Fi Zilal al-Quran — الشعراء 26:48 – الشعراء 26:227
Contents
- الشعراء 26:48
- الشعراء 26:49
- الشعراء 26:50
- الشعراء 26:51
- الشعراء 26:52
- الشعراء 26:53
- الشعراء 26:54
- الشعراء 26:55
- الشعراء 26:56
- الشعراء 26:57
- الشعراء 26:58
- الشعراء 26:59
- الشعراء 26:60
- الشعراء 26:61
- الشعراء 26:62
- الشعراء 26:63
- الشعراء 26:64
- الشعراء 26:65
- الشعراء 26:66
- الشعراء 26:67
- الشعراء 26:68
- الشعراء 26:69
- الشعراء 26:70
- الشعراء 26:71
- الشعراء 26:72
- الشعراء 26:73
- الشعراء 26:74
- الشعراء 26:75
- الشعراء 26:76
- الشعراء 26:77
- الشعراء 26:78
- الشعراء 26:79
- الشعراء 26:80
- الشعراء 26:81
- الشعراء 26:82
- الشعراء 26:83
- الشعراء 26:84
- الشعراء 26:85
- الشعراء 26:86
- الشعراء 26:87
- الشعراء 26:88
- الشعراء 26:89
- الشعراء 26:90
- الشعراء 26:91
- الشعراء 26:92
- الشعراء 26:93
- الشعراء 26:94
- الشعراء 26:95
- الشعراء 26:96
- الشعراء 26:97
- الشعراء 26:98
- الشعراء 26:99
- الشعراء 26:100
- الشعراء 26:101
- الشعراء 26:102
- الشعراء 26:103
- الشعراء 26:104
- الشعراء 26:105
- الشعراء 26:106
- الشعراء 26:107
- الشعراء 26:108
- الشعراء 26:109
- الشعراء 26:110
- الشعراء 26:111
- الشعراء 26:112
- الشعراء 26:113
- الشعراء 26:114
- الشعراء 26:115
- الشعراء 26:116
- الشعراء 26:117
- الشعراء 26:118
- الشعراء 26:119
- الشعراء 26:120
- الشعراء 26:121
- الشعراء 26:122
- الشعراء 26:123
- الشعراء 26:124
- الشعراء 26:125
- الشعراء 26:126
- الشعراء 26:127
- الشعراء 26:128
- الشعراء 26:129
- الشعراء 26:130
- الشعراء 26:131
- الشعراء 26:132
- الشعراء 26:133
- الشعراء 26:134
- الشعراء 26:135
- الشعراء 26:136
- الشعراء 26:137
- الشعراء 26:138
- الشعراء 26:139
- الشعراء 26:140
- الشعراء 26:141
- الشعراء 26:142
- الشعراء 26:143
- الشعراء 26:144
- الشعراء 26:145
- الشعراء 26:146
- الشعراء 26:147
- الشعراء 26:148
- الشعراء 26:149
- الشعراء 26:150
- الشعراء 26:151
- الشعراء 26:152
- الشعراء 26:153
- الشعراء 26:154
- الشعراء 26:155
- الشعراء 26:156
- الشعراء 26:157
- الشعراء 26:158
- الشعراء 26:159
- الشعراء 26:160
- الشعراء 26:161
- الشعراء 26:162
- الشعراء 26:163
- الشعراء 26:164
- الشعراء 26:165
- الشعراء 26:166
- الشعراء 26:167
- الشعراء 26:168
- الشعراء 26:169
- الشعراء 26:170
- الشعراء 26:171
- الشعراء 26:172
- الشعراء 26:173
- الشعراء 26:174
- الشعراء 26:175
- الشعراء 26:176
- الشعراء 26:177
- الشعراء 26:178
- الشعراء 26:179
- الشعراء 26:180
- الشعراء 26:181
- الشعراء 26:182
- الشعراء 26:183
- الشعراء 26:184
- الشعراء 26:185
- الشعراء 26:186
- الشعراء 26:187
- الشعراء 26:188
- الشعراء 26:189
- الشعراء 26:190
- الشعراء 26:191
- الشعراء 26:192
- الشعراء 26:193
- الشعراء 26:194
- الشعراء 26:195
- الشعراء 26:196
- الشعراء 26:197
- الشعراء 26:198
- الشعراء 26:199
- الشعراء 26:200
- الشعراء 26:201
- الشعراء 26:202
- الشعراء 26:203
- الشعراء 26:204
- الشعراء 26:205
- الشعراء 26:206
- الشعراء 26:207
- الشعراء 26:208
- الشعراء 26:209
- الشعراء 26:210
- الشعراء 26:211
- الشعراء 26:212
- الشعراء 26:213
- الشعراء 26:214
- الشعراء 26:215
- الشعراء 26:216
- الشعراء 26:217
- الشعراء 26:218
- الشعراء 26:219
- الشعراء 26:220
- الشعراء 26:221
- الشعراء 26:222
- الشعراء 26:223
- الشعراء 26:224
- الشعراء 26:225
- الشعراء 26:226
- الشعراء 26:227
الشعراء 26:48
فالقی السحرۃ سجدین (26 : 36) ” قالوا امنا برب العلمین (26 : 38) رب موسیٰ وھرون (26 : 38) ” ، ۔ “ ایک ہی لمحہ قبل وہ کرایہ کے لوگ تھے اور فرعون کے ساتھ وہ اپنی مہارت اور اجرت کا مول تول کر رہے تھے۔ نہ وہ کوئی نظریہ رکھتے تھے اور نہ ان کے پیش نظر کوئی نصب العین تھا۔ لیکن اب ان کے دلوں تک جو سچئای پہنچ گئی اس نے ان کو پوری طرح بدل دیا۔ اس واقعہ نے انہیں ہلا کر رکھ دیا۔ ان کی دینی دنیا میں ایک زلزلہ پیدا ہوگیا اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے جو سچائی دیکھی وہ ان کے دلوں کے تہہ تک پہنچ گئی۔ اس نے ان کے دل پر تمام پردے زائل کردیئے اور گمراہی کی جو تہیں ان کے دلوں پر جمی ہوئی تھیں ، وہ صاف ہوگئیں۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر مسویٰ صرف جادوگر ہوتے تو ان کی رسیاں اور انڈے کہیں بھی نہ جاتے ان چیزوں کے اندر ان کے جادو سے ہلچل تو پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ غائب نہیں ہو سکتیں۔
چناچہ ان کا دل صاف ہوگیا اور ان کے سامنے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ بغیر ارادہ کے سجدے میں گر جائیں۔ ایمان کا اظہار کردیں اور صاف صاف اختیار کردیں۔
امنا برب العلمین (26 : 38) رب موسیٰ وھرون (26 : 38) ” مان گئے ہم رب العالمین کو جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔ “ انسانی دل کو دنیا بھی عجیب ہے۔ ایک لمحے میں اس کی دنیا بدل سکتی ہے ۔ ایک نظر میں اس میں انقلاب آ جات ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بہت ہی سچ فرمایا۔ ” جو دل بھی ہے وہ رحمٰن کی دو انگلیوں کے درمیان ہے ، اگر اللہ چاہے تو اسے سیدھا رکھے اور اگر چاہے تو گمراہ کر دے (ٹیڑھا) کر دے۔ “ یوں جادوگر جو اجر کے طلبگار اور کرایہ کے لوگ تھے وہ برگزیدہ مومن بن گئے اور یہ فرعون اور اس کے جبار وقہار کے ساتھیوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوگئے اور فرعون کے جمع کردہ عوام الناس کے جم کا بھی انہوں نے کوئی لحاظ نہ رکھا۔ وہ ان نتائج کی رپواہ کئے بغیر ہی مسلمان ہوگئے جن کی توقع ان کو جابر و ظالم فرعون سے تھی۔ وہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ فرعون کے مقابلے میں حضرت موسیٰ پر ایمان لانا اور اس طرح علی الاعلان لانا کیا معنی رکھتا ہے۔ اب ان کے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ کون کیا کہتا ہے۔
حالات نے اچھا جو پلٹا کھایا ، ظاہر ہے کہ فرعون اور اس کے سرداروں پر تو بجلی گر گئی۔ کیونکہ لوگ سب جمع تھے۔ ان کو خود فرعون اور اس کے اہلکاروں نے جمع کیا تھا کہ تا کہ وہ موسیٰ اور جادوگروں کا بھی مقابلہ دیکھ لیں۔ انہوں نے عوام کے اندر یہ پروپیگنڈا کیا تھا کہ موسیٰ اسرائیلی ایک بہت بڑا جادو لے کر آیا ہے اور وہ جادو کے زور پر ہماری حکومت کو ختم کر کے اپنی قوم کی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہ کہ حکومت نے بڑے بڑے جادوگروں کو جمع کر کے اس کے مقابلے کا انتظام کیا ہے۔ ہمارے جادوگر اس پر غالب ہوں گے اور اس کا قلع قمع کردیں گے۔ یہ لوگ جمع ہوتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ موسیٰ اللہ کا نام لے کر آتا ہیں۔ وہ فوراً حضرت موسیٰ کی رسالت کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے سچے نبی ہیں۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے رب کو مانتے ہیں۔ یہ فرعون کی بندگی کا جوا اپنی گردنوں سے اتار پھینکتے ہیں جبکہ ایک لمحہ قبل وہ فرعون کے سپاہی اور خدمت گار تھے اور اس کی جانب سے انعام کے طلبگار تھے اور اپنا کام انہوں نے عزت فرعون کے عنوان سے شروع کیا تھا۔
حالات کے اندر یہ اچانک انقلاب فرعون کے اقتدار کے لئے خطرہ تھا کیونکہ اب وہ افسانہ ہی ختم ہوگیا جس کی اساس پر فرعون کا اقتدار قائم تھا یہ کہ فرعون الہہ ہے بایں معنی کہ وہ خدا کی اولاد میں سے ہے اور یہ جادوگر دین فرعون کے مذہبی راہنما تھے کیونکہ اس دور میں تمام کاہن جادوگر ہوتے تھے اور یہ تمام جادوگر اسی رب العالمین پر ایمان لے آئے ہیں جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے ، جہاں تک جمہور عوام کا تعلق ہے وہ ہمیشہ مذبہی راہنمائوں کی اطاعت کرتے ہیں۔ وہ عقائد انہی مذہبی راہنمائوں سے لیتے ہیں۔ اب فرعون کے اقتدار کے لئے وجہ جواز اور سہارا صرف قوت رہ گئی اور یہ دنیا کا قاعدہ ہے کہ محض قوت کے بل بوتے پر سکی اقتدار کو قائم نہیں رکھا جاسکتا۔
ہمیں چاہئے کہ ہم ذرا اچھی طرح اندازہ کرلیں کہ اس صورتحال سے فرعون کس قدر بوکھلایا ہوگا اور اس کے اردگرد بیٹھے ہوئے حاشیہ نشینوں کی حالت کیا ہوگی کہ جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ جادوگر ایمان لے آئے اور ایسا ایمان کہ ایمان لاتے ہی وہ رب العالمین کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور اعتراف حق کر کے اللہ کی طرف یکسو ہوجاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اس صورتحال کو دیکھ کر فرعون پاگل ہوجاتا ہے۔ وہ بوکھلاہٹ میں اعلان کردیتا ہے کہ تم سازشی ہو ، تمہیں سخت ترین سزا دی جائے گی۔ پہلے تو اس نے یہ پروپیگنڈا کیا تھا کہ حضرت موسیٰ اپنی قوم کے لئے حصول اقتدار کی سازش کر رہے ہیں۔
الشعراء 26:49
قال امنتم ……اجمعین (26 : 39) ” ۔ “ تم میری اجازت کے بغیر میرے مشورے کے بغیر ہی موسیٰ کی بات مان کر سجدہ ریز بھی ہوگئے۔ یہاں اس نے یہ نہیں کہا امنتم بہ ” تم اس پر ایمان لائے “ بلکہ اس نے امنتم لہ کہا یعنی تم نے اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیا اور میری اجازت کے بغیر جس طرح کوئی شخص جنگی چال چلتا ہے اپنے ارادے کا مالک ہوتا ہے ، وہ اپنے ہدف کو جانتا ہے اور اپنے انجام کا اندازہ کرتا ہے۔ ایسا شخص جو ہر کام منصوبہ بندی سے کرتا ہے وہ اس قدرتی لمحے اور اس قدر تی ٹچ کو نہیں سمجھ سکتا جس کی گرفت میں جادوگروں کے دل آگئے۔ سرکش حکمران ایسے لمحات کو نہیں سمجھ سکتے کیونکہ ان کے دل پتھر ہوجاتے ہیں اور وہ ایسے روشن لمحات سے محروم ہوتے ہیں۔ چناچہ فرعون بڑی تیزی سے ان پر الزام لگاتا ہے اور عوام الناس کو لائن دیتا ہے کہ ان جادوگروں کے اندر کیوں اس قدر عظیم انقلاب آیا۔
انہ لکبیر کم الذی علمکم السحر (26 : 39) ” ضرور ، یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا۔ “ فرعون نے یہ عجیب الزام لگایا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا جادوگروں کے ساتھ کیا تعلق ہو سکتا ہے ، الایہ کہ یہ جادوگر جب کاہن تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے گھر میں پل رہے تھے تو شاید اس زمانے میں کاہن موسیٰ (علیہ السلام) کو تعلیم دیتے ہوں گے۔ یا موسیٰ (علیہ السلام) ان کی عبادت گاہوں میں جاتے ہوں گے۔ اس تعلق کی بنا پر اس نے یہ الزام لگایا پھر بجائے اس کے کہ یہ ان کو کہتا کہ موسیٰ تمہارا شاگرد ہے اس نے یہ الزام لگا دیا کہ یہ تمہار باڑا استاد ہے۔ عوام الناس کے ذہن میں وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو ملک کے لئے خطرہ ثابت کرنا چاہتا ہے۔
اس کے بعد وہ صراحت کے ساتھ ان کو شدید عذاب کی دھمکی دیتا ہے کہ اچھا انتظار کرو ، میری طرف سے سزا کا۔
فلسوف تعلمون ……اجمعین (26 : 39) ” اچھا ابھی تمہیں معلوم ہوجاتا ہے۔ میں تمہارے ہاتھ پائوں مخالف سمتوں سے کٹوائوں گا اور تم سب کو سولی چڑھا دوں گا۔ “ یہ ہے وہ حماقت جس کا ارتکاب ہر سرکش ڈکٹیٹر کیا کرتا ہے اور یہ وہ اس وقت کرتا ہے جب اس کی کرسی اور اقتدار کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اور اس کی ذات کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اور اس میں وہ خود اپنے ضمیر کی ملامت کی بھی پرواہ نہیں کرتا اور ظاہر ہے کہ یہ سزا فرعون سنا رہا ہے جس کا یہ لفظ قانون ہے اور اسی وقت نافذ کردیا جاتا ہے۔ اب ذرا اس گروہ مومن کی بات بھی سن لیں جس نے روشنی کو دیکھ لیا ہے۔
یہ اس دل کی بات ہے جس کو اللہ کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے اور اس معرفت کے بعد اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ اب کا جاتا ہے۔ یہ ایسے دل کی بات ہے جس نے اللہ تک رسائی حاصل کرلی ہے اور ایمان کا ذائقہ چکھ لیا ہے۔ اس لئے وہ ڈکٹیٹر اور سرکش حکمران کی کوئی پرواہ نہیں کرتا اور یہ ایسک ایسے دل کی پکار ہے جو آخرت کا طلبگار ہے اور اس لئے اسے اس دنیا کے فائدے کی کوئی پرواہ نہیں رہتی۔ خواہ قلیل ہو یا کثیر۔
الشعراء 26:50
قالوا الاضیر ……المئومنین (26 : 51) ” ۔ “ کچھ پرواہ نہیں ہے۔ ہمیں اس بات کی اب کوئی فکر نہیں ہے کہ ہمارے ہاتھ پائوں کاٹے جائیں۔ تشدد اور سولی کی سزا کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ موت اور شہادت سے ہم نہیں ڈرتے ۔ ہمیں تو ان باتوں کی کوئی پروا نہیں ہے ، اگر ہم مر گئے تو ہم اپنے رب کے پاس چلے جائیں گے۔ آخر اس زمین کی زندگی میں رکھا گیا ہے ؟ ہمارا مطمح نظر تو اب یہ ہے۔
ان یغفرلنا ربنا خطینا (26 : 51) ” کہ ہمارا رب ہمارے خطائیں معاف کر دے۔ “ اور یہ خطائیں اس اعزاز کی وجہ سے معاف کر دے کہ
ان کنا اول المئومنین (26 : 51) ” یہ کہ ہم پہلے ایمان لانے والے بن گئے۔ “ اب ہمیں سابقین اولین کا درجہ حاصل ہے۔
اے اللہ ! کیا ہی شان ہے ایمان کی جب یہ ضمیر کی دنیا کو منور کر دے۔ جب اس کا فیضان روح پر ہوجائے۔ جب کاسہ قلب مومن ایمان سے بھر جائے تو مٹی کا یہ کالبد اعلیٰ علبین کے مقام پر چلا جاتا ہے۔ دل غنی ہوجاتا ہے۔ دلوں کے اندر دولت ایمان جمع ہوجاتی ہے اور اس کے مقابلے میں کہ روئے زمین کی سب دولت ہیچ نظر آتی ہے۔
اب سیاق کلام میں پھر ایک بار پردہ گرتا ہے اور جادوگروں کے روشن ضمیرکا یہ منظر آنکھوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ اس پر مزید کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ تاکہ ان سابقین اولین کا یہ گہرا اثر قاری کے دل میں بحال رہے۔ لوگ سوچیں کہ اہل مکہ اہل ایمان پر جو مظالم ڈھا رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاریخ میں اہل ایمان اس قسم کے مظالم بردشات کرتے چلے آئے ہیں۔
الشعراء 26:51
قالوا الاضیر ……المئومنین (26 : 51) ” ۔ “ کچھ پرواہ نہیں ہے۔ ہمیں اس بات کی اب کوئی فکر نہیں ہے کہ ہمارے ہاتھ پائوں کاٹے جائیں۔ تشدد اور سولی کی سزا کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ موت اور شہادت سے ہم نہیں ڈرتے ۔ ہمیں تو ان باتوں کی کوئی پروا نہیں ہے ، اگر ہم مر گئے تو ہم اپنے رب کے پاس چلے جائیں گے۔ آخر اس زمین کی زندگی میں رکھا گیا ہے ؟ ہمارا مطمح نظر تو اب یہ ہے۔
ان یغفرلنا ربنا خطینا (26 : 51) ” کہ ہمارا رب ہمارے خطائیں معاف کر دے۔ “ اور یہ خطائیں اس اعزاز کی وجہ سے معاف کر دے کہ
ان کنا اول المئومنین (26 : 51) ” یہ کہ ہم پہلے ایمان لانے والے بن گئے۔ “ اب ہمیں سابقین اولین کا درجہ حاصل ہے۔
اے اللہ ! کیا ہی شان ہے ایمان کی جب یہ ضمیر کی دنیا کو منور کر دے۔ جب اس کا فیضان روح پر ہوجائے۔ جب کاسہ قلب مومن ایمان سے بھر جائے تو مٹی کا یہ کالبد اعلیٰ علبین کے مقام پر چلا جاتا ہے۔ دل غنی ہوجاتا ہے۔ دلوں کے اندر دولت ایمان جمع ہوجاتی ہے اور اس کے مقابلے میں کہ روئے زمین کی سب دولت ہیچ نظر آتی ہے۔
اب سیاق کلام میں پھر ایک بار پردہ گرتا ہے اور جادوگروں کے روشن ضمیرکا یہ منظر آنکھوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ اس پر مزید کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ تاکہ ان سابقین اولین کا یہ گہرا اثر قاری کے دل میں بحال رہے۔ لوگ سوچیں کہ اہل مکہ اہل ایمان پر جو مظالم ڈھا رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاریخ میں اہل ایمان اس قسم کے مظالم بردشات کرتے چلے آئے ہیں۔
الشعراء 26:52
اب اہل ایمان کے خلاف فرعون کی تدابیر کا ایک منظر اور اہل ایمان کے لئے اللہ کی راہنمائی کا ایک منظر :
واوحینآ الی ……حذرون (56)
اب یہاں واقعات اور زمانے کے اعتبار سے ایک بڑا اور طویل خلا ہے۔ بیچ میں سے طویل زمانے اور واقعات کو حذف کردیا جاتا ہے۔ اس مقابلے کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) بھی مصر میں کام کرتے رہے اور سورت اعراف میں جن دوسرے معجزات کا ذکر ہوا ہے وہ بھی اس عرصہ میں رونما ہئے اور آخر کار وہ وقت آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل جائیں۔ لیکن اس سورت میں ان تمام واقعات کو لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے اور قصہ مسویٰ کے ان حصوں کو یہاں لے لیا جاتا ہے جو اس سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو بذریعہ وحی اجازت دے دی کہ آپ اپنی قوم کو لے کر مصر سے نکل جائیں۔ تمام بنی اسرائیل رات کو نکلیں۔ اس سفر کے لئے نہایت منظم خفیہ انتظامات کئے گئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ اطلاع بھی کردی گئی کہ فرعون ہر حال میں تمہارا پیچھا کرے گا اور ساحل سمندر کی طرف نکل کھڑے ہوں۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اس جگہ ساحل سمندر تک پہنچے وہ خلیج سویز اور چھوٹے چھوٹے بحیروں کے موجودہ علاقے میں یہ واقع تھا۔
فرعون کو خفیہ طور پر اطلاعات مل گئیں کہ بنی اسرائیل نکلنے والے ہیں۔ تو اس نے بھی اپنے لوگوں کو حکم دیا کہ جس وقت بھی خروج شروع ہو ، پیچھا کرنے کے لئے افواج کو تیاری کی حالت میں رکھا جائے۔ تمام علاقوں میں اس نے اپنے ہر کارے بھیج دیئے کہ افواج کو تیار کیا جائے کہ یہ ایک چھوٹا سا گروہ ہے۔ یہ بچ نکلنے کی تدبیریں سوچ رہا ہے لیکن اسے پتہ نہ تھا کہ یہ خروج اللہ تعالیٰ کی طرف سے منظم کیا جا رہا ہے۔
فرعون کے لوگ فوجوں کو تیار کرتے رہے لیکن عوام کیا ندر یہ بےچینی پیدا ہو سکتی تھی کہ آخر موسیٰ کے پاس کتنی بڑی طاقت ہے کہ اس کے مقابلے میں اس قدر وسیع پیمانے پر تیاریاں ہو رہی ہیں جبکہ فرعون اپنے آپ کو الہہ بھی کہتا ہے اور پھر بھی ایک پبلک کے فرد کے مقابل میں اس قدر جنگی تیاریاں کر رہا ہے۔ چناچہ اس موقعہ پر فرعون کو اس قسم اعلان کی ضرورت پیش آئی۔
ان ھولاء لشر ذمۃ قلیلون (26 : 53) ” یہ کچھ مٹھی بھر لوگ ہیں۔ ‘ تو سوال یہ ہے کہ پھر ان کے خلاف اس قدر انتظام کیوں ہو رہا ہے اور فوجیں کیوں جمع کی جا رہی ہیں اگر وہ مٹھی بھر لوگ ہیں۔ “
وانھم لنا لغآئظون (26 : 55) ” اور انہیں نے ہم کو بہت ہی ناراض کیا ہے۔ “ یہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں اور ایسے کام کرتے ہیں جو ہمارے سامنے کسی نے نہیں کیے ، اس لئے ان کی وجہ سے ہم غیظ و غضب میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ہمارے اندر جوش انتقام پیدا ہوگیا ہے۔
اگرچہ یہ لوگ نہایت ہی خطرناک ہیں اور ان کی تحریک ایک مضبوط تحریک ہے۔ لیکن سرکاری لوگ عوام سے یہی کہیں کہ حکومت نے مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کی ہوئی ہیں اور ان پر نظر رکھی ہوئی ہے۔
وانا لجمیع حذرون (26 : 56) ” اور ہم ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہمیشہ چوکنا رہنا ہے۔ “ اور ہم ان کی سازشوں کے مقابلے میں بیدار ہیں۔ ان کے معاملات میں بڑی احتیاط برت رہے ہیں اور ان کو اچھی طرح کنٹرول کر رہے ہیں۔ جب بھی اہل باطل کا اہل ایمان سے مقابلہ ہوتا ہے تو اہل باطل اہل ایمان کے مقابلے میں اسی طرح حیران و پریشان ہوتے ہیں۔
الشعراء 26:53
اب اہل ایمان کے خلاف فرعون کی تدابیر کا ایک منظر اور اہل ایمان کے لئے اللہ کی راہنمائی کا ایک منظر :
واوحینآ الی ……حذرون (56)
اب یہاں واقعات اور زمانے کے اعتبار سے ایک بڑا اور طویل خلا ہے۔ بیچ میں سے طویل زمانے اور واقعات کو حذف کردیا جاتا ہے۔ اس مقابلے کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) بھی مصر میں کام کرتے رہے اور سورت اعراف میں جن دوسرے معجزات کا ذکر ہوا ہے وہ بھی اس عرصہ میں رونما ہئے اور آخر کار وہ وقت آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل جائیں۔ لیکن اس سورت میں ان تمام واقعات کو لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے اور قصہ مسویٰ کے ان حصوں کو یہاں لے لیا جاتا ہے جو اس سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو بذریعہ وحی اجازت دے دی کہ آپ اپنی قوم کو لے کر مصر سے نکل جائیں۔ تمام بنی اسرائیل رات کو نکلیں۔ اس سفر کے لئے نہایت منظم خفیہ انتظامات کئے گئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ اطلاع بھی کردی گئی کہ فرعون ہر حال میں تمہارا پیچھا کرے گا اور ساحل سمندر کی طرف نکل کھڑے ہوں۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اس جگہ ساحل سمندر تک پہنچے وہ خلیج سویز اور چھوٹے چھوٹے بحیروں کے موجودہ علاقے میں یہ واقع تھا۔
فرعون کو خفیہ طور پر اطلاعات مل گئیں کہ بنی اسرائیل نکلنے والے ہیں۔ تو اس نے بھی اپنے لوگوں کو حکم دیا کہ جس وقت بھی خروج شروع ہو ، پیچھا کرنے کے لئے افواج کو تیاری کی حالت میں رکھا جائے۔ تمام علاقوں میں اس نے اپنے ہر کارے بھیج دیئے کہ افواج کو تیار کیا جائے کہ یہ ایک چھوٹا سا گروہ ہے۔ یہ بچ نکلنے کی تدبیریں سوچ رہا ہے لیکن اسے پتہ نہ تھا کہ یہ خروج اللہ تعالیٰ کی طرف سے منظم کیا جا رہا ہے۔
فرعون کے لوگ فوجوں کو تیار کرتے رہے لیکن عوام کیا ندر یہ بےچینی پیدا ہو سکتی تھی کہ آخر موسیٰ کے پاس کتنی بڑی طاقت ہے کہ اس کے مقابلے میں اس قدر وسیع پیمانے پر تیاریاں ہو رہی ہیں جبکہ فرعون اپنے آپ کو الہہ بھی کہتا ہے اور پھر بھی ایک پبلک کے فرد کے مقابل میں اس قدر جنگی تیاریاں کر رہا ہے۔ چناچہ اس موقعہ پر فرعون کو اس قسم اعلان کی ضرورت پیش آئی۔
ان ھولاء لشر ذمۃ قلیلون (26 : 53) ” یہ کچھ مٹھی بھر لوگ ہیں۔ ‘ تو سوال یہ ہے کہ پھر ان کے خلاف اس قدر انتظام کیوں ہو رہا ہے اور فوجیں کیوں جمع کی جا رہی ہیں اگر وہ مٹھی بھر لوگ ہیں۔ “
وانھم لنا لغآئظون (26 : 55) ” اور انہیں نے ہم کو بہت ہی ناراض کیا ہے۔ “ یہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں اور ایسے کام کرتے ہیں جو ہمارے سامنے کسی نے نہیں کیے ، اس لئے ان کی وجہ سے ہم غیظ و غضب میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ہمارے اندر جوش انتقام پیدا ہوگیا ہے۔
اگرچہ یہ لوگ نہایت ہی خطرناک ہیں اور ان کی تحریک ایک مضبوط تحریک ہے۔ لیکن سرکاری لوگ عوام سے یہی کہیں کہ حکومت نے مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کی ہوئی ہیں اور ان پر نظر رکھی ہوئی ہے۔
وانا لجمیع حذرون (26 : 56) ” اور ہم ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہمیشہ چوکنا رہنا ہے۔ “ اور ہم ان کی سازشوں کے مقابلے میں بیدار ہیں۔ ان کے معاملات میں بڑی احتیاط برت رہے ہیں اور ان کو اچھی طرح کنٹرول کر رہے ہیں۔ جب بھی اہل باطل کا اہل ایمان سے مقابلہ ہوتا ہے تو اہل باطل اہل ایمان کے مقابلے میں اسی طرح حیران و پریشان ہوتے ہیں۔
الشعراء 26:54
اب اہل ایمان کے خلاف فرعون کی تدابیر کا ایک منظر اور اہل ایمان کے لئے اللہ کی راہنمائی کا ایک منظر :
واوحینآ الی ……حذرون (56)
اب یہاں واقعات اور زمانے کے اعتبار سے ایک بڑا اور طویل خلا ہے۔ بیچ میں سے طویل زمانے اور واقعات کو حذف کردیا جاتا ہے۔ اس مقابلے کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) بھی مصر میں کام کرتے رہے اور سورت اعراف میں جن دوسرے معجزات کا ذکر ہوا ہے وہ بھی اس عرصہ میں رونما ہئے اور آخر کار وہ وقت آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل جائیں۔ لیکن اس سورت میں ان تمام واقعات کو لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے اور قصہ مسویٰ کے ان حصوں کو یہاں لے لیا جاتا ہے جو اس سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو بذریعہ وحی اجازت دے دی کہ آپ اپنی قوم کو لے کر مصر سے نکل جائیں۔ تمام بنی اسرائیل رات کو نکلیں۔ اس سفر کے لئے نہایت منظم خفیہ انتظامات کئے گئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ اطلاع بھی کردی گئی کہ فرعون ہر حال میں تمہارا پیچھا کرے گا اور ساحل سمندر کی طرف نکل کھڑے ہوں۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اس جگہ ساحل سمندر تک پہنچے وہ خلیج سویز اور چھوٹے چھوٹے بحیروں کے موجودہ علاقے میں یہ واقع تھا۔
فرعون کو خفیہ طور پر اطلاعات مل گئیں کہ بنی اسرائیل نکلنے والے ہیں۔ تو اس نے بھی اپنے لوگوں کو حکم دیا کہ جس وقت بھی خروج شروع ہو ، پیچھا کرنے کے لئے افواج کو تیاری کی حالت میں رکھا جائے۔ تمام علاقوں میں اس نے اپنے ہر کارے بھیج دیئے کہ افواج کو تیار کیا جائے کہ یہ ایک چھوٹا سا گروہ ہے۔ یہ بچ نکلنے کی تدبیریں سوچ رہا ہے لیکن اسے پتہ نہ تھا کہ یہ خروج اللہ تعالیٰ کی طرف سے منظم کیا جا رہا ہے۔
فرعون کے لوگ فوجوں کو تیار کرتے رہے لیکن عوام کیا ندر یہ بےچینی پیدا ہو سکتی تھی کہ آخر موسیٰ کے پاس کتنی بڑی طاقت ہے کہ اس کے مقابلے میں اس قدر وسیع پیمانے پر تیاریاں ہو رہی ہیں جبکہ فرعون اپنے آپ کو الہہ بھی کہتا ہے اور پھر بھی ایک پبلک کے فرد کے مقابل میں اس قدر جنگی تیاریاں کر رہا ہے۔ چناچہ اس موقعہ پر فرعون کو اس قسم اعلان کی ضرورت پیش آئی۔
ان ھولاء لشر ذمۃ قلیلون (26 : 53) ” یہ کچھ مٹھی بھر لوگ ہیں۔ ‘ تو سوال یہ ہے کہ پھر ان کے خلاف اس قدر انتظام کیوں ہو رہا ہے اور فوجیں کیوں جمع کی جا رہی ہیں اگر وہ مٹھی بھر لوگ ہیں۔ “
وانھم لنا لغآئظون (26 : 55) ” اور انہیں نے ہم کو بہت ہی ناراض کیا ہے۔ “ یہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں اور ایسے کام کرتے ہیں جو ہمارے سامنے کسی نے نہیں کیے ، اس لئے ان کی وجہ سے ہم غیظ و غضب میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ہمارے اندر جوش انتقام پیدا ہوگیا ہے۔
اگرچہ یہ لوگ نہایت ہی خطرناک ہیں اور ان کی تحریک ایک مضبوط تحریک ہے۔ لیکن سرکاری لوگ عوام سے یہی کہیں کہ حکومت نے مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کی ہوئی ہیں اور ان پر نظر رکھی ہوئی ہے۔
وانا لجمیع حذرون (26 : 56) ” اور ہم ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہمیشہ چوکنا رہنا ہے۔ “ اور ہم ان کی سازشوں کے مقابلے میں بیدار ہیں۔ ان کے معاملات میں بڑی احتیاط برت رہے ہیں اور ان کو اچھی طرح کنٹرول کر رہے ہیں۔ جب بھی اہل باطل کا اہل ایمان سے مقابلہ ہوتا ہے تو اہل باطل اہل ایمان کے مقابلے میں اسی طرح حیران و پریشان ہوتے ہیں۔
الشعراء 26:55
اب اہل ایمان کے خلاف فرعون کی تدابیر کا ایک منظر اور اہل ایمان کے لئے اللہ کی راہنمائی کا ایک منظر :
واوحینآ الی ……حذرون (56)
اب یہاں واقعات اور زمانے کے اعتبار سے ایک بڑا اور طویل خلا ہے۔ بیچ میں سے طویل زمانے اور واقعات کو حذف کردیا جاتا ہے۔ اس مقابلے کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) بھی مصر میں کام کرتے رہے اور سورت اعراف میں جن دوسرے معجزات کا ذکر ہوا ہے وہ بھی اس عرصہ میں رونما ہئے اور آخر کار وہ وقت آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل جائیں۔ لیکن اس سورت میں ان تمام واقعات کو لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے اور قصہ مسویٰ کے ان حصوں کو یہاں لے لیا جاتا ہے جو اس سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو بذریعہ وحی اجازت دے دی کہ آپ اپنی قوم کو لے کر مصر سے نکل جائیں۔ تمام بنی اسرائیل رات کو نکلیں۔ اس سفر کے لئے نہایت منظم خفیہ انتظامات کئے گئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ اطلاع بھی کردی گئی کہ فرعون ہر حال میں تمہارا پیچھا کرے گا اور ساحل سمندر کی طرف نکل کھڑے ہوں۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اس جگہ ساحل سمندر تک پہنچے وہ خلیج سویز اور چھوٹے چھوٹے بحیروں کے موجودہ علاقے میں یہ واقع تھا۔
فرعون کو خفیہ طور پر اطلاعات مل گئیں کہ بنی اسرائیل نکلنے والے ہیں۔ تو اس نے بھی اپنے لوگوں کو حکم دیا کہ جس وقت بھی خروج شروع ہو ، پیچھا کرنے کے لئے افواج کو تیاری کی حالت میں رکھا جائے۔ تمام علاقوں میں اس نے اپنے ہر کارے بھیج دیئے کہ افواج کو تیار کیا جائے کہ یہ ایک چھوٹا سا گروہ ہے۔ یہ بچ نکلنے کی تدبیریں سوچ رہا ہے لیکن اسے پتہ نہ تھا کہ یہ خروج اللہ تعالیٰ کی طرف سے منظم کیا جا رہا ہے۔
فرعون کے لوگ فوجوں کو تیار کرتے رہے لیکن عوام کیا ندر یہ بےچینی پیدا ہو سکتی تھی کہ آخر موسیٰ کے پاس کتنی بڑی طاقت ہے کہ اس کے مقابلے میں اس قدر وسیع پیمانے پر تیاریاں ہو رہی ہیں جبکہ فرعون اپنے آپ کو الہہ بھی کہتا ہے اور پھر بھی ایک پبلک کے فرد کے مقابل میں اس قدر جنگی تیاریاں کر رہا ہے۔ چناچہ اس موقعہ پر فرعون کو اس قسم اعلان کی ضرورت پیش آئی۔
ان ھولاء لشر ذمۃ قلیلون (26 : 53) ” یہ کچھ مٹھی بھر لوگ ہیں۔ ‘ تو سوال یہ ہے کہ پھر ان کے خلاف اس قدر انتظام کیوں ہو رہا ہے اور فوجیں کیوں جمع کی جا رہی ہیں اگر وہ مٹھی بھر لوگ ہیں۔ “
وانھم لنا لغآئظون (26 : 55) ” اور انہیں نے ہم کو بہت ہی ناراض کیا ہے۔ “ یہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں اور ایسے کام کرتے ہیں جو ہمارے سامنے کسی نے نہیں کیے ، اس لئے ان کی وجہ سے ہم غیظ و غضب میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ہمارے اندر جوش انتقام پیدا ہوگیا ہے۔
اگرچہ یہ لوگ نہایت ہی خطرناک ہیں اور ان کی تحریک ایک مضبوط تحریک ہے۔ لیکن سرکاری لوگ عوام سے یہی کہیں کہ حکومت نے مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کی ہوئی ہیں اور ان پر نظر رکھی ہوئی ہے۔
وانا لجمیع حذرون (26 : 56) ” اور ہم ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہمیشہ چوکنا رہنا ہے۔ “ اور ہم ان کی سازشوں کے مقابلے میں بیدار ہیں۔ ان کے معاملات میں بڑی احتیاط برت رہے ہیں اور ان کو اچھی طرح کنٹرول کر رہے ہیں۔ جب بھی اہل باطل کا اہل ایمان سے مقابلہ ہوتا ہے تو اہل باطل اہل ایمان کے مقابلے میں اسی طرح حیران و پریشان ہوتے ہیں۔
الشعراء 26:56
اب اہل ایمان کے خلاف فرعون کی تدابیر کا ایک منظر اور اہل ایمان کے لئے اللہ کی راہنمائی کا ایک منظر :
واوحینآ الی ……حذرون (56)
اب یہاں واقعات اور زمانے کے اعتبار سے ایک بڑا اور طویل خلا ہے۔ بیچ میں سے طویل زمانے اور واقعات کو حذف کردیا جاتا ہے۔ اس مقابلے کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) بھی مصر میں کام کرتے رہے اور سورت اعراف میں جن دوسرے معجزات کا ذکر ہوا ہے وہ بھی اس عرصہ میں رونما ہئے اور آخر کار وہ وقت آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل جائیں۔ لیکن اس سورت میں ان تمام واقعات کو لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے اور قصہ مسویٰ کے ان حصوں کو یہاں لے لیا جاتا ہے جو اس سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو بذریعہ وحی اجازت دے دی کہ آپ اپنی قوم کو لے کر مصر سے نکل جائیں۔ تمام بنی اسرائیل رات کو نکلیں۔ اس سفر کے لئے نہایت منظم خفیہ انتظامات کئے گئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ اطلاع بھی کردی گئی کہ فرعون ہر حال میں تمہارا پیچھا کرے گا اور ساحل سمندر کی طرف نکل کھڑے ہوں۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اس جگہ ساحل سمندر تک پہنچے وہ خلیج سویز اور چھوٹے چھوٹے بحیروں کے موجودہ علاقے میں یہ واقع تھا۔
فرعون کو خفیہ طور پر اطلاعات مل گئیں کہ بنی اسرائیل نکلنے والے ہیں۔ تو اس نے بھی اپنے لوگوں کو حکم دیا کہ جس وقت بھی خروج شروع ہو ، پیچھا کرنے کے لئے افواج کو تیاری کی حالت میں رکھا جائے۔ تمام علاقوں میں اس نے اپنے ہر کارے بھیج دیئے کہ افواج کو تیار کیا جائے کہ یہ ایک چھوٹا سا گروہ ہے۔ یہ بچ نکلنے کی تدبیریں سوچ رہا ہے لیکن اسے پتہ نہ تھا کہ یہ خروج اللہ تعالیٰ کی طرف سے منظم کیا جا رہا ہے۔
فرعون کے لوگ فوجوں کو تیار کرتے رہے لیکن عوام کیا ندر یہ بےچینی پیدا ہو سکتی تھی کہ آخر موسیٰ کے پاس کتنی بڑی طاقت ہے کہ اس کے مقابلے میں اس قدر وسیع پیمانے پر تیاریاں ہو رہی ہیں جبکہ فرعون اپنے آپ کو الہہ بھی کہتا ہے اور پھر بھی ایک پبلک کے فرد کے مقابل میں اس قدر جنگی تیاریاں کر رہا ہے۔ چناچہ اس موقعہ پر فرعون کو اس قسم اعلان کی ضرورت پیش آئی۔
ان ھولاء لشر ذمۃ قلیلون (26 : 53) ” یہ کچھ مٹھی بھر لوگ ہیں۔ ‘ تو سوال یہ ہے کہ پھر ان کے خلاف اس قدر انتظام کیوں ہو رہا ہے اور فوجیں کیوں جمع کی جا رہی ہیں اگر وہ مٹھی بھر لوگ ہیں۔ “
وانھم لنا لغآئظون (26 : 55) ” اور انہیں نے ہم کو بہت ہی ناراض کیا ہے۔ “ یہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں اور ایسے کام کرتے ہیں جو ہمارے سامنے کسی نے نہیں کیے ، اس لئے ان کی وجہ سے ہم غیظ و غضب میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ہمارے اندر جوش انتقام پیدا ہوگیا ہے۔
اگرچہ یہ لوگ نہایت ہی خطرناک ہیں اور ان کی تحریک ایک مضبوط تحریک ہے۔ لیکن سرکاری لوگ عوام سے یہی کہیں کہ حکومت نے مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کی ہوئی ہیں اور ان پر نظر رکھی ہوئی ہے۔
وانا لجمیع حذرون (26 : 56) ” اور ہم ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہمیشہ چوکنا رہنا ہے۔ “ اور ہم ان کی سازشوں کے مقابلے میں بیدار ہیں۔ ان کے معاملات میں بڑی احتیاط برت رہے ہیں اور ان کو اچھی طرح کنٹرول کر رہے ہیں۔ جب بھی اہل باطل کا اہل ایمان سے مقابلہ ہوتا ہے تو اہل باطل اہل ایمان کے مقابلے میں اسی طرح حیران و پریشان ہوتے ہیں۔
الشعراء 26:57
قبل اس کے کہ آخری منظر پیش کیا جائے ، یہاں قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے ان کی سرکشی کی وجہ سے ان نعمتوں ، ان باغات اور مکانات عالی شان اور اس عیش و عشرت سے نکال دیا اور یہ مقام اختیار و اقتدار بنی اسرائیل جیسے مستصفعین کو دے دیا۔
الشعراء 26:58
قبل اس کے کہ آخری منظر پیش کیا جائے ، یہاں قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے ان کی سرکشی کی وجہ سے ان نعمتوں ، ان باغات اور مکانات عالی شان اور اس عیش و عشرت سے نکال دیا اور یہ مقام اختیار و اقتدار بنی اسرائیل جیسے مستصفعین کو دے دیا۔
الشعراء 26:59
قبل اس کے کہ آخری منظر پیش کیا جائے ، یہاں قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے ان کی سرکشی کی وجہ سے ان نعمتوں ، ان باغات اور مکانات عالی شان اور اس عیش و عشرت سے نکال دیا اور یہ مقام اختیار و اقتدار بنی اسرائیل جیسے مستصفعین کو دے دیا۔
الشعراء 26:60
فاخرجنھم من ……اسرآئیل (59)
یہ لوگ تو اس لئے نکلے کہ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کا تعاقب کریں اور انہیں گرفتار کریں مگر اپنے گھروں سے ان کا یہ خروج آخری خروج تھا۔ یہ دراصل اللہ کی اسکیم میں ان کے لئے ان انعامات اور عیاشیوں سے اخراج تھا ، جن میں وہ تھے ، اعلیٰ سہولتوں ، عزت کے مقامات اور خوشحالی اور باغات و محلات سے اخراج تھا۔ اس کے بعد یہ پھر ان مقامات کی طرف واپس نہ آئے اور یہ تھی ان کی سزابن مظالم کی وجہ سے جو یہ غریبوں پر ڈھاتے تھے۔
واورثنھا بنی اسرائیل (26 : 59) ” اور دوسری طرف ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث کردیا۔ “ تاریخ میں تو اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ یہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے بعد دوبارہ مصر میں داخل ہوئے تھے اور مصر کے باغ و راغ اور مال و منال پر قابض ہوگئے تھے۔ اس لئے مفسرین یہ کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ دنیا کا مال و اقتدار ان کو دے دیا گیا جس طرح فرعونیوں کو دیا گیا تھا۔ مقصد یہ ہے کہ ایک قوم کو زوال دیا اور دوسری کو عروج اور اس عروج میں وہ اگلی قوم کی وارث ہوگئی۔ پہلے مقام کریم اس کے پاس تھا اب اس کے پاس ہے۔
اور عمرانی سزا کے بعد اب ان کی جسمانی سزا اور آخری انجام کا ذکر آتا ہے۔
فاتبعوھم مشرقین ……الاخرین (66)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندوں کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے۔ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی اور ہدایت کے مطابق۔ صبح کے وقت جب فرعون نے دیکھا کہ بنی اسرائیل بھاگ گئے ہیں تو وہ اپنی فوجیں لے کر تعاقب میں نکلا۔ اس تعاقب کے لئے فرعون نے بڑی سخت تدابیر اختیار کر رکھی تھیں اور ان کو پکڑنے کا زبردست انتظام کیا تھا۔ اب یہ منظر اپنی انتہا اور انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ معرکہ اپنی انتہائی بلندی پر پہنچ گیا۔ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم ساحل پر پہنچ گئی ہے۔ وہاں کوئی کشتی نہیں ہے۔ بنی اسرائیل نہ سمندر عبور کرسکتے ہیں اور نہ فرعون کے ساتھ جنگ کے لئے کچھ سامان ہے اور فرعون ان کا تعاقب نہایت ساز و سامان سے کر رہا ہے اور انہیں گرفتار کرنے کی بےرحمانہ اسکیم اس نے تیار کی ہوئی ہے۔
بظاہر حالات یہی بتاتے ہیں کہ اب ان کے بھاگ نکلنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے۔ آگے سمندر ہے اور پیچھے سے دشمن بڑھا چلا آ رہا ہے۔
قال اصحب موسیا نا لمدرکون (26 : 61) ” موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا ہم تو پکڑے گئے۔ ‘ اہل ایمان کی بےچینی اب انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ اب تو چند منٹوں کی بات ہے کہ لشکر فرعون انہیں قتل کرے یا گرفتار کرے اور اس سے بظاہر چھوٹ نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔
لیکن حضرت حضرت موسیٰ کا رابطہ تو عالم بالا سے قائم تھا۔ وحی مسلسل آرہی تھی۔ ان کا کاسہ دل اطمینان سے لبالب تھا۔ پوری طرح یقین تھا کہ اللہ کوئی صورت نکالنے والا ہے۔ مدد کی کوئی سبیل نکل آئیگی۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ نجات ملے گی۔ اگرچہ انہیں بھی معلوم نہ تھا کہ بات کیا ہوگی۔ البتہ یقین تھا کہ نجات یقینی ہے۔ کیونکہ یہ سب منصوبہ اللہ کا تیار کردہ ہے۔
قال کلا ان معی ربی سیھدین (26 : 62) ” موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں میرے ساتھ ، میرا رب ہے ، وہ ضرور میری اہنمائی فرمائے گا۔ “ لفظ کلا ایسی جگہ استعمال ہوتا ہے ، جہاں شدید تاکید کے ساتھ نفی مطلوب ہو۔ یعنی تم ہرگز نہ پکڑے جائو گے اور تم ہرگز کسی فتنے میں نہ پڑو گے۔ ہرگز اللہ تمہیں ضائع نہ کرے گا۔ میرے ساتھ میرا رب ہے ، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا۔ حضرت موسیٰ بڑی تاکید ، اعتماد اور یقین کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ مایوسی کے ان اندھیروں میں اچانک روشنی کی ایک کرن نمودار ہوتی ہے۔ نجات کی راہ اس طرف سے ملتی ہے جس طرف سے کوئی امید نہ تھی۔
فاوحینا الی موسیٰ ان اضرب بعصاک البحر (26 : 63) ” ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ ” مار اپنا عصا سمندر پر “۔ اب سیاق کلام میں آگے یہ نہیں کہا جاتا کہ انہوں نے اپنا عصا سمندر پر مارا بلکہ نتیجہ ہی جلدی سے ہمارے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔
فانفلق فکان کل فرق کالطود العظیم (26 : 63) ” یکایک سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم پہاڑ کی طرح ہوگ یا۔ “ یہ معجزہ واقع ہوگیا اور لوگ جس بات کو محال کہتے تھے ، وہ ہوگئی کیونکہ ان کا قیاس تو روزمرہ کے معمول کے واقعات پر تھا اور یہ روزہ مرہ کے واقعات بھی تو اللہ کی قدرت کے پیدا کردہ اصولوں کے مطابق رونما ہوتے ہیں اور یہ ان اصولوں کے مطابق تب تک چلتے ہیں جب تک اللہ چاتہا ہے۔ اللہ کا حکم یوں ہوا کہ پانی راستوں کے دونوں طرف تو دوں کی طرح کھڑا ہوگیا۔ بنی اسرائیل گھس کر دریا پار کر گئے۔
فرعون اپنی افواج کے ساتھ دوسری جانب ششدر کھڑا رہ گیا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں کے ساتھ یہ معجزہ دیھکا۔ لازم ہے کہ کچھ دیر کے لئے تو وہ حیرت زدہ ہو کر رہ گیا ہوگا ۔ وہ دیکھ رہا ہوگا کہ موسیٰ اور ان کی قوم وہ گئے اور پار ہوگئے۔ اس نے بہرحال اپنی افواج کو اس راستے میں گھس جانے سے بل سوچا تو ہوگا کیونکہ یہ ایک عجیب عمل تھا۔
اللہ کی اس تدبیر سے بنی اسرائیل دوسری طرف نکل گئے۔ ابھی تک پانی دو ٹکڑے ہی تھا اور فرعون اور اس کا لشکر پانی کے اندر ہی تھے کہ اللہ نے ان کا انجام قریب کردیا۔
واز لفناثم ……الاخرین (66) (26 : 63 تا 66) ” اسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے۔ موسیٰ اور ان سب لوگوں کو جوان کے ساتھ تھے ، ہم نے بچا لیا اور وہ دوسروں کو غرق کردیا۔ “ یہ معجزہ ایک عرصہ تک لوگوں کی زبان پر رہا۔ صدیوں تک وہ اس کا تذکرہ کرتے رہے۔ کیا اس پر زیادہ لوگ ایمان لے آتے ؟
الشعراء 26:61
فاخرجنھم من ……اسرآئیل (59)
یہ لوگ تو اس لئے نکلے کہ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کا تعاقب کریں اور انہیں گرفتار کریں مگر اپنے گھروں سے ان کا یہ خروج آخری خروج تھا۔ یہ دراصل اللہ کی اسکیم میں ان کے لئے ان انعامات اور عیاشیوں سے اخراج تھا ، جن میں وہ تھے ، اعلیٰ سہولتوں ، عزت کے مقامات اور خوشحالی اور باغات و محلات سے اخراج تھا۔ اس کے بعد یہ پھر ان مقامات کی طرف واپس نہ آئے اور یہ تھی ان کی سزابن مظالم کی وجہ سے جو یہ غریبوں پر ڈھاتے تھے۔
واورثنھا بنی اسرائیل (26 : 59) ” اور دوسری طرف ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث کردیا۔ “ تاریخ میں تو اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ یہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے بعد دوبارہ مصر میں داخل ہوئے تھے اور مصر کے باغ و راغ اور مال و منال پر قابض ہوگئے تھے۔ اس لئے مفسرین یہ کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ دنیا کا مال و اقتدار ان کو دے دیا گیا جس طرح فرعونیوں کو دیا گیا تھا۔ مقصد یہ ہے کہ ایک قوم کو زوال دیا اور دوسری کو عروج اور اس عروج میں وہ اگلی قوم کی وارث ہوگئی۔ پہلے مقام کریم اس کے پاس تھا اب اس کے پاس ہے۔
اور عمرانی سزا کے بعد اب ان کی جسمانی سزا اور آخری انجام کا ذکر آتا ہے۔
فاتبعوھم مشرقین ……الاخرین (66)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندوں کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے۔ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی اور ہدایت کے مطابق۔ صبح کے وقت جب فرعون نے دیکھا کہ بنی اسرائیل بھاگ گئے ہیں تو وہ اپنی فوجیں لے کر تعاقب میں نکلا۔ اس تعاقب کے لئے فرعون نے بڑی سخت تدابیر اختیار کر رکھی تھیں اور ان کو پکڑنے کا زبردست انتظام کیا تھا۔ اب یہ منظر اپنی انتہا اور انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ معرکہ اپنی انتہائی بلندی پر پہنچ گیا۔ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم ساحل پر پہنچ گئی ہے۔ وہاں کوئی کشتی نہیں ہے۔ بنی اسرائیل نہ سمندر عبور کرسکتے ہیں اور نہ فرعون کے ساتھ جنگ کے لئے کچھ سامان ہے اور فرعون ان کا تعاقب نہایت ساز و سامان سے کر رہا ہے اور انہیں گرفتار کرنے کی بےرحمانہ اسکیم اس نے تیار کی ہوئی ہے۔
بظاہر حالات یہی بتاتے ہیں کہ اب ان کے بھاگ نکلنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے۔ آگے سمندر ہے اور پیچھے سے دشمن بڑھا چلا آ رہا ہے۔
قال اصحب موسیا نا لمدرکون (26 : 61) ” موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا ہم تو پکڑے گئے۔ ‘ اہل ایمان کی بےچینی اب انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ اب تو چند منٹوں کی بات ہے کہ لشکر فرعون انہیں قتل کرے یا گرفتار کرے اور اس سے بظاہر چھوٹ نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔
لیکن حضرت حضرت موسیٰ کا رابطہ تو عالم بالا سے قائم تھا۔ وحی مسلسل آرہی تھی۔ ان کا کاسہ دل اطمینان سے لبالب تھا۔ پوری طرح یقین تھا کہ اللہ کوئی صورت نکالنے والا ہے۔ مدد کی کوئی سبیل نکل آئیگی۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ نجات ملے گی۔ اگرچہ انہیں بھی معلوم نہ تھا کہ بات کیا ہوگی۔ البتہ یقین تھا کہ نجات یقینی ہے۔ کیونکہ یہ سب منصوبہ اللہ کا تیار کردہ ہے۔
قال کلا ان معی ربی سیھدین (26 : 62) ” موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں میرے ساتھ ، میرا رب ہے ، وہ ضرور میری اہنمائی فرمائے گا۔ “ لفظ کلا ایسی جگہ استعمال ہوتا ہے ، جہاں شدید تاکید کے ساتھ نفی مطلوب ہو۔ یعنی تم ہرگز نہ پکڑے جائو گے اور تم ہرگز کسی فتنے میں نہ پڑو گے۔ ہرگز اللہ تمہیں ضائع نہ کرے گا۔ میرے ساتھ میرا رب ہے ، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا۔ حضرت موسیٰ بڑی تاکید ، اعتماد اور یقین کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ مایوسی کے ان اندھیروں میں اچانک روشنی کی ایک کرن نمودار ہوتی ہے۔ نجات کی راہ اس طرف سے ملتی ہے جس طرف سے کوئی امید نہ تھی۔
فاوحینا الی موسیٰ ان اضرب بعصاک البحر (26 : 63) ” ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ ” مار اپنا عصا سمندر پر “۔ اب سیاق کلام میں آگے یہ نہیں کہا جاتا کہ انہوں نے اپنا عصا سمندر پر مارا بلکہ نتیجہ ہی جلدی سے ہمارے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔
فانفلق فکان کل فرق کالطود العظیم (26 : 63) ” یکایک سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم پہاڑ کی طرح ہوگ یا۔ “ یہ معجزہ واقع ہوگیا اور لوگ جس بات کو محال کہتے تھے ، وہ ہوگئی کیونکہ ان کا قیاس تو روزمرہ کے معمول کے واقعات پر تھا اور یہ روزہ مرہ کے واقعات بھی تو اللہ کی قدرت کے پیدا کردہ اصولوں کے مطابق رونما ہوتے ہیں اور یہ ان اصولوں کے مطابق تب تک چلتے ہیں جب تک اللہ چاتہا ہے۔ اللہ کا حکم یوں ہوا کہ پانی راستوں کے دونوں طرف تو دوں کی طرح کھڑا ہوگیا۔ بنی اسرائیل گھس کر دریا پار کر گئے۔
فرعون اپنی افواج کے ساتھ دوسری جانب ششدر کھڑا رہ گیا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں کے ساتھ یہ معجزہ دیھکا۔ لازم ہے کہ کچھ دیر کے لئے تو وہ حیرت زدہ ہو کر رہ گیا ہوگا ۔ وہ دیکھ رہا ہوگا کہ موسیٰ اور ان کی قوم وہ گئے اور پار ہوگئے۔ اس نے بہرحال اپنی افواج کو اس راستے میں گھس جانے سے بل سوچا تو ہوگا کیونکہ یہ ایک عجیب عمل تھا۔
اللہ کی اس تدبیر سے بنی اسرائیل دوسری طرف نکل گئے۔ ابھی تک پانی دو ٹکڑے ہی تھا اور فرعون اور اس کا لشکر پانی کے اندر ہی تھے کہ اللہ نے ان کا انجام قریب کردیا۔
واز لفناثم ……الاخرین (66) (26 : 63 تا 66) ” اسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے۔ موسیٰ اور ان سب لوگوں کو جوان کے ساتھ تھے ، ہم نے بچا لیا اور وہ دوسروں کو غرق کردیا۔ “ یہ معجزہ ایک عرصہ تک لوگوں کی زبان پر رہا۔ صدیوں تک وہ اس کا تذکرہ کرتے رہے۔ کیا اس پر زیادہ لوگ ایمان لے آتے ؟
الشعراء 26:62
فاخرجنھم من ……اسرآئیل (59)
یہ لوگ تو اس لئے نکلے کہ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کا تعاقب کریں اور انہیں گرفتار کریں مگر اپنے گھروں سے ان کا یہ خروج آخری خروج تھا۔ یہ دراصل اللہ کی اسکیم میں ان کے لئے ان انعامات اور عیاشیوں سے اخراج تھا ، جن میں وہ تھے ، اعلیٰ سہولتوں ، عزت کے مقامات اور خوشحالی اور باغات و محلات سے اخراج تھا۔ اس کے بعد یہ پھر ان مقامات کی طرف واپس نہ آئے اور یہ تھی ان کی سزابن مظالم کی وجہ سے جو یہ غریبوں پر ڈھاتے تھے۔
واورثنھا بنی اسرائیل (26 : 59) ” اور دوسری طرف ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث کردیا۔ “ تاریخ میں تو اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ یہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے بعد دوبارہ مصر میں داخل ہوئے تھے اور مصر کے باغ و راغ اور مال و منال پر قابض ہوگئے تھے۔ اس لئے مفسرین یہ کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ دنیا کا مال و اقتدار ان کو دے دیا گیا جس طرح فرعونیوں کو دیا گیا تھا۔ مقصد یہ ہے کہ ایک قوم کو زوال دیا اور دوسری کو عروج اور اس عروج میں وہ اگلی قوم کی وارث ہوگئی۔ پہلے مقام کریم اس کے پاس تھا اب اس کے پاس ہے۔
اور عمرانی سزا کے بعد اب ان کی جسمانی سزا اور آخری انجام کا ذکر آتا ہے۔
فاتبعوھم مشرقین ……الاخرین (66)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندوں کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے۔ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی اور ہدایت کے مطابق۔ صبح کے وقت جب فرعون نے دیکھا کہ بنی اسرائیل بھاگ گئے ہیں تو وہ اپنی فوجیں لے کر تعاقب میں نکلا۔ اس تعاقب کے لئے فرعون نے بڑی سخت تدابیر اختیار کر رکھی تھیں اور ان کو پکڑنے کا زبردست انتظام کیا تھا۔ اب یہ منظر اپنی انتہا اور انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ معرکہ اپنی انتہائی بلندی پر پہنچ گیا۔ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم ساحل پر پہنچ گئی ہے۔ وہاں کوئی کشتی نہیں ہے۔ بنی اسرائیل نہ سمندر عبور کرسکتے ہیں اور نہ فرعون کے ساتھ جنگ کے لئے کچھ سامان ہے اور فرعون ان کا تعاقب نہایت ساز و سامان سے کر رہا ہے اور انہیں گرفتار کرنے کی بےرحمانہ اسکیم اس نے تیار کی ہوئی ہے۔
بظاہر حالات یہی بتاتے ہیں کہ اب ان کے بھاگ نکلنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے۔ آگے سمندر ہے اور پیچھے سے دشمن بڑھا چلا آ رہا ہے۔
قال اصحب موسیا نا لمدرکون (26 : 61) ” موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا ہم تو پکڑے گئے۔ ‘ اہل ایمان کی بےچینی اب انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ اب تو چند منٹوں کی بات ہے کہ لشکر فرعون انہیں قتل کرے یا گرفتار کرے اور اس سے بظاہر چھوٹ نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔
لیکن حضرت حضرت موسیٰ کا رابطہ تو عالم بالا سے قائم تھا۔ وحی مسلسل آرہی تھی۔ ان کا کاسہ دل اطمینان سے لبالب تھا۔ پوری طرح یقین تھا کہ اللہ کوئی صورت نکالنے والا ہے۔ مدد کی کوئی سبیل نکل آئیگی۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ نجات ملے گی۔ اگرچہ انہیں بھی معلوم نہ تھا کہ بات کیا ہوگی۔ البتہ یقین تھا کہ نجات یقینی ہے۔ کیونکہ یہ سب منصوبہ اللہ کا تیار کردہ ہے۔
قال کلا ان معی ربی سیھدین (26 : 62) ” موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں میرے ساتھ ، میرا رب ہے ، وہ ضرور میری اہنمائی فرمائے گا۔ “ لفظ کلا ایسی جگہ استعمال ہوتا ہے ، جہاں شدید تاکید کے ساتھ نفی مطلوب ہو۔ یعنی تم ہرگز نہ پکڑے جائو گے اور تم ہرگز کسی فتنے میں نہ پڑو گے۔ ہرگز اللہ تمہیں ضائع نہ کرے گا۔ میرے ساتھ میرا رب ہے ، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا۔ حضرت موسیٰ بڑی تاکید ، اعتماد اور یقین کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ مایوسی کے ان اندھیروں میں اچانک روشنی کی ایک کرن نمودار ہوتی ہے۔ نجات کی راہ اس طرف سے ملتی ہے جس طرف سے کوئی امید نہ تھی۔
فاوحینا الی موسیٰ ان اضرب بعصاک البحر (26 : 63) ” ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ ” مار اپنا عصا سمندر پر “۔ اب سیاق کلام میں آگے یہ نہیں کہا جاتا کہ انہوں نے اپنا عصا سمندر پر مارا بلکہ نتیجہ ہی جلدی سے ہمارے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔
فانفلق فکان کل فرق کالطود العظیم (26 : 63) ” یکایک سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم پہاڑ کی طرح ہوگ یا۔ “ یہ معجزہ واقع ہوگیا اور لوگ جس بات کو محال کہتے تھے ، وہ ہوگئی کیونکہ ان کا قیاس تو روزمرہ کے معمول کے واقعات پر تھا اور یہ روزہ مرہ کے واقعات بھی تو اللہ کی قدرت کے پیدا کردہ اصولوں کے مطابق رونما ہوتے ہیں اور یہ ان اصولوں کے مطابق تب تک چلتے ہیں جب تک اللہ چاتہا ہے۔ اللہ کا حکم یوں ہوا کہ پانی راستوں کے دونوں طرف تو دوں کی طرح کھڑا ہوگیا۔ بنی اسرائیل گھس کر دریا پار کر گئے۔
فرعون اپنی افواج کے ساتھ دوسری جانب ششدر کھڑا رہ گیا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں کے ساتھ یہ معجزہ دیھکا۔ لازم ہے کہ کچھ دیر کے لئے تو وہ حیرت زدہ ہو کر رہ گیا ہوگا ۔ وہ دیکھ رہا ہوگا کہ موسیٰ اور ان کی قوم وہ گئے اور پار ہوگئے۔ اس نے بہرحال اپنی افواج کو اس راستے میں گھس جانے سے بل سوچا تو ہوگا کیونکہ یہ ایک عجیب عمل تھا۔
اللہ کی اس تدبیر سے بنی اسرائیل دوسری طرف نکل گئے۔ ابھی تک پانی دو ٹکڑے ہی تھا اور فرعون اور اس کا لشکر پانی کے اندر ہی تھے کہ اللہ نے ان کا انجام قریب کردیا۔
واز لفناثم ……الاخرین (66) (26 : 63 تا 66) ” اسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے۔ موسیٰ اور ان سب لوگوں کو جوان کے ساتھ تھے ، ہم نے بچا لیا اور وہ دوسروں کو غرق کردیا۔ “ یہ معجزہ ایک عرصہ تک لوگوں کی زبان پر رہا۔ صدیوں تک وہ اس کا تذکرہ کرتے رہے۔ کیا اس پر زیادہ لوگ ایمان لے آتے ؟
الشعراء 26:63
فاخرجنھم من ……اسرآئیل (59)
یہ لوگ تو اس لئے نکلے کہ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کا تعاقب کریں اور انہیں گرفتار کریں مگر اپنے گھروں سے ان کا یہ خروج آخری خروج تھا۔ یہ دراصل اللہ کی اسکیم میں ان کے لئے ان انعامات اور عیاشیوں سے اخراج تھا ، جن میں وہ تھے ، اعلیٰ سہولتوں ، عزت کے مقامات اور خوشحالی اور باغات و محلات سے اخراج تھا۔ اس کے بعد یہ پھر ان مقامات کی طرف واپس نہ آئے اور یہ تھی ان کی سزابن مظالم کی وجہ سے جو یہ غریبوں پر ڈھاتے تھے۔
واورثنھا بنی اسرائیل (26 : 59) ” اور دوسری طرف ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث کردیا۔ “ تاریخ میں تو اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ یہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے بعد دوبارہ مصر میں داخل ہوئے تھے اور مصر کے باغ و راغ اور مال و منال پر قابض ہوگئے تھے۔ اس لئے مفسرین یہ کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ دنیا کا مال و اقتدار ان کو دے دیا گیا جس طرح فرعونیوں کو دیا گیا تھا۔ مقصد یہ ہے کہ ایک قوم کو زوال دیا اور دوسری کو عروج اور اس عروج میں وہ اگلی قوم کی وارث ہوگئی۔ پہلے مقام کریم اس کے پاس تھا اب اس کے پاس ہے۔
اور عمرانی سزا کے بعد اب ان کی جسمانی سزا اور آخری انجام کا ذکر آتا ہے۔
فاتبعوھم مشرقین ……الاخرین (66)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندوں کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے۔ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی اور ہدایت کے مطابق۔ صبح کے وقت جب فرعون نے دیکھا کہ بنی اسرائیل بھاگ گئے ہیں تو وہ اپنی فوجیں لے کر تعاقب میں نکلا۔ اس تعاقب کے لئے فرعون نے بڑی سخت تدابیر اختیار کر رکھی تھیں اور ان کو پکڑنے کا زبردست انتظام کیا تھا۔ اب یہ منظر اپنی انتہا اور انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ معرکہ اپنی انتہائی بلندی پر پہنچ گیا۔ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم ساحل پر پہنچ گئی ہے۔ وہاں کوئی کشتی نہیں ہے۔ بنی اسرائیل نہ سمندر عبور کرسکتے ہیں اور نہ فرعون کے ساتھ جنگ کے لئے کچھ سامان ہے اور فرعون ان کا تعاقب نہایت ساز و سامان سے کر رہا ہے اور انہیں گرفتار کرنے کی بےرحمانہ اسکیم اس نے تیار کی ہوئی ہے۔
بظاہر حالات یہی بتاتے ہیں کہ اب ان کے بھاگ نکلنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے۔ آگے سمندر ہے اور پیچھے سے دشمن بڑھا چلا آ رہا ہے۔
قال اصحب موسیا نا لمدرکون (26 : 61) ” موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا ہم تو پکڑے گئے۔ ‘ اہل ایمان کی بےچینی اب انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ اب تو چند منٹوں کی بات ہے کہ لشکر فرعون انہیں قتل کرے یا گرفتار کرے اور اس سے بظاہر چھوٹ نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔
لیکن حضرت حضرت موسیٰ کا رابطہ تو عالم بالا سے قائم تھا۔ وحی مسلسل آرہی تھی۔ ان کا کاسہ دل اطمینان سے لبالب تھا۔ پوری طرح یقین تھا کہ اللہ کوئی صورت نکالنے والا ہے۔ مدد کی کوئی سبیل نکل آئیگی۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ نجات ملے گی۔ اگرچہ انہیں بھی معلوم نہ تھا کہ بات کیا ہوگی۔ البتہ یقین تھا کہ نجات یقینی ہے۔ کیونکہ یہ سب منصوبہ اللہ کا تیار کردہ ہے۔
قال کلا ان معی ربی سیھدین (26 : 62) ” موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں میرے ساتھ ، میرا رب ہے ، وہ ضرور میری اہنمائی فرمائے گا۔ “ لفظ کلا ایسی جگہ استعمال ہوتا ہے ، جہاں شدید تاکید کے ساتھ نفی مطلوب ہو۔ یعنی تم ہرگز نہ پکڑے جائو گے اور تم ہرگز کسی فتنے میں نہ پڑو گے۔ ہرگز اللہ تمہیں ضائع نہ کرے گا۔ میرے ساتھ میرا رب ہے ، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا۔ حضرت موسیٰ بڑی تاکید ، اعتماد اور یقین کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ مایوسی کے ان اندھیروں میں اچانک روشنی کی ایک کرن نمودار ہوتی ہے۔ نجات کی راہ اس طرف سے ملتی ہے جس طرف سے کوئی امید نہ تھی۔
فاوحینا الی موسیٰ ان اضرب بعصاک البحر (26 : 63) ” ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ ” مار اپنا عصا سمندر پر “۔ اب سیاق کلام میں آگے یہ نہیں کہا جاتا کہ انہوں نے اپنا عصا سمندر پر مارا بلکہ نتیجہ ہی جلدی سے ہمارے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔
فانفلق فکان کل فرق کالطود العظیم (26 : 63) ” یکایک سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم پہاڑ کی طرح ہوگ یا۔ “ یہ معجزہ واقع ہوگیا اور لوگ جس بات کو محال کہتے تھے ، وہ ہوگئی کیونکہ ان کا قیاس تو روزمرہ کے معمول کے واقعات پر تھا اور یہ روزہ مرہ کے واقعات بھی تو اللہ کی قدرت کے پیدا کردہ اصولوں کے مطابق رونما ہوتے ہیں اور یہ ان اصولوں کے مطابق تب تک چلتے ہیں جب تک اللہ چاتہا ہے۔ اللہ کا حکم یوں ہوا کہ پانی راستوں کے دونوں طرف تو دوں کی طرح کھڑا ہوگیا۔ بنی اسرائیل گھس کر دریا پار کر گئے۔
فرعون اپنی افواج کے ساتھ دوسری جانب ششدر کھڑا رہ گیا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں کے ساتھ یہ معجزہ دیھکا۔ لازم ہے کہ کچھ دیر کے لئے تو وہ حیرت زدہ ہو کر رہ گیا ہوگا ۔ وہ دیکھ رہا ہوگا کہ موسیٰ اور ان کی قوم وہ گئے اور پار ہوگئے۔ اس نے بہرحال اپنی افواج کو اس راستے میں گھس جانے سے بل سوچا تو ہوگا کیونکہ یہ ایک عجیب عمل تھا۔
اللہ کی اس تدبیر سے بنی اسرائیل دوسری طرف نکل گئے۔ ابھی تک پانی دو ٹکڑے ہی تھا اور فرعون اور اس کا لشکر پانی کے اندر ہی تھے کہ اللہ نے ان کا انجام قریب کردیا۔
واز لفناثم ……الاخرین (66) (26 : 63 تا 66) ” اسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے۔ موسیٰ اور ان سب لوگوں کو جوان کے ساتھ تھے ، ہم نے بچا لیا اور وہ دوسروں کو غرق کردیا۔ “ یہ معجزہ ایک عرصہ تک لوگوں کی زبان پر رہا۔ صدیوں تک وہ اس کا تذکرہ کرتے رہے۔ کیا اس پر زیادہ لوگ ایمان لے آتے ؟
الشعراء 26:64
فاخرجنھم من ……اسرآئیل (59)
یہ لوگ تو اس لئے نکلے کہ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کا تعاقب کریں اور انہیں گرفتار کریں مگر اپنے گھروں سے ان کا یہ خروج آخری خروج تھا۔ یہ دراصل اللہ کی اسکیم میں ان کے لئے ان انعامات اور عیاشیوں سے اخراج تھا ، جن میں وہ تھے ، اعلیٰ سہولتوں ، عزت کے مقامات اور خوشحالی اور باغات و محلات سے اخراج تھا۔ اس کے بعد یہ پھر ان مقامات کی طرف واپس نہ آئے اور یہ تھی ان کی سزابن مظالم کی وجہ سے جو یہ غریبوں پر ڈھاتے تھے۔
واورثنھا بنی اسرائیل (26 : 59) ” اور دوسری طرف ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث کردیا۔ “ تاریخ میں تو اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ یہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے بعد دوبارہ مصر میں داخل ہوئے تھے اور مصر کے باغ و راغ اور مال و منال پر قابض ہوگئے تھے۔ اس لئے مفسرین یہ کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ دنیا کا مال و اقتدار ان کو دے دیا گیا جس طرح فرعونیوں کو دیا گیا تھا۔ مقصد یہ ہے کہ ایک قوم کو زوال دیا اور دوسری کو عروج اور اس عروج میں وہ اگلی قوم کی وارث ہوگئی۔ پہلے مقام کریم اس کے پاس تھا اب اس کے پاس ہے۔
اور عمرانی سزا کے بعد اب ان کی جسمانی سزا اور آخری انجام کا ذکر آتا ہے۔
فاتبعوھم مشرقین ……الاخرین (66)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندوں کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے۔ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی اور ہدایت کے مطابق۔ صبح کے وقت جب فرعون نے دیکھا کہ بنی اسرائیل بھاگ گئے ہیں تو وہ اپنی فوجیں لے کر تعاقب میں نکلا۔ اس تعاقب کے لئے فرعون نے بڑی سخت تدابیر اختیار کر رکھی تھیں اور ان کو پکڑنے کا زبردست انتظام کیا تھا۔ اب یہ منظر اپنی انتہا اور انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ معرکہ اپنی انتہائی بلندی پر پہنچ گیا۔ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم ساحل پر پہنچ گئی ہے۔ وہاں کوئی کشتی نہیں ہے۔ بنی اسرائیل نہ سمندر عبور کرسکتے ہیں اور نہ فرعون کے ساتھ جنگ کے لئے کچھ سامان ہے اور فرعون ان کا تعاقب نہایت ساز و سامان سے کر رہا ہے اور انہیں گرفتار کرنے کی بےرحمانہ اسکیم اس نے تیار کی ہوئی ہے۔
بظاہر حالات یہی بتاتے ہیں کہ اب ان کے بھاگ نکلنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے۔ آگے سمندر ہے اور پیچھے سے دشمن بڑھا چلا آ رہا ہے۔
قال اصحب موسیا نا لمدرکون (26 : 61) ” موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا ہم تو پکڑے گئے۔ ‘ اہل ایمان کی بےچینی اب انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ اب تو چند منٹوں کی بات ہے کہ لشکر فرعون انہیں قتل کرے یا گرفتار کرے اور اس سے بظاہر چھوٹ نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔
لیکن حضرت حضرت موسیٰ کا رابطہ تو عالم بالا سے قائم تھا۔ وحی مسلسل آرہی تھی۔ ان کا کاسہ دل اطمینان سے لبالب تھا۔ پوری طرح یقین تھا کہ اللہ کوئی صورت نکالنے والا ہے۔ مدد کی کوئی سبیل نکل آئیگی۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ نجات ملے گی۔ اگرچہ انہیں بھی معلوم نہ تھا کہ بات کیا ہوگی۔ البتہ یقین تھا کہ نجات یقینی ہے۔ کیونکہ یہ سب منصوبہ اللہ کا تیار کردہ ہے۔
قال کلا ان معی ربی سیھدین (26 : 62) ” موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں میرے ساتھ ، میرا رب ہے ، وہ ضرور میری اہنمائی فرمائے گا۔ “ لفظ کلا ایسی جگہ استعمال ہوتا ہے ، جہاں شدید تاکید کے ساتھ نفی مطلوب ہو۔ یعنی تم ہرگز نہ پکڑے جائو گے اور تم ہرگز کسی فتنے میں نہ پڑو گے۔ ہرگز اللہ تمہیں ضائع نہ کرے گا۔ میرے ساتھ میرا رب ہے ، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا۔ حضرت موسیٰ بڑی تاکید ، اعتماد اور یقین کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ مایوسی کے ان اندھیروں میں اچانک روشنی کی ایک کرن نمودار ہوتی ہے۔ نجات کی راہ اس طرف سے ملتی ہے جس طرف سے کوئی امید نہ تھی۔
فاوحینا الی موسیٰ ان اضرب بعصاک البحر (26 : 63) ” ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ ” مار اپنا عصا سمندر پر “۔ اب سیاق کلام میں آگے یہ نہیں کہا جاتا کہ انہوں نے اپنا عصا سمندر پر مارا بلکہ نتیجہ ہی جلدی سے ہمارے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔
فانفلق فکان کل فرق کالطود العظیم (26 : 63) ” یکایک سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم پہاڑ کی طرح ہوگ یا۔ “ یہ معجزہ واقع ہوگیا اور لوگ جس بات کو محال کہتے تھے ، وہ ہوگئی کیونکہ ان کا قیاس تو روزمرہ کے معمول کے واقعات پر تھا اور یہ روزہ مرہ کے واقعات بھی تو اللہ کی قدرت کے پیدا کردہ اصولوں کے مطابق رونما ہوتے ہیں اور یہ ان اصولوں کے مطابق تب تک چلتے ہیں جب تک اللہ چاتہا ہے۔ اللہ کا حکم یوں ہوا کہ پانی راستوں کے دونوں طرف تو دوں کی طرح کھڑا ہوگیا۔ بنی اسرائیل گھس کر دریا پار کر گئے۔
فرعون اپنی افواج کے ساتھ دوسری جانب ششدر کھڑا رہ گیا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں کے ساتھ یہ معجزہ دیھکا۔ لازم ہے کہ کچھ دیر کے لئے تو وہ حیرت زدہ ہو کر رہ گیا ہوگا ۔ وہ دیکھ رہا ہوگا کہ موسیٰ اور ان کی قوم وہ گئے اور پار ہوگئے۔ اس نے بہرحال اپنی افواج کو اس راستے میں گھس جانے سے بل سوچا تو ہوگا کیونکہ یہ ایک عجیب عمل تھا۔
اللہ کی اس تدبیر سے بنی اسرائیل دوسری طرف نکل گئے۔ ابھی تک پانی دو ٹکڑے ہی تھا اور فرعون اور اس کا لشکر پانی کے اندر ہی تھے کہ اللہ نے ان کا انجام قریب کردیا۔
واز لفناثم ……الاخرین (66) (26 : 63 تا 66) ” اسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے۔ موسیٰ اور ان سب لوگوں کو جوان کے ساتھ تھے ، ہم نے بچا لیا اور وہ دوسروں کو غرق کردیا۔ “ یہ معجزہ ایک عرصہ تک لوگوں کی زبان پر رہا۔ صدیوں تک وہ اس کا تذکرہ کرتے رہے۔ کیا اس پر زیادہ لوگ ایمان لے آتے ؟
الشعراء 26:65
فاخرجنھم من ……اسرآئیل (59)
یہ لوگ تو اس لئے نکلے کہ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کا تعاقب کریں اور انہیں گرفتار کریں مگر اپنے گھروں سے ان کا یہ خروج آخری خروج تھا۔ یہ دراصل اللہ کی اسکیم میں ان کے لئے ان انعامات اور عیاشیوں سے اخراج تھا ، جن میں وہ تھے ، اعلیٰ سہولتوں ، عزت کے مقامات اور خوشحالی اور باغات و محلات سے اخراج تھا۔ اس کے بعد یہ پھر ان مقامات کی طرف واپس نہ آئے اور یہ تھی ان کی سزابن مظالم کی وجہ سے جو یہ غریبوں پر ڈھاتے تھے۔
واورثنھا بنی اسرائیل (26 : 59) ” اور دوسری طرف ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث کردیا۔ “ تاریخ میں تو اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ یہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے بعد دوبارہ مصر میں داخل ہوئے تھے اور مصر کے باغ و راغ اور مال و منال پر قابض ہوگئے تھے۔ اس لئے مفسرین یہ کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ دنیا کا مال و اقتدار ان کو دے دیا گیا جس طرح فرعونیوں کو دیا گیا تھا۔ مقصد یہ ہے کہ ایک قوم کو زوال دیا اور دوسری کو عروج اور اس عروج میں وہ اگلی قوم کی وارث ہوگئی۔ پہلے مقام کریم اس کے پاس تھا اب اس کے پاس ہے۔
اور عمرانی سزا کے بعد اب ان کی جسمانی سزا اور آخری انجام کا ذکر آتا ہے۔
فاتبعوھم مشرقین ……الاخرین (66)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندوں کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے۔ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی اور ہدایت کے مطابق۔ صبح کے وقت جب فرعون نے دیکھا کہ بنی اسرائیل بھاگ گئے ہیں تو وہ اپنی فوجیں لے کر تعاقب میں نکلا۔ اس تعاقب کے لئے فرعون نے بڑی سخت تدابیر اختیار کر رکھی تھیں اور ان کو پکڑنے کا زبردست انتظام کیا تھا۔ اب یہ منظر اپنی انتہا اور انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ معرکہ اپنی انتہائی بلندی پر پہنچ گیا۔ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم ساحل پر پہنچ گئی ہے۔ وہاں کوئی کشتی نہیں ہے۔ بنی اسرائیل نہ سمندر عبور کرسکتے ہیں اور نہ فرعون کے ساتھ جنگ کے لئے کچھ سامان ہے اور فرعون ان کا تعاقب نہایت ساز و سامان سے کر رہا ہے اور انہیں گرفتار کرنے کی بےرحمانہ اسکیم اس نے تیار کی ہوئی ہے۔
بظاہر حالات یہی بتاتے ہیں کہ اب ان کے بھاگ نکلنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے۔ آگے سمندر ہے اور پیچھے سے دشمن بڑھا چلا آ رہا ہے۔
قال اصحب موسیا نا لمدرکون (26 : 61) ” موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا ہم تو پکڑے گئے۔ ‘ اہل ایمان کی بےچینی اب انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ اب تو چند منٹوں کی بات ہے کہ لشکر فرعون انہیں قتل کرے یا گرفتار کرے اور اس سے بظاہر چھوٹ نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔
لیکن حضرت حضرت موسیٰ کا رابطہ تو عالم بالا سے قائم تھا۔ وحی مسلسل آرہی تھی۔ ان کا کاسہ دل اطمینان سے لبالب تھا۔ پوری طرح یقین تھا کہ اللہ کوئی صورت نکالنے والا ہے۔ مدد کی کوئی سبیل نکل آئیگی۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ نجات ملے گی۔ اگرچہ انہیں بھی معلوم نہ تھا کہ بات کیا ہوگی۔ البتہ یقین تھا کہ نجات یقینی ہے۔ کیونکہ یہ سب منصوبہ اللہ کا تیار کردہ ہے۔
قال کلا ان معی ربی سیھدین (26 : 62) ” موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں میرے ساتھ ، میرا رب ہے ، وہ ضرور میری اہنمائی فرمائے گا۔ “ لفظ کلا ایسی جگہ استعمال ہوتا ہے ، جہاں شدید تاکید کے ساتھ نفی مطلوب ہو۔ یعنی تم ہرگز نہ پکڑے جائو گے اور تم ہرگز کسی فتنے میں نہ پڑو گے۔ ہرگز اللہ تمہیں ضائع نہ کرے گا۔ میرے ساتھ میرا رب ہے ، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا۔ حضرت موسیٰ بڑی تاکید ، اعتماد اور یقین کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ مایوسی کے ان اندھیروں میں اچانک روشنی کی ایک کرن نمودار ہوتی ہے۔ نجات کی راہ اس طرف سے ملتی ہے جس طرف سے کوئی امید نہ تھی۔
فاوحینا الی موسیٰ ان اضرب بعصاک البحر (26 : 63) ” ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ ” مار اپنا عصا سمندر پر “۔ اب سیاق کلام میں آگے یہ نہیں کہا جاتا کہ انہوں نے اپنا عصا سمندر پر مارا بلکہ نتیجہ ہی جلدی سے ہمارے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔
فانفلق فکان کل فرق کالطود العظیم (26 : 63) ” یکایک سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم پہاڑ کی طرح ہوگ یا۔ “ یہ معجزہ واقع ہوگیا اور لوگ جس بات کو محال کہتے تھے ، وہ ہوگئی کیونکہ ان کا قیاس تو روزمرہ کے معمول کے واقعات پر تھا اور یہ روزہ مرہ کے واقعات بھی تو اللہ کی قدرت کے پیدا کردہ اصولوں کے مطابق رونما ہوتے ہیں اور یہ ان اصولوں کے مطابق تب تک چلتے ہیں جب تک اللہ چاتہا ہے۔ اللہ کا حکم یوں ہوا کہ پانی راستوں کے دونوں طرف تو دوں کی طرح کھڑا ہوگیا۔ بنی اسرائیل گھس کر دریا پار کر گئے۔
فرعون اپنی افواج کے ساتھ دوسری جانب ششدر کھڑا رہ گیا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں کے ساتھ یہ معجزہ دیھکا۔ لازم ہے کہ کچھ دیر کے لئے تو وہ حیرت زدہ ہو کر رہ گیا ہوگا ۔ وہ دیکھ رہا ہوگا کہ موسیٰ اور ان کی قوم وہ گئے اور پار ہوگئے۔ اس نے بہرحال اپنی افواج کو اس راستے میں گھس جانے سے بل سوچا تو ہوگا کیونکہ یہ ایک عجیب عمل تھا۔
اللہ کی اس تدبیر سے بنی اسرائیل دوسری طرف نکل گئے۔ ابھی تک پانی دو ٹکڑے ہی تھا اور فرعون اور اس کا لشکر پانی کے اندر ہی تھے کہ اللہ نے ان کا انجام قریب کردیا۔
واز لفناثم ……الاخرین (66) (26 : 63 تا 66) ” اسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے۔ موسیٰ اور ان سب لوگوں کو جوان کے ساتھ تھے ، ہم نے بچا لیا اور وہ دوسروں کو غرق کردیا۔ “ یہ معجزہ ایک عرصہ تک لوگوں کی زبان پر رہا۔ صدیوں تک وہ اس کا تذکرہ کرتے رہے۔ کیا اس پر زیادہ لوگ ایمان لے آتے ؟
الشعراء 26:66
فاخرجنھم من ……اسرآئیل (59)
یہ لوگ تو اس لئے نکلے کہ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کا تعاقب کریں اور انہیں گرفتار کریں مگر اپنے گھروں سے ان کا یہ خروج آخری خروج تھا۔ یہ دراصل اللہ کی اسکیم میں ان کے لئے ان انعامات اور عیاشیوں سے اخراج تھا ، جن میں وہ تھے ، اعلیٰ سہولتوں ، عزت کے مقامات اور خوشحالی اور باغات و محلات سے اخراج تھا۔ اس کے بعد یہ پھر ان مقامات کی طرف واپس نہ آئے اور یہ تھی ان کی سزابن مظالم کی وجہ سے جو یہ غریبوں پر ڈھاتے تھے۔
واورثنھا بنی اسرائیل (26 : 59) ” اور دوسری طرف ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث کردیا۔ “ تاریخ میں تو اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ یہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے بعد دوبارہ مصر میں داخل ہوئے تھے اور مصر کے باغ و راغ اور مال و منال پر قابض ہوگئے تھے۔ اس لئے مفسرین یہ کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ دنیا کا مال و اقتدار ان کو دے دیا گیا جس طرح فرعونیوں کو دیا گیا تھا۔ مقصد یہ ہے کہ ایک قوم کو زوال دیا اور دوسری کو عروج اور اس عروج میں وہ اگلی قوم کی وارث ہوگئی۔ پہلے مقام کریم اس کے پاس تھا اب اس کے پاس ہے۔
اور عمرانی سزا کے بعد اب ان کی جسمانی سزا اور آخری انجام کا ذکر آتا ہے۔
فاتبعوھم مشرقین ……الاخرین (66)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندوں کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے۔ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی اور ہدایت کے مطابق۔ صبح کے وقت جب فرعون نے دیکھا کہ بنی اسرائیل بھاگ گئے ہیں تو وہ اپنی فوجیں لے کر تعاقب میں نکلا۔ اس تعاقب کے لئے فرعون نے بڑی سخت تدابیر اختیار کر رکھی تھیں اور ان کو پکڑنے کا زبردست انتظام کیا تھا۔ اب یہ منظر اپنی انتہا اور انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ معرکہ اپنی انتہائی بلندی پر پہنچ گیا۔ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم ساحل پر پہنچ گئی ہے۔ وہاں کوئی کشتی نہیں ہے۔ بنی اسرائیل نہ سمندر عبور کرسکتے ہیں اور نہ فرعون کے ساتھ جنگ کے لئے کچھ سامان ہے اور فرعون ان کا تعاقب نہایت ساز و سامان سے کر رہا ہے اور انہیں گرفتار کرنے کی بےرحمانہ اسکیم اس نے تیار کی ہوئی ہے۔
بظاہر حالات یہی بتاتے ہیں کہ اب ان کے بھاگ نکلنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے۔ آگے سمندر ہے اور پیچھے سے دشمن بڑھا چلا آ رہا ہے۔
قال اصحب موسیا نا لمدرکون (26 : 61) ” موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا ہم تو پکڑے گئے۔ ‘ اہل ایمان کی بےچینی اب انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ اب تو چند منٹوں کی بات ہے کہ لشکر فرعون انہیں قتل کرے یا گرفتار کرے اور اس سے بظاہر چھوٹ نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔
لیکن حضرت حضرت موسیٰ کا رابطہ تو عالم بالا سے قائم تھا۔ وحی مسلسل آرہی تھی۔ ان کا کاسہ دل اطمینان سے لبالب تھا۔ پوری طرح یقین تھا کہ اللہ کوئی صورت نکالنے والا ہے۔ مدد کی کوئی سبیل نکل آئیگی۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ نجات ملے گی۔ اگرچہ انہیں بھی معلوم نہ تھا کہ بات کیا ہوگی۔ البتہ یقین تھا کہ نجات یقینی ہے۔ کیونکہ یہ سب منصوبہ اللہ کا تیار کردہ ہے۔
قال کلا ان معی ربی سیھدین (26 : 62) ” موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں میرے ساتھ ، میرا رب ہے ، وہ ضرور میری اہنمائی فرمائے گا۔ “ لفظ کلا ایسی جگہ استعمال ہوتا ہے ، جہاں شدید تاکید کے ساتھ نفی مطلوب ہو۔ یعنی تم ہرگز نہ پکڑے جائو گے اور تم ہرگز کسی فتنے میں نہ پڑو گے۔ ہرگز اللہ تمہیں ضائع نہ کرے گا۔ میرے ساتھ میرا رب ہے ، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا۔ حضرت موسیٰ بڑی تاکید ، اعتماد اور یقین کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ مایوسی کے ان اندھیروں میں اچانک روشنی کی ایک کرن نمودار ہوتی ہے۔ نجات کی راہ اس طرف سے ملتی ہے جس طرف سے کوئی امید نہ تھی۔
فاوحینا الی موسیٰ ان اضرب بعصاک البحر (26 : 63) ” ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ ” مار اپنا عصا سمندر پر “۔ اب سیاق کلام میں آگے یہ نہیں کہا جاتا کہ انہوں نے اپنا عصا سمندر پر مارا بلکہ نتیجہ ہی جلدی سے ہمارے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔
فانفلق فکان کل فرق کالطود العظیم (26 : 63) ” یکایک سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم پہاڑ کی طرح ہوگ یا۔ “ یہ معجزہ واقع ہوگیا اور لوگ جس بات کو محال کہتے تھے ، وہ ہوگئی کیونکہ ان کا قیاس تو روزمرہ کے معمول کے واقعات پر تھا اور یہ روزہ مرہ کے واقعات بھی تو اللہ کی قدرت کے پیدا کردہ اصولوں کے مطابق رونما ہوتے ہیں اور یہ ان اصولوں کے مطابق تب تک چلتے ہیں جب تک اللہ چاتہا ہے۔ اللہ کا حکم یوں ہوا کہ پانی راستوں کے دونوں طرف تو دوں کی طرح کھڑا ہوگیا۔ بنی اسرائیل گھس کر دریا پار کر گئے۔
فرعون اپنی افواج کے ساتھ دوسری جانب ششدر کھڑا رہ گیا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں کے ساتھ یہ معجزہ دیھکا۔ لازم ہے کہ کچھ دیر کے لئے تو وہ حیرت زدہ ہو کر رہ گیا ہوگا ۔ وہ دیکھ رہا ہوگا کہ موسیٰ اور ان کی قوم وہ گئے اور پار ہوگئے۔ اس نے بہرحال اپنی افواج کو اس راستے میں گھس جانے سے بل سوچا تو ہوگا کیونکہ یہ ایک عجیب عمل تھا۔
اللہ کی اس تدبیر سے بنی اسرائیل دوسری طرف نکل گئے۔ ابھی تک پانی دو ٹکڑے ہی تھا اور فرعون اور اس کا لشکر پانی کے اندر ہی تھے کہ اللہ نے ان کا انجام قریب کردیا۔
واز لفناثم ……الاخرین (66) (26 : 63 تا 66) ” اسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے۔ موسیٰ اور ان سب لوگوں کو جوان کے ساتھ تھے ، ہم نے بچا لیا اور وہ دوسروں کو غرق کردیا۔ “ یہ معجزہ ایک عرصہ تک لوگوں کی زبان پر رہا۔ صدیوں تک وہ اس کا تذکرہ کرتے رہے۔ کیا اس پر زیادہ لوگ ایمان لے آتے ؟
الشعراء 26:67
ان فی ذلک ……مئومنین (67)
اس لئے اگر خارق عادت معجزات کا صدور بھی ہوجائے تو نہ ماننے والے پھر بھی نہیں مانتے۔ اگرچہ بظاہر لوگ لاجواب ہوجائیں ، کیونکہ تو ایک ہدایت ہے اور ہدیات وہ ہوتی ہے جسے دل قبول کرے۔
وان ربک لھو العزیز الرحیم (68)
’ ۔ “ یہ پوری سورت کا سبق اور محور ہے کہ معجزات اور آیات پیش کرنے کے بعد ، اگر لوگ تکذیب پر اصرار کریں گے تو اللہ بھی عزیز ہے۔ “
الشعراء 26:68
ان فی ذلک ……مئومنین (67)
اس لئے اگر خارق عادت معجزات کا صدور بھی ہوجائے تو نہ ماننے والے پھر بھی نہیں مانتے۔ اگرچہ بظاہر لوگ لاجواب ہوجائیں ، کیونکہ تو ایک ہدایت ہے اور ہدیات وہ ہوتی ہے جسے دل قبول کرے۔
وان ربک لھو العزیز الرحیم (68)
’ ۔ “ یہ پوری سورت کا سبق اور محور ہے کہ معجزات اور آیات پیش کرنے کے بعد ، اگر لوگ تکذیب پر اصرار کریں گے تو اللہ بھی عزیز ہے۔ “
الشعراء 26:69
درس نمبر 163 تشریح آیات
69……تا……104
واتل علیھم نبا ……ماتعبدون (70)
ان کے سامنے حضرت ابراہیم کا قصہ پیش کرو۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ابراہیم کے وارث ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں۔ ان کو بتائو کہ ابراہیم کے والد بھی توبت پرست تھے اور انہوں نے تو والد کے فعل بت پرستی پر سخت مواخذہ کیا تھا۔ پھر تم بت پرست کس طرح بن گئے۔ وہ تو بت پرستی اور شرک کے مسئلے پر ہی اپنے والد اور قوم سے ٹکرا گئے۔ انہوں نے والد اور قوم کو صاف صاف بتا دیا تھا کہ بت پرستی کھلی گمراہی ہے کس قدر سخت لہجے میں ماتعبدون (26 : 80) ” یہ کیا چیزیں ہیں جنہیں تم پوجتے ہو۔ “
الشعراء 26:70
درس نمبر 163 تشریح آیات
69……تا……104
واتل علیھم نبا ……ماتعبدون (70)
ان کے سامنے حضرت ابراہیم کا قصہ پیش کرو۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ابراہیم کے وارث ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں۔ ان کو بتائو کہ ابراہیم کے والد بھی توبت پرست تھے اور انہوں نے تو والد کے فعل بت پرستی پر سخت مواخذہ کیا تھا۔ پھر تم بت پرست کس طرح بن گئے۔ وہ تو بت پرستی اور شرک کے مسئلے پر ہی اپنے والد اور قوم سے ٹکرا گئے۔ انہوں نے والد اور قوم کو صاف صاف بتا دیا تھا کہ بت پرستی کھلی گمراہی ہے کس قدر سخت لہجے میں ماتعبدون (26 : 80) ” یہ کیا چیزیں ہیں جنہیں تم پوجتے ہو۔ “
الشعراء 26:71
قالوا نعبد اصناماً فنظل لھا عکفین (71)
یہ لوگ اپنے بتوں کو اللہ کہتے تھے لیکن قرآن کریم نے ان کی زبانی ان کے لئے اصنام کا لفظ بھی نقل کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ یہ بت پتھروں سے گھڑے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ لوگ ان بتوں کی عبادت اور تعظیم میں لگے ہوئے ہیں اور یہ ان کے عقائد کی ایک عام کمزوری تھی لیکن جب عقائد نور خیالات بگڑ جاتے ہیں ، تو پھر جن لوگوں نے ان بگڑے ہوئے عقائد کو سینے سے لگا لیا ہوتا ہے وہ سمجھ نہیں سکتے کہ ان کا یہ رویہ ان کو کس قدر ذلتوں اور کس قر پستیوں تک گرا رہا ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے غافل دلوں کو جگاتے ہیں ، ان کی عقل سے اپیل کرتے ہیں کہ تم دیکھتے نہیں ہو کہ کس حد تک تم گر گئے ہو اور کیا کیا حماقتوں کو سینے سے لگائے ہوئے ہو۔ بغیر سوچنے اور سمجھنے کے۔
الشعراء 26:72
قال ھل ……یضرون (73)
کسی الہہ کی کم از کم جو خاصیت ہونا چاہئے کہ وہ سنے اور سوال و جواب کرے۔ کم از کم کوئی اپنے اس بندے جیسا تو ہونا چاہئے جو اس کی عبادت کر رہا ہے اور اس کے سامنے گڑ گڑارہا ہے۔ یہ الہہ تو نہ سنتے ہیں اور نہ گویا ہیں اور نہ ہی کوئی نفع و ضرور دے سکتے ہیں۔ اگر یہ سن ہی نہیں سکتے ، بہرے ہیں تو پھر نفع و نقصان کیسے دیں گے۔ اس لئے ان کو کسی صورت میں پکارنا جائز نہیں ہے۔
لوگوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سوالات میں سے کسی کا جواب نہ دیا۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ حضرت ابراہیم ان کے ساتھ سخت مذاق کر رہے ہیں اور ان کے بتوں اور ان کی روش پر تنقید کر رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس اس کا کوئی جواب ہی نہ تھا۔ ان کا جواب بس یہ تھا جو ہر شخص کا جواب ہوتا ہے جو بےسوچے سمجھے تنقید کرتا ہے۔
الشعراء 26:73
قال ھل ……یضرون (73)
کسی الہہ کی کم از کم جو خاصیت ہونا چاہئے کہ وہ سنے اور سوال و جواب کرے۔ کم از کم کوئی اپنے اس بندے جیسا تو ہونا چاہئے جو اس کی عبادت کر رہا ہے اور اس کے سامنے گڑ گڑارہا ہے۔ یہ الہہ تو نہ سنتے ہیں اور نہ گویا ہیں اور نہ ہی کوئی نفع و ضرور دے سکتے ہیں۔ اگر یہ سن ہی نہیں سکتے ، بہرے ہیں تو پھر نفع و نقصان کیسے دیں گے۔ اس لئے ان کو کسی صورت میں پکارنا جائز نہیں ہے۔
لوگوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سوالات میں سے کسی کا جواب نہ دیا۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ حضرت ابراہیم ان کے ساتھ سخت مذاق کر رہے ہیں اور ان کے بتوں اور ان کی روش پر تنقید کر رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس اس کا کوئی جواب ہی نہ تھا۔ ان کا جواب بس یہ تھا جو ہر شخص کا جواب ہوتا ہے جو بےسوچے سمجھے تنقید کرتا ہے۔
الشعراء 26:74
قالوا بل وجدنآ ابآء نا کذلک یفعلون (74)
بیشک یہ بات تو نہ نفع دیتے ہیں ، نہ نقصان اور نہ سنتے ہیں لیکن ہمارے آباء و اجداد سے یہ عمل یوں ہی ہوتا چلا آ رہا ہے کہ ہم ان بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔
یہ تو نہایت ہی شرمسار کرنے والا جواب ہے لیکن مشرکین بڑی ڈھٹائی سے یہ جواب دیتے ہیں اور اسی طرح مکہ کے مشرکین بھی یہی کہتے تھے اور کوئی شرم محسوس نہ کرتے تھے بلکہ ان کے لئے ان کے آباء و اجداد کا فعل ہی کافی دلیل تھا۔ مزید بحث کی ضرورت ہی نہ تھی۔ ان لوگوں کی یہ آباء پرستی ہی اسلام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تھی کہ وہ آباء کے دین کو چھوڑ دیں ، یوں وہ آباء و اجداد کی پیروی ترک کردیں اور بالواسطہ یہ اقرار کرلیں کہ ہمارے آباء گمرایہ پر تھے۔ لہٰذا گزرے ہوئے اجداد کے حق میں یہ بات درست نہیں ہے۔ یوں آباء و اجداد کا یہ احترام ، بےحقیقت احترام ، سچائی کو قبول کرنے کی راہ میں ہمیشہ ایک بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ خصوصاً جب لوگ عقلی لحاظ سے جامد اور کورے ہوجاتے ہیں اور ایسے جمود اور دہم پرستی اور آباء پرستی سے لوگوں کو نکالنے کے لئے ان کو بڑا ذہنی جھٹکا دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاکہ لوگ آزادانہ غور و فکر سے کام لیں۔
اس جموں اور غفلت میں ڈوبے ہوئے لوگوں کو جگانے کے لئے ضروری تھا کہ حضرت ابراہیم ان کو ایک سخت جھٹکا دیں حالانکہ حضرت ابراہیم اپنے مزاج کے اعتبار سے نہایت ہی نرم اور سنجیدہ تھے۔ چناچہ آپ یہ اعلان کرتے ہیں کہ اچھا میں تو ان کا دشمن ہوں اور ان تمام نظریات کا دشمن ہوں جو اس بات پرستی کی اساس پر اٹھائے گئے ہیں۔
الشعراء 26:75
قال افرئیتم ……الاقدمون (76)
فانھم ……العلمین (77)
یوں انہوں نے اعلان کیا کہ میرا باپ اور میری قوم بھی ان کی پرستش کرتی ہے مگر ان میں ان عقائد کو نہ صرف ترک کرنے کا اعلان کرتا ہوں بلکہ ان کا دشمن ہوں۔ ان الموں کا دشمن ہوں ، آباء پرستی کا دشمن ہوں اور پانی پرانی تاریخ اور قدیم سے قدمی ترین اجداد کا دشمن ہوں۔
یوں قرآن مجید اہل ایمان کو تعلیم دیتا ہے کہ سچائی کے مقابلے میں اگر باپ آجائے ، قوم آجائے ، آبائو اجداد کی روایات آجائیں سب کو ٹھکرانا لازمی ہے کیونکہ اسلام کے بعد تمام انسانی رباطوں کو کاٹ کر صرف اسلامی رابطہ اور تعلق اپنا نا فرض ہے۔ سالام میں ایمان اور نظریہ کو اولیت حصال ہے اور باقی سب چیزیں اس کے تابع ہیں۔
ابراہیم (علیہ السلام) آباء و اجداد کی روایات کا انکار کرتے ہوئے صرف رب العالمین کی روایات کو مستثنیٰ کرتے ہیں۔
فانھم عدو لی الا رب العلمین (26 : 88) ” میرے تو یہ سب دشمن ہیں بجز رب العالمین کے۔ “ کیونکہ ان کے آبائے اقدا مین میں ضرور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو صرف اللہ کی عبادت کرتے ہوں گے۔ تاریخ کے اس دور میں جب ان کے عقائد فساد کا شکار نہ ہوئے تھے اور ایسے بھی ہوں گے جنہوں نے رب العالمین کے ساتھ دوسروں کی بندگی بھی کی ہو۔ اس لئے آپ نے غایت درجہ احتیاط کرتے ہوئے یہاں رب العالمین کو مستثنیٰ کردیا اور یہ بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے سناجیدہ شخص کے لائق تھی کیونکہ آپ یہاں ایمان اور نظریہ پر مکاملہ کر رہے تھے اور ظاہر ہے کہ ایمان اور عقیدے اور نظریہ کی بات بڑی نازک ہوتی ہے۔
اس کے بعد حضرت ابراہیم عل یہ اسلام رب العالمین کی صفات بیان کر کے تعارف کرتاے ہیں جس کے ساتھ آپ کا رابطہ ہر حال اور ہر وقت موجود ہوتا ہے۔ وہ ہمارے قریب ہے۔ انسان کی ہر حرکت اور ہر سکون میں وہ انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔ انسان کی تمام حاجات اور ضروریات وہ فراہم کرتا ہے۔
الشعراء 26:76
قال افرئیتم ……الاقدمون (76)
فانھم ……العلمین (77)
یوں انہوں نے اعلان کیا کہ میرا باپ اور میری قوم بھی ان کی پرستش کرتی ہے مگر ان میں ان عقائد کو نہ صرف ترک کرنے کا اعلان کرتا ہوں بلکہ ان کا دشمن ہوں۔ ان الموں کا دشمن ہوں ، آباء پرستی کا دشمن ہوں اور پانی پرانی تاریخ اور قدیم سے قدمی ترین اجداد کا دشمن ہوں۔
یوں قرآن مجید اہل ایمان کو تعلیم دیتا ہے کہ سچائی کے مقابلے میں اگر باپ آجائے ، قوم آجائے ، آبائو اجداد کی روایات آجائیں سب کو ٹھکرانا لازمی ہے کیونکہ اسلام کے بعد تمام انسانی رباطوں کو کاٹ کر صرف اسلامی رابطہ اور تعلق اپنا نا فرض ہے۔ سالام میں ایمان اور نظریہ کو اولیت حصال ہے اور باقی سب چیزیں اس کے تابع ہیں۔
ابراہیم (علیہ السلام) آباء و اجداد کی روایات کا انکار کرتے ہوئے صرف رب العالمین کی روایات کو مستثنیٰ کرتے ہیں۔
فانھم عدو لی الا رب العلمین (26 : 88) ” میرے تو یہ سب دشمن ہیں بجز رب العالمین کے۔ “ کیونکہ ان کے آبائے اقدا مین میں ضرور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو صرف اللہ کی عبادت کرتے ہوں گے۔ تاریخ کے اس دور میں جب ان کے عقائد فساد کا شکار نہ ہوئے تھے اور ایسے بھی ہوں گے جنہوں نے رب العالمین کے ساتھ دوسروں کی بندگی بھی کی ہو۔ اس لئے آپ نے غایت درجہ احتیاط کرتے ہوئے یہاں رب العالمین کو مستثنیٰ کردیا اور یہ بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے سناجیدہ شخص کے لائق تھی کیونکہ آپ یہاں ایمان اور نظریہ پر مکاملہ کر رہے تھے اور ظاہر ہے کہ ایمان اور عقیدے اور نظریہ کی بات بڑی نازک ہوتی ہے۔
اس کے بعد حضرت ابراہیم عل یہ اسلام رب العالمین کی صفات بیان کر کے تعارف کرتاے ہیں جس کے ساتھ آپ کا رابطہ ہر حال اور ہر وقت موجود ہوتا ہے۔ وہ ہمارے قریب ہے۔ انسان کی ہر حرکت اور ہر سکون میں وہ انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔ انسان کی تمام حاجات اور ضروریات وہ فراہم کرتا ہے۔
الشعراء 26:77
قال افرئیتم ……الاقدمون (76)
فانھم ……العلمین (77)
یوں انہوں نے اعلان کیا کہ میرا باپ اور میری قوم بھی ان کی پرستش کرتی ہے مگر ان میں ان عقائد کو نہ صرف ترک کرنے کا اعلان کرتا ہوں بلکہ ان کا دشمن ہوں۔ ان الموں کا دشمن ہوں ، آباء پرستی کا دشمن ہوں اور پانی پرانی تاریخ اور قدیم سے قدمی ترین اجداد کا دشمن ہوں۔
یوں قرآن مجید اہل ایمان کو تعلیم دیتا ہے کہ سچائی کے مقابلے میں اگر باپ آجائے ، قوم آجائے ، آبائو اجداد کی روایات آجائیں سب کو ٹھکرانا لازمی ہے کیونکہ اسلام کے بعد تمام انسانی رباطوں کو کاٹ کر صرف اسلامی رابطہ اور تعلق اپنا نا فرض ہے۔ سالام میں ایمان اور نظریہ کو اولیت حصال ہے اور باقی سب چیزیں اس کے تابع ہیں۔
ابراہیم (علیہ السلام) آباء و اجداد کی روایات کا انکار کرتے ہوئے صرف رب العالمین کی روایات کو مستثنیٰ کرتے ہیں۔
فانھم عدو لی الا رب العلمین (26 : 88) ” میرے تو یہ سب دشمن ہیں بجز رب العالمین کے۔ “ کیونکہ ان کے آبائے اقدا مین میں ضرور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو صرف اللہ کی عبادت کرتے ہوں گے۔ تاریخ کے اس دور میں جب ان کے عقائد فساد کا شکار نہ ہوئے تھے اور ایسے بھی ہوں گے جنہوں نے رب العالمین کے ساتھ دوسروں کی بندگی بھی کی ہو۔ اس لئے آپ نے غایت درجہ احتیاط کرتے ہوئے یہاں رب العالمین کو مستثنیٰ کردیا اور یہ بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے سناجیدہ شخص کے لائق تھی کیونکہ آپ یہاں ایمان اور نظریہ پر مکاملہ کر رہے تھے اور ظاہر ہے کہ ایمان اور عقیدے اور نظریہ کی بات بڑی نازک ہوتی ہے۔
اس کے بعد حضرت ابراہیم عل یہ اسلام رب العالمین کی صفات بیان کر کے تعارف کرتاے ہیں جس کے ساتھ آپ کا رابطہ ہر حال اور ہر وقت موجود ہوتا ہے۔ وہ ہمارے قریب ہے۔ انسان کی ہر حرکت اور ہر سکون میں وہ انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔ انسان کی تمام حاجات اور ضروریات وہ فراہم کرتا ہے۔
الشعراء 26:78
الذی خلقنی فھو ……یوم الدین (82)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہاں اپنے رب کی جو حمد کی ہے اور اس میں وہ تفصیلات تک چلے گئے ہیں اور تصویر کشی کی ہے ، اس سے ہمیں یہ شعور ملتا ہے کہ آپ اپنی پوری شخصیت کے ساتھ معرفت رب میں ڈوبے ہوئے تھے اور ان کی پوری شخصیت کا خدا کے ساتھ رابطہ تھا۔ وہ نہایت ہی محبت سے اللہ کی طرف متوجہ ہوتے تھے اور حضرت اپنے رب کی حمد اس طرح کرتے تھے کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہے ہوں اور وہ اپنے تمام احساسات ، تمام شعور اور وجدان کے ساتھ اور اپنے تمام اعضاء کے ساتھ اللہ کے فضل و کرم کو پا رہے تھے۔ قرآن کریم نے حضرت ابراہیم اور رب العالمین کے تعلق کو جس قدر دھیمے نغمے کے ساتھ یہاں بیان کیا ہے اس سے اس تعلق کی فضا ، اس کے آثار اور پر تو اچھی طرح واضح ہوتا ہے۔ میٹھا اور نرم نغمہ اور طویل اور وسیع اثرات۔
الذی خلقنی فھو یھدین (26 : 88) ” جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی میری راہنمائی فرماتا ہے۔ “ اس نے مجھے پیدا کیا ، وہی جانتا ہے اور میں نہیں جانتا کہ کہاں کہاں سے اجزائے جسم جمع ہوئے۔ میری ماہیت اور میری تشکیل سے وہی باخبر ہے۔ میرے فرئاض اور میرے شعور کی باریکیوں سے بھی وہی باخبر ہے۔ میرے مال اور میرے متال سیب ھی وہی خبردار ہے۔ فھو یھدین (26 : 88) ’ پھر وہی تو ہم جو میری راہنمائی فرماتا ہے۔ ‘ اپنی طرف راہنمائی جس راہ پر مجھے چلنا ہے اس کی نشاندہی ، جس نظام کے مطباق مجھے زندگی بسر کرنی ہے۔ اس کی نشاندہی ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ احساس دے رہے ہیں کہ وہ اس طرح ہیں جس طرح پگھلا ہوا مادہ اس سے صانع ہو چاہتا ، بنا لیتا ہے۔ جس شکل و صورت میں چاہتا ہے مصنوعات تیار کرلیتا ہے یہ ہے مکمل اطاعت ، مکمل سپردگی ، مکمل اطمینان ، راحت ، سکون اور اعتماد ذات باری پر۔
والذی ھو یطمعنی ویسقین (26 : 89) و اذا مرضت فھو یشفین (26 : 8) ” جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے۔ “ یہ براہ راست کفالت ہے ، گہری شفقت ہے ، ساتھ رہنے والی محبت ہے اس کا احساس ابراہیم ہی کرسکتے ہیں۔ صحت میں اور مضر میں حضرت میں اور سفر میں ، ہر حال میں بلند آداب نبوت کے ساتھ ہو جانتے ہیں کہ مرض بھی تو اللہ کی مشیت سے آتی ہے۔ نہیں ، وہ اس کو اللہ کی طرف منسوب نہیں کرتے حالانکہ مرض و شفا دونوں اللہ کی طرف سے ہے۔ لیکن مرضت فھو یشفین (26 : 80) میں گہرا احترام محلوظ ہے۔ کرم کا مقام یطعمنی ویسقین (26 : 89) اور یشفین لکین ابتلا میں نعش کا اسناد خود اپنی طرف کرتے ہیں۔ یہ ہے مقام ابراہیم۔
والذین یمتنی ثم یحیین (26 : 81) ” جو مجھے موت دے گا اور دوبارہ زندگی بخشے گا۔ “ ہر مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ موت کا فیصلہ اللہ کرتا ہے اور پھر ایک دن حساب و کتاب کے لئے اللہ ہی اٹھائے گا لہٰذا یہ مکمل تسلیم و رضا کا اظہار ہے ۔
والذین اطمع ان یغفرلی ……یوم الدین (26 : 82) ” اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز جزاء میں میری خطا معاف فرمائے گا۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو نبی اور رسول ہیں ان کی منتہائے آرزو ہے کہ اللہ قیامت کے دن ان کی خطائیں معاف کر دے ، حالانکہ وہ پوری طرح عارف باللہ ہیں۔ وہ اللہ کی ذات کا گہرا شعور رکھتے ہیں اور ان کے نفس کی گہرائیوں میں رب کی معرفت رچی بسی ہے۔ وہ اپنے نفس کو پاک و صاف تصور نہیں کرتے۔ اس معرفت اور قرب کے ساتھ پھر بھی ڈرتے ہیں کہ ان سے کوئی خطا ہوئی ہو ، وہ اپنے اعمال پر بھروسہ نہیں کرتے نہ وہ اپنے اعمال کی اساس پر اپنے آپ کو مستحق نجات کہتے ہیں۔ وہ فضل ربی پر بھروسہ کرتے ہیں ، اللہ کی رحمت کے طلبگار ہیں اور یہ رحمت خداوندی ہے جس کے وہ امیدوار ہیں کہ عفو و درگزر ہوگا اور تب ان کی نجات ہوگی۔
تقویٰ اور خدا خوفی کا یہ پیغمبرانہ شعور ہے ، ادب و احترام پر مبنی شعور ہے ، نہایت احتیاط کا انداز ہے۔ اللہ کی عظمتوں اور اللہ کے انعامات کا یہ حقیقی شعور ہے۔ اس شعو کے مطابق عمل کی قیمت بہت ہی کم ہے اور مغفرت کی قیمت زیادہ ہے۔
یوں ذات باری کے بارے میں حضرت ابراہیم اپنے عقائد کے بنیادی عناصر ترکیبی یہاں بیان کرتے ہیں کہ رب العالمین وحدہ لاشریک ہے ، زمین پر انسان کی زنگدی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی اللہ رب العالمین متصرف ہے۔ بعث بعد الموت اور حساب و کتاب میں صرف فضل الٰہی بندے کو بچا سکتا ہے۔ اعمال کے اعتبار سے بندہ و تقصیر ہی ہوتا ہے اور وہ یہ باتیں ہیں کہ مشرکین اور ارباہیم کی قوم ان کی منکر ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو نہایت ہی حلیم الطبع اور اللہ کے سامنے گریہ و بکا کرنے والے ہیں وہ نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ اپنی ابراہیم جو نہایت ہی حلیم الطبع اور اللہ کے سامنے گریہ و بکا کرنے والے ہیں وہ نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ اپنی دعا کو آگے بڑھاتے ہیں۔
الشعراء 26:79
الذی خلقنی فھو ……یوم الدین (82)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہاں اپنے رب کی جو حمد کی ہے اور اس میں وہ تفصیلات تک چلے گئے ہیں اور تصویر کشی کی ہے ، اس سے ہمیں یہ شعور ملتا ہے کہ آپ اپنی پوری شخصیت کے ساتھ معرفت رب میں ڈوبے ہوئے تھے اور ان کی پوری شخصیت کا خدا کے ساتھ رابطہ تھا۔ وہ نہایت ہی محبت سے اللہ کی طرف متوجہ ہوتے تھے اور حضرت اپنے رب کی حمد اس طرح کرتے تھے کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہے ہوں اور وہ اپنے تمام احساسات ، تمام شعور اور وجدان کے ساتھ اور اپنے تمام اعضاء کے ساتھ اللہ کے فضل و کرم کو پا رہے تھے۔ قرآن کریم نے حضرت ابراہیم اور رب العالمین کے تعلق کو جس قدر دھیمے نغمے کے ساتھ یہاں بیان کیا ہے اس سے اس تعلق کی فضا ، اس کے آثار اور پر تو اچھی طرح واضح ہوتا ہے۔ میٹھا اور نرم نغمہ اور طویل اور وسیع اثرات۔
الذی خلقنی فھو یھدین (26 : 88) ” جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی میری راہنمائی فرماتا ہے۔ “ اس نے مجھے پیدا کیا ، وہی جانتا ہے اور میں نہیں جانتا کہ کہاں کہاں سے اجزائے جسم جمع ہوئے۔ میری ماہیت اور میری تشکیل سے وہی باخبر ہے۔ میرے فرئاض اور میرے شعور کی باریکیوں سے بھی وہی باخبر ہے۔ میرے مال اور میرے متال سیب ھی وہی خبردار ہے۔ فھو یھدین (26 : 88) ’ پھر وہی تو ہم جو میری راہنمائی فرماتا ہے۔ ‘ اپنی طرف راہنمائی جس راہ پر مجھے چلنا ہے اس کی نشاندہی ، جس نظام کے مطباق مجھے زندگی بسر کرنی ہے۔ اس کی نشاندہی ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ احساس دے رہے ہیں کہ وہ اس طرح ہیں جس طرح پگھلا ہوا مادہ اس سے صانع ہو چاہتا ، بنا لیتا ہے۔ جس شکل و صورت میں چاہتا ہے مصنوعات تیار کرلیتا ہے یہ ہے مکمل اطاعت ، مکمل سپردگی ، مکمل اطمینان ، راحت ، سکون اور اعتماد ذات باری پر۔
والذی ھو یطمعنی ویسقین (26 : 89) و اذا مرضت فھو یشفین (26 : 8) ” جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے۔ “ یہ براہ راست کفالت ہے ، گہری شفقت ہے ، ساتھ رہنے والی محبت ہے اس کا احساس ابراہیم ہی کرسکتے ہیں۔ صحت میں اور مضر میں حضرت میں اور سفر میں ، ہر حال میں بلند آداب نبوت کے ساتھ ہو جانتے ہیں کہ مرض بھی تو اللہ کی مشیت سے آتی ہے۔ نہیں ، وہ اس کو اللہ کی طرف منسوب نہیں کرتے حالانکہ مرض و شفا دونوں اللہ کی طرف سے ہے۔ لیکن مرضت فھو یشفین (26 : 80) میں گہرا احترام محلوظ ہے۔ کرم کا مقام یطعمنی ویسقین (26 : 89) اور یشفین لکین ابتلا میں نعش کا اسناد خود اپنی طرف کرتے ہیں۔ یہ ہے مقام ابراہیم۔
والذین یمتنی ثم یحیین (26 : 81) ” جو مجھے موت دے گا اور دوبارہ زندگی بخشے گا۔ “ ہر مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ موت کا فیصلہ اللہ کرتا ہے اور پھر ایک دن حساب و کتاب کے لئے اللہ ہی اٹھائے گا لہٰذا یہ مکمل تسلیم و رضا کا اظہار ہے ۔
والذین اطمع ان یغفرلی ……یوم الدین (26 : 82) ” اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز جزاء میں میری خطا معاف فرمائے گا۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو نبی اور رسول ہیں ان کی منتہائے آرزو ہے کہ اللہ قیامت کے دن ان کی خطائیں معاف کر دے ، حالانکہ وہ پوری طرح عارف باللہ ہیں۔ وہ اللہ کی ذات کا گہرا شعور رکھتے ہیں اور ان کے نفس کی گہرائیوں میں رب کی معرفت رچی بسی ہے۔ وہ اپنے نفس کو پاک و صاف تصور نہیں کرتے۔ اس معرفت اور قرب کے ساتھ پھر بھی ڈرتے ہیں کہ ان سے کوئی خطا ہوئی ہو ، وہ اپنے اعمال پر بھروسہ نہیں کرتے نہ وہ اپنے اعمال کی اساس پر اپنے آپ کو مستحق نجات کہتے ہیں۔ وہ فضل ربی پر بھروسہ کرتے ہیں ، اللہ کی رحمت کے طلبگار ہیں اور یہ رحمت خداوندی ہے جس کے وہ امیدوار ہیں کہ عفو و درگزر ہوگا اور تب ان کی نجات ہوگی۔
تقویٰ اور خدا خوفی کا یہ پیغمبرانہ شعور ہے ، ادب و احترام پر مبنی شعور ہے ، نہایت احتیاط کا انداز ہے۔ اللہ کی عظمتوں اور اللہ کے انعامات کا یہ حقیقی شعور ہے۔ اس شعو کے مطابق عمل کی قیمت بہت ہی کم ہے اور مغفرت کی قیمت زیادہ ہے۔
یوں ذات باری کے بارے میں حضرت ابراہیم اپنے عقائد کے بنیادی عناصر ترکیبی یہاں بیان کرتے ہیں کہ رب العالمین وحدہ لاشریک ہے ، زمین پر انسان کی زنگدی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی اللہ رب العالمین متصرف ہے۔ بعث بعد الموت اور حساب و کتاب میں صرف فضل الٰہی بندے کو بچا سکتا ہے۔ اعمال کے اعتبار سے بندہ و تقصیر ہی ہوتا ہے اور وہ یہ باتیں ہیں کہ مشرکین اور ارباہیم کی قوم ان کی منکر ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو نہایت ہی حلیم الطبع اور اللہ کے سامنے گریہ و بکا کرنے والے ہیں وہ نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ اپنی ابراہیم جو نہایت ہی حلیم الطبع اور اللہ کے سامنے گریہ و بکا کرنے والے ہیں وہ نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ اپنی دعا کو آگے بڑھاتے ہیں۔
الشعراء 26:80
الذی خلقنی فھو ……یوم الدین (82)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہاں اپنے رب کی جو حمد کی ہے اور اس میں وہ تفصیلات تک چلے گئے ہیں اور تصویر کشی کی ہے ، اس سے ہمیں یہ شعور ملتا ہے کہ آپ اپنی پوری شخصیت کے ساتھ معرفت رب میں ڈوبے ہوئے تھے اور ان کی پوری شخصیت کا خدا کے ساتھ رابطہ تھا۔ وہ نہایت ہی محبت سے اللہ کی طرف متوجہ ہوتے تھے اور حضرت اپنے رب کی حمد اس طرح کرتے تھے کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہے ہوں اور وہ اپنے تمام احساسات ، تمام شعور اور وجدان کے ساتھ اور اپنے تمام اعضاء کے ساتھ اللہ کے فضل و کرم کو پا رہے تھے۔ قرآن کریم نے حضرت ابراہیم اور رب العالمین کے تعلق کو جس قدر دھیمے نغمے کے ساتھ یہاں بیان کیا ہے اس سے اس تعلق کی فضا ، اس کے آثار اور پر تو اچھی طرح واضح ہوتا ہے۔ میٹھا اور نرم نغمہ اور طویل اور وسیع اثرات۔
الذی خلقنی فھو یھدین (26 : 88) ” جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی میری راہنمائی فرماتا ہے۔ “ اس نے مجھے پیدا کیا ، وہی جانتا ہے اور میں نہیں جانتا کہ کہاں کہاں سے اجزائے جسم جمع ہوئے۔ میری ماہیت اور میری تشکیل سے وہی باخبر ہے۔ میرے فرئاض اور میرے شعور کی باریکیوں سے بھی وہی باخبر ہے۔ میرے مال اور میرے متال سیب ھی وہی خبردار ہے۔ فھو یھدین (26 : 88) ’ پھر وہی تو ہم جو میری راہنمائی فرماتا ہے۔ ‘ اپنی طرف راہنمائی جس راہ پر مجھے چلنا ہے اس کی نشاندہی ، جس نظام کے مطباق مجھے زندگی بسر کرنی ہے۔ اس کی نشاندہی ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ احساس دے رہے ہیں کہ وہ اس طرح ہیں جس طرح پگھلا ہوا مادہ اس سے صانع ہو چاہتا ، بنا لیتا ہے۔ جس شکل و صورت میں چاہتا ہے مصنوعات تیار کرلیتا ہے یہ ہے مکمل اطاعت ، مکمل سپردگی ، مکمل اطمینان ، راحت ، سکون اور اعتماد ذات باری پر۔
والذی ھو یطمعنی ویسقین (26 : 89) و اذا مرضت فھو یشفین (26 : 8) ” جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے۔ “ یہ براہ راست کفالت ہے ، گہری شفقت ہے ، ساتھ رہنے والی محبت ہے اس کا احساس ابراہیم ہی کرسکتے ہیں۔ صحت میں اور مضر میں حضرت میں اور سفر میں ، ہر حال میں بلند آداب نبوت کے ساتھ ہو جانتے ہیں کہ مرض بھی تو اللہ کی مشیت سے آتی ہے۔ نہیں ، وہ اس کو اللہ کی طرف منسوب نہیں کرتے حالانکہ مرض و شفا دونوں اللہ کی طرف سے ہے۔ لیکن مرضت فھو یشفین (26 : 80) میں گہرا احترام محلوظ ہے۔ کرم کا مقام یطعمنی ویسقین (26 : 89) اور یشفین لکین ابتلا میں نعش کا اسناد خود اپنی طرف کرتے ہیں۔ یہ ہے مقام ابراہیم۔
والذین یمتنی ثم یحیین (26 : 81) ” جو مجھے موت دے گا اور دوبارہ زندگی بخشے گا۔ “ ہر مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ موت کا فیصلہ اللہ کرتا ہے اور پھر ایک دن حساب و کتاب کے لئے اللہ ہی اٹھائے گا لہٰذا یہ مکمل تسلیم و رضا کا اظہار ہے ۔
والذین اطمع ان یغفرلی ……یوم الدین (26 : 82) ” اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز جزاء میں میری خطا معاف فرمائے گا۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو نبی اور رسول ہیں ان کی منتہائے آرزو ہے کہ اللہ قیامت کے دن ان کی خطائیں معاف کر دے ، حالانکہ وہ پوری طرح عارف باللہ ہیں۔ وہ اللہ کی ذات کا گہرا شعور رکھتے ہیں اور ان کے نفس کی گہرائیوں میں رب کی معرفت رچی بسی ہے۔ وہ اپنے نفس کو پاک و صاف تصور نہیں کرتے۔ اس معرفت اور قرب کے ساتھ پھر بھی ڈرتے ہیں کہ ان سے کوئی خطا ہوئی ہو ، وہ اپنے اعمال پر بھروسہ نہیں کرتے نہ وہ اپنے اعمال کی اساس پر اپنے آپ کو مستحق نجات کہتے ہیں۔ وہ فضل ربی پر بھروسہ کرتے ہیں ، اللہ کی رحمت کے طلبگار ہیں اور یہ رحمت خداوندی ہے جس کے وہ امیدوار ہیں کہ عفو و درگزر ہوگا اور تب ان کی نجات ہوگی۔
تقویٰ اور خدا خوفی کا یہ پیغمبرانہ شعور ہے ، ادب و احترام پر مبنی شعور ہے ، نہایت احتیاط کا انداز ہے۔ اللہ کی عظمتوں اور اللہ کے انعامات کا یہ حقیقی شعور ہے۔ اس شعو کے مطابق عمل کی قیمت بہت ہی کم ہے اور مغفرت کی قیمت زیادہ ہے۔
یوں ذات باری کے بارے میں حضرت ابراہیم اپنے عقائد کے بنیادی عناصر ترکیبی یہاں بیان کرتے ہیں کہ رب العالمین وحدہ لاشریک ہے ، زمین پر انسان کی زنگدی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی اللہ رب العالمین متصرف ہے۔ بعث بعد الموت اور حساب و کتاب میں صرف فضل الٰہی بندے کو بچا سکتا ہے۔ اعمال کے اعتبار سے بندہ و تقصیر ہی ہوتا ہے اور وہ یہ باتیں ہیں کہ مشرکین اور ارباہیم کی قوم ان کی منکر ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو نہایت ہی حلیم الطبع اور اللہ کے سامنے گریہ و بکا کرنے والے ہیں وہ نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ اپنی ابراہیم جو نہایت ہی حلیم الطبع اور اللہ کے سامنے گریہ و بکا کرنے والے ہیں وہ نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ اپنی دعا کو آگے بڑھاتے ہیں۔
الشعراء 26:81
الذی خلقنی فھو ……یوم الدین (82)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہاں اپنے رب کی جو حمد کی ہے اور اس میں وہ تفصیلات تک چلے گئے ہیں اور تصویر کشی کی ہے ، اس سے ہمیں یہ شعور ملتا ہے کہ آپ اپنی پوری شخصیت کے ساتھ معرفت رب میں ڈوبے ہوئے تھے اور ان کی پوری شخصیت کا خدا کے ساتھ رابطہ تھا۔ وہ نہایت ہی محبت سے اللہ کی طرف متوجہ ہوتے تھے اور حضرت اپنے رب کی حمد اس طرح کرتے تھے کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہے ہوں اور وہ اپنے تمام احساسات ، تمام شعور اور وجدان کے ساتھ اور اپنے تمام اعضاء کے ساتھ اللہ کے فضل و کرم کو پا رہے تھے۔ قرآن کریم نے حضرت ابراہیم اور رب العالمین کے تعلق کو جس قدر دھیمے نغمے کے ساتھ یہاں بیان کیا ہے اس سے اس تعلق کی فضا ، اس کے آثار اور پر تو اچھی طرح واضح ہوتا ہے۔ میٹھا اور نرم نغمہ اور طویل اور وسیع اثرات۔
الذی خلقنی فھو یھدین (26 : 88) ” جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی میری راہنمائی فرماتا ہے۔ “ اس نے مجھے پیدا کیا ، وہی جانتا ہے اور میں نہیں جانتا کہ کہاں کہاں سے اجزائے جسم جمع ہوئے۔ میری ماہیت اور میری تشکیل سے وہی باخبر ہے۔ میرے فرئاض اور میرے شعور کی باریکیوں سے بھی وہی باخبر ہے۔ میرے مال اور میرے متال سیب ھی وہی خبردار ہے۔ فھو یھدین (26 : 88) ’ پھر وہی تو ہم جو میری راہنمائی فرماتا ہے۔ ‘ اپنی طرف راہنمائی جس راہ پر مجھے چلنا ہے اس کی نشاندہی ، جس نظام کے مطباق مجھے زندگی بسر کرنی ہے۔ اس کی نشاندہی ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ احساس دے رہے ہیں کہ وہ اس طرح ہیں جس طرح پگھلا ہوا مادہ اس سے صانع ہو چاہتا ، بنا لیتا ہے۔ جس شکل و صورت میں چاہتا ہے مصنوعات تیار کرلیتا ہے یہ ہے مکمل اطاعت ، مکمل سپردگی ، مکمل اطمینان ، راحت ، سکون اور اعتماد ذات باری پر۔
والذی ھو یطمعنی ویسقین (26 : 89) و اذا مرضت فھو یشفین (26 : 8) ” جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے۔ “ یہ براہ راست کفالت ہے ، گہری شفقت ہے ، ساتھ رہنے والی محبت ہے اس کا احساس ابراہیم ہی کرسکتے ہیں۔ صحت میں اور مضر میں حضرت میں اور سفر میں ، ہر حال میں بلند آداب نبوت کے ساتھ ہو جانتے ہیں کہ مرض بھی تو اللہ کی مشیت سے آتی ہے۔ نہیں ، وہ اس کو اللہ کی طرف منسوب نہیں کرتے حالانکہ مرض و شفا دونوں اللہ کی طرف سے ہے۔ لیکن مرضت فھو یشفین (26 : 80) میں گہرا احترام محلوظ ہے۔ کرم کا مقام یطعمنی ویسقین (26 : 89) اور یشفین لکین ابتلا میں نعش کا اسناد خود اپنی طرف کرتے ہیں۔ یہ ہے مقام ابراہیم۔
والذین یمتنی ثم یحیین (26 : 81) ” جو مجھے موت دے گا اور دوبارہ زندگی بخشے گا۔ “ ہر مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ موت کا فیصلہ اللہ کرتا ہے اور پھر ایک دن حساب و کتاب کے لئے اللہ ہی اٹھائے گا لہٰذا یہ مکمل تسلیم و رضا کا اظہار ہے ۔
والذین اطمع ان یغفرلی ……یوم الدین (26 : 82) ” اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز جزاء میں میری خطا معاف فرمائے گا۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو نبی اور رسول ہیں ان کی منتہائے آرزو ہے کہ اللہ قیامت کے دن ان کی خطائیں معاف کر دے ، حالانکہ وہ پوری طرح عارف باللہ ہیں۔ وہ اللہ کی ذات کا گہرا شعور رکھتے ہیں اور ان کے نفس کی گہرائیوں میں رب کی معرفت رچی بسی ہے۔ وہ اپنے نفس کو پاک و صاف تصور نہیں کرتے۔ اس معرفت اور قرب کے ساتھ پھر بھی ڈرتے ہیں کہ ان سے کوئی خطا ہوئی ہو ، وہ اپنے اعمال پر بھروسہ نہیں کرتے نہ وہ اپنے اعمال کی اساس پر اپنے آپ کو مستحق نجات کہتے ہیں۔ وہ فضل ربی پر بھروسہ کرتے ہیں ، اللہ کی رحمت کے طلبگار ہیں اور یہ رحمت خداوندی ہے جس کے وہ امیدوار ہیں کہ عفو و درگزر ہوگا اور تب ان کی نجات ہوگی۔
تقویٰ اور خدا خوفی کا یہ پیغمبرانہ شعور ہے ، ادب و احترام پر مبنی شعور ہے ، نہایت احتیاط کا انداز ہے۔ اللہ کی عظمتوں اور اللہ کے انعامات کا یہ حقیقی شعور ہے۔ اس شعو کے مطابق عمل کی قیمت بہت ہی کم ہے اور مغفرت کی قیمت زیادہ ہے۔
یوں ذات باری کے بارے میں حضرت ابراہیم اپنے عقائد کے بنیادی عناصر ترکیبی یہاں بیان کرتے ہیں کہ رب العالمین وحدہ لاشریک ہے ، زمین پر انسان کی زنگدی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی اللہ رب العالمین متصرف ہے۔ بعث بعد الموت اور حساب و کتاب میں صرف فضل الٰہی بندے کو بچا سکتا ہے۔ اعمال کے اعتبار سے بندہ و تقصیر ہی ہوتا ہے اور وہ یہ باتیں ہیں کہ مشرکین اور ارباہیم کی قوم ان کی منکر ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو نہایت ہی حلیم الطبع اور اللہ کے سامنے گریہ و بکا کرنے والے ہیں وہ نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ اپنی ابراہیم جو نہایت ہی حلیم الطبع اور اللہ کے سامنے گریہ و بکا کرنے والے ہیں وہ نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ اپنی دعا کو آگے بڑھاتے ہیں۔
الشعراء 26:82
الذی خلقنی فھو ……یوم الدین (82)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہاں اپنے رب کی جو حمد کی ہے اور اس میں وہ تفصیلات تک چلے گئے ہیں اور تصویر کشی کی ہے ، اس سے ہمیں یہ شعور ملتا ہے کہ آپ اپنی پوری شخصیت کے ساتھ معرفت رب میں ڈوبے ہوئے تھے اور ان کی پوری شخصیت کا خدا کے ساتھ رابطہ تھا۔ وہ نہایت ہی محبت سے اللہ کی طرف متوجہ ہوتے تھے اور حضرت اپنے رب کی حمد اس طرح کرتے تھے کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہے ہوں اور وہ اپنے تمام احساسات ، تمام شعور اور وجدان کے ساتھ اور اپنے تمام اعضاء کے ساتھ اللہ کے فضل و کرم کو پا رہے تھے۔ قرآن کریم نے حضرت ابراہیم اور رب العالمین کے تعلق کو جس قدر دھیمے نغمے کے ساتھ یہاں بیان کیا ہے اس سے اس تعلق کی فضا ، اس کے آثار اور پر تو اچھی طرح واضح ہوتا ہے۔ میٹھا اور نرم نغمہ اور طویل اور وسیع اثرات۔
الذی خلقنی فھو یھدین (26 : 88) ” جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی میری راہنمائی فرماتا ہے۔ “ اس نے مجھے پیدا کیا ، وہی جانتا ہے اور میں نہیں جانتا کہ کہاں کہاں سے اجزائے جسم جمع ہوئے۔ میری ماہیت اور میری تشکیل سے وہی باخبر ہے۔ میرے فرئاض اور میرے شعور کی باریکیوں سے بھی وہی باخبر ہے۔ میرے مال اور میرے متال سیب ھی وہی خبردار ہے۔ فھو یھدین (26 : 88) ’ پھر وہی تو ہم جو میری راہنمائی فرماتا ہے۔ ‘ اپنی طرف راہنمائی جس راہ پر مجھے چلنا ہے اس کی نشاندہی ، جس نظام کے مطباق مجھے زندگی بسر کرنی ہے۔ اس کی نشاندہی ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ احساس دے رہے ہیں کہ وہ اس طرح ہیں جس طرح پگھلا ہوا مادہ اس سے صانع ہو چاہتا ، بنا لیتا ہے۔ جس شکل و صورت میں چاہتا ہے مصنوعات تیار کرلیتا ہے یہ ہے مکمل اطاعت ، مکمل سپردگی ، مکمل اطمینان ، راحت ، سکون اور اعتماد ذات باری پر۔
والذی ھو یطمعنی ویسقین (26 : 89) و اذا مرضت فھو یشفین (26 : 8) ” جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے۔ “ یہ براہ راست کفالت ہے ، گہری شفقت ہے ، ساتھ رہنے والی محبت ہے اس کا احساس ابراہیم ہی کرسکتے ہیں۔ صحت میں اور مضر میں حضرت میں اور سفر میں ، ہر حال میں بلند آداب نبوت کے ساتھ ہو جانتے ہیں کہ مرض بھی تو اللہ کی مشیت سے آتی ہے۔ نہیں ، وہ اس کو اللہ کی طرف منسوب نہیں کرتے حالانکہ مرض و شفا دونوں اللہ کی طرف سے ہے۔ لیکن مرضت فھو یشفین (26 : 80) میں گہرا احترام محلوظ ہے۔ کرم کا مقام یطعمنی ویسقین (26 : 89) اور یشفین لکین ابتلا میں نعش کا اسناد خود اپنی طرف کرتے ہیں۔ یہ ہے مقام ابراہیم۔
والذین یمتنی ثم یحیین (26 : 81) ” جو مجھے موت دے گا اور دوبارہ زندگی بخشے گا۔ “ ہر مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ موت کا فیصلہ اللہ کرتا ہے اور پھر ایک دن حساب و کتاب کے لئے اللہ ہی اٹھائے گا لہٰذا یہ مکمل تسلیم و رضا کا اظہار ہے ۔
والذین اطمع ان یغفرلی ……یوم الدین (26 : 82) ” اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز جزاء میں میری خطا معاف فرمائے گا۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو نبی اور رسول ہیں ان کی منتہائے آرزو ہے کہ اللہ قیامت کے دن ان کی خطائیں معاف کر دے ، حالانکہ وہ پوری طرح عارف باللہ ہیں۔ وہ اللہ کی ذات کا گہرا شعور رکھتے ہیں اور ان کے نفس کی گہرائیوں میں رب کی معرفت رچی بسی ہے۔ وہ اپنے نفس کو پاک و صاف تصور نہیں کرتے۔ اس معرفت اور قرب کے ساتھ پھر بھی ڈرتے ہیں کہ ان سے کوئی خطا ہوئی ہو ، وہ اپنے اعمال پر بھروسہ نہیں کرتے نہ وہ اپنے اعمال کی اساس پر اپنے آپ کو مستحق نجات کہتے ہیں۔ وہ فضل ربی پر بھروسہ کرتے ہیں ، اللہ کی رحمت کے طلبگار ہیں اور یہ رحمت خداوندی ہے جس کے وہ امیدوار ہیں کہ عفو و درگزر ہوگا اور تب ان کی نجات ہوگی۔
تقویٰ اور خدا خوفی کا یہ پیغمبرانہ شعور ہے ، ادب و احترام پر مبنی شعور ہے ، نہایت احتیاط کا انداز ہے۔ اللہ کی عظمتوں اور اللہ کے انعامات کا یہ حقیقی شعور ہے۔ اس شعو کے مطابق عمل کی قیمت بہت ہی کم ہے اور مغفرت کی قیمت زیادہ ہے۔
یوں ذات باری کے بارے میں حضرت ابراہیم اپنے عقائد کے بنیادی عناصر ترکیبی یہاں بیان کرتے ہیں کہ رب العالمین وحدہ لاشریک ہے ، زمین پر انسان کی زنگدی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی اللہ رب العالمین متصرف ہے۔ بعث بعد الموت اور حساب و کتاب میں صرف فضل الٰہی بندے کو بچا سکتا ہے۔ اعمال کے اعتبار سے بندہ و تقصیر ہی ہوتا ہے اور وہ یہ باتیں ہیں کہ مشرکین اور ارباہیم کی قوم ان کی منکر ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو نہایت ہی حلیم الطبع اور اللہ کے سامنے گریہ و بکا کرنے والے ہیں وہ نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ اپنی ابراہیم جو نہایت ہی حلیم الطبع اور اللہ کے سامنے گریہ و بکا کرنے والے ہیں وہ نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ اپنی دعا کو آگے بڑھاتے ہیں۔
الشعراء 26:83
رب ھب ……سلیم (89)
حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اس دعا پر ذرا غور فرمائیں کہ اس میں اس دنیا کے اغراض میں سے کو یء غرض نہیں ہے۔ یہاں تک کہ یہ بھی نہیں کہا کہ اے اللہ ، مجھے صحت عطا کیجیے۔ یہ پوری دعا بلند مقاصد اور اعلیٰ اور پاکیزہ شعور کی تحریک ہے۔ یہ اس خدا رسیدہ دل کی دعا ہے جس کے پیش نظر اللہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کے ہاں اللہ کے سوا ہر چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور معرفت کے جس مقام تک یہ دل پہنچا ہے اس کے آگے مزید کا طلبگار ہے اور ایک ایسے قلب سے نکلی ہوئی دعا بیم و رجا کی حالت میں ہے کیونکہ اس نے اللہ کے کرم دیکھے ہوئے ہیں اور مزید کا امیدوار ہے۔
رب ھب لی حکما (26 : 83) ” اے میرے رب ، مجھے حکم عطا کر “۔ اے اللہ مجھے ایسی حکمت عطا کر جس کی روشنی میں کھری اور کھوٹی قدروں کے درمیان تمیز کرسکوں تاکہ میں ایسے طرز عمل پر قائم رہوں جو مجھے باقی رہنے والی قدروں تک پہنچائے۔
والحقنی بالصلحین (26 : 83) ” اور مجھے صالحوں کے ساتھ ملا دے۔ “ یہ حضرت ابراہیم کی دعا ہے جو نبی اور رسول ہیں اور گڑگڑانے والے اور نہایت ہی حلیم الطبع ہیں۔ اس عظیم المرتبہ ابوالانبیاء کی تواضح قابل دید ہے۔ ان کی احتیاط قابل ملاحظہ ہے۔ کس قدر خدا خوفی ان کی باتوں میں اور سک قدر اعتراف تصور ہے۔ وہ ہر وقت ڈرتے ہیں کہ انسان کا دل کسی بھی وقت برائی کی طرف مائل ہو سکتا ہے اس لئے وہ صالحین کی محفل اور ماحول کے طلبگار ہیں وہ اللہ کی توفیق سے عمل صالح کیل ئے یا عمل صالح پر قائم رہنے کے آرزو مند ہیں۔
واجعل لی لسان صدق فی الاخرین (26 : 83) ” اور بعد میں آنے والوں میں مجھ کو سچی نامویر عطا کر۔ “ آپ کی دعا یہ ہے کہ میری شروع کی ہوئی دعوت توحید قیامت تک رہے۔ وہ کثرت اولاد کے لئے دعا نہیں کرتے بلکہ آپ کی دعا آنے والی نسلوں میں آپ کے نقش قدم پر چلنے والے مداحوں کیل ئے ہے کہ وہ آپ کی دعوت توحید کو قبول کریں۔ اور ” دین حنیف “ کو اپنائیں اور یہی دعا آپ نے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی کی ہے۔ اس وقت جب آپ اور آپ کے بیٹے اسماعیل خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔
ربنا واجعلنا ……الحیم (129) (2 : 128-129) ” اے رب ، ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا ، مہاری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما۔ تو بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے اور اے ہمارے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو ، جو انہیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔ “ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا قبول فرمائی۔ آپ کی دعوت کو پھیلایا اور آنے والے زمانوں میں ان کے لئے تمام لوگ کلمہ خیر کہنے والے ہوئے اور پھر آپ کی دعا کے مطابق نبی آخر الزمان پیدا ہوئے اور ہزارہا سال کے بعد یہ دعا پوری ہوئی۔ لوگوں کے حساب میں تو دنیا کے ہزارہا سال بہت طویل ہیں لیکن اللہ کے نزدیک ان کی کوئی نہیں ہے اور اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ دعائے ابراہیمی اس قدر عرصہ کے بعد قبول ہو۔
واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم (26 : 85) ” اور مجھے جنت نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔ “ اس سے قبل آپ نے دعا فرمائی تھی کہ مجھے صالحین کے گروہ میں شامل فرما اور عمل صالح کی توفیق دے کہ میں صالحین کی صفوں میں چلوں اور پھر اس جنت میں داخل ہو جائوں جس کی وراثت عباد صالحین کا حق ہے۔
واغفر لابی انہ کان من الضآلین (26 : 86) ” اور میرے باپ کو معاف کر دے۔ بیشک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے۔ “ باوجود اس کے کہ حضرت ابراہیم کو ان کے والد نے سختی سے ڈانٹا اور تہدید آمیز گفتگو کی لیکن انہوں نے اس گفتگو کے وقت بھی وعدہ کیا تھا کہ میں تیرے لئے دعا ہی کرتا رہوں گا۔ یہ اس وعدے کی وجہ سے والد کے حق میں دعا فرما رہے ہیں۔ بعد میں یہ بات قرآن نے بیان کردی کہ مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کر ناجائز نہیں ہے۔ اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہوں اور قرآن کریم نے اس بات کی بھی صراحت کردی کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت اس لئے کی تھی کہ انہوں نے باپ کے ساتھ اس کا وعدہ کیا تھا۔
فلما تبین لہ انہ عدوللہ تبراء منہ ” جب اسے معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس نے باپ سے برأت کا اظہار کردیا۔ “ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جان لیا کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست یہاں تو اخوت نظریاتی اخوتیں ہیں۔ اسلامی تربیت کے بنیادی عناصر میں سے ایک عنصر یہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں پہلا آمیزہ اور رابطہ اور تعلق نظریاتی تعلق ہے اور سکی انسان اور انسان کے درمیان مضبوط تعلق صرف نظریات کا ہو سکتا ہے جب یہ تعلق کٹ جائے تو تمام تعلقات کٹ جاتے ہیں اور پھر انسان انسان سے دور ہوجاتا ہے۔ کوئی رابطہ اور تعلق نہیں رہتا۔
ولا تخزنی یوم یبعثون (26 : 88) یوم لاینفع مال ولابنون (26 : 88) الامن اتی اللہ بقلب سلیم (26 : 89) ” اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائیج ائیں گے جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد ، بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ قیامت کا دن کس قدر ہولناک ہوگا اور یہ کہ حضرت ابراہیم اللہ سے کس قدر حیا فرماتے ہیں اور اللہ کے سامنے شرمندہ ہونے سے کس قدر خائف ہیں اور یہ خوف اپنی تقصیر کی وجہ سے ہے کہ وہ ایک معزز نبی ہیں۔ نیز حضرت کی اس دعا سے ” جبکہ نہ مال کوئی فادئہ دے نہ اولاد ، بجز اس کے کہ کوئی قلب سلیم لے کر اللہ کے حضور حاضر ہو۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یوم قیامت کی ذمہ داریوں کو کس قدر تفصیل کے ساتھ سمجھ لیا تھا۔ نیز آپ نے دنیاوی اقدار اور اسلامی اقدار کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ کیونکہ یوم القیامہ میں وہی کامیاب ہوگا جو اخلاص کے ساتھ آئے اور اس کا دل اللہ کے لئے ہوجائے اور اس کے اندر دنیا کا کوئی بت یا مقصد نہ ہو۔ ہر بیماری سے پاک ہو ، ہر مفاد سے پاک ہو ، ہر قسم کی خواہشات اور انحرافات سے پاک ہو۔ اللہ کے سوا کسی اور الہ و معبود سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ یہ ہے قلب کی سلامتی جس کا اسلام اور قیامت میں کوئی وزن ہوگا۔
یوم لاینفع مال ولابنون (26 : 88) ” جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد۔ “ دنیا کی کوئی قدر اور کوئی ترجیح اس دن مفید مطلب نہ ہوگی حالانکہ اس دنیا میں ان مطالب اور ترجیحات کے پیچھے انسان کتوں کی طرح دوڑتے ہیں لیکن آخرت کے ترازو میں یہ ترجیحات بےوزن ہیں۔
اب یہاں قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر آتا ہے۔ وہ دن جس سے حضرت ابراہیم اس قدر خائف ہیں تو وہ دیکھو وہ دن نمودار ہوا۔ حضرت ابراہیم ابھی ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں اور سدت بدعا ہیں کہ منظر پر اس دن کا نقشہ نمودار ہوتا ہے۔
الشعراء 26:84
رب ھب ……سلیم (89)
حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اس دعا پر ذرا غور فرمائیں کہ اس میں اس دنیا کے اغراض میں سے کو یء غرض نہیں ہے۔ یہاں تک کہ یہ بھی نہیں کہا کہ اے اللہ ، مجھے صحت عطا کیجیے۔ یہ پوری دعا بلند مقاصد اور اعلیٰ اور پاکیزہ شعور کی تحریک ہے۔ یہ اس خدا رسیدہ دل کی دعا ہے جس کے پیش نظر اللہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کے ہاں اللہ کے سوا ہر چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور معرفت کے جس مقام تک یہ دل پہنچا ہے اس کے آگے مزید کا طلبگار ہے اور ایک ایسے قلب سے نکلی ہوئی دعا بیم و رجا کی حالت میں ہے کیونکہ اس نے اللہ کے کرم دیکھے ہوئے ہیں اور مزید کا امیدوار ہے۔
رب ھب لی حکما (26 : 83) ” اے میرے رب ، مجھے حکم عطا کر “۔ اے اللہ مجھے ایسی حکمت عطا کر جس کی روشنی میں کھری اور کھوٹی قدروں کے درمیان تمیز کرسکوں تاکہ میں ایسے طرز عمل پر قائم رہوں جو مجھے باقی رہنے والی قدروں تک پہنچائے۔
والحقنی بالصلحین (26 : 83) ” اور مجھے صالحوں کے ساتھ ملا دے۔ “ یہ حضرت ابراہیم کی دعا ہے جو نبی اور رسول ہیں اور گڑگڑانے والے اور نہایت ہی حلیم الطبع ہیں۔ اس عظیم المرتبہ ابوالانبیاء کی تواضح قابل دید ہے۔ ان کی احتیاط قابل ملاحظہ ہے۔ کس قدر خدا خوفی ان کی باتوں میں اور سک قدر اعتراف تصور ہے۔ وہ ہر وقت ڈرتے ہیں کہ انسان کا دل کسی بھی وقت برائی کی طرف مائل ہو سکتا ہے اس لئے وہ صالحین کی محفل اور ماحول کے طلبگار ہیں وہ اللہ کی توفیق سے عمل صالح کیل ئے یا عمل صالح پر قائم رہنے کے آرزو مند ہیں۔
واجعل لی لسان صدق فی الاخرین (26 : 83) ” اور بعد میں آنے والوں میں مجھ کو سچی نامویر عطا کر۔ “ آپ کی دعا یہ ہے کہ میری شروع کی ہوئی دعوت توحید قیامت تک رہے۔ وہ کثرت اولاد کے لئے دعا نہیں کرتے بلکہ آپ کی دعا آنے والی نسلوں میں آپ کے نقش قدم پر چلنے والے مداحوں کیل ئے ہے کہ وہ آپ کی دعوت توحید کو قبول کریں۔ اور ” دین حنیف “ کو اپنائیں اور یہی دعا آپ نے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی کی ہے۔ اس وقت جب آپ اور آپ کے بیٹے اسماعیل خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔
ربنا واجعلنا ……الحیم (129) (2 : 128-129) ” اے رب ، ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا ، مہاری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما۔ تو بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے اور اے ہمارے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو ، جو انہیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔ “ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا قبول فرمائی۔ آپ کی دعوت کو پھیلایا اور آنے والے زمانوں میں ان کے لئے تمام لوگ کلمہ خیر کہنے والے ہوئے اور پھر آپ کی دعا کے مطابق نبی آخر الزمان پیدا ہوئے اور ہزارہا سال کے بعد یہ دعا پوری ہوئی۔ لوگوں کے حساب میں تو دنیا کے ہزارہا سال بہت طویل ہیں لیکن اللہ کے نزدیک ان کی کوئی نہیں ہے اور اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ دعائے ابراہیمی اس قدر عرصہ کے بعد قبول ہو۔
واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم (26 : 85) ” اور مجھے جنت نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔ “ اس سے قبل آپ نے دعا فرمائی تھی کہ مجھے صالحین کے گروہ میں شامل فرما اور عمل صالح کی توفیق دے کہ میں صالحین کی صفوں میں چلوں اور پھر اس جنت میں داخل ہو جائوں جس کی وراثت عباد صالحین کا حق ہے۔
واغفر لابی انہ کان من الضآلین (26 : 86) ” اور میرے باپ کو معاف کر دے۔ بیشک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے۔ “ باوجود اس کے کہ حضرت ابراہیم کو ان کے والد نے سختی سے ڈانٹا اور تہدید آمیز گفتگو کی لیکن انہوں نے اس گفتگو کے وقت بھی وعدہ کیا تھا کہ میں تیرے لئے دعا ہی کرتا رہوں گا۔ یہ اس وعدے کی وجہ سے والد کے حق میں دعا فرما رہے ہیں۔ بعد میں یہ بات قرآن نے بیان کردی کہ مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کر ناجائز نہیں ہے۔ اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہوں اور قرآن کریم نے اس بات کی بھی صراحت کردی کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت اس لئے کی تھی کہ انہوں نے باپ کے ساتھ اس کا وعدہ کیا تھا۔
فلما تبین لہ انہ عدوللہ تبراء منہ ” جب اسے معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس نے باپ سے برأت کا اظہار کردیا۔ “ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جان لیا کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست یہاں تو اخوت نظریاتی اخوتیں ہیں۔ اسلامی تربیت کے بنیادی عناصر میں سے ایک عنصر یہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں پہلا آمیزہ اور رابطہ اور تعلق نظریاتی تعلق ہے اور سکی انسان اور انسان کے درمیان مضبوط تعلق صرف نظریات کا ہو سکتا ہے جب یہ تعلق کٹ جائے تو تمام تعلقات کٹ جاتے ہیں اور پھر انسان انسان سے دور ہوجاتا ہے۔ کوئی رابطہ اور تعلق نہیں رہتا۔
ولا تخزنی یوم یبعثون (26 : 88) یوم لاینفع مال ولابنون (26 : 88) الامن اتی اللہ بقلب سلیم (26 : 89) ” اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائیج ائیں گے جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد ، بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ قیامت کا دن کس قدر ہولناک ہوگا اور یہ کہ حضرت ابراہیم اللہ سے کس قدر حیا فرماتے ہیں اور اللہ کے سامنے شرمندہ ہونے سے کس قدر خائف ہیں اور یہ خوف اپنی تقصیر کی وجہ سے ہے کہ وہ ایک معزز نبی ہیں۔ نیز حضرت کی اس دعا سے ” جبکہ نہ مال کوئی فادئہ دے نہ اولاد ، بجز اس کے کہ کوئی قلب سلیم لے کر اللہ کے حضور حاضر ہو۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یوم قیامت کی ذمہ داریوں کو کس قدر تفصیل کے ساتھ سمجھ لیا تھا۔ نیز آپ نے دنیاوی اقدار اور اسلامی اقدار کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ کیونکہ یوم القیامہ میں وہی کامیاب ہوگا جو اخلاص کے ساتھ آئے اور اس کا دل اللہ کے لئے ہوجائے اور اس کے اندر دنیا کا کوئی بت یا مقصد نہ ہو۔ ہر بیماری سے پاک ہو ، ہر مفاد سے پاک ہو ، ہر قسم کی خواہشات اور انحرافات سے پاک ہو۔ اللہ کے سوا کسی اور الہ و معبود سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ یہ ہے قلب کی سلامتی جس کا اسلام اور قیامت میں کوئی وزن ہوگا۔
یوم لاینفع مال ولابنون (26 : 88) ” جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد۔ “ دنیا کی کوئی قدر اور کوئی ترجیح اس دن مفید مطلب نہ ہوگی حالانکہ اس دنیا میں ان مطالب اور ترجیحات کے پیچھے انسان کتوں کی طرح دوڑتے ہیں لیکن آخرت کے ترازو میں یہ ترجیحات بےوزن ہیں۔
اب یہاں قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر آتا ہے۔ وہ دن جس سے حضرت ابراہیم اس قدر خائف ہیں تو وہ دیکھو وہ دن نمودار ہوا۔ حضرت ابراہیم ابھی ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں اور سدت بدعا ہیں کہ منظر پر اس دن کا نقشہ نمودار ہوتا ہے۔
الشعراء 26:85
رب ھب ……سلیم (89)
حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اس دعا پر ذرا غور فرمائیں کہ اس میں اس دنیا کے اغراض میں سے کو یء غرض نہیں ہے۔ یہاں تک کہ یہ بھی نہیں کہا کہ اے اللہ ، مجھے صحت عطا کیجیے۔ یہ پوری دعا بلند مقاصد اور اعلیٰ اور پاکیزہ شعور کی تحریک ہے۔ یہ اس خدا رسیدہ دل کی دعا ہے جس کے پیش نظر اللہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کے ہاں اللہ کے سوا ہر چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور معرفت کے جس مقام تک یہ دل پہنچا ہے اس کے آگے مزید کا طلبگار ہے اور ایک ایسے قلب سے نکلی ہوئی دعا بیم و رجا کی حالت میں ہے کیونکہ اس نے اللہ کے کرم دیکھے ہوئے ہیں اور مزید کا امیدوار ہے۔
رب ھب لی حکما (26 : 83) ” اے میرے رب ، مجھے حکم عطا کر “۔ اے اللہ مجھے ایسی حکمت عطا کر جس کی روشنی میں کھری اور کھوٹی قدروں کے درمیان تمیز کرسکوں تاکہ میں ایسے طرز عمل پر قائم رہوں جو مجھے باقی رہنے والی قدروں تک پہنچائے۔
والحقنی بالصلحین (26 : 83) ” اور مجھے صالحوں کے ساتھ ملا دے۔ “ یہ حضرت ابراہیم کی دعا ہے جو نبی اور رسول ہیں اور گڑگڑانے والے اور نہایت ہی حلیم الطبع ہیں۔ اس عظیم المرتبہ ابوالانبیاء کی تواضح قابل دید ہے۔ ان کی احتیاط قابل ملاحظہ ہے۔ کس قدر خدا خوفی ان کی باتوں میں اور سک قدر اعتراف تصور ہے۔ وہ ہر وقت ڈرتے ہیں کہ انسان کا دل کسی بھی وقت برائی کی طرف مائل ہو سکتا ہے اس لئے وہ صالحین کی محفل اور ماحول کے طلبگار ہیں وہ اللہ کی توفیق سے عمل صالح کیل ئے یا عمل صالح پر قائم رہنے کے آرزو مند ہیں۔
واجعل لی لسان صدق فی الاخرین (26 : 83) ” اور بعد میں آنے والوں میں مجھ کو سچی نامویر عطا کر۔ “ آپ کی دعا یہ ہے کہ میری شروع کی ہوئی دعوت توحید قیامت تک رہے۔ وہ کثرت اولاد کے لئے دعا نہیں کرتے بلکہ آپ کی دعا آنے والی نسلوں میں آپ کے نقش قدم پر چلنے والے مداحوں کیل ئے ہے کہ وہ آپ کی دعوت توحید کو قبول کریں۔ اور ” دین حنیف “ کو اپنائیں اور یہی دعا آپ نے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی کی ہے۔ اس وقت جب آپ اور آپ کے بیٹے اسماعیل خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔
ربنا واجعلنا ……الحیم (129) (2 : 128-129) ” اے رب ، ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا ، مہاری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما۔ تو بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے اور اے ہمارے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو ، جو انہیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔ “ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا قبول فرمائی۔ آپ کی دعوت کو پھیلایا اور آنے والے زمانوں میں ان کے لئے تمام لوگ کلمہ خیر کہنے والے ہوئے اور پھر آپ کی دعا کے مطابق نبی آخر الزمان پیدا ہوئے اور ہزارہا سال کے بعد یہ دعا پوری ہوئی۔ لوگوں کے حساب میں تو دنیا کے ہزارہا سال بہت طویل ہیں لیکن اللہ کے نزدیک ان کی کوئی نہیں ہے اور اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ دعائے ابراہیمی اس قدر عرصہ کے بعد قبول ہو۔
واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم (26 : 85) ” اور مجھے جنت نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔ “ اس سے قبل آپ نے دعا فرمائی تھی کہ مجھے صالحین کے گروہ میں شامل فرما اور عمل صالح کی توفیق دے کہ میں صالحین کی صفوں میں چلوں اور پھر اس جنت میں داخل ہو جائوں جس کی وراثت عباد صالحین کا حق ہے۔
واغفر لابی انہ کان من الضآلین (26 : 86) ” اور میرے باپ کو معاف کر دے۔ بیشک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے۔ “ باوجود اس کے کہ حضرت ابراہیم کو ان کے والد نے سختی سے ڈانٹا اور تہدید آمیز گفتگو کی لیکن انہوں نے اس گفتگو کے وقت بھی وعدہ کیا تھا کہ میں تیرے لئے دعا ہی کرتا رہوں گا۔ یہ اس وعدے کی وجہ سے والد کے حق میں دعا فرما رہے ہیں۔ بعد میں یہ بات قرآن نے بیان کردی کہ مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کر ناجائز نہیں ہے۔ اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہوں اور قرآن کریم نے اس بات کی بھی صراحت کردی کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت اس لئے کی تھی کہ انہوں نے باپ کے ساتھ اس کا وعدہ کیا تھا۔
فلما تبین لہ انہ عدوللہ تبراء منہ ” جب اسے معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس نے باپ سے برأت کا اظہار کردیا۔ “ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جان لیا کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست یہاں تو اخوت نظریاتی اخوتیں ہیں۔ اسلامی تربیت کے بنیادی عناصر میں سے ایک عنصر یہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں پہلا آمیزہ اور رابطہ اور تعلق نظریاتی تعلق ہے اور سکی انسان اور انسان کے درمیان مضبوط تعلق صرف نظریات کا ہو سکتا ہے جب یہ تعلق کٹ جائے تو تمام تعلقات کٹ جاتے ہیں اور پھر انسان انسان سے دور ہوجاتا ہے۔ کوئی رابطہ اور تعلق نہیں رہتا۔
ولا تخزنی یوم یبعثون (26 : 88) یوم لاینفع مال ولابنون (26 : 88) الامن اتی اللہ بقلب سلیم (26 : 89) ” اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائیج ائیں گے جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد ، بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ قیامت کا دن کس قدر ہولناک ہوگا اور یہ کہ حضرت ابراہیم اللہ سے کس قدر حیا فرماتے ہیں اور اللہ کے سامنے شرمندہ ہونے سے کس قدر خائف ہیں اور یہ خوف اپنی تقصیر کی وجہ سے ہے کہ وہ ایک معزز نبی ہیں۔ نیز حضرت کی اس دعا سے ” جبکہ نہ مال کوئی فادئہ دے نہ اولاد ، بجز اس کے کہ کوئی قلب سلیم لے کر اللہ کے حضور حاضر ہو۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یوم قیامت کی ذمہ داریوں کو کس قدر تفصیل کے ساتھ سمجھ لیا تھا۔ نیز آپ نے دنیاوی اقدار اور اسلامی اقدار کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ کیونکہ یوم القیامہ میں وہی کامیاب ہوگا جو اخلاص کے ساتھ آئے اور اس کا دل اللہ کے لئے ہوجائے اور اس کے اندر دنیا کا کوئی بت یا مقصد نہ ہو۔ ہر بیماری سے پاک ہو ، ہر مفاد سے پاک ہو ، ہر قسم کی خواہشات اور انحرافات سے پاک ہو۔ اللہ کے سوا کسی اور الہ و معبود سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ یہ ہے قلب کی سلامتی جس کا اسلام اور قیامت میں کوئی وزن ہوگا۔
یوم لاینفع مال ولابنون (26 : 88) ” جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد۔ “ دنیا کی کوئی قدر اور کوئی ترجیح اس دن مفید مطلب نہ ہوگی حالانکہ اس دنیا میں ان مطالب اور ترجیحات کے پیچھے انسان کتوں کی طرح دوڑتے ہیں لیکن آخرت کے ترازو میں یہ ترجیحات بےوزن ہیں۔
اب یہاں قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر آتا ہے۔ وہ دن جس سے حضرت ابراہیم اس قدر خائف ہیں تو وہ دیکھو وہ دن نمودار ہوا۔ حضرت ابراہیم ابھی ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں اور سدت بدعا ہیں کہ منظر پر اس دن کا نقشہ نمودار ہوتا ہے۔
الشعراء 26:86
رب ھب ……سلیم (89)
حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اس دعا پر ذرا غور فرمائیں کہ اس میں اس دنیا کے اغراض میں سے کو یء غرض نہیں ہے۔ یہاں تک کہ یہ بھی نہیں کہا کہ اے اللہ ، مجھے صحت عطا کیجیے۔ یہ پوری دعا بلند مقاصد اور اعلیٰ اور پاکیزہ شعور کی تحریک ہے۔ یہ اس خدا رسیدہ دل کی دعا ہے جس کے پیش نظر اللہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کے ہاں اللہ کے سوا ہر چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور معرفت کے جس مقام تک یہ دل پہنچا ہے اس کے آگے مزید کا طلبگار ہے اور ایک ایسے قلب سے نکلی ہوئی دعا بیم و رجا کی حالت میں ہے کیونکہ اس نے اللہ کے کرم دیکھے ہوئے ہیں اور مزید کا امیدوار ہے۔
رب ھب لی حکما (26 : 83) ” اے میرے رب ، مجھے حکم عطا کر “۔ اے اللہ مجھے ایسی حکمت عطا کر جس کی روشنی میں کھری اور کھوٹی قدروں کے درمیان تمیز کرسکوں تاکہ میں ایسے طرز عمل پر قائم رہوں جو مجھے باقی رہنے والی قدروں تک پہنچائے۔
والحقنی بالصلحین (26 : 83) ” اور مجھے صالحوں کے ساتھ ملا دے۔ “ یہ حضرت ابراہیم کی دعا ہے جو نبی اور رسول ہیں اور گڑگڑانے والے اور نہایت ہی حلیم الطبع ہیں۔ اس عظیم المرتبہ ابوالانبیاء کی تواضح قابل دید ہے۔ ان کی احتیاط قابل ملاحظہ ہے۔ کس قدر خدا خوفی ان کی باتوں میں اور سک قدر اعتراف تصور ہے۔ وہ ہر وقت ڈرتے ہیں کہ انسان کا دل کسی بھی وقت برائی کی طرف مائل ہو سکتا ہے اس لئے وہ صالحین کی محفل اور ماحول کے طلبگار ہیں وہ اللہ کی توفیق سے عمل صالح کیل ئے یا عمل صالح پر قائم رہنے کے آرزو مند ہیں۔
واجعل لی لسان صدق فی الاخرین (26 : 83) ” اور بعد میں آنے والوں میں مجھ کو سچی نامویر عطا کر۔ “ آپ کی دعا یہ ہے کہ میری شروع کی ہوئی دعوت توحید قیامت تک رہے۔ وہ کثرت اولاد کے لئے دعا نہیں کرتے بلکہ آپ کی دعا آنے والی نسلوں میں آپ کے نقش قدم پر چلنے والے مداحوں کیل ئے ہے کہ وہ آپ کی دعوت توحید کو قبول کریں۔ اور ” دین حنیف “ کو اپنائیں اور یہی دعا آپ نے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی کی ہے۔ اس وقت جب آپ اور آپ کے بیٹے اسماعیل خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔
ربنا واجعلنا ……الحیم (129) (2 : 128-129) ” اے رب ، ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا ، مہاری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما۔ تو بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے اور اے ہمارے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو ، جو انہیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔ “ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا قبول فرمائی۔ آپ کی دعوت کو پھیلایا اور آنے والے زمانوں میں ان کے لئے تمام لوگ کلمہ خیر کہنے والے ہوئے اور پھر آپ کی دعا کے مطابق نبی آخر الزمان پیدا ہوئے اور ہزارہا سال کے بعد یہ دعا پوری ہوئی۔ لوگوں کے حساب میں تو دنیا کے ہزارہا سال بہت طویل ہیں لیکن اللہ کے نزدیک ان کی کوئی نہیں ہے اور اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ دعائے ابراہیمی اس قدر عرصہ کے بعد قبول ہو۔
واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم (26 : 85) ” اور مجھے جنت نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔ “ اس سے قبل آپ نے دعا فرمائی تھی کہ مجھے صالحین کے گروہ میں شامل فرما اور عمل صالح کی توفیق دے کہ میں صالحین کی صفوں میں چلوں اور پھر اس جنت میں داخل ہو جائوں جس کی وراثت عباد صالحین کا حق ہے۔
واغفر لابی انہ کان من الضآلین (26 : 86) ” اور میرے باپ کو معاف کر دے۔ بیشک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے۔ “ باوجود اس کے کہ حضرت ابراہیم کو ان کے والد نے سختی سے ڈانٹا اور تہدید آمیز گفتگو کی لیکن انہوں نے اس گفتگو کے وقت بھی وعدہ کیا تھا کہ میں تیرے لئے دعا ہی کرتا رہوں گا۔ یہ اس وعدے کی وجہ سے والد کے حق میں دعا فرما رہے ہیں۔ بعد میں یہ بات قرآن نے بیان کردی کہ مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کر ناجائز نہیں ہے۔ اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہوں اور قرآن کریم نے اس بات کی بھی صراحت کردی کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت اس لئے کی تھی کہ انہوں نے باپ کے ساتھ اس کا وعدہ کیا تھا۔
فلما تبین لہ انہ عدوللہ تبراء منہ ” جب اسے معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس نے باپ سے برأت کا اظہار کردیا۔ “ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جان لیا کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست یہاں تو اخوت نظریاتی اخوتیں ہیں۔ اسلامی تربیت کے بنیادی عناصر میں سے ایک عنصر یہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں پہلا آمیزہ اور رابطہ اور تعلق نظریاتی تعلق ہے اور سکی انسان اور انسان کے درمیان مضبوط تعلق صرف نظریات کا ہو سکتا ہے جب یہ تعلق کٹ جائے تو تمام تعلقات کٹ جاتے ہیں اور پھر انسان انسان سے دور ہوجاتا ہے۔ کوئی رابطہ اور تعلق نہیں رہتا۔
ولا تخزنی یوم یبعثون (26 : 88) یوم لاینفع مال ولابنون (26 : 88) الامن اتی اللہ بقلب سلیم (26 : 89) ” اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائیج ائیں گے جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد ، بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ قیامت کا دن کس قدر ہولناک ہوگا اور یہ کہ حضرت ابراہیم اللہ سے کس قدر حیا فرماتے ہیں اور اللہ کے سامنے شرمندہ ہونے سے کس قدر خائف ہیں اور یہ خوف اپنی تقصیر کی وجہ سے ہے کہ وہ ایک معزز نبی ہیں۔ نیز حضرت کی اس دعا سے ” جبکہ نہ مال کوئی فادئہ دے نہ اولاد ، بجز اس کے کہ کوئی قلب سلیم لے کر اللہ کے حضور حاضر ہو۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یوم قیامت کی ذمہ داریوں کو کس قدر تفصیل کے ساتھ سمجھ لیا تھا۔ نیز آپ نے دنیاوی اقدار اور اسلامی اقدار کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ کیونکہ یوم القیامہ میں وہی کامیاب ہوگا جو اخلاص کے ساتھ آئے اور اس کا دل اللہ کے لئے ہوجائے اور اس کے اندر دنیا کا کوئی بت یا مقصد نہ ہو۔ ہر بیماری سے پاک ہو ، ہر مفاد سے پاک ہو ، ہر قسم کی خواہشات اور انحرافات سے پاک ہو۔ اللہ کے سوا کسی اور الہ و معبود سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ یہ ہے قلب کی سلامتی جس کا اسلام اور قیامت میں کوئی وزن ہوگا۔
یوم لاینفع مال ولابنون (26 : 88) ” جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد۔ “ دنیا کی کوئی قدر اور کوئی ترجیح اس دن مفید مطلب نہ ہوگی حالانکہ اس دنیا میں ان مطالب اور ترجیحات کے پیچھے انسان کتوں کی طرح دوڑتے ہیں لیکن آخرت کے ترازو میں یہ ترجیحات بےوزن ہیں۔
اب یہاں قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر آتا ہے۔ وہ دن جس سے حضرت ابراہیم اس قدر خائف ہیں تو وہ دیکھو وہ دن نمودار ہوا۔ حضرت ابراہیم ابھی ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں اور سدت بدعا ہیں کہ منظر پر اس دن کا نقشہ نمودار ہوتا ہے۔
الشعراء 26:87
رب ھب ……سلیم (89)
حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اس دعا پر ذرا غور فرمائیں کہ اس میں اس دنیا کے اغراض میں سے کو یء غرض نہیں ہے۔ یہاں تک کہ یہ بھی نہیں کہا کہ اے اللہ ، مجھے صحت عطا کیجیے۔ یہ پوری دعا بلند مقاصد اور اعلیٰ اور پاکیزہ شعور کی تحریک ہے۔ یہ اس خدا رسیدہ دل کی دعا ہے جس کے پیش نظر اللہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کے ہاں اللہ کے سوا ہر چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور معرفت کے جس مقام تک یہ دل پہنچا ہے اس کے آگے مزید کا طلبگار ہے اور ایک ایسے قلب سے نکلی ہوئی دعا بیم و رجا کی حالت میں ہے کیونکہ اس نے اللہ کے کرم دیکھے ہوئے ہیں اور مزید کا امیدوار ہے۔
رب ھب لی حکما (26 : 83) ” اے میرے رب ، مجھے حکم عطا کر “۔ اے اللہ مجھے ایسی حکمت عطا کر جس کی روشنی میں کھری اور کھوٹی قدروں کے درمیان تمیز کرسکوں تاکہ میں ایسے طرز عمل پر قائم رہوں جو مجھے باقی رہنے والی قدروں تک پہنچائے۔
والحقنی بالصلحین (26 : 83) ” اور مجھے صالحوں کے ساتھ ملا دے۔ “ یہ حضرت ابراہیم کی دعا ہے جو نبی اور رسول ہیں اور گڑگڑانے والے اور نہایت ہی حلیم الطبع ہیں۔ اس عظیم المرتبہ ابوالانبیاء کی تواضح قابل دید ہے۔ ان کی احتیاط قابل ملاحظہ ہے۔ کس قدر خدا خوفی ان کی باتوں میں اور سک قدر اعتراف تصور ہے۔ وہ ہر وقت ڈرتے ہیں کہ انسان کا دل کسی بھی وقت برائی کی طرف مائل ہو سکتا ہے اس لئے وہ صالحین کی محفل اور ماحول کے طلبگار ہیں وہ اللہ کی توفیق سے عمل صالح کیل ئے یا عمل صالح پر قائم رہنے کے آرزو مند ہیں۔
واجعل لی لسان صدق فی الاخرین (26 : 83) ” اور بعد میں آنے والوں میں مجھ کو سچی نامویر عطا کر۔ “ آپ کی دعا یہ ہے کہ میری شروع کی ہوئی دعوت توحید قیامت تک رہے۔ وہ کثرت اولاد کے لئے دعا نہیں کرتے بلکہ آپ کی دعا آنے والی نسلوں میں آپ کے نقش قدم پر چلنے والے مداحوں کیل ئے ہے کہ وہ آپ کی دعوت توحید کو قبول کریں۔ اور ” دین حنیف “ کو اپنائیں اور یہی دعا آپ نے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی کی ہے۔ اس وقت جب آپ اور آپ کے بیٹے اسماعیل خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔
ربنا واجعلنا ……الحیم (129) (2 : 128-129) ” اے رب ، ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا ، مہاری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما۔ تو بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے اور اے ہمارے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو ، جو انہیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔ “ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا قبول فرمائی۔ آپ کی دعوت کو پھیلایا اور آنے والے زمانوں میں ان کے لئے تمام لوگ کلمہ خیر کہنے والے ہوئے اور پھر آپ کی دعا کے مطابق نبی آخر الزمان پیدا ہوئے اور ہزارہا سال کے بعد یہ دعا پوری ہوئی۔ لوگوں کے حساب میں تو دنیا کے ہزارہا سال بہت طویل ہیں لیکن اللہ کے نزدیک ان کی کوئی نہیں ہے اور اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ دعائے ابراہیمی اس قدر عرصہ کے بعد قبول ہو۔
واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم (26 : 85) ” اور مجھے جنت نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔ “ اس سے قبل آپ نے دعا فرمائی تھی کہ مجھے صالحین کے گروہ میں شامل فرما اور عمل صالح کی توفیق دے کہ میں صالحین کی صفوں میں چلوں اور پھر اس جنت میں داخل ہو جائوں جس کی وراثت عباد صالحین کا حق ہے۔
واغفر لابی انہ کان من الضآلین (26 : 86) ” اور میرے باپ کو معاف کر دے۔ بیشک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے۔ “ باوجود اس کے کہ حضرت ابراہیم کو ان کے والد نے سختی سے ڈانٹا اور تہدید آمیز گفتگو کی لیکن انہوں نے اس گفتگو کے وقت بھی وعدہ کیا تھا کہ میں تیرے لئے دعا ہی کرتا رہوں گا۔ یہ اس وعدے کی وجہ سے والد کے حق میں دعا فرما رہے ہیں۔ بعد میں یہ بات قرآن نے بیان کردی کہ مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کر ناجائز نہیں ہے۔ اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہوں اور قرآن کریم نے اس بات کی بھی صراحت کردی کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت اس لئے کی تھی کہ انہوں نے باپ کے ساتھ اس کا وعدہ کیا تھا۔
فلما تبین لہ انہ عدوللہ تبراء منہ ” جب اسے معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس نے باپ سے برأت کا اظہار کردیا۔ “ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جان لیا کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست یہاں تو اخوت نظریاتی اخوتیں ہیں۔ اسلامی تربیت کے بنیادی عناصر میں سے ایک عنصر یہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں پہلا آمیزہ اور رابطہ اور تعلق نظریاتی تعلق ہے اور سکی انسان اور انسان کے درمیان مضبوط تعلق صرف نظریات کا ہو سکتا ہے جب یہ تعلق کٹ جائے تو تمام تعلقات کٹ جاتے ہیں اور پھر انسان انسان سے دور ہوجاتا ہے۔ کوئی رابطہ اور تعلق نہیں رہتا۔
ولا تخزنی یوم یبعثون (26 : 88) یوم لاینفع مال ولابنون (26 : 88) الامن اتی اللہ بقلب سلیم (26 : 89) ” اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائیج ائیں گے جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد ، بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ قیامت کا دن کس قدر ہولناک ہوگا اور یہ کہ حضرت ابراہیم اللہ سے کس قدر حیا فرماتے ہیں اور اللہ کے سامنے شرمندہ ہونے سے کس قدر خائف ہیں اور یہ خوف اپنی تقصیر کی وجہ سے ہے کہ وہ ایک معزز نبی ہیں۔ نیز حضرت کی اس دعا سے ” جبکہ نہ مال کوئی فادئہ دے نہ اولاد ، بجز اس کے کہ کوئی قلب سلیم لے کر اللہ کے حضور حاضر ہو۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یوم قیامت کی ذمہ داریوں کو کس قدر تفصیل کے ساتھ سمجھ لیا تھا۔ نیز آپ نے دنیاوی اقدار اور اسلامی اقدار کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ کیونکہ یوم القیامہ میں وہی کامیاب ہوگا جو اخلاص کے ساتھ آئے اور اس کا دل اللہ کے لئے ہوجائے اور اس کے اندر دنیا کا کوئی بت یا مقصد نہ ہو۔ ہر بیماری سے پاک ہو ، ہر مفاد سے پاک ہو ، ہر قسم کی خواہشات اور انحرافات سے پاک ہو۔ اللہ کے سوا کسی اور الہ و معبود سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ یہ ہے قلب کی سلامتی جس کا اسلام اور قیامت میں کوئی وزن ہوگا۔
یوم لاینفع مال ولابنون (26 : 88) ” جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد۔ “ دنیا کی کوئی قدر اور کوئی ترجیح اس دن مفید مطلب نہ ہوگی حالانکہ اس دنیا میں ان مطالب اور ترجیحات کے پیچھے انسان کتوں کی طرح دوڑتے ہیں لیکن آخرت کے ترازو میں یہ ترجیحات بےوزن ہیں۔
اب یہاں قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر آتا ہے۔ وہ دن جس سے حضرت ابراہیم اس قدر خائف ہیں تو وہ دیکھو وہ دن نمودار ہوا۔ حضرت ابراہیم ابھی ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں اور سدت بدعا ہیں کہ منظر پر اس دن کا نقشہ نمودار ہوتا ہے۔
الشعراء 26:88
رب ھب ……سلیم (89)
حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اس دعا پر ذرا غور فرمائیں کہ اس میں اس دنیا کے اغراض میں سے کو یء غرض نہیں ہے۔ یہاں تک کہ یہ بھی نہیں کہا کہ اے اللہ ، مجھے صحت عطا کیجیے۔ یہ پوری دعا بلند مقاصد اور اعلیٰ اور پاکیزہ شعور کی تحریک ہے۔ یہ اس خدا رسیدہ دل کی دعا ہے جس کے پیش نظر اللہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کے ہاں اللہ کے سوا ہر چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور معرفت کے جس مقام تک یہ دل پہنچا ہے اس کے آگے مزید کا طلبگار ہے اور ایک ایسے قلب سے نکلی ہوئی دعا بیم و رجا کی حالت میں ہے کیونکہ اس نے اللہ کے کرم دیکھے ہوئے ہیں اور مزید کا امیدوار ہے۔
رب ھب لی حکما (26 : 83) ” اے میرے رب ، مجھے حکم عطا کر “۔ اے اللہ مجھے ایسی حکمت عطا کر جس کی روشنی میں کھری اور کھوٹی قدروں کے درمیان تمیز کرسکوں تاکہ میں ایسے طرز عمل پر قائم رہوں جو مجھے باقی رہنے والی قدروں تک پہنچائے۔
والحقنی بالصلحین (26 : 83) ” اور مجھے صالحوں کے ساتھ ملا دے۔ “ یہ حضرت ابراہیم کی دعا ہے جو نبی اور رسول ہیں اور گڑگڑانے والے اور نہایت ہی حلیم الطبع ہیں۔ اس عظیم المرتبہ ابوالانبیاء کی تواضح قابل دید ہے۔ ان کی احتیاط قابل ملاحظہ ہے۔ کس قدر خدا خوفی ان کی باتوں میں اور سک قدر اعتراف تصور ہے۔ وہ ہر وقت ڈرتے ہیں کہ انسان کا دل کسی بھی وقت برائی کی طرف مائل ہو سکتا ہے اس لئے وہ صالحین کی محفل اور ماحول کے طلبگار ہیں وہ اللہ کی توفیق سے عمل صالح کیل ئے یا عمل صالح پر قائم رہنے کے آرزو مند ہیں۔
واجعل لی لسان صدق فی الاخرین (26 : 83) ” اور بعد میں آنے والوں میں مجھ کو سچی نامویر عطا کر۔ “ آپ کی دعا یہ ہے کہ میری شروع کی ہوئی دعوت توحید قیامت تک رہے۔ وہ کثرت اولاد کے لئے دعا نہیں کرتے بلکہ آپ کی دعا آنے والی نسلوں میں آپ کے نقش قدم پر چلنے والے مداحوں کیل ئے ہے کہ وہ آپ کی دعوت توحید کو قبول کریں۔ اور ” دین حنیف “ کو اپنائیں اور یہی دعا آپ نے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی کی ہے۔ اس وقت جب آپ اور آپ کے بیٹے اسماعیل خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔
ربنا واجعلنا ……الحیم (129) (2 : 128-129) ” اے رب ، ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا ، مہاری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما۔ تو بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے اور اے ہمارے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو ، جو انہیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔ “ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا قبول فرمائی۔ آپ کی دعوت کو پھیلایا اور آنے والے زمانوں میں ان کے لئے تمام لوگ کلمہ خیر کہنے والے ہوئے اور پھر آپ کی دعا کے مطابق نبی آخر الزمان پیدا ہوئے اور ہزارہا سال کے بعد یہ دعا پوری ہوئی۔ لوگوں کے حساب میں تو دنیا کے ہزارہا سال بہت طویل ہیں لیکن اللہ کے نزدیک ان کی کوئی نہیں ہے اور اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ دعائے ابراہیمی اس قدر عرصہ کے بعد قبول ہو۔
واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم (26 : 85) ” اور مجھے جنت نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔ “ اس سے قبل آپ نے دعا فرمائی تھی کہ مجھے صالحین کے گروہ میں شامل فرما اور عمل صالح کی توفیق دے کہ میں صالحین کی صفوں میں چلوں اور پھر اس جنت میں داخل ہو جائوں جس کی وراثت عباد صالحین کا حق ہے۔
واغفر لابی انہ کان من الضآلین (26 : 86) ” اور میرے باپ کو معاف کر دے۔ بیشک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے۔ “ باوجود اس کے کہ حضرت ابراہیم کو ان کے والد نے سختی سے ڈانٹا اور تہدید آمیز گفتگو کی لیکن انہوں نے اس گفتگو کے وقت بھی وعدہ کیا تھا کہ میں تیرے لئے دعا ہی کرتا رہوں گا۔ یہ اس وعدے کی وجہ سے والد کے حق میں دعا فرما رہے ہیں۔ بعد میں یہ بات قرآن نے بیان کردی کہ مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کر ناجائز نہیں ہے۔ اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہوں اور قرآن کریم نے اس بات کی بھی صراحت کردی کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت اس لئے کی تھی کہ انہوں نے باپ کے ساتھ اس کا وعدہ کیا تھا۔
فلما تبین لہ انہ عدوللہ تبراء منہ ” جب اسے معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس نے باپ سے برأت کا اظہار کردیا۔ “ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جان لیا کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست یہاں تو اخوت نظریاتی اخوتیں ہیں۔ اسلامی تربیت کے بنیادی عناصر میں سے ایک عنصر یہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں پہلا آمیزہ اور رابطہ اور تعلق نظریاتی تعلق ہے اور سکی انسان اور انسان کے درمیان مضبوط تعلق صرف نظریات کا ہو سکتا ہے جب یہ تعلق کٹ جائے تو تمام تعلقات کٹ جاتے ہیں اور پھر انسان انسان سے دور ہوجاتا ہے۔ کوئی رابطہ اور تعلق نہیں رہتا۔
ولا تخزنی یوم یبعثون (26 : 88) یوم لاینفع مال ولابنون (26 : 88) الامن اتی اللہ بقلب سلیم (26 : 89) ” اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائیج ائیں گے جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد ، بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ قیامت کا دن کس قدر ہولناک ہوگا اور یہ کہ حضرت ابراہیم اللہ سے کس قدر حیا فرماتے ہیں اور اللہ کے سامنے شرمندہ ہونے سے کس قدر خائف ہیں اور یہ خوف اپنی تقصیر کی وجہ سے ہے کہ وہ ایک معزز نبی ہیں۔ نیز حضرت کی اس دعا سے ” جبکہ نہ مال کوئی فادئہ دے نہ اولاد ، بجز اس کے کہ کوئی قلب سلیم لے کر اللہ کے حضور حاضر ہو۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یوم قیامت کی ذمہ داریوں کو کس قدر تفصیل کے ساتھ سمجھ لیا تھا۔ نیز آپ نے دنیاوی اقدار اور اسلامی اقدار کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ کیونکہ یوم القیامہ میں وہی کامیاب ہوگا جو اخلاص کے ساتھ آئے اور اس کا دل اللہ کے لئے ہوجائے اور اس کے اندر دنیا کا کوئی بت یا مقصد نہ ہو۔ ہر بیماری سے پاک ہو ، ہر مفاد سے پاک ہو ، ہر قسم کی خواہشات اور انحرافات سے پاک ہو۔ اللہ کے سوا کسی اور الہ و معبود سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ یہ ہے قلب کی سلامتی جس کا اسلام اور قیامت میں کوئی وزن ہوگا۔
یوم لاینفع مال ولابنون (26 : 88) ” جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد۔ “ دنیا کی کوئی قدر اور کوئی ترجیح اس دن مفید مطلب نہ ہوگی حالانکہ اس دنیا میں ان مطالب اور ترجیحات کے پیچھے انسان کتوں کی طرح دوڑتے ہیں لیکن آخرت کے ترازو میں یہ ترجیحات بےوزن ہیں۔
اب یہاں قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر آتا ہے۔ وہ دن جس سے حضرت ابراہیم اس قدر خائف ہیں تو وہ دیکھو وہ دن نمودار ہوا۔ حضرت ابراہیم ابھی ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں اور سدت بدعا ہیں کہ منظر پر اس دن کا نقشہ نمودار ہوتا ہے۔
الشعراء 26:89
رب ھب ……سلیم (89)
حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اس دعا پر ذرا غور فرمائیں کہ اس میں اس دنیا کے اغراض میں سے کو یء غرض نہیں ہے۔ یہاں تک کہ یہ بھی نہیں کہا کہ اے اللہ ، مجھے صحت عطا کیجیے۔ یہ پوری دعا بلند مقاصد اور اعلیٰ اور پاکیزہ شعور کی تحریک ہے۔ یہ اس خدا رسیدہ دل کی دعا ہے جس کے پیش نظر اللہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کے ہاں اللہ کے سوا ہر چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور معرفت کے جس مقام تک یہ دل پہنچا ہے اس کے آگے مزید کا طلبگار ہے اور ایک ایسے قلب سے نکلی ہوئی دعا بیم و رجا کی حالت میں ہے کیونکہ اس نے اللہ کے کرم دیکھے ہوئے ہیں اور مزید کا امیدوار ہے۔
رب ھب لی حکما (26 : 83) ” اے میرے رب ، مجھے حکم عطا کر “۔ اے اللہ مجھے ایسی حکمت عطا کر جس کی روشنی میں کھری اور کھوٹی قدروں کے درمیان تمیز کرسکوں تاکہ میں ایسے طرز عمل پر قائم رہوں جو مجھے باقی رہنے والی قدروں تک پہنچائے۔
والحقنی بالصلحین (26 : 83) ” اور مجھے صالحوں کے ساتھ ملا دے۔ “ یہ حضرت ابراہیم کی دعا ہے جو نبی اور رسول ہیں اور گڑگڑانے والے اور نہایت ہی حلیم الطبع ہیں۔ اس عظیم المرتبہ ابوالانبیاء کی تواضح قابل دید ہے۔ ان کی احتیاط قابل ملاحظہ ہے۔ کس قدر خدا خوفی ان کی باتوں میں اور سک قدر اعتراف تصور ہے۔ وہ ہر وقت ڈرتے ہیں کہ انسان کا دل کسی بھی وقت برائی کی طرف مائل ہو سکتا ہے اس لئے وہ صالحین کی محفل اور ماحول کے طلبگار ہیں وہ اللہ کی توفیق سے عمل صالح کیل ئے یا عمل صالح پر قائم رہنے کے آرزو مند ہیں۔
واجعل لی لسان صدق فی الاخرین (26 : 83) ” اور بعد میں آنے والوں میں مجھ کو سچی نامویر عطا کر۔ “ آپ کی دعا یہ ہے کہ میری شروع کی ہوئی دعوت توحید قیامت تک رہے۔ وہ کثرت اولاد کے لئے دعا نہیں کرتے بلکہ آپ کی دعا آنے والی نسلوں میں آپ کے نقش قدم پر چلنے والے مداحوں کیل ئے ہے کہ وہ آپ کی دعوت توحید کو قبول کریں۔ اور ” دین حنیف “ کو اپنائیں اور یہی دعا آپ نے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی کی ہے۔ اس وقت جب آپ اور آپ کے بیٹے اسماعیل خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔
ربنا واجعلنا ……الحیم (129) (2 : 128-129) ” اے رب ، ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا ، مہاری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما۔ تو بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے اور اے ہمارے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو ، جو انہیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔ “ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا قبول فرمائی۔ آپ کی دعوت کو پھیلایا اور آنے والے زمانوں میں ان کے لئے تمام لوگ کلمہ خیر کہنے والے ہوئے اور پھر آپ کی دعا کے مطابق نبی آخر الزمان پیدا ہوئے اور ہزارہا سال کے بعد یہ دعا پوری ہوئی۔ لوگوں کے حساب میں تو دنیا کے ہزارہا سال بہت طویل ہیں لیکن اللہ کے نزدیک ان کی کوئی نہیں ہے اور اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ دعائے ابراہیمی اس قدر عرصہ کے بعد قبول ہو۔
واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم (26 : 85) ” اور مجھے جنت نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔ “ اس سے قبل آپ نے دعا فرمائی تھی کہ مجھے صالحین کے گروہ میں شامل فرما اور عمل صالح کی توفیق دے کہ میں صالحین کی صفوں میں چلوں اور پھر اس جنت میں داخل ہو جائوں جس کی وراثت عباد صالحین کا حق ہے۔
واغفر لابی انہ کان من الضآلین (26 : 86) ” اور میرے باپ کو معاف کر دے۔ بیشک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے۔ “ باوجود اس کے کہ حضرت ابراہیم کو ان کے والد نے سختی سے ڈانٹا اور تہدید آمیز گفتگو کی لیکن انہوں نے اس گفتگو کے وقت بھی وعدہ کیا تھا کہ میں تیرے لئے دعا ہی کرتا رہوں گا۔ یہ اس وعدے کی وجہ سے والد کے حق میں دعا فرما رہے ہیں۔ بعد میں یہ بات قرآن نے بیان کردی کہ مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کر ناجائز نہیں ہے۔ اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہوں اور قرآن کریم نے اس بات کی بھی صراحت کردی کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت اس لئے کی تھی کہ انہوں نے باپ کے ساتھ اس کا وعدہ کیا تھا۔
فلما تبین لہ انہ عدوللہ تبراء منہ ” جب اسے معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس نے باپ سے برأت کا اظہار کردیا۔ “ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جان لیا کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست یہاں تو اخوت نظریاتی اخوتیں ہیں۔ اسلامی تربیت کے بنیادی عناصر میں سے ایک عنصر یہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں پہلا آمیزہ اور رابطہ اور تعلق نظریاتی تعلق ہے اور سکی انسان اور انسان کے درمیان مضبوط تعلق صرف نظریات کا ہو سکتا ہے جب یہ تعلق کٹ جائے تو تمام تعلقات کٹ جاتے ہیں اور پھر انسان انسان سے دور ہوجاتا ہے۔ کوئی رابطہ اور تعلق نہیں رہتا۔
ولا تخزنی یوم یبعثون (26 : 88) یوم لاینفع مال ولابنون (26 : 88) الامن اتی اللہ بقلب سلیم (26 : 89) ” اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائیج ائیں گے جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد ، بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ قیامت کا دن کس قدر ہولناک ہوگا اور یہ کہ حضرت ابراہیم اللہ سے کس قدر حیا فرماتے ہیں اور اللہ کے سامنے شرمندہ ہونے سے کس قدر خائف ہیں اور یہ خوف اپنی تقصیر کی وجہ سے ہے کہ وہ ایک معزز نبی ہیں۔ نیز حضرت کی اس دعا سے ” جبکہ نہ مال کوئی فادئہ دے نہ اولاد ، بجز اس کے کہ کوئی قلب سلیم لے کر اللہ کے حضور حاضر ہو۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یوم قیامت کی ذمہ داریوں کو کس قدر تفصیل کے ساتھ سمجھ لیا تھا۔ نیز آپ نے دنیاوی اقدار اور اسلامی اقدار کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ کیونکہ یوم القیامہ میں وہی کامیاب ہوگا جو اخلاص کے ساتھ آئے اور اس کا دل اللہ کے لئے ہوجائے اور اس کے اندر دنیا کا کوئی بت یا مقصد نہ ہو۔ ہر بیماری سے پاک ہو ، ہر مفاد سے پاک ہو ، ہر قسم کی خواہشات اور انحرافات سے پاک ہو۔ اللہ کے سوا کسی اور الہ و معبود سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ یہ ہے قلب کی سلامتی جس کا اسلام اور قیامت میں کوئی وزن ہوگا۔
یوم لاینفع مال ولابنون (26 : 88) ” جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد۔ “ دنیا کی کوئی قدر اور کوئی ترجیح اس دن مفید مطلب نہ ہوگی حالانکہ اس دنیا میں ان مطالب اور ترجیحات کے پیچھے انسان کتوں کی طرح دوڑتے ہیں لیکن آخرت کے ترازو میں یہ ترجیحات بےوزن ہیں۔
اب یہاں قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر آتا ہے۔ وہ دن جس سے حضرت ابراہیم اس قدر خائف ہیں تو وہ دیکھو وہ دن نمودار ہوا۔ حضرت ابراہیم ابھی ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں اور سدت بدعا ہیں کہ منظر پر اس دن کا نقشہ نمودار ہوتا ہے۔
الشعراء 26:90
وازلفت ……من المومنین (98)
جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ آیا یہ بت سنتے بھی ہیں یا نفع و نقصان ہی دے سکتے ہیں۔ اب قیامت میں ان سے کہا جائے گا۔
اینما کنتم تعبدون (26 : 92) من دون اللہ (26 : 93) ” کہ اللہ کے سوا تم جن کی پوجا کرتے تھے وہ کہاں ہیں۔ “
ھل ینصرونکم او ینتصرون (26 : 93) ” کیا وہ تمہارے کچھ مدد کرسکتے ہیں یا اپنا بچائو کرسکتے ہیں۔ “ اس کے بعد ان کا کوئی جواب سامنے نہیں آتا نہ ان کے جواب کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہاں تو محض سوال کرنا ہی مطلوب تھا ، صرف سوال ہی سے سرکوبی اور ملامت مطلوب تھی۔
فکبکبوا فیھا ھم والغاون (26 : 93) وجنود ابلیس اجمعون (26 : 95) ” پھر وہ معبود ، یہ بہکے ہوئے لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اوپرتلے دھکیل دیئے جائیں گے۔ ‘ لفظ کمبکبوا کے تلفظ ہی سے اور اس کی صوتی شوکت سے ہی یہ تاثر ملتا ہے کس طرح انہیں دفع کیا جاتا ہے ، کس طرح جہنم کے دھانے سے نیچے بےرحمی کے ساتھ گرایا جاتا ہے ، بغیر کسی ترتیب اور رعایت کے یہ لوگ اوپر تلے کرتے ہیں اور اس پورے عمل سے ایک کبکبہ اور ایک غلفلہ بلند ہوتا ہے۔ جس طرح دریا کا کوئی بلند کنارہ گرتا ہے اور اس کے کرنے کی ڈوبی ہوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ کبکبوا ایسا ہی لفظ ہے جس کے تلفظ ہی سے مفہوم ذہن کی طرف دوڑتا ہے۔ یہ چونکہ گمراہ اور سرکش تھے اس لئے ان کے ساتھ سب سرکش گرائے گئے اور شیطان کے لشکر کے لشکر لائے جاتے ہیں اور گرائے جاتے ہیں اور ان کے گرنے سے کبکبہ اور غلغلہ بلند ہوتا ہے۔ یہاں مخصوص مجرمین کو پہلے خصوصیت کے ساتھ گرایا جائے اور بعد میں عام گرانی شروع ہوگی۔
اب یہ لوگ جہنم میں پڑے ہیں مگر مکالمہ بھی سنائی دیتا ہے۔ یہ اپنے بتوں اور الموں کے بارے میں اب یوں تبصرے کرتے ہیں۔
تاللہ ان کنا لفی ضلل مبین (26 : 98) اذنسوبکم برب العلمین (26 : 98) ” یہ بہکے ہوئے لوگ ان مبعودوں سے کہیں گے خدا کی قسم ہم تو تصریح گمرایہ میں مبتلا تھے جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔ “ تمہاری عبادت بھی رب العالمین کی عبادت کی طرح کرتے تھے۔ یا تو رب العالمین کے ساتھ تمہاری عبادت کرتے تھے یا اس سے الگ۔ اب تو یہ لوگ جہنم میں یہ بات کہہ رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ کیا ہے ؟ یہ تو سب ذمہ داری ان لوگوں پر ڈال رہے ہیں جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا۔ جنہوں نے ان کو گمراہ کیا اور راہ راست کی طرف آنے سے روک دیا لیکن جب یہ جہنم میں قرار پکڑیں گے تو ہوش آئے گا کہ اب تو وقت گزر گیا ہے ۔ اور یہ واویلا بعد از وقت ہے۔ اب اگر ہم ذمہ داریاں تقسیم بھی کردیں تو فائدہ کیا ہوگا۔
فما لنا من شافعین (26 : 100) ولا صدیق حمیم (26 : 101) ” اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست۔ “ اب نہ الہ ہیں جو سفارش کریں۔ نہ دوست ہیں جو کام آئیں۔ اگر سفارش نہیں ہے تو کیا ہم دنیا کی طرف لوٹ نہیں سکتے کہ وہاں دوبارہ جا کر درست رویہ اختیار کریں۔
فلو ان لنا کرہ فنکون من المومنین (26 : 102) ” کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقعہ مل جائے تو ہم مومن ہوں “۔ مگر یہ تو تمناہی تمنا ہوگی۔ نہ واپسی ہوگی ، نہ سفارش ہوگی۔ یہ ہوگا یوم الدین۔ اب آخری تبصرہ !
الشعراء 26:91
وازلفت ……من المومنین (98)
جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ آیا یہ بت سنتے بھی ہیں یا نفع و نقصان ہی دے سکتے ہیں۔ اب قیامت میں ان سے کہا جائے گا۔
اینما کنتم تعبدون (26 : 92) من دون اللہ (26 : 93) ” کہ اللہ کے سوا تم جن کی پوجا کرتے تھے وہ کہاں ہیں۔ “
ھل ینصرونکم او ینتصرون (26 : 93) ” کیا وہ تمہارے کچھ مدد کرسکتے ہیں یا اپنا بچائو کرسکتے ہیں۔ “ اس کے بعد ان کا کوئی جواب سامنے نہیں آتا نہ ان کے جواب کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہاں تو محض سوال کرنا ہی مطلوب تھا ، صرف سوال ہی سے سرکوبی اور ملامت مطلوب تھی۔
فکبکبوا فیھا ھم والغاون (26 : 93) وجنود ابلیس اجمعون (26 : 95) ” پھر وہ معبود ، یہ بہکے ہوئے لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اوپرتلے دھکیل دیئے جائیں گے۔ ‘ لفظ کمبکبوا کے تلفظ ہی سے اور اس کی صوتی شوکت سے ہی یہ تاثر ملتا ہے کس طرح انہیں دفع کیا جاتا ہے ، کس طرح جہنم کے دھانے سے نیچے بےرحمی کے ساتھ گرایا جاتا ہے ، بغیر کسی ترتیب اور رعایت کے یہ لوگ اوپر تلے کرتے ہیں اور اس پورے عمل سے ایک کبکبہ اور ایک غلفلہ بلند ہوتا ہے۔ جس طرح دریا کا کوئی بلند کنارہ گرتا ہے اور اس کے کرنے کی ڈوبی ہوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ کبکبوا ایسا ہی لفظ ہے جس کے تلفظ ہی سے مفہوم ذہن کی طرف دوڑتا ہے۔ یہ چونکہ گمراہ اور سرکش تھے اس لئے ان کے ساتھ سب سرکش گرائے گئے اور شیطان کے لشکر کے لشکر لائے جاتے ہیں اور گرائے جاتے ہیں اور ان کے گرنے سے کبکبہ اور غلغلہ بلند ہوتا ہے۔ یہاں مخصوص مجرمین کو پہلے خصوصیت کے ساتھ گرایا جائے اور بعد میں عام گرانی شروع ہوگی۔
اب یہ لوگ جہنم میں پڑے ہیں مگر مکالمہ بھی سنائی دیتا ہے۔ یہ اپنے بتوں اور الموں کے بارے میں اب یوں تبصرے کرتے ہیں۔
تاللہ ان کنا لفی ضلل مبین (26 : 98) اذنسوبکم برب العلمین (26 : 98) ” یہ بہکے ہوئے لوگ ان مبعودوں سے کہیں گے خدا کی قسم ہم تو تصریح گمرایہ میں مبتلا تھے جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔ “ تمہاری عبادت بھی رب العالمین کی عبادت کی طرح کرتے تھے۔ یا تو رب العالمین کے ساتھ تمہاری عبادت کرتے تھے یا اس سے الگ۔ اب تو یہ لوگ جہنم میں یہ بات کہہ رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ کیا ہے ؟ یہ تو سب ذمہ داری ان لوگوں پر ڈال رہے ہیں جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا۔ جنہوں نے ان کو گمراہ کیا اور راہ راست کی طرف آنے سے روک دیا لیکن جب یہ جہنم میں قرار پکڑیں گے تو ہوش آئے گا کہ اب تو وقت گزر گیا ہے ۔ اور یہ واویلا بعد از وقت ہے۔ اب اگر ہم ذمہ داریاں تقسیم بھی کردیں تو فائدہ کیا ہوگا۔
فما لنا من شافعین (26 : 100) ولا صدیق حمیم (26 : 101) ” اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست۔ “ اب نہ الہ ہیں جو سفارش کریں۔ نہ دوست ہیں جو کام آئیں۔ اگر سفارش نہیں ہے تو کیا ہم دنیا کی طرف لوٹ نہیں سکتے کہ وہاں دوبارہ جا کر درست رویہ اختیار کریں۔
فلو ان لنا کرہ فنکون من المومنین (26 : 102) ” کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقعہ مل جائے تو ہم مومن ہوں “۔ مگر یہ تو تمناہی تمنا ہوگی۔ نہ واپسی ہوگی ، نہ سفارش ہوگی۔ یہ ہوگا یوم الدین۔ اب آخری تبصرہ !
الشعراء 26:92
وازلفت ……من المومنین (98)
جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ آیا یہ بت سنتے بھی ہیں یا نفع و نقصان ہی دے سکتے ہیں۔ اب قیامت میں ان سے کہا جائے گا۔
اینما کنتم تعبدون (26 : 92) من دون اللہ (26 : 93) ” کہ اللہ کے سوا تم جن کی پوجا کرتے تھے وہ کہاں ہیں۔ “
ھل ینصرونکم او ینتصرون (26 : 93) ” کیا وہ تمہارے کچھ مدد کرسکتے ہیں یا اپنا بچائو کرسکتے ہیں۔ “ اس کے بعد ان کا کوئی جواب سامنے نہیں آتا نہ ان کے جواب کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہاں تو محض سوال کرنا ہی مطلوب تھا ، صرف سوال ہی سے سرکوبی اور ملامت مطلوب تھی۔
فکبکبوا فیھا ھم والغاون (26 : 93) وجنود ابلیس اجمعون (26 : 95) ” پھر وہ معبود ، یہ بہکے ہوئے لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اوپرتلے دھکیل دیئے جائیں گے۔ ‘ لفظ کمبکبوا کے تلفظ ہی سے اور اس کی صوتی شوکت سے ہی یہ تاثر ملتا ہے کس طرح انہیں دفع کیا جاتا ہے ، کس طرح جہنم کے دھانے سے نیچے بےرحمی کے ساتھ گرایا جاتا ہے ، بغیر کسی ترتیب اور رعایت کے یہ لوگ اوپر تلے کرتے ہیں اور اس پورے عمل سے ایک کبکبہ اور ایک غلفلہ بلند ہوتا ہے۔ جس طرح دریا کا کوئی بلند کنارہ گرتا ہے اور اس کے کرنے کی ڈوبی ہوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ کبکبوا ایسا ہی لفظ ہے جس کے تلفظ ہی سے مفہوم ذہن کی طرف دوڑتا ہے۔ یہ چونکہ گمراہ اور سرکش تھے اس لئے ان کے ساتھ سب سرکش گرائے گئے اور شیطان کے لشکر کے لشکر لائے جاتے ہیں اور گرائے جاتے ہیں اور ان کے گرنے سے کبکبہ اور غلغلہ بلند ہوتا ہے۔ یہاں مخصوص مجرمین کو پہلے خصوصیت کے ساتھ گرایا جائے اور بعد میں عام گرانی شروع ہوگی۔
اب یہ لوگ جہنم میں پڑے ہیں مگر مکالمہ بھی سنائی دیتا ہے۔ یہ اپنے بتوں اور الموں کے بارے میں اب یوں تبصرے کرتے ہیں۔
تاللہ ان کنا لفی ضلل مبین (26 : 98) اذنسوبکم برب العلمین (26 : 98) ” یہ بہکے ہوئے لوگ ان مبعودوں سے کہیں گے خدا کی قسم ہم تو تصریح گمرایہ میں مبتلا تھے جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔ “ تمہاری عبادت بھی رب العالمین کی عبادت کی طرح کرتے تھے۔ یا تو رب العالمین کے ساتھ تمہاری عبادت کرتے تھے یا اس سے الگ۔ اب تو یہ لوگ جہنم میں یہ بات کہہ رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ کیا ہے ؟ یہ تو سب ذمہ داری ان لوگوں پر ڈال رہے ہیں جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا۔ جنہوں نے ان کو گمراہ کیا اور راہ راست کی طرف آنے سے روک دیا لیکن جب یہ جہنم میں قرار پکڑیں گے تو ہوش آئے گا کہ اب تو وقت گزر گیا ہے ۔ اور یہ واویلا بعد از وقت ہے۔ اب اگر ہم ذمہ داریاں تقسیم بھی کردیں تو فائدہ کیا ہوگا۔
فما لنا من شافعین (26 : 100) ولا صدیق حمیم (26 : 101) ” اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست۔ “ اب نہ الہ ہیں جو سفارش کریں۔ نہ دوست ہیں جو کام آئیں۔ اگر سفارش نہیں ہے تو کیا ہم دنیا کی طرف لوٹ نہیں سکتے کہ وہاں دوبارہ جا کر درست رویہ اختیار کریں۔
فلو ان لنا کرہ فنکون من المومنین (26 : 102) ” کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقعہ مل جائے تو ہم مومن ہوں “۔ مگر یہ تو تمناہی تمنا ہوگی۔ نہ واپسی ہوگی ، نہ سفارش ہوگی۔ یہ ہوگا یوم الدین۔ اب آخری تبصرہ !
الشعراء 26:93
وازلفت ……من المومنین (98)
جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ آیا یہ بت سنتے بھی ہیں یا نفع و نقصان ہی دے سکتے ہیں۔ اب قیامت میں ان سے کہا جائے گا۔
اینما کنتم تعبدون (26 : 92) من دون اللہ (26 : 93) ” کہ اللہ کے سوا تم جن کی پوجا کرتے تھے وہ کہاں ہیں۔ “
ھل ینصرونکم او ینتصرون (26 : 93) ” کیا وہ تمہارے کچھ مدد کرسکتے ہیں یا اپنا بچائو کرسکتے ہیں۔ “ اس کے بعد ان کا کوئی جواب سامنے نہیں آتا نہ ان کے جواب کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہاں تو محض سوال کرنا ہی مطلوب تھا ، صرف سوال ہی سے سرکوبی اور ملامت مطلوب تھی۔
فکبکبوا فیھا ھم والغاون (26 : 93) وجنود ابلیس اجمعون (26 : 95) ” پھر وہ معبود ، یہ بہکے ہوئے لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اوپرتلے دھکیل دیئے جائیں گے۔ ‘ لفظ کمبکبوا کے تلفظ ہی سے اور اس کی صوتی شوکت سے ہی یہ تاثر ملتا ہے کس طرح انہیں دفع کیا جاتا ہے ، کس طرح جہنم کے دھانے سے نیچے بےرحمی کے ساتھ گرایا جاتا ہے ، بغیر کسی ترتیب اور رعایت کے یہ لوگ اوپر تلے کرتے ہیں اور اس پورے عمل سے ایک کبکبہ اور ایک غلفلہ بلند ہوتا ہے۔ جس طرح دریا کا کوئی بلند کنارہ گرتا ہے اور اس کے کرنے کی ڈوبی ہوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ کبکبوا ایسا ہی لفظ ہے جس کے تلفظ ہی سے مفہوم ذہن کی طرف دوڑتا ہے۔ یہ چونکہ گمراہ اور سرکش تھے اس لئے ان کے ساتھ سب سرکش گرائے گئے اور شیطان کے لشکر کے لشکر لائے جاتے ہیں اور گرائے جاتے ہیں اور ان کے گرنے سے کبکبہ اور غلغلہ بلند ہوتا ہے۔ یہاں مخصوص مجرمین کو پہلے خصوصیت کے ساتھ گرایا جائے اور بعد میں عام گرانی شروع ہوگی۔
اب یہ لوگ جہنم میں پڑے ہیں مگر مکالمہ بھی سنائی دیتا ہے۔ یہ اپنے بتوں اور الموں کے بارے میں اب یوں تبصرے کرتے ہیں۔
تاللہ ان کنا لفی ضلل مبین (26 : 98) اذنسوبکم برب العلمین (26 : 98) ” یہ بہکے ہوئے لوگ ان مبعودوں سے کہیں گے خدا کی قسم ہم تو تصریح گمرایہ میں مبتلا تھے جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔ “ تمہاری عبادت بھی رب العالمین کی عبادت کی طرح کرتے تھے۔ یا تو رب العالمین کے ساتھ تمہاری عبادت کرتے تھے یا اس سے الگ۔ اب تو یہ لوگ جہنم میں یہ بات کہہ رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ کیا ہے ؟ یہ تو سب ذمہ داری ان لوگوں پر ڈال رہے ہیں جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا۔ جنہوں نے ان کو گمراہ کیا اور راہ راست کی طرف آنے سے روک دیا لیکن جب یہ جہنم میں قرار پکڑیں گے تو ہوش آئے گا کہ اب تو وقت گزر گیا ہے ۔ اور یہ واویلا بعد از وقت ہے۔ اب اگر ہم ذمہ داریاں تقسیم بھی کردیں تو فائدہ کیا ہوگا۔
فما لنا من شافعین (26 : 100) ولا صدیق حمیم (26 : 101) ” اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست۔ “ اب نہ الہ ہیں جو سفارش کریں۔ نہ دوست ہیں جو کام آئیں۔ اگر سفارش نہیں ہے تو کیا ہم دنیا کی طرف لوٹ نہیں سکتے کہ وہاں دوبارہ جا کر درست رویہ اختیار کریں۔
فلو ان لنا کرہ فنکون من المومنین (26 : 102) ” کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقعہ مل جائے تو ہم مومن ہوں “۔ مگر یہ تو تمناہی تمنا ہوگی۔ نہ واپسی ہوگی ، نہ سفارش ہوگی۔ یہ ہوگا یوم الدین۔ اب آخری تبصرہ !
الشعراء 26:94
وازلفت ……من المومنین (98)
جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ آیا یہ بت سنتے بھی ہیں یا نفع و نقصان ہی دے سکتے ہیں۔ اب قیامت میں ان سے کہا جائے گا۔
اینما کنتم تعبدون (26 : 92) من دون اللہ (26 : 93) ” کہ اللہ کے سوا تم جن کی پوجا کرتے تھے وہ کہاں ہیں۔ “
ھل ینصرونکم او ینتصرون (26 : 93) ” کیا وہ تمہارے کچھ مدد کرسکتے ہیں یا اپنا بچائو کرسکتے ہیں۔ “ اس کے بعد ان کا کوئی جواب سامنے نہیں آتا نہ ان کے جواب کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہاں تو محض سوال کرنا ہی مطلوب تھا ، صرف سوال ہی سے سرکوبی اور ملامت مطلوب تھی۔
فکبکبوا فیھا ھم والغاون (26 : 93) وجنود ابلیس اجمعون (26 : 95) ” پھر وہ معبود ، یہ بہکے ہوئے لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اوپرتلے دھکیل دیئے جائیں گے۔ ‘ لفظ کمبکبوا کے تلفظ ہی سے اور اس کی صوتی شوکت سے ہی یہ تاثر ملتا ہے کس طرح انہیں دفع کیا جاتا ہے ، کس طرح جہنم کے دھانے سے نیچے بےرحمی کے ساتھ گرایا جاتا ہے ، بغیر کسی ترتیب اور رعایت کے یہ لوگ اوپر تلے کرتے ہیں اور اس پورے عمل سے ایک کبکبہ اور ایک غلفلہ بلند ہوتا ہے۔ جس طرح دریا کا کوئی بلند کنارہ گرتا ہے اور اس کے کرنے کی ڈوبی ہوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ کبکبوا ایسا ہی لفظ ہے جس کے تلفظ ہی سے مفہوم ذہن کی طرف دوڑتا ہے۔ یہ چونکہ گمراہ اور سرکش تھے اس لئے ان کے ساتھ سب سرکش گرائے گئے اور شیطان کے لشکر کے لشکر لائے جاتے ہیں اور گرائے جاتے ہیں اور ان کے گرنے سے کبکبہ اور غلغلہ بلند ہوتا ہے۔ یہاں مخصوص مجرمین کو پہلے خصوصیت کے ساتھ گرایا جائے اور بعد میں عام گرانی شروع ہوگی۔
اب یہ لوگ جہنم میں پڑے ہیں مگر مکالمہ بھی سنائی دیتا ہے۔ یہ اپنے بتوں اور الموں کے بارے میں اب یوں تبصرے کرتے ہیں۔
تاللہ ان کنا لفی ضلل مبین (26 : 98) اذنسوبکم برب العلمین (26 : 98) ” یہ بہکے ہوئے لوگ ان مبعودوں سے کہیں گے خدا کی قسم ہم تو تصریح گمرایہ میں مبتلا تھے جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔ “ تمہاری عبادت بھی رب العالمین کی عبادت کی طرح کرتے تھے۔ یا تو رب العالمین کے ساتھ تمہاری عبادت کرتے تھے یا اس سے الگ۔ اب تو یہ لوگ جہنم میں یہ بات کہہ رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ کیا ہے ؟ یہ تو سب ذمہ داری ان لوگوں پر ڈال رہے ہیں جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا۔ جنہوں نے ان کو گمراہ کیا اور راہ راست کی طرف آنے سے روک دیا لیکن جب یہ جہنم میں قرار پکڑیں گے تو ہوش آئے گا کہ اب تو وقت گزر گیا ہے ۔ اور یہ واویلا بعد از وقت ہے۔ اب اگر ہم ذمہ داریاں تقسیم بھی کردیں تو فائدہ کیا ہوگا۔
فما لنا من شافعین (26 : 100) ولا صدیق حمیم (26 : 101) ” اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست۔ “ اب نہ الہ ہیں جو سفارش کریں۔ نہ دوست ہیں جو کام آئیں۔ اگر سفارش نہیں ہے تو کیا ہم دنیا کی طرف لوٹ نہیں سکتے کہ وہاں دوبارہ جا کر درست رویہ اختیار کریں۔
فلو ان لنا کرہ فنکون من المومنین (26 : 102) ” کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقعہ مل جائے تو ہم مومن ہوں “۔ مگر یہ تو تمناہی تمنا ہوگی۔ نہ واپسی ہوگی ، نہ سفارش ہوگی۔ یہ ہوگا یوم الدین۔ اب آخری تبصرہ !
الشعراء 26:95
وازلفت ……من المومنین (98)
جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ آیا یہ بت سنتے بھی ہیں یا نفع و نقصان ہی دے سکتے ہیں۔ اب قیامت میں ان سے کہا جائے گا۔
اینما کنتم تعبدون (26 : 92) من دون اللہ (26 : 93) ” کہ اللہ کے سوا تم جن کی پوجا کرتے تھے وہ کہاں ہیں۔ “
ھل ینصرونکم او ینتصرون (26 : 93) ” کیا وہ تمہارے کچھ مدد کرسکتے ہیں یا اپنا بچائو کرسکتے ہیں۔ “ اس کے بعد ان کا کوئی جواب سامنے نہیں آتا نہ ان کے جواب کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہاں تو محض سوال کرنا ہی مطلوب تھا ، صرف سوال ہی سے سرکوبی اور ملامت مطلوب تھی۔
فکبکبوا فیھا ھم والغاون (26 : 93) وجنود ابلیس اجمعون (26 : 95) ” پھر وہ معبود ، یہ بہکے ہوئے لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اوپرتلے دھکیل دیئے جائیں گے۔ ‘ لفظ کمبکبوا کے تلفظ ہی سے اور اس کی صوتی شوکت سے ہی یہ تاثر ملتا ہے کس طرح انہیں دفع کیا جاتا ہے ، کس طرح جہنم کے دھانے سے نیچے بےرحمی کے ساتھ گرایا جاتا ہے ، بغیر کسی ترتیب اور رعایت کے یہ لوگ اوپر تلے کرتے ہیں اور اس پورے عمل سے ایک کبکبہ اور ایک غلفلہ بلند ہوتا ہے۔ جس طرح دریا کا کوئی بلند کنارہ گرتا ہے اور اس کے کرنے کی ڈوبی ہوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ کبکبوا ایسا ہی لفظ ہے جس کے تلفظ ہی سے مفہوم ذہن کی طرف دوڑتا ہے۔ یہ چونکہ گمراہ اور سرکش تھے اس لئے ان کے ساتھ سب سرکش گرائے گئے اور شیطان کے لشکر کے لشکر لائے جاتے ہیں اور گرائے جاتے ہیں اور ان کے گرنے سے کبکبہ اور غلغلہ بلند ہوتا ہے۔ یہاں مخصوص مجرمین کو پہلے خصوصیت کے ساتھ گرایا جائے اور بعد میں عام گرانی شروع ہوگی۔
اب یہ لوگ جہنم میں پڑے ہیں مگر مکالمہ بھی سنائی دیتا ہے۔ یہ اپنے بتوں اور الموں کے بارے میں اب یوں تبصرے کرتے ہیں۔
تاللہ ان کنا لفی ضلل مبین (26 : 98) اذنسوبکم برب العلمین (26 : 98) ” یہ بہکے ہوئے لوگ ان مبعودوں سے کہیں گے خدا کی قسم ہم تو تصریح گمرایہ میں مبتلا تھے جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔ “ تمہاری عبادت بھی رب العالمین کی عبادت کی طرح کرتے تھے۔ یا تو رب العالمین کے ساتھ تمہاری عبادت کرتے تھے یا اس سے الگ۔ اب تو یہ لوگ جہنم میں یہ بات کہہ رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ کیا ہے ؟ یہ تو سب ذمہ داری ان لوگوں پر ڈال رہے ہیں جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا۔ جنہوں نے ان کو گمراہ کیا اور راہ راست کی طرف آنے سے روک دیا لیکن جب یہ جہنم میں قرار پکڑیں گے تو ہوش آئے گا کہ اب تو وقت گزر گیا ہے ۔ اور یہ واویلا بعد از وقت ہے۔ اب اگر ہم ذمہ داریاں تقسیم بھی کردیں تو فائدہ کیا ہوگا۔
فما لنا من شافعین (26 : 100) ولا صدیق حمیم (26 : 101) ” اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست۔ “ اب نہ الہ ہیں جو سفارش کریں۔ نہ دوست ہیں جو کام آئیں۔ اگر سفارش نہیں ہے تو کیا ہم دنیا کی طرف لوٹ نہیں سکتے کہ وہاں دوبارہ جا کر درست رویہ اختیار کریں۔
فلو ان لنا کرہ فنکون من المومنین (26 : 102) ” کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقعہ مل جائے تو ہم مومن ہوں “۔ مگر یہ تو تمناہی تمنا ہوگی۔ نہ واپسی ہوگی ، نہ سفارش ہوگی۔ یہ ہوگا یوم الدین۔ اب آخری تبصرہ !
الشعراء 26:96
وازلفت ……من المومنین (98)
جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ آیا یہ بت سنتے بھی ہیں یا نفع و نقصان ہی دے سکتے ہیں۔ اب قیامت میں ان سے کہا جائے گا۔
اینما کنتم تعبدون (26 : 92) من دون اللہ (26 : 93) ” کہ اللہ کے سوا تم جن کی پوجا کرتے تھے وہ کہاں ہیں۔ “
ھل ینصرونکم او ینتصرون (26 : 93) ” کیا وہ تمہارے کچھ مدد کرسکتے ہیں یا اپنا بچائو کرسکتے ہیں۔ “ اس کے بعد ان کا کوئی جواب سامنے نہیں آتا نہ ان کے جواب کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہاں تو محض سوال کرنا ہی مطلوب تھا ، صرف سوال ہی سے سرکوبی اور ملامت مطلوب تھی۔
فکبکبوا فیھا ھم والغاون (26 : 93) وجنود ابلیس اجمعون (26 : 95) ” پھر وہ معبود ، یہ بہکے ہوئے لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اوپرتلے دھکیل دیئے جائیں گے۔ ‘ لفظ کمبکبوا کے تلفظ ہی سے اور اس کی صوتی شوکت سے ہی یہ تاثر ملتا ہے کس طرح انہیں دفع کیا جاتا ہے ، کس طرح جہنم کے دھانے سے نیچے بےرحمی کے ساتھ گرایا جاتا ہے ، بغیر کسی ترتیب اور رعایت کے یہ لوگ اوپر تلے کرتے ہیں اور اس پورے عمل سے ایک کبکبہ اور ایک غلفلہ بلند ہوتا ہے۔ جس طرح دریا کا کوئی بلند کنارہ گرتا ہے اور اس کے کرنے کی ڈوبی ہوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ کبکبوا ایسا ہی لفظ ہے جس کے تلفظ ہی سے مفہوم ذہن کی طرف دوڑتا ہے۔ یہ چونکہ گمراہ اور سرکش تھے اس لئے ان کے ساتھ سب سرکش گرائے گئے اور شیطان کے لشکر کے لشکر لائے جاتے ہیں اور گرائے جاتے ہیں اور ان کے گرنے سے کبکبہ اور غلغلہ بلند ہوتا ہے۔ یہاں مخصوص مجرمین کو پہلے خصوصیت کے ساتھ گرایا جائے اور بعد میں عام گرانی شروع ہوگی۔
اب یہ لوگ جہنم میں پڑے ہیں مگر مکالمہ بھی سنائی دیتا ہے۔ یہ اپنے بتوں اور الموں کے بارے میں اب یوں تبصرے کرتے ہیں۔
تاللہ ان کنا لفی ضلل مبین (26 : 98) اذنسوبکم برب العلمین (26 : 98) ” یہ بہکے ہوئے لوگ ان مبعودوں سے کہیں گے خدا کی قسم ہم تو تصریح گمرایہ میں مبتلا تھے جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔ “ تمہاری عبادت بھی رب العالمین کی عبادت کی طرح کرتے تھے۔ یا تو رب العالمین کے ساتھ تمہاری عبادت کرتے تھے یا اس سے الگ۔ اب تو یہ لوگ جہنم میں یہ بات کہہ رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ کیا ہے ؟ یہ تو سب ذمہ داری ان لوگوں پر ڈال رہے ہیں جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا۔ جنہوں نے ان کو گمراہ کیا اور راہ راست کی طرف آنے سے روک دیا لیکن جب یہ جہنم میں قرار پکڑیں گے تو ہوش آئے گا کہ اب تو وقت گزر گیا ہے ۔ اور یہ واویلا بعد از وقت ہے۔ اب اگر ہم ذمہ داریاں تقسیم بھی کردیں تو فائدہ کیا ہوگا۔
فما لنا من شافعین (26 : 100) ولا صدیق حمیم (26 : 101) ” اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست۔ “ اب نہ الہ ہیں جو سفارش کریں۔ نہ دوست ہیں جو کام آئیں۔ اگر سفارش نہیں ہے تو کیا ہم دنیا کی طرف لوٹ نہیں سکتے کہ وہاں دوبارہ جا کر درست رویہ اختیار کریں۔
فلو ان لنا کرہ فنکون من المومنین (26 : 102) ” کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقعہ مل جائے تو ہم مومن ہوں “۔ مگر یہ تو تمناہی تمنا ہوگی۔ نہ واپسی ہوگی ، نہ سفارش ہوگی۔ یہ ہوگا یوم الدین۔ اب آخری تبصرہ !
الشعراء 26:97
وازلفت ……من المومنین (98)
جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ آیا یہ بت سنتے بھی ہیں یا نفع و نقصان ہی دے سکتے ہیں۔ اب قیامت میں ان سے کہا جائے گا۔
اینما کنتم تعبدون (26 : 92) من دون اللہ (26 : 93) ” کہ اللہ کے سوا تم جن کی پوجا کرتے تھے وہ کہاں ہیں۔ “
ھل ینصرونکم او ینتصرون (26 : 93) ” کیا وہ تمہارے کچھ مدد کرسکتے ہیں یا اپنا بچائو کرسکتے ہیں۔ “ اس کے بعد ان کا کوئی جواب سامنے نہیں آتا نہ ان کے جواب کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہاں تو محض سوال کرنا ہی مطلوب تھا ، صرف سوال ہی سے سرکوبی اور ملامت مطلوب تھی۔
فکبکبوا فیھا ھم والغاون (26 : 93) وجنود ابلیس اجمعون (26 : 95) ” پھر وہ معبود ، یہ بہکے ہوئے لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اوپرتلے دھکیل دیئے جائیں گے۔ ‘ لفظ کمبکبوا کے تلفظ ہی سے اور اس کی صوتی شوکت سے ہی یہ تاثر ملتا ہے کس طرح انہیں دفع کیا جاتا ہے ، کس طرح جہنم کے دھانے سے نیچے بےرحمی کے ساتھ گرایا جاتا ہے ، بغیر کسی ترتیب اور رعایت کے یہ لوگ اوپر تلے کرتے ہیں اور اس پورے عمل سے ایک کبکبہ اور ایک غلفلہ بلند ہوتا ہے۔ جس طرح دریا کا کوئی بلند کنارہ گرتا ہے اور اس کے کرنے کی ڈوبی ہوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ کبکبوا ایسا ہی لفظ ہے جس کے تلفظ ہی سے مفہوم ذہن کی طرف دوڑتا ہے۔ یہ چونکہ گمراہ اور سرکش تھے اس لئے ان کے ساتھ سب سرکش گرائے گئے اور شیطان کے لشکر کے لشکر لائے جاتے ہیں اور گرائے جاتے ہیں اور ان کے گرنے سے کبکبہ اور غلغلہ بلند ہوتا ہے۔ یہاں مخصوص مجرمین کو پہلے خصوصیت کے ساتھ گرایا جائے اور بعد میں عام گرانی شروع ہوگی۔
اب یہ لوگ جہنم میں پڑے ہیں مگر مکالمہ بھی سنائی دیتا ہے۔ یہ اپنے بتوں اور الموں کے بارے میں اب یوں تبصرے کرتے ہیں۔
تاللہ ان کنا لفی ضلل مبین (26 : 98) اذنسوبکم برب العلمین (26 : 98) ” یہ بہکے ہوئے لوگ ان مبعودوں سے کہیں گے خدا کی قسم ہم تو تصریح گمرایہ میں مبتلا تھے جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔ “ تمہاری عبادت بھی رب العالمین کی عبادت کی طرح کرتے تھے۔ یا تو رب العالمین کے ساتھ تمہاری عبادت کرتے تھے یا اس سے الگ۔ اب تو یہ لوگ جہنم میں یہ بات کہہ رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ کیا ہے ؟ یہ تو سب ذمہ داری ان لوگوں پر ڈال رہے ہیں جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا۔ جنہوں نے ان کو گمراہ کیا اور راہ راست کی طرف آنے سے روک دیا لیکن جب یہ جہنم میں قرار پکڑیں گے تو ہوش آئے گا کہ اب تو وقت گزر گیا ہے ۔ اور یہ واویلا بعد از وقت ہے۔ اب اگر ہم ذمہ داریاں تقسیم بھی کردیں تو فائدہ کیا ہوگا۔
فما لنا من شافعین (26 : 100) ولا صدیق حمیم (26 : 101) ” اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست۔ “ اب نہ الہ ہیں جو سفارش کریں۔ نہ دوست ہیں جو کام آئیں۔ اگر سفارش نہیں ہے تو کیا ہم دنیا کی طرف لوٹ نہیں سکتے کہ وہاں دوبارہ جا کر درست رویہ اختیار کریں۔
فلو ان لنا کرہ فنکون من المومنین (26 : 102) ” کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقعہ مل جائے تو ہم مومن ہوں “۔ مگر یہ تو تمناہی تمنا ہوگی۔ نہ واپسی ہوگی ، نہ سفارش ہوگی۔ یہ ہوگا یوم الدین۔ اب آخری تبصرہ !
الشعراء 26:98
وازلفت ……من المومنین (98)
جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ آیا یہ بت سنتے بھی ہیں یا نفع و نقصان ہی دے سکتے ہیں۔ اب قیامت میں ان سے کہا جائے گا۔
اینما کنتم تعبدون (26 : 92) من دون اللہ (26 : 93) ” کہ اللہ کے سوا تم جن کی پوجا کرتے تھے وہ کہاں ہیں۔ “
ھل ینصرونکم او ینتصرون (26 : 93) ” کیا وہ تمہارے کچھ مدد کرسکتے ہیں یا اپنا بچائو کرسکتے ہیں۔ “ اس کے بعد ان کا کوئی جواب سامنے نہیں آتا نہ ان کے جواب کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہاں تو محض سوال کرنا ہی مطلوب تھا ، صرف سوال ہی سے سرکوبی اور ملامت مطلوب تھی۔
فکبکبوا فیھا ھم والغاون (26 : 93) وجنود ابلیس اجمعون (26 : 95) ” پھر وہ معبود ، یہ بہکے ہوئے لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اوپرتلے دھکیل دیئے جائیں گے۔ ‘ لفظ کمبکبوا کے تلفظ ہی سے اور اس کی صوتی شوکت سے ہی یہ تاثر ملتا ہے کس طرح انہیں دفع کیا جاتا ہے ، کس طرح جہنم کے دھانے سے نیچے بےرحمی کے ساتھ گرایا جاتا ہے ، بغیر کسی ترتیب اور رعایت کے یہ لوگ اوپر تلے کرتے ہیں اور اس پورے عمل سے ایک کبکبہ اور ایک غلفلہ بلند ہوتا ہے۔ جس طرح دریا کا کوئی بلند کنارہ گرتا ہے اور اس کے کرنے کی ڈوبی ہوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ کبکبوا ایسا ہی لفظ ہے جس کے تلفظ ہی سے مفہوم ذہن کی طرف دوڑتا ہے۔ یہ چونکہ گمراہ اور سرکش تھے اس لئے ان کے ساتھ سب سرکش گرائے گئے اور شیطان کے لشکر کے لشکر لائے جاتے ہیں اور گرائے جاتے ہیں اور ان کے گرنے سے کبکبہ اور غلغلہ بلند ہوتا ہے۔ یہاں مخصوص مجرمین کو پہلے خصوصیت کے ساتھ گرایا جائے اور بعد میں عام گرانی شروع ہوگی۔
اب یہ لوگ جہنم میں پڑے ہیں مگر مکالمہ بھی سنائی دیتا ہے۔ یہ اپنے بتوں اور الموں کے بارے میں اب یوں تبصرے کرتے ہیں۔
تاللہ ان کنا لفی ضلل مبین (26 : 98) اذنسوبکم برب العلمین (26 : 98) ” یہ بہکے ہوئے لوگ ان مبعودوں سے کہیں گے خدا کی قسم ہم تو تصریح گمرایہ میں مبتلا تھے جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔ “ تمہاری عبادت بھی رب العالمین کی عبادت کی طرح کرتے تھے۔ یا تو رب العالمین کے ساتھ تمہاری عبادت کرتے تھے یا اس سے الگ۔ اب تو یہ لوگ جہنم میں یہ بات کہہ رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ کیا ہے ؟ یہ تو سب ذمہ داری ان لوگوں پر ڈال رہے ہیں جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا۔ جنہوں نے ان کو گمراہ کیا اور راہ راست کی طرف آنے سے روک دیا لیکن جب یہ جہنم میں قرار پکڑیں گے تو ہوش آئے گا کہ اب تو وقت گزر گیا ہے ۔ اور یہ واویلا بعد از وقت ہے۔ اب اگر ہم ذمہ داریاں تقسیم بھی کردیں تو فائدہ کیا ہوگا۔
فما لنا من شافعین (26 : 100) ولا صدیق حمیم (26 : 101) ” اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست۔ “ اب نہ الہ ہیں جو سفارش کریں۔ نہ دوست ہیں جو کام آئیں۔ اگر سفارش نہیں ہے تو کیا ہم دنیا کی طرف لوٹ نہیں سکتے کہ وہاں دوبارہ جا کر درست رویہ اختیار کریں۔
فلو ان لنا کرہ فنکون من المومنین (26 : 102) ” کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقعہ مل جائے تو ہم مومن ہوں “۔ مگر یہ تو تمناہی تمنا ہوگی۔ نہ واپسی ہوگی ، نہ سفارش ہوگی۔ یہ ہوگا یوم الدین۔ اب آخری تبصرہ !
الشعراء 26:99
وازلفت ……من المومنین (98)
جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ آیا یہ بت سنتے بھی ہیں یا نفع و نقصان ہی دے سکتے ہیں۔ اب قیامت میں ان سے کہا جائے گا۔
اینما کنتم تعبدون (26 : 92) من دون اللہ (26 : 93) ” کہ اللہ کے سوا تم جن کی پوجا کرتے تھے وہ کہاں ہیں۔ “
ھل ینصرونکم او ینتصرون (26 : 93) ” کیا وہ تمہارے کچھ مدد کرسکتے ہیں یا اپنا بچائو کرسکتے ہیں۔ “ اس کے بعد ان کا کوئی جواب سامنے نہیں آتا نہ ان کے جواب کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہاں تو محض سوال کرنا ہی مطلوب تھا ، صرف سوال ہی سے سرکوبی اور ملامت مطلوب تھی۔
فکبکبوا فیھا ھم والغاون (26 : 93) وجنود ابلیس اجمعون (26 : 95) ” پھر وہ معبود ، یہ بہکے ہوئے لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اوپرتلے دھکیل دیئے جائیں گے۔ ‘ لفظ کمبکبوا کے تلفظ ہی سے اور اس کی صوتی شوکت سے ہی یہ تاثر ملتا ہے کس طرح انہیں دفع کیا جاتا ہے ، کس طرح جہنم کے دھانے سے نیچے بےرحمی کے ساتھ گرایا جاتا ہے ، بغیر کسی ترتیب اور رعایت کے یہ لوگ اوپر تلے کرتے ہیں اور اس پورے عمل سے ایک کبکبہ اور ایک غلفلہ بلند ہوتا ہے۔ جس طرح دریا کا کوئی بلند کنارہ گرتا ہے اور اس کے کرنے کی ڈوبی ہوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ کبکبوا ایسا ہی لفظ ہے جس کے تلفظ ہی سے مفہوم ذہن کی طرف دوڑتا ہے۔ یہ چونکہ گمراہ اور سرکش تھے اس لئے ان کے ساتھ سب سرکش گرائے گئے اور شیطان کے لشکر کے لشکر لائے جاتے ہیں اور گرائے جاتے ہیں اور ان کے گرنے سے کبکبہ اور غلغلہ بلند ہوتا ہے۔ یہاں مخصوص مجرمین کو پہلے خصوصیت کے ساتھ گرایا جائے اور بعد میں عام گرانی شروع ہوگی۔
اب یہ لوگ جہنم میں پڑے ہیں مگر مکالمہ بھی سنائی دیتا ہے۔ یہ اپنے بتوں اور الموں کے بارے میں اب یوں تبصرے کرتے ہیں۔
تاللہ ان کنا لفی ضلل مبین (26 : 98) اذنسوبکم برب العلمین (26 : 98) ” یہ بہکے ہوئے لوگ ان مبعودوں سے کہیں گے خدا کی قسم ہم تو تصریح گمرایہ میں مبتلا تھے جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔ “ تمہاری عبادت بھی رب العالمین کی عبادت کی طرح کرتے تھے۔ یا تو رب العالمین کے ساتھ تمہاری عبادت کرتے تھے یا اس سے الگ۔ اب تو یہ لوگ جہنم میں یہ بات کہہ رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ کیا ہے ؟ یہ تو سب ذمہ داری ان لوگوں پر ڈال رہے ہیں جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا۔ جنہوں نے ان کو گمراہ کیا اور راہ راست کی طرف آنے سے روک دیا لیکن جب یہ جہنم میں قرار پکڑیں گے تو ہوش آئے گا کہ اب تو وقت گزر گیا ہے ۔ اور یہ واویلا بعد از وقت ہے۔ اب اگر ہم ذمہ داریاں تقسیم بھی کردیں تو فائدہ کیا ہوگا۔
فما لنا من شافعین (26 : 100) ولا صدیق حمیم (26 : 101) ” اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست۔ “ اب نہ الہ ہیں جو سفارش کریں۔ نہ دوست ہیں جو کام آئیں۔ اگر سفارش نہیں ہے تو کیا ہم دنیا کی طرف لوٹ نہیں سکتے کہ وہاں دوبارہ جا کر درست رویہ اختیار کریں۔
فلو ان لنا کرہ فنکون من المومنین (26 : 102) ” کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقعہ مل جائے تو ہم مومن ہوں “۔ مگر یہ تو تمناہی تمنا ہوگی۔ نہ واپسی ہوگی ، نہ سفارش ہوگی۔ یہ ہوگا یوم الدین۔ اب آخری تبصرہ !
الشعراء 26:100
وازلفت ……من المومنین (98)
جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ آیا یہ بت سنتے بھی ہیں یا نفع و نقصان ہی دے سکتے ہیں۔ اب قیامت میں ان سے کہا جائے گا۔
اینما کنتم تعبدون (26 : 92) من دون اللہ (26 : 93) ” کہ اللہ کے سوا تم جن کی پوجا کرتے تھے وہ کہاں ہیں۔ “
ھل ینصرونکم او ینتصرون (26 : 93) ” کیا وہ تمہارے کچھ مدد کرسکتے ہیں یا اپنا بچائو کرسکتے ہیں۔ “ اس کے بعد ان کا کوئی جواب سامنے نہیں آتا نہ ان کے جواب کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہاں تو محض سوال کرنا ہی مطلوب تھا ، صرف سوال ہی سے سرکوبی اور ملامت مطلوب تھی۔
فکبکبوا فیھا ھم والغاون (26 : 93) وجنود ابلیس اجمعون (26 : 95) ” پھر وہ معبود ، یہ بہکے ہوئے لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اوپرتلے دھکیل دیئے جائیں گے۔ ‘ لفظ کمبکبوا کے تلفظ ہی سے اور اس کی صوتی شوکت سے ہی یہ تاثر ملتا ہے کس طرح انہیں دفع کیا جاتا ہے ، کس طرح جہنم کے دھانے سے نیچے بےرحمی کے ساتھ گرایا جاتا ہے ، بغیر کسی ترتیب اور رعایت کے یہ لوگ اوپر تلے کرتے ہیں اور اس پورے عمل سے ایک کبکبہ اور ایک غلفلہ بلند ہوتا ہے۔ جس طرح دریا کا کوئی بلند کنارہ گرتا ہے اور اس کے کرنے کی ڈوبی ہوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ کبکبوا ایسا ہی لفظ ہے جس کے تلفظ ہی سے مفہوم ذہن کی طرف دوڑتا ہے۔ یہ چونکہ گمراہ اور سرکش تھے اس لئے ان کے ساتھ سب سرکش گرائے گئے اور شیطان کے لشکر کے لشکر لائے جاتے ہیں اور گرائے جاتے ہیں اور ان کے گرنے سے کبکبہ اور غلغلہ بلند ہوتا ہے۔ یہاں مخصوص مجرمین کو پہلے خصوصیت کے ساتھ گرایا جائے اور بعد میں عام گرانی شروع ہوگی۔
اب یہ لوگ جہنم میں پڑے ہیں مگر مکالمہ بھی سنائی دیتا ہے۔ یہ اپنے بتوں اور الموں کے بارے میں اب یوں تبصرے کرتے ہیں۔
تاللہ ان کنا لفی ضلل مبین (26 : 98) اذنسوبکم برب العلمین (26 : 98) ” یہ بہکے ہوئے لوگ ان مبعودوں سے کہیں گے خدا کی قسم ہم تو تصریح گمرایہ میں مبتلا تھے جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔ “ تمہاری عبادت بھی رب العالمین کی عبادت کی طرح کرتے تھے۔ یا تو رب العالمین کے ساتھ تمہاری عبادت کرتے تھے یا اس سے الگ۔ اب تو یہ لوگ جہنم میں یہ بات کہہ رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ کیا ہے ؟ یہ تو سب ذمہ داری ان لوگوں پر ڈال رہے ہیں جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا۔ جنہوں نے ان کو گمراہ کیا اور راہ راست کی طرف آنے سے روک دیا لیکن جب یہ جہنم میں قرار پکڑیں گے تو ہوش آئے گا کہ اب تو وقت گزر گیا ہے ۔ اور یہ واویلا بعد از وقت ہے۔ اب اگر ہم ذمہ داریاں تقسیم بھی کردیں تو فائدہ کیا ہوگا۔
فما لنا من شافعین (26 : 100) ولا صدیق حمیم (26 : 101) ” اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست۔ “ اب نہ الہ ہیں جو سفارش کریں۔ نہ دوست ہیں جو کام آئیں۔ اگر سفارش نہیں ہے تو کیا ہم دنیا کی طرف لوٹ نہیں سکتے کہ وہاں دوبارہ جا کر درست رویہ اختیار کریں۔
فلو ان لنا کرہ فنکون من المومنین (26 : 102) ” کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقعہ مل جائے تو ہم مومن ہوں “۔ مگر یہ تو تمناہی تمنا ہوگی۔ نہ واپسی ہوگی ، نہ سفارش ہوگی۔ یہ ہوگا یوم الدین۔ اب آخری تبصرہ !
الشعراء 26:101
وازلفت ……من المومنین (98)
جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ آیا یہ بت سنتے بھی ہیں یا نفع و نقصان ہی دے سکتے ہیں۔ اب قیامت میں ان سے کہا جائے گا۔
اینما کنتم تعبدون (26 : 92) من دون اللہ (26 : 93) ” کہ اللہ کے سوا تم جن کی پوجا کرتے تھے وہ کہاں ہیں۔ “
ھل ینصرونکم او ینتصرون (26 : 93) ” کیا وہ تمہارے کچھ مدد کرسکتے ہیں یا اپنا بچائو کرسکتے ہیں۔ “ اس کے بعد ان کا کوئی جواب سامنے نہیں آتا نہ ان کے جواب کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہاں تو محض سوال کرنا ہی مطلوب تھا ، صرف سوال ہی سے سرکوبی اور ملامت مطلوب تھی۔
فکبکبوا فیھا ھم والغاون (26 : 93) وجنود ابلیس اجمعون (26 : 95) ” پھر وہ معبود ، یہ بہکے ہوئے لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اوپرتلے دھکیل دیئے جائیں گے۔ ‘ لفظ کمبکبوا کے تلفظ ہی سے اور اس کی صوتی شوکت سے ہی یہ تاثر ملتا ہے کس طرح انہیں دفع کیا جاتا ہے ، کس طرح جہنم کے دھانے سے نیچے بےرحمی کے ساتھ گرایا جاتا ہے ، بغیر کسی ترتیب اور رعایت کے یہ لوگ اوپر تلے کرتے ہیں اور اس پورے عمل سے ایک کبکبہ اور ایک غلفلہ بلند ہوتا ہے۔ جس طرح دریا کا کوئی بلند کنارہ گرتا ہے اور اس کے کرنے کی ڈوبی ہوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ کبکبوا ایسا ہی لفظ ہے جس کے تلفظ ہی سے مفہوم ذہن کی طرف دوڑتا ہے۔ یہ چونکہ گمراہ اور سرکش تھے اس لئے ان کے ساتھ سب سرکش گرائے گئے اور شیطان کے لشکر کے لشکر لائے جاتے ہیں اور گرائے جاتے ہیں اور ان کے گرنے سے کبکبہ اور غلغلہ بلند ہوتا ہے۔ یہاں مخصوص مجرمین کو پہلے خصوصیت کے ساتھ گرایا جائے اور بعد میں عام گرانی شروع ہوگی۔
اب یہ لوگ جہنم میں پڑے ہیں مگر مکالمہ بھی سنائی دیتا ہے۔ یہ اپنے بتوں اور الموں کے بارے میں اب یوں تبصرے کرتے ہیں۔
تاللہ ان کنا لفی ضلل مبین (26 : 98) اذنسوبکم برب العلمین (26 : 98) ” یہ بہکے ہوئے لوگ ان مبعودوں سے کہیں گے خدا کی قسم ہم تو تصریح گمرایہ میں مبتلا تھے جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔ “ تمہاری عبادت بھی رب العالمین کی عبادت کی طرح کرتے تھے۔ یا تو رب العالمین کے ساتھ تمہاری عبادت کرتے تھے یا اس سے الگ۔ اب تو یہ لوگ جہنم میں یہ بات کہہ رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ کیا ہے ؟ یہ تو سب ذمہ داری ان لوگوں پر ڈال رہے ہیں جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا۔ جنہوں نے ان کو گمراہ کیا اور راہ راست کی طرف آنے سے روک دیا لیکن جب یہ جہنم میں قرار پکڑیں گے تو ہوش آئے گا کہ اب تو وقت گزر گیا ہے ۔ اور یہ واویلا بعد از وقت ہے۔ اب اگر ہم ذمہ داریاں تقسیم بھی کردیں تو فائدہ کیا ہوگا۔
فما لنا من شافعین (26 : 100) ولا صدیق حمیم (26 : 101) ” اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست۔ “ اب نہ الہ ہیں جو سفارش کریں۔ نہ دوست ہیں جو کام آئیں۔ اگر سفارش نہیں ہے تو کیا ہم دنیا کی طرف لوٹ نہیں سکتے کہ وہاں دوبارہ جا کر درست رویہ اختیار کریں۔
فلو ان لنا کرہ فنکون من المومنین (26 : 102) ” کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقعہ مل جائے تو ہم مومن ہوں “۔ مگر یہ تو تمناہی تمنا ہوگی۔ نہ واپسی ہوگی ، نہ سفارش ہوگی۔ یہ ہوگا یوم الدین۔ اب آخری تبصرہ !
الشعراء 26:102
وازلفت ……من المومنین (98)
جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ آیا یہ بت سنتے بھی ہیں یا نفع و نقصان ہی دے سکتے ہیں۔ اب قیامت میں ان سے کہا جائے گا۔
اینما کنتم تعبدون (26 : 92) من دون اللہ (26 : 93) ” کہ اللہ کے سوا تم جن کی پوجا کرتے تھے وہ کہاں ہیں۔ “
ھل ینصرونکم او ینتصرون (26 : 93) ” کیا وہ تمہارے کچھ مدد کرسکتے ہیں یا اپنا بچائو کرسکتے ہیں۔ “ اس کے بعد ان کا کوئی جواب سامنے نہیں آتا نہ ان کے جواب کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہاں تو محض سوال کرنا ہی مطلوب تھا ، صرف سوال ہی سے سرکوبی اور ملامت مطلوب تھی۔
فکبکبوا فیھا ھم والغاون (26 : 93) وجنود ابلیس اجمعون (26 : 95) ” پھر وہ معبود ، یہ بہکے ہوئے لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اوپرتلے دھکیل دیئے جائیں گے۔ ‘ لفظ کمبکبوا کے تلفظ ہی سے اور اس کی صوتی شوکت سے ہی یہ تاثر ملتا ہے کس طرح انہیں دفع کیا جاتا ہے ، کس طرح جہنم کے دھانے سے نیچے بےرحمی کے ساتھ گرایا جاتا ہے ، بغیر کسی ترتیب اور رعایت کے یہ لوگ اوپر تلے کرتے ہیں اور اس پورے عمل سے ایک کبکبہ اور ایک غلفلہ بلند ہوتا ہے۔ جس طرح دریا کا کوئی بلند کنارہ گرتا ہے اور اس کے کرنے کی ڈوبی ہوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ کبکبوا ایسا ہی لفظ ہے جس کے تلفظ ہی سے مفہوم ذہن کی طرف دوڑتا ہے۔ یہ چونکہ گمراہ اور سرکش تھے اس لئے ان کے ساتھ سب سرکش گرائے گئے اور شیطان کے لشکر کے لشکر لائے جاتے ہیں اور گرائے جاتے ہیں اور ان کے گرنے سے کبکبہ اور غلغلہ بلند ہوتا ہے۔ یہاں مخصوص مجرمین کو پہلے خصوصیت کے ساتھ گرایا جائے اور بعد میں عام گرانی شروع ہوگی۔
اب یہ لوگ جہنم میں پڑے ہیں مگر مکالمہ بھی سنائی دیتا ہے۔ یہ اپنے بتوں اور الموں کے بارے میں اب یوں تبصرے کرتے ہیں۔
تاللہ ان کنا لفی ضلل مبین (26 : 98) اذنسوبکم برب العلمین (26 : 98) ” یہ بہکے ہوئے لوگ ان مبعودوں سے کہیں گے خدا کی قسم ہم تو تصریح گمرایہ میں مبتلا تھے جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔ “ تمہاری عبادت بھی رب العالمین کی عبادت کی طرح کرتے تھے۔ یا تو رب العالمین کے ساتھ تمہاری عبادت کرتے تھے یا اس سے الگ۔ اب تو یہ لوگ جہنم میں یہ بات کہہ رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ کیا ہے ؟ یہ تو سب ذمہ داری ان لوگوں پر ڈال رہے ہیں جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا۔ جنہوں نے ان کو گمراہ کیا اور راہ راست کی طرف آنے سے روک دیا لیکن جب یہ جہنم میں قرار پکڑیں گے تو ہوش آئے گا کہ اب تو وقت گزر گیا ہے ۔ اور یہ واویلا بعد از وقت ہے۔ اب اگر ہم ذمہ داریاں تقسیم بھی کردیں تو فائدہ کیا ہوگا۔
فما لنا من شافعین (26 : 100) ولا صدیق حمیم (26 : 101) ” اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست۔ “ اب نہ الہ ہیں جو سفارش کریں۔ نہ دوست ہیں جو کام آئیں۔ اگر سفارش نہیں ہے تو کیا ہم دنیا کی طرف لوٹ نہیں سکتے کہ وہاں دوبارہ جا کر درست رویہ اختیار کریں۔
فلو ان لنا کرہ فنکون من المومنین (26 : 102) ” کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقعہ مل جائے تو ہم مومن ہوں “۔ مگر یہ تو تمناہی تمنا ہوگی۔ نہ واپسی ہوگی ، نہ سفارش ہوگی۔ یہ ہوگا یوم الدین۔ اب آخری تبصرہ !
الشعراء 26:103
ان فی ……الرحیم (104)
یہ وہی تبصرہ ہے جو اس سورت میں قوم عاد ، قوم ثمود اور قوم لوط کی تباہی کے واقعات کے بیان کے بعد آیا ہے۔ نیز یہ تبصرہ ان تمام معجزات کے بعد بھی آیا ہے۔ جو جھٹلانے والوں کو دکھائے گئے۔ قیامت کے مناظر میں سے یہ منظر ان مکذبین کے مناظر عبرت کے بالمقابل آیا ہے۔ جن کا تذکرہ اس سورت میں آیا ہے اور جن کو اس جہاں میں نیست و نابود کیا گیا ۔ یہاں قوم ابراہیم اور ان مشرک اقوام کے انجام کی تصویر کشی کی گئی تھی اور اس سورت کے تمام قصص سے یہی سبق دینا مطلوب ہے۔ قرآن کریم میں قیامت کے مناظر اسی طرح پیش کئے جاتے ہیں جس طرح گویا یہ افعال ہمارے سامنے واقع ہو رہے ہیں۔ ہمیں نظر آ رے ہیں۔ اس انداز بیان سے وہ انسانی شعور کا جزء بن جاتے ہیں۔ انسانی وجدان جاگ اٹھتا ہے جس طرح تاریخ میں انسانوں نے دیکھا کہ مکذبین کو مختلف عذابوں میں مبتلا کر کے نیست و نابود کیا گیا اور لوگ دیکھتے ہی رہے۔ اسی طرح قیامت کے مناظر ہوں گے۔
الشعراء 26:104
ان فی ……الرحیم (104)
یہ وہی تبصرہ ہے جو اس سورت میں قوم عاد ، قوم ثمود اور قوم لوط کی تباہی کے واقعات کے بیان کے بعد آیا ہے۔ نیز یہ تبصرہ ان تمام معجزات کے بعد بھی آیا ہے۔ جو جھٹلانے والوں کو دکھائے گئے۔ قیامت کے مناظر میں سے یہ منظر ان مکذبین کے مناظر عبرت کے بالمقابل آیا ہے۔ جن کا تذکرہ اس سورت میں آیا ہے اور جن کو اس جہاں میں نیست و نابود کیا گیا ۔ یہاں قوم ابراہیم اور ان مشرک اقوام کے انجام کی تصویر کشی کی گئی تھی اور اس سورت کے تمام قصص سے یہی سبق دینا مطلوب ہے۔ قرآن کریم میں قیامت کے مناظر اسی طرح پیش کئے جاتے ہیں جس طرح گویا یہ افعال ہمارے سامنے واقع ہو رہے ہیں۔ ہمیں نظر آ رے ہیں۔ اس انداز بیان سے وہ انسانی شعور کا جزء بن جاتے ہیں۔ انسانی وجدان جاگ اٹھتا ہے جس طرح تاریخ میں انسانوں نے دیکھا کہ مکذبین کو مختلف عذابوں میں مبتلا کر کے نیست و نابود کیا گیا اور لوگ دیکھتے ہی رہے۔ اسی طرح قیامت کے مناظر ہوں گے۔
الشعراء 26:105
درس نمبر 164 ایک نظر میں
جس طرح سابقہ قصے میں گردش ایام کو پ یچھے کی طرف دوڑایا گیا تھا اور روئے سخن قصہ مسویٰ سے پیھچے قصہ ابراہیم کی طرف چلا گیا تھا۔ یہاں بھی قصہ ابراہیم سے آپ مزید پیچھے قصہ نوح کی طرف ہم جا رہے ہیں۔ یہاں دراصل تاریخی ترتیب قصص ملحوظ نہیں ہے۔ مقصد شرکیہ عقائد کے خلاف جدوجہد کے چند نمونے دینے ہیں۔
قصہ نوح بھی قصہ موسیٰ اور قصہ ابراہیم کی طرح کئی سورتوں میں آیا ہے۔ یہ قصہ اس سے قبل سورة اعراف میں آیا ہے۔ سورة اعراف میں نزول آدم کے بعد اتخصار کے ساتھ آیا تھا جس میں آپ نے قوم کو توحید کی طرف بلایا تھا اور قیامت کے دن کے عذاب عظیم سے ڈرایا تھا اور یہ بتایا تھا کہ قوم نوح نے اپنا نوح (علیہ السلام) سے کہا کہ وہ گمراہ ہوگ ئے ہیں۔ ان کو تعجب ہوا کہ اللہ ان کے طرف ان جیسا انسان کس طرح بھیج سکتا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کو ہدایت دے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے آپ کی قوم کو غقر کیا اور آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو نجات دی۔
یہ قصور سورة یونس میں بھی اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ، یہ آپ کی راسلت کا آخری دور تھا ، جب آپ نے اپنی قوم کو چیلنج کیا۔ انہوں نے ان کی تکیذب کی۔ آپ اور آپ کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے نجات ملی اور دور سے فریق کو غرق کردیا گیا۔
سورت ہود میں اس قصے کی تفصیلات دی گیء ہیں اس میں کشتی ، طوفان اور اپنے بیٹے کے بارے میں حضرت نوح کی دعا جو غرق ہوا اور پھر طوفان کے بعد کے واقعات اور وہ واقعات جو طوفان سے پہلے تبلیغ کے دوران ان کو پیش ائٓے۔
سورت المومنون میں بھی یہ قصہ آیا ہے۔ وہاں حضرت نوح اپنی قوم کو رب واحد کی بندگی کی دعوت دیتے ہیں جبکہ قوم یہ اعتراض کرتی ہے کہ تم تو ہم جیسے انسان ہو اور ہم پر فضیلت حاصل کرنے کے لئے یہ باتیں کرتے ہو۔ اگر اللہ کو کوئی نبی بھیجنا بھی تھا تو وہ فرشتے بھیج سکتا تھا انہوں نے آپ پر مجنوں ہونے کا الزام عائد کیا۔ وہاں پھر حضرت نوح رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور نصرت طلب کرتے ہیں اور وہاں پھر کشتی اور طوفان کی طرف ایک سرسری اشارہ ہوتا ہے۔
بالعموم قصہ نوح ، قصص عاد ، ثمود ، لوط اور الہ مدین کے قصے کے ساتھ آتا ہے۔ اس سورت میں بھی یہی صورت حال ہے۔ یہاں اس قصے میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ قوم سے کہتے ہیں کہ خدا خوفی اختیار کرو ، یہ کہ وہ ان سے کسی اجر کے طلبگار نہیں ہیں اور یہ کہ ان کی قوم کے کبراء ان سے جو مطالبہ کرتے تھے کہ تمہارے پاس جو غریب اہل ایمان چپکے ہوئے ہیں ان کو دور کرو جس سے حضرت نوح انکار فرماتے تھے اور بعینہ یہی مطالبہ حضور اکرم سے بھی اہل مکہ کرتے تھے۔ اس کے بعد حضرت نوح دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ان کے اور ان کی قوم کے تنازعہ کا فصلہ حق کے ساتھ فرما دے۔ اللہ ان کے اس سوال کو پورا کرتا ہے اور مکذبین کو ہلاک کرتا ہے اور اہل ایمان کو بچا لیتا ہے۔
درس نمبر 164 تشریح آیات
105………تا …………122
کذبت قوم نوح المرسلین (105)
یہ تو قصے کا انجام بتا دیا ، قصے کا انجام پہلے لا کر پھر تفصیلات دی جاتی ہیں تاکہ قاری کو معلوم ہوجائے کہ روئے سخن کدھر ہے۔
سوال یہ ہے کہ قوم و نوح نے تو صرف نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا جبکہ قرآن کہتا ہے اس نے رسولوں کو جھٹلایا۔ رسالت اپنی حقیقت کے اعتبار سے دراصل ایک حقیقت ہے۔ تمام رسولوں کی دعوت یہی رہی ہے کہ اللو وحدہ لاشریک ہے اور صرف اسی کی بندگی کرنا چاہئے۔ جو شخص یا جو قوم ایک رسول کی تکذیب کرے وہ دراصل تمام رسولوں کی تکذیب کرتا ہے ۔ قرآن کریم اس مفہوم اور حقیقت کو مختلف مقامات پر دہراتا ہے۔ اور مختلف انداز اور اسالیب میں اس بات کو دہرایا جاتا ہے۔ اس لئے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کا ایک مسلمہ اصول ہے تمام رسولوں کی دعوت میں یہ اصول مسلم ہر ہے ہیں۔ اور اسی اصول پر انساینت کی تقسیم ہوتی رہی ہے۔ یعنی رسولوں کو ماننے والے ایک طرف اور نہ ماننے والے دورسی طرف تمام رسالتوں اور تمام زمانوں میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے ۔ ایک مسلمان جب دیکھتا ہے تو ہر دین اور ہر عقیدے میں امت ایک ہی رہی ہے۔ ابتدائی تاریخ سے لے کر آج تک اور آخری دین توحید اسلام تک۔ ہر ملت اور ہر دین میں صنف مخلاف کافروں اور منکرین کی رہی ہے۔ اہل ایمان وہ ہیں جو رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور اہل کفر وہ ہیں جو انکار کرتے ہیں۔ اہل ایمان تمام رسولوں کا احترام کرتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں کیونکہ منصب رسالت کی نوعیت اور حقیقت ایک ہے۔
ایک مسلم کے اندازے کے مطابق انسانیت کی تقسیم رنگوں ، علاقوں اور نسلوں کے مطابق نہیں کی جاسکتی۔ انسانیت کی تقسیم صرف اہل حق اور الہ باطل دو گروہوں کے درمیان ہوتی ہے اور آغاز انسانیت سے لے کر یہی تقسیم رہی ہے۔ لہٰذا اسلامی نقطہ نظر سے تاریخ کے لئے ایک ہی معیار اور ایک ہی رتازو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلم کی ذہنیت اور اس کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ وہ رنگ و نسل اور قوم و وطن سے بالا ہو کر سوچتا ہے ۔ اس کے موجودہ روابط یا تاریخی روابط وہی ہوتے ہیں جو ایمانی اقدار پر مبنی ہوں۔ وہ ایمانی اقدار کیا صول پر سب کا محاسبہ کرتا ہے اور اپنی تمام اقدار اور افکار کو ایمان ہی کے معیار پر تولتا ہے
اذ قال لھم ……اطیعون (108)
۔ “
یہ تھی حضرت نوح کی قوم ، جس نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ خود اپنی قوم نے ان کی تکذیب کی اور وہ خود ان کے بھائی تھے۔ حالانکہ اخوت کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ لوگ نوح کے ساتھ روا داری برتنے اور اطمینان سے ایمان لاتے اور تصدیق کرتے۔ لیکن ان کی قوم نے برادرانہ رواداری کا مظاہرہ بھی نہ کیا اور خود اپنے بھائی کی ہمدردانہ باتوں کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔
الاتتقون (26 : 106) ” کیا تم ڈرتے نہیں وہ۔ “…… اور اس انجام سے نہیں ڈرتے ہو جو اس رویہ کا لازمی نتیجہ ہے جس پر تم ہو۔ اور تمہارے دل خوف اور خشیت محسوس نہیں کرتے۔ خدا خوفی کی طرف بلانا اسی سورت کا مخصوص مضمون ہے۔ یہی بات حضری موسیٰ نے فرعون سے کہی اور یہی بات نوح نے اپنی قوم سے کہی اور یہی بات ہر رسول نے اپنی اپنی قوم سے کہی۔
انی لکم رسول امین (26 : 108) ” میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں۔ “ جو نہ خیانت کرتا ہے نہ دھوکہ دیتا ہے اور نہ کوئی چیز چھپاتا ہے۔ نہ کوئی کمی کرتا ہے اور نہ بیشی اور مبالغہ کرت ا ہے۔ بس جو کچھ اللہ نے حکم دیا وہ پہنچاتا ہے۔
فاتقوا اللہ و اطیعون (26 : 108) ” لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ “ یوں حضرت نوح (علیہ السلام) ان کو خد خوفی کی دعوت دیتے ہیں اور یہاں وہ ڈرنے کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہیں اور اس طرح ان کو اطاعت اور تسلیم پر آمادہ کرتے ہیں۔
پھر حضرت نوح دنیا کے مقاصد کی طرف سے ان کو اطمینان دلاتے ہیں۔ یہ کہ دعوت الی اللہ کیت حریک کے ساتھ ان کے کوء یمقاصد وابستہ نہیں ہیں۔ وہ ان سے کوئی اجر طلب نہیں کرتے کہ تم اللہ کی طرف رجوع کرو گے تو مجھے یہ انعام بھی دو گے۔ میرا اجر تو صرف اللہ پر ہے جس نے مجھے یہ دعوت دینے پر مامور کیا ہے۔ لوگوں سے یہ کہنا کہ میں تم سے کوئی دنیاوی اجر طلب نہیں کرتا ، یہ بات ہر نبی نے کی ہے اور معلوم یہ ہوتا ہے کہ ہر دور میں تحریک اسلامی کی دعوت دینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ تحریک کے ساتھ اپنے اغراض و مقاصد وابستہ نہ کریں کیونکہ ایک سچے داعی اور جھوٹے داعی میں فرق ہی یہ ہوتا ہے کہ ایک جھوٹا داعی مفادات کے لئے دعوت سے وابستہ ہوتا ہے۔ تمام انبیاء کے زمانے میں کاہن اور دوسرے مذہب راہنما لوگوں کے اموال باطل طریقے سے کھاتے تھے۔ ان کا کام ہی یہ ہوتا تھا کہ مختلف طریقوں اور حیلوں سے لوگوں کے مال بٹورنے کی کوشش کریں۔ اس کے مقابلے میں داعیان حق ہمیشہ مخلص ہوتے تھے۔ وہ اس ہدایت پر کوئی فیس طلب نہ کرتے تھے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ ہمارا اجر اللہ رب العالمین پر ہے۔
الشعراء 26:106
درس نمبر 164 ایک نظر میں
جس طرح سابقہ قصے میں گردش ایام کو پ یچھے کی طرف دوڑایا گیا تھا اور روئے سخن قصہ مسویٰ سے پیھچے قصہ ابراہیم کی طرف چلا گیا تھا۔ یہاں بھی قصہ ابراہیم سے آپ مزید پیچھے قصہ نوح کی طرف ہم جا رہے ہیں۔ یہاں دراصل تاریخی ترتیب قصص ملحوظ نہیں ہے۔ مقصد شرکیہ عقائد کے خلاف جدوجہد کے چند نمونے دینے ہیں۔
قصہ نوح بھی قصہ موسیٰ اور قصہ ابراہیم کی طرح کئی سورتوں میں آیا ہے۔ یہ قصہ اس سے قبل سورة اعراف میں آیا ہے۔ سورة اعراف میں نزول آدم کے بعد اتخصار کے ساتھ آیا تھا جس میں آپ نے قوم کو توحید کی طرف بلایا تھا اور قیامت کے دن کے عذاب عظیم سے ڈرایا تھا اور یہ بتایا تھا کہ قوم نوح نے اپنا نوح (علیہ السلام) سے کہا کہ وہ گمراہ ہوگ ئے ہیں۔ ان کو تعجب ہوا کہ اللہ ان کے طرف ان جیسا انسان کس طرح بھیج سکتا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کو ہدایت دے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے آپ کی قوم کو غقر کیا اور آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو نجات دی۔
یہ قصور سورة یونس میں بھی اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ، یہ آپ کی راسلت کا آخری دور تھا ، جب آپ نے اپنی قوم کو چیلنج کیا۔ انہوں نے ان کی تکیذب کی۔ آپ اور آپ کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے نجات ملی اور دور سے فریق کو غرق کردیا گیا۔
سورت ہود میں اس قصے کی تفصیلات دی گیء ہیں اس میں کشتی ، طوفان اور اپنے بیٹے کے بارے میں حضرت نوح کی دعا جو غرق ہوا اور پھر طوفان کے بعد کے واقعات اور وہ واقعات جو طوفان سے پہلے تبلیغ کے دوران ان کو پیش ائٓے۔
سورت المومنون میں بھی یہ قصہ آیا ہے۔ وہاں حضرت نوح اپنی قوم کو رب واحد کی بندگی کی دعوت دیتے ہیں جبکہ قوم یہ اعتراض کرتی ہے کہ تم تو ہم جیسے انسان ہو اور ہم پر فضیلت حاصل کرنے کے لئے یہ باتیں کرتے ہو۔ اگر اللہ کو کوئی نبی بھیجنا بھی تھا تو وہ فرشتے بھیج سکتا تھا انہوں نے آپ پر مجنوں ہونے کا الزام عائد کیا۔ وہاں پھر حضرت نوح رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور نصرت طلب کرتے ہیں اور وہاں پھر کشتی اور طوفان کی طرف ایک سرسری اشارہ ہوتا ہے۔
بالعموم قصہ نوح ، قصص عاد ، ثمود ، لوط اور الہ مدین کے قصے کے ساتھ آتا ہے۔ اس سورت میں بھی یہی صورت حال ہے۔ یہاں اس قصے میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ قوم سے کہتے ہیں کہ خدا خوفی اختیار کرو ، یہ کہ وہ ان سے کسی اجر کے طلبگار نہیں ہیں اور یہ کہ ان کی قوم کے کبراء ان سے جو مطالبہ کرتے تھے کہ تمہارے پاس جو غریب اہل ایمان چپکے ہوئے ہیں ان کو دور کرو جس سے حضرت نوح انکار فرماتے تھے اور بعینہ یہی مطالبہ حضور اکرم سے بھی اہل مکہ کرتے تھے۔ اس کے بعد حضرت نوح دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ان کے اور ان کی قوم کے تنازعہ کا فصلہ حق کے ساتھ فرما دے۔ اللہ ان کے اس سوال کو پورا کرتا ہے اور مکذبین کو ہلاک کرتا ہے اور اہل ایمان کو بچا لیتا ہے۔
درس نمبر 164 تشریح آیات
105………تا …………122
کذبت قوم نوح المرسلین (105)
یہ تو قصے کا انجام بتا دیا ، قصے کا انجام پہلے لا کر پھر تفصیلات دی جاتی ہیں تاکہ قاری کو معلوم ہوجائے کہ روئے سخن کدھر ہے۔
سوال یہ ہے کہ قوم و نوح نے تو صرف نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا جبکہ قرآن کہتا ہے اس نے رسولوں کو جھٹلایا۔ رسالت اپنی حقیقت کے اعتبار سے دراصل ایک حقیقت ہے۔ تمام رسولوں کی دعوت یہی رہی ہے کہ اللو وحدہ لاشریک ہے اور صرف اسی کی بندگی کرنا چاہئے۔ جو شخص یا جو قوم ایک رسول کی تکذیب کرے وہ دراصل تمام رسولوں کی تکذیب کرتا ہے ۔ قرآن کریم اس مفہوم اور حقیقت کو مختلف مقامات پر دہراتا ہے۔ اور مختلف انداز اور اسالیب میں اس بات کو دہرایا جاتا ہے۔ اس لئے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کا ایک مسلمہ اصول ہے تمام رسولوں کی دعوت میں یہ اصول مسلم ہر ہے ہیں۔ اور اسی اصول پر انساینت کی تقسیم ہوتی رہی ہے۔ یعنی رسولوں کو ماننے والے ایک طرف اور نہ ماننے والے دورسی طرف تمام رسالتوں اور تمام زمانوں میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے ۔ ایک مسلمان جب دیکھتا ہے تو ہر دین اور ہر عقیدے میں امت ایک ہی رہی ہے۔ ابتدائی تاریخ سے لے کر آج تک اور آخری دین توحید اسلام تک۔ ہر ملت اور ہر دین میں صنف مخلاف کافروں اور منکرین کی رہی ہے۔ اہل ایمان وہ ہیں جو رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور اہل کفر وہ ہیں جو انکار کرتے ہیں۔ اہل ایمان تمام رسولوں کا احترام کرتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں کیونکہ منصب رسالت کی نوعیت اور حقیقت ایک ہے۔
ایک مسلم کے اندازے کے مطابق انسانیت کی تقسیم رنگوں ، علاقوں اور نسلوں کے مطابق نہیں کی جاسکتی۔ انسانیت کی تقسیم صرف اہل حق اور الہ باطل دو گروہوں کے درمیان ہوتی ہے اور آغاز انسانیت سے لے کر یہی تقسیم رہی ہے۔ لہٰذا اسلامی نقطہ نظر سے تاریخ کے لئے ایک ہی معیار اور ایک ہی رتازو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلم کی ذہنیت اور اس کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ وہ رنگ و نسل اور قوم و وطن سے بالا ہو کر سوچتا ہے ۔ اس کے موجودہ روابط یا تاریخی روابط وہی ہوتے ہیں جو ایمانی اقدار پر مبنی ہوں۔ وہ ایمانی اقدار کیا صول پر سب کا محاسبہ کرتا ہے اور اپنی تمام اقدار اور افکار کو ایمان ہی کے معیار پر تولتا ہے
اذ قال لھم ……اطیعون (108)
۔ “
یہ تھی حضرت نوح کی قوم ، جس نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ خود اپنی قوم نے ان کی تکذیب کی اور وہ خود ان کے بھائی تھے۔ حالانکہ اخوت کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ لوگ نوح کے ساتھ روا داری برتنے اور اطمینان سے ایمان لاتے اور تصدیق کرتے۔ لیکن ان کی قوم نے برادرانہ رواداری کا مظاہرہ بھی نہ کیا اور خود اپنے بھائی کی ہمدردانہ باتوں کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔
الاتتقون (26 : 106) ” کیا تم ڈرتے نہیں وہ۔ “…… اور اس انجام سے نہیں ڈرتے ہو جو اس رویہ کا لازمی نتیجہ ہے جس پر تم ہو۔ اور تمہارے دل خوف اور خشیت محسوس نہیں کرتے۔ خدا خوفی کی طرف بلانا اسی سورت کا مخصوص مضمون ہے۔ یہی بات حضری موسیٰ نے فرعون سے کہی اور یہی بات نوح نے اپنی قوم سے کہی اور یہی بات ہر رسول نے اپنی اپنی قوم سے کہی۔
انی لکم رسول امین (26 : 108) ” میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں۔ “ جو نہ خیانت کرتا ہے نہ دھوکہ دیتا ہے اور نہ کوئی چیز چھپاتا ہے۔ نہ کوئی کمی کرتا ہے اور نہ بیشی اور مبالغہ کرت ا ہے۔ بس جو کچھ اللہ نے حکم دیا وہ پہنچاتا ہے۔
فاتقوا اللہ و اطیعون (26 : 108) ” لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ “ یوں حضرت نوح (علیہ السلام) ان کو خد خوفی کی دعوت دیتے ہیں اور یہاں وہ ڈرنے کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہیں اور اس طرح ان کو اطاعت اور تسلیم پر آمادہ کرتے ہیں۔
پھر حضرت نوح دنیا کے مقاصد کی طرف سے ان کو اطمینان دلاتے ہیں۔ یہ کہ دعوت الی اللہ کیت حریک کے ساتھ ان کے کوء یمقاصد وابستہ نہیں ہیں۔ وہ ان سے کوئی اجر طلب نہیں کرتے کہ تم اللہ کی طرف رجوع کرو گے تو مجھے یہ انعام بھی دو گے۔ میرا اجر تو صرف اللہ پر ہے جس نے مجھے یہ دعوت دینے پر مامور کیا ہے۔ لوگوں سے یہ کہنا کہ میں تم سے کوئی دنیاوی اجر طلب نہیں کرتا ، یہ بات ہر نبی نے کی ہے اور معلوم یہ ہوتا ہے کہ ہر دور میں تحریک اسلامی کی دعوت دینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ تحریک کے ساتھ اپنے اغراض و مقاصد وابستہ نہ کریں کیونکہ ایک سچے داعی اور جھوٹے داعی میں فرق ہی یہ ہوتا ہے کہ ایک جھوٹا داعی مفادات کے لئے دعوت سے وابستہ ہوتا ہے۔ تمام انبیاء کے زمانے میں کاہن اور دوسرے مذہب راہنما لوگوں کے اموال باطل طریقے سے کھاتے تھے۔ ان کا کام ہی یہ ہوتا تھا کہ مختلف طریقوں اور حیلوں سے لوگوں کے مال بٹورنے کی کوشش کریں۔ اس کے مقابلے میں داعیان حق ہمیشہ مخلص ہوتے تھے۔ وہ اس ہدایت پر کوئی فیس طلب نہ کرتے تھے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ ہمارا اجر اللہ رب العالمین پر ہے۔
الشعراء 26:107
درس نمبر 164 ایک نظر میں
جس طرح سابقہ قصے میں گردش ایام کو پ یچھے کی طرف دوڑایا گیا تھا اور روئے سخن قصہ مسویٰ سے پیھچے قصہ ابراہیم کی طرف چلا گیا تھا۔ یہاں بھی قصہ ابراہیم سے آپ مزید پیچھے قصہ نوح کی طرف ہم جا رہے ہیں۔ یہاں دراصل تاریخی ترتیب قصص ملحوظ نہیں ہے۔ مقصد شرکیہ عقائد کے خلاف جدوجہد کے چند نمونے دینے ہیں۔
قصہ نوح بھی قصہ موسیٰ اور قصہ ابراہیم کی طرح کئی سورتوں میں آیا ہے۔ یہ قصہ اس سے قبل سورة اعراف میں آیا ہے۔ سورة اعراف میں نزول آدم کے بعد اتخصار کے ساتھ آیا تھا جس میں آپ نے قوم کو توحید کی طرف بلایا تھا اور قیامت کے دن کے عذاب عظیم سے ڈرایا تھا اور یہ بتایا تھا کہ قوم نوح نے اپنا نوح (علیہ السلام) سے کہا کہ وہ گمراہ ہوگ ئے ہیں۔ ان کو تعجب ہوا کہ اللہ ان کے طرف ان جیسا انسان کس طرح بھیج سکتا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کو ہدایت دے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے آپ کی قوم کو غقر کیا اور آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو نجات دی۔
یہ قصور سورة یونس میں بھی اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ، یہ آپ کی راسلت کا آخری دور تھا ، جب آپ نے اپنی قوم کو چیلنج کیا۔ انہوں نے ان کی تکیذب کی۔ آپ اور آپ کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے نجات ملی اور دور سے فریق کو غرق کردیا گیا۔
سورت ہود میں اس قصے کی تفصیلات دی گیء ہیں اس میں کشتی ، طوفان اور اپنے بیٹے کے بارے میں حضرت نوح کی دعا جو غرق ہوا اور پھر طوفان کے بعد کے واقعات اور وہ واقعات جو طوفان سے پہلے تبلیغ کے دوران ان کو پیش ائٓے۔
سورت المومنون میں بھی یہ قصہ آیا ہے۔ وہاں حضرت نوح اپنی قوم کو رب واحد کی بندگی کی دعوت دیتے ہیں جبکہ قوم یہ اعتراض کرتی ہے کہ تم تو ہم جیسے انسان ہو اور ہم پر فضیلت حاصل کرنے کے لئے یہ باتیں کرتے ہو۔ اگر اللہ کو کوئی نبی بھیجنا بھی تھا تو وہ فرشتے بھیج سکتا تھا انہوں نے آپ پر مجنوں ہونے کا الزام عائد کیا۔ وہاں پھر حضرت نوح رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور نصرت طلب کرتے ہیں اور وہاں پھر کشتی اور طوفان کی طرف ایک سرسری اشارہ ہوتا ہے۔
بالعموم قصہ نوح ، قصص عاد ، ثمود ، لوط اور الہ مدین کے قصے کے ساتھ آتا ہے۔ اس سورت میں بھی یہی صورت حال ہے۔ یہاں اس قصے میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ قوم سے کہتے ہیں کہ خدا خوفی اختیار کرو ، یہ کہ وہ ان سے کسی اجر کے طلبگار نہیں ہیں اور یہ کہ ان کی قوم کے کبراء ان سے جو مطالبہ کرتے تھے کہ تمہارے پاس جو غریب اہل ایمان چپکے ہوئے ہیں ان کو دور کرو جس سے حضرت نوح انکار فرماتے تھے اور بعینہ یہی مطالبہ حضور اکرم سے بھی اہل مکہ کرتے تھے۔ اس کے بعد حضرت نوح دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ان کے اور ان کی قوم کے تنازعہ کا فصلہ حق کے ساتھ فرما دے۔ اللہ ان کے اس سوال کو پورا کرتا ہے اور مکذبین کو ہلاک کرتا ہے اور اہل ایمان کو بچا لیتا ہے۔
درس نمبر 164 تشریح آیات
105………تا …………122
کذبت قوم نوح المرسلین (105)
یہ تو قصے کا انجام بتا دیا ، قصے کا انجام پہلے لا کر پھر تفصیلات دی جاتی ہیں تاکہ قاری کو معلوم ہوجائے کہ روئے سخن کدھر ہے۔
سوال یہ ہے کہ قوم و نوح نے تو صرف نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا جبکہ قرآن کہتا ہے اس نے رسولوں کو جھٹلایا۔ رسالت اپنی حقیقت کے اعتبار سے دراصل ایک حقیقت ہے۔ تمام رسولوں کی دعوت یہی رہی ہے کہ اللو وحدہ لاشریک ہے اور صرف اسی کی بندگی کرنا چاہئے۔ جو شخص یا جو قوم ایک رسول کی تکذیب کرے وہ دراصل تمام رسولوں کی تکذیب کرتا ہے ۔ قرآن کریم اس مفہوم اور حقیقت کو مختلف مقامات پر دہراتا ہے۔ اور مختلف انداز اور اسالیب میں اس بات کو دہرایا جاتا ہے۔ اس لئے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کا ایک مسلمہ اصول ہے تمام رسولوں کی دعوت میں یہ اصول مسلم ہر ہے ہیں۔ اور اسی اصول پر انساینت کی تقسیم ہوتی رہی ہے۔ یعنی رسولوں کو ماننے والے ایک طرف اور نہ ماننے والے دورسی طرف تمام رسالتوں اور تمام زمانوں میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے ۔ ایک مسلمان جب دیکھتا ہے تو ہر دین اور ہر عقیدے میں امت ایک ہی رہی ہے۔ ابتدائی تاریخ سے لے کر آج تک اور آخری دین توحید اسلام تک۔ ہر ملت اور ہر دین میں صنف مخلاف کافروں اور منکرین کی رہی ہے۔ اہل ایمان وہ ہیں جو رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور اہل کفر وہ ہیں جو انکار کرتے ہیں۔ اہل ایمان تمام رسولوں کا احترام کرتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں کیونکہ منصب رسالت کی نوعیت اور حقیقت ایک ہے۔
ایک مسلم کے اندازے کے مطابق انسانیت کی تقسیم رنگوں ، علاقوں اور نسلوں کے مطابق نہیں کی جاسکتی۔ انسانیت کی تقسیم صرف اہل حق اور الہ باطل دو گروہوں کے درمیان ہوتی ہے اور آغاز انسانیت سے لے کر یہی تقسیم رہی ہے۔ لہٰذا اسلامی نقطہ نظر سے تاریخ کے لئے ایک ہی معیار اور ایک ہی رتازو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلم کی ذہنیت اور اس کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ وہ رنگ و نسل اور قوم و وطن سے بالا ہو کر سوچتا ہے ۔ اس کے موجودہ روابط یا تاریخی روابط وہی ہوتے ہیں جو ایمانی اقدار پر مبنی ہوں۔ وہ ایمانی اقدار کیا صول پر سب کا محاسبہ کرتا ہے اور اپنی تمام اقدار اور افکار کو ایمان ہی کے معیار پر تولتا ہے
اذ قال لھم ……اطیعون (108)
۔ “
یہ تھی حضرت نوح کی قوم ، جس نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ خود اپنی قوم نے ان کی تکذیب کی اور وہ خود ان کے بھائی تھے۔ حالانکہ اخوت کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ لوگ نوح کے ساتھ روا داری برتنے اور اطمینان سے ایمان لاتے اور تصدیق کرتے۔ لیکن ان کی قوم نے برادرانہ رواداری کا مظاہرہ بھی نہ کیا اور خود اپنے بھائی کی ہمدردانہ باتوں کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔
الاتتقون (26 : 106) ” کیا تم ڈرتے نہیں وہ۔ “…… اور اس انجام سے نہیں ڈرتے ہو جو اس رویہ کا لازمی نتیجہ ہے جس پر تم ہو۔ اور تمہارے دل خوف اور خشیت محسوس نہیں کرتے۔ خدا خوفی کی طرف بلانا اسی سورت کا مخصوص مضمون ہے۔ یہی بات حضری موسیٰ نے فرعون سے کہی اور یہی بات نوح نے اپنی قوم سے کہی اور یہی بات ہر رسول نے اپنی اپنی قوم سے کہی۔
انی لکم رسول امین (26 : 108) ” میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں۔ “ جو نہ خیانت کرتا ہے نہ دھوکہ دیتا ہے اور نہ کوئی چیز چھپاتا ہے۔ نہ کوئی کمی کرتا ہے اور نہ بیشی اور مبالغہ کرت ا ہے۔ بس جو کچھ اللہ نے حکم دیا وہ پہنچاتا ہے۔
فاتقوا اللہ و اطیعون (26 : 108) ” لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ “ یوں حضرت نوح (علیہ السلام) ان کو خد خوفی کی دعوت دیتے ہیں اور یہاں وہ ڈرنے کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہیں اور اس طرح ان کو اطاعت اور تسلیم پر آمادہ کرتے ہیں۔
پھر حضرت نوح دنیا کے مقاصد کی طرف سے ان کو اطمینان دلاتے ہیں۔ یہ کہ دعوت الی اللہ کیت حریک کے ساتھ ان کے کوء یمقاصد وابستہ نہیں ہیں۔ وہ ان سے کوئی اجر طلب نہیں کرتے کہ تم اللہ کی طرف رجوع کرو گے تو مجھے یہ انعام بھی دو گے۔ میرا اجر تو صرف اللہ پر ہے جس نے مجھے یہ دعوت دینے پر مامور کیا ہے۔ لوگوں سے یہ کہنا کہ میں تم سے کوئی دنیاوی اجر طلب نہیں کرتا ، یہ بات ہر نبی نے کی ہے اور معلوم یہ ہوتا ہے کہ ہر دور میں تحریک اسلامی کی دعوت دینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ تحریک کے ساتھ اپنے اغراض و مقاصد وابستہ نہ کریں کیونکہ ایک سچے داعی اور جھوٹے داعی میں فرق ہی یہ ہوتا ہے کہ ایک جھوٹا داعی مفادات کے لئے دعوت سے وابستہ ہوتا ہے۔ تمام انبیاء کے زمانے میں کاہن اور دوسرے مذہب راہنما لوگوں کے اموال باطل طریقے سے کھاتے تھے۔ ان کا کام ہی یہ ہوتا تھا کہ مختلف طریقوں اور حیلوں سے لوگوں کے مال بٹورنے کی کوشش کریں۔ اس کے مقابلے میں داعیان حق ہمیشہ مخلص ہوتے تھے۔ وہ اس ہدایت پر کوئی فیس طلب نہ کرتے تھے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ ہمارا اجر اللہ رب العالمین پر ہے۔
الشعراء 26:108
درس نمبر 164 ایک نظر میں
جس طرح سابقہ قصے میں گردش ایام کو پ یچھے کی طرف دوڑایا گیا تھا اور روئے سخن قصہ مسویٰ سے پیھچے قصہ ابراہیم کی طرف چلا گیا تھا۔ یہاں بھی قصہ ابراہیم سے آپ مزید پیچھے قصہ نوح کی طرف ہم جا رہے ہیں۔ یہاں دراصل تاریخی ترتیب قصص ملحوظ نہیں ہے۔ مقصد شرکیہ عقائد کے خلاف جدوجہد کے چند نمونے دینے ہیں۔
قصہ نوح بھی قصہ موسیٰ اور قصہ ابراہیم کی طرح کئی سورتوں میں آیا ہے۔ یہ قصہ اس سے قبل سورة اعراف میں آیا ہے۔ سورة اعراف میں نزول آدم کے بعد اتخصار کے ساتھ آیا تھا جس میں آپ نے قوم کو توحید کی طرف بلایا تھا اور قیامت کے دن کے عذاب عظیم سے ڈرایا تھا اور یہ بتایا تھا کہ قوم نوح نے اپنا نوح (علیہ السلام) سے کہا کہ وہ گمراہ ہوگ ئے ہیں۔ ان کو تعجب ہوا کہ اللہ ان کے طرف ان جیسا انسان کس طرح بھیج سکتا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کو ہدایت دے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے آپ کی قوم کو غقر کیا اور آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو نجات دی۔
یہ قصور سورة یونس میں بھی اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ، یہ آپ کی راسلت کا آخری دور تھا ، جب آپ نے اپنی قوم کو چیلنج کیا۔ انہوں نے ان کی تکیذب کی۔ آپ اور آپ کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے نجات ملی اور دور سے فریق کو غرق کردیا گیا۔
سورت ہود میں اس قصے کی تفصیلات دی گیء ہیں اس میں کشتی ، طوفان اور اپنے بیٹے کے بارے میں حضرت نوح کی دعا جو غرق ہوا اور پھر طوفان کے بعد کے واقعات اور وہ واقعات جو طوفان سے پہلے تبلیغ کے دوران ان کو پیش ائٓے۔
سورت المومنون میں بھی یہ قصہ آیا ہے۔ وہاں حضرت نوح اپنی قوم کو رب واحد کی بندگی کی دعوت دیتے ہیں جبکہ قوم یہ اعتراض کرتی ہے کہ تم تو ہم جیسے انسان ہو اور ہم پر فضیلت حاصل کرنے کے لئے یہ باتیں کرتے ہو۔ اگر اللہ کو کوئی نبی بھیجنا بھی تھا تو وہ فرشتے بھیج سکتا تھا انہوں نے آپ پر مجنوں ہونے کا الزام عائد کیا۔ وہاں پھر حضرت نوح رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور نصرت طلب کرتے ہیں اور وہاں پھر کشتی اور طوفان کی طرف ایک سرسری اشارہ ہوتا ہے۔
بالعموم قصہ نوح ، قصص عاد ، ثمود ، لوط اور الہ مدین کے قصے کے ساتھ آتا ہے۔ اس سورت میں بھی یہی صورت حال ہے۔ یہاں اس قصے میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ قوم سے کہتے ہیں کہ خدا خوفی اختیار کرو ، یہ کہ وہ ان سے کسی اجر کے طلبگار نہیں ہیں اور یہ کہ ان کی قوم کے کبراء ان سے جو مطالبہ کرتے تھے کہ تمہارے پاس جو غریب اہل ایمان چپکے ہوئے ہیں ان کو دور کرو جس سے حضرت نوح انکار فرماتے تھے اور بعینہ یہی مطالبہ حضور اکرم سے بھی اہل مکہ کرتے تھے۔ اس کے بعد حضرت نوح دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ان کے اور ان کی قوم کے تنازعہ کا فصلہ حق کے ساتھ فرما دے۔ اللہ ان کے اس سوال کو پورا کرتا ہے اور مکذبین کو ہلاک کرتا ہے اور اہل ایمان کو بچا لیتا ہے۔
درس نمبر 164 تشریح آیات
105………تا …………122
کذبت قوم نوح المرسلین (105)
یہ تو قصے کا انجام بتا دیا ، قصے کا انجام پہلے لا کر پھر تفصیلات دی جاتی ہیں تاکہ قاری کو معلوم ہوجائے کہ روئے سخن کدھر ہے۔
سوال یہ ہے کہ قوم و نوح نے تو صرف نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا جبکہ قرآن کہتا ہے اس نے رسولوں کو جھٹلایا۔ رسالت اپنی حقیقت کے اعتبار سے دراصل ایک حقیقت ہے۔ تمام رسولوں کی دعوت یہی رہی ہے کہ اللو وحدہ لاشریک ہے اور صرف اسی کی بندگی کرنا چاہئے۔ جو شخص یا جو قوم ایک رسول کی تکذیب کرے وہ دراصل تمام رسولوں کی تکذیب کرتا ہے ۔ قرآن کریم اس مفہوم اور حقیقت کو مختلف مقامات پر دہراتا ہے۔ اور مختلف انداز اور اسالیب میں اس بات کو دہرایا جاتا ہے۔ اس لئے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کا ایک مسلمہ اصول ہے تمام رسولوں کی دعوت میں یہ اصول مسلم ہر ہے ہیں۔ اور اسی اصول پر انساینت کی تقسیم ہوتی رہی ہے۔ یعنی رسولوں کو ماننے والے ایک طرف اور نہ ماننے والے دورسی طرف تمام رسالتوں اور تمام زمانوں میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے ۔ ایک مسلمان جب دیکھتا ہے تو ہر دین اور ہر عقیدے میں امت ایک ہی رہی ہے۔ ابتدائی تاریخ سے لے کر آج تک اور آخری دین توحید اسلام تک۔ ہر ملت اور ہر دین میں صنف مخلاف کافروں اور منکرین کی رہی ہے۔ اہل ایمان وہ ہیں جو رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور اہل کفر وہ ہیں جو انکار کرتے ہیں۔ اہل ایمان تمام رسولوں کا احترام کرتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں کیونکہ منصب رسالت کی نوعیت اور حقیقت ایک ہے۔
ایک مسلم کے اندازے کے مطابق انسانیت کی تقسیم رنگوں ، علاقوں اور نسلوں کے مطابق نہیں کی جاسکتی۔ انسانیت کی تقسیم صرف اہل حق اور الہ باطل دو گروہوں کے درمیان ہوتی ہے اور آغاز انسانیت سے لے کر یہی تقسیم رہی ہے۔ لہٰذا اسلامی نقطہ نظر سے تاریخ کے لئے ایک ہی معیار اور ایک ہی رتازو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلم کی ذہنیت اور اس کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ وہ رنگ و نسل اور قوم و وطن سے بالا ہو کر سوچتا ہے ۔ اس کے موجودہ روابط یا تاریخی روابط وہی ہوتے ہیں جو ایمانی اقدار پر مبنی ہوں۔ وہ ایمانی اقدار کیا صول پر سب کا محاسبہ کرتا ہے اور اپنی تمام اقدار اور افکار کو ایمان ہی کے معیار پر تولتا ہے
اذ قال لھم ……اطیعون (108)
۔ “
یہ تھی حضرت نوح کی قوم ، جس نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ خود اپنی قوم نے ان کی تکذیب کی اور وہ خود ان کے بھائی تھے۔ حالانکہ اخوت کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ لوگ نوح کے ساتھ روا داری برتنے اور اطمینان سے ایمان لاتے اور تصدیق کرتے۔ لیکن ان کی قوم نے برادرانہ رواداری کا مظاہرہ بھی نہ کیا اور خود اپنے بھائی کی ہمدردانہ باتوں کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔
الاتتقون (26 : 106) ” کیا تم ڈرتے نہیں وہ۔ “…… اور اس انجام سے نہیں ڈرتے ہو جو اس رویہ کا لازمی نتیجہ ہے جس پر تم ہو۔ اور تمہارے دل خوف اور خشیت محسوس نہیں کرتے۔ خدا خوفی کی طرف بلانا اسی سورت کا مخصوص مضمون ہے۔ یہی بات حضری موسیٰ نے فرعون سے کہی اور یہی بات نوح نے اپنی قوم سے کہی اور یہی بات ہر رسول نے اپنی اپنی قوم سے کہی۔
انی لکم رسول امین (26 : 108) ” میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں۔ “ جو نہ خیانت کرتا ہے نہ دھوکہ دیتا ہے اور نہ کوئی چیز چھپاتا ہے۔ نہ کوئی کمی کرتا ہے اور نہ بیشی اور مبالغہ کرت ا ہے۔ بس جو کچھ اللہ نے حکم دیا وہ پہنچاتا ہے۔
فاتقوا اللہ و اطیعون (26 : 108) ” لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ “ یوں حضرت نوح (علیہ السلام) ان کو خد خوفی کی دعوت دیتے ہیں اور یہاں وہ ڈرنے کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہیں اور اس طرح ان کو اطاعت اور تسلیم پر آمادہ کرتے ہیں۔
پھر حضرت نوح دنیا کے مقاصد کی طرف سے ان کو اطمینان دلاتے ہیں۔ یہ کہ دعوت الی اللہ کیت حریک کے ساتھ ان کے کوء یمقاصد وابستہ نہیں ہیں۔ وہ ان سے کوئی اجر طلب نہیں کرتے کہ تم اللہ کی طرف رجوع کرو گے تو مجھے یہ انعام بھی دو گے۔ میرا اجر تو صرف اللہ پر ہے جس نے مجھے یہ دعوت دینے پر مامور کیا ہے۔ لوگوں سے یہ کہنا کہ میں تم سے کوئی دنیاوی اجر طلب نہیں کرتا ، یہ بات ہر نبی نے کی ہے اور معلوم یہ ہوتا ہے کہ ہر دور میں تحریک اسلامی کی دعوت دینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ تحریک کے ساتھ اپنے اغراض و مقاصد وابستہ نہ کریں کیونکہ ایک سچے داعی اور جھوٹے داعی میں فرق ہی یہ ہوتا ہے کہ ایک جھوٹا داعی مفادات کے لئے دعوت سے وابستہ ہوتا ہے۔ تمام انبیاء کے زمانے میں کاہن اور دوسرے مذہب راہنما لوگوں کے اموال باطل طریقے سے کھاتے تھے۔ ان کا کام ہی یہ ہوتا تھا کہ مختلف طریقوں اور حیلوں سے لوگوں کے مال بٹورنے کی کوشش کریں۔ اس کے مقابلے میں داعیان حق ہمیشہ مخلص ہوتے تھے۔ وہ اس ہدایت پر کوئی فیس طلب نہ کرتے تھے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ ہمارا اجر اللہ رب العالمین پر ہے۔
الشعراء 26:109
وما اسئلکم ……رب العلمین (109)
یہاں ان سے مکرر یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ خدا سے ڈرو اور اطاعت اختیار کرلو ، ہم تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے نہ کا حصول چاہتے ہیں۔
الشعراء 26:110
فاثقوا اللہ و اطیعون (110)
لیکن لوگ ان پر عجیب اعتراض کرتے ہیں اور انسانی تاریخ میں تمام رسولوں پر یہ اعتراض کیا گیا ہے۔
الشعراء 26:111
قالوا انومن لک و اتبع الارزذلون (111)
’ یہاں ارزلون سے مراد غرباء فقرئا ہیں اور یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو رسولوں کی پیروی اختیار کرتے ہیں۔ یہی لوگ ایمان لاتے اور استقامت بھی کرتے ہیں اور ان غرباء کو راہ ہدایت اختیار کرنے سے یہی بےکار کبرا روکتے ہیں اور یہ اس لئے روکتے ہیں کہ معاشرے میں ان کی پوزیشن اور ان کا مقام و مرتبہ کہیں آگے سے گر نہ جائے۔ غریب لوگ تو ہمیشہ دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور کبرا محروم رہتے ہیں ان کا مقام و مرتبہ انہیں حق سے دور رکھتا ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں ، جھوٹے حالات اور وہی روایات کے خول سے باہر نہیں آسکتے۔ پھر یہ کبرا اور معتربین عقیدہ توحید اختیار کر کے یہ پسند نہیں کرتے کہ عامتہ الناس اور جمہور کے ساتھ ان کا مقام اور مرتبہ برابر ہوجائے۔ کیونکہ اسلام میں داخل ہو کر نہ وہ خصوصی مراعات کا مطالبہ کرسکتے ہیں اور جھوٹے مرتبے کو قائم رکھ سکتے ہیں۔ جبکہ اسلامی معاشرے میں ایک ہی قدر ہے ” ایمان اور عمل صالح ‘ یہی کسی کو اٹھانی ہے اور سکی کو گراتی ہے اور اسلامی معاشرے میں ایک ہی میزان ہے ” عقیدہ اور درست عمل “۔
چناچہ حضرت نوح ان کو ایسا جواب دیتے ہیں جو ان ثابت شدہ قدروں کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ رسول کا فریضہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ لوگ جو کچھ کرتے ہیں ان کا ذمہ دار سوال نہیں ہے ۔ حساب و کتاب لینے والا اللہ ہے۔
الشعراء 26:112
قال وما علمی ……نذیر مبین (115)
یہ بڑے لوگ عوام کے بارے میں ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ان کے اخلاق و عادات اعلیٰ معیار کے نہیں ہوتے اور نہ ہی اعلیٰ طبقات میں برداشت کئے جاتے ہیں کیونکہ یہ اعلیٰ طبقات کے لوگ بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں اور ذوق لطیف رکھتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ان سے کہتے ہیں کہ میں تو لوگوں سے ایمان لانے کے سوا کچھ مطالبہ نہیں کرتا اور یہ غریب لوگ جب ایمان لے آئے ہیں تو میں ان سے اب اور کیا مطالبہ کروں۔ اس سے قبل ان کے جو اعمال تھے وہ خدا ہی جانتا ہے۔ ان کی قدر و قیمت کا تعین اللہ کرے گا۔ اور اچھائیوں اور برائیوں پر جزا و سزاب ھی اللہ دے گا۔ اللہ ہر چیز کو جانتا ہے اور تمہاری حالت ہی ہے کہ وہ مانشعرون ” تم شعور نہیں رکھتے “ کہ اللہ کے ترازو میں کون وزن رکھتا ہے جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرا فریضہ صرف کھلے اندازے ڈرانا ہے۔
جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے واضح دلائل اور سیدھی منطق پیش کی اور اب وہ اس بات سے عاجز آگئے کہ حضرت نوح کے ساتھ مزید کوئی مکالمہ کرسکیں تو انہوں نے وہی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی جس کو سرکش اور ظالم اور جابر ہمیشہ اختیار کرتے ہیں۔ یعنی حجت اور برہان کے مقابلے میں ڈنڈا۔ ہر زمان و مکان میں لاجوبا انسان کا یہی دستور ہوتا ہے کہ جب اس کے پاس دلیل کا توشہ ختم ہوتا ہے تو وہ ہتھیار نکالتا ہے۔
الشعراء 26:113
قال وما علمی ……نذیر مبین (115)
یہ بڑے لوگ عوام کے بارے میں ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ان کے اخلاق و عادات اعلیٰ معیار کے نہیں ہوتے اور نہ ہی اعلیٰ طبقات میں برداشت کئے جاتے ہیں کیونکہ یہ اعلیٰ طبقات کے لوگ بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں اور ذوق لطیف رکھتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ان سے کہتے ہیں کہ میں تو لوگوں سے ایمان لانے کے سوا کچھ مطالبہ نہیں کرتا اور یہ غریب لوگ جب ایمان لے آئے ہیں تو میں ان سے اب اور کیا مطالبہ کروں۔ اس سے قبل ان کے جو اعمال تھے وہ خدا ہی جانتا ہے۔ ان کی قدر و قیمت کا تعین اللہ کرے گا۔ اور اچھائیوں اور برائیوں پر جزا و سزاب ھی اللہ دے گا۔ اللہ ہر چیز کو جانتا ہے اور تمہاری حالت ہی ہے کہ وہ مانشعرون ” تم شعور نہیں رکھتے “ کہ اللہ کے ترازو میں کون وزن رکھتا ہے جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرا فریضہ صرف کھلے اندازے ڈرانا ہے۔
جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے واضح دلائل اور سیدھی منطق پیش کی اور اب وہ اس بات سے عاجز آگئے کہ حضرت نوح کے ساتھ مزید کوئی مکالمہ کرسکیں تو انہوں نے وہی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی جس کو سرکش اور ظالم اور جابر ہمیشہ اختیار کرتے ہیں۔ یعنی حجت اور برہان کے مقابلے میں ڈنڈا۔ ہر زمان و مکان میں لاجوبا انسان کا یہی دستور ہوتا ہے کہ جب اس کے پاس دلیل کا توشہ ختم ہوتا ہے تو وہ ہتھیار نکالتا ہے۔
الشعراء 26:114
قال وما علمی ……نذیر مبین (115)
یہ بڑے لوگ عوام کے بارے میں ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ان کے اخلاق و عادات اعلیٰ معیار کے نہیں ہوتے اور نہ ہی اعلیٰ طبقات میں برداشت کئے جاتے ہیں کیونکہ یہ اعلیٰ طبقات کے لوگ بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں اور ذوق لطیف رکھتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ان سے کہتے ہیں کہ میں تو لوگوں سے ایمان لانے کے سوا کچھ مطالبہ نہیں کرتا اور یہ غریب لوگ جب ایمان لے آئے ہیں تو میں ان سے اب اور کیا مطالبہ کروں۔ اس سے قبل ان کے جو اعمال تھے وہ خدا ہی جانتا ہے۔ ان کی قدر و قیمت کا تعین اللہ کرے گا۔ اور اچھائیوں اور برائیوں پر جزا و سزاب ھی اللہ دے گا۔ اللہ ہر چیز کو جانتا ہے اور تمہاری حالت ہی ہے کہ وہ مانشعرون ” تم شعور نہیں رکھتے “ کہ اللہ کے ترازو میں کون وزن رکھتا ہے جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرا فریضہ صرف کھلے اندازے ڈرانا ہے۔
جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے واضح دلائل اور سیدھی منطق پیش کی اور اب وہ اس بات سے عاجز آگئے کہ حضرت نوح کے ساتھ مزید کوئی مکالمہ کرسکیں تو انہوں نے وہی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی جس کو سرکش اور ظالم اور جابر ہمیشہ اختیار کرتے ہیں۔ یعنی حجت اور برہان کے مقابلے میں ڈنڈا۔ ہر زمان و مکان میں لاجوبا انسان کا یہی دستور ہوتا ہے کہ جب اس کے پاس دلیل کا توشہ ختم ہوتا ہے تو وہ ہتھیار نکالتا ہے۔
الشعراء 26:115
قال وما علمی ……نذیر مبین (115)
یہ بڑے لوگ عوام کے بارے میں ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ان کے اخلاق و عادات اعلیٰ معیار کے نہیں ہوتے اور نہ ہی اعلیٰ طبقات میں برداشت کئے جاتے ہیں کیونکہ یہ اعلیٰ طبقات کے لوگ بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں اور ذوق لطیف رکھتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ان سے کہتے ہیں کہ میں تو لوگوں سے ایمان لانے کے سوا کچھ مطالبہ نہیں کرتا اور یہ غریب لوگ جب ایمان لے آئے ہیں تو میں ان سے اب اور کیا مطالبہ کروں۔ اس سے قبل ان کے جو اعمال تھے وہ خدا ہی جانتا ہے۔ ان کی قدر و قیمت کا تعین اللہ کرے گا۔ اور اچھائیوں اور برائیوں پر جزا و سزاب ھی اللہ دے گا۔ اللہ ہر چیز کو جانتا ہے اور تمہاری حالت ہی ہے کہ وہ مانشعرون ” تم شعور نہیں رکھتے “ کہ اللہ کے ترازو میں کون وزن رکھتا ہے جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرا فریضہ صرف کھلے اندازے ڈرانا ہے۔
جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے واضح دلائل اور سیدھی منطق پیش کی اور اب وہ اس بات سے عاجز آگئے کہ حضرت نوح کے ساتھ مزید کوئی مکالمہ کرسکیں تو انہوں نے وہی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی جس کو سرکش اور ظالم اور جابر ہمیشہ اختیار کرتے ہیں۔ یعنی حجت اور برہان کے مقابلے میں ڈنڈا۔ ہر زمان و مکان میں لاجوبا انسان کا یہی دستور ہوتا ہے کہ جب اس کے پاس دلیل کا توشہ ختم ہوتا ہے تو وہ ہتھیار نکالتا ہے۔
الشعراء 26:116
قالوا لئن ……المرجومین (116)
’ اب سرکشی ننگی ہو کر سامنے آگئی۔ گمراہی نے اپنے ذرائع اور اوچھے ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیئے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو ملعوم تھا کہ یہ سنگ دل کوئی نرمی قبول نہیں کرتے۔
اب حضرت نوح (علیہ السلام) بھی اپنا آخری ہتھیار استعمال کرتے ہیں وہ اپنے والی مددگار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جن کے سوال اہل ایمان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
الشعراء 26:117
قالوا لئن ……المرجومین (116)
’ اب سرکشی ننگی ہو کر سامنے آگئی۔ گمراہی نے اپنے ذرائع اور اوچھے ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیئے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو ملعوم تھا کہ یہ سنگ دل کوئی نرمی قبول نہیں کرتے۔
اب حضرت نوح (علیہ السلام) بھی اپنا آخری ہتھیار استعمال کرتے ہیں وہ اپنے والی مددگار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جن کے سوال اہل ایمان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
الشعراء 26:118
قالوا لئن ……المرجومین (116)
’ اب سرکشی ننگی ہو کر سامنے آگئی۔ گمراہی نے اپنے ذرائع اور اوچھے ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیئے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو ملعوم تھا کہ یہ سنگ دل کوئی نرمی قبول نہیں کرتے۔
اب حضرت نوح (علیہ السلام) بھی اپنا آخری ہتھیار استعمال کرتے ہیں وہ اپنے والی مددگار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جن کے سوال اہل ایمان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
الشعراء 26:119
قالوا لئن ……المرجومین (116)
’ اب سرکشی ننگی ہو کر سامنے آگئی۔ گمراہی نے اپنے ذرائع اور اوچھے ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیئے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو ملعوم تھا کہ یہ سنگ دل کوئی نرمی قبول نہیں کرتے۔
اب حضرت نوح (علیہ السلام) بھی اپنا آخری ہتھیار استعمال کرتے ہیں وہ اپنے والی مددگار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جن کے سوال اہل ایمان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
الشعراء 26:120
قالوا لئن ……المرجومین (116)
’ اب سرکشی ننگی ہو کر سامنے آگئی۔ گمراہی نے اپنے ذرائع اور اوچھے ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیئے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو ملعوم تھا کہ یہ سنگ دل کوئی نرمی قبول نہیں کرتے۔
اب حضرت نوح (علیہ السلام) بھی اپنا آخری ہتھیار استعمال کرتے ہیں وہ اپنے والی مددگار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جن کے سوال اہل ایمان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
الشعراء 26:121
قالوا لئن ……المرجومین (116)
’ اب سرکشی ننگی ہو کر سامنے آگئی۔ گمراہی نے اپنے ذرائع اور اوچھے ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیئے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو ملعوم تھا کہ یہ سنگ دل کوئی نرمی قبول نہیں کرتے۔
اب حضرت نوح (علیہ السلام) بھی اپنا آخری ہتھیار استعمال کرتے ہیں وہ اپنے والی مددگار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جن کے سوال اہل ایمان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
الشعراء 26:122
قالوا لئن ……المرجومین (116)
’ اب سرکشی ننگی ہو کر سامنے آگئی۔ گمراہی نے اپنے ذرائع اور اوچھے ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیئے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو ملعوم تھا کہ یہ سنگ دل کوئی نرمی قبول نہیں کرتے۔
اب حضرت نوح (علیہ السلام) بھی اپنا آخری ہتھیار استعمال کرتے ہیں وہ اپنے والی مددگار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جن کے سوال اہل ایمان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
الشعراء 26:123
درس نمبر 165 تشریح آیات
123……تا……140
قوم ہود احقاف میں رہتی تھی۔ یہ حضر موت کے قریب یمن کی طرف ریت کے ٹیلے ہیں۔ یہ قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد بڑی ترقی یافتہ قوم رہی حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں کراہ ارض کو سرکشوں سے پاک کردیا تھا گیا جنہیں آپ کے بعد اپنی تقریر کی وجہ سے یہ لوگ سرکش ہوگئے۔
سورت اعراف میں ان کا قصہ متصلا آیا ہے۔ سورت ہود میں بھی آیا ہے۔ سورت مومنین میں یہ قصہ حضرت ہود کے ذکر کے بغیر آیا ہے۔ اس میں ان کا نام عاد بھی نہیں لیا گیا۔ یاں بھی اس قصے کو بڑے اختصار کے ساتھ لیا گیا ہے۔ حضرت ہو داپنی قوم کو دعوت دیتے ہیں۔ قوم تکذیب کرتی ہے اور اللہ کی طرف سے مکذبین ہلاک کردیئے جاتے ہیں۔ اس کا آغاز بھی یوں ہوتا ہے جس طرح قصہ نوح کا آغاز ہوا تھا۔
کذبت عاد……رب العلمین (127)
ایک ہی بات ہے جسے تمام رسول دہراتے نظر آتے ہیں۔ اللہ کی طرف آ جائو ، خدا سے ڈرو اور رسول کی اطاعت کرو ، اور دنیا پرستی کو چھوڑ دو اور دنیا کا ساز و سامان اور ترقی مومن کی منزل مقصود نہیں ہے۔ محض دنیا کے ساز و سامان سے ذرا بلند ہو کر کا مک رو ، اور اللہ کے نزدیک جو عظیم اجر موجود ہے اس پر نظریں گاڑے رہو۔
اس کے بعد بعض اضافی باتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس قوم کے مخصوص افعال تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ تم بڑے بڑے مکانات بنانے میں سخت اسراف اور فضول خرچی سے کام لیتے ہو محض عظمت کے اظہار کے لئے دولت کی نمائش کے لیے ۔ بڑے بڑے پلازے اور ملٹی سٹوری بلڈنگز ، مزید یہ کہ تم نے دنیا کی مادی قوتوں کو مسخر کرلیا ہے اور اس پر نازاں ہو اور اللہ کی قوت سے غافل ہو جو تمہیں ہر وقت دیکھ رہا ہے۔
الشعراء 26:124
درس نمبر 165 تشریح آیات
123……تا……140
قوم ہود احقاف میں رہتی تھی۔ یہ حضر موت کے قریب یمن کی طرف ریت کے ٹیلے ہیں۔ یہ قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد بڑی ترقی یافتہ قوم رہی حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں کراہ ارض کو سرکشوں سے پاک کردیا تھا گیا جنہیں آپ کے بعد اپنی تقریر کی وجہ سے یہ لوگ سرکش ہوگئے۔
سورت اعراف میں ان کا قصہ متصلا آیا ہے۔ سورت ہود میں بھی آیا ہے۔ سورت مومنین میں یہ قصہ حضرت ہود کے ذکر کے بغیر آیا ہے۔ اس میں ان کا نام عاد بھی نہیں لیا گیا۔ یاں بھی اس قصے کو بڑے اختصار کے ساتھ لیا گیا ہے۔ حضرت ہو داپنی قوم کو دعوت دیتے ہیں۔ قوم تکذیب کرتی ہے اور اللہ کی طرف سے مکذبین ہلاک کردیئے جاتے ہیں۔ اس کا آغاز بھی یوں ہوتا ہے جس طرح قصہ نوح کا آغاز ہوا تھا۔
کذبت عاد……رب العلمین (127)
ایک ہی بات ہے جسے تمام رسول دہراتے نظر آتے ہیں۔ اللہ کی طرف آ جائو ، خدا سے ڈرو اور رسول کی اطاعت کرو ، اور دنیا پرستی کو چھوڑ دو اور دنیا کا ساز و سامان اور ترقی مومن کی منزل مقصود نہیں ہے۔ محض دنیا کے ساز و سامان سے ذرا بلند ہو کر کا مک رو ، اور اللہ کے نزدیک جو عظیم اجر موجود ہے اس پر نظریں گاڑے رہو۔
اس کے بعد بعض اضافی باتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس قوم کے مخصوص افعال تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ تم بڑے بڑے مکانات بنانے میں سخت اسراف اور فضول خرچی سے کام لیتے ہو محض عظمت کے اظہار کے لئے دولت کی نمائش کے لیے ۔ بڑے بڑے پلازے اور ملٹی سٹوری بلڈنگز ، مزید یہ کہ تم نے دنیا کی مادی قوتوں کو مسخر کرلیا ہے اور اس پر نازاں ہو اور اللہ کی قوت سے غافل ہو جو تمہیں ہر وقت دیکھ رہا ہے۔
الشعراء 26:125
درس نمبر 165 تشریح آیات
123……تا……140
قوم ہود احقاف میں رہتی تھی۔ یہ حضر موت کے قریب یمن کی طرف ریت کے ٹیلے ہیں۔ یہ قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد بڑی ترقی یافتہ قوم رہی حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں کراہ ارض کو سرکشوں سے پاک کردیا تھا گیا جنہیں آپ کے بعد اپنی تقریر کی وجہ سے یہ لوگ سرکش ہوگئے۔
سورت اعراف میں ان کا قصہ متصلا آیا ہے۔ سورت ہود میں بھی آیا ہے۔ سورت مومنین میں یہ قصہ حضرت ہود کے ذکر کے بغیر آیا ہے۔ اس میں ان کا نام عاد بھی نہیں لیا گیا۔ یاں بھی اس قصے کو بڑے اختصار کے ساتھ لیا گیا ہے۔ حضرت ہو داپنی قوم کو دعوت دیتے ہیں۔ قوم تکذیب کرتی ہے اور اللہ کی طرف سے مکذبین ہلاک کردیئے جاتے ہیں۔ اس کا آغاز بھی یوں ہوتا ہے جس طرح قصہ نوح کا آغاز ہوا تھا۔
کذبت عاد……رب العلمین (127)
ایک ہی بات ہے جسے تمام رسول دہراتے نظر آتے ہیں۔ اللہ کی طرف آ جائو ، خدا سے ڈرو اور رسول کی اطاعت کرو ، اور دنیا پرستی کو چھوڑ دو اور دنیا کا ساز و سامان اور ترقی مومن کی منزل مقصود نہیں ہے۔ محض دنیا کے ساز و سامان سے ذرا بلند ہو کر کا مک رو ، اور اللہ کے نزدیک جو عظیم اجر موجود ہے اس پر نظریں گاڑے رہو۔
اس کے بعد بعض اضافی باتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس قوم کے مخصوص افعال تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ تم بڑے بڑے مکانات بنانے میں سخت اسراف اور فضول خرچی سے کام لیتے ہو محض عظمت کے اظہار کے لئے دولت کی نمائش کے لیے ۔ بڑے بڑے پلازے اور ملٹی سٹوری بلڈنگز ، مزید یہ کہ تم نے دنیا کی مادی قوتوں کو مسخر کرلیا ہے اور اس پر نازاں ہو اور اللہ کی قوت سے غافل ہو جو تمہیں ہر وقت دیکھ رہا ہے۔
الشعراء 26:126
درس نمبر 165 تشریح آیات
123……تا……140
قوم ہود احقاف میں رہتی تھی۔ یہ حضر موت کے قریب یمن کی طرف ریت کے ٹیلے ہیں۔ یہ قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد بڑی ترقی یافتہ قوم رہی حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں کراہ ارض کو سرکشوں سے پاک کردیا تھا گیا جنہیں آپ کے بعد اپنی تقریر کی وجہ سے یہ لوگ سرکش ہوگئے۔
سورت اعراف میں ان کا قصہ متصلا آیا ہے۔ سورت ہود میں بھی آیا ہے۔ سورت مومنین میں یہ قصہ حضرت ہود کے ذکر کے بغیر آیا ہے۔ اس میں ان کا نام عاد بھی نہیں لیا گیا۔ یاں بھی اس قصے کو بڑے اختصار کے ساتھ لیا گیا ہے۔ حضرت ہو داپنی قوم کو دعوت دیتے ہیں۔ قوم تکذیب کرتی ہے اور اللہ کی طرف سے مکذبین ہلاک کردیئے جاتے ہیں۔ اس کا آغاز بھی یوں ہوتا ہے جس طرح قصہ نوح کا آغاز ہوا تھا۔
کذبت عاد……رب العلمین (127)
ایک ہی بات ہے جسے تمام رسول دہراتے نظر آتے ہیں۔ اللہ کی طرف آ جائو ، خدا سے ڈرو اور رسول کی اطاعت کرو ، اور دنیا پرستی کو چھوڑ دو اور دنیا کا ساز و سامان اور ترقی مومن کی منزل مقصود نہیں ہے۔ محض دنیا کے ساز و سامان سے ذرا بلند ہو کر کا مک رو ، اور اللہ کے نزدیک جو عظیم اجر موجود ہے اس پر نظریں گاڑے رہو۔
اس کے بعد بعض اضافی باتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس قوم کے مخصوص افعال تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ تم بڑے بڑے مکانات بنانے میں سخت اسراف اور فضول خرچی سے کام لیتے ہو محض عظمت کے اظہار کے لئے دولت کی نمائش کے لیے ۔ بڑے بڑے پلازے اور ملٹی سٹوری بلڈنگز ، مزید یہ کہ تم نے دنیا کی مادی قوتوں کو مسخر کرلیا ہے اور اس پر نازاں ہو اور اللہ کی قوت سے غافل ہو جو تمہیں ہر وقت دیکھ رہا ہے۔
الشعراء 26:127
درس نمبر 165 تشریح آیات
123……تا……140
قوم ہود احقاف میں رہتی تھی۔ یہ حضر موت کے قریب یمن کی طرف ریت کے ٹیلے ہیں۔ یہ قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد بڑی ترقی یافتہ قوم رہی حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں کراہ ارض کو سرکشوں سے پاک کردیا تھا گیا جنہیں آپ کے بعد اپنی تقریر کی وجہ سے یہ لوگ سرکش ہوگئے۔
سورت اعراف میں ان کا قصہ متصلا آیا ہے۔ سورت ہود میں بھی آیا ہے۔ سورت مومنین میں یہ قصہ حضرت ہود کے ذکر کے بغیر آیا ہے۔ اس میں ان کا نام عاد بھی نہیں لیا گیا۔ یاں بھی اس قصے کو بڑے اختصار کے ساتھ لیا گیا ہے۔ حضرت ہو داپنی قوم کو دعوت دیتے ہیں۔ قوم تکذیب کرتی ہے اور اللہ کی طرف سے مکذبین ہلاک کردیئے جاتے ہیں۔ اس کا آغاز بھی یوں ہوتا ہے جس طرح قصہ نوح کا آغاز ہوا تھا۔
کذبت عاد……رب العلمین (127)
ایک ہی بات ہے جسے تمام رسول دہراتے نظر آتے ہیں۔ اللہ کی طرف آ جائو ، خدا سے ڈرو اور رسول کی اطاعت کرو ، اور دنیا پرستی کو چھوڑ دو اور دنیا کا ساز و سامان اور ترقی مومن کی منزل مقصود نہیں ہے۔ محض دنیا کے ساز و سامان سے ذرا بلند ہو کر کا مک رو ، اور اللہ کے نزدیک جو عظیم اجر موجود ہے اس پر نظریں گاڑے رہو۔
اس کے بعد بعض اضافی باتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس قوم کے مخصوص افعال تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ تم بڑے بڑے مکانات بنانے میں سخت اسراف اور فضول خرچی سے کام لیتے ہو محض عظمت کے اظہار کے لئے دولت کی نمائش کے لیے ۔ بڑے بڑے پلازے اور ملٹی سٹوری بلڈنگز ، مزید یہ کہ تم نے دنیا کی مادی قوتوں کو مسخر کرلیا ہے اور اس پر نازاں ہو اور اللہ کی قوت سے غافل ہو جو تمہیں ہر وقت دیکھ رہا ہے۔
الشعراء 26:128
اتبنون بکل ……تخلدون (79)
ربع عربی میں بلند زمین کو کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اونچے مقامات پر مکانات بناتے تھے اور دور سے وہ مکانات یوں نظر آتے تھے جیسا کہ بڑا پہاڑ اور مقصود ان کا یہ دکھانا تھا کہ وہ بڑے ماہر فن اور بڑے صاحب مقدرت ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس کے لئے عبث کا لفظ استعمال کیا ، اگر یہ بڑے بڑے نشانات وہ مسافروں کی رہنمائی یا سمندری جہازوں کی راہنمائی کے لئے بناتے تو قرآن ان کے لئے عبث کا لفظ استعمال نہ کرتا۔ اس سے یہ تاثر دینا مطلوب ہے کہ قوت اور مہارت اور دولت کو منفعت بخش امور میں خرچ کرنا ہے۔ محض نمائش ، زیبائش اور اظہار حسن و کمال کے لئے نہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس تبصرے میں ایک معنی خیز فقرہ بھی استعمال کیا ہے۔
وتخذون مصائع لعلکم تخلدون (26 : 129) ” تم بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو ، گویا تم نے ہمیشہ رہنا ہے۔ “ قوم عاد تہذیب و تمدن میں قابل ذکر حد تک ترقی کر گئے تھے۔ بڑے بڑے محلاث بنانے اور پہاڑوں کو کانٹے کے لیء انہوں نے ترقی یافتہ ٹیکنالوجی ایجاد کرلی تھی۔ بڑے بڑے مینارے بلند مقامات پر بناتے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ شاید یہ بڑے بڑے محلات اور اونچی اونچی علامات اور مینار سے وہ اس لئے بناتے تھے کہ انہیں اس دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے۔ نہ اس دنیا کے طبعی حالات ان پر اثر انداز ہوں گے اور نہ کوئی دشمن ان پر فتح پا سکے گا۔
حضرت ہود اپنی تنقید جاری رکھتے ہیں :
الشعراء 26:129
اتبنون بکل ……تخلدون (79)
ربع عربی میں بلند زمین کو کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اونچے مقامات پر مکانات بناتے تھے اور دور سے وہ مکانات یوں نظر آتے تھے جیسا کہ بڑا پہاڑ اور مقصود ان کا یہ دکھانا تھا کہ وہ بڑے ماہر فن اور بڑے صاحب مقدرت ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس کے لئے عبث کا لفظ استعمال کیا ، اگر یہ بڑے بڑے نشانات وہ مسافروں کی رہنمائی یا سمندری جہازوں کی راہنمائی کے لئے بناتے تو قرآن ان کے لئے عبث کا لفظ استعمال نہ کرتا۔ اس سے یہ تاثر دینا مطلوب ہے کہ قوت اور مہارت اور دولت کو منفعت بخش امور میں خرچ کرنا ہے۔ محض نمائش ، زیبائش اور اظہار حسن و کمال کے لئے نہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس تبصرے میں ایک معنی خیز فقرہ بھی استعمال کیا ہے۔
وتخذون مصائع لعلکم تخلدون (26 : 129) ” تم بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو ، گویا تم نے ہمیشہ رہنا ہے۔ “ قوم عاد تہذیب و تمدن میں قابل ذکر حد تک ترقی کر گئے تھے۔ بڑے بڑے محلاث بنانے اور پہاڑوں کو کانٹے کے لیء انہوں نے ترقی یافتہ ٹیکنالوجی ایجاد کرلی تھی۔ بڑے بڑے مینارے بلند مقامات پر بناتے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ شاید یہ بڑے بڑے محلات اور اونچی اونچی علامات اور مینار سے وہ اس لئے بناتے تھے کہ انہیں اس دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے۔ نہ اس دنیا کے طبعی حالات ان پر اثر انداز ہوں گے اور نہ کوئی دشمن ان پر فتح پا سکے گا۔
حضرت ہود اپنی تنقید جاری رکھتے ہیں :
الشعراء 26:130
واذا بطشتم بطشتم جبارین (130)
یہ لوگ بہت بڑے نافرمان اور سرکش تھے۔ جب کسی کو اپنی ظالمانہ گرفت میں لیتے تو حد سے گزر جاتے۔ ظلم اور سنگدلی ان کا شیوہ ہوتا۔ جس طرح اس دنیا میں مادی قوت رکھنے والے ہر جبار کا قانون ہوتا ہے۔
چناچہ حضرت ہود ان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ خدا سے ڈریں اور اس کے رسول کی اطاعت میں آجائیں۔ تاکہ اللہ اور رسول ان کو اس سختی سے روک دیں۔
الشعراء 26:131
فاتقوا اللہ و اطیعون (131)
حضرت ہود ان کو یاد دلاتے ہیں کہ تمہارے پاس جو مادی قوت ہے اور جس کے ذریعہ تم بڑے بڑے محلات بناتے ہو اور اپنی قوت کا رعب جماتے ہو۔ یہ تو سب اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے اور اس نعمت کے بدلے مناسب تو یہ تھا کہ تم اللہ کا شکر ادا کرتے اور اس بات سے ڈرتے کہ اللہ کہیں یہ نعمت تم سے چھین نہ لے اور مزید اس پر تمہیں سزا نہ دے کیونکہ تم تو اسراف کرتے ہو ، بےفائدہ کام کرتے ہو اور ظلم و ستم ڈھاتے ہو۔
الشعراء 26:132
واتقوا ……عظیم (135)
حضرت بن کو پہلے رحمالی نعمت یاد دلاتے ہیں کہ تم جانتے ہو کہ تمہیں کیا کیا انعامات سے نوازا گیا۔ جو کچھ تم ہو ، وہ تمہارے سامنے ہے۔ تم اس حال میں مست ہو لیکن بعض اہم چیزوں کا وہ نام بھی لیتے ہیں۔ تمہیں جانور دیئے ، تمہیں اولاد دی ، باغات دیئے اور پانی کے چشمے دیئے۔ اس دور کی ترقی میں یہی چیزیں اہم تھیں۔ جبکہ یہ چیز ہر دور کی ترقی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں اور آج بھی اہم ہیں۔ حضرت ان لوگوں کو ایک عظیم دن کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔ کیونکہ جو روش انہوں نے اختیار کر لیت ھی اس کی وجہ سے وہ عذاب کے مستحق ہوگئے تھے اور حضرت ہود چونکہ انہی کے بھائی تھے۔ اس لئے وہ بڑی شفقت سے انہیں ڈرا رہ تھے نہایت والہانہ انداز میں۔ کیونکہ عذاب ان کو بصیرت نبوت کے ذریعے یقینی نظر آ رہا تھا۔
لیکن ان کی یہ مشفقانہ نصیحت اور ڈر اواہن کے دلوں پر اثر نہ کر رہا تھا جو بہت ہی سخت ہوگئے تھے اور عناد اور سرکشی پر تلے ہوئے تھے۔
الشعراء 26:133
واتقوا ……عظیم (135)
حضرت بن کو پہلے رحمالی نعمت یاد دلاتے ہیں کہ تم جانتے ہو کہ تمہیں کیا کیا انعامات سے نوازا گیا۔ جو کچھ تم ہو ، وہ تمہارے سامنے ہے۔ تم اس حال میں مست ہو لیکن بعض اہم چیزوں کا وہ نام بھی لیتے ہیں۔ تمہیں جانور دیئے ، تمہیں اولاد دی ، باغات دیئے اور پانی کے چشمے دیئے۔ اس دور کی ترقی میں یہی چیزیں اہم تھیں۔ جبکہ یہ چیز ہر دور کی ترقی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں اور آج بھی اہم ہیں۔ حضرت ان لوگوں کو ایک عظیم دن کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔ کیونکہ جو روش انہوں نے اختیار کر لیت ھی اس کی وجہ سے وہ عذاب کے مستحق ہوگئے تھے اور حضرت ہود چونکہ انہی کے بھائی تھے۔ اس لئے وہ بڑی شفقت سے انہیں ڈرا رہ تھے نہایت والہانہ انداز میں۔ کیونکہ عذاب ان کو بصیرت نبوت کے ذریعے یقینی نظر آ رہا تھا۔
لیکن ان کی یہ مشفقانہ نصیحت اور ڈر اواہن کے دلوں پر اثر نہ کر رہا تھا جو بہت ہی سخت ہوگئے تھے اور عناد اور سرکشی پر تلے ہوئے تھے۔
الشعراء 26:134
واتقوا ……عظیم (135)
حضرت بن کو پہلے رحمالی نعمت یاد دلاتے ہیں کہ تم جانتے ہو کہ تمہیں کیا کیا انعامات سے نوازا گیا۔ جو کچھ تم ہو ، وہ تمہارے سامنے ہے۔ تم اس حال میں مست ہو لیکن بعض اہم چیزوں کا وہ نام بھی لیتے ہیں۔ تمہیں جانور دیئے ، تمہیں اولاد دی ، باغات دیئے اور پانی کے چشمے دیئے۔ اس دور کی ترقی میں یہی چیزیں اہم تھیں۔ جبکہ یہ چیز ہر دور کی ترقی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں اور آج بھی اہم ہیں۔ حضرت ان لوگوں کو ایک عظیم دن کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔ کیونکہ جو روش انہوں نے اختیار کر لیت ھی اس کی وجہ سے وہ عذاب کے مستحق ہوگئے تھے اور حضرت ہود چونکہ انہی کے بھائی تھے۔ اس لئے وہ بڑی شفقت سے انہیں ڈرا رہ تھے نہایت والہانہ انداز میں۔ کیونکہ عذاب ان کو بصیرت نبوت کے ذریعے یقینی نظر آ رہا تھا۔
لیکن ان کی یہ مشفقانہ نصیحت اور ڈر اواہن کے دلوں پر اثر نہ کر رہا تھا جو بہت ہی سخت ہوگئے تھے اور عناد اور سرکشی پر تلے ہوئے تھے۔
الشعراء 26:135
واتقوا ……عظیم (135)
حضرت بن کو پہلے رحمالی نعمت یاد دلاتے ہیں کہ تم جانتے ہو کہ تمہیں کیا کیا انعامات سے نوازا گیا۔ جو کچھ تم ہو ، وہ تمہارے سامنے ہے۔ تم اس حال میں مست ہو لیکن بعض اہم چیزوں کا وہ نام بھی لیتے ہیں۔ تمہیں جانور دیئے ، تمہیں اولاد دی ، باغات دیئے اور پانی کے چشمے دیئے۔ اس دور کی ترقی میں یہی چیزیں اہم تھیں۔ جبکہ یہ چیز ہر دور کی ترقی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں اور آج بھی اہم ہیں۔ حضرت ان لوگوں کو ایک عظیم دن کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔ کیونکہ جو روش انہوں نے اختیار کر لیت ھی اس کی وجہ سے وہ عذاب کے مستحق ہوگئے تھے اور حضرت ہود چونکہ انہی کے بھائی تھے۔ اس لئے وہ بڑی شفقت سے انہیں ڈرا رہ تھے نہایت والہانہ انداز میں۔ کیونکہ عذاب ان کو بصیرت نبوت کے ذریعے یقینی نظر آ رہا تھا۔
لیکن ان کی یہ مشفقانہ نصیحت اور ڈر اواہن کے دلوں پر اثر نہ کر رہا تھا جو بہت ہی سخت ہوگئے تھے اور عناد اور سرکشی پر تلے ہوئے تھے۔
الشعراء 26:136
قالوا سوآء ……الوعظین (136)
انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ ہود صاحب آپ فضول لگے ہوئے ہیں۔ ہمارے لئے آپ کا وعظ کرنا نہ کرنا برابر ہے۔ یہ جواب ان کی طرف سے سخت توہین آمیز ، سنگدلانہ اور انتہائی دینی جمود اور بلاوت کا مظہر تھا۔ یہ لوگ اپنے تقلیدی مذہب پر تلے ہوئے تھے۔
الشعراء 26:137
قالوا سوآء ……الوعظین (136)
انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ ہود صاحب آپ فضول لگے ہوئے ہیں۔ ہمارے لئے آپ کا وعظ کرنا نہ کرنا برابر ہے۔ یہ جواب ان کی طرف سے سخت توہین آمیز ، سنگدلانہ اور انتہائی دینی جمود اور بلاوت کا مظہر تھا۔ یہ لوگ اپنے تقلیدی مذہب پر تلے ہوئے تھے۔
الشعراء 26:138
ان ھذا ……بمعذبین (138)
یعنی وہ جو کام کر رہے ہیں وہ تو اسی رطح ہوتے چلے آئے ہیں۔ ہودعلیہ السلام خواہ مخواہ رفت کر رہے تھے وہ تو آباء و اجادد کی راہ پر جا رہے ہیں اور کوئی عذاب آنے کا ڈر نہیں ہے کیونکہ ہمارے آباء پر تو عذاب نہیں آیا۔
اب قرآن مجید اس مکالمے کے بقیہ حصوں کو چھوڑ دیتا ہے۔ بس انجام بتا دیا جاتا ہے ، اختصار کے ساتھ۔
الشعراء 26:139
فکذبوہ فاھلکنھم
غرض صرف دو لفظوں میں ان کا انجام بتا دیا جاتا ہے۔ دو لفظوں میں قصہ تمام ” تکذیب “ کی ” ہلاک ہوئے “۔ وہ تمام محلات لپیٹ دیئے گئے۔ وہ تمام انعامات و اکرامات واپس لے لئے گئے۔ وہ تمام مویشی ، تمام آبادی ، تمام باغات اور تمام چشمے لپیٹے گئے۔
غرض صرف دو لفظوں میں ان کا انجام بتا دیا جاتا ہے۔ دو لفظوں میں قصہ تمام ” تکذیب “ کی ” ہلاک ہوئے۔ “ وہ تمام محلات لپیٹ دیئے گئے۔ وہ تمام انعامات و اکرامات واپس لے لئے گئے۔ وہ تمام مویشی ، تمام آبادی ، تمام باغات اور تمام چشمے لپیٹے گئے۔
قوم عاد کے بعد کئی دوسری اقوام نے انسانی تاریخ میں عادیوں کی طرح سوچا ، عادیوں کی طرح دھوکہ کھایا ، اللہ سے دور ہو کر انہوں نے تہذیب و تمدن میں ترقی کی اور یہ سوچا کہ اب انسان اس قدر ترقی کرچکا ہے کہ اسے خدا کی ضرورت نہیں ہے۔ کئی اقوام نے دوسروں کے لئے ہلاکت کا سامان تیار کیا اور اپنے آپ کو بچایا اور یہ سوچتی رہیں کہ یہ ساز و سامان اسے اپنے دشمنوں سے بچا لے جائے گا لیکن ایسی اقوام کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ اس کے دائیں ، اس کے بائیں ، اس کے اوپر ، اس کے نیچے اور ہر طرف سے اس پر عذاب ٹوٹ پڑتا ہے۔
الشعراء 26:140
فکذبوہ فاھلکنھم
غرض صرف دو لفظوں میں ان کا انجام بتا دیا جاتا ہے۔ دو لفظوں میں قصہ تمام ” تکذیب “ کی ” ہلاک ہوئے “۔ وہ تمام محلات لپیٹ دیئے گئے۔ وہ تمام انعامات و اکرامات واپس لے لئے گئے۔ وہ تمام مویشی ، تمام آبادی ، تمام باغات اور تمام چشمے لپیٹے گئے۔
غرض صرف دو لفظوں میں ان کا انجام بتا دیا جاتا ہے۔ دو لفظوں میں قصہ تمام ” تکذیب “ کی ” ہلاک ہوئے۔ “ وہ تمام محلات لپیٹ دیئے گئے۔ وہ تمام انعامات و اکرامات واپس لے لئے گئے۔ وہ تمام مویشی ، تمام آبادی ، تمام باغات اور تمام چشمے لپیٹے گئے۔
قوم عاد کے بعد کئی دوسری اقوام نے انسانی تاریخ میں عادیوں کی طرح سوچا ، عادیوں کی طرح دھوکہ کھایا ، اللہ سے دور ہو کر انہوں نے تہذیب و تمدن میں ترقی کی اور یہ سوچا کہ اب انسان اس قدر ترقی کرچکا ہے کہ اسے خدا کی ضرورت نہیں ہے۔ کئی اقوام نے دوسروں کے لئے ہلاکت کا سامان تیار کیا اور اپنے آپ کو بچایا اور یہ سوچتی رہیں کہ یہ ساز و سامان اسے اپنے دشمنوں سے بچا لے جائے گا لیکن ایسی اقوام کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ اس کے دائیں ، اس کے بائیں ، اس کے اوپر ، اس کے نیچے اور ہر طرف سے اس پر عذاب ٹوٹ پڑتا ہے۔
الشعراء 26:141
درس نمبر 166 تشریح آیات
141……تا……159
کذبت ثمود ……رب العلمین (135)
وہی الفاظ اور وہی دعوت جسے ہر رسول پیش کر رہا ہے اور قرآن کریم تمام رسولوں کی طرف سے مختلف زبان و مکان اور مختلف اقوام و لسان کے باوجود ایک جیسے الفاظ لاتا ہے۔ یہ بتانے کے لئے کہ تمام رسولوں کی رسالت کا ایک ہی مقصد اور ایک ہی مضمون تھا۔ ایک فکر اور ایک منہاج تھا ۔ وہ ایک ہی اصول اور نظریہ تھا جس پر یہ رسالتیں اور یہ دعوتیں بلند ہوئیں۔ اللہ پر ایمان ، اس کی جو ابدی کا احساس اور ڈر ، اور ہر رسول کی اطاعت۔
اس کے بعد قرآن مجید قوم ثمود کی مخصوص باتیں بیان کرتا ہے۔ جو اس وقت سورت کے مضمون کے ساتھ مناسب ہیں۔ ان کو بھی حضرت صالح یاد دلاتے ہیں کہ دیکھو تم پر اللہ کے کیا کیا انعامات ہیں۔ یہ لوگ شام اور حجاز کے درمیان علاقہ حجر میں رہائش پذیر تھے۔ حضور اکرم ﷺ جب جنگ تبوک میں گئے تو اپنے صحابہ کرام کے ساتھ آپ نے ان کے علاقے اور گھروں کا عبرت ناک دورہ فرمایا۔ حضرت صالح فرمات یہیں کہ تمارے اعمال کے پیش نظر اللہ تم سے یہ انعامات چھین سکتا ہے ، ذرا خدا کا خوف کرو۔
الشعراء 26:142
درس نمبر 166 تشریح آیات
141……تا……159
کذبت ثمود ……رب العلمین (135)
وہی الفاظ اور وہی دعوت جسے ہر رسول پیش کر رہا ہے اور قرآن کریم تمام رسولوں کی طرف سے مختلف زبان و مکان اور مختلف اقوام و لسان کے باوجود ایک جیسے الفاظ لاتا ہے۔ یہ بتانے کے لئے کہ تمام رسولوں کی رسالت کا ایک ہی مقصد اور ایک ہی مضمون تھا۔ ایک فکر اور ایک منہاج تھا ۔ وہ ایک ہی اصول اور نظریہ تھا جس پر یہ رسالتیں اور یہ دعوتیں بلند ہوئیں۔ اللہ پر ایمان ، اس کی جو ابدی کا احساس اور ڈر ، اور ہر رسول کی اطاعت۔
اس کے بعد قرآن مجید قوم ثمود کی مخصوص باتیں بیان کرتا ہے۔ جو اس وقت سورت کے مضمون کے ساتھ مناسب ہیں۔ ان کو بھی حضرت صالح یاد دلاتے ہیں کہ دیکھو تم پر اللہ کے کیا کیا انعامات ہیں۔ یہ لوگ شام اور حجاز کے درمیان علاقہ حجر میں رہائش پذیر تھے۔ حضور اکرم ﷺ جب جنگ تبوک میں گئے تو اپنے صحابہ کرام کے ساتھ آپ نے ان کے علاقے اور گھروں کا عبرت ناک دورہ فرمایا۔ حضرت صالح فرمات یہیں کہ تمارے اعمال کے پیش نظر اللہ تم سے یہ انعامات چھین سکتا ہے ، ذرا خدا کا خوف کرو۔
الشعراء 26:143
درس نمبر 166 تشریح آیات
141……تا……159
کذبت ثمود ……رب العلمین (135)
وہی الفاظ اور وہی دعوت جسے ہر رسول پیش کر رہا ہے اور قرآن کریم تمام رسولوں کی طرف سے مختلف زبان و مکان اور مختلف اقوام و لسان کے باوجود ایک جیسے الفاظ لاتا ہے۔ یہ بتانے کے لئے کہ تمام رسولوں کی رسالت کا ایک ہی مقصد اور ایک ہی مضمون تھا۔ ایک فکر اور ایک منہاج تھا ۔ وہ ایک ہی اصول اور نظریہ تھا جس پر یہ رسالتیں اور یہ دعوتیں بلند ہوئیں۔ اللہ پر ایمان ، اس کی جو ابدی کا احساس اور ڈر ، اور ہر رسول کی اطاعت۔
اس کے بعد قرآن مجید قوم ثمود کی مخصوص باتیں بیان کرتا ہے۔ جو اس وقت سورت کے مضمون کے ساتھ مناسب ہیں۔ ان کو بھی حضرت صالح یاد دلاتے ہیں کہ دیکھو تم پر اللہ کے کیا کیا انعامات ہیں۔ یہ لوگ شام اور حجاز کے درمیان علاقہ حجر میں رہائش پذیر تھے۔ حضور اکرم ﷺ جب جنگ تبوک میں گئے تو اپنے صحابہ کرام کے ساتھ آپ نے ان کے علاقے اور گھروں کا عبرت ناک دورہ فرمایا۔ حضرت صالح فرمات یہیں کہ تمارے اعمال کے پیش نظر اللہ تم سے یہ انعامات چھین سکتا ہے ، ذرا خدا کا خوف کرو۔
الشعراء 26:144
درس نمبر 166 تشریح آیات
141……تا……159
کذبت ثمود ……رب العلمین (135)
وہی الفاظ اور وہی دعوت جسے ہر رسول پیش کر رہا ہے اور قرآن کریم تمام رسولوں کی طرف سے مختلف زبان و مکان اور مختلف اقوام و لسان کے باوجود ایک جیسے الفاظ لاتا ہے۔ یہ بتانے کے لئے کہ تمام رسولوں کی رسالت کا ایک ہی مقصد اور ایک ہی مضمون تھا۔ ایک فکر اور ایک منہاج تھا ۔ وہ ایک ہی اصول اور نظریہ تھا جس پر یہ رسالتیں اور یہ دعوتیں بلند ہوئیں۔ اللہ پر ایمان ، اس کی جو ابدی کا احساس اور ڈر ، اور ہر رسول کی اطاعت۔
اس کے بعد قرآن مجید قوم ثمود کی مخصوص باتیں بیان کرتا ہے۔ جو اس وقت سورت کے مضمون کے ساتھ مناسب ہیں۔ ان کو بھی حضرت صالح یاد دلاتے ہیں کہ دیکھو تم پر اللہ کے کیا کیا انعامات ہیں۔ یہ لوگ شام اور حجاز کے درمیان علاقہ حجر میں رہائش پذیر تھے۔ حضور اکرم ﷺ جب جنگ تبوک میں گئے تو اپنے صحابہ کرام کے ساتھ آپ نے ان کے علاقے اور گھروں کا عبرت ناک دورہ فرمایا۔ حضرت صالح فرمات یہیں کہ تمارے اعمال کے پیش نظر اللہ تم سے یہ انعامات چھین سکتا ہے ، ذرا خدا کا خوف کرو۔
الشعراء 26:145
درس نمبر 166 تشریح آیات
141……تا……159
کذبت ثمود ……رب العلمین (135)
وہی الفاظ اور وہی دعوت جسے ہر رسول پیش کر رہا ہے اور قرآن کریم تمام رسولوں کی طرف سے مختلف زبان و مکان اور مختلف اقوام و لسان کے باوجود ایک جیسے الفاظ لاتا ہے۔ یہ بتانے کے لئے کہ تمام رسولوں کی رسالت کا ایک ہی مقصد اور ایک ہی مضمون تھا۔ ایک فکر اور ایک منہاج تھا ۔ وہ ایک ہی اصول اور نظریہ تھا جس پر یہ رسالتیں اور یہ دعوتیں بلند ہوئیں۔ اللہ پر ایمان ، اس کی جو ابدی کا احساس اور ڈر ، اور ہر رسول کی اطاعت۔
اس کے بعد قرآن مجید قوم ثمود کی مخصوص باتیں بیان کرتا ہے۔ جو اس وقت سورت کے مضمون کے ساتھ مناسب ہیں۔ ان کو بھی حضرت صالح یاد دلاتے ہیں کہ دیکھو تم پر اللہ کے کیا کیا انعامات ہیں۔ یہ لوگ شام اور حجاز کے درمیان علاقہ حجر میں رہائش پذیر تھے۔ حضور اکرم ﷺ جب جنگ تبوک میں گئے تو اپنے صحابہ کرام کے ساتھ آپ نے ان کے علاقے اور گھروں کا عبرت ناک دورہ فرمایا۔ حضرت صالح فرمات یہیں کہ تمارے اعمال کے پیش نظر اللہ تم سے یہ انعامات چھین سکتا ہے ، ذرا خدا کا خوف کرو۔
الشعراء 26:146
اتنراکون فی ……فرھین (149)
یہ لوگ ایسے معاشی حالات میں رہتے تھے جس کی تصویر کشی ان کے لئے ان کے بھائی صالح کر رہے تھے۔ لیکن یہ لوگ نہایت غفلت سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور اس بات کی کوئی فکر نہیں کر رہے کہ یہ انعامات دینے والا کون ہے۔ ان انعامات کا سرچشمہ اور آنے کی جگہ کون سی ہے۔ یہ لوگ اس منعم حقیقی کا تصور بھی نہیں کرتے جس نے یہ انعامات عطا کئے ہیں۔ چناچہ رسول وقت نے ان کو اس طرف متوجہ کرنے کی ضرورت محسوس کی کہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرو ورنہ واپس لی جاسکتی ہیں۔
حضرت صالح نے ان کو ایسے جھٹکے دیئے کہ ان کے غافل دل جاگ اٹھیں اور اللہ کا خوف کریں۔
اتترکون فی ماھھنا امنین (26 : 136) ” کیا تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں ہیں ، بس یوں ہی اطمینان سے رہنے دیئے جائو گے۔ “ مطلب یہ کہ کیا تم جس خوشحالی ، عیش و عشرت اور نعمتوں میں ڈوبے ہوئے ہو ، ہمیشہ رہو گے ، تمہیں کہیں جواب نہیں دینا ہے ، کہیں نہیں جاتا ہے۔ کسی بالائی قوت سے تمہیں کوئی ڈر نہیں ہے۔ ان کے زوال کا بھی کوئی ڈر نہیں ہے۔ کیا ڈرتے نہیں ہو کہ حالات بدل بھی سکتے ہیں۔
ان باغات اور چشموں میں ان فصلوں اور میوہ جات میں تاکستانوں اور نخلستانوں میں اور ان خوشگوار اور خوش ذائقہ میوہ جات میں ، زود ہضم پھلوں میں اور پہاڑوں میں تم جو مکانات بناتے ہو ، یا اپنی عیاشیوں کے لئے تم پہاڑوں جیسے اونچے مکانات بناتے ہو اور یہ سب کام عبث ہے کیونکہ یہ تمہاری رہائش کی ضرورت سے بہت ہی زیادہ ہے۔ محض مہارت حسن اور تعیش کے اظہار کے لئے۔
یوں حضرت صالح ان غافل لوگوں کو سخت جھٹکے دے کر جگانے کے بعد ان کو دعوت دیتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور ان لوگوں کی مخالفت کرو جو ظالم سردار ہیں اور جو ہر وقت شر و فساد اور ظلم کی طرف مائل رہتے ہیں۔
الشعراء 26:147
اتنراکون فی ……فرھین (149)
یہ لوگ ایسے معاشی حالات میں رہتے تھے جس کی تصویر کشی ان کے لئے ان کے بھائی صالح کر رہے تھے۔ لیکن یہ لوگ نہایت غفلت سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور اس بات کی کوئی فکر نہیں کر رہے کہ یہ انعامات دینے والا کون ہے۔ ان انعامات کا سرچشمہ اور آنے کی جگہ کون سی ہے۔ یہ لوگ اس منعم حقیقی کا تصور بھی نہیں کرتے جس نے یہ انعامات عطا کئے ہیں۔ چناچہ رسول وقت نے ان کو اس طرف متوجہ کرنے کی ضرورت محسوس کی کہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرو ورنہ واپس لی جاسکتی ہیں۔
حضرت صالح نے ان کو ایسے جھٹکے دیئے کہ ان کے غافل دل جاگ اٹھیں اور اللہ کا خوف کریں۔
اتترکون فی ماھھنا امنین (26 : 136) ” کیا تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں ہیں ، بس یوں ہی اطمینان سے رہنے دیئے جائو گے۔ “ مطلب یہ کہ کیا تم جس خوشحالی ، عیش و عشرت اور نعمتوں میں ڈوبے ہوئے ہو ، ہمیشہ رہو گے ، تمہیں کہیں جواب نہیں دینا ہے ، کہیں نہیں جاتا ہے۔ کسی بالائی قوت سے تمہیں کوئی ڈر نہیں ہے۔ ان کے زوال کا بھی کوئی ڈر نہیں ہے۔ کیا ڈرتے نہیں ہو کہ حالات بدل بھی سکتے ہیں۔
ان باغات اور چشموں میں ان فصلوں اور میوہ جات میں تاکستانوں اور نخلستانوں میں اور ان خوشگوار اور خوش ذائقہ میوہ جات میں ، زود ہضم پھلوں میں اور پہاڑوں میں تم جو مکانات بناتے ہو ، یا اپنی عیاشیوں کے لئے تم پہاڑوں جیسے اونچے مکانات بناتے ہو اور یہ سب کام عبث ہے کیونکہ یہ تمہاری رہائش کی ضرورت سے بہت ہی زیادہ ہے۔ محض مہارت حسن اور تعیش کے اظہار کے لئے۔
یوں حضرت صالح ان غافل لوگوں کو سخت جھٹکے دے کر جگانے کے بعد ان کو دعوت دیتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور ان لوگوں کی مخالفت کرو جو ظالم سردار ہیں اور جو ہر وقت شر و فساد اور ظلم کی طرف مائل رہتے ہیں۔
الشعراء 26:148
اتنراکون فی ……فرھین (149)
یہ لوگ ایسے معاشی حالات میں رہتے تھے جس کی تصویر کشی ان کے لئے ان کے بھائی صالح کر رہے تھے۔ لیکن یہ لوگ نہایت غفلت سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور اس بات کی کوئی فکر نہیں کر رہے کہ یہ انعامات دینے والا کون ہے۔ ان انعامات کا سرچشمہ اور آنے کی جگہ کون سی ہے۔ یہ لوگ اس منعم حقیقی کا تصور بھی نہیں کرتے جس نے یہ انعامات عطا کئے ہیں۔ چناچہ رسول وقت نے ان کو اس طرف متوجہ کرنے کی ضرورت محسوس کی کہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرو ورنہ واپس لی جاسکتی ہیں۔
حضرت صالح نے ان کو ایسے جھٹکے دیئے کہ ان کے غافل دل جاگ اٹھیں اور اللہ کا خوف کریں۔
اتترکون فی ماھھنا امنین (26 : 136) ” کیا تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں ہیں ، بس یوں ہی اطمینان سے رہنے دیئے جائو گے۔ “ مطلب یہ کہ کیا تم جس خوشحالی ، عیش و عشرت اور نعمتوں میں ڈوبے ہوئے ہو ، ہمیشہ رہو گے ، تمہیں کہیں جواب نہیں دینا ہے ، کہیں نہیں جاتا ہے۔ کسی بالائی قوت سے تمہیں کوئی ڈر نہیں ہے۔ ان کے زوال کا بھی کوئی ڈر نہیں ہے۔ کیا ڈرتے نہیں ہو کہ حالات بدل بھی سکتے ہیں۔
ان باغات اور چشموں میں ان فصلوں اور میوہ جات میں تاکستانوں اور نخلستانوں میں اور ان خوشگوار اور خوش ذائقہ میوہ جات میں ، زود ہضم پھلوں میں اور پہاڑوں میں تم جو مکانات بناتے ہو ، یا اپنی عیاشیوں کے لئے تم پہاڑوں جیسے اونچے مکانات بناتے ہو اور یہ سب کام عبث ہے کیونکہ یہ تمہاری رہائش کی ضرورت سے بہت ہی زیادہ ہے۔ محض مہارت حسن اور تعیش کے اظہار کے لئے۔
یوں حضرت صالح ان غافل لوگوں کو سخت جھٹکے دے کر جگانے کے بعد ان کو دعوت دیتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور ان لوگوں کی مخالفت کرو جو ظالم سردار ہیں اور جو ہر وقت شر و فساد اور ظلم کی طرف مائل رہتے ہیں۔
الشعراء 26:149
اتنراکون فی ……فرھین (149)
یہ لوگ ایسے معاشی حالات میں رہتے تھے جس کی تصویر کشی ان کے لئے ان کے بھائی صالح کر رہے تھے۔ لیکن یہ لوگ نہایت غفلت سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور اس بات کی کوئی فکر نہیں کر رہے کہ یہ انعامات دینے والا کون ہے۔ ان انعامات کا سرچشمہ اور آنے کی جگہ کون سی ہے۔ یہ لوگ اس منعم حقیقی کا تصور بھی نہیں کرتے جس نے یہ انعامات عطا کئے ہیں۔ چناچہ رسول وقت نے ان کو اس طرف متوجہ کرنے کی ضرورت محسوس کی کہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرو ورنہ واپس لی جاسکتی ہیں۔
حضرت صالح نے ان کو ایسے جھٹکے دیئے کہ ان کے غافل دل جاگ اٹھیں اور اللہ کا خوف کریں۔
اتترکون فی ماھھنا امنین (26 : 136) ” کیا تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں ہیں ، بس یوں ہی اطمینان سے رہنے دیئے جائو گے۔ “ مطلب یہ کہ کیا تم جس خوشحالی ، عیش و عشرت اور نعمتوں میں ڈوبے ہوئے ہو ، ہمیشہ رہو گے ، تمہیں کہیں جواب نہیں دینا ہے ، کہیں نہیں جاتا ہے۔ کسی بالائی قوت سے تمہیں کوئی ڈر نہیں ہے۔ ان کے زوال کا بھی کوئی ڈر نہیں ہے۔ کیا ڈرتے نہیں ہو کہ حالات بدل بھی سکتے ہیں۔
ان باغات اور چشموں میں ان فصلوں اور میوہ جات میں تاکستانوں اور نخلستانوں میں اور ان خوشگوار اور خوش ذائقہ میوہ جات میں ، زود ہضم پھلوں میں اور پہاڑوں میں تم جو مکانات بناتے ہو ، یا اپنی عیاشیوں کے لئے تم پہاڑوں جیسے اونچے مکانات بناتے ہو اور یہ سب کام عبث ہے کیونکہ یہ تمہاری رہائش کی ضرورت سے بہت ہی زیادہ ہے۔ محض مہارت حسن اور تعیش کے اظہار کے لئے۔
یوں حضرت صالح ان غافل لوگوں کو سخت جھٹکے دے کر جگانے کے بعد ان کو دعوت دیتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور ان لوگوں کی مخالفت کرو جو ظالم سردار ہیں اور جو ہر وقت شر و فساد اور ظلم کی طرف مائل رہتے ہیں۔
الشعراء 26:150
فاتقوا ……یصلحون (153)
لیکن جب کسی قوم کے دل خشک ہوجاتے ہیں اور ان سے غور و فکر ختم ہوجاتا ہے۔ تو ایسی درد بھری پکاریں ان کو سنائی نہیں دیتیں۔ وہ کسی بات پر کام نہیں دھرتے اور ان کے دل نرم نہیں ہوتے۔
الشعراء 26:151
فاتقوا ……یصلحون (153)
لیکن جب کسی قوم کے دل خشک ہوجاتے ہیں اور ان سے غور و فکر ختم ہوجاتا ہے۔ تو ایسی درد بھری پکاریں ان کو سنائی نہیں دیتیں۔ وہ کسی بات پر کام نہیں دھرتے اور ان کے دل نرم نہیں ہوتے۔
الشعراء 26:152
فاتقوا ……یصلحون (153)
لیکن جب کسی قوم کے دل خشک ہوجاتے ہیں اور ان سے غور و فکر ختم ہوجاتا ہے۔ تو ایسی درد بھری پکاریں ان کو سنائی نہیں دیتیں۔ وہ کسی بات پر کام نہیں دھرتے اور ان کے دل نرم نہیں ہوتے۔
الشعراء 26:153
قالوا انمآ ……(154)
ان کا جواب یہ تھا کہ اے صالح تم پر کسی نے جادو کردیا ہے ، اس لئے تو یہ باتیں بغیر سوچے سمجھے کر رہا ہے۔ ان کے خیالات کے مطابق خدا کی طرف دعوت دینے والے مجنون ہوتے ہیں۔
ما انت الا بشر مثلنا (26 : 153) ” تو ہم جیسے ایک انسان کے سوار اور کیا ہے۔ “ جب بھی انسانوں کے کسی گروہ کے پاس کوئی رسول آیا ہے۔ انہوں نے یہی کہا ہے کہ تم تو ہم جیسا ہی ایک آدمی ہے۔ انسانوں نے ہمیشہ رسولوں کے بارے میں اور رسالت کے بارے میں کوتاہ بینی سے کام لیا۔ وہ اس بات کو کبھی نہ سجھ سکے کہ رسول بشر کیوں ہوتا ہے۔ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ انسانوں میں سے کسی کو رسول بنا کر بھیجنا دراصل انسانیت کے لئے ایک عظیم تکریم ہے کہ انسانوں میں سے کوئی شخص عالم بالا سے مربوط ہوجاتی ہے اور رشد و ہدایت کے سرچشمے یعنی اللہ تعالیٰ کے دربار سے براہ راست ہدایت پاتا ہے۔
انسانوں نے ہمیشہ رسولوں کو ایک دوسری مخلوق سمجھا۔ یا لوگوں نے یہ سمجھا کہ ایسا ہونا چاہئے کہ رسول انسانوں سے کوئی بالا و برتر مخلوق ہو۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک انسان غیب کی خبریں دے۔ نظروں سے اوجھل دنیا کی بات کرے اور یہ انسان یہ بات اس لئے کرتے تھے کہ لوگ اس راز کو نہیں سمجھتے تھے کہ اللہ نے انسان کو یہ شرف بخشا …… کہ اس زمین میں رہتے ہوئے بھی اس انسان کے اندر ایسی صلاحیتیں ہیں کہ وہ عالم بالا سے رابطہ رکھ سکے جو اس دنیا میں رہے۔ کھائے پئے ، شادی کرے ، سوئے بازاروں میں پھرے اور وہ سب کام کرے جو بشر کرتے تھے۔ میلانات اور جذبات رکھنے والا ہو لیکن اس کے باوجودوہ اس بر اعظم کا مالک ہو۔ وحی الٰہی کا مہیط ہو۔
پھر ہر دور میں انسانوں نے رسولوں سے معجزہ طلب کیا ہے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ حضور ایک سچے رسول ہیں۔
فات بایۃ ان کنت من الصدقین (26 : 153) ” لائو کوئی نشانی اگر تم سچے ہو “ تو ثمود نے بھی معجزہ طلب کیا اور حضرت صالح نے جواب دیا کہ ہاں یہ معجزہ یہ ناقہ کیسی تھی ؟ ہم یہاں اس کی تعریف ہیں وہ رعب ودیا بس کہانیاں لانا نہیں چاہتے جو مفسرین نے دی ہیں کیونکہ ان میں سے کوئی بھی کھٹائی صحیح اور مستند روایت سے منقول نہیں ہے۔ ہاں یہ ایک معجزاتی ناقہ تھی۔
الشعراء 26:154
قالوا انمآ ……(154)
ان کا جواب یہ تھا کہ اے صالح تم پر کسی نے جادو کردیا ہے ، اس لئے تو یہ باتیں بغیر سوچے سمجھے کر رہا ہے۔ ان کے خیالات کے مطابق خدا کی طرف دعوت دینے والے مجنون ہوتے ہیں۔
ما انت الا بشر مثلنا (26 : 153) ” تو ہم جیسے ایک انسان کے سوار اور کیا ہے۔ “ جب بھی انسانوں کے کسی گروہ کے پاس کوئی رسول آیا ہے۔ انہوں نے یہی کہا ہے کہ تم تو ہم جیسا ہی ایک آدمی ہے۔ انسانوں نے ہمیشہ رسولوں کے بارے میں اور رسالت کے بارے میں کوتاہ بینی سے کام لیا۔ وہ اس بات کو کبھی نہ سجھ سکے کہ رسول بشر کیوں ہوتا ہے۔ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ انسانوں میں سے کسی کو رسول بنا کر بھیجنا دراصل انسانیت کے لئے ایک عظیم تکریم ہے کہ انسانوں میں سے کوئی شخص عالم بالا سے مربوط ہوجاتی ہے اور رشد و ہدایت کے سرچشمے یعنی اللہ تعالیٰ کے دربار سے براہ راست ہدایت پاتا ہے۔
انسانوں نے ہمیشہ رسولوں کو ایک دوسری مخلوق سمجھا۔ یا لوگوں نے یہ سمجھا کہ ایسا ہونا چاہئے کہ رسول انسانوں سے کوئی بالا و برتر مخلوق ہو۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک انسان غیب کی خبریں دے۔ نظروں سے اوجھل دنیا کی بات کرے اور یہ انسان یہ بات اس لئے کرتے تھے کہ لوگ اس راز کو نہیں سمجھتے تھے کہ اللہ نے انسان کو یہ شرف بخشا …… کہ اس زمین میں رہتے ہوئے بھی اس انسان کے اندر ایسی صلاحیتیں ہیں کہ وہ عالم بالا سے رابطہ رکھ سکے جو اس دنیا میں رہے۔ کھائے پئے ، شادی کرے ، سوئے بازاروں میں پھرے اور وہ سب کام کرے جو بشر کرتے تھے۔ میلانات اور جذبات رکھنے والا ہو لیکن اس کے باوجودوہ اس بر اعظم کا مالک ہو۔ وحی الٰہی کا مہیط ہو۔
پھر ہر دور میں انسانوں نے رسولوں سے معجزہ طلب کیا ہے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ حضور ایک سچے رسول ہیں۔
فات بایۃ ان کنت من الصدقین (26 : 153) ” لائو کوئی نشانی اگر تم سچے ہو “ تو ثمود نے بھی معجزہ طلب کیا اور حضرت صالح نے جواب دیا کہ ہاں یہ معجزہ یہ ناقہ کیسی تھی ؟ ہم یہاں اس کی تعریف ہیں وہ رعب ودیا بس کہانیاں لانا نہیں چاہتے جو مفسرین نے دی ہیں کیونکہ ان میں سے کوئی بھی کھٹائی صحیح اور مستند روایت سے منقول نہیں ہے۔ ہاں یہ ایک معجزاتی ناقہ تھی۔
الشعراء 26:155
قال ھذہ ……یوم عظیم (161)
یہ معجزانی اونٹنی اس شرط پر آئی کہ جو محدود آغوشی کی سہولتیں انہیں حاصل تھیں وہ ایک دن کے لئے ناقہ کے لئے وقف ہوں گی اور دوسرا دن ان کے لئے اور انکے مویشیوں کے لئے ہوگا۔ نافقہ کے دن میں یہ دخل اندازی نہ کریں گے اور نہ ناقہ ان کے دن پانی پینے گی۔ دونوں دنوں کا پانی اکٹھا نہ ہوگا۔ نہ ان کا ان ناقہ کے دن سے ملے گا اور نہ ناقہ کا ان کے دن سے۔ تو صالح (علیہ السلام) نے ان کو ڈرایا کہ اس کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرو گے۔ ورنہ ایک عظیم عذاب تم پر نازل ہوجائے گا۔
ان سرکشوں کے لئے یہ معجزہ کوئی مفید ثابت نہ ہوا۔ ان کے دلوں کے اندر ایمان بھی نہ داخل ہوا ، ان کی روحانی دنیا پر ظلمتیں چھائی رہیں لیکن پانی ان کے لئے نصف ہوگیا۔ باوجود تاکید و وصیت کے ان سے نہ رہا گیا۔ انہوں نے وعدہ خلافی کردی۔
الشعراء 26:156
قال ھذہ ……یوم عظیم (161)
یہ معجزانی اونٹنی اس شرط پر آئی کہ جو محدود آغوشی کی سہولتیں انہیں حاصل تھیں وہ ایک دن کے لئے ناقہ کے لئے وقف ہوں گی اور دوسرا دن ان کے لئے اور انکے مویشیوں کے لئے ہوگا۔ نافقہ کے دن میں یہ دخل اندازی نہ کریں گے اور نہ ناقہ ان کے دن پانی پینے گی۔ دونوں دنوں کا پانی اکٹھا نہ ہوگا۔ نہ ان کا ان ناقہ کے دن سے ملے گا اور نہ ناقہ کا ان کے دن سے۔ تو صالح (علیہ السلام) نے ان کو ڈرایا کہ اس کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرو گے۔ ورنہ ایک عظیم عذاب تم پر نازل ہوجائے گا۔
ان سرکشوں کے لئے یہ معجزہ کوئی مفید ثابت نہ ہوا۔ ان کے دلوں کے اندر ایمان بھی نہ داخل ہوا ، ان کی روحانی دنیا پر ظلمتیں چھائی رہیں لیکن پانی ان کے لئے نصف ہوگیا۔ باوجود تاکید و وصیت کے ان سے نہ رہا گیا۔ انہوں نے وعدہ خلافی کردی۔
الشعراء 26:157
فعقروھا فاصبحوا ندمین (157)
’ عقر کے عنی ذبح کرنے کے ہوتے ہیں اور جن لوگوں نے یہ کام کیا ، یہ وہی تھے جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہ کرتے تھے۔ ان کو حضرت صالح نے خوب ڈرایا تھا مگر وہ حضرت صالح کی نسیبات کو خاطر میں نہ لائے۔ اس جرم کا عذاب پوری قوم کو ملا اور سب پکڑے گئے۔
یہ لوگ آخر کار عذاب دیکھ کر نادم ہوگئے تھے لیکن وقت کے بعد ندامت کا فائدہ ہی کیا ہوتا ہے۔ وقت کے بعد ایمان اور تصدیق کا کیا فائدہ۔
الشعراء 26:158
فاخذھم العذاب ط
یہاں اس عذاب کی تفصیلات نہیں دی گئیں کیونکہ اس سورت میں تمام قصص کو اختصار کے ساتھ لانا مقصود تھا۔
اور اب آخری سبق :
الشعراء 26:159
فاخذھم العذاب ط
یہاں اس عذاب کی تفصیلات نہیں دی گئیں کیونکہ اس سورت میں تمام قصص کو اختصار کے ساتھ لانا مقصود تھا۔
اور اب آخری سبق :
الشعراء 26:160
درس نمبر 167 تشریح آیات
160…………تا ……………175
کذبت قوم ……رب العلمین (140)
قصہ عوط یہاں لایا گیا ہے حالانکہ تاریخی اعتبار سے اس کا زمانہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا زمانہ ہے۔ لیکن اس سورت میں قصص کی تاریخی ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ یہاں اصل بات یہ دکھائی مطلب ہے کہ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی رہی ہے۔ طریقہ کار بھی سب کا ایک ہی رہا ہے اور جھٹلانے والوں کا انجام بھی ایک ہی رہا ہے۔ یعنی مکذبین کو ہلاک کیا گیا اور مومنین کو عذاب سے بچایا گیا۔
حضرت لوط (علیہ السلام) بھی دعوت کا آغاز اسی طرح کرتے ہیں جس طرح حضرت نوح ، حضرت ہود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کرتے ہیں۔ قوم کی سرکشی اور عیاشی پر گرفت کرتے ہیں۔ ان کو خدا خوفی ایمان اور اطاعت رسول کی طرف بلاتے ہیں اور یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ اس ہدایت اور راہنمائی پر وہ ان سے کوئی مالی معاوضہ نہیں مانگتے۔
اس کے بعد حضرت ان کو نسبہ کرتے ہیں کہ تم جس بدی میں مبتلا ہو ، اس کا ارتکاب انسانی تاریخ میں نہیں کیا گیا۔
الشعراء 26:161
درس نمبر 167 تشریح آیات
160…………تا ……………175
کذبت قوم ……رب العلمین (140)
قصہ عوط یہاں لایا گیا ہے حالانکہ تاریخی اعتبار سے اس کا زمانہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا زمانہ ہے۔ لیکن اس سورت میں قصص کی تاریخی ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ یہاں اصل بات یہ دکھائی مطلب ہے کہ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی رہی ہے۔ طریقہ کار بھی سب کا ایک ہی رہا ہے اور جھٹلانے والوں کا انجام بھی ایک ہی رہا ہے۔ یعنی مکذبین کو ہلاک کیا گیا اور مومنین کو عذاب سے بچایا گیا۔
حضرت لوط (علیہ السلام) بھی دعوت کا آغاز اسی طرح کرتے ہیں جس طرح حضرت نوح ، حضرت ہود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کرتے ہیں۔ قوم کی سرکشی اور عیاشی پر گرفت کرتے ہیں۔ ان کو خدا خوفی ایمان اور اطاعت رسول کی طرف بلاتے ہیں اور یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ اس ہدایت اور راہنمائی پر وہ ان سے کوئی مالی معاوضہ نہیں مانگتے۔
اس کے بعد حضرت ان کو نسبہ کرتے ہیں کہ تم جس بدی میں مبتلا ہو ، اس کا ارتکاب انسانی تاریخ میں نہیں کیا گیا۔
الشعراء 26:162
درس نمبر 167 تشریح آیات
160…………تا ……………175
کذبت قوم ……رب العلمین (140)
قصہ عوط یہاں لایا گیا ہے حالانکہ تاریخی اعتبار سے اس کا زمانہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا زمانہ ہے۔ لیکن اس سورت میں قصص کی تاریخی ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ یہاں اصل بات یہ دکھائی مطلب ہے کہ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی رہی ہے۔ طریقہ کار بھی سب کا ایک ہی رہا ہے اور جھٹلانے والوں کا انجام بھی ایک ہی رہا ہے۔ یعنی مکذبین کو ہلاک کیا گیا اور مومنین کو عذاب سے بچایا گیا۔
حضرت لوط (علیہ السلام) بھی دعوت کا آغاز اسی طرح کرتے ہیں جس طرح حضرت نوح ، حضرت ہود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کرتے ہیں۔ قوم کی سرکشی اور عیاشی پر گرفت کرتے ہیں۔ ان کو خدا خوفی ایمان اور اطاعت رسول کی طرف بلاتے ہیں اور یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ اس ہدایت اور راہنمائی پر وہ ان سے کوئی مالی معاوضہ نہیں مانگتے۔
اس کے بعد حضرت ان کو نسبہ کرتے ہیں کہ تم جس بدی میں مبتلا ہو ، اس کا ارتکاب انسانی تاریخ میں نہیں کیا گیا۔
الشعراء 26:163
درس نمبر 167 تشریح آیات
160…………تا ……………175
کذبت قوم ……رب العلمین (140)
قصہ عوط یہاں لایا گیا ہے حالانکہ تاریخی اعتبار سے اس کا زمانہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا زمانہ ہے۔ لیکن اس سورت میں قصص کی تاریخی ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ یہاں اصل بات یہ دکھائی مطلب ہے کہ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی رہی ہے۔ طریقہ کار بھی سب کا ایک ہی رہا ہے اور جھٹلانے والوں کا انجام بھی ایک ہی رہا ہے۔ یعنی مکذبین کو ہلاک کیا گیا اور مومنین کو عذاب سے بچایا گیا۔
حضرت لوط (علیہ السلام) بھی دعوت کا آغاز اسی طرح کرتے ہیں جس طرح حضرت نوح ، حضرت ہود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کرتے ہیں۔ قوم کی سرکشی اور عیاشی پر گرفت کرتے ہیں۔ ان کو خدا خوفی ایمان اور اطاعت رسول کی طرف بلاتے ہیں اور یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ اس ہدایت اور راہنمائی پر وہ ان سے کوئی مالی معاوضہ نہیں مانگتے۔
اس کے بعد حضرت ان کو نسبہ کرتے ہیں کہ تم جس بدی میں مبتلا ہو ، اس کا ارتکاب انسانی تاریخ میں نہیں کیا گیا۔
الشعراء 26:164
درس نمبر 167 تشریح آیات
160…………تا ……………175
کذبت قوم ……رب العلمین (140)
قصہ عوط یہاں لایا گیا ہے حالانکہ تاریخی اعتبار سے اس کا زمانہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا زمانہ ہے۔ لیکن اس سورت میں قصص کی تاریخی ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ یہاں اصل بات یہ دکھائی مطلب ہے کہ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی رہی ہے۔ طریقہ کار بھی سب کا ایک ہی رہا ہے اور جھٹلانے والوں کا انجام بھی ایک ہی رہا ہے۔ یعنی مکذبین کو ہلاک کیا گیا اور مومنین کو عذاب سے بچایا گیا۔
حضرت لوط (علیہ السلام) بھی دعوت کا آغاز اسی طرح کرتے ہیں جس طرح حضرت نوح ، حضرت ہود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کرتے ہیں۔ قوم کی سرکشی اور عیاشی پر گرفت کرتے ہیں۔ ان کو خدا خوفی ایمان اور اطاعت رسول کی طرف بلاتے ہیں اور یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ اس ہدایت اور راہنمائی پر وہ ان سے کوئی مالی معاوضہ نہیں مانگتے۔
اس کے بعد حضرت ان کو نسبہ کرتے ہیں کہ تم جس بدی میں مبتلا ہو ، اس کا ارتکاب انسانی تاریخ میں نہیں کیا گیا۔
الشعراء 26:165
اتاتون الذکران ……قوم عدون (160)
قوم لوط وادی اردن کی کئی بستیوں میں آباد تھی۔ یہ لوگ جس جرم کے عادی تھے وہ عمل قوم لوط کے نام سے مشہور ہے۔ یعنی مردوں کی ہم جنس پرستی اور عورتوں سے جنسی تعلق کو ترک کرنا۔ یہ نہایت ہی مکروہ فطری بےراہ روی تھی کیونکہ مرد اور عورتوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور ہر ایک کے اندر ایک دوسرے کے لئے جابیت رکھی ہے۔ یہ اللہ کا ایک تخلیقی راز ہے۔ اس طرح اللہ نے انسانی زندگی کے تسلسل کا انتظام کیا۔ نسل کشی کا یہ انتظام اللہ نے مرد اور عورت کے درمیان ملاپ کے ذریعہ سے جاری کیا۔ یہ نظام بھی اللہ کے اس نظام کا ایک حصہ ہے جو اس نے اس پوری کائنات میں جاری فرمایا ہے۔ جس نے اس کائنات کے ہر شخص اور ہر چیز کو باہم مربوط کردیا ہے اور اس طرح اس کائنات میں جاری فرمایا ہے ۔ جس نے اس کائنات کے ہر شخص اور ہر چیز کو باہم مربوط کردیا ہے اور اس طرح اس کائنات کا ہر شخص اور ہر چیز ایک دوسرے کے ساتھ حالت تعاون میں ہے۔ رہی یہ حرکت کہ مرد ، مرد کے ساتھ جنسی تعلق قائم کریں تو یہ تعلق بےتعلق بےمقصد اور غیر پیداواری ہوگا اور اس سے کوء قمصد پورا نہ ہوگا اور یہ عمل فطرت کے قانون اور فطرت کے نظام دونوں کے خلاف ہوگا جن کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے۔ تعجب یہ ہے کہ بعض بےذوق لوگوں کو اس عمل میں لذت ملتی ہے حالانکہ حقیقی لذت وہ ہوتی ہے جس میں مرد اور عورت کا القاء ہو اور اس کے نتیجے میں مقاصد فطرت بھی پورے ہوں۔ لہٰذا عمل قوم لوط فطرت سے کھلا انحراف ہے۔ لہٰذا اس قوم کی سزا یہی تھی کہ یا تو دوبارہ آجائیں یا ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔ کیونکہ ایسے لوگ قافلہ انسانیت اور گروہ انسانیت سے نکل گئے ہیں اور اب انہوں نے وہ مقصد پورا کرنا چھوڑ دیا ہے جس کے لئے اللہ نے ان کو پیدا کیا تھا۔ یہ کہ سابقہ لوگوں کے فطری عمل سے یہ پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنے فطری عمل سے آنے والی اقوام کو پیدا کرنا تھا۔
جب حضرت لوط نے ان کو دعوت دی کہ وہ اس غیر فطری بےراہ روی کو ترک کردیں اور اس بات پر انہوں نے ان کی سرزنش کی کہ انہوں نے اس کو راہ کو ترک کردیا جو رب نے ان کے لئے پیدا کیا ہے۔ انہوں نے فطرت کے خلاف بغاوت کردی ہے اور اللہ کی تخلیق فطرت کو رد کردیا ہے اور یہ معلوم ہوا کہ وہ اپنی اس روش کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور اللہ کی سنت اور فطرت کی طرف لوٹنے کو تیار نہیں ہیں۔
الشعراء 26:166
اتاتون الذکران ……قوم عدون (160)
قوم لوط وادی اردن کی کئی بستیوں میں آباد تھی۔ یہ لوگ جس جرم کے عادی تھے وہ عمل قوم لوط کے نام سے مشہور ہے۔ یعنی مردوں کی ہم جنس پرستی اور عورتوں سے جنسی تعلق کو ترک کرنا۔ یہ نہایت ہی مکروہ فطری بےراہ روی تھی کیونکہ مرد اور عورتوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور ہر ایک کے اندر ایک دوسرے کے لئے جابیت رکھی ہے۔ یہ اللہ کا ایک تخلیقی راز ہے۔ اس طرح اللہ نے انسانی زندگی کے تسلسل کا انتظام کیا۔ نسل کشی کا یہ انتظام اللہ نے مرد اور عورت کے درمیان ملاپ کے ذریعہ سے جاری کیا۔ یہ نظام بھی اللہ کے اس نظام کا ایک حصہ ہے جو اس نے اس پوری کائنات میں جاری فرمایا ہے۔ جس نے اس کائنات کے ہر شخص اور ہر چیز کو باہم مربوط کردیا ہے اور اس طرح اس کائنات میں جاری فرمایا ہے ۔ جس نے اس کائنات کے ہر شخص اور ہر چیز کو باہم مربوط کردیا ہے اور اس طرح اس کائنات کا ہر شخص اور ہر چیز ایک دوسرے کے ساتھ حالت تعاون میں ہے۔ رہی یہ حرکت کہ مرد ، مرد کے ساتھ جنسی تعلق قائم کریں تو یہ تعلق بےتعلق بےمقصد اور غیر پیداواری ہوگا اور اس سے کوء قمصد پورا نہ ہوگا اور یہ عمل فطرت کے قانون اور فطرت کے نظام دونوں کے خلاف ہوگا جن کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے۔ تعجب یہ ہے کہ بعض بےذوق لوگوں کو اس عمل میں لذت ملتی ہے حالانکہ حقیقی لذت وہ ہوتی ہے جس میں مرد اور عورت کا القاء ہو اور اس کے نتیجے میں مقاصد فطرت بھی پورے ہوں۔ لہٰذا عمل قوم لوط فطرت سے کھلا انحراف ہے۔ لہٰذا اس قوم کی سزا یہی تھی کہ یا تو دوبارہ آجائیں یا ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔ کیونکہ ایسے لوگ قافلہ انسانیت اور گروہ انسانیت سے نکل گئے ہیں اور اب انہوں نے وہ مقصد پورا کرنا چھوڑ دیا ہے جس کے لئے اللہ نے ان کو پیدا کیا تھا۔ یہ کہ سابقہ لوگوں کے فطری عمل سے یہ پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنے فطری عمل سے آنے والی اقوام کو پیدا کرنا تھا۔
جب حضرت لوط نے ان کو دعوت دی کہ وہ اس غیر فطری بےراہ روی کو ترک کردیں اور اس بات پر انہوں نے ان کی سرزنش کی کہ انہوں نے اس کو راہ کو ترک کردیا جو رب نے ان کے لئے پیدا کیا ہے۔ انہوں نے فطرت کے خلاف بغاوت کردی ہے اور اللہ کی تخلیق فطرت کو رد کردیا ہے اور یہ معلوم ہوا کہ وہ اپنی اس روش کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور اللہ کی سنت اور فطرت کی طرف لوٹنے کو تیار نہیں ہیں۔
الشعراء 26:167
قالوا لئن ……المخرجین (167)
حضرت لوط ان لوگوں میں باہر سے آ کر بس گئے تھے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ عراق سے آئے تھے۔ جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو چھوڑ دیا اور اپنے ملک کو بھی چھوڑ دیا اور دریائے اردن عبور کر کے اس کے اس پار آباد ہوگئے تھے۔ حضرت لوط ان لوگوں میں آ کر آباد ہوگئے تھے اور بعد میں اللہ نے حضرت لوط کو انہی کی طرف نبی بنا کر بھیج دیا تھا تاکہ قوم لوط کے اندر جو برے کام راہ پا گئے تھے ، اس کی اصلاح فرما میں اب جبکہ وہ حضرت کی بات نہیں مانتے تو یہ دھمکی دیتے ہیں کہ اگر وہ باز نہ آئے تو اسے ملک سے نکال دیں گے یعنی وہ تو اس فعل سے باز نہیں آسکتے۔ لوط ہی دعوت کا کام بند کردیں۔
چناچہ حضرت لوط ان کی دھمکی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اعلان کرتے ہیں کہ وہ تمہارے عمل کو نہایت ہی مکروہ عمل سمجھتے ہیں۔ یہ بہت بڑی گندگی اور گراوٹ ہے۔
الشعراء 26:168
قال انی لعملکم من القالین (168)
۔ “ الفلی کے معنی ہوتے ہیں شدید نفرت ، حضرت لوط (علیہ السلام) یوں اظہار نفرت کر کے ان کے منہ پر تھوکتے ہیں اور اس کے بعد رب تعالیٰ کی طرف دست بدعا ہوتے ہیں کہ اے اللہ مجھے ان لوگوں سے نجات دے۔
الشعراء 26:169
رب نجی و اھلی مما یعملون (169)
حضرت جس قسم کے معاشرے میں فرائض سر انجام دے رہے تھے وہ ان کے لئے عذاب تھا ، وہ ان لوگوں کے ساتھ نہ چل سکتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ان لوگوں کا عمل فطرتاً بھی مردود ہے۔ لیکن ادائیگی فرض کے لئے ان میں رہ رہے تھے۔ چناچہ انہوں نے دعا کی کہ انہیں اس معاشرے سے نجات مل جائے ۔
رب تعالیٰ نے دعا قبول کرلی۔
الشعراء 26:170
فنجینہ واھلہ اجمعین الا عجوزاً فی الغبرین (171)
یہ بوڑھی عورت کون تھی۔ یہ ان کی بیوی تھی۔ دوسری سورتوں میں تصریح آئی ہے۔ یہ بھی بڑی مگر وہ عورت تھی کہ یہ ان لوگوں کی حمایت میں تھی جو یہ مکروہ فعل کرتے تھے اور ان کی مددگار تھی۔
الشعراء 26:171
فنجینہ واھلہ اجمعین الا عجوزاً فی الغبرین (171)
یہ بوڑھی عورت کون تھی۔ یہ ان کی بیوی تھی۔ دوسری سورتوں میں تصریح آئی ہے۔ یہ بھی بڑی مگر وہ عورت تھی کہ یہ ان لوگوں کی حمایت میں تھی جو یہ مکروہ فعل کرتے تھے اور ان کی مددگار تھی۔
الشعراء 26:172
ثم دمرنا……المنذرین (173)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے گائوں دھنس گئے اور پانی کے نیچے آگئے۔ ان گائوں میں سے ایک گائوں ” سدوم “ بھی تھا۔ آثا رقدیر کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ گائوں بحر مروار کے پانی کے نیچے موجود ہے۔
بعض علمائے طبقات الارض کا یہ نظریہ ہے کہ سحر مردار کے نیچے ایسے گائوں کے کھنڈرات ہیں جو کسی وقت آبادی سے بھرے ہوئے تھے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین نے اس دریا کے پاس ایک قلعے کے آثار دریافت کئے ہیں اور اس قلعے کے قریب ہی ایک مذبح ہے جس کے اوپر قربانیاں دی جاتی تھیں۔
بہرحال قرآن کریم نے حضرت لوط کے گائوں کی کہانی اسی رطح پیش فرمائی ہے اور سابقہ اقوام کی خبروں کے سلسلے میں قرآن کریم ہی حقیقی اور سچا ماخذ ہے۔ کیونکہ اللہ کی کتابوں میں سے یہی محفوظ ہے۔
آخر میں وہی تبصرہ انہی الفاظ میں جو ہر قصے کے بعد آیا ہے۔
الشعراء 26:173
ثم دمرنا……المنذرین (173)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے گائوں دھنس گئے اور پانی کے نیچے آگئے۔ ان گائوں میں سے ایک گائوں ” سدوم “ بھی تھا۔ آثا رقدیر کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ گائوں بحر مروار کے پانی کے نیچے موجود ہے۔
بعض علمائے طبقات الارض کا یہ نظریہ ہے کہ سحر مردار کے نیچے ایسے گائوں کے کھنڈرات ہیں جو کسی وقت آبادی سے بھرے ہوئے تھے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین نے اس دریا کے پاس ایک قلعے کے آثار دریافت کئے ہیں اور اس قلعے کے قریب ہی ایک مذبح ہے جس کے اوپر قربانیاں دی جاتی تھیں۔
بہرحال قرآن کریم نے حضرت لوط کے گائوں کی کہانی اسی رطح پیش فرمائی ہے اور سابقہ اقوام کی خبروں کے سلسلے میں قرآن کریم ہی حقیقی اور سچا ماخذ ہے۔ کیونکہ اللہ کی کتابوں میں سے یہی محفوظ ہے۔
آخر میں وہی تبصرہ انہی الفاظ میں جو ہر قصے کے بعد آیا ہے۔
الشعراء 26:174
ثم دمرنا……المنذرین (173)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے گائوں دھنس گئے اور پانی کے نیچے آگئے۔ ان گائوں میں سے ایک گائوں ” سدوم “ بھی تھا۔ آثا رقدیر کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ گائوں بحر مروار کے پانی کے نیچے موجود ہے۔
بعض علمائے طبقات الارض کا یہ نظریہ ہے کہ سحر مردار کے نیچے ایسے گائوں کے کھنڈرات ہیں جو کسی وقت آبادی سے بھرے ہوئے تھے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین نے اس دریا کے پاس ایک قلعے کے آثار دریافت کئے ہیں اور اس قلعے کے قریب ہی ایک مذبح ہے جس کے اوپر قربانیاں دی جاتی تھیں۔
بہرحال قرآن کریم نے حضرت لوط کے گائوں کی کہانی اسی رطح پیش فرمائی ہے اور سابقہ اقوام کی خبروں کے سلسلے میں قرآن کریم ہی حقیقی اور سچا ماخذ ہے۔ کیونکہ اللہ کی کتابوں میں سے یہی محفوظ ہے۔
آخر میں وہی تبصرہ انہی الفاظ میں جو ہر قصے کے بعد آیا ہے۔
الشعراء 26:175
ثم دمرنا……المنذرین (173)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے گائوں دھنس گئے اور پانی کے نیچے آگئے۔ ان گائوں میں سے ایک گائوں ” سدوم “ بھی تھا۔ آثا رقدیر کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ گائوں بحر مروار کے پانی کے نیچے موجود ہے۔
بعض علمائے طبقات الارض کا یہ نظریہ ہے کہ سحر مردار کے نیچے ایسے گائوں کے کھنڈرات ہیں جو کسی وقت آبادی سے بھرے ہوئے تھے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین نے اس دریا کے پاس ایک قلعے کے آثار دریافت کئے ہیں اور اس قلعے کے قریب ہی ایک مذبح ہے جس کے اوپر قربانیاں دی جاتی تھیں۔
بہرحال قرآن کریم نے حضرت لوط کے گائوں کی کہانی اسی رطح پیش فرمائی ہے اور سابقہ اقوام کی خبروں کے سلسلے میں قرآن کریم ہی حقیقی اور سچا ماخذ ہے۔ کیونکہ اللہ کی کتابوں میں سے یہی محفوظ ہے۔
آخر میں وہی تبصرہ انہی الفاظ میں جو ہر قصے کے بعد آیا ہے۔
الشعراء 26:176
درس نمبر 168 تشریح آیات
176……تا……191
کذب اصحب……رب العلمین (180)
یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا قصہ ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کا واقعہ ہے۔ یہاں یہ قصہ بھی دوسرے قصص کی طرح محض عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے آیا ہے۔ اصحاب ایک غالباً اہل مدین ہی کا نام ہے ایک ایک گہرے سائے والے ایسے درخت کو کہتے ہیں جو دہرا ہوگیا ہو اور مدین کے گائوں کو شاید ایسے بڑے بڑے درختوں نے گھیرا ہوا تھا۔ مدین حجاز اور فلسطین کے درمیان خلیج عقبہ کے کنارے تھا۔
ان کے سامنے حضرت شعیب نے وہی نظریہ حیات پیش کیا جو ہر رسول پیش کرتا چلا آ رہا ہے کہ اللہ کو ایک سمجھو ، میری دعوت قبول کرو ، میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ اس اصل دعوت کے پیش کرنے کے بعد پھر اہل مدین کے لئے دعوت کا مخصوص حصہ پیش کیا جاتا ہے۔
الشعراء 26:177
درس نمبر 168 تشریح آیات
176……تا……191
کذب اصحب……رب العلمین (180)
یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا قصہ ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کا واقعہ ہے۔ یہاں یہ قصہ بھی دوسرے قصص کی طرح محض عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے آیا ہے۔ اصحاب ایک غالباً اہل مدین ہی کا نام ہے ایک ایک گہرے سائے والے ایسے درخت کو کہتے ہیں جو دہرا ہوگیا ہو اور مدین کے گائوں کو شاید ایسے بڑے بڑے درختوں نے گھیرا ہوا تھا۔ مدین حجاز اور فلسطین کے درمیان خلیج عقبہ کے کنارے تھا۔
ان کے سامنے حضرت شعیب نے وہی نظریہ حیات پیش کیا جو ہر رسول پیش کرتا چلا آ رہا ہے کہ اللہ کو ایک سمجھو ، میری دعوت قبول کرو ، میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ اس اصل دعوت کے پیش کرنے کے بعد پھر اہل مدین کے لئے دعوت کا مخصوص حصہ پیش کیا جاتا ہے۔
الشعراء 26:178
درس نمبر 168 تشریح آیات
176……تا……191
کذب اصحب……رب العلمین (180)
یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا قصہ ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کا واقعہ ہے۔ یہاں یہ قصہ بھی دوسرے قصص کی طرح محض عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے آیا ہے۔ اصحاب ایک غالباً اہل مدین ہی کا نام ہے ایک ایک گہرے سائے والے ایسے درخت کو کہتے ہیں جو دہرا ہوگیا ہو اور مدین کے گائوں کو شاید ایسے بڑے بڑے درختوں نے گھیرا ہوا تھا۔ مدین حجاز اور فلسطین کے درمیان خلیج عقبہ کے کنارے تھا۔
ان کے سامنے حضرت شعیب نے وہی نظریہ حیات پیش کیا جو ہر رسول پیش کرتا چلا آ رہا ہے کہ اللہ کو ایک سمجھو ، میری دعوت قبول کرو ، میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ اس اصل دعوت کے پیش کرنے کے بعد پھر اہل مدین کے لئے دعوت کا مخصوص حصہ پیش کیا جاتا ہے۔
الشعراء 26:179
درس نمبر 168 تشریح آیات
176……تا……191
کذب اصحب……رب العلمین (180)
یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا قصہ ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کا واقعہ ہے۔ یہاں یہ قصہ بھی دوسرے قصص کی طرح محض عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے آیا ہے۔ اصحاب ایک غالباً اہل مدین ہی کا نام ہے ایک ایک گہرے سائے والے ایسے درخت کو کہتے ہیں جو دہرا ہوگیا ہو اور مدین کے گائوں کو شاید ایسے بڑے بڑے درختوں نے گھیرا ہوا تھا۔ مدین حجاز اور فلسطین کے درمیان خلیج عقبہ کے کنارے تھا۔
ان کے سامنے حضرت شعیب نے وہی نظریہ حیات پیش کیا جو ہر رسول پیش کرتا چلا آ رہا ہے کہ اللہ کو ایک سمجھو ، میری دعوت قبول کرو ، میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ اس اصل دعوت کے پیش کرنے کے بعد پھر اہل مدین کے لئے دعوت کا مخصوص حصہ پیش کیا جاتا ہے۔
الشعراء 26:180
درس نمبر 168 تشریح آیات
176……تا……191
کذب اصحب……رب العلمین (180)
یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا قصہ ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کا واقعہ ہے۔ یہاں یہ قصہ بھی دوسرے قصص کی طرح محض عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے آیا ہے۔ اصحاب ایک غالباً اہل مدین ہی کا نام ہے ایک ایک گہرے سائے والے ایسے درخت کو کہتے ہیں جو دہرا ہوگیا ہو اور مدین کے گائوں کو شاید ایسے بڑے بڑے درختوں نے گھیرا ہوا تھا۔ مدین حجاز اور فلسطین کے درمیان خلیج عقبہ کے کنارے تھا۔
ان کے سامنے حضرت شعیب نے وہی نظریہ حیات پیش کیا جو ہر رسول پیش کرتا چلا آ رہا ہے کہ اللہ کو ایک سمجھو ، میری دعوت قبول کرو ، میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ اس اصل دعوت کے پیش کرنے کے بعد پھر اہل مدین کے لئے دعوت کا مخصوص حصہ پیش کیا جاتا ہے۔
الشعراء 26:181
او فوا الکیل ……منسدین (182)
جس طرح سورت اعراف اور ہود میں تفصیلات دی گئی ہیں کہ یہ لوگ ناپ اور تول میں مطلف تھے۔ یہ لوگ لیتے وقت جبراً لوگوں سے زیادہ لیتے تھے اور دیتے وقت یہ جبریا انکل سے کم دیتے تھے۔ لیتے وقت کم قیمت دیتے تھے اور دیتے وقت بہت مہنگے داموں فروخت کرتے تھ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستی کسی ایسے تجارتی شاہراہ پر تھی۔ جہا سے قافلے گزرتے تھے۔ یہ لوگ ان تجارتی قافلوں پر اپنی مرضی نافذ کرتے تھے۔ ان کے رسول ان کو یہ تعیم دیتے تھے کہ عدل اور انصاف کے ساتھ معاملہ کرو ، کیونکہ صاف اور سھترے عقیدے کا لازمی تقاضا ہے کہ معاملات میں بھی اچھائی اختیار کرو۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اچھا عقیدہ اچھا عمل اختیار کرنے کا حکم نہ دے اور حق انصاف اور عدل کے بارے میں نظریہ خاموش ہوجائے ۔
اب حضرت شعیہ (علیہ السلام) ان کے دلوں میں تقویٰ اور خدا خوفی کا جوش پیدا کرتے ہیں۔ وہ ان کو یاد دلاتے ہیں کہ ایک ذات ایسی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ یہ ذات تمام نسلوں کی پیدا کرنے والی ہے۔
الشعراء 26:182
او فوا الکیل ……منسدین (182)
جس طرح سورت اعراف اور ہود میں تفصیلات دی گئی ہیں کہ یہ لوگ ناپ اور تول میں مطلف تھے۔ یہ لوگ لیتے وقت جبراً لوگوں سے زیادہ لیتے تھے اور دیتے وقت یہ جبریا انکل سے کم دیتے تھے۔ لیتے وقت کم قیمت دیتے تھے اور دیتے وقت بہت مہنگے داموں فروخت کرتے تھ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستی کسی ایسے تجارتی شاہراہ پر تھی۔ جہا سے قافلے گزرتے تھے۔ یہ لوگ ان تجارتی قافلوں پر اپنی مرضی نافذ کرتے تھے۔ ان کے رسول ان کو یہ تعیم دیتے تھے کہ عدل اور انصاف کے ساتھ معاملہ کرو ، کیونکہ صاف اور سھترے عقیدے کا لازمی تقاضا ہے کہ معاملات میں بھی اچھائی اختیار کرو۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اچھا عقیدہ اچھا عمل اختیار کرنے کا حکم نہ دے اور حق انصاف اور عدل کے بارے میں نظریہ خاموش ہوجائے ۔
اب حضرت شعیہ (علیہ السلام) ان کے دلوں میں تقویٰ اور خدا خوفی کا جوش پیدا کرتے ہیں۔ وہ ان کو یاد دلاتے ہیں کہ ایک ذات ایسی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ یہ ذات تمام نسلوں کی پیدا کرنے والی ہے۔
الشعراء 26:183
او فوا الکیل ……منسدین (182)
جس طرح سورت اعراف اور ہود میں تفصیلات دی گئی ہیں کہ یہ لوگ ناپ اور تول میں مطلف تھے۔ یہ لوگ لیتے وقت جبراً لوگوں سے زیادہ لیتے تھے اور دیتے وقت یہ جبریا انکل سے کم دیتے تھے۔ لیتے وقت کم قیمت دیتے تھے اور دیتے وقت بہت مہنگے داموں فروخت کرتے تھ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستی کسی ایسے تجارتی شاہراہ پر تھی۔ جہا سے قافلے گزرتے تھے۔ یہ لوگ ان تجارتی قافلوں پر اپنی مرضی نافذ کرتے تھے۔ ان کے رسول ان کو یہ تعیم دیتے تھے کہ عدل اور انصاف کے ساتھ معاملہ کرو ، کیونکہ صاف اور سھترے عقیدے کا لازمی تقاضا ہے کہ معاملات میں بھی اچھائی اختیار کرو۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اچھا عقیدہ اچھا عمل اختیار کرنے کا حکم نہ دے اور حق انصاف اور عدل کے بارے میں نظریہ خاموش ہوجائے ۔
اب حضرت شعیہ (علیہ السلام) ان کے دلوں میں تقویٰ اور خدا خوفی کا جوش پیدا کرتے ہیں۔ وہ ان کو یاد دلاتے ہیں کہ ایک ذات ایسی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ یہ ذات تمام نسلوں کی پیدا کرنے والی ہے۔
الشعراء 26:184
واتقوا الذی خلقکم والجبلۃ الاولین (184)
’ اس بات کا تو ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا بس انہوں نے آسان الزام لگا دیا کہ آپ پر جادو چل گیا ہے۔ اس لئے آپ غلط ملط باتیں کرتے ہیں اور واہیات کہہ رہے ہیں۔
الشعراء 26:185
قالوآ انما انت من المسخرین (185)
اور اگر آپ سحر زدہ نہیں ہیں تو پھر بھی ہم تیری رسالت کو نہیں مانتے اس لئے کہ تو تو ہماری طرح کا ایک آدمی ہے۔ رسول کوئی بشر نہیں ہو سکتا ، لہٰذا تو جھوٹا ہے۔
الشعراء 26:186
وما انت الا بشر مثلنا وان نظنک لمن الکذبین (186)
ہاں اگر تم سچے ہو تو جس عذاب سے ہمیں ہر وقت ڈراتے ہو وہ لے کر آئو اور آسمان کا کوئی ٹکڑا یا تار اہم پر لا کر گرا دو ۔ یا آسمان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دو اور ہم پر گرا دو ۔ “
الشعراء 26:187
فاسقط علینا کسفاً من السمآء ان کنت من الصدیقین (187)
یہ ایک ایسے شخص کا چیلنج ہے جو نہایت ہی سرکش ، مغرور اور لاپرواہ ہے۔ مکہ مکرمہ میں مشرکزین بھی للہ ﷺ سے ایسے ہی مطالبہ کرتے تھے۔
الشعراء 26:188
قال ربی اعلم بما تعملون (188)
اور اس کے بعد پھر سیاق کلام میں جلد ہی فیصلہ چکا دیا جاتا ہے۔
الشعراء 26:189
فکذبوہ فاخذھم ……یوم عظیم (189)
’ ان کے بعد عذاب کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ بعض روایات میں یہ آیا ہے کہ اس قدر گری ہوئی کہ دم گھٹ کر مرنے لگے۔ اس کے بعد انہیں ایک بادل سا نظر آیا۔ اس کی طرف لپکے کہ سایہ لیں تو وہ اس قدر ٹھنڈا تھا جس طرح برف ۔ پھر یہ بادل ایک کڑک کی شکل اختیار کر گیا اور ان کو ہلاک کر کے رکھ دیا ۔ اس حوال ی سے ان کے عذاب کو بادل کے ٹکڑے کے دن سے تعبیر کیا گیا۔
اور اب وہی تبصرہ اور سبق آتا ہے جو تمام قصص کے بعد اس پوری سورت میں دہرایا گیا ہے۔
الشعراء 26:190
ان فی ذلک ……(191)
یہاں آ کر اس سورت کے قصص ختم ہوجاتے ہیں اور اگلا سبق اس پوری سورت کے مضامین پر ایک تبصرہ ہے۔
الشعراء 26:191
ان فی ذلک ……(191)
یہاں آ کر اس سورت کے قصص ختم ہوجاتے ہیں اور اگلا سبق اس پوری سورت کے مضامین پر ایک تبصرہ ہے۔
الشعراء 26:192
درس نمبر 169 ایک نظر میں
یہاں آ کر قصص کا اتختام ہوگیا ۔ یہ تمام قصص رسولوں اور ان کی رسالت کی مختصر کہانی پر مشتمل تھے۔ قوموں کی طر سے رسولوں کی تکذیب ہوتی رہی ، اقوام منہ موڑتی رہیں۔ انہوں نے چیلنج کیا۔ معجزات بھی آئے اور جب تکذیب پر تل گئے تو پھر اللہ کا عذاب آگیا۔
اس سورت کا پہلا سبق ایک افتتاحیہ تھا ، اس میں مشرکین مکہ کے حوالے سے حضور اکرم کو کہا گیا تھا۔
لعلک باخع ……بہ یستھزء ون (6) (26 : 3-6) ” اے محمد شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ ان لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو نئی نصیحت آتی ہے۔ یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ اب یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ “ اس کے بعد قصص پیش کئے گئے اور یہ نمونہ تھے ان خبروں کے جن کے بارے میں مکذبین ہمیشہ مذاق کرتے چلے آئے تھے۔
جب قصص ختم ہوئے تو سیاق کلام پھر اپنے موضوع کی طرف آگیا۔ یعنی سورت کے محور کی طرف۔ یہ آخری سبق گویا پوری سو پر تبصرہ ہے اس میں تاکید کی جاتی ہے کہ یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے ہے۔ ان قصص پر تو مدتیں گزر گئیں لیکن قرآن کریم میں ان واقعات کو پیش کیا جا رہا ہے۔ بنی اسرائیل کے علماء رسول اللہ کو بھی جانتے ہیں اور رسول اللہ پر نازل ہونے والے قرآن کو بھی جانتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے کیونکہ یہ وہی واقعات اور وہی رسول ہے جس کا ذکر پہلے نبیوں کی کتابوں میں مذکور ہے۔ لیکن مشرکین مکہ واضح دلائل دیکھتے ہوئے بھی ازروائے عناد تسلیم نہیں کرتے۔ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ سحر ہے یا شعر ہے۔ اگر یہ قرآن کسی عجمی پر نازل ہوتا اور وہ ان کے سامنے ان کی زبان میں اسے پیش کرتا تو پھر بھی یہ ایمان نہ لاتے کیونکہ یہ انکار اس لئے نہیں کرتے کہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے بلکہ محض عناد کی وجہ سے یہ ایمان سے محروم ہیں۔ حضرت محمد ﷺ پر نازل شدہ اخبار کا بنوں کی طرف شیطانی القاء کی طرح نہیں ہیں۔ نہ یہ قرآن شعر کی کوئی قسم ہے ، کیونکہ اشعار کا ایک منہاج ہے جسے شعراء اچھی طرح جانتے ہیں اور شعرا تو ایک ایسا طبقہ ہے جو ہر وادی میں گھومتا ہے۔ یہ کسی خیال ، کسی جذبے اور سی بھی میلان کو موزوں کردیتے ہیں۔ کبھی اچھا ، کبھی برا رہا یہ کلام تو یہ اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ مشرکین عرب کی نصیحت کے لئے اور یاد دہانی کے لئے کہ سنبھل جائیں قبل اس کے کہ کوئی عذاب ان کو آ لے اور قبل اس کے کہ وہ باتیں حقیقت ہو کر ان کے سامنے آجائیں جن کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون (26 : 228) ” اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوگا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ “
، صاف صاف عربی زبان میں۔ “
الشعراء 26:193
درس نمبر 169 ایک نظر میں
یہاں آ کر قصص کا اتختام ہوگیا ۔ یہ تمام قصص رسولوں اور ان کی رسالت کی مختصر کہانی پر مشتمل تھے۔ قوموں کی طر سے رسولوں کی تکذیب ہوتی رہی ، اقوام منہ موڑتی رہیں۔ انہوں نے چیلنج کیا۔ معجزات بھی آئے اور جب تکذیب پر تل گئے تو پھر اللہ کا عذاب آگیا۔
اس سورت کا پہلا سبق ایک افتتاحیہ تھا ، اس میں مشرکین مکہ کے حوالے سے حضور اکرم کو کہا گیا تھا۔
لعلک باخع ……بہ یستھزء ون (6) (26 : 3-6) ” اے محمد شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ ان لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو نئی نصیحت آتی ہے۔ یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ اب یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ “ اس کے بعد قصص پیش کئے گئے اور یہ نمونہ تھے ان خبروں کے جن کے بارے میں مکذبین ہمیشہ مذاق کرتے چلے آئے تھے۔
جب قصص ختم ہوئے تو سیاق کلام پھر اپنے موضوع کی طرف آگیا۔ یعنی سورت کے محور کی طرف۔ یہ آخری سبق گویا پوری سو پر تبصرہ ہے اس میں تاکید کی جاتی ہے کہ یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے ہے۔ ان قصص پر تو مدتیں گزر گئیں لیکن قرآن کریم میں ان واقعات کو پیش کیا جا رہا ہے۔ بنی اسرائیل کے علماء رسول اللہ کو بھی جانتے ہیں اور رسول اللہ پر نازل ہونے والے قرآن کو بھی جانتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے کیونکہ یہ وہی واقعات اور وہی رسول ہے جس کا ذکر پہلے نبیوں کی کتابوں میں مذکور ہے۔ لیکن مشرکین مکہ واضح دلائل دیکھتے ہوئے بھی ازروائے عناد تسلیم نہیں کرتے۔ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ سحر ہے یا شعر ہے۔ اگر یہ قرآن کسی عجمی پر نازل ہوتا اور وہ ان کے سامنے ان کی زبان میں اسے پیش کرتا تو پھر بھی یہ ایمان نہ لاتے کیونکہ یہ انکار اس لئے نہیں کرتے کہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے بلکہ محض عناد کی وجہ سے یہ ایمان سے محروم ہیں۔ حضرت محمد ﷺ پر نازل شدہ اخبار کا بنوں کی طرف شیطانی القاء کی طرح نہیں ہیں۔ نہ یہ قرآن شعر کی کوئی قسم ہے ، کیونکہ اشعار کا ایک منہاج ہے جسے شعراء اچھی طرح جانتے ہیں اور شعرا تو ایک ایسا طبقہ ہے جو ہر وادی میں گھومتا ہے۔ یہ کسی خیال ، کسی جذبے اور سی بھی میلان کو موزوں کردیتے ہیں۔ کبھی اچھا ، کبھی برا رہا یہ کلام تو یہ اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ مشرکین عرب کی نصیحت کے لئے اور یاد دہانی کے لئے کہ سنبھل جائیں قبل اس کے کہ کوئی عذاب ان کو آ لے اور قبل اس کے کہ وہ باتیں حقیقت ہو کر ان کے سامنے آجائیں جن کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون (26 : 228) ” اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوگا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ “
، صاف صاف عربی زبان میں۔ “
الشعراء 26:194
درس نمبر 169 ایک نظر میں
یہاں آ کر قصص کا اتختام ہوگیا ۔ یہ تمام قصص رسولوں اور ان کی رسالت کی مختصر کہانی پر مشتمل تھے۔ قوموں کی طر سے رسولوں کی تکذیب ہوتی رہی ، اقوام منہ موڑتی رہیں۔ انہوں نے چیلنج کیا۔ معجزات بھی آئے اور جب تکذیب پر تل گئے تو پھر اللہ کا عذاب آگیا۔
اس سورت کا پہلا سبق ایک افتتاحیہ تھا ، اس میں مشرکین مکہ کے حوالے سے حضور اکرم کو کہا گیا تھا۔
لعلک باخع ……بہ یستھزء ون (6) (26 : 3-6) ” اے محمد شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ ان لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو نئی نصیحت آتی ہے۔ یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ اب یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ “ اس کے بعد قصص پیش کئے گئے اور یہ نمونہ تھے ان خبروں کے جن کے بارے میں مکذبین ہمیشہ مذاق کرتے چلے آئے تھے۔
جب قصص ختم ہوئے تو سیاق کلام پھر اپنے موضوع کی طرف آگیا۔ یعنی سورت کے محور کی طرف۔ یہ آخری سبق گویا پوری سو پر تبصرہ ہے اس میں تاکید کی جاتی ہے کہ یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے ہے۔ ان قصص پر تو مدتیں گزر گئیں لیکن قرآن کریم میں ان واقعات کو پیش کیا جا رہا ہے۔ بنی اسرائیل کے علماء رسول اللہ کو بھی جانتے ہیں اور رسول اللہ پر نازل ہونے والے قرآن کو بھی جانتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے کیونکہ یہ وہی واقعات اور وہی رسول ہے جس کا ذکر پہلے نبیوں کی کتابوں میں مذکور ہے۔ لیکن مشرکین مکہ واضح دلائل دیکھتے ہوئے بھی ازروائے عناد تسلیم نہیں کرتے۔ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ سحر ہے یا شعر ہے۔ اگر یہ قرآن کسی عجمی پر نازل ہوتا اور وہ ان کے سامنے ان کی زبان میں اسے پیش کرتا تو پھر بھی یہ ایمان نہ لاتے کیونکہ یہ انکار اس لئے نہیں کرتے کہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے بلکہ محض عناد کی وجہ سے یہ ایمان سے محروم ہیں۔ حضرت محمد ﷺ پر نازل شدہ اخبار کا بنوں کی طرف شیطانی القاء کی طرح نہیں ہیں۔ نہ یہ قرآن شعر کی کوئی قسم ہے ، کیونکہ اشعار کا ایک منہاج ہے جسے شعراء اچھی طرح جانتے ہیں اور شعرا تو ایک ایسا طبقہ ہے جو ہر وادی میں گھومتا ہے۔ یہ کسی خیال ، کسی جذبے اور سی بھی میلان کو موزوں کردیتے ہیں۔ کبھی اچھا ، کبھی برا رہا یہ کلام تو یہ اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ مشرکین عرب کی نصیحت کے لئے اور یاد دہانی کے لئے کہ سنبھل جائیں قبل اس کے کہ کوئی عذاب ان کو آ لے اور قبل اس کے کہ وہ باتیں حقیقت ہو کر ان کے سامنے آجائیں جن کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون (26 : 228) ” اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوگا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ “
، صاف صاف عربی زبان میں۔ “
الشعراء 26:195
درس نمبر 169 ایک نظر میں
یہاں آ کر قصص کا اتختام ہوگیا ۔ یہ تمام قصص رسولوں اور ان کی رسالت کی مختصر کہانی پر مشتمل تھے۔ قوموں کی طر سے رسولوں کی تکذیب ہوتی رہی ، اقوام منہ موڑتی رہیں۔ انہوں نے چیلنج کیا۔ معجزات بھی آئے اور جب تکذیب پر تل گئے تو پھر اللہ کا عذاب آگیا۔
اس سورت کا پہلا سبق ایک افتتاحیہ تھا ، اس میں مشرکین مکہ کے حوالے سے حضور اکرم کو کہا گیا تھا۔
لعلک باخع ……بہ یستھزء ون (6) (26 : 3-6) ” اے محمد شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ ان لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو نئی نصیحت آتی ہے۔ یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ اب یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ “ اس کے بعد قصص پیش کئے گئے اور یہ نمونہ تھے ان خبروں کے جن کے بارے میں مکذبین ہمیشہ مذاق کرتے چلے آئے تھے۔
جب قصص ختم ہوئے تو سیاق کلام پھر اپنے موضوع کی طرف آگیا۔ یعنی سورت کے محور کی طرف۔ یہ آخری سبق گویا پوری سو پر تبصرہ ہے اس میں تاکید کی جاتی ہے کہ یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے ہے۔ ان قصص پر تو مدتیں گزر گئیں لیکن قرآن کریم میں ان واقعات کو پیش کیا جا رہا ہے۔ بنی اسرائیل کے علماء رسول اللہ کو بھی جانتے ہیں اور رسول اللہ پر نازل ہونے والے قرآن کو بھی جانتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے کیونکہ یہ وہی واقعات اور وہی رسول ہے جس کا ذکر پہلے نبیوں کی کتابوں میں مذکور ہے۔ لیکن مشرکین مکہ واضح دلائل دیکھتے ہوئے بھی ازروائے عناد تسلیم نہیں کرتے۔ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ سحر ہے یا شعر ہے۔ اگر یہ قرآن کسی عجمی پر نازل ہوتا اور وہ ان کے سامنے ان کی زبان میں اسے پیش کرتا تو پھر بھی یہ ایمان نہ لاتے کیونکہ یہ انکار اس لئے نہیں کرتے کہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے بلکہ محض عناد کی وجہ سے یہ ایمان سے محروم ہیں۔ حضرت محمد ﷺ پر نازل شدہ اخبار کا بنوں کی طرف شیطانی القاء کی طرح نہیں ہیں۔ نہ یہ قرآن شعر کی کوئی قسم ہے ، کیونکہ اشعار کا ایک منہاج ہے جسے شعراء اچھی طرح جانتے ہیں اور شعرا تو ایک ایسا طبقہ ہے جو ہر وادی میں گھومتا ہے۔ یہ کسی خیال ، کسی جذبے اور سی بھی میلان کو موزوں کردیتے ہیں۔ کبھی اچھا ، کبھی برا رہا یہ کلام تو یہ اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ مشرکین عرب کی نصیحت کے لئے اور یاد دہانی کے لئے کہ سنبھل جائیں قبل اس کے کہ کوئی عذاب ان کو آ لے اور قبل اس کے کہ وہ باتیں حقیقت ہو کر ان کے سامنے آجائیں جن کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون (26 : 228) ” اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوگا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ “
، صاف صاف عربی زبان میں۔ “
الشعراء 26:196
وانہ لفی ……اسرآئیل (197)
رسول اللہ ﷺ کی تعریف اور ذکر اور جو عقیدہ توحید اور نظریہ حیات آپ پیش فرماتے تھے۔ یہ دونوں امور کتاب سابقہ میں موجود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آخری رسالت کا انتظار علمائے بنی اسرائیل بڑی بےصبری سے کرتے تھے اور وہ ” اس رسول “ کا انتظار کرتے تھے۔ پھر ان میں سے اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ ” اس رسول “ کا زمانہ آگیا ہے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ اس کے بارے میں بات کرتے تھے۔ جیسا کہ حضرت سلمان فارسی ، عبداللہ ابن سلام اور دوسرے علماء بنی اسرائیل کی زبانی یہ باتیں معلوم ہوگئی ہیں۔
یہ مشرکین مکہ تو محض ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے نہیں مانتے۔ یہ بات نہیں ہے کہ ان کے سامنے دلائل پیش کرنے میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ اگر کوئی عجمی یہ قرآن لے کر آتا اور ان پر عربی زبان میں پڑھتا تو بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے ۔ نہ تصدیق کرتے اور نہ یہ تسلیم کرتے کہ یہ قرآن ان کی طرف اتارا گیا ہے۔ اس قدر معجزانہ دلیل کو بھی وہ مان کر نہ دیتے۔
الشعراء 26:197
وانہ لفی ……اسرآئیل (197)
رسول اللہ ﷺ کی تعریف اور ذکر اور جو عقیدہ توحید اور نظریہ حیات آپ پیش فرماتے تھے۔ یہ دونوں امور کتاب سابقہ میں موجود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آخری رسالت کا انتظار علمائے بنی اسرائیل بڑی بےصبری سے کرتے تھے اور وہ ” اس رسول “ کا انتظار کرتے تھے۔ پھر ان میں سے اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ ” اس رسول “ کا زمانہ آگیا ہے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ اس کے بارے میں بات کرتے تھے۔ جیسا کہ حضرت سلمان فارسی ، عبداللہ ابن سلام اور دوسرے علماء بنی اسرائیل کی زبانی یہ باتیں معلوم ہوگئی ہیں۔
یہ مشرکین مکہ تو محض ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے نہیں مانتے۔ یہ بات نہیں ہے کہ ان کے سامنے دلائل پیش کرنے میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ اگر کوئی عجمی یہ قرآن لے کر آتا اور ان پر عربی زبان میں پڑھتا تو بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے ۔ نہ تصدیق کرتے اور نہ یہ تسلیم کرتے کہ یہ قرآن ان کی طرف اتارا گیا ہے۔ اس قدر معجزانہ دلیل کو بھی وہ مان کر نہ دیتے۔
الشعراء 26:198
ولو نزلنہ علی ……مومنین (199)
ان الفاظ میں اللہ ﷺ کے لئے ایک گونہ تسلی ہی کہ آپ کے کام میں اور ہمارے کلام میں کوئی کوتاہی نہیں ہے۔ درحقیقت یہ لوگ سخت عناد اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہیں۔ اس لئے یہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ نہیں مانیں گے اور یہ فیصلہ ان کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے کہ یہ اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے۔ یہ قضا و قدر کا فصلہ بن چکا ہے۔ یہ اس روش سے پھر نہیں سکتے۔ بس اب عذاب کا انتظار کریں کہ یہ غفلت میں ہوں اور مارے جائیں۔
الشعراء 26:199
ولو نزلنہ علی ……مومنین (199)
ان الفاظ میں اللہ ﷺ کے لئے ایک گونہ تسلی ہی کہ آپ کے کام میں اور ہمارے کلام میں کوئی کوتاہی نہیں ہے۔ درحقیقت یہ لوگ سخت عناد اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہیں۔ اس لئے یہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ نہیں مانیں گے اور یہ فیصلہ ان کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے کہ یہ اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے۔ یہ قضا و قدر کا فصلہ بن چکا ہے۔ یہ اس روش سے پھر نہیں سکتے۔ بس اب عذاب کا انتظار کریں کہ یہ غفلت میں ہوں اور مارے جائیں۔
الشعراء 26:200
کذلک ……لا یشعرون (202)
قرآن کریم ان کی جانب سے تکذیب کا نقشہ یوں کھینچتا ہے کہ یہ تکذیب ان کے ساتھ چپکی رہے گی اور یہ لوگ اسی طرح تکذیب کی حالت میں رہیں گے اور قرآن کریم کا انکار کرتے رہیں گے۔ ان کے دلوں کے اندر تکذیب کی رو گزار دی گئی ہے۔ تکذیب ان کے دل ہی میں جاری ہے۔ یہ ایسے ہی حالات میں ہوں گے کہ ان کو عذاب الیم پکڑے گا۔ یہ عذاب اچانک آئے گا ان کو اس کا کوئی احساس نہ ہوگا ان میں سے بعض تو ایسی ہی حالت میں رہے کہ واصل جہنم ہوئے یا مارے گئے اور جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے۔
الشعراء 26:201
کذلک ……لا یشعرون (202)
قرآن کریم ان کی جانب سے تکذیب کا نقشہ یوں کھینچتا ہے کہ یہ تکذیب ان کے ساتھ چپکی رہے گی اور یہ لوگ اسی طرح تکذیب کی حالت میں رہیں گے اور قرآن کریم کا انکار کرتے رہیں گے۔ ان کے دلوں کے اندر تکذیب کی رو گزار دی گئی ہے۔ تکذیب ان کے دل ہی میں جاری ہے۔ یہ ایسے ہی حالات میں ہوں گے کہ ان کو عذاب الیم پکڑے گا۔ یہ عذاب اچانک آئے گا ان کو اس کا کوئی احساس نہ ہوگا ان میں سے بعض تو ایسی ہی حالت میں رہے کہ واصل جہنم ہوئے یا مارے گئے اور جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے۔
الشعراء 26:202
فیقولوا ھل نحن منظرون (204)
یعنی کیا ہمیں دنیا میں ایک اور مہلت دے دی جائے گی تاکہ ہم اصلاح کرسکیں۔ اے کاش کہ ایسا ہوجائے۔
کفار مکہ بار بار مطالبہ کرتے تھے کہ تم جو عذاب الٰہی سے ڈراتے ہو اور اس کے قصے سناتے ہو ، لائو وہ عذاب کہ دیکھیں یہ مذہب کا مذاق اڑاتے تھے کیا یہ لوگ اس قدر بےباک اور مغرور ہوگئے ہیں اس لئے کہ یہ خوشحال ہیں۔ عیاشیوں نے ان کو غبی بنا دیا ہے اور یہ خدا کے عذاب کو بعید الوقوع قرار دیتے ہیں۔ ان کی حالت ہمیشہ کے کھاتے پیتے لوگوں کی سی ہے۔ ایسے لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ہم ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے۔ یہ حالات کے بدلنے کا تصور بھی نہیں کرتے۔
یہاں ان کو ایسی غفلت سے جگایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس وقت ان کی حالت ایسی ہوگی کہ یہ دنیا کا سب ساز و سامان بےکار ہوجائے گا اور کوئی شئے بھی ان کو فائدہ نہ دے سکے گی۔
الشعراء 26:203
فیقولوا ھل نحن منظرون (204)
یعنی کیا ہمیں دنیا میں ایک اور مہلت دے دی جائے گی تاکہ ہم اصلاح کرسکیں۔ اے کاش کہ ایسا ہوجائے۔
کفار مکہ بار بار مطالبہ کرتے تھے کہ تم جو عذاب الٰہی سے ڈراتے ہو اور اس کے قصے سناتے ہو ، لائو وہ عذاب کہ دیکھیں یہ مذہب کا مذاق اڑاتے تھے کیا یہ لوگ اس قدر بےباک اور مغرور ہوگئے ہیں اس لئے کہ یہ خوشحال ہیں۔ عیاشیوں نے ان کو غبی بنا دیا ہے اور یہ خدا کے عذاب کو بعید الوقوع قرار دیتے ہیں۔ ان کی حالت ہمیشہ کے کھاتے پیتے لوگوں کی سی ہے۔ ایسے لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ہم ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے۔ یہ حالات کے بدلنے کا تصور بھی نہیں کرتے۔
یہاں ان کو ایسی غفلت سے جگایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس وقت ان کی حالت ایسی ہوگی کہ یہ دنیا کا سب ساز و سامان بےکار ہوجائے گا اور کوئی شئے بھی ان کو فائدہ نہ دے سکے گی۔
الشعراء 26:204
افبعذابنا ……یمتعون (208)
ایک طرف ان کی طرف سے عذاب کا مطالبہ اور اس میں شتابی ہے اور دوسری جانب عذاب کا نزول ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ عیش و عشرت کی جو طویل زندگی وہ بسر کر رہے تھے وہ گویا تھی ہی نہیں۔ اس پوری زندگی میں انکے لئے کوء فائدہ نہ ہوگا اور نہ اس میں کوئی ایسا عمل ہوگا جس کی وجہ سے ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہو۔
ایک صحیح حدیث میں ہے ” کافر کو لایا جائے گا اور آگ میں اسے ایک غوطہ دیا جائے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ تم نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی بھلائی (اور آرام) دیکھا بھی ہے ؟ کیا تم نے کوئی خوشحالی دیکھی ہے ؟ وہ کہے گا نہیں خدا کی قسم پروردگار میں نے تو کچھ بھی نہیں دیکھا۔ اور پھر ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں بدترین حالات میں تھا اور اسے جنت کا ایک رنگ دکھایا جائے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا۔ کیا تو نے برے دن بھی کبھی دیکھے ہیں ؟ تو وہ کہے گا خدا کی قسم اے رب ذوالجلال ! مجھ پر تو برے دن کبھی آئے ہی نہیں۔ (ابن کثیر)
اس کے بعد ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ یہ جو تمہیں خبردار کیا جا رہا ہے تو اس لئے کہ تم پر ہلاکت بڑی تیزی سے آرہی ہے اور اللہ کی رحمت کا تو یہ تقاضا ہے کہ کسی بستی کو اس وقت تک ہلاک نہ کرے جب تک رسول نہ آئے۔ یہ اللہ کی سنت ہے۔
الشعراء 26:205
افبعذابنا ……یمتعون (208)
ایک طرف ان کی طرف سے عذاب کا مطالبہ اور اس میں شتابی ہے اور دوسری جانب عذاب کا نزول ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ عیش و عشرت کی جو طویل زندگی وہ بسر کر رہے تھے وہ گویا تھی ہی نہیں۔ اس پوری زندگی میں انکے لئے کوء فائدہ نہ ہوگا اور نہ اس میں کوئی ایسا عمل ہوگا جس کی وجہ سے ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہو۔
ایک صحیح حدیث میں ہے ” کافر کو لایا جائے گا اور آگ میں اسے ایک غوطہ دیا جائے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ تم نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی بھلائی (اور آرام) دیکھا بھی ہے ؟ کیا تم نے کوئی خوشحالی دیکھی ہے ؟ وہ کہے گا نہیں خدا کی قسم پروردگار میں نے تو کچھ بھی نہیں دیکھا۔ اور پھر ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں بدترین حالات میں تھا اور اسے جنت کا ایک رنگ دکھایا جائے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا۔ کیا تو نے برے دن بھی کبھی دیکھے ہیں ؟ تو وہ کہے گا خدا کی قسم اے رب ذوالجلال ! مجھ پر تو برے دن کبھی آئے ہی نہیں۔ (ابن کثیر)
اس کے بعد ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ یہ جو تمہیں خبردار کیا جا رہا ہے تو اس لئے کہ تم پر ہلاکت بڑی تیزی سے آرہی ہے اور اللہ کی رحمت کا تو یہ تقاضا ہے کہ کسی بستی کو اس وقت تک ہلاک نہ کرے جب تک رسول نہ آئے۔ یہ اللہ کی سنت ہے۔
الشعراء 26:206
افبعذابنا ……یمتعون (208)
ایک طرف ان کی طرف سے عذاب کا مطالبہ اور اس میں شتابی ہے اور دوسری جانب عذاب کا نزول ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ عیش و عشرت کی جو طویل زندگی وہ بسر کر رہے تھے وہ گویا تھی ہی نہیں۔ اس پوری زندگی میں انکے لئے کوء فائدہ نہ ہوگا اور نہ اس میں کوئی ایسا عمل ہوگا جس کی وجہ سے ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہو۔
ایک صحیح حدیث میں ہے ” کافر کو لایا جائے گا اور آگ میں اسے ایک غوطہ دیا جائے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ تم نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی بھلائی (اور آرام) دیکھا بھی ہے ؟ کیا تم نے کوئی خوشحالی دیکھی ہے ؟ وہ کہے گا نہیں خدا کی قسم پروردگار میں نے تو کچھ بھی نہیں دیکھا۔ اور پھر ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں بدترین حالات میں تھا اور اسے جنت کا ایک رنگ دکھایا جائے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا۔ کیا تو نے برے دن بھی کبھی دیکھے ہیں ؟ تو وہ کہے گا خدا کی قسم اے رب ذوالجلال ! مجھ پر تو برے دن کبھی آئے ہی نہیں۔ (ابن کثیر)
اس کے بعد ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ یہ جو تمہیں خبردار کیا جا رہا ہے تو اس لئے کہ تم پر ہلاکت بڑی تیزی سے آرہی ہے اور اللہ کی رحمت کا تو یہ تقاضا ہے کہ کسی بستی کو اس وقت تک ہلاک نہ کرے جب تک رسول نہ آئے۔ یہ اللہ کی سنت ہے۔
الشعراء 26:207
افبعذابنا ……یمتعون (208)
ایک طرف ان کی طرف سے عذاب کا مطالبہ اور اس میں شتابی ہے اور دوسری جانب عذاب کا نزول ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ عیش و عشرت کی جو طویل زندگی وہ بسر کر رہے تھے وہ گویا تھی ہی نہیں۔ اس پوری زندگی میں انکے لئے کوء فائدہ نہ ہوگا اور نہ اس میں کوئی ایسا عمل ہوگا جس کی وجہ سے ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہو۔
ایک صحیح حدیث میں ہے ” کافر کو لایا جائے گا اور آگ میں اسے ایک غوطہ دیا جائے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ تم نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی بھلائی (اور آرام) دیکھا بھی ہے ؟ کیا تم نے کوئی خوشحالی دیکھی ہے ؟ وہ کہے گا نہیں خدا کی قسم پروردگار میں نے تو کچھ بھی نہیں دیکھا۔ اور پھر ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں بدترین حالات میں تھا اور اسے جنت کا ایک رنگ دکھایا جائے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا۔ کیا تو نے برے دن بھی کبھی دیکھے ہیں ؟ تو وہ کہے گا خدا کی قسم اے رب ذوالجلال ! مجھ پر تو برے دن کبھی آئے ہی نہیں۔ (ابن کثیر)
اس کے بعد ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ یہ جو تمہیں خبردار کیا جا رہا ہے تو اس لئے کہ تم پر ہلاکت بڑی تیزی سے آرہی ہے اور اللہ کی رحمت کا تو یہ تقاضا ہے کہ کسی بستی کو اس وقت تک ہلاک نہ کرے جب تک رسول نہ آئے۔ یہ اللہ کی سنت ہے۔
الشعراء 26:208
وما اھلکنا من قریۃ الا لھا مذرون ، ذکری وما کنا ظلمین (209)
اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے یہ فطری عہد لیا ہے کہ وہ صرف اس کی بندگی کریں گے اور اسے وحدہ لاشریک سمجھیں گے۔ انسان کی فطرت از خود ایک خالق کائنات کے وجود کو تسلیم کرتی ہے بشرطیکہ اس کے اندر فساد اور انحراف پیدا نہ ہوجائے۔ (پارہ 9 ، ص ……) اور پھر اللہ نے اس کائنات میں دلائل کو ڈھیر لگا دیا۔ یہ تمام دلائل اس بات کی طرف راہنمائی کرتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک خالق موجود ہے۔ اگر لوگ اس فطری عہد کو بھول جائیں اور دلائل ایمان پر غور نہ کریں تو پھر ان کے پاس ایک ڈرانے والا آتا ہے جو ان کو یہ فطری سبق یاد دلاتا ہے اور خواب غفلت سے ان کو جگاتا ہے۔ اس معنی میں رسالت ایک یاد دہانی اور سوئے ہئے لوگوں کو جگانے سے عبارت ہے اور یہ اللہ کا رحم و کرم ہے کہ اللہ نے اپنے اوپر پیغمبر بھیجنا لازم کردیا کہ ہم اس وقت تک عذاب نہیں دیتے جب تک رسول نہ بھیجیں۔ جب رسول آتا ہے اور لوگ پھر بھی نہیں مانتے ، نہیں یاد کرتے اور نہیں جاگتے تو یہ ان کی ناکامی ہوتی ہے اور وہ راہ ہدایت ترک کردیتے ہیں لہٰذا عذاب حق ہوجاتا ہے۔
قرآن کریم کے بارے میں ایک جدید بحث :
الشعراء 26:209
وما اھلکنا من قریۃ الا لھا مذرون ، ذکری وما کنا ظلمین (209)
اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے یہ فطری عہد لیا ہے کہ وہ صرف اس کی بندگی کریں گے اور اسے وحدہ لاشریک سمجھیں گے۔ انسان کی فطرت از خود ایک خالق کائنات کے وجود کو تسلیم کرتی ہے بشرطیکہ اس کے اندر فساد اور انحراف پیدا نہ ہوجائے۔ (پارہ 9 ، ص ……) اور پھر اللہ نے اس کائنات میں دلائل کو ڈھیر لگا دیا۔ یہ تمام دلائل اس بات کی طرف راہنمائی کرتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک خالق موجود ہے۔ اگر لوگ اس فطری عہد کو بھول جائیں اور دلائل ایمان پر غور نہ کریں تو پھر ان کے پاس ایک ڈرانے والا آتا ہے جو ان کو یہ فطری سبق یاد دلاتا ہے اور خواب غفلت سے ان کو جگاتا ہے۔ اس معنی میں رسالت ایک یاد دہانی اور سوئے ہئے لوگوں کو جگانے سے عبارت ہے اور یہ اللہ کا رحم و کرم ہے کہ اللہ نے اپنے اوپر پیغمبر بھیجنا لازم کردیا کہ ہم اس وقت تک عذاب نہیں دیتے جب تک رسول نہ بھیجیں۔ جب رسول آتا ہے اور لوگ پھر بھی نہیں مانتے ، نہیں یاد کرتے اور نہیں جاگتے تو یہ ان کی ناکامی ہوتی ہے اور وہ راہ ہدایت ترک کردیتے ہیں لہٰذا عذاب حق ہوجاتا ہے۔
قرآن کریم کے بارے میں ایک جدید بحث :
الشعراء 26:210
وما تنزلت ……لمعزولون (204)
اس سے قبل قرآن کریم کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے اور اسے روح الامین لے کر آتے ہیں اور اس کے بعد بات آگے نکل گئی کہ یہ لوگ تکذیب پر تل گئے ہیں اور اپنی نادانی سے عذاب کے آنے میں شتابی کر رہے ہیں۔ لیکن قرآن کے بارے میں وہ یہ الزام بھی لگاتے تھے کہ یہ شیاطین کی طرف سیالقائہوتا ہے۔ جس طرح کاہنوں پر شیاطین کچھ کلمات القا کرتے ہیں جن میں بعض خبریں غیب کی ہوتی ہیں اور جن کی وجہ سے وہ کہانت کی دکان چمکاتے ہیں۔
لیکن یہاں اس کی تردید کی جاتی ہے کہ ہر مذہب و ملت جانتی ہے کہ شیطان کا کیا کام ہوتا ہے جبکہ قرآن تو اصلاح اور ہدایت کا کام کرتا ہے اور شیطان ہر مذہب و ملت کے تصور کے مطابق برائی گمرایہ اور ضلالت کی دعوت دیتا ہے۔
پھر شیطانی قوتوں کے اندر یہ طاقت کہاں ہے کہ وہ قرآن نازل کرسکیں۔ اللہ کی جانب سینزول وحی اور قرآن کا انتظام نہایت محفوظ ہے۔ اس کو تو روح الامین ، رب العالمین کے حکم سے نہایت حفاظت اور امانت و دیانت سے لاتے ہیں۔
اب روئے سخن حضور اکرم کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو شرک سے ڈرایا جاتا ہے حالانکہ حضور اکرم ﷺ سے شرک کا وقوع ایک مستبعد امر ہے۔ دراصل حضور کو کہہ کرامت کو لایا جاتا ہے اور آپ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ آپ اپنے قریبی لوگوں کو ڈرائیں۔ اللہ پر بھروسہ کریں۔ اللہ ہمیشہ آپ کی نگرانی اور نگہبانی کرتا ہے۔
الشعراء 26:211
وما تنزلت ……لمعزولون (204)
اس سے قبل قرآن کریم کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے اور اسے روح الامین لے کر آتے ہیں اور اس کے بعد بات آگے نکل گئی کہ یہ لوگ تکذیب پر تل گئے ہیں اور اپنی نادانی سے عذاب کے آنے میں شتابی کر رہے ہیں۔ لیکن قرآن کے بارے میں وہ یہ الزام بھی لگاتے تھے کہ یہ شیاطین کی طرف سیالقائہوتا ہے۔ جس طرح کاہنوں پر شیاطین کچھ کلمات القا کرتے ہیں جن میں بعض خبریں غیب کی ہوتی ہیں اور جن کی وجہ سے وہ کہانت کی دکان چمکاتے ہیں۔
لیکن یہاں اس کی تردید کی جاتی ہے کہ ہر مذہب و ملت جانتی ہے کہ شیطان کا کیا کام ہوتا ہے جبکہ قرآن تو اصلاح اور ہدایت کا کام کرتا ہے اور شیطان ہر مذہب و ملت کے تصور کے مطابق برائی گمرایہ اور ضلالت کی دعوت دیتا ہے۔
پھر شیطانی قوتوں کے اندر یہ طاقت کہاں ہے کہ وہ قرآن نازل کرسکیں۔ اللہ کی جانب سینزول وحی اور قرآن کا انتظام نہایت محفوظ ہے۔ اس کو تو روح الامین ، رب العالمین کے حکم سے نہایت حفاظت اور امانت و دیانت سے لاتے ہیں۔
اب روئے سخن حضور اکرم کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو شرک سے ڈرایا جاتا ہے حالانکہ حضور اکرم ﷺ سے شرک کا وقوع ایک مستبعد امر ہے۔ دراصل حضور کو کہہ کرامت کو لایا جاتا ہے اور آپ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ آپ اپنے قریبی لوگوں کو ڈرائیں۔ اللہ پر بھروسہ کریں۔ اللہ ہمیشہ آپ کی نگرانی اور نگہبانی کرتا ہے۔
الشعراء 26:212
وما تنزلت ……لمعزولون (204)
اس سے قبل قرآن کریم کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے اور اسے روح الامین لے کر آتے ہیں اور اس کے بعد بات آگے نکل گئی کہ یہ لوگ تکذیب پر تل گئے ہیں اور اپنی نادانی سے عذاب کے آنے میں شتابی کر رہے ہیں۔ لیکن قرآن کے بارے میں وہ یہ الزام بھی لگاتے تھے کہ یہ شیاطین کی طرف سیالقائہوتا ہے۔ جس طرح کاہنوں پر شیاطین کچھ کلمات القا کرتے ہیں جن میں بعض خبریں غیب کی ہوتی ہیں اور جن کی وجہ سے وہ کہانت کی دکان چمکاتے ہیں۔
لیکن یہاں اس کی تردید کی جاتی ہے کہ ہر مذہب و ملت جانتی ہے کہ شیطان کا کیا کام ہوتا ہے جبکہ قرآن تو اصلاح اور ہدایت کا کام کرتا ہے اور شیطان ہر مذہب و ملت کے تصور کے مطابق برائی گمرایہ اور ضلالت کی دعوت دیتا ہے۔
پھر شیطانی قوتوں کے اندر یہ طاقت کہاں ہے کہ وہ قرآن نازل کرسکیں۔ اللہ کی جانب سینزول وحی اور قرآن کا انتظام نہایت محفوظ ہے۔ اس کو تو روح الامین ، رب العالمین کے حکم سے نہایت حفاظت اور امانت و دیانت سے لاتے ہیں۔
اب روئے سخن حضور اکرم کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو شرک سے ڈرایا جاتا ہے حالانکہ حضور اکرم ﷺ سے شرک کا وقوع ایک مستبعد امر ہے۔ دراصل حضور کو کہہ کرامت کو لایا جاتا ہے اور آپ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ آپ اپنے قریبی لوگوں کو ڈرائیں۔ اللہ پر بھروسہ کریں۔ اللہ ہمیشہ آپ کی نگرانی اور نگہبانی کرتا ہے۔
الشعراء 26:213
وما تنزلت ……لمعزولون (204)
اس سے قبل قرآن کریم کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے اور اسے روح الامین لے کر آتے ہیں اور اس کے بعد بات آگے نکل گئی کہ یہ لوگ تکذیب پر تل گئے ہیں اور اپنی نادانی سے عذاب کے آنے میں شتابی کر رہے ہیں۔ لیکن قرآن کے بارے میں وہ یہ الزام بھی لگاتے تھے کہ یہ شیاطین کی طرف سیالقائہوتا ہے۔ جس طرح کاہنوں پر شیاطین کچھ کلمات القا کرتے ہیں جن میں بعض خبریں غیب کی ہوتی ہیں اور جن کی وجہ سے وہ کہانت کی دکان چمکاتے ہیں۔
لیکن یہاں اس کی تردید کی جاتی ہے کہ ہر مذہب و ملت جانتی ہے کہ شیطان کا کیا کام ہوتا ہے جبکہ قرآن تو اصلاح اور ہدایت کا کام کرتا ہے اور شیطان ہر مذہب و ملت کے تصور کے مطابق برائی گمرایہ اور ضلالت کی دعوت دیتا ہے۔
پھر شیطانی قوتوں کے اندر یہ طاقت کہاں ہے کہ وہ قرآن نازل کرسکیں۔ اللہ کی جانب سینزول وحی اور قرآن کا انتظام نہایت محفوظ ہے۔ اس کو تو روح الامین ، رب العالمین کے حکم سے نہایت حفاظت اور امانت و دیانت سے لاتے ہیں۔
اب روئے سخن حضور اکرم کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو شرک سے ڈرایا جاتا ہے حالانکہ حضور اکرم ﷺ سے شرک کا وقوع ایک مستبعد امر ہے۔ دراصل حضور کو کہہ کرامت کو لایا جاتا ہے اور آپ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ آپ اپنے قریبی لوگوں کو ڈرائیں۔ اللہ پر بھروسہ کریں۔ اللہ ہمیشہ آپ کی نگرانی اور نگہبانی کرتا ہے۔
الشعراء 26:214
فلا تدع ……العزیز الرحیم (219)
ان کے ساتھ تواضح سے پیش آئو لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تم کرتے ہو ، اس سے میں بری الذمہ ہوں اور اس زبردست اور رحیم پر توکل کرو جو تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ جب تم اٹھتے ہو اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے۔ وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ “
اگر نبی کریم ﷺ بھی اللہ کے سوا کسی اور کو پکاریں تو وہ بھی معذبین میں سے ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ محال ہے اور اللہ نے سجھانے کے لئے فرض کیا ہے تو پھر اور لوگکس باغ کی مولی ہیں۔ جو لوگ رات اور دن اللہ کے سوا اور دل کو پکارتے ہیں وہ کس طرح عذاب الٰہی سے بچ سکتے ہیں۔ لہٰذا اس معاملے میں کوئی رو رعایت نہیں ہیں۔ رسول بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اگر اس نے اس عظیم جرم کا ارتکاب کیا تو ……بھی۔
رسول اللہ ﷺ کو عذاب سے ڈرانے کے بعد اب یہاں آپ کے رشتہ داروں کو ڈرانے کا حکم دیا جاتا ہے تاکہ دور سے لوگ زیداہ ڈر جائیں ، اگر رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ دار (مثلاً ابو طالب) ایمان نہ لائے اور شرک پر مرے تو معذبین میں سے ہوگا تو اور لوگوں کے لئے جاننا چاہئے کہ کوئی رعایت نہ ہوگی۔
بخاری اور مسلم شریف میں منقول ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی تو آپ کوہ صفا پر چڑھے اور پکارا ” باصباحا “ تو
سب لوگ جمع ہوگئے۔ ہر شخص دوڑ کر آپ کے پاس پہنچ گیا یا اس نے اپنا کوئی نمائندہ بھیج دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یا نبی عبدالمطلب یا نبی مہرہ یا نبی لوئی دیکھو ! اگر میں ت میں یہ خبر دوں کہ پہاڑ کی اس طرف سے ایک لشکر تم پر حملہ آور ہونے والا ہے تو تم میری تصدیق کرو گے ؟ تو انہوں نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ میں تمہارے لئے ڈرانے والا ہوں اور ایک شدید عذاب تمہارے انتظار میں ہے اس پر ابولہب نے کہا ” تم پر ہلاکت ہو سارے دن کے لئے۔ “ کیا تم نے صرف اس بات کے لئے ہمیں بلایا اور اسی موقعہ پر یہ سورت بھی نازل ہوگئی۔ تبت یدا ابی لھب و تب امام مسلم نے اپنی سند ہے حضرت عائشہ سے نقل کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا جب یہ آیت نازل ہوئی۔
وانذر عشیرتک الاقربین (62 : 312) ” اور اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈرائو “ تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمایا ” اے فاطمہ بنت محد ، اے صفیہ بنت عبدالمطلب ، اے اولاد عبدالمطلب میں تمہارے بارے میں اللہ کے ہاں کوئی اختیار نہیں کھتا۔ میرے مال کے بارے میں تم جو چاہتے ہو ، مجھ سے لے سکتے ہو۔ “
امامت رمذی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ سے یہ نقل فرمایا ہے۔ کہتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے قریش کو بلایا تو آپ نے عام بات بھی کی اور خاص بات کی۔ فرمایا اے اہل قریش ، اپنے نفوس کو آگ سے بچائو ، ایاولاد کعب اپنے آپ کو آگ سے بچائو ، اے فاطمہ بنت محمد اپنے نفس کو آگ سے بچائو ، خدا کی قسم میرے پاس تمہارے لئے خدا کے ہاں کوئی اختیارات نہیں ہیں۔ میں تمہارا رشتہ دار ہوں۔
تو احادیث اور ان کے ساتھ دوسری احادیث ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حکم کو اس طرح لیا اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو کس طرح خبردار کیا اور آخرت کے معاملے میں ان کو اپنے رب کے حوالے کردیا اور ان کے سامنے صاف صاف کہہ دیا کہ میری قرابت کسی کو وہاں کوء فائدہ نہ دے گی۔ اگر تمہارے لئے تمہارا عمل نافع نہ ہوا اور یہ کہ تمہارے لئے میرے پاس اللہ کے ہاں کوئی اختیارات نہیں ہیں۔ حالانکہ آپ اللہ کے رسول تھے۔ غرض یہ ہے اسلام اور اس کے صاف صاف تعلیم ، بالکل واضح اور دو ٹوک بات اور اللہ اور بندے کے درمیان ہر قسم کیواسطوں کی نفی۔ یہاں تک کہ رسول کریم ﷺ بھی واسطہ اور وسیلہ نہیں ہیں۔
پھر نبی ﷺ کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ جن مومنین نے تمہاری دعوت کو قبل کرلیا ہے ان کے ساتھ تمہارا معاملہ کیسا ہوگا۔
واخفض جناحک لمن اتبعک من المومنین (62 : 12) ” اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ تواضح کے ساتھ پیش آئو۔ “ ‘ پروں کو ان کے لئے بچھانے سے مراد تواضع کرنا اور نرمی کرنا ہے۔ نہایت ہی مجسم اور حسی انداز میں بیان فرمایا کہ جب پرندہ اترتا ہے تو پروں کو پوری طرح بچھاتا ہے اور رفتار نرم کرتا ہے حضور اکرم نے اپنی پوری زنگدی میں اہل ایمان کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ کیونکہ آپ کے اخلاق بعینہ قرآن تھے آپ کی زندگی قرآن کریم کا عملی ترجمہ تھی۔
اور جو لوگ آپ کی نافرمانی رتے ہیں ان کا معاملہ خدا پر چھوڑ دیں اور ان سے اپنی برأت کا اعلان کردیں۔
الشعراء 26:215
فلا تدع ……العزیز الرحیم (219)
ان کے ساتھ تواضح سے پیش آئو لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تم کرتے ہو ، اس سے میں بری الذمہ ہوں اور اس زبردست اور رحیم پر توکل کرو جو تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ جب تم اٹھتے ہو اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے۔ وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ “
اگر نبی کریم ﷺ بھی اللہ کے سوا کسی اور کو پکاریں تو وہ بھی معذبین میں سے ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ محال ہے اور اللہ نے سجھانے کے لئے فرض کیا ہے تو پھر اور لوگکس باغ کی مولی ہیں۔ جو لوگ رات اور دن اللہ کے سوا اور دل کو پکارتے ہیں وہ کس طرح عذاب الٰہی سے بچ سکتے ہیں۔ لہٰذا اس معاملے میں کوئی رو رعایت نہیں ہیں۔ رسول بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اگر اس نے اس عظیم جرم کا ارتکاب کیا تو ……بھی۔
رسول اللہ ﷺ کو عذاب سے ڈرانے کے بعد اب یہاں آپ کے رشتہ داروں کو ڈرانے کا حکم دیا جاتا ہے تاکہ دور سے لوگ زیداہ ڈر جائیں ، اگر رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ دار (مثلاً ابو طالب) ایمان نہ لائے اور شرک پر مرے تو معذبین میں سے ہوگا تو اور لوگوں کے لئے جاننا چاہئے کہ کوئی رعایت نہ ہوگی۔
بخاری اور مسلم شریف میں منقول ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی تو آپ کوہ صفا پر چڑھے اور پکارا ” باصباحا “ تو
سب لوگ جمع ہوگئے۔ ہر شخص دوڑ کر آپ کے پاس پہنچ گیا یا اس نے اپنا کوئی نمائندہ بھیج دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یا نبی عبدالمطلب یا نبی مہرہ یا نبی لوئی دیکھو ! اگر میں ت میں یہ خبر دوں کہ پہاڑ کی اس طرف سے ایک لشکر تم پر حملہ آور ہونے والا ہے تو تم میری تصدیق کرو گے ؟ تو انہوں نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ میں تمہارے لئے ڈرانے والا ہوں اور ایک شدید عذاب تمہارے انتظار میں ہے اس پر ابولہب نے کہا ” تم پر ہلاکت ہو سارے دن کے لئے۔ “ کیا تم نے صرف اس بات کے لئے ہمیں بلایا اور اسی موقعہ پر یہ سورت بھی نازل ہوگئی۔ تبت یدا ابی لھب و تب امام مسلم نے اپنی سند ہے حضرت عائشہ سے نقل کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا جب یہ آیت نازل ہوئی۔
وانذر عشیرتک الاقربین (62 : 312) ” اور اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈرائو “ تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمایا ” اے فاطمہ بنت محد ، اے صفیہ بنت عبدالمطلب ، اے اولاد عبدالمطلب میں تمہارے بارے میں اللہ کے ہاں کوئی اختیار نہیں کھتا۔ میرے مال کے بارے میں تم جو چاہتے ہو ، مجھ سے لے سکتے ہو۔ “
امامت رمذی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ سے یہ نقل فرمایا ہے۔ کہتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے قریش کو بلایا تو آپ نے عام بات بھی کی اور خاص بات کی۔ فرمایا اے اہل قریش ، اپنے نفوس کو آگ سے بچائو ، ایاولاد کعب اپنے آپ کو آگ سے بچائو ، اے فاطمہ بنت محمد اپنے نفس کو آگ سے بچائو ، خدا کی قسم میرے پاس تمہارے لئے خدا کے ہاں کوئی اختیارات نہیں ہیں۔ میں تمہارا رشتہ دار ہوں۔
تو احادیث اور ان کے ساتھ دوسری احادیث ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حکم کو اس طرح لیا اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو کس طرح خبردار کیا اور آخرت کے معاملے میں ان کو اپنے رب کے حوالے کردیا اور ان کے سامنے صاف صاف کہہ دیا کہ میری قرابت کسی کو وہاں کوء فائدہ نہ دے گی۔ اگر تمہارے لئے تمہارا عمل نافع نہ ہوا اور یہ کہ تمہارے لئے میرے پاس اللہ کے ہاں کوئی اختیارات نہیں ہیں۔ حالانکہ آپ اللہ کے رسول تھے۔ غرض یہ ہے اسلام اور اس کے صاف صاف تعلیم ، بالکل واضح اور دو ٹوک بات اور اللہ اور بندے کے درمیان ہر قسم کیواسطوں کی نفی۔ یہاں تک کہ رسول کریم ﷺ بھی واسطہ اور وسیلہ نہیں ہیں۔
پھر نبی ﷺ کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ جن مومنین نے تمہاری دعوت کو قبل کرلیا ہے ان کے ساتھ تمہارا معاملہ کیسا ہوگا۔
واخفض جناحک لمن اتبعک من المومنین (62 : 12) ” اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ تواضح کے ساتھ پیش آئو۔ “ ‘ پروں کو ان کے لئے بچھانے سے مراد تواضع کرنا اور نرمی کرنا ہے۔ نہایت ہی مجسم اور حسی انداز میں بیان فرمایا کہ جب پرندہ اترتا ہے تو پروں کو پوری طرح بچھاتا ہے اور رفتار نرم کرتا ہے حضور اکرم نے اپنی پوری زنگدی میں اہل ایمان کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ کیونکہ آپ کے اخلاق بعینہ قرآن تھے آپ کی زندگی قرآن کریم کا عملی ترجمہ تھی۔
اور جو لوگ آپ کی نافرمانی رتے ہیں ان کا معاملہ خدا پر چھوڑ دیں اور ان سے اپنی برأت کا اعلان کردیں۔
الشعراء 26:216
فان عصوک قفل انی بربی مما تعلمون (62 : 612) ” ۔ “ یہ روش مکہ میں تھی ، اس وقت رسول اللہ ﷺ کو الل ہیک راہ میں لڑنے کی اجازت نہ تھی۔ اب قرآن کریم آپ کو اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے اور یہ تسلی دیتا ہے کہ اللہ بروقت آپ کا نگران ہے اور بہت قریب سے دیکھ رہا ہے۔
الشعراء 26:217
و توکل ……العلیم (62 : 22) ” ان کو ان کی نافرمانیوں کے اندر چھوڑ دیں اور ان کے اعمال سے اپنی برات کا اظہار کردیں اور اپنے رب پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوں اور ہر معاملے میں رب مکریم سے استعانت طلب فرمائیں۔ یہاں اللہ کی دو صفات بیان کی گئی ہیں جو اس سورت میں بار بار آتی ہیں یعنی صفت عزت اور صفت رحمت اس کے بعد قلب رسول اللہ ﷺ کو انس اور محبت کا شعور دیا جاتا ہے کہ تمہارا رب تمہیں اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم اکیلے نماز میں ہوتے ہو اور اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم نمازیوں کے اندر ہوتے ہو۔ یعنی وحدت کی حالت میں بھی تمہیں دیکھ رہا ہے اور اجتماعی حالت میں بھی اس کی نظر تم پر ہے۔ یعنی جب تم ساجدین یعنی اہل ایمان کے اندر ہوتے ہو ، ان کی تربیت کرتے ہو ، ان کی امامت کرتے اور انہیں خطبہ دیتے ہو ، اللہ آپ کی حرکات و سکناء کی نگرانی کر رہا ہے اور آپ کے دعوتی کام اور درپیش خطرات کو بھی دیکھ رہا ہے وہ سمیع و علم ہے۔
اس انداز تعبیر میں نبی ﷺ کے اندر یہ شعور پیدا کرنا مطلوب ہے کہ اللہ آپ کے قریب ہے ، دیکھ رہا ہے اور عنایات کر رہا ہے۔ یوں رسول اللہ یہ یقین رکھتے تھے کہ آپ اللہ کی حفاظت میں ہیں۔ اللہ کے جوار رحمت میں ہیں۔ چناچہ اس خوشگوار ماحول محبوت میں آپ زندگی بسر کرتے تھے۔
اس سورت کا یہ آخری سبق زیادہ تر قرآن کے بارے میں ہے۔ اس کے بارے میں ایک تاکید تو یہ کی گئی کہ یہ رب العالمین کی طر سے ہے۔ دوسری یہ کہ روح للامین اسے لے کر آئے تیسری یہ کہ اس کے نزول میں شیاطین کا کوئی دخل نہیں ہو سکتا اور یہاں پھر تاکید کی جاتی ہی کہ شیاطین حضرت محمد ﷺ پر کیسے اتر سکتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ تو سچے ، امین اور ایک پاک و صاف زندگی بسر کرنے والے ہیں۔ شیاطین تو جھوٹوں ، کذابوں ، بدکرداروں اور دھوکہ باز کاہنوں پر اترتے ہیں اور یہ تو کاہن اور گمراہ مذہبی پیشوا ہیں جو شیطانی باتیں لے کر اور ان میں رنگ بھر کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔
الشعراء 26:218
و توکل ……العلیم (62 : 22) ” ان کو ان کی نافرمانیوں کے اندر چھوڑ دیں اور ان کے اعمال سے اپنی برات کا اظہار کردیں اور اپنے رب پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوں اور ہر معاملے میں رب مکریم سے استعانت طلب فرمائیں۔ یہاں اللہ کی دو صفات بیان کی گئی ہیں جو اس سورت میں بار بار آتی ہیں یعنی صفت عزت اور صفت رحمت اس کے بعد قلب رسول اللہ ﷺ کو انس اور محبت کا شعور دیا جاتا ہے کہ تمہارا رب تمہیں اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم اکیلے نماز میں ہوتے ہو اور اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم نمازیوں کے اندر ہوتے ہو۔ یعنی وحدت کی حالت میں بھی تمہیں دیکھ رہا ہے اور اجتماعی حالت میں بھی اس کی نظر تم پر ہے۔ یعنی جب تم ساجدین یعنی اہل ایمان کے اندر ہوتے ہو ، ان کی تربیت کرتے ہو ، ان کی امامت کرتے اور انہیں خطبہ دیتے ہو ، اللہ آپ کی حرکات و سکناء کی نگرانی کر رہا ہے اور آپ کے دعوتی کام اور درپیش خطرات کو بھی دیکھ رہا ہے وہ سمیع و علم ہے۔
اس انداز تعبیر میں نبی ﷺ کے اندر یہ شعور پیدا کرنا مطلوب ہے کہ اللہ آپ کے قریب ہے ، دیکھ رہا ہے اور عنایات کر رہا ہے۔ یوں رسول اللہ یہ یقین رکھتے تھے کہ آپ اللہ کی حفاظت میں ہیں۔ اللہ کے جوار رحمت میں ہیں۔ چناچہ اس خوشگوار ماحول محبوت میں آپ زندگی بسر کرتے تھے۔
اس سورت کا یہ آخری سبق زیادہ تر قرآن کے بارے میں ہے۔ اس کے بارے میں ایک تاکید تو یہ کی گئی کہ یہ رب العالمین کی طر سے ہے۔ دوسری یہ کہ روح للامین اسے لے کر آئے تیسری یہ کہ اس کے نزول میں شیاطین کا کوئی دخل نہیں ہو سکتا اور یہاں پھر تاکید کی جاتی ہی کہ شیاطین حضرت محمد ﷺ پر کیسے اتر سکتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ تو سچے ، امین اور ایک پاک و صاف زندگی بسر کرنے والے ہیں۔ شیاطین تو جھوٹوں ، کذابوں ، بدکرداروں اور دھوکہ باز کاہنوں پر اترتے ہیں اور یہ تو کاہن اور گمراہ مذہبی پیشوا ہیں جو شیطانی باتیں لے کر اور ان میں رنگ بھر کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔
الشعراء 26:219
و توکل ……العلیم (62 : 22) ” ان کو ان کی نافرمانیوں کے اندر چھوڑ دیں اور ان کے اعمال سے اپنی برات کا اظہار کردیں اور اپنے رب پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوں اور ہر معاملے میں رب مکریم سے استعانت طلب فرمائیں۔ یہاں اللہ کی دو صفات بیان کی گئی ہیں جو اس سورت میں بار بار آتی ہیں یعنی صفت عزت اور صفت رحمت اس کے بعد قلب رسول اللہ ﷺ کو انس اور محبت کا شعور دیا جاتا ہے کہ تمہارا رب تمہیں اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم اکیلے نماز میں ہوتے ہو اور اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم نمازیوں کے اندر ہوتے ہو۔ یعنی وحدت کی حالت میں بھی تمہیں دیکھ رہا ہے اور اجتماعی حالت میں بھی اس کی نظر تم پر ہے۔ یعنی جب تم ساجدین یعنی اہل ایمان کے اندر ہوتے ہو ، ان کی تربیت کرتے ہو ، ان کی امامت کرتے اور انہیں خطبہ دیتے ہو ، اللہ آپ کی حرکات و سکناء کی نگرانی کر رہا ہے اور آپ کے دعوتی کام اور درپیش خطرات کو بھی دیکھ رہا ہے وہ سمیع و علم ہے۔
اس انداز تعبیر میں نبی ﷺ کے اندر یہ شعور پیدا کرنا مطلوب ہے کہ اللہ آپ کے قریب ہے ، دیکھ رہا ہے اور عنایات کر رہا ہے۔ یوں رسول اللہ یہ یقین رکھتے تھے کہ آپ اللہ کی حفاظت میں ہیں۔ اللہ کے جوار رحمت میں ہیں۔ چناچہ اس خوشگوار ماحول محبوت میں آپ زندگی بسر کرتے تھے۔
اس سورت کا یہ آخری سبق زیادہ تر قرآن کے بارے میں ہے۔ اس کے بارے میں ایک تاکید تو یہ کی گئی کہ یہ رب العالمین کی طر سے ہے۔ دوسری یہ کہ روح للامین اسے لے کر آئے تیسری یہ کہ اس کے نزول میں شیاطین کا کوئی دخل نہیں ہو سکتا اور یہاں پھر تاکید کی جاتی ہی کہ شیاطین حضرت محمد ﷺ پر کیسے اتر سکتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ تو سچے ، امین اور ایک پاک و صاف زندگی بسر کرنے والے ہیں۔ شیاطین تو جھوٹوں ، کذابوں ، بدکرداروں اور دھوکہ باز کاہنوں پر اترتے ہیں اور یہ تو کاہن اور گمراہ مذہبی پیشوا ہیں جو شیطانی باتیں لے کر اور ان میں رنگ بھر کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔
الشعراء 26:220
و توکل ……العلیم (62 : 22) ” ان کو ان کی نافرمانیوں کے اندر چھوڑ دیں اور ان کے اعمال سے اپنی برات کا اظہار کردیں اور اپنے رب پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوں اور ہر معاملے میں رب مکریم سے استعانت طلب فرمائیں۔ یہاں اللہ کی دو صفات بیان کی گئی ہیں جو اس سورت میں بار بار آتی ہیں یعنی صفت عزت اور صفت رحمت اس کے بعد قلب رسول اللہ ﷺ کو انس اور محبت کا شعور دیا جاتا ہے کہ تمہارا رب تمہیں اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم اکیلے نماز میں ہوتے ہو اور اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم نمازیوں کے اندر ہوتے ہو۔ یعنی وحدت کی حالت میں بھی تمہیں دیکھ رہا ہے اور اجتماعی حالت میں بھی اس کی نظر تم پر ہے۔ یعنی جب تم ساجدین یعنی اہل ایمان کے اندر ہوتے ہو ، ان کی تربیت کرتے ہو ، ان کی امامت کرتے اور انہیں خطبہ دیتے ہو ، اللہ آپ کی حرکات و سکناء کی نگرانی کر رہا ہے اور آپ کے دعوتی کام اور درپیش خطرات کو بھی دیکھ رہا ہے وہ سمیع و علم ہے۔
اس انداز تعبیر میں نبی ﷺ کے اندر یہ شعور پیدا کرنا مطلوب ہے کہ اللہ آپ کے قریب ہے ، دیکھ رہا ہے اور عنایات کر رہا ہے۔ یوں رسول اللہ یہ یقین رکھتے تھے کہ آپ اللہ کی حفاظت میں ہیں۔ اللہ کے جوار رحمت میں ہیں۔ چناچہ اس خوشگوار ماحول محبوت میں آپ زندگی بسر کرتے تھے۔
اس سورت کا یہ آخری سبق زیادہ تر قرآن کے بارے میں ہے۔ اس کے بارے میں ایک تاکید تو یہ کی گئی کہ یہ رب العالمین کی طر سے ہے۔ دوسری یہ کہ روح للامین اسے لے کر آئے تیسری یہ کہ اس کے نزول میں شیاطین کا کوئی دخل نہیں ہو سکتا اور یہاں پھر تاکید کی جاتی ہی کہ شیاطین حضرت محمد ﷺ پر کیسے اتر سکتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ تو سچے ، امین اور ایک پاک و صاف زندگی بسر کرنے والے ہیں۔ شیاطین تو جھوٹوں ، کذابوں ، بدکرداروں اور دھوکہ باز کاہنوں پر اترتے ہیں اور یہ تو کاہن اور گمراہ مذہبی پیشوا ہیں جو شیطانی باتیں لے کر اور ان میں رنگ بھر کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔
الشعراء 26:221
ھل انیئکم ……کذبون (041)
عربوں میں کاہن ہوا کرت ی تھے ، ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جن انہیں غیب کی خبریں دیتے ہیں اور لوگ ان کے ہاں جاتے تھے اور ان کی پیش گوئیاں سنتے تھے ان کاہنوں میں سے اکثر جھوٹے ہوتے تھے۔ ان کاہنوں کی تصدیق وہ لوگ کرتے تھے جو ہر قسم کے اوبام اور ہر قسم کے افسانوں پر یقین کرنے کے لئے تیار ہوتے تھے لیکن یہ کاہن بہرحال لوگوں کو کسی بھلائی کی طرف نہ بلاتے تھے اور نہ لوگوں کی قیادت راہ ایمان کی طرف کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا حال ان سے بہت مختف تھا۔ رسول اللہ کو قرآن کے ذریعہ ایک نہایت ہی ٹھوس نظام زندگی کی طرف بلاتے تھے۔
یہ کاہن قرآن کے بارے میں کبھی کہتے یہ شعر ہے اور حضور ﷺ کے بارے میں کہتے کہ آپ شاعر ہیں۔ لیکن وہ حیران تھے کہ یہ قرآن بہرحال ایک بےمثال کلام ہے ، لوگوں کے دلوں تک اثر جاتا ہے۔ لوگوں کے اندر ایک نیا شعور پیدا کرتا ہے اور اس کے اس قدر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں کہ عوام اسے رد نہیں کرسکتے۔
چناچہ اس سورت میں اس نکتے کی وضاحت کردی گئی کہ نبی ﷺ جو نظام پیش کر رہے ہیں اور قرآن کریم جو نظام پیش کر رہا ہے ، یہ کوئی شاعرانہ کلام اور سوچ نہیں ہے۔ قرآن کریم ایک ہی نظریہ اور ایک ہی منہاج پر اول سے آخر تک چل رہا ہے۔ اس کے سامنے ایک ہی متعین مقصد اور نصب العین ہے۔ وہاپین نصب العین کی طرف سیدھا آگے بڑھ رہا ہے اور رسول اللہ ﷺ کا بھی وہیمنہاج ہے۔ یہ نہیں ہے کہ آپ ٓج ایک بات کریں اور کل اسکے برعکس بات کریں۔ آپ کبھی بھی بدتے ہوئے میلانات و رجحانات اور وقتی خواہشات کے پیچھے نہیں پھرتے۔ ایک ہی دعوت ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں اور وہی دے رہے ہیں۔ ایک ہی عقیدہ ہے جو آپ پیش فرما رہے ہیں اور آپ ایک ایسے منہاج کے مطابق کام کر رہے ہیں جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے۔ جبکہ شعراء ایسے نہیں ہوتے۔ شعراء بدلتے ہوئے تاثرات اور وقتی جذبات کے اسیر ہوتے ہیں۔ ان پر ان کے شعور کی حکمرانی ہوتی ہے۔ جس طرح شعور ہوتا ہے اسی کا وہ انصار کردیتے ہیں ایک ہی وقت میں وہ ایک ہی حقیقت سیاہ دیکھتے ہیں تو اسے سیاہ کہہ دیتے ہیں اسی بات کو دو اگلے لمحے میں مفید دیکھتے ہیں تو اسے سفید کہہ دیتے ہیں۔ اگر کسی سے راضی ہوئے تو مدح کرتے ہیں اور اگر ناراض ہوئے تو مذمت کرتے ہیں۔ پھر ہر شاعر کا اپنا مزاج ہوتا ہے اور اس کی اپنی شاعری ہوتی ہے۔
پھر یہ شعراء اپنے لئے خود ایک جہاں پیدا کرتے ہیں اور اسی میں کم گشتہ ہوت یہیں۔ یہ بعض افعال اور بعض ذہنی نتائج تخلیق کرتے ہیں اور پھر ان کو حقائق مان کر خود ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ عمل لوگ نہیں ہوتے کیونکہ یہ اپنی خیالی دنیا میں گم رہتے ہیں۔
لیکشن جو شخص ایک متعین دعوت لے کر اٹھتا ہے اس کا مزاج شاعرانہ نہیں ہوتا۔ متعین دعوت کا حامل تو اس دعوت کو عملاً دنیا میں قائم دیکھنا چاہتا ہے۔ کسی بھی داعی کا ایک متعین دف اور نصب العین وتا ہے۔ پھر ہر داعی نے اپنی دعوت کے قیام کے لئے ایک طریق کار متعین کردیا ہوتا ہے۔ وہ اس متعین راہ پر ایک متعین سمت کی طرف جاتا ہے۔ ادھر ادھر نہیں بھٹکتا ۔ اس کی نظریں تیز ہوتی ہیں۔ عقل زندہ ہوتی ہے وہ ادہام اور تحمیات کی دنیا میں نہیں رہتا۔ نہ وہ محض خیالی نقشہ پیش کر کرکے خوش ہوتا ہے وہ اپنے نقشے پر عملی دنیا تعمیر کرنا چاہتا ہے۔
لہٰذا رسولوں کے منہاج اور شعراء کے منہاج کے درمیان جوہری فرق اور دیئے ان دونوں کے اندر یقینا کوئی اشتراک نہیں ہے اور یہ بات کوئی زیداہ پچیدیہ بھی نہیں ہے کہ اسے نہ سجھا جاسکے۔
الشعراء 26:222
ھل انیئکم ……کذبون (041)
عربوں میں کاہن ہوا کرت ی تھے ، ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جن انہیں غیب کی خبریں دیتے ہیں اور لوگ ان کے ہاں جاتے تھے اور ان کی پیش گوئیاں سنتے تھے ان کاہنوں میں سے اکثر جھوٹے ہوتے تھے۔ ان کاہنوں کی تصدیق وہ لوگ کرتے تھے جو ہر قسم کے اوبام اور ہر قسم کے افسانوں پر یقین کرنے کے لئے تیار ہوتے تھے لیکن یہ کاہن بہرحال لوگوں کو کسی بھلائی کی طرف نہ بلاتے تھے اور نہ لوگوں کی قیادت راہ ایمان کی طرف کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا حال ان سے بہت مختف تھا۔ رسول اللہ کو قرآن کے ذریعہ ایک نہایت ہی ٹھوس نظام زندگی کی طرف بلاتے تھے۔
یہ کاہن قرآن کے بارے میں کبھی کہتے یہ شعر ہے اور حضور ﷺ کے بارے میں کہتے کہ آپ شاعر ہیں۔ لیکن وہ حیران تھے کہ یہ قرآن بہرحال ایک بےمثال کلام ہے ، لوگوں کے دلوں تک اثر جاتا ہے۔ لوگوں کے اندر ایک نیا شعور پیدا کرتا ہے اور اس کے اس قدر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں کہ عوام اسے رد نہیں کرسکتے۔
چناچہ اس سورت میں اس نکتے کی وضاحت کردی گئی کہ نبی ﷺ جو نظام پیش کر رہے ہیں اور قرآن کریم جو نظام پیش کر رہا ہے ، یہ کوئی شاعرانہ کلام اور سوچ نہیں ہے۔ قرآن کریم ایک ہی نظریہ اور ایک ہی منہاج پر اول سے آخر تک چل رہا ہے۔ اس کے سامنے ایک ہی متعین مقصد اور نصب العین ہے۔ وہاپین نصب العین کی طرف سیدھا آگے بڑھ رہا ہے اور رسول اللہ ﷺ کا بھی وہیمنہاج ہے۔ یہ نہیں ہے کہ آپ ٓج ایک بات کریں اور کل اسکے برعکس بات کریں۔ آپ کبھی بھی بدتے ہوئے میلانات و رجحانات اور وقتی خواہشات کے پیچھے نہیں پھرتے۔ ایک ہی دعوت ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں اور وہی دے رہے ہیں۔ ایک ہی عقیدہ ہے جو آپ پیش فرما رہے ہیں اور آپ ایک ایسے منہاج کے مطابق کام کر رہے ہیں جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے۔ جبکہ شعراء ایسے نہیں ہوتے۔ شعراء بدلتے ہوئے تاثرات اور وقتی جذبات کے اسیر ہوتے ہیں۔ ان پر ان کے شعور کی حکمرانی ہوتی ہے۔ جس طرح شعور ہوتا ہے اسی کا وہ انصار کردیتے ہیں ایک ہی وقت میں وہ ایک ہی حقیقت سیاہ دیکھتے ہیں تو اسے سیاہ کہہ دیتے ہیں اسی بات کو دو اگلے لمحے میں مفید دیکھتے ہیں تو اسے سفید کہہ دیتے ہیں۔ اگر کسی سے راضی ہوئے تو مدح کرتے ہیں اور اگر ناراض ہوئے تو مذمت کرتے ہیں۔ پھر ہر شاعر کا اپنا مزاج ہوتا ہے اور اس کی اپنی شاعری ہوتی ہے۔
پھر یہ شعراء اپنے لئے خود ایک جہاں پیدا کرتے ہیں اور اسی میں کم گشتہ ہوت یہیں۔ یہ بعض افعال اور بعض ذہنی نتائج تخلیق کرتے ہیں اور پھر ان کو حقائق مان کر خود ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ عمل لوگ نہیں ہوتے کیونکہ یہ اپنی خیالی دنیا میں گم رہتے ہیں۔
لیکشن جو شخص ایک متعین دعوت لے کر اٹھتا ہے اس کا مزاج شاعرانہ نہیں ہوتا۔ متعین دعوت کا حامل تو اس دعوت کو عملاً دنیا میں قائم دیکھنا چاہتا ہے۔ کسی بھی داعی کا ایک متعین دف اور نصب العین وتا ہے۔ پھر ہر داعی نے اپنی دعوت کے قیام کے لئے ایک طریق کار متعین کردیا ہوتا ہے۔ وہ اس متعین راہ پر ایک متعین سمت کی طرف جاتا ہے۔ ادھر ادھر نہیں بھٹکتا ۔ اس کی نظریں تیز ہوتی ہیں۔ عقل زندہ ہوتی ہے وہ ادہام اور تحمیات کی دنیا میں نہیں رہتا۔ نہ وہ محض خیالی نقشہ پیش کر کرکے خوش ہوتا ہے وہ اپنے نقشے پر عملی دنیا تعمیر کرنا چاہتا ہے۔
لہٰذا رسولوں کے منہاج اور شعراء کے منہاج کے درمیان جوہری فرق اور دیئے ان دونوں کے اندر یقینا کوئی اشتراک نہیں ہے اور یہ بات کوئی زیداہ پچیدیہ بھی نہیں ہے کہ اسے نہ سجھا جاسکے۔
الشعراء 26:223
ھل انیئکم ……کذبون (041)
عربوں میں کاہن ہوا کرت ی تھے ، ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جن انہیں غیب کی خبریں دیتے ہیں اور لوگ ان کے ہاں جاتے تھے اور ان کی پیش گوئیاں سنتے تھے ان کاہنوں میں سے اکثر جھوٹے ہوتے تھے۔ ان کاہنوں کی تصدیق وہ لوگ کرتے تھے جو ہر قسم کے اوبام اور ہر قسم کے افسانوں پر یقین کرنے کے لئے تیار ہوتے تھے لیکن یہ کاہن بہرحال لوگوں کو کسی بھلائی کی طرف نہ بلاتے تھے اور نہ لوگوں کی قیادت راہ ایمان کی طرف کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا حال ان سے بہت مختف تھا۔ رسول اللہ کو قرآن کے ذریعہ ایک نہایت ہی ٹھوس نظام زندگی کی طرف بلاتے تھے۔
یہ کاہن قرآن کے بارے میں کبھی کہتے یہ شعر ہے اور حضور ﷺ کے بارے میں کہتے کہ آپ شاعر ہیں۔ لیکن وہ حیران تھے کہ یہ قرآن بہرحال ایک بےمثال کلام ہے ، لوگوں کے دلوں تک اثر جاتا ہے۔ لوگوں کے اندر ایک نیا شعور پیدا کرتا ہے اور اس کے اس قدر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں کہ عوام اسے رد نہیں کرسکتے۔
چناچہ اس سورت میں اس نکتے کی وضاحت کردی گئی کہ نبی ﷺ جو نظام پیش کر رہے ہیں اور قرآن کریم جو نظام پیش کر رہا ہے ، یہ کوئی شاعرانہ کلام اور سوچ نہیں ہے۔ قرآن کریم ایک ہی نظریہ اور ایک ہی منہاج پر اول سے آخر تک چل رہا ہے۔ اس کے سامنے ایک ہی متعین مقصد اور نصب العین ہے۔ وہاپین نصب العین کی طرف سیدھا آگے بڑھ رہا ہے اور رسول اللہ ﷺ کا بھی وہیمنہاج ہے۔ یہ نہیں ہے کہ آپ ٓج ایک بات کریں اور کل اسکے برعکس بات کریں۔ آپ کبھی بھی بدتے ہوئے میلانات و رجحانات اور وقتی خواہشات کے پیچھے نہیں پھرتے۔ ایک ہی دعوت ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں اور وہی دے رہے ہیں۔ ایک ہی عقیدہ ہے جو آپ پیش فرما رہے ہیں اور آپ ایک ایسے منہاج کے مطابق کام کر رہے ہیں جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے۔ جبکہ شعراء ایسے نہیں ہوتے۔ شعراء بدلتے ہوئے تاثرات اور وقتی جذبات کے اسیر ہوتے ہیں۔ ان پر ان کے شعور کی حکمرانی ہوتی ہے۔ جس طرح شعور ہوتا ہے اسی کا وہ انصار کردیتے ہیں ایک ہی وقت میں وہ ایک ہی حقیقت سیاہ دیکھتے ہیں تو اسے سیاہ کہہ دیتے ہیں اسی بات کو دو اگلے لمحے میں مفید دیکھتے ہیں تو اسے سفید کہہ دیتے ہیں۔ اگر کسی سے راضی ہوئے تو مدح کرتے ہیں اور اگر ناراض ہوئے تو مذمت کرتے ہیں۔ پھر ہر شاعر کا اپنا مزاج ہوتا ہے اور اس کی اپنی شاعری ہوتی ہے۔
پھر یہ شعراء اپنے لئے خود ایک جہاں پیدا کرتے ہیں اور اسی میں کم گشتہ ہوت یہیں۔ یہ بعض افعال اور بعض ذہنی نتائج تخلیق کرتے ہیں اور پھر ان کو حقائق مان کر خود ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ عمل لوگ نہیں ہوتے کیونکہ یہ اپنی خیالی دنیا میں گم رہتے ہیں۔
لیکشن جو شخص ایک متعین دعوت لے کر اٹھتا ہے اس کا مزاج شاعرانہ نہیں ہوتا۔ متعین دعوت کا حامل تو اس دعوت کو عملاً دنیا میں قائم دیکھنا چاہتا ہے۔ کسی بھی داعی کا ایک متعین دف اور نصب العین وتا ہے۔ پھر ہر داعی نے اپنی دعوت کے قیام کے لئے ایک طریق کار متعین کردیا ہوتا ہے۔ وہ اس متعین راہ پر ایک متعین سمت کی طرف جاتا ہے۔ ادھر ادھر نہیں بھٹکتا ۔ اس کی نظریں تیز ہوتی ہیں۔ عقل زندہ ہوتی ہے وہ ادہام اور تحمیات کی دنیا میں نہیں رہتا۔ نہ وہ محض خیالی نقشہ پیش کر کرکے خوش ہوتا ہے وہ اپنے نقشے پر عملی دنیا تعمیر کرنا چاہتا ہے۔
لہٰذا رسولوں کے منہاج اور شعراء کے منہاج کے درمیان جوہری فرق اور دیئے ان دونوں کے اندر یقینا کوئی اشتراک نہیں ہے اور یہ بات کوئی زیداہ پچیدیہ بھی نہیں ہے کہ اسے نہ سجھا جاسکے۔
الشعراء 26:224
ھل انیئکم ……کذبون (041)
عربوں میں کاہن ہوا کرت ی تھے ، ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جن انہیں غیب کی خبریں دیتے ہیں اور لوگ ان کے ہاں جاتے تھے اور ان کی پیش گوئیاں سنتے تھے ان کاہنوں میں سے اکثر جھوٹے ہوتے تھے۔ ان کاہنوں کی تصدیق وہ لوگ کرتے تھے جو ہر قسم کے اوبام اور ہر قسم کے افسانوں پر یقین کرنے کے لئے تیار ہوتے تھے لیکن یہ کاہن بہرحال لوگوں کو کسی بھلائی کی طرف نہ بلاتے تھے اور نہ لوگوں کی قیادت راہ ایمان کی طرف کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا حال ان سے بہت مختف تھا۔ رسول اللہ کو قرآن کے ذریعہ ایک نہایت ہی ٹھوس نظام زندگی کی طرف بلاتے تھے۔
یہ کاہن قرآن کے بارے میں کبھی کہتے یہ شعر ہے اور حضور ﷺ کے بارے میں کہتے کہ آپ شاعر ہیں۔ لیکن وہ حیران تھے کہ یہ قرآن بہرحال ایک بےمثال کلام ہے ، لوگوں کے دلوں تک اثر جاتا ہے۔ لوگوں کے اندر ایک نیا شعور پیدا کرتا ہے اور اس کے اس قدر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں کہ عوام اسے رد نہیں کرسکتے۔
چناچہ اس سورت میں اس نکتے کی وضاحت کردی گئی کہ نبی ﷺ جو نظام پیش کر رہے ہیں اور قرآن کریم جو نظام پیش کر رہا ہے ، یہ کوئی شاعرانہ کلام اور سوچ نہیں ہے۔ قرآن کریم ایک ہی نظریہ اور ایک ہی منہاج پر اول سے آخر تک چل رہا ہے۔ اس کے سامنے ایک ہی متعین مقصد اور نصب العین ہے۔ وہاپین نصب العین کی طرف سیدھا آگے بڑھ رہا ہے اور رسول اللہ ﷺ کا بھی وہیمنہاج ہے۔ یہ نہیں ہے کہ آپ ٓج ایک بات کریں اور کل اسکے برعکس بات کریں۔ آپ کبھی بھی بدتے ہوئے میلانات و رجحانات اور وقتی خواہشات کے پیچھے نہیں پھرتے۔ ایک ہی دعوت ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں اور وہی دے رہے ہیں۔ ایک ہی عقیدہ ہے جو آپ پیش فرما رہے ہیں اور آپ ایک ایسے منہاج کے مطابق کام کر رہے ہیں جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے۔ جبکہ شعراء ایسے نہیں ہوتے۔ شعراء بدلتے ہوئے تاثرات اور وقتی جذبات کے اسیر ہوتے ہیں۔ ان پر ان کے شعور کی حکمرانی ہوتی ہے۔ جس طرح شعور ہوتا ہے اسی کا وہ انصار کردیتے ہیں ایک ہی وقت میں وہ ایک ہی حقیقت سیاہ دیکھتے ہیں تو اسے سیاہ کہہ دیتے ہیں اسی بات کو دو اگلے لمحے میں مفید دیکھتے ہیں تو اسے سفید کہہ دیتے ہیں۔ اگر کسی سے راضی ہوئے تو مدح کرتے ہیں اور اگر ناراض ہوئے تو مذمت کرتے ہیں۔ پھر ہر شاعر کا اپنا مزاج ہوتا ہے اور اس کی اپنی شاعری ہوتی ہے۔
پھر یہ شعراء اپنے لئے خود ایک جہاں پیدا کرتے ہیں اور اسی میں کم گشتہ ہوت یہیں۔ یہ بعض افعال اور بعض ذہنی نتائج تخلیق کرتے ہیں اور پھر ان کو حقائق مان کر خود ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ عمل لوگ نہیں ہوتے کیونکہ یہ اپنی خیالی دنیا میں گم رہتے ہیں۔
لیکشن جو شخص ایک متعین دعوت لے کر اٹھتا ہے اس کا مزاج شاعرانہ نہیں ہوتا۔ متعین دعوت کا حامل تو اس دعوت کو عملاً دنیا میں قائم دیکھنا چاہتا ہے۔ کسی بھی داعی کا ایک متعین دف اور نصب العین وتا ہے۔ پھر ہر داعی نے اپنی دعوت کے قیام کے لئے ایک طریق کار متعین کردیا ہوتا ہے۔ وہ اس متعین راہ پر ایک متعین سمت کی طرف جاتا ہے۔ ادھر ادھر نہیں بھٹکتا ۔ اس کی نظریں تیز ہوتی ہیں۔ عقل زندہ ہوتی ہے وہ ادہام اور تحمیات کی دنیا میں نہیں رہتا۔ نہ وہ محض خیالی نقشہ پیش کر کرکے خوش ہوتا ہے وہ اپنے نقشے پر عملی دنیا تعمیر کرنا چاہتا ہے۔
لہٰذا رسولوں کے منہاج اور شعراء کے منہاج کے درمیان جوہری فرق اور دیئے ان دونوں کے اندر یقینا کوئی اشتراک نہیں ہے اور یہ بات کوئی زیداہ پچیدیہ بھی نہیں ہے کہ اسے نہ سجھا جاسکے۔
الشعراء 26:225
ھل انیئکم ……کذبون (041)
عربوں میں کاہن ہوا کرت ی تھے ، ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جن انہیں غیب کی خبریں دیتے ہیں اور لوگ ان کے ہاں جاتے تھے اور ان کی پیش گوئیاں سنتے تھے ان کاہنوں میں سے اکثر جھوٹے ہوتے تھے۔ ان کاہنوں کی تصدیق وہ لوگ کرتے تھے جو ہر قسم کے اوبام اور ہر قسم کے افسانوں پر یقین کرنے کے لئے تیار ہوتے تھے لیکن یہ کاہن بہرحال لوگوں کو کسی بھلائی کی طرف نہ بلاتے تھے اور نہ لوگوں کی قیادت راہ ایمان کی طرف کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا حال ان سے بہت مختف تھا۔ رسول اللہ کو قرآن کے ذریعہ ایک نہایت ہی ٹھوس نظام زندگی کی طرف بلاتے تھے۔
یہ کاہن قرآن کے بارے میں کبھی کہتے یہ شعر ہے اور حضور ﷺ کے بارے میں کہتے کہ آپ شاعر ہیں۔ لیکن وہ حیران تھے کہ یہ قرآن بہرحال ایک بےمثال کلام ہے ، لوگوں کے دلوں تک اثر جاتا ہے۔ لوگوں کے اندر ایک نیا شعور پیدا کرتا ہے اور اس کے اس قدر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں کہ عوام اسے رد نہیں کرسکتے۔
چناچہ اس سورت میں اس نکتے کی وضاحت کردی گئی کہ نبی ﷺ جو نظام پیش کر رہے ہیں اور قرآن کریم جو نظام پیش کر رہا ہے ، یہ کوئی شاعرانہ کلام اور سوچ نہیں ہے۔ قرآن کریم ایک ہی نظریہ اور ایک ہی منہاج پر اول سے آخر تک چل رہا ہے۔ اس کے سامنے ایک ہی متعین مقصد اور نصب العین ہے۔ وہاپین نصب العین کی طرف سیدھا آگے بڑھ رہا ہے اور رسول اللہ ﷺ کا بھی وہیمنہاج ہے۔ یہ نہیں ہے کہ آپ ٓج ایک بات کریں اور کل اسکے برعکس بات کریں۔ آپ کبھی بھی بدتے ہوئے میلانات و رجحانات اور وقتی خواہشات کے پیچھے نہیں پھرتے۔ ایک ہی دعوت ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں اور وہی دے رہے ہیں۔ ایک ہی عقیدہ ہے جو آپ پیش فرما رہے ہیں اور آپ ایک ایسے منہاج کے مطابق کام کر رہے ہیں جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے۔ جبکہ شعراء ایسے نہیں ہوتے۔ شعراء بدلتے ہوئے تاثرات اور وقتی جذبات کے اسیر ہوتے ہیں۔ ان پر ان کے شعور کی حکمرانی ہوتی ہے۔ جس طرح شعور ہوتا ہے اسی کا وہ انصار کردیتے ہیں ایک ہی وقت میں وہ ایک ہی حقیقت سیاہ دیکھتے ہیں تو اسے سیاہ کہہ دیتے ہیں اسی بات کو دو اگلے لمحے میں مفید دیکھتے ہیں تو اسے سفید کہہ دیتے ہیں۔ اگر کسی سے راضی ہوئے تو مدح کرتے ہیں اور اگر ناراض ہوئے تو مذمت کرتے ہیں۔ پھر ہر شاعر کا اپنا مزاج ہوتا ہے اور اس کی اپنی شاعری ہوتی ہے۔
پھر یہ شعراء اپنے لئے خود ایک جہاں پیدا کرتے ہیں اور اسی میں کم گشتہ ہوت یہیں۔ یہ بعض افعال اور بعض ذہنی نتائج تخلیق کرتے ہیں اور پھر ان کو حقائق مان کر خود ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ عمل لوگ نہیں ہوتے کیونکہ یہ اپنی خیالی دنیا میں گم رہتے ہیں۔
لیکشن جو شخص ایک متعین دعوت لے کر اٹھتا ہے اس کا مزاج شاعرانہ نہیں ہوتا۔ متعین دعوت کا حامل تو اس دعوت کو عملاً دنیا میں قائم دیکھنا چاہتا ہے۔ کسی بھی داعی کا ایک متعین دف اور نصب العین وتا ہے۔ پھر ہر داعی نے اپنی دعوت کے قیام کے لئے ایک طریق کار متعین کردیا ہوتا ہے۔ وہ اس متعین راہ پر ایک متعین سمت کی طرف جاتا ہے۔ ادھر ادھر نہیں بھٹکتا ۔ اس کی نظریں تیز ہوتی ہیں۔ عقل زندہ ہوتی ہے وہ ادہام اور تحمیات کی دنیا میں نہیں رہتا۔ نہ وہ محض خیالی نقشہ پیش کر کرکے خوش ہوتا ہے وہ اپنے نقشے پر عملی دنیا تعمیر کرنا چاہتا ہے۔
لہٰذا رسولوں کے منہاج اور شعراء کے منہاج کے درمیان جوہری فرق اور دیئے ان دونوں کے اندر یقینا کوئی اشتراک نہیں ہے اور یہ بات کوئی زیداہ پچیدیہ بھی نہیں ہے کہ اسے نہ سجھا جاسکے۔
الشعراء 26:226
ھل انیئکم ……کذبون (041)
عربوں میں کاہن ہوا کرت ی تھے ، ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جن انہیں غیب کی خبریں دیتے ہیں اور لوگ ان کے ہاں جاتے تھے اور ان کی پیش گوئیاں سنتے تھے ان کاہنوں میں سے اکثر جھوٹے ہوتے تھے۔ ان کاہنوں کی تصدیق وہ لوگ کرتے تھے جو ہر قسم کے اوبام اور ہر قسم کے افسانوں پر یقین کرنے کے لئے تیار ہوتے تھے لیکن یہ کاہن بہرحال لوگوں کو کسی بھلائی کی طرف نہ بلاتے تھے اور نہ لوگوں کی قیادت راہ ایمان کی طرف کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا حال ان سے بہت مختف تھا۔ رسول اللہ کو قرآن کے ذریعہ ایک نہایت ہی ٹھوس نظام زندگی کی طرف بلاتے تھے۔
یہ کاہن قرآن کے بارے میں کبھی کہتے یہ شعر ہے اور حضور ﷺ کے بارے میں کہتے کہ آپ شاعر ہیں۔ لیکن وہ حیران تھے کہ یہ قرآن بہرحال ایک بےمثال کلام ہے ، لوگوں کے دلوں تک اثر جاتا ہے۔ لوگوں کے اندر ایک نیا شعور پیدا کرتا ہے اور اس کے اس قدر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں کہ عوام اسے رد نہیں کرسکتے۔
چناچہ اس سورت میں اس نکتے کی وضاحت کردی گئی کہ نبی ﷺ جو نظام پیش کر رہے ہیں اور قرآن کریم جو نظام پیش کر رہا ہے ، یہ کوئی شاعرانہ کلام اور سوچ نہیں ہے۔ قرآن کریم ایک ہی نظریہ اور ایک ہی منہاج پر اول سے آخر تک چل رہا ہے۔ اس کے سامنے ایک ہی متعین مقصد اور نصب العین ہے۔ وہاپین نصب العین کی طرف سیدھا آگے بڑھ رہا ہے اور رسول اللہ ﷺ کا بھی وہیمنہاج ہے۔ یہ نہیں ہے کہ آپ ٓج ایک بات کریں اور کل اسکے برعکس بات کریں۔ آپ کبھی بھی بدتے ہوئے میلانات و رجحانات اور وقتی خواہشات کے پیچھے نہیں پھرتے۔ ایک ہی دعوت ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں اور وہی دے رہے ہیں۔ ایک ہی عقیدہ ہے جو آپ پیش فرما رہے ہیں اور آپ ایک ایسے منہاج کے مطابق کام کر رہے ہیں جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے۔ جبکہ شعراء ایسے نہیں ہوتے۔ شعراء بدلتے ہوئے تاثرات اور وقتی جذبات کے اسیر ہوتے ہیں۔ ان پر ان کے شعور کی حکمرانی ہوتی ہے۔ جس طرح شعور ہوتا ہے اسی کا وہ انصار کردیتے ہیں ایک ہی وقت میں وہ ایک ہی حقیقت سیاہ دیکھتے ہیں تو اسے سیاہ کہہ دیتے ہیں اسی بات کو دو اگلے لمحے میں مفید دیکھتے ہیں تو اسے سفید کہہ دیتے ہیں۔ اگر کسی سے راضی ہوئے تو مدح کرتے ہیں اور اگر ناراض ہوئے تو مذمت کرتے ہیں۔ پھر ہر شاعر کا اپنا مزاج ہوتا ہے اور اس کی اپنی شاعری ہوتی ہے۔
پھر یہ شعراء اپنے لئے خود ایک جہاں پیدا کرتے ہیں اور اسی میں کم گشتہ ہوت یہیں۔ یہ بعض افعال اور بعض ذہنی نتائج تخلیق کرتے ہیں اور پھر ان کو حقائق مان کر خود ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ عمل لوگ نہیں ہوتے کیونکہ یہ اپنی خیالی دنیا میں گم رہتے ہیں۔
لیکشن جو شخص ایک متعین دعوت لے کر اٹھتا ہے اس کا مزاج شاعرانہ نہیں ہوتا۔ متعین دعوت کا حامل تو اس دعوت کو عملاً دنیا میں قائم دیکھنا چاہتا ہے۔ کسی بھی داعی کا ایک متعین دف اور نصب العین وتا ہے۔ پھر ہر داعی نے اپنی دعوت کے قیام کے لئے ایک طریق کار متعین کردیا ہوتا ہے۔ وہ اس متعین راہ پر ایک متعین سمت کی طرف جاتا ہے۔ ادھر ادھر نہیں بھٹکتا ۔ اس کی نظریں تیز ہوتی ہیں۔ عقل زندہ ہوتی ہے وہ ادہام اور تحمیات کی دنیا میں نہیں رہتا۔ نہ وہ محض خیالی نقشہ پیش کر کرکے خوش ہوتا ہے وہ اپنے نقشے پر عملی دنیا تعمیر کرنا چاہتا ہے۔
لہٰذا رسولوں کے منہاج اور شعراء کے منہاج کے درمیان جوہری فرق اور دیئے ان دونوں کے اندر یقینا کوئی اشتراک نہیں ہے اور یہ بات کوئی زیداہ پچیدیہ بھی نہیں ہے کہ اسے نہ سجھا جاسکے۔
الشعراء 26:227
الا الذین ……(721)
” بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ “
لہٰذا اہل ایمان ان لوگوں میں داخل نہیں ہیں۔ یہ لوگ ایمان لائے تو ان کے دل و دماغ اسلامی عقیدہ اور ایمان سے بھرگئے۔ ان کی زندگی ایک منہاج پر رواں دواں ہوگئی۔ انہوں نے اپنی عمی زندگی میں نیک عمل کرنا شروع کردیا اور ان کی قوتیں اعمال صالحہ اور خوبصورت بھلائی کی راہ پر صرف ہونے لگیں۔ وہ صرف ادہام و تخیلات کی دنیا سے باہر آگئے اور انہوں نے اپنے فن کو بھی اپنے نظریہ کے لئے استعمال کیا۔ یعنی کسی نے ان پر ظلم کیا تو انہوں نے بدلہ لے لیا۔ یعنی میں سچائی کو انہوں نے عملاً قبول کیا اس کی حمایت میں ان کا فن بھی میدان میں آگیا۔
ایسے ہی اہل فن میں ، معرکہ توحید شرک کے ابتدائی دور میں ، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں حضرت حسان ابن ثابت ، کعب ابن مالک ، عبد اللہ ابن رواحہ ؓ شعراء انصار میں سے تھے اور عبد اللہ ابن الزیسری ابوسفیان ابن الحارث ابن عبدالمطلب تھے۔ یہ دونوں ایام جاہلیت میں حضور اکرم کی جو بھی کرتے تھے۔ جب مسلمان ہوئے اور خوب ہوئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نعت میں بھی خوب کمالات دکھائے اور اسلام کی مدافعت کی۔
صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسان ابن ثابت کو حکم دیا ” ان کی ہجو کرو اور جبرئیل تمہارے ساتھ ہیں۔ “ عبدالرحمٰن ابن کعب نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے شعراء پر اشعار میں بھی نازل کیا ہے جو کچھ نازل کیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ایک مومن اپنی تولار سے بھی جہاد کرتا ہے اور اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے ، اس خدا کی قسم ، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جس چیز سے تم ان کو مارتے ہو وہ تیروں کی بارش ہے۔ “ (امام احمد)
اسلامی شعر و فن کا تحقیق مختلف اسالیب میں ہو سکتا ہے۔ یعنی یہ ایک صورت جو ابتدائے اسلام میں وجود میں آئی اور اس وقت اس کی ضرورت بھی تھی لیکن اسلام تصور حیات کے مطابق شعر و سخن کے اور دائرے بھی بیشمار ہیں جن کی اسلام اجازت دیتا ہے۔
یہ ضروری نہیں ہے کہ اسلامی فن وہی ہوگا جو اسلام کے دفاع میں ہو۔ یا براہ راست اس میں دعوت اسلامی موجود ہو۔ یا جس میں اسلام کی تعریف ہو ، پیغمبر اسلام کی تعریف ہو یا اکابر اسلام کی تعریف و تمجید ہو۔ یا اللہ کی حمد و ثنا ؟ یہ ضروری نہیں ہے کہ شعر اگر ان موضوعات پر ہو تو اسلامی ہے اور اگر ان پر نہ ہو تو اسلامی نہیں ہے۔ گردش لیل و نہار پر ایک شاعرانہ نظر ، اور مناظر کائنات پر ایک ایسی نظر جس کے ذریعے ایک مسلم کا شعور اور اس کا تخیل قدرت الہیہ کا احساس کرتا ہو ، حقیقی اسلامی فن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک لمحہ جس میں انسان کے دل و دماغ پر اللہ کی حکمت روشن ہوجاتی ہے اور جس کے اندر انسان اس کائنات کے عجائبات کا احساس کرتا ہے۔ ایسے لمحات ہی میں اسلامی ادب کی تخلیق ہوتی ہے۔
اسلامی فن اور غیر اسلامی فن کے درمیان امتیاز اس سے ہوتا ہے کہ اسلام کا اپنا ایک تصور حیات ہے۔ اسلامی سوسائٹی کے اندر روابط کی ایک مخصوص شکل پائی جاتی ہے۔ اگر کوئی فن اسلامی تصورات ، اسلامی روابط کے اور اسلامی اخلاق کی اساس پر تخلیق ہوتا ہے تو وہ اسلامی ہے اور اسے اسلام پسند کرتا ہے ورنہ نہیں ہے۔
اور سورت کا خاتمہ اس دھمکی اور مجمل تہدید پر ہوتا ہے۔
وسیعلم الذین طلموآ ای منقلب ینقلبون (62 : 822) ” اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ “ اس پوری سورت کا مضمون یہ رہا اور اس میں مشرکین کے عناد اور ہٹ دھرمی کی تصویر کشی کی گئی۔ یہ بتایا گیا کہ وہ اللہ کی وعید کے مقابلے میں سرکشی کرتے رہے بلکہ الٹا عالم غرور میں عذاب کے جلدی نزول کا مطالبہ کرتے رہے۔ نیز اس سورت میں ایسے تمام لوگوں پر نازل ہونے والے عذابوں کی تصویر کشی بھی کی گئی اور مختلف رسولوں کے انجام دکھائے گئے۔
اس لئے سورت کے آخر میں مجملاً نبی ﷺ کی مخالف قوتوں کو بھی سمجھا دیا گیا کہ تم بھی ذرا اپنی خیر منائو کہ تمہارا انجام کیا ہونے والا ہے۔ گویا کفار مکہ ذہنی دنیا پر یہ آخری ضرب ہے اور ایسے الفاظ میں ہے کہ فکر ہر کس بقدر ہمت اوست کے مطاق ہر شخص کا خیال اس کے معانی پہچان سکتا ہے۔ لہٰذا یہ مشرکین کے ایوان میں ایک زلزلہ ہے جو سورت کے آخر میں برپا کردیا گیا۔