوڑے جاتے کہ ہاتھ پائوں سے یہ آگ کے ساتھ مقابلہ کریں اور آگ انہیں شکست دے دے۔ یہ اس سے بچنے کی کوشش کریں۔ اور وہ انہیں پکڑلے۔ بلکہ انہیں پکڑ کر اس میں پھینک دیا جاتا ہے ، اس حال میں کہ ان کے ہاتھ پائوں زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں اور ان کو آگ کے کھلے ہال میں بھی نہیں پھینک دیا جاتا بلکہ دوزخ کی آگ کے ایک نہایت ہی تنگ مقام پر ان کو اندر کردیا جاتا ہے۔ جس میں یہ بمشکل سماتے ہیں ‘ اس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اب یہ لوگ اس آگ سے رہائی پانے کے بارے میں بےحد مایوس ہوگئے ہیں۔ نہایت یہ کرب میں ہیں۔ اب مایوس ہو کر یہ صرف ہلاکت اور موت کی دعا کرتے ہیں۔
واذا القو۔۔۔۔۔ ھنالک ثبورا (25 : 13) ” اور جب یہ اس میں تنگ جگہ ٹھونسے جائیں گے تو اپنی موت کو پکارنے لگیں گے “۔ لیکن اب جہنم میں موت تو نہ پوری ہونے والی آرزو ہے۔ جبکہ یہ لوگ اس عذاب سے صرف موت کے ذریعہ ہی خلاصی پا سکتے ہیں کیونکہ یہ دردوکرب ناقابل برداشت ہے لیکن ان کو ان کی اس درخواست اور اس تمنا کا جواب بھی استہزاء اور مذاق کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ جس طرح وہ رسولوں کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ یہ ایک تلخ مذاق ہے۔
لاتدعوا۔۔۔۔۔ ثبورا کثیرا (25 : 14) ” آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کو پکارو “۔ کیونکہ ایک بار کی ہلاکت تو تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ نہ ایک بار کی موت تمہارے لیے کافی ہے۔ تم بار بار مرو گے اور بار بار زندہ ہو گے۔
ان کے اس حال کو پیش کرنے کے بعد اب ان کے بالمقابل متقین مومنین کے انجام کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ‘ جو اللہ سے ڈرتے تھے جو اللہ کے سامنے حاضر ہونے کی امید رکھتے تھے اور قیامت پر ان کا پختہ ایمان تھا۔ یہ انجام بھی ان کفار کو خطاب کرتے ہوئے نہایت ہی طنزیہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
قل اذلک۔۔۔۔۔۔ ومصیرا (25 : 15) لھم فیھا۔۔۔۔ مسئولا (25 : 16) ” ان سے پوچھو یہ انجام اچھا ہے یا وہ ابدی جنت جس کا وعدہ خدا ترس پرہیز گاروں سے کیا گیا ہے ‘ جو ان کے عمل کی جزا اور ان کے سفر کی آخری منزل ہوگی ‘ جس میں ان کی ہر خواہش پوری ہوگی ‘ جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ‘ جس کا عطا کرنا تمہارے رب کے ذمے ایک واجب الادا وعدہ ہے “۔ یہ شرمسار کنندہ عذاب بہتر ہے یا وہ باغات دائمی بہتر ہیں جو اللہ نے متقین کے لیے تیار کر رکھے ہیں۔ اللہ نے متقین کو یہ حق دیا ہے کہ یہ اس کا مطالبہ کریں۔ اور یہ طلب کریں کہ اے اللہ اپنا وعدہ پورا کیجئے اور اللہ وعدہ خلافی کرنے والا تو ہے نہیں۔ پھر یہ بھی ان کو اختیار دیا گیا ہے کہ جو چاہیں وہاں طلب کریں۔ کیا ان دونوں مقامات کے درمیان موازنہ کرنے کی بھی کوئی بات ہے کہ ان سے موازنے کے لیے کہا جارہا ہے۔ دراصل یہ ان کے ساتھ نہایت یہ تلخ مذاق ہے اور یہ ان کے اس مذاق کا جواب ہے جو وہ یہاں اس رسول مقبول سے کرتے تھے۔
اب آخرت کا ایک دوسرا منظر جس کی تکذیب کرنے والے تکذیب کرتے تھے۔ یہ مشرکین کا اجتماع ہے ان کے ساتھ ان کے شرکاء بھی موجود ہیں جن کو یہ لوگ الہٰ اور شفیع سمجھتے تھے۔ یہ سب اللہ کے سامنے کھڑے اپنی اپنی جوابدہی کر رہے ہیں۔ سوال ہو رہے ہیں اور وہ جواب دے رہے ہیں۔
الفرقان 25:15
(بل کذبوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعیرا) (11) اذاراتھم من۔۔۔۔ وعدا مسولا ـ
یعنی وہ کفر اور ضلالت کی حدوں کو پار کرکے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ قیامت کا انکار کر رہے ہیں۔ قرآن کا انداز تعبیر ” بل “ کا لفظ استعمال کر کے ان کی گمراہی یوں مجسم کرتا ہے کہ وہ اس راہ پر بہت دور چلے گئے ہیں یعنی پہلی باتوں کو چھوڑو ‘ انہوں نے تو قیامت کا انکار کردیا ہے۔ اس کے بعد یہ انکشاف کیا جاتا ہے کہ ان فتنہ پر دازون کے لیے کس قدر خوفناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ یہ آگ ہے جو حاضر ہے ‘ دہکائی ہوئی ہے۔
واعتدنا۔۔۔۔ سعیرا (25 : 11) ” اور جو اس گھڑی کو جھٹلائے ‘ اس کے لیے ہم نے بڑھکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے “۔ یہاں قرآن کریم مجسم اور مشخص انداز میں آگ کو پیش کرتا ہے۔ تجسیم اور تشخیص قرآن مجید کا وہ انداز ہے جس میں ایسی اشیاء ایسے معافی اور ایسے مفہومات کو زندہ شخص کے انداز میں پیش کرتا ہے جن کے لیے زندہ ہونا ممکن نہیں ہے۔ چناچہ قرآن مجید مفاہیم و مناظر کو زندہ اشخاص کی شکل میں اس طرح پیش کرتا ہے کہ کلام کے اند اعلیٰ درجے کا اعجاز پیدا ہوجاتا ہے۔
ذرا سوچئے۔ ہم دہکتی ہوئی آگ کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ آگ ہمارے سامنے ایک زندہ غضبناک شخص کا روپ اختیار کرتی ہے کہ یہ دور سے ان مکذبین کو دیکھتی ہے۔ دیکھتے ہی یہ آگ غیض و غضب میں مبتلا ہوجاتی ہے اور یہ لوگ دور سے اس کے اظہار غضب اور سخت کلامی کو پالیتے ہیں گویا وہ دور ہی سے ان پر حملہ آور ہونے کے لیے جوش دکھاتی ہے۔ اور جوش انتقام میں آپے سے باہر ہو رہی ہے حالانکہ یہ لوگ ابھی تک راستے میں ہوتے ہیں ‘ پہنچے نہیں ہوتے۔ غرض یہ ایک نہایت ہی جھنجھوڑنے والا منظر ہے جسے دیکھنے والوں کی ٹانگوں پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔
دیکھئے اب یہ پہنچ گئی اپنی منزل تک۔ اب یہ لوگ کھلے نہیں چھوڑے جاتے کہ ہاتھ پائوں سے یہ آگ کے ساتھ مقابلہ کریں اور آگ انہیں شکست دے دے۔ یہ اس سے بچنے کی کوشش کریں۔ اور وہ انہیں پکڑلے۔ بلکہ انہیں پکڑ کر اس میں پھینک دیا جاتا ہے ، اس حال میں کہ ان کے ہاتھ پائوں زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں اور ان کو آگ کے کھلے ہال میں بھی نہیں پھینک دیا جاتا بلکہ دوزخ کی آگ کے ایک نہایت ہی تنگ مقام پر ان کو اندر کردیا جاتا ہے۔ جس میں یہ بمشکل سماتے ہیں ‘ اس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اب یہ لوگ اس آگ سے رہائی پانے کے بارے میں بےحد مایوس ہوگئے ہیں۔ نہایت یہ کرب میں ہیں۔ اب مایوس ہو کر یہ صرف ہلاکت اور موت کی دعا کرتے ہیں۔
واذا القو۔۔۔۔۔ ھنالک ثبورا (25 : 13) ” اور جب یہ اس میں تنگ جگہ ٹھونسے جائیں گے تو اپنی موت کو پکارنے لگیں گے “۔ لیکن اب جہنم میں موت تو نہ پوری ہونے والی آرزو ہے۔ جبکہ یہ لوگ اس عذاب سے صرف موت کے ذریعہ ہی خلاصی پا سکتے ہیں کیونکہ یہ دردوکرب ناقابل برداشت ہے لیکن ان کو ان کی اس درخواست اور اس تمنا کا جواب بھی استہزاء اور مذاق کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ جس طرح وہ رسولوں کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ یہ ایک تلخ مذاق ہے۔
لاتدعوا۔۔۔۔۔ ثبورا کثیرا (25 : 14) ” آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کو پکارو “۔ کیونکہ ایک بار کی ہلاکت تو تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ نہ ایک بار کی موت تمہارے لیے کافی ہے۔ تم بار بار مرو گے اور بار بار زندہ ہو گے۔
ان کے اس حال کو پیش کرنے کے بعد اب ان کے بالمقابل متقین مومنین کے انجام کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ‘ جو اللہ سے ڈرتے تھے جو اللہ کے سامنے حاضر ہونے کی امید رکھتے تھے اور قیامت پر ان کا پختہ ایمان تھا۔ یہ انجام بھی ان کفار کو خطاب کرتے ہوئے نہایت ہی طنزیہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
قل اذلک۔۔۔۔۔۔ ومصیرا (25 : 15) لھم فیھا۔۔۔۔ مسئولا (25 : 16) ” ان سے پوچھو یہ انجام اچھا ہے یا وہ ابدی جنت جس کا وعدہ خدا ترس پرہیز گاروں سے کیا گیا ہے ‘ جو ان کے عمل کی جزا اور ان کے سفر کی آخری منزل ہوگی ‘ جس میں ان کی ہر خواہش پوری ہوگی ‘ جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ‘ جس کا عطا کرنا تمہارے رب کے ذمے ایک واجب الادا وعدہ ہے “۔ یہ شرمسار کنندہ عذاب بہتر ہے یا وہ باغات دائمی بہتر ہیں جو اللہ نے متقین کے لیے تیار کر رکھے ہیں۔ اللہ نے متقین کو یہ حق دیا ہے کہ یہ اس کا مطالبہ کریں۔ اور یہ طلب کریں کہ اے اللہ اپنا وعدہ پورا کیجئے اور اللہ وعدہ خلافی کرنے والا تو ہے نہیں۔ پھر یہ بھی ان کو اختیار دیا گیا ہے کہ جو چاہیں وہاں طلب کریں۔ کیا ان دونوں مقامات کے درمیان موازنہ کرنے کی بھی کوئی بات ہے کہ ان سے موازنے کے لیے کہا جارہا ہے۔ دراصل یہ ان کے ساتھ نہایت یہ تلخ مذاق ہے اور یہ ان کے اس مذاق کا جواب ہے جو وہ یہاں اس رسول مقبول سے کرتے تھے۔
اب آخرت کا ایک دوسرا منظر جس کی تکذیب کرنے والے تکذیب کرتے تھے۔ یہ مشرکین کا اجتماع ہے ان کے ساتھ ان کے شرکاء بھی موجود ہیں جن کو یہ لوگ الہٰ اور شفیع سمجھتے تھے۔ یہ سب اللہ کے سامنے کھڑے اپنی اپنی جوابدہی کر رہے ہیں۔ سوال ہو رہے ہیں اور وہ جواب دے رہے ہیں۔
الفرقان 25:16
(بل کذبوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعیرا) (11) اذاراتھم من۔۔۔۔ وعدا مسولا ـ
یعنی وہ کفر اور ضلالت کی حدوں کو پار کرکے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ قیامت کا انکار کر رہے ہیں۔ قرآن کا انداز تعبیر ” بل “ کا لفظ استعمال کر کے ان کی گمراہی یوں مجسم کرتا ہے کہ وہ اس راہ پر بہت دور چلے گئے ہیں یعنی پہلی باتوں کو چھوڑو ‘ انہوں نے تو قیامت کا انکار کردیا ہے۔ اس کے بعد یہ انکشاف کیا جاتا ہے کہ ان فتنہ پر دازون کے لیے کس قدر خوفناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ یہ آگ ہے جو حاضر ہے ‘ دہکائی ہوئی ہے۔
واعتدنا۔۔۔۔ سعیرا (25 : 11) ” اور جو اس گھڑی کو جھٹلائے ‘ اس کے لیے ہم نے بڑھکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے “۔ یہاں قرآن کریم مجسم اور مشخص انداز میں آگ کو پیش کرتا ہے۔ تجسیم اور تشخیص قرآن مجید کا وہ انداز ہے جس میں ایسی اشیاء ایسے معافی اور ایسے مفہومات کو زندہ شخص کے انداز میں پیش کرتا ہے جن کے لیے زندہ ہونا ممکن نہیں ہے۔ چناچہ قرآن مجید مفاہیم و مناظر کو زندہ اشخاص کی شکل میں اس طرح پیش کرتا ہے کہ کلام کے اند اعلیٰ درجے کا اعجاز پیدا ہوجاتا ہے۔
ذرا سوچئے۔ ہم دہکتی ہوئی آگ کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ آگ ہمارے سامنے ایک زندہ غضبناک شخص کا روپ اختیار کرتی ہے کہ یہ دور سے ان مکذبین کو دیکھتی ہے۔ دیکھتے ہی یہ آگ غیض و غضب میں مبتلا ہوجاتی ہے اور یہ لوگ دور سے اس کے اظہار غضب اور سخت کلامی کو پالیتے ہیں گویا وہ دور ہی سے ان پر حملہ آور ہونے کے لیے جوش دکھاتی ہے۔ اور جوش انتقام میں آپے سے باہر ہو رہی ہے حالانکہ یہ لوگ ابھی تک راستے میں ہوتے ہیں ‘ پہنچے نہیں ہوتے۔ غرض یہ ایک نہایت ہی جھنجھوڑنے والا منظر ہے جسے دیکھنے والوں کی ٹانگوں پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔
دیکھئے اب یہ پہنچ گئی اپنی منزل تک۔ اب یہ لوگ کھلے نہیں چھوڑے جاتے کہ ہاتھ پائوں سے یہ آگ کے ساتھ مقابلہ کریں اور آگ انہیں شکست دے دے۔ یہ اس سے بچنے کی کوشش کریں۔ اور وہ انہیں پکڑلے۔ بلکہ انہیں پکڑ کر اس میں پھینک دیا جاتا ہے ، اس حال میں کہ ان کے ہاتھ پائوں زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں اور ان کو آگ کے کھلے ہال میں بھی نہیں پھینک دیا جاتا بلکہ دوزخ کی آگ کے ایک نہایت ہی تنگ مقام پر ان کو اندر کردیا جاتا ہے۔ جس میں یہ بمشکل سماتے ہیں ‘ اس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اب یہ لوگ اس آگ سے رہائی پانے کے بارے میں بےحد مایوس ہوگئے ہیں۔ نہایت یہ کرب میں ہیں۔ اب مایوس ہو کر یہ صرف ہلاکت اور موت کی دعا کرتے ہیں۔
واذا القو۔۔۔۔۔ ھنالک ثبورا (25 : 13) ” اور جب یہ اس میں تنگ جگہ ٹھونسے جائیں گے تو اپنی موت کو پکارنے لگیں گے “۔ لیکن اب جہنم میں موت تو نہ پوری ہونے والی آرزو ہے۔ جبکہ یہ لوگ اس عذاب سے صرف موت کے ذریعہ ہی خلاصی پا سکتے ہیں کیونکہ یہ دردوکرب ناقابل برداشت ہے لیکن ان کو ان کی اس درخواست اور اس تمنا کا جواب بھی استہزاء اور مذاق کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ جس طرح وہ رسولوں کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ یہ ایک تلخ مذاق ہے۔
لاتدعوا۔۔۔۔۔ ثبورا کثیرا (25 : 14) ” آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کو پکارو “۔ کیونکہ ایک بار کی ہلاکت تو تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ نہ ایک بار کی موت تمہارے لیے کافی ہے۔ تم بار بار مرو گے اور بار بار زندہ ہو گے۔
ان کے اس حال کو پیش کرنے کے بعد اب ان کے بالمقابل متقین مومنین کے انجام کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ‘ جو اللہ سے ڈرتے تھے جو اللہ کے سامنے حاضر ہونے کی امید رکھتے تھے اور قیامت پر ان کا پختہ ایمان تھا۔ یہ انجام بھی ان کفار کو خطاب کرتے ہوئے نہایت ہی طنزیہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
قل اذلک۔۔۔۔۔۔ ومصیرا (25 : 15) لھم فیھا۔۔۔۔ مسئولا (25 : 16) ” ان سے پوچھو یہ انجام اچھا ہے یا وہ ابدی جنت جس کا وعدہ خدا ترس پرہیز گاروں سے کیا گیا ہے ‘ جو ان کے عمل کی جزا اور ان کے سفر کی آخری منزل ہوگی ‘ جس میں ان کی ہر خواہش پوری ہوگی ‘ جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ‘ جس کا عطا کرنا تمہارے رب کے ذمے ایک واجب الادا وعدہ ہے “۔ یہ شرمسار کنندہ عذاب بہتر ہے یا وہ باغات دائمی بہتر ہیں جو اللہ نے متقین کے لیے تیار کر رکھے ہیں۔ اللہ نے متقین کو یہ حق دیا ہے کہ یہ اس کا مطالبہ کریں۔ اور یہ طلب کریں کہ اے اللہ اپنا وعدہ پورا کیجئے اور اللہ وعدہ خلافی کرنے والا تو ہے نہیں۔ پھر یہ بھی ان کو اختیار دیا گیا ہے کہ جو چاہیں وہاں طلب کریں۔ کیا ان دونوں مقامات کے درمیان موازنہ کرنے کی بھی کوئی بات ہے کہ ان سے موازنے کے لیے کہا جارہا ہے۔ دراصل یہ ان کے ساتھ نہایت یہ تلخ مذاق ہے اور یہ ان کے اس مذاق کا جواب ہے جو وہ یہاں اس رسول مقبول سے کرتے تھے۔
اب آخرت کا ایک دوسرا منظر جس کی تکذیب کرنے والے تکذیب کرتے تھے۔ یہ مشرکین کا اجتماع ہے ان کے ساتھ ان کے شرکاء بھی موجود ہیں جن کو یہ لوگ الہٰ اور شفیع سمجھتے تھے۔ یہ سب اللہ کے سامنے کھڑے اپنی اپنی جوابدہی کر رہے ہیں۔ سوال ہو رہے ہیں اور وہ جواب دے رہے ہیں۔
الفرقان 25:17
و یوم یحشرھم۔۔۔۔۔ نذقہ عذابا کبیرا
جن لوگوں کی مشرکین بندگی کرتے تھے بعض اوقات تو وہ بت ہوتے تھے ‘ کبھی وہ ملائکہ اور جن ہوتے تھے اور کبھی دوسرے معبود ہوتے تھے۔ جن کو اللہ خوب جانتا ہے ‘ لیکن اس کھلے میدان میں ان سے یہ سوال کرنا جواب طلب کرنا جب کہ سب کو اس مقصد کے لیے جمع کیا گیا ہوگا ‘ زیادہ تشہیر اور شرمندہ کرنے کے لیے ہوگا۔ تشہیر جرم اور شرمندہ کرنا بھہ دراصل ایک قسم کی سزا ہے اور جواب جو آ رہا ہے وہ ان نام نہاد الموں کی طرف سے اللہ کے سامنے مکمل طور پر جھکناثابت کرتا ہے۔ اب یہ اللہ قہار اور مالک الملک کے سامنے مطیع فرمان کھڑے ہیں۔ اور نہ صرف یہ کہ وہ اپنی الوہیت کا انکار کرتے ہیں بلکہ وہ اس بات سے بھی انکار کرتے ہیں کہ ان بیوقوفوں سے ان کی کوئی دوستی یا تعلق تھا۔ اس سے زیادہ مشرکین کے لیے اور شرمندگی کیا ہوگی کہ جن کو وہ الہٰ سمجھتے ہیں وہ ان کے اس تعلق سے بھی منکر ہوں گے۔
قالو اسبحنک۔۔۔۔۔ کانو اقوما بورا (25 : 18) ” وہ عرض کریں گے ” پاک ہے آپ کی ذلت ‘ ہماری تو یہ بھی مجال نہ تھی کہ آپ کے سوا کسی کو اپنا مولیٰ بنائیں۔ مگر آپ نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامان زندگی دیا حتیٰ کہ یہ سبق بھول گئے اور شامت زدہ ہو کر رہے “۔ تو زندگی کا یہ مال ومتاع جو مسلسل ان لوگوں کو حاصل رہا ‘ جبکہ ان کو یہ معرفت بھی نہ تھی کہ یہ انعامات دینے والا بھی کوئی ہے اور نہ وہ دینے والے کا کوئی شکر ادا کرتے تھے تو اس غفلت نے ان کے دلوں سے ان انعامات کا احساس ہی دور کردیا۔ یہ لوگ سب کچھ بھول گئے۔ چناچہ ان کے دل اس طرح خشک اور غیر آباد ہوگئے جس طرح خشک سالی کے نتیجے میں زمین غیر آباد ہو کر بےآب وگیاہ ہوجاتی ہے۔ یہاں لفظ بوار استعمال ہوا ہے جو ہلاکت کے معنی میں آتا ہے۔ لیکن ہلاکت کے ساتھ اس کے مفہوم میں خشک سالی اور بےآب وگیاہ ہونا بھی داخل ہے یعنی دلوں کی خشکی اور زندگی کا خلا۔
چناچہ یہاں اس مقام پر انہیں توہین آمیز خطاب کے ذریعہ شرمسار کیا جاتا ہے :
فقد کذبو۔۔۔۔۔ صرفا و نانصرا (25 : 19) ” یوں جھٹلادیں گے وہ (تمہارے معبود) تمہاری ان باتوں کو جو آج تم کہہ رہے ہو ‘ پھر تم نہ اپنی شامت کو ٹال سکو گے نہ کہیں سے مدد پاسکو گے “۔ یعنی نہ اس مصیبت کا منہ کسی اور طرف موڑ سکو گے اور نہ کسی جانب سے تمہیں کوئی امداد مل سکے گی۔
یہ منظر تو آخرت کا چل رہا ہے اور حشر کا میدان ہے لیکن بیچ میں ایک جھلک دنیا کی بھی دکھا دی جاتی ہے۔ یہ مکذبین اب زمین پر اس دنیا ہی میں نظر آتے ہیں۔ اور ان سے کہا جاتا ہے۔
ومن یظلم۔۔۔۔۔ کبیرا (25 : 19) ” اور جو تم میں سے ظلم کرے اسے ہم سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے “۔ اور قرآن کریم کا ایک مخصوص اسلوب ہے کہ وہ دلوں کو اس وقت چھوتا ہے جب وہ قبولیت کے لیے تیار ہوتے ہیں اور قیامت کا خوفناک منظر دیکھ کر وہ بات ماننے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں۔
الفرقان 25:18
و یوم یحشرھم۔۔۔۔۔ نذقہ عذابا کبیرا
جن لوگوں کی مشرکین بندگی کرتے تھے بعض اوقات تو وہ بت ہوتے تھے ‘ کبھی وہ ملائکہ اور جن ہوتے تھے اور کبھی دوسرے معبود ہوتے تھے۔ جن کو اللہ خوب جانتا ہے ‘ لیکن اس کھلے میدان میں ان سے یہ سوال کرنا جواب طلب کرنا جب کہ سب کو اس مقصد کے لیے جمع کیا گیا ہوگا ‘ زیادہ تشہیر اور شرمندہ کرنے کے لیے ہوگا۔ تشہیر جرم اور شرمندہ کرنا بھہ دراصل ایک قسم کی سزا ہے اور جواب جو آ رہا ہے وہ ان نام نہاد الموں کی طرف سے اللہ کے سامنے مکمل طور پر جھکناثابت کرتا ہے۔ اب یہ اللہ قہار اور مالک الملک کے سامنے مطیع فرمان کھڑے ہیں۔ اور نہ صرف یہ کہ وہ اپنی الوہیت کا انکار کرتے ہیں بلکہ وہ اس بات سے بھی انکار کرتے ہیں کہ ان بیوقوفوں سے ان کی کوئی دوستی یا تعلق تھا۔ اس سے زیادہ مشرکین کے لیے اور شرمندگی کیا ہوگی کہ جن کو وہ الہٰ سمجھتے ہیں وہ ان کے اس تعلق سے بھی منکر ہوں گے۔
قالو اسبحنک۔۔۔۔۔ کانو اقوما بورا (25 : 18) ” وہ عرض کریں گے ” پاک ہے آپ کی ذلت ‘ ہماری تو یہ بھی مجال نہ تھی کہ آپ کے سوا کسی کو اپنا مولیٰ بنائیں۔ مگر آپ نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامان زندگی دیا حتیٰ کہ یہ سبق بھول گئے اور شامت زدہ ہو کر رہے “۔ تو زندگی کا یہ مال ومتاع جو مسلسل ان لوگوں کو حاصل رہا ‘ جبکہ ان کو یہ معرفت بھی نہ تھی کہ یہ انعامات دینے والا بھی کوئی ہے اور نہ وہ دینے والے کا کوئی شکر ادا کرتے تھے تو اس غفلت نے ان کے دلوں سے ان انعامات کا احساس ہی دور کردیا۔ یہ لوگ سب کچھ بھول گئے۔ چناچہ ان کے دل اس طرح خشک اور غیر آباد ہوگئے جس طرح خشک سالی کے نتیجے میں زمین غیر آباد ہو کر بےآب وگیاہ ہوجاتی ہے۔ یہاں لفظ بوار استعمال ہوا ہے جو ہلاکت کے معنی میں آتا ہے۔ لیکن ہلاکت کے ساتھ اس کے مفہوم میں خشک سالی اور بےآب وگیاہ ہونا بھی داخل ہے یعنی دلوں کی خشکی اور زندگی کا خلا۔
چناچہ یہاں اس مقام پر انہیں توہین آمیز خطاب کے ذریعہ شرمسار کیا جاتا ہے :
فقد کذبو۔۔۔۔۔ صرفا و نانصرا (25 : 19) ” یوں جھٹلادیں گے وہ (تمہارے معبود) تمہاری ان باتوں کو جو آج تم کہہ رہے ہو ‘ پھر تم نہ اپنی شامت کو ٹال سکو گے نہ کہیں سے مدد پاسکو گے “۔ یعنی نہ اس مصیبت کا منہ کسی اور طرف موڑ سکو گے اور نہ کسی جانب سے تمہیں کوئی امداد مل سکے گی۔
یہ منظر تو آخرت کا چل رہا ہے اور حشر کا میدان ہے لیکن بیچ میں ایک جھلک دنیا کی بھی دکھا دی جاتی ہے۔ یہ مکذبین اب زمین پر اس دنیا ہی میں نظر آتے ہیں۔ اور ان سے کہا جاتا ہے۔
ومن یظلم۔۔۔۔۔ کبیرا (25 : 19) ” اور جو تم میں سے ظلم کرے اسے ہم سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے “۔ اور قرآن کریم کا ایک مخصوص اسلوب ہے کہ وہ دلوں کو اس وقت چھوتا ہے جب وہ قبولیت کے لیے تیار ہوتے ہیں اور قیامت کا خوفناک منظر دیکھ کر وہ بات ماننے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں۔
الفرقان 25:19
و یوم یحشرھم۔۔۔۔۔ نذقہ عذابا کبیرا
جن لوگوں کی مشرکین بندگی کرتے تھے بعض اوقات تو وہ بت ہوتے تھے ‘ کبھی وہ ملائکہ اور جن ہوتے تھے اور کبھی دوسرے معبود ہوتے تھے۔ جن کو اللہ خوب جانتا ہے ‘ لیکن اس کھلے میدان میں ان سے یہ سوال کرنا جواب طلب کرنا جب کہ سب کو اس مقصد کے لیے جمع کیا گیا ہوگا ‘ زیادہ تشہیر اور شرمندہ کرنے کے لیے ہوگا۔ تشہیر جرم اور شرمندہ کرنا بھہ دراصل ایک قسم کی سزا ہے اور جواب جو آ رہا ہے وہ ان نام نہاد الموں کی طرف سے اللہ کے سامنے مکمل طور پر جھکناثابت کرتا ہے۔ اب یہ اللہ قہار اور مالک الملک کے سامنے مطیع فرمان کھڑے ہیں۔ اور نہ صرف یہ کہ وہ اپنی الوہیت کا انکار کرتے ہیں بلکہ وہ اس بات سے بھی انکار کرتے ہیں کہ ان بیوقوفوں سے ان کی کوئی دوستی یا تعلق تھا۔ اس سے زیادہ مشرکین کے لیے اور شرمندگی کیا ہوگی کہ جن کو وہ الہٰ سمجھتے ہیں وہ ان کے اس تعلق سے بھی منکر ہوں گے۔
قالو اسبحنک۔۔۔۔۔ کانو اقوما بورا (25 : 18) ” وہ عرض کریں گے ” پاک ہے آپ کی ذلت ‘ ہماری تو یہ بھی مجال نہ تھی کہ آپ کے سوا کسی کو اپنا مولیٰ بنائیں۔ مگر آپ نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامان زندگی دیا حتیٰ کہ یہ سبق بھول گئے اور شامت زدہ ہو کر رہے “۔ تو زندگی کا یہ مال ومتاع جو مسلسل ان لوگوں کو حاصل رہا ‘ جبکہ ان کو یہ معرفت بھی نہ تھی کہ یہ انعامات دینے والا بھی کوئی ہے اور نہ وہ دینے والے کا کوئی شکر ادا کرتے تھے تو اس غفلت نے ان کے دلوں سے ان انعامات کا احساس ہی دور کردیا۔ یہ لوگ سب کچھ بھول گئے۔ چناچہ ان کے دل اس طرح خشک اور غیر آباد ہوگئے جس طرح خشک سالی کے نتیجے میں زمین غیر آباد ہو کر بےآب وگیاہ ہوجاتی ہے۔ یہاں لفظ بوار استعمال ہوا ہے جو ہلاکت کے معنی میں آتا ہے۔ لیکن ہلاکت کے ساتھ اس کے مفہوم میں خشک سالی اور بےآب وگیاہ ہونا بھی داخل ہے یعنی دلوں کی خشکی اور زندگی کا خلا۔
چناچہ یہاں اس مقام پر انہیں توہین آمیز خطاب کے ذریعہ شرمسار کیا جاتا ہے :
فقد کذبو۔۔۔۔۔ صرفا و نانصرا (25 : 19) ” یوں جھٹلادیں گے وہ (تمہارے معبود) تمہاری ان باتوں کو جو آج تم کہہ رہے ہو ‘ پھر تم نہ اپنی شامت کو ٹال سکو گے نہ کہیں سے مدد پاسکو گے “۔ یعنی نہ اس مصیبت کا منہ کسی اور طرف موڑ سکو گے اور نہ کسی جانب سے تمہیں کوئی امداد مل سکے گی۔
یہ منظر تو آخرت کا چل رہا ہے اور حشر کا میدان ہے لیکن بیچ میں ایک جھلک دنیا کی بھی دکھا دی جاتی ہے۔ یہ مکذبین اب زمین پر اس دنیا ہی میں نظر آتے ہیں۔ اور ان سے کہا جاتا ہے۔
ومن یظلم۔۔۔۔۔ کبیرا (25 : 19) ” اور جو تم میں سے ظلم کرے اسے ہم سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے “۔ اور قرآن کریم کا ایک مخصوص اسلوب ہے کہ وہ دلوں کو اس وقت چھوتا ہے جب وہ قبولیت کے لیے تیار ہوتے ہیں اور قیامت کا خوفناک منظر دیکھ کر وہ بات ماننے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں۔
الفرقان 25:20
اب جبکہ انہوں نے اور رسول اللہ ﷺ نے دیکھ لیا کہ ان لوگوں نے افترائ ‘ تکذیب اور استہزاء کی انتہا کردی ہے اور یہاں تک انہوں نے رسول اللہ کی بشریت ‘ اس کی بازاروں میں چلت پھرت اور کھانے پینے پر بھی اعتراض کردیا ہے ‘ تو حضور اکرم کی طرف روئے سخن پھرجاتا ہے اور آپ کو تسلی دی جاتی ہے اور آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ صرف آپ ہی کو رسول ایسا نہیں بنایا گیا کہ ان لوگوں کو تعجب ہو رہا ہے بلکہ تمام رسول ایسے ہی تھے جس طرح آپ ہیں اور ان کے حالات بھی ایسے تھے جس طرح آپ کے ہیں۔
وما ارسلنا۔۔۔۔۔۔ ربک بصیرا اگر یہ لوگ اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ آپ کی ذات پر معترض نہیں ہیں۔ یہ تو ان کی ایک سنت اور اللہ کے ایک مستقل طریقہ کا رپر یہ لوگ معترض ہیں۔ یہ طریق کار طے شدہ ہے۔ مقرر اور متعین ہے۔ اور اس کا ایک متعین انجام ہے۔
وجعلنا ۔۔۔۔ فتنتہ (25 : 20) ” دراصل ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنادیا ہے “۔ تاکہ جو لوگ اللہ کی حکمت اور تدبیر کو نہیں جانتے۔ وہ اعتراض کرتے رہیں اور جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور اس کی حکمت اور اس کے تصرفات کو جانتے ہیں وہ صبر کرتے رہیں اور دعوت اسلامی غالب ہو اور غلبے کا مقابلہ کرنے اور اس مقابلے اور کشمکش میں انسانی وسائل استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ اس کشمکش میں جو شخص ثابت قدم رہے وہ کامیاب ہوئے۔
اتصبرون (25 : 20) ” کیا تم صبر کرتے ہو ؟ “ یعنی کیا تم مشکلات پر صبر کروگے۔ تو
وکان ربک بصیرا (25 : 20) ” تمہارا رب سب کچھ دیکھتا ہے “۔ وہ تمام لوگوں کے مزاج کو دیکھ رہا ہے۔ تمام دلوں کو دیکھ رہا ہے ‘ اور تمام لوگوں کے حالات اور انجام کا اسے علم ہے۔ تمہارا پورا اجر ملے گا۔
وکان ربک (25 : 20) میں اللہ نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کا رب کہہ کر پکارا ہے۔ اس انداز بیان سے دل پر خوب اثر ہوتا ہے۔ دل تروتازہ ہوجاتا ہے۔ اسے تسلی ہوتی ہے اور سکون ملتا ہے۔ اور وہ ازسر نو جدوجہد کے لیے تیار ہوتا ہے۔ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اے محمد ہم دیکھ رہے ہیں ‘ تمہارے ساتھ ہیں ‘ فکر مت کرو ‘ نہ صرف یہ کہ ظاہری حالات ہماری نظر میں ہیں بلکہ نہایت خفیہ اور دلوں کی بات بھی ہماری نظر میں ہے۔ اس انداز بیان سے اللہ اپنے آپ کو اپنے بندوں کے قریب بتاتا ہے۔
الفرقان 25:21
درس نمبر 158 ایک نظر میں
اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں سے بعض مناظر کی جھلکیاں دکھا دی جاتی ہیں۔ اور یہی ان کی گستاخی کا مناسب جواب ہے۔ ان کی گستاخی یہ تھی۔
لولا انزل۔۔۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں یا ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ اس کے بعد ان کا یہ اعتراض نقل کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم ٹکڑوں کی شکل میں کیوں اترا ہے۔ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ بیان کردیا جاتا ہے کہ کیوں قرآن مجید مسلسل ٹکڑوں کی شکل میں اترا۔ رسول اللہ کو تسلی دی جاتی ہے کہ جب بھی وہ مباحثہ کر کے کوئی بات لاتے ہیں ‘ ہم بھی نئی تاویل آپ کو دے دیتے ہ ہیں اور بہترین تفسیر اور تشریح کردیتے ہیں۔ اس کے بعد حضور اور آپ کے مخالفین کے غور کے لیے بعض مکذبین کی ہلاکت کے وقت کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے کہ یہ اقوام کس طرح ہلاک کی گئیں۔ ذرا قوم لوط کے کھنڈرات پر تو غور کرو ، تم رات دن ان پر سے گزرتے ہو۔ قرآن کریم ان پر سخت گرفت کرتا ہے کہ جب یہ رات دن ان کھنڈرات کو دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ یہ سب باتیں اس لیے لائی گئی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات پر جو اعتراضات کرتے تھے ‘ اس کا ایک بیان یہاں دے دیا جائے۔ یہ واقعات دے کر ان پر ایک زور دار تبصرہ کیا جاتا ہے۔ اس میں ان کا نہایت ہی حقارت آمیز نقشہ کھینچا جاتا ہے اور نہایت ہی حقیقت پسندانہ ‘
ان ہم۔۔۔۔۔۔ ہم اضل (25 : 44) ” یہ تو بس حیوانوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں “۔
وقال الذین۔۔۔۔۔ للانسان خذولا
مشرکین کو ہماری ملاقات کی امید نہیں ہے اور نہ وہ اس کا انتظار کرتے ہیں اور نہ وہ اس کو کوئی اہمیت دیتے ہیں نہ اپنی زندگی اور اس کی سرگرمیوں کو وہ اس نظریہ کے مطابق قائم کرتے ہیں۔ چناچہ ان کے دلوں میں نہ اللہ کا خوف ہے ‘ نہ اللہ کی محبت اور وقار ہے۔ اس لیے اللہ کے حوالے سے بھی ان کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو کبھی بھی ایسے شخص کی زبان سے نہیں نکل سکتے جسے خدا کا خوف ہو۔
وقال الذین۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں ؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ یہ لوگ اس بات کو مسعبد سمجھتے تھے کہ کوئی رسول بشر بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ مطالبہ کرتے تھے کہ جس عقیدے کی طرف ہمیں دعوت دی جا رہی ہے ‘ کوئی فرشتہ اترے اور وہ اس پر شہادت دے۔ یا یہ کہ وہ خود باری تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اس کی تصدیق کریں۔ یہ دراصل اللہ کے مقام اور مرتبہ پر دست درازی ہے اور اس جاہل اور سرکش کا مطالبہ ہے جو مقام رب العالمین کا کوئی احساس نہیں رکھتا اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدراسی طرح نہیں کرتا جس طرح حق تعالیٰ کی قدر ہونا چاہئے۔ یہ گستاخی کرنے والے کون ہوتے ہیں اور ان کی اللہ کے مقابلے میں حیثیت ہی کیا ہے جو برگزیدہ ‘ جبار اور کبیر ہے۔ یہ اللہ کی عظیم مملکت اور اللہ کی اس عظیم کائنات میں حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں۔ ایک حقیر ذرے کی حیثیت تو ان کی ہے۔ انسان کی اس کائنات میں کوئی حیثیت اگر بنتی بھی ہے تو تب بنتی ہے کہ وہ اپنا تعلق اللہ سے جوڑ کر اور اپنا وزن ایمان کے ذریعہ بڑھا کر اپنی کچھ حیثیت پیدا کرے۔ چناچہ اس آیت کے اندر بات ختم کرنے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ بتا دیتا ہے کہ اس گستاخی کا سبب کیا ہے۔
لقد اسنکبرو۔۔۔۔ کبیرا (25 : 21) ” بڑا گھمنڈ لیے بیٹھے ہیں یہ اپنے نفسوں میں اور حد سے گزر گئے ہیں یہ اپنی سرکشی میں “۔ وہ اپنے خیال میں بہت پڑی شے ہیں۔ چناچہ وہ گھمنڈ میں مبتلا ہیں اور اس گھمنڈ کی وجہ سے بہت ہی بڑی سرکشی میں مبتلا ہیں۔ یہ اپنے اندر اس قدر مست ہیں کہ حقیقی قدروں کا صیحح وزن نہیں کرسکتے۔ اب ان لوگوں کی عادت یہ ہے کہ یہ لوگ صرف اپنے نفس کا احساس کرتے ہیں۔ ان کا نفس ان کی نظروں میں اس قدر بڑی چیز ہے کہ اس کائنات میں وہ اپنے نفس ہی کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ اس قدر بڑی چیز کہ اللہ جل شانہ کو بھی اس کے سامنے ظاہر ہونا چاہئے تاکہ وہ اسے دیکھ کر اس کی تصدیق کریں اور اس پر ایمان لائیں۔
ان کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اللہ بطور مذاق اور استہزاء ان کے سامنے ان کی بد حالی اور لاچاری کا ایک نقشہ پیش کرتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جب قیامت کے دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے (ملائکہ کا دیکھنا بھی ان کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ تھا) تو اس چن ان پر برا دن ہوگا۔ ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے سامنے وہ عذاب موجود ہو گا جو ٹلنے والا نہ ہوگا ‘ اس سے نجات کی ان کو کوئی صورت نظر ہی نہ آئے گی اور یہ عذاب اور جزاء کا دن ہوگا۔
یوم یرون۔۔۔۔۔۔۔ حجرا محجورا (25 : 22) وقدمناالیٰ ۔۔۔ ھباء منثورا (25 : 23) ” جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن ہو نہ گا۔ چیخ اٹھیں گے کہ پناہ بخدا ‘ اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے “۔ جس دن ان کے اس مطالبے پر عمل ہوگا اور فرشتے سامنے آجائیں گے۔ یرون الملئکتہ یہ ان فرشتوں کو دیکھ لیں گے۔ لیکن اس دن ان کے لیے کوئی خوشخبری نہ ہوگی بلکہ ان کے لیے عذاب کی خبر ہوگی۔ تو ان کا مطالبہ عجیب انداز میں پورا ہوگا۔ اس دن تو وہ یوں گویا ہوں گے۔ حجرا محجورا (25 : 22) ” خدا کی پناہ “۔ حرام اور ممنوع ۔ یہ جملہ وہ شر سے بچنے کے لیے کہتے تھے۔ دشمنوں کو کہتے تھے۔ یہ وہ دشمنوں کے ہلاک ہونے اور ان کے شر سے محفوظ ہونے کے لیے کہتے تھے۔ یہ فقرہ قیامت میں ان کی زبان سے نکل پڑے گا۔ جس طرح یہ فقرہ وہ دنیا میں شر سے پناہ مانگنے کے لیے بال دیتے تھے۔ آج ان کو خدا کی پناہ نصیب کب ہو سکتی ہے۔ آج وہ لاکھ مرتبہ خدا کی پناہ مانگیں ‘ ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور وہ جو انہوں نے کہا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑادیں گے “۔ یہ عمل ایک لحظ میں مکمل ہوجائے گا۔ ان کے تمام اعمال غبار کی شکل میں اڑا دیئے جائیں گے۔ انداز تعبیر کو ذرا دیکھئے۔ ہمارا خیال اس طرح دیکھتا ہے کہ ایک صاحب جسم ذات آتی ہے اور ان کے اعمال کو لے کر غبار کی طرح اڑا دیتی ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز تجیم اور تحیل۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے دنیا میں اعمال صالحہ کی شکل میں جو کچھ جمع کیا تھا وہ غبار کردیا جاتا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ ان کے یہ اعمال ایمان پر مبنی نہ تھے۔ ایمان کے ذریعہ ہی انسان اللہ تک پہنچتا ہے۔ ایمان اعمال صالحہ کو ایک منہاج اور ایک پختگی اور دوام بخشتا ہے اور یہ اعمال ایک مقصد اور ا کی سمت رکھتے ہیں۔ نہ یہ کسی وقتی جذبے کے تحت صادر ہوتے ہیں اور نہ کسی ایسے شخص کی دوڑ دھوپ ہوتی ہے جس کو صیحح راہ اور سمت معلوم ہی نہیں ویسے ہی ادھر ادھر بھاگتا ہے۔ یا محض بےمقصد دوڑ دھوپ ہے۔ اسلام میں کسی ایسے عمل صالح کی کوئی قیمت نہیں ہے جس کی کوئی سمت ‘ کوئی مقصد اور کوئی روح متعین نہ ہو۔ کیونکہ ایسے اعمال کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہوتا۔
اس کائنات میں انسان کا وجود ‘ اس کے اعمال ‘ اس کی زندگی کی دوڑ دھوپ دراصل اس کائنات کی حقیقت سے مربوط ہیں۔ یہ انسان بھی ناموس فطرت کا ایک پرزہ ہے۔ اور یہ پوری کائنات ذات باری سے مربوط ہے۔ اس میں انسان اور اس کی تمام سرگرمیاں شامل ہیں۔ اگر انسان کی تگ و دو اور اس کی حرکت اور دوڑ دھوپ اس اصلی نور سے کٹ جائے تو وہ بےمقصد ہوجاتی ہے۔ وہ ضائع ہوجاتی ہے اور اس کا کوئی وزن اور قدرو قیمت عنداللہ نہیں ہوتی۔ اس کے اعمال کا نہ کوئی حساب ہوگا اور نہ یہ اس کی کوئی قدرو قیمت ہوگی بلکہ اسلامی نظر میں اس کا وجود یہ نہیں ہے۔ وہ محض ہوا اور غبار ہے۔
ایمان انسان کو رب تک پہنچاتا ہے۔ اس طرح پھر اللہ رب العالمین کے ہاں اس کے اعمال کا بھی وزن ہوتا ہے۔ اور اس کائنات کے حساب میں اس کا حساب رکھا جاتا ہے اور اس کے اعمال اس کائنات کی تعمیرو ترقی میں دکھائے جاتے ہیں۔ ان مشرکوں کا چونکہ ایمان نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کے اعمال کو کالعدم کردیا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے نہایت ہی مجسم اور حسی انداز تعبیر اخیتار کیا ہے۔
وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور ہم ان اعمال کی طرف بڑھے جو انہوں نے کیے تھے تو ان اعمال کو غبار کر طرح اڑادیا “۔
اور مومنین کا حال کیا ہوگا۔ تقابل کے لیے وہ بھی ملاحظہ ہو۔ یہ اصحاب جنت ہیں۔
اصحب الجنتہ۔۔۔۔ احسن مقیلا (25 : 24) ” پس وہی لوگ جو جنت کے مستحق ہیں اس دن اچھی جگہ ٹھریں گے اور وہ دوپہر گزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے “۔ وہ نہایت آرام ‘ خوشی اور استقلال کے ساتھ گھنے سایوں میں رہیں گے۔ اور یہاں مستقر کا لفظ کافروں کے اعمال کی ناپختگی اور ہوا میں غبار کی طرح اڑ جانے کے بالمقابل لایا گیا ہے اور دوپہر کا آرام اور سکون مقابل ہے۔ اہل کفر کے جزع و فزع کا ‘ کہ وہ بےاختیار ہو کر اب خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور کہتے ہیں حجرا محجورا (25 : 22) کفار نبی ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ اللہ ان کے سامنے بادلوں کے سایہ میں آئے اور فرشتے آپ کے ساتھ ہوں۔ یہ مطالبے وہ بنی اسرائیل کی کہانیاں سن کر کرتے تھے کہ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائے میں اتر رہا ہے۔ یا ایک آگ کے عمودی شعلے کی شکل میں۔ چناچہ قرآن کریم ایک دوسرے انداز میں قیامت کے دن ان کے مطالبے کے پورا ہونے کا ایک منظر پیش کرتا ہے جس دن فرشتے اتریں گے۔
ویوم تشقق۔۔۔۔ تنزیلا (25 : 25) الملک یو ۔۔۔ الکفرین عسیرا (25 : 26) ” اس روز ایک بادل آسمان کو چیرتا ہوا نمودار ہوگا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیئے جائیں گے۔ اس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمن کی ہوگی۔ اور وہ منکرین کے لیے سخت دن ہوگا “۔ یہ آیت اور قرآن کریم کی بیشمار دوسری آیات یہ بتلاتی ہیں کہ اس دن نہایت ہی بڑے فلکیاتی واقعات و حادثات ہوں گے۔ اور تمام ایسی آیات کا اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کائنات جو ہمیں نظر آتی ہے اور اس کا یہ نظام جو ہمیں نظر آتا ہے ‘ یہ سب کا سب درہم برہم ہوجائے گا۔ اس کے تمام افلاک ‘ کو آب اور ستارے باہم ٹکرا جائیں گے۔ اس کائنات کے نظام ‘ اشیاء کے باہم روابط ‘ اور یہ چیز کی موجودہ شکل بدل جائے گی اور یہ حادثہ اس دنیا کا اختتام ہوگا۔ یہ کائناتی انقلاب صرف زمین تک محدود نہ ہوگا۔ اس کی زد میں تمام ستارے ‘ تمام آسمان اور تمام کوکب آئیں گے۔ یہاں مناسب ہے کہ یہاں اس انقلاب کے بعض مناظر پیش کر یئے جائیں جو متعدد سورتوں میں آئے ہیں۔
اذا الشمس کورت۔۔۔ سجرت (81 : 1 تا 3 و 6) ” جب سورج لپیٹ دیا جائے گا جب تارے بکھر جائیں گے ‘ جب پہاڑ ملائے جائیں گے۔۔۔۔۔ اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے “۔
اذا السمائ۔۔۔۔۔ القبور بعثرت (82 : اتا 4) ” جب آسمان پھٹ جائے گا ‘ جب تارے بکھر جائیں گے اور سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے اور جب قبریں کھول دی جائیں گی “۔
اذا السماء انشقت۔۔۔۔ لربھا و حقت (84 : 1 تا 5) ” جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لیے حق یہی ہے اور جب زمین پھیلا دی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے ‘ اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے)
اذا اجت۔۔۔۔۔ ھباء منبثا (56 : 4 تا 6) ” جب زمین یکبارگی بلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ بن کر رہ جائیں گے “۔
فاذانفخ فی۔۔۔۔ یومئذواھیتہ (69 : 13 تا 16) ” پھر جب ایک دفعہ صور میں پھونک ماردی جائے گی اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک یہ چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ اس رہز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا “۔
یوم تکون۔۔۔ کالعھن (70 : 8۔ 9) ” جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے “۔
اذا زلزلت۔۔۔۔ اتقالھا (99 : 1۔ 2) ” جب زمین اپنی پوری قوت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی اور زمین اپنے اندر کے بوجھ باہر نکال دے گی “۔
یوم یکون۔۔۔۔۔ المنفوش (101 : 4۔ 5) ” وہ دن جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون کی طرح ہوں گے “۔
فارتقب یوم ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (44 : 10۔ 11) ” اچھا انتظار کرو جب آسمان صریح دھواں لائے گا اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ہے دردناک سزا “۔
یوم ترجف۔۔۔۔ کثیبا مھیلا (73 : 14) ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جا رہے ہیں “۔
السماء منفطر بہ (73 : 18) ” آسمان پھٹا جا رہا ہوگا اس دن “۔
کلا اذا دکت الارض دکا (89 : 21) ” ہر گز نہیں جب زمین پے در پے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بجا دی جائے گی “۔
فاذا برق۔۔۔۔۔ والقمر (75 : 7 تا 9) ” پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند اور سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے “۔
فاذا النجوم۔۔۔۔ الجبال نسفت (77 : 8 تا 10) ” پھر جب ستارے ماند پڑجائیں گے اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے “۔
ویسئلونک عن۔۔۔۔ ولا امتا (20 : 105 تا 107) ” یہ اگر آپ سے پوچھتے ہیں کہ اس دن پہاڑ کہاں چلے جائیں گے۔ کہو میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں کوئی بھی کجی اور سلوٹ نہ دیکھو گے “۔
وتری الجبال۔۔۔۔ السحاب (27ـ : 88) ” آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب ہوئے ہیں مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے “۔
و یوم نسیر۔۔۔۔۔ الارض بارزۃ (18 : 47) ” جب ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو بالکل برہنہ پائو گے “۔
یوم تبدل ۔۔۔۔ والسموت (14 : 48) ” اس روز جبکہ زمین و آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کردیئے جائیں گے “۔
یوم نطوی۔۔۔۔ للکتب (21 : 104) ” وہ دن جبکہ آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں “۔ یہ تمام آیات بتاتی ہیں کہ ہماری اس دنیا کا انجام نہایت ہی خوفناک ہوگا۔ اس میں اس زمین کو بلا مارا جائے گا اور اجسام عظیمہ ایک دوسرے کے ساتھ دھماکے سے ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے۔ سمندر پھٹ جائیں گے یعنی کرئہ ارض کے اضطرابات کی وجہ سے یا سمندروں کے ذرات پھٹ جائیں گے اور تابکاری سے پانیوں میں آگ لگ جائے گی۔ چمکدار ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا اور ٹکرے ٹکرے ہوگا۔ کواکب ایک دوسرے کے ساتھ ٹکڑا کر ریزہ ریزہ ہو کر منتشر ہوجائیں گے۔ تمام آسمانی دوریاں ختم ہوجائیں گی۔ شمس وقمر ایک ہوجائیں گے۔ آسمان کبھی سیاہ دھوئیں کی طرح ہوگا اور کبھی آگ کے شعلے کی طرح ہوگا۔ غرض یہ ایک ہولناک گھڑی ہوگی اور اس میں انسان سخت خوفزدہ ہوگا۔
غرض ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو اس بات سے ذراتا ہے ہیں کہ اس روز آسمان کو چیرتا ایک بادل نمودار ہوں گے اور اس دن فرشتوں کے پرے کافرین پر نازل ہوں گے ‘ جیسا کہ ان کا مطالبہ تھا۔ یہ مبالبہ وہ حضرت محمد ﷺ کی تصدیق کے لیے نہ کرتے تھے یہ فرشتے اللہ کے حکم سے اللہ کا عذاب لے کر آئیں گے۔
وکان یوما۔۔۔۔ عسیرا (25 : 26) ” اور منکرین کے لیے یہ پڑا سخت دن ہوگا “۔ کیونکہ اس دن میں سخت عذاب سامنے وہ گا اس لیے وہ ایک ہولناک دن ہوگا۔ یہ لوگ کم علمی سے نزول ملائکہ کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ ملائکہ عذاب لے کر آتے ہیں۔
اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر لایا جاتا ہے۔ اس میں یہ گمراہ اور ظالم بہت زیادہ شرمندہ ہوں گے۔ یہ منظر بہت یہ طویل ہے۔ اس قدر طویل کہ ناظرین یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ منظر چلتا ہی رہے گا۔ یہ ظالم نہایت ندامت اور حسرت کی وجہ سے ہاتھ کاٹ رہا ہے ‘ خود اپنے ہاتھ۔
ویوم یعض۔۔۔ للانسان خذولا (25 : 27 تا 29) ” ظالم انسان اپنے ہاتھ چبائے گا اور کہے گا ” کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی کاش میں نے فلاں شخض کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی۔ شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفا بکلا “۔ یہ شخض اس گہرے تاسف کا اظہار کر رہا ہے اور اس کے ماحول پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔ یہ شخض اپنی حسر تناک آواز کو بلند کرتے چلا جاتا ہے۔ اس کی چیخیں اس قدر دلدوز ہیں اور ان کا اثر اس قدر طویل ہے کہ یہ محفل طویل ہوتی جارہی ہے۔ اثرات عمیق ہوتے جارہے ہیں۔ یہاں تک آج بھی ان آیات کا پڑھنے والا گہرا تاسف لے لیتا ہے۔ منظر کو دیکھنے والے شریک غم ہوجاتے ہیں۔
ویوم یعض الظالم علی یدیہ (25 : 27) ” اس دن یہ ظالم اپنے ہاتھ چبائے گا “۔ یہ صرف ایک ہاتھ کو نہ چبائے گا بلکہ دونوں ہاتھوں کو چبائے گا۔ کبھی اس کو کبھی اس کو۔ یہ شدت غم کی وجہ سے اپنے ہاتھوں پر اپنا غصہ اتارے گا۔ ہاتھوں کو چبانا اشارہ اس طرف ہے کہ اس دن ظالم کی نفسیاتی حالت کیا ہوگی۔ اس کے غم اور اندوہ کو نہایت یہ مجسم فعل اور حرکت کے ساتھ ظاہر کیا گیا ہے یعنی غم کو یہ برداشت نہ کرسکے گا۔
یقول یلیتنی۔۔۔۔ سبیلا (25 : 27) ” کہے گا کاش میں نے رسول اللہ کا ساتھ دیا ہوتا “۔ رسول کے طریقے پر چلا ہوتا۔ رسول سے علیحدہ نہ ہوا ہوتا۔ وہ رسول جس کی رسالت کا وہ منکر تھا ‘ اس لیے کہ یہ رسول بشرکیوں ہے۔
یویلتی لیتنی۔۔۔۔۔ خلیلا (25 : 28) ” میری کم بختی ! کاش میں فلاں کو اپنا دوست نہ بناتا “۔ فلاں کو عام کردیا ہے۔ کسی کا نام نہیں لیا تاکہ اس میں تمام گمراہ کنند گان شامل ہوجائیں۔ تمام دوست جو دوستوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں لیکن روایات میں آتا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول عقبہ ابن معیط ہے۔ یہ شخض نبی ﷺ کے ساتھ بہت ہی بیٹھتا اٹھتا تھا۔ اس نے نبی ﷺ کو ضیافت کے لیے بلایا تو حضور نے فرمایا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تک تم دو باتوں کی شہادت نہ دو ۔ چناچہ اس نے ایسا کیا۔ ابی ابن خلف بھی اس کا دوست تھا۔ اس نے اسے بہت ہی شرمندہ کیا۔ اور کہا تو بےدین ہوگیا ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ خدا کی قسم میں نے محمد کے دین کو قبول نہیں کیا۔ لیکن اس نے کہا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تم کلمہ شہادت ادا نہ کرو۔ حالانکہ وہ میرے گھر میں تھے اور میرا کھانا نہ کھاتے تھے۔ مجھے اس سے بڑی شرم آئی کہ وہ میرا کھانا نہ کھائے۔ اس لیے میں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا۔ تو ابی ابن خلف نے کہا خدا کی قسم میں تم سے تب راضی ہوں گا کہ تم اس کی گردن دبا کر اس کے منہ پر تھوکو۔ حضور اسے دارالندوہ میں سجدہ کرتے ہوئے مل گئے۔ اور اس (بد بخت) نے ایسا ہی کیا۔ اسے حضور اکرم نے فرمایا کی مکہ سے باہر تم جب بھی مجھے ملو گے میں تمہارا سر اڑا دوں گا۔ یہ شخض بدر کے دن گرفتار ہوا۔ آپ نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ اس کی گردن اڑا دو ۔
لقد اضلنی۔۔۔ جاء نی (25 : 29) ” اس کے بہکاوے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس گئی تھی “۔ یہ دراصل شیطان تھا جو گمراہ کر رہا تھا یا شیطان کا مدد گار تھا۔
وکان۔۔۔۔ خذولا (25 : 29) ” اور شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفانکلا “۔ وہ انسان کو شرمندگی کے انجام تک پہنچاتا ہے۔ اور جب سچائی کا وقت آتا ہے کہ ہمیشہ شیطان بھاگ جایا کرتے ہیں۔ خصوصاً ہولناک اور کربناک مناظرو مواقع میں۔
یوں قرآن کریم نے ان لوگوں کے دلوں کو جھنجوڑا۔ ان کے سامنے ان کے انجام کو کپکپا دینے والے مناظر کی شکل میں پیش کیا۔ اس طرح کہ گویا وہ ایک واقعہ ہے جسے دیکھا جارہا ہے۔ حالانکہ وہ لوگ ابھی اس زمین پر ہی ہیں جو اللہ کی تکذیب کررہے ہیں اور اللہ کے سامنے پیش ہونے کا بڑی حقارت کے ساتھ انکار کررہے ہیں اور ایسے مطالبات کررہے ہیں جو بیہودہ ہیں۔ حالانکہ وہاں نہایت ہی خوفناک صورت حال سے دو چار ہونے والے ہیں اور نہایت ہی شرمساری اور ندامت سے دوچار ہوں گے لیکن اس وقت ندامت کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
اب روئے سخن مناظر قیامت سے اس دنیا کی طرف آجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے انہوں نے جو موقف اختیار کر رکھا ہے اس پر بات ہوتی ہے۔ اب ان کا اعتراض یہ ہے کہ قرآن مجید سب کا سب ایک ہی مرتبہ کیوں نازل نہیں ہوگیا۔ موجود انداز نزول قرآن قابل اعتراض ہے۔ اس سوال و جواب کا خاتمہ بھی قیامت کے منظر پر ہوتا ہے کہ جس طرح ان کا اعتراض الٹا ہے ‘ اسی طرح وہ جہنم میں الٹے ڈالے جائیں گے۔
الفرقان 25:22
درس نمبر 158 ایک نظر میں
اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں سے بعض مناظر کی جھلکیاں دکھا دی جاتی ہیں۔ اور یہی ان کی گستاخی کا مناسب جواب ہے۔ ان کی گستاخی یہ تھی۔
لولا انزل۔۔۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں یا ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ اس کے بعد ان کا یہ اعتراض نقل کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم ٹکڑوں کی شکل میں کیوں اترا ہے۔ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ بیان کردیا جاتا ہے کہ کیوں قرآن مجید مسلسل ٹکڑوں کی شکل میں اترا۔ رسول اللہ کو تسلی دی جاتی ہے کہ جب بھی وہ مباحثہ کر کے کوئی بات لاتے ہیں ‘ ہم بھی نئی تاویل آپ کو دے دیتے ہ ہیں اور بہترین تفسیر اور تشریح کردیتے ہیں۔ اس کے بعد حضور اور آپ کے مخالفین کے غور کے لیے بعض مکذبین کی ہلاکت کے وقت کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے کہ یہ اقوام کس طرح ہلاک کی گئیں۔ ذرا قوم لوط کے کھنڈرات پر تو غور کرو ، تم رات دن ان پر سے گزرتے ہو۔ قرآن کریم ان پر سخت گرفت کرتا ہے کہ جب یہ رات دن ان کھنڈرات کو دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ یہ سب باتیں اس لیے لائی گئی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات پر جو اعتراضات کرتے تھے ‘ اس کا ایک بیان یہاں دے دیا جائے۔ یہ واقعات دے کر ان پر ایک زور دار تبصرہ کیا جاتا ہے۔ اس میں ان کا نہایت ہی حقارت آمیز نقشہ کھینچا جاتا ہے اور نہایت ہی حقیقت پسندانہ ‘
ان ہم۔۔۔۔۔۔ ہم اضل (25 : 44) ” یہ تو بس حیوانوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں “۔
وقال الذین۔۔۔۔۔ للانسان خذولا
مشرکین کو ہماری ملاقات کی امید نہیں ہے اور نہ وہ اس کا انتظار کرتے ہیں اور نہ وہ اس کو کوئی اہمیت دیتے ہیں نہ اپنی زندگی اور اس کی سرگرمیوں کو وہ اس نظریہ کے مطابق قائم کرتے ہیں۔ چناچہ ان کے دلوں میں نہ اللہ کا خوف ہے ‘ نہ اللہ کی محبت اور وقار ہے۔ اس لیے اللہ کے حوالے سے بھی ان کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو کبھی بھی ایسے شخص کی زبان سے نہیں نکل سکتے جسے خدا کا خوف ہو۔
وقال الذین۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں ؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ یہ لوگ اس بات کو مسعبد سمجھتے تھے کہ کوئی رسول بشر بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ مطالبہ کرتے تھے کہ جس عقیدے کی طرف ہمیں دعوت دی جا رہی ہے ‘ کوئی فرشتہ اترے اور وہ اس پر شہادت دے۔ یا یہ کہ وہ خود باری تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اس کی تصدیق کریں۔ یہ دراصل اللہ کے مقام اور مرتبہ پر دست درازی ہے اور اس جاہل اور سرکش کا مطالبہ ہے جو مقام رب العالمین کا کوئی احساس نہیں رکھتا اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدراسی طرح نہیں کرتا جس طرح حق تعالیٰ کی قدر ہونا چاہئے۔ یہ گستاخی کرنے والے کون ہوتے ہیں اور ان کی اللہ کے مقابلے میں حیثیت ہی کیا ہے جو برگزیدہ ‘ جبار اور کبیر ہے۔ یہ اللہ کی عظیم مملکت اور اللہ کی اس عظیم کائنات میں حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں۔ ایک حقیر ذرے کی حیثیت تو ان کی ہے۔ انسان کی اس کائنات میں کوئی حیثیت اگر بنتی بھی ہے تو تب بنتی ہے کہ وہ اپنا تعلق اللہ سے جوڑ کر اور اپنا وزن ایمان کے ذریعہ بڑھا کر اپنی کچھ حیثیت پیدا کرے۔ چناچہ اس آیت کے اندر بات ختم کرنے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ بتا دیتا ہے کہ اس گستاخی کا سبب کیا ہے۔
لقد اسنکبرو۔۔۔۔ کبیرا (25 : 21) ” بڑا گھمنڈ لیے بیٹھے ہیں یہ اپنے نفسوں میں اور حد سے گزر گئے ہیں یہ اپنی سرکشی میں “۔ وہ اپنے خیال میں بہت پڑی شے ہیں۔ چناچہ وہ گھمنڈ میں مبتلا ہیں اور اس گھمنڈ کی وجہ سے بہت ہی بڑی سرکشی میں مبتلا ہیں۔ یہ اپنے اندر اس قدر مست ہیں کہ حقیقی قدروں کا صیحح وزن نہیں کرسکتے۔ اب ان لوگوں کی عادت یہ ہے کہ یہ لوگ صرف اپنے نفس کا احساس کرتے ہیں۔ ان کا نفس ان کی نظروں میں اس قدر بڑی چیز ہے کہ اس کائنات میں وہ اپنے نفس ہی کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ اس قدر بڑی چیز کہ اللہ جل شانہ کو بھی اس کے سامنے ظاہر ہونا چاہئے تاکہ وہ اسے دیکھ کر اس کی تصدیق کریں اور اس پر ایمان لائیں۔
ان کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اللہ بطور مذاق اور استہزاء ان کے سامنے ان کی بد حالی اور لاچاری کا ایک نقشہ پیش کرتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جب قیامت کے دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے (ملائکہ کا دیکھنا بھی ان کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ تھا) تو اس چن ان پر برا دن ہوگا۔ ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے سامنے وہ عذاب موجود ہو گا جو ٹلنے والا نہ ہوگا ‘ اس سے نجات کی ان کو کوئی صورت نظر ہی نہ آئے گی اور یہ عذاب اور جزاء کا دن ہوگا۔
یوم یرون۔۔۔۔۔۔۔ حجرا محجورا (25 : 22) وقدمناالیٰ ۔۔۔ ھباء منثورا (25 : 23) ” جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن ہو نہ گا۔ چیخ اٹھیں گے کہ پناہ بخدا ‘ اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے “۔ جس دن ان کے اس مطالبے پر عمل ہوگا اور فرشتے سامنے آجائیں گے۔ یرون الملئکتہ یہ ان فرشتوں کو دیکھ لیں گے۔ لیکن اس دن ان کے لیے کوئی خوشخبری نہ ہوگی بلکہ ان کے لیے عذاب کی خبر ہوگی۔ تو ان کا مطالبہ عجیب انداز میں پورا ہوگا۔ اس دن تو وہ یوں گویا ہوں گے۔ حجرا محجورا (25 : 22) ” خدا کی پناہ “۔ حرام اور ممنوع ۔ یہ جملہ وہ شر سے بچنے کے لیے کہتے تھے۔ دشمنوں کو کہتے تھے۔ یہ وہ دشمنوں کے ہلاک ہونے اور ان کے شر سے محفوظ ہونے کے لیے کہتے تھے۔ یہ فقرہ قیامت میں ان کی زبان سے نکل پڑے گا۔ جس طرح یہ فقرہ وہ دنیا میں شر سے پناہ مانگنے کے لیے بال دیتے تھے۔ آج ان کو خدا کی پناہ نصیب کب ہو سکتی ہے۔ آج وہ لاکھ مرتبہ خدا کی پناہ مانگیں ‘ ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور وہ جو انہوں نے کہا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑادیں گے “۔ یہ عمل ایک لحظ میں مکمل ہوجائے گا۔ ان کے تمام اعمال غبار کی شکل میں اڑا دیئے جائیں گے۔ انداز تعبیر کو ذرا دیکھئے۔ ہمارا خیال اس طرح دیکھتا ہے کہ ایک صاحب جسم ذات آتی ہے اور ان کے اعمال کو لے کر غبار کی طرح اڑا دیتی ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز تجیم اور تحیل۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے دنیا میں اعمال صالحہ کی شکل میں جو کچھ جمع کیا تھا وہ غبار کردیا جاتا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ ان کے یہ اعمال ایمان پر مبنی نہ تھے۔ ایمان کے ذریعہ ہی انسان اللہ تک پہنچتا ہے۔ ایمان اعمال صالحہ کو ایک منہاج اور ایک پختگی اور دوام بخشتا ہے اور یہ اعمال ایک مقصد اور ا کی سمت رکھتے ہیں۔ نہ یہ کسی وقتی جذبے کے تحت صادر ہوتے ہیں اور نہ کسی ایسے شخص کی دوڑ دھوپ ہوتی ہے جس کو صیحح راہ اور سمت معلوم ہی نہیں ویسے ہی ادھر ادھر بھاگتا ہے۔ یا محض بےمقصد دوڑ دھوپ ہے۔ اسلام میں کسی ایسے عمل صالح کی کوئی قیمت نہیں ہے جس کی کوئی سمت ‘ کوئی مقصد اور کوئی روح متعین نہ ہو۔ کیونکہ ایسے اعمال کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہوتا۔
اس کائنات میں انسان کا وجود ‘ اس کے اعمال ‘ اس کی زندگی کی دوڑ دھوپ دراصل اس کائنات کی حقیقت سے مربوط ہیں۔ یہ انسان بھی ناموس فطرت کا ایک پرزہ ہے۔ اور یہ پوری کائنات ذات باری سے مربوط ہے۔ اس میں انسان اور اس کی تمام سرگرمیاں شامل ہیں۔ اگر انسان کی تگ و دو اور اس کی حرکت اور دوڑ دھوپ اس اصلی نور سے کٹ جائے تو وہ بےمقصد ہوجاتی ہے۔ وہ ضائع ہوجاتی ہے اور اس کا کوئی وزن اور قدرو قیمت عنداللہ نہیں ہوتی۔ اس کے اعمال کا نہ کوئی حساب ہوگا اور نہ یہ اس کی کوئی قدرو قیمت ہوگی بلکہ اسلامی نظر میں اس کا وجود یہ نہیں ہے۔ وہ محض ہوا اور غبار ہے۔
ایمان انسان کو رب تک پہنچاتا ہے۔ اس طرح پھر اللہ رب العالمین کے ہاں اس کے اعمال کا بھی وزن ہوتا ہے۔ اور اس کائنات کے حساب میں اس کا حساب رکھا جاتا ہے اور اس کے اعمال اس کائنات کی تعمیرو ترقی میں دکھائے جاتے ہیں۔ ان مشرکوں کا چونکہ ایمان نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کے اعمال کو کالعدم کردیا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے نہایت ہی مجسم اور حسی انداز تعبیر اخیتار کیا ہے۔
وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور ہم ان اعمال کی طرف بڑھے جو انہوں نے کیے تھے تو ان اعمال کو غبار کر طرح اڑادیا “۔
اور مومنین کا حال کیا ہوگا۔ تقابل کے لیے وہ بھی ملاحظہ ہو۔ یہ اصحاب جنت ہیں۔
اصحب الجنتہ۔۔۔۔ احسن مقیلا (25 : 24) ” پس وہی لوگ جو جنت کے مستحق ہیں اس دن اچھی جگہ ٹھریں گے اور وہ دوپہر گزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے “۔ وہ نہایت آرام ‘ خوشی اور استقلال کے ساتھ گھنے سایوں میں رہیں گے۔ اور یہاں مستقر کا لفظ کافروں کے اعمال کی ناپختگی اور ہوا میں غبار کی طرح اڑ جانے کے بالمقابل لایا گیا ہے اور دوپہر کا آرام اور سکون مقابل ہے۔ اہل کفر کے جزع و فزع کا ‘ کہ وہ بےاختیار ہو کر اب خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور کہتے ہیں حجرا محجورا (25 : 22) کفار نبی ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ اللہ ان کے سامنے بادلوں کے سایہ میں آئے اور فرشتے آپ کے ساتھ ہوں۔ یہ مطالبے وہ بنی اسرائیل کی کہانیاں سن کر کرتے تھے کہ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائے میں اتر رہا ہے۔ یا ایک آگ کے عمودی شعلے کی شکل میں۔ چناچہ قرآن کریم ایک دوسرے انداز میں قیامت کے دن ان کے مطالبے کے پورا ہونے کا ایک منظر پیش کرتا ہے جس دن فرشتے اتریں گے۔
ویوم تشقق۔۔۔۔ تنزیلا (25 : 25) الملک یو ۔۔۔ الکفرین عسیرا (25 : 26) ” اس روز ایک بادل آسمان کو چیرتا ہوا نمودار ہوگا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیئے جائیں گے۔ اس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمن کی ہوگی۔ اور وہ منکرین کے لیے سخت دن ہوگا “۔ یہ آیت اور قرآن کریم کی بیشمار دوسری آیات یہ بتلاتی ہیں کہ اس دن نہایت ہی بڑے فلکیاتی واقعات و حادثات ہوں گے۔ اور تمام ایسی آیات کا اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کائنات جو ہمیں نظر آتی ہے اور اس کا یہ نظام جو ہمیں نظر آتا ہے ‘ یہ سب کا سب درہم برہم ہوجائے گا۔ اس کے تمام افلاک ‘ کو آب اور ستارے باہم ٹکرا جائیں گے۔ اس کائنات کے نظام ‘ اشیاء کے باہم روابط ‘ اور یہ چیز کی موجودہ شکل بدل جائے گی اور یہ حادثہ اس دنیا کا اختتام ہوگا۔ یہ کائناتی انقلاب صرف زمین تک محدود نہ ہوگا۔ اس کی زد میں تمام ستارے ‘ تمام آسمان اور تمام کوکب آئیں گے۔ یہاں مناسب ہے کہ یہاں اس انقلاب کے بعض مناظر پیش کر یئے جائیں جو متعدد سورتوں میں آئے ہیں۔
اذا الشمس کورت۔۔۔ سجرت (81 : 1 تا 3 و 6) ” جب سورج لپیٹ دیا جائے گا جب تارے بکھر جائیں گے ‘ جب پہاڑ ملائے جائیں گے۔۔۔۔۔ اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے “۔
اذا السمائ۔۔۔۔۔ القبور بعثرت (82 : اتا 4) ” جب آسمان پھٹ جائے گا ‘ جب تارے بکھر جائیں گے اور سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے اور جب قبریں کھول دی جائیں گی “۔
اذا السماء انشقت۔۔۔۔ لربھا و حقت (84 : 1 تا 5) ” جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لیے حق یہی ہے اور جب زمین پھیلا دی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے ‘ اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے)
اذا اجت۔۔۔۔۔ ھباء منبثا (56 : 4 تا 6) ” جب زمین یکبارگی بلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ بن کر رہ جائیں گے “۔
فاذانفخ فی۔۔۔۔ یومئذواھیتہ (69 : 13 تا 16) ” پھر جب ایک دفعہ صور میں پھونک ماردی جائے گی اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک یہ چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ اس رہز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا “۔
یوم تکون۔۔۔ کالعھن (70 : 8۔ 9) ” جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے “۔
اذا زلزلت۔۔۔۔ اتقالھا (99 : 1۔ 2) ” جب زمین اپنی پوری قوت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی اور زمین اپنے اندر کے بوجھ باہر نکال دے گی “۔
یوم یکون۔۔۔۔۔ المنفوش (101 : 4۔ 5) ” وہ دن جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون کی طرح ہوں گے “۔
فارتقب یوم ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (44 : 10۔ 11) ” اچھا انتظار کرو جب آسمان صریح دھواں لائے گا اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ہے دردناک سزا “۔
یوم ترجف۔۔۔۔ کثیبا مھیلا (73 : 14) ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جا رہے ہیں “۔
السماء منفطر بہ (73 : 18) ” آسمان پھٹا جا رہا ہوگا اس دن “۔
کلا اذا دکت الارض دکا (89 : 21) ” ہر گز نہیں جب زمین پے در پے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بجا دی جائے گی “۔
فاذا برق۔۔۔۔۔ والقمر (75 : 7 تا 9) ” پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند اور سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے “۔
فاذا النجوم۔۔۔۔ الجبال نسفت (77 : 8 تا 10) ” پھر جب ستارے ماند پڑجائیں گے اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے “۔
ویسئلونک عن۔۔۔۔ ولا امتا (20 : 105 تا 107) ” یہ اگر آپ سے پوچھتے ہیں کہ اس دن پہاڑ کہاں چلے جائیں گے۔ کہو میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں کوئی بھی کجی اور سلوٹ نہ دیکھو گے “۔
وتری الجبال۔۔۔۔ السحاب (27ـ : 88) ” آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب ہوئے ہیں مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے “۔
و یوم نسیر۔۔۔۔۔ الارض بارزۃ (18 : 47) ” جب ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو بالکل برہنہ پائو گے “۔
یوم تبدل ۔۔۔۔ والسموت (14 : 48) ” اس روز جبکہ زمین و آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کردیئے جائیں گے “۔
یوم نطوی۔۔۔۔ للکتب (21 : 104) ” وہ دن جبکہ آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں “۔ یہ تمام آیات بتاتی ہیں کہ ہماری اس دنیا کا انجام نہایت ہی خوفناک ہوگا۔ اس میں اس زمین کو بلا مارا جائے گا اور اجسام عظیمہ ایک دوسرے کے ساتھ دھماکے سے ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے۔ سمندر پھٹ جائیں گے یعنی کرئہ ارض کے اضطرابات کی وجہ سے یا سمندروں کے ذرات پھٹ جائیں گے اور تابکاری سے پانیوں میں آگ لگ جائے گی۔ چمکدار ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا اور ٹکرے ٹکرے ہوگا۔ کواکب ایک دوسرے کے ساتھ ٹکڑا کر ریزہ ریزہ ہو کر منتشر ہوجائیں گے۔ تمام آسمانی دوریاں ختم ہوجائیں گی۔ شمس وقمر ایک ہوجائیں گے۔ آسمان کبھی سیاہ دھوئیں کی طرح ہوگا اور کبھی آگ کے شعلے کی طرح ہوگا۔ غرض یہ ایک ہولناک گھڑی ہوگی اور اس میں انسان سخت خوفزدہ ہوگا۔
غرض ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو اس بات سے ذراتا ہے ہیں کہ اس روز آسمان کو چیرتا ایک بادل نمودار ہوں گے اور اس دن فرشتوں کے پرے کافرین پر نازل ہوں گے ‘ جیسا کہ ان کا مطالبہ تھا۔ یہ مبالبہ وہ حضرت محمد ﷺ کی تصدیق کے لیے نہ کرتے تھے یہ فرشتے اللہ کے حکم سے اللہ کا عذاب لے کر آئیں گے۔
وکان یوما۔۔۔۔ عسیرا (25 : 26) ” اور منکرین کے لیے یہ پڑا سخت دن ہوگا “۔ کیونکہ اس دن میں سخت عذاب سامنے وہ گا اس لیے وہ ایک ہولناک دن ہوگا۔ یہ لوگ کم علمی سے نزول ملائکہ کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ ملائکہ عذاب لے کر آتے ہیں۔
اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر لایا جاتا ہے۔ اس میں یہ گمراہ اور ظالم بہت زیادہ شرمندہ ہوں گے۔ یہ منظر بہت یہ طویل ہے۔ اس قدر طویل کہ ناظرین یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ منظر چلتا ہی رہے گا۔ یہ ظالم نہایت ندامت اور حسرت کی وجہ سے ہاتھ کاٹ رہا ہے ‘ خود اپنے ہاتھ۔
ویوم یعض۔۔۔ للانسان خذولا (25 : 27 تا 29) ” ظالم انسان اپنے ہاتھ چبائے گا اور کہے گا ” کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی کاش میں نے فلاں شخض کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی۔ شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفا بکلا “۔ یہ شخض اس گہرے تاسف کا اظہار کر رہا ہے اور اس کے ماحول پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔ یہ شخض اپنی حسر تناک آواز کو بلند کرتے چلا جاتا ہے۔ اس کی چیخیں اس قدر دلدوز ہیں اور ان کا اثر اس قدر طویل ہے کہ یہ محفل طویل ہوتی جارہی ہے۔ اثرات عمیق ہوتے جارہے ہیں۔ یہاں تک آج بھی ان آیات کا پڑھنے والا گہرا تاسف لے لیتا ہے۔ منظر کو دیکھنے والے شریک غم ہوجاتے ہیں۔
ویوم یعض الظالم علی یدیہ (25 : 27) ” اس دن یہ ظالم اپنے ہاتھ چبائے گا “۔ یہ صرف ایک ہاتھ کو نہ چبائے گا بلکہ دونوں ہاتھوں کو چبائے گا۔ کبھی اس کو کبھی اس کو۔ یہ شدت غم کی وجہ سے اپنے ہاتھوں پر اپنا غصہ اتارے گا۔ ہاتھوں کو چبانا اشارہ اس طرف ہے کہ اس دن ظالم کی نفسیاتی حالت کیا ہوگی۔ اس کے غم اور اندوہ کو نہایت یہ مجسم فعل اور حرکت کے ساتھ ظاہر کیا گیا ہے یعنی غم کو یہ برداشت نہ کرسکے گا۔
یقول یلیتنی۔۔۔۔ سبیلا (25 : 27) ” کہے گا کاش میں نے رسول اللہ کا ساتھ دیا ہوتا “۔ رسول کے طریقے پر چلا ہوتا۔ رسول سے علیحدہ نہ ہوا ہوتا۔ وہ رسول جس کی رسالت کا وہ منکر تھا ‘ اس لیے کہ یہ رسول بشرکیوں ہے۔
یویلتی لیتنی۔۔۔۔۔ خلیلا (25 : 28) ” میری کم بختی ! کاش میں فلاں کو اپنا دوست نہ بناتا “۔ فلاں کو عام کردیا ہے۔ کسی کا نام نہیں لیا تاکہ اس میں تمام گمراہ کنند گان شامل ہوجائیں۔ تمام دوست جو دوستوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں لیکن روایات میں آتا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول عقبہ ابن معیط ہے۔ یہ شخض نبی ﷺ کے ساتھ بہت ہی بیٹھتا اٹھتا تھا۔ اس نے نبی ﷺ کو ضیافت کے لیے بلایا تو حضور نے فرمایا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تک تم دو باتوں کی شہادت نہ دو ۔ چناچہ اس نے ایسا کیا۔ ابی ابن خلف بھی اس کا دوست تھا۔ اس نے اسے بہت ہی شرمندہ کیا۔ اور کہا تو بےدین ہوگیا ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ خدا کی قسم میں نے محمد کے دین کو قبول نہیں کیا۔ لیکن اس نے کہا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تم کلمہ شہادت ادا نہ کرو۔ حالانکہ وہ میرے گھر میں تھے اور میرا کھانا نہ کھاتے تھے۔ مجھے اس سے بڑی شرم آئی کہ وہ میرا کھانا نہ کھائے۔ اس لیے میں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا۔ تو ابی ابن خلف نے کہا خدا کی قسم میں تم سے تب راضی ہوں گا کہ تم اس کی گردن دبا کر اس کے منہ پر تھوکو۔ حضور اسے دارالندوہ میں سجدہ کرتے ہوئے مل گئے۔ اور اس (بد بخت) نے ایسا ہی کیا۔ اسے حضور اکرم نے فرمایا کی مکہ سے باہر تم جب بھی مجھے ملو گے میں تمہارا سر اڑا دوں گا۔ یہ شخض بدر کے دن گرفتار ہوا۔ آپ نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ اس کی گردن اڑا دو ۔
لقد اضلنی۔۔۔ جاء نی (25 : 29) ” اس کے بہکاوے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس گئی تھی “۔ یہ دراصل شیطان تھا جو گمراہ کر رہا تھا یا شیطان کا مدد گار تھا۔
وکان۔۔۔۔ خذولا (25 : 29) ” اور شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفانکلا “۔ وہ انسان کو شرمندگی کے انجام تک پہنچاتا ہے۔ اور جب سچائی کا وقت آتا ہے کہ ہمیشہ شیطان بھاگ جایا کرتے ہیں۔ خصوصاً ہولناک اور کربناک مناظرو مواقع میں۔
یوں قرآن کریم نے ان لوگوں کے دلوں کو جھنجوڑا۔ ان کے سامنے ان کے انجام کو کپکپا دینے والے مناظر کی شکل میں پیش کیا۔ اس طرح کہ گویا وہ ایک واقعہ ہے جسے دیکھا جارہا ہے۔ حالانکہ وہ لوگ ابھی اس زمین پر ہی ہیں جو اللہ کی تکذیب کررہے ہیں اور اللہ کے سامنے پیش ہونے کا بڑی حقارت کے ساتھ انکار کررہے ہیں اور ایسے مطالبات کررہے ہیں جو بیہودہ ہیں۔ حالانکہ وہاں نہایت ہی خوفناک صورت حال سے دو چار ہونے والے ہیں اور نہایت ہی شرمساری اور ندامت سے دوچار ہوں گے لیکن اس وقت ندامت کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
اب روئے سخن مناظر قیامت سے اس دنیا کی طرف آجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے انہوں نے جو موقف اختیار کر رکھا ہے اس پر بات ہوتی ہے۔ اب ان کا اعتراض یہ ہے کہ قرآن مجید سب کا سب ایک ہی مرتبہ کیوں نازل نہیں ہوگیا۔ موجود انداز نزول قرآن قابل اعتراض ہے۔ اس سوال و جواب کا خاتمہ بھی قیامت کے منظر پر ہوتا ہے کہ جس طرح ان کا اعتراض الٹا ہے ‘ اسی طرح وہ جہنم میں الٹے ڈالے جائیں گے۔
الفرقان 25:23
درس نمبر 158 ایک نظر میں
اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں سے بعض مناظر کی جھلکیاں دکھا دی جاتی ہیں۔ اور یہی ان کی گستاخی کا مناسب جواب ہے۔ ان کی گستاخی یہ تھی۔
لولا انزل۔۔۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں یا ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ اس کے بعد ان کا یہ اعتراض نقل کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم ٹکڑوں کی شکل میں کیوں اترا ہے۔ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ بیان کردیا جاتا ہے کہ کیوں قرآن مجید مسلسل ٹکڑوں کی شکل میں اترا۔ رسول اللہ کو تسلی دی جاتی ہے کہ جب بھی وہ مباحثہ کر کے کوئی بات لاتے ہیں ‘ ہم بھی نئی تاویل آپ کو دے دیتے ہ ہیں اور بہترین تفسیر اور تشریح کردیتے ہیں۔ اس کے بعد حضور اور آپ کے مخالفین کے غور کے لیے بعض مکذبین کی ہلاکت کے وقت کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے کہ یہ اقوام کس طرح ہلاک کی گئیں۔ ذرا قوم لوط کے کھنڈرات پر تو غور کرو ، تم رات دن ان پر سے گزرتے ہو۔ قرآن کریم ان پر سخت گرفت کرتا ہے کہ جب یہ رات دن ان کھنڈرات کو دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ یہ سب باتیں اس لیے لائی گئی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات پر جو اعتراضات کرتے تھے ‘ اس کا ایک بیان یہاں دے دیا جائے۔ یہ واقعات دے کر ان پر ایک زور دار تبصرہ کیا جاتا ہے۔ اس میں ان کا نہایت ہی حقارت آمیز نقشہ کھینچا جاتا ہے اور نہایت ہی حقیقت پسندانہ ‘
ان ہم۔۔۔۔۔۔ ہم اضل (25 : 44) ” یہ تو بس حیوانوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں “۔
وقال الذین۔۔۔۔۔ للانسان خذولا
مشرکین کو ہماری ملاقات کی امید نہیں ہے اور نہ وہ اس کا انتظار کرتے ہیں اور نہ وہ اس کو کوئی اہمیت دیتے ہیں نہ اپنی زندگی اور اس کی سرگرمیوں کو وہ اس نظریہ کے مطابق قائم کرتے ہیں۔ چناچہ ان کے دلوں میں نہ اللہ کا خوف ہے ‘ نہ اللہ کی محبت اور وقار ہے۔ اس لیے اللہ کے حوالے سے بھی ان کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو کبھی بھی ایسے شخص کی زبان سے نہیں نکل سکتے جسے خدا کا خوف ہو۔
وقال الذین۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں ؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ یہ لوگ اس بات کو مسعبد سمجھتے تھے کہ کوئی رسول بشر بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ مطالبہ کرتے تھے کہ جس عقیدے کی طرف ہمیں دعوت دی جا رہی ہے ‘ کوئی فرشتہ اترے اور وہ اس پر شہادت دے۔ یا یہ کہ وہ خود باری تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اس کی تصدیق کریں۔ یہ دراصل اللہ کے مقام اور مرتبہ پر دست درازی ہے اور اس جاہل اور سرکش کا مطالبہ ہے جو مقام رب العالمین کا کوئی احساس نہیں رکھتا اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدراسی طرح نہیں کرتا جس طرح حق تعالیٰ کی قدر ہونا چاہئے۔ یہ گستاخی کرنے والے کون ہوتے ہیں اور ان کی اللہ کے مقابلے میں حیثیت ہی کیا ہے جو برگزیدہ ‘ جبار اور کبیر ہے۔ یہ اللہ کی عظیم مملکت اور اللہ کی اس عظیم کائنات میں حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں۔ ایک حقیر ذرے کی حیثیت تو ان کی ہے۔ انسان کی اس کائنات میں کوئی حیثیت اگر بنتی بھی ہے تو تب بنتی ہے کہ وہ اپنا تعلق اللہ سے جوڑ کر اور اپنا وزن ایمان کے ذریعہ بڑھا کر اپنی کچھ حیثیت پیدا کرے۔ چناچہ اس آیت کے اندر بات ختم کرنے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ بتا دیتا ہے کہ اس گستاخی کا سبب کیا ہے۔
لقد اسنکبرو۔۔۔۔ کبیرا (25 : 21) ” بڑا گھمنڈ لیے بیٹھے ہیں یہ اپنے نفسوں میں اور حد سے گزر گئے ہیں یہ اپنی سرکشی میں “۔ وہ اپنے خیال میں بہت پڑی شے ہیں۔ چناچہ وہ گھمنڈ میں مبتلا ہیں اور اس گھمنڈ کی وجہ سے بہت ہی بڑی سرکشی میں مبتلا ہیں۔ یہ اپنے اندر اس قدر مست ہیں کہ حقیقی قدروں کا صیحح وزن نہیں کرسکتے۔ اب ان لوگوں کی عادت یہ ہے کہ یہ لوگ صرف اپنے نفس کا احساس کرتے ہیں۔ ان کا نفس ان کی نظروں میں اس قدر بڑی چیز ہے کہ اس کائنات میں وہ اپنے نفس ہی کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ اس قدر بڑی چیز کہ اللہ جل شانہ کو بھی اس کے سامنے ظاہر ہونا چاہئے تاکہ وہ اسے دیکھ کر اس کی تصدیق کریں اور اس پر ایمان لائیں۔
ان کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اللہ بطور مذاق اور استہزاء ان کے سامنے ان کی بد حالی اور لاچاری کا ایک نقشہ پیش کرتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جب قیامت کے دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے (ملائکہ کا دیکھنا بھی ان کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ تھا) تو اس چن ان پر برا دن ہوگا۔ ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے سامنے وہ عذاب موجود ہو گا جو ٹلنے والا نہ ہوگا ‘ اس سے نجات کی ان کو کوئی صورت نظر ہی نہ آئے گی اور یہ عذاب اور جزاء کا دن ہوگا۔
یوم یرون۔۔۔۔۔۔۔ حجرا محجورا (25 : 22) وقدمناالیٰ ۔۔۔ ھباء منثورا (25 : 23) ” جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن ہو نہ گا۔ چیخ اٹھیں گے کہ پناہ بخدا ‘ اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے “۔ جس دن ان کے اس مطالبے پر عمل ہوگا اور فرشتے سامنے آجائیں گے۔ یرون الملئکتہ یہ ان فرشتوں کو دیکھ لیں گے۔ لیکن اس دن ان کے لیے کوئی خوشخبری نہ ہوگی بلکہ ان کے لیے عذاب کی خبر ہوگی۔ تو ان کا مطالبہ عجیب انداز میں پورا ہوگا۔ اس دن تو وہ یوں گویا ہوں گے۔ حجرا محجورا (25 : 22) ” خدا کی پناہ “۔ حرام اور ممنوع ۔ یہ جملہ وہ شر سے بچنے کے لیے کہتے تھے۔ دشمنوں کو کہتے تھے۔ یہ وہ دشمنوں کے ہلاک ہونے اور ان کے شر سے محفوظ ہونے کے لیے کہتے تھے۔ یہ فقرہ قیامت میں ان کی زبان سے نکل پڑے گا۔ جس طرح یہ فقرہ وہ دنیا میں شر سے پناہ مانگنے کے لیے بال دیتے تھے۔ آج ان کو خدا کی پناہ نصیب کب ہو سکتی ہے۔ آج وہ لاکھ مرتبہ خدا کی پناہ مانگیں ‘ ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور وہ جو انہوں نے کہا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑادیں گے “۔ یہ عمل ایک لحظ میں مکمل ہوجائے گا۔ ان کے تمام اعمال غبار کی شکل میں اڑا دیئے جائیں گے۔ انداز تعبیر کو ذرا دیکھئے۔ ہمارا خیال اس طرح دیکھتا ہے کہ ایک صاحب جسم ذات آتی ہے اور ان کے اعمال کو لے کر غبار کی طرح اڑا دیتی ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز تجیم اور تحیل۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے دنیا میں اعمال صالحہ کی شکل میں جو کچھ جمع کیا تھا وہ غبار کردیا جاتا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ ان کے یہ اعمال ایمان پر مبنی نہ تھے۔ ایمان کے ذریعہ ہی انسان اللہ تک پہنچتا ہے۔ ایمان اعمال صالحہ کو ایک منہاج اور ایک پختگی اور دوام بخشتا ہے اور یہ اعمال ایک مقصد اور ا کی سمت رکھتے ہیں۔ نہ یہ کسی وقتی جذبے کے تحت صادر ہوتے ہیں اور نہ کسی ایسے شخص کی دوڑ دھوپ ہوتی ہے جس کو صیحح راہ اور سمت معلوم ہی نہیں ویسے ہی ادھر ادھر بھاگتا ہے۔ یا محض بےمقصد دوڑ دھوپ ہے۔ اسلام میں کسی ایسے عمل صالح کی کوئی قیمت نہیں ہے جس کی کوئی سمت ‘ کوئی مقصد اور کوئی روح متعین نہ ہو۔ کیونکہ ایسے اعمال کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہوتا۔
اس کائنات میں انسان کا وجود ‘ اس کے اعمال ‘ اس کی زندگی کی دوڑ دھوپ دراصل اس کائنات کی حقیقت سے مربوط ہیں۔ یہ انسان بھی ناموس فطرت کا ایک پرزہ ہے۔ اور یہ پوری کائنات ذات باری سے مربوط ہے۔ اس میں انسان اور اس کی تمام سرگرمیاں شامل ہیں۔ اگر انسان کی تگ و دو اور اس کی حرکت اور دوڑ دھوپ اس اصلی نور سے کٹ جائے تو وہ بےمقصد ہوجاتی ہے۔ وہ ضائع ہوجاتی ہے اور اس کا کوئی وزن اور قدرو قیمت عنداللہ نہیں ہوتی۔ اس کے اعمال کا نہ کوئی حساب ہوگا اور نہ یہ اس کی کوئی قدرو قیمت ہوگی بلکہ اسلامی نظر میں اس کا وجود یہ نہیں ہے۔ وہ محض ہوا اور غبار ہے۔
ایمان انسان کو رب تک پہنچاتا ہے۔ اس طرح پھر اللہ رب العالمین کے ہاں اس کے اعمال کا بھی وزن ہوتا ہے۔ اور اس کائنات کے حساب میں اس کا حساب رکھا جاتا ہے اور اس کے اعمال اس کائنات کی تعمیرو ترقی میں دکھائے جاتے ہیں۔ ان مشرکوں کا چونکہ ایمان نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کے اعمال کو کالعدم کردیا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے نہایت ہی مجسم اور حسی انداز تعبیر اخیتار کیا ہے۔
وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور ہم ان اعمال کی طرف بڑھے جو انہوں نے کیے تھے تو ان اعمال کو غبار کر طرح اڑادیا “۔
اور مومنین کا حال کیا ہوگا۔ تقابل کے لیے وہ بھی ملاحظہ ہو۔ یہ اصحاب جنت ہیں۔
اصحب الجنتہ۔۔۔۔ احسن مقیلا (25 : 24) ” پس وہی لوگ جو جنت کے مستحق ہیں اس دن اچھی جگہ ٹھریں گے اور وہ دوپہر گزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے “۔ وہ نہایت آرام ‘ خوشی اور استقلال کے ساتھ گھنے سایوں میں رہیں گے۔ اور یہاں مستقر کا لفظ کافروں کے اعمال کی ناپختگی اور ہوا میں غبار کی طرح اڑ جانے کے بالمقابل لایا گیا ہے اور دوپہر کا آرام اور سکون مقابل ہے۔ اہل کفر کے جزع و فزع کا ‘ کہ وہ بےاختیار ہو کر اب خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور کہتے ہیں حجرا محجورا (25 : 22) کفار نبی ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ اللہ ان کے سامنے بادلوں کے سایہ میں آئے اور فرشتے آپ کے ساتھ ہوں۔ یہ مطالبے وہ بنی اسرائیل کی کہانیاں سن کر کرتے تھے کہ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائے میں اتر رہا ہے۔ یا ایک آگ کے عمودی شعلے کی شکل میں۔ چناچہ قرآن کریم ایک دوسرے انداز میں قیامت کے دن ان کے مطالبے کے پورا ہونے کا ایک منظر پیش کرتا ہے جس دن فرشتے اتریں گے۔
ویوم تشقق۔۔۔۔ تنزیلا (25 : 25) الملک یو ۔۔۔ الکفرین عسیرا (25 : 26) ” اس روز ایک بادل آسمان کو چیرتا ہوا نمودار ہوگا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیئے جائیں گے۔ اس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمن کی ہوگی۔ اور وہ منکرین کے لیے سخت دن ہوگا “۔ یہ آیت اور قرآن کریم کی بیشمار دوسری آیات یہ بتلاتی ہیں کہ اس دن نہایت ہی بڑے فلکیاتی واقعات و حادثات ہوں گے۔ اور تمام ایسی آیات کا اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کائنات جو ہمیں نظر آتی ہے اور اس کا یہ نظام جو ہمیں نظر آتا ہے ‘ یہ سب کا سب درہم برہم ہوجائے گا۔ اس کے تمام افلاک ‘ کو آب اور ستارے باہم ٹکرا جائیں گے۔ اس کائنات کے نظام ‘ اشیاء کے باہم روابط ‘ اور یہ چیز کی موجودہ شکل بدل جائے گی اور یہ حادثہ اس دنیا کا اختتام ہوگا۔ یہ کائناتی انقلاب صرف زمین تک محدود نہ ہوگا۔ اس کی زد میں تمام ستارے ‘ تمام آسمان اور تمام کوکب آئیں گے۔ یہاں مناسب ہے کہ یہاں اس انقلاب کے بعض مناظر پیش کر یئے جائیں جو متعدد سورتوں میں آئے ہیں۔
اذا الشمس کورت۔۔۔ سجرت (81 : 1 تا 3 و 6) ” جب سورج لپیٹ دیا جائے گا جب تارے بکھر جائیں گے ‘ جب پہاڑ ملائے جائیں گے۔۔۔۔۔ اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے “۔
اذا السمائ۔۔۔۔۔ القبور بعثرت (82 : اتا 4) ” جب آسمان پھٹ جائے گا ‘ جب تارے بکھر جائیں گے اور سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے اور جب قبریں کھول دی جائیں گی “۔
اذا السماء انشقت۔۔۔۔ لربھا و حقت (84 : 1 تا 5) ” جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لیے حق یہی ہے اور جب زمین پھیلا دی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے ‘ اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے)
اذا اجت۔۔۔۔۔ ھباء منبثا (56 : 4 تا 6) ” جب زمین یکبارگی بلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ بن کر رہ جائیں گے “۔
فاذانفخ فی۔۔۔۔ یومئذواھیتہ (69 : 13 تا 16) ” پھر جب ایک دفعہ صور میں پھونک ماردی جائے گی اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک یہ چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ اس رہز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا “۔
یوم تکون۔۔۔ کالعھن (70 : 8۔ 9) ” جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے “۔
اذا زلزلت۔۔۔۔ اتقالھا (99 : 1۔ 2) ” جب زمین اپنی پوری قوت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی اور زمین اپنے اندر کے بوجھ باہر نکال دے گی “۔
یوم یکون۔۔۔۔۔ المنفوش (101 : 4۔ 5) ” وہ دن جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون کی طرح ہوں گے “۔
فارتقب یوم ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (44 : 10۔ 11) ” اچھا انتظار کرو جب آسمان صریح دھواں لائے گا اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ہے دردناک سزا “۔
یوم ترجف۔۔۔۔ کثیبا مھیلا (73 : 14) ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جا رہے ہیں “۔
السماء منفطر بہ (73 : 18) ” آسمان پھٹا جا رہا ہوگا اس دن “۔
کلا اذا دکت الارض دکا (89 : 21) ” ہر گز نہیں جب زمین پے در پے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بجا دی جائے گی “۔
فاذا برق۔۔۔۔۔ والقمر (75 : 7 تا 9) ” پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند اور سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے “۔
فاذا النجوم۔۔۔۔ الجبال نسفت (77 : 8 تا 10) ” پھر جب ستارے ماند پڑجائیں گے اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے “۔
ویسئلونک عن۔۔۔۔ ولا امتا (20 : 105 تا 107) ” یہ اگر آپ سے پوچھتے ہیں کہ اس دن پہاڑ کہاں چلے جائیں گے۔ کہو میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں کوئی بھی کجی اور سلوٹ نہ دیکھو گے “۔
وتری الجبال۔۔۔۔ السحاب (27ـ : 88) ” آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب ہوئے ہیں مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے “۔
و یوم نسیر۔۔۔۔۔ الارض بارزۃ (18 : 47) ” جب ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو بالکل برہنہ پائو گے “۔
یوم تبدل ۔۔۔۔ والسموت (14 : 48) ” اس روز جبکہ زمین و آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کردیئے جائیں گے “۔
یوم نطوی۔۔۔۔ للکتب (21 : 104) ” وہ دن جبکہ آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں “۔ یہ تمام آیات بتاتی ہیں کہ ہماری اس دنیا کا انجام نہایت ہی خوفناک ہوگا۔ اس میں اس زمین کو بلا مارا جائے گا اور اجسام عظیمہ ایک دوسرے کے ساتھ دھماکے سے ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے۔ سمندر پھٹ جائیں گے یعنی کرئہ ارض کے اضطرابات کی وجہ سے یا سمندروں کے ذرات پھٹ جائیں گے اور تابکاری سے پانیوں میں آگ لگ جائے گی۔ چمکدار ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا اور ٹکرے ٹکرے ہوگا۔ کواکب ایک دوسرے کے ساتھ ٹکڑا کر ریزہ ریزہ ہو کر منتشر ہوجائیں گے۔ تمام آسمانی دوریاں ختم ہوجائیں گی۔ شمس وقمر ایک ہوجائیں گے۔ آسمان کبھی سیاہ دھوئیں کی طرح ہوگا اور کبھی آگ کے شعلے کی طرح ہوگا۔ غرض یہ ایک ہولناک گھڑی ہوگی اور اس میں انسان سخت خوفزدہ ہوگا۔
غرض ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو اس بات سے ذراتا ہے ہیں کہ اس روز آسمان کو چیرتا ایک بادل نمودار ہوں گے اور اس دن فرشتوں کے پرے کافرین پر نازل ہوں گے ‘ جیسا کہ ان کا مطالبہ تھا۔ یہ مبالبہ وہ حضرت محمد ﷺ کی تصدیق کے لیے نہ کرتے تھے یہ فرشتے اللہ کے حکم سے اللہ کا عذاب لے کر آئیں گے۔
وکان یوما۔۔۔۔ عسیرا (25 : 26) ” اور منکرین کے لیے یہ پڑا سخت دن ہوگا “۔ کیونکہ اس دن میں سخت عذاب سامنے وہ گا اس لیے وہ ایک ہولناک دن ہوگا۔ یہ لوگ کم علمی سے نزول ملائکہ کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ ملائکہ عذاب لے کر آتے ہیں۔
اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر لایا جاتا ہے۔ اس میں یہ گمراہ اور ظالم بہت زیادہ شرمندہ ہوں گے۔ یہ منظر بہت یہ طویل ہے۔ اس قدر طویل کہ ناظرین یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ منظر چلتا ہی رہے گا۔ یہ ظالم نہایت ندامت اور حسرت کی وجہ سے ہاتھ کاٹ رہا ہے ‘ خود اپنے ہاتھ۔
ویوم یعض۔۔۔ للانسان خذولا (25 : 27 تا 29) ” ظالم انسان اپنے ہاتھ چبائے گا اور کہے گا ” کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی کاش میں نے فلاں شخض کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی۔ شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفا بکلا “۔ یہ شخض اس گہرے تاسف کا اظہار کر رہا ہے اور اس کے ماحول پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔ یہ شخض اپنی حسر تناک آواز کو بلند کرتے چلا جاتا ہے۔ اس کی چیخیں اس قدر دلدوز ہیں اور ان کا اثر اس قدر طویل ہے کہ یہ محفل طویل ہوتی جارہی ہے۔ اثرات عمیق ہوتے جارہے ہیں۔ یہاں تک آج بھی ان آیات کا پڑھنے والا گہرا تاسف لے لیتا ہے۔ منظر کو دیکھنے والے شریک غم ہوجاتے ہیں۔
ویوم یعض الظالم علی یدیہ (25 : 27) ” اس دن یہ ظالم اپنے ہاتھ چبائے گا “۔ یہ صرف ایک ہاتھ کو نہ چبائے گا بلکہ دونوں ہاتھوں کو چبائے گا۔ کبھی اس کو کبھی اس کو۔ یہ شدت غم کی وجہ سے اپنے ہاتھوں پر اپنا غصہ اتارے گا۔ ہاتھوں کو چبانا اشارہ اس طرف ہے کہ اس دن ظالم کی نفسیاتی حالت کیا ہوگی۔ اس کے غم اور اندوہ کو نہایت یہ مجسم فعل اور حرکت کے ساتھ ظاہر کیا گیا ہے یعنی غم کو یہ برداشت نہ کرسکے گا۔
یقول یلیتنی۔۔۔۔ سبیلا (25 : 27) ” کہے گا کاش میں نے رسول اللہ کا ساتھ دیا ہوتا “۔ رسول کے طریقے پر چلا ہوتا۔ رسول سے علیحدہ نہ ہوا ہوتا۔ وہ رسول جس کی رسالت کا وہ منکر تھا ‘ اس لیے کہ یہ رسول بشرکیوں ہے۔
یویلتی لیتنی۔۔۔۔۔ خلیلا (25 : 28) ” میری کم بختی ! کاش میں فلاں کو اپنا دوست نہ بناتا “۔ فلاں کو عام کردیا ہے۔ کسی کا نام نہیں لیا تاکہ اس میں تمام گمراہ کنند گان شامل ہوجائیں۔ تمام دوست جو دوستوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں لیکن روایات میں آتا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول عقبہ ابن معیط ہے۔ یہ شخض نبی ﷺ کے ساتھ بہت ہی بیٹھتا اٹھتا تھا۔ اس نے نبی ﷺ کو ضیافت کے لیے بلایا تو حضور نے فرمایا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تک تم دو باتوں کی شہادت نہ دو ۔ چناچہ اس نے ایسا کیا۔ ابی ابن خلف بھی اس کا دوست تھا۔ اس نے اسے بہت ہی شرمندہ کیا۔ اور کہا تو بےدین ہوگیا ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ خدا کی قسم میں نے محمد کے دین کو قبول نہیں کیا۔ لیکن اس نے کہا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تم کلمہ شہادت ادا نہ کرو۔ حالانکہ وہ میرے گھر میں تھے اور میرا کھانا نہ کھاتے تھے۔ مجھے اس سے بڑی شرم آئی کہ وہ میرا کھانا نہ کھائے۔ اس لیے میں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا۔ تو ابی ابن خلف نے کہا خدا کی قسم میں تم سے تب راضی ہوں گا کہ تم اس کی گردن دبا کر اس کے منہ پر تھوکو۔ حضور اسے دارالندوہ میں سجدہ کرتے ہوئے مل گئے۔ اور اس (بد بخت) نے ایسا ہی کیا۔ اسے حضور اکرم نے فرمایا کی مکہ سے باہر تم جب بھی مجھے ملو گے میں تمہارا سر اڑا دوں گا۔ یہ شخض بدر کے دن گرفتار ہوا۔ آپ نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ اس کی گردن اڑا دو ۔
لقد اضلنی۔۔۔ جاء نی (25 : 29) ” اس کے بہکاوے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس گئی تھی “۔ یہ دراصل شیطان تھا جو گمراہ کر رہا تھا یا شیطان کا مدد گار تھا۔
وکان۔۔۔۔ خذولا (25 : 29) ” اور شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفانکلا “۔ وہ انسان کو شرمندگی کے انجام تک پہنچاتا ہے۔ اور جب سچائی کا وقت آتا ہے کہ ہمیشہ شیطان بھاگ جایا کرتے ہیں۔ خصوصاً ہولناک اور کربناک مناظرو مواقع میں۔
یوں قرآن کریم نے ان لوگوں کے دلوں کو جھنجوڑا۔ ان کے سامنے ان کے انجام کو کپکپا دینے والے مناظر کی شکل میں پیش کیا۔ اس طرح کہ گویا وہ ایک واقعہ ہے جسے دیکھا جارہا ہے۔ حالانکہ وہ لوگ ابھی اس زمین پر ہی ہیں جو اللہ کی تکذیب کررہے ہیں اور اللہ کے سامنے پیش ہونے کا بڑی حقارت کے ساتھ انکار کررہے ہیں اور ایسے مطالبات کررہے ہیں جو بیہودہ ہیں۔ حالانکہ وہاں نہایت ہی خوفناک صورت حال سے دو چار ہونے والے ہیں اور نہایت ہی شرمساری اور ندامت سے دوچار ہوں گے لیکن اس وقت ندامت کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
اب روئے سخن مناظر قیامت سے اس دنیا کی طرف آجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے انہوں نے جو موقف اختیار کر رکھا ہے اس پر بات ہوتی ہے۔ اب ان کا اعتراض یہ ہے کہ قرآن مجید سب کا سب ایک ہی مرتبہ کیوں نازل نہیں ہوگیا۔ موجود انداز نزول قرآن قابل اعتراض ہے۔ اس سوال و جواب کا خاتمہ بھی قیامت کے منظر پر ہوتا ہے کہ جس طرح ان کا اعتراض الٹا ہے ‘ اسی طرح وہ جہنم میں الٹے ڈالے جائیں گے۔
الفرقان 25:24
درس نمبر 158 ایک نظر میں
اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں سے بعض مناظر کی جھلکیاں دکھا دی جاتی ہیں۔ اور یہی ان کی گستاخی کا مناسب جواب ہے۔ ان کی گستاخی یہ تھی۔
لولا انزل۔۔۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں یا ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ اس کے بعد ان کا یہ اعتراض نقل کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم ٹکڑوں کی شکل میں کیوں اترا ہے۔ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ بیان کردیا جاتا ہے کہ کیوں قرآن مجید مسلسل ٹکڑوں کی شکل میں اترا۔ رسول اللہ کو تسلی دی جاتی ہے کہ جب بھی وہ مباحثہ کر کے کوئی بات لاتے ہیں ‘ ہم بھی نئی تاویل آپ کو دے دیتے ہ ہیں اور بہترین تفسیر اور تشریح کردیتے ہیں۔ اس کے بعد حضور اور آپ کے مخالفین کے غور کے لیے بعض مکذبین کی ہلاکت کے وقت کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے کہ یہ اقوام کس طرح ہلاک کی گئیں۔ ذرا قوم لوط کے کھنڈرات پر تو غور کرو ، تم رات دن ان پر سے گزرتے ہو۔ قرآن کریم ان پر سخت گرفت کرتا ہے کہ جب یہ رات دن ان کھنڈرات کو دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ یہ سب باتیں اس لیے لائی گئی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات پر جو اعتراضات کرتے تھے ‘ اس کا ایک بیان یہاں دے دیا جائے۔ یہ واقعات دے کر ان پر ایک زور دار تبصرہ کیا جاتا ہے۔ اس میں ان کا نہایت ہی حقارت آمیز نقشہ کھینچا جاتا ہے اور نہایت ہی حقیقت پسندانہ ‘
ان ہم۔۔۔۔۔۔ ہم اضل (25 : 44) ” یہ تو بس حیوانوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں “۔
وقال الذین۔۔۔۔۔ للانسان خذولا
مشرکین کو ہماری ملاقات کی امید نہیں ہے اور نہ وہ اس کا انتظار کرتے ہیں اور نہ وہ اس کو کوئی اہمیت دیتے ہیں نہ اپنی زندگی اور اس کی سرگرمیوں کو وہ اس نظریہ کے مطابق قائم کرتے ہیں۔ چناچہ ان کے دلوں میں نہ اللہ کا خوف ہے ‘ نہ اللہ کی محبت اور وقار ہے۔ اس لیے اللہ کے حوالے سے بھی ان کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو کبھی بھی ایسے شخص کی زبان سے نہیں نکل سکتے جسے خدا کا خوف ہو۔
وقال الذین۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں ؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ یہ لوگ اس بات کو مسعبد سمجھتے تھے کہ کوئی رسول بشر بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ مطالبہ کرتے تھے کہ جس عقیدے کی طرف ہمیں دعوت دی جا رہی ہے ‘ کوئی فرشتہ اترے اور وہ اس پر شہادت دے۔ یا یہ کہ وہ خود باری تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اس کی تصدیق کریں۔ یہ دراصل اللہ کے مقام اور مرتبہ پر دست درازی ہے اور اس جاہل اور سرکش کا مطالبہ ہے جو مقام رب العالمین کا کوئی احساس نہیں رکھتا اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدراسی طرح نہیں کرتا جس طرح حق تعالیٰ کی قدر ہونا چاہئے۔ یہ گستاخی کرنے والے کون ہوتے ہیں اور ان کی اللہ کے مقابلے میں حیثیت ہی کیا ہے جو برگزیدہ ‘ جبار اور کبیر ہے۔ یہ اللہ کی عظیم مملکت اور اللہ کی اس عظیم کائنات میں حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں۔ ایک حقیر ذرے کی حیثیت تو ان کی ہے۔ انسان کی اس کائنات میں کوئی حیثیت اگر بنتی بھی ہے تو تب بنتی ہے کہ وہ اپنا تعلق اللہ سے جوڑ کر اور اپنا وزن ایمان کے ذریعہ بڑھا کر اپنی کچھ حیثیت پیدا کرے۔ چناچہ اس آیت کے اندر بات ختم کرنے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ بتا دیتا ہے کہ اس گستاخی کا سبب کیا ہے۔
لقد اسنکبرو۔۔۔۔ کبیرا (25 : 21) ” بڑا گھمنڈ لیے بیٹھے ہیں یہ اپنے نفسوں میں اور حد سے گزر گئے ہیں یہ اپنی سرکشی میں “۔ وہ اپنے خیال میں بہت پڑی شے ہیں۔ چناچہ وہ گھمنڈ میں مبتلا ہیں اور اس گھمنڈ کی وجہ سے بہت ہی بڑی سرکشی میں مبتلا ہیں۔ یہ اپنے اندر اس قدر مست ہیں کہ حقیقی قدروں کا صیحح وزن نہیں کرسکتے۔ اب ان لوگوں کی عادت یہ ہے کہ یہ لوگ صرف اپنے نفس کا احساس کرتے ہیں۔ ان کا نفس ان کی نظروں میں اس قدر بڑی چیز ہے کہ اس کائنات میں وہ اپنے نفس ہی کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ اس قدر بڑی چیز کہ اللہ جل شانہ کو بھی اس کے سامنے ظاہر ہونا چاہئے تاکہ وہ اسے دیکھ کر اس کی تصدیق کریں اور اس پر ایمان لائیں۔
ان کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اللہ بطور مذاق اور استہزاء ان کے سامنے ان کی بد حالی اور لاچاری کا ایک نقشہ پیش کرتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جب قیامت کے دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے (ملائکہ کا دیکھنا بھی ان کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ تھا) تو اس چن ان پر برا دن ہوگا۔ ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے سامنے وہ عذاب موجود ہو گا جو ٹلنے والا نہ ہوگا ‘ اس سے نجات کی ان کو کوئی صورت نظر ہی نہ آئے گی اور یہ عذاب اور جزاء کا دن ہوگا۔
یوم یرون۔۔۔۔۔۔۔ حجرا محجورا (25 : 22) وقدمناالیٰ ۔۔۔ ھباء منثورا (25 : 23) ” جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن ہو نہ گا۔ چیخ اٹھیں گے کہ پناہ بخدا ‘ اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے “۔ جس دن ان کے اس مطالبے پر عمل ہوگا اور فرشتے سامنے آجائیں گے۔ یرون الملئکتہ یہ ان فرشتوں کو دیکھ لیں گے۔ لیکن اس دن ان کے لیے کوئی خوشخبری نہ ہوگی بلکہ ان کے لیے عذاب کی خبر ہوگی۔ تو ان کا مطالبہ عجیب انداز میں پورا ہوگا۔ اس دن تو وہ یوں گویا ہوں گے۔ حجرا محجورا (25 : 22) ” خدا کی پناہ “۔ حرام اور ممنوع ۔ یہ جملہ وہ شر سے بچنے کے لیے کہتے تھے۔ دشمنوں کو کہتے تھے۔ یہ وہ دشمنوں کے ہلاک ہونے اور ان کے شر سے محفوظ ہونے کے لیے کہتے تھے۔ یہ فقرہ قیامت میں ان کی زبان سے نکل پڑے گا۔ جس طرح یہ فقرہ وہ دنیا میں شر سے پناہ مانگنے کے لیے بال دیتے تھے۔ آج ان کو خدا کی پناہ نصیب کب ہو سکتی ہے۔ آج وہ لاکھ مرتبہ خدا کی پناہ مانگیں ‘ ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور وہ جو انہوں نے کہا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑادیں گے “۔ یہ عمل ایک لحظ میں مکمل ہوجائے گا۔ ان کے تمام اعمال غبار کی شکل میں اڑا دیئے جائیں گے۔ انداز تعبیر کو ذرا دیکھئے۔ ہمارا خیال اس طرح دیکھتا ہے کہ ایک صاحب جسم ذات آتی ہے اور ان کے اعمال کو لے کر غبار کی طرح اڑا دیتی ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز تجیم اور تحیل۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے دنیا میں اعمال صالحہ کی شکل میں جو کچھ جمع کیا تھا وہ غبار کردیا جاتا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ ان کے یہ اعمال ایمان پر مبنی نہ تھے۔ ایمان کے ذریعہ ہی انسان اللہ تک پہنچتا ہے۔ ایمان اعمال صالحہ کو ایک منہاج اور ایک پختگی اور دوام بخشتا ہے اور یہ اعمال ایک مقصد اور ا کی سمت رکھتے ہیں۔ نہ یہ کسی وقتی جذبے کے تحت صادر ہوتے ہیں اور نہ کسی ایسے شخص کی دوڑ دھوپ ہوتی ہے جس کو صیحح راہ اور سمت معلوم ہی نہیں ویسے ہی ادھر ادھر بھاگتا ہے۔ یا محض بےمقصد دوڑ دھوپ ہے۔ اسلام میں کسی ایسے عمل صالح کی کوئی قیمت نہیں ہے جس کی کوئی سمت ‘ کوئی مقصد اور کوئی روح متعین نہ ہو۔ کیونکہ ایسے اعمال کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہوتا۔
اس کائنات میں انسان کا وجود ‘ اس کے اعمال ‘ اس کی زندگی کی دوڑ دھوپ دراصل اس کائنات کی حقیقت سے مربوط ہیں۔ یہ انسان بھی ناموس فطرت کا ایک پرزہ ہے۔ اور یہ پوری کائنات ذات باری سے مربوط ہے۔ اس میں انسان اور اس کی تمام سرگرمیاں شامل ہیں۔ اگر انسان کی تگ و دو اور اس کی حرکت اور دوڑ دھوپ اس اصلی نور سے کٹ جائے تو وہ بےمقصد ہوجاتی ہے۔ وہ ضائع ہوجاتی ہے اور اس کا کوئی وزن اور قدرو قیمت عنداللہ نہیں ہوتی۔ اس کے اعمال کا نہ کوئی حساب ہوگا اور نہ یہ اس کی کوئی قدرو قیمت ہوگی بلکہ اسلامی نظر میں اس کا وجود یہ نہیں ہے۔ وہ محض ہوا اور غبار ہے۔
ایمان انسان کو رب تک پہنچاتا ہے۔ اس طرح پھر اللہ رب العالمین کے ہاں اس کے اعمال کا بھی وزن ہوتا ہے۔ اور اس کائنات کے حساب میں اس کا حساب رکھا جاتا ہے اور اس کے اعمال اس کائنات کی تعمیرو ترقی میں دکھائے جاتے ہیں۔ ان مشرکوں کا چونکہ ایمان نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کے اعمال کو کالعدم کردیا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے نہایت ہی مجسم اور حسی انداز تعبیر اخیتار کیا ہے۔
وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور ہم ان اعمال کی طرف بڑھے جو انہوں نے کیے تھے تو ان اعمال کو غبار کر طرح اڑادیا “۔
اور مومنین کا حال کیا ہوگا۔ تقابل کے لیے وہ بھی ملاحظہ ہو۔ یہ اصحاب جنت ہیں۔
اصحب الجنتہ۔۔۔۔ احسن مقیلا (25 : 24) ” پس وہی لوگ جو جنت کے مستحق ہیں اس دن اچھی جگہ ٹھریں گے اور وہ دوپہر گزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے “۔ وہ نہایت آرام ‘ خوشی اور استقلال کے ساتھ گھنے سایوں میں رہیں گے۔ اور یہاں مستقر کا لفظ کافروں کے اعمال کی ناپختگی اور ہوا میں غبار کی طرح اڑ جانے کے بالمقابل لایا گیا ہے اور دوپہر کا آرام اور سکون مقابل ہے۔ اہل کفر کے جزع و فزع کا ‘ کہ وہ بےاختیار ہو کر اب خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور کہتے ہیں حجرا محجورا (25 : 22) کفار نبی ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ اللہ ان کے سامنے بادلوں کے سایہ میں آئے اور فرشتے آپ کے ساتھ ہوں۔ یہ مطالبے وہ بنی اسرائیل کی کہانیاں سن کر کرتے تھے کہ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائے میں اتر رہا ہے۔ یا ایک آگ کے عمودی شعلے کی شکل میں۔ چناچہ قرآن کریم ایک دوسرے انداز میں قیامت کے دن ان کے مطالبے کے پورا ہونے کا ایک منظر پیش کرتا ہے جس دن فرشتے اتریں گے۔
ویوم تشقق۔۔۔۔ تنزیلا (25 : 25) الملک یو ۔۔۔ الکفرین عسیرا (25 : 26) ” اس روز ایک بادل آسمان کو چیرتا ہوا نمودار ہوگا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیئے جائیں گے۔ اس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمن کی ہوگی۔ اور وہ منکرین کے لیے سخت دن ہوگا “۔ یہ آیت اور قرآن کریم کی بیشمار دوسری آیات یہ بتلاتی ہیں کہ اس دن نہایت ہی بڑے فلکیاتی واقعات و حادثات ہوں گے۔ اور تمام ایسی آیات کا اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کائنات جو ہمیں نظر آتی ہے اور اس کا یہ نظام جو ہمیں نظر آتا ہے ‘ یہ سب کا سب درہم برہم ہوجائے گا۔ اس کے تمام افلاک ‘ کو آب اور ستارے باہم ٹکرا جائیں گے۔ اس کائنات کے نظام ‘ اشیاء کے باہم روابط ‘ اور یہ چیز کی موجودہ شکل بدل جائے گی اور یہ حادثہ اس دنیا کا اختتام ہوگا۔ یہ کائناتی انقلاب صرف زمین تک محدود نہ ہوگا۔ اس کی زد میں تمام ستارے ‘ تمام آسمان اور تمام کوکب آئیں گے۔ یہاں مناسب ہے کہ یہاں اس انقلاب کے بعض مناظر پیش کر یئے جائیں جو متعدد سورتوں میں آئے ہیں۔
اذا الشمس کورت۔۔۔ سجرت (81 : 1 تا 3 و 6) ” جب سورج لپیٹ دیا جائے گا جب تارے بکھر جائیں گے ‘ جب پہاڑ ملائے جائیں گے۔۔۔۔۔ اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے “۔
اذا السمائ۔۔۔۔۔ القبور بعثرت (82 : اتا 4) ” جب آسمان پھٹ جائے گا ‘ جب تارے بکھر جائیں گے اور سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے اور جب قبریں کھول دی جائیں گی “۔
اذا السماء انشقت۔۔۔۔ لربھا و حقت (84 : 1 تا 5) ” جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لیے حق یہی ہے اور جب زمین پھیلا دی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے ‘ اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے)
اذا اجت۔۔۔۔۔ ھباء منبثا (56 : 4 تا 6) ” جب زمین یکبارگی بلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ بن کر رہ جائیں گے “۔
فاذانفخ فی۔۔۔۔ یومئذواھیتہ (69 : 13 تا 16) ” پھر جب ایک دفعہ صور میں پھونک ماردی جائے گی اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک یہ چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ اس رہز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا “۔
یوم تکون۔۔۔ کالعھن (70 : 8۔ 9) ” جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے “۔
اذا زلزلت۔۔۔۔ اتقالھا (99 : 1۔ 2) ” جب زمین اپنی پوری قوت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی اور زمین اپنے اندر کے بوجھ باہر نکال دے گی “۔
یوم یکون۔۔۔۔۔ المنفوش (101 : 4۔ 5) ” وہ دن جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون کی طرح ہوں گے “۔
فارتقب یوم ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (44 : 10۔ 11) ” اچھا انتظار کرو جب آسمان صریح دھواں لائے گا اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ہے دردناک سزا “۔
یوم ترجف۔۔۔۔ کثیبا مھیلا (73 : 14) ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جا رہے ہیں “۔
السماء منفطر بہ (73 : 18) ” آسمان پھٹا جا رہا ہوگا اس دن “۔
کلا اذا دکت الارض دکا (89 : 21) ” ہر گز نہیں جب زمین پے در پے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بجا دی جائے گی “۔
فاذا برق۔۔۔۔۔ والقمر (75 : 7 تا 9) ” پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند اور سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے “۔
فاذا النجوم۔۔۔۔ الجبال نسفت (77 : 8 تا 10) ” پھر جب ستارے ماند پڑجائیں گے اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے “۔
ویسئلونک عن۔۔۔۔ ولا امتا (20 : 105 تا 107) ” یہ اگر آپ سے پوچھتے ہیں کہ اس دن پہاڑ کہاں چلے جائیں گے۔ کہو میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں کوئی بھی کجی اور سلوٹ نہ دیکھو گے “۔
وتری الجبال۔۔۔۔ السحاب (27ـ : 88) ” آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب ہوئے ہیں مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے “۔
و یوم نسیر۔۔۔۔۔ الارض بارزۃ (18 : 47) ” جب ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو بالکل برہنہ پائو گے “۔
یوم تبدل ۔۔۔۔ والسموت (14 : 48) ” اس روز جبکہ زمین و آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کردیئے جائیں گے “۔
یوم نطوی۔۔۔۔ للکتب (21 : 104) ” وہ دن جبکہ آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں “۔ یہ تمام آیات بتاتی ہیں کہ ہماری اس دنیا کا انجام نہایت ہی خوفناک ہوگا۔ اس میں اس زمین کو بلا مارا جائے گا اور اجسام عظیمہ ایک دوسرے کے ساتھ دھماکے سے ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے۔ سمندر پھٹ جائیں گے یعنی کرئہ ارض کے اضطرابات کی وجہ سے یا سمندروں کے ذرات پھٹ جائیں گے اور تابکاری سے پانیوں میں آگ لگ جائے گی۔ چمکدار ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا اور ٹکرے ٹکرے ہوگا۔ کواکب ایک دوسرے کے ساتھ ٹکڑا کر ریزہ ریزہ ہو کر منتشر ہوجائیں گے۔ تمام آسمانی دوریاں ختم ہوجائیں گی۔ شمس وقمر ایک ہوجائیں گے۔ آسمان کبھی سیاہ دھوئیں کی طرح ہوگا اور کبھی آگ کے شعلے کی طرح ہوگا۔ غرض یہ ایک ہولناک گھڑی ہوگی اور اس میں انسان سخت خوفزدہ ہوگا۔
غرض ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو اس بات سے ذراتا ہے ہیں کہ اس روز آسمان کو چیرتا ایک بادل نمودار ہوں گے اور اس دن فرشتوں کے پرے کافرین پر نازل ہوں گے ‘ جیسا کہ ان کا مطالبہ تھا۔ یہ مبالبہ وہ حضرت محمد ﷺ کی تصدیق کے لیے نہ کرتے تھے یہ فرشتے اللہ کے حکم سے اللہ کا عذاب لے کر آئیں گے۔
وکان یوما۔۔۔۔ عسیرا (25 : 26) ” اور منکرین کے لیے یہ پڑا سخت دن ہوگا “۔ کیونکہ اس دن میں سخت عذاب سامنے وہ گا اس لیے وہ ایک ہولناک دن ہوگا۔ یہ لوگ کم علمی سے نزول ملائکہ کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ ملائکہ عذاب لے کر آتے ہیں۔
اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر لایا جاتا ہے۔ اس میں یہ گمراہ اور ظالم بہت زیادہ شرمندہ ہوں گے۔ یہ منظر بہت یہ طویل ہے۔ اس قدر طویل کہ ناظرین یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ منظر چلتا ہی رہے گا۔ یہ ظالم نہایت ندامت اور حسرت کی وجہ سے ہاتھ کاٹ رہا ہے ‘ خود اپنے ہاتھ۔
ویوم یعض۔۔۔ للانسان خذولا (25 : 27 تا 29) ” ظالم انسان اپنے ہاتھ چبائے گا اور کہے گا ” کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی کاش میں نے فلاں شخض کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی۔ شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفا بکلا “۔ یہ شخض اس گہرے تاسف کا اظہار کر رہا ہے اور اس کے ماحول پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔ یہ شخض اپنی حسر تناک آواز کو بلند کرتے چلا جاتا ہے۔ اس کی چیخیں اس قدر دلدوز ہیں اور ان کا اثر اس قدر طویل ہے کہ یہ محفل طویل ہوتی جارہی ہے۔ اثرات عمیق ہوتے جارہے ہیں۔ یہاں تک آج بھی ان آیات کا پڑھنے والا گہرا تاسف لے لیتا ہے۔ منظر کو دیکھنے والے شریک غم ہوجاتے ہیں۔
ویوم یعض الظالم علی یدیہ (25 : 27) ” اس دن یہ ظالم اپنے ہاتھ چبائے گا “۔ یہ صرف ایک ہاتھ کو نہ چبائے گا بلکہ دونوں ہاتھوں کو چبائے گا۔ کبھی اس کو کبھی اس کو۔ یہ شدت غم کی وجہ سے اپنے ہاتھوں پر اپنا غصہ اتارے گا۔ ہاتھوں کو چبانا اشارہ اس طرف ہے کہ اس دن ظالم کی نفسیاتی حالت کیا ہوگی۔ اس کے غم اور اندوہ کو نہایت یہ مجسم فعل اور حرکت کے ساتھ ظاہر کیا گیا ہے یعنی غم کو یہ برداشت نہ کرسکے گا۔
یقول یلیتنی۔۔۔۔ سبیلا (25 : 27) ” کہے گا کاش میں نے رسول اللہ کا ساتھ دیا ہوتا “۔ رسول کے طریقے پر چلا ہوتا۔ رسول سے علیحدہ نہ ہوا ہوتا۔ وہ رسول جس کی رسالت کا وہ منکر تھا ‘ اس لیے کہ یہ رسول بشرکیوں ہے۔
یویلتی لیتنی۔۔۔۔۔ خلیلا (25 : 28) ” میری کم بختی ! کاش میں فلاں کو اپنا دوست نہ بناتا “۔ فلاں کو عام کردیا ہے۔ کسی کا نام نہیں لیا تاکہ اس میں تمام گمراہ کنند گان شامل ہوجائیں۔ تمام دوست جو دوستوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں لیکن روایات میں آتا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول عقبہ ابن معیط ہے۔ یہ شخض نبی ﷺ کے ساتھ بہت ہی بیٹھتا اٹھتا تھا۔ اس نے نبی ﷺ کو ضیافت کے لیے بلایا تو حضور نے فرمایا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تک تم دو باتوں کی شہادت نہ دو ۔ چناچہ اس نے ایسا کیا۔ ابی ابن خلف بھی اس کا دوست تھا۔ اس نے اسے بہت ہی شرمندہ کیا۔ اور کہا تو بےدین ہوگیا ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ خدا کی قسم میں نے محمد کے دین کو قبول نہیں کیا۔ لیکن اس نے کہا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تم کلمہ شہادت ادا نہ کرو۔ حالانکہ وہ میرے گھر میں تھے اور میرا کھانا نہ کھاتے تھے۔ مجھے اس سے بڑی شرم آئی کہ وہ میرا کھانا نہ کھائے۔ اس لیے میں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا۔ تو ابی ابن خلف نے کہا خدا کی قسم میں تم سے تب راضی ہوں گا کہ تم اس کی گردن دبا کر اس کے منہ پر تھوکو۔ حضور اسے دارالندوہ میں سجدہ کرتے ہوئے مل گئے۔ اور اس (بد بخت) نے ایسا ہی کیا۔ اسے حضور اکرم نے فرمایا کی مکہ سے باہر تم جب بھی مجھے ملو گے میں تمہارا سر اڑا دوں گا۔ یہ شخض بدر کے دن گرفتار ہوا۔ آپ نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ اس کی گردن اڑا دو ۔
لقد اضلنی۔۔۔ جاء نی (25 : 29) ” اس کے بہکاوے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس گئی تھی “۔ یہ دراصل شیطان تھا جو گمراہ کر رہا تھا یا شیطان کا مدد گار تھا۔
وکان۔۔۔۔ خذولا (25 : 29) ” اور شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفانکلا “۔ وہ انسان کو شرمندگی کے انجام تک پہنچاتا ہے۔ اور جب سچائی کا وقت آتا ہے کہ ہمیشہ شیطان بھاگ جایا کرتے ہیں۔ خصوصاً ہولناک اور کربناک مناظرو مواقع میں۔
یوں قرآن کریم نے ان لوگوں کے دلوں کو جھنجوڑا۔ ان کے سامنے ان کے انجام کو کپکپا دینے والے مناظر کی شکل میں پیش کیا۔ اس طرح کہ گویا وہ ایک واقعہ ہے جسے دیکھا جارہا ہے۔ حالانکہ وہ لوگ ابھی اس زمین پر ہی ہیں جو اللہ کی تکذیب کررہے ہیں اور اللہ کے سامنے پیش ہونے کا بڑی حقارت کے ساتھ انکار کررہے ہیں اور ایسے مطالبات کررہے ہیں جو بیہودہ ہیں۔ حالانکہ وہاں نہایت ہی خوفناک صورت حال سے دو چار ہونے والے ہیں اور نہایت ہی شرمساری اور ندامت سے دوچار ہوں گے لیکن اس وقت ندامت کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
اب روئے سخن مناظر قیامت سے اس دنیا کی طرف آجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے انہوں نے جو موقف اختیار کر رکھا ہے اس پر بات ہوتی ہے۔ اب ان کا اعتراض یہ ہے کہ قرآن مجید سب کا سب ایک ہی مرتبہ کیوں نازل نہیں ہوگیا۔ موجود انداز نزول قرآن قابل اعتراض ہے۔ اس سوال و جواب کا خاتمہ بھی قیامت کے منظر پر ہوتا ہے کہ جس طرح ان کا اعتراض الٹا ہے ‘ اسی طرح وہ جہنم میں الٹے ڈالے جائیں گے۔
الفرقان 25:25
درس نمبر 158 ایک نظر میں
اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں سے بعض مناظر کی جھلکیاں دکھا دی جاتی ہیں۔ اور یہی ان کی گستاخی کا مناسب جواب ہے۔ ان کی گستاخی یہ تھی۔
لولا انزل۔۔۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں یا ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ اس کے بعد ان کا یہ اعتراض نقل کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم ٹکڑوں کی شکل میں کیوں اترا ہے۔ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ بیان کردیا جاتا ہے کہ کیوں قرآن مجید مسلسل ٹکڑوں کی شکل میں اترا۔ رسول اللہ کو تسلی دی جاتی ہے کہ جب بھی وہ مباحثہ کر کے کوئی بات لاتے ہیں ‘ ہم بھی نئی تاویل آپ کو دے دیتے ہ ہیں اور بہترین تفسیر اور تشریح کردیتے ہیں۔ اس کے بعد حضور اور آپ کے مخالفین کے غور کے لیے بعض مکذبین کی ہلاکت کے وقت کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے کہ یہ اقوام کس طرح ہلاک کی گئیں۔ ذرا قوم لوط کے کھنڈرات پر تو غور کرو ، تم رات دن ان پر سے گزرتے ہو۔ قرآن کریم ان پر سخت گرفت کرتا ہے کہ جب یہ رات دن ان کھنڈرات کو دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ یہ سب باتیں اس لیے لائی گئی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات پر جو اعتراضات کرتے تھے ‘ اس کا ایک بیان یہاں دے دیا جائے۔ یہ واقعات دے کر ان پر ایک زور دار تبصرہ کیا جاتا ہے۔ اس میں ان کا نہایت ہی حقارت آمیز نقشہ کھینچا جاتا ہے اور نہایت ہی حقیقت پسندانہ ‘
ان ہم۔۔۔۔۔۔ ہم اضل (25 : 44) ” یہ تو بس حیوانوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں “۔
وقال الذین۔۔۔۔۔ للانسان خذولا
مشرکین کو ہماری ملاقات کی امید نہیں ہے اور نہ وہ اس کا انتظار کرتے ہیں اور نہ وہ اس کو کوئی اہمیت دیتے ہیں نہ اپنی زندگی اور اس کی سرگرمیوں کو وہ اس نظریہ کے مطابق قائم کرتے ہیں۔ چناچہ ان کے دلوں میں نہ اللہ کا خوف ہے ‘ نہ اللہ کی محبت اور وقار ہے۔ اس لیے اللہ کے حوالے سے بھی ان کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو کبھی بھی ایسے شخص کی زبان سے نہیں نکل سکتے جسے خدا کا خوف ہو۔
وقال الذین۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں ؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ یہ لوگ اس بات کو مسعبد سمجھتے تھے کہ کوئی رسول بشر بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ مطالبہ کرتے تھے کہ جس عقیدے کی طرف ہمیں دعوت دی جا رہی ہے ‘ کوئی فرشتہ اترے اور وہ اس پر شہادت دے۔ یا یہ کہ وہ خود باری تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اس کی تصدیق کریں۔ یہ دراصل اللہ کے مقام اور مرتبہ پر دست درازی ہے اور اس جاہل اور سرکش کا مطالبہ ہے جو مقام رب العالمین کا کوئی احساس نہیں رکھتا اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدراسی طرح نہیں کرتا جس طرح حق تعالیٰ کی قدر ہونا چاہئے۔ یہ گستاخی کرنے والے کون ہوتے ہیں اور ان کی اللہ کے مقابلے میں حیثیت ہی کیا ہے جو برگزیدہ ‘ جبار اور کبیر ہے۔ یہ اللہ کی عظیم مملکت اور اللہ کی اس عظیم کائنات میں حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں۔ ایک حقیر ذرے کی حیثیت تو ان کی ہے۔ انسان کی اس کائنات میں کوئی حیثیت اگر بنتی بھی ہے تو تب بنتی ہے کہ وہ اپنا تعلق اللہ سے جوڑ کر اور اپنا وزن ایمان کے ذریعہ بڑھا کر اپنی کچھ حیثیت پیدا کرے۔ چناچہ اس آیت کے اندر بات ختم کرنے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ بتا دیتا ہے کہ اس گستاخی کا سبب کیا ہے۔
لقد اسنکبرو۔۔۔۔ کبیرا (25 : 21) ” بڑا گھمنڈ لیے بیٹھے ہیں یہ اپنے نفسوں میں اور حد سے گزر گئے ہیں یہ اپنی سرکشی میں “۔ وہ اپنے خیال میں بہت پڑی شے ہیں۔ چناچہ وہ گھمنڈ میں مبتلا ہیں اور اس گھمنڈ کی وجہ سے بہت ہی بڑی سرکشی میں مبتلا ہیں۔ یہ اپنے اندر اس قدر مست ہیں کہ حقیقی قدروں کا صیحح وزن نہیں کرسکتے۔ اب ان لوگوں کی عادت یہ ہے کہ یہ لوگ صرف اپنے نفس کا احساس کرتے ہیں۔ ان کا نفس ان کی نظروں میں اس قدر بڑی چیز ہے کہ اس کائنات میں وہ اپنے نفس ہی کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ اس قدر بڑی چیز کہ اللہ جل شانہ کو بھی اس کے سامنے ظاہر ہونا چاہئے تاکہ وہ اسے دیکھ کر اس کی تصدیق کریں اور اس پر ایمان لائیں۔
ان کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اللہ بطور مذاق اور استہزاء ان کے سامنے ان کی بد حالی اور لاچاری کا ایک نقشہ پیش کرتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جب قیامت کے دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے (ملائکہ کا دیکھنا بھی ان کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ تھا) تو اس چن ان پر برا دن ہوگا۔ ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے سامنے وہ عذاب موجود ہو گا جو ٹلنے والا نہ ہوگا ‘ اس سے نجات کی ان کو کوئی صورت نظر ہی نہ آئے گی اور یہ عذاب اور جزاء کا دن ہوگا۔
یوم یرون۔۔۔۔۔۔۔ حجرا محجورا (25 : 22) وقدمناالیٰ ۔۔۔ ھباء منثورا (25 : 23) ” جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن ہو نہ گا۔ چیخ اٹھیں گے کہ پناہ بخدا ‘ اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے “۔ جس دن ان کے اس مطالبے پر عمل ہوگا اور فرشتے سامنے آجائیں گے۔ یرون الملئکتہ یہ ان فرشتوں کو دیکھ لیں گے۔ لیکن اس دن ان کے لیے کوئی خوشخبری نہ ہوگی بلکہ ان کے لیے عذاب کی خبر ہوگی۔ تو ان کا مطالبہ عجیب انداز میں پورا ہوگا۔ اس دن تو وہ یوں گویا ہوں گے۔ حجرا محجورا (25 : 22) ” خدا کی پناہ “۔ حرام اور ممنوع ۔ یہ جملہ وہ شر سے بچنے کے لیے کہتے تھے۔ دشمنوں کو کہتے تھے۔ یہ وہ دشمنوں کے ہلاک ہونے اور ان کے شر سے محفوظ ہونے کے لیے کہتے تھے۔ یہ فقرہ قیامت میں ان کی زبان سے نکل پڑے گا۔ جس طرح یہ فقرہ وہ دنیا میں شر سے پناہ مانگنے کے لیے بال دیتے تھے۔ آج ان کو خدا کی پناہ نصیب کب ہو سکتی ہے۔ آج وہ لاکھ مرتبہ خدا کی پناہ مانگیں ‘ ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور وہ جو انہوں نے کہا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑادیں گے “۔ یہ عمل ایک لحظ میں مکمل ہوجائے گا۔ ان کے تمام اعمال غبار کی شکل میں اڑا دیئے جائیں گے۔ انداز تعبیر کو ذرا دیکھئے۔ ہمارا خیال اس طرح دیکھتا ہے کہ ایک صاحب جسم ذات آتی ہے اور ان کے اعمال کو لے کر غبار کی طرح اڑا دیتی ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز تجیم اور تحیل۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے دنیا میں اعمال صالحہ کی شکل میں جو کچھ جمع کیا تھا وہ غبار کردیا جاتا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ ان کے یہ اعمال ایمان پر مبنی نہ تھے۔ ایمان کے ذریعہ ہی انسان اللہ تک پہنچتا ہے۔ ایمان اعمال صالحہ کو ایک منہاج اور ایک پختگی اور دوام بخشتا ہے اور یہ اعمال ایک مقصد اور ا کی سمت رکھتے ہیں۔ نہ یہ کسی وقتی جذبے کے تحت صادر ہوتے ہیں اور نہ کسی ایسے شخص کی دوڑ دھوپ ہوتی ہے جس کو صیحح راہ اور سمت معلوم ہی نہیں ویسے ہی ادھر ادھر بھاگتا ہے۔ یا محض بےمقصد دوڑ دھوپ ہے۔ اسلام میں کسی ایسے عمل صالح کی کوئی قیمت نہیں ہے جس کی کوئی سمت ‘ کوئی مقصد اور کوئی روح متعین نہ ہو۔ کیونکہ ایسے اعمال کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہوتا۔
اس کائنات میں انسان کا وجود ‘ اس کے اعمال ‘ اس کی زندگی کی دوڑ دھوپ دراصل اس کائنات کی حقیقت سے مربوط ہیں۔ یہ انسان بھی ناموس فطرت کا ایک پرزہ ہے۔ اور یہ پوری کائنات ذات باری سے مربوط ہے۔ اس میں انسان اور اس کی تمام سرگرمیاں شامل ہیں۔ اگر انسان کی تگ و دو اور اس کی حرکت اور دوڑ دھوپ اس اصلی نور سے کٹ جائے تو وہ بےمقصد ہوجاتی ہے۔ وہ ضائع ہوجاتی ہے اور اس کا کوئی وزن اور قدرو قیمت عنداللہ نہیں ہوتی۔ اس کے اعمال کا نہ کوئی حساب ہوگا اور نہ یہ اس کی کوئی قدرو قیمت ہوگی بلکہ اسلامی نظر میں اس کا وجود یہ نہیں ہے۔ وہ محض ہوا اور غبار ہے۔
ایمان انسان کو رب تک پہنچاتا ہے۔ اس طرح پھر اللہ رب العالمین کے ہاں اس کے اعمال کا بھی وزن ہوتا ہے۔ اور اس کائنات کے حساب میں اس کا حساب رکھا جاتا ہے اور اس کے اعمال اس کائنات کی تعمیرو ترقی میں دکھائے جاتے ہیں۔ ان مشرکوں کا چونکہ ایمان نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کے اعمال کو کالعدم کردیا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے نہایت ہی مجسم اور حسی انداز تعبیر اخیتار کیا ہے۔
وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور ہم ان اعمال کی طرف بڑھے جو انہوں نے کیے تھے تو ان اعمال کو غبار کر طرح اڑادیا “۔
اور مومنین کا حال کیا ہوگا۔ تقابل کے لیے وہ بھی ملاحظہ ہو۔ یہ اصحاب جنت ہیں۔
اصحب الجنتہ۔۔۔۔ احسن مقیلا (25 : 24) ” پس وہی لوگ جو جنت کے مستحق ہیں اس دن اچھی جگہ ٹھریں گے اور وہ دوپہر گزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے “۔ وہ نہایت آرام ‘ خوشی اور استقلال کے ساتھ گھنے سایوں میں رہیں گے۔ اور یہاں مستقر کا لفظ کافروں کے اعمال کی ناپختگی اور ہوا میں غبار کی طرح اڑ جانے کے بالمقابل لایا گیا ہے اور دوپہر کا آرام اور سکون مقابل ہے۔ اہل کفر کے جزع و فزع کا ‘ کہ وہ بےاختیار ہو کر اب خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور کہتے ہیں حجرا محجورا (25 : 22) کفار نبی ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ اللہ ان کے سامنے بادلوں کے سایہ میں آئے اور فرشتے آپ کے ساتھ ہوں۔ یہ مطالبے وہ بنی اسرائیل کی کہانیاں سن کر کرتے تھے کہ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائے میں اتر رہا ہے۔ یا ایک آگ کے عمودی شعلے کی شکل میں۔ چناچہ قرآن کریم ایک دوسرے انداز میں قیامت کے دن ان کے مطالبے کے پورا ہونے کا ایک منظر پیش کرتا ہے جس دن فرشتے اتریں گے۔
ویوم تشقق۔۔۔۔ تنزیلا (25 : 25) الملک یو ۔۔۔ الکفرین عسیرا (25 : 26) ” اس روز ایک بادل آسمان کو چیرتا ہوا نمودار ہوگا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیئے جائیں گے۔ اس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمن کی ہوگی۔ اور وہ منکرین کے لیے سخت دن ہوگا “۔ یہ آیت اور قرآن کریم کی بیشمار دوسری آیات یہ بتلاتی ہیں کہ اس دن نہایت ہی بڑے فلکیاتی واقعات و حادثات ہوں گے۔ اور تمام ایسی آیات کا اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کائنات جو ہمیں نظر آتی ہے اور اس کا یہ نظام جو ہمیں نظر آتا ہے ‘ یہ سب کا سب درہم برہم ہوجائے گا۔ اس کے تمام افلاک ‘ کو آب اور ستارے باہم ٹکرا جائیں گے۔ اس کائنات کے نظام ‘ اشیاء کے باہم روابط ‘ اور یہ چیز کی موجودہ شکل بدل جائے گی اور یہ حادثہ اس دنیا کا اختتام ہوگا۔ یہ کائناتی انقلاب صرف زمین تک محدود نہ ہوگا۔ اس کی زد میں تمام ستارے ‘ تمام آسمان اور تمام کوکب آئیں گے۔ یہاں مناسب ہے کہ یہاں اس انقلاب کے بعض مناظر پیش کر یئے جائیں جو متعدد سورتوں میں آئے ہیں۔
اذا الشمس کورت۔۔۔ سجرت (81 : 1 تا 3 و 6) ” جب سورج لپیٹ دیا جائے گا جب تارے بکھر جائیں گے ‘ جب پہاڑ ملائے جائیں گے۔۔۔۔۔ اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے “۔
اذا السمائ۔۔۔۔۔ القبور بعثرت (82 : اتا 4) ” جب آسمان پھٹ جائے گا ‘ جب تارے بکھر جائیں گے اور سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے اور جب قبریں کھول دی جائیں گی “۔
اذا السماء انشقت۔۔۔۔ لربھا و حقت (84 : 1 تا 5) ” جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لیے حق یہی ہے اور جب زمین پھیلا دی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے ‘ اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے)
اذا اجت۔۔۔۔۔ ھباء منبثا (56 : 4 تا 6) ” جب زمین یکبارگی بلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ بن کر رہ جائیں گے “۔
فاذانفخ فی۔۔۔۔ یومئذواھیتہ (69 : 13 تا 16) ” پھر جب ایک دفعہ صور میں پھونک ماردی جائے گی اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک یہ چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ اس رہز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا “۔
یوم تکون۔۔۔ کالعھن (70 : 8۔ 9) ” جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے “۔
اذا زلزلت۔۔۔۔ اتقالھا (99 : 1۔ 2) ” جب زمین اپنی پوری قوت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی اور زمین اپنے اندر کے بوجھ باہر نکال دے گی “۔
یوم یکون۔۔۔۔۔ المنفوش (101 : 4۔ 5) ” وہ دن جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون کی طرح ہوں گے “۔
فارتقب یوم ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (44 : 10۔ 11) ” اچھا انتظار کرو جب آسمان صریح دھواں لائے گا اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ہے دردناک سزا “۔
یوم ترجف۔۔۔۔ کثیبا مھیلا (73 : 14) ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جا رہے ہیں “۔
السماء منفطر بہ (73 : 18) ” آسمان پھٹا جا رہا ہوگا اس دن “۔
کلا اذا دکت الارض دکا (89 : 21) ” ہر گز نہیں جب زمین پے در پے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بجا دی جائے گی “۔
فاذا برق۔۔۔۔۔ والقمر (75 : 7 تا 9) ” پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند اور سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے “۔
فاذا النجوم۔۔۔۔ الجبال نسفت (77 : 8 تا 10) ” پھر جب ستارے ماند پڑجائیں گے اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے “۔
ویسئلونک عن۔۔۔۔ ولا امتا (20 : 105 تا 107) ” یہ اگر آپ سے پوچھتے ہیں کہ اس دن پہاڑ کہاں چلے جائیں گے۔ کہو میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں کوئی بھی کجی اور سلوٹ نہ دیکھو گے “۔
وتری الجبال۔۔۔۔ السحاب (27ـ : 88) ” آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب ہوئے ہیں مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے “۔
و یوم نسیر۔۔۔۔۔ الارض بارزۃ (18 : 47) ” جب ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو بالکل برہنہ پائو گے “۔
یوم تبدل ۔۔۔۔ والسموت (14 : 48) ” اس روز جبکہ زمین و آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کردیئے جائیں گے “۔
یوم نطوی۔۔۔۔ للکتب (21 : 104) ” وہ دن جبکہ آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں “۔ یہ تمام آیات بتاتی ہیں کہ ہماری اس دنیا کا انجام نہایت ہی خوفناک ہوگا۔ اس میں اس زمین کو بلا مارا جائے گا اور اجسام عظیمہ ایک دوسرے کے ساتھ دھماکے سے ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے۔ سمندر پھٹ جائیں گے یعنی کرئہ ارض کے اضطرابات کی وجہ سے یا سمندروں کے ذرات پھٹ جائیں گے اور تابکاری سے پانیوں میں آگ لگ جائے گی۔ چمکدار ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا اور ٹکرے ٹکرے ہوگا۔ کواکب ایک دوسرے کے ساتھ ٹکڑا کر ریزہ ریزہ ہو کر منتشر ہوجائیں گے۔ تمام آسمانی دوریاں ختم ہوجائیں گی۔ شمس وقمر ایک ہوجائیں گے۔ آسمان کبھی سیاہ دھوئیں کی طرح ہوگا اور کبھی آگ کے شعلے کی طرح ہوگا۔ غرض یہ ایک ہولناک گھڑی ہوگی اور اس میں انسان سخت خوفزدہ ہوگا۔
غرض ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو اس بات سے ذراتا ہے ہیں کہ اس روز آسمان کو چیرتا ایک بادل نمودار ہوں گے اور اس دن فرشتوں کے پرے کافرین پر نازل ہوں گے ‘ جیسا کہ ان کا مطالبہ تھا۔ یہ مبالبہ وہ حضرت محمد ﷺ کی تصدیق کے لیے نہ کرتے تھے یہ فرشتے اللہ کے حکم سے اللہ کا عذاب لے کر آئیں گے۔
وکان یوما۔۔۔۔ عسیرا (25 : 26) ” اور منکرین کے لیے یہ پڑا سخت دن ہوگا “۔ کیونکہ اس دن میں سخت عذاب سامنے وہ گا اس لیے وہ ایک ہولناک دن ہوگا۔ یہ لوگ کم علمی سے نزول ملائکہ کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ ملائکہ عذاب لے کر آتے ہیں۔
اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر لایا جاتا ہے۔ اس میں یہ گمراہ اور ظالم بہت زیادہ شرمندہ ہوں گے۔ یہ منظر بہت یہ طویل ہے۔ اس قدر طویل کہ ناظرین یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ منظر چلتا ہی رہے گا۔ یہ ظالم نہایت ندامت اور حسرت کی وجہ سے ہاتھ کاٹ رہا ہے ‘ خود اپنے ہاتھ۔
ویوم یعض۔۔۔ للانسان خذولا (25 : 27 تا 29) ” ظالم انسان اپنے ہاتھ چبائے گا اور کہے گا ” کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی کاش میں نے فلاں شخض کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی۔ شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفا بکلا “۔ یہ شخض اس گہرے تاسف کا اظہار کر رہا ہے اور اس کے ماحول پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔ یہ شخض اپنی حسر تناک آواز کو بلند کرتے چلا جاتا ہے۔ اس کی چیخیں اس قدر دلدوز ہیں اور ان کا اثر اس قدر طویل ہے کہ یہ محفل طویل ہوتی جارہی ہے۔ اثرات عمیق ہوتے جارہے ہیں۔ یہاں تک آج بھی ان آیات کا پڑھنے والا گہرا تاسف لے لیتا ہے۔ منظر کو دیکھنے والے شریک غم ہوجاتے ہیں۔
ویوم یعض الظالم علی یدیہ (25 : 27) ” اس دن یہ ظالم اپنے ہاتھ چبائے گا “۔ یہ صرف ایک ہاتھ کو نہ چبائے گا بلکہ دونوں ہاتھوں کو چبائے گا۔ کبھی اس کو کبھی اس کو۔ یہ شدت غم کی وجہ سے اپنے ہاتھوں پر اپنا غصہ اتارے گا۔ ہاتھوں کو چبانا اشارہ اس طرف ہے کہ اس دن ظالم کی نفسیاتی حالت کیا ہوگی۔ اس کے غم اور اندوہ کو نہایت یہ مجسم فعل اور حرکت کے ساتھ ظاہر کیا گیا ہے یعنی غم کو یہ برداشت نہ کرسکے گا۔
یقول یلیتنی۔۔۔۔ سبیلا (25 : 27) ” کہے گا کاش میں نے رسول اللہ کا ساتھ دیا ہوتا “۔ رسول کے طریقے پر چلا ہوتا۔ رسول سے علیحدہ نہ ہوا ہوتا۔ وہ رسول جس کی رسالت کا وہ منکر تھا ‘ اس لیے کہ یہ رسول بشرکیوں ہے۔
یویلتی لیتنی۔۔۔۔۔ خلیلا (25 : 28) ” میری کم بختی ! کاش میں فلاں کو اپنا دوست نہ بناتا “۔ فلاں کو عام کردیا ہے۔ کسی کا نام نہیں لیا تاکہ اس میں تمام گمراہ کنند گان شامل ہوجائیں۔ تمام دوست جو دوستوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں لیکن روایات میں آتا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول عقبہ ابن معیط ہے۔ یہ شخض نبی ﷺ کے ساتھ بہت ہی بیٹھتا اٹھتا تھا۔ اس نے نبی ﷺ کو ضیافت کے لیے بلایا تو حضور نے فرمایا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تک تم دو باتوں کی شہادت نہ دو ۔ چناچہ اس نے ایسا کیا۔ ابی ابن خلف بھی اس کا دوست تھا۔ اس نے اسے بہت ہی شرمندہ کیا۔ اور کہا تو بےدین ہوگیا ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ خدا کی قسم میں نے محمد کے دین کو قبول نہیں کیا۔ لیکن اس نے کہا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تم کلمہ شہادت ادا نہ کرو۔ حالانکہ وہ میرے گھر میں تھے اور میرا کھانا نہ کھاتے تھے۔ مجھے اس سے بڑی شرم آئی کہ وہ میرا کھانا نہ کھائے۔ اس لیے میں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا۔ تو ابی ابن خلف نے کہا خدا کی قسم میں تم سے تب راضی ہوں گا کہ تم اس کی گردن دبا کر اس کے منہ پر تھوکو۔ حضور اسے دارالندوہ میں سجدہ کرتے ہوئے مل گئے۔ اور اس (بد بخت) نے ایسا ہی کیا۔ اسے حضور اکرم نے فرمایا کی مکہ سے باہر تم جب بھی مجھے ملو گے میں تمہارا سر اڑا دوں گا۔ یہ شخض بدر کے دن گرفتار ہوا۔ آپ نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ اس کی گردن اڑا دو ۔
لقد اضلنی۔۔۔ جاء نی (25 : 29) ” اس کے بہکاوے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس گئی تھی “۔ یہ دراصل شیطان تھا جو گمراہ کر رہا تھا یا شیطان کا مدد گار تھا۔
وکان۔۔۔۔ خذولا (25 : 29) ” اور شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفانکلا “۔ وہ انسان کو شرمندگی کے انجام تک پہنچاتا ہے۔ اور جب سچائی کا وقت آتا ہے کہ ہمیشہ شیطان بھاگ جایا کرتے ہیں۔ خصوصاً ہولناک اور کربناک مناظرو مواقع میں۔
یوں قرآن کریم نے ان لوگوں کے دلوں کو جھنجوڑا۔ ان کے سامنے ان کے انجام کو کپکپا دینے والے مناظر کی شکل میں پیش کیا۔ اس طرح کہ گویا وہ ایک واقعہ ہے جسے دیکھا جارہا ہے۔ حالانکہ وہ لوگ ابھی اس زمین پر ہی ہیں جو اللہ کی تکذیب کررہے ہیں اور اللہ کے سامنے پیش ہونے کا بڑی حقارت کے ساتھ انکار کررہے ہیں اور ایسے مطالبات کررہے ہیں جو بیہودہ ہیں۔ حالانکہ وہاں نہایت ہی خوفناک صورت حال سے دو چار ہونے والے ہیں اور نہایت ہی شرمساری اور ندامت سے دوچار ہوں گے لیکن اس وقت ندامت کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
اب روئے سخن مناظر قیامت سے اس دنیا کی طرف آجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے انہوں نے جو موقف اختیار کر رکھا ہے اس پر بات ہوتی ہے۔ اب ان کا اعتراض یہ ہے کہ قرآن مجید سب کا سب ایک ہی مرتبہ کیوں نازل نہیں ہوگیا۔ موجود انداز نزول قرآن قابل اعتراض ہے۔ اس سوال و جواب کا خاتمہ بھی قیامت کے منظر پر ہوتا ہے کہ جس طرح ان کا اعتراض الٹا ہے ‘ اسی طرح وہ جہنم میں الٹے ڈالے جائیں گے۔
الفرقان 25:26
درس نمبر 158 ایک نظر میں
اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں سے بعض مناظر کی جھلکیاں دکھا دی جاتی ہیں۔ اور یہی ان کی گستاخی کا مناسب جواب ہے۔ ان کی گستاخی یہ تھی۔
لولا انزل۔۔۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں یا ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ اس کے بعد ان کا یہ اعتراض نقل کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم ٹکڑوں کی شکل میں کیوں اترا ہے۔ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ بیان کردیا جاتا ہے کہ کیوں قرآن مجید مسلسل ٹکڑوں کی شکل میں اترا۔ رسول اللہ کو تسلی دی جاتی ہے کہ جب بھی وہ مباحثہ کر کے کوئی بات لاتے ہیں ‘ ہم بھی نئی تاویل آپ کو دے دیتے ہ ہیں اور بہترین تفسیر اور تشریح کردیتے ہیں۔ اس کے بعد حضور اور آپ کے مخالفین کے غور کے لیے بعض مکذبین کی ہلاکت کے وقت کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے کہ یہ اقوام کس طرح ہلاک کی گئیں۔ ذرا قوم لوط کے کھنڈرات پر تو غور کرو ، تم رات دن ان پر سے گزرتے ہو۔ قرآن کریم ان پر سخت گرفت کرتا ہے کہ جب یہ رات دن ان کھنڈرات کو دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ یہ سب باتیں اس لیے لائی گئی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات پر جو اعتراضات کرتے تھے ‘ اس کا ایک بیان یہاں دے دیا جائے۔ یہ واقعات دے کر ان پر ایک زور دار تبصرہ کیا جاتا ہے۔ اس میں ان کا نہایت ہی حقارت آمیز نقشہ کھینچا جاتا ہے اور نہایت ہی حقیقت پسندانہ ‘
ان ہم۔۔۔۔۔۔ ہم اضل (25 : 44) ” یہ تو بس حیوانوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں “۔
وقال الذین۔۔۔۔۔ للانسان خذولا
مشرکین کو ہماری ملاقات کی امید نہیں ہے اور نہ وہ اس کا انتظار کرتے ہیں اور نہ وہ اس کو کوئی اہمیت دیتے ہیں نہ اپنی زندگی اور اس کی سرگرمیوں کو وہ اس نظریہ کے مطابق قائم کرتے ہیں۔ چناچہ ان کے دلوں میں نہ اللہ کا خوف ہے ‘ نہ اللہ کی محبت اور وقار ہے۔ اس لیے اللہ کے حوالے سے بھی ان کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو کبھی بھی ایسے شخص کی زبان سے نہیں نکل سکتے جسے خدا کا خوف ہو۔
وقال الذین۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں ؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ یہ لوگ اس بات کو مسعبد سمجھتے تھے کہ کوئی رسول بشر بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ مطالبہ کرتے تھے کہ جس عقیدے کی طرف ہمیں دعوت دی جا رہی ہے ‘ کوئی فرشتہ اترے اور وہ اس پر شہادت دے۔ یا یہ کہ وہ خود باری تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اس کی تصدیق کریں۔ یہ دراصل اللہ کے مقام اور مرتبہ پر دست درازی ہے اور اس جاہل اور سرکش کا مطالبہ ہے جو مقام رب العالمین کا کوئی احساس نہیں رکھتا اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدراسی طرح نہیں کرتا جس طرح حق تعالیٰ کی قدر ہونا چاہئے۔ یہ گستاخی کرنے والے کون ہوتے ہیں اور ان کی اللہ کے مقابلے میں حیثیت ہی کیا ہے جو برگزیدہ ‘ جبار اور کبیر ہے۔ یہ اللہ کی عظیم مملکت اور اللہ کی اس عظیم کائنات میں حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں۔ ایک حقیر ذرے کی حیثیت تو ان کی ہے۔ انسان کی اس کائنات میں کوئی حیثیت اگر بنتی بھی ہے تو تب بنتی ہے کہ وہ اپنا تعلق اللہ سے جوڑ کر اور اپنا وزن ایمان کے ذریعہ بڑھا کر اپنی کچھ حیثیت پیدا کرے۔ چناچہ اس آیت کے اندر بات ختم کرنے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ بتا دیتا ہے کہ اس گستاخی کا سبب کیا ہے۔
لقد اسنکبرو۔۔۔۔ کبیرا (25 : 21) ” بڑا گھمنڈ لیے بیٹھے ہیں یہ اپنے نفسوں میں اور حد سے گزر گئے ہیں یہ اپنی سرکشی میں “۔ وہ اپنے خیال میں بہت پڑی شے ہیں۔ چناچہ وہ گھمنڈ میں مبتلا ہیں اور اس گھمنڈ کی وجہ سے بہت ہی بڑی سرکشی میں مبتلا ہیں۔ یہ اپنے اندر اس قدر مست ہیں کہ حقیقی قدروں کا صیحح وزن نہیں کرسکتے۔ اب ان لوگوں کی عادت یہ ہے کہ یہ لوگ صرف اپنے نفس کا احساس کرتے ہیں۔ ان کا نفس ان کی نظروں میں اس قدر بڑی چیز ہے کہ اس کائنات میں وہ اپنے نفس ہی کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ اس قدر بڑی چیز کہ اللہ جل شانہ کو بھی اس کے سامنے ظاہر ہونا چاہئے تاکہ وہ اسے دیکھ کر اس کی تصدیق کریں اور اس پر ایمان لائیں۔
ان کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اللہ بطور مذاق اور استہزاء ان کے سامنے ان کی بد حالی اور لاچاری کا ایک نقشہ پیش کرتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جب قیامت کے دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے (ملائکہ کا دیکھنا بھی ان کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ تھا) تو اس چن ان پر برا دن ہوگا۔ ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے سامنے وہ عذاب موجود ہو گا جو ٹلنے والا نہ ہوگا ‘ اس سے نجات کی ان کو کوئی صورت نظر ہی نہ آئے گی اور یہ عذاب اور جزاء کا دن ہوگا۔
یوم یرون۔۔۔۔۔۔۔ حجرا محجورا (25 : 22) وقدمناالیٰ ۔۔۔ ھباء منثورا (25 : 23) ” جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن ہو نہ گا۔ چیخ اٹھیں گے کہ پناہ بخدا ‘ اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے “۔ جس دن ان کے اس مطالبے پر عمل ہوگا اور فرشتے سامنے آجائیں گے۔ یرون الملئکتہ یہ ان فرشتوں کو دیکھ لیں گے۔ لیکن اس دن ان کے لیے کوئی خوشخبری نہ ہوگی بلکہ ان کے لیے عذاب کی خبر ہوگی۔ تو ان کا مطالبہ عجیب انداز میں پورا ہوگا۔ اس دن تو وہ یوں گویا ہوں گے۔ حجرا محجورا (25 : 22) ” خدا کی پناہ “۔ حرام اور ممنوع ۔ یہ جملہ وہ شر سے بچنے کے لیے کہتے تھے۔ دشمنوں کو کہتے تھے۔ یہ وہ دشمنوں کے ہلاک ہونے اور ان کے شر سے محفوظ ہونے کے لیے کہتے تھے۔ یہ فقرہ قیامت میں ان کی زبان سے نکل پڑے گا۔ جس طرح یہ فقرہ وہ دنیا میں شر سے پناہ مانگنے کے لیے بال دیتے تھے۔ آج ان کو خدا کی پناہ نصیب کب ہو سکتی ہے۔ آج وہ لاکھ مرتبہ خدا کی پناہ مانگیں ‘ ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور وہ جو انہوں نے کہا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑادیں گے “۔ یہ عمل ایک لحظ میں مکمل ہوجائے گا۔ ان کے تمام اعمال غبار کی شکل میں اڑا دیئے جائیں گے۔ انداز تعبیر کو ذرا دیکھئے۔ ہمارا خیال اس طرح دیکھتا ہے کہ ایک صاحب جسم ذات آتی ہے اور ان کے اعمال کو لے کر غبار کی طرح اڑا دیتی ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز تجیم اور تحیل۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے دنیا میں اعمال صالحہ کی شکل میں جو کچھ جمع کیا تھا وہ غبار کردیا جاتا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ ان کے یہ اعمال ایمان پر مبنی نہ تھے۔ ایمان کے ذریعہ ہی انسان اللہ تک پہنچتا ہے۔ ایمان اعمال صالحہ کو ایک منہاج اور ایک پختگی اور دوام بخشتا ہے اور یہ اعمال ایک مقصد اور ا کی سمت رکھتے ہیں۔ نہ یہ کسی وقتی جذبے کے تحت صادر ہوتے ہیں اور نہ کسی ایسے شخص کی دوڑ دھوپ ہوتی ہے جس کو صیحح راہ اور سمت معلوم ہی نہیں ویسے ہی ادھر ادھر بھاگتا ہے۔ یا محض بےمقصد دوڑ دھوپ ہے۔ اسلام میں کسی ایسے عمل صالح کی کوئی قیمت نہیں ہے جس کی کوئی سمت ‘ کوئی مقصد اور کوئی روح متعین نہ ہو۔ کیونکہ ایسے اعمال کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہوتا۔
اس کائنات میں انسان کا وجود ‘ اس کے اعمال ‘ اس کی زندگی کی دوڑ دھوپ دراصل اس کائنات کی حقیقت سے مربوط ہیں۔ یہ انسان بھی ناموس فطرت کا ایک پرزہ ہے۔ اور یہ پوری کائنات ذات باری سے مربوط ہے۔ اس میں انسان اور اس کی تمام سرگرمیاں شامل ہیں۔ اگر انسان کی تگ و دو اور اس کی حرکت اور دوڑ دھوپ اس اصلی نور سے کٹ جائے تو وہ بےمقصد ہوجاتی ہے۔ وہ ضائع ہوجاتی ہے اور اس کا کوئی وزن اور قدرو قیمت عنداللہ نہیں ہوتی۔ اس کے اعمال کا نہ کوئی حساب ہوگا اور نہ یہ اس کی کوئی قدرو قیمت ہوگی بلکہ اسلامی نظر میں اس کا وجود یہ نہیں ہے۔ وہ محض ہوا اور غبار ہے۔
ایمان انسان کو رب تک پہنچاتا ہے۔ اس طرح پھر اللہ رب العالمین کے ہاں اس کے اعمال کا بھی وزن ہوتا ہے۔ اور اس کائنات کے حساب میں اس کا حساب رکھا جاتا ہے اور اس کے اعمال اس کائنات کی تعمیرو ترقی میں دکھائے جاتے ہیں۔ ان مشرکوں کا چونکہ ایمان نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کے اعمال کو کالعدم کردیا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے نہایت ہی مجسم اور حسی انداز تعبیر اخیتار کیا ہے۔
وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور ہم ان اعمال کی طرف بڑھے جو انہوں نے کیے تھے تو ان اعمال کو غبار کر طرح اڑادیا “۔
اور مومنین کا حال کیا ہوگا۔ تقابل کے لیے وہ بھی ملاحظہ ہو۔ یہ اصحاب جنت ہیں۔
اصحب الجنتہ۔۔۔۔ احسن مقیلا (25 : 24) ” پس وہی لوگ جو جنت کے مستحق ہیں اس دن اچھی جگہ ٹھریں گے اور وہ دوپہر گزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے “۔ وہ نہایت آرام ‘ خوشی اور استقلال کے ساتھ گھنے سایوں میں رہیں گے۔ اور یہاں مستقر کا لفظ کافروں کے اعمال کی ناپختگی اور ہوا میں غبار کی طرح اڑ جانے کے بالمقابل لایا گیا ہے اور دوپہر کا آرام اور سکون مقابل ہے۔ اہل کفر کے جزع و فزع کا ‘ کہ وہ بےاختیار ہو کر اب خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور کہتے ہیں حجرا محجورا (25 : 22) کفار نبی ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ اللہ ان کے سامنے بادلوں کے سایہ میں آئے اور فرشتے آپ کے ساتھ ہوں۔ یہ مطالبے وہ بنی اسرائیل کی کہانیاں سن کر کرتے تھے کہ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائے میں اتر رہا ہے۔ یا ایک آگ کے عمودی شعلے کی شکل میں۔ چناچہ قرآن کریم ایک دوسرے انداز میں قیامت کے دن ان کے مطالبے کے پورا ہونے کا ایک منظر پیش کرتا ہے جس دن فرشتے اتریں گے۔
ویوم تشقق۔۔۔۔ تنزیلا (25 : 25) الملک یو ۔۔۔ الکفرین عسیرا (25 : 26) ” اس روز ایک بادل آسمان کو چیرتا ہوا نمودار ہوگا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیئے جائیں گے۔ اس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمن کی ہوگی۔ اور وہ منکرین کے لیے سخت دن ہوگا “۔ یہ آیت اور قرآن کریم کی بیشمار دوسری آیات یہ بتلاتی ہیں کہ اس دن نہایت ہی بڑے فلکیاتی واقعات و حادثات ہوں گے۔ اور تمام ایسی آیات کا اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کائنات جو ہمیں نظر آتی ہے اور اس کا یہ نظام جو ہمیں نظر آتا ہے ‘ یہ سب کا سب درہم برہم ہوجائے گا۔ اس کے تمام افلاک ‘ کو آب اور ستارے باہم ٹکرا جائیں گے۔ اس کائنات کے نظام ‘ اشیاء کے باہم روابط ‘ اور یہ چیز کی موجودہ شکل بدل جائے گی اور یہ حادثہ اس دنیا کا اختتام ہوگا۔ یہ کائناتی انقلاب صرف زمین تک محدود نہ ہوگا۔ اس کی زد میں تمام ستارے ‘ تمام آسمان اور تمام کوکب آئیں گے۔ یہاں مناسب ہے کہ یہاں اس انقلاب کے بعض مناظر پیش کر یئے جائیں جو متعدد سورتوں میں آئے ہیں۔
اذا الشمس کورت۔۔۔ سجرت (81 : 1 تا 3 و 6) ” جب سورج لپیٹ دیا جائے گا جب تارے بکھر جائیں گے ‘ جب پہاڑ ملائے جائیں گے۔۔۔۔۔ اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے “۔
اذا السمائ۔۔۔۔۔ القبور بعثرت (82 : اتا 4) ” جب آسمان پھٹ جائے گا ‘ جب تارے بکھر جائیں گے اور سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے اور جب قبریں کھول دی جائیں گی “۔
اذا السماء انشقت۔۔۔۔ لربھا و حقت (84 : 1 تا 5) ” جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لیے حق یہی ہے اور جب زمین پھیلا دی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے ‘ اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے)
اذا اجت۔۔۔۔۔ ھباء منبثا (56 : 4 تا 6) ” جب زمین یکبارگی بلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ بن کر رہ جائیں گے “۔
فاذانفخ فی۔۔۔۔ یومئذواھیتہ (69 : 13 تا 16) ” پھر جب ایک دفعہ صور میں پھونک ماردی جائے گی اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک یہ چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ اس رہز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا “۔
یوم تکون۔۔۔ کالعھن (70 : 8۔ 9) ” جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے “۔
اذا زلزلت۔۔۔۔ اتقالھا (99 : 1۔ 2) ” جب زمین اپنی پوری قوت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی اور زمین اپنے اندر کے بوجھ باہر نکال دے گی “۔
یوم یکون۔۔۔۔۔ المنفوش (101 : 4۔ 5) ” وہ دن جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون کی طرح ہوں گے “۔
فارتقب یوم ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (44 : 10۔ 11) ” اچھا انتظار کرو جب آسمان صریح دھواں لائے گا اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ہے دردناک سزا “۔
یوم ترجف۔۔۔۔ کثیبا مھیلا (73 : 14) ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جا رہے ہیں “۔
السماء منفطر بہ (73 : 18) ” آسمان پھٹا جا رہا ہوگا اس دن “۔
کلا اذا دکت الارض دکا (89 : 21) ” ہر گز نہیں جب زمین پے در پے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بجا دی جائے گی “۔
فاذا برق۔۔۔۔۔ والقمر (75 : 7 تا 9) ” پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند اور سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے “۔
فاذا النجوم۔۔۔۔ الجبال نسفت (77 : 8 تا 10) ” پھر جب ستارے ماند پڑجائیں گے اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے “۔
ویسئلونک عن۔۔۔۔ ولا امتا (20 : 105 تا 107) ” یہ اگر آپ سے پوچھتے ہیں کہ اس دن پہاڑ کہاں چلے جائیں گے۔ کہو میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں کوئی بھی کجی اور سلوٹ نہ دیکھو گے “۔
وتری الجبال۔۔۔۔ السحاب (27ـ : 88) ” آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب ہوئے ہیں مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے “۔
و یوم نسیر۔۔۔۔۔ الارض بارزۃ (18 : 47) ” جب ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو بالکل برہنہ پائو گے “۔
یوم تبدل ۔۔۔۔ والسموت (14 : 48) ” اس روز جبکہ زمین و آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کردیئے جائیں گے “۔
یوم نطوی۔۔۔۔ للکتب (21 : 104) ” وہ دن جبکہ آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں “۔ یہ تمام آیات بتاتی ہیں کہ ہماری اس دنیا کا انجام نہایت ہی خوفناک ہوگا۔ اس میں اس زمین کو بلا مارا جائے گا اور اجسام عظیمہ ایک دوسرے کے ساتھ دھماکے سے ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے۔ سمندر پھٹ جائیں گے یعنی کرئہ ارض کے اضطرابات کی وجہ سے یا سمندروں کے ذرات پھٹ جائیں گے اور تابکاری سے پانیوں میں آگ لگ جائے گی۔ چمکدار ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا اور ٹکرے ٹکرے ہوگا۔ کواکب ایک دوسرے کے ساتھ ٹکڑا کر ریزہ ریزہ ہو کر منتشر ہوجائیں گے۔ تمام آسمانی دوریاں ختم ہوجائیں گی۔ شمس وقمر ایک ہوجائیں گے۔ آسمان کبھی سیاہ دھوئیں کی طرح ہوگا اور کبھی آگ کے شعلے کی طرح ہوگا۔ غرض یہ ایک ہولناک گھڑی ہوگی اور اس میں انسان سخت خوفزدہ ہوگا۔
غرض ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو اس بات سے ذراتا ہے ہیں کہ اس روز آسمان کو چیرتا ایک بادل نمودار ہوں گے اور اس دن فرشتوں کے پرے کافرین پر نازل ہوں گے ‘ جیسا کہ ان کا مطالبہ تھا۔ یہ مبالبہ وہ حضرت محمد ﷺ کی تصدیق کے لیے نہ کرتے تھے یہ فرشتے اللہ کے حکم سے اللہ کا عذاب لے کر آئیں گے۔
وکان یوما۔۔۔۔ عسیرا (25 : 26) ” اور منکرین کے لیے یہ پڑا سخت دن ہوگا “۔ کیونکہ اس دن میں سخت عذاب سامنے وہ گا اس لیے وہ ایک ہولناک دن ہوگا۔ یہ لوگ کم علمی سے نزول ملائکہ کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ ملائکہ عذاب لے کر آتے ہیں۔
اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر لایا جاتا ہے۔ اس میں یہ گمراہ اور ظالم بہت زیادہ شرمندہ ہوں گے۔ یہ منظر بہت یہ طویل ہے۔ اس قدر طویل کہ ناظرین یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ منظر چلتا ہی رہے گا۔ یہ ظالم نہایت ندامت اور حسرت کی وجہ سے ہاتھ کاٹ رہا ہے ‘ خود اپنے ہاتھ۔
ویوم یعض۔۔۔ للانسان خذولا (25 : 27 تا 29) ” ظالم انسان اپنے ہاتھ چبائے گا اور کہے گا ” کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی کاش میں نے فلاں شخض کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی۔ شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفا بکلا “۔ یہ شخض اس گہرے تاسف کا اظہار کر رہا ہے اور اس کے ماحول پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔ یہ شخض اپنی حسر تناک آواز کو بلند کرتے چلا جاتا ہے۔ اس کی چیخیں اس قدر دلدوز ہیں اور ان کا اثر اس قدر طویل ہے کہ یہ محفل طویل ہوتی جارہی ہے۔ اثرات عمیق ہوتے جارہے ہیں۔ یہاں تک آج بھی ان آیات کا پڑھنے والا گہرا تاسف لے لیتا ہے۔ منظر کو دیکھنے والے شریک غم ہوجاتے ہیں۔
ویوم یعض الظالم علی یدیہ (25 : 27) ” اس دن یہ ظالم اپنے ہاتھ چبائے گا “۔ یہ صرف ایک ہاتھ کو نہ چبائے گا بلکہ دونوں ہاتھوں کو چبائے گا۔ کبھی اس کو کبھی اس کو۔ یہ شدت غم کی وجہ سے اپنے ہاتھوں پر اپنا غصہ اتارے گا۔ ہاتھوں کو چبانا اشارہ اس طرف ہے کہ اس دن ظالم کی نفسیاتی حالت کیا ہوگی۔ اس کے غم اور اندوہ کو نہایت یہ مجسم فعل اور حرکت کے ساتھ ظاہر کیا گیا ہے یعنی غم کو یہ برداشت نہ کرسکے گا۔
یقول یلیتنی۔۔۔۔ سبیلا (25 : 27) ” کہے گا کاش میں نے رسول اللہ کا ساتھ دیا ہوتا “۔ رسول کے طریقے پر چلا ہوتا۔ رسول سے علیحدہ نہ ہوا ہوتا۔ وہ رسول جس کی رسالت کا وہ منکر تھا ‘ اس لیے کہ یہ رسول بشرکیوں ہے۔
یویلتی لیتنی۔۔۔۔۔ خلیلا (25 : 28) ” میری کم بختی ! کاش میں فلاں کو اپنا دوست نہ بناتا “۔ فلاں کو عام کردیا ہے۔ کسی کا نام نہیں لیا تاکہ اس میں تمام گمراہ کنند گان شامل ہوجائیں۔ تمام دوست جو دوستوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں لیکن روایات میں آتا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول عقبہ ابن معیط ہے۔ یہ شخض نبی ﷺ کے ساتھ بہت ہی بیٹھتا اٹھتا تھا۔ اس نے نبی ﷺ کو ضیافت کے لیے بلایا تو حضور نے فرمایا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تک تم دو باتوں کی شہادت نہ دو ۔ چناچہ اس نے ایسا کیا۔ ابی ابن خلف بھی اس کا دوست تھا۔ اس نے اسے بہت ہی شرمندہ کیا۔ اور کہا تو بےدین ہوگیا ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ خدا کی قسم میں نے محمد کے دین کو قبول نہیں کیا۔ لیکن اس نے کہا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تم کلمہ شہادت ادا نہ کرو۔ حالانکہ وہ میرے گھر میں تھے اور میرا کھانا نہ کھاتے تھے۔ مجھے اس سے بڑی شرم آئی کہ وہ میرا کھانا نہ کھائے۔ اس لیے میں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا۔ تو ابی ابن خلف نے کہا خدا کی قسم میں تم سے تب راضی ہوں گا کہ تم اس کی گردن دبا کر اس کے منہ پر تھوکو۔ حضور اسے دارالندوہ میں سجدہ کرتے ہوئے مل گئے۔ اور اس (بد بخت) نے ایسا ہی کیا۔ اسے حضور اکرم نے فرمایا کی مکہ سے باہر تم جب بھی مجھے ملو گے میں تمہارا سر اڑا دوں گا۔ یہ شخض بدر کے دن گرفتار ہوا۔ آپ نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ اس کی گردن اڑا دو ۔
لقد اضلنی۔۔۔ جاء نی (25 : 29) ” اس کے بہکاوے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس گئی تھی “۔ یہ دراصل شیطان تھا جو گمراہ کر رہا تھا یا شیطان کا مدد گار تھا۔
وکان۔۔۔۔ خذولا (25 : 29) ” اور شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفانکلا “۔ وہ انسان کو شرمندگی کے انجام تک پہنچاتا ہے۔ اور جب سچائی کا وقت آتا ہے کہ ہمیشہ شیطان بھاگ جایا کرتے ہیں۔ خصوصاً ہولناک اور کربناک مناظرو مواقع میں۔
یوں قرآن کریم نے ان لوگوں کے دلوں کو جھنجوڑا۔ ان کے سامنے ان کے انجام کو کپکپا دینے والے مناظر کی شکل میں پیش کیا۔ اس طرح کہ گویا وہ ایک واقعہ ہے جسے دیکھا جارہا ہے۔ حالانکہ وہ لوگ ابھی اس زمین پر ہی ہیں جو اللہ کی تکذیب کررہے ہیں اور اللہ کے سامنے پیش ہونے کا بڑی حقارت کے ساتھ انکار کررہے ہیں اور ایسے مطالبات کررہے ہیں جو بیہودہ ہیں۔ حالانکہ وہاں نہایت ہی خوفناک صورت حال سے دو چار ہونے والے ہیں اور نہایت ہی شرمساری اور ندامت سے دوچار ہوں گے لیکن اس وقت ندامت کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
اب روئے سخن مناظر قیامت سے اس دنیا کی طرف آجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے انہوں نے جو موقف اختیار کر رکھا ہے اس پر بات ہوتی ہے۔ اب ان کا اعتراض یہ ہے کہ قرآن مجید سب کا سب ایک ہی مرتبہ کیوں نازل نہیں ہوگیا۔ موجود انداز نزول قرآن قابل اعتراض ہے۔ اس سوال و جواب کا خاتمہ بھی قیامت کے منظر پر ہوتا ہے کہ جس طرح ان کا اعتراض الٹا ہے ‘ اسی طرح وہ جہنم میں الٹے ڈالے جائیں گے۔
الفرقان 25:27
درس نمبر 158 ایک نظر میں
اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں سے بعض مناظر کی جھلکیاں دکھا دی جاتی ہیں۔ اور یہی ان کی گستاخی کا مناسب جواب ہے۔ ان کی گستاخی یہ تھی۔
لولا انزل۔۔۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں یا ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ اس کے بعد ان کا یہ اعتراض نقل کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم ٹکڑوں کی شکل میں کیوں اترا ہے۔ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ بیان کردیا جاتا ہے کہ کیوں قرآن مجید مسلسل ٹکڑوں کی شکل میں اترا۔ رسول اللہ کو تسلی دی جاتی ہے کہ جب بھی وہ مباحثہ کر کے کوئی بات لاتے ہیں ‘ ہم بھی نئی تاویل آپ کو دے دیتے ہ ہیں اور بہترین تفسیر اور تشریح کردیتے ہیں۔ اس کے بعد حضور اور آپ کے مخالفین کے غور کے لیے بعض مکذبین کی ہلاکت کے وقت کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے کہ یہ اقوام کس طرح ہلاک کی گئیں۔ ذرا قوم لوط کے کھنڈرات پر تو غور کرو ، تم رات دن ان پر سے گزرتے ہو۔ قرآن کریم ان پر سخت گرفت کرتا ہے کہ جب یہ رات دن ان کھنڈرات کو دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ یہ سب باتیں اس لیے لائی گئی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات پر جو اعتراضات کرتے تھے ‘ اس کا ایک بیان یہاں دے دیا جائے۔ یہ واقعات دے کر ان پر ایک زور دار تبصرہ کیا جاتا ہے۔ اس میں ان کا نہایت ہی حقارت آمیز نقشہ کھینچا جاتا ہے اور نہایت ہی حقیقت پسندانہ ‘
ان ہم۔۔۔۔۔۔ ہم اضل (25 : 44) ” یہ تو بس حیوانوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں “۔
وقال الذین۔۔۔۔۔ للانسان خذولا
مشرکین کو ہماری ملاقات کی امید نہیں ہے اور نہ وہ اس کا انتظار کرتے ہیں اور نہ وہ اس کو کوئی اہمیت دیتے ہیں نہ اپنی زندگی اور اس کی سرگرمیوں کو وہ اس نظریہ کے مطابق قائم کرتے ہیں۔ چناچہ ان کے دلوں میں نہ اللہ کا خوف ہے ‘ نہ اللہ کی محبت اور وقار ہے۔ اس لیے اللہ کے حوالے سے بھی ان کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو کبھی بھی ایسے شخص کی زبان سے نہیں نکل سکتے جسے خدا کا خوف ہو۔
وقال الذین۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں ؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ یہ لوگ اس بات کو مسعبد سمجھتے تھے کہ کوئی رسول بشر بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ مطالبہ کرتے تھے کہ جس عقیدے کی طرف ہمیں دعوت دی جا رہی ہے ‘ کوئی فرشتہ اترے اور وہ اس پر شہادت دے۔ یا یہ کہ وہ خود باری تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اس کی تصدیق کریں۔ یہ دراصل اللہ کے مقام اور مرتبہ پر دست درازی ہے اور اس جاہل اور سرکش کا مطالبہ ہے جو مقام رب العالمین کا کوئی احساس نہیں رکھتا اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدراسی طرح نہیں کرتا جس طرح حق تعالیٰ کی قدر ہونا چاہئے۔ یہ گستاخی کرنے والے کون ہوتے ہیں اور ان کی اللہ کے مقابلے میں حیثیت ہی کیا ہے جو برگزیدہ ‘ جبار اور کبیر ہے۔ یہ اللہ کی عظیم مملکت اور اللہ کی اس عظیم کائنات میں حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں۔ ایک حقیر ذرے کی حیثیت تو ان کی ہے۔ انسان کی اس کائنات میں کوئی حیثیت اگر بنتی بھی ہے تو تب بنتی ہے کہ وہ اپنا تعلق اللہ سے جوڑ کر اور اپنا وزن ایمان کے ذریعہ بڑھا کر اپنی کچھ حیثیت پیدا کرے۔ چناچہ اس آیت کے اندر بات ختم کرنے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ بتا دیتا ہے کہ اس گستاخی کا سبب کیا ہے۔
لقد اسنکبرو۔۔۔۔ کبیرا (25 : 21) ” بڑا گھمنڈ لیے بیٹھے ہیں یہ اپنے نفسوں میں اور حد سے گزر گئے ہیں یہ اپنی سرکشی میں “۔ وہ اپنے خیال میں بہت پڑی شے ہیں۔ چناچہ وہ گھمنڈ میں مبتلا ہیں اور اس گھمنڈ کی وجہ سے بہت ہی بڑی سرکشی میں مبتلا ہیں۔ یہ اپنے اندر اس قدر مست ہیں کہ حقیقی قدروں کا صیحح وزن نہیں کرسکتے۔ اب ان لوگوں کی عادت یہ ہے کہ یہ لوگ صرف اپنے نفس کا احساس کرتے ہیں۔ ان کا نفس ان کی نظروں میں اس قدر بڑی چیز ہے کہ اس کائنات میں وہ اپنے نفس ہی کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ اس قدر بڑی چیز کہ اللہ جل شانہ کو بھی اس کے سامنے ظاہر ہونا چاہئے تاکہ وہ اسے دیکھ کر اس کی تصدیق کریں اور اس پر ایمان لائیں۔
ان کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اللہ بطور مذاق اور استہزاء ان کے سامنے ان کی بد حالی اور لاچاری کا ایک نقشہ پیش کرتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جب قیامت کے دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے (ملائکہ کا دیکھنا بھی ان کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ تھا) تو اس چن ان پر برا دن ہوگا۔ ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے سامنے وہ عذاب موجود ہو گا جو ٹلنے والا نہ ہوگا ‘ اس سے نجات کی ان کو کوئی صورت نظر ہی نہ آئے گی اور یہ عذاب اور جزاء کا دن ہوگا۔
یوم یرون۔۔۔۔۔۔۔ حجرا محجورا (25 : 22) وقدمناالیٰ ۔۔۔ ھباء منثورا (25 : 23) ” جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن ہو نہ گا۔ چیخ اٹھیں گے کہ پناہ بخدا ‘ اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے “۔ جس دن ان کے اس مطالبے پر عمل ہوگا اور فرشتے سامنے آجائیں گے۔ یرون الملئکتہ یہ ان فرشتوں کو دیکھ لیں گے۔ لیکن اس دن ان کے لیے کوئی خوشخبری نہ ہوگی بلکہ ان کے لیے عذاب کی خبر ہوگی۔ تو ان کا مطالبہ عجیب انداز میں پورا ہوگا۔ اس دن تو وہ یوں گویا ہوں گے۔ حجرا محجورا (25 : 22) ” خدا کی پناہ “۔ حرام اور ممنوع ۔ یہ جملہ وہ شر سے بچنے کے لیے کہتے تھے۔ دشمنوں کو کہتے تھے۔ یہ وہ دشمنوں کے ہلاک ہونے اور ان کے شر سے محفوظ ہونے کے لیے کہتے تھے۔ یہ فقرہ قیامت میں ان کی زبان سے نکل پڑے گا۔ جس طرح یہ فقرہ وہ دنیا میں شر سے پناہ مانگنے کے لیے بال دیتے تھے۔ آج ان کو خدا کی پناہ نصیب کب ہو سکتی ہے۔ آج وہ لاکھ مرتبہ خدا کی پناہ مانگیں ‘ ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور وہ جو انہوں نے کہا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑادیں گے “۔ یہ عمل ایک لحظ میں مکمل ہوجائے گا۔ ان کے تمام اعمال غبار کی شکل میں اڑا دیئے جائیں گے۔ انداز تعبیر کو ذرا دیکھئے۔ ہمارا خیال اس طرح دیکھتا ہے کہ ایک صاحب جسم ذات آتی ہے اور ان کے اعمال کو لے کر غبار کی طرح اڑا دیتی ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز تجیم اور تحیل۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے دنیا میں اعمال صالحہ کی شکل میں جو کچھ جمع کیا تھا وہ غبار کردیا جاتا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ ان کے یہ اعمال ایمان پر مبنی نہ تھے۔ ایمان کے ذریعہ ہی انسان اللہ تک پہنچتا ہے۔ ایمان اعمال صالحہ کو ایک منہاج اور ایک پختگی اور دوام بخشتا ہے اور یہ اعمال ایک مقصد اور ا کی سمت رکھتے ہیں۔ نہ یہ کسی وقتی جذبے کے تحت صادر ہوتے ہیں اور نہ کسی ایسے شخص کی دوڑ دھوپ ہوتی ہے جس کو صیحح راہ اور سمت معلوم ہی نہیں ویسے ہی ادھر ادھر بھاگتا ہے۔ یا محض بےمقصد دوڑ دھوپ ہے۔ اسلام میں کسی ایسے عمل صالح کی کوئی قیمت نہیں ہے جس کی کوئی سمت ‘ کوئی مقصد اور کوئی روح متعین نہ ہو۔ کیونکہ ایسے اعمال کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہوتا۔
اس کائنات میں انسان کا وجود ‘ اس کے اعمال ‘ اس کی زندگی کی دوڑ دھوپ دراصل اس کائنات کی حقیقت سے مربوط ہیں۔ یہ انسان بھی ناموس فطرت کا ایک پرزہ ہے۔ اور یہ پوری کائنات ذات باری سے مربوط ہے۔ اس میں انسان اور اس کی تمام سرگرمیاں شامل ہیں۔ اگر انسان کی تگ و دو اور اس کی حرکت اور دوڑ دھوپ اس اصلی نور سے کٹ جائے تو وہ بےمقصد ہوجاتی ہے۔ وہ ضائع ہوجاتی ہے اور اس کا کوئی وزن اور قدرو قیمت عنداللہ نہیں ہوتی۔ اس کے اعمال کا نہ کوئی حساب ہوگا اور نہ یہ اس کی کوئی قدرو قیمت ہوگی بلکہ اسلامی نظر میں اس کا وجود یہ نہیں ہے۔ وہ محض ہوا اور غبار ہے۔
ایمان انسان کو رب تک پہنچاتا ہے۔ اس طرح پھر اللہ رب العالمین کے ہاں اس کے اعمال کا بھی وزن ہوتا ہے۔ اور اس کائنات کے حساب میں اس کا حساب رکھا جاتا ہے اور اس کے اعمال اس کائنات کی تعمیرو ترقی میں دکھائے جاتے ہیں۔ ان مشرکوں کا چونکہ ایمان نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کے اعمال کو کالعدم کردیا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے نہایت ہی مجسم اور حسی انداز تعبیر اخیتار کیا ہے۔
وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور ہم ان اعمال کی طرف بڑھے جو انہوں نے کیے تھے تو ان اعمال کو غبار کر طرح اڑادیا “۔
اور مومنین کا حال کیا ہوگا۔ تقابل کے لیے وہ بھی ملاحظہ ہو۔ یہ اصحاب جنت ہیں۔
اصحب الجنتہ۔۔۔۔ احسن مقیلا (25 : 24) ” پس وہی لوگ جو جنت کے مستحق ہیں اس دن اچھی جگہ ٹھریں گے اور وہ دوپہر گزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے “۔ وہ نہایت آرام ‘ خوشی اور استقلال کے ساتھ گھنے سایوں میں رہیں گے۔ اور یہاں مستقر کا لفظ کافروں کے اعمال کی ناپختگی اور ہوا میں غبار کی طرح اڑ جانے کے بالمقابل لایا گیا ہے اور دوپہر کا آرام اور سکون مقابل ہے۔ اہل کفر کے جزع و فزع کا ‘ کہ وہ بےاختیار ہو کر اب خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور کہتے ہیں حجرا محجورا (25 : 22) کفار نبی ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ اللہ ان کے سامنے بادلوں کے سایہ میں آئے اور فرشتے آپ کے ساتھ ہوں۔ یہ مطالبے وہ بنی اسرائیل کی کہانیاں سن کر کرتے تھے کہ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائے میں اتر رہا ہے۔ یا ایک آگ کے عمودی شعلے کی شکل میں۔ چناچہ قرآن کریم ایک دوسرے انداز میں قیامت کے دن ان کے مطالبے کے پورا ہونے کا ایک منظر پیش کرتا ہے جس دن فرشتے اتریں گے۔
ویوم تشقق۔۔۔۔ تنزیلا (25 : 25) الملک یو ۔۔۔ الکفرین عسیرا (25 : 26) ” اس روز ایک بادل آسمان کو چیرتا ہوا نمودار ہوگا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیئے جائیں گے۔ اس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمن کی ہوگی۔ اور وہ منکرین کے لیے سخت دن ہوگا “۔ یہ آیت اور قرآن کریم کی بیشمار دوسری آیات یہ بتلاتی ہیں کہ اس دن نہایت ہی بڑے فلکیاتی واقعات و حادثات ہوں گے۔ اور تمام ایسی آیات کا اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کائنات جو ہمیں نظر آتی ہے اور اس کا یہ نظام جو ہمیں نظر آتا ہے ‘ یہ سب کا سب درہم برہم ہوجائے گا۔ اس کے تمام افلاک ‘ کو آب اور ستارے باہم ٹکرا جائیں گے۔ اس کائنات کے نظام ‘ اشیاء کے باہم روابط ‘ اور یہ چیز کی موجودہ شکل بدل جائے گی اور یہ حادثہ اس دنیا کا اختتام ہوگا۔ یہ کائناتی انقلاب صرف زمین تک محدود نہ ہوگا۔ اس کی زد میں تمام ستارے ‘ تمام آسمان اور تمام کوکب آئیں گے۔ یہاں مناسب ہے کہ یہاں اس انقلاب کے بعض مناظر پیش کر یئے جائیں جو متعدد سورتوں میں آئے ہیں۔
اذا الشمس کورت۔۔۔ سجرت (81 : 1 تا 3 و 6) ” جب سورج لپیٹ دیا جائے گا جب تارے بکھر جائیں گے ‘ جب پہاڑ ملائے جائیں گے۔۔۔۔۔ اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے “۔
اذا السمائ۔۔۔۔۔ القبور بعثرت (82 : اتا 4) ” جب آسمان پھٹ جائے گا ‘ جب تارے بکھر جائیں گے اور سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے اور جب قبریں کھول دی جائیں گی “۔
اذا السماء انشقت۔۔۔۔ لربھا و حقت (84 : 1 تا 5) ” جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لیے حق یہی ہے اور جب زمین پھیلا دی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے ‘ اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے)
اذا اجت۔۔۔۔۔ ھباء منبثا (56 : 4 تا 6) ” جب زمین یکبارگی بلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ بن کر رہ جائیں گے “۔
فاذانفخ فی۔۔۔۔ یومئذواھیتہ (69 : 13 تا 16) ” پھر جب ایک دفعہ صور میں پھونک ماردی جائے گی اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک یہ چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ اس رہز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا “۔
یوم تکون۔۔۔ کالعھن (70 : 8۔ 9) ” جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے “۔
اذا زلزلت۔۔۔۔ اتقالھا (99 : 1۔ 2) ” جب زمین اپنی پوری قوت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی اور زمین اپنے اندر کے بوجھ باہر نکال دے گی “۔
یوم یکون۔۔۔۔۔ المنفوش (101 : 4۔ 5) ” وہ دن جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون کی طرح ہوں گے “۔
فارتقب یوم ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (44 : 10۔ 11) ” اچھا انتظار کرو جب آسمان صریح دھواں لائے گا اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ہے دردناک سزا “۔
یوم ترجف۔۔۔۔ کثیبا مھیلا (73 : 14) ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جا رہے ہیں “۔
السماء منفطر بہ (73 : 18) ” آسمان پھٹا جا رہا ہوگا اس دن “۔
کلا اذا دکت الارض دکا (89 : 21) ” ہر گز نہیں جب زمین پے در پے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بجا دی جائے گی “۔
فاذا برق۔۔۔۔۔ والقمر (75 : 7 تا 9) ” پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند اور سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے “۔
فاذا النجوم۔۔۔۔ الجبال نسفت (77 : 8 تا 10) ” پھر جب ستارے ماند پڑجائیں گے اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے “۔
ویسئلونک عن۔۔۔۔ ولا امتا (20 : 105 تا 107) ” یہ اگر آپ سے پوچھتے ہیں کہ اس دن پہاڑ کہاں چلے جائیں گے۔ کہو میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں کوئی بھی کجی اور سلوٹ نہ دیکھو گے “۔
وتری الجبال۔۔۔۔ السحاب (27ـ : 88) ” آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب ہوئے ہیں مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے “۔
و یوم نسیر۔۔۔۔۔ الارض بارزۃ (18 : 47) ” جب ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو بالکل برہنہ پائو گے “۔
یوم تبدل ۔۔۔۔ والسموت (14 : 48) ” اس روز جبکہ زمین و آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کردیئے جائیں گے “۔
یوم نطوی۔۔۔۔ للکتب (21 : 104) ” وہ دن جبکہ آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں “۔ یہ تمام آیات بتاتی ہیں کہ ہماری اس دنیا کا انجام نہایت ہی خوفناک ہوگا۔ اس میں اس زمین کو بلا مارا جائے گا اور اجسام عظیمہ ایک دوسرے کے ساتھ دھماکے سے ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے۔ سمندر پھٹ جائیں گے یعنی کرئہ ارض کے اضطرابات کی وجہ سے یا سمندروں کے ذرات پھٹ جائیں گے اور تابکاری سے پانیوں میں آگ لگ جائے گی۔ چمکدار ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا اور ٹکرے ٹکرے ہوگا۔ کواکب ایک دوسرے کے ساتھ ٹکڑا کر ریزہ ریزہ ہو کر منتشر ہوجائیں گے۔ تمام آسمانی دوریاں ختم ہوجائیں گی۔ شمس وقمر ایک ہوجائیں گے۔ آسمان کبھی سیاہ دھوئیں کی طرح ہوگا اور کبھی آگ کے شعلے کی طرح ہوگا۔ غرض یہ ایک ہولناک گھڑی ہوگی اور اس میں انسان سخت خوفزدہ ہوگا۔
غرض ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو اس بات سے ذراتا ہے ہیں کہ اس روز آسمان کو چیرتا ایک بادل نمودار ہوں گے اور اس دن فرشتوں کے پرے کافرین پر نازل ہوں گے ‘ جیسا کہ ان کا مطالبہ تھا۔ یہ مبالبہ وہ حضرت محمد ﷺ کی تصدیق کے لیے نہ کرتے تھے یہ فرشتے اللہ کے حکم سے اللہ کا عذاب لے کر آئیں گے۔
وکان یوما۔۔۔۔ عسیرا (25 : 26) ” اور منکرین کے لیے یہ پڑا سخت دن ہوگا “۔ کیونکہ اس دن میں سخت عذاب سامنے وہ گا اس لیے وہ ایک ہولناک دن ہوگا۔ یہ لوگ کم علمی سے نزول ملائکہ کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ ملائکہ عذاب لے کر آتے ہیں۔
اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر لایا جاتا ہے۔ اس میں یہ گمراہ اور ظالم بہت زیادہ شرمندہ ہوں گے۔ یہ منظر بہت یہ طویل ہے۔ اس قدر طویل کہ ناظرین یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ منظر چلتا ہی رہے گا۔ یہ ظالم نہایت ندامت اور حسرت کی وجہ سے ہاتھ کاٹ رہا ہے ‘ خود اپنے ہاتھ۔
ویوم یعض۔۔۔ للانسان خذولا (25 : 27 تا 29) ” ظالم انسان اپنے ہاتھ چبائے گا اور کہے گا ” کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی کاش میں نے فلاں شخض کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی۔ شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفا بکلا “۔ یہ شخض اس گہرے تاسف کا اظہار کر رہا ہے اور اس کے ماحول پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔ یہ شخض اپنی حسر تناک آواز کو بلند کرتے چلا جاتا ہے۔ اس کی چیخیں اس قدر دلدوز ہیں اور ان کا اثر اس قدر طویل ہے کہ یہ محفل طویل ہوتی جارہی ہے۔ اثرات عمیق ہوتے جارہے ہیں۔ یہاں تک آج بھی ان آیات کا پڑھنے والا گہرا تاسف لے لیتا ہے۔ منظر کو دیکھنے والے شریک غم ہوجاتے ہیں۔
ویوم یعض الظالم علی یدیہ (25 : 27) ” اس دن یہ ظالم اپنے ہاتھ چبائے گا “۔ یہ صرف ایک ہاتھ کو نہ چبائے گا بلکہ دونوں ہاتھوں کو چبائے گا۔ کبھی اس کو کبھی اس کو۔ یہ شدت غم کی وجہ سے اپنے ہاتھوں پر اپنا غصہ اتارے گا۔ ہاتھوں کو چبانا اشارہ اس طرف ہے کہ اس دن ظالم کی نفسیاتی حالت کیا ہوگی۔ اس کے غم اور اندوہ کو نہایت یہ مجسم فعل اور حرکت کے ساتھ ظاہر کیا گیا ہے یعنی غم کو یہ برداشت نہ کرسکے گا۔
یقول یلیتنی۔۔۔۔ سبیلا (25 : 27) ” کہے گا کاش میں نے رسول اللہ کا ساتھ دیا ہوتا “۔ رسول کے طریقے پر چلا ہوتا۔ رسول سے علیحدہ نہ ہوا ہوتا۔ وہ رسول جس کی رسالت کا وہ منکر تھا ‘ اس لیے کہ یہ رسول بشرکیوں ہے۔
یویلتی لیتنی۔۔۔۔۔ خلیلا (25 : 28) ” میری کم بختی ! کاش میں فلاں کو اپنا دوست نہ بناتا “۔ فلاں کو عام کردیا ہے۔ کسی کا نام نہیں لیا تاکہ اس میں تمام گمراہ کنند گان شامل ہوجائیں۔ تمام دوست جو دوستوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں لیکن روایات میں آتا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول عقبہ ابن معیط ہے۔ یہ شخض نبی ﷺ کے ساتھ بہت ہی بیٹھتا اٹھتا تھا۔ اس نے نبی ﷺ کو ضیافت کے لیے بلایا تو حضور نے فرمایا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تک تم دو باتوں کی شہادت نہ دو ۔ چناچہ اس نے ایسا کیا۔ ابی ابن خلف بھی اس کا دوست تھا۔ اس نے اسے بہت ہی شرمندہ کیا۔ اور کہا تو بےدین ہوگیا ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ خدا کی قسم میں نے محمد کے دین کو قبول نہیں کیا۔ لیکن اس نے کہا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تم کلمہ شہادت ادا نہ کرو۔ حالانکہ وہ میرے گھر میں تھے اور میرا کھانا نہ کھاتے تھے۔ مجھے اس سے بڑی شرم آئی کہ وہ میرا کھانا نہ کھائے۔ اس لیے میں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا۔ تو ابی ابن خلف نے کہا خدا کی قسم میں تم سے تب راضی ہوں گا کہ تم اس کی گردن دبا کر اس کے منہ پر تھوکو۔ حضور اسے دارالندوہ میں سجدہ کرتے ہوئے مل گئے۔ اور اس (بد بخت) نے ایسا ہی کیا۔ اسے حضور اکرم نے فرمایا کی مکہ سے باہر تم جب بھی مجھے ملو گے میں تمہارا سر اڑا دوں گا۔ یہ شخض بدر کے دن گرفتار ہوا۔ آپ نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ اس کی گردن اڑا دو ۔
لقد اضلنی۔۔۔ جاء نی (25 : 29) ” اس کے بہکاوے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس گئی تھی “۔ یہ دراصل شیطان تھا جو گمراہ کر رہا تھا یا شیطان کا مدد گار تھا۔
وکان۔۔۔۔ خذولا (25 : 29) ” اور شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفانکلا “۔ وہ انسان کو شرمندگی کے انجام تک پہنچاتا ہے۔ اور جب سچائی کا وقت آتا ہے کہ ہمیشہ شیطان بھاگ جایا کرتے ہیں۔ خصوصاً ہولناک اور کربناک مناظرو مواقع میں۔
یوں قرآن کریم نے ان لوگوں کے دلوں کو جھنجوڑا۔ ان کے سامنے ان کے انجام کو کپکپا دینے والے مناظر کی شکل میں پیش کیا۔ اس طرح کہ گویا وہ ایک واقعہ ہے جسے دیکھا جارہا ہے۔ حالانکہ وہ لوگ ابھی اس زمین پر ہی ہیں جو اللہ کی تکذیب کررہے ہیں اور اللہ کے سامنے پیش ہونے کا بڑی حقارت کے ساتھ انکار کررہے ہیں اور ایسے مطالبات کررہے ہیں جو بیہودہ ہیں۔ حالانکہ وہاں نہایت ہی خوفناک صورت حال سے دو چار ہونے والے ہیں اور نہایت ہی شرمساری اور ندامت سے دوچار ہوں گے لیکن اس وقت ندامت کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
اب روئے سخن مناظر قیامت سے اس دنیا کی طرف آجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے انہوں نے جو موقف اختیار کر رکھا ہے اس پر بات ہوتی ہے۔ اب ان کا اعتراض یہ ہے کہ قرآن مجید سب کا سب ایک ہی مرتبہ کیوں نازل نہیں ہوگیا۔ موجود انداز نزول قرآن قابل اعتراض ہے۔ اس سوال و جواب کا خاتمہ بھی قیامت کے منظر پر ہوتا ہے کہ جس طرح ان کا اعتراض الٹا ہے ‘ اسی طرح وہ جہنم میں الٹے ڈالے جائیں گے۔
الفرقان 25:28
درس نمبر 158 ایک نظر میں
اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں سے بعض مناظر کی جھلکیاں دکھا دی جاتی ہیں۔ اور یہی ان کی گستاخی کا مناسب جواب ہے۔ ان کی گستاخی یہ تھی۔
لولا انزل۔۔۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں یا ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ اس کے بعد ان کا یہ اعتراض نقل کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم ٹکڑوں کی شکل میں کیوں اترا ہے۔ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ بیان کردیا جاتا ہے کہ کیوں قرآن مجید مسلسل ٹکڑوں کی شکل میں اترا۔ رسول اللہ کو تسلی دی جاتی ہے کہ جب بھی وہ مباحثہ کر کے کوئی بات لاتے ہیں ‘ ہم بھی نئی تاویل آپ کو دے دیتے ہ ہیں اور بہترین تفسیر اور تشریح کردیتے ہیں۔ اس کے بعد حضور اور آپ کے مخالفین کے غور کے لیے بعض مکذبین کی ہلاکت کے وقت کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے کہ یہ اقوام کس طرح ہلاک کی گئیں۔ ذرا قوم لوط کے کھنڈرات پر تو غور کرو ، تم رات دن ان پر سے گزرتے ہو۔ قرآن کریم ان پر سخت گرفت کرتا ہے کہ جب یہ رات دن ان کھنڈرات کو دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ یہ سب باتیں اس لیے لائی گئی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات پر جو اعتراضات کرتے تھے ‘ اس کا ایک بیان یہاں دے دیا جائے۔ یہ واقعات دے کر ان پر ایک زور دار تبصرہ کیا جاتا ہے۔ اس میں ان کا نہایت ہی حقارت آمیز نقشہ کھینچا جاتا ہے اور نہایت ہی حقیقت پسندانہ ‘
ان ہم۔۔۔۔۔۔ ہم اضل (25 : 44) ” یہ تو بس حیوانوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں “۔
وقال الذین۔۔۔۔۔ للانسان خذولا
مشرکین کو ہماری ملاقات کی امید نہیں ہے اور نہ وہ اس کا انتظار کرتے ہیں اور نہ وہ اس کو کوئی اہمیت دیتے ہیں نہ اپنی زندگی اور اس کی سرگرمیوں کو وہ اس نظریہ کے مطابق قائم کرتے ہیں۔ چناچہ ان کے دلوں میں نہ اللہ کا خوف ہے ‘ نہ اللہ کی محبت اور وقار ہے۔ اس لیے اللہ کے حوالے سے بھی ان کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو کبھی بھی ایسے شخص کی زبان سے نہیں نکل سکتے جسے خدا کا خوف ہو۔
وقال الذین۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں ؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ یہ لوگ اس بات کو مسعبد سمجھتے تھے کہ کوئی رسول بشر بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ مطالبہ کرتے تھے کہ جس عقیدے کی طرف ہمیں دعوت دی جا رہی ہے ‘ کوئی فرشتہ اترے اور وہ اس پر شہادت دے۔ یا یہ کہ وہ خود باری تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اس کی تصدیق کریں۔ یہ دراصل اللہ کے مقام اور مرتبہ پر دست درازی ہے اور اس جاہل اور سرکش کا مطالبہ ہے جو مقام رب العالمین کا کوئی احساس نہیں رکھتا اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدراسی طرح نہیں کرتا جس طرح حق تعالیٰ کی قدر ہونا چاہئے۔ یہ گستاخی کرنے والے کون ہوتے ہیں اور ان کی اللہ کے مقابلے میں حیثیت ہی کیا ہے جو برگزیدہ ‘ جبار اور کبیر ہے۔ یہ اللہ کی عظیم مملکت اور اللہ کی اس عظیم کائنات میں حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں۔ ایک حقیر ذرے کی حیثیت تو ان کی ہے۔ انسان کی اس کائنات میں کوئی حیثیت اگر بنتی بھی ہے تو تب بنتی ہے کہ وہ اپنا تعلق اللہ سے جوڑ کر اور اپنا وزن ایمان کے ذریعہ بڑھا کر اپنی کچھ حیثیت پیدا کرے۔ چناچہ اس آیت کے اندر بات ختم کرنے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ بتا دیتا ہے کہ اس گستاخی کا سبب کیا ہے۔
لقد اسنکبرو۔۔۔۔ کبیرا (25 : 21) ” بڑا گھمنڈ لیے بیٹھے ہیں یہ اپنے نفسوں میں اور حد سے گزر گئے ہیں یہ اپنی سرکشی میں “۔ وہ اپنے خیال میں بہت پڑی شے ہیں۔ چناچہ وہ گھمنڈ میں مبتلا ہیں اور اس گھمنڈ کی وجہ سے بہت ہی بڑی سرکشی میں مبتلا ہیں۔ یہ اپنے اندر اس قدر مست ہیں کہ حقیقی قدروں کا صیحح وزن نہیں کرسکتے۔ اب ان لوگوں کی عادت یہ ہے کہ یہ لوگ صرف اپنے نفس کا احساس کرتے ہیں۔ ان کا نفس ان کی نظروں میں اس قدر بڑی چیز ہے کہ اس کائنات میں وہ اپنے نفس ہی کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ اس قدر بڑی چیز کہ اللہ جل شانہ کو بھی اس کے سامنے ظاہر ہونا چاہئے تاکہ وہ اسے دیکھ کر اس کی تصدیق کریں اور اس پر ایمان لائیں۔
ان کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اللہ بطور مذاق اور استہزاء ان کے سامنے ان کی بد حالی اور لاچاری کا ایک نقشہ پیش کرتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جب قیامت کے دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے (ملائکہ کا دیکھنا بھی ان کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ تھا) تو اس چن ان پر برا دن ہوگا۔ ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے سامنے وہ عذاب موجود ہو گا جو ٹلنے والا نہ ہوگا ‘ اس سے نجات کی ان کو کوئی صورت نظر ہی نہ آئے گی اور یہ عذاب اور جزاء کا دن ہوگا۔
یوم یرون۔۔۔۔۔۔۔ حجرا محجورا (25 : 22) وقدمناالیٰ ۔۔۔ ھباء منثورا (25 : 23) ” جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن ہو نہ گا۔ چیخ اٹھیں گے کہ پناہ بخدا ‘ اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے “۔ جس دن ان کے اس مطالبے پر عمل ہوگا اور فرشتے سامنے آجائیں گے۔ یرون الملئکتہ یہ ان فرشتوں کو دیکھ لیں گے۔ لیکن اس دن ان کے لیے کوئی خوشخبری نہ ہوگی بلکہ ان کے لیے عذاب کی خبر ہوگی۔ تو ان کا مطالبہ عجیب انداز میں پورا ہوگا۔ اس دن تو وہ یوں گویا ہوں گے۔ حجرا محجورا (25 : 22) ” خدا کی پناہ “۔ حرام اور ممنوع ۔ یہ جملہ وہ شر سے بچنے کے لیے کہتے تھے۔ دشمنوں کو کہتے تھے۔ یہ وہ دشمنوں کے ہلاک ہونے اور ان کے شر سے محفوظ ہونے کے لیے کہتے تھے۔ یہ فقرہ قیامت میں ان کی زبان سے نکل پڑے گا۔ جس طرح یہ فقرہ وہ دنیا میں شر سے پناہ مانگنے کے لیے بال دیتے تھے۔ آج ان کو خدا کی پناہ نصیب کب ہو سکتی ہے۔ آج وہ لاکھ مرتبہ خدا کی پناہ مانگیں ‘ ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور وہ جو انہوں نے کہا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑادیں گے “۔ یہ عمل ایک لحظ میں مکمل ہوجائے گا۔ ان کے تمام اعمال غبار کی شکل میں اڑا دیئے جائیں گے۔ انداز تعبیر کو ذرا دیکھئے۔ ہمارا خیال اس طرح دیکھتا ہے کہ ایک صاحب جسم ذات آتی ہے اور ان کے اعمال کو لے کر غبار کی طرح اڑا دیتی ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز تجیم اور تحیل۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے دنیا میں اعمال صالحہ کی شکل میں جو کچھ جمع کیا تھا وہ غبار کردیا جاتا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ ان کے یہ اعمال ایمان پر مبنی نہ تھے۔ ایمان کے ذریعہ ہی انسان اللہ تک پہنچتا ہے۔ ایمان اعمال صالحہ کو ایک منہاج اور ایک پختگی اور دوام بخشتا ہے اور یہ اعمال ایک مقصد اور ا کی سمت رکھتے ہیں۔ نہ یہ کسی وقتی جذبے کے تحت صادر ہوتے ہیں اور نہ کسی ایسے شخص کی دوڑ دھوپ ہوتی ہے جس کو صیحح راہ اور سمت معلوم ہی نہیں ویسے ہی ادھر ادھر بھاگتا ہے۔ یا محض بےمقصد دوڑ دھوپ ہے۔ اسلام میں کسی ایسے عمل صالح کی کوئی قیمت نہیں ہے جس کی کوئی سمت ‘ کوئی مقصد اور کوئی روح متعین نہ ہو۔ کیونکہ ایسے اعمال کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہوتا۔
اس کائنات میں انسان کا وجود ‘ اس کے اعمال ‘ اس کی زندگی کی دوڑ دھوپ دراصل اس کائنات کی حقیقت سے مربوط ہیں۔ یہ انسان بھی ناموس فطرت کا ایک پرزہ ہے۔ اور یہ پوری کائنات ذات باری سے مربوط ہے۔ اس میں انسان اور اس کی تمام سرگرمیاں شامل ہیں۔ اگر انسان کی تگ و دو اور اس کی حرکت اور دوڑ دھوپ اس اصلی نور سے کٹ جائے تو وہ بےمقصد ہوجاتی ہے۔ وہ ضائع ہوجاتی ہے اور اس کا کوئی وزن اور قدرو قیمت عنداللہ نہیں ہوتی۔ اس کے اعمال کا نہ کوئی حساب ہوگا اور نہ یہ اس کی کوئی قدرو قیمت ہوگی بلکہ اسلامی نظر میں اس کا وجود یہ نہیں ہے۔ وہ محض ہوا اور غبار ہے۔
ایمان انسان کو رب تک پہنچاتا ہے۔ اس طرح پھر اللہ رب العالمین کے ہاں اس کے اعمال کا بھی وزن ہوتا ہے۔ اور اس کائنات کے حساب میں اس کا حساب رکھا جاتا ہے اور اس کے اعمال اس کائنات کی تعمیرو ترقی میں دکھائے جاتے ہیں۔ ان مشرکوں کا چونکہ ایمان نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کے اعمال کو کالعدم کردیا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے نہایت ہی مجسم اور حسی انداز تعبیر اخیتار کیا ہے۔
وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور ہم ان اعمال کی طرف بڑھے جو انہوں نے کیے تھے تو ان اعمال کو غبار کر طرح اڑادیا “۔
اور مومنین کا حال کیا ہوگا۔ تقابل کے لیے وہ بھی ملاحظہ ہو۔ یہ اصحاب جنت ہیں۔
اصحب الجنتہ۔۔۔۔ احسن مقیلا (25 : 24) ” پس وہی لوگ جو جنت کے مستحق ہیں اس دن اچھی جگہ ٹھریں گے اور وہ دوپہر گزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے “۔ وہ نہایت آرام ‘ خوشی اور استقلال کے ساتھ گھنے سایوں میں رہیں گے۔ اور یہاں مستقر کا لفظ کافروں کے اعمال کی ناپختگی اور ہوا میں غبار کی طرح اڑ جانے کے بالمقابل لایا گیا ہے اور دوپہر کا آرام اور سکون مقابل ہے۔ اہل کفر کے جزع و فزع کا ‘ کہ وہ بےاختیار ہو کر اب خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور کہتے ہیں حجرا محجورا (25 : 22) کفار نبی ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ اللہ ان کے سامنے بادلوں کے سایہ میں آئے اور فرشتے آپ کے ساتھ ہوں۔ یہ مطالبے وہ بنی اسرائیل کی کہانیاں سن کر کرتے تھے کہ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائے میں اتر رہا ہے۔ یا ایک آگ کے عمودی شعلے کی شکل میں۔ چناچہ قرآن کریم ایک دوسرے انداز میں قیامت کے دن ان کے مطالبے کے پورا ہونے کا ایک منظر پیش کرتا ہے جس دن فرشتے اتریں گے۔
ویوم تشقق۔۔۔۔ تنزیلا (25 : 25) الملک یو ۔۔۔ الکفرین عسیرا (25 : 26) ” اس روز ایک بادل آسمان کو چیرتا ہوا نمودار ہوگا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیئے جائیں گے۔ اس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمن کی ہوگی۔ اور وہ منکرین کے لیے سخت دن ہوگا “۔ یہ آیت اور قرآن کریم کی بیشمار دوسری آیات یہ بتلاتی ہیں کہ اس دن نہایت ہی بڑے فلکیاتی واقعات و حادثات ہوں گے۔ اور تمام ایسی آیات کا اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کائنات جو ہمیں نظر آتی ہے اور اس کا یہ نظام جو ہمیں نظر آتا ہے ‘ یہ سب کا سب درہم برہم ہوجائے گا۔ اس کے تمام افلاک ‘ کو آب اور ستارے باہم ٹکرا جائیں گے۔ اس کائنات کے نظام ‘ اشیاء کے باہم روابط ‘ اور یہ چیز کی موجودہ شکل بدل جائے گی اور یہ حادثہ اس دنیا کا اختتام ہوگا۔ یہ کائناتی انقلاب صرف زمین تک محدود نہ ہوگا۔ اس کی زد میں تمام ستارے ‘ تمام آسمان اور تمام کوکب آئیں گے۔ یہاں مناسب ہے کہ یہاں اس انقلاب کے بعض مناظر پیش کر یئے جائیں جو متعدد سورتوں میں آئے ہیں۔
اذا الشمس کورت۔۔۔ سجرت (81 : 1 تا 3 و 6) ” جب سورج لپیٹ دیا جائے گا جب تارے بکھر جائیں گے ‘ جب پہاڑ ملائے جائیں گے۔۔۔۔۔ اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے “۔
اذا السمائ۔۔۔۔۔ القبور بعثرت (82 : اتا 4) ” جب آسمان پھٹ جائے گا ‘ جب تارے بکھر جائیں گے اور سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے اور جب قبریں کھول دی جائیں گی “۔
اذا السماء انشقت۔۔۔۔ لربھا و حقت (84 : 1 تا 5) ” جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لیے حق یہی ہے اور جب زمین پھیلا دی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے ‘ اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے)
اذا اجت۔۔۔۔۔ ھباء منبثا (56 : 4 تا 6) ” جب زمین یکبارگی بلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ بن کر رہ جائیں گے “۔
فاذانفخ فی۔۔۔۔ یومئذواھیتہ (69 : 13 تا 16) ” پھر جب ایک دفعہ صور میں پھونک ماردی جائے گی اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک یہ چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ اس رہز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا “۔
یوم تکون۔۔۔ کالعھن (70 : 8۔ 9) ” جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے “۔
اذا زلزلت۔۔۔۔ اتقالھا (99 : 1۔ 2) ” جب زمین اپنی پوری قوت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی اور زمین اپنے اندر کے بوجھ باہر نکال دے گی “۔
یوم یکون۔۔۔۔۔ المنفوش (101 : 4۔ 5) ” وہ دن جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون کی طرح ہوں گے “۔
فارتقب یوم ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (44 : 10۔ 11) ” اچھا انتظار کرو جب آسمان صریح دھواں لائے گا اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ہے دردناک سزا “۔
یوم ترجف۔۔۔۔ کثیبا مھیلا (73 : 14) ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جا رہے ہیں “۔
السماء منفطر بہ (73 : 18) ” آسمان پھٹا جا رہا ہوگا اس دن “۔
کلا اذا دکت الارض دکا (89 : 21) ” ہر گز نہیں جب زمین پے در پے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بجا دی جائے گی “۔
فاذا برق۔۔۔۔۔ والقمر (75 : 7 تا 9) ” پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند اور سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے “۔
فاذا النجوم۔۔۔۔ الجبال نسفت (77 : 8 تا 10) ” پھر جب ستارے ماند پڑجائیں گے اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے “۔
ویسئلونک عن۔۔۔۔ ولا امتا (20 : 105 تا 107) ” یہ اگر آپ سے پوچھتے ہیں کہ اس دن پہاڑ کہاں چلے جائیں گے۔ کہو میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں کوئی بھی کجی اور سلوٹ نہ دیکھو گے “۔
وتری الجبال۔۔۔۔ السحاب (27ـ : 88) ” آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب ہوئے ہیں مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے “۔
و یوم نسیر۔۔۔۔۔ الارض بارزۃ (18 : 47) ” جب ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو بالکل برہنہ پائو گے “۔
یوم تبدل ۔۔۔۔ والسموت (14 : 48) ” اس روز جبکہ زمین و آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کردیئے جائیں گے “۔
یوم نطوی۔۔۔۔ للکتب (21 : 104) ” وہ دن جبکہ آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں “۔ یہ تمام آیات بتاتی ہیں کہ ہماری اس دنیا کا انجام نہایت ہی خوفناک ہوگا۔ اس میں اس زمین کو بلا مارا جائے گا اور اجسام عظیمہ ایک دوسرے کے ساتھ دھماکے سے ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے۔ سمندر پھٹ جائیں گے یعنی کرئہ ارض کے اضطرابات کی وجہ سے یا سمندروں کے ذرات پھٹ جائیں گے اور تابکاری سے پانیوں میں آگ لگ جائے گی۔ چمکدار ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا اور ٹکرے ٹکرے ہوگا۔ کواکب ایک دوسرے کے ساتھ ٹکڑا کر ریزہ ریزہ ہو کر منتشر ہوجائیں گے۔ تمام آسمانی دوریاں ختم ہوجائیں گی۔ شمس وقمر ایک ہوجائیں گے۔ آسمان کبھی سیاہ دھوئیں کی طرح ہوگا اور کبھی آگ کے شعلے کی طرح ہوگا۔ غرض یہ ایک ہولناک گھڑی ہوگی اور اس میں انسان سخت خوفزدہ ہوگا۔
غرض ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو اس بات سے ذراتا ہے ہیں کہ اس روز آسمان کو چیرتا ایک بادل نمودار ہوں گے اور اس دن فرشتوں کے پرے کافرین پر نازل ہوں گے ‘ جیسا کہ ان کا مطالبہ تھا۔ یہ مبالبہ وہ حضرت محمد ﷺ کی تصدیق کے لیے نہ کرتے تھے یہ فرشتے اللہ کے حکم سے اللہ کا عذاب لے کر آئیں گے۔
وکان یوما۔۔۔۔ عسیرا (25 : 26) ” اور منکرین کے لیے یہ پڑا سخت دن ہوگا “۔ کیونکہ اس دن میں سخت عذاب سامنے وہ گا اس لیے وہ ایک ہولناک دن ہوگا۔ یہ لوگ کم علمی سے نزول ملائکہ کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ ملائکہ عذاب لے کر آتے ہیں۔
اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر لایا جاتا ہے۔ اس میں یہ گمراہ اور ظالم بہت زیادہ شرمندہ ہوں گے۔ یہ منظر بہت یہ طویل ہے۔ اس قدر طویل کہ ناظرین یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ منظر چلتا ہی رہے گا۔ یہ ظالم نہایت ندامت اور حسرت کی وجہ سے ہاتھ کاٹ رہا ہے ‘ خود اپنے ہاتھ۔
ویوم یعض۔۔۔ للانسان خذولا (25 : 27 تا 29) ” ظالم انسان اپنے ہاتھ چبائے گا اور کہے گا ” کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی کاش میں نے فلاں شخض کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی۔ شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفا بکلا “۔ یہ شخض اس گہرے تاسف کا اظہار کر رہا ہے اور اس کے ماحول پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔ یہ شخض اپنی حسر تناک آواز کو بلند کرتے چلا جاتا ہے۔ اس کی چیخیں اس قدر دلدوز ہیں اور ان کا اثر اس قدر طویل ہے کہ یہ محفل طویل ہوتی جارہی ہے۔ اثرات عمیق ہوتے جارہے ہیں۔ یہاں تک آج بھی ان آیات کا پڑھنے والا گہرا تاسف لے لیتا ہے۔ منظر کو دیکھنے والے شریک غم ہوجاتے ہیں۔
ویوم یعض الظالم علی یدیہ (25 : 27) ” اس دن یہ ظالم اپنے ہاتھ چبائے گا “۔ یہ صرف ایک ہاتھ کو نہ چبائے گا بلکہ دونوں ہاتھوں کو چبائے گا۔ کبھی اس کو کبھی اس کو۔ یہ شدت غم کی وجہ سے اپنے ہاتھوں پر اپنا غصہ اتارے گا۔ ہاتھوں کو چبانا اشارہ اس طرف ہے کہ اس دن ظالم کی نفسیاتی حالت کیا ہوگی۔ اس کے غم اور اندوہ کو نہایت یہ مجسم فعل اور حرکت کے ساتھ ظاہر کیا گیا ہے یعنی غم کو یہ برداشت نہ کرسکے گا۔
یقول یلیتنی۔۔۔۔ سبیلا (25 : 27) ” کہے گا کاش میں نے رسول اللہ کا ساتھ دیا ہوتا “۔ رسول کے طریقے پر چلا ہوتا۔ رسول سے علیحدہ نہ ہوا ہوتا۔ وہ رسول جس کی رسالت کا وہ منکر تھا ‘ اس لیے کہ یہ رسول بشرکیوں ہے۔
یویلتی لیتنی۔۔۔۔۔ خلیلا (25 : 28) ” میری کم بختی ! کاش میں فلاں کو اپنا دوست نہ بناتا “۔ فلاں کو عام کردیا ہے۔ کسی کا نام نہیں لیا تاکہ اس میں تمام گمراہ کنند گان شامل ہوجائیں۔ تمام دوست جو دوستوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں لیکن روایات میں آتا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول عقبہ ابن معیط ہے۔ یہ شخض نبی ﷺ کے ساتھ بہت ہی بیٹھتا اٹھتا تھا۔ اس نے نبی ﷺ کو ضیافت کے لیے بلایا تو حضور نے فرمایا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تک تم دو باتوں کی شہادت نہ دو ۔ چناچہ اس نے ایسا کیا۔ ابی ابن خلف بھی اس کا دوست تھا۔ اس نے اسے بہت ہی شرمندہ کیا۔ اور کہا تو بےدین ہوگیا ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ خدا کی قسم میں نے محمد کے دین کو قبول نہیں کیا۔ لیکن اس نے کہا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تم کلمہ شہادت ادا نہ کرو۔ حالانکہ وہ میرے گھر میں تھے اور میرا کھانا نہ کھاتے تھے۔ مجھے اس سے بڑی شرم آئی کہ وہ میرا کھانا نہ کھائے۔ اس لیے میں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا۔ تو ابی ابن خلف نے کہا خدا کی قسم میں تم سے تب راضی ہوں گا کہ تم اس کی گردن دبا کر اس کے منہ پر تھوکو۔ حضور اسے دارالندوہ میں سجدہ کرتے ہوئے مل گئے۔ اور اس (بد بخت) نے ایسا ہی کیا۔ اسے حضور اکرم نے فرمایا کی مکہ سے باہر تم جب بھی مجھے ملو گے میں تمہارا سر اڑا دوں گا۔ یہ شخض بدر کے دن گرفتار ہوا۔ آپ نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ اس کی گردن اڑا دو ۔
لقد اضلنی۔۔۔ جاء نی (25 : 29) ” اس کے بہکاوے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس گئی تھی “۔ یہ دراصل شیطان تھا جو گمراہ کر رہا تھا یا شیطان کا مدد گار تھا۔
وکان۔۔۔۔ خذولا (25 : 29) ” اور شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفانکلا “۔ وہ انسان کو شرمندگی کے انجام تک پہنچاتا ہے۔ اور جب سچائی کا وقت آتا ہے کہ ہمیشہ شیطان بھاگ جایا کرتے ہیں۔ خصوصاً ہولناک اور کربناک مناظرو مواقع میں۔
یوں قرآن کریم نے ان لوگوں کے دلوں کو جھنجوڑا۔ ان کے سامنے ان کے انجام کو کپکپا دینے والے مناظر کی شکل میں پیش کیا۔ اس طرح کہ گویا وہ ایک واقعہ ہے جسے دیکھا جارہا ہے۔ حالانکہ وہ لوگ ابھی اس زمین پر ہی ہیں جو اللہ کی تکذیب کررہے ہیں اور اللہ کے سامنے پیش ہونے کا بڑی حقارت کے ساتھ انکار کررہے ہیں اور ایسے مطالبات کررہے ہیں جو بیہودہ ہیں۔ حالانکہ وہاں نہایت ہی خوفناک صورت حال سے دو چار ہونے والے ہیں اور نہایت ہی شرمساری اور ندامت سے دوچار ہوں گے لیکن اس وقت ندامت کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
اب روئے سخن مناظر قیامت سے اس دنیا کی طرف آجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے انہوں نے جو موقف اختیار کر رکھا ہے اس پر بات ہوتی ہے۔ اب ان کا اعتراض یہ ہے کہ قرآن مجید سب کا سب ایک ہی مرتبہ کیوں نازل نہیں ہوگیا۔ موجود انداز نزول قرآن قابل اعتراض ہے۔ اس سوال و جواب کا خاتمہ بھی قیامت کے منظر پر ہوتا ہے کہ جس طرح ان کا اعتراض الٹا ہے ‘ اسی طرح وہ جہنم میں الٹے ڈالے جائیں گے۔
الفرقان 25:29
درس نمبر 158 ایک نظر میں
اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں سے بعض مناظر کی جھلکیاں دکھا دی جاتی ہیں۔ اور یہی ان کی گستاخی کا مناسب جواب ہے۔ ان کی گستاخی یہ تھی۔
لولا انزل۔۔۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں یا ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ اس کے بعد ان کا یہ اعتراض نقل کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم ٹکڑوں کی شکل میں کیوں اترا ہے۔ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ بیان کردیا جاتا ہے کہ کیوں قرآن مجید مسلسل ٹکڑوں کی شکل میں اترا۔ رسول اللہ کو تسلی دی جاتی ہے کہ جب بھی وہ مباحثہ کر کے کوئی بات لاتے ہیں ‘ ہم بھی نئی تاویل آپ کو دے دیتے ہ ہیں اور بہترین تفسیر اور تشریح کردیتے ہیں۔ اس کے بعد حضور اور آپ کے مخالفین کے غور کے لیے بعض مکذبین کی ہلاکت کے وقت کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے کہ یہ اقوام کس طرح ہلاک کی گئیں۔ ذرا قوم لوط کے کھنڈرات پر تو غور کرو ، تم رات دن ان پر سے گزرتے ہو۔ قرآن کریم ان پر سخت گرفت کرتا ہے کہ جب یہ رات دن ان کھنڈرات کو دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ یہ سب باتیں اس لیے لائی گئی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات پر جو اعتراضات کرتے تھے ‘ اس کا ایک بیان یہاں دے دیا جائے۔ یہ واقعات دے کر ان پر ایک زور دار تبصرہ کیا جاتا ہے۔ اس میں ان کا نہایت ہی حقارت آمیز نقشہ کھینچا جاتا ہے اور نہایت ہی حقیقت پسندانہ ‘
ان ہم۔۔۔۔۔۔ ہم اضل (25 : 44) ” یہ تو بس حیوانوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں “۔
وقال الذین۔۔۔۔۔ للانسان خذولا
مشرکین کو ہماری ملاقات کی امید نہیں ہے اور نہ وہ اس کا انتظار کرتے ہیں اور نہ وہ اس کو کوئی اہمیت دیتے ہیں نہ اپنی زندگی اور اس کی سرگرمیوں کو وہ اس نظریہ کے مطابق قائم کرتے ہیں۔ چناچہ ان کے دلوں میں نہ اللہ کا خوف ہے ‘ نہ اللہ کی محبت اور وقار ہے۔ اس لیے اللہ کے حوالے سے بھی ان کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو کبھی بھی ایسے شخص کی زبان سے نہیں نکل سکتے جسے خدا کا خوف ہو۔
وقال الذین۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں ؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ یہ لوگ اس بات کو مسعبد سمجھتے تھے کہ کوئی رسول بشر بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ مطالبہ کرتے تھے کہ جس عقیدے کی طرف ہمیں دعوت دی جا رہی ہے ‘ کوئی فرشتہ اترے اور وہ اس پر شہادت دے۔ یا یہ کہ وہ خود باری تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اس کی تصدیق کریں۔ یہ دراصل اللہ کے مقام اور مرتبہ پر دست درازی ہے اور اس جاہل اور سرکش کا مطالبہ ہے جو مقام رب العالمین کا کوئی احساس نہیں رکھتا اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدراسی طرح نہیں کرتا جس طرح حق تعالیٰ کی قدر ہونا چاہئے۔ یہ گستاخی کرنے والے کون ہوتے ہیں اور ان کی اللہ کے مقابلے میں حیثیت ہی کیا ہے جو برگزیدہ ‘ جبار اور کبیر ہے۔ یہ اللہ کی عظیم مملکت اور اللہ کی اس عظیم کائنات میں حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں۔ ایک حقیر ذرے کی حیثیت تو ان کی ہے۔ انسان کی اس کائنات میں کوئی حیثیت اگر بنتی بھی ہے تو تب بنتی ہے کہ وہ اپنا تعلق اللہ سے جوڑ کر اور اپنا وزن ایمان کے ذریعہ بڑھا کر اپنی کچھ حیثیت پیدا کرے۔ چناچہ اس آیت کے اندر بات ختم کرنے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ بتا دیتا ہے کہ اس گستاخی کا سبب کیا ہے۔
لقد اسنکبرو۔۔۔۔ کبیرا (25 : 21) ” بڑا گھمنڈ لیے بیٹھے ہیں یہ اپنے نفسوں میں اور حد سے گزر گئے ہیں یہ اپنی سرکشی میں “۔ وہ اپنے خیال میں بہت پڑی شے ہیں۔ چناچہ وہ گھمنڈ میں مبتلا ہیں اور اس گھمنڈ کی وجہ سے بہت ہی بڑی سرکشی میں مبتلا ہیں۔ یہ اپنے اندر اس قدر مست ہیں کہ حقیقی قدروں کا صیحح وزن نہیں کرسکتے۔ اب ان لوگوں کی عادت یہ ہے کہ یہ لوگ صرف اپنے نفس کا احساس کرتے ہیں۔ ان کا نفس ان کی نظروں میں اس قدر بڑی چیز ہے کہ اس کائنات میں وہ اپنے نفس ہی کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ اس قدر بڑی چیز کہ اللہ جل شانہ کو بھی اس کے سامنے ظاہر ہونا چاہئے تاکہ وہ اسے دیکھ کر اس کی تصدیق کریں اور اس پر ایمان لائیں۔
ان کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اللہ بطور مذاق اور استہزاء ان کے سامنے ان کی بد حالی اور لاچاری کا ایک نقشہ پیش کرتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جب قیامت کے دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے (ملائکہ کا دیکھنا بھی ان کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ تھا) تو اس چن ان پر برا دن ہوگا۔ ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے سامنے وہ عذاب موجود ہو گا جو ٹلنے والا نہ ہوگا ‘ اس سے نجات کی ان کو کوئی صورت نظر ہی نہ آئے گی اور یہ عذاب اور جزاء کا دن ہوگا۔
یوم یرون۔۔۔۔۔۔۔ حجرا محجورا (25 : 22) وقدمناالیٰ ۔۔۔ ھباء منثورا (25 : 23) ” جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن ہو نہ گا۔ چیخ اٹھیں گے کہ پناہ بخدا ‘ اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے “۔ جس دن ان کے اس مطالبے پر عمل ہوگا اور فرشتے سامنے آجائیں گے۔ یرون الملئکتہ یہ ان فرشتوں کو دیکھ لیں گے۔ لیکن اس دن ان کے لیے کوئی خوشخبری نہ ہوگی بلکہ ان کے لیے عذاب کی خبر ہوگی۔ تو ان کا مطالبہ عجیب انداز میں پورا ہوگا۔ اس دن تو وہ یوں گویا ہوں گے۔ حجرا محجورا (25 : 22) ” خدا کی پناہ “۔ حرام اور ممنوع ۔ یہ جملہ وہ شر سے بچنے کے لیے کہتے تھے۔ دشمنوں کو کہتے تھے۔ یہ وہ دشمنوں کے ہلاک ہونے اور ان کے شر سے محفوظ ہونے کے لیے کہتے تھے۔ یہ فقرہ قیامت میں ان کی زبان سے نکل پڑے گا۔ جس طرح یہ فقرہ وہ دنیا میں شر سے پناہ مانگنے کے لیے بال دیتے تھے۔ آج ان کو خدا کی پناہ نصیب کب ہو سکتی ہے۔ آج وہ لاکھ مرتبہ خدا کی پناہ مانگیں ‘ ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور وہ جو انہوں نے کہا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑادیں گے “۔ یہ عمل ایک لحظ میں مکمل ہوجائے گا۔ ان کے تمام اعمال غبار کی شکل میں اڑا دیئے جائیں گے۔ انداز تعبیر کو ذرا دیکھئے۔ ہمارا خیال اس طرح دیکھتا ہے کہ ایک صاحب جسم ذات آتی ہے اور ان کے اعمال کو لے کر غبار کی طرح اڑا دیتی ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز تجیم اور تحیل۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے دنیا میں اعمال صالحہ کی شکل میں جو کچھ جمع کیا تھا وہ غبار کردیا جاتا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ ان کے یہ اعمال ایمان پر مبنی نہ تھے۔ ایمان کے ذریعہ ہی انسان اللہ تک پہنچتا ہے۔ ایمان اعمال صالحہ کو ایک منہاج اور ایک پختگی اور دوام بخشتا ہے اور یہ اعمال ایک مقصد اور ا کی سمت رکھتے ہیں۔ نہ یہ کسی وقتی جذبے کے تحت صادر ہوتے ہیں اور نہ کسی ایسے شخص کی دوڑ دھوپ ہوتی ہے جس کو صیحح راہ اور سمت معلوم ہی نہیں ویسے ہی ادھر ادھر بھاگتا ہے۔ یا محض بےمقصد دوڑ دھوپ ہے۔ اسلام میں کسی ایسے عمل صالح کی کوئی قیمت نہیں ہے جس کی کوئی سمت ‘ کوئی مقصد اور کوئی روح متعین نہ ہو۔ کیونکہ ایسے اعمال کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہوتا۔
اس کائنات میں انسان کا وجود ‘ اس کے اعمال ‘ اس کی زندگی کی دوڑ دھوپ دراصل اس کائنات کی حقیقت سے مربوط ہیں۔ یہ انسان بھی ناموس فطرت کا ایک پرزہ ہے۔ اور یہ پوری کائنات ذات باری سے مربوط ہے۔ اس میں انسان اور اس کی تمام سرگرمیاں شامل ہیں۔ اگر انسان کی تگ و دو اور اس کی حرکت اور دوڑ دھوپ اس اصلی نور سے کٹ جائے تو وہ بےمقصد ہوجاتی ہے۔ وہ ضائع ہوجاتی ہے اور اس کا کوئی وزن اور قدرو قیمت عنداللہ نہیں ہوتی۔ اس کے اعمال کا نہ کوئی حساب ہوگا اور نہ یہ اس کی کوئی قدرو قیمت ہوگی بلکہ اسلامی نظر میں اس کا وجود یہ نہیں ہے۔ وہ محض ہوا اور غبار ہے۔
ایمان انسان کو رب تک پہنچاتا ہے۔ اس طرح پھر اللہ رب العالمین کے ہاں اس کے اعمال کا بھی وزن ہوتا ہے۔ اور اس کائنات کے حساب میں اس کا حساب رکھا جاتا ہے اور اس کے اعمال اس کائنات کی تعمیرو ترقی میں دکھائے جاتے ہیں۔ ان مشرکوں کا چونکہ ایمان نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کے اعمال کو کالعدم کردیا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے نہایت ہی مجسم اور حسی انداز تعبیر اخیتار کیا ہے۔
وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور ہم ان اعمال کی طرف بڑھے جو انہوں نے کیے تھے تو ان اعمال کو غبار کر طرح اڑادیا “۔
اور مومنین کا حال کیا ہوگا۔ تقابل کے لیے وہ بھی ملاحظہ ہو۔ یہ اصحاب جنت ہیں۔
اصحب الجنتہ۔۔۔۔ احسن مقیلا (25 : 24) ” پس وہی لوگ جو جنت کے مستحق ہیں اس دن اچھی جگہ ٹھریں گے اور وہ دوپہر گزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے “۔ وہ نہایت آرام ‘ خوشی اور استقلال کے ساتھ گھنے سایوں میں رہیں گے۔ اور یہاں مستقر کا لفظ کافروں کے اعمال کی ناپختگی اور ہوا میں غبار کی طرح اڑ جانے کے بالمقابل لایا گیا ہے اور دوپہر کا آرام اور سکون مقابل ہے۔ اہل کفر کے جزع و فزع کا ‘ کہ وہ بےاختیار ہو کر اب خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور کہتے ہیں حجرا محجورا (25 : 22) کفار نبی ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ اللہ ان کے سامنے بادلوں کے سایہ میں آئے اور فرشتے آپ کے ساتھ ہوں۔ یہ مطالبے وہ بنی اسرائیل کی کہانیاں سن کر کرتے تھے کہ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائے میں اتر رہا ہے۔ یا ایک آگ کے عمودی شعلے کی شکل میں۔ چناچہ قرآن کریم ایک دوسرے انداز میں قیامت کے دن ان کے مطالبے کے پورا ہونے کا ایک منظر پیش کرتا ہے جس دن فرشتے اتریں گے۔
ویوم تشقق۔۔۔۔ تنزیلا (25 : 25) الملک یو ۔۔۔ الکفرین عسیرا (25 : 26) ” اس روز ایک بادل آسمان کو چیرتا ہوا نمودار ہوگا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیئے جائیں گے۔ اس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمن کی ہوگی۔ اور وہ منکرین کے لیے سخت دن ہوگا “۔ یہ آیت اور قرآن کریم کی بیشمار دوسری آیات یہ بتلاتی ہیں کہ اس دن نہایت ہی بڑے فلکیاتی واقعات و حادثات ہوں گے۔ اور تمام ایسی آیات کا اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کائنات جو ہمیں نظر آتی ہے اور اس کا یہ نظام جو ہمیں نظر آتا ہے ‘ یہ سب کا سب درہم برہم ہوجائے گا۔ اس کے تمام افلاک ‘ کو آب اور ستارے باہم ٹکرا جائیں گے۔ اس کائنات کے نظام ‘ اشیاء کے باہم روابط ‘ اور یہ چیز کی موجودہ شکل بدل جائے گی اور یہ حادثہ اس دنیا کا اختتام ہوگا۔ یہ کائناتی انقلاب صرف زمین تک محدود نہ ہوگا۔ اس کی زد میں تمام ستارے ‘ تمام آسمان اور تمام کوکب آئیں گے۔ یہاں مناسب ہے کہ یہاں اس انقلاب کے بعض مناظر پیش کر یئے جائیں جو متعدد سورتوں میں آئے ہیں۔
اذا الشمس کورت۔۔۔ سجرت (81 : 1 تا 3 و 6) ” جب سورج لپیٹ دیا جائے گا جب تارے بکھر جائیں گے ‘ جب پہاڑ ملائے جائیں گے۔۔۔۔۔ اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے “۔
اذا السمائ۔۔۔۔۔ القبور بعثرت (82 : اتا 4) ” جب آسمان پھٹ جائے گا ‘ جب تارے بکھر جائیں گے اور سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے اور جب قبریں کھول دی جائیں گی “۔
اذا السماء انشقت۔۔۔۔ لربھا و حقت (84 : 1 تا 5) ” جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لیے حق یہی ہے اور جب زمین پھیلا دی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے ‘ اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے)
اذا اجت۔۔۔۔۔ ھباء منبثا (56 : 4 تا 6) ” جب زمین یکبارگی بلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ بن کر رہ جائیں گے “۔
فاذانفخ فی۔۔۔۔ یومئذواھیتہ (69 : 13 تا 16) ” پھر جب ایک دفعہ صور میں پھونک ماردی جائے گی اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک یہ چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ اس رہز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا “۔
یوم تکون۔۔۔ کالعھن (70 : 8۔ 9) ” جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے “۔
اذا زلزلت۔۔۔۔ اتقالھا (99 : 1۔ 2) ” جب زمین اپنی پوری قوت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی اور زمین اپنے اندر کے بوجھ باہر نکال دے گی “۔
یوم یکون۔۔۔۔۔ المنفوش (101 : 4۔ 5) ” وہ دن جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون کی طرح ہوں گے “۔
فارتقب یوم ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (44 : 10۔ 11) ” اچھا انتظار کرو جب آسمان صریح دھواں لائے گا اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ہے دردناک سزا “۔
یوم ترجف۔۔۔۔ کثیبا مھیلا (73 : 14) ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جا رہے ہیں “۔
السماء منفطر بہ (73 : 18) ” آسمان پھٹا جا رہا ہوگا اس دن “۔
کلا اذا دکت الارض دکا (89 : 21) ” ہر گز نہیں جب زمین پے در پے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بجا دی جائے گی “۔
فاذا برق۔۔۔۔۔ والقمر (75 : 7 تا 9) ” پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند اور سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے “۔
فاذا النجوم۔۔۔۔ الجبال نسفت (77 : 8 تا 10) ” پھر جب ستارے ماند پڑجائیں گے اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے “۔
ویسئلونک عن۔۔۔۔ ولا امتا (20 : 105 تا 107) ” یہ اگر آپ سے پوچھتے ہیں کہ اس دن پہاڑ کہاں چلے جائیں گے۔ کہو میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں کوئی بھی کجی اور سلوٹ نہ دیکھو گے “۔
وتری الجبال۔۔۔۔ السحاب (27ـ : 88) ” آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب ہوئے ہیں مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے “۔
و یوم نسیر۔۔۔۔۔ الارض بارزۃ (18 : 47) ” جب ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو بالکل برہنہ پائو گے “۔
یوم تبدل ۔۔۔۔ والسموت (14 : 48) ” اس روز جبکہ زمین و آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کردیئے جائیں گے “۔
یوم نطوی۔۔۔۔ للکتب (21 : 104) ” وہ دن جبکہ آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں “۔ یہ تمام آیات بتاتی ہیں کہ ہماری اس دنیا کا انجام نہایت ہی خوفناک ہوگا۔ اس میں اس زمین کو بلا مارا جائے گا اور اجسام عظیمہ ایک دوسرے کے ساتھ دھماکے سے ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے۔ سمندر پھٹ جائیں گے یعنی کرئہ ارض کے اضطرابات کی وجہ سے یا سمندروں کے ذرات پھٹ جائیں گے اور تابکاری سے پانیوں میں آگ لگ جائے گی۔ چمکدار ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا اور ٹکرے ٹکرے ہوگا۔ کواکب ایک دوسرے کے ساتھ ٹکڑا کر ریزہ ریزہ ہو کر منتشر ہوجائیں گے۔ تمام آسمانی دوریاں ختم ہوجائیں گی۔ شمس وقمر ایک ہوجائیں گے۔ آسمان کبھی سیاہ دھوئیں کی طرح ہوگا اور کبھی آگ کے شعلے کی طرح ہوگا۔ غرض یہ ایک ہولناک گھڑی ہوگی اور اس میں انسان سخت خوفزدہ ہوگا۔
غرض ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو اس بات سے ذراتا ہے ہیں کہ اس روز آسمان کو چیرتا ایک بادل نمودار ہوں گے اور اس دن فرشتوں کے پرے کافرین پر نازل ہوں گے ‘ جیسا کہ ان کا مطالبہ تھا۔ یہ مبالبہ وہ حضرت محمد ﷺ کی تصدیق کے لیے نہ کرتے تھے یہ فرشتے اللہ کے حکم سے اللہ کا عذاب لے کر آئیں گے۔
وکان یوما۔۔۔۔ عسیرا (25 : 26) ” اور منکرین کے لیے یہ پڑا سخت دن ہوگا “۔ کیونکہ اس دن میں سخت عذاب سامنے وہ گا اس لیے وہ ایک ہولناک دن ہوگا۔ یہ لوگ کم علمی سے نزول ملائکہ کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ ملائکہ عذاب لے کر آتے ہیں۔
اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر لایا جاتا ہے۔ اس میں یہ گمراہ اور ظالم بہت زیادہ شرمندہ ہوں گے۔ یہ منظر بہت یہ طویل ہے۔ اس قدر طویل کہ ناظرین یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ منظر چلتا ہی رہے گا۔ یہ ظالم نہایت ندامت اور حسرت کی وجہ سے ہاتھ کاٹ رہا ہے ‘ خود اپنے ہاتھ۔
ویوم یعض۔۔۔ للانسان خذولا (25 : 27 تا 29) ” ظالم انسان اپنے ہاتھ چبائے گا اور کہے گا ” کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی کاش میں نے فلاں شخض کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی۔ شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفا بکلا “۔ یہ شخض اس گہرے تاسف کا اظہار کر رہا ہے اور اس کے ماحول پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔ یہ شخض اپنی حسر تناک آواز کو بلند کرتے چلا جاتا ہے۔ اس کی چیخیں اس قدر دلدوز ہیں اور ان کا اثر اس قدر طویل ہے کہ یہ محفل طویل ہوتی جارہی ہے۔ اثرات عمیق ہوتے جارہے ہیں۔ یہاں تک آج بھی ان آیات کا پڑھنے والا گہرا تاسف لے لیتا ہے۔ منظر کو دیکھنے والے شریک غم ہوجاتے ہیں۔
ویوم یعض الظالم علی یدیہ (25 : 27) ” اس دن یہ ظالم اپنے ہاتھ چبائے گا “۔ یہ صرف ایک ہاتھ کو نہ چبائے گا بلکہ دونوں ہاتھوں کو چبائے گا۔ کبھی اس کو کبھی اس کو۔ یہ شدت غم کی وجہ سے اپنے ہاتھوں پر اپنا غصہ اتارے گا۔ ہاتھوں کو چبانا اشارہ اس طرف ہے کہ اس دن ظالم کی نفسیاتی حالت کیا ہوگی۔ اس کے غم اور اندوہ کو نہایت یہ مجسم فعل اور حرکت کے ساتھ ظاہر کیا گیا ہے یعنی غم کو یہ برداشت نہ کرسکے گا۔
یقول یلیتنی۔۔۔۔ سبیلا (25 : 27) ” کہے گا کاش میں نے رسول اللہ کا ساتھ دیا ہوتا “۔ رسول کے طریقے پر چلا ہوتا۔ رسول سے علیحدہ نہ ہوا ہوتا۔ وہ رسول جس کی رسالت کا وہ منکر تھا ‘ اس لیے کہ یہ رسول بشرکیوں ہے۔
یویلتی لیتنی۔۔۔۔۔ خلیلا (25 : 28) ” میری کم بختی ! کاش میں فلاں کو اپنا دوست نہ بناتا “۔ فلاں کو عام کردیا ہے۔ کسی کا نام نہیں لیا تاکہ اس میں تمام گمراہ کنند گان شامل ہوجائیں۔ تمام دوست جو دوستوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں لیکن روایات میں آتا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول عقبہ ابن معیط ہے۔ یہ شخض نبی ﷺ کے ساتھ بہت ہی بیٹھتا اٹھتا تھا۔ اس نے نبی ﷺ کو ضیافت کے لیے بلایا تو حضور نے فرمایا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تک تم دو باتوں کی شہادت نہ دو ۔ چناچہ اس نے ایسا کیا۔ ابی ابن خلف بھی اس کا دوست تھا۔ اس نے اسے بہت ہی شرمندہ کیا۔ اور کہا تو بےدین ہوگیا ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ خدا کی قسم میں نے محمد کے دین کو قبول نہیں کیا۔ لیکن اس نے کہا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تم کلمہ شہادت ادا نہ کرو۔ حالانکہ وہ میرے گھر میں تھے اور میرا کھانا نہ کھاتے تھے۔ مجھے اس سے بڑی شرم آئی کہ وہ میرا کھانا نہ کھائے۔ اس لیے میں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا۔ تو ابی ابن خلف نے کہا خدا کی قسم میں تم سے تب راضی ہوں گا کہ تم اس کی گردن دبا کر اس کے منہ پر تھوکو۔ حضور اسے دارالندوہ میں سجدہ کرتے ہوئے مل گئے۔ اور اس (بد بخت) نے ایسا ہی کیا۔ اسے حضور اکرم نے فرمایا کی مکہ سے باہر تم جب بھی مجھے ملو گے میں تمہارا سر اڑا دوں گا۔ یہ شخض بدر کے دن گرفتار ہوا۔ آپ نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ اس کی گردن اڑا دو ۔
لقد اضلنی۔۔۔ جاء نی (25 : 29) ” اس کے بہکاوے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس گئی تھی “۔ یہ دراصل شیطان تھا جو گمراہ کر رہا تھا یا شیطان کا مدد گار تھا۔
وکان۔۔۔۔ خذولا (25 : 29) ” اور شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفانکلا “۔ وہ انسان کو شرمندگی کے انجام تک پہنچاتا ہے۔ اور جب سچائی کا وقت آتا ہے کہ ہمیشہ شیطان بھاگ جایا کرتے ہیں۔ خصوصاً ہولناک اور کربناک مناظرو مواقع میں۔
یوں قرآن کریم نے ان لوگوں کے دلوں کو جھنجوڑا۔ ان کے سامنے ان کے انجام کو کپکپا دینے والے مناظر کی شکل میں پیش کیا۔ اس طرح کہ گویا وہ ایک واقعہ ہے جسے دیکھا جارہا ہے۔ حالانکہ وہ لوگ ابھی اس زمین پر ہی ہیں جو اللہ کی تکذیب کررہے ہیں اور اللہ کے سامنے پیش ہونے کا بڑی حقارت کے ساتھ انکار کررہے ہیں اور ایسے مطالبات کررہے ہیں جو بیہودہ ہیں۔ حالانکہ وہاں نہایت ہی خوفناک صورت حال سے دو چار ہونے والے ہیں اور نہایت ہی شرمساری اور ندامت سے دوچار ہوں گے لیکن اس وقت ندامت کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
اب روئے سخن مناظر قیامت سے اس دنیا کی طرف آجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے انہوں نے جو موقف اختیار کر رکھا ہے اس پر بات ہوتی ہے۔ اب ان کا اعتراض یہ ہے کہ قرآن مجید سب کا سب ایک ہی مرتبہ کیوں نازل نہیں ہوگیا۔ موجود انداز نزول قرآن قابل اعتراض ہے۔ اس سوال و جواب کا خاتمہ بھی قیامت کے منظر پر ہوتا ہے کہ جس طرح ان کا اعتراض الٹا ہے ‘ اسی طرح وہ جہنم میں الٹے ڈالے جائیں گے۔
الفرقان 25:30
(وقال الرسول۔۔۔۔۔۔۔ واضل سیلا) ”
انہوں نے اس قرآن کو چھوڑ دیا جو اللہ نے اپنے بندے پر نازل کیا تھا تاکہ ان کو ڈرائے۔ اور ان کو بصیرت عطا کرے۔ انہوں نے قرآن کو اس طرح چھوڑا کہ اسے سننے سے بھی دور بھاگے ‘ مارے اس خوف کے کہ اگر انہوں نے سن لیا تو وہ اپنی بےپناہ تاثیر سے ان کو متاثر کرے گا۔ اور وہ اس وے اثرات کو مسترد نہ کرسکیں گے۔ انہوں نے اگر سنا بھی تو اس کے مضامین پر غور و فکر نہ کیا تاکہ وہ سچائی کو پا سکیں اور اس کی راہ پر چلیں۔ انہوں نے اسے اس طرح چھوڑا کہ اسے اپنا دستور حیات نہ بنایا۔ حالانکہ وہ نازل اسی لیے کیا گیا تھا کہ وہ اسے نظام حیات بتائیں۔
(وقال الرسول یرب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مھجورا) (25 : 30) ” اور رسول کہے گا اے میرے رب ‘ میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنا لیا تھا “۔ اور رب تعالیٰ تو جانتا تھا کہ ایسا ہوا ہے لیکن یہ فریاد اور انابت الی اللہ کے طور پر دعا ہے اور اللہ کو بھی معلوم ہے اور اللہ اس کی شہادت دے رہا ہے کہ رسول ﷺ نے اس سلسلے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے لیکن یہ قوم کا قصور ہے کہ اس نے اس قرآن کو نہ سنا اور نہ اس پر غور کیا۔
چناچہ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ یہ تو تمام نبیوں کو پیش آنے والا ایک عام طرز عمل ہے۔ یہ سنت جاریہ ہے اور تمام رسولوں نے ایسی ہی صورت حالات کا مقابلہ کیا۔ تمام انبیاء کو ایسے حالات پیش آئے کہ ان کی اقوام نے قرآن کریم اور ان کی دعوت کے ساتھ مذاق کیا اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا لیکن اللہ کی مدد اپنے رسولوں کے ساتھ شامل رہی اور اللہ نے اپنے رسولوں کو ایسے راستے بتائے کہ وہ اپنے دشمنوں پر غاب ہو کر رہے۔
(وکذلک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ونصیرا) (25 : 31) ” اے نبی ؐ‘ ہم نے تو اسی طرح مجرموں کو ہر نبی کا شمن بنایا ہے اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی راہنمائی اور مدد کے لیے کافی ہے “۔ اللہ کی حکمت اچھے انجام تک پہنچنے والی ہے۔ کسی اسلامی تحریک کے مقابلے میں جب مجرم اٹھ کھڑے ہوں اور مخالفت پر کمربستہ ہوجائیں تو اس سے تحریک کے اندر قوت پیدا ہوتی ہے۔ اور اس طرح تحریک سنجیدہ ہوجاتی ہے۔ ایک سچی دعوت اور جھوٹی دعوت کے درمیان فرق ہی یہ ہوتا ہے کہ سچی دعوت کے مقابلے میں لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ایک سچی دعوت کے حاملین کو مشکلیں پیش آتی ہیں۔ اور یہ کشمکش ہی دعوت حق کو باطل دعوتوں سے ممیز کرتی ہے۔ اس کشمکش کے نتیجے میں سچے پیرو کار چھٹ کر جم جاتے ہیں اور باطل کے حاملین بھاگ جاتے ہیں۔ دعوت کی پشت پر وہی لوگ رہ جاتے ہیں جو خالص اور مخلص ہوں جو مفادات کے بندے نہیں ہوتے۔ صرف اور صرف دعوت اسلامی ہی ان کا نصب العین ہوتی ہے۔ اور وہ صرف رضائے الہی چاہنے والے ہوتے ہیں۔
اگر دعوت اسلامی کا کام آسان ہوتا اور اس کے سامنے ردعمل واہ واہ کا ہوتا اور داعی کی راہ پر پھول بچھائے جاتے اور کوئی دشمن اور ناقد نہ ہوتا تو ہر کہ دمہ دعوت اسلامی کا حامل ہوجاتا۔ کیونکہ نہ کوئی عناد کرنے والا ہوتا اور نہ کوئی جھٹلانے والا اور پھر دعوت حق اور دعوت باطل کے درمیان کوئی فرق بھی نہ ہوتا اور دنیا میں انتشار اور فتنہ برپا ہو اتا۔ لیکن ہر سچی دعوت کے مقابلے میں اللہ نے دشمن اور مدعی پیدا کردیئے اور اللہ نے داعیوں کے لیے جدوجہد کرنا اور مقابلہ کرنا ضروری قرار دیا اور راہ حق میں قربانی دینا اور مشکلات برداشت کرنا اور راہ قرار دیا۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی راہ میں جدوجہد وہی کرتا ہے جو سچا ہو۔ مشکلات اور قربانیوں کو وہی شخص برداشت کرتا ہے جو سچا مومن ہو۔ ایسے لوگ جو اپنے آرام اور عیش و عشرت کو دعوت حق کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔ اور حیات دنیا کی لذتوں کو خیر باد کہتے ہیں بلکہ وہ اس راہ میں جان تک دے دیتے ہیں اگر دعوت کا تقاضا ہو کہ اب جان دینے کا وقت آگیا ہے۔ اس عظیم جدوجہد کے لیے وہی لوگ تیار ہوتے ہیں جو مضبوط اور ثابت قدم ہوں جو پکے مومن ہوں۔ پختہ ایمان رکھتے ہوں۔ وہ اس اجر کے زیادہ مشتاق ہوں جو اللہ کے ہاں ہے بجائے اس اجر کے جو لوگوں کے پاس ہے۔ جب یہ صورت حالات پیش آجائے تو پھر سچی دعوت اور جھوٹی دعوت کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔ ایسیحالات میں دعوت اسلامی کی صفوں کی تطہیر ہوجاتی ہے اور مضبوط قوی اور ثابت قدم لوگ چھٹ کر جدا ہوجاتے ہیں اور کمزور لوگ علحدہ ہوجاتے ہیں۔ پھر دعوت اسلامی ان لوگوں کو لے کر آگے بڑھتی ہے جنہوں نے ثابت قدمی کا انتحان پاس کرلیا ہوتا ہے۔ اور وہی لوگ پھر اس دعوت کے امین اور لیڈرہوت ہیں اور یہی اس کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ یہ لوگ بھاری قیمت ادا کرکے اس نام تک پہنچتے ہیں۔ یہ لوگ سچائی کیساتھ اس دعوت کا حق بھی ادا کرتے ہیں۔ پختہ ایمان کے ساتھ ‘ تجربے اور آزمائشوں نے ان کو بتادیا ہوتا ہے کہ اس دعوت کو مشکل سے مشکل حالات میں انہوں نے کس طرح لے کر چلنا ہے۔ شدائد اور مشکلات نے ان کی پوری قوت کو حساس بنا لیا ہوتا ہے اور ان کی قوت کا سرچشمہ اور طاقت کا ذخیرہ بڑھ جاتا ہے اور وہ مشکل سے مشکل صورت حالات میں دعوت کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔
اس دنیا میں عموما یوں ہوتا ہے کہ دعوت اسلامی کے حاملین اور ان کے مخالفین کے درمیان جو کشمکش برپا ہوتی ہے۔ لوگوں کی ایک عظیم تعداد اس میں غیر جانبدار ہو کر تماشادیکھتی ہے۔ یہ تماشا بین آبادی جب دیکھتی ہے کہ دعوت اسلامی کے حاملین اپنے نظریہ اور مقصد کی خاطرعظیم قربانیاں دے رہے ہیں اور بےحدو حساب مشکلات برداشت کر رہے ہیں اور بڑی ثابت قدمی اور یکسوئی کے ساتھ اپنی راہ پر جارہے ہیں تو پھر یہ یہ تماشا بین عوام الناس سوچنے لگتے ہیں کہ دعوت اسلامی کے ساتھ ملیں آخرکیوں اس قدر قربانیاں دے رہے ہیں اور مشکلات برداشت کررہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ مقاصد بہت ہی مفید ‘ بہت ہی قیمتی ہوں گے اور وہ جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانی دے رہے ہیں شاید ان چیزوں سے وہ مقاصد زیادہ قیمتی ہوں۔ اب یہ لوگ دعوت اسلامی کی اصل قدرو قیمت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب بات عامتہ الناس کی سمجھ میں آجاتی ہے تو وہ پھر فوج درفوج دعوت اسلامی میں داخل ہوتے ہیں اور وہ تماشادیکھنے کے بجائے اب خود تماشا بن جاتے ہیں۔
یہی وہ راز ہے جس کی وجہ سے اللہ نے ہر نبی کے لی مجرمین میں سے ایک دشمن پیدا کیا۔ یہ مجرمین دعوت اسلامی کی راہ روکنے کی سعی کرتے ہیں۔ پھر نبی اور ان کے عبد ہر حامل حق ان مجرمین کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ان کو مشکلات درپیش آتی ہیں اور وہ اپنی راہ میں چلتے ہی جاتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کے لیے کامیابی مقدر ہوتی ہے۔ اور ان کو اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ آخرکار وہ اس انجام تک پہنچیں گے۔ آخر میں ان کو ہدایت اور نصرت مل جاتی ہے۔
وکفی بربک ھادیا ونصیرا (25 : 31) ” اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی راہنمائی اور مدد کو کافی ہے “۔ انبیاء کے راستے میں مجرمین کا نمودار ہونا ایک طبیعی امر ہے۔ اس لیے کہ دعوت حق ہمیشہ اپے مناسب اور مقرر وقت پر نمودار ہوتی ہے جبکہ کوئی مخصوص سوسائٹی فساد پذیر ہوجاتی ہے یا پوری انسانیت فساد کا شکار ہوجاتی ہے۔ لوگوں کے قلب و نظر فساد کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دنیا کا نظام بگڑ جاتا ہے۔ لوگوں کے باہم روابط بگڑ جاتے ہیں۔ اس فساد اور بگاڑ کی پشت پر مجرم لوگ ہوتے ہیں ‘ جو ایک طرف فساد کرتے ہیں پھر وہ اس فساد اور بگاڑ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ اس فساد کے ہم مسلک اور ہم مشرب ہوتے ہیں۔ ان کی خواہشات اسی فساد زدہ معاشرے میں پوری ہوتی ہیں۔ اور ان کے وجود میں جو فساد اور بگاڑ ہوتا ہے اس کے لیے وجو جوز وہ معاشرے سے نکالتے ہیں کہ بس معاشرہ ہی ایسا ہے۔ اس لیے یہ بالکل طبیعی بات ہے کہ ایسے لوگ انبیاء کی راہ روک کر کھڑے ہوجائیں اور انبیاء کے دور کے بعد ان لوگوں کی راہ روک کر کھڑے ہوجاتے ہیں جو انبیاء کی دعوت کو لے کر رکھتے ہیں کیونکہ یہ مجرم دراصل ان کے بگڑے ہوئے وجود کا دفاع ہوتا ہے ‘ اس لیے کہ حشرات میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو پاک و صاف اور خوشبودار اور شفاف ماحول میں زندہ ہی نہیں رہتے ‘ فوراً مرجاتے ہیں اس لیے کہ یہ گندے ماحول میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں۔ بعض کیڑے ایسے ہوتے ہیں جو صاف پانی میں مرجاتے ہیں ‘ کیونکہ وہ صرف گندے اور سڑے ہوئے پانی ہی میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہی حال ان مجرموں کا ہوتا ہے لہٰذا یہ طبیعی امر ہے کہ وہ دعوت حق کے دشمن ہوں اور اس کے مقابلے میں جان دینے کے لیے تیار ہوں اور یہ بھی بالکل طبیعی امر ہے کہ آخر میں دعوت اسلامی کو کامیابی ہو کیونکہ دعوت اسلامی زندگی کی ترقی پذیر لائٹوں پر چلنے والی ہوتی ہے۔ اور اس طرح دعوت اسلامی کو وہ عروج نصیب ہوتا ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمایا ہوتا ہے۔
وکفی بربک ھادیا ونصیرا (25 : 31) ” اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی راہنمائی اور مدد کو کافی ہے “۔ اس کے بعد اب کفار کے اعتراضات بابت طریقہ نزول قرآن نقل کیے جاتے ہیں اور ان کی تردید کی جاتی ہے۔
(وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترتیلا) (25 : 32) ” منکرین کہتے ہیں اس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اتار دیا گیا ؟ “۔۔۔۔۔ ہاں ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے ہیں اور (اسی غرض کے لیے) ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے “۔
قرآن کریم نازل ہی اس لیے کیا گیا تھا کہ اس کے ذریعے ایک امت کی تربیت کی جائے۔ ایک نیا معاشرہ وجود میں لایا جائے۔ اس معاشرے میں ایک نیا نظام وجود میں لایا جائے۔ اور تربیت اس بات کی محتاج ہے کہ انسان کو بار بار تلقین کی جائے اور وہ متاثر ہوتا جائے۔ اور یہ تاثیر اور تاثر ایک مسلسل حرکت کے ذریعہ جاری رہے کیونکہ انقلاب انسانوں کے اندر پیدا کرنا مطلوب ہوتا ہی اور انسان ایک ایسیذات ہے کہ اسے صرف ایک شب و روز میں تربیت نہیں دی جاسکتی کہ بس اس کے ہاتھ میں ایک نئے نظام پر مشتمل ایک کتاب پکڑا دی جائے۔ اور اس میں جدید معاشرے کے مکمل خدوخال ہوں بلکہ انسانوں کی تربیت یوں ہوتی ہے کہ اسے تدریج کے ساتھ ایک طویل عرصے کے بعد بدلا جاتا ہے۔ اور یہ تبدیلی اس کے اندر آہستہ آہستہ آتی رہتی ہے۔ ہر دن کی غذا کے بعد دوسرے دن وہ زیادہ غذا کے لیے تیار ہوتا ہے اور دوسرے دن کی خوراک وہ پھر بڑی خوشی سے لیتا ہے اور بڑے مزے سے قبول کرتا ہے۔
قرآن کریم زندگی کا ایک مکمل نظام لے کر آیا ہے اور قرآن کریم نے انسانوں کی تربیت کے لیے بھی ایک فطری منہاج اختیار کیا۔ یہ منہاج اس ذات کی طرف سے تھا جس نے انسان کو پیدا کیا تھا اس لیے قرآن کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا گیا تاکہ وہ جماعت مسلمہ کی حقیقی اور زندہموجود ضروریات کو پورا کرتا چلاجائے۔ کیونکہ یہ جماعت آہستہ آہستہ تعمیر ہورہی تھی۔ وہ اپنی استعداد کے مطابق ‘ اپنی قوت کے مطابق ایک ایک قدم آگے بڑھ رہی تھی۔ ٹھیک ٹھیک اللہ کے حقیقی منہاج تربیت کے مطابق۔ چناچہ قرآن مجید کو بیک وقت منہاج تربیت اور نظام زندگی کی تشکیل کے لیے اتارا گیا۔ اس لیے اس کا متفرق نزول لازمی تھا۔ یہ محض کوئی علمی ثقافتی اور ادبی کتاب نہ تھی کہ مکمل شکل میں اسے تصنیف کر کے لوگوں کے ہاتھوں میں تھما دیا جاتا۔ اور لوگ اسے پڑھتے رہتے اور مزے لیتے رہتے۔ اور پس اس پر عمل کی ضرورت نہ ہوتی۔ بلکہ یہ تو حرف حرف ‘ کلمہ اور ایک ایک حکم کے طور پر آیا۔ اس کی ہر آیت حکم الیوم (آرڈر آف دی ڈے) کے طور پر آئی۔ مسلمان حکم پاتے اور ان پر عمل کرتے۔ جیسا کہ ایک فوجی احکام لیتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے۔ وہ اس حکم کو لیتا ہیسمجھتا ہے اور نافذ کردیتا ہے۔ خود بھی اس کی کیفیت میں ڈوب جاتا ہے اور معاشرے کو اس میں غرق کردیتا ہے۔
یہی وجہ تھی کہ قرآن متفرق طور پر نازل ہوا ہے ‘ تاکہ رسول کے قلب کے اندر اچھی طرح جاگزیں ہو۔ حضور ﷺ سے پہلے خود اس پر ثابت قدم ہوجائیں اور ایک ایک جز کے بعد اس کا دوسرا جز آئے اور اس پر عمل ہوتا رہے۔
کذلک لنثبت بہ فوء دک ورتلنہ ترتیلا (25 : 32) ” ہاں ایسا ہی کہا گیا تاکہ ہم اس کو اچھی طرح ہمارے ذہن نشین کرتے رہیں اور ہم نے اسے ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی “۔ ترتیل کا مفہوم یہاں اللہ کی حکمت کے مطابق آگے پیچھے نازل کرنا ہے ‘ اللہ کے علم کے مطابق اور لوگوں کی ضرورت کے مطابق اور اللہ کی اس حکمت کے مطابق جس کی رو سے اللہ جانتے تھے کہ لوگوں کے اندر کس قدر احکام و ہدایات قبول کرنے کی استعداد پیدا ہوگئی ہے۔
قرآن کریم نے اپنے پے درپے منہاج نزول کے ذریعہ ان لوگوں کی تربیت کے میدان میں معجزات دکھائے۔ لوگ اس کے نزول سے دن بدن تاثرات لیتے رہے۔ اور ان کے اخلاق کی تشکیل آہستہ آہستہ ہوتی رہی۔ بسبب مسلمانوں نے قرآن مجید کا منہاج تربیت فراموش کردیا اور قرآن مجید کو انہوں نے محض علم و ثقافت کے طور پر پڑھنا شروع کردیا اور قرآن کو ایک ایسی کتاب تصور کرلیا جسے فقط پڑھا جاتا ہے ‘ اس کے مطابق معاشرے کو ڈھالنا ضروری نہیں ہے ‘ اس کی کیفیات میں ڈوبنا ضروری نہیں ہے اور نہ اس کے مطابق نظام زندگی قائم کرنا ضروری ہے تو مسلمانوں نے اس قرآن سے نفع لینا ترک کردیا اور قرآن نے ان کو نفع دینا چھوڑ دیا کیونکہ مسلمانوں نے وہ منہاج تربیت ہی ترک کردیا جو ان کے لیے علیم وخبیر نے قرآن میں منضبط کیا تھا۔ یعنی یہ کہ اسے ایک ایک کر کے عمل میں لایا جائے۔
نبی ﷺ کے مخالفین جو نکتہ اعتراض اٹھاتے تھے۔ جو نئے نئے اعتراضات کرتے تھے جو مطالبات کرتے تھے۔ یہ قرآن اپنے منہاج نزول متفرق کے ذریعے ایک ایک کا تشفی بخش جواب دے دیتا تھا۔
(ولا یاتونک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تفسیرا) (25 : 33) ” اور جب کبھی وہ تمہارے سامنے کوئی نرالی بات لے کر آئے اس کا ٹھیک جواب بروقت ہم نے تمہیں دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کھول دی “۔ یہ لوگ باطل طریقے سے مجادلہ کرتے تھے اور اللہ ان کے جواب میں حق اتار تا تھا جو باطل کا سر کچل کر رکھ دیتا تھا۔ کیونکہ قرآن مجید کی غرض وغایت ہی یہ تھی کہ دنیا میں حق جم جائے۔ محض بحث و مباحثے میں کامیابی مقصود نہ تھی بلکہ حق کو دنیا میں قوت دینا ‘ واضح کرنا اور غالب کرنا مقصود تھا۔
اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے کہ وہ آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کی قوم کے درمیان ہر قسم کے مجادلے میں آپ ﷺ کی مدد کرے گا۔ کیونکہ آپ ﷺ حق پر ہیں اور حق کے ساتھ اللہ آپ ﷺ کی امداد کرتا ہے اور باطل کو مٹاتا ہے۔ تو اللہ کی بنائی ہوئی حجت بالغہ کے مقابلے میں ان کا مجادلہ اور مباحثہ کس طرح ٹھہر سکتا تھا کیونکہ آپ ﷺ کے پاس رب تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی سچائی تھی جو ایک گولے کی طرح باطل کے سر پر لگتی تھی اور اسے کچل کر رکھ دیتی تھی۔
یہ بات اب اس مضمون پر ختم ہوتی ہے کہ کس طرح وہ قیامت کے دن جہنم رسید کیے جائیں گے۔ کیونکہ وہ حق کا انکا کرتے تھے اور اسلام کے خلاف مجادلے میں اور مقابلے میں وہ الٹی منطق استعمال کرتے تھے ‘ اس لیے قیامت میں بھی انہیں منہ کے بل الٹا گرایاجائے گا۔
(الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واضل سبیلا) (25 : 34) ” جو لوگ اوندھے منہ جہنم کی طرف دھکیلے جانے والے ہیں ‘ انکا موقف بہت برا ہے اور ان کی راہ حد درجہ غلط “۔ حشر کے دن ان کی حالت کو ذرا دیکھئے ‘ منہ کے بل اٹھیں گے نہایت ہی توہین آمیز انداز میں۔ اس لیے کہ دنیا میں یہ تکبر کی وہ سے منہ پھیرتے تھے ۔ ان کا یہ منظر رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ‘ تاکہ آپ ﷺ کو تسلی ہو کہ یہ لوگ اس وقت آپ ﷺ کو اذیت دیتے ہیں لیکن ان کا انجام بہت ہی برا ہونے والا ہے۔ اور اس کا ایک منظر آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ مجردیہ منظر ہی ان کی اکڑ کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ اور یہ لوگ ایسے مناظر سے ڈر کر متاثر بھی ہوتے تھے مگر پھر بھی حجت کر کے اپنے اوپر اس برے انجام کو لازم کرتے تھے اور اس عناد کی وجہ سے وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔
اب روئے سخن ان سابق اقوام کی طرف پھرجاتا ہے جنہوں نے تکذیب کی اور ہلاک کردیئے گئے۔
الفرقان 25:31
(وقال الرسول۔۔۔۔۔۔۔ واضل سیلا) ”
انہوں نے اس قرآن کو چھوڑ دیا جو اللہ نے اپنے بندے پر نازل کیا تھا تاکہ ان کو ڈرائے۔ اور ان کو بصیرت عطا کرے۔ انہوں نے قرآن کو اس طرح چھوڑا کہ اسے سننے سے بھی دور بھاگے ‘ مارے اس خوف کے کہ اگر انہوں نے سن لیا تو وہ اپنی بےپناہ تاثیر سے ان کو متاثر کرے گا۔ اور وہ اس وے اثرات کو مسترد نہ کرسکیں گے۔ انہوں نے اگر سنا بھی تو اس کے مضامین پر غور و فکر نہ کیا تاکہ وہ سچائی کو پا سکیں اور اس کی راہ پر چلیں۔ انہوں نے اسے اس طرح چھوڑا کہ اسے اپنا دستور حیات نہ بنایا۔ حالانکہ وہ نازل اسی لیے کیا گیا تھا کہ وہ اسے نظام حیات بتائیں۔
(وقال الرسول یرب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مھجورا) (25 : 30) ” اور رسول کہے گا اے میرے رب ‘ میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنا لیا تھا “۔ اور رب تعالیٰ تو جانتا تھا کہ ایسا ہوا ہے لیکن یہ فریاد اور انابت الی اللہ کے طور پر دعا ہے اور اللہ کو بھی معلوم ہے اور اللہ اس کی شہادت دے رہا ہے کہ رسول ﷺ نے اس سلسلے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے لیکن یہ قوم کا قصور ہے کہ اس نے اس قرآن کو نہ سنا اور نہ اس پر غور کیا۔
چناچہ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ یہ تو تمام نبیوں کو پیش آنے والا ایک عام طرز عمل ہے۔ یہ سنت جاریہ ہے اور تمام رسولوں نے ایسی ہی صورت حالات کا مقابلہ کیا۔ تمام انبیاء کو ایسے حالات پیش آئے کہ ان کی اقوام نے قرآن کریم اور ان کی دعوت کے ساتھ مذاق کیا اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا لیکن اللہ کی مدد اپنے رسولوں کے ساتھ شامل رہی اور اللہ نے اپنے رسولوں کو ایسے راستے بتائے کہ وہ اپنے دشمنوں پر غاب ہو کر رہے۔
(وکذلک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ونصیرا) (25 : 31) ” اے نبی ؐ‘ ہم نے تو اسی طرح مجرموں کو ہر نبی کا شمن بنایا ہے اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی راہنمائی اور مدد کے لیے کافی ہے “۔ اللہ کی حکمت اچھے انجام تک پہنچنے والی ہے۔ کسی اسلامی تحریک کے مقابلے میں جب مجرم اٹھ کھڑے ہوں اور مخالفت پر کمربستہ ہوجائیں تو اس سے تحریک کے اندر قوت پیدا ہوتی ہے۔ اور اس طرح تحریک سنجیدہ ہوجاتی ہے۔ ایک سچی دعوت اور جھوٹی دعوت کے درمیان فرق ہی یہ ہوتا ہے کہ سچی دعوت کے مقابلے میں لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ایک سچی دعوت کے حاملین کو مشکلیں پیش آتی ہیں۔ اور یہ کشمکش ہی دعوت حق کو باطل دعوتوں سے ممیز کرتی ہے۔ اس کشمکش کے نتیجے میں سچے پیرو کار چھٹ کر جم جاتے ہیں اور باطل کے حاملین بھاگ جاتے ہیں۔ دعوت کی پشت پر وہی لوگ رہ جاتے ہیں جو خالص اور مخلص ہوں جو مفادات کے بندے نہیں ہوتے۔ صرف اور صرف دعوت اسلامی ہی ان کا نصب العین ہوتی ہے۔ اور وہ صرف رضائے الہی چاہنے والے ہوتے ہیں۔
اگر دعوت اسلامی کا کام آسان ہوتا اور اس کے سامنے ردعمل واہ واہ کا ہوتا اور داعی کی راہ پر پھول بچھائے جاتے اور کوئی دشمن اور ناقد نہ ہوتا تو ہر کہ دمہ دعوت اسلامی کا حامل ہوجاتا۔ کیونکہ نہ کوئی عناد کرنے والا ہوتا اور نہ کوئی جھٹلانے والا اور پھر دعوت حق اور دعوت باطل کے درمیان کوئی فرق بھی نہ ہوتا اور دنیا میں انتشار اور فتنہ برپا ہو اتا۔ لیکن ہر سچی دعوت کے مقابلے میں اللہ نے دشمن اور مدعی پیدا کردیئے اور اللہ نے داعیوں کے لیے جدوجہد کرنا اور مقابلہ کرنا ضروری قرار دیا اور راہ حق میں قربانی دینا اور مشکلات برداشت کرنا اور راہ قرار دیا۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی راہ میں جدوجہد وہی کرتا ہے جو سچا ہو۔ مشکلات اور قربانیوں کو وہی شخص برداشت کرتا ہے جو سچا مومن ہو۔ ایسے لوگ جو اپنے آرام اور عیش و عشرت کو دعوت حق کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔ اور حیات دنیا کی لذتوں کو خیر باد کہتے ہیں بلکہ وہ اس راہ میں جان تک دے دیتے ہیں اگر دعوت کا تقاضا ہو کہ اب جان دینے کا وقت آگیا ہے۔ اس عظیم جدوجہد کے لیے وہی لوگ تیار ہوتے ہیں جو مضبوط اور ثابت قدم ہوں جو پکے مومن ہوں۔ پختہ ایمان رکھتے ہوں۔ وہ اس اجر کے زیادہ مشتاق ہوں جو اللہ کے ہاں ہے بجائے اس اجر کے جو لوگوں کے پاس ہے۔ جب یہ صورت حالات پیش آجائے تو پھر سچی دعوت اور جھوٹی دعوت کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔ ایسیحالات میں دعوت اسلامی کی صفوں کی تطہیر ہوجاتی ہے اور مضبوط قوی اور ثابت قدم لوگ چھٹ کر جدا ہوجاتے ہیں اور کمزور لوگ علحدہ ہوجاتے ہیں۔ پھر دعوت اسلامی ان لوگوں کو لے کر آگے بڑھتی ہے جنہوں نے ثابت قدمی کا انتحان پاس کرلیا ہوتا ہے۔ اور وہی لوگ پھر اس دعوت کے امین اور لیڈرہوت ہیں اور یہی اس کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ یہ لوگ بھاری قیمت ادا کرکے اس نام تک پہنچتے ہیں۔ یہ لوگ سچائی کیساتھ اس دعوت کا حق بھی ادا کرتے ہیں۔ پختہ ایمان کے ساتھ ‘ تجربے اور آزمائشوں نے ان کو بتادیا ہوتا ہے کہ اس دعوت کو مشکل سے مشکل حالات میں انہوں نے کس طرح لے کر چلنا ہے۔ شدائد اور مشکلات نے ان کی پوری قوت کو حساس بنا لیا ہوتا ہے اور ان کی قوت کا سرچشمہ اور طاقت کا ذخیرہ بڑھ جاتا ہے اور وہ مشکل سے مشکل صورت حالات میں دعوت کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔
اس دنیا میں عموما یوں ہوتا ہے کہ دعوت اسلامی کے حاملین اور ان کے مخالفین کے درمیان جو کشمکش برپا ہوتی ہے۔ لوگوں کی ایک عظیم تعداد اس میں غیر جانبدار ہو کر تماشادیکھتی ہے۔ یہ تماشا بین آبادی جب دیکھتی ہے کہ دعوت اسلامی کے حاملین اپنے نظریہ اور مقصد کی خاطرعظیم قربانیاں دے رہے ہیں اور بےحدو حساب مشکلات برداشت کر رہے ہیں اور بڑی ثابت قدمی اور یکسوئی کے ساتھ اپنی راہ پر جارہے ہیں تو پھر یہ یہ تماشا بین عوام الناس سوچنے لگتے ہیں کہ دعوت اسلامی کے ساتھ ملیں آخرکیوں اس قدر قربانیاں دے رہے ہیں اور مشکلات برداشت کررہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ مقاصد بہت ہی مفید ‘ بہت ہی قیمتی ہوں گے اور وہ جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانی دے رہے ہیں شاید ان چیزوں سے وہ مقاصد زیادہ قیمتی ہوں۔ اب یہ لوگ دعوت اسلامی کی اصل قدرو قیمت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب بات عامتہ الناس کی سمجھ میں آجاتی ہے تو وہ پھر فوج درفوج دعوت اسلامی میں داخل ہوتے ہیں اور وہ تماشادیکھنے کے بجائے اب خود تماشا بن جاتے ہیں۔
یہی وہ راز ہے جس کی وجہ سے اللہ نے ہر نبی کے لی مجرمین میں سے ایک دشمن پیدا کیا۔ یہ مجرمین دعوت اسلامی کی راہ روکنے کی سعی کرتے ہیں۔ پھر نبی اور ان کے عبد ہر حامل حق ان مجرمین کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ان کو مشکلات درپیش آتی ہیں اور وہ اپنی راہ میں چلتے ہی جاتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کے لیے کامیابی مقدر ہوتی ہے۔ اور ان کو اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ آخرکار وہ اس انجام تک پہنچیں گے۔ آخر میں ان کو ہدایت اور نصرت مل جاتی ہے۔
وکفی بربک ھادیا ونصیرا (25 : 31) ” اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی راہنمائی اور مدد کو کافی ہے “۔ انبیاء کے راستے میں مجرمین کا نمودار ہونا ایک طبیعی امر ہے۔ اس لیے کہ دعوت حق ہمیشہ اپے مناسب اور مقرر وقت پر نمودار ہوتی ہے جبکہ کوئی مخصوص سوسائٹی فساد پذیر ہوجاتی ہے یا پوری انسانیت فساد کا شکار ہوجاتی ہے۔ لوگوں کے قلب و نظر فساد کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دنیا کا نظام بگڑ جاتا ہے۔ لوگوں کے باہم روابط بگڑ جاتے ہیں۔ اس فساد اور بگاڑ کی پشت پر مجرم لوگ ہوتے ہیں ‘ جو ایک طرف فساد کرتے ہیں پھر وہ اس فساد اور بگاڑ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ اس فساد کے ہم مسلک اور ہم مشرب ہوتے ہیں۔ ان کی خواہشات اسی فساد زدہ معاشرے میں پوری ہوتی ہیں۔ اور ان کے وجود میں جو فساد اور بگاڑ ہوتا ہے اس کے لیے وجو جوز وہ معاشرے سے نکالتے ہیں کہ بس معاشرہ ہی ایسا ہے۔ اس لیے یہ بالکل طبیعی بات ہے کہ ایسے لوگ انبیاء کی راہ روک کر کھڑے ہوجائیں اور انبیاء کے دور کے بعد ان لوگوں کی راہ روک کر کھڑے ہوجاتے ہیں جو انبیاء کی دعوت کو لے کر رکھتے ہیں کیونکہ یہ مجرم دراصل ان کے بگڑے ہوئے وجود کا دفاع ہوتا ہے ‘ اس لیے کہ حشرات میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو پاک و صاف اور خوشبودار اور شفاف ماحول میں زندہ ہی نہیں رہتے ‘ فوراً مرجاتے ہیں اس لیے کہ یہ گندے ماحول میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں۔ بعض کیڑے ایسے ہوتے ہیں جو صاف پانی میں مرجاتے ہیں ‘ کیونکہ وہ صرف گندے اور سڑے ہوئے پانی ہی میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہی حال ان مجرموں کا ہوتا ہے لہٰذا یہ طبیعی امر ہے کہ وہ دعوت حق کے دشمن ہوں اور اس کے مقابلے میں جان دینے کے لیے تیار ہوں اور یہ بھی بالکل طبیعی امر ہے کہ آخر میں دعوت اسلامی کو کامیابی ہو کیونکہ دعوت اسلامی زندگی کی ترقی پذیر لائٹوں پر چلنے والی ہوتی ہے۔ اور اس طرح دعوت اسلامی کو وہ عروج نصیب ہوتا ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمایا ہوتا ہے۔
وکفی بربک ھادیا ونصیرا (25 : 31) ” اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی راہنمائی اور مدد کو کافی ہے “۔ اس کے بعد اب کفار کے اعتراضات بابت طریقہ نزول قرآن نقل کیے جاتے ہیں اور ان کی تردید کی جاتی ہے۔
(وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترتیلا) (25 : 32) ” منکرین کہتے ہیں اس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اتار دیا گیا ؟ “۔۔۔۔۔ ہاں ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے ہیں اور (اسی غرض کے لیے) ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے “۔
قرآن کریم نازل ہی اس لیے کیا گیا تھا کہ اس کے ذریعے ایک امت کی تربیت کی جائے۔ ایک نیا معاشرہ وجود میں لایا جائے۔ اس معاشرے میں ایک نیا نظام وجود میں لایا جائے۔ اور تربیت اس بات کی محتاج ہے کہ انسان کو بار بار تلقین کی جائے اور وہ متاثر ہوتا جائے۔ اور یہ تاثیر اور تاثر ایک مسلسل حرکت کے ذریعہ جاری رہے کیونکہ انقلاب انسانوں کے اندر پیدا کرنا مطلوب ہوتا ہی اور انسان ایک ایسیذات ہے کہ اسے صرف ایک شب و روز میں تربیت نہیں دی جاسکتی کہ بس اس کے ہاتھ میں ایک نئے نظام پر مشتمل ایک کتاب پکڑا دی جائے۔ اور اس میں جدید معاشرے کے مکمل خدوخال ہوں بلکہ انسانوں کی تربیت یوں ہوتی ہے کہ اسے تدریج کے ساتھ ایک طویل عرصے کے بعد بدلا جاتا ہے۔ اور یہ تبدیلی اس کے اندر آہستہ آہستہ آتی رہتی ہے۔ ہر دن کی غذا کے بعد دوسرے دن وہ زیادہ غذا کے لیے تیار ہوتا ہے اور دوسرے دن کی خوراک وہ پھر بڑی خوشی سے لیتا ہے اور بڑے مزے سے قبول کرتا ہے۔
قرآن کریم زندگی کا ایک مکمل نظام لے کر آیا ہے اور قرآن کریم نے انسانوں کی تربیت کے لیے بھی ایک فطری منہاج اختیار کیا۔ یہ منہاج اس ذات کی طرف سے تھا جس نے انسان کو پیدا کیا تھا اس لیے قرآن کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا گیا تاکہ وہ جماعت مسلمہ کی حقیقی اور زندہموجود ضروریات کو پورا کرتا چلاجائے۔ کیونکہ یہ جماعت آہستہ آہستہ تعمیر ہورہی تھی۔ وہ اپنی استعداد کے مطابق ‘ اپنی قوت کے مطابق ایک ایک قدم آگے بڑھ رہی تھی۔ ٹھیک ٹھیک اللہ کے حقیقی منہاج تربیت کے مطابق۔ چناچہ قرآن مجید کو بیک وقت منہاج تربیت اور نظام زندگی کی تشکیل کے لیے اتارا گیا۔ اس لیے اس کا متفرق نزول لازمی تھا۔ یہ محض کوئی علمی ثقافتی اور ادبی کتاب نہ تھی کہ مکمل شکل میں اسے تصنیف کر کے لوگوں کے ہاتھوں میں تھما دیا جاتا۔ اور لوگ اسے پڑھتے رہتے اور مزے لیتے رہتے۔ اور پس اس پر عمل کی ضرورت نہ ہوتی۔ بلکہ یہ تو حرف حرف ‘ کلمہ اور ایک ایک حکم کے طور پر آیا۔ اس کی ہر آیت حکم الیوم (آرڈر آف دی ڈے) کے طور پر آئی۔ مسلمان حکم پاتے اور ان پر عمل کرتے۔ جیسا کہ ایک فوجی احکام لیتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے۔ وہ اس حکم کو لیتا ہیسمجھتا ہے اور نافذ کردیتا ہے۔ خود بھی اس کی کیفیت میں ڈوب جاتا ہے اور معاشرے کو اس میں غرق کردیتا ہے۔
یہی وجہ تھی کہ قرآن متفرق طور پر نازل ہوا ہے ‘ تاکہ رسول کے قلب کے اندر اچھی طرح جاگزیں ہو۔ حضور ﷺ سے پہلے خود اس پر ثابت قدم ہوجائیں اور ایک ایک جز کے بعد اس کا دوسرا جز آئے اور اس پر عمل ہوتا رہے۔
کذلک لنثبت بہ فوء دک ورتلنہ ترتیلا (25 : 32) ” ہاں ایسا ہی کہا گیا تاکہ ہم اس کو اچھی طرح ہمارے ذہن نشین کرتے رہیں اور ہم نے اسے ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی “۔ ترتیل کا مفہوم یہاں اللہ کی حکمت کے مطابق آگے پیچھے نازل کرنا ہے ‘ اللہ کے علم کے مطابق اور لوگوں کی ضرورت کے مطابق اور اللہ کی اس حکمت کے مطابق جس کی رو سے اللہ جانتے تھے کہ لوگوں کے اندر کس قدر احکام و ہدایات قبول کرنے کی استعداد پیدا ہوگئی ہے۔
قرآن کریم نے اپنے پے درپے منہاج نزول کے ذریعہ ان لوگوں کی تربیت کے میدان میں معجزات دکھائے۔ لوگ اس کے نزول سے دن بدن تاثرات لیتے رہے۔ اور ان کے اخلاق کی تشکیل آہستہ آہستہ ہوتی رہی۔ بسبب مسلمانوں نے قرآن مجید کا منہاج تربیت فراموش کردیا اور قرآن مجید کو انہوں نے محض علم و ثقافت کے طور پر پڑھنا شروع کردیا اور قرآن کو ایک ایسی کتاب تصور کرلیا جسے فقط پڑھا جاتا ہے ‘ اس کے مطابق معاشرے کو ڈھالنا ضروری نہیں ہے ‘ اس کی کیفیات میں ڈوبنا ضروری نہیں ہے اور نہ اس کے مطابق نظام زندگی قائم کرنا ضروری ہے تو مسلمانوں نے اس قرآن سے نفع لینا ترک کردیا اور قرآن نے ان کو نفع دینا چھوڑ دیا کیونکہ مسلمانوں نے وہ منہاج تربیت ہی ترک کردیا جو ان کے لیے علیم وخبیر نے قرآن میں منضبط کیا تھا۔ یعنی یہ کہ اسے ایک ایک کر کے عمل میں لایا جائے۔
نبی ﷺ کے مخالفین جو نکتہ اعتراض اٹھاتے تھے۔ جو نئے نئے اعتراضات کرتے تھے جو مطالبات کرتے تھے۔ یہ قرآن اپنے منہاج نزول متفرق کے ذریعے ایک ایک کا تشفی بخش جواب دے دیتا تھا۔
(ولا یاتونک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تفسیرا) (25 : 33) ” اور جب کبھی وہ تمہارے سامنے کوئی نرالی بات لے کر آئے اس کا ٹھیک جواب بروقت ہم نے تمہیں دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کھول دی “۔ یہ لوگ باطل طریقے سے مجادلہ کرتے تھے اور اللہ ان کے جواب میں حق اتار تا تھا جو باطل کا سر کچل کر رکھ دیتا تھا۔ کیونکہ قرآن مجید کی غرض وغایت ہی یہ تھی کہ دنیا میں حق جم جائے۔ محض بحث و مباحثے میں کامیابی مقصود نہ تھی بلکہ حق کو دنیا میں قوت دینا ‘ واضح کرنا اور غالب کرنا مقصود تھا۔
اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے کہ وہ آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کی قوم کے درمیان ہر قسم کے مجادلے میں آپ ﷺ کی مدد کرے گا۔ کیونکہ آپ ﷺ حق پر ہیں اور حق کے ساتھ اللہ آپ ﷺ کی امداد کرتا ہے اور باطل کو مٹاتا ہے۔ تو اللہ کی بنائی ہوئی حجت بالغہ کے مقابلے میں ان کا مجادلہ اور مباحثہ کس طرح ٹھہر سکتا تھا کیونکہ آپ ﷺ کے پاس رب تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی سچائی تھی جو ایک گولے کی طرح باطل کے سر پر لگتی تھی اور اسے کچل کر رکھ دیتی تھی۔
یہ بات اب اس مضمون پر ختم ہوتی ہے کہ کس طرح وہ قیامت کے دن جہنم رسید کیے جائیں گے۔ کیونکہ وہ حق کا انکا کرتے تھے اور اسلام کے خلاف مجادلے میں اور مقابلے میں وہ الٹی منطق استعمال کرتے تھے ‘ اس لیے قیامت میں بھی انہیں منہ کے بل الٹا گرایاجائے گا۔
(الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واضل سبیلا) (25 : 34) ” جو لوگ اوندھے منہ جہنم کی طرف دھکیلے جانے والے ہیں ‘ انکا موقف بہت برا ہے اور ان کی راہ حد درجہ غلط “۔ حشر کے دن ان کی حالت کو ذرا دیکھئے ‘ منہ کے بل اٹھیں گے نہایت ہی توہین آمیز انداز میں۔ اس لیے کہ دنیا میں یہ تکبر کی وہ سے منہ پھیرتے تھے ۔ ان کا یہ منظر رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ‘ تاکہ آپ ﷺ کو تسلی ہو کہ یہ لوگ اس وقت آپ ﷺ کو اذیت دیتے ہیں لیکن ان کا انجام بہت ہی برا ہونے والا ہے۔ اور اس کا ایک منظر آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ مجردیہ منظر ہی ان کی اکڑ کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ اور یہ لوگ ایسے مناظر سے ڈر کر متاثر بھی ہوتے تھے مگر پھر بھی حجت کر کے اپنے اوپر اس برے انجام کو لازم کرتے تھے اور اس عناد کی وجہ سے وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔
اب روئے سخن ان سابق اقوام کی طرف پھرجاتا ہے جنہوں نے تکذیب کی اور ہلاک کردیئے گئے۔
الفرقان 25:32
(وقال الرسول۔۔۔۔۔۔۔ واضل سیلا) ”
انہوں نے اس قرآن کو چھوڑ دیا جو اللہ نے اپنے بندے پر نازل کیا تھا تاکہ ان کو ڈرائے۔ اور ان کو بصیرت عطا کرے۔ انہوں نے قرآن کو اس طرح چھوڑا کہ اسے سننے سے بھی دور بھاگے ‘ مارے اس خوف کے کہ اگر انہوں نے سن لیا تو وہ اپنی بےپناہ تاثیر سے ان کو متاثر کرے گا۔ اور وہ اس وے اثرات کو مسترد نہ کرسکیں گے۔ انہوں نے اگر سنا بھی تو اس کے مضامین پر غور و فکر نہ کیا تاکہ وہ سچائی کو پا سکیں اور اس کی راہ پر چلیں۔ انہوں نے اسے اس طرح چھوڑا کہ اسے اپنا دستور حیات نہ بنایا۔ حالانکہ وہ نازل اسی لیے کیا گیا تھا کہ وہ اسے نظام حیات بتائیں۔
(وقال الرسول یرب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مھجورا) (25 : 30) ” اور رسول کہے گا اے میرے رب ‘ میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنا لیا تھا “۔ اور رب تعالیٰ تو جانتا تھا کہ ایسا ہوا ہے لیکن یہ فریاد اور انابت الی اللہ کے طور پر دعا ہے اور اللہ کو بھی معلوم ہے اور اللہ اس کی شہادت دے رہا ہے کہ رسول ﷺ نے اس سلسلے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے لیکن یہ قوم کا قصور ہے کہ اس نے اس قرآن کو نہ سنا اور نہ اس پر غور کیا۔
چناچہ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ یہ تو تمام نبیوں کو پیش آنے والا ایک عام طرز عمل ہے۔ یہ سنت جاریہ ہے اور تمام رسولوں نے ایسی ہی صورت حالات کا مقابلہ کیا۔ تمام انبیاء کو ایسے حالات پیش آئے کہ ان کی اقوام نے قرآن کریم اور ان کی دعوت کے ساتھ مذاق کیا اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا لیکن اللہ کی مدد اپنے رسولوں کے ساتھ شامل رہی اور اللہ نے اپنے رسولوں کو ایسے راستے بتائے کہ وہ اپنے دشمنوں پر غاب ہو کر رہے۔
(وکذلک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ونصیرا) (25 : 31) ” اے نبی ؐ‘ ہم نے تو اسی طرح مجرموں کو ہر نبی کا شمن بنایا ہے اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی راہنمائی اور مدد کے لیے کافی ہے “۔ اللہ کی حکمت اچھے انجام تک پہنچنے والی ہے۔ کسی اسلامی تحریک کے مقابلے میں جب مجرم اٹھ کھڑے ہوں اور مخالفت پر کمربستہ ہوجائیں تو اس سے تحریک کے اندر قوت پیدا ہوتی ہے۔ اور اس طرح تحریک سنجیدہ ہوجاتی ہے۔ ایک سچی دعوت اور جھوٹی دعوت کے درمیان فرق ہی یہ ہوتا ہے کہ سچی دعوت کے مقابلے میں لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ایک سچی دعوت کے حاملین کو مشکلیں پیش آتی ہیں۔ اور یہ کشمکش ہی دعوت حق کو باطل دعوتوں سے ممیز کرتی ہے۔ اس کشمکش کے نتیجے میں سچے پیرو کار چھٹ کر جم جاتے ہیں اور باطل کے حاملین بھاگ جاتے ہیں۔ دعوت کی پشت پر وہی لوگ رہ جاتے ہیں جو خالص اور مخلص ہوں جو مفادات کے بندے نہیں ہوتے۔ صرف اور صرف دعوت اسلامی ہی ان کا نصب العین ہوتی ہے۔ اور وہ صرف رضائے الہی چاہنے والے ہوتے ہیں۔
اگر دعوت اسلامی کا کام آسان ہوتا اور اس کے سامنے ردعمل واہ واہ کا ہوتا اور داعی کی راہ پر پھول بچھائے جاتے اور کوئی دشمن اور ناقد نہ ہوتا تو ہر کہ دمہ دعوت اسلامی کا حامل ہوجاتا۔ کیونکہ نہ کوئی عناد کرنے والا ہوتا اور نہ کوئی جھٹلانے والا اور پھر دعوت حق اور دعوت باطل کے درمیان کوئی فرق بھی نہ ہوتا اور دنیا میں انتشار اور فتنہ برپا ہو اتا۔ لیکن ہر سچی دعوت کے مقابلے میں اللہ نے دشمن اور مدعی پیدا کردیئے اور اللہ نے داعیوں کے لیے جدوجہد کرنا اور مقابلہ کرنا ضروری قرار دیا اور راہ حق میں قربانی دینا اور مشکلات برداشت کرنا اور راہ قرار دیا۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی راہ میں جدوجہد وہی کرتا ہے جو سچا ہو۔ مشکلات اور قربانیوں کو وہی شخص برداشت کرتا ہے جو سچا مومن ہو۔ ایسے لوگ جو اپنے آرام اور عیش و عشرت کو دعوت حق کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔ اور حیات دنیا کی لذتوں کو خیر باد کہتے ہیں بلکہ وہ اس راہ میں جان تک دے دیتے ہیں اگر دعوت کا تقاضا ہو کہ اب جان دینے کا وقت آگیا ہے۔ اس عظیم جدوجہد کے لیے وہی لوگ تیار ہوتے ہیں جو مضبوط اور ثابت قدم ہوں جو پکے مومن ہوں۔ پختہ ایمان رکھتے ہوں۔ وہ اس اجر کے زیادہ مشتاق ہوں جو اللہ کے ہاں ہے بجائے اس اجر کے جو لوگوں کے پاس ہے۔ جب یہ صورت حالات پیش آجائے تو پھر سچی دعوت اور جھوٹی دعوت کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔ ایسیحالات میں دعوت اسلامی کی صفوں کی تطہیر ہوجاتی ہے اور مضبوط قوی اور ثابت قدم لوگ چھٹ کر جدا ہوجاتے ہیں اور کمزور لوگ علحدہ ہوجاتے ہیں۔ پھر دعوت اسلامی ان لوگوں کو لے کر آگے بڑھتی ہے جنہوں نے ثابت قدمی کا انتحان پاس کرلیا ہوتا ہے۔ اور وہی لوگ پھر اس دعوت کے امین اور لیڈرہوت ہیں اور یہی اس کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ یہ لوگ بھاری قیمت ادا کرکے اس نام تک پہنچتے ہیں۔ یہ لوگ سچائی کیساتھ اس دعوت کا حق بھی ادا کرتے ہیں۔ پختہ ایمان کے ساتھ ‘ تجربے اور آزمائشوں نے ان کو بتادیا ہوتا ہے کہ اس دعوت کو مشکل سے مشکل حالات میں انہوں نے کس طرح لے کر چلنا ہے۔ شدائد اور مشکلات نے ان کی پوری قوت کو حساس بنا لیا ہوتا ہے اور ان کی قوت کا سرچشمہ اور طاقت کا ذخیرہ بڑھ جاتا ہے اور وہ مشکل سے مشکل صورت حالات میں دعوت کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔
اس دنیا میں عموما یوں ہوتا ہے کہ دعوت اسلامی کے حاملین اور ان کے مخالفین کے درمیان جو کشمکش برپا ہوتی ہے۔ لوگوں کی ایک عظیم تعداد اس میں غیر جانبدار ہو کر تماشادیکھتی ہے۔ یہ تماشا بین آبادی جب دیکھتی ہے کہ دعوت اسلامی کے حاملین اپنے نظریہ اور مقصد کی خاطرعظیم قربانیاں دے رہے ہیں اور بےحدو حساب مشکلات برداشت کر رہے ہیں اور بڑی ثابت قدمی اور یکسوئی کے ساتھ اپنی راہ پر جارہے ہیں تو پھر یہ یہ تماشا بین عوام الناس سوچنے لگتے ہیں کہ دعوت اسلامی کے ساتھ ملیں آخرکیوں اس قدر قربانیاں دے رہے ہیں اور مشکلات برداشت کررہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ مقاصد بہت ہی مفید ‘ بہت ہی قیمتی ہوں گے اور وہ جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانی دے رہے ہیں شاید ان چیزوں سے وہ مقاصد زیادہ قیمتی ہوں۔ اب یہ لوگ دعوت اسلامی کی اصل قدرو قیمت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب بات عامتہ الناس کی سمجھ میں آجاتی ہے تو وہ پھر فوج درفوج دعوت اسلامی میں داخل ہوتے ہیں اور وہ تماشادیکھنے کے بجائے اب خود تماشا بن جاتے ہیں۔
یہی وہ راز ہے جس کی وجہ سے اللہ نے ہر نبی کے لی مجرمین میں سے ایک دشمن پیدا کیا۔ یہ مجرمین دعوت اسلامی کی راہ روکنے کی سعی کرتے ہیں۔ پھر نبی اور ان کے عبد ہر حامل حق ان مجرمین کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ان کو مشکلات درپیش آتی ہیں اور وہ اپنی راہ میں چلتے ہی جاتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کے لیے کامیابی مقدر ہوتی ہے۔ اور ان کو اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ آخرکار وہ اس انجام تک پہنچیں گے۔ آخر میں ان کو ہدایت اور نصرت مل جاتی ہے۔
وکفی بربک ھادیا ونصیرا (25 : 31) ” اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی راہنمائی اور مدد کو کافی ہے “۔ انبیاء کے راستے میں مجرمین کا نمودار ہونا ایک طبیعی امر ہے۔ اس لیے کہ دعوت حق ہمیشہ اپے مناسب اور مقرر وقت پر نمودار ہوتی ہے جبکہ کوئی مخصوص سوسائٹی فساد پذیر ہوجاتی ہے یا پوری انسانیت فساد کا شکار ہوجاتی ہے۔ لوگوں کے قلب و نظر فساد کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دنیا کا نظام بگڑ جاتا ہے۔ لوگوں کے باہم روابط بگڑ جاتے ہیں۔ اس فساد اور بگاڑ کی پشت پر مجرم لوگ ہوتے ہیں ‘ جو ایک طرف فساد کرتے ہیں پھر وہ اس فساد اور بگاڑ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ اس فساد کے ہم مسلک اور ہم مشرب ہوتے ہیں۔ ان کی خواہشات اسی فساد زدہ معاشرے میں پوری ہوتی ہیں۔ اور ان کے وجود میں جو فساد اور بگاڑ ہوتا ہے اس کے لیے وجو جوز وہ معاشرے سے نکالتے ہیں کہ بس معاشرہ ہی ایسا ہے۔ اس لیے یہ بالکل طبیعی بات ہے کہ ایسے لوگ انبیاء کی راہ روک کر کھڑے ہوجائیں اور انبیاء کے دور کے بعد ان لوگوں کی راہ روک کر کھڑے ہوجاتے ہیں جو انبیاء کی دعوت کو لے کر رکھتے ہیں کیونکہ یہ مجرم دراصل ان کے بگڑے ہوئے وجود کا دفاع ہوتا ہے ‘ اس لیے کہ حشرات میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو پاک و صاف اور خوشبودار اور شفاف ماحول میں زندہ ہی نہیں رہتے ‘ فوراً مرجاتے ہیں اس لیے کہ یہ گندے ماحول میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں۔ بعض کیڑے ایسے ہوتے ہیں جو صاف پانی میں مرجاتے ہیں ‘ کیونکہ وہ صرف گندے اور سڑے ہوئے پانی ہی میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہی حال ان مجرموں کا ہوتا ہے لہٰذا یہ طبیعی امر ہے کہ وہ دعوت حق کے دشمن ہوں اور اس کے مقابلے میں جان دینے کے لیے تیار ہوں اور یہ بھی بالکل طبیعی امر ہے کہ آخر میں دعوت اسلامی کو کامیابی ہو کیونکہ دعوت اسلامی زندگی کی ترقی پذیر لائٹوں پر چلنے والی ہوتی ہے۔ اور اس طرح دعوت اسلامی کو وہ عروج نصیب ہوتا ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمایا ہوتا ہے۔
وکفی بربک ھادیا ونصیرا (25 : 31) ” اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی راہنمائی اور مدد کو کافی ہے “۔ اس کے بعد اب کفار کے اعتراضات بابت طریقہ نزول قرآن نقل کیے جاتے ہیں اور ان کی تردید کی جاتی ہے۔
(وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترتیلا) (25 : 32) ” منکرین کہتے ہیں اس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اتار دیا گیا ؟ “۔۔۔۔۔ ہاں ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے ہیں اور (اسی غرض کے لیے) ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے “۔
قرآن کریم نازل ہی اس لیے کیا گیا تھا کہ اس کے ذریعے ایک امت کی تربیت کی جائے۔ ایک نیا معاشرہ وجود میں لایا جائے۔ اس معاشرے میں ایک نیا نظام وجود میں لایا جائے۔ اور تربیت اس بات کی محتاج ہے کہ انسان کو بار بار تلقین کی جائے اور وہ متاثر ہوتا جائے۔ اور یہ تاثیر اور تاثر ایک مسلسل حرکت کے ذریعہ جاری رہے کیونکہ انقلاب انسانوں کے اندر پیدا کرنا مطلوب ہوتا ہی اور انسان ایک ایسیذات ہے کہ اسے صرف ایک شب و روز میں تربیت نہیں دی جاسکتی کہ بس اس کے ہاتھ میں ایک نئے نظام پر مشتمل ایک کتاب پکڑا دی جائے۔ اور اس میں جدید معاشرے کے مکمل خدوخال ہوں بلکہ انسانوں کی تربیت یوں ہوتی ہے کہ اسے تدریج کے ساتھ ایک طویل عرصے کے بعد بدلا جاتا ہے۔ اور یہ تبدیلی اس کے اندر آہستہ آہستہ آتی رہتی ہے۔ ہر دن کی غذا کے بعد دوسرے دن وہ زیادہ غذا کے لیے تیار ہوتا ہے اور دوسرے دن کی خوراک وہ پھر بڑی خوشی سے لیتا ہے اور بڑے مزے سے قبول کرتا ہے۔
قرآن کریم زندگی کا ایک مکمل نظام لے کر آیا ہے اور قرآن کریم نے انسانوں کی تربیت کے لیے بھی ایک فطری منہاج اختیار کیا۔ یہ منہاج اس ذات کی طرف سے تھا جس نے انسان کو پیدا کیا تھا اس لیے قرآن کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا گیا تاکہ وہ جماعت مسلمہ کی حقیقی اور زندہموجود ضروریات کو پورا کرتا چلاجائے۔ کیونکہ یہ جماعت آہستہ آہستہ تعمیر ہورہی تھی۔ وہ اپنی استعداد کے مطابق ‘ اپنی قوت کے مطابق ایک ایک قدم آگے بڑھ رہی تھی۔ ٹھیک ٹھیک اللہ کے حقیقی منہاج تربیت کے مطابق۔ چناچہ قرآن مجید کو بیک وقت منہاج تربیت اور نظام زندگی کی تشکیل کے لیے اتارا گیا۔ اس لیے اس کا متفرق نزول لازمی تھا۔ یہ محض کوئی علمی ثقافتی اور ادبی کتاب نہ تھی کہ مکمل شکل میں اسے تصنیف کر کے لوگوں کے ہاتھوں میں تھما دیا جاتا۔ اور لوگ اسے پڑھتے رہتے اور مزے لیتے رہتے۔ اور پس اس پر عمل کی ضرورت نہ ہوتی۔ بلکہ یہ تو حرف حرف ‘ کلمہ اور ایک ایک حکم کے طور پر آیا۔ اس کی ہر آیت حکم الیوم (آرڈر آف دی ڈے) کے طور پر آئی۔ مسلمان حکم پاتے اور ان پر عمل کرتے۔ جیسا کہ ایک فوجی احکام لیتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے۔ وہ اس حکم کو لیتا ہیسمجھتا ہے اور نافذ کردیتا ہے۔ خود بھی اس کی کیفیت میں ڈوب جاتا ہے اور معاشرے کو اس میں غرق کردیتا ہے۔
یہی وجہ تھی کہ قرآن متفرق طور پر نازل ہوا ہے ‘ تاکہ رسول کے قلب کے اندر اچھی طرح جاگزیں ہو۔ حضور ﷺ سے پہلے خود اس پر ثابت قدم ہوجائیں اور ایک ایک جز کے بعد اس کا دوسرا جز آئے اور اس پر عمل ہوتا رہے۔
کذلک لنثبت بہ فوء دک ورتلنہ ترتیلا (25 : 32) ” ہاں ایسا ہی کہا گیا تاکہ ہم اس کو اچھی طرح ہمارے ذہن نشین کرتے رہیں اور ہم نے اسے ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی “۔ ترتیل کا مفہوم یہاں اللہ کی حکمت کے مطابق آگے پیچھے نازل کرنا ہے ‘ اللہ کے علم کے مطابق اور لوگوں کی ضرورت کے مطابق اور اللہ کی اس حکمت کے مطابق جس کی رو سے اللہ جانتے تھے کہ لوگوں کے اندر کس قدر احکام و ہدایات قبول کرنے کی استعداد پیدا ہوگئی ہے۔
قرآن کریم نے اپنے پے درپے منہاج نزول کے ذریعہ ان لوگوں کی تربیت کے میدان میں معجزات دکھائے۔ لوگ اس کے نزول سے دن بدن تاثرات لیتے رہے۔ اور ان کے اخلاق کی تشکیل آہستہ آہستہ ہوتی رہی۔ بسبب مسلمانوں نے قرآن مجید کا منہاج تربیت فراموش کردیا اور قرآن مجید کو انہوں نے محض علم و ثقافت کے طور پر پڑھنا شروع کردیا اور قرآن کو ایک ایسی کتاب تصور کرلیا جسے فقط پڑھا جاتا ہے ‘ اس کے مطابق معاشرے کو ڈھالنا ضروری نہیں ہے ‘ اس کی کیفیات میں ڈوبنا ضروری نہیں ہے اور نہ اس کے مطابق نظام زندگی قائم کرنا ضروری ہے تو مسلمانوں نے اس قرآن سے نفع لینا ترک کردیا اور قرآن نے ان کو نفع دینا چھوڑ دیا کیونکہ مسلمانوں نے وہ منہاج تربیت ہی ترک کردیا جو ان کے لیے علیم وخبیر نے قرآن میں منضبط کیا تھا۔ یعنی یہ کہ اسے ایک ایک کر کے عمل میں لایا جائے۔
نبی ﷺ کے مخالفین جو نکتہ اعتراض اٹھاتے تھے۔ جو نئے نئے اعتراضات کرتے تھے جو مطالبات کرتے تھے۔ یہ قرآن اپنے منہاج نزول متفرق کے ذریعے ایک ایک کا تشفی بخش جواب دے دیتا تھا۔
(ولا یاتونک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تفسیرا) (25 : 33) ” اور جب کبھی وہ تمہارے سامنے کوئی نرالی بات لے کر آئے اس کا ٹھیک جواب بروقت ہم نے تمہیں دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کھول دی “۔ یہ لوگ باطل طریقے سے مجادلہ کرتے تھے اور اللہ ان کے جواب میں حق اتار تا تھا جو باطل کا سر کچل کر رکھ دیتا تھا۔ کیونکہ قرآن مجید کی غرض وغایت ہی یہ تھی کہ دنیا میں حق جم جائے۔ محض بحث و مباحثے میں کامیابی مقصود نہ تھی بلکہ حق کو دنیا میں قوت دینا ‘ واضح کرنا اور غالب کرنا مقصود تھا۔
اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے کہ وہ آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کی قوم کے درمیان ہر قسم کے مجادلے میں آپ ﷺ کی مدد کرے گا۔ کیونکہ آپ ﷺ حق پر ہیں اور حق کے ساتھ اللہ آپ ﷺ کی امداد کرتا ہے اور باطل کو مٹاتا ہے۔ تو اللہ کی بنائی ہوئی حجت بالغہ کے مقابلے میں ان کا مجادلہ اور مباحثہ کس طرح ٹھہر سکتا تھا کیونکہ آپ ﷺ کے پاس رب تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی سچائی تھی جو ایک گولے کی طرح باطل کے سر پر لگتی تھی اور اسے کچل کر رکھ دیتی تھی۔
یہ بات اب اس مضمون پر ختم ہوتی ہے کہ کس طرح وہ قیامت کے دن جہنم رسید کیے جائیں گے۔ کیونکہ وہ حق کا انکا کرتے تھے اور اسلام کے خلاف مجادلے میں اور مقابلے میں وہ الٹی منطق استعمال کرتے تھے ‘ اس لیے قیامت میں بھی انہیں منہ کے بل الٹا گرایاجائے گا۔
(الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واضل سبیلا) (25 : 34) ” جو لوگ اوندھے منہ جہنم کی طرف دھکیلے جانے والے ہیں ‘ انکا موقف بہت برا ہے اور ان کی راہ حد درجہ غلط “۔ حشر کے دن ان کی حالت کو ذرا دیکھئے ‘ منہ کے بل اٹھیں گے نہایت ہی توہین آمیز انداز میں۔ اس لیے کہ دنیا میں یہ تکبر کی وہ سے منہ پھیرتے تھے ۔ ان کا یہ منظر رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ‘ تاکہ آپ ﷺ کو تسلی ہو کہ یہ لوگ اس وقت آپ ﷺ کو اذیت دیتے ہیں لیکن ان کا انجام بہت ہی برا ہونے والا ہے۔ اور اس کا ایک منظر آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ مجردیہ منظر ہی ان کی اکڑ کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ اور یہ لوگ ایسے مناظر سے ڈر کر متاثر بھی ہوتے تھے مگر پھر بھی حجت کر کے اپنے اوپر اس برے انجام کو لازم کرتے تھے اور اس عناد کی وجہ سے وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔
اب روئے سخن ان سابق اقوام کی طرف پھرجاتا ہے جنہوں نے تکذیب کی اور ہلاک کردیئے گئے۔
الفرقان 25:33
(وقال الرسول۔۔۔۔۔۔۔ واضل سیلا) ”
انہوں نے اس قرآن کو چھوڑ دیا جو اللہ نے اپنے بندے پر نازل کیا تھا تاکہ ان کو ڈرائے۔ اور ان کو بصیرت عطا کرے۔ انہوں نے قرآن کو اس طرح چھوڑا کہ اسے سننے سے بھی دور بھاگے ‘ مارے اس خوف کے کہ اگر انہوں نے سن لیا تو وہ اپنی بےپناہ تاثیر سے ان کو متاثر کرے گا۔ اور وہ اس وے اثرات کو مسترد نہ کرسکیں گے۔ انہوں نے اگر سنا بھی تو اس کے مضامین پر غور و فکر نہ کیا تاکہ وہ سچائی کو پا سکیں اور اس کی راہ پر چلیں۔ انہوں نے اسے اس طرح چھوڑا کہ اسے اپنا دستور حیات نہ بنایا۔ حالانکہ وہ نازل اسی لیے کیا گیا تھا کہ وہ اسے نظام حیات بتائیں۔
(وقال الرسول یرب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مھجورا) (25 : 30) ” اور رسول کہے گا اے میرے رب ‘ میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنا لیا تھا “۔ اور رب تعالیٰ تو جانتا تھا کہ ایسا ہوا ہے لیکن یہ فریاد اور انابت الی اللہ کے طور پر دعا ہے اور اللہ کو بھی معلوم ہے اور اللہ اس کی شہادت دے رہا ہے کہ رسول ﷺ نے اس سلسلے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے لیکن یہ قوم کا قصور ہے کہ اس نے اس قرآن کو نہ سنا اور نہ اس پر غور کیا۔
چناچہ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ یہ تو تمام نبیوں کو پیش آنے والا ایک عام طرز عمل ہے۔ یہ سنت جاریہ ہے اور تمام رسولوں نے ایسی ہی صورت حالات کا مقابلہ کیا۔ تمام انبیاء کو ایسے حالات پیش آئے کہ ان کی اقوام نے قرآن کریم اور ان کی دعوت کے ساتھ مذاق کیا اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا لیکن اللہ کی مدد اپنے رسولوں کے ساتھ شامل رہی اور اللہ نے اپنے رسولوں کو ایسے راستے بتائے کہ وہ اپنے دشمنوں پر غاب ہو کر رہے۔
(وکذلک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ونصیرا) (25 : 31) ” اے نبی ؐ‘ ہم نے تو اسی طرح مجرموں کو ہر نبی کا شمن بنایا ہے اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی راہنمائی اور مدد کے لیے کافی ہے “۔ اللہ کی حکمت اچھے انجام تک پہنچنے والی ہے۔ کسی اسلامی تحریک کے مقابلے میں جب مجرم اٹھ کھڑے ہوں اور مخالفت پر کمربستہ ہوجائیں تو اس سے تحریک کے اندر قوت پیدا ہوتی ہے۔ اور اس طرح تحریک سنجیدہ ہوجاتی ہے۔ ایک سچی دعوت اور جھوٹی دعوت کے درمیان فرق ہی یہ ہوتا ہے کہ سچی دعوت کے مقابلے میں لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ایک سچی دعوت کے حاملین کو مشکلیں پیش آتی ہیں۔ اور یہ کشمکش ہی دعوت حق کو باطل دعوتوں سے ممیز کرتی ہے۔ اس کشمکش کے نتیجے میں سچے پیرو کار چھٹ کر جم جاتے ہیں اور باطل کے حاملین بھاگ جاتے ہیں۔ دعوت کی پشت پر وہی لوگ رہ جاتے ہیں جو خالص اور مخلص ہوں جو مفادات کے بندے نہیں ہوتے۔ صرف اور صرف دعوت اسلامی ہی ان کا نصب العین ہوتی ہے۔ اور وہ صرف رضائے الہی چاہنے والے ہوتے ہیں۔
اگر دعوت اسلامی کا کام آسان ہوتا اور اس کے سامنے ردعمل واہ واہ کا ہوتا اور داعی کی راہ پر پھول بچھائے جاتے اور کوئی دشمن اور ناقد نہ ہوتا تو ہر کہ دمہ دعوت اسلامی کا حامل ہوجاتا۔ کیونکہ نہ کوئی عناد کرنے والا ہوتا اور نہ کوئی جھٹلانے والا اور پھر دعوت حق اور دعوت باطل کے درمیان کوئی فرق بھی نہ ہوتا اور دنیا میں انتشار اور فتنہ برپا ہو اتا۔ لیکن ہر سچی دعوت کے مقابلے میں اللہ نے دشمن اور مدعی پیدا کردیئے اور اللہ نے داعیوں کے لیے جدوجہد کرنا اور مقابلہ کرنا ضروری قرار دیا اور راہ حق میں قربانی دینا اور مشکلات برداشت کرنا اور راہ قرار دیا۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی راہ میں جدوجہد وہی کرتا ہے جو سچا ہو۔ مشکلات اور قربانیوں کو وہی شخص برداشت کرتا ہے جو سچا مومن ہو۔ ایسے لوگ جو اپنے آرام اور عیش و عشرت کو دعوت حق کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔ اور حیات دنیا کی لذتوں کو خیر باد کہتے ہیں بلکہ وہ اس راہ میں جان تک دے دیتے ہیں اگر دعوت کا تقاضا ہو کہ اب جان دینے کا وقت آگیا ہے۔ اس عظیم جدوجہد کے لیے وہی لوگ تیار ہوتے ہیں جو مضبوط اور ثابت قدم ہوں جو پکے مومن ہوں۔ پختہ ایمان رکھتے ہوں۔ وہ اس اجر کے زیادہ مشتاق ہوں جو اللہ کے ہاں ہے بجائے اس اجر کے جو لوگوں کے پاس ہے۔ جب یہ صورت حالات پیش آجائے تو پھر سچی دعوت اور جھوٹی دعوت کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔ ایسیحالات میں دعوت اسلامی کی صفوں کی تطہیر ہوجاتی ہے اور مضبوط قوی اور ثابت قدم لوگ چھٹ کر جدا ہوجاتے ہیں اور کمزور لوگ علحدہ ہوجاتے ہیں۔ پھر دعوت اسلامی ان لوگوں کو لے کر آگے بڑھتی ہے جنہوں نے ثابت قدمی کا انتحان پاس کرلیا ہوتا ہے۔ اور وہی لوگ پھر اس دعوت کے امین اور لیڈرہوت ہیں اور یہی اس کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ یہ لوگ بھاری قیمت ادا کرکے اس نام تک پہنچتے ہیں۔ یہ لوگ سچائی کیساتھ اس دعوت کا حق بھی ادا کرتے ہیں۔ پختہ ایمان کے ساتھ ‘ تجربے اور آزمائشوں نے ان کو بتادیا ہوتا ہے کہ اس دعوت کو مشکل سے مشکل حالات میں انہوں نے کس طرح لے کر چلنا ہے۔ شدائد اور مشکلات نے ان کی پوری قوت کو حساس بنا لیا ہوتا ہے اور ان کی قوت کا سرچشمہ اور طاقت کا ذخیرہ بڑھ جاتا ہے اور وہ مشکل سے مشکل صورت حالات میں دعوت کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔
اس دنیا میں عموما یوں ہوتا ہے کہ دعوت اسلامی کے حاملین اور ان کے مخالفین کے درمیان جو کشمکش برپا ہوتی ہے۔ لوگوں کی ایک عظیم تعداد اس میں غیر جانبدار ہو کر تماشادیکھتی ہے۔ یہ تماشا بین آبادی جب دیکھتی ہے کہ دعوت اسلامی کے حاملین اپنے نظریہ اور مقصد کی خاطرعظیم قربانیاں دے رہے ہیں اور بےحدو حساب مشکلات برداشت کر رہے ہیں اور بڑی ثابت قدمی اور یکسوئی کے ساتھ اپنی راہ پر جارہے ہیں تو پھر یہ یہ تماشا بین عوام الناس سوچنے لگتے ہیں کہ دعوت اسلامی کے ساتھ ملیں آخرکیوں اس قدر قربانیاں دے رہے ہیں اور مشکلات برداشت کررہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ مقاصد بہت ہی مفید ‘ بہت ہی قیمتی ہوں گے اور وہ جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانی دے رہے ہیں شاید ان چیزوں سے وہ مقاصد زیادہ قیمتی ہوں۔ اب یہ لوگ دعوت اسلامی کی اصل قدرو قیمت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب بات عامتہ الناس کی سمجھ میں آجاتی ہے تو وہ پھر فوج درفوج دعوت اسلامی میں داخل ہوتے ہیں اور وہ تماشادیکھنے کے بجائے اب خود تماشا بن جاتے ہیں۔
یہی وہ راز ہے جس کی وجہ سے اللہ نے ہر نبی کے لی مجرمین میں سے ایک دشمن پیدا کیا۔ یہ مجرمین دعوت اسلامی کی راہ روکنے کی سعی کرتے ہیں۔ پھر نبی اور ان کے عبد ہر حامل حق ان مجرمین کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ان کو مشکلات درپیش آتی ہیں اور وہ اپنی راہ میں چلتے ہی جاتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کے لیے کامیابی مقدر ہوتی ہے۔ اور ان کو اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ آخرکار وہ اس انجام تک پہنچیں گے۔ آخر میں ان کو ہدایت اور نصرت مل جاتی ہے۔
وکفی بربک ھادیا ونصیرا (25 : 31) ” اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی راہنمائی اور مدد کو کافی ہے “۔ انبیاء کے راستے میں مجرمین کا نمودار ہونا ایک طبیعی امر ہے۔ اس لیے کہ دعوت حق ہمیشہ اپے مناسب اور مقرر وقت پر نمودار ہوتی ہے جبکہ کوئی مخصوص سوسائٹی فساد پذیر ہوجاتی ہے یا پوری انسانیت فساد کا شکار ہوجاتی ہے۔ لوگوں کے قلب و نظر فساد کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دنیا کا نظام بگڑ جاتا ہے۔ لوگوں کے باہم روابط بگڑ جاتے ہیں۔ اس فساد اور بگاڑ کی پشت پر مجرم لوگ ہوتے ہیں ‘ جو ایک طرف فساد کرتے ہیں پھر وہ اس فساد اور بگاڑ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ اس فساد کے ہم مسلک اور ہم مشرب ہوتے ہیں۔ ان کی خواہشات اسی فساد زدہ معاشرے میں پوری ہوتی ہیں۔ اور ان کے وجود میں جو فساد اور بگاڑ ہوتا ہے اس کے لیے وجو جوز وہ معاشرے سے نکالتے ہیں کہ بس معاشرہ ہی ایسا ہے۔ اس لیے یہ بالکل طبیعی بات ہے کہ ایسے لوگ انبیاء کی راہ روک کر کھڑے ہوجائیں اور انبیاء کے دور کے بعد ان لوگوں کی راہ روک کر کھڑے ہوجاتے ہیں جو انبیاء کی دعوت کو لے کر رکھتے ہیں کیونکہ یہ مجرم دراصل ان کے بگڑے ہوئے وجود کا دفاع ہوتا ہے ‘ اس لیے کہ حشرات میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو پاک و صاف اور خوشبودار اور شفاف ماحول میں زندہ ہی نہیں رہتے ‘ فوراً مرجاتے ہیں اس لیے کہ یہ گندے ماحول میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں۔ بعض کیڑے ایسے ہوتے ہیں جو صاف پانی میں مرجاتے ہیں ‘ کیونکہ وہ صرف گندے اور سڑے ہوئے پانی ہی میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہی حال ان مجرموں کا ہوتا ہے لہٰذا یہ طبیعی امر ہے کہ وہ دعوت حق کے دشمن ہوں اور اس کے مقابلے میں جان دینے کے لیے تیار ہوں اور یہ بھی بالکل طبیعی امر ہے کہ آخر میں دعوت اسلامی کو کامیابی ہو کیونکہ دعوت اسلامی زندگی کی ترقی پذیر لائٹوں پر چلنے والی ہوتی ہے۔ اور اس طرح دعوت اسلامی کو وہ عروج نصیب ہوتا ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمایا ہوتا ہے۔
وکفی بربک ھادیا ونصیرا (25 : 31) ” اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی راہنمائی اور مدد کو کافی ہے “۔ اس کے بعد اب کفار کے اعتراضات بابت طریقہ نزول قرآن نقل کیے جاتے ہیں اور ان کی تردید کی جاتی ہے۔
(وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترتیلا) (25 : 32) ” منکرین کہتے ہیں اس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اتار دیا گیا ؟ “۔۔۔۔۔ ہاں ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے ہیں اور (اسی غرض کے لیے) ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے “۔
قرآن کریم نازل ہی اس لیے کیا گیا تھا کہ اس کے ذریعے ایک امت کی تربیت کی جائے۔ ایک نیا معاشرہ وجود میں لایا جائے۔ اس معاشرے میں ایک نیا نظام وجود میں لایا جائے۔ اور تربیت اس بات کی محتاج ہے کہ انسان کو بار بار تلقین کی جائے اور وہ متاثر ہوتا جائے۔ اور یہ تاثیر اور تاثر ایک مسلسل حرکت کے ذریعہ جاری رہے کیونکہ انقلاب انسانوں کے اندر پیدا کرنا مطلوب ہوتا ہی اور انسان ایک ایسیذات ہے کہ اسے صرف ایک شب و روز میں تربیت نہیں دی جاسکتی کہ بس اس کے ہاتھ میں ایک نئے نظام پر مشتمل ایک کتاب پکڑا دی جائے۔ اور اس میں جدید معاشرے کے مکمل خدوخال ہوں بلکہ انسانوں کی تربیت یوں ہوتی ہے کہ اسے تدریج کے ساتھ ایک طویل عرصے کے بعد بدلا جاتا ہے۔ اور یہ تبدیلی اس کے اندر آہستہ آہستہ آتی رہتی ہے۔ ہر دن کی غذا کے بعد دوسرے دن وہ زیادہ غذا کے لیے تیار ہوتا ہے اور دوسرے دن کی خوراک وہ پھر بڑی خوشی سے لیتا ہے اور بڑے مزے سے قبول کرتا ہے۔
قرآن کریم زندگی کا ایک مکمل نظام لے کر آیا ہے اور قرآن کریم نے انسانوں کی تربیت کے لیے بھی ایک فطری منہاج اختیار کیا۔ یہ منہاج اس ذات کی طرف سے تھا جس نے انسان کو پیدا کیا تھا اس لیے قرآن کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا گیا تاکہ وہ جماعت مسلمہ کی حقیقی اور زندہموجود ضروریات کو پورا کرتا چلاجائے۔ کیونکہ یہ جماعت آہستہ آہستہ تعمیر ہورہی تھی۔ وہ اپنی استعداد کے مطابق ‘ اپنی قوت کے مطابق ایک ایک قدم آگے بڑھ رہی تھی۔ ٹھیک ٹھیک اللہ کے حقیقی منہاج تربیت کے مطابق۔ چناچہ قرآن مجید کو بیک وقت منہاج تربیت اور نظام زندگی کی تشکیل کے لیے اتارا گیا۔ اس لیے اس کا متفرق نزول لازمی تھا۔ یہ محض کوئی علمی ثقافتی اور ادبی کتاب نہ تھی کہ مکمل شکل میں اسے تصنیف کر کے لوگوں کے ہاتھوں میں تھما دیا جاتا۔ اور لوگ اسے پڑھتے رہتے اور مزے لیتے رہتے۔ اور پس اس پر عمل کی ضرورت نہ ہوتی۔ بلکہ یہ تو حرف حرف ‘ کلمہ اور ایک ایک حکم کے طور پر آیا۔ اس کی ہر آیت حکم الیوم (آرڈر آف دی ڈے) کے طور پر آئی۔ مسلمان حکم پاتے اور ان پر عمل کرتے۔ جیسا کہ ایک فوجی احکام لیتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے۔ وہ اس حکم کو لیتا ہیسمجھتا ہے اور نافذ کردیتا ہے۔ خود بھی اس کی کیفیت میں ڈوب جاتا ہے اور معاشرے کو اس میں غرق کردیتا ہے۔
یہی وجہ تھی کہ قرآن متفرق طور پر نازل ہوا ہے ‘ تاکہ رسول کے قلب کے اندر اچھی طرح جاگزیں ہو۔ حضور ﷺ سے پہلے خود اس پر ثابت قدم ہوجائیں اور ایک ایک جز کے بعد اس کا دوسرا جز آئے اور اس پر عمل ہوتا رہے۔
کذلک لنثبت بہ فوء دک ورتلنہ ترتیلا (25 : 32) ” ہاں ایسا ہی کہا گیا تاکہ ہم اس کو اچھی طرح ہمارے ذہن نشین کرتے رہیں اور ہم نے اسے ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی “۔ ترتیل کا مفہوم یہاں اللہ کی حکمت کے مطابق آگے پیچھے نازل کرنا ہے ‘ اللہ کے علم کے مطابق اور لوگوں کی ضرورت کے مطابق اور اللہ کی اس حکمت کے مطابق جس کی رو سے اللہ جانتے تھے کہ لوگوں کے اندر کس قدر احکام و ہدایات قبول کرنے کی استعداد پیدا ہوگئی ہے۔
قرآن کریم نے اپنے پے درپے منہاج نزول کے ذریعہ ان لوگوں کی تربیت کے میدان میں معجزات دکھائے۔ لوگ اس کے نزول سے دن بدن تاثرات لیتے رہے۔ اور ان کے اخلاق کی تشکیل آہستہ آہستہ ہوتی رہی۔ بسبب مسلمانوں نے قرآن مجید کا منہاج تربیت فراموش کردیا اور قرآن مجید کو انہوں نے محض علم و ثقافت کے طور پر پڑھنا شروع کردیا اور قرآن کو ایک ایسی کتاب تصور کرلیا جسے فقط پڑھا جاتا ہے ‘ اس کے مطابق معاشرے کو ڈھالنا ضروری نہیں ہے ‘ اس کی کیفیات میں ڈوبنا ضروری نہیں ہے اور نہ اس کے مطابق نظام زندگی قائم کرنا ضروری ہے تو مسلمانوں نے اس قرآن سے نفع لینا ترک کردیا اور قرآن نے ان کو نفع دینا چھوڑ دیا کیونکہ مسلمانوں نے وہ منہاج تربیت ہی ترک کردیا جو ان کے لیے علیم وخبیر نے قرآن میں منضبط کیا تھا۔ یعنی یہ کہ اسے ایک ایک کر کے عمل میں لایا جائے۔
نبی ﷺ کے مخالفین جو نکتہ اعتراض اٹھاتے تھے۔ جو نئے نئے اعتراضات کرتے تھے جو مطالبات کرتے تھے۔ یہ قرآن اپنے منہاج نزول متفرق کے ذریعے ایک ایک کا تشفی بخش جواب دے دیتا تھا۔
(ولا یاتونک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تفسیرا) (25 : 33) ” اور جب کبھی وہ تمہارے سامنے کوئی نرالی بات لے کر آئے اس کا ٹھیک جواب بروقت ہم نے تمہیں دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کھول دی “۔ یہ لوگ باطل طریقے سے مجادلہ کرتے تھے اور اللہ ان کے جواب میں حق اتار تا تھا جو باطل کا سر کچل کر رکھ دیتا تھا۔ کیونکہ قرآن مجید کی غرض وغایت ہی یہ تھی کہ دنیا میں حق جم جائے۔ محض بحث و مباحثے میں کامیابی مقصود نہ تھی بلکہ حق کو دنیا میں قوت دینا ‘ واضح کرنا اور غالب کرنا مقصود تھا۔
اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے کہ وہ آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کی قوم کے درمیان ہر قسم کے مجادلے میں آپ ﷺ کی مدد کرے گا۔ کیونکہ آپ ﷺ حق پر ہیں اور حق کے ساتھ اللہ آپ ﷺ کی امداد کرتا ہے اور باطل کو مٹاتا ہے۔ تو اللہ کی بنائی ہوئی حجت بالغہ کے مقابلے میں ان کا مجادلہ اور مباحثہ کس طرح ٹھہر سکتا تھا کیونکہ آپ ﷺ کے پاس رب تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی سچائی تھی جو ایک گولے کی طرح باطل کے سر پر لگتی تھی اور اسے کچل کر رکھ دیتی تھی۔
یہ بات اب اس مضمون پر ختم ہوتی ہے کہ کس طرح وہ قیامت کے دن جہنم رسید کیے جائیں گے۔ کیونکہ وہ حق کا انکا کرتے تھے اور اسلام کے خلاف مجادلے میں اور مقابلے میں وہ الٹی منطق استعمال کرتے تھے ‘ اس لیے قیامت میں بھی انہیں منہ کے بل الٹا گرایاجائے گا۔
(الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واضل سبیلا) (25 : 34) ” جو لوگ اوندھے منہ جہنم کی طرف دھکیلے جانے والے ہیں ‘ انکا موقف بہت برا ہے اور ان کی راہ حد درجہ غلط “۔ حشر کے دن ان کی حالت کو ذرا دیکھئے ‘ منہ کے بل اٹھیں گے نہایت ہی توہین آمیز انداز میں۔ اس لیے کہ دنیا میں یہ تکبر کی وہ سے منہ پھیرتے تھے ۔ ان کا یہ منظر رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ‘ تاکہ آپ ﷺ کو تسلی ہو کہ یہ لوگ اس وقت آپ ﷺ کو اذیت دیتے ہیں لیکن ان کا انجام بہت ہی برا ہونے والا ہے۔ اور اس کا ایک منظر آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ مجردیہ منظر ہی ان کی اکڑ کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ اور یہ لوگ ایسے مناظر سے ڈر کر متاثر بھی ہوتے تھے مگر پھر بھی حجت کر کے اپنے اوپر اس برے انجام کو لازم کرتے تھے اور اس عناد کی وجہ سے وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔
اب روئے سخن ان سابق اقوام کی طرف پھرجاتا ہے جنہوں نے تکذیب کی اور ہلاک کردیئے گئے۔
الفرقان 25:34
(وقال الرسول۔۔۔۔۔۔۔ واضل سیلا) ”
انہوں نے اس قرآن کو چھوڑ دیا جو اللہ نے اپنے بندے پر نازل کیا تھا تاکہ ان کو ڈرائے۔ اور ان کو بصیرت عطا کرے۔ انہوں نے قرآن کو اس طرح چھوڑا کہ اسے سننے سے بھی دور بھاگے ‘ مارے اس خوف کے کہ اگر انہوں نے سن لیا تو وہ اپنی بےپناہ تاثیر سے ان کو متاثر کرے گا۔ اور وہ اس وے اثرات کو مسترد نہ کرسکیں گے۔ انہوں نے اگر سنا بھی تو اس کے مضامین پر غور و فکر نہ کیا تاکہ وہ سچائی کو پا سکیں اور اس کی راہ پر چلیں۔ انہوں نے اسے اس طرح چھوڑا کہ اسے اپنا دستور حیات نہ بنایا۔ حالانکہ وہ نازل اسی لیے کیا گیا تھا کہ وہ اسے نظام حیات بتائیں۔
(وقال الرسول یرب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مھجورا) (25 : 30) ” اور رسول کہے گا اے میرے رب ‘ میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنا لیا تھا “۔ اور رب تعالیٰ تو جانتا تھا کہ ایسا ہوا ہے لیکن یہ فریاد اور انابت الی اللہ کے طور پر دعا ہے اور اللہ کو بھی معلوم ہے اور اللہ اس کی شہادت دے رہا ہے کہ رسول ﷺ نے اس سلسلے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے لیکن یہ قوم کا قصور ہے کہ اس نے اس قرآن کو نہ سنا اور نہ اس پر غور کیا۔
چناچہ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ یہ تو تمام نبیوں کو پیش آنے والا ایک عام طرز عمل ہے۔ یہ سنت جاریہ ہے اور تمام رسولوں نے ایسی ہی صورت حالات کا مقابلہ کیا۔ تمام انبیاء کو ایسے حالات پیش آئے کہ ان کی اقوام نے قرآن کریم اور ان کی دعوت کے ساتھ مذاق کیا اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا لیکن اللہ کی مدد اپنے رسولوں کے ساتھ شامل رہی اور اللہ نے اپنے رسولوں کو ایسے راستے بتائے کہ وہ اپنے دشمنوں پر غاب ہو کر رہے۔
(وکذلک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ونصیرا) (25 : 31) ” اے نبی ؐ‘ ہم نے تو اسی طرح مجرموں کو ہر نبی کا شمن بنایا ہے اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی راہنمائی اور مدد کے لیے کافی ہے “۔ اللہ کی حکمت اچھے انجام تک پہنچنے والی ہے۔ کسی اسلامی تحریک کے مقابلے میں جب مجرم اٹھ کھڑے ہوں اور مخالفت پر کمربستہ ہوجائیں تو اس سے تحریک کے اندر قوت پیدا ہوتی ہے۔ اور اس طرح تحریک سنجیدہ ہوجاتی ہے۔ ایک سچی دعوت اور جھوٹی دعوت کے درمیان فرق ہی یہ ہوتا ہے کہ سچی دعوت کے مقابلے میں لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ایک سچی دعوت کے حاملین کو مشکلیں پیش آتی ہیں۔ اور یہ کشمکش ہی دعوت حق کو باطل دعوتوں سے ممیز کرتی ہے۔ اس کشمکش کے نتیجے میں سچے پیرو کار چھٹ کر جم جاتے ہیں اور باطل کے حاملین بھاگ جاتے ہیں۔ دعوت کی پشت پر وہی لوگ رہ جاتے ہیں جو خالص اور مخلص ہوں جو مفادات کے بندے نہیں ہوتے۔ صرف اور صرف دعوت اسلامی ہی ان کا نصب العین ہوتی ہے۔ اور وہ صرف رضائے الہی چاہنے والے ہوتے ہیں۔
اگر دعوت اسلامی کا کام آسان ہوتا اور اس کے سامنے ردعمل واہ واہ کا ہوتا اور داعی کی راہ پر پھول بچھائے جاتے اور کوئی دشمن اور ناقد نہ ہوتا تو ہر کہ دمہ دعوت اسلامی کا حامل ہوجاتا۔ کیونکہ نہ کوئی عناد کرنے والا ہوتا اور نہ کوئی جھٹلانے والا اور پھر دعوت حق اور دعوت باطل کے درمیان کوئی فرق بھی نہ ہوتا اور دنیا میں انتشار اور فتنہ برپا ہو اتا۔ لیکن ہر سچی دعوت کے مقابلے میں اللہ نے دشمن اور مدعی پیدا کردیئے اور اللہ نے داعیوں کے لیے جدوجہد کرنا اور مقابلہ کرنا ضروری قرار دیا اور راہ حق میں قربانی دینا اور مشکلات برداشت کرنا اور راہ قرار دیا۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی راہ میں جدوجہد وہی کرتا ہے جو سچا ہو۔ مشکلات اور قربانیوں کو وہی شخص برداشت کرتا ہے جو سچا مومن ہو۔ ایسے لوگ جو اپنے آرام اور عیش و عشرت کو دعوت حق کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔ اور حیات دنیا کی لذتوں کو خیر باد کہتے ہیں بلکہ وہ اس راہ میں جان تک دے دیتے ہیں اگر دعوت کا تقاضا ہو کہ اب جان دینے کا وقت آگیا ہے۔ اس عظیم جدوجہد کے لیے وہی لوگ تیار ہوتے ہیں جو مضبوط اور ثابت قدم ہوں جو پکے مومن ہوں۔ پختہ ایمان رکھتے ہوں۔ وہ اس اجر کے زیادہ مشتاق ہوں جو اللہ کے ہاں ہے بجائے اس اجر کے جو لوگوں کے پاس ہے۔ جب یہ صورت حالات پیش آجائے تو پھر سچی دعوت اور جھوٹی دعوت کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔ ایسیحالات میں دعوت اسلامی کی صفوں کی تطہیر ہوجاتی ہے اور مضبوط قوی اور ثابت قدم لوگ چھٹ کر جدا ہوجاتے ہیں اور کمزور لوگ علحدہ ہوجاتے ہیں۔ پھر دعوت اسلامی ان لوگوں کو لے کر آگے بڑھتی ہے جنہوں نے ثابت قدمی کا انتحان پاس کرلیا ہوتا ہے۔ اور وہی لوگ پھر اس دعوت کے امین اور لیڈرہوت ہیں اور یہی اس کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ یہ لوگ بھاری قیمت ادا کرکے اس نام تک پہنچتے ہیں۔ یہ لوگ سچائی کیساتھ اس دعوت کا حق بھی ادا کرتے ہیں۔ پختہ ایمان کے ساتھ ‘ تجربے اور آزمائشوں نے ان کو بتادیا ہوتا ہے کہ اس دعوت کو مشکل سے مشکل حالات میں انہوں نے کس طرح لے کر چلنا ہے۔ شدائد اور مشکلات نے ان کی پوری قوت کو حساس بنا لیا ہوتا ہے اور ان کی قوت کا سرچشمہ اور طاقت کا ذخیرہ بڑھ جاتا ہے اور وہ مشکل سے مشکل صورت حالات میں دعوت کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔
اس دنیا میں عموما یوں ہوتا ہے کہ دعوت اسلامی کے حاملین اور ان کے مخالفین کے درمیان جو کشمکش برپا ہوتی ہے۔ لوگوں کی ایک عظیم تعداد اس میں غیر جانبدار ہو کر تماشادیکھتی ہے۔ یہ تماشا بین آبادی جب دیکھتی ہے کہ دعوت اسلامی کے حاملین اپنے نظریہ اور مقصد کی خاطرعظیم قربانیاں دے رہے ہیں اور بےحدو حساب مشکلات برداشت کر رہے ہیں اور بڑی ثابت قدمی اور یکسوئی کے ساتھ اپنی راہ پر جارہے ہیں تو پھر یہ یہ تماشا بین عوام الناس سوچنے لگتے ہیں کہ دعوت اسلامی کے ساتھ ملیں آخرکیوں اس قدر قربانیاں دے رہے ہیں اور مشکلات برداشت کررہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ مقاصد بہت ہی مفید ‘ بہت ہی قیمتی ہوں گے اور وہ جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانی دے رہے ہیں شاید ان چیزوں سے وہ مقاصد زیادہ قیمتی ہوں۔ اب یہ لوگ دعوت اسلامی کی اصل قدرو قیمت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب بات عامتہ الناس کی سمجھ میں آجاتی ہے تو وہ پھر فوج درفوج دعوت اسلامی میں داخل ہوتے ہیں اور وہ تماشادیکھنے کے بجائے اب خود تماشا بن جاتے ہیں۔
یہی وہ راز ہے جس کی وجہ سے اللہ نے ہر نبی کے لی مجرمین میں سے ایک دشمن پیدا کیا۔ یہ مجرمین دعوت اسلامی کی راہ روکنے کی سعی کرتے ہیں۔ پھر نبی اور ان کے عبد ہر حامل حق ان مجرمین کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ان کو مشکلات درپیش آتی ہیں اور وہ اپنی راہ میں چلتے ہی جاتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کے لیے کامیابی مقدر ہوتی ہے۔ اور ان کو اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ آخرکار وہ اس انجام تک پہنچیں گے۔ آخر میں ان کو ہدایت اور نصرت مل جاتی ہے۔
وکفی بربک ھادیا ونصیرا (25 : 31) ” اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی راہنمائی اور مدد کو کافی ہے “۔ انبیاء کے راستے میں مجرمین کا نمودار ہونا ایک طبیعی امر ہے۔ اس لیے کہ دعوت حق ہمیشہ اپے مناسب اور مقرر وقت پر نمودار ہوتی ہے جبکہ کوئی مخصوص سوسائٹی فساد پذیر ہوجاتی ہے یا پوری انسانیت فساد کا شکار ہوجاتی ہے۔ لوگوں کے قلب و نظر فساد کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دنیا کا نظام بگڑ جاتا ہے۔ لوگوں کے باہم روابط بگڑ جاتے ہیں۔ اس فساد اور بگاڑ کی پشت پر مجرم لوگ ہوتے ہیں ‘ جو ایک طرف فساد کرتے ہیں پھر وہ اس فساد اور بگاڑ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ اس فساد کے ہم مسلک اور ہم مشرب ہوتے ہیں۔ ان کی خواہشات اسی فساد زدہ معاشرے میں پوری ہوتی ہیں۔ اور ان کے وجود میں جو فساد اور بگاڑ ہوتا ہے اس کے لیے وجو جوز وہ معاشرے سے نکالتے ہیں کہ بس معاشرہ ہی ایسا ہے۔ اس لیے یہ بالکل طبیعی بات ہے کہ ایسے لوگ انبیاء کی راہ روک کر کھڑے ہوجائیں اور انبیاء کے دور کے بعد ان لوگوں کی راہ روک کر کھڑے ہوجاتے ہیں جو انبیاء کی دعوت کو لے کر رکھتے ہیں کیونکہ یہ مجرم دراصل ان کے بگڑے ہوئے وجود کا دفاع ہوتا ہے ‘ اس لیے کہ حشرات میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو پاک و صاف اور خوشبودار اور شفاف ماحول میں زندہ ہی نہیں رہتے ‘ فوراً مرجاتے ہیں اس لیے کہ یہ گندے ماحول میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں۔ بعض کیڑے ایسے ہوتے ہیں جو صاف پانی میں مرجاتے ہیں ‘ کیونکہ وہ صرف گندے اور سڑے ہوئے پانی ہی میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہی حال ان مجرموں کا ہوتا ہے لہٰذا یہ طبیعی امر ہے کہ وہ دعوت حق کے دشمن ہوں اور اس کے مقابلے میں جان دینے کے لیے تیار ہوں اور یہ بھی بالکل طبیعی امر ہے کہ آخر میں دعوت اسلامی کو کامیابی ہو کیونکہ دعوت اسلامی زندگی کی ترقی پذیر لائٹوں پر چلنے والی ہوتی ہے۔ اور اس طرح دعوت اسلامی کو وہ عروج نصیب ہوتا ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمایا ہوتا ہے۔
وکفی بربک ھادیا ونصیرا (25 : 31) ” اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی راہنمائی اور مدد کو کافی ہے “۔ اس کے بعد اب کفار کے اعتراضات بابت طریقہ نزول قرآن نقل کیے جاتے ہیں اور ان کی تردید کی جاتی ہے۔
(وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترتیلا) (25 : 32) ” منکرین کہتے ہیں اس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اتار دیا گیا ؟ “۔۔۔۔۔ ہاں ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے ہیں اور (اسی غرض کے لیے) ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے “۔
قرآن کریم نازل ہی اس لیے کیا گیا تھا کہ اس کے ذریعے ایک امت کی تربیت کی جائے۔ ایک نیا معاشرہ وجود میں لایا جائے۔ اس معاشرے میں ایک نیا نظام وجود میں لایا جائے۔ اور تربیت اس بات کی محتاج ہے کہ انسان کو بار بار تلقین کی جائے اور وہ متاثر ہوتا جائے۔ اور یہ تاثیر اور تاثر ایک مسلسل حرکت کے ذریعہ جاری رہے کیونکہ انقلاب انسانوں کے اندر پیدا کرنا مطلوب ہوتا ہی اور انسان ایک ایسیذات ہے کہ اسے صرف ایک شب و روز میں تربیت نہیں دی جاسکتی کہ بس اس کے ہاتھ میں ایک نئے نظام پر مشتمل ایک کتاب پکڑا دی جائے۔ اور اس میں جدید معاشرے کے مکمل خدوخال ہوں بلکہ انسانوں کی تربیت یوں ہوتی ہے کہ اسے تدریج کے ساتھ ایک طویل عرصے کے بعد بدلا جاتا ہے۔ اور یہ تبدیلی اس کے اندر آہستہ آہستہ آتی رہتی ہے۔ ہر دن کی غذا کے بعد دوسرے دن وہ زیادہ غذا کے لیے تیار ہوتا ہے اور دوسرے دن کی خوراک وہ پھر بڑی خوشی سے لیتا ہے اور بڑے مزے سے قبول کرتا ہے۔
قرآن کریم زندگی کا ایک مکمل نظام لے کر آیا ہے اور قرآن کریم نے انسانوں کی تربیت کے لیے بھی ایک فطری منہاج اختیار کیا۔ یہ منہاج اس ذات کی طرف سے تھا جس نے انسان کو پیدا کیا تھا اس لیے قرآن کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا گیا تاکہ وہ جماعت مسلمہ کی حقیقی اور زندہموجود ضروریات کو پورا کرتا چلاجائے۔ کیونکہ یہ جماعت آہستہ آہستہ تعمیر ہورہی تھی۔ وہ اپنی استعداد کے مطابق ‘ اپنی قوت کے مطابق ایک ایک قدم آگے بڑھ رہی تھی۔ ٹھیک ٹھیک اللہ کے حقیقی منہاج تربیت کے مطابق۔ چناچہ قرآن مجید کو بیک وقت منہاج تربیت اور نظام زندگی کی تشکیل کے لیے اتارا گیا۔ اس لیے اس کا متفرق نزول لازمی تھا۔ یہ محض کوئی علمی ثقافتی اور ادبی کتاب نہ تھی کہ مکمل شکل میں اسے تصنیف کر کے لوگوں کے ہاتھوں میں تھما دیا جاتا۔ اور لوگ اسے پڑھتے رہتے اور مزے لیتے رہتے۔ اور پس اس پر عمل کی ضرورت نہ ہوتی۔ بلکہ یہ تو حرف حرف ‘ کلمہ اور ایک ایک حکم کے طور پر آیا۔ اس کی ہر آیت حکم الیوم (آرڈر آف دی ڈے) کے طور پر آئی۔ مسلمان حکم پاتے اور ان پر عمل کرتے۔ جیسا کہ ایک فوجی احکام لیتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے۔ وہ اس حکم کو لیتا ہیسمجھتا ہے اور نافذ کردیتا ہے۔ خود بھی اس کی کیفیت میں ڈوب جاتا ہے اور معاشرے کو اس میں غرق کردیتا ہے۔
یہی وجہ تھی کہ قرآن متفرق طور پر نازل ہوا ہے ‘ تاکہ رسول کے قلب کے اندر اچھی طرح جاگزیں ہو۔ حضور ﷺ سے پہلے خود اس پر ثابت قدم ہوجائیں اور ایک ایک جز کے بعد اس کا دوسرا جز آئے اور اس پر عمل ہوتا رہے۔
کذلک لنثبت بہ فوء دک ورتلنہ ترتیلا (25 : 32) ” ہاں ایسا ہی کہا گیا تاکہ ہم اس کو اچھی طرح ہمارے ذہن نشین کرتے رہیں اور ہم نے اسے ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی “۔ ترتیل کا مفہوم یہاں اللہ کی حکمت کے مطابق آگے پیچھے نازل کرنا ہے ‘ اللہ کے علم کے مطابق اور لوگوں کی ضرورت کے مطابق اور اللہ کی اس حکمت کے مطابق جس کی رو سے اللہ جانتے تھے کہ لوگوں کے اندر کس قدر احکام و ہدایات قبول کرنے کی استعداد پیدا ہوگئی ہے۔
قرآن کریم نے اپنے پے درپے منہاج نزول کے ذریعہ ان لوگوں کی تربیت کے میدان میں معجزات دکھائے۔ لوگ اس کے نزول سے دن بدن تاثرات لیتے رہے۔ اور ان کے اخلاق کی تشکیل آہستہ آہستہ ہوتی رہی۔ بسبب مسلمانوں نے قرآن مجید کا منہاج تربیت فراموش کردیا اور قرآن مجید کو انہوں نے محض علم و ثقافت کے طور پر پڑھنا شروع کردیا اور قرآن کو ایک ایسی کتاب تصور کرلیا جسے فقط پڑھا جاتا ہے ‘ اس کے مطابق معاشرے کو ڈھالنا ضروری نہیں ہے ‘ اس کی کیفیات میں ڈوبنا ضروری نہیں ہے اور نہ اس کے مطابق نظام زندگی قائم کرنا ضروری ہے تو مسلمانوں نے اس قرآن سے نفع لینا ترک کردیا اور قرآن نے ان کو نفع دینا چھوڑ دیا کیونکہ مسلمانوں نے وہ منہاج تربیت ہی ترک کردیا جو ان کے لیے علیم وخبیر نے قرآن میں منضبط کیا تھا۔ یعنی یہ کہ اسے ایک ایک کر کے عمل میں لایا جائے۔
نبی ﷺ کے مخالفین جو نکتہ اعتراض اٹھاتے تھے۔ جو نئے نئے اعتراضات کرتے تھے جو مطالبات کرتے تھے۔ یہ قرآن اپنے منہاج نزول متفرق کے ذریعے ایک ایک کا تشفی بخش جواب دے دیتا تھا۔
(ولا یاتونک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تفسیرا) (25 : 33) ” اور جب کبھی وہ تمہارے سامنے کوئی نرالی بات لے کر آئے اس کا ٹھیک جواب بروقت ہم نے تمہیں دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کھول دی “۔ یہ لوگ باطل طریقے سے مجادلہ کرتے تھے اور اللہ ان کے جواب میں حق اتار تا تھا جو باطل کا سر کچل کر رکھ دیتا تھا۔ کیونکہ قرآن مجید کی غرض وغایت ہی یہ تھی کہ دنیا میں حق جم جائے۔ محض بحث و مباحثے میں کامیابی مقصود نہ تھی بلکہ حق کو دنیا میں قوت دینا ‘ واضح کرنا اور غالب کرنا مقصود تھا۔
اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے کہ وہ آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کی قوم کے درمیان ہر قسم کے مجادلے میں آپ ﷺ کی مدد کرے گا۔ کیونکہ آپ ﷺ حق پر ہیں اور حق کے ساتھ اللہ آپ ﷺ کی امداد کرتا ہے اور باطل کو مٹاتا ہے۔ تو اللہ کی بنائی ہوئی حجت بالغہ کے مقابلے میں ان کا مجادلہ اور مباحثہ کس طرح ٹھہر سکتا تھا کیونکہ آپ ﷺ کے پاس رب تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی سچائی تھی جو ایک گولے کی طرح باطل کے سر پر لگتی تھی اور اسے کچل کر رکھ دیتی تھی۔
یہ بات اب اس مضمون پر ختم ہوتی ہے کہ کس طرح وہ قیامت کے دن جہنم رسید کیے جائیں گے۔ کیونکہ وہ حق کا انکا کرتے تھے اور اسلام کے خلاف مجادلے میں اور مقابلے میں وہ الٹی منطق استعمال کرتے تھے ‘ اس لیے قیامت میں بھی انہیں منہ کے بل الٹا گرایاجائے گا۔
(الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واضل سبیلا) (25 : 34) ” جو لوگ اوندھے منہ جہنم کی طرف دھکیلے جانے والے ہیں ‘ انکا موقف بہت برا ہے اور ان کی راہ حد درجہ غلط “۔ حشر کے دن ان کی حالت کو ذرا دیکھئے ‘ منہ کے بل اٹھیں گے نہایت ہی توہین آمیز انداز میں۔ اس لیے کہ دنیا میں یہ تکبر کی وہ سے منہ پھیرتے تھے ۔ ان کا یہ منظر رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ‘ تاکہ آپ ﷺ کو تسلی ہو کہ یہ لوگ اس وقت آپ ﷺ کو اذیت دیتے ہیں لیکن ان کا انجام بہت ہی برا ہونے والا ہے۔ اور اس کا ایک منظر آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ مجردیہ منظر ہی ان کی اکڑ کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ اور یہ لوگ ایسے مناظر سے ڈر کر متاثر بھی ہوتے تھے مگر پھر بھی حجت کر کے اپنے اوپر اس برے انجام کو لازم کرتے تھے اور اس عناد کی وجہ سے وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔
اب روئے سخن ان سابق اقوام کی طرف پھرجاتا ہے جنہوں نے تکذیب کی اور ہلاک کردیئے گئے۔